آگے سبق دیکھیے بھئی:
کِتَابُ الطَّلَاقِ، بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ
قَالَ: ”الطَّلَاقُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ: حَسَنٌ، وَأَحْسَنُ، وَبِدْعِيٌّ؛ فَالْأَحْسَنُ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فِي طُهْرٍ لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ، وَيَتْرُكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛ لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَزِيدُوا فِي الطَّلَاقِ عَلَى وَاحِدَةٍ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ، وَأَنَّ هَذَا أَفْضَلُ عِنْدَهُمْ مِنْ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ ثَلَاثًا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ وَاحِدَةً“۔
بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب الطلاق شروع کی تھی بھئی، میں نے کچھ بحثیں آپ کو لکھوائیں اور کچھ اور باتیں بھی ذکر کیں بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ طلاق جو ہے عربی زبان میں طلاق کا معنی ہے حل القید بھئی، یعنی بند چیز کو کھولنا، اور یہ کھولنا جو ہے یہ حسی بھی ہو سکتا ہے اور معنوی بھی۔ حسی جیسے حَلُّ الْعُقْدَةِ یعنی گرہ کا کھولنا، رسی کا کھولنا، اور یہ کھولنا معنوی بھی ہو سکتا ہے كَحَلِّ قَيْدِ النِّكَاحِ، قید نکاح کو کھولنا۔ اور آپ نے طلاق کی اصطلاحی تعریف بھی پڑھی کہ الطَّلَاقُ هُوَ إِزَالَةُ النِّكَاحِ أَوْ نُقْصَانُ حِلِّهِ بِلَفْظٍ مَخْصُوصٍ، کہ وہ نکاح کو زائل کرنا، ختم کرنا، أَوْ نُقْصَانُ حِلِّهِ یا اس کی حلت کو کم کرنا بِلَفْظٍ مَخْصُوصٍ مخصوص لفظ کے ساتھ۔ ازالۂ نکاح یعنی نکاح کو ختم کرنا، أَوْ نُقْصَانُ حِلِّهِ یا اس کی حلت کو کم کرنا، یعنی پہلے تین طلاقوں کا مالک تھا خاوند، تو ایک طلاق دے دے گا تو اب عورت جو ہے دو طلاقوں کے ساتھ حلال ہے، دیکھو حلت میں کمی آ گئی، پھر اگر ایک اور طلاق دے دے گا تو پھر مزید حلت کم ہو گئی، اب عورت صرف ایک طلاق کے ساتھ حلال ہے، اور اگر تیسری طلاق بھی دے دے گا تو دیکھو نکاح پورے طور پر ختم ہو گیا اور اب یہ عورت حلال نہیں ہو سکتی اس شخص کے لیے جب تک کہ یہ عورت کسی اور شخص سے نکاح نہ کر لے، اور پھر اگر اس شخص نے کبھی زندگی میں اس عورت کو طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہو گیا تو پھر یہ عورت پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے ورنہ اور کوئی صورت نہیں بھئی۔ اور نیز یہ طلاق آپ نے پڑھا بِلَفْظٍ مَخْصُوصٍ مخصوص لفظ کے ساتھ ہوگی یعنی طلاق کے لفظ کے ساتھ ہوگی۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ بچے اور مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوتی اور دیگر ائمہ ذکر فرماتے ہیں کہ طلاق دینے والے کا صاحب اختیار ہونا ضروری ہے اور مکروہ یعنی مجبور کی طلاق واقع نہیں ہوگی لیکن عند الاحناف مکروہ کی طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ سب مسئلے آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے بھئی۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ طلاق جو ہے عند الاحناف جو ہے وہ دو قسم پر ہے: ایک سنی اور ایک بدعی۔ سنی یعنی جو سنت طریقہ ہے طلاق کا، اور بدعی یعنی وہ طریقہ جو بدعت ہے، جو حرام ہے، جو گناہ ہے بھئی، وہ بدعی ہے۔
اور طلاقِ سنی جو ہے وہ پھر دو قسم پر ہے: ایک حسن ہے اور ایک احسن۔ طلاقِ حسن یہ ہے کہ خاوند جو ہے بیوی کو طلاق دے طہر میں، پہلی شرط یہ ہے کہ طلاق کس میں دے؟ طہر میں دے، حیض میں نہ دے۔ اور نیز یہ طہر بھی ایسا ہو جس میں بیوی سے جماع نہ کیا ہو بھئی۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ یہ طلاق بھی رجعی دے بھئی۔ اور چوتھی شرط یہ ہے کہ اس طہر سے ماقبل والے حیض میں بھی صحبت نہ کی ہو۔ تو طلاقِ سنی کی کتنی شرطیں ہیں؟ چار شرطیں ہیں بھئی۔ یاد رکھو یہ شرطیں آپ کے ذہن میں ہونی چاہییں۔ جب یہ شرطیں آپ کے ذہن میں ہوں گی تو آپ فوراً دیکھیں گے جہاں جس شرط کی مخالفت ہو جائے تو آپ فوراً بتلا سکتے ہیں کہ یہ طلاقِ بدعت ہے بھئی۔ مثلاً طلاقِ حسن کے اندر کتنی شرطیں ہیں؟ چار۔ پہلی شرط کیا؟ کہ طہر میں طلاق دے۔ معلوم ہوا اگر حیض میں طلاق دے گا تو یہ طلاقِ بدعت ہے بھئی، یہ گناہ ہے، حرام ہے بھئی۔ اور دوسری شرط کیا تھی؟ کہ اس طہر میں صحبت نہ کی ہو۔ اگر اس طہر میں صحبت کی ہے اور پھر طلاق دے رہا ہے تو یہ بھی طلاقِ بدعت ہے، حرام ہے، گناہ ہے بھئی۔ اور نیز طلاق بھی رجعی ہونی چاہیے بھئی، لہٰذا اگر طلاقِ بائن دے گا تو بقولِ اظہر یہ بھی کیا ہے؟ بدعت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ بھی حرام ہے، گناہ ہے بھئی۔ اور اگر اس طہر سے ماقبل والے حیض میں صحبت کی ہے تو پھر اس صورت کے اندر بھی یہ طلاق کیا ہوگی؟ طلاقِ بدعت۔ میں نے بتایا کہ حیض کے اندر صحبت کرنا حرام ہے بھئی۔ کیا ہے؟ حرام ہے، لیکن بہرحال کوئی کر تو سکتا ہے، احتمال تو ہے، تو لہٰذا یہ قید بھی علماء نے زائد کی کہ جس طہر میں طلاق دے رہا ہے اس سے ماقبل والے حیض میں بھی صحبت نہ کی ہو بھئی۔ اور پھر اسی طرح اگلے طہر میں دوسری طلاق دے انہی مذکورہ شرطوں کے ساتھ اور اس سے اگلے طہر میں تیسری طلاق دے انہی تمام مذکورہ شرطوں کے ساتھ، تو یہ ہے طلاقِ حسن بھئی۔
اور یہ بھی یاد رکھنا، یہ جو عدت ہے یہ پہلی طلاق سے ہی شروع ہو جائے گی، کیونکہ جب خاوند طلاقِ رجعی دے دیتا ہے تو عدت کا شمار شروع ہو جاتا ہے۔ ہاں، رجعی کے اندر خاوند عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے، اور عدت گزر جائے تو عورت بائنہ ہو جاتی ہے، نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اس کے بعد عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، لیکن عدت کے اندر خاوند بغیر نکاح کے بھی رجوع کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا جب خاوند نے پہلی طلاق دی تھی تو عدت شروع ہو گئی، پھر دوسری دی، پھر تیسری دی، اور تیسری طلاق کے بعد جیسے ہی ایک حیض گزارے گی عورت تو تین حیض پورے ہو گئے اور عورت خاوند سے جدا ہو جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
جبکہ طلاقِ احسن کے اندر بھی یہی شرائط ہیں لیکن صرف اس میں ایک شرط زائد ہے اور وہ یہ کہ صرف ایک ہی طلاق پر اکتفا کر لے، دوسری اور تیسری طلاق نہ دے بھئی۔ اس میں دیکھو بعد میں بھی گنجائش رہتی ہے۔ عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، اور عدت جب گزر جائے گی تو عدت کے بعد بھی اگر خاوند اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو ابھی بھی گنجائش موجود ہے، یہ دوبارہ اس سے نکاح کر لے، البتہ اب اس کے پاس زندگی بھر دو طلاقوں کا حق باقی ہے کیونکہ ایک طلاق یہ دے چکا ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ جو تفصیل ہے یہ مدخول بہا عورت کے اندر ہے، یعنی وہ عورت جس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے۔ وجہ یہ کہ جس عورت کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے عدت اسی عورت پر آتی ہے، جس عورت سے خاوند نے ابھی صحبت ہی نہیں کی اس کو جیسے ہی خاوند طلاق دے گا تو فوراً وہ بائنہ ہو جائے گی، وہ فوراً بائنہ ہو جائے گی، ساتھ ہی نکاح ٹوٹ گیا، ختم ہو گیا اور اس عورت پر کوئی عدت نہیں۔ وجہ یہ کہ عدت عورت پر اس لیے واجب کی جاتی ہے کہ خاوند نے صحبت کی ہوئی ہے تو کہیں ایسا نہ ہو عورت حاملہ نہ ہو، عورت کے پیٹ میں خاوند کا بچہ نہ ہو، تو لہٰذا اس لیے شریعت نے عدت واجب کی ہے، تین حیض گزار لے، جب بات قطعی اور یقینی طور پر پتا چل گئی کہ عورت حاملہ نہیں تو اب عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، لیکن غیر مدخول بہا پر عدت نہیں ہے کیونکہ اس کے ساتھ تو خاوند نے صحبت ہی نہیں کی، لہٰذا وہاں تو حمل کا کوئی احتمال ہی نہیں، لہٰذا وہاں طلاق دیتے ہی فوراً نکاح ٹوٹ گیا اور اس عورت پر کوئی عدت نہیں، فوراً ہی یہ عورت آگے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔
اس کے بعد پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ طلاق جو ہے وہ دو قسم پر ہے: ایک طلاقِ رجعی ہے اور ایک طلاقِ بائن ہے۔ طلاقِ رجعی وہ ہے جس کے اندر عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے اور وہ طلاق کا لفظ خاوند کہے مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“، تو یاد رکھو یہ طلاقِ رجعی ہے۔ یہ کیا ہے؟ طلاقِ رجعی ہے، کیونکہ صرف طلاق کہا خاوند نے، کوئی اور صفت وغیرہ ساتھ نہیں بڑھائی، تو یہ طلاقِ رجعی ہے اور اس میں خاوند عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے، لیکن اگر رجوع نہیں کیا اور عدت گزر گئی تو نکاح ٹوٹ جائے گا، اب خاوند پھر اس عورت کو رکھنا چاہتا ہے تو نیا نکاح کرنا پڑے گا، نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔ جبکہ دوسری طلاقِ بائن ہے جہاں خاوند طلاق کے ساتھ بائن کا لفظ بڑھا دیتا ہے کہ ”میں تمہیں طلاقِ بائن دیتا ہوں“، یعنی جدا کرنے والی طلاق دیتا ہوں، یاد رکھو اس صورت میں نکاح ٹوٹ جائے گا، اب خاوند عدت کے اندر رجوع نہیں کر سکتا بھئی، اب اگر عدت کے اندر بھی عورت کو رکھنا چاہتا ہے تو نیا نکاح کرنا پڑے گا اور عدت کے بعد بھی چاہے تو نکاح کر سکتا ہے اسی عورت سے۔ تو یہ عورت جس کو طلاقِ بائن ملی ہے، یہ اگر کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے بعد ہی کرنا پڑے گی، لیکن اگر اسی خاوند سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتی ہے اور عدت کے بعد بھی نکاح کر سکتی ہے، تو نیا نکاح کرنا پڑے گا اور نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔ تو طلاقِ بائن وہ ہے جس کے اندر طلاق کے ساتھ خاوند بائن وغیرہ کا لفظ بڑھا دے یا کوئی اور صفت بڑھا دے کہ ”میں تمہیں بہت بڑی طلاق دیتا ہوں“، ”میں تمہیں پہاڑ جتنی طلاق دیتا ہوں“، ”میں تمہیں خوب لمبی چوڑی طلاق دیتا ہوں“، تو اس طرح کا لفظ جب خاوند ساتھ بڑھائے گا تو یہ طلاقِ بائن ہو جائے گی، اب رجوع نہیں کر سکتا۔
اور پھر یہ جو طلاقِ رجعی ہے، یاد رکھو دو طلاقیں جو ہیں وہ رجعی ہو سکتی ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ ایک طلاق دی، عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے خاوند، اور میں نے بتایا رجوع زبان کے ذریعے بھی کہہ سکتا ہے کہ ”میں رجوع کرتا ہوں“، اور اپنے عمل کے ذریعے بھی رجوع کر سکتا ہے مثلاً بیوی کا بوسہ لیا یا اس سے صحبت کر لی، یعنی کوئی ایسا کام کیا جو بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کے ساتھ جائز نہیں، تو اس کا یہ عمل بتلا رہا ہے کہ یہ اس کو اپنی بیوی رکھنا چاہتا ہے، یہ رجوع کر رہا ہے کیونکہ اس کا یہ عمل تو غیر بیوی کے ساتھ جائز نہیں تھا، تو لہٰذا یہ معلوم ہوا اسی کو بیوی بنا کر رکھنا چاہتا ہے، یہ رجوع کر رہا ہے، تو لہٰذا اس صورت میں رجوع ہو جائے گا۔ پھر دوبارہ کسی وقت اس خاوند نے پھر طلاق دے دی تو پھر بھی عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے، لیکن اگر تیسری طلاق دے دی تو پھر اب رجوع نہیں ہو سکتا، اب یہ جو تین طلاقیں دے دیں ان کو طلاقِ مغلظہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ طلاقِ مغلظہ، یعنی سخت طلاق، سخت طلاق، تو یہ طلاقِ مغلظہ ہے بھئی، اب عورت حرام ہو گئی خاوند کے لیے بھئی، اور اب دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں کیونکہ تین طلاقیں دے چکا ہے۔ ہاں، اس عورت نے اگر کسی اور شخص سے نکاح کیا اور پھر اس شخص نے زندگی میں کبھی طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہو گیا تو پھر پہلا خاوند دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہے ورنہ ویسے اور کوئی صورت نہیں۔
تو یہ تو تھی طلاقِ رجعی اور طلاقِ بائن بھئی۔ اس کے بعد میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ الفاظ کے اعتبار سے جن لفظوں سے طلاق دی جائے، ان الفاظ کے اعتبار سے طلاق دو قسم پر ہے: ایک صریح ہے اور ایک کنایہ ہے۔ طلاقِ صریح وہ ہے، صریح کا معنی صاف بھئی صاف، یعنی واضح لفظوں میں جو طلاق دی جائے اس کو صریح کہتے ہیں، مثلاً خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“، دیکھو یہ صاف لفظوں میں طلاق دے رہا ہے، یہاں اور کوئی معنی نہیں اس کلام کا، تو صریح کسے کہتے ہیں؟ صاف لفظوں میں طلاق دینا۔ اور کنایہ کہتے ہیں کہ گول مول لفظوں کے ساتھ طلاق دینا، یعنی جس میں طلاق کا معنی بھی نکلتا ہو اور غیر طلاق کا معنی بھی نکلتا ہو بھئی۔ اور مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”تو جدا ہے“، ”تو جدا ہے“، اب اس کا یہ معنی بھی نکل سکتا ہے کہ ”میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے، تو مجھ سے جدا ہے“، اور اس کا یہ معنی بھی نکل سکتا ہے کہ ”تو اور عورتوں سے جدا ہے، تیرے جیسی صفات اور کسی عورت میں نہیں“، تو دیکھو دونوں معنی نکل سکتے ہیں، موقع محل کے مطابق جو بھی معنی بنتا ہو آپ غور کر لیں گے، تو طلاقِ کنایہ میں طلاق کا بھی احتمال ہوگا اور غیر طلاق کا بھی احتمال ہوگا۔ پھر یاد رکھو، یہ صریح ہے یا کنایہ، دونوں کی دو دو قسمیں ہیں: صریح یا تو رجعی ہوگی یا بائن ہوگی۔ صریح ہو یعنی طلاق کا لفظ ہو اور رجعی ہو، مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“، تو یہ صریح ہے اور نیز یہ رجعی ہے کیونکہ کوئی اور صفت خاوند نے نہیں بڑھائی، تو یہ طلاقِ صریح رجعی ہے۔ اور اگر خاوند نے کہا: ”میں تمہیں پہاڑ جیسی طلاق دیتا ہوں“ یا ”میں تمہیں طلاقِ بائن دیتا ہوں“، تو دیکھو طلاق کا لفظ لا رہا ہے خاوند، اس کا اور کوئی معنی نہیں، وہ طلاق ہی دے رہا ہے لیکن یہ کون سی صریح ہے؟ بائن ہے، بائن ہے۔ توجہ ہے؟ اسی طرح کنایہ بھی یاد رکھنا کبھی رجعی ہوگا اور کبھی بائن۔ کنایہ رجعی جس کے اندر عدت کے اندر رجوع ہو سکے، کنایہ بائن جس میں عدت کے اندر بھی رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ اور یاد رکھو، علماء ذکر فرماتے ہیں کہ پورے کلامِ عرب میں تین کنایات ایسے ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، باقی تمام کنایات سے طلاقِ بائن ہوتی ہے۔ تو صرف تین کنایات ہیں، آگے صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے بھئی۔ تین کنایات ہیں جو رجعی ہیں، باقی سب کنایات بائن ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا طلاق کی کل چار قسمیں بن گئیں: صریح رجعی، صریح بائن، کنایہ رجعی، کنایہ بائن۔
پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر خاوند ان چار طلاقوں میں سے کوئی ایک طلاق دیتا ہے اور پھر اگلی طلاق بھی عدت کے اندر دیتا ہے، تو کیا وہ دوسری طلاق پہلی طلاق کے ساتھ ملے گی، طلاقیں دو ہو جائیں گی یا دوسری طلاق لغو چلی جائے گی؟ توجہ ہے؟ ایک طلاق دے چکا ہے ان چار میں سے کوئی ایک: یا صریح رجعی دی ہے یا صریح بائن دی ہے یا کنایہ رجعی دی ہے یا کنایہ بائن۔ اس کے بعد عورت عدت گزار رہی ہے اور عدت کے اندر خاوند ایک اور طلاق دے دیتا ہے، انہی چار میں سے کوئی ایک دیتا ہے، تو پھر کیا وہ دوسری طلاق بھی شمار کی جائے گی، اب اس عورت کو دو طلاقیں ہو گئیں یا دوسری لغو چلی گئی؟ جیسے دیکھو نا طلاقِ حسن کا کیا طریقہ تھا؟ ایک رجعی طلاق دیتا تھا ایسے طہر میں جس میں صحبت نہ کی ہو اور اس سے ماقبل کے حیض میں بھی صحبت نہ کی ہو، تو ایک طلاق دیتا تھا، پھر عدت چل رہی ہے ابھی، عدت شروع ہو گئی، اگلے طہر میں ایک اور طلاق دے دی، دیکھو یہ دوسری بھی پہلی کے ساتھ مل گئی، دو ہو گئیں طلاقیں، پھر ابھی عدت چل رہی ہے اگلا طہر آیا تو پھر ایک تیسری طلاق دے دی تو یہ دیکھو یہ بھی اس کے ساتھ مل گئیں تو کل کتنی طلاقیں ہو گئیں؟ تین ہو گئیں، اور عدت جیسے ہی گزارے گی یہ عورت اب طلاقِ مغلظہ کے ساتھ خاوند سے جدا ہوئی ہے، اب دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں الا یہ کہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور پھر اس کے بعد وہ طلاق دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو پھر پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے۔ توجہ ہے؟ تو طلاقِ حسن میں آپ دیکھ رہے ہیں عدت کے اندر خاوند دوسری طلاق دے رہا ہے، تیسری طلاق دے رہا ہے اور وہ طلاقیں پہلی طلاق کے ساتھ ملتی جا رہی ہیں۔ طلاقیں پہلے ایک تھی پھر دو ہوئیں پھر تین ہو گئیں۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا اگر خاوند ایک طلاق پہلے دے چکا ہے: صریح رجعی، صریح بائن، کنایہ رجعی، کنایہ بائن، ان میں سے کوئی ایک طلاق خاوند نے دے دی، اس کے بعد عدت کے اندر وہ دوسری طلاق دیتا ہے یا تیسری طلاق دیتا ہے، تو وہ اگلی طلاق پہلی کے ساتھ ملے گی یا نہیں ملے گی؟ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ وہ دوسری طلاق لغو چلی جائے گی، شریعت اس کا اعتبار ہی نہیں کرتی، اور بعض صورتوں میں دوسری طلاق پہلی کے ساتھ ملے گی اور ایک کے بجائے طلاقیں دو ہو جائیں گی یا پھر تین ہو جائیں گی، تو وہ کون سی صورت ہے؟ میں نے بتایا تھا یہاں کل سولہ صورتیں بنتی ہیں۔ کتنی؟ سولہ۔ کیونکہ پہلی طلاق تو ان چار میں سے کوئی ایک ہوگی: یا صریح رجعی ہوگی یا صریح بائن یا کنایہ رجعی یا کنایہ بائن۔ دوسری طلاق بھی مثلاً اگر پہلی صریح رجعی ہے، پہلی کون سی ہے؟ صریح رجعی ہے، تو دوسری پھر ان چاروں میں سے کوئی ایک ہو سکتی ہے، دوسری بھی صریح رجعی بھی ہو سکتی ہے یا صریح بائن بھی ہو سکتی ہے، کنایہ رجعی بھی یا کنایہ بائن بھی، تو دیکھو کل چار صورتیں بن گئیں دوسری طلاق کے اعتبار سے۔ پہلی کون سی؟ صریح رجعی، اور دوسری میں چار صورتیں۔ پھر دوسری صورت لے لو، اگر پہلی صریح بائن ہے، کون سی ہے؟ تو صریح بائن ہے اگر پہلی تو دوسری میں پھر وہی چار صورتیں ہیں: دوسری یا صریح رجعی ہوگی یا صریح بائن ہوگی یا کنایہ رجعی یا کنایہ بائن، تو اس صریح بائن میں بھی چار صورتیں بن گئیں۔ اگر پہلی طلاق صریح رجعی ہو تو دوسری طلاق تو چار میں سے ایک ہو سکتی ہے تو دیکھو چار صورتیں صریح رجعی میں بن گئیں۔ تو اگر پہلی طلاق صریح بائن ہو تو دوسری میں پھر چار صورتیں ہیں تو یہ گویا چار صورتیں یہ ہو گئیں۔ اگر پہلی طلاق کنایہ رجعی ہو تو پھر اگلی چار جو ہیں دوسری میں وہ چاروں صورتیں: یا صریح رجعی ہوگی یا صریح بائن یا کنایہ رجعی یا کنایہ بائن، تو یہاں بھی چار صورتیں، اور اگر پہلی طلاق کنایہ بائن ہو تو بھی اگلی طلاق میں وہی چاروں صورتیں، تو پہلی جو بھی طلاق شمار کریں ہر ایک میں دوسری طلاق کے اندر چار چار صورتیں بن رہی ہیں، تو کل یہ سولہ صورتیں بن گئیں، اور ان سولہ میں سے کون سی دوسری طلاق پہلی سے ملے گی اور کون سی نہیں، تو فقہاء اس کے لیے ایک ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ: ”اَلصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ، وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“۔
”اَلصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ“ یعنی اگر دوسری طلاق صریح ہے تو وہ ماقبل والی صریح کے ساتھ بھی ملے گی اور بائن کے ساتھ بھی۔ ”اَلصَّرِيحُ“ کہ صریح جو ہے یعنی یہ دوسری صریح، دوسری صریح ”يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ“ وہ ماقبل والی صریح کے ساتھ بھی مل جائے گی اور ماقبل والی بائن کے ساتھ بھی مل جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا پہلی طلاق جو بھی ہو دوسری اگر صریح ہے چاہے صریح رجعی ہے چاہے صریح بائن ہے، ہے تو صریح، وہ دوسری پہلی کے ساتھ مل جائے گی۔ ”وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“ اور بائن بائن کے ساتھ نہیں ملے گی، فقہاء فرماتے ہیں اس بائن سے مراد کنایہ بائن ہے۔ بائن تو دو قسم کی ہے نا: ایک صریح بائن اور ایک کنایہ بائن، تو یہ جو بائن کا لفظ آیا ”اَلْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“ تو یہ جو پہلا بائن کا لفظ آیا اس سے کنایہ بائن مراد ہے۔ کنایہ بائن بائن کے ساتھ نہیں ملے گی، اگر دوسری طلاق کیا ہے؟ کنایہ بائن، تو وہ پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گی چاہے پہلی بائن صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو۔ معلوم ہوا سولہ میں سے صرف یہ دو صورتیں ہیں کہ پہلی طلاق صریح بائن اور دوسری کنایہ بائن تو یہ کنایہ بائن لغو چلی جائے گی، یا پہلی کنایہ بائن ہے اور دوسری بھی کنایہ بائن ہے تو یہ دوسری کنایہ بائن لغو چلی جائے گی۔ تو ان صورتوں میں ایک ہی طلاق ہوئی ہے دوسری ہوئی ہی نہیں، جبکہ باقی چودہ صورتوں کے اندر دوسری طلاق پہلی کے ساتھ مل جائے گی اور طلاقوں کی تعداد بڑھ کر دو ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور نیز تین طلاقوں والا مسئلہ بھی آپ نے پڑھا تھا گزشتہ سبق میں۔ یاد رکھو ائمۂ اربعہ اور تمام فقہاء کے نزدیک ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو سکتی ہیں، اگرچہ یہ ہے بدعت طریقہ، گناہ ہے، حرام ہے، لیکن بہرحال ایک مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں گی تو تینوں واقع ہو جائیں گی، چاہے ایک ہی لفظ سے تین طلاقیں دی جائیں چاہے الگ الگ لفظ ذکر کرے: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، تو ایک مجلس میں تین طلاقیں ہو سکتی ہیں۔ جبکہ پوری امت میں سے صرف امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اور اسی طرح زمانۂ حال کے غیر مقلدین جو ہیں ان کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاقیں ہو ہی نہیں سکتیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ یاد رکھو بہت بڑے عالم دین گزرے ہیں اور عظیم مجاہد گزرے ہیں لیکن بہرحال وہ متاخرین میں سے ہیں بھئی، وہ ساتویں آٹھویں صدی ہجری میں آئے ہیں، ساتویں آٹھویں صدی ہجری میں گزرے ہیں تو یہ متاخرین میں سے ہیں اور ان سے ماقبل تمام ائمہ، فقہاء وغیرہ سب کا اتفاق کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں تو اگرچہ یہ بدعت ہے، حرام ہے، گناہ ہے لیکن واقع ہو جائیں گی، جبکہ امام ابن تیمیہ، ان کے شاگرد علامہ ابن قیم اور زمانۂ حال کے غیر مقلدین کہتے ہیں نہیں، ایک مجلس میں تین طلاقیں ہو ہی نہیں سکتیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
كِتَابُ الطَّلَاقِ، بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ
یہ باب ہے طلاقِ سنت کے بیان میں۔
قَالَ: ”الطَّلَاقُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ“
صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ طلاق جو ہے تین قسم پر ہے:
”حَسَنٌ، وَأَحْسَنُ، وَبِدْعِيٌّ“
ایک طلاقِ حسن ہے، ایک احسن ہے اور ایک بدعی ہے۔
حسن یعنی اچھی طلاق، احسن جو زیادہ اچھی ہے بھئی، اور بدعی جو بدعت ہے بھئی۔ تو فرماتے ہیں طلاق تین قسم پر ہے:
”حَسَنٌ، وَأَحْسَنُ، وَبِدْعِيٌّ؛ فَالْأَحْسَنُ“
طلاقِ احسن یہ ہے:
”أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“
کہ طلاق دے کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی طلاق
”فِي طُهْرٍ لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ“
طہر نکرہ ہے اور ”لَمْ يُجَامِعْ“ اس کے بعد فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کی صفت بنتا ہے، اور پھر اس صورت میں ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ”ایسا“ یا ”ایسی“ کا لفظ لاتے ہیں:
”فَالْأَحْسَنُ“ تو طلاقِ احسن یہ ہے: ”أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی طلاق دے ”فِي طُهْرٍ لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ“ ایسے طہر میں جس کے اندر اس نے اس سے جماع نہ کیا ہو۔
”وَيَتْرُكَهَا“ اور پھر اس کو چھوڑ دے، یعنی اور طلاقیں نہ دے، اسی طرح اپنے حال پر چھوڑ دے، ”حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا“ یہاں تک کہ اس عورت کی عدت گزر جائے۔
ایک طلاقِ رجعی دی ہے ایسے طہر میں جس میں صحبت نہیں کی اور پھر اسی طرح عورت کو اپنے حال پر چھوڑ دے یعنی رجوع نہ کرے اور پھر جب یہ عدت گزرے گی یعنی تین حیض گزر جائیں گے تو عورت بائنہ ہو جائے گی، اب وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے تو یہ طلاقِ احسن ہے۔
”لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَزِيدُوا فِي الطَّلَاقِ عَلَى وَاحِدَةٍ“
اس لیے کیونکہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو تھے ”كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ“ وہ پسند کرتے تھے ”أَنْ لَا يَزِيدُوا فِي الطَّلَاقِ عَلَى وَاحِدَةٍ“ کہ وہ طلاق میں نہ بڑھائیں ایک پر، یعنی ایک سے زیادہ طلاق نہ دیں، ایک پر ہی کیا کر لیں؟ اکتفا کر لیں۔ بھئی ایک نے بھی وہی کام کرنا ہے، تین طلاقوں نے بھی وہی کام کرنا ہے، ایک سے بھی نکاح ٹوٹ جائے گا اور تین سے بھی نکاح ٹوٹے گا۔ زمانۂ حال میں اکثر لوگ دیکھو وہ چونکہ دینی مسائل کا علم نہیں ہے وہ بیوی کو تین طلاقیں دے دیتے ہیں، اور تین طلاقیں تو یہ تو طلاقِ مغلظہ ہے، اس کے بعد تو اب دوبارہ میاں بیوی کے ملنے کی کوئی صورت نہیں ہے الا یہ کہ کسی اور سے عورت نکاح کرے اور پھر وہ صحبت بھی کرے اور پھر اس خاوند کا انتقال ہو یا وہ طلاق دے دے تو پھر وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوگی۔ تو دیکھو زمانۂ حال کے اندر آپ کتنا ہی لوگوں کو دیکھتے ہیں بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور بعد میں اب افسوس کر رہے ہیں اور پھر وہ حلالے کو ذریعہ بناتے ہیں۔ تو دیکھو شرعی مسائل کا علم نہ ہونے کا کتنا نقصان! بھئی خاوند اگر ایک طلاق دے اس نے بھی نکاح توڑنا ہے اور تین طلاقیں دے گا تو بھی اس نے نکاح توڑنا ہے لیکن ایک طلاق دے دے گا تو اس سے کام پورا ہو گیا، نکاح ٹوٹ گیا، اور اگر ندامت ہو تو بعد میں دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے، اب اس کے پاس دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا لیکن تین کے بعد تو دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں رہتی۔ تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَزِيدُوا فِي الطَّلَاقِ عَلَى وَاحِدَةٍ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ“
صحابہ پسند کرتے تھے کہ وہ زیادہ نہ کریں طلاق میں ایک پر یہاں تک کہ اس کی عدت گزر جائے،
”وَأَنَّ هَذَا أَفْضَلُ عِنْدَهُمْ مِنْ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ ثَلَاثًا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ وَاحِدَةً“
تو ایک صورت یہ تھی کہ انسان ایک طلاق دے دے اور پھر عدت گزرنے دے، عدت کے گزرتے ہی عورت بائنہ ہو جائے گی جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک ایک طلاق دیتا جائے، ہر طہر میں ایک ایک، یہ طلاقِ حسن۔ پہلے تو احسن ہے، طلاقِ احسن کیا؟ صرف ایک طلاق پر اکتفا کیا اور عدت گزرنے دی، اور طلاقِ حسن یہ ہے کہ ایک ایک طلاق دے ہر ایسے طہر میں جس میں خاوند نے بیوی سے صحبت نہیں کی اور اس سے ماقبل والے حیض میں بھی صحبت نہیں کی، تو دیکھو یہ تین طلاقیں دے گا یہ بھی سنت طریقہ ہے اور ایک طلاق دے گا یہ بھی سنت ہے، البتہ ایک طلاق دینا وہ احسن ہے، وہ اچھی ہے کیونکہ اس میں بعد میں پھر دوبارہ نکاح کی گنجائش رہتی ہے۔ تو صحابہ ایک طلاق پر اکتفا کرتے تھے، یہ پسند تھا ان کو، اور نیز ان کے نزدیک تین طلاقیں دینا تین طہروں میں، اس کے مقابلے میں یہ افضل تھا ان کے نزدیک کہ صرف ایک ہی طلاق پر اکتفا کر لیا جائے۔ یہی بیان کر رہے ہیں:
”وَأَنَّ هَذَا أَفْضَلُ عِنْدَهُمْ“ اور ان کے نزدیک یہ افضل تھا ”مِنْ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ ثَلَاثًا“ اس کے مقابلے میں کہ آدمی تین طلاقیں دے ”عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ وَاحِدَةً“ ہر طہر میں ایک، ہر طہر میں ایک طلاق دیتا رہے آدمی، اس کے مقابلے میں یہ افضل تھا ان کے نزدیک کہ ایک ہی طلاق پر اکتفا کر لے، بات سمجھ میں آ گئی۔
”وَلِأَنَّهُ أَبْعَدُ مِنَ النَّدَامَةِ“
اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو ایک طلاق ہے یہ ندامت سے زیادہ دور ہے، یہ احسن طلاق کیا ہے؟ ندامت سے زیادہ دور ہے کیونکہ اگر تین دے دے گا پھر تو بعد میں کوئی گنجائش نہ رہی، پھر نکاح نہیں ہو سکتا لیکن اگر ایک دے دی ہے نکاح ٹوٹ گیا ہے لیکن بعد میں خاوند کو ندامت ہوئی اور وہ پھر اسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے، پھر نکاح کر لے اب البتہ اس کے پاس دو طلاقوں کا حق ہے تمام زندگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَبْعَدُ مِنَ النَّدَامَةِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ طلاقِ احسن جو ہے یہ ندامت سے دور ہے،
”وَأَقَلُّ ضَرَرًا بِالْمَرْأَةِ“
اور نیز اس میں عورت کا کم نقصان ہے، یہ اقل ہے ضرراً باعتبار نقصان کے بالمرأة عورت کے ساتھ، عورت کے لیے اس میں کم نقصان ہے بھئی، طلاقِ احسن میں۔ وجہ یہ کہ طلاقِ حسن کے اندر وہ تین طہروں میں تین طلاقیں دے رہا ہے تو وہاں پر ہو سکتا ہے وہ کسی وقت اگر اس نے رجوع کر لیا، اس کا ارادہ ہے میں تین دوں گا، تو ہو سکتا ہے یہ درمیان میں کسی وقت کیا کر لے؟ رجوع کر لے اور پھر دوبارہ اگلی باقی طلاقیں دے، تو دیکھو اس طرح عورت پر عدت لمبی ہو جائے گی، عورت پر عدت لمبی ہو جائے گی، لیکن اگر ایک ہی طلاق دے گا تو وہ تین حیض گزارے گی اور پھر عدت پوری ہو جائے گی، تو یہ معنی ہے: ”وَأَقَلُّ ضَرَرًا بِالْمَرْأَةِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ طلاقِ احسن جو ہے یہ عورت کے لیے نقصان کے اعتبار سے اقل ہے۔
”وَلَا خِلَافَ لِأَحَدٍ فِي الْكَرَاهَةِ“
اور کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں ہے ”فِي الْكَرَاهَةِ“ کراہت کے سلسلے میں، یعنی طلاقِ احسن کے غیر مکروہ ہونے میں کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں ہے، سب کے نزدیک یہ پسندیدہ طریقہ ہے طلاق کا، یعنی کوئی فقیہ بھی اس کی کراہت کا قائل نہیں، یعنی اس کی کراہت میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، یعنی سب کے نزدیک یہ غیر مکروہ ہے۔ یہ معنی ہے ”وَلَا خِلَافَ لِأَحَدٍ فِي الْكَرَاهَةِ“ اور کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں ہے اس میں کراہت کے اندر کہ اس میں کراہت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ طلاقِ احسن میں کسی کے نزدیک بھی کراہت نہیں ہے بھئی۔
”وَالْحَسَنُ هُوَ طَلَاقُ السُّنَّةِ“
اور طلاقِ حسن جو ہے وہ طلاقِ سنت ہے۔ بھئی میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ طلاق دو قسم پر ہے: ایک سنی اور ایک بدعی، اور سنی جو طلاق کا سنت طریقہ ہے وہ پھر دو قسم پر ہے: یا حسن یا احسن۔ تو میں نے آپ کو بتایا کہ حسن اور احسن دونوں طلاقِ سنت ہیں لیکن صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَالْحَسَنُ هُوَ طَلَاقُ السُّنَّةِ“ کہ حسن جو ہے یہ طلاقِ سنت ہے۔ تو میں نے تو بتایا دونوں طلاقِ سنت ہیں اور صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں حسن جو ہے وہ طلاقِ سنت ہے، تو یاد رکھنا بھئی ہمارے نزدیک دونوں ہی طلاقِ سنت ہیں، حسن بھی اور احسن بھی، لیکن حسن کو بالخصوص صاحبِ ہدایہ نے طلاقِ سنت کہا وجہ یہ کہ امام مالک رحمہ اللہ اس میں اختلاف فرماتے ہیں، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف احسن سنت ہے، حسن سنت نہیں بلکہ یہ بدعت ہے اور یہ گناہ ہے بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ طلاقِ حسن کو کیا قرار دیتے ہیں؟ بدعت قرار دیتے ہیں، تو صاحبِ ہدایہ یہاں امام مالک کا رد کرنا چاہتے ہیں اس لیے کہا: ”وَالْحَسَنُ هُوَ طَلَاقُ السُّنَّةِ“ کہ حسن وہ بھی کیا ہے؟ طلاقِ سنت ہے، تو حسن کو طلاقِ سنت کیوں قرار دیا؟ امام مالک کا رد کرنے کے لیے، کہ وہ اس کو بدعت کہتے ہیں بھئی، ورنہ دونوں سنت ہیں ہمارے نزدیک۔ احسن، اس کے بارے میں تو آپ نے پڑھ لیا کوئی ایک فقیہ بھی اس میں اختلاف نہیں کرتا، کوئی ایک فقیہ بھی اس کو مکروہ نہیں کہتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْحَسَنُ هُوَ طَلَاقُ السُّنَّةِ“ اور حسن جو ہے وہ طلاقِ سنت ہے،
”وَهُوَ أَنْ يُطَلِّقَ الْمَدْخُولَ بِهَا ثَلَاثًا فِي ثَلَاثَةِ أَطْهَارٍ“
اور وہ یہ کہ طلاق دے مدخول بہا یعنی وہ عورت جس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے اس بیوی کو خاوند طلاق دے ”ثَلَاثًا“ تین طلاقیں ”فِي ثَلَاثَةِ أَطْهَارٍ“ تین طہروں میں،
”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: إِنَّهُ بِدْعَةٌ“
اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاقِ حسن جو ہے یہ بھی بدعت ہے، وہ اس طریقے سے طلاق کو بھی بدعت قرار دیتے ہیں کہ تین طہروں میں تین طلاقیں دے،
”وَلَا يُبَاحُ إِلَّا وَاحِدَةٌ“
اور ان کے نزدیک طلاق مباح نہیں ہے مگر ایک ہی، صرف ایک طلاق مباح ہے، ایک طلاق مباح ہے کیونکہ میں نے بتایا ایک نے بھی نکاح توڑنا ہے دو اور تین نے بھی کیا کرنا ہے؟ نکاح توڑنا ہے تو لہٰذا جب ایک سے حاجت پوری ہو جاتی ہے تو دو اور تین دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔
نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُبَاحُ إِلَّا وَاحِدَةٌ، اور مباح یعنی جائز نہیں ہے مگر ایک ہی طلاق۔ لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الطَّلَاقِ هُوَ الْحَظْرُ، اس لیے کیونکہ اصل جو ہے طلاق کے اندر هُوَ الْحَظْرُ، حظر ظاء کے ساتھ ہے بھئی طاء ظاء، طلاق کے اندر اصل جو ہے حظر ہے یعنی ممانعت ہے۔ شرعاً طلاق ممنوع ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا بھئی اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض طلاق ہے، سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے بھئی۔ تو لہٰذا اصل تو طلاق کے اندر ممانعت ہے۔ کیا ہے؟ ممانعت ہے۔ شرعاً اس کی گنجائش ہی نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ یہ تعلق کو توڑنے والی چیز ہے۔ لیکن چونکہ انسان بعض اوقات عورت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے، عورت اتنی بد اخلاق ہے یا اتنی بد زبان ہے یا کوئی اور ایسی قبیح عادت ہے کہ اس کے ساتھ گزارا ہی نہیں ہو سکتا۔ تو طلاق کے اندر تو اصل یہ ہے کہ یہ شرعاً ممنوع ہے لیکن بعض اوقات انسان کو حاجت اور ضرورت پیش آ جاتی ہے، وہ عورت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے۔ تو اس ضرورت اور حاجت کی وجہ سے شریعت طلاق کی اجازت دیتی ہے ورنہ تو فی نفسہٖ طلاق کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ رشتے کو توڑنے والی چیز ہے بھئی۔ لیکن بعض اوقات انسان ایک عورت کی عادت سے یا اس کی بعض باتوں سے اس کی بد زبانی وغیرہ سے اتنا زیادہ تنگ آ جاتا ہے کہ اس سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے، تو انسان کو حاجت پیش آ جاتی ہے چھٹکارے کی اور حاجت کی وجہ سے شریعت پھر اس کو طلاق کی اجازت دیتی ہے۔ اور یہ حاجت ایک طلاق سے پوری ہو گئی۔ ایک طلاق دے دے گا تو جدائی آ جائے گی یا نہیں؟ ایک طلاق دے دے گا اور پھر عدت گزرنے دے، رجوع نہ کرے آرام سے جدائی آ جائے گی بھئی۔ تو لہٰذا چونکہ بعض اوقات انسان محتاج ہو جاتا ہے بیوی سے چھٹکارا پانے کا لہٰذا اس ضرورت اور حاجت کی وجہ سے شریعت اسے طلاق کی اجازت دیتی ہے۔
آپ نے فقہ کا ضابطہ پڑھا ہے اَلضَّرُورَةُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ، محظورات میں میں نے بتایا تھا یہاں یہ ظاء کے ساتھ ہے، محظورات۔ محظور کس کو کہتے ہیں؟ ممنوع کو۔ اَلضَّرُورَةُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ کہ شریعت ضرورت کی وجہ سے ممنوع چیزوں کو بھی جائز قرار دے دیتی ہے۔ تو یہاں پر بھی طلاق حرام ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے شریعت نے اجازت دے دی کہ انسان بعض اوقات بیوی سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الطَّلَاقِ هُوَ الْحَظْرُ، اس لیے کیونکہ اصل جو ہے طلاق کے اندر وہ ممانعت ہے۔ میری کتاب میں بین السطور حدیث بھی ذکر ہے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تَزَوَّجُوا وَلَا تُطَلِّقُوا کہ نکاح کرو اور طلاقیں نہ دو۔ دیکھا؟ منع کیا گیا ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الطَّلَاقِ هُوَ الْحَظْرُ، کہ اصل جو ہے طلاق کے اندر وہ ممانعت ہے۔ وَالْإِبَاحَةُ لِحَاجَةِ الْخَلَاصِ، اور اباحت یعنی طلاق کا مباح ہونا ہوتا ہے یعنی طلاق کی جو اجازت ہوتی ہے لِحَاجَةِ الْخَلَاصِ، وہ چھٹکارا پانے کی حاجت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وَقَدِ انْدَفَعَتْ بِالْوَاحِدَةِ، اور یہ حاجت تو اٹھ جاتی ہے ایک طلاق کے ذریعے ہی، یہ حاجت تو پوری ہو جاتی ہے ایک طلاق کے ذریعے ہی، لہٰذا ایک کی اجازت ہو گی، ایک سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے بھئی۔
وَلَنَا، اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ اسْتِقْبَالًا فَيُطَلِّقَهَا لِكُلِّ قُرْءٍ تَطْلِيقَةً۔ بھئی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ تم نے سنت طریقے سے خطا کی ہے، تم سنت طریقے سے چوک گئے ہو لہٰذا آپ نے ان کو رجوع کرنے کا حکم دیا کہ بیوی سے رجوع کرو اور پھر جب طہر آ جائے تو پھر اس کے اندر چاہو تو بیوی کو روک لو اور چاہو تو طلاق دے دو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں کہ أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ اسْتِقْبَالًا، استقبال کا معنی کسی چیز کا استقبال کرنا، سامنا کرنا، یہاں مراد ہے انتظار کے معنی میں، حضور ان سے فرما رہے ہیں: أَنَّ السُّنَّةَ کہ سنت یہ ہے یعنی سنت طریقہ طلاق کا یہ ہے أَنْ يَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ اسْتِقْبَالًا کہ وہ طہر کا انتظار کرے، کہ وہ طلاق دینے والا انتظار کرے طہر کا، فَيُطَلِّقَهَا لِكُلِّ قُرْءٍ تَطْلِيقَةً، پھر اس کو طلاق دے دے۔ قُرْءٌ، قُرْءٌ یہ یاد رکھو اضداد میں سے ہے۔ قُرْءٌ لفظ کس میں سے ہے؟ اضداد، ضد کی جمع ہے اضداد بھئی ضاد کے ساتھ۔ بھئی آپ نے پڑھا ہو گا کہ عربی کے بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے دو متضاد معانی ہوتے ہیں جیسے قُرْءٌ کا معنی طہر بھی اور قُرْءٌ کا معنی حیض بھی۔ اسی طرح بَيْع بھئی، بیع کا معنی خریدنا بھی اور بیچنا بھی، یہ بھی اضداد میں سے ہے البتہ یہ زیادہ تر اب بیچنے میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح شراء، خریدنا، شراء بھی اضداد میں سے ہے یعنی اس کا معنی خریدنا بھی اور بیچنا بھی، البتہ اب یہ زیادہ خریدنے میں استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ جو قُرْءٌ لفظ ہے یہ کس میں سے ہے؟ اضداد میں سے۔ آیت کے اندر آیا ہے: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾، وہاں ہم قُرْءٌ کا معنی حیض کے لیتے ہیں کیونکہ ثلاثہ پر تب ہی عمل ہو سکتا ہے جب قُرْءٌ سے حیض مراد لیا جائے۔ تین حیض پورے شمار ہو سکتے ہیں لیکن اگر اس سے طہر مراد لیا جائے تو پورے تین طہر شمار نہیں ہو سکتے۔ تو یہاں پر بہرحال حدیث کے اندر قُرْءٌ طہر کے معنی میں ہے۔ تو حضور نے حضرت ابن عمر سے فرمایا: أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ اسْتِقْبَالًا، کہ سنت طریقہ یہ ہے طلاق کا کہ وہ طہر کا انتظار کرے، فَيُطَلِّقَهَا لِكُلِّ قُرْءٍ تَطْلِيقَةً، پھر وہ طلاق دے اپنی بیوی کو ہر طہر میں ایک طلاق۔ پھر ہر طہر میں ایک طلاق دے، دیکھو انہوں نے حیض میں طلاق دی تھی حضور نے رجوع کا حکم دیا کہ رجوع کرو اور طہر جب آئے تو طہر کے اندر طلاق دے دینا یا چاہو تو اس کو روک لینا۔ تو اگر طلاقِ ثانی بدعت ہوتی، ہماری دلیل چل رہی ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف، امام مالک رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ایک ہی طلاق جو ہے اس کی اجازت ہے خاوند کو، اس سے زیادہ دے گا تو یہ گناہ گار ہو گا، یہ بدعت ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ ہم کہتے ہیں اگر دوسری یا تیسری طلاق بدعت ہوتی تو حضور علیہ السلام کیسے ان کو آگے دوسری طلاق کا حکم دیتے؟ کہ ابھی رجوع کرو اور پھر طہر میں طلاق دینا، تو جب طہر میں طلاق دیں گے وہ کون سی طلاق ہو جائے گی؟ دوسری ہو گی نا، پہلی میں تو بے شک رجوع کر لیا لیکن طلاق تو گزر گئی ایک ہو گئی بھئی، اور دوسری دے گا طہر کے اندر، معلوم ہوا دوسری طلاق دینا بدعت نہیں ہے بھئی، حضور ان کو طلاقِ سنت کا طریقہ سمجھا رہے ہیں۔
یہ تو تھی نقلی دلیل، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ طلاقِ حسن بھی بدعت ہے ہماری دلیل چل رہی ہے کہ نہیں، طلاقِ حسن یہ بھی سنت ہے بھئی۔ اور ایک تو حدیث ذکر کر دی دوسرا عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ، اور اس لیے کیونکہ یہ جو حکم ہے اس کا مدار ہو گا عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ دلیلِ حاجت پر، کس پر؟ دلیلِ حاجت پر۔ بھئی دیکھو یہ جو حکم ہے، کون سا حکم؟ طلاق کا جائز ہونا، طلاق کا مباح ہونا۔ امام مالک رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ایک ہی طلاق مباح ہے اس سے زیادہ مباح ہی نہیں ہے۔ دو گے تو ہو تو جائے گی، اس سے زیادہ طلاقیں دو گے وہ ہو تو جائیں گی لیکن آدمی گناہ گار ہو گا بھئی۔ تو مباح کتنی ہیں؟ ایک طلاق۔ ہم کہتے ہیں یہ جو طلاق کا مباح ہونا ہے، یہ جو طلاق کی اجازت ہے اس کا دارومدار دلیلِ حاجت پر ہو گا۔ کس پر؟ دلیلِ حاجت پر۔ وجہ یہ، بھئی دیکھو شریعت طلاق کی اجازت دیتی ہے حاجت اور ضرورت، امام مالک رحمہ اللہ نے کیا فرمایا؟ کہ طلاق کے اندر اصل تو ممانعت ہے اور شریعت طلاق کی اجازت کس لیے دیتی ہے؟ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے۔ کس چیز کی ضرورت ہے؟ کہ انسان اس بیوی سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے، طبیعتیں بالکل ایک دوسرے سے الگ ہیں یا بیوی بے انتہا بد اخلاق ہے، بد زبان وغیرہ ہے بھئی تو انسان چھٹکارے کا محتاج ہے۔ توجہ ہے؟ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان طلاق کا محتاج ہے یا محتاج نہیں، یہ تو ایک امرِ باطنی ہے اس کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا۔ اس کا تو ہمیں پتہ نہیں، بھئی ایک آدمی ایک عورت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے تو اس کو حاجت ہے یا حاجت نہیں اس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، یہ تو ایک دل کی بات ہے بھئی۔ لہٰذا جب حاجت ایک دل کی بات ہے اس کا پتہ نہیں، جب ایک چیز کا پتہ نہ چل سکے تو اس کی دلیل پر حکم کا مدار کر دیا جاتا ہے۔ کس پر؟ اس کی دلیل پر حکم کا مدار کر دیا جاتا ہے۔ تو دلیلِ حاجت پر حکم کا مدار ہو گا اور جب دلیلِ حاجت پائی جائے گی تو معلوم ہوا اس کے لیے طلاق مباح ہو جائے گی۔ بھئی حاجت کا تو پتہ نہیں چل سکتا، یہ تو دل کی چیز ہے۔ بیوی سے ایک دفعہ لڑائی ہو جائے تو کیا ایک دفعہ لڑائی سے وہ طلاق کا محتاج ہو گیا؟ نہیں۔ ایک آدھ لڑائی یا جھگڑا وغیرہ یہ تو جدائی کے لیے یہ علت نہیں ہے۔ بات یہ چل رہی ہے انسان بعض اوقات طلاق کا محتاج ہو جاتا ہے، وہ کب محتاج ہوتا ہے؟ کیا ایک دفعہ لڑائی ہونے سے؟ نہیں نہیں، وہ آپس میں طبیعتیں ہی نہیں مل رہیں کسی اعتبار سے، خاوند نے پوری کوشش کر لی لیکن نباہ کی کوئی صورت نہیں بن رہی بھئی، یا تو وہ عورت بے انتہا بد زبان ہے یا اس کی عادتیں بہت خراب ہیں یا اس کی طبیعت بالکل عجیب قسم کی ہے خاوند نے پوری کوشش کر لی لیکن نباہ کی کوئی صورت نہیں بن رہی، اب ہم کہیں گے اس کو حاجت ہے چھٹکارے کی۔ ایک آدھ لڑائی وغیرہ یا دو چار لڑائیوں سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کو طلاق کی احتیاج ہے۔ تو معلوم ہوا اب یہ کیسے پتہ چلے گا؟ تو دیکھو محتاج ہونا یہ تو ایک دل کی بات ہے یہ تو پتہ نہیں چل سکتا کہ اس کو احتیاج ہے طلاق کی یا نہیں۔ جب ایک چیز کا پتہ نہ چل سکے تو اس کی دلیل پر حکم کا مدار کر دیا جاتا ہے، تو جب بھی وہ دلیل پائی جائے گی معلوم ہوا اس کو طلاق کی حاجت ہے۔ اصل حاجت کا تو پتہ نہیں لیکن دلیلِ حاجت جب بھی پائی جائے گی ہم کیا کہیں گے؟ اس کو طلاق کی حاجت ہے اور جب طلاق کی حاجت ہو تو طلاق کیا ہو جاتی ہے؟ مباح۔ توجہ بھی ہے کہ نہیں؟ شریعت نے کیوں اجازت دی طلاق کی؟ ضرورت اور حاجت۔ اور ضرورت اور حاجت کیا ایک دو چار چھ لڑائیوں سے ضرورت اس کی ثابت ہو جائے گی؟ نہیں، میاں بیوی میں تو لڑائیاں اور جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں، ہوتے بھی ہیں اور ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ اصل حاجت جب واقعی انسان اب چھٹکارے کا محتاج ہو گیا ہے اب نباہ کی اور جوڑ کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ تو یہ تو ایک امرِ باطنی ہے اس کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، اس کا پتہ جب نہیں چل سکتا کہ یہ واقعی یہ جدائی کا محتاج ہے یا محتاج نہیں تو پھر لہٰذا جب ایک چیز کا پتہ نہ چل سکے تو اس کی جو دلیل ہوتی ہے اس پر حکم کا مدار کر دیا جاتا ہے۔
جیسے دیکھو، جیسے دیکھو سفر کے اندر چار رکعت نماز کے بجائے دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے، فرض چار کے بجائے دو رکعت ہو جاتے ہیں قصر نماز ادا کی جاتی ہے، یہ اجازت شریعت نے کیوں دی؟ کیونکہ سفر میں مشقت ہوتی ہے، انسان مشکل میں ہے، تکلیف میں ہے، گھر سے دور ہے تو لہٰذا شریعت نے آسانی کر دی کہ چار کے بجائے دو پڑھ لیا کرو۔ تو اب یہ سفر میں قصر نماز ہم پڑھتے ہیں اس کی علت کیا ہے؟ مشقت۔ لیکن یہ مشقت یہ تو امرِ باطنی ہے ہمیں تو نہیں پتہ چل سکتا کسی شخص سے کہ اس کو کتنی مشقت ہوئی ہے یا کتنی نہیں ہوئی، میں نے بتایا بعض لوگوں کو ایسا مضبوط جسم اللہ نے دیا ہوتا ہے وہ کئی کئی دن سفر کرتے ہیں ان کو پروا بھی نہیں ہوتی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لہٰذا مشقت امرِ باطنی ہوئی جس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا لہٰذا وہ جو دلیلِ حکم ہے یعنی سفر، اسی پر حکم کی بنیاد رکھ دی۔ یہ مشقت کی دلیل کیا ہے؟ مشقت کس وجہ سے ہو رہی ہے؟ سفر کی وجہ سے۔ تو اس مشقت کی جو دلیل ہے اسی پر حکم کا مدار کر دیا کہ جو بھی تین دن کا سفر کرے سمجھو مشقت پائی گئی چاہے اسے ہوئی یا نہیں ہوئی لیکن تین دن کا سفر ہے یا زیادہ کا تو سمجھو بس مشقت پائی گئی، جب مشقت پائی گئی ہے تو لہٰذا اب یہ قصر کرے گا۔ یہ مشقت والا سفر ہے لہٰذا کیا کرے گا؟ قصر کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب حکم کا مدار ایک امرِ باطنی پر ہو اور اس امرِ باطنی کا تو پتہ نہیں چل سکتا تو پھر حکم کا مدار اس کی دلیل پر کر دیا جاتا ہے۔
آگے ابھی دیکھیں مزید بات واضح ہو جائے گی، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ، اس لیے کیونکہ یہ جو حکم ہے، کون سا حکم؟ کس چیز کی بات چل رہی ہے؟ طلاق کا مباح ہونا۔ شریعت کی طرف سے امام مالک نے بتایا صرف ایک طلاق مباح ہے زیادہ مباح نہیں، ہم کہہ رہے ہیں نہیں یہ جو طلاق مباح ہوتی ہے یہ حاجت کی وجہ سے ہوتی ہے اور حاجت کا تو پتہ نہیں چل سکتا تو پھر مدار دلیلِ حاجت پر ہو گا، اور جب بھی دلیلِ حاجت پائی جائے گی طلاق مباح ہو جائے گی، جب بھی دلیلِ حاجت پائی جائے گی تو طلاق مباح ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحُكْمَ، کہتے ہیں یہ جو حکم ہے یعنی طلاق کے مباح ہونے والا يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ، اس کا دارومدار جو ہے دلیلِ حاجت پر ہو گا، وَهُوَ الْإِقْدَامُ عَلَى الطَّلَاقِ فِي زَمَانِ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ وَهُوَ الطُّهْرُ، اور وہ اقدام علی الطلاق، وہ طلاق پر پیش قدمی کرنا ہے یعنی طلاق دینا ہے فِي زَمَانِ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ، تجدد کا معنی ہے نیا ہونا، تجدد کا معنی نیا ہونا، وَهُوَ الْإِقْدَامُ عَلَى الطَّلَاقِ، اور وہ دلیلِ حاجت کیا ہے؟ وہ طلاق پر پیش قدمی کرنا ہے فِي زَمَانِ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ، رغبت کے نئے ہونے کے زمانے میں، رغبت کے نئے ہونے کے زمانے میں، وَهُوَ الطُّهْرُ، اور وہ رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ کون سا ہے؟ کہتے ہیں: وَهُوَ الطُّهْرُ، وہ طہر ہے یعنی جس میں صحبت نہ کی ہو۔ بھئی دیکھیے یہ جو حیض ہے نا حیض، حیض کے زمانے میں شریعت نے عورت کے ساتھ صحبت سے منع کیا ہے، اور نیز اس زمانے کے اندر چونکہ عورت سے حیض کا خون جاری ہے لہٰذا انسان کی طبیعت بھی صحبت کرنے کو نہیں کرتی۔ تو معلوم ہوا یہ جو حیض کا زمانہ ہے یہ عورت سے نفرت کا زمانہ ہے، یعنی اس زمانے میں خاوند کو عورت کا شوق نہیں ہوتا، نفرت کا یہ معنی نہیں کہ اس سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے، معنی یہ ہے خاوند کو اس سے صحبت کا شوق نہیں ہوتا، صحبت کے ارادے سے خاوند اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ تو معلوم ہوا یہ جو حیض ہے یہ عورت سے نفرت کا زمانہ ہے، کس اعتبار سے نفرت؟ اس کی ذات کے اعتبار سے نفرت نہیں ہے بلکہ صحبت کے اعتبار سے طبیعت اس طرف متوجہ نہیں ہے، کیونکہ شریعت نے بھی حیض کی حالت میں صحبت سے منع کیا ہے اور نیز انسان کی طبیعت بھی گوارا نہیں کرتی کہ عورت سے خون جاری ہو اور وہ اس سے صحبت کر لے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ جو حیض کا زمانہ ہے اس کے اندر طبعاً جو ہے انسان کی عورت میں رغبت نہیں ہوتی، ہاں نفرت کا ترجمہ عدمِ رغبت کر لیں، کیا کر لیں؟ عدمِ رغبت، یعنی حیض کی حالت میں خاوند کی بیوی میں رغبت نہیں ہوتی یعنی صحبت کے اعتبار سے۔ تو لہٰذا شریعت نے منع کیا ہے کہ بھئی حیض کی حالت میں طلاق نہیں دینی کیونکہ ہو سکتا ہے یہ زمانہ عدمِ رغبت والا ہے اور یہ عدمِ رغبت تو عارضی ہے۔ یہ عدمِ رغبت تو عارضی ہے، یہ حیض کا زمانہ تو چند دنوں میں گزر جائے گا لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو اس عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے تم بیوی کو طلاق دے دو، عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے تم بیوی کو طلاق دے دو، اس لیے شریعت نے منع کیا کہ حیض میں طلاق نہیں دینی۔ اور نیز انسان جب بیوی سے صحبت کر لیتا ہے تو اس کی خواہش پوری ہو گئی لہٰذا جب صحبت کر لی تو بیوی میں رغبت کم ہو گئی۔ طہر کے اندر جب بیوی سے صحبت کر لے گا تو بیوی سے رغبت کم ہو گئی تو شریعت نے منع کیا کہ وہ طہر جس میں تم صحبت کر چکے ہو اس میں بھی بیوی کو طلاق نہیں دینی کیونکہ ہو سکتا ہے یہ عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے تم طلاق دے رہے ہو۔ کس کی وجہ سے؟ بھئی جب انسان کی خواہش پوری ہو گئی تو دوبارہ خواہش اس کو کچھ مدت کے بعد ہو گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا شریعت نے اس طہر میں بھی طلاق دینے سے منع کیا کہ جس میں خاوند نے صحبت کی ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو یہ عارضی عدمِ رغبت یا یوں کہو یہ عارضی نفرت کی وجہ سے تم کہیں طلاق نہ دے رہے ہو۔ ہاں ایسا طہر جس کے اندر خاوند نے صحبت نہیں کی، یاد رکھو یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے۔ طبیعتِ سلیمہ جو ہے وہ کچھ مدت کے بعد پھر صحبت کی طرف راغب ہو گی، تو یہ جو نیا طہر شروع ہو گیا یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے کیونکہ پچھلے طہر میں خاوند نے صحبت کی تھی، پچھلے مہینے میں خاوند نے صحبت کی تھی اور اب درمیان میں کچھ وقت گزر گیا حیض کا زمانہ بھی آ گیا نیا طہر شروع ہوا اور یہ یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے۔ اتنی مدت میں خاوند کو دوبارہ عورت کی رغبت ہو جائے گی، تو یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے یہ جو طہر ہے جس میں ابھی خاوند نے صحبت نہیں کی اور اس کے باوجود خاوند طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے اور طلاق دینا چاہتا ہے، معلوم ہوا خاوند کو طلاق کی حاجت ہے۔ بات چل رہی تھی بھئی طلاق انسان کے لیے مباح کب ہو گی؟ جب اس کو حاجت ہو گی، اور صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جب نیا طہر آتا ہے تو یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، لیکن رغبت کا زمانہ ہونے کے باوجود خاوند نے اگرچہ ابھی تک اس طہر میں صحبت نہیں کی اور وہ پھر بھی طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا خاوند کو طلاق کی حاجت ہے۔ وہ اس عورت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے، بھئی یہ تو وہ زمانہ ہے جس میں انسان بیوی کی طرف اس کی رغبت بڑھ جاتی ہے وہ اس سے صحبت کرنا چاہتا ہے اور یہ خاوند اس کے باوجود نئی رغبت کا زمانہ ہونے کے باوجود یہ خاوند طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ معلوم ہوا اس کو حاجت ہے لہٰذا اس کے لیے طلاق مباح ہو گی، اس کے لیے طلاق مباح ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہ طلاق دے دیتا ہے، طلاق دے دیتا ہے۔ اب اس نے طہر میں صحبت نہیں کی پھر اس کے بعد اگلا طہر آیا، اگلے طہر کے اندر پھر یہ رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ ہے، کافی دن گزر گئے ہیں خاوند نے بیوی سے صحبت نہیں کی لیکن اس کے باوجود خاوند پھر بیوی کو طلاق دینا چاہ رہا ہے اس زمانے کے اندر جو رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، معلوم ہوا خاوند کو چھٹکارے کی حاجت ہے لہٰذا اس کے لیے طلاق مباح ہو گی وہ دوسری بھی طلاق دے سکتا ہے۔ پھر تیسرا طہر آیا، یہ پھر رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے اور کتنے دن گزر گئے خاوند نے صحبت نہیں کی ہوئی بیوی سے، پھر بھی خاوند طلاق پر اقدام کر رہا ہے طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے حالانکہ یہ تو رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ تھا، معلوم ہوا خاوند کو طلاق کی حاجت ہے۔ تو اس لیے وہ خاوند کو طلاق کی اجازت ہو گی شرعاً اور وہ طلاق دے سکتا ہے۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ حیض کے اندر بھی خاوند کی بیوی سے طبعاً نفرت ہو گی کیونکہ وہ صحبت نہیں کر سکتا، اور نیز وہ طہر جس میں خاوند صحبت کر لے وہاں پر بھی عارضی طور پر طبعاً نفرت ہو گی یعنی صحبت کو جی نہیں چاہے گا کیونکہ وہ اپنی خواہش پوری کر چکا ہے۔ لیکن جب نیا طہر آئے گا یہ تو رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، اس زمانے میں تو خاوند کی رغبت بیوی میں بڑھ جاتی ہے لیکن یہ شخص پھر بھی طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے پھر بھی طلاق دینا چاہتا ہے، معلوم ہوا اس کو چھٹکارے کی حاجت ہے لہٰذا اس کے لیے طلاق مباح ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ، اس لیے کیونکہ یہ طلاق کے مباح ہونے کا جو حکم ہے اس کا دارومدار دلیلِ حاجت پر ہو گا، وَهُوَ الْإِقْدَامُ عَلَى الطَّلَاقِ، تو دیکھو حاجت کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا لیکن دلیلِ حاجت تو آ گئی نا۔ دلیلِ حاجت کیا؟ رغبت کا زمانہ ہے وہ پھر بھی طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ جب دلیلِ حاجت آ گئی کہ یہ پھر بھی طلاق دینا چاہ رہا ہے رغبت کے زمانے کے باوجود تو معلوم ہوا اس کو حاجت ہے، اور جب حاجت ہے تو اس کے لیے طلاق دینا مباح ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ، اور اس لیے کیونکہ یہ طلاق کے مباح ہونے کا جو حکم ہے اس کا دارومدار دلیلِ حاجت پر ہے، وَهُوَ الْإِقْدَامُ عَلَى الطَّلَاقِ فِي زَمَانِ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ، اور وہ طلاق پر پیش قدمی کرنا ہے رغبت کے نئے ہونے کے زمانے میں، وَهُوَ الطُّهْرُ، اور رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ وہ طہر ہے، فَالْحَاجَةُ كَالْمُتَكَرِّرَةِ نَظَرًا إِلَى دَلِيلِهَا، تو یہ جو حاجت ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے اس میں تکرار ہو رہا ہے، بار بار یہ حاجت پیش آ رہی ہے، کس اعتبار سے؟ نَظَرًا إِلَى دَلِيلِهَا، دلیلِ حاجت کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ دلیلِ حاجت کیا ہے؟ کہ ایسا طہر ہے جس میں خاوند نے بیوی سے صحبت نہیں کی اور یہ کون سا زمانہ ہوتا ہے؟ بیوی میں رغبت کا زمانہ، اور وہ پھر بھی کیا کر رہا ہے؟ طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے تو معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ تو طلاق پر رغبت کے زمانے کے باوجود طلاق پر پیش قدمی کرنا یہ دلیلِ حاجت ہے۔ یہ؟ تو جب یہ دلیلِ حاجت آ گئی تو سمجھو حاجت آ گئی، اور جب حاجت آ گئی تو طلاق کیا ہو جاتی ہے؟ مباح۔ اور ہر طہر کے اندر یہ دلیلِ حاجت آ رہی ہے تو گویا حاجت بھی مکرر بار بار پیش آ رہی ہے اور بار بار وہ طلاق دے سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: فَالْحَاجَةُ كَالْمُتَكَرِّرَةِ، اور حاجت جو ہے وہ ایسی ہی ہے جیسے کہ اس میں تکرار آ رہا ہو، نَظَرًا إِلَى دَلِيلِهَا، دلیلِ حاجت کی طرف نظر کرتے ہوئے۔
ثُمَّ قِيلَ، جی اب پھر یہ بیان فرمائیں گے کہ عورت کو خاوند طلاق دینا چاہتا ہے، طلاق طہر میں دینی ہے اور ایسا طہر جس میں صحبت نہ کی ہو اور طلاق بھی کون سی ہو؟ رجعی ہو۔ تو طہر میں کس وقت طلاق دے؟ طہر کے ابتدائی زمانے میں، جیسے ہی طہر شروع ہوا طلاق دے دے یا طہر کے بالکل اختتام پر جا کر جب حیض شروع ہونے والا ہو اس وقت جا کر طلاق دے؟ تو یہ ذکر فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ثُمَّ قِيلَ الْأَوْلَى أَنْ يُؤَخِّرَ الْإِيقَاعَ إِلَى آخِرِ الطُّهْرِ، ایقاع بھئی، اَوْقَعَ يُوْقِعُ اِیْقَاع کا معنی ہے واقع کرنا، مراد ہے طلاق واقع کرنا۔ ثُمَّ قِيلَ، پھر کہا گیا ہے الْأَوْلَى، بہتر یہ ہے أَنْ يُؤَخِّرَ الْإِيقَاعَ، کہ خاوند طلاق واقع کرنے کو مؤخر کرے إِلَى آخِرِ الطُّهْرِ، کہاں تک؟ طہر کے آخر تک، طہر کے آخری حصے میں طلاق دے، احْتِرَازًا عَنْ تَطْوِيلِ الْعِدَّةِ، عدت کو لمبا کرنے سے احتراز کرتے ہوئے۔ تطویلِ عدت سے بچنے کے لیے، وجہ یہ کہ اگر طہر کے شروع میں ہی طلاق دے دے گا تو اب یہ عورت کو یہ پورا طہر بھی گزارنا پڑے گا اور اگلے تین حیض بھی گزارے گی اور ان تین حیضوں کے درمیان جو دو طہر ہیں وہ بھی گزارے گی تو گویا تین حیض اور تین طہر سارے اس کو گزارنے پڑ گئے۔ تین حیض اور تین طہر، بھئی تین حیض ہے نا عدت، ان تین حیضوں کے درمیان کے دو طہر بھی آ گئے اور یہ والا شروع والا بھی پورا طہر آ گیا تو پورے تین طہر اور تین حیض گزارنے کے بعد عورت کی عدت ختم ہو گی، تو عورت کے لیے عدت کا زمانہ لمبا ہو گیا۔ اور اگر طہر کے آخری حصے میں جا کر طلاق دے گا تو طلاق دے گا اور اس کے ایک آدھ دو دن بعد ہی کیا شروع ہو جائے گا؟ حیض شروع ہو جائے گا، تو بس عورت صرف تین حیض گزارے گی اور درمیان والے دو طہر گزارے گی تو تین حیض اور دو طہروں کے ساتھ عدت پوری ہو جائے گی، لیکن اگر شروع میں طلاق دے گا تو پھر طہر بھی کتنے ہو جائیں گے؟ تین ہو جائیں گے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا بہتر کیا ہے؟ کہ آخر میں دے طلاق بھئی، یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ قِيلَ الْأَوْلَى أَنْ يُؤَخِّرَ الْإِيقَاعَ إِلَى آخِرِ الطُّهْرِ، کہ بہتر یہ ہے کہ مؤخر کرے طلاق واقع کرنے کو طہر کے آخر تک، احْتِرَازًا عَنْ تَطْوِيلِ الْعِدَّةِ، تطویلِ عدت سے بچنے کے لیے۔ وَالْأَظْهَرُ، اور زیادہ ظاہر یہ ہے أَنْ يُطَلِّقَهَا كَمَا طَهُرَتْ، کہ اس کو طلاق دے دے کما طهرت جیسے ہی یہ پاک ہو۔ زیادہ ظاہر قول کیا ہے؟ جیسے ہی حیض سے پاک ہو خاوند اس کو طلاق دے دے۔ تو یہ ایسا طہر ہے جس میں خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی۔ اگر یہ طلاق کو مؤخر کرے گا تو کہیں ایسا نہ ہو خاوند صحبت میں مبتلا ہو جائے، خاوند کو پھر رغبت ہو جائے اور وہ اس سے صحبت کر لے اور پھر جب طلاق دے گا پھر تو ایسے طہر میں طلاق ہو جائے گی جس میں اس نے صحبت کی ہوئی ہے تو یہ تو طلاقِ بدعی بن جائے گی۔ توجہ ہے؟ لہٰذا شروع میں ہی طلاق دے دے۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَظْهَرُ، اور زیادہ ظاہر یہ ہے أَنْ يُطَلِّقَهَا كَمَا طَهُرَتْ، کہ خاوند بیوی کو طلاق دے دے جیسے ہی وہ پاک ہو، لِأَنَّهُ لَوْ أَخَّرَ، اس لیے کیونکہ اگر خاوند نے طلاق کو مؤخر کر دیا رُبَّمَا يُجَامِعُهَا، تو بسا اوقات خاوند اس سے صحبت کر لے گا، وَمِنْ قَصْدِهِ التَّطْلِيقُ، اور خاوند کا تو طلاق دینے کا ارادہ تھا اور اس نے تو صحبت کر لی، فَيُبْتَلَى بِالْإِيقَاعِ عَقِيبَ الْوِقَاعِ، تو وہ مبتلا ہو جائے گا طلاق واقع کرنے میں عَقِيبَ الْوِقَاعِ صحبت کے بعد، وقاع جماع کو کہتے ہیں، وقاع جماع کو کہتے ہیں۔ تو دیکھو صحبت کر لی اور اس کا تو طلاق دینے کا ارادہ تھا اب جب طلاق دے گا تو یہ ایسے طہر میں طلاق دے رہا ہے جس میں صحبت کر چکا ہے تو دیکھو یہ گناہ گار ہو گا بھئی۔ تو یہ معنی ہے فَيُبْتَلَى بِالْإِيقَاعِ، تو وہ خاوند مبتلا ہو جائے گا طلاق واقع کرنے میں عَقِيبَ الْوِقَاعِ جماع کے بعد۔
آگے دیکھیے: وَطَلَاقُ الْبِدْعَةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ۔ اب طلاقِ بدعت کا بیان کر رہے ہیں، میں نے آپ کو ضابطہ بتلا دیا کہ طلاقِ سنی میں کتنی شرطیں ہیں؟ چار۔ پہلی شرط: طہر میں ہو طلاق۔ دوسری شرط: ایسا طہر جس میں ابھی جماع نہ کیا ہو۔ تیسری شرط: طلاق بھی رجعی ہو۔ اور چوتھی شرط: کہ اس طہر سے ماقبل والے حیض میں بھی جماع نہ کیا ہو بھئی۔ تو یہ چار شرطیں ہیں۔ آپ ان شرطوں کو ذہن میں رکھیں آپ فوراً بتلا سکتے ہیں کہ کون سی طلاق بدعت ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دیتا ہے تو یہ کون سی طلاق ہوئی؟ طلاقِ بدعت، کیونکہ طہر میں طلاق دینا مشروع ہے۔ یا پھر ایسے طہر میں طلاق دیتا ہے جس میں صحبت کر چکا ہے، یہ بھی کون سی طلاق ہوئی؟ طلاقِ بدعت ہوئی۔ یا اسی طرح ایک ہی طہر کے اندر دو طلاقیں دے دیتا ہے، یہ بھی کیا ہوئی؟ بدعت ہوئی کیونکہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق دے سکتا ہے۔ یا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دیتا ہے، یہ بھی کیا ہوئی؟ طلاقِ بدعت ہوئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَطَلَاقُ الْبِدْعَةِ، اور طلاقِ بدعت یہ ہے أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، کہ خاوند بیوی کو تین طلاقیں دے دے ایک ہی کلمے سے، أَوْ ثَلَاثًا، یا تین طلاقیں دے دے فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، ایک ہی طہر میں۔ ایک ہی کلمے سے تین طلاقیں دے دے یعنی طلاق کا لفظ ایک دفعہ کہے اور ساتھ عدد کو ملا دے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، کتنی طلاقیں ہوں گی اس لفظ سے؟ ایک طلاق۔ لیکن اگر وہ یوں کہے: میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں، تو دیکھو طلاق کا لفظ ایک ہی دفعہ لایا لیکن ساتھ تین کا عدد ذکر کر دیا تو اس کو ہم کہیں گے ایک ہی لفظ سے تین طلاقیں دے رہا ہے۔ ایک ہی لفظ یعنی لفظِ طلاق ایک ہی دفعہ وہ لا رہا ہے لیکن ساتھ وہ عدد یعنی تین کو ذکر کر رہا ہے تو یہ ایک ہی لفظ سے تین طلاقیں دے رہا ہے اور یہ بدعت ہے بھئی۔ یا اسی طرح ایک ہی لفظ سے دو طلاقیں دے یہ بھی کیا ہے؟ بدعت ہے کہ میں تمہیں دو طلاقیں دیتا ہوں۔ تو ایک وقت میں ایک طلاق ہونی چاہیے۔ اور اور کبھی ایک ہی طہر میں تین طلاقیں خاوند دے دیتا ہے۔ یا تو یوں کہتا ہے: اَنْتِ طَالِقٌ، اَنْتِ طَالِقٌ، اَنْتِ طَالِقٌ، دیکھو ایک لفظ ہے یا تین لفظ ہیں؟ تین لفظ ہیں، اَنْتِ طَالِقٌ ایک لفظ، اَنْتِ طَالِقٌ دوسرا لفظ، اَنْتِ طَالِقٌ تیسرا لفظ، تو دیکھو یہ تین لفظوں کے ساتھ طلاقیں دے رہا ہے تو چاہے ایک ہی مجلس میں اس طرح دے، چاہے ایک ہی طہر کے اندر ایک آج دی ایک کل دی ایک پرسوں دے دی، ایک ہی طہر میں تین طلاقیں وہ دے دیتا ہے وقفے وقفے سے یا تین الگ الگ لفظوں سے، یہ بھی سب کیا ہیں؟ بدعت ہیں کیونکہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق مشروع ہے۔ تو کہتے ہیں: وَطَلَاقُ الْبِدْعَةِ، اور طلاقِ بدعت یہ ہے أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، کہ خاوند بیوی کو تین طلاقیں دے ایک ہی کلمے سے، أَوْ ثَلَاثًا فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، یا تین طلاقیں دے ایک ہی طہر میں۔ فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، تو جب خاوند ایسا کرے گا طلاق تو واقع ہو جائے گی، وَكَانَ عَاصِيًا، لیکن یہ شخص جو ہے گناہ گار ہو گا، یہ شخص نافرمان ہو گا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ طَلَاقٍ مُبَاحٌ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر طلاق مباح ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ
وہ تو فرماتے تھے ایک ہی طلاق مباح ہے۔ وہ بھی حاجت کی وجہ سے ہے، ورنہ وہ بھی مباح نہ ہوتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر طلاق مباح ہے؛ کیونکہ شریعت نے خاوند کو حق دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا طلاق ایک مشروع چیز ہے، اور جو چیز مشروع ہوتی ہے وہ ممنوع نہیں ہو سکتی۔ مشروع چیز ممنوع نہیں ہو سکتی بھئی! مشروع کا معنی جائز، ممنوع کا معنی جائز نہیں ہے بھئی! تو ایک چیز ایک وقت میں یا مشروع ہو گی یا ممنوع ہو گی بھئی! تو طلاق تو مشروع ہے سب کے نزدیک، خاوند کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے طلاق دینے کی۔ لہٰذا چاہے خاوند ایک طلاق دے، چاہے دو دے، چاہے تین دے، یہ سب مشروع ہے، خاوند طلاق دے سکتا ہے۔
آپ کہتے ہیں ایک طلاق تو مشروع ہے، تین غیر مشروع ہیں۔ بھئی کیوں؟ جب طلاق خود فی ذاتہٖ مشروع ہے تو خاوند چاہے ایک دے، چاہے دو دے، چاہے تین دے، یہ سب کیا ہیں؟ مشروع ہیں۔ بھئی جو چیز مشروع ہو وہ ممنوع نہیں ہو سکتی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿كُلُّ طَلَاقٍ مُبَاحٌ﴾ ہر طلاق مباح ہے، اس کی اجازت ہے، ﴿لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ مَشْرُوْعٌ﴾ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے ایک مشروع تصرف ہے۔ مشروع یعنی جس کی شریعت نے اجازت دی ہے، مباح ہے، جو جائز ہے۔ ﴿لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ مَشْرُوْعٌ﴾ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے ایک مشروع تصرف ہے، ﴿حَتّٰی يُسْتَفَادُ بِهِ الْحُكْمُ﴾ بھئی یہاں پر بھی یاد رکھیے، حتّٰی نصب نہیں دے گا۔ ﴿حَتّٰی يُسْتَفَادُ بِهِ الْحُكْمُ﴾ یہاں تک کہ اس کے ذریعے اس کا حکم بھی حاصل ہوتا ہے۔ ایک طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی، دو دے گا تو دو واقع ہو جائیں گی، تین دے گا تو تین واقع ہو جائیں گی۔ اگر یہ ممنوع ہوتا تو تین دینے سے واقع نہ ہوتیں، لیکن آپ بھی مانتے ہیں کہ تین طلاقیں دیں گے تو تین واقع ہو جائیں گی۔
توجہ ہے؟ معلوم ہوا یہ ممنوع نہیں، اگر یہ ممنوع ہوتی تو پھر اس کا حکم نہیں ہونا چاہیے تھا یعنی واقع نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تو طلاق کا دینا اور پھر اس کا حکم بھی آ جاتا ہے کہ طلاق واقع بھی ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا طلاق ایک مشروع تصرف ہے، اگر ممنوع ہوتا تو پھر اس کا حکم نہ آتا، دینے سے بھی طلاق واقع نہ ہوتی بھئی!
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ مَشْرُوْعٌ﴾ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے ایک تصرف ہے مشروع ہے، ﴿حَتّٰی يُسْتَفَادُ بِهِ الْحُكْمُ﴾ یہاں تک کہ اس کے ذریعے طلاق کا حکم بھی حاصل ہو جاتا ہے یعنی طلاق واقع ہو جاتی ہے، ﴿وَالْمَشْرُوْعِيَّةُ لَا تُجَامِعُ الْحَظْرَ﴾ حظر بھئی پھر وہی ظاء کے ساتھ آ گیا، ممانعت بھئی! ﴿وَالْمَشْرُوْعِيَّةُ لَا تُجَامِعُ الْحَظْرَ﴾ اور مشروع ہونا یہ تو جمع نہیں ہو سکتا ممانعت کے ساتھ، ایک چیز مشروع بھی ہو اور ممنوع بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔
﴿بِخِلَافِ الطَّلَاقِ فِيْ حَالَةِ الْحَيْضِ﴾ یہ امام شافعی رحمہ اللہ پر ایک اعتراض ہوتا ہے، اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے کہا کہ طلاق کیا ہے؟ مشروع ہے۔ حالانکہ آپ بھی کہتے ہیں کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا غیر مشروع ہے۔ آپ بھی کہتے ہیں حیض کی حالت میں عورت کو طلاق دینا غیر مشروع ہے، طہر کی حالت میں طلاق دینی چاہیے۔ تو دیکھو، ایک چیز مشروع بھی ہے اور ممنوع بھی ہے بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کا جواب دیتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ۔ کہتے ہیں بھئی! وہاں جو حرام ہے حیض کی حالت میں طلاق دینا، اپنی ذات کی وجہ سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس کی وجہ سے عورت پر عدت لمبی ہو جاتی ہے۔ عورت پر عدت لمبی ہو جائے گی؛ کیونکہ جس حیض میں خاوند طلاق دے گا، اس سے اگلا طہر ہم شمار کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدت کس سے شمار ہوتی ہے؟ طہروں سے۔ تو اگلے تین طہر عورت گزارے گی اور عدت پوری ہو جائے گی۔ اور ہمارے نزدیک عدت ہم کس سے شمار کرتے ہیں؟ حیض سے۔ تو ہمارے نزدیک اگلے تین حیض گزارے گی تو عورت کی عدت پوری ہو جائے گی۔ لیکن یہ جو حیض جس کے اندر خاوند نے طلاق دی ہے، یہ حیض اس کو شوافع بھی شمار نہیں کرتے عدت میں اور احناف بھی اس حیض کو عدت میں شمار نہیں کرتے۔ توجہ ہے؟ بھئی ایک حیض کے اندر خاوند نے بیوی کو طلاق دی، تو یہ حیض عدت میں شمار نہیں۔ شوافع کے نزدیک بھی شمار نہیں کیونکہ ان کے نزدیک تو عدت طہروں سے شمار ہوتی ہے، یہ والا جس حیض میں طلاق دی ہے یہ عدت میں شمار نہیں۔ تو دیکھو، عورت پر عدت لمبی ہو گئی۔ اور احناف کے نزدیک بھی یہ والا حیض جس کے اندر طلاق دی ہے یہ عدت کے اندر شمار نہیں بلکہ اگلے تین حیض شمار ہوں گے۔ تو عدت تین حیض ہوئے یا ساڑھے تین حیض ہو گئے؟ ساڑھے تین حیض ہو گئے، دیکھا! عدت عورت پر لمبی ہو گئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ کی بات چل رہی ہے۔ ان پر اعتراض ہوا تھا کہ آپ نے کہا ایک چیز مشروع ہو وہ ممنوع نہیں ہو سکتی، لیکن آپ خود مانتے ہیں کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا ممنوع ہے۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کہ بھئی! یہاں طلاق اپنی ذات کی وجہ سے منع نہیں کیا گیا طلاق سے، بلکہ عورت پر عدت لمبی ہو جاتی ہے اس وجہ سے منع کیا گیا ہے۔ طلاق یہاں اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہی ہے، البتہ عدت کے لمبا ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے یعنی غیر کی وجہ سے ممانعت اور حرمت آ رہی ہے، خود اپنی طلاق کی ذات کی وجہ سے یہاں کوئی حرمت نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الطَّلَاقِ فِيْ حَالَةِ الْحَيْضِ﴾ بخلاف طلاق دینے حالتِ حیض میں، ﴿لِأَنَّ الْمُحَرَّمَ تَطْوِيْلُ الْعِدَّةِ عَلَيْهَا لَا الطَّلَاقُ﴾ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ اس عورت پر عدت کو لمبا کرنا ہے، ﴿لَا الطَّلَاقُ﴾ نہ کہ طلاق کو۔ طلاق یہاں حرام نہیں ہے بلکہ عدت کا لمبا کرنا حرام ہے، اس کی وجہ سے طلاق سے ممانعت ہو گی بھئی!
نیز اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک بھی جس طہر میں خاوند صحبت کر لے، اس میں طلاق دینا ممنوع ہے۔ اس میں طلاق دینا ممنوع ہے، تو دیکھو طلاق مشروع ہے لیکن آپ بھی فرما رہے ہیں کہ یہاں پر ممنوع ہے، تو مشروع بھی ہے اور ممنوع بھی ہے۔ تو اس کا بھی جواب وہ دیتے ہیں کہ بھئی! یہاں پر یہ جس طہر میں صحبت خاوند نے کر لی ہے، اس طہر کے اندر طلاق دینے سے اس لیے شریعت نے منع کیا ہے کہ عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی۔ عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی؛ کیونکہ خاوند نے صحبت کی ہے، تو اگر یہ حاملہ ہو چکی ہے تو عدت کیا ہو گی؟ وضعِ حمل۔ حاملہ کی عدت کیا ہوتی ہے؟ وضعِ حمل۔ جب وہ بچے کو جنم دے گی تب اس کی عدت پوری ہو جائے گی، اور اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت شوافع کے نزدیک طہروں کے ساتھ شمار ہو گی اور احناف کے نزدیک حیضوں کے ساتھ شمار ہو گی۔ تو جب خاوند بیوی سے صحبت کر لے گا، تو اب عورت پریشان ہو گی کہ پتا نہیں میں حاملہ ہوں کہ حاملہ نہیں ہوں۔ میرے ساتھ تو خاوند صحبت کر چکا ہے۔ اگر میں حاملہ ہوں تو میری عدت کیا؟ وضعِ حمل، اور اگر میں حاملہ نہیں ہوں تو میری عدت کیا؟ طہر شوافع کے نزدیک اور حیض احناف کے نزدیک۔ تو وہ طہر جس کے اندر خاوند صحبت کر لے، اس میں طلاق دینا اس لیے منع ہے کہ عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی۔ عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی، اگرچہ آگے چل کے پھر جب اس کو حیض وغیرہ آئے گا اس کو پتا لگ جائے گا کہ میں حاملہ نہیں، لیکن اس وقت تو جب طلاق دے رہا ہے عورت پر کیا کر رہا ہے؟ عدت کو مشتبہ کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اس لیے اس اشتباہ کی وجہ سے اس طہر کے اندر طلاق دینا منع ہے، خود طلاق کی اپنی ذات کی وجہ سے منع نہیں ہے بھئی!
آگے دیکھیے: ﴿وَلَنَا أَنَّ الْأَصْلَ فِي الطَّلَاقِ هُوَ الْحَظْرُ لِمَا فِيْهِ مِنْ قَطْعِ النِّكَاحِ الَّذِيْ تَعَلَّقَتْ بِهِ الْمَصَالِحُ الدِّيْنِيَّةُ وَالدُّنْيَوِيَّةُ﴾ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ادھر دیکھیے، ہمارے نزدیک طلاق کے اندر اصل ممانعت ہی ہے۔ طلاق کے اندر اصل ممانعت ہی ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس طلاق کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جائے گا، اور نکاح ایسی چیز تھی جس کے دنیاوی فائدے بھی تھے اور اخروی فائدے بھی تھے۔ اخروی فائدہ یہ کہ نکاح کی وجہ سے انسان زنا سے محفوظ ہو گیا، گناہوں سے بچ گیا بھئی! اور دنیاوی فائدے بھی ہیں کہ گھر آباد ہو گا، گھر کا نظام چلائیں گے، اولاد حاصل ہو گی، اولاد کی تربیت کریں گے وغیرہ، اور نیز شہوت پوری ہو گی، تو کتنی ہی دنیاوی مصلحتیں ہیں نکاح کے اندر۔ تو لہٰذا جب طلاق دے گا، تو یہ نکاح جس کی دنیاوی مصلحتیں بھی ہیں اور اخروی مصلحتیں بھی ہیں، یہ نکاح ٹوٹ جائے گا۔ لہٰذا اس لیے طلاق میں اصل یہ ہے کہ وہ ممنوع ہے۔ تو طلاق کے اندر اصل ممانعت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ جو دینی اور دنیاوی مصلحتیں ہیں وہ اب حاصل نہیں ہو سکتیں بھئی!
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَنَا﴾ ہماری دلیل یہ ہے، ﴿أَنَّ الْأَصْلَ فِي الطَّلَاقِ هُوَ الْحَظْرُ﴾ کہ اصل جو ہے طلاق کے اندر وہ ممانعت ہے، ﴿لِمَا فِيْهِ مِنْ قَطْعِ النِّكَاحِ الَّذِيْ تَعَلَّقَتْ بِهِ الْمَصَالِحُ الدِّيْنِيَّةُ وَالدُّنْيَوِيَّةُ﴾ ﴿لِمَا فِيْهِ﴾ اس وجہ سے کہ اس طلاق کے اندر وہ چیز ہے، ﴿مِنْ قَطْعِ النِّكَاحِ﴾ یعنی اس نکاح کو توڑنا، ﴿الَّذِيْ تَعَلَّقَتْ بِهِ﴾ کہ جس کے ساتھ متعلق ہیں، ﴿الْمَصَالِحُ الدِّيْنِيَّةُ وَالدُّنْيَوِيَّةُ﴾ دینی اور دنیاوی مصلحتیں بھئی! وہ نکاح جس کے ساتھ دینی اور دنیاوی مصلحتیں متعلق ہیں، اس کا توڑنا ہے اس طلاق کے ذریعے، تو لہٰذا طلاق میں اصل ممانعت ہی ہے۔
لیکن: ﴿وَالْإِبَاحَةُ لِلْحَاجَةِ إِلَى الْخَلَاصِ﴾ لیکن طلاق کا مباح ہونا اور اس کی اجازت ہونا ﴿لِلْحَاجَةِ إِلَى الْخَلَاصِ﴾ وہ چھٹکارے کی حاجت کی وجہ سے ہے، کہ بعض اوقات انسان بیوی سے اتنا تنگ آ جاتا ہے کہ ہر حال میں اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ﴿وَلَا حَاجَةَ إِلَى الْجَمْعِ بَيْنَ الثَّلَاثِ﴾ تو حاجت کی وجہ سے طلاق کی اجازت ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْإِبَاحَةُ لِلْحَاجَةِ إِلَى الْخَلَاصِ﴾ اور یہ اباحت جو ہوتی ہے چھٹکارے کی حاجت کی وجہ سے ہوتی ہے، ﴿وَلَا حَاجَةَ إِلَى الْجَمْعِ بَيْنَ الثَّلَاثِ﴾ اور کوئی حاجت نہیں ہے تین طلاقوں کے جمع کرنے کی بھئی! حاجت تو جب طہر میں ایک طلاق دے دے گا تو حاجت کیا ہوئی؟ پوری ہو گئی۔ حاجت پوری ہو گئی، یہی ہے عورت عدت گزارے گی اور عدت گزار کے بائنہ ہو جائے گی پھر جہاں مرضی نکاح کرے۔ تو لہٰذا حاجت تو ایک طلاق سے پوری ہو رہی تھی، لہٰذا تین اکٹھی طلاقیں دینے کی کوئی حاجت نہیں۔ ایک ہی لفظ سے دیتا ہے یا تین الگ الگ لفظوں سے، ان کو جمع کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ تو معلوم ہوا طلاق کی اجازت شریعت نے دی ہے حاجت اور ضرورت کی وجہ سے، اور جو چیز ضرورۃً ثابت ہو وہ ضرورت کے بقدر ہی ثابت ہوتی ہے۔ جس چیز کی اجازت شریعت نے ضرورت کی وجہ سے دی ہے وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہو گی اور ضرورت ایک طلاق سے پوری ہو جاتی ہے، لہٰذا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دینا جائز نہیں ہو گا۔ دے گا ہو جائیں گی، البتہ گناہ گار ہو گا بھئی!
یہ معنی ہے: ﴿وَلَا حَاجَةَ إِلَى الْجَمْعِ بَيْنَ الثَّلَاثِ﴾ اور کوئی حاجت نہیں ہے تین طلاقوں کے جمع کرنے کی، ﴿وَهِيَ فِي الْمُفَرَّقِ عَلَى الْأَطْهَارِ ثَابِتَةٌ نَظَرًا إِلَى دَلِيْلِهَا﴾ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ اے احناف! آپ نے کہا طلاق کے اندر اصل ممانعت ہے، اور اس کی شریعت نے اجازت دی ہے ضرورت کی وجہ سے۔ یہی باتیں تو امام مالک رحمہ اللہ بھی فرما رہے تھے، اور انھوں نے کہا تھا صرف ایک سے ضرورت پوری ہو گئی لہٰذا باقی دو اور تین دینے کی کوئی حاجت نہیں، لیکن وہاں آپ کہتے تھے کہ نہیں، ہر طہر میں ایک ایک طلاق دیتا چلا جائے، دے سکتا ہے، یہ بھی سنت طریقہ ہے۔ توجہ ہے؟ اور یہاں اب آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ حاجت کس سے پوری ہو گئی؟ ایک سے پوری ہو گئی، لہٰذا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں اکٹھی نہیں دے سکتا۔ دے گا تو گناہ گار ہو گا، طلاقیں واقع ہو جائیں گی لیکن یہ آدمی گناہ گار ہو گا، اس نے ایک حرام کام کا ارتکاب کیا ہے بھئی!
تو اس کا جواب اب صاحبِ ہدایہ دے رہے ہیں کہ بھئی! ہم نے کہا ایک طہر میں ایک ہی طلاق دے سکتا ہے، دو یا تین نہیں دے سکتا کیونکہ ایک سے حاجت پوری ہو گئی۔ باقی الگ الگ طہروں میں تین طلاقیں دینے کی حاجت ہو سکتی ہے، کس طرح؟ دلیلِ حاجت کی طرف نظر کرتے ہوئے، کس کی طرف؟ دلیلِ حاجت کی طرف نظر کرتے ہوئے جو ہم نے بیان کر دی۔ دلیلِ حاجت کیا؟ دلیلِ حاجت بھئی حاجت تو ایک امرِ باطنی ہے، ہاں! اس کا تو ہمیں پتا نہیں چل سکتا کہ واقعی یہ چھٹکارا پانے کا محتاج ہے یا محتاج نہیں، یہ تو ایک امرِ باطنی ہے، یہ تو ہمیں پتا نہیں چل سکتا۔ ایک جھگڑا ہے یا دو جھگڑے ہیں یا دو چار جھگڑے ہیں، تو اس سے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے یہ چھٹکارا پانے کا محتاج ہے بھئی! توجہ ہے؟ میاں بیوی میں تو جھگڑا ہو ہی جاتا ہے، تو ہر جھگڑے کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ شخص اب اس عورت سے چھٹکارے کا محتاج ہے۔ یہ شخص اس عورت سے چھٹکارے کا محتاج ہے، بلکہ وہ دلیلِ حاجت دیکھنا پڑے گی اور وہ کیا؟ کہ طہر کا زمانہ آیا اور ایسا طہر کا زمانہ ہے جس میں خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی، اور یہ جو طہر کا زمانہ ہوتا ہے اس کے اندر تو خاوند کی بیوی میں رغبت بڑھ جاتی ہے، یہ تو رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، اور رغبت کا نیا زمانہ ہونے کے باوجود خاوند اقدام علی الطلاق کر رہا ہے، طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے، طلاق دینا چاہ رہا ہے، تو یہ دلیلِ حاجت آ گئی، معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ رغبت کے زمانے کے باوجود اس کا طلاق پر پیش قدمی کرنا معلوم ہوا اس کو حاجت ہے، لہٰذا یہ طلاق دے سکتا ہے۔ پھر اگلا طہر آئے گا، یہ پھر رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، لیکن پھر بھی خاوند جو ہے طلاق پر اقدام کر رہا ہے، طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کو طلاق کی حاجت ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو اب وہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿وَهِيَ فِي الْمُفَرَّقِ عَلَى الْأَطْهَارِ ثَابِتَةٌ﴾ اور یہ جو حاجت ہے فی المفرق وہ طلاقیں جن کو جدا جدا کر دیا گیا ہے علی الاطہار طہروں پر ثابۃ ان میں ثابت ہے۔ بات کیا چل رہی تھی؟ کہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق سے حاجت پوری ہو گئی، لہٰذا دو یا تین نہیں دے سکتا۔ جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو وہ بقدرِ ضرورت ہو گی، اور ایک سے چھٹکارا ہو رہا ہے تو دو یا تین کی اجازت نہیں ہو گی ایک طہر میں۔ لیکن وہ طلاقیں جو طہروں کے اندر جدا جدا ہیں، ایک طہر میں ایک ہے، دوسرے میں دوسری ہے، تیسرے میں تیسری ہے، وہ جو مفرق طلاقیں ہیں جدا جدا طلاقیں ہیں طہروں کے اندر، ان کے اندر حاجت ثابت ہے ہم بتلا چکے ہیں، ان میں کیسے حاجت ثابت ہے؟ کہتے ہیں دلیلِ حاجت کی طرف نظر کریں، ہم نے کیا کہا تھا؟ حاجت کا تو پتا نہیں چل سکتا، دلیلِ حاجت کو دیکھیں گے اور دلیلِ حاجت سب میں موجود ہے۔ رغبت کے زمانے کے باوجود وہ کس پر اقدام کر رہا ہے؟ طلاق پر، معلوم ہوا اس کو حاجت ہے، پتا چل گیا۔ جب حاجت ہے تو طلاق اس کے لیے کیا ہو گئی؟ مباح ہو گئی، یہ طلاق دے سکتا ہے۔ اگلے طہر میں پھر اسی طرح ہے، پھر دے سکتا ہے۔ اگلے طہر میں پھر اسی طرح ہے، تو تیسری بھی دے سکتا ہے۔ تو وہاں حاجت ہے، لیکن ایک طہر میں ایک سے زیادہ کی حاجت نہیں ہے بھئی! یہ معنی ہے: ﴿وَهِيَ فِي الْمُفَرَّقِ عَلَى الْأَطْهَارِ ثَابِتَةٌ﴾ اور یہ حاجت جو ہے ان طلاقوں میں جو مفرق ہیں جن کو جدا جدا کیا گیا ہے علی الاطہار طہروں پر یعنی ہر طہر میں ایک ایک طلاق ہے، تو یہ جو طہروں پر تین طلاقوں کو الگ الگ کیا گیا ہے ان میں یہ جو حاجت ہے ﴿ثَابِتَةٌ نَظَرًا إِلَى دَلِيْلِهَا﴾ یہ حاجت ثابت ہے دلیلِ حاجت کی طرف نظر کرتے ہوئے، کس کی طرف؟ دلیلِ حاجت تو موجود ہے، رغبت کے زمانے کے باوجود وہ طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کو حاجت ہے بھئی!
﴿وَالْحَاجَةُ فِيْ نَفْسِهَا بَاقِيَةٌ فَأَمْكَنَ تَصْوِيْرُ الدَّلِيْلِ عَلَيْهَا﴾ ﴿وَالْحَاجَةُ فِيْ نَفْسِهَا بَاقِيَةٌ﴾ اور حاجت اپنی ذات کے اعتبار سے باقی ہے، ﴿فَأَمْكَنَ تَصْوِيْرُ الدَّلِيْلِ عَلَيْهَا﴾ تو لہٰذا ممکن ہے دلیل کی صورت بنانا علیھا اس حاجت پر۔ یہ پھر ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں کہا کہ بعض اوقات انسان کو چھٹکارے اور خلاصی کی حاجت ہوتی ہے، تو اس حاجت کی وجہ سے خاوند کے لیے طلاق دینا مباح ہو گا اور جائز ہو گا۔ تو یہ حاجت تو ایک ہی طلاق سے پوری ہو جاتی ہے۔ وہ تین بھی دے گا تو جدائی آ جائے گی، اور ایک دے گا تو بھی جب عورت عدت گزارے گی تو جدائی آ جائے گی، تو نکاح تو ٹوٹ جائے گا، حاجت تو ختم ہو گئی بھئی! تو صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ایک طلاق دینے کے باوجود بھی حاجت اپنی ذات کے اعتبار سے باقی ہو یہ ممکن ہے۔ ایک طلاق نے کیا کام کرنا ہے؟ عدت کے بعد نکاح کو توڑ دینا ہے۔ لیکن اس کے باوجود فی نفسہا حاجت باقی ہو یہ ممکن ہے، پھر بھی انسان کو ضرورت ہو دوسری اور تیسری دینے کی بھئی! وہ کیسے ممکن ہے؟ ایک نے بھی نکاح توڑنا ہے اور تین نے بھی نکاح توڑنا ہے تو پھر کیسے حاجت باقی ہے جب ایک سے ضرورت پوری ہو رہی ہے؟ آپ پھر بھی کہہ رہے ہیں دوسری اور تیسری دے سکتا ہے، اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی! ایک طلاق دینے کے بعد بھی حاجت باقی ہو سکتی ہے۔ حاجت باقی کس طرح؟ کہ بھئی! یہ عورت اتنی بد اخلاق، اتنی بد زبان ہے کہ خاوند چاہتا ہے کہ میں اس سے ایسی جان چھڑاؤں کہ دوبارہ نکاح کی کوئی صورت ہی نہ رہے۔ اگر میں نے صرف ایک طلاق دے کر جان چھڑا لی تو ہو سکتا ہے پھر کچھ دنوں کے بعد میری اس کی طرف رغبت شروع ہو جائے اور میں پھر کہیں دوبارہ اس سے نکاح نہ کر لوں، حالانکہ یہ عورت تو ایسی ہے اس کے ساتھ تو تھوڑا وقت گزارنا بھی مشکل ہے۔ تو لہٰذا خاوند ابھی بھی محتاج ہے کہ وہ تین طلاقیں دے کر پورے طور پر اپنے آپ کو اس عورت سے جدا کر دے تاکہ پھر کبھی اس کی طرف ذہن متوجہ ہی نہ ہو؛ کیونکہ پھر وہاں نکاح کی کوئی صورت ہی نہیں رہے گی جب تین طلاقیں دے دے گا بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا ایک طلاق سے نکاح تو ٹوٹ جائے گا لیکن پھر بھی عدت کے بعد دوبارہ نکاح کی گنجائش تو موجود رہے گی، اور خاوند تو کیا چاہتا ہے کہ دوبارہ نکاح کی بھی گنجائش نہ رہے، میں اس عورت سے اتنا تنگ ہوں کہ دوبارہ میں اس سے نکاح کرنا ہی نہیں چاہتا کسی صورت میں بھی۔ تو لہٰذا وہ تین کے ذریعے جان چھڑانا چاہتا ہے تاکہ میرا ذہن دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہو بھئی! تو فی نفسہا ایک طلاق دینے کے بعد بھی حاجت باقی ہے یا نہیں؟ حاجت اب بھی باقی ہے بھئی!
یہ معنی ہے: ﴿وَالْحَاجَةُ فِيْ نَفْسِهَا بَاقِيَةٌ﴾ اور حاجت جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ابھی بھی باقی ہے، ایک طلاق دے دی ہے لیکن حاجت ابھی بھی باقی ہے کہ پورے طور پر وہ جان چھڑانا چاہتا ہے، ﴿فَأَمْكَنَ تَصْوِيْرُ الدَّلِيْلِ عَلَيْهَا﴾ لہٰذا ممکن ہے اس پر دلیل کی صورت بنانا علیھا اس حاجت پر۔ لہٰذا اس حاجت پر دلیل کی صورت بنانا ممکن ہے جو صورت ہم نے بیان کر دی بھئی!
﴿وَالْمَشْرُوْعِيَّةُ فِيْ ذَاتِهِ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِزَالَةُ الرِّقِّ لَا تُنَافِي الْحَظْرَ لِمَعْنًى فِيْ غَيْرِهِ وَهُوَ مَا ذَكَرْنَاهُ﴾ امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں۔ پیچھے امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا تھا: ﴿وَالْمَشْرُوْعِيَّةُ لَا تُجَامِعُ الْحَظْرَ﴾ مشروعیت جو ہے وہ ممنوعیت کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ جو چیز مشروع ہے وہ ممنوع نہیں اور جو ممنوع ہے وہ مشروع نہیں، تو جب طلاق مشروع ہے تو آپ اس کو ممنوع قرار نہیں دے سکتے بھئی! تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿وَالْمَشْرُوْعِيَّةُ فِيْ ذَاتِهِ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِزَالَةُ الرِّقِّ لَا تُنَافِي الْحَظْرَ﴾ اور مشروعیت فی ذاتہٖ اور طلاق کا مشروع ہونا اپنی ذات کے اعتبار سے ﴿مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِزَالَةُ الرِّقِّ﴾ اس حیثیت سے کہ یہ ازالۂ رقیت ہے، ﴿لَا تُنَافِي الْحَظْرَ﴾ یہ ممانعت کے منافی نہیں ﴿لِمَعْنًى فِيْ غَيْرِهِ﴾ معنی کا یہاں ترجمہ کر لیں علت اور سبب کے، ﴿لِمَعْنًى فِيْ غَيْرِهِ﴾ ایک ایسی علت کی وجہ سے جو اس کے غیر میں پائی جائے۔
ہم کہتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ جو چیز مشروع ہو وہ ممنوع نہیں ہو سکتی، مشروعیت ممنوعیت کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، مشروعیت ممنوعیت کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے۔ ایک چیز اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہو اور غیر کے اعتبار سے غیر مشروع ہو، ممنوع ہو، یہ ہو سکتا ہے۔ ایک چیز اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہو لیکن غیر کے اعتبار سے ممنوع ہو یہ ہو سکتا ہے، جیسے پیچھے امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی بتلایا تھا کہ حیض کے اندر طلاق دینا کیوں ممنوع ہے؟ تطویلِ عدت کی وجہ سے کہ عورت پر عدت لمبی ہو جائے گی۔ تو دیکھا! وہاں پر بھی طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے تو مشروع تھی لیکن تطویلِ عدت کے اعتبار سے طلاق غیر مشروع تھی، تو دیکھا! مشروعیت کے ساتھ ممنوعیت جمع ہو گئی۔ ایک چیز اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہو لیکن غیر کی وجہ سے ممنوع ہو۔ اسی طرح وہ طہر جس کے اندر خاوند صحبت کر لیتا ہے، اس کے اندر بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک طلاق غیر مشروع ہے۔ توجہ ہے؟ ایک طہر اس میں خاوند نے صحبت کر لی ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں اس طہر میں طلاق ممنوع ہے۔ تو ان پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے تو کہا تھا طلاق مشروع ہے، تو یہ ممنوع کیسے ہو گئی؟ تو اس کا وہ کیا جواب دیتے ہیں کہ یہ طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے تو مشروع ہے لیکن چونکہ اس طہر میں بیوی سے صحبت کر لی ہے تو طلاق دے گا تو بیوی پر عدت مشتبہ ہو جائے گی، اس کو پتا ہی نہیں چلے گا میں عدت کس سے شمار کروں، حیض سے شمار کروں یا اگر میں حاملہ ہو چکی ہوں تو حمل سے شمار کروں، توجہ ہے؟ تو جس طہر میں صحبت کر لے اس کے اندر طلاق دے گا تو عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا وہاں پر بھی طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہے لیکن عدت کے مشتبہ ہونے کی وجہ سے غیر مشروع ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ جو چیز مشروع ہو وہ ممنوع نہیں ہو سکتی، تو ہم کیا جواب دیتے ہیں کہ ایک چیز اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہو لیکن غیر کی وجہ سے ممنوع ہو یہ ہو سکتا ہے۔
اور یاد رکھو یہ جو طلاق ہے نا، اس میں ازالۂ رقیت ہے۔ رِق غلامی کو کہتے ہیں، رِقٌّ کسے کہتے ہیں؟ غلامی کو۔ یہ یاد رکھو، یہ جو نکاح ہے اس میں بھی عورت کے لیے رقیت والا معنی ہے۔ عورت غلام تو نہیں بنتی لیکن کچھ نہ کچھ غلامی کا اثر آ جاتا ہے، خاوند کی پابند ہو جاتی ہے یہ عورت، خاوند کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جا سکتی بھئی! توجہ ہے؟ تو اس میں غلامی تو نہیں لیکن غلامی کا کچھ اثر ضرور آ جاتا ہے۔ تو لہٰذا طلاق یہ اس غلامی کو دور کرنا ہے۔ خاوند طلاق دے گا تو عورت سے غلامی ختم ہو جائے گی۔ تو لہٰذا طلاق کے اندر ازالۂ رقیت ہے، غلامی کا ختم کرنا ہے یعنی غلامی کے اثر کو ختم کرنا ہے، تو بہ ایں اعتبار طلاق مشروع ہے، جائز ہے۔ کسی ذات سے بھی غلامی کو ختم کرنا جائز ہے، مباح ہے، مشروع ہے۔ غلام کو آزاد کرنا کیا ہے؟ مشروع ہے بلکہ بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے۔ تو لہٰذا ازالۂ رقیت جو ہے اس کی طرف نظر کرتے ہوئے طلاق مشروع ہے۔ لیکن کسی غیر کی طرف نظر کرتے ہوئے، کسی غیر کی وجہ سے پھر بھی طلاق ممنوع ہو سکتی ہے۔
تو یہ معنی ہے: ﴿وَالْمَشْرُوْعِيَّةُ فِيْ ذَاتِهِ﴾ اور طلاق کا مشروع ہونا اپنی ذات کے اعتبار سے، ﴿مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِزَالَةُ الرِّقِّ﴾ اپنی ذات کے اعتبار سے اس حیثیت سے کہ طلاق تو کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ رقیت کا نام ہے، غلامی ختم کرنے کا نام ہے۔ توجہ ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے طلاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ رقیت کا نام ہے، اس لیے یہ مشروع ہے لیکن کسی غیر کی وجہ سے یہ پھر بھی ممنوع ہو سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْمَشْرُوْعِيَّةُ فِيْ ذَاتِهِ﴾ اور طلاق کا مشروع ہونا اپنی ذات کے اعتبار سے، ﴿مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِزَالَةُ الرِّقِّ﴾ اس حیثیت سے کہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے غلامی کو دور کرنا ہے، ﴿لَا تُنَافِي الْحَظْرَ﴾ یہ مشروعیت جو ہے یہ منافی نہیں ہے الحظر ممانعت کے، ﴿لِمَعْنًى فِيْ غَيْرِهِ﴾ کسی ایسے سبب کی وجہ سے فی غیرہٖ جو اس کے غیر میں پایا جا رہا ہے۔ طلاق تو اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہے کیونکہ یہ ازالۂ رقیت ہے، لیکن غیر کی وجہ سے ہو سکتا ہے یہ ممنوع ہو، توجہ ہے؟ یہ معنی ہے کہ طلاق کا مشروع ہونا ﴿لَا تُنَافِي الْحَظْرَ﴾ یہ ممانعت کے منافی نہیں کہ مشروعیت بھی ہو اور ساتھ کیا ہو؟ ممانعت بھی آ جائے، ﴿لِمَعْنًى فِيْ غَيْرِهِ﴾ ایک ایسے سبب کی وجہ سے فی غیرہٖ جو اس طلاق کے علاوہ میں پایا جا رہا ہے، ﴿وَهُوَ مَا ذَكَرْنَاهُ﴾ اور وہ جو سبب ہے وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، وہ کیا ہے؟ وہ سبب ہے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ طلاق دے گا تو نکاح ٹوٹے گا اور نکاح کی جو دنیاوی اور اخروی مصلحتیں ہیں وہ ساری ختم ہو جائیں گی۔ تو طلاق فی ذاتہٖ مشروع ہے لیکن دنیاوی اور اخروی مصلحتوں کے ختم ہونے کے اعتبار سے یہ ممنوع ہے بھئی!
﴿وَكَذَا إِيْقَاعُ الثِّنْتَيْنِ فِي الطُّهْرِ الْوَاحِدِ بِدْعَةٌ لِمَا قُلْنَا﴾ اور اسی طرح دو طلاقوں کو واقع کرنا ایک ہی طہر کے اندر یہ بھی بدعت ہے لما قلنا اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا، کہ حاجت ایک طلاق سے پوری ہو رہی ہے ایک طہر میں، لہٰذا دو یا تین کی ضرورت نہیں۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَكَذَا إِيْقَاعُ الثِّنْتَيْنِ فِي الطُّهْرِ الْوَاحِدِ بِدْعَةٌ لِمَا قُلْنَا﴾ اور اسی طرح دو طلاقوں کا واقع کرنا ایک ہی طہر میں بدعت ہے لما قلنا اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا۔
﴿وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِي الْوَاحِدَةِ الْبَائِنَةِ﴾ اچھا بھئی! میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر طلاقِ بائن دے دیتا ہے کوئی شخص اپنی بیوی کو، طلاقِ بائن، تو بقولِ اظہر یہ بھی بدعت ہے۔ بقولِ جو میں نے آپ کو لکھوایا تھا، طلاقِ بائن بقولِ اظہر بدعت ہے۔ تو اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِي الْوَاحِدَةِ الْبَائِنَةِ﴾ اور ایک طلاقِ بائنہ جو ہے اس کے اندر روایات مختلف ہیں۔ ﴿قَالَ فِي الْأَصْلِ﴾ اصل سے مراد ہے مبسوط بھئی! ﴿قَالَ فِي الْأَصْلِ﴾ امام محمد رحمہ اللہ اپنی کتاب مبسوط میں فرماتے ہیں: ﴿إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ﴾ کہ طلاقِ بائن دینے والے نے سنت سے خطا کی ہے۔ اس نے سنت طریقے سے خطا کی ہے، یہ سنت سے چوک گیا ہے، ﴿لِأَنَّهُ لَا حَاجَةَ إِلٰى إِثْبَاتِ صِفَةٍ زَائِدَةٍ فِي الْخَلَاصِ﴾ اس لیے کہ کوئی حاجت نہیں ہے الی اثباتِ صفۃٍ زائدۃٍ کہ کوئی زائد صفت ثابت کی جائے فی الخلاص چھٹکارے میں۔ طلاق میں تو اصل ممانعت ہے، چھٹکارے کی حاجت کی وجہ سے طلاق جائز ہو جاتی ہے، تو جب یہ طلاقِ رجعی کے ذریعے یہ حاجت پوری ہو رہی ہے تو پھر ایک وصفِ زائد یعنی طلاقِ بائن دینے کی کوئی حاجت نہیں ہے، لہٰذا یہ بھی بدعت ہے۔ تو اس لیے کہا: ﴿إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ﴾ اس نے سنت سے خطا کی ہے، ﴿لِأَنَّهُ لَا حَاجَةَ إِلٰى إِثْبَاتِ صِفَةٍ زَائِدَةٍ فِي الْخَلَاصِ﴾ اس لیے کیونکہ کوئی حاجت نہیں ہے کہ چھٹکارے میں زائد صفت کو ثابت کیا جائے، ﴿وَهِيَ الْبَيْنُوْنَةُ﴾ اور وہ زائد صفت بینونت یعنی جدائی ہے۔ ایک تو ویسے کہتا ہے خاوند بیوی کو: میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، لیکن ساتھ وہ کیا ملا رہا ہے؟ بائن، کہ میں تمہیں طلاقِ بائن دیتا ہوں، تو یہ بینونت اور یہ جو جدائی والی صفت اس نے طلاق کے لیے بڑھا دی اس کی کوئی حاجت نہیں تھی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ لَا حَاجَةَ إِلٰى إِثْبَاتِ صِفَةٍ زَائِدَةٍ فِي الْخَلَاصِ وَهِيَ الْبَيْنُوْنَةُ﴾ اس لیے کیونکہ کوئی حاجت نہیں ہے کہ چھٹکارے میں زائد صفت کو ثابت کیا جائے اور وہ زائد صفت بینونت یعنی جدائی ہے، ﴿وَفِيْ رِوَايَةِ الزِّيَادَاتِ أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ لِلْحَاجَةِ إِلَى الْخَلَاصِ نَاجِزًا﴾ اور زیادات کی روایت میں ہے کہ یہ بھی مکروہ نہیں ہے، ﴿لِلْحَاجَةِ إِلَى الْخَلَاصِ نَاجِزًا﴾ چھٹکارے کی حاجت کی وجہ سے ناجزاً، ناجز کا معنی ہے مکمل یعنی فوری، فوری۔ بھئی طلاقِ رجعی دے گا اس میں تو رجوع ہو سکتا ہے، عدت کے بعد جب عدت پوری ہو جائے گی اب عورت بائنہ ہو گئی، نکاح پورے طور پر ٹوٹ گیا۔ لیکن کوئی شخص فوری چھٹکارا چاہتا ہے، فوری چھٹکارا چاہتا ہے کہ میں پھر رجوع بھی نہ کروں تاکہ اس کی طرف، تو وہ طلاقِ بائن کا محتاج ہوا تو وہ لہٰذا طلاقِ بائن کی بھی اجازت ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَفِيْ رِوَايَةِ الزِّيَادَاتِ﴾ اور زیادات کی روایت میں ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی ظاہرِ روایت کتنی کتابیں ہیں؟ چھ۔ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں ہیں جن کو ظاہرِ روایت کہتے ہیں: مبسوط، زیادات، جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر اور سیر کبیر۔ تو دیکھو، اسی میں مبسوط کے اندر آیا طلاقِ بائن دینا یہ کیا ہے؟ اس نے سنت میں غلطی کی ہے، سنت میں خطا کی ہے، اور زیادات میں کیا آیا؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَفِيْ رِوَايَةِ الزِّيَادَاتِ أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ لِلْحَاجَةِ إِلَى الْخَلَاصِ نَاجِزًا﴾ اور زیادات کی روایت میں ہے کہ یہ طلاقِ بائن بھی مکروہ نہیں ہے بوَجہِ مکمل چھٹکارے کی حاجت کی وجہ سے کہ کوئی شخص مکمل یا فوری چھٹکارا چاہتا ہے۔
آگے دیکھیے: ﴿وَالسُّنَّةُ فِي الطَّلَاقِ مِنْ وَجْهَيْنِ: سُنَّةٌ فِي الْوَقْتِ، وَسُنَّةٌ فِي الْعَدَدِ﴾ اور سنت جو ہے طلاق میں وہ دو اعتبار سے ہے: ﴿سُنَّةٌ فِي الْوَقْتِ وَسُنَّةٌ فِي الْعَدَدِ﴾ ایک تو وقت کے اندر سنت، ﴿وَسُنَّةٌ فِي الْعَدَدِ﴾ اور دوسری عدد کے اندر سنت۔ وقت کے اندر کیا سنت ہے؟ کب طلاق دینی چاہیے؟ طہر کے اندر، اور کون سا طہر؟ جس میں صحبت نہ کی ہو۔ اور عدد کے اندر بھی ایک سنت ہے کیا؟ کتنی طلاقیں ایک وقت میں دے؟ ایک ہی دے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالسُّنَّةُ فِي الطَّلَاقِ مِنْ وَجْهَيْنِ: سُنَّةٌ فِي الْوَقْتِ وَسُنَّةٌ فِي الْعَدَدِ﴾ اور سنت جو ہے طلاق میں دو اعتبار سے ہے: سنت فی الوقت ایک سنت فی الوقت ہے، اور سنت فی العدد اور ایک عدد میں سنت ہے۔ ﴿فَالسُّنَّةُ فِي الْعَدَدِ يَسْتَوِيْ فِيْهَا الْمَدْخُوْلُ بِهَا وَغَيْرُ الْمَدْخُوْلِ بِهَا﴾ سنت فی العدد یعنی سنت فی العدد کیا ہے؟ ایک طلاق۔ کہتے ہیں اس میں مدخول بہا اور غیر مدخول بہا دونوں برابر ہیں۔ مدخول بہا یعنی جس سے خاوند صحبت کر چکا ہے، اس کو بھی سنت طلاق دینا چاہتا ہے تو ایک...
طہر میں ایک ہی طلاق دے، اور غیر مدخول بہا جس سے خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی، اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو اس میں بھی سنت فی العدد کیا ہے؟ ایک ہی طلاق دے، وہ ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی اور اس پر عدت بھی نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَالسُّنَّةُ فِي الْعَدَدِ“ تو عدد کے اندر جو سنت ہے ”يَسْتَوِي فِيهَا الْمَدْخُولُ بِهَا وَغَيْرُ الْمَدْخُولِ بِهَا“ اس کے اندر مدخول بہا اور غیر مدخول بہا دونوں عورتیں برابر ہیں ”وَقَدْ ذَكَرْنَاهَا“ اور تحقیق ہم اس کو ذکر کر چکے ہیں کہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق دے بھئی۔
”وَالسُّنَّةُ فِي الْوَقْتِ يَثْبُتُ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا خَاصَّةً“ اور سنت فی الوقت، سنت فی الوقت کیا ہے؟ کس وقت طلاق دینا سنت ہے؟ طہر کے اندر، کس میں؟ طہر کے اندر۔ کہتے ہیں: ”وَالسُّنَّةُ فِي الْوَقْتِ“ اور وقت کے اندر جو سنت ہے ”يَثْبُتُ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا خَاصَّةً“ یہ مدخول بہا کے بارے میں ہی ثابت ہے خاص طور پر۔ وہ جو غیر مدخول بہا ہے، جس سے خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی، میں نے آپ کو بتلایا تھا اس کو طہر میں بھی طلاق دے سکتا ہے، اس کو حیض میں بھی طلاق دے سکتا ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا یہ سنت فی الوقت یہ صرف مدخول بہا کے حق میں ہے، جس سے خاوند صحبت کر چکا ہے اسے طہر میں طلاق دے، اور وہ طہر بھی ایسا ہو جس میں صحبت اس کے ساتھ نہ کی ہو۔
تو کہتے ہیں: ”وَالسُّنَّةُ فِي الْوَقْتِ يَثْبُتُ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا خَاصَّةً“ اور سنت فی الوقت جو ہے یہ ثابت ہوتی ہے خاص طور پر مدخول بہا کے حق میں ”وَهُوَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي طُهْرٍ لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ“ اور وہ یہ کہ خاوند طلاق دے اس مدخول بہا کو ”فِي طُهْرٍ“ ایسے طہر میں ”لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ“ جس میں اس نے اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو ”لِأَنَّ الْمُرَاعَى دَلِيلُ الْحَاجَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کی رعایت رکھی جائے گی ”دَلِيلُ الْحَاجَةِ“ وہ دلیلِ حاجت ہے ”وَهُوَ الْإِقْدَامُ عَلَى الطَّلَاقِ فِي زَمَانِ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ“ اور وہ پیش قدمی کرنا ہے طلاق پر رغبت کے نئے ہونے کے زمانے میں، اور وہ زمانہ کون سا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ الطُّهْرُ الْخَالِي عَنِ الْجِمَاعِ“ وہ طہر ہے جو جماع سے خالی ہو۔ پھر دیکھیے اس کو، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُرَاعَى دَلِيلُ الْحَاجَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کی رعایت رکھی جائے گی وہ دلیلِ حاجت ہے۔ جی۔
بھئی دیکھیے بات چل رہی ہے سنت فی الوقت۔ طلاق کے اندر ایک سنت فی الوقت ہے، ایک سنت فی العدد ہے۔ سنت فی العدد کیا ہے؟ ایک ہی طلاق دے دیں، اور اس میں مدخول بہا اور غیر مدخول بہا دونوں برابر ہیں یعنی دونوں کو ایک ہی طلاق دی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور جبکہ سنت فی الوقت جو ہے صرف مدخول بہا کے حق میں ثابت ہے، اور وہ بھی کس وجہ سے؟ دلیلِ حاجت کی وجہ سے۔ اس کی اجازت نہیں ہوگی خاوند کو لیکن کس وجہ سے؟ حاجت، کہ وہ چھٹکارے کا محتاج ہے، اور چھٹکارے کا محتاج وہ کب ہوگا؟ کب ہم کہیں گے کہ اس کو حاجت ہے؟ حاجت اس کے لیے کب ہوگی؟ دلیلِ حاجت کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ دلیلِ حاجت جب پائی جائے گی تو ہم کہیں گے اس کے لیے حاجت ہے۔ تو وہ طہر جس میں صحبت نہیں کی وہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے۔ اور رغبت کے نئے ہونے کے زمانے کے باوجود خاوند جو ہے طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے، طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کو کیا ہے؟ طلاق کی حاجت ہے۔ اور یہ صرف کس کے حق میں ہوگا؟ مدخول بہا کے حق میں۔ توجہ ہے؟
آپ کو آگے چل کر صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ غیر مدخول بہا کو جب مرضی طلاق دے دے، طہر میں دے دے چاہے حیض میں۔ امام زفر کہیں گے: نہیں، غیر مدخول بہا کو بھی طہر میں طلاق دینی پڑے گی۔ جی۔ کس میں؟ طہر میں۔ کیوں؟ کہتے ہیں: بھئی کیونکہ طہر یہ رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ ہے۔ اور اگر حیض میں طلاق دے گا تو حیض میں تو انسان کو طبعاً عورت سے نفرت ہوتی ہے یعنی صحبت کی طرف دل متوجہ نہیں ہوتا، اور نیز وہ طہر جس میں خاوند صحبت کر لے وہاں بھی خاوند کی خواہش پوری ہو گئی، لہٰذا اب وہ رغبت میں کمی آ گئی۔ تو لہٰذا یہ حیض میں یا ایسا طہر جس میں خاوند صحبت کر چکا ہے یہاں شریعت نے طلاق کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ ہو سکتا ہے یہ عارضی جو نفرت ہے اس کی وجہ سے طلاق دے رہا ہو۔ جی۔ حقیقتاً اس کو طلاق کی حاجت نہیں، ویسے عارضی نفرت کی وجہ سے طلاق دے رہا ہو تو شریعت نے اس میں منع کیا ہے۔ لیکن جب ایسا طہر ہے جس میں خاوند نے بھی صحبت نہیں کی اور یہ تو رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ ہے، پھر بھی خاوند طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا خاوند کو حاجت ہے، لہٰذا اس کے لیے طلاق دینا مباح ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟
تو میں بات کر رہا تھا وہ عورت جس کے ساتھ خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی اس کو ہمارے نزدیک طہر میں بھی طلاق دے سکتا ہے خاوند اور حیض میں بھی، جس کے ساتھ ابھی صحبت نہیں کی۔ امام زفر فرماتے ہیں: نہیں، اس کو بھی طہر میں ہی طلاق دینا پڑے گی، حیض میں نہیں دے سکتا کیونکہ حیض تو نفرت کا زمانہ ہے۔ حیض تو نفرت کا زمانہ ہے تو ہو سکتا ہے اس عارضی نفرت کی وجہ سے طلاق دے رہا ہو، تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ نہیں بھئی! یہ عورت وہ ہے جس کے ساتھ خاوند نے ابھی صحبت ہی نہیں کی۔ جب خاوند نے اس کے ساتھ ابھی صحبت ہی نہیں کی تو اس کے اندر جو خاوند کی رغبت ہے وہ بڑی کامل رغبت ہے، وہ حیض کا زمانہ آنے سے بھی وہ رغبت ختم نہیں ہوگی کیونکہ اس نے ابھی تک اس عورت سے صحبت ہی نہیں کی، نئی بیوی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ جب نئی بیوی ہے، اس سے ابھی تک اس کو اپنا مقصود ہی نہیں حاصل ہوا، اس نے ابھی تک اس کے ساتھ صحبت ہی نہیں کی تو لہٰذا اس کے ساتھ تو رغبت بڑی کامل ہے، یہ حیض وغیرہ کی وجہ سے بھی کم نہیں ہوگی بھئی۔ لہٰذا اس لیے غیر مدخول بہا کے اندر چونکہ رغبت بڑی کامل ہے، لہٰذا وہ چاہے طہر میں طلاق دے، چاہے حیض میں دے، ہر وقت رغبت موجود ہے، لیکن پھر بھی یہ طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کو طلاق کی حاجت ہے، دے سکتا ہے۔ لیکن وہ عورت جس کے ساتھ صحبت کر چکا ہے اس سے تو خاوند نے اپنا مقصود حاصل کر لیا، وہ تو صحبت کر چکا ہے اس کے ساتھ، لہٰذا اب اس کو حیض کے اندر بھی طلاق نہیں دے سکتا اور وہ طہر جس میں صحبت کر لیا اس میں بھی طلاق نہیں دے سکتا کیونکہ یہ عارضی نفرت کا زمانہ ہے بھئی۔ لیکن جب ایسے طہر میں طلاق دے رہا ہے جس میں صحبت نہیں کی، معلوم ہوا اس کو واقعی طلاق کی حاجت ہے، یہ واقعی اس عورت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُرَاعَى دَلِيلُ الْحَاجَةِ“ اور اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کی رعایت رکھی جائے گی ”دَلِيلُ الْحَاجَةِ“ وہ حاجت کی دلیل ہے، اور وہ حاجت کی دلیل کیا؟ دوبارہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَهُوَ الْإِقْدَامُ عَلَى الطَّلَاقِ فِي زَمَانِ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ“ اور وہ طلاق پر پیش قدمی کرنا ہے اس زمانے کے اندر جو کہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے ”وَهُوَ الطُّهْرُ الْخَالِي عَنِ الْجِمَاعِ“ اور وہ رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ وہ طہر ہے ”الْخَالِي عَنِ الْجِمَاعِ“ جو صحبت اور جماع سے خالی ہے۔ ”أَمَّا زَمَانُ الْحَيْضِ فَزَمَانُ النَّفْرَةِ“ باقی حیض کا جو زمانہ ہے وہ نفرت کا زمانہ ہے۔ کس کا؟ نفرت۔ کیا معنی نفرت؟ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، یہ معنی نہیں کہ عورت سے نفرت ہو گئی ہے، معنی یہ ہے کہ اس وقت صحبت کے اعتبار سے ذہن اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ شرعاً بھی حیض کے اندر صحبت منع اور نیز طبعاً بھی انسان کی خواہش نہیں ہوتی کہ عورت سے صحبت کرے جبکہ عورت سے حیض کا خون جاری ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ یہ عورت سے نفرت کا زمانہ ہے یعنی صحبت کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ صحبت۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا زَمَانُ الْحَيْضِ فَزَمَانُ النَّفْرَةِ“ تو جو حیض کا زمانہ ہے وہ عورت سے نفرت کا زمانہ ہے ”وَبِالْجِمَاعِ مَرَّةً فِي الطُّهْرِ“ اور نیز وہ طہر جس میں خاوند صحبت کر لے، جب صحبت کر لے گا تو خاوند کی تو خواہش پوری ہو گئی تو اس وقت بھی پھر اب اس کی عورت میں رغبت باقی نہ رہے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالْجِمَاعِ مَرَّةً فِي الطُّهْرِ تَفْتُرُ الرَّغْبَةُ“ اور طہر کے اندر ایک مرتبہ جماع کر لینے سے ”تَفْتُرُ الرَّغْبَةُ“ رغبت کم ہو جائے گی، فَتَرَ يَفْتُرُ کا معنی کم ہونا۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالْجِمَاعِ مَرَّةً فِي الطُّهْرِ تَفْتُرُ الرَّغْبَةُ“ اور طہر کے اندر ایک مرتبہ جماع کر لینے سے رغبت کم ہو جائے گی۔ تو لہٰذا اس وقت طلاق نہ دے، کہیں ایسا نہ ہو کہ عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے یہ طلاق دے رہا ہو۔
”وَغَيْرُ الْمَدْخُولِ بِهَا يُطَلِّقُهَا فِي حَالَةِ الطُّهْرِ وَالْحَيْضِ“ اور غیر مدخول بہا بیوی جو ہے اس کو خاوند طلاق دے سکتا ہے طہر کی حالت میں بھی اور حیض کی حالت میں بھی ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے ”وَهُوَ يَقِيسُهَا عَلَى الْمَدْخُولِ بِهَا“ وہ اس غیر مدخول بہا کو قیاس کرتے ہیں مدخول بہا پر۔ اور مدخول بہا کے اندر حیض کی حالت میں طلاق جائز نہیں تو غیر مدخول بہا میں بھی حیض کی حالت میں طلاق جائز نہیں ہوگی۔ ”وَلَنَا أَنَّ الرَّغْبَةَ فِي غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا صَادِقَةٌ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ غیر مدخول بہا کے اندر جو مرد کی رغبت ہے ”صَادِقَةٌ“ وہ سچی ہے، کامل ہے ”لَا تَقِلُّ بِالْحَيْضِ“ یہ حیض کی وجہ سے بھی کم نہیں ہوتی ”مَا لَمْ يَحْصُلْ مَقْصُودُهُ مِنْهَا“ جب تک خاوند کا اس سے مقصود حاصل نہیں ہو جاتا یعنی جب تک خاوند اس سے صحبت نہیں کر لیتا ”وَفِي الْمَدْخُولِ بِهَا تَتَجَدَّدُ بِالطُّهْرِ“ اور مدخول بہا کے اندر جو ہے وہ رغبت نئی ہوتی ہے ”بِالطُّهْرِ“ کس کی وجہ سے؟ طہر کی وجہ سے، تو دونوں میں فرق ہے۔ ایک میں رغبت طہر کی وجہ سے نئی ہوتی ہے اور دوسری کے اندر ہر وقت رغبت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
”قَالَ: وَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَحِيضُ مِنْ صِغَرٍ أَوْ كِبَرٍ“ قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَحِيضُ مِنْ صِغَرٍ أَوْ كِبَرٍ“ اچھا بھئی! اب مسئلہ آیا وہ عورت جس کو حیض نہیں آتا، یا تو وہ صغیرہ ہے، نابالغہ ہے، ابھی بالغ ہی نہیں ہوئی، یا اسی طرح وہ عورت آئسہ ہے بھئی، آئسہ۔ آئسہ یعنی ناامید، ناامید۔ اور آئسہ یاد رکھو یہ جو عورتیں ہیں ان کو جب تک حیض آتا رہتا ہے ان سے اولاد ممکن ہے، لیکن پچاس پچپن سال کی عمر میں جا کر حیض بند ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے بعد عورت سے اولاد نہیں ہو سکتی بھئی۔ توجہ ہے؟ تو اب اگر ایک صغیرہ ہے جسے حیض نہیں آتا یا ایک آئسہ ہے پچاس پچپن سال سے زائد عمر کی عورت ہے تو اب ان کو اگر کوئی طلاقِ سنت دینا چاہے تو کیسے طلاقِ سنت دے گا؟ توجہ ہے؟ تو بتائیں گے کہ ان کے اندر ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہے۔ لہٰذا ان کو کوئی طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے، تین طلاقیں دینا چاہتا ہے تو ایک ایک مہینے کے وقفے کے ساتھ تین طلاقیں دے دے تو یہ طلاقِ سنت ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَحِيضُ مِنْ صِغَرٍ أَوْ كِبَرٍ“ کہ اگر عورت ایسی ہے کہ اس کو حیض نہیں آتا صغیرہ ہونے کی وجہ سے ”أَوْ كِبَرٍ“ یا کبیرہ ہونے کی وجہ سے یعنی وہ آئسہ ہے یا اسی طرح حاملہ ہے۔ ایک عورت حاملہ ہے اور اس کو خاوند طلاق دینا چاہتا ہے، اور کون سی طلاق دینا چاہتا ہے؟ طلاقِ سنت کہ میری اس سے مکمل جان چھوٹ جائے، تو اس میں بھی یہی ہے کہ ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہے، تو ایک ایک مہینے کے بعد طلاق دیتا چلا جائے اور اس طرح تین طلاقیں پوری ہو جائیں گی اور طلاق سنت طریقے سے ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: اگر ”وَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَحِيضُ مِنْ صِغَرٍ أَوْ كِبَرٍ“ اور اگر عورت جو ہے ایسی ہے کہ اس کو حیض نہیں آتا صغیرہ ہونے کی وجہ سے یا کبیرہ ہونے کی وجہ سے یعنی آئسہ ہے ”فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تو خاوند نے یہ ارادہ کیا کہ اس کو تین طلاقیں دے دے ”لِلسُّنَّةِ“ سنت طریقے پر ”طَلَّقَهَا وَاحِدَةً“ تو خاوند کیا کرے گا اس کو؟ ایک طلاق دے دے گا ”فَإِذَا مَضَى شَهْرٌ طَلَّقَهَا أُخْرَى“ پھر جب ایک مہینہ گزر جائے تو اس کو دوسری طلاق دے دے، اس طرح تین پوری کر لے۔ ”لِأَنَّ الشَّهْرَ فِي حَقِّهِمَا قَائِمٌ مَقَامَ الْحَيْضِ“ اس لیے کیونکہ مہینہ جو ہے ان دونوں کے حق میں حیض کے قائم مقام ہے یعنی صغیرہ اور کبیرہ، ان کے حق میں حیض کے قائم مقام ہے۔ ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ إِلَى أَنْ قَالَ: وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ“ بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ“ اور وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہو جائیں یعنی جن کو حیض نہیں آتا ”مِنْ نِسَائِكُمْ“ تمہاری بیویوں میں سے ”إِنِ ارْتَبْتُمْ“ اگر تمہیں شک ہو ان کی عدت کے بارے میں یعنی تم اسے شمار کرنا چاہتے ہو ”فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ“ تو ان کی عدت تین ماہ ہے ”وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ“ اور اسی طرح وہ عورتیں جن کو حیض نہیں آتا یعنی جو صغیرہ ہیں، ان کی عدت بھی تین مہینے ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا وہ عورتیں جن کو حیض نہیں آتا ان کی عدت اللہ تعالیٰ نے مہینوں کے ساتھ ذکر فرمائی ہے، معلوم ہوا ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہے۔ تو یہاں پر بھی ان کے اندر بھی اگر سنت طریقے سے طلاق دینا چاہتا ہے تو ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الشَّهْرَ فِي حَقِّهِمَا قَائِمٌ مَقَامَ الْحَيْضِ“ اس لیے کیونکہ مہینہ ان کے حق میں حیض کے قائم مقام ہے ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ“ اور وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہو گئی ہیں ”إِلَى أَنْ قَالَ“ یہاں تک کہ آگے اللہ فرماتے ہیں: ”وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ“ اور وہ عورتیں جن کو حیض نہیں آتا۔ ”وَالْإِقَامَةُ فِي الْحَيْضِ خَاصَّةً“ اور قائم کرنا جو ہے یہ خاص طور پر حیض کے حق میں ہے، یہاں احناف کے راجح قول کو ذکر کر رہے ہیں۔ بعض احناف کیا کہتے ہیں؟ یہ جو ایک مہینہ ہے یہ حیض اور طہر دونوں کے قائم مقام ہے۔ جی۔ حیض اور طہر دونوں کے قائم مقام ہے لیکن صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ نہیں، راجح یہی ہے کہ یہ جو مہینہ ہے یہ حیض کے قائم مقام ہے خاص طور پر۔ جی۔ یاد رکھو، عورتوں کے اندر حیض کے دن بھی مقرر ہوتے ہیں اور طہر کے دن بھی مقرر ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک عورت ہے اس کو ہر مہینے پانچ دن حیض آتا ہے اور تیئیس دن مثلاً اس کو طہر رہتا ہے، یہ اٹھائیس انتیس دن یعنی یہ دائرہ ان کا چلتا رہتا ہے تقریباً اٹھائیس انتیس دن کا دائرہ ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ اٹھائیس یا انتیس دن جس میں ایک طہر بھی آ جاتا ہے اور ایک حیض بھی۔ مثلاً ایک عورت کا طہر ہے تیئیس دن اور حیض ہے پانچ دن، تو ہر مہینے اسی طرح ہوگا۔ ہر مہینے تیئیس دن طہر اور پانچ دن حیض، اور بعض اوقات پھر حیض بدلتا ہے تو ہم کہیں گے اس کی عادت بدل گئی ہے عورت کی عادت، لیکن عموماً ایک ہی عادت چلتی رہتی ہے الا یہ کہ کوئی بیماری وغیرہ آ جائے پھر عادت بدلتی ہے۔ تو اب دیکھو یہ اٹھائیس انتیس دن کے اندر تو طہر بھی گزر جاتا ہے اور حیض بھی گزر جاتا ہے تو بعض علمائے احناف فرماتے ہیں کہ یہ جو ایک مہینہ ہے یہ طہر اور حیض دونوں کے قائم مقام ہے۔ لیکن راجح کیا ہے؟ صاحبِ ہدایہ ترجیح دے رہے ہیں کہ یہ مہینہ خاص طور پر حیض کے قائم مقام ہے، اور کیوں حیض کے قائم مقام ہے؟ اس کی بھی دلیل بتلائیں گے، وجہ یہ یاد رکھو جب کوئی شخص نئی باندی کا مالک بنتا ہے مثلاً خرید لی یا کسی نے تحفہ دے دی، تو خریدار پر واجب ہے کہ ایک حیض انتظار کرے، فوراً باندی کے ساتھ وہ صحبت نہیں کر سکتا۔ جی۔ اس کے لیے حرام ہے صحبت کرنا یہاں تک کہ ایک حیض گزار لے باندی اس کے پاس، جب ایک حیض گزر جائے گا پتہ چل جائے گا کہ باندی پچھلے مالک سے حاملہ نہیں ہے، اب ہاں اس نئے مالک کے لیے صحبت جائز ہو جائے گی۔ تو اس کو استبراء کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ استبراء۔ استبراء یعنی رحم کی براءت کو طلب کرنا، رحم کی صفائی کو طلب کرنا۔ تو نیا مالک ایک حیض انتظار کرے گا صحبت سے پہلے استبراء کے طور پر، یعنی رحم کی صفائی کروائے گا۔ کیا کرے گا؟ رحم کی صفائی، تاکہ پتہ چل جائے کہ اس عورت کا رحم صاف ہے کہیں یہ حاملہ تو نہیں سابقہ مالک سے۔ جی۔ اب یہ استبراء ایک حیض کا ہوتا ہے، اگر ایسی عورت ہے جس کو حیض آتا ہی نہیں تو بالاتفاق احناف کے ہاں وہاں استبراء مہینے کے ساتھ ہوگا، باندی آئسہ ہے بڑی عمر والی ہے، اب اس کو حیض تو آتا نہیں تو پھر یہ ایک مہینہ حیض کے قائم مقام ہو جائے گا، ایک مہینے تک مالک صحبت نہیں کر سکتا، جب ایک مہینہ گزر جائے پھر مالک صحبت کر سکتا ہے۔ جی۔ تو دیکھو استبراء کے اندر مہینے کو حیض کا قائم مقام کیا گیا ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی مہینے کو حیض کا قائم مقام قرار دیں گے، حیض اور طہر دونوں کا قائم مقام قرار نہیں دیں گے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَالْإِقَامَةُ فِي الْحَيْضِ خَاصَّةً“ اور یہ جو مہینے کو قائم مقام کرنا ہے ”فِي الْحَيْضِ“ یہ حیض میں ہوگا ”خَاصَّةً“ خاص طور پر ”حَتَّى يُقَدَّرُ الِاسْتِبْرَاءُ“ یہاں پر بھی یہ حَتّٰی نَصب نہیں دے گا یعنی حَتّٰی کے بعد أَنْ مقدر نہیں ہوگا۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ حَتّٰی کے نَصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں یعنی حَتّٰی کے بعد أَنْ کے مقدر ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ وہ حَتّٰی کا جو مابعد ہے وہ مستقبل ہونا چاہیے حَتّٰی کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ حَتّٰی جو ہے سببيت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو یعنی ماقبل سبب ہو مابعد کے لیے یا مابعد جو ہے وہ غایت ہو ماقبل کے لیے تو پھر ہی حَتّٰی نَصب دے گا۔ تو یہاں پر یہ شرطیں پوری نہیں، لہٰذا ”يُقَدَّرُ“ پر رفع پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى يُقَدَّرُ الِاسْتِبْرَاءُ فِي حَقِّهِمَا“ یہاں تک کہ استبراء مقرر کیا جائے گا ان دونوں کے حق میں ”بِالشَّهْرِ“ مہینے کے ساتھ ”وَهُوَ بِالْحَيْضِ لَا بِالطُّهْرِ“ اور استبراء تو حیض کے ساتھ ہوتا ہے، طہر کے ساتھ نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی یہ مہینہ حیض کا قائم مقام ہوگا۔
”ثُمَّ إِنْ كَانَ الطَّلَاقُ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ يُعْتَبَرُ الشُّهُورُ بِالْأَهِلَّةِ“ پھر اگر یہ جو طلاق دی تھی یہ اولِ شہر میں دی تھی... بھئی دیکھیے، طلاقِ سنت کی بات چل رہی ہے، خاوند طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے یعنی تین طلاقیں دینا چاہتا ہے الگ الگ طہروں میں، لیکن یہ عورت وہ ہے جس کو حیض آتا ہی نہیں تو اس کو پھر سنت طلاق کیسے دیں گے؟ تو بتلایا کہ ان میں ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینے کا فصل کر دے۔ یہ ایک مہینہ کس کے قائم مقام ہے؟ حیض کے قائم مقام ہے۔ اب اگر مثلاً طلاق دی مہینے کے پہلے دن، جس شام چاند نظر آیا ہے، جی، تو اگر اس وقت طلاق دی ہے تو پھر طلاقِ سنت مہینے بعد دینی ہے، تو اگلا چاند جب نظر آئے تو اس وقت دوسری طلاق دے دے، پھر اس سے اگلا چاند جب نظر آئے تو پھر تیسری طلاق دے دے، یہ ہے طلاقِ سنت کا طریقہ۔ اور اگر یہ پہلی طلاق جو خاوند نے دی ہے طہر کے اندر، یہ مہینے کے درمیان میں ہے، دی تو طہر میں ہی ہے لیکن مہینے کے درمیان میں دی ہے تو پھر اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں: اب دنوں کو شمار کریں گے، تیس تیس دن کے فرق کے ساتھ اگلی دونوں طلاقیں دے گا۔ اگر پہلی طلاق جس رات چاند نظر آیا ہے اسی رات طلاق دی ہے تو پھر یہ اسلامی مہینے کو شمار کریں گے چاہے یہ مہینہ تیس دن والا ہوا چاہے انتیس دن والا ہوا، یعنی جب چاندوں کے حساب سے طلاق دے رہا ہے تو پھر مہینے کو دیکھا جائے گا چاہے مہینہ انتیس دن والا ہو چاہے تیس دن والا، لیکن اگر مہینے کے درمیان میں کسی وقت طلاق دی ہے، مہینے کے درمیان کسی بھی وقت طلاق دے دی ہے دس تاریخ کو دی ہے، پندرہ کو دی ہے، بیس کو دی ہے تو پھر اس صورت میں تیس تیس دن کا حساب رکھیں گے، ہر دو طلاقوں کے درمیان کتنا فرق ہو؟ پورے تیس دن کا فرق ہونا چاہیے۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنْ كَانَ الطَّلَاقُ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ“ پھر اگر یہ طلاق جو ہے اولِ شہر یعنی مہینے کے آغاز میں ہو ”يُعْتَبَرُ الشُّهُورُ بِالْأَهِلَّةِ“ تو اعتبار کیا جائے گا مہینوں کا ”بِالْأَهِلَّةِ“ چاندوں کے ذریعے، أَہِلَّۃ جمع ہے ہِلال کی، تو مہینوں کا اعتبار کیا جائے گا ”بِالْأَهِلَّةِ“ ہلالوں کے ذریعے ”وَإِنْ كَانَ فِي وَسَطِهِ“ اور اگر یہ طلاق مہینے کے وسط میں تھی ”فَبِالْأَيَّامِ“ تو پھر دنوں کے ذریعے ”فِي حَقِّ التَّفْرِيقِ“ جدائی کے حق میں۔ یعنی طلاقوں کے اندر تفریق کرنی ہے نا ایک ایک مہینے کی، تو پھر اب اس تفریق کے حق میں دنوں کو شمار کریں گے۔ اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، امام صاحب بھی فرماتے ہیں اور صاحبین بھی۔ کیا مسئلہ اتفاقی ہے؟ کہ اگر چاند جس رات نظر آیا ہے اسی دن طلاق دی ہے، اسی رات طلاق دی ہے تو پھر اسلامی مہینے کا اعتبار کریں گے چاہے وہ انتیس دن والا ہوا چاہے تیس دن والا ہوا، اور اگر درمیانِ مہینے کے طلاق دی ہے تو پھر ہر دو طلاقوں میں کتنا فرق ہوگا؟ پورے تیس دن کا فرق کرنا پڑے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ فِي وَسَطِهِ فَبِالْأَيَّامِ فِي حَقِّ التَّفْرِيقِ“ اور اگر یہ طلاق مہینے کے وسط میں ہوئی تو پھر یہ تیس دن ایام کے ساتھ ہوں گے ”فِي حَقِّ التَّفْرِيقِ“ جدائی کے حق میں۔ یعنی طلاقِ سنت میں طلاقوں کے درمیان جو تفریق کی جاتی ہے، جو فرق کیا جاتا ہے اس میں... نئی توجہ! بھئی اصل میں آگے عدت کو بھی ذکر کرنے لگے ہیں۔ یہ مجھے بتائیے، یہ جو خاوند طلاقِ سنت دے رہا ہے تین طلاقیں ایک ایک مہینے کے فرق کے ساتھ، یہ ہم عدت کو شمار کر رہے ہیں یا طلاقوں میں تفریق کر رہے ہیں؟ طلاقوں میں تفریق کر رہے ہیں، سنت طریقے سے طلاق دینا چاہتے ہیں۔ تو یہ عدت کی بات نہیں چل رہی، کس کی چل رہی ہے بات؟ طلاقوں میں تفریق کی بات چل رہی ہے۔ اب آگے عدت کا مسئلہ وہ الگ ذکر کریں گے کہ ان عورتوں کو اگر طلاق دے دی جائے پھر ان کی عدت کیسے شمار کریں گے؟ تو انہوں نے بتلا دیا کہ ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں جس دن مہینے کا آغاز ہوا ہے، چاند نظر آیا ہے، اگر اس دن سے طلاق دینا شروع کی ہے، اس دن پہلی طلاق دی ہے تو پھر جس دن اگلا مہینہ شروع ہوگا اس دن پھر دوسری طلاق دے، چاہے پچھلا انتیس ہی دن کا کیوں نہ ہو، یہ پھر بھی کیا ہے؟ مہینہ پورا ہو چکا ہے اگلی طلاق دے دے۔ پھر اگلا بھی انتیس دن کا ہوا تو اس سے اگلے کو فوراً تیسری طلاق دے دے۔ لیکن اگر درمیان والے ایام کے اندر طلاق دی ہے، مہینے کے درمیان میں کسی وقت طلاق دی ہے اور اب سنت طریقے سے دوسری اور تیسری طلاق دینا چاہتا ہے تو اب پورے تیس تیس دن شمار کرے۔ ہر دو طلاقوں کے درمیان کتنے دن ہونے چاہییں؟ پورے تیس دن ہونے چاہییں، ایک دن بھی کم نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنْ كَانَ فِي وَسَطِهِ فَبِالْأَيَّامِ“ اور اگر یہ طلاق مہینے کے وسط میں ہوئی تو اس کو کس کے ساتھ شمار کریں گے؟ دنوں کے ساتھ یعنی تیس دن، لیکن ”فِي حَقِّ التَّفْرِيقِ“ کس بارے میں؟ تفریق کے حق میں یعنی طلاقوں کے اندر جو فرق ہونا چاہیے۔ عدت کی بات ابھی نہیں کی، اب عدت کی بات آگے کر رہے ہیں۔
”وَفِي حَقِّ الْعِدَّةِ كَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور عدت کے حق میں بھی اسی طرح ہے امام صاحب کے نزدیک۔ عدت کے اندر بھی اسی طرح ہے، امام صاحب فرماتے ہیں اگر کسی مہینے کی پہلی تاریخ کو جس دن چاند نظر آیا تھا اس دن خاوند نے طلاق دی تھی تو پھر اب عورت تین مہینے گزارے گی چاہے وہ انتیس والے ہوں چاہے تیس والے ہوں۔ اور اگر مہینے کے بیچ میں خاوند نے طلاق دی ہے اور یہ عورت عدت گزارنا چاہتی ہے تو اب تیس تیس دن گزارے گی۔ تو جو مسئلہ تفریق میں تھا وہی مسئلہ عدت میں بھی ہے امام صاحب کے نزدیک۔ چاہے مہینے کے شروع میں طلاق دے چاہے مہینے کے درمیان میں طلاق دے، تو چاہے تفریق کرنا چاہے چاہے عدت شمار کرنا چاہے دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ لیکن صاحبین فرق کرتے ہیں۔ صاحبین فرق کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں اگر مہینے کی پہلی تاریخ کو طلاق دی ہے تو عدت اگر عورت شمار کرنا چاہتی ہے تو پھر وہ اسی طرح مہینے کو شمار کرے گی چاہے مہینہ انتیس کا ہو چاہے تیس کا، تین مہینے گزار لے گی تو اس کی عدت پوری ہو جائے گی، لیکن اگر درمیانِ مہینہ کے اندر خاوند نے طلاق دی ہے، توجہ ہے؟ پھر تیس تیس دن پورے نہیں کرنے بلکہ اس مہینے کے کتنے دن باقی ہیں وہ شمار کر لے گی، درمیان والے پورے دو اسلامی مہینے شمار کر لے گی وہ چاہے انتیس کے ہوئے چاہے تیس کے ہوئے، اور آخری مہینے میں سے جو کمی ہے وہ پوری کر لے گی۔
مثلاً خاوند نے دس تاریخ کو طلاق دی ہے، کس تاریخ کو؟ دس تاریخ کو طلاق دی ہے، تو مثلاً اس مہینے کے بیس دن یہ آگے گزارتی ہے اس مہینے کے، اگلا پورا اسلامی مہینہ شمار کرے چاہے وہ تیس کا ہے چاہے انتیس کا، اس سے اگلا مہینہ بھی پورا اسلامی مہینہ شمار کرے چاہے انتیس کا ہے چاہے تیس کا، اور آخری مہینے میں کتنے دن باقی رہ گئے؟ پہلے مہینے میں سے کتنے گزار لیے تھے؟ بیس۔ بھئی توجہ نہیں ہے۔ خاوند نے مہینے کے بیچ میں طلاق دی ہے، فرض کرو خاوند نے دس تاریخ کو طلاق دی، کب؟ دس تاریخ کو۔ باقی مہینہ عورت نے پورا کر لیا، فرض کرو یہ تیس دن کا مہینہ تھا، کتنا؟ تو معلوم ہوا عورت نے بیس دن اس میں سے گزار لیے، کتنے؟ بیس دن گزار لیے، اور اگلے دو اسلامی مہینے پورے، اور آخری مہینے میں سے پھر عورت دس دن مزید گزار لے گی، تو دیکھو یہ درمیان والے دو پورے اسلامی مہینے آ گئے، اور بیس دن پہلے مہینے کے تھے تو آخری مہینے میں دس دن گزار لے گی عورت۔ تفریق کے اندر وہ فرماتے ہیں اگر مہینے کے درمیان میں خاوند نے طلاق دی ہے تو تیس تیس دن عورت گزارے گی، لیکن اگر عدت شمار کرنی ہے درمیان میں طلاق دی ہے تو پھر عدت کیسے شمار کریں گے؟ کہ پہلے مہینے میں سے جتنے دن گزر گئے ہیں، آخری مہینے میں سے وہ دن پورے کر لے گی، اور درمیان والے پورے دو مہینے۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِي حَقِّ الْعِدَّةِ كَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور عدت کے حق میں بھی اسی طرح ہے امام صاحب کے نزدیک ”وَعِنْدَهُمَا يُكَمَّلُ الْأَوَّلُ بِالْأَخِيرِ“ اور صاحبین کے نزدیک پہلے مہینے کو پورا کر لیا جائے گا ”بِالْأَخِيرِ“ آخری مہینے کے ذریعے یعنی جتنے دن پہلے مہینے کے گزر چکے تھے وہ پھر آخری میں سے دوبارہ پورے کر لے گی ”وَالْمُتَوَسِّطَانِ بِالْأَهِلَّةِ“ اور درمیان والے دو مہینے جو ہیں ”بِالْأَهِلَّةِ“ وہ ہلالوں کے ذریعے شمار کر لے گی ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ الْإِجَارَاتِ“ اور یہ اجارات کا مسئلہ ہے۔ اجارات بھئی کرائے پر کوئی چیز لینا، اجارات کے مسئلے میں اسی طرح امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ مثلاً ایک شخص کوئی جگہ کرائے پر لیتا ہے، ایک مکان لیتا ہے کرائے پر رہنے کے لیے، مثلاً تین مہینے، چار مہینے، پانچ، چھ مہینے جتنے کے لیے بھی وہ کرائے پر لیتا ہے تو پھر ان مہینوں کا شمار کیسے کریں گے؟ تو اگر مہینے کی پہلی تاریخ کو اس نے کرائے پر مکان لیا ہے تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اسلامی مہینوں کے ساتھ یعنی چاند کے اعتبار سے یہ مہینے شمار کیے جائیں گے۔ جس دن چاند نظر آیا ہے اسی دن یہ اجارے کا عقد کیا ہے کہ مثلاً میں پانچ مہینے کے لیے یہ مکان کرائے پر لیتا ہوں اور چاند کی پہلی تاریخ کو یہ عقد کیا ہے تو لہٰذا چاند کے اعتبار سے ہی یہ مہینے شمار ہوں گے۔ چاند کے اعتبار سے ہی مہینے شمار ہوں گے چاہے انتیس دن والے ہوں چاہے تیس دن والے ہوں تو اس طرح پانچ مہینے پورے ہو جائیں گے تو یہ عقد پورا ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں اور صاحبین بھی یہی فرماتے ہیں اگر پہلی تاریخ کو عقدِ اجارہ کیا کہ چاندوں کا حساب کریں گے، اور اگر مہینے کے درمیان میں عقدِ اجارہ کیا ہے مثلاً پانچ مہینے کا، تو پھر امام صاحب فرماتے ہیں اب دنوں کے ساتھ اس کا حساب کریں گے یعنی ہر مہینہ تیس دن کا شمار کریں گے، اب چاند کی طرف نہیں دیکھیں گے کیونکہ یہ عقد کب کیا ہے؟ مہینے کے درمیان میں کیا ہے، تین تاریخ کو ہے، پانچ کو ہے، دس کو ہے، پندرہ کو ہے یا بیس کو ہے جس تاریخ کو بھی ہے لیکن یکم تاریخ کو نہیں ہے، پہلی تاریخ کو نہیں ہے، تو ہر مہینہ تیس تیس دن کا شمار کریں گے۔ یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام صاحب کے نزدیک جب عقد درمیانِ مہینہ میں کسی وقت کیا ہو۔ اور جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، یہاں پر بھی یہاں پر بھی یہ جو درمیان والے مہینے ہیں وہ چاند کے شمار ہوں گے، البتہ جو پہلا مہینہ ہے جو درمیانِ مہینے کے اندر عقد کیا ہے اس کے دن شمار کر لیں گے، مثلاً عقد کیا پندرہ کو، کس کو؟ پندرہ تاریخ کو عقد کیا، تو اس مہینے کے پندرہ دن کس میں گزر گئے؟ عقد میں گزر گئے، توجہ ہے؟ اگلے مہینے سے چاند کے ساتھ شمار کریں گے اور وہ چاند کے چاہے انتیس والے مہینے ہوں چاہے تیس والے، وہ چار مہینے درمیان والے آ گئے اور پندرہ دن پہلے تھے، تو آخری مہینے کے اندر پھر پندرہ دن باقی ہیں ابھی تو وہاں پندرہ دن مزید پورے کر لے گا، تو یہ تیس دن اس طرح پورے کر لے گا، درمیان والے مہینے چاند کے ہو گئے اور یہ جو چند ایام شروع اور آخر میں ہیں ان کو ملا کر تیس دن پورے کر لیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ اختلاف اجارہ کے اندر ہے امام صاحب اور صاحبین میں، تو یہاں پر بھی اسی طرح اختلاف ہے اس عدت کے مسئلے میں بھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا؟ کہ اگر عورت کو طلاق دی ہے مہینے کے بالکل شروع میں اور یہ آئسہ یا صغیرہ ہے تو عدت کس طرح شمار کریں گے؟ بالاتفاق چاند کے ساتھ یہ عدت شمار ہوگی، چاند کے جب تین مہینے پورے ہو جائیں گے تو عدت پوری ہو جائے گی چاہے یہ مہینے انتیس والے ہوئے چاہے تیس والے ہوئے۔ اور اگر درمیانِ مہینہ میں طلاق دی ہے تو امام صاحب کے نزدیک اب دنوں کا حساب کریں گے، ہر مہینہ تیس دن کا شمار کریں گے تو نوے دن کے بعد اس عورت کی عدت پوری ہو جائے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس پہلے مہینے میں سے جتنے دن رہ گئے تھے وہ آخری مہینے میں جا کر پورے کر لے گی، اور درمیان والے اسلامی مہینے شمار ہوں گے وہ چاہے انتیس کے ہوں چاہے تیس کے ہوں، تو شروع اور آخر والے دن ملا کر وہ تیس دن الگ پورے کر لیں گے اور درمیان والے چاند کے مہینے شمار کر لیں گے۔
چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔