Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-139

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 76
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ قَالَ: ”وَالْخَرَاجُ الَّذِي وَضَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى أَهْلِ السَّوَادِ: مِنْ كُلِّ جَرِيبٍ يَبْلُغُهُ الْمَاءُ قَفِيزٌ هَاشِمِيٌّ، وَهُوَ الصَّاعُ، وَدِرْهَمٌ، وَمِنْ جَرِيبِ الرَّطْبَةِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمِنْ جَرِيبِ الْكَرْمِ الْمُتَّصِلِ وَالنَّخِيلِ الْمُتَّصِلِ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ“. بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے باب العشر والخراج پڑھنا شروع کیا تھا بھئی۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی زمینیں جو ہیں ان میں عشر واجب ہوتا ہے، اور کفار کی زمینوں میں خراج واجب ہوتا ہے۔ عشر کے اندر عبادت کا پہلو ہے اور خراج کے اندر سزا کا پہلو ہے، اور نیز عشر کا تعلق حقیقی پیداوار سے ہوتا ہے۔ یعنی زمین سے پیداوار حاصل ہوگی تو اس کا دسواں حصہ جو ہے وہ صدقہ کرنا پڑے گا، تو اس عشر کا تعلق حقیقی پیداوار سے ہے۔ پیداوار ہوئی تو عشر بھی آئے گا، پیداوار نہیں تو عشر بھی نہیں ہے، جبکہ خراج کا تعلق زمین سے پیداوار حاصل کرنے کی قدرت پر ہے۔ تو جب زمین سے پیداوار حاصل کرنے کی قدرت موجود ہے تو خراج لازم ہوگا، چاہے زمین پر کچھ کاشت کیا جائے یا کاشت نہ کیا جائے، اور نیز یہ بھی یاد رکھنا عشر جو ہے ہر پیداوار کے اندر آئے گا۔ اگر سال کے اندر کئی فصلیں کاشت کیں تو ہر فصل کے اندر عشر ادا کرنا پڑے گا، جبکہ خراج جو ہے وہ سال میں ایک مرتبہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اور صاحب ہدایہ نے بیان فرمایا تھا کہ عرب کی ساری زمین جو ہے وہ عشری ہے، اور اس کی لمبائی جو ہے عذیب مقام سے لے کر یمن کے اندر حجر مقام کے آخری کنارے تک ہے، اور چوڑائی کے اندر، چوڑائی کے اندر جدہ کے ساحل سے لے کر شام کی حد تک ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں سواد عراق کی جو زمین ہے وہ خراجی زمین ہے۔ اور سواد عراق کی جو زمین ہے وہ چوڑائی کے اندر عذیب مقام سے لے کر حلوان کی گھاٹی تک ہے، اور لمبائی کے اندر ثعلبیہ سے لے کر عبادان تک ہے بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے دلیل ذکر فرمائی تھی کہ حضور علیہ السلام اور خلفائے راشدین نے عرب کی زمینوں پر خراج مقرر نہیں فرمایا، معلوم ہوا یہ عشری زمینیں ہیں بھئی۔ جبکہ سواد عراق پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے مشورے سے خراج مقرر فرمایا۔ اسی طرح مصر اور شام پر بھی خراج مقرر کیا گیا بھئی۔ اور صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ یہ جو سواد عراق کی زمین ہے، یہ اس کے رہنے والے جو ہیں انہی کی مملوکہ زمین ہے۔ وہ جس طرح کا تصرف اس میں کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ وہ اس کو بیچنا چاہیں، یا ہبہ کرنا چاہیں، یا رہن رکھوانا چاہیں، جس طرح کا تصرف بھی وہ اس میں کرنا چاہیں وہ ان کے لیے جائز ہے۔ البتہ جو بھی اس کا مالک ہو اس زمین سے خراج وصول کیا جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ کون سی زمین عشری ہوگی اور کون سی خراجی ہوگی؟ تو بتلایا کہ وہ زمین کہ جس کے رہنے والے خود مسلمان ہو جائیں یا وہ زمین جسے مسلمان فتح کر لیں اور اسے غازیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے تو یہ زمین عشری ہوگی کیونکہ مسلمان پر ابتداءً خراج واجب نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جس زمین کو بھی مسلمانوں نے قوت بازو سے فتح کر لیا البتہ ان زمینوں کو ان کفار کے پاس ہی رہنے دیا گیا تو ان پر خراج مقرر ہوگا، اور صاحب ہدایہ نے پھر جامع صغیر کی عبارت بھی نقل فرمائی کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زمین کے عشری یا خراجی ہونے کا تعلق پانی سے ہے، کیونکہ پانی کے ذریعے زمین پیداوار دیتی ہے، تو اگر مسلمان کی زمین ہے لیکن اس کو خراجی پانی کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے تو اس زمین پر خراج آئے گا۔ اور خراجی پانی کون سا ہوگا؟ صاحب ہدایہ نے وہ بھی بیان فرمایا کہ وہ نہریں جو عجمی بادشاہوں نے کھدوائیں اور جو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ ہیں، ان نہروں کے ذریعے اگر مسلمان اپنی زمین کو سیراب کرتا ہے تو پھر اس کے اندر خراج آئے گا۔ حاصل کلام یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مسلمان کی زمین میں ابتداءً عشر ہی آئے گا الا یہ کہ مسلمان خود کوئی ایسا عمل کر دے جس کی وجہ سے خراج آ جائے یعنی اس زمین کو وہ خراجی پانی کے ذریعے سیراب کرے، تو پھر خراج واجب ہوگا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی کا اعتبار نہیں ہے بلکہ اس زمین کے حیز کا اعتبار ہے۔ میں نے بتلایا تھا حیز کا معنی ہے جگہ، یعنی مراد ہے اس کے آس پاس کی جگہ، کہ جو زمین اس کے آس پاس کی زمینیں اگر خراجی ہیں تو یہ زمین چاہے اس کو مسلمان ہی کیوں نہ آباد کرے پھر بھی اس پر خراج آئے گا، اور اگر آس پاس کی زمینیں عشری ہیں تو یہ زمین جس کو مسلمان آباد کرے اس پر بھی عشر آئے گا۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ مسلمان کی زمین پر ابتداءً عشر واجب ہوگا یا خراج، اس کے اندر اس کے آس پاس کی زمینوں کو دیکھا جائے گا۔ اور یہ مسئلہ بھی آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ خراجی زمین ہمیشہ خراجی ہی رہے گی، چاہے مسلمان ہی کیوں نہ اس کو خرید لے پھر بھی وہ خراجی ہی رہے گی، جبکہ عشری زمین کو اگر کافر خرید لے گا تو وہ خراجی زمین بن جائے گی۔ معلوم ہوا خراجی زمین تو عشری نہیں بن سکتی، البتہ عشری زمین خراجی بن سکتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”قَالَ: وَالْخَرَاجُ الَّذِي وَضَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى أَهْلِ السَّوَادِ: مِنْ كُلِّ جَرِيبٍ يَبْلُغُهُ الْمَاءُ قَفِيزٌ هَاشِمِيٌّ، وَهُوَ الصَّاعُ، وَدِرْهَمٌ“. بھئی یہاں سے صاحب ہدایہ خراج کی مقدار بیان فرمائیں گے بھئی، خراج کی مقدار۔ آپ کو بتلائیں گے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سواد عراق کی زمینوں پر جو خراج مقرر فرمایا تھا وہ زمینوں کے اعتبار سے مختلف تھا، یعنی اگر زمین اعلیٰ قسم کی ہے اور اعلیٰ پیداوار دیتی ہے، قیمتی پیداوار دیتی ہے تو اس پر خراج بھی زیادہ مقرر کیا گیا، اور جو زمینیں ذرا کم درجے کی تھیں اور ان کی پیداوار کم درجے کی تھی اور ان میں محنت زیادہ تھی تو ان کا خراج بھی کم مقرر کیا گیا، چنانچہ آپ کو بتلائیں گے کہ تین قسم کی زمینیں تھیں بھئی۔ بعض زمینوں کے اندر فصلیں کاشت کی جاتی تھیں اور فصلوں کے کاشت کرنے میں تو محنت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا ان پر خراج بھی کم مقرر کیا گیا۔ اور کچھ زمینیں وہ تھیں جن کے اندر سبزیاں کاشت کی جاتی تھیں، اور سبزیوں کے اندر تو محنت کم ہوتی ہے اور نفع زیادہ ہوتا ہے تو ان پر نسبتاً تھوڑا زیادہ خراج مقرر کیا گیا۔ اور کچھ وہ زمینیں تھیں جہاں محنت بہت ہی کم تھی جیسے انگور کے یا کھجور کے گھنے باغات بھئی۔ انگور اور کھجور کے گھنے باغات، وہاں کسی محنت کی ضرورت نہیں، یا محنت ہے بھی تو بہت تھوڑی محنت ہے، وہاں صرف دیکھ بھال کی ضرورت ہے، تو اس لیے ان پر خراج بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے زیادہ مقرر فرمایا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“: صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَالْخَرَاجُ الَّذِي وَضَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“، اور وہ خراج جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مقرر فرمایا، ”عَلَى أَهْلِ السَّوَادِ“، سواد عراق والوں پر، ”مِنْ كُلِّ جَرِيبٍ“، ہر ایسے جریب میں، ”يَبْلُغُهُ الْمَاءُ“، جس کو پانی پہنچتا ہو، دیکھو جریب ہے نکرہ اور ”يَبْلُغُهُ الْمَاءُ“ یہ اس کے بعد فعل آ رہا ہے اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے صفت بنتا ہے، اور موصوف صفت کا ترجمہ کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں۔ کہتے ہیں ”مِنْ كُلِّ جَرِيبٍ يَبْلُغُهُ الْمَاءُ“، ہر ایسے جریب میں جس کو پانی پہنچتا ہو، تو ہر ایسی زمین کے اندر ”قَفِيزٌ هَاشِمِيٌّ“، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک ہاشمی قفیز مقرر فرمایا، ”وَهُوَ الصَّاعُ وَدِرْهَمٌ“، اور وہ ایک صاع اور درہم ہے۔ بھئی یہاں جریب کا ذکر آیا، پہلے جریب سمجھ لیجیے۔ یاد رکھو یہ جو زمین کی پیمائش کی جاتی ہے یہ مربع فٹ یا مربع گز کے اعتبار سے کی جاتی ہے۔ مربع فٹ کا معنی یہ ہے زمین کا وہ ٹکڑا جس کی لمبائی بھی ایک فٹ ہو اور چوڑائی بھی ایک فٹ ہو۔ زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا جس کی لمبائی بھی ایک فٹ، چوڑائی بھی ایک فٹ، یعنی ایک فٹ کا ایک چوکور ڈبہ سا بن گیا، یہ ہے مربع فٹ، یعنی چاروں طرف سے اس کی لمبائی ایک ایک فٹ ہے۔ توجہ ہے؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مربع فٹ۔ یا گزوں کے اعتبار سے زمین کی پیمائش ہوتی ہے تو مربع گز کہیں گے، یعنی زمین کا ایسا ٹکڑا جس کی لمبائی بھی ایک گز ہے اور چوڑائی بھی ایک گز ہے، یعنی زمین کا ایسا چوکور ڈبہ نما ٹکڑا جس کے چاروں طرف سے لمبائی ایک ایک گز ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مربع گز بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو زمین کی جو بیع و شراء کی جاتی ہے وہ اس کے رقبے کے اعتبار سے کی جاتی ہے اور اس کو مربع گزوں میں یا مربع فٹوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک زمین ہے اس کی لمبائی بھی دس فٹ ہے اور چوڑائی بھی دس فٹ ہے، تو اب اس کا رقبہ کتنا ہے؟ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ لمبائی کو چوڑائی سے ضرب دے دی جاتی ہے۔ تو اس زمین کی لمبائی بھی دس فٹ، چوڑائی بھی دس فٹ، تو دس کو دس سے ضرب دی، دس ضربے دس یہ برابر ہے سو۔ تو یوں کہیں گے یہ زمین سو مربع فٹ کی ہے۔ یہ زمین جس کی لمبائی بھی دس فٹ ہے، چوڑائی بھی دس فٹ ہے، یہ سو مربع فٹ ہے، یعنی ایک ایک فٹ والے چوکور ڈبے نکالیں تو اس زمین میں سو ڈبے بن جائیں گے ایسے، توجہ ہے؟ تو سو مربع فٹ کا کیا معنی ہے؟ کہ اس کے اندر ایک ایک مربع فٹ والے سو ٹکڑے موجود ہیں بھئی۔ تو اب یہ جریب جو ہے یہ کتنی زمین ہوتی تھی؟ یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ جریب کی لمبائی ساٹھ ذراع ہوتی تھی اور چوڑائی بھی ساٹھ ذراع، یعنی ایسی زمین جس کی لمبائی بھی ساٹھ ذراع ہو اور چوڑائی بھی ساٹھ ذراع ہو اس کو جریب کہتے تھے۔ اب ذراع کسے کہتے ہیں؟ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، یاد رکھو چھ جو کے دانے، چھ جو کے دانے چوڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھے جائیں تو یہ چوڑائی بنتی ہے ایک اصبع کی، اصبع یعنی انگلی۔ چھ جو کے دانے ایک دوسرے کے ساتھ چوڑائی میں رکھے جائیں تو یہ ایک انگلی کے برابر چوڑائی بن جاتی ہے، اور چوبیس انگلیوں کی چوڑائی ہو تو یہ بنتا ہے ایک ذراع بھئی۔ یہ جو انسانی ہاتھ ہے تو کہنی سے لے کر انگلی کے سرے تک یہ ایک ذراع ہے بھئی۔ متوسط درجے کا انسان ہو تو اس کی کہنی سے لے کر انگلی کے سرے تک یہ جو لمبائی ہے اس کو ذراع کہتے ہیں، اور یاد رکھو یہ ڈیڑھ فٹ کے برابر ہے۔ پورا ڈیڑھ فٹ ہے یہ، کتنا ہے؟ پورا ڈیڑھ فٹ ہے، تو یہ ہے ایک ذراع، اور یاد رکھو اس ذراع کی لمبائی چوبیس انگلیوں کے برابر ہے، یعنی چوبیس انگلیاں چوڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھیں تو یہ ایک ذراع بنتا ہے، توجہ ہے؟ لیکن یہاں جو ذراع آیا کہ جریب کتنا ہے؟ ساٹھ ذراع ضربے ساٹھ ذراع، اس ذراع سے عام ذراع نہیں مراد بلکہ ملک کسریٰ کا ذراع مراد ہے، اور ملک کسریٰ کا جو ذراع تھا وہ اس عام ذراع سے چار انگلی چوڑائی میں زیادہ تھا۔ بھئی دیکھیے، یہ ایک ذراع میں چوبیس انگلیاں ہیں، یعنی آپ اپنی مٹھی بند کریں تو دیکھو اس مٹھی کی چوڑائی چار انگلیاں ہیں، مٹھی میں کتنی انگلیاں ہیں؟ چار، تو اس مٹھی کی چوڑائی ہوگئی چار انگلیاں۔ اس مٹھی کے اوپر آپ ایک اور مٹھی رکھیں تو یہ ہو گئیں آٹھ انگلیاں، اس طرح آپ چھ مٹھیاں ایک دوسرے کے اوپر رکھیں گے تو یہ ایک ذراع بن جائے گا، تو ایک ذراع کے اندر ایک ذراع کی لمبائی جو ہے وہ چھ مٹھی کے برابر ہے اور ہر مٹھی میں چار انگلیاں ہیں تو چھ چوکے چوبیس، تو ایک ذراع کی لمبائی چوبیس انگلیوں کے برابر ہے بھئی۔ جبکہ ملک کسریٰ کا جو ذراع تھا وہ سات مٹھیوں کے برابر تھا، سات مٹھیاں ایک دوسرے کے اوپر رکھیں یعنی سات چوکے اٹھائیس، یعنی وہ اٹھائیس انگلیوں کی چوڑائی کے برابر تھا بھئی۔ تو یہاں پر ذراع سے وہ ملک کسریٰ کا ذراع مراد ہے بھئی۔ تو جریب کتنی زمین تھی؟ ساٹھ ذراع چوڑائی ہو اور ساٹھ ذراع ہی لمبائی ہو اور ذراع بھی ملک کسریٰ کا ہو بھئی۔ تو اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایسا جریب اور جس کو پانی بھی پہنچتا ہو، اس پر آپ نے خراج مقرر فرمایا اس زمین کے اعتبار سے۔ اگر وہ عام فصلیں اس زمین پر کاشت کی جاتی ہیں تو اس پر ایک صاع اور ایک درہم مقرر فرمایا، ایک صاع اور ایک درہم بھئی، یعنی جو پیداوار حاصل ہو اس زمین سے یا گندم یا جو کا ایک صاع، توجہ ہے؟ یہ جو ایک جریب زمین تھی اگر یہ عام زمین ہے اور اس پر فصلیں کاشت کی جاتی ہیں بھئی، تو اس کے اندر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک صاع اور ایک درہم مقرر فرمایا۔ اب ایک صاع سے کیا مراد ہے؟ علماء بیان فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے اس زمین سے جو پیداوار حاصل ہوئی ہے ایک صاع وہ پیداوار لے لی جائے، صاع ایک پیمانہ تھا بھئی، توجہ ہے؟ صاع ایک پیمانہ تھا جس کے اندر یہ غلے وغیرہ کی پیمائش کی جاتی تھی۔ آج کل تو غلے وغیرہ کا وزن کیا جاتا ہے لیکن اب بھی دنیا کے بعض حصوں میں رائج ہے غلے وغیرہ کو برتن میں اس کی پیمائش کرتے ہیں، توجہ ہے؟ اور اس برتن کو صاع کہتے ہیں بھئی، صاع۔ اور یہ بھی یاد رکھنا، یہ بھی یاد رکھنا کہ صاع جو ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے صاع استعمال ہوتے تھے۔ ایک کو صاع ہاشمی کہتے ہیں، ایک کو صاع حجازی کہتے ہیں، اور ایک کو صاع عراقی کہتے ہیں۔ صاع ہاشمی سب سے بڑا تھا، اور صاع ہاشمی جو ہے وہ بتیس رطل کا تھا، را، طا اور لام، رطل۔ صاع ہاشمی بتیس رطل کا تھا، اور یہ بھی یاد رکھنا ایک رطل جو ہے وہ پونے چونتیس تولے کے برابر ہوتا ہے۔ ایک رطل پونے چونتیس تولے کے برابر ہوتا ہے، تو بتیس رطل کا ایک صاع ہاشمی تھا، یہ سب سے بڑا صاع تھا۔ اس سے چھوٹا صاع جو تھا وہ صاع عراقی کے نام سے مشہور تھا اور وہ آٹھ رطل کا تھا۔ آٹھ رطل، معلوم ہوا چار صاع عراقی ملیں گے تو ایک صاع ہاشمی بنے گا، صاع ہاشمی اتنا بڑا تھا۔ تو صاع ہاشمی بتیس رطل کا تھا اور صاع عراقی آٹھ رطل کا تھا، اور سب سے چھوٹا جو صاع تھا وہ پانچ رطل اور ثلث رطل کا تھا۔ پانچ رطل اور ثلث رطل یعنی رطل کا تیسرا حصہ، تو یہ سب سے چھوٹا صاع تھا اور اس کو صاع حجازی کہا جاتا ہے۔ اب اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں کون سا صاع رائج تھا؟ عند الاحناف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں صاع عراقی رائج تھا، یعنی وہ جو آٹھ رطل کا ہوتا ہے، آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو وہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں رائج تھا۔ تو بات چل رہی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جو عام فصل والی زمین ہے اس کے ایک جریب کے اندر ایک صاع اور ایک درہم مقرر فرمایا۔ اب صاع سے کیا مراد ہے؟ علماء فرماتے ہیں کہ صاع سے مراد وہ جو پیداوار اس زمین سے حاصل ہوتی ہے اسی کا اسی پیداوار کا ایک صاع لے لیا جائے گا، ایک صاع یعنی آٹھ رطل مقدار بھی لے لیں گے اور ساتھ ایک درہم بھی وصول کر لیا جائے گا۔ یہ پورے سال کے لیے وصول ہو جائے گا ایک ہی مرتبہ اس زمین سے۔ تو صاع سے کیا مراد ہے؟ وہی پیداوار جو اس زمین سے حاصل ہوئی، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ صاع سے مراد ہے گندم یا جو کا ایک صاع، یعنی یہ جو جریب ہے جو بھی فصل وہ اس میں کاشت کرے لیکن اس سے ایک درہم اور ایک صاع گندم یا جو کا لے لیا جائے گا۔ یہ ہے اس زمین کا خراج پورے سال کے لیے بھئی، توجہ ہے؟ اور یہ بھی یاد رکھنا خراج پورے سال میں ایک ہی دفعہ وصول کیا جاتا ہے، چاہے وہ شخص اس زمین سے جتنی بھی فصلیں حاصل کرے لیکن خراج ایک ہی دفعہ وصول کیا جائے گا۔ یہ تو تھیں ادنیٰ درجے کی زمینیں سواد عراق میں، اور دوسرے اعلیٰ درجے کی زمینیں جن کے اندر لوگ سبزیاں کاشت کرتے تھے ان پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پانچ درہم مقرر فرمائے۔ ان کا سالانہ خراج کتنا ہے؟ پانچ درہم، کیونکہ اس میں محنت کم ہے اور فائدہ زیادہ ہے، تو لہٰذا خراج بھی تھوڑا زیادہ مقرر کیا گیا۔ جبکہ سب سے اعلیٰ پیداوار اور کم محنت جو ہے وہ باغات کے اندر ہوتی ہے۔ باغ کے اندر درخت وغیرہ تیار ہوتے ہیں، صرف ان کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے تو لہٰذا ان پر خراج بھی زیادہ مقرر فرمایا۔ چنانچہ جو انگور کے گھنے باغات تھے یا جو کھجوروں کے گھنے باغات تھے ان کا خراج پورے سال کے لیے دس درہم مقرر کیا گیا، توجہ ہے؟ تو ان کا خراج دس درہم مقرر کیا گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ جریب کا بھی آپ کو پتہ چل گیا۔ قفیز ہاشمی کا عبارت میں ذکر آ رہا تھا اس کا بھی آپ کو پتہ چل گیا۔ اب پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”قَالَ: وَالْخَرَاجُ الَّذِي وَضَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى أَهْلِ السَّوَادِ: مِنْ كُلِّ جَرِيبٍ يَبْلُغُهُ الْمَاءُ قَفِيزٌ هَاشِمِيٌّ“، صاحب قدوری فرماتے ہیں: اور وہ خراج جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مقرر فرمایا سواد عراق والوں پر، ہر ایسا جریب جس کو پانی پہنچتا ہو اس میں ”قَفِيزٌ هَاشِمِيٌّ“، ایک قفیز ہاشمی خراج جو ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مقرر فرمایا، توجہ ہے؟ یاد رکھو قفیز یا صاع ایک ہی چیز کو کہتے ہیں، اسی پیمانے کو قفیز بھی کہتے ہیں اور اسی کو صاع بھی کہتے ہیں بھئی۔ تو یہاں بعض شارحین اعتراض کرتے ہیں کہ عند الاحناف قفیز عراقی معتبر ہے کیونکہ ہمارے نزدیک حضور علیہ السلام کے زمانے میں قفیز عراقی جو ہے وہ رائج تھا مدینہ منورہ میں، تو پھر صاحب ہدایہ نے قفیز ہاشمی کیسے ذکر فرمایا؟ اعتراض سمجھ میں آیا؟ لہٰذا وہ کہتے ہیں صاحب ہدایہ کو یہ ہاشمی کا لفظ ساتھ ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا اور اگر ذکر کرنا چاہتے تھے تو قفیز عراقی کو ذکر کرنا چاہیے تھا۔ جبکہ بعض شارحین نے اور جواب دیا، وہ کہتے ہیں کہ یہ جو قفیز ہاشمی سے آگے آ رہا ہے ”وَهُوَ الصَّاعُ وَدِرْهَمٌ“، یہ اسی قفیز ہاشمی کی تفسیر بیان کی جا رہی ہے، معنی یہ ہے ایک صاع اور ایک درہم، اور صاع سے مراد صاع عراقی ہے یہاں جو عبارت میں صاع کا لفظ آیا ”وَهُوَ الصَّاعُ“، اس سے کیا مراد ہے؟ صاع عراقی، یعنی ایک صاع عراقی ہوتا آٹھ رطل والا اور ساتھ ایک درہم لے لیا جاتا، ایک صاع عراقی اور ایک درہم، یہ کتنا تھا؟ یہ کتنا بنتا تھا؟ اسی قفیز ہاشمی کے برابر بنتا تھا بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو وہ خراج جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہر جریب کے اندر قفیز ہاشمی وہ ہاشمی قفیز تھا، ”وَهُوَ الصَّاعُ وَدِرْهَمٌ“، اور وہ ایک صاع اور ایک درہم ہے، قفیز ہاشمی ایک صاع عراقی اور ایک درہم ہے، ”وَمِنْ جَرِيبِ الرَّطْبَةِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ“، رطبہ بھئی را کے فتحہ کے ساتھ، یہ سبزی کو کہتے ہیں، ”وَمِنْ جَرِيبِ الرَّطْبَةِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ“، اور سبزیوں کے ایک جریب کے اندر پانچ درہم خراج مقرر فرمایا، ”وَمِنْ جَرِيبِ الْكَرْمِ الْمُتَّصِلِ وَالنَّخِيلِ الْمُتَّصِلِ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ“، کَرم بھئی، کَرَم را کے فتحہ کے ساتھ ہو تو یہ اس کے معنی سخاوت اور فیاضی کے ہیں، آپ باب بھی پڑھ چکے ہیں کَرُمَ يَكْرُمُ كَرَمًا وَكَرَامَةً، لیکن اگر کَرْم را کے سکون کے ساتھ ہو کَرْم تو یہ انگور کو اور انگور کی بیل کو کہتے ہیں۔ یاد رکھو یہ جو انگور ہے اس کا درخت نہیں ہوتا، اس کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے، لیکن جب باغات کے اندر یہ انگور لگائے جاتے ہیں تو پھر وہاں اس کے لیے ان کے لیے یعنی اونچی چیزیں نصب کر دی جاتی ہیں جیسے لکڑیاں وغیرہ اور بانس، اور ان پر بیلوں کو پھیلایا جاتا ہے، تو یہ بیلیں اس باغ کے اندر، باغ کے اندر ان لکڑیوں پر دیواروں کی طرح پھیلی ہوئی ہوتی ہیں بھئی۔ اور اسی طرح نخیل کا لفظ آ رہا ہے عبارت میں، نخیل یاد رکھو یہ جمع ہے نخلۃ کی، نخلہ جو ہے وہ کھجور کے درخت کو کہتے ہیں اور اس کی جمع ہے نخیل بھئی۔ اور نیز متن میں آیا ”وَمِنْ جَرِيبِ الْكَرْمِ الْمُتَّصِلِ“، متصل کا معنی ہے جڑے ہوئے، یعنی انگور کی وہ بیلیں جو آپس میں جڑی ہوئی ہوں، یا اسی طرح ”وَالنَّخِيلِ الْمُتَّصِلِ“، کھجور کے وہ درخت جو آپس میں جڑے ہوئے ہوں۔ بھئی بعض باغ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں درخت فاصلے فاصلے پر ہوتے ہیں اور نیچے زمین پر کھیتی باڑی کی جاتی ہے اور بیچ میں یہ کچھ درخت لگے ہوتے ہیں ان سے پھل بھی حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ باغات کے اندر ساری زمین پر جو ہے کھجور کے درخت لگے ہوتے ہیں، ان میں فاصلہ نہیں ہوتا، درمیان میں کاشت کے قابل زمین نہیں ہوتی بھئی، تو یہ ہے نخیل متصل بھئی، کھجور کے وہ درخت جو آپس میں ملے ہوئے ہیں یعنی گھنے باغات ہیں۔ یا اسی طرح انگور کی وہ بیلیں جو آپس میں ملی ہوئی ہیں یعنی گھنا باغ ہے بھئی، درمیان میں کاشت والی زمین نہیں، اگر درمیان میں کاشت والی زمین ہے معلوم ہوا درخت بہت تھوڑے سے ہیں تو پھر اس پر وہی خراج آئے گا جو فصلوں والی زمینوں پر آتا ہے یعنی ایک صاع اور ایک درہم، لیکن اگر گھنا باغ ہے جس میں کاشتکاری نہیں ہوتی بلکہ تمام باغ جو ہے انگور کی بیلوں سے یا کھجور کے درختوں سے بھرا ہوا ہے تو پھر اس کے اندر سب سے کم محنت ہے، مالک کو صرف حفاظت کرنا پڑے گی اور خوب پیداوار حاصل ہوتی ہے لہٰذا ان کے اندر دس درہم مقرر فرمائے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ جَرِيبِ الْكَرْمِ الْمُتَّصِلِ“، اور انگور کے گھنے جریب میں سے، ”وَالنَّخِيلِ الْمُتَّصِلِ“، اور اسی طرح کھجور کے جو گھنے جریب تھے ان کے اندر وہ خراج جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مقرر فرمایا، ”عَشَرَةُ دَرَاهِمَ“، وہ دس درہم تھا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ اب دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، یہاں تک تو متن تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عام جریب کے اندر جس سے فصلیں حاصل ہوتی ہیں اس میں ایک صاع اور ایک درہم مقرر فرمایا، سبزیوں کے جریب میں پانچ درہم مقرر فرمائے، اور کھجور اور انگور کے گھنے باغات کے اندر دس درہم مقرر فرمائے، یہ تو متن کے اندر عبارت آئی، اب صاحب ہدایہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں بھئی: تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا هُوَ الْمَنْقُولُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“، اور یہی نقل کیا گیا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے، ”فَإِنَّهُ بَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حَتَّى يَمْسَحَ سَوَادَ الْعِرَاقِ“، اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا ”حَتَّى يَمْسَحَ سَوَادَ الْعِرَاقِ“، تاکہ وہ پیمائش کر لیں سواد عراق کی، ”وَجَعَلَ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مُشْرِفًا“، مشرف کہتے ہیں نگران کو بھئی، نگران اور سرپرست، ”وَجَعَلَ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مُشْرِفًا“، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کا نگران مقرر فرمایا۔ تو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کام کا نگران اور سرپرست مقرر کیا، ”فَمَسَحَا“، تو انہوں نے پیمائش کی، حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ نے، ”فَبَلَغَ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ أَلْفَ أَلْفِ جَرِيبٍ“، تو وہ سواد عراق پہنچا ”سِتَّةً وَثَلَاثِينَ“، چھتیس بھئی، اور ”أَلْفَ أَلْفِ جَرِيبٍ“، الف میں کتنے صفر ہوتے ہیں؟ تین، اور الف الف میں کتنے صفر ہوں گے؟ چھ، تو چھتیس کے ساتھ چھ صفر لگا دیں تو یہ کتنا بنے گا؟ تین کروڑ ساٹھ لاکھ جریب، تین کروڑ ساٹھ لاکھ جریب، یہ آپ حساب کر لیجیے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَبَلَغَ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ أَلْفَ أَلْفِ جَرِيبٍ“، تو وہ سواد عراق کی جو زمین ہے وہ تین کروڑ ساٹھ لاکھ جریب تک پہنچی، یعنی اتنی زمین تھی، ”وَوَضَعَ عَلَى ذَلِكَ مَا قُلْنَا“، اور اس زمین پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مقرر فرمایا ”مَا قُلْنَا“، وہ جو ہم نے کہا، اوپر متن میں بیان ہوا، ”وَكَانَ ذَلِكَ بِمَحْضَرٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“، اور یہ مقرر کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی موجودگی میں ہوا تھا، ”مِنْ غَيْرِ نَكِيرٍ“، بغیر کسی انکار کے، کسی نے اس کا، صحابہ میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا، ”فَكَانَ إِجْمَاعًا مِنْهُمْ“، تو یہ صحابہ کی طرف سے اجماع ہوا، تو یہ صحابہ کی طرف سے اجماع ہو گیا تھا۔ ”وَلِأَنَّ الْمُؤَنَ مُتَفَاوِتَةٌ“، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ مختلف زمینوں پر یہ جو مختلف خراج مقرر فرمایا تو اس کی وجہ بتلائیں گے کہ بھئی یہ زمین کے اندر محنت اور نفع کے اعتبار سے ہے۔ زمین میں محنت زیادہ ہے اور نفع کم ہے تو پھر خراج کم ہوگا، اور اگر محنت کم ہے اور فائدہ زیادہ ہے تو اس پر خراج زیادہ ہوگا، اور اگر محنت متوسط درجے کی ہے تو خراج بھی متوسط درجے کا ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ الْمُؤَنَ مُتَفَاوِتَةٌ“، مؤن جمع ہے مؤنۃ کی، اور مؤنۃ کہتے ہیں مشقت کو، مشقت کو اور اسی طرح خرچے کو، کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ الْمُؤَنَ مُتَفَاوِتَةٌ“، اس لیے کیونکہ مشقت اور خرچہ جو ہے وہ مختلف ہے، ”فَالْكَرْمُ أَخَفُّهَا مُؤْنَةً“، تو انگور جو ہیں وہ سب سے ہلکے ہیں، سب سے کم ہیں ”مُؤْنَةً“ خرچے اور محنت کے اعتبار سے، ”وَالْمَزَارِعُ أَكْثَرُهَا مُؤْنَةً“، مزارع بھئی یہ جمع ہے مزرعہ کی، اور مزرعۃ یہ کھیت کو کہتے ہیں وہ جو کاشت کے قابل زمین ہوتی ہے، ”وَالْمَزَارِعُ أَكْثَرُهَا مُؤْنَةً“، اور جو کھیت ہیں وہ سب سے زیادہ ہیں مشقت اور خرچے کے اعتبار سے، ”وَالرِّطَابُ بَيْنَهُمَا“، اور سبزیاں جو ہیں وہ ان کے درمیان ہے یعنی ان میں خرچہ اور مشقت متوسط درجے کی ہے، ”وَالْوَظِيفَةُ تَتَفَاوَتُ بِتَفَاوُتِهَا“، اور وظیفہ جو ہے وہ مختلف ہوتا ہے مشقتوں کے مختلف ہونے سے، ”فَجُعِلَ الْوَاجِبُ فِي الْكَرْمِ أَعْلَاهَا“، تو انگور کے اندر اعلیٰ درجے کا خراج واجب قرار دیا گیا، ”وَفِي الزَّرْعِ أَدْنَاهَا“، اور فصل کے اندر کم درجے کا خراج واجب قرار دیا گیا، ”وَفِي الرَّطْبَةِ أَوْسَطَهَا“، اور سبزیوں کے اندر متوسط درجے کا خراج واجب قرار دیا گیا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَصْنَافِ كَالزَّعْفَرَانِ وَالْبُسْتَانِ وَغَيْرِهِ يُوضَعُ عَلَيْهَا بِحَسَبِ الطَّاقَةِ“. ”قَالَ“: صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَصْنَافِ“، اور اس کے علاوہ اور جو اقسام ہیں، ”كَالزَّعْفَرَانِ وَالْبُسْتَانِ وَغَيْرِهِ“، جیسے کہ زعفران ہے اور جیسے کہ باغ ہے، بھئی صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بستان اس باغ کو کہتے ہیں کہ جس کے اردگرد دیوار ہو اور اس کے اندر جو ہیں متفرق درخت ہوں، متفرق قسم کے درخت ہوں، کھجور وغیرہ کے اور چیزوں کے درخت ہوں، اس قسم کے باغ کو بستان کہا جاتا ہے۔ اور دیکھو عبارت پہ نظر رکھیں ”كَالزَّعْفَرَانِ وَالْبُسْتَانِ“، تو یہاں بستان سے مراد تو وہ زمین ہے، وہ باغ ہے، اور ماقبل میں زعفران کا ذکر ہے، تو ماقبل میں بھی زمین کا ذکر ہونا چاہیے کیونکہ خراج کی بات چل رہی ہے اور خراج کس پر ہوتا ہے؟ زمین پر، تو یہاں ذکر آیا ”كَالزَّعْفَرَانِ“، تو یہاں مضاف محذوف ہے، أي كأرض الزعفران، كأرض الزعفران۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“: صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَصْنَافِ“، اور اس کے علاوہ جو اور قسمیں ہیں، ”كَالزَّعْفَرَانِ وَالْبُسْتَانِ وَغَيْرِهِ“، جیسے کہ زعفران کی زمین ہے اور باغ وغیرہ ہیں، ”يُوضَعُ عَلَيْهَا بِحَسَبِ الطَّاقَةِ“، ان پر خراج مقرر کیا جائے گا ان زمینوں کی طاقت کے اعتبار سے، یعنی جس قسم کی زمینیں ہیں اس کے مطابق خراج مقرر کیا جائے گا، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ تَوْظِيفُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“، اس لیے کیونکہ ان کے اندر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے مقرر کرنا نہیں پایا گیا، ”وَقَدِ اعْتَبَرَ الطَّاقَةَ فِي ذَلِكَ“، اور تحقیق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے طاقت کا اعتبار کیا تھا اس خراج مقرر کرنے میں، تو ہم بھی طاقت ہی کا اعتبار کریں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَقَدِ اعْتَبَرَ الطَّاقَةَ فِي ذَلِكَ“، اور اس وظیفے کے مقرر کرنے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے زمین کی طاقت کا اعتبار کیا تھا، ”فَنَعْتَبِرُهَا فِيمَا لَا تَوْظِيفَ فِيهِ“، تو ہم بھی طاقت کا ہی اعتبار کریں گے ان زمینوں میں کہ جن کے اوپر حضرت عمر کی طرف سے کچھ مقرر کرنا نہیں ہے۔ ”قَالُوا: وَنِهَايَةُ الطَّاقَةِ“، فقہاء فرماتے ہیں: اور انتہا درجے کی طاقت یہ ہے، یعنی آخری حد یہ ہے، ”أَنْ يَبْلُغَ الْوَاجِبُ نِصْفَ الْخَارِجِ“، کہ وہ خراج جس کو واجب قرار دیا گیا وہ پہنچ جائے نصف پیداوار تک، ”لَا يُزَادُ عَلَيْهِ“، اس سے زائد نہیں کیا جائے گا۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ زمین کی طاقت کو دیکھا جائے گا لیکن انتہا درجے کا جو خراج واجب کیا جائے گا وہ اس زمین سے حاصل ہونے والی نصف پیداوار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ نصف پیداوار عین انصاف ہے، وجہ یہ کہ مسلمانوں نے اس علاقے کو فتح کیا تھا، مسلمان چاہتے تو ساری زمینیں ان کفار سے چھین سکتے تھے لیکن انہوں نے زمینیں ان کفار کے پاس ہی رہنے دیں، تو لہٰذا اب نصف حق مسلمانوں کا ہونا چاہیے اور نصف حق ان کفار کا ہونا چاہیے، یہ عین انصاف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَنِهَايَةُ الطَّاقَةِ أَنْ يَبْلُغَ الْوَاجِبُ نِصْفَ الْخَارِجِ لَا يُزَادُ عَلَيْهِ“، اور انتہا درجے کی طاقت یہ ہے کہ وہ خراج جو واجب کیا گیا وہ نصف پیداوار تک پہنچ جائے اس پر بڑھایا نہیں جائے گا، ”لِأَنَّ التَّنْصِيفَ عَيْنُ الْإِنْصَافِ“، اس لیے کیونکہ آدھا کرنا یہ عین انصاف ہے، ”لِمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَقْسِمَ الْكُلَّ بَيْنَ الْغَانِمِينَ“، اس لیے کیونکہ ہمارے لیے یہ جائز تھا کہ ہم وہ ساری زمینیں غنیمت حاصل کرنے والوں میں تقسیم کر دیتے، لیکن ہم نے تقسیم نہیں کی تو اب نصف یہ لے لیں اور نصف ہمیں دے دیں، یہ انتہا درجہ ہے، توجہ ہے؟ یہ انتہا ہے۔ وَالْبُسْتَانُ، اب بھئی متن میں بستان کا لفظ آیا تھا، اس کا معنیٰ بیان فرما رہے ہیں: وَالْبُسْتَانُ كُلُّ أَرْضٍ يَحُوطُهَا حَائِطٌ۔ حاط یحوط کا معنیٰ ہے گھیرنا اور حائط بھئی یہ دیوار کو کہتے ہیں۔ وَالْبُسْتَانُ كُلُّ أَرْضٍ، اور بستان جو ہے ہر ایسی زمین ہے، يَحُوطُهَا حَائِطٌ، جس کو کوئی دیوار گھیر لے، یعنی جس کے گرد کوئی دیوار ہو۔ وَفِيهَا نَخِيلٌ مُتَفَرِّقَةٌ، اور اس کے اندر متفرق کھجور کے درخت ہوں، وَأَشْجَارٌ أُخَرُ، اور دوسرے درخت ہوں۔ وَفِي دِيَارِنَا وَظَّفُوا، یہاں سے صاحبِ ہدایہ اپنے علاقے میں خراج کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں، کہ ہمارے علاقے میں خراج جو ہے وہ تمام زمینوں سے درہموں کے اندر ہی وصول کیا جاتا ہے۔ کس میں؟ درہموں میں، حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادنیٰ درجے کی زمینوں میں ایک صاع اور درہم مقرر فرمایا تھا، لیکن ہمارے ہاں سب سے درہموں میں ہی وصول کیا جاتا ہے۔ لیکن کہتے ہیں فقہاء نے اس کو اسی طرح رہنے دیا یعنی کسی نے اس کا رد نہیں کیا، کسی نے اس کا انکار نہیں کیا، اس لیے کیونکہ اصل اعتبار زمین کی طاقت کا ہے پھر جس صورت میں بھی اس کو ادا کر دیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَفِي دِيَارِنَا وَظَّفُوا مِنَ الدَّرَاهِمِ، اور ہمارے علاقوں کے اندر درہموں میں مقرر کیا ہے، فِي الْأَرَاضِي كُلِّهَا، تمام زمینوں میں، وَتُرِكَ كَذَلِكَ، اور اس کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا یعنی فقہاء میں سے کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا، لِأَنَّ التَّقْدِيرَ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ بِقَدْرِ الطَّاقَةِ، اس لیے کیونکہ مقرر کرنا وہ واجب ہے کہ وہ زمین کی طاقت کے بقدر ہو، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ كَانَ، جس چیز کے ذریعے بھی ہو لیکن زمین کی طاقت کے بقدر ہونا چاہیے۔ آگے دیکھیے: قَالَ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ مَا وُضِعَ عَلَيْهَا نَقَصَهُمُ الْإِمَامُ۔ بھئی زمین والوں پر خراج مقرر کیا گیا لیکن وہ خراج ان زمین والے آ کر کہتے ہیں یہ خراج ہمارے لیے زیادہ ہے۔ ہماری زمین اتنی پیداوار نہیں دیتی جتنا ہم پر خراج مقرر کیا گیا ہے، تو کیا امام خراج میں کمی کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں ہاں، امام خراج میں کمی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَإِنْ لَمْ تُطِقْ مَا وُضِعَ عَلَيْهَا، اگر وہ زمین طاقت نہیں رکھتی اس خراج کی جو اس پر مقرر کیا گیا ہے، نَقَصَهُمُ الْإِمَامُ، تو امام ان کے لیے اس کو کم کر دے گا۔ وَالنُّقْصَانُ عِنْدَ قِلَّةِ الرَّيْعِ جَائِزٌ بِالْإِجْمَاعِ، اور کمی کرنا عِنْدَ قِلَّةِ الرَّيْعِ، ریع بھئی یہ نفع اور فائدے کو کہتے ہیں اور یہاں مراد ہے پیداوار کیونکہ زمین کا نفع اور فائدہ کیا ہے؟ پیداوار، تو پیداوار کم ہو تو پھر خراج کم کیا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں: وَالنُّقْصَانُ عِنْدَ قِلَّةِ الرَّيْعِ، اور پیداوار کے کم ہونے کی صورت میں کمی کرنا، جَائِزٌ بِالْإِجْمَاعِ، یہ بالإجماع جائز ہے۔ أَلَا تَرَى إِلَى قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، کیا آپ دیکھتے نہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی طرف؟ بھئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ صحابہ کو بھیجا بھئی، عثمان ابن حنیف اور حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اور پھر یہ وہ خراج مقرر کر کے آئے۔ کہ ہم نے عام زمینوں پر ہم نے ایک صاع اور درہم مقرر کیا ہے، سبزیوں پر ہم نے پانچ درہم مقرر کیے ہیں اور گھنے باغات پر ہم نے دس درہم مقرر کیے ہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے فرمانے لگے: شاید تم نے زیادہ نہ مقرر کر دیا ہو، کہیں زمین میں اس کی طاقت ہی نہ ہو۔ کہتے ہیں: نہیں، بلکہ زمین میں جتنے کی طاقت تھی ہم نے وہ مقرر کیا ہے، بلکہ اگر ہم اس خراج کو بڑھانا چاہتے تو زمین اس کی بھی طاقت رکھتی تھی۔ معلوم ہوا اس وہ زمین اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتی تھی لیکن پھر بھی کم مقرر کیا گیا، معلوم ہوا کمی بالاتفاق جائز ہے۔ معلوم ہوا کمی بالاتفاق جائز ہے۔ کہتے ہیں: أَلَا تَرَى إِلَى قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، کیا آپ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی طرف نہیں دیکھتے کہ انہوں نے فرمایا: لَعَلَّكُمَا حَمَّلْتُمَا الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ، شاید تم نے زمین پر وہ بوجھ ڈال دیا ہو جس کی وہ زمین طاقت نہیں رکھتی، شاید تم نے زمین پر اتنا بوجھ ڈال دیا ہو کہ زمین اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ فَقَالَا، تو وہ دونوں یعنی حضرت عثمان ابن حنیف اور حضرت حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمانے لگے: لَا، کہ نہیں، بَلْ حَمَّلْنَاهَا مَا تُطِيقُ، بلکہ ہم نے اس زمین پر اتنا بوجھ ڈالا ہے جس کی وہ طاقت رکھتی ہے، وَلَوْ زِدْنَاهَا لَأَطَاقَتْ، اگر ہم اس زمین پر اور بھی خراج بڑھا دیتے تو زمین اس کی بھی طاقت رکھتی تھی۔ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ النُّقْصَانِ، اور یہ دلالت کرتا ہے کمی کے جائز ہونے پر۔ یعنی زمین اور بھی طاقت رکھتی تھی لیکن ہم نے اتنا مقرر نہیں کیا، معلوم ہوا کمی کرنا جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ النُّقْصَانِ، تو ان کا یہ قول جو ہے یہ کمی کے جائز ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ وَأَمَّا الزِّيَادَةُ عِنْدَ زِيَادَةِ الرَّيْعِ، اور باقی خراج کے اندر زیادتی کرنا پیداوار کی زیادتی کے وقت، بھئی اگر پیداوار زیادہ ہے تو خراج تو کم مقرر کیا جا سکتا ہے لیکن اگر پیداوار زیادہ ہو جائے تو کیا خراج بڑھایا جا سکتا ہے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہاں، خراج بڑھایا جا سکتا ہے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، خراج نہیں بڑھایا جا سکتا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر بھی دی گئی کہ اگر ہم اور بھی خراج مقرر کرنا چاہتے تو زمین اس کی بھی طاقت رکھتی تھی لیکن پھر بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خراج نہیں بڑھایا، معلوم ہوا اس سے زیادہ بڑھانا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا الزِّيَادَةُ عِنْدَ زِيَادَةِ الرَّيْعِ، اور باقی خراج کی زیادتی پیداوار کی زیادتی کے وقت، يَجُوزُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، یہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، اعْتِبَارًا بِالنُّقْصَانِ، کمی پر قیاس کرتے ہوئے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے کمی کرنا جائز ہے اسی طرح خراج کو بڑھانا بھی جائز ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے: اعْتِبَارًا بِالنُّقْصَانِ، کمی پر قیاس کرتے ہوئے۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے: لَا يَجُوزُ، کہ زیادتی جائز نہیں ہے، لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمْ يَزِدْ حِينَ أُخْبِرَ بِزِيَادَةِ الطَّاقَةِ، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور زیادہ نہیں کیا جب ان کو زیادہ طاقت کی خبر دی گئی، پھر بھی انہوں نے خراج کو نہیں بڑھایا، معلوم ہوا اس سے زیادہ بڑھانا جائز نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ غَلَبَ عَلَى أَرْضِ الْخَرَاجِ الْمَاءُ أَوْ انْقَطَعَ الْمَاءُ عَنْهَا أَوْ اسْطَلَمَ الزَّرْعَ آفَةٌ فَلَا خَرَاجَ عَلَيْهِ۔ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے کہ کن چیزوں کی وجہ سے خراج ساقط ہوگا اور کن چیزوں کی وجہ سے خراج ساقط نہیں ہوگا۔ یاد رکھو، آپ کو بتلائیں گے کہ اگر زمین پر پانی غالب آ گیا، یعنی بعض زمینیں آپ جانتے ہیں ان میں سیم آ جاتا ہے، زمین کے اندر پانی زیادہ ہو جائے اوپر سطح کے قریب آنے لگتا ہے اور پھر اس زمین پر نمکیات بھی بہت زیادہ پھیل جاتے ہیں سفید رنگ کے بھئی، تو اگر زمین اس طرح ہو جائے کہ اس پر پانی آ گیا ہے، یا دوسری صورت ہے پانی بالکل ہی اس زمین سے کٹ گیا بھئی اور پیداوار ختم ہو جائے اب اس زمین سے پیداوار نہیں حاصل ہوتی، تو اس صورت میں یاد رکھو خراج بھی ساقط ہو جائے گا۔ یا اسی طرح زمین سے پیداوار تو حاصل ہوتی ہے لیکن کوئی قدرتی آفت آئی اور پیداوار ضائع ہو گئی، تباہ ہو گئی، مثلاً فصل کاشت کی تھی لیکن شدید بارش ہوئی ساری فصل خراب ہو گئی یا اولے پڑے اور ساری فصل خراب ہو گئی، تو اس صورت کے اندر بھی خراج ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ غَلَبَ عَلَى أَرْضِ الْخَرَاجِ الْمَاءُ، اور اگر خراجی زمین پر پانی غالب آ گیا، أَوْ انْقَطَعَ الْمَاءُ عَنْهَا، یا خراجی زمین سے پانی منقطع ہو گیا، کٹ گیا، أَوْ اسْطَلَمَ الزَّرْعَ آفَةٌ، اصطلم یصطلم کے معنیٰ ہیں تباہ کرنا، ختم کرنا، أَوْ اسْطَلَمَ الزَّرْعَ، یا اس فصل کو تباہ کر دیا، آفَةٌ، کسی آفت نے، فَلَا خَرَاجَ عَلَيْهِ، تو اس صورت میں اس پر کوئی خراج نہیں ہوگا۔ لِأَنَّهُ فَاتَ التَّمَكُّنُ مِنَ الزِّرَاعَةِ، بھئی یاد رکھو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ عشر کے اندر حقیقی پیداوار حاصل ہوگی تو اس میں سے دسواں حصہ دیا جائے گا اور اگر محنت اور خرچہ زیادہ ہے تو پھر نصفِ عشر دیا جائے گا۔ تو عشر کے اندر حقیقی پیداوار کا حاصل ہونا ضروری ہے عشر کے لیے۔ جبکہ خراج کے اندر پیداوار کو نہیں دیکھیں گے پیداوار پر قدرت کو دیکھیں گے، یعنی کاشت پر قدرت کو دیکھیں گے، اگر ایک آدمی ایک زمین پر کاشت کرنے پر قادر ہے تو پھر اس زمین پر خراج آئے گا، چاہے وہ آدمی کچھ کاشت کرے یا نہ کرے، ہر حال میں خراج آئے گا۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا کہ خراج کے اندر حقیقی پیداوار کا اعتبار نہیں ہے بلکہ پیداوار پر قدرت کا اعتبار ہے۔ پیداوار پر، یا یوں کہو تقدیری پیداوار کا اعتبار ہے۔ کس کا؟ عشر میں حقیقی پیداوار اور خراج میں تقدیری پیداوار، یعنی پیداوار کو فرض کیا جا سکے۔ تقدیر کا کیا معنیٰ؟ قدر یقدر تقدیر کا معنیٰ فرض کرنا، یعنی پیداوار کو فرض کیا جا سکے ایسی زمین ہے کہ اس سے پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے تو اس پر خراج آئے گا چاہے اس سے پیداوار حاصل کرے وہ شخص یا حاصل نہ کرے، اسے خراج دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ فَاتَ التَّمَكُّنُ مِنَ الزِّرَاعَةِ، اس لیے کیونکہ کاشت پر قدرت فوت ہو گئی۔ تمکن کا معنیٰ؟ قادر ہونا۔ لِأَنَّهُ فَاتَ التَّمَكُّنُ مِنَ الزِّرَاعَةِ، اس لیے کیونکہ کاشت پر قدرت فوت ہو گئی۔ زمین کا پانی بالکل ہی خشک ہو گیا یا زمین پر پانی زیادہ آ گیا اب اس میں فصل کاشت ہو ہی نہیں سکتی، یا کوئی آفت آئی تو ساری فصل تباہ ہو گئی، تو اس صورت میں کاشت پر قدرت یعنی پیداوار پر قدرت ختم ہو گئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ فَاتَ التَّمَكُّنُ مِنَ الزِّرَاعَةِ، اس لیے کیونکہ زراعت پر قدرت فوت ہو گئی بھئی۔ زراعت پر قدرت، توجہ ہے یہ عبارت پر نظر رکھنا، زراعت پر یعنی کاشت پر قدرت فوت ہو گئی۔ کاشت پر قدرت یہ کسے کہتے ہیں؟ کاشت پر قدرت، کہتے ہیں: وَهُوَ النَّمَاءُ التَّقْدِيرِيُّ الْمُعْتَبَرُ فِي الْخَرَاجِ، وَهُوَ النَّمَاءُ التَّقْدِيرِيُّ، وہ پیداوار ہے، نماء افزائش اور بڑھوتری اور زمین میں کیا بڑھوتری ہوتی ہے، کیا افزائش ہوتی ہے؟ فصل کی، تو یہ پیداوار مراد ہے۔ کہتے ہیں: وَهُوَ النَّمَاءُ التَّقْدِيرِيُّ، اور وہ تقدیری نماء ہے، تقدیری پیداوار ہے، الْمُعْتَبَرُ فِي الْخَرَاجِ، جو خراج میں معتبر ہے۔ وہ تقدیری پیداوار یعنی وہ فرضی پیداوار یوں کہو، وہ فرضی پیداوار جو خراج میں معتبر ہے۔ خراج میں حقیقی پیداوار کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ فرضی پیداوار کو دیکھا جائے گا، اور فرضی پیداوار کسے کہیں گے؟ کہ جب کاشت پر قدرت ہے، جب کاشت پر قدرت ہے تو گویا پیداوار بھی حاصل ہے، جب پیداوار حاصل ہے تو خراج دینا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ النَّمَاءُ التَّقْدِيرِيُّ الْمُعْتَبَرُ فِي الْخَرَاجِ، اور وہ تقدیری پیداوار ہے، الْمُعْتَبَرُ فِي الْخَرَاجِ، جو خراج کے اندر معتبر ہے۔ وَفِيمَا إِذَا اسْطَلَمَ الزَّرْعَ آفَةٌ، ہاں یوں کریں یہ جو پہلے دلیل ذکر کی، پہلے دلیل ذکر کی: لِأَنَّهُ فَاتَ التَّمَكُّنُ مِنَ الزِّرَاعَةِ، اس لیے کیونکہ کاشت پر قدرت فوت ہو گئی، وَهُوَ النَّمَاءُ التَّقْدِيرِيُّ الْمُعْتَبَرُ فِي الْخَرَاجِ، اور کاشت پر قدرت وہ تقدیری پیداوار ہے جس کا خراج میں اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کو جوڑیں صرف پہلی دو صورتوں سے، جب زمین پر پانی بڑھ گیا یا زمین سے پانی منقطع ہو گیا تو اب یہاں پر فرضی پیداوار حاصل نہیں، پیداوار ہو ہی نہیں سکتی یہاں پر تو فرضی پیداوار بھی یہاں نہیں ہو سکتی اور اسی کا تو اعتبار ہے۔ اور آفت کی وجہ سے فصل تباہ ہو گئی اس کی دلیل اب آگے ذکر کر رہے ہیں۔ وَفِيمَا إِذَا اسْطَلَمَ الزَّرْعَ آفَةٌ، اور اس صورت میں کہ جب کھیتی کو، فصل کو آفت نے تباہ کر دیا، فَاتَ النَّمَاءُ التَّقْدِيرِيُّ فِي بَعْضِ الْحَوْلِ، اس کے اندر وہ تقدیری نماء جو تقدیری پیداوار جو ہے وہ فوت ہو گئی فِي بَعْضِ الْحَوْلِ، بعض سال کے اندر، حول کا معنیٰ سال۔ جب بھئی کھیتی تباہ ہو گئی تو سال کے کچھ حصے کے اندر تقدیری نماء ختم ہو گئی، تقدیری نماء نہ رہی بھئی۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَفِيمَا إِذَا اسْطَلَمَ الزَّرْعَ آفَةٌ، اور اس صورت کے اندر کہ جب اس فصل کو آفت نے تباہ کر دیا، فَاتَ النَّمَاءُ التَّقْدِيرِيُّ فِي بَعْضِ الْحَوْلِ، تو سال کے کچھ حصے کے اندر وہ نمائے تقدیری فوت ہو گئی، وَكَوْنُهُ نَامِيًا فِي جَمِيعِ الْحَوْلِ شَرْطٌ، اور اس زمین کا نامی ہونا سارے سال کے اندر یہ شرط ہے۔ خراج اسی زمین پر آئے گا جو زمین سارا سال نامی ہو یعنی پیداوار دینے والی ہو۔ تو اس زمین کا سارے سال کے اندر نامی ہونا شرط ہے، كَمَا فِي مَالِ الزَّكَاةِ، جیسے کہ مالِ زکوٰۃ کے اندر ہے۔ زکوٰۃ بھی اسی مال پر آئے گی جو سارا سال نامی رہے، جو سارا سال نامی رہے۔ بھئی دیکھیے زکوٰۃ آتی ہے، زکوٰۃ آتی ہے سونے، چاندی پر، کرنسی پر اور اسی طرح مالِ تجارت پر، مالِ تجارت پر۔ اور اسی طرح یاد رکھو کسی کے ذمے قرضہ ہے اس سے لینا ہے یا دینا ہے اس کو بھی حساب کیا جائے گا مال کے اندر۔ تو بہرحال زکوٰۃ آتی ہے سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت کے اندر۔ اب ایک آدمی نے ایک گاڑی خریدی ہے بیچنے کی نیت سے، تو اس پر جب سال پورا ہوگا تو اس کی بھی زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی کیونکہ اس نے تجارت کی نیت سے خریدی ہے یہ مالِ تجارت ہے۔ لیکن کچھ مہینے گزرے اور پھر اس کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ بس یہ میں خود ہی استعمال کرتا ہوں، تو اس گاڑی پر سے زکوٰۃ ساقط ہو گئی۔ اس گاڑی پر سے زکوٰۃ ساقط ہو گئی کیونکہ اب یہ مالِ نامی نہ رہا۔ زکوٰۃ کس پر آتی ہے؟ مالِ نامی پر اور مالِ نامی چار چیزیں ہو گئیں: سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت، اور اب یہ مالِ تجارت نہ رہا، جب مالِ تجارت نہیں تو یہ مالِ نامی نہیں ہے، یہ تو استعمال کے اندر آ رہا ہے، اس کے ذریعے کوئی مال نہیں بڑھ رہا۔ توجہ ہے؟ لہٰذا زکوٰۃ کے اندر بھی سارا سال مال کا نامی ہونا شرط ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ زمین کا نامی ہونا سارے سال کے اندر شرط ہے، كَمَا فِي مَالِ الزَّكَاةِ، جیسے کہ مالِ زکوٰۃ کے اندر ہے کہ اس کے اندر بھی اس مال کا سارا سال نامی ہونا شرط ہے، أَوْ يُدَارُ الْحُكْمُ عَلَى الْحَقِيقَةِ عِنْدَ خُرُوجِ الْخَارِجِ، دوسری دلیل دے رہے ہیں، یا حکم کا مدار حقیقی پیداوار پر ہوگا جب پیداوار پائی جائے۔ بھئی خراج کے اندر، خراج کے اندر دارومدار حقیقی پیداوار پر ہے یا تقدیری پیداوار پر ہے؟ خراج کے اندر تقدیری پیداوار پر ہے۔ توجہ ہے؟ بھئی میں نے آپ کو بتلایا ایک شخص کے پاس خراجی زمین ہے، وہ چاہے سارا سال اس پر کچھ بھی نہ کاشت کرے تو کوتاہی اس آدمی کی طرف سے پائی گئی ہے، یہ زمین تو کاشت کے قابل تھی لہٰذا اس کو پھر بھی خراج ادا کرنا پڑے گا۔ معلوم ہوا خراج کے اندر حقیقی پیداوار کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ پیداوار پر قدرت کو دیکھا جائے گا، یعنی یوں کہو نمائے تقدیری کو دیکھا جائے گا، کس کو؟ نمائے تقدیری کو دیکھا جائے گا، اور یہ نمائے تقدیری یہ قائم مقام ہے نمائے حقیقی کے، حقیقت میں جو پیداوار ہوتی ہے زمین سے۔ توجہ ہے؟ تو نمائے حقیقی یعنی زمین سے باقاعدہ پیداوار حاصل ہو یہ ہے اصل، لیکن یہاں اصل کا اعتبار نہیں کیا بلکہ نمائے تقدیری کا اعتبار کیا۔ تو یہ نمائے تقدیری یہ کس کے قائم مقام ہے؟ نمائے حقیقی کے قائم مقام ہے، اور جب نمائے حقیقی خود آ گئی، زمین نے پیداوار دے دی تو اب اسی کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی اصل کا ہی اعتبار کیا جائے گا۔ لیکن اصل کو تو آفت نے تباہ کر دیا لہٰذا اب اس پر خراج نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ پھر سمجھیں۔ بھئی دیکھو خراج کے اندر تقدیری پیداوار کو دیکھا جاتا ہے لیکن صاحبِ ہدایہ دوسرے انداز میں دلیل دے رہے ہیں کہ یہاں پر آفت آئی، فصل ختم تو خراج بھی ختم۔ بھئی خراج کس طرح ختم؟ کہتے ہیں دیکھو یہ جو تقدیری نماء کا ہم نے اعتبار کیا تھا وہ کس کے قائم مقام تھی؟ حقیقی پیداوار کے، تو جب خود حقیقی پیداوار موجود ہو تو پھر اسی کا اعتبار کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ اصل ہے، تو جب اصل کا اعتبار کیا گیا تو اصل تو فوت ہو گئی آفت کی وجہ سے لہٰذا خراج بھی ساقط ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے: أَوْ يُدَارُ الْحُكْمُ عَلَى الْحَقِيقَةِ، یا اس خراج کے حکم کا مدار ہوگا حقیقی پیداوار پر، عِنْدَ خُرُوجِ الْخَارِجِ، پیداوار کے نکلتے وقت، خارج سے کیا مراد ہے؟ پیداوار۔ عِنْدَ خُرُوجِ الْخَارِجِ، جب پیداوار نکلے یعنی جب پیداوار حاصل ہو رہی ہے تو اس وقت حقیقی پیداوار کا اعتبار کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَإِنْ عَطَّلَهَا صَاحِبُهَا فَعَلَيْهِ الْخَرَاجُ۔ وَإِنْ عَطَّلَهَا، اور اس زمین کو اگر مالک نے ویسے ہی بیکار چھوڑ دیا، عطل یعطل تعطیل کا کیا معنیٰ ہے؟ بیکار چھوڑ دینا۔ تو مالک نے زمین کو ویسے ہی بیکار چھوڑ دیا، اس پر فصل ہی کاشت نہ کی تو یہ اس کی کوتاہی ہے بھئی، لہٰذا اس کو خراج پھر بھی دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَإِنْ عَطَّلَهَا صَاحِبُهَا، اور اگر اس زمین کو زمین کے مالک نے ویسے ہی بیکار چھوڑ دیا، فَعَلَيْهِ الْخَرَاجُ، تو اس پر خراج واجب ہوگا، لِأَنَّ التَّمَكُّنَ كَانَ ثَابِتًا، اس لیے کیونکہ قدرت جو ہے ثابت تھی، یہاں زمین پر کاشت کرنے پر اس کو قدرت حاصل تھی بھئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّمَكُّنَ كَانَ ثَابِتًا، اس لیے کیونکہ اس کی قدرت زراعت پر وہ ثابت تھی، وَهُوَ الَّذِي فَوَّتَهُ، اور یہ شخص ہی ہے جس نے اس قدرت کو فوت کر دیا، اس نے کوئی پیداوار حاصل نہیں کی یہ اس کی کوتاہی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ الَّذِي فَوَّتَهُ، اور یہ شخص ہی وہ ہے جس نے اس قدرت کو فوت کیا ہے۔ قَالُوا، فقہاء فرماتے ہیں: مَنِ انْتَقَلَ إِلَى أَخَسِّ الْأَمْرَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، کہ جو شخص منتقل ہو گیا دو امروں میں سے ادنیٰ کی طرف، اخس کا معنیٰ جو زیادہ گھٹیا ہے، زیادہ ادنیٰ ہے۔ مثلاً ایک آدمی کی زمین ہے اس سے زعفران حاصل ہو سکتا ہے اور زعفران وہ تو قیمتی چیز ہے بھئی، لیکن اس نے زعفران کے بجائے عام فصل کاشت کر لی تو کہتے ہیں اس سے پھر بھی زعفران والا خراج ہی وصول کیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ کیونکہ زمین تو اعلیٰ تھی یہ کوتاہی اس کی طرف سے ہے کہ اس نے عام چیز اس میں کاشت کی ہے بھئی۔ تو: قَالُوا، فقہاء فرماتے ہیں: مَنِ انْتَقَلَ إِلَى أَخَسِّ الْأَمْرَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، کہ جو شخص بغیر عذر کے دو چیزوں میں سے زیادہ گھٹیا چیز کی طرف منتقل ہو گیا، فَعَلَيْهِ الْخَرَاجُ الْأَعْلَى، تو اس پر اعلیٰ خراج واجب ہوگا، لِأَنَّهُ هُوَ الَّذِي ضَيَّعَ الزِّيَادَةَ، اس لیے کیونکہ یہ شخص ہی ہے جس نے زیادتی کو ضائع کر دیا۔ وَهَذَا يُعْرَفُ وَلَا يُفْتَى بِهِ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ جانا تو جائے گا، جو شخص دو چیزوں میں سے ادنیٰ چیز کی طرف بلا وجہ بغیر عذر کے منتقل ہو گیا تو اس سے اعلیٰ خراج وصول کیا جائے گا، تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ مسئلہ جانا تو جائے گا لیکن اس کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ جو ٹیکس وصول کرنے والے ہیں جیسے آج کل آپ دیکھتے ہیں بڑا ظلم کرتے ہیں لوگوں پر بھئی، تو اگر ان لوگوں کو آپ یہ مسئلہ بتا دیں گے پھر تو وہ لوگوں پر اور زیادہ ظلم کریں گے، وہ تو عام زمین بھی ہوگی لوگوں کو کہیں گے تمہاری اعلیٰ زمین تھی لہٰذا تمہیں اعلیٰ خراج دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا يُعْرَفُ، اس بات کو جانا تو جائے گا، وَلَا يُفْتَى بِهِ، لیکن اس کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا، كَيْ لَا يَتَجَرَّأَ الظَّلَمَةُ، تاکہ کہیں ظالم لوگ جرأت نہ کریں، عَلَى أَخْذِ أَمْوَالِ النَّاسِ، لوگوں کے مال لینے پر۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْخَرَاجِ أُخِذَ مِنْهُ الْخَرَاجُ عَلَى حَالِهِ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کافر کی زمین پر خراج آتا ہے لیکن اگر اس کو کوئی مسلمان خرید لے تو اس سے بھی خراج ہی وصول کریں گے۔ اسی طرح اگر وہ کافر مسلمان ہو گیا پھر بھی اس کی زمین پر ایک دفعہ خراج مقرر ہے تو اس کو خراج ہی ادا کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْخَرَاجِ، اور خراج والوں میں سے جو شخص مسلمان ہو گیا، أُخِذَ مِنْهُ الْخَرَاجُ عَلَى حَالِهِ، تو اس سے خراج لیا جائے گا علیٰ حالہ اسی حالت پر، لِأَنَّ فِيهِ مَعْنَى الْمُؤْنَةِ، اس لیے کیونکہ خراج کے اندر مؤنت کا معنیٰ ہے۔ یاد رکھو، خراج کے اندر سزا کا بھی پہلو ہے اور خراج کے اندر مؤنت یعنی مشقت اور خرچے کا بھی پہلو ہے۔ مؤنت کا معنیٰ ہوتا ہے بوجھ بھئی، بوجھ یا اسی طرح کسی کا خرچہ اٹھانا۔ جیسے دیکھو، باپ پر اپنی نابالغ اولاد کا خرچہ شریعت نے ڈالا ہے تو یوں کہیں گے کہ شریعت نے بچوں کی مؤنت جو ہے باپ پر ڈالی ہے۔ تو مؤنت کا کیا معنیٰ کر لیں یہاں؟ خرچہ اٹھانا، کسی چیز کا خرچہ جو ہے۔ تو خراج کے اندر سزا والا پہلو بھی ہے اور نیز اس میں خرچہ اٹھانے والا پہلو بھی ہے کہ یہ زمین تمہاری ہے تو اس کا خرچہ بھی تمہیں اٹھانا پڑے گا جیسے اولاد جس شخص کی ہو خرچہ بھی اسی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ فِيهِ مَعْنَى الْمُؤْنَةِ، اس لیے کیونکہ خراج کے اندر جو ہے خرچہ اٹھانے والا معنیٰ بھی ہے، فَيُعْتَبَرُ مُؤْنَةً فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ، تو خرچہ اٹھانے کا ہی اعتبار کیا جائے گا بقا کی حالت میں۔ بقا کی حالت میں خرچہ اٹھانے کا اعتبار کیا جائے گا، سزا کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ مسلمان تو سزا کا اہل نہیں ہے بھئی۔ تو: فَيُعْتَبَرُ مُؤْنَةً فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ، تو خرچہ اٹھانے کا اعتبار کیا جائے گا بقا کی حالت میں، فَأَمْكَنَ إِبْقَاؤُهُ عَلَى الْمُسْلِمِ، تو لہٰذا خراج کو باقی رکھنا ممکن ہے مسلمان پر۔ مسلمان پر خراج کو باقی رکھنا ممکن ہے بطورِ سزا کے نہیں بلکہ بطورِ خرچے کے بھئی۔ بھئی ایک ضابطہ آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں دو چار صفحے قبل گزرا تھا کہ ایک ہے تاکید اور ایک ہے ابتداء، تاکید آسان ہے ابتداء کے معاملہ میں، اس لیے کیونکہ ابتداء کے اندر ایک نیا حکم ثابت کرنا پڑے گا اور تاکید کے اندر وہی حکم جو پہلے سے ثابت ہے اسی کو پختہ قرار دے دیا جائے گا، اسی کو پکا قرار دے دیا جائے گا، تو تاکید آسان ہے ابتداء کے مقابلے میں۔ اور یہاں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا: فَأَمْكَنَ إِبْقَاؤُهُ عَلَى الْمُسْلِمِ، تو اس سے ایک اور ضابطہ سمجھ میں آ گیا کہ ایک ہے بقاء اور ایک ہے ابتداء، بقاء آسان ہے ابتداء کے مقابلے میں۔ ابتداءً یعنی اگر یہ شخص مسلمان ہوا ہے اور اب آپ اس کی زمینوں پر عشر واجب کرنا چاہتے ہیں تو یہ تو ہے ایک نئی چیز کی آپ ابتداء کر رہے ہیں، اور ایک چیز پہلے سے موجود ہے اسی کو باقی رکھا جائے تو بقاء آسان ہے کس کے مقابلے میں؟ ابتداء کے مقابلے میں، تو یہاں اس لیے بقاء پر عمل کیا جائے گا۔ تو یہ معنیٰ ہے: فَأَمْكَنَ إِبْقَاؤُهُ عَلَى الْمُسْلِمِ، تو خراج کو باقی رکھنا ممکن ہے مسلمان پر۔ وَيَجُوزُ أَنْ يَشْتَرِيَ الْمُسْلِمُ أَرْضَ الْخَرَاجِ مِنَ الذِّمِّيِّ، اور یہ بھی جائز ہے کہ مسلمان خراجی زمین ذمی سے خرید لے، وَيُؤْخَذُ مِنْهُ الْخَرَاجُ لِمَا قُلْنَا، اور اس مسلمان سے پھر خراج لیا جائے گا لِمَا قُلْنَا اس وجہ سے جو ہم نے کہا کہ خراج کے اندر خرچہ اٹھانے والا معنیٰ بھی ہے تو اس اعتبار سے اس مسلمان پر بھی اس زمین کا خرچہ آئے گا۔ وَقَدْ صَحَّ، اور تحقیق یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے، أَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمُ، کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو ہیں، اشْتَرَوْا أَرَاضِيَ الْخَرَاجِ، انہوں نے خراجی زمینوں کو خریدا۔ یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے خراجی زمینوں کو خریدا، وَكَانُوا يُؤَدُّونَ خَرَاجَهَا، اور وہ اس کا خراج ادا کیا کرتے تھے، فَدَلَّ عَلَى جَوَازِ الشِّرَاءِ وَأَخْذِ الْخَرَاجِ وَأَدَائِهِ لِلْمُسْلِمِ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ۔ فدل، تو اس بات نے دلالت کر دی، عَلَى جَوَازِ الشِّرَاءِ، اس بات پر کہ مسلمان کے لیے خراجی زمین خریدنا جائز ہے، وَأَخْذِ الْخَرَاجِ، اور اس نے دلالت کر دی کہ خراج کا لینا جائز ہے، وَأَدَائِهِ لِلْمُسْلِمِ، اور اس نے اس بات پر دلالت کر دی کہ مسلمان کا خراج کو ادا کرنا جائز ہے، مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ، بغیر کسی کراہت کے۔ یہ تو میں لفظی ترجمہ کر رہا تھا اب با محاورہ ترجمہ سنیے، کہتے ہیں: فَدَلَّ عَلَى جَوَازِ الشِّرَاءِ وَأَخْذِ الْخَرَاجِ وَأَدَائِهِ لِلْمُسْلِمِ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ، کہ خریدنا اور خراج لینا اور مسلمان کا خراج ادا کرنا جائز ہے بغیر کسی کراہت کے۔ توجہ ہے؟ یعنی مسلمان کا خراجی زمین کو خریدنا یا اس سے خراج لینا اور مسلمان کا خراج کو ادا کرنا یہ بغیر کراہت کے جائز ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو یہاں آیا: وَأَخْذِ الْخَرَاجِ وَأَدَائِهِ لِلْمُسْلِمِ، بھئی یہ دونوں الگ چیزیں ہیں، خراج لینا یہ امام کا کام ہے اور خراج ادا کرنا یہ مسلمان کا کام ہے۔ تو: فَدَلَّ عَلَى جَوَازِ الشِّرَاءِ وَأَخْذِ الْخَرَاجِ وَأَدَائِهِ لِلْمُسْلِمِ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ، تو خریدنا اور اسی طرح خراج کا لینا اور مسلمان کا خراج کو ادا کرنا بغیر کسی کراہت کے، اس پر اس بات نے دلالت کر دی بھئی۔ آگے دیکھیے: وَلَا عُشْرَ فِي الْخَارِجِ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ۔ اچھا بھئی خراجی زمین پر سال میں ایک ہی مرتبہ خراج آئے گا، تو کیا خراجی زمین سے جو پیداوار حاصل ہوگی اس میں سے عشر دیا جائے گا یا نہیں؟ تو یاد رکھو عند الاحناف عشر نہیں دیا جائے گا کیونکہ جب خراج آ گیا تو اب عشر وصول نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، خراجی زمین والے کو بھی عشر ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا عُشْرَ فِي الْخَارِجِ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ، اور عشر نہیں ہے فِي الْخَارِجِ پیداوار میں مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ خراجی زمین سے، خراجی زمین سے جو پیداوار ہے اس میں عشر نہیں ہے۔ کہتے ہیں: وَلَا عُشْرَ فِي الْخَارِجِ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ، خراجی زمین کی پیداوار میں عشر نہیں ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو جمع کیا جائے گا یعنی عشر اور خراج کو دونوں ادا کیے جائیں گے، لِأَنَّهُمَا حَقَّانِ مُخْتَلِفَانِ وَجَبَا فِي مَحَلَّيْنِ بِسَبَبَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو خراج ہے، خراج اور عشر یہ ذات کے اعتبار سے بھی الگ ہیں، محل کے اعتبار سے بھی الگ ہیں، سبب کے اعتبار سے بھی الگ ہیں اور مصرف کے اعتبار سے بھی الگ ہیں لہٰذا دونوں واجب ہوں گے۔ دونوں ذات کے اعتبار سے ہی الگ ہیں، خراج میں سزا کا پہلو ہے اور عشر میں عبادت کا پہلو ہے بھئی، اور نیز محل بھی دونوں کا الگ الگ ہے، خراج جو ہے وہ مالک کے ذمے ہوتا ہے اور عشر جو ہے وہ پیداوار میں ہوتا ہے بھئی۔ خراج کس پر؟ مالک کے ذمے اور عشر پیداوار میں سے نکالا جاتا ہے۔ اور دونوں کے سبب بھی الگ الگ ہیں بھئی، سبب بھی الگ الگ ہیں اس لیے کیونکہ عشر کا جو سبب ہے وہ ارضِ نامی ہے جو حقیقتاً پیداوار دے، وہ ارضِ نامی ہے وہ پیداوار دینے والی زمین جو حقیقتاً پیداوار دے یہ ہے عشر کا سبب، اور خراج کا جو سبب ہے وہ ارضِ نامی ہے کہ جس سے پیداوار حاصل کرنے پر قدرت ہو بھئی۔ تو عشر کا سبب کیا؟ وہ ارضِ نامی جس سے حقیقی پیداوار حاصل ہو، اور خراج کا سبب وہ ارضِ نامی جس میں پیداوار حاصل کرنے پر قدرت ہو، تو دونوں کے سبب بھی الگ الگ ہیں۔ اور نیز دونوں کے مصرف بھی الگ الگ ہیں، عشر جو ہے وہ فقراء پر خرچ کیا جاتا ہے، اس کا مصرف کیا ہے؟ فقراء، جیسے زکوٰۃ فقراء کو دی جاتی ہے عشر بھی فقراء کو دیا جاتا ہے۔ اور خراج؟ خراج جو ہے وہ تو تمام مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے جیسے کہ مالِ فئے ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو دونوں کے مصرف بھی الگ، تو ذات کے اعتبار سے بھی دونوں الگ کیونکہ ایک میں سزا کا پہلو ہے اور ایک میں عبادت کا، اور محل کے اعتبار سے بھی دونوں الگ کیونکہ عشر جو ہے وہ پیداوار پر ہوتا ہے اور خراج مالک کے ذمے ہوتا ہے، اور سبب کے اعتبار سے بھی دونوں الگ کیونکہ عشر کے اندر حقیقی پیداوار کو دیکھا جاتا ہے اور خراج کے اندر پیداوار پر قدرت کو دیکھا جاتا ہے، اور نیز مصرف کے اعتبار سے بھی دونوں الگ ہیں، عشر کا مصرف جو ہیں وہ فقراء ہیں اور خراج کا مصرف جو ہیں وہ تمام مسلمان ہیں یعنی ان کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا، اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو جمع کیا جائے گا یعنی عشر اور خراج کو، لِأَنَّهُمَا حَقَّانِ مُخْتَلِفَانِ، اس لیے کیونکہ یہ دو مختلف حق ہیں، ذات کے اعتبار سے بھی مختلف اور مصرف کے اعتبار سے بھی مختلف، اس لیے کیونکہ یہ دونوں مختلف حق ہیں، وَجَبَا فِي مَحَلَّيْنِ، جو واجب ہوئے ہیں دو محلوں میں، ان کا دونوں کا محل الگ الگ ہے، عشر کا محل وہ پیداوار ہے اور خراج کا محل مالک کا ذمہ ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُمَا حَقَّانِ مُخْتَلِفَانِ، اس لیے کیونکہ عشر اور خراج دو ایسے مختلف حق ہیں، وَجَبَا فِي مَحَلَّيْنِ، جو دو الگ الگ جگہوں کے اندر واجب ہوئے ہیں، بِسَبَبَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، دو مختلف سببوں کی وجہ سے کہ دونوں کا سبب بھی الگ الگ ہے، فَلَا يَتَنَافَيَانِ، لہٰذا یہ باہم متنافی نہیں ہوں گے یعنی ایک کی وجہ سے دوسرا منتفی نہیں ہوگا، دونوں واجب ہوں گے۔ فَلَا يَتَنَافَيَانِ، تو یہ دونوں متنافی نہیں ہوں گے۔ وَلَنَا، اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے: قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قولِ مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لَا يَجْتَمِعُ عُشْرٌ وَخَرَاجٌ فِي أَرْضِ مُسْلِمٍ“، کہ عشر اور خراج جمع نہیں ہو سکتے مسلمان کی زمین میں۔ حدیث میں آ گیا کہ مسلمان کی زمین میں عشر اور خراج جمع نہیں ہو سکتے۔ وَلِأَنَّ أَحَدًا مِنْ أَئِمَّةِ الْعَدْلِ وَالْجَوْرِ لَمْ يَجْمَعْ بَيْنَهُمَا، عدل کا معنیٰ ہے انصاف، جور بھئی ج، و، ر، جور کہتے ہیں ظلم کو، ظلم۔ صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ جو عدل و انصاف اور ظلم کے ائمہ گزرے ہیں ان میں سے بھی کسی نے دونوں کو جمع نہیں کیا۔ عدل و انصاف کے جو امام اور بادشاہ گزرے ہیں اور ظلم کے جو امام گزرے ہیں ان میں سے کسی نے بھی ان دونوں کو جمع نہیں کیا۔ محشی حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے حضرت عمر ابن عبد العزیز رحمہ اللہ سے پہلے کے خلفاء۔ حضرت عمر ابن، حضرت عمر ابن عبد العزیز رحمہ اللہ ان سے ماقبل کے خلفاء مراد ہیں کیونکہ خود حضرت عمر ابن عبد العزیز نے دونوں کو جمع فرمایا تھا۔ عزیز نے دونوں کو جمع فرمایا تھا، تو یہاں جو آیا کہ وہ ائمہ جو عدل اور ظلم والے ہیں تو حضرت عمر بن عبد العزیز سے پہلے کے خلفاء مراد ہیں، تو ان سے ماقبل کے جتنے خلفاء گزرے ہیں وہ سب اس کے اندر آ گئے۔ تو ان میں سے بعض عدل و انصاف والے تھے، بعض کچھ ظلم بھی کرنے والے تھے، تو جتنے بھی بہرحال خلفاء گزرے کسی نے دونوں کو جمع نہیں کیا۔ معلوم ہوا ان کا اجماع تھا اس بات پر کہ دونوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا۔ اور بعد میں حضرت عمر بن عبد العزیز نے اگرچہ دونوں کو جمع کر دیا، لیکن بعد والا، لیکن بعد والے کا اختلاف کرنا بھی ماقبل والوں کے اجماع کو نہیں توڑ سکتا بھئی۔ توجہ ہے؟ تو یہ معنی ہے۔ ”وَلِأَنَّ أَحَدًا مِنْ أَئِمَّةِ الْعَدْلِ وَالْجَوْرِ“ اور اس لیے کہ انصاف اور ظلم والے اماموں میں سے کسی ایک نے بھی ”لَمْ يَجْمَعْ بَيْنَهُمَا“ ان دونوں کو جمع نہیں فرمایا ”وَكَفَى بِإِجْمَاعِهِمْ حُجَّةً“ اور ان کا اجماع کافی ہے حجۃً دلیل ہونے کے اعتبار سے، ان کا اجماع کافی ہے دلیل ہونے کے اعتبار سے، یعنی یہی دلیل کافی ہے بھئی۔ ”وَلِأَنَّ الْخَرَاجَ يَجِبُ فِي أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً وَقَهْرًا“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْخَرَاجَ يَجِبُ فِي أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً وَقَهْرًا“ اور اس لیے کیونکہ خراج جو ہے اس زمین کے اندر واجب ہوتا ہے جس کو زورِ بازو سے اور غلبے کے ذریعے فتح کیا جائے ”وَالْعُشْرَ فِي أَرْضٍ أَسْلَمَ أَهْلُهَا طَوْعًا“ اور عشر اس زمین میں واجب ہوتا ہے کہ جس کے رہنے والے خوشی سے مسلمان ہو جائیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعُشْرَ فِي أَرْضٍ أَسْلَمَ أَهْلُهَا طَوْعًا“ اور عشر اس زمین میں ہوتا ہے جس کے رہنے والے خوشی سے یعنی اپنی مرضی سے مسلمان ہو جائیں ”وَالْوَصْفَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ“ اور یہ دونوں وصف ایک زمین میں جمع نہیں ہو سکتے کہ اس کو قوتِ بازو سے بھی فتح کیا گیا ہو اور اس کے رہنے والے خوشی سے مسلمان بھی ہو گئے ہوں بھئی۔ ایسا نہیں ہو سکتا، ایک وقت میں ایک ہی چیز ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَصْفَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ“ اور یہ دونوں وصف جو ہیں ایک زمین کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔ ”وَسَبَبُ الْحَقَّيْنِ وَاحِدٌ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ یہ دو مختلف حق ہیں اور ان کا سبب الگ الگ ہے۔ یعنی ایک کے اندر حقیقی پیداوار ہے اور ایک کے اندر پیداوار پر قدرت ہے تو دونوں کے سبب الگ الگ ہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں: نہیں، ”وَسَبَبُ الْحَقَّيْنِ وَاحِدٌ“ ان دونوں حقوں کا سبب ایک ہی ہے اور وہ ارضِ نامی ہے، پیداوار دینے والی زمین۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَسَبَبُ الْحَقَّيْنِ وَاحِدٌ“ اور دونوں حقوں کا سبب ایک ہی ہے ”وَهُوَ الْأَرْضُ النَّامِيَةُ“ اور وہ پیداوار دینے والی زمین ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يُعْتَبَرُ فِي الْعُشْرِ تَحْقِيقًا وَفِي الْخَرَاجِ تَقْدِيرًا“ مگر یہ کہ اس پیداوار کا اعتبار کیا جائے گا عشر کے اندر تحقیقاً تحقیقی طور پر، یعنی حقیقۃً پیداوار حاصل ہو، ”وَفِي الْخَرَاجِ تَقْدِيرًا“ اور خراج کے اندر اس پیداوار کا اعتبار کیا جائے گا تقدیرًا فرض کرتے ہوئے، یعنی پیداوار ہو یا نہ ہو زمین پر کاشت کی قدرت ہونی چاہیے۔ سبب ایک ہی ہے ارضِ نامی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ يُعْتَبَرُ فِي الْعُشْرِ تَحْقِيقًا“ مگر یہ کہ اس پیداوار کا اعتبار کیا جائے گا عشر میں تحقیقاً حقیقۃً اس کا اثبات کرتے ہوئے ”وَفِي الْخَرَاجِ تَقْدِيرًا“ اور خراج کے اندر تقدیرًا اس پیداوار کا اعتبار کیا جائے گا ”وَلِهَذَا يُضَافَانِ إِلَى الْأَرْضِ“ اور اسی لیے ان دونوں کی نسبت زمین کی طرف ہوتی ہے۔ دونوں کی نسبت زمین کی طرف ہوتی ہے عشر کی بھی اور خراج کی بھی۔ عشر کی نسبت بھی زمین کی طرف کرتے ہیں اور کہتے ہیں: عشر الارض، زمین کا عشر، اور خراج کی نسبت بھی زمین کی طرف کرتے ہیں اور کہتے ہیں: خراج الارض، اور یہ جو نسبت ہے یہ سبب ہونے کی دلیل ہے۔ نسبت جو ہے سبب ہونے کی دلیل ہے معلوم ہوا عشر الارض، معلوم ہوا اس کا سبب زمین ہے، اس عشر کا، اور خراج الارض، معلوم ہوا اس خراج کا سبب بھی زمین ہے، کیونکہ نسبت جو ہے یہ سبب ہونے کی دلیل ہوتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا يُضَافَانِ إِلَى الْأَرْضِ“ اور اسی لیے ان دونوں کی نسبت کی جاتی ہے زمین کی طرف۔ ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الزَّكَاةُ مَعَ أَحَدِهِمَا“ اور اسی اختلاف پر ہے زکوٰۃ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے، ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ذکر ہوا۔ ہمارے نزدیک خراجی زمین میں صرف خراج آئے گا عشر نہیں، عشر اور خراج جمع نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے مالِ زکوٰۃ کے اندر بھی، جب عام زکوٰۃ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ جمع ہو جائے، مثلاً ایک آدمی نے تجارت کی نیت سے زمین خرید لی تو اگر عشر یا خراج اس زمین میں سے وہ ادا کرتا ہے پھر تجارت والی زکوٰۃ ادا نہیں کی جائے گی۔ وہ زکوٰۃ جو سال کے گزرنے کے بعد مال میں سے ادا کی جاتی ہے وہ زکوٰۃ ادا نہیں کی جائے گی کیونکہ خراج یا عشر پہلے ہی ادا کیا جا رہا ہے بھئی۔ جبکہ ان کے نزدیک اس کے اندر خراج یا عشر کے ساتھ زکوٰۃ بھی جمع ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الزَّكَاةُ مَعَ أَحَدِهِمَا“ اور اسی اختلاف پر ہے زکوٰۃ بھی ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ۔ ”وَلَا يَتَكَرَّرُ الْخَرَاجُ بِتَكَرُّرِ الْخَارِجِ فِي سَنَةٍ“ اور اسی طرح خراج مکرر نہیں ہوگا پیداوار کے مکرر ہونے سے ”فِي سَنَةٍ“ ایک سال میں۔ بھئی خراج سال میں ایک ہی دفعہ لیا جائے گا، پیداوار چاہے سال میں ایک سے زیادہ دفعہ حاصل ہو پھر بھی ایک ہی مرتبہ خراج لیں گے۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يَتَكَرَّرُ الْخَرَاجُ بِتَكَرُّرِ الْخَارِجِ فِي سَنَةٍ“ اور ایک سال کے اندر پیداوار کے مکرر ہونے کی وجہ سے خراج مکرر نہیں ہوگا ”لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمْ يُوَظِّفْهُ مُكَرَّرًا“ اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خراج مقرر نہیں فرمایا مکررًا مکرر کرتے ہوئے۔ ”بِخِلَافِ الْعُشْرِ“ بخلاف عشر کے ”لِأَنَّهُ لَا يَتَحَقَّقُ عُشْرًا إِلَّا بِوُجُوبِهِ فِي كُلِّ خَارِجٍ“ بخلاف عشر کے ”لِأَنَّهُ لَا يَتَحَقَّقُ عُشْرًا“ اس لیے کیونکہ عشر عشر ہو ہی نہیں سکتا جب تک ہر پیداوار کے اندر واجب نہ کیا جائے، کیونکہ عشر کا لفظ ہی بتلا رہا ہے کہ یہ دسواں حصہ ہے، اور دسواں حصہ تبھی ہوگا جب پیداوار تو حاصل ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ الْعُشْرِ“ بخلاف عشر کے ”لِأَنَّهُ لَا يَتَحَقَّقُ عُشْرًا“ اس لیے کیونکہ عشر جو ہے وہ عشر ہو کر نہیں پایا جا سکتا ”إِلَّا بِوُجُوبِهِ فِي كُلِّ خَارِجٍ“ مگر یہ کہ یہ واجب ہو ہر پیداوار میں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی، ”بَابُ الْجِزْيَةِ“ یہ باب ہے جزیہ کے بیان میں۔ بھئی جس طرح کفار کی زمینوں سے خراج وصول کیا جاتا ہے اسی طرح کفار کے افراد سے سالانہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جسے جزیہ کہتے ہیں بھئی، جزیہ کہتے ہیں اور یہ بڑا معمولی سا ہوتا ہے، اور صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جزیہ صرف ان لوگوں پر آئے گا کفار کے جو لڑنے پر قادر ہیں۔ ان افراد پر آئے گا جو لڑنے پر قادر ہیں، لہٰذا جو بچے ہیں یا عورتیں ہیں یا بہت بوڑھے لوگ ہیں یا اپاہج ہیں یا اندھے ہیں، یہ لوگ تو جنگ نہیں کر سکتے، لڑائی نہیں کر سکتے، لہٰذا ان سے جزیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ الْجِزْيَةِ“ یہ جزیہ کا باب ہے ”وَهِيَ عَلَى ضَرْبَيْنِ“ اور جزیہ دو قسم پر ہے۔ بھئی ابتدا کے اندر جزیہ کی اقسام بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، یاد رکھو جزیہ دو قسم پر ہے: ایک وہ جزیہ ہے کہ مسلمان کسی علاقے پر حملہ آور ہوئے اور وہاں کے لوگوں نے مسلمانوں کے رعب اور خوف کی وجہ سے جنگ کرنے کے بجائے مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی کہ ہمارے ساتھ لڑائی نہ کریں، آپ کو جتنا مال چاہیے ہم ہر سال آپ کو مال دے دیا کریں گے، چنانچہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان بات چیت ہوئی اور کچھ مال باہمی رضامندی سے مقرر کر لیا گیا کہ یہ مال وہ کفار ہر سال ادا کیا کریں گے۔ یہ ایک قسم ہے جزیہ کی۔ اور دوسری قسم جزیہ کی وہ ہے کہ مسلمان کسی علاقے کو باقاعدہ فتح کر لیتے ہیں اور پھر وہاں کے لوگوں پر جزیہ مقرر کرتے ہیں، تو وہ الگ قسم ہے۔ وہ جو دوسری قسم ہے اس کی مقدار آگے بیان کریں گے کہ مالدار ہوگا تو وہ سال کے اڑتالیس درہم دے گا بھئی، ہر مہینے کے چار درہم، اور غریب ہوگا تو وہ ہر مہینے کا ایک درہم دے گا یعنی سال کے بارہ درہم، اور اگر متوسط درجے کا آدمی ہے تو پھر وہ ہر مہینے دو درہم دے گا یعنی سال کے چوبیس درہم۔ یہ وہ صورت ہے جب مسلمان کسی علاقے کو فتح کر لیں تو ان کے لڑنے والے یعنی بالغ مردوں پر یہ جزیہ مقرر کیا جائے گا، لیکن وہ جزیہ جو کفار کے ساتھ باہمی رضامندی سے مقرر کیا جائے وہ جس بات پر بھی آپس میں فیصلہ ہو جائے جو بھی مقرر کر لیا جائے وہی وصول کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ عَلَى ضَرْبَيْنِ“ اور یہ جزیہ دو قسم پر ہے: ”جِزْيَةٌ تُوضَعُ بِالتَّرَاضِي وَالصُّلْحِ“ ایک وہ جزیہ ہے جو مقرر کیا جاتا ہے باہمی رضامندی اور صلح کی وجہ سے ”فَتَتَقَدَّرُ بِحَسَبِ مَا يَقَعُ عَلَيْهِ الِاتِّفَاقُ“ تو یہ مقرر ہوگا اسی کے بقدر جس پر اتفاق ہو جائے ”كَمَا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَهْلَ نَجْرَانَ“ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح فرما لی اہلِ نجران سے، یہ یمن کے علاقوں میں سے کوئی علاقہ تھا بھئی، تو حضور علیہ السلام نے اہلِ نجران سے صلح فرما لی ”عَلَى أَلْفٍ وَمِائَتَيْ حُلَّةٍ“ بارہ سو جوڑوں پر۔ حُلّہ کہتے ہیں جوڑے کو، یعنی جو دو چادروں پر مشتمل ہو، ایک اوپر بدن کے لیے اور ایک نیچے بطورِ تہبند کے باندھنے کے لیے، تو حلہ کے اندر دو چادریں ہوتی ہیں بھئی۔ تو قدیم زمانے کے اندر میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ کپڑا ہاتھ سے بُنا جاتا تھا اور بڑا قیمتی ہوتا تھا بھئی۔ تو حضور علیہ السلام نے نجران والوں سے صلح فرمائی بارہ سو جوڑوں پر کہ وہ بارہ سو جوڑے ادا کریں گے، یعنی دو قسطوں کے اندر، دو قسطوں کے اندر: نصف جو ہے وہ صفر کے مہینے میں ادا کریں گے اور نصف جو ہے وہ رجب کے مہینے میں ادا کریں گے۔ تو کہتے ہیں: جیسے کہ حضور علیہ السلام نے اہلِ نجران سے صلح فرمائی ”عَلَى أَلْفٍ وَمِائَتَيْ حُلَّةٍ“ بارہ سو جوڑوں کی شرط پر۔ ”وَلِأَنَّ الْمُوجِبَ هُوَ التَّرَاضِي“ یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ یہاں پر باہمی رضامندی سے جب ایک مال پر صلح ہو گئی ہے تو کسی اور مال کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْمُوجِبَ هُوَ التَّرَاضِي“ اس لیے کیونکہ اس جزیہ کو واجب کرنے والی جو چیز ہے وہ باہمی رضامندی ہے ”فَلَا يَجُوزُ التَّعَدِّي إِلَى غَيْرِ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ الِاتِّفَاقُ“ ”فَلَا يَجُوزُ التَّعَدِّي“ لہٰذا تجاوز کرنا جائز نہیں ہے ”إِلَى غَيْرِ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ الِاتِّفَاقُ“ علاوہ اس چیز کے جس پر اتفاق ہوا، یعنی جس پر اتفاق ہوا ہے اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف تجاوز کرنا جائز نہیں، جس پر آپس میں صلح ہوئی ہے وہی وصول کیا جائے گا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْمُوجِبَ هُوَ التَّرَاضِي“ اور اس لیے کیونکہ یہاں پر اس کو واجب کرنے والی چیز جو ہے وہ باہمی رضامندی ہے ”فَلَا يَجُوزُ التَّعَدِّي“ لہٰذا تجاوز کرنا جائز نہیں، بھئی کس چیز کی طرف تجاوز؟ کہتے ہیں: ”إِلَى غَيْرِ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ الِاتِّفَاقُ“ جس پر اتفاق واقع ہوا ہے اس کے علاوہ کی طرف، اس کے علاوہ کی طرف تجاوز کرنا جائز نہیں ہے۔ ”وَجِزْيَةٌ يَبْتَدِئُ الْإِمَامُ وَضْعَهَا إِذَا غَلَبَ الْإِمَامُ عَلَى الْكُفَّارِ“ یہ جزیہ کی دوسری قسم آ گئی، ”وَجِزْيَةٌ“ اور دوسری قسم جزیہ کی وہ ہے ”يَبْتَدِئُ الْإِمَامُ وَضْعَهَا“ کہ امام ابتدا کرے اس کے مقرر کرنے کی ”إِذَا غَلَبَ الْإِمَامُ عَلَى الْكُفَّارِ“ جب امام کفار پر غالب آ جائے ”وَأَقَرَّهُمْ عَلَى أَمْلَاكِهِمْ“ اور کفار کو برقرار رکھے ان کی ملکیتوں پر۔ کفار کو ان کی ملکیتوں پر برقرار رکھتا ہے اور ان پر جزیہ مقرر کر دیتا ہے اور زمینوں پر خراج مقرر کر دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں دوسری قسم وہ ہے جو امام مقرر کرے ان کفار پر جب امام ان پر غالب آ جائے ”وَأَقَرَّهُمْ عَلَى أَمْلَاكِهِمْ“ اور ان کفار کو امام ان کی ملکیتوں پر برقرار رکھتا ہے ”فَيَضَعُ عَلَى الْغَنِيِّ الظَّاهِرِ الْغِنَى“ غنی کہتے ہیں مالدار کو اور غِنیٰ کہتے ہیں مالداری کو، تو کہتے ہیں: ”فَيَضَعُ“ تو امام مقرر کرے گا ”عَلَى الْغَنِيِّ الظَّاهِرِ الْغِنَى“ اس مالدار پر، ”الظَّاهِرِ الْغِنَى“ جس کی مالداری ظاہر ہے، یعنی اس کی مالداری ظاہر ہے سب کو پتہ ہے یہ مالدار ہے بھئی، اور بین السطور لکھا ہوا ہے: جو دس ہزار درہم کا مالک ہو، جو دس ہزار درہم یا اس سے زیادہ کا مالک ہے اس کو بڑا مالدار شمار کیا جاتا ہے، اس سے سال میں اڑتالیس درہم لیں گے۔ اور آگے متوسط درجے والا کہتے ہیں وہ ہے جس کے پاس دو سو درہم یا اس سے زیادہ ہوں، دس ہزار سے تو کم ہیں لیکن دو سو درہم یا اس سے زیادہ ہیں، اس سے سال میں چوبیس درہم لیے جائیں گے، اور جو کام کاج کرنے والا آدمی ہے جو روزانہ کام کاج کرتا ہے اور پیسے کماتا ہے تو اس سے سال کے اندر بارہ درہم لیے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَضَعُ عَلَى الْغَنِيِّ الظَّاهِرِ الْغِنَى“ تو امام مقرر کرے گا اس مالدار پر جو جس کی مالداری ظاہر ہے ”فِي كُلِّ سَنَةٍ ثَمَانِيَةً وَأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا“ ہر سال کے اندر اڑتالیس درہم ”يَأْخُذُ مِنْهُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ“ امام ان سے لے گا ہر مہینے میں چار درہم ”وَعَلَى وَسَطِ الْحَالِ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ دِرْهَمًا“ اور متوسط حال والے پر چوبیس درہم مقرر کرے گا ”فِي كُلِّ شَهْرٍ دِرْهَمَيْنِ“ ہر مہینے میں دو درہم ”وَعَلَى الْفَقِيرِ الْمُعْتَمِلِ“ معتمل کہتے ہیں کام کاج کرنے والا، جو محنت کے ذریعے پیسے کماتا ہے، کہتے ہیں: ”وَعَلَى الْفَقِيرِ الْمُعْتَمِلِ“ اور کام کاج کرنے والے فقیر پر ”اثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا“ بارہ درہم مقرر کرے گا ”فِي كُلِّ شَهْرٍ دِرْهَمًا“ ہر مہینے میں ایک درہم ”وَهَذَا عِنْدَنَا“ اور یہ ہمارے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَضَعُ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا“ کہ امام مقرر کرے گا ”عَلَى كُلِّ حَالِمٍ“ حالم کہتے ہیں بالغ کو، حالم بالغ کو کہتے ہیں، کہ ”يَضَعُ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا“ کہ امام ہر بالغ پر ایک دینار مقرر کرے گا ”أَوْ مَا يَعْدِلُ الدِّينَارَ“ یا ایسی چیز جو ایک دینار کے برابر ہو، دینار ہو یا دینار کے برابر کوئی چیز ہو یعنی درہم وغیرہ، ”الْغَنِيُّ وَالْفَقِيرُ فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ“ اس میں مالدار اور فقیر سب برابر ہیں سب پر یہ مقرر کیا جائے گا۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِمُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے جو آپ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا۔ حضور علیہ السلام نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب قاضی بنا کر یمن روانہ فرمایا تو ان سے فرمایا: ”خُذْ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ وَحَالِمَةٍ دِينَارًا“ کہ ان میں سے ہر بالغ مرد اور بالغ عورت سے ایک دینار لینا ”أَوْ عَدْلَهُ مَعَافِرَ“ یا اس کے برابر معافر کپڑا۔ ان میں سے ہر بالغ مرد اور عورت سے ایک دینار لینا یا اس کے برابر کپڑا لینا۔ توجہ ہے؟ عبارت دیکھیں بھئی: ”خُذْ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ وَحَالِمَةٍ دِينَارًا“ کہ ان میں سے ہر بالغ مرد اور عورت سے ایک دینار لینا ”أَوْ عَدْلَهُ“ عدل یعدل عدلاً کے معنی ہیں برابر ہونا اور معافر، معافر یاد رکھو ایک خاص قسم کا کپڑا تھا اس کو معافر کہتے تھے۔ اصل میں معافر قبیلے کا نام تھا، اصل میں معافر قبیلے کا نام تھا اور وہ کوئی خاص کپڑا بناتے تھے تو وہ کپڑا معافری کہلاتا تھا، جیسے لاہور والی چیز کو کہتے ہیں لاہوری، لاہور والی، تو اسی طرح وہ کپڑا جو بناتے تھے وہ معافری کہلاتا تھا، معافر والا کپڑا، اور پھر آہستہ آہستہ یائے نسبت ختم کر کے اس کپڑے کا نام ہی معافر پڑ گیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حضور نے فرمایا کہ ان میں سے ہر بالغ مرد اور عورت سے ایک دینار لینا ”أَوْ عَدْلَهُ مَعَافِرَ“ یا اس کے برابر معافر کپڑا لینا۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں: حضور علیہ السلام نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ان میں سے ہر بالغ مرد اور عورت سے ایک دینار لینا یا اس کے برابر کپڑا لینا، اور اس میں حضور علیہ السلام نے کوئی فرق نہیں کیا مالدار اور غریب کا، سب سے ایک دینار لینے کا حکم دیا۔ تو کہتے ہیں: ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ یعنی بغیر کوئی فرق کیے کہ حضور نے مالدار اور فقیر میں کوئی فرق نہیں کیا۔ ”وَلِأَنَّ الْجِزْيَةَ إِنَّمَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْقَتْلِ“ نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عقلی دلیل بھی دیتے ہیں کہ یہ جو جزیہ واجب ہوا ہے یہ قتل کا بدل ہے۔ یہ جو کفار ہیں یہ تو قتل کے مستحق ہو چکے تھے لیکن ہم نے ان کو چھوڑ دیا اور بدلے میں کیا لے لیا؟ جزیہ، تو یہ جزیہ ان کے قتل کا بدل ہے بھئی۔ یہ جزیہ ان کے قتل کا بدل ہے اور اسی لیے صرف انہی لوگوں پر آتا ہے جن کو قتل کرنا جائز ہے لڑائی میں، اور لڑائی میں کفار کے بالغ مردوں کو قتل کرنا جائز ہے اور اس میں پھر غریب اور امیر کو نہیں دیکھا جاتا، سب کا قتل کرنا جائز ہے چاہے وہ مالدار ہو چاہے فقیر ہو، تو لہٰذا جب یہ قتل کا بدل ہے اور قتل کے تو یہ سب مستحق ہو چکے ہیں چاہے مالدار ہو چاہے غریب ہو، لہٰذا سب سے لیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْجِزْيَةَ إِنَّمَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْقَتْلِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جزیہ واجب ہوا ہے ان کے قتل سے بدل ہو کر ”حَتَّى لَا يَجِبُ عَلَى مَنْ لَا يَجُوزُ قَتْلُهُ بِسَبَبِ الْكُفْرِ“ یہاں تک کہ جزیہ واجب نہیں ہوتا ”عَلَى مَنْ“ اس شخص پر ”لَا يَجُوزُ قَتْلُهُ بِسَبَبِ الْكُفْرِ“ کہ جس کا قتل کفر کی وجہ سے جائز نہیں ہے ”كَالذَّرَارِيِّ“ جیسے کہ ان کی اولاد ہے ”وَالنِّسْوَانِ“ اور جیسے کہ ان کی عورتیں ہیں، ان کا قتل کفر کی وجہ سے جائز نہیں ہے تو ان پر واجب نہیں ہے، ”وَهَذَا الْمَعْنَى يَنْتَظِمُ الْفَقِيرَ وَالْغَنِيَّ“ اور یہ والا جو سبب ہے، کون سا سبب؟ کہ یہ جزیہ قتل کا بدل ہے بھئی، اور کفار کے جتنے بالغ مرد تھے وہ سب قتل کے مستحق تھے چاہے مالدار ہو چاہے غریب ہو، تو یہ قتل کا بدل ہونا یہ سب میں پایا جا رہا ہے امیر میں بھی اور غریب میں بھی، لہٰذا سب پر برابری کے ساتھ جزیہ آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا الْمَعْنَى“ اور یہ والا جو معنی ہے یعنی یہ والا جو سبب ہے کہ جزیہ واجب ہو رہا ہے قتل کا بدل ہو کر، یہ والا سبب جو ہے ”يَنْتَظِمُ الْفَقِيرَ وَالْغَنِيَّ“ یہ فقیر اور مالدار سب کو شامل ہے، لہٰذا سب پر برابری کے ساتھ جزیہ واجب ہوگا بھئی۔ ”وَمَذْهَبُنَا“ اب ہمارا مذہب آ گیا، ”وَمَذْهَبُنَا مَنْقُولٌ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اور ہمارا یعنی احناف کا مذہب جو ہے وہ منقول ہے حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ”وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ“ اور مہاجرین اور انصار میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔ کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا تو معلوم ہوا اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا بھئی۔ یہ یاد رکھو، یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ سوادِ عراق کی زمینوں پر جب خراج مقرر کیا تھا تو ان کے لوگوں پر یہ جزیہ مقرر کیا۔ حضرت عثمان بن حنیف اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھیجا تھا بھئی اور زمینوں پر بھی انہوں نے خراج مقرر کیا اور لوگوں کے بھی تین طبقے بنا دیے: جو مالدار تھے ان پر انہوں نے اڑتالیس درہم مقرر کیا سال کا اور متوسط لوگوں پر چوبیس درہم اور غریب کام کاج کرنے والے لوگوں پر سال کا بارہ درہم، اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا، معلوم ہوا اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا۔ توجہ ہے؟ تو اسی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ”وَمَذْهَبُنَا مَنْقُولٌ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اور ہمارا مذہب منقول ہے حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے۔ حضرت عمر نے مقرر فرمایا، اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت آئی تب بھی سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت آئی تب بھی سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، ”وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ“ اور مہاجرین اور انصار میں سے کسی ایک نے بھی ان کا انکار نہیں کیا، اس پر رد نہیں کیا، تو اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا۔ ”وَلِأَنَّهُ وَجَبَ نُصْرَةً لِلْمُقَاتِلَةِ“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ ہمارے مذہب کی، ہمارے نزدیک یہ جو ذمیوں پر جزیہ واجب ہوتا ہے یہ غازیوں کی مدد کے طور پر واجب ہوتا ہے۔ غازیوں کی مدد کے طور پر، اس لیے کیونکہ یہ بھی مملکتِ اسلامیہ میں رہتے ہیں اور مملکتِ اسلامیہ کا دفاع مملکت کے ہر آدمی کی ذمہ داری ہے، لہٰذا مسلمان تو اپنی جان اور مال دونوں کے ذریعے اس مملکت کا دفاع کرتے ہیں، اپنا مال بھی لگاتے ہیں اور خود بھی جاتے ہیں لڑائی میں حصہ لیتے ہیں، اور یہ جو ذمی ہیں ان کو ہم لڑائی میں نہیں بلاتے کیونکہ یہ بھی کافر ہیں اور ہم جن سے لڑ رہے ہیں وہ بھی کافر ہیں، تو ظاہر سی بات ہے ان کا رجحان زیادہ ان کی طرف ہوگا بھئی، لہٰذا ہم ان کو جان کے ساتھ لڑائی کے لیے تو نہیں بلاتے تو پھر اس کے بدلے میں ان سے مال لیا جائے گا غازیوں کی مدد کے طور پر اور مملکت کے دفاع کے لیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ وَجَبَ نُصْرَةً لِلْمُقَاتِلَةِ“ مقاتلہ بھئی، وہ لڑنے والے، وہ جو مجاہدین ہیں اور غازی ہیں بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ وَجَبَ نُصْرَةً لِلْمُقَاتِلَةِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جزیہ واجب ہوا ہے غازیوں کی مدد کے طور پر ”فَتَجِبُ عَلَى التَّفَاوُتِ بِمَنْزِلَةِ خَرَاجِ الْأَرْضِ“ تو لہٰذا یہ جزیہ بھی مختلف ہوگا خراج الارض کے درجے میں۔ جس طرح خراج الارض جو ہے وہ زمین کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے تو جزیہ بھی ان کافروں کے مالدار اور غریب ہونے کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”فَتَجِبُ عَلَى التَّفَاوُتِ بِمَنْزِلَةِ خَرَاجِ الْأَرْضِ“ تو یہ جزیہ بھی واجب ہوگا مختلف ہو کر خراج الارض کے درجے میں۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، صاحبِ ہدایہ نے کہا کہ یہ جزیہ کیوں واجب ہوا ہے؟ غازیوں کی مدد کے طور پر، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّهُ وَجَبَ بَدَلًا عَنِ النُّصْرَةِ بِالنَّفْسِ وَالْمَالِ“ ”وَهَذَا لِأَنَّهُ وَجَبَ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جزیہ جو ہے واجب ہوا ہے ”بَدَلًا عَنِ النُّصْرَةِ بِالنَّفْسِ وَالْمَالِ“ جان اور مال کے ذریعے نصرت کا بدل ہو کر۔ ان کفار کو بھی مملکت کا دفاع کرنا چاہیے تھا، ان کو بھی جان اور مال کے ساتھ نصرت کرنی چاہیے تھی غازیوں کی، لیکن جان کے ساتھ تو یہ مدد کر نہیں سکتے اس لیے کیونکہ یہ بھی کافر ہیں اور جن سے ہماری لڑائی ہے وہ بھی کافر ہیں تو ان کا میلان ان کی طرف ہوگا، لہٰذا ان کو لڑائی کے لیے تو نہیں بلایا جائے گا البتہ اب اس کے بدلے میں یہ صرف مال کے ساتھ مدد کریں گے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَهَذَا لِأَنَّهُ وَجَبَ بَدَلًا عَنِ النُّصْرَةِ بِالنَّفْسِ وَالْمَالِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جزیہ واجب ہوا ہے نفس اور مال کے ذریعے مدد کا بدل ہو کر ”وَذَلِكَ يَتَفَاوَتُ بِكَثْرَةِ الْوَفْرِ وَقِلَّتِهِ“ اور یہ جان اور مال سے مدد کرنا تو مختلف ہوتا ہے مال کی کثرت اور قلت کی وجہ سے۔ بھئی دیکھیے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ مال اور جان کے ساتھ مجاہدین کی مدد کریں بھئی، لیکن یہ مدد کرنا بھی مختلف ہوتا ہے: جو مالدار ہوتا ہے وہ مجاہدین کی مدد کرتا ہے اپنی جان اور اپنی سواری کے ساتھ اور نیز اسی طرح وہ اپنے غلام بھی ساتھ لے کر جاتا ہے، جبکہ جو متوسط درجے والا ہوتا ہے وہ صرف اپنی جان اور اپنی سواری کے ساتھ مجاہدین کی مدد کرتا ہے، اور جو غریب ہوتا ہے وہ پیدل مجاہدین کی مدد کرتا ہے، تو جس درجے کا مسلمان ہوتا ہے اسی درجے کی مدد اس پر لازم ہے بھئی۔ تو جب جان اور مال سے مدد کرنا مختلف ہے تو اس کا جو بدل ہوگا یعنی جزیہ وہ بھی مختلف ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”وَذَلِكَ يَتَفَاوَتُ بِكَثْرَةِ الْوَفْرِ وَقِلَّتِهِ“ وفْر بھئی، وفر کا معنی بھی کثرت بھئی، یعنی مال وغیرہ کی کثرت، لیکن یہاں وفر سے مراد ہے مال بھئی۔ ”وَذَلِكَ يَتَفَاوَتُ“ اور یہ جو مال اور جان سے مدد کرنا ہے وہ تو مختلف ہوتی ہے ”بِكَثْرَةِ الْوَفْرِ وَقِلَّتِهِ“ مال کی کثرت اور قلت کی وجہ سے ”فَكَذَا مَا هُوَ بَدَلُهُ“ تو اسی طرح جو اس کا بدل ہے وہ بھی ہوگا، یعنی اس کا بدل جو ہے یعنی یہ جو جزیہ ہے وہ بھی مختلف ہوگا مال کی کثرت اور قلت کی وجہ سے۔ ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ صُلْحًا“ امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر کی تھی کہ حضور نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ان میں سے ہر بالغ مرد اور عورت سے ایک دینار یا اس کے برابر کپڑا لینا، تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ جو آپ نے حدیث ذکر کی ”مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ صُلْحًا“ یہ صلح پر محمول ہے، یہ حدیث صلح پر محمول ہے اور اس کی دلیل خود اس حدیث میں موجود ہے کیونکہ حدیث میں کیا آیا؟ ”خُذْ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ وَحَالِمَةٍ دِينَارًا“ ہر بالغ مرد اور عورت سے ایک دینار لینا، حالانکہ بالاتفاق عورتوں سے جزیہ نہیں لیا جاتا کیونکہ وہ لڑائی ہی نہیں کر سکتیں بھئی۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا کہ یہ جو مال حضور علیہ السلام نے لینے کا حکم دیا یہ بطورِ صلح کے تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت فرمایا ”مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ صُلْحًا“ وہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ صلح تھی، وہ مال صلح کی وجہ سے تھا ”وَلِهَذَا أَمَرَهُ بِالْأَخْذِ مِنَ الْحَالِمَةِ“ اور اسی لیے حضور علیہ السلام نے بالغہ عورت سے بھی لینے کا حکم دیا ”وَإِنْ كَانَتْ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا الْجِزْيَةُ“ اگرچہ عورت سے تو جزیہ نہیں لیا جاتا۔ آگے دیکھیے، ”قَالَ: وَتُوضَعُ الْجِزْيَةُ عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمَجُوسِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ کن پر جزیہ مقرر کیا جائے گا اور کن پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ چاہے اہلِ کتاب ہوں، چاہے بت پرست ہوں، چاہے مجوسی ہوں، سب پر جزیہ مقرر کیا جا سکتا ہے، سوائے مشرکینِ عرب کے جو عرب کے بت پرست ہیں یا جو مرتد ہیں، ان پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا، ان سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا پھر ان کے ساتھ لڑائی کی جائے گی اور انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَتُوضَعُ الْجِزْيَةُ عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمَجُوسِ“ اور جزیہ مقرر کیا جائے گا اہلِ کتاب پر بھی اور مجوسیوں پر بھی، مجوسی بھئی وہ جو آتش پرست ہیں جو آگ کی عبادت کرتے ہیں، تو اہلِ کتاب اور مجوسیوں پر جزیہ مقرر کیا جائے گا ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ“ بھئی یہ آیت کا تھوڑا سا حصہ متن میں ہے، حاشیے میں پوری آیت دی ہوئی ہے وہ ذرا دیکھ لیجیے بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ“ کہ تم لوگ لڑائی کرو ان لوگوں سے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے ”وَلَا يُحَرِّمُونَ“ اور وہ حرام نہیں سمجھتے ”مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“ جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے وہ اسے حرام نہیں سمجھتے ”وَلَا يَدِينُونَ“ اور وہ دین نہیں مانتے ”دِينَ الْحَقِّ“ دینِ حق کو ”وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ“ اور وہ دینِ حق کو اپنا دین نہیں مانتے ”مِنَ الَّذِينَ“ یہ بیان آ گیا۔ یہ جو پیچھے لوگ ذکر ہوئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جو اللہ اور رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے اور یہ لوگ جو دینِ حق کو اپنا دین نہیں مانتے، یہ کون لوگ ہیں؟ مِن کے ذریعے بیان ہے: ”مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ“ یعنی وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی یعنی وہ جو اہلِ کتاب ہیں، تو یہ ”مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ“ یہ بیان ہے ماقبل میں جو پیچھے ”الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ“ وغیرہ ساری صفات ذکر ہوئی تھیں، تو لہٰذا ترجمے میں اس کو وہیں پر لے جائیں، وہیں پر جس کا یہ بیان ہے، تو ترجمہ یوں کریں، پھر سنیں ترجمہ: ”قَاتِلُوا الَّذِينَ“ وہیں پر اب وہ اہلِ کتاب کو لے آئیں: ”قَاتِلُوا الَّذِينَ“ کہ اے مومنو! تم لڑائی کرو ان اہلِ کتاب سے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں سمجھتے اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں مانتے، ان سے تم لڑائی کرو ”حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ“ یہاں تک کہ یہ جزیہ ادا کریں ”عَنْ يَدٍ“ اپنے ہاتھ سے ”وَهُمْ صَاغِرُونَ“ اس حال میں کہ یہ ذلیل ہوں، اس حال میں کہ یہ ذلیل ہوں۔ تو یہ ”وَهُمْ صَاغِرُونَ“ یہ حال ہے اور یہ تو عربی میں ہم ترجمہ اس طرح کرتے ہیں: اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوں، اردو میں تو اس طرح استعمال نہیں ہوتا، تو با محاورہ ترجمہ کرنے کے لیے اس کو ماقبل جملے کے اندر ہی داخل کر دیں گے، تو یوں ترجمہ کریں گے: ”حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ“ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ یعنی بھئی دیکھو، ان کا مال ہے اور وہ آپ کے حوالے کر رہے ہیں، انہوں نے محنت کی، اس مال کے ذریعے ان کی زندگی تھی، اس کے ذریعے وہ اپنے گھروں کے خرچے چلاتے ہیں، لیکن وہ مال مسلمانوں کے حوالے کر رہے ہیں، اس سے بڑی اور ذلت کیا ہوگی بھئی؟ تو یہ معنی ہے: ”حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ“ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو اس آیت سے معلوم ہوا اہلِ کتاب سے جزیہ لینا جائز ہے بھئی۔ اب متن پر آئیے، کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ“ یعنی وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ”حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ“ یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں، ”الْآيَةَ“ أَيِ اقْرَأِ الْآيَةَ یا الْآيَةُ مَعْرُوفَةٌ۔ آگے دیکھیے، ”وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْجِزْيَةَ عَلَى الْمَجُوسِ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ مقرر فرمایا ”عَلَى الْمَجُوسِ“ مجوسیوں پر۔ بھئی آیت سے اہلِ کتاب کا جزیہ ثابت ہوا اور مجوسیوں سے بھی جزیہ لیا جائے گا اس کا پتہ حدیث سے چلا، تو کہتے ہیں: ”وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْجِزْيَةَ عَلَى الْمَجُوسِ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوسیوں پر جزیہ مقرر فرمایا۔ توجہ ہے؟ چنانچہ کہتے ہیں روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لے رہے تھے یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ کر شہادت دی کہ حضور علیہ السلام نے مجوسیوں پر بھی جزیہ مقرر فرمایا تھا، تو پھر حضرت عمر نے ان پر جزیہ مقرر کیا۔ آگے دیکھیے، ”قَالَ: وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَجَمِ“ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ جزیہ مقرر کیا جائے گا جو عجم کے بت پرست ہیں، ”عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ“ اوثان جمع ہے وثن کی اور وثن کہتے ہیں بت کو، تو عجم کے بت پرستوں پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا، یعنی مشرکینِ عجم پر جزیہ مقرر کیا جائے گا ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، یعنی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عجم کے بت پرستوں پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا، ان سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا ان سے قتال کیا جائے گا، ہمارے نزدیک ان سے جزیہ لیا جا سکتا ہے۔ وَسَنَفٌ بُت کو کہتے ہیں تو کہتے ہیں: ”وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَجَمِ“ اور عجمیوں میں سے جو بت پرست ہیں، جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ جبکہ عرب کے جو بت پرست ہیں ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَجَمِ“ اور جزیہ مقرر کیا جائے گا عجمی بت پرستوں پر ”وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور اس کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عجمی بت پرست جو ہیں ان پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کو بھی قتل کیا جائے گا، یا وہ اسلام لے آئیں یا ان کو قتل کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ”هُوَ يَقُولُ“ وہ فرماتے ہیں: ”إِنَّ الْقِتَالَ وَاجِبٌ“ کہ ان کے ساتھ لڑائی واجب ہے ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”وَقَاتِلُوهُمْ“ کہ ان کفار سے لڑائی کرو۔ اس میں اللہ نے تمام کفار سے لڑائی کا حکم دیا ہے، لیکن اہل کتاب کا استثناء ہو گیا اوپر آیت ذکر ہوئی۔ اور مجوسیوں کا استثناء آ گیا وہ جو حدیث ذکر ہوئی، تو باقی سب اسی اصل پر باقی ہیں، باقی سب کو قتل کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں اللہ کے اس قول کی وجہ سے ”وَقَاتِلُوهُمْ، إِلَّا أَنَّا عَرَفْنَا جَوَازَ تَرْكِهِ فِي حَقِّ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالْكِتَابِ“ مگر یہ کہ ہم نے جان لیا کہ اس قتال کو چھوڑنا جائز ہے اہل کتاب کے حق میں، ہم نے یہ جان لیا کہ اہل کتاب کے حق میں ان سے لڑائی چھوڑنا جائز ہے، ”بِالْكِتَابِ“ کس کی وجہ سے؟ کتاب اللہ کی وجہ سے۔ ”وَفِي حَقِّ الْمَجُوسِ بِالْخَبَرِ“ اور مجوسیوں کے حق میں خبر یعنی حدیث کے ذریعے۔ حدیث کے ذریعے ہم نے جان لیا کہ مجوسیوں سے قتال ترک کرنا جائز ہے یعنی ان سے جزیہ لینا جائز ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ذرا ترجمہ دیکھ لیجیے۔ ”إِلَّا أَنَّا عَرَفْنَا جَوَازَ تَرْكِهِ فِي حَقِّ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالْكِتَابِ، وَفِي حَقِّ الْمَجُوسِ بِالْخَبَرِ، فَبَقِيَ مَا وَرَاءَهُمْ عَلَى الْأَصْلِ“ تو جو ان کے علاوہ ہیں وہ اسی اصل پر باقی رہے کہ ان سے لڑائی کی جائے گی۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ يَجُوزُ اسْتِرْقَاقُهُمْ“ کہ یہ جو عجمی بت پرست ہیں ان کو غلام بنانا جائز ہے، تو جب ان کو غلام بنانا جائز ہے ”فَيَجُوزُ ضَرْبُ الْجِزْيَةِ عَلَيْهِمْ“ تو ان پر جزیہ مقرر کرنا بھی جائز ہے، ”إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَشْتَمِلُ عَلَى سَلْبِ النَّفْسِ مِنْهُمْ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک ان کی جان کی نفی پر مشتمل ہے۔ سلب النفس، نفس کی نفی، جان کی نفی پر مشتمل ہے۔ بھئی دیکھو، غلام بھی جو ہے، غلام کے اختیارات ختم ہو جاتے ہیں، غلام کے سارے منافع کا مالک آقا بن جاتا ہے، تو گویا آپ نے اس کی جان کی نفی کر دی، آپ نے اس کی جان کی نفی کر دی، اس کے سارے اختیار بھی آقا کے ہاتھ میں آ گئے اور اس کے سارے منافع بھی آقا کے ہاتھ میں آ گئے، تو گویا غلام کی جان کی نفی کر دی۔ گویا وہ مردوں کی طرح ہی ہے بھئی۔ کس کی طرح ہے؟ مردوں کی طرح ہے، آپ اس کی جان کے مالک بن گئے۔ اسی طرح جزیہ کے اندر بھی ہے، دیکھو یہ جو کفار پر جزیہ مقرر ہوتا ہے یہ تو ان کی اپنی کمائی ہے اور یہ کمائی ان کی زندگی کا سبب ہے، اس کے ذریعے وہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا خرچہ چلاتے ہیں، تو جب آپ ان سے یہ کمائی جو ان کے اپنی زندگی کا سبب تھی، تو جب یہ آپ ان سے لے لیتے ہیں بطور جزیہ کے تو گویا آپ نے ان سے ان کی جان لے لی کیونکہ یہی مال ان کی زندگی کا سبب تھا، تو آپ نے جب ان سے لے لیا تو گویا آپ نے ان سے ان کی جان کی نفی کر دی۔ یا یوں کہو کہ جیسے کہ جیسے غلام بنا لیا جائے تو اس میں بے انتہا درجے کی ذلت ہے، اسی طرح جب آپ کسی سے مال لیتے ہیں، وہ مال جس کے ذریعے وہ اپنے خرچے پورے کرتا ہے اور وہ مال جب وہ آپ کو دیتا ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہو گی بھئی؟ تو معلوم ہوا غلام بنانے میں بھی اس کی ذلت ہے اور جزیہ دینے میں بھی اس کی ذلت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَجُوزُ ضَرْبُ الْجِزْيَةِ عَلَيْهِمْ“ تو یہ جو عجمی بت پرست ہیں ان پر بھی جزیہ مقرر کرنا جائز ہے، ”إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“ اس لیے کیونکہ جزیہ اور غلام بنانا ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے ”يَشْتَمِلُ عَلَى سَلْبِ النَّفْسِ مِنْهُمْ“ وہ ان سے جان چھین لینے پر مشتمل ہے، گویا آپ نے ان سے ان کی جان چھین لی، آپ اس پر قابض ہو گئے۔ ”فَإِنَّهُ يَكْتَسِبُ وَيُؤَدِّي إِلَى الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ وہ کماتا ہے اور مسلمانوں کو دیتا ہے ”وَنَفَقَتُهُ فِي كَسْبِهِ“ اس حال میں کہ اس کا اپنا خرچہ بھی اپنی کمائی میں ہوتا ہے۔ اس کا اپنا خرچہ بھی اپنی کمائی میں ہے اور وہ کما کر کس کو دے رہا ہے؟ مسلمانوں کو دے رہا ہے تو گویا آپ نے اس سے اس کی جان چھین لی ہے، آپ اس پر قابض ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ ظُهِرَ عَلَيْهِمْ قَبْلَ ذَلِكَ“ اور اگر ان کفار پر غلبہ پا لیا گیا ”قَبْلَ ذَلِكَ“ جزیہ ادا کرنے سے پہلے ہی، ”فَهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ وَصِبْيَانُهُمْ فَيْءٌ“ تو یہ کفار جو ہیں اور ان کی جو عورتیں ہیں اور ان کے جو بچے ہیں ”فَيْءٌ“ وہ مال غنیمت ہیں۔ یہ مال غنیمت ہیں اگر ان پر قبضہ پا لیا گیا، ”لِجَوَازِ اسْتِرْقَاقِهِمْ“ اس لیے کیونکہ ان کو غلام بنانا جائز ہے۔ ”وَلَا تُوضَعُ عَلَى عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَرَبِ وَلَا الْمُرْتَدِّينَ“ اور جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا عرب کے بت پرستوں پر یعنی عرب کے مشرکین پر، ”وَلَا الْمُرْتَدِّينَ“ اور نہ ہی مرتدوں پر۔ عرب کے مشرکین اور مرتدوں پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا، ان سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا ان سے لڑائی کی جائے گی اور انہیں قتل کیا جائے گا۔ ”لِأَنَّ كُفْرَهُمَا قَدْ تَغَلَّظَ“ یہاں سے دونوں کی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ یہ مشرکین عرب اور مرتدین کو کیوں قتل کیا جائے گا؟ تو بتلائیں گے آپ کو کہ ان دونوں کا کفر زیادہ سخت ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ مشرکین عرب، حضور علیہ السلام انہی کے درمیان تشریف لائے بھئی اور انہی کے درمیان حضور علیہ السلام جوان ہوئے اور انہوں نے حضور علیہ السلام کی ساری زندگی کو اپنے سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اور نیز انہی کی زبان میں قرآن نازل ہوا اور قرآن فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے حضور علیہ السلام کا معجزہ ہے بھئی۔ تو یہ عربی زبان بولنے والے ہیں، عربی جاننے والے ہیں، قرآن کی فصاحت و بلاغت سے پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی انسان ایسے کلام پر قادر نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ ایمان نہیں لاتے تو لہٰذا ان کا کفر سخت ہے تو ان کو سزا بھی سخت دی جائے گی۔ اور اسی طرح مرتد جو ہے اس کا کفر بھی سخت ہے اس لیے کیونکہ اللہ نے اس کو اسلام کی دولت نصیب فرمائی تھی اور یہ اسلام کی خوبیوں پر مطلع تھا، اس کے باوجود یہ اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف گیا ہے تو اس کا کفر بھی سخت ہے۔ لہٰذا ان سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا تلوار کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا جائے گا اور انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُفْرَهُمَا قَدْ تَغَلَّظَ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کا کفر جو ہے وہ تحقیق سخت ہے۔ ”أَمَّا مُشْرِكُ الْعَرَبِ فَلِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَشَأَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ“ تو مشرکین عرب جو ہیں اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے پرورش پائی ان کے سامنے۔ نشأ ينشأ کے معنی پرورش پانا، جوان ہونا۔ ”فَلِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَشَأَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے ان کے سامنے پرورش پائی، ”وَالْقُرْآنَ نَزَلَ بِلُغَتِهِمْ“ اور اس لیے کیونکہ قرآن انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے، ”فَالْمُعْجِزَةُ فِي حَقِّهِمْ أَظْهَرُ“ تو یہ معجزہ ان کے حق میں زیادہ ظاہر ہے، لہٰذا ان کا کفر بھی سخت ہوا۔ ”وَأَمَّا الْمُرْتَدُّ فَلِأَنَّهُ كَفَرَ بِرَبِّهِ بَعْدَمَا هُدِيَ لِلْإِسْلَامِ“ اور باقی مرتد جو ہے اس لیے کیونکہ اس نے اپنے رب کا کفر کیا بعد اس کے کہ جب اس کی اسلام کی طرف رہنمائی کر دی گئی تھی، ”وَوَقَفَ عَلَى مَحَاسِنِهِ“ اور بعد اس کے کہ جب یہ اسلام کی خوبیوں پر واقف ہو چکا تھا، ”فَلَا يُقْبَلُ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ إِلَّا الْإِسْلَامُ أَوِ السَّيْفُ“ لہٰذا ان دونوں فریقین سے قبول نہیں کیا جائے گا یا صرف اسلام یا تلوار۔ ان سے صرف اسلام یا تلوار ہی قبول ہو گا، یہاں جزیے کی گنجائش نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يُقْبَلُ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ إِلَّا الْإِسْلَامُ أَوِ السَّيْفُ“ تو دونوں فریقوں سے اسلام یا تلوار کے علاوہ اور کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی ”زِيَادَةً فِي الْعُقُوبَةِ“ سزا میں زیادتی کرتے ہوئے۔ ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُسْتَرَقُّ مُشْرِكُ الْعَرَبِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عرب کے مشرکین کو غلام بنایا جا سکتا ہے، ”وَجَوَابُهُ مَا قُلْنَا“ اور جواب اس کا وہ ہے جو ہم نے کہہ دیا کہ ان کا کفر سخت ہے لہٰذا ان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا ظُهِرَ عَلَيْهِمْ“ اور جب ان پر غلبہ پا لیا گیا یعنی مشرکین عرب پر، ”فَنِسَاؤُهُمْ وَصِبْيَانُهُمْ فَيْءٌ“ تو ان کی عورتیں اور ان کے جو بچے ہیں وہ مال فیء ہیں یعنی مال غنیمت ہیں، ”لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اسْتَرَقَّ نِسْوَانَ بَنِي حَنِيفَةَ“ اس لیے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے غلام بنا لیا تھا بنو حنیفہ کی عورتوں کو۔ یہاں بھئی میری کتاب میں ہے بنی حنیف بھئی، لیکن ہدایہ کے دیگر نسخوں میں ہے: ”بَنِي حَنِيفَةَ“ اور یہی درست ہے بھئی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ”اسْتَرَقَّ نِسْوَانَ بَنِي حَنِيفَةَ“ کہ انہوں نے بنو حنیفہ کی عورتوں کو غلام بنا لیا تھا ”وَصِبْيَانَهُمْ“ اور ان کے بچوں کو، ”لَمَّا ارْتَدُّوا“ جب وہ بنو حنیفہ والے مرتد ہوئے، ”وَقَسَمَهُمْ بَيْنَ الْغَانِمِينَ“ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے عورتوں اور بچوں کو غازیوں کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔ ”وَمَنْ لَمْ يُسْلِمْ مِنْ رِجَالِهِمْ“ اور ان کے مردوں میں سے جو مسلمان نہیں ہو گا یعنی مشرکین عرب کے لوگوں میں سے، مردوں میں سے جو مسلمان نہیں ہو گا ”قُتِلَ“ اس کو قتل کر دیا جائے گا ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ ان کا کفر سخت ہے لہٰذا یا صرف اسلام یا تلوار کے ساتھ ان کا فیصلہ ہو گا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا جِزْيَةَ عَلَى امْرَأَةٍ وَلَا صَبِيٍّ“ اور کسی عورت یا کسی بچے پر جزیہ نہیں ہے، ”لِأَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْقَتْلِ أَوْ عَنِ الْقِتَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ جزیہ جو ہے قتل یا قتال کا بدل ہو کر واجب ہوتا ہے۔ یہ جزیہ قتل یا قتال کا بدل ہو کر واجب ہوتا ہے۔ قتل کا بدل، بھئی یہ کفار ہیں، یہ تو قتل کے مستحق تھے، توجہ ہے؟ اور ہم نے ان کو قتل نہیں کیا تو ان سے اب جزیہ لیا جائے گا، تو یہ جزیہ کس کا بدل ہے؟ ان کے قتل کا یعنی ان کی عصمت کا کہ ان کو ہم نے عصمت دے دی، توجہ ہے؟ تو یہ جزیہ بدل ہے ان کے قتل کا۔ یا یہ جزیہ بدل ہے ان کے قتال کا، یہ مملکت اسلامیہ میں رہتے ہیں تو ان پر ضروری تھا کہ یہ مملکت کے دفاع کے اندر یہ بھی لڑائی کے اندر حصہ لیں، لیکن لڑائی کے اندر اپنی جانوں کے ذریعے جب یہ مجاہدین کی مدد نہیں کر سکتے تو پھر ان سے مال لیا جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا یہ جزیہ یا تو ان کے قتل کا بدل ہے یا ان کے قتال یعنی ان کی لڑائی کا بدل ہے، یہ لڑائی نہیں کر رہے تو اس کے بدلے میں مال دے دیں۔ توجہ ہے؟ بات چل رہی ہے کہ عورت پر بھی جزیہ نہیں اور بچے پر بھی جزیہ نہیں، کیونکہ یہ جزیہ کس کا بدل ہے؟ قتل کا یا قتال کا، لیکن عورت اور بچے کو تو قتل بھی نہیں کیا جا سکتا لہٰذا یہ ان کے قتل سے بھی بدل نہیں بن سکتا، اور عورت اور بچہ تو لڑائی بھی نہیں کر سکتے تو ان کے قتال سے بھی یہ بدل نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْقَتْلِ أَوْ عَنِ الْقِتَالِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جزیہ جو ہے واجب ہوا ہے ان کے قتل یا ان کی لڑائی سے بدل ہو کر، ”وَهُمَا لَا يُقْتَلَانِ وَلَا يُقَاتِلَانِ“ اور یہ عورت اور بچہ جو ہیں نہ تو ان کو قتل کیا جاتا ہے اور نہ یہ لڑائی کر سکتے ہیں، توجہ ہے؟ تو یہ جزیہ کس کا بدل تھا؟ یا تو ان کے قتل کا یا ان کی لڑائی کا۔ اور جب ان کے اندر اصل نہیں ہے، ان کو قتل بھی نہیں کیا جا سکتا اور یہ لڑائی بھی نہیں، تو جب ان کے اندر اصل نہیں ہے تو اس کا بدل یعنی جزیہ بھی نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُمَا لَا يُقْتَلَانِ وَلَا يُقَاتِلَانِ لِعَدَمِ الْأَهْلِيَّةِ“ اور یہ دونوں نہ قتل کیے جاتے ہیں اور نہ یہ لڑائی کر سکتے ہیں، ”لِعَدَمِ الْأَهْلِيَّةِ“ اس لیے کیونکہ ان میں لڑائی کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ ”قَالَ: وَلَا زَمِنٍ وَلَا أَعْمَى“ زَمِن کہتے ہیں اپاہج اور معذور بھئی، جس کے ہاتھ یا پاؤں وغیرہ نہ ہوں بھئی اس کو زَمِن کہتے ہیں زا کے ساتھ۔ قال صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا زَمِنٍ وَلَا أَعْمَى“ اور نہ ہی اپاہج پر اور نہ ہی اندھے پر، ان پر بھی جزیہ نہیں ہے۔ ”وَكَذَا الْمَفْلُوجُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ لِمَا بَيَّنَّا“ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَكَذَا الْمَفْلُوجُ“ اور اسی طرح ہے مفلوج آدمی بھی، مفلوج یعنی جس کو فالج وغیرہ ہوا ہے جو چل پھر نہیں سکتا بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْمَفْلُوجُ“ اور اسی طرح ہے فالج والا بھی، ”وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ“ اور بہت بوڑھا آدمی بھی، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ قتل کا بدل ہے یا یہ لڑائی کا بدل ہے، اور یہ جو اپاہج، اندھا یا بہت بوڑھے لوگ ہیں ان کو تو قتل بھی نہیں کیا جاتا اور نیز یہ لڑائی بھی نہیں کر سکتے، تو جزیہ تو انہی کے بدل کے طور پر واجب تھا تو جب اصل نہیں تو بدل بھی نہیں آئے گا بھئی۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ تَجِبُ إِذَا كَانَ لَهُ مَالٌ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر کوئی بہت بوڑھا شخص ہے اور مالدار ہے تو پھر اس پر جزیہ واجب ہو گا۔ کہتے ہیں وجہ یہ کہ مجموعی اعتبار سے بوڑھے کو قتل کرنے کی بھی ایک صورت ہے، وہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ اگر کوئی ایسا بوڑھا ہے جو لڑائی میں جس کا تجربہ ہے اور مشرکین کی مدد کرتا ہے، ان کو مشورے دیتا ہے تو اس بوڑھے کو بھی قتل کرنا جائز ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجموعی اعتبار سے بعض صورتوں میں بوڑھے کو قتل کرنا جائز ہے لہٰذا اس پر جزیہ بھی واجب کیا جا سکتا ہے اس کے قتل کا بدلہ قرار دیتے ہوئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ تَجِبُ إِذَا كَانَ لَهُ مَالٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جزیہ واجب ہو گا بہت بوڑھے شخص پر بھی جب اس کے پاس مال ہو، ”لِأَنَّهُ يُقْتَلُ فِي الْجُمْلَةِ إِذَا كَانَ لَهُ الرَّأْيُ“ اس لیے کیونکہ اس کو بھی مجموعی اعتبار سے قتل کیا جاتا ہے ”إِذَا كَانَ لَهُ الرَّأْيُ“ جب اس کی رائے ہو یعنی جنگ کے بارے میں مشورے دیتا ہو۔ ”وَلَا عَلَى فَقِيرٍ غَيْرِ مُعْتَمِلٍ“ اور اسی طرح جزیہ نہیں ہے اس فقیر یعنی اس غریب آدمی پر ”غَيْرِ مُعْتَمِلٍ“ جو کام کاج نہیں کر سکتا، جو کام کاج نہیں کر سکتا اس پر بھی جزیہ نہیں ہے بھئی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی، صحابہ عجیب لوگ ہیں بھئی، انسان سنتا ہے ان کی باتیں حیران رہ جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۃ المسلمین تھے، انہوں نے ایک بوڑھے ذمی کو مانگتے ہوئے دیکھا۔ بوڑھے ذمی کو مانگ رہا ہے، سوال کر رہا ہے، مانگتا پھر رہا ہے تو کہنے لگے کہ تمہیں کیا ہوا ہے، تم کیوں مانگ رہے ہو؟ کہنے لگا کہ ہمارے پاس تو مال نہیں ہے لیکن ہم سے بھی جزیہ لیا جاتا ہے تو میں مال جمع کر رہا ہوں اس کے لیے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات سنی تو چونک اٹھے اور عجیب جملہ فرمایا، کہنے لگے ہم نے تم لوگوں سے انصاف نہیں کیا، ہم نے تم لوگوں سے انصاف نہیں کیا اور پھر اس کے بعد سارے گورنروں کو حکم دے دیا کہ آج کے بعد جو زیادہ بوڑھا ذمی ہو اس سے بھی جزیہ نہیں لیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا عَلَى فَقِيرٍ غَيْرِ مُعْتَمِلٍ“ اور اسی طرح جزیہ اس فقیر پر بھی نہیں ہو گا جو کام کاج نہیں کر سکتا، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ ”لَهُ إِطْلَاقُ حَدِيثِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے وہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا مطلق ہونا ہے۔ وہ فرماتے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث مطلق ہے، اس میں حضور نے ایک دینار یا اس کے برابر کپڑا لینے کا حکم دیا اور کوئی قید نہیں لگائی کہ کام کرنے والا ہو تو پھر اس سے جزیہ لو اور جو کام نہیں کر سکتا اس سے جزیہ نہ لو۔ تو کہتے ہیں: ”لَهُ إِطْلَاقُ حَدِيثِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا مطلق ہونا ہے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمْ يُوَظِّفْهَا عَلَى فَقِيرٍ غَيْرِ مُعْتَمِلٍ“ یہاں حضرت عثمان کا ذکر آیا، یاد رکھو اس سے مراد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں ہیں بلکہ وہی حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جن کو حضرت عمر نے بھیجا تھا سواد عراق کی پیمائش کے لیے اور ان پر جزیہ اور خراج مقرر کرنے کے بارے میں۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا“ ہماری دلیل جو ہے ”أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمْ يُوَظِّفْهَا“ کہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ جزیہ مقرر نہیں فرمایا ”عَلَى فَقِيرٍ غَيْرِ مُعْتَمِلٍ“ ایسے فقیر پر جو کام کاج نہیں کر سکتا، ”وَذَلِكَ بِمَحْضَرٍ مِنَ الصَّحَابَةِ“ اور یہ چیز صحابہ کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ معلوم ہوا اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا کہ جو فقیر کام کاج نہیں کر سکتا اس سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ ”وَلِأَنَّ خَرَاجَ الْأَرْضِ لَا يُوَظَّفُ عَلَى أَرْضٍ“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ خَرَاجَ الْأَرْضِ“ اس لیے کیونکہ زمین کا جو خراج ہے ”لَا يُوَظَّفُ عَلَى أَرْضٍ لَا طَاقَةَ لَهَا“ وہ ایسی زمین پر مقرر نہیں کیا جاتا جس میں طاقت نہ ہو۔ خراج اسی زمین پر مقرر کیا جاتا ہے جس میں پیداوار کی طاقت ہے، جس زمین کے اندر طاقت ہی نہیں ہے، وہ پیداوار ہی نہیں دیتی تو اس پر خراج بھی مقرر نہیں ہوتا۔ تو جیسے خراج الارض وہ پیداوار والی زمین پر مقرر ہوتا ہے، تو یہ جو جزیہ ہے یعنی خراج الرأس جو ہے یہ بھی جس میں کام کاج کرنے کی اور کمانے کی قوت ہو اس پر مقرر کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ خَرَاجَ الْأَرْضِ لَا يُوَظَّفُ عَلَى أَرْضٍ لَا طَاقَةَ لَهَا، فَكَذَا هَذَا الْخَرَاجُ“ تو اسی طرح یہ والا خراج یعنی خراج الرأس بھی ہو گا یعنی جزیہ بھی اسی طرح ہو گا۔ ”وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُعْتَمِلِ“ اور وہ حدیث محمول ہے معتمل یعنی کام کاج کرنے والے پر، یعنی جو حضور نے حکم دیا تھا کہ ہر ایک سے ایک دینار یا اس کے برابر کپڑا لو اس سے کام کاج کرنے والے ہی مراد ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُعْتَمِلِ“ اور یہ حدیث محمول ہے کام کاج کرنے والے پر۔ ”وَلَا يُوضَعُ عَلَى الْمَمْلُوكِ وَالْمُكَاتَبِ وَالْمُدَبَّرِ وَأُمِّ الْوَلَدِ“ بھئی یہ ذمیوں کے غلام ہیں، کوئی عام غلام ہیں یا مکاتب، ام ولد یا مدبر وغیرہ ہیں، کیا ان پر جزیہ مقرر کیا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، ان پر بھی جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُوضَعُ عَلَى الْمَمْلُوكِ وَالْمُكَاتَبِ وَالْمُدَبَّرِ وَأُمِّ الْوَلَدِ“ تو لہٰذا جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا ان ذمیوں کے مملوک پر یعنی غلاموں پر ”وَالْمُكَاتَبِ وَالْمُدَبَّرِ وَأُمِّ الْوَلَدِ“ اور ان کے مکاتب اور مدبر اور ام ولد پر، ”لِأَنَّهُ بَدَلٌ عَنِ الْقَتْلِ فِي حَقِّهِمْ وَعَنِ النُّصْرَةِ فِي حَقِّنَا“ بھئی یاد رکھو، یہ جو جزیہ لیا جاتا ہے کفار سے یہ ان کے حق میں یہ قتل کا بدل ہے۔ یہ تو قتل کے مستحق ہو چکے تھے لیکن ہم نے ان کو قتل نہیں کیا تو یہ قتل کے بدلے کے طور پر ہمیں جزیہ دیتے ہیں۔ اور ہم جو ان سے جزیہ لیتے ہیں وہ نصرت کے بدلے کے طور پر لیتے ہیں کہ ان کا کام تھا مملکت کے دفاع کے اندر اپنی جان اور مال لگاتے، تو جان اور مال کے بدلے میں اب ہم صرف ان سے بطور نصرت کے جزیہ لیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو ذمی جو جزیہ دیتے ہیں ان کی طرف سے دیکھیں تو وہ اپنے قتل کے بدلے میں جزیہ دے رہے ہیں، اور ہماری طرف سے دیکھیں تو ہم ان کی نصرت کے بدلے میں جزیہ لے رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو بات چل رہی ہے ان ذمیوں کے غلاموں کی، تو ذمیوں کے غلام جو ہیں وہ بھی بالغ ہیں، وہ بھی ان کے مددگار تھے، وہ بھی قتل کے مستحق ہو چکے تھے لیکن ہم نے ان کو قتل نہیں کیا، تو قتل کے بدل کے طور پر دیکھا جائے تو جزیہ ان پر آنا چاہیے۔ ان کو قتل نہیں کیا گیا تو ان پر کیا آنا چاہیے؟ جزیہ۔ لیکن ہم جو جزیہ لیتے ہیں وہ ان کی مدد کے بدلے میں لیتے ہیں اور مدد تو ان غلاموں پر واجب نہیں کیونکہ مدد پر تو یہ قادر ہی نہیں ہیں، یہ تو اپنے آقا کی اجازت کے بغیر لڑائی نہیں کر سکتے۔ تو نصرت سے بدل ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ان غلاموں پر جزیہ نہیں آنا چاہیے۔ توجہ ہے؟ یہ جزیہ بدل ہوتا ہے قتل سے بھی اور نصرت سے بھی۔ قتل سے بدل ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بھی قتل کے مستحق تھے لیکن ان کو قتل نہیں کیا گیا تو یہ تقاضا کرتا ہے ان پر جزیہ آنا چاہیے۔ اور دوسری طرف دیکھا جائے کہ یہ جزیہ نصرت سے بھی بدل ہے تو نصرت پر تو یہ غلام قادر ہی نہیں کیونکہ بغیر آقا کی اجازت کے غلام لڑائی نہیں کر سکتے، تو یہ نصرت سے بدل ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ ان پر جزیہ نہیں آنا چاہیے۔ تو ایک چیز تقاضا کر رہی ہے جزیہ آنا چاہیے، دوسری چیز تقاضا کر رہی ہے کہ جزیہ نہیں آنا چاہیے، تو جزیہ کے واجب ہونے میں شک آ گیا اور شک کی وجہ سے ان پر جزیہ واجب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بَدَلٌ عَنِ الْقَتْلِ فِي حَقِّهِمْ وَعَنِ النُّصْرَةِ فِي حَقِّنَا، وَعَلَى اعْتِبَارِ الثَّانِي“ اور دوسری چیز کے اعتبار سے یعنی نصرت سے بدل ہونے کے اعتبار سے ”لَا تَجِبُ“ جزیہ واجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ غلام تو نصرت پر قادر ہی نہیں ہے تو جزیہ یہاں نصرت سے بدل ہو ہی نہیں سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى اعْتِبَارِ الثَّانِي“ اور دوسری چیز یعنی نصرت سے بدل ہونے کے اعتبار سے ”لَا تَجِبُ“ جزیہ واجب نہیں ہوتا، ”فَلَا تَجِبُ بِالشَّكِّ“ تو لہٰذا شک کی وجہ سے جزیہ واجب نہیں ہو گا بھئی۔ ”وَلَا يُؤَدِّي عَنْهُمْ مَوَالِيهِمْ“ اور نہ ادا کریں گے ان کی طرف سے ان کے آقا۔ بھئی غلام جو ہیں ذمیوں کے عام غلام ہیں، مکاتب ہیں یا ام ولد وغیرہ، ان پر تو جزیہ نہیں آیا، تو کیا ان کے مالکوں سے وصول کریں گے یعنی ان کا جزیہ؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ان کے مالکوں سے ان کی وجہ سے آپ پہلے ہی زیادہ جزیہ وصول کر رہے ہیں کیونکہ جس کے غلام ہوں گے معلوم ہوا وہ خوب مالدار ہے تو اس سے تو اڑتالیس درہم سال کے لیے جائیں گے، تو غلاموں کی وجہ سے ہم پہلے ہی ان سے زیادہ جزیہ لے رہے ہیں تو اگر اب غلاموں کا بھی ان پر واجب کر دیا جائے یہ تو گویا ایک ہی سبب کی وجہ سے آپ دوگنا وصول کر رہے ہیں بھئی، لہٰذا ان کے آقا جو ہیں ان سے بھی ان غلاموں کا جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُؤَدِّي عَنْهُمْ مَوَالِيهِمْ“ اور ان غلاموں کی طرف سے بھی ان کے آقا جزیہ ادا نہیں کریں گے، ”لِأَنَّهُمْ تَحَمَّلُوا الزِّيَادَةَ بِسَبَبِهِمْ“ اس لیے کیونکہ ان کے آقاؤں نے اس زیادتی کو برداشت کیا ان غلاموں کی وجہ سے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا تُوضَعُ عَلَى الرُّهْبَانِ الَّذِينَ لَا يُخَالِطُونَ النَّاسَ“ اور جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا ان راہبوں پر جو لوگوں سے اختلاط نہیں کرتے۔ رہبان جمع ہے راہب کی بھئی۔ راہب وہ لوگ بھئی، عیسائیوں میں سے وہ لوگ جو لوگوں سے الگ تھلگ گوشہ نشین ہو جاتے اور ہر وقت اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ان کو راہب کہا جاتا تھا۔ تو کیا ان راہبوں سے جزیہ لیا جائے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں وہ راہب جو گوشہ نشین ہیں، جو لوگوں سے ملتے جلتے نہیں ہیں، الگ تھلگ جو ہیں عبادتوں کے اندر شب و روز مصروف رہتے ہیں، ان سے بھی جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا تُوضَعُ عَلَى الرُّهْبَانِ الَّذِينَ لَا يُخَالِطُونَ النَّاسَ“ اور جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا ان راہبوں پر جو لوگوں سے ملتے جلتے نہیں ہیں، ”كَذَا ذَكَرَهَا هُنَا“ اسی طرح ذکر کیا ہے صاحب قدوری نے یہاں پر۔ صاحب قدوری نے یہی ذکر کیا کہ راہبوں پر جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا۔ ”وَذَكَرَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے ذکر کیا ہے ”أَنَّهُ تُوضَعُ عَلَيْهِمْ إِذَا كَانُوا يَقْدِرُونَ عَلَى الْعَمَلِ“ کہ ان راہبوں پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا جب یہ کام کاج پر قادر ہوں، ”وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی۔ ”وَجْهُ الْوَضْعِ عَلَيْهِمْ“ تو معلوم ہوا دو قول آ گئے، متن کے اندر آیا راہبوں پر جزیہ نہیں آئے گا جبکہ امام محمد رحمہ اللہ امام صاحب سے نقل کرتے ہیں اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ راہب اگر کام کاج پر قادر ہوں تو ان پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا۔ تو اب اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَجْهُ الْوَضْعِ عَلَيْهِمْ“ ان راہبوں پر جزیہ مقرر کرنے کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْقُدْرَةَ عَلَى الْعَمَلِ هُوَ الَّذِي ضَيَّعَهَا“ کہ کام کاج پر قادر ہونا اس کو اسی شخص نے ضائع کر دیا۔ یہ راہب تو کام کاج پر قادر تھا، تو کام کاج پر قدرت کو اس نے خود ہی ضائع کیا ہے لہٰذا اس سے جزیہ لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”أَنَّ الْقُدْرَةَ عَلَى الْعَمَلِ هُوَ الَّذِي ضَيَّعَهَا“ اس لیے کیونکہ کام کاج پر قدرت جو ہے اس کو اس نے خود ہی ضائع کر دیا، ”فَصَارَ كَتَعْطِيلِ الْأَرْضِ الْخَرَاجِيَّةِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خراجی زمین کو بیکار چھوڑ دینا، خراجی زمین کو معطل کر دینا یعنی اس کو بیکار چھوڑ دینا، اور اس کے اندر تو خراج آتا ہے تو یہاں اس راہب پر بھی جزیہ آئے گا بھئی۔ ”وَوَجْهُ الْوَضْعِ عَنْهُمْ“ اور ان سے جزیہ ساقط کرنے کی وجہ، بھئی دیکھو، وضع یضع کا صلہ علی آئے تو اس کا معنی ہے مقرر کرنا۔ پیچھے آیا: ”وَجْهُ الْوَضْعِ عَلَيْهِمْ“ ان پر جزیہ مقرر کرنے کی وجہ، اور اب آیا: ”وَوَجْهُ الْوَضْعِ عَنْهُمْ“ یہاں عن صلہ آیا اور وضع کا صلہ عن آئے تو اس کا معنی ہے ساقط کرنا اور ختم کرنا۔ متن میں تو آیا تھا کہ ان راہبوں پر جزیہ نہیں ہو گا تو اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْوَضْعِ عَنْهُمْ“ اور ان سے جزیہ ختم کرنے اور اس کو ساقط کرنے کی وجہ یہ ہے ”أَنَّهُ لَا قَتْلَ عَلَيْهِمْ“ کہ ان پر قتل نہیں ہے یعنی ان کو قتل نہیں کیا جاتا ”إِذَا كَانُوا لَا يُخَالِطُونَ النَّاسَ“ جب یہ لوگوں سے ملتے جلتے نہیں ہیں، تو ان کو قتل نہیں کیا جاتا اور یہ جزیہ کس کا بدل ہے؟ قتل ہی کا تو بدل ہے کہ ان کو ہم نے قتل نہیں کیا۔ تو ان راہبوں کو جب قتل نہیں کیا جاتا تو اس کا بدل جزیہ بھی ان پر نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”أَنَّهُ لَا قَتْلَ عَلَيْهِمْ إِذَا كَانُوا لَا يُخَالِطُونَ النَّاسَ، وَالْجِزْيَةُ فِي حَقِّهِمْ لِإِسْقَاطِ الْقَتْلِ“ اور کفار کے حق میں جو جزیہ ہوتا ہے وہ ان کے قتل کو ساقط کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور ان کے حق میں تو قتل ہی نہیں ہے لہٰذا ان پر جزیہ بھی نہیں ہے۔ ”وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ الْمُعْتَمِلُ صَحِيحًا“ اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کام کاج کرنے والا تندرست ہو، اگر کام کاج کرنے والا بیمار ہے تو پھر اس پر بھی جزیہ نہیں آئے گا، اور اس میں اکثر سال کا اعتبار ہے کیونکہ تھوڑا بہت تو ہر ایک سال میں کچھ نہ کچھ بیمار ہو جاتا ہے، لیکن اگر سال کے اکثر حصے میں وہ تندرست ہے، وہ کام کاج کرنے والا تو اس پر جزیہ واجب ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ الْمُعْتَمِلُ صَحِيحًا، وَيُكْتَفَى بِصِحَّتِهِ فِي أَكْثَرِ السَّنَةِ“ اور سال کے اکثر حصے میں اس کے تندرست ہونے پر اکتفاء کیا جائے گا۔ سال کے اکثر حصے میں اگر وہ صحیح اور تندرست ہے تو اس پر اکتفاء کیا جائے گا اور اس کو جزیہ دینا پڑے گا۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَمَنْ أَسْلَمَ وَعَلَيْهِ جِزْيَةٌ سَقَطَتْ“ صورت مسئلہ یہ کہ ایک ذمی جو ہے اس پر جزیہ واجب ہو گیا تھا، سال گزر گیا ہے اور پھر وہ شخص مسلمان ہو گیا، تو یاد رکھو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَسْلَمَ وَعَلَيْهِ جِزْيَةٌ“ اور جو شخص مسلمان ہوا اور اس پر جزیہ واجب تھا ”سَقَطَتْ“ تو وہ جزیہ ساقط ہو گیا، ”وَكَذَلِكَ إِذَا مَاتَ كَافِرًا“ اور اسی طرح ہے جب وہ شخص مر گیا کافر ہونے کی حالت میں۔ ایک شخص پر جزیہ تھا لیکن ادائیگی سے پہلے ہی وہ مر گیا تو اب یہ نہیں کہ اس کے مال میں سے جزیہ وصول کیا جائے گا بلکہ وہ جزیہ ساقط ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ إِذَا مَاتَ كَافِرًا“ اور اسی طرح ہے یعنی جزیہ ساقط ہو جائے گا جب وہ شخص کافر ہونے کی حالت میں مر گیا، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِمَا“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ان دونوں کے اندر۔ یعنی ان کے نزدیک جزیہ ساقط نہیں ہو گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو جزیہ ہے یہ عصمت کا بدل ہے یا سکنیٰ کا بدل ہے، تو جب اس شخص نے معوض وصول کر لیا تو اب اس کو عوض بھی دینا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ یہ جزیہ عصمت کا بدل ہے، یہ کافر تو قتل کا مستحق تھا لیکن ہم نے اس کو قتل نہیں کیا یعنی اس کو عصمت حاصل ہو گئی، اس کی جان معصوم ہو گئی تو اس کے عوض میں اس کو جزیہ دینا پڑے گا۔ یا دوسرا قول ان کا اس بارے میں یہ ہے کہ یہ جزیہ جو ہے رہائش کا بدل ہے۔ یہ ذمی جو ہے یہ کافر ہے لیکن ہم نے اس کو دار الاسلام میں رہائش دی ہوئی ہے، ہم نے اسے دار الاسلام میں رہنے دیا ہے تو یہ جو جزیہ ہے یہ اس رہائش کا بدل ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قول آ گئے، صاحب ہدایہ دونوں کو جمع فرما دیں گے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو جزیہ ہے یا تو یہ اس کی عصمت کا عوض ہے یا اس کی رہائش کا عوض ہے، اور جب اس کافر نے معوض وصول کر لیا یعنی ایک سال گزر گیا اور اس کو عصمت حاصل رہی، ہم نے اس کو کچھ نہیں کہا تو اس نے معوض وصول کر لیا لہٰذا اسے عوض کے طور پر جزیہ دینا پڑے گا، یا ایک سال گزر گیا اور اس نے ایک سال رہائش رکھی دار الاسلام کے اندر تو اس نے معوض وصول کر لیا لہٰذا عوض کے اندر اسے اب جزیہ دینا پڑے گا۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص جو ہے کرائے پر ایک مکان لے لے تو سال گزر جائے تو اس کے بعد چاہے وہ شخص مسلمان ہو چاہے مر جائے، کرایہ اس کو ہر حال میں دینا پڑے گا، اس کے مال میں سے ادا کیا جائے گا۔ تو جیسے اجارے کے اندر رہائش وصول ہو جائے تو پھر عوض مرنے سے بھی ساقط نہیں ہوتا اور اسلام لانے سے بھی ساقط نہیں ہوتا، اسی طرح دار الاسلام کے اندر جب یہ رہا ہے، اس نے رہائش رکھی ہے تو یہاں پر بھی اس کے اسلام کی وجہ سے یا مرنے کی وجہ سے وہ جزیہ ساقط نہیں ہو گا، یا یا یہ جو جزیہ ہے بدل ہے عصمت کا تو یہ صلح عن دم العمد کے درجے میں ہے، ایک آدمی دوسرے کو قتل کر دے تو مقتول کے اولیاء اس سے قصاص لینا چاہتے ہیں، لیکن یہ ان سے صلح کی بات کرتا ہے، وہ بالآخر کسی مال پر راضی ہو جاتے ہیں، صلح ہو جاتی ہے۔ تو جیسے صلح کے بعد وہ مال جو ہے وہ اس پر آدمی پر سے ساقط نہیں ہوتا کیونکہ اس کی جان بچ گئی ہے اس صلح کی وجہ سے، چاہے اس کے بعد وہ مسلمان ہو جائے وہ آدمی، چاہے وہ مر جائے، وہ صلح والا مال دینا پڑے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہ جو ذمی ہے اس کو عصمت مل گئی تھی، ایک سال گزر گیا ہے اور تو لہٰذا اس نے معوض وصول کر لیا ہے تو اب اس کو عوض دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِمَا“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ان دونوں کے اندر، ”لَهُ“ ان کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْعِصْمَةِ“ کہ یہ جو جزیہ واجب ہوا ہے یہ عصمت کا بدل ہو کر واجب ہوا ہے ”أَوْ عَنِ السُّكْنَى“ یا ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ یہ رہائش کا بدل ہو کر واقع ہوا ہے ”وَقَدْ وَصَلَ إِلَيْهِ الْمُعَوَّضُ“ اور تحقیق یہ جو شخص تھا اس کو معوض پہنچ چکا ہے ”فَلَا يَسْقُطُ عَنْهُ الْعِوَضُ بِهَذَا الْعَارِضِ“ تو یہ جو عارض پیش آیا اس کی وجہ سے اس سے عوض ساقط نہیں ہوگا۔ یہ جو عارض پیش آیا کہ یہ مسلمان ہو گیا یا یہ مر گیا اس کی وجہ سے عوض ساقط نہیں ہوگا ”كَمَا فِي الْأُجْرَةِ“ جیسے کہ اجرت کے اندر۔ اجرت کے اندر جب رہائش وصول کر لی تو پھر وہاں عوض ساقط نہیں ہوتا تو یہاں بھی عوض ساقط نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي الْأُجْرَةِ“ جیسے اجرت کے اندر ہے ”وَالصُّلْحِ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ“ اور جیسے کہ صلح عن دم العمد کے اندر ہے، جان بوجھ کر قتل کرے اس کے اندر صلح کی جائے تو وہاں اس شخص کی جان بچ گئی تو وہاں اسلام یا موت کی وجہ سے وہ مال ساقط نہیں ہوتا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ“ مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔ مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔ یہ حدیث کے الفاظ عام ہیں، معلوم ہوا مسلمان پر کسی صورت میں جزیہ نہیں آ سکتا، نہ ابتداءً اور نہ بقاءً بھئی۔ توجہ ہے؟ بلکہ فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں بقاء والی حالت ہی مراد ہے کیونکہ ابتداءً تو مسلمان پر جزیہ آ ہی نہیں سکتا، صرف بقاءً جزیہ آ سکتا ہے۔ جزیہ کافر پر لازم کیا جاتا ہے، ابتداءً مسلمان پر جزیہ آ ہی نہیں سکتا۔ ہاں بقاءً جزیہ مسلمان پر آ سکتا ہے، جیسے مذکورہ صورت میں ذمی پر سال گزر گیا ہے اس پر جزیہ واجب ہو چکا ہے اور پھر یہ مسلمان ہو گیا، تو اب مسلمان ہوا لیکن جزیہ تو اس کے ذمے واجب تھا تو یہاں احتمال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان ہونے کے بعد بھی یہ جزیہ اس پر باقی رہے گا یا باقی نہیں رہے گا؟ تو اسی کو حضور علیہ السلام نے اس حدیث میں بیان فرما دیا کہ ”لَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ“ کہ مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ“ یہاں سے احناف کی عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ عُقُوبَةً عَلَى الْكُفْرِ“ کہ یہ جو جزیہ واجب ہوتا ہے یہ کفر پر بطورِ سزا کے واجب ہوتا ہے، کفر کی وجہ سے بطورِ سزا کے یہ جزیہ واجب ہوتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے تو فرمایا تھا کہ یہ جزیہ یہ عوض ہے، یہ جزیہ یہ عوض ہے یعنی یہ بدلِ معاوضہ ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ بدلِ معاوضہ نہیں ہے یہ عقوبت ہے بھئی، یہ سزا ہے۔ اس نے کفر جیسا جرم کیا ہے تو اس پر جزیہ واجب کر دیا گیا۔ تو ہم کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ عُقُوبَةً عَلَى الْكُفْرِ“ کہ یہ کفر پر سزا کے طور پر واجب ہوا ہے ”وَلِهَذَا تُسَمَّى جِزْيَةً“ اسی لیے اس کو جزیہ کہتے ہیں ”وَهِيَ وَالْجَزَاءُ وَاحِدٌ“ اور جزیہ اور جزاء ایک ہی ہیں۔ بھئی جزاء کا کیا معنیٰ؟ بدلہ اور سزا۔ جزاء کا کیا معنیٰ؟ بدلہ اور سزا۔ تو جزیہ کا بھی یہی معنیٰ ہے، یہ بھی بدلے اور سزا کے طور پر واجب ہوا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا تُسَمَّى جِزْيَةً وَهِيَ وَالْجَزَاءُ وَاحِدٌ“ اور اسی لیے اس کو جزیہ کہتے ہیں اور یہ اور جزاء ایک ہی ہیں یعنی دونوں بدلے اور سزا کے لیے ہیں ”وَعُقُوبَةُ الْكُفْرِ تَسْقُطُ بِالْإِسْلَامِ“ اور کفر کی جو سزا ہے وہ تو اسلام کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ جب یہ مسلمان ہو گیا تو یہ جزیہ بطورِ سزا کے تھا تو کفر کی سزا اسلام کی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے تو یہ جزیہ بھی ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعُقُوبَةُ الْكُفْرِ تَسْقُطُ بِالْإِسْلَامِ“ اور کفر کی سزا جو ہے اسلام کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے ”وَلَا تُقَامُ بَعْدَ الْمَوْتِ“ اور اسی طرح موت کے بعد سزا قائم نہیں کی جاتی۔ سزا موت کے بعد قائم نہیں کی جاتی۔ لہٰذا اسی لیے کسی شخص پر اگر حد واجب ہو جائے اس کو کوڑے لگیں گے لیکن اس سے پہلے ہی وہ مر جاتا ہے تو مرنے کے بعد تو کوڑے نہیں لگائے جاتے، مرنے کے بعد تو سزا نہیں دی جاتی بھئی۔ تو یہاں پر بھی جب کسی شخص پر جزیہ واجب ہوا لیکن پھر وہ مسلمان ہوا یا مر گیا تو وہ جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا تُقَامُ بَعْدَ الْمَوْتِ“ اور نیز اسی طرح سزا جو ہے وہ موت کے بعد قائم نہیں کی جاتی ”وَلِأَنَّ شَرْعَ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا لَا يَكُونُ إِلَّا لِدَفْعِ الشَّرِّ“ اور نیز اس لیے کہ دنیا کے اندر جو سزا کی مشروعیت ہے، سزا کا جو مشروع ہونا ہے ”لَا يَكُونُ إِلَّا لِدَفْعِ الشَّرِّ“ وہ نہیں ہے مگر صرف شر کو دفع کرنے کے لیے۔ دنیا میں یہ جو سزائیں مقرر فرمائی ہیں اللہ نے، یہ کس لیے ہیں؟ شر کو دفع کرنے کے لیے ہیں، اور موت کی وجہ سے یا اسلام کی وجہ سے تو اس آدمی کا شر ختم ہو چکا ہے، لہٰذا یہ جزیہ جو بطورِ سزا کا تھا یہ بھی ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ شَرْعَ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا“ اور نیز اس لیے کیونکہ دنیا کے اندر سزاؤں کا مشروع ہونا یعنی ان کا جائز ہونا ”لَا يَكُونُ إِلَّا لِدَفْعِ الشَّرِّ“ وہ نہیں ہے مگر صرف شر کو دور کرنے کے لیے ”وَقَدِ انْدَفَعَ بِالْمَوْتِ وَالْإِسْلَامِ“ اور تحقیق وہ شر تو دور ہو چکا ہے موت اور اسلام کی وجہ سے ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ النُّصْرَةِ فِي حَقِّنَا“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو جزیہ ہے یہ نصرت سے بدل ہو کر واجب ہوا ہے فی حقنا ہمارے حق میں۔ ہمارے حق میں جزیہ کیوں واجب ہوا ہے؟ مدد سے بدل ہے، یہ ہماری جانی مدد تو نہیں کر سکتا تو پھر تو پھر مجاہدین کی مالی مدد کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ النُّصْرَةِ فِي حَقِّنَا“ اور اس لیے کیونکہ جزیہ جو ہے ہمارے حق میں مدد سے بدل ہو کر واجب ہوا ہے ”وَقَدْ قَدَرَ عَلَيْهَا بِنَفْسِهِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ“ اور تحقیق یہ مدد پر خود ہی قادر ہو گیا ہے اسلام لانے کے بعد۔ جب یہ اسلام لے آیا تو یہ تو اب اپنی جان کے ذریعے ہماری مدد کرنے پر قادر ہو گیا، لہٰذا اب اس پر جزیہ نہیں آئے گا کیونکہ جزیہ تو اسی جانی مدد کے بدلے کے طور پر ہی تو واجب ہوا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ قَدَرَ عَلَيْهَا بِنَفْسِهِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ“ اور تحقیق یہ اس مدد پر خود ہی قادر ہو گیا ہے اسلام لانے کے بعد ”وَالْعِصْمَةُ تَثْبُتُ بِكَوْنِهِ آدَمِيًّا“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ یہ جو جزیہ ہے یہ عصمت سے بدل ہے۔ یہ جو جزیہ ہے یہ عصمت سے یا رہائش سے بدل ہے، ہم کہتے ہیں نہیں یہ جزیہ جو ہے عصمت سے بدل نہیں ہو سکتا اس لیے کیونکہ عصمت تو اس کو حاصل ہے آدمی ہونے کی وجہ سے۔ عصمت اس کو حاصل ہے آدمی ہونے کی وجہ سے، انسان ہونے کی وجہ سے۔ یہ بات پیچھے گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکلف بنایا ہے، اس کے لیے شرعی احکام نازل فرمائے ہیں، اور انسان پر لازم ہے کہ وہ ان احکام پر عمل کرے اور ان کے مطابق زندگی گزارے۔ تو لہٰذا یہ مکلف ہونا تقاضا کرتا ہے کہ انسان کا قتل جائز نہیں ہونا چاہیے، اس کو عصمت حاصل ہونی چاہیے، وہ معصوم اور محفوظ ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ اگر اس کو عصمت حاصل نہیں ہوگی تو پھر تو اس کو قتل کر دیا جائے گا، وہ زندہ ہی نہیں رہے گا، جب زندہ نہیں رہے گا تو اللہ کے احکام پر کیسے عمل کرے گا؟ تو معلوم ہوا یہ ذمی کو جو عصمت حاصل ہے یہ اس کے آدمی ہونے کی وجہ سے ہے۔ ہاں، یہی ذمی جب حربی بن جاتا ہے تو اس کو حربی ہونے کا شر عارض ہو جاتا ہے، پھر اس کا قتل جائز ہوتا ہے، لیکن اس وقت تو یہ ذمی ہے، اس نے عہدِ ذمہ کو قبول کر لیا ہے، اس کی جنگ کا شر دور ہو چکا ہے تو لہٰذا یہ اپنی اصل عصمت پر لوٹ آیا۔ تو اس کو جو عصمت حاصل ہے وہ آدمی ہونے کے اعتبار سے اس کو عصمت حاصل ہے، جزیے کی وجہ سے اس کو عصمت حاصل نہیں ہے بھئی، یہ معنیٰ ہے ”وَالْعِصْمَةُ تَثْبُتُ بِكَوْنِهِ آدَمِيًّا“ اور عصمت جو ہے ثابت ہے اس کے آدمی ہونے کی وجہ سے۔ ”وَالذِّمِّيُّ يَسْكُنُ مِلْكَ نَفْسِهِ“ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا تھا کہ ذمی جو ہے اس نے ہمارے دار الاسلام میں رہائش رکھی ہے لہٰذا اس کے بدلے کے طور پر اس پر جزیہ ہے، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ رہائش تو اس نے اپنی ذاتی ملکیت میں رکھی ہے، وہ مکان جس میں یہ رہتا ہے وہ تو اس کی ذاتی ملکیت ہے تو اس کی وجہ سے اس پر بدل واجب نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالذِّمِّيُّ يَسْكُنُ مِلْكَ نَفْسِهِ“ اور ذمی جو ہے وہ تو اپنی ذاتی ملکیت کے اندر رہتا ہے ”فَلَا مَعْنَى لِإِيجَابِ بَدَلِ الْعِصْمَةِ وَالسُّكْنَى“ لہٰذا کوئی سبب نہیں ہے رہائش اور عصمت کا بدل واجب کرنے کا۔ کوئی سبب نہیں ہے کہ رہائش یا عصمت کے بدلے میں جزیہ واجب کیا جائے کیونکہ عصمت تو آدمی ہونے کی وجہ سے حاصل ہے اور رہائش اس نے اپنی ملکیت میں رکھی ہوئی ہے تو ان کی وجہ سے جزیہ واجب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنِ اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْحَوْلَانِ تَدَاخَلَتِ الْجِزْيَتَانِ“ یہاں سے آپ کو بتلائیں گے کہ اگر ایک شخص پر دو سالوں کے جزیے جمع ہو جائیں یا زیادہ سالوں کے جزیے جمع ہو جائیں تو ان میں تداخل آ جائے گا، ایک ہی جزیہ ادا کرنا کافی ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ جزیہ بطورِ سزا کے واجب ہوا ہے اور سزاؤں میں تداخل ہوتا ہے، ایک آدمی کئی چوریاں بھی کر لے، ایک ہی سزا ایک ہی دفعہ کا ہاتھ کاٹنا سب کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْحَوْلَانِ“ اور اگر اس شخص پر دو سال جمع ہو جائیں یعنی اس ذمی پر دو سال، حول سال کو کہتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، یہاں صاحبِ ہدایہ مؤنث فعل لائے ”وَإِنِ اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْحَوْلَانِ“ حالانکہ حول کا لفظ تو مذکر ہے اور فاعل مذکر ہو تو فعل کو بھی مذکر لاتے ہیں، لیکن صاحبِ ہدایہ یہاں مؤنث فعل لائے تو شارحین فرماتے ہیں کہ یہ حول سنۃ کی تاویل میں ہے، یعنی یہ حولان کس تاویل میں ہیں؟ سنتان، اور سنۃ کے اندر تو گول تا تانیث والی موجود ہے تو یہ اس تاویل میں اس کے لیے مؤنث کا فعل لے آئے، یا دوسرا جواب یہ دیتے ہیں کہ الحولان سے پہلے جزیتا کا لفظ محذوف نکال لیں کہ اس میں جمع ہو جائیں، دو جزیے جمع ہو جائیں تو اصل میں مضاف یہاں محذوف ہے اور تقدیرِ کلام یوں ہے: ”وَإِنِ اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ جِزْيَتَا الْحَوْلَانِ“، جزیتا تھا تثنیہ تھا، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْحَوْلَانِ“ اور اگر اس ذمی پر دو سال کے جزیے جمع ہو جائیں ”تَدَاخَلَتِ الْجِزْيَتَانِ“ تو ان دو جزیوں میں تداخل ہو جائے گا۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ یہ تو قدوری کی عبارت تھی کہ دو جزیہ آئے تو ان میں تداخل ہو جائے گا، لیکن صاحبِ ہدایہ کی عادت ہے اگر جامع صغیر کی عبارت ذرا مختلف ہو یا اس میں کوئی نیا فائدہ ہو تو اس کو بھی ذکر کرتے ہیں، تو اب اس کو ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے ”وَمَنْ لَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ خَرَاجُ رَأْسِهِ“ اور جس شخص سے اس کا خراجِ راس نہیں لیا گیا، خراجِ راس آپ پڑھ چکے اسی جزیہ کا نام ہے، ایک خراج الارض ہے اور ایک خراج الراس ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَمَنْ لَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ خَرَاجُ رَأْسِهِ حَتَّى مَضَتِ السَّنَةُ“ اور جس شخص سے اس کا خراجِ راس نہیں لیا گیا یہاں تک کہ وہ سال گزر گیا ”وَجَاءَتْ سَنَةٌ أُخْرَى“ اور دوسرا سال آ گیا ”لَمْ يُؤْخَذْ“ تو اس سے وہ جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ صاحبِ ہدایہ آگے فرما رہے ہیں: ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ نے یہ جو جامع صغیر میں ذکر کیا ہے کہ اگلا سال آ جائے تو گزشتہ جزیہ ساقط ہو جائے گا یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ کہ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يُؤْخَذُ مِنْهُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس سے وہ گزشتہ جزیہ بھی لیا جائے گا ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، وہ بھی فرماتے ہیں کہ سال گزرنے کی وجہ سے جزیہ ساقط نہیں ہوگا، گزشتہ جزیہ بھی لیا جائے گا۔ ”وَإِنْ مَاتَ عِنْدَ تَمَامِ السَّنَةِ“ اور اگر وہ شخص وہ ذمی مر گیا عند تمام السنۃ سال کے پورا ہوتے وقت، یعنی سال کے پورا ہونے پر وہ مر گیا ”لَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ تو اس مرنے والے سے جزیہ نہیں لیا جائے گا فی قولہم جمیعا ان سب کے قول میں۔ یعنی اس میں ہمارے تینوں ائمہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے کہ جو ذمی سال کے پورا ہونے پر مر جائے اس سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ ”وَكَذَلِكَ إِنْ مَاتَ فِي بَعْضِ السَّنَةِ“ اور اسی طرح اگر وہ ذمی بعض سال میں مر گیا یعنی سال ابھی پورا نہیں ہوا تھا اس سے پہلے ہی وہ مر گیا تب بھی اسی طرح ہے یعنی جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ آگے صاحبِ ہدایہ اب اس کی شرح کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”أَمَّا مَسْأَلَةُ الْمَوْتِ فَقَدْ ذَكَرْنَاهَا“ تو موت کا جو مسئلہ ہے اس کو تو ہم نے ذکر کر دیا، صاحبِ ہدایہ نے پیچھے ہی ذکر کیا تھا کہ اگر کوئی ذمی مسلمان ہو جائے تب بھی جزیہ ساقط ہو جائے گا اور کوئی ذمی مر جائے تب بھی جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا مَسْأَلَةُ الْمَوْتِ فَقَدْ ذَكَرْنَاهَا“ تو موت کا جو مسئلہ ہے اس کو تو تحقیق ہم نے پیچھے ذکر کر دیا ”وَقِيلَ خَرَاجُ الْأَرْضِ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ اور کہا گیا ہے کہ زمین کا خراج بھی اسی اختلاف پر ہے۔ زمین کا خراج بھی اسی اختلاف پر ہے، امام صاحب کے نزدیک اگر کئی سالوں کا خراج جمع ہو گیا تو ان میں تداخل ہو جائے گا جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اس میں تداخل نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ خَرَاجُ الْأَرْضِ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ اور کہا گیا ہے کہ زمین کا خراج بھی اسی اختلاف پر ہے ”وَقِيلَ لَا تَدَاخُلَ فِيهِ بِالِاتِّفَاقِ“ اور کہا گیا ہے کہ خراج کے اندر بالاتفاق تداخل نہیں ہے۔ بعض فقہاء تو فرماتے ہیں خراج کے مسئلے میں بھی امام صاحب اور صاحبین کا اسی طرح اختلاف ہے، امام صاحب کے نزدیک کئی سالوں کا خراج جمع ہو جائے تو اس میں تداخل ہو جائے گا اور صاحبین فرماتے ہیں اس میں تداخل نہیں ہوگا، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں، یہ جو خراج جو ہے اس کے اندر بالاتفاق تداخل نہیں ہوگا، کئی سال بھی گزر جائیں تو ان سب کا خراج وصول کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ لَا تَدَاخُلَ فِيهِ بِالِاتِّفَاقِ“ اور کہا گیا ہے کہ خراج کے اندر بالاتفاق تداخل نہیں ہے۔ ”لَهُمَا فِي الْخِلَافِيَّةِ“ صاحبین کی دلیل اختلافی مسئلے میں، صاحبین کی دلیل اختلافی مسئلے میں یعنی جزیے میں، جزیے کے اندر امام صاحب کے نزدیک کئی سالوں کا جزیہ جمع ہو جائے تو اس میں تداخل ہوگا، صاحبین فرماتے ہیں تداخل نہیں ہوگا، تو اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لَهُمَا فِي الْخِلَافِيَّةِ“ صاحبین کی دلیل اختلافی مسئلے میں وہ یہ ہے: ”أَنَّ الْخَرَاجَ وَجَبَ عِوَضًا“ کہ یہ جو خراج واجب ہوا ہے یہ بطورِ عوض کے ہے، یعنی وہی امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بات کی تھی کہ یہ خراج یہ اس کی عصمت کا عوض ہے، یہ جو اس کی جان معصوم ہم نے قرار دی ہے، یا یہ اس کے رہائش کا عوض ہے، یہ جو پورا سال دار الاسلام میں رہا ہے۔ تو صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْخَرَاجَ وَجَبَ عِوَضًا“ کہ یہ خراج جو ہے عوض ہو کر واجب ہوا ہے ”وَالْأَعْوَاضُ إِذَا اجْتَمَعَتْ وَأَمْكَنَ اسْتِيفَاؤُهَا تُسْتَوْفَى“ اور عوض جو ہیں جب وہ جمع ہو جائیں اور ان کو وصول کرنا ممکن ہو تو پھر ان کو وصول کیا جاتا ہے۔ ”وَقَدْ أَمْكَنَ فِيمَا نَحْنُ فِيهِ“ اور تحقیق ممکن ہے اس کے اندر جس مسئلے کے اندر ہم ہیں۔ اس مسئلے کے اندر بھی وہ ذمی وہ ذمی زندہ ہے تو اس سے وہ عوض یعنی جزیہ وصول کرنا ممکن ہے، تو گزشتہ تمام سالوں کا جزیہ وصول کیا جائے گا۔ اور یاد رکھو، یہ جو ذمی سے جزیہ وصول کیا جاتا ہے یہ اس کے اندر اس کی ذلت ہے تو یعنی جزیہ اذلال کے طریقے پر وصول ہوتا ہے۔ تو جب تک یہ ذمی ہے تو اذلال کے طریقے پر اس کو ذلیل کرتے ہوئے اس سے جزیہ وصول کرنا ممکن ہے، لیکن جب یہ مسلمان ہو گیا تو مسلمان کی تو عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو اب اس کا اذلال یعنی اس سے جزیہ وصول کرنا ممکن نہ رہا، لہٰذا اس صورت میں بالاتفاق جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ أَمْكَنَ فِيمَا نَحْنُ فِيهِ“ اور تحقیق ممکن ہے جزیہ وصول کرنا فیما نحن فیہ اس مسئلے کے اندر جس کے اندر ہم ہیں ”بَعْدَ تَوَالِي السِّنِينَ“ بعد کئی سالوں کے تسلسل کے، توالی کا معنیٰ پے در پے ہونا اور سنین جمع ہے سنۃ کی، بعد توالی السنین کئی سالوں کے تسلسل کے بعد بھی اس میں جزیہ کافر سے وصول کرنا ممکن ہے۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَسْلَمَ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ ذمی مسلمان ہو گیا ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ اسْتِيفَاؤُهُ“ اس لیے کیونکہ جزیے کا وصول کرنا ممکن نہ رہا، کیونکہ جزیے کی وصولی میں تو اذلال ہے یعنی اس کو ذلیل کرنا ہے اور مسلمان کو تو ذلیل نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَسْلَمَ لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ اسْتِيفَاؤُهُ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ مسلمان ہو گیا اس لیے کیونکہ جزیے کا وصول کرنا متعذر ہو گیا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهَا وَجَبَتْ عُقُوبَةً عَلَى الْإِصْرَارِ عَلَى الْكُفْرِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو جزیہ ہے یہ کفر پر جمے رہنے کی وجہ سے واجب ہوتا ہے، کہ یہ شخص کفر پر جما ہوا ہے تو بطورِ سزا کے اس پر شریعت نے جزیہ واجب کر دیا۔ تو ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهَا وَجَبَتْ عُقُوبَةً“ کہ یہ جزیہ جو واجب ہوا ہے بطورِ سزا کے ہے ”عَلَى الْإِصْرَارِ عَلَى الْكُفْرِ“ اصرار کا معنیٰ ہے جمے رہنا، ”عَلَى الْإِصْرَارِ عَلَى الْكُفْرِ“ کفر پر جمے رہنے کی وجہ سے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ اسی لیے اس کو جزیہ کہتے ہیں کہ یہ بطورِ سزا کے ہے۔ ”وَلِهَذَا لَا تُقْبَلُ مِنْهُ لَوْ بَعَثَ عَلَى يَدِ نَائِبِهِ فِي أَصَحِّ الرِّوَايَاتِ“ کہتے ہیں اسی لیے اگر ذمی جزیہ ادا کرنے کے لیے اپنے کسی نائب کو بھیجے، کسی اور کو جزیہ دے کر بھیجے کہ میرا جزیہ جمع کروا آؤ، تو زیادہ صحیح روایت کے مطابق اس کے نائب سے یہ جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا بلکہ اس ذمی کو کہا جائے گا کہ خود آ کر ادا کرو۔ تو ایک روایت کے مطابق نائب سے وصول کر لیں گے وہ بھی صحیح روایت ہے لیکن دوسری روایت زیادہ صحیح ہے کہ نائب سے جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَا تُقْبَلُ مِنْهُ“ اور اسی لیے جزیہ جو ہے ذمی سے قبول نہیں کیا جائے گا ”لَوْ بَعَثَ عَلَى يَدِ نَائِبِهِ“ اگر اس نے جزیہ اپنے نائب کے ہاتھ بھیجا ”فِي أَصَحِّ الرِّوَايَاتِ“ روایات میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق ”بَلْ يُكَلَّفُ أَنْ يَأْتِيَ بِهِ بِنَفْسِهِ“ بلکہ اس ذمی کو ذمہ دار بنایا جائے گا کہ وہ اس جزیے کو خود لے کر آئے ”فَيُعْطِيَ قَائِمًا وَالْقَابِضُ مِنْهُ قَاعِدٌ“ تو وہ کھڑے ہو کر جزیہ دے گا اور اس جزیے پر قبضہ کرنے والا بیٹھا ہوگا، یعنی امام یا نائب بیٹھ کر اس ذمی سے وصول کرے گا اور یہ ذمی کھڑے ہو کر جزیہ ادا کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُعْطِيَ قَائِمًا وَالْقَابِضُ مِنْهُ قَاعِدٌ“ تو یہ ذمی کھڑے ہو کر جزیہ دے گا اور اس جزیے پر قبضہ کرنے والا بیٹھا ہوگا ”وَفِي رِوَايَةٍ“ اور ایک روایت میں یہ ہے ”يَأْخُذُ بِتَلْبِيبِهِ وَيَهُزُّهُ هَزًّا“ تلبیب بھئی، تلبیب کہتے ہیں گریبان بھئی، یہ جو قمیص کا سینے کے اوپر گردن کے نیچے والا حصہ ہے، اور ھز یھز کے معنیٰ حرکت دینا، تو بعض روایات میں آتا ہے کہ اس ذمی کو گریبان سے پکڑا جائے گا اور اس کو ہلایا جائے گا اور کہا جائے گا: ”أَعْطِنِي الْجِزْيَةَ يَا ذِمِّيُّ“ اے ذمی مجھے جزیہ دو، یا یوں کہا جائے گا: ”أَعْطِنِي الْجِزْيَةَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ“ اے اللہ کے دشمن جزیہ دو۔ معلوم ہوا اذلال کے طریقے پر جزیہ وصول کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي رِوَايَةٍ“ اور ایک روایت میں ہے ”يَأْخُذُ بِتَلْبِيبِهِ“ تلبیب بھئی لبّب یلبّب تلبیب کا معنیٰ ہے گریبان پکڑنا، تو کہتے ہیں: ”وَفِي رِوَايَةٍ“ اور ایک روایت میں ہے ”يَأْخُذُ بِتَلْبِيبِهِ“ کہ امام یا اس کا نائب اس ذمی کو گریبان سے پکڑے گا ”وَيَهُزُّهُ هَزًّا“ اور اس کو ہلائے گا ”وَيَقُولُ: أَعْطِنِي الْجِزْيَةَ يَا ذِمِّيُّ“ اور اسے کہے گا کہ اے ذمی مجھے جزیہ ادا کرو ”وَقِيلَ: عَدُوَّ اللَّهِ“ اور کہا گیا ہے عدو اللہ کہ یوں کہیں گے کہ ”أَعْطِنِي الْجِزْيَةَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ“ کہ اے اللہ کے دشمن جزیہ ادا کرو ”فَثَبَتَ أَنَّهُ عُقُوبَةٌ“ تو ثابت ہو گیا کہ یہ جزیہ جو ہے یہ سزا ہے ”وَالْعُقُوبَاتُ إِذَا اجْتَمَعَتْ تَدَاخَلَتْ كَالْحُدُودِ“ اور سزائیں جب جمع ہو جائیں تو ان میں تداخل ہوتا ہے جیسے کہ حدود ہیں۔ ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْقَتْلِ فِي حَقِّهِمْ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو جزیہ واجب ہوا ہے یہ ان کفار کے حق میں قتل کا بدل ہے کہ ہم ان کو قتل نہیں کر رہے، وہ تو قتل کے مستحق ہو چکے تھے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْقَتْلِ فِي حَقِّهِمْ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جزیہ جو ہے ان کفار کے حق میں قتل کا بدل ہو کر واجب ہوا ہے ”وَعَنِ النُّصْرَةِ فِي حَقِّنَا كَمَا ذَكَرْنَا“ اور ہمارے حق میں یہ جزیہ جو ہے نصرت کا بدل ہو کر واجب ہوا ہے، مدد کا بدل ہو کر واجب ہوا ہے کما ذکرنا جیسے ہم نے ذکر کر دیا ”لَكِنْ فِي الْمُسْتَقْبَلِ لَا فِي الْمَاضِي“ لیکن مستقبل کے اندر نہ کہ ماضی کے اندر۔ بھئی کفار سے ہم جزیہ لے رہے ہیں یہ کس چیز کا بدل ہے؟ ان کے حق میں قتل کا بدل دے رہے ہیں، لیکن کون سا قتل؟ جو زمانہ گزر گیا یا جو آنے والا ہے؟ کہتے ہیں بھئی مستقبل کا زمانہ مراد ہے کہ مستقبل میں یعنی آنے والے پورے سال میں ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے، اور ہم جو ان سے جزیہ لے رہے ہیں وہ ہمارے حق میں مدد کا بدل ہے لیکن مستقبل کے اعتبار سے کہ یہ مستقبل میں گویا اس سال میں ہماری مدد کر رہا ہے نہ کہ ماضی کے اعتبار سے، کیونکہ ماضی تو گزر گئی۔ تو کافر کو ماضی میں عصمت چاہیے یا مستقبل کے اندر عصمت چاہیے؟ مستقبل میں عصمت چاہیے، اور ہمیں بھی مستقبل میں مدد چاہیے، ماضی تو گزر چکا ہے، تو معلوم ہوا کافر کے حق میں یہ جزیہ اس کے قتل کا بدل ہے اور ہمارے حق میں یہ جزیہ مدد کا بدل ہے لیکن یہ دونوں مستقبل کے اعتبار سے ہیں، ماضی کے اعتبار سے نہیں کیونکہ ماضی تو گزر چکی ہے بھئی، نہ ماضی میں ہمیں اب مدد کی ضرورت اور نہ اسے ماضی میں عصمت کی ضرورت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا وَجَبَتْ بَدَلًا عَنِ الْقَتْلِ فِي حَقِّهِمْ وَعَنِ النُّصْرَةِ فِي حَقِّنَا كَمَا ذَكَرْنَا لَكِنْ فِي الْمُسْتَقْبَلِ لَا فِي الْمَاضِي“ اور اس لیے کیونکہ یہ جزیہ جو ہے کافر کے حق میں قتل سے بدل ہے اور ہمارے حق میں یہ مدد سے بدل ہے جیسے ہم نے ذکر کر دیا لیکن یہ مستقبل کے اعتبار سے ہے نہ کہ ماضی کے اعتبار سے ”لِأَنَّ الْقَتْلَ إِنَّمَا يُسْتَوْفَى لِحِرَابٍ قَائِمٍ فِي الْحَالِ“ ”لِأَنَّ الْقَتْلَ إِنَّمَا يُسْتَوْفَى“ اس لیے کیونکہ قتل جو ہے وہ وصول کیا جاتا ہے ”لِحِرَابٍ قَائِمٍ فِي الْحَالِ“ حراب کا معنیٰ حرب کے ہے جنگ کو کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ قتل جو ہے انما یستوفی اس کو وصول کیا جاتا ہے لحراب قائم فی الحال اس جنگ کی وجہ سے جو فی الحال موجود ہو، جو قتل کیا جاتا ہے وہ فی الحال جو جنگ ہو اس کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے، جو ماضی میں جنگ گزر چکی ہے اس کی وجہ سے کسی کو قتل نہیں کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْقَتْلَ إِنَّمَا يُسْتَوْفَى لِحِرَابٍ قَائِمٍ فِي الْحَالِ“ اس لیے کیونکہ قتل جو ہے اس کو وصول کیا جاتا ہے اس جنگ کی وجہ سے جو فی الحال موجود ہے ”لَا لِحِرَابٍ مَاضٍ“ نہ کہ اس جنگ کی وجہ سے جو گزر چکی ہے ”وَكَذَا النُّصْرَةُ فِي الْمُسْتَقْبَلِ“ اور اسی طرح مدد جو ہے وہ بھی مستقبل میں ہوتی ہے ”لِأَنَّ الْمَاضِيَ وَقَعَتِ الْغُنْيَةُ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ ماضی سے تو بے نیازی حاصل ہو چکی ہے، غنیٰ کا کیا معنیٰ؟ بے نیازی، ماضی میں اب ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں کیونکہ ماضی کا زمانہ تو گزر چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا النُّصْرَةُ فِي الْمُسْتَقْبَلِ لِأَنَّ الْمَاضِيَ وَقَعَتِ الْغُنْيَةُ عَنْهُ“ اور اسی طرح مدد جو ہے وہ بھی مستقبل میں ہوتی ہے اس لیے کیونکہ ماضی جو ہے اس سے تو بے نیازی حاصل ہو چکی ہے۔ ”ثُمَّ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْجِزْيَةِ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ بھئی پیچھے متن گزرا تھا، صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا تھا: ”وَإِنِ اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْحَوْلَانِ تَدَاخَلَتِ الْجِزْيَتَانِ“، دو سال جمع ہو گئے تو جزیوں میں تداخل ہو جائے گا۔ لیکن آگے جامع صغیر کی عبارت بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائی تھی اور فرمایا تھا کہ جامع صغیر میں ہے: ”وَمَنْ لَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ خَرَاجُ رَأْسِهِ“ کہ جس سے اس کا خراجِ راس یعنی جزیہ نہیں لیا گیا ”حَتَّى مَضَتِ السَّنَةُ“ یہاں تک کہ وہ سال گزر گیا ”وَجَاءَتْ سَنَةٌ أُخْرَى“ اور دوسرا سال آ گیا ”لَمْ يُؤْخَذْ“ تو پھر وہ پچھلا جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ بھئی اب ساری بحث کریں گے یہ جو متن میں لفظ آیا ”وَجَاءَتْ سَنَةٌ أُخْرَى“، امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں جامع صغیر میں؟ ایک سال گزر گیا ”وَجَاءَتْ سَنَةٌ أُخْرَى“ دوسرا سال آ گیا۔ تو کیا دوسرا سال شروع ہوتے ہی پچھلا جزیہ ساقط ہو جائے گا یا دوسرا سال بھی گزرنا ضروری ہے؟ تو فقہاء اختلاف کرتے ہیں، بعض فرماتے ہیں کہ یہاں تو ذکر ہے ”وَجَاءَتْ سَنَةٌ أُخْرَى“ دوسرا سال جب آ جائے گا، لیکن یہ مجازاً کہا گیا ہے، معنیٰ یہی ہے کہ دوسرا سال جب گزر جائے گا، کیونکہ جب سال گزرے گا تب اس سال کا بھی جزیہ آ جائے گا، اب دو جزیے جمع ہو گئے، سال کے ابتداء میں تو جزیہ نہیں آتا بھئی۔ تو معلوم ہوا ”جَاءَتْ سَنَةٌ أُخْرَى“ کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ دوسرا سال آ جائے بلکہ معنیٰ یہ ہے جب دوسرا سال گزر جائے بھئی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہمارے نزدیک سال شروع ہوتے ہی جزیہ واجب ہو جاتا ہے کیونکہ ابھی آپ کو بتایا کہ اس کو مستقبل میں عصمت کی حاجت ہے ماضی کے اندر عصمت کی حاجت نہیں، اور ہمیں مستقبل میں مدد کی ضرورت ہے ماضی کے اندر ہمیں مدد کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْجِزْيَةِ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور پھر امام محمد رحمہ اللہ کا قول جو ہے جزیہ کے بارے میں جامع صغیر میں وہ جو فرمایا انہوں نے کہ ”وَجَاءَتْ سَنَةٌ أُخْرَى“ یہ جو قول ہے ان کا ”حَمَلَهُ بَعْضُ الْمَشَايِخِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى الْمُضِيِّ مَجَازًا“ امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کو محمول کیا ہے بعض فقہاء نے علی المضی ماضی پر مجازاً بطورِ مجاز کے، کہ یہ کلام مجاز پر مبنی ہے، مراد دوسرے سال کا آنا نہیں ہے بلکہ دوسرے سال کا گزرنا مراد ہے، یہ معنیٰ ہے ”حَمَلَهُ بَعْضُ الْمَشَايِخِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ“ کہ بعض فقہاء نے امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کو محمول کیا ہے ”عَلَى الْمُضِيِّ مَجَازًا“ گزرنے پر مجازاً ”وَقَالَ الْوُجُوبُ بِآخِرِ السَّنَةِ“ اور وہ فقہاء فرماتے ہیں کہ وجوب جو ہے وہ آخرِ سال میں ہوگا ”فَلَا بُدَّ مِنَ الْمُضِيِّ“ لہٰذا اس دوسرے سال کا گزرنا ضروری ہے ”لِيَتَحَقَّقَ الِاجْتِمَاعُ فَيَتَدَاخَلُ“ تاکہ جزیوں کا جمع ہونا پایا جائے تو پھر ان میں تداخل ہو جائے گا ”وَعِنْدَ الْبَعْضِ هُوَ مَجْرِيٌّ عَلَى حَقِيقَتِهِ“ اور بعض فقہاء کے نزدیک یہ کلام جو ہے جاری ہے اپنی حقیقت پر، یعنی آنے سے آنا ہی مراد ہے گزرنا مراد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بعض کے نزدیک ”هُوَ مَجْرِيٌّ عَلَى حَقِيقَتِهِ“ امام محمد رحمہ اللہ کا یہ قول اپنی حقیقت پر جاری ہے ”وَالْوُجُوبُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِأَوَّلِ الْحَوْلِ“ اور جزیہ کا جو وجوب ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک وہ سال کے اول میں ہوتا ہے۔ یہ بعض فقہاء کی بات چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آنے سے آنا ہی مراد ہے اور امام صاحب کے نزدیک جزیہ کا وجوب سال کی ابتداء میں ہی ہو جاتا ہے ”فَيَتَحَقَّقُ الِاجْتِمَاعُ بِمُجَرَّدِ الْمَجِيءِ“ لہٰذا جزیے کا اجتماع پایا جائے گا بمجرد المجیء صرف اس دوسرے سال کے آنے سے ہی یعنی شروع ہونے سے ہی۔ ”وَالْأَصَحُّ أَنَّ الْوُجُوبَ عِنْدَنَا فِي ابْتِدَاءِ الْحَوْلِ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جزیہ کا وجوب ہمارے نزدیک سال کی ابتداء میں ہوگا ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي آخِرِهِ اعْتِبَارًا بِالزَّكَاةِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جزیے کا وجوب جو ہے سال کے آخر میں ہوگا جب سال گزر جائے، زکوٰۃ پر قیاس کرتے ہوئے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس طرح زکوٰۃ کا وجوب سال کے گزرنے کے بعد ہوتا ہے، جب اس مالِ نامی پر سال گزر جاتا ہے پھر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اسی طرح جب سال پورا ہو جائے گا پھر اس سال کا جزیہ واجب ہوگا بھئی۔ تو وہ اس جزیے کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ زکوٰۃ پر۔ ”وَلَنَا أَنَّ مَا وَجَبَ بَدَلًا عَنْهُ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا فِي الْمُسْتَقْبَلِ عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ جزیہ جس چیز کا بدل ہو کر واقع ہوا ہے وہ پایا نہیں جا سکتا مگر مستقبل میں ہی اس وجہ سے جو ہم نے ثابت کر دیا، کہ جزیہ یا تو عصمت سے بدل ہے یا نصرت سے بدل ہے، اور عصمت بھی مستقبل میں کافر کو چاہیے ماضی کی بات تو گزر چکی، اور مدد بھی ہمیں مستقبل میں چاہیے ماضی تو گزر چکا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ مَا وَجَبَ بَدَلًا عَنْهُ“ کہ وہ قتل یا وہ نصرت جو ہے جس سے جزیہ بدل ہو کر واجب ہوا ہے ”لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا فِي الْمُسْتَقْبَلِ“ وہ مدد اور نصرت نہیں ہو سکتی مگر مستقبل میں ہی ”عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے ثابت کر دیا ”فَتَعَذَّرَ إِيجَابُهُ بَعْدَ مُضِيِّ الْحَوْلِ“ لہٰذا جزیہ کا واجب کرنا متعذر ہو گیا سال کے گزرنے کے بعد۔ سال کے گزرنے کے بعد اس کا واجب کرنا متعذر ہے کیونکہ جب سال گزر گیا تو جو سال گزر گیا اس میں ہمیں مدد کی ضرورت بھی نہیں اور اس سال گزرے ہوئے سال میں کفار کو عصمت کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ تو گزر چکا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَتَعَذَّرَ إِيجَابُهُ بَعْدَ مُضِيِّ الْحَوْلِ“ تو سال کے گزرنے کے بعد اس کے اندر جزیے کا واجب کرنا ممکن نہ رہا ”فَأَوْجَبْنَاهَا فِي أَوَّلِهِ“ تو ہم نے جزیہ کو واجب کر دیا سال کے اول میں یعنی سال کے شروع میں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ نے اس جزیے کو قیاس کیا تھا زکوٰۃ پر، اس کا بھی ہم جواب دیتے ہیں کہ وجہ یہ کہ زکوٰۃ مالِ نامی پر آیا کرتی ہے، کس پر؟ مالِ نامی پر، اور سال گزرے گا تو مال کے اندر نماء پائی جائے گی، بڑھوتری پائی جائے گی، اس میں نفع پایا جائے گا یا حقیقۃً یا تقدیراً بھئی، کیونکہ سال ایک طویل زمانہ ہے اس کے اندر مال کے اندر نماء کا ہونا یعنی بڑھوتری اور افزائش کا ہونا یہ ممکن ہے، لہٰذا سال کے گزرنے سے اس مال کے اندر نماء آئے گی، چاہے حقیقۃً نماء آ جائے چاہے تقدیراً نماء آئے، تو اس کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی۔ جبکہ جزیہ جو ہے وہ تو کفار کے حق میں ان کے قتل سے بدل ہے اور مسلمانوں کے حق میں یہ ان کی نصرت اور مدد سے بدل ہے، اور قتل سے بھی ان کو عصمت چاہیے تو وہ مستقبل میں چاہیے کیونکہ ماضی تو گزر چکا ہے ماضی میں تو وہ عصمت کے محتاج نہیں، اور نیز مسلمانوں کے حق میں یہ جزیہ جو ہے ان کی نصرت سے بدل ہے اور نصرت بھی مستقبل میں چاہیے کیونکہ ماضی تو گزر چکا ہے، ماضی کے اندر تو ہمیں ان کی مدد کی حاجت نہیں ہے، تو لہٰذا جزیہ جو ہے وہ سال کے شروع میں ہی واجب ہو جائے گا مستقبل کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مستقبل میں ان کو عصمت کی ضرورت ہے اور ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 139 of 160