بَابُ مَا يُحْدِثُ السَّارِقُ فِي السَّرِقَةِ
”وَمَنْ سَرَقَ ثَوْبًا فَشَقَّهُ فِي الدَّارِ بِنِصْفَيْنِ ثُمَّ أَخْرَجَهُ وَهُوَ يُسَاوِي عَشَرَةَ دَرَاهِمَ قُطِعَ، وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا يُقْطَعُ؛ لِأَنَّ لَهُ فِيهِ سَبَبَ الْمِلْكِ، وَهُوَ الْخَرْقُ الْفَاحِشُ، فَإِنَّهُ يُوجِبُ الْقِيمَةَ وَتَمَلُّكَ الْمَضْمُونِ، وَصَارَ كَالْمُشْتَرِي إِذَا سَرَقَ مَبِيعًا فِيهِ خِيَارٌ لِلْبَائِعِ“.
گزشتہ سبق میں ہم مسئلہ پڑھ رہے تھے کہ اگر غلام جو ہے وہ چوری کا اقرار کر لے، تو یہ غلام یا تو عبد محجور ہوگا یا یہ عبد ماذون لہٗ ہوگا، اور پھر وہ مال جس کے بارے میں وہ چوری کا اقرار کر رہا ہے یا تو وہ مالِ معین ہوگا یا مالِ غیر معین ہوگا۔ تو آپ نے پڑھا تھا کہ اگر عبد محجور اقرار کر لے کسی معین مال کے بارے میں کہ یہ مال میں نے فلاں آدمی سے چوری کیا تھا، غلام کون سا ہے؟ عبد محجور، اور مال کس قسم کا ہے؟ معین ہے۔ تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں اس غلام کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور وہ جو مال ہے وہ بھی مسروق منہ کو واپس کیا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس غلام کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا، البتہ وہ مال جو ہے وہ آقا ہی کا ہے، وہ مسروق منہ کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ دونوں حکموں میں امام صاحب سے اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس غلام کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا اور وہ معین مال جو ہے وہ بھی مسروق منہ کو واپس نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ بھی آقا ہی کا ہے۔ اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب آقا اس غلام کو جھٹلا دے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ درہم یا یہ مال تو میرا اپنا ہے۔
اور جبکہ اس کے مقابلے میں اگر وہ مال غیر معین ہے، عبد محجور چوری کا اقرار کر رہا ہے اور مال کو وہ ہلاک کر چکا ہے یا وہ غیر معین ہے، تو اس صورت کے اندر بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور اگر عبد ماذون لہٗ ہوا تو پھر اس کے اندر دونوں صورتوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک۔ یعنی چاہے مالِ معین کی چوری کا وہ اقرار کرے، چاہے مالِ غیر معین کی چوری کا اقرار کرے، دونوں صورتوں میں عبد ماذون لہٗ کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان چاروں صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے اندر بھی غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ ان کا ضابطہ ہے کہ حدود اور قصاص کے مسئلے کے اندر غلام کا اقرار سرے سے معتبر ہی نہیں ہے، غلام کا یہ اقرار صحیح ہی نہیں ہے۔ جب یہ اقرار صحیح نہیں تو غلام کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا اور اگر قصاص کا اقرار کیا ہے تو غلام کو قتل بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ غلام جو ہے وہ آقا کا مال ہے۔ تو اگر غلام کو قتل کریں تب بھی آقا کا نقصان، اور اگر غلام کا ہاتھ کاٹیں تب بھی آقا کا نقصان ہے۔ تو معلوم ہوا غلام یہ جو اقرار کر رہا ہے یہ آقا کے خلاف ہے، اس میں آقا کا نقصان ہو رہا ہے، اور کسی دوسرے کے خلاف جو اقرار ہوتا ہے وہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا حدود اور قصاص کے مسئلے میں غلام کا اقرار صحیح نہیں۔ یہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
البتہ وہ فرماتے ہیں کہ مال کے سلسلے میں، مال کے سلسلے میں عبد محجور کا اقرار تو صحیح نہیں ہے، لیکن عبد ماذون لہٗ کا اقرار صحیح ہے۔ لہٰذا اگر وہ مالِ معین کی چوری کا اقرار کر رہا ہے تو وہ مال مسروق منہ کو واپس کیا جائے گا، اور اگر عبد ماذون لہٗ مالِ غیر معین کی چوری کا اقرار کر رہا ہے تو وہ اس پر ضمان آئے گا وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ماذون لہٗ کا اقرار مال کے سلسلے میں اس لیے معتبر ہے کہ خود آقا نے اس کو اس اقرار کی اجازت دی ہے۔ آقا نے جب اسے تجارت کی اجازت دے دی تو گویا اقرار کی بھی اجازت دے دی، کیونکہ تجارت کے اندر کبھی نفع ہوتا ہے تو کبھی نقصان ہوتا ہے۔ تو اگر غلام کا اقرار معتبر نہ ہو پھر تو کوئی اس غلام کے ساتھ تجارت ہی نہیں کرے گا کہ اگر ہمارا مال اس غلام کے اوپر آ گیا پھر تو وہ ڈوب ہی جائے گا کیونکہ اس کا اقرار بھی معتبر نہیں۔ تو معلوم ہوا عبد ماذون لہٗ کو خود آقا نے اختیار دیا ہے مال کا اقرار کرنے کا، لہٰذا اس کے مال کا اقرار صحیح ہے بھئی۔
جبکہ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ غلام اگر حدود یا قصاص کا اقرار کرے تو وہ بھی معتبر ہے، اس وجہ سے کہ اس کا یہ اقرار آدمی ہونے کی حیثیت سے ہے، اور آدمی جو ہے وہ تو مکلف ہے، شریعت نے اس کو احکامِ شرعیہ کا ذمہ دار بنایا ہے۔ اور جس طرح آزاد آدمی پر عبادات ضروری ہیں اسی طرح غلام پر بھی عبادات ضروری ہیں، اور جس طرح آزاد آدمی کے لیے گناہوں سے بچنا ضروری ہے اسی طرح غلام کے لیے بھی گناہوں سے بچنا ضروری ہے۔ تو لہٰذا اس غلام نے چوری کی ہے، ایک جرم کیا ہے، تو اس کا یہ اقرار آدمی ہونے اور مکلف ہونے کی حیثیت سے معتبر ہے۔ اور پھر اس کے بعد یہ اقرار متعدی ہو جائے گا اس غلام کے مال ہونے کی طرف بھی، کیونکہ یہ آدمی ہونے کے ساتھ ساتھ مال بھی ہے، یعنی مال ہونے کے اعتبار سے بھی اس کا اقرار صحیح ہے بھئی۔ اور نیز اس اقرار میں دلوں میں کوئی بدگمانی بھی نہیں آتی کہ غلام آقا کو نقصان دینا چاہتا ہے، وجہ یہ کہ یہاں پر غلام کا جو نقصان ہے وہ آقا سے بھی بڑھ کر ہے۔ آقا کا تو صرف مال جائے گا لیکن غلام کی یا تو جان چلی جائے گی یا اس کا عضو چلا جائے گا۔ تو اس قسم کا اقرار جس میں آدمی کا اپنا نقصان زیادہ ہو وہ اس کی اپنی ذات کے بارے میں بھی معتبر ہے اور تبعاً غیر کے لیے بھی معتبر ہے بھئی۔
اور اس کے بعد پھر امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرمائی صاحبِ ہدایہ نے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس مسئلے کے اندر ہمارے ائمہ کا جو اختلاف ہے اس کی بنیاد ایک ضابطے کے اندر اختلاف پر ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ چوری کے مسئلے میں مال اصل ہے اور قطع تابع ہے۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک چوری کے مسئلے میں قطع اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کہ مال اور قطع دونوں اصل ہیں، دونوں میں سے ایک بھی دوسرے کے تابع نہیں ہے۔ چنانچہ امام محمد رحمہ اللہ عبد محجور کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مال کے سلسلے میں عبد محجور کا اقرار معتبر نہیں کیونکہ اس کا یہ اقرار دراصل آقا کے خلاف ہے۔ چنانچہ اسی لیے اگر عبد محجور غصب کا اقرار کر لے تو وہ اقرار بھی صحیح نہیں ہے۔ تو جب مال کے سلسلے میں اس عبد محجور کا اقرار معتبر نہیں تو یہ جو معین مال جس کے بارے میں اس نے چوری کا اقرار کیا تھا یہ آقا ہی کا ہے۔ یہ آقا ہی کا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ آقا کے مال کی چوری کا اقرار کر رہا ہے، اور آقا کے مال کی چوری کے اندر تو غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔
اور نیز امام محمد رحمہ اللہ کی بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک مال اصل ہے اور قطع تابع ہے۔ لہٰذا اگر کوئی آدمی صرف مال کے لیے خصومت کرے تو اس سے قطع بھی ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ قطع کا انکار کرے پھر بھی قطع ثابت ہو جائے گی۔ لیکن اگر اس کا برعکس ہو اور کوئی آدمی یہ کہے کہ میں صرف قطع کے لیے خصومت کرتا ہوں، مال کے لیے میں خصومت کرتا ہی نہیں، تو اس صورت میں خصومت نہیں سنی جا سکتی۔ معلوم ہوا مال اصل ہے اور قطع اس کے تابع۔ اور نیز مال اصل ہے اور قطع تابع ہے اس کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ خصومت کے اندر ایسا ہو سکتا ہے کہ مال ثابت ہو جائے اور قطع ثابت نہ ہو، مثلاً ایک شخص نے ایک آدمی پر چوری کا دعویٰ کیا لیکن گواہ کے اندر ایک مرد اور دو عورتوں کو پیش کر دیا، تو ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے مال تو ثابت ہو جائے گا لیکن قطع ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ حدود کے اندر صرف مردوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے۔ یا اسی طرح ایک آدمی جو ہے وہ چوری کا اقرار کر لیتا ہے اور پھر بعد میں رجوع کر لیتا ہے، تو اس رجوع کی وجہ سے قطع تو ساقط ہو جائے گا لیکن مال نہیں ساقط ہو گا۔ معلوم ہوا مال اصل ہے اور قطع اس کے تابع ہے بھئی۔ تو لہٰذا جب عبد محجور کا اقرار اس مالِ معین کے بارے میں صحیح نہیں ہے تو پھر قطع کے بارے میں بھی اس کا اقرار معتبر نہیں، لہٰذا اس کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا۔ جبکہ عبد ماذون لہٗ جو ہے اس کا اقرار مال کے بارے میں صحیح ہے کیونکہ خود آقا نے اس کو اس اقرار کی اجازت دی ہے، تو جب عبد ماذون لہٗ کا اقرار مال کے بارے میں صحیح ہے تو قطع کے بارے میں بھی صحیح ہو جائے گا کیونکہ قطع مال کے تابع ہے۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر غلام نے دو چیزوں کا اقرار کیا ہے اور دونوں چیزیں اصل ہیں، دونوں میں سے ایک بھی دوسرے کے تابع نہیں۔ ایک اقرار تو اس نے قطع کے بارے میں کیا ہے اور ہم بیان کر چکے کہ یہ اقرار معتبر ہے کیونکہ یہ اقرار اس نے آدمی اور مکلف ہونے کی حیثیت سے کیا ہے۔ اور دوسرا اقرار اس نے آقا کے خلاف کیا ہے اور وہ مال کا اقرار ہے اور وہ معتبر نہیں، غلام کا اقرار آقا کے خلاف مال کے حق میں صحیح نہیں ہے۔ تو لہٰذا مال تو ثابت نہیں ہوگا البتہ قطع ثابت ہو جائے گی۔ اور قطع مال کے بغیر بھی ثابت ہو سکتی ہے، جیسے ایک آزاد آدمی اقرار کرے کہ یہ جو زید کے پاس یہ جو کپڑا ہے یہ میں نے عمرو سے چوری کیا تھا، اور حال یہ ہے کہ زید کہہ رہا ہے کہ یہ میرا اپنا کپڑا ہے، تو اس اقرار کی وجہ سے اس آزاد آدمی کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا البتہ وہ کپڑا زید سے لے کر واپس عمرو کو نہیں دیا جائے گا۔ اسی طرح اس غلام کے مسئلے کے اندر بھی اس غلام کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا لیکن وہ مالِ معین اس مسروق منہ کو واپس نہیں کیا جائے گا۔
جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قطع کے مسئلے کے اندر قطع اصل ہے اور مال تابع ہے، اور قطع کے بارے میں تو ہم بتا چکے کہ قطع کے لیے غلام کا اقرار صحیح ہے اس وجہ سے کہ یہ اقرار اس نے آدمی اور مکلف ہونے کی حیثیت سے کیا ہے۔ جب قطع کے سلسلے میں غلام کا اقرار صحیح تو مال تو اس کے تابع ہے، تو مال کے اندر بھی اس کا اقرار صحیح ہو جائے گا بھئی۔ اور غلام نے یہ جو اقرار کیا ہے یہ بقائے سرقہ کی حالت میں یہ اقرار کیا ہے، اور حالتِ بقا کے اندر مال جو ہے وہ قطع کے تابع ہو جاتا ہے یہاں تک کہ جب ہاتھ کاٹ دیا جائے تو مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا قطع اصل ہے اور مال تابع ہے، اور وہ چور چاہے وہ سارا مال ہی کیوں نہ خرچ کر دے اور ختم کر دے پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، معلوم ہوا قطع اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے۔
اور باقی امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس غلام کے مسئلے کو آزاد آدمی کے مسئلے پر قیاس کیا تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ غلام کے مسئلے کو آزاد آدمی کے مسئلے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ آزاد آدمی کے مسئلے میں اس آدمی کا ہاتھ تو کاٹا گیا لیکن وہ کپڑا زید سے لے کر عمرو کو واپس نہیں کیا گیا، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے زید نے یہ کپڑا عمرو کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا ہو، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ مودَع سے بھی اگر کوئی شخص چوری کر لے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جاتا ہے بھئی۔ لیکن غلام کے مسئلے میں اگر آپ یہ کہیں کہ یہ مال مسروق منہ کو واپس نہیں کیا جائے گا تو اس کا تو مطلب ہے غلام نے اپنے آقا کا مال چوری کیا تھا، اور غلام اپنے آقا کے مال کو چوری کرے پھر تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، چاہے وہ آقا سے چوری کرے چاہے آقا کے مودَع سے چوری کرے، لہٰذا آپ کا اس غلام کے مسئلے کو آزاد آدمی کے مسئلے پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ پھر سمجھو، پھر سمجھو۔ دیکھو آزاد آدمی نے چوری کا اقرار کیا ہے اس میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن وہ کپڑا زید سے لے کر عمرو کو نہیں دیا جائے گا کیونکہ ہو سکتا ہے عمرو مودَع ہو، کپڑا زید ہی کا تھا لیکن اس نے عمرو کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا تھا۔ جبکہ غلام کے مسئلے میں اگر آپ یہ کہتے ہیں جیسے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور وہ مال مسروق منہ کو واپس نہیں کیا جائے گا تو پھر اس صورت میں تو کہنا پڑے گا کہ غلام نے اپنے ہی آقا کا مال چوری کیا تھا۔ اپنے ہی آقا کا مال چوری کیا تھا، اور اپنے آقا کا مال چوری کرنے کی صورت میں تو غلام کا ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے، حالانکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا، تو دونوں مسئلوں میں فرق ہے تو ایک کو آپ دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر آقا غلام کی تصدیق کر دے، غلام نے کہا یہ مال میں نے چوری کیا ہے فلاں سے اور آقا تصدیق کر دے چاہے مالِ معین ہو چاہے مالِ غیر معین ہو، تمام صورتوں کے اندر پھر غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور وہ چیز ابھی تک اس چور کے قبضے میں موجود ہے تو وہ مالک کو واپس دلائی جائے گی کیونکہ اس مالک کی ملکیت ابھی بھی اس چیز میں موجود ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ چاہے یہ چور جو ہے وہ چیز کسی کو ہبہ کر چکا ہو یا کسی کو بیچ چکا ہو پھر بھی اس چیز کو واپس دلایا جائے گا بھئی، وہ ہبہ اور وہ بیع باطل ہوگی۔ اور اگر چور کے پاس وہ مال ہلاک ہوا ہے یا چور نے وہ مال خود ہلاک کیا ہے تو پھر اس صورت کے اندر امام صاحب سے مشہور روایت یہی ہے کہ چور پر ضمان نہیں آئے گا، نہ ہلاک کی صورت میں اور نہ استہلاک کی صورت میں۔ البتہ امام صاحب سے ایک دوسری غیر مشہور روایت جو ہے وہ حسن بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور اس کے مطابق استہلاک کے اندر چور سے ضمان لیا جائے گا، جب چور نے خود وہ مال خرچ کیا ہے یا ضائع کیا ہے تو پھر اس سے ضمان لیا جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاہے ہلاک ہو یا استہلاک دونوں صورتوں میں چور پر ضمان آئے گا، تو چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور اس سے ضمان بھی لیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ضمان اور قطع اکٹھے ہو سکتے ہیں، جبکہ میں پہلے بتلا چکا ہوں کہ عند الاحناف ضمان اور قطع اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قطع اور ضمان اکٹھے ہو سکتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ دونوں الگ الگ حق ہیں اور دونوں کا سبب الگ الگ ہے۔ قطع اس لیے چور پر واجب ہوگی اس لیے کیونکہ اس نے جرم کیا ہے، شریعت نے اس کو چوری سے منع کیا تھا اور اس نے چوری والا فعل کیا ہے، اور اس پر مال کا ضمان بھی آئے گا اس لیے کیونکہ وہ ضمان جو ہے وہ بندے کا حق ہے اور اس نے ایک بندے کا سامان اٹھایا تھا لہٰذا اب اس پر ضمان بھی واجب ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے حرم کے اندر کوئی مملوکہ شکار کو ہلاک کر دے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیت اللہ جو ہے زمین پر اللہ کا پہلا گھر ہے جو اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا، تو جیسے اس بیت اللہ کی عظمت ہے اسی طرح بیت اللہ کے اردگرد کا جو قریب کا علاقہ ہے شریعت نے اس کی بھی تعظیم کا حکم دیا، تو بیت اللہ کے اردگرد کا یہ علاقہ جو ہے یہ حرم کہلاتا ہے۔ حرم کے اندر کسی کو کسی قسم کی تکلیف دینے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ حرم کے حدود کے اندر شکار کھیلنا بھی منع ہے، یہاں تک کہ حرم کے اندر درختوں اور پودوں کو کاٹنا بھی منع ہے۔ تو اب اگر کوئی شخص حرم کے اندر کوئی شکار کرتا ہے، کسی جانور کو ہلاک کرتا ہے، تو یاد رکھو اس پر جرمانہ آئے گا، اس کو اس حیوان کے مثل قیمت جو ہے وہ صدقہ کرنا پڑے گی فقراء پر۔ تو اب صورت یہ ہے کہ ایک آدمی نے حرم کے اندر کسی کے مملوکہ شکار کو ہلاک کر دیا، تو یہاں پر امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آدمی پر اس شکار کی جزا بھی واجب ہوگی کیونکہ شریعت نے منع کیا تھا، تو بطورِ شریعت کے حق کے اس آدمی پر اس شکار کی جزا واجب ہوگی کہ اس کو اس کی قیمت فقراء پر صدقہ کرنا پڑے گی، اور نیز یہاں اس آدمی نے حق العبد کو بھی ضائع کیا ہے، یہ شکار تو کسی کا مملوک تھا لہٰذا اس مالک کو بھی ضمان دینا پڑے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے حرم کے اندر کوئی مملوکہ شکار کو ہلاک کر دے تو وہاں دو الگ الگ حق اس نے ضائع کیے ہیں تو دونوں کے اندر اس پر جزا واجب ہوگی بھئی، یا اسی طرح کوئی کسی ذمی کی مملوکہ شراب پی لے تو اس صورت میں اس آدمی کو حد بھی لگائی جائے گی اور اس آدمی پر ضمان بھی واجب ہوگا بھئی۔
ہم امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دیتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ قطع اور ضمان جمع ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں الگ الگ حق ہیں دونوں کے سبب الگ الگ ہیں بھئی، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، یہاں پر ایک ہی حق ہے دو الگ الگ حق نہیں ہیں، کیونکہ ہم نے بتلا دیا کہ عین جس وقت چور چوری کرنے لگتا ہے تو مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اور جب مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہوئی اور چور نے اس مال کو اٹھا لیا تو یہاں پر صرف اللہ ہی کا حق ہے بندے کا حق ہے ہی نہیں، لہٰذا اس لیے قطع اور ضمان جمع نہیں ہو سکتے۔ اور باقی جو آپ نے مثال ذکر کی کہ حرم کے اندر کوئی مملوکہ شکار کو ہلاک کرے تو وہاں اس آدمی پر جزا بھی واجب ہوگی اور ضمان بھی دینا پڑے گا اس حیوان کی قیمت کا بھئی، اور یا اسی طرح کوئی ذمی کی مملوکہ شراب پی لے تو وہاں پر اس آدمی پر حد بھی واجب ہوگی اور اس آدمی پر ضمان بھی واجب ہوگا اس ذمی کے لیے، تو ان کے اندر تو واقعی دو حق ہیں لہٰذا دونوں ادا کرنے پڑیں گے، لیکن یہ جو چوری کا مسئلہ ہے یہاں ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ عین چوری سے پہلے مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہو گئی تو یہاں صرف اللہ ہی کا حق ہے بندے کا حق نہیں، لہٰذا قطع کے ساتھ ضمان جمع نہیں ہو سکتا۔ اگر قطع ہے تو ضمان نہیں، اور اگر ضمان ہے تو قطع نہیں آ سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے ہماری دلیل ذکر فرمائی، ہمارے نزدیک قطع اور ضمان جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لَا غُرْمَ عَلَى السَّارِقِ بَعْدَ مَا قُطِعَتْ يَمِينُهُ“ کہ چور پر ضمان نہیں ہے جب اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ معلوم ہوا جب ہاتھ کاٹ دیا جائے پھر ضمان نہیں آ سکتا۔ اور نیز عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائی کہ اگر ضمان کو واجب کیا جائے تو یہ تو قطع کے منافی ہے، ضمان کی اگر واجب آپ کرتے ہیں پھر تو قطع نہیں ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ جب چور ضمان ادا کرے گا تو اس مال کا مالک بنے گا اور اس مالک بننے کی نسبت اس وقت کی طرف کی جائے گی جس وقت چور نے اس مال کو اٹھایا تھا، تو لہٰذا اس صورت میں اس مال کے اندر مالک ہونے کا شبہ آ گیا تو اس کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جائے گی بھئی، لہٰذا معلوم ہوا ضمان چور پر واجب نہیں کیا جا سکتا۔ اور نیز اس لیے بھی کہ جس وقت چور چوری کرنے لگتا ہے تو عین اس وقت اس مال کی عصمت بندے سے منتقل ہو جاتی ہے اللہ کی طرف، وجہ یہ ہے کہ اگر مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل نہ ہو تو پھر معلوم ہوا یہ مال حرام لغیرہٖ ہوا، اور حرام لغیرہٖ تو وہ ہے کہ جو اپنی ذات کے اعتبار سے مباح ہو اور غیر کی وجہ سے حرام ہو تو اس میں مباح ہونے کا شبہ آ جائے گا، اور جب شبہ آ جائے تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں عین چوری سے پہلے مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہو گئی، اللہ اس مال کے مالک بن گئے، اب چور کا اس مال کو لینا یہ حرام لعینہٖ ہے، یہ حرام لعینہٖ ہے، یعنی ہر اعتبار سے اس کا یہ مال کو اٹھانا حرام ہے تو لہٰذا اس کے اندر قطع ثابت ہوگا بھئی، یہاں کسی قسم کا شبہ موجود نہیں ہے بھئی۔
اس پر پھر اعتراض ہوتا ہے کہ اگر مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہو گئی ہے پھر تو ہلاک اور استہلاک دونوں صورتوں میں کسی ایک کے اندر بھی ضمان نہیں آنا چاہیے کیونکہ اللہ ضمان کے محتاج نہیں ہیں۔ لیکن ایک روایت امام صاحب سے جو حسن بن زیاد رحمہ اللہ نے روایت کی ہے اس کے اندر تو استہلاک کی صورت کے اندر ضمان آتا ہے، تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ چوری کے حق میں مال کی عصمت ساقط ہو گئی تھی لیکن استہلاک جو چور نے یعنی اس مال کو ضائع کیا ہے یا ہلاک کیا ہے وہ ایک الگ فعل ہے، چوری الگ فعل اور استہلاک الگ فعل، تو چوری کے حق میں تو مال کی عصمت ساقط ہو گئی لیکن استہلاک جو الگ فعل ہے اس کے اندر مال کی عصمت ساقط کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چوری کے اندر تو ضرورت تھی، اگر آپ مال کی عصمت ساقط نہیں کریں گے تو وہ تو حرام لغیرہٖ ہی رہے گا اور حرام لغیرہٖ کی وجہ سے تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ اس میں مباح ہونے کا شبہ ہے، تو چوری کے اندر ضرورت تھی کہ مال کی عصمت ساقط کی جائے پھر ہی ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے، جبکہ استہلاک ایک الگ فعل ہے اس کے اندر مال کی عصمت ساقط کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نیز چوری کے اندر شبہ آ جائے تو پھر وہاں قطع ساقط ہوتا ہے اور استہلاک تو الگ فعل ہے اس کے اندر اگر شبہ آ بھی جائے تو اس سے قطع پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا استہلاک کی صورت میں ضمان آ سکتا ہے بھئی۔
اور پھر بتلایا تھا کہ امام صاحب سے جو مشہور قول نقل کیا گیا ہے اس کے مطابق استہلاک کی صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا۔ استہلاک کی صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا، وجہ یہ کہ استہلاک بھی چوری ہی کا حصہ ہے، کیونکہ اس آدمی نے جو چوری کی ہے اس کا مقصد صرف مال کو لے جانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرنا اس کا مقصد تھا، تو لہٰذا یہ استہلاک بھی چوری کا حصہ ہے۔ جب یہ چوری کا حصہ ہے تو جیسے چوری کے اندر شبہے سے حد ساقط ہوتی ہے تو استہلاک کے اندر بھی شبہ اگر آ گیا تو پھر حد ساقط ہو جائے گی، لہٰذا جیسے چوری میں عصمت ساقط ہوئی ہے استہلاک کے اندر بھی عصمت ساقط ہو چکی ہے لہٰذا ضمان نہیں آئے گا۔
اور نیز صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہلاک کی صورت میں مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے، اس کے ساتھ ضروری ہے کہ یہ بھی کہا جائے کہ استہلاک کی صورت میں بھی مال کی عصمت ساقط ہوگی، توجہ ہے؟ ہلاک کی صورت میں مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے اس میں ضمان نہیں آتا، تو ہلاک کی صورت میں جب مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے اور ضمان نہیں آتا تو آپ کو کہنا پڑے گا استہلاک کی صورت میں بھی مال کی عصمت ساقط ہو گئی ہے اور ضمان نہیں آئے گا۔ اس لیے کیونکہ اگر آپ استہلاک کے اندر ضمان کو واجب کریں گے تو ضمان اور اس مالِ مسروقہ کے درمیان مماثلت نہ رہی، حالانکہ ضمان کے اندر مماثلت شرط ہے، نص سے یہ بات ثابت ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾ جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کر سکتے ہو۔ تو معلوم ہوا ضمان کے اندر مماثلت شرط ہے، ضمان کے اندر مماثلت شرط ہے۔ اور اگر آپ کہیں کہ ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا اور استہلاک کی صورت میں ضمان آئے گا تو پھر تو ضمان میں اور اس مالِ مسروقہ کے درمیان مماثلت نہ رہی۔ کس طرح مماثلت نہ رہی؟ میں نے بتلایا تھا: اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہلاک کی صورت میں مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے یعنی مال معصوم نہیں ہے، اور استہلاک کی صورت میں عصمت ساقط نہیں ہوتی معلوم ہوا وہ مال معصوم ہے، تو معلوم ہوا یہ جو مالِ مسروق ہے بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ مالِ معصوم نہیں ہے یعنی ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آتا، اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ مالِ معصوم ہے یعنی استہلاک کی صورت میں ضمان آتا ہے، تو اگر استہلاک کی صورت میں آپ ضمان واجب کریں گے تو پھر معلوم ہوا مالِ مسروق وہ بعض اعتبار سے معصوم ہے اور بعض اعتبار سے معصوم نہیں ہے، اور جو اس کا ضمان دیا جائے گا جو چور ضمان ادا کرے گا وہ تو ہر اعتبار سے مالِ معصوم ہے، تو ضمان اور مالِ مسروق کے درمیان تو مماثلت نہ آئی حالانکہ مماثلت ضروری تھی۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا کہ مال کے ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آتا تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ آپ یہ کہیں کہ استہلاک کی صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا۔ اگر آپ کیا کہتے ہیں؟ استہلاک کی صورت میں ضمان آئے گا، معلوم ہوا مالِ مسروق بعض صورتوں میں معصوم ہے اور بعض صورتوں میں معصوم نہیں، اور جو ضمان ادا کیا جائے گا وہ تو ہر اعتبار سے معصوم ہے، تو ضمان تو اس مالِ مسروق کے مثل نہ ہوا حالانکہ ضمان میں مماثلت شرط ہے، یہ نص سے ثابت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر ایک شخص نے کئی چوریاں کی ہیں اور کسی ایک چوری میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو یہ سب کی جزا ہو گئی اور کسی بھی چوری کا اب ضمان اس پر نہیں آئے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر سب نے خصومت کی ہے پھر تو یہ قطع سب کے لیے ہو گئی، کسی چوری کا بھی ضمان چور پر نہیں آئے گا، لیکن اگر خصومت صرف ایک آدمی نے کی ہے تو باقیوں کے حق میں تو قطع نہیں ہوئی، جب قطع نہیں تو ان کا مال ابھی بھی معصوم ہے تو اس کا ضمان چور کو دینا پڑے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس نے جتنی چوریاں کی تھیں ان میں اللہ کے حق کے طور پر ایک ہی قطع واجب ہوتی ہے، جتنی بھی چوریاں کی ہیں ان میں ایک ہی قطع واجب ہوتی ہے بطورِ اللہ کے حق کے، اس لیے کیونکہ حدود کی بنیاد تداخل پر ہے، حدود کے اندر تداخل کیا جاتا ہے۔ اور باقی صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں باقیوں نے خصومت نہیں کی، تو ہم کہتے ہیں کہ خصومت تو صرف اس چوری کے اظہار کے لیے ضروری تھی تاکہ قاضی کے پاس چوری ظاہر ہو جائے، باقی ہاتھ کا کاٹنا تو نفسِ چوری کی وجہ سے ہی واجب ہو چکا تھا، تو جب ایک دفعہ ہاتھ کاٹ دیا گیا تو گویا جتنا واجب تھا وہ سارا وصول کر لیا گیا بھئی۔ اور نیز اس بات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ اس ہاتھ کاٹنے کا نفع گزشتہ تمام چوریوں کو پہنچے گا اور چور آئندہ چوری سے باز آ جائے گا۔ اور اسی طرح اختلاف ہے اگر یہ چور ایک ہی آدمی سے کئی مرتبہ نصاب چوری کر لے تو امام صاحب فرماتے ہیں ایک دفعہ ایک قطع کافی ہے اور یہ قطع جو ہے تمام سابقہ چوریوں کی جزا ہو گئی، لہٰذا باقی نصابوں کا ضمان چور پر نہیں آئے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، باقی نصابوں کا ضمان چور پر آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”بَابُ مَا يُحْدِثُ السَّارِقُ فِي السَّرِقَةِ“
بھئی أَحْدَثَ يُحْدِثُ إِحْدَاث کا معنیٰ ہے کسی چیز کو وجود دینا۔
”بَابُ مَا يُحْدِثُ السَّارِقُ“ یہ باب ہے اس چیز کے بیان میں جس کو چور وجود دے، ”فِي السَّرِقَةِ“ مالِ مسروقہ کے اندر۔ مالِ مسروقہ کے اندر چور جس چیز کو وجود دے یعنی کوئی تبدیلی پیدا کر دے تو اس کا بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ اس باب میں۔ یاد رکھو جب چور کوئی مال چوری کر لیتا ہے تو بعض اوقات وہ اس کے اندر تبدیلی پیدا کر دیتا ہے، تو وہ تبدیلی تین قسم کی ہو سکتی ہے: یا تو اس تبدیلی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت کم ہو جائے گی، یا اس تبدیلی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت بڑھ جائے گی، یا وہ ایسی تبدیلی ہوگی کہ جس میں مثلاً فقہاء کا اختلاف ہوگا، بعض کے نزدیک اس تبدیلی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے اور بعض کے نزدیک اس تبدیلی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت کم ہو گئی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ یہاں تینوں قسم کی صورتیں ذکر فرمائیں گے، ایسی تبدیلی جس سے مالِ مسروقہ کی قیمت کم ہو جائے، یا ایسی تبدیلی جس سے مالِ مسروقہ کی قیمت بڑھ جائے، یا ایسی تبدیلی کہ جس میں ہمارے ائمہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں، ان سب کو یہاں بیان فرمائیں گے۔
دیکھیے بھئی کہتے ہیں: ”بَابُ مَا يُحْدِثُ السَّارِقُ فِي السَّرِقَةِ“ یہ باب ہے اس چیز کے بیان میں جس کو چور وجود دے ”فِي السَّرِقَةِ“ مالِ مسروقہ کے اندر۔ یعنی وہ تبدیلی یا وہ کاریگری جس کو چور وجود دے دے مالِ مسروقہ میں۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ ثَوْبًا فَشَقَّهُ فِي الدَّارِ بِنِصْفَيْنِ“ بھئی پہلی صورت وہ ہے کہ جس کے اندر چور گھر کے اندر داخل ہوا اور وہیں پر اس نے اس مالِ مسروقہ کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کی جس سے اس کی قیمت کم ہو گئی۔ مثلاً وہ کپڑا چوری کر رہا تھا، اس نے اس گھر کے اندر ہی کپڑے کو پھاڑ کر اس کے دو حصے بنا لیے، اور آپ جانتے ہیں کہ کپڑے کو پھاڑنا یہ اس کی قیمت کم کر دیتا ہے، لیکن کپڑا پھاڑنے کے باوجود وہ کپڑا ابھی بھی نصاب کے بقدر قیمت کا ہے یعنی اس کی قیمت دس درہم یا اس سے زیادہ ہے۔ پھر اس کپڑے کو لے کر چور اس گھر سے نکلا تو یاد رکھو اس صورت میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ اگرچہ اس نے کپڑے کو پھاڑا ہے، اس میں تبدیلی پیدا کی ہے، لیکن جس وقت چوری مکمل ہوئی یعنی وہ گھر سے وہ کپڑا لے کر نکلا اس وقت بھی اس مال کی قیمت نصاب کے بقدر تھی، لہٰذا چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ ثَوْبًا“ اور جس شخص نے کوئی کپڑا چوری کیا، ”فَشَقَّهُ فِي الدَّارِ“ تو اس نے اس کپڑے کو اس گھر کے اندر ہی پھاڑ لیا، ”بِنِصْفَيْنِ“ دو نصف کے اندر، یعنی اس کے دو حصے بنا لیے، ”ثُمَّ أَخْرَجَهُ“ پھر اس نے اس کپڑے کو اس گھر سے نکالا، ”وَهُوَ يُسَاوِي عَشَرَةَ دَرَاهِمَ“ اس حال میں کہ اس کپڑے کی قیمت جو ہے وہ دس درہم کے برابر ہے، ”قُطِعَ“ تو اس صورت میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو دیکھو یہاں چور نے ایسی تبدیلی پیدا کی ہے اس چیز میں جس سے اس کی قیمت کم ہو گئی ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا يُقْطَعُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اگرچہ اس مال کی قیمت ابھی بھی دس درہم سے زیادہ ہے لیکن پھر بھی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ لَهُ فِيهِ سَبَبَ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ اس چور کے لیے اس کپڑے کے اندر ملکیت کا سبب ہے، اس چور کے لیے اس کپڑے میں ملکیت کا سبب پیدا ہو چکا ہے، اور وہ یہ کہ اس نے کپڑا پھاڑ دیا تھا۔ اس نے کپڑا پھاڑ دیا تھا۔
یاد رکھو، یاد رکھو غصب کے ایک دو مسائل پہلے یاد رکھیں پھر آپ کو یہ بات پوری طرح سمجھ میں آئے گی۔ آپ جانتے ہیں غصب اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص دوسرے کی چیز زبردستی چھین کر لے جائے، اس کو غصب کہتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ غاصب پر ضمان آتا ہے، اگر وہ چیز اس کے پاس اسی طرح موجود ہے تو وہ چیز واپس کرنا پڑے گی اور اگر وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھنا اگر غاصب کے فعل کی وجہ سے اس چیز کی قیمت میں کمی ہو گئی تو پھر اس صورت میں وہ چیز بھی اس کو واپس کرنا پڑے گی اور ضمان بھی دینا پڑے گا۔ مثلاً غاصب کے فعل کی وجہ سے اس چیز کی قیمت میں پانچ درہم کی کمی ہو گئی تو اس غاصب کو وہ چیز بھی واپس لوٹانا پڑے گی اور پانچ درہم بطورِ ضمان کے بھی دینے پڑیں گے۔ لیکن اگر غاصب نے اس چیز کے اندر زیادہ تبدیلی پیدا کر دی جس سے اس کی قیمت بہت زیادہ کم ہو گئی، مثلاً پہلے اس کی قیمت بیس درہم تھی اور اب کم ہو کر دس درہم رہ گئی تو پھر اس صورت میں مالک کو اختیار ہے۔ پہلی صورت کیا تھی کہ غاصب کے عمل سے تھوڑا سا نقصان آیا تھا، وہاں مالک کو اختیار نہیں ہے، مالک کو وہی چیز لینا پڑے گی اور ساتھ ضمان بھی وصول کر لے گا۔ لیکن اگر غاصب نے اس چیز میں زیادہ تبدیلی پیدا کر دی ہے یعنی یوں کہیں اس میں زیادہ نقصان کر دیا ہے تو پھر اب مالک پر لازم نہیں ہے کہ وہی چیز لے بلکہ مالک کو شریعت نے اختیار دے دیا۔ وہ چاہے تو وہی چیز بھی لے لے اور ساتھ جو نقصان آیا ہے اس کا ضمان بھی لے لے، مثلاً دس درہم۔
20 درہم کی چیز رہ گئی ہے اور 10 درہم اس میں اس کی قیمت کم ہوگئی ہے تو وہ چیز بھی لے لے اور 10 درہم بطور ضمان کے بھی لے لے۔ اور اگر مالک چاہے تو وہ چیز غاصب ہی کے پاس رہنے دے اور اس کو کہے: یہ تم ہی رکھو، مجھے اب میرے مال کی پوری قیمت دے دو اور اس سے 20 درہم وصول کر لے۔
تو حاصل کلام کیا؟ کہ غاصب جب کوئی چیز غصب کرے تو اگر اس میں غاصب کے عمل سے تھوڑا نقصان آیا ہے تو پھر مالک کو وہی چیز بھی لینا پڑے گی اور وہ اس کا ضمان بھی ساتھ لے سکتا ہے۔ لیکن اگر غاصب کے عمل کی وجہ سے اس چیز میں زیادہ نقصان آگیا ہے پھر مالک پر اب لازم نہیں ہے کہ وہی چیز لے، بلکہ مالک کو شریعت نے اختیار دے دیا۔ وہ چاہے تو وہ چیز اسی طرح لے لے اور ساتھ نقصان کا ضمان بھی وصول کر لے۔ اور مالک چاہے تو وہ چیز غاصب ہی کے پاس رہنے دے اور اپنی چیز کی پوری قیمت اس سے وصول کر لے۔
تو یہاں پر بات چل رہی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی۔ صورت کیا ہے؟ ایک چور گھر کے اندر داخل ہوا، وہاں اس نے کپڑا اٹھایا اور کپڑے کو پھاڑ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے اور پھر وہ کپڑا لے کر گھر سے نکلا۔ تو طرفین فرماتے ہیں کہ اگر اس کپڑے کی قیمت 10 درہم کے برابر ہے تو اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ اس چور نے اس چیز میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی ہے جو اس چور کی ملکیت کا سبب ہے۔
اس نے کپڑے کو پھاڑ دیا ہے، کپڑے کے اندر بہت زیادہ نقصان پیدا کر دیا۔ اور جب بہت زیادہ نقصان پیدا کر دیا جائے کسی چیز کے اندر تو مالک کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے وہ چیز اسی طرح وصول کر لے اور ساتھ نقصان کا ضمان بھی وصول کر لے، اور چاہے تو دوسرے آدمی کو اس چیز کا مالک بنا دے اور اس چیز کی پوری قیمت اس سے وصول کر لے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں بھی چور نے جب اس کپڑے کو اتنا زیادہ پھاڑ دیا ہے کہ جس سے اس کے اندر بہت زیادہ نقصان آگیا تو یہاں اب چور کے لیے سببِ ملکیت پیدا ہو گیا۔ چور ابھی مالک تو نہیں بنا، مالک کو تو اختیار ہے، وہ چاہے تو اسی طرح کپڑا لے لے اور اس کا نقصان وصول کر لے، لیکن مالک کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ اس کپڑے کا مالک چور ہی کو بنا دے اور پوری قیمت اس سے وصول کر لے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر چور نے اس کپڑے کے اندر بہت زیادہ نقصان پیدا کر دیا ہے تو اس میں سببِ ملک پیدا ہو گیا چور کے لیے۔ چور ابھی مالک تو نہیں بنا، وہ تو کپڑے کے مالک کا اختیار ہے، لیکن سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے۔ اور جب مالِ مسروقہ کے اندر چور کے لیے سببِ ملکیت پیدا ہو جائے تو پھر اس میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ جب بھی کوئی چور کسی مال کو چرائے اور اس مال کے اندر اس چور کے لیے سببِ ملکیت ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ یہاں پر بھی اس چور نے چوری سے پہلے کپڑا پھاڑا ہے اور پھر وہ دو حصے لے کر گھر سے نکلا ہے، تو لہٰذا چوری سے پہلے ہی سببِ ملک پایا گیا چور کے لیے، لہٰذا اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔
وہ فرماتے ہیں: یہ اسی طرح ہے جیسے دو آدمیوں کے درمیان بیع ہوئی اور آپ جانتے ہیں بیع کے اندر کبھی کبھار مشتری یا بائع جو ہیں وہ خیارِ شرط رکھ لیتے ہیں۔ مثلاً بائع کہتا ہے کہ مجھے تین دن تک اختیار ہے، میں ساتھیوں سے مشورہ کروں گا، مجھے تین دن تک اس بیع کو فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ تو یہ اختیار بائع بھی رکھ سکتا ہے اور مشتری بھی۔ اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ اگر مشتری خیارِ شرط رکھے تو پھر مشتری مبیع کا مالک بھی بن جاتا ہے۔ کیونکہ بیع کو فسخ کرنے کا اختیار کس کا ہے؟ مشتری کا ہے، تو مشتری مالک بن چکا ہے لیکن وہ بیع کو فسخ کر سکتا ہے اس مدت کے اندر۔ اور اگر خیارِ شرط بائع رکھے تو پھر اس صورت کے اندر مشتری اس مبیع کا مالک نہیں بنتا۔ مشتری اس مبیع کا مالک نہیں بنتا، ہاں، اس مبیع میں مشتری کے لیے سببِ ملک پیدا ہو گیا ہے۔ وہ مالک بن سکتا ہے اگر بائع نے اس بیع کو فسخ نہ کیا۔ توجہ ہے؟ لہٰذا دو آدمیوں کے درمیان بیع ہوئی اور بائع نے خیارِ شرط اپنے لیے رکھا۔ جب بائع نے خیارِ شرط اپنے لیے رکھا ہے تو مشتری ابھی بھی اس مبیع کا مالک نہیں، لیکن مشتری کے لیے اس میں سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے اور پھر اسی مدت کے دوران مشتری نے وہ مبیعہ چوری کر لیا بائع سے۔ تو اس صورت میں بالاتفاق ہمارے ائمہ کے نزدیک اس مشتری کا، یہ مشتری یہ جو چور ہے، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ اس مالِ مسروق کے اندر اس کے لیے سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے۔ اس کے لیے سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے، اس کے مالک بننے کا احتمال آچکا ہے بھئی۔
تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح اس مشتری کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا کیونکہ اس مبیع کے اندر اس کے لیے سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے، اسی طرح یہ چور جو گھر کے اندر داخل ہوا اور اس نے کپڑے کو پھاڑ دیا، تو اس نے کپڑے میں بہت زیادہ نقصان پیدا کر دیا تو یہاں پر بھی اس چور کے لیے سببِ ملک پیدا ہو گیا، اور مالِ مسروق کے اندر جب چور کے لیے سببِ ملک پیدا ہو جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں:
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے
”أَنَّهُ لَا يُقْطَعُ“
کہ اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
”لِأَنَّ لَهُ فِيهِ سَبَبَ الْمِلْكِ“
اس لیے کیونکہ اس چور کے لیے اس کپڑے کے اندر سببِ ملک ہے
”وَهُوَ الْخَرْقُ الْفَاحِشُ“
اور بھئی وہ سببِ ملک کیا ہے؟ کہتے ہیں:
”وَهُوَ الْخَرْقُ الْفَاحِشُ“
خرق کہتے ہیں پھٹن کو، کپڑے وغیرہ کو پھاڑنا۔ فاحش کا معنیٰ ہے کثیر۔ تو کہتے ہیں اس چور کے لیے اس کپڑے میں سببِ ملک موجود ہے،
”وَهُوَ الْخَرْقُ الْفَاحِشُ“
اور وہ کثیر پھٹن ہے کہ اس نے کپڑے کو بہت زیادہ پھاڑ دیا ہے۔
”فَإِنَّهُ يُوجِبُ الْقِيمَةَ“
اس لیے کیونکہ یہ خرقِ فاحش جو ہے
”يُوجِبُ الْقِيمَةَ“
یہ اس چیز کی قیمت اس آدمی پر واجب کر دیتی ہے
”وَتَمَلُّكَ الْمَضْمُونِ“
اور نیز یہ جو خرقِ فاحش ہے یہ ثابت کر دیتی ہے
”تَمَلُّكَ الْمَضْمُونِ“
کہ وہ اس مضمون کا مالک بن جاتا ہے، وہ شئےِ مضمون۔ مضمون کہتے ہیں وہ چیز جس کا ضمان دیا گیا۔ جس کا ضمان دیا گیا۔ بھئی چور نے جب کپڑے کو بہت زیادہ پھاڑ دیا تو چور پر ضمان آگیا، اور جب چور ضمان ادا کرے گا تو اس کپڑے کا مالک بن جائے گا۔ تو یہ جو مالِ مسروق ہے اس کا چور ضمان دے گا، تو یہ مالِ مسروق ہوا مضمون بھئی۔ مضمون اسم مفعول کا صیغہ ہے، کیا معنیٰ؟ جس کا ضمان دیا گیا۔ تو یہ مالِ مسروق کیا ہے؟ یہ مالِ مضمون ہے، توجہ ہے؟ کہتے ہیں:
”فَإِنَّهُ يُوجِبُ الْقِيمَةَ“
اس لیے کیونکہ یہ کثیر پھٹن جو ہے یہ قیمت کو واجب کرتی ہے
”وَتَمَلُّكَ الْمَضْمُونِ“
اور اس مضمون شئے کے مالک ہونے کو واجب کرتی ہے۔ یہ اس کا مالک بن جاتا ہے جب قیمت ادا کر دیتا ہے۔
”وَصَارَ كَالْمُشْتَرِي إِذَا سَرَقَ مَبِيعًا فِيهِ خِيَارٌ لِلْبَائِعِ“
اور یہ چور مشتری کی طرح ہو گیا جب وہ مشتری چوری کر لے ایسے مبیع کو کہ جس کے اندر بائع کا خیار تھا۔ یہ چور اس مشتری کی طرح ہو گیا جس نے اس مبیع کو چوری کر لیا جس میں بائع کا خیار تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو دونوں میں علتِ جامعہ کیا ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ یہ جو چور جس نے کپڑا پھاڑا ہے، اس کو قیاس کر رہے ہیں اس مشتری پر جس نے اس مبیع کو چرا لیا ہے جس کے اندر بائع نے خیار رکھا تھا۔ تو علتِ جامعہ یہ ہے کہ یہاں پر دونوں جگہ چور نے ایک ایسی چیز چرائی ہے جو اس کی مملوک نہیں ہے، لیکن اس چیز کے اندر اس کا سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے۔ تو جیسے اس مشتری کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، اس چور کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے
”وَصَارَ كَالْمُشْتَرِي إِذَا سَرَقَ مَبِيعًا فِيهِ خِيَارٌ لِلْبَائِعِ“
اور یہ کپڑا چرانے والا مشتری کی طرح ہو گیا جب مشتری ایسے مبیع کو چوری کر لے جس میں بائع کے لیے خیار ہو۔
”وَلَهُمَا“
اب طرفین کی دلیل آگئی۔
”وَلَهُمَا“
طرفین کی دلیل یہ ہے
”أَنَّ الْأَخْذَ وُضِعَ سَبَبًا لِلضَّمَانِ لَا لِلْمِلْكِ“
طرفین فرماتے ہیں کہ ہمیں آپ کی بات قبول نہیں ہے۔ آپ نے کہا کہ خرقِ فاحش جو ہے وہ سببِ ملکیت ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، خرقِ فاحش سببِ ضمان ہے، سببِ ملک نہیں۔ خرقِ فاحش سببِ ضمان ہے، سببِ ملک نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَهُمَا“ طرفین فرماتے ہیں
”أَنَّ الْأَخْذَ“
یہاں ”الْأَخْذَ“ پر الف لام عہدِ خارجی ہے بھئی۔ ہر اخذ مراد نہیں، خاص اخذ، خاص طریقے سے اٹھانا مراد ہے، اور یہ وہ والا اٹھانا ہے جو پیچھے ذکر ہوا، یہ جو اس نے خرقِ کثیر والا کپڑا اٹھایا ہے چور نے، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اس سے مراد یہ والا اخذ ہے بھئی جس میں چور نے کپڑے کو پھاڑ دیا ہے بہت زیادہ، تو یہ اخذ مراد ہے۔ تو ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل جو ہے وہ یہ ہے:
”أَنَّ الْأَخْذَ“
کہ یہ والا جو اخذ ہے، یعنی اس طرح کثیر پھٹن والا کپڑا اٹھانا
”وُضِعَ سَبَبًا لِلضَّمَانِ“
اس کو وضع کیا گیا ہے ضمان کے لیے بطورِ سبب کے، اس طرح کی کثیر پھٹن وہ ضمان کا سبب ہے، ملکیت کا سبب نہیں۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے:
”وَلَهُمَا“
اور طرفین کی دلیل یہ ہے
”أَنَّ الْأَخْذَ“
کہ یہ والا جو اخذ ہے یعنی اس طرح کثیر پھٹن والا کپڑا اٹھانا
”وُضِعَ سَبَبًا لِلضَّمَانِ“
اس کو وضع کیا گیا ہے ضمان کے لیے بطورِ سبب کے
”لَا لِلْمِلْكِ“
ملکیت کے لیے اس کو وضع نہیں کیا گیا، ملکیت کے سبب کے طور پر اس کو وضع نہیں کیا گیا۔
”وَإِنَّمَا الْمِلْكُ يَثْبُتُ ضَرُورَةَ أَدَاءِ الضَّمَانِ“
ہاں، اس ضمان کی وجہ سے ملکیت ثابت ہو جائے گی جب یہ ضمان ادا کرے گا۔ یہ جو چور کا مال کو اٹھانا ہے خرقِ کثیر کے ساتھ، یہ اٹھانا ضمان کا سبب ہے، ملکیت کا سبب نہیں۔ ہاں جب یہ ضمان ادا کرے گا تو پھر یہ مالک بھی بن جائے گا۔ تو اس طرح کا اٹھانا ضمان کا سبب ہے اور یہ ضمان آگے ملکیت تک پہنچا سکتا ہے لیکن بہرحال خود یہ ملکیت کا سبب نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے
”وَإِنَّمَا الْمِلْكُ يَثْبُتُ ضَرُورَةَ أَدَاءِ الضَّمَانِ“
اور ملکیت جو ہے وہ تو ثابت ہوتی ہے ضمان کی ادائیگی کی ضرورت کی وجہ سے۔ ملکیت ثابت ہوتی ہے ضمان کی ادائیگی کی ضرورت کی وجہ سے۔ ضمان کی ادائیگی کے ساتھ ضروری ہے کہ اس چور کی ملکیت ثابت ہو جائے، ضمان کی ادائیگی کے ساتھ ضروری ہے۔ وجہ یہ کہ یہ ضمان کس چیز کا ہے؟ اس مالِ مسروقہ کا ہے، اور چور مثلاً اس کا ضمان دیتا ہے تو جب چور ضمان دے گا تو کہنا پڑے گا چور اس مالِ مسروقہ کا مالک بن گیا۔ اگر آپ کہتے ہیں نہیں، چور ابھی بھی مالِ مسروقہ کا مالک نہیں بنا، وہی پرانا مالک جو ہے اس مالِ مسروقہ کا بھی مالک ہے اور ضمان بھی اس کو دے دیا گیا، وہ ضمان کا بھی مالک بن گیا، حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی آدمی بدل اور مبدل دونوں کا مالک بن جائے۔ بدل اور مبدل ایک ہی آدمی کی ملک میں جمع ہو جائیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا جب چور ضمان ادا کرے گا تو وہ مسروق منہ اس ضمان کا مالک بن جائے گا تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ کہنا پڑے گا کہ چور جو ہے وہ اس مالِ مسروق کا مالک بن گیا۔ معلوم ہوا ضمان ادا کرنے کے ساتھ ضروری ہے کہ مالِ مسروق کے اندر چور کی ملکیت ثابت ہو جائے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ معنیٰ ہے، کہتے ہیں:
”وَإِنَّمَا الْمِلْكُ يَثْبُتُ ضَرُورَةَ أَدَاءِ الضَّمَانِ“
اور چور کی جو ملکیت ثابت ہوتی ہے وہ ضمان کی ادائیگی کے ساتھ ضروری ہونے کی وجہ سے ہے
”كَيْ لَا يَجْتَمِعَ الْبَدَلَانِ فِي مِلْكٍ وَاحِدٍ“
تاکہ کہیں دونوں بدل ایک ہی شخص کی ملکیت میں جمع نہ ہو جائیں۔ مالِ مسروق بھی اس مسروق منہ کا اور ضمان بھی اسی کا، پھر تو یہ دونوں بدلین کا ایک ہی آدمی مالک بن گیا، حالانکہ دونوں بدلین ایک آدمی کی ملک میں جمع نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا جب مسروق منہ ضمان کا مالک بن رہا ہے تو کہنا پڑے گا کہ چور مالِ مسروقہ کا مالک بن رہا ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے:
”كَيْ لَا يَجْتَمِعَ الْبَدَلَانِ فِي مِلْكٍ وَاحِدٍ“
تاکہ کہیں دو بدل جمع نہ ہو جائیں ایک ہی ملکیت میں۔
”وَمِثْلُهُ لَا يُورِثُ الشُّبْهَةَ“
اور اس قسم کا اٹھانا یہ شبہ پیدا نہیں کرتا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ اس طرح کا اٹھانا، یعنی خرقِ کثیر والا، خرقِ کثیر کے ساتھ اٹھانا یہ ملکیت کا سبب ہے اور اس کی وجہ سے شبہ آجائے گا، اور شبہ آجائے تو حد کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط، لہٰذا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ اس طرح کا خرقِ کثیر کے ساتھ اٹھانا یہ ملکیت کا سبب نہیں ہے، یہ ضمان کا سبب ہے۔ جب یہ ضمان کا سبب ہے تو یہ کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں کرتا کیونکہ یہاں ملکیت ہے ہی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَمِثْلُهُ لَا يُورِثُ الشُّبْهَةَ“
اور اس قسم کا اخذ جو ہے، یعنی خرقِ کثیر والا اخذ جو ہے وہ شبہ پیدا نہیں کرتا
”كَنَفْسِ الْأَخْذِ“
جیسے کہ نفسِ اخذ ہے۔ بھئی ایک ہے ویسے اٹھانا اور ایک ہے خرقِ کثیر کے ساتھ اٹھانا۔ ایک چور آیا اور کپڑا اٹھا کر لے گیا۔ اس نے خرقِ کثیر نہیں کیا، اس نے کپڑے کو پھاڑا نہیں۔ ویسے کپڑا اٹھا کر لے گیا، تو ہو سکتا ہے بعد میں وہ مالک جو ہے چور کو وہ مال ہبہ کر دے۔ تو نفسِ اخذ کے اندر بھی تو مالک بننے کا احتمال موجود ہے! جیسے اس خرقِ کثیر کی وجہ سے مالک ہونے کا صرف احتمال ہے، مالک نہیں بنا، کیونکہ خرقِ کثیر کے ساتھ اٹھانا یہ ضمان کا سبب ہے، یہ ملکیت کا سبب ہے ہی نہیں۔ تو اسی طرح نفسِ اخذ، اگر ویسے کوئی چیز اٹھا کر لے جائے چور تو مالک بننے کا احتمال تو وہاں بھی موجود ہوتا ہے لیکن وہاں بالاتفاق چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، تو یہاں پر بھی جب ملکیت کا سبب نہیں ہے، صرف ملکیت کا ایک احتمال آیا ہے تو اس کی وجہ سے کوئی شبہ نہیں آئے گا، چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے، کہتے ہیں:
”وَمِثْلُهُ لَا يُورِثُ الشُّبْهَةَ“
اور اس طرح کا خرقِ کثیر کے ساتھ اٹھانا یہ شبہ پیدا نہیں کرتا
”كَنَفْسِ الْأَخْذِ“
جیسے کہ نفسِ اخذ ہے، یعنی بغیر پھٹن کے ساتھ اٹھانا وہ شبہ پیدا نہیں کرتا۔
”وَكَمَا إِذَا سَرَقَ الْبَائِعُ مَعِيبًا بَاعَهُ“
بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس خرقِ کثیر کے ساتھ کپڑے کو چرانے والے چور کو قیاس کیا تھا اس مشتری پر جو بائع سے وہ مبیعہ چوری کر لیتا ہے جس میں بائع کو خیارِ شرط حاصل ہے۔ توجہ ہے؟ ہم کہتے ہیں نہیں، آپ اس چور کو اس مشتری پر قیاس نہ کریں، بلکہ اس چور کو آپ بائع پر قیاس کریں، اور صورت یہ ہے کہ ایک بائع نے دوسرے آدمی کو عیب والی چیز بیچ دی اور آپ جانتے ہیں کہ مشتری جو ہے عیب کی وجہ سے مبیعہ واپس کر سکتا ہے۔ اور جب مشتری عیب کی وجہ سے مبیعہ واپس کرے گا تو بائع دوبارہ اس کا مالک بن جائے گا۔ پہلے بیع ہو گئی تھی، مالک کون بن گیا تھا؟ مشتری۔ پھر مشتری کو عیب کا پتہ چلا کہ یہ تو بائع نے مجھے عیب والی چیز دی ہے، مشتری واپس لے گیا، مشتری نے وہ چیز بائع کو دے دی اور اپنے ثمن اس سے واپس وصول کر لیے تو اس مبیع کا مالک دوبارہ بائع بن گیا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ جیسے ایک بائع ہے، اس نے ایک مشتری کو عیب والی چیز فروخت کر دی اور پھر بعد میں مشتری نے ابھی واپس نہیں کی تھی کہ بائع نے وہی چیز مشتری سے چوری کر لی۔ بائع نے مشتری سے وہ چیز چوری کر لی، اب دیکھو، حالانکہ وہاں پر اس چیز میں عیب موجود ہے تو بائع نے ایسی چیز چوری کی ہے جس میں عیب گیا تھا اس کی طرف سے، اور وہاں سببِ رد موجود ہے۔ سببِ رد، تو عیب کی وجہ سے چیز واپس کی جاتی ہے، خود عیب ملکیت کا سبب نہیں ہے، عیب کی وجہ سے بائع اس چیز کا مالک بن جائے ایسا نہیں ہے، بلکہ جب مشتری واپس کرے گا پھر بائع اس کا مالک بنے گا۔ تو عیب سببِ رد تو ہے، واپس لوٹانے کا سبب تو ہے، ملکیت کا سبب نہیں ہے۔ ہاں، وہ الگ بات ہے جب مشتری واپس کرے گا تو بائع مالک بن جائے گا۔ معلوم ہوا عیب واپس کرنے کا سبب ہے اور واپس کرنا یہ ملکیت تک پہنچا دیتا ہے۔ تو بہرحال عیب جو ہے وہ سببِ رد ہے، ملکیت کا سبب نہیں، البتہ یہ رد ملکیت تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی طرح اس چور نے خرقِ کثیر والا کپڑا چوری کیا ہے تو یہ سببِ ضمان ہے، سببِ ملکیت نہیں۔ ہاں، البتہ یہ ضمان جو ہے یہ ملکیت تک پہنچا سکتا ہے۔ جیسے وہاں پر عیب والی چیز فروخت کرنا اور پھر اس بائع کا اس کو واپس چرا لینا تو وہ عیب جو ہے وہ سببِ رد تو ہے لیکن سببِ ملک نہیں۔ ہاں، وہ الگ بات ہے کہ وہ رد جو ہے ملکیت تک پہنچا دے گا۔ بات ذرا گہری ہے، میں اس لیے بار بار دہرا رہا ہوں۔ پھر توجہ سے سنو، پھر توجہ سے سنو۔ یہ جو چور نے خرقِ کثیر والا کپڑا چوری کیا، طرفین فرماتے ہیں: یہ خرقِ کثیر والا کپڑا اٹھانا اور چوری کرنا یہ ضمان کا سبب ہے، ملکیت کا سبب نہیں۔ پھر دہرائیں، کس چیز کا سبب ہے؟ ضمان کا سبب ہے، اور یہ ضمان ملکیت تک پہنچا سکتا ہے اگر ضمان مالک لے لے گا تو یہ چور اس مال کا مالک بن جائے گا۔ اسی طرح بائع نے مشتری سے وہ عیب والی چیز چوری کر لی، بائع نے مشتری سے عیب والی چیز چوری کر لی تو عیب سببِ ملک نہیں ہے، عیب سببِ ملکیت نہیں ہے، عیب سببِ رد ہے۔ عیب سببِ رد، ہاں، وہ رد پھر آگے ملکیت تک پہنچا سکتا ہے جیسے پچھلے مسئلے میں ضمان ملکیت تک پہنچا سکتا تھا، اور اسی طرح یہاں پر یہ رد ملکیت تک پہنچا دے گا کیونکہ جب بائع کو وہ چیز واپس کرے گا اور اپنے پیسے لے لے گا تو بائع دوبارہ مالک بن جائے گا۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ اخذِ مذکورہ سببِ ضمان ہے۔ اخذِ مذکورہ سببِ ضمان، یعنی خرقِ کثیر کے ساتھ جو اخذ ہے جو اس نے مال لیا ہے، یہ سببِ ضمان ہے اور یہ ملکیت تک پہنچا سکتا ہے۔ اسی طرح وہ عیب جو ہے، عیب سببِ رد ہے جو ملکیت تک پہنچا سکتا ہے۔ تو یاد رکھو، طرفین فرماتے ہیں جیسے اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اسی طرح اس بائع کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، اگرچہ دونوں کے اندر ایک ایسی چیز پائی جا رہی ہے جو ملکیت تک پہنچا سکتی ہے لیکن بہرحال خود سببِ ملکیت تو موجود نہیں ہے۔ خود سببِ ملکیت موجود نہیں، بات سمجھ میں آگئی؟
پھر دہرا لیں، حاصلِ کلام کیا؟ کہ یہ خرقِ کثیر والا اخذ جو ہے یہ سببِ ضمان ہے اور یہ ضمان ملکیت تک پہنچا سکتا ہے اگر وہ مالک لے لے گا۔ اسی طرح عیب دار مبیعہ بیچا ہے تو یہ عیب سببِ رد ہے، اس کی وجہ سے مبیعہ واپس ہو سکتا ہے اور یہ رد ملکیت تک پہنچا سکتا ہے لیکن خود یہ عیب سببِ ملکیت نہیں اور خود اس طرح کا کثیر پھٹن والا کپڑا اٹھانا وہ خود ملکیت کا سبب نہیں ہے، تو دونوں صورتوں کے اندر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس کثیر پھٹن والے کپڑے کے چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور یہ بائع جو عیب والی چیز واپس چوری کر لیتا ہے اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے:
”وَكَمَا إِذَا سَرَقَ الْبَائِعُ مَعِيبًا بَاعَهُ“
اور جیسے کہ چوری کر لے البائع چیز کو بیچنے والا
”مَعِيبًا بَاعَهُ“
وہ عیب والا مبیع جو اس نے بیچا تھا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے:
”وَكَمَا إِذَا سَرَقَ الْبَائِعُ مَعِيبًا بَاعَهُ“
اور جیسے کہ بائع جو ہے اس عیب دار مبیع کو چوری کر لے جو اس نے بیچا تھا۔
”بِخِلَافِ مَا ذَكَرَ“
بخلاف اس کے جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر کیا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس کپڑے والے مسئلے کو کس پر قیاس کیا تھا؟ اس مشتری پر جو اس مبیع کو چوری کر لیتا ہے جس میں بائع نے اپنے لیے خیارِ شرط رکھا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، آپ اس چور کو اس مشتری پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ اس مشتری نے تو بیع کی ہے بائع کے ساتھ، اور بیع سببِ ملک ہے۔ یہ کثیر پھٹن بھی سببِ ملک نہیں، عیب بھی سببِ ملک نہیں، لیکن مشتری نے تو بیع کی تھی باقاعدہ بائع کے ساتھ۔ اگرچہ مبیع ابھی مشتری کی ملک میں داخل نہیں ہوا کیونکہ خیارِ شرط کس نے رکھا ہے؟ بائع نے۔ تو چیز بے شک مشتری کی ملک میں داخل نہیں ہوئی لیکن مشتری کی ملکیت کا سبب تو وہاں آچکا ہے، وہ بیع تو کر چکا ہے تو اگر بائع نے یہ بیع کو فسخ نہ کیا تو مشتری اس کا مالک بن بھی جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ مَا ذَكَرَ“
بخلاف اس کے جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر کیا
”لِأَنَّ الْبَيْعَ مَوْضُوعٌ لِإِفَادَةِ الْمِلْكِ“
اس لیے کیونکہ بیع جو ہے اس کو تو مقرر کیا گیا ہے ملکیت کا فائدہ دینے کے لیے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ یہ مشکل مسئلہ تھا بھئی۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں:
”وَهٰذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا اخْتَارَ تَضْمِينَ النُّقْصَانِ وَأَخْذَ الثَّوْبِ“
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ غاصب اگر کسی چیز کے اندر کثیر نقصان کر دے تو مالک کو اختیار ہوتا ہے یا تو وہ اسی چیز کو لے لے اور ساتھ نقصان کا ضمان بھی لے لے، یا وہ چیز نہ لے بلکہ اس کی پوری قیمت لے لے۔ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ اب بتلائیں گے کہ یہ جو طرفین کا امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اختلاف ہے، طرفین فرماتے ہیں اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کہتے ہیں: یہ اس صورت میں اختلاف ہے جب مالک اس کپڑے کو واپس لے لے اور ساتھ نقصان کا ضمان بھی لے لے۔ اور اگر مالک نے کہا نہیں، اب مجھے یہ کپڑا نہیں چاہیے، یہ کپڑا تم ہی رکھو، مجھے اس کی قیمت دے دو، یعنی اس کا پورا ضمان لے لیتا ہے تو پھر اس صورت میں بالاتفاق اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو اس صورت میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں:
”وَهٰذَا الْخِلَافُ“
اور یہ جو اختلاف ہے طرفین اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے درمیان
”فِيمَا إِذَا اخْتَارَ تَضْمِينَ النُّقْصَانِ وَأَخْذَ الثَّوْبِ“
یہ اس صورت میں ہے جب مالک نے اختیار کیا نقصان کا ضامن بنانے کو، کہ اس نے چور کو اس نقصان کا ضامن بنایا،
”وَأَخْذَ الثَّوْبِ“
اور کپڑا لینے کو۔ مالک نے کس چیز کو اختیار کیا؟ نقصان کا ضامن بنانے کو اور کپڑا لینے کو اختیار کر لیا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں:
”وَهٰذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا اخْتَارَ تَضْمِينَ النُّقْصَانِ وَأَخْذَ الثَّوْبِ“
اور یہ اختلاف جو ہے اس صورت میں ہے جب مالک نے اس چور کو نقصان کا ضامن بنانے اور کپڑا لینے کو اختیار کیا،
”فَإِنِ اخْتَارَ تَضْمِينَ الْقِيمَةِ وَتَرْكَ الثَّوْبِ عَلَيْهِ“
اور اگر مالک نے اس کپڑے کی قیمت کا ضامن بنانے کو اختیار کیا اور کپڑا چور ہی کے پاس چھوڑنے کو اختیار کیا
”لَا يُقْطَعُ بِالِاتِّفَاقِ“
تو اس صورت میں بالاتفاق اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
”لِأَنَّهُ مَلَكَهُ مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْأَخْذِ“
کیونکہ ضمان کی وجہ سے چور اس کپڑے کا مالک بن جائے گا اس حال میں کہ یہ ملکیت اس کی نسبت ہوگی اس کپڑے کو اٹھانے کے وقت کی طرف، کہ یہ اس وقت سے ہی مالک ہے جب اس نے کپڑے کو اٹھایا تھا بھئی۔ تو معلوم ہوا اس نے اپنے مملوکہ کپڑے کو اٹھایا ہے تو اس صورت میں شبہ آگیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّهُ مَلَكَهُ مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْأَخْذِ“
اس لیے کیونکہ چور جو ہے وہ اس کپڑے کا مالک بن جائے گا اس حال میں کہ اس ملکیت کی نسبت ہوگی کپڑا اٹھانے کے وقت کی طرف
”فَصَارَ كَمَا إِذَا مَلَكَهُ بِالْهِبَةِ“
تو یہ اسی طرح ہو گیا کہ جیسے چور اس کپڑے کا مالک بن جائے ہبہ کی وجہ سے۔ بھئی اگر چور کپڑا چوری کر کے لے گیا اور بعد میں مالک نے اس کو کپڑا ہبہ کر دیا تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، توجہ ہے؟ تو مالک نے ہبہ کب کیا ہے؟ جب چوری پوری ہو چکی ہے۔ چوری کے بعد مالک نے اس کو ہبہ کیا تو پھر بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، اور یہاں تو چور اس مال کا مالک بن رہا ہے چوری سے پہلے ہی، تو یہاں بطریقِ اولیٰ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب مالک اس سے ضمان لے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”فَصَارَ كَمَا إِذَا مَلَكَهُ بِالْهِبَةِ“
تو یہ اسی طرح ہو گیا کہ جیسے چور جو ہے اس چیز کا مالک بن گیا ہو ہبہ کی وجہ سے
”فَأَوْرَثَ شُبْهَةً“
تو اس نے شبہ پیدا کر دیا، اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہوتی ہے۔
”وَهٰذَا كُلُّهُ إِذَا كَانَ النُّقْصَانُ فَاحِشًا“
اور یہ سارا اختلاف اور یہ ساری تفصیلات جو ہیں اس وقت ہے جب کہ وہ نقصان زیادہ ہو۔ چور نے یہ کپڑا پھاڑا ہے تو اس میں کثیر نقصان کر دیا، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا اگر تھوڑا نقصان ہو تو پھر مالک کو اختیار نہیں۔ پھر مالک کو وہی چیز واپس لینا پڑے گی اور ساتھ ضمان لینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں:
”وَهٰذَا كُلُّهُ“
اور یہ والا اختلاف، یہ ساری تفصیلات اس وقت ہے
”إِذَا كَانَ النُّقْصَانُ فَاحِشًا“
جب وہ نقصان زیادہ ہو،
”فَإِنْ كَانَ يَسِيرًا يُقْطَعُ بِالِاتِّفَاقِ“
اگر وہ نقصان تھوڑا سا ہے تو اس صورت میں بالاتفاق چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کیونکہ جب نقصان تھوڑا سا ہے تو وہاں تو چور مالک ہی نہیں بن سکتا، وہاں تو مالک کو نقصان کا ضمان ہی لینا پڑے گا، وہ چور کو اس مال کا مالک نہیں بنا سکتا۔ تو کہتے ہیں:
”فَإِنْ كَانَ يَسِيرًا يُقْطَعُ بِالِاتِّفَاقِ“
اور اگر وہ نقصان تھوڑا سا تھا تو اس چور کا ہاتھ بالاتفاق کاٹا جائے گا
”لِانْعِدَامِ سَبَبِ الْمِلْكِ“
اس لیے کیونکہ ملکیت کا سبب نہیں پایا گیا
”إِذْ لَيْسَ لَهُ اخْتِيَارُ تَضْمِينِ كُلِّ الْقِيمَةِ“
اس لیے کیونکہ اس صورت میں مالک کو اختیار نہیں ہے کہ وہ چور کو ساری قیمت کا ضامن بنا دے۔ جب نقصان تھوڑا سا ہے تو وہ نقصان ہی کا ضمان لے سکتا ہے، وہ چیز بھی واپس لینی پڑے گی اور وہ نقصان کا ضمان ہی لینا پڑے گا، پوری چیز کی قیمت وصول نہیں کر سکتا۔ جی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنیٰ ہے:
”إِذْ لَيْسَ لَهُ اخْتِيَارُ تَضْمِينِ كُلِّ الْقِيمَةِ“
اس لیے کیونکہ اس صورت کے اندر مالک کو اختیار نہیں ہے کہ وہ چور کو اس چیز کی ساری قیمت کا ضامن بنا دے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
حاصلِ کلام پھر سمجھ لیں، یہ مسئلہ ذرا پیچیدہ تھا بھئی۔ صورت یہ ہے: ایک شخص ایک گھر کے اندر داخل ہوا اور وہاں اس نے کوئی چیز چوری کی نیت سے اٹھائی اور وہیں پر گھر سے نکلنے سے پہلے ہی اس نے اس میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی جس کی وجہ سے اس چیز میں بہت زیادہ نقصان آگیا، اور جب چیز میں بہت زیادہ نقصان آجائے تو مالک کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے وہ یہ چیز واپس لے اور ساتھ نقصان کا ضمان وصول کر لے، اور چاہے تو اس چیز کو اس شخص کے پاس ہی رہنے دے اور اس چیز کی پوری قیمت وصول کر لے۔ تو چور نے وہ کپڑا پھاڑ دیا، اس کے دو حصے کر دیے اور پھر وہ کپڑا لے کر گھر سے نکل آیا۔ اب اگر وہ کپڑا اس کی قیمت جو ہے پھاڑنے کے بعد بھی 10 درہم تھی تو طرفین فرماتے ہیں: اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ اس چور کے لیے اس مال کے اندر سببِ ملک پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں احتمال آگیا کہ چور اس کا مالک بن سکتا ہے، اور مالِ مسروق کے اندر چور کے لیے جب سببِ ملک پیدا ہو جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ جیسے ایک مشتری جو ہے اس مبیع کو چوری کر لیتا ہے جس کا خیار بائع نے اپنے لیے رکھا تھا، اور جب بائع نے خیار اپنے لیے رکھا تھا تو اب مشتری اس کا مالک تو نہیں بنا، مشتری ابھی اس کا مالک تو نہیں بنا لیکن مشتری کے لیے سببِ ملک تو پیدا ہو چکا ہے، لہٰذا اس چوری کے اندر مشتری کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اس کپڑے کے اندر چور کے لیے سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے، لہٰذا اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو طرفین جواب دیتے ہیں کہ یہ جو چور نے خرقِ کثیر کے ساتھ کپڑا اٹھایا ہے، اس طرح کا اٹھانا یہ ملکیت کا سبب نہیں ہے، یہ تو ضمان کا سبب ہے۔ ہاں وہ الگ بات ہے یہ ضمان ملکیت تک پہنچا دیتا ہے، تو یہ ضمان کا سبب ہے، ملکیت کا سبب نہیں۔ جب ملکیت کا سبب نہیں تو اس کے اندر پھر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے ایک بائع نے عیب والا مبیع کسی کو بیچ دیا، اب اس مبیع میں چونکہ عیب ہے اور عیب سببِ رد ہے کہ یہ چیز بائع کو واپس لوٹائی جا سکتی ہے، اور پھر بائع نے وہ مبیع جو عیب والا تھا اس کو بائع نے چوری کر لیا، تو اب اگرچہ اس مبیع کے اندر سببِ رد موجود تھا پھر بھی بائع کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ سببِ رد تھا، سببِ ملکیت تو نہیں تھا۔ سببِ رد بے شک ملکیت تک پہنچا دیتا ہے لیکن عیب ہے تو سببِ رد ہی، سببِ ملکیت تو نہیں ہے، تو اس کے اندر اس بائع کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ جو طرفین کا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اختلاف ہے، یہ اس صورت میں ہے جب مالک وہ کپڑا واپس لے لے اور ساتھ نقصان کا ضمان لے لے، اور اگر مالک نے کپڑا نہ لیا بلکہ پورے کپڑے کی قیمت وصول کی چور سے تو پھر اس صورت میں بالاتفاق چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، بات سمجھ میں آگئی؟
اور یہاں البتہ ایک شبہ آپ کے ذہن میں آئے گا، شبہ یہ، شبہ یہ کہ انہوں نے کہا کہ یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب مالک نقصان کا ضمان لے اور کپڑا بھی واپس لے اور جو نقصان ہے اس کا ضمان لے لے، تو اس صورت میں طرفین کے نزدیک اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ ضمان بھی لیا جائے اور ہاتھ بھی کاٹا جائے! آپ نے تو ہمیں بتایا تھا کہ ضمان اور قطع جمع نہیں ہو سکتے، اور یہاں آپ ہمیں کیا بتلا رہے ہیں کہ یہ اختلاف کس صورت میں ہے؟ جب مالک اس چیز کو بھی واپس لے لے اور ساتھ نقصان کا ضمان بھی لے لے، تو یہ تو قطع کے ساتھ ضمان جمع ہو گیا، حالانکہ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ قطع کے ساتھ ضمان جمع نہیں ہو سکتا۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں علماء، کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ جو ضمان آیا ہے یہ چوری کی وجہ سے نہیں آیا، یہ جو ضمان آیا ہے یہ چور کا ایک الگ فعل تھا، چوری سے پہلے ہی اس نے کپڑا پھاڑ دیا تھا۔ توجہ ہے؟ تو چوری سے پہلے اس نے کپڑا پھاڑا ہے، اس کے بعد اس نے چوری کی ہے، تو چوری کی وجہ سے کوئی ضمان نہیں آیا، یہ بلکہ چوری سے پہلے ایک الگ فعل تھا اس کی وجہ سے چور پر ضمان آیا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے، کہتے ہیں:
”وَإِنْ سَرَقَ شَاةً فَذَبَحَهَا ثُمَّ أَخْرَجَهَا لَمْ يُقْطَعْ“
صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک چور ایک گھر کے اندر داخل ہوا چوری کے لیے، وہاں ایک بکری تھی، چور نے اس کو ذبح کیا بھئی اور پھر اس ذبح شدہ بکری کو لے کر آگیا، تو کیا اس صورت میں ہاتھ کاٹیں گے؟ کہتے ہیں نہیں، اس صورت میں ہاتھ نہیں کاٹیں گے، اس لیے کیونکہ چور نے جو چوری کی ہے وہ بکری نہیں چوری کی، گوشت کو چوری کیا ہے۔ بکری کو تو اس نے ذبح کر دیا بھئی، تو اب یہ گوشت ہے بھئی، اور آپ نے پڑھا تھا کہ وہ چیزیں جو جلدی خراب ہونے والی ہوں ان کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا اور گوشت بھی جلدی خراب ہونے والی چیز ہے، لہٰذا اس کے اندر بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں:
”وَإِنْ سَرَقَ شَاةً فَذَبَحَهَا ثُمَّ أَخْرَجَهَا لَمْ يُقْطَعْ“
اور اگر چور نے بھیڑ بکری چوری کی،
”فَذَبَحَهَا“
تو اس کو ذبح کر دیا یعنی وہیں پر،
”ثُمَّ أَخْرَجَهَا“
پھر اس کو وہاں سے، اس گھر سے اس نے نکالا،
”لَمْ يُقْطَعْ“
تو اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا،
”لِأَنَّ السَّرِقَةَ“
اس لیے کیونکہ چوری جو ہے...
”قَدْ تَمَّتْ عَلَى اللَّحْمِ“ اس لیے کیونکہ یہ چوری گوشت پر پوری ہوئی ہے، ”وَلَا قَطْعَ فِيهِ“ اور گوشت کے اندر تو قطع نہیں ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَمَنْ سَرَقَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ“ بھئی اب یہ وہ صورت آگئی جس میں فقہاء آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ مثلاً چور کوئی چیز چُرا کر لے گیا اور چور نے اس میں تبدیلی پیدا کر دی، تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس تبدیلی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت بڑھ گئی بلکہ اس کی عین اور اس کی ذات ہی بدل گئی، اب یہ کوئی اور ہی چیز بن گئی ہے لہٰذا چور اس کا مالک بن گیا۔ جب اس چیز کی ذات ہی بدل گئی تو چور اس کا مالک بن گیا ہے۔ جبکہ بعض فقہاء اس میں فرماتے ہیں کہ اس تبدیلی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت میں کمی آئی ہے اور اس تبدیلی کی وجہ سے وہ چور جو ہے اس چیز کا مالک نہیں بنا کیونکہ اس چیز کی ذات وہی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ توجہ ہے؟ بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ چیز کی ذات ہی بدل گئی، یہ وہ پہلے والی چیز رہی ہی نہیں لہٰذا چور مالک بن چکا ہے اس چیز کا، اور جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس تبدیلی کی وجہ سے اس چیز کی ذات اور حقیقت نہیں بدلی، یہ چیز ابھی بھی اسی مالک کی ہے بھئی۔
دیکھیے بھئی کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ“، ”ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً“ دیکھیے یہ نکرہ ہے اور آگے ”يَجِبُ“ فعل جو ہے یہ ان کے لیے صفت بنے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً“ اور جس شخص نے ایسا سونا یا ایسی چاندی چوری کر لی ”يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ“ کہ جس کے اندر قطع واجب ہوتی ہے، یعنی نصاب کے بقدر سونا یا چاندی کسی نے چوری کر لیا، ”فَصَنَعَهُ دَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ“ پھر اس نے اسے درہم یا دینار بنا لیے، ”قُطِعَ فِيهِ“ تو اس چوری کے اندر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس چوری میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ”وَيُرَدُّ الدَّرَاهِمُ وَالدَّنَانِيرُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ“ اور یہ درہم اور دینار جو ہیں مسروق منہ کو واپس کیے جائیں گے، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے سونا یا چاندی غصب کیا تھا اور اسے اس نے درہم یا دینار بنا لیے ہیں لیکن یہ وہی چیز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اس چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور یہ درہم اور دینار جو اس نے بنا لیے ہیں ان کا مالک ابھی بھی وہی مسروق منہ ہے لہٰذا یہ اس کو واپس کیے جائیں گے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، جب اس نے درہم اور دینار بنا لیے تو اس چیز کی عین ہی بدل گئی، اس چیز کی ذات ہی بدل گئی، وہ پہلی چیز یہ رہی ہی نہیں، جب یہ اور چیز بن گئی تو چور اس کا مالک بن گیا، تو چور اس کا مالک بن چکا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا یہ درہم اور دینار اس مالک کو واپس نہیں کیے جا سکتے کیونکہ چور ان کا مالک بن چکا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں: ”لَا سَبِيلَ لِلْمَسْرُوقِ مِنْهُ عَلَيْهِمَا“ کہ کوئی راستہ نہیں ہے مسروق منہ کا ان دونوں پر۔ مسروق منہ کا ان درہم اور دیناروں پر کوئی راستہ نہیں، یعنی اس کا اب ان میں کوئی حق نہیں ہے، چور ان کا مالک بن چکا ہے۔ اس نے اس مالِ مسروقہ کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر دی کہ اس کا نام ہی بدل گیا، پہلے اس کو سونا اور چاندی کہتے تھے اب اس کو درہم اور دینار کہتے ہیں بھئی، اور نیز مقاصد بھی بدل گئے، سونے اور چاندی کے مقاصد اور ہوتے ہیں درہم اور دینار کے مقاصد اور ہیں بھئی۔ سونا اور چاندی اس کے تو اور بھی مقاصد ہیں زیور وغیرہ بنائے جاتے ہیں، زیب و زینت کے لیے ان کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ درہم اور دینار ان کے ذریعے تو بیع و شراء کی جاتی ہے، تو دونوں کے مقاصد بھی الگ الگ ہیں۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ چور نے اس مالِ مسروقہ کے اندر اتنی تبدیلی پیدا کر دی کہ اس کا نام بھی بدل گیا اور اس کے مقاصد بھی بدل گئے تو چور اس کا مالک بن گیا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ درہم اور دینار اسی مالک کو واپس لوٹائے جائیں گے اس لیے کیونکہ یہ وہی چیز ہے، یہ وہی سونا اور چاندی ہیں بھئی، یعنی حکم کے اعتبار سے یہ وہی ہیں جیسے درہم اور دینار بطورِ ثمن کے استعمال ہوتے ہیں سونا اور چاندی بھی بطورِ ثمن کے استعمال ہوتے ہیں، تو حکم کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے، جب وہی چیز ہے تو ابھی بھی وہی شخص اس کا مالک ہے بھئی۔ اور نیز ان کو پہلی حالت پر آسانی سے لوٹایا جا سکتا ہے، اس درہم اور دینار کو پھر بدل کر واپس سونا اور چاندی بنایا جا سکتا ہے۔ اور صاحبین فرماتے تھے کہ اس کا نام بدل گیا ہے، امام صاحب فرماتے ہیں نام بے شک بدل گیا ہے لیکن وہ نام کوئی لازم نہیں ہے، اگر یہ درہم اور دینار کو آپ پگھلا کر پھر دوبارہ ان سے سونا اور چاندی بنا لیتے ہیں تو وہ نام ختم ہو جائے گا، معلوم ہوا نام بدلا تو ہے لیکن وہ لازم نہیں ہے وہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک یہ درہم اور دینار اسی مالک کے ہیں اس کو واپس لوٹائے جائیں گے، اور صاحبین کے نزدیک یہ درہم اور دینار جو ہیں چور ان کا مالک بن چکا ہے بھئی۔
پھر ذرا ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ“ اور جس شخص نے ایسا سونا یا ایسی چاندی چوری کر لی کہ جس کے اندر قطع واجب ہوتی ہے ”فَصَنَعَهُ دَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ“ پھر اس چور نے ان سے درہم اور دینار بنا لیے ”قُطِعَ فِيهِ“ تو اس کے اندر اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، یہ امام صاحب کا مذہب ذکر ہو رہا ہے، تو اس کے اندر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ”وَيُرَدُّ الدَّرَاهِمُ وَالدَّنَانِيرُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ“ اور وہ دراہم اور دینار جو ہیں مسروق منہ کو واپس کیے جائیں گے کیونکہ وہ ابھی بھی ان کا مالک ہے ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”لَا سَبِيلَ لِلْمَسْرُوقِ مِنْهُ عَلَيْهِمَا“ کہ مسروق منہ کا ان درہم اور دیناروں پر کوئی راستہ نہیں، یعنی اس کا اب ان میں کوئی حق نہیں، چور ان کا مالک بن چکا ہے کیونکہ چیز ہی بدل چکی ہے بھئی۔
”وَأَصْلُهُ فِي الْغَصْبِ“ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَأَصْلُهُ فِي الْغَصْبِ“ کہ اس اختلاف کی اصل غصب کے اندر ہے، یعنی امام صاحب اور صاحبین کا یہاں پر جو اختلاف ہے اس اختلاف کی اصل غصب کے اندر ہے، غصب کے مسئلے میں بھی امام صاحب اور صاحبین اسی طرح اختلاف کرتے ہیں۔ اگر ایک شخص دوسرے شخص کا سونا یا چاندی غصب کر لیتا ہے اور پھر اسے درہم یا دینار بنا لیتا ہے تو امام صاحب کے نزدیک ابھی بھی یہ درہم اور دینار اسی مالک کے ہیں، یہ اس کو واپس لوٹانے پڑیں گے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، کہ اب وہ چیز ہی بدل گئی لہٰذا غاصب مالک بن گیا ہے اب غاصب سے صرف ضمان وصول کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَأَصْلُهُ فِي الْغَصْبِ“ اور اس اختلاف کی اصل جو ہے وہ غصب کے اندر ہے ”فَهَذِهِ صَنْعَةٌ مُتَقَوِّمَةٌ عِنْدَهُمَا“، ”فَهَذِهِ صَنْعَةٌ“ تو یہ ایسی کاریگری ہے ”مُتَقَوِّمَةٌ“ جو قیمت والی ہے ”عِنْدَهُمَا“ صاحبین کے نزدیک۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو سونے اور چاندی سے اس نے درہم اور دینار بنائے اور ان میں اپنی کاریگری دکھائی یہ کاریگری قیمت والی ہے، اس کی وجہ سے اس مال کی قیمت بڑھ گئی، قیمت بھی بڑھ گئی، نام بھی بدل گیا اور مقاصد بھی بدل گئے۔ تو کہتے ہیں ”فَهَذِهِ صَنْعَةٌ مُتَقَوِّمَةٌ عِنْدَهُمَا“ تو یہ قیمت والی کاریگری ہے صاحبین کے نزدیک ”خِلَافًا لَهُ“ بخلاف امام صاحب کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، اس کی وجہ سے اس سونے اور چاندی کی قیمت بڑھی نہیں ہے بلکہ کم ہو گئی ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”ثُمَّ وُجُوبُ الْحَدِّ لَا يُشْكِلُ عَلَى قَوْلِهِ“ اچھا بھئی، متن میں آیا کہ اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا تو کیا یہ صرف امام صاحب کے نزدیک ہے یا صاحبین کے نزدیک بھی اسی طرح ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ امام صاحب کے قول پر تو قطع پر کوئی اشکال ہی نہیں ہوتا کیونکہ امام صاحب کے نزدیک چور اس مال کا مالک نہیں بنا یہ مال اسی مالک کا ہے لہٰذا اس میں اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ جبکہ صاحبین، صاحبین کے قول کی صورت میں اگر کہا جائے ہاتھ کاٹا جائے گا تو پھر ان پر اشکال ہوتا ہے کہ صاحبین تو فرماتے ہیں چور اس کا مالک بن چکا ہے، جب مالک بن گیا ہے تو چور پر ضمان آئے گا اور جب ضمان آ جائے تو پھر وہاں قطع نہیں ہو سکتا، تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”ثُمَّ وُجُوبُ الْحَدِّ“ پھر حد کا واجب ہونا، یعنی قطع کا واجب ہونا ”لَا يُشْكِلُ عَلَى قَوْلِهِ“ یہ مشکل نہیں ہے امام صاحب کے قول پر۔ اشکل یشکل کا معنیٰ مشکل ہونا، پیچیدہ ہونا یا اسی طرح اعتراض ہونا۔ تو آپ چاہے ”لَا يُشْكِلُ“ کا ترجمہ کر لیں کہ مشکل نہیں ہے، پیچیدہ نہیں ہے، یا آپ اس کا ترجمہ اعتراض کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں: ”ثُمَّ وُجُوبُ الْحَدِّ“ پھر حد کا واجب ہونا ”لَا يُشْكِلُ عَلَى قَوْلِهِ“ اس پر اعتراض نہیں ہوتا امام صاحب کے قول پر ”لِأَنَّهُ لَا يَمْلِكُهُ“ اس لیے کیونکہ چور ان درہموں اور دیناروں کا مالک ہی نہیں بنا۔ تو یہ تو امام صاحب کے نزدیک ہے، صاحبین کے قول پر اعتراض ہوتا ہے، ان کے نزدیک تو چور اس کا مالک بن چکا ہے تو کیا صاحبین کے قول پر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو اس میں فقہاء دونوں طرف گئے ہیں۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں صاحبین کے قول پر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا جبکہ بعض فرماتے ہیں کہ نہیں، صاحبین کے قول پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ عَلَى قَوْلِهِمَا لَا يَجِبُ“ اور کہا گیا ہے کہ صاحبین کے قول پر قطع واجب نہیں ہو گی، یا یوں کہیں حد واجب نہیں ہو گی ”لِأَنَّهُ مَلَكَهُ قَبْلَ الْقَطْعِ“ اس لیے کیونکہ چور جو ہے ان کا مالک بن گیا قطع سے پہلے ہی۔ چور نے جب ان میں کاریگری دکھائی تو چور ان کا مالک بن گیا اور جب مالک بن گیا تو چور پر ضمان آ گیا اور جب ضمان آ گیا تو اب قطع نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَقِيلَ عَلَى قَوْلِهِمَا لَا يَجِبُ“ اور کہا گیا ہے کہ صاحبین کے قول پر حد واجب نہیں ہو گی ”لِأَنَّهُ مَلَكَهُ قَبْلَ الْقَطْعِ“ اس لیے کیونکہ وہ چور جو ہے ان کا مالک بن گیا ہے قطع سے پہلے ہی، ”وَقِيلَ“ اور کہا گیا ہے، بعض فقہاء فرماتے ہیں، کہتے ہیں ”وَقِيلَ“ اور کہا گیا ہے ”يَجِبُ“ کہ صاحبین کے قول پر بھی حد واجب ہو گی ”لِأَنَّهُ صَارَ بِالصَّنْعَةِ شَيْئًا آخَرَ“ اس لیے کیونکہ وہ مال جو ہے وہ کاریگری کی وجہ سے دوسری چیز بن گیا، کاریگری کی وجہ سے ایک نئی چیز بن گیا، چوری تو کیا تھا سونا یا چاندی تو یہ سونے یا چاندی کا مالک نہیں بنا، یہ ایک نئی چیز بنی ہے اس کا مالک بنا ہے، تو اصل کا تو مالک نہیں بنا، جب اصل کا مالک نہیں بنا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقِيلَ يَجِبُ“ اور کہا گیا ہے کہ حد واجب ہو گی صاحبین کے قول پر بھی ”لِأَنَّهُ صَارَ بِالصَّنْعَةِ شَيْئًا آخَرَ“ اس لیے کیونکہ یہ مال جو ہے یہ کاریگری کی وجہ سے ایک دوسری چیز بن گیا ہے ”فَلَمْ يَمْلِكْ عَيْنَهُ“ لہٰذا یہ عین اس مال کا مالک نہیں بنا، یہ تو ایک نئی چیز کا مالک بن گیا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”فَإِنْ سَرَقَ ثَوْبًا فَصَبَغَهُ أَحْمَرَ قُطِعَ وَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ الثَّوْبُ وَلَمْ يَضْمَنْ قِيمَةَ الثَّوْبِ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُؤْخَذُ مِنْهُ الثَّوْبُ وَيُعْطَى مَا زَادَ الصِّبْغُ فِيهِ“ بھئی اب وہ صورت آگئی کہ جس کے اندر چور نے اس مالِ مسروقہ میں ایسی کاریگری دکھائی کہ جس کی وجہ سے اس مال کی قیمت بڑھ گئی۔ پہلی صورت کیا ذکر فرمائی تھی کہ اس مال میں نقصان آ گیا تھا مثلاً کپڑا پھاڑ دیا تھا، اور دوسری صورت وہ ذکر فرمائی کہ جس میں ہمارے ائمہ کا اختلاف تھا، اور اب تیسری صورت ذکر فرما رہے ہیں کہ چور کی کاریگری کی وجہ سے اس مال کی قیمت بڑھ گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں ”فَإِنْ سَرَقَ ثَوْبًا فَصَبَغَهُ أَحْمَرَ“، تو پہلے مسئلہ سمجھ لیجیے بھئی۔ یاد رکھو مثلاً چور نے کوئی چیز چوری کی اور پھر اس کے اندر ایسی کاریگری دکھائی یعنی اس میں ایسی تبدیلی پیدا کی کہ جس کی وجہ سے اس چیز کی قیمت بڑھ گئی۔ مثلاً چور نے سفید کپڑا چوری کیا تھا اور پھر چور نے اس کو سرخ رنگ دے دیا، تو اس سرخ رنگ کی وجہ سے کپڑے کی قیمت بڑھ گئی، مثلاً پہلے اگر یہ کپڑا دس درہم کا تھا تو اب اس کی قیمت پندرہ درہم ہو گئی ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو اگر یہ چور پکڑا گیا تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، البتہ چور اس کپڑے کا مالک بن چکا ہے تو اگر یہ کپڑا چور کے پاس موجود ہوا تو چور سے یہ کپڑا نہیں لیا جائے گا اور اگر یہ کپڑا چور کے پاس ہلاک ہو چکا ہے تو پھر چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہے لہٰذا چور پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ قطع اور ضمان جمع نہیں ہو سکتے۔ توجہ ہے؟ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ چور جس نے مال میں ایسی کاریگری دکھائی جس سے مال کی قیمت بڑھ گئی چور اس کا مالک بن گیا، لہٰذا چور کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا البتہ اگر یہ چیز اس کے پاس موجود ہوئی تو یہ اس سے واپس نہیں لی جائے گی اور اگر یہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو چکی ہے تو پھر چور پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ جب قطع آ گئی ہے تو وہاں پھر ضمان نہیں آ سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ سَرَقَ ثَوْبًا فَصَبَغَهُ أَحْمَرَ قُطِعَ“ اور اگر کسی نے کوئی کپڑا چرا لیا ”فَصَبَغَهُ أَحْمَرَ“ پھر اس کو سرخ رنگ دے دیا ”قُطِعَ“ تو پھر اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ”وَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ الثَّوْبُ“ اور اس چور سے کپڑا نہیں لیا جائے گا، یعنی اگر کپڑا اس کے پاس موجود ہے ابھی بھی تو واپس نہیں لیا جائے گا کیونکہ چور اس کا مالک بن چکا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ الثَّوْبُ“ اور اس چور سے کپڑا نہیں لیا جائے گا ”وَلَمْ يَضْمَنْ قِيمَةَ الثَّوْبِ“ اور چور جو ہے اس کپڑے کی قیمت کا ضامن نہیں ہو گا اگر وہ اس کے پاس ہلاک ہو چکا ہے، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ یہاں آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ آپ نے کہا کہ اگر یہ کپڑا موجود ہوا تو چور سے واپس نہیں لیا جائے گا کیونکہ چور اس کا مالک بن چکا ہے، اگر چور مالک بن گیا ہے تو آپ نے ہمیں ضابطہ بتلایا کہ مالِ مسروقہ کے اندر اگر سببِ ملک پیدا ہو جائے تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، تو اس کا جواب یاد رکھنا کہ بھئی یہاں پر چور نے جو کپڑا چوری کیا تھا وہ سفید کپڑا تھا یعنی وہ اور چیز تھی، اور جس کپڑے کا یہ مالک بنا ہے وہ سرخ کپڑا ہے یہ اور چیز ہے۔ تو یوں کہو کہ جو چیز چور نے چوری کی تھی چور اس کا مالک نہیں بنا چور کسی اور چیز کا مالک بنا ہے، تو جب وہ اس مالِ مسروقہ کا مالک نہیں بنا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک جو ہے اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اس سے کپڑا نہیں لیا جائے گا اور اگر کپڑا ہلاک ہو گیا ہے تو اس پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُؤْخَذُ مِنْهُ الثَّوْبُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس چور سے کپڑا لیا جائے گا۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بے شک کپڑے کی قیمت بڑھ گئی ہے لیکن پھر بھی چور اس کپڑے کا مالک نہیں بنا، لہٰذا اگر چور پکڑا گیا تو چور کا ہاتھ کاٹیں گے اور یہ کپڑا مالک کو واپس دلائیں گے اگر یہ کپڑا موجود ہوا۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”يُؤْخَذُ مِنْهُ الثَّوْبُ“ کہ اس چور سے وہ کپڑا لیا جائے گا ”وَيُعْطَى مَا زَادَ الصِّبْغُ فِيهِ“ اور دیا جائے گا وہ جو رنگ نے اس کپڑے میں زیادتی کی ہے، یعنی کپڑے کی قیمت پہلے دس درہم تھی اب رنگ کی وجہ سے اس کی قیمت پندرہ درہم ہو گئی ہے لیکن کپڑا پھر بھی اسی مالک کا ہے، تو جب مالک کو کپڑا واپس کیا جائے گا تو رنگ کی وجہ سے جو اس کپڑے کی قیمت میں زیادتی آئی ہے وہ مالک سے لے کر چور کو دلا دی جائے گی، یعنی مالک یہ کپڑا تو لے لے گا البتہ پانچ درہم چور کو دے دے گا وہ جو کپڑے کی قیمت بڑھی تھی بھئی۔ تو یہ معنیٰ ہے کہ اس چور سے کپڑا لیا جائے گا ”وَيُعْطَى مَا زَادَ الصِّبْغُ فِيهِ“ اور چور کو دیا جائے گا وہ جو رنگ نے اس کپڑے میں زیادتی کی ہے ”اعْتِبَارًا بِالْغَصْبِ“ غصب پر قیاس کرتے ہوئے۔
امام محمد رحمہ اللہ اس کو غصب کے مسئلے پر قیاس کرتے ہیں، اور غصب کے اندر یاد رکھو بالاتفاق ہمارے ائمہ کے نزدیک اگر کوئی شخص کسی کا کپڑا غصب کر لے اور پھر مثلاً اس کے اندر اس نے اپنی کاریگری دکھائی اور اس کی قیمت بڑھ گئی مثلاً اس نے اس کو سرخ رنگ دے دیا اور اس کی قیمت بڑھ گئی پھر بھی ہمارے ائمہ فرماتے ہیں مالک کا حق اس کپڑے سے ختم نہیں ہوا، غاصب اس کپڑے کا مالک نہیں بنا، جب غاصب مالک نہیں بنا تو یہ کپڑا مالک کو واپس کرنا پڑے گا، البتہ اس کاریگری کی وجہ سے اس کپڑے کی جتنی قیمت بڑھ گئی ہے وہ پھر البتہ مالک سے وصول کر کے غاصب کو دے دی جائے گی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس طرح غصب کے اندر غاصب اس کپڑے کا مالک نہیں بنتا اسی طرح یہ چور بھی اس کپڑے کا مالک نہیں بنے گا۔ یہ معنیٰ ہے ”اعْتِبَارًا بِالْغَصْبِ“ غصب پر قیاس کرتے ہوئے ”وَالْجَامِعُ بَيْنَهُمَا كَوْنُ الثَّوْبِ أَصْلًا قَائِمًا وَكَوْنُ الصِّبْغِ تَابِعًا“، بھئی یہاں سے علتِ جامعہ بیان کر رہے ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں غصب کے اندر جیسے غاصب کپڑے کا مالک نہیں بن جاتا رنگ دینے کی وجہ سے بلکہ اس کو وہ کپڑا واپس کرنا پڑے گا اسی طرح چوری کے مسئلے کے اندر بھی یہ چور اس کپڑے کا مالک نہیں بنے گا یہ کپڑا اس کو واپس کرنا پڑے گا، تو اب ان دونوں کے درمیان علتِ جامعہ کیا ہے؟ چوری کا مسئلہ ہوا مقیس یعنی جس کو قیاس کیا گیا ہے، اور غصب جو ہے وہ ہے مقیس علیہ، اور آپ جانتے ہیں ایک چیز کو دوسری چیز پر قیاس کیا جاتا ہے کسی علتِ جامعہ کی وجہ سے، یعنی ایسی علت جو مقیس اور مقیس علیہ دونوں میں پائی جا رہی ہے۔ تو جب مقیس علیہ کے اندر ایک علت موجود ہے اور اس کا حکم بھی معلوم ہے تو جب وہی علت ہمیں ایک دوسری چیز میں ملتی ہے تو ہم اس کو بھی وہی حکم دے دیتے ہیں۔ تو یہاں علتِ جامعہ کیا ہے؟ تو یاد رکھو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہاں پر علتِ جامعہ یہ ہے کہ کپڑا جو ہے اصل ہے اور رنگ جو ہے اس کا وصف ہے اس کے تابع ہے، تو لہٰذا جب اصل موجود ہے تو پھر تابع کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ غصب کے مسئلے میں بھی اصل کپڑا موجود ہے تو رنگ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور چوری کے مسئلے میں بھی کپڑا اصل ہے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا وصف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، یعنی وصف کے بدلنے سے چور یا غاصب اس کپڑے کا مالک نہیں بنے گا، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں ”اعْتِبَارًا بِالْغَصْبِ“ غصب پر قیاس کرتے ہوئے ”وَالْجَامِعُ بَيْنَهُمَا“ اور علتِ جامعہ دونوں کے درمیان جو ہے ”كَوْنُ الثَّوْبِ أَصْلًا قَائِمًا“ وہ کپڑے کا اصل ہونا اور موجود ہونا ہے ”وَكَوْنُ الصِّبْغِ تَابِعًا“ اور رنگ کا تابع ہونا ہے۔ کپڑا اصل ہے اور رنگ تابع ہے تو اصل کا اعتبار کیا جائے گا غصب کے مسئلے میں بھی اور چوری کے مسئلے میں بھی بھئی۔
”وَلَهُمَا“ اب شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آگئی، ”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ”أَنَّ الصِّبْغَ قَائِمٌ صُورَةً وَمَعْنًى“، بھئی پہلے شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہیں پہلے سمجھ لیں۔ یاد رکھو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ چوری کا مسئلہ غصب کے مسئلے سے مختلف ہے، تو جب دونوں مسئلے ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو پھر آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے، ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ تو یہاں چوری کے مسئلے میں کہتے ہیں چور نے جب کپڑے کو رنگ دے دیا تو اس کپڑے کا رنگ بدل گیا تو صورتاً اس کے اندر چور کا حق آ گیا۔ کپڑے کا رنگ دیکھو کپڑے کا رنگ باقاعدہ بدل چکا ہے اور یہ رنگ کس نے بدلا ہے؟ چور نے، تو یہ چور کا حق ہے، تو صورت کے اعتبار سے کپڑے کے اندر چور کا حق آ گیا، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی چور کا حق آ گیا ہے کہ یہ کپڑا اگر چور سے واپس مالک کو دلایا جائے تو اس صورت میں اس رنگ کی وجہ سے جو کپڑے کی قیمت بڑھ گئی ہے وہ قیمت مالک کو دینا پڑے گی۔ مثلاً مالک کا کپڑا تھا دس درہم کا اور رنگ کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھ کر پندرہ درہم ہو گئی ہے اور مالک پھر بھی کہتا ہے میرا کپڑا مجھے دلایا جائے تو مالک کو یہ کپڑا واپس کریں گے اور رنگ کی وجہ سے جو پانچ درہم اس کی قیمت بڑھ گئی ہے وہ پانچ درہم مالک کو ادا کرنے پڑیں گے کہ وہ چور کے حوالے کرے۔ تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کپڑے کے اندر چور کا حق صورتاً بھی آ گیا ہے اور معنًى بھی۔ صورتاً کس طرح آیا؟ کہ اس کپڑے کا رنگ بدل گیا ہے ہمیں نظر آ رہا ہے، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی اس کپڑے میں چور کا حق آ گیا ہے کہ اگر یہ کپڑا مالک لیتا ہے تو مالک کو زائد پیسے ادا کرنے پڑیں گے، معلوم ہوا قیمت کے اعتبار سے بھی اس میں چور کا حق آ گیا ہے۔ جبکہ مالک کا حق اس کپڑے کے اندر صورتاً تو ہے لیکن معنًى نہیں۔ صورتاً کس طرح ہے؟ کہ وہی کپڑا ہے، اصل کپڑا ہے رنگ تو اس کے تابع تو لہٰذا صورت کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ وہی مالک کی چیز ہے، مالک کی چیز بھی کپڑا تھا اور یہ بھی کپڑا ہے۔ البتہ معنیٰ کے اعتبار سے مالک کا حق باقی نہیں، کیا معنیٰ؟ مطلب یہ ہے اگر یہ کپڑا چور کے پاس ہلاک ہو جائے تو چور پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ قطع کے ساتھ ضمان جمع نہیں ہو سکتا، تو معلوم ہوا مالک کا حق کپڑے کے اندر اب صرف صورتاً ہے معنًى یعنی قیمت کے اعتبار سے نہیں ہے اگر یہ کپڑا اس چور کے پاس ہلاک ہو گیا تو چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو معلوم ہوا چور کا حق کپڑے کے اندر صورتاً بھی ہے اور معنًى بھی ہے اور مالک کا حق صرف صورتاً ہے معنًى نہیں ہے، لہٰذا اس لیے ہم نے چور کی جانب کو ترجیح دی اور یہ کہا کہ چور اس کپڑے کا مالک بن چکا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ تو فرماتے تھے مالک نہیں بنا لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، چور کی جانب راجح ہے اس کا حق صورتاً بھی ہے اور معنًى بھی ہے لہٰذا وہ کپڑے کا مالک بن گیا۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھو چور کا حق کپڑے میں ہے صورتاً بھی اور معنًى بھی، اور مالک کا حق صرف صورتاً ہے معنًى نہیں ہے، تو دونوں جگہ صورت کا لفظ آ رہا ہے تو اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ دونوں سے آپ ایک ہی چیز مراد لے لیں۔ چور کا حق صورتاً ہے کیا معنیٰ؟ کپڑے کے اندر وہ رنگ آ گیا ہے جو چور نے اس کو رنگ لگایا ہے بھئی، اور مالک کا حق ہے صورتاً اس کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ کپڑا وہی ہے چیز وہی ہے جو اس مالک سے اس نے چوری کی تھی۔ توجہ ہے؟ تو چور کا حق کپڑے میں ہے صورتاً بھی اور معنًى بھی، صورتاً کا کیا معنیٰ؟ کہ رنگ کپڑے میں آ چکا ہے، اور معنًى کیا معنیٰ؟ کہ قیمت بڑھ چکی ہے اس کی، بات سمجھ میں آگئی۔ اور مالک کا حق صرف صورتاً ہے معنًى نہیں، صورتاً کیا معنیٰ؟ کہ وہی چیز ہے وہی کپڑا ہے، اور معنًى مالک کا حق نہیں ہے کیا معنیٰ؟ کہ اگر یہ کپڑا چور کے پاس ہلاک ہو جائے تو چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو معلوم ہوا چور کا حق زائد ہو گیا مالک سے، لہٰذا ہم نے چور کی جانب کو ترجیح دے دی اور چور کو ہی اس کپڑے کا مالک قرار دے دیا۔ جبکہ غصب کا مسئلہ اس سے مختلف ہے، وہ بعد میں پڑھتے ہیں پہلے یہاں تک دیکھ لیجیے۔
کہتے ہیں ”وَلَهُمَا“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الصِّبْغَ قَائِمٌ صُورَةً وَمَعْنًى“ کہ یہ رنگ جو ہے وہ موجود ہے صورت اور معنیٰ دونوں اعتبار سے۔ رنگ یعنی چور کا حق، رنگ کس کا حق ہے؟ چور کا۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں ”أَنَّ الصِّبْغَ قَائِمٌ“ کہ رنگ موجود ہے یعنی چور کا حق موجود ہے ”صُورَةً وَمَعْنًى“ صورت کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی۔ صورت کے اعتبار سے کیا معنیٰ؟ یعنی کپڑے کا رنگ بدل چکا ہے صورت کے اعتبار سے ہمیں نظر آ رہا ہے، ”وَمَعْنًى“ اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی چور کا حق ہے یعنی کپڑے کی قیمت بڑھ چکی ہے، ”حَتَّى لَوْ أَرَادَ“ دیکھو آگے خود بیان کر رہے ہیں معنیٰ سے کیا مراد ہے، کہتے ہیں ”حَتَّى لَوْ أَرَادَ أَخْذَهُ مَصْبُوغًا“ یہاں تک کہ اگر مالک نے ارادہ کیا اس کپڑے کو رنگے ہوئے ہونے کی حالت میں ہی لینے کا، مالک نے اس کپڑے کو رنگے ہونے کی حالت میں ہی لینے کا ارادہ کیا ”يَضْمَنُ مَا زَادَ الصِّبْغُ فِيهِ“ تو مالک ضامن ہو گا اس چیز کا جو رنگ نے اس میں بڑھا دیا ہے، یعنی وہ جو زائد پیسے ہیں وہ مالک ادا کرے گا چور کو بھئی، ”وَحَقُّ الْمَالِكِ فِي الثَّوْبِ قَائِمٌ صُورَةً لَا مَعْنًى“ اور مالک کا حق جو ہے کپڑے کے اندر صورتاً موجود ہے معنًى موجود نہیں۔ صورتاً موجود ہے کیا معنیٰ؟ یعنی وہی کپڑا ہے، اور معنًى موجود نہیں کیا معنیٰ؟ کہ اگر یہ کپڑا چور کے پاس ہلاک ہو گیا تو اس پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ قطع اور ضمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ تو کہتے ہیں ”وَحَقُّ الْمَالِكِ فِي الثَّوْبِ قَائِمٌ صُورَةً لَا مَعْنًى“ اور مالک کا حق کپڑے میں صورتاً موجود ہے نہ کہ معنًى، ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ غَيْرُ مَضْمُونٍ عَلَى السَّارِقِ بِالْهَلَاكِ“ کہ جو کپڑا ہے ”غَيْرُ مَضْمُونٍ عَلَى السَّارِقِ بِالْهَلَاكِ“ یہ ہلاکت کی وجہ سے چور پر مضمون نہیں ہو گا چور پر اس کا ضمان نہیں آئے گا، ”فَرَجَّحْنَا جَانِبَ السَّارِقِ“ تو ہم نے چور کی جانب کو ترجیح دے دی اور ہم نے کہا کہ چور اس کا مالک بن گیا ہے، ”بِخِلَافِ الْغَصْبِ“ بخلاف غصب کے ”لِأَنَّ حَقَّ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَائِمٌ صُورَةً وَمَعْنًى“، بھئی ادھر دیکھیے غصب کے مسئلے کے اندر غاصب اور مالک دونوں کا حق صورتاً بھی ہے اور معنًى بھی ہے۔ غاصب کا حق صورتاً بھی ہے غصب کے اندر کس طرح صورتاً ہے؟ وہی تقریر جو پہلے ہوئی تھی، صورتاً غاصب کا حق ہے اس مالِ مغصوبہ کے اندر، صورت کے اعتبار سے یعنی کپڑے کے اندر رنگ آ گیا ہے، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی غاصب کا حق موجود ہے کہ مالک جب اس کو واپس لے گا تو مالک کو وہ جو زائد قیمت ہے وہ ادا کرنا پڑے گی کہ وہ غاصب کے حوالے کرے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو معلوم ہوا غصب کے اندر غاصب کا حق صورتاً بھی ہے اور معنًى بھی ہے، اور اسی طرح مالک کا حق بھی صورتاً بھی ہے اور معنًى بھی ہے۔ مالک کا حق صورتاً کس طرح؟ کہ وہی چیز ہے وہی کپڑا ہے تو صورتاً بھی مالک کا حق ہے، اور معنًى بھی مالک کا حق ہے کہ اگر یہ کپڑا غاصب کے پاس ہلاک ہو گیا تو غاصب کو ضمان دینا پڑے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا غصب کے مسئلے میں غاصب اور مالک دونوں کا حق صورتاً بھی ہے اور معنًى بھی ہے، اور پھر ہم نے مالک کی جانب کو ترجیح دے دی۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ جب دونوں کا حق صورتاً بھی ہے اور معنًى بھی ہے تو پھر مالک کے حق کو آپ نے کیوں ترجیح دے دی؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ مالک کا حق جو ہے اس کپڑے کے اندر ہے جو اصل ہے اور چور کا حق رنگ کے اندر ہے اور رنگ تابع ہے وصف ہے، تو اصل کو ترجیح دی جائے گی لہٰذا مالک کی جانب کو ترجیح ہو گی اور مالک کا حق اس کپڑے سے ختم نہیں ہو گا، ابھی بھی وہی مغصوب منہ ہی اس کپڑے کا مالک ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الْغَصْبِ“ بخلاف غصب کے ”لِأَنَّ حَقَّ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَائِمٌ صُورَةً وَمَعْنًى“ اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا حق جو ہے وہ صورتاً اور معنًى موجود ہے ”فَاسْتَوَيَا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ تو یہ دونوں برابر ہو گئے اس اعتبار سے، غاصب کا حق بھی صورتاً اور معنًى اور مالک کا حق بھی صورتاً اور معنًى، ”فَاسْتَوَيَا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ تو دونوں برابر ہو گئے اس وجہ سے ”فَرَجَّحْنَا جَانِبَ الْمَالِكِ“ تو ہم نے مالک کی جانب کو ترجیح دے دی ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ کپڑا اصل ہے اور رنگ تابع ہے وصف ہے تو اصل کو ترجیح ہو گی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے: ”وَإِنْ صَبَغَهُ أَسْوَدَ أُخِذَ مِنْهُ فِي الْمَذْهَبَيْنِ“ بھئی اب صورت یہ ہے کہ اس چور نے کپڑے کو سیاہ رنگ دے دیا یعنی کالا رنگ دے دیا، تو اس صورت میں یاد رکھو دونوں مذہبوں کے مطابق یہ کپڑا مالک کو واپس کیا جائے گا اگر یہ موجود ہوا۔ اور اس میں صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرمائیں گے کہ امام صاحب کے نزدیک یہ جو کالا رنگ ہے یہ کپڑے کے اندر نقصان شمار ہوتا ہے، نقصان شمار ہوتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ کالا رنگ بھی کپڑے کے اندر زیادتی شمار ہوتا ہے اس سے کپڑے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کے اندر جو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے وہ کوئی دلائل کی وجہ سے اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ دراصل زمانے کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے زمانے کے اندر کالا رنگ جو ہے اس کی وجہ سے کپڑے کی قیمت کم ہو جاتی تھی اور صاحبین کے زمانے میں کالے رنگ کی وجہ سے بھی کپڑے کی قیمت بڑھ جاتی تھی بھئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک یہ کالے رنگ کی وجہ سے کپڑے کے اندر نقصان آ گیا اور نقصان کی وجہ سے تو چور جو ہے اس چیز کا مالک نہیں بن سکتا لہٰذا یہ کپڑا مالک کو واپس کرنا پڑے گا اگر یہ کپڑا چور کے پاس موجود ہوا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے سرخ رنگ سے کپڑے میں زیادتی آتی تھی تو چور اس کا مالک بن جاتا تھا تو اسی طرح سیاہ رنگ کی وجہ سے بھی کپڑے میں زیادتی آئی ہے تو چور اس کا مالک بن گیا ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے سرخ رنگ کی وجہ سے زیادتی آتی تھی لیکن چور مالک نہیں بنتا تھا تو سیاہ رنگ کی وجہ سے بھی زیادتی آئی ہے تو چور مالک نہیں بنے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں ”وَإِنْ صَبَغَهُ أَسْوَدَ“ اور اگر چور نے اس کپڑے کو سیاہ رنگ دے دیا ”أُخِذَ مِنْهُ فِي الْمَذْهَبَيْنِ“ تو یہ کپڑا اس چور سے لیا جائے گا دونوں مذہبوں میں، یعنی مالک کو واپس دلایا جائے گا دونوں مذہبوں میں، اس سے کون مراد ہیں؟ کہتے ہیں ”يَعْنِي عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب میں اور امام محمد رحمہ اللہ کے مذہب میں، دونوں مذہبوں کے اندر کپڑا چور کو واپس دلایا جائے گا، البتہ علت الگ الگ ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اس لیے واپس دلایا جائے گا کیونکہ کالا رنگ عیب ہے نقصان ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کپڑا اس لیے واپس کیا جائے گا کہ اگرچہ کالا رنگ بھی زیادتی ہے لیکن زیادتی کی وجہ سے چور اس مال کا مالک نہیں بنتا۔ تو کہتے ہیں دونوں مذہبوں کے مطابق وہ کپڑا اس چور سے لیا جائے گا ”يَعْنِي عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ یعنی امام صاحب کے نزدیک اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى هَذَا وَالْأَوَّلُ سَوَاءٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ اور پہلا جو ہیں دونوں برابر ہیں، یہ صورت اور پہلی صورت دونوں برابر ہیں، اس سرخ رنگ سے بھی زیادتی آئی تھی تو چور مالک بن گیا تھا تو کالے رنگ سے بھی زیادتی آئی ہے تو چور مالک بن گیا ہے یہ اب مالک کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ”هَذَا وَالْأَوَّلُ سَوَاءٌ“ کہ یہ اور پہلا دونوں برابر ہیں ”لِأَنَّ السَّوَادَ زِيَادَةٌ عِنْدَهُ كَالْحُمْرَةِ“ اس لیے کیونکہ سیاہی جو ہے وہ زیادتی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کالصفرۃ جیسے کہ سرخی ہے، ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى زِيَادَةٌ أَيْضًا كَالْحُمْرَةِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ کالا رنگ جو ہے یہ زیادتی ہے کالصفرۃ سرخ رنگ کی طرح ”وَلَكِنَّهُ لَا يَقْطَعُ حَقَّ الْمَالِكِ“ لیکن یہ مالک کے حق کو کاٹتا نہیں ہے، ابھی بھی وہی شخص مالک ہے تو واپس کرنا پڑے گا، ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ السَّوَادُ نُقْصَانٌ“ اور امام صاحب کے نزدیک سیاہی جو ہے یہ نقصان ہے، اس سے کپڑے کی قیمت کم ہو جاتی ہے ”فَلَا يُوجِبُ انْقِطَاعَ حَقِّ الْمَالِكِ“ لہٰذا یہ مالک کے حق کو منقطع کرنے کو ثابت نہیں کرے گا، اس کی وجہ سے مالک کا حق کپڑے سے ختم نہیں ہو گا، تو کہتے ہیں ”فَلَا يُوجِبُ“ لہٰذا یہ سیاہی جو ہے یہ ثابت نہیں کرتی ”انْقِطَاعَ حَقِّ الْمَالِكِ“ کہ مالک کا حق منقطع ہو گیا ہے، لہٰذا یہ کپڑا واپس کرنا پڑے گا۔
بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.