Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-078

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 85
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”فَصْلٌ: وَإِذَا أَرَادَتِ الْمُطَلَّقَةُ أَنْ تَخْرُجَ بِوَلَدِهَا مِنَ الْمِصْرِ فَلَيْسَ لَهَا ذٰلِكَ، لِمَا فِيهِ مِنَ الْإِضْرَارِ بِالْأَبِ، إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ بِهِ إِلَىٰ وَطَنِهَا وَقَدْ كَانَ الزَّوْجُ تَزَوَّجَهَا فِيهِ، لِأَنَّهُ الْتَزَمَ الْمُقَامَ فِيهِ عُرْفًا وَشَرْعًا، قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "مَنْ تَأَهَّلَ بِبَلْدَةٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"“ بھئی گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے تھے کہ اگر خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی ہو جائے، طلاق ہو جائے اور ان کی کوئی نابالغ اولاد ہے تو کون اس کی پرورش کا زیادہ حق دار ہے؟ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ سب سے زیادہ حق دار جو ہے وہ ماں ہے بھئی۔ اور پھر حدیث بھی ذکر فرمائی کہ ایک عورت حضور علیہ السلام کے پاس آئیں اور فریاد کی کہ میرے خاوند سے میری جدائی ہو گئی ہے اور وہ اپنے بچے کو مجھ سے لینا چاہتا ہے، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَتَزَوَّجِي“ کہ تو اس بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک تو شادی نہ کر لے۔ ہاں، جب آگے عورت شادی کر لے گی تو پھر اس کا حق ساقط ہو جائے گا اس لیے کیونکہ اس کا خاوند اگر وہ اجنبی ہے تو وہ بچے کو تھوڑی چیز دے گا اور نیز اس کو نفرت کی نگاہ سے اور حقارت کی نگاہ سے دیکھے گا بھئی۔ تو سب سے پہلا درجہ ماں کا ہے۔ اگر ماں نہیں ہے، یعنی ماں کا انتقال ہو گیا ہے یا ماں نے کسی اجنبی سے شادی کر لی ہے، تو اس کا حق ختم ہوا تو پھر اس کے بعد دوسرا درجہ نانی کا ہے بھئی۔ نانی کا درجہ ہے اوپر تک بھئی، نانی ہو یا پرنانی ہو یا اس سے اوپر جو بھی ہو۔ اور اگر نانی وغیرہ نہیں ہے تو اگلا درجہ ہے دادی کا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو پرورش کی ولایت ہے یہ ماں کی طرف سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا وہ رشتہ جو ماں کی جانب سے ہو وہ مقدم ہو گا اس رشتے پر جو باپ کی جانب سے ہے۔ اسی لیے نانی مقدم ہے کیونکہ اس کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے اور دادی مؤخر ہے کیونکہ اس کے ساتھ رشتہ باپ کے واسطے سے ہے۔ پھر اگر بچے کی نانی بھی نہیں ہے اور دادی بھی نہیں ہے، تو اگلا درجہ اس کی بہنوں کا ہے بھئی۔ اور بہنیں جو ہیں وہ حقیقی بھی ہو سکتی ہیں، علاتی بھی ہو سکتی ہیں اور اخیافی بھی۔ تو پہلا درجہ حقیقی بہن کا ہو گا اور اس کے بعد دوسرا درجہ اخیافی بہن کا ہو گا کیونکہ اس کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے اور اس سے اگلا درجہ علاتی بہن کا ہو گا کیونکہ اس کے ساتھ رشتہ باپ کے واسطے سے ہے۔ اور اگر بہنیں بھی نہیں ہیں اس صغیر یا صغیرہ کی تو پھر اس صورت میں پرورش کا حق جو ہے وہ خالہ کو ہو گا۔ اور خالہ کے بعد پھر پھوپھی کا حق ہو گا۔ وجہ یہ کہ خالہ کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے اور پھوپھی کے ساتھ رشتہ باپ کے واسطے سے ہے بھئی۔ اور پھر نیز یہ بھی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر خالائیں جو ہیں وہ کئی قسم کی ہیں، مثلاً حقیقی خالہ بھی ہے، علاتی خالہ بھی ہے اور اخیافی خالہ بھی ہے یا اسی طرح پھوپھیاں بھی تین قسم کی ہیں، کوئی حقیقی پھوپھی ہے، کوئی اخیافی پھوپھی ہے اور کوئی علاتی پھوپھی ہے، تو ان خالاؤں اور پھوپھیوں میں بھی وہی ترتیب ہو گی جو بہنوں کے اندر تھی، یعنی حقیقی جو ہے وہ مقدم ہو گی اخیافی پر اور اخیافی مقدم ہو گی علاتی پر بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ان عورتوں میں سے اگر کوئی کسی اجنبی کے ساتھ نکاح کر لے تو پھر اس صورت میں اس کا پرورش کا حق ساقط ہو جائے گا اور ختم ہو جائے گا۔ ہاں، ایک صورت ہے اگر ان عورتوں نے بچے کے قریبی محرم رشتہ دار سے نکاح کر لیا پھر ان کا حق ساقط نہیں ہو گا۔ مثلاً نانی نے دادا سے نکاح کر لیا، نانی نے بچے کے دادا سے نکاح کر لیا تو دادا تو پہلے ہی بچے کا محرم رشتہ دار ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے نانی کا حق ساقط نہیں ہو گا۔ یا دادی کا پرورش کا حق بن رہا تھا اور دادی نے نانا کے ساتھ نکاح کر لیا، نانا تو پہلے ہی بچے کا محرم رشتہ دار ہے، لہٰذا اس سے اس دادی کا حق ساقط نہیں ہو گا۔ یا اسی طرح بچے کی ماں جو ہے اس نے بچے کے چچا سے نکاح کر لیا تو چچا تو پہلے ہی بچے کا قریبی محرم رشتہ دار ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے ماں کا حق ساقط نہیں ہو گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ ان عورتوں میں سے اگر کسی کا حق نکاح کرنے کی وجہ سے ساقط ہو جائے تو اگر اس خاوند سے اس کی جدائی آ جائے یا خاوند کا انتقال ہو جائے تو مانع ختم ہوا، لہٰذا ان کو پھر پرورش کا حق مل جائے گا بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر بچے کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی عورت موجود نہیں ہے تو پھر اس صورت میں مردوں کے اندر اگر جھگڑا آتا ہے تو سب سے پہلا درجہ باپ کا ہے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے ضابطہ ذکر فرمایا کہ مردوں کے اندر وہی ترتیب ہو گی جو عصبات کے اندر ترتیب ہے اور جو میراث کے اندر بیان ہوتی ہے یا نکاح کی ولایت کے اندر بیان ہوئی تھی۔ یاد رکھو عصبات وہ مرد رشتہ دار ہیں کہ جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آتا ہو بھئی۔ اور پھر ان عصبات کے اندر فقہاء فرماتے ہیں سب سے پہلا درجہ اولاد کا ہے، یعنی جزئِ میت کا۔ جزئِ میت کا درجہ پہلے ہوتا ہے، یعنی بیٹا، اگر بیٹا نہیں ہے تو پوتا، پوتا نہیں ہے تو پڑپوتا، نیچے تک بھئی۔ اور اگر اولاد نہ ہو، یعنی جزئِ میت نہ ہو تو دوسرا درجہ اصلِ میت کا ہے، یعنی باپ، دادا، پردادا وغیرہ۔ اور اگر اصلِ میت میں سے بھی کوئی زندہ نہیں ہے تو پھر میت کے جو اصلِ قریب ہے اس کی اولاد، یعنی باپ کی اولاد، یعنی بھئی۔ میت کے جو بھئی ہیں، اگر بھئی نہیں ہے تو اگر بھائیوں کے نیچے کوئی مذکر اولاد ہے یعنی بھتیجے ہیں یا ان کی اولاد ہے نیچے تک۔ اور اگر یہ بھی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں اصلِ بعید کی جو اولاد ہے یعنی دادا کی جو اولاد ہے یعنی باپ کے بھئی، چچا۔ تو لہٰذا پہلا درجہ کس کا ہے؟ میت کی اولاد کا، دوسرا درجہ باپ دادا وغیرہ کا ہے، تیسرا میت کے بھائیوں کا اور ان کے نیچے مذکر اولاد جو ہے اور چوتھا درجہ چچا اور نیچے ان کی جو مذکر اولاد ہے بھئی۔ تو یہاں پر تو صغیر اور صغیرہ کی بات ہو رہی ہے ان کی پرورش کی، لہٰذا ان کی تو اولاد نہیں ہے۔ لہٰذا یہاں پہلے درجے والا یعنی باپ ہے۔ باپ نہیں ہے تو پھر دادا ہے، دادا نہیں ہے تو پردادا ہے، پردادا نہ ہو تو پھر اس صغیر یا صغیرہ کا اگر کوئی بڑا بھئی ہے تو وہ حق دار ہے، اگر وہ بھی نہیں ہے تو پھر اس بھئی کے آگے اگر مذکر اولاد ہے نیچے تک تو وہ زیادہ حق دار ہے۔ اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں ہے تو پھر اس صغیر یا صغیرہ کا جو چچا ہے اور چچا نہیں ہے تو پھر نیچے چچا کی مذکر اولاد کو دیکھیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہ ترتیب سے آئیں گے۔ ہاں، البتہ ایک بات کا کہتے ہیں خیال رکھنا کہ اگر وہ صغیرہ ہے لڑکی بھئی، تو پھر اس کو ایسے عصبہ کے حوالے نہیں کریں گے جو اس کا غیرِ محرم ہو جیسے مولیٰ عتاقہ ہے، یعنی آزاد کرنے والا معتق بھئی۔ معتق وہ تو عصبۂ غیرِ محرم ہے بھئی۔ عصبہ تو ہے، عصبۂ سببی ہے۔ عصبۂ... میں نے بتلایا میت کے جب میراث تقسیم کی جاتی ہے تو سب سے پہلے ذوی الفروض کو حصے ملتے ہیں۔ ذوی الفروض حصوں والے جن کے حصے قرآن اور حدیث میں مقرر ہیں بھئی۔ ذوی الفروض کو مال دینے کے بعد جو مال باقی بچ جائے وہ عصبۂ نسبی کو ملتا ہے، وہ سارا مال لے جاتے ہیں۔ اور اگر عصبۂ نسبی نہ ہو تو پھر اس کے بعد عصبۂ سببی یعنی معتق کی باری آتی ہے اور اس کو میت کا مال مل جاتا ہے اور اس کو ولاء کہتے ہیں۔ طلبہ عموماً پریشان ہوتے ہیں کہ یہ ولاء کسے کہتے ہیں؟ یہ ولاء وہی مالِ میراث ہے جو معتق کو مل رہا ہے کہ اس نے اس شخص کو آزاد کیا تھا بھئی۔ تو لہٰذا اگر وہ نابالغہ جس کی پرورش کے اندر جھگڑا ہو رہا ہے اگر وہ لڑکی ہے تو پھر اس صورت میں ایسے عصبہ کے سپرد نہیں کریں گے جو غیرِ محرم ہو جیسے مولیٰ عتاقہ ہے یعنی معتق ہے بھئی یا جیسے اس کے چچا کا بیٹا ہے۔ چچا کے بیٹے کے لیے تو اس کے ساتھ نکاح حلال ہے، جائز ہے، لہٰذا اس کے حوالے بھی نہیں کریں گے اس لیے کیونکہ اگر ان کے حوالے صغیرہ کو کیا جائے گا تو اس میں فتنے کا خطرہ ہے بھئی۔ اور فتنے سے بچنا تو واجب ہے بھئی، لہٰذا ان کے حوالے نہیں کریں گے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ پرورش کا حق جن لوگوں کے پاس ہے کب تک ان کو یہ حق حاصل رہے گا؟ تو بتلایا تھا کہ لڑکا جب بےنیاز ہو جائے، یعنی وہ خود کھانے لگے، پینے لگے، پہننے لگے اور استنجا کرنے لگے اور وہ عموماً سات سال کی عمر میں ہوتا ہے جیسا کہ امام خصاف رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا۔ تو امام خصاف فرماتے ہیں کہ سات سال کی عمر کے اندر عموماً لڑکا بےنیاز ہو جاتا ہے، لہٰذا اب بچے کو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے تو اب باپ زبردستی لے سکتا ہے سات سال کی عمر میں۔ اور اگر لڑکی ہو تو متن میں بتایا کہ لڑکی جو ہے بالغہ ہونے تک ماں اور نانی دادی کی پرورش میں رہے گی۔ اس لیے کیونکہ جب وہ بےنیاز ہو گئی، خود کھانے پینے لگی تو اس کے بعد بھی اس کو اب عورتوں کے آداب سیکھنے کی حاجت ہے اور ماں اور نانی دادی وغیرہ وہ عورتیں ہیں وہ اس کو عورتوں کے آداب سکھانے پر زیادہ قادر ہیں باپ کے مقابلے میں، لہٰذا یہ انہی کے پاس رہے گی۔ لیکن میں نے بتلایا تھا یہ متن کے اندر مسئلہ ہے، البتہ فتویٰ اس پر نہیں ہے، فتویٰ امام محمد رحمہ اللہ سے دوسری جو روایت آئی ہے اس پر ہے، اس کے مطابق وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ صغیرہ جو ہے یہ شہوت کی حد کو پہنچ جائے، یعنی قابلِ شہوت ہو جائے، تو اب اس صورت میں اب اس کو باپ کے حوالے کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ اب اس کو حفاظت کی ضرورت ہے اور اب اس کی شادی کا وقت آ رہا ہے اور باپ جو ہے شادی پر زیادہ قادر ہے، لہٰذا اب باپ کے حوالے کر دی جائے گی۔ اور فقہاء نے حدِ شہوت کا اندازہ نو سال کی عمر کے ساتھ لگایا ہے کہ صغیرہ جب نو سال کی عمر کی ہو جائے تو اب اس کو باپ کے حوالے کر دیا جائے گا بھئی۔ یہ تو تھا ماں اور نانی دادی وغیرہ۔ متن میں آیا کہ یہ بالغہ ہونے تک ماں اور نانی دادی کے پاس رہے گی جبکہ باقی اگر مثلاً بہنیں ہیں یا خالہ ہے یا پھوپھی کی پرورش میں ہے بچہ تو پھر اس صورت میں حدِ شہوت تک ان کے پاس رہے گی یعنی نو سال کی عمر تک۔ جبکہ جامع صغیر کے اندر نو سال کی عمر کا بھی نہیں ذکر، جامع صغیر کے اندر ہے یہاں تک کہ وہ لڑکی بےنیاز ہو جائے، یعنی کھانا پینا وغیرہ کام اپنے خود کرنے لگے تو پھر اس وقت جو ہے باپ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ اور وجہ یہ کہ ماں اور نانی وغیرہ یہ بچی سے خدمت لے سکتی ہیں۔ یہ خدمت لے سکتی ہیں اور چونکہ اب صغیرہ کو عورتوں کے آداب سیکھنے کی حاجت ہے اور ماں اور نانی دادی وغیرہ وہ شرعاً اس لڑکی سے، صغیرہ سے خدمت لے سکتی ہیں حتیٰ کہ یہ اجرت پر بھی خدمت کے لیے اس لڑکی کو دے سکتی ہیں کہ خدمت کے لیے نوکری پر دے دی یا ملازمت پر دے دی تو یہ بھی یہ کر سکتی ہیں۔ اور چونکہ عورتوں کے آداب سیکھے ہی اس طریقے پر جائیں گے کہ خدمت کرے گی، تو لہٰذا یہ ماں اور نانی دادی جو ہیں یہ تو چونکہ خود بھی خدمت لے سکتی ہیں اور خدمت پر اجرت پر بھی دے سکتی ہیں، لہٰذا بےنیاز ہونے کے بعد بھی ان کے پاس رہے گی، لیکن اور عورتیں جو ہیں ان کو تو شرعاً ان سے خدمت لینے کا حق نہیں اور نیز وہ اس کو اجرت پر بھی نوکری اور ملازمت، خدمت کے لیے اجرت پر بھی نہیں دے سکتیں، تو جب وہ عورتوں کے آداب سکھانے پر قادر نہ ہوئیں کیونکہ وہ خدمت نہیں لے سکتیں تو باپ زیادہ حق دار ہو گا وہ ان سے لے لے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جب باندی کو آقا آزاد کر دے یا امِ ولد کو آزاد کر دے تو وہ بھی بچے کی پرورش کے سلسلے میں اپنے آقا سے زیادہ حق دار ہیں۔ اور اسی طرح ذمیہ جو ہے، ذمیہ ہے، ایک مسلمان نے ایک عیسائی یا یہودی عورت سے شادی کی تھی اور اس سے اولاد ہوئی بھئی، اور پھر بعد میں اس عورت سے جدائی آ گئی، تو اب یہ ذمیہ ہے اور بیٹا وہ تو مسلمان ہے کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ اولاد جو ہوتی ہے ماں باپ میں سے جس کا دین بہتر ہو اس دین پر شمار کی جاتی ہے۔ یاد رکھو بچہ آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتا ہے، ماں آزاد تو بچہ بھی آزاد، ماں باندی تو بچہ بھی آقا کا مملوک ہو گا جو اس باندی کا آقا ہے۔ اور اگر ماں باپ کا دین مختلف ہے تو ان میں سے جس کا دین اعلیٰ ہو بچہ اس کے دین پر ہو گا، تو لہٰذا یہاں پر باپ مسلمان ہے اور ماں ذمیہ ہے تو بچہ جو ہے مسلمان شمار ہو گا۔ تو بہرحال پھر بھی یہ ذمیہ اس کی ماں ہے، یہ اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے۔ یہاں تک کہ وہ جب تک وہ بچہ دین کو سمجھنے نہ لگے، جب اس کو دین کی سمجھ آنے لگ پڑے، دین کی باتوں کو وہ سمجھنے لگے تو اب کفر کے فتنے میں واقع ہونے کا خوف ہے، لہٰذا اب باپ زیادہ حق دار ہے تو باپ اس کو لے سکتا ہے زبردستی ماں سے۔ اور پھر آخر میں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہمارے نزدیک لڑکے یا لڑکی کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ کچھ سمجھ دار ہو جائیں تو پھر ان کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ ماں کے پاس رہنا چاہتے ہیں یا باپ کے پاس رہنا چاہتے ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ حدیث کے اندر حضور علیہ السلام نے بھی اختیار دیا تھا۔ بچے کو اختیار دیا تھا کہ وہ ماں کے ساتھ رہنا چاہے یا باپ کے ساتھ رہنا چاہے تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی بچہ جو ہے وہ تو ناقص العقل ہے، اس کو تو سمجھ نہیں ہے، وہ تو یقیناً اسی کو اختیار کرے گا جو اس کو زیادہ کھیلنے دے گا، تو اس کے اندر تو بچے کا نفع نہیں ہے۔ اور یہ بات بھی صحیح طور پر ثابت ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ان میں بھی کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا تھا تو وہ بچوں کو اختیار نہیں دیتے تھے بھئی۔ اور باقی جو حدیث ہے حضور علیہ السلام نے اختیار دیا تھا تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ حدیث کے اندر آتا ہے کہ وہ جو وہ بچہ تھا وہ ماں کی طرف چل پڑا اور وہ مسئلہ میں نے ذکر کیا تھا کہ باپ مسلمان ہو گیا اور ماں مسلمان نہیں ہو رہی اور پھر آپس میں بچے کے بارے میں جھگڑا آیا حضور علیہ السلام کے پاس تو حضور علیہ السلام نے بچے کو اختیار دیا اور بچہ جو ہے وہ ماں کی طرف چل پڑا، لیکن ماں تو کافرہ تھی بھئی، تو حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی: ”اللَّهُمَّ اهْدِهِ“ کہ اے اللہ، اس بچے کی رہنمائی فرما، تو چنانچہ وہ بچہ مڑا اور باپ کی طرف چلا گیا۔ تو ہم کہتے ہیں وہاں تو حضور علیہ السلام چونکہ دعا کرنے والے موجود تھے اس لیے انہوں نے اختیار دیا، لہٰذا باقی جگہ اختیار نہیں دیا جائے گا یا اس کو ہم محمول کرتے ہیں بالغ ہونے پر کہ بالغ ہونے کے بعد بچے کو اختیار ہو گا وہ ماں باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”فَصْلٌ: وَإِذَا أَرَادَتِ الْمُطَلَّقَةُ أَنْ تَخْرُجَ بِوَلَدِهَا مِنَ الْمِصْرِ فَلَيْسَ لَهَا ذٰلِكَ“ یہ ایک مختصر سی فصل ہے، اس میں صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ میاں بیوی میں جدائی آ گئی مثلاً اور نابالغ بچہ ماں کی پرورش میں ہے اور وہ اس بچے کو لے کر کسی دوسرے شہر جانا چاہتی ہے، وہاں رہنا چاہتی ہے، تو کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس کے اندر تو باپ کو نقصان ہو گا بھئی، اس کے لیے بچے سے ملاقات مشکل ہو جائے گی بھئی، تو اب وہ بیان فرما رہے ہیں۔ اور اس میں ایک اور بات بھی یاد رکھنا، یہ حق صرف ماں کو ہے، صاحبِ ہدایہ آگے بتائیں گے کہ ماں جو ہے وہ بعض جگہ اس کو لے جا سکتی ہے، بعض صورتوں میں دوسرے شہر اس کو لے جا سکتی ہے، لیکن یاد رکھنا یہ حق صرف ماں کو ہو گا، ماں بچے کو لے کر یہ سفر کر سکتی ہے جبکہ اور رشتہ دار عورتیں جو ہیں ان کو یہ حق نہیں ہو گا، نانی ہے یا دادی ہے یا بہنیں ہیں یا خالہ ہے یا پھوپھی ہے، ان کو یہ حق نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا أَرَادَتِ الْمُطَلَّقَةُ أَنْ تَخْرُجَ بِوَلَدِهَا مِنَ الْمِصْرِ“ اور جب ارادہ کیا مطلقہ عورت نے کہ وہ اپنے بچے کو لے کر نکلے ”مِنَ الْمِصْرِ“ اس شہر سے، ”فَلَيْسَ لَهَا ذٰلِكَ“ تو اس کو اس کا حق نہیں ہے، ”لِمَا فِيهِ مِنَ الْإِضْرَارِ بِالْأَبِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر باپ کو نقصان دینا ہے۔ اضرار کا کیا معنی؟ تکلیف دینا، نقصان دینا۔ ”لِمَا فِيهِ مِنَ الْإِضْرَارِ بِالْأَبِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر باپ کو تکلیف دینا ہے، ”إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ بِهِ إِلَىٰ وَطَنِهَا وَقَدْ كَانَ الزَّوْجُ تَزَوَّجَهَا فِيهِ“ ”إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ بِهِ“ مگر یہ کہ اس بچے کو لے کر نکلے ”إِلَىٰ وَطَنِهَا“ اپنے وطن کی طرف، اپنے وطن کی طرف جہاں وہ رہتی تھی اصل میں، ”وَقَدْ كَانَ الزَّوْجُ تَزَوَّجَهَا فِيهِ“ اور اس حال میں کہ خاوند نے اسی شہر میں اس سے نکاح کیا تھا۔ دو شرطیں ہیں بھئی: عورت بچے کو لے جانا چاہتی ہے کسی دوسرے شہر یا بستی میں، ایک تو یہ کہ وہ اس عورت کا وطن ہو یعنی اس کا اصل گھر، ماں باپ کا گھر وہیں تھا، وہیں وہ رہتی تھی اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس خاوند کی شادی بھی اسی جگہ پر ہوئی تھی، اسی شہر میں، اسی بستی میں اس کے ساتھ اس خاوند کی شادی ہوئی تھی۔ تو جب یہ دونوں شرطیں پائی جائیں، وہ بستی جہاں عورت جانا چاہتی ہے وہ اس کا وطن بھی ہو اور اس کی شادی بھی اسی جگہ پر ہوئی تھی تو پھر اس صورت میں اس کو اجازت ہے وہ بچے کو لے جا سکتی ہے۔ یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ بِهِ إِلَىٰ وَطَنِهَا“ مگر یہ کہ عورت اس بچے کو لے کر نکلے اپنے وطن کی طرف ”وَقَدْ كَانَ الزَّوْجُ تَزَوَّجَهَا فِيهِ“ اس حال میں کہ خاوند نے اسی شہر کے اندر اس سے نکاح کیا تھا، ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَ الْمُقَامَ فِيهِ عُرْفًا وَشَرْعًا“ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ التزام کرتا ہے ”الْمُقَامَ فِيهِ“ وہاں پر ٹھہرنے کا، وہاں پر اقامت کا ”عُرْفًا وَشَرْعًا“ عرف کے اعتبار سے بھی اور شریعت کے اعتبار سے بھی۔ بھئی جہاں پر کوئی شخص نکاح کرتا ہے تو عرفاً عام لوگوں کی عادت بھی یہی ہے جہاں نکاح کرتے ہیں وہیں رہتے ہیں، اسی شہر یا بستی میں رہتے ہیں اور شرعاً بھی اسی طرح ہے کہ جہاں انسان نکاح کر رہا ہے گویا وہاں پر اپنے اوپر اقامت کو لازم کر رہا ہے۔ چنانچہ آگے حدیث بھی ذکر فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَ الْمُقَامَ فِيهِ عُرْفًا وَشَرْعًا“ اس لیے کیونکہ خاوند نے التزام کیا ہے یعنی اپنے اوپر لازم کیا ہے ”الْمُقَامَ فِيهِ“ وہاں پر ٹھہرنے کو ”عُرْفًا وَشَرْعًا“ عرف یعنی عام لوگوں کی عادت کے اعتبار سے بھی ”وَشَرْعًا“ اور شریعت کے اعتبار سے بھی۔ ”قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "مَنْ تَأَهَّلَ بِبَلْدَةٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مَنْ تَأَهَّلَ بِبَلْدَةٍ فَهُوَ مِنْهُمْ“، تَاَھَّلَ کا معنی ہے شادی شدہ ہونا۔ شادی شدہ ہونا۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ تَأَهَّلَ بِبَلْدَةٍ“ جس شخص نے کسی شہر میں شادی کی ”فَهُوَ مِنْهُمْ“ تو وہ انہی میں سے ہے۔ جس شہر میں جو آدمی شادی والا ہو گیا وہ انہی میں سے ہے بھئی۔ ”وَلِهٰذَا يَصِيرُ الْحَرْبِيُّ بِهِ ذِمِّيًّا“ اور اسی کی وجہ سے حربی جو ہے وہ ذمی بن جاتا ہے۔ اور اسی کی وجہ سے حربی ذمی بن جاتا ہے۔ حربی وہ ہے جو دار الحرب میں رہتا ہے، ذمی وہ کافر ہے جو دار الاسلام میں رہتا ہے۔ اب ایک حربی جو ہے دار الحرب کا رہنے والا، اس نے ایک ذمیہ عورت سے نکاح کر لیا اور جو شخص جہاں نکاح کرتا ہے اسی شہر میں وہ اقامت کو اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے، لہٰذا یہ بھی اب ذمی بن جائے گا۔ یہ حربی بھی کیا بن جائے گا؟ ذمی بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا يَصِيرُ الْحَرْبِيُّ بِهِ ذِمِّيًّا“ اور اسی کی وجہ سے حربی جو ہے وہ ذمی بن جائے گا یعنی شادی کی وجہ سے۔ لیکن شارحین فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ صحیح نہیں بھئی اور وہ لکھتے ہیں کہ وہ جو مصنف کا اپنا نسخہ تھا اس کے ساتھ تقابل کیا گیا تو وہاں یہ عبارت موجود نہیں۔ جو خود صاحبِ ہدایہ کا اپنا نسخہ تھا کتاب ہدایہ کا، اس کے اندر یہ عبارت موجود نہیں، معلوم ہوا یہ کسی بعد میں لکھنے والے سے غلطی سے یہ عبارت یہاں درج ہو گئی ہے بھئی۔ وجہ یہ کہتے ہیں کہ حربی اگر ذمیہ سے شادی کر بھی لے پھر بھی وہ ذمی نہیں بنتا، وجہ یہ کہ معاملہ ابھی بھی اس کے اختیار میں ہے، وہ ذمیہ کو طلاق دے کر واپس اپنے وطن جا سکتا ہے۔ تو لہٰذا معاملہ ابھی بھی اس کے اپنے ہاتھ میں ہے تو ذمیہ سے شادی کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اب اس کو یہیں پر رہنا پڑے گا، وہ طلاق دے سکتا ہے اور جا سکتا ہے اپنے وطن۔ لیکن اس کے اگر برعکس ہو، حربیہ عورت جو ہے، حربیہ عورت وہ آئی دار الاسلام میں اور یہاں آ کر اس نے ایک ذمی کے ساتھ نکاح کر لیا، تو اب یہ حربیہ ذمیہ بن گئی۔ حربی مرد تو ذمیہ سے نکاح سے ذمی نہیں بنا تھا، لیکن حربیہ عورت ذمی مرد سے نکاح کر کے کیا بن جائے گی؟ ذمیہ بن جائے گی۔ وجہ یہ کہ اب یہ عورت واپس نہیں جا سکتی کیونکہ اب معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، اب طلاق کا اختیار خاوند کو ہے، اس کو نہیں ہے، یہ جدائی نہیں اختیار کر سکتی۔ تو لہٰذا حربیہ تو ذمی سے نکاح کرے گی تو ذمیہ بن جائے گی، لیکن حربی اگر ذمیہ سے نکاح کرے گا تو وہ ذمی نہیں بنے گا۔ اور خود صاحبِ ہدایہ بھی یہ مسئلہ آگے کئی جگہ ذکر فرماتے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ بھی یہ مسئلہ آگے ذکر فرماتے ہیں، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ کسی اور سے لکھنے والے سے یہاں غلطی ہوئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا يَصِيرُ الْحَرْبِيُّ بِهِ ذِمِّيًّا“ لہٰذا اس کی وجہ سے جو حربی ہے وہ ذمی بن جائے گا اس شادی کی وجہ سے۔ ہاں، البتہ بعض شارحین پھر جواب دیتے ہیں کہ عبارت درست کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ حربی کے لفظ کیا آیا: ”وَلِهٰذَا يَصِيرُ الْحَرْبِيُّ“، حربی سے مرد مراد نہ لیں، اس حربی کو صفت بنا دیں شخص کی، یاد رکھو شخص کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے، عورت بھی کیا ہے؟ شخص ہے، مرد بھی کیا ہے؟ شخص ہے، تو یہاں عبارت گویا یوں ہے: الحربی سے پہلے شخص کا لفظ موصوف محذوف نکال لیں: ”وَلِهٰذَا يَصِيرُ الشَّخْصُ الْحَرْبِيُّ بِهِ ذِمِّيًّا“، شخصِ حربی اس کی وجہ سے ذمی بن جائے گا اور شخصِ حربی سے یہاں کون مراد لے لو؟ مرد مراد نہ لے لو بلکہ عورت حربیہ مراد لے لو، اب بات ٹھیک بن گئی کہ حربیہ عورت جو ہے وہ اگر ذمی مرد سے نکاح کرے گی تو وہ ذمیہ بن جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا يَصِيرُ الْحَرْبِيُّ بِهِ ذِمِّيًّا“ اور اسی وجہ سے شخصِ حربی جو ہے اس کی وجہ سے ذمی بن جائے گا۔ ”وَإِنْ أَرَادَتِ الْخُرُوجَ إِلَىٰ مِصْرٍ غَيْرِ وَطَنِهَا وَقَدْ كَانَ التَّزَوُّجُ فِيهِ“ متن میں صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلا دیا کہ دو شرطیں ہیں عورت بچے کو لے کر کسی دوسری بستی میں جا سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اس کا وطن بھی ہو اور وہاں اس کی شادی بھی اسی جگہ پر ہوئی تھی۔ اگر دونوں میں سے ایک شرط بھی منتفی ہو گئی تو پھر اس کو یہ حق نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَرَادَتِ الْخُرُوجَ إِلَىٰ مِصْرٍ غَيْرِ وَطَنِهَا“ اور اگر عورت نے نکلنے کا ارادہ کیا ”إِلَىٰ مِصْرٍ“ ایسے شہر کی طرف ”غَيْرِ وَطَنِهَا“ جو اس کا وطن نہیں ہے ”وَقَدْ كَانَ التَّزَوُّجُ فِيهِ“ اس حال میں کہ وہاں شادی ہوئی تھی، شادی اس شہر میں ہوئی تھی، ”أَشَارَ فِي الْكِتَابِ إِلَىٰ أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا ذٰلِكَ“ تو کتاب یعنی متن کے اندر صاحبِ قدوری نے اشارہ فرما دیا کہ عورت کو اس کا حق نہیں ہو گا، ”وَهٰذِهِ رِوَايَةُ كِتَابِ الطَّلَاقِ“ اور یہ روایت ہے کتاب الطلاق کی۔ یہ جو صاحبِ قدوری نے متن میں ذکر فرمایا دو قیدیں ذکر کر دیں کہ دونوں قیدیں ہوں گی وہ جگہ عورت کا وطن بھی ہو اور وہاں عورت کی شادی بھی ہوئی ہو، یہ اصل یعنی مبسوط کی کتاب الطلاق کی روایت ہے۔ جبکہ جامع صغیر کے اندر ہے کہ عورت کو یہ حق ہے جہاں شادی ہوئی تھی وہاں منتقل ہو سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذِهِ رِوَايَةُ كِتَابِ الطَّلَاقِ“ اور یہ کتاب الطلاق کی روایت ہے یعنی مبسوط کی کتاب الطلاق جو ہے۔ ”وَذَكَرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ أَنَّ لَهَا ذٰلِكَ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں ذکر فرمایا ہے کہ عورت کو یہ حق ہے، وہ بچے کو لے جانا چاہتی ہے اس بستی میں جہاں اس کی شادی ہوئی تھی تو اس کو یہ حق ہے۔ تو کہتے ہیں جامع صغیر میں ذکر فرمایا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے ”أَنَّ لَهَا ذٰلِكَ“ کہ عورت کو اس کا حق ہے، ”لِأَنَّ الْعَقْدَ مَتَى وُجِدَ فِي مَكَانٍ يُوجِبُ أَحْكَامَهُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ جب عقد کسی جگہ پایا جائے تو اس عقد کے احکام ثابت ہوں گے اسی جگہ میں۔ عقد جس مقام پر کیا جائے عقد کے احکام بھی اسی جگہ پر ثابت ہوں گے، ”كَمَا يُوجِبُ الْبَيْعُ التَّسْلِيمَ فِي مَكَانِهِ“ جیسے بیع ثابت کرتی ہے سپرد کرنے کو اسی جگہ میں۔ آپ نے ایک شخص سے سو من گندم خریدی، بیع و شراء کا معاملہ آپ نے کر لیا، ایجاب و قبول کر لیا، سو من گندم آپ نے خرید لی، پھر اس کے بعد آپ بائع کو کہتے ہیں کہ یہ گندم اب میرے گھر بھجوا دو، وہ کہے گا بھئی میں کیوں بھجواؤں بھئی، یہ تو خرچہ لگے گا اس پر، میں تو اس کا ذمہ دار نہیں ہوں، آپ نے مجھ سے گندم خریدی ہے یہ موجود ہے گندم اٹھائیں اور لے جائیں۔ تو لہٰذا جہاں عقد ہوتا ہے عقد کے احکام بھی اسی جگہ کے واجب ہوتے ہیں، لہٰذا جس جگہ پر بیع ہوئی ہے بائع کی ذمہ داری ہے اسی جگہ پر وہ چیز آپ کے حوالے کرے اور پھر آگے لے جانے کی ذمہ داری مشتری کی ہے۔ تو یہاں بھی جب ایک شخص نے ایک جگہ پر عقدِ نکاح کیا ہے تو وہیں کے احکام لاگو ہوں گے اور چونکہ یہ جو اولاد ہے یہ بھی نکاح کے ثمرات میں سے ہے، نکاح کے نتائج میں سے ہے، نکاح کے بعد اولاد حاصل ہوتی ہے، لہٰذا اولاد کا روکنا بھی اسی جگہ پر یہ عورت کا حق ہے بھئی جہاں عقد ہوا تھا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعَقْدَ مَتَى وُجِدَ فِي مَكَانٍ“ اس لیے کیونکہ عقد جب پایا جائے کسی جگہ میں ”يُوجِبُ أَحْكَامَهُ فِيهِ“ تو یہ ثابت کرتا ہے اس عقد کے احکام کو اسی جگہ میں، ”كَمَا يُوجِبُ الْبَيْعُ“ جیسے کہ بیع ثابت کرتی ہے، یوجب بمعنی یثبت کے ہے بھئی، ”كَمَا يُوجِبُ الْبَيْعُ“ جیسے بیع ثابت کرتی ہے ”التَّسْلِيمَ فِي مَكَانِهِ“ سپرد کرنا اسی جگہ میں یا یہاں بےشک یوجب کا معنی واجب کے بھی کر سکتے ہیں یہاں پر کہ عقد جس جگہ پر ہوتا ہے وہیں کے احکام واجب ہوتے ہیں یا بیع جس جگہ پر ہوتی ہے اسی جگہ پر سپرد کرنا واجب ہوتا ہے، تو دونوں معنی کر سکتے ہیں۔ ”كَمَا يُوجِبُ الْبَيْعُ“ جیسے کہ بیع جو ہے وہ واجب کرتی ہے ”التَّسْلِيمَ فِي مَكَانِهِ“ اسی جگہ میں سپرد کرنے کا، ”وَمِنْ جُمْلَةِ ذٰلِكَ حَقُّ إِمْسَاكِ الْأَوْلَادِ“ اور عقد کے جملہ احکام میں سے جو ہے اولاد کو روکنے کا حق بھی ہے۔ اسی عقدِ نکاح کے احکام میں سے ایک اولاد کو روکنے کا حق بھی ہے تو عورت کو حق ہو گا جہاں نکاح ہوا ہے اس جگہ بچے کو روک سکتی ہے یعنی وہاں جا سکتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی وجہ، وہ جو کتاب الطلاق کی روایت تھی متن کے اندر جو آئی کہ وہ اس کا عورت کا اپنا اصلی وطن بھی ہو اور وہیں اس کی شادی بھی ہوئی ہو پھر اس کو منتقل ہونے کی اجازت ہے ویسے اجازت نہیں، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَجْهُ الْأَوَّلِ: أَنَّ التَّزَوُّجَ فِي دَارِ الْغُرْبَةِ لَيْسَ الْتِزَامًا لِلْمَكْثِ فِيهِ عُرْفًا“ غربت کہتے ہیں بےوطنی کو، پردیسی ہونا، دار الغربۃ یعنی پردیس، دار الغربۃ پردیس یعنی جو غیرِ وطن ہے۔ ”وَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ ”أَنَّ التَّزَوُّجَ فِي دَارِ الْغُرْبَةِ“ کہ پردیس کے اندر شادی کرنا ”لَيْسَ الْتِزَامًا“ یہ اس بات کا التزام نہیں ہے ”لِلْمَكْثِ فِيهِ“ کہ وہاں ٹھہرا جائے ”عُرْفًا“ باعتبار عرف کے۔ کوئی شخص جہاں کہیں پر نکاح کرتا ہے تو عرفاً وہاں اس کے لیے ٹھہرنا ضروری نہیں ہے بھئی، وہ وہیں ٹھہرنے کا التزام نہیں کرتا، وہ دوسری جگہ بھی منتقل ہو سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الْأَوَّلِ: أَنَّ التَّزَوُّجَ فِي دَارِ الْغُرْبَةِ لَيْسَ الْتِزَامًا لِلْمَكْثِ فِيهِ عُرْفًا“ پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ پردیس کے اندر شادی کرنا یہ عرفاً وہاں ٹھہرنے کا التزام کرنا نہیں ہوتا، ”وَهٰذَا أَصَحُّ“ اور یہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ دوسرا قول بھی صحیح ہے لیکن یہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ”وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا: الْوَطَنُ وَوُجُودُ النِّكَاحِ“ اور حاصل یہ ہے کہ ضروری ہے دونوں چیزوں کا ہونا: وطن بھی ہونا چاہیے اور نکاح بھی اسی شہر میں ہو پھر عورت منتقل ہو سکتی ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا كُلُّهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ الْمِصْرَيْنِ تَفَاوُتٌ“ تفاوت کا معنی ہے فرق، لیکن یہاں یہ بعد کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ بعد یعنی دوری ہو۔ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا كُلُّهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ الْمِصْرَيْنِ تَفَاوُتٌ“ یہ سارا اس وقت ہے جس وقت دو شہروں میں بعد ہو، دوری ہو، یعنی دونوں ایک دوسرے سے دور ہیں پھر عورت کو اجازت نہیں ہے۔ اور اگر دونوں شہر یا دونوں بستیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں یہاں تک کہ خاوند کے لیے ممکن ہے کہ اسی دن جا کر بچوں سے مل کر رات تک واپس اپنے گھر آ سکتا ہے، یعنی اتنا قریب ہے کہ اسی دن واپسی بھی کر سکتا ہے تو پھر اس صورت میں عورت منتقل ہو سکتی ہے، قریب کی جگہ میں منتقل ہو سکتی ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا كُلُّهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ الْمِصْرَيْنِ تَفَاوُتٌ“ یہ سارا اس وقت ہے جس وقت دو شہروں میں دوری ہو، ”أَمَّا إِذَا تَقَارَبَا“ باقی وہ صورت جب دونوں شہر ایک دوسرے کے قریب ہیں ”بِحَيْثُ يُمْكِنُ لِلْوَالِدِ أَنْ يُطَالِعَ وَلَدَهُ“ بعیں طور کہ والد کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے بچے کا مطالعہ کر لے یعنی اس کا جائزہ لے لے، طالع یطالع مطالعۃ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مطالعہ کرنا بھی اور جائزہ لینا بھی، ”بِحَيْثُ يُمْكِنُ لِلْوَالِدِ أَنْ يُطَالِعَ وَلَدَهُ“ اس طور پر کہ ممکن ہو والد کے لیے کہ وہ اپنے بچے کا جائزہ لے لے ”وَيَبِيتَ فِي بَيْتِهِ“ اور پھر رات اپنے گھر میں گزارے یعنی واپس آ کر، ”وَيَبِيتَ فِي بَيْتِهِ“ اور رات جو ہے اپنے ہی گھر میں باپ گزارے یعنی واپس آ جائے اور اسی دن واپس آ کر رات اپنے گھر میں گزار سکے، ”فَلَا بَأْسَ بِهِ“ تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر عورت بچے کو قریب کی بستی میں منتقل کر سکتی ہے۔ ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي الْقَرْيَتَيْنِ“ یہ تو تھا دو شہروں کے بارے میں، دو شہر بھئی، ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي الْقَرْيَتَيْنِ“ اور اسی طرح ہے جواب دو بستیوں میں بھی بھئی۔ شہر نہیں ہے، چھوٹی بستی ہے یا گاؤں وغیرہ ہے وہ بھی اگر ایک دوسرے کے قریب ہیں تو عورت منتقل ہو سکتی ہے کہ جب کہ خاوند اسی دن بچوں سے مل کر واپس آ سکے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي الْقَرْيَتَيْنِ“ اور اسی طرح ہے جواب دو بستیوں میں۔ ”وَلَوْ انْتَقَلَتْ مِنْ قَرْيَةِ الْمِصْرِ إِلَى الْمِصْرِ لَا بَأْسَ بِهِ“ اور اگر عورت منتقل ہوتی ہے ”مِنْ قَرْيَةِ الْمِصْرِ“ شہر کی بستی سے الی... بھئی دیکھو شہر کے آس پاس چھوٹی بستیاں ہوتی ہیں۔ اب عورت جو ہے چھوٹی بستی میں رہتی ہے شہر کے باہر اور وہ بچے کو لے کر شہر میں منتقل ہونا چاہتی ہے تو کہتے ہیں یہ قریب ہے لہٰذا عورت منتقل ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کا برعکس کریں کہ عورت جو ہے شہر میں بچے کے ساتھ رہتی ہے اب اس بچے کو لے کر وہ قریب کے گاؤں میں منتقل ہونا چاہتی ہے، کہتے ہیں نہیں، اب اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ وجہ یہ کہ دیہات کے لوگوں پر جہالت کا غلبہ ہوتا ہے اور شہر کے اندر تعلیم ہوتی ہے، تو لہٰذا جب وہ بچے کو دیہات میں لے کر جائے گی تو وہ تو دیہاتیوں کے اخلاق سیکھے گا اور شہر میں لے کر آئے گی تو شہر والوں سے وہ اچھے اخلاق سیکھے گا کیونکہ وہاں شہروں میں تعلیم ہوتی ہے، لہٰذا بستی سے شہر آنا چاہے تو اس کی اجازت ہو گی، لیکن شہر سے بستی میں جانا چاہے تو اس میں بچے کا نقصان ہے اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ انْتَقَلَتْ مِنْ قَرْيَةِ الْمِصْرِ“ اور اگر عورت منتقل ہوئی اس شہر کی بستی سے ”إِلَى الْمِصْرِ“ اس شہر میں ”لَا بَأْسَ بِهِ“ تو اس میں کوئی حرج نہیں، ”لِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا لِلصَّغِيرِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر صغیر پر شفقت ہے ”حَيْثُ يَتَخَلَّقُ بِأَخْلَاقِ أَهْلِ الْمِصْرِ“ کیونکہ وہ بچہ جو ہے وہ شہر والوں کے اخلاق کو سیکھے گا ”وَلَيْسَ فِيهِ ضَرَرٌ بِالْأَبِ“ اور اس میں باپ کا نقصان بھی نہیں ہے کیونکہ قریب ہی ہے وہ ایک ہی دن میں مل کر آ سکتا ہے بھئی، ”وَفِي عَكْسِهِ ضَرَرٌ بِالصَّغِيرِ“ اور اس کے برعکس صورت میں، یعنی شہر سے وہ دیہات میں منتقل ہونا چاہتی ہے تو اس کے اندر صغیر کو نقصان ہے ”لِتَخَلُّقِهِ بِأَخْلَاقِ أَهْلِ السَّوَادِ“ اس لیے کیونکہ وہ دیہات والوں کے اخلاق سیکھے گا۔ سواد بھئی، سواد، یاد رکھیں سواد المدینہ شہر کے اطراف کو کہتے ہیں، سواد المدینہ یا سواد المصر کس کو کہتے ہیں؟ شہر کے اطراف یعنی شہر کے آس پاس جو چھوٹی بستیاں اور دیہات وغیرہ ہیں۔ تو یہاں اہل سواد سے مراد وہ اہل دیہات ہی ہیں یا وہ بستیوں والے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِتَخَلُّقِهِ بِأَخْلَاقِ أَهْلِ السَّوَادِ“ اس لیے کیونکہ وہ بستیوں والوں کے اخلاق کو سیکھ لے گا ”فَلَيْسَ لَهَا ذٰلِكَ“ تو عورت کو اس کا حق نہیں ہو گا۔ ”بَابُ النَّفَقَةِ“ اب نفقے کی تفصیل بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ یاد رکھو عورت کا، بیوی کا نفقہ خاوند پر لازم ہے۔ حتیٰ کہ اگر عورت مالدار ہے اور خاوند تنگ دست ہے پھر بھی عورت کو رہائش دینا اور عورت کو کھانے پینے کا اس کے انتظام کرنا یہ خاوند کے ذمے ہے۔ کھانا، پینا، رہائش اور کپڑے یہ کس کے ذمے ہیں؟ خاوند کے ذمے، چاہے عورت مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی یہ خاوند کے ذمے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”النَّفَقَةُ وَاجِبَةٌ لِلزَّوْجَةِ عَلَىٰ زَوْجِهَا“ کہ نفقہ واجب ہے بیوی کے لیے اس کے خاوند پر ”مُسْلِمَةً كَانَتْ أَوْ كَافِرَةً“ چاہے وہ بیوی مسلمان ہو چاہے کافرہ ہو، یعنی مسلمان ہے اس نے عیسائی یا یہودی عورت سے شادی کی ہے تو ان کا نفقہ بھی اس کو دینا پڑے گا۔ کہتے ہیں یہ نفقہ خاوند پر بیوی کا واجب ہے، کب واجب ہے؟ ”إِذَا سَلَّمَتْ نَفْسَهَا“ جب عورت اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دے ”إِلَىٰ مَنْزِلِهِ“ خاوند کے گھر میں، ”فَعَلَيْهِ نَفَقَتُهَا وَكِسْوَتُهَا وَسُكْنَاهَا“ تو خاوند پر واجب ہے اس بیوی کا نفقہ یعنی اس کا کھانا بھی ”وَكِسْوَتُهَا“ اور اس کے کپڑے بھی ”وَسُكْنَاهَا“ اور اس کی رہائش بھی۔ یاد رکھو عربی زبان میں نفقہ کہتے ہیں وہ جو انسان اپنے اہل و عیال پہ خرچ کرے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نفقہ۔ اور شریعت کے اندر نفقہ کا لفظ شامل ہے کھانے پینے کو بھی اور کپڑوں کو بھی اور رہائش کو بھی، تو یہ تینوں کو شامل ہوتا ہے۔ لیکن عرف کے اندر نفقے کا اطلاق صرف کھانے پینے پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی لیے متن میں آیا: ”فَعَلَيْهِ نَفَقَتُهَا وَكِسْوَتُهَا وَسُكْنَاهَا“۔ شرعاً تو نفقہ کے اندر تینوں آ گئے تھے لیکن ماتن نے کسوہ کو الگ ذکر کیا اور سکنیٰ کو الگ ذکر کیا کیونکہ عرف میں عام لوگوں کے اندر نفقے کے اندر صرف طعام شامل ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا سَلَّمَتْ نَفْسَهَا إِلَى مَنْزِلِهِ“ کہ جب عورت اپنے آپ کو سپرد کر دے خاوند کے گھر میں ”فَعَلَيْهِ نَفَقَتُهَا وَكِسْوَتُهَا وَسُكْنَاهَا“ تو خاوند پر واجب ہے اس عورت کا کھانا بھی اور اس کے کپڑے بھی اور اس کی رہائش بھی۔ ”وَالأَصْلُ فِي ذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى“ اور دلیل جو ہے اس کے اندر وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“۔ ”لِيُنْفِقْ“ چاہیے کہ خرچ کرے ”ذُو سَعَةٍ“ وسعت والا ”مِنْ سَعَتِهِ“ اپنی وسعت میں سے۔ چاہیے کہ گنجائش والا اپنی گنجائش میں سے خرچ کرے یعنی خاوند کو بیوی پر خرچ کرنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں اصل یعنی دلیل اس کے اندر اللہ کا یہ قول ہے ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“ کہ گنجائش والے کو اپنی گنجائش میں سے خرچ کرنا چاہیے۔ ”وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾“ اور نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول: ”وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ“۔ مولود بھئی! مولود تو وہ بچہ ہے جس کو جنم دیا گیا ہے اور مولود لہ وہ بچے کا باپ ہے۔ مولود لہ جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں قران میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ“ اور بچے کے باپ پر واجب ہے ”رِزْقُهُنَّ“ ان بچوں کی ماؤں کا رزق بھی ”وَكِسْوَتُهُنَّ“ اور ان کے کپڑے بھی ”بِالْمَعْرُوفِ“ اچھے طریقے سے یعنی متوسط درجے کے۔ یعنی متوسط درجے کے کھانے اور کپڑوں کا خرچہ یہ بچوں کے باپ کے ذمے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ“ اور بچے کے باپ پر ان ماؤں کا رزق بھی ہے اور ان کے کپڑے بھی ہیں بالمعروف اچھے طریقے سے یعنی متوسط طریقے سے۔ ”وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي حَدِيثِ حِجَّةِ الْوَدَاعِ“ اور نیز حضور علیہ السلام کی جو حجتہ الوداع کی حدیث ہے اس میں بھی آتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے حجتہ الوداع کے موقع پر صحابہ سے فرمایا: ”وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ“۔ ”وَلَهُنَّ“ اور ان عورتوں کے لیے ”عَلَيْكُمْ“ تمہارے اوپر ”رِزْقُهُنَّ“ ان کا رزق بھی ہے یعنی ان کا کھانا بھی ہے ”وَكِسْوَتُهُنَّ“ اور ان کے کپڑے بھی ہیں ”بِالْمَعْرُوفِ“ اچھے طریقے سے۔ تو دیکھو حدیث کے اندر بھی آ گیا کہ ”وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ ان عورتوں کے لیے تمہارے اوپر ان کا رزق بھی ہے اور ان کے کپڑے بھی ہیں بالمعروف اچھے طریقے سے یعنی متوسط درجے کے۔ تو یہ تو تھیں نقلی دلیلیں بھئی! اب آگے عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ النَّفَقَةَ جَزَاءُ الِاحْتِبَاسِ وَكُلُّ مَنْ كَانَ مَحْبُوساً بِحَقٍّ مَقْصُودٍ لِغَيْرِهِ كَانَتْ نَفَقَتُهُ عَلَيْهِ“۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ النَّفَقَةَ جَزَاءُ الِاحْتِبَاسِ“ احتباس کا معنیٰ ہے رکنا، بند ہونا۔ دیکھو عورت نے خاوند کے لیے اپنے آپ کو ایک گھر میں بند کیا ہوا ہے، خاوند کے لیے اپنے آپ کو روکا ہوا ہے کہ جب خاوند چاہے وہ اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے، تو لہٰذا جب اس نے خاوند کے لیے اپنے آپ کو روکا ہوا ہے تو اس کے کپڑے اور کھانے کا خرچہ بھی کس کے ذمے ہو گا؟ خاوند کے ذمے ہو گا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قاضی ہے اور اسی طرح وہ عامل فی الصدقات ہے، وہ شخص جو صدقات اکٹھے کرتا ہے مسلمانوں کے لیے۔ مسلمانوں کے لیے پہلے عامل مقرر ہوتے تھے جو جاتے تھے اور لوگوں سے زکوٰۃ اکٹھی کر کے لاتے تھے بھئی۔ تو یہ جو ہیں اب دیکھو انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے حق کی خاطر روک کر رکھا ہوا ہے، اپنے کاموں میں نہیں مشغول، مسلمانوں کے کاموں میں مشغول ہیں۔ تو یہ عامل فی الصدقات اپنے کام چھوڑ کر مسلمانوں کی خدمت کے اندر، مسلمانوں کے کاموں کے اندر مشغول ہے، لہٰذا اس کا نفقہ مسلمانوں پر آئے گا تو بیت المال میں سے اس کو دیا جائے گا بھئی۔ اور اسی طرح قاضی جو ہے وہ بھی اپنے کام چھوڑ کر لوگوں کی خدمت میں مصروف ہے، لوگوں کے درمیان فیصلے کر رہا ہے، ان کے جھگڑوں کو نمٹا رہا ہے، تو لہٰذا قاضی جو ہے اس نے بھی غیروں کے حق میں اپنے آپ کو روکا ہوا ہے تو اس کا نفقہ بھی لوگوں کے ذمے ہو گا، وہ بیت المال میں سے ادا کیا جائے گا بھئی۔ جی، تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ النَّفَقَةَ جَزَاءُ الِاحْتِبَاسِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو نفقہ ہے یہ رکنے کی جزا ہے، رکنے کا بدلہ ہے کہ اپنے آپ کو روک کر رکھا ہے، ”وَكُلُّ مَنْ كَانَ مَحْبُوساً بِحَقٍّ مَقْصُودٍ لِغَيْرِهِ“ اور ہر وہ شخص جو محبوس ہو یعنی قید کیا گیا ہو ”بِحَقٍّ مَقْصُودٍ لِغَيْرِهِ“ ایسے حق کی وجہ سے جو غیر کا مقصود ہے، ”كَانَتْ نَفَقَتُهُ عَلَيْهِ“ تو اس کا نفقہ اسی پر ہو گا، ”أَصْلُهُ الْقَاضِي وَالْعَامِلُ فِي الصَّدَقَاتِ“ اور اصل اس کی قاضی ہے اور وہ جو عامل فی الصدقات ہے، وہ جو صدقات اور زکوٰۃ اکٹھی کرتا ہے کہ ان کا نفقہ بھی بیت المال میں سے ادا کیا جاتا ہے۔ ”وَهَذِهِ الدَّلَائِلُ لَا فَصْلَ فِيهَا“ اور یہ جو دلیلیں ہم نے ذکر کر دیں یعنی قران اور حدیث وغیرہ میں سے ”لَا فَصْلَ فِيهَا“ ان میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی مسلمان اور کافر کا، یا اسی طرح مالدار اور فقیرہ کا۔ یہ جو ہم نے دلائل ذکر کیے، ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ بیوی کا خرچہ خاوند پر ہو گا اور اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا کہ مسلمان ہو تو پھر خرچہ ہو گا، کافرہ ہو تو خرچہ نہیں ہو گا۔ تو چاہے بیوی مسلمان ہو چاہے ذمیہ ہو، دونوں صورتوں میں خاوند پر خرچہ آئے گا۔ اور نیز چاہے بیوی مالدار ہو چاہے بیوی غریب ہو فقیر ہو، تو اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، لہٰذا تمام صورتوں میں بیوی کا خرچہ خاوند پر آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ الدَّلَائِلُ لَا فَصْلَ فِيهَا فَتَسْتَوِي فِيهَا الْمُسْلِمَةُ وَالْكَافِرَةُ“ اور یہ جو دلائل ذکر کر دیے گئے ان میں کوئی فرق نہیں ہے، تو اس کے اندر مسلمان اور کافر عورت برابر ہوں گی، ”وَتُعْتَبَرُ فِي ذَلِكَ حَالُهُمَا جَمِيعاً“۔ اچھا بھئی! نفقے کے اندر کس کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا؟ خاوند پر نفقہ ہے، تو ہو سکتا ہے خاوند اور بیوی دونوں مالدار ہوں یا دونوں غریب ہوں لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی خوب مالدار ہے اور خاوند بڑا ہی تنگ دست ہے، یا خاوند بڑا مالدار ہے اور بیوی تنگ دست ہے۔ تو کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ کس کی حالت کا؟ تو یاد رکھو عند الاحناف دونوں کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا۔ یعنی اگر دونوں مالدار ہیں تو خاوند پر مالداروں والا نفقہ واجب ہو گا۔ اگر دونوں تنگ دست ہیں، خاوند بھی اور بیوی بھی، تو خاوند پر تنگ دستوں والا نفقہ واجب ہو گا۔ اور اگر ایک مالدار ہے دونوں میں سے اور ایک تنگ دست ہے تو پھر خاوند پر متوسط درجے کا نفقہ ہو گا یعنی جو مالداروں سے کم ہو اور فقیر کے نفقے سے زیادہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتُعْتَبَرُ فِي ذَلِكَ حَالُهُمَا جَمِيعاً“ اور اس کے اندر دونوں کی حالت معتبر ہے۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اس ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ سے مراد خود صاحبِ ہدایہ ہیں۔ اب وہ تشریح کر رہے ہیں صاحبِ قدوری کے اس قول کی، صاحبِ قدوری نے کیا کہا: ”وَتُعْتَبَرُ فِي ذَلِكَ حَالُهُمَا جَمِيعاً“ کہ اس میں دونوں کی حالت معتبر ہے، تو ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ تو عبد ضعیف یعنی صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا اخْتِيَارُ الْخَصَّافِ“ یہ امام خصاف کا اختیار ہے۔ امام خصاف میں نے بتایا بھئی احناف کے بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں اور ان کی وفات ہوئی ہے 261 ہجری میں بھئی، اور یہ خود اپنے ہاتھ سے کما کر کھایا کرتے تھے اور خصاف میں نے بتایا عربی زبان میں موچی کو کہتے ہیں چونکہ یہ موچیوں والا کام کرتے تھے اور خود اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے تو لہٰذا یہ امام خصاف کے نام سے مشہور ہو گئے بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں: ”وَهَذَا اخْتِيَارُ الْخَصَّافِ“ یہ امام خصاف کا اختیار ہے، وہ فرماتے ہیں کہ دونوں کا اعتبار کیا جائے گا، ”وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى“ اور اسی پر فتویٰ ہے، ”وَتَفْسِيرُهُ أَنَّهُمَا إِذَا كَانَا مُوسِرَيْنِ“ اور امام خصاف کے قول کی تفسیر یہ ہے کہ جب میاں اور بیوی دونوں موسر ہوں، موسر کا معنیٰ؟ خوشحال بھئی، کہ جب میاں بیوی دونوں خوشحال ہوں ”تَجِبُ نَفَقَةُ الْيَسَارِ“ تو خاوند پر مالداری والا نفقہ واجب ہو گا، دونوں خوشحال ہیں یعنی مالدار ہیں تو ”تَجِبُ نَفَقَةُ الْيَسَارِ“ تو خاوند پر مالداری والا نفقہ واجب ہو گا، ”وَإِنْ كَانَا مُعْسِرَيْنِ فَنَفَقَةُ الْإِعْسَارِ“ اور اگر دونوں تنگ دست ہیں تو خاوند پر تنگ دستی والا نفقہ ہو گا، ”وَإِنْ كَانَتْ مُعْسِرَةً وَالزَّوْجُ مُوسِراً“ اور اگر بیوی تنگ دست ہے اور خاوند خوشحال ہے مالدار ہے ”فَنَفَقَتُهَا دُونَ نَفَقَةِ الْمُوسِرَاتِ وَفَوْقَ نَفَقَةِ الْمُعْسِرَاتِ“ تو اس عورت کا نفقہ جو ہے خوشحال یا مالدار عورتوں کے نفقے سے کم ہو گا اور تنگ دست عورتوں کے نفقے سے زیادہ ہو گا، تنگ دستوں کے نفقے سے اوپر ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خاوند اگر خوشحال ہے اور بیوی تنگ دست ہے۔ اور چوتھی صورت صاحبِ ہدایہ نے ذکر نہیں فرمائی کہ اگر بیوی مالدار ہے اور خاوند تنگ دست ہے، وجہ یہ کہ اس صورت میں بھی یہ مسئلہ اسی طرح تھا کہ متوسط درجے کا نفقہ آئے گا جو تنگ دستوں کے نفقے سے زیادہ ہو اور مالداروں کے نفقے سے کم ہو بھئی۔ یہ تو امام خصاف کا قول تھا اور اسی پر فتویٰ ہے۔ ”وَقَالَ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُعْتَبَرُ حَالُ الزَّوْجِ“ اور امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند کی حالت کا اعتبار ہے بھئی۔ یہ امام کرخی رحمہ اللہ میں نے بتلایا آپ کو کہ یہ بھی احناف کے بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی، اور ان کی وفات 340 ہجری میں ہوئی ہے، 340 ہجری میں، تو امام کرخی فرماتے ہیں: ”يُعْتَبَرُ حَالُ الزَّوْجِ“ کہ خاوند کی حالت معتبر ہے، ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ﴾“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“۔ امام کرخی اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ قران میں فرماتے ہیں: ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“ کہ چاہیے گنجائش والا اپنی گنجائش میں سے خرچ کرے یعنی اپنی گنجائش کے بقدر خرچ کرے، تو قران کے اندر خاوند کی حالت کا اعتبار ہے۔ خاوند کی حالت کا اعتبار ہے لہٰذا خاوند کی حالت معتبر ہو گی، خاوند اگر خوشحال ہے تو اس کو خوشحالوں والا نفقہ دینا پڑے گا اور اگر خاوند تنگ دست ہے تو اس پر تنگ دستوں والا نفقہ واجب ہو گا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے امام خصاف کا قول بھی ذکر فرمایا جو متن میں آیا اور پھر امام کرخی اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول بھی ذکر فرمایا۔ اب پہلے قول کی وجہ ذکر فرما رہے ہیں: ”وَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی وجہ۔ پہلا قول کس کا ذکر کیا؟ امام خصاف کا کہ دونوں کی حالت معتبر ہے۔ اب اس کی دلیل سنیں ذرا صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَجْهُ الْأَوَّلِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِهِنْدٍ امْرَأَةِ أَبِي سُفْيَانَ“ پہلے قول کی یعنی امام خصاف کے قول کی وجہ یہ ہے وہ جو حضور علیہ السلام نے فرمایا ہند سے جو کہ بیوی تھیں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھئی، تو حضور علیہ السلام نے ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا جو بیوی تھیں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کہ ”خُذِي مِنْ مَالِ زَوْجِكِ مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ“۔ بھئی دیکھیے! حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ مکہ کے سرداروں میں سے تھے اور مالدار آدمی تھے لیکن ہاتھ ان کا کچھ تنگ تھا یعنی خرچے کے اندر ہاتھ وہ تنگ رکھتے تھے، تو ان کی زوجہ حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں کہ یا رسول اللہ! میرے خاوند مالدار ہیں لیکن وہ ہمیں خرچہ وغیرہ ٹھیک طرح نہیں دیتے، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ تم خود ان کے مال میں سے لے لیا کرو اتنا جو تمہارے لیے اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو۔ اتنا جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو، چنانچہ فقہاء لکھتے ہیں بھئی کہ اگر خاوند قدرت کے باوجود بیوی کو ضرورت کے مطابق خرچہ نہ دے تو بیوی چھپا کر لے سکتی ہے مگر فضول خرچی کے لیے نہیں اور رسموں کے لیے نہیں، صرف اپنی ضرورت کے بقدر لے سکتی ہے۔ تو حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ”خُذِي مِنْ مَالِ زَوْجِكِ“ کہ تو لے لیا کر اپنے خاوند کے مال میں سے ”مَا يَكْفِيكِ“ اتنی مقدار جو تیرے لیے کافی ہو ”وَوَلَدَكِ“ اور جو تیرے بچے کے لیے کافی ہو ”بِالْمَعْرُوفِ“ اچھے طریقے سے۔ ”اعْتَبَرَ حَالَهَا“ اعتبر حالہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی حالت کا اعتبار کیا۔ کیا فرما رہے ہیں؟ ”مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ“ کہ جو تیرے لیے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو تو معلوم ہوا عورت کی حالت کا اعتبار فرما رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو کہتے ہیں: ”اعْتَبَرَ حَالَهَا“ حضور علیہ السلام نے بیوی کی حالت کا اعتبار کیا ”وَهُوَ الْفِقْهُ“ اور یہی فقہ ہے یعنی یہی گہری بات ہے جو دلائل سے سمجھ میں آتی ہے۔ یہی گہری بات ہے جو دلائل سے سمجھ میں آتی ہے۔ بھئی میں نے بتلایا یہ کس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ؟ امام خصاف کی، اور امام خصاف تو کیا فرماتے ہیں؟ دونوں کی حالت معتبر ہے اور صاحبِ ہدایہ دلیل میں ذکر فرما رہے ہیں کہ عورت کی حالت معتبر ہے، تو جواب یہ کہ بھئی یہ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں، ابھی پچھلی آیت آئی تھی ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“ وہاں سے پتہ چل گیا تھا خاوند کی حالت بھی معتبر ہے، اب حدیث ذکر کر دی، بتا دیا کہ عورت کی حالت بھی معتبر ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور نیز یاد رکھو آیت کے اندر آتا ہے وہ جو شروع میں آیت انہوں نے ذکر کی ”وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ بچے کے باپ پر ان عورتوں کا رزق بھی ہے اور کپڑے بھی ہیں بالمعروف اچھے طریقے سے یعنی متوسط طریقے سے، اس سے پتہ چل رہا ہے دونوں کی حالت معتبر ہے۔ ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“ اس سے تو صرف یہ پتہ چل رہا ہے خاوند کی حالت معتبر ہے لیکن ”وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ“ اس سے پتہ چل رہا ہے کہ دونوں کی حالت کیونکہ بالمعروف کہا اللہ نے یعنی متوسط طریقے سے۔ تو کہتے ہیں: ”اعْتَبَرَ حَالَهَا وَهُوَ الْفِقْهُ“ حضور علیہ السلام نے بیوی کی حالت کا اعتبار کیا اور یہی فقہ ہے یعنی فقہی دلائل سے جو بات سمجھ میں آتی ہے کہ عورت کی حالت بھی معتبر ہے بھئی۔ ”فَإِنَّ النَّفَقَةَ تَجِبُ بِطَرِيقِ الْكِفَايَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو نفقہ ہوتا ہے یہ کفایت کے طریقے پر واجب ہوتا ہے۔ حدیث میں کیا آیا؟ ”مَا يَكْفِيكِ“ جو تیرے لیے کافی ہو، معلوم ہوا یہ جو نفقہ واجب ہوتا ہے یہ کفایت کے طریقے پر یعنی جو اس عورت کے لیے کافی ہو، جو اس عورت کے لیے کافی ہو۔ تو یہ معنیٰ ہے ”فَإِنَّ النَّفَقَةَ تَجِبُ بِطَرِيقِ الْكِفَايَةِ“ اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے وہ کفایت کے طریقے پر واجب ہوتا ہے یعنی جو عورت کے لیے کافی ہو ”وَالْفَقِيرَةُ لَا تَفْتَقِرُ إِلَى كِفَايَةِ الْمُوسِرَاتِ“ اور فقیرہ عورت جو ہے وہ ”لَا تَفْتَقِرُ“ محتاج نہیں ہے ”إِلَى كِفَايَةِ الْمُوسِرَاتِ“ مالدار عورتوں کی کفایت کی۔ بھئی اگر خاوند مالدار ہے اور بیوی فقیرہ ہے، تو اگر امام شافعی رحمہ اللہ کا قول لیا جائے تو اس صورت میں مالداروں والا نفقہ اس کو دینا پڑے گا حالانکہ حدیث سے کیا پتہ چلا؟ اتنا نفقہ جو عورت کے لیے کافی ہو جائے، تو یہ تو فقیرہ ہے تو اس کے لیے تنگ دستوں والا نفقہ کافی ہو گا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کو مالداروں والا نفقہ دیا جائے۔ یہ معنیٰ ہے ”فَإِنَّ النَّفَقَةَ تَجِبُ بِطَرِيقِ الْكِفَايَةِ وَالْفَقِيرَةُ لَا تَفْتَقِرُ إِلَى كِفَايَةِ الْمُوسِرَاتِ فَلَا مَعْنَى لِلزِّيَادَةِ“۔ معنیٰ کا لفظ میں نے بتایا فقہ کی کتابوں میں سبب اور علت کے معنیٰ میں عام استعمال ہوتا ہے، تو یہاں معنیٰ کا ترجمہ کر لیں سبب کے: ”فَلَا مَعْنَى لِلزِّيَادَةِ“ لہٰذا کوئی سبب نہیں ہے زیادہ کا کہ اس عورت کو زیادہ دیا جائے جب خود بھی تنگ دست ہے تو اس کے لیے تنگ دستوں والا نفقہ کافی ہے، لہٰذا کوئی سبب نہیں زیادہ کا۔ ”وَأَمَّا النَّصُّ“ اور باقی وہ جو نص آئی تھی، وہ جو آیت ذکر کی تھی امام شافعی رحمہ اللہ نے ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“ چاہیے کہ گنجائش والا اپنی گنجائش میں سے خرچ کرے اس کا ہم جواب دیتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا النَّصُّ فَنَحْنُ نَقُولُ بِمُوجَبِهِ“ اور باقی وہ جو نص آئی تھی یعنی آیت آئی تھی تو ہم اس کے مقتضیٰ پر کہتے ہیں کہ یہ آیت یہ تقاضا کرتی ہے کہ دیکھو مثلاً بیوی ہے مالدار اور خاوند ہے تنگ دست اور کس قسم کا نفقہ اب دینا پڑے گا؟ متوسط درجے کا۔ بھئی خاوند تو تنگ دست ہے، وہ متوسط نفقہ کہاں سے لے کر آئے بھئی؟ تو آیت میں یہ ذکر ہو رہا ہے کہ بھئی جتنی گنجائش ہے اتنا خرچ کرو باقی تمہارے اوپر دین ہے۔ آیا تو متوسط درجے کا تھا لیکن تم تو متوسط نہیں دے سکتے، تم کہ تنگ دست ہو تو تم تنگ دستوں والا دیتے رہو اور جو زائد ہے وہ تمہارے ذمے دین ہو جائے گا، یہ معنیٰ ہے کہ نفقہ تو متوسط درجے کا آیا ہے لیکن خاوند تنگ دست ہے تو اللہ فرماتے ہیں: ”لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ“ گنجائش والا اپنی گنجائش کے بقدر خرچ کرے بھئی اور باقی اس کے ذمے دین ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا النَّصُّ فَنَحْنُ نَقُولُ بِمُوجَبِهِ أَنَّهُ يُخَاطَبُ بِقَدْرِ وُسْعِهِ وَالْبَاقِي دَيْنٌ فِي ذِمَّتِهِ“ اور باقی جو نص ہے تو ہم اس نص کے مقتضیٰ پر کہتے ہیں کہ خاوند جو ہے وہ مخاطب ہے اپنی گنجائش کے بقدر اور باقی جو ہے وہ دین ہو گا اس کے ذمے میں۔ ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ بِالْمَعْرُوفِ الْوَسَطُ“ اور اللہ تعالیٰ کا قول جو آیا بالمعروف آیت کے اندر اس کا معنیٰ جو ہے الوسط وہ متوسط ہے بھئی۔ بالمعروف کا کیا معنیٰ ہے؟ الوسط یعنی متوسط درجے والا۔ بھئی وہ جو آیت میں آیا تھا ”وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ“ تو یہ بالمعروف کا کیا معنیٰ ہے؟ وسط ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ بِالْمَعْرُوفِ الْوَسَطُ وَهُوَ الْوَاجِبُ“ اور اللہ تعالیٰ کے قول بالمعروف کا معنیٰ جو ہے الوسط متوسط درجے والا ہے اور وہی واجب ہے، ”وَبِهِ يَتَبَيَّنُ أَنَّهُ لَا مَعْنَى لِلتَّقْدِيرِ“ اور اس حدیث کے ذریعے یہ جو اوپر آیا تھا ”خُذِي مِنْ مَالِ زَوْجِكِ مَا يَكْفِيكِ“ جو تیرے لیے کافی ہو، تو کہتے ہیں اس حدیث کے ذریعے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ کوئی سبب نہیں ہے مقرر کرنے کا۔ یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوشحالوں والا نفقہ یہ ہے کہ خاوند دو مد غلہ دے گا بیوی کو، دو مد، یہ اگر خاوند خوشحال ہے۔ اور اگر خاوند تنگ دست ہے تو ایک مد نفقہ دے گا، اور اگر خاوند متوسط درجے کا ہے تو پھر ڈیڑھ مد اس پر نفقہ آئے گا بھئی، ہر روز ڈیڑھ مد نفقہ خاوند کے ذمے۔ یاد رکھو مد میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا صاع کا ذکر آیا تھا صاع، صاعِ عراقی جو ہے عند الاحناف یہ رائج تھا مدینہ منورہ میں حضور علیہ السلام کے زمانے میں اور یہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے اور ایک رطل پونے چونتیس تولے کا ہے، اور ایک صاع کے اندر چار مد ہوتے ہیں، آٹھ رطل، رطل میں دیکھیں تو آٹھ رطل اور مد دیکھیں تو چار مد، معلوم ہوا ہر مد دو رطل کے برابر ہے، اور ایک رطل پونے چونتیس تولے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خاوند اگر خوشحال ہے تو ہر روز دو مد غلہ اس کے ذمے ہے اور اگر تنگ دست ہے تو ایک مد ہے یعنی دو رطل اور اگر متوسط ہے تو پھر ڈیڑھ رطل دے گا بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ اب اس کو رد کر رہے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے تو باقاعدہ مقدار متعین کر دی لیکن مقدار متعین کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حدیث سے پتہ چل گیا، حدیث میں کیا آیا؟ ”مَا يَكْفِيكِ“ جو تیرے لیے کافی ہو اور یہ کفایت تو لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے، یہ عمر کے اعتبار سے بھی بدلتی ہے، جگہوں کے اعتبار سے بھی بدلتی ہے، لوگوں کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتی ہے، کوئی شخص تھوڑی سی چیز پر اکتفا کر لیتا ہے اس کے لیے کافی ہوتی ہے، کسی کے لیے زیادہ چیز کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا یہاں مقرر کرنے کی حاجت نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَبِهِ يَتَبَيَّنُ أَنَّهُ لَا مَعْنَى لِلتَّقْدِيرِ كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ عَلَى الْمُوسِرِ مُدَّانِ وَعَلَى الْمُعْسِرِ مُدٌّ وَعَلَى الْمُتَوَسِّطِ مُدٌّ وَنِصْفُ مُدٍّ“ اور اس حدیث کے ذریعے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ کوئی سبب نہیں ہے مقرر کرنے کا جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اس کی طرف گئے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ مالدار خاوند پر مدان دو مد ہیں اور تنگ دست خاوند پر ایک مد ہے اور متوسط درجے کے خاوند پر ایک مد اور نصف مد ہے، ”لِأَنَّ مَا وَجَبَ كِفَايَةً“ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ کوئی وجہ نہیں ہے مقدار مقرر کرنے کی، ”لِأَنَّ مَا وَجَبَ كِفَايَةً لَا يَتَقَدَّرُ شَرْعاً فِي نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو کفایت کے اعتبار سے واجب ہے وہ شرعاً مقرر نہیں ہوتی اپنی ذات کے اعتبار سے۔ جو چیز کفایت کے اعتبار سے واجب ہے وہ شرعاً اس کی مقدار مقرر نہیں ہوتی کیونکہ میں نے بتلا دیا کیونکہ لوگوں کی طبیعتیں مختلف ہیں بعض کے لیے تھوڑی سی چیز کافی ہوتی ہے بعض کے لیے تھوڑی چیز کافی نہیں ہوتی، نیز عمر کا بھی اس میں دخل ہے، جوانی کے اندر زیادہ چیز پر کفایت ہو گی بڑھاپے کے اندر تو تھوڑی چیز پر کفایت ہو جائے گی اور نیز جگہوں کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتا ہے، لہٰذا جو چیز کفایت کے طریقے پر واجب ہو شرعاً اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا وَجَبَ كِفَايَةً لَا يَتَقَدَّرُ شَرْعاً فِي نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ جو چیز کفایت کے طریقے پر واجب ہو وہ شرعاً مقرر نہیں ہوتی اپنی ذات کے اعتبار سے یعنی اس کی مقدار مقرر نہیں ہوتی۔ ”وَإِنِ امْتَنَعَتْ مِنْ تَسْلِيمِ نَفْسِهَا حَتَّى يُعْطِيَهَا مَهْرَهَا فَلَهَا النَّفَقَةُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ نکاح ہو گیا، رخصتی ہو گئی، بیوی گھر میں آ گئی لیکن بیوی خاوند کو قریب نہیں آنے دے رہی، بیوی کہتی ہے کہ وہ جو مہرِ معجل عورتوں کو دیا جاتا ہے پہلے وہ میرا حق میرے حوالے کرو۔ مہرِ معجل بھئی شادی کی پہلی رات عموماً خاوند بیوی کو کوئی تحفہ وغیرہ دیتا ہے، ہر علاقے کا اپنا رواج ہوتا ہے، تو پورا مہر مراد نہیں ہے بلکہ وہ مہرِ معجل مراد ہے وہ جو پہلی رات عموماً خاوند بیوی کو دیتا ہے۔ تو اب بیوی خاوند کو صحبت نہیں کرنے دے رہی، وہ اس مہرِ معجل کا مطالبہ کر رہی ہے، تو کیا یہ عورت نافرمان کہلائے گی؟ کیا خاوند پر اس کا نفقہ ہو گا یا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی بیوی اپنے حق کو وصول کرنے کے لیے خاوند کو روک رہی ہے لہٰذا یہاں جو مانع آ رہا ہے وہ خاوند کی طرف سے ہے، وہ مہر نہیں دے رہا لہٰذا خاوند کو نفقہ دینا پڑے گا بھئی، وہ نفقہ نہیں روک سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ امْتَنَعَتْ مِنْ تَسْلِيمِ نَفْسِهَا حَتَّى يُعْطِيَهَا مَهْرَهَا فَلَهَا النَّفَقَةُ“ اور اگر عورت رکی رہی اپنی ذات کو سپرد کرنے سے یہاں تک کہ خاوند اسے اس کا مہر دے دے اور میں نے بتایا پورا مہر مراد نہیں ہے بلکہ مہرِ معجل مراد ہے، تو کہتے ہیں ”فَلَهَا النَّفَقَةُ“ تو اس عورت کے لیے بھی نفقہ ہو گا ”لِأَنَّهُ مَنْعٌ بِحَقٍّ“ اس لیے کیونکہ یہ روکنا حق کی وجہ سے ہے ”فَكَانَتْ فَوْتُ الِاحْتِبَاسِ بِمَعْنًى مِنْ قِبَلِهِ“ تو یہ جو بند ہونے کا فوت ہو جانا ہے، نکاح میں عورت کیا کرتی ہے اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روکتی ہے، بند کرتی ہے، تو یہاں پر احتباس فوت ہو رہا ہے بیوی صحبت نہیں کرنے دے رہی، تو یہ جو فوتِ احتباس ہے ”بِمَعْنًى“ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے ”مِنْ قِبَلِهِ“ جو خاوند کی طرف سے ہے، جو کس کی طرف سے ہے؟ خاوند۔ تو کہتے ہیں ”فَكَانَتْ فَوْتُ الِاحْتِبَاسِ بِمَعْنًى مِنْ قِبَلِهِ فَيُجْعَلُ كَلَا فَائِتٍ“ تو یہاں پر جو احتباس کا فوت ہو جانا پایا جا رہا ہے وہ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے جو خاوند کی طرف سے ہے تو اس فوتِ احتباس کو بھی ایسے ہی قرار دیا جائے گا ”كَلَا فَائِتٍ“ جیسے وہ فوت نہیں ہوا، یہ فوت بھی لافوت کی طرح ہے بھئی۔ ”وَإِنْ نَشَزَتْ“ اور اگر عورت نے نافرمانی کی۔ نشز کا معنیٰ ہوتا ہے نافرمانی کرنا لیکن یہاں مراد ہے بغیر اجازت کے بیوی کا گھر سے نکل جانا۔ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے، اپنے والدین کے گھر مثلاً چلی گئی، تو یاد رکھو یہ ناشزہ ہے اور خاوند پر ناشزہ کا نفقہ نہیں ہوتا، تو اب اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں، ہاں جب وہ واپس آ جائے گی تو اب خاوند کے ذمے نفقہ آ جائے گا کیونکہ اب احتباس پایا جا رہا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ نَشَزَتْ فَلَا نَفَقَةَ لَهَا حَتَّى تَعُودَ إِلَى مَنْزِلِهِ“ اور اگر بیوی نے نافرمانی کی یعنی خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے چلی گئی تو اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہو گا یہاں تک کہ وہ خاوند کے گھر میں واپس لوٹ آئے ”لِأَنَّ فَوْتَ الِاحْتِبَاسِ مِنْهَا“ اس لیے کیونکہ احتباس کا فوت ہو جانا عورت کی طرف سے پایا گیا ہے ”وَإِذَا عَادَتْ جَاءَ الِاحْتِبَاسُ فَتَجِبُ النَّفَقَةُ“ اور جب وہ عورت واپس لوٹ آئے گی تو احتباس پھر آ جائے گا تو نفقہ واجب ہو گا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا امْتَنَعَتْ مِنَ التَّمْكِينِ فِي بَيْتِ الزَّوْجِ“ دوسری صورت ہے، بیوی گھر میں ہے لیکن وہ خاوند کو صحبت نہیں کرنے دیتی، خاوند کے گھر میں رہ رہی ہے لیکن خاوند کو صحبت نہیں کرنے دے رہی، تو کیا اس کا نفقہ خاوند کے ذمے ہو گا؟ کہتے ہیں بھئی جب خاوند کے گھر میں ہے تو نفقہ خاوند کے ذمے ہو گا بھئی، اور ابھی بھی احتباس موجود ہے۔ بھئی احتباس کیسے موجود ہے؟ وہ صحبت نہیں کرنے دے رہی۔ کہتے ہیں بھئی خاوند زبردستی بھی صحبت کر سکتا ہے تو احتباس بھی موجود ہے اور خاوند کا صحبت پر قدرت بھی موجود ہے لہٰذا نفقہ دینا پڑے گا۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا امْتَنَعَتْ مِنَ التَّمْكِينِ فِي بَيْتِ الزَّوْجِ“ تمکین: مکّن یمکن تمکین کا معنیٰ ہے قدرت دینا، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا امْتَنَعَتْ مِنَ التَّمْكِينِ فِي بَيْتِ الزَّوْجِ“ بخلاف اس کے کہ عورت جب رک گئی خاوند کو قدرت دینے سے خاوند کے گھر میں ہی تب بھی نفقہ ہو گا، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاحْتِبَاسَ قَائِمٌ وَالزَّوْجُ يَقْدِرُ عَلَى الْوَطْءِ كُرْهاً“ کیونکہ احتباس موجود ہے اور خاوند قادر ہے وطی پر کرہاً زبردستی۔ جی آگے دیکھیے: ”وَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً لَا يُسْتَمْتَعُ بِهَا فَلَا نَفَقَةَ لَهَا“ صورتِ مسئلہ یہ خاوند نے نکاح کیا ہے صغیرہ کے ساتھ، تو یہ بیوی اس کی صغیرہ ہے اس سے خاوند استمتاع نہیں کر سکتا، صغیرہ ہے اس سے صحبت نہیں کر سکتا، تو کیا اس کا نفقہ ہو گا خاوند پر یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، اس کا نفقہ خاوند پر نہیں ہو گا چاہے یہ خاوند کے گھر میں رہے چاہے اپنے ماں باپ کے گھر میں ہو، اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں۔ اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے نفقہ تب واجب ہوتا ہے جب ایسا احتباس پایا جائے جس کے ذریعے مقصودِ نکاح حاصل ہو سکے، اور مقصودِ نکاح کیا تھا؟ بیوی کے ساتھ صحبت کا حلال ہونا، اور مقصودِ نکاح تو یہاں حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ صغیرہ ہے تو مانع کس کی طرف سے آیا؟ صغیرہ کی طرف سے، لہٰذا وہ نفقے کی مستحق نہیں ہے۔ البتہ یاد رکھنا فقہاء فرماتے ہیں اگر یہ صغیرہ قابلِ شہوت ہے تو پھر خاوند پر نفقہ واجب ہو گا، بیشک اگرچہ صحبت پر قادر نہیں ہے لیکن یہ قابلِ شہوت تو ہے، لہٰذا خاوند پر نفقہ واجب ہو گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً لَا يُسْتَمْتَعُ بِهَا فَلَا نَفَقَةَ لَهَا“ اور اگر بیوی ایسی صغیرہ ہے کہ ”لَا يُسْتَمْتَعُ بِهَا“ کہ جس سے نفع نہیں اٹھایا جا سکتا یعنی اس سے صحبت نہیں کی جا سکتی ”فَلَا نَفَقَةَ لَهَا“ تو اس کے لیے خاوند پر نفقہ نہیں ہو گا ”لِأَنَّ امْتِنَاعَ الِاسْتِمْتَاعِ لِمَعْنًى فِيهَا“ اس لیے کیونکہ استمتاع یعنی نفع اٹھانے سے رکنا وہ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے جو اس صغیرہ کے اندر پایا جا رہا ہے ”وَالِاحْتِبَاسُ الْمُوجِبُ مَا يَكُونُ وَسِيلَةً إِلَى مَقْصُودٍ مُسْتَحَقٍّ بِالنِّكَاحِ“ اور وہ احتباس الموجب جو نفقے کو واجب کرتا ہے ”مَا يَكُونُ وَسِيلَةً“ وہ احتباس ہے جو وسیلہ بن جائے ”إِلَى مَقْصُودٍ مُسْتَحَقٍّ بِالنِّكَاحِ“ اس مقصود کا جو نکاح کی وجہ سے جس کا استحقاق ہوا ہے، جو نکاح کی وجہ سے واجب ہوا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَالِاحْتِبَاسُ الْمُوجِبُ مَا يَكُونُ وَسِيلَةً إِلَى مَقْصُودٍ مُسْتَحَقٍّ بِالنِّكَاحِ“ اور وہ احتباس جو نفقے کو واجب کرتا ہے وہ والا احتباس ہے جو وسیلہ بنے اور ذریعہ بنے اس مقصود کا جس کا استحقاق نکاح کی وجہ سے ہوا ہے، ”وَلَمْ يُوجَدْ“ اور حال یہ ہے کہ ایسا احتباس تو یہاں نہیں پایا گیا، ”بِخِلَافِ الْمَرِيضَةِ“ بخلاف مریضہ کے کہ اس کا نفقہ آئے گا خاوند پر، مریضہ سے مراد ایسی مریضہ ہے جس سے خاوند صحبت نہیں کر سکتا اتنی زیادہ بیمار ہے تو بخلاف مریضہ کے کہ اس کا نفقہ واجب ہو گا ”عَلَى مَا نُبَيِّنُ“ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے، میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ علیٰ بھی علت بیان کرنے کے لیے کبھی آتا ہے تو یہاں یہ علت کے معنیٰ میں ہے کہ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمَرِيضَةِ عَلَى مَا نُبَيِّنُ“ بخلاف مریضہ کے کہ اس کا نفقہ واجب ہو گا اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے، آگے چند سطروں بعد ہی صاحبِ ہدایہ مریضہ کا مسئلہ بیان فرمائیں گے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَهَا النَّفَقَةُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صغیرہ کے لیے بھی نفقہ ہو گا ”لِأَنَّهَا عِوَضٌ عَنِ الْمِلْكِ عِنْدَهُ“ بھئی یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ نفقہ ملکیت کا عوض ہے اور خاوند کو اس صغیرہ پر ملکِ نکاح حاصل ہے، خاوند کو اس صغیرہ پر ملکیتِ نکاح حاصل ہے جیسے باندی، باندی پر آقا کو ملکِ یمین حاصل ہوتی ہے تو جب وہاں آقا کو ملکیت حاصل ہوتی ہے تو آقا کے ذمے اس کا نفقہ بھی ہوتا ہے، اس کو خرچہ دینا، اس کو کھانے پینے کا انتظام کرنا آقا کی ذمہ داری ہے، تو اسی طرح یہاں پر بھی ملکِ نکاح خاوند کو حاصل ہے اس صغیرہ کے اندر اور اس ملکیت کی وجہ سے نفقہ آیا کرتا ہے جیسے ملکِ یمین کے اندر ہے، لہٰذا اس صغیرہ کا نفقہ بھی خاوند پر واجب ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَهَا النَّفَقَةُ لِأَنَّهَا عِوَضٌ عَنِ الْمِلْكِ عِنْدَهُ كَمَا فِي الْمَمْلُوكَةِ بِمِلْكِ الْيَمِينِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صغیرہ کے لیے بھی نفقہ ہو گا اس لیے کیونکہ یہ نفقہ جو ہے وہ ملکیت کا عوض ہوتا ہے عندہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کما فی المملوکۃ بملک الیمین جیسے مملوکہ باندی کے اندر نفقہ ہوتا ہے ملکِ یمین کی وجہ سے کہ آقا اس کا مالک ہوتا ہے۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْمَهْرَ عِوَضٌ عَنِ الْمِلْكِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ملکیت کا عوض تو مہر ہے، ہمارے نزدیک تو ملکیت کا عوض مہر ہے، نکاح کے اندر خاوند کو ملکِ نکاح حاصل ہوتی ہے، خاوند صحبت کا مالک بن جاتا ہے تو خاوند کو مہر دینا پڑتا ہے، تو ملکیت کا عوض مہر ہے لہٰذا یہ جو نفقہ ہے اس کو ملکیت کا عوض قرار نہیں دیا جا سکتا ورنہ تو ایک ہی معوض کے دو عوض بن جائیں گے، مہر بھی اور نفقہ بھی، اور ایک ہی معوض کے دو عوض نہیں ہو سکتے بھئی۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْمَهْرَ عِوَضٌ عَنِ الْمِلْكِ وَلَا يَجْتَمِعُ الْعِوَضَانِ عَنْ مُعَوَّضٍ وَاحِدٍ فَلَهَا الْمَهْرُ دُونَ النَّفَقَةِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مہر جو ہے وہ عوض ہوتا ہے ملکیت سے اور دو عوض جمع نہیں ہوتے ایک ہی معوض سے، تو اس صغیرہ کے لیے مہر تو ہو گا دون النفقۃ نہ کہ نفقہ۔ ”وَإِنْ كَانَ الزَّوْجُ صَغِيراً لَا يَقْدِرُ عَلَى الْوَطْءِ وَهِيَ كَبِيرَةٌ“ اب اس کا برعکس بھئی! خاوند صغیر ہے اور اس صغیر کا نکاح اس کے ولی نے کروا دیا ایک بالغہ عورت کے ساتھ، تو اب کیا اس صورت میں اس صغیر کے مال میں سے اس کا نفقہ دیا جائے گا؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، اب یہ جو مانع آیا وہ کس کی طرف سے ہے؟ خاوند کی طرف سے، صغیر کی طرف سے۔ تو عورت نے تو اپنے آپ کو سپرد کر دیا ہے اس کے گھر میں ہے، لہٰذا اس پر نفقہ واجب ہو گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الزَّوْجُ صَغِيراً لَا يَقْدِرُ عَلَى الْوَطْءِ وَهِيَ كَبِيرَةٌ فَلَهَا النَّفَقَةُ مِنْ مَالِهِ“ اور اگر خاوند جو ہے وہ ایسا صغیر ہے کہ وہ وطی پر قادر نہیں اس حال میں کہ بیوی کبیرہ ہے یعنی بالغہ ہے تو اس بیوی کے لیے نفقہ ہو گا اس صغیر خاوند کے مال میں سے ”لِأَنَّ التَّسْلِيمَ تَحَقَّقَ مِنْهَا“ اس لیے کیونکہ اپنے آپ کو سپرد کرنا وہ پایا گیا ہے عورت کی طرف سے، اس نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا ہے ”وَإِنَّمَا الْعَجْزُ مِنْ قِبَلِهِ“ اور عاجز آنا خاوند کی جانب سے ہے کہ وہ صحبت نہیں کر سکتا ”فَصَارَ كَالْمَجْبُوبِ وَالْعِنِّينِ“ تو خاوند مجبوب اور عنین کی طرح ہو گیا۔ میں نے بتلایا تھا مجبوب وہ شخص جس کا آلہ تناسل کٹ گیا ہو اور عنین وہ شخص جو نامرد ہے، بیوی کے ساتھ صحبت پر قادر نہیں۔ تو جیسے خاوند اگر مجبوب یا عنین ہو تو ان پر بھی بیوی کا نفقہ واجب ہوتا ہے کیونکہ بیوی نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا ہے البتہ مانع ان کی طرف سے ہے کہ یہ صحبت پر قادر نہیں ہیں، تو جیسے مجبوب اور عنین پر نفقہ واجب ہوتا ہے اسی طرح اس صغیر خاوند پر بھی نفقہ واجب ہو گا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا حُبِسَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَيْنٍ فَلَا نَفَقَةَ لَهَا“ صورتِ مسئلہ یہ کہ یہ جو بیوی ہے اس نے قرضے وغیرہ لیے ہوئے تھے اور اب یہ قرضے ادا نہیں کر رہی تو وہ جو قرض خواہ ہیں وہ قاضی کے پاس چلے گئے اور قاضی نے اس عورت کو جیل میں ڈال دیا۔ تو کیا اب دیکھو اب تو احتباس فوت ہو گیا، اب تو بیوی نے اپنے آپ کو گھر میں خاوند کے لیے بند نہیں کیا ہوا، تو کیا اب نفقہ ہو گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، اب بھی نفقہ نہیں ہو گا کیونکہ احتباس فوت ہو گیا۔ عورت کو اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں بند کرنا چاہیے تھا، اس نے خاوند کے لیے اپنے آپ کو گھر میں بند نہیں کیا، اپنے آپ کو روکا نہیں لہٰذا اس کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے... نہیں ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہتے ہیں بھئی وہ وہ خود ٹال مٹول کر رہی ہے، مال دے دیتی، قرض خواہوں کو ان کے قرضے واپس کر دیتی، تو قاضی اس کو جیل میں نہ ڈالتا۔ کہتے ہیں بھئی ہو سکتا ہے اس کے پاس مال ہی نہ ہو، ہو سکتا ہے اس کے پاس مال ہی نہ ہو، اس وجہ سے قاضی نے اس کو جیل میں ڈالا ہے، تو مانع تو بیوی کی طرف سے بھی نہیں آیا، بیوی کی طرف سے بھی مانع نہیں آیا لہٰذا اس کو نفقہ ملنا چاہیے، کہتے ہیں بھئی اگر مانع بیوی کی طرف سے نہیں آیا، تو خاوند کی طرف سے بھی تو کوئی مانع نہیں آیا ہے، لہٰذا خاوند پر بلا وجہ ہم نفقہ واجب نہیں کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا حُبِسَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَيْنٍ“ اور جب قید کر دیا گیا کسی عورت کو دین کے اندر، قرضے کے اندر، ”فَلَا نَفَقَةَ لَهَا“ تو اس عورت کے لیے نفقہ نہیں ہوگا، ”لِأَنَّ فَوَاتَ الِاحْتِبَاسِ مِنْهَا بِالْمُمَاطَلَةِ“، مماطلت کہتے ہیں ٹال مٹول سے کام لینا۔ ایک آدمی نے دوسرے سے قرض لیا ہے اور وہ جب آتا ہے قرض وصول کرنے کے لیے یہ ٹال مٹول کرتا ہے، کوئی بہانے بناتا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مماطلت بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فَوَاتَ الِاحْتِبَاسِ مِنْهَا بِالْمُمَاطَلَةِ“ اس لیے کیونکہ احتباس کا فوت کرنا، منہا وہ اس عورت کی طرف سے آیا ہے، بالمماطلۃ ٹال مٹول کرنے کی وجہ سے۔ یہ ٹال مٹول نہ کرتی، قرضے ادا کر دیتی، تو یہ قید میں نہ جاتی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مِنْهَا“ اور اگر یہ ٹال مٹول اس کی طرف سے نہیں ہے، ”بِأَنْ كَانَتْ عَاجِزَةً“ بایں صورت کہ یہ عاجزہ ہے یعنی اس کے پاس ادائیگی کے لیے مال ہی نہیں ہے، تو اس صورت میں بھی ”فَلَيْسَ مِنْهُ“ تو بھی خاوند کی طرف سے تو فوتِ احتباس نہیں ہے، اگر بیوی کی طرف سے نہیں ہے تو خاوند کی طرف سے بھی تو نہیں ہے۔ ”وَكَذَا إِذَا غَصَبَهَا رَجُلٌ كُرْهًا فَذَهَبَ بِهَا“ اور اسی طرح ہے مسئلہ، ایک شخص ہے وہ اس کی بیوی کو چھین کر لے گیا، غصب کر لیا، غصب کہتے ہیں چھین لینا، زبردستی کوئی چیز لے لینا۔ تو ایک شخص نے زبردستی اس کی بیوی کو اس کے گھر سے اٹھایا اور لے گیا، تو کیا اس صورت میں بھی نفقہ ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں، نفقہ نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا غَصَبَهَا رَجُلٌ كُرْهًا“ اور اسی طرح ہے جب اس عورت کو غصب کر لیا کسی آدمی نے کرہاً زبردستی، ”فَذَهَبَ بِهَا“ تو وہ اس کو لے گیا، تو اس میں بھی نفقہ نہیں ہوگا۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”أَنَّ لَهَا النَّفَقَةَ“ کہ اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا، یعنی حبس اور غصب والی دونوں صورتوں میں اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا کیونکہ عورت کی طرف سے فوتِ احتباس نہیں پایا گیا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”أَنَّ لَهَا النَّفَقَةَ“ کہ اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا۔ یا آپ یوں کریں کہ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو صرف غصب کے ساتھ جوڑ دیں۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”أَنَّ لَهَا النَّفَقَةَ“ کہ اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا، یہ جس کو غصب کیا گیا ہے اس کے لیے نفقہ ہوگا، ”وَالْفَتْوَى عَلَى الْأَوَّلِ“ اور فتویٰ پہلے قول پر ہے جو پہلے ظاہرِ روایت ذکر کر دی کہ اس طرح کی عورت کے لیے نفقہ نہیں ہوگا۔ تو فتویٰ پہلے قول پر ہے اور اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فَوَاتَ الِاحْتِبَاسِ لَيْسَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ احتباس کا فوت ہو جانا خاوند کی طرف سے نہیں ہے، اگر عورت کی طرف سے نہیں ہے تو خاوند کی طرف سے بھی فوتِ احتباس نہیں ہے، ”لِيُجْعَلَ بَاقِيًا تَقْدِيرًا“ تاکہ اس کو باقی قرار دیا جائے تقدیراً یعنی فرض کرتے ہوئے۔ بھئی دیکھو، اگر مانع خاوند کی طرف سے آ جائے تو احتباس تو اس صورت میں بھی فوت ہو رہا ہے، لیکن چونکہ مانع خاوند کی طرف سے آیا ہے تو احتباس کو فرض کر لیا جائے گا کہ احتباس موجود ہے۔ احتباس، لیکن یہاں پر مانع خاوند کی طرف سے بھی نہیں آیا جب کوئی شخص دوسرے کی بیوی کو غصب کر کے لے گیا۔ تو یہاں مانع خاوند کی طرف سے نہیں ہے، جب خاوند کی طرف سے نہیں ہے تو احتباس کو یہاں فرض بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مانع خاوند کی طرف سے ہو تو احتباس کو مان لیا جاتا ہے تقدیراً یعنی اس کو فرض کر لیا جاتا ہے، لیکن یہاں تو خاوند کی طرف سے فوتِ احتباس نہیں ہے، تو جب خاوند کی طرف سے فوتِ احتباس نہیں تو احتباس کو فرض بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ فَوَاتَ الِاحْتِبَاسِ لَيْسَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ احتباس کا فوت کرنا یہ خاوند کی طرف سے نہیں ہے، ”لِيُجْعَلَ بَاقِيًا تَقْدِيرًا“ کہ اسے باقی قرار دے دیا جائے تقدیراً یعنی فرض کرتے ہوئے۔ ”وَكَذَا إِذَا حَجَّتْ مَعَ مَحْرَمٍ“ اور اسی طرح جب عورت نے حج کیا کسی اپنے محرم کے ساتھ، یاد رکھو بیوی جو ہے حج پر گئی کسی محرم کے ساتھ، خاوند کے ساتھ نہیں، کسی اور محرم کے ساتھ، تو کیا اس سفر کے دوران کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں، یہاں احتباس فوت ہو رہا ہے لہٰذا خاوند پر نفقہ نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا حَجَّتْ مَعَ مَحْرَمٍ“ اور اسی طرح ہے جب عورت حج کرے اپنے کسی محرم کے ساتھ، ”لِأَنَّ فَوَاتَ الِاحْتِبَاسِ مِنْهَا“ اس لیے کیونکہ احتباس کا فوت کرنا پایا جا رہا ہے منہا عورت کی جانب سے، ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّ لَهَا النَّفَقَةَ“ کہ اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا، یہ جو حج پہ جا رہی ہے اس کے لیے نفقہ ہوگا، ”لِأَنَّ إِقَامَةَ الْفَرْضِ عُذْرٌ“ اس لیے کیونکہ فرض قائم کرنا عذر ہے، کیونکہ وہ حج ادا کر رہی ہے اور حج اس پر فرض ہو چکا ہے، تو اب یہ فرض قائم کرنا یہ عذر ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے نفقہ خاوند کو دینا پڑے گا۔ تو فرض کی وجہ سے جو احتباس فوت بھی ہو رہا ہے اس کو ایسے ہی سمجھیں گے جیسے لافوت ہے، یعنی جیسے احتباس فوت ہوا ہی نہیں۔ تو یہ فوت بھی لافوت کی طرح ہے تو لہٰذا اس صورت میں عورت کو وہ نفقہ ملے گا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”أَنَّ لَهَا النَّفَقَةَ“ کہ اس حج پر جانے والی کے لیے بھی نفقہ ہوگا، ”لِأَنَّ إِقَامَةَ الْفَرْضِ عُذْرٌ“ اس لیے کیونکہ فرض قائم کرنا یہ عذر ہے، ”وَلَكِنْ تَجِبُ عَلَيْهِ نَفَقَةُ الْحَضَرِ دُونَ السَّفَرِ“ لیکن خاوند پر حضر کا نفقہ واجب ہوگا نہ کہ سفر کا۔ حضر کہتے ہیں مقیم ہونا، اقامت۔ بھئی یاد رکھو جب آپ ایک جگہ مقیم ہیں تو اقامت کی حالت میں خرچہ کم ہوتا ہے اور جب آپ سفر پر جا رہے ہیں تو پھر خرچہ زیادہ ہوگا اور نیز راستے میں چیزیں مہنگی ہوں گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عورت جو محرم کے ساتھ حج پر گئی ہے اس کا عذر ہے اس نے فرض ادا کرنا ہے، لہٰذا اس کا نفقہ خاوند پر ہوگا، لیکن خاوند پر اقامت والا نفقہ واجب ہوگا، سفر والا زیادہ نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَكِنْ تَجِبُ عَلَيْهِ نَفَقَةُ الْحَضَرِ“ لیکن خاوند پر جو ہے اقامت والا نفقہ واجب ہوگا، ”دُونَ السَّفَرِ“ نہ کہ سفر والا، ”لِأَنَّهَا هِيَ الْمُسْتَحَقَّةُ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہی اقامت والا نفقہ ہی المستحقہ علیہ یہ خاوند پر واجب ہے۔ المستحقہ کا یہاں ترجمہ کر لیں واجب کے۔ ”لِأَنَّهَا هِيَ الْمُسْتَحَقَّةُ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اقامت والا نفقہ یہی خاوند پر واجب ہے، اسی کا خاوند پر اس کا استحقاق ہے۔ ”وَلَوْ سَافَرَ مَعَهَا الزَّوْجُ“ عورت حج پر جا رہی ہے اور خاوند بھی ساتھ جا رہا ہے، تو اب کیا عورت کا نفقہ ہوگا؟ کہتے ہیں ہاں بھئی اب تو خاوند ساتھ موجود ہے، تو لہٰذا احتباس موجود ہے، بیوی خاوند کے ساتھ ساتھ ہے، تو جب احتباس موجود ہے تو نفقہ آئے گا، البتہ نفقہ اقامت والا ہی آئے گا، سفر والا نفقہ نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ سَافَرَ مَعَهَا الزَّوْجُ“ اور اگر اس عورت کے ساتھ اس کے خاوند نے ہی سفر کیا، ”تَجِبُ النَّفَقَةُ بِالِاتِّفَاقِ“ تو پھر بالاتفاق نفقہ واجب ہوگا، ”لِأَنَّ الِاحْتِبَاسَ قَائِمٌ“ اس لیے کیونکہ احتباس موجود ہے، ”لِقِيَامِهِ عَلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ خاوند اس پر موجود ہے، اس کے ساتھ موجود ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاحْتِبَاسَ قَائِمٌ لِقِيَامِهِ عَلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ احتباس موجود ہے لقیامہ علیہا خاوند کے اس عورت پر موجود ہونے کی وجہ سے، ”وَتَجِبُ نَفَقَةُ الْحَضَرِ دُونَ السَّفَرِ“ اور اقامت والا نفقہ واجب ہوگا نہ کہ سفر والا، ”وَلَا يَجِبُ الْكِرَاءُ لِمَا قُلْنَا“ کراء بھئی کراء، کرائے کو کہتے ہیں، کرایہ اور اجرت۔ ”وَلَا يَجِبُ الْكِرَاءُ“ اور کرایہ اور اجرت خاوند پر واجب نہیں ہوگی، ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا کہ خاوند پر اقامت والا ہی نفقہ ہوگا بھئی، سفر والا نہیں ہوگا بھئی، کیونکہ اقامت والا نفقہ خاوند پر واجب ہوا ہے بھئی۔ خاوند پر صرف نفقہ ہے، کرایہ نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ خرچ کرتا ہے وہ اس کی اپنی مرضی ہے، وہ خرچ کر سکتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ مَرِضَتْ فِي مَنْزِلِ الزَّوْجِ فَلَهَا النَّفَقَةُ“ اور اگر بیوی بیمار ہو گئی خاوند کے گھر میں فلہا النفقۃ تو اس کے لیے نفقہ ہوگا۔ بھئی چند سطریں قبل صاحبِ ہدایہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ ہم مریضہ کا مسئلہ آگے بیان کریں گے، وہ اب بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ مَرِضَتْ فِي مَنْزِلِ الزَّوْجِ“ اور اگر بیوی خاوند کے گھر میں بیمار ہو گئی یعنی ایسی بیمار ہے کہ خاوند صحبت ہی نہیں کر سکتا، ”فَلَهَا النَّفَقَةُ“ تو اس کے لیے نفقہ ہوگا، ”وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا نَفَقَةَ لَهَا“ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے لیے نفقہ نہیں ہونا چاہیے، ”إِذَا كَانَ مَرَضًا يَمْنَعُ مِنَ الْجِمَاعِ“ جب ایسا مرض ہو جو جماع سے روکنے والا ہو، ”لِفَوَاتِ الِاحْتِبَاسِ لِلِاسْتِمْتَاعِ“ اس لیے کیونکہ احتباس فوت ہو گیا للاستمتاع نفع اٹھانے کا۔ نفع اٹھانے کا احتباس فوت ہو گیا۔ ”لِفَوَاتِ الِاحْتِبَاسِ لِلِاسْتِمْتَاعِ“ ترجمہ آخر سے ہوگا بھئی، نفع اٹھانے کے احتباس کے فوت ہو جانے کی وجہ سے، کہ نفع اٹھانے والا احتباس فوت ہو گیا ہے، بیوی مریضہ ہے اس سے صحبت نہیں کی جا سکتی۔ تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے اس مریضہ کے لیے نفقہ نہیں ہونا چاہیے، لیکن استحساناً اس کے لیے نفقہ ہوگا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا استحسان کے مقابلے میں قیاس کا ہونا ضروری ہے۔ استحسان کسے کہتے ہیں؟ وہ متفق علیہ دلیل جس کے مقابلے میں قیاس آئے اس کو استحسان کہتے ہیں، چاہے وہ آیت ہو، چاہے وہ حدیث ہو، چاہے وہ اجماع ہو۔ مثلاً آیت سے ایک بات معلوم ہو رہی ہے اور قیاس سے دوسری بات معلوم ہو رہی ہے، تو ترجیح تو آیت کو ہوگی، آیت پر عمل کیا جائے گا، قیاس پر عمل نہیں کیا جائے گا لیکن اس آیت کو استحسان کہیں گے۔ اور اسی طرح حدیث سے ایک بات معلوم ہو رہی ہے، قیاس سے دوسری بات معلوم ہو رہی ہے تو عمل تو حدیث پر کیا جائے گا، لیکن اس حدیث کو اب استحسان کہیں گے۔ تو استحسان وہ متفق علیہ دلیل ہے جس کے مقابلے میں قیاس آ جائے۔ اور زیادہ تر استحسان جو ہے وہ قیاسِ خفی پر بولا جاتا ہے۔ یاد رکھو قیاس جو ہے عقلی دلیل کو کہتے ہیں اور عقلی دلیل دو قسم کی ہو سکتی ہے، ایک کو کہتے ہیں قیاسِ جلی، جلی کا معنی ظاہر، اور ایک کا معنی قیاسِ خفی، خفی کا معنی پوشیدہ۔ قیاسِ جلی وہ ہے کہ جہاں تک عقل فوراً پہنچ جائے، فوراً عقل فیصلہ کر دے کہ اس طرح ہونا چاہیے، اس کو کہتے ہیں قیاسِ جلی۔ اور قیاسِ خفی وہ ہے جہاں تک عقل فوراً نہیں پہنچتی بلکہ وہاں غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ تو قیاسِ خفی جو ہے اس کو استحسان تب کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہو۔ اگر قیاسِ خفی کے مقابلے میں قیاسِ جلی نہیں ہے، پھر جتنا مرضی قیاسِ خفی ہو اس کو قیاس ہی کہتے ہیں، اس کو استحسان نہیں کہتے۔ تو یہاں پر بھی دیکھو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ مریضہ جس کے ساتھ خاوند صحبت نہیں کر سکتا، اس کا نفقہ خاوند پر نہیں ہونا چاہیے، لیکن استحساناً نفقہ آئے گا یعنی قیاسِ خفی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے لیے نفقہ ہوگا، اور استحسان کو استحسان اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ پسندیدہ ہوتا ہے، اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے، تو اس لیے اس کو استحسان کہتے ہیں۔ اب اس میں بھی دیکھو، بیوی خاوند کے گھر میں ہے اور بیمار ہو گئی اور اس کا نفقہ خاوند کے ذمے اگر نہ ہو تو بیوی حرج میں پڑے گی، اور خاوند کے ذمے ہو تو بیوی کے لیے آسانی ہو جائے گی، تو دیکھا استحسان میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے۔ ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الِاحْتِبَاسَ قَائِمٌ“ کیونکہ کہ احتباس موجود ہے، احتباس موجود ہے۔ بھئی احتباس کیسے موجود ہے؟ خاوند تو صحبت کر نہیں سکتا، احتباس تو فوت ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں بھئی اگرچہ صحبت نہیں کر سکتا، لیکن خاوند اس کے ساتھ باتیں تو کر سکتا ہے، اس کو چھو تو سکتا ہے، اور نیز وہ گھر میں ہے وہ گھر کی چیزوں کی بھی حفاظت کرے گی، تو احتباس تو ابھی بھی موجود ہے، وہ گھر میں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الِاحْتِبَاسَ قَائِمٌ“ کہ احتباس موجود ہے، ”فَإِنَّهُ يَسْتَأْنِسُ بِهَا“ اس لیے کیونکہ خاوند اس کے ذریعے انس حاصل کرے گا، بیوی کے ساتھ باتیں کر کے انس حاصل کرے گا، ”وَيَمَسُّهَا“ اور خاوند اس کو چھو سکتا ہے، ”وَتَحْفَظُ الْبَيْتَ“ اور نیز وہ گھر کی حفاظت کرے گی، ”وَالْمَانِعُ بِعَارِضٍ“ اور یہ جو صحبت سے مانع آیا ہے بعارضٍ یہ ایک عارض کی وجہ سے آیا ہے، ایک رکاوٹ پیش آ گئی ہے، ”فَأَشْبَهَ الْحَيْضَ“ تو یہ حیض کے مشابہ ہوا۔ تو یہ بیماری حیض کے مشابہ ہو گئی اور حیض کے اندر بھی خاوند صحبت نہیں کر سکتا لیکن نفقہ دینا پڑتا ہے، تو یہاں بھی بیماری میں بھی خاوند صحبت نہیں کر سکتا لیکن نفقہ اس کو دینا پڑے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالْمَانِعُ بِعَارِضٍ“ اور یہ جو مانع آیا ہے یہ ایک عارض کی وجہ سے ہے یعنی ایک چیز پیش آ گئی ہے، ”فَأَشْبَهَ الْحَيْضَ“ تو یہ حیض کے مشابہ ہوئی یہ بیماری۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهَا إِذَا سَلَّمَتْ نَفْسَهَا ثُمَّ مَرِضَتْ“ اچھا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب اس بیوی کی رخصتی ہوئی یہ خاوند کے گھر آئی تو اس وقت یہ ٹھیک تھی، یہ صحبت کے قابل تھی، اور پھر بعد میں خاوند کے گھر میں یہ بیمار ہو گئی، تو اس صورت میں نفقہ واجب ہوگا کیونکہ عورت نے صحیح حالت میں اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کیا تھا، یہ بیماری بعد میں پیش آئی ہے۔ اور اگر بیوی کی رخصتی جب ہوئی، بیوی جب آئی تو اس وقت سے ہی وہ بیمار تھی، صحبت اس سے نہیں ہو سکتی، تو اس صورت میں خاوند پر نفقہ واجب نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں اپنے آپ کو سپرد کرنا نہیں پایا گیا، کیونکہ خاوند صحبت ہی نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”أَنَّهَا إِذَا سَلَّمَتْ نَفْسَهَا“ کہ جب بیوی نے اپنے آپ کو سپرد کر دیا یعنی خاوند کے گھر میں، ”ثُمَّ مَرِضَتْ“ پھر بعد میں بیمار ہو گئی، ”تَجِبُ النَّفَقَةُ“ تو نفقہ واجب ہوگا، ”لِتَحَقُّقِ التَّسْلِيمِ“ کیونکہ سپرد کرنا پایا گیا، بیوی نے اپنے آپ کو سپرد کر دیا ہے، ”وَلَوْ مَرِضَتْ ثُمَّ سَلَّمَتْ“ اور اگر بیوی پہلے بیمار ہوئی ثم سلمت پھر اس نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کیا، ”لَا تَجِبُ“ پھر نفقہ واجب نہیں ہوگا، ”لِأَنَّ التَّسْلِيمَ لَمْ يَصِحَّ“ اس لیے کیونکہ سپرد کرنا صحیح نہیں ہے، جب سپرد کیا اس وقت سے ہی خاوند صحبت پر قادر نہیں ہے تو سپرد کرنا ہی گویا نہ پایا گیا بھئی۔ ”قَالُوا: هَذَا حَسَنٌ“ فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ اچھا ہے، یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ قول اور یہ تفصیل جو ہے اچھی ہے، ”وَفِي لَفْظِ الْكِتَابِ مَا يُشِيرُ إِلَيْهِ“ اور کتاب کے لفظ میں بھی ایسی چیز ہے جو اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ یعنی جو قدوری کا متن آیا اس کے اندر بھی ایسے وہاں بھی الفاظ ایسے ہیں جو اسی بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ دیکھو قدوری کی عبارت کیا تھی: ”وَإِنْ مَرِضَتْ فِي مَنْزِلِ الزَّوْجِ“ اگر خاوند کے گھر میں وہ بیمار ہوئی، ”فَلَهَا النَّفَقَةُ“ تو اس کے لیے نفقہ ہے، معلوم ہوا پہلے سے ہی بیمار یہاں آئی ہے کہ خاوند صحبت پر ہی قادر نہیں ہے، تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے، تو قدوری کی عبارت میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے بھئی۔ ”قَالُوا“ تو فقہاء فرماتے ہیں ”هَذَا حَسَنٌ“ کہ یہ تفصیل اچھی ہے، ”وَفِي لَفْظِ الْكِتَابِ مَا يُشِيرُ إِلَيْهِ“ اور کتاب کا لفظ یعنی قدوری کا جو لفظ ہے اس میں بھی ایسی چیز ہے جو اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ”قَالَ: وَتُفْرَضُ عَلَى الزَّوْجِ النَّفَقَةُ إِذَا كَانَ مُوسِرًا وَنَفَقَةُ خَادِمِهَا“ اب صاحبِ ہدایہ آگے آپ کو بتلائیں گے کہ اگر خاوند خوش حال ہے تو بیوی کے لیے خادم کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوگا، بیوی کے لیے خادم کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوگا۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَتُفْرَضُ عَلَى الزَّوْجِ النَّفَقَةُ“ کہ خاوند پر نفقہ مقرر کیا جائے گا ”إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ جب خاوند خوش حال ہو ”وَنَفَقَةُ خَادِمِهَا“ اور اس عورت کے خادم کا نفقہ بھی۔ خاوند پر بیوی کا نفقہ بھی واجب ہوگا اور اس کے خادم کا نفقہ بھی واجب ہوگا اذا کان موسراً جب خاوند خوش حال ہو۔ یہ ہے قدوری کی عبارت۔ اور اس عبارت پہ اشکال ہوتا ہے، اس عبارت میں کیا آیا: ”وَتُفْرَضُ عَلَى الزَّوْجِ النَّفَقَةُ“ کہ خاوند پر بیوی کا نفقہ واجب ہوگا ”إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ جب وہ خوش حال ہو۔ بھئی وہ تو جب تنگ دست ہو تب بھی واجب ہوتا ہے اور یہ بات تو آپ ہمیں پیچھے بھی بتلا چکے ہیں، تو دوبارہ اس بات کو ذکر کرنے کی کیا حاجت تھی؟ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہاں یہ ضمناً صاحبِ قدوری نے ساتھ عورت کے نفقے کو بھی ذکر کر دیا، اصل یہاں خادم کا نفقہ بتلانا مقصود ہے، بلکہ آپ کو بتلائیں گے کہ قدوری کے بعض نسخوں کے اندر یہاں عورت کے نفقے کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ صرف خادم ہی کے نفقے کا ذکر ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَتُفْرَضُ عَلَى الزَّوْجِ النَّفَقَةُ“ کہ خاوند پر بھی نفقہ مقرر کیا جائے گا ”إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ جب وہ خوش حال ہو یعنی مالدار ہو ”وَنَفَقَةُ خَادِمِهَا“ اور عورت کے خادم کا نفقہ بھی اس پر واجب کیا جائے گا، ”وَالْمُرَادُ بِهَذَا بَيَانُ نَفَقَةِ الْخَادِمِ“ اور مراد اس کے ذریعے خادم کے نفقے کا بیان ہے، یہاں خادم کا نفقہ بیان کرنا چاہتے ہیں اور جو عورت کا ذکر کیا وہ ویسے ہی ساتھ ذکر کر دیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ بِهَذَا بَيَانُ نَفَقَةِ الْخَادِمِ“ اور اس کے ذریعے مراد جو ہے خادم کے نفقے کو بیان کرنا ہے، ”وَلِهَذَا ذُكِرَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ“ اور اسی لیے قدوری کے بعض نسخوں میں یہ ذکر کیا گیا ہے، آگے قدوری کی عبارت ہے بعض نسخوں میں یوں ہے: ”وَتُفْرَضُ عَلَى الزَّوْجِ إِذَا كَانَ مُوسِرًا نَفَقَةُ خَادِمِهَا“۔ ”وَتُفْرَضُ عَلَى الزَّوْجِ“ اور خاوند پر فرض کیا جائے گا خاوند پر لازم کیا جائے گا ”إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ جب وہ خوش حال ہو، کیا فرض کیا جائے گا؟ ”نَفَقَةُ خَادِمِهَا“ اس عورت کے خادم کا نفقہ۔ تو بعض قدوری کے نسخوں میں یہاں عورت کے نفقے کا ذکر ہی نہیں ہے، صرف خادم کا نفقہ یہاں ذکر ہے۔ ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے، اب وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے ”أَنَّ كِفَايَتَهَا وَاجِبَةٌ عَلَيْهِ“ کہ اس عورت کی کفایت خاوند پر واجب ہے، کہ اتنی چیز دے جو عورت کے لیے کافی ہو جائے، ”وَهَذَا مِنْ تَمَامِهَا“ اور یہ خادم کا نفقہ بھی اس کفایت کے پورا کرنے میں سے ہے، اس کے ذریعے عورت کی پوری کفایت ہوگی، ”إِذْ لَا بُدَّ لَهَا مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ اس عورت کے لیے خادم بھی ضروری ہے بھئی۔ ”وَلَا تُفْرَضُ لِأَكْثَرَ مِنْ نَفَقَةِ خَادِمٍ وَاحِدٍ“ اور مقرر نہیں کیا جائے گا ایک خادم کے نفقے سے زیادہ، ایک خادم کے نفقے سے زیادہ مقرر نہیں کیا جائے گا، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تُفْرَضُ لِخَادِمَيْنِ“ دو خادموں کا نفقہ مقرر کیا جائے گا، ”لِأَنَّهَا تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدِهِمَا لِمَصَالِحِ الدَّاخِلِ“ اس لیے کیونکہ وہ عورت محتاج ہے خادموں میں سے ایک کی لمصالح الداخل گھر کے اندر کے کاموں کے لیے، گھر کے اندر کی جو مصلحتیں ہیں اور کام ہیں اس کے لیے ایک الگ خادم چاہیے یعنی خادمہ چاہیے، کیا چاہیے؟ خادمہ، اور ایک گھر کے باہر کے کاموں کے لیے خادم چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدِهِمَا“ اس لیے کیونکہ یہ عورت محتاج ہوگی ان دو خادموں میں سے ایک کی ”لِمَصَالِحِ الدَّاخِلِ“ داخلِ دار کی مصلحتوں کے لیے یعنی گھر کے اندر کے کاموں کے لیے، ”وَإِلَى الْآخَرِ لِمَصَالِحِ الْخَارِجِ“ اور دوسرے کی محتاج ہوگی گھر سے خارج کی مصلحتوں کے لیے یعنی گھر سے باہر کے کاموں کے لیے۔ ”وَلَهُمَا“ جبکہ طرفین فرماتے ہیں ”أَنَّ الْوَاحِدَ يَقُومُ بِالْأَمْرَيْنِ“ کہ ایک ہی خادم دونوں کام کر سکتا ہے، ولہما طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْوَاحِدَ يَقُومُ بِالْأَمْرَيْنِ“ کہ ایک ہی خادم دونوں کام کر سکتا ہے، ”فَلَا ضَرُورَةَ إِلَى اثْنَيْنِ“ لہٰذا کوئی ضرورت نہیں ہے دو خادموں کی، ”وَلِأَنَّهُ لَوْ تَوَلَّى كِفَايَتَهَا بِنَفْسِهِ كَانَ كَافِيًا فَكَذَا إِذَا أَقَامَ الْوَاحِدَ مَقَامَ نَفْسِهِ“ بھئی دوسری وجہ، ایک تو وجہ ذکر کر دی کہ ایک ہی خادم کافی ہے کیونکہ وہی گھر کے اندر کے بھی کام کر سکتا ہے اور گھر کے باہر کے بھی کام کر سکتا ہے، اور دوسری وجہ یہ کہ اگر خاوند خادم کے بجائے خود ان کاموں کا ذمہ دار بن جاتا، تمہارے سارے کام میں خود کروں گا گھر کے اندر کی جہاں ضرورت ہوگی وہ بھی میں کروں گا باہر کے بھی میں کروں گا، تو پھر اس صورت میں وہ خاوند ہی کافی تھا اس کے لیے، تو جیسے ایک خاوند اس کام کے لیے کافی ہو سکتا ہے تو اسی طرح ایک خادم بھی ان کاموں کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ لَوْ تَوَلَّى“ اور نیز اس لیے کیونکہ خاوند اگر ذمہ دار ہو گیا ”كِفَايَتَهَا بِنَفْسِهِ“ اس عورت کی کفایت کا خود، اگر خاوند خود اس کی کفایت کا ذمہ دار ہو گیا ”وَلِأَنَّهُ لَوْ تَوَلَّى كِفَايَتَهَا بِنَفْسِهِ“ اور اس لیے کیونکہ خاوند اگر اس عورت کی کفایت کا خود ذمہ دار ہو گیا ”كَانَ كَافِيًا“ تو یہ کافی ہوگا، ”فَكَذَا إِذَا أَقَامَ الْوَاحِدَ مَقَامَ نَفْسِهِ“ تو اسی طرح ہے جب کسی ایک خادم کو وہ اب خاوند اپنا قائم مقام کر دے کہ یہ تمہارے گھر کے اندر کے بھی کام کرے گا اور باہر کے بھی۔ ”وَقَالُوا: إِنَّ الزَّوْجَ الْمُوسِرَ يَلْزَمُهُ مِنْ نَفَقَةِ الْخَادِمِ“ اب بیان کریں گے خادم کا نفقہ کتنا ہوگا؟ خادم کو بھی تو نفقہ دینا ہے خاوند نے، تو کتنا نفقہ دے گا خادم کو؟ تو آپ کو بتائیں گے جو تنگ دست کا نفقہ ہوتا ہے یعنی ادنیٰ، کم مقدار، ادنیٰ مقدار جو ہے نفقے کی وہ تنگ دست کا نفقہ ہے، تو وہ نفقہ واجب ہوگا خاوند پر اس خادم کے لیے۔ ”وَقَالُوا“ اور فقہاء فرماتے ہیں: ”إِنَّ الزَّوْجَ الْمُوسِرَ يَلْزَمُهُ مِنْ نَفَقَةِ الْخَادِمِ“ کہ خوش حال خاوند جو ہے مالدار خاوند جو ہے یلزمہ اس پر لازم ہے من نفقۃ الخادم خادم کے نفقے میں سے ”مَا يَلْزَمُ الْمُعْسِرَ“ وہ جو نفقہ لازم ہوتا ہے تنگ دست خاوند پر ”مِنْ نَفَقَةِ امْرَأَتِهِ“ یعنی اس کی بیوی کا نفقہ۔ تنگ دست خاوند پر جو اپنی بیوی کا نفقہ واجب ہوتا ہے وہی خادم کا نفقہ واجب ہوگا مالدار خاوند پر، ”وَهُوَ أَدْنَى الْكِفَايَةِ“ اور وہ کفایت کی کم سے کم مقدار ہے، وہ کفایت کی جس سے جو ایک انسان کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ ”وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ“ اور متن کا قول صاحبِ قدوری کا جو قول آیا کتاب کے اندر: ”إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ بھئی اوپر متن میں آیا تھا: ”وَتُفْرَضُ عَلَى الزَّوْجِ النَّفَقَةُ إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ جب خاوند خوش حال ہو مالدار ہو پھر خادم کا نفقہ آئے گا۔ تو آپ کو بتائیں گے کہ ہاں جب خاوند مالدار ہو تب ہی خادم کا نفقہ خاوند پر آئے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کی ایک روایت ہے کہ خاوند تنگ دست ہو پھر بھی خادم کا نفقہ خاوند پر واجب ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ“ اور صاحبِ قدوری کا جو قول آیا کتاب کے اندر ”إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ یہ جو متن میں آیا کیا آیا ”إِذَا كَانَ مُوسِرًا“ یہ جو قول ہے، ”إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُ لَا تَجِبُ نَفَقَةُ الْخَادِمِ عِنْدَ إِعْسَارِهِ“ اشارۃ الی یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ”أَنَّهُ لَا تَجِبُ نَفَقَةُ الْخَادِمِ عِنْدَ إِعْسَارِهِ“ کہ خادم کا نفقہ واجب نہیں ہوگا عند اعسارہ خاوند کے تنگ دست ہوتے وقت بھئی۔ ”وَهُوَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہی روایت ہے حسن ابن زیاد کی امام صاحب سے، ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے، ”خِلَافًا لِمَا قَالَهُ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف اس کے جو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا۔ امام محمد رحمہ اللہ کا قول یہاں ذکر نہیں لیکن انہوں نے فرمایا کہ تنگ دست خاوند کے ذمے بھی خادم کا نفقہ واجب ہوگا، لیکن حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے امام صاحب سے کیا روایت کی ہے؟ کہ تنگ دست خاوند پر بیوی کے خادم کا نفقہ واجب نہیں ہوگا اور یہی بات اوپر متن میں بھی ذکر ہو گئی تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”خِلَافًا لِمَا قَالَهُ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف اس کے جو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا، ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى الْمُعْسِرِ أَدْنَى الْكِفَايَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ جو واجب ہوتا ہے علی المعسر تنگ دست پر ادنی الکفایۃ وہ ادنیٰ کفایت ہے یعنی کم سے کم جو کافی ہو جائے۔ بھئی تنگ دست کے ذمے جو بیوی کا نفقہ ہے وہ کم سے کم مقدار ہے جو کافی ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ تنگ دست پر وہی مقدار واجب ہے خادم کی الگ مقدار واجب نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى الْمُعْسِرِ أَدْنَى الْكِفَايَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو تنگ دست خاوند پر واجب ہے وہ ادنیٰ کفایت ہے، ”وَهِيَ قَدْ تَكْتَفِي بِخِدْمَةِ نَفْسِهَا“ اور عورت بھی وہ کبھی کبھار اکتفا کر لیتی ہے بخدمۃ نفسہا اپنی خدمت پر، یعنی عورت خود ہی سارے کام کر لیتی ہے، اپنی ہی خدمت پر وہ اکتفا کر لیتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ أَعْسَرَ بِنَفَقَةِ امْرَأَتِهِ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا وَيُقَالُ لَهَا اسْتَدِينِي عَلَيْهِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ خاوند تنگ دست ہے، وہ بیوی کا نفقہ بھی نہیں ادا کر پا رہا، تو کیا اب دونوں میں جدائی کروا دی جائے گی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی جب خاوند بیوی کا نفقہ بھی نہیں ادا کر سکتا، تو پھر اس صورت کے اندر ان دونوں میں جدائی کروا دی جائے گی، اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ نے خاوندوں کو دو اختیار دیے ہیں کہ یا تو امساک بالمعروف پر عمل کریں کہ اچھے طریقے سے ضابطے کے مطابق، قاعدے کے مطابق عورت کو رکھیں جس طرح معاشرے میں رکھا جاتا ہے، اور اگر نہیں رکھ سکتے اس طریقے سے پھر تسریح باحسان کا حکم دیا گیا ہے کہ اچھے طریقے سے اس کو رخصت کر دے۔ تو یہاں خاوند جب تنگ دست ہے نفقہ نہیں دے سکتا تو خاوند امساک بالمعروف پر عمل نہیں کر رہا، اچھے طریقے سے بیوی کو نہیں روک رہا، تو پھر قاضی اس کا نائب بن کر تسریح باحسان کروا دے گا، اچھے طریقے سے بیوی کو رخصت کر دے گا، جیسے مجبوب اور عنین کے مسئلے میں۔ مجبوب اور عنین یہ بھی امساک بالمعروف پر عمل نہیں کر رہے کیونکہ یہ صحبت پر قادر نہیں، تو جیسے ان کے مسئلے میں یہ امساک بالمعروف پر عمل نہیں کرتے تو قاضی ان کا نائب بن کر تسریح باحسان کر دیتا ہے بیوی کو رخصت کر دیتا ہے، تو یہاں پر یہ خاوند جو تنگ دست ہے اور نفقہ بھی نہیں دے سکتا یہاں بھی قاضی اسی طرح کرے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک اگر خاوند تنگ دست ہے، نفقہ ادا نہیں کر سکتا، پھر بھی پھر بھی قاضی دونوں میں جدائی نہیں کروائے گا بلکہ قاضی اس عورت کا نفقہ مقرر کر دے گا کہ اتنا مقدار ہے تمہارے نفقے کی ہر روز، اور تم اس خاوند کے طرف سے قرضے لیتی رہو، لوگوں سے یہ چیزیں لیتی رہو اور پھر ادائیگی خاوند کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَعْسَرَ بِنَفَقَةِ امْرَأَتِهِ“ اور جو شخص تنگ دست ہو گیا اپنی بیوی کے نفقے میں، ”لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا“ تو وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی نہیں کروائی جائے گی، ”وَيُقَالُ لَهَا“ اور عورت سے کہا جائے گا ”اسْتَدِينِي عَلَيْهِ“ کہ تو اس پر قرض طلب کرتی رہ۔ دین کسے کہتے ہیں؟ قرض کو، اور سین طلب کے لیے آ گیا، استدینی تو قرض طلب کرتی رہ علیہ اس خاوند پر یعنی ادائیگی کون کرے گا؟ خاوند کرے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُفَرَّقُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں میں جدائی کروا دی جائے گی، ”لِأَنَّهُ عَجَزَ عَنِ الْإِمْسَاكِ بِالْمَعْرُوفِ“ اس لیے کیونکہ خاوند امساک بالمعروف سے عاجز آ گیا، ”فَيَنُوبُ الْقَاضِي مَنَابَهُ فِي التَّفْرِيقِ“ تو قاضی اس کا قائم مقام ہو جائے گا فی التفریق جدائی کروانے میں، ”كَمَا فِي الْجَبِّ وَالْعُنَّةِ“ جیسے کہ مجبوب ہونے اور عنین ہونے میں ہے، جیسے وہاں قاضی اس کا نائب بن کر جدائی کرواتا ہے یہاں بھی قاضی خاوند کا نائب بن کر جدائی کروا دے گا۔ ”بَلْ أَوْلَى“ بلکہ یہ جدائی تو اس سے بھی زیادہ لائق ہے یہاں پر۔ مجبوب اور عنین کے مسئلے سے بھی بڑھ کر یہاں یہ جدائی کے لائق ہے، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مجبوب اور عنین تو صحبت پر نہیں قادر اور صحبت کے بغیر تو انسان رہ سکتا ہے اور یہ خاوند تو نفقے پر نہیں قادر اور نفقے کے بغیر تو انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا، تو لہٰذا یہ زیادہ لائق ہے جدائی کے بھئی۔ یہ معنی ہے ”بَلْ أَوْلَى“ بلکہ یہ جدائی کے زیادہ لائق ہے، ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى النَّفَقَةِ أَقْوَى“ اس لیے کیونکہ نفقے کی جو حاجت ہے اقوی وہ زیادہ قوت والی ہے یعنی وہ زیادہ ہے بھئی۔ اب ہماری دلیل آ گئی: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، بھئی دیکھیے ہم کہتے ہیں کہ اگر دونوں میں جدائی کروا دیں گے تو خاوند کا حق بالکل سرے سے ہی باطل ہو گیا، ختم ہو گیا۔ خاوند اس عورت سے صحبت کر سکتا تھا، جب آپ جدائی کروا دیں گے تو خاوند کا حق کیا ہوا؟ بالکل ختم ہو گیا، باطل ہو گیا۔ لیکن اگر اس کے بجائے جدائی نہ کروائی جائے اور عورت کا نفقہ مقرر کر دے قاضی کہ اتنا نفقہ تم ہر روز لے سکتی ہو اور تم اس کے ذمے میں قرضہ لیتی رہو، تو جب قاضی نے نفقہ مقرر کر دیا اب تو چاہے قرض لے یا نہ لے، لیکن اب اس کا نفقہ خاوند کے ذمے دین بنتا جا رہا ہے تو بعد میں وہ اکٹھا بھی وصول کر سکتی ہے، لہٰذا لہٰذا عورت کا حق صرف مؤخر ہو رہا ہے یہاں پر۔ اگر تفریق کروائی جائے تو خاوند کا حق بالکل باطل ہو جائے گا کیونکہ جدائی آ گئی، اب خاوند اس سے صحبت نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قاضی اس کا نفقہ مقرر کر دے اور اسے قرض لینے کا حکم دے دے، تو اس صورت میں زیادہ سے زیادہ عورت کا حق مؤخر ہو رہا ہے کہ بعد میں جا کر یہ سارا کچھ وصول کر سکے گی بھئی۔ تو لہٰذا اس کے اندر عورت کا حق باطل نہیں بلکہ صرف مؤخر ہو رہا ہے۔ تو ضرر تو دونوں صورتوں میں ہے لیکن خاوند کا ضرر زیادہ ہے بھئی، لہٰذا اس صورت کو اختیار نہیں کیا جائے گا بلکہ اس صورت کو اختیار کیا جائے گا کہ قاضی عورت کا نفقہ مقرر کر دے گا اور اسے قرضہ لینے کا حکم دے دے گا، اس میں زیادہ سے زیادہ عورت کا حق مؤخر ہوا ہے، اس کا حق باطل نہیں، لہٰذا اس میں نقصان کم ہے تو لہٰذا اس کو اختیار کیا جائے گا۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ حَقَّهُ يُبْطَلُ“ کہ خاوند کا حق باطل ہو جاتا ہے اگر فسخ کر دیا جائے، نکاح کو فسخ تو خاوند کا حق باطل ہو جاتا ہے، ”وَحَقَّهَا يَتَأَخَّرُ“ اور اگر عورت کو انتظار کرنا پڑے تو اس کا حق صرف مؤخر ہوتا ہے، ”وَحَقَّهَا يَتَأَخَّرُ“ اور عورت کا حق جو ہے وہ صرف مؤخر ہوتا ہے، ”وَالْأَوَّلُ أَقْوَى فِي الضَّرَرِ“ اور پہلی چیز جو ہے وہ ضرر کے اندر زیادہ قوی ہے، وہ زیادہ نقصان دینے والی ہے۔ کون سی؟ اگر نکاح جدائی کروا دی جائے پھر تو خاوند کا حق باطل ہو جائے گا، اب اس میں خاوند کا ضرر ہے اور دوسری صورت میں بیوی کا حق مؤخر ہوگا لیکن وہ نقصان کم درجے کا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَوَّلُ أَقْوَى فِي الضَّرَرِ“ اور پہلی صورت جو ہے وہ زیادہ قوی ہے نقصان میں۔ بھئی یہ جو عورت کا حق مؤخر ہوگا وہ کس طرح مؤخر ہوگا؟ کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ تَصِيرُ دَيْنًا بِفَرْضِ الْقَاضِي“ کہ نفقہ جو ہے وہ دین ہو جائے گا بفرض القاضی قاضی کے مقرر کرنے سے۔ بھئی قاضی نے کہا تمہارا نفقہ اتنا ہے ہر روز، اتنی چیز جو ہے تم بطورِ قرض کے لے سکتی ہو۔ تو اس صورت میں دو ہی صورتیں ہیں یا عورت جانے کے بعد قرض لے گی یا ویسے ہی کسی طرح گزارا کرے گی اپنے ماں باپ وغیرہ سے خرچہ لے کر سلسلہ چلائے گی کسی طرح، تو دیکھو اب جب قاضی نے مقرر کر دیا اب یہ خاوند سے اس نے وصول کرنا ہی کرنا ہے، جتنے دن بھی گزر گئے، چھ مہینے تک یہ سلسلہ چلتا رہا پھر خاوند کے پاس مال آیا، تو یہ چھ مہینے جب قاضی نے مقرر کر دیے تھے یہ سارا حق عورت اپنے خاوند سے وصول کر سکتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو جب قاضی نے مقرر کر دیا تو عورت کا حق صرف مؤخر ہوا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَهَذَا“ اور یہ کہ عورت کا حق مؤخر ہونا اس وجہ سے ہے ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ تَصِيرُ دَيْنًا بِفَرْضِ الْقَاضِي“ اس لیے کیونکہ یہ نفقہ جو ہے وہ دین ہو جائے گا قاضی کے مقرر کرنے سے، ”فَتُسْتَوْفَى فِي الزَّمَانِ الثَّانِي“ تو لہٰذا اس کو عورت وصول کر لے گی دوسرے زمانے میں۔ ”وَفَوْتُ الْمَالِ“ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس خاوند کو قیاس کیا تھا مجبوب اور عنین پر کہ جیسے ان کے اندر قاضی جدائی کرواتا ہے تو یہ خاوند جو نفقے پر قادر نہیں اس میں بھی قاضی جدائی کروا دے گا، ہم کہتے ہیں نہیں، آپ اس تنگ دست خاوند کو مجبوب اور عنین پر جو ہے قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ کہ یہاں مال فوت ہو رہا ہے اور مال جو ہے نکاح کے اندر تابع ہوتا ہے اصل مقصود مال نہیں ہوتا نکاح میں، نکاح کے اندر اصل مقصود جو ہے وہ افزائشِ نسل ہے، اولاد کا حاصل ہونا بھئی۔ اصل مقصد کیا ہے؟ تناسل اور توالد ہے، افزائشِ نسل ہے اور اولاد کا حاصل کرنا ہے، وہ اصل مقصد ہے، اور مجبوب اور عنین جو ہیں وہ تو اصل مقصود کے اندر ہی مانع آ گیا، اور یہ جو مال ہے یہ تو نکاح کے اندر تابع ہوتا ہے اصل نہیں، لہٰذا یہ جو نفقے سے عاجز آیا ہے اس خاوند کو آپ مجبوب اور عنین پر قیاس نہیں کر سکتے، غیر مقصود کو آپ مقصود پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَفَوْتُ الْمَالِ“ اور مال کا فوت ہونا ”وَهُوَ تَابِعٌ فِي النِّكَاحِ“ اس حال میں کہ یہ نکاح میں تابع ہوتا ہے ”لَا يُلْحَقُ بِمَا هُوَ الْمَقْصُودُ“ اس کو نہیں ملایا جائے گا اس چیز کے ساتھ جو مقصود ہے نکاح میں ”وَهُوَ التَّنَاسُلُ“ اور وہ نسل کا چلانا ہے، وہ افزائشِ نسل ہے۔ بھئی دیکھیے یہ عبارت سمجھ لیں: ”وَفَوْتُ الْمَالِ“ یہ ہے مبتدا اور آگے دو تین لفظوں کے بعد آ رہا ہے ”لَا يُلْحَقُ بِمَا هُوَ الْمَقْصُودُ“ یہ اس کی خبر ہے، اور درمیان میں فوت المال کے بعد بتلا دیا ”وَهُوَ تَابِعٌ فِي النِّكَاحِ“ کہ یہ مال جو ہے یہ نکاح میں تابع ہوتا ہے۔ مال جو ہے نکاح میں تابع ہوتا ہے، یہ درمیان میں بتا دیا۔ تو اس کو ذرا نکال دیں اور اب عبارت پڑھیں: ”وَفَوْتُ الْمَالِ لَا يُلْحَقُ بِمَا هُوَ الْمَقْصُودُ“، اور مال کا فوت ہونا جو ہے اس کو مقصود کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔ مال کا فوت ہونا مقصود کے فوت ہونے کی طرح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفَوْتُ الْمَالِ“، اور مال کا فوت ہونا، ”وَهُوَ تَابِعٌ فِي النِّكَاحِ“، اس حال میں کہ یہ مال جو ہے یہ نکاح میں تابع ہوتا ہے، ”لَا يُلْحَقُ بِمَا هُوَ الْمَقْصُودُ“، تو اس فوتِ مال کو نہیں ملایا جائے گا اس چیز کے ساتھ جو نکاح میں مقصود ہوتی ہے، ”وَهُوَ التَّنَاسُلُ“، اور وہ باہم نسل کا بڑھانا ہے بھئی۔ ”وَفَائِدَةُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِدَانَةِ“، بھئی قاضی اس عورت کو حکم دے گا کہ تو قرضہ لیتی رہ، اس کا فائدہ کیا ہے؟ اس کا فائدہ کیا ہے؟ قرضہ تو وہ ویسے بھی لے سکتی ہے۔ کہتے ہیں اس کا فائدہ یہ ہے کہ اب جب قاضی نے اس کی مقدار مقرر کر دی اور اس کو قرضہ لینے کا حکم دے دیا، اب یہ قرضہ لے گی اور ادائیگی کس کے ذمے کر دے گی؟ خاوند کے ذمے اور وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر قاضی کے کہے بغیر ہی یہ قرض لے گی تو پھر وہ خود ہی اس کو ادا کرنا پڑے گا، وہ خاوند کے ذمے نہیں آئے گا بھئی۔ ”وَفَائِدَةُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِدَانَةِ مَعَ الْفَرْضِ“، اچھا استدانت کا معنی قرض لینا، ”مَعَ الْفَرْضِ“، ساتھ مقرر کرنے کے، کہ قاضی مقدار بھی مقرر کر دے، یہ نہ ہو عورت زیادہ چیزیں لیتی رہے بھئی۔ تو استدانت مع الفرض، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَفَائِدَةُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِدَانَةِ مَعَ الْفَرْضِ“، قاضی کے مقرر کرنے کے ساتھ قرض لینے کا حکم دینے کا فائدہ یہ ہے، ”أَنْ يُمْكِنَهَا“، کہ اس عورت کے لیے ممکن ہوگا، ”إِحَالَةُ الْغَرِيمِ“، قرض خواہ کو حوالے کرنا، ”عَلَى الزَّوْجِ“، خاوند پر۔ ”إِحَالَةُ الْغَرِيمِ“، قرض خواہ کو حوالے کرنا، ”عَلَى الزَّوْجِ“، خاوند پر۔ حوالہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک قرض جو آپ کے ذمے ہے وہ آپ کسی دوسرے کے ذمے ڈال دیں۔ آپ نے ایک آدمی کا دس ہزار روپیہ دینا ہے، آپ اس کے پاس زید کو لے گئے کہ بھئی میں نے آپ کا دس ہزار روپیہ قرض دینا تھا، میری جگہ وہ زید ادا کرے گا اور زید بھی کہتا ہے ہاں ٹھیک ہے میں ادا کروں گا، تو اس کو کہتے ہیں حوالہ۔ اب یہ قرضہ کس سے وصول کرے گا؟ زید سے وصول کرے گا کیونکہ زید نے خود بھی قبول کر لیا۔ توجہ ہے؟ تو یہاں عورت بھی اسی طرح کرے گی، قرض لے گی اور کس کے حوالے کرے گی؟ خاوند کے حوالے یعنی اس کے ذمے میں ڈال دے گی اور پھر وہ اس خاوند سے وصول کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے کہ فائدہ اس کا یہ ہے: ”أَنْ يُمْكِنَهَا إِحَالَةُ الْغَرِيمِ“، کہ ممکن ہوگا اس عورت کے لیے قرض خواہ کو حوالے کرنا، ”عَلَى الزَّوْجِ“، خاوند پر۔ ”فَأَمَّا إِذَا كَانَتِ الِاسْتِدَانَةُ بِغَيْرِ أَمْرِ الْقَاضِي“، باقی اگر قرض لینا قاضی کے حکم کے بغیر ہو، ”كَانَتِ الْمُطَالَبَةُ عَلَيْهَا دُونَ الزَّوْجِ“، تو اس کا مطالبہ اسی عورت پر ہوگا نہ کہ خاوند پر، پھر عورت سے ہی وصول کیا جائے گا۔ یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا بھئی، مسئلہ آپ نے پڑھ لیا کہ عند الاحناف اگر خاوند تنگ دست ہے اور نفقہ ادا کرنے پر بھی قادر نہیں، تو قاضی ان میں جدائی نہیں کروائے گا، بلکہ عورت کے لیے نفقہ مقرر کر دے گا اور عورت کو حکم دے دے گا کہ خاوند کے ذمے میں وہ قرض لیتی رہے۔ تو یہ مسئلہ اوپر آ گیا ظاہر روایت کے اندر بھئی، لیکن شارح وقایہ بھئی، شارح وقایہ وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے فقہاء نے دیکھا کہ بعض اوقات عورت بڑی محتاج ہو جاتی ہے اور خاوند کے پاس نفقہ ادا کرنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے، تو اب اگر جدائی نہیں کروائیں گے تو عورت بیچاری بہت تکلیف میں پڑ جائے گی۔ اس لیے کیونکہ اگر اس کو قرض لینے کا بھی ہم حکم دے دیتے ہیں تو قرض کب تک وہ لیتی رہے گی؟ لوگ بھی کچھ مدت تک قرض دیں گے، پھر دیکھیں گے وصولی ہو ہی نہیں رہی تو پھر تو اس کو کوئی قرض ہی نہیں دے گا بھئی۔ تو لہٰذا یہ عورت تکلیف میں، مشکل میں اور مصیبت میں پڑ جائے گی، لہٰذا حاجت ہے کہ تفریق کی صورت اختیار کی جائے۔ جب خاوند نفقہ نہیں دے سکتا تو پھر بالآخر تفریق کی صورت اختیار کرنا پڑے گی، لیکن عند الاحناف تو تفریق کی صورت نہیں ہے۔ تو پھر اس کی صورت یہ ہے کہ قاضی جو ہے وہ اپنا کوئی نائب مقرر کر دے شافعی المسلک، کوئی قاضی اپنا نائب مقرر کر دے شافعی المسلک، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق تو جدائی کروائی جائے گی اگر خاوند نفقہ نہ دے سکے، تو پھر وہ شافعی المسلک نائب جو ہے وہ اس میاں بیوی کے درمیان تفریق اور جدائی کروا دے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ چونکہ عورت محتاج ہے، خاوند کے مالدار ہونے کا صرف ایک امکان ہی ہے، وہم ہی ہے، پتہ نہیں اس کے پاس کبھی مال آئے گا بھی یا نہیں، اور فی الحال یہ نفقہ ادا نہیں کر پا رہا، تو پھر بالآخر یہ صورت اختیار کر لی جائے گی تاکہ دونوں میں تفریق کروا دی جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَإِذَا قَضَى الْقَاضِي لَهَا بِنَفَقَةِ الْإِعْسَارِ“، صورتِ مسئلہ یہ: عورت قاضی کے پاس آ گئی اور خاوند تنگ دست ہے، قاضی نے عورت کے لیے نفقہ مقرر کر دیا کہ ہر روز اتنی مقدار نفقہ خاوند پر لازم ہے تمہیں دے۔ پھر کچھ عرصے کے بعد خاوند مالدار ہو گیا، لیکن وہ بیوی کو اب بھی وہی نفقہ دے رہا ہے تنگ دستوں والا، تو عورت کیا پھر قاضی کے پاس آ کر مطالبہ کر سکتی ہے؟ اور قاضی کیا اپنے سابقہ فیصلے کو توڑ سکتا ہے؟ حالانکہ قاضی کا فیصلہ تو لازم ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں نہیں، قاضی کا فیصلہ ویسے لازم ہو جاتا ہے لیکن یہاں قاضی اپنے فیصلے کو توڑ سکتا ہے، وجہ یہ کہ قاضی نے نفقہ مقرر کیا تھا، وہ تو ہر روز کے اعتبار سے تھوڑا تھوڑا واجب ہو رہا ہے، تو جو چیز ابھی آئی ہی نہیں اس میں فیصلہ بھی لازم نہیں، لہٰذا قاضی نیا فیصلہ کر سکتا ہے اور پھر قاضی اس عورت کے لیے مالداروں والا نفقہ مقرر کر دے گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَضَى الْقَاضِي لَهَا بِنَفَقَةِ الْإِعْسَارِ“، اور جب قاضی نے اس عورت کے لیے فیصلہ کر دیا تنگ دستی کے نفقے کا، ”ثُمَّ أَيْسَرَ“، پھر خاوند مالدار ہو گیا، ”فَخَاصَمَتْهُ“، تو پھر اس عورت نے جھگڑا کیا خاوند سے، ”تَمَّمَ لَهَا نَفَقَةَ الْمُوسِرِ“، تو قاضی اس کے لیے پورا کر دے گا مالداروں والا نفقہ، ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ تَخْتَلِفُ بِحَسَبِ الْيَسَارِ وَالْإِعْسَارِ“، اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے وہ بدلتا ہے مالداری اور تنگ دستی کے اعتبار سے، ”وَمَا قَضَى بِهِ تَقْدِيرٌ لِنَفَقَةٍ لَمْ تَجِبْ“، اور وہ جو قاضی نے فیصلہ کیا تھا وہ اندازہ لگانا تھا ایسے نفقے کا جو ابھی واجب ہی نہیں ہوا تھا، وہ تو قاضی نے اندازہ لگایا تھا وہ اس نفقے کا جو ابھی واجب ہی نہیں ہوا کیونکہ نفقہ ہر روز کا الگ الگ نفقہ واجب ہوتا ہے، تو وہ چیز جو ابھی آئی نہیں قاضی نے اندازہ کر کے اس کا حکم لگایا تھا لہٰذا وہ لازم نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا قَضَى بِهِ“، اور وہ نفقہ جس کا قاضی نے فیصلہ کیا تھا، ”تَقْدِيرٌ لِنَفَقَةٍ لَمْ تَجِبْ“، وہ اندازہ تھا اس نفقے کا جو ابھی واجب ہی نہیں ہوا تھا، ”فَإِذَا تَبَدَّلَ حَالُهُ“، جب خاوند کی حالت بدل گئی، ”لَهَا الْمُطَالَبَةُ بِتَمَامِ حَقِّهَا“، تو عورت کو مطالبے کا حق ہے اپنے حق کے پورا کرنے کے لیے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا مَضَتْ مُدَّةٌ لَمْ يُنْفِقِ الزَّوْجُ عَلَيْهَا وَطَالَبَتْهُ بِذَلِكَ فَلَا شَيْءَ لَهَا“، صورتِ مسئلہ یہ: خاوند تنگ دست ہے وہ بیوی کو نفقہ نہیں دے رہا اور اس کے دوران کئی مہینے گزر گئے۔ اس کے بعد بالآخر تنگ آ کر عورت قاضی کے پاس چلی گئی اور قاضی نے نفقہ مقرر کر دیا، لیکن عورت کہتی ہے مجھے پچھلے مہینوں کا بھی نفقہ دلایا جائے، تو کہتے ہیں نہیں، گزشتہ مہینوں کا نفقہ عورت وصول نہیں کر سکتی۔ اس لیے وجہ یہ کہ یہ جو نفقہ خاوند دیتا ہے یہ بعض اعتبار سے صلہ ہے۔ بعض اعتبار سے صلہ، ص کے ساتھ صلہ، یعنی خاوند کی طرف سے احسان ہے، نیکی ہے، تبرع ہے۔ تبرع کہتے ہیں وہ چیز جو آپ پر لازم نہ ہو، جیسے آپ نفل پڑھتے ہیں، نفل تو آپ پر لازم نہیں تو اس کو کہیں گے تبرع ہے، یا جیسے آپ کسی فقیر کو کچھ پیسے دیتے ہیں، اب یہ زکوٰۃ کے پیسے آپ نہیں دے رہے ویسے پیسے دے رہے ہیں فقیر کو تو یہ تبرع ہے۔ تو اپنی طرف سے کسی کو ویسی چیز دینا جو اس ایک شخص پر لازم نہ ہو اس کو تبرع کہتے ہیں۔ تو یاد رکھو یہ جو عورت کا نفقہ ہے یہ بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ صلہ ہے، بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ عوض اور بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ صلہ ہے یعنی خاوند کا احسان ہے، خاوند نیکی کر رہا ہے۔ جب یہ عوض نہیں ہے یہ صلہ ہے تو یہ گزرے ہوئے زمانے کا خاوند پر لازم نہیں، یہ تو صلہ تھا خاوند نے دینا تھا لیکن خاوند نے نہیں دیا تو اب لازم نہیں۔ لیکن اگر قاضی جب فیصلہ کر دے گا کہ یہ اس شخص پر لازم ہے اب تمہیں ہر روز کا یہ اتنا خرچہ دیا کرے اور پھر کئی مہینے گزر گئے اور اس نے خرچے نہیں دیے، تو عورت قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتی ہے اور قاضی سارا مال جتنا گزشتہ مہینوں کا بھی ہے وہ اس خاوند پر لازم کر دے گا وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ تو جب قاضی مقرر کر دے اس کے بعد اگر خاوند کچھ مہینے نفقہ نہ دے تو وہ اس کے ذمے دین بنتا چلا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میاں بیوی کا خود آپس میں جھگڑا آیا اور پھر بعد میں دونوں نے آپس میں صلح کر لی، خاوند نے کہا میں تمہیں ہر روز کا اتنا نفقہ دیا کروں گا یا ہر مہینے کا میں تمہیں اتنا نفقہ دیا کروں گا۔ تو یاد رکھو جب آپس میں صلح کر لیں پھر بھی نفقہ لازم ہو گیا، اب اگر کچھ مہینے گزرتے ہیں اور خاوند ادائیگی نہیں کر رہا تو بھی عورت قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتی ہے اور قاضی گزشتہ مہینوں کا نفقہ بھی بیوی کو دلائے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا حاصل کلام یہ کہ اگر عورت کو کچھ مہینوں تک خاوند نے نفقہ نہ دیا تو بعد میں بھی عورت اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر قاضی نے مقرر کیا تھا یا دونوں نے آپس میں صلح کی تھی ایک مقدار پر، تو اس کے بعد پھر کچھ مہینے گزرے ہیں تو وہ سارا خاوند کے ذمے دین ہو گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا مَضَتْ مُدَّةٌ“، اور جب کچھ مدت گزر گئی، ”لَمْ يُنْفِقِ الزَّوْجُ عَلَيْهَا“، کہ خاوند نے اس پر کچھ خرچ نہیں کیا، ”وَطَالَبَتْهُ بِذَلِكَ“، اور عورت نے اس کا مطالبہ کیا کہ مجھے گزشتہ مہینوں کا بھی نفقہ دلایا جائے، ”فَلَا شَيْءَ لَهَا“، تو اس عورت کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا، ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْقَاضِي فَرَضَ لَهَا النَّفَقَةَ“، سوائے اس کے کہ قاضی نے اس کے لیے نفقہ مقرر کیا ہو، ”أَوْ صَالَحَتِ الزَّوْجَ عَلَى مِقْدَارِ نَفَقَتِهَا“، یا اس عورت نے خاوند سے صلح کی تھی اپنے نفقے کی مقدار پر، ”فَيَقْضِي لَهَا بِنَفَقَةِ مَا مَضَى“، تو اس صورت میں قاضی فیصلہ کرے گا اس کے لیے گزشتہ ایام کے نفقے کا بھی۔ بھئی جب قاضی نے مقرر کر دیا ہے یا خاوند کے ساتھ اس عورت نے صلح کر لی تھی نفقے کی ایک مقدار پر، اور پھر اس کے بعد کچھ مدت گزر گئی اور خاوند نے وہ متعینہ نفقہ ادا نہیں کیا جو قاضی نے مقرر کیا تھا یا جو اس عورت کے ساتھ اس نے خود متعین کیا تھا، تو عورت پھر جا کر قاضی کے پاس مطالبہ کر سکتی ہے تو قاضی جو ہے اب اس عورت کے حق میں فیصلہ کرے گا اور گزشتہ ایام کا نفقہ بھی اس کو دلا دے گا خاوند سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”فَيَقْضِي لَهَا بِنَفَقَةِ مَا مَضَى“، تو قاضی فیصلہ کر دے گا اس عورت کے لیے نفقہ ان دنوں کا بھی جو گزر چکے ہیں بھئی۔ ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ صِلَةٌ وَلَيْسَتْ بِعِوَضٍ عِنْدَنَا“، اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے یہ صلہ ہے یعنی عطیہ ہے، احسان ہے، ”وَلَيْسَتْ بِعِوَضٍ عِنْدَنَا“، اور ہمارے نزدیک یہ عوض نہیں ہے، ”عَلَى مَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ“، اس وجہ سے جو پہلے بات گزر گئی، ہم نے بتایا تھا کہ یہ مِلکِ نکاح کا عوض نہیں ہے، مِلکِ نکاح کا عوض تو مہر ہے، اگر نفقے کو بھی عوض قرار دیں یہ تو ایک ہی معوض کے دو عوض ہو جائیں گے۔ تو یہ ہمارے نزدیک عوض نہیں ہے، ”عَلَى مَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ“، اس وجہ سے جو بات پہلے گزر گئی، ”فَلَا يُسْتَحْكَمُ الْوُجُوبُ فِيهَا“، لہٰذا اس کے اندر وجوب پکا نہیں ہوگا، یہ جب صلہ ہے عوض نہیں ہے تو اس کے اندر وجوب پکا نہیں، ”فَلَا يُسْتَحْكَمُ الْوُجُوبُ فِيهَا إِلَّا بِالْقَضَاءِ“، لہٰذا اس کے اندر واجب ہونا پکا نہیں ہوگا مگر قاضی کے فیصلے سے، ”كَالْهِبَةِ لَا تُوجِبُ الْمِلْكَ“، جیسے کہ ہبہ ہے وہ ملکیت ثابت نہیں کرتا۔ ہبہ کہتے ہیں تحفے کو، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کوئی شخص کسی کو ہبہ کرے، کوئی چیز تحفے میں دے، تو ہبہ تام نہیں ہوگا جب تک دوسرا اس چیز پر قبضہ نہ کر لے۔ آپ کے ساتھی نے آپ سے کہا یہ کتاب میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دے دی اور ابھی آپ نے قبضہ نہیں کیا اور وہ کتاب اٹھا کر چل پڑا، وہ کتاب واپس لے جا سکتا ہے، وجہ یہ کہ جب تک آپ نے قبضہ نہیں کیا تحفے پر آپ اس کے مالک نہیں بنے، صرف کہنے سے آپ مالک نہیں بنے۔ ہاں جب آپ قبضہ کر لیں گے اب آپ اس کے مالک بن گئے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے کہ یہ نفقہ کیا ہے؟ صلہ۔ تو گزشتہ مہینے گزر گئے نہ قاضی نے فیصلہ کیا ہوا تھا اور نہ انہوں نے آپس میں کوئی صلح کی ہوئی تھی، تو وہ صلہ تھا اور صلے کے اندر قبضہ نہیں تھا، جب قبضہ نہیں تھا تو عورت مالک بھی نہیں بنی، جب مالک نہیں تو خاوند کے ذمے بھی نہیں ہے بھئی۔ ”كَالْهِبَةِ لَا تُوجِبُ الْمِلْكَ إِلَّا بِمُؤَكِّدٍ وَهُوَ الْقَبْضُ“، جیسے کہ ہبہ جو ہے وہ ملکیت ثابت نہیں کرتا مگر ایک ایسی چیز کے ذریعے جو اس کو پکا کر دے اور وہ قبضہ ہے۔ ”وَالصُّلْحُ بِمَنْزِلَةِ الْقَضَاءِ“، اور یہ میاں بیوی کا آپس میں صلح کرنا یہ بھی قاضی کے فیصلے کے درجے میں ہے، ”لِأَنَّ وِلَايَتَهُ عَلَى نَفْسِهِ أَقْوَى مِنْ وِلَايَةِ الْقَاضِي“، اس لیے کیونکہ خاوند کی اپنی ذات پر جو ولایت ہے وہ قاضی کی ولایت سے بھی بڑھ کر ہے۔ بھئی قاضی بھی آپ پر کوئی ایک فیصلہ کرے گا وہ آپ پر نافذ ہو جائے گا لیکن ہر آدمی کو اپنے اوپر قاضی سے بڑھ کر ولایت حاصل ہے۔ قاضی نے مثلاً اس پر دن کا پانچ سو روپیہ نفقہ مقرر کیا، خاوند کہے نہیں میں پانچ سو نہیں میں تمہیں ہزار دیا کروں گا ہر روز کا، تو دیکھو قاضی سے بھی بڑھ کر اپنے آپ پر کیا کر رہا ہے؟ نفقے کو لازم کر سکتا ہے، تو معلوم ہوا خاوند کو اپنی ذات پر قاضی سے بڑھ کر ولایت حاصل ہے۔ قاضی کو تو اختیار ہے صرف متوسط درجے تک نفقہ لازم کرنے کا جبکہ خاوند تو اپنے اوپر اس سے بھی بڑھ کر نفقے کو لازم کر سکتا ہے بھئی۔ اور نیز، نیز قاضی کے پاس تو جو مقدمہ جائے گا اسی کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ مثلاً یہ بیوی مقدمہ لے کر گئی ہے تو قاضی بیوی کا نفقہ اس شخص پر لازم کر دے گا، لیکن زید، عمرو یا بکر وغیرہ کے کوئی پیسے قاضی اس پر لازم نہیں کر سکتا جب تک مقدمہ نہیں جائے گا۔ جبکہ یہ خود آدمی اس کو اپنے اوپر ولایت حاصل ہے، یہ زید کے لیے بھی اپنے اوپر پیسے لازم کر سکتا ہے کہ میں نے زید کا ایک لاکھ روپیہ ادا کرنا ہے تو یہ اب اس پر لازم ہو گیا اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا کسی شخص کو اپنی ذات پر قاضی سے بھی بڑھ کر ولایت حاصل ہوتی ہے، اسے وہ تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو قاضی کو بھی حاصل نہیں اپنی ذات کے بارے میں۔ تو جب قاضی کے فیصلے سے نفقہ لازم ہو جاتا ہے تو جب خاوند نے خود صلح کی ہے اور نفقے کی ایک مقدار مقرر کی ہے تو وہ بھی اب اس پر لازم ہے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ وِلَايَتَهُ عَلَى نَفْسِهِ أَقْوَى مِنْ وِلَايَةِ الْقَاضِي“، اس لیے کیونکہ خاوند کی جو ولایت ہے اپنی ذات پر وہ زیادہ قوی ہے قاضی کی ولایت سے، ”بِخِلَافِ الْمَهْرِ لِأَنَّهُ عِوَضٌ“، بخلاف مہر کے وہ تو عوض ہے۔ بخلاف مہر کے وہ تو عوض ہے لہٰذا وہاں کسی قاضی کے فیصلے کی بھی ضرورت نہیں اور کسی آپس میں صلح کرنے کی بھی ضرورت نہیں، وہ ہر حال میں خاوند کے ذمے ہے وہ اس کو دینا ہی پڑے گا بھئی۔ ”وَإِنْ مَاتَ الزَّوْجُ بَعْدَ مَا قُضِيَ عَلَيْهِ بِالنَّفَقَةِ وَمَضَى شُهُورٌ سَقَطَتِ النَّفَقَةُ“، صورتِ مسئلہ یہ کہ قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ خاوند اس عورت کو ہر روز اتنا نفقہ دیا کرے گا اور کئی مہینے گزر گئے خاوند ادا ہی نہیں کر رہا، اور یہ سارا خاوند کے ذمے دین ہوتا جا رہا ہے، اور پھر خاوند کا ادائیگی سے پہلے ہی انتقال ہو گیا تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ سارا نفقہ ساقط ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ صلہ تھا اور جب تک صلہ پر قبضہ نہیں کیا تو وہ پکا نہیں، جیسے کسی نے آپ کو کوئی چیز تحفے کے طور پر دی کہ یہ گاڑی جو ہے یہ آپ کو میں تحفے کے طور پر دیتا ہوں، آپ نے ابھی گاڑی پر قبضہ نہیں کیا تھا اس سے پہلے اس آدمی کا انتقال ہو گیا تو وہ گاڑی اسی کی میراث میں شمار ہوگی، وہ آپ مالک نہیں بنے کیونکہ آپ نے قبضہ نہیں کیا، تو یہاں بھی اسی طرح ہے جب خاوند کا انتقال ہو گیا تو وہ نفقے پر ابھی تک عورت نے قبضہ نہیں کیا تھا تو وہ ساقط ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ مَاتَ الزَّوْجُ بَعْدَ مَا قُضِيَ عَلَيْهِ بِالنَّفَقَةِ“، اور جب خاوند کا انتقال ہو جائے بعد اس کے کہ جب اس پر نفقے کا فیصلہ کر دیا گیا تھا، ”وَمَضَى شُهُورٌ“، اور کئی مہینے گزر گئے، نفقے کا فیصلہ کر دیا اور پھر کئی مہینے گزر گئے تھے پھر خاوند کا انتقال ہوا، ”سَقَطَتِ النَّفَقَةُ“، تو یہ نفقہ ساقط ہو جائے گا، ”وَكَذَا إِذَا مَاتَتِ الزَّوْجَةُ“، اور اسی طرح ہے مسئلہ جب بیوی مر جائے، خاوند کے بجائے اگر بیوی کا انتقال ہو گیا اور ابھی اس نے وہ نفقہ وصول نہیں کیا تھا، قاضی نے مقرر کر دیا کئی مہینے گزر گئے وصول نہیں کیا وہ سارا دین ہے خاوند کے ذمے، لیکن بیوی کا انتقال ہو گیا تو اس صورت میں بھی وہ سارا ساقط ہو جائے گا کیونکہ یہ صلہ ہے اور اس پر ابھی عورت نے قبضہ نہیں کیا لہٰذا وہ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا مَاتَتِ الزَّوْجَةُ“، اور اسی طرح ہے مسئلہ جب بیوی مر جائے، ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ صِلَةٌ“، کیونکہ نفقہ جو ہے وہ صلہ ہے، وہ عطیہ اور احسان ہے، ”وَالصِّلَاتُ تَسْقُطُ بِالْمَوْتِ“، اور جو صلے ہوتے ہیں وہ موت کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں، ”كَالْهِبَةِ تَبْطُلُ بِالْمَوْتِ قَبْلَ الْقَبْضِ“، جیسے کہ ہبہ بھی قبضے سے پہلے موت کی وجہ سے باطل ہو جاتا ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَصِيرُ دَيْنًا قَبْلَ الْقَضَاءِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ نفقہ یہ عوض ہے، لہٰذا یہاں کسی قاضی کے فیصلے کی بھی ضرورت نہیں ہے، جتنے مہینے ادا نہیں کیا وہ سارا خاوند کے ذمے دین ہے اور موت سے بھی ساقط نہیں ہوگا، بلکہ خاوند کے مرنے کے بعد بھی اس کے مال میں سے عورت کو وہ دین ادا کیا جائے گا، اس کے بعد باقی کا مال وارثوں میں تقسیم ہو گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَصِيرُ دَيْنًا قَبْلَ الْقَضَاءِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نفقہ جو ہے قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی دین ہو جائے گا، ”وَلَا تَسْقُطُ بِالْمَوْتِ“، اور نیز یہ موت سے بھی ساقط نہیں ہوتا، ”لِأَنَّهُ عِوَضٌ عِنْدَهُ“، کیونکہ یہ ان کے نزدیک عوض ہے، ”فَصَارَ كَسَائِرِ الدُّيُونِ“، تو یہ بھی باقی دیون کی طرح ہوا، ”وَجَوَابُهُ قَدْ بَيَّنَّاهُ“، اور اس کا جواب تحقیق ہم بیان کر چکے، ہم نے کہا یہ عوض نہیں ہے کیونکہ ایک معوض کے دو عوض نہیں ہو سکتے۔ ”وَإِنْ أَسْلَفَهَا نَفَقَةَ السَّنَةِ“، صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی کو ایک سال کا نفقہ پیشگی دے دیا، آنے والے سال کا پورا نفقہ بیوی کے حوالے کر دیا اور پھر اس کے چند دن بعد خاوند کا انتقال ہوا یا بیوی کا انتقال ہوا، تو کیا یہ جو خاوند نے نفقہ سال کا دیا تھا اور وہ کس وجہ سے تھا؟ احتباس کی وجہ سے، اب تو احتباس کی صورت ہی نہیں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے یا خاوند کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا اب وہ واپس لیا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، یہ صلہ ہے اور صلہ جب ایک دفعہ کسی کو دے دیا جائے اس کا مالک بنتا ہے اور جب موت آ جائے دونوں میں سے کسی ایک کی تو اب واپسی کی صورت بھی ختم ہو گئی۔ یاد رکھو آپ کو کوئی تحفہ دے دے آپ اس پر جب قبضہ کریں گے آپ مالک بنیں گے، قبضے سے پہلے مالک نہیں۔ یہ ہبہ ہے تحفہ ہے، ہبہ کے اندر وہ جو تحفہ دینے والا ہے وہ رجوع کر سکتا ہے، وہ دوبارہ آپ کے پاس آ کر کہہ سکتا ہے کہ میری یہ کتاب مجھے واپس کر دیں، ہاں زبردستی نہیں لے سکتا آپ کو کہہ سکتا ہے، تو اگر آپ کی مرضی ہے آپ کتاب واپس کر سکتے ہیں، تو معلوم ہوا دونوں کی مرضی سے ہبہ میں رجوع ہو سکتا ہے۔ اور نیز اگر آپ خود واپس نہیں کرتے وہ قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتا ہے اور قاضی اسے وہ کتاب دلوا دے گا۔ معلوم ہوا ہبہ قبضے سے تام ہوتا ہے اور نیز ہبہ کے اندر رجوع بھی ہو سکتا ہے جب دونوں آپس میں راضی ہوں یا قاضی کے پاس جانا پڑے گا قاضی دلوا دے گا جب تک وہ چیز موجود ہے۔ لیکن اگر دونوں میں سے کوئی ایک مر گیا بس اب ہبہ میں رجوع نہیں ہو سکتا، اب ہبہ میں رجوع نہیں ہو سکتا۔ تو یہاں پر بھی چاہے خاوند مرے چاہے بیوی مرے جب دونوں میں سے ایک مر گیا تو یہ ہبہ کی طرح تھا یہ جو نفقہ تھا یہ جو سال، پورے سال کا پیشگی دے دیا لہٰذا اب اس میں رجوع نہیں ہو سکتا۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَسْلَفَهَا“، اسلف یسلف کا معنی ہوتا ہے پیشگی دینا، کوئی چیز پیشگی دے دینا پہلے سے ہی۔ ”وَإِنْ أَسْلَفَهَا نَفَقَةَ السَّنَةِ“، اور اگر خاوند نے اس کو ایک سال کا نفقہ پیشگی دے دیا، ”أَيْ عَجَّلَهَا“، دیکھو اسلف کا معنی بیان کر رہے ہیں، ”أَيْ عَجَّلَهَا“، یعنی جلدی اس کو دے دیا پیشگی دے دیا، ”ثُمَّ مَاتَ“، پھر خاوند کا انتقال ہوا، ”لَمْ يُسْتَرْجَعْ مِنْهَا بِشَيْءٍ“، تو رجوع نہیں کیا جائے گا اس میں سے کسی بھی چیز کے اندر، یعنی واپس نہیں لیا جائے گا خاوند کے وارث واپس نہیں لیں گے اور اگر بیوی مر جائے تب بھی یہی حکم ہے، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يُحْتَسَبُ لَهَا نَفَقَةُ مَا مَضَى وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِلزَّوْجِ“، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، باقی نفقہ واپس لیا جائے گا، جتنے دن گزر چکے وہ شمار کر لیے جائیں گے اور جو باقی نفقہ ہے وہ زائد ہے وہ خاوند کے وارث واپس لے لیں گے اور میراث میں شامل کر لیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يُحْتَسَبُ لَهَا نَفَقَةُ مَا مَضَى“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شمار کیا جائے گا اس عورت کے لیے گزرے ہوئے زمانے کے نفقے کا، ”وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِلزَّوْجِ“، اور جو باقی بچ جائے تو وہ خاوند کے لیے ہوگا، ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور یہی قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے، ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْكِسْوَةُ“، اور اسی اختلاف پر کپڑے بھی ہیں، اگر سال بھر کے کپڑے پہلے دے دیے ہیں تو شیخین فرماتے ہیں رجوع نہیں ہو سکتا جب دونوں میں سے ایک مر جائے اور امام شافعی رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں رجوع ہو سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْكِسْوَةُ“، اور اسی اختلاف پر کپڑے بھی ہیں، ”لِأَنَّهَا اسْتَعْجَلَتْ عِوَضًا عَمَّا تَسْتَحِقُّهُ عَلَيْهِ بِالِاحْتِبَاسِ“، ”لِأَنَّهَا اسْتَعْجَلَتْ“، اس لیے کیونکہ اس نے جلدی وصول کر لیا، ”عِوَضًا“، عوض کو، ”عَمَّا تَسْتَحِقُّهُ عَلَيْهِ بِالِاحْتِبَاسِ“، وہ عوض جس کی اس نے مستحق ہونا تھا احتباس کی وجہ سے۔ اس نے وہ جلدی عوض وصول کر لیا جس کا مستحق اس نے احتباس کی وجہ سے ہونا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا اسْتَعْجَلَتْ عِوَضًا“، اس لیے کیونکہ اس نے جلدی وصول کر لیا عوض کو، ”عَمَّا تَسْتَحِقُّهُ عَلَيْهِ بِالِاحْتِبَاسِ“، جس کی یہ مستحق بنتی خاوند پر احتباس کی وجہ سے، ”وَقَدْ بَطَلَ الِاسْتِحْقَاقُ بِالْمَوْتِ“، اور نیز مستحق ہونا تو باطل ہو گیا موت کی وجہ سے، ”فَيَبْطُلُ الْعِوَضُ بِقَدْرِهِ“، تو اسی کے بقدر عوض بھی باطل ہو جائے گا، ”كَرِزْقِ الْقَاضِي وَعَطَاءِ الْمُقَاتِلَةِ“، جیسے کہ قاضی کا رزق ہے اور مقاتلہ کی عطا ہے۔ بھئی دیکھو قاضی کو اگر سال بھر کا خرچہ دے دیا گیا پیشگی اور قاضی کا چند دن بعد ہی انتقال ہو گیا تو یہ جو قاضی کو رزق دیا گیا تھا جو مال دیا گیا تھا تو اس سے وہ زائد مال واپس لیا جائے گا بھئی۔ اور اسی طرح اگر مقاتلہ، مقاتلہ کہتے ہیں لشکر کو جو لڑنے والے ہیں، لشکر جو ہے وہ مسلمانوں کا لشکر ہے ان کو سال کا پیشگی خرچہ دے دیا گیا اور پھر ان میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس سے وہ زائد مال واپس لیا جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”كَرِزْقِ الْقَاضِي وَعَطَاءِ الْمُقَاتِلَةِ“، جیسے کہ قاضی کا رزق ہے اور لشکر کی عطایا یعنی ان کو جو دیا جاتا ہے مال وغیرہ۔ ”وَلَهُمَا“، شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ صِلَةٌ“، کہ یہ نفقہ صلہ ہے، ”وَقَدِ اتَّصَلَ بِهِ الْقَبْضُ“، اور اس کے ساتھ قبضہ مل چکا ہے، اس عورت نے کیا کر لیا تھا اس پر؟ قبضہ کر لیا تھا، ”وَلَا رُجُوعَ فِي الصِّلَاتِ بَعْدَ الْمَوْتِ“، اور صلوں کے اندر رجوع نہیں کیا جاتا موت کے بعد، ”لِانْتِهَاءِ حُكْمِهَا كَمَا فِي الْهِبَةِ“، اس لیے کیونکہ ان کا حکم جو ہے وہ ختم ہو گیا کما فی الہبۃ جیسے کس کے اندر تھا؟ ہبہ کے اندر، جیسے ہبہ کا حکم موت سے ختم ہو جاتا ہے وہاں رجوع نہیں ہو سکتا اسی طرح صلوں کے اندر بھی حکم یہی ہے۔ کہتے ہیں: ”لِانْتِهَاءِ حُكْمِهَا“، اس وجہ سے کہ اس کا حکم ختم ہو گیا، ”كَمَا فِي الْهِبَةِ“، جیسے کہ ہبہ میں ہوتا ہے، ”وَلِهَذَا لَوْ هَلَكَتْ مِنْ غَيْرِ اسْتِهْلَاكٍ لَا يُسْتَرَدُّ شَيْءٌ مِنْهَا بِالْإِجْمَاعِ“، کہتے ہیں اسی وجہ سے یاد رکھو عورت نے سال بھر کا پیشگی خرچہ لے لیا اور پھر وہ خرچہ اس کے پاس ہلاک ہو گیا، خرچہ اس کے پاس ہلاک ہو گیا، اگر یہ عوض ہوتا تو عوض تو ہلاک بھی ہو جائے اس کا بدل واپس لیا جاتا ہے، اگر یہ کیا ہوتا؟ عوض ہوتا تو عوض تو چاہے ہلاک ہو چاہے استہلاک ہو دونوں صورتوں میں وہ واپس لیا جاتا ہے، لیکن یہاں یہ صلہ ہے چنانچہ ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر اگر وہ غلہ عورت کے پاس ہلاک ہو جائے تو واپس نہیں لیا جائے گا، حتی کہ امام محمد رحمہ اللہ جو فرماتے تھے کہ باقی واپس لیں گے وہ بھی ہلاکت کی صورت میں فرماتے ہیں کہ اس عورت سے کوئی اس کا عوض نہیں لیا جائے گا۔ ”وَلِهَذَا لَوْ هَلَكَتْ مِنْ غَيْرِ اسْتِهْلَاكٍ“، اور اسی لیے اگر یہ نفقہ بغیر استہلاک کے ہلاک ہو گیا، استہلاک کہتے ہیں ہلاک کرنا، ہلاک ہے خود ہلاک ہونا اور استہلاک کا معنی ہے ہلاک کرنا۔ تو اگر اس نے خود ہلاک کیا ہے پھر تو امام محمد فرماتے ہیں اس سے واپس لیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَوْ هَلَكَتْ مِنْ غَيْرِ اسْتِهْلَاكٍ“، اور اسی لیے اگر نفقہ بغیر استہلاک کے ہلاک ہو گیا، ”لَا يُسْتَرَدُّ شَيْءٌ مِنْهَا بِالْإِجْمَاعِ“، تو اس میں سے کوئی چیز واپس نہیں کی جائے گی بالاتفاق بھئی۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّهَا إِذَا قَبَضَتْ نَفَقَةَ الشَّهْرِ أَوْ مَا دُونَهُ“، ہاں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر صرف ایک مہینے کا پیشگی نفقہ دیا تھا پھر واپس نہیں لیں گے کیونکہ یہ تھوڑا سا ہے، لیکن اگر سال بھر کا دیا تھا یا چھ مہینے کا دیا تھا تو یہ تو زیادہ ہے یہ واپس لیں گے اور اس کو مالِ میراث میں شمار کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّهَا إِذَا قَبَضَتْ نَفَقَةَ الشَّهْرِ أَوْ مَا دُونَهُ“، کہ جب عورت نے ایک ماہ یا اس سے کم کے نفقے پر قبضہ کر لیا، ”لَا يُسْتَرْجَعُ مِنْهَا شَيْءٌ“، تو اس میں سے کسی چیز میں رجوع نہیں کیا جائے گا، کوئی چیز واپس نہیں لی جائے گی، ”لِأَنَّهُ يَسِيرٌ“، اس لیے کیونکہ یہ تھوڑا سا ہے، ”فَصَارَ فِي حُكْمِ الْحَالِّ“، تو یہ حال کے حکم میں ہو گیا۔ یعنی جیسے فی الحال ہی نفقہ واجب ہوا ہو اسی نفقے کی طرح ہو گیا، فی الحال جو نفقہ واجب ہے وہ دے دیا جائے تو وہ واپس خاوند نہیں لے سکتا تو یہ بھی فی الحال نفقے کے جیسا ہی ہو گیا یعنی جو خاوند پر واجب ہو چکا تھا تو یہ بھی دینے کے بعد اب خاوند کے وارث اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ یعنی جیسے فی الحال کا نفقہ خاوند پر واجب ہوتا ہے، مثلاً آج کا نفقہ ہے وہ خاوند پر واجب ہے وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، اگلا دن آئے گا تو وہ خاوند پر واجب ہوگا خاوند کو ادا کرنا پڑے گا، تو جیسے فی الحال کا نفقہ جو ہے خاوند پر واجب ہو جاتا ہے اس کو دینا پڑتا ہے تو یہ بھی جو ایک مہینے کا پیشگی نفقہ خاوند نے دیا تھا یہ بھی تھوڑا سا ہے بھئی، تو اس کو بھی فی الحال والا ہی حکم دے دیں گے، یعنی گویا یہ خاوند پر واجب ہو چکا تھا، یہ خاوند پر واجب ہو چکا تھا اور اس نے واجب کی ادائیگی کی ہے لہٰذا اس میں لہٰذا یہ عورت سے واپس نہیں لیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ يَسِيرٌ“، کیونکہ یہ تھوڑا سا ہے، ”فَصَارَ فِي حُكْمِ الْحَالِّ“، تو یہ حال کے حکم میں ہو گیا۔ ”وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ حُرَّةً فَنَفَقَتُهَا دَيْنٌ“، صورتِ مسئلہ یہ: ایک غلام ہے اس نے آقا کی اجازت سے نکاح کر لیا تھا، اور جب آزاد عورت سے نکاح کیا ہے تو اب آزاد عورت کا نفقہ اس کو دینا پڑے گا۔ تو اب یہ غلام کے پاس تو کوئی مال ہے نہیں، تو پھر اس صورت میں کہتے ہیں یہ نفقہ غلام پر دین ہو جائے گا اور اس دین کے اندر غلام کو پھر بیچا جائے گا۔ وجہ یہ کیونکہ غلام نے آقا کی اجازت سے نکاح کیا ہے، تو یہ جو دین آ رہا ہے غلام پر یہ آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے، آقا اجازت نہ دیتا وہ نکاح نہ کرتا، تو یہ آقا کی اجازت سے نکاح کیا ہے اور یہ دین آیا غلام پر اور جب یہ دین غلام پر آیا تو آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے لہٰذا اب آقا کو یہ ادا کرنا پڑے گا۔ اگر آقا ادا نہیں کرتا تو اس کے آقا ہی کے اس غلام کو بیچا جائے گا اور جتنے پیسے آئیں گے ان کے ذریعے عورت کا نفقہ ادا کر دیں گے اور جو باقی بچیں گے وہ آقا کو دے دیں گے۔ تو معلوم ہوا دینا آقا ہی کو پڑے گا، دیکھو یہ غلام بھی تو آقا ہی کا مال ہے نا تو اس کو بیچیں گے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آقا اپنے کسی غلام کو تجارت کی اجازت دے دے، وہ گیا اور اس نے تجارت شروع کر دی اور اس کو مسلسل نقصان ہوا اس پر قرضے چڑھ گئے اور اب وہ قرض خواہ آ گئے مطالبہ کرنے، تو آقا نے چونکہ خود ہی اجازت دی تھی لہٰذا اب آقا پر لازم ہے مال دے کر اس غلام کو چھڑائے، اگر نہیں چھڑاتا تو پھر اسی غلام کو بیچا جائے گا اور اس کے ذریعے جتنے قرضے اتر سکتے ہیں ادا کر دیے جائیں گے اور اگر کچھ مال باقی بچ گیا تو وہ پھر آقا کو دے دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ حُرَّةً“، اور جب غلام نے نکاح کر لیا کسی آزاد عورت سے، ”فَنَفَقَتُهَا دَيْنٌ عَلَيْهِ يُبَاعُ فِيهَا“، تو اس عورت کا نفقہ غلام پر دین ہے، اس کے اندر اس کو بیچا جائے گا، ”وَمَعْنَاهُ إِذَا تَزَوَّجَ بِإِذْنِ الْمَوْلَى“، اور معنی اس کا یہ ہے کہ جب غلام نے آقا کی اجازت سے نکاح کیا ہو، کیونکہ آقا کی اجازت کے بغیر کرے گا پھر تو نکاح نہیں ہوگا بھئی۔ ”لِأَنَّهُ دَيْنٌ وَجَبَ فِي ذِمَّتِهِ لِوُجُودِ سَبَبِهِ“، اس لیے کیونکہ یہ نفقہ ایسا دین ہے جو غلام کے ذمہ میں واجب ہے اس لیے کیونکہ اس دین کا سبب پایا گیا ہے کہ اس نے اس عورت سے نکاح کیا تھا، ”وَقَدْ ظَهَرَ وُجُوبُهُ فِي حَقِّ الْمَوْلَى“، اور تحقیق اس نفقے کا وجوب آقا کے حق میں بھی ثابت ہے، اس دین کا اس دین کا وجوب آقا کے حق میں بھی ثابت ہے کیونکہ اس نے اجازت دی تھی، ”فَيَتَعَلَّقُ بِرَقَبَتِهِ“، لہٰذا اس دین کا تعلق غلام کی ذات کے ساتھ ہوگا، ”كَدَيْنِ التِّجَارَةِ فِي الْعَبْدِ التَّاجِرِ“، جیسے کہ دینِ تجارت ہوتا ہے تاجر غلام میں، جیسے اس پر دین آتا ہے تو اس کے ذمے ہوتا ہے اور اس کو بیچا جاتا ہے۔ ”وَلَهُ أَنْ يَفْتَدِيَ“، افتداء کا معنی فدیہ دے کر چھڑانا، ”وَلَهُ أَنْ يَفْتَدِيَ“، اور آقا کے لیے جائز ہے کہ فدیہ دے کر اس کو چھڑا لے، یعنی یہ ادائیگی کر دے، نفقے کی ادائیگی کر دے، ”لِأَنَّ حَقَّهَا فِي النَّفَقَةِ لَا فِي عَيْنِ الرَّقَبَةِ“، اس لیے کیونکہ عورت کا حق جو ہے وہ نفقے میں ہے، ”لَا فِي عَيْنِ الرَّقَبَةِ“، عین غلام کی ذات میں نہیں، کہ وہ کہے غلام کو بیچو، نہیں بھئی غلام کے بیچنے سے آپ کا کیا تعلق ہے؟ آپ کا دین آپ کو مل رہا ہے، نفقہ آپ کو مل رہا ہے، یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ حَقَّهَا فِي النَّفَقَةِ لَا فِي عَيْنِ الرَّقَبَةِ“، اس لیے کیونکہ عورت کا حق اس نفقے کے اندر ہے، ”لَا فِي عَيْنِ الرَّقَبَةِ“، عینِ غلام کی ذات میں نہیں۔ ”وَلَوْ مَاتَ الْعَبْدُ سَقَطَتْ“، اور اگر غلام مر گیا تو یہ نفقہ ساقط ہو جائے گا، ”وَكَذَا إِذَا قُتِلَ فِي الصَّحِيحِ“، اور اسی طرح ہے اگر جب غلام کو قتل کر دیا گیا صحیح قول کے مطابق، ”لِأَنَّهُ صِلَةٌ“، کیونکہ یہ نفقہ صلہ ہے تو غلام کے مرنے یا قتل کرنے سے یہ ساقط ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ تَزَوَّجَ الْحُرُّ أَمَةً فَبَوَّأَهَا مَوْلَاهَا مَعَهُ مَنْزِلًا“، صورتِ مسئلہ یہ: ایک آزاد شخص نے ایک باندی سے نکاح کر لیا، اب کیا اس آزاد آدمی پر اس باندی کا خرچہ ہوگا، نفقہ ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں اگر، اگر آقا نے اس باندی سے خدمت لینا چھوڑ دی اور اس کو اس آدمی کے پاس ٹھکانہ دے دیا کہ اس کے پاس جا کر رہو، تو پھر اس صورت میں تو نفقہ آئے گا اور اگر آقا اس سے خدمت بھی لیتا ہے تو پھر اس صورت میں نفقہ نہیں کیونکہ احتباس نہیں پایا جا رہا، باندی آقا کی خدمت میں مشغول ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ تَزَوَّجَ الْحُرُّ أَمَةً“، اور اگر کسی آزاد شخص نے کسی باندی سے نکاح کر لیا، ”فَبَوَّأَهَا مَوْلَاهَا مَعَهُ مَنْزِلًا“، بوأ یبوء تبوئۃ کا معنی ہے ٹھکانہ دینا یعنی کسی ایک جگہ رہنے دینا، ”فَبَوَّأَهَا مَوْلَاهَا مَعَهُ مَنْزِلًا“، تو اس کے آقا نے ٹھکانہ دیا اس باندی کو اس کے ساتھ منزلاً کسی گھر میں، ”فَعَلَيْهِ النَّفَقَةُ“، تو اس خاوند پر نفقہ ہے، ”لِأَنَّهُ تَحَقَّقَ الِاحْتِبَاسُ“، کیونکہ احتباس پایا گیا، ”وَإِنْ لَمْ يُبَوِّئْهَا فَلَا نَفَقَةَ لَهَا“، اور اگر آقا نے اس باندی کو ٹھکانہ نہیں دیا یعنی خاوند کے پاس رہنے نہیں دیا، ”فَلَا نَفَقَةَ لَهَا“، تو اس باندی کے لیے نفقہ نہیں ہوگا، ”لِعَدَمِ الِاحْتِبَاسِ“، کیونکہ احتباس نہیں ہے۔ ”وَالتَّبْوِئَةُ“، بھئی اوپر آیا ”فَبَوَّأَهَا“، آقا نے ٹھکانہ دیا، تو بوأ یبوء تبوئۃ کسے کہتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ آقا خدمت لینا چھوڑ دے اور باندی کو خاوند کے پاس رہنے دے، اس کو کہتے ہیں تبوئہ بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَالتَّبْوِئَةُ أَنْ يُخَلِّيَ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ فِي مَنْزِلِهِ“، اور تبوئہ یہ ہے کہ آقا جو ہے وہ تخلیہ کر دے اس باندی کے درمیان اور اس کے خاوند کے درمیان اس کے گھر میں، اس خاوند کے گھر میں اس میں تخلیہ کر دے، ”وَلَا يَسْتَخْدِمَهَا“، اور اس سے خدمت نہ لے، ”وَلَوِ اسْتَخْدَمَهَا بَعْدَ التَّبْوِئَةِ“، اور اگر آقا نے خدمت لی تبوئہ کے بعد، ایک دفعہ ٹھکانہ دے دیا خاوند کے پاس رہنے لگی، کچھ عرصے کے بعد آقا نے پھر خدمت کے لیے بلا لیا کہ میری خدمت کیا کرو، تو اس صورت میں یاد رکھو اب نفقہ پھر ساقط ہو جائے گا۔ ”وَلَوِ اسْتَخْدَمَهَا بَعْدَ التَّبْوِئَةِ سَقَطَتِ النَّفَقَةُ“، اور اگر ٹھکانہ دینے کے بعد آقا نے دوبارہ اس سے خدمت لی تو اب نفقہ ساقط ہو جائے گا، ”لِأَنَّهُ فَاتَ الِاحْتِبَاسُ“، کیونکہ احتباس فوت ہو گیا۔ ”وَالتَّبْوِئَةُ غَيْرُ لَازِمَةٍ“، اور آقا پر ٹھکانہ دینا لازم نہیں ہے، وہ ایک دفعہ اجازت دے دے تو بعد میں اجازت واپس بھی لے سکتا ہے یعنی تبویہ کو ختم بھی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّبْوِئَةُ غَيْرُ لَازِمَةٍ“، اور ٹھکانہ دینا آقا پر لازم نہیں ہے، ”عَلَى مَا مَرَّ فِي النِّكَاحِ“، اس وجہ سے جو کتاب النکاح میں گزر گئی، کتاب النکاح میں بیان فرمایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ آقا پر ٹھکانہ دینا لازم نہیں ہے کیونکہ وجہ یہ کہ خاوند کا حق صرف اس سے نفع اٹھانے میں ہے اور آقا اس کی پوری ذات کا مالک ہے، تو ٹھکانہ دینے سے آقا کا حق باطل نہیں ہوتا، وہ اجازت کو ختم بھی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّبْوِئَةُ غَيْرُ لَازِمَةٍ“، اور ٹھکانہ دینا آقا پر لازم نہیں ہے، ”عَلَى مَا مَرَّ فِي النِّكَاحِ“، اس وجہ سے جو باب النکاح کے اندر بات گزر گئی۔ ”وَلَوْ خَدَمَتْهُ الْجَارِيَةُ أَحْيَانًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَخْدِمَهَا“، بھئی آقا نے ٹھکانہ دے دیا باندی اپنے خاوند کے پاس رہنے لگی، لیکن کبھی کبھی وہ باندی آتی ہے اور آقا کی بھی خدمت کرتی ہے، تو کیا اس سے نفقہ ساقط ہو جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، یہ تو اپنی مرضی سے وہ خدمت کر رہی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے نفقہ ساقط نہیں ہوگا۔ ”وَلَوْ خَدَمَتْهُ الْجَارِيَةُ أَحْيَانًا“، اور اگر باندی نے اس آقا کی خدمت کی احیاناً کبھی کبھار، ”مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَخْدِمَهَا“، بغیر اس کے کہ آقا نے اس سے خدمت طلب کی ہو، آقا نہیں خدمت کا مطالبہ کر رہا وہ خود خدمت کر رہی ہے، ”لَا يَسْقُطُ النَّفَقَةُ“، تو پھر نفقہ ساقط نہیں ہوگا، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَسْتَخْدِمْهَا لِيَكُونَ اسْتِرْدَادًا“، اس لیے کیونکہ آقا نے اس سے خدمت طلب نہیں کی کہ یہ واپسی شمار ہو، استرداد کہتے ہیں واپس لینا، ”لِيَكُونَ اسْتِرْدَادًا“، کہ اس کو واپسی کہا جائے۔ ”وَالْمُدَبَّرَةُ وَأُمُّ الْوَلَدِ فِي هَذَا كَالْأَمَةِ“، اور مدبرہ اور ام ولد جو ہے فی ہذا اس کے اندر یعنی نفقہ واجب نہ ہونے کے اندر کالامۃ وہ باندی کی طرح ہیں۔ یعنی مدبرہ اور ام ولد کا بھی اگر آقا نکاح کروائے گا تو ان کا بھی نفقہ خاوند پر واجب نہیں جب تک آقا اس کو ٹھکانہ نہ دے دے ان خاوند کے پاس۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 78 of 160