آگے سبق دیکھیے بھئی:
”وَمَنْ أَقَرَّ بِوَلَدٍ ثُمَّ نَفَاهُ فَإِنَّهُ يُلَاعِنُ، لِأَنَّ النَّسَبَ لَزِمَهُ بِإِقْرَارِهِ، وَبِالنَّفْيِ بَعْدَهُ صَارَ قَاذِفًا فَيُلَاعِنُ، وَإِنْ نَفَاهُ ثُمَّ أَقَرَّ بِهِ حُدَّ، لِأَنَّهُ لَمَّا أَكْذَبَ نَفْسَهُ بَطَلَ اللِّعَانُ، لِأَنَّهُ حَدٌّ ضَرُورِيٌّ صِيرَ إِلَيْهِ ضَرُورَةَ التَّكَاذُبِ، وَالْأَصْلُ فِيهِ حَدُّ الْقَذْفِ“.
بھئی، گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر میت پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ مقذوف محصن تھا، تو اس کا کافر بیٹا یا غلام بیٹا جو ہے وہ بھی حد کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اگرچہ وہ بیٹا خود محصن نہیں ہے، وہ غلام ہے یا وہ کافر ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے والد جو کہ محصن تھا ان کی حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ بیٹا خود محصن نہیں ہے، اگر خود اس پر کوئی زنا کی تہمت لگاتا تو اس صورت میں اس پر حد قذف ثابت نہیں ہونی تھی۔ تو جیسے یہ اپنے اوپر الزام کی صورت میں حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا، اسی طرح اپنے والد کے لیے بھی یہ حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
وہ فرماتے ہیں کہ یہ اصل میں تہمت لگی ہے میت پر، اور عار بھی لاحق ہوا ہے میت کو، تو صورۃً بھی میت پر تہمت ہے اور معنًی بھی میت پر تہمت ہے۔ صورۃً تہمت ہونے کا کیا معنی؟ یعنی میت کو ذکر کیا اس نے زنا کے الزام میں۔ تو صورۃً بھی میت پر الزام اور معنًی بھی الزام میت پر ہے، میت پر تہمت ہے، اس لیے کیونکہ میت کو عار لاحق ہوا ہے۔ تو صورۃً بھی میت پر الزام اور معنًی بھی میت پر الزام، اور بیٹے کو صرف عار لاحق ہوا ہے، گویا بیٹے پر صرف معنًی الزام ہے، صورۃً نہیں۔ تو یہ معنًی الزام بھی اسی طرح ہو گیا جیسے بیٹے پر صورۃً اور معنًی دونوں اعتبار سے الزام ہو۔ جیسے کوئی بیٹے کو براہ راست اس پر زنا کا الزام لگائے اور بیٹا تو کافر یا غلام ہے، وہ تو محصن نہیں، تو اس پر کوئی الزام لگا دے، صورۃً بھی الزام ہو اور معنًی بھی الزام ہو تو وہ حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا، تو صرف معنًی جب اس بیٹے پر الزام ہے پھر وہ بطریق اولیٰ حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
تو ہم نے بتلایا تھا کہ حد قذف کے اندر شرط ہے کہ جس شخص پر زنا کا الزام لگایا گیا ہو وہ محصن ہونا چاہیے، تاکہ یہ کامل درجے کا عار دلانا ہو۔ یہ بات اس کے لیے کامل درجے کی عار کا سبب بنے، کیونکہ اس کی وجہ سے حد جیسی بڑی سزا آ رہی ہے۔ تو لہٰذا عار بھی کامل درجے کا ہونا چاہیے، اور عار کامل درجے کا تب ہی ہوگا کہ جس شخص پر الزام لگایا گیا ہو وہ محصن ہو، اور وہ میت تو محصن تھی لہٰذا اس پر جب الزام لگایا گیا زنا کا تو وہ کامل درجے کا عار ہوا، اور پھر یہی میت والا عار لوٹ کر بیٹے کی طرف آ گیا، تو بیٹے کے لیے بھی جو عار ہوا وہ کامل درجے کا ہوا، لہٰذا اس لیے بیٹا جو ہے میت کی حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
جبکہ امام زفر نے اس کو قیاس کیا تھا بیٹے کے اوپر الزام لگانے پر۔ ہم کہتے ہیں نہیں، آپ بیٹے پر الزام لگانے پر اس کو قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں مختلف ہیں۔ میت پر جو الزام لگا تھا وہ کامل درجے کا عار دلانے والا تھا، اور بیٹا تو غیر محصن ہے لہٰذا اس پر جو الزام لگایا جائے وہ کامل درجے کا عار نہیں، لہٰذا اس لیے آپ اس میت کے قذف کو بیٹے کے قذف پر قیاس نہیں کر سکتے۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر آقا جو ہے اپنے غلام سے کہے ”اے زانیہ کے بیٹے!“ یا باپ جو ہے اپنے بیٹے سے کہے ”اے زانیہ کے بیٹے!“ تو یہ غلام جو ہے آقا پر حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا، اور اسی طرح یہ بیٹا جو ہے باپ پر حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا، کیونکہ آقا کو غلام کی وجہ سے سزا نہیں دی جا سکتی۔ وجہ یہ ہے کیونکہ غلام کا جو حق ہوتا ہے وہ حقیقت میں آقا ہی کا حق ہوتا ہے۔ تو غلام کی وجہ سے آقا کو سزا دینا بالکل اسی طرح ہے جیسے آقا کے حق کی وجہ سے آقا ہی کو سزا دی جائے بھئی۔ اور اسی طرح بیٹا جو ہے باپ سے حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی وجہ سے والد کو تکلیف ہوگی بھئی، اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا﴾، تو جب باپ کو اف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے تو حد قذف کے ذریعے تو انتہا درجے کی تکلیف ہوگی تو وہ تو بطریق اولیٰ ممنوع ہوگا بھئی۔ اور نیز حدیث میں بھی آتا ہے کہ اولاد کی وجہ سے والد سے قصاص نہیں لیا جا سکتا اور غلام کی وجہ سے آقا سے قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ تو معلوم ہوا غلام کی وجہ سے آقا کو سزا نہیں دی جا سکتی اور بیٹے کی وجہ سے باپ کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
ہاں اگر اسی عورت کا کوئی اور بیٹا پہلے خاوند سے بھی ہوا، وہ جو عورت تھی جس کا انتقال ہو چکا ہے، اگر اس کا کسی اور خاوند سے کوئی بیٹا ہوا، تو پھر وہ باپ سے حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ یہاں پر یہ شخص اس کا باپ نہیں ہے۔ جب باپ نہیں ہے تو مانع ختم ہوا تو یہ حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر جس شخص پر حد قذف لگائی جائے اگر وہ مقذوف مر جائے تو حد قذف ساقط ہو جاتی ہے، حد قذف میں وراثت جاری نہیں ہوتی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حد قذف میں بھی وراثت جاری ہوتی ہے، لہٰذا ان کے نزدیک مقذوف کے مر جانے سے حد قذف ساقط نہیں ہوتی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اس بات میں اتفاق ہے کہ یہ جو حد قذف ہے، اس کے اندر حق العبد بھی ہے اور اس کے اندر حق اللہ بھی ہے۔ حق العبد اس طرح ہے کہ اس حد قذف کی وجہ سے ایک خاص آدمی کو فائدہ پہنچ رہا ہے کہ اس سے عار دور ہو رہا ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا جب کسی ایک چیز کی وجہ سے ایک خاص آدمی کو فائدہ پہنچے تو معلوم ہوا یہ اس آدمی کا حق ہے۔ اور دوسری طرف دیکھا جائے تو تمام لوگوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، حد کی وجہ سے اور لوگ بھی اس جرم سے باز آ جاتے ہیں، تو بایں اعتبار دیکھیں تو یہ حق اللہ ہے۔ حق اللہ ایسا ہوتا ہے جس میں عام لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ تو معلوم ہوا اس حد قذف میں حق اللہ بھی ہے اور حق العبد بھی ہے۔
اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ بہت سے احکام ہیں جن سے پتہ چلتا ہے یہ حق العبد ہے، اور بہت سے احکام ہیں جن سے پتہ چلتا ہے یہ حق اللہ ہے۔ بعض وہ احکام جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حق العبد ہے، مثلاً ایک تو یہ کہ زمانہ زیادہ گزر جائے پھر بھی حد قذف ساقط نہیں ہوتی، معلوم ہوا یہ حق العبد ہے، اگر حق اللہ ہوتا تو زمانہ زیادہ گزرنے سے اس نے ساقط ہو جانا تھا۔ اور نیز حق العبد ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ حد القذف کے اندر ایک دفعہ جب اقرار کر لے تو پھر رجوع جائز نہیں ہے، اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ حق العبد ہے، حق اللہ کے اندر تو رجوع جائز ہوتا ہے بھئی۔ اور نیز اسی طرح اس کے اندر دعویٰ بھی شرط ہے حد القذف کے اندر، اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ حق العبد ہے۔
جبکہ اسی طرح بعض احکام سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حق اللہ ہے، مثلاً ایک تو یہ کہ اس کے اندر مقذوف اگر معاف کرنا چاہے تو معاف نہیں کر سکتا۔ جب ایک دفعہ قاضی کے پاس بات پہنچ گئی، گواہی پیش ہو گئی، اب مقذوف معاف کرنا چاہتا ہے تو وہ معاف نہیں کر سکتا، معلوم ہوا یہ اس بندے کا حق نہیں ہے، اگر اس کا حق ہوتا پھر تو اس کا معاف کرنا صحیح ہوتا بھئی، لیکن اس کا معاف کرنا صحیح نہیں، یہ بتلا رہا ہے کہ یہ حق اللہ ہے بھئی۔ اور نیز ایک اور حکم جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حق اللہ ہے، یہ کہ اس کے اندر جو قاذف ہے اس سے قسم نہیں لی جاتی۔ مقذوف اگر دو گواہ پیش کر دے پھر تو قاذف پر حد قذف ثابت ہو جائے گی، لیکن اگر مقذوف دو گواہ پیش نہ کر سکا تو قاذف پر، الزام لگانے والے پر قسم نہیں آئے گی، اور یہ علامت ہے کہ یہ حق العبد نہیں ہے، اگر یہ حق العبد ہوتا تو اس کے اندر منکر پر قسم آتی بھئی۔ اور نیز اسی طرح غلامی کی وجہ سے یہ حد قذف نصف ہو جاتی ہے، معلوم ہوا یہ حق اللہ ہے، حق العبد نہیں، اگر حق العبد ہوتا تو آدھا نہ ہوتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اس حد قذف کے اندر دونوں جہتیں ہیں: حقِ شرع ہونے کی جہت بھی ہے اور حق العبد ہونے کی جہت بھی ہے، اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے۔ البتہ پھر اس کے بعد غالب کون سا حق ہے، حق العبد ہے یا حق اللہ ہے؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں وہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ حق العبد جو ہے وہ غالب ہے۔ حق العبد غالب ہے، انہوں نے حق العبد کو غالب قرار دیا ہے اس اعتبار سے کہ بندہ محتاج ہے اور اللہ تو کسی چیز کے محتاج نہیں، اللہ تو ہر چیز سے بے نیاز ہیں بھئی، تو انہوں نے اس کو بندے کا حق قرار دیا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک اس کے اندر غالب جو ہے وہ حقِ شرع ہے۔ وجہ یہ کہ جب اس کو حقِ شرع قرار دیا جائے گا تو اس میں بندے کے حق کی بھی رعایت ہو گئی کیونکہ اللہ تو سب کے حقوق کی حفاظت فرمانے والے ہیں، تو جب اللہ کا حق غالب قرار دے دیا تو بھی بندے کے حق کی حفاظت ہو گئی۔ لیکن اگر اس کا برعکس ہو، یعنی بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے تو پھر اللہ کے حق کو تو سرے سے ہی باطل قرار دینا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ اللہ کا حق جو وصول کیا جاتا ہے وہ صرف نائب ہونے کے اعتبار سے وصول کیا جاتا ہے۔ اللہ کا حق جو ہے وہ خلیفۃ المسلمین یا جو امام ہے مسلمانوں کا وہ وصول کرتا ہے اور وہ اللہ کا نائب ہو کر یہ حق وصول کرتا ہے، تو وہ خود وصول کرتا ہے یا جن کو وہ مقرر کرتا ہے، جو اس کے قاضی یا گورنر وغیرہ ہوتے ہیں، وہ اس خلیفہ کے نائب ہو کر وہ اس حق کو وصول کرتے ہیں۔ معلوم ہوا اللہ کا حق وصول کرنا ہر ایک کا کام نہیں ہے، بلکہ یہ صرف بطورِ نائب کے وصول کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی صرف خلیفۃ المسلمین کا کام ہے۔ تو عام لوگ جو ہیں وہ تو اللہ کے نائب نہیں، وہ تو اللہ کا حق وصول نہیں کر سکتے، تو دیکھو اس صورت میں اگر بندے کے حق کو غالب قرار دے دیا جائے تو اللہ کے حق کو باطل قرار دینا پڑے گا، اس لیے کیونکہ بندے تو اللہ کے نائب نہیں ہیں کہ وہ اللہ کا حق وصول کریں بھئی۔ تو لہٰذا اس کے اندر حق اللہ کو غالب قرار دیا جائے تو بندے کے حق کی بھی رعایت ہو جاتی ہے، اور حق العبد کو غالب قرار دیا جائے تو اللہ کے حق کو باطل قرار دینا لازم آتا ہے، لہٰذا اس صورت کو اختیار کیا جائے گا جس میں دونوں کی رعایت ہو جائے اور وہ اسی صورت میں ہے کہ اللہ کے حق کو غالب قرار دیا جائے۔
اس پر یہاں اشکال ہوتا ہے کہ اے احناف! عجیب بات ہے، یہاں پر امام شافعی رحمہ اللہ نے بندے کے حق کو غالب قرار دیا تو آپ نے اللہ کے حق کو غالب قرار دے دیا، حالانکہ کئی مقامات پر آپ خود بندے کے حق کو غالب قرار دیتے ہیں، اور یہی دلیل پیش کرتے ہیں آپ کہ بندہ محتاج ہے اور اللہ بے نیاز ہے لہٰذا بندے کے حق کو غالب ہونا چاہیے۔ تو اس کا جواب یاد رکھیے گا، جواب یہ کہ ایسی صورت جہاں دونوں حقوں کو جمع کرنا ممکن ہی نہ ہو تو پھر وہاں تو ہم بھی بندے کے حق کو غالب قرار دیتے ہیں کیونکہ بندہ محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہیں، لیکن ایسا مقام جہاں دونوں حقوں کو جمع کرنا ممکن ہو تو وہاں ہم اسی صورت کو اختیار کرتے ہیں، اور یہاں حد قذف کے اندر دونوں حقوں کو جمع کرنا ممکن ہے کہ اللہ کے حق کو غالب قرار دے دیا جائے تب بھی بندے کے حق کی رعایت ہو جاتی ہے۔ اگر دونوں حقوں کی رعایت ممکن نہ ہوتی، اگر دونوں حقوق کو جمع کرنا ممکن نہ ہوتا تو پھر ہم بھی بندے کے حق کو غالب قرار دے دیتے جیسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ہے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ وہ مشہور ضابطہ ہے جس پر بہت سی مختلف فروع نکلتی ہیں جن میں ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے۔ شوافع کے نزدیک چونکہ یہ حد قذف جو ہے حق العبد ہے لہٰذا اس کے اندر وراثت بھی جاری ہوگی، اور نیز اس کے اندر مقذوف جو ہے وہ معاف بھی کر سکتا ہے، اور نیز اس کے اندر ان کے نزدیک عوض لینا بھی جائز ہے کیونکہ یہ بندے کا حق ہے لہٰذا حد قذف کے بدلے میں وہ مال بھی لے سکتا ہے، اور نیز اسی طرح ان کے نزدیک اس میں تداخل بھی نہیں ہوگا اگر بندے الگ الگ ہیں یا الزام الگ الگ زنا کا ہے تو پھر اس میں تداخل بھی نہیں ہوگا۔ ایک ہی آدمی پر ایک ہی زنا کا الزام بار بار لگائے پھر تو کہتے ہیں تداخل ہو جائے گا شوافع کے نزدیک، کیونکہ ایک ہی بندے پر ایک ہی زنا کا الزام کئی دفعہ لگایا ہے تو وہ ایک ہی زنا کا الزام ہے لہٰذا وہاں تو تداخل ہوگا ایک ہی حد آئے گی، لیکن اگر مختلف بندوں پر زنا کے الزام لگائے ہیں تو یہ حق العبد ہے اور حق العبد کے اندر تداخل نہیں ہوتا، لہٰذا ہر بندے کے لیے الگ الگ حد قذف اس کو لگائی جائے گی۔ یا ایک ہی آدمی پر الزام لگایا ہے لیکن الگ الگ زنا کا الزام لگایا ہے، ایک دفعہ الزام لگایا کہ تو نے فلاں وقت فلاں عورت سے زنا کیا تھا، دوسرے وقت الزام لگایا کہ تو نے فلاں دوسری عورت کے ساتھ فلاں وقت زنا کیا تھا، تیسرے وقت ایک تیسری عورت کا الزام اسی ایک آدمی پر لگایا، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر تینوں الگ الگ زنا ہیں، ایک ہی آدمی پر الزام ہے لیکن تین الگ الگ زنا کا الزام ہے، تو لہٰذا یہاں الگ الگ حد قذف لگے گی، یہاں تداخل نہیں ہوگا۔ جبکہ ہمارے نزدیک اس کے اندر حق اللہ غالب ہے لہٰذا چاہے ایک آدمی پر زنا کا الزام لگائے، چاہے مختلف آدمیوں پر زنا کا الزام لگائے، تمام صورتوں کے اندر تداخل ہو جائے گا، ایک ہی حد قذف سب کے لیے کافی ہو جائے گی کیونکہ اس کے اندر اللہ کا حق غالب ہے۔ اور نیز اس کے اندر وہ جو مقذوف ہے وہ اس حد قذف کا عوض نہیں لے سکتا، اس کے بدلے میں مال نہیں لے سکتا اس لیے کیونکہ اس کے اندر حق اللہ غالب ہے۔ اور نیز اسی لیے ہمارے نزدیک اس میں وراثت بھی جاری نہیں ہوتی بھئی۔ اور نیز اسی لیے ہمارے نزدیک یہاں مقذوف معاف کرنا چاہے، جب قاضی کے پاس ایک دفعہ الزام ثابت ہو گیا تو اب مقذوف جو ہے وہ معاف نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے اندر اللہ کا حق غالب ہے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کسی شخص نے کسی پر زنا کا الزام لگانے کا اقرار کر لیا اور بعد میں وہ رجوع کرتا ہے تو اس کا رجوع معتبر نہیں، اس لیے کیونکہ یہاں پر مقذوف جو ہے وہ اس کو جھٹلا رہا ہے، تو یہاں جھٹلانے والا موجود ہے۔ جبکہ حدِ زنا اور حدِ سرقہ جو ہے وہاں اگر وہ اقرار کرنے والا اگر رجوع کرتا ہے تو حد ساقط ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ خالص اللہ کا حق ہے اور وہاں پر جھٹلانے والا کوئی نہیں ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا اگر کسی شخص نے کسی عربی سے کہا: ”يَا نَبَطِيُّ“، ”يَا نَبَطِيُّ“، میں نے بتلایا نبط ایک قوم تھی جو عراق کے اندر رہتی تھی اور وہ برے اخلاق والے تھے اور غیر فصیح لوگ تھے، تو یہاں پر جب ایک عربی کو ”يَا نَبَطِيُّ“ کہا تو یہاں دراصل تشبیہ دی جا رہی ہے اس قومِ نبط کے ساتھ برے اخلاق کے اندر یا غیر فصیح ہونے کے اندر، یہ کوئی نسب کی نفی نہیں کر رہا، لہٰذا یہ زنا کا الزام نہیں، لہٰذا اس صورت میں حد قذف نہیں آئے گی۔
اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی عربی سے کہا کہ تو عربی نہیں ہے: ”لَسْتَ بِعَرَبِيٍّ“، کہ تو عربی نہیں ہے، تو یہاں پر بھی اس سے عربی ہونے کی جو نفی کر رہا ہے اس کا مطلب زنا کا الزام نہیں ہے، بلکہ معنی یہ ہے کہ تم عربوں جیسے نہیں ہو اپنے اخلاق کے اعتبار سے یا اپنی فصاحت کے اعتبار سے۔ تو معلوم ہوا یہ اچھے اخلاق کی نفی کرنے کے لیے یا عدمِ فصاحت کو بیان کرنے کے لیے یوں کہا جاتا ہے کہ ”أَنْتَ لَسْتَ بِعَرَبِيٍّ“ کہ تو عربی نہیں ہے، تو یہ زنا کا الزام نہیں لہٰذا اس صورت میں حد قذف نہیں آئے گی۔
اور اسی طرح اگر ایک آدمی نے دوسرے سے کہا: ”يَا ابْنَ مَاءِ السَّمَاءِ“ (اے آسمان کے پانی کے بیٹے!)، تو اس صورت میں بھی اس پر حد نہیں آئے گی، اس لیے کیونکہ ماء السماء سے مراد ہے بارش کا پانی، اور بارش جو ہے وہ تو عام ہوتی ہے، ہر شخص کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے، تو ماء السماء جو ہے سخی آدمی کے لیے عربی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تو ”يَا ابْنَ مَاءِ السَّمَاءِ“ کا معنی ہے اے سخی آدمی کے بیٹے! لہٰذا اس لیے یہ کوئی نسب کی نفی نہیں کر رہا، یہ تو تعریف کر رہا ہے کہ تم ایک سخی آدمی کے بیٹے ہو، تو اس صورت میں حد قذف نہیں آئے گی۔ یا نیز اسی طرح بارش کا پانی بڑا صاف ستھرا ہوتا ہے، تو حسن و جمال کے اندر بھی بعض اوقات اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے، جیسے بارش کا پانی خوب صاف ستھرا اور نکھرا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح کوئی شخص بڑا حسین و جمیل ہو تو اس کو بھی ماء السماء کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بارش کے پانی کی طرح صاف ستھرا، نکھرا اور خالص ہے بھئی۔ تو ”يَا ابْنَ مَاءِ السَّمَاءِ“ کہنے سے حد نہیں آئے گی بھئی۔
اور اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی دوسرے کی نسبت کی اس کے چچا کی طرف یا ماموں کی طرف یا ماں کے دوسرے خاوند کی طرف، تو اس صورت میں بھی حد نہیں آئے گی، اس لیے کیونکہ ان سب کو اب کہا جاتا ہے عربی زبان میں۔
اور اسی طرح اگر ایک شخص نے دوسرے سے کہا: ”زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ“، تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس پر حد قذف آئے گی۔ میں نے بتلایا تھا ”زَنَى يَزْنِي“ جو ہے یہ جس طرح ناقص ہے، اسی طرح یہ یا کی جگہ ہمزہ بھی استعمال ہوتا ہے: ”زَنَأَ يَزْنَأُ“ کا معنی بھی زنا کرنا ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں ”زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ“ کا معنی یہ ہے کہ وہ دوسرے پر الزام لگا رہا ہے کہ تم نے پہاڑ میں زنا کیا ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”زَنَأَ“ کا معنی اوپر چڑھنے کے بھی آتے ہیں، اور یہاں الجبل کا قرینہ بھی موجود ہے، معلوم ہوا کہنے والے نے پہاڑ پر چڑھنے کے معنی کا ارادہ کیا ہے، اور چنانچہ پھر دلیل کے طور پر کلامِ عرب بھی پیش کیا کہ ایک عرب عورت جو ہے اپنے بیٹے سے کہتی ہے: ”وَارْقَ إِلَى الْخَيْرَاتِ زَنَاءً فِي الْجَبَلِ“ کہ تو نیکیوں پر چڑھ جا اس طرح جیسے کہ پہاڑ میں چڑھا جاتا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب وہ شخص خود معنی بیان کر رہا ہے کہ میں نے اوپر چڑھنے کے معنی کا ارادہ کیا تھا ”زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ“ سے، تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور حد قذف واجب نہیں ہوگی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ”زَنَأَ“ کا فعل جیسے اوپر چڑھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح زنا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے کیونکہ جس طرح ہمزہ کو حرفِ علت کے ساتھ بدلا جاتا ہے اسی طرح بعض عرب جو ہیں وہ حرفِ علت کو ہمزہ کے ساتھ بھی بدل دیتے ہیں، جیسے ”بَابٌ“ جو ہے اس کے اندر وہ کہتے ہیں ”بَأْبٌ“، اور اسی طرح ”شَابٌّ“ جوان کو کہتے ہیں تو اس میں وہ ”شَأْبٌّ“ کہتے ہیں بھئی۔ اور باقی جو پہاڑ کا ذکر آیا، کہتے ہیں بھئی پہاڑ کے ذکر کو آپ قرینہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ اگر یہاں اوپر چڑھنے کے معنی کا ارادہ ہوتا تو ”فِي“ کے بجائے وہ ”عَلَى“ ذکر کرتا اور یوں کہتا: ”زَنَأْتَ عَلَى الْجَبَلِ“۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس شخص پر حد قذف جاری کی جائے گی اگر مقذوف نے حد قذف کا مطالبہ کیا بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا: ایک آدمی نے دوسرے سے کہا: ”يَا زَانِي“، دوسرے نے کہا: ”لَا بَلْ أَنْتَ“ (نہیں، بلکہ تو ہے)، تو پھر اس صورت میں دونوں پر حد قذف آئے گی۔ دوسرے شخص نے اگرچہ خبر ذکر نہیں کی، ”لَا بَلْ أَنْتَ“ کہا ہے، لیکن یہ بھی اسی طرح ہے جیسے اس نے یوں کہا ہو: ”لَا بَلْ أَنْتَ زَانٍ“۔ ”لَا بَلْ أَنْتَ“، ”زَانٍ“ کے معنی میں ہے، اس لیے کیونکہ ”بَلْ“ جو ہے ماقبل کلام میں اگر کوئی غلطی ہوئی ہو اس کی تلافی کے لیے آتا ہے، تو یہاں پر جو خبر پہلے مذکور تھی اسی کو دوسرے کے لیے بھی مذکور مان لیا جاتا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے ”يَا زَانِي“ یہ تو ندا ہے، یہ تو خبر ہی نہیں ہے، تو یہاں آپ دوسرے کے لیے خبر کیسے نکالیں گے؟ اول میں خبر ہے ہی نہیں، اول تو ندا ہے، تو ثانی میں زانی خبر کیسے نکال لی؟ تو میں نے بتلایا تھا کہ ”يَا زَانِي“ بظاہر ندا ہے لیکن ضمناً خبر ہے بھئی، گویا ندا دینے والے کو کہہ رہا ہے کہ تمہارے اندر یہ وصف موجود ہے اسی لیے میں تمہیں اس وصف کے ساتھ ندا دے رہا ہوں۔ تو لہٰذا دونوں آدمیوں کو حد لگائی جائے گی۔
اور جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”يَا زَانِيَةُ“، اور اس نے جواب میں کہا: ”لَا بَلْ أَنْتَ“، تو اس صورت میں صرف عورت کو حد قذف لگائی جائے گی اگر خاوند نے مطالبہ کیا۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب خاوند اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو اس صورت میں لعان کیا جاتا ہے، اور میں نے بتلایا تھا لعان شہادتوں کا نام ہے جن کے ساتھ قسم بھی ہوتی ہے۔ مثلاً خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا یا خاوند نے اپنے سے بچے کے نسب کی نفی کی، تو بیوی اس کو قاضی کے پاس لے جا سکتی ہے اور قاضی پھر دونوں میں لعان کروائے گا۔ لہٰذا خاوند پہلے چار مرتبہ شہادتیں دے گا قسم کے ساتھ کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں۔ چار مرتبہ یوں کہے گا، اور پانچویں مرتبہ کہے گا: اگر میں اپنے اس الزام میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو بھئی۔ اور عورت جو ہے پھر اس کے بعد عورت جو ہے وہ اسی طرح چار شہادتیں دے گی اور کہے گی کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ واللہ اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اس میں یہ جھوٹا ہے۔ اور چار مرتبہ یہ شہادتیں دینے کے بعد پانچویں مرتبہ عورت کہے گی کہ اگر یہ شخص اپنے اس الزام میں سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اور پھر اس کے بعد خاوند اور بیوی میں قاضی جدائی کروا دے گا۔ اور اگر بچے کے نسب کی اس نے نفی کی تھی اور یہ بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں تھی، تو پھر اس صورت میں اگر یہ لعان بچے کی نفی کی وجہ سے ہوا تھا تو قاضی اس بچے کا نسب جو ہے وہ مرد سے کاٹ کر عورت کے ساتھ جوڑ دے گا۔ اور یہ بھی یاد رکھنا، اگر اس خاوند نے بچے کے نسب کی نفی کی ہے تو بچے کے نسب کی نفی کو ذکر کرے گا کہ واللہ میں نے اس عورت پر جو الزام لگایا ہے بچے کے نسب کی نفی کا، میں اس میں سچا ہوں۔ اور اگر دونوں الزام لگائے ہیں، بچے کے نسب کی بھی نفی کی ہے اور زنا کا لفظ بھی صراحتاً ذکر کیا ہے، تو پھر دونوں کو ذکر کرے گا کہ واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اور واللہ میں نے جو اس بچے کے نسب کی اپنے آپ سے نفی کی ہے میں اس میں سچا ہوں، اور عورت بھی ان دونوں کو پھر جواب میں ذکر کرے گی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا جب لعان کر لیں، قاضی دونوں میں جدائی کروا دے گا۔ اور یہ جو لعان ہے یہ مرد کے لیے حد قذف کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ہے؟ حد قذف، کیونکہ اگر لعان نہ ہوتا تو اس آدمی پر حد قذف جاری ہونی تھی، اس نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا ہے۔ اور عورت کے لیے یہ حد زنا کے درجے میں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ جو لعان ہے یہ بھی حد ہی کے معنی میں ہے، حد ہی کے درجے میں ہے۔
اور میں نے پھر آپ کو بتلایا تھا کہ ضابطہ یاد رکھنا، اگر کسی مقام پر دو حدیں آ رہی ہوں لیکن اگر ایک حد کو مقدم کریں تو دوسری حد ساقط ہو جاتی ہے، تو پھر اسی حد کو مقدم کرنا واجب ہے تاکہ دوسری حد کو ٹال دیا جائے، اس کو ختم کر دیا جائے، اس لیے کیونکہ فقہاء کی پوری کوشش ہوتی ہے کسی طرح حد کو ٹال دیا جائے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر عورت کو جب حد قذف لگ جائے گی تو اب اس کے بعد لعان نہیں ہو سکتا، کیونکہ حد قذف والے کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جاتی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا﴾ ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو۔ تو جب عورت کو حد قذف لگ گئی تو وہ اہلِ شہادت نہ رہی، اور لعان تو شہادتوں ہی کا نام تھا، لہٰذا اب یہ اہلِ شہادت نہ رہی تو لعان ساقط ہو گیا۔ تو لہٰذا حد قذف کو مقدم کریں گے لعان کو ساقط کرنے کے لیے۔ اور اگر ہم لعان کو مقدم کریں تو پھر تو حد قذف ساقط نہیں ہوتی، لعان کے بعد بھی حد قذف لگانا پڑے گی۔ تو ایک صورت اختیار کریں تو اس میں ایک حد ساقط ہو جاتی ہے اور دوسری صورت اختیار کریں تو دونوں حدیں لگانا پڑتی ہیں، تو لہٰذا اس صورت کو اختیار کریں گے جس میں ایک حد ساقط ہو جائے۔ تو عورت کو پہلے حد قذف لگا دیں گے اور پھر لعان ساقط ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور اگر اس کے مقابلے میں خاوند نے بیوی سے کہا: ”يَا زَانِيَةُ“ (اے زانیہ!) اور بیوی نے جواب میں کہا: ”زَنَيْتُ بِكَ“ کہ میں نے تیرے ساتھ زنا کیا ہے، تو اس صورت میں نہ حد آئے گی عورت پر اور نہ لعان ہوگا۔ حد اس لیے نہیں آئے گی، اس لیے کیونکہ اس کلام کے اندر دو احتمال ہیں، دو معنی ہو سکتے ہیں۔ بیوی نے کیا کہا؟ ”زَنَيْتُ بِكَ“۔ خاوند نے کہا تھا: اے زانیہ! اور بیوی نے کہا: ”زَنَيْتُ بِكَ“ کہ میں نے تیرے ساتھ زنا کیا ہے۔ یا تو بیوی کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نکاح سے پہلے میں نے تمہارے ساتھ ہی زنا کیا تھا، تو گویا بیوی زنا کا اقرار کر رہی ہے۔ تو خاوند نے الزام لگایا، خاوند پر حد قذف آنی تھی، لیکن بیوی نے قبول کر لیا، بیوی نے خاوند کو سچا کہہ دیا کہ ہاں ہم دونوں نے نکاح سے پہلے زنا کیا تھا، تو خاوند سے تو حد قذف ساقط ہو گئی۔ لیکن بیوی کی طرف سے خاوند پر الزام ہو گیا کہ ہم دونوں نے کیا کیا تھا؟ زنا۔ تو خاوند پر الزام ہوا اور خاوند نے تو بیوی کی تصدیق نہیں کی لہٰذا یہ تقاضا کرتا ہے کہ بیوی کو حد قذف لگائی جائے۔ اور لیکن اس میں دوسرے معنی کا بھی احتمال ہے، وہ جو عورت نے کہا ”زَنَيْتُ بِكَ“ میں نے تجھ سے زنا کیا ہے، اس میں دوسرے معنی کا بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے بیوی کے کہنے کا مطلب یہ ہو کہ یہ جو تم نے میرے ساتھ حلال وطی کی ہے اگر اس کو تم زنا کہتے ہو تو ہاں یہ زنا میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے، کیونکہ اس کے علاوہ تو میں نے کسی اور کو اپنے اوپر قدرت نہیں دی، اور عموماً اس قسم کے موقع پر یہی معنی مراد ہوتا ہے۔ لیکن بہرحال پہلے معنی کا بھی احتمال تو آ گیا۔ تو اگر یہ دوسرا معنی مراد لے لیا جائے تو اس کے اندر تو بیوی زنا کی بات کر ہی نہیں رہی، وہ تو اسی حلال وطی کو ویسے زنا کا نام دے رہی ہے، تو اس صورت میں لعان آتا ہے بھئی۔ تو اگر پہلا معنی لیا جائے کہ نکاح سے پہلے والا زنا مراد لیا جائے تو عورت پر حد قذف آتی ہے، اور دوسرا معنی مراد لیا جائے کہ اس حلال وطی کو وہ زنا کہہ رہی ہے تو پھر اس صورت کے اندر لعان آتا ہے۔ تو شک آ گیا حد قذف کے آنے میں اور لعان کے آنے میں شک آ گیا کیونکہ دونوں معنی کا احتمال ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ شک کی وجہ سے حدود ساقط ہو جاتی ہیں، تو نہ حد قذف آئے گی اور نہ لعان آئے گا کیونکہ لعان بھی حد کے معنی میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَمَنْ أَقَرَّ بِوَلَدٍ ثُمَّ نَفَاهُ فَإِنَّهُ يُلَاعِنُ“
صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے اپنے بچے کے نسب کا اقرار کیا اور پھر اس کے بعد اس کی نفی کر دی۔ پہلے بچے کے نسب کا اقرار کیا اور پھر اس کی نفی کر دی، یا اس کا برعکس ہوتا ہے کہ پہلے بچے کے نسب کی نفی کی اور اس کے بعد بچے کے نسب کا اقرار کیا۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص جو ہے بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے، تو بالکل بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں وہ نفی کر سکتا ہے، ان دنوں میں جن دنوں کے اندر بچے کے لیے چیزیں خریدی جاتی ہیں، جن دنوں میں بچے کی مبارکبادیں وصول کی جاتی ہیں، تو اگر کوئی شخص اپنے سے بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو انہی دنوں میں اس کو نسب کی نفی کرنا پڑے گی۔ اگر ان دنوں وہ خاموش رہتا ہے اور بعد میں آگے چل کر کچھ مدت کے بعد وہ نسب کی نفی کرتا ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو نسب کی نفی نہیں ہوگی، البتہ پھر لعان کرنا پڑے گا۔ لعان، بیوی اگر قاضی کے پاس چلی جاتی ہے کہ اس نے میرے بچے کے نسب کی نفی کی ہے معلوم ہوا یہ مجھ پر زنا کا الزام لگا رہا ہے، تو پھر قاضی دونوں میں لعان کروائے گا اور لعان کے بعد دونوں میں جدائی کروا دے گا، لیکن بچے کا نسب اسی آدمی سے ثابت ہے، اسی آدمی سے ثابت ہے کیونکہ اس نے ابتدائی دنوں میں نسب کی نفی نہیں کی تھی۔ لیکن اگر ابتدائی دنوں کے اندر کوئی شخص بچے کے نسب کی نفی کر دیتا ہے تو پھر اس صورت میں بھی لعان ہی ہوگا اور جب میاں بیوی دونوں لعان کر لیں گے تو پھر قاضی بچے کے نسب کو خاوند سے کاٹ کر صرف ماں یعنی بیوی کے ساتھ جوڑ دے گا، اب یہ صرف اس عورت کا بچہ شمار ہوگا، اس خاوند کا بچہ شمار نہیں ہوگا۔
تو لہٰذا لعان کبھی صرف زنا کا الزام لگانے پر کیا جاتا ہے، لعان کبھی بچے کے نسب کی نفی پر کیا جاتا ہے، اور جب بچے کے نسب کی نفی پر لعان ہو تو اگر یہ ابتدائی دنوں میں نفی کی تھی تو یہ معتبر ہوگی اور بچے کا نسب اس آدمی سے کٹ جائے گا، لیکن اگر یہ لعان بعد میں کیا ہے تو پھر بچے کے نسب کی نفی خاوند سے نہیں ہوگی، بچہ اسی کا شمار ہوگا بھئی۔
اب صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کی بیوی نے بچے کو جنم دیا اور اس نے پیدائش کے ابتدائی دنوں میں پہلے اقرار کر لیا کہ یہ بچہ میرا ہی ہے، اور پھر اس کے بعد بعد میں اس نے بچے کے نسب کی نفی کر دی، چاہے انہی دنوں میں نسب کی نفی کی، چاہے کچھ مدت کے بعد کی، لیکن شروع میں ایک دفعہ وہ اقرار کر چکا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، تو یاد رکھو اس صورت کے اندر لعان ہوگا۔ کیونکہ خاوند نے پہلے بچے کے نسب کا اقرار کر لیا ہے تو نسب تو ثابت ہو گیا، نسب پہ کوئی اثر اب نہیں پڑے گا۔ ہاں بیوی پر زنا کا الزام باقی رہ گیا کیونکہ بچے کے نسب کی نفی کا الزام بیوی پر لگانا، اس کا مطلب ہے وہ بیوی پر زنا کا الزام لگا رہا ہے، تو بیوی قاضی کے پاس جا کر حد کا مطالبہ کر سکتی ہے اور پھر قاضی دونوں میں لعان کروائے گا۔ اور جب دونوں لعان کر لیں گے تو خاوند اور بیوی کو ایک دوسرے سے جدا کر دے گا۔ البتہ بچے کا نسب ثابت ہو چکا ہے، جب شروع میں ایک دفعہ خاوند نے اقرار کر لیا تھا تو بچے کا نسب ثابت ہو چکا ہے، تو نسب پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ لعان ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنیے، کیا صورت تھی؟ خاوند نے پہلے بچے کے نسب کا اقرار کیا اور اس کے بعد اسی زمانے میں، اس کے قریب کے زمانے میں یا کچھ مدت کے بعد اس نے بچے کے نسب کی نفی کی، تو پھر اس صورت میں لعان آئے گا اور لعان کی وجہ سے میاں بیوی میں جدائی بھی آ جائے گی، لیکن بچے کا نسب ثابت ہو چکا ہے۔
دوسری صورت کہ خاوند نے پہلے بچے کے نسب کی نفی کی اور پھر اس کے بعد اس نے بچے کے نسب کا اقرار کر لیا، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو بچے کا نسب اب بھی ثابت ہو جائے گا۔ شروع میں خاوند نے نفی کی تھی لیکن بعد میں خود ہی کیا کر لیا؟ اقرار۔ جب اقرار کر لیا بچے کا نسب ثابت ہو گیا، بچے کا نسب تو ثابت ہو گیا لیکن اگر بیوی، لیکن اگر بیوی پھر قاضی کے پاس چلی گئی کہ اس شخص نے میرے اوپر زنا کا الزام لگایا ہے، اس نے پہلے نفی کی تھی بعد میں اقرار کر لیا ہے لیکن اس نے پہلے نسب کی نفی کی تھی، تو یاد رکھو اس صورت میں اب اس آدمی کو حد قذف لگائی جائے گی، اب لعان نہیں ہوگا۔ توجہ ہے؟ پچھلے مسئلے میں کیا تھا؟ پہلے اس نے، پہلے اس نے اقرار کیا تھا بچے کا اور پھر بعد میں نفی کی ہے وہاں لعان تھا، لیکن یہاں پر پہلے نفی کی تو گویا زنا کا الزام لگا دیا، اور پھر اقرار کیا گویا بتلا دیا کہ میں نے جھوٹا الزام لگایا تھا۔ جب جھوٹا الزام لگایا تھا تو اب اس آدمی کو حد قذف لگائی جائے گی اور لعان نہیں ہوگا۔ بھئی لعان کیوں نہیں ہوگا؟ وجہ یہ کہ لعان کے اندر میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں، لعان میں دونوں ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں، لہٰذا جب خاوند نے ایک دفعہ بچے کے نسب کی نفی کر دی تو گویا بیوی پر زنا کا الزام لگایا، اور بیوی اس کو جھٹلا رہی ہے کہ...
کہ نہیں میں نے زنا نہیں کیا، اور خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ تم نے زنا کیا ہے۔ اور پھر بعد میں خاوند اقرار کر لیتا ہے کہ نہیں، ہاں یہ میرا ہی بچہ ہے۔ گویا خاوند نے اپنے آپ کو ہی جھوٹا قرار دے دیا کہ وہ جو میں نے تم پہ پہلے الزام لگایا تھا، اس میں میں جھوٹا تھا۔ جب جھوٹا تھا تو اب خاوند کو حد قذف لگائی جائے گی۔ لعان نہیں ہوگا۔ توجہ ہے؟ لعان کیوں نہیں ہوگا؟ پھر سمجھیں۔ لعان کیوں نہیں ہوگا؟ کیونکہ لعان اس وقت ہوتا ہے جب خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دے رہے ہوں۔ خاوند کہتا ہے تو نے زنا کیا ہے اور بیوی کہتی ہے میں نے زنا نہیں کیا۔ تو پھر لعان ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ اور یہاں پر خاوند نے پہلے کیا کہا؟ تو نے زنا کیا ہے، اور پھر کیا کہا؟ پھر بچے کے نسب کا اقرار کر لیا، گویا مان لیا کہ میں نے الزام لگایا تھا۔ اپنے آپ کو جھوٹا قرار دے دیا۔ جب خاوند نے خود ہی اپنے آپ کو جھوٹا قرار دے دیا تو پھر لعان کیسے ہوگا؟ جب خاوند نے خود ہی اپنے آپ کو جھوٹا قرار دے دیا ہے تو لعان کہاں سے ہوگا؟ لعان میں تو خاوند کہتا ہے اس عورت نے زنا کیا ہے میں سچا ہوں، اور بیوی کہتی ہے میں نے زنا نہیں کیا یہ آدمی جھوٹا ہے، دونوں ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دے رہے ہوتے ہیں، تو وہاں پھر لعان ہوتا ہے۔ اور یہاں تو خاوند نے خود اقرار کر لیا کہ میں نے جو الزام لگایا تھا میں نے جھوٹ بولا تھا، میں نے الزام لگایا تھا، تو اب لعان نہیں ہوگا کیونکہ یہاں ایک دوسرے کو جھٹلانا موجود نہیں، خاوند اپنے جھوٹا ہونے کا اقرار کر چکا ہے۔
دیکھیے، صاحب ہدایہ اس کو اور بہتر الفاظ میں بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَقَرَّ بِوَلَدٍ ثُمَّ نَفَاهُ“ اور جس شخص نے اپنی اولاد کا اقرار کیا، ”ثُمَّ نَفَاهُ“ پھر اس کی نفی کی، پہلے اقرار پھر نفی، ”فَإِنَّهُ يُلَاعِنُ“ تو یہ شخص لعان کرے گا، ”لِأَنَّ النَّسَبَ لَزِمَهُ بِإِقْرَارِهِ“ اس لیے کیونکہ بچے کا نسب جو ہے وہ تو لازم ہو گیا اس کے ساتھ، ”بِإِقْرَارِهِ“ اس کے اقرار کی وجہ سے، ”وَبِالنَّفْيِ بَعْدَهُ“ اور اس کے بعد یہ نفی کرنے کی وجہ سے، ”صَارَ قَاذِفًا“ یہ شخص عورت پر زنا کا الزام لگانے والا ہو گیا، ”فَيُلَاعِنُ“ تو یہ لعان کرے گا۔ پہلے اقرار کیا تھا، نسب ثابت ہو گیا۔ اب دوبارہ نفی کی ہے تو عورت پر زنا کا الزام لگا دیا، تو لہٰذا اب لعان کریں گے۔
”وَإِنْ نَفَاهُ ثُمَّ أَقَرَّ بِهِ حُدَّ“ اب دوسری صورت: ”وَإِنْ نَفَاهُ“ اگر ایک شخص نے پہلے اپنی اولاد کی نفی کی، ”ثُمَّ أَقَرَّ بِهِ“ پھر اس کا اقرار کر لیا، ”حُدَّ“ اب اس کو حد لگائی جائے گی، ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَكْذَبَ نَفْسَهُ“ اس لیے کیونکہ جب اس نے اپنے آپ کو جھٹلا دیا، ”بَطَلَ اللِّعَانُ“ تو لعان باطل ہو گیا۔ لعان میں تو دونوں خاوند اور بیوی ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں خاوند نے پہلے کیا کیا؟ نفی کی ہے، تو الزام لگایا۔ پھر بعد میں اقرار کر لیا، معلوم ہوا اپنے آپ کو ہی جھوٹا قرار دے دیا۔ تو جب اپنے آپ کو جھوٹا قرار دے دیا اب لعان نہیں ہو سکتا، خاوند نے اقرار کر لیا کہ میں جھوٹ بول رہا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَكْذَبَ نَفْسَهُ بَطَلَ اللِّعَانُ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے جب اپنے آپ کو جھٹلا دیا تو لعان باطل ہو گیا، ”لِأَنَّهُ حَدٌّ ضَرُورِيٌّ صِيرَ إِلَيْهِ ضَرُورَةَ التَّكَاذُبِ“ تَکَاذُب، دیکھو باب تفاعل ہے، اور باب تفاعل جانبین سے فعل چاہتا ہے۔ دیکھو، لعان کب ہوتا ہے؟ جب خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا رہے ہوتے ہیں۔ خاوند کہتا ہے تو نے زنا کیا ہے، عورت کہتی ہے میں نے نہیں کیا، تو دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا رہے ہوتے ہیں تو وہاں تکاذب ہوتا ہے۔ تکاذب باب تفاعل ہے، دونوں ایک دوسرے کو جھوٹا کہہ رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ حَدٌّ ضَرُورِيٌّ“ اس لیے کیونکہ لعان جو ہے وہ ضروری حد ہے، یعنی ضرورت کی وجہ سے آتی ہے۔ لعان حد کے معنی میں ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے آتی ہے، اور وہ ضرورت کیا؟ کہ خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا رہے ہیں، اور یہاں کوئی صورت نہیں تھی فیصلہ کرنے کی، لہٰذا لعان کروا دیا گیا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ حَدٌّ ضَرُورِيٌّ صِيرَ إِلَيْهِ ضَرُورَةَ التَّكَاذُبِ“ اچھا، ”لِأَنَّهُ حَدٌّ ضَرُورِيٌّ“ لہٰذا لعان ایک ایسی حد ہے ضروری، ضروری کا ترجمہ یوں کریں: ”لِأَنَّهُ حَدٌّ ضَرُورِيٌّ“ اس لیے کیونکہ لعان ایسی حد ہے، ”ضَرُورِيٌّ“ جو ضرورت کی وجہ سے ثابت ہے، ”صِيرَ إِلَيْهِ ضَرُورَةَ التَّكَاذُبِ“ باہم ایک دوسرے کو جھٹلانے کی ضرورت کی وجہ سے اس کی طرف جایا جاتا ہے، ”صِيرَ إِلَيْهِ“ اس کی طرف جایا جاتا ہے، ”ضَرُورَةَ التَّكَاذُبِ“ ایک دوسرے کو جھٹلانے کی ضرورت کی وجہ سے، ”وَالْأَصْلُ فِيهِ حَدُّ الْقَذْفِ“ اور اصل تو اس کے اندر حد قذف ہے، اصل تو حد قذف ہے، خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا ہے تو اصل میں تو خاوند کو حد قذف لگنی چاہیے تھی، لیکن چونکہ خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا رہے ہیں اس لیے ہمیں مجبوری کی وجہ سے لعان کی طرف جانا پڑتا ہے۔ اور جب لعان ساقط ہو گیا، خاوند نے اپنے آپ کو جھٹلا دیا، پہلے کہا تھا بچہ میرا نہیں اور پھر کہہ دیا بچہ میرا ہے، معلوم ہوا اس نے اپنے آپ کو ہی جھوٹا قرار دے دیا تو اب لعان کی طرف تو اب ہم نہیں جائیں گے، کیونکہ لعان تو ضرورت کی وجہ سے تھا، اب اصل کی طرف جائیں گے اور اصل کیا ہے؟ حد قذف، کہ خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا ہے تو خاوند کو حد قذف لگائی جائے گی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالْأَصْلُ فِيهِ حَدُّ الْقَذْفِ“ اور اصل جو ہے اس کے اندر حد قذف ہے، ”فَإِذَا بَطَلَ التَّكَاذُبُ يُصَارُ إِلَى الْأَصْلِ“ تو جب باہم ایک دوسرے کو جھٹلانا باطل ہو گیا، ”يُصَارُ إِلَى الْأَصْلِ“ تو اصل کی طرف جایا جائے گا بھئی۔
”وَالْوَلَدُ وَلَدُهُ فِي الْوَجْهَيْنِ لِإِقْرَارِهِ بِهِ سَابِقًا أَوْ لَاحِقًا“ اچھا بھئی، صاحب ہدایہ یہاں سے بتلا رہے ہیں، یہ متن ہے: ”وَالْوَلَدُ وَلَدُهُ“ بچہ اسی آدمی کا بچہ ہے، چاہے پہلے اقرار کرے پھر نفی کرے، بس ایک دفعہ اقرار کر لیا تو نسب ثابت ہو چکا ہے۔ یا پہلے نفی کرے بعد میں اقرار کرے تو بھی نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَلَدُ وَلَدُهُ“ اور اولاد جو ہے اسی آدمی کی اولاد ہوگی، ”فِي الْوَجْهَيْنِ“ دونوں صورتوں میں، ”لِإِقْرَارِهِ بِهِ سَابِقًا أَوْ لَاحِقًا“ بوجہ اس آدمی کے اقرار کر لینے کے، ”سَابِقًا أَوْ لَاحِقًا“ پہلے یا بعد میں۔ یعنی نفی سے پہلے یا نفی کے بعد دونوں میں اس نے اقرار کیا ہے۔
”وَاللِّعَانُ يَصِحُّ بِدُونِ قَطْعِ النَّسَبِ“ یہاں اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ کہ جب پہلی صورت میں جب اس نے پہلے اقرار کیا اور پھر نفی کی، آپ نے کہا اس صورت کے اندر بھی بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا، تو پھر تو لعان نہیں آنا چاہیے، جب بچے کا نسب ثابت ہو رہا ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی، لعان کے اندر نسب کی نفی ضروری نہیں ہے، ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ لعان کے اندر نسب کی نفی ضروری نہیں بلکہ بچہ نہ ہو پھر بھی لعان ہو جاتا ہے۔ خاوند نے زنا کا الزام لگایا، بچہ ہی نہ ہو پھر بھی لعان ہوتا ہے۔ تو بچہ ہو تو بھی اس میں لعان کے باوجود بچے کے نسب کی نفی ضروری نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَاللِّعَانُ يَصِحُّ بِدُونِ قَطْعِ النَّسَبِ“ اور لعان صحیح ہوتا ہے نسب کاٹے بغیر ہی، ”كَمَا يَصِحُّ بِدُونِ الْوَلَدِ“ جیسے کہ لعان صحیح ہوتا ہے بغیر اولاد کے ہی۔
”وَإِنْ قَالَ لَيْسَ بِابْنِي وَلَا بِابْنِكِ فَلَا حَدَّ وَلَا لِعَانَ“ صورت مسئلہ یہ: ایک عورت نے بچے کو جنم دیا، خاوند نے کہا نہ یہ تیرا بیٹا ہے نہ میرا بیٹا ہے۔ تو کیا اس صورت میں حد آئے گی کہ یہ زنا کا الزام ہے؟ کہتے ہیں نہیں، اس صورت میں نہ حد ہے اور نہ لعان ہے، یہ تو اس بچے کی پیدائش کی نفی کر رہا ہے۔ جب عورت سے کہہ رہا ہے نہ تیرا بچہ ہے نہ میرا بچہ ہے، مطلب یہ ہے کہ اس کو تو نے پیدا نہیں کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا، ”لَيْسَ بِابْنِي وَلَا بِابْنِكِ“ کہ نہ یہ میرا بیٹا ہے اور نہ یہ تیرا بیٹا ہے، ”فَلَا حَدَّ وَلَا لِعَانَ“ تو نہ حد ہوگی اور نہ لعان ہوگا، ”لِأَنَّهُ أَنْكَرَ الْوِلَادَةَ“ اس لیے کیونکہ اس آدمی نے اس بچے کی پیدائش کی نفی کی ہے، ”وَبِهِ لَا يَصِيرُ قَاذِفًا“ اور اس کی وجہ سے یہ زنا کا الزام لگانے والا نہیں ہوا بھئی۔
”وَمَنْ قَذَفَ امْرَأَةً وَمَعَهَا أَوْلَادٌ لَا يُعْرَفُ لَهُمْ أَبٌ أَوْ قَذَفَ الْمُلَاعَنَةَ بِوَلَدٍ وَالْوَلَدُ حَيٌّ أَوْ قَذَفَهَا بَعْدَ مَوْتِ الْوَلَدِ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ یہاں تک متن تھا بھئی۔ صورت مسئلہ یہ: ایک عورت کے ساتھ خاوند نے لعان کیا تھا، بچے کی وجہ سے۔ ابتدائی دنوں کے اندر خاوند نے بچے کے نسب کی نفی کی تھی، تو ان دنوں میں پھر لعان ہوا اور پھر قاضی نے بچے کا نسب کاٹ کر صرف عورت سے جوڑ دیا۔ اب یہ صرف اس عورت کا بچہ ہے، اس خاوند کا بچہ نہیں ہے۔ اور پھر اس عورت پر کسی نے زنا کی تہمت لگائی، چاہے یہ بچہ زندہ تھا اسی وقت تہمت لگائی یا بعد میں کسی وجہ سے بچہ ہلاک ہو گیا اس کے بعد کسی وقت کسی آدمی نے اس عورت پر زنا کی تہمت لگائی، یا ایک عورت ہے اس کے پاس اس کا بچہ ہے لیکن اس کے باپ کا پتہ نہیں ہے، اس جیسی عورت پر کسی نے زنا کی تہمت لگائی، تو کیا یہ الزام لگانے والے پر حد قذف ثابت ہوگی؟ کہتے ہیں نہیں، حد قذف ثابت نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ اس عورت کے پاس ایک ایسا بچہ موجود ہے یا ایک ایسا بچہ موجود تھا اب تو ہلاک ہو چکا ہے لیکن پہلے ایک بچہ موجود تھا جس کے نسب کا پتہ نہیں تھا، اور یہ علامت ہے زنا کی۔ یہ زنا کی علامت ہے۔ تو لہٰذا جب زنا کی علامت موجود ہے اس کے بعد کوئی شخص اس عورت پر زنا کی تہمت لگا رہا ہے تو پھر اب حد قذف نہیں لگائی جائے گی، کیونکہ حد قذف کے لیے محسن ہونا ضروری ہے، اور جب اس عورت کے اندر زنا کی علامت موجود ہے تو پھر یہ عورت محسنہ نہیں، جب محسنہ نہیں ہے تو غیر محسن پر زنا کا الزام لگانے سے حد ثابت نہیں ہوتی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَذَفَ امْرَأَةً“ اور جس شخص نے کسی عورت پر زنا کی تہمت لگائی، زنا کا الزام لگایا، ”وَمَعَهَا أَوْلَادٌ لَا يُعْرَفُ لَهُمْ أَبٌ“ اور اس عورت کے ساتھ ایسی اولاد ہے، ”لَا يُعْرَفُ لَهُمْ أَبٌ“ کہ ان کے باپ کا پتہ نہیں ہے، ان کے باپ کو کوئی جانتا نہیں ہے، ”أَوْ قَذَفَ الْمُلَاعَنَةَ بِوَلَدٍ“ یہ مُلَاعَنَہ، یہ اسم مفعول کا صیغہ بھی پڑھ سکتے ہیں عین پر فتحہ، ملاعَنَہ، اور اسم فاعل بھی پڑھ سکتے ہیں ملاعِنَہ۔ توجہ ہے؟ ملاعِنَہ اگر اسم فاعل پڑھیں تو معنی ہوگا لعان کرنے والی، یعنی وہ عورت جس نے اپنے خاوند سے لعان کیا ہے۔ اور ملاعَنَہ، یعنی وہ عورت جس کے ساتھ لعان کیا گیا ہے، یعنی خاوند نے کیا کیا ہے اس کے ساتھ لعان۔ تو دونوں طرح آپ پڑھ سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ قَذَفَ الْمُلَاعَنَةَ بِوَلَدٍ“ یا کسی شخص نے زنا کا الزام لگایا، ”الْمُلَاعَنَةَ بِوَلَدٍ“ ایسی عورت پر کہ جس کے ساتھ بچے کی وجہ سے لعان کیا گیا ہے، الزام لگایا ایسی عورت پر جس کے ساتھ بچے کی وجہ سے لعان کیا گیا ہے، ”وَالْوَلَدُ حَيٌّ“ اس حال میں کہ وہ بچہ زندہ ہے، ”أَوْ قَذَفَهَا بَعْدَ مَوْتِ الْوَلَدِ“ یا اس شخص نے اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے اس اولاد کی موت کے بعد، ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس الزام لگانے والے پر حد نہیں ہے، ”لِقِيَامِ أَمَارَةِ الزِّنَا مِنْهَا“ امارت کہتے ہیں نشانی کو، نشانی اور علامت۔ ”لِقِيَامِ أَمَارَةِ الزِّنَا مِنْهَا“ اس وجہ سے کہ زنا کی نشانی قائم ہے، اس عورت کے ساتھ زنا کی نشانی موجود ہے بھئی۔ اس وجہ سے کہ یہاں ایک زنا کی نشانی موجود ہے بھئی، اور وہ ایسا بچہ ہے جس کے باپ کا پتہ نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِقِيَامِ أَمَارَةِ الزِّنَا مِنْهَا“ اس وجہ سے کہ اس عورت کی طرف جو ہے زنا کی نشانی موجود ہے، ”وَهِيَ وِلَادَةُ وَلَدٍ لَا أَبَ لَهُ“ اور یہ پیدائش ہے ایسی اولاد کی جس کا باپ نہیں ہے، یہ علامت ہے بھئی، ”فَفَاتَتِ الْعِفَّةُ نَظَرًا إِلَيْهَا“ تو اس عورت کی پاکدامنی فوت ہو گئی اس نشانی کی طرف نظر کرتے ہوئے، معلوم ہوا یہ عورت پاکدامن نہیں ہے، ”وَهِيَ شَرْطُ الْإِحْصَانِ“ اور پاکدامن ہونا یہ تو محسن ہونے کی شرط ہے کہ زنا سے پاکدامن ہونا چاہیے۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَذَفَ امْرَأَةً لَاعَنَتْ بِغَيْرِ وَلَدٍ فَعَلَيْهِ الْحَدُّ“ صورت مسئلہ یہ: ایک عورت نے خاوند کے ساتھ لعان کیا تھا لیکن بچے کی وجہ سے نہیں، بچے کی وجہ سے نہیں، یعنی خاوند نے زنا کا الزام لگایا تھا اور پھر عورت نے لعان کیا اور دونوں میں جدائی کروا دی گئی۔ تو اب اس عورت پر کسی نے زنا کا الزام لگایا تو پھر کیا اس کو حد لگائی جائے گی؟ کہتے ہیں ہاں، یہاں کوئی زنا کی نشانی موجود نہیں ہے، کوئی ایسا بغیر باپ کے بچہ یہاں موجود نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں اس الزام لگانے والے کو حد لگائی جائے گی اگر عورت نے حد قذف کا مطالبہ کیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَذَفَ امْرَأَةً لَاعَنَتْ بِغَيْرِ وَلَدٍ“ اور اگر کسی نے زنا کا الزام لگایا ایسی عورت پر جس نے بغیر اولاد کے لعان کیا تھا، ”فَعَلَيْهِ الْحَدُّ“ تو اس شخص پر حد واجب ہوگی، ”لِانْعِدَامِ أَمَارَةِ الزِّنَا“ زنا کی علامت نہ پائے جانے کی وجہ سے۔
”قَالَ: وَمَنْ وَطِئَ وَطْئًا حَرَامًا فِي غَيْرِ مِلْكِهِ لَمْ يُحَدَّ قَاذِفُهُ“ بھئی یاد رکھو، یاد رکھو، یہاں سے ضابطہ ذکر فرمائیں گے کہ جس شخص نے بھی حرام وطی کی غیر ملکیت میں اور اس پر کسی نے زنا کا الزام لگایا تو اس الزام لگانے والے کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ صاحب ہدایہ آپ کو ضابطہ بتلائیں گے، ضابطہ بتلائیں گے کہ ایک وطی ہے حرام لِعَیْنِہٖ، ایک وطی ہے حرام لِغَیْرِہٖ۔ اگر کسی شخص نے ایسی وطی کی جو حرام لِعَیْنِہٖ ہے، جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے، تو اس جیسے شخص کو اگر کوئی زنا کا الزام لگا دے گا تو اس پر حد زنا نہیں آئے گی۔ کیوں؟ کیونکہ وطی حرام لِعَیْنِہٖ، وہ وطی جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہو اسی کو تو زنا کہتے ہیں۔ زنا کیا ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا کسی شخص نے ایسی وطی کی جو حرام لِعَیْنِہٖ ہے، جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے، اور پھر بعد میں اس آدمی کو کوئی زانی کہہ دیتا ہے تو اس الزام لگانے والے پر حد نہیں آئے گی، کیونکہ اس شخص نے حرام لِعَیْنِہٖ وطی کی تھی اور حرام لِعَیْنِہٖ وطی ہی کو تو زنا کہتے ہیں۔ جبکہ ایک وطی ہے حرام لِغَیْرِہٖ، یعنی وہ وطی جو کسی غیر، کسی اور وجہ سے حرام ہوئی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں، جیسے بیوی کے ساتھ صحبت کر لی حالت حیض میں، اب بیوی کے ساتھ تو خاوند کے لیے وطی جائز تھی لیکن یہاں حالت حیض میں حرام ہے۔ تو حرام ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ وطی ہی حرام تھی، یہ حیض جو ہے یہ رکاوٹ بن گیا اور مانع بن گیا۔ تو یہ کس قسم کی وطی ہے؟ یہ اپنی ذات کی وجہ سے حرام ہے یا حیض کی وجہ سے حرام ہے؟ توجہ ہے؟ بھئی دیکھو ایک وطی ہوتی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے، ایک آدمی ایک اجنبیہ عورت کے ساتھ وطی کرتا ہے تو یہ وطی اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے، یہاں حلال ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ تو یہ وطی حرام ہے اپنی ذات کے اعتبار سے۔ اور ایک وطی ہوتی ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں، کسی سبب کی وجہ سے حرام ہو گئی، جیسے ایک شخص جو ہے اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے حالت حیض میں، آپ جانتے ہیں بیوی کے ساتھ حالت حیض میں صحبت کرنا حرام ہے تو یہ حرام تو ہے وطی لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے نہیں کیونکہ یہ تو اس کی بیوی ہے، بلکہ یہاں جو حیض کی رکاوٹ آ گئی، معلوم ہوا یہ جو حیض کی حالت میں وطی ہے یہ اپنی ذات کے اعتبار سے نہیں حرام کیونکہ یہ تو اس کی بیوی ہے، بلکہ حیض کی وجہ سے حرام ہے تو یہ حرام لِغَیْرِہٖ ہوئی۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا حرام وطی کتنی قسم کی ہے؟ دو: ایک حرام لِعَیْنِہٖ، ایک حرام لِغَیْرِہٖ۔ یاد رکھو، کوئی شخص اگر حرام لِعَیْنِہٖ وطی کر دے اور پھر کوئی اس کو زانی کہہ دے تو اس الزام لگانے والے پر حد قذف نہیں آئے گی، کیونکہ اس شخص نے حرام لِعَیْنِہٖ وطی کی ہے اور حرام لِعَیْنِہٖ وطی ہی تو زنا ہے بھئی۔ اور جس شخص نے حرام لِغَیْرِہٖ وطی کی ہے اس کو اگر کوئی زانی کہہ دے تو اس کو حد لگائیں گے۔ لہٰذا ایک شخص نے اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں صحبت کر لی اور بعد میں اس نے جا کر کچھ لوگوں کو بتا دیا کہ میں نے تو حالت حیض میں وطی کر لی ہے، ان میں سے ایک آدمی نے اس کو کہا اے زانی، اے زناکار! تو یاد رکھو یہ شخص اس کو قاضی کے پاس لے جا کر حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے، کیونکہ اس نے جو وطی کی وہ اگرچہ حرام تھی لیکن وہ زنا نہیں، زنا تو کون سی حرام وطی ہوتی ہے؟ جو حرام لِعَیْنِہٖ ہو بھئی، اور یہ تو حرام لِغَیْرِہٖ تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
پھر صاحب ہدایہ آپ کو ضابطہ بتلائیں گے کہ ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہ کوئی وطی حرام لِعَیْنِہٖ ہے یا حرام لِغَیْرِہٖ ہے؟ تو صاحب ہدایہ بڑا آسان سا ضابطہ آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی، جہاں پر وطی کرنے والے کی ملکیت نہ ہو وہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے، چاہے پوری ہی ملکیت نہ ہو یا چاہے کچھ نہ ہو۔ مثلاً ایک آدمی ہے کسی دوسرے کی باندی سے وطی کرتا ہے، یہاں تو اس آدمی کی ملکیت سرے سے ہے ہی نہیں تو یہ وطی ہوئی کس میں؟ غیر ملک میں۔ توجہ ہے؟ وطی ہوئی غیر ملک میں اور جب بھی وطی غیر ملک میں پائی جائے گی وہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے۔ توجہ ہے؟ اب یہ تو ایک صورت تھی، کسی اور کی باندی سے وطی کی تو یہ غیر ملک میں وطی ہے تو یہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے لہٰذا یہ زنا ہے۔ توجہ ہے؟ دوسری صورت: ایک باندی دو آدمیوں میں مشترکہ تھی اور آپ کو میں نے بتایا تھا جب باندی کئی آدمیوں میں مشترکہ ہو تو کسی ایک کے لیے بھی اس کے ساتھ صحبت جائز نہیں ہوتی۔ تو دونوں مالک جو ہیں ان کے لیے اس باندی سے صحبت حرام ہے، لیکن ان دونوں میں سے ایک نے اس باندی کے ساتھ صحبت کر لی، اب مجھے بتائیے یہ وطی اس نے ملک میں کی یا غیر ملک میں؟ بعض اعتبار سے دیکھیں تو ملک ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں غیر ملک ہے کیونکہ کچھ حصہ تو دوسرے آدمی کا ہے۔ تو بہرحال غیر ملک ہے یا نہیں؟ غیر ملک تو آ گیا، چاہے پورے طور پر نہیں آیا لیکن کچھ تو آ گیا تو یہ وطی حرام لِعَیْنِہٖ ہے۔ معلوم ہوا یہ زنا ہے۔ کیا ضابطہ ہوا؟ کہ وطی غیر ملک میں ہو تو وہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے، چاہے پوری کی پوری غیر ملک ہو چاہے تھوڑی سی غیر ملک ہو۔ ایک شرط تو یہ ہے کہ وطی غیر ملک میں ہو تو وہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے۔
دوسرا ضابطہ یہ ہے: اگر وہ عورت حرام ہے مؤبد طریقے پر، ہمیشہ کے لیے حرام ہے تو اس کے ساتھ جو وطی ہے وہ بھی حرام لِعَیْنِہٖ ہے۔ وہ عورت جو حرام ہے ہمیشہ کے لیے، حرمت مؤبدہ ہے وہاں پر، محرم ہے بھئی، محرم ہے، وہاں نکاح کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو اس قسم کی جو وطی ہوگی جو اس عورت کے ساتھ کی جائے جس میں حرمت مؤبدہ تھی یہ بھی حرام لِعَیْنِہٖ ہے۔ لہٰذا ایک آدمی نے باندی خریدی، اب یہ شخص اس باندی کا مالک ہے، یہاں غیر ملک نہیں ہے، پوری کی پوری اس آدمی کی ملکیت ہے، لیکن اس آدمی نے اور اس باندی نے بچپن میں ایک ہی عورت کا دودھ پیا تھا تو یہ اس کی رضاعی بہن بھی ہے اور رضاعی بہن بھی حقیقی بہن کی طرح انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے۔ تو اس شخص نے اس باندی کے ساتھ صحبت کر لی، اس باندی کے ساتھ صحبت کر لی تو اگرچہ غیر ملک یہاں نہیں ہے، پوری باندی کا یہ مالک ہے لیکن حرمت کون سی ہے؟ مؤبد، ہمیشہ کے لیے حرمت ہے، یہاں نکاح کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو لہٰذا یہ جو وطی ہے یہ بھی حرام لِعَیْنِہٖ ہے بھئی۔ تو یہ دو شرطیں، چاہے دونوں اکٹھی ہوں چاہے ایک پائی جائے وہ وطی حرام لِعَیْنِہٖ ہوگی۔ کون سی دو شرطیں؟ ایک وہ وطی جو غیر ملک میں ہو، اور ایک وہ وطی جو حرمت مؤبدہ کے ساتھ کی جائے، یہ دونوں کیا ہیں؟ حرام لِعَیْنِہٖ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر حرمت غیر مؤبد ہو، یعنی حرمت مؤقتہ ہو، کچھ وقت کے لیے حرمت ہے، تو پھر وہ وطی حرام لِعَیْنِہٖ نہیں۔ مثلاً ایک آدمی ہے اس کی باندی ہے اور وہ باندی مجوسیہ ہے۔ مجوسیہ ہے، مشرکہ ہے بھئی باندی۔ بھئی یاد رکھنا، یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ شریعت نے مسلمان مرد کو اجازت دی ہے وہ مسلمان عورت سے بھی نکاح کر سکتا ہے اور اہل کتاب عورت سے بھی یعنی یہودی، عیسائی سے بھی نکاح کر سکتا ہے، لیکن مشرکہ عورت کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح جس طرح مشرکہ عورت سے نکاح کی اجازت نہیں ہے، اسی طرح مشرکہ باندی اگر ہے تو اس کے ساتھ وطی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اگر باندی مسلمان ہے یا اہل کتاب ہے یعنی یہودی، عیسائی، تو آقا کے لیے صحبت جائز ہے، اور اگر باندی مشرکہ ہے پھر چاہے آقا اس کا مالک ہے لیکن وطی اس کے لیے بھی حرام ہے۔ تو اب ایک شخص ہے اس کی مجوسیہ باندی ہے، مشرکہ باندی ہے، اور یہ اس کے ساتھ وطی کر لیتا ہے، تو اب دیکھو یہاں پر حرمت موجود ہے، یہ باندی تو اس پر حرام تھی۔ لیکن یہ حرمت مؤبد نہیں ہے، مؤقت ہے، کچھ وقت کے لیے ہے۔ بھئی کس طرح کچھ وقت کے لیے ہے؟ بھئی اگر یہی باندی مسلمان ہو گئی تو اب خاوند کے لیے صحبت جائز ہو جائے گی، یا یہی باندی عیسائی یا یہودی ہو گئی تو بھی اس کے ساتھ صحبت جائز ہو جائے گی، معلوم ہوا یہاں حرمت مؤبد نہیں ہے بلکہ حرمت مؤقت ہے۔ تو اپنی مشرکہ باندی سے صحبت کرنا یہ حرام لِغَیْرِہٖ ہے۔ کیونکہ یہ غیر ملک بھی نہیں ہے، یہ تو اپنی ملکیت ہے اور نیز یہاں حرمت مؤبد بھی نہیں، تو یہ حرام تو ہے لیکن حرام لِغَیْرِہٖ ہے۔ اس باندی کے ساتھ ایک آدمی نے صحبت کر لی اور بعد میں کسی نے اس آدمی پر الزام لگایا کہ تو زناکار ہے تو یاد رکھو اس صورت میں یہ آدمی حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے، کیونکہ اس نے جو وطی کی تھی وہ زنا نہیں، وہ حرام لِغَیْرِہٖ تو ہے لیکن حرام لِعَیْنِہٖ نہیں۔
اسی طرح اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں صحبت کر لی، یہ بھی حرام لِغَیْرِہٖ ہے بھئی۔ اور اسی طرح، اسی طرح اپنی مکاتبہ سے صحبت کر لی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مکاتب یا مکاتبہ وہ غلام ہے جسے آقا مثلاً کہہ دیتا ہے کہ دو سال میں تم مثلاً دو سال میں بیس لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ اور وہ غلام یا باندی وہ منظور کر لیتے ہیں تو اس عقد کو عقد کتابت کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ جو مکاتب ہوتا ہے یہ آزاد آدمی کی طرح ہوتا ہے، آقا کا اس پر کوئی قبضہ نہیں، آقا اس سے زبردستی خدمت نہیں لے سکتا، یہ جائے گا جا کر پیسے کمائے گا اور ادائیگی کر کے آزاد ہو جائے گا۔ اور یہ اگر مکاتبہ ہے باندی ہے تو آقا کے لیے اس سے صحبت بھی اب جائز نہیں ہے۔ آقا کے لیے صحبت بھی جائز نہیں، اور پھر یاد رکھنا یہ جو مکاتب ہے اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں، یہ اگر وہ قسطیں ادا کر دے گا دو سال کے اندر بیس لاکھ روپے ادا کر دیتا ہے، مثلاً یوں کرو فرض کرو چوبیس لاکھ روپے، ہر مہینے انہوں نے ایک ایک لاکھ روپیہ ادا کرنا ہے تو دو سال میں چوبیس لاکھ روپے مثلاً اس پر عقد کیا تھا، وہ ادا کر دیں گے تو یہ آزاد ہو جائیں گے۔ اب یہ ادائیگی کرتے جا رہے ہیں، دو چار پانچ مہینے تک تو یہ ایک ایک لاکھ روپیہ ادا کرتے رہے لیکن اس کے بعد ایک دو مہینے یہ ادائیگی نہ کر سکے تو آقا قاضی کے پاس جا کر کہہ سکتا ہے قاضی صاحب یہ پیسے ادا نہیں کر رہے، تو قاضی اس عقد کتابت کو فسخ کر دے گا اور یہ پھر پہلے کی طرح عام غلام بن جائیں گے۔ اور آقا کے لیے پہلے تو اس مکاتبہ سے صحبت جائز نہیں تھی لیکن اب جب عقد کتابت فسخ ہو گیا اب آقا کے لیے اس سے صحبت جائز ہو جائے گی، یہ عام باندی بن جائے گی۔ یا اسی طرح وہ مکاتب یا مکاتبہ خود ہی آ گئے کہ ہم سے تو اتنے پیسے نہیں ہو سکتے، تو انہوں نے اپنے عاجز ہونے کا اقرار کر لیا، تو اس صورت میں بھی عقد کتابت ختم ہو جائے گا، اب بھی آقا کے لیے اس مکاتبہ سے وہ اب عام باندی بن گئی، آقا کے لیے اس سے صحبت جائز ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا ایک شخص نے اپنی مکاتبہ کے ساتھ صحبت کر لی، تو یاد رکھو یہ بھی حرام لِغَیْرِہٖ ہے، حرام لِعَیْنِہٖ نہیں۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اس پر اگر کوئی زنا کا الزام لگائے گا تو یہ آدمی اس پر حد کا مطالبہ کر سکتا ہے، کیونکہ مکاتبہ کے اندر اگرچہ آقا کا قبضہ نہیں ہے لیکن ذات کا تو وہ ابھی بھی مالک ہے، رقبہ کا تو ابھی بھی وہ مالک ہے بھئی، اور اگر یہ ادائیگی سے عاجز آ گئی یا قاضی نے ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے عقد کتابت فسخ کر دیا تو پھر یہ پہلے جیسی عام باندی بن جائے گی، معلوم ہوا آقا کی اس کے اندر ملکیت موجود ہے، اور یہ جو حرمت آئی تھی کہ یہ صحبت نہیں کر سکتا، یہ مؤقت تھی یا مؤبد تھی؟ یہ مؤقت تھی، دیکھو یہ عاجز آئے گی تو وہ حرمت ختم ہو جائے گی، تو لہٰذا اپنی مکاتبہ سے کوئی آقا صحبت کر لیتا ہے اور پھر کوئی اس آقا پر زنا کا الزام لگاتا ہے تو آقا اس پر حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَمَنْ وَطِئَ وَطْئًا حَرَامًا فِي غَيْرِ مِلْكِهِ“ اور جس شخص نے حرام وطی کی، ”فِي غَيْرِ مِلْكِهِ“ اپنی غیر ملکیت کے اندر، ”لَمْ يُحَدَّ قَاذِفُهُ“ تو اس شخص پر الزام لگانے والے کو حد نہیں لگائی جائے گی، کیونکہ اس نے اپنے غیر ملکیت میں وطی کی ہے اور غیر ملکیت میں وطی حرام لِعَیْنِہٖ ہوتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَمْ يُحَدَّ قَاذِفُهُ“ تو اس پر الزام لگانے والے کو حد نہیں لگائی جائے گی، ”لِفَوَاتِ الْعِفَّةِ“ پاکدامنی کے فوت ہو جانے کی وجہ سے، کیونکہ اب یہ شخص پاکدامن نہ رہا، اس نے ایسی وطی کی ہے جو حرام لِعَیْنِہٖ تھی اور اسی کو تو زنا کہتے ہیں، تو اس نے جب زنا کر لیا ہے یہ پاکدامن نہ رہا، لہٰذا اب اس پر الزام لگانے والا اس پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی کیونکہ وہ تو سچ بول رہا ہے واقعی اس نے زنا کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِفَوَاتِ الْعِفَّةِ“ پاکدامنی کے فوت ہو جانے کی وجہ سے، ”وَهِيَ شَرْطُ الْإِحْصَانِ“ اور پاکدامن ہونا تو محسن ہونے کی شرط ہے، ”وَلِأَنَّ الْقَاذِفَ صَادِقٌ“ اور نیز اس لیے کیونکہ وہ الزام لگانے والا وہ تو سچا ہے اس نے واقعی زنا کیا ہے بھئی۔
”وَالْأَصْلُ فِيهِ“ اور ضابطہ اس کے اندر یہ ہے، ”أَنَّ مَنْ وَطِئَ وَطْئًا حَرَامًا لِعَيْنِهِ لَا يَجِبُ الْحَدُّ بِقَذْفِهِ“ کہ جس شخص نے حرام لِعَیْنِہٖ وطی کی، ”لَا يَجِبُ الْحَدُّ بِقَذْفِهِ“ تو اس پر زنا کا الزام لگانے سے حد واجب نہیں ہوگی، ”لِأَنَّ الزِّنَا هُوَ الْوَطْءُ الْمُحَرَّمُ لِعَيْنِهِ“ اس لیے کیونکہ زنا جو ہے وہ بھی وہ وطی ہے جو حرام لِعَیْنِہٖ ہو، وہ زنا بھی وہ وطی ہے جو حرام لِعَیْنِہٖ ہو، ”وَإِنْ كَانَ مُحَرَّمًا لِغَيْرِهِ يُحَدُّ“ اور اگر وہ وطی حرام لِغَیْرِہٖ ہے، ”يُحَدُّ“ پھر حد لگائی جائے گی۔ ایک شخص نے حرام لِغَیْرِہٖ وطی کی ہے اور اس پر کوئی زنا کا الزام لگاتا ہے تو اس قاذف کو حد لگائی جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنْ كَانَ مُحَرَّمًا لِغَيْرِهِ يُحَدُّ“ اور اگر وہ وطی جو ہے حرام لِغَیْرِہٖ ہے تو اس قاذف کو حد لگائی جائے گی، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِزِنًا“ کیونکہ یہ زنا نہیں ہے، ”فَالْوَطْءُ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ أَوْ مِنْ وَجْهٍ حَرَامٌ لِعَيْنِهِ“ میں نے آپ کو بتلایا ایک شخص غیر کی باندی سے صحبت کرتا ہے تو یہ بھی غیر ملک میں وطی کر رہا ہے، اور اگر اپنی باندی ہے لیکن اس میں ایک دو آدمی اور بھی شریک ہیں تو یہ بھی وطی کس میں ہے؟ غیر ملک میں ہے، اگرچہ پورے طور پر غیر ملک نہیں ہے لیکن کچھ تو غیر ملک ہے بھئی، تو یہ بھی حرام لِعَیْنِہٖ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْوَطْءُ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ“ اور وہ وطی جو غیر ملکیت کے اندر ہو، ”مِنْ كُلِّ وَجْهٍ أَوْ مِنْ وَجْهٍ“ چاہے پورے طور پر ہو یا بعض اعتبار سے ہو، غیر ملک میں وطی چاہے وہ پورے طور پر غیر ملک میں ہو چاہے بعض اعتبار سے غیر ملک کے اندر ہو تو یہ جو وطی ہے، ”حَرَامٌ لِعَيْنِهِ“ یہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”فَالْوَطْءُ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ أَوْ مِنْ وَجْهٍ حَرَامٌ لِعَيْنِهِ“ پس وہ وطی جو غیر ملک میں ہو پورے طور پر یا بعض اعتبار سے وہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے، ”وَكَذَا الْوَطْءُ فِي الْمِلْكِ وَالْحُرْمَةُ مُؤَبَّدَةٌ“ اور اسی طرح وہ وطی جو ملکیت میں ہو لیکن اس حال میں کہ وہ حرمت مؤبد ہو تو بھی یہ حرام لِعَیْنِہٖ ہے، ”فَإِنْ كَانَتِ الْحُرْمَةُ مُؤَقَّتَةً فَالْحُرْمَةُ لِغَيْرِهِ“ اور اگر وہ حرمت مؤقت ہے یعنی کچھ وقت کے لیے ہے تو یہ حرمت لِغَیْرِہٖ ہے۔
”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَشْتَرِطُ أَنْ يَكُونَ الْحُرْمَةُ الْمُؤَبَّدَةُ ثَابِتَةً بِالْإِجْمَاعِ أَوْ بِالْحَدِيثِ الْمَشْهُورِ لِتَكُونَ ثَابِتَةً مِنْ غَيْرِ تَرَدُّدٍ“ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایک اور شرط بھی لگاتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ وہ جو حرمت مؤبدہ ہے وہ اجماع سے حرمت مؤبدہ ثابت ہو یا یا حدیث مشہور سے۔ ایک وطی ہے وہاں حرمت مؤبدہ پائی جا رہی ہے لیکن یہ حرمت مؤبدہ اجماع سے ثابت ہو یا حدیث مشہور سے ثابت ہو۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اگر حرمت مصاہرت کی وجہ سے حرمت آئی ہے تو پھر اس میں تو ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے۔ ہماری وجہ سے حرمت مصاہرت یعنی کسی مرد نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس عورت کے اصول اور فروع اس آدمی پر حرام ہو جاتے ہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، مصاہرت جو ہے سسرالی رشتہ ایک نعمت ہے، وہ حرام وطی کی وجہ سے یہ نعمت حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو دیکھو حرمت مصاہرت کے اندر بھی حرمت آتی ہے، اس مزنیہ کے اصول اور فروع خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئے ہمارے نزدیک، لیکن یہ حرمت مؤبدہ اجماع سے یا حدیث مشہور سے ثابت نہیں ہے۔ تو اس کو نکالنے کے لیے امام صاحب فرماتے ہیں کہ حرمت مؤبدہ جو ہے وہ اجماع سے ثابت ہو یا حدیث مشہور سے ثابت ہو تو پھر وہ وطی جو ہے وہ حرام لِعَیْنِہٖ ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَشْتَرِطُ أَنْ يَكُونَ الْحُرْمَةُ الْمُؤَبَّدَةُ ثَابِتَةً بِالْإِجْمَاعِ أَوْ بِالْحَدِيثِ الْمَشْهُورِ لِتَكُونَ ثَابِتَةً مِنْ غَيْرِ تَرَدُّدٍ“ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ حرمت مؤبدہ اجماع یا حدیث مشہور سے ثابت ہو تاکہ وہ حرمت بغیر کسی شک اور شبہ کے ثابت ہو، تاکہ اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہ ہو بھئی۔ اس لیے کیونکہ حد کا معاملہ ہے، حد قذف کا، اور حد کے معاملے میں شبہ سے بھی بچنا ضروری ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”بَيَانُهُ“ اب بیان ہے اس کا بھئی، وہی جو متن میں آیا تھا جس نے غیر ملک میں وطی کی تو یہ وطی حرام لِعَیْنِہٖ ہے اور اس پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ اب مختلف صورتیں ذکر کریں گے، کسی میں وطی حرام لِعَیْنِہٖ ہوگی اور کسی میں حرام لِغَیْرِہٖ ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”بَيَانُهُ“ بیان اس کا یہ ہے، کہتے ہیں: ”أَنَّ مَنْ قَذَفَ رَجُلًا وَطِئَ جَارِيَةً مُشْتَرَكَةً بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ“ ”أَنَّ مَنْ قَذَفَ رَجُلًا“ ایک شخص نے تہمت لگائی ایک ایسے آدمی پر، ”وَطِئَ جَارِيَةً مُشْتَرَكَةً بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ“ جس نے وطی کی تھی ایسی باندی سے جو اس کے اور ایک دوسرے
ایک آدمی کے درمیان مشترک تھی۔ ایک مشترکہ باندی سے ایک آدمی نے صحبت کی ہے اور دوسرے نے اس پر زنا کا الزام لگایا ہے۔ تو یہ کونسی وطی ہوئی؟ یہ وطی ہوئی کس میں؟ غیرِ ملک میں، اور غیرِ ملک چاہے اگرچہ کچھ تو غیرِ ملک ہے، تو یہ وطی حرام لعینہٖ ہے، لہٰذا اس پر کوئی الزام لگائے، اس آدمی پر، تو اس پر حدِّ قذف نہیں آئے گی، کیونکہ اس نے واقعی زنا کیا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”أَنَّ مَنْ قَذَفَ رَجُلًا وَطِئَ جَارِيَةً مُشْتَرَكَةً بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ“
اور جس شخص نے زنا کا الزام لگایا ایک ایسے آدمی پر جس نے اپنے اور دوسرے آدمی کے درمیان ایک مشترکہ باندی کے ساتھ وطی کی تھی،
”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“
تو اس الزام لگانے والے پر حد نہیں ہے،
”لِانْعِدَامِ الْمِلْكِ مِنْ وَجْهٍ“
اس لیے کیونکہ اس آدمی کی ملکیت نہیں تھی من وجہٍ بعض اعتبار سے۔ تو یہ غیرِ ملک میں وطی ہوئی بھئی۔
”وَكَذَا إِذَا قَذَفَ امْرَأَةً زَنَتْ فِي نَصْرَانِيَّتِهَا“
صورتِ مسئلہ یہ: ایک عورت عیسائی تھی وہ مسلمان ہو گئی، لیکن زمانۂ عیسائیت کے اندر اس نے ایک آدمی سے زنا کیا تھا، اور وہ زنا ثابت بھی ہو گیا تھا، اور اس کی وجہ سے اس عورت کو حد بھی لگائی گئی تھی۔ تو اب یہ مسلمان ہو گئی ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد ایک آدمی نے اس کو زانیہ کہا۔ تو کیا اس آدمی کو حد لگائیں گے؟ کہتے ہیں نہیں، اس آدمی کو حد نہیں لگائیں گے، اس لیے کیونکہ شرعاً اس عورت کی طرف سے زنا ہو چکا ہے، اسی وجہ سے تو اس کو حد بھی لگائی گئی تھی۔
تو کہتے ہیں:
”وَكَذَا إِذَا قَذَفَ امْرَأَةً“
اور اسی طرح جب کسی شخص نے زنا کا الزام لگایا ایسی عورت پر،
”زَنَتْ فِي نَصْرَانِيَّتِهَا“
جس نے زنا کیا تھا اپنے عیسائی ہونے کی حالت میں، اپنے عیسائی ہونے کی حالت میں اس نے زنا کیا تھا، یعنی کفر کی حالت میں۔ اس کا بھی یہی حکم ہے، یعنی الزام لگانے والے پر حد نہیں آئے گی۔
”لِتَحَقُّقِ الزِّنَا مِنْهَا شَرْعًا“
اس لیے کیونکہ شرعاً اس عورت کی طرف سے زنا پایا گیا ہے،
”لِانْعِدَامِ الْمِلْكِ“
ملکیت معدوم ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ وہ آدمی جس نے اس کے ساتھ زنا کیا تھا، اس کی اس کے اندر کوئی ملکیت نہیں تھی، نہ ملکِ یمین تھی اور نہ ملکِ نکاح تھی، اور اسی لیے تو اس پر حد بھی واجب ہوئی تھی۔ اگر ملکیت ہوتی تو پھر تو حد ثابت نہیں ہو سکتی تھی۔
تو کہتے ہیں:
”لِتَحَقُّقِ الزِّنَا مِنْهَا شَرْعًا“
اس وجہ سے کہ اس عورت کی طرف سے زنا پایا گیا ہے شرعاً،
”لِانْعِدَامِ الْمِلْكِ“
اس زانی کی ملکیت معدوم ہونے کی وجہ سے کہ اس کی اس عورت میں کوئی ملکیت نہیں تھی،
”وَلِهَذَا وَجَبَ عَلَيْهَا الْحَدُّ“
اور اسی وجہ سے تو اس عورت پر حد واجب ہوئی تھی۔
”وَلَوْ قَذَفَ رَجُلًا أَتَى أَمَتَهُ“
اب حرام لغیرہٖ کی کچھ مثالیں ذکر کریں گے۔ ایک شخص اپنی مجوسیہ باندی سے وطی کرتا ہے یا اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں وطی کرتا ہے یا اپنی مکاتبہ سے وطی کرتا ہے، تو یہ سب حرام لغیرہٖ ہیں۔ اس میں اگر کوئی الزام لگائے گا تو پھر اس آدمی کو حد لگائیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ قَذَفَ رَجُلًا أَتَى أَمَتَهُ“
اور جس شخص نے زنا کی تہمت لگائی ایک ایسے آدمی پر: ”أَتَى أَمَتَهُ“ جو اپنی باندی کے پاس آیا ہے یعنی اس سے صحبت کی ہے،
”وَهِيَ مَجُوسِيَّةٌ“
اس حال میں کہ وہ باندی مجوسیہ ہے، یعنی ستارہ پرست ہے، مشرک ہے،
”أَوْ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ“
یا وہ ایسا آدمی ہے کہ اس نے اپنی بیوی سے صحبت کی ہے اس حال میں کہ وہ حائضہ ہے،
”أَوْ مُكَاتَبَةً لَهُ“
یا ایک شخص نے اپنی ایسی باندی سے صحبت کی ہے جو اس کی مکاتبہ ہے،
”فَعَلَيْهِ الْحَدُّ“
تو اس پر حد واجب ہے، یعنی وہ جس نے زنا کا الزام لگایا ہے اس آدمی پر جس نے یہ والی حرام لغیرہٖ وطی کی ہے، اپنی مشرکہ باندی سے وطی کی ہے یا اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں وطی کی ہے یا اپنی مکاتبہ سے وطی کی ہے تو یہ وطی حرام لغیرہٖ ہے، اور اس آدمی پر کوئی زنا کی تہمت لگائے گا تو اس قاذف کو حد لگائیں گے۔ تو یہ معنی ہے: ”فَعَلَيْهِ الْحَدُّ“ تو اس قاذف پر یعنی اس زنا کا الزام لگانے والے پر حد واجب ہو گی۔
”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ مَعَ قِيَامِ الْمِلْكِ“
اس لیے کیونکہ یہ حرمت ہے باوجود ملکیت کے پائے جانے کے۔ یہ وطی حرام تو ہے لیکن ملکیت تو پائی جا رہی ہے، یہاں تو غیرِ ملک کسی اعتبار سے بھی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ حرام لعینہٖ نہیں ہے بلکہ حرام لغیرہٖ ہے۔
تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ مَعَ قِيَامِ الْمِلْكِ“
اس لیے کیونکہ یہ حرمت جو ہے ملکیت کے وجود کے ساتھ ہے،
”وَهِيَ مُؤَقَّتَةٌ“
اس حال میں کہ یہ حرمت مؤقت ہے مؤبد نہیں ہے،
”فَكَانَتْ الْحُرْمَةُ لِغَيْرِهِ“
تو یہ حرمت لغیرہٖ ہے،
”فَلَمْ يَكُنْ زِنًى“
تو یہ زنا نہیں ہے۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے:
”أَنَّ وَطْءَ الْمُكَاتَبَةِ يُسْقِطُ الْإِحْصَانَ“
کہ مکاتبہ کے ساتھ وطی یہ بھی احصان کو ساقط کر دیتی ہے۔ کوئی آقا اگر اپنی مکاتبہ سے وطی کر لے گا تو یہ آقا محسن نہ رہا۔ لہٰذا اس پر اگر کوئی زنا کا الزام لگائے گا تو اس پر حدِّ قذف نہیں لگائیں گے۔ پیچھے متن میں تو آ گیا، متن میں تو آیا اپنی مکاتبہ سے وطی کرے گا یہ حرام لغیرہٖ ہے، یہ حرام لعینہٖ نہیں بلکہ حرام لغیرہٖ ہے، لہٰذا اس سے محسن ہونا ساقط نہیں ہو گا۔ اس شخص پر کوئی زنا کا الزام لگائے گا تو اس کو حدِّ قذف لگائیں گے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے، اپنی مکاتبہ سے بھی کوئی صحبت کر لے گا تو اس کا محسن ہونا ساقط ہو گیا۔ اب اس پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس کو حدِّ قذف نہیں لگائیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے:
”أَنَّ وَطْءَ الْمُكَاتَبَةِ يُسْقِطُ الْإِحْصَانَ“
کہ مکاتبہ کی وطی جو ہے وہ اس آقا کے محسن ہونے کو ساقط کر دیتی ہے،
”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا،
”لِأَنَّ الْمِلْكَ زَائِلٌ فِي حَقِّ الْوَطْءِ“
اس لیے کیونکہ آقا کی جو ملکیت ہے وہ ختم ہو چکی ہے وطی کے حق میں، آقا وطی کا اب مالک نہیں ہے،
”وَلِهَذَا يَلْزَمُهُ الْعُقْرُ بِالْوَطْءِ“
اور اسی وجہ سے آقا پر عقر بھی لازم ہوتا ہے اس وطی کی وجہ سے۔ آقا اگر اپنی مکاتبہ سے وطی کرے گا تو اس کو عقر دینا پڑے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا عقر بھی مہر ہی کو کہتے ہیں لیکن یہاں نام بدل دیا۔ وجہ یہ ہے کہ مہر تو اس وقت کہتے ہیں جب نکاح ہوا ہو، تو نکاح کے اندر جو مال لازم ہوا ہے وہ ہے مہر، لیکن یہاں تو کوئی نکاح نہیں ہے، تو یہاں جو مال واجب ہوا ہے اس کو عقر کہتے ہیں۔ تو وطی بالشبهہ کی وجہ سے جو مال واجب ہو اس کو عقر کہتے ہیں، اور میں نے بتلایا تھا آزاد عورت ہو تو یہ مہرِ مثل ہوتا ہے، اور باندی جو ہے، باندی کے اندر دیکھا جائے گا کہ اگر اس جیسی باندی ہوتی کسی آقا کی، اسی جیسے حسن و جمال والی، اسی عمر والی اور اسی جیسی صفات والی، تو وہ آقا اپنی اس باندی کا نکاح کتنے مال میں کرواتا؟ تو وہ ہو گا اس باندی کا عقر بھئی۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، کہتے ہیں:
”وَلِهَذَا يَلْزَمُهُ الْعُقْرُ بِالْوَطْءِ“
اور اسی لیے اس آقا پر عقر یعنی مہر بھی لازم ہو جاتا ہے اس وطی کی وجہ سے۔ آقا اگر اپنی مکاتبہ سے وطی کرے تو اس کو مہر دینا پڑتا ہے، آقا مہر دے گا، اور پھر وہ مکاتبہ وہ تو قسطیں ادا کر رہی ہے، تو یہاں سے بھی اس کو مال مل گیا، اب اس کے ذریعے بھی وہ ادائیگی کرے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِهَذَا يَلْزَمُهُ الْعُقْرُ بِالْوَطْءِ“
اور اسی وجہ سے اس آقا پر جو ہے عقر یعنی مہر واجب ہوتا ہے وطی کی وجہ سے۔
”وَنَحْنُ نَقُولُ“
اور ہم کہتے ہیں: ہمارے نزدیک اپنی مکاتبہ سے وطی کرے گا تو یہ حرام لغیرہٖ ہے، حرام لعینہٖ نہیں۔
تو:
”وَنَحْنُ نَقُولُ“
ہم کہتے ہیں:
”مِلْكُ الذَّاتِ بَاقٍ“
کہ ذات کی ملکیت تو باقی ہے۔ بھئی دیکھو، ایک ہے رقبہ اور ایک ہے قبضہ۔ آقا کا قبضہ تو مکاتب اور مکاتبہ سے ختم ہو جاتا ہے، وہ آزاد آدمی کی طرح ہے، لیکن رقبہ تو ابھی بھی ان کا مملوک ہے۔ اگر یہ عقدِ کتابت ختم ہو گیا تو پھر وہ پہلے جیسے غلام اور باندیاں بن جائیں گے۔ معلوم ہوا رقبہ کے اندر آقا کی ملکیت باقی ہے یعنی ذات کے اندر۔ قبضے کے اندر آقا کی ملکیت نہیں لیکن ذات کے اندر آقا کی ملکیت باقی ہے۔
تو ہم کہتے ہیں:
”وَنَحْنُ نَقُولُ“
اور ہم کہتے ہیں:
”مِلْكُ الذَّاتِ بَاقٍ“
کہ ذات کے اندر جو ملکیت ہے وہ باقی ہے،
”وَالْحُرْمَةُ لِغَيْرِهِ“
اور یہ جو حرمت ہے یہ حرمت لغیرہٖ ہے، کیوں؟
”إِذْ هِيَ مُؤَقَّتَةٌ“
کیونکہ یہ کچھ وقت کے لیے ہے۔ کچھ وقت کے لیے ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ اگر یہ مکاتبہ عاجز آ گئی پیسوں کی ادائیگی سے تو پھر اس صورت میں پھر یہ عام باندی بن جائے گی اور آقا کے لیے صحبت جائز ہو جائے گی، معلوم ہوا حرمت مؤبد نہیں ہے بھئی۔
تو یہ معنی ہے:
”وَالْحُرْمَةُ لِغَيْرِهِ“
حرمت جو ہے غیر کی وجہ سے ہے،
”إِذْ هِيَ مُؤَقَّتَةٌ“
کیونکہ یہ حرمت مؤقت ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَوْ قَذَفَ رَجُلًا وَطِئَ أَمَتَهُ وَهِيَ أُخْتُهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ لَا يُحَدُّ“
صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے ایک باندی سے وطی کر لی، اور یہ جو باندی ہے اس کی مملوکہ ہے لیکن اس کی رضاعی بہن ہے۔ تو یہ حرمت کونسی ہوئی؟ مؤبد۔ تو ملکیت بے شک موجود ہے لیکن حرمت تو مؤبد ہے، معلوم ہوا یہ وطی حرام لعینہٖ ہے۔ لہٰذا اس آدمی پر اگر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس قاذف کو حدِّ قذف نہیں لگائی جا سکتی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ قَذَفَ رَجُلًا“
اور اگر کسی شخص نے الزام لگایا ایسے آدمی پر، توجہ ہے؟ بھئی جگہ جگہ یہ ضابطہ جاری ہو رہا ہے: ”رَجُلًا“ نکرہ ہے اور ”وَطِئَ“ اس کے بعد فعل آ رہا ہے، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو پھر وہ موصوف صفت بنتے ہیں اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ قَذَفَ رَجُلًا وَطِئَ أَمَتَهُ“
اور اگر کسی نے زنا کا الزام لگایا ایسے آدمی پر جس نے اپنی باندی سے وطی کی ہے،
”وَهِيَ أُخْتُهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ“
اس حال میں کہ یہ باندی اس کی رضاعی بہن ہے،
”لَا يُحَدُّ“
تو اس الزام لگانے والے کو حد نہیں لگائی جائے گی،
”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ مُؤَبَّدَةٌ“
اس لیے کیونکہ یہ حرمت مؤبد ہے ہمیشہ کے لیے ہے،
”وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ“
اور یہی قول صحیح ہے بھئی۔ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس قاذف کو حد لگائی جائے گی، لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا: ”وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے کہ اس آدمی کا محسن ہونا ختم ہو چکا ہے، تو اب اس کے قاذف کو حد نہیں لگائی جا سکتی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَوْ قَذَفَ مُكَاتَبًا وَمَاتَ وَتَرَكَ وَفَاءً لَا حَدَّ عَلَيْهِ“
یاد رکھو، مکاتب جو ہے وہ اپنی قسطیں ادا کرتا ہے اور جب پوری ادائیگی کر دیتا ہے تو آزاد ہو جاتا ہے۔ اب صورتِ مسئلہ یہ: ایک مکاتب اپنی قسطیں ادا کر رہا تھا، درمیان میں اس کا کسی وقت انتقال ہو گیا، اور جب اس کے مال کو دیکھا گیا تو جتنے اس کے ذمے مال باقی تھا، اس سے بھی زیادہ مال اس نے چھوڑا ہے، یعنی اتنا مال ہے جس سے آرام سے ادائیگی ہو سکتی ہے۔ اب اس قسم کے مکاتب میں جو اپنے پیچھے اتنا مال چھوڑ کر مرے کہ جس سے ادائیگی ہو سکتی ہے، اس قسم کے مکاتب کے بارے میں صحابہ کے دور سے اختلاف ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آزاد ہے۔ یہ آزاد، جب یہ آزاد ہے معلوم ہوا جو قسطیں بنتی تھیں وہ دے دیں گے آقا کو، اور جو باقی مال بچا ہے وہ سارا اس غلام کے، یہ اب آزاد ہو چکا ہے، اس کے وارثوں کو ملے گا۔ باقی مال اس کے وارثوں کو، اور جبکہ بعض کہتے تھے نہیں، یہ غلام ہی مرا ہے، بے شک اس کے پاس مال موجود تھا اتنا جس سے ادائیگی کر سکتا تھا، لیکن ادا تو ابھی تک نہیں کیا تھا، جب ادا نہیں کیا تو یہ ابھی بھی غلام ہے۔ جب یہ غلام ہے تو اس کا سارا کچھ آقا کا ہے، تو وہ سارا مال جو باقی زائد مال ہے وہ بھی آقا کا ہو جائے گا بھئی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو ایسا غلام جو مکاتب تھا اور اس کی ادائیگی سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا لیکن اتنا مال ہے جس سے وہ ادائیگی کر سکتا تھا، تو اس کو آزاد شمار کیا جائے گا یا غلام؟ صحابہ کے دور سے ہی اس میں اختلاف ہے۔ اب ایک آدمی ہے اس نے اس قسم کے مکاتب پر زنا کا الزام لگایا۔ مکاتب مر چکا ہے اور اس نے مال چھوڑا ہے جس سے پوری ادائیگی ہو سکتی ہے، اس پر اس نے زنا کا الزام لگایا۔ تو کیا اس مکاتب کے اصول یا فروع جو ہیں کیا وہ اس سے حدِّ قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں، وجہ یہ کہ یہاں اس مکاتب کے اندر اختلاف ہے اور اختلاف کی وجہ سے شک آ گیا اس کے آزاد ہونے میں۔ بھئی دیکھو نا، اگر یہ غلام مرا ہے تو یہ غیر محسن ہے کیونکہ محسن کے اندر تو آزاد ہونا ضروری تھا۔ یہ غلام ہے، جب غلام ہے تو غیر محسن ہے اور غیر محسن پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس پر تو حد نہیں آتی، اور اگر یہ آزاد ہو چکا ہے تو پھر تو یہ محسن ہے، پھر تو اس صورت میں اس الزام لگانے والے پر حدِّ قذف آنی چاہیے، تو لہٰذا اب یہ آزاد مرا ہے یا غلام مرا ہے؟ اس میں اختلاف ہے، تو اس کے اندر شک آ گیا۔ لہٰذا اس پر زنا کا الزام لگانے والے پر بھی حدِّ قذف نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ حدود جو ہیں وہ شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ قَذَفَ مُكَاتَبًا وَمَاتَ“
اور جس شخص نے مکاتب پر زنا کا الزام لگایا اس حال میں کہ وہ مکاتب مر چکا ہے،
”وَتَرَكَ وَفَاءً“
اور اس مکاتب نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے ادائیگی ہو سکتی ہے۔ وفا یفی کا معنیٰ ہے پوری ادائیگی کرنا، تو یہاں وفا سے مراد ہے وہ پورا مال یعنی جس کے ذریعے ادائیگی ہو سکتی ہے۔ تو مکاتب جو ہے وہ مر چکا ہے اور اس نے پوری ادائیگی کا مال چھوڑا ہے،
”لَا حَدَّ عَلَيْهِ“
تو اس الزام لگانے والے پر حد نہیں،
”لِتَمَكُّنِ الشُّبْهَةِ فِي الْحُرِّيَّةِ“
اس لیے کیونکہ شبہ آ گیا ہے اس کی آزادی میں۔ تمکن کا معنیٰ قرار پکڑنا، شبہے کے قرار پکڑنے کی وجہ سے اس مکاتب کی آزادی میں،
”لِمَكَانِ اخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“
”لِمَكَانِ اخْتِلَافِ“ أي ”لِوُجُودِ اخْتِلَافِ“، مکان مصدر ہے بمعنی وجود کے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اختلاف پائے جانے کی وجہ سے۔ تو شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا اس مکاتب پر زنا کا الزام لگانے والے پر حد نہیں آئے گی۔
آگے دیکھیے بھئی:
”وَلَوْ قَذَفَ مَجُوسِيًّا تَزَوَّجَ بِأُمِّهِ ثُمَّ أَسْلَمَ يُحَدُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا لَا حَدَّ عَلَيْهِ“
بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک مجوسی ہے اس نے اپنی ماں کے ساتھ نکاح کیا ہے، اور ان کے مذہب کے اندر یہ جائز ہے محرم کے ساتھ نکاح کرنا۔ محرم کے ساتھ نکاح کرنا ان کے مذہب میں جائز ہے۔ تو کیا یہ نکاح صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ آپ یہ اختلاف پڑھ چکے ہیں باب نكاح أهل الشرك کے اندر، کتاب النکاح کے اندر صاحبِ ہدایہ نے بیان فرمایا تھا بھئی۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ذمی ہیں بھئی، اور ہم نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ ہم تمہارے مذہبی معاملات میں دخل نہیں دیں گے، اور ان کے مذہب کے مطابق یہ نکاح صحیح ہے، تو لہٰذا ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے گا اور ان کے ساتھ کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ جب ان کے مذہب کے مطابق یہ نکاح صحیح ہے تو یوں ہی سمجھو یہ نکاح صحیح ہی ہے، اس میں کوئی دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ صاحبین بھی یہی فرماتے ہیں کہ ان کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیا جائے گا، البتہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح جائز نہیں ہے، یہ نکاح ہوا ہی نہیں کیونکہ محرم کے ساتھ تو نکاح جائز ہی نہیں، وہاں تو کوئی گنجائش ہی نہیں۔ صاحبین کے بارے میں میں نے بتلایا تھا کہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ذمی جو ہیں، ہمارے وہ احکام جو اتفاقی ہیں جس میں فقہاء کا اتفاق ہے وہ تو ان ذمیوں پر بھی لازم ہیں، اور جو مسائل اختلافی ہیں فقہاء کے درمیان وہ ان پر لازم نہیں۔ تو ذمی جب مملکتِ اسلامیہ میں رہتا ہے تو گویا اس نے ان تمام احکام کو اپنے اوپر لازم قرار دے دیا جو اجماعی اور اتفاقی ہیں مسلمانوں کے نزدیک، اور جو اختلافی ہیں انہوں نے اس کا التزام نہیں کیا۔ اور یہ جو محرم سے نکاح ہے یہ تو بالاتفاق تمام فقہاء کے نزدیک حرام ہے، تو لہٰذا یہاں بھی یہ ذمی نے جو اپنی محرم کے ساتھ نکاح کیا ہے یہ نکاح صحیح ہی نہیں ہے، یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ امام صاحب تو فرماتے ہیں نکاح ہو گیا کیونکہ ان کے مذہب کے مطابق نکاح صحیح ہے، لیکن صاحبین فرماتے ہیں یہ نکاح ہوا ہی نہیں ہے۔ ہاں، ہم ان کے معاملے میں دخل نہیں دیں گے۔ امام صاحب بھی فرماتے ہیں ہم دخل نہیں دیں گے، صاحبین بھی فرماتے ہیں ہم دخل نہیں دیں گے، البتہ فرق یہ ہے: امام صاحب فرماتے ہیں ان کا نکاح ان کے مذہب کے مطابق صحیح ہے تو ان کا یوں سمجھو ان کا نکاح ہو چکا ہے، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ محرم کے ساتھ نکاح جو ہے یہ تو اجماعی مسئلہ ہے، سب کے نزدیک یہ حرام ہے، اور انہوں نے ہمارے اتفاقی مسائل کے ماننے کا التزام کیا ہے، لہٰذا ان کا یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ ہاں، وہ الگ بات ہے ہم ان کے معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔ یہ جب مسلمان ہو کر ہمارے پاس آئیں گے پھر ہم ان میں جدائی کروا دیں گے۔ تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں اور صاحبین بھی کہ ان کے معاملات میں دخل نہیں دیا جائے گا، ہاں جب یہ مسلمان ہو کر آئیں گے پھر ان میں جدائی کروا دی جائے گی۔ البتہ اس وقت جب کہ ابھی یہ کافر ہیں، انہوں نے نکاح کیا ہے، کیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟ امام صاحب فرماتے ہیں ان کے مذہب میں ہو چکا ہے، لہٰذا ان کو ان کے مذہب پر چھوڑ دو، گویا یوں سمجھو نکاح ہو چکا ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں ہم دخل تو نہیں دے رہے لیکن یہ نکاح صحیح نہیں ہوا بھئی۔
فرق سمجھ میں آیا؟ اب ایک مجوسی تھا، اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا ہے اور پھر وہ مسلمان ہو گیا۔ اب بعد میں اس کو کوئی شخص جو ہے اس کو زانی کہتا ہے۔ وہ مجوسی مسلمان ہو گیا ہے جس نے اپنی محرم سے نکاح کیا تھا، اب تو ہم نے دونوں میں جدائی کروا دی، لیکن کوئی شخص اس کو زانی کہتا ہے مسلمان ہونے کے بعد، تو کیا اس پر حدِّ قذف آئے گی یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس شخص پر حد آئے گی۔ اس شخص پر حد آئے گی اس لیے کیونکہ اس کا نکاح اپنے مذہب کے مطابق صحیح تھا اور اسلام لانے کے بعد تو ہم نے جدائی کروا دی ہے، لہٰذا اس کی طرف سے زنا ہوا ہی نہیں۔ جب زنا نہیں ہوا تو اس کو زانی کہنے والے کو حدِّ زنا لگائی جائے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کا نکاح ہوا ہی نہیں تھا، محرم کے ساتھ جو وطی تھی وہ حرام و زنا تھا، لہٰذا اسلام لانے کے بعد بھی اگر کوئی اس کو زانی کہتا ہے تو اس پر حد نہیں آئے گی کیونکہ اس کا محسن ہونا ختم ہو چکا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ قَذَفَ مَجُوسِيًّا تَزَوَّجَ بِأُمِّهِ“
اور جس شخص نے زنا کا الزام لگایا ایسے مجوسی پر: ”تَزَوَّجَ بِأُمِّهِ“ جس نے نکاح کیا تھا اپنی ماں سے،
”ثُمَّ أَسْلَمَ“
پھر وہ مسلمان ہو گیا تھا، پھر وہ مسلمان ہو گیا تھا، اس کو اس نے زنا کی تہمت لگائی،
”يُحَدُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
تو اس الزام لگانے والے کو حد لگائی جائے گی امام صاحب کے نزدیک،
”وَقَالَا لَا حَدَّ عَلَيْهِ“
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس الزام لگانے والے پر کوئی حد نہیں ہے،
”وَهَذَا بِنَاءٌ عَلَى أَنَّ تَزَوُّجَ الْمَجُوسِيِّ بِالْمَحَارِمِ لَهُ حُكْمُ الصِّحَّةِ فِيمَا بَيْنَهُمْ عِنْدَهُ“
اور اس مسئلے کی بنیاد اس بات پر ہے: ”عَلَى أَنَّ تَزَوُّجَ الْمَجُوسِيِّ بِالْمَحَارِمِ“ کہ مجوسی کا محرموں سے نکاح کرنا،
”لَهُ حُكْمُ الصِّحَّةِ فِيمَا بَيْنَهُمْ“
اس کا صحت والا حکم ہے ان کے آپس میں، آپس میں ان کے صحیح ہونے کا حکم ہے،
”عِنْدَهُ“
امام صاحب کے نزدیک،
”خِلَافًا لَهُمَا“
بخلاف صاحبین کے کہ وہ فرماتے ہیں ان کے مابین بھی یہ نکاح صحیح نہیں، ہاں ہم دخل نہیں دیں گے، لیکن نکاح ہوا ہی نہیں۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نکاح ہو گیا ان کے نزدیک،
”وَقَدْ مَرَّ فِي النِّكَاحِ“
اور تحقیق یہ بات کتاب النکاح میں گزر چکی ہے۔
”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ“
صورتِ مسئلہ یہ: ایک حربی جو ہے دار الاسلام کے اندر امان لے کر آیا اور پھر یہاں اس نے کسی مسلمان پر زنا کی تہمت لگائی، تو کیا اس کو حدِّ قذف لگائی جائے گی یا نہیں؟ تو یاد رکھو اس کو حدِّ قذف لگائی جائے گی، یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے، اس لیے کیونکہ حربی نے حقوق العباد کا اپنے اوپر التزام کیا ہے اور حدِّ قذف اس میں بھی کیا ہے؟ بندے کا بھی حق ہے۔ تو لہٰذا اس کو حد لگائی جائے گی۔
کہتے ہیں:
”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ“
اور جب کوئی حربی ہمارے دار الاسلام کے اندر داخل ہوا امان کے ساتھ،
”فَقَذَفَ مُسْلِمًا“
پھر اس نے کسی مسلمان پر زنا کا الزام لگایا،
”حُدَّ“
تو اس حربی کو حد لگائی جائے گی،
”لِأَنَّ فِيهِ حَقَّ الْعَبْدِ“
اس لیے کیونکہ حدِّ قذف کے اندر بندے کا حق ہے،
”وَقَدْ الْتَزَمَ إيفَاءَ حُقُوقِ الْعِبَادِ“
اور تحقیق اس حربی نے التزام کیا تھا بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا۔ اس نے اپنے اوپر بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا التزام کیا تھا، یعنی جب مملکت میں آیا تھا تو اس نے گویا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا کہ میں یہاں کے باشندوں کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور میرے بھی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
”وَقَدْ الْتَزَمَ إيفَاءَ حُقُوقِ الْعِبَادِ“
اور اس حربی نے بھی اپنے اوپر بندوں کے حقوق کی ادائیگی کو لازم کیا ہے۔ جب وہ مملکتِ اسلامیہ میں آیا تھا تو گویا اس نے اس بات کا التزام کر لیا تھا کہ میں آپ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھوں گا، آپ میرے حقوق کا خیال رکھنا۔ تو گویا اس نے حقوق العباد کو خود اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ الْتَزَمَ إيفَاءَ حُقُوقِ الْعِبَادِ“ اور تحقیق اس نے اپنے اوپر لازم کیا تھا بندوں کے حقوق کی ادائیگی کو،
”وَلِأَنَّهُ طَمِعَ فِي أَنْ لَا يُؤْذَى“
اور اس لیے کیونکہ اس نے امید کی تھی اس بات کے اندر کہ اس کو تکلیف نہیں دی جائے گی،
”فَيَكُونُ مُلْتَزِمًا أَنْ لَا يُؤْذِيَ“
تو یہ اس بات کا التزام کرنے والا ہوا کہ یہ خود بھی تکلیف نہیں دے گا،
”وَمُوجَبُ أَذَاهُ الْحَدُّ“
اور اس نے جو تکلیف اور اذیت دی ہے اس کا مقتضا جو ہے، ”الْحَدُّ“ وہ حد ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَإِذَا حُدَّ الْمُسْلِمُ فِي قَذْفٍ سَقَطَتْ شَهَادَتُهُ وَإِنْ تَابَ“
بھئی وہی بات آ گئی جو میں پہلے بیان کر چکا کہ حدِّ قذف جو ہے اس کے اندر اسی کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور تمام زندگی اس آدمی کی شہادت بھی اب قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ قرآن میں اللہ حدِّ قذف والے کے بارے میں فرماتے ہیں:
”فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً“
کہ ان کو اسی کوڑے لگاؤ،
”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“
اور ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو۔
معلوم ہوا یہ جو گواہی قبول نہ کرنا ہے یہ تتمہ ہے حدِّ قذف کا۔ حد کے اندر اسی کوڑے بھی ہیں اور شہادت کا قبول نہ کرنا بھی ہے، تو معلوم ہوا شہادت کا قبول نہ کرنا یہ باقاعدہ حد کا حصہ ہے اور اسی کوڑوں کے بعد شہادت قبول نہ کرنے کا ذکر ہے، معلوم ہوا یہ حد کا تتمہ ہے۔ اسی کوڑے لگ جائیں گے تو ابھی حد پوری نہیں ہوئی، حد کا تتمہ یہ ہے کہ اب آئندہ زندگی بھر اس کی شہادت قبول نہ کی جائے۔ تو اب اس قاذف کی گواہی کا قبول نہ کرنا یہ حد کا تتمہ ہے، اس سے حد پوری ہو رہی ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا حُدَّ الْمُسْلِمُ فِي قَذْفٍ“
اور جب کسی مسلمان کو حد لگائی گئی زنا کا الزام لگانے میں،
”سَقَطَتْ شَهَادَتُهُ وَإِنْ تَابَ“
تو اس کی گواہی ساقط ہو گئی اگرچہ یہ توبہ کر لے، توبہ کر لے پھر بھی اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ گواہی کا قبول نہ کرنا یہ باقاعدہ حد کا حصہ ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”سَقَطَتْ شَهَادَتُهُ وَإِنْ تَابَ“ کہ اس کی گواہی ساقط ہو جائے گی اگرچہ یہ توبہ کر لے،
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى تُقْبَلُ إذَا تَابَ“
اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی قبول کی جائے گی جب یہ توبہ کر لے،
”وَهِيَ تُعْرَفُ فِي الشَّهَادَاتِ“
اور اس اختلافی مسئلے کو کتاب الشہادات میں جانا جائے گا۔
”وَإِذَا حُدَّ الْكَافِرُ فِي قَذْفٍ لَمْ يَجُزْ شَهَادَتُهُ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ“
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کسی مسلمان کے خلاف کافر کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، ہاں مسلمان کے حق میں کافر گواہی دے تو وہ قبول کی جائے گی کیونکہ اس میں مسلمان کا فائدہ ہے بھئی۔ اور ہاں، ذمی جو ہیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ تو اب ایک ذمی ہے اس نے مسلمان پر زنا کا الزام لگایا تھا، اور آپ نے پڑھا ہے کہ حرمات کے مخاطب یہ کافر بھی ہیں، غیر مسلم بھی ہیں۔ تو زنا کا الزام لگانے والے ذمی کو حدِّ قذف لگائی گئی۔ اب یہ جو ذمی ہے یہ بھی اب مردود الشہادۃ ہو چکا ہے، پہلے اس کی گواہی ذمیوں کے خلاف قبول کی جاتی تھی، اب ذمیوں کے خلاف بھی اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا حُدَّ الْكَافِرُ فِي قَذْفٍ“
اور جب کسی کافر پر حدِّ قذف لگا دی گئی،
”لَمْ يَجُزْ شَهَادَتُهُ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ“
تو اس کی گواہی جائز نہیں ہے ذمیوں کے خلاف۔ دیکھو ”عَلَى“ آیا، ”عَلَى“ آتا ہے نقصان اور ضرر کے لیے، تو اس کی گواہی جائز نہیں ہے ذمیوں کے خلاف، اب یعنی ان کے خلاف بھی اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی،
”لِأَنَّ لَهُ الشَّهَادَةَ عَلَى جِنْسِهِ“
اس لیے کیونکہ اس کو گواہی کا حق تھا اپنی ہی جنس کے خلاف،
”فَتُرَدُّ تَتِمَّةً لِحَدِّهِ“
تو اب اس کی گواہی رد کی جائے گی اس کی حد کے لیے بطورِ تتمہ کے، کہ اس سے اس کی حد پوری ہو گی بھئی۔
”فَإِنْ أَسْلَمَ“
اگر یہ مسلمان ہو گیا۔ بھئی یہ ذمی تھا، اس کو حدِّ قذف لگائی گئی، اب اس کی گواہی ذمیوں کے خلاف بھی نہیں قبول کی جاتی۔ بعد میں یہ ذمی مسلمان ہو گیا تو کیا اب اس کی گواہی قبول کریں گے ذمیوں اور مسلمانوں کے خلاف؟ کہتے ہیں جب مسلمان ہو گیا تو اس اسلام کی وجہ سے اس کو نئی شہادت حاصل ہو گئی۔ اب یہ مسلمانوں کے خلاف بھی گواہی دے سکتا ہے اور ذمیوں کے خلاف بھی گواہی دے سکتا ہے، کیونکہ اسلام کی وجہ سے اس کو نئی شہادت حاصل ہو گئی۔ پہلے تو یہ مسلمان کے خلاف گواہی دے ہی نہیں سکتا تھا، اور پھر ذمیوں کے خلاف بھی گواہی نہیں دے سکتا تھا حد جاری ہونے کے بعد۔ لیکن اب اس کو نئی شہادت حاصل ہوئی، یہ مسلمان کے خلاف گواہی دے سکتا ہے، اور اسی گواہی کے تابع بھئی اس ذمیوں کے خلاف گواہی کا بھی اس کو حق مل گیا۔ اب دوبارہ سے اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ ہاں، اب اگر دوبارہ اس پر حد جاری ہوئی، حدِّ قذف، تو پھر دوبارہ یہ مردود الشہادۃ بن جائے گا۔
کہتے ہیں:
”فَإِنْ أَسْلَمَ“
اگر وہ ذمی جو ہے مسلمان ہو گیا،
”قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ عَلَيْهِمْ وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ“
تو اب اس کی گواہی قبول کی جائے گی ذمیوں کے خلاف بھی اور مسلمانوں کے خلاف بھی،
”لِأَنَّ هَذِهِ شَهَادَةٌ اسْتَفَادَهَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ“
اس لیے کیونکہ یہ جو شہادت ہے یہ اسلام لانے کے بعد اس نے حاصل کی ہے،
”فَلَمْ تَدْخُلْ تَحْتَ الرَّدِّ“
تو یہ اس رد کے تحت داخل نہیں، پہلے جو اس کی شہادت رد کی جاتی تھی یہ اب اس کے تحت داخل نہیں کیونکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے اس نے نئی شہادت حاصل کی ہے،
”بِخِلَافِ الْعَبْدِ“
ہاں بخلاف غلام کے۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک غلام نے کسی آدمی پر زنا کا الزام لگایا، اور وہ محسن تھا وہ آدمی، تو اس غلام کو حدِّ قذف لگا دی گئی۔ بعد میں اس غلام کو آقا نے آزاد کر دیا، تو کیا آزادی کے بعد اب اس کی گواہی قبول کی جائے گی؟ کہتے ہیں نہیں، جب غلام تھا تو یہ تو شہادت کا اہل ہی نہیں تھا۔ جب شہادت کا اہل ہی نہیں تھا تو لہٰذا معلوم ہوا اس کو صرف کوڑے لگے تھے اس وقت، غلامی کے دوران اس کو صرف کوڑے لگے تھے اور حد کا جو تتمہ تھا یعنی مردود الشہادۃ ہونا وہ تو ابھی آیا ہی نہیں، یہ تو اہل شہادت تھا ہی نہیں پہلے بھئی۔ صرف اس کو کوڑے لگے ہیں اور مردود الشہادۃ ہونا یہ تو ثابت ہی نہیں ہوا تھا، یعنی حد ابھی پوری ہی نہیں ہوئی تھی۔ جب یہ آزاد ہو گا تو اب وہ تتمہ آ جائے گا، اب یہ مردود الشہادۃ ہو جائے گا۔ پہلے صرف کوڑے لگے تھے، اب مردود الشہادۃ بھی ہو گیا، تو لہٰذا غلام کو جب حد لگا دی جائے اور پھر بعد میں وہ آزاد ہو جائے تو وہ مردود الشہادۃ ہی رہے گا، کوئی نئی شہادت اس کو حاصل نہیں ہوئی بھئی۔
کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْعَبْدِ إِذَا حُدَّ حَدَّ الْقَذْفِ ثُمَّ أُعْتِقَ حَيْثُ لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ“
بخلاف غلام کے کہ جب اس کو حدِّ قذف لگا دی جائے پھر اس کو آزاد کر دیا جائے کیونکہ اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی،
”لِأَنَّهُ لَا شَهَادَةَ لَهُ أَصْلًا فِي حَالِ الرِّقِّ“
اس لیے کیونکہ اس کے لیے تو سرے سے کوئی گواہی ہی نہیں تھی غلامی کی حالت میں،
”فَكَانَ رَدُّ شَهَادَتِهِ بَعْدَ الْعِتْقِ مِنْ تَمَامِ حَدِّهِ“
تو آزادی کے بعد اس کی شہادت کا رد کرنا یہ اس کے حد کے پورا کرنے میں سے ہی ہے، حد ابھی پوری ہوئی ہی نہیں تھی بھئی، تو جب آزاد ہو گا اب مردود الشہادۃ بھی ہو گیا اب حد پوری ہو گئی بھئی۔
آگے دیکھیے:
”فَإِنْ ضُرِبَ سَوْطًا فِي قَذْفٍ ثُمَّ أَسْلَمَ“
بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی ہے اس کو حدِّ قذف لگائی جا رہی ہے اور وہ ذمی ہے، ایک یا دو کوڑے لگے یا کچھ کوڑے لگے تھے کہ یہ مسلمان ہو گیا۔ تو کچھ حد جو ہے کفر کی حالت میں لگی اور کچھ حد جو ہے اسلام کی حالت میں لگی، تو کیا اب یہ مردود الشہادۃ ہو گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ وجہ یہ کہ مردود الشہادۃ ہونا یہ حد کا تتمہ ہے، مردود الشہادۃ ہونا حد کا تتمہ ہے، اس سے حد پوری ہوتی ہے۔ لہٰذا پوری حد یا تو کفر میں پائی جائے یا اسلام میں، پھر یہ تتمہ بھی ساتھ آ کر جڑے گا۔ لیکن پوری حد تو نہ اسلام میں پائی گئی نہ کفر میں، کفر کے اندر ایک دو کوڑے لگ گئے تھے پھر مسلمان ہو گیا، تو نہ کفر میں پورے کوڑے لگے ہیں اور نہ اسلام میں پورے کوڑے لگے ہیں، تو لہٰذا جب پوری حد ہوتی تو اس کا تتمہ بھی ساتھ آ جاتا، تو جب کوڑے لگانے والی پوری حد نہ کفر میں ہے نہ اسلام میں ہے تو اس کا تتمہ بھی نہیں آ سکتا۔
کہتے ہیں:
”فَإِنْ ضُرِبَ سَوْطًا فِي قَذْفٍ“
اور اگر کافر کو ایک کوڑا لگایا گیا قذف کے اندر،
”ثُمَّ أَسْلَمَ“
پھر وہ مسلمان ہو گیا،
”ثُمَّ ضُرِبَ مَا بَقِيَ“
پھر اس کو باقی کوڑے لگائے گئے،
”جَازَتْ شَهَادَتُهُ“
تو اس کی شہادت جائز ہے، یہ مردود الشہادۃ نہیں کیونکہ مردود الشہادۃ ہونا یہ حد کا تتمہ ہے، اس سے حد پوری ہوتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حد یا پوری کی پوری موجود تو ہو، یا کفر میں پوری ہو یا اسلام میں، لیکن یہاں پوری حد نہ کفر میں ہوئی نہ اسلام میں، لہٰذا اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔
حد نہ کفر میں ہے اور نہ اسلام میں ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”جَازَتْ شَهَادَتُهُ“ اس کی گواہی جائز ہے، ”لِأَنَّ رَدَّ الشَّهَادَةِ مُتَمِّمٌ لِلْحَدِّ“ اس لیے کیونکہ شہادت کا رد کرنا یہ حد کو پورا کرنے والا ہے، ”فَيَكُونُ صِفَةً لَهُ“ تو یہ رد شہادت جو ہے یہ حد کی صفت ہوگی۔ یعنی حد کی صفت ہے، اس کا تتمہ ہے، اس کو پورا کرنے والی ہے۔ ”وَالْمُقَامُ بَعْدَ الْإِسْلَامِ بَعْضُ الْحَدِّ“ اور وہ حد جس کو قائم کیا گیا اسلام کے بعد، وہ تو بعضِ حد ہے۔ ”فَلَا يَكُونُ رَدُّ الشَّهَادَةِ صِفَةً لَهُ“ تو لہٰذا ردِ شہادت اس کی صفت نہیں ہو سکتی۔ ردِ شہادت پوری حد کی صفت بنتی ہے، بعضِ حد کی صفت نہیں بنتی۔ یہ معنی ہے: ”فَلَا يَكُونُ رَدُّ الشَّهَادَةِ صِفَةً لَهُ“ تو یہ ردِ شہادت جو ہے اس بعضِ حد کی صفت نہیں ہو سکتی۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے: ”أَنَّهُ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ“ کہ اس کی شہادت بھی رد کی جائے گی، یہ شخص بھی مردود الشہادت ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: ”إِذِ الْأَقَلُّ تَابِعٌ لِلْأَكْثَرِ“ اس لیے کیونکہ قلیل جو ہوتا ہے وہ اکثر کے تابع ہوتا ہے، تھوڑی چیز زیادہ کے تابع ہو جاتی ہے اور زیادہ کوڑے تو اسلام میں لگے ہیں، تو یوں سمجھو گویا اسلام کے اندر ہی پوری حد جاری ہوئی ہے، لہٰذا ردِ شہادت اس کی صفت بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”أَنَّهُ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ إِذِ الْأَقَلُّ تَابِعٌ لِلْأَكْثَرِ“ اس کی شہادت رد کی جائے گی اس لیے کیونکہ تھوڑا جو ہے وہ اکثر کے تابع ہو جاتا ہے۔ بھئی، جب اسلام کے اندر اکثر کوڑے لگے ہیں تو کفر کے جو تھوڑے کوڑے ہیں وہ بھی اسی کے تابع ہو جائیں گے اور یوں سمجھیں گے پوری حد ہی اسلام کے اندر لگی ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”إِذِ الْأَقَلُّ تَابِعٌ لِلْأَكْثَرِ“ اس لیے کیونکہ جو قلیل ہوتا ہے وہ اکثر کے تابع ہو جاتا ہے۔ ”وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ“ اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے کہ اس کی شہادت قبول کی جائے گی، یہ مردود الشہادت نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَنْ قَذَفَ أَوْ زَنَى أَوْ شَرِبَ غَيْرَ مَرَّةٍ فَحُدَّ فَهُوَ لِذٰلِكَ كُلِّهِ“ بھئی، یہاں سے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ حدود کے اندر تداخل ہو گا۔ حدود کے اندر تداخل ہو گا۔ ایک آدمی نے کئی آدمیوں پر زنا کا الزام لگایا ہے یا ایک ہی آدمی پر کئی دفعہ زنا کا الزام لگایا ہے، تو ایک ہی حد تمام الزاموں کے لیے کافی ہو جائے گی۔ تو حدود کے اندر تداخل ہو گا۔ لیکن شرط یہ ہے وہ حدود ایک ہی جنس کی ہوں پھر ہی ان میں تداخل ہو گا۔ اگر جنس ہی الگ الگ ہے پھر تداخل نہیں ہو گا۔ مثلاً ایک آدمی نے زنا بھی کیا ہے، شراب بھی پی ہے اور اس نے کسی پر زنا کا الزام بھی لگایا ہے اور اسی طرح اس نے چوری بھی کی ہے، تو یہ تو الگ الگ جنسیں ہیں۔ حدِ زنا کی جنس الگ ہے، حدِ سرقہ کی جنس الگ ہے، حدِ قذف کی جنس الگ ہے اور حدِ شربِ خمر کی جنس الگ ہے۔ تو یہ ساری الگ الگ جنسیں ہیں، ان کے مقصد الگ الگ ہیں۔ ان کے مقصد الگ الگ ہیں، حدِ زنا کا مقصد یہ ہے تاکہ نسبوں کی حفاظت ہو۔ لوگوں کے نسب محفوظ رہیں، اسی لیے زنا کی حد لگائی جاتی ہے، تو زنا کا مقصد کیا ہے؟ نسب کی حفاظت۔ حدِ قذف کا مقصد کیا ہے؟ لوگوں کی عزت کی حفاظت، کسی کو جرأت نہ ہو دوسروں پر تہمتیں لگانے کی۔ اسی طرح حدِ سرقہ ہے، اس کا مقصد یہ ہے تاکہ لوگوں کا مال محفوظ ہو، کسی کی جرأت نہ ہو دوسروں کا مال چوری کرے۔ اور اسی طرح حدِ شربِ خمر، اس کا مقصد یہ ہے تاکہ لوگوں کی عقلوں کی حفاظت ہو، کیونکہ شراب پینے کے بعد تو آدمی کی عقل زائل ہو جاتی ہے۔ تو ہر حد کا الگ الگ مقصد ہے۔ پھر دہرا لیں: حدِ زنا کا مقصد کیا؟ نسب کی حفاظت۔ حدِ سرقہ کا مقصد کیا؟ مال کی حفاظت۔ حدِ قذف کا مقصد؟ لوگوں کی عزت کی حفاظت۔ اور حدِ شربِ خمر کا مقصد کیا؟ عقل کی حفاظت بھئی۔ تو ہر ایک کا مقصد الگ ہے، تو ان میں تداخل نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، ایک ہی آدمی نے کئی چوریاں کی ہیں تو یہ ایک ہی جنس ہیں، ان میں تداخل ہو جائے گا، ایک ہی سزا کافی ہے بھئی۔
دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَمَنْ قَذَفَ“، فرماتے ہیں: ”وَمَنْ قَذَفَ أَوْ زَنَى أَوْ شَرِبَ غَيْرَ مَرَّةٍ“، مَرَّةٍ کا معنی ہے ایک مرتبہ، غَيْرَ مَرَّةٍ یعنی کئی مرتبہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَذَفَ“ اور جس نے زنا کا الزام لگایا ”أَوْ زَنَى“ یا زنا کیا ”أَوْ شَرِبَ غَيْرَ مَرَّةٍ“ یا اس نے ایک سے زیادہ دفعہ شراب پی۔ یہ ”غَيْرَ مَرَّةٍ“ کا تعلق سب سے ہے۔ پھر ترجمہ سنیں: ”قَالَ: وَمَنْ قَذَفَ أَوْ زَنَى أَوْ شَرِبَ غَيْرَ مَرَّةٍ“ اور جس نے ایک سے زیادہ مرتبہ زنا کا الزام لگایا یا زنا کیا یا شراب پی، ”فَحُدَّ“ تو اس کو حد لگائی جائے گی بھئی، تو کہتے ہیں: ”فَحُدَّ“ تو اس کو حد لگائی جائے گی ”فَهُوَ لِذٰلِكَ كُلِّهِ“ تو یہ اس سارے کے لیے ہو جائے گی، یہ ایک ہی حد اس ساروں کے لیے ہو جائے گی، یعنی کئی دفعہ چوری کی ہے یا کئی دفعہ شراب پی ہے یا کئی دفعہ زنا کیا ہے، تو ایک ہی حد اس سارے کے لیے ہو جائے گی، یعنی حدود میں تداخل ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”فَحُدَّ فَهُوَ لِذٰلِكَ كُلِّهِ“ اس کو حد لگائی جائے گی، یہ ایک حد اس سارے کے لیے ہو جائے گی۔
”أَمَّا الْآخِرَانِ“ تو آخر والی جو دو حدیں ہیں، دیکھو یہاں متن میں انہوں نے تین چیزیں ذکر کیں: قذف، زنا اور شرب بھئی۔ تو ان میں سے آخری دو جو ہیں یعنی زنا اور شربِ خمر، زنا اور شربِ خمر، ان کی بات کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْآخِرَانِ“ جو آخری دو ہیں یعنی زنا اور شربِ خمر، ”فَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ إِقَامَةِ الْحَدِّ حَقًّا لِلّٰهِ تَعَالَى الِانْزِجَارُ“ انزجار کا معنی ہے رکنا، باز آ جانا، تو ان کا مقصد کیا ہے؟ باز آ جانا، تاکہ یہ مجرم اور باقی لوگ اس جرم سے باز آ جائیں، تو یہ خالص اللہ کا حق ہے۔ دیکھو اس میں سب لوگوں کا فائدہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْآخِرَانِ فَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ إِقَامَةِ الْحَدِّ“ جو آخری دو ہیں یعنی زنا اور شربِ خمر، تو ان کے اندر حد قائم کرنے کا جو مقصد ہے ”حَقًّا لِلّٰهِ تَعَالَى الِانْزِجَارُ“ وہ باز آنا ہے بطورِ اللہ کے حق کے، وہ بطورِ اللہ کے حق کے باز آ جانا ہے، رک جانا ہے۔ ”وَاحْتِمَالُ حُصُولِهِ بِالْأَوَّلِ قَائِمٌ“ اور اس مقصد کے حاصل ہونے کا احتمال موجود ہے پہلی حد کے ذریعے ہی، ”فَيَتَمَكَّنُ شُبْهَةُ فَوَاتِ الْمَقْصُودِ فِي الثَّانِي“ تو قرار پکڑ لیا مقصد کے فوت ہو جانے کے شبہے نے دوسری حد میں۔
دیکھو بھئی، حدِ زنا اور حدِ شرب، کئی دفعہ زنا کیا ہے، ایک ہی حد کافی ہے۔ کئی دفعہ شرب کیا، ایک ہی حد کافی ہے۔ اسی طرح حدِ قذف میں بھی کئی دفعہ تہمتیں لگائی ہیں، ایک ہی حد کافی ہے۔ اب وجہ کیا ہے؟ ایک حد کیوں کافی ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو زنا ہے اور شربِ خمر ہیں، یہ خالص اللہ کے حق کے طور پر واجب ہیں اور مقصد یہ ہے تاکہ مجرم اس جرم سے باز آ جائے، آئندہ یہ جرم نہ کرے۔ آئندہ یہ جرم نہ کرے، تو جب یہ جو زنا کرنے والا ہے یا یہ جو شراب پینے والا ہے، جب اس کو ایک دفعہ حد لگا دی گئی، جرم تو کئی دفعہ کیا ہے، لیکن جب ایک دفعہ حد لگا دی گئی تو یہاں احتمال آیا، ہو سکتا ہے اسی سے اس مجرم کو عبرت ہو جائے، اب یہ آئندہ نہ کرے۔ تو ایک ہی دفعہ حد لگانے سے مقصد حاصل ہونے کا احتمال آ گیا۔ مقصد کیا تھا؟ تاکہ اس جرم سے باز آ جائے۔ تو ایک دفعہ ہی حد لگائی تو احتمال آیا کہ ہو سکتا ہے مقصد حاصل ہو گیا ہو، اس کو عبرت حاصل ہو گئی ہو، اب آئندہ زندگی بھر یہ ایسا نہ کرے، تو پہلی ہی حد سے مقصد حاصل ہونے کا احتمال آ گیا۔ تو اس کا تو مطلب ہے اب اگر آپ دوسری حد لگائیں گے وہ تو بے مقصد ہو جائے گی۔ تو لہٰذا دوسری حد کے بے مقصد ہونے کا شبہ آ گیا، مقصد سے خالی ہونے کا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے تو اس لیے باقی حدیں ساقط ہو جائیں گی۔ اسی طرح شراب اس نے کئی دفعہ پی ہے، لیکن ایک ہی حد لگا دیں گے تو احتمال آ گیا، ہو سکتا ہے یہی اس کی عبرت کے لیے کافی ہو، اب یہ باز آ جائے گا۔ تو اگلی حد اگر آپ لگائیں گے تو اس کے اندر تو شبہ آ گیا کہ اس میں تو مقصد حاصل نہیں ہو رہا، کیونکہ مقصد تو پہلے ہی حاصل ہو چکا ہے، تو جب مقصد سے خالی ہونے کا شبہ آیا تو اگلی حدود ساقط ہو جائیں گی بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: ”أَمَّا الْآخِرَانِ“ جو آخر والی دو چیزیں ہیں یعنی زنا اور شربِ خمر، ”فَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ إِقَامَةِ الْحَدِّ حَقًّا لِلّٰهِ تَعَالَى الِانْزِجَارُ“ اس لیے کیونکہ حد قائم کرنے کا جو مقصد ہے وہ بطورِ اللہ کے حق کے اس مجرم کا باز آنا ہے، ”وَاحْتِمَالُ حُصُولِهِ بِالْأَوَّلِ قَائِمٌ“ اور اس مقصد کے حاصل ہونے کا احتمال تو موجود ہے پہلی حد کے ذریعے ہی، پہلی حد کے ذریعے اس مقصد کے حاصل ہونے کا احتمال موجود ہے، ”فَيَتَمَكَّنُ شُبْهَةُ فَوَاتِ الْمَقْصُودِ فِي الثَّانِي“ تو مقصد کے فوت ہونے کا شبہ آ گیا دوسری حد کے اندر، تو لہٰذا دوسری حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔
”وَهٰذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا زَنَى وَقَذَفَ وَسَرَقَ“ دیکھو، یہاں سے اب صاحبِ ہدایہ وہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ تداخل آئے گا ایک جنس کے اندر، جب ساری حدیں کیا ہوں؟ ایک ہی جنس کی ہوں تو پھر ان میں تداخل ہو گا، لیکن اگر جنسیں الگ الگ ہیں پھر تداخل نہیں، جیسے چوری بھی کی ہے اور زنا بھی کیا ہے، تو چوری کی حد کا مقصد کیا ہے؟ لوگوں کا مال محفوظ ہو جائے، اور زنا کی حد کا مقصد کیا ہے؟ نسب محفوظ ہو جائیں، تو دونوں کا مقصد الگ الگ ہے تو پھر ان میں تداخل نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا زَنَى وَقَذَفَ وَسَرَقَ وَشَرِبَ“ اور بخلاف اس کے کہ جب اس شخص نے زنا بھی کیا اور زنا کا الزام بھی لگایا اور چوری بھی کی اور شراب بھی پی، تو اس صورت میں تداخل نہیں ہو گا، ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ كُلِّ جِنْسٍ غَيْرُ الْمَقْصُودِ مِنَ الْآخَرِ“ اس لیے کیونکہ ہر جنس سے جو چیز مقصود ہے وہ دوسری جنس سے مقصود نہیں ہے، اس لیے کیونکہ ہر جنس سے جو مقصود ہے وہ دوسری جنس سے مقصود نہیں ہے، تو ہر ایک کا مقصد علیحدہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ كُلِّ جِنْسٍ غَيْرُ الْمَقْصُودِ مِنَ الْآخَرِ فَلَا يَتَدَاخَلُ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ہر جنس سے جو مقصود ہے وہ دوسری جنس سے مقصود نہیں ہے تو ان میں تداخل نہیں ہو گا۔
”وَأَمَّا الْقَذْفُ فَالْمُغَلَّبُ فِيهِ عِنْدَنَا حَقُّ اللّٰهِ تَعَالَى فَيَكُونُ مُلْحَقًا بِهِمَا“ اور باقی حدِ قذف جو ہے، تو وہ چیز جس کو غالب قرار دیا گیا ہے اس کے اندر ہمارے نزدیک وہ اللہ کا حق ہے، تو یہ بھی ان دونوں کے ساتھ ملحق ہو گی، حدِ قذف کا حکم بھی وہی حدِ زنا اور حدِ شربِ خمر والا ہے اور ان میں تو تداخل ہوتا ہے، تو لہٰذا حدِ قذف جس کے اندر حق اللہ غالب ہے اس کے اندر بھی تداخل ہو گا بھئی۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: إِنِ اخْتَلَفَ الْمَقْذُوفُ أَوِ الْمَقْذُوفُ بِهِ وَهُوَ الزِّنَا لَا يَتَدَاخَلُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدِ قذف کے اندر تداخل تب ہو گا جب مقذوف بھی ایک ہو اور مقذوف بہ بھی ایک ہو۔ مقذوف وہ آدمی جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے زید پر زنا کا الزام لگایا، تو زید ہوا مقذوف، اس پر زنا کا الزام لگا ہے، اور جس چیز کا الزام لگایا وہ ہے مقذوف بہ، تو زید پر کس چیز کا الزام لگایا؟ زنا کا، تو زنا ہوا مقذوف بہ۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر مقذوف اور مقذوف بہ متحد ہوں تو پھر حدِ قذف میں تداخل ہو گا۔ ایک ہی زنا کا الزام ایک آدمی پر کئی دفعہ لگایا، مثلاً زید پر الزام لگایا کہ تم نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے، اور پھر دوسرے دن پھر الزام لگایا اسی عورت کے ساتھ زنا کا کہ تم نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے، تو دیکھو یہاں مقذوف زید ہے دونوں جگہ، اور ایک ہی زنا کی وہ بات کر رہا ہے کوئی الگ الگ زنا کی بات نہیں کر رہا۔ لیکن اگر مقذوف الگ الگ ہوں، مثلاً ایک زنا کا الزام لگایا ہے زید پر، ایک زنا کا الزام لگایا ہے عمرو پر اور ایک زنا کا الزام لگایا ہے بکر پر، تو یہاں مقذوف الگ الگ ہیں، لہٰذا یہاں تداخل نہیں ہو گا، یہ کون فرماتے ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ۔ یا اسی طرح مقذوف تو ایک ہے لیکن مقذوف بہ الگ الگ ہیں، پھر بھی تداخل نہیں ہو گا، مثلاً زید پر ایک الزام لگایا کہ تم نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے، پھر دوسری عورت کا الزام لگایا کہ تم نے فلانی عورت سے بھی زنا کیا ہے، پھر تیسری عورت کا الزام لگایا کہ تم نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے، تو یہاں دیکھو مقذوف بہ الگ الگ ہیں، یعنی الگ الگ زنا کا الزام لگا رہا ہے تو ان میں بھی تداخل نہیں ہو گا، ہر الزام کے لیے الگ الگ حد لگائی جائے گی، یہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک تداخل ہو جائے گا، ایک ہی حد ان سب سے کافی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: إِنِ اخْتَلَفَ الْمَقْذُوفُ أَوِ الْمَقْذُوفُ بِهِ وَهُوَ الزِّنَا“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مقذوف یا مقذوف بہ مختلف ہو جائیں، ”وَهُوَ الزِّنَا“ یہ تفسیر کر رہے ہیں مقذوف بہ کی، مقذوف بہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ الزِّنَا“ اور وہ زنا ہے، یعنی وہ جو الزام لگایا ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إِنِ اخْتَلَفَ الْمَقْذُوفُ“ اگر مقذوف مختلف ہو جائے یعنی وہ شخص جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے، ”أَوِ الْمَقْذُوفُ بِهِ وَهُوَ الزِّنَا“ یا مقذوف بہ مختلف ہو جائے اور وہ زنا ہے، اگر وہ مختلف ہو جائے، ”لَا يَتَدَاخَلُ“ پھر حدِ قذف کے اندر تداخل نہیں ہو گا، ”لِأَنَّ الْمُغَلَّبَ فِيهِ حَقُّ الْعَبْدِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ اس حدِ قذف کے اندر بندے کے حق کو غالب قرار دیا گیا ہے عندہ ان کے نزدیک۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں حدِ قذف میں بندے کا حق غالب ہے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”فَصْلٌ فِي التَّعْزِيرِ“ یہ فصل ہے تعزیر کے بارے میں بھئی۔ تعزیر بھئی عَزَرَ یَعْزِرُ سے ہے، اور عَزَرَ یَعْزِرُ کے معنی بھی ہیں روکنا اور سزا دینا۔ تو تعزیر کو بھی تعزیر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی مجرم کو اور لوگوں کو جرم سے روکتی ہے بھئی۔ جیسے کتاب الحدود کے شروع میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ حد کا معنی ہے روکنا، اور حد کو بھی حد اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو جرم سے روکتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي التَّعْزِيرِ“ یہ فصل ہے تعزیر کے بیان میں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ اسلامی سزائیں دو قسم پر ہیں: کچھ کو حدود کہتے ہیں اور کچھ کو تعزیر۔ حدود وہ سزائیں ہیں جو من جانب اللہ مقرر ہیں اور قاضی کے لیے جائز نہیں اس میں کمی بیشی کرے، نہ اس میں سفارش کی جا سکتی ہے اور نیز وہ شبہے کی وجہ سے بھی ساقط ہو جاتی ہے۔ جبکہ تعزیر جو ہے وہ سزا ہے جو قاضی اپنی مرضی سے دیتا ہے بھئی، اور یہ شبہے کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی بھئی، اور اس کے اندر سفارش بھی کی جا سکتی ہے اور یہ کتنی سزا دینی ہے یہ قاضی کی رائے پر ہے۔ ایک ہی چیز کی سزا ایک شخص کو کم دے اور دوسرے کو زیادہ دے، قاضی ایسا بھی کر سکتا ہے موقع محل کے مطابق بھئی۔
جیسے ذکر کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک جرم کے اندر ایک آدمی کو لایا گیا تو بادشاہ نے اس کی طرف غصے سے دیکھا اور پھر کہا اس کو لے جاؤ، چھوڑ دیا اس کو۔ اور پھر ایک اور شخص کو لایا گیا بادشاہ کے پاس، اس نے بھی ویسا ہی جرم کیا تھا، تو بادشاہ نے اس کو کچھ ڈانٹا اور پھر اس کو بھی بھیج دیا۔ پھر اس کے بعد ایک اور اسی جرم کے اندر ایک تیسرے آدمی کو لایا گیا تو بادشاہ نے کہا کہ اس کا منہ کالا کروا کر گدھے پر بٹھاؤ اور اس کو شہر کے دس چکر لگواؤ۔ تو بعد میں درباری پوچھنے لگے کہ بادشاہ سلامت! ایک ہی جرم تھا، ایک کو آپ نے صرف غصے سے دیکھا، غصے کا ایک لفظ بھی اس سے نہیں کہا، اسے ذرا بھی نہیں ڈانٹا، دوسرے کو آپ نے ڈانٹا اور تیسرے کو آپ نے سزا بھی دے دی، تو بادشاہ کہنے لگا لوگوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں، تم جا کر ذرا پتہ تو کرو ان آدمیوں کا۔ تو بادشاہ کے وزیر وغیرہ جو تھے انہوں نے بعد میں ان لوگوں کا پتہ کیا۔ تو وہ شخص جسے بادشاہ نے غصے سے دیکھا تھا، اس کا بادشاہ سے کچھ تعلق بھی تھا، تو دیکھا وہ غم کے اندر رو رہا ہے اور آنسو بہا رہا ہے، گھر کے اندر ایک کونے میں بیٹھا ہوا ہے، نہ کھانا کھا رہا ہے نہ کسی سے بات کر رہا ہے، انتہائی غم میں ڈوبا ہوا ہے کہ میری شکایت کیسے بادشاہ تک پہنچ گئی! اور پھر دوسرے آدمی کا پتہ کیا وزیروں نے جس کو بادشاہ نے ڈانٹا تھا، تو دیکھا وہ بھی، وہ بھی ایک کو گھر کے اندر ایک کونے میں خاموش بیٹھا ہے، افسردہ بیٹھا ہے کہ میری شکایت بادشاہ تک پہنچی اور بادشاہ نے مجھے ڈانٹ دیا، اور تیسرے کے بارے میں پتہ کیا تو دیکھا، تو دیکھا اس کا منہ کالا کیا ہوا ہے اور اس کو گدھے پر بٹھا کر چکر لگوا رہے ہیں اور خوب سارے بچے اس کے پیچھے تالیاں بجاتے ہوئے اور ہنستے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے چل رہے ہیں، اور وہ شخص جب اپنے گھر کے قریب سے گزرا تو گھر والوں کو آواز دے کر کہنے لگا: فکر نہ کرو، دو چکر رہ گئے میں ابھی آنے والا ہوں۔ تو وہ حیران رہ گئے بادشاہ کی دانشمندی اور عقل پر۔ تو معلوم ہوا کہ حکومت چلانا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے بھئی، اس میں بے انتہا حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو لہٰذا ایک ہی جرم کے سلسلے میں قاضی مختلف لوگوں کو مختلف قسم کی سزائیں دے سکتا ہے بھئی۔
اور اسی طرح یاد رکھو تعزیر جو ہے وہ حد سے کم ہونی چاہیے، چنانچہ زیادہ سے زیادہ جو تعزیر کے طور پر سزا دی جا سکتی ہے وہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک انتالیس کوڑے ہیں، کیونکہ کم سے کم حد جو ہے وہ چالیس کوڑے ہیں غلام کے۔ غلام کی سزا نصف ہوتی ہے، غلام شراب پی لے یا غلام کسی پر تہمت لگا دے زنا کی تو غلام کو چالیس کوڑے لگائے جاتے ہیں، اور تعزیر جو ہے وہ حد سے کم ہونی چاہیے، تو طرفین فرماتے ہیں کہ تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑوں تک ہو سکتی ہے۔ جبکہ آگے آپ کو بتلائیں گے امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تعزیر جو ہے زیادہ سے زیادہ پچھتر کوڑوں تک ہو سکتی ہے، انہوں نے آزاد کی حد کا اعتبار کیا ہے اور آزاد کی حد تو اسی کوڑے ہے تو اس سے کچھ کم کر دیے تو فرماتے ہیں پچھتر کوڑے ہیں، جبکہ ایک روایت ان کی یہ بھی ہے کہ اسی سے ایک کوڑا کم کر دیا جائے یعنی اناسی کوڑے، یہ بھی قاضی حد کے طور پر دے سکتا ہے۔ لیکن بہرحال یاد رکھو، تعزیر کے سلسلے میں سارا دار و مدار قاضی کی رائے پر ہے بھئی، قاضی جتنی تعزیر کسی کو دینا چاہے دے سکتا ہے، البتہ وہ حد سے کم ہونی چاہیے۔ لیکن اگر بعض اوقات معمولی سزاؤں سے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو رہی تو پھر قاضی یاد رکھو، دو چار آدمیوں کو قتل بھی کروا سکتا ہے۔ مثلاً ایک علاقے کے اندر لوگ بہت زیادہ ملاوٹ کرتے ہیں، ان کو معمولی سزا سے اثر ہی نہیں پڑتا، تیس پینتیس کوڑے لگ جائیں تو اس سے ان کو اثر ہی نہیں ہوتا، تو قاضی کے لیے جائز ہے کہ بطورِ تعزیر کے تین چار کو قتل کروا دے، ان کو لٹکا دے۔ جیسے مثلاً دیکھو لاہور والے ہیں ملاوٹ سے باز نہیں آ رہے تو قاضی کے لیے جائز ہے دو تین کو قتل کروا دے، ایک کو لاہور کے ایک کونے میں لٹکا دے، دوسرے کو دوسرے میں، تیسرے کو تیسرے کونے میں، آپ دیکھیں گے ایک دن میں سارے لوگ ملاوٹ سے باز آ جائیں گے۔ تو علماء و فقہاء فرماتے ہیں کہ بعض اوقات ضرورت کی وجہ سے قاضی سزائے موت بھی دے سکتا ہے لوگوں کی اصلاح کی نیت سے بھئی۔
تو اب یہ تعزیر کا بیان آ گیا۔ کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي التَّعْزِيرِ“ یہ فصل ہے تعزیر کے بیان میں۔ ”وَمَنْ قَذَفَ عَبْدًا“ اب صورت یہ بھئی پیچھے آپ کو انہوں نے بتلایا تھا اگر محسن پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس پر تو حدِ قذف آتی ہے، اگر غیرِ محسن پر کوئی زنا کا الزام لگائے جیسے غلام ہے یا کافر ہے، ان پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو کہتے ہیں اس صورت میں تعزیر آئے گی، اس صورت میں تعزیر آئے گی اور سخت تعزیر ان کو لگائی جائے گی کیونکہ غیرِ محسن ہونے کی وجہ سے حد تو نہ آئی لیکن بہرحال تعزیر آئے گی اور تعزیر بھی سخت درجے کی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَذَفَ عَبْدًا أَوْ أَمَةً أَوْ أُمَّ وَلَدٍ أَوْ كَافِرًا بِالزِّنَا“ اور جس نے الزام لگایا غلام پر یا باندی پر یا کسی کی ام ولد باندی پر یا کافر پر زنا کا، ان میں سے کسی پر کسی نے زنا کا الزام لگایا اب یہ تو غیرِ محسن ہیں تو کہتے ہیں: ”عُزِّرَ“ تو اس کو تعزیر لگائی جائے گی، ”لِأَنَّهُ جِنَايَةُ قَذْفٍ“ اس لیے کیونکہ یہ زنا کا الزام لگانے کا جرم ہے، ”وَقَدِ امْتَنَعَ وُجُوبُ الْحَدِّ لِفَقْدِ الْإِحْصَانِ“ اور حد کا وجوب تو ممتنع ہو گیا، حد تو واجب نہیں ہو سکتی محسن نہ ہونے کی وجہ سے، فقد کا کیا معنی؟ نہ ہونا۔ ”لِفَقْدِ الْإِحْصَانِ“ محسن نہ ہونے کی وجہ سے، ”فَوَجَبَ التَّعْزِيرُ“ تو تعزیر واجب ہو گی۔
”وَكَذَا إِذَا قَذَفَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ الزِّنَا“ اب بھئی دوسری صورت آ گئی، محسن پر الزام لگایا لیکن زنا کے علاوہ کسی اور چیز کا۔ زنا کا الزام محسن پر لگایا جائے وہاں تو حدِ قذف آتی ہے، لیکن زنا کے علاوہ کوئی اور الزام لگایا ہے تو پھر وہاں تعزیر آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا قَذَفَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ الزِّنَا“ اور اسی طرح ہے جب الزام لگایا مسلمان پر غیرِ زنا کا، ”فَقَالَ: يَا فَاسِقُ“ تو اس نے مسلمان سے کہا اس الزام لگانے والے نے: اے فاسق بھئی! میں نے بتایا فاسق کسے کہتے ہیں؟ جو شخص اللہ کے احکام کی پروا نہیں کرتا اس کو فاسق کہتے ہیں، تو کہنے لگا: ”يَا فَاسِقُ أَوْ يَا كَافِرُ“ کسی نے مسلمان سے کہا اے کافر، ”أَوْ يَا خَبِيثُ“ مسلمان سے کسی نے کہا اے خبیث! خبیث جو ہے کمینہ، بد طینت شخص جو ہے یا یوں کہو ہر خراب چیز کو جو ہے خبیث کہا جاتا ہے، تو کسی نے مسلمان سے کہا: یا خبیث، ”أَوْ يَا سَارِقُ“ اے چور! تو یہ دیکھو یہ سب الزامات ہیں، اس صورت میں تعزیر آئے گی، قاضی سزا دے گا اس آدمی کو۔ تو کہتے ہیں ان صورتوں میں تعزیر آئے گی: ”لِأَنَّهُ آذَاهُ وَأَلْحَقَ الشَّيْنَ بِهِ“ اس لیے کیونکہ تہمت لگانے والے نے اس مسلمان کو تکلیف دی ہے اور شین بھئی، شین کہتے ہیں عیب کو، ”وَأَلْحَقَ الشَّيْنَ بِهِ“ اور اس تہمت لگانے والے نے مسلمان کے ساتھ عیب کو ملایا ہے کہ اسے چور یا کافر وغیرہ کہا ہے، تو اس کو تعزیر کی جائے گی، ”وَلَا مَدْخَلَ لِلْقِيَاسِ فِي الْحُدُودِ“ یہ بات پہلے بیان ہو چکی ہے کہ حدود جو ہیں وہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں، لہٰذا قیاس کے ذریعے حدود ثابت نہیں ہو سکتیں، لہٰذا مسلمان کو چور کہا ہے یا کافر یا خبیث وغیرہ کہا ہے، قیاس کے ذریعے یہاں آپ حد ثابت نہیں کر سکتے، جب حد ثابت نہیں کر سکتے تو تکلیف تو دی ہے مسلمان کو، تو پھر اس صورت میں یہاں تعزیر آئے گی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا مَدْخَلَ لِلْقِيَاسِ فِي الْحُدُودِ“ اور قیاس کا کوئی دخل نہیں ہے حدود کے اندر۔ مدخل، یہ یاد رکھنا یہ مصدر ہے بھئی، ”أَيْ: وَلَا دَخْلَ لِلْقِيَاسِ فِي الْحُدُودِ“، تو کہتے ہیں قیاس کا کوئی دخل نہیں ہے حدود میں، ”فَوَجَبَ التَّعْزِيرُ“ تو تعزیر واجب ہوئی۔
”إِلَّا أَنَّهُ يَبْلُغُ بِالتَّعْزِيرِ غَايَتَهُ فِي الْجِنَايَةِ الْأُولَى“ ہاں، کہتے ہیں فرق یہ ہے کہ دو چیزیں یہاں بیان ہوئیں: ایک ہے کافر یا غلام کو زانی کہا اور ایک ہے مسلمان کو فاسق یا چور یا کافر وغیرہ کہا۔ دونوں میں فرق ہے، پہلے کے اندر جو اس نے زنا کا الزام لگایا ہے وہ بڑا جرم ہے، تو حد تو نہیں آئی کیونکہ وہ شخص غیرِ محسن ہے، غلام ہے یا کافر ہے، لیکن تعزیر سخت درجے کی آئے گی۔ تعزیر سخت درجے کی آئے گی اور دوسری صورت میں مسلمان کو فاسق یا کافر وغیرہ کہا ہے، یہ بھی جرم ہے لیکن یہ بڑے درجے کا نہیں ہے، لہٰذا اس میں ذرا کم درجے کی تعزیر آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ عبارت پر نظر رکھیے ذرا: ”إِلَّا أَنَّهُ يَبْلُغُ بِالتَّعْزِيرِ“، بَلَغَ یَبْلُغُ اس کے اندر ضمیر جو ہے وہ قاضی یا امام کی طرف لوٹا دیں، اس لیے کیونکہ تعزیر کا ذکر چل رہا ہے اور تعزیر جو ہے وہ قاضی اور امام کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ يَبْلُغُ بِالتَّعْزِيرِ غَايَتَهُ فِي الْجِنَايَةِ الْأُولَى“ مگر یہ کہ قاضی یا امام تعزیر کے ذریعے تعزیر کی انتہا کو پہنچے گا پہلے جرم میں، یعنی خوب سخت تعزیر کرے گا، ”لِأَنَّهُ مِنْ جِنْسِ مَا يَجِبُ بِهِ الْحَدُّ“ اس لیے کیونکہ یہ بھی اسی کی جنس سے ہے جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی ہے بھئی۔ اگر یہی جرم محسن کے خلاف کیا جائے یعنی اس پر زنا کا الزام لگایا جائے تو اسی میں حد بھی واجب ہوتی ہے۔ تو ”إِلَّا أَنَّهُ يَبْلُغُ“ چاہے تو آپ اس کو مجرد سے پڑھ لیں یعنی ثلاثی مجرد سے اور فعل معروف پڑھیں اور ضمیر لوٹا دیں قاضی یا امام کی طرف، اور اگر آپ چاہیں تو اس کو فعل مجہول پڑھ لیں بابِ تفعیل سے: ”إِلَّا أَنَّهُ يُبَلَّغُ بِالتَّعْزِيرِ غَايَتَهُ فِي الْجِنَايَةِ الْأُولَى“ مگر یہ کہ پہلے جرم کے اندر تعزیر کے ذریعے اس کی انتہا کو پہنچا جائے گا، ”إِلَّا أَنَّهُ يُبَلَّغُ بِالتَّعْزِيرِ“ کہ تعزیر کے ذریعے پہنچا جائے گا ”غَايَتَهُ“ تعزیر کی انتہا کو ”فِي الْجِنَايَةِ الْأُولَى“ پہلے جرم میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں طرح آپ پڑھ سکتے ہیں بھئی، مجرد سے فعل معروف بھی پڑھ سکتے ہیں اور بابِ تفعیل سے فعل مجہول بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ يَبْلُغُ بِالتَّعْزِيرِ غَايَتَهُ فِي الْجِنَايَةِ الْأُولَى“ مگر یہ کہ قاضی جو ہے تعزیر کے اندر انتہا کو پہنچے گا پہلی جنایت میں۔ پہلی جنایت میں یہ تعزیر کے اندر انتہا کو پہنچے گا، یعنی قاضی سخت قسم کی تعزیر اسے کرے گا، ”لِأَنَّهُ مِنْ جِنْسِ مَا يَجِبُ بِهِ الْحَدُّ“ اس لیے کیونکہ یہ الزام بھی اسی کی جنس سے ہے جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی تھی، محسن پر یہی زنا کا الزام لگاتا تھا تو حد ہوتی تھی، تو یہاں بھی زنا ہی کا الزام ہے، تو حد تو نہیں آئے گی لیکن سخت سزا آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مِنْ جِنْسِ مَا يَجِبُ بِهِ الْحَدُّ“ اس لیے کیونکہ زنا کا الزام یہ بھی اسی جنس سے ہے جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی تھی، ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِيَةِ الرَّأْيُ إِلَى الْإِمَامِ“ اور دوسری صورت میں جب مسلمان کو فاسق یا کافر وغیرہ کہا ہے تو اس صورت میں رائے جو ہے امام کے سپرد ہے، امام کی جو رائے بنے اس کے مطابق سزا دے۔
”وَلَوْ قَالَ: يَا حِمَارُ أَوْ يَا خِنْزِيرُ لَمْ يُعَزَّرْ“ صورت یہ، ایک آدمی نے مسلمان کو یا حمار یا یا خنزیر کہا، یا حمار اے حمار یعنی اے گدھے، یا یا خنزیر، تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟ تو متن میں بتلا رہے ہیں اس صورت میں تعزیر نہیں آئے گی، اس لیے یہاں اس نے کوئی عیب اس پر نہیں لگایا۔ پچھلے مسئلے میں تو تھا مسلمان کو کہا ہے یا سارق، اے چور! تو گویا چوری کا الزام لگا دیا اس پر، یا یا کافر، گویا کفر کا الزام لگا دیا اس پر، یا اسی طرح یا فاسق، تو اس پر فسق کا الزام لگا دیا۔ لیکن یہاں جو اس نے کہا ہے یا حمار، اے گدھے! یہ تو کوئی الزام نہیں ہے، سب کو پتہ ہے یہ آدمی گدھا نہیں ہے، دوسرا ویسے ہی اس کو گدھا کہہ رہا ہے، یا یا خنزیر کہا، تو اس صورت میں بھی تعزیر نہیں ہو گی، کیونکہ اس میں کوئی عیب اس کے ساتھ لاحق نہیں کیا بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر الزام لگانے والے نے کہا ”يَا حِمَارُ“ اے گدھے ”أَوْ يَا خِنْزِيرُ“ اے خنزیر ”لَمْ يُعَزَّرْ“ تو اس کو تعزیر نہیں کی جائے گی، ”لِأَنَّهُ مَا أَلْحَقَ الشَّيْنَ بِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اس کے ساتھ کوئی عیب نہیں لگایا، ”لِلتَّيَقُّنِ بِنَفْيِهِ“ اس لیے کیونکہ ان کی نفی یقینی ہے، یقینی طور پر نہ وہ حمار ہے اور نہ خنزیر ہے، تو کوئی عیب نہیں لگایا۔
”وَقِيلَ: فِي عُرْفِنَا يُعَزَّرُ“ اور کہا گیا ہے، بعض فقہاء فرماتے ہیں: ہمارے عرف میں سزا دی جائے گی، کوئی کسی کو حمار یا خنزیر کہے تو سزا دی جائے گی، کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُعَدُّ سَبًّا“ اس لیے کیونکہ اس کو گالی شمار کیا جاتا ہے تو قاضی سزا دے گا۔ ”وَقِيلَ: إِنْ كَانَ الْمَسْبُوبُ مِنَ الْأَشْرَافِ كَالْفُقَهَاءِ وَالْعَلَوِيَّةِ يُعَزَّرُ لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُمُ الْوَحْشَةُ بِذٰلِكَ“ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس کو گالی دی گئی ہے، جس کو حمار یا خنزیر وغیرہ کہا گیا ہے، اگر وہ کوئی معزز آدمی ہے، بڑے خاندان والا ہے یا بڑا آدمی ہے، عالم وغیرہ ہے تو پھر اس صورت میں قاضی تعزیر کرے گا، اور اگر عام آدمی ہے تو پھر قاضی تعزیر نہیں کرے گا، کیونکہ عام آدمی تو ایک دوسرے کو گالیاں نکالتے رہتے ہیں ان کو پروا بھی نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: إِنْ كَانَ الْمَسْبُوبُ مِنَ الْأَشْرَافِ“، مسبوب جس کو گالی دی گئی ہے، سب کسے کہتے ہیں؟ گالی کو، مسبوب جس کو گالی دی گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: إِنْ كَانَ الْمَسْبُوبُ مِنَ الْأَشْرَافِ“ اور کہا گیا ہے کہ اگر وہ شخص جس کو گالی دی گئی ہے اگر وہ معزز لوگوں میں سے تھا، ”كَالْفُقَهَاءِ“ جیسے کہ فقہاء اور علماء ہیں، ”وَالْعَلَوِيَّةِ“ اور جیسے کہ علوی ہیں، علوی یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان والے بھئی، یا جیسے کہ علوی ہیں، ”يُعَزَّرُ“ تو اس کو تعزیر کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیں: ”وَقِيلَ: إِنْ كَانَ الْمَسْبُوبُ مِنَ الْأَشْرَافِ كَالْفُقَهَاءِ وَالْعَلَوِيَّةِ يُعَزَّرُ لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُمُ الْوَحْشَةُ بِذٰلِكَ“ اور کہا گیا ہے کہ اگر وہ شخص جس کو گالی دی گئی ہے من الاشراف وہ معزز لوگوں میں سے تھا جیسے کہ فقہاء ہیں اور علوی ہیں تو پھر گالی دینے والے کو تعزیر کی جائے گی اس لیے کیونکہ ان معزز لوگوں کو وحشت ہوتی ہے اس سے، ان کو اس گالی سے وحشت ہو گی، وحشت ہو گی، وحشت کا معنی ہے غم اور تکلیف بھئی، ان کو وحشت لاحق ہو گی بھئی یعنی ان کو غم اور تکلیف ہو گی۔ ”وَإِنْ كَانَ مِنَ الْعَامَّةِ لَا يُعَزَّرُ“ اور اگر وہ مسبوب جو ہے وہ عام لوگوں میں سے تھا تو تعزیر نہیں کی جائے گی، ”وَهٰذَا أَحْسَنُ“ اور یہ اچھی تفصیل ہے، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں یہ زیادہ اچھی تفصیل ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَالتَّعْزِيرُ أَكْثَرُهُ تِسْعَةٌ وَثَلَاثُونَ سَوْطًا“ اور تعزیر جو ہے زیادہ سے زیادہ وہ انتالیس کوڑے ہیں، ایک کم چالیس کوڑے، ”وَأَقَلُّهُ ثَلَاثُ جَلَدَاتٍ“ اور کم سے کم تعزیر جو ہیں وہ تین کوڑے ہیں۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: يَبْلُغُ التَّعْزِيرُ خَمْسًا وَسَبْعِينَ سَوْطًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تعزیر پہنچے گی پچھتر کوڑوں تک، تعزیر پچھتر کوڑوں تک دی جا سکتی ہے، قاضی کسی کو سزا کے طور پر پچھتر کوڑے بھی لگا سکتا ہے تعزیر کے اندر۔ ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ بَلَغَ حَدًّا فِي غَيْرِ حَدٍّ فَهُوَ مِنَ الْمُعْتَدِينَ“ اور اصل اس کے اندر کہتے ہیں حضور علیہ السلام کا قول ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص حد کو پہنچ گیا غیرِ حد میں، تو وہ حد سے تجاوز کرنے والوں سے ہے۔ یعنی جو قاضی یا بادشاہ جو ہے غیرِ حد میں حد تک پہنچ گیا یعنی مقام تھا غیرِ حد کا اور سزا اس نے حد کی دی
نہ دی تو یہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہے بھئی۔
یعنی یہ قاضی و حاکم حدودِ شریعت سے تجاوز کر رہا ہے بھئی۔ بھئی حدیث میں آیا: ”مَنْ بَلَغَ حَدًّا فِي غَيْرِ حَدٍّ فَهُوَ مِنَ الْمُعْتَدِينَ“ جو حد کے اندر غیر حد تک پہنچ گیا تو وہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہے۔ یعنی، یعنی وہ قاضی اور حاکم جو غیرِ حد کے اندر حد جیسی سخت سزا دے تو وہ حدودِ شریعت سے تجاوز کرنے والا ہے، یعنی وہ خلافِ شریعت کام کر رہا ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ بَلَغَ حَدًّا فِي غَيْرِ حَدٍّ“ جو شخص حد تک پہنچ گیا غیرِ حد کے اندر ”فَهُوَ مِنَ الْمُعْتَدِينَ“ تو وہ شخص حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہے۔
”وَإِذَا تَعَذَّرَ تَبْلِيغُهُ حَدًّا“ اور جب متعذر ہے اس تعزیر کا پہنچانا حد تک، معلوم ہوا تعزیر کو حد تک نہیں ہونا چاہیے اس سے کم ہونا چاہیے، تو طرفین فرماتے ہیں انتالیس کوڑے ہوں گے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں پچھتر کوڑے ہوں گے۔ اب وہی تفصیل بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَعَذَّرَ تَبْلِيغُهُ حَدًّا“ اور جب تعزیر کو حد تک پہنچانا متعذر ہے ممکن نہیں ہے ”فَأَبُو حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ تو طرفین رحمہما اللہ نے ”نَظَرَا إِلَى أَدْنَى الْحَدِّ“ تو انہوں نے نظر کی کم سے کم حد کی طرف ”وَهُوَ حَدُّ الْعَبْدِ فِي الْقَذْفِ“ اور وہ غلام کی حد ہے قذف کے اندر ”فَصَرَفَاهُ إِلَيْهِ“ تو انہوں نے اس تعزیر کو پھیر دیا اس کی طرف، تو انہوں نے تعزیر کو پھیر دیا الیہ اس کم سے کم حد کی طرف بھئی، کہ وہ چالیس کوڑوں سے کم ہونی چاہیے تعزیر، ”وَذَلِكَ أَرْبَعُونَ“ اور وہ حد تو چالیس کوڑے ہیں وہ جو غلام کی حد ہے ”فَنَقَصَا مِنْهُ سَوْطًا“ تو طرفین نے اس میں سے ایک کوڑا کم کر دیا ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں ”اعْتَبَرَ أَقَلَّ الْحَدِّ فِي الْأَحْرَارِ“ انہوں نے کم سے کم حد کا اعتبار کیا آزاد لوگوں میں ”إِذِ الْأَصْلُ هُوَ الْحُرِّيَّةُ“ اس لیے کیونکہ اصل جو ہے وہ آزادی ہے۔ انسانوں میں اصل آزادی ہے غلامی اس پر عارض ہوتی ہے کسی وجہ سے، تو کہتے ہیں آزاد کی حد کا اعتبار کیا ”إِذِ الْأَصْلُ هُوَ الْحُرِّيَّةُ“ اس لیے کیونکہ اصل جو ہے وہ آزادی ہے ”ثُمَّ نَقَصَ سَوْطًا فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ“ پھر ایک کوڑا انہوں نے کم کر دیا ایک روایت جو ان سے کی گئی ہے، وہ ایک روایت جو ان سے کی گئی ہے اس کے مطابق انہوں نے اسی سے ایک کوڑا کم کر دیا یعنی اناسی کوڑے ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی ”وَهُوَ الْقِيَاسُ“ اور یہی قیاس بھی ہے ”وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ نَقَصَ خَمْسَةً“ اور اس روایت کے اندر جو اوپر گزری، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اوپر قول گزرا نا کہ ”يَبْلُغُ التَّعْزِيرُ خَمْسًا وَسَبْعِينَ سَوْطًا“، تو کہتے ہیں ”وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ نَقَصَ خَمْسَةً“ اور اس روایت کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے پانچ کوڑے کم فرمائے ”وَهُوَ مَأْثُورٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور یہی منقول ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے تعزیر کے پچھتر کوڑوں تک پہنچنے کی روایت منقول ہے بھئی، تو کہتے ہیں ”وَهُوَ مَأْثُورٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور یہی پچھتر کوڑے جو ہیں یہ منقول ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ”فَقَلَّدَهُ“ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تقلید کی، اور کیا فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ تعزیر پچھتر کوڑوں تک ہو سکتی ہے بھئی۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”ثُمَّ قَدَّرَ الْأَدْنَى فِي الْكِتَابِ بِثَلَاثِ جَلَدَاتٍ“ کہتے ہیں پھر کتاب کے اندر یعنی متن کے اندر، متن یعنی قدوری کے اندر کم سے کم تعزیر تین کوڑے ذکر کیے گئے ہیں، تعزیر کے اندر کم سے کم تین کوڑے ذکر کیے گئے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تین سے کم کوڑے ہوں گے تو دوسرے کو زجر نہیں ہوگا، تین سے کم ہوں گے تو فائدہ کوئی نہیں ہوگا، تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ قَدَّرَ الْأَدْنَى فِي الْكِتَابِ بِثَلَاثِ جَلَدَاتٍ“ اور پھر اندازہ لگایا ہے کم سے کم کا کتاب یعنی قدوری کے اندر بثلاث جلدات تین کوڑوں کے ساتھ ”لِأَنَّ مَا دُونَهَا لَا يَقَعُ بِهِ الزَّجْرُ“ اس لیے کیونکہ اس سے کم کوڑے ہوں تو اس سے تو زجر نہیں ہوگا، دوسرے کو عبرت نہیں ہوگی، اس کے لیے ڈانٹ کا سبب نہیں بنے گا۔ ”وَذَكَرَ مَشَايِخُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ أَدْنَاهُ عَلَى مَا يَرَاهُ الْإِمَامُ“ اور ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ تعزیر کی کم سے کم مقدار وہ ہے جو امام کی رائے ہو، یعنی کم سے کم تین کوڑے ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ یہ قاضی کی رائے کے سپرد ہے، قاضی اگر مناسب سمجھتا ہے تو کسی مسئلے کے اندر کسی کو صرف غصے سے دیکھنا بھی کافی ہے، قاضی اگر مناسب سمجھتا ہے تو کسی کو صرف ڈانٹنا بھی کافی ہے، قاضی اگر مناسب سمجھتا ہے تو کسی کا صرف کان مروڑنا بھی کافی ہے اور قاضی اگر مناسب سمجھتا ہے تو اگر کسی کو قتل کرنا چاہے تو قتل بھی کر سکتا ہے، تو یہ قاضی کی رائے کے سپرد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَكَرَ مَشَايِخُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ أَنَّ أَدْنَاهُ عَلَى مَا يَرَاهُ الْإِمَامُ“ اور ہمارے فقہائے کرام نے ذکر کیا ہے کہ کم سے کم مقدار تعزیر کی وہ ہے جو امام کی رائے ہو ”يُقَدِّرُ بِقَدْرِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهُ يَنْزَجِرُ“ کہ امام مقرر کر سکتا ہے اتنی مقدار جس سے اس کو معلوم ہو کہ اس سے یہ باز آجائے گا، اتنی مقدار جس سے دوسرا باز آجائے گا وہ مقرر کر سکتا ہے، تو ”يُقَدِّرُ بِقَدْرِ مَا يَعْلَمُ“ تو امام جو ہے مقرر کر سکتا ہے اتنی مقدار جس سے اس کو معلوم ہو ”أَنَّهُ يَنْزَجِرُ“ کہ یہ شخص اس سے باز آجائے گا ”لِأَنَّهُ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ النَّاسِ“ اس لیے کیونکہ یہ مختلف ہوتا ہے مختلف لوگوں کے اعتبار سے، یہ باز آنا، رک جانا یہ مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، بعض کے لیے تھوڑی سی سزا ہی کافی ہوتی ہے اور بعض کے لیے زیادہ سزا چاہیے ان کو روکنے کے لیے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ عَلَى قَدْرِ عِظَمِ الْجُرْمِ وَصِغَرِهِ“ وہ فرماتے ہیں کہ تعزیر جو ہے جرم کے چھوٹے اور بڑے ہونے کے اعتبار سے ہوگی، جرم چھوٹا ہے تو تعزیر بھی تھوڑی ہونی چاہیے، جرم بڑا ہے تو تعزیر بھی زیادہ ہونی چاہیے، اور یاد رکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ یہ قاضی القضاۃ تھے، یہ قاضی القضاۃ تھے یعنی چیف جسٹس تھے بھئی۔ عام طلبہ کہتے ہیں قاضیُ القضاۃ بھئی، قاضیُ ال، یا پر ضمہ پڑھتے ہیں حالانکہ قاضی، یہ یا، یا پر آپ نے پڑھا ہے ضمہ بھی ثقیل ہے اور کسرہ بھی ثقیل ہے، صرف فتحہ پڑھا جا سکتا ہے۔ تو یہاں پر یا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر جائے گی بھئی، قاضی کی یا بھی ساکن اور آگے لام بھی ساکن ہے اور دو ساکن جمع ہو جائیں، اول ساکن حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں اور اگر حرفِ مدہ نہ ہو تو پھر اس کو حرکت دیتے ہیں بھئی، ”اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“ بھئی، تو قاضی القضاۃ، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ قاضی القضاۃ تھے، چیف جسٹس تھے بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ یہ تعزیر جو ہے یہ جرم کو دیکھ کر کی جائے گی، چھوٹا جرم ہو تو تھوڑی تعزیر، بڑا جرم ہو تو زیادہ تعزیر ہوگی۔ تو کہتے ہیں ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ عَلَى قَدْرِ عِظَمِ الْجُرْمِ وَصِغَرِهِ“ کہ تعزیر جو ہے جرم کے بڑے اور چھوٹے ہونے کے اعتبار سے ہوگی ”وَعَنْهُ“ اور انہی سے ایک روایت یہ بھی ہے ”أَنَّهُ يُقَرَّبُ كُلُّ نَوْعٍ مِنْ بَابِهِ“ کہ قریب کیا جائے گا ہر قسم کو اسی کے باب کے، ہر قسم کو اسی کے باب کے قریب کیا جائے گا، مثلاً زنا کی حد جو ہے سب سے سخت ہے تو اگر ایک شخص نے ایک اجنبیہ عورت کو چھوا ہے یا بوسہ لیا ہے تو پھر اس کی سزا بھی جو ہے وہ حدِ زنا کے باب سے ہوگی اور حدِ زنا زیادہ ہے لہٰذا یہاں پر بھی تعزیر بھی زیادہ کی جائے گی، اور اگر ایک شخص نے دوسرے پر الزام لگایا ہے تو پھر اس کو حدِ قذف کے اعتبار سے سزا دی جائے گی، حدِ قذف کے اندر سزا کم درجے کی ہے سو کوڑے نہیں ہیں بلکہ اسی کوڑے ہیں، لہٰذا کسی نے کسی پر زنا کے علاوہ کوئی اور الزام لگایا ہے جیسے یا فاسق یا سارق وغیرہ کہا ہے تو اس کے اندر سزا بھی ذرا کم درجے کی ہوگی، تو یہ معنی ہے۔ ”وَعَنْهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يُقَرَّبُ كُلُّ نَوْعٍ مِنْ بَابِهِ“ کہ ہر نوع کو اس کے باب کے قریب کیا جائے گا ”فَيُقَرَّبُ اللَّمْسُ وَالْقُبْلَةُ مِنْ حَدِّ الزِّنَا“ لمس کہتے ہیں چھونا اور قبلہ کہتے ہیں بوسہ لینا، ”فَيُقَرَّبُ اللَّمْسُ وَالْقُبْلَةُ“ تو قریب کیا جائے گا چھونے کو اور بوسہ لینے کو ”مِنْ حَدِّ الزِّنَا“ حدِ زنا کے، یعنی اس میں ذرا زیادہ تعزیر ہوگی ”وَالْقَذْفُ بِغَيْرِ زِنًا مِنْ حَدِّ الْقَذْفِ“ اور زنا کے علاوہ کوئی اور الزام جو ہے اس کو قریب کیا جائے گا حدِ قذف کے، تو اس میں ذرا کوڑے کم ہوں گے جیسے حدِ قذف میں کم کوڑے ہوتے ہیں حدِ زنا کے مقابلے میں۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَإِنْ رَأَى الْإِمَامُ أَنْ يَضُمَّ إِلَى الضَّرْبِ فِي التَّعْزِيرِ الْحَبْسَ فَعَلَ“ یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ تعزیر کے اندر صرف امام کوڑے لگانے کی ہی سزا دے سکتا ہے یا کچھ دن قید میں بھی ڈال سکتا ہے؟ تو کہتے ہیں یہ امام کی رائے پر ہے، وہ چاہے تو صرف کوڑوں کی سزا دے، وہ چاہے تو صرف جیل میں ڈال دے اور وہ چاہے تو دونوں سزاؤں کو ملا دے۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ: وَإِنْ رَأَى الْإِمَامُ“ اور اگر امام کی یہ رائے ہوئی ”أَنْ يَضُمَّ إِلَى الضَّرْبِ فِي التَّعْزِيرِ“ کہ وہ تعزیر کے اندر ضرب کے ساتھ ملا دے ”الْحَبْسَ“ حبس کو، الحبسا یہ منصوب پڑھیں گے، یہ مفعول ہے راٰی فعل کے لیے، تو اگر امام کی یہ رائے ہوئی کہ وہ تعزیر کے اندر ضرب کے ساتھ ملا دے الحبسا قید کرنے کو بھی ”فَعَلَ“ تو کر سکتا ہے بھئی، ”لِأَنَّهُ صَلَحَ تَعْزِيرًا“ اس لیے کیونکہ یہ صلاحیت رکھتا ہے تعزیر ہونے کی، یہ قید میں ڈالنا یہ تعزیر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی قاضی صرف قید میں بھی ڈال سکتا ہے یہ بھی تعزیر ہی ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ صَلَحَ تَعْزِيرًا“ اس لیے کیونکہ قید کرنا یہ تعزیر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ”وَقَدْ وَرَدَ الشَّرْعُ بِهِ فِي الْجُمْلَةِ“ اور شریعت بھی اس کے ساتھ وارد ہوئی ہے فی الجملہ مجموعی اعتبار سے۔ مجموعی اعتبار سے قید کرنے کے ساتھ شریعت بھی وارد ہوئی ہے، حضور علیہ السلام نے بھی ایک آدمی کو قید میں ڈالا تھا بھئی، اگرچہ وہ ایک آدھ دن کے لیے قید کیا تھا لیکن بہرحال قید کرنا شریعت میں ثابت ہے بھئی، تو کہتے ہیں ”وَقَدْ وَرَدَ الشَّرْعُ بِهِ فِي الْجُمْلَةِ“ اور تحقیق شریعت بھی اس قید کرنے کے ساتھ وارد ہوئی ہے مجموعی اعتبار سے ”حَتَّى جَازَ أَنْ يُكْتَفَى بِهِ“ یہاں تک کہ اس پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے، صرف قید پر اکتفا قاضی کر لے یہ بھی جائز ہے ”فَجَازَ أَنْ يُضَمَّ إِلَيْهِ“ تو یہ بھی جائز ہے کہ اس کے ساتھ قید کو ملا دیا جائے۔ تو کہتے ہیں ”حَتَّى جَازَ أَنْ يُكْتَفَى بِهِ“ یہاں تک کہ جائز ہے کہ صرف اس قید پر اکتفا کر لیا جائے ”فَجَازَ أَنْ يُضَمَّ إِلَيْهِ“ تو یہ بھی جائز ہے کہ ضرب کے ساتھ قید کو ملا دیا جائے ”وَلِهَذَا لَمْ يُشْرَعْ فِي التَّعْزِيرِ بِالتُّهْمَةِ قَبْلَ ثُبُوتِهِ كَمَا شُرِعَ فِي الْحَدِّ لِأَنَّهُ مِنَ التَّعْزِيرِ“ کہتے ہیں اسی لیے، اسی لیے تعزیر کا مسئلہ قاضی کے پاس آیا، ایک شخص نے کسی پر کوئی الزام لگایا ہے، تو اب قاضی کے پاس گواہ بھی اس نے پیش کر دیے لیکن قاضی سزا دینے سے پہلے گواہوں کی تعدیل کروانا چاہتا ہے، تو کیا اس دوران اس شخص کو جیل میں ڈالا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، جیل میں ڈالنا تو خود تعزیر ہی ہے بھئی، لہٰذا جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا اس وقت تک جیل میں قاضی نہیں ڈال سکتا، ہاں حد کے مسئلے میں قاضی جیل میں ڈال سکتا ہے کیونکہ جیل میں ڈالنا وہ حد نہیں ہے، حد تو آگے آئے گی ابھی جب ثابت ہو جائے گی، تو حد کے مسئلے میں اگر قاضی گواہوں کی تعدیل کروا رہا ہے تو اس شخص کو جیل میں ڈال سکتا ہے کہ کہیں یہ بھاگ نہ جائے، کیونکہ وہاں حد الگ ہے تو جیل میں ڈال دیا تو یہ تو معمولی سی سزا ہے، اصل سزا تو حد ہے جو آگے آنے والی ہے، جبکہ اور کسی مسئلے میں جہاں پر حد نہیں آتی تو قاضی اگر جیل میں ڈال دے گا بھئی جیل میں ڈالنا تو خود تعزیر ہے اور جرم ابھی ثابت نہیں ہوا اور آپ نے اس کو سزا بھی دے دی، تو لہٰذا پہلے جیل میں نہیں ڈال سکتا جب غیرِ حد کا مسئلہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا لَمْ يُشْرَعْ فِي التَّعْزِيرِ بِالتُّهْمَةِ قَبْلَ ثُبُوتِهِ“ اور اسی لیے یہ قید کرنا مشروع نہیں ہے تعزیر کے اندر بالتہمۃ الزام کی وجہ سے قبل ثبوتہ اس کے ثابت ہونے سے پہلے، وہ الزام ثابت ہونے سے پہلے صرف الزام کی وجہ سے تعزیر کے اندر قید میں ڈالنا مشروع نہیں ہے، تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا لَمْ يُشْرَعْ فِي التَّعْزِيرِ“ اور اسی وجہ سے قید میں ڈالنا مشروع نہیں ہے تعزیر کے اندر ”بِالتُّهْمَةِ“ تہمت کی وجہ سے، الزام کی وجہ سے ”قَبْلَ ثُبُوتِهِ“ اس تعزیر کے ثابت ہونے سے پہلے بھئی، ”كَمَا شُرِعَ فِي الْحَدِّ“ جیسے کہ حد کے اندر مشروع ہے، حد کے اندر جیل میں ڈالا جا سکتا ہے حد کے ثابت ہونے سے پہلے ”لِأَنَّهُ مِنَ التَّعْزِيرِ“ یاد رکھو یہ علت ہے ”وَلِهَذَا لَمْ يُشْرَعْ فِي التَّعْزِيرِ“ تعزیر کے ثبوت سے پہلے قید میں ڈالنا مشروع نہیں، کیوں نہیں؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مِنَ التَّعْزِيرِ“ کیونکہ قید میں ڈالنا یہ بھی تو تعزیر میں سے ہی ہے، یہ تو گویا آپ نے تعزیر ثابت ہونے سے پہلے ہی اس کو سزا دے دی بھئی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَأَشَدُّ الضَّرْبِ التَّعْزِيرُ“ اور سب سے سخت ضرب جو ہے وہ تعزیر میں ہوگی۔ اب بتلانے لگے ہیں، بھئی تعزیر کے اندر بھی ضرب لگائی جاتی ہے، حدِ زنا میں بھی کوڑے لگائے جاتے ہیں، حدِ شرب کے اندر بھی کوڑے لگائے جاتے ہیں اور حدِ قذف میں بھی کوڑے لگائے جاتے ہیں، تو سب سے سخت ضرب کس میں لگائی جائے گی؟ اور سب سے ہلکی ضرب کس میں لگائی جائے گی؟ تو صاحبِ ہدایہ اب وہ تفصیل بیان کریں گے اور بتائیں گے سب سے سخت ضرب تعزیر کے اندر لگائی جائے گی۔ بھئی کیوں؟ تعزیر کے اندر کیوں؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ تعزیر میں کوڑوں کی تعداد کم ہوگی، جب تعداد کم ہے تو صفت ہم بڑھا دیں گے تاکہ اس کو عبرت ہو بھئی، اگر تعداد کے کم ہونے کے ساتھ ساتھ ہم کوڑے بھی نرمی سے لگائیں پھر تو وہ اس جرم سے باز ہی نہیں آئے گا بھئی۔ ”قَالَ“ کہتے ہیں ”وَأَشَدُّ الضَّرْبِ التَّعْزِيرُ“ اور سب سے سخت ضرب جو ہے وہ تعزیر کی ہے ”لِأَنَّهُ جَرَى التَّخْفِيفُ فِيهِ مِنْ حَيْثُ الْعَدَدُ“ اس لیے کیونکہ تعزیر کے اندر تخفیف جاری ہو چکی ہے عدد کے اعتبار سے کہ کوڑوں کی تعداد کم ہے ”فَلَا يُخَفَّفُ مِنْ حَيْثُ الْوَصْفُ“ تو لہٰذا اس کے اندر وصف کے اعتبار سے تخفیف نہیں کی جائے گی، یہاں عدد کے اعتبار سے تخفیف نہیں کی جائے گی۔ بھئی یہاں یاد رکھنا، یاد رکھنا عبارت دیکھیے: ”لِأَنَّهُ جَرَى التَّخْفِيفُ فِيهِ مِنْ حَيْثُ الْعَدَدُ“ ہمارے ہاں عموماً یہی رائج ہے عبارتوں کے اندر، حیث کو مفرد کی طرف مضاف کر دیتے ہیں حالانکہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ حیث صرف جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے، یا جملہ اسمیہ ہونا چاہیے یا جملہ فعلیہ ہونا چاہیے۔ جمہور کے نزدیک ”مِنْ حَيْثُ الْعَدَدِ“ یہ عدد کو مجرور نہیں پڑھیں گے بلکہ یوں پڑھیں گے ”مِنْ حَيْثُ الْعَدَدُ“، العدد کو مرفوع پڑھیں گے اور حیث کو مضاف بنائیں گے جملے کی طرف اور العدد کو بنا دیں گے مبتدا، اور آگے اس کی خبر کوئی بھی موقع کے مطابق محذوف نکال لیں گے کوئی بھی، مثلاً: ”اَلْعَدَدُ ثَابِتٌ“، العدد مبتدا اور ثابت اس کی خبر بھئی، تو لہٰذا یہ حیث مضاف ہو گیا جملے کی طرف، تو جمہور کے نزدیک حیث صرف جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے، مفرد کی طرف مضاف ہوتا ہی نہیں، اگر کہیں عبارت میں مفرد آ بھی جائے اس کو بھی مبتدا بنائیں گے آگے اس کے لیے خبر الگ نکال لیں گے، یا فعل بھی نکال سکتے ہیں فعل محذوف نکال لیں اور اس مرفوع کو اس کے لیے فاعل بنا دیں، تو بہرحال حیث جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے، اور یہ امام کسائی کا مذہب ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حیث مفرد کی طرف بھی مضاف ہو سکتا ہے بھئی، حیث مفرد کی طرف مضاف ہو سکتا ہے، البتہ البتہ مفرد کی طرف بھی اگر مضاف کیا جائے تو ابنِ ہشام نحوی لکھتے ہیں کہ جو مفرد کی طرف حیث کی اضافت کو جائز قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک جب حیث مفرد کی طرف مضاف ہوگا تو پھر حیث مبنی علی الضم نہیں ہوگا بلکہ وہ معرب ہوگا، حیث پر بھی اعراب آئے گا۔ جب آپ حیث کو مفرد کی طرف مضاف کریں تو پھر حیث پر بھی تو پھر حیث پر بھی اعراب آئے گا، حالانکہ ہم تو ”مِنْ حَيْثُ“، حیث پر ہمیشہ ہم ضمہ پڑھتے ہیں کیونکہ جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے اور جملے کی طرف اضافت بھی لا اضافت کی طرح ہے تو لہٰذا مبنی علی الضم پڑھتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ تو جمہور کے مطابق معلوم ہوا یہ عبارت یوں پڑھیں گے: ”مِنْ حَيْثُ الْعَدَدُ“، اور امام کسائی کے نزدیک العددی مجرور بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن ابنِ ہشام کیا فرماتے ہیں کہ جو حیث کی اضافت مفرد کی طرف جائز قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک بھی جب حیث مفرد کی طرف مضاف ہوگا تو وہ معرب ہوگا، تو اس صورت میں یوں پڑھنا پڑے گا ”مِنْ حَيْثِ الْعَدَدِ“، من داخل ہو رہا ہے حیث پر تو مجرور ہو جائے گا اس پر اعراب آئے گا بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا ہم بھی جمہور کی طرح پڑھ لیتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی: ”مِنْ حَيْثُ الْعَدَدُ“، یا یوں بھی آپ پڑھ سکتے ہیں ”مِنْ حَيْثِ الْعَدَدِ“ بھئی، تو بہرحال یہ رائج ہے بھئی تمام ہمارے طلبہ، علماء سب اسی طرح پڑھتے ہیں ”مِنْ حَيْثُ الْعَدَدِ“ بھئی، تو ہم جمہور کی طرح پڑھ لیتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَأَشَدُّ الضَّرْبِ التَّعْزِيرُ“ اور سب سے سخت ضرب جو ہے وہ تعزیر ہے ”لِأَنَّهُ جَرَى التَّخْفِيفُ فِيهِ مِنْ حَيْثُ الْعَدَدُ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر تخفیف جاری ہو گئی ہے عدد کی حیثیت سے کہ عدد کی تخفیف اس میں ثابت ہے ”فَلَا يُخَفَّفُ مِنْ حَيْثُ الْوَصْفُ“ لہٰذا وصف کے اعتبار سے اب تخفیف ثابت نہیں ہوگی ”كَيْ لَا يُؤَدِّيَ إِلَى فَوَاتِ الْمَقْصُودِ“ تاکہ کہیں یہ مقصد کے فوت ہونے تک نہ پہنچا دے، اگر تعداد بھی کم ہو اور ضرب بھی ہلکی ہو تو مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”كَيْ لَا يُؤَدِّيَ إِلَى فَوَاتِ الْمَقْصُودِ“ تاکہ کہیں یہ مقصد کے فوت ہونے تک نہ پہنچا دے ”وَلِهَذَا لَمْ يُخَفَّفْ مِنْ حَيْثُ التَّفْرِيقُ عَلَى الْأَعْضَاءِ“ اور اسی وجہ سے اس میں تخفیف نہیں ہوتی اعضاء پر تقسیم ہونے کے اعتبار سے۔ بھئی دیکھو، ضربیں کم ہیں اور تعزیر کے اندر ضربیں سخت ہوتی ہیں تو اب بھی ضربیں مختلف اعضاء پر تقسیم کر کے لگائی جائیں گی کیونکہ اگر ایک ہی عضو پر لگائیں تو یہ نہ ہو کہیں عضو ہی وہ تلف نہ ہو جائے وہ ضائع نہ ہو جائے، تو اب یہاں پر دیکھو ضربیں کم ہیں پھر بھی اعضاء پر پھیلا کر لگائیں گے پھر بھی تخفیف نہ آئی کیونکہ ضرب تو زوردار ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے ”وَلِهَذَا لَمْ يُخَفَّفْ مِنْ حَيْثُ التَّفْرِيقُ عَلَى الْأَعْضَاءِ“ اور اسی وجہ سے اس میں تخفیف نہیں آتی اعضاء پر تقسیم کے اعتبار سے۔
”قَالَ: ثُمَّ حَدُّ الزِّنَا“ پھر اس کے بعد جو ہے حدِ زنا ہے، یعنی اس کے اندر سخت ضربیں ہوں گی دوسرے درجے کی ”لِأَنَّهُ ثَابِتٌ بِالْكِتَابِ“ اس لیے کیونکہ وہ کتاب اللہ سے ثابت ہے: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ ”وَحَدُّ الشُّرْبِ ثَبَتَ بِقَوْلِ الصَّحَابَةِ“ اور حدِ شرب جو ہے وہ تو صحابہ کے قول سے ثابت ہے، وہ اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے بھئی ”وَلِأَنَّهُ أَعْظَمُ جِنَايَةً“ اور نیز اس لیے کیونکہ زنا جو ہے یہ جرم ہونے کے اعتبار سے بڑا ہے ”حَتَّى شُرِعَ فِيهِ الرَّجْمُ“ یہاں تک کہ اس کے اندر رجم کرنا مشروع ہے، کہ غیر شادی شدہ ہو تو اس کو سنگسار کیا جاتا ہے تو یہ بڑا جرم ہے تو اس کے اندر سخت ضربیں ہوں گی۔ ”ثُمَّ حَدُّ الشُّرْبِ“ پھر اس کے بعد حدِ شرب ہے، تیسرے درجے کی سخت ضربیں کس کی ہیں؟ حدِ شرب کی ہیں ”لِأَنَّ سَبَبَهُ مُتَيَقَّنٌ بِهِ“ اس لیے کیونکہ شرب کا سبب جو ہے وہ یقینی ہے، حدِ شرب کا سبب یقینی ہے، شراب کا پینا یقینی ہے۔ ”ثُمَّ حَدُّ الْقَذْفِ“ پھر آخری درجہ جو ہے حدِ قذف کا ہے، اس میں سب سے ہلکی ضربیں ہوں گی ”لِأَنَّ سَبَبَهُ مُحْتَمَلٌ“ اس لیے کیونکہ اس حدِ قذف کا جو سبب ہے محتمل وہ احتمال رکھتا ہے، احتمال رکھتا ہے ”لِاحْتِمَالِ كَوْنِهِ صَادِقًا“ بوجہ اس کے سچا ہونے کے احتمال کے، کہ اس کے اندر اس آدمی کے سچا ہونے کا بھی احتمال ہے، حدِ قذف کا جو سبب ہے وہ یقینی نہیں اور سبب کیا ہے کہ اس آدمی نے زنا کا الزام لگایا ہے، تو ہو سکتا ہے وہ آدمی سچا ہو بھئی، مقذوف نے واقعی زنا کیا ہو لیکن قاذف کے پاس کوئی گواہ موجود نہ ہوں، تو لہٰذا وہاں چونکہ حدِ قذف کا سبب یقینی نہیں لہٰذا وہاں ضربیں ذرا ہلکی لگائی جائیں گی بھئی ”وَلِأَنَّهُ جَرَى فِيهِ التَّغْلِيظُ مِنْ حَيْثُ رَدُّ الشَّهَادَةِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر سختی جاری ہو چکی ہے شہادت کے رد کرنے کی حیثیت سے، اس کے اندر ایک دفعہ شہادت کو رد کرنے کی حیثیت سے تغلیظ جاری ہو چکی ہے بھئی۔ بھئی دیکھو، حدِ قذف کے اندر اسی کوڑے بھی لگتے ہیں اور وہ شخص مردود الشہادۃ بھی بن جاتا ہے، تو دیکھو یہاں کوڑے بے شک کم ہیں لیکن مردود الشہادۃ ہونے کی وجہ سے اب یہ حد بھی کیا ہو گئی؟ سخت ہو گئی، لہٰذا اب ضرب کو سخت نہیں کیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے، تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ جَرَى فِيهِ التَّغْلِيظُ مِنْ حَيْثُ رَدُّ الشَّهَادَةِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ حدِ قذف کے اندر ایک دفعہ سختی جاری ہو چکی ہے شہادت کو رد کرنے کی حیثیت سے ”فَلَا يُغَلَّظُ مِنْ حَيْثُ الْوَصْفُ“ لہٰذا اس میں سختی نہیں کی جائے گی وصف کے اعتبار سے۔
آگے دیکھیے: ”وَمَنْ حَدَّهُ الْإِمَامُ أَوْ عَزَّرَهُ فَمَاتَ فَدَمُهُ هَدَرٌ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک امام نے کسی کو حد لگائی یا امام نے کسی کو تعزیر لگائی اور وہ آدمی ہلاک ہو گیا، تو کیا امام پر ضمان آئے گا اور وہ بیت المال سے ادا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، امام پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ امام کو تو شریعت نے حکم دیا ہے کہ کوئی جرم کرے تو اس کو سزا دو۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ حَدَّهُ الْإِمَامُ“ اور وہ شخص جس کو امام نے حد لگائی ”أَوْ عَزَّرَهُ“ یا جسے امام نے تعزیر لگائی ”فَمَاتَ“ تو وہ آدمی مر گیا ”فَدَمُهُ هَدَرٌ“ تو اس کا خون رائیگاں ہے، ھدر کا معنی رائیگاں ہے یعنی ضائع ہے، ضائع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس خون کی وجہ سے نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی بھئی، یعنی یہ معنی ہے خون ضائع چلا گیا۔ تو کہتے ہیں ”فَدَمُهُ هَدَرٌ“ تو اس کا خون ضائع ہے ”لِأَنَّهُ فَعَلَ مَا فَعَلَ بِأَمْرِ الشَّرْعِ“ اس لیے کیونکہ امام نے یہ فعل کیا ہے شریعت کے حکم سے ”وَفِعْلُ الْمَأْمُورِ لَا يَتَقَيَّدُ بِشَرْطِ السَّلَامَةِ“ اور مامور کا فعل وہ مقید نہیں ہوتا سلامتی کی شرط کے ساتھ۔ شریعت نے حکم دیا ہے کہ کوڑے لگاؤ، تو امام مامور ہوا، شریعت کی طرف سے اس کو حکم دیا گیا ہے ایک کام کے کرنے کا، تو جب وہ مامور ہے تو مامور کا کام سلامتی کے ساتھ مقید نہیں۔ توجہ ہے؟ مامور کا فعل سلامتی کے ساتھ مقید نہیں، چنانچہ اسی لیے آپ کو بتائیں گے کہ ایک آدمی جو ہے فصاد کے پاس چلا گیا، فصاد کہتے تھے پرانا طریقہ تھا، یہ جسم کے بعض حصوں پر رگ کاٹ کر خون نکالتے تھے، تو یہ جسم کے بعض حصوں پر رگ کاٹ کر فاسد خون بدن سے نکالا جاتا تھا، جیسے آج سے کچھ سال پہلے بھی کہتے ہیں کہ دہلی کے اندر جو شاہی مسجد ہے وہاں پر کوئی فصاد ہے مسلمان بھئی، اور وہ اس کے پاس ہزاروں لوگ دور دور سے آتے ہیں اور وہ یہ پاؤں پر ٹخنے کے قریب کوئی رگ کاٹتا ہے اور جسم سے فاسد خون نکالتا ہے اور اس سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے، تو اس کو کہتے تھے فصاد بھئی، یہ جو رگ کاٹ کر خون نکالتا تھا بدن سے بھئی۔ اسی طرح حیوانات میں رگ کاٹ کر خون نکالا جاتا ہے اس کو بزاغ کہتے ہیں، انسانوں میں وہ خون نکالنے والا ہے تو اس کو فصاد اور حیوانات میں خون نکالنے والا ہے تو اس کو بزاغ کہتے ہیں، یہ دونوں لفظ آگے آرہے ہیں عبارت میں بھئی۔ تو اگر کوئی شخص کسی فصاد کے پاس چلا گیا کہ میری رگ کاٹ کر فاسد خون نکال دو تاکہ میری بیماری ختم ہو جائے، فصاد نے ایک رگ کاٹی لیکن اس کی وجہ سے اس کو کوئی زیادہ نقصان ہو گیا، اس کا وہ عضو ضائع ہو گیا یا وہ ہلاک ہو گیا، تو پھر اس صورت میں فصاد پر کوئی ضمان نہیں آیا کیونکہ اس نے خود فصاد کو حکم دیا تھا، تو فصاد تو مامور تھا، اس کو تو حکم دیا گیا تھا اسی آدمی کی طرف سے، اور مامور کا فعل سلامتی کے ساتھ مقید نہیں ہوتا۔ یا اسی طرح بزاغ کے پاس کوئی اپنا گھوڑا یا خچر لے گیا، یہ حیوان بیمار ہے تو اس کا فاسد خون نکال دو، اس نے اس کا فاسد خون نکالا اور اس کی وجہ سے وہ حیوان ہلاک ہو گیا تو اس پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ وہ تو خود مامور تھا، اس کو تو خود اس حیوان کے مالک نے حکم دیا تھا کہ اس کا فاسد خون نکالو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ فَعَلَ مَا فَعَلَ بِأَمْرِ الشَّرْعِ“ اس لیے کیونکہ امام نے جو فعل کیا ہے وہ شریعت کے حکم سے کیا ہے ”وَفِعْلُ الْمَأْمُورِ لَا يَتَقَيَّدُ بِشَرْطِ السَّلَامَةِ“ اور مامور کا فعل جو ہے وہ مقید نہیں ہوتا سلامتی کی شرط کے ساتھ ”كَالْفَصَّادِ وَالْبَزَّاغِ“ جیسے کہ فصاد اور بزاغ ہے، ان کا فعل سلامتی کے ساتھ مقید ہونا ضروری نہیں کیونکہ یہ مامور ہوتے ہیں، ”بِخِلَافِ الزَّوْجِ إِذَا عَزَّرَ زَوْجَتَهُ“ بخلاف خاوند کے جب اس نے بیوی کو تعزیر کی۔ بھئی دیکھو، خاوند جو ہے اس کو بھی شریعت نے تعزیر کی اجازت دی ہے، اگر اس کی بیوی نافرمان ہے تو وہ اس کو سزا دے سکتا ہے لیکن مقصد جو ہے بیوی کی اصلاح ہو اس پر ظلم کرنا مقصد نہ ہو بھئی، چنانچہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَاضْرِبُوهُنَّ﴾ خاوندوں کو حکم فرما رہے ہیں اللہ: ﴿وَاضْرِبُوهُنَّ﴾ اگر ان کی اصلاح کسی طرح نہ ہو تو ان کی پٹائی کرو، تو دیکھو معلوم ہوا خاوند کو شریعت نے تعزیر کا حق دیا ہے بھئی، لیکن خاوند کو اجازت دی ہے شریعت نے، حکم نہیں دیا کہ پٹائی کرو، بلکہ اجازت دی ہے اور ایک چیز کی اجازت ہو یعنی وہ مباح ہو تو وہاں وہ فعل سلامتی کے ساتھ مقید ہے، لہٰذا اب خاوند بیوی کی پٹائی کرتا ہے تو یہ فعل سلامتی کے ساتھ مقید ہے، اگر بیوی کو کوئی نقصان پہنچا تو خاوند کو پھر ضمان ادا کرنا پڑے گا۔ یا یہ اسی طرح ہے جیسے راستے پر چلنا، راستے پر چلنا ہر ایک کے لیے مباح ہے، جیسے بیوی کی پٹائی جو تھی خاوند کے لیے مباح تھی جائز تھی، اسی طرح راستے پر چلنا ہر آدمی کے لیے مباح ہے، ہر آدمی راستے پر چل سکتا ہے لیکن یہ اس کا چلنا سلامتی کے ساتھ مقید ہوگا، لہٰذا اگر ایک آدمی کوئی جانور پر سوار ہو کر چل رہا ہے اور کسی کو راستے میں نقصان پہنچ گیا تو پھر اس کو ضمان ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الزَّوْجِ إِذَا عَزَّرَ زَوْجَتَهُ“ بخلاف خاوند کے جب وہ اپنی بیوی کو تعزیر کرے ”لِأَنَّهُ مُطْلَقٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ خاوند اس کے اندر آزاد ہے، یعنی خاوند کے لیے بیوی کی تعزیر مباح ہے، خاوند کو اجازت ہے ”وَالْإِطْلَاقَاتُ تَتَقَيَّدُ بِشَرْطِ السَّلَامَةِ“ اور جو اطلاقات ہوتے ہیں یعنی جو آزادیاں ہوتی ہیں وہ مقید ہوتی ہیں سلامتی کی شرط کے ساتھ ”كَالْمُرُورِ فِي الطَّرِيقِ“ جیسے کہ راستے میں سے گزرنا، تو راستے میں سے گزرنا ہر ایک کے لیے مباح ہے لیکن یہ سلامتی کے ساتھ مقید ہوگی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: تَجِبُ الدِّيَةُ فِي بَيْتِ الْمَالِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیت واجب ہوگی بیت المال میں، اگر امام نے کسی آدمی پر تعزیر جاری کروائی اور وہ آدمی ہلاک ہو گیا تو بیت المال میں سے دیت ادا کی جائے گی، یہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَجِبُ الدِّيَةُ فِي بَيْتِ الْمَالِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیت واجب ہوگی بیت المال میں، اگر امام نے کسی کو تعزیر کی اور تعزیر کے اندر اس آدمی کا انتقال ہو گیا وہ ہلاک ہو گیا تو پھر اس صورت میں ضمان آئے گا اور بیت المال سے وہ ضمان ادا کیا جائے گا بھئی، تو کہتے ہیں ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَجِبُ الدِّيَةُ فِي بَيْتِ الْمَالِ“ کہ دیت واجب ہوگی بیت المال میں، یعنی تعزیر کی صورت میں، تعزیر کی صورت میں اگر کسی کو جانی یا بدنی نقصان پہنچتا ہے تو بیت المال سے ضمان ادا کیا جائے گا ”لِأَنَّ الْإِتْلَافَ خَطَأٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ تلف کرنا یعنی ہلاک کرنا یہ غلطی ہے تعزیر کے اندر، تعزیر کے اندر تلف کرنا کسی کو ہلاک کرنا یہ غلطی ہے تو اس میں پھر ضمان دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْإِتْلَافَ خَطَأٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ تعزیر کے اندر ہلاک کرنا یہ خطا ہے ”إِذِ التَّعْزِيرُ لِلتَّأْدِيبِ“ اس لیے کیونکہ تعزیر جو ہے وہ ادب سکھانے کے لیے ہوتی ہے ”غَيْرَ أَنَّهُ تَجِبُ الدِّيَةُ فِي بَيْتِ الْمَالِ“ علاوہ اس کے کہ یہ دیت بیت المال میں واجب ہوگی ”لِأَنَّ نَفْعَ عَمَلِهِ يَرْجِعُ إِلَى عَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ امام کے عمل کا جو نفع ہے وہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے، امام اور قاضی جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں اس کا فائدہ عام لوگوں کی طرف لوٹتا ہے، لہٰذا عام لوگوں کے مال میں سے ہی ضمان ادا کیا جائے گا یعنی بیت المال میں سے، تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ نَفْعَ عَمَلِهِ يَرْجِعُ إِلَى عَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ امام کے عمل کا نفع جو ہے وہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے ”فَيَكُونُ الْغُرْمُ فِي مَالِهِمْ“ غرم کہتے ہیں ضمان کو غین را میم، ”فَيَكُونُ الْغُرْمُ فِي مَالِهِمْ“ لہٰذا ضمان بھی مسلمانوں کے مال میں سے ہوگا۔ ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں، ہم جواب میں کہتے ہیں: ”لَمَّا اسْتَوْفَى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى بِأَمْرِهِ“ کہ جب امام نے اللہ کا حق وصول کیا اللہ کے حکم سے ”صَارَ كَأَنَّ اللَّهَ أَمَاتَهُ مِنْ غَيْرِ وَاسِطَةٍ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا گویا اللہ نے اس آدمی کو مارا ہے بغیر کسی واسطے کے ”فَلَا يَجِبُ الضَّمَانُ“ تو ضمان واجب نہیں ہوگا، ہم کہتے ہیں یہ جو امام اور قاضی سزا دے رہے ہیں یہ اللہ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں تو اللہ کا حکم نافذ کرتے ہوئے وہ شخص ہلاک ہوا تو یوں ہی سمجھا جائے گا جیسے اللہ نے اس کو مارا ہے لہٰذا اس میں قاضی اور امام پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ تو یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں ”لَمَّا اسْتَوْفَى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى بِأَمْرِهِ“ کہ جب امام نے اللہ کا حق وصول کیا اللہ کے حکم سے ”صَارَ كَأَنَّ اللَّهَ أَمَاتَهُ مِنْ غَيْرِ وَاسِطَةٍ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اللہ نے اس مجرم کو موت دے دی بغیر واسطے کے ”فَلَا يَجِبُ الضَّمَانُ“ تو ضمان واجب نہیں ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.