Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 45
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں آپ نے پڑھا تھا، کہ مزروعات جو ہیں، یعنی کپڑا وغیرہ، اس کی بیع کرتے ہوئے بائع تمام مقدار ذکر کرے گا یا نہیں کرے گا، اسی طرح ہر پیمانے کی یا ہر گز کی قیمت ذکر کرے گا یا قیمت ذکر نہیں نہیں کرے گا، چار صورتیں بنتی تھیں بھئی۔ پہلی صورت یہ تھی کہ نہ کل مقدار ذکر کرے اور نہ ہر گز کی قیمت ذکر کرے، تو یہ بیع صحیح ہو گئی۔ مثلاً کہا: یہ کپڑا ہے، یہ میں نے آپ کو 10 درہم میں بیچا، اور اس نے کہا: میں نے خریدا، بیع صحیح ہوئی۔ دوسری صورت: ہر گز کی قیمت تو ذکر کرتا ہے، کل مقدار ذکر نہیں کرتا، اس صورت میں صاحبِ کتاب آپ کو بتلائیں گے کہ کسی ایک گز کے اندر بھی بیع منعقد نہیں ہوئی، اس لیے کہ یہاں اگرچہ "کل" کا لفظ آیا ہے اور وہ ادنیٰ یعنی ایک کو شامل ہوگا یہاں پر، مگر یہاں پر اب ہم ایک میں بھی بیع کے انعقاد کا حکم نہیں لگائیں گے، اس لیے کہ پرانے زمانے میں کپڑا ہاتھ سے بنا جاتا تھا، اس کے گزوں کے اندر فرق ہوتا تھا، تو مشتری چاہے گا مجھے اچھی جگہ سے کاٹ کر دے اور بائع چاہے گا میں اس کو خراب سی جگہ سے کاٹ کر دوں، تو جھگڑا ہوگا بھئی۔ البتہ میں نے بتایا آج کے دور میں کپڑا چونکہ مشینوں پر بنتا ہے، اس کا حکم مختلف ہوگا، اب یہاں پر ایک گز میں بیع منعقد ہو جائے گی کیونکہ ایک جیسا کپڑا ہوتا ہے سارا، بشرطیکہ اس ایک گز سے باقی کپڑے کو کوئی نقصان نہ پہنچے بھئی۔ تیسری صورت یہ تھی کہ اگر ہر، کہ کل مقدار ذکر کر دیتا ہے، ہر گز کی قیمت ذکر نہیں کرتا، کہ یہ 10 گز کپڑا ہے، میں نے آپ کو 10 درہم میں بیچا، اس نے کہا: میں نے خریدا، تو اس صورت میں اب تین احتمال ہیں: یا کپڑا پورے 10 گز نکلے گا یا کم نکلے گا یا زیادہ۔ اگر پورے 10 گز نکلا، پھر تو کوئی جھگڑے کا امکان نہیں بھئی، لہذا بیع ہو گئی۔ اگر کم نکلتا ہے، تو اس صورت میں بھی مثلاً 9 گز نکل آیا، تو مشتری کو 10 درہم ہی دینے پڑیں گے، ایک ذراع یا دو ذراع یا تین ذراع کم ہونے سے قیمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس لیے کہ ذراع جو ہے، ضابطہ میں نے بتلایا تھا، کہ قِلت اور کثرت جو ہے مکیلات و موزونات میں جی؟ اصل ہے، اور قِلت اور کثرت مزروعات کے اندر یعنی جی، یعنی ذراع جو ہے مزروعات کے اندر یہ وصف ہے، اور ضابطہ ہے کہ وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں ہوتے، بلکہ ثمن تو اصل اور عین کے مقابلے میں ہوتے ہیں۔ تو یہ پتا کیسے چلے گا؟ ضابطہ میں نے لکھوایا تھا کہ "مَا يَتَعَيَّنُ بِالتَّبْعِيضِ وَالتَّشْخِيصِ فَقِلَّةُ" ہاں، "وَالزِّيَادَةُ وَالنُّقْصَانُ فِيهِ وَصْفٌ، وَمَا لَيْسَ كَذٰلِكَ فَالزِّيَادَةُ وَالنُّقْصَانُ فِيهِ أَصْلٌ۔" تو یہاں پر اس وجہ سے ذراع مزروعات کے اندر وصف ہے، اور وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آتے بھئی، کیونکہ تبعیض و تشخیص سے اس میں عیب آ جاتا ہے، معلوم ہوا یہ وصف ہے، اصل نہیں ہے۔ تو 9 گز نکل آیا کپڑا یا 7 نکل آیا یا 5 نکل آیا، تو بھی اسے 10 درہم ہی لینا پڑے گا، لیکن چونکہ اس کو نقصان ہو رہا ہے تو اب ہم اس کو اختیار بھی دے دیں گے۔ اور دوسری صورت یہ کہ کپڑا زیادہ نکل آتا ہے، 11 گز یا 12 گز یا 15 گز نکل آتا ہے، تو وہ بھی سارا کا سارا کس کا ہو جائے گا؟ مشتری کا، بائع کا کوئی اختیار نہیں، اس لیے کہ یہ وصف بڑھ گیا۔ وصف بڑھ گیا۔ چوتھی صورت یہ تھی کہ کل مقدار بھی ذکر کرتا ہے اور ہر گز کی قیمت بھی ذکر کرتا ہے، اس صورت میں جتنے گز کپڑا کم نکلے گا اسی کے مثلاً 8 گز نکلا ہے، تو 8 درہم دے، میں لے لے، 6 نکلا ہے، تو 6 درہم میں لے لے، اور زیادہ نکلا ہے تو زیادہ کے بدلے لے لے گا، برابر نکلا پھر تو کوئی اختلاف، پھر تو جھگڑا ہی کوئی نہیں، ہاں! کم نکلتا ہے تو اب پیسے بھی کم ہو جائیں گے، زیادہ نکلتا ہے تو پیسے بھی زیادہ کیونکہ اس نے ہر گز کی قیمت ذکر کی ہے۔ البتہ اس کو ہم اختیار دے دیں گے کمی یا زیادتی کی صورت میں، کمی کی صورت میں اس لیے کہ اس کو اس کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی، اور زیادتی کی صورت میں اس لیے کہ اس کو پیسے زیادہ دینے پڑیں گے، ہو سکتا ہے اس کے پاس 10 ہی درہم ہوں یا وہ لینا ہی اتنا چاہتا ہے، زائد اس کے کام کا ہی نہیں ہے بھئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے بتلایا تھا، کہ ذراع جو ہے ذراع، مزروعات کے اندر، اس میں اصل ہونے کی صلاحیت بھی ہے، یہ ہے تو وصف لیکن اصل ہونے کی صلاحیت بھی ہے، کہ دیکھیں گز بڑھتے ہیں، تو کپڑے کی مقدار کیا ہو جاتی ہے؟ بڑھ جاتی ہے۔ تو یہ ذراع کبھی کبھار اصل بھی بن جایا کرتا ہے، اس وقت جبکہ ہر ذراع کی قیمت ذکر کر دی جائے، اس میں صلاحیت تو تھی اصل بننے کی، جب اس نے ہر ذراع کی کیا کر دی؟ قیمت قیمت ذکر کر دی، تو اب یہ کیا بن جائے گا؟ اصل، اور اصل کے مقابلے میں کیا آیا کرتے ہیں؟ ثمن آتے ہیں، تو اب ہر ذراع کے مقابلے میں کیا آ گئے؟ ثمن آ گئے، ذراع زیادہ تو ثمن بھی زیادہ، ذراع کم تو ثمن بھی کم ہو جائیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اچھی طرح؟ جی، چلیے اب کتاب میں ہم دیکھتے ہیں، یہ 8 صورتیں بنتی تھیں 8 صورتیں، 4 مکیلات و موزونات میں اور 4 مزروعات میں۔ پہلی صورت جس میں نہ قیمت ذکر کرتا ہے ہر پیمانے یا ہر گز کی اور نہ ہی کل مقدار ذکر کرتا ہے، وہ گزشتہ متن میں گزرا تھا: "وَصَحَّ الْبَيْعُ فِي الْعِوَضِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ بِلاَ عِلْمٍ بِقَدْرِهِ وَوَصْفِهِ"۔ قیمت، مقدار کا چاہے پتا ہی نہ ہو، ذکر ہی نہیں کی، بس مشارٌ الیہ موجود ہے: یہ میں نے آپ کو اتنے کا بیچا، تو چاہے وہ مکیلات میں سے ہو، چاہے موزونات میں سے ہو، چاہے مزروعات میں سے ہو، سب کی بیع کیا ہو گئی؟ صحیح، نہ کل مقدار ذکر ہے اور نہ ہر مقدار کی قیمت ذکر ہے۔ آگے دیکھیے: "وَفِي صَاعٍ فِي بَيْعِ صُبْرَةٍ كُلُّ صَاعٍ بِكَذَا"، اور ایک، دوسری صورت کیا تھی بھئی؟ مزروعات، مکیلات و موزونات میں، کل مقدار کل مقدار نہیں ذکر کی، بلکہ صرف کیا ذکر کیا؟ ہر پیمانے کی قیمت، تو اس صورت میں کیا پڑھا تھا آپ نے؟ ایک میں صحیح، ایک میں، ایک پیمانے کے اندر بیع صحیح ہو جائے گی، اس لیے کہ "کل" کی اضافت جب ایسی چیز کی طرف ہو جائے جس کا منتہا معلوم نہ ہو، تو یہ ادنیٰ کو شامل ہوتا ہے اور وہ کتنا ہے؟ ایک، یہ صورت آ رہی ہے۔ "وَفِي صَاعٍ" اور ایک صاع میں بیع صحیح ہوگی، "فِي بَيْعِ صُبْرَةٍ" ایک، صُبرہ ڈھیر کو کہتے ہیں بھئی، ایک ڈھیر کی بیع میں، کب؟ جب اس نے یہ کہا کہ: "كُلُّ صَاعٍ بِكَذَا" ہر صاع اتنے کا ہے۔ "أَيْ إِذَا قَالَ: بَعْتُ هٰذِهِ الصُّبْرَةَ"، جب کسی نے کہا کہ: میں نے بیچا اس ڈھیر کو، "كُلُّ صَاعٍ بِدِرْهَمٍ"، ہر صاع ایک درہم کے بدلے ہے، "صَحَّ فِي صَاعٍ وَاحِدٍ"، تو بیع صحیح ہو جائے گی ایک صاع میں بھئی، اس لیے کہ ایک معلوم اور متعین ہے، اور باقی کل کتنے ہیں وہ تو مجہول ہے بھئی۔ "وَفِي كُلِّهَا"، اور سارے کے سارے ڈھیر میں بیع صحیح ہو جائے گی، "إِنْ سَمّٰى جُمْلَةَ قُفْزَانِهَا"، اگر ذکر کر دیے اس نے سارے قفیز بھئی، کیا کر دیے؟ سارے سارے قفیز ذکر کر دیے، تو ساروں میں بیع صحیح ہو جائے گی بھئی۔ یہ وہ صورت ہے، جب سارے صاع بھی ذکر کیے، چاہے ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرے یا ہر پیمانے کی قیمت ذکر نہ کرے۔ دونوں کا ایک ہی حکم میں نے بتلایا تھا، کہ جب کل مقدار ذکر کر دی اب ہر پیمانے کی بیع ذکر، ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرے یا نہ کرے، اس میں تین احتمال ہیں: یا برابر ہوں گے یا کم ہوں گے یا زیادہ، یہ برابری والی صورت ہے۔ "وَفِي كُلِّهَا"، ساروں میں بیع صحیح ہو جائے گی، "إِنْ سَمّٰى جُمْلَةَ قُفْزَانِهَا"، اگر اس نے ذکر کر دیے سارے قفیز بھئی۔ دیکھیے! خود بتلائیں گے: "إِذَا قَالَ: بَعْتُ هٰذِهِ الصُّبْرَةَ"، جب کہا اس نے کہ: میں نے بیچا اس ڈھیر کو، بائع نے کہا، "وَهِيَ عَشَرَةُ أَقْفِزَةٍ"، اور یہ کتنا ہے؟ 10 قفیز 10 قفیز ہے بھئی، "كُلُّ قَفِيزٍ بِدِرْهَمٍ"، ہر قفیز ایک درہم کے بدلے، "صَحَّ فِي الْكُلِّ"، صحیح ہو جائے گی بیع سارے کے سارے میں۔ "وَفَسَدَ فِي الْكُلِّ فِي بَيْعِ سَلَّةٍ أَوْ ثَوْبٍ كُلُّ شَاةٍ أَوْ ذِرَاعٍ بِكَذَا"، اور فاسد ہو جائے گی بیع سارے کے سارے میں "فِي بَيْعِ سَلَّةٍ"، سلّہ کہتے ہیں جماعت بھئی، جانوروں کی جماعت بھئی، بھیڑ بکری، بھیڑ بکری کی جماعت بھئی۔ ایک ہے سَلّہ، ایک ہے سُلّہ بھئی، سَلّہ بھیڑ بکری کی جماعت کو کہتے ہیں، اور سُلّہ بِضَمِّ السِّين، یہ آدمیوں کی جماعت کو کہتے ہیں بھئی، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ"۔ اچھا، تو فاسد ہو جائے گی بیع سارے کے سارے میں ہی، "فِي بَيْعِ سَلَّةٍ"، ریوڑ یا گلے کی بیع میں بھئی، بھیڑ بکری کی جماعت کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ ریوڑ، ریوڑ کی بیع میں، "أَوْ ثَوْبٍ"، یا کپڑے کپڑے کی بیع میں، یعنی تھان مراد ہے پورا، "كُلُّ شَاةٍ"، جب اس نے یہ کہا ساتھ بھئی: "كُلُّ شَاةٍ"، ہر بھیڑ بکری کتنے کی ہے، "أَوْ ذِرَاعٍ"، یا ہر گز کتنے کا ہے، "بِكَذَا"، اتنے کے بدلے میں ہے۔ وہی کپڑے والی صورت ہے بھئی، کپڑا اس نے بیچا، اور کل مقدار ذکر نہ کی، دوسری صورت ہے، کپڑا بیچا اور کل مقدار ذکر نہ کی، ہاں! یہ کہا: ہر گز اتنے کے بدلے ہے، ایک درہم کا ہے، تو کیا بتلایا تھا بھئی؟ ایک میں ہوگی، کسی میں بھی نہیں ہوگی، وہی تو بتلا رہے ہیں: "وَفَسَدَ فِي الْكُلِّ"، سارے کے سارے میں بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد، جھگڑا آئے گا۔ کیوں جھگڑا آئے گا؟ کیونکہ وہ گز مختلف ہیں بھئی، وہ چاہے گا مجھے اعلیٰ ملے، اور بائع چاہے گا میں ادنیٰ دوں، اسی طرح بھیڑ بکریاں ہیں بھئی، ان میں بھی اب "کل" کہا، اور "کل" کی اضافت ہو رہی ہے ایسی چیز کی طرف جس کا منتہا معلوم نہیں، لہذا ادنیٰ شامل ہونا چاہیے، لیکن یہاں ادنیٰ بھی شامل نہیں ہوگا، اس لیے کہ بھیڑ بکریاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں، تو مشتری چاہے گا میں خوب موٹی تازی اور اچھی بکری لوں، اور بائع کیا چاہے گا کہ میں اس کو کوئی مریل سی بکری دے دوں، تو جھگڑا ہوگا، تو لہذا سب میں ہی بیع فاسد۔ تو دیکھیے! "وَفَسَدَ فِي الْكُلِّ"، اور بیع فاسد ہو جائے گی سارے کے اندر، "فِي بَيْعِ سَلَّةٍ"، ایک ریوڑ کی بیع کے اندر، "أَوْ ثَوْبٍ"، یا کپڑے کی بیع کے اندر، "كُلُّ شَاةٍ"، ہر بکری، "أَوْ ذِرَاعٍ"، یا ہر گز "بِكَذَا"، اتنے کے بدلے میں، یہ کہا اس نے۔ کیوں فاسد ہوگی؟ خود وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی صاحبِ، علامہ صدر الشریعہ: "لِأَنَّ الْبَيْعَ لاَ يَجُوزُ إِلاَّ فِي وَاحِدٍ"، اس لیے کہ بیع جائز نہیں ہے مگر ایک میں، وہ ضابطے کے مطابق، ایک میں ہونی چاہیے تھی، لیکن "وَذٰلِكَ الْوَاحِدُ مُتَفَاوِتٌ"، وہ ایک کیا ہے؟ متفاوت، مختلف ہیں بھئی۔ "وَكَذٰلِكَ كُلُّ مَعْدُودٍ مُتَفَاوِتٍ"، اور اسی طرح ہر معدودِ متفاوت ہوگا، معدود وہ چیز جو گنی، گن گنی جاتی ہے، متفاوت، مختلف، وہ چیزیں جو گن کر، گن کر بیچی جاتی ہیں اور مختلف ہوتی ہیں، ان کے افراد ایک جیسے نہیں ہوتے، بعض چیزیں گن کر بیچی جاتی ہیں لیکن افراد ایک جیسے ہوتے ہیں، ان کو معدوداتِ متقاربہ کہتے ہیں بھئی، ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اس کے افراد، جیسے انڈے ہیں بھئی، انڈے کیا ہیں؟ سارے اب گن کر بیچے جاتے ہیں، درجن کے حساب سے آپ خود خریدتے ہیں، لیکن اس کے سارے افراد کیا ہیں؟ ایک جیسے، لیکن بھیڑ بکری، وہ بھی گن کر بیچی جاتی ہے لیکن اس کے افراد مختلف ہیں، تو ہر معدودِ متفاوت کا یہی حکم ہے کہ جب اس کے اندر ہر فرد کی قیمت تو ذکر کر دے، لیکن کل تعداد ذکر نہ کرے، وہ معلوم نہیں ہے، تو اس صورت میں کسی ایک کے اندر بھی بیع منعقد نہیں ہوگی۔ تو یہاں لفظِ "شاة" آیا بھئی، شاة، شاة کے بارے میں بھئی، یہاں ایک ادبی نکتہ آپ کو بتلاؤں بھئی، شاة کا ترجمہ عموماً بکری کے کرتے ہیں، بکری کو نہیں کہتے شاة بھئی، شاة اسمِ جنس ہے غنم کی طرح، یہ بھیڑ بکری دونوں کو کہتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ صرف بکری کو نہیں بلکہ بھیڑ، بھیڑ بکری دونوں کو کہتے ہیں، ہمیشہ یہ نکتہ یاد رکھنا بھئی، جگہ جگہ یہ لفظ آئے گا، تو صرف بکری نہیں اس کا معنیٰ بلکہ بھیڑ بکری دونوں جنسیں ہیں، بکری کی بھی ساری جنس شامل ہے، مذکر ہو یا مؤنث، اور بھیڑ کی بھی ساری جنس آ گئی، مذکر ہو یا مؤنث ہو بھئی، جیسے کہ غنم کا لفظ ہے، وہ بھی بھیڑ بکری دونوں کو شامل ہوتا ہے۔ اگر صرف بکری کی جنس کو لینا ہے، تو اس کے لیے لفظ ہے: "مَاعِزٍ" بھئی، مَاعِزٍ، "ز" کے ساتھ ہے "مَاعِزٍ"، "مَاعِزٍ" "ز" کے ساتھ ہے۔ "ز" کے ساتھ ہے۔ "مَاعِزٍ" بکرا بکری دونوں کو کہتے ہیں بھئی، دونوں کو شامل ہے، اب بھیڑ اس سے خارج ہو گئی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو "مَاعِزٍ" بھئی، اور پھر بکرا بکری کے اندر اگر صرف مذکر ہو، تو اس کو "تَيْسٌ" کہتے ہیں، "ت" دو نقطوں والی، "تَيْسٌ"، اور صرف مؤنث ہو، بکری یعنی کہ، اس کو "عَنْزٌ" کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ "عَنْزٌ"، "عَنْزٌ"، "ع"، "ن"، "ز" بھئی "ز"، "عَنْزٌ"، جی، تو "شَاةٌ" کا لفظ بھیڑ بکری دونوں کو شامل تھا، مذکر مؤنث دونوں کو ان کے، اسی طرح غنم کا لفظ، تو ان میں سے صرف بکرے بکری کے جو علیحدہ ان کے لیے نام کیا ہے؟ "مَاعِزٍ"، تو بھیڑ اور دنبہ خارج ہوئے، ان کے لیے الگ لفظ ہے: "ضَأْنٌ" بھئی، "ض" کے ساتھ، "ض"، الف لکھیں، اس پر ہمزہ لکھیں بھئی، "ضَأْنٌ"، یہ دنبہ اور بھیڑ، مذکر مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے، اس میں اب بکری داخل نہیں ہے بھئی، بکری کی جنس، اور پھر اس کے اندر صرف جو مذکر ہے بھئی، یعنی دنبہ، اس کے لیے پھر لفظ ہے: "كَبْشٌ"، كَبْشٌ، كَبْشٌ، اور پھر اس میں سے صرف مؤنث جو ہو، یعنی بھیڑ، اس کے لیے لفظ ہے: "نَعْجَةٌ"، نَعْجَةٌ، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، پھر ایک وہ دنبہ ہوتا ہے، بڑی دم والا، جس وہ دم میں جس کے چربی ہوتی ہے بھئی، اس کو خروف کہتے ہیں، خروف، مذکر کو، اور مؤنث کو خروفہ کہتے ہیں، خروفہ۔ "فَإِنْ بَاعَ صُبْرَةً"، اگر کسی نے بیچا بھئی، ڈھیر کو، "عَلَى أَنَّهَا"، اس شرط پر کہ یہ ڈھیر جو ہے، "مِئَةُ صَاعٍ بِمِئَةٍ"، یہ کیا ہے؟ 100 صاع ہے، 100 کے، کے بدلے میں، 100 درہم، 100 درہم کے بدلے میں بھئی۔ بھئی! یہ تیسری اور چوتھی دونوں صورتیں ہیں مکیلات و موزونات میں، مکیلات و موزونات میں تیسری تیسری اور چوتھی میں کل مقدار ذکر کرتا تھا، لیکن تیسری میں ہر پیمانے کی قیمت ذکر نہیں، اور چوتھی میں ہر پیمانے کی قیمت ذکر، دونوں صورتیں اسی میں آ گئیں بھئی۔ بس کل ذکر کر دے، پھر آگے ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرے یا نہ کرے، دونوں کا ایک ہی حکم بتلانے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَهِيَ أَقَلُّ أَوْ أَكْثَرُ"، مساوات والی صورت گزر چکی ہے، اقل اور اکثر والی صورت باقی تھی اس میں، "وَهِيَ أَقَلُّ أَوْ أَكْثَرُ"، یہ اور یہ کیا تھے بھئی؟ اس حال میں کہ یہ کپڑا، یہ مکیلی یا موزونی چیز کم تھی یا زیادہ تھی، "أَخَذَ الْمُشْتَرِي الْأَقَلَّ بِحِصَّتِهِ"، تو لے لے گا مشتری کم کو اس حصے کے بقدر ثمن سے، "أَوْ فَسَخَ الْبَيْعَ"، یا بیع کو کیا کر دے گا؟ فسخ کر دے گا، اور اگر زیادہ نکلے، تو کہتے ہیں: "وَمَا زَادَ لِلْبَائِعِ"، وہ جو زائد ہے، وہ کس کے لیے ہے؟ بائع کے لیے، "لِأَنَّهُ لَمْ يَبِعْ إِلاَّ مِئَةَ صَاعٍ"، اس لیے کہ اس نے نہیں بیچے مگر صرف 100 صاع، اور نکلے 110 ہیں، تو 10 پر تو بیع واقع نہیں ہوئی، تو وہ 100 مشتری لے لے گا، 10 بائع کے ہی ہیں بھئی۔ اس لیے کہ اس نے نہیں بیچے مگر 100 صاع، "فَالزَّائِدُ لَهُ"، تو زائد بائع کے ہوں گے۔ "وَإِنْ بَاعَ الْمَزْرُوعَ هٰكَذَا"، اور اگر کسی نے مزروع کو اس طرح بیچا، مزروع کو یہ وہ تیسری صورت ہے مزروع کی بھئی، کپڑا بیچا، کل مقدار تو ذکر کرتا ہے، لیکن ہر گز کی قیمت ذکر اب اس میں یا وہ کپڑا کم نکلے گا یا زیادہ یا برابر بھئی، برابر ہوا تو پھر تو کوئی اشکال نہیں، کم یا زیادہ صورت ذکر کرنے لگے، "وَإِنْ بَاعَ الْمَزْرُوعَ هٰكَذَا أَخَذَ الْأَقَلَّ بِكُلِّ الثَّمَنِ"، اگر بیچا مزروع کو اسی طرح، تو اقل کو بھی لے لے گا پورے ثمن کے بدلے میں، "أَوْ تَرَكَ"، یا کیا کر دے گا؟ چھوڑ دے گا، اس لیے کہ ایک وصفِ مرغوب فوت ہو چکا ہے، وہ تو کون سا وصف چاہتا تھا؟ کس قسم کا کپڑا چاہتا تھا؟ کتنے گز ہو؟ نکلا کتنا ہے؟ 9 یا 8، تو وصفِ مرغوب فوت ہوا، اس لیے اس کو اختیار دیں گے۔ "وَالْأَكْثَرُ لَهُ بِلاَ خِيَارٍ لِلْبَائِعِ"، اور اگر زیادہ نکلا، 11، 12، 13 یا 15، 20 گز نکل آیا، تو وہ سارا کا سارا مشتری کا ہوگا، بغیر کسی خیار کے بائع کے لیے، بائع کو کوئی اختیار نہیں، یہ وصف ہے بھئی، ایک چیز، میں نے ایک غلام خریدا بھئی، اور بعد میں پتا چلا یہ تو کاتب بھی ہے، یوں کہو، وہ تو پڑھا لکھا بھی ہے، تو یہ تو ایک اچھا وصف نکل آیا، تو وصف کے مقابلے میں کوئی ثمن نہیں، تو یہ ایک اچھا وصف نکل آیا، بائع کی جہالت تھی، اس کو پتا نہیں تھا، تو اس میں اس سے کوئی حرج نہیں، "لِأَنَّ الذَّرْعَ فِي الثَّوْبِ وَصْفٌ"، اس لیے کہ پیمائش کپڑے کے اندر وصف ہے بھئی، کپڑے کے اندر، انہوں نے کہا بھئی: کم نکلے پھر بھی پورے پیسے، زیادہ نکلے پھر بھی اتنے ہی پیسے ہوں گے، کیوں؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّ الذَّرْعَ فِي الثَّوْبِ وَصْفٌ"، اس لیے کہ پیمائش جو ہے کپڑے کے اندر وصف ہے، یا یہ "لِأَنَّ الذِّرَاعَ" اگر الف ہو بیچ میں، تو پھر "ذراع" کا معنیٰ کر لیں، ویسے "ذرع" پیمائش کو کہتے ہیں، اس میں طول بھی آ جاتا ہے، عرض بھی، اس لیے کہ پیمائش کپڑے کے اندر "وَصْفٌ"، وہ کیا ہے؟ وصف ہے، بھئی! میں نے آپ کو دلیل ذکر کی تھی: "مَا يَتَعَيَّنُ بِالتَّبْعِيضِ وَالتَّشْخِيصِ فَالزِّيَادَةُ وَالنُّقْصَانُ فِيهِ وَصْفٌ"، وصف کی یہ پہچان کروائی تھی، یہ آپ کو، اب علامہ صدر الشریعہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ وصف کہتے کسے ہیں، وہ اپنے لفظوں میں، اپنے انداز میں آپ کے سامنے ذکر کریں گے، اور پھر یہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ کپڑے کے اندر یہ پیمائش کو ہم نے وصف کیوں قرار دیا؟ دیکھیے بھئی! تو سب سے پہلے وصف کی تعریف پر پہچان کروا رہے ہیں، کہتے ہیں: "وَالْمُرَادُ بِالْوَصْفِ"، اور وصف سے مراد "الْأَمْرُ الَّذِي إِذَا قَامَ بِالْمَحَلِّ"، وہ چیز ہے، وہ امر ہے جب وہ کسی محل کے ساتھ قائم ہو جائے، "يُوجِبُ فِي ذٰلِكَ الْمَحَلِّ حُسْنًا أَوْ قُبْحًا"، "يُوجِبُ" یعنی "يُثْبِتُ"، وہ ثابت کرتا ہے اس محل کے اندر حسن کو یا قبح کو۔ وصف کسے کہتے ہیں بھئی؟ جو قائم بالغیر ہو، غیر چیز کے ساتھ قائم ہو، غیر ہے تو اس کا بھی وجود ہے، وصف کا، غیر نہیں تو وصف کا وجود بھی بہادری جیسے زید ہے تو بہادری کا وجود ہے، زید نہیں تو بہادری کا وجود بھی نہيں ہے، الگ کہیں آپ نے بہادری دیکھی ہے بھئی؟ نہیں، یہ تو کسی کے ساتھ قائم ہوگی، کوئی انسان یا حیوان وغیرہ ہوگا تو پھر آپ کہہ سکتے ہیں یہ شجاع ہے۔ تو بتلایا: وصف وہ چیز ہے جب وہ کسی محل کے ساتھ قائم ہو جائے، تو اس محل میں وہ حسن پیدا کر دیتی ہے یا اس کے اندر قبح پیدا کر دیتی ہے، یہ وصف کی تعریف یاد رکھنا۔ "فَالْكَمِّيَّةُ الْمَحْضَةُ"، اب بتلا رہے ہیں کمیت، مقدار، بھئی! مقداریں کہتے ہیں دو قسم پر ہیں: ایک مقدار وہ ہے کہ جس سے بڑھنے یا کم ہونے سے اس میں کوئی حسن اور قبح نہیں آتا چیز کے اندر، وصف بتلایا آپ کو بھئی؟ وصف کسے کہتے ہیں؟ وصف وہ ہے جو کسی محل کے ساتھ قائم ہو جائے تو اس میں کیا آ جائے گا؟ حسن یا قبح آ جائے گا، یہ وصف کی پہچان یاد رکھنا، اب ہم آپ کو سامنے ثابت کریں گے کہ یہ جو پیمائش ہے کپڑے کے اندر، یہ وصف ہے۔ اور پھر کہتے ہیں: اب مقدار سمجھ لو، مقدار دو قسم پر ہے: ایک وہ مقدار ہے کہ جس کی کمی یا زیادتی سے اس چیز میں نہ تو حسن آتا ہے، نہ قبح آتا ہے، اور یہ جیسے مکیلات و موزونات میں ہے، بھئی! گندم کم ہو گئی، کوئی اس میں قباحت آئی؟ زیادہ ہو گئی، کوئی حسن آیا؟ صرف مقدار کم زیادہ ہو رہی ہے، کوئی حسن اور قبح کا اس سے تعلق نہیں ہے۔ اور ایک وہ مقدار ہے جس کی کمی زیادتی سے حسن و قبح کا تعلق ہے بھئی، جیسے کپڑے میں گز بھئی، ذراع بھئی، ذراع کے بڑھنے سے مقدار بڑھ رہی ہے، لیکن ساتھ کپڑے میں کیا آ جاتا ہے؟ حسن بھی، کم ہو جائے تو حسن بھی ختم ہو جایا کرتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہی بات کرنے لگے ہیں، تو کہتے ہیں کمیت دو قسم پر ہے: "فَالْكَمِّيَّةُ الْمَحْضَةُ"، ایک کمیتِ محضہ ہے، "لاَ تَكُونُ مِنَ الْأَوْصَافِ"، یہ اوصاف میں سے نہیں ہوگی، "بَلْ هِيَ أَصْلٌ"، بلکہ یہ کیا ہے؟ اصل ہے، "لِأَنَّ الْكَمِّيَّةَ عِبَارَةٌ عَنْ قِلَّةِ الْأَجْزَاءِ أَوْ كَثْرَتِهَا"، اس لیے کہ کمیت جو ہے وہ عبارت ہے قِلتِ اجزاء سے یا کثرتِ اجزاء، اجزاء کم ہوں تو وہ چیز کم ہو گئی، زیادہ، اور "وَالشَّيْءُ إِنَّمَا يُوجَدُ بِالْأَجْزَاءِ"، اور شے کس کے ذریعے پائی جاتی ہے؟ اجزاء کے، ایک کمیتِ محضہ ہے، کمیتِ محضہ ہے، وہ کم ہوگی، اجزاء کم ہوں گے، وہ زیادہ ہے، اجزاء زیادہ ہیں، اور شے کا وجود کس کے ذریعے ہوتا ہے بھئی؟ اجزاء، اجزاء ہیں تو شے ہے، اجزاء نہیں تو شے بھی معلوم ہوا یہ کمیتِ محضہ اصل ہے، یہ کیا ہے؟ یہ عینِ شے ہے، عینِ شے ہے بھئی، ثابت تو کر دیا بھئی، یہ اجزاء کی وجہ سے چیز کا وجود ہوتا ہے، اور یہ کمیتِ محضہ جو ہے، یہ قِلتِ اجزاء کا نام ہے یا کثرتِ اجزاء کا نام ہے، اور اجزاء عینِ شے ہیں، اصلِ شے ہیں، معلوم ہوا یہ کمیتِ محضہ جس کی وجہ سے حسن اور قبح نہیں آتا، صرف مقدار بڑھتی کم ہوتی ہے، وہ کیا ہے؟ عینِ شے ہے، اصلِ شے ہے، تو کہتے ہیں: یہ اصل ہے۔ "وَالْوَصْفُ مَا يَقُومُ بِالشَّيْءِ"، اور وصف تو وہ ہوتا ہے جو قائم بالشے ہوتا ہے، کسی چیز کے ساتھ قائم ہوتا ہے، اور یہ جو کمیتِ محضہ ہے، یہ وصف نہیں ہے، بلکہ یہ تو کیا ہے؟ عینِ شے ہے۔ اور وصف تو وہ ہوتا ہے جو قائم بالشے ہوتا ہے، "فَلاَ بُدَّ أَنْ يَكُونَ مُؤَخَّرًا عَنْ وُجُودِ ذٰلِكَ الشَّيْءِ"، پس ضروری ہے کہ وہ مؤخر ہو وجودِ شے سے، وہ کیا ہونا چاہیے وصف کو بھئی؟ وجودِ شے سے مؤخر ہونا چاہیے، اور یہ کمیتِ محضہ تو عینِ شے ہے، اصلِ شے ہے، معلوم ہوا یہ وصف نہیں، یہ اصلِ شے ہے، اس پر پھر کوئی حسن یا قبح آئے، وہ الگ چیز ہوگی، یہ نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اب دوسری ذکر کرنے لگے ہیں: "فَالْكَمِّيَّةُ الَّتِي تَخْتَلِفُ بِهَا الْكَيْفِيَّةُ"، ایک وہ کمیت ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی کیفیت اور اس کی حالت بدلتی ہے، وہ بڑھ گئی تو اس میں حسن آ گیا، کم ہو گئی تو حسن بھی چلا گیا، "فَالْكَمِّيَّةُ الَّتِي تَخْتَلِفُ بِهَا الْكَيْفِيَّةُ"، پس وہ کمیت جس کے ذریعے کیفیت مختلف ہوتی ہے، "كَالذَّرْعِ فِي الثَّوْبِ"، جیسے کہ پیمائش ہے کپڑے کے اندر، "أَمْرٌ"، یہ کمیت جس کے ذریعے کیفیت کیا ہوتی ہے؟ مختلف ہوتی ہے، "أَمْرٌ"، یہ خبر ہے اس کی بھئی، یہ ایسی، یہ ایسا امر ہے، "يَخْتَلِفُ بِهِ حُسْنُ الْمَزِيدِ عَلَيْهِ"، اس کے ذریعے مختلف ہوتا ہے مزید علیہ کا حسن بھئی، مزید علیہ کا کیا مختلف ہوتا ہے؟ بھئی! میں نے بتلایا کہ ذراع بڑھ رہے ہیں تو کپڑے کی مقدار بھی بڑھ رہی ہے، یہ ہے تو کمیت بھئی، کمیت ہے، لیکن صرف مقدار نہیں بڑھ رہی، بلکہ کپڑے کی کیفیت اور حالت بھی بدل رہی ہے، آپ کا سوٹ مثلاً کتنے گز میں بنتا ہے بھئی؟ 7 گز میں، اب 6 گز آپ کو کوئی بیچے، آپ خریدیں گے؟ نہيں، معلوم ہوا اس کے اندر حسن آپ کے لیے نہیں ہے، حسن نہیں ہے، اب اس 6 پر ایک گز اگر زیادہ ہو جائے، کتنا ہو؟ 7 گز، اب آپ کے نزدیک بھی اس میں کیا آ گیا؟ حسن آ گیا، تو یہ جو ایک گز بڑھایا، یہ ہے مزید، یہ کیا ہے؟ اور اس کو کس پر بڑھایا؟ 6 پر، وہ ہے مزید علیہ، وہ کیا ہے؟ تو یہاں دیکھیے اس ایک گز کے آنے سے مزید علیہ کا حسن بڑھ گیا، ان 6 کا حسن بھی بڑھ گیا، پہلے اتنا حسن نہیں تھا، صورت سمجھ میں آئی؟ مزید علیہ وہ جس پر زیادہ کیا جائے۔ "فَإِنَّ الثَّوْبَ إِذَا كَانَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ تُسَاوِي عَشَرَةَ دَنَانِيرَ"، اس لیے کہ کپڑا جب 10 ذراع کا ہے، "تُسَاوِي عَشَرَةَ دَنَانِيرَ"، وہ کتنے کا ہوگا؟ 10 دینار کا ہوگا، "وَإِنْ كَانَتْ تِسْعَةَ أَذْرُعٍ لاَ تُسَاوِي تِسْعَةَ دَنَانِيرَ"، اور اگر وہ کپڑا کتنے گز تھا؟ 9 گز، "لاَ تُسَاوِي تِسْعَةَ دَنَانِيرَ"، تو وہ 9 دینار کے برابر بھئی! 7 گز کا سوٹ ہے، اب آپ اس کو 600 میں بھی خریدنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر وہ 6 گز ہو جاتا ہے، تو 7 گز ہے مطلب 700 میں آپ خرید رہے ہیں، اب 6 گز ہو جاتا ہے، تو کیا آپ اس کو 600 میں خریدیں گے؟ نہيں، اب اس کی قیمت بڑی کم ہو جائے گی، آپ کہیں گے بھئی: یہ تو سوٹ تو بن نہیں سکتا، اور کسی ردی کام میں میں استعمال کر سکتا ہوں، تو اب یہ کتنے کا لوں گا میں؟ 400 کا لے لوں گا آپ سے زیادہ سے زیادہ، دیکھا! تو وہ سوٹ سے ذرا بھی کم ہو جائے، قیمت بہت نیچے چلی جاتی ہے، کیونکہ اب وہ کسی آپ کی، کسی عموماً لوگوں کے کام کا نہیں رہتا عام کام میں، سوٹ وغیرہ میں، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب 7 گز 700 کا ہے، تو 6 کتنے کا ہونا چاہیے؟ 600، لیکن آپ اس کو تیار ہی نہیں ہیں 600 میں لینے میں، معلوم ہوا اس کا حسن کیا ہوا ایک گز کی وجہ سے ختم ہو گیا، اور وہ گز آ جائے تو حسن بڑھ گیا، یہی بات کر رہے ہیں: "فَإِنَّ الثَّوْبَ إِذَا كَانَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ تُسَاوِي عَشَرَةَ دَنَانِيرَ"، اس لیے کہ کپڑا جب 10 گز کا ہوگا تو وہ 10 دینار کے برابر ہوگا، "وَإِنْ كَانَتْ تِسْعَةَ أَذْرُعٍ لاَ تُسَاوِي تِسْعَةَ دَنَانِيرَ"، اور اگر وہ 9 گز کا ہے تو وہ 9 دینار کے برابر نہیں، "لِأَنَّهُ لاَ يَكْفِي جُبَّةً"، اس لیے کہ وہ جبے کے لیے کافی نہیں ہے، اس سے آپ کا جبہ بنتا ہی نہیں، اب آپ اس کو 9 درہم میں نہیں خریدیں گے دینار میں، "وَالْعَشَرَةُ تَكْفِي"، اور 10 درہم تو وہ کافی ہوتے ہیں، تو 10، 10 گز ہو تو 10 درہم میں لے لیں گے، "فَوُجُودُ الذَّرْعِ الزَّائِدِ"، "عَلَى التِّسْعَةِ"، تو وہ جو پیمائش زائد ہے 9 پر، "يَزِيدُ التِّسْعَةَ"، وہ اس 9 کو بڑھا دیتا ہے "حُسْنًا"، باعتہار حسن کے، "فَيَصِيرُ كَالْأَوْصَافِ الزَّائِدَةِ"، تو یہ کس کی طرح ہو گیا یہ زائد پیمائش؟ یہ پیمائش جو 9 سے زیادہ تھی، اس سے کیا ہوا بھئی؟ 9 میں بھی حسن آ گیا، تو یہ پیمائش کس کی طرح ہو گئی؟ "كَالْأَوْصَافِ الزَّائِدَةِ"، یہ اوصافِ زائدہ کی طرح ہو گئی، جب ان جیسی ہو گئی تو حکم بھی انہی کا دے دیں گے، اور وصف کے مقابلے میں تو ثمن نہیں آتے، لہذا اس پیمائش کے مقابلے میں بھی ثمن نہیں آئیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "فَلاَ يُقَابِلُهَا شَيْءٌ مِنَ الثَّمَنِ"، لہذا نہیں آئے گا اس کے مقابلے میں کچھ بھی "مِنَ الثَّمَنِ"، ثمن میں سے، "أَيِ الثَّمَنُ لاَ يَنْقَسِمُ عَلَى الْأَجْزَاءِ"، یعنی ثمن تقسیم نہیں ہوں گے اجزاء پر، "كَمَا يَنْقَسِمُ فِي الْحِنْطَةِ"، جیسے کس میں تقسیم ہوتے تھے؟ گندم میں، گندم میں تو بھئی آپ نے کہا تھا ایک ڈھیر خریدا، اس نے کہا 100، 100 قفیز ہیں، اور نکل کتنے آئے؟ 80، تو کتنے میں لینے پڑیں گے؟ 80 میں ہی لیں گے، لیکن یہاں پر اگر 8 گز نکل آئے تو اب 8 درہم میں نہیں لیں گے بھئی، تو یہاں اجزاء پر ثمن تقسیم نہیں ہوں گے۔ "فَإِنَّهُ إِذَا كَانَ عَشَرَةُ أَقْفِزَةٍ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ"، اس لیے کہ جب وہ گندم کتنی تھی بھئی؟ جب 10 درہم جو ہیں اس کے، وہ برابر ہیں کس کے؟ کتنے کے برابر؟ برابر، "كَانَ قَفِيزٌ وَاحِدٌ بِدِرْهَمٍ"، تو ایک قفیز کتنے کا ہوگا؟ کتنے کے بدلے ہوگا؟ ایک درہم کے بدلے، "وَلَا كَذٰلِكَ فِي الثَّوْبِ"، اور کپڑے میں اس طرح نہیں ہوگا، "فَإِذَا بَاعَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ بِعَشَرَةٍ"، جب بیچا بائع نے بھئی 10 ذراع کو کتنے کے بدلے میں؟ 10 کے بدلے میں، "وَكَانَ الثَّوْبُ تِسْعَةَ أَذْرُعٍ"، اور کپڑا کتنا تھا؟ 9 گز تھا، "كَمَا فِي مَسْأَلَتِنَا"، جیسے کہ ہمارے مسئلے میں ہے، "لاَ يَأْخُذُهُ بِتِسْعَةٍ"، اس کو 9 کے بدلے نہیں لے گا، "بَلْ إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ بِعَشَرَةٍ"، بلکہ لے لے گا اس کو اگر چاہے تو 10 ہی کے بدلے، "وَإِنْ شَاءَ فَسَخَ"، اور اگر چاہے تو بیع کو کیا کر دے گا؟ فسخ کر دے گا، "وَإِنْ كَانَ زَائِدًا كَانَ لِلْمُشْتَرِي"، اور اگر زائد ہوا تو کس کے لیے ہوگا؟ مشتری کے لیے ہوگا، "فَإِنَّهُ بَاعَ هٰذَا الثَّوْبَ"، اس لیے کہ بائع نے بیچا ہے اس کپڑے کو، "فَوَجَدَ الْمُشْتَرِي فِيهِ أَمْرًا مَرْغُوبًا"، تو پایا ہے اس کے اندر مشتری نے ایک امرِ مرغوب، مرغوب چیز کو پایا، "كَانَ لِلْمُشْتَرِي"، تو وہ مشتری ہی کے لیے ہوگی، "كَمَا إِذَا اشْتَرَى عَبْدًا فَوَجَدَهُ كَاتِبًا"، جیسے کہ کسی نے کوئی غلام خریدا، تو اس کو پھر کاتب پایا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آ گئی؟ چلیے بس، "وَهٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ"۔
108 approved lectures · 9 of 108