Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-105

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 69
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ وَلَوْ قَالَ: إِنْ كَلَّمْتُ فُلَانًا إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ فُلَانٌ، أَوْ قَالَ: حَتَّى يَقْدَمَ فُلَانٌ، أَوْ قَالَ: إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ فُلَانٌ، أَوْ حَتَّى يَأْذَنَ فُلَانٌ، فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ، فَكَلَّمَهُ قَبْلَ الْقُدُومِ وَالْإِذْنِ حَنِثَ، وَلَوْ كَلَّمَهُ بَعْدَ الْقُدُومِ وَالْإِذْنِ لَمْ يَحْنَثْ۔ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ واللہ میں اِدام نہیں کھاؤں گا تو اس ادام سے کیا مراد ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ادام وہ چیز ہے کہ جس کو روٹی کے تابع کر کے کھایا جائے اور اس کی وجہ سے کھانا خوشگوار ہو جائے، اس کی لذت بڑھ جائے اور روٹی پر اس کا رنگ چڑھے، لہذا اس کے اندر سرکہ بھی داخل ہو گیا، زیتون کا تیل بھی داخل ہو گیا، شوربہ اور سالن بھی داخل ہو گیا۔ لیکن کیا بھنا ہوا گوشت یا انڈے وغیرہ اس کے اندر داخل ہیں یا نہیں؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گوشت اور انڈے یہ بھی روٹی کے تابع کر کے کھائے جاتے ہیں لہذا یہ بھی اس ادام کے اندر داخل ہیں، تو یہ شخص بھنا ہوا گوشت روٹی کے ساتھ کھائے یا انڈے روٹی کے ساتھ کھائے تو یہ حانث ہو گا۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک حقیقتاً تابع ہونا ہے اور ایک حکماً تابع ہونا ہے: حقیقتاً تابع اسے کہتے ہیں جو ایک چیز کے ساتھ مل جائے جیسے سالن روٹی کے ساتھ مل جاتا ہے، اور ایک ہے حکماً تابع ہونا اور وہ اسے کہتے ہیں کہ کسی چیز کو اکیلا نہ کھایا جاتا ہو تو اس پر تابع ہونے کا حکم لگایا جائے گا، جبکہ گوشت اور انڈے وغیرہ جو ہیں ان کو تو اکیلا بھی کھایا جاتا ہے تو لہذا یہ ادام کے اندر داخل نہیں ہیں۔ ہاں البتہ اگر وہ نیت کر لے گا تو پھر یہ ادام میں داخل ہو جائیں گے اور کیونکہ اس کے اندر وہ اپنے اوپر سختی کر رہا ہے بھئی۔ پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ غداء نہیں کھائے گا تو غداء کسے کہتے ہیں، یا اسی طرح عشاء کی قسم کھائی یا سحور کی قسم کھائی؟ تو بتلایا کہ غداء وہ کھانا ہے جو طلوعِ فجر سے لے کر ظہر تک کے وقت کے درمیان میں کھایا جائے، اور عشاء جو ہے وہ کھانا ہے جو ظہر کی نماز سے لے کر نصفِ لیل تک کھایا جائے، میں نے آپ کو بتلایا کہ ایک لفظ ہے عَشَاء عین کے فتحہ کے ساتھ اور ایک لفظ ہے عِشَاء عین کے کسرہ کے ساتھ، عِشَاء جو ہے یہ وقت کو کہتے ہیں اور عَشَاء جو ہے اس وقت کے اندر جو کھانا کھایا جائے اس کو کہتے ہیں، اور سَحُور جو ہے سحور وہ کھانا ہے جو نصفِ لیل سے لے کر طلوعِ فجر تک کھایا جائے، سحور کو ہم اردو میں سحری کہتے ہیں، رمضان کے اندر روزے کے لیے جو سحری کھائی جاتی ہے عربی میں اس کو سحور کہتے ہیں۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ غداء اور عشاء کے ذریعے پیٹ کا بھرنا مقصود ہوتا ہے، لہذا شرط یہ ہے کہ کم از کم نصف پیٹ بھرنے تک وہ کھائے پھر حانث ہو گا، اگر اس سے کم کھائے گا تو وہ حانث نہیں ہو گا، اور نیز اس کے اندر ہر علاقے اور ہر شہر والوں کا عرف بھی معتبر ہے یعنی جو چیز وہ غداء یا عشاء میں کھاتے ہیں تو وہی کھانے سے یہ حانث ہو گا، اس کے علاوہ کوئی اور چیز پیٹ بھر کر بھی کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا بھئی۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص نے کہا کہ اگر میں نے پہنا تو میرا غلام آزاد ہے یا میں نے کھایا تو میرا غلام آزاد ہے یا میں نے پیا تو میرا غلام آزاد ہے، اب دیکھو یہاں یہ فعل متعدی ہیں ان کے لیے مفعول بھی چاہیے، تو مثلاً اسے کہنا یہ چاہیے تھا: إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا اگر میں نے کوئی کپڑا پہنا، لیکن اس نے ثوب کو حذف کر دیا، اسی طرح اس کو کہنا چاہیے تھا: إِنْ أَكَلْتُ طَعَامًا لیکن اس نے طعام کو حذف کر دیا، اسی طرح اس کو کہنا چاہیے تھا: إِنْ شَرِبْتُ شَرَابًا اس نے شراب کو حذف کر دیا، تو اب اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ میری تو فلاں کپڑے کی نیت تھی یا فلاں کھانے کی نیت تھی یا فلاں مشروب کی نیت تھی، تو کہتے ہیں نہ تو اس کی قضاءً تصدیق کی جائے گی اور نہ دیانۃً تصدیق کی جائے گی، وجہ یہ کہ یہاں پر مفعول کو اس نے حذف کر دیا ہے تو یہاں پر جو مفعول نکالا جائے گا وہ مقتضا ہے، کلام اس کا تقاضا کر رہا ہے، اس کے بغیر کلام درست ہی نہیں ہوتا تو لہذا یہاں جو مفعول نکالا جائے گا وہ مقتضا ہے اور مقتضا میں عموم نہیں ہوتا کہ اس کے اندر تخصیص کی جائے بلکہ مقتضا تو ضرورت کے بقدر ثابت ہوتا ہے۔ ہاں اس کے مقابلے میں اگر یہ مفعول ذکر کر دیتا ہے اور کہتا ہے: إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا یا إِنْ أَكَلْتُ طَعَامًا یا إِنْ شَرِبْتُ شَرَابًا، اور پھر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کپڑے کی یا فلاں کھانے کی یا فلاں مشروب کی نیت کی تھی تو پھر اس صورت میں دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، لیکن قضاءً پھر بھی تصدیق نہیں کی جائے گی اس لیے کیونکہ یہ معنی جو وہ ذکر کر رہا ہے وہ خلافِ ظاہر ہے، ظاہر تو یہی ہے اس نے ثوب کو یا طعام کو یا شراب کو نکرہ ذکر کیا ہے تو اس میں ہر مشروب، ہر طعام اور ہر کپڑا داخل ہو گا بھئی۔ اسی طرح ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں دجلہ سے نہیں پیوں گا، پانی کا لفظ نہیں ذکر کیا: میں دجلہ سے، دجلہ میں نے بتایا دریا کا نام ہے، ویسے بطورِ مثال کے ذکر فرمایا، کسی بھی دریا کے بارے میں ایک شخص کہتا ہے کہ واللہ میں اس دریا سے نہیں پیوں گا، تو اب اس دریا سے پینے کا ایک حقیقی معنی ہے اور ایک مجازی معنی ہے، حقیقی معنی یہ ہے کہ دریا کے پانی کو براہِ راست منہ لگا کر یہ شخص پیئے اور مجازی معنی یہ ہے کہ دریا کا پانی برتن میں یا چلو میں لے کر پیئے بھئی۔ تو امام صاحب کا مذہب یہ ہے کہ جب حقیقی معنی مستعمل ہو تو پھر مجاز کی طرف نہیں جائیں گے چاہے مجاز متعارف اور مشہور ہی کیوں نہ ہو، تو یہاں پر دریا کا پانی تو عام طور پر برتن وغیرہ میں پیا جاتا ہے اور یہ مجازِ متعارف ہے لیکن پھر بھی جب حقیقی معنی مستعمل ہے تو پھر اسی پر عمل کیا جائے گا، لہذا یہ دریا کو منہ لگا کر پانی پیئے گا تو پھر ہی حانث ہو گا برتن میں پانی لے کر پیئے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ جبکہ صاحبین کا ضابطہ یہ ہے کہ حقیقتِ مستعملہ جب قلیل ہو اور اس کے مقابلے میں مجازِ متعارف ہو جو مشہور ہے اور زیادہ رائج ہے تو پھر عمومِ مجاز پر عمل کرتے ہیں، لہذا صاحبین کے نزدیک یہ دریا کا پانی کسی بھی طریقے سے پی لے تو حانث ہو جائے گا چاہے منہ لگا کر پیئے اور چاہے کسی برتن کے اندر پی لے۔ اور اس کے مقابلے میں اگر اس نے یہ قسم اٹھائی کہ واللہ میں دجلہ کے پانی میں سے نہیں پیوں گا تو پھر اس صورت کے اندر برتن سے پینے سے بھی وہ حانث ہو جائے گا کیونکہ برتن کے پانی کی بھی نسبت اس دریا ہی کی طرف کی جاتی ہے، بلکہ اس دریا سے نکلنے والی چھوٹی نہریں جو ہیں ان سے بھی پانی پیئے گا تو اس پانی کی نسبت بھی اسی دریا کی طرف ہے لہذا اس صورت میں بھی یہ حانث ہو جائے گا۔ اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک شخص نے کہا کہ اگر یہ جو اس کوزے کے اندر جو پانی ہے اگر اس پانی کو اج میں نے نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے اور حال یہ ہے کہ اس برتن میں پانی ہے ہی نہیں، تو اس صورت میں طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حانث نہیں ہو گا بھئی، اس لیے کیونکہ یمین کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو پورا کرنا ممکن ہو، اگر اس کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو یمین ہی منعقد نہیں ہو گی۔ اور اسی طرح اگر اس شخص نے کہا کہ اس برتن کے اندر جو پانی ہے واللہ اگر وہ میں نے اج نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے اور حال یہ ہے کہ برتن میں پانی موجود ہے، تو اس نے اج کے دن کی بات کی ہے اور جب اج کے دن کی بات کی ہے تو یہ فعل دن کے آخری حصے میں دیکھا جائے گا کہ اس وقت یہ اس فعل کو کر سکتا ہے یا نہیں، لیکن یہاں اس آخری وقت سے پہلے ہی وہ پانی زمین پر بہا دیا گیا تو لہذا جب آخری وقت آیا دن کا آخری حصہ آیا تو اب وہ قسم پورا کرنے پر قادر نہیں، تو اس صورت میں بھی یہ قسم باطل ہو جائے گی کیونکہ قسم کے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پورا کرنے کا امکان ہو، اور جب وقت کو ذکر کیا جائے تو وقت کے آخری جز میں بھی اس کے پورا کرنے کا امکان ہونا چاہیے لیکن یہاں تو پورا کرنے کا امکان ہی نہیں لہذا یہ قسم باطل ہو جائے گی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قسم کے منعقد ہونے کے لیے اس کو پورا کرنا ممکن ہو یہ ضروری نہیں ہے بلکہ اگر قسم کو پورا نہیں کیا جا سکتا تو اس کا خلیفہ اور نائب یعنی کفارہ تو ادا کیا جا سکتا ہے لہذا یہ دونوں صورتوں میں یہ شخص حانث ہو گا اور دونوں صورتوں میں اس نے اج کا لفظ ذکر ساتھ کیا تھا لہذا جب اج کا دن گزرے گا تو پھر یہ حانث ہو گا یعنی شام کے وقت یہ حانث ہو جائے گا۔ اور اس کے مقابلے میں اگر قسم کو مطلق ذکر کیا تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی قسم کھائے گا تو برتن خالی ہے تو فوراً ہی حانث ہو جائے گا بھئی، اور جبکہ دوسری صورت میں جب برتن کے اندر پانی موجود ہے اور وقت مقرر نہیں کیا تو جب تک پانی موجود ہے قسم کا پورا کرنا ممکن ہے لیکن جیسے ہی پانی بہا دیا گیا تو یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ اور طرفین جو ہیں انہوں نے بھی مطلق اور موقت کے درمیان فرق کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ دوسری صورت کے اندر جب اس نے یوم کا لفظ ذکر کیا تھا اور برتن میں پانی موجود تھا لیکن شام سے پہلے اس پانی کو بہا دیا گیا تو جب آخری وقت آیا دن کا اس وقت وہ قسم پورا کرنے پر قادر نہیں لہذا لہذا قسم ہی باطل ہو جائے گی، لیکن اگر اس نے مطلق قسم کھائی تھی وقت ذکر نہیں کیا تھا تو پھر برتن سے جب پانی بہا دیا جائے گا تو فوراً یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اس سے پہلے اس کے لیے قسم کو پورا کرنا ممکن تھا لیکن اس نے قسم کو پورا نہیں کیا یہاں تک کہ وہ محل ہی فوت ہو گیا اور محل فوت ہو جائے تو قسم کھانے والا حانث ہو جاتا ہے جیسے حلف کھانے والا خود مر جائے تو وہ حانث ہو جاتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ قسم کے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قسم کا محل بھی موجود رہے اور وہ قسم کھانے والا بھی موجود رہے، اگر دونوں میں سے ایک چیز بھی فوت ہو جاتی ہے ختم ہو جاتی ہے تو وہ شخص حانث ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ آسمان پر ضرور چڑھے گا یا وہ اس پتھر کو ضرور سونے کے اندر بدلے گا تو اس صورت میں قسم منعقد ہو گئی اور پھر فوراً ہی وہ شخص حانث ہو گیا اب اس پر کفارہ واجب ہوا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ قسم کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو پورا کرنا ممکن ہو اور یہاں تو آسمان پر چڑھنا اور پتھر کو سونے سے بدلنا تو ممکن ہی نہیں ہے، تو جواب دیا کہ نہیں آسمان پر چڑھنا بھی ممکن ہے اس پر فرشتے دن رات چڑھتے رہتے ہیں، اور نیز پتھر کو سونے سے بدلنا بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بطورِ کرامت کے اس کے لیے پتھر کو سونے سے بدل دیں، البتہ آسمان پر چڑھنا یہ عادۃً محال ہے، عادۃً ممکن نہیں ہے، اسی طرح پتھر کو سونے سے بدلنا یہ عادۃً ممکن نہیں ہے۔ تو دونوں صورتوں میں فرق ہے: پچھلے مسئلے میں جب اس نے قسم کھائی تھی تو برتن میں پانی تھا ہی نہیں تو برتن کے اندر پانی کو پینا حالانکہ وہ خالی ہے یہ ممکن ہی نہیں ہے، وہ کسی صورت میں بھی ممکن ہی نہیں ہے، جبکہ یہاں پر ممکن ہے اگرچہ عادۃً محال ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں حقیقتاً ممکن ہے البتہ عادۃً محال ہے اس لیے اس کی قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور پھر اس کے بعد ہم نے باب الیمین فی الکلام شروع کیا تھا کہ وہ قسم جو کلام کے بارے میں ہو اس کا کیا حکم ہے؟ صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں فلاں سے بات نہیں کروں گا اور پھر وہ فلاں شخص سویا ہوا تھا اور اس نے اس کے اس کے پاس جا کر اس سے کلام کیا اس طور پر کہ اگر وہ جاگ رہا ہوتا تو سن لیتا تو بھی اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اس کا کلام کرنا پایا گیا۔ جبکہ کہتے ہیں ہمارے مشائخ اور فقہاء جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر اس سوئے ہوئے شخص کا جاگنا ضروری ہے، اگر بات چیت کرتے ہوئے وہ جاگ گیا تو پھر اس صورت میں کلام پایا گیا یہ حانث ہو جائے گا، اگر وہ نہیں جاگا تو پھر اس کو کلام نہیں کہیں گے لہذا یہ شخص حانث بھی نہیں ہو گا۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ فلاں سے کلام نہیں کروں گا مگر اس کی اجازت سے، پھر اس دوسرے شخص نے اجازت دے دی لیکن اس قسم کھانے والے کو پتہ نہیں تھا اور اس نے پھر اس کے بعد اس سے کلام کیا تو بھی حانث ہو جائے گا کیونکہ اجازت کے اندر اطلاع دینا ضروری ہے۔ اور پھر اسی طرح ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ فلاں سے میں ایک مہینہ بات نہیں کروں گا تو شَهْرًا کا لفظ اس نے نکرہ ذکر کیا تو اس سے کون سا مہینہ مراد لیں گے؟ تو جواب دیا صاحب ہدایہ نے کہ یہاں پر اس قسم کے کھاتے ہی فوراً یہ مہینے والا وقت شروع ہو جائے گا، معلوم ہوا قسم کے ساتھ متصل جو مہینہ ہے اس کے اندر اگر یہ کلام کرے گا تو حانث ہو جائے گا بعد میں کلام کرے گا تو حانث نہیں ہو گا بھئی۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ کلام نہیں کرے گا پھر اس نے نماز کے اندر قرآن کی تلاوت کی تو کہتے ہیں حانث نہیں ہو گا، لیکن اگر نماز سے باہر قرآن کی تلاوت کی تو حانث ہو جائے گا۔ اور اسی طرح ہے مسئلہ تسبیح، تہلیل اور تکبیر میں بھی: کوئی شخص سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اللہ اکبر کہہ دیتا ہے تو اگر نماز کے اندر ہے یہ لفظ تو حانث نہیں ہے اور اگر نماز سے خارج ہے تو پھر حانث ہو جائے گا بھئی، اس لیے کیونکہ یہ سب چیزیں حقیقت میں کلام ہیں، قرآن بھی کیا ہے؟ کلام اللہ ہے تو ہے وہ کلام۔ لیکن ہمارے عرف میں بعض فقہاء فرماتے ہیں ہمارے عرف میں حانث نہیں ہو گا کیونکہ قسم کا دار و مدار عرف پر ہوتا ہے اور عرف کے اندر قرآن پڑھنے والے کو قاری کہتے ہیں اور اسی طرح تسبیح کرنے والے کو مسبح کہا جاتا ہے ان کو متکلم نہیں کہا جاتا، تو نماز سے باہر بھی پڑھے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ اور اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ جس دن میں فلاں آدمی سے بات کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے، تو اس صورت میں یہ یوم کا لفظ وقت کے معنی میں ہے کیونکہ یوم کے لفظ کو جب ایسے فعل کے ساتھ ذکر کیا جائے جس میں امتداد اور طول نہ ہو تو پھر یہ مطلقِ وقت کے معنی میں ہوتا ہے، لہذا دن یا رات جس وقت میں بھی وہ اس آدمی سے بات کرے گا تو یہ حانث ہو جائے گا اور اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے خاص طور پر نہار کی نیت کی، یوم کا لفظ بولا اور نہار کی یعنی صبح سے شام تک کے وقت کی نیت کی تو پھر اس صورت میں قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس نے ایسے معنی کا ارادہ کیا جو کہ اس کا کلام اس کا احتمال رکھتا ہے اور اس کے اندر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اس لیے کیونکہ یہ خلافِ متعارف ہے کیونکہ یوم کا لفظ جب ایسے فعل کے ساتھ استعمال کیا جائے جس میں امتداد اور طول نہ ہو تو پھر وہ مطلقِ وقت کے معنی میں ہوتا ہے متعارف یہی ہے۔ اور اگر کسی نے رات کو ذکر کیا قسم کے اندر تو رات سے مراد رات ہی کا وقت ہے اس سے دن کا وقت مراد نہیں کیونکہ لیل کا لفظ جو ہے وہ رات کی تاریکی کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے یہ مطلقِ وقت کے معنی میں عربی زبان میں استعمال نہیں ہوتا۔ اب آئیے آج کے سبق پر: وَلَوْ قَالَ: إِنْ كَلَّمْتُ فُلَانًا إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ فُلَانٌ، أَوْ قَالَ: حَتَّى يَقْدَمَ فُلَانٌ، أَوْ قَالَ: إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ فُلَانٌ، أَوْ حَتَّى يَأْذَنَ فُلَانٌ، فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ، فَكَلَّمَهُ قَبْلَ الْقُدُومِ وَالْإِذْنِ حَنِثَ، وَلَوْ كَلَّمَهُ بَعْدَ الْقُدُومِ وَالْإِذْنِ لَمْ يَحْنَثْ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ اگر میں نے فلاں سے کلام کیا الا یہ کہ فلاں آ جائے یا فلاں اجازت دے دے تو میری بیوی کو طلاق ہے۔ یعنی آسان لفظوں میں یوں سمجھو: ایک شخص کہتا ہے اگر میں نے فلاں آدمی کے آنے سے یا فلاں آدمی کی اجازت سے پہلے فلاں آدمی سے بات کر لی تو پھر میری بیوی کو طلاق ہے، فلاں آدمی کے آنے سے پہلے یا اس کی اجازت سے پہلے فلاں سے بات کر لی تو میری بیوی کو طلاق ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً کہتا ہے زید کے آنے سے پہلے یا زید کے اجازت سے پہلے اگر میں نے عمر سے بات کر لی تو میری بیوی کو طلاق ہے، تو اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر اس زید کے آنے سے پہلے یا اس کی اجازت سے پہلے اس نے عمر سے بات کر لی تو حانث ہو جائے گا بیوی کو طلاق ہو جائے گی، اور اگر زید کے آنے کے بعد یا اس کی اجازت دینے کے بعد اس نے عمر سے بات کی تو پھر حانث نہیں ہو گا بھئی۔ اور یہ عبارت ذرا طویل ہے، دیکھو یہاں وہ دو چیزیں ذکر کریں گے: ایک تو قدوم یعنی آنا اور ایک اجازت، اور دونوں کو غایہ بنائیں گے۔ تو غایہ ایک یہ ہے کہ حَتَّى کا لفظ لائیں گے اس کے ساتھ: حَتَّى، اور ایک إِلَّا أَنْ کو لائیں گے اس کے ساتھ، إِلَّا أَنْ بھی مجازاً غایہ کے معنی میں ہی استعمال ہوتا ہے یعنی کسی چیز کی انتہا بیان کرتا ہے اور حَتَّى بھی غایہ کے لیے استعمال ہوتا ہے کسی چیز کی انتہا بیان کرتا ہے۔ تو لہذا قدوم کے ساتھ چاہے وہ إِلَّا أَنْ ذکر کرے چاہے حَتَّى ذکر کرے، ایک ہی بات ہے غایہ بیان ہو رہا ہے۔ اسی طرح اجازت کے ساتھ بھی وہ حَتَّى ذکر کرے یا إِلَّا أَنْ ذکر کرے دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی ہے کیونکہ یہ دونوں غایہ کے لیے آتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ اور اگر کسی شخص نے کہا: إِنْ كَلَّمْتُ فُلَانًا إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ فُلَانٌ کہ اگر میں نے فلاں سے بات کی مگر یہ کہ فلاں آ جائے، أَوْ قَالَ یا وہ شخص کہتا ہے: حَتَّى يَقْدَمَ فُلَانٌ، دیکھو إِلَّا أَنْ کی جگہ حَتَّى لایا، أَوْ قَالَ یا وہ کہتا ہے حَتَّى يَقْدَمَ فُلَانٌ یہاں تک کہ فلاں آ جائے، تو دیکھو قدوم کے اندر دو صورتیں ذکر کر دیں: ایک میں إِلَّا أَنْ استعمال کیا اور ایک میں حَتَّى۔ اب یہی صورتیں اذن میں بھی ہوں گی: أَوْ قَالَ: إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ فُلَانٌ یا وہ شخص کہتا ہے مگر یہ کہ فلاں شخص اجازت دے دے، أَوْ حَتَّى يَأْذَنَ فُلَانٌ یا حَتَّى کا لفظ لے کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہاں تک کہ فلاں اجازت دے دے، فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، یہ اس کے کلام کا جز ہے بھئی، کہ وہ اگر فلاں سے کلام کرے مگر یہ کہ فلاں آ جائے یا وہ اجازت دے دے تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، یہ اس نے قسم کھائی ہے، تو فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ یہ اسی کے قسم کا جز ہے بھئی، جزا ہے بھئی۔ فَكَلَّمَهُ قَبْلَ الْقُدُومِ وَالْإِذْنِ تو اس نے اس کے آنے سے پہلے اور اجازت سے پہلے اس شخص سے کلام کر لیا، حَنِثَ تو حانث ہو جائے گا، وَلَوْ كَلَّمَهُ بَعْدَ الْقُدُومِ وَالْإِذْنِ لَمْ يَحْنَثْ اور اگر اس نے اس کے ساتھ کلام کیا اس کے آنے کے بعد اور اجازت کے بعد تو حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ غَايَةٌ اس لیے کیونکہ یہ جو آنا اور اجازت یہ دونوں غایہ ہیں۔ یہ قسم کی غایہ ہیں کہ اگر میں نے فلاں سے کلام کیا یہاں تک کہ وہ فلاں آ جائے، تو یہ غایہ بیان کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ غَايَةٌ اس لیے کیونکہ یہ قدوم اور اجازت دونوں میں سے ہر ایک غایہ ہے یعنی اس پر قسم کی انتہا ہو رہی ہے، وَالْيَمِينُ بَاقِيَةٌ قَبْلَ الْغَايَةِ اور یمین جو ہے غایہ سے پہلے باقی ہوتی ہے، وَمُنْتَهِيَةٌ بَعْدَهَا اور غایہ کے بعد یمین ختم ہو جاتی ہے، فَلَا يَحْنَثُ بِالْكَلَامِ بَعْدَ انْتِهَاءِ الْيَمِينِ لہذا یہ شخص بات کرنے سے حانث نہیں ہو گا قسم کے ختم ہو جانے کے بعد۔ وَإِنْ مَاتَ فُلَانٌ سَقَطَتِ الْيَمِينُ، اب صورت یہ: اس شخص نے کیا کہا کہ زید کے آنے سے پہلے یا زید کی اجازت سے پہلے اگر میں عمر سے کلام کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے، لیکن وہ زید جو ہے اس کا انتقال ہو گیا، اس کا آنا بھی نہیں پایا گیا اور اس کی اجازت بھی نہیں پائی گئی اس سے پہلے ہی زید کا انتقال ہو گیا، تو یاد رکھو اس صورت میں طرفین فرماتے ہیں کہ قسم ساقط ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ مَاتَ فُلَانٌ سَقَطَتِ الْيَمِينُ اور اگر وہ فلاں مر گیا جس نے آنا تھا یا اجازت دینی تھی، سَقَطَتِ الْيَمِينُ تو یہ قسم ساقط ہو جائے گی، خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک یہ قسم اب مؤبد ہو گئی، اب زندگی بھر یہ اس عمر سے کلام کرے گا تو حانث ہو جائے گا بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ تو طرفین کے نزدیک وہ آنے والا یا اجازت دینے والا مر جائے تو قسم ہی ساقط، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ قسم مؤبد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، لِأَنَّ الْمَمْنُوعَ عَنْهُ كَلَامٌ يَنْتَهِي بِالْإِذْنِ وَالْقُدُومِ، بھئی یہ طرفین کی دلیل چل رہی ہے، درمیان میں صرف اتنا بتایا کہ بخلاف امام ابو یوسف کے، ان کی دلیل پھر آگے ذکر کریں گے۔ تو طرفین کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ الْمَمْنُوعَ عَنْهُ كَلَامٌ يَنْتَهِي بِالْإِذْنِ وَالْقُدُومِ، لِأَنَّ الْمَمْنُوعَ عَنْهُ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس سے روکا گیا ہے كَلَامٌ وہ ایسا کلام ہے يَنْتَهِي بِالْإِذْنِ وَالْقُدُومِ جس کی انتہا ہو جائے گی اجازت اور قدوم کے ساتھ۔ ممنوع عنہ وہ چیز جس سے روکا گیا ہے وہ ایسا کلام ہے جس کی انتہا ہو جائے گی آنے سے اور اجازت سے، آیا نہیں اور اجازت نہیں دی تو یہ کلام ممنوع عنہ ہے اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن وہ شخص آ جائے گا یا اجازت دے دے گا تو ممنوع عنہ کلام کی انتہا ہو جائے گی اس کے بعد کلام کرے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَمْنُوعَ عَنْهُ كَلَامٌ يَنْتَهِي بِالْإِذْنِ وَالْقُدُومِ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس سے منع کیا گیا ہے وہ ایسا کلام ہے جس کی انتہا ہو جائے گی اجازت پر اور آنے پر، وَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ الْمَوْتِ مُتَصَوَّرَ الْوُجُودِ اور اس قسم کا کلام جو ہے وہ اس کی موت کے بعد متصور الوجود ہی نہ رہا، اب یعنی ممکن ہی نہ رہا اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ کس سے اجازت لینی تھی؟ زید سے، یا کس نے آنا تھا؟ زید نے، تو زید کا انتقال ہو گیا، زید کا انتقال ہو گیا لہذا اب ایسے کلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا جو ممنوع عنہ ہو اور اس کی انتہا زید کے آنے یا زید کی اجازت پر ہو رہی ہو، ایسے کلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ آدمی تو مر چکا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: وَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ الْمَوْتِ مُتَصَوَّرَ الْوُجُودِ اور اس قسم کا کلام یعنی اس صفت والا کلام کہ جس کی انتہا آنے پر یا اجازت پر ہو رہی ہو، وَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ الْمَوْتِ مُتَصَوَّرَ الْوُجُودِ وہ زید کی موت کے بعد اس قسم کا کلام اس کے وجود کا تصور ہی باقی نہ رہا، فَسَقَطَتِ الْيَمِينُ تو یمین ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی پھر سنو بھئی، پھر سنو: بھئی اس شخص نے قسم کھائی تھی کہ واللہ میں عمر سے کلام نہیں کروں گا جب تک زید نہ آ جائے یا جب تک زید اجازت نہ دے دے، تو معلوم ہوا عمر سے یہ جو بھی کلام کرے گا وہ ممنوع عنہ ہے، اس سے اس کو منع کیا گیا ہے وہ اس روکا گیا ہے اس یمین کی وجہ سے جو اس نے خود کھائی تھی، تو یہ جو کلام عمر سے کرے گا یہ ممنوع عنہ ہے لیکن یہ ایسا ممنوع عنہ ہے کہ اس کی انتہا ہو رہی ہے زید کے آنے پر یا زید کی اجازت پر۔ عمر سے یہ جب بھی کلام کرے گا یہ کلام کس قسم کا ہے؟ ممنوع عنہ ہے، لیکن ایسا ممنوع عنہ کلام ہے جس کی انتہا زید کی اجازت یا زید کے آنے پر ہو رہی ہے، لیکن جب زید کا انتقال ہو گیا تو اس طرح کے ممنوع عنہ کلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ جب زید کا انتقال ہو گیا ہے تو اس طرح کے ممنوع عنہ کلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، مثلاً زید کا انتقال ہو گیا اب یہ عمر سے کلام کرتا ہے تو اس کلام کو ممنوع عنہ تو مثلاً قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ایسا ممنوع عنہ کلام کہ جس کی انتہا زید کے آنے یا زید کی اجازت پر ہو رہی ہو یہ ایسا ممنوع عنہ نہیں ہو سکتا کیونکہ زید کا تو انتقال ہو چکا ہے، تو زید کے آنے کا یا زید کی اجازت کا تو احتمال ہی باقی نہ رہا، تو یہ کلام اس کو ممنوع عنہ تو آپ کہہ سکتے ہیں لیکن ایسا ممنوع عنہ کہ جس کی انتہا زید کے آنے پر یا اس کی اجازت پر ہو رہی ہو یہ ایسا کلام نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا زید کے مرنے کے بعد ایسے ممنوع عنہ کلام کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ جس کی انتہا زید کے آنے پر یا زید کی اجازت پر ہو رہی ہو، جب اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تو یمین ساقط ہو جائے گی۔ یہ یمین اس نے کھائی تھی کس لیے؟ کہ عمر سے بات نہیں کرے گا، عمر سے کلام ممنوع عنہ ہو گا، لیکن ایسا ممنوع عنہ ہو گا جس کی انتہا زید کے آنے پر یا زید کے اجازت دینے پر ہو جائے گی، لیکن اب تو ایسا ممنوع عنہ کلام جس کی انتہا زید کے آنے پر یا اس کی اجازت پر ہو رہی ہو اس کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا لہذا یہ یمین ساقط ہو گئی۔ پھر سنو: یہ یمین کس لیے تھی؟ اس کو روکنے کے لیے۔ کس چیز سے روکنے کے لیے؟ کہ عمر سے کلام کرے، تو عمر سے کلام کرنا ممنوع عنہ ہوا لیکن یہ ایسا ممنوع عنہ کلام ہے جس کی انتہا ہو رہی ہے زید کے آنے پر یا زید کی اجازت پر، یہ ایسا ممنوع عنہ ہے یہ اس قسم کی وجہ سے۔ لیکن جب زید کا انتقال ہو گیا تو اب ایسے ممنوع عنہ کلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ جس کی انتہا زید کے آنے یا اجازت پر ہو رہی ہو بھئی کیونکہ زید تو مر چکا ہے بھئی، تو جب ایسے کلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تو یمین تو ساقط ہو گئی، یمین تو منع کے لیے آئی تھی اور اس طرح کے منع کے لیے اور وہ منع اب ممکن ہی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْمَمْنُوعَ عَنْهُ كَلَامٌ يَنْتَهِي بِالْإِذْنِ وَالْقُدُومِ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس سے منع کیا گیا ہے یعنی قسم کے ذریعے وہ چیز جس سے منع کیا گیا ہے كَلَامٌ وہ ایسا کلام ہے يَنْتَهِي بِالْإِذْنِ وَالْقُدُومِ جس کی انتہا ہو رہی ہے اجازت اور آنے پر، وَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ الْمَوْتِ مُتَصَوَّرَ الْوُجُودِ اور اس فلاں کے مرنے کے بعد تو اس طرح کا کلام متصور الوجود ہی نہ رہا اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، فَسَقَطَتِ الْيَمِينُ تو یمین بھی ساقط ہو گئی، یمین کس لیے آئی تھی؟ منع کے لیے، لیکن ممنوع عنہ اس طرح کا ہونا چاہیے کہ جس کی انتہا کس پر ہو؟ زید کی اجازت یا زید کے آنے پر ہو، اور ایسا ممنوع عنہ تو اب ہو ہی نہیں سکتا لہذا یمین ہی ساقط ہو گئی بھئی۔ وَعِنْدَهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک: التَّصَوُّرُ لَيْسَ بِشَرْطٍ کہ تصور شرط نہیں ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یمین کے منعقد ہونے کے لیے اس کا ممکن ہونا، اس کا متصور الوجود ہونا یہ شرط نہیں ہے لہذا ان کے نزدیک یمین ساقط نہیں ہو گی، اگرچہ اب اس طرح کے کلام کا تصور نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کے نزدیک یہ تصور شرط ہی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَهُ التَّصَوُّرُ لَيْسَ بِشَرْطٍ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس طرح کا تصور وہ شرط ہی نہیں ہے، فَعِنْدَ سُقُوطِ الْغَايَةِ يَتَأَبَّدُ الْيَمِينُ تو جب غایہ ساقط ہو گئی تو یمین مؤبد ہو جائے گی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب زید کا انتقال ہو گیا بھئی دیکھو اس یمین کی وجہ سے عمر سے کلام ممنوع عنہ ہو گیا تھا لیکن اس کی غایہ کیا ذکر کی تھی؟ زید کی اجازت یا زید کا آنا، زید اجازت دے دے گا یا زید آ جائے گا تو پھر اب وہ کلام ممنوع نہ رہے گا، تو اس کلام کے ممنوع ہونے کی غایہ کیا تھی؟ زید کا آنا یا زید کی اجازت دینا، اور جب زید کا انتقال ہو گیا تو اب غایہ ممکن ہی نہیں ہے، جب غایہ ممکن ہی نہیں ہے تو اب یہ قسم مؤبد ہو گئی، اب ہمیشہ کے لیے معاملہ اسی طرح ہے کہ یہ عمر سے کلام کرے گا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ یہ زید کی اجازت یا زید کے آنے کے بغیر اس سے کلام کر رہا ہے بھئی، غایہ تو ساقط ہو چکی ہے وہ تو ممکن ہی نہیں ہے، تو لہذا ہر حال میں پھر حانث ہو گا تو یہ قسم مؤبد ہو جائے گی یعنی تمام عمر کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: وَعِنْدَهُ التَّصَوُّرُ لَيْسَ بِشَرْطٍ فَعِنْدَ سُقُوطِ الْغَايَةِ يَتَأَبَّدُ الْيَمِينُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تصور جو ہے یہ شرط نہیں ہے تو غایہ ساقط ہونے کے وقت جو ہے یمین جو ہے وہ مؤبد ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ عَبْدَ فُلَانٍ وَلَمْ يَنْوِ عَبْدًا بِعَيْنِهِ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کے غلام سے کلام نہیں کروں گا۔ کسی معین غلام کی بات نہیں کی، مثلاً زید کے دو تین یا چار غلام ہیں، اس نے صرف اتنا کہا کہ واللہ میں زید کے غلام سے بات نہیں کروں گا، یا ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کی بیوی سے بات نہیں کروں گا، یا ایک شخص نے قسم اٹھائی واللہ میں زید کے دوست سے بات نہیں کروں گا، اور پھر بعد میں زید نے اپنے ایک غلام کو آزاد کر دیا یا بیچ دیا اب یہ زید کا غلام نہیں، اس نے اب اس کے ساتھ بات چیت کر لی تو کہتے ہیں حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہ غلام اب زید کی ملکیت میں نہیں ہے اب اس کی نسبت زید کی طرف نہیں ہے۔ اور اسی طرح زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ زید سے جدا ہو گئی، عدت گزار لی اور پھر اس نے اس عورت سے بات کر لی تو کہتے ہیں حانث نہیں ہو گا کیونکہ اب اس بیوی کی نسبت زید کی طرف نہیں ہے یہ اس سے جدا ہو چکی ہے، یا اسی طرح اس نے زید کے دوست کی قسم کھائی تھی کہ اس سے کلام نہیں کروں گا اور پھر زید کی ایک دوست سے مخالفت آ گئی اور اس کے ساتھ دشمنی شروع ہو گئی تو اب زید کے ساتھ اس کی دوستی نہیں ختم ہو چکی ہے، اب اس نے اس دوست کے ساتھ بات کر لی تو کہتے ہیں حانث نہیں ہو گا، کیونکہ ان تمام صورتوں میں وہ اضافت ختم ہو چکی ہے، وہ جو اس زید کی طرف ان کی نسبت کی جا رہی تھی وہ ختم ہو چکی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ عَبْدَ فُلَانٍ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں کے غلام سے کلام نہیں کرے گا، وَلَمْ يَنْوِ عَبْدًا بِعَيْنِهِ اور اس نے نیت نہیں کی کسی معین غلام کی، زید کے تین چار غلام ہیں لیکن کسی معین غلام کی نیت نہیں کی بس مطلقاً کہا کہ میں زید کے غلام سے بات نہیں کروں گا، أَوْ امْرَأَةَ فُلَانٍ یا اس نے قسم کھائی کہ میں فلاں کی بیوی سے بات نہیں کروں گا، أَوْ صَدِيقَ فُلَانٍ یا فلاں کے دوست سے بات نہیں کروں گا، اور کسی میں بھی تعین نہیں کی، فَبَاعَ فُلَانٌ عَبْدَهُ تو پھر اس فلاں نے اپنے غلام کو بیچ دیا، أَوْ بَانَتْ مِنْهُ امْرَأَتُهُ یا اس کی بیوی اس سے جدا ہو گئی، أَوْ عَادَى صَدِيقَهُ یا اس نے دشمنی کر لی اپنے اس دوست سے، فَبَاعَ فُلَانٌ عَبْدَهُ أَوْ بَانَتْ مِنْهُ امْرَأَتُهُ أَوْ عَادَى صَدِيقَهُ، فَكَلَّمَهُمْ پھر یہ قسم کھانے والے نے ان سے بات کی، لَمْ يَحْنَثْ تو حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ عَلَى فِعْلٍ وَاقِعٍ فِي مَحَلٍّ مُضَافٍ إِلَى فُلَانٍ، یہ ترجمہ سمجھ لیجیے: لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ اس لیے کیونکہ اس شخص نے اپنی قسم باندھی ہے عَلَى فِعْلٍ ایسے فعل پر وَاقِعٍ فِي مَحَلٍّ کہ یہ فعل واقع ہو ایسے محل میں مُضَافٍ إِلَى فُلَانٍ کہ اس محل کی نسبت ہو رہی ہو فلاں کی طرف۔ بھئی دیکھیے، ادھر دیکھیے، اس نے کیا کہا تھا؟ واللہ میں زید کے غلام سے بات نہیں کروں گا، تو اس نے اپنی قسم کو باندھا ہے ایک فعل پر اور وہ فعل کیا ہے؟ بات کرنا، کہ میں بات نہیں کروں گا، اور یہ فعل کس پر واقع ہو رہا ہے؟ ایک ایسے محل پر، ایک ایسے غلام پر جس کی نسبت زید کی طرف ہو رہی ہے۔ تو جب ایسی قسم کھائی جو فعل پر ہے اور وہ فعل ایسے محل سے متعلق ہے کہ جس محل کی نسبت اس فلاں کی طرف ہو رہی ہے، تو لہذا جب تک یہ نسبت ہے تو یہ بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا، اور جب تعلق ٹوٹ گیا، نسبت ختم ہو گئی اب بات کرے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ عَلَى فِعْلٍ اس لیے کیونکہ اس نے اپنی قسم باندھی ہے ایسے فعل پر وَاقِعٍ فِي مَحَلٍّ کہ وہ فعل واقع ہے ایسے محل میں یعنی ایسے غلام یا دوست یا بیوی میں مُضَافٍ إِلَى فُلَانٍ جس کی نسبت ہو رہی ہے فلاں کی طرف، تو فعل سے کیا مراد ہے یہاں؟ یہ جو کلام کرنا اس نے ذکر کیا یہ فعل ہے، اور محل سے کیا مراد ہے؟ وہ ذات جس کے بارے میں بات کی یعنی وہ زید کا غلام یا زید کی بیوی یا زید کا دوست، یہ محل ہے بھئی، تو یہ فعل ایسے محل پر واقع ہو رہا ہے جس کی نسبت ہو رہی ہے فلاں یعنی زید کی طرف۔ إِمَّا إِضَافَةُ مِلْكٍ أَوْ إِضَافَةُ نِسْبَةٍ، پھر یاد رکھو یہ جو نسبت ہو رہی ہے ایک نسبت ہے غلام کی زید کی طرف، ایک نسبت ہے بیوی کی زید کی طرف، اور ایک نسبت ہے دوست کی زید کی طرف، تو یاد رکھو یہ جو غلام کی نسبت ہے یہ اضافتِ ملک ہے کہ غلام زید کی ملکیت ہے۔ کہ یہ غلام زید کی ملکیت ہے بھئی۔ جبکہ بیوی اور دوست کی جو نسبت ہے اس کو اضافتِ نسبت کہیں گے، وہ زید نہ اپنی بیوی کی ذات کا مالک ہے نہ اپنے دوست کی ذات کا مالک ہے۔ تو کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی نسبت ہو چاہے ملکیت والی نسبت ہو یا اس کے علاوہ نسبت ہو، تو پھر اس صورت میں جب تک وہ نسبت ہے اور پھر یہ کلام کرے تو حانث ہو گا، اور جب نسبت ختم ہو جائے تو پھر کلام کرنے سے وہ حانث بھی نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: إِمَّا إِضَافَةُ مِلْكٍ أَوْ إِضَافَةُ نِسْبَةٍ، یا تو وہ اضافت ملکیت والی اضافت ہے أَوْ إِضَافَةُ نِسْبَةٍ یا نسبت والی اضافت ہے، وَلَمْ يُوجَدْ اور یہ نسبت تو نہیں پائی گئی یعنی جب اس نے کلام کیا اس وقت تو یہ نسبت موجود نہیں تھی، فَلَا يَحْنَثُ تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، اس قَالَ سے مراد خود صاحبِ ہدایہ ہیں۔ قَالَ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: هَذَا فِي إِضَافَةِ الْمِلْكِ بِالِاتِّفَاقِ، کہ یہ حانث نہ ہونا یہ اضافتِ ملک میں تو بالاتفاق ہے یعنی ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ جب زید کی اس غلام کے اندر ملکیت باقی نہ رہی تو اب اس سے یہ آدمی کلام کرے گا تو حانث نہیں ہو گا، اس میں ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے۔ لیکن بیوی اور دوست کے مسئلے میں ہمارے ائمہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ متن میں تو آیا کہ بیوی اور دوست سے بھی نسبت کے ختم ہونے کے بعد بات کرے گا تو حانث نہیں ہو گا، لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں نسبت ختم ہونے کے بعد بھی ان سے بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: هَذَا فِي إِضَافَةِ الْمِلْكِ بِالِاتِّفَاقِ کہ یہ حانث نہ ہونا یہ اضافتِ ملک کے اندر تو بالاتفاق ہے ہمارے تینوں ائمہ میں، وَفِي إِضَافَةِ النِّسْبَةِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَحْنَثُ اور نسبت کی اضافت کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ شخص حانث ہو جائے گا، نسبت ختم ہونے کے بعد بھی بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا، كَالْمَرْأَةِ وَالصَّدِيقِ جیسے کہ بیوی ہے اور دوست ہے۔ وَقَالَ فِي الزِّيَادَاتِ امام محمد رحمہ اللہ الزیادات میں فرماتے ہیں: لِأَنَّ هَذِهِ الْإِضَافَةَ لِلتَّعْرِيفِ کہ اس لیے کیونکہ یہ والی جو اضافت ہے یہ پہچان کے لیے ہے۔ یہ اضافتِ نسبت کس لیے ہے؟ پہچان کے لیے ہے، جب اس نے کہا زید کی بیوی تو صرف اس عورت کی پہچان کروانا چاہتا ہے، صرف عورت کی پہچان کروانا چاہتا ہے کہ یہ جو عورت ہے اس کے ساتھ میں بات نہیں کروں گا۔ اور اسی طرح جب کہا زید کے دوست کے ساتھ میں بات نہیں کروں گا تو یہ صرف اس دوست کی پہچان کروانا چاہتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ هَذِهِ الْإِضَافَةَ لِلتَّعْرِيفِ اس لیے کیونکہ یہ جو اضافتِ نسبت ہوتی ہے یہ پہچان کے لیے ہوتی ہے، لِأَنَّ الْمَرْأَةَ وَالصَّدِيقَ مَقْصُودَانِ بِالْهِجْرَانِ اس لیے کیونکہ وہ عورت اور وہ دوست جو ہیں وہ دونوں مقصود ہیں ہجران جدائی کے ذریعے، یعنی ان دونوں کو چھوڑنا مقصود ہوتا ہے خود ان کی ذات کی وجہ سے، مضاف الیہ کی وجہ سے نہیں۔ بھئی دیکھو بھئی دیکھو، یہ جو غلام ہے نا غلام، غلام تو معمولی ادمی ہے اس کو تو کوئی اہمیت دیتا ہی نہیں ہے، تو غلام سے کبھی بھی ویسے بات ترک نہیں کی جاتی کہ میں اس غلام سے بات نہیں کروں گا، یہ تو اس کا مطلب ہے آپ نے اس غلام کو بڑی اہمیت دے دی حالانکہ یہ تو غلام ہے بیچارہ بھئی۔ تو غلام کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی کہ اس کے بارے میں یوں کہا جائے کہ میں غلام سے بات نہیں کروں گا بھئی، لیکن جب غلام کی نسبت آقا کی طرف کر کے کہہ رہا ہے کہ میں اس آقا کے غلام سے بات نہیں کروں گا، معلوم ہوا یہاں قسم کا سبب وہ آقا ہے، اس آقا کی وجہ سے اب وہ اس کے غلام سے بھی بات نہیں کرنا چاہتا ورنہ خود غلام تو اتنا اہم نہیں ہے کہ کوئی ادمی کہے میں اس غلام سے بات نہیں کروں گا بھئی۔ جبکہ اس کی بیوی اور دوست جو ہیں وہ تو آزاد ہیں بھئی، آزاد لوگ ہیں اور لہذا وہ خود بھی اس قسم کے ذریعے مقصود ہو سکتے ہیں۔ تو یہاں پر جو بیوی کی نسبت کی زید کی طرف یا دوست کی نسبت کی زید کی طرف یہ صرف پہچان کروانے کے لیے کی ہے ورنہ خود ان کی ذات سے کلام نہ کرنا مقصود ہے، اس مضاف الیہ یعنی زید کی وجہ سے ان سے ترکِ کلام کیا جائے یہ مقصود نہیں ہے۔ غلام سے تو جب بھی بات ترک کی جائے گی اس کے مالک کی وجہ سے بات ترک کی جائے گی، خود غلام کی ذات اتنی اہم نہیں کہ کوئی آزاد ادمی کہے کہ میں اس سے بات نہیں کروں گا، بھئی آپ تو آزاد ادمی ہیں یہ بیچارہ تو غلام ہے، یہ تو اتنا اہم ہے ہی نہیں کہ آپ اس سے بات کو چھوڑ دیں، لیکن بیوی اور دوست وہ خود بھی ترکِ کلام کے ذریعے مقصود ہو سکتے ہیں بغیر اس مضاف الیہ کے یعنی جس کی طرف ان کی نسبت کی گئی تھی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَرْأَةَ وَالصَّدِيقَ مَقْصُودَانِ بِالْهِجْرَانِ اس لیے کیونکہ وہ بیوی اور دوست جو ہیں وہ جدائی کے ذریعے مقصود ہوتے ہیں یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے نہ کہ مضاف الیہ کے اعتبار سے، فَلَا يُشْتَرَطُ دَوَامُهَا لہذا اس نسبت کا دوام شرط نہیں ہو گا۔ وہ نسبت رہے یا نہ رہے، ان کی ذات ہی ایسی ہے کہ وہ چھوڑنے کے لیے مقصود ہو سکتی ہے لہذا وہ نسبت نہ بھی رہے پھر بھی کلام کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: فَلَا يُشْتَرَطُ دَوَامُهَا تو لہذا اس اضافت کے دوام کی شرط نہیں ہو گی، فَيَتَعَلَّقُ الْحُكْمُ بِعَيْنِهِ لہذا اس حکم کا تعلق ان کی ذات سے ہو جائے گا، یہ جو ترکِ کلام کا حکم لگایا اس نے اس کا تعلق ان کی ذات سے ہی ہو جائے گا، كَمَا فِي الْإِشَارَةِ جیسے کہ اشارے میں ہوتا ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے اگر کسی معین بیوی کی طرف اشارہ کیا کہ میں زید کی اس بیوی سے بات نہیں کروں گا، یا میں زید کے اس دوست کے ساتھ بات نہیں کروں گا، تو پھر وہاں بالاتفاق وہی بیوی اور وہی دوست مراد ہوتا ہے۔ وہی بیوی یا وہی دوست مراد ہوتا ہے کہ وہاں جو اضافت کی جا رہی ہے میں زید کے اس دوست کے ساتھ، تو یہاں اشارے کا اعتبار ہے اور جو زید کی طرف دوست کی نسبت کی وہ صرف پہچان کروانے کے لیے کی ہے، تو اصل اعتبار یہاں اشارے کا ہے معلوم ہوا یہی ذات مراد ہے۔ اس ذات سے وہ بات نہیں کرے گا تو اب چاہے وہ زید کا دوست رہے یا نہ رہے ہر حال میں بات کرنے سے حانث ہو جائے گا۔ اسی طرح جب بیوی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں زید کی اس بیوی سے بات نہیں کروں گا، تو یہ جو زید کی طرف نسبت کی یہ صرف پہچان کے لیے ہے اصل میں تو اشارے کے ذریعے اس ذات کو متعین کر رہا ہے کہ میں اس ذات سے بات نہیں کروں گا، تو چاہے وہ زید کی بیوی رہے یا نہ رہے ہر حال میں یہ اس کے ساتھ بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ بیوی اور دوست جو ہیں وہ بھی ترک کے ذریعے مقصود ہو سکتے ہیں لہذا ان کے اندر جو نسبت ہے وہ صرف پہچان کے لیے ہے لہذا اس نسبت کا باقی رہنا ضروری نہیں ہے، تو اس حکم کا تعلق ان کی ذات سے ہو گا اور یہ اسی طرح ہو جائے گا جیسے کہ اشارے کے اندر تھا، اشارے کے اندر حکم کا تعلق اسی ذات سے ہو جاتا تھا پھر وہ نسبت رہے یا نہ رہے جب بھی کلام کرے گا حانث ہو جائے گا، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: کہتے ہیں لِأَنَّ الْمَرْأَةَ وَالصَّدِيقَ مَقْصُودَانِ بِالْهِجْرَانِ اس لیے کیونکہ بیوی اور دوست جو ہیں وہ چھوڑنے کے لیے مقصود ہو سکتے ہیں، فَلَا يُشْتَرَطُ دَوَامُهَا لہذا ان کے اندر اس اضافت کا دوام شرط نہیں ہو گا، فَيَتَعَلَّقُ الْحُكْمُ بِعَيْنِهِ لہذا اس ترکِ کلام کا جو حکم تھا اس کا تعلق ان کی ذات سے ہو گا، كَمَا فِي الْإِشَارَةِ جیسے کہ اشارے کے اندر ہوتا ہے۔ وَوَجْهُ مَا ذَكَرَهَا هُنَا اور وجہ اس کی جس کو یہاں امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا یعنی متن میں، متن میں تو کیا کہا تھا؟ متن میں تو ذکر کیا تھا کہ جب یہ اضافت اور نسبت ختم ہو جائے گی چاہے غلام ہے چاہے بیوی ہے چاہے دوست ہے، جب اس کی زید کی طرف اضافت ختم ہو گئی تو اب بات کرے گا تو حانث نہیں ہو گا، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَوَجْهُ مَا ذَكَرَهَا هُنَا اور وجہ اس قول کی جس کو یہاں امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا، وَهُوَ رِوَايَةُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور وہ جامع صغیر کی روایت ہے، یہ جو متن میں آیا یہ جامع صغیر کی روایت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے: أَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ غَرَضُهُ هِجْرَانَهُ، کہتے ہیں وجہ یہ کہ یہاں پر دوست اور بیوی جو ہیں ہو سکتا ہے ان کو چھوڑنا مقصود ہو خود انہی کی ذات کی وجہ سے، اور ہو سکتا ہے ان کو چھوڑنا مقصود ہو مضاف الیہ کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ مضاف الیہ کی وجہ سے۔ تو لہذا جب اضافت ختم ہو گئی تو اب ان کے ساتھ بات کرے گا تو اس کے حانث ہونے میں شک آ گیا، اس کے حانث ہونے میں شک آ گیا کیونکہ معلوم نہیں اس نے ان کو ان کی ذات کی وجہ سے چھوڑا تھا یا اس اضافت کی وجہ سے چھوڑا تھا، تو جب شک آ گیا تو شک کی وجہ سے اس کو حانث قرار نہیں دیا جا سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں جامع صغیر کی روایت میں ہے: أَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ غَرَضُهُ هِجْرَانَهُ اس لیے کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کی غرض جو ہے اس کا مقصد جو ہے ہجرانہ اس دوست یا بیوی کو چھوڑنا ہے لِأَجْلِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ مضاف الیہ کی وجہ سے، وَلِهَذَا لَمْ يُعَيِّنْهُ اور اسی لیے اس نے اس کی تعیین نہیں کی، اشارہ وغیرہ نہیں کیا صرف کیا کہا زید کی بیوی یا زید کا دوست، اشارہ نہیں کیا متعین نہیں کیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: أَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ غَرَضُهُ هِجْرَانَهُ لِأَجْلِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ اس لیے کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کی غرض جو ہے اس بیوی یا دوست کو چھوڑنا ہے مضاف الیہ کی وجہ سے، وَلِهَذَا لَمْ يُعَيِّنْهُ اور اسی لیے اس نے ان کو متعین نہیں کیا اشارہ وغیرہ نہیں کیا، فَلَا يَحْنَثُ بَعْدَ زَوَالِ الْإِضَافَةِ بِالشَّكِّ تو لہذا اضافت کے ختم ہونے کے بعد یہ حانث نہیں ہو گا شک کی وجہ سے کیونکہ اس کے حانث ہونے میں شک آ گیا۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ كَانَتْ يَمِينُهُ عَلَى عَبْدٍ بِعَيْنِهِ، اب دوسری صورت آ گئی، اب معین غلام یا معین بیوی یا معین دوست کے بارے میں کہتا ہے کہ میں زید کے اس غلام کے ساتھ کلام نہیں کروں گا یا میں زید کی اس بیوی کے ساتھ کلام نہیں کروں گا یا میں زید کے اس دوست کے ساتھ کلام نہیں کروں گا، اب دیکھو باقاعدہ ساتھ اشارہ بھی ذکر کر رہا ہے ان کو متعین کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَتِ الْيَمِينُ عَلَى عَبْدٍ بِعَيْنِهِ اور اگر اس کی قسم کسی معین غلام پر تھی بِأَنْ قَالَ بایں صورت کہ اس نے کہا عَبْدَ فُلَانٍ هَذَا کہ فلاں کا یہ والا غلام، أَوْ امْرَأَةَ فُلَانٍ بِعَيْنِهَا یا فلاں کی یہ معین بیوی، أَوْ صَدِيقَ فُلَانٍ بِعَيْنِهِ یا فلاں کا یہ معین دوست، لَمْ يَحْنَثْ فِي الْعَبْدِ تو یہ شخص غلام میں تو حانث نہیں ہو گا۔ یعنی معین غلام کے بارے میں کہا تھا میں زید کے اس غلام سے بات نہیں کروں گا، اور پھر زید نے اس غلام کو بیچ دیا اس نے بعد میں اس سے بات کی تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ وجہ وہی ہے کہ غلام جو ہے اس بیچارے کا وہ تو بیچارہ معمولی سا انسان ہے اس کو تو کوئی اتنی اہمیت نہیں دیتا کہ اس سے بات چھوڑنے کو وہ ذکر کرے بلکہ غلام سے جو بات چھوڑی جاتی ہے تو وہ آقا کی وجہ سے چھوڑی جاتی ہے اور اب زید اس کا آقا نہیں رہا لہذا اب اس سے بات کرے گا تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لَمْ يَحْنَثْ فِي الْعَبْدِ تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا غلام میں یعنی اضافت کے ختم ہونے کے بعد اس نے جب اس سے بات کر لی، وَحَنِثَ فِي الْمَرْأَةِ وَالصَّدِيقِ اور بیوی اور دوست میں حانث ہو جائے گا یعنی نسبت ختم ہونے کے بعد اس نے اس عورت سے یا دوست سے بات کر لی تو حانث ہو جائے گا، وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کا قول ہے، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَحْنَثُ فِي الْعَبْدِ أَيْضًا اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کے اندر بھی یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ جب اس نے معین غلام کی طرف اشارہ کر دیا تو یہاں اب صفت کا اعتبار نہیں ہے، اضافت کا اعتبار نہیں ہے، اضافت تو صرف پہچان کے لیے تھی اصل اعتبار اشارے کا ہے اور اشارے کے ذریعے تو یہ ذات مراد ہے، تو یہ ذات چاہے زید کی مملوک ہو یا کسی اور کی مملوک ہو، نسبت چاہے رہے چاہے نسبت ختم ہو جائے ذات تو وہی ہے لہذا اس سے بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ یہ کس کی دلیل ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَحْنَثُ فِي الْعَبْدِ أَيْضًا کہ غلام کے اندر بھی یہ حانث ہو جائے گا، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہی قول ہے امام زفر کا بھی۔ وَإِنْ حَلَفَ، اب ایک اور صورت بھی ساتھ ملا رہے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ دَارَ فُلَانٍ هَذِهِ، صورت یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کے اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا، گھر کی نسبت زید کی طرف بھی کی اور اشارہ بھی کر دیا، تو پھر اس صورت میں بھی یہی اختلاف ہے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ گھر وغیرہ چیزوں کو ویسے نہیں چھوڑا جاتا بلکہ مالک کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے، لہذا زید نے اس گھر کو بیچ دیا اب اس گھر کے اندر یہ قسم کھانے والا گیا تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک حانث نہیں ہو گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب اشارہ کر دیا تو یہی گھر متعین ہے اب زید کے بیچنے کے بعد بھی جائے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ دَارَ فُلَانٍ هَذِهِ کہ اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں کے اس گھر میں داخل نہیں ہو گا فَبَاعَهَا ثُمَّ دَخَلَهَا پھر اس فلاں نے اس گھر کو بیچ دیا اور پھر یہ اس میں داخل ہوا، فَهُوَ عَلَى هَذَا الِاخْتِلَافِ تو یہ مسئلہ بھی اسی اختلاف پر ہے۔ وَجْهُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ وَزُفَرَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے: أَنَّ الْإِضَافَةَ لِلتَّعْرِيفِ کہ یہ جو اضافت ہے یہ پہچان کے لیے ہے، وَالْإِشَارَةُ أَبْلَغُ مِنْهَا اور اشارہ جو ہے وہ اعلیٰ ہے اس اضافت کے مقابلے میں، اشارہ جو ہے وہ اضافت کے مقابلے میں اعلیٰ ہے لِكَوْنِهَا قَاطِعَةً لِلشِّرْكَةِ اس وجہ سے کہ اشارہ جو ہے وہ شرکت کو ختم کر دیتا ہے، بِخِلَافِ الْإِضَافَةِ بخلاف اضافت کے کہ وہ شرکت ختم نہیں کرتی۔ بھئی دیکھیے مثلاً زید کے دو غلام ہیں: ایک کا نام عمر ہے ایک کا نام بکر ہے، زید آقا ہے اور عمر اور بکر اس کے غلام ہیں، میں نے کہا: غلام زید، زید کا غلام، تو دیکھو یہاں شرکت ختم نہیں ہوئی کیونکہ پتہ نہیں چل رہا کون سا غلام مراد ہے، ہو سکتا ہے عمر مراد ہو، ہو سکتا ہے بکر مراد ہو، تو معلوم ہوا اضافت شرکت کو ختم نہیں کرتی۔ لیکن اشارہ جو ہے وہ شرکت کو ختم کر دیتا ہے، جب میں نے اشارہ کر دیا کہ زید کا یہ غلام تو اب مثلاً عمر کی طرف اشارہ کیا تو یہاں اب عمر ہی مراد ہے، زید کا دوسرا غلام بکر مراد نہیں، تو معلوم ہوا اشارہ وہ شرکت کو ختم کر دیتا ہے اور جبکہ اضافت وہ شرکت کو ختم نہیں کرتی، لہذا جب اضافت کے ساتھ اشارہ آ گیا، اضافت کے ساتھ ساتھ اشارہ بھی آ گیا تو اشارے کا اعتبار ہو گا اضافت تو صرف پہچان کے لیے ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں: أَنَّ الْإِضَافَةَ لِلتَّعْرِيفِ کہ اضافت پہچان کے لیے ہوتی ہے، وَالْإِشَارَةُ أَبْلَغُ مِنْهَا اور اشارہ جو ہے وہ اعلیٰ ہے اس اضافت کے مقابلے میں لِكَوْنِهَا قَاطِعَةً لِلشِّرْكَةِ اس وجہ سے کہ اشارہ جو ہے وہ شرکت کو ختم کر دیتا ہے، بِخِلَافِ الْإِضَافَةِ بخلاف اضافت کے کہ وہ شرکت ختم نہیں کرتی، فَاعْتُبِرَتِ الْإِشَارَةُ تو اشارہ معتبر ہو گا، وَلَغَتِ الْإِضَافَةُ اور اضافت لغو ہو جائے گی اس کا اعتبار نہیں ہو گا، وَصَارَ كَالصَّدِيقِ وَالْمَرْأَةِ اور یہ غلام یا یہ جو گھر ہے یہ بھی دوست اور بیوی کی طرح ہو گیا، اور دوست اور بیوی کی طرف تو جب اشارہ کر دیتے ہیں تو پھر ان کی ذات ہی مراد ہوتی ہے، تو غلام اور گھر وغیرہ میں بھی ان کی ذات ہی مراد ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ دلیل چل رہی تھی امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کی۔ اب آگے شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آ گئی: وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الدَّاعِيَ إِلَى الْيَمِينِ مَعْنًى فِي الْمُضَافِ إِلَيْهِ کہ وہ چیز جو دعوت دینے والی ہے یمین کی طرف، وہ چیز جو قسم کھانے پر ابھار رہی ہے، مجبور کر رہی ہے مَعْنًى فِي الْمُضَافِ إِلَيْهِ وہ ایک سبب ہے مضاف الیہ میں، مضاف الیہ میں کوئی سبب ہے جس کی وجہ سے یہ قسم وہ کھا رہا ہے، لِأَنَّ هَذِهِ الْأَعْيَانَ لَا تُهْجَرُ وَلَا تُعَادَى لِذَوَاتِهَا اس لیے کیونکہ یہ والی چیزیں جو ہیں یعنی گھر ہے، غلام ہے، سواری ہے ان کو ان کی ذات کی وجہ سے نہیں چھوڑا جاتا، ان کی ذات کی وجہ سے ان سے دشمنی نہیں کی جاتی اور مخالفت نہیں کی جاتی بلکہ ان کے مالک کی وجہ سے ان سے مخالفت کی جاتی ہے اور ان کو چھوڑا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ هَذِهِ الْأَعْيَانَ لَا تُهْجَرُ وَلَا تُعَادَى لِذَوَاتِهَا اس لیے کیونکہ یہ والی جو ذاتیں ہیں یعنی گھر ہے یا غلام وغیرہ یعنی گھر ہے یا سواری اور کپڑے وغیرہ ہیں، توجہ ہے؟ مثلاً سواری کی طرف اشارہ کر دیا کہ میں زید کی اس سواری پر سوار نہیں ہوں گا یا میں زید کے اس کپڑے کو نہیں پہنوں گا تو ان سب کا یہی حکم ہے۔ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک جب تک نسبت ہے تو پھر استعمال کرے گا تو حانث ہو گا، نسبت ختم ہو جائے پھر استعمال کرے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ هَذِهِ الْأَعْيَانَ لَا تُهْجَرُ اس لیے کیونکہ یہ جو چیزیں ہیں لَا تُهْجَرُ ان کو چھوڑا نہیں جاتا وَلَا تُعَادَى اور ان سے مخالفت نہیں کی جاتی، دشمنی نہیں کی جاتی لِذَوَاتِهَا ان کی ذاتوں کی وجہ سے، وَكَذَا الْعَبْدُ لِسُقُوطِ مَنْزِلَتِهِ اور اسی طرح غلام بھی ہے لِسُقُوطِ مَنْزِلَتِهِ اس کے درجے کے کم ہونے کی وجہ سے۔ سقوط کا کیا معنی؟ گرنا یعنی نیچے ہونا، کہ غلام کا درجہ بڑا کم ہوتا ہے کوئی اسے اس قابل نہیں سمجھتا کہ یہ کہے میں اس غلام سے بات نہیں کروں گا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا الْعَبْدُ اور اسی طرح غلام بھی ہے یعنی اس کو بھی اس کی ذات کی وجہ سے نہیں چھوڑا جاتا لِسُقُوطِ مَنْزِلَتِهِ اس کے درجے کے کم ہونے کی وجہ سے، اس کے درجے کے ادنیٰ ہونے کی وجہ سے، بَلْ لِمَعْنًى فِي مُلَّاكِهَا، مُلَّاكٌ جمع ہے مالک کی، بلکہ ان چیزوں کو چھوڑا جاتا ہے لِمَعْنًى کسی سبب کی وجہ سے فِي مُلَّاكِهَا جو ان کے مالکوں میں پایا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: بَلْ لِمَعْنًى فِي مُلَّاكِهَا بلکہ ان کو مالکوں کے اندر کسی سبب کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے، فَتُقَيَّدُ الْيَمِينُ بِحَالِ قِيَامِ الْمِلْكِ تو یہ قسم مقید ہو گی ملکیت کے قائم ہونے کی حالت میں، جب تک ملکیت ہے ان چیزوں میں زید کی تو پھر حانث ہو گا، جب ملکیت نہیں تو حانث بھی نہیں۔ اور یہ جو لفظ آیا فَتُقَيَّدُ اس کو ماضی نہ پڑھیں بھئی یہ مضارع ہے، چنانچہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں ہے فَتَتَقَيَّدُ، دو تا ہیں شروع میں، آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ بابِ تفعل اور بابِ تفاعل اس کے شروع میں دو تا جمع ہو جائیں اور دونوں تا مفتوح ہوں دونوں پر زبر ہو تو پھر ایک کو حذف کرنا بھی جائز ہے، جیسے قرآن میں بھی آتا ہے: تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ اصل میں کیا ہے؟ تَتَنَزَّلُ، تو ایک تا کو تخفیفاً حذف کر لیا گیا۔ تو کہتے ہیں: فَتُقَيَّدُ الْيَمِينُ بِحَالِ قِيَامِ الْمِلْكِ تو یہ قسم مقید ہو جائے گی ملکیت کے قائم ہونے کی حالت کے ساتھ، بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتِ الْإِضَافَةُ إِضَافَةَ نِسْبَةٍ بخلاف اس کے کہ جب یہ اضافت جو ہے اضافتِ نسبت ہو كَالصَّدِيقِ وَالْمَرْأَةِ جیسے کہ دوست اور بیوی، ان میں کون سی اضافت ہے؟ اضافتِ نسبت ہے، اضافتِ ملکیت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتِ الْإِضَافَةُ إِضَافَةَ نِسْبَةٍ كَالصَّدِيقِ وَالْمَرْأَةِ اور بخلاف اس کے کہ جب یہ اضافت اضافتِ نسبت ہو جیسے کہ دوست ہے اور بیوی ہے، لِأَنَّهُ يُعَادَى لِذَاتِهِ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جو ہے اس کے ساتھ مخالفت کی جاتی ہے اس کی ذات کی وجہ سے، عادى يعادي کا معنی ہے دشمنی کرنا مخالفت کرنا، لِأَنَّهُ يُعَادَى لِذَاتِهِ اس لیے کیونکہ ان کی مخالفت کی جاتی ہے ان کی ذات کی وجہ سے، فَكَانَتِ الْإِضَافَةُ لِلتَّعْرِيفِ تو ان کے اندر جو اضافت ہے وہ تعریف اور پہچان کے لیے ہے، وَالدَّاعِي لِمَعْنًى فِي الْمُضَافِ إِلَيْهِ غَيْرُ ظَاهِرٍ اور وہ داعی لِمَعْنًى فِي الْمُضَافِ إِلَيْهِ جو مضاف الیہ میں کسی سبب سے ہو غَيْرُ ظَاهِرٍ وہ یہاں ظاہر نہیں ہے۔ بھئی جب کہا میں زید کی اس بیوی سے بات نہیں کروں گا یا میں زید کے اس دوست سے بات نہیں کروں گا، تو پھر اس صورت کے اندر وہ جو اس قسم کا داعی ہے مضاف الیہ کے اندر اس سبب کا ہونا ظاہر نہیں ہے بھئی، کیونکہ خود ان کی ذات سے بھی مخالفت کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالدَّاعِي لِمَعْنًى فِي الْمُضَافِ إِلَيْهِ غَيْرُ ظَاهِرٍ اور وہ داعی جو مضاف الیہ کے اندر کسی سبب سے ہو غَيْرُ ظَاهِرٍ وہ ظاہر نہیں ہے، لِعَدَمِ التَّعْيِينِ کیونکہ تعیین نہیں ہے، کیونکہ یہاں مضاف الیہ کی تعیین نہیں ہے، خود مضاف میں بھی یہ صلاحیت ہے کہ اس کی اپنی ذات کی وجہ سے اس کو چھوڑا جائے بھئی۔ یہ معنی ہے: لِعَدَمِ التَّعْيِينِ تعیین نہ ہونے کی وجہ سے، بِخِلَافِ مَا تَقَدَّمَ بخلاف اس کے جو ماقبل میں گزرا کہ وہاں مضاف الیہ کی تعیین ہے، گھر یا غلام وغیرہ کو ان کی ذات کی وجہ سے نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ان کے مالکوں کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَالدَّاعِي لِمَعْنًى فِي الْمُضَافِ إِلَيْهِ غَيْرُ ظَاهِرٍ لِعَدَمِ التَّعْيِينِ بِخِلَافِ مَا تَقَدَّمَ اور وہ جو داعی ہے اس یمین کی طرف مضاف الیہ کے اندر کسی سبب کی وجہ سے وہ یہاں ظاہر نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہاں پر مضاف الیہ کی تعیین نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے چھوڑا جا رہا ہے، مضاف الیہ کی تعیین نہیں ہے کیونکہ مضاف کے اندر بھی یہ صلاحیت ہے کہ اس کی ذات کی وجہ سے اس کو چھوڑا جائے، بخلاف اس صورت کے جو ماقبل میں گزری کہ وہاں مضاف الیہ متعین تھا لیکن یہاں مضاف الیہ متعین نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَإِنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ صَاحِبَ هَذَا الطَّيْلَسَانِ، طيلسان بھئی ط کے ساتھ ہے، طيلسان یہ کوئی خاص قسم کی سبز چادر ہوتی تھی جو عموماً بڑے علماء اور مشائخ استعمال کرتے تھے، کوئی سبز رنگ کی خاص چادر ہوتی تھی جو قدیم زمانے میں جو بڑے علماء، بڑے مشائخ ہوتے تھے وہ استعمال کرتے تھے۔ تو لہذا ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس طيلسان والے سے بات نہیں کروں گا، اس چادر والے سے بات نہیں کروں گا، اور پھر اس شخص نے چادر بیچ دی اور پھر اس کے بعد اس نے اس چادر والے سے بات کی تو کہتے ہیں پھر بھی حانث ہو جائے گا۔ بھئی کیوں حانث ہو گا؟ اب تو یہ چادر والا نہیں ہے اس نے تو چادر بیچ دی ہے؟ کہتے ہیں بھئی چادر جو ہے وہ داعی الی الیمین نہیں ہو سکتی، چادر کی وجہ سے کسی سے مخالفت اور دشمنی نہیں کی جا سکتی بھئی۔ تو قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع صغیر میں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ صَاحِبَ هَذَا الطَّيْلَسَانِ کہ کسی شخص نے اگر قسم اٹھائی کہ وہ اس سبز چادر والے سے بات نہیں کرے گا فَبَاعَهُ ثُمَّ كَلَّمَهُ پھر اس شخص نے اس چادر کو بیچ دیا پھر اس نے اس کے ساتھ بات کی، حَنِثَ تو یہ حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ هَذِهِ الْإِضَافَةَ لَا تَحْتَمِلُ إِلَّا التَّعْرِيفَ اس لیے کیونکہ یہ والی جو اضافت ہے یہ صرف تعریف ہی کا احتمال رکھتی ہے کسی اور چیز کا احتمال نہیں رکھتی، لِأَنَّ الْإِنْسَانَ لَا يُعَادِي لِمَعْنًى فِي الطَّيْلَسَانِ، لِأَنَّ الْإِنْسَانَ لَا يُعَادِي اس لیے کیونکہ انسان جو ہے وہ دشمنی نہیں کرتا لِمَعْنًى فِي الطَّيْلَسَانِ چادر کے اندر کسی سبب سے۔ چادر کے اندر کسی سبب کی وجہ سے انسان کسی سے دشمنی نہیں کرتا، تو لَا يُعَادِي بھی آپ پڑھ سکتے ہیں: لِأَنَّ الْإِنْسَانَ لَا يُعَادِي کہ انسان جو ہے کسی سے دشمنی نہیں کرتا لِمَعْنًى فِي الطَّيْلَسَانِ چادر کے اندر کسی سبب کی وجہ سے، اور آپ اس کو چاہیں تو يُعَادَى بھی پڑھ سکتے ہیں: لِأَنَّ الْإِنْسَانَ لَا يُعَادَى اس لیے کیونکہ کسی انسان سے دشمنی نہیں کی جاتی لِمَعْنًى فِي الطَّيْلَسَانِ چادر کے اندر کسی سبب کی وجہ سے، فَصَارَ كَمَا إِذَا أَشَارَ إِلَيْهِ تو یہاں یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس نے اس کی طرف اشارہ کیا ہو اور اشارے میں تو ذات متعین ہوتی ہے لہذا یہاں بھی اس چادر والے کی ذات متعین ہے، قسم کھا کر گویا وہ یہ کہہ رہا ہے میں اس شخص سے بات نہیں کروں گا۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ هَذَا الشَّابَّ فَكَلَّمَهُ وَقَدْ صَارَ شَيْخًا، یہ مسئلہ پہلے بھی گزر چکا ہے، ایک شخص نے ایک جوان کی طرف اشارہ کیا کہ واللہ میں اس جوان سے بات نہیں کروں گا اور پھر جب وہ بوڑھا ہو گیا اس کے بعد اس نے بات کی پھر بھی حانث ہو جائے گا، پھر بھی حانث ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ جوانی کے اندر انسان بعض اوقات حماقتیں کرتا ہے بھئی کیونکہ تمام قوتیں عروج پر ہوتی ہیں تو وہ بعض اوقات حماقتیں کر جاتا ہے ان پر اعتماد کرتے ہوئے، تو لہذا جوانی کی صفت جو ہے وہ قسم کے لیے داعی ہو سکتی ہے، لیکن شریعت نے کسی مسلمان کو ترک کرنے اور اس سے بات چیت ختم کرنے کو منع کیا ہے تو لہذا شرعاً اس کو داعی شمار نہیں کیا جائے گا، جب یہ شرعاً داعی نہیں ہے تو عادتاً بھی اس کو داعی شمار نہیں کیا جائے گا، لہذا یہاں اس کے جوانی کی صفت مراد نہیں ہے بلکہ ذات مراد ہے، اور بوڑھا بھی ہو گیا تو وہی ذات ہے لہذا بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ لیکن میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جب اس نے کوئی نیت نہ کی ہو کہ واللہ میں اس جوان سے بات نہیں کروں گا، کوئی نیت نہیں کی تو پھر اس صورت میں ذات مراد ہے، لیکن اگر اس نے باقاعدہ نیت کی ہے کہ اس کی جوانی کی حالت میں بات نہیں کروں گا کیونکہ یہ کم عقل ہے، تو پھر اس صورت میں بڑھاپے میں بات کرے گا تو حانث نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ هَذَا الشَّابَّ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس جوان سے بات نہیں کرے گا فَكَلَّمَهُ وَقَدْ صَارَ شَيْخًا تو اس نے اس سے بات کی اس حال میں کہ وہ بوڑھا ہو چکا ہے، حَنِثَ تو حانث ہو جائے گا لِأَنَّ الْحُكْمَ تَعَلَّقَ بِالْمُشَارِ إِلَيْهِ اس لیے کیونکہ اس حکم کا تعلق مشار الیہ سے ہے، یہ جو بات نہ کرنے کا اس نے حکم لگایا ہے اس پر یہ مشار الیہ کے ساتھ ہے یعنی اسی ذات کے ساتھ ہے، إِذِ الصِّفَةُ فِي الْحَاضِرِ لَغْوٌ اس لیے کیونکہ حاضر کے اندر صفت لغو ہوتی ہے یعنی جو چیز سامنے موجود ہے اس کے اندر صفت کا اعتبار نہیں کیا جاتا اس کی ذات مراد ہوتی ہے، تو کہتے ہیں: إِذِ الصِّفَةُ فِي الْحَاضِرِ لَغْوٌ اس لیے کیونکہ حاضر کے اندر جو صفت ہوتی ہے وہ لغو ہوتی ہے، وَهَذِهِ الصِّفَةُ لَيْسَتْ بِدَاعِيَةٍ إِلَى الْيَمِينِ اور نیز یہ صفت جو ہے یہ یمین کی طرف دعوت دینے والی بھی نہیں ہے عَلَى مَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ اس وجہ سے جو بات پہلے گزر گئی، کیونکہ مسلمان کے ساتھ بات چیت کرنا شرعاً مہجور ہے تو یہ گویا عادتاً مہجور کی طرح ہوا، لہذا گویا یوں سمجھیں گے کہ گویا یہ صفت داعی ہی نہیں ہے بھئی، لیکن میں نے بتا دیا یہ اس صورت میں ہے جب اس نے نیت نہ کی ہو، اگر نیت کی ہے تو پھر اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: فَصْلٌ۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ حِينًا أَوْ زَمَانًا أَوِ الْحِينَ أَوِ الزَّمَانَ فَهُوَ عَلَى سِتَّةِ أَشْهُرٍ۔ بھئی باب الیمین فی الکلام چل رہا ہے اسی کے اندر اب صاحبِ ہدایہ ایک الگ فصل لے کر آئے، اس فصل کے اندر بھی وہی کلام والے مسئلے ہیں، کلام پر قسم اٹھائی ہے البتہ ساتھ زمانے کی بھی قید ہو گی، تو لہذا اس لیے اس کو الگ فصل میں ذکر کر دیا۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ۔ قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ حِينًا، کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے کہ مثلاً وہ فلاں سے ایک وقت تک بات نہیں کرے گا، حِينٌ کا معنی وقت، لَا يُكَلِّمُ حِينًا کہ یعنی فلاں سے وہ بات نہیں کرے گا ایک وقت تک، أَوْ زَمَانًا یا ایک زمانے تک، یہ تو تھا حین اور زمان کا لفظ وہ نکرہ لایا، تو چاہے نکرہ لائے چاہے معرفہ لائے ایک ہی حکم ہے، أَوِ الْحِينَ أَوِ الزَّمَانَ یا اس نے الحین یا الزمان معرفہ ذکر کر دیا، فَهُوَ عَلَى سِتَّةِ أَشْهُرٍ تو یہ قسم محمول ہو گی چھ ماہ پر۔ چھ ماہ کے اندر اگر بات کر لے گا تو حانث ہو جائے گا، چھ ماہ کے بعد بات کرے گا تو حانث نہیں ہو گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ لِأَنَّ الْحِينَ قَدْ يُرَادُ بِهِ الزَّمَانُ الْقَلِيلُ اس لیے کیونکہ حین کا جو لفظ ہے کبھی کبھار اس کے ذریعے تھوڑا زمانہ مراد ہوتا ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے اس کی مثال ذکر نہیں کی، حین کے ذریعے تھوڑا سا زمانہ مراد ہوتا ہے، حاشیے میں اس کی مثال ذکر کی ہوئی ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ﴾، ﴿فَسُبْحَانَ اللَّهِ﴾ یاد رکھو یہ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل محذوف نکالیں گے یہاں فعلِ امر: أَيْ فَسَبِّحُوا سُبْحَانَ اللَّهِ کہ تم اللہ کی پاکی بیان کرو یعنی نماز ادا کرو۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ﴾ کہ تم اللہ کی پاکی بیان کرو جس وقت تم شام میں داخل ہوتے ہو اور جب تم صبح میں داخل ہوتے ہو، یا یوں ترجمہ کر لیں: ﴿فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ﴾ کہ تم اللہ کی پاکی بیان کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو، اور یاد رکھو اس سے مراد نماز کا وقت ہے بھئی، اللہ کی پاکی بیان کرو یعنی نماز ادا کرو صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی بھئی، اور نماز کا وقت دیکھو یہ تو تھوڑا سا زمانہ ہے بھئی، تو معلوم ہوا حین کا لفظ کبھی کبھار تھوڑے زمانے کے لیے آتا ہے جیسے یہاں پر بھی آیت کے اندر حین کا لفظ آیا اور اس سے مراد نماز کا وقت ہے اور وہ تھوڑا سا وقت ہوتا ہے بھئی۔ اب آئیے پھر متن پر، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْحِينَ قَدْ يُرَادُ بِهِ الزَّمَانُ الْقَلِيلُ اس لیے کیونکہ جو حین ہے کبھی کبھار اس کے ذریعے تھوڑے زمانے کا ارادہ کیا جاتا ہے، وَقَدْ يُرَادُ بِهِ أَرْبَعُونَ سَنَةً اور کبھی کبھار اس کے ذریعے چالیس سال کا ارادہ کیا جاتا ہے یعنی لمبی مدت کا ارادہ کیا جاتا ہے، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ﴾، ﴿هَلْ أَتَى﴾ یاد رکھو یہاں جو ہَلْ آیا ہے یہ بمعنی قَدْ کے ہے، جیسے قَدْ جو ہے وہ تحقیق کے لیے آتا ہے تو یہاں پر بھی یہ تحقیق کے لیے کہ ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ﴾ اور یاد رکھو یہاں انسان سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں بھئی، ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ﴾ أَيْ قَدْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ کہ تحقیق انسان پر آیا ہے حِينٌ ایک وقت مِنَ الدَّهْرِ زمانے میں سے، تحقیق انسان پر ایک وقت زمانے میں سے آیا ہے ﴿لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا﴾ کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا، کہ انسان پر زمانے میں ایسا وقت آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا، اور میں نے بتلایا انسان سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں، اور حضرت آدم علیہ السلام کو جب ان کی صورت مٹی سے بنا دی گئی تو پھر چالیس سال تک وہ ویسے ہی پڑے رہے اس کے بعد ان میں روح پھونکی گئی، تو دیکھو یہ جو چالیس سال ہیں اس کے اندر حضرت آدم علیہ السلام جو ہیں ان کو بنا دیا گیا ہے لیکن وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں ہیں، کوئی ان کو ذکر نہیں کرتا، کوئی ان کو جانتا نہیں ہے، کسی کو ان حکمتوں کا پتہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے، تو تحقیق انسان پر ایسا زمانہ اور ایسا وقت بھی آیا کہ جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو حین کس معنی میں ہے؟ لمبی مدت یعنی چالیس سال کے معنی میں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ يُرَادُ بِهِ أَرْبَعُونَ سَنَةً اور کبھی کبھار حین کے ذریعے چالیس سال کا ارادہ کیا جاتا ہے یعنی لمبی مدت کا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ﴾ کہ تحقیق حضرت آدم علیہ السلام پر ایک وقت آیا زمانے میں سے کہ وہ قابلِ ذکر چیز نہیں تھے۔ وَقَدْ يُرَادُ بِهِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ اور کبھی کبھار حین کے ذریعے چھ ماہ کا ارادہ ہوتا ہے، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ﴾، ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ﴾ بھئی اللہ تعالیٰ قرآن میں شجرۂ طیبہ کا ذکر فرماتے ہیں، شجرۂ طیبہ، اور اکثر مفسرین کے نزدیک شجرۂ طیبہ سے مراد کھجور کا درخت ہے بھئی، اور اللہ فرما رہے ہیں: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ﴾ کہ یہ اپنا پھل دیتا ہے كُلَّ حِينٍ، اور یہاں حین سے مراد ہیں چھ ماہ بھئی، ہر چھ ماہ میں، چھ ماہ میں۔ یعنی دیکھو پہلے اس پر پھول وغیرہ ظاہر ہوئے اور پھر چھ ماہ کے اندر کھجوریں تیار ہو گئیں، پھر اس کے بعد یہ کھجوریں تیار ہوئیں اتار لی گئیں پھر چھ ماہ گزرے تو پھر دوبارہ پھول شروع ہو گئے اس پر، تو یہ ہر چھ ماہ بعد کیا کرتا ہے؟ اپنا پھل دیتا ہے یعنی چھ ماہ کے بعد پھر وہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو مفسرین فرماتے ہیں کہ شجرۂ طیبہ سے مراد کھجور کا درخت ہے اور حین سے مراد جو ہے چھ ماہ کا وقت ہے بھئی۔ تو معنی یہ ہے کہ یہ کھجور کا درخت ایسا ہے کہ اس سے ہر وقت نفع اٹھایا جاتا ہے، یعنی وہ چھ ماہ جو ہے اس کے اندر پھل لگا اور پھر وہ آگے چھ ماہ وہ کھجوریں استعمال کرتے رہے کھاتے رہے اور پھر دوبارہ نئی کھجوریں اس پر آ گئیں اور نیز اس کے اور بھی فائدے ہیں تنا وغیرہ یا اس کے پتوں وغیرہ کے اور بھی فوائد ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ﴾ کہ یہ کھجور کا درخت اپنا پھل دیتا ہے ہر چھ ماہ میں، وَهَذَا هُوَ الْوَسَطُ اور یہ متوسط ہے، یہ متوسط ہے، کبھی کبھار حین آتا ہے تھوڑے سے زمانے کے لیے جیسے نماز کے وقت کے لیے آ گیا، اور کبھی کبھار حین آتا ہے چالیس سال کے لیے، اور کبھی کبھار حین آتا ہے چھ ماہ کے لیے اور یہ چھ ماہ جو ہے یہ ان دونوں کے درمیان میں ہے، یہ متوسط ہے، یہ اوسط ہے۔ تو لہذا جب اس نے لفظِ حین مطلق بولا ہے تو اس کو درمیانے پر یعنی اوسط پر محمول کریں گے کیونکہ جو چیز مطلق ہوتی ہے وہ کمال پر محمول ہوتی ہے اور کمال افراط اور تفریط میں نہیں ہوتا بلکہ کمال اعتدال اور توسط میں ہوتا ہے، اوسط چیز میں کمال ہوتا ہے، لہذا یہ کمال پر محمول ہو گی یعنی اوسط پر محمول ہو گی اور اوسط کیا ہے؟ چھ ماہ ہیں۔ تو لہذا اس کو چھ ماہ پر محمول کریں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ تھوڑی مدت کے لیے جیسے نماز کا وقت ہے، تھوڑا سا ہے۔ کبھی کبھار حین کا لفظ آتا ہے لمبی مدت کے لیے جیسے کہ چالیس سال ہیں بھئی، اور کبھی کبھار حین کا لفظ آتا ہے چھ ماہ کے لیے، اور یہ چھ ماہ متوسط ہیں، اور خَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَاطُهَا، چیزوں میں سب سے بہتر درمیانی، متوسط درجے کی چیز ہے، تو اسی لیے اس شخص نے قسم کھا کر کہا ہے کہ واللہ میں فلاں سے کچھ حین تک بات نہیں کروں گا، تو ہم نے اس کو چھ ماہ پر محمول کر لیا، کیونکہ چھ ماہ متوسط ہے، نہ بہت قلیل ہے اور نہ بہت طویل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا هُوَ الْوَسَطُ، تو یہ متوسط ہے، فَيَنْصَرِفُ إِلَيْهِ، تو لہذا یہ اسی کی طرف پلٹ جائے گی، یہ قسم اسی کی طرف پلٹ جائے گی یعنی اس سے چھ ماہ مراد لیں گے۔ لیکن یہ یاد رکھو، یہ اس صورت میں ہے جب اس آدمی نے کوئی نیت نہیں کی، تو پھر چھ ماہ مراد لے لیں گے، اور اگر اس نے نیت کی ہے تو پھر اس کی نیت کے مطابق ہی اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَيَنْصَرِفُ إِلَيْهِ، تو یہ قسم اسی کی طرف پھر جائے گی یعنی چھ ماہ کی طرف۔ وَهَذَا لِأَنَّ الْيَسِيرَ، اچھا بھئی! آپ نے چھ ماہ مراد لیے، آپ نے قلیل کیوں نہیں مراد لیا؟ آپ نے طویل مدت کیوں نہیں مراد لی؟ یہ چھ مہینے کیوں مراد لیے؟ ایک تو وجہ میں نے ذکر کر دی کہ متوسط جو ہے سب سے بہتر ہوتا ہے لہذا اس کو اختیار کیا۔ اور دوسرا یہ کہ تھوڑی مدت جو ہے، تو تھوڑی مدت کے لیے تو قسم کھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، آپ نے تھوڑی دیر کسی سے بات نہیں کرنی وہ تو ویسے بھی ہو جائے گا۔ اور نیز اگر لمبی مدت کی قسم کھانی ہے تو پھر تو یہ گویا ہمیشہ کے لیے ہی ہے، پھر تو ساتھ زمانے کو ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، یوں کہہ دیتا کہ واللہ میں فلاں سے ابداً بات نہیں کروں گا، یا واللہ میں فلاں سے بات نہیں کروں گا، زمانے کو ذکر ہی نہ کرتا پھر بھی مؤبد ہو جاتی۔ تو لہذا قلیل ہو تو اس کے لیے قسم کھانے کی ضرورت نہیں، اور طویل ہو تو اس کے لیے حین کا لفظ لانے کی ضرورت ہی نہیں، اس کے لیے عرف میں ابد کا لفظ استعمال ہوتا ہے، یا زمانہ ساتھ ذکر ہی نہیں کیا جاتا۔ تو لہذا اس لیے ہم نے اس کو متوسط یعنی چھ ماہ پر محمول کیا۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا کہ یہ چھ ماہ کی طرف اس کا پھرنا اس لیے ہے: لِأَنَّ الْيَسِيرَ لَا يُقْصَدُ بِالْمَنْعِ، اس لیے کیونکہ یسیر جو ہے یعنی معمولی سا جو ہے لَا يُقْصَدُ بِالْمَنْعِ اس کا ارادہ نہیں کیا جاتا منع کے ذریعے، قسم کس لیے ہوتی ہے؟ منع کے لیے، تو اس قسم کے ذریعے اس کا ارادہ نہیں کیا جاتا۔ تو یہ معنی ہے: وَهَذَا لِأَنَّ الْيَسِيرَ لَا يُقْصَدُ بِالْمَنْعِ، لِوُجُودِ الِامْتِنَاعِ فِيهِ عَادَةً، اس وجہ سے کہ اس سے رکنا عادتاً پایا جاتا ہے، اب عادتاً ویسے بھی تھوڑی دیر کسی سے رک سکتے ہیں۔ وَالْمُؤَبَّدُ لَا يُقْصَدُ بِهِ غَالِبًا، اور مؤبد جو ہے اس کا بھی ارادہ نہیں کیا جاتا حین کے ذریعے غالباً، مؤبد کا ارادہ بھی حین کے ذریعے غالباً نہیں کیا جاتا، لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبَدِ، اس لیے کیونکہ طویل زمانہ یہ بھی ابد کے درجے میں ہے، یہ تو ابد کے درجے میں ہے اور اس کے لیے عرف میں ابد کا لفظ استعمال ہوتا ہے یا زمانہ ساتھ ذکر ہی نہیں کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبَدِ اس لیے کیونکہ طویل مدت جو ہے وہ بھی ابد ہی کے درجے میں ہے، وَلَوْ سَكَتَ عَنْهُ يَتَأَبَّدُ، تو اگر یہ خاموش رہتا حین سے، يَتَأَبَّدُ تو اس صورت میں بھی قسم مؤبد ہو جاتی بھئی۔ فَيَتَعَيَّنُ مَا ذَكَرْنَاهُ، تو وہی چیز متعین ہو گئی جو ہم نے ذکر کر دی کہ متوسط زمانہ مراد لیں گے اور وہ چھ ماہ ہے۔ وَكَذَا الزَّمَانُ يُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَ الْحِينِ، اچھا بھئی یہ تو حین کے اندر تفصیل تھی۔ اب زمان کا لفظ بھی متن میں آیا تھا: لَا يُكَلِّمُ حِينًا أَوْ زَمَانًا، چاہے معرفہ ہو چاہے نکرہ ہو۔ تو کہتے ہیں کہ وہ بھی حین کی طرح ہی ہے۔ زمان کا لفظ بھی حین کی طرح ہی ہے۔ وَكَذَا الزَّمَانُ يُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَ الْحِينِ، اور اسی طرح زمان کا لفظ جو ہے وہ بھی حین کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ يُقَالُ عربی زبان میں کہا جاتا ہے: مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ حِينٍ، اور اسی طرح کہتے ہیں: مُنْذُ زَمَانٍ، کہ میں نے آپ کو ایک زمانے سے نہیں دیکھا۔ تو کہتے ہیں: يُقَالُ عربی میں کہتے ہیں: مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ حِينٍ وَمُنْذُ زَمَانٍ کہ میں نے آپ کو ایک زمانے سے نہیں دیکھا، ایک وقت سے نہیں دیکھا، بِمَعْنًى اس حال میں کہ یہ ایک ہی معنی میں ہیں، چاہے زمان کہہ لیں اور چاہے حین کہہ لیں۔ وَهَذَا إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ، اور یہ جو ہم نے یہ چھ ماہ پر محمول کرنا اس وقت ہے جب اس آدمی کی کوئی نیت نہ ہو۔ أَمَّا إِذَا نَوَى شَيْئًا، اگر اس نے کسی چیز کی نیت کر لی، فَهُوَ عَلَى مَا نَوَى، تو یہ قسم اسی پر محمول ہو گی جو اس نے نیت کی ہے، لِأَنَّهُ نَوَى حَقِيقَةَ كَلَامِهِ، اس لیے کیونکہ اس نے بھی اپنے کلام کی حقیقت کی نیت کی ہے، کیونکہ یہ قلیل، کثیر، متوسط ہر زمانے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَكَذَلِكَ الدَّهْرُ عِنْدَهُمَا، اور اسی طرح دہر کا لفظ بھی ہے عندہما صاحبین کے نزدیک، یعنی جس طرح حین اور زمان کو کوئی ویسے ذکر کرے تو چھ ماہ مراد لیتے ہیں اسی طرح دہر کا لفظ بھی کوئی ذکر کرے قسم کے ساتھ اور اس کی کوئی نیت نہ ہو تو اس کو بھی چھ ماہ پر محمول کریں گے۔ کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ الدَّهْرُ عِنْدَهُمَا، اور اسی طرح دہر بھی ہے صاحبین کے نزدیک۔ وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: الدَّهْرُ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الدَّهْرُ لَا أَدْرِي مَا هُوَ کہ دہر جو ہے میں نہیں جانتا وہ کیا ہے، دہر جو ہے میں نہیں جانتا وہ کیا ہے۔ کہتے ہیں: وَهَذَا الِاخْتِلَافُ فِي الْمُنَكَّرِ، اور یہ جو اختلاف ہے یہ نکرہ کے اندر ہے، یعنی دہر کا لفظ نکرہ ہو بغیر الف لام کے ہو تو اس صورت میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ اگر الدَّهْرُ ہو الف لام کے ساتھ پھر اس میں یاد رکھو الدَّهْرُ جو ہے وہ ابد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ہمیشہ کے لیے۔ الدَّهْرُ کا کیا معنی لیتے ہیں؟ ہمیشہ کے لیے، لیکن دہر نکرہ ہو تو صاحبین فرماتے ہیں یہ چھ ماہ کے لیے اس کا معنی ہے چھ ماہ، اور امام صاحب فرماتے ہیں میں اس کا معنی نہیں جانتا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: الدَّهْرُ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ دہر کیا چیز ہے میں نہیں جانتا، وَهَذَا الِاخْتِلَافُ فِي الْمُنَكَّرِ هُوَ الصَّحِيحُ، اور یہ اختلاف نکرہ کے اندر ہے، یہی قول صحیح ہے کہ نکرہ میں اختلاف ہے معرفہ میں نہیں۔ أَمَّا الْمُعَرَّفُ بِالْأَلِفِ وَاللَّامِ يُرَادُ بِهِ الْأَبَدُ عُرْفًا، اور باقی وہ دہر کا لفظ جو معرفہ ہو الف لام کے ساتھ، يُرَادُ بِهِ الْأَبَدُ عُرْفًا تو عرفاً اس کے ذریعے ابد مراد ہوتا ہے۔ لَهُمَا، اب صاحبین کی دلیل آ گئی کہ دہر کا لفظ جب نکرہ ہو تو اس کا معنی چھ ماہ کے کریں گے، اب ان کی دلیل آ گئی۔ لَهُمَا، صاحبین کی دلیل یہ ہے: أَنَّ دَهْرًا يُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَ الْحِينِ وَالزَّمَانِ، کہ دہر کا لفظ بھی حین اور زمان کی طرح استعمال کیا جاتا ہے، يُقَالُ عربی زبان میں کہتے ہیں: مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ حِينٍ وَمُنْذُ دَهْرٍ، کہ عربی زبان میں مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ حِينٍ بھی کہتے ہیں اور عربی زبان میں مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ دَهْرٍ بھی کہتے ہیں، بِمَعْنًى اس حال میں کہ یہ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں بھئی۔ وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَوَقَّفَ فِي تَقْدِيرِهِ، اب امام صاحب کی بات آ گئی، امام صاحب فرماتے تھے کہ دہر جب نکرہ ہو تو میں نہیں جانتا اس کا کیا معنی ہے، اب ان کی تفصیل بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَوَقَّفَ فِي تَقْدِيرِهِ، اور امام صاحب نے توقف کیا فی تقدیرہ اس کا اندازہ لگانے میں، توقف کیا یعنی ٹھہر گئے کوئی قول ذکر نہیں کیا۔ تو امام صاحب نے توقف کیا اس کے اندازہ لگانے میں یعنی وہ رک گئے کوئی بات انہوں نے نہیں کی، لِأَنَّ اللُّغَاتِ لَا تُدْرَكُ قِيَاسًا، اس لیے کیونکہ زبان جو ہے اس کو جانا نہیں جا سکتا قیاساً قیاس کے اعتبار سے، یعنی قیاس کے ذریعے لغت کو جانا نہیں جا سکتا، لغت کے لیے ہمیں عربوں کا کلام تلاش کرنا پڑے گا کہ انہوں نے کس معنی میں استعمال کیا ہے، تو لغت کا پتہ قیاس کے ذریعے نہیں چل سکتا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ اللُّغَاتِ لَا تُدْرَكُ قِيَاسًا اس لیے کیونکہ زبانیں جو ہیں ان کو جانا نہیں جا سکتا قیاس کے ذریعے، وَالْعُرْفُ لَمْ يُعْرَفِ اسْتِمْرَارُهُ لِاخْتِلَافٍ فِي الِاسْتِعْمَالِ، اور عرف جو ہے یعنی عام لوگوں کی جو عادت ہے، لم یعرف استمرارہ اس کے استمرار کو نہیں جانا گیا لاختلاف فی الاستعمال استعمال میں اختلاف کی وجہ سے۔ بھئی عرف کے ذریعے بھی یہاں فیصلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ عرف میں ایک ہی طریقے پر دہر کا لفظ استعمال نہیں ہوتا، الف لام کے ساتھ ہو: الدہر، تو اس کا معنی ابد کے ہوتے ہیں، اور کبھی کبھار یہ دہر کا لفظ حین اور زمانہ کے معنی میں ہوتا ہے، تو لہذا عرف کے اندر بھی کوئی ایک استعمال نہیں ہے بلکہ مختلف استعمال ہیں، لہذا دہر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ امام صاحب کی کمالِ احتیاط اور کمالِ تقویٰ کی علامت ہے کہ ایک چیز جب تک پوری طرح واضح نہیں ہوئی انہوں نے کوئی اس پر حکم ہی نہیں لگایا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْعُرْفُ لَمْ يُعْرَفِ اسْتِمْرَارُهُ لِاخْتِلَافٍ فِي الِاسْتِعْمَالِ، اور عرف جو ہے اس کے استمرار کو یعنی دوام کو نہیں جانا گیا ہے کہ ایک ہی طریقے پر استعمال کریں، لاختلاف فی الاستعمال اس لیے کیونکہ دہر کے استعمال میں اختلاف ہے، کبھی یہ ابد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی حین اور زمانہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لہذا عرف کے ذریعے بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ أَيَّامًا فَهُوَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں فلاں سے بات نہیں کروں گا ایاماً، ایام جمع کا لفظ استعمال کیا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں تین دن مراد لیے جائیں گے کیونکہ ایام جمع ہے یوم کی اور جمع کا اطلاق کم سے کم تین افراد پر ہوتا ہے، تو لہذا اس سے تین یوم مراد لیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ أَيَّامًا، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں سے کلام نہیں کرے گا ایاماً کچھ دن، دیکھو نکرہ ذکر کر رہا ہے ایام کو، فَهُوَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، تو اس کی یہ قسم محمول ہو گی تین دنوں پر، لِأَنَّهُ اسْمُ جَمْعٍ ذُكِرَ مُنَكَّرًا، اس لیے کیونکہ یہ اسمِ جمع ہے جس کو نکرہ ذکر کیا گیا ہے، فَيَتَنَاوَلُ أَقَلَّ الْجَمْعِ، تو یہ جمع کی کم سے کم مقدار کو شامل ہو گا، وَهُوَ الثَّلَاثُ اور وہ تین ہے۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُهُ الْأَيَّامَ، اب اگر معرفہ لے آیا: الأيام، لا يكلمه الأيام، تو اس صورت میں یاد رکھو امام صاحب کے نزدیک اس سے دس دن مراد ہوں گے، اگر دس دن سے پہلے بات کر لی تو حانث ہو گا، دس دن کے بعد بات کی تو حانث نہیں ہو گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ الأيام جب معرفہ آ جائے تو پھر اس صورت میں اس سے سات دن مراد ہوں گے، ہفتے کے سات دن مراد ہوں گے کیونکہ ہفتے کے سات دن ہیں اور پھر اس کے بعد پھر دوبارہ وہی دن دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں، ہفتے کے کتنے دن ہیں کل؟ سات، اور پھر اس کے بعد پھر وہی دن دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں تو کل دن جو ہیں وہ مراد لیں گے اور کل دن تو سات ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُهُ الْأَيَّامَ فَهُوَ عَلَى عَشَرَةِ أَيَّامٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں سے ایام بات نہیں کرے گا تو یہ دس دن ہیں امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا عَلَى الْأُسْبُوعِ، اسبوع کہتے ہیں ہفتے کو بھئی جو یہ سات دنوں پر مشتمل ہوتا ہے، وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں عَلَى الْأُسْبُوعِ کہ یہ قسم محمول ہو گی ہفتے کے سات دنوں پر۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُهُ الشُّهُورَ، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی لا يكلمه الشهور کہ وہ فلاں سے بات نہیں کرے گا الشہور بھئی، شہور جمع ہے شہر کی، شہر مہینے کو کہتے ہیں، تو اس نے الشہور کا لفظ ذکر کیا، تو کہتے ہیں: فَهُوَ عَلَى عَشَرَةِ أَشْهُرٍ عِنْدَهُ، تو یہ دس مہینے ہوں گے امام صاحب کے نزدیک، امام صاحب کے نزدیک دس مہینے ہوں گے، وَعِنْدَهُمَا عَلَى اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، اور صاحبین کے نزدیک یہ قسم محمول ہو گی بارہ مہینے پر کیونکہ کل مہینے سال میں بارہ ہیں اور پھر اس کے بعد دوبارہ وہی مہینے شروع ہو جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَهُمَا عَلَى اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا اور صاحبین کے نزدیک یہ قسم محمول ہے بارہ مہینوں پر، لِأَنَّ اللَّامَ لِلْمَعْهُودِ، اس لیے کیونکہ یہاں الف لام آیا اور یہ لام کس لیے ہوتا ہے؟ معہود چیز کے لیے، ایک معہود ایک مقرر چیز کے لیے، اور کل مہینے کتنے متعین اور مقرر ہیں؟ بارہ ہی ہیں بارہ سے زیادہ نہیں، تو وہی معہود یعنی مقرر مہینے مراد لے لیں گے۔ جیسے الأيام کے اندر الف لام آیا تھا تو الف لام کے ذریعے اشارہ ہوا تھا اور کل کتنے دن ہیں زیادہ سے زیادہ؟ سات ہی دن ہیں، تو وہی معہود اور متعین سات دن مراد لے لیں گے اس سے زیادہ تو دن ہیں ہی نہیں، پھر آگے انہی کا دوبارہ تکرار شروع ہو جاتا ہے، مثلاً ہفتہ، اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات، جمعہ، پھر دوبارہ ہفتہ شروع ہو گیا: ہفتہ، اتوار، پیر، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کل دن کتنے ہیں؟ سات، اور کل مہینے کتنے ہیں سال میں؟ بارہ، اور پھر اس کے بعد انہی کا تکرار ہوتا ہے۔ تو لہذا معرف باللام الأيام ذکر کرے تو ہفتے کے سات دن مراد لیں گے، اور الشہور الف لام کے ساتھ ذکر کرے تو سال کے بارہ وہ جو مہینے ہیں جو متعین ہیں وہ مراد لیں گے، یہ صاحبین فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ اللَّامَ لِلْمَعْهُودِ اس لیے کیونکہ لام جو ہے یہ معہود کے لیے ہے یعنی متعین اور مقرر چیز کے لیے ہے، وَهُوَ مَا ذَكَرْنَا اور معہود وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، لِأَنَّهُ يَدُورُ عَلَيْهَا اس لیے کیونکہ یہ مہینے اسی بارہ پر چکر لگاتے ہیں، دار يدور دوران کا معنی چکر لگانا، لِأَنَّهُ يَدُورُ عَلَيْهَا اس لیے کیونکہ یہ مہینے انہی بارہ پر چکر لگاتے ہیں بار بار پھر وہی آتے ہیں بھئی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ امام صاحب کے نزدیک ایام بغیر الف لام کے کہے تو تین دن، اور الأيام کہے تو دس دن۔ اسی طرح الشہور کہے تو دس مہینے مراد ہیں۔ وَلَهُ، امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ جَمْعٌ مُعَرَّفٌ کہ یہ جمع معرف ہے یعنی اس پر الف لام داخل ہے، فَيَنْصَرِفُ إِلَى أَقْصَى مَا يُذْكَرُ بِلَفْظِ الْجَمْعِ، اقصی کہتے ہیں زیادہ سے زیادہ کو، فَيَنْصَرِفُ إِلَى أَقْصَى مَا يُذْكَرُ بِلَفْظِ الْجَمْعِ، فینصرف تو یہ قسم پلٹ جائے گی اقصی اس زیادہ سے زیادہ کی طرف ما یذکر بلفظ الجمع جس کو جمع کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، وَذَلِكَ عَشَرَةٌ اور وہ دس ہے۔ بھئی کس طرح دس ہے؟ بھئی دیکھیے مثلاً جمع کا لفظ جو ہے جمع کا اطلاق کم سے کم تین افراد پر ہوتا ہے، تو مثلاً میں نے تین دن ذکر کرنے ہوں تو کہوں گا: ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، یا اسی طرح میں نے کتابیں ذکر کرنی ہوں تو ثَلَاثَةُ كُتُبٍ، دیکھو کتب جمع کا لفظ میں لے کر آیا۔ اسی طرح اگر میں نے قلم ذکر کرنے ہیں تو کہوں گا: ثَلَاثَةُ أَقْلَامٍ، دیکھو اقلام میں جمع کا لفظ لے کر آیا۔ تو یہ جو جمع کا لفظ ہے یہ تین سے لے کر دس تک استعمال ہوتا ہے عدد کے ساتھ اور اس کے بعد مفرد کے لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً تین سے لے کر دس تک ہم ایام کو دیکھ لیتے ہیں: تین دن کہنے ہوں تو کہیں گے ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، چار دن کہنے ہوں تو أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ دیکھو وہی ایام جمع کا لفظ ہے، پھر خَمْسَةُ أَيَّامٍ، سِتَّةُ أَيَّامٍ، سَبْعَةُ أَيَّامٍ، ثَمَانِيَةُ أَيَّامٍ، تِسْعَةُ أَيَّامٍ اور عَشَرَةُ أَيَّامٍ، تو دس تک عدد کے ساتھ جمع کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اس کے بعد مفرد کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً گیارہ دن میں کہنا چاہتا ہوں تو یوں کہوں گا: أَحَدَ عَشَرَ يَوْمًا، یوم دیکھو میں مفرد لے آیا، اِثْنَا عَشَرَ يَوْمًا دیکھو یہاں بھی یوم ہے، ثَلَاثَةَ عَشَرَ يَوْمًا تو آگے سب اسی طرح یوم چلیں گے: عِشْرُونَ يَوْمًا، ثَلَاثُونَ يَوْمًا، مائۃ کا عدد لے آئیں: مِائَةُ يَوْمٍ یہاں بھی یوم مفرد ہے، الف کو لے آئیں: أَلْفُ يَوْمٍ، تو معلوم ہوا جمع کا لفظ جو ہے تین سے لے کر دس تک عدد کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ تو کم سے کم افراد جمع کے کتنے ہوئے؟ تین، اور زیادہ سے زیادہ کتنے ہو گئے؟ دس ہو گئے، اس کے بعد والوں پر مفرد کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ تو جب ایام وغیرہ کا لفظ نکرہ آئے تو اس سے تین دن مراد لیں گے یعنی جمع کی کم سے کم مقدار، اور جب ایام اور شہور کا لفظ معرف باللام آئے تو پھر اس صورت میں جمع کی جو زیادہ سے زیادہ مقدار جس کو جمع کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہو وہ مراد لیں گے اور وہ دس ہے بھئی۔ تو اس لیے امام صاحب فرماتے ہیں الأيام آئے یا الشہور آئے تو اس سے دس دن اور دس مہینے مراد ہوں گے۔ وَلَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ جَمْعٌ مُعَرَّفٌ کہ یہ جمع معرف ہے، فَيَنْصَرِفُ إِلَى أَقْصَى مَا يُذْكَرُ بِلَفْظِ الْجَمْعِ تو یہ پلٹ جائے گی اس زیادہ سے زیادہ مقدار کی طرف جس کو جمع کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، وَذَلِكَ عَشَرَةٌ اور وہ دس ہے۔ وَكَذَا الْجَوَابُ عِنْدَهُ فِي الْجُمَعِ وَالسِّنِينَ، اور اسی طرح ہے جواب امام صاحب کے نزدیک جمع اور سنین میں۔ جُمَعٌ جمع ہے جمعہ کی، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے کہ واللہ میں فلاں سے کئی جمعے بات نہیں کروں گا، یا میں فلاں سے کئی سال بات نہیں کروں گا، تو اگر جُمَعٌ اور سِنِينَ کا لفظ اگر وہ نکرہ لے کر آئے تو پھر تین جمعے اور اسی طرح تین سال مراد ہوں گے، اور اگر معرفہ لے کر آئے تو پھر دس جمعے اور اسی طرح دس سال مراد ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا الْجَوَابُ عِنْدَهُ فِي الْجُمَعِ وَالسِّنِينَ اور اسی طرح ہے جواب امام صاحب کے نزدیک جمعوں میں اور سالوں میں۔ وَعِنْدَهُمَا يَنْصَرِفُ إِلَى الْعُمُرِ، اور صاحبین کے نزدیک یہ قسم پلٹ جائے گی عمر کی طرف یعنی عمر بھر کے لیے یعنی اب بات منع ہو گی، اب بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ دنوں کی بھی زیادہ سے زیادہ مقدار معہود تھی وہ سات دن ہیں، شہور کی بھی زیادہ سے زیادہ مقدار معلوم تھی اور وہ بارہ مہینے ہیں، لیکن جمعے اور سال ان کی تو کوئی مقررہ مقدار نہیں ہے لہذا اس سے عمر بھر مراد لے لیں گے کہ میں عمر بھر فلاں سے کلام نہیں کروں گا۔ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَهُمَا يَنْصَرِفُ إِلَى الْعُمُرِ اور صاحبین کے نزدیک یہ قسم پھر جائے گی عمر بھر کی طرف، لِأَنَّهُ لَا مَعْهُودَ دُونَهُ اس لیے کیونکہ عمر کے علاوہ یہاں اور کوئی معہود نہیں ہے، اگر معہود ہوتا تو ہم اس کی طرف پلٹ دیتے لیکن کوئی معہود اور مقرر مقدار نہیں ہے تو یہ عمر بھر کے لیے قسم ہو جائے گی۔ وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ: إِنْ خَدَمْتَنِي أَيَّامًا كَثِيرَةً فَأَنْتَ حُرٌّ، بھئی ایک آدمی نے اپنے غلام سے کہا اگر تو نے میری ایامِ کثیرہ تک خدمت کی تو تو آزاد ہے، تو اب اس سے کتنے دن مراد لیں گے؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ دس دن بھئی، دس دن، کیونکہ ایام کا لفظ ذکر کیا ہے اور ایام جو ہے اس کا اطلاق کم از کم تین افراد پر ہوتا ہے لیکن اس نے کہا ہے ایامِ کثیرہ، کثیر ایام، اور زیادہ سے زیادہ کثیر کتنے ہو سکتے ہیں؟ دس بھئی، اس لیے کیونکہ زیادہ سے زیادہ دس کے عدد کے ساتھ جمع کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اس سے اوپر جمع کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ إِنْ خَدَمْتَنِي أَيَّامًا كَثِيرَةً فَأَنْتَ حُرٌّ اور جس شخص نے اپنے غلام سے کہا تو نے اگر میری کثیر دنوں تک خدمت کی تو تو آزاد ہے، فَالْأَيَّامُ الْكَثِيرَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ، تو کثیر دن جو ہیں امام صاحب کے نزدیک وہ دس دن ہیں، لِأَنَّهُ أَكْثَرُ مَا يَتَنَاوَلُهُ اسْمُ الْأَيَّامِ اس لیے کیونکہ دس جو ہے وہ زیادہ سے زیادہ ہے جس کو ایام کا اسم شامل ہو، زیادہ سے زیادہ دس تک ایام کا لفظ بولتے ہیں اس سے اوپر بات چلی جائے تو پھر یوم کا لفظ بولتے ہیں۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ أَكْثَرُ مَا يَتَنَاوَلُهُ اسْمُ الْأَيَّامِ اس لیے کیونکہ یہ جو دس ہے یہ زیادہ سے زیادہ ہے جس کو ایام کا اسم شامل ہو، وَقَالَا: سَبْعَةُ أَيَّامٍ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ایامِ کثیرہ سات دن ہیں، لِأَنَّ مَا زَادَ عَلَيْهَا تَكْرَارٌ اس لیے کیونکہ سات سے جو زائد ہو جائے وہ تو تکرار ہے وہی دن دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں۔ وَقِيلَ: لَوْ كَانَ الْيَمِينُ بِالْفَارِسِيَّةِ، اور کہا گیا ہے کہ اگر یہ قسم فارسی زبان میں ہو، يَنْصَرِفُ إِلَى سَبْعَةِ أَيَّامٍ تو پھر یہ قسم پھر جائے گی سات دنوں تک، لِأَنَّهُ يُذْكَرُ فِيهَا بِلَفْظِ الْفَرْدِ دُونَ الْجَمْعِ، اس لیے کیونکہ فارسی زبان کے اندر یوم کے لفظ کو مفرد ہی ذکر کرتے ہیں نہ کہ جمع۔ بھئی فارسی میں اگر آپ نے کہنا ہے تین دن تو کہتے ہیں: سہ روز، چار دن کہنا ہے تو چہار روز، پانچ دن کہنا ہے تو پنج روز، تو دیکھو وہاں جمع استعمال نہیں ہوتا، اسی طرح روز کا لفظ مفرد ہی استعمال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں اگر یہ فارسی زبان میں قسم ہو تو: يَنْصَرِفُ إِلَى سَبْعَةِ أَيَّامٍ تو یہ پلٹ جائے گی سات دنوں کی طرف یعنی سات دن مراد لیں گے، لِأَنَّهُ يُذْكَرُ فِيهَا بِلَفْظِ الْفَرْدِ دُونَ الْجَمْعِ اس لیے کیونکہ یوم کا لفظ فارسی زبان میں ذکر کیا جاتا ہے مفرد کے لفظ کے ساتھ نہ کہ جمع کے لفظ کے ساتھ۔ آگے دیکھیے: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْعِتْقِ وَالطَّلَاقِ، یہ باب ہے اس یمین کے بارے میں جو آزادی اور طلاق کے بارے میں ہو، اگر قسم کے اندر آزادی یا طلاق کو ذکر کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہو گا؟ اب اس کو صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔ وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ طَالِقٌ، فَوَلَدَتْ وَلَدًا مَيْتًا طُلِّقَتْ، وَكَذَلِكَ إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ: إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ حُرَّةٌ۔ یہاں پر یاد رکھو یہ جو مَيْتًا لفظ آیا بھئی، اس کو مَيْتًا پڑھنا بھی صحیح ہے اور مَيِّتًا پڑھنا بھی صحیح ہے لیکن دونوں میں فرق ہے بھئی، مَیْت جو ہے مردہ کو کہتے ہیں جبکہ مَیِّت یہ مردہ کو بھی کہتے ہیں اور زندہ کو بھی کہتے ہیں یعنی وہ چیز جس نے مرنا ہے کسی وقت بھئی۔ تو زندہ کو بھی میت کہتے ہیں کہ اس نے بھی کسی وقت مرنا ہے بھئی، لیکن مَیْت جو ہے وہ صرف مردہ کو کہتے ہیں۔ صورتِ مسئلہ یہ: کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو نے اگر بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے، تو بیوی نے مردہ بچے کو جنم دیا۔ تو کیا اب طلاق ہو گی یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی اس کو طلاق ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنی باندی سے کہا کہ جب تو بچے کو جنم دے تو تو آزاد ہے، اور پھر اس باندی نے مردہ بچے کو جنم دیا تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی وہ آزاد ہو جائے گی کیونکہ مردہ بچہ جو ہے اس کو بھی عرف میں بچہ ہی کہتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ طَالِقٌ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا جب تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے، فَوَلَدَتْ وَلَدًا مَيْتًا طُلِّقَتْ تو اس نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا تو اس کو طلاق ہو جائے گی، وَكَذَلِكَ إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ حُرَّةٌ اور اسی طرح جب کسی شخص نے اپنی باندی سے کہا جب تو بچے کو جنم دے تو تو آزاد ہے، لِأَنَّ الْمَوْجُودَ مَوْلُودٌ اس لیے کیونکہ یہ جو موجود ہے یہ مولود ہے، اس کو جنم دیا گیا ہے۔ ولد کسے کہتے ہیں؟ مولود کو جس کو جنم دیا گیا ہو، اور یہ بھی مولود ہی ہے بھئی۔ لِأَنَّ الْمَوْجُودَ مَوْلُودٌ اس لیے کیونکہ وہ جو موجود ہے وہ مولود ہے اس کو جنم دیا گیا ہے، فَيَكُونُ وَلَدًا حَقِيقَةً تو یہ ولد ہی ہے حقیقت کے اعتبار سے، عرف میں بھی اس کو ولد کہتے ہیں اور شریعت میں بھی یہ ولد ہے، وَيُسَمَّى بِهِ فِي الْعُرْفِ اور اسی نام کے ساتھ اس کو موسوم کیا جاتا ہے عرف میں، عرف میں بھی اس کو بچہ کہتے ہیں، وَيُعْتَبَرُ وَلَدًا فِي الشَّرْعِ اور شریعت میں بھی اس کو ولد ہی اعتبار کیا جاتا ہے، حَتَّى تَنْقَضِيَ بِهِ الْعِدَّةُ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے عدت گزر جاتی ہے، حَتَّى تَنْقَضِيَ یاد رکھو یہاں حَتَّى نصب نہیں دے گا کیونکہ حَتَّى کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل نہیں ہے۔ تو حَتَّى تَنْقَضِيَ بِهِ الْعِدَّةُ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے عدت گزر جاتی ہے، بھئی آپ جانتے ہیں کہ اگر عدت گزارنے والی عورت حاملہ ہے تو پھر اس کی عدت جو ہے وضعِ حمل ہے، تو چاہے وہ زندہ بچے کو جنم دے چاہے مردہ بچے کو جنم دے ہر حال میں بچے کو جنم دیتے ہی اس کی عدت پوری ہو جائے گی، پوری ہو جائے گی، معلوم ہوا یہ مردہ بھی کیا ہے؟ ولد ہی ہے اسی لیے تو اس کی پیدائش پر بھی عدت اس عورت کی پوری ہو رہی ہے بھئی۔ اور نیز اسی طرح اس مردہ بچے کے بعد عورت کو جو خون آئے گا اس کو بھی شریعت میں نفاس کہتے ہیں، جیسے زندہ بچے کے بعد آنے والے خون کو نفاس کہا جاتا ہے اسی طرح مردہ بچے کے بعد آنے والے خون کو بھی نفاس کہتے ہیں، معلوم ہوا شریعت میں بھی یہ ولد ہی ہے یہ جو مردہ بچہ ہے بھئی۔ اسی طرح اگر ایک باندی جو ہے مردہ بچے کو جنم دے تو بھی یہ اس آدمی کی اُمِ ولد بن جائے گی، مثلاً باندی حاملہ تھی اور آقا نے کہہ دیا کہ اس کے پیٹ میں میری اولاد ہے اور پھر اس نے مردہ بچے کو جنم دیا تو بھی یہ اس آدمی کی اُمِ ولد بن جائے گی۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى تَنْقَضِيَ بِهِ الْعِدَّةُ یہاں تک کہ اس مردہ بچے کی وجہ سے بھی عدت گزر جاتی ہے، وَالدَّمُ بَعْدَهُ نِفَاسٌ اور اسی طرح اس مردہ بچے کے بعد جو خون ہے وہ نفاس ہے، وَأُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ اور اسی طرح اس بچے کی ماں جو ہے وہ اس آقا کی اُمِ ولد ہوتی ہے، فَيَتَحَقَّقُ الشَّرْطُ تو شرط پائی گئی، اس نے شرط کیا لگائی تھی اگر تو بچے کو جنم دے، تو شرط پائی گئی، وَهُوَ وِلَادَةُ الْوَلَدِ اور وہ بچے کی ولادت ہے بھئی۔ بھئی یہاں پر حاشیے کے اندر ایک بڑا قیمتی نکتہ دیا گیا ہے وہ بھی سن لیجیے۔ کہتے ہیں یہ جو مردہ بچہ پیدا ہوا ہے یہ غیروں کے حق میں تو بچہ ہے، غیروں کے حق میں یہ کیا شمار ہو گا؟ بچہ شمار ہو گا، چنانچہ اسی لیے اس کی پیدائش پر عورت کی عدت پوری ہو جائے گی، اور اسی وجہ سے اس کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس کہلائے گا، اور اسی وجہ سے اس کو جنم دینے والی آقا کی اُمِ ولد بن جائے گی جب آقا پہلے سے اقرار کر چکا ہے نسب کا، اور اگر بچے کو جنم دینے پر کسی چیز کو معلق کیا گیا تھا تو وہ معلق بھی واقع ہو جائے گا اس مردہ بچے کے پیدا ہونے پر، تو یہ غیروں کے حق میں بچہ ہے، ولد ہے، لیکن اپنی ذات کے حق میں یہ بچہ نہیں ہے، اپنی ذات کے حق میں یہ بچہ نہیں ہے لہذا اسی لیے اس کا نام بھی نہیں رکھا جاتا، اس کو غسل بھی نہیں دیا جاتا، اس کی نمازِ جنازہ بھی نہیں پڑھی جاتی اور یہ وراثت کا مستحق بھی نہیں ہوتا، اسی طرح وصیت کا مستحق بھی نہیں ہوتا اور آزاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ آزاد تو زندہ آدمی ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ جو بچہ مردہ پیدا ہوا ہے یہ غیروں کے حق میں بچہ ہے اور اپنے حق میں بچہ نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ایک بچہ ہے جو پیدائش کے بعد مرتا ہے اس کا یہ حکم نہیں ہے، جو پیدائش کے بعد مرا ہے یعنی پیدائش کے وقت وہ رویا اس کی زندگی کا پتہ چلا اور پھر وہ مر گیا تو وہ اس کی طرح نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کا تو نام بھی رکھا جائے گا، اس کو تو غسل بھی دیا جائے گا، اس کی تو نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی بھئی۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَهُوَ حُرٌّ، فَوَلَدَتْ وَلَدًا مَيْتًا ثُمَّ آخَرَ حَيًّا عَتَقَ الْحَيُّ وَحْدَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنی باندی سے کہا کہ جب تو بچے کو جنم دے تو وہ آزاد ہے، پھر اس باندی نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا تو صاحبین فرماتے ہیں قسم کھل گئی ختم ہو گئی، اب اس کے بعد اس باندی نے دوسرے بچے کو جنم دیا تو وہ آزاد نہیں ہو گا۔ وہ آزاد نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ جب پہلی مرتبہ اس نے بچے کو جنم دیا تو اس بچے نے آزاد ہونا تھا لیکن وہ تو مردہ تھا وہ تو آزادی کا اہل ہی نہیں تھا لہذا وہ قسم ویسے ہی کھل گئی، وہ قسم ویسے ہی کھل گئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے اور پھر خاوند نے بیوی کو ویسے ہی طلاق دے دی، اب وہ طلاق معلق ہے اور اس نے دوسری طلاق دے دی اور عورت نے عدت گزار لی خاوند سے جدا ہو گئی، اس کے بعد اب یہ اس گھر میں گئی، اب وہ طلاق واقع تو ہوئی لیکن یہ عورت تو اس کا محل ہی نہیں ہے یہ تو خاوند سے جدا ہو چکی ہے لہذا وہ طلاق لغو چلی جائے گی یعنی وہ قسم کھل گئی، جزا کے بغیر ہی قسم کھل گئی، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے یہ باندی اگر زندہ بچے کو جنم دیتی تو وہ آزاد ہو جاتا لیکن جب مردہ بچے کو جنم دیا ہے تو قسم ویسے ہی کھل گئی، قسم ویسے ہی کھل گئی پوری ہو گئی لہذا دوسرے بچے کو جنم دے گی تو وہ آزاد نہیں ہو گا۔ پہلے بچے نے ہی آزاد ہونا تھا لیکن وہ تو مردہ تھا، یہ صاحبین فرماتے ہیں، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں یہاں پر پہلا بچہ مردہ پیدا ہوا ہے لہذا اگلے بچے کو جب وہ جنم دے گی تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ اور اگر آقا نے کہا: إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَهُوَ حُرٌّ کہ جب تو بچے کو جنم دے تو وہ آزاد ہے، فَوَلَدَتْ وَلَدًا مَيْتًا ثُمَّ آخَرَ حَيًّا تو پھر اس نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا پھر اس کے بعد دوسرے بچے کو جنم دیا جو زندہ تھا، عَتَقَ الْحَيُّ وَحْدَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو یہ زندہ جو ہے اکیلا یہ آزاد ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ وَقَالَا: لَا يَعْتِقُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا، اور صاحبین فرماتے ہیں دونوں میں سے ایک بھی آزاد نہیں ہو گا، لِأَنَّ الشَّرْطَ قَدْ تَحَقَّقَ بِوِلَادَةِ الْمَيِّتِ عَلَى مَا بَيَّنَّا، اس لیے کیونکہ شرط پائی گئی ہے مردہ بچے کی پیدائش کی وجہ سے علی ما بینا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ یہ بھی بچہ ہی ہے، فَيَنْحَلُّ الْيَمِينُ لَا إِلَى جَزَاءٍ، تو یہ قسم کھل گئی بغیر جزا کے ہی، تو قسم کھل گئی لا الی جزا غیرِ جزا کی طرف یعنی جزا کے بغیر ہی، لِأَنَّ الْمَيْتَ لَيْسَ بِمَحَلٍّ لِلْحُرِّيَّةِ اس لیے کیونکہ مردہ بچہ جو ہے وہ تو آزادی کا محل نہیں ہے، وَهِيَ الْجَزَاءُ اور حال یہ ہے کہ جزا تو یہ حریت ہی ہے تو یہ واقع نہیں ہو سکتی۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ مُطْلَقَ اسْمِ الْوَلَدِ مُقَيَّدٌ بِوَصْفِ الْحَيَاةِ، امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس نے مطلق بچے کو ذکر کیا تھا کہ جب تو بچے کو جنم دے تو وہ بچہ آزاد ہے، تو آقا نے مطلق بچے کو ذکر کیا لیکن مراد زندہ بچہ ہے، مراد زندہ بچہ ہے، کیوں؟ کیونکہ آقا کی مراد ایسا بچہ ہے جس میں وصفِ حریت کو ثابت کیا جا سکے اور وصفِ حریت تو زندہ بچے میں ثابت کیا جا سکتا ہے مردہ بچے میں ثابت نہیں کیا جا سکتا، تو آقا نے مطلق بچے کو ذکر کیا لیکن مراد زندہ بچہ ہے کہ جس کے اندر وصفِ حریت کو ثابت کیا جا سکے، اور پہلا بچہ جب پیدا ہوا وہ تو مردہ تھا تو ابھی بھی شرط نہیں پائی گئی، لہذا جب دوسرے بچے کو جنم دے گی تو وہ زندہ ہے اب شرط پوری ہو گئی تو اب جزا بھی واقع ہو جائے گی اور یہ بچہ آزاد ہو جائے گا۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ مُطْلَقَ اسْمِ الْوَلَدِ مُقَيَّدٌ بِوَصْفِ الْحَيَاةِ کہ بچے کا مطلق اسم جو ہے وہ مقید ہے زندگی کے وصف کے ساتھ، أَنَّ مُطْلَقَ اسْمِ الْوَلَدِ کہ مطلق بچے کا نام جو ہے یعنی مطلق بچہ اس نے جو ذکر کیا تھا مُقَيَّدٌ بِوَصْفِ الْحَيَاةِ یہ زندگی کے وصف کے ساتھ مقید ہے کہ زندہ بچہ ہو، لِأَنَّهُ قَصَدَ إِثْبَاتَ الْحُرِّيَّةِ جَزَاءً اس لیے کیونکہ کہنے والے نے ارادہ کیا ہے آزادی کو ثابت کرنے کا جزاءً بطورِ جزا کے، وَهِيَ قُوَّةٌ حُكْمِيَّةٌ تَظْهَرُ فِي دَفْعِ تَسَلُّطِ الْغَيْرِ، بھئی آزادی کسے کہتے ہیں؟ آزادی اسے کہتے ہیں کہ انسان کے اندر قوتِ حکمیہ آ جاتی ہے، اس کو وہ تصرفات حاصل ہو جاتے ہیں جو پہلے اس کو حاصل نہیں تھے، غلام نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے نہ تجارت کر سکتا ہے، نہ وہ گواہ بن سکتا ہے نہ وہ قاضی بن سکتا ہے لیکن جب وہ آزاد ہو گا تو اس کے اندر ان سب چیزوں کی قوت آ جائے گی، تو لہذا آزادی قوتِ حکمیہ کا نام ہے، قوتِ حکمیہ یعنی غلام کے اندر قوت کے آنے کا حکم لگا دیا جائے گا تو یہ قوتِ حکمیہ ہے بھئی، اور یہ کس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ غیر کا قبضہ اس آدمی پر سے ختم ہو جاتا ہے، مالک کا قبضہ اس غلام پر سے ختم ہو جاتا ہے پھر ہی آزادی ثابت ہوتی ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ وَهِيَ قُوَّةٌ حُكْمِيَّةٌ، اور یہ جو آزادی ہے یہ ایسی قوتِ حکمیہ ہے، تَظْهَرُ فِي دَفْعِ تَسَلُّطِ الْغَيْرِ، جو ظاہر ہوتی ہے غیر کے قبضے کو دور کرنے میں، غیر کا قبضہ اس غلام پر سے ختم ہو جاتا ہے، تسلط کہتے ہیں قبضے کو۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَهِيَ قُوَّةٌ حُكْمِيَّةٌ اور یہ آزادی جو ہے قوتِ حکمیہ ہے، قوتِ حکمیہ سمجھ میں آیا؟ آزاد کرنے سے کوئی غلام میں حقیقت کے اندر طاقت اور قوت نہیں آ جائے گی بلکہ قوت کے آنے کا حکم لگ جائے گا اب وہ ہر طرح کے تصرفات کر سکتا ہے، تو یہ قوتِ حکمیہ ہے، قوتِ حقیقیہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهِيَ قُوَّةٌ حُكْمِيَّةٌ تَظْهَرُ فِي دَفْعِ تَسَلُّطِ الْغَيْرِ اور یہ جو آزادی ہے یہ ایسی حکمی قوت ہے جو ظاہر ہوتی ہے غیر کے قبضے کو دور کرنے میں، وَلَا تَثْبُتُ فِي الْمَيِّتِ اور یہ آزادی ثابت نہیں ہوتی مردہ میں، فَيَتَقَيَّدُ بِوَصْفِ الْحَيَاةِ تو یہ بچہ بھی مقید ہو گا زندگی کے وصف کے ساتھ۔ آقا نے تو مطلق بچہ ذکر کیا لیکن زندہ بچہ مراد ہو گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں اس کی نظیر، اسی مسئلے کی نظیر جو ہے یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے: إِنْ ضَرَبْتَ فُلَانًا فَعَبْدِي حُرٌّ، اگر تو نے فلاں کی پٹائی کی تو میرا غلام آزاد ہے، اگر تو نے فلاں کی پٹائی کی تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب وہ فلاں مر گیا، وہ آدمی گیا اور مردہ کی پٹائی کر دی، تو کہتے ہیں غلام آزاد نہیں ہو گا کیونکہ ضرب کو ذکر کیا ہے اور ضرب کسے کہتے ہیں؟ جس میں دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے، اور وہ تکلیف تو زندہ کو ہوتی ہے مردہ کو تو نہیں ہوتی، لہذا اس نے اگرچہ مطلق اس آدمی کی پٹائی ذکر کی تھی لیکن مراد زندہ آدمی کی پٹائی تھی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں بھی مطلق بچہ ذکر کیا ہے لیکن مراد زندہ بچہ ہے تاکہ اس میں آزادی کا وصف پیدا ہو سکے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: فَيَتَقَيَّدُ بِوَصْفِ الْحَيَاةِ، فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا حَيًّا، تو یہ بچہ جو ہے زندگی کے وصف کے ساتھ مقید ہو گا تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے آقا نے کہا ہو: إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا حَيًّا جب تو زندہ بچے کو جنم دے تو وہ آزاد ہے، تو یہ اسی طرح ہو گیا۔ بِخِلَافِ جَزَاءِ الطَّلَاقِ وَحُرِّيَّةِ الْأُمِّ، بخلاف اس کے بھئی اوپر جو مسئلہ ذکر کیا تھا کہ بیوی کو کہا اگر تو نے بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے، یا باندی سے کہا تو نے اگر بچے کو جنم دیا تو تو آزاد ہے، وہاں وہ مردہ بچے کو بھی جنم دیں گی تو بیوی کو طلاق ہو جائے گی اور باندی آزاد ہو جائے گی، وجہ یہ کہ طلاق اور امِ ولد کی آزادی وہ بچے کے زندہ ہونے کا تقاضا نہیں کرتیں بھئی۔ بچے کی آزادی تو اس کے زندہ ہونے کا تقاضا کرتی ہے لیکن بیوی کی طلاق اور امِ ولد کی آزادی یہ بچے کی آزادی کا تقاضا نہیں کرتی لہذا وہاں مطلق بچہ ذکر کیا تو مطلق بچہ ہی مراد ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ جَزَاءِ الطَّلَاقِ وَحُرِّيَّةِ الْأُمِّ بخلاف جو ہے طلاق اور امِ ولد کی آزادی کی جو جزا ہے وہ اس کے برخلاف ہے، لِأَنَّهُ لَا يَصْلُحُ مُقَيِّدًا اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ مقید بن جائے قسم کے لیے، قسم کے لیے مقید بن جائے، یہ نہ طلاق اس کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ امِ ولد کی آزادی۔ وَإِذَا قَالَ: أَوَّلُ عَبْدٍ أَشْتَرِيهِ فَهُوَ حُرٌّ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ پہلا غلام جسے میں خریدوں تو وہ آزاد ہے، پھر اس نے ایک غلام خریدا تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ غلام آزاد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا کہ پہلا غلام جسے میں خریدوں یعنی اول کا لفظ عربی میں ذکر کیا تھا، اور اول اسے کہتے ہیں جو اکیلا بھی ہو اس کے ساتھ کوئی اور نہ ہو اور نیز اس پر کوئی مقدم بھی نہ ہو، اور یہ جو اس نے پہلا غلام خریدا یہ بھی ایسا ہی تھا، یہ اکیلا بھی تھا اور اس سے پہلے کوئی اور غلام بھی اس نے نہیں خریدا تھا، تو اس میں یہ شرط پائی گئی تو یہ آزاد ہو جائے گا۔ وَإِذَا قَالَ: أَوَّلُ عَبْدٍ أَشْتَرِيهِ فَهُوَ حُرٌّ، اور جب آقا نے کہا کہ پہلا غلام جسے میں خریدوں تو وہ آزاد ہے، فَاشْتَرَى عَبْدًا عَتَقَ، تو آقا نے ایک غلام خریدا عتق تو یہ غلام آزاد ہو جائے گا، لِأَنَّ الْأَوَّلَ اسْمٌ لِفَرْدٍ سَابِقٍ اس لیے کیونکہ اول جو ہے وہ اسم ہے لِفَرْدٍ سَابِقٍ اس چیز کا جو فرد ہو یعنی اکیلی ہو اور سابق جو مقدم ہو یعنی کوئی اس پر مقدم نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَوَّلَ اسْمٌ لِفَرْدٍ سَابِقٍ اس لیے کیونکہ اول جو ہے یہ نام ہے اس مفرد کا جو مقدم ہو۔ فَإِنِ اشْتَرَى عَبْدَيْنِ مَعًا ثُمَّ آخَرَ، دوسری صورت: ایک آدمی نے کہا جو میں پہلا غلام خریدوں وہ آزاد ہے، اس نے پھر دو اکٹھے غلام خریدے، تو کہتے ہیں ایک بھی آزاد نہیں ہو گا کیونکہ اس نے اول کہا تھا اور اول اسے کہتے ہیں جو اکیلا بھی ہو اور اس پر کوئی مقدم بھی نہ ہو۔ تو یہاں ان پر کوئی مقدم نہیں ایک شرط تو پوری ہے لیکن دوسری شرط کہ اکیلا ہو وہ شرط پوری نہیں لہذا یہ آزاد نہیں ہوں گے۔ اور پھر ان دو کے بعد اس نے ایک تیسرا غلام الگ خریدا، کہتے ہیں وہ بھی آزاد نہیں ہو گا کیونکہ وہاں بھی دونوں شرطوں میں سے ایک پوری نہیں ہے، ایک شرط تو پوری ہے وہ اکیلا ہے اس کو اکیلا خریدا ہے لیکن دوسری شرط کہ اس پر کوئی مقدم نہ ہو وہ شرط پوری نہیں ہے، اس ایک پر پہلے دو مقدم ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنِ اشْتَرَى عَبْدَيْنِ مَعًا ثُمَّ آخَرَ، اور اگر اس نے دو اکٹھے غلام خریدے پھر ایک اور غلام خریدا، لَمْ يَعْتِقْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ تو ان میں سے ایک بھی آزاد نہیں ہو گا، لِانْعِدَامِ التَّفَرُّدِ فِي الْأَوَّلَيْنِ اس وجہ سے کہ اکیلا ہونا معدوم ہے پہلے دو غلاموں میں، وَالسَّبْقِ فِي الثَّالِثِ اور مقدم ہونا تیسرے میں معدوم ہے، فَانْعَدَمَتِ الْأَوَّلِيَّةُ تو اول ہونا معدوم ہو گیا، کسی میں بھی اول ہونے کی صفت نہیں تو وہ آزاد نہیں ہو گا۔ وَإِنْ قَالَ: أَوَّلُ عَبْدٍ أَشْتَرِيهِ وَحْدَهُ فَهُوَ حُرٌّ، ہاں اگر اس نے یہ کہا تھا کہ پہلا غلام جسے میں اکیلا خریدوں تو وہ آزاد ہے، پہلا غلام جسے میں اکیلا خریدوں تو وہ آزاد ہے، تو اس صورت میں وہ تیسرا غلام آزاد ہو گا، پہلے دو کو تو اکٹھا خریدا تھا اور تیسرا جو ہے وہ پہلا غلام ہے جس کو اس نے اکیلا خریدا ہے تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَالَ: أَوَّلُ عَبْدٍ أَشْتَرِيهِ وَحْدَهُ فَهُوَ حُرٌّ عَتَقَ الثَّالِثُ، اور اگر اس نے کہا کہ وہ پہلا غلام جسے میں اکیلا خریدوں تو وہ آزاد ہے عتق الثالث تو تیسرا غلام آزاد ہو جائے گا، لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ التَّفَرُّدُ فِي حَالَةِ الشِّرَاءِ اس لیے کیونکہ اس سے مراد جو ہے خریدنے کی حالت میں اکیلا ہونا ہے، لِأَنَّ وَحْدَهُ لِلْحَالِ لُغَةً اس لیے کیونکہ وحدہ کا لفظ حال کے لیے آتا ہے لغت یعنی عربی زبان کے اعتبار سے، وَالثَّالِثُ سَابِقٌ فِي هَذَا الْوَصْفِ اور تیسرا غلام جو ہے وہ سابق ہے اس وصف میں، اس وصف میں یعنی جس کو پہلی مرتبہ اکیلا خریدے تو یہ تیسرا غلام بھی وہ بھی ایسا غلام ہے جس کو پہلی مرتبہ اکیلا خریدا ہے تو یہ معنی ہے: وَالثَّالِثُ سَابِقٌ فِي هَذَا الْوَصْفِ اور تیسرا جو ہے وہ اس وصف کے اندر مقدم ہے۔ وَإِنْ قَالَ: آخِرُ عَبْدٍ أَشْتَرِيهِ فَهُوَ حُرٌّ، وَإِنْ قَالَ آخِرُ، خا پر زیر پڑھیے گا بھئی یہاں، وَإِنْ قَالَ: آخِرُ عَبْدٍ أَشْتَرِيهِ فَهُوَ حُرٌّ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے کہا کہ میں جو آخری غلام خریدوں تو وہ آزاد ہے۔ میں جو آخری غلام خریدوں تو وہ آزاد ہے، پھر اس آدمی نے ایک غلام خریدا اور پھر اس آدمی کا انتقال ہو گیا، تو کہتے ہیں یہ غلام آزاد نہیں ہو گا کیونکہ آخری اس کو کہتے ہیں جس پر کوئی اور بھی مقدم ہو، اور یہ تو ایک ہی غلام خریدا ہے اس پر کوئی اور مقدم نہیں ہے لہذا یہ آزاد نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَالَ: آخِرُ عَبْدٍ أَشْتَرِيهِ فَهُوَ حُرٌّ فَاشْتَرَى عَبْدًا وَمَاتَ لَمْ يَعْتِقْ، کہ آخری غلام جس کو میں خریدوں تو وہ آزاد ہے، پھر اس نے غلام خریدا اور آقا مر گیا تو یہ غلام آزاد نہیں ہو گا، لِأَنَّ الْآخِرَ اسْمٌ لِفَرْدٍ لَاحِقٍ اس لیے کیونکہ آخر جو ہے وہ اسم ہے لِفَرْدٍ لَاحِقٍ اس مفرد کا جو بعد میں آئے، اس مفرد کا جو لاحق ہو، جو کسی کے بعد آئے یعنی اس پر کسی نہ کسی کو مقدم ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْآخِرَ اسْمٌ لِفَرْدٍ لَاحِقٍ اس لیے کیونکہ آخر جو ہے یہ نام ہے اس مفرد کا جو لاحق ہو یعنی جو بعد میں ہو، وَلَا سَابِقَ لَهُ اور حال یہ ہے کہ اس غلام پر تو کوئی سابق نہیں تھا لہذا یہ آزاد نہیں ہے۔ اس پر کوئی سابق ہوتا تو یہ لاحق بھی بن جاتا لیکن اس پر تو کوئی سابق ہی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا سَابِقَ لَهُ اور یہ جو اس نے غلام خریدا تھا ایک ہی غلام اس پر تو کوئی سابق نہیں تھا، فَلَا يَكُونُ لَاحِقًا تو یہ لاحق نہ ہوا، جب لاحق نہیں تو آزاد بھی نہیں۔ وَلَوِ اشْتَرَى عَبْدًا ثُمَّ عَبْدًا ثُمَّ مَاتَ، اسی میں دوسری صورت: ایک آدمی نے کہا وہ آخری غلام جو میں خریدوں تو وہ آزاد ہے، اس نے پھر ایک غلام خریدا پھر کچھ مدت کے بعد دوسرا غلام خریدا اور پھر اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا، تو کہتے ہیں یہ دوسرا غلام آزاد ہو جائے گا، یہ دوسرا غلام آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ آخری ہے اور آخری کسے کہتے ہیں جس پر کوئی اور بھی مقدم ہو اور اس پر ایک غلام پہلے مقدم ہو چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوِ اشْتَرَى عَبْدًا ثُمَّ عَبْدًا ثُمَّ مَاتَ عَتَقَ الْآخَرُ، اور اگر اس آقا نے ایک غلام خریدا پھر دوسرا غلام خریدا پھر آقا مر گیا عتق الآخر تو دوسرا غلام آزاد ہو جائے گا، لِأَنَّهُ فَرْدٌ لَاحِقٌ فَتَّصَفَ بِالْآخِرِيَّةِ اس لیے کیونکہ وہ ایسا فرد ہے جو لاحق ہے، وہ ایسا مفرد ہے جو لاحق ہے جو بعد والا ہے تو یہ آخری ہونے کے ساتھ متصف ہو گیا۔ اب اس میں اختلاف ہے کہ اس کی آزادی کب سے شمار کی جائے گی؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ آقا کی موت کے وقت پتہ چلا یہ آخری ہے ورنہ تو پہلے احتمال تھا آقا کوئی اور بھی خرید لے، لیکن آقا کی موت کے وقت پتہ چلا کہ یہی آخری غلام ہے تو موت کے وقت یہ آزاد ہو گا، اور موت کے وقت جب یہ آزاد ہو رہا ہے تو پھر لہذا اس کا حکم وصیت والا ہو گا اور وصیت جو ہے ثلث مال میں سے نافذ ہوتی ہے، تو یہ بھی ثلث مال میں سے اگر آزاد ہو سکتا ہے تو آزاد ہو جائے گا اور اگر ثلث سے زائد ہے اس کی قیمت تو پھر اس صورت میں باقی کے اندر اس کو سعی کرنا پڑے گی وہ پیسے کما کر لا کر وارثوں کو ادا کرے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ جس دن آقا نے خریدا تھا اس دن سے اس کو آزاد شمار کیا جائے گا۔ آقا جب مرا تب پتہ چلا کہ یہ جو دوسرا غلام تھا یہ آخری ہے، تب تو صرف پتہ چلا ہے لیکن آخری ہونے کا وصف تو خریدتے وقت ہی ثابت ہو گیا تھا، ہمیں اج پتہ چلا جب آقا مرا کہ یہ آخری ہے لیکن آخری کب سے بن گیا تھا یہ؟ جب آقا نے خریدا تھا، تو اس آزادی کی نسبت اس وقت کی طرف نہیں کریں گے اسی خریدنے کے وقت کی طرف کریں گے کیونکہ یہ آخری غلام تھا بھئی، تو لہذا یہ اسی وقت سے آزاد شمار کیا جائے گا، اور جب یہ اسی وقت سے آزاد شمار ہے تو اس کا حکم وصیت والا نہیں ہے، یہ موت کے وقت نہیں آزاد ہو رہا، تو جب اس کا حکم وصیت والا نہیں ہے تو یہ سارے مال میں سے ہی آزاد ہو جائے گا یعنی اس پر کوئی سعی وغیرہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيَعْتِقُ يَوْمَ اشْتَرَاهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہ آزاد ہو جائے گا اس دن جس دن اس کو خریدا تھا امام صاحب کے نزدیک، یعنی جب آقا مر گیا تب ہمیں پتہ چلا لیکن اس آزادی کی نسبت اس خریدنے کے وقت کی طرف کی جائے گی، اس وقت سے ہی اس کو آزاد شمار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَيَعْتِقُ يَوْمَ اشْتَرَاهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ حَتَّى يُعْتَبَرَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ، اور یہ آزاد ہو جائے گا جس دن اس کو خریدا تھا امام صاحب کے نزدیک حتیٰ یعتبر من جمیع المال یہاں تک کہ اس کا اعتبار کیا جائے گا سارے مال میں سے، یعنی اس پر سعی وغیرہ نہیں ہو گی، یہ چاہے سارا مال یہی غلام کیوں نہ ہو پھر بھی یہ آزاد ہو گا بغیر سعی کے۔ اور حَتَّى يُعْتَبَرَ یہاں پر بھی حتیٰ نصب نہیں دے گا کیونکہ حتیٰ کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى يُعْتَبَرَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ یہاں تک کہ یہ سارے مال میں سے معتبر ہو گا، وَقَالَا يَعْتِقُ يَوْمَ مَاتَ حَتَّى يُعْتَبَرَ مِنَ الثُّلُثِ، اور صاحبین فرماتے ہیں یہ آزاد ہو گا جس دن آقا مرا ہے حتیٰ یعتبر من الثلث یہاں تک کہ یہ ثلث میں سے معتبر ہو گا، لِأَنَّ الْآخِرِيَّةَ لَا تَثْبُتُ إِلَّا بِعَدَمِ شِرَاءِ غَيْرِهِ بَعْدَهُ، صاحبین کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کے آخری ہونے کا پتہ آقا کے مرنے سے چلا، کہ جب آقا مر گیا اب پتہ چلا کہ اس کے بعد تو آقا کوئی اور غلام نہیں خرید سکتا تو اس لیے آخری ہونے کا وصف آقا کے مرنے پر اس میں ثابت ہوا، جب آقا کے مرنے پر اس میں آخری ہونے کا وصف ثابت ہوا تو اسی وقت ہی یہ آزاد ہو گا خریدتے وقت اس کو آزاد شمار نہیں کیا جائے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْآخِرِيَّةَ لَا تَثْبُتُ إِلَّا بِعَدَمِ شِرَاءِ غَيْرِهِ بَعْدَهُ وَذَلِكَ يَتَحَقَّقُ بِالْمَوْتِ فَكَانَ الشَّرْطُ مُتَحَقِّقًا عِنْدَ الْمَوْتِ فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ، اس لیے کیونکہ آخری ہونا وہ ثابت نہیں ہوتا مگر بعد اس کے کہ جب اس کے بعد کسی اور کو نہ خریدا ہو، آخری ہونا اسی وقت ثابت ہو گا جب اس کے بعد کسی اور کو نہ خریدا ہو، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْآخِرِيَّةَ لَا تَثْبُتُ إِلَّا بِعَدَمِ شِرَاءِ غَيْرِهِ بَعْدَهُ اس لیے کیونکہ آخری ہونا یہ ثابت نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے بعد کسی اور کو نہ خریدا ہو، وَذَلِكَ يَتَحَقَّقُ بِالْمَوْتِ اور یہ کسی اور کو اس کے بعد نہ خریدنا یہ ثابت ہوتا ہے موت کے ذریعے، آقا جب مر گیا اب ثابت ہوا کہ اس کے بعد وہ کسی اور کو نہیں خرید سکتا، تو کہتے ہیں: وَذَلِكَ يَتَحَقَّقُ بِالْمَوْتِ اور یہ آخری ہونا موت سے ثابت ہوتا ہے، فَكَانَ الشَّرْطُ مُتَحَقِّقًا عِنْدَ الْمَوْتِ تو یہ شرط ثابت ہوئی موت کے وقت، فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ لہذا یہ آزادی بھی موت پر ہی بند ہو گی یعنی موت کے وقت میں ہی وہ آزاد ہو گا بھئی۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الْمَوْتَ مُعَرِّفٌ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ موت پہچان کروانے والی ہے کہ یہ آخری ہے لیکن آخری ہونا خریدنے سے ہی ثابت ہو گیا تھا، ہاں موت نے صرف پہچان کروائی ہے تو امام صاحب فرماتے ہیں: أَنَّ الْمَوْتَ مُعَرِّفٌ کہ موت جو ہے اس کے آخری ہونے کی پہچان کروانے والی ہے، فَأَمَّا اتِّصَافُهُ بِالْآخِرِيَّةِ فَمِنْ وَقْتِ الشِّرَاءِ فَيَثْبُتُ مُسْتَنِدًا، باقی اس شخص کا آخری ہونے کے ساتھ متصف ہونا وہ خریدنے کے وقت سے ہی ہے تو یہ آخری ہونا اسی وقت کی طرف منسوب ہو کر ثابت ہو گا، فَيَثْبُتُ مُسْتَنِدًا تو یہ آخری ہونا ثابت ہو گا مستنداً اسی خریدنے کے وقت کی طرف منسوب ہو کر۔ وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ تَعْلِيقُ الطَّلَقَاتِ الثَّلَاثِ بِهِ، اور اسی اختلاف پر ہے تین طلاقوں کو معلق کرنا آخری ہونے کے وصف کے ساتھ۔ بھئی ایک آدمی کہتا ہے کہ میری جو بیوی آخری ہے اس کو میری طرف سے تین طلاقیں ہیں۔ اب یہ جب خاوند مرے گا تب پتہ چلے گا کہ کون سی بیوی آخری ہے، تو لہذا صاحبین فرماتے ہیں موت کے وقت ہی تین طلاقیں واقع ہوں گی کیونکہ آخری ہونے کا پتہ موت سے چلا، تو لہذا موت کے وقت وہ آخری بیوی جو ہے اس کو طلاق ہو جائے گی، اور موت کے وقت یہ بیوی کو طلاق دے رہا ہے معلوم ہوا یہ رجلِ فار ہے، یہ بیوی کو اپنا وارث نہیں بنانا چاہتا اس سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ رجلِ فار جو ہے اس کی بیوی وارثہ بنتی ہے بھئی، عدت کے اندر اگر اس کا انتقال ہو جائے تو بیوی وارثہ بنتی ہے لہذا یہاں اس کی بیوی وارثہ بنے گی بھئی۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک یہ جو تین طلاقیں ہیں یہ اس آخری نکاح کے وقت سے ہی شمار ہوں گی، موت سے صرف ہمیں پہچان ہوئی ہے کہ یہ والی آخری بیوی ہے، آخری ہونا تو اس نکاح کے وقت ہی ثابت ہو گیا تھا کہ یہ آخری بیوی ہے تو لہذا یہ رجلِ فار نہیں، جب رجلِ فار نہیں تو لہذا یہ بیوی اس کی وارثہ نہیں بنے گی۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ تَعْلِيقُ الطَّلَقَاتِ الثَّلَاثِ بِهِ اور اسی اختلاف پر ہے تین طلاقوں کو اس آخری ہونے کے وصف کے ساتھ معلق کرنا، وَفَائِدَتُهُ تَظْهَرُ فِي جَرَيَانِ الْإِرْثِ وَعَدَمِهِ اور اس کا فائدہ ظاہر ہو گا وراثت کے جاری ہونے اور نہ جاری ہونے میں۔ امام صاحب کے نزدیک وراثت جاری نہیں ہو گی کیونکہ یہ رجلِ فار نہیں ہے اور صاحبین کے نزدیک یہ رجلِ فار ہے لہذا وراثت جاری ہو گی، تو یہ معنی ہے: وَفَائِدَتُهُ تَظْهَرُ فِي جَرَيَانِ الْإِرْثِ وَعَدَمِهِ اور اس کا فائدہ ظاہر ہو گا وراثت کے جاری ہونے اور نہ جاری ہونے میں۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ: كُلُّ عَبْدٍ بَشَّرَنِي بِوِلَادَةِ فُلَانَةَ فَهُوَ حُرٌّ۔ بھئی میری کتاب میں ہے بِوِلَادَةِ فُلَانَةٍ بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ فلانۃ کا لفظ جب اس کے ساتھ گول تا جڑی ہوئی ہو تو یہ غیر منصرف ہے بھئی، ایک اس میں تانیث ہے اور دوسرا علمیت ہے کیونکہ یہ کسی معین کے لیے استعمال ہوتا ہے تو یہ علم کے درجے میں ہے بھئی، اور میں نے حوالہ بھی ذکر کیا تھا کہ علامہ رضی نے جو کافیہ کی شرح لکھی ہے تو کافیہ کے اندر جہاں معرفہ اور نکرہ کی بحث شروع ہوتی ہے تو جب جہاں معرفہ کا وہ بیان کرتے ہیں تو وہیں پر علامہ رضی شرح کے اندر اس فلان اور فلانۃ کو ذکر کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی معرفہ ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ كُلُّ عَبْدٍ بَشَّرَنِي بِوِلَادَةِ فُلَانَةَ فَهُوَ حُرٌّ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے کہا کہ ہر ایسا غلام جو مجھے فلانی کے بچے کو جنم دینے کی خوشخبری دے گا تو وہ آزاد ہے، میرا جو بھی غلام مجھے فلانی کے بچے کے جنم دینے کی خوشخبری دے گا تو وہ آزاد ہے، تو پھر تین غلاموں نے اس کو اطلاع دی اس کو خبر دی لیکن الگ الگ، پہلے ایک آیا پھر دوسرا آیا اور پھر تیسرا، تو کہتے ہیں صرف پہلا آزاد ہو گا اس نے خوشخبری دی ہے اس کو بشارت کہتے ہیں عربی زبان میں اور بعد والے آزاد نہیں ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ كُلُّ عَبْدٍ بَشَّرَنِي بِوِلَادَةِ فُلَانَةَ فَهُوَ حُرٌّ کہ ہر وہ غلام جو مجھے فلانی کے بچے کو جنم دینے کی خوشخبری دے فھو حر تو وہ آزاد ہے، فَبَشَّرَهُ ثَلَاثَةٌ مُتَفَرِّقِينَ عَتَقَ الْأَوَّلُ، فبشرہ ثلاثۃ تو اس کو تین غلاموں نے خوشخبری دی متفرقین اس حال میں کہ وہ متفرق تھے الگ الگ آئے تھے، عتق الاول تو پہلا غلام آزاد ہو جائے گا، لِأَنَّ الْبِشَارَةَ اسْمٌ لِخَبَرٍ يُغَيِّرُ بَشَرَةَ الْوَجْهِ، لِأَنَّ الْبِشَارَةَ بشارت کسے کہتے ہیں عربی زبان میں؟ یاد رکھو بشارت خوشخبری، اس خبر کو کہتے ہیں جو انسان کے چہرے کی جلد کو بدل دے، انسان کے چہرے کی جلد کو بدل دے، اس چہرے کی کھال کو بدل دے، اور یہ دونوں چیزوں کو شامل ہے: چاہے اچھی خبر ہو پھر بھی خوشی کے اثار آ جاتے ہیں چہرے پر، اور بری خبر ہو تو برے اثار آ جاتے ہیں چہرے پر، لیکن عرف کے اندر اب یہ خاص ہے خوشی والی خبر کے ساتھ، بری خبر کو بشارت نہیں کہتے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْبِشَارَةَ اسْمٌ لِخَبَرٍ اس لیے کیونکہ بشارت وہ نام ہے ایسی خبر کا يُغَيِّرُ بَشَرَةَ الْوَجْهِ، بشرہ کہتے ہیں چہرے کی جلد کو، یغیر بشرۃ الوجہ ایسی خبر جو چہرے کی جلد کو بدل دے، وَيُشْتَرَطُ كَوْنُهُ سَارًّا بِالْعُرْفِ اور شرط ہے اس خبر کا کہ یہ خوشی والی ہونا بالعرف عرف کی وجہ سے، سار بھئی یہ اسمِ فاعل ہے: سَرَّ يَسُرُّ سُرُورًا اور اس میں فاعل کیا ہے؟ سَارٌّ خوش کرنے والا، وَيُشْتَرَطُ كَوْنُهُ سَارًّا بِالْعُرْفِ اور شرط ہے اس خبر کا کہ یہ خوشی دینے والی ہو بالعرف عرف کی وجہ سے، وَهَذَا إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ مِنَ الْأَوَّلِ اور یہ چیز پائی گئی صرف پہلے سے، یعنی صرف پہلے غلام نے جب خبر دی تو اس وقت یہ صفت پائی گئی کہ اس کے چہرے پر خوشی کے اثار آ گئے، چہرے کی کھال بدل گئی، جبکہ بعد والوں میں یہ صفت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ مِنَ الْأَوَّلِ تو یہ بشارت جو ہے یہ پہلے غلام کی طرف سے ثابت ہوئی لہذا وہ آزاد ہو گا، وَإِنْ بَشَّرُوهُ مَعًا عَتَقُوا اور اگر ان تینوں غلاموں نے اس کو اکٹھی خوشخبری دی عتقوا تو تینوں آزاد ہو جائیں گے، لِأَنَّهَا تَحَقَّقَتْ مِنَ الْكُلِّ اس لیے کیونکہ بشارت پائی گئی ہر ایک کی طرف سے۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا فَهُوَ حُرٌّ فَاشْتَرَاهُ يَنْوِي بِهِ كَفَّارَةَ يَمِينِهِ لَمْ يُجْزِئْهُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے کہا: إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا فَهُوَ حُرٌّ اگر میں نے فلاں غلام کو خریدا تو وہ آزاد ہے، پھر اس کے بعد اس نے اس غلام کو خریدا اور نیت کی ہے کفارے کی کہ جیسے ہی میں خریدوں گا یہ آزاد ہو گا میری طرف سے تو میں کفارے کی نیت کرتا ہوں تاکہ میرا کفارہ ادا ہو جائے، تو فقہاء فرماتے ہیں اس صورت میں اس کا کفارہ ادا نہیں ہوا، اس کا کفارہ ادا نہیں ہوا بھئی، کیوں کفارہ کیوں نہیں ادا ہوا؟ اس کے خریدتے وقت ہی اس کی نیت تھی کہ یہ میں کفارے کی نیت سے آزاد کر رہا ہوں، کہتے ہیں بھئی دیکھیے یہ جو غلام ہے اس کو جیسے ہی یہ خریدے گا یہ آزاد ہو جائے گا، اور کیوں آزاد ہوا؟ کہ اس نے شروع میں کہا تھا: إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا فَهُوَ حُرٌّ، تو یہ جو فھو حر اس نے کہا تھا اس کی وجہ سے یہ آزاد ہو رہا ہے، یہ ہے اس آزادی کی علت، اور اس آزادی کی علت کے ساتھ اس نے کوئی کفارے کی نیت نہیں کی، جس وقت یہ لفظ اس نے کہے تھے اس وقت کفارے کی نیت نہیں تھی تو آزادی کی علت کے ساتھ کفارے کی نیت کا ہونا ضروری ہے، اور یہ جو خریدنا ہے یہ تو صرف شرط ہے، یہ تو کیا ہے: إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا یہ تو صرف کیا ہے؟ شرط ہے بھئی، تو شرط کے ساتھ نیت ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے علت کے ساتھ نیت کا ہونا ضروری ہے۔ پھر سنو مسئلہ: ایک آدمی نے ایک غلام کے بارے میں کہا کہ اگر میں نے فلاں غلام کو خریدا تو وہ آزاد ہے، بعد میں اس نے سوچا کہ میں اس کو خریدوں گا تو آزاد ہو جائے گا چلو میں خرید لیتا ہوں اور کفارے کی نیت کر لیتا ہوں، تو اس نے غلام کو خریدا خریدتے ہی آزاد ہو گیا تو فقہاء فرماتے ہیں کفارہ ادا نہیں ہوا، وجہ یہ کہ اس غلام کی آزادی وہ جو اس آدمی نے کہا تھا: إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا فَهُوَ حُرٌّ، یہ فھو حر سے یہ آزاد ہو رہا ہے، یہ علت ہے آزادی کی، تو علت کے ساتھ کفارے کی نیت ہونی چاہیے، اور یہاں جو اس نے نیت کی ہے وہ خریدنے کے ساتھ کی ہے اور خریدنا تو صرف شرط ہے: إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا خریدنا تو کیا تھا؟ شرط تھا، تو شرط کے ساتھ کفارے کی نیت ہو بھی تو اس کا اعتبار نہیں ہے بلکہ علت کے ساتھ علت کے ساتھ کفارے کی نیت ہونی چاہیے اور وہ تو نہیں پائی گئی لہذا یہ کفارے سے کافی نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا فَهُوَ حُرٌّ اور اگر کسی شخص نے کہا اگر میں نے فلاں کو خریدا تو وہ آزاد ہے، فَاشْتَرَاهُ يَنْوِي بِهِ كَفَّارَةَ يَمِينِهِ لَمْ يُجْزِئْهُ تو اس نے اس کو خرید لیا اس حال میں کہ یہ اس کے ذریعے کفارہ یمین کی نیت کر رہا ہے لم یجزئہ تو یہ اس کے لیے کافی نہیں یعنی اس سے کفارہ ادا نہیں ہو گا، لِأَنَّ الشَّرْطَ قِرَانُ النِّيَّةِ بِعِلَّةِ الْعِتْقِ اس لیے کیونکہ شرط جو ہے وہ نیت کا ملانا ہے آزادی کی علت کے ساتھ، وَهِيَ الْيَمِينُ اور آزادی کی علت کیا ہے؟ وہ یمین ہے وہ جو اس نے تعلیق کی تھی: إِنِ اشْتَرَيْتُ فُلَانًا فَهُوَ حُرٌّ، تو یہ یمین ہے آزادی کی علت بھئی اور اس کے ساتھ تو اس نے کفارے کی نیت نہیں کی تھی، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الشَّرْطَ قِرَانُ النِّيَّةِ بِعِلَّةِ الْعِتْقِ وَهِيَ الْيَمِينُ اس لیے کیونکہ شرط جو ہے وہ نیت کو ملانا ہے آزادی کی علت کے ساتھ اور آزادی کی علت وہ یمین ہے، فَأَمَّا الشِّرَاءُ فَشَرْطُهُ اور باقی شراء جو ہے وہ تو شرط ہے، وہ تو شرط کے طور پر ذکر کیا تھا تو یہ شراء شرط تھی تو شرط کے وقت یہ بے شک نیت کر رہا ہے لیکن اس کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔ وَإِنِ اشْتَرَى أَبَاهُ يَنْوِي عَنْ كَفَّارَةِ يَمِينِهِ أَجْزَأَهُ۔ صورت یہ: ایک آدمی نے اپنے باپ کو خریدا اور کفارے کی نیت کی تو کہتے ہیں کفارہ ادا ہو جائے گا کیونکہ اپنے قریبی عزیز کو خریدنا یہ اعتاق ہے، تو لہذا اس سے کفارہ ادا ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنِ اشْتَرَى أَبَاهُ يَنْوِي عَنْ كَفَّارَةِ يَمِينِهِ أَجْزَأَهُ عِنْدَنَا اور کسی نے اگر اپنے باپ کو خریدا اس حال میں کہ یہ نیت کرتا ہے اپنی قسم کے کفارے کی اجزاہ عندنا تو یہ اس کے لیے کفارے سے کافی ہے ہمارے نزدیک، خِلَافًا لِزُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ بخلاف امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے۔ لَهُمَا امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الشِّرَاءَ شَرْطُ الْعِتْقِ کہ خریدنا یہ تو آزادی کی شرط ہے، فَأَمَّا الْعِلَّةُ فَهِيَ الْقَرَابَةُ تو باقی علت جو ہے وہ قرابت ہے یعنی رشتہ داری ہے۔ تو علت جو ہے وہ رشتہ داری ہے، یہ اپنے باپ کو خرید رہا ہے اور وہ آزاد ہو رہا ہے تو آزادی کی علت رشتہ داری ہے اور خریدنا یہ شرط ہے۔ تو کہتے ہیں: لَهُمَا أَنَّ الشِّرَاءَ شَرْطُ الْعِتْقِ فَأَمَّا الْعِلَّةُ فَهِيَ الْقَرَابَةُ ان کی دلیل یہ ہے کہ خریدنا جو ہے آزادی کی شرط ہے تو علت جو ہے آزادی کی وہ رشتہ داری ہے، وہ رشتہ داری ہے۔ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا مذہب بیان ہو رہا ہے، ان کے نزدیک خریدنا آزادی کی شرط ہے اور علت وہ رشتہ داری ہے، اور اے احناف ابھی آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ شرط کے وقت کوئی نیت کر بھی لے تو اس کا اعتبار نہیں ہے علت کے وقت نیت ہونی چاہیے، تو لہذا یہ خریدتے ہوئے یہ کفارے کی نیت کر رہا ہے تو یہ تو شرط کے وقت نیت کر رہا ہے اور شرط کے وقت نیت کی جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، دلیل سمجھ میں آ گئی۔ تو لَهُمَا ان کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الشِّرَاءَ شَرْطُ الْعِتْقِ فَأَمَّا الْعِلَّةُ فَهِيَ الْقَرَابَةُ کہ خریدنا جو ہے آزادی کی شرط ہے تو علت جو ہے وہ رشتہ داری ہے، وَهَذَا لِأَنَّ الشِّرَاءَ إِثْبَاتُ الْمِلْكِ، اچھا بھئی یہ خریدنا آزادی نہیں ہے، خریدنا آزادی کی شرط ہے آزادی نہیں، یہ آزادی نہیں جبکہ آگے چل کر بتلائیں گے عِنْدَ الْأَحْنَافِ یہ خریدنا ہی اعتاق ہے۔ یہ خریدنا ہی اعتاق ہے لیکن امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ خریدنا اعتاق نہیں کیونکہ اعتاق اور خریدنے میں منافات ہے، اس لیے کیونکہ خریدنا جو ہے وہ اثباتِ ملکیت ہے، جب آپ کسی چیز کو خریدتے ہیں تو اس میں اپنی ملکیت ثابت کر دیتے ہیں، تو خریدنا اثباتِ ملکیت ہے اور اعتاق وہ ازالہِ ملکیت ہے ملکیت کو ختم کرنا، تو دونوں میں تو منافات ہے: خریدنے میں ہے اثباتِ ملک اور آزادی میں ہے ازالہِ ملک بھئی، تو یہ دونوں تو ایک دوسرے کی ضد ہیں منافات ہیں یہ دو چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں لہذا شراء کو اعتاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الشِّرَاءَ إِثْبَاتُ الْمِلْكِ وَالْإِعْتَاقُ إِزَالَتُهُ وَبَيْنَهُمَا مُنَافَاةٌ اور یہ اس وجہ سے کہ خریدنا جو ہے یہ ملکیت کو ثابت کرنا ہے اور اعتاق جو ہے وہ ملکیت کو زائل کرنا ہے اس کو ختم کرنا ہے اور ان دونوں کے درمیان منافات ہے، یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں لہذا شراء کو اعتاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب ہماری دلیل آ گئی: وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ شِرَاءَ الْقَرِيبِ إِعْتَاقٌ کہ قریبی رشتہ دار کو خریدنا بھی اعتاق ہے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے کہ آپ نے فرمایا: ”لَنْ يَجْزِيَ وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ“۔ توجہ سے بھئی یہ حدیث دیکھ لیجیے ترجمہ اس کا: لَنْ يَجْزِيَ وَلَدٌ وَالِدَهُ ہرگز بدلہ نہیں دے سکتی کوئی اولاد اپنے والد کو، یعنی والد کے اتنے احسانات ہیں کہ کوئی اولاد اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتی، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا مگر یہ کہ وہ اولاد اپنے باپ کو مملوک یعنی غلام پائے فَيَشْتَرِيَهُ تو اس کو خرید لے فَيُعْتِقَهُ تو اس کو آزاد کر دے۔ کوئی اولاد جو ہے اپنے باپ کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتی الا یہ کہ باپ کو غلام پائے تو اس کو خرید کر آزاد کر دے تو پھر کسی حد تک کچھ نہ کچھ بدلہ ادا ہو جائے گا۔ تو اب دیکھو حدیث کے اندر آیا: لَنْ يَجْزِيَ وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ کہ کوئی اولاد جو ہے وہ اپنے والد کا بدلہ نہیں دے سکتی الا یہ کہ اس کو مملوک پائے تو یہ اس کو خرید لے پھر اس کو آزاد کر دے۔ تو یہاں احناف پر اعتراض ہوتا ہے کہ اے احناف آپ کا دعوی یہ ہے کہ خریدنا ہی اعتاق ہے، خریدنا ہی اعتاق ہے اور حدیث کے اندر آ رہا ہے فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ، یشتری کا فعل الگ ذکر ہے اور اعتاق کا فعل الگ ذکر ہے اور دونوں کے درمیان فا ہے: فَيُعْتِقَهُ، اور فا آتی ہے تعقیب مع الوصل کے لیے، معلوم ہوا خریدنا اور ہے اور اعتاق اور ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے میں کہتا ہوں: جَاءَ زَيْدٌ فَجَلَسَ، جَاءَ زَيْدٌ فَجَلَسَ یا زید کو بھی نکال دو ضمیر لوٹا دو: جَاءَ فَجَلَسَ وہ آیا پھر بیٹھ گیا، تو جاء الگ فعل ہے اور جلس الگ فعل ہے اور یہ فا بتلا رہی ہے کیونکہ فا کس لیے آتی ہے؟ تعقیب مع الوصل کے لیے، کہ ایک چیز دوسری چیز کے بعد ہے اور اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے یعنی اس کے فوراً بعد ہے۔ تو یہاں حدیث کے اندر تو شراء الگ ذکر ہے اور اعتاق الگ ذکر ہے اور اے احناف آپ کا دعوی تو کیا ہے کہ شراء ہی اعتاق ہے۔ تو اس کا جواب دیں گے کہ بھئی نہیں اس حدیث کے اندر شراء ہی کو اعتاق قرار دیا گیا ہے اور یہ جو فا درمیان میں آئی یہ اسی قبیل سے ہے جیسے عربی میں بھی بعض اوقات ایک فعل دوسرے کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے لیکن درمیان میں فا لے آتے ہیں، جیسے عربی میں کہتے ہیں: سَقَاهُ فَأَرْوَاهُ، سَقَاهُ اس نے اس کو پلایا فَأَرْوَاهُ تو اس کو سیراب کر دیا، تو پلانا پہلے ہو اور سیراب کرنا بعد میں ہو ایسا نہیں ہے، پلانے کے ساتھ ہی سیراب ہونا بھی پایا جا رہا ہے لیکن دونوں کے درمیان عربی میں فا ذکر ہے: سَقَاهُ فَأَرْوَاهُ اس کو پانی پلایا تو اس کو سیراب کر دیا، تو دیکھو دو فعل اکٹھے ہیں لیکن درمیان میں فا ہے۔ اسی طرح شراء اور اعتاق الگ الگ ذکر ہیں درمیان میں فا ہے لیکن دونوں اکٹھے ہیں، یا اسی کی دوسری مثال لے لیں کہ عربی میں کہتے ہیں: ضَرَبَهُ فَأَوْجَعَهُ اس نے اس کو مارا تو اس کو تکلیف دی، تو یہ تکلیف دینا یہ کوئی ضرب کے بعد نہیں ہے یہ ضرب کے ساتھ ہی ہے لیکن درمیان میں فا ذکر کی گئی کہ اس نے اس کو مارا پھر اس کو تکلیف میں مبتلا کر دیا حالانکہ ضرب اور تکلیف دونوں اکٹھے ہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں کہتے ہیں: أَطْعَمَهُ فَأَشْبَعَهُ اس نے اس کو کھانا کھلایا تو اس کو سیر کر دیا، تو یہاں پر بھی دیکھو سیر کرنا کھانے کے بعد نہیں ہے بلکہ کھانے کے ساتھ ہی سیر ہونے کا فعل پایا جا رہا ہے لیکن عربی میں دونوں کے درمیان فا ذکر کی گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا کبھی کبھار دو فعل اکٹھے ہوتے ہیں لیکن عربی میں ان کے درمیان فا ذکر کی جاتی ہے تو حدیث میں بھی ایسا ہی ہے، شراء کے ساتھ ہی اعتاق بھی ہے یعنی وہی شراء اعتاق بھی ہے البتہ حدیث میں درمیان میں فا ذکر کر دی گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ تو اس کو خرید لے تو اس کو آزاد کر دے، جَعَلَ نَفْسَ الشِّرَاءِ إِعْتَاقًا حدیث کے اندر نفسِ شراء ہی کو اعتاق قرار دیا گیا، لِأَنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ غَيْرُهُ اس لیے کیونکہ حدیث کے اندر کسی اور چیز کی شرط نہیں لگائی گئی، فَصَارَ نَظِيرَ قَوْلِهِ: سَقَاهُ فَأَرْوَاهُ، تو یہ جو سَقَاهُ فَأَرْوَاهُ یہ نظیر ہو گئی حضور علیہ السلام کے قول کی، کہ سَقَاهُ فَأَرْوَاهُ یہاں بھی دو فعلوں میں فا ہے لیکن دونوں اکٹھے ثابت ہیں، تو یہ حدیث میں بھی شراء اور اعتاق کے درمیان فا ذکر ہے لیکن دونوں اکٹھے ہیں وہی شراء ہی اعتاق ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 105 of 160