”وَإِذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ أَوْ أَسْلَمَ الْحَرْبِيُّ وَتَحْتَهُ مَجُوسِيَّةٌ لَمْ يَقَعِ الْفُرْقَةُ عَلَيْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثَلَاثَ حِيَضٍ ثُمَّ تَبِينَ مِنْ زَوْجِهَا، وَهٰذَا لِأَنَّ الْإِسْلَامَ لَيْسَ سَبَبًا لِلْفُرْقَةِ، وَالْعَرْضُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُتَعَذِّرٌ لِقُصُورِ الْوِلَايَةِ، وَلَا بُدَّ مِنَ الْفُرْقَةِ دَفْعًا لِلْفَسَادِ، فَأَقَمْنَا شَرْطَهَا وَهُوَ مُضِيُّ الْحِيَضِ مَقَامَ السَّبَبِ كَمَا فِي حَفْرِ الْبِئْرِ“
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر ایک مجوسی نے اپنی ماں یا بیٹی سے نکاح کر لیا ہے اور پھر یہ دونوں مسلمان ہو گئے، تو پھر ان میں جدائی کروائی جائے گی۔ وجہ یہ کہ محرمیت جو ہے نکاح کے منافی ہے۔ ابتداءً بھی محرمیت نکاح کے منافی ہے اور بقاءً بھی محرمیت نکاح کے منافی ہے بھئی، محرمیت کے ہوتے ہوئے نکاح نہیں ہو سکتا، لہٰذا ان میں جدائی کروائی جائے گی۔ جبکہ اس کے برعکس اگر دونوں میں سے صرف ایک مسلمان ہوا، یا دونوں میں سے صرف ایک نے مرافعہ کیا ہے، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو بھی دونوں میں جدائی کروائی جائے گی۔ اور اگر دونوں میں سے صرف ایک نے مرافعہ کیا ہے، پھر ان میں جدائی نہیں کروائی جائے گی، اس لیے کیونکہ اگرچہ دونوں میں سے ایک نے اپنے آپ کو اسلامی حکم کے سامنے جھکا دیا ہے لیکن بہرحال دوسرے کا تو ابھی بھی یہی اعتقاد ہے کہ یہ نکاح جائز ہے، تو لہٰذا صرف ایک کے مرافعے کی وجہ سے دوسرے کا استحقاق باطل نہیں ہو سکتا، لہٰذا وہ نکاح اسی طرح صحیح رہے گا بھئی۔ اور لیکن اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہو جائے تو پھر اس صورت میں جدائی کروا دی جائے گی، وجہ یہ کہ ”الْإِسْلَامُ يَعْلُو وَلَا يُعْلَى“ بھئی، اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں، لہٰذا یہاں پر اگرچہ صرف ایک مسلمان ہوا ہے لیکن اس کا اعتقاد دوسرے کے اعتقاد پر غالب آ جائے گا اور جدائی کا حکم لگایا جائے گا بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، دونوں میں سے ایک مسلمان ہو جائے یا دونوں میں سے ایک مرافعہ کر لے، تو دونوں صورتوں میں جدائی کروائی جائے گی۔ تو وہ ایک کے اسلام یا ایک کے مرافعہ میں کوئی فرق نہیں کرتے بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر دونوں نے مرافعہ کیا تو پھر بالاتفاق ان میں جدائی کروا دی جائے گی، اس لیے کیونکہ دونوں کا مرافعہ اسی طرح ہے جیسے دونوں کا کسی آدمی کو حکم بنانا۔ جیسے دونوں کسی ایک آدمی کو حکم بناتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں کہ ہم اسلامی حکم جاننا چاہتے ہیں آپ ہمارے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کر دیجیے۔ اور آپ جانتے ہیں جب کسی شخص کو حاکم یا ثالث بنا لیا جائے تو دونوں فریقوں پر اس کا حکم ماننا لازم ہو جاتا ہے، اس کا فیصلہ ان پر نافذ ہو جاتا ہے، وجہ یہ کہ انہوں نے خود اس کو اپنے اوپر ولایت دے دی، اپنے اوپر فیصل بنا دیا، فیصلہ کرنے والا بنا دیا۔ تو جیسے حکم کی صورت میں اس شخص پر لازم ہے کہ ان کے اندر جدائی کروائے، تو ان دونوں کا مرافعہ بھی اسی طرح تحکیم کے درجے میں ہے تو ان میں جدائی کروائی جائے گی۔ کیونکہ قاضی جو ہے اس کا درجہ تو حکم سے بڑھ کر ہے بھئی، حکم کو تو صرف دو فریقوں پر ولایت مل جاتی ہے لیکن قاضی کو تو ولایتِ عامہ حاصل ہے تمام لوگوں پر، تو جب تحکیم کے اندر ان میں جدائی کروانا لازم ہو گا تو یہاں دونوں کے مرافعے کی صورت میں بھی ان دونوں میں جدائی کروانا لازم ہو گا بھئی۔
پھر اس کے بعد انہوں نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے، العیاذ باللہ، تو پھر اس کے لیے نکاح جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ وہ تو قتل کا مستحق ہو چکا ہے، اس کو اگر تین دن کی مہلت بھی استحباب کے طریقے پر دی جائے گی تو وہ اس کو صرف غور و فکر کے لیے وقت دیا جا رہا ہے، لہٰذا اس کے لیے نکاح کی اجازت نہیں ہو گی۔ اور اسی طرح اگر کوئی عورت مرتدہ ہوئی ہے، اس کو قتل تو نہیں کیا جاتا لیکن اس کو ہمیشہ کے لیے جیل میں ڈال دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ دوبارہ مسلمان ہو جائے یا اسی جیل کے اندر اس کی موت آ جائے۔ تو اس کو بھی جو قید کیا گیا ہے غور و فکر کرنے کے لیے قید کیا گیا ہے، لہٰذا اس کو بھی نکاح کی اجازت نہیں ہو گی۔ اور نیز اس لیے بھی کیونکہ جب وہ قید میں ہے تو نکاح کی مصلحتیں حاصل نہیں ہو سکتیں بھئی۔ نکاح کے مقاصد تو یہ ہیں ایک نیا خاندان بنے گا، ایک گھر آباد ہو گا، اولاد ہو گی، ان کی تربیت کریں گے، گھر کا انتظام چلائیں گے، لیکن اگر بیوی قید میں ہے تو پھر تو یہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے، اور نکاح تو اپنے مقاصد کے لیے مشروع ہے، ان مقاصد کے حصول کی وجہ سے شریعت نے اجازت دی ہے نکاح کی، نکاح کی اپنی ذات کی وجہ سے اس کی اجازت نہیں دی گئی بھئی۔
اور پھر یہ بھی مسئلہ ذکر فرمایا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو تو بچہ اس کے تابع ہو گا، اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے والدین میں سے جس کا دین اعلیٰ اور بہتر ہو بچہ اس کے تابع ہوتا ہے، اور ظاہر سی بات ہے اسلام تو سب سے اعلیٰ دین ہے، لہٰذا والدین میں سے کوئی ایک بھی مسلمان ہو تو بچے کو مسلمان ہی شمار کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس کے مقابلے میں میاں بیوی میں سے ایک جو ہے مجوسی ہے اور ایک اہلِ کتاب میں سے ہے، تو اس صورت میں عند الاحناف اہلِ کتاب کا مذہب بہتر ہے کیونکہ کم از کم وہ آسمانی دین کو مانتے ہیں اور آسمانی کتاب کو مانتے ہیں، تو لہٰذا بچے کو بھی کتابی شمار کیا جائے گا کیونکہ اس کے اندر بھی بچے پر کچھ نہ کچھ شفقت موجود ہے، کیونکہ مجوسی جو ہیں وہ اہلِ کتاب کے مقابلے میں بدتر ہیں بھئی، بدتر ہیں۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ اس مسئلے میں ہماری مخالفت فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ بچے کو مجوسی قرار دیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں تعارض آ رہا ہے حلت اور حرمت میں، اور ایک چیز کے حلال ہونے اور حرام ہونے میں جب تعارض آ جائے تو پھر جانبِ حرمت کو ترجیح ہوتی ہے، اس لیے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے۔ وجہ یہ کہ اگر ہم ایک چیز جو ہے اس میں دونوں طرح کی دلیلیں آ رہی ہیں، ایک دلیل سے پتہ چل رہا ہے یہ حلال ہے اور دوسری دلیل سے یہ پتہ چل رہا ہو کہ یہ حرام ہے، تو اگر ہم حلال کی دلیل کو ترجیح دے دیں اور کہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور اس کا استعمال جائز قرار دے دیں، اور حقیقت تو اللہ جانتے ہیں، ہو سکتا ہے حقیقت کے اندر وہ چیز حرام ہو تو دیکھو اس صورت میں ایک حرام چیز کا استعمال جائز ہو جائے گا۔ جبکہ اس چیز کو اگر حرام قرار دے دیا جائے اور ہو سکتا ہے حقیقت میں وہ عند اللہ حلال ہو تو بھی کوئی خرابی لازم نہیں، زیادہ سے زیادہ ایک حلال چیز کے استعمال سے ہم رک گئے لیکن اس میں کوئی نقصان وغیرہ نہیں ہے، تو لہٰذا حلت اور حرمت والی دلیلیں جمع ہو جائیں، یا یوں کہیں کہ ایک مبیح دلیل ہے جو اباحت ثابت کر رہی ہے اور ایک محرم دلیل ہے جو حرمت ثابت کر رہی ہے، تو مبیح اور محرم دلیلیں جب جمع ہو جائیں تو محرم دلیل کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے۔ اور یہاں پر بھی بچے کو اگر کتابی قرار دیا جائے گا تو اس کا ذبیحہ بھی حلال اور اس کے ساتھ نکاح بھی حلال ہو جائے گا مسلمان کے لیے، جبکہ اگر بچے کو مجوسی قرار دیا جائے گا تو اس صورت میں اس کا ذبیحہ بھی حرام ہو گا اور اس کے ساتھ نکاح بھی حرام ہو گا مسلمان کے لیے۔ تو یہاں پر چاہے کتابی قرار دیں چاہے مجوسی قرار دیں، ہیں تو دونوں کافر ہی، کیونکہ حدیث میں آتا ہے: ”الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ“ کفر سارا کا سارا ایک ہی دین ہے، تو کتابی شمار کریں پھر بھی کافر، اگر مجوسی شمار کریں پھر بھی کافر، لیکن احتیاط کس میں زیادہ ہے؟ کہ اس کو مجوسی شمار کیا جائے، حرمت والی جانب کو ترجیح دی جائے بھئی۔
اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر دار الاسلام کے اندر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے، تو مسلمان ہوتے ہی میاں بیوی کے درمیان فوراً جدائی نہیں آئے گی بلکہ قاضی جدائی کروائے گا، اور قاضی پہلے اسلام کو دوسرے پر پیش کرے گا۔ اگر بیوی مسلمان ہوئی ہے تو خاوند پر اسلام کو قاضی پیش کرے گا، اور اگر خاوند مسلمان ہوا ہے تو بیوی پر قاضی اسلام کو پیش کرے گا، اور پھر اگر وہ اسلام لے آتا ہے تو پھر تو وہ اسی طرح اس نکاح پر برقرار رہیں گے، اور اگر یہ انکار کر دیتے ہیں اسلام کا تو پھر اس صورت میں قاضی ان کے درمیان جدائی کروا دے گا۔ اور طرفین کے نزدیک اگر انکار کرنے والا خاوند ہے تو خاوند کی طرف سے جدائی آئی ہے، لہٰذا اس صورت میں یہ طلاق کے حکم میں ہو گی یہ جدائی۔ جبکہ اگر انکار کرنے والی عورت ہے تو عورت تو طلاق کی اہل نہیں، وہ تو طلاق نہیں دے سکتی، لہٰذا یہ جدائی جو عورت کی طرف سے آئی ہے تو اس کو فسخِ نکاح شمار کیا جائے گا، اس کو طلاق شمار نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں اس کو فسخ شمار کیا جائے گا، وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ اس جدائی کے اندر میاں بیوی دونوں کا دخل ہے۔ جب دونوں میں سے ایک مسلمان ہوا تو دونوں میں اختلافِ دین آ گیا، اور اس اختلافِ دین میں میاں بیوی دونوں کا دخل ہے کہ دونوں کا دین الگ الگ ہے، اور جب دونوں کا دخل ہے تو آپ اس کو طلاق قرار نہیں دے سکتے کیونکہ طلاق تو صرف خاوند کی طرف سے آتی ہے، تو صرف خاوند اگر اس کا سبب بنتا پھر آپ اس کو طلاق قرار دیتے، لیکن یہاں تو دونوں سبب بن رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے میاں بیوی میں سے کوئی ایک مالک بن جائے دوسرے کا، تو اسی وقت نکاح فاسد ہو جاتا ہے اور اس کو فسخِ نکاح شمار کیا جاتا ہے، وجہ یہ کہ اس جدائی میں میاں بیوی دونوں کا دخل ہے، ایک مالک بن گیا ہے اور دوسرا مملوک بن گیا ہے، اس لیے پھر ان میں جدائی آئے گی اور اس کو فسخ قرار دیں گے کیونکہ دونوں کا اس جدائی میں دخل ہے بھئی۔
اور امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر ایک مسلمان ہوا ہے میاں بیوی میں سے تو دوسرے پر اسلام کو پیش نہیں کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ ہم نے ان لوگوں سے عہدِ ذمہ کیا ہوا ہے، ہمیں شریعت نے منع کیا ہے کہ ان سے تعرض نہیں کرنا، ان کے معاملات میں دخل نہیں دینا، تو لہٰذا اس لیے اگر ہم اسلام پیش کریں گے یہ تو ہم ان کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں بھئی، لہٰذا ایک مسلمان ہوا ہے تو دوسرے پر اسلام کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ تو پھر ان میں جدائی کیسے آئے گی؟ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر ان میں سے جو ایک مسلمان ہوا ہے، یا تو یہ صحبت سے پہلے مسلمان ہوا ہو گا یا صحبت کے بعد۔ اگر صحبت سے پہلے اسلام لایا ہے ان میں سے کوئی ایک، چاہے خاوند اسلام لایا ہے چاہے بیوی اسلام لائی ہے، تو صحبت سے پہلے نکاح ابھی پکا نہیں، لہٰذا اسلام لاتے ہی فوراً خود بخود ان میں جدائی آ جائے گی، ان کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ اور اگر خاوند صحبت کر چکا تھا اپنی بیوی سے تو پھر اس صورت کے اندر نکاح پکا ہو گیا ہے تو اب تین حیض گزارنے پڑیں گے، پھر اس کے بعد ہی دونوں کے اندر جدائی آئے گی۔ اور میں نے آپ کو مسئلہ بتلایا تھا، یاد رکھنا، اگر خاوند صحبت سے پہلے بیوی کو طلاق دے دے تو بیوی پر عدت نہیں ہے، عدت تو عورت پر اس لیے واجب ہوتی تھی تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ کہیں حاملہ تو نہیں، کہیں اس کے پیٹ میں خاوند کا حمل تو نہیں ہے، تو اس لیے وہاں عدت گزارنا پڑتی تھی، لیکن یہاں تو صحبت ہی نہیں ہوئی، رخصتی ہی نہیں ہوئی، اس سے پہلے ہی خاوند نے طلاق دے دی ہے تو اس صورت میں عورت پر عدت نہیں ہوتی، طلاق دیتے ہی فوراً نکاح بالکل ٹوٹ گیا اور فوراً ہی عورت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ لیکن اگر خاوند صحبت کر چکا ہے اور پھر طلاق دیتا ہے تو پھر اس صورت میں عورت پر عدت واجب ہے تاکہ پتہ چل جائے کہیں یہ عورت حاملہ تو نہیں، کہیں اس کے پیٹ میں خاوند کا بچہ تو نہیں، لہٰذا پھر اس صورت میں اس کو تین حیض گزارنے پڑتے ہیں تو پھر جدائی آ جاتی ہے، پھر نکاح پوری طرح ختم ہو جاتا ہے اور پھر عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ تو صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو فوراً ہی جدائی آ جاتی ہے، عورت جہاں مرضی نکاح کر لے، اور صحبت کے بعد خاوند طلاق دے تو عدت کے بعد پھر عورت کو آگے نکاح کی اجازت ہو گی، اس سے پہلے نکاح کی اجازت نہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر بھی اگر صحبت سے پہلے دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہوا ہے تو نکاح ابھی پکا نہیں، لہٰذا اسلام لاتے ہی دونوں میں جدائی ہو گئی، فوراً ہی نکاح فسخ ہو گیا۔ اور اگر خاوند صحبت کر چکا ہے، اس کے بعد دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہوا ہے، تو اب اس صورت میں فوراً جدائی نہیں آئے گی بلکہ عورت جو ہے وہ تین حیض گزارے گی اور پھر اس کے بعد جدائی آ جائے گی، اور اگر اس سے پہلے دوسرا بھی مسلمان ہو گیا تو پھر دونوں کا نکاح برقرار ہے کیونکہ ابھی جدائی آئی ہی نہیں تھی اور دوسرا بھی مسلمان ہو گیا۔
جبکہ ہمارے نزدیک جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا تو اب نکاح کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے، اور نکاح تو اپنے مقاصد کے اعتبار سے مشروع ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع نہیں، تو اب ضروری ہے کہ دونوں میں جدائی آئے، لیکن جدائی کے لیے کوئی سبب چاہیے۔ اب ایک مسلمان ہوا ہے تو اسلام کو جدائی کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ اسلام تو جوڑ پیدا کرنے والا ہے، اسلام تو اللہ کی اطاعت کا نام ہے، تو اس کی وجہ سے انسان کی ملکیت ضائع نہیں ہو سکتی بھئی، کہ یہ کہا جائے اس کی ملکِ نکاح ضائع ہو گئی، ختم ہو گئی، نہیں، اسلام تو اللہ کی اطاعت کا نام ہے، وہ تو جوڑ پیدا کرنے والا ہے، تو لہٰذا اسلام کو جدائی کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پھر کیا کیا جائے؟ تو کہتے ہیں دوسرے پر اسلام کو پیش کرے گا قاضی، اور پھر اس کا انکار جو ہے وہ جدائی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے کیونکہ انکار کے اندر وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کر رہا ہے، اللہ کی نعمتیں استعمال کر رہا ہے اور اللہ کے دین کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے، تو یہ انکار عن الاسلام یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اس کو جدائی کا سبب قرار دیا جائے، لہٰذا قاضی دوسرے پر اسلام کو پیش کرے گا۔ اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے تو یہ نکاح اسی طرح برقرار رہے گا کیونکہ اب نکاح کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں، میاں بیوی میں سے ایک پہلے مسلمان تھا اور ایک اب مسلمان ہو گیا، اب دونوں مسلمان ہیں تو نکاح کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں تو نکاح برقرار رہے گا۔ اور اگر دوسرا انکار کر دیتا ہے تو پھر قاضی ان میں جدائی کروا دے گا۔
پھر طرفین یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر انکار خاوند نے کیا ہے تو وہ اس کو طلاق قرار دیں گے، وجہ یہ کہ خاوند اس بیوی کو روک کر امساک بالمعروف پر عمل کر سکتا تھا۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ“ کہ اچھے طریقے سے بیوی کو روک لو، ”أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ“ یا احسان اور نیکی کے ساتھ اس کو رخصت کر دو یعنی طلاق دے دو۔ تو تسریح سے کیا مراد ہے؟ طلاق مراد ہے۔ ”فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ“ کہ اچھے طریقے سے ان کو روکنا ہے، ”أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ“ یا رخصت کرنا ہے احسان کے ساتھ، رخصت کرنے سے کیا مراد ہے؟ طلاق مراد ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر بھی خاوند پر اسلام کو پیش کیا جا رہا ہے اور خاوند کو قدرت ہے وہ بیوی کو اچھے طریقے سے روک سکتا ہے لیکن وہ اسلام نہیں لایا تو اس نے گویا اپنے اختیار سے امساک بالمعروف کو ترک کر دیا، اور جب امساک بالمعروف کو اس نے ترک کر دیا تو اب تسریح بالاحسان پر عمل واجب ہو گیا، کیونکہ دو ہی صورتیں تھیں، یا بیوی کو اچھے طریقے سے روک لو یا اس کو رخصت کر دو احسان کے ساتھ۔ تو جب اس نے امساک بالمعروف پر عمل نہیں کیا تو اب تسریح بالاحسان پر عمل کیا جائے گا اور قاضی اس خاوند کا نائب بن کر تسریح بالاحسان پر عمل کرے گا، اور تسریح بالاحسان یہ تو کس کا نام تھا؟ طلاق کا نام تھا، تو لہٰذا یہ جدائی طلاق کے حکم میں ہو گی۔ جبکہ اگر بیوی نے انکار کیا ہے تو پھر قاضی اس عورت کا نائب بن کر تسریح بالاحسان پر عمل نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ تسریح سے کیا مراد ہے؟ طلاق، اور طلاق تو خاوند کی طرف سے آ سکتی ہے، بیوی کی طرف سے نہیں آ سکتی، لہٰذا انکار اگر بیوی نے کیا ہے تو قاضی تسریح بالاحسان میں بیوی کا نائب نہیں بن سکتا کیونکہ بیوی کے پاس تو تسریح بالاحسان کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں ہے۔ تو اس صورت میں جو قاضی جدائی کرے گا وہ فسخِ نکاح شمار ہو گی، وہ طلاق شمار نہیں ہو گی۔
اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ جب قاضی ان دونوں کے درمیان جدائی کروائے گا تو پھر یاد رکھنا اگر یہ جدائی کا سبب خاوند بنا ہے تو پھر دو صورتیں ہوں گی، یا خاوند صحبت کر چکا ہو گا یا صحبت نہیں کی۔ اگر صحبت کر چکا ہے تو پھر آپ جانتے ہیں کہ صحبت سے مہر پکا ہو جاتا ہے تو پھر پورا مہر دینا پڑے گا۔ اور اگر صحبت سے پہلے ہی جدائی آئی ہے اور انکار خاوند نے کیا ہے اور اس صورت میں جدائی طلاق کے حکم میں ہے، تو یہ طلاق قبل الصحبت پائی گئی، اور صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو نصف مہر دینا پڑتا ہے تو یہاں بھی خاوند کو پھر نصف مہر دینا پڑے گا۔ لیکن اگر انکار عورت نے کیا ہے تو جدائی کا سبب عورت بنی ہے، تو پھر اس صورت میں اگر خاوند صحبت کر چکا تھا عورت سے، پھر تو مہر پہلے سے ہی پکا ہو چکا ہے، بے شک انکار عورت نے کیا ہے لیکن مہر تو پہلے ہی سے پکا ہو چکا ہے، تو خاوند پورا مہر دے گا۔ لیکن اگر یہ جدائی صحبت سے پہلے ہوئی ہے، یعنی عورت نے انکار کیا ہے اسلام لانے سے اور ابھی صحبت نہیں ہوئی، تو پھر اس صورت میں چونکہ اس جدائی کا سبب عورت بنی ہے تو اس کو اب نصف مہر نہیں ملے گا بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے مرتدہ ہونا یا مطاوعت والے مسئلے میں، اگر عورت مرتدہ ہو جائے اور صحبت سے پہلے مرتدہ ہوئی ہے تو پھر اس کو کچھ بھی نہیں ملتا کیونکہ اس جدائی کا سبب وہ خود بنی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اسی طرح مطاوعت کہ اگر ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس عورت نے اس کی پہلی بیوی کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا، تو اس صورت میں بھی یہ عورت اس آدمی کے لیے بہو کے درجے میں ہو گئی، بہو، اور بہو تو انسان پر حرام ہوتی ہے، تو یہاں پر بھی جدائی آئے گی، اور یہ جدائی اگر صحبت سے پہلے آئی ہے تو چونکہ عورت اس کا سبب بنی ہے تو لہٰذا عورت کو نصف مہر بھی نہیں ملے گا۔ اور اگر خاوند صحبت کر چکا تھا، پھر تو مہر پہلے سے ہی پکا ہے، پھر وہ سارا دینا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ أَوْ أَسْلَمَ الْحَرْبِيُّ وَتَحْتَهُ مَجُوسِيَّةٌ لَمْ يَقَعِ الْفُرْقَةُ عَلَيْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثَلَاثَ حِيَضٍ ثُمَّ تَبِينَ مِنْ زَوْجِهَا“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ دار الحرب کے اندر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا۔ پہلی صورت کیا تھی؟ گزشتہ سبق میں کیا پڑھا آپ نے؟ کہ اگر دار الاسلام میں میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا تو قاضی دوسرے پر اسلام کو پیش کرے گا، اور اگر وہ انکار کر دے گا تو قاضی جدائی کروا دے گا، اور اگر وہ اسلام لے آتا ہے قاضی کے جدائی کروانے سے پہلے پہلے تو یہ اسی طرح اپنے نکاح پر برقرار رہیں گے۔ اگر یہی مسئلہ دار الحرب میں پیش آیا تو پھر کیا کریں گے؟ کیونکہ دار الحرب میں تو کوئی قاضی بھی نہیں ہے جو ان پر اسلام کو پیش کرے اور پھر ان میں انکار کی صورت میں جدائی کروا دے۔ تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ دار الحرب کے اندر اگر عورت مسلمان ہو گئی اور خاوند کافر ہے، یا خاوند مسلمان ہو گیا اور بیوی مجوسیہ ہے، یعنی مجوسیہ یا مشرکہ ہے یعنی اہلِ کتاب نہیں، کیونکہ اگر اہلِ کتاب ہے عورت پھر تو نکاح برقرار رہے گا۔ خاوند مسلمان ہوا اور بیوی کیا ہے؟ اہلِ کتاب ہے، تو اہلِ کتاب سے تو ویسے بھی مسلمان کے لیے نکاح جائز ہے تو اس صورت میں جدائی نہیں آئے گی۔ تو دار الحرب میں بیوی مسلمان ہو گئی اور خاوند کافر ہے، یا خاوند مسلمان ہو گیا اور بیوی مجوسیہ یا مشرکہ ہے، تو اب کیسے جدائی آئے گی؟ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر یہاں چونکہ قاضی بھی نہیں ہے جدائی کروانے کے لیے تو اب مجبوراً اس حکم کی نسبت شرط کی طرف کرنا پڑے گی۔ کس کی طرف؟ شرط کی طرف کرنا پڑے گی، اور شرط کیا ہے؟ کہ عورت تین حیض گزارے گی، اور پھر اس کے بعد ان میں جدائی آ جائے گی۔ وہ عورت جو مسلمان ہوئی ہے اور خاوند کافر ہے، یا خاوند مسلمان ہوا عورت مجوسیہ یا مشرکہ ہے، تو تین حیض جب گزر جائیں گے تو ان میں خود بخود آپس میں جدائی آ جائے گی۔ لیکن اگر تین حیض گزرنے سے پہلے پہلے دوسرا بھی مسلمان ہو گیا، تو پھر اس صورت میں یہ اپنے اسی نکاح پر برقرار رہیں گے اور کوئی جدائی وغیرہ ان میں نہیں آئے گی۔
بھئی یاد رکھو یہاں آپ کو ضابطہ بتلائیں گے کہ یہاں ہم نے شرط کی طرف حکم کی نسبت کی ہے۔ شرط کی طرف حکم کی نسبت کی ہے۔ جیسے، جیسے مسلمان خاوند اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ عورت فوراً آگے نکاح نہیں کر سکتی بلکہ اس کو عدت گزارنا پڑے گی، پھر جب عدت گزار لے گی تو پھر نکاح پورے طور پر ٹوٹ جائے گا اور ختم ہو جائے گا۔ دورانِ عدت بھی نکاح کے کچھ نہ کچھ احکام اور اثرات باقی ہیں بھئی۔ عدت کے دوران کا نفقہ بھی کس کے ذمے ہوتا ہے؟ خاوند کے ذمے، کیونکہ عورت نے اس کی وجہ سے اپنے آپ کو اگلے نکاح سے روک رکھا ہے۔ توجہ ہے؟ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو عورت طلاق ملتے ہی فوراً آگے نکاح نہیں کر سکتی بلکہ اس کو عدت گزارنا پڑے گی۔ کیوں عدت گزارتی ہے؟ تاکہ پتہ چل جائے کہیں یہ خاوند سے حاملہ تو نہیں، کہیں اس کے پیٹ میں خاوند کا بچہ تو نہیں ہے، لہٰذا تو عورت یہ جو عدت گزارتی ہے یہ خاوند کی وجہ سے گزارتی ہے، لہٰذا اس عدت کے دوران کا نفقہ خاوند کے ذمے ہے، وہ اس بیوی کو نفقہ دے گا۔ نیز رہائش بھی خاوند ہی کے ذمے ہے، اس کو رہائش بھی دے گا اس دوران بھئی۔ اور نیز اگر یہ حاملہ ہوئی تو اس بچے کا نسب بھی خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔ اور یہ سب تو نکاح کے احکام ہیں، نفقہ تو اپنی بیوی کو دینا پڑتا ہے، رہائش تو اپنی بیوی کو دی جاتی ہے، اپنی بیوی سے جو اولاد ہو اس کا نسب ثابت ہوتا ہے خاوند سے، لیکن یہاں دیکھو طلاق کے باوجود یہ احکام ہیں۔ طلاق کے بعد عدت کے اندر خاوند نفقہ بھی دے رہا ہے، سکنیٰ بھی دے رہا ہے، اور اولاد پیدا ہوئی تو وہ اسی خاوند کی شمار ہو گی۔ معلوم ہوا ابھی بھی نکاح کے احکام باقی ہیں، نکاح پوری طرح ٹوٹا نہیں۔ ہاں جب عدت گزر جائے گی اب نکاح پوری طرح ٹوٹ گیا، اس کے سارے اثرات ختم ہو گئے، اب عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ معلوم ہوا نکاح کے ٹوٹنے کے لیے تین حیض شرط ہیں، عدت شرط ہے، شرط ہے تو پھر مشروط بھی ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، تو تین حیض گزارے گی تو نکاح ٹوٹے گا پوری طرح اور یہ پھر آگے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، اس سے پہلے نہیں بھئی۔ تو یہ جو عدت کا گزارنا یہ کیا ہے؟ شرط ہے جدائی کے لیے، پھر پوری طرح خاوند سے جدا ہو جائے گی۔
یہاں ایک ضابطہ یاد رکھنا بھئی، یاد رکھو حکم کی نسبت علت کی طرف کی جاتی ہے۔ جب علت پائی جائے گی حکم بھی پایا جائے گا۔ لیکن بعض اوقات حکم کی نسبت علت کی طرف نہیں کی جا سکتی، تو پھر اس صورت کے اندر حکم کی نسبت سبب کی طرف کی جاتی ہے۔ کس کی طرف؟ سبب کی طرف کی جاتی ہے۔ اور اگر سبب کی طرف بھی حکم کی نسبت نہ ہو سکے تو پھر اس صورت میں حکم کی نسبت شرط کی طرف کی جاتی ہے۔ کیا ضابطہ ہوا؟ کہ حکم کی نسبت علت کی طرف کی جاتی ہے کہ اس علت کی وجہ سے یہ حکم آیا ہے، لیکن بعض اوقات علت کی طرف حکم کی نسبت کرنا ممکن نہیں رہتا تو پھر اس حکم کی نسبت سبب کی طرف کی جاتی ہے کہ اس سبب کی وجہ سے یہ حکم آیا ہے، اور اگر سبب کی طرف بھی حکم کی نسبت نہ کی جا سکے تو پھر جو شرط ہے اس کی طرف حکم کی نسبت کی جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں علت اور سبب میں فرق بھی سمجھ لیں، یاد رکھو علت وہ ہے کہ جب وہ پائی جائے تو حکم ضرور پایا جائے گا۔ علت جب بھی پائی جائے معلول ضرور پایا جاتا ہے، جیسے سورج جب بھی نکلے گا دن ضرور ہو گا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ سورج تو نکلے اور دن نہ ہو، تو سورج کا نکلنا علت ہے دن ہونے کے لیے۔ تو جب بھی علت پائی جائے حکم ضرور پایا جائے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں سبب جو ہے وہ حکم تک پہنچاتا ہے لیکن سبب کے پائے جاتے ہوئے حکم کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔ سبب پایا جائے تو ہو سکتا ہے حکم بھی پایا جائے اور ہو سکتا ہے حکم نہ پایا جائے، جبکہ علت جب پائی جائے تو پھر حکم ضرور پایا جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟
جیسے دیکھو، جیسے وضو ٹوٹنے کی علت جو ہے وہ خروجِ نجاست ہے۔ بدن سے جب بھی خروجِ نجاست ہو گی تو وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ لیکن بعض اوقات اس علت پر ہم مطلع نہیں ہو سکتے، مثلاً کوئی انسان سویا ہوا ہے، پہلو کے بل یا سیدھا لیٹا ہوا ہے اور سو گیا، تو اس صورت کے اندر بھی عموماً بدن سے خروجِ نجاست ہوتا ہے لیکن چونکہ انسان سویا ہوا ہے اس کو اس علت کا پتہ نہیں چل سکتا۔ تو لہٰذا نیند کی حالت میں خروجِ نجاست کا علم نہیں ہو سکتا تو یہاں پر اب حکم کی نسبت سبب کی طرف کر دی جائے گی۔ یہ خروجِ نجاست تک جو پہنچانے والی چیز ہے یعنی نیند، اسی کی طرف حکم کی نسبت کر دی جائے گی کہ جب بھی اس قسم کی نیند پائی گئی جس میں انسان پہلو کے بل لیٹا ہے یا سیدھا لیٹا ہوا ہے اور جس سے بدن ڈھیلا پڑ گیا ہے تو اس صورت میں وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ توجہ ہے؟ دیکھو اب یہاں پر حکم کیا تھا؟ وضو کا ٹوٹنا، اور علت کیا تھی؟ خروجِ نجاست، لیکن یہاں پر حکم کی نسبت خروجِ نجاست کی طرف نہیں کی جا سکتی، کیوں نہیں کی جا سکتی؟ کیونکہ
انسان سویا ہوا ہے اسے علم ہی نہیں ہوگا تو احتمال ہے ہو سکتا ہے خروجِ نجاست ہوا ہو، تو لہٰذا یہاں سبب کو ہی علت کے قائم مقام کر دیا یعنی حکم کی نسبت سبب کی طرف کر دی کہ جب بھی ایسی نیند پائی جائے گی وضو ٹوٹ جائے گا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے سفر ہے بھئی، دیکھو سفر کے اندر شریعت نے آسانی کر دی کہ چار رکعت فرض کے بجائے آپ دو رکعت پڑھیں بھئی، قصر نماز ادا کریں، اور اس کی علت جو ہے وہ مشقت ہے کیونکہ سفر کے اندر مشقت ہوتی ہے، تکلیف ہوتی ہے تو شریعت نے آسانی کر دی کہ چار رکعت کے بجائے دو رکعت فرض ادا کر لیں۔ تو اس نماز کے اندر جو تخفیف آئی اس کی علت سفر کی مشقت ہے لیکن اس مشقت کا پتہ نہیں چل سکتا، وجہ یہ کہ بعض لوگ جو ہیں ان کی طبیعت نازک ہوتی ہے وہ تھوڑا سا بھی سفر کرتے ہیں ان کو بڑی مشقت ہوتی ہے اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کو اللہ نے ایسا مضبوط بدن دیا ہوتا ہے کہ کئی کئی دن بھی وہ سفر کریں تو انہیں مشقت کا احساس ہی نہیں ہوتا بھئی۔ تو لہٰذا شریعت نے جو نماز میں تخفیف کی اس کی علت مشقت ہے لیکن یہ طبیعتیں چونکہ مختلف ہیں مشقت کا پتہ نہیں چل سکتا کہ کس کو زیادہ مشقت ہوئی ہے اور کس کو کم۔ تو لہٰذا یہاں حکم کی نسبت علت کی طرف نہیں کی جا سکتی تو پھر مجبورا اس حکم کی نسبت جو ہے یعنی یہ جو نماز میں تخفیف ہے اس کی نسبت سفر کی طرف کر دی جائے گی کہ تین دن کے سفر کا جو بھی ارادہ کرے گا تو اس کی نماز میں تخفیف آ گئی اب اس کو چار رکعت فرض کے بجائے دو رکعت ادا کرنا پڑیں گے۔ تو اس نماز میں تخفیف کی علت کیا تھی؟ مشقت۔ لیکن مشقت کا تو پتہ نہیں چل سکتا تو پھر سبب یعنی سفر کی طرف ہی حکم کی نسبت کر دی گئی کہ جس نے تین دن کا سفر کا ارادہ کیا تو یہ مشقت والا سفر ہے تین دن کے اندر مشقت ہو جاتی ہے تو اسی کی طرف حکم کی نسبت کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ حکم کی نسبت علت کی طرف کی جاتی ہے اور اگر علت کی طرف حکم کی نسبت نہ کی جا سکے پھر سبب کی طرف کی جاتی ہے اور اگر سبب کی طرف بھی حکم کی نسبت نہ کی جا سکے تو پھر حکم کی نسبت شرط کی طرف کی جاتی ہے۔
تو بات چل رہی تھی دار الحرب کے اندر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا۔ اب وہاں پر تو قاضی کوئی نہیں۔ قاضی دوسرے پر اسلام کو پیش کرتا اور پھر وہ انکار کرتا تو قاضی ان میں جدائی کروا دیتا، تو وہاں پر قاضی بھی موجود نہیں اور جدائی بھی ضروری ہے کیونکہ مسلمان کے تحت مجوسیہ یا مشرکہ عورت نہیں رہ سکتی بھئی، اور اسی طرح مسلمان عورت کافر کے نکاح میں نہیں رہ سکتی بھئی۔ تو نکاح میں تو فساد آ چکا ہے، خرابی آ چکی ہے، لہٰذا اب جدائی ضروری ہے اور قاضی بھی نہیں ہے کہ قاضی ان میں تفریق کروا دے، تو پھر اس صورت میں حکم کی نسبت مجبورا ہمیں شرط کی طرف کرنا پڑے گی اور جدائی کے لیے شرط کیا تھی؟ تین حیض عورت گزارے گی پھر ہی پوری جدائی آئے گی وہ آگے نکاح کر سکتی ہے، تو وہاں پر بھی ہم نے دار الحرب میں تین حیض جو ہے ان کو جدائی کا سبب قرار دے دیا۔ تو جب وہ عورت تین حیض گزار لے گی تو خاوند سے جدا ہو جائے گی اور اگر تین حیض گزرنے سے پہلے پہلے وہ دوسرا شخص جو ہے وہ بھی مسلمان ہو گیا، توجہ ہے؟ یعنی وہ بیوی مسلمان ہو گئی یا خاوند مسلمان ہو گیا ان تین حیض کے دوران تو پھر یہ اپنے نکاح پر برقرار رہیں گے پھر کوئی جدائی وغیرہ نہیں آئے گی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“
جب مسلمان ہو گئی کوئی عورت دار الحرب میں
”وَزَوْجُهَا كَافِرٌ“
اس حال میں کہ اس کا خاوند کافر ہے، اور کافر مرد کے تحت تو مسلمان عورت نہیں رہ سکتی،
”أَوْ أَسْلَمَ الْحَرْبِيُّ“
یا حربی مسلمان ہو گیا
”وَتَحْتَهُ مَجُوسِيَّةٌ“
اور اس کے تحت ایک مجوسیہ عورت ہے
”لَمْ تَقَعِ الْفُرْقَةُ عَلَيْهَا“
تو اس عورت پر جدائی واقع نہیں ہو گی
”حَتَّى تَحِيضَ ثَلَاثَ حِيَضٍ“
یہاں تک کہ وہ عورت تین حیض گزار لے، حِیَض جمع ہے حیض کی، تو یہاں تک کہ وہ عورت تین حیض گزار لے
”ثُمَّ تَبِينَ مِنْ زَوْجِهَا“
پھر یہ عورت اپنے خاوند سے جدا ہو جائے گی، جب تین حیض گزار لے گی۔
”وَهَذَا لِأَنَّ الْإِسْلَامَ لَيْسَ سَبَبًا لِلْفُرْقَةِ“
اور یہ اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے وہ جدائی کا سبب نہیں ہے۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں اسلام تو اللہ کی اطاعت کا نام ہے اور اسلام تو جوڑ کا حکم دیتا ہے توڑ کا حکم نہیں دیتا، لہٰذا اسلام کو جدائی کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
”وَهَذَا لِأَنَّ الْإِسْلَامَ لَيْسَ سَبَبًا لِلْفُرْقَةِ“
اور یہ اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے وہ جدائی کا سبب نہیں ہے
”وَالْعَرْضُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُتَعَذِّرٌ“
اور اسلام پیش کرنا بھی متعذر ہے۔ اس کافر پر ہم اسلام بھی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں پر تو قاضی ہی نہیں ہے، وہاں پر ہماری ولایت اور حکومت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں:
”وَالْعَرْضُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُتَعَذِّرٌ“
اور اسلام پر پیش کرنا بھی متعذر ہے
”لِقُصُورِ الْوِلَايَةِ“
ولایت کی کمی کی وجہ سے، کہ ہمارے حاکم کی ولایت میں کمی ہے اس جگہ پر اس کی حکومت نہیں ہے
”وَلَا بُدَّ مِنَ الْفُرْقَةِ“
اور جدائی بھی ضروری ہے
”دَفْعًا لِلْفَسَادِ“
فساد کو دور کرنے کے لیے، کیونکہ عورت مسلمان ہوئی ہے اور خاوند کافر ہے، اور کافر کے تحت مسلمان عورت نہیں رہ سکتی بھئی، یا اسی طرح خاوند مسلمان ہوا ہے اور عورت مجوسیہ یا مشرکہ ہے، اور مسلمان کے لیے تو اپنے عقد میں مجوسیہ یا مشرکہ کو رکھنا جائز نہیں، تو نکاح میں فساد آ چکا ہے خرابی آ چکی ہے، اب جدائی ضروری ہے بھئی، لیکن جدائی کے لیے کوئی سبب چاہیے، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں:
”وَلَا بُدَّ مِنَ الْفُرْقَةِ دَفْعًا لِلْفَسَادِ“
اور جدائی ضروری ہے اس فساد کو دور کرنے کے لیے
”فَأَقَمْنَا شَرْطَهَا“
تو ہم نے قائم مقام کر دیا اس جدائی کی شرط کو
”وَهُوَ مُضِيُّ الْحِيَضِ“
اور وہ تین حیضوں کا گزرنا ہے، یہ تین حیضوں کا گزرنا شرط تھا کس کے لیے؟ جدائی کے لیے۔ دار الاسلام میں بھی کوئی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے کوئی مسلمان تو عورت فورا آگے نکاح نہیں کر سکتی بلکہ کتنی مدت گزارنا پڑے گی؟ تین حیض گزارے گی پھر ہی پوری طرح جدائی آئے گی۔ معلوم ہوا تین حیض یہ شرط ہے جدائی کے لیے، تو ہم نے شرط کو سبب کے قائم مقام کر دیا۔
”فَأَقَمْنَا شَرْطَهَا“
تو ہم نے یہ جو جدائی کی شرط تھی اور وہ جدائی کی شرط کیا تھی؟
”وَهُوَ مُضِيُّ الْحِيَضِ“
وہ تین حیضوں کا گزرنا ہے، اس کو ہم نے قائم مقام کر دیا
”مَقَامَ السَّبَبِ“
کس کے؟ سبب کے۔ ہم نے اس کو سبب کے قائم مقام کر دیا کیونکہ یہاں پر قاضی تو ہے نہیں کہ وہ دوسرے کے اسلام سے انکار کی وجہ سے قاضی ان میں جدائی کروا دے، قاضی تو ہے نہیں، تو ہم نے اس شرط کو ہی سبب کے قائم مقام کر دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
بھئی یہاں پر صاحبِ ہدایہ کی ذرا عبارت دیکھ لیجیے، اوپر انہوں نے ذکر کیا:
”وَالْعَرْضُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُتَعَذِّرٌ“
اور پیش کرنا عَلَى الْإِسْلَامِ اسلام پر متعذر ہے وہ ممکن نہیں ہے۔ صاحبِ ہدایہ کو کہنا یہ چاہیے تھا ایک تو مسلمان ہو گیا ہے دوسرے پر اسلام کو پیش کرنا ممکن نہیں ہے، دوسرے پر اسلام کو پیش کرنا ممکن نہیں ہے، توجہ ہے؟ لیکن صاحبِ ہدایہ برعکس فرما رہے ہیں کہ دوسرے کو اسلام پر پیش کرنا ممکن نہیں ہے، توجہ ہے؟ کہنا کیا چاہیے تھا؟ کہ اسلام کو دوسرے پر پیش کرتے، لیکن وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ دوسرے کو اسلام پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں، انسان حیران رہتا ہے بھئی ان کی فصاحت و بلاغت پر۔ یہ دراصل انہوں نے عربوں کے اس محاورے سے لیا ہے، عرب کئی دنوں کے بعد اپنے اونٹ اور اونٹنیوں کو پانی پلاتے تھے بھئی۔ اونٹ اپنے جسم میں پانی ذخیرہ کر لیتا ہے چونکہ وہاں پر تو پانی کم ہوتا تھا تو وہ کئی کئی دن تک اسی طرح وہ گزارا کرتے تھے، اسی جسم کے اندر ذخیرہ کیے ہوئے پانی پر اونٹ گزارا کرتا رہتا اور پھر چھ سات دن آٹھ دن کے بعد پھر ان کو پانی پلانے کے لیے لاتے تھے بھئی۔ تو جب اونٹ یا اونٹنی کو تالاب کے پاس لایا جاتا تو عرب اس کے لیے محاورہ بولتے: ”عَرَضْتُ النَّاقَةَ عَلَى الْحَوْضِ“ میں نے اونٹنی کو حوض پر پیش کر دیا، اونٹنی کو حوض پر پیش کر دیا۔ تو یہاں پر بھی صاحبِ ہدایہ اسی محاورے کے انداز میں فرما رہے ہیں، جیسے وہاں عرب کیا کہتے تھے ”عَرَضْتُ النَّاقَةَ عَلَى الْحَوْضِ“ میں نے اونٹنی کو تالاب پر پیش کیا، یہاں پر بھی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ دوسرے کو اسلام پر پیش کرنا متعذر ہے، دوسرے کو اسلام پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ اسلام کو تشبیہ دے رہے ہیں ایک حوض اور تالاب کے ساتھ، اور حوض اور تالاب کے پاس پیاسے آتے ہیں اور اپنی پیاس بجھاتے ہیں، تالاب جو ہے ان پیاسوں کا محتاج نہیں لیکن وہ پیاسے تالاب کے محتاج ہیں، تو یہاں پر بھی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہ جو دوسرا ہے یہ گویا پیاسا ہے لیکن اس کو اسلام کے تالاب پر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اپنی پیاس اس سے بجھا لے، اس لیے کیونکہ یہ دار الحرب ہے، یہاں ہماری حکومت ہی نہیں ہے، یہاں کوئی قاضی نہیں ہے کہ وہ اس پیاسے کو اسلام کے تالاب پر پیش کرے۔ تو یہ معنی ہے ”وَالْعَرْضُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُتَعَذِّرٌ“ اور اس کو اسلام پر پیش کرنا بھی متعذر ممکن نہیں ہے بھئی، ”لِقُصُورِ الْوِلَايَةِ“ ہمارے حاکم کی ولایت میں کمی کی وجہ سے کہ اس کی وہاں پر حکومت نہیں ہے، ”وَلَا بُدَّ مِنَ الْفُرْقَةِ دَفْعًا لِلْفَسَادِ“ اور جدائی بھی ضروری ہے اس فساد کو دور کرنے کے لیے، کیا فساد آیا؟ کہ کافر کے عقد میں مسلمان عورت نہیں رہ سکتی یا مسلمان کے عقد میں مجوسیہ یا مشرکہ نہیں رہ سکتی، فساد آ چکا ہے، تو اس فساد کو دور کرنے کے لیے جدائی بھی ضروری ہے، ”فَأَقَمْنَا شَرْطَهَا“ تو ہم نے اس جدائی کی جو شرط ہے اس کو قائم مقام کر دیا، اور بھئی وہ شرط کیا ہے؟ کہتے ہیں ”وَهُوَ مُضِيُّ الْحِيَضِ“ اور وہ تین حیضوں کا گزرنا ہے تو اس شرط کو ہم نے قائم مقام کر دیا ”مَقَامَ السَّبَبِ“ کس کے قائم مقام؟ سبب کے قائم مقام کر دیا یعنی جدائی کے بھئی، وہ جو جدائی قاضی کرواتا تھا انکار کی وجہ سے۔
”كَمَا فِي حَفْرِ الْبِئْرِ“ جیسے کہ کنواں کھودنے کے اندر ہے، جیسے کنواں کھودنے میں ہے۔ یاد رکھو، کوئی شخص اگر اپنی زمین کے اندر کنواں کھودنا چاہے تو شریعت نے اس کو اجازت دی ہے، لیکن اگر کوئی شخص راستے کے اندر کنواں کھود لیتا ہے اور پھر اس کنویں کے اندر کوئی شخص گر کر مر گیا تو پھر وہ شخص جس نے کنواں کھودا تھا اس پر دیت آئے گی کیونکہ اس موت کا سبب کون بنا ہے؟ وہ کنواں کھودنے والا، توجہ ہے؟ وہ کنواں نہ کھودتا تو یہاں پر کوئی شخص اس میں گر کر نہ مرتا۔ تو راستے میں کوئی شخص کنواں کھود لے اور اس کنویں کے اندر کوئی چلنے والا گر کر مر جائے تو کنواں کھودنے والے کو پوری دیت ادا کرنا پڑے گی۔ اب دیکھو، یہاں ایک شخص کنویں کے اندر گر کر مر گیا ہے تو گرنے کی علت کیا ہے؟ یہ شخص کنویں میں کیوں گرا؟ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کنویں میں گرنے کی علت اس آدمی کا وزنی ہونا ہے، یعنی اس کا وزن ہے، اس کا بوجھ ہے اور ثقل ہے، اگر یہ آدمی وزنی نہ ہوتا ہوا کی طرح ہلکا پھلکا ہوتا پھر تو یہ اندر نہ گرتا بھئی، تو گرنے کی علت کیا ہے؟ اس آدمی کا وزنی ہونا۔ لیکن وزنی ہونا یہ تو ایک طبعی چیز ہے، ہر چیز کا کچھ نہ کچھ وزن ہوتا ہے اللہ نے بنایا ہی ایسا ہے چیزوں کو، اس میں تو کسی کی طرف سے کوئی زیادتی نہیں، وزنی ہونے میں تو کوئی زیادتی نہیں یہ تو ایک طبعی چیز ہے، لہٰذا یہاں پر اس مرنے کی نسبت وزنی ہونے کی طرف نہیں کی جا سکتی، اگرچہ علت یہی ہے وزن نہ ہوتا وہ نہ گرتا، تو علت ہے وزنی ہونا لیکن اس کی طرف حکم کی نسبت نہیں کی جا سکتی کہ اسے موت کی علت قرار دیا جائے۔ پھر اگر علت کی طرف حکم کی نسبت نہ ہو سکے تو پھر اس کے بعد سبب کی طرف کی جاتی ہے۔ اور سبب کیا تھا؟ کس چیز نے اس آدمی کو پہنچایا؟ کہتے ہیں اس کے راستے پر چلنے نے، اگر وہ اس راستے پر نہ چلتا تو اس کنویں میں بھی نہ گرتا، تو چلنا سبب ہوا اس کنویں میں گرنے کا اور موت کا۔ چلنا کیا ہوا؟ سبب ہوا اس موت کا، لیکن اس سبب کی طرف بھی ہم حکم کی نسبت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ تو راستہ ہے راستے پر چلنا تو ہر ایک کا حق ہے اس میں تو کوئی زیادتی وغیرہ نہیں، تو لہٰذا اس چلنے کی طرف بھی ہم اس قتل کی نسبت نہیں کر سکتے، تو پھر اس صورت میں جو شرط ہے یعنی کنواں کھودنا اس کی طرف ہم حکم کی نسبت کریں گے۔ کوئی شخص کنویں میں تبھی گر سکتا ہے جب پہلے کنواں تو کھودا جائے، کنواں کھودو گے تو کوئی اس میں گر سکتا ہے کنواں نہیں کھودا تو اس میں کوئی گر بھی نہیں سکتا، معلوم ہوا کنواں کھودنا یہ ہے شرط بھئی۔ یہ کیا ہے؟ جیسے وضو نماز کے لیے شرط ہے، وضو ہے تو نماز ہے وضو نہیں تو نماز بھی نہیں، اسی طرح یہ کنواں کھودنا شرط ہے، کنواں کھودو گے تو کوئی گر سکتا ہے کنواں نہیں کھودا تو کوئی کیسے گر سکتا ہے بھئی؟ تو کنواں کھودنا کیا ہوا؟ شرط۔ تو یہاں پر تین چیزیں موجود ہیں: ایک اس قتل کی علت ہے اور وہ اس آدمی کا وزنی ہونا لیکن وہ ایک طبعی چیز ہے ہم اس کی طرف اس قتل کی نسبت نہیں کر سکتے، جب علت کی طرف حکم کی نسبت نہ ہو سکے تو پھر سبب کی طرف حکم کی نسبت کی جاتی ہے لیکن سبب تو یہاں اس قتل کا وہ اس آدمی کا اس راستے پر چلنا ہے اور اس چلنے میں کوئی زیادتی نہیں ہے ہر ایک کے لیے اس راستے پر چلنا مباح تھا تو اس کے لیے بھی جائز تھا، تو سبب کی طرف بھی اس قتل کی نسبت نہیں ہو سکتی تو پھر اس صورت میں حکم کی نسبت شرط کی طرف کی جاتی ہے اور شرط کیا تھی یہاں پر؟ کنویں کا کھودنا۔ تو یہ معلوم ہوا یہ قتل کنواں کھودنے کی وجہ سے ہوا ہے لہٰذا اس کنواں کھودنے والے کو دیت ادا کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دلیل چل رہی تھی کہ جب حکم کی نسبت سبب کی طرف نہ ہو سکے تو پھر شرط کی طرف حکم کی نسبت کی جاتی ہے، چنانچہ ہم نے بھی دار الحرب کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہوا تو وہاں پر سبب یعنی قاضی تو ہے نہیں وہ تو جدائی کروا نہیں سکتا تو وہاں پر شرط جو ہے اس کو سبب کے قائم مقام کر دیا جائے گا، تو پھر شرط یعنی تین حیض کے گزرنے کی طرف جدائی کی نسبت کریں گے اور تین حیض عورت گزار لے گی تو وہاں خود بخود جدائی آ جائے گی، جیسے کنواں کھودنے کے اندر قتل کی نسبت شرط یعنی کنواں کھودنے کی طرف کی جاتی ہے، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
کہتے ہیں:
”كَمَا فِي حَفْرِ الْبِئْرِ“
جیسے کنواں کھودنے میں ہے
”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْمَدْخُولِ بِهَا وَغَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا“
اور کوئی فرق نہیں ہے مدخول بہا اور غیر مدخول بہا میں، مدخول بہا جس کے ساتھ خاوند نے صحبت کی ہے۔ یاد رکھو، عند الاحناف دار الحرب کے اندر اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہوتا ہے تو تین حیض کے بعد ان میں جدائی آئے گی اور اس کے اندر مدخول بہا اور غیر مدخول بہا دونوں برابر ہیں۔ بھئی ویسے تو آپ نے پڑھا ہے کہ اگر خاوند بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اگر صحبت کی ہے تو پھر اس کو عدت گزارنا پڑے گی، تین حیض گزارے گی پھر جدائی آئے گی، لیکن اگر خاوند نے بیوی سے صحبت ہی نہیں کی تو پھر تو طلاق دیتے ہی فورا جدائی آ گئی، اب اس عورت پر عدت واجب نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ جو دار الحرب کے اندر جو جدائی آ رہی ہے، دار الحرب کے اندر جو عورت تین حیض گزارے گی اور پھر جدائی آئے گی، توجہ ہے؟ یہ تین حیض کوئی عدت والے حیض نہیں ہیں، یہ جدائی کے لیے ہم نے اس شرط کو سبب کے قائم مقام کر دیا ہے، تو یہ عدت نہیں۔ یہ جو ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہوا ہے اس میں صحبت ہوئی ہو چاہے صحبت نہ ہوئی ہو دونوں کا ایک ہی حکم ہے، دونوں صورتوں میں تین حیض گزارنے پر ہی جدائی آئے گی چاہے خاوند نے ابھی صحبت بھی نہ کی ہو بھئی، کیونکہ یہ جو تین حیض گزار رہی ہے یہ کوئی عدت کے حیض نہیں ہیں یہ جدائی کے حیض ہیں، فرق سمجھ میں آیا؟
تو کہتے ہیں:
”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْمَدْخُولِ بِهَا وَغَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا“
اور کوئی فرق نہیں ہے اس عورت میں جس کے ساتھ صحبت کی گئی ہے اور وہ جس کے ساتھ صحبت نہیں کی گئی
”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَفْصِلُ كَمَا مَرَّ لَهُ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“
اور امام شافعی رحمہ اللہ فرق کرتے ہیں جیسے کہ ان کی بات گزر گئی دار الاسلام کے مسئلے میں۔ وہ جو پیچھے دار الاسلام والا مسئلہ گزرا تھا، دار الاسلام میں اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ دوسرے پر اسلام کو بھی پیش نہیں کریں گے کیونکہ ورنہ تو ان کے معاملات میں دخل دینا لازم آئے گا اور ہمیں تو ان کے معاملات میں دخل دینے سے منع کیا گیا ہے، تو پھر جدائی کیسے آئے گی؟ تو وہ فرماتے ہیں کہ صحبت سے نکاح پکا ہوتا ہے بغیر صحبت کے نکاح پکا نہیں، لہٰذا اگر بغیر صحبت کے ایک اسلام لایا ہے تو پھر اسلام لاتے ہی خود بخود جدائی آ گئی اور اگر صحبت کے بعد دونوں میں سے ایک مسلمان ہوا ہے تو پھر تین حیض کے بعد جدائی آئے گی، تو معلوم ہوا وہ مدخول بہا اور غیر مدخول بہا میں فرق کرتے ہیں، غیر مدخول بہا میں ایک کے مسلمان ہوتے ہی جدائی آ جاتی ہے اور مدخول بہا کے اندر تین حیض کے بعد جدائی آئے گی لیکن ہمارے نزدیک یہاں کوئی فرق نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے:
”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْمَدْخُولِ بِهَا وَغَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا“
اور کوئی فرق نہیں ہے مدخول بہا اور غیر مدخول بہا کے اندر
”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَفْصِلُ كَمَا مَرَّ لَهُ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“
اور امام شافعی رحمہ اللہ فرق کرتے ہیں مدخول بہا اور غیر مدخول بہا میں جیسے ان کی بات گزر گئی دار الاسلام کے مسئلے میں۔
”وَإِذَا وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ وَالْمَرْأَةُ حَرْبِيَّةٌ فَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا“
”وَإِنْ كَانَتْ هِيَ الْمُسْلِمَةَ فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافًا لَهُمَا“
بھئی دیکھو، ابھی مسئلہ آپ نے پڑھا، دار الحرب میں اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو پھر وہاں جدائی کیسے آئے گی؟ تین حیض جب عورت گزار لے گی تو پھر اس کے بعد جدائی آ جائے گی، اور میں نے آپ کو بتلایا یہ جو تین حیض عورت گزارے گی یہ جدائی کے لیے ہیں یہ عدت والے تین حیض نہیں ہیں بھئی۔ تو اب جدائی آ گئی، کیا جدائی کے بعد وہ عورت اگر مسلمان ہے تو پھر عدت بھی گزارے گی یا نہیں؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اب عدت بھی الگ گزارنا پڑے گی، جیسے طلاق دینے سے جدائی آ جاتی ہے اور اس کے بعد عورت کو عدت گزارنا پڑتی ہے، تو یہاں پر بھی تین حیض گزارے خاوند سے جدائی آ گئی اور جب جدائی آ گئی اب عورت اگر مدخول بہا ہے خاوند اس سے صحبت کر چکا ہے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟ اس عورت کو عدت گزارنا پڑے گی یعنی تین مزید حیض گزارنا پڑیں گے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے بیوی مسلمان ہوئی ہے اور دونوں میں جدائی آ گئی تین حیض گزار لیے اس عورت نے تو پھر اس کے بعد تین حیض الگ عدت کے اس کو گزارنے پڑیں گے پھر ہی اس کو آگے نکاح کی اجازت ہو گی اس سے پہلے نہیں، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، جدائی آ گئی اب اس کے بعد کوئی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں یہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ“
اور جب جدائی واقع ہو گئی
”وَالْمَرْأَةُ حَرْبِيَّةٌ“
اور عورت حربیہ ہے، یعنی وہ غیر مسلمہ ہے
”فَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا“
تو اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ عورت حربیہ ہے نا، کافرہ ہے، کافروں کے حق میں تو اسلامی احکام ثابت نہیں، لہٰذا اس پر تو کوئی عدت نہیں جدائی آ گئی ہے، لیکن اگر وہ عورت مسلمان ہے تو بھی امام صاحب فرماتے ہیں اس پر عدت نہیں ہو گی جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اگر وہ عورت مسلمان ہے تو پھر اس پر عدت الگ لازم ہو گی، اس کو عدت الگ گزارنا پڑے گی۔
”وَإِنْ كَانَتْ هِيَ الْمُسْلِمَةَ فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور اگر یہ عورت جو ہے یہ مسلمان ہے تو بھی امام صاحب کے نزدیک اسی طرح ہے، جیسے حربیہ پر عدت نہیں تھی تو اسی طرح مسلمان عورت جو ہے اس پر بھی عدت نہیں ہو گی، کون سا مسئلہ چل رہا ہے؟ دار الحرب میں میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا اور پھر تین حیض گزر گئے اب دونوں میں کیا آ گئی؟ جدائی۔ تو اب وہ جدا ہونے والی یا تو وہ حربیہ ہو گی یا مسلمہ ہو گی۔ تو جدا ہونے والی اگر حربیہ ہے، غیر مسلمہ ہے تو اس پر بالاتفاق عدت نہیں ہے، لیکن اگر وہ مسلمان ہے وہ عورت تو امام صاحب کے نزدیک اس پر بھی عدت نہیں ہو گی جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اگر عورت مسلمان ہے تو پھر اس پر عدت واجب ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِنْ كَانَتْ هِيَ الْمُسْلِمَةَ فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور اگر یہ عورت مسلمان ہے تو بھی امام صاحب کے نزدیک اسی طرح ہے یعنی اس پر عدت نہیں ہو گی
”خِلَافًا لَهُمَا“
بخلاف صاحبین کے کہ وہ فرماتے ہیں اس پر عدت ہو گی
”وَسَيَأْتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“
اور عنقریب آپ کے پاس یہ آ جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ، یعنی عنقریب آگے چند سطروں کے بعد صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام صاحب فرماتے ہیں اس عورت پر عدت نہیں اور صاحبین فرماتے ہیں یہ مسلمان عورت ہے تو اس پر عدت ہے کیونکہ یہ مسلمان ہے، جب یہ مسلمان عورت ہے تو اس پر شرعی احکام لاگو ہوں گے، جب شرعی احکام لاگو ہوں گے تو مسلمان عورت کو خاوند سے جدائی کے بعد عدت گزارنا پڑتی ہے پھر ہی وہ آگے نکاح کر سکتی ہے لہٰذا اس کو بھی عدت گزارنا پڑے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ عورت اگر مسلمان ہے تو بھی اس پر کوئی عدت نہیں، وجہ یہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عدت ہوتی ہے یہ ماقبل والے نکاح کا اثر ہوتا ہے، ماقبل میں نکاح تھا، خاوند کو اس عورت پر ملکیتِ نکاح حاصل تھی تو اس خاوند کی ملکیتِ نکاح کے احترام کے طور پر، اس کی عزت کے طور پر عورت پر شریعت عدت واجب کرتی ہے تاکہ پتہ چل جائے کہیں عورت خاوند سے حاملہ تو نہیں۔ تو یہ عدت کس کا اثر ہوتا ہے؟ ماقبل کے نکاح کا اثر ہے اور کس لیے شریعت نے واجب کیا ہے؟ خاوند کی ملکیت کے احترام کے طور پر، خاوند کی ملکیت کے احترام کے اور عزت کے طور پر شریعت نے عدت کو عورت پر واجب کیا ہے تاکہ پتہ چل جائے کہیں یہ عورت اس خاوند سے حاملہ تو نہیں، معلوم ہوا یہ خاوند کی ملکیت کے احترام کے طور پر عورت پر عدت واجب کی جاتی ہے، لیکن حربی؟ حربی کا تو کوئی احترام نہیں۔ حربی کا تو کوئی احترام نہیں، جیسے کوئی مسلمان جو ہے غلطی سے اگر دار الحرب چلا جائے بغیر امان کے تو دیکھو وہ دار الحرب والے اس کو پکڑ لیں گے بھئی، اب نہ اس مسلمان کی جان محفوظ ہے اور نہ اس کا مال محفوظ ہے، ہو سکتا ہے وہ اس کو غلام بنائیں ہو سکتا ہے وہ اس کو قتل کر دیں اور اس کا مال بھی اس سے چھین لیں گے، تو دیکھو دار الحرب میں بغیر امان کے کوئی مسلمان گیا تو اس کا نہ جان محفوظ ہے اور نہ مال محفوظ ہے، اسی طرح اگر کوئی حربی یہاں آتا ہے بغیر امان کے غلطی سے ادھر آ گیا تو اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو وہ ہمارے لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا حربی کی ملکیت کا کوئی احترام نہیں ہے اور جب حربی کی ملکیت کا کوئی احترام نہیں ہے تو اس کی ملکِ نکاح کا بھی کوئی احترام نہیں ہو گا، تو یہ جو عدت عورت پر شریعت واجب کرتی ہے یہ کس لیے واجب کرتی ہے؟ خاوند کی ملکِ نکاح کے احترام کے طور پر، خاوند کی ملکِ نکاح جو ہے اس کی عزت کے طور پر، اور حربی کی ملکیت کے تو کوئی عزت اور احترام نہیں لہٰذا حربی کی ملکِ نکاح کی وجہ سے عورت پر عدت بھی واجب نہیں ہو گی، دلیل چل رہی ہے امام صاحب کی۔ امام صاحب فرماتے ہیں دار الحرب کے اندر وہاں پر جدائی آئی ہے، توجہ ہے؟ اگر خاوند مسلمان ہوا ہے تو عورت تو حربیہ ہے تو اس عورت پر تو اسلامی حکم لازم ہے نہیں بالاتفاق، اور اگر مسلمان ہونے والی عورت ہے تو اس پر اسلامی احکام لازم ہوں گے لیکن یہ جو عورت پر عدت واجب کی جاتی ہے یہ خاوند کی ملکیتِ نکاح کی عزت کے طور پر اور یہ عورت مسلمان ہوئی ہے اس کا خاوند تو حربی ہے تو اس حربی کی ملکِ نکاح کا کوئی احترام نہیں ہو گا لہٰذا اس مسلمان عورت پر بھی کوئی عدت واجب نہیں ہو گی بھئی۔ تو یہ صاحبِ ہدایہ آپ کو چند سطروں کے بعد بیان کریں گے تو یہاں وہ صرف اتنا فرماتے ہیں ”وَسَيَأْتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ کہ عنقریب یہ بات آپ کے پاس آ جائے گی یعنی یہ اختلاف، اس اختلاف کا بیان آ جائے گا۔
آگے دیکھیے:
”وَإِذَا أَسْلَمَ زَوْجُ الْكِتَابِيَّةِ فَهُمَا عَلَى نِكَاحِهِمَا“
اور اگر کتابیہ عورت کا خاوند مسلمان ہو گیا، کتابیہ عورت کا خاوند مسلمان ہو گیا چاہے دار الاسلام میں ہو چاہے دار الحرب میں، تو وہ اپنے نکاح پر برقرار ہیں کیونکہ مسلمان کے لیے ابتداءً کتابیہ سے نکاح جائز ہے، مسلمان عیسائی یا یہودی عورت سے نکاح کر سکتا ہے، توجہ ہے؟ اور یہاں پر، یہاں پر ابتدائے نکاح نہیں ہے بلکہ بقائے نکاح ہے۔ بھئی یہ دونوں تو پہلے مثلا دونوں پہلے غیر مسلم تھے نا، تو اب جب خاوند اسلام لے کر آیا ہے اور بیوی کتابیہ ہے تو یہ تو ابتدائے نکاح تو نہیں ہو رہی اس وقت، نکاح کی ابتدا تو پہلے سے ہو چکی ہے یہ تو بقائے نکاح کی حالت ہے، تو جب مسلمان کے لیے کتابیہ کے ساتھ ابتداءً نکاح جائز ہے تو بقاءً بھی ظاہر سی بات ہے نکاح جائز ہو گا۔ تو لہٰذا دار الاسلام یا دار الحرب میں خاوند مسلمان ہوا اور بیوی کتابیہ ہے تو پھر اسی طرح وہ اپنے نکاح پر برقرار رہیں گے، مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا أَسْلَمَ زَوْجُ الْكِتَابِيَّةِ“
اور جب کتابیہ عورت کا خاوند مسلمان ہو گیا
”فَهُمَا عَلَى نِكَاحِهِمَا“
تو یہ دونوں اپنے نکاح پر برقرار ہیں
”لِأَنَّهُ يَصِحُّ نِكَاحُهُ بَيْنَهُمَا ابْتِدَاءً“
اس لیے کیونکہ ان دونوں کے درمیان تو ابتداءً بھی نکاح صحیح تھا، مسلمان کتابیہ سے نکاح کر سکتا ہے
”فَلَأَنْ يَبْقَى أَوْلَى“
تو یہ کہ وہ نکاح باقی رہے یہ زیادہ لائق ہے، تو زیادہ لائق ہے کہ نکاح باقی بھی رہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔