آگے سبق دیکھیے بھئی۔
كِتَابُ الطَّلَاقِ، بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ
قَالَ: ”الطَّلَاقُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ: حَسَنٌ، وَأَحْسَنُ، وَبِدْعِيٌّ؛ فَالْأَحْسَنُ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فِي طُهْرٍ لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ، وَيَتْرُكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛ لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَلَّا يَزِيدُوا فِي الطَّلَاقِ عَلَى وَاحِدَةٍ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ“.
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ ایک شخص نے ایک صغیرہ اور کبیرہ سے نکاح کر لیا اور پھر کبیرہ نے صغیرہ کو دودھ پلایا تو یہ دونوں عورتیں خاوند پر حرام ہو جائیں گی بھئی، دونوں کے نکاح فاسد ہو گئے۔ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو ہے رضاعی ماں بیٹی کو جمع کرنے والا بن گیا اور جس طرح نسبی ماں بیٹی کو اپنے نکاح میں جمع کرنا منع ہے اسی طرح رضاعی ماں اور بیٹی کو بھی نکاح میں جمع کرنا منع ہے بھئی۔
اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب کبیرہ نے صغیرہ کو دودھ پلایا تو کبیرہ جو ہے وہ ساس بن گئی اس خاوند کی کیونکہ اس کی بیوی کی ماں ہے وہ۔ تو وہ ساس بن گئی اور ساس جو ہے وہ تو انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے۔ اور جبکہ صغیرہ جو ہے وہ خاوند کی ربیبہ بن گئی یعنی اس کی بیوی کی بیٹی۔ اور جب ربیبہ بن گئی تو ربیبہ بھی خاوند پر حرام ہو جاتی ہے جب خاوند اس کی ماں کے ساتھ صحبت کر لے۔
تو لہٰذا یہ دونوں نکاح فاسد ہو گئے لیکن کبیرہ تو ساس بن چکی ہے لہٰذا اب اس سے دوبارہ زندگی بھر نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ البتہ صغیرہ جو ہے وہ ربیبہ بنی ہے اور اگر خاوند نے کبیرہ سے صحبت کر لی تھی تو پھر تو یہ ربیبہ بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی اب اس سے بھی نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور اگر خاوند نے کبیرہ کے ساتھ ابھی صحبت نہیں کی تھی تو پھر یہ صغیرہ حلال ہے اور یہ نکاح تو فسخ ہو گیا لیکن خاوند دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر کبیرہ کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے پھر تو مہر پکا ہو چکا ہے پھر تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ اگرچہ جدائی کبیرہ کی طرف سے آئی ہے لیکن مہر تو پہلے ہی سے پکا ہو چکا تھا صحبت کی وجہ سے، تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ لیکن اگر صحبت سے پہلے یہ کبیرہ نے صغیرہ کو دودھ پلایا ہے تو پھر اس صورت میں جدائی جو ہے یہ عورت کی طرف سے آئی ہے لہٰذا وہ نصفِ مہر جو صحبت سے پہلے بیوی کا حق بنتا ہے وہ بھی اب اس کبیرہ کو نہیں ملے گا بھئی۔
جبکہ صغیرہ جو ہے اس کا تو اس جدائی میں کوئی دخل نہیں کیونکہ اس کے فعل کا کوئی اعتبار نہیں ہے لہٰذا اس کو نصفِ مہر دینا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد خاوند کو یہ جو صغیرہ کو نصفِ مہر دینا پڑا یہ اس کبیرہ کی وجہ سے دینا پڑا، تو کیا خاوند کبیرہ پر رجوع کرے گا یا نہیں؟ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہوتا ہے مباشر اور ایک ہوتا ہے مسبب۔ مباشر مثلاً کوئی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے براہِ راست اپنے فعل کے ذریعے کہ کوئی کسی کی گاڑی تباہ کر دیتا ہے یا موٹر سائیکل تباہ کر دیتا ہے تو یہ جو مباشر ہے جس نے اس چیز کو تباہ کیا ہے اس کے اوپر ضمان آئے گا۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کی نیت کیا تھی، نقصان دینا چاہتا تھا یا نقصان نہیں دینا چاہتا تھا، بھئی جب اس نے نقصان پہنچایا ہے براہِ راست اپنے فعل کے ذریعے تو پھر وہاں ہر حال میں اس پر ضمان آئے گا۔
لیکن اگر کسی شخص کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ نقصان پہنچانے والے نے براہِ راست اپنے عمل کے ذریعے نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وہ صرف سبب بنا ہے، تو وہ مسبب ہوا اور مسبب کے اندر پھر تعدی کو دیکھا جاتا ہے کہ اس نے زیادتی کی ہے کہ زیادتی نہیں کی۔ اگر اس نے تعدی کی ہو تو پھر اس پر ضمان آتا ہے، اگر اس نے تعدی نہیں کی تو پھر اس پر ضمان بھی نہیں آتا۔ تو یہاں آپ نے متن کے اندر پڑھا کہ یہ جو کبیرہ ہے یہ مسببہ ہے۔ لہٰذا اس پر ضمان آئے گا یا نہیں آئے گا اس میں تعدی کو دیکھا جائے گا۔ اگر اس نے فساد کا ارادہ کیا تھا پھر تو اس پر ضمان آئے گا اور اگر اس نے فساد کا ارادہ نہیں کیا تو اس پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔ اور فساد کا ارادہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس کو نکاح کا بھی پتہ ہو اور اس کو اس مسئلے کا بھی پتہ ہو کہ میرے دودھ پلانے سے یہ دونوں نکاح فاسد ہو جائیں گے۔ اور اگر اس کو نکاح کا علم نہیں ہے یا اس کو اس مسئلے کا پتہ نہیں ہے تو پھر اس صورت کے اندر یہ متعدیہ نہیں ہے بھئی۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ یہ عورت مباشرۃ نہیں ہے بلکہ مسببہ ہے۔ اس کو مباشرۃ ہم قرار نہیں دے سکتے اس لیے کیونکہ اس نے دودھ پلایا ہے اور دودھ پلانا یہ تو کوئی نکاح کو فسخ کرنے کے لیے نکاح کو فاسد کرنے کے لیے وضع نہیں بلکہ دودھ تو بچوں کی پرورش کے لیے ان کو پلایا جاتا ہے لہٰذا اس دودھ پلانے کی وجہ سے اس کو مباشرۃ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس کی وجہ سے اس پر ضمان واجب کیا جائے کہ یہ جو خاوند نے نصفِ مہر صغیرہ کو دیا ہے وہ اب تمہیں ادا کرنا پڑے گا۔ تو دودھ پلانا یہ فساد کے لیے وضع نہیں، یہ تو اتفاقاً یہاں ایسی صورت پیش آ گئی کہ یہ صغیرہ اس خاوند کی بیوی تھی، اگر صغیرہ خاوند کی بیوی نہ ہوتی تو یہاں کسی قسم کی کوئی خرابی بھی نہ آتی۔ تو معلوم ہوا دودھ پلانے کی وجہ سے یہ عورت کوئی مباشرۃ نہیں ہوئی، اس پر ضمان واجب نہیں کیا جا سکتا۔
اور نیز دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہوا ہے، اس فسادِ نکاح کی وجہ سے بھی اس پر ضمان کو واجب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نکاح وہ تو کوئی قیمت والی چیز نہیں ہے، وہ تو ایک عقد کا نام ہے، میاں بیوی کے درمیان جو عقد موجود ہے اس کا کیا نام ہے؟ نکاح ہے، تو نکاح کوئی قیمت والی چیز نہیں ہے اور اس کے فاسد کرنے سے کسی پر ضمان نہیں آ سکتا بھئی۔ اس لیے کیونکہ فسادِ نکاح یہ مہر کو لازم نہیں کرتا بلکہ یہ تو مہر کے سقوط کا سبب بنتا ہے بھئی۔ جی، اس کی وجہ سے تو مہر ساقط ہونا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب خاوند نے صحبت سے پہلے بیوی کو طلاق دے دی ہے تو دیکھو اس صورت کے اندر خاوند پر تو کوئی مہر نہیں آنا چاہیے کیونکہ خاوند نے مبدل وصول نہیں کیا، خاوند نے صحبت نہیں کی تو بدل بھی خاوند پر نہیں آنا چاہیے اور یہ جو خاوند پر نصفِ مہر واجب ہوتا ہے یہ بھی متعہ کے طریقے پر ہے یعنی بطورِ تحفے کے شریعت نے خاوند پر واجب کیا ہے کہ اس عورت کو تحفہ دے دو، یعنی اس عورت کو تحفے کے طور پر نصفِ مہر دے دو۔ معلوم ہوا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ فسادِ نکاح کی وجہ سے بھی اس عورت پر ضمان واجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فسادِ نکاح وہ الزامِ مہر کا سبب نہیں بلکہ وہ تو سقوطِ مہر کا سبب ہے بھئی۔
تو معلوم ہوا نہ دودھ پلانے کی وجہ سے عورت پر ضمان واجب کیا جا سکتا ہے اور نہ فسادِ نکاح کی وجہ سے۔ ہاں، اس عورت کے عمل کی وجہ سے اس خاوند کا نکاح باطل ہوا ہے اور ابطالِ نکاح اس وجوب کا سبب ہے بھئی۔ خاوند پر نصفِ مہر تبھی واجب ہو گا جب اس کا نکاح باطل ہو جائے، تو یہ جو کبیرہ ہے اس نے صرف شرط پوری کی ہے، اس نے دودھ پلا کر نکاح کو کیا کر دیا؟ باطل کر دیا یعنی صرف شرط پوری کی ہے اور جو شخص شرط پوری کرے اس کو مسبب کہتے ہیں مباشر نہیں کہتے بھئی۔
تو اس کے اندر لہٰذا تعدی دیکھی جائے گی، اگر اس نے تعدی کی ہے پھر تو اس پر ضمان واجب کریں گے اور اگر اس نے تعدی نہیں کی تو اس پر ضمان واجب نہیں، لہٰذا اگر اس کو مسئلے کا ہی پتہ نہیں تھا تو اس صورت میں بھی اس پر ضمان واجب نہیں ہو گا بھئی۔
تو یہاں اعتراض ہوتا ہے، اعتراض یہ کہ اے صاحبِ ہدایہ! یہاں آپ نے اس کبیرہ کی جہالت کو عذر قرار دے دیا کہ اگر کبیرہ کو اس مسئلے کا پتہ نہیں تھا کہ میرے دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہو جائے گا تو پھر اس صورت میں اس کے اوپر ضمان واجب نہیں ہو گا، یہ جو نصفِ مہر خاوند نے صغیرہ کو دیا ہے اب اس میں وہ کبیرہ پر رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا، تو آپ نے تو جہالت کو عذر قرار دے دیا حالانکہ آپ نے پیچھے ایک مسئلے میں ہمیں بتلایا تھا کہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جہالت کوئی عذر نہیں ہے۔ کسی کو مسئلے کا پتہ ہو یا نہ ہو حکم ثابت ہو جائے گا۔ تو وہاں خیارِ بلوغ کا مسئلہ پیچھے گزرا تھا، خیارِ بلوغ آپ نے پڑھا تھا کہ اگر صغیر یا صغیرہ کا نکاح جو ہے اگر باپ یا دادا کروا دیں تو پھر اس صورت میں وہ نکاح ان پر لازم ہے وہ بالغ ہونے کے بعد بھی اس کو فسخ نہیں کر سکتے، لیکن باپ دادا کے علاوہ اگر کوئی اور ولی جو ہے صغیر یا صغیرہ کا نکاح کر دے تو پھر بالغ ہونے پر ان کو خیارِ بلوغ ملتا ہے، یہ اس نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ اور وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو بالغ ہونے والا ہے یا یہ باکرہ ہو گی یا ثیبہ ہو گی یا صغیر ہو گا بھئی۔ اگر ثیبہ اور صغیر جو ہیں وہ بالغ ہوئے ہیں اور ان کا نکاح باپ دادا کے علاوہ کسی اور ولی نے کروایا تھا تو پھر اس صورت میں یہ ثیبہ بالغہ اور یہ جو صغیر جو بالغ ہو گیا ان کی زبان سے رضامندی ضروری ہے، یہ زبان سے اجازت دیں گے تو پھر ہی ان کا خیارِ بلوغ ساقط ہو گا ورنہ جب تک ان کے پاس اختیار ہے وہ نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ جبکہ اگر وہ صغیرہ باکرہ تھی اور وہ بالغ ہوئی ہے تو باکرہ کی تو خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہوتی ہے، آپ نے پڑھا تھا کہ باکرہ بالغہ سے ولی نکاح کی اجازت لے گا اور باکرہ بالغہ اگر خاموش رہی اجازت کے موقع پر تو اس کی خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہے۔ تو یہاں پر بھی اگر یہ صغیرہ باکرہ تھی اور یہ بالغ ہوئی تو علماء اور فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو خیارِ بلوغ ملا ہے لیکن اگر یہ بالغ ہونے کے بعد کچھ دیر بھی خاموش رہی تو اس کی خاموشی وہ تو رضامندی کی علامت ہے تو اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ معلوم ہوا صغیرہ باکرہ جس مجلس میں بالغ ہو، جس مجلس میں اس کو حیض کا خون شروع ہو فوراً اس کا یہ کہنا کہ میں نکاح کو فسخ کرتی ہوں یا میں نکاح کو رد کرتی ہوں یہ کہنا ضروری ہے، اگر اس نے تھوڑی سی بھی دیر کر دی تو اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا اور یہ نکاح اس پر لازم ہو جائے گا کیونکہ تھوڑی دیر خاموش رہی تو خاموشی آ گئی اور باکرہ کی خاموشی تو رضامندی کی علامت ہے تو یہ اس کی رضامندی آ گئی لہٰذا اب نکاح لازم ہو گیا۔ اور وہاں پر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر یہ جو باکرہ جو بالغ ہوئی ہے اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہ ہو پھر بھی خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ پھر بھی، کیونکہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جاہل ہونا یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ دار الاسلام کے اندر تعلیم کے مواقع موجود ہیں، تعلیم کے ادارے موجود ہیں اور ہر مسلمان مرد اور عورت پر ضروری دینی مسائل کا جاننا ضروری ہے تو لہٰذا ان کی جہالت کوئی عذر نہیں ہو گی۔
تو یہاں اعتراض ہوا کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے ہمیں اس پچھلے مسئلے میں بتایا تھا کہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جہالت کوئی عذر نہیں ہے لیکن یہاں پر آپ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس کبیرہ کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا تو اس پر ضمان نہیں آئے گا، معلوم ہوا یہاں آپ جہالت کو عذر قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے جواب دیا کہ بھئی دیکھیے! ایک ہے علت اور ایک ہے حکم۔ علت جب بھی پائی جائے حکم ضرور پایا جائے گا، ایسا نہیں ہو سکتا علت پائی جائے اور حکم نہ پایا جائے۔ تو اگر علت پائی جاتی اور ہم کہتے کہ چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس لیے حکم نہیں آئے گا، توجہ ہے؟ علت جب بھی پائی جائے حکم کا پایا جانا ضروری، اب اگر ایک علت پائی جاتی لیکن ہم کہتے نہیں چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا بے شک علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا، پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے کہ علت پائی جا رہی ہے لیکن آپ جہالت کو عذر قرار دے رہے ہیں دفعِ حکم کے لیے۔ کس کے لیے؟ دفعِ حکم کے لیے آپ جہالت کو علت قرار دے رہے ہیں، دفعِ حکم کے لیے آپ جہالت کا اعتبار کر رہے ہیں۔
تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہاں ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں پر عورت پر ضمان تب آئے گا جب اس نے فساد کی نیت کی ہو۔ اور فساد کی نیت تبھی ہو سکتی ہے جب اس کو مسئلے کا پتہ ہو کہ میرے دودھ پلانے سے یہ نکاح فاسد ہو جائیں گے۔ جب اس کو یہ علم ہو گا پھر ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے مسئلہ جاننے کے باوجود دودھ پلایا ہے، اس کا ارادہ ہی کس چیز کا تھا؟ فساد کا تھا۔ تو یہاں ہم نے جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ علت کو دور کرنے کے لیے کیا ہے کہ وجوبِ ضمان کی علت کیا تھی؟ قصدِ فساد۔ کیا علت تھی؟ فساد کا ارادہ، فساد کا ارادہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس کو مسئلے کا پتہ ہو۔ تو یہاں ہم نے جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ قصدِ فساد کو دفع کرنے کے لیے کیا ہے یعنی جو اس مسئلے کی علت ہے، توجہ ہے؟ جو مسئلے کی علت ہے اس علت کو دفع کرنے کے لیے کہ قصدِ فساد تبھی ہو سکتا ہے، فساد کا ارادہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس عورت کو مسئلے کا پتہ ہو، پھر ہم کہیں گے اس نے فساد کا ارادہ کیا ہے۔ اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو معلوم ہوا پھر قصدِ فساد بھی نہیں اور قصدِ فساد تو علت تھی وجوبِ ضمان کی۔ تو جب اس کو مسئلے کا علم نہیں تو قصدِ فساد نہیں، جب قصدِ فساد نہیں تو حکم بھی نہیں یعنی ضمان بھی واجب نہیں ہو گا۔ تو ہم نے یہ جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ حکم کو دور کرنے کے لیے نہیں کیا کہ علت تو پائی جا رہی ہو اور ہم کہیں پھر بھی حکم نہیں آئے گا، نہیں نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے علت کو دفع کرنے کے لیے کہ جب اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو قصدِ فساد نہیں پایا گیا اور جب علت نہیں پائی گئی تو پھر وجوبِ ضمان یعنی حکم بھی نہیں آئے گا بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ ہمارے اوپر اعتراض تب کر سکتے تھے اگر علت تو پائی جاتی لیکن ہم کہتے کہ چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس لیے حکم نہیں آئے گا، علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے کہ آپ نے جہالت کو عذر مانا ہے بلکہ یہاں تو ہم نے جہالت کا اعتبار کس لیے کیا ہے؟ علت کو دور کرنے کے لیے، کہ جہالت ہے تو علت ہی نہیں پائی گئی اور جب علت نہ ہو پھر تو حکم نہیں آتا بھئی۔ تو یہاں پر وجوبِ ضمان کی جو علت ہے یعنی قصدِ فساد، فساد کا ارادہ وہ جہالت کی وجہ سے قصدِ فساد ہی نہیں پایا گیا کیونکہ قصدِ فساد کب ہو گا؟ جب مسئلے کا پتہ ہو۔ تو جب جہالت کی وجہ سے قصدِ فساد نہیں پایا گیا تو علت نہیں پائی گئی۔ علت نہیں، جب علت نہیں تو اس کا حکم وجوبِ ضمان بھی نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ جی، تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
”وَهَذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“
اور یہ جو ہے ہماری طرف سے جہالت کا اعتبار، کہ یہ جو یہاں پر ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے یہ قصدِ فساد یعنی علت کو دور کرنے کے لیے ہے کہ علت ہی یہاں موجود نہیں۔ علت ہی یہاں موجود نہیں، یہ دفعِ حکم کے لیے نہیں ہے۔ اگر ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہوتا دفعِ حکم کے لیے کہ علت تو پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے لیکن یہاں تو ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے کس لیے؟ علت کو دور کرنے کے لیے کہ جب جہالت ہے تو قصدِ فساد نہیں پایا گیا، علت نہیں پائی گئی اور جب علت نہیں پائی گئی تو حکم یعنی وجوبِ ضمان بھی نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
”وَهَذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“
اور یہ جو ہماری طرف سے جہالت کا اعتبار کیا گیا ہے یہ قصدِ فساد کو دور کرنے کے لیے ہے یعنی علت کو دور کرنے کے لیے ہے نہ کہ حکم کو دفع کرنے کے لیے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ رضاعت کے مسئلے کے اندر اکیلی عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں بلکہ دو مردوں کی گواہی ہونی چاہیے یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی ہونی چاہیے۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رضاعت کے مسئلے کے اندر اگر ایک عورت بھی گواہی دے دے اور وہ عورت قابلِ اعتماد ہے، عادلہ ہے تو اس صورت میں حرمت ثابت ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ کسی چیز کا حرام یا حلال ہونا یہ ایک شرعی امر ہے، یہ کیا ہے؟ ایک شرعی امر ہے، تو حرمت جو ہے یہ حق اللہ ہے، یہ حقِ شرع ہے اس میں بندے کا دخل نہیں کہ ایک چیز اس کے لیے حرام ہے بھئی، تو یہ حرام ہونا یہ حقِ شرع ہے بھئی۔ یعنی یہ ایک امرِ دینی ہے خالص دینی چیز ہے، اس کے اندر ایک آدمی کی گواہی بھی کافی ہے، ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہے۔ چنانچہ اگر ایک مسلمان گوشت خریدتا ہے اور بعد میں آ کر کوئی قابلِ اعتماد آدمی اسے بتاتا ہے کہ یہ تو مجوسی کا ذبیحہ ہے تو اس مسلمان پر بھی یہ گوشت حرام ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو یہاں اے احناف! آپ کے نزدیک بھی ایک آدمی کے خبر دینے سے یہ گوشت کی حرمت ثابت ہو گئی۔ تو لہٰذا یہ جو رضاعت ہے اس رضاعت کی وجہ سے بھی حرمت آئے گی تو اس کے اندر بھی ایک قابلِ اعتماد آدمی کی گواہی کافی ہونی چاہیے، یہ کون فرما رہے ہیں؟ امام مالک رحمہ اللہ۔
ہم جواب دیتے ہیں کہ اگر صرف حرمت آئے تو وہ تو حقِ شرع ہے، حرمت آئے تو وہ تو حقِ شرع ہے لیکن اگر حرمت کے ساتھ ساتھ حق العبد کا بھی دخل آ جائے مثلاً ایک شخص کی ملکیت ختم ہو رہی ہے، حرمت کی وجہ سے ملکیت ختم ہو رہی ہے تو پھر اس صورت میں یہ خالص حقِ شرع نہیں رہے گا بلکہ یہ حق العبد بھی بن گیا اور کسی بھی چیز سے ملکیت ختم کرنے کے لیے کم از کم دو مردوں کی گواہی ضروری ہے یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی یہ جو نکاح کا مسئلہ ہے اس کے اندر جب بھی رضاعت کی وجہ سے حرمت آئے گی تو ساتھ ہی زوالِ نکاح بھی آ جائے گا اگر وہ دونوں میاں بیوی ہیں۔ جن کی رضاعت کی خبر دی جا رہی ہے اگر وہ دونوں میاں بیوی ہیں تو پھر وہاں پر رضاعت کی وجہ سے اگر حرمت ثابت ہو گی تو ساتھ ہی زوالِ ملک بھی آئے گا، خاوند کی جو ملکِ نکاح ہے وہ اس عورت پر سے ختم ہو جائے گی اور کسی چیز سے زوالِ ملک جو ہے اس کے لیے تو کم از کم دو مرد گواہ چاہییں یا ایک مرد دو عورتیں، اس لیے یہاں پر ہم نے یہ شرط قرار دیا بھئی رضاعت کے مسئلے میں کہ دو مرد گواہی دیں یا ایک مرد دو عورتیں۔ جبکہ کھانے پینے اور استعمال کی جو چیزیں ہیں وہاں پر تو حرمت ملکیت کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے کہ حرمت آئے اور زوالِ ملک نہ ہو، وہاں تو ایسا ہو سکتا ہے لہٰذا وہاں جو حرمت ہے وہ ایک خالص دینی معاملہ ہو گا اس لیے وہاں پر ایک آدمی کی خبر کا اعتبار کیا جائے گا لیکن نکاح کے مسئلے میں تو حرمت کے ساتھ ساتھ زوالِ ملک بھی آئے گا بھئی، تو پھر وہ خالص دینی معاملہ نہ رہا، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے اج کے سبق پر:
كِتَابُ الطَّلَاقِ، بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ
قَالَ: ”الطَّلَاقُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ: حَسَنٌ، وَأَحْسَنُ، وَبِدْعِيٌّ“
بھئی یہاں کتاب الطلاق کے آغاز میں چند ضروری باتیں ہیں وہ لکھ لیجیے بھئی۔
لکھیے بھئی، اوپر عنوان دے دیجیے: كِتَابُ الطَّلَاقِ
لکھیے بھئی: طلاق کا معنی ہے: ”حَلُّ الْقَيْدِ“ یعنی بند چیز کو کھولنا، چاہے یہ حسی ہو، ”كَحَلِّ الْعُقْدَةِ“ یعنی گرہ کا کھولنا، رسی کا کھولنا، اور چاہے وہ معنوی ہو، ”كَحَلِّ قَيْدِ النِّكَاحِ“۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ طلاق کا کیا معنی ہے؟ ”حَلُّ الْقَيْدِ“، بند چیز کا کھولنا اور یہ کھولنا جو ہے یہ حساً بھی ہو سکتا ہے اور معناً بھی ہو سکتا ہے، حساً کھولنا جیسے کوئی رسی وغیرہ کھولنا، گرہ وغیرہ کھولنا اور یہ کھولنا معنوی بھی ہو سکتا ہے جیسے قیدِ نکاح کا کھولنا بھئی۔
آگے لکھیے بھئی: اصطلاحِ شریعت میں طلاق کی تعریف یہ ہے:
”الطَّلَاقُ إِزَالَةُ النِّكَاحِ أَوْ نُقْصَانُ حِلِّهِ بِلَفْظٍ مَخْصُوصٍ“
ازالہ ز کے ساتھ ہے۔
”الطَّلَاقُ إِزَالَةُ النِّكَاحِ أَوْ نُقْصَانُ حِلِّهِ بِلَفْظٍ مَخْصُوصٍ“
یعنی طلاق جو ہے وہ نام ہے نکاح کو ختم کرنے اور نکاح کی حلت کو کم کرنے کا مخصوص لفظ کے ساتھ، یعنی طلاق کے لفظ کے ساتھ۔
بھئی دیکھیے! یہ تعریف آپ کو سمجھ میں آ گئی؟ ”الطَّلَاقُ إِزَالَةُ النِّكَاحِ“، طلاق جو ہے وہ نکاح کا ازالہ کرنا یعنی نکاح کو ختم کرنا، اس کو زائل کرنا، ”أَوْ نُقْصَانُ حِلِّهِ“، یا اس نکاح کی حلت کو کم کرنا۔ بھئی دیکھو کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ تین طلاقوں کا مالک ہے۔ تو اس طلاق کے ذریعے وہ نکاح کو ختم بھی کر سکتا ہے اور اگر طلاق دے کر وہ رجوع کر لیتا ہے، طلاق دے کر رجوع کر لیتا ہے تو دیکھو اب اس طلاق کی وجہ سے نکاح تو نہیں ختم ہوا کیونکہ اس نے رجوع کر لیا ہے لیکن البتہ نکاح کی حلت کم ہو گئی۔ پہلے یہ عورت اس آدمی کے لیے حلال تھی تین طلاقوں کے ساتھ، اب یہ عورت اس آدمی کے لیے حلال ہے دو طلاقوں کے ساتھ، اب تمام زندگی اس شخص کو صرف دو طلاقوں کا حق ہے۔ پھر ایک اور طلاق بھی اگر اس نے دے دی اور پھر رجوع کر لیا تو اب اور بھی حلت کم ہو گئی لہٰذا اب یہ عورت اس آدمی کے لیے صرف ایک طلاق کے ساتھ حلال ہے، اب تمام زندگی اس کو صرف ایک طلاق کا حق ہے، اگر وہ طلاق بھی اس نے دے دی تو پھر یہ عورت اس پر حرام ہو جائے گی بھئی۔
آگے لکھیے بھئی: طلاق دینے والے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ شخص عاقل اور بالغ ہو، لہٰذا مجنون اور بچے کی طلاق درست نہیں اور نہ ہی واقع ہوتی ہے۔
دیگر علماء و فقہاء اور ائمہ ایک تیسری شرط بھی ذکر فرماتے ہیں کہ وہ شخص مختار ہو یعنی صاحبِ اختیار ہو، لہٰذا مکروہ یعنی مجبور کی طلاق واقع نہیں ہوتی، مگر عند الاحناف مکروہ کی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے۔
الگ سطر میں لکھیے بھئی: پھر طلاق بغیرِ ضرورت ممنوع ہے۔ حدیث ہے:
”أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ“
ابغض بھئی، با، غین، ضاد ہے بھئی، ”أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ“
یعنی حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مبغوض اور ناپسند طلاق ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حلال چیزوں کے اندر اللہ کو جو چیز سب سے زیادہ ناپسند ہے وہ طلاق ہے بھئی۔
آگے لکھیے، الگ سطر: علماء نے لکھا ہے کہ طلاق کبھی حرام ہوتی ہے، کبھی مکروہ، کبھی مندوب، کبھی مباح، یہ باعتبارِ اختلافِ احوال ہے۔ جب خاوند حقوق سے بالکل عاجز آ جائے تو طلاق دینا واجب ہے اور اگر وہ عجز کم ہو تو پھر صرف مندوب ہے ورنہ صرف جائز ہے۔ اور اگر طلاق مفضی الی الفساد العظیم ہو، مفضی ضاد اور یا ہے آخر میں، اور اگر طلاق ”مُفْضِي إِلَى الْفَسَادِ الْعَظِيمِ“ ہو تو پھر طلاق حرام ہے، اگر فساد کچھ کم ہو پھر طلاق دینا مکروہ ہے۔
الگ سطر میں لکھیے: عند الاحناف طلاق کی دو قسمیں ہیں: سنی اور بدعی۔ پھر سنی دو قسم پر ہے: حسن اور احسن۔
الگ سطر: طلاقِ حسن یہ ہے کہ ایک طلاقِ رجعی دے اس طہر میں جس میں جماع نہ کیا ہو اور نہ اس سے قبل حیض میں جماع کیا ہو۔
کیا لکھا؟ طلاقِ حسن یہ ہے کہ ایک طلاقِ رجعی دے اس طہر میں جس میں جماع نہ کیا ہو اور نہ اس سے قبل حیض میں جماع کیا ہو۔ بھئی دیکھیے! حیض کے اندر جماع یہ تو حرام ہے لیکن بہرحال کوئی کر تو سکتا ہے بھئی، اگرچہ فعلِ حرام ہے لیکن احتمال تو ہے، لہٰذا طلاقِ حسن میں ضروری ہے کہ طلاقِ رجعی دے اور ایسے طہر میں دے جس میں جماع نہ کیا ہو اور نیز اس سے ماقبل والے حیض میں بھی اس نے جماع نہ کیا ہو، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔
آگے لکھیے: پھر اگر وہ دوسری طلاق دے تو وہ دوسرے طہر میں ہو مع شرائطِ مذکورہ، اور پھر تیسری طلاق دے طہرِ ثالث میں مع شرائطِ مذکورہ۔
پس طلاقِ سنی کے لیے متعدد شرطیں ہیں:
شرطِ اول: طہر میں دی جائے، لہٰذا حیض و نفاس میں طلاق بدعی ہے یعنی بدعت ہے اور معصیت و گناہ ہے۔
شرطِ ثانی: اس طہر میں جماع نہ ہو، اگر جماع ہو تو بدعی ہے۔
شرطِ ثالث: ایک طلاق ہو اور وہ بھی رجعی ہو، لہٰذا اگر دو طلاقیں دیں ایک طہر میں تو پھر یہ بدعی طلاق ہو گی جو کہ حرام ہے اور گناہ ہے، اور اگر ایک طلاقِ بائن دی تو یہ بھی بدعی ہے بقولِ اظہر، ظا کے ساتھ ہے بھئی طا ظا، بقولِ اظہر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی طلاقِ بائن دی جائے تو اس سلسلے میں دو قول ہیں، ایک قول کے مطابق یہ بدعی نہیں ہے لیکن وہ قول جو زیادہ ظاہر ہے اس کے مطابق یہ طلاقِ بائن بھی کیا ہے؟ یہ بدعی ہے بھئی۔
شرطِ رابع: کہ اس سے قبل حیض میں بھی جماع نہ کیا ہو۔
آگے الگ سطر لکھیے: سنی احسن طلاق میں بعینہٖ وہی شرائط ہیں جو حسن میں ہیں، البتہ ایک شرط زائد ہے۔
شرط زائد ہے، اور وہ یہ کہ صرف ایک طلاق پر اکتفاء کرے۔
اور اگر عورت غیر مدخول بہا ہے یعنی خاوند نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، تو اس کو طہر میں بھی طلاق دی جا سکتی ہے اور حیض میں بھی، اور یہ ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی اور اس پر کوئی عدت نہیں ہے، یہ فوراً ہی آگے نکاح کر سکتی ہے۔
جمہور امت کے نزدیک اگر ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں تو وہ تین ہی شمار ہوں گی۔ جبکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمہ اللہ اور اسی طرح زمانۂ حال کے غیر مقلدین کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہی نہیں ہو سکتیں، لیکن مذکورہ علماء کے علاوہ ائمۂ اربعہ اور کل امت سَلَفًا وَخَلَفًا سب کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو سکتی ہیں۔
چنانچہ حدیث ہے حضرت رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جنہوں نے بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں، اور حدیث میں تین طلاقوں پر طَلَاقِ بَتَّةٍ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ بَتٌّ کا معنی ہے قَطْعٌ یعنی توڑنا اور کاٹنا، اور یہ کنایہ ہے تین طلاقوں سے کیونکہ وہ بھی قاطع ہوتی ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے:
عَنْ رُكَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: ”أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ فَقُلْتُ: وَاحِدَةً، فَقَالَ: وَاللَّهِ؟ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ، قَالَ: فَهُوَ مَا أَرَدْتَ“۔
حدیث کا ترجمہ بھی دیکھ لیجیے کہ حضرت رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: قَالَ: ”أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، فَقُلْتُ: ”يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ“ کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں، فَقَالَ: ”مَا أَرَدْتَ بِهَا؟“ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ذریعے تم نے کیا ارادہ کیا تھا؟ فَقُلْتُ: ”وَاحِدَةً“ تو میں نے کہا: میں نے ایک کا ارادہ کیا تھا، فَقَالَ: ”وَاللَّهِ؟“ تو حضور نے فرمایا: واللہ؟ یعنی کیا تم اللہ کی قسم کھاتے ہو اس پر؟ فَقُلْتُ: ”وَاللَّهِ“ تو میں نے کہا: واللہ! کہ ہاں میں اس پر قسم کھاتا ہوں میں نے ایک کا ارادہ کیا تھا، قَالَ: ”فَهُوَ مَا أَرَدْتَ“ تو پھر وہ وہی ہے جو تم نے ارادہ کیا یعنی ایک ہی طلاق ہے۔
حضور علیہ السلام نے طلاقِ واحد کے ارادے پر حضرت رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قسم لی۔ معلوم ہوا کہ اگر تین کا ارادہ ہوتا تو ایک مجلس میں تینوں واقع ہو جاتیں، اور اگر ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں بھی ایک ہی شمار ہوتیں تو پھر ارادۂ واحد کے لیے قسم کھلانے کی ضرورت نہ تھی، بلکہ خود ارادۂ واحد کی بھی ضرورت نہ تھی۔ اس سے ایک اور بات معلوم ہوئی کہ تین طلاقیں ایک بھی شمار ہو سکتی ہیں اگر ارادہ ایک کا ہو۔
البتہ تین طلاقوں کے طریقے دو ہیں:
پہلا طریقہ یہ ہے کہ یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ یعنی باقاعدہ ثلاثہ کے عدد کو ذکر کرے۔ اس صورت میں عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَأَئِمَّةِ أَرْبَعَة تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں، کوئی صورت نہیں ایک طلاق کے ارادہ کی اگرچہ کہتا بھی رہے کہ ایک طلاق کا ارادہ تھا، کیونکہ لفظِ ثلاثہ میں کمی کا احتمال نہیں ہے، جیسے کوئی شخص تین چیزیں مانگے، جب دی جائیں تو کہے کہ میرا ارادہ ایک کا تھا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لفظِ طلاق تین دفعہ ذکر کرے، یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ“ یا صرف ”طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“ کہے۔ اس دوسری صورت میں بھی تین طلاقیں واقع ہوں گی اگر ارادہ تین کا ہو، اور اگر کہے کہ میرا ارادہ ایک طلاق کا تھا اور باقی الفاظ بطورِ تاکید کے کہے تھے، تو اس کا یہ قول درست ہے اور ایک ہی طلاق ہوگی دِيَانَةً لَا قَضَاءً یعنی گھر میں معاملہ ٹھیک ہو جائے گا اور بیوی پاس رکھے گا، اور اگر قاضی تک بات پہنچ گئی تو قاضی تین طلاقیں ہی کہے گا اور جدائی کر دے گا۔
یہ دوسری صورت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں اور صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں اور عہدِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابتدا میں قضاءً بھی ایک شمار کی جاتی تھی، کیونکہ لوگ نیک تھے اور دیانت دار تھے، پھر حضرت عمر نے بعد میں کہا کہ اب لوگ اتنے نیک نہیں رہے لہٰذا قضاءً تین ہی شمار ہوں گی۔ بہر حال اس بات پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔
بس بھئی! بحث مکمل ہوئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ قیمتی بحث ہے بھئی۔ طلاق کا معنی ذکر ہوا اس کے اندر کہ طلاق حَلُّ الْقَيْدِ کو کہتے ہیں بند چیز کو کھولنا بھئی۔ پھر یہ بند کھولنا حسی بھی ہو سکتا ہے اور معنوی بھی۔ حسی جیسے رسی کھولنا، گرہ کھولنا اور معنوی جیسے قیدِ نکاح کو کھولنا، اور شرعاً جو ہے یہ نکاح کو زائل کرنا اور نکاح کی حلت کو کم کرنا مخصوص لفظ یعنی لفظِ طلاق کے ساتھ بھئی۔
اور آپ نے پڑھا کہ طلاق دو قسم پر ہے: ایک سنی اور ایک بدعی۔ اور سنی پھر دو قسم پر ہے: ایک احسن ہے اور ایک حسن ہے بھئی۔ اور حسن یہ ہے کہ انسان تین طہروں میں تین طلاقیں دے بیوی کو اور وہ طلاقیں بھی رجعی ہوں اور وہ طہر ایسے ہوں کہ جن کے اندر جماع نہ کیا ہو، تو یہ کیا ہے؟ طلاقِ حسن، اور یہ بھی سنت ہے۔ اور اسی طرح طلاقِ احسن وہ بھی سنت ہے لیکن اس میں ایک شرط اور ہے کہ وہاں صرف ایک ہی طلاق پر اکتفاء کر لے، بات سمجھ میں آ گئی۔
یہاں طلاق سے متعلق ایک دو باتیں مزید بھی یاد رکھیں بھئی، مزید بھی۔ یاد رکھو کہ وہ عورت جس کے ساتھ خاوند نے صحبت نہیں کی اس کو ایک طلاق بھی دے دی جائے تو وہ فوراً بائن ہو جاتی ہے، خاوند سے جدا ہو جاتی ہے، اور اس پر عدت وغیرہ بھی نہیں ہے، وہ فوراً آگے کہیں نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ لیکن مدخول بہا یعنی وہ عورت جس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے اس کو جو خاوند طلاق دیتا ہے وہ رجعی بھی ہو سکتی ہے اور بائن بھی ہو سکتی ہے۔ طلاق کتنی قسم پر؟ دو: ایک رجعی اور ایک بائن۔
طلاقِ رجعی وہ ہے جس کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے عدت کے اندر اندر یعنی دوبارہ وہاں نکاح کی ضرورت نہیں۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، یاد رکھو اس سے طلاقِ رجعی ہوئی۔ طلاقِ رجعی کے اندر خاوند عدت کے اندر اندر رجوع کر سکتا ہے، مثلاً یوں کہہ دے: میں رجوع کرتا ہوں، یا میں نے رجوع کر لیا، یہ زبان سے کہہ دے۔ یا اپنے کسی عمل کے ذریعے بھی رجوع کر سکتا ہے، مثلاً بیوی کا بوسہ لے لیا یا بیوی سے صحبت کر لی یعنی کوئی ایسا کام کیا جو بیوی کے علاوہ اور کسی عورت کے ساتھ جائز نہیں، تو اس خاوند کا یہ عمل بھی بتلا رہا ہے کہ معلوم ہوا وہ رجوع کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا اس سے پھر رجوع ہو جائے گا عدت کے اندر اندر، اور یہاں دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ہے، وہ بیوی اب بھی پہلے ہی کی طرح بیوی ہے۔ البتہ اب طلاقوں کی تعداد کم ہو کر دو رہ گئی۔ پہلے خاوند تین طلاقوں کا مالک تھا اب تمام زندگی کے لیے صرف دو طلاقوں کا مالک ہے۔ پھر خاوند اگر ایک اور طلاقِ رجعی دے دیتا ہے اور پھر رجوع کر لیتا ہے تو اب بھی یہ عورت اس کی بیوی ہے لیکن اب اس کے پاس تمام زندگی صرف ایک ہی طلاق کا حق باقی رہ گیا ہے بھئی۔ اور اگر پھر جب تیسری بھی طلاق دے دے گا تو اس کو طلاقِ مغلظہ کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ طلاقِ مغلظہ یعنی سخت طلاق۔ تو تین طلاقوں کو طلاقِ مغلظہ کہتے ہیں کیونکہ اس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا، خاوند اس عورت سے اب دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا الا یہ کہ یہ عورت کسی اور سے نکاح کر لیتی ہے اور پھر وہ شخص جو ہے کسی وقت زندگی میں اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے یا اس آدمی کا انتقال ہو جاتا ہے تو پھر پہلا خاوند اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے، ورنہ ویسے نکاح نہیں کر سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو طلاق جو ہے دو قسم پر ہے: ایک طلاقِ رجعی ہے جس کے اندر رجوع ہو سکتا ہے اور دوسری طلاقِ بائن ہے۔ طلاقِ بائن یہ ہے کہ طلاق کے ساتھ کوئی لفظ خاوند بڑھا دے۔ مثلاً پہلی صورت کیا تھی؟ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تمہیں طلاق ہے۔ دوسری صورت یہ ہے خاوند کہتا ہے: تمہیں طلاقِ بائن ہے بھئی۔ کیا ہے؟ دیکھو یہ بائن کا لفظ ساتھ ملا دیا، بائن کا معنی جدا کرنے والی یعنی تمہیں جدا کرنے والی طلاق ہے۔ تو یاد رکھو اس صورت میں خاوند رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے طلاقِ بائن دی ہے بھئی، اور طلاقِ بائن کے اندر نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ نکاح ٹوٹ گیا تو طلاقِ بائن کے بعد عورت پھر جب عدت گزارے گی تو عدت گزارنے کے بعد اب وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ تو طلاقِ بائن میں نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور عدت گزارنے کے بعد اگر عورت کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو کر سکتی ہے، لیکن اگر یہی خاوند دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے، اس نے تو ابھی صرف ایک طلاق دی ہے لہٰذا یہ اب بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے، اور یہ خاوند جو ہے عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتا ہے اس عورت سے اور عدت کے بعد بھی۔ پہلا خاوند ہی نکاح کرنا چاہتا ہے طلاقِ بائن میں تو عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتا ہے اور عدت کے بعد بھی نکاح کر سکتا ہے، لیکن اگر عورت کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے اندر نکاح نہیں کر سکتی، عدت کے بعد ہی نکاح پھر کر سکتی ہے کسی اور کے ساتھ۔
تو طلاقیں کتنی قسم کی؟ دو: ایک رجعی جس میں عدت کے اندر رجوع ہو سکتا ہے، ایک طلاقِ بائن جس کے اندر نکاح ٹوٹ گیا، اب اگر اس بیوی کو رکھنا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا، نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔
اور پھر اسی طرح یاد رکھیں، آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ طلاق کے الفاظ کے اعتبار سے طلاق دو قسم پر ہے: ایک کو صریح کہتے ہیں، ایک کو کنایہ کہتے ہیں۔ صریح بھئی صاد کے ساتھ ہے۔ صریح یعنی صاف لفظوں میں جو طلاق ہو۔ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تجھے طلاق ہے، دیکھو یہ صاف لفظوں میں طلاق دے رہا ہے۔ یہ جو اس شخص نے جملہ کہا: تمہیں طلاق ہے، دیکھو اس کا اور کوئی معنی نہیں ہے۔ تو صریح کسے کہتے ہیں؟ صاف لفظوں میں جو طلاق دی جائے جہاں کوئی اور معنی نہ ہو، صرف طلاق ہی کا معنی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صریح۔ اور اگر خاوند نے گول مول سی بات ذکر کی جس میں طلاق کا معنی بھی ہے اور اور معنی بھی اس کے اندر نکل سکتا ہے تو پھر اس کو کنایہ کہتے ہیں۔ جیسے خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو جدا ہے۔ تو اب اس میں طلاق کا معنی بھی نکل سکتا ہے کہ تو جدا ہے یعنی مجھ سے جدا ہے کیونکہ میں تجھے چھوڑ چکا ہوں، میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، اور تو جدا ہے اس کے اندر اور معنی بھی نکل سکتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ تو باقی عورتوں سے جدا ہے، کوئی بھی عورت حسن و جمال میں تیرے جیسی نہیں بھئی، تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ تو صریح وہ طلاق جس میں طلاق کے علاوہ اور کسی معنی کا احتمال نہ ہو، اور کنایہ جو ہے وہ طلاق ہے جس میں گول مول الفاظ کے ساتھ طلاق دی جائے اور وہاں طلاق کا معنی بھی نکلتا ہو اور دوسرا معنی بھی نکلتا ہو بھئی۔
اور پھر یاد رکھو، یہ صریح جو ہے یہ رجعی بھی ہو سکتی ہے اور بائن بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کنایہ جو ہے وہ رجعی بھی ہو سکتا ہے اور بائن بھی ہو سکتا ہے۔ رجعی جس میں رجوع ہو سکے، بائن جس میں رجوع نہ ہو سکے۔ تو طلاق چاہے صریح ہو چاہے کنایہ ہو، دونوں جو ہیں رجعی بھی ہو سکتی ہیں اور بائن بھی، تو کل طلاق کی گویا چار قسمیں بن گئیں: صریح رجعی اور صریح بائن، اسی طرح کنایہ رجعی اور کنایہ بائن۔ چار قسمیں ہو گئیں۔ کون کون سی چار قسمیں؟ نمبر ایک: صریح رجعی، اور پھر صریح بائن، پھر کنایہ رجعی، اور کنایہ بائن بھئی۔
تو صریح رجعی وہ ہے جس میں طلاق کے لفظ کے ساتھ صاف لفظوں کے اندر طلاق دیتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی لفظ نہیں بڑھاتا، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تو صاف لفظوں میں طلاق دی اور کوئی ساتھ صفت وغیرہ نہیں بڑھائی۔ اور بائن وہ ہے جس کے اندر خاوند کچھ الفاظ بڑھا دے کہ میں تمہیں طلاقِ بائن دیتا ہوں، یا یوں کہتا ہے: میں تمہیں پہاڑ جتنی طلاق دیتا ہوں، یا میں تمہیں بہت بڑی طلاق دیتا ہوں، یا میں تمہیں بہت لمبی چوڑی طلاق دیتا ہوں۔ تو دیکھو طلاق کے ساتھ خاوند نے کچھ الفاظ بڑھا دیے، تو اب ان الفاظ کا بھی اثر پڑے گا اور یہ طلاق جو ہوگی وہ رجعی نہ رہے گی بلکہ بائن ہو جائے گی۔ تو صریح رجعی اور صریح بائن بھئی۔
اسی طرح کنایہ جو ہے، کنایہ میں نے بتایا گول مول الفاظ کے ساتھ طلاق دینا، یہ کنایہ بھی کبھی رجعی ہوگا اور کبھی بائن۔ یاد رکھیے، آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ عربی زبان میں تین کنایات ایسے ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوگی، باقی جتنے کنایات ہیں ان سب سے طلاقِ بائن ہوگی۔ تو معلوم ہوا کنایات بھی کتنی قسم کے ہو گئے؟ دو: کچھ کنایات رجعی ہیں اور کچھ کنایات بائن ہیں بھئی۔
پھر اگر خاوند بیوی کو ایک طلاق دیتا ہے، توجہ ہے؟ پھر عدت کے اندر خاوند اگر دوسری طلاق دیتا ہے تو کیا یہ دوسری شمار کریں گے یا شمار نہیں کریں گے؟ تو اس سلسلے میں ضابطہ یاد رکھنا کہ خاوند جو پہلی طلاق دے گا یا تو وہ صریح رجعی ہوگی یا صریح بائن ہوگی یا کنایہ رجعی ہوگی یا کنایہ بائن ہوگی۔ اب عدت کے اندر خاوند دوسری طلاق دینا چاہتا ہے تو وہ دوسری طلاق بھی یا وہ صریح رجعی ہوگی یا صریح بائن ہوگی یا کنایہ رجعی ہوگی یا کنایہ بائن، کیونکہ یہی چار قسمیں ہیں طلاق کی۔ تو گویا یہاں کل سولہ صورتیں بن جاتی ہیں۔ کتنی صورتیں؟ سولہ صورتیں۔
دیکھو مثلاً پہلی طلاق کون سی دی؟ صریح رجعی، اور دوسری طلاق وہ صریح رجعی بھی ہو سکتی ہے، صریح بائن بھی، اور کنایہ رجعی بھی اور کنایہ بائن بھی، تو یہ چار صورتیں اس میں بن گئیں۔ اور اگر پہلی طلاق صریح بائن ہے تو دوسری طلاق میں بھی اسی طرح پھر چار صورتیں، تو چار صورتیں اس کے اندر ہو گئیں۔ تو اس طرح ہر ایک میں چار چار صورتیں بنیں گی: پہلی طلاق اگر صریح رجعی ہے تو اس کے اندر بھی دوسری طلاق میں چار صورتیں، اور پہلی طلاق اگر صریح بائن ہے اس کے اندر بھی دوسری طلاق میں چار صورتیں، اگر پہلی طلاق کنایہ رجعی ہے تو اس کے اندر بھی دوسری طلاق میں چار صورتیں، اور اگر پہلی طلاق جو ہے کنایہ بائن ہے تو دوسری طلاق میں یہاں بھی چار صورتیں، تو پہلی طلاق جو بھی ہو دوسری کے اندر چار چار صورتیں بنیں گی۔ تو گویا کل سولہ صورتیں بن گئیں۔
ایک شخص نے بیوی کو طلاق دی ہے اور عدت کے اندر دوسری طلاق دیتا ہے تو کیا یہ دوسری بھی شمار کی جائے گی یا یہ لغو چلی جائے گی، ضائع ہو جائے گی؟ تو اس میں فقہاء پھر ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ کل سولہ صورتیں بن گئیں۔ ان سولہ کے اندر یاد رکھنا: چودہ صورتوں میں دوسری طلاق بھی ساتھ مل جائے گی اور دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ ایک طلاق دی تھی اور پھر عدت کے اندر دوسری طلاق دی تو چودہ صورتوں کے اندر دوسری طلاق بھی پہلی کے ساتھ ملے گی اور طلاقوں کی تعداد دو ہو جائے گی۔ لیکن دو صورتیں ایسی ہیں جن کے اندر دوسری طلاق پہلی کے ساتھ نہیں ملے گی، دوسری طلاق لغو اور بے کار چلی جائے گی، اور وہ صورت ہے جب دوسری طلاق کنایہ بائن ہو۔ اگر دوسری طلاق کنایہ بائن ہو اور پہلی والی بھی بائن ہے تو یہ کنایہ بائن اس پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گی۔
توجہ سے سنو: سولہ میں سے دو صورتوں کے اندر دوسری طلاق لغو اور بے کار چلی جائے گی، وہ پہلی طلاق سے نہیں ملے گی، وہ کون سی دو صورتیں ہیں؟ جس میں دوسری کنایہ بائن ہو اور پہلی بائن ہو چاہے وہ صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو۔ پہلی کیا ہو؟ بائن ہو چاہے صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو، اس سے ایک طلاقِ بائن ہو چکی ہے۔ مثلاً پہلے صریح بائن آئی اور اس کے بعد کنایہ بائن آئی تو یہ کنایہ بائن اس صریح بائن کے ساتھ نہیں ملے گی، یہ لغو چلی جائے گی، ایک ہی طلاق ہے بھئی۔ یا پہلی بھی کنایہ بائن تھی اور دوسری بھی کنایہ بائن آ گئی تو یہ دوسری کنایہ بائن لغو چلی جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں، ایک ہی طلاق شمار کی جائے گی۔ تو سولہ قسموں کے اندر چودہ قسموں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے ملے گی، اور دو صورتوں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے نہیں ملے گی۔ وہ کون سی دو صورتیں ہیں؟ جن میں دوسری طلاق کنایہ بائن ہو اور پہلی بائن ہو چاہے وہ صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو تو یہ دوسری طلاق پہلی سے نہیں ملے گی۔
چنانچہ فقہاء اس سلسلے میں ایک ضابطہ بھی ذکر فرماتے ہیں بھئی:
”الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ، وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“۔
تو دیکھا؟ صریح صریح کے ساتھ بھی ملے گی اور بائن کے ساتھ بھی ملے گی۔ دوسری طلاق اگر صریح ہے تو وہ پہلی صریح ہو تو اس کے ساتھ بھی ملے گی اور پہلی بائن ہو تو اس کے ساتھ بھی ملے گی یعنی دوسری کا اعتبار کریں گے جب وہ طلاقِ صریح ہو۔ لیکن ”وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“، بائن جو ہے وہ بائن کے ساتھ نہیں ملے گی یعنی مراد ہے کنایہ بائن، کنایہ بائن جو ہے وہ بائن کے ساتھ نہیں ملے گی۔ اگر پہلی بائن ہے اور دوسری کنایہ بائن ہے تو یہ اس پہلی کے ساتھ نہیں ملے گی۔ تو یہ ضابطہ بھی آپ کو یاد ہونا چاہیے: ”الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ“، کہ صریح جو ہے صریح اور بائن دونوں سے مل جاتی ہے، ”وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“، اور بائن بائن کے ساتھ نہیں ملتی یعنی کنایہ بائن جو ہے وہ بائن کے ساتھ نہیں ملتی۔
چلیے بس کریں، بات سمجھ میں آ گئی؟ کل پھر ان شاء اللہ یہ کتاب سے شروع کریں گے، لیکن یہ کہ یہ طلاق کی ابتدائی بحثیں ہیں بھئی ان کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ آگے ساری طلاق کی بحث چلے گی، آپ کو پتہ ہونا چاہیے طلاقِ رجعی کسے کہتے ہیں۔ میں نے بتایا جس میں رجوع ہو سکے۔ اور طلاقِ بائن میں نے بتلایا وہ طلاق جس میں طلاق کے ساتھ بائن کا لفظ خاوند بڑھا دے یا کوئی اور صفت وغیرہ بڑھا دے کہ بڑی طلاق دیتا ہوں یا پہاڑ جتنی طلاق دیتا ہوں، تو یہ طلاقِ بائن اور اس سے نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے، اس میں رجوع نہیں ہو سکتا، دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا، اور عدت کے اندر بھی خاوند نکاح کر سکتا ہے اس عورت سے اور عدت کے بعد بھی کر سکتا ہے۔
اور پھر اس کے بعد بتایا طلاق کے الفاظ کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں: ایک صریح اور ایک کنایہ۔ صریح وہ لفظ جس میں طلاق کے علاوہ اور کوئی معنی ہی نہ ہو بھئی، اور کنایہ وہ ہے جس میں طلاق کے علاوہ اور بھی معنی ہو بھئی۔ اور پھر یہ صریح بھی دو قسم پر ہے: یا رجعی ہوگا یا بائن، اور کنایہ بھی دو قسم پر ہے: رجعی ہوگا یا بائن ہوگا۔
اور پہلی طلاق کے ساتھ دوسری طلاق ملے گی یا نہیں؟ تو میں نے بتلایا کہ یہاں کل سولہ صورتیں بنتی ہیں۔ دو صورتوں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے نہیں ملے گی، اور وہ دو صورتیں کیا ہیں؟ دوسری طلاق کنایہ بائن ہو، اور پہلی بائن ہو چاہے صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو تو یہ جو دوسری کنایہ بائن ہے یہ پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گی۔ تو یہ طلاق کی قسمیں آپ کو اچھی طرح یاد ہونی چاہئیں بھئی، خوب اچھی طرح ان کو ذہن نشین کر لیں، آگے ساری بحثیں چلیں گی، آپ کے ذہن میں یہ باتیں ہوں گی تو آپ آسانی سے سمجھتے چلے جائیں گے بھئی۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
...کا ہو۔
البتہ تین طلاقوں کے طریقے دو ہیں۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“، یعنی باقاعدہ ”ثَلَاثَة“ کے عدد کو ذکر کرے۔ اس صورت میں عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَأَئِمَّةِ أَرْبَعَة تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں، کوئی صورت نہیں ایک طلاق کے ارادہ کی، اگرچہ کہتا بھی رہے کہ ایک طلاق کا ارادہ تھا، کیونکہ لفظِ ”ثَلَاثَة“ میں کمی کا احتمال نہیں ہے، جیسے کوئی شخص تین چیزیں مانگے، جب دی جائیں تو کہے کہ میرا ارادہ ایک کا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جی آگے الگ سطر لکھیے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لفظِ طلاق تین دفعہ ذکر کرے، یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ“ یا صرف ”طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“ کہے۔ اس دوسری صورت میں بھی تین طلاقیں واقع ہوں گی اگر ارادہ تین کا ہو، اور اگر کہے کہ میرا ارادہ ایک طلاق کا تھا اور باقی الفاظ بطورِ تاکید کے کہے تھے تو اس کا یہ قول درست ہے اور ایک ہی طلاق ہوگی، دِيَانَةً لَا قَضَاءً، یعنی گھر میں معاملہ ٹھیک ہو جائے گا اور بیوی پاس رکھے گا، اور اگر قاضی تک بات پہنچ گئی تو قاضی تین طلاقیں ہی کہے گا اور جدائی کر دے گا۔ یہ دوسری صورت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں اور صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں اور عہدِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدا میں قضاءً بھی ایک شمار کی جاتی تھی، کیونکہ لوگ نیک تھے اور دیانت دار تھے، پھر حضرت عمر نے بعد میں کہا کہ اب لوگ اتنے نیک نہیں رہے، لہذا قضاءً تین ہی شمار ہوں گی۔ بہر حال اس بات پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔
بس بھئی، بحث مکمل ہوئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ قیمتی بحث ہے بھئی۔ طلاق کا معنی ذکر ہوا اس کے اندر کہ طلاق حَلُّ الْقَيْدِ کو کہتے ہیں، بند چیز کو کھولنا بھئی۔ پھر یہ بند کھولنا حسی بھی ہو سکتا ہے اور معنوی بھی۔ حسی جیسے رسی کھولنا، گرہ کھولنا، اور معنوی جیسے قیدِ نکاح کو کھولنا۔ اور شرعاً جو ہے یہ نکاح کو زائل کرنا اور نکاح کی حلت کو کم کرنا مخصوص لفظ یعنی لفظِ طلاق کے ساتھ بھئی۔
اور آپ نے پڑھا کہ طلاق دو قسم پر ہے: ایک سُنّی اور ایک بِدْعِی۔ اور سنی بھی دو قسم پر ہے: ایک اَحْسَن ہے اور ایک حَسَن ہے بھئی۔ اور حسن یہ ہے کہ انسان تین طہروں میں تین طلاقیں دے بیوی کو اور وہ طلاقیں بھی رجعی ہوں، اور وہ طہر ایسے ہوں کہ جن کے اندر جماع نہ کیا ہو، تو یہ کیا ہے؟ طلاقِ حسن۔ اور یہ بھی سنت ہے۔ اور اسی طرح طلاقِ احسن وہ بھی سنت ہے، لیکن اس میں ایک شرط اور ہے کہ وہاں صرف ایک ہی طلاق پر اکتفا کر لے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یہاں طلاق سے متعلق ایک دو باتیں مزید بھی یاد رکھیں بھئی، مزید بھی۔ یاد رکھو کہ وہ عورت جس کے ساتھ خاوند نے صحبت نہیں کی، اس کو ایک طلاق بھی دے دی جائے تو وہ فوراً بائن ہو جاتی ہے، خاوند سے جدا ہو جاتی ہے۔ جی۔ اور اس پر عدت وغیرہ بھی نہیں ہے، وہ فوراً آگے کہیں نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ لیکن مَدْخُولٌ بِهَا یعنی وہ عورت جس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے، اس کو جو خاوند طلاق دیتا ہے وہ رجعی بھی ہو سکتی ہے اور بائن بھی ہو سکتی ہے۔ طلاق کتنی قسم پر؟ دو: ایک رجعی اور ایک بائن۔ طلاقِ رجعی وہ ہے جس کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے عدت کے اندر اندر، یعنی دوبارہ وہاں نکاح کی ضرورت نہیں۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، یاد رکھو اس سے طلاقِ رجعی ہوئی۔ تو اس سے طلاقِ رجعی ہوئی، اور طلاقِ رجعی کے اندر خاوند عدت کے اندر اندر رجوع کر سکتا ہے۔ مثلاً یوں کہہ دے: میں رجوع کرتا ہوں، یا میں نے رجوع کر لیا، یہ زبان سے کہہ دے۔ یا اپنے کسی عمل کے ذریعے بھی رجوع کر سکتا ہے، مثلاً بیوی کا بوسہ لے لیا، یا بیوی سے صحبت کر لی، یعنی کوئی ایسا کام کیا جو بیوی کے علاوہ اور کسی عورت کے ساتھ جائز نہیں، تو اس خاوند کا یہ عمل بھی بتلا رہا ہے کہ معلوم ہوا وہ رجوع کر رہا ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو لہذا اس سے پھر رجوع ہو جائے گا عدت کے اندر اندر، اور یہاں دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ہے، وہ بیوی اب بھی پہلے ہی کی طرح بیوی ہے۔
البتہ اب طلاقوں کی تعداد کم ہو کر دو رہ گئی۔ پہلے خاوند تین طلاقوں کا مالک تھا، اب تمام زندگی کے لیے صرف دو طلاقوں کا مالک ہے۔ پھر خاوند اگر ایک اور طلاقِ رجعی دے دیتا ہے اور پھر رجوع کر لیتا ہے، تو اب بھی یہ عورت اس کی بیوی ہے لیکن اب اس کے پاس تمام زندگی صرف ایک ہی طلاق کا حق باقی رہ گیا ہے بھئی۔ جی۔ اور اگر پھر جب تیسری بھی طلاق دے دے گا، تو اس کو طلاقِ مغلظہ کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ طلاقِ مغلظہ، یعنی سخت طلاق۔ تو تین طلاقوں کو طلاقِ مغلظہ کہتے ہیں، کیونکہ اس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا، خاوند اس عورت سے اب دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا، الا یہ کہ یہ عورت کسی اور سے نکاح کر لیتی ہے اور پھر وہ شخص جو ہے کسی وقت زندگی میں اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے یا اس آدمی کا انتقال ہو جاتا ہے، تو پھر پہلا خاوند اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے، ورنہ ویسے نکاح نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو طلاق جو ہے دو قسم پر ہے: ایک طلاقِ رجعی ہے جس کے اندر رجوع ہو سکتا ہے، اور دوسری طلاقِ بائن ہے۔ طلاقِ بائن یہ ہے کہ طلاق کے ساتھ کوئی لفظ خاوند بڑھا دے۔ مثلاً پہلی صورت کیا تھی؟ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تمہیں طلاق ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند کہتا ہے: تمہیں طلاقِ بائن ہے بھئی۔ کیا ہے؟ دیکھو یہ بائن کا لفظ ساتھ ملا دیا، بائن کا معنی جدا کرنے والی، یعنی تمہیں جدا کرنے والی طلاق ہے۔ تو یاد رکھو اس صورت میں خاوند رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ اس نے طلاقِ بائن دی ہے بھئی۔ اور طلاقِ بائن کے اندر نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ جی۔ نکاح ٹوٹ گیا۔ تو طلاقِ بائن کے بعد عورت پھر جب عدت گزارے گی، تو عدت گزارنے کے بعد اب وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ جی۔ تو طلاقِ بائن میں نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور عدت گزارنے کے بعد اگر عورت کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو کر سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی خاوند دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے، اس نے تو ابھی صرف ایک طلاق دی ہے لہذا یہ ابھی بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ اور یہ خاوند جو ہے عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتا ہے اس عورت سے اور عدت کے بعد بھی۔ پہلا خاوند ہی نکاح کرنا چاہتا ہے طلاقِ بائن میں، تو عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتا ہے اور عدت کے بعد بھی نکاح کر سکتا ہے، لیکن اگر عورت کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے اندر نکاح نہیں کر سکتی، عدت کے بعد ہی نکاح پھر کر سکتی ہے کسی اور کے ساتھ۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو طلاقیں کتنی قسم کی؟ دو: ایک رجعی جس میں عدت کے اندر رجوع ہو سکتا ہے، ایک طلاقِ بائن جس کے اندر نکاح ٹوٹ گیا، اب اگر اس بیوی کو رکھنا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا، نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔
اور پھر اسی طرح یاد رکھیں آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ طلاق کے الفاظ کے اعتبار سے طلاق دو قسم پر ہے: ایک کو صریح کہتے ہیں، ایک کو کنایہ کہتے ہیں۔ صریح بھئی صاد کے ساتھ ہے، صریح یعنی صاف لفظوں میں جو طلاق ہو۔ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تجھے طلاق ہے، دیکھو یہ صاف لفظوں میں طلاق دے رہا ہے۔ یہ جو اس شخص نے جملہ کہا تمہیں طلاق ہے، دیکھو اس کا اور کوئی معنی نہیں ہے۔ تو صریح کسے کہتے ہیں؟ صاف لفظوں میں جو طلاق دی جائے جہاں کوئی اور معنی نہ ہو، صرف طلاق ہی کا معنی ہو۔ جس کو کیا کہتے ہیں؟ صریح۔ اور اگر خاوند نے گول مول سی بات ذکر کی جس میں طلاق کا معنی بھی ہے اور اور معنی بھی اس کے اندر نکل سکتا ہے، تو پھر اس کو کنایہ کہتے ہیں۔ جیسے خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو جدا ہے۔ تو جدا ہے، تو اب اس میں طلاق کا معنی بھی نکل سکتا ہے کہ تو جدا ہے یعنی مجھ سے جدا ہے کیونکہ میں تجھے چھوڑ چکا ہوں، میں تجھے طلاق دے چکا ہوں۔ اور تو جدا ہے اس کے اندر اور معنی بھی نکل سکتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ تو باقی عورتوں سے جدا ہے، کوئی بھی عورت حسن و جمال میں تیرے جیسی نہیں بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ تو صریح وہ طلاق جس میں طلاق کے علاوہ اور کسی معنی کا احتمال نہ ہو۔ اور کنایہ جو ہے وہ طلاق ہے جس میں گول مول الفاظ کے ساتھ طلاق دی جائے اور وہاں طلاق کا معنی بھی نکلتا ہو اور دوسرا معنی بھی نکلتا ہو بھئی۔
اور پھر یاد رکھو یہ صریح جو ہے یہ رجعی بھی ہو سکتی ہے اور بائن بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کنایہ جو ہے وہ رجعی بھی ہو سکتا ہے اور بائن بھی ہو سکتا ہے۔ رجعی جس میں رجوع ہو سکے، بائن جس میں رجوع نہ ہو سکے۔ تو طلاق چاہے صریح ہو چاہے کنایہ ہو، دونوں جو ہیں رجعی بھی ہو سکتی ہیں اور بائن بھی۔ تو کل طلاق کی گویا چار قسمیں بن گئیں: صریح رجعی اور صریح بائن، اسی طرح کنایہ رجعی اور کنایہ بائن، چار قسمیں ہو گئیں۔ کون کون سی چار قسمیں؟ دہرائیے بھئی زبان سے، کون کون سی چار قسمیں؟ نمبر ایک صریح رجعی، اور پھر صریح بائن، پھر کنایہ رجعی، اور کنایہ بائن بھئی۔ تو صریح رجعی وہ ہے جس میں طلاق کے لفظ کے ساتھ صاف لفظوں کے اندر طلاق دیتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی لفظ نہیں بڑھاتا، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تو صاف لفظوں میں طلاق دی اور کوئی ساتھ صفت وغیرہ نہیں بڑھائی۔ اور بائن وہ ہے جس کے اندر خاوند کچھ الفاظ بڑھا دے کہ میں تمہیں طلاقِ بائن دیتا ہوں، یا یوں کہتا ہے: میں تمہیں پہاڑ جتنی طلاق دیتا ہوں، یا میں تمہیں بہت بڑی طلاق دیتا ہوں، یا میں تمہیں بہت لمبی چوڑی طلاق دیتا ہوں۔ تو دیکھو طلاق کے ساتھ خاوند نے کچھ الفاظ بڑھا دیے، تو اب ان الفاظ کا بھی اثر پڑے گا اور یہ طلاق جو ہوگی وہ رجعی نہ رہے گی بلکہ بائن ہو جائے گی۔ تو صریح رجعی اور صریح بائن بھئی۔ اسی طرح کنایہ جو ہے، کنایہ میں نے بتایا گول مول الفاظ کے ساتھ طلاق دینا، یہ کنایہ بھی کبھی رجعی ہوگا اور کبھی بائن۔
یاد رکھیے، آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ عربی زبان میں تین کنایات ایسے ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوگی، تین کنایات ایسے ہیں جن سے طلاقِ رجعی، باقی جتنے کنایات ہیں ان سب سے طلاقِ بائن ہوگی۔ جی۔ تو معلوم ہوا کنایات بھی کتنی قسم کے ہو گئے؟ دو: کچھ کنایات رجعی ہیں اور کچھ کنایات بائن ہیں بھئی۔
پھر اگر خاوند بیوی کو ایک طلاق دیتا ہے، توجہ ہے؟ پھر عدت کے اندر خاوند اگر دوسری طلاق دیتا ہے تو کیا یہ دوسری شمار کریں گے یا شمار نہیں کریں گے؟ تو اس سلسلے میں ضابطہ یاد رکھنا، ضابطہ یاد رکھنا کہ خاوند جو پہلی طلاق دے گا یا تو وہ صریح رجعی ہوگی، یا صریح بائن ہوگی، یا کنایہ رجعی ہوگی، یا کنایہ بائن ہوگی۔ توجہ ہے؟ خاوند نے پہلی طلاق دے دی، کون سی ہوئی؟ یا تو وہ صریح رجعی ہوگی، یا صریح بائن ہوگی، یا کنایہ رجعی ہوگی، یا کنایہ بائن۔ اب عدت کے اندر خاوند دوسری طلاق دینا چاہتا ہے، تو وہ دوسری طلاق بھی یا وہ صریح رجعی ہوگی، یا صریح بائن ہوگی، یا کنایہ رجعی ہوگی، یا کنایہ بائن، کیونکہ یہی چار قسمیں ہیں طلاق کی۔ جی۔ تو گویا یہاں کل سولہ صورتیں بن جاتی ہیں۔ کتنی صورتیں؟ سولہ صورتیں۔ دیکھو مثلاً پہلی طلاق کون سی دی؟ صریح رجعی، اور دوسری طلاق وہ صریح رجعی بھی ہو سکتی ہے، صریح بائن بھی اور کنایہ رجعی بھی اور کنایہ بائن بھی، تو یہ چار صورتیں اس میں بن گئیں۔ پہلی طلاق کون سی؟ صریح رجعی، اس کے اندر کتنی صورتیں بن گئیں؟ چار صورتیں کہ دوسری طلاق بھی صریح رجعی ہوگی، یا صریح بائن ہوگی، یا کنایہ رجعی ہوگی، یا کنایہ بائن ہوگی۔ اور اگر پہلی طلاق صریح بائن ہے، تو دوسری طلاق میں بھی اسی طرح پھر چار صورتیں، تو چار صورتیں اس کے اندر ہو گئیں۔ تو اس طرح ہر ایک میں چار چار صورتیں بنیں گی۔ پہلی طلاق کون سی ہے؟ صریح رجعی، تو اس کے اندر بھی دوسری طلاق میں چار صورتیں۔ اور پہلی طلاق اگر صریح بائن ہے اس کے اندر بھی دوسری طلاق میں چار صورتیں۔ اگر پہلی طلاق کنایہ رجعی ہے تو اس کے اندر بھی دوسری طلاق میں چار صورتیں۔ اور اگر پہلی طلاق جو ہے کنایہ بائن ہے تو دوسری طلاق میں یہاں بھی چار صورتیں۔ تو پہلی طلاق جو بھی ہو دوسری کے اندر چار چار صورتیں بنیں گی۔ جی۔ تو گویا کل سولہ صورتیں بن گئیں۔
ایک شخص نے بیوی کو طلاق دی ہے اور عدت کے اندر دوسری طلاق دیتا ہے تو کیا یہ دوسری بھی شمار کی جائے گی یا یہ لغو چلی جائے گی، ضائع ہو جائے گی؟ تو اس میں فقہاء پھر ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ کل سولہ صورتیں بن گئیں، ان سولہ کے اندر یاد رکھنا، ان سولہ کے اندر یاد رکھنا، چودہ صورتوں میں دوسری طلاق بھی ساتھ مل جائے گی اور دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ جی۔ ایک طلاق دی تھی اور پھر عدت کے اندر دوسری طلاق دی، تو چودہ صورتوں کے اندر دوسری طلاق بھی پہلی کے ساتھ ملے گی اور طلاقوں کی تعداد دو ہو جائے گی۔ جی۔ لیکن دو صورتیں ایسی ہیں جن کے اندر دوسری طلاق پہلی کے ساتھ نہیں ملے گی، دوسری طلاق لغو اور بے کار چلی جائے گی۔ اور وہ وہ صورت ہے، وہ صورت ہے جب دوسری طلاق کنایہ بائن ہو۔ جی۔ اگر دوسری طلاق کنایہ بائن ہو اور پہلی والی بھی بائن ہے، تو یہ کنایہ بائن اس پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گی۔ جی۔ دوسری طلاق، توجہ سے سنو، سولہ میں سے دو صورتوں کے اندر دوسری طلاق لغو اور بے کار چلی جائے گی، وہ پہلی طلاق سے نہیں ملے گی، وہ کون سی دو صورتیں ہیں؟ جس میں دوسری کنایہ بائن ہو اور پہلی بائن ہو، چاہے وہ صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو۔ جی۔ پہلی کیا ہو؟ بائن ہو، چاہے صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو، اس سے طلاقِ بائن ہو چکی ہے۔ مثلاً پہلے صریح بائن آئی اور اس کے بعد کنایہ بائن آئی، تو یہ کنایہ بائن اس صریح بائن کے ساتھ نہیں ملے گی، یہ لغو چلی جائے گی، ایک ہی طلاق ہے بھئی۔ یا پہلی بھی کنایہ بائن تھی اور دوسری بھی کنایہ بائن آ گئی، تو یہ دوسری کنایہ بائن لغو چلی جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں، ایک ہی طلاق شمار کی جائے گی۔ جی۔ تو سولہ قسموں کے اندر چودہ قسموں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے ملے گی، اور دو صورتوں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے نہیں ملے گی، وہ کون سی دو صورتیں ہیں؟ جن میں دوسری طلاق کنایہ بائن ہو اور پہلی بائن ہو، چاہے وہ صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو، تو یہ دوسری طلاق پہلی سے نہیں ملے گی۔ جی۔
چنانچہ فقہاء اس سلسلے میں ایک ضابطہ بھی ذکر فرماتے ہیں بھئی، وہ فرماتے ہیں: ”الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ“ بلکہ یہ ضابطہ لکھ لیجیے، یہ آپ کے کام آئے گا بھئی: ”الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ، وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“۔ جی۔ تو دیکھا، صریح صریح کے ساتھ بھی ملے گی اور بائن کے ساتھ بھی ملے گی۔ دوسری طلاق اگر صریح ہے، جی، تو وہ پہلی صریح ہو تو اس کے ساتھ بھی ملے گی، اور پہلی بائن ہو تو اس کے ساتھ بھی ملے گی، یعنی دوسری کا اعتبار کریں گے جب وہ طلاقِ صریح ہو۔ لیکن ”وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“، بائن جو ہے وہ بائن کے ساتھ نہیں ملے گی یعنی مراد ہے کنایہ بائن۔ کنایہ بائن جو ہے وہ بائن کے ساتھ نہیں ملے گی، اگر پہلی بائن ہے اور دوسری کنایہ بائن ہے تو یہ اس پہلی کے ساتھ نہیں ملے گی۔ تو یہ ضابطہ بھی آپ کو یاد ہونا چاہیے: ”الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ“، کہ صریح جو ہے صریح اور بائن دونوں سے مل جاتی ہے، ”وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“، اور بائن بائن کے ساتھ نہیں ملتی یعنی کنایہ بائن جو ہے وہ بائن کے ساتھ نہیں ملتی۔
چلیے بس کریں، بات سمجھ میں آ گئی؟ کل پھر ان شاء اللہ یہ کتاب سے شروع کریں گے، لیکن یہ کہ یہ طلاق کی ابتدائی بحثیں ہیں بھئی، ان کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ آگے ساری طلاق کی بحث چلے گی، آپ کو پتہ ہونا چاہیے طلاقِ رجعی کسے کہتے ہیں۔ میں نے بتایا جس میں رجوع ہو سکے۔ اور طلاقِ بائن میں نے بتلایا وہ طلاق جس میں طلاق کے ساتھ بائن کا لفظ خاوند بڑھا دے یا کوئی اور صفت وغیرہ بڑھا دے کہ بڑی طلاق دیتا ہوں یا پہاڑ جتنی طلاق دیتا ہوں، تو یہ طلاقِ بائن اور اس سے نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے، اس میں رجوع نہیں ہو سکتا، دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔ اور عدت کے اندر بھی خاوند نکاح کر سکتا ہے اس عورت سے اور عدت کے بعد بھی کر سکتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد بتایا طلاق کے الفاظ کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں: ایک صریح اور ایک کنایہ۔ صریح وہ لفظ جس میں طلاق کے علاوہ اور کوئی معنی ہی نہ ہو بھئی، جی، اور کنایہ وہ ہے جس میں طلاق کے علاوہ اور بھی معنی ہو بھئی۔ اور پھر یہ صریح بھی دو قسم پر ہے: یا رجعی ہوگا یا بائن۔ اور کنایہ بھی دو قسم پر ہے: رجعی ہوگا یا بائن ہوگا۔ اور پہلی طلاق کے ساتھ دوسری طلاق ملے گی یا نہیں؟ تو میں نے بتلایا کہ یہاں کل سولہ صورتیں بنتی ہیں، دو صورتوں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے نہیں ملے گی، اور وہ دو صورتیں کیا ہیں؟ دوسری طلاق کون سی ہو؟ کنایہ بائن ہو، کنایہ بائن، اور پہلی کیا ہو؟ بائن ہو، چاہے صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو، تو یہ جو دوسری کنایہ بائن ہے یہ پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گی۔ تو یہ طلاق کی قسمیں آپ کو اچھی طرح یاد ہونی چاہئیں بھئی، خوب اچھی طرح ان کو ذہن نشین کر لیں۔ آگے ساری بحثیں چلیں گی، آپ کے ذہن میں یہ باتیں ہوں گی تو آپ آسانی سے سمجھتے چلے جائیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔