Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-049

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 74
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: قَالَ: ”وَيَجُوزُ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَلَا يَفْصِلَ بَيْنَ وَطْئِهَا وَطَلَاقِهَا بِزَمَانٍ“، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: ”يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِشَهْرٍ لِقِيَامِهِ مَقَامَ الْحَيْضِ، وَلِأَنَّ بِالْجِمَاعِ تَفْتُرُ الرَّغْبَةُ وَإِنَّمَا تَتَجَدَّدُ بِزَمَانٍ وَهُوَ الشَّهْرُ“. گزشتہ سبق میں ہم کتاب الطلاق پڑھ رہے تھے بھئی، اور پہلا باب باب طلاق السنۃ ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ طلاق جو ہے وہ تین قسم پر ہے: ایک حسن، ایک احسن اور ایک بدعت بھئی۔ تو یہ طلاقِ حسن اور احسن ان کو طلاقِ سنی کہتے ہیں، یعنی یہ دونوں طلاقیں ہمارے نزدیک سنت ہیں۔ البتہ صاحبِ ہدایہ نے بالخصوص طلاقِ حسن کو طلاقِ سنت قرار دیا۔ وہاں دراصل امام مالک رحمہ اللہ کا رد مقصود تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک صرف طلاقِ احسن سنت ہے، حسن سنت نہیں۔ تو ان کا رد کرنے کے لیے بالخصوص فرمایا کہ طلاقِ حسن یہ طلاقِ سنت ہے بھئی۔ اور سنی طلاق کے اندر آپ نے پڑھا کہ چار شرطیں ہیں۔ وہ چار شرطیں آپ کے ذہن میں ہوں تو اس کے مطابق آپ فوراً معلوم کر سکتے ہیں کہ کون سی طلاق سنی ہے اور کون سی بدعی ہے بھئی۔ اور چار شرطیں کیا تھیں؟ کہ عورت کو جو طلاق دی جائے وہ طہر کے اندر دی جائے۔ دوسری شرط یہ تھی کہ وہ طہر بھی ایسا ہو جس میں صحبت نہ کی ہو۔ اور تیسری شرط یہ تھی کہ طلاق بھی رجعی ہو، اور چوتھی شرط یہ تھی کہ اس طہر سے ماقبل والے حیض میں بھی صحبت نہ کی ہو بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق جو ہے اصل طلاق کے اندر ممانعت ہے بھئی، اور صرف حاجت کی وجہ سے طلاق مباح ہوگی اور وہ حاجت ایک طلاق کے ذریعے پوری ہو جاتی ہے، لہٰذا زائد طلاقوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ زائد طلاقیں جو دے گا وہ بدعت ہے، وہ گناہ ہے، حرام ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک ایک تو ہم نے حدیث ذکر کر دی، حضور علیہ السلام نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو رجوع کا حکم دیا۔ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کے اندر طلاق دے دی تھی، حضور علیہ السلام نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا اور سنت طریقہ بتلایا کہ عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو اس وقت طہر میں ایک طلاق دینا۔ تو دیکھو حضور علیہ السلام ان کو دوسری طلاق کا حکم دے رہے ہیں طہر کے اندر۔ معلوم ہوا ایک سے زائد طلاق دینا یہ بدعت نہیں ہے بھئی۔ اور نیز یہاں پر حاجت جو ہے، حاجت وہ تو ایک امرِ قلبی ہے، کون محتاج ہے طلاق دینے کا اور کون محتاج نہیں ہے؟ یہ تو ایک دل کی بات ہے، ظاہر سے ہمیں پتہ نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس حکم کا مدار جو ہے دلیلِ حاجت پر ہو جائے گا۔ کس پر؟ حاجت کا جب پتہ نہ چل سکے تو حکم کا مدار اس حاجت کی دلیل پر ہو جاتا ہے، اور یہاں پر دلیلِ حاجت یہ ہے کہ طہر کا زمانہ آ جائے ایسا طہر جس میں خاوند نے صحبت نہیں کی۔ تو یہ تو رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، اس کے باوجود خاوند طلاق دینا چاہ رہا ہے تو معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ معلوم ہوا اس کو حاجت ہے اور جب اس کو حاجت ہے تو حاجت کی وجہ سے طلاق مباح ہو جاتی ہے لہٰذا یہ طلاق دے سکتا ہے۔ پھر اگلا طہر آیا اور یہ بھی رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، لیکن اس میں بھی خاوند طلاق دینا چاہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ رغبت کے زمانے کے باوجود طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ اور جب حاجت ہو تو پھر طلاق مباح ہو جاتی ہے تو یہ دوسری طلاق بھی دے سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد اگلا طہر آیا، یہ بھی رغبت کا زمانہ ہے لیکن اس رغبت کے زمانے کے باوجود طلاق پر اقدام کر رہا ہے معلوم ہوا اس کو حاجت ہے، اور جب حاجت ہے تو طلاق اس کے لیے مباح ہو گئی لہٰذا یہ طلاق دے سکتا ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ایک ہی لفظ کے ساتھ تین طلاقیں دے دی جائیں، ایک لفظ یعنی طلاق کا لفظ ایک دفعہ لایا ساتھ عدد ذکر کر دیا۔ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں، یا اسی طرح کہتا ہے: میں تمہیں دو طلاقیں دیتا ہوں، تو دیکھو ساتھ عدد ذکر کر دیا۔ تو طلاق کا لفظ تو ایک ہی ہے البتہ ساتھ عدد ذکر کر دیا، یاد رکھو یہ طلاقِ بدعت ہے۔ اس لیے کیونکہ طلاق میں صاحبِ ہدایہ نے بتایا آپ کو کہ طلاق میں سنت دو اعتبار سے ہے: ایک عدد کے اعتبار سے سنت ہے اور ایک وقت کے اعتبار سے سنت ہے۔ عدد کے اعتبار سے سنت یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق دی جائے، یعنی ایک ہی طلاق دی جائے، اور وقت کے اعتبار سے سنت یہ ہے کہ ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس کے اندر خاوند نے بیوی سے صحبت نہ کی ہو۔ تو حیض کے اندر طلاق دینا یہ بھی بدعت ہے اور ایسا طہر جس میں صحبت کر چکا ہے اس میں طلاق دینا یہ بھی بدعت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حیض جو ہے یہ عورت سے نفرت کا زمانہ ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا کہ یہ جو حیض ہے عورت سے نفرت کا زمانہ ہے یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کی ذات سے بیوی کی ذات سے ہی نفرت ہو جاتی ہے، مطلب یہ ہے یعنی صحبت کے اعتبار سے خاوند کی اس میں رغبت نہیں ہوتی کیونکہ شریعت نے بھی حیض کی حالت میں عورت سے صحبت کرنے سے منع کیا ہے اور خود انسانی طبیعت بھی گوارا نہیں کرتی کہ عورت سے حیض کا خون جاری ہو اور وہ اس کے ساتھ صحبت کرے، تو لہٰذا یہ جو حیض ہے یہ عورت سے نفرت کا زمانہ ہے۔ جب یہ نفرت کا زمانہ ہے تو اس کے اندر شریعت نے طلاق دینے سے منع کر دیا کہ کہیں اس عارضی نفرت کی وجہ سے تم طلاق نہ دے دو بغیر حاجت کے۔ بغیر حاجت کے ہی صرف عارضی نفرت کی وجہ سے تم طلاق کہیں نہ دے دو اس لیے حیض کے اندر طلاق دینے سے منع کیا۔ اور نیز اسی طرح وہ طہر جس کے اندر خاوند صحبت کر لیتا ہے اس کے اندر بھی خاوند کی خواہش چونکہ پوری ہو گئی تو اب اس کی عورت کے اندر رغبت کم ہو جائے گی۔ تو لہٰذا اس طہر کے اندر بھی شریعت نے طلاق دینے سے منع کیا کہ کہیں اس عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے خاوند طلاق نہ دے دے۔ لہٰذا کہا: اس طہر میں بھی جس میں صحبت کی ہے طلاق دینا منع ہے، حرام ہے بلکہ طلاق ایسے طہر میں دے جس میں صحبت نہیں کی، کیونکہ یہ تو رغبت کا زمانہ ہے اس کے باوجود خاوند طلاق دینے کا ارادہ کرے گا، طلاق پر پیش قدمی کرے گا تو معلوم ہوا اس کو طلاق کی حاجت ہے اور جب اس کو حاجت ہے تو حاجت کی وجہ سے اب طلاق مباح ہو جائے گی اور یہ طلاق دے سکتا ہے۔ تو لہٰذا ایک ہی کلمے سے تین طلاقیں دیں یا ایک ہی طہر کے اندر دو یا تین طلاقیں دے خاوند تو یہ سب بدعت ہیں بھئی اور اس صورت میں انسان گناہ گار ہوگا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق جو ہے وہ ایک مباح تصرف ہے لہٰذا خاوند چاہے ایک طلاق دے، چاہے دو دے، چاہے تین دے یہ اس کی مرضی ہے۔ اس لیے کیونکہ طلاق کیا ہے؟ مشروع ہے، شریعت نے اجازت دی ہے خاوند کو اور مشروع چیز ممنوع ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ طلاق جو ہے اصل تو اس کے اندر ممانعت ہے کیونکہ طلاق کی وجہ سے وہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے جس نکاح کی دنیاوی مصلحتیں بھی تھیں اور اخروی مصلحتیں بھی تھیں۔ اخروی مصلحتیں کیا؟ کہ انسان زنا سے اور گناہ وغیرہ سے محفوظ ہو جاتا ہے، اور دنیاوی مصلحتیں کیا ہیں؟ کہ گھر آباد ہو جاتا ہے، اس سے اولاد حاصل ہوتی ہے، گھر کا نظام چلائے گا، اولاد کی تربیت کرے گا، تو یہ ساری مصلحتیں نکاح کے اندر حاصل ہوں گی بھئی۔ تو چونکہ طلاق کی وجہ سے یہ نکاح ٹوٹ جائے گا اس لیے طلاق کے اندر اصل ممانعت ہی ہے کہ طلاق جائز نہیں ہے، لیکن بعض اوقات خاوند بیوی سے چھٹکارے کا محتاج ہوتا ہے، بیوی ایسی بد اخلاق ہے یا ایسی بد زبان ہے کہ وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ محتاج ہوتا ہے جدائی کا، چھٹکارے کا تو اس لیے شریعت اس کو طلاق کی اجازت دیتی ہے۔ اور ضرورت ایک طہر میں ایک طلاق کے ذریعے پوری ہو جاتی ہے لہٰذا ایک طہر میں ایک سے زیادہ طلاق جائز نہیں ہوگی۔ تو پھر احناف پر اشکال ہوتا ہے کہ جب ضرورت ایک طلاق سے پوری ہو جاتی ہے تو پھر طلاقِ حسن کو بھی بدعت کہنا چاہیے کیونکہ وہاں پر ایک طلاق سے جب حاجت پوری ہو رہی ہے تو تین طہروں میں تین طلاقیں دینے کی کیا حاجت ہے بھئی؟ چھٹکارا ہی حاصل کرنا ہے، ایک سے بھی چھٹکارا مل جاتا ہے اور تین سے بھی چھٹکارا مل جاتا ہے تو جب ایک سے ضرورت پوری ہو رہی ہے تو تین طہروں میں تین طلاقیں دینے کی کیا حاجت ہے؟ تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ایک طلاق دینے کے باوجود فی ذاتہٖ حاجت باقی رہ سکتی ہے۔ ایک طلاق تو دے دی لیکن پھر بھی حاجت باقی رہ سکتی ہے کہ خاوند کی حاجت یہ ہے کہ میں عورت کو تین طلاقیں دے دوں تاکہ کہیں بعد میں دوبارہ میں اس کی طرف مائل نہ ہو جاؤں اور دوبارہ اس سے نکاح نہ کر لوں، یہ تو ایسی عورت ہے اس کے ساتھ تو گزارے کی کوئی صورت نہیں، تو لہٰذا اس کو ابھی بھی حاجت ہے کہ وہ تین طلاقیں پوری کر دے تاکہ اس کا ذہن اس عورت کی طرف متوجہ ہی نہ ہو، وہاں نکاح کی صورت ہی باقی نہ رہے۔ اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دیا کہ بھئی ایک چیز مشروع ہو اس کے باوجود وہ ممنوع بھی ہو سکتی ہے غیر کے اعتبار سے۔ اپنی ذات کے اعتبار سے تو مشروع ہو لیکن غیر کی وجہ سے ممنوع ہو ایسا ہو سکتا ہے، جیسے طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے تو مشروع ہے کہ اس میں عورت سے غلامی ختم ہو جاتی ہے، اس میں ازالۂ رقیت ہے کیونکہ نکاح کے اندر عورت کے لیے غلامی والا معنی ہے کہ وہ خاوند کی پابند ہو جاتی ہے، اس پر بہت سی پابندیاں آ جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے بھی نہیں نکل سکتی۔ تو جب خاوند طلاق دے گا تو اس سے ازالۂ رقیت ہوگا، وہ غلامی ختم ہو جائے گی اور غلامی کا ختم کرنا یہ تو فی ذاتہٖ مشروع چیز ہے، اس میں تو کوئی برائی اور خرابی نہیں۔ تو بات چل رہی تھی کہ طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے تو مشروع ہے کیونکہ اس میں ازالۂ رقیت ہے لیکن غیر کی وجہ سے اس میں ممانعت آ سکتی ہے جیسے اس طلاق کی وجہ سے نکاح ٹوٹے گا اور نکاح کی جو دنیاوی اور دینی مصلحتیں تھیں وہ ساری کیا ہو جائیں گی؟ ختم ہو جائیں گی۔ تو ایک چیز اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہو اور غیر کے سبب سے ممنوع ہو ایسا ہو سکتا ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ طلاق کے اندر سنت دو اعتبار سے ہے: ایک عدد کے اعتبار سے اور ایک وقت کے اعتبار سے۔ عدد یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دی جائے اور اس کے اندر مدخول بہا اور غیر مدخول بہا دونوں برابر ہیں، دونوں برابر ہیں۔ سنت طریقہ کیا ہے؟ ایک وقت میں ایک ہی طلاق دی جائے۔ اور غیر مدخول بہا جس سے خاوند نے صحبت نہیں کی، میں نے آپ کو بتلایا تھا اس کو خاوند ایک ہی طلاق دے گا تو وہ فوراً بائنہ ہو جائے گی اور وہ جہاں چاہے فوراً آگے نکاح کر سکتی ہے، جبکہ مدخول بہا جو ہے وہ عدت گزارے گی۔ اب خاوند چاہے اسی ایک طلاق پر اکتفا کر لے طلاقِ احسن پر، اور اگر چاہے تو ہر طہر میں ایک ایک طلاق دے دے اور اس طرح طلاقِ حسن پر عمل کر سکتا ہے وہ۔ اور دوسری سنت جو ہے طلاق کے اندر وہ وقت کے اندر ہے اور وہ صرف مدخول بہا کے اندر سے ہے بھئی۔ کس کے اندر؟ مدخول بہا، کہ اس کو طہر کے اندر طلاق دے اور ایک ایسے طہر میں جس میں اس سے صحبت نہیں کی بھئی۔ جبکہ غیر مدخول بہا جو ہے اس کو طہر کے اندر بھی طلاق دے سکتا ہے اور حیض کے اندر بھی طلاق دے سکتا ہے، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں غیر مدخول بہا جو ہے اس کو بھی طہر میں طلاق دینی پڑے گی، سنت طریقہ یہی ہے۔ اگر حیض میں اس کو طلاق دے گا تو یہ طلاقِ بدعت ہو جائے گی، وجہ یہ ہے کہ حیض تو نفرت کا زمانہ ہے بھئی، تو ہو سکتا ہے اس عارضی نفرت کی وجہ سے وہ طلاق دے رہا ہو۔ تو اس کا جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ جو غیر مدخول بہا ہے جس سے خاوند نے ابھی صحبت ہی نہیں کی اس کے اندر تو خاوند کی رغبت بڑی کامل ہے، حتیٰ کہ حیض کی وجہ سے بھی یہ رغبت کم نہیں ہوتی کیونکہ ابھی تک خاوند نے اس سے صحبت نہیں کی تو اس کے اندر رغبت کامل ہے، چاہے طہر کا زمانہ ہو چاہے حیض کا زمانہ ہو، خاوند طلاق دے گا تو رغبت کے باوجود طلاق دے رہا ہے معلوم ہوا خاوند کو حاجت ہے لہٰذا وہ طلاق دے سکتا ہے۔ اور پھر آپ کو صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بتلایا کہ اگر عورت کو حیض نہیں آتا صغر کی وجہ سے، یعنی ابھی وہ بالغہ ہی نہیں ہوئی، یا عورت کو حیض نہیں آتا کہ وہ کبیرہ ہے، میں نے بتلایا کہ پچاس پچپن سال کی عمر میں حیض بند ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے بعد عورت سے اولاد ممکن نہیں رہتی۔ جب تک اس کو حیض آ رہے ہیں اولاد کا احتمال ہے، اور جب اب حیض ختم تو اس کے بعد اب عورت اولاد کو جنم نہیں دے سکتی۔ تو اگر ایک عورت پچاس پچپن سال کی عمر تک پہنچ گئی ہے اور اس کے حیض بند ہو گئے ہیں تو اس کو آیسہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ آیسہ، یعنی یہ ناامید ہو گئی ہے اب آگے اس کی اولاد نہیں ہو سکتی۔ تو اگر عورت صغیرہ ہے ابھی اس کو حیض نہیں شروع ہوئے، وہ ابھی بالغہ ہی نہیں ہوئی اور یا وہ آیسہ ہے، تو ان کو تو حیض نہیں آتا تو پھر ان کو اگر طلاقِ سنت دینی ہو تو کیسے شمار کریں گے؟ تو بتلایا کہ ان کے اندر ایک ایک مہینے کے فرق کے ساتھ تین طلاقیں خاوند دے تو یہ طلاقِ سنت ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ ان عورتوں کے حق میں مہینہ جو ہے وہ حیض کے قائم مقام ہے۔ جیسے کوئی مالک باندی خریدتا ہے تو باندی کے ساتھ فوراً صحبت کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ ایک حیض انتظار کرنا پڑے گا، اس کو استبراء کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ استبراء، یعنی رحم کی صفائی طلب کرنا کہ باندی کا رحم صاف ہے اس کا پتہ چل جائے، یہ کہیں سابقہ مالک سے حاملہ تو نہیں؟ تو یہ استبراء کے اندر ایک حیض انتظار واجب ہے۔ لیکن اگر باندی صغیرہ ہے یا آیسہ ہے، اب اس کو تو حیض نہیں آ رہا تو پھر عند الاحناف وہاں ایک ماہ انتظار کرنا پڑے گا مالک کو۔ تو دیکھو مہینے کو حیض کا قائم مقام کر دیا گیا، لہٰذا طلاقِ سنت کے اندر بھی مہینے کو حیض کا قائم مقام کر دیا جائے گا اور خاوند ایک ایک مہینے کے فرق کے ساتھ تین طلاقیں بیوی کو دے سکتا ہے طلاقِ سنت بھئی۔ اس کے بعد آخر میں پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر خاوند طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے بیوی کو اور جس دن چاند نظر آیا ہے اسی دن وہ بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اب یہ جو مہینوں کا فرق ہے یہ چاندوں کے ساتھ اعتبار کریں گے۔ ہر نئے چاند پر خاوند اس کو اگلی طلاق دے دے چاہے وہ مہینہ انتیس والا ہو چاہے تیس والا ہو۔ تو کس کا اعتبار کریں گے؟ چاند کا اعتبار کریں گے۔ ہر چاند جب نظر آئے وہ عورت کو اگلی طلاق دے سکتا ہے، درمیان میں ایک مہینے کا فصل آ گیا چاہے یہ مہینہ تیس کا ہو چاہے انتیس کا۔ امام صاحب اور صاحبین سب کے نزدیک مسئلہ اسی طرح ہے، اور اگر خاوند نے مہینے کے درمیان میں کسی وقت طلاق دی ہے اور وہ طلاقِ سنت دینا چاہ رہا ہے تو اس صورت میں بھی ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے کہ اب دنوں کا حساب لگایا جائے گا یعنی تیس تیس دن کے فرق سے خاوند طلاق دے گا۔ تیس تیس دن کے فرق سے خاوند طلاق دے گا، جبکہ عدت کے مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں صاحبین اور امام صاحب۔ امام صاحب کے نزدیک تو عدت کا مسئلہ بھی اسی طرح ہے، عدت کا مسئلہ بھی اسی طرح ہے یعنی یعنی اس قسم کی عورت کو خاوند نے طلاق دے دی ہے اور اس کو تو حیض آتا نہیں تو اس کی عدت کیسے شمار کریں گے؟ تو امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ اگر مہینے کی پہلی تاریخ کو طلاق دی ہے تو اگلے تینوں مہینے جو چاند کے ہیں، امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں صاحبین بھی یہی، کہ اگر مہینے کی پہلی تاریخ کو طلاق دی ہے تو چاند کے اعتبار سے جب تین مہینے پورے ہو جائیں چاہے وہ انتیس والے مہینے ہوں چاہے تیس والے مہینے ہوں تو اس عورت کی عدت پوری ہو جائے گی۔ البتہ عدت کے مسئلے میں صاحبین اختلاف کرتے ہیں امام صاحب سے اس صورت میں جب خاوند نے مہینے کے درمیان طلاق دی ہو۔ ان عورتوں کی عدت شمار کرنی ہے، خاوند طلاق دیتا ہے اب ان کی عدت مہینوں کے ساتھ ہے تو امام صاحب اور صاحبین کے نزدیک بالاتفاق اگر خاوند نے جس دن چاند نظر آیا ہے اس دن طلاق دی ہے تو پھر یہ چاندوں کے ساتھ مہینے شمار کریں گے، چاہے مہینے تیس دن والے ہوئے چاہے انتیس دن والے ہوئے تو تین مہینے جب پورے ہو جائیں گے چاند کے تو عورت کی عدت پوری ہو جائے گی۔ لیکن اگر خاوند نے درمیانِ مہینے کے اندر طلاق دی ہے اور عدت شمار کرنی ہے تو پھر اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک تیس تیس دن شمار کریں گے، تو معلوم ہوا عورت کو نوے دن گزارنا پڑیں گے پھر اس کی عدت پوری ہو جائے گی، یہ آیسہ اور صغیرہ کی؛ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، یہاں پر پہلا مہینہ جو ہے اس میں سے کچھ دن گزر چکے ہیں، خاوند نے درمیان میں طلاق دی ہے، مثلاً دس دن گزر چکے ہیں اور پھر خاوند نے طلاق دی ہے تو آگے اس مہینے کے دن شمار کریں گے، مثلاً آگے یہ مہینہ انتیس کا ہوا، کتنے کا ہوا؟ تو دس دن تو پہلے گزر گئے تھے، انیس دن یہ اس مہینے کے گزار لیے اس نے، انتیس کا مہینہ ہے، اگلے دونوں چاند کے جو مہینے ہیں وہ پورے عورت شمار کر لے گی اور پھر آخری مہینے کے اندر جو پہلے مہینے میں کمی رہ گئی تھی اس کو پورا کر لیں گے۔ انیس دن پہلے گزار چکی ہے، گیارہ دن اس مہینے میں، آخری مہینے میں مزید گزار لے گی تو اس طرح تیسرے مہینے کے بھی تیس دن پورے ہو جائیں گے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو عدت کے مسئلے میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے یہ اجارات کا مسئلہ ہے۔ اجارات یعنی کرائے پر کوئی چیز لینا۔ مثلاً ایک شخص کسی آدمی سے کوئی مکان کرائے پر لیتا ہے مثلاً تین مہینے، چار مہینے، پانچ، چھ مہینے جتنے کے لیے بھی وہ کرائے پر لیتا ہے تو پھر ان مہینوں کا شمار کیسے کریں گے؟ تو اگر مہینے کی پہلی تاریخ کو اس نے کرائے پر مکان لیا ہے تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اسلامی مہینوں کے ساتھ یعنی چاند کے اعتبار سے یہ مہینے شمار کیے جائیں گے۔ جس دن چاند نظر آیا ہے اسی دن یہ اجارے کا عقد کیا ہے کہ مثلاً میں پانچ مہینے کے لیے یہ مکان کرائے پر لیتا ہوں اور چاند کی پہلی تاریخ کو یہ عقد کیا ہے تو لہٰذا چاند کے اعتبار سے ہی یہ مہینے شمار ہوں گے۔ چاند کے اعتبار سے ہی مہینے شمار ہوں گے چاہے انتیس دن والے ہوں چاہے تیس دن والے ہوں تو اس طرح پانچ مہینے پورے ہو جائیں گے تو یہ عقد پورا ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں اور صاحبین بھی یہی فرماتے ہیں اگر پہلی تاریخ کو عقدِ اجارہ کیا۔ کہ چاندوں کا حساب کریں گے۔ اور اگر مہینے کے درمیان میں عقدِ اجارہ کیا ہے مثلاً پانچ مہینے کا، تو پھر امام صاحب فرماتے ہیں اب دنوں کے ساتھ اس کا حساب کریں گے یعنی ہر مہینہ تیس دن کا شمار کریں گے، اب چاند کی طرف نہیں دیکھیں گے کیونکہ یہ عقد کب کیا ہے؟ مہینے کے درمیان میں کیا ہے، تین تاریخ کو ہے، پانچ کو ہے، دس کو ہے، پندرہ کو ہے یا بیس کو ہے، جس تاریخ کو بھی ہے لیکن یکم تاریخ کو نہیں ہے، پہلی تاریخ کو نہیں ہے۔ تو ہر مہینہ تیس تیس دن کا شمار کریں گے۔ یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام صاحب کے نزدیک جب عقد درمیانِ مہینہ میں کسی وقت کیا ہو۔ اور جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، یہاں پر بھی یہاں پر بھی یہ جو درمیان والے مہینے ہیں وہ چاند کے شمار ہوں گے، البتہ جو پہلا مہینہ ہے جو درمیانِ مہینے کے اندر عقد کیا ہے اس کے دن شمار کر لیں گے مثلاً عقد کیا پندرہ کو، کس کو؟ پندرہ تاریخ کو عقد کیا، تو اس مہینے کے پندرہ دن کس میں گزر گئے؟ عقد میں گزر گئے، توجہ ہے؟ اگلے مہینے سے پھر چاند کے ساتھ شمار کریں گے اور وہ چاند کے چاہے انتیس والے مہینے ہوں چاہے تیس والے، وہ چار مہینے درمیان والے آ گئے اور پندرہ دن پہلے تھے، تو آخری مہینے کے اندر پھر پندرہ دن باقی ہیں ابھی تو وہاں پندرہ دن مزید پورے کر لے گا، تو یہ تیس دن اس طرح پورے کر لے گا۔ درمیان والے مہینے چاند کے ہو گئے اور یہ جو چند ایام شروع اور آخر میں ہیں ان کو ملا کر تیس دن پورے کر لیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اختلاف اجارہ کے اندر ہے امام صاحب اور صاحبین میں، تو یہاں پر بھی اسی طرح اختلاف ہے اس عدت کے مسئلے میں بھی۔ بات سمجھ میں آ گئی کیا؟ کہ اگر عورت کو طلاق دی ہے مہینے کے بالکل شروع میں اور یہ آیسہ یا صغیرہ ہے تو عدت کس طرح شمار کریں گے؟ بالاتفاق چاند کے ساتھ یہ عدت شمار ہوگی، چاند کے جب تین مہینے پورے ہو جائیں گے تو عدت پوری ہو جائے گی چاہے یہ مہینے انتیس والے ہوئے چاہے تیس والے ہوئے۔ اور اگر درمیانِ مہینہ میں طلاق دی ہے تو امام صاحب کے نزدیک اب دنوں کا حساب کریں گے، ہر مہینہ تیس دن کا شمار کریں گے تو نوے دن کے بعد اس عورت کی عدت پوری ہو جائے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس پہلے مہینے میں سے جتنے دن رہ گئے تھے وہ آخری مہینے میں جا کر پورے کر لے گی اور درمیان والے اسلامی مہینے شمار ہوں گے وہ چاہے انتیس کے ہوں چاہے تیس کے ہوں، تو شروع اور آخر والے دن ملا کر وہ تیس دن الگ پورے کر لیں گے اور درمیان والے چاند کے مہینے شمار کر لیں گے۔ اب آئیے آج کے سبق پر: قَالَ: ”وَيَجُوزُ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَلَا يَفْصِلَ بَيْنَ وَطْئِهَا وَطَلَاقِهَا بِزَمَانٍ“. وہ عورت جس کو حیض آتا ہے اس کو خاوند طلاق دینا چاہتا ہے تو آپ نے پڑھا ایسے طہر میں طلاق دے گا جس کے اندر صحبت نہ کی ہو خاوند نے، اور اس طہر سے پہلے حیض گزرا، حیض کے اندر بھی صحبت نہیں۔ معلوم ہوا پچھلے طہر میں خاوند نے صحبت کی تھی، پچھلے طہر میں خاوند نے صحبت کی تھی تو معلوم ہوا صحبت اور طلاق کے درمیان ایک حیض کا فرق آ گیا، ایک حیض بیچ میں فاصل آ گیا۔ توجہ ہے؟ خاوند کون سی طلاق دینا چاہتا ہے؟ سنت طلاق۔ تو کس طہر میں طلاق دے گا؟ جس میں صحبت نہ کی ہو۔ معلوم ہوا خاوند نے جو صحبت کی تھی وہ پچھلے طہر میں کی تھی اور صحبت اور یہ جو طلاق دے رہا ہے ان دونوں کے درمیان کیا آ گیا؟ حیض کا فرق آ گیا، درمیان میں حیض فاصل آ گیا۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا جب وہ عورت جس کو حیض آتے ہیں اس کو خاوند طلاق دینا چاہتا ہے تو صحبت اور طلاق کے درمیان ایک حیض کا فرق ضروری ہوگا۔ ایک حیض کا فرق ضروری ہوگا، تو اب اگر یہ جو صغیرہ یا آیسہ ہے ان کو تو حیض نہیں آتا تو اگر ان کو طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے تو کب طلاق دے؟ تو یاد رکھو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ صحبت کرتے ہی فوراً بھی طلاق دے سکتا ہے۔ خاوند نے اس صغیرہ یا آیسہ سے کیا کر لی؟ صحبت کر لی اور پھر اس کے فوراً بعد طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے سکتا ہے، فوراً طلاق دے دے پھر تیس دنوں کے بعد دوسری طلاق دے دے پھر تیس دنوں کے بعد تیسری طلاق دے دے۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو وہ عورت جس کو حیض آتا تھا وہاں صحبت اور طلاق کے درمیان کتنا فرق ضروری تھا؟ ایک حیض کا فرق، لیکن یہاں کوئی مہینے کا فرق ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں نہیں، یہاں بھی فرق ڈالنا پڑے گا، یہاں بھی فرق ہونا چاہیے۔ جب حیض والی کے اندر ایک حیض کا فرق ضروری تھا صحبت اور طلاق کے درمیان تو یہاں بھی صحبت اور طلاق کے درمیان حیض کا فرق ہونا چاہیے لیکن حیض تو اس کو آتا نہیں ہے اور اس عورت کے اندر آپ نے ہمیں بتایا ہے مہینہ کس کے قائم مقام ہے؟ حیض کے قائم مقام ہے، لہٰذا یہاں ایک مہینے کا فرق ڈالنا پڑے گا خاوند کو۔ صحبت کی ہے تو اب پورا ایک مہینہ انتظار کرے، اس کے بعد طلاق دے تو یہ سنت طریقہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمارے نزدیک صحبت کے فوراً بعد بھی ان کو طلاق دے سکتا ہے خاوند، اور پھر اگلی طلاق دینا چاہتا ہے تو ایک مہینے کے بعد اور پھر اگلی طلاق دینا چاہتا ہے تو ایک مہینے کے بعد، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں کہ صحبت اور طلاق کے درمیان ایک مہینے کا فرق ہونا چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ: صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَجُوزُ أَنْ يُطَلِّقَهَا“ اور جائز ہے کہ خاوند اس کو طلاق دے، کس کو طلاق دے؟ یہ جن کی پیچھے بات چل رہی ہے آیسہ یا صغیرہ جن کو حیض نہیں آتا، ”وَيَجُوزُ أَنْ يُطَلِّقَهَا“ اور جائز ہے کہ خاوند اس کو طلاق دے ”وَلَا يَفْصِلَ بَيْنَ وَطْئِهَا وَطَلَاقِهَا بِزَمَانٍ“ اور کوئی فرق نہ کرے اس کی صحبت اور اس کی طلاق کے درمیان زمانے کا، یعنی صحبت کے فوراً بعد بھی ان کو طلاق دے سکتا ہے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِشَهْرٍ“ کہ وطی اور طلاق کے درمیان ایک مہینے کا فصل کرے گا ”لِقِيَامِهِ مَقَامَ الْحَيْضِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو مہینہ ہے یہ حیض کے قائم مقام ہے ان عورتوں کے حق میں، ”وَلِأَنَّ بِالْجِمَاعِ تَفْتُرُ الرَّغْبَةُ“ امام زفر فرماتے ہیں کہ بھئی خاوند نے ان سے صحبت کی تو صحبت کی وجہ سے رغبت کم ہو گئی، تو جب رغبت کم ہو گئی تو کہیں ایسا نہ ہو خاوند اس عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے طلاق دے رہا ہو، اس کو حاجت ہی نہیں ہے۔ حاجت تو تب ہوگی جب رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہوگا، جب رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہوگا اور اس کا اندازہ کہتے ہیں علماء نے ایک ماہ کے ساتھ لگایا ہے کہ فطرتِ سلیمہ ہو تو ایک ماہ میں اس کی پھر رغبت ہو جاتی ہے صحبت کے اندر۔ فطرتِ سلیمہ ہو تو ایک ماہ کے اندر پھر رغبت ہو جاتی ہے صحبت کے اندر۔ تو یہاں پر لہٰذا یہ آیسہ یا صغیرہ کے ساتھ خاوند نے صحبت کر لی، جب صحبت کر لی تو خاوند کی خواہش پوری ہو گئی تو عارضی عدمِ رغبت آ گئی، اب اس کی رغبت نہ رہی۔ اب لہٰذا اس کو طلاق کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ ابھی اس کو حاجت نہیں، یہ عارضی عدمِ رغبت ہے۔ اصل حاجت کا تب پتہ چلے گا جب ایک مہینہ گزر گیا جس کے اندر رغبت دوبارہ نئی ہو جاتی ہے اور پھر بھی خاوند طلاق پر پیش قدمی کرے اب ہم کہیں گے معلوم ہوا اس کو حاجت ہے، معلوم ہوا اس کو حاجت ہے اس سے پہلے حاجت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ بِالْجِمَاعِ تَفْتُرُ الرَّغْبَةُ“ اور اس لیے کیونکہ صحبت کر لینے کی وجہ سے رغبت کم ہو جاتی ہے ”وَإِنَّمَا تَتَجَدَّدُ بِزَمَانٍ“ اور رغبت جو ہے وہ کچھ زمانے کے بعد نئی ہوتی ہے ”وَهُوَ الشَّهْرُ“ اور وہ ایک مہینہ ہے، فطرتِ سلیمہ ہو تو ایک ماہ کے اندر پھر صحبت کی رغبت ہوگی بھئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ لَا يُتَوَهَّمُ الْحَبَلُ فِيهِمَا“ کہ ان دونوں کے اندر حمل کا وہم نہیں ہو سکتا۔ حَبَل بھئی، با کے فتحہ کے ساتھ، یہ حمل کو کہتے ہیں۔ اگر با ساکن ہو حَبْلٌ، حَبْلٌ یہ رسی کو کہتے ہیں، اور اگر با پر فتحہ ہو حَبَل تو یہ حمل کو کہتے ہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ حیض والی جو عورتیں ہیں ان کے بارے میں شریعت نے حکم دیا ہے کہ اس طہر میں طلاق دو جس میں صحبت نہ کی ہو بھئی۔ وجہ یہ کہ صحبت کر لینے کے بعد اگر خاوند طلاق دے گا تو پھر عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی، کیونکہ خاوند نے صحبت کی ہے ہو سکتا ہے عورت حاملہ ہو چکی ہو۔ تو اگر حاملہ ہو گئی ہے تو اس کی عدت وضعِ حمل ہے، اور اگر حاملہ ابھی بھی نہیں ہوئی تو اس کی عدت تین حیض ہیں۔ تو جب صحبت کے بعد خاوند طلاق دے گا تو ابتداءً عورت پر عدت مشتبہ ہو گئی۔ اس کو پتہ ہی نہیں میں کس کے ساتھ عدت شمار کروں، ہاں جب آگے چل کر حیض وغیرہ آئیں گے پھر اس کو اندازہ ہو جائے گا کہ میں حاملہ نہیں ہوں، لیکن فی الحال تو اس پر عدت کیا ہو گئی؟ مشتبہ ہو گئی کہ میں کس کے ساتھ اپنی عدت شمار کروں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس لیے شریعت نے منع کیا ہے کہ وہ طہر جس میں خاوند صحبت کر لے اس میں طلاق نہ دے اپنی بیوی کو بھئی۔ تو اس طہر کے اندر جس میں خاوند نے بیوی سے صحبت کر لی ہے اس میں طلاق کے ناپسندیدہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تاکہ کہیں عورت پر عدت مشتبہ نہ ہو جائے بھئی۔ جبکہ یہ جو صغیرہ ہے اور یا جو آیسہ ہے یہاں تو حمل کا احتمال ہی نہیں ہے، لہٰذا اس لیے صحبت کے فوراً بعد بھی طلاق دے سکتا ہے۔ حیض والی میں صحبت کے فوراً بعد طلاق دینا کیوں منع تھا؟ تاکہ کہیں عورت پر عدت مشتبہ نہ ہو جائے، لیکن ان عورتوں میں تو حاملہ ہونے کا کوئی احتمال نہیں، یہ جو صغیرہ اور آیسہ ہیں، لہٰذا ان کو طلاق دے سکتا ہے صحبت کے فوراً بعد بھی خاوند بھئی۔ ”وَلَنَا أَنَّهُ لَا يُتَوَهَّمُ الْحَبَلُ فِيهِمَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ان دونوں کے اندر یعنی آیسہ اور صغیرہ کے اندر حمل کا وہم نہیں ہو سکتا، ”وَالْكَرَاهِيَةُ“ اور صحبت کے بعد طلاق کا ناپسندیدہ ہونا ”فِي ذَوَاتِ الْحِيَضِ“ حیض والیوں میں ”بِاعْتِبَارِهِ“ اسی حمل کے اعتبار سے تھا۔ حیض والیوں میں صحبت کے فوراً بعد طلاق دینا ناپسندیدہ اسی حمل کے اعتبار سے تھا کہ کہیں وہ حاملہ نہ ہو چکی ہو بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَالْكَرَاهِيَةُ فِي ذَوَاتِ الْحِيَضِ بِاعْتِبَارِهِ“ اور صحبت کے فوراً بعد طلاق کا مکروہ ہونا، ناپسندیدہ ہونا حیض والیوں میں اسی حمل کے وہم کے اعتبار سے تھا، ”لِأَنَّ عِنْدَ ذَلِكَ يَشْتَبِهُ وَجْهُ الْعِدَّةِ“ اس لیے کیونکہ اس وقت عورت پر عدت کی وجہ مشتبہ ہو جائے گی، اسے پتہ نہیں چلے گا میں کس طرح عدت شمار کروں۔ ”وَالرَّغْبَةُ وَإِنْ كَانَتْ تَفْتُرُ مِنَ الْوَجْهِ الَّذِي ذَكَرَ لَكِنْ تَكْثُرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ“ اور امام زفر کیا فرماتے تھے کہ یہ جو آیسہ اور صغیرہ ہے اس کے ساتھ بھی جب خاوند صحبت کر لے گا تو رغبت کم ہو جائے گی لہٰذا اس لیے ابھی طلاق نہ دے کیونکہ کہیں اس عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے یا رغبت کی کمی کی وجہ سے وہ طلاق نہ دے رہا ہو بھئی۔ تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ نہیں، کہ یہ جو آیسہ اور صغیرہ ہے اگرچہ اس میں صحبت کر لی ہے اور خواہش پوری ہو گئی ہے خاوند کی تو بایں اعتبار رغبت کم ہو جائے گی، لیکن ایک اور اعتبار سے دیکھیں تو خاوند کی رغبت ان میں بڑھ رہی ہے، اور وہ کیا؟ کہتے ہیں ان کے حاملہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔ کیونکہ بعض اوقات بچے کی مشقت سے بچتے ہوئے خاوند صحبت سے احتراز کرتا ہے، کیونکہ بچے کی پرورش کوئی آسان کام نہیں ہے تو بچے کی مشقت سے بچنے کے لیے خاوند بعض اوقات کیا کرتا ہے؟ صحبت سے احتراز کرتا ہے، لیکن یہ جو آیسہ اور صغیرہ ہیں ان کے تو حاملہ ہونے کا کوئی احتمال نہیں، لہٰذا بایں اعتبار خاوند کی رغبت ان میں زیادہ ہوگی۔ بات کیا چل رہی ہے؟ خاوند نے ان سے صحبت کر لیا اور اب فوراً طلاق دینا چاہتا ہے تو ہمارے نزدیک فوراً طلاق دے سکتا ہے۔ امام زفر فرماتے ہیں فوراً طلاق نہیں دے سکتا بلکہ طلاقِ سنت دینی ہے تو ایک مہینے کے بعد طلاق دینا پڑے گی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، فوراً بھی طلاقِ سنت دے سکتا ہے اور یہ طلاقِ سنت ہی ہوگی، طلاقِ بدعت نہیں۔ وجہ یہ کہ اگرچہ اس صحبت کی وجہ سے رغبت کم ہو گئی ہے لیکن دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے کہ ان عورتوں میں تو حاملہ ہونے کا خطرہ نہیں لہٰذا بایں اعتبار خاوند کی رغبت بڑھ رہی ہے بھئی۔ لہٰذا ان کو صحبت کے فوراً بعد بھی خاوند طلاق دے تو یہ طلاقِ سنت ہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالرَّغْبَةُ وَإِنْ كَانَتْ تَفْتُرُ مِنَ الْوَجْهِ الَّذِي ذَكَرَ“ اور رغبت اگرچہ وہ کم ہو رہی ہے اس وجہ سے جو امام زفر نے ذکر کر دی کہ صحبت کر لی ہے صحبت کے بعد رغبت کیا ہو جاتی ہے؟ کم، تو صحبت کرنے کی وجہ سے اگرچہ رغبت کم ہو رہی ہے ”لَكِنْ تَكْثُرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ“ لیکن یہ رغبت بڑھ رہی ہے دوسرے اعتبار سے ”لِأَنَّهُ يَرْغَبُ فِي وَطْءٍ غَيْرِ مُعْلِقٍ“ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ رغبت کرتا ہے ایسی وطی میں غیرِ معلق جو علوق والی نہ ہو۔ علوق؟ علوق کا معنی ہے عورت کا حاملہ ہونا، عورت کے حمل ٹھہر جانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ علوق۔ تو خاوند ایسی وطی کے اندر راغب ہوتا ہے جو علوق والی نہ ہو بھئی جس کی وجہ سے عورت کو حمل نہ ٹھہرے بھئی، تو بایں اعتبار خاوند کی رغبت اس میں بڑھ رہی ہے کہ یہاں کوئی حمل کا خطرہ نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَرْغَبُ فِي وَطْءٍ غَيْرِ مُعْلِقٍ“ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ رغبت کرتا ہے ایسی وطی کے اندر جو علوق والی نہ ہو ”فِرَارًا عَنْ مُؤَنِ الْوَلَدِ“ مؤن جمع ہے مؤنۃ کی، مشقت کو کہتے ہیں۔ ”فِرَارًا عَنْ مُؤَنِ الْوَلَدِ“ اولاد کی مشقت سے بھاگتے ہوئے۔ اولاد کی مشقت سے بھاگتے ہوئے، میں نے بتایا اولاد کی پرورش کوئی آسان کام نہیں ہے بھئی، اولاد کی پرورش مشکل ہے، خصوصاً آج کل کے زمانے میں تو خرچے ہی بہت زیادہ ہو گئے۔ تو لہٰذا— ”لِأَنَّهُ يَرْغَبُ فِي وَطْءٍ غَيْرِ مُعْلِقٍ“ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ راغب ہوگا ایسی وطی کے اندر جو علوق والی نہ ہو، ”فِرَارًا عَنْ مُؤَنِ الْوَلَدِ“ اولاد کی مشقتوں سے بھاگتے ہوئے یعنی ان سے بچتے ہوئے، ”فَكَانَ الزَّمَانُ زَمَانَ الرَّغْبَةِ“ تو یہ صحبت کے فوراً بعد کا زمانہ بھی رغبت والا ہی زمانہ ہے۔ خاوند نے اگرچہ صحبت کر لی ہے لیکن پھر بھی یہ کون سا زمانہ ہے؟ رغبت والا، کیونکہ یہاں پر وطی غیر معلق ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”فَكَانَ الزَّمَانُ زَمَانَ الرَّغْبَةِ“ تو یہ جماع کے فوراً بعد والا زمانہ بھی ان میں دونوں کے اندر رغبت والا زمانہ ہے، ”فَصَارَ كَزَمَانِ الْحَبَلِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ حمل کا زمانہ ہو۔ یاد رکھو حاملہ کے اندر بالاتفاق ہمارے ائمہ کے نزدیک وہاں صحبت کے فوراً بعد بھی خاوند طلاق دے سکتا ہے۔ وہاں صحبت کے فوراً بعد بھی خاوند طلاق دے سکتا ہے، آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کرنے والے ہیں۔ ایک شخص کی بیوی ہے وہ حاملہ ہے، یہ شخص اس سے صحبت کرتا ہے اور صحبت کے فوراً بعد طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے تو یہاں درمیان میں ایک مہینے کا وقفہ ضروری نہیں بلکہ فوراً بھی طلاق دے سکتا ہے۔ تو جیسے حاملہ کے اندر صحبت اور طلاق کے درمیان ایک مہینے کا فرق ضروری نہیں، اسی طرح آیسہ اور صغیرہ کے اندر بھی صحبت اور طلاق کے درمیان ایک مہینے کا فصل ضروری نہیں ہے بھئی۔ ”فَصَارَ كَزَمَانِ الْحَبَلِ“ تو یہ زمانہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ حمل کے زمانے کی طرح ہو گیا اور اس میں جیسے صحبت کے فوراً بعد طلاق دے سکتے ہیں یہاں ان میں بھی صحبت کے فوراً بعد طلاق دے سکتے ہیں۔ آگے دیکھیے: ”وَطَلَاقُ الْحَامِلِ يَجُوزُ عَقِيبَ الْجِمَاعِ“ اور حاملہ کی طلاق جائز ہے جماع کے بعد۔ جماع کے فوراً بعد حاملہ کو کیا کر سکتا ہے؟ طلاق دے سکتا ہے۔ بھئی دیکھیے، پیچھے مسئلہ شروع کیا تھا: ”وَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَحِيضُ مِنْ صِغَرٍ أَوْ كِبَرٍ“، اگر عورت ایسی ہے کہ اس کو حیض نہیں آتا صغیرہ یا کبیرہ ہونے کی وجہ سے، یہ سارے ان کے مسئلے چل رہے ہیں، اور حاملہ بھی ایسی عورت ہے جس کو حیض نہیں آتا، جس کو حیض نہیں آتا تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اس کا بھی یہی حکم ہے، یعنی اس کو خاوند طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے تو ایک ایک مہینے کے فرق کے ساتھ تین طلاقیں دے سکتا ہے، تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ لیکن صاحبِ قدوری نے بالخصوص جو ہے اس حاملہ کے مسئلے کو الگ ذکر فرمایا، اگرچہ پیچھے تھا ”وَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَحِيضُ مِنْ صِغَرٍ أَوْ كِبَرٍ“، اس کبر کے اندر آیسہ بھی داخل تھی اور حاملہ بھی داخل تھی لیکن پھر حاملہ کے حکم آگے الگ باقاعدہ ذکر کر رہے ہیں، وجہ یہ کہ اس حاملہ کے اندر امام محمد رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں۔ اس حاملہ میں امام محمد رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں، آیسہ اور صغیرہ میں تو وہ اتفاق کرتے ہیں کہ ان کو اگر کوئی طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے تو کتنے کتنے فرق کے ساتھ طلاق دے؟ ایک ایک مہینے کے ساتھ۔ آیسہ اور صغیرہ کو کوئی طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے تو ایک ایک مہینے کے فرق کے ساتھ طلاق دے گا، لیکن حاملہ کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کو صرف ایک ہی طلاق دیں گے یہ سنت ہے، اس سے زیادہ دیں گے تو وہ طلاقِ بدعت بن جائے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کا بھی وہی حکم ہے جو آیسہ اور صغیرہ کا تھا، اور وہاں جیسے سنت طلاق ایک ایک مہینے کے فرق کے ساتھ تین طلاقیں خاوند دے سکتا ہے تو اس کے اندر بھی ایک ایک مہینے کے فرق کے ساتھ خاوند تین طلاقیں دے سکتا ہے اور یہ طلاقِ سنت ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کے اندر صرف طلاقِ احسن سنت ہے، یہاں طلاقِ حسن دے ہی نہیں سکتا وہ بدعت ہو جائے گی۔ تو چونکہ حاملہ کے مسئلے میں امام محمد رحمہ اللہ اختلاف فرماتے تھے شیخین سے، اس لیے اس کو علیحدہ ذکر کیا ورنہ تو اس کو علیحدہ ذکر کرنے کی کوئی حاجت نہیں تھی کیونکہ اس کا بھی وہی حکم ہے جو آیسہ اور صغیرہ کا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَطَلَاقُ الْحَامِلِ يَجُوزُ عَقِيبَ الْجِمَاعِ“ اور حاملہ کی طلاق جائز ہے جماع کے پیچھے یعنی جماع کے بعد۔ بھئی صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں ”وَطَلَاقُ الْحَامِلِ“، حاملہ کی طلاق، حاملہ عورت ہوتی ہے لیکن یہاں ”حَامِلَةٌ“ نہیں کہا بھئی، تا گول تا ساتھ نہیں ملائی، وجہ یہ کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں یہ ایسی صفت ہے جو خاص ہے عورتوں کے ساتھ۔ یعنی صرف عورت ہی حاملہ ہوتی ہے، اسی طرح عورت ہی کو صرف حیض آتا ہے یا اسی طرح عورت ہی کو صرف طلاق دی جاتی ہے، تو یہ سب صفات جو صرف عورت کے ساتھ خاص ہیں وہاں پھر گول تا ملانے کی ضرورت بھی نہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر حامل، حائض اور طالق وغیرہ چونکہ یہ صرف عورت کی صفات ہیں لہٰذا ان میں گول تا کو بھی ساتھ ملانے کی حاجت نہیں۔ گول تا کس لیے ملائی جاتی ہے؟ مذکر مؤنث میں فرق کے لیے، اور یہاں تو مذکر میں یہ صفت ہی نہیں پائی جاتی لہٰذا یہاں گول تا ملا کر فرق کی بھی حاجت نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَطَلَاقُ الْحَامِلِ يَجُوزُ عَقِيبَ الْجِمَاعِ“ اور حاملہ کی طلاق جائز ہے جماع کے بعد ”لِأَنَّهُ لَا يُؤَدِّي إِلَى اشْتِبَاهِ وَجْهِ الْعِدَّةِ“ اس لیے کیونکہ یہ نہیں پہنچائے گا عدت کی وجہ کے مشتبہ ہونے کی طرف۔ حاملہ کے ساتھ اگر خاوند جو ہے صحبت کرے گا تو اس سے عدت مشتبہ نہیں ہوگی۔ حاملہ کی عدت کیا ہے؟ حاملہ کی عدت وضعِ حمل ہے، جب وہ بچے کو جنم دے گی تو اس کی عدت پوری ہو جائے گی اگر خاوند طلاق دے چکا ہے۔ وہ عورت جس کو حیض آتے ہیں اس کے ساتھ اگر خاوند صحبت کر لے تو اسی حیض میں طلاق دینے کی اجازت نہیں، کیوں اجازت نہیں؟ کیونکہ عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی، پتہ نہیں کہ یہ حاملہ ہوئی ہے یا حاملہ نہیں، اگر حاملہ ہوئی ہے تو عدت وضعِ حمل ہو چکی ہے اور اگر حاملہ نہیں ہوئی تو عدت تین حیض ہیں۔ تو صحبت کے بعد طلاق دے گا وہاں پر تو عورت پر عدت مشتبہ ہو جائے گی، لیکن حاملہ کے اندر اگر صحبت کے بعد بھی طلاق دے گا تو عدت مشتبہ نہیں کیونکہ یہ عورت تو پہلے سے ہی حاملہ ہے بھئی۔ اس لیے یہاں پر عدت مشتبہ نہیں تو اس کو صحبت کے فوراً بعد طلاق دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يُؤَدِّي إِلَى اشْتِبَاهِ وَجْهِ الْعِدَّةِ“ اس لیے کیونکہ یہ صحبت جو ہے یہ نہیں پہنچائے گی عدت کی وجہ کے مشتبہ ہونے کی طرف کہ عدت مشتبہ ہو جائے عورت پر ایسا نہیں ہوگا، ”وَزَمَانُ الْحَبَلِ زَمَانُ الرَّغْبَةِ فِي الْوَطْءِ“ اور نیز اسی طرح یہ حمل کا جو زمانہ ہے یہ بھی رغبت کا زمانہ ہے ”فِي الْوَطْءِ“ کس کے اندر؟ وطی کے اندر ”لِكَوْنِهِ غَيْرَ مُعْلِقٍ“ اس لیے کیونکہ یہ وطی بھی علوق کرنے والی نہیں ہے۔ بھئی بیوی تو پہلے سے ہی حاملہ ہے، اب اگر صحبت کرے گا تو پھر وہ مزید کوئی حاملہ نہیں ہوگی، وہی ایک حمل جو پہلے سے چل رہا ہے وہی ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا اب جب عورت حاملہ ہو چکی تو اب جو وطی کرے گا وہ غیر معلق ہے، اس کی وجہ سے مزید عورت کوئی حاملہ نہیں ہوگی اور خاوند جو ہے غیر معلق وطی کے اندر راغب ہوتا ہے بھئی۔ لہٰذا معلوم ہوا صحبت کے باوجود فوراً طلاق دے سکتا ہے کیونکہ ابھی بھی رغبت کم نہیں ہوئی کیونکہ یہ وطی غیر معلق ہے بھئی، دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَزَمَانُ الْحَبَلِ زَمَانُ الرَّغْبَةِ فِي الْوَطْءِ“ اور حمل کا جو زمانہ ہے وہ وطی کے اندر رغبت کا زمانہ ہے ”لِكَوْنِهِ غَيْرَ مُعْلِقٍ“ اس لیے کیونکہ یہ وطی جو ہے وہ علوق کرنے والی نہیں ہے، ”أَوْ فِيهَا لِمَكَانِ وَلَدِهِ مِنْهَا“، یہ ”فِيهَا“ کا عطف ہے ماقبل میں جو آیا تھا ”فِي الْوَطْءِ“۔ ”وَزَمَانُ الْحَبَلِ زَمَانُ الرَّغْبَةِ فِي الْوَطْءِ“، حمل کا زمانہ وہ وطی میں رغبت کا زمانہ ہے، اب ”فِي الْوَطْءِ“ کو ہٹا دیں اور اس کی جگہ ”فِيهَا“ رکھ دیں: ”وَزَمَانُ الْحَبَلِ زَمَانُ الرَّغْبَةِ فِيهَا“ اور یہ جو حمل کا زمانہ ہے یہ اس عورت میں رغبت کا زمانہ ہے، یہ اس عورت میں رغبت کا زمانہ ہے ”لِمَكَانِ وَلَدِهِ مِنْهَا“ یعنی لِوُجُوْدِ وَلَدِهِ مِنْهَا، میں نے بتایا یہ مکان بمعنی وجود کے صاحبِ ہدایہ جگہ جگہ استعمال کرتے ہیں یہ مکان مصدر ہے، ”لِمَكَانِ وَلَدِهِ مِنْهَا“ یعنی لِوُجُوْدِ وَلَدِهِ مِنْهَا کہ اس عورت سے خاوند کا بچہ ہو رہا ہے، اس عورت سے کیا ہوگا؟ خاوند کی اولاد پیدا ہوگی، تو اس اعتبار سے خاوند کی محبت بیوی سے بڑھ جائے گی کہ یہ میرے بچے کو جنم دینے والی ہے۔ تو لہٰذا دو وجہیں ذکر کر دیں کہ یہ جو حمل کا زمانہ ہے یہ رغبت کا زمانہ ہے کس چیز میں؟ وطی میں، یا یہ اس عورت میں رغبت کا زمانہ ہے کیونکہ وہ اس خاوند کے بچے کی ماں بننے والی ہے تو خاوند کی محبت اس سے طبعاً بڑھ جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ فِيهَا“ یا یہ جو حمل کا زمانہ ہے یہ اس عورت میں رغبت کا زمانہ ہے ”لِمَكَانِ وَلَدِهِ مِنْهَا“ بوجہ اس کے کہ اس عورت سے اس خاوند کا بچہ جو ہے وہ ہوگا، ”فَلَا تَقِلُّ الرَّغْبَةُ بِالْجِمَاعِ“ تو لہٰذا صحبت کرنے سے بھی رغبت کم نہیں ہوگی، صحبت کرنے سے بھی رغبت کم نہیں ہوگی۔ بھئی دیکھیے، یا تو صحبت کے فوراً بعد طلاق دینے سے اس لیے منع کیا گیا تھا حیض والی عورت جو ہے، حیض والی عورت میں صحبت کے فوراً بعد طلاق دینے سے کیوں منع کیا گیا؟ تاکہ کہیں عورت پر عدت مشتبہ نہ ہو جائے، اور نیز وہاں پر صحبت کی وجہ سے عارضی طور پر رغبت کم ہو چکی ہے، لہٰذا کہیں اس عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے وہ طلاق نہ دے دے تو شریعت نے منع کر دیا۔ جبکہ حاملہ جو ہے اس کے ساتھ تو اگر صحبت کرے گا بھی تو اس سے عورت کے عدت میں کوئی اشتباہ پیدا نہیں ہوگا، اور نیز اگرچہ اس سے خاوند صحبت کر لیتا ہے پھر بھی یہ جو صحبت ہے یہ غیر معلق ہے اور اس میں خاوند کی رغبت ہوگی، اور نیز اس عورت کے پیٹ میں خاوند کی اولاد ہے لہٰذا اس کی وجہ سے بھی خاوند کی اس عورت سے رغبت ہوگی۔ معلوم ہوا یہ جو حاملہ ہے اس سے خاوند صحبت کر بھی لے پھر بھی اس کی رغبت میں کمی نہ آئی، جب رغبت میں کمی نہ آئی تو رغبت کے ہوتے ہوئے یہ طلاق پر اقدام کر رہا ہے معلوم ہوا اس کو طلاق کی حاجت ہے اور جب حاجت ہے تو اس کے لیے طلاق دینا جائز ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَيُطَلِّقُهَا لِلسُّنَّةِ ثَلَاثًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ تَطْلِيقَتَيْنِ بِشَهْرٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، اب وہ اختلاف کا بیان آ گیا کہ حاملہ کو الگ کیوں ذکر کیا؟ کہ اس کے اندر طلاقِ سنت دینا چاہتے ہیں تو شیخین فرماتے ہیں ایک ایک مہینے کے وقفے سے تین طلاقیں دے دے حاملہ کو، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں حاملہ کو صرف طلاقِ احسن دے سکتا ہے، ایک طلاق دے دے بس اور اس کے بعد وضعِ حمل تک عدت پوری ہونے دے، یہاں طلاقِ سنت دینا جائز نہیں ہے۔ تو اب وہ فرق بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: ”وَيُطَلِّقُهَا لِلسُّنَّةِ ثَلَاثًا“ اور اس حاملہ کو خاوند طلاق دے سکتا ہے سنت طریقے پر تین طلاقیں دے سکتا ہے ”يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ تَطْلِيقَتَيْنِ بِشَهْرٍ“ ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینے کا فرق کرے ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُطَلِّقُهَا لِلسُّنَّةِ إِلَّا وَاحِدَةً“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند اس کو سنت طریقے پر طلاق نہیں دے سکتا مگر ایک ہی طلاق۔ ”لِأَنَّ الْأَصْلَ“ اب یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الطَّلَاقِ الْحَظْرُ“ اس لیے کیونکہ طلاق کے اندر اصل ممانعت ہے ”وَقَدْ وَرَدَ الشَّرْعُ بِالتَّفْرِيقِ عَلَى فُصُولِ الْعِدَّةِ“ اور نیز تحقیق شریعت بھی وارد ہوئی ہے کہ طلاقوں میں کیا کی جائے؟ تفریق کی جائے، ان میں فصل کیا جائے عدت کی فصلوں پر، عدت کی فصلوں پر۔ فصولِ عدت سے مراد وہ چیز ہے جس کے ذریعے عدت کو شمار کیا جاتا ہے۔ عدت کی فصلیں یعنی جن کے ذریعے عدت کو شمار کیا جاتا ہے، تو حیض والیوں میں عدت کو کس سے شمار کرتے ہیں؟ حیض سے، تین حیض گزریں گے تو اس کی عدت پوری، اور آیسہ اور صغیرہ کے اندر عدت کو کس سے شمار کرتے ہیں؟ مہینوں کے ساتھ، تین مہینے پورے تو ان کی عدت بھی پوری، تو یہ عدت کی فصلیں ہیں۔ حیض والی میں عدت کی فصلیں حیض، اور آیسہ اور صغیرہ میں عدت کی فصلیں مہینے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں ”لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الطَّلَاقِ الْحَظْرُ“ کہ اصل جو ہے طلاق کے اندر ممانعت ہے ”وَقَدْ وَرَدَ الشَّرْعُ بِالتَّفْرِيقِ عَلَى فُصُولِ الْعِدَّةِ“ اور تحقیق شریعت وارد ہوئی ہے کہ طلاق کے اندر تفریق کی جائے، جدائی کی جائے عدت کی فصلوں پر ”وَالشَّهْرُ فِي حَقِّ الْحَامِلِ لَيْسَ مِنْ فُصُولِهَا“ اور مہینہ جو ہے یہ حاملہ کے حق میں عدت کی فصلوں میں سے نہیں ہے۔ حاملہ کے حق میں مہینہ یہ عدت کی فصلوں میں سے نہیں ہے۔ بھئی دیکھو، حیض والی میں عدت کی فصلیں کیا ہیں؟ حیض، تین حیض آئیں گے تو عدت پوری ہو گئی۔ آیسہ اور صغیرہ کے اندر عدت کی فصلیں کیا ہیں؟ مہینے، تین مہینے پورے ہوں گے تو عدت پوری ہو جائے گی۔ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں لیکن یہ جو حاملہ ہے اس کے حق میں یہ جو مہینہ ہے یہ عدت کی فصلیں نہیں ہیں، حاملہ کی عدت کتنی ہے؟ وضعِ حمل ہے، وہاں کوئی تین مہینے عدت نہیں ہے، تو معلوم ہوا حاملہ کے حق میں یہ مہینے یہ عدت کی فصلیں نہیں ہیں۔ شریعت نے تو کیا حکم دیا؟ کہ ہر دو طلاقوں کے درمیان فصولِ عدت کا فرق ہونا چاہیے، عدت کی فصل بیچ میں آنی چاہیے۔ دیکھو حیض والی کو طلاقِ سنت دیتے ہیں کس طرح دیتے ہیں؟ ہر ایسے طہر میں طلاق دیتے ہیں جس میں صحبت نہ کی ہو، پھر حیض بیچ میں آ گیا یعنی عدت کی فصل آ گئی، پھر اگلے طہر میں ایک طلاق دے دی پھر اس کے بعد ایک فصل آ گئی پھر اس کے بعد ایک طلاق دے دی، تو دیکھو بیچ میں عدت کی فصلیں آ رہی ہیں۔ اور اسی طرح وہ عورتیں جن کے اندر مہینہ عدت کی فصل ہے وہاں پر بھی ایک طلاق دیتا ہے خاوند اور پھر پورا مہینہ انتظار کرتا ہے پھر اگلی طلاق دیتا ہے تو دو طلاقوں کے درمیان دیکھو عدت کی فصل یعنی ایک مہینہ پورا آ گیا۔ لیکن حاملہ کے حق میں تو مہینہ عدت کی فصل نہیں، حاملہ کی عدت تو وضعِ حمل ہے بھئی، یہاں مہینوں کے ساتھ عدت شمار نہیں۔ تو جب مہینوں کے ساتھ یہاں عدت نہیں شمار حاملہ کے حق میں جب مہینہ عدت کی فصلوں میں سے نہیں ہے تو یہاں طلاقِ سنت کی کوئی صورت نہیں۔ اگر آپ مہینے بعد بھی دوسری طلاق دیں گے تو درمیان میں تو عدت کا فصل نہ آیا اور حالانکہ ضروری کیا تھا؟ عدت کی فصل بیچ میں آئے، لیکن مہینہ تو حاملہ کے لیے عدت کی فصل نہیں ہے لہٰذا یہاں فصل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کی عدت تو وضعِ حمل ہے، اور ایک طلاق بھی دے گا جیسے ہی وضعِ حمل ہوگا عورت کی عدت ختم، اور جیسے ہی عدت اس کی ختم ہوگی وہ بائنہ ہو جائے گی وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے تو یہاں دوسری طلاق کا احتمال ہی نہیں ہے سنت طریقے پر۔ ویسے تو دینا چاہے بدعت تو دے سکتا ہے لیکن سنت طریقے پر یہاں دوسری طلاق کا احتمال نہیں کیونکہ دوسری طلاق کے لیے تفریق چاہیے فصلِ عدت کے ساتھ اور فصلِ عدت کے ساتھ تو یہاں تفریق ممکن نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّهْرُ فِي حَقِّ الْحَامِلِ لَيْسَ مِنْ فُصُولِهَا“ اور مہینہ جو ہے وہ حاملہ کے حق میں عدت کی فصلوں میں سے نہیں ہے ”فَصَارَ كَالْمُمْتَدَّةِ طُهْرُهَا“ تو یہ حاملہ ہو گئی اس عورت کی طرح جس کا طہر لمبا ہو گیا ہو۔ یاد رکھو، یہ جو حیض والی عورت ہے نا حیض والی عورت، اس کے اندر میں نے آپ کو بتلایا حیض کے دن بھی مقرر ہوتے ہیں اور طہر کے دن بھی مقرر ہوتے ہیں، اٹھائیس انتیس یا تیس دن کا مثلاً ایک دائرہ چلتا رہتا ہے۔ ہر مہینے مثلاً سات دن حیض ہے تو سات دن ہی ہر مہینے حیض آئے گا اور طہر کے اگر بائیس دن ہیں تو ہر مہینے طہر کے بائیس دن ہی شمار ہوں گے۔ تو یہ جو حیض والی عورت ہوتی ہے اس میں طہر کے بھی دن مقرر ہوتے ہیں اور حیض کے دن بھی مقرر ہوتے ہیں، اسی طرح ہمیشہ یہ دائرہ چلتا رہتا ہے۔ لیکن بعض اوقات کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے عورت کا طہر لمبا ہو جاتا ہے، اس کو حیض آتا ہی نہیں اور پھر عورت پریشان ہوتی ہے تو وہ اپنا علاج وغیرہ کرتی ہے کہ کیا وجہ ہے مجھے حیض کیوں نہیں آ رہا؟ تو حیض کا نہ آنا یہ بھی بیماری کی علامت ہے عام عورت کے اندر۔ معلوم ہوا بعض اوقات یہ طہر لمبا ہو جاتا ہے، طہر لمبا ہو جاتا ہے تو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں یہ حاملہ کے حق میں مہینہ عدت کی فصلوں میں سے نہیں ہے، یہ جو مہینہ ہے یہ عدت کی فصلوں میں سے نہیں ہے حاملہ کے حق میں، یہ اسی طرح ہے جیسے ایک عورت کو خاوند نے طلاق دے دی، اب وہ اگلی طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے لیکن یہ طہر لمبا ہو گیا اب اس کے بعد عورت کو حیض ہی نہیں آ رہا، تین چار پانچ یا چھ مہینے گزر گئے عورت کو حیض ہی نہیں آ رہا۔ تو کہتے ہیں جیسے اس عورت کے اندر جب تک اگلا طہر نہیں آئے گا خاوند طلاقِ سنت نہیں دے سکتا، یہاں مہینوں کا اعتبار نہیں کریں گے کہ بھئی اب تو طہر آ ہی نہیں رہا، پہلے حیض آئے گا پھر طہر آئے گا لیکن حیض آ ہی نہیں رہا تو اب یہاں پر مہینوں کا اعتبار نہیں کریں گے بلکہ اگلے طہر ہی کا انتظار کرنا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ تو جیسے وہ عورت جس کا طہر لمبا ہو جائے اس کے حق میں مہینہ عدت کی فصلوں میں سے نہیں، طہر ہی کا اعتبار کرنا پڑے گا تو لہٰذا اسی طرح یہ حاملہ کے حق میں بھی مہینہ عدت کی فصلوں میں سے نہیں ہوگا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ تو کہتے ہیں ”فَصَارَ كَالْمُمْتَدَّةِ طُهْرُهَا“ تو یہ عورت یہ جو حاملہ ہے یہ ہو گئی اس عورت کی طرح جس کا طہر لمبا ہو گیا ہو، ”وَلَهُمَا“ اب شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آ گئی۔ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِبَاحَةَ لِعِلَّةِ الْحَاجَةِ“ کہ یہ جو شریعت نے طلاق کو مباح قرار دیا ہے یہ حاجت کی وجہ سے، کہ انسان بعض اوقات عورت سے جان چھڑانے کا محتاج ہوتا ہے تو اس وجہ سے شریعت جو ہے طلاق کو مباح قرار دیتی ہے، ”وَالشَّهْرُ دَلِيلُهَا“ اور مہینہ جو ہے وہ اس حاجت کی دلیل ہے۔ مہینہ کیا ہے؟ اس حاجت کی دلیل ہے، مہینے کے اندر رغبت نئی ہو جاتی ہے لہٰذا حاملہ کے حق میں بھی یہ مہینہ رغبت کے نئے ہونے کی دلیل ہے اور جب رغبت نئی ہو اور پھر بھی انسان طلاق پر پیش قدمی کرے معلوم ہوا اس کو حاجت ہے۔ معلوم ہوا اس کو؟ تو حاملہ کے حق کے اندر بھی اسی طرح ہوگا، یہ ایک مہینہ جو ہے رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ ہے، ایک مہینہ گزر گیا ہے اور خاوند پھر بھی اس کو طلاق دینا چاہتا ہے معلوم ہوا خاوند کو حاجت ہے حالانکہ یہ تو رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ ہے، تو لہٰذا تو وہ پھر اس کو دوسری طلاق بھی دے سکتا ہے، پھر ایک مہینہ گزرے گا پھر رغبت کے نئے ہونے کا زمانہ ہے لیکن پھر بھی یہ طلاق پر پیش قدمی کر رہا ہے معلوم ہوا اس کو حاجت ہے، جب حاجت ہے تو اس کے لیے طلاق دینا مباح ہو گیا لہٰذا یہ تیسری بھی طلاق دے سکتا ہے اس حاملہ عورت کو۔ تو کہتے ہیں ”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِبَاحَةَ لِعِلَّةِ الْحَاجَةِ“ کہ طلاق کا مباح ہونا یہ حاجت کی علت کی وجہ سے ہوتا ہے ”وَالشَّهْرُ دَلِيلُهَا“ اور مہینہ جو ہے وہ اس حاجت کی دلیل ہے ”كَمَا فِي حَقِّ الْآيِسَةِ وَالصَّغِيرَةِ“ جیسے کہ آیسہ اور صغیرہ کے حق میں یہ مہینہ جو ہے حاجت کی دلیل ہے، ”وَهَذَا لِأَنَّهُ زَمَانُ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ عَلَى مَا عَلَيْهِ الْجِبِلَّةُ السَّلِيمَةُ“، جبلت کہتے ہیں طبیعت کو اور فطرت کو۔ جبلت کسے کہتے ہیں؟ فطرت اور طبیعت کو۔ یعنی وہ چیز جو اللہ نے پیدائشی طور پر کسی کی طبیعت میں رکھی ہو اس کو فطرت کہتے ہیں۔ جیسے یہ پرندوں کو آپ دیکھتے ہیں کہ جب ان کے انڈے دینے کا وقت آتا ہے یہ گھونسلے بناتے ہیں، شب و روز لگے ہوتے ہیں اور گھونسلے بناتے ہیں۔ اب یہ گھونسلے بنانے کی تربیت ان کو کسی نے نہیں دی، ان کو گھونسلے بنانے کی تربیت کسی نے نہیں دی، اللہ نے ان کی طبیعت اور فطرت میں یہ چیز رکھی ہے بھئی اور ایسے ایسے گھونسلے بناتے ہیں بعض اوقات آپ دیکھتے ہیں کہ بالکل کمرے کی طرح بند ہوتا ہے اور ایک طرف ایک سوراخ ہوتا ہے بھئی، اور سینکڑوں ہزاروں تنکوں کو انہوں نے جوڑ کر ایسا بنایا ہوتا ہے کہ اگر آپ کھینچ کر بھی اس کو کھولنا چاہیں تو نہیں کھول سکتے بھئی۔ تو دیکھو یہ کسی نے ان کو تربیت نہیں دی، یہ اللہ نے ان کی فطرت میں رکھا ہے بھئی۔ اسی طرح جب انڈے دیتے ہیں پھر کچھ دن اس کے اوپر بیٹھ جاتے ہیں وہ پرندے بھئی، اب دیکھو یہ ان کو کسی نے بتایا نہیں کہ اس طرح بیٹھنا پڑے گا، یہ اللہ نے ان کی فطرت میں یہ چیزیں رکھی ہیں، تو پیدائشی طور پر کسی کی طبیعت میں جو چیزیں اللہ رکھ دیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ فطرت کہتے ہیں بھئی۔ تو جبلت کا کیا معنی؟ فطرت بھئی، فطرت۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا لِأَنَّهُ زَمَانُ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک مہینہ جو ہے یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے ”عَلَى مَا عَلَيْهِ الْجِبِلَّةُ السَّلِيمَةُ“ بنا بر اس کے جس پر فطرتِ سلیمہ ہوتی ہے۔ فطرتِ سلیمہ یہی ہے کہ انسان ایک ماہ میں دوبارہ اس کی صحبت میں رغبت ہو جاتی ہے۔ فطرتِ سلیمہ، سلیم سلیم سے ہے یعنی جس میں کوئی مرض وغیرہ نہ ہو، صحیح فطرت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے، ورنہ اگر کسی کی خواہش زیادہ ہے وہ دس دن کے اندر ہی اس کو عورت کی رغبت ہو جاتی ہے کوئی ایسا خاوند ہے تو یاد رکھو معلوم ہوا یہ فطرتِ سلیمہ نہیں ہے، فطرتِ سلیمہ تو یہ ہے کہ ایک ماہ میں رغبت ہوگی بھئی۔ تو سلیم سے کیا مراد ہے؟ جو سلامت ہو، کسی مرض وغیرہ کا اس میں دخل نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا لِأَنَّهُ زَمَانُ تَجَدُّدِ الرَّغْبَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک مہینہ یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے ”عَلَى مَا عَلَيْهِ الْجِبِلَّةُ السَّلِيمَةُ“ بوجہ اس کے جس پر فطرتِ سلیمہ ہوتی ہے ”فَصَلُحَ عَلَمًا وَدَلِيلًا“ لہٰذا یہ ایک مہینہ صلاحیت رکھتا ہے علامت اور دلیل ہونے کی۔ یہ ایک مہینہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ علامت بن جائے اور دلیل بن جائے کس چیز پر؟ رغبت کے نیا ہونے پر، رغبت کے نیا ہونے پر اس کو علامت یا دلیل قرار دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا حاملہ کو ایک طلاق دے دی اور پھر ایک مہینہ گزر گیا تو ہم کہیں گے کہ اب رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ آ گیا اور خاوند پھر بھی طلاق دینا چاہتا ہے معلوم ہوا اس کو حاجت ہے اور جب حاجت ہے تو اس کے لیے طلاق دینا جائز ہوا، لہٰذا یہ دوسری طلاق بھی دے سکتا ہے اور اس طرح پھر تیسری طلاق بھی دے سکتا ہے ایک مہینے کے بعد۔ تو کہتے ہیں ”فَصَلُحَ عَلَمًا وَدَلِيلًا“ تو لہٰذا یہ مہینہ صلاحیت رکھتا ہے علامت اور دلیل ہونے کی، کس چیز کی علامت اور دلیل؟ حاجت کی، کہ اس کو حاجت ہے۔ بھئی ایک مہینے میں رغبت نئی ہو جائے گی، پھر بھی یہ طلاق پر اقدام کر رہا ہے معلوم ہوا اس کو حاجت ہے حالانکہ یہ تو رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے۔ ”فَصَلُحَ عَلَمًا وَدَلِيلًا“ لہٰذا یہ مہینہ جو ہے حاجت کی علامت اور دلیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ”بِخِلَافِ الْمُمْتَدَّةِ طُهْرُهَا“ بخلاف وہ عورت جس کا طہر لمبا ہو گیا ہو ”لِأَنَّ الْعَلَمَ فِي حَقِّهَا إِنَّمَا هُوَ الطُّهْرُ“ اس لیے کیونکہ علامت جو ہے رغبت کے نئے ہونے کی جو علامت ہے فی حقہا اس عورت کے حق میں انما ہو الطہر وہ طہر ہی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ نے اس حاملہ کو کس پر قیاس کیا تھا؟ وہ عورت جس کا طہر لمبا ہو جائے، اور جس کا طہر لمبا ہو جائے وہاں تو کوئی مہینوں کا فرق نہیں کیا جاتا بلکہ طہر ہی کا انتظار کریں گے یہاں تک کہ پھر حیض آئے اور پھر اگلا طہر آئے پھر ہی خاوند اگلی طلاق دے سکتا ہے، اس سے پہلے نہیں، مہینے مہینے کے بعد طلاق دے گا تو یہ طلاقِ سنت نہیں ہے بھئی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ جس عورت کو حیض آتے ہیں اس کے حق میں شریعت نے طہر جو ہے ہر طہر کو شریعت نے رغبت کی علامت قرار دیا ہے، ہر طہر میں کیا ہو جائے گی خاوند کی رغبت، لہٰذا اس کے حق میں علامت طہر ہی ہے، اس کے حق میں اب دوبارہ بدل کر مہینہ نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْعَلَمَ فِي حَقِّهَا إِنَّمَا هُوَ الطُّهْرُ“، باقی علامت کس چیز کی علامت؟ رغبت کے نئے ہونے کی، باقی رغبت کے نئے ہونے کی جو علامت ہے فی حقہا اس عورت کے حق میں جس کا طہر لمبا ہو گیا ہے انما ہو الطہر وہ طہر ہی ہے یعنی تجددِ طہر ہے کہ نیا طہر آئے گا پھر ہی ہم کہیں گے کہ رغبت نئی ہو گئی، ”وَهُوَ مَرْجُوٌّ فِيهَا فِي كُلِّ زَمَانٍ“ اور یہ جو طہر ہے اس کی تو اس عورت میں امید ہے ہر زمانے میں۔ بھئی ایک عورت ہے اس کا طہر لمبا ہو گیا، خاوند اگلی طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے لیکن اگلا طہر ہی نہیں آ رہا، کہتے ہیں بے شک طہر نہ آئے اس کے اندر رغبت کے نئے ہونے کی علامت شریعت نے طہر کو قرار دیا ہے تو طہر ہی کا انتظار کریں گے، اور نیز اس عورت کے اندر طہر کی امید بھی ہے کیونکہ یہ حیض والی عورت ہے۔ تو کسی بھی وقت اس کو حیض شروع ہو سکتا ہے اور پھر اس کے بعد اگلا طہر آ سکتا ہے، جبکہ حاملہ جو حاملہ کو جو آپ قیاس کر رہے ہیں اس عورت پر جس کا طہر لمبا ہو رہا ہے آپ کا یہ قیاس صحیح نہیں ہے، اس لیے کیونکہ حاملہ جو ہے وہاں تو حیض آنے کی کوئی امید ہی نہیں ہے۔ یاد رکھو جب عورت حاملہ ہو جاتی ہے تو حیض بند ہو جاتا ہے اور جب تک بچے کو جنم نہ دے دے دوبارہ حیض نہیں آتا، پھر جب بچے کو جنم دے گی پھر وہ نفاس کا خون چند دن تک آتا ہے اور پھر اس کے بعد پھر اسی طرح حیض ہر مہینے شروع ہو جاتا ہے۔ تو جب تک عورت حاملہ ہے اس کو حیض نہیں آتا، تو لہٰذا یہ عورت جس کا طہر لمبا ہو گیا ہے اس کے اندر ہم مہینوں کو علامت قرار نہیں دے سکتے کیونکہ اس کے اندر علامت کیا چیز ہے؟ طہر ہے اور طہر کی ہر وقت اس کے اندر امید ہے کہ ہو سکتا ہے آج حیض شروع ہو جائے اور پھر فوراً ہی طہر بھی آگے آ جائے، تو نئے طہر کی تو اس میں ہر وقت امید ہے لیکن حاملہ کے اندر تو کسی حیض کی اور پھر نئے طہر کی امید نہیں ہے لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ حاملہ جو ہے اس کے اندر تو مہینے کی تفریق کے ساتھ طلاقِ سنت ہو سکتی ہے لیکن وہ عورت جس کا طہر لمبا ہو گیا ہو اس کے حق میں تو مہینے کی تفریق وہ عدت کی فصل نہیں ہو سکتی۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْعَلَمَ فِي حَقِّهَا إِنَّمَا هُوَ الطُّهْرُ“ اس لیے کیونکہ رغبت کے نئے ہونے کی جو علامت ہے اس عورت کے حق میں جس کا طہر لمبا ہو گیا ہے انما ہو الطہر وہ ہاں رغبت کے نئے ہونے کی علامت اس کے اندر وہ طہر ہی ہے ”وَهُوَ مَرْجُوٌّ فِيهَا فِي كُلِّ زَمَانٍ“ اور یہ جو طہر ہے اس کی تو اس عورت میں امید ہے ہر زمانے میں کہ ابھی اس کو حیض آ جائے گا اور پھر نیا طہر شروع ہو جائے گا ”وَلَا يُرْجَى مَعَ الْحَبَلِ“ اور حمل کے ساتھ تو اس کی امید نہیں ہے۔ حمل کے ساتھ تو اس کی امید نہیں کیونکہ حبل والی کو تو حیض ہی نہیں آتا، حیض ہی نہیں تو وہاں دوبارہ پھر طہر کا بھی کوئی احتمال نہیں۔ لہٰذا دونوں میں فرق آ گیا، ایک میں تجددِ طہر کا احتمال ہے دوسری میں تجددِ طہر کا احتمال نہیں لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے، تو جس میں تجددِ طہر کا احتمال ہے اس کے حق میں رغبت کی علامت طہر ہی رہے گا اور جس میں تجددِ طہر نہیں ہے وہاں پر مہینے کو رغبت کی علامت قرار دیا جائے گا۔ فرق سمجھ میں آ گیا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ وَقَعَ الطَّلَاقُ“ اور جب کوئی شخص طلاق دیتا ہے اپنی بیوی کو فی حالت الحیض حالتِ حیض میں وقع الطلاق تو طلاق واقع ہو جائے گی، اگرچہ ہے کون سی طلاق؟ طلاقِ بدعت ہے۔ ”لِأَنَّ النَّهْيَ عَنْهُ لِمَعْنًى فِي غَيْرِهِ“ بھئی دیکھو شریعت نے تو منع کیا ہے، شریعت نے تو منع کیا ہے کہ حیض کے اندر طلاق نہیں دینی، بھئی حدیث میں آپ نے پڑھا کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حیض کی حالت میں بیوی کو طلاق دی تھی تو حضور علیہ السلام نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور رجوع کرنے کا حکم دیا، اس سے دو باتوں کا پتہ چلا: ایک تو یہ کہ وہ طلاق واقع ہو گئی ہے، اگر واقع نہ ہوتی تو رجوع کرنے کا کیا مطلب؟ توجہ ہے؟ حضور رجوع کا حکم دے رہے ہیں معلوم ہوا وہ حیض کے اندر طلاق واقع ہو گئی، اور نیز حضور ناراضگی کا اظہار فرما رہے ہیں اور رجوع کرنے کا حکم دے رہے ہیں معلوم ہوا کہ حیض میں طلاق دینا جائز نہیں ہے، معلوم ہوا شریعت کی طرف سے منع ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ النَّهْيَ عَنْهُ لِمَعْنًى فِي غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ اس سے جو منع کیا گیا ہے وہ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے جو اس کے غیر میں پایا جا رہا ہے۔ یعنی طلاق تو فی ذاتہٖ اپنی ذات کے اعتبار سے ازالۂ رقیت ہے، جائز ہے، لیکن وہاں جو منع کیا گیا ہے حیض کے اندر وہ کس وجہ سے منع کیا گیا ہے؟ کہ عورت پر عدت لمبی ہو جائے گی۔ پیچھے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر حیض کے اندر خاوند طلاق دے گا، حیض کے اندر طلاق دے گا تو شوافع کے نزدیک عدت شمار ہوتی ہے طہروں سے تو یہ حیض جب گزرے گا تو پھر اس کی عدت شروع ہوگی، معلوم ہوا یہ والا حیض شوافع کے نزدیک بھی عدت میں شمار نہیں، اور ہمارے نزدیک بھی یہ والا حیض عدت میں شمار نہیں ہے بلکہ اگلے تین حیض عورت گزارے گی پھر جدا ہوگی خاوند سے، تو عورت پر عدت کیا ہو گئی؟ لمبی ہو گئی کیونکہ یہ والا حیض جس میں خاوند نے طلاق دی ہے نہ ہمارے نزدیک عدت میں شمار نہ شوافع کے نزدیک عدت میں شمار ہے۔ تو شریعت نے حیض کے اندر طلاق دینے سے منع کیا ہے، کیوں منع کیا ہے؟ کہ اس کی وجہ سے عورت پر عدت لمبی ہو جائے گی، اور نیز اس لیے بھی کیونکہ حیض جو ہے وہ تو عورت سے نفرت کا زمانہ ہے تو کہیں اس عارضی نفرت کی وجہ سے خاوند طلاق نہ دے رہا ہو اس لیے شریعت نے منع کیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ النَّهْيَ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ حیض کے اندر طلاق دینے سے جو نہی کی گئی ہے ”لِمَعْنًى فِي غَيْرِهِ“ یہ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے جو اس طلاق کے غیر میں پایا جا رہا ہے ”وَهُوَ مَا ذَكَرْنَا“ اور وہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، کیا وجہ ہم نے ذکر کی تھی؟ کہ عدت عورت پر لمبی ہو جائے گی، یہ حیض کسی کے نزدیک بھی عدت میں شمار نہیں جس حیض کے اندر طلاق دی ہے، اور نیز دوسری وجہ کیا ذکر کی؟ کہ حیض کیا ہے؟ نفرت کا زمانہ ہے تو کہیں اس عارضی نفرت کی وجہ سے طلاق نہ دے رہا ہو۔ ”فَلَا يَنْعَدِمُ مَشْرُوعِيَّتُهُ“ لہٰذا معدوم نہیں ہوگا اس کا مشروع ہونا۔ حیض کے اندر طلاق دے رہا ہے تو طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے ممنوع نہیں ہے بلکہ غیر کی وجہ سے ممنوع ہے، کس کی وجہ سے؟ عورت کی عدت لمبی ہو رہی ہے، عورت کی عدت لمبی ہو رہی ہے یا اس لیے کیونکہ یہ نفرت کا زمانہ ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا حیض کے اندر جو طلاق سے منع کیا گیا ہے وہ طلاق کی ذات کی وجہ سے نہیں منع کیا گیا بلکہ عدت کے لمبا ہونے یعنی نفرت کا زمانہ ہونے کی وجہ سے منع کیا گیا ہے، تو خود طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع رہے گی یعنی دے گا تو واقع ہو جائے گی اگرچہ حرام کام کیا لیکن واقع ہو جائے گی۔ اگر اپنی ذات کے اعتبار سے طلاق ممنوع ہوتی تو پھر دینے سے بھی واقع نہ ہوتی لیکن طلاق اپنی ذات کے اعتبار سے ممنوع نہیں بلکہ غیر کی وجہ سے ممنوع ہے۔ یہ معنی ہے ”فَلَا يَنْعَدِمُ مَشْرُوعِيَّتُهُ“ لہٰذا اس طلاق کا مشروع ہونا معدوم نہیں ہوگا، اس کا حکم پھر بھی ثابت ہو جائے گا، جدائی آ جائے گی۔ ”وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا“ اور خاوند کے لیے مستحب یہ ہے کہ اس سے رجوع کر لے، وہ شخص جس نے حیض کے اندر بیوی کو طلاق دی ہے اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ کیا کر لے؟ رجوع کر لے۔ یہ صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں کہ خاوند کے لیے رجوع کرنا مستحب ہے، آگے صاحبِ ہدایہ فرمائیں گے نہیں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ رجوع کرنا خاوند پر واجب ہے۔ رجوع کرنا واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا“ اور مستحب ہے خاوند کے لیے کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے جو آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”مُرِ ابْنَكَ فَلْيُرَاجِعْهَا“، ”مُرِ ابْنَكَ فَلْيُرَاجِعْهَا“، حضرت ابنِ عمر نے حیض کے اندر بیوی کو طلاق دی تھی حضور علیہ السلام ناراض ہوئے اور حضرت عمر سے فرمایا اپنے بیٹے کو حکم دو کہ وہ رجوع کر لے، تو حضور نے فرمایا حضرت عمر سے ”مُرِ ابْنَكَ“ کہ اپنے بیٹے کو حکم دو ”فَلْيُرَاجِعْهَا“ چاہیے کہ وہ کیا کر لے؟ رجوع کر لے، ”وَقَدْ طَلَّقَهَا فِي حَالِ“ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ ، ”وَهٰذَا يُفِيْدُ الْوُقُوْعَ وَالْحَثَّ عَلَى الرَّجْعَةِ“ اور یہ حدیث فائدہ دیتی ہے دو چیزوں کا۔ ایک کیا؟ کہ طلاق ہو گئی تھی۔ ”وَهٰذَا يُفِيْدُ الْوُقُوْعَ“ یہ حدیث فائدہ دیتی ہے طلاق کے واقع ہونے کا۔ جبھی تو حضور فرما رہے ہیں رجوع کر لے، اگر طلاق واقع ہی نہ ہوتی تو رجوع کرنے کا کیا مطلب؟ اور نیز ”وَالْحَثَّ عَلَى الرَّجْعَةِ“ اور حث کا معنی ہے ابھارنا۔ ثا ہے ثا۔ ”وَالْحَثَّ عَلَى الرَّجْعَةِ“ اور رجوع پر ابھارنے پر، دیکھو حضور حکم دے رہے ہیں کہ اپنے بیٹے کو حکم دو کہ وہ رجوع کر لے، تو معلوم ہوا اس حدیث میں ابھارا جا رہا ہے رجوع کرنے پر، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا يُفِيْدُ الْوُقُوْعَ وَالْحَثَّ عَلَى الرَّجْعَةِ“ اور یہ حدیث فائدہ دیتی ہے اس طلاق کے حیض کے اندر واقع ہونے کا بھی، ”وَالْحَثَّ عَلَى الرَّجْعَةِ“ اور رجوع پر ابھارنے کا بھی۔ ”ثُمَّ الِاسْتِحْبَابُ قَوْلُ بَعْضِ الْمَشَايِخِ“ پھر یہ جو مستحب ہونا ہے، یہ جو رجوع کا مستحب ہونا ہے ”قَوْلُ بَعْضِ الْمَشَايِخِ“ یہ بعض فقہاء کا قول ہے۔ ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ وَاجِبٌ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ رجوع واجب ہے، یہ رجوع واجب ہے۔ ”عَمَلًا بِحَقِيقَةِ الْأَمْرِ ، وَرَفْعًا لِلْمَعْصِيَةِ بِقَدْرِ الْمُمْكِنِ بِرَفْعِ أَثَرِهِ وَهِيَ الْعِدَّةُ ، وَدَفْعًا لِضَرَرِ تَطْوِيلِ الْعِدَّةِ“ تین دلیلیں دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ یہ واجب ہے، رجوع کرنا واجب۔ ایک دلیل کیا؟ کہ حدیث کے اندر امر کا صیغہ آیا ہے: ”فَلْيُرَاجِعْهَا“۔ یہ کون سا صیغہ ہے؟ امر، اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے۔ معلوم ہوا رجوع واجب ہے۔ اور نیز نیز حیض کے اندر طلاق دینا یہ تو گناہ ہے، یہ تو گناہ ہے اور لہٰذا یہ معصیت ہے۔ لہٰذا اس معصیت کو ختم کیا جائے، جس قدر ہو سکے اس کو ختم کیا جائے۔ اور یہ تو خاوند نے طلاق دی ہے، طلاق کی تو واپسی کی کوئی صورت نہیں، ہاں اس کا اثر کم کیا جا سکتا ہے، کس طرح؟ رجوع کر لے، جب رجوع کرے گا تو وہ جو اس طلاق کی وجہ سے عدت آ رہی تھی، وہ جو اس طلاق کا اثر تھا وہ ختم ہو جائے گا۔ تو طلاق کو تو ختم نہیں کر سکتے لیکن اس کے اثر یعنی عدت کو تو ہم ختم کر سکتے ہیں۔ توجہ ہے؟ لہٰذا معصیت کا اثر بھی باقی رہے تو یہ اسی طرح ہے جیسے معصیت باقی ہے۔ لیکن جب رجوع کر لے گا تو جب عدت ختم ہو جائے گی تو معصیت کا اثر ختم ہو گیا، تو جس قدر ہو سکتا تھا ہم نے معصیت یا اس کے اثر کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اور نیز تیسرا، عورت پر عدت بھی لمبی نہیں ہوگی، عورت پر عدت بھی لمبی نہیں ہوگی کیونکہ حیض کے اندر طلاق دی ہے اور یہ حیض تو نہ ہمارے نزدیک عدت میں شمار ہے نہ شوافع کے نزدیک عدت میں شمار ہے، تو خاوند رجوع کر لے اور پھر دوبارہ بعد میں طہر کے اندر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ وَاجِبٌ“ اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ رجوع کرنا واجب ہے۔ دیکھا؟ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ رجوع واجب ہے، معلوم ہوا جو استحباب والا قول ہے وہ بھی صحیح ہے لیکن وجوب والا قول زیادہ صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ وَاجِبٌ“ اور زیادہ صحیح ہے یہ کہ یہ رجوع واجب ہے ”عَمَلًا بِحَقِيقَةِ الْأَمْرِ“ حقیقتِ امر پر عمل کرنے کے لیے۔ یہ ”عَمَلًا“ یہ مفعول لہٗ ہے، مفعول لہٗ کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے: ضَرَبْتُهُ تَأْدِيْبًا میں نے اس کی پٹائی کی، تَأْدِيْبًا کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے، تو یہ ماقبل فعل کی علت بیان کر رہا ہے۔ تو یہاں پر بھی: ”عَمَلًا بِحَقِيقَةِ الْأَمْرِ“ عمل کرنے کے لیے، کس پر؟ حقیقتِ امر پر عمل کرنے کے لیے۔ ”وَرَفْعًا“ یہ دوسری دلیل آ گئی ”وَرَفْعًا لِلْمَعْصِيَةِ بِقَدْرِ الْمُمْكِنِ“ اور معصیت کو اٹھانے کے لیے، جس قدر ممکن ہو سکے ”بِرَفْعِ أَثَرِهِ“ کہ اس کے اثر کو اٹھا دیا جائے، معصیت کو جس قدر اٹھایا جا سکے اٹھایا جائے، معصیت یعنی طلاق تو ختم نہیں ہو سکتی لیکن اس کا اثر جو ہے اس کو تو اٹھانا ممکن ہے ”وَهِيَ الْعِدَّةُ“ اور اس معصیت کا اثر کیا ہے؟ وہ عدت ہے کہ رجوع کر لے گا تو عدت ختم ہو جائے گی۔ ”وَدَفْعًا لِضَرَرِ تَطْوِيلِ الْعِدَّةِ“ اور نیز دفع کرنے کے لیے عدت کی تطویل کے ضرر کو، عدت کی تطویل کا ضرر عورت سے دور کرنے کے لیے۔ تو دیکھو یہ ”عَمَلًا“ ، ”رَفْعًا“ اور ”دَفْعًا“ یہ تینوں مفعول لہٗ ہیں جو ماقبل کی علت بیان کر رہے ہیں۔ یہ رجوع واجب ہے، کیوں واجب ہے؟ کیونکہ ایک تو حدیث کے اندر امر کا صیغہ آیا، اور نیز تاکہ معصیت کا اثر جو ہے وہ ختم ہو جائے، یعنی رجوع کر لے گا تو عدت ختم ہو جائے گی، اور نیز تاکہ عورت سے عدت کی تطویل کا ضرر دور ہو جائے، جب رجوع کر لے گا تو اب عدت کی تطویل کا ضرر کیا ہو گیا؟ دور ہو گیا، ورنہ تو عدت لمبی ہو رہی تھی۔ جی، ترجمہ ایک دفعہ پھر دیکھ لیجیے: ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ وَاجِبٌ“ اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ رجوع واجب ہے ”عَمَلًا بِحَقِيقَةِ الْأَمْرِ“ حقیقتِ امر پر عمل کرنے کے لیے ”وَرَفْعًا لِلْمَعْصِيَةِ بِقَدْرِ الْمُمْكِنِ“ اور نیز معصیت کو ختم کرنے کے لیے جس قدر ممکن ہو سکے ”بِرَفْعِ أَثَرِهِ“ اس کے اثر کو اٹھاتے ہوئے ”وَهِيَ الْعِدَّةُ“ اور اس کا اثر کیا ہے؟ وہ عدت ہے ”وَدَفْعًا لِضَرَرِ تَطْوِيلِ الْعِدَّةِ“ اور عورت سے تطویلِ عدت کے ضرر کو دور کرنے کے لیے۔ ”قَالَ : فَإِذَا طَهُرَتْ وَحَاضَتْ ثُمَّ طَهُرَتْ ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا“ اب بھئی خاوند نے رجوع کر لیا، اب اس عورت کو جس کو اس نے حیض میں طلاق دی تھی، اب اس کو وہ طلاقِ سنت دینا چاہتا ہے تو کب طلاق دے؟ تو آپ کو بتائیں گے، ہمارے بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ حیض گزر گیا، طہر شروع ہو گیا، اس طہر کے اندر طلاق دے دے۔ اس طہر میں؟ تو یہ ایسا طہر ہے جس میں صحبت نہیں کی اور یہ سنت طریقے پر طلاق ہو گئی۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ حیض گزر گیا جس میں طلاق دی تھی اور رجوع کر لیا، یہ حیض گزر جائے پھر طہر آئے وہ طہر بھی گزر جائے، پھر اگلا حیض آئے، اس اگلے حیض کے بعد جو طہر آئے گا اس میں جا کر طلاق دے گا تو یہ طلاقِ سنت ہے۔ اس حیض میں جس کے اندر طلاق بھی دی تھی اور رجوع کر لیا اس کے ساتھ والے طہر کے اندر طلاق نہ دے، بلکہ ایک حیض اور گزرے اور پھر اس کے بعد جو اگلا طہر آئے تو پھر طلاق دے گا تو یہ طلاقِ سنت ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے اب یہ صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِذَا طَهُرَتْ“ جب یہ عورت پاک ہو جائے، دیکھو وہ حیض گزر گیا جس میں طلاق دی تھی ”وَحَاضَتْ“ اور پھر کیا ہو جائے؟ حیض والی، پھر اس کو حیض آ جائے ”ثُمَّ طَهُرَتْ“ پھر دوبارہ اس کو طہر آ جائے ”فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا“ اب چاہے تو اس کو طلاق دے دے اور اگر چاہے تو اس کو روک لے۔ ”قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ یہ قال سے مراد صاحبِ ہدایہ خود ہیں۔ ”قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهٰكَذَا ذَكَرَ فِي الْأَصْلِ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ نے اصل میں یعنی مبسوط میں اسی طرح ذکر فرمایا ہے کہ جس حیض میں طلاق دی ہے اس کے ساتھ والے طہر میں طلاق نہ دے بلکہ اگلے طہر میں طلاق دے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں اس طرح ذکر فرمایا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے اصل یعنی مبسوط میں۔ ”وَذَكَرَ الطَّحَاوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ يُطَلِّقُهَا فِي الطُّهْرِ الَّذِي يَلِي الْحَيْضَةَ الْأُولَى“ اور امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”أَنْ يُطَلِّقَهَا“ کہ خاوند اس بیوی کو طلاق دے گا ”فِي الطُّهْرِ الَّذِي يَلِي الْحَيْضَةَ الْأُولَى“ اس طہر میں جو اس پہلے حیض کے ساتھ ملا ہوا ہے، یعنی جس حیض میں طلاق دی تھی اس کے ساتھ والے ہی طہر میں کیا کر سکتا ہے؟ طلاق دے سکتا ہے، طلاقِ سنت۔ ”قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللهُ : مَا ذَكَرَ الطَّحَاوِيُّ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ ، وَمَا ذُكِرَ فِي الْأَصْلِ قَوْلُهُمَا“ تو دیکھو امام محمد نے تو ذکر کیا تھا کہ ایک طہر چھوڑ کر اگلے طہر میں طلاق دے، اور امام طحاوی فرماتے ہیں اسی طہر میں طلاق دے سکتا ہے، تو امام ابو الحسن کرخی، امام کرخی بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں فقہائے احناف میں سے، تو امام کرخی فرماتے ہیں کہ یہ جو امام طحاوی نے قول ذکر کیا یہ امام صاحب کا قول ہے، یہ امام صاحب کا قول ہے اور اس کی وجہ بتلائیں گے کہ وجہ یہ ہے کہ خاوند نے حیض کے اندر طلاق دی تھی لیکن خاوند نے جب رجوع کر لیا تو گویا وہ طلاق تھی ہی نہیں، وہ کالعدم ہے اس کو شمار ہی نہ کرو کیونکہ خاوند نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، لہٰذا اب فوراً اگلے طہر میں وہ طلاق دے سکتا ہے۔ تو یہ جو امام طحاوی نے ذکر کیا ہے یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور وہ جو متن کے اندر صاحبِ قدوری نے ذکر کیا تھا کہ ایک طہر چھوڑ کر اگلے طہر میں طلاق دے تو وہ صاحبین کا قول ہے۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللهُ“ امام ابو الحسن کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مَا ذَكَرَ الطَّحَاوِيُّ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ کہ وہ جو امام طحاوی نے ذکر کیا ہے وہ امام صاحب کا قول ہے ”وَمَا ذُكِرَ فِي الْأَصْلِ قَوْلُهُمَا“ اور وہ جو اصل کے اندر ذکر کیا گیا ہے وہ صاحبین کا قول ہے۔ ”وَوَجْهُ الْمَذْكُورِ فِي الْأَصْلِ“ اور وہ وجہ جو ذکر کی گئی ہے اصل میں، اصل یعنی مبسوط میں تو کیا ذکر ہے؟ اگلے طہر میں طلاق دے، اس حیض کے ساتھ والے طہر میں طلاق نہ دے۔ اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَوَجْهُ الْمَذْكُورِ فِي الْأَصْلِ“ اور اصل کے اندر جو وجہ ذکر کی گئی ہے وہ یہ ہے ”أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ كُلِّ تَطْلِيقَتَيْنِ بِحَيْضٍ“ کہ سنت یہ ہے ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک حیض کا فرق ہونا چاہیے، ایک حیض کا فرق، اور خاوند نے ایک حیض میں طلاق دی ہے وہ رجوع کر لیا، اب اگلے ہی طہر میں دوسری طلاق دے رہا ہے تو یہ تو دو طلاقوں کے درمیان ایک حیض کا فصل نہ آیا، حالانکہ سنت تو کیا ہے؟ ہر دو طلاقوں میں ایک حیض کا فصل آنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ كُلِّ تَطْلِيقَتَيْنِ بِحَيْضَةٍ“ سنت یہ ہے کہ ہر دو طلاقوں کے درمیان جدائی کرے ایک پورے حیض کا ”وَالْفَاصِلُ هَاهُنَا بَعْضُ الْحَيْضَةِ“ اور یہاں پر جو فاصل اور فاصل بن رہا ہے وہ تو بعضِ حیض ہے، پورا حیض نہیں ہے، لہٰذا ”فَتُكَمَّلُ بِالثَّانِيَةِ“ اس حیض کو پورا کیا جائے گا دوسرے حیض کے ساتھ، اس حیض کو پورا کیا جائے گا دوسرے حیض کے ساتھ، مثلاً اس حیض کے چند دن گزر گئے تو اگلے حیض کے بھی جب اتنے دن گزر جائیں گے تو اب یہ کچھ وہ پچھلا حیض کچھ یہ والا حیض، یہ کیا ہوا؟ پورا حیض ہو گیا۔ لیکن حیض کی تو تقسیم نہیں ہو سکتی بھئی، لہٰذا اگلا پھر پورا ہی شمار کرنا پڑے گا، اس کا کچھ جزء شمار نہیں، تو یہ معنی ہے ”فَتُكَمَّلُ بِالثَّانِيَةِ“ لہٰذا اس حیض کو پورا کیا جائے گا دوسرے حیض کے ذریعے ”وَلَا تَتَجَزَّأُ“ اور حیض تو تقسیم نہیں ہو سکتا ”فَتَتَكَامَلُ“ تو وہ پورا ہوگا اگلا حیض، ”وَإِذَا تَكَامَلَتِ الْحَيْضَةُ الثَّانِيَةُ“ اور جب دوسرا حیض پورا ہو گیا ”فَالطُّهْرُ الَّذِي يَلِيهِ زَمَانُ السُّنَّةِ“ تو وہ طہر جو اس دوسرے حیض کے ساتھ ملا ہوا ہے یہ سنت کا زمانہ ہے ”فَأَمْكَنَ تَطْلِيقُهَا عَلَى وَجْهِ السُّنَّةِ“ تو ممکن ہو گیا اس عورت کو طلاق دینا سنت کے طریقے پر کہ دوسرے طہر میں طلاق دے۔ ”وَوَجْهُ الْقَوْلِ الْآخَرِ“ اور دوسرے قول کی وجہ، وہ جو امام صاحب کا قول تھا کہ جس حیض میں طلاق دی ہے اور رجوع کیا ہے اس سے اگلے ہی طہر میں فوراً کیا کر سکتا ہے؟ طلاقِ سنت دے سکتا ہے۔ اس کی وجہ بھی ذکر کریں گے کہ اس لیے کیونکہ جب خاوند نے رجوع کر لیا تو گویا طلاق تھی ہی نہیں، گویا کہ طلاق تھی ہی نہیں لہٰذا اس لیے اس طہر میں طلاق دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْقَوْلِ الْآخَرِ“ اور دوسرے قول کی وجہ یہ ہے، وہ جو امام طحاوی نے ذکر کیا تھا امام صاحب کا قول، اس قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ أَثَرَ الطَّلَاقِ قَدِ انْعَدَمَ بِالْمُرَاجَعَةِ“ کہ طلاق کا اثر تحقیق معدوم ہو گیا بالمراجعۃ رجوع کرنے کی وجہ سے ”فَصَارَ كَأَنَّهُ لَمْ يُطَلِّقْهَا فِي الْحَيْضِ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا کہ خاوند نے گویا اس عورت کو اس حیض میں طلاق دی ہی نہیں تھی ”فَيُسَنُّ تَطْلِيقُهَا فِي الطُّهْرِ الَّذِي يَلِيهِ“ تو لہٰذا مسنون ہوگا اس عورت کو طلاق دینا اس طہر کے اندر جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک جو قول راجح ہوتا ہے اس کی دلیل کو سب سے آخر میں ذکر فرماتے ہیں، تو یہاں پر بھی صاحبِ ہدایہ کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام صاحب کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں، امام صاحب کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن محشی حضرات نے یہاں حدیث ذکر کی ہے اور حدیث بھی صحیحین کی ہے یعنی بخاری و مسلم کی حدیث ہے اور اس حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے، اس حدیث میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مُرِ ابْنَكَ فَلْيُرَاجِعْهَا“ یہی حدیث جو اوپر متن میں آئی تھی، حضرت عمر سے حضور کیا فرما رہے ہیں کہ اپنے بیٹے کو رجوع کرنے کا حکم دو، ”ثُمَّ يُمْسِكُهَا“ پھر بیٹا تمہارا اس بیوی کو روکے ”حَتَّى تَطْهُرَ“ یہاں تک کہ بیوی پاک ہو جائے، یعنی طہر شروع ہو جائے ”ثُمَّ تَحِيضَ“ پھر اس کو حیض آ جائے ”فَتَطْهُرَ“ پھر اس کے بعد پاک ہو جائے ”فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا“ تو پھر اس کے بعد خاوند کو اختیار ہے چاہے تو اس کو روکنا چاہے تو روک سکتا ہے اور چاہے تو طلاق دے سکتا ہے۔ تو یہ صحیحین کی حدیث ہے اور حدیث سے بھی وہی طریقہ معلوم ہو رہا ہے جو متن کے اندر ذکر تھا، جو صاحبین کا قول تھا۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا سنت طریقہ یہی ہے کہ جس حیض میں طلاق دی تھی اور رجوع کیا تھا اس کے بعد ایک طہر انتظار کرے اور پھر اگلے طہر کے اندر چاہے تو روک لے بیوی کو اور چاہے تو طلاق دے دے، تو یہ طلاقِ سنت ہوگی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ وَهِيَ مِنْ ذَوَاتِ الْحِيَضِ وَقَدْ دَخَلَ بِهَا : أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ ، وَلَا نِيَّةَ لَهُ ، فَهِيَ طَالِقٌ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا اور یہ بیوی ذوات الحیض میں سے ہے یعنی حیض والیوں میں سے ہے، اس کو حیض آتا ہے، اور خاوند اس کے ساتھ صحبت بھی کر چکا ہے۔ اس بیوی سے خاوند کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تجھے تین طلاقیں ہیں سنت طریقے پر۔ اب دیکھو یہاں یہ عربی لفظ ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تو اب آپ کو بتائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ اس صورت میں اگر اس خاوند نے کوئی نیت نہیں کی تو پھر ہر طہر کے اندر ایک ایک طلاق واقع ہوتی چلی جائے گی۔ اس نے کتنی طلاقیں ذکر کی ہیں؟ تین، اور کس طریقے پر؟ سنت طریقے پر، اور سنت طریقہ کیا ہے طلاقوں کا؟ تین طلاقوں کا؟ کہ ہر طہر کے اندر ایک ایک طلاق دی جائے جس میں صحبت نہ کی ہو۔ تو اگر اس کی کوئی نیت نہیں ہے تو ہر طہر میں ایک ایک طلاق واقع ہوتی چلی جائے گی، اور یہ لام وقت کے معنی میں ہو جائے گا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ أَيْ وَقْتَ السُّنَّةِ“ سنت کے وقت میں تمہیں تین طلاقیں ہیں، اور سنت وقت کون سا ہے؟ طہر ہے جس کے اندر خاوند نے صحبت نہ کی ہو بھئی۔ یہ تو وہ صورت تھی جب خاوند نے کوئی نیت نہیں کی۔ اور اگر خاوند نے تینوں کے اکٹھے واقع ہونے کی نیت کی ہے تو تینوں اکٹھی بھی واقع ہو جائیں گی، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں تینوں اکٹھی واقع نہیں ہوں گی اس لیے کیونکہ اس نے ”لِلسُّنَّةِ“ کی قید ساتھ لگائی ہے اور سنت طریقہ طلاقوں کا یہ نہیں ہے کہ اکٹھی تین ہو جائیں، لہٰذا تین اکٹھی واقع نہیں ہوں گی، جبکہ ہمارے نزدیک تین اکٹھی بھی واقع ہو جائیں گی۔ دلیل دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا ”وَهِيَ مِنْ ذَوَاتِ الْحِيَضِ“ حال یہ ہے کہ یہ عورت حیض والیوں میں سے ہے یعنی اس کو حیض آتا ہے ”وَقَدْ دَخَلَ بِهَا“ اور تحقیق خاوند اس سے صحبت بھی کر چکا ہے، بھئی اس کے ساتھ صحبت کر چکا ہے، اگر خاوند نے صحبت نہیں کی پھر تو ایک ہی طلاق سے وہ بائنہ ہو جائے گی بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ دَخَلَ بِهَا“ اور خاوند نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ہے، خاوند نے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ کہ تجھے تین طلاقیں ہیں سنت طریقے پر ”وَلَا نِيَّةَ لَهُ“ اور خاوند کی کوئی نیت نہیں ہے ”فَهِيَ طَالِقٌ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً“ تو اس عورت کو طلاق ہوگی ہر طہر کے اندر ایک طلاق ”لِأَنَّ اللَّامَ فِيْهِ لِلْوَقْتِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ”لِلسُّنَّةِ“ کے اندر لام آیا ہے یہ وقت کے لیے ہے، یاد رکھو کلامِ عرب میں لام وقت کے معنی میں عام استعمال ہوتا رہتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ لام کس معنی میں لے لیں گے؟ وقت کے معنی میں: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ أَيْ وَقْتَ السُّنَّةِ“۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ اللَّامَ فِيْهِ لِلْوَقْتِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو لام ہے وہ وقت کے لیے ہے ”وَوَقْتُ السُّنَّةِ طُهْرٌ لَا جِمَاعَ فِيْهِ“ اور سنت کا وقت جو ہے وہ تو ایسا طہر ہے جس میں جماع نہ ہو ”وَإِنْ نَوَى أَنْ تَقَعَ ثَلَاثًا السَّاعَةَ“ اور اگر خاوند نے یہ نیت کی کہ تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں اسی گھڑی میں یعنی اسی وقت ”أَوْ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ شَهْرٍ وَاحِدَةً“ یا ہر مہینے کے آغاز پر ایک واقع ہو جائے ”فَهُوَ عَلَى مَا نَوَى“ تو پھر اس صورت میں یہ اسی طریقے پر ہوگا جو اس نے نیت کی ہے۔ اگر اس کی یہ نیت ہے اسی وقت تینوں واقع ہو جائیں تو اسی وقت تینوں واقع ہو جائیں گی، اور اگر اس نے یہ نیت کی ہے کہ ہر مہینے کے آغاز پر ایک ایک واقع ہو یعنی جب چاند نظر آئے تو ایک واقع ہو جائے پھر دوسری پھر تیسری، اگر اس نے یہ نیت کی ہے تو ہر مہینے کے آغاز پر ایک ایک طلاق واقع ہو جائے گی، چاہے وہ عورت حیض کی حالت میں ہو چاہے طہر کی حالت میں۔ ہر مہینے کے آغاز پر اس وقت چاہے عورت طہر کی حالت میں ہو چاہے حیض کی حالت اسی وقت کیونکہ اس نے یہ نیت کی ہے تو اسی وقت ایک ایک طلاق واقع ہوتی چلی جائے گی۔ تو اس صورت میں اگرچہ تین طلاقیں اکٹھی ہو گئیں یہ گناہ گار ہوا، یا اس نے ہر مہینے کے آغاز کی نیت کی ہے تو اس وقت اگر عورت حیض والی ہے تو پھر تو یہ گناہ گار تو ہوگا، لیکن بہرحال جو اس نے نیت کی ہے اسی کے مطابق طلاقیں ثابت ہو جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَهُوَ عَلَى مَا نَوَى“ تو یہ طلاقیں واقع ہوں گی اسی طریقے پر جو اس نے نیت کی ہے ”سَوَاءٌ كَانَتْ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ أَوْ فِي حَالَةِ الطُّهْرِ“ برابر ہے کہ اس مہینے کے آغاز میں وہ عورت حیض کی حالت میں ہو یا طہر کی حالت میں۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ : لَا تَصِحُّ نِيَّةُ الْجَمْعِ“ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمع کی نیت صحیح نہیں، تینوں کی اکٹھی کرنے کی نیت صحیح نہیں ”لِأَنَّهُ بِدْعَةٌ“ کیونکہ یہ تو بدعت ہے ”وَهِيَ ضِدُّ السُّنَّةِ“ اور بدعت تو سنت کی ضد ہے، تو اس نے ذکر تو کیا ہے سنت کو اور ارادہ ہے اس کا بدعت کا، تو یہ ایسا نہیں ہو سکتا، ایک چیز کے ذریعے اس کی ضد کا ارادہ نہیں ہو سکتا۔ لفظ کو کبھی ایک معنی میں استعمال کیا جاتا ہے کبھی دوسرا معنی میں اور دوسرا معنی مجازی ہوتا ہے، لیکن لیکن وہ مجازی معنی بھی اس پہلے معنی کے ضد نہیں ہوتا بھئی، وہاں کوئی ربط اور تعلق ہوتا ہے ضد کے علاوہ، ضد کے علاوہ کوئی ربط چاہیے ہوتا ہے لیکن یہ جو تین طلاقوں کی اکٹھا دینے کی نیت کر رہا ہے یہ تو بدعت ہے اور بدعت تو سنت کی ضد ہے، اور لفظ اس نے سنت ذکر کیا اور ارادہ بدعت کا کر رہا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا، ایک لفظ کے ذریعے اس کی ضد کا ارادہ نہیں ہو سکتا۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: ”لَا تَصِحُّ نِيَّةُ الْجَمْعِ“ تینوں طلاقوں کے جمع کی نیت صحیح نہیں ہے ”لِأَنَّهُ بِدْعَةٌ“ کیونکہ یہ بدعت ہے ”وَهِيَ ضِدُّ السُّنَّةِ“ اور بدعت جو ہے وہ تو سنت کی ضد ہے ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مُحْتَمَلُ لَفْظِهِ“ کہ یہ اس کے لفظ کا محتمل ہے، اس کے لفظوں کا میں احتمال ہے، اگرچہ دور کا احتمال ہے لیکن بہرحال احتمال ہے۔ کیا؟ اس نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ کو دیکھو، ذرا ”لِلسُّنَّةِ“ کو ایک طرف رکھ دو، ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ تمہیں تین طلاقیں ہیں، تو اس میں تین اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں اور الگ بھی ہو سکتی ہیں، تو تین اکٹھے ہونے کا بھی احتمال ہے اور الگ ہونے کا بھی احتمال ہے۔ اس پر پھر آپ کے ذہن میں آئے گا چلو ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ میں تو تینوں کے اکٹھے ہونے کا احتمال ہے لیکن ”لِلسُّنَّةِ“ کی جو قید آ رہی ہے، وہ سنت طلاق کا تو کیا طریقہ ہے کہ ہر دو طلاقوں کے درمیان فصل ہونا چاہیے، اکٹھی نہیں ہونی چاہییں، تو اس کا بھی جواب دیتے ہیں کہ بھئی دیکھو یہ جو تین طلاقوں کا اکٹھا واقع ہونا ہے یہ بھی سنت طریقہ ہے، کیا معنی سنت طریقہ ہے؟ یعنی یہ طریقہ بھی سنت سے ثابت ہے۔ یہ طریقہ بھی سنت سے ثابت ہے، دیکھو وہ میں نے حضرت رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث آپ کو لکھوائی تھی کہ وہ آئے حضور علیہ السلام سے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دی ہے، طلاقِ بتہ، میں نے بتایا بت کا معنی قطع ہے کاٹنا، تو تین طلاقوں کو بھی طلاقِ بتہ کہتے تھے یعنی وہ بھی تعلق کو بالکل توڑنے والی ہیں۔ تو حضور کے پاس آئے یا رسول اللہ میں نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دی ہے، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تم نے کیا ارادہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا میں نے ایک کا ارادہ کیا تھا، تو حضور نے فرمایا: واللہ؟ یعنی کیا تم اللہ کی قسم کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا واللہ، کہ ہاں یا رسول اللہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جیسے تم نے ارادہ کیا ہے اتنی ہی یعنی ایک ہی طلاق ہے۔ تو اگر ایک وقت میں تین طلاقیں اکٹھی نہ ہو سکتیں تو ان کو قسم کھلانے کی کیا ضرورت تھی؟ توجہ ہے؟ تو حضور علیہ السلام کا حضرت رکانہ سے قسم کھلوانا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر تین کی نیت کی جائے تو تین طلاقیں بھی واقع ہو جاتی ہیں ایک ہی مجلس میں بھئی۔ معلوم ہوا ایک ہی مجلس میں تین طلاقوں کا واقع ہونا یہ بھی کس سے ثابت ہے؟ سنت سے۔ اور حدیث کے میں نے آپ کو نام بتلائے تھے، حدیث کے کتنے نام ہیں؟ چار: اثر، خبر، سنت، حدیث۔ تو سنت بھی کس کا نام ہے؟ حدیث کا نام ہے، تو معلوم ہوا وہ جو خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تجھے تین طلاقیں ہیں سنت کے طریقے پر یعنی جو سنت یعنی حدیث سے جو ثابت ہے۔ تو لہٰذا تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اور پھر یاد رکھنا، ایک ہے خاوند کا طلاق واقع کرنا، خاوند طلاق واقع کرتا ہے اور پھر وہ طلاق واقع ہو جاتی ہے، تو واقع کرنا یہ کس کا کام ہے؟ خاوند کا۔ واقع کرنا کس کا کام ہے؟ خاوند کا۔ اور پھر طلاق کیا ہو جائے گی؟ واقع ہو جائے گی۔ تو بات چل رہی ہے، خاوند نے کہا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تجھے تین طلاقیں ہیں سنت طریقے پر، تو یہ جو تین طلاقیں اکٹھی ہوں گی یہ ایقاع کے اعتبار سے تو سنت نہیں، ایقاع یعنی خاوند کے واقع کرنے کے اعتبار سے تو یہ سنت نہیں یہ سنت طریقہ نہیں، لیکن وقوع کے اعتبار سے یہ سنت ہے یعنی سنت سے ثابت ہے۔ یعنی سنت سے ثابت ہے، جبکہ بعضوں نے اور بھی جواب دیا اور کتب کے اندر بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ کہ تجھے تین طلاقیں ہیں سنت طریقے پر، اور یہ جو تین طلاقیں ہیں سنت طریقے پر یعنی جو اہل السنۃ کے نزدیک طریقہ ہے، اہل السنۃ والجماعت کے نزدیک جو طریقہ ہے اس طریقے پر تجھے تین طلاقیں ہیں، اور اس نے تین کی نیت بھی کر لی ہے تو اہل السنۃ والجماعت کا تو یہی مذہب ہے کہ تین طلاقیں اگر اکٹھی خاوند دے گا تو اکٹھی واقع ہو جائیں گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّهُ مُحْتَمَلُ لَفْظِهِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جو تین اکٹھی طلاقیں ہیں یہ اس کے لفظ کا محتمل ہے یعنی اس کے لفظ میں اس کا بھی احتمال ہے ”لِأَنَّهُ سُنِّيٌّ وُقُوعًا“ اس لیے کیونکہ یہ تین اکٹھی جو ہیں طلاقیں یہ سنی ہیں وقوعاً، وقوع کے اعتبار سے، یہ واقع ہونے کے اعتبار سے سنی ہیں، کیا مطلب؟ کہتے ہیں: ”مِنْ حَيْثُ إِنَّ وُقُوعَهُ بِالسُّنَّةِ“ اس حیثیت سے کہ ان کا واقع ہونا سنت یعنی حدیث سے ثابت ہے ”لَا إِيقَاعًا“ یعنی ایقاع کے اعتبار سے یہ سنی نہیں، اس طرح طلاق دینا یہ سنت نہیں ہے لیکن ان کا واقع ہونا یہ سنت سے ثابت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ سُنِّيٌّ وُقُوعًا مِنْ حَيْثُ إِنَّ وُقُوعَهُ بِالسُّنَّةِ لَا إِيقَاعًا“ اس لیے کیونکہ یہ تین طلاقوں کا اکٹھے واقع ہونا یہ وقوع کے اعتبار سے سنی ہے، اس حیثیت سے کہ ان کا وقوع سنت سے ثابت ہے یعنی حدیث سے ثابت ہے، یہ سنی ایقاع کے اعتبار سے نہیں ہے یعنی اس طرح واقع کرنا سنت نہیں ہے لیکن وقوع تو سنت ہے ”فَلَمْ يَتَنَاوَلْهُ مُطْلَقُ كَلَامِهِ“ لہٰذا لہٰذا ادھر دیکھیے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ اس میں تین اکٹھی طلاقوں کا بھی احتمال ہے لیکن وہ احتمال ہے صرف، ذہن اس کی طرف فوراً نہیں جاتا کیونکہ وہ ”لِلسُّنَّةِ“ کا لفظ ساتھ ذکر کر رہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“۔ تو تین اکٹھی ہونے کا بھی احتمال ہے، ہم نے آپ کو معنی بیان کر دیا کہ تین اکٹھی کا وقوع بھی کس سے ثابت ہے؟ سنت سے۔ تو تین اکٹھی واقع ہونے کا بھی احتمال ہے لیکن ذہن فوراً اس کی طرف نہیں جاتا کیونکہ وہ جو ”لِلسُّنَّةِ“ کا لفظ ساتھ آ رہا ہے اس کی وجہ سے طلاق کے سنت طریقے کی طرف ذہن جاتا ہے، تو اس لیے یہ احتمال ویسے تو نہیں ثابت ہوگا لیکن اگر اس نے نیت کر لی تو پھر نیت کر لی تو پھر تین اکٹھی بھی ثابت ہو جائیں گی کیونکہ اس نے ایک ایسی چیز کی نیت کی ہے جس کا اس کے کلام میں احتمال بھی تھا، کلام میں ایک چیز کا احتمال بھی ایک معنی کا احتمال بھی تھا اور اس نے وہ نیت بھی باقاعدہ کر لی تو اب پھر وہ اسی طرح ثابت ہو جائے گا۔ اگر وہ نیت نہ کرتا تو پھر ذرا دور کا احتمال تھا اس طرف ذہن نہ جاتا کیونکہ ”لِلسُّنَّةِ“ کا لفظ ذہن کو اس طرف جانے نہیں دیتا، لیکن جب اس نے تین کی نیت کر لی اب تین ہو جائیں گی کیونکہ تین طلاقوں کا واقع ہونا بھی کس سے ثابت ہے؟ سنت یعنی حدیث سے ثابت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَتَنَاوَلْهُ مُطْلَقُ كَلَامِهِ“ لہٰذا یہ جو احتمال ہے تین اکٹھی طلاقوں والا اس کا مطلقِ کلام تو اس کو شامل نہیں ہے، مطلقِ کلام اس کو شامل نہیں تین اکٹھی طلاقوں کو۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَتَنَاوَلْهُ مُطْلَقُ كَلَامِهِ“ لہٰذا اس کو مطلقِ کلام تو اس کا شامل نہیں ہے تین اکٹھی طلاقوں کو ”وَيَنْتَظِمُهُ عِنْدَ نِيَّتِهِ“ لیکن اس کا کلام اس کو شامل ہوگا اس کی نیت کے وقت، جب وہ نیت کر لے گا تو پھر ثابت ہو جائے گی۔ ”وَإِنْ كَانَتْ آيِسَةً أَوْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَشْهُرِ“ اور اگر وہ عورت جو ہے وہ آیسہ ہے، بھئی جس کو خاوند نے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ پہلے تو عورت کون سی تھی؟ حیض والی، تو اب اگر آیسہ ہے یا صغیرہ ہے اس کو یوں کہا ہے تو پھر کیا حکم ہوگا؟ اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتْ آيِسَةً أَوْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَشْهُرِ“ اور اگر وہ عورت جو ہے وہ آیسہ ہے یا مہینوں والی ہے یعنی صغیرہ، مراد ہے صغیرہ مدخول بہا، ذوات الاشہر سے کیا مراد ہے؟ صغیرہ مدخول بہا، جو ہے تو صغیرہ لیکن خاوند اس سے صحبت کر چکا ہے۔ نابالغہ ہے لیکن خاوند اس سے صحبت کر چکا ہے، مثلاً ایک شخص کا نکاح ہوا تھا ایک صغیرہ کے ساتھ اور اب یہ صغیرہ بالغ تو نہیں ہوئی، بالغ ہونے کے قریب ہے۔ بالغ تو نہیں ہوئی لیکن بالغ ہونے کے قریب ہے اور اس سے خاوند نے صحبت کر لی پھر، تو جب خاوند نے اس کے ساتھ صحبت کر لی اور پھر خاوند اس کو کیا کہتا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ توجہ ہے؟ تو اب کیا ہوگا؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتْ آيِسَةً أَوْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَشْهُرِ“ اور اگر وہ عورت آیسہ ہے یا مہینوں والی ہے، لیکن میں نے بتایا کون سی مہینوں والی ہے؟ صغیرہ مدخول بہا، مدخول بہا کی قید ہم کیوں لگا رہے ہیں؟ کیونکہ اگر غیر مدخول بہا ہوئی تو اس کو تو ایک ہی طلاق سے وہ جدا ہو جائے گی، کس سے؟ ایک سے، اور ہم یہاں کس کی بات کر رہے ہیں؟ تین طلاقوں کے واقع ہونے کی۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَشْهُرِ“ یا وہ صغیرہ تھی مدخول بہا ”وَقَعَتِ السَّاعَةَ وَاحِدَةٌ“ تو اسی گھڑی ایک طلاق فوراً واقع ہو جائے گی۔ آیسہ یا صغیرہ مدخول بہا کو خاوند نے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تو ایک طلاق اسی وقت واقع ہو جائے گی، ایک طلاق اسی وقت۔ کیوں؟ کیونکہ حیض والی کے لیے تو طلاق کا ایک مخصوص زمانہ تھا یعنی طہر، لیکن ان کے لیے تو کوئی مخصوص زمانہ نہیں لہٰذا ایک فوراً واقع ہو جائے گی، پھر تیس دن کے بعد دوسری اور پھر تیس دن کے بعد تیسری۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَعَتِ السَّاعَةَ وَاحِدَةٌ“ تو اسی گھڑی ایک واقع ہو جائے گی ”وَبَعْدَ شَهْرٍ أُخْرَى“ اور ایک مہینے کے بعد دوسری ”وَبَعْدَ شَهْرٍ أُخْرَى“ اور ایک مہینے کے بعد ایک اور بھی واقع ہو جائے گی یعنی تینوں پوری ہو جائیں گی ”لِأَنَّ الشَّهْرَ فِي حَقِّهَا دَلِيلُ الْحَاجَةِ كَالطُّهْرِ فِي حَقِّ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ عَلَى مَا بَيَّنَّا“ اس لیے کیونکہ مہینہ جو ہے ان کے حق میں حاجت کی دلیل ہے، ”لِأَنَّ الشَّهْرَ فِي حَقِّهَا دَلِيلُ الْحَاجَةِ كَالطُّهْرِ فِي حَقِّ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ عَلَى مَا بَيَّنَّا“ اس لیے کیونکہ مہینہ جو ہے اس کے حق میں یہ جو آیسہ اور صغیرہ مدخول بہا ہے اس کے حق میں مہینہ جو ہے ”دَلِيلُ الْحَاجَةِ“ وہ حاجت کی دلیل ہے ”كَالطُّهْرِ فِي حَقِّ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ“ جیسے کہ طہر جو ہے وہ حیض والیوں کے حق میں، جیسے حیض والیوں کے حق میں طہر جو ہے وہ دلیلِ حاجت ہے تو آیسہ اور صغیرہ کے حق میں مہینہ یہ حاجت کی دلیل ہے بھئی، ”عَلَى مَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ ان کے حق میں مہینہ جو ہے وہ حیض کے قائم مقام ہے۔ ”وَإِنْ نَوَى أَنْ يَقَعَ ثَلَاثًا السَّاعَةَ وَقَعْنَ عِنْدَنَا لِمَا قُلْنَا“ اور اگر خاوند نے یہ نیت کی کہ تین طلاقیں اسی گھڑی واقع ہو جائیں، اسی آیسہ یا صغیرہ کے مسئلے میں خاوند نے کیا نیت کی ہے کہ تین طلاقیں اسی گھڑی میں اسی وقت میں واقع ہو جائیں ”وَقَعْنَ عِنْدَنَا لِمَا قُلْنَا“ تو یہ تینوں طلاقیں اکٹھی واقع ہو جائیں گی ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر جو ہم نے کہہ دیا کہ لفظ کے اندر بھی اس کا احتمال ہے اور نیز اس نے نیت بھی کر لی تو اب یہ ثابت ہو جائیں گی۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ : أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے یہ کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“۔ بھئی دوسری صورت، اب ”ثَلَاثًا“ کا لفظ خاوند ذکر نہیں کرتا، صرف کیا کہتا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ ، ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ اور خاوند اس کے ذریعے تین طلاقوں کا ارادہ کرتا ہے، تو اگر تین طلاقوں کا ارادہ کیا پھر تو ٹھیک ہے کیونکہ خاوند نے کیا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ ، ”ثَلَاثًا“ کا لفظ ذکر نہیں کیا تو تین کی نیت کرنا چاہتا ہے تو تین کی بھی نیت کر سکتا ہے کیونکہ طلاقِ حسن وہ بھی سنت طریقہ ہے طلاق کا۔ لیکن اگر خاوند نے تین کے اکٹھا واقع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر یاد رکھو پھر صرف ایک ہی طلاق ہوگی، اکٹھی تین کا ارادہ یہاں صحیح نہیں۔ توجہ ہے؟ کیا بات ہوئی؟ خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ چاہے حیض والی کو کہا ہو چاہے آیسہ یا صغیرہ وغیرہ کو کہا ہے، سب میں ایک ہی حکم ہے، کیا؟ کہ اگر خاوند نے کیا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ اور ارادہ کیا تین طلاقوں کا، تو حیض والی کے لیے ہر طہر میں ایک ایک طلاق واقع ہو جائے گی، اور اگر وہ آیسہ یا صغیرہ ہیں تو ایک طلاق اسی وقت فوراً واقع ہو جائے گی، دوسری مہینے کے بعد اور تیسری اگلے مہینے کے بعد۔ یہ تھا تین کی نیت کی، لیکن اگر خاوند نے تین کے اکٹھی نیت کی: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ اور ارادہ کیا کیا؟ تین اکٹھی واقع ہو جائیں، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو صرف ایک ہی طلاق واقع ہوگی، تینوں اکٹھی واقع نہیں ہوں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو بیان فرمائیں گے۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ : أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ ، وَلَمْ يَنُصَّ عَلَى الثَّلَاثِ ، حَيْثُ لَا تَصِحُّ نِيَّةُ الْجَمْعِ فِيهِ“ بخلاف اس کے کہ جب خاوند نے یہ کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ کہ تجھے طلاق ہے سنت طریقے پر ”وَلَمْ يَنُصَّ عَلَى الثَّلَاثِ“ اور خاوند نے تصریح نہیں کی تین کے لفظ پر، یعنی تین کا لفظ ”ثَلَاثًا“ کا لفظ ذکر نہیں کیا ”حَيْثُ لَا تَصِحُّ نِيَّةُ الْجَمْعِ فِيهِ“ اس طور پر کہ اس کے اندر جمع کی نیت صحیح نہیں ہے یعنی اکٹھی تین نہیں ہو سکتیں ”لِأَنَّ نِيَّةَ الثَّلَاثِ إِنَّمَا صَحَّتْ فِيهِ مِنْ حَيْثُ إِنَّ اللَّامَ فِيهِ لِلْوَقْتِ ، فَيُفِيدُ تَعْمِيمَ الْوَقْتِ ، وَمِنْ ضَرُورَتِهِ تَعْمِيمُ الْوَاقِعِ فِيهِ“ بھئی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں، بھئی دیکھیے پچھلے مسئلے میں خاوند نے کیا کہا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا لِلسُّنَّةِ“ تجھے تین طلاقیں ہیں سنت طریقے پر، سنت طریقے پر یعنی سنت وقت کے اندر، اور سنت وقت کیا تھا؟ حیض والی میں طہر۔ اور آئسہ اور صغیرہ میں ایک ایک مہینے کی تفریق کے ساتھ۔ وہاں تو ثلاثاً کا لفظ تھا لیکن یہاں پر ثلاثاً کا لفظ نہیں ہے اور یہاں پر بھی للسنۃ کے اندر لام وقت کے لیے ہے۔ تو خاوند نے کیا کہا ہے؟ انت طالق للسنۃ، ای انت طالق وقت السنۃ، اور ارادہ کس کا کر رہا ہے؟ تین کا۔ تو گویا اس نے وقت میں تعمیم کر دی۔ انت طالق للسنۃ، ای وقت السنۃ، تجھے طلاق ہے سنت وقت میں، اور نیت کیا کر رہا ہے؟ تین طلاقوں کی، تو یہ خاوند گویا وقت کے اندر تعمیم کر رہا ہے۔ تو تین وقتوں کے اندر تین طلاقیں ہو جائیں گی عورت کو۔ خاوند نے کیا کر دیا؟ وقت کے اندر تعمیم کر دی، اور جب وقت میں تعمیم کر دی تو اس میں طلاقوں کی بھی کیا ہو جائے گی؟ تعمیم ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو خاوند نے تین کی نیت کی ہے تو اس وقت کے اندر کیا آ گئی؟ تعمیم آ گئی، تو تین وقتوں کے اندر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ لیکن اگر خاوند نے جمع کا ارادہ کیا ہے کہ اکٹھی ہو جائیں، جب اکٹھی ہونے کا ارادہ کیا ہے تو تعمیمِ وقت نہیں۔ انت طالق للسنۃ، اس وقت السنۃ کے اندر تعمیم نہیں، جب اس کے اندر تعمیم نہیں تو اس کے اندر جو طلاق واقع ہونی تھی اس میں بھی تعمیم نہیں ہوگی، لہٰذا ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ دیکھو، دیکھو، پھر سمجھو۔ گزشتہ مثال کے اندر خاوند نے ثلاثاً کا لفظ بھی ذکر کیا تھا: انت طالق ثلاثاً للسنۃ۔ وہاں پر اگر خاوند نے اکٹھے جمع کرنے کا بھی ارادہ کیا تو اس کا ارادہ ٹھیک ہے کیونکہ وہاں ثلاثاً کا لفظ ذکر ہے۔ اور یہاں پر ثلاثاً کا لفظ ذکر نہیں ہے، صرف انت طالق للسنۃ، یہ لام آ رہا ہے وقت کے لیے بھئی۔ تجھے طلاق ہے سنت وقت پر، اور ارادہ کتنے کا کر رہا ہے؟ تین کا۔ تو معلوم ہوا وقت کے اندر تعمیم آ جائے گی، تو ہر سنت وقت کے اندر ایک ایک طلاق واقع ہوتی چلی جائے گی۔ یعنی یوں کہو، وقت ہے ظرف اور اس کے اندر طلاق آئے گی وہ ہے مظروف، تو ظرف کے اندر جب تعمیم آئے گی تو مظروف یعنی طلاق کے اندر بھی تعمیم آئے گی لہٰذا تین کی نیت صحیح ہے۔ تو تین الگ الگ وقتوں میں تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ کس طرح؟ اگر طہر والی ہے تو تین الگ الگ طہروں میں تین طلاقیں ہو جائیں گی، یہ سنت طریقہ ہے۔ اور اگر آئسہ یا صغیرہ مدخول بہا ہے تو پھر اس صورت کے اندر ایک طلاق اسی وقت ہو جائے گی اور پھر آگے مہینے مہینے کے وقفے سے اگلی دو طلاقیں بھی ہو جائیں گی۔ لیکن اگر خاوند نے تین اکٹھی دینے کا ارادہ کیا اس لفظ کے ذریعے: انت طالق للسنۃ، تو یہ لام کس لیے ہے؟ وقت کے لیے ہے۔ انت طالق وقت السنۃ، اور یہاں وقت کے اندر تعمیم نہیں ہے کیونکہ خاوند اکٹھی دینا چاہ رہا ہے، اور جب وقت کے اندر تعمیم نہیں، جب ظرف کے اندر تعمیم نہیں تو اس کے اندر جو مظروف تھا یعنی طلاق، اس میں بھی تعمیم نہیں ہو سکتی، لہٰذا ایک ہی طلاق ہوگی بھئی۔ وہاں وقت کے اندر تعمیم تھی تین وقتوں کے اندر تو اور ہر وقت میں ایک ایک طلاق تو کتنی ہو گئیں؟ تین۔ ظرف میں تعمیم آئی تو اس مظروف کے اندر بھی تعمیم آ گئی، اس کی نیت ٹھیک ہو گئی۔ لیکن اگر اس نے اکٹھی دینے کا ارادہ کیا ہے تو اس نے وقت کے اندر تعمیم نہیں کی، جب وقت کے اندر تعمیم اس نے باطل کر دی تو جو اس کے اندر طلاقیں ہونی تھیں ان میں بھی تعمیم کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی، ایک ہی طلاق واقع ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ، بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے اپنی بیوی سے انت طالق للسنۃ کہا، وَلَمْ يَنُصَّ عَلَى الثَّلَاثِ، اور خاوند نے تصریح نہیں کی ثلاثہ کے لفظ پر، حَيْثُ لَا تَصِحُّ نِيَّةُ الْجَمْعِ فِيهِ، اس طور پر کہ اس کے اندر خاوند کی جمع کی نیت صحیح نہیں ہوگی، لِأَنَّ نِيَّةَ الثَّلَاثِ إِنَّمَا صَحَّتْ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اس کے اندر تین کی نیت جو صحیح ہوتی ہے وہ اس اعتبار سے ہوتی ہے، مِنْ حَيْثُ إِنَّ اللَّامَ فِيهِ لِلْوَقْتِ، کہ اس کے اندر جو لام ہے وہ وقت کے لیے ہے، فَيُفِيدُ تَعْمِيمَ الْوَقْتِ، تو یہ جو نیت کی ہے تین کی تو یہ تعمیمِ وقت کا فائدہ دے گا، وَمِنْ ضَرُورَتِهِ تَعْمِيمُ الْوَاقِعِ فِيهِ، اور وقت کی تعمیم کے ساتھ ضروری ہے کہ اس وقت کے اندر جو واقع ہونے والی چیز ہے یعنی طلاق اس میں بھی کیا آئے؟ اس میں بھی تعمیم آ جائے، تو تین وقتوں میں تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، فَإِذَا نَوَى الْجَمْعَ، اور پھر جب اس شخص نے جمع کی نیت کی کہ اکٹھی تین طلاقوں کا اس نے ارادہ کیا ہے، بَطَلَ تَعْمِيمُ الْوَقْتِ، تو وقت کی تعمیم جو ہے وہ باطل ہو جائے گی۔ جب وہ اکٹھی دینا چاہ رہا ہے معلوم ہوا وقت کے اندر وہ تعمیم نہیں کر رہا، تو تعمیمِ وقت جو ہے باطل ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فَإِذَا نَوَى الْجَمْعَ بَطَلَ تَعْمِيمُ الْوَقْتِ، جب خاوند نے جمع کا ارادہ کر لیا تو تعمیمِ وقت جو ہے وہ باطل ہو گئی، فَلَا تَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ، تو لہٰذا تین کی نیت صحیح ہی نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ بھئی پچھلے مسئلے میں دیکھو: انت طالق ثلاثاً للسنۃ، اس میں ثلاثاً کا لفظ خود موجود تھا، وہاں اگر وہ تین کی اکٹھی نیت کرتا تھا تو بھی للسنۃ کی تعمیم تو اگرچہ باطل ہو گئی تھی لیکن ثلاثاً کا لفظ خود موجود تھا اس لیے تین طلاقیں ہو جاتی تھیں، لیکن یہاں پر تو ثلاثاً کا لفظ نہیں ہے، اسی للسنۃ کے اندر ہم تعمیم پیدا کر دیں گے، کیا کر دیں گے؟ انت طالق للسنۃ، تمہیں سنت طریقے پر طلاق ہے، اور نیت کتنے کی کر رہا ہے؟ تین طلاقوں کی، اور سنت طریقہ کیا ہے طلاقِ حسن کا؟ ہر ایسا طہر جس میں صحبت نہ کی ہو اس میں طلاق دی جاتی ہے، تو لہٰذا گویا وہ تین کی نیت کر کے اس للسنۃ یعنی وقت السنۃ کے اندر تعمیم کر رہا ہے۔ اور جب وقت کے اندر تعمیم آئے گی تو وقت کے اندر جو طلاق واقع ہو رہی تھی اس میں بھی تعمیم آتی چلی جائے گی اور تین طلاقیں پوری ہو جائیں گی، لیکن جب اس نے تین اکٹھی واقع کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے وقت کے اندر تعمیم کو باطل کر دیا۔ وقت تھا ظرف اور طلاق تھی اس کے اندر مظروف، تو جب ظرف میں تعمیم ختم تو مظروف کی تعمیم بھی ختم کیونکہ مظروف میں تو تعمیم آ ہی ظرف کی تعمیم کی وجہ سے رہی تھی، تو لہٰذا اس لیے ایک ہی طلاق واقع ہوگی اس صورت میں۔ بات سمجھ میں آ گئی، اکٹھی یعنی تین نہیں ہو سکتیں۔ آگے دیکھیے بھئی: فَصْلٌ: وَيَقَعُ طَلَاقُ كُلِّ زَوْجٍ إِذَا كَانَ عَاقِلًا بَالِغًا، وَلَا يَقَعُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ وَالنَّائِمِ۔ جی اب یہ آسان مسئلے ہیں دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَيَقَعُ طَلَاقُ كُلِّ زَوْجٍ، اور واقع ہو جاتی ہے طلاق ہر خاوند کی، إِذَا كَانَ عَاقِلًا بَالِغًا، جب وہ عاقل اور بالغ ہو، وَلَا يَقَعُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ وَالنَّائِمِ، اور بچے کی اور مجنون کی اور سوئے ہوئے شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ مجنون کو تو عقل ہے ہی نہیں، اور بچہ جو ہے اس کو بھی اپنے نفع نقصان کی تمیز نہیں ہے، اور سویا ہوا شخص اس کو تو ہوش ہی نہیں ہے، بعض لوگوں کو نیند میں باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے تو اگر کوئی نیند میں طلاق دے دیتا ہے تو وہ واقع نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے آپ نے فرمایا: ”كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“، ہر طلاق جائز ہے یعنی نافذ ہے سوائے بچے اور مجنون کی طلاق کے، وَلِأَنَّ الْأَهْلِيَّةَ بِالْعَقْلِ الْمُمَيِّزِ، اس لیے کیونکہ اہلیت یعنی طلاق دینے کی جو اہلیت ہوتی ہے بِالْعَقْلِ الْمُمَيِّزِ اس عقل کے ذریعے ہوگی جس کے ذریعے تمیز کی جا سکے، عقلِ ممیز جس کے ذریعے انسان اچھے برے میں تمیز کر سکے، نفع نقصان کو پہچان سکے، اور بچے میں بھی یہ عقل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْأَهْلِيَّةَ بِالْعَقْلِ الْمُمَيِّزِ، اس لیے کیونکہ طلاق کی جو اہلیت ہے وہ عقلِ ممیز کے ذریعے ہوگی، وَهُمَا عَدِيمَا الْعَقْلِ، اصل میں تھا عدیمانِ العقل تو نون اضافت سے گر گیا، وَهُمَا عَدِيمَا الْعَقْلِ، اور یہ دونوں جو بچہ اور مجنون ہیں یہ تو عدیم العقل ہیں ان کی عقل نہیں ہے، وَالنَّائِمُ عَدِيمُ الِاخْتِيَارِ، اور جو سویا ہوا ہے وہ عدیم الاختیار ہے یعنی اس کو اختیار نہیں اس کو کوئی ہوش نہیں ہے، وَطَلَاقُ الْمُكْرَهِ وَاقِعٌ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، مکروہ یعنی مجبور شخص جس کے ساتھ زبردستی کی گئی ہے اس کی طلاق واقع ہو جائے گی خِلافاً للشافعی رحمہ اللہ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ اور یاد رکھو اکراہ سے مراد اکراہِ کامل ہے، کوئی شخص دوسرے کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے یا اعضاء کے تلف کرنے کی دھمکی دیتا ہے یا اس طرح کی کوئی خوفناک دھمکی دیتا ہے تو پھر ہی اس کو مکروہ کہیں گے۔ اور اگر کوئی شخص صرف ایک ڈنڈا اٹھا کر لے آیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دو نہیں تو ایک ڈنڈا لگاؤں گا اور یہ فوراً طلاق دے دیتا ہے بھئی یہ تو کوئی اکراہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَطَلَاقُ الْمُكْرَهِ وَاقِعٌ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور مکروہ کی طلاق واقع ہے بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، هُوَ يَقُولُ، وہ فرماتے ہیں: إِنَّ الْإِكْرَاهَ لَا يُجَامِعُ الِاخْتِيَارَ، کہ اکراہ جو ہے وہ اختیار کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا، جب اکراہ آ جاتا ہے تو اختیار ختم ہو جاتا ہے، وَبِهِ يُعْتَبَرُ التَّصَرُّفُ الشَّرْعِيُّ، اور تصرفِ شرعی کا اعتبار تو اختیار سے ہی ہوتا ہے، کوئی اپنے اختیار سے کوئی تصرف کرے وہی معتبر ہوتا ہے، بِخِلَافِ الْهَاborderزِلِ، بخلاف ہازل یعنی مذاق کرنے والا۔ بھئی یاد رکھو مذاق کے اندر بھی کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کئی دفعہ ایسے واقعات ہو چکے ہیں اور لوگوں کو چونکہ دینی مسائل کا پتہ نہیں ہوتا، بیوی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں محبت کی باتیں ہو رہی ہیں، محبت محبت میں ویسے ہی کہتا ہے جی میں نے تمہیں طلاق دے دی، ہنس کے، پھر دوبارہ کہتا ہے میں نے تمہیں طلاق دے دی، پھر کہتا ہے میں نے تمہیں تیسری بھی طلاق دے دی، ہنسی مذاق میں ہیں لیکن ہنسی مذاق میں بھی طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ بعض لوگ آ کر مسئلہ پوچھتے ہیں کہ ہم نے بڑے غصے میں طلاق دی تھی تو طلاق واقع ہو جائے گی کہ نہیں؟ تو بھئی طلاق تو دی ہی غصے میں جاتی ہے، طلاق واقع ہو جائے گی۔ بعض عورتیں آتی ہیں وہ مسائل پوچھتی ہیں کہ میں حاملہ تھی حالتِ حمل میں طلاق دی تھی، تو لوگوں کا خیال ہوتا ہے شاید حالتِ حمل میں طلاق نہیں ہوتی، نہیں بھئی طلاق ہر حالت میں ہو جاتی ہے۔ اور بعض عورتیں مسائل پوچھتی ہیں کہ خاوند نے مجھے طلاق دی لیکن میں نے قبول نہیں کی، بھئی آپ کے قبول کرنے سے طلاق کا کیا تعلق ہے؟ خاوند طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی آپ قبول کریں یا قبول نہ کریں۔ بلکہ عورت کا سننا بھی ضروری نہیں ہے، خاوند خلوت کے اندر بیٹھا ہوا ہے اور کہتا ہے میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو یاد رکھو طلاق ہو گئی۔ اور اگر اس نے خلوت میں بیٹھے ہوئے تین طلاقیں دے دیں تو بیوی ہمیشہ کے لیے حرام بھی ہو گئی، اب اگر بیوی کے ساتھ وہ صحبت کرتا ہے ساری زندگی گزارتا ہے وہ سب زنا ہے، تو لہٰذا طلاق کے معاملے میں بہت احتیاط ضروری ہے بھئی۔ لہٰذا معلوم ہوا مذاق کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْهَازِلِ، بخلاف ہازل یعنی مذاق کرنے والے کے کہ اس کی طلاق واقع ہو جائے گی، لِأَنَّهُ مُخْتَارٌ فِي التَّكَلُّمِ بِالطَّلَاقِ، اس لیے کیونکہ وہ تکلم بالطلاق میں مختار ہے، وہ اپنے اختیار سے طلاق پر تکلم کر رہا ہے، ہاں ایک بات ہے وہ اس کے حکم پر راضی نہیں ہے، وہ تو مذاق میں طلاق دے رہا ہے، وہ اس عورت کو طلاق دینا نہیں چاہتا، تو لیکن حکم پر راضی ہو یا راضی نہ ہو طلاق نے واقع ہونا ہے اس نے جب کہہ دیا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْهَازِلِ لِأَنَّهُ مُخْتَارٌ فِي التَّكَلُّمِ بِالطَّلَاقِ، بخلاف مذاق کرنے والے کے اس لیے کیونکہ وہ تو بااختیار ہے طلاق پر تکلم کرنے میں، وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ قَصَدَ إِيقَاعَ الطَّلَاقِ فِي مَنْكُوحَتِهِ، کہ یہ جو مکروہ ہے اس نے طلاق واقع کرنے کا ارادہ کیا ہے فی منکوحتہ اپنی منکوحہ بیوی میں، فِي حَالِ أَهْلِيَّتِهِ، اس حال میں کہ اس شخص میں اہلیت بھی ہے یعنی یہ عاقل بالغ ہے، عاقل بالغ ہے۔ تو جب اس نے طلاق دینے کا ارادہ کیا ہے اور اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہ رہا ہے اور اپنی اہلیت کی حالت میں طلاق دینا چاہ رہا ہے کہ عاقل بالغ بھی ہے، فَلَا يَعْرَى عَنْ قَضِيَّتِهِ، یہ طلاق خالی نہیں ہوگی عن قضیّتہ اپنے حکم سے، یعنی طلاق کا حکم بھی آ جائے گا طلاق واقع بھی ہو جائے گی کیونکہ یہ اپنے اختیار سے بیوی کو طلاق دے رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يَعْرَى عَنْ قَضِيَّتِهِ، لہٰذا یہ طلاق جو اس نے اپنے اختیار سے اپنے ارادے سے دی ہے یہ خالی نہیں ہوگی عن قضیّتہ، قضیہ: حکم، طلاق کے حکم سے یہ خالی نہیں ہوگی، دَفْعًا لِحَاجَتِهِ، اس حاجت کو پورا کرنے کے لیے۔ اس کی حاجت کیا ہے؟ دوسرے نے بندوق نکالی ہے یا تلوار نکالی ہے کہ میں تمہیں زخمی کروں گا یا قتل کروں گا اپنی بیوی کو طلاق دے دو، تو اس کو حاجت ہے اپنے چھٹکارے کی، یہ اس شخص سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہتا ہے قتل یا زخمی ہونے سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہتا ہے تو اس کی حاجت پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کو واقع قرار دیا جائے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يَعْرَى عَنْ قَضِيَّتِهِ، لہٰذا یہ طلاق خالی نہیں ہوگی اپنے حکم سے یعنی واقع ہو جائے گی، دَفْعًا لِحَاجَتِهِ، اس آدمی کی حاجت کو پورا کرنے کے لیے، اعْتِبَارًا بِالطَّائِعِ، قیاس کرتے ہوئے طائع پر، طائع کہتے ہیں فرماں بردار یعنی جو شخص اپنی مرضی سے طلاق دیتا ہے۔ جیسے جو شخص اپنی مرضی سے اپنی بیوی کو اپنی اہلیت کے ساتھ طلاق دیتا ہے تو اس کی طلاق واقع ہو جاتی ہے کیونکہ اس کو حاجت ہے طلاق دینے کی، تو لہٰذا یہ جو مکروہ ہے اس کو بھی حاجت ہے اپنی جان بچانے کی اور اپنے اعضاء کو بچانے کی، لہٰذا اس کی حاجت پورا کرنے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ طلاق کو واقع قرار دیا جائے۔ تو ہم اس مکروہ کو طائع پر قیاس کرتے ہیں، جیسے اپنی مرضی سے جو طلاق دینے والا ہے اس کو شریعت نے حاجت کی وجہ سے طلاق کی اجازت دی ہے وہ عورت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے ورنہ تو طلاق تو اصل میں ممنوع چیزوں میں سے ہے لیکن اس کی حاجت کی وجہ سے شریعت نے اس کو اجازت دی ہے، اسی طرح یہاں پر بھی مکروہ جو ہے اس کی حاجت ہے وہ اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے، تو جیسے طائع کو حاجت کی وجہ سے طلاق کی اجازت ہے تو مکروہ کو بھی اپنے چھٹکارے کی حاجت کی وجہ سے طلاق کی اجازت ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی، یہ معنی ہے: دَفْعًا لِحَاجَتِهِ اعْتِبَارًا بِالطَّائِعِ، اس کی حاجت کو دور کرنے کے لیے قیاس کرتے ہوئے طائع فرماں بردار پر یعنی وہ شخص جو اپنی مرضی سے طلاق دے رہا ہو اس پر قیاس کرتے ہوئے۔ وَهَذَا لِأَنَّهُ عَرَفَ الشَّرَّيْنِ، اور یہ اس وجہ سے اس لیے کیونکہ مکروہ نے دو شروں کو پہچان لیا۔ ایک شخص نے تلوار نکال لی ہے اور اس کو آ کر کہا ہے بیوی کو طلاق دو نہیں تو میں تمہیں تمہارا ہاتھ کاٹتا ہوں یا تمہیں قتل کرتا ہوں۔ اب اس آدمی کے پاس دو شر سامنے آ گئے: ایک طرف جان جا رہی ہے دوسری طرف بیوی جا رہی ہے، اور اس نے اپنے اختیار سے ہلکے شر کو چن لیا، بیوی کو طلاق دے دی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے تھے کہ مکروہ جو ہے وہ تو مجبور ہے وہاں تو اختیار نہیں، ہم کہتے ہیں نہیں وہاں بھی اختیار ہے، یہ اپنے اختیار سے ہلکے والے شر کو چن رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ وَهَذَا لِأَنَّهُ عَرَفَ الشَّرَّيْنِ، اور یہ اس لیے کیونکہ اس آدمی نے دو شروں کو جان لیا، وَاخْتَارَ أَهْوَنَهُمَا، اور اس نے اختیار کر لیا ان دونوں میں سے جو ہلکا شر تھا اس کو، وَهَذَا آيَةُ الْقَصْدِ وَالِاخْتِيَارِ، اور یہ قصد اور اختیار کی نشانی ہے۔ دو شروں میں سے ہلکے شر کو اپنی مرضی سے اختیار کرنا یہ قصد اور اختیار کی نشانی ہے، معلوم ہوا اس نے قصد کیا ہے طلاق کا اور اس نے اختیار کے ساتھ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا آيَةُ الْقَصْدِ وَالِاخْتِيَارِ، اور یہ اس شخص کے ارادے اور اس کے اختیار کی نشانی ہے، إِلَّا أَنَّهُ غَيْرُ رَاضٍ بِحُكْمِهِ، ہاں ایک بات ہے کہ یہ شخص اس طلاق کے حکم پر راضی نہیں۔ یہ طلاق زبان سے تو دے رہا ہے لیکن چاہتا ہے واقع نہ ہو، کہتے ہیں نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جیسے وہ ہازل جو تھا جو مذاق کرنے والا تھا وہ بھی طلاق کے حکم پر راضی نہیں تھا لیکن اس سے کوئی اثر نہیں پڑا طلاق واقع ہو گئی تھی، تو یہ بھی شخص جو مکروہ ہے یہ بھی طلاق کے حکم پر راضی نہیں ہے لیکن طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: إِلَّا أَنَّهُ غَيْرُ رَاضٍ بِحُكْمِهِ، مگر یہ کہ یہ شخص جو ہے طلاق کے حکم پر راضی نہیں ہے، وَذَلِكَ غَيْرُ مُخِلٍّ بِهِ كَالْهَازِلِ، وَذَلِكَ غَيْرُ مُخِلٍّ بِهِ، لیکن یہ وقوعِ طلاق میں کوئی خلل ڈالنے والا نہیں، اس کا راضی نہ ہونا اس سے وقوعِ طلاق میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: وَذَلِكَ غَيْرُ مُخِلٍّ بِهِ، اور یہ وقوعِ طلاق میں کوئی خلل ڈالنے والا نہیں ہے، كَالْهَازِلِ، جیسے کہ مذاق کرنے والا تھا وہ بھی وقوعِ طلاق پر راضی نہیں تھا لیکن اس سے بھی کوئی خلل نہیں آیا طلاق واقع ہو گئی۔ وَطَلَاقُ السَّكْرَانِ وَاقِعٌ، اب مدہوش شخص کی طلاق کا ذکر آ گیا، وہ شخص جو نشے میں مدہوش ہے وہ طلاق دیتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص مدہوش ہے کہتے ہیں دیکھا جائے گا یہ نشہ اس نے اپنی مرضی سے کیا ہے یا نہیں۔ اگر اس نے اپنی مرضی سے یہ نشہ کیا ہے تو پھر اس صورت میں یہ طلاق واقع ہو جائے گی بطورِ ڈانٹ کے، بطورِ ڈانٹ کے۔ اگرچہ اس کی عقل اس وقت زائل ہے لیکن اس نے گناہ کا کام کیا، خود نشہ کیا ہے لہٰذا بطورِ ڈانٹ کے اس کی یہ طلاق جو ہے یہ واقع ہو جائے گی۔ اور اگر کسی کو زبردستی شراب پلائی گئی یا کسی اور وجہ سے اس نے دوا کھائی تھی اور اس کی وجہ سے اس کو نشہ چڑھ گیا، اس کی نیت دوا کی تھی اور اس کو نشہ چڑھ گیا اور ہوش اس کے ٹھکانے نہ رہے اور اس نے بیوی کو طلاق دے دی تو اس صورت میں یاد رکھو طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ اس کو زبردستی شراب پلائی گئی یا اس نے تو دوا کھائی تھی اور اس کی وجہ سے نشہ ہو گیا یا کوئی اور وجہ جس سے عقل جاتی رہی اور اس نے بیوی کو طلاق دے دی، تو لہٰذا اس صورت میں یہ شخص عدیم العقل ہوا اور عدیم العقل جیسے بچہ اور مجنون تھے ان کی طلاق واقع نہیں ہوتی تھی تو اس کی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَطَلَاقُ السَّكْرَانِ وَاقِعٌ، اور مدہوش شخص کی طلاق واقع ہو جائے گی، وَاخْتِيَارُ الْكَرْخِيِّ وَالطَّحَاوِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا يَقَعُ، جبکہ امام کرخی اور امام طحاوی رحمہما اللہ فرماتے ہیں: أَنَّهُ لَا يَقَعُ، کہ مدہوش کی طلاق واقع نہیں ہوگی، وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيْ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہی امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک ہے، لِأَنَّ صِحَّةَ الْقَصْدِ بِالْعَقْلِ، اس لیے کیونکہ ارادے کا صحیح ہونا عقل سے ہوتا ہے، وَهُوَ زَائِلُ الْعَقْلِ، اور یہ جو مدہوش ہے یہ تو زائل العقل ہے یعنی اس کی تو عقل زائل ہو چکی ہے لہٰذا اس کا کوئی ارادہ نہیں، جب ارادہ نہیں تو طلاق بھی واقع نہیں، فَصَارَ كَزَوَالِهِ بِالْبَنْجِ وَالدَّوَاءِ، تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس کی عقل زائل ہوئی ہو بالبنج، بنج سے مراد ہے بھنگ بھئی، بھنگ، والدواء، دوا سے افیون وغیرہ جو نشے وغیرہ کے لیے استعمال کرتے ہیں لوگ۔ یاد رکھو یہاں مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ مدہوش کی جو طلاق ہے وہ امام کرخی اور امام طحاوی رحمہما اللہ کے نزدیک واقع نہیں ہوگی، اور وہ اس کو قیاس کرتے ہیں بھنگ اور افیون وغیرہ پر جو دوا کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ تو وہ فرماتے ہیں جیسے بھنگ اور افیون وغیرہ جو دوا ہے اس کی وجہ سے جیسے کسی کو نشہ ہو جائے تو اس میں اگر وہ طلاق دے دے تو وہ طلاق واقع نہیں ہوتی، تو اسی طرح مدہوش جو ہے جس نے شراب وغیرہ پی ہے اس کی بھی عقل زائل ہے لہٰذا اس کی بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تو وہ مدہوش کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ بھنگ اور افیون وغیرہ استعمال کرنے والے پر، اور بھنگ اور افیون والے کے اندر تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ تو محشی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ متقدمین کے مذہب پر ہے، متقدمین کے نزدیک بھنگ اور افیون وغیرہ کا استعمال حرام نہیں تھا کیونکہ وہ اچھا زمانہ تھا، نیکی کا زمانہ تھا، تو لوگ ان چیزوں کو دوا کے طور پر تو بھنگ یا افیون کو استعمال کرتے تھے لیکن نشے کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن متاخرین نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا اس لیے کیونکہ اب لوگ ان کو نشے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ تو امام کرخی اور امام طحاوی نے سکران کی طلاق کو کس پر قیاس کیا؟ بھنگ اور افیون کا استعمال کرنے والے کی طلاق پر، اور متقدمین کے نزدیک تو بھنگ اور افیون کا استعمال جائز تھا لہٰذا اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی تھی، تو وہ فرماتے ہیں مدہوش کی بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جبکہ صحیح مذہب یہ ہے کہ عند الاحناف مدہوش کی طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ اور یاد رکھنا یہاں مدہوش سے مراد وہ شخص ہے جو نشے میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے حتیٰ کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان بھی فرق نہیں کر سکتا۔ تو جب یہ مدہوش جس کو زمین اور آسمان کا ہی پتہ نہیں چل رہا، بطورِ سزا کے جب اس کی طلاق واقع ہو جاتی ہے تو اس سے جو کم نشے والا ہوگا، وہ شخص جو کم نشے میں ہے اس کی طلاق تو بطریقِ اولیٰ واقع ہو جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ صِحَّةَ الْقَصْدِ بِالْعَقْلِ، اس لیے کیونکہ ارادے کا صحیح ہونا تو وہ تو عقل سے ہوتا ہے، وَهُوَ زَائِلُ الْعَقْلِ، اور یہ شخص تو جو ہے زائل العقل ہے، یہ جو مدہوش ہے اس کی تو عقل زائل ہو چکی ہے، فَصَارَ كَزَوَالِهِ بِالْبَنْجِ وَالدَّوَاءِ، تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اس کی عقل زائل ہو بھنگ یا دوا کے ذریعے، وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ زَالَ بِسَبَبٍ هُوَ مَعْصِيَةٌ، کہ اس کی جو عقل زائل ہوئی ہے ایک ایسے سبب سے ہوا معصیۃ جو کہ معصیت ہے یعنی گناہ ہے اس نے نشہ کیا ہے، فَجُعِلَ بَاقِيًا حُكْمًا، تو لہٰذا حکماً اس کی عقل کو باقی قرار دیا جائے گا۔ عقل تو زائل ہو گئی ہے لیکن ہم کیا حکم لگائیں گے کہ اس کی عقل باقی ہے، تو یہ ہم حکم لگائیں گے زَجْرًا لَهُ بطورِ اس کی ڈانٹ کے، تو یہ بطورِ ڈانٹ کے ہے یعنی یوں کہو بطورِ سزا کے ہے بھئی، بطورِ سزا کے اس کی طلاق واقع ہوگی بھئی۔ کہ یہ جو مدہوش ہے جس نے نشہ کیا ہے اور نشے کی وجہ سے یہ مدہوش ہو گیا ہے، بطورِ سزا کے اس کی عقل کے باقی رہنے کا حکم لگایا جائے گا کہ یعنی اس کی عقل باقی ہے تو اور یہ طلاق دے گا تو یہ طلاق واقع ہو جائے گی، تو یہ حکم کیوں لگایا گیا اس کی عقل کے باقی رہنے کا؟ اگرچہ عقل اس کی زائل ہو چکی ہے لیکن بطورِ سزا کے، بطورِ سزا کے کہ اس نے نافرمانی کی ہے، نشہ کیا ہے، لہٰذا اس کی طلاق واقع ہو جائے گی، بطورِ سزا کے۔ تو کہتے ہیں: فَجُعِلَ بَاقِيًا حُكْمًا، تو اس کی عقل کو باقی قرار دیا جائے گا حکماً باعتبار حکم کے، زَجْرًا لَهُ، اس کی ڈانٹ کے طور پر، حَتَّى لَوْ شَرِبَ فَصُدِّعَ، یہاں تک کہ اگر کسی شخص نے شراب پی فَصُدِّعَ پھر اس کو سر درد ہوا، وَزَالَ عَقْلُهُ بِالصُّدَاعِ، اور اس شخص کی عقل زائل ہو گئی بالصداع سر درد کی وجہ سے، یعنی اتنا شدید سر درد ہوا کہ اس کی عقل ہی زائل ہو گئی اور اس نے اس حالت میں بیوی کو طلاق دی تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ یہ جو عقل زائل ہوئی ہے وہ سر درد کی وجہ سے عقل زائل ہوئی ہے شراب پینے کی وجہ سے نہیں، شراب پینے کی وجہ سے اگر عقل زائل ہوتی تو پھر اس صورت میں یہ طلاق واقع ہو جاتی۔ یہ تو شراب کا نشہ ختم ہو گیا تھا اور اس کے بعد پھر اس کو سر درد شروع ہوا اور پھر اس سر درد کی وجہ سے اس کی عقل زائل ہوئی، تو لہٰذا اس زوالِ عقل کی علت وہ معصیت نہیں ہے لہٰذا اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ حَتَّى لَوْ شَرِبَ فَصُدِّعَ، یہاں تک کہ اگر کسی شخص نے شراب پی پھر اس کو سر درد ہوا، وَزَالَ عَقْلُهُ بِالصُّدَاعِ، اور سر درد کی وجہ سے اس کی عقل زائل ہو گئی، نَقُولُ: إِنَّهُ لَا يَقَعُ طَلَاقُهُ، تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ وَطَلَاقُ الْأَخْرَسِ وَاقِعٌ بِالْإِشَارَةِ، اخرس کہتے ہیں گونگے کو، وَطَلَاقُ الْأَخْرَسِ وَاقِعٌ بِالْإِشَارَةِ، اور گونگے کی طلاق اشارے سے واقع ہو جائے گی، لِأَنَّهَا صَارَتْ مَعْهُودَةً، اس لیے کیونکہ اس کا اشارہ جو ہے وہ مقررہ ہے۔ یاد رکھو گونگا جو ہے وہ تو بول نہیں سکتا تو اس کے ہر چیز کے اشارے مقرر ہوتے ہیں لوگ ان کو سمجھتے ہیں، تو جب مقررہ اشارے کے ساتھ وہ طلاق کا اشارہ کر رہا ہے تو اس کا یہ اشارہ بھی اس کے بیان کی طرح ہے لہٰذا اس کا یہ اشارہ بھی تکلم کے درجے میں ہے لہٰذا اس کی طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ لِأَنَّهَا صَارَتْ مَعْهُودَةً، اس لیے کیونکہ اس کا اشارہ جو ہے وہ مقررہ ہو چکا ہے، فَأُقِيمَتْ مَقَامَ الْعِبَارَةِ، تو لہٰذا اس کا یہ اشارہ بھی اس کی عبارت یعنی اس کے الفاظ کے قائم مقام ہوگا، دَفْعًا لِلْحَاجَةِ، اس کی حاجت دور کرنے کے لیے، وَسَتَأْتِيكَ وُجُوهُهُ فِي آخِرِ الْكِتَابِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، اور عنقریب اس کی وجوہ آپ کے پاس کتاب کے آخر میں آ جائیں گی ان شاء اللہ، یعنی ہدایہ کے آخر میں، چوتھی جلد کے بالکل آخر میں جا کر صاحبِ ہدایہ اس گونگے کے بارے میں چند مسائل ذکر فرماتے ہیں تو کہ اس کے اشاروں کا کیا حکم ہے۔ تو کہتے ہیں وہاں پر یہ گونگے کے جو اشارے ہیں ان کی وجوہ وہاں ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَطَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا، یاد رکھو عند الاحناف طلاق کا تعلق عورت سے ہے، عورت اگر باندی ہے تو اس کی دو طلاقیں ہیں اور اگر عورت آزاد ہے تو اس کا خاوند تین طلاقوں کا مالک ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق خاوند سے ہے، خاوند اگر آزاد آدمی ہے تو وہ تین طلاقوں کا مالک ہوگا اور اگر خاوند غلام ہے تو وہ دو طلاقوں کا مالک ہوگا، جبکہ ہمارے نزدیک طلاق کا تعلق عورت سے ہے۔ تو کہتے ہیں: وَطَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ، اور باندی کی دو طلاقیں ہیں، حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا، چاہے اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام ہو، وَطَلَاقُ الْحُرَّةِ ثَلَاثٌ، اور آزاد عورت کی تین طلاقیں ہیں، حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا، چاہے اس کا خاوند جو ہے وہ آزاد ہو یا غلام ہو، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عَدَدُ الطَّلَاقِ مُعْتَبَرٌ بِحَالِ الرِّجَالِ، کہ طلاق کا عدد جو ہے وہ مردوں کے حال کے ساتھ معتبر ہے، طلاق کی تعداد کا اعتبار مردوں کی حالت کے ساتھ ہے۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وہ حدیث ذکر کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ، وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ“، الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ، ای اعتبار الطلاق بالرجال، طلاق کا اعتبار مردوں کے ساتھ ہے، وَاعتبار العدة بالنساء، اور عدت کا اعتبار عورتوں کے ساتھ ہے۔ تو دیکھو حدیث میں تو کیا آیا: ”الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ“، لیکن وہ یہاں اعتبار کا لفظ مضاف محذوف نکالتے ہیں، ای اعتبار الطلاق بالرجال واعتبار العدۃ بالنساء۔ وَلِأَنَّ صِفَةَ الْمَالِكِيَّةِ كَرَامَةٌ، اور اس لیے کیونکہ مالک ہونے کی صفت کرامت ہے، یہ اعزاز ہے، یہ تو عزت والی چیز ہے کسی چیز کا مالک ہونا، وَالْآدَمِيَّةُ مُسْتَدْعِيَةٌ لَهَا، اور آدمی ہونا اس کا تقاضا کرتا ہے، کسی چیز کا مالک ہونا یہ عزت والی بات ہے اور آدمی ہونا اس کا تقاضا کرتا ہے، کوئی انسان ہے اور انسان کو بھی اللہ نے کیا بنایا ہے؟ معزز بنایا ہے، تو آدمی ہونا یہ مالک ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ وَمَعْنَى الْآدَمِيَّةِ فِي الْحُرِّ أَكْمَلُ، اور آدمی ہونے کے جو معنی ہے وہ آزاد آدمی میں زیادہ کامل ہے، لہٰذا یہ زیادہ طلاقوں کا مالک ہوگا اور غلام کم طلاقوں کا مالک ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ پھر دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ صِفَةَ الْمَالِكِيَّةِ كَرَامَةٌ، اس لیے کیونکہ مالک ہونے کی جو صفت ہے مالک ہونے کا جو وصف ہے کرامتٌ یہ اعزاز ہے، وَالْآدَمِيَّةُ مُسْتَدْعِيَةٌ لَهَا، اور آدمی ہونا وہ اس اعزاز کا تقاضا کرتا ہے، وَمَعْنَى الْآدَمِيَّةِ فِي الْحُرِّ أَكْمَلُ، اور آدمی ہونے کا جو معنی ہے وہ آزاد آدمی میں زیادہ کامل ہے تو وہ زیادہ طلاقوں کا مالک ہوگا، فَكَانَتْ مَالِكِيَّتُهُ أَبْلَغَ وَأَكْثَرَ، لہٰذا آزاد آدمی کا مالک ہونا وہ افضل اور زیادہ ہوگا، وہ زیادہ طلاقوں کا مالک ہوگا۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے: قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”طَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ، وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ“، کہ باندی کی دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں۔ آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں: وَلِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ نِعْمَةٌ فِي حَقِّهَا، وَلِلرِّقِّ أَثَرٌ فِي تَنْصِيفِ النِّعَمِ، جی بھئی دیکھیے، ہم کہتے ہیں یہ عورت کا مرد کے لیے حلال ہونا کہ مرد اس سے نکاح کر سکتا ہے، یہ عورت کے حق میں نعمت ہے، عورت کا مرد کے لیے محلِ نکاح ہونا یہ نعمت ہے بھئی، نعمت ہے، اس لیے کیونکہ جب مرد اس سے نکاح کرے گا تو عورت کے لیے نفقے کا بندوبست بھی ہو گیا، اس کے لیے رہائش کا بندوبست بھی ہو گیا اور نیز، نیز وہ گناہوں سے بھی اب بچ جائیں گے، میاں بیوی اب کیا ہیں؟ گناہوں سے بھی بچ جائیں گے، تو دیکھو عورت کا مرد کے لیے محلِ نکاح ہونا یہ نعمت ہے، اور باندی کے حق میں نعمت کی تنصیف ہوتی ہے۔ تو آزاد عورت جب تین طلاقوں کے ساتھ مرد کے لیے حلال ہے تو باندی کو نصف طلاقوں کے ساتھ مرد کے لیے حلال ہونا چاہیے، باندی کی ڈیڑھ طلاق ہونی چاہیے، لیکن طلاق کی تو تنصیف ہو نہیں سکتی لہٰذا باندی کی دو طلاقیں ہوں گی یعنی اس آدھی طلاق کو بھی پورا کر دیا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو عورت کا مرد کے لیے محلِ نکاح ہونا یہ کیا ہے؟ نعمت، اور غلامی سے نعمت کیا ہو جاتی ہے؟ کم، لہٰذا آزاد عورت تین طلاقوں کے ساتھ حلال ہے تو باندی کو ڈیڑھ طلاق کے ساتھ حلال ہونا چاہیے لیکن طلاق کی چونکہ تنصیف نہیں ہو سکتی اس لیے باندی دو طلاقوں کے ساتھ خاوند کے لیے حلال ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ، اس لیے کیونکہ اس محل کا حلال ہونا نِعْمَةٌ فِي حَقِّهَا، یہ نعمت ہے عورت کے حق میں، وَلِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ نِعْمَةٌ فِي حَقِّهَا، اس لیے کیونکہ محل کا حلال ہونا یہ عورت کے حق میں نعمت ہے، وَلِلرِّقِّ أَثَرٌ فِي تَنْصِيفِ النِّعَمِ، اور غلامی کا اثر ہوتا ہے نعمتوں کو آدھا کرنے میں، إِلَّا أَنَّ الْعُقْدَةَ لَا تَتَجَزَّأُ، عقدہ یاد رکھو، عقدہ ویسے گرہ کو کہتے ہیں، رسی وغیرہ یا دھاگے میں کوئی گرہ لگائی جائے تو اس کو کہتے ہیں لیکن یہاں طلاق مراد ہے، طلاق مراد ہے۔ یعنی یوں کہو عقدہ تو اصل میں نکاح ہے، میاں بیوی کے اندر نکاح ہے جس نے جوڑ پیدا کیا ہوا ہے، لیکن وہ نکاح سبب ہے اس طلاق کا، نکاح ہے تو طلاق دے سکتا ہے، نکاح نہیں تو طلاق بھی نہیں، تو سبب والا نام مسبب یعنی طلاق کو دے دیا، عقدہ تو اصل میں کیا ہے؟ نکاح ہے لیکن یہ نام کس کو دے دیا؟ طلاق کو۔ توجہ ہے؟ کیونکہ نکاح سبب ہے اس طلاق کا، نکاح ہے تو طلاق دے سکتا ہے نکاح نہیں تو طلاق بھی نہیں، تو نکاح سبب ہوا اس طلاق کا تو طلاق اس کا مسبب ہے، تو مسبب پر وہی سبب والے لفظ کا اطلاق کر دیا اور ایسا ہوتا ہے کبھی کبھار کہ مسبب پر سبب والا لفظ بول دیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّ الْعُقْدَةَ لَا تَتَجَزَّأُ، مگر یہ کہ طلاق جو ہے وہ تقسیم نہیں ہو سکتی، فَتَكَامَلُ عُقْدَتَانِ، تو دو طلاقیں پوری ہو جائیں گی، وَتَأْوِيلُ مَا رَوَى، اور اس حدیث کی تاویل جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا، کون سی حدیث تھی؟ ”الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ، وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ“، تو وہاں انہوں نے کون سا لفظ مضاف محذوف نکالا تھا؟ اعتبار، اعتبار الطلاق بالرجال کہ طلاق کا اعتبار مردوں سے ہے، ہم کہتے ہیں نہیں یہاں ایقاع کا لفظ مضاف محذوف نکالیں: إيقاع الطَّلَاقِ بِالرِّجَالِ، طلاق واقع کرنا کس کا کام ہے؟ مرد کا کام ہے، عورت کا کام نہیں، تو انہوں نے مضاف کیا نکالا؟ اعتبار، اور ہم نے کہا ایقاع بھئی، إيقاع الطَّلَاقِ بِالرِّجَالِ۔ تو کہتے ہیں: وَتَأْوِيلُ مَا رَوَى أَنَّ الْإِيقَاعَ بِالرِّجَالِ، اور تاویل اس حدیث کی جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ طلاق کا واقع کرنا یہ مردوں کے سپرد ہے۔ وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ امْرَأَةً بِإِذْنِ مَوْلَاهُ، بھئی آپ جانتے ہیں کہ غلام آقا کی اجازت کے بغیر کہیں نکاح نہیں کر سکتا، اب ایک غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے ایک عورت سے نکاح کر لیا، تو اب یہ طلاقوں کا مالک غلام ہوگا یا آقا مالک ہوگا طلاقوں کا؟ تو یاد رکھو ہمارے نزدیک یہ طلاقوں کا مالک غلام ہوگا کیونکہ یہ عورت غلام کے لیے حلال ہوئی ہے، تو طلاق دینا بھی کس کے سپرد ہوگا؟ غلام کے سپرد ہے، آقا کے سپرد نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ امْرَأَةً، اور جب کوئی غلام کسی عورت سے نکاح کر لے، بِإِذْنِ مَوْلَاهُ، اپنے آقا کی اجازت سے، وَطَلَّقَهَا، اور پھر وہ غلام اپنی اس بیوی کو طلاق دے، وَقَعَ طَلَاقُهُ، تو اس غلام کی طلاق واقع ہو جائے گی، وَلَا يَقَعُ طَلَاقُ مَوْلَاهُ عَلَى امْرَأَتِهِ، اور اس کے آقا کی طلاق اس کی بیوی پر واقع نہیں ہوگی، لِأَنَّ مِلْكَ النِّكَاحِ حَقُّ الْعَبْدِ، اس لیے کیونکہ ملکِ نکاح غلام کا حق ہے، فَيَكُونُ الْإِسْقَاطُ إِلَيْهِ، تو اس ملکِ نکاح کو ساقط کرنا بھی اسی غلام کے سپرد ہوگا، دُونَ الْمَوْلَى، نہ کہ آقا کے سپرد بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 49 of 160