Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 80
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی سبق۔ ”فَصْلٌ فِي الْأَمْرِ بِالْيَدِ. وَإِنْ قَالَ لَهَا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَنْوِي ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ، فَهِيَ ثَلَاثٌ؛ لِأَنَّ الِاخْتِيَارَ يَصْلُحُ جَوَابًا لِلْأَمْرِ بِالْيَدِ، لِكَوْنِهِ تَمْلِيكًا كَالتَّخْيِيرِ، وَالْوَاحِدَةُ صِفَةُ الِاخْتِيَارَةِ، فَصَارَ كَأَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَرْتُ نَفْسِي مَرَّةً وَاحِدَةً، وَبِذَلِكَ يَقَعُ الثَّلَاثُ“. گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک تین کنایات میں طلاقِ رجعی ہوتی ہے اور باقی جتنے مشہور کنایات ہیں عربی زبان میں، ان کے اندر طلاقِ بائن ہوتی ہے۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کنایات کے ذریعے ہمیشہ طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔ وجہ یہ کہ یہ طلاق سے کنایات ہیں، یعنی ان کے ذریعے طلاق کا ارادہ کیا جاتا ہے، اسی لیے ان میں طلاق کی نیت بھی شرط ہے اور نیز ان کی وجہ سے طلاق کا عدد بھی کم ہو جاتا ہے۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ نہیں، ان کے ذریعے طلاقِ بائن ہوگی بھئی۔ وجہ یہ کہ خاوند جو ہے وہ ابانت کے تصرف کا محتاج ہے کیونکہ بعض اوقات کوئی شخص اپنی بیوی سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ اب اگر وہ طلاقِ رجعی دے گا تو اس میں اس کے ارادے کے بغیر بھی رجوع ممکن ہے کہ بیوی آ کر اس کا بوسہ لے لے تو رجوع ہو جائے گا، تو حالانکہ وہ تو رجوع نہیں چاہتا، اور اگر تین طلاقیں دے کر وہ جان چھڑائے گا تو پھر بعد میں تلافی کی کوئی صورت نہ رہے گی، نکاح کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ تو اب وہ محتاج ہے کہ ایسے طریقے سے جان چھڑائے کہ بعد میں تلافی بھی ہو سکے اور رجوع کی بھی کوئی صورت نہ رہے۔ تو یہ شخص محتاج ہوا ابانت کے تصرف کا، اور حاجت کی وجہ سے شریعت تصرف کا حق دیتی ہے ورنہ تو انسان حرج میں پڑ جائے گا، تنگی میں اور تکلیف میں پڑ جائے گا۔ تو لہٰذا خاوند کو ابانت کا حق ہونا چاہیے۔ اور نیز امامِ شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ طلاق سے کنایات ہیں تو اس کا بھی جواب دیا کہ یہ طلاق سے کنایات نہیں ہیں بلکہ یہ اپنے معنی کا عمل کرتے ہیں، جیسے خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ بَائِنٌ“، تو ”بَائِنٌ“ کا معنی ہے جدا، تو یہ ”بَائِنٌ“ لفظ اپنے معنی کا عمل کرے گا اور عورت کو خاوند سے جدا کر دے گا۔ لہٰذا یہ طلاق سے کنایات نہیں، اور باقی آپ نے کہا کہ ان کے اندر طلاق کی نیت شرط ہے تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ہمارے نزدیک طلاق کی نیت شرط نہیں ہے بلکہ بینونت کی نوع متعین کرنے کی شرط ہے، اس لیے کیونکہ ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے: تو میرے نکاح سے جدا ہے، اور ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو اور عورتوں سے جدا ہے، تو یہاں بینونت کی دو انواع آ گئیں: ایک بینونت عن النکاح ہے اور ایک بینونت عن شیء آخر ہے بھئی۔ تو لہٰذا ان دو میں سے ایک کی تعیین کی نیت کی شرط ہے، طلاق کی نیت کی شرط نہیں ہے بھئی۔ اور باقی آپ نے کہا اس کی وجہ سے طلاق کا عدد کم ہو جاتا ہے، وجہ یہ کہ کنایات کی وجہ سے نکاح ختم ہو رہا ہے اور نکاح ختم ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں: یا تو اس کو فسخِ نکاح قرار دیا جائے یا اس کو طلاق قرار دیا جائے، کیونکہ نکاح تو انہی دو طریقوں سے ختم ہوتا ہے، یا طلاق سے یا فسخ سے۔ اور بالاتفاق یہ جو کنایات ہیں یہ فسخِ نکاح نہیں ہیں، جب فسخِ نکاح نہیں ہیں تو ان کے ذریعے طلاق ہی ثابت ہوگی کیونکہ اسی کے ذریعے نکاح ختم ہوتا ہے بھئی۔ اور نیز ان کے اندر تین کی نیت بھی صحیح ہے، اس لیے کیونکہ بینونت دو قسم پر ہے: ایک بینونتِ خفیفہ ہے اور ایک بینونتِ غلیظہ ہے۔ تو اس کے اندر بینونتِ غلیظہ کا احتمال ہے، البتہ بینونتِ خفیفہ تو یقینی ہے کیونکہ وہ ادنیٰ ہے، تو ادنیٰ تو یقینی طور پر ثابت ہو جائے گا اور اعلیٰ جو ہے وہ نیت کے وقت ثابت ہو جائے گا۔ اور دو کی نیت صحیح نہیں ہے۔ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”اعْتَدِّي“، ”اعْتَدِّي“، ”اعْتَدِّي“، اور اس سے نیت پوچھی گئی تو اس نے کہا: میں نے پہلے کے ذریعے طلاق کی نیت کی تھی اور باقی دو کے ذریعے حیض کی نیت کی تھی، تو کہتے ہیں قضاءً خاوند کی تصدیق کی جائے گی، کیونکہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ خاوند طلاق دینے کے بعد بیوی کو عدت گزارنے کا حکم دیتا ہے۔ اور اگر خاوند نے کہا: پہلی میں میری طلاق کی نیت تھی اور باقی دو میں میری کوئی نیت نہیں تھی تو اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوں گی اور خاوند کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ جب اس نے پہلے لفظ ”اعْتَدِّي“ میں طلاق کی نیت کر لی تو گویا طلاق کی بات شروع ہو گئی، مذاکرۂ طلاق والی حالت ہو گئی اور مذاکرۂ طلاق کے اندر تو اس جیسا لفظ خاوند بولے جس کے اندر طلاق کا احتمال ہے اور رد وغیرہ کا احتمال نہیں ہے تو اس کو طلاق پر ہی محمول کیا جاتا ہے۔ اور اگر خاوند نے کہا: میں نے آخری ”اعْتَدِّي“ کے اندر طلاق کی نیت کی ہے تو پھر ایک طلاق واقع ہوگی اور جبکہ پہلے دو جو ہیں ان میں خاوند کی تصدیق کی جائے گی بھئی۔ اس کے بعد ہم نے باب تفویض الطلاق شروع کیا تھا اور سب سے پہلی فصل اس میں اختیار کے بارے میں پڑھی۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”اخْتَارِي“ اور طلاق کی نیت کرتا ہے تو اس نے بیوی کو طلاق کا اختیار دے دیا، لہٰذا اسی مجلس کے اندر بیوی جواب دے کہ ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ تو اس صورت میں طلاقِ بائن ہو جائے گی اور عورت کو یہ اختیار اس مجلس کے اختتام تک رہے گا، الّا یہ کہ کوئی ایسا فعل پایا جائے جو اعراض پر دلالت کر دے تو پھر اس صورت میں بھی اس کا اختیار ختم ہو جائے گا بھئی۔ اور نیز اس صورت میں ایک طلاقِ بائن ہوگی بھئی، لیکن اس کے ذریعے تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی اگرچہ خاوند ان کی نیت بھی کر لے، ایک ہی طلاقِ بائن واقع ہوگی۔ وجہ یہ کہ اختیار کے اندر تنوع نہیں ہے، اختیار کی انواع نہیں ہیں۔ بینونت کی تو انواع تھیں: بینونتِ خفیفہ اور بینونتِ غلیظہ، لہٰذا وہاں پر تو ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کے اندر خاوند تین کی نیت کر سکتا ہے لیکن اختیار جو ہے اس کی تو انواع نہیں، لہٰذا یہاں تین کی نیت بھی صحیح نہیں بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ ”اخْتَارِي“ کا معنی ہے اختیار دینا اور یہ اختیار طلاق کا بھی ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ اور چیزوں کا بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا یہاں نفس کے لفظ کے ساتھ اس کی تفسیر ضروری ہے بھئی، نفس کے لفظ کے، کہ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”اخْتَارِي نَفْسَكِ“ اور بیوی جواب میں کہتی ہے: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“، یا دونوں میں سے کوئی ایک نفس کا لفظ ذکر کرتا ہے، دوسرا ذکر نہیں کرتا تو اس صورت کے اندر بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن اگر کسی نے بھی نفس کے لفظ کو ذکر نہیں کیا، کسی نے بھی اختیار کی تفسیر نہیں کی تو پھر اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ جو اختیار کے ذریعے طلاق کا واقع ہونا ہے یہ خلافِ قیاس اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے، اور جو چیز خلافِ قیاس ثابت ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، اور صحابہ سے جس اختیار کے بارے میں اجماع روایت کیا گیا ہے اس میں نفس کا لفظ ذکر ہے بھئی، تو معلوم ہوا نفس کے لفظ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ اور اگر نفس کا لفظ ذکر نہیں کیا لیکن کوئی اور ایسا لفظ ذکر کر دیا جس سے طلاق پر دلالت ہو جائے تو اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“، تو اس صورت میں یہ ”اخْتِيَارَةً“ جو مصدر ہے اس سے بھی پتہ چل گیا کہ خاوند طلاق کا اختیار دے رہا ہے، اس لیے کیونکہ ”اخْتِيَارَةً“ مصدر کے آخر میں یہ جو گول تا ہے یہ تا وحدت کی ہے۔ معلوم ہوا ایک اختیار دے رہا ہے، اور اختیار کا ایک ہونا یا اختیار میں تعدد ہونا یہ صرف طلاق کے اندر ہوتا ہے، وہاں کبھی خاوند ایک طلاق کا اختیار دیتا ہے، کبھی دو طلاقوں کا اور کبھی تین طلاقوں کا، تو اس اختیار کے اندر تعدد اور وحدت ہوتی ہے جبکہ باقی اختیار جو ہیں وہاں تعدد نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو لہٰذا خاوند کا ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“ کہنا یہ بتلا رہا ہے کہ وہ طلاق کا اختیار دے رہا ہے بھئی۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی آپ کو بتلایا کہ اگر عورت نے مضارع کا صیغہ استعمال کر لیا اور کہا: ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ تو اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي“، تو اس صورت میں بھی یہ طلاق کا اختیار ہے، اس میں خاوند کی نیت کی بھی حاجت نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اختیار میں وحدت یا تعدد یہ صرف طلاق کے اندر ہوتا ہے، تو یہاں تین مرتبہ کا یہ لفظ ذکر کرنا بتلا رہا ہے کہ یہ طلاق کا اختیار دے رہا ہے کیونکہ اور اختیاروں میں تو تعدد نہیں ہوتا بھئی۔ تو اگر عورت نے کہا: ”اخْتَرْتُ الْأُولَى“ یا ”اخْتَرْتُ الْوُسْطَى“ یا ”اخْتَرْتُ الْأَخِيرَةَ“، تو پھر اس صورت میں صاحبین فرماتے ہیں ایک ہی طلاق واقع ہوگی جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں تینوں طلاقیں واقع ہوں گی۔ خاوند نے کیا کہا تھا؟ ”اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي“ تین مرتبہ۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں پر یہ جو تینوں طلاقیں ہیں یہ عورت کی ملکیت میں جمع ہو گئیں، اور جو چیز جمع ہو، اکٹھی ہو، اس کے اندر ترتیب نہیں ہوتی، جیسے ایک کمرے میں کئی افراد موجود ہیں تو آپ ان میں سے کسی کو بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ پہلا ہے، یہ دوسرا ہے، یہ تیسرا ہے۔ پہلا، دوسرا یا تیسرا ہونا فعل کے اعتبار سے ہو سکتا ہے، مثلاً ایک ہو سکتا ہے پہلے آیا ہو، ایک بعد میں آیا ہو، ایک تیسرے نمبر پر آیا ہو، تو آنے میں تو یہ پہلا، دوسرا، تیسرا ہو سکتے ہیں لیکن خود مجموعے کے اندر جمع ہونے کے اعتبار سے ان میں ترتیب نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی عورت کے اختیار میں، عورت کی ملکیت میں تین طلاقیں جمع ہو گئیں، ان میں کوئی ترتیب نہیں، لہٰذا بیوی کا ”اخْتَرْتُ الْأُولَى“ یا ”اخْتَرْتُ الْوُسْطَى“ یا ”اخْتَرْتُ الْأَخِيرَةَ“، یہ جو اولیٰ، وسطیٰ یا اخیرہ کی جو صفت ذکر کر رہی ہے یہ ترتیب کا فائدہ نہیں دے رہی کیونکہ یہاں طلاقوں میں ترتیب ہے ہی نہیں بھئی۔ ہاں البتہ ترتیب کا فائدہ تو نہیں دے رہی ہے لیکن افراد کا فائدہ دیں گے۔ اولیٰ کا کیا معنی؟ جو پہلی ہے، اور پہلی ترتیب تو نہیں لیکن اتنا تو پتہ چل رہا ہے کہ ایک ہے، تو یہ افراد کا فائدہ دیں گے اور اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ وجہ یہ کہ یہاں پر یہ جو اولیٰ، وسطیٰ اور اخیرہ کی صفات ہیں یہ اصل میں ترتیب کا فائدہ دے رہی ہیں اور ترتیب کے ساتھ ساتھ افراد بھی آ رہی ہے، لیکن افراد، افراد کی بنیاد اس ترتیب پر ہے۔ افراد کی بنیاد کس پر ہے؟ اس ترتیب پر ہے: یہ پہلی ہے، معلوم ہوا یہ ایک ہے؛ یہ دوسری ہے، معلوم ہوا یہ بھی ایک ہے؛ یہ تیسری ہے، معلوم ہوا یہ بھی ایک۔ تو معلوم ہوا مفرد ہونے کی بنیاد کس پر ہے؟ ترتیب پر ہے، اور یہ صفات جب ترتیب کا فائدہ نہیں دے رہیں تو اس ترتیب پر جس چیز کی بنیاد تھی یعنی افراد، اس کا بھی فائدہ نہیں دیں گی، لہٰذا یہ صفات لغو ہو گئیں، ان کا کوئی اعتبار نہیں، اور گویا عورت نے صرف ”اخْتَرْتُ“ کہا ہے۔ اور ”اخْتَرْتُ“ کی صورت میں تو جو اختیار خاوند نے دیا تھا وہ اختیار اس نے استعمال کر لیا تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ خاوند نے تو تین طلاقوں کا مالک بنایا تھا اور اس نے سب کو اختیار کر لیا۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”اخْتَارِي“ اور بیوی کیا کہے؟ ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ تو ایک طلاقِ بائن ہو جاتی ہے، لیکن اگر ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کہنے کے بجائے عورت جواب میں کہتی ہے: ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي“، وہ صریح لفظ لے آئے کہ میں نے اپنے آپ کو طلاق دے دی، یا ”اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ“، یہاں بھی وہ طلاق کا لفظ لے آئی، تو اس صورت کے اندر ایک طلاق واقع ہوگی اور خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ لیکن میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، اور شارحین نے ذکر کیا ہے کہ بھئی، اعتبار اس طلاق کا ہے جس کا خاوند نے مالک بنایا ہے، اور خاوند نے تو ”اخْتَارِي“ کے ذریعے طلاقِ بائن کا مالک بنایا ہے، تو لہٰذا عورت کے طلاق واقع کرنے کا اعتبار نہیں ہے بلکہ خاوند کے طلاق کا اختیار دینے کا اعتبار ہے، اور اس نے تو طلاقِ بائن کا اختیار دیا ہے، لہٰذا یہاں پر طلاقِ بائن ہی واقع ہوگی۔ تو پھر سوال پیدا ہوا کہ یہاں پر تو ہے: ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“، تو جواب دیا کہ بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، جامع کبیر میں البتہ ہے: ”لَا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“، بات سمجھ میں آ گئی، اور وہی صحیح درست مسئلہ ہے، یہاں معلوم ہوا کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”فَصْلٌ فِي الْأَمْرِ بِالْيَدِ“. مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو یاد رکھو، یہ کنایہ ہے طلاق سپرد کرنے سے، یعنی خاوند اس کو طلاق کا اختیار دے رہا ہے، اور چونکہ یہ کنایہ ہے اور آپ جانتے ہیں کنایے کے اندر نیت ضروری ہے، تو خاوند نے اگر ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ لفظ بیوی سے کہا اور طلاق کی نیت کر لی تو بیوی کو اختیار مل گیا، اور یہ اختیار کب تک رہے گا؟ مجلس تک بھئی، تو اس مجلس کے اندر وہ اپنے آپ کو خاوند سے جدا کر سکتی ہے بھئی۔ ”فَصْلٌ فِي الْأَمْرِ بِالْيَدِ“، یہ فصل ہے امر بالید کے بارے میں۔ ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَنْوِي ثَلَاثًا“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، ”يَنْوِي ثَلَاثًا“، اور خاوند اس کے ذریعے تین کی نیت کرتا ہے، ”فَقَالَتْ“، عورت کہتی ہے: ”قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، کہ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ”بِوَاحِدَةٍ“، ایک کے ساتھ، ”فَهِيَ ثَلَاثٌ“، تو یہ تین طلاقیں ہوں گی، ایک نہیں ہوگی۔ خاوند نے کیا کہا؟ ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، اور نیت تین طلاقوں کی کی ہے، اور عورت کہتی ہے جواب میں: ”قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، تو یہاں پر اب ایک طلاقِ بائن واقع نہیں ہوگی بلکہ تینوں واقع ہو جائیں گی۔ تینوں واقع ہو جائیں، وجہ کیا ہے؟ وہ اب صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے۔ تو کہتے ہیں دوبارہ دیکھیے: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَنْوِي ثَلَاثًا“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، ”يَنْوِي ثَلَاثًا“، اس حال میں کہ وہ تین کی نیت کرتا ہے، ”فَقَالَتْ: قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، اور عورت جواب میں کہتی ہے: میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ایک کے ساتھ، ”فَهِيَ ثَلَاثٌ“، تو یہ تین طلاقیں ہوں گی، ”لِأَنَّ الِاخْتِيَارَ يَصْلُحُ جَوَابًا لِلْأَمْرِ بِالْيَدِ“، اس لیے کیونکہ اختیار جو ہے یہ صلاحیت رکھتا ہے جواباً للامر، بھئی دیکھیے، پہلا اشکال تو یہاں یہ ہوتا ہے کہ خاوند کہہ رہا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، اور عورت جواب میں کیا کہہ رہی ہے؟ ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“. بھئی ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“، یہ تو خاوند جب ”اخْتَارِي“ کہتا تھا کہ تجھے اختیار ہے، وہاں عورت جواب میں ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کہے تو طلاق واقع ہوتی ہے، تو یہاں اس سے کیسے طلاق واقع ہوگی؟ تو اس کا جواب آپ کو صاحبِ ہدایہ دیں گے کہ جیسے ”اخْتَارِي“ کے اندر خاوند طلاق کا مالک بناتا ہے بیوی کو، یہاں پر بھی ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ کے اندر خاوند کیا کر رہا ہے؟ بیوی کو طلاق کا مالک بنا رہا ہے، تو جیسے ”اخْتَارِي“ کے اندر ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ سے طلاق آ جاتی تھی تو یہاں پر بھی ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ سے طلاق آ جائے گی کیونکہ دونوں کے اندر عورت کو اختیار دیا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاخْتِيَارَ يَصْلُحُ جَوَابًا لِلْأَمْرِ بِالْيَدِ“، اس لیے کیونکہ یہ اختیار جو ہے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ جواب بن جائے امر بالید کا، ”لِكَوْنِهِ تَمْلِيكًا“، اس لیے کیونکہ یہ مالک بنانا ہے، یہ امر بالید کیا ہے؟ یہ مالک بنانا ہے، ”كَالتَّخْيِيرِ“، جیسے کہ اختیار دینا، اختیار دینے میں بھی وہ خاوند کیا کرتا تھا؟ مالک بناتا تھا، تو امر بالید میں بھی مالک بنانا ہے۔ ”وَالْوَاحِدَةُ صِفَةُ الِاخْتِيَارَةِ“، اچھا بھئی، عورت نے تو کہا: ”قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، أَيْ بِتَطْلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ، تو آپ تو کہہ رہے ہیں تینوں واقع ہوں گی؟ کہتے ہیں بھئی، یہاں پر یہ جو ”وَاحِدَةٍ“ ہے یہ تطلیقہ کی صفت نہیں ہے بلکہ یہ اختیارہ کی صفت ہے، کس کی؟ اختیارہ کی۔ بھئی آپ یہاں ”وَاحِدَةٍ“ کو مصدر کی صفت بنائیں گے نا، مصدر، اور مصدر یہاں آپ تطلیق نہیں نکال سکتے کیونکہ ماقبل میں طلاق کا فعل ہی نہیں ذکر۔ ماقبل میں تو ہے: ”قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، تو ماقبل میں اختیار کا فعل ذکر ہے، اسی سے مصدر ”بِاخْتِيَارَةٍ وَاحِدَةٍ“، تو ”اخْتِيَارَةٌ“ مصدر یہاں نکالیں گے، یہاں ”طَلَّقْتُ“ کا کوئی لفظ موجود ہی نہیں ہے، لہٰذا تطلیق کا لفظ نہیں نکالیں گے۔ تو جب اختیارہ کا لفظ نکال لیا تو کیا معنی ہوا؟ ”قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِاخْتِيَارَةٍ وَاحِدَةٍ“، اور گزشتہ سبق میں آیا تھا ”اخْتِيَارَةٌ“ کے اندر یہ تا کس چیز کی ہے؟ وحدت کی ہے، یعنی میں ایک مرتبہ اختیار کرتی ہوں، جیسے میں کہتا ہوں: ”ضَرَبْتُ ضَرْبَةً“، میں نے ایک مرتبہ پٹائی کی، تو یہاں پر بھی اختیارةً میں یہ تا کس چیز کی ہے؟ وحدت کی ہے، معلوم ہوا میں ایک مرتبہ اختیار کرتی ہوں، یعنی یہ گویا ”مَرَّةٌ“ کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ ”مَرَّةٌ“ یعنی ایک مرتبہ، تو گویا عورت یوں کہہ رہی ہے: ”قَدْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِمَرَّةٍ وَاحِدَةٍ“، میں نے ایک مرتبہ اپنی ذات کو اختیار کر لیا، اور خاوند نے نیت کتنے کی کی تھی؟ تین کی، تو اسی تین کے مطابق یہاں تین طلاقیں ہو جائیں گی، اس نے، بیوی نے کیا کر لیا؟ خاوند نے جو، جس جو معاملہ اس کے ہاتھ میں دیا اس کو بیوی نے ایک مرتبہ اختیار کر لیا، اور اختیار تو کتنے کا تھا؟ تین طلاقوں کا، تو وہ تین طلاقوں کو گویا ایک مرتبہ میں نے اختیار کر لیا تو تین واقع ہو جائیں گی۔ کس چیز کو اختیار کر رہی ہے؟ اسی چیز کو جس کا اختیار کس نے دیا تھا؟ خاوند نے دیا تھا، جو معاملہ خاوند نے اس کے ہاتھ میں دیا تھا، اور خاوند نے تو کتنی طلاقوں کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دیا؟ تین طلاقوں کا، تو ”اخْتَارِي مَرَّةً وَاحِدَةً“ سے بھی کیا پتہ چلا؟ یہ اسی، جو خاوند نے اختیار دیا تھا اسی کو ایک مرتبہ اختیار کر رہی ہے، تو اس سے کتنی طلاقیں ہو جائیں گی؟ تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَاحِدَةُ صِفَةُ الِاخْتِيَارَةِ“، اور یہاں واحدہ کا جو لفظ آیا یہ اختیارہ کی صفت ہے، ”فَصَارَ كَأَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَرْتُ نَفْسِي مَرَّةً وَاحِدَةً“، تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے عورت نے یوں کہا ہو کہ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ایک مرتبہ، یعنی ان ساری طلاقوں کے ساتھ جو مجھے خاوند نے سپرد کی ہیں، ان کے ساتھ میں نے اپنے آپ کو ایک مرتبہ اختیار کر لیا، ”وَبِذَلِكَ يَقَعُ الثَّلَاثُ“، اور ان لفظوں سے تو تین واقع ہوتیں، اگر خاوند یوں کہتا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اور تین کی نیت کرتا اور بیوی جواب میں کہتی: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي بِمَرَّةٍ وَاحِدَةٍ“، تو اگر بیوی ”مَرَّةً وَاحِدَةً“ کی تصریح کر دیتی تو اس سے تین ہی طلاقیں ہونی تھیں، تو جب اختیارةً کہا تو یہ بھی اسی طرح ہے جیسے مرۃً کہا ہو، لہٰذا اس سے بھی تین ہی واقع ہوں گی بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَصَارَ كَأَنَّهَا قَالَتْ اخْتَرْتُ نَفْسِي مَرَّةً وَاحِدَةً“، تو یہ ایسے ہی ہو گیا گویا کہ عورت نے یہ کہا ہو کہ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ایک مرتبہ، ”وَبِذَلِكَ يَقَعُ الثَّلَاثُ“، تو اور اس کے ذریعے تو تین واقع ہوں گی تو اختیارةً واحدہ کے ذریعے بھی تین واقع ہوں گی۔ ”وَلَوْ قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ، أَوْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ“. خاوند نے کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، اور یہ کنایہ ہے طلاق کے اختیار سے، خاوند اس کو طلاق کا اختیار دے رہا ہے اور نیز اس کے ذریعے طلاقِ بائن ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے طلاقِ بائن ہوتی ہے، تو خاوند نے تو کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، اور جواب میں عورت جو ہے صریح لفظ استعمال کرتی ہے اور صریح کے ذریعے تو طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، تو کیا اس صورت میں پھر طلاقِ رجعی واقع ہوگی؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ نہیں، اعتبار اس طلاق کا ہے جس کا خاوند نے اس کو مالک بنایا ہے، اور خاوند نے تو اس کو طلاقِ بائن کا مالک بنایا ہے تو عورت جو واقع کرے گی وہ بھی کیا ہوگی؟ طلاقِ بائن ہوگی اور اس کے علاوہ جو کوئی صفت وہ بیان کرتی ہے رجوع وغیرہ والی تو وہ صفت لغو ہو جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، اور اگر عورت نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنی ذات کو ایک طلاق دے دی، دیکھو ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، ”طَلَّقْتُ“ کا لفظ لے آئی، ”أَوْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ“، یا یہ عورت نے جواب میں کہا یعنی تطلیقہ کا لفظ لے آئے، ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ“، تو یہ ایک بائنہ طلاق ہے، ”لِأَنَّ الْوَاحِدَةَ نَعْتٌ لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ“، اس لیے کیونکہ یہاں واحدہ جو ہے وہ مصدرِ محذوف کی صفت ہے۔ کون سا واحدہ؟ یہ جو ابھی آیا: ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي“... جی، اب آپ مجھے بتائیے، اس ”بِوَاحِدَةٍ“ کا موصوف کیا ہے؟ ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“؟ ہاں، یہاں ”تَطْلِيقَةً“ ہوگا مصدر کیونکہ ماقبل میں ”طَلَّقْتُ“ فعل موجود ہے، جبکہ پچھلے مسئلے میں ”طَلَّقْتُ“ والا فعل موجود نہیں تھا، وہاں صرف اختیار والا فعل تھا۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوَاحِدَةَ نَعْتٌ لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ“، اس لیے کیونکہ واحدہ کا لفظ یہ جو عورت کے کلام میں آیا ہے یہاں پر اس مسئلے میں، یہ ”نَعْتٌ لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ“، یہ مصدرِ محذوف کی صفت ہے، ”وَهُوَ فِي الْأُولَى الِاخْتِيَارَةُ، وَفِي الثَّانِيَةِ التَّطْلِيقَةُ“، اور وہ مصدرِ محذوف جو ہے پہلی صورت کے اندر ”الِاخْتِيَارَةُ“، وہ اختیارہ ہے، یعنی وہ پہلے مسئلے میں، ”وَفِي الثَّانِيَةِ التَّطْلِيقَةُ“، اور دوسرے میں تطلیقہ مصدر ہے، ”إلَّا أَنَّهَا تَكُونُ بَائِنَةً“، مگر ایک بات ہے کہ یہ طلاق بائن ہی ہوگی، اگرچہ تطلیقہ مصدر خود آ رہا ہے لیکن پھر بھی صریح لفظ کے باوجود طلاق کون سی ہوگی؟ بائن۔ کہتے ہیں: ”إلَّا أَنَّهَا تَكُونُ بَائِنَةً“، مگر یہ طلاق جو ہے بائنہ ہوگی، ”لِأَنَّ التَّفْوِيضَ فِي الْبَائِنِ ضَرُورَةَ مِلْكِهَا أَمْرَهَا“، ”لِأَنَّ التَّفْوِيضَ فِي الْبَائِنِ“، اس لیے کیونکہ سپرد کرنا ”فِي الْبَائِنِ“، بائن میں ہے۔ یہ ”فِي الْبَائِنِ“ یہ خبر ہے ”أَنَّ“ کی: ”لِأَنَّ التَّفْوِيضَ“، اس لیے کیونکہ سپرد کرنا، خاوند نے جو طلاق سپرد کی ہے ”فِي الْبَائِنِ“، وہ کس میں ہے؟ بائن میں ہے، یعنی خاوند نے طلاقِ بائن سپرد کی ہے، ”ضَرُورَةَ مِلْكِهَا أَمْرَهَا“، اس بات کے ضروری ہونے کی وجہ سے کہ عورت اپنے معاملے کی مالک ہو۔ بھئی عورت اپنے معاملے کی تبھی مالک بن سکتی ہے جب یہاں طلاقِ بائن آئے بھئی۔ توجہ ہے؟ خاوند نے کیا کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو عورت کے ہاتھ میں معاملہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب اس سے طلاقِ بائن مراد لی جائے۔ اگر طلاقِ رجعی مراد لیں گے پھر تو عورت کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے، وہ ایک طلاق تو واقع کر دے گی لیکن خاوند تو رجوع کر سکتا ہے، وہ ابھی بھی اسی طرح بیوی ہے بھئی۔ تو عورت کے ہاتھ میں معاملہ ہونا یہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس سے کون سی طلاق مراد لی جائے؟ طلاقِ بائن، کہ اس کے ذریعے معاملہ عورت کے ہاتھ میں آ گیا، وہ خاوند سے جدائی اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن اگر اس سے طلاقِ رجعی مراد لی جائے پھر تو گویا عورت کے ہاتھ میں معاملہ ہے ہی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّفْوِيضَ فِي الْبَائِنِ“، اس لیے کیونکہ خاوند کا طلاق کا سپرد کرنا ”فِي الْبَائِنِ“، یہ طلاقِ بائن میں ہوگا، ”ضَرُورَةَ مِلْكِهَا أَمْرَهَا“، اس بات کے ضروری ہونے کی وجہ سے کہ عورت اپنے معاملے کی مالک ہو۔ عورت اپنے معاملے کی مالک ہو، دوبارہ دیکھیے ترجمہ: ”ضَرُورَةَ مِلْكِهَا أَمْرَهَا“، ترجمہ آخر سے کریں: ”أَمْرَهَا“، اس عورت کا معاملہ، اس عورت کا اپنے معاملے کے مالک ہونے کی ضرورت کی وجہ سے، ”ضَرُورَةَ مِلْكِهَا أَمْرَهَا“، اس عورت کا اپنے معاملے کا مالک ہونے کے ضروری ہونے کی وجہ سے۔ اس عورت کا اپنے معاملے کا مالک ہونا، اس کے لیے ضروری ہے کہ طلاقِ بائن سپرد کی جائے۔ عورت کا اپنے معاملے کا مالک ہونا، اس کے ساتھ کیا ضروری ہے؟ کہ طلاقِ بائن سپرد کیا جائے، طلاقِ رجعی کے اندر تو عورت اپنے معاملے کی مالک نہیں بنتی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّفْوِيضَ فِي الْبَائِنِ ضَرُورَةَ مِلْكِهَا أَمْرَهَا“، اس لیے کیونکہ خاوند کا معاملہ سپرد کرنا یہ طلاقِ بائن میں ہوگا، ”ضَرُورَةَ مِلْكِهَا أَمْرَهَا“، عورت کا اپنے معاملے کے مالک ہونے کے ضروری ہونے کی وجہ سے۔ عورت کا اپنے معاملے کا مالک ہونے کے ضروری ہونے کی وجہ سے یہ سپرد کرنا طلاقِ بائن میں ہوگا بھئی۔ ”وَكَلَامُهَا خَرَجَ جَوَابًا لَهُ“، اور عورت کا کلام جو ہے وہ خاوند کے کلام کے لیے جواب ہو کر نکلا ہے، عورت کا کلام خاوند کے جواب کے طور پر آیا ہے، ”فَتَصِيرُ الصِّفَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي التَّفْوِيضِ“، تو وہ صفت جو تفویض کے اندر مذکور تھی، جو خاوند نے سپرد کی تھی، اور خاوند نے کون سی طلاق سپرد کی ہے؟ طلاقِ بائن، تو اس نے بائن صفت کے ساتھ طلاق سپرد کی ہے، ”فَتَصِيرُ الصِّفَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي التَّفْوِيضِ“، پس وہ صفت جو خاوند کے سپرد کرنے میں مذکور تھی وہ ہو جائے گی ”مَذْكُورَةً فِي الْإِيقَاعِ“، عورت کے طلاق کے واقع کرنے میں بھی مذکور ہوگی وہ۔ یعنی خاوند نے جس طلاق کا مالک بنایا ہے وہی طلاق واقع ہوگی، عورت اس کی صفت کو بدل نہیں سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”فَتَصِيرُ الصِّفَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي التَّفْوِيضِ“، پس ہو جائے گی وہ صفت جس کو تفویض میں ذکر کیا گیا ہے ”مَذْكُورَةً فِي الْإِيقَاعِ“، وہ مذکور ہو جائے گی ایقاع میں بھی۔ ”وَإِنَّمَا تَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ فِي قَوْلِهِ“، یہاں سے فرق بیان کر رہے ہیں کہ آپ نے ہمیں کہا تھا: ”اخْتَارِي“، اس کے اندر خاوند تین کی نیت کرے تب بھی تین واقع نہیں ہوں گی، اور ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، اس کے اندر خاوند تین کی نیت کرے تو تین واقع ہو جائیں گی۔ تو اب وہ فرق بیان کرنے لگے ہیں کہ دونوں میں فرق کی وجہ کیا ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا تَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ فِي قَوْلِهِ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، کہ خاوند کے قول ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اس کے اندر تین کی نیت بھی صحیح ہے، ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ الْعُمُومَ وَالْخُصُوصَ“، اس لیے کیونکہ یہ لفظ جو ہے، یہ جو امر کا لفظ ہے، یہ عموم اور خصوص کا احتمال رکھتا ہے۔ یاد رکھو، علماء فرماتے ہیں کہ امر کا لفظ ایک ایسا اسم ہے جس میں بہت زیادہ عموم ہے، ہر چیز اس کے اندر آ جاتی ہے۔ ہر چیز ایک امر ہے۔ امر کا لفظ بےانتہا عام ہے، ہر چیز اس کے اندر داخل ہو جاتی ہے، اسی طرح جیسے شے کا لفظ ہے۔ ہر چیز کیا ہے؟ وہ شے ہے، وہ شے ہے، چنانچہ علمائے نحو فرماتے ہیں کہ ”شَيْءٌ“ کا لفظ انکر النکرات ہے، تمام نکروں میں سب سے زیادہ تنکیر اور سب سے زیادہ عموم ”شَيْءٌ“ کے اندر ہے۔ دنیا کی ہر چیز کو آپ شے کہہ سکتے ہیں بھئی۔ تو شے کے اندر جیسے انتہا درجے کا عموم، اسی طرح لفظِ امر کے اندر بھی انتہا درجے کا عموم ہے، ہر چیز کو، ہر فعل کو آپ امر کہہ سکتے ہیں۔ جب ہر فعل کو آپ امر کہہ سکتے ہیں تو طلاق بھی ایک امر ہے۔ طلاق بھی کیا ہے؟ ایک امر ہے، تو خاوند نے جب یوں کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تو گویا امر کے ذریعے طلاق کی نیت ہے، تو گویا وہ یوں کہہ رہا ہے: ”طَلَاقُكِ بِيَدِكِ“، ”طَلَاقُكِ بِيَدِكِ“، تیری طلاق تیرے ہاتھ میں ہے، اور طلاق تو مصدر ہے اور مصدر اسمِ جنس ہوتا ہے اور وہ قلیل اور کثیر کا احتمال رکھتا ہے، اس کے ذریعے ایک فرد کا ارادہ بھی صحیح اور ساری جنس کا ارادہ بھی صحیح، لہٰذا یہاں تین طلاقوں کی نیت بھی صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کس وجہ سے؟ کہ یہ امر کا لفظ جو ہے اس میں بےانتہا عموم ہے بھئی، تو یہ عموم کا بھی احتمال رکھتا ہے اور خصوص کا بھی۔ تو لہٰذا اگر عموم کی نیت خاوند کرے گا یعنی تین طلاقوں کی تو وہ بھی واقع ہو جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا تَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ فِي قَوْلِهِ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، خاوند کا قول جو ہے ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اس میں تین کی نیت بھی صحیح ہے، ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ الْعُمُومَ وَالْخُصُوصَ“، اس لیے کیونکہ یہ عموم اور خصوص کا احتمال رکھتا ہے، خصوص یعنی ایک فرد کا ارادہ کیا جائے ایک طلاق کا، اور عموم یعنی تینوں طلاقوں کا ارادہ کر لیا جائے، تو یہ عموم اور خصوص کا احتمال رکھتا ہے، ”وَنِيَّةُ الثَّلَاثِ نِيَّةُ التَّعْمِيمِ“، اور تین کی نیت کرنا یہ تعمیم کی نیت کرنا ہے، معلوم ہوا خاوند اس میں عموم پیدا کر رہا ہے، ”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: اخْتَارِي“، بخلاف خاوند کا قول ”اخْتَارِي“، ”لِأَنَّهُ لَا يَحْتَمِلُ الْعُمُومَ“، وہ عموم کا احتمال نہیں رکھتا، وہ عموم کا احتمال نہیں رکھتا، ”وَقَدْ حَقَّقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“، اور تحقیق ہم اس کو ثابت کر چکے ہیں پہلے۔ بھئی پیچھے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا بھئی، ایک دو صفحے قبل: ”لِأَنَّ الِاخْتِيَارَ لَا يَتَنَوَّعُ بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ“، کہ اختیار میں تنوع نہیں ہوتا، اختیار میں انواع نہیں ہوتیں، ہاں بینونت میں انواع ہوتی ہیں: بینونتِ خفیفہ اور بینونتِ غلیظہ۔ پچھلے صفحے پر جہاں یہ بات آئی تھی کہ ”اخْتَارِي“ کے ذریعے تین کی نیت کی جائے تو تین واقع نہیں ہوں گی بھئی، تو وجہ بتلائی تھی کیونکہ اختیار میں انواع نہیں ہیں بھئی، تو جب اختیار میں انواع نہیں ہیں تو وہاں پر تین کی نیت بھی صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: اخْتَارِي“، بخلاف خاوند کے قول ”اخْتَارِي“ کے، ”لِأَنَّهُ لَا يَحْتَمِلُ الْعُمُومَ“، کیونکہ وہ عموم کا احتمال نہیں رکھتا، ”وَقَدْ حَقَّقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“، اور تحقیق کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں۔ ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ لَمْ يَدْخُلْ فِيهِ اللَّيْلُ، وَإِنْ رَدَّتْ الْأَمْرَ فِي يَوْمِهَا بَطَلَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَكَانَ بِيَدِهَا أَمْرٌ بَعْدَ غَدٍ“. صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے آج کے دن اور پرسوں، کل کو نہیں ذکر کیا، درمیان والے کل کو۔ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے آج اور کل کے بعد، دیکھو کل کو نہیں ذکر کیا، کیا کہا؟ ”الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، غد کسے کہتے ہیں عربی زبان میں؟ آنے والا کل، اور خاوند نے آنے والے کل کو نہیں ذکر کیا، ”بَعْدَ غَدٍ“، کل کے بعد والا دن یعنی پرسوں کو ذکر کیا ہے۔ تو اب اس صورت میں یاد رکھو، یاد رکھو، فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ دراصل خاوند دو اختیار دے رہا ہے، گویا خاوند یوں کہہ رہا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ“، آج کے دن بھی معاملہ تیرے ہاتھ میں، ”وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ بَعْدَ غَدٍ“، اور پرسوں بھی معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو گویا دو امر آ گئے، دو اختیار مل گئے عورت کو: آج کا اختیار الگ اور پرسوں والا اختیار الگ۔ دراصل آگے بتلائیں گے، یہ جو دو وقتوں کے درمیان خاوند نے فصل کر دیا، اگر خاوند فصل نہ کرتا یوں کہتا کہ تجھے آج بھی اختیار ہے اور کل بھی اختیار ہے اور پرسوں بھی اختیار ہے، تو اس کا مطلب ہے ایک ہی اختیار دے رہا ہے البتہ اس کی مدت تین دن تک ہے۔ اختیار کتنا؟ ایک۔ مدت کتنی؟ تین دن۔ بات سمجھ میں آئی؟ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے آج بھی اور کل بھی اور پرسوں بھی، تو پھر اس صورت کے اندر یاد رکھو، معلوم ہوا وہ تین دن کا اختیار دے رہا ہے اور اختیار ایک ہی ہے، اور اس میں رات بھی داخل ہو جائے گی، یعنی رات کو بھی وہ اختیار استعمال کر سکتی ہے اور دن کو بھی اختیار استعمال کر سکتی ہے لیکن ہے ایک ہی اختیار، ایک ہی دفعہ استعمال کر سکتی ہے۔ اگر اس نے کہا: ”اخْتَرْتُ زَوْجِي“، میں اپنے خاوند کو اختیار کرتی ہوں، طلاق کو اختیار نہیں کرتی، بس اختیار ختم۔ یا اس نے ایک دفعہ کہہ دیا: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“، میں نے اپنے آپ کو کیا کر لیا؟ اختیار کر لیا، بس طلاق ہو گئی اور اختیار بھی ختم کیونکہ ایک دفعہ جب جدائی آ گئی پھر تو اب اختیار کی کوئی حاجت نہ رہی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہاں خاوند نے کیا ذکر کیا ہے؟ کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے آج اور ”بَعْدَ غَدٍ“، کل کے بعد یعنی پرسوں، معلوم ہوا بیچ میں جو غد ہے اس کو خاوند نے ذکر نہیں کیا، اس میں اختیار نہیں ہے۔ جب اس میں اختیار نہیں ہے تو یہ ایک ہی اختیار مسلسل ہو نہیں سکتا کیونکہ درمیان میں زمانے کا فصل آ رہا ہے، معلوم ہوا آج کا اختیار اور ہے اور پرسوں کا اختیار اور ہے۔ لہٰذا اگر عورت نے کہہ دیا، پہلے دن ہی کہہ دیا: میں اپنے آپ کو اختیار کرتی ہوں، تو بات ہی ختم، نکاح ہی ٹوٹ گیا، اب پرسوں والے اختیار کی کوئی حاجت ہی نہ رہی۔ لیکن اگر عورت نے پہلے دن اختیار کو رد کر دیا کہ نہیں، میں اپنے خاوند کو اختیار کرتی ہوں، تو کیا ”بَعْدَ غَدٍ“ پرسوں پھر اس کو اختیار ملے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں پرسوں پھر اختیار مل جائے گا کیونکہ یہ دو اختیار تھے بھئی، یہ دو اختیار تھے، آج اگر اس نے اس کو رد کر دیا ہے خاوند کو اختیار کیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پرسوں والا اختیار بھی ختم ہو گیا، وہ الگ اختیار ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے ”الْيَوْمَ“ آج کے دن ”وَبَعْدَ غَدٍ“ اور کل کے بعد یعنی پرسوں، ”لَمْ يَدْخُلْ فِيهِ اللَّيْلُ“، تو رات اس کے اندر داخل نہیں، اگر ایک ہی اختیار مسلسل چل رہا ہوتا تین دن تک یا دو دن تک، پھر تو رات نے داخل ہو جانا تھا طبعاً، رات نے طبعاً داخل ہو جانا تھا کیونکہ بعض اوقات کسی چیز کے بارے میں مشورہ کرتے ہوئے زیادہ وقت گزر جاتا ہے، رات تک مشورہ چلتا رہتا ہے، تو پھر تو طبعاً رات نے داخل ہو جانا تھا لیکن یہاں جب دو الگ الگ دن ذکر کر رہا ہے خاوند، آج اور بعد غد، تو جب درمیان والا دن نہیں شامل تو رات بھی نہیں شامل بھئی، اس رات کو اس کو اختیار نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”لَمْ يَدْخُلْ فِيهِ اللَّيْلُ“، اور اس کے اندر رات داخل نہیں ہوگی، ”وَإِنْ رَدَّتْ الْأَمْرَ فِي يَوْمِهَا“، اور اگر عورت نے اس معاملے کو رد کر دیا ”فِي يَوْمِهَا“، اس اپنے دن میں یعنی اسی دن میں، ”بَطَلَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الْيَوْمِ“، تو اس دن والا معاملہ تو باطل ہوا، اس دن کا اختیار تو ختم ہوا، لیکن ”وَكَانَ بِيَدِهَا أَمْرٌ بَعْدَ غَدٍ“، لیکن پرسوں پھر اس کے ہاتھ میں ہوگا معاملہ، ”لِأَنَّهُ صَرَّحَ بِذِكْرِ وَقْتَيْنِ“، اس لیے کیونکہ خاوند نے تصریح کی ہے دو وقتوں کو ذکر کرتے ہوئے، ”بَيْنَهُمَا وَقْتٌ مِنْ جِنْسِهِمَا“، اور ان دو وقتوں کے درمیان ایک اور وقت ہے ”مِنْ جِنْسِهِمَا“، جو انہی کی جنس میں سے ہے، ”لَمْ يَتَنَاوَلْهُ الْأَمْرُ“، اور اس کو امر شامل نہیں، ان دو دنوں کے درمیان آج اور پرسوں کے درمیان ایک اور وقت ہے یعنی کل کا دن ہے اور وہ بھی انہی کی جنس میں سے ہے، یعنی جیسے یہ دن ہے وہ درمیان میں بھی کیا ہے؟ ایک دن ہے اور امر اس کو شامل نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں دوبارہ دیکھیے: ”لِأَنَّهُ صَرَّحَ بِذِكْرِ وَقْتَيْنِ“، اس لیے کیونکہ خاوند نے تصریح کر دی، تصریح کا معنی ہے صاف لفظوں میں ذکر کرنا، ”لِأَنَّهُ صَرَّحَ بِذِكْرِ وَقْتَيْنِ“، اس لیے کیونکہ خاوند نے تصریح کر دی دو وقتوں کو ذکر کرتے ہوئے۔ ”لِأَنَّهُ صَرَّحَ بِذِكْرِ وَقْتَيْنِ“، اس لیے کیونکہ خاوند نے تصریح کر دی دو وقتوں کے ذکر کے ساتھ، ”بَيْنَهُمَا وَقْتٌ مِنْ جِنْسِهِمَا“، یہ تو ایسے وقت ہیں کہ ان کے درمیان ایک اور وقت بھی ہے انہی کی جنس میں سے، ”لَمْ يَتَنَاوَلْهُ الْأَمْرُ“، لیکن اس درمیان والے وقت کو امر شامل نہیں ہے، وہ جو ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تھا لفظ تھا وہ اس کو شامل نہیں۔ ”إِذْ ذِكْرُ الْيَوْمِ بِعِبَارَةِ الْفَرْدِ لَا يَتَنَاوَلُ اللَّيْلَ“، اچھا، بتلایا بھئی رات اس میں داخل نہیں، ”إِذْ ذِكْرُ الْيَوْمِ بِعِبَارَةِ الْفَرْدِ“، اس لیے کیونکہ یوم کے لفظ کو ذکر کرنا ”بِعِبَارَةِ الْفَرْدِ“ مفرد عبارت یعنی مفرد لفظ کے ساتھ، یعنی اکیلے یوں کہو، اکیلے دن کو ذکر کیا جائے تو یہ لیل کو شامل نہیں ہوتا، یہ نہار کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”إِذْ ذِكْرُ الْيَوْمِ بِعِبَارَةِ الْفَرْدِ لَا يَتَنَاوَلُ اللَّيْلَ“، اس لیے کیونکہ دن کا ذکر مفرد عبارت کے ساتھ یعنی اکیلے لفظ کے ساتھ ”لَا يَتَنَاوَلُ اللَّيْلَ“ یہ رات کو شامل نہیں ہوتا، ”فَكَانَا أَمْرَيْنِ“، تو یہ دو امر ہو گئے۔ ”فَكَانَا“، دیکھو تثنیہ ہے، ”فَكَانَا أَمْرَيْنِ“، تو گویا یہ دو امر ہو گئے۔ ایک امر بالید آج ہے اور ایک امر بالید پرسوں ہے بھئی۔ ”فَبِرَدِّ أَحَدِهِمَا لَا يَرْتَدُّ الْآخَرُ“، تو ان دونوں میں سے ایک کو رد کرنے سے ”لَا يَرْتَدُّ الْآخَرُ“ دوسرا رد نہیں ہوتا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: هُمَا أَمْرٌ وَاحِدٌ“، امام زفر فرماتے ہیں نہیں، ایک ہی امر ہے۔ ایک ہی اختیار ہے، دو الگ الگ اختیار نہیں ہیں۔ تو ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: هُمَا أَمْرٌ وَاحِدٌ“، کہ یہ دونوں ایک ہی امر ہیں، ”بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، کہتے ہیں یہ خاوند کے اسی قول کے درجے میں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، تو طلاق والی ہے آج کے دن ”وَبَعْدَ غَدٍ“ اور پرسوں۔ تو طلاق والی ہے آج کے دن اور پرسوں، تو یہ اس سے ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔ توجہ ہے؟ آپ نے تو کیا کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، معلوم ہوا الیوم کے لیے ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ آپ نے الگ نکالا اور بعد غد کے لیے آپ نے امر بالید الگ نکالا، تو دو امر بالید ہو گئے۔ حالانکہ اگر خاوند بیوی سے کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، تو اگر آپ کی تقریر لی جائے پھر تو یہاں دو طلاقیں ہونی چاہئیں۔ ایک تو ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ“ اور دوسرا بعد غد کے لیے بھی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جیسے وہاں اپنے امر بالید کو دوبارہ نکالا تھا بعد غد کے لیے، تو یہاں بھی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو بعد غد کے لیے الگ نکالنا پڑے گا اور اس کا تقاضا ہے کہ دو طلاقیں واقع ہوں۔ ایک ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ“ اور ایک ”أَنْتِ طَالِقٌ بَعْدَ غَدٍ“۔ لیکن بالاتفاق سب کے نزدیک یہاں ایک ہی طلاق ہوتی ہے۔ تو لہٰذا خاوند کا یہ جو قول تھا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے خاوند کا قول: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“ ہے۔ دونوں کے اندر دونوں کے اندر وقت کو وقت پر عطف کیا گیا ہے اور اس میں جیسے وہاں امر کا تکرار نہیں، یہاں پر طلاق کا تکرار نہیں ہے۔ لہٰذا ایک ہی طلاق ہو گی تو ایک ہی امر بالید بھی ہو گا بھئی۔ لہٰذا پہلے دن اگر عورت نے اس اختیار کو رد کر دیا تو بعد غد بھی اس کو اختیار نہیں ہو گا۔ یہ کس کی تقریر چل رہی ہے؟ امام زفر رحمہ اللہ کی۔ تو وہ کہتے ہیں کہ خاوند کا یہ قول ”بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ“، یہ خاوند کے اسی قول کے درجے میں ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“۔ ”قُلْنَا: الطَّلَاقُ لَا يَحْتَمِلُ التَّوْقِيتَ“، توقیت کا معنی ہے وقت متعین کرنا۔ تو ہم کہتے ہیں: ”الطَّلَاقُ لَا يَحْتَمِلُ التَّوْقِيتَ“، کہ طلاق جو ہے وہ تعیین وقت کا احتمال نہیں رکھتی۔ طلاق تعیین وقت کا احتمال نہیں رکھتی۔ جب ایک زمانے میں طلاق دے دی جائے تو تمام زمانوں میں پھر وہ طلاق ہی ہے۔ یہ نہیں کہ آج طلاق دی ہے تو آج تو عورت طلاق والی ہے، اگلے دن وہ طلاق والی نہیں ہے۔ جب وہ آج طلاق والی ہے تو کل بھی طلاق والی، پرسوں بھی، ترسوں بھی۔ تو معلوم ہوا طلاق تعیین وقت کو قبول نہیں کرتی۔ لیکن ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ کسی کے اختیار میں معاملہ دینا یہ توقیت کو یعنی تعیین وقت کو قبول کر لیتا ہے۔ کسی کو آپ اختیار دیتے ہیں ایک دن کے لیے، دو دن کے لیے یا تین دن کے لیے، تو اسی دن اختیار ہو گا، بعد میں اختیار نہیں ہو گا۔ تو معلوم ہوا امر بالید وہ توقیت کو قبول کر لیتا ہے یعنی تعیین وقت کو، لیکن طلاق تعیین وقت کو قبول نہیں کرتی۔ لہٰذا اے امام زفر! آپ کا امر بالید کو طلاق پر قیاس کرنا صحیح نہیں، کیونکہ دونوں میں فرق ہے۔ طلاق وہ تعیین وقت کو قبول نہیں کرتی اور امر بالید تعیین وقت کو قبول کر لیتا ہے۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ خاوند اپنی بیوی کو اختیار دیتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تو خاوند کی مرضی ہے ایک گھنٹے کا اختیار دے، دو گھنٹے کا اختیار دے، ایک دن کا اختیار دے، دس دن تک اختیار دے۔ تو دیکھا، امر بالید کیا ہے؟ وہ تعیین وقت کو قبول کر لیتا ہے، لیکن طلاق جو ہے وہ تعیین وقت کو قبول نہیں کرتی۔ جب عورت کو طلاق دے دی تو وہ طلاق والی ہو گئی، اب وہ کل بھی طلاق والی ہے، پرسوں بھی، ترسوں بھی، ہر دن میں۔ تو لہٰذا دونوں میں فرق ہے، لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ ”قُلْنَا: الطَّلَاقُ لَا يَحْتَمِلُ التَّوْقِيتَ“، ہم کہتے ہیں کہ طلاق جو ہے وہ تعیین وقت کا احتمال نہیں رکھتی، ”وَالْأَمْرُ بِالْيَدِ يَحْتَمِلُهُ“، اور امر بالید جو ہے وہ تعیین وقت کا احتمال رکھتا ہے، ”فَيُوَقَّتُ الْأَمْرُ بِالْأَوَّلِ“، لہٰذا یہ امر جو ہے ”يُوَقَّتُ“ اس کا وقت متعین ہو جائے گا ”بِالْأَوَّلِ“ اول وقت کے ساتھ۔ خاوند نے کیا کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَبَعْدَ غَدٍ“، تو یہ جو ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، یہ اول وقت کے ساتھ اول وقت کے ساتھ متعین ہو جائے گا، یعنی یہ والا اختیار آج کے دن ہے اور بعد غد کے لیے ایک اور امر وہاں ہم نکال لیں گے۔ وہاں ایک اور۔ یہ معنی ہے: ”فَيُوَقَّتُ الْأَمْرُ بِالْأَوَّلِ“، تو یہ امر بالید جو ہے یہ جو خاوند نے ذکر کیا یہ موقت ہو جائے گا یعنی مقید ہو جائے گا ”بِالْأَوَّلِ“ یعنی بالوقت الاول پہلے وقت کے ساتھ، ”وَيُجْعَلُ الثَّانِي أَمْرًا مُبْتَدَأً“، اور وہ جو دوسرا ہے یعنی جو دوسرا وقت ذکر کیا خاوند نے ”وَبَعْدَ غَدٍ“، ”يُجْعَلُ الثَّانِي أَمْرًا مُبْتَدَأً“، اس وقت ثانی جو ہے اس کو ”أَمْرًا مُبْتَدَأً“ ایک نیا امر قرار دیا جائے گا، وہ ایک الگ اختیار قرار دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَغَدًا“، اب درمیان میں فصل نہیں ہے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَغَدًا“، تجھے آج بھی اختیار ہے اور کل بھی، درمیان میں فصل نہیں۔ تو معلوم ہوا ایک ہی اختیار ہے۔ تو اگر عورت نے آج رد کر دیا تو کل پھر اس کو اختیار نہیں ہو گا، کیونکہ ایک ہی اختیار تھا، دو الگ اختیار نہیں تھے بھئی۔ ”وَلَوْ قَالَ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَغَدًا“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے ”الْيَوْمَ“ آج کے دن بھی ”وَغَدًا“ اور کل بھی، ”يَدْخُلُ اللَّيْلُ فِي ذَلِكَ“، تو رات بھی اس میں داخل ہے۔ گویا خاوند دو دن کا اختیار دے رہا ہے تو طبعاً رات بھی ساتھ شامل ہو جائے گی۔ دونوں وقت الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ان کو مسلسل ہی شمار کیا جائے گا، گویا خاوند نے یوں کہا ہے: تجھے دو دن تک اختیار ہے، تجھے دو دن تک۔ تو کہتے ہیں: ”يَدْخُلُ اللَّيْلُ فِي ذَلِكَ“، رات بھی اس میں داخل ہو جائے گی، ”وَإِنْ رَدَّتِ الْأَمْرَ فِي يَوْمِهَا“، اور اگر عورت نے اس امر کو رد کر دیا ”فِي يَوْمِهَا“ اپنے اس دن میں یعنی آج کے دن میں، ”لَا يَبْقَى الْأَمْرُ فِي يَدِهَا فِي الْغَدِ“، تو امر اس کے ہاتھ میں باقی نہیں رہے گا ”فِي الْغَدِ“ کل بھی۔ آج اگر اس نے رد کر دیا تو کل اختیار نہیں ہو گا کیونکہ ایک ہی اختیار تھا، کل کے لیے کوئی الگ اختیار نہیں تھا بھئی۔ ”لِأَنَّ هَذَا أَمْرٌ وَاحِدٌ“، اس لیے کیونکہ یہ ایک ہی امر تھا، یعنی ایک ہی امر بالید تھا، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّلْ بَيْنَ الْوَقْتَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ وَقْتٌ مِنْ جِنْسِهِمَا“، تخلل کا معنی ہے بیچ میں آنا، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّلْ بَيْنَ الْوَقْتَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ“، اس لیے کیونکہ ان مذکورہ دو وقتوں کے بیچ میں نہیں آیا ”وَقْتٌ مِنْ جِنْسِهِمَا“، ایسا وقت جو انہی دونوں کی جنس میں سے ہو ”لَمْ يَتَنَاوَلْهُ الْكَلَامُ“، اور اس کو کلام بھی شامل نہ ہو۔ یہاں کوئی ایسا وقت نہیں آیا جو ان دونوں کے بیچ میں ہو اور کلام اس کو شامل نہ ہو، لہٰذا اس کو مسلسل ایک ہی شمار کیا جائے گا۔ ”وَقَدْ يَهْجُمُ اللَّيْلُ“، اب دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ رات کیوں داخل ہو گی؟ تو صاحبِ ہداية فرما رہے ہیں: ”وَقَدْ يَهْجُمُ اللَّيْلُ وَمَجْلِسُ الْمَشْوَرَةِ لَا يَنْقَطِعُ“، ہجم یہجم کا معنی ہے اچانک آنا۔ یہاں آنے کے معنی میں ہے۔ صاحبِ ہداية فرماتے ہیں رات بھی داخل ہو گی، کیوں؟ کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَهْجُمُ اللَّيْلُ“، کبھی رات اچانک آ جاتی ہے یعنی رات ہو جاتی ہے، ”وَمَجْلِسُ الْمَشْوَرَةِ لَا يَنْقَطِعُ“، اور حال یہ ہوتا ہے کہ مجلس مشورہ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ مشورہ ابھی چل رہا ہے اور رات آ جاتی ہے، لہٰذا رات بھی طبعاً داخل ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَهْجُمُ اللَّيْلُ وَمَجْلِسُ الْمَشْوَرَةِ لَا يَنْقَطِعُ“، یاد رکھو یہ مشورہ یہ لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اور عربی میں بھی اسی طرح مَشْوَرَة لفظ ہے، لیکن عربی میں آپ اس کو مَشْوَرَة بھی پڑھ سکتے ہیں اور شین پر ضمہ اور واو کو ساکن یعنی مَشُورَةٌ، مَشْوَرَة بھی پڑھ سکتے ہیں اور مَشُورَة بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَهْجُمُ اللَّيْلُ“، اور کبھی اچانک رات آ جاتی ہے ”وَمَجْلِسُ الْمَشْوَرَةِ لَا يَنْقَطِعُ“، اور اس حال میں کہ مجلس مشورہ ابھی منقطع نہیں ہوئی ہوتی یعنی ابھی ختم نہیں ہوئی ہوتی، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ فِي يَوْمَيْنِ“، تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے خاوند نے یوں کہا ہو ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ فِي يَوْمَيْنِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے دو دن میں، یعنی دو دن تک تیرے ہاتھ میں ہے بھئی۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے، امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ اگر آج وہ رد بھی کر دے کل پھر اس کو اختیار ملے گا۔ کل پھر اس کو اختیار معلوم ہوا اس عورت کے پاس دو اختیار ہیں، یہ ایک روایت ہے بھئی، یہ ایک روایت ہے۔ لیکن ظاہر روایت میں آ گیا کہ عورت اگر آج رد کر دے گی تو کل اسے اختیار نہیں ہو گا کیونکہ ایک ہی اختیار ملا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے ”أَنَّهَا إِذَا رَدَّتِ الْأَمْرَ فِي الْيَوْمِ“، کہ اگر عورت نے اس امر کو رد کر دیا آج کے دن میں ”لَهَا أَنْ تَخْتَارَ نَفْسَهَا غَدًا“، تو کل کے دن میں بھی اس عورت کو یہ حق ہو گا کہ وہ اپنی ذات کو اختیار کر لے، ”لِأَنَّهَا لَا تَمْلِكُ رَدَّ الْأَمْرِ كَمَا لَا تَمْلِكُ رَدَّ الْإِيقَاعِ“، اس لیے کیونکہ ”لِأَنَّهَا لَا تَمْلِكُ رَدَّ الْأَمْرِ“، کیونکہ عورت جو ہے امر کو رد کرنے کی مالک نہیں ہے ”كَمَا لَا تَمْلِكُ رَدَّ الْإِيقَاعِ“ جیسے وہ ایقاع طلاق کو رد کرنے کی مالک نہیں۔ امام صاحب کے ایک قول آیا کہ عورت آج رد بھی کر دے تو اسے کل بھی پھر بھی اختیار ہو گا۔ اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہداية کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت رد امر کی مالک نہیں جیسے وہ رد ایقاع کی مالک نہیں۔ بھئی خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تجھے طلاق ہے۔ عورت کہتی ہے: مجھے قبول نہیں! تو مجھے بتائیے، کیا عورت اس ایقاع طلاق کو رد کر سکتی ہے؟ نہیں، عورت ایقاع طلاق کو رد نہیں کر سکتی، وہ اس پر ضرور واقع ہو جائے گی۔ تو جیسے عورت ایقاع طلاق کے رد کی مالک نہیں، اسی طرح امر کے رد کی بھی وہ مالک نہیں ہے۔ خاوند اس کو اختیار دے رہا ہے اور عورت اس کو رد کر دے کہ نہیں مجھے یہ اختیار نہیں چاہیے، نہیں نہیں، اس کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا، اسے اختیار مل گیا ہے اور مجلس تک اسے اختیار رہے گا۔ الّا یہ کہ وہ صاف لفظوں میں اس اختیار کو رد کرے کہ میں اپنے خاوند کو اختیار کرتی ہوں، میں جدائی کو اختیار نہیں کرتی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا لَا تَمْلِكُ رَدَّ الْأَمْرِ“، اس لیے کیونکہ عورت جو ہے امر کو رد کرنے کی مالک نہیں ہے ”كَمَا لَا تَمْلِكُ رَدَّ الْإِيقَاعِ“، جیسے کہ عورت ایقاع طلاق کو رد کرنے کی مالک نہیں ہوتی۔ امام صاحب کی روایت چل رہی ہے کہ آج کے دن رد کیا ہے تو اگلے دن پھر یہ امر ملے گا اور وہ عورت کے رد کرنے سے رد نہیں، وہ اختیار اس کو ملے گا، وہ پھر اپنے آپ کو اختیار کر سکتی ہے۔ ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ“، اور ظاہرِ روایت کی وجہ بھئی، ظاہر روایت میں تو کیا آیا کہ آج کے دن عورت رد کر دے تو کل اسے کوئی اختیار نہیں ہو گا کیونکہ یہ ایک ہی اختیار ہے بھئی۔ تو اس کی اب وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ“، ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّهَا إِذَا اخْتَارَتْ نَفْسَهَا الْيَوْمَ لَا يَبْقَى لَهَا الْخِيَارُ فِي الْغَدِ“، کہ یہ عورت ”إِذَا اخْتَارَتْ نَفْسَهَا الْيَوْمَ“ کہ جب وہ اپنی ذات کو آج کے دن اختیار کر لے ”لَا يَبْقَى لَهَا الْخِيَارُ فِي الْغَدِ“، تو اس کے لیے اختیار باقی نہیں رہتا کل کے دن میں۔ عورت اگر کیا کر لے؟ اگر اور خاوند نے تو دو دن کا اختیار دیا ہے، لیکن عورت اگر اپنے آپ کو آج ہی اختیار کر لے تو طلاق بائن آ گئی، نکاح ٹوٹ گیا۔ تو اگلے دن اسے اختیار نہیں رہے گا، کیونکہ نکاح تو ٹوٹ چکا ہے، کیا وہ اگلے دن دوبارہ نکاح میں واپس آ سکتی ہے؟ نہیں، نکاح تو ٹوٹ گیا، تو اگلے دن اختیار کا فائدہ ہی کوئی نہیں ہے، اختیار دینے کا مقصد ہی کوئی نہیں بنتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو جیسے عورت اگر آج اپنے آپ کو اختیار کر لے تو کل اسے اختیار نہیں رہے گا کیونکہ اس نے اختیار کو استعمال کر لیا بھئی، کیونکہ ایک ہی اختیار ہے، توجہ ہے؟ ایک ہی اختیار ہے، جب اس نے آج اپنے آپ کو اختیار کر لیا ہے تو اسے کل اختیار نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر آج اس نے خاوند کو اختیار کر لیا ہے، یعنی آج اس نے خاوند کو اختیار کر لیا ہے یعنی اس امر بالید کو رد کر دیا ہے، مجھے امر بالید نہیں چاہیے، میں اپنے خاوند کو اختیار کرتی ہوں۔ تو اگر جیسے عورت اپنی ذات کو اختیار کرتی تھی تو اگلے دن اسے اختیار نہیں رہتا تھا کیونکہ ایک ہی اختیار ہے، اسی طرح اگر اس نے آج خاوند کو اختیار کر لیا ہے تو اب اسے کل اختیار نہیں رہے گا کیونکہ ایک ہی اختیار تھا۔ جب بھی کسی کو دو چیزوں میں اختیار دیا جائے تو وہ دونوں میں سے ایک کو اختیار کر سکتا ہے اور اختیار اس سے ختم ہو جاتا ہے۔ تو جب آج کے دن عورت نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کا اختیار کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ: أَنَّهَا إِذَا اخْتَارَتْ نَفْسَهَا الْيَوْمَ لَا يَبْقَى لَهَا الْخِيَارُ فِي الْغَدِ“، ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ جب عورت نے اپنی ذات کو آج کے دن اختیار کر لیا تو اس کے لیے کل اختیار باقی نہیں رہے گا کیونکہ ایک ہی اختیار تھا اور جدائی آ چکی ہے، ”فَكَذَا إِذَا اخْتَارَتْ زَوْجَهَا“، تو اسی طرح ہو گا جب وہ اپنے خاوند کو اختیار کر لے، مثلاً آج کے دن اس نے کس کو اختیار کر لیا؟ خاوند کو اختیار کر لیا، ”بِرَدِّ الْأَمْرِ“۔ آپ کی کتاب میں بھی یا ہے: ”يُرَدُّ الْأَمْرُ“، یہ یاد رکھیے یہ کتابت کی غلطی ہے، ”يُرَدُّ“ نہیں، ”بِرَدِّ الْأَمْرِ“، یہ با ہے بھئی با، اور نسخوں میں با یہاں موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَذَا إِذَا اخْتَارَتْ زَوْجَهَا بِرَدِّ الْأَمْرِ“، تو اسی طرح ہو گا جب عورت اپنے خاوند کو اختیار کر لے ”بِرَدِّ الْأَمْرِ“ امر کو رد کرتے ہوئے، امر بالید کو رد کرتے ہوئے اپنے خاوند کو اختیار کر لے تو بھی اسی طرح ہو گا، اگلے دن اسے اختیار نہیں ہو گا کیونکہ ایک ہی اختیار ہے دو چیزوں کے درمیان، دو کہ اپنے آپ کو اختیار کر لو یا خاوند کو اختیار کر لو۔ تو دونوں میں سے ایک کو جب اس نے اختیار کر لیا تو اس کا اختیار پورا ہو گیا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُخَيَّرَ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ لَا يَمْلِكُ إِلَّا اخْتِيَارَ أَحَدِهِمَا“، اس لیے کیونکہ وہ شخص جس کو اختیار دیا جائے دو چیزوں کے درمیان ”لَا يَمْلِكُ“ وہ مالک نہیں ہوتا ”إِلَّا اخْتِيَارَ أَحَدِهِمَا“ مگر یہ کہ دونوں میں سے ایک کو اختیار کرے۔ تو جب پہلے دن عورت نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اب اگلے دن اختیار نہیں ہو گا، اختیار پورا ہو چکا۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ إِذَا قَالَ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ غَدًا“، یعنی دو دفعہ امر بالید کو ذکر کیا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ غَدًا“، تو پھر اس صورت میں بالاتفاق آج کے دن الگ اختیار ہو گا اور کل کے دن الگ اختیار ہو گا، کیونکہ امر بالید کو خاوند نے یوم کے لیے الگ ذکر کیا ہے اور غداً کے لیے الگ ذکر کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ إِذَا قَالَ“، کہ خاوند نے جب کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ الْيَوْمَ وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ غَدًا أَنَّهُمَا أَمْرَانِ“، کہ یہ دو امر ہیں، ”لِمَا أَنَّهُ ذَكَرَ لِكُلِّ وَقْتٍ خَبَرًا عَلَى حِدَةٍ“، اس وجہ سے کہ خاوند نے ہر وقت کے لیے الگ خبر ذکر کی ہے، ”بِخِلَافِ مَا تَقَدَّمَ“، بخلاف اس کے جو ماقبل میں گزرا، وہاں ایک ہی امر بالید ذکر تھا۔ توجہ ہے؟ تو یہاں دو وقت ہیں تو دو امر بالید بھی ساتھ ذکر ہیں، تو یہ دو امر ہو گئے۔ کتنے؟ دو امر۔ اور یاد رکھو، یہ صرف امام ابو یوسف رحمہ اللہ نہیں فرماتے کہ اس صورت میں دو امر ہیں، یہ اتفاقی مسئلہ ہے۔ ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں جب دو وقتوں کے ساتھ دو الگ الگ امر بالید کو خاوند نے ذکر کیا ہے تو دو الگ الگ اختیار مل گئے عورت کو۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے پھر امام ابو یوسف کی طرف کیوں نسبت کی: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“؟ تو جواب یہ کہ یہ یہ مسئلہ چونکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا تھا اس لیے ان کی طرف نسبت کر دی، ورنہ یہ ہے اتفاقی مسئلہ کہ جب دو وقتوں کے ساتھ دو الگ الگ امر ہوں گے تو یہ دو ہی امر ہیں بھئی۔ تو ایک امر کو رد کرنے سے دوسرا امر رد نہیں ہو گا، دوسرے کا پھر اختیار ملے گا عورت کو بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ قَالَ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ فَقَدِمَ فُلَانٌ وَلَمْ تَعْلَمْ بِقُدُومِهِ حَتَّى جَنَّ اللَّيْلُ فَلَا خِيَارَ لَهَا“، صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے جس دن فلاں آئے گا یعنی جس دن زید آئے گا۔ جس دن زید آئے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ اب زید آیا اتفاق سے اس دن عورت کو پتہ ہی نہیں چلا یہاں تک کہ شام ہو گئی، دن گزر گیا۔ اب عورت کو پتہ چلا کہ آج تو زید آیا تھا۔ تو کیا اب اس کو اختیار ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں، وقت گزر چکا ہے۔ خاوند نے جو اختیار کا وقت دیا تھا وہ وقت گزر چکا ہے، لہٰذا عورت کو کوئی اختیار نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ“، اور اگر خاوند نے کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“، کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے جس دن فلاں آئے ”فَقَدِمَ فُلَانٌ وَلَمْ تَعْلَمْ بِقُدُومِهِ“، تو وہ فلاں آیا اور حال یہ ہے کہ عورت کو علم نہ ہوا اس کے آنے کا ”حَتَّى جَنَّ اللَّيْلُ“، یہاں تک کہ رات آ گئی۔ جن اللیل کا معنی ہے رات کا تاریک ہو جانا یا رات کا چیزوں کو ڈھانپ لینا۔ رات میں تاریکی آتی ہے اور تاریکی چیزوں کو ڈھانپ لیتی ہے، چھپا لیتی ہے، تو جن اللیل کا کیا معنی؟ رات کا تاریک ہو جانا۔ معنی یہ ہے یعنی رات کا آ جانا، رات کا آ جانا۔ تو اس عورت کو پتہ نہ چلا ”حَتَّى جَنَّ اللَّيْلُ“، یہاں تک کہ رات تاریک ہو گئی یعنی رات آ گئی، ”فَلَا خِيَارَ لَهَا“، تو اب اس عورت کو کوئی اختیار نہیں، ”لِأَنَّ الْأَمْرَ بِالْيَدِ مِمَّا يَمْتَدُّ“، اس لیے کیونکہ امر بالید مما ان افعال میں سے ہے ”يَمْتَدُّ“ جن میں امتداد ہوتا ہے۔ بھئی یہ بات پہلے گزر چکی، چند صفحے قبل یہ بات گزری تھی۔ ایک شخص نے ایک عورت سے کہا: ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، جس وقت میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے۔ تو وہاں آپ کو صاحبِ ہداية نے تفصیل بتلائی تھی بھئی، وہی وہ جو جہاں پیچھے دو اشعار آئے تھے: ”وَإِذَا تَكُونُ كَرِيهَةٌ أُدْعَى لَهَا ... وَإِذَا يُحَاسُ الْحَيْسُ يُدْعَى جُنْدُبُ“ اور پھر اگلا شعر تھا: ”وَاسْتَغْنِ مَا أَغْنَاكَ رَبُّكَ بِالْغِنَى ... وَإِذَا تُصِبْكَ خَصَاصَةٌ فَتَجَمَّلِ“ اسی کے بعد چند سطروں کے بعد آگے آیا تھا کہ خاوند نے بیوی سے کہا: ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے، پھر خاوند نے رات کو اس سے نکاح کیا کہتے ہیں پھر بھی طلاق ہو جائے گی۔ وہاں صاحبِ ہداية نے بتلایا تھا کہ یوم کا لفظ کبھی یوم کا لفظ کبھی صبح سے شام تک یہ جو نہار ہے، یہ جو روشنی کا وقت ہے اس پر بولا جاتا ہے اور کبھی یوم کا لفظ مطلقِ وقت کے معنی میں آتا ہے۔ اور بتلایا تھا صاحبِ ہداية نے ضابطہ کہ جب یوم ظرف بنے فعلِ ممتد کے لیے یعنی وہ فعل جس میں طول ہو، میں نے بتایا تھا آپ کو کہ افعال دو قسم پر ہیں، کچھ وہ فعل ہیں جن میں امتداد ہوتا ہے، طول ہوتا ہے، جیسے خاوند بیوی کو اختیار دیتا ہے، یہ اختیار وہ ایک گھنٹے کے لیے بھی دے سکتا ہے، دو گھنٹے کے لیے بھی، تین گھنٹے کے لیے بھی، ایک دن کے لیے بھی، دو دن کے لیے بھی، جتنا وقت وہ چاہے اختیار دے سکتا ہے، تو معلوم ہوا اختیار دینا یہ کیا ہے؟ فعلِ ممتد ہے۔ اسی طرح روزہ رکھنا یہ بھی فعلِ ممتد ہے، یہ بھی لمبا فعل ہے، صبح سے شام تک ہوتا ہے۔ اسی طرح چلنا یہ بھی فعلِ ممتد ہے، آپ ایک گھنٹہ چلیں یا دو گھنٹے چلیں یا تین گھنٹے چلیں۔ اور کچھ افعال وہ ہوتے ہیں جن میں امتداد نہیں ہوتا، جیسے طلاق دینا، دیکھو طلاق ایک لمحے میں واقع ہو جاتی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا صبح سے شام تک آرام سے طلاق واقع ہوتی چلی جا رہی ہے، تو طلاق غیر ممتد ہے۔ اسی طرح نکاح جیسے ہی ایجاب و قبول کریں گے نکاح ہو جائے گا تو نکاح بھی غیر ممتد ہے۔ تو جب فعلِ ممتد کے لیے یوم کا لفظ ظرف بنے تو پھر یوم نہار کے معنی میں ہوتا ہے۔ معلوم ہوا اس کے لیے وہ وقت معیار ہے، کیا ہے؟ معیار ہے یعنی اس کی مدت بیان کی جا رہی ہے اور اگر یوم کا لفظ فعلِ غیر ممتد کے ساتھ ذکر کیا جائے تو پھر اس صورت میں یوم مطلقِ وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور خاوند نے کیا کہا: ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، تو یہاں پر یہ ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ یہ تو فعلِ غیر ممتد ہے، اس کے لیے یوم ظرف بن رہا ہے تو پھر اس صورت میں یہ یوم وقت کے معنی میں ہو گا۔ لہٰذا جس وقت بھی وہ نکاح کرے گا طلاق ہو جائے گی، چاہے دن کو نکاح کرے چاہے رات کو نکاح کرے۔ تو یہاں پر بھی وہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ خاوند نے بیوی سے کیا کہا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے جس دن فلاں آ جائے۔ اب معاملہ کسی کے ہاتھ میں ہونا یہ تو فعلِ ممتد ہے، ایک گھنٹے تک بھی معاملہ دوسرے کے ہاتھ میں ہو سکتا ہے، دو گھنٹے تک بھی، تین گھنٹے تک بھی، تو یہ فعلِ ممتد ہے اور فعلِ ممتد کے ساتھ یوم کا لفظ ذکر ہو رہا ہے: ”يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“، یہ اس کے لیے ظرف بن رہا ہے تو اس سے نہار مراد ہو گا اور اب تو رات آ گئی ہے، نہار تو گزر چکا ہے، لہٰذا عورت کا اختیار بھی ختم ہو چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَمْرَ بِالْيَدِ مِمَّا يَمْتَدُّ“، اس لیے کیونکہ امر بالید مما ان افعال میں سے ہے جو ممتد ہوتے ہیں، ”فَيُحْمَلُ الْيَوْمُ الْمَقْرُونُ بِهِ عَلَى بَيَاضِ النَّهَارِ“، تو محمول کیا جائے گا اس یوم کے لفظ کو المقرون بہ جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے ”عَلَى بَيَاضِ النَّهَارِ“ دن کے اجالے پر، دن کی روشنی پر کہ اس سے دن مراد ہے، ”وَقَدْ حَقَّقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“، اور تحقیق ہم یہ ثابت کر چکے ہیں من قبل پہلے بھئی، میں نے مسئلہ ذکر کر دیا۔ ”فَيَتَوَقَّتُ بِهِ“، لہٰذا یہ امر بالید مقید ہو جائے گا بہ اس یوم یعنی نہار کے ساتھ، یعنی نہار میں صرف امر بالید ہو گا عورت کو، ”ثُمَّ يَنْقَضِي بِانْقِضَاءِ وَقْتِهِ“، اور پھر یہ امر بالید گزر جائے گا اپنے وقت کے گزرنے سے۔ جب اس کا وقت گزر جائے گا تو امر بالید بھی گزر جائے گا، اب عورت کو اختیار نہیں۔ ”وَإِذَا جَعَلَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا أَوْ خَيَّرَهَا فَمَكَثَتْ يَوْمًا وَلَمْ تَقُمْ فَالْأَمْرُ فِي يَدِهَا مَا لَمْ تَأْخُذْ فِي عَمَلٍ آخَرَ“، بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ خاوند جب بیوی کو طلاق کا اختیار دیتا ہے یعنی طلاق کا مالک بناتا ہے تو وہ اختیار مجلس تک رہتا ہے۔ الّا یہ کہ کوئی خاص وقت خاوند خود ذکر کر دے جیسے پچھلے مسئلے میں تھا کہ آج کے دن تجھے اختیار ہے اور کل بھی تجھے اختیار ہے، تو اگر وقت خاوند ذکر نہ کرے تو پھر اختیار مجلس تک رہتا ہے۔ اور مجلس جتنی بھی لمبی ہو جائے عورت کو اختیار رہے گا، حتیٰ کہ خاوند نے بیوی سے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، عورت کو اختیار مل گیا، عورت کو مسئلے کا پتہ تھا کہ میں جب تک میں اس مجلس میں ہوں مجھے اختیار ہے۔ چنانچہ ایک سارا دن گزر گیا اور ساری رات گزر گئی، عورت وہیں بیٹھی ہوئی ہے، جتنا بھی وقت گزر جائے اختیار عورت کے پاس ہے۔ الّا یہ کہ وہ کوئی اور عمل شروع کر دے جو اعراض پر دلالت کرے یا وہاں سے اٹھ جائے، مجلس ہی ختم کر دے، پھر وہ اختیار ختم ہو گا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے مجلس جتنی بھی طویل ہو جائے وہ اختیار عورت کو رہے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا جَعَلَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا أَوْ خَيَّرَهَا“، اور اگر خاوند نے عورت کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا ”أَوْ خَيَّرَهَا“ یا اسے اختیار دے دیا یعنی ”اخْتَارِي نَفْسَكِ“ اسے کہہ دیا، ”فَمَكَثَتْ يَوْمًا“، تو وہ عورت ایک دن ٹھہری رہی ”وَلَمْ تَقُمْ“، اور نہ اٹھی، ”فَالْأَمْرُ فِي يَدِهَا“، تو معاملہ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں ہے ”مَا لَمْ تَأْخُذْ فِي عَمَلٍ آخَرَ“، جب تک وہ کسی دوسرے کام میں شروع نہ ہو جائے، جب تک وہ کوئی دوسرا کام شروع نہ کر دے۔ ”لِأَنَّ هَذَا تَمْلِيكُ التَّطْلِيقِ مِنْهَا“، اس لیے کیونکہ یہ جو ہے خاوند کی طرف سے اس کو تطلیق کا مالک بنانا ہے۔ بھئی صاحبِ ہداية نے آپ کو بتلایا تھا، گزشتہ سبق میں یہ بات آئی تھی ”فَصْلٌ فِي الِاخْتِيَارِ“ کے شروع میں کہ اس کے اندر اختیاری کے اندر خاوند کیا کر رہا ہے؟ عورت کو طلاق کا مالک بنا رہا ہے، ایک فعل کا مالک بنا رہا ہے اور تملیکات مجلس کے اندر ہی جواب کا تقاضا کرتی ہیں۔ آپ کسی شخص کو کوئی چیز بیچتے ہیں کہ یہ کتاب آپ کو میں نے سو روپے میں بیچ دی، تو گویا آپ اس کو مالک بنا رہے ہیں یہ آپ نے ایجاب کر دیا، تو اسی مجلس کے اندر قبول ضروری ہے۔ اگر وہ دوسرا شخص مجلس سے اٹھ کر چلا گیا تو یہ ایجاب باطل ہو جائے گا، بعد میں وہ آ کر کہے مجھے قبول ہے، نہیں بھئی اب تو ایجاب ختم ہو چکا۔ تو معلوم ہوا تملیکات جواب کا تقاضا کرتی ہیں اسی مجلس میں، اور خاوند جو عورت کو کہا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ یا ”اخْتَارِي نَفْسَكِ“، تو اس میں خاوند نے اس عورت کو طلاق کا مالک بنایا ہے، تو لہٰذا یہ تملیکِ تطلیق ہے اور تملیک جواب کا تقاضا کرتی ہے اسی مجلس میں، لہٰذا اسی مجلس تک عورت کو اختیار ہو گا، مجلس کے بعد اختیار نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا تَمْلِيكُ التَّطْلِيقِ مِنْهَا“، اس لیے کیونکہ یہ تطلیق کا مالک بنانا ہے منہا اس عورت کو، ”لِأَنَّ الْمَالِكَ مَنْ يَتَصَرَّفُ بِرَأْيِ نَفْسِهِ“، اس لیے کیونکہ مالک وہ ہوتا ہے جو تصرف کرے برائے نفسہ اپنی رائے سے۔ مالک کسے کہتے ہیں؟ جو اپنی رائے سے تصرف کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا تَمْلِيكُ التَّطْلِيقِ مِنْهَا“، اس لیے کیونکہ یہ عورت کو تطلیق کا مالک بنانا ہے، ”لِأَنَّ الْمَالِكَ مَنْ يَتَصَرَّفُ بِرَأْيِ نَفْسِهِ“، اس لیے کیونکہ مالک وہ ہوتا ہے جو اپنی رائے سے تصرف کرتا ہے، ”وَهِيَ بِهَذِهِ الصِّفَةِ“، اور عورت بھی اسی صفت پر ہے وہ بھی اپنی رائے سے فیصلہ کرے گی، ”وَالتَّمْلِيكُ يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ“، اور تملیکات جو ہیں وہ تو مجلس پر بند رہتی ہیں، ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ مِنْ قَبْلُ“، اور تحقیق اس کو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، میں نے بتلا دیا کہ اختیار کی فصل جہاں شروع ہوئی تھی گزشتہ سبق میں وہیں ذکر تھا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”ثُمَّ إِذَا كَانَتْ تَسْمَعُ يُعْتَبَرُ مَجْلِسُهَا ذَلِكَ وَإِنْ كَانَتْ لَا تَسْمَعُ فَمَجْلِسُ عِلْمِهَا أَوْ بُلُوغِ الْخَبَرِ إِلَيْهَا“، پھر یہ عورت اگر سن رہی ہے تو پھر تو اسی مجلس کا اعتبار ہے جس میں عورت اس وقت ہے۔ اور اگر وہ نہیں سن سکتی مثلاً بہری ہے یا وہاں موجود نہیں ہے، خاوند نے کسی اور کے سامنے کہا ہے کہ میری بیوی کا معاملہ میری بیوی کے ہاتھ میں ہے، توجہ ہے؟ تو پھر کہتے ہیں جس مجلس میں عورت کو پتہ چلے گا اس مجلس میں اس کو اختیار مل جائے گا۔ توجہ ہے؟ اور خاوند اس سے رجوع نہیں کر سکتا، خاوند نے ایک دفعہ کہہ دیا: میں نے بیوی کو طلاق کا اختیار دے دیا، بس بھئی، بات خاوند کے اختیار سے نکل گئی۔ اب جس مجلس میں عورت کو اس اختیار کا پتہ چلے گا اس کو اختیار مل جائے گا اور مجلس کے اختتام تک رہے گا اور وہ اپنے آپ کو خاوند سے جدا کر سکتی ہے۔ اور یاد رکھو، آپ کو یہ بھی بتلائیں گے کہ یہاں پر بیوی کی مجلس کا اعتبار ہے، خاوند کی مجلس کا اعتبار نہیں۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، اور یہ کہہ کر خاوند اٹھ کر چلا گیا اور بیوی وہیں بیٹھی ہے، تو اعتبار کس کی مجلس کا ہے؟ عورت کی، کیونکہ مالک وہ بنی ہے اس اختیار کی، لہٰذا لہٰذا وہ جب تک اس مجلس میں ہے اس کو اختیار ہے۔ خاوند کی مجلس کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ جب خاوند اختیار دے دیتا ہے معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا، اب وہ رجوع نہیں کر سکتا۔ خاوند اور بیوی بیٹھے ہوئے ہیں بحث چل رہی ہے، خاوند کہتا ہے کہ ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، پھر فوراً کہتا ہے: نہیں نہیں، تمہارے ہاتھ میں معاملہ نہیں ہے۔ نہیں بھئی، اب رجوع نہیں ہو سکتا، آپ نے جو عورت کو اختیار دیا ہے آپ اس کو فسخ نہیں کر سکتے، معاملہ عورت کے ہاتھ میں جا چکا ہے اور وہ مجلس تک رہے گا۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِذَا كَانَتْ تَسْمَعُ يُعْتَبَرُ مَجْلِسُهَا ذَلِكَ“، پھر اگر وہ عورت سنتی ہے یعنی سننے والی ہے یا وہ اس اختیار کو سن رہی ہے ”يُعْتَبَرُ مَجْلِسُهَا ذَلِكَ“، تو اس عورت کی وہی مجلس معتبر ہے جس میں اس نے یہ بات سنی ہے، ”وَإِنْ كَانَتْ لَا تَسْمَعُ“، اور اگر وہ عورت نہیں سن رہی، مثلاً بہری ہے یا کسی اور جگہ ہے، ”فَمَجْلِسُ عِلْمِهَا“، تو پھر اس کی مجلسِ علم معتبر ہے یعنی جس مجلس میں اس کو اس بات کا علم ہو گا، اس بات کا پتہ چلے گا، ”أَوْ بُلُوغِ الْخَبَرِ إِلَيْهَا“، یا وہ مجلس جس کے اندر اس کو یہ خبر پہنچے گی۔ ”لِأَنَّ هَذَا تَمْلِيكٌ فِيهِ مَعْنَى التَّعْلِيقِ“، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ ایسی تملیک ہے ”فِيهِ مَعْنَى التَّعْلِيقِ“ جس میں تعلیق والا معنی بھی ہے۔ خاوند نے کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، یہ تملیک ہے، وہ اسے طلاق کا مالک بنا رہا ہے، لیکن یہ ایسی تملیک ہے جس میں تعلیق بھی ہے، یعنی بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ تملیک ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ تعلیق ہے۔ یاد رکھو تملیکات میں رجوع ہو سکتا ہے۔ تملیک میں رجوع ہو سکتا ہے، مثلاً آپ کسی سے کہتے ہیں یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں بیچ دی، یہ کیا ہے؟ تملیک ہے کیونکہ بیع میں مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، تو یہ آپ تملیک کر رہے ہیں اس کو مالک بنا رہے ہیں، اور تملیک میں رجوع ہو سکتا ہے۔ ابھی اس نے قبول نہیں کیا تھا کہ آپ فوراً کہتے ہیں: نہیں نہیں بھئی، میں یہ کتاب نہیں بیچنا چاہتا، بس بھئی آپ نے رجوع کر لیا، اب وہ قبول کہہ بھی دے اب بیع نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے تملیک سے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا۔ لیکن تعلیق سے رجوع نہیں ہو سکتا، خاوند اگر اپنی بیوی سے کہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، پھر کہتا ہے: نہیں نہیں نہیں، تمہیں طلاق نہیں ہے۔ نہیں بھئی، اب واپسی نہیں ہو سکتی، اب طلاق معلق ہو گئی اس گھر میں داخل ہونے کے ساتھ۔ تمام زندگی میں جب بھی وہ عورت اس گھر میں جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ طلاق واقع ہو جائے گی، معلوم ہوا تعلیق جو ہے اس میں رجوع نہیں ہو سکتا، اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن تملیک جو ہے وہ رجوع کا احتمال رکھتی ہے۔ تو آپ کو صاحبِ ہداية بتلائیں گے کہ یہ جو خاوند نے کہا ہے ”اخْتَارِي“ یا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، یہ خاوند عورت کو طلاق کا مالک بنا رہا ہے، لیکن یہ تملیک کے ساتھ ساتھ تعلیق بھی ہے۔ یہ تملیک کے ساتھ ساتھ تعلیق بھی ہے، گویا خاوند نے اس عورت سے یوں کہا ہے: ”إِنْ طَلَّقْتِ نَفْسَكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“۔ خاوند نے کیا کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، گویا خاوند نے یوں کہا ہے: ”إِنْ طَلَّقْتِ نَفْسَكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو نے اپنے آپ کو طلاق دی تو تجھے طلاق ہے۔ تعلیق بنا رہا ہوں نا، شرط اور جزا بنا رہا ہوں۔ خاوند نے تو اختیار دیا، لیکن یہ تعلیق بھی ہے، گویا خاوند یوں کہہ رہا ہے: ”إِنْ طَلَّقْتِ نَفْسَكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو نے اپنے آپ کو طلاق دے دی تو تجھے طلاق ہے، تو وہ اگر اپنے آپ کو طلاق دے گی تو طلاق ہو جائے گی، تو گویا یہ تعلیق بھی ہے۔ یہ کیا ہے؟ من وجہ تملیک ہے اور من وجہ تعلیق ہے، لہٰذا اس سے خاوند رجوع نہیں کر سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا تَمْلِيكٌ فِيهِ مَعْنَى التَّعْلِيقِ“، اس لیے کیونکہ یہ ایسی تملیک ہے جس کے اندر تعلیق والا معنی بھی ہے، ”فَيَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءَ الْمَجْلِسِ“، تو لہٰذا یہ مجلس کے پیچھے بھی یعنی مجلس کے بعد بھی موقوف رہے گی۔ بات یہ چل رہی ہے کہ اگر عورت کے سامنے خاوند نے یہ کہا تو عورت کی مجلس معتبر ہے۔ لیکن اگر خاوند نے لیکن اگر وہ عورت نہیں سن رہی، اسے نہیں پتہ وہ بہری ہے یا خاوند نے کسی اور کے سامنے یہ کہا، خاوند نے صبح کہا تھا، عورت کو شام کو پتہ چلا، شام کو پتہ چلا اور صبح سے شام تک عورت کی تو کتنی ہی مجلسیں بدل گئی ہوں گی، لیکن کہتے ہیں جس مجلس میں عورت کو خبر ملے گی اس کو علم ہو گا اس مجلس کا اعتبار ہے۔ تو بھئی خاوند نے تو صبح اختیار دیا تھا وہ تو مجلس تک رہتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی ہم نے آپ کو بتا دیا کہ یہ اختیار جو دیا ہے یہ تملیک ہے بعض اعتبار سے تو بعض اعتبار سے تعلیق ہے، اور تعلیق مجلس تک نہیں رہتی، مجلس کے بعد بھی رہتی ہے۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو یہ اسی مجلس تک ہے یا جب بھی زندگی میں وہ عورت جائے گی تو طلاق ہو جائے گی؟ جب بھی زندگی میں وہ عورت جائے گی طلاق ہو جائے گی۔ تعلیق جو ہے مجلس تک نہیں رہتی، تعلیق زندگی بھر کے لیے ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی خاوند نے جب اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دیا ہے تو بعض اعتبار سے دیکھیں یہ تملیک ہے اور تملیک تو مجلس تک رہتی ہے، لیکن دوسرے اعتبار سے دیکھیں تو یہ تعلیق بھی ہے اور تعلیق تو مجلس کے بعد بھی رہتی ہے۔ لہٰذا خاوند نے بے شک صبح کہا تھا لیکن مجلس کے بعد بھی یہ تعلیق باقی ہے، عورت کو شام کو پتہ چلا ہے تو اب اس کو اختیار مل گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ خاوند نے کب کہا تھا؟ صبح کہا تھا یا کل کہا تھا، بیوی کو آج پتہ چلا ہے تو چونکہ یہ تعلیق بھی ہے اور تعلیق تو مجلس کے بعد بھی باقی رہتی ہے اس لیے کل سے ابھی تک یہ باقی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا تَمْلِيكٌ فِيهِ مَعْنَى التَّعْلِيقِ“، اس لیے کیونکہ یہ ایسی تملیک ہے جس میں تعلیق والا معنی بھی ہے، ”فَيَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءَ الْمَجْلِسِ“، تو لہٰذا یہ مجلس کے مابعد پر بھی موقوف رہے گا، ”وَلَا يُعْتَبَرُ مَجْلِسُهُ“، اور خاوند کی مجلس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، ”لِأَنَّ التَّعْلِيقَ لَازِمٌ فِي حَقِّهِ“، اس لیے کیونکہ تعلیق جو ہے وہ خاوند کے حق میں لازم ہو جاتی ہے۔ اس لیے کیونکہ تعلیق جو ہے وہ لازم ہو جاتی ہے خاوند کے حق میں۔ خاوند نے جب بیوی سے کہا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو کیا یہ صرف خاوند کی مجلس تک یہ تعلیق ہے یا زندگی بھر کے لیے تعلیق ہے؟ جی، یہ زندگی بھر کے لیے تعلیق ہو گئی۔ عورت جب بھی اس گھر میں جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ معلوم ہوا تعلیق جو ہے وہ خاوند کے حق میں لازم ہو جاتی ہے، اس کا اس کی مجلس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خاوند اب اس سے رجوع نہیں کر سکتا، اس کو فسخ نہیں کر سکتا بھئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّعْلِيقَ لَازِمٌ فِي حَقِّهِ اس لیے کیونکہ تعلیق جو ہے وہ خاوند کے حق میں لازم ہو جاتی ہے یعنی وہ اس سے فسخ بھی نہیں کر سکتا اور اس سے رجوع بھی نہیں کر سکتا۔ بِخِلَافِ الْبَيْعِ بخلاف بیع کے، لِأَنَّهُ تَمْلِيكٌ مَحْضٌ وہ محض تملیک ہے۔ بیع جو ہے وہ تملیک محض ہے وہاں تعلیق نہیں۔ لہٰذا وہاں ایجاب صرف مجلس تک رہے گا، مجلس کے بعد نہیں رہے گا۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْبَيْعِ لِأَنَّهُ تَمْلِيكٌ مَحْضٌ بخلاف بیع کے، اس لیے کیونکہ وہ تملیک محض ہے لہٰذا اس کے اندر دونوں کی مجلس معتبر ہے، ایجاب کرنے والے کی بھی اور قبول کرنے والے کی بھی، ایک کی بھی مجلس بدلے گی تو تملیک ختم ہو جائے گی، ایجاب باطل ہو جائے گا۔ شَابَ يَشُوبُ کا معنی ہے ایک شے کا دوسری شے کے ساتھ مل جانا، یعنی آمیزش۔ آمیزش۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْبَيْعِ لِأَنَّهُ تَمْلِيكٌ مَحْضٌ، وَلَا يَشُوبُهُ التَّعْلِيقُ کیونکہ بیع جو ہے وہ تو محض تملیک ہے اور اس کے ساتھ تو تعلیق کی آمیزش نہیں ہے۔ وَإِذَا اعْتُبِرَ مَجْلِسُهَا اور جب اس عورت کی مجلس معتبر ہے، فَالْمَجْلِسُ تَارَةً يَتَبَدَّلُ بِالتَّحَوُّلِ تو کبھی کبھار مجلس بدل جاتی ہے بالتحول، پلٹ جانے سے یعنی اس جگہ سے ہٹ جانے سے، وَمَرَّةً بِالْأَخْذِ فِي عَمَلٍ آخَرَ اور کبھی کبھار مجلس بدل جاتی ہے کسی دوسرے کام میں شروع ہونے سے، عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ فِي الْخِيَارِ بوجہ اس کے جو ہم نے خیار میں بیان کر دیا۔ پیچھے ذکر کیا تھا کہ مجلس اکل اور ہے، مجلس مناظرہ اور ہے اور مجلس قتال اور ہے، تو جب کوئی اور کام شروع کریں گے تو مجلس بدل جاتی ہے۔ تو مجلس کبھی بدلتی ہے اس جگہ سے ہٹ جانے سے اور کبھی مجلس بدل جاتی ہے کسی دوسرے کام میں شروع ہونے سے: عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ فِي الْخِيَارِ بوجہ اس کے جو ہم نے خیار کے اندر بیان کر دیا تھا۔ وَيَخْرُجُ الْأَمْرُ مِنْ يَدِهَا بِمُجَرَّدِ الْقِيَامِ اور معاملہ عورت کے ہاتھ سے نکل جائے گا بمجرد القیام، محض اٹھنے سے ہی، لِأَنَّهُ دَلِيلُ الْإِعْرَاضِ کیونکہ عورت کا اٹھنا یہ اس کے اعراض کی دلیل ہے کہ وہ اس بات سے منہ موڑ رہی ہے، اسے یہ بات پسند نہیں آئی، إِذِ الْقِيَامُ يُفَرِّقُ الرَّأْيَ اس لیے کیونکہ قیام جو ہے وہ رائے کو متفرق کر دیتا ہے یعنی اٹھنے سے رائے منتشر ہو جاتی ہے۔ بھئی اگر آپ کسی بات پر غور کر رہے ہیں تو اگر کھڑے ہوئے ہیں اور بیٹھ جائیں گے تو بیٹھنے سے رائے زیادہ بنے گی، اطمینان سے آپ بیٹھ کر غور کریں گے، لیکن اگر آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہونے سے رائے منتشر ہوتی ہے، رائے مجتمع نہیں ہوتی، رائے بنتی نہیں ہے بلکہ رائے منتشر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا عورت کا بھی اٹھنا یہ اعراض کی دلیل ہے، معلوم ہوا اگر وہ اپنی رائے بنانا چاہتی تو وہ بیٹھتی بھئی، لیکن یہ تو اٹھ گئی اور اٹھنے سے تو رائے کیا ہوتی ہے؟ منتشر ہوتی ہے، لہٰذا یہ اعراض کی دلیل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: إِذِ الْقِيَامُ يُفَرِّقُ الرَّأْيَ اس لیے کیونکہ قیام جو ہے یہ رائے کو منتشر کر دیتا ہے۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا مَكَثَتْ يَوْمًا لَمْ تَقُمْ بخلاف اس صورت کے کہ جب عورت ٹھہری رہی یوما، ایک دن، لم تقم، اٹھی نہیں۔ جب ایک دن بیٹھی رہی اور اٹھی نہیں تو پھر سارا دن اس کو اختیار رہے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا مَكَثَتْ يَوْمًا لَمْ تَقُمْ بخلاف اس صورت کے کہ جب عورت بیٹھی رہی ایک دن، لم تقم، اٹھی نہیں، وَلَمْ تَأْخُذْ فِي عَمَلٍ آخَرَ اور کسی دوسرے کام میں بھی شروع نہیں ہوئی، لِأَنَّ الْمَجْلِسَ قَدْ يَطُولُ وَقَدْ يَقْصُرُ اس لیے کیونکہ مجلس کبھی لمبی ہو جاتی ہے، وقد یقصر، اور کبھی چھوٹی ہوتی ہے، فَيَبْقَى تو یہ عورت کو اختیار رہے گا، إِلَى أَنْ يُوجَدَ مَا يَقْطَعُهُ یہاں تک کہ کوئی ایسی چیز پائی جائے جو اس مجلس کو کاٹ دے، أَوْ يَدُلُّ عَلَى الْإِعْرَاضِ یا کوئی ایسی چیز پائی جائے جو اعراض پر دلالت کرے، تو تب تک وہ معاملہ اس کے ہاتھ میں ہے، اس کو اختیار ہے۔ وَقَوْلُهُ: مَكَثَتْ يَوْمًا لَيْسَ لِلتَّقْدِيرِ بِهِ بھئی اوپر متن میں آیا تھا: فَمَكَثَتْ يَوْمًا وَلَمْ تَقُمْ سارا دن وہ بیٹھی رہی اور اٹھی نہیں، اٹھی نہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک ہی دن تک اختیار رہے گا۔ نہیں نہیں، یہ بطور مثال کے ذکر کیا ہے، چاہے سارا دن وہ بیٹھی رہی تو اختیار ہے، اگر اگلی ساری رات بھی وہ بیٹھی رہی پھر بھی اختیار ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جو دن کا ذکر ہے یہ کوئی تحدید کے طور پر نہیں ہے بلکہ مثال کے طور پر ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقَوْلُهُ: مَكَثَتْ يَوْمًا اور امام محمد رحمہ اللہ نے جو جامع صغیر میں مکثت یوما فرمایا ہے، لَيْسَ لِلتَّقْدِيرِ بِهِ لِلتَّقْدِيرِ بِهِ، أَيْ: بِالْيَوْمِ، یہ ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ یوم کو۔ لَيْسَ لِلتَّقْدِيرِ بِهِ وہ اس دن کے ساتھ اندازہ لگانے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ بطور مثال کے ہے بھئی۔ وَقَوْلُهُ: اور اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ کا قول جو ہے: مَا لَمْ تَأْخُذْ فِي عَمَلٍ آخَرَ امام محمد رحمہ اللہ نے کیا فرمایا؟ کہ جب تک وہ اٹھی نہیں: فَالْأَمْرُ فِي يَدِهَا مَا لَمْ تَأْخُذْ فِي عَمَلٍ آخَرَ یہ پیچھے متن میں گزری ہے یہ بات۔ تو اس سے ہر عمل مراد نہیں ہے بلکہ ایسا عمل ہے جس سے قطع کا پتہ چلے۔ وہ عمل کیا کر دے؟ ایسا عمل جو مجلس کے قطع، مجلس کے ٹوٹنے کی خبر دے کہ دوسری طرف متوجہ ہو گئی ہے عورت بھئی۔ اور اگر کوئی فعل تو عورت نے کیا لیکن وہ قطع مجلس پر دلالت نہیں کر رہا، مثلاً وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے پانی پی لیا، یا اسی طرح اس نے چند سورتیں قرآن کی چھوٹی پڑھ لیں بھئی، تو یہ کام مجلس بدلنے والے نہیں ہیں۔ ہاں کوئی اور کام مثلاً اس نے موبائل نکالا اور اپنی والدہ کو فون کر کے ان کے ساتھ گپ شپ لگانا شروع کر دی، یہ تو معلوم ہوا یہ کیا کر رہی ہے؟ اعراض کر رہی ہے تو اس کا یہ عمل مجلس کو بدل دے گا، معلوم ہوا پہلے مجلس مذاکرۂ طلاق والی تھی اور اب مجلس بدل گئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَوْلُهُ: مَا لَمْ تَأْخُذْ فِي عَمَلٍ آخَرَ اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول جو ہے کہ جب تک وہ کسی دوسرے کام میں شروع نہ ہو جائے یہ جو قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا، يُرَادُ بِهِ عَمَلٌ يُعْرَفُ أَنَّهُ قَطَعَ لِمَا كَانَتْ فِيهِ اس سے مراد جو ہے ایسا عمل ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس عمل نے کاٹ دیا ہے اس چیز کو جس میں وہ تھی یعنی جس حالت میں وہ تھی، لَا مُطْلَقُ الْعَمَلِ اس سے مطلق عمل مراد نہیں ہے۔ وَلَوْ كَانَتْ قَائِمَةً فَجَلَسَتْ صورت مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی کو اختیار دیا، بیوی کھڑی ہوئی تھی وہ بیٹھ گئی۔ تو کیا بیٹھنے سے، بیٹھنے سے اختیار ختم ہو گیا؟ کہتے ہیں نہیں، بیٹھنے سے رائے اچھی بنتی ہے، بیٹھنے سے رائے اچھی بنتی ہے لہٰذا یہ اعراض کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ تو زیادہ متوجہ ہونے کی دلیل ہے۔ لہٰذا کھڑی ہوئی تھی اور بیٹھ گئی پھر بھی اس کو اختیار ہے۔ وَلَوْ كَانَتْ قَائِمَةً فَجَلَسَتْ اور اگر وہ عورت کھڑی تھی پھر وہ بیٹھ گئی یعنی امر بالید خاوند کے اختیار دینے کے بعد، فَهِيَ عَلَى خِيَارِهَا تو یہ عورت اب بھی اپنے اختیار پر ہے، لِأَنَّهُ دَلِيلُ الْإِقْبَالِ اس لیے کیونکہ بیٹھنا یہ تو متوجہ ہونے کی دلیل ہے، فَإِنَّ الْقُعُودَ أَجْمَعُ لِلرَّأْيِ اس لیے کیونکہ بیٹھنا جو ہے یہ اجمع للرای ہے، یہ رائے کو زیادہ بناتا ہے، رائے کو زیادہ جمع کرتا ہے، اس سے رائے اچھی بنتی ہے، اور اٹھنا کیا ہے؟ رائے کو منتشر کرتا ہے۔ کہتے ہیں: فَإِنَّ الْقُعُودَ أَجْمَعُ لِلرَّأْيِ اس لیے کیونکہ بیٹھنا جو ہے یہ رائے کو زیادہ بنانے والا ہے۔ وَكَذَا إِذَا كَانَتْ قَاعِدَةً فَاتَّكَأَتْ أَوْ مُتَّكِئَةً فَقَعَدَتْ بھئی عورت بیٹھی ہوئی تھی خاوند نے اختیار دے دیا، عورت نے ٹیک لگا لی۔ یا اس کا برعکس ہوا، عورت نے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور خاوند نے اسے اختیار دیا اور وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تو کیا اس سے اختیار ختم ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں، اس سے بھی اختیار ختم نہیں ہوگا بھئی۔ کیونکہ مجلس نہیں بدلی، وہیں پر ہے بھئی، اور نہ کوئی اعراض والی دلیل پائی گئی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا كَانَتْ قَاعِدَةً فَاتَّكَأَتْ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب وہ عورت بیٹھی ہوئی تھی پھر اس نے تکیہ لگا لیا، ٹیک لگا لی، أَوْ مُتَّكِئَةً فَقَعَدَتْ یا اس عورت نے تکیہ لگایا ہوا تھا، ٹیک لگائی ہوئی تھی فَقَعَدَتْ تو یہ بیٹھ گئی، یعنی پھر بھی اس کو اختیار ہے۔ لِأَنَّ هَذَا انْتِقَالٌ مِنْ جِلْسَةٍ إِلَى جِلْسَةٍ اس لیے کیونکہ یہ منتقل ہونا ہے ایک بیٹھنے سے دوسرے بیٹھنے کی طرف، ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدلی ہے، فَلَا يَكُونُ إِعْرَاضًا تو یہ اعراض نہیں ہے، كَمَا إِذَا كَانَتْ مُحْتَبِيَةً فَتَرَبَّعَتْ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ عورت محتبیہ ہو، فَتَرَبَّعَتْ پھر وہ تربّع کر لے۔ احتباء، احتباء اس کو کہتے ہیں کہ آدمی زمین پر اس طرح بیٹھے کہ اپنے دونوں گھٹنے ملا لے اپنے سینے کے ساتھ اور پھر ہاتھوں کے ساتھ دونوں گھٹنوں کو پکڑ لے۔ یا بعض اوقات کسی کپڑے وغیرہ کے ذریعے بھی ان گھٹنوں کو سینے کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے، تو اس کو کہتے ہیں احتباء۔ اور تربّع کا معنی ہے چونکڑی مار کر بیٹھنا۔ اسی کو کہتے ہیں چار زانو بیٹھنا، یا اسی کو کہتے ہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھنا۔ تو یہ سب کا معنی کیا ہے؟ چونکڑی مار کر بیٹھنا، اس کو عربی میں تربّع کہتے ہیں، تربّع۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا كَانَتْ مُحْتَبِيَةً فَتَرَبَّعَتْ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے عورت محتبیہ تھی، وہ احتباء کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی، فَتَرَبَّعَتْ پھر وہ چونکڑی مار کر بیٹھ گئی، تو اس سے اس کا اختیار ختم نہیں ہوتا۔ قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: وَهَذَا رِوَايَةُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ، وَذُكِرَ فِي غَيْرِهِ أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ قَاعِدَةً فَاتَّكَأَتْ لَا خِيَارَ لَهَا صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: قَالَ، قال سے مراد صاحب ہدایہ ہیں۔ قال رضی اللہ تعالی عنہ، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَهَذَا رِوَايَةُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ کہ یہ جامع صغیر کی روایت ہے۔ یہ جو اوپر آیا نا کہ اگر وہ بیٹھی ہوئی تھی اور ٹیک لگا لی یا ٹیک لگائی ہوئی تھی اور بیٹھ گئی تو ان سے اختیار باطل نہیں ہوگا، یہ جامع صغیر کی روایت ہے، وَذُكِرَ فِي غَيْرِهِ أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ قَاعِدَةً فَاتَّكَأَتْ لَا خِيَارَ لَهَا اور اس کے علاوہ اور کتابوں میں ذکر ہے کہ اگر وہ عورت بیٹھی ہوئی تھی پھر اس نے تکیہ لگا لیا تو اب اس کو کوئی اختیار نہیں۔ لِأَنَّ الِاتِّكَاءَ إِظْهَارُ التَّهَاوُنِ بِالْأَمْرِ تہاون کا معنی ہے کسی بات کو حقیر اور معمولی سمجھنا یعنی اس کی پرواہ نہ کرنا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الِاتِّكَاءَ إِظْهَارُ التَّهَاوُنِ بِالْأَمْرِ اس لیے کیونکہ تکیہ لگانا یہ اظہار ہے تہاون بالامر کی، اس امر بالید کو حقیر اور معمولی سمجھنے کا اظہار ہے تکیہ لگانا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں بعض کتابوں میں ہے کہ اگر وہ بیٹھی ہوئی تھی اور اس نے ٹیک لگا لی تو اس کو کوئی اختیار نہیں ہے، لِأَنَّ الِاتِّكَاءَ إِظْهَارُ التَّهَاوُنِ بِالْأَمْرِ اس لیے کیونکہ ٹیک لگانا یہ امر کے بے پرواہی کا اظہار ہے، فَكَانَ إِعْرَاضًا تو یہ اعراض ہو گا، وَالْأَوَّلُ هُوَ الْأَصَحُّ اور پہلا قول جو ہے وہ زیادہ صحیح ہے، وہ جو جامع صغیر میں آیا۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: وَالْأَوَّلُ هُوَ الْأَصَحُّ کہ پہلا قول یعنی جو جامع صغیر میں آیا وہ زیادہ صحیح ہے، اگرچہ یہ قول بھی صحیح ہے لیکن وہ قول زیادہ صحیح ہے۔ وَلَوْ كَانَتْ قَاعِدَةً فَاسْتَضْجَعَتْ فَفِيهِ رِوَايَتَانِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اگر عورت بیٹھی ہوئی تھی پھر وہ لیٹ گئی، تو اس بارے میں دو روایتیں ہیں عن ابی یوسف رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے۔ ایک روایت کے مطابق اس میں اختیار ختم ہو جائے گا اور دوسری روایت کے مطابق اس میں اختیار ختم نہیں ہو گا بھئی۔ تو اس میں دو روایتیں ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے: ایک روایت کے مطابق خیار باطل نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ وہ بیٹھی ہوئی تھی لیٹ گئی ہے صرف اس کی حالت بدلی ہے، مجلس تو وہی ہے بھئی، تو اس میں کوئی اعراض کی دلیل نہیں ہے۔ جبکہ دوسری روایت کے مطابق بیٹھی ہوئی تھی اور لیٹ گئی ہے تو یہ اعراض پایا گیا، لہٰذا اس عورت کا خیار باطل ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ لیٹنا یہ بے پرواہی کی علامت ہے، ایک چیز کو معمولی سمجھنے کی علامت ہے لہٰذا اس کی وجہ سے اس کا خیار باطل ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَتْ: أَدْعُو أَبِي أَسْتَشِيرُهُ، أَوْ شُهُودًا أُشْهِدُهُمْ، فَهِيَ عَلَى خِيَارِهَا خاوند نے اختیار دیا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ عورت کھڑی ہو گئی اپنے والد کو بلانے کے لیے کہ میں ان سے مشورہ کر لوں، یا گواہوں کو بلانے کے لیے کہ میں ان کو گواہ بنا دوں تم نے مجھے اختیار دے دیا ہے میں اب اپنے آپ پر طلاق واقع کرنے والی ہوں تاکہ تم بعد میں انکار نہ کر سکو، تو اس صورت میں یہ اعراض پر دلیل نہیں ہے لہٰذا اس صورت میں عورت کا اختیار باقی رہے گا بھئی۔ کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَتْ: أَدْعُو أَبِي أَسْتَشِيرُهُ اور اگر عورت نے کہا کہ میں اپنے باپ کو بلاتی ہوں تاکہ میں اس سے مشورہ کر لوں، أَوْ شُهُودًا أُشْهِدُهُمْ یا میں گواہوں کو بلا لوں کہ میں ان کو گواہ بنا دوں، فَهِيَ عَلَى خِيَارِهَا تو یہ عورت ابھی بھی اپنے اختیار پر ہے، لِأَنَّ الِاسْتِشَارَةَ لِتَحَرِّي الصَّوَابِ اس لیے کیونکہ مشورہ کرنا یہ درست رائے بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ تحری آپ نے پڑھا ہے اگر آپ جنگل میں جا رہے ہیں اور آپ کو قبلے کا پتہ نہیں تو آپ تحری کریں گے، کیا معنی؟ غور و فکر کر کے رائے بنائیں گے کہ قبلہ کس طرف ہے اور پھر اس رخ پر نماز پڑھ لیں گے، تو تحری کا کیا معنی ہوتا ہے؟ غور و فکر کر کے رائے بنانا۔ تو مشورے سے بھی کیا ہے؟ مشورے سے درست رائے بنتی ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الِاسْتِشَارَةَ لِتَحَرِّي الصَّوَابِ اس لیے کیونکہ مشورہ جو ہے وہ رائے کے درست کرنے کے لیے ہوتا ہے، وَالْإِشْهَادُ لِلتَّحَرُّزِ عَنِ الْإِنْكَارِ اور گواہ بنانا جو ہے وہ انکار سے بچنے کے لیے ہوتا ہے تاکہ دوسرا شخص بعد میں انکار نہ کر سکے، فَلَا يَكُونُ دَلِيلَ الْإِعْرَاضِ تو لہٰذا یہ اعراض کی دلیل نہیں ہو گا۔ وَإِنْ كَانَتْ تَسِيرُ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ فِي مَحْمِلٍ فَوَقَفَتْ فَهِيَ عَلَى خِيَارِهَا، وَإِنْ سَارَتْ بَطَلَ خِيَارُهَا صورت مسئلہ یہ: عورت جو ہے وہ سواری پر چل رہی ہے اور خاوند نے اسی دوران اس کو اختیار دے دیا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ۔ اس عورت نے سواری روک لی، تو کیا اس سے خیار باطل ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں، اس سے خیار باطل نہیں ہو گا۔ ہاں اگر خاوند نے اختیار دیا، عورت سواری پر بیٹھی ہے اور سواری کھڑی ہوئی ہے اور پھر سواری چل پڑی تو پھر عورت کا خیار باطل ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ سواری کا کھڑا ہونا یا سواری کا چلنا اس کی نسبت سوار کی طرف کی جاتی ہے۔ زید گھوڑے پر سوار ہے، زید جب گھوڑے کو روکے گا تو ہم کہیں گے زید کھڑا ہوا ہے، اور زید جب گھوڑے کو لے کر چل پڑے گا ہم کہیں گے زید جا رہا ہے۔ تو دیکھو سواری کی نسبت سوار کی طرف کی جاتی ہے، لہٰذا سواری کا روکنا یہ تو اعراض کی علامت نہیں لیکن سواری کا چلانا یہ تو اعراض کی علامت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَتْ تَسِيرُ عَلَى دَابَّةٍ اور اگر وہ عورت چل رہی تھی کسی سواری پر، أَوْ فِي مَحْمِلٍ یا وہ کسی پالکی کے اندر تھی، محمل کہتے ہیں وہ جو اونٹوں پر ہوذج بنایا جاتا بھئی۔ عرب کے اندر اونٹ کے اوپر لکڑیاں سیدھی گاڑ دیتے اور پھر اوپر پردہ ڈال لیتے تو یہ ایک چھوٹا سا کمرہ نما بن جاتا ہلکا پھلکا، تاکہ دھوپ کی سختی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔ تو اس کو محمل کہتے ہیں، یعنی ہوذج کہہ لو یا پالکی کہہ لو۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَتْ تَسِيرُ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ فِي مَحْمِلٍ فَوَقَفَتْ فَهِيَ عَلَى خِيَارِهَا اور اگر وہ عورت کسی سواری پر چل رہی تھی یا وہ کسی پالکی میں یا ڈولی میں تھی، فَوَقَفَتْ تو وہ رک گئی، فَهِيَ عَلَى خِيَارِهَا تو عورت ابھی بھی اپنے اختیار پر ہے، وَإِنْ سَارَتْ بَطَلَ خِيَارُهَا اور اگر وہ سواری چل پڑی تو عورت کا اختیار باطل ہو جائے گا، لِأَنَّ سَيْرَ الدَّابَّةِ وَوُقُوفَهَا مُضَافٌ إِلَيْهَا اس لیے کیونکہ سواری کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا یہ اس کی نسبت سوار کی طرف کی جاتی ہے، وَالسَّفِينَةُ بِمَنْزِلَةِ الْبَيْتِ اور سفینہ یعنی کشتی جو ہے وہ کمرے کے درجے میں ہے۔ کشتی کس کے درجے میں ہے؟ کمرے کے درجے میں ہے لہٰذا کشتی کے چلنے سے خیار باطل نہیں ہو گا، یہ اسی طرح ہے جیسے کمرے کے اندر ہے ایک شخص بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالسَّفِينَةُ بِمَنْزِلَةِ الْبَيْتِ اور کشتی جو ہے وہ کمرے کے درجے میں ہے، لِأَنَّ سَيْرَهَا غَيْرُ مُضَافٍ إِلَى رَاكِبِهَا اس لیے کیونکہ کشتی کا چلنا اس کی نسبت سوار کی طرف نہیں کی جاتی۔ کشتی کے چلنے کی نسبت سوار کی طرف نہیں کی جاتی، أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى إِيقَافِهَا کیا آپ دیکھتے نہیں کہ یہ شخص جو ہے قادر نہیں ہے اس کشتی کو روکنے پر؟ کشتی کو تو پانی لے کر جا رہا ہے یا ہوا لے کر جا رہی ہے، تو یہ آدمی اس کے روکنے پر قادر نہیں ہے، وَرَاكِبُ الدَّابَّةِ يَقْدِرُ جبکہ سواری کا جو سوار ہوتا ہے وہ تو سواری کو روکنے پر قادر ہوتا ہے۔ لہٰذا کشتی کے چلنے سے خیار باطل نہیں ہو گا لیکن سواری کے چلنے سے خیار باطل ہو جائے گا۔ فَصْلٌ فِي الْمَشِيئَةِ یہ فصل ہے مشیئت کے بارے میں۔ مشیئت کا معنیٰ چاہنا، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ تجھے طلاق ہے اگر تو چاہتی ہے، اگر تو چاہتی۔ تو یہ چاہنا جو ہے اس کو مشیئت کہتے ہیں عربی میں۔ فَصْلٌ فِي الْمَشِيئَةِ یہ فصل ہے مشیئت کے بارے میں۔ وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: طَلِّقِي نَفْسَكِ، وَلَا نِيَّةَ لَهُ أَوْ نَوَى وَاحِدَةً، فَقَالَتْ: طَلَّقْتُ نَفْسِي، فَهِيَ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: طَلِّقِي نَفْسَكِ کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، وَلَا نِيَّةَ لَهُ اور حال یہ ہے کہ اس شخص کی کوئی نیت نہیں ہے، أَوْ نَوَى وَاحِدَةً یا اس شخص نے ایک کی نیت کر لی، فَقَالَتْ: طَلَّقْتُ نَفْسِي عورت نے جواب میں کہا: طَلَّقْتُ نَفْسِي میں نے اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے، فَهِيَ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ تو یہ ایک رجعی طلاق ہو گی۔ کون سی طلاق ہو گی؟ ایک۔ چاہے نیت نہ کرے اور چاہے ایک کی نیت کرے دونوں صورتوں میں ایک رجعی طلاق واقع ہو گی۔ اور رجعی ہو گی اس لیے کیونکہ خاوند نے صریح لفظوں کے ساتھ اختیار دیا ہے: طَلِّقِي نَفْسَكِ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَهِيَ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ تو یہ ایک رجعی طلاق ہو گی۔ وَإِنْ طَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا وَقَدْ أَرَادَ الزَّوْجُ ذَلِكَ وَقَعْنَ عَلَيْهَا اور اگر عورت نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دیں اور حال یہ ہے کہ خاوند نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا، خاوند نے بھی تین کی نیت کی ہوئی تھی، تو تینوں طلاقیں عورت پر واقع ہو جائیں گی۔ بھئی کیا وجہ؟ طَلِّقِي نَفْسَكِ یہ تو صریح ہے اور صریح سے تو آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ بغیر نیت کے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور یہاں آپ کہہ رہے ہیں کہ تین بھی واقع ہو سکتی ہیں حالانکہ اس خاوند نے طَلِّقِي فعل کہا ہے اس نے کوئی مصدر ذکر نہیں کیا۔ تو اس کا جواب دیں گے صاحب ہدایہ کہ طَلِّقِي کہنا اسی طرح ہے جیسے خاوند بیوی سے یوں کہہ رہا ہو: اِفْعَلِي فِعْلَ الطَّلَاقِ تو طلاق والا فعل کر لے، خاوند نے کہا تو طَلِّقِي لیکن گویا خاوند نے کیا کہا ہے؟ اِفْعَلِي فِعْلَ الطَّلَاقِ تو طلاق والا فعل کر لے، تو دیکھو طلاق مصدر آ گیا اور مصدر کے اندر قلیل کا بھی احتمال ہے اور کثیر کا بھی احتمال ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے آپ کسی کو کہتے ہیں: اِضْرِبْ تو اضرب کا کیا معنیٰ ہے؟ أَيِ: افْعَلْ فِعْلَ الضَّرْبِ کہ تو ضرب والا فعل کر دے۔ تو کہتے ہیں: وَقَعْنَ عَلَيْهَا تینوں طلاقیں عورت پر واقع ہو جائیں گی جب خاوند نے بھی اس کا ارادہ کیا ہو، وَهَذَا لِأَنَّ قَوْلَهُ طَلِّقِي مَعْنَاهُ افْعَلِي فِعْلَ الطَّلَاقِ، وَهُوَ اسْمُ جِنْسٍ فَيَقَعُ عَلَى الْأَدْنَى مَعَ احْتِمَالِ الْكُلِّ كَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَجْنَاسِ اور یہ اس وجہ سے اس لیے کیونکہ خاوند کا قول طَلِّقِي جو ہے اس کا معنی یہ ہے: افْعَلِي فِعْلَ الطَّلَاقِ کہ تو طلاق والا فعل کر لے، اور یہ طلاق مصدر یہ تو اسم جنس ہے، تو یہ ادنیٰ پر واقع ہو گا کل کے احتمال کے ساتھ جیسے کہ باقی اسمائے اجناس میں ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ یہاں اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ کہ: فَصْلٌ فِي الْمَشِيئَةِ یہ فصل ہے مشیئت کے بارے میں، یعنی ایسے مسئلے جن میں مشیئت ذکر ہو گی۔ لیکن یہاں جو پہلا مسئلہ ذکر کیا: طَلِّقِي نَفْسَكِ اور عورت جواب میں کہتی ہے: طَلَّقْتُ نَفْسِي، یہاں تو کہیں مشیئت کا ذکر نہیں ہے، کہیں مشیئت کا ذکر نہیں، تو جواب یہ کہ بھئی یہاں ضمناً مشیئت ہے، کیونکہ جب خاوند نے کہا: طَلِّقِي نَفْسَكِ، اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو معنی یہ ہے: طَلِّقِي نَفْسَكِ إِنْ شِئْتِ، تو اپنے آپ کو طلاق دے دے اگر تو چاہتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں ضمناً مشیئت موجود ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: فَلِهَذَا تَعْمَلُ فِيهِ نِيَّةُ الثَّلَاثِ اور اسی وجہ سے اس میں تین کی نیت بھی عمل کرے گی کیونکہ ابھی ہم نے بتایا، پچھلے سطر میں کیا تھا؟ کہ خاوند نے کیا کہا ہے: افْعَلِي فِعْلَ الطَّلَاقِ وَهُوَ اسْمُ جِنْسٍ فَيَقَعُ عَلَى الْأَدْنَى مَعَ احْتِمَالِ الْكُلِّ تو یہ ادنیٰ پر یعنی ایک پر تو ضرور واقع ہو گا اور ساتھ کل کا احتمال ہو گا۔ فَلِهَذَا تَعْمَلُ فِيهِ نِيَّةُ الثَّلَاثِ تو اسی وجہ سے اس کے اندر تین کی نیت عمل کرتی ہے کیونکہ اس میں کل کا احتمال ہے، وَيَنْصَرِفُ إِلَى الْوَاحِدَةِ عِنْدَ عَدَمِهَا اور یہ پلٹ جائے گا ایک طلاق کی طرف جب تین کی نیت نہ ہو تو پھر ایک ہی طلاق ہو گی، وَتَكُونُ الْوَاحِدَةُ رَجْعِيَّةً اور وہ ایک طلاق جو ہے وہ رجعی ہو گی، لِأَنَّ الْمُفَوَّضَ إِلَيْهَا صَرِيحُ الطَّلَاقِ وَهُوَ رَجْعِيٌّ اس لیے کیونکہ وہ طلاق جو عورت کے سپرد کی گئی ہے صریح الطلاق وہ صریح طلاق ہے اور صریح طلاق رجعی ہوتی ہے۔ وَلَوْ نَوَى ثِنْتَيْنِ لَا تَصِحُّ اور اگر خاوند نے دو کی نیت کی تو پھر صحیح نہیں ہے، لِأَنَّهُ نِيَّةُ الْعَدَدِ کیونکہ یہ تو عدد کی نیت ہے، إِلَّا إِذَا كَانَتِ الْمَنْكُوحَةُ أَمَةً مگر اس صورت میں کہ جب وہ منکوحہ باندی ہو پھر دو کی نیت بھی صحیح ہے، لِأَنَّهُ جِنْسٌ فِي حَقِّهَا اس لیے کیونکہ یہ دو جو ہے باندی کے حق میں پوری جنس ہے۔ اگر باندی کے لیے خاوند نے دو کی نیت کی ہے پھر دو طلاقیں بھی واقع ہو جائیں گی، لیکن اس اعتبار سے نہیں کہ یہ دو عدد ہے بلکہ اس اعتبار سے کہ یہ باندی کی طلاقوں کی پوری جنس ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ جِنْسٌ فِي حَقِّهَا اس لیے کیونکہ یہ طلاقیں جو ہیں یہ باندی کے حق میں پوری جنس ہیں۔ وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ، فَقَالَتْ: أَبَنْتُ نَفْسِي، طُلِّقَتْ، وَلَوْ قَالَتْ: قَدِ اخْتَرْتُ نَفْسِي، لَمْ تُطَلَّقْ صورت مسئلہ یہ کہ خاوند نے بیوی سے کہا: طَلِّقِي نَفْسَكِ کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو یہ لفظ کون سا ہے؟ صریح، اور صریح سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ رجعی، معلوم ہوا وہ طلاق رجعی کا اختیار دے رہا ہے بیوی کو۔ اور بیوی جواب میں کہتی ہے: أَبَنْتُ نَفْسِي میں نے اپنے آپ کو بائنہ کر دیا، تو طلاق بائن واقع کرنا چاہتی ہے۔ تو اس صورت میں خاوند نے جو طلاق عورت کے سپرد کی ہے اس کا اعتبار ہے، جو عورت نے واقع کی ہے اس کا اعتبار نہیں ہے، تو لہٰذا طلاق رجعی ہی ہو گی بے شک عورت ابنت نفسی کہہ دے۔ طلاق کون سی ہو گی؟ رجعی ہی ہو گی کیونکہ خاوند نے رجعی کا مالک بنایا ہے طلاق بائن کا تو اسے مالک ہی نہیں بنایا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ، فَقَالَتْ: أَبَنْتُ نَفْسِي، طُلِّقَتْ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو وہ کہتی ہے میں نے اپنے آپ کو بائنہ کر دیا، طُلِّقَتْ تو عورت کو طلاق ہو جائے گی یعنی رجعی طلاق ہو گی۔ وَلَوْ قَالَتْ: قَدِ اخْتَرْتُ نَفْسِي، لَمْ تُطَلَّقْ اور اگر عورت جواب میں کہتی ہے کہ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، خاوند نے کیا کہا؟ طَلِّقِي نَفْسَكِ، اپنے آپ کو طلاق دے دے، عورت کیا کہتی ہے؟ اخْتَرْتُ نَفْسِي، میں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا، کہتے ہیں اس صورت میں طلاق نہیں ہو گی۔ اس صورت میں طلاق نہیں ہو گی، بھئی کیوں؟ اس سے طلاق کیوں نہیں ہو گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ اختیار یہ طلاق کے الفاظ میں سے نہیں ہے۔ خاوند اگر بیوی سے کہے: اخْتَرْتُكِ یا اخْتَرْتُ نَفْسِي تو اس صورت میں طلاق نہیں ہوتی کیونکہ یہ طلاق کے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ ہاں وہ جو صحابہ کے اجماع سے خاوند اختیاری کہتا تھا اور اس کے جواب میں عورت اخترت نفسی کہتی تھی اس میں طلاق ثابت ہوتی تھی اور وہ بھی خلاف القیاس طریقے سے بھئی۔ توجہ ہے؟ وہ جو اخترت نفسی سے طلاق واقع ہوتی تھی وہ اختیاری کے جواب میں تھا اور وہ بھی خلاف القیاس تھا، لہٰذا وہ اپنے مورد پر بند رہے گا۔ اختیاری کے جواب میں اخترت نفسی کہے گی تو طلاق واقع ہو گی، کسی اور لفظ کے جواب میں اخترت نفسی کہے گی تو طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ یہ مسئلہ تو خود خلاف القیاس ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَتْ: قَدِ اخْتَرْتُ نَفْسِي، لَمْ تُطَلَّقْ اور اگر عورت نے کہا کہ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا تو پھر اس کو طلاق نہیں ہو گی، لِأَنَّ الْإِبَانَةَ مِنْ أَلْفَاظِ الطَّلَاقِ اس لیے کیونکہ ابانت یہ تو طلاق کے الفاظ میں سے ہے، پہلی صورت جب عورت نے کیا کہا: أَبَنْتُ نَفْسِي۔ خاوند نے کیا کہا تھا؟ طَلِّقِي نَفْسَكِ اور عورت نے کیا کہا؟ أَبَنْتُ نَفْسِي، اس سے تو طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ ابانت طلاق کے لفظوں میں سے ہے۔ خاوند اگر بیوی سے کہے: أَبَنْتُكِ اور نیت کیا کر رہا ہے؟ طلاق کی، تو طلاق واقع ہو جائے گی، یا أَنْتِ بَائِنٌ کہتا ہے اور طلاق کی نیت کرتا ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی، معلوم ہوا ابانت طلاق کے افعال میں سے ہے، اس کے ذریعے طلاق واقع ہو جاتی ہے جبکہ اختیار یہ تو طلاق کے افعال میں سے نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِبَانَةَ مِنْ أَلْفَاظِ الطَّلَاقِ اس لیے کیونکہ ابانت یہ طلاق کے الفاظ میں سے ہے، أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ قَالَ: أَبَنْتُكِ، يَنْوِي بِهِ الطَّلَاقَ، أَوْ قَالَتْ: أَبَنْتُ نَفْسِي، فَقَالَ الزَّوْجُ: قَدْ أَجَزْتُ ذَلِكَ، بَانَتْ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر خاوند یوں کہتا: أَبَنْتُكِ یہ لفظ کہتا کہ میں نے تجھے بائنہ کر دیا اس حال میں کہ خاوند اس کے ذریعے طلاق کی نیت کرتا ہے، یا بیوی کہتی ہے: أَبَنْتُ نَفْسِي میں نے اپنے آپ کو بائنہ کر دیا تو جواب میں خاوند کہتا ہے: قَدْ أَجَزْتُ ذَلِكَ کہ میں نے اس کی اجازت دے دی، تو اس صورت میں بھی طلاق بائن ہو جائے گی۔ معلوم ہوا یہ ابانت طلاق کے الفاظ میں سے ہے۔ تو کہتے ہیں: أَوْ قَالَتْ: أَبَنْتُ نَفْسِي، فَقَالَ الزَّوْجُ: قَدْ أَجَزْتُ ذَلِكَ، بَانَتْ اور اگر عورت نے کہا: أَبَنْتُ نَفْسِي تو خاوند نے کہا: قَدْ أَجَزْتُ ذَلِكَ، بَانَتْ تو عورت بائنہ ہو جائے گی، فَكَانَتْ مُوَافِقَةً لِلتَّفْوِيضِ فِي الْأَصْلِ تو یہ عورت موافق ہو گئی خاوند کے سپرد کرنے میں فی الاصل، یعنی اصل طلاق کے اندر، إِلَّا أَنَّهَا زَادَتْ فِيهِ وَصْفًا، وَهُوَ تَعْجِيلُ الْإِبَانَةِ مگر یہ کہ عورت نے اس میں ایک وصف بڑھا دیا اور وہ ابانت کو جلدی کرنا ہے۔ طلاق رجعی میں بھی ابانت آتی ہے لیکن عدت کے بعد آتی ہے اور عورت اس وقت کیا کرنا چاہتی ہے؟ طلاق بائن کو واقع کرنا چاہتی ہے، تو یہ معنی ہے کہ: إِلَّا أَنَّهَا زَادَتْ فِيهِ وَصْفًا وَهُوَ تَعْجِيلُ الْإِبَانَةِ مگر یہ کہ عورت نے جواب میں ایک وصف کو بڑھا دیا اور وہ ابانت کا جلدی کرنا ہے، ابانت کو جلدی واقع کرنا ہے، فَيَلْغُو الْوَصْفُ الزَّائِدُ وَيَثْبُتُ الْأَصْلُ تو لہٰذا وصف زائد وہ تو لغو ہو جائے گا اور اصل یعنی طلاق ثابت ہو جائے گی تو عورت کو طلاق رجعی ہو جائے گی، كَمَا إِذَا قَالَتْ: طَلَّقْتُ نَفْسِي تَطْلِيقَةً بَائِنَةً یہ اسی طرح ہے جیسے عورت یوں کہے، خاوند نے کہا: طَلِّقِي نَفْسَكِ، اپنے آپ کو طلاق دے دے، اور عورت جواب میں کہتی ہے: طَلَّقْتُ نَفْسِي تَطْلِيقَةً بَائِنَةً تو اس صورت میں بھی طلاق رجعی ہو گی اور بینونت کے زائد وصف کا اعتبار نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا قَالَتْ: طَلَّقْتُ نَفْسِي تَطْلِيقَةً بَائِنَةً یہ اسی طرح ہے جیسے عورت جواب میں کہے: طَلَّقْتُ نَفْسِي تَطْلِيقَةً بَائِنَةً، وَيَنْبَغِي أَنْ يَقَعَ تَطْلِيقَةٌ رَجْعِيَّةٌ اور مناسب یہ ہے کہ اس سے طلاق رجعی واقع ہو۔ یاد رکھو بھئی یہاں پریشان ہوں گے، توجہ سے بھئی: وَيَنْبَغِي أَنْ يَقَعَ تَطْلِيقَةٌ رَجْعِيَّةٌ اس کا تعلق وہ جو متن میں آیا تھا، متن میں کیا آیا تھا؟ وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ، فَقَالَتْ: أَبَنْتُ نَفْسِي، طُلِّقَتْ تو جامع صغیر کی یہ عبارت ہے اور یہاں پر امام محمد رحمہ اللہ نے صرف طُلِّقَتْ کہا ہے، عورت کو طلاق ہو جائے گی، یہ نہیں ذکر فرمایا کہ رجعی ہو گی یا بائن ہو گی؟ تو لہٰذا ظاہر یہی ہے کون سی طلاق ہو گی؟ رجعی ہو گی کیونکہ خاوند نے طَلِّقِي نَفْسَكِ صریح لفظوں سے اختیار دیا ہے اور صریح سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاق رجعی۔ تو ظاہر یہی ہے۔ تو متن میں یہ مطلق تھا، اب صاحب ہدایہ بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: وَيَنْبَغِي أَنْ يَقَعَ تَطْلِيقَةٌ رَجْعِيَّةٌ اور مناسب یہ ہے کہ اس سے طلاق رجعی واقع ہو۔ ذرا فقہاء کی احتیاط کا اندازہ لگائیے بھئی! یہ ایسا مسئلہ ہے کہ عام طالب علم کو بھی بتایا جائے وہ بھی کہے گا طلاق رجعی واقع ہوئی ہے جب اس کو ضابطوں اور اصولوں کا پتہ ہے۔ تو عام طالب علم، ایک عام عالم بھی کہے گا یہاں طلاق رجعی واقع ہوئی ہے، اور صاحب ہدایہ جن کی یہ کتاب جس کو دیکھ کر علماء حیران ہوتے ہیں ایسی فصیح و بلیغ عبارتیں اور اتنی گہری باتیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، اتنے بڑے فقیہ ہیں لیکن احتیاط کا عالم دیکھو متن میں آیا تھا: طُلِّقَتْ، صاحب ہدایہ کہہ دیتے کہ اس کا معنی طلاق رجعی ہے، نہیں یوں نہیں کہا، کہتے ہیں مناسب یہی ہے کہ اس سے کون سی طلاق ہونی چاہیے؟ رجعی ہونی چاہیے، یعنی اتنی احتیاط سے جواب دے رہے ہیں، قطعی بات نہیں کر رہے، قطعی بات نہیں کر رہے کہ اس سے رجعی ہو گی بلکہ عاجزی کے انداز میں بات کر رہے ہیں کہ مناسب یہ ہے اس سے کون سی طلاق ہونی چاہیے؟ رجعی ہونی چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيَنْبَغِي أَنْ يَقَعَ تَطْلِيقَةٌ رَجْعِيَّةٌ اور مناسب یہ ہے کہ اس سے طلاق رجعی واقع ہو۔ بِخِلَافِ الِاخْتِيَارِ بخلاف اختیار کے، خاوند نے کیا کہا تھا اوپر متن میں؟ طَلِّقِي نَفْسَكِ، تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، عورت نے کہا تھا: قَدِ اخْتَرْتُ نَفْسِي، تو اوپر متن میں آیا تھا: لَمْ تُطَلَّقْ، اس کو طلاق نہیں ہو گی کیونکہ اختیار طلاق کے الفاظ میں سے نہیں ہے بھئی، اب وہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: بِخِلَافِ الِاخْتِيَارِ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَلْفَاظِ الطَّلَاقِ بخلاف اختیار کے اس لیے کیونکہ یہ طلاق کے الفاظ میں سے نہیں ہے، أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: اخْتَرْتُكِ أَوْ اخْتَارِي، يَنْوِي الطَّلَاقَ، لَمْ يَقَعْ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر خاوند اپنی بیوی سے کہتا: اخْتَرْتُكِ أَوْ اخْتَارِي، اس سے دیکھو طلاق واقع نہیں ہوتی: اخْتَرْتُكِ، میں نے تجھے اختیار کر لیا، یا اخْتَارِي، تو اختیار کر لے، تو ان لفظوں سے طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ یہ طلاق کے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ اور وہ جو صحابہ سے بھی ثابت ہے وہ خلاف القیاس طریقے پر ثابت ہے بھئی کہ اختیاری سے خاوند اختیار دے رہا ہے اور اخترت نفسی سے طلاق واقع ہو جائے گی، تو یہ خلاف القیاس طریقے پر ثابت ہے کیونکہ اخترت وغیرہ یہ طلاق کے الفاظ میں سے نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: اخْتَرْتُكِ أَوْ اخْتَارِي، يَنْوِي الطَّلَاقَ، لَمْ يَقَعْ کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: اخْتَرْتُكِ أَوْ اخْتَارِي کہ میں نے تجھے اختیار کر لیا، یا تو اختیار کر لے، حال یہ ہے کہ خاوند ان کے ذریعے طلاق کی نیت کرتا ہے لم یقع تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔ وَلَوْ قَالَتْ ابْتِدَاءً: اخْتَرْتُ نَفْسِي، فَقَالَ الزَّوْجُ: أَجَزْتُ، لَا يَقَعُ شَيْءٌ عورت نے ابتداءً کہا: اخْتَرْتُ نَفْسِي، میں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا، اور خاوند جواب میں کہتا ہے: أَجَزْتُ، میں نے اجازت دے دی، پھر بھی طلاق نہیں ہو گی، پھر بھی کیونکہ عورت کے لفظ اخترت نفسی سے تبھی طلاق واقع ہوتی ہے جب خاوند نے اختیاری کہا ہو اور یہ بھی کس طریقے پر ہے؟ خلاف القیاس طریقے پر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَتْ ابْتِدَاءً: اخْتَرْتُ نَفْسِي، فَقَالَ الزَّوْجُ: أَجَزْتُ، لَا يَقَعُ شَيْءٌ اور اگر عورت نے ابتداءً کہا اخترت نفسی، میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، فقال الزوج تو جواب میں خاوند نے کہا: اجزت، میں نے اجازت دے دی، لا یقع شیء تو اس صورت میں کچھ بھی واقع نہیں ہو گا۔ إِلَّا أَنَّهُ عُرِفَ طَلَاقًا بِالْإِجْمَاعِ إِذَا حَصَلَ جَوَابًا لِلتَّخْيِيرِ مگر یہ بات ہے کہ اس اخترت نفسی اس کو طلاق جانا گیا ہے بالاجماع، کس کے ذریعے؟ صحابہ کے اجماع کے ذریعے، اذا حصل جوابا للتخییر جب یہ جواب بنے تخییر کے لیے، جب یہ تخییر یعنی اختیار دینے کا جواب بنے جب خاوند نے کہا تھا: اختاری۔ ”اِخْتَارِي“، اُس وقت ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کہے تو پھر طلاق واقع ہوتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ عُرِفَ طَلَاقًا“ مگر اس ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کو طلاق جانا گیا ہے ”بِالْإِجْمَاعِ“ إجماع کے ذریعے ”إِذَا حَصَلَ جَوَابًا لِلتَّخْيِيرِ“ جب یہ تخییر یعنی اختیار دینے کے لیے جواب ہو کر حاصل ہو ”وَقَوْلُهُ“ اور خاوند کا یہ جو قول ہے ”طَلِّقِي نَفْسَكِ لَيْسَ بِتَخْيِيرٍ“ یہ تو تخییر نہیں ہے، اس میں تو وہ کوئی اختیار نہیں دے رہا ”فَيَلْغُو“ تو لہٰذا عورت کا قول ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ لغو ہو جائے گا۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب سے روایت ہے ”أَنَّهُ لَا يَقَعُ شَيْءٌ بِقَوْلِهَا: أَبَنْتُ نَفْسِي“ بھئی اوپر متن میں تو آیا تھا، ظاہر روایت میں کیا آیا؟ خاوند نے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، عورت نے جواب میں کیا کہا: ”أَبَنْتُ نَفْسِي“، تو بتلایا کہ اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ ابانت یہ طلاق کے الفاظ میں سے ہے۔ لیکن امام صاحب سے ایک روایت ہے کہ ”أَبَنْتُ نَفْسِي“ سے بھی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ لَا يَقَعُ شَيْءٌ بِقَوْلِهَا“ کہ کوئی چیز واقع نہیں ہوگی عورت کے اس قول سے ”أَبَنْتُ نَفْسِي“ ”لِأَنَّهَا أَتَتْ بِغَيْرِ مَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ عورت وہ چیز لائی ہے جو اس کو سپرد نہیں کی گئی تھی۔ عورت وہ چیز لائی ہے یعنی وہ چیز ذکر کر رہی ہے ”بِغَيْرِ مَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ جو اس کے سپرد کی گئی تھی اس سے غیر ہے بھئی۔ ”إِذِ الْإِبَانَةُ تُغَايِرُ الطَّلَاقَ“ اس لیے کیونکہ ابانت جو ہے وہ طلاق سے مغایر ہے۔ ابانت کیا ہے؟ طلاق سے مغایر ہے۔ خاوند نے تو کہا ہے ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، اس نے طلاق کا اختیار دیا ہے اور یہ کیا کہہ رہی ہے؟ ”أَبَنْتُ نَفْسِي“، تو ابانت کیا ہے؟ طلاق سے مغایر ہے۔ خاوند نے جو سپرد کیا ہے، عورت اس کا جواب نہیں دے رہی، ایک نئی الگ بات کر رہی ہے، اور عورت نئی الگ بات کرے، اس کا تو کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ وہ تو خاوند کی بات کا جواب دے پھر اس کا اعتبار ہوتا ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهَا أَتَتْ بِغَيْرِ مَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ عورت لائی ہے وہ چیز، یعنی عورت نے ذکر کیا ہے اس چیز کو ”بِغَيْرِ مَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ جو غیر ہے اس سے جو اس کے سپرد کی گئی تھی ”إِذِ الْإِبَانَةُ تُغَايِرُ الطَّلَاقَ“ اس لیے کیونکہ ابانت طلاق کے مغایر ہوتی ہے۔ ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُ“ صورت مسئلہ یہ ہے کہ خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے۔ پھر فوراً کہتا ہے: نہیں نہیں، میں تمہیں یہ اختیار نہیں دیتا۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ عورت کو اختیار ہے یا نہیں؟ تو جواب یہ کہ عورت کو اختیار ہے۔ میں نے ابھی آپ کو بتلایا کہ یہ تملیک بھی ہے اور من وجہ تعلیق ہے، اور تعلیق میں رجوع نہیں ہو سکتا، تعلیق کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا اپنے آپ کو طلاق دے دے ”فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُ“ تو خاوند کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سے رجوع کر لے ”لِأَنَّ فِيهِ مَعْنَى الْيَمِينِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر یمین کا معنی ہے۔ اس کے اندر ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ کے اندر یمین والا معنی ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ یمین کے ذریعے جیسے کسی کام پر ابھارا جاتا ہے یا کسی کام سے روکا جاتا ہے، اسی طرح تعلیق کے ذریعے بھی کسی کام پر ابھارا جاتا ہے اور کسی کام سے روکا جاتا ہے۔ اور نیز قسم جیسے لازم ہو جاتی ہے، اس سے رجوع نہیں ہو سکتا، ایک آدمی کہے: واللہ! میں یہ کام نہیں کروں گا، اب قسم سے رجوع نہیں کر سکتا، اب جب بھی وہ کام کرے گا حانث ہو جائے گا، اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ تو جیسے قسم سے رجوع نہیں ہو سکتا، اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح تعلیق سے بھی رجوع نہیں ہو سکتا، اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ تو معلوم ہوا تعلیق بھی یمین کی طرح ہے۔ جیسے یمین لازم ہوتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی لازم، تو اس لیے تعلیق کو یمین کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِيهِ مَعْنَى الْيَمِينِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے یہ جو ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ کہا ہے، اس میں یمین والا معنی ہے یعنی تعلیق والا معنی ہے ”لِأَنَّهُ تَعْلِيقُ الطَّلَاقِ بِتَطْلِيقِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق کو معلق کرنا ہے ”بِتَطْلِيقِهَا“ عورت کے طلاق دینے کے ساتھ۔ گویا خاوند نے اس سے یوں کہا ہے—خاوند نے کہا تو کیا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، لیکن یہاں ذرا تعلیق بنا لیں، شرط اور جزا بنا لیں—خاوند نے گویا یوں کہا ہے: ”إِنْ طَلَّقْتِ نَفْسَكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، ”إِنْ طَلَّقْتِ نَفْسَكِ“ اگر تو نے اپنے آپ کو طلاق دے دی ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو شرط اور جزا ہم نے بنا لیا، تو یہ تعلیق ہے بھئی۔ ”لِأَنَّهُ تَعْلِيقُ الطَّلَاقِ بِتَطْلِيقِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق کو معلق کرنا ہے عورت کے طلاق دینے کے ساتھ ”وَالْيَمِينُ تَصَرُّفٌ لَازِمٌ“ اور یمین یعنی تعلیق جو ہے تصرف لازم ہے، یعنی اس میں پھر رجوع یا فسخ نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو خاوند نے جب بیوی سے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ اور پھر کہتا ہے میں رجوع کرتا ہوں، نہیں، رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ ”وَلَوْ قَامَتْ عَنْ مَجْلِسِهَا بَطَلَ“ اور اگر عورت اپنی اس مجلس سے اٹھ گئی تو عورت کا اختیار باطل ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ تَمْلِيكٌ“ کیونکہ یہ کیا ہے؟ تملیک ہے۔ تو معلوم ہوا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ بعض اعتبار سے دیکھیں تو تعلیق ہے، اور بعض اعتبار سے یہ تملیک ہے۔ توجہ ہے؟ اور تملیک کے اندر مجلس بدلے تو تملیک کیا ہوتی ہے؟ ختم۔ آپ بیع و شراء کرتے ہیں، آپ کسی سے کہتے ہیں: میں نے یہ کتاب آپ کو سو روپے میں بیچی، ایجاب کیا، تو یہ کیا ہے؟ تملیک ہے۔ یہ تملیک ہے، آپ مالک بنا رہے ہیں اس کو بھئی کہ وہ قبول کر لے بیع کو، وہ مالک بن جائے گا۔ اور تملیک کب تک رہتی ہے؟ مجلس تک۔ تو لہٰذا یہاں بھی عورت مجلس سے اٹھے گی تو اختیار ختم ہو جائے گا، کیونکہ یہ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ تملیک ہے، اور خاوند رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تعلیق ہے۔ معلوم ہوا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، یا یوں کہو ”اِخْتَارِي“، یا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، یہ جو بھی لفظ ہیں جن میں خاوند بیوی کو طلاق کا مالک بناتا ہے، ان سب میں بعض اعتبار سے دیکھیں تو تملیک ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو تعلیق ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَامَتْ عَنْ مَجْلِسِهَا بَطَلَ“ اور اگر عورت اپنی اس مجلس سے اٹھ گئی ”بَطَلَ“ تو اس کا اختیار باطل ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ تَمْلِيكٌ“ اس لیے کیونکہ خاوند کا قول ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ یہ تملیک ہے ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ لَهَا: طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ بخلاف اس کے اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“، ”ضَرَّةٌ“ سوکن کو کہتے ہیں۔ ”طَلِّقِي“ تو طلاق دے دے ”ضَرَّتَكِ“ اپنی سوکن کو۔ تو اب یہ مجلس کے بعد بھی اس کو طلاق دے سکتی ہے۔ خاوند نے کہا تھا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، تو اپنے آپ کو کب تک طلاق دے سکتی ہے؟ صرف مجلس تک۔ اور خاوند نے کہا: ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ تو اپنی سوکن کو طلاق دے دے، تو کہتے ہیں یہ مجلس کے بعد بھی طلاق دے سکتی ہے۔ بھئی کیا وجہ ہے، یہ فرق کیوں کر رہے ہیں آپ؟ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں، ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ یا ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“؟ توجہ ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ اس میں تملیک ہے اور ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ اس میں توکیل ہے، خاوند اس کو وکیل بنا رہا ہے۔ توجہ ہے؟ تو سوال: بھئی ہمیں تو فرق کوئی سمجھ میں نہیں آ رہا، ایک وہی لفظ ہے ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، آپ کہتے ہیں یہ تملیک ہے، خاوند طلاق کا مالک بنا رہا ہے، اور دوسرا خاوند کہتا ہے ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ تو اپنی سوکن کو طلاق دے دے، یہاں آپ اس کو تملیک نہیں کہتے، یہاں آپ اس کو توکیل کہتے ہیں کہ خاوند وکیل بنا رہا ہے۔ تو جواب یہ آپ کو صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے کہ انسان اپنے لیے جب کوئی تصرف کرتا ہے تو وہ مالک ہونے کی وجہ سے تصرف کرتا ہے۔ آپ گئے، اپنے لیے آپ نے گاڑی خریدی، کیونکہ آپ اس تصرف کے مالک تھے، آپ اپنے لیے گاڑی خرید سکتے ہیں۔ تو اپنے لیے جو تصرف کیا جاتا ہے وہ مالک ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہے، اور کسی دوسرے کے لیے جو تصرف کیا جاتا ہے وہ وکیل ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا: جائیے، میرے لیے گاڑی خرید کر لے آئیے۔ تو اب آپ جب گاڑی خرید کر لائیں گے تو آپ یہ میرے لیے تصرف کر رہے ہیں، تو ہم کہیں گے کہ معلوم ہوا آپ میرے وکیل ہیں بھئی۔ تو دوسرے کے لیے جو تصرف کیا جاتا ہے وہ بطورِ وکیل ہونے کے کیا جاتا ہے اور اپنے لیے جو تصرف کیا جاتا ہے وہ بطورِ مالک ہونے کے کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جب خاوند نے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو یہ عورت اپنے لیے تصرف کرے گی، تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ مالک بن گئی ہے اس تصرف کی۔ اور جب خاوند نے کہا ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ تو اپنی سوکن کو طلاق دے دے، تو یہ فعل وہ کس کے لیے کر رہی ہے؟ خاوند کے لیے کر رہی ہے، اپنے لیے نہیں کر رہی، خاوند کے ایک کام میں مدد کر رہی ہے، وہ طلاق دے رہی ہے۔ اور غیر کے لیے جو کام کیا جاتا ہے وہ بطورِ وکیل ہونے کے کیا جاتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ یہ تملیک ہے اور ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ یہ توکیل ہے۔ اور تملیک مجلس تک رہتی ہے لیکن توکیل مجلس کے بعد بھی رہتی ہے۔ میں نے آپ سے کہا: جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ، آپ یہاں سے اٹھ کر چل پڑے، مجلس بدل گئی، تو آپ اٹھ کر چلے گئے، مجلس بدل گئی، لیکن پھر بھی آپ وکیل ہیں، آپ جا کر خرید کر لاتے ہیں میرے لیے گاڑی تو وہ مجھے لینی پڑے گی بھئی۔ تو معلوم ہوا تملیک مجلس تک رہتی ہے، توکیل مجلس تک نہیں رہتی۔ لہٰذا جب خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ تو مجلس کے بعد بھی وہ طلاق دے سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَامَتْ عَنْ مَجْلِسِهَا بَطَلَ“ اور اگر عورت اپنی مجلس سے اٹھ گئی تو اس کا وہ خیار باطل ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ تَمْلِيكٌ“ کیونکہ یہ تملیک ہے ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ لَهَا: طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ بخلاف اس کے کہ جب خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ تو اپنی سوکن کو طلاق دے دے ”لِأَنَّهُ تَوْكِيلٌ وَإِنَابَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ وکیل بنانا ہے ”وَإِنَابَةٌ“ اور نائب بنانا ہے ”فَلَا يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ“ لہٰذا یہ مجلس پر بند نہیں رہے گا ”وَيَقْبَلُ الرُّجُوعَ“ اور نیز یہ رجوع کو بھی قبول کرتا ہے۔ یہ ایک اور فرق بھئی! خاوند نے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، اس سے خاوند اب رجوع نہیں کر سکتا، اب مجلس کے اختتام تک عورت کو اختیار رہے گا، کیونکہ یہ تعلیق ہے بعض اعتبار سے، اور تعلیق میں رجوع نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ تو اپنی سوکن کو طلاق دے دے، تو یہ توکیل ہے، اور توکیل میں رجوع ہو سکتا ہے۔ میں نے ایک آدمی سے کہا: جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لے آؤ، اور پھر تھوڑی دیر بعد کہتا ہوں: نہیں نہیں بھئی، میرے لیے آپ گاڑی نہ خریدنا، تو دیکھو توکیل میں تو رجوع ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَيَقْبَلُ الرُّجُوعَ“ اور یہ توکیل جو ہے یہ رجوع کو بھی قبول کر لیتا ہے۔ ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ مَتَى شِئْتِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مَتَى شِئْتِ“، ”مَتَى شِئْتِ“ کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے جب تو چاہے، تو یاد رکھو اب تمام زندگی کے لیے اختیار عورت کے ہاتھ چلا گیا، کیونکہ ”مَتَى“ وقت کے لیے آتا ہے، جس وقت تو چاہے، چاہے آج چاہے، چاہے کل چاہے، چاہے سال بعد چاہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مَتَى شِئْتِ“ کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے جب تو چاہے ”فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا فِي الْمَجْلِسِ وَبَعْدَهُ“ تو عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے دے ”وَبَعْدَهُ“ اور مجلس کے بعد بھی طلاق دے سکتی ہے ”لِأَنَّ كَلِمَةَ مَتَى عَامَّةٌ فِي الْأَوْقَاتِ كُلِّهَا“ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”مَتَى“ یہ عام ہے تمام اوقات میں، یعنی جس وقت بھی تو چاہے ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: فِي أَيِّ وَقْتٍ شِئْتِ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے خاوند نے یوں کہا ہو: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي أَيِّ وَقْتٍ شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے جس وقت تو چاہے، تو جس وقت اپنے آپ کو طلاق دے گی طلاق واقع ہو جائے گی، تو یہ زندگی بھر اب اس کے پاس اختیار رہے گا بھئی۔ ”وَإِذَا قَالَ لِرَجُلٍ: طَلِّقِ امْرَأَتِي“ صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے دوسرے آدمی سے کہا کہ تم جا کر میری بیوی کو میری طرف سے طلاق دے دو، تو یہ توکیل ہے، یہ اس کو وکیل بنا رہا ہے، لہٰذا یہ مجلس کے بعد بھی جا کر آدمی طلاق دے گا تو طلاق ہو جائے گی، اور نیز چونکہ یہ توکیل ہے اس میں خاوند رجوع بھی کر سکتا ہے، بعد میں منع بھی کر سکتا ہے کہ نہ دو طلاق، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَ لِرَجُلٍ: طَلِّقِ امْرَأَتِي“ اور جب خاوند نے کسی آدمی سے کہا میری بیوی کو طلاق دے دے ”فَلَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي الْمَجْلِسِ وَبَعْدَهُ“ تو اس آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو اسی مجلس میں بھی طلاق دے سکتا ہے ”وَبَعْدَهُ“ اور اس مجلس کے بعد بھی ”وَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ“ اور خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ اس سے رجوع کر سکتا ہے ”لِأَنَّهُ تَوْكِيلٌ وَأَنَّهُ اسْتِعَانَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ توکیل ہے اور یہ مدد طلب کرنا ہے۔ یہ وکیل ہم کیوں بناتے ہیں؟ مدد طلب کرتے ہیں، دوسرے کو بھیج دیا کہ جاؤ میرے لیے گاڑی خرید لاؤ، تو یہ گویا اس سے مدد طلب کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ تَوْكِيلٌ وَأَنَّهُ اسْتِعَانَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ توکیل ہے اور یہ مدد طلب کرنا ہے ”فَلَا يَلْزَمُ“ تو لہٰذا یہ لازم بھی نہیں ہے، اس سے رجوع ہو سکتا ہے ”وَلَا يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ“ اور یہ مجلس پر بند بھی نہیں ہے، مجلس کے بعد بھی رہے گی ”بِخِلَافِ قَوْلِهِ لِامْرَأَتِهِ: طَلِّقِي نَفْسَكِ“ بخلاف اس کے کہ خاوند اپنی بیوی سے جو کہتا ہے ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ ”لِأَنَّهُ عَامِلَةٌ لِنَفْسِهَا“ اس لیے کیونکہ عورت اپنے لیے عمل کر رہی ہے، یہ تصرف اپنی ذات کے بارے میں استعمال کر رہی ہے ”فَكَانَ تَمْلِيكًا لَا تَوْكِيلًا“ تو یہ تملیک ہے، توکیل نہیں ہے۔ ”وَلَوْ قَالَ لِرَجُلٍ: طَلِّقْهَا إِنْ شِئْتَ“ اگر ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میری بیوی کو طلاق دے دے ”إِنْ شِئْتَ“ اگر تو چاہے، اگر تو چاہے تو پھر یاد رکھو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ پھر صرف اسی مجلس میں ہی وہ طلاق دے سکتا ہے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خاوند نے کہا ہے ”إِنْ شِئْتَ“ اگر تو چاہے، تو خاوند نے طلاق دینے کو اس شخص کی مشیئت سے معلق کر دیا، یعنی وہ اپنی مشیئت سے عمل کرے گا، اور اپنی مشیئت سے تو مالک عمل کیا کرتا ہے، لہٰذا گویا خاوند نے اس کو طلاق کا مالک بنایا ہے کہ تو اس مجلس میں میری بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے دے، اور تملیک مجلس تک رہتی ہے لہٰذا یہ اختیار بھی مجلس تک ہی رہے گا، یہ توکیل نہیں ہے بلکہ تملیک ہے، کیونکہ ”إِنْ شِئْتَ“ کا لفظ خاوند نے ذکر کر دیا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لِرَجُلٍ“ اور اگر خاوند نے کسی آدمی سے کہا ”طَلِّقْهَا إِنْ شِئْتَ“ کہ میری بیوی کو تو طلاق دے دے اگر تو چاہے ”فَلَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي الْمَجْلِسِ خَاصَّةً“ تو اس آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس عورت کو طلاق دے دے ”فِي الْمَجْلِسِ خَاصَّةً“ اسی مجلس میں خاص طور پر، مجلس کے بعد طلاق نہیں دے سکتا ”وَلَيْسَ لِلزَّوْجِ أَنْ يَرْجِعَ“ اور خاوند کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس سے رجوع کر لے، خاوند اس سے رجوع نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ یہ تعلیق ہے ”إِنْ شِئْتَ“ اگر تو چاہے، دیکھو شرط لا رہا ہے، اور تعلیق رجوع کو قبول نہیں کرتی، یہ معنی ہے ”وَلَيْسَ لِلزَّوْجِ أَنْ يَرْجِعَ“ اور خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رجوع کر لے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: هَذَا وَالْأَوَّلُ سَوَاءٌ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اور پہلا مسئلہ دونوں برابر ہیں۔ پہلا مسئلہ کیا تھا؟ ”طَلِّقِ امْرَأَتِي“، اور دوسرے میں کیا کہتا ہے؟ ”طَلِّقِ امْرَأَتِي إِنْ شِئْتَ“، تو اس میں مشیئت ذکر ہے، ہمارے نزدیک دونوں میں فرق ہے۔ اگر مشیئت کو ذکر نہیں کیا تو یہ توکیل ہے، یہ مجلس کے بعد بھی رہے گی اور اس میں رجوع بھی ہو سکتا ہے، اور اگر ”إِنْ شِئْتَ“ معلق کر دیا مشیئت کے ساتھ تو پھر یہ تملیک ہے لہٰذا مجلس تک رہے گی، اور نیز تعلیق بھی ہے ”إِنْ شِئْتَ“ اگر تو چاہے، تو لہٰذا یہ اس میں رجوع بھی نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: هَذَا وَالْأَوَّلُ سَوَاءٌ“ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند کا یہ والا قول اور پہلا قول جو ہے برابر ہیں ”لِأَنَّ التَّصْرِيحَ بِالْمَشِيئَةِ كَعَدَمِهِ“ اس لیے کیونکہ مشیئت کی تصریح بھی اسی طرح ہے جیسے کہ عدمِ تصریح۔ مشیئت کو ذکر کرنا بھی اسی طرح ہے جیسے ذکر نہ کرنا، مشیئت کو ذکر کرو یا نہ کرو دونوں برابر ہیں۔ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، پہلا مسئلہ کیا تھا؟ ”طَلِّقِ امْرَأَتِي“، اور دوسرے میں خاوند کیا کہتا ہے؟ ”طَلِّقِ امْرَأَتِي إِنْ شِئْتَ“، تو ہم نے دونوں میں فرق کیا، لیکن امام زفر فرماتے ہیں دونوں برابر ہیں، کیونکہ مشیئت کو ذکر کرنا یا نہ کرنا برابر ہیں۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وکیل اپنی مشیئت سے ہی عمل کرتا ہے، وکیل اپنی مشیئت سے عمل کرتا ہے۔ یاد رکھو جب میں آپ کو ایک چیز کا وکیل بناتا ہوں کہ جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لے آؤ، تو یہ اب آپ پر لازم نہیں ہے کہ آپ جائیں اور میرے لیے گاڑی خریدیں، آپ کی مرضی ہے وکیل بنیں، آپ کی مرضی ہے وکیل نہ بنیں، تو جب آپ وکیل بن گئے جا کر گاڑی خرید رہے ہیں تو اپنی مشیئت سے، اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں بھئی، توجہ ہے؟ تو امام زفر کیا فرماتے ہیں کہ مشیئت کو ذکر کریں یا نہ کریں دونوں برابر ہیں، کیونکہ وکیل مشیئت سے ہی عمل کرتا ہے، اپنی چاہت اور اپنی مرضی سے ہی عمل کرتا ہے، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، آپ مشیئت کو ذکر نہ کریں پھر بھی وکیل نے اپنی مرضی سے عمل کرنا ہے، اپنی مشیئت سے عمل کرنا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّصْرِيحَ بِالْمَشِيئَةِ كَعَدَمِهِ“ اس لیے کیونکہ مشیئت کی تصریح کرنا ایسے ہی ہے جیسے عدمِ تصریح بھئی ”لِأَنَّهُ يَتَصَرَّفُ عَنْ مَشِيئَتِهِ“ اس لیے کیونکہ وکیل بھی اپنی مشیئت سے ہی تصرف کرتا ہے ”فَصَارَ كَالْوَكِيلِ بِالْبَيْعِ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے وکیل بالبیع ہوتا ہے۔ ایک آدمی کو آپ وکیل بناتے ہیں کوئی چیز بیچنے کے لیے، مثلاً اسے آپ کہتے ہیں: ”بِعْ هَذَا الشَّيْءَ“ یا ہا ضمیر لے آئیں ”بِعْهُ“ یہ چیز کیا کر دو؟ بیچ دو، چاہے آپ یوں کہہ دیں اور چاہے آپ مشیئت ذکر کر دیں ”بِعْهُ إِنْ شِئْتَ“ اس کو بیچ دو اگر آپ چاہیں، تو یاد رکھو چاہے ”إِنْ شِئْتَ“ کہے، چاہے نہ کہے، حکم ایک ہی جیسا ہو گا۔ یہ توکیل ہی ہے، تملیک نہیں ہے بھئی۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: جیسے بیع کے اندر کسی کو وکیل بنایا جائے اور اس کو چاہے وکیل بنانے والا صرف ”بِعْهُ“ کہہ دے یا ”بِعْهُ إِنْ شِئْتَ“ کہہ دے، دونوں صورتوں میں ایک ہی مسئلہ ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی خاوند جو ہے طلاق کے اندر ایک شخص کو وکیل بنا رہا ہے، تو خاوند صرف ”طَلِّقِ امْرَأَتِي“ کہہ دے یا ”طَلِّقِ امْرَأَتِي إِنْ شِئْتَ“ کہہ دے، دونوں کا ایک ہی حکم ہو گا، جیسے بیع کے اندر دونوں کا ایک ہی حکم تھا، مشیئت کو چاہے ذکر کریں، چاہے نہ ذکر کریں۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَالْوَكِيلِ بِالْبَيْعِ“ تو یہ وکیل بالبیع کی طرح ہو گیا ”إِذَا قِيلَ لَهُ: بِعْهُ إِنْ شِئْتَ“، ”بِعْهُ إِنْ شِئْتَ“ کہا جائے، تو چاہے صرف ”بِعْهُ“ کہہ دیں یا ”بِعْهُ إِنْ شِئْتَ“ کہہ دیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَالْوَكِيلِ بِالْبَيْعِ إِذَا قِيلَ لَهُ: بِعْهُ إِنْ شِئْتَ“ کہ اس کو تو بیچ دے اگر تو چاہے، تو یہاں مشیئت کو ذکر کر دینے سے تملیک نہیں ہو جائے گی بلکہ توکیل ہی رہے گی۔ ”وَلَنَا: أَنَّهُ تَمْلِيكٌ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ خاوند نے جو کہا نا ”طَلِّقْهَا إِنْ شِئْتَ“ یہ تملیک ہے ”لِأَنَّهُ عَلَّقَهُ بِالْمَشِيئَةِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس طلاق کو معلق کر دیا ہے اس شخص کی مشیئت کے ساتھ، اس شخص کے چاہنے کے ساتھ ”وَالْمَالِكُ هُوَ الَّذِي يَتَصَرَّفُ عَنْ مَشِيئَتِهِ“ اور وہ مالک ہوتا ہے جو اپنی مشیئت سے تصرف کرتا ہے ”وَالطَّلَاقُ يَحْتَمِلُ التَّعْلِيقَ بِخِلَافِ الْبَيْعِ لِأَنَّهُ لَا يَحْتَمِلُهُ“ یہ جواب دے رہے ہیں امام زفر رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ انہوں نے توکیل بالطلاق کو کس پر قیاس کیا تھا؟ توکیل بالبیع پر، اور توکیل بالبیع کے اندر ”إِنْ شِئْتَ“ کو ذکر کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں توکیل ہی رہتی ہے، تملیک نہیں بنتی۔ تو لہٰذا توکیل بالطلاق میں بھی ”إِنْ شِئْتَ“ کو ذکر کریں یا نہ کریں یہ توکیل ہی رہے گی، یہ کون فرماتے ہیں؟ امام زفر۔ تو وہ توکیل بالطلاق کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ توکیل بالبیع پر، تو ان کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی طلاق وہ تعلیق کو قبول کر لیتی ہے لیکن بیع وہ تعلیق کا احتمال نہیں رکھتی۔ طلاق کیا کرتی ہے؟ تعلیق کو قبول کر لیتی ہے، طلاق کو معلق کیا جا سکتا ہے لیکن بیع کو معلق نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا دونوں چیزوں میں فرق ہے، لہٰذا آپ توکیل بالطلاق کو توکیل بالبیع پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں چیزیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالطَّلَاقُ يَحْتَمِلُ التَّعْلِيقَ“ اور طلاق جو ہے وہ تو تعلیق کا احتمال رکھتی ہے، آپ اس کو معلق کر سکتے ہیں کسی شرط کے ساتھ ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ لِأَنَّهُ لَا يَحْتَمِلُهُ“ بخلاف بیع کے، وہ تعلیق کا احتمال نہیں رکھتی، آپ اس کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کر سکتے۔ ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا فَطَلَّقَتْ وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ“ صورت مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا“ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے، تو عورت نے ایک طلاق دے دی، تو کہتے ہیں ایک ہی ہو جائے گی، ایک ہی ہو جائے گی۔ لیکن اس کے برعکس اگر خاوند نے بیوی سے کہا اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے اور بیوی نے اپنے آپ پر تین طلاقیں واقع کر دیں، تو امام صاحب فرماتے ہیں: ایک بھی نہیں ہوئی، ایک بھی نہیں، اور صاحبین فرماتے ہیں: ایک ہو گئی۔ بھئی دیکھو نا، پہلی صورت: خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے، اور بیوی نے کہا ”طَلَّقْتُ نَفْسِي وَاحِدَةً“ میں نے اپنے آپ کو ایک طلاق دے دی، تو ایک واقع ہو جائے گی، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ایک واقع ہو جائے گی۔ یوں کہیں گے: عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہے۔ عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہے، خاوند نے اسے مالک بنایا تھا تین طلاقوں کا، تو جب عورت تین طلاقوں کی مالک ہو گئی تو تین کے اندر ایک بھی آ گئی یا نہیں؟ تو ایک ایک طلاق کی بھی وہ مالک ہو گئی۔ تو لہٰذا جب تینوں کی مالک ہے تو ایک کو اس نے اپنے اوپر واقع کر لیا تو وہ واقع ہو جائے گی۔ خاوند نے تین کا مالک بنایا ہے، اس نے ایک کو اپنے اوپر واقع کر دیا تو یہ عورت کا جواب تفویض کے مطابق ہے۔ جبکہ اگر خاوند نے ایک کا مالک بنایا اور عورت اپنے اوپر تین واقع کرتی ہے، خاوند نے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً“ اپنے آپ کو ایک طلاق دے دو، عورت کہتی ہے ”طَلَّقْتُ نَفْسِي ثَلَاثًا“ میں نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، تو صاحبین فرماتے ہیں: اس صورت میں بھی ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس صورت میں بھی؟ کیوں؟ کیونکہ خاوند نے ایک طلاق کا مالک بنایا، عورت تین واقع کر رہی ہے، تو کہیں گے بھئی اس تین کے ضمن میں ایک آ گئی یا نہیں آ گئی؟ ایک آ گئی، لہٰذا ایک واقع ہو جائے گی، تو عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہوا۔ عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہوا، خاوند نے بھی اسے کہا تھا ایک طلاق واقع کر لے، اس نے بھی ایک واقع کی اگرچہ الگ واقع نہیں کی، تین کے ضمن میں ایک واقع کر دی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی، اس لیے کیونکہ خاوند نے اس کو ایک طلاق سپرد کی ہے اور عورت تین طلاقیں واقع کر رہی ہے، اور تین طلاقیں تو خاوند نے اس کے سپرد ہی نہیں کیں، تو جب یہ تین مجموعہ نہیں واقع ہو رہا تو اس کے اندر جو ایک ہے وہ بھی واقع نہیں ہو رہی۔ اگر مجموعہ واقع ہوتا تو اس کے اندر ایک جو طلاق تھی وہ بھی ہم کہہ دیتے واقع ہو گئی ہے، لیکن جب مجموعہ نہیں ہو رہا تو اس مجموعے کے اندر جو ایک طلاق ہے وہ بھی واقع نہیں ہو رہی۔ یوں کہیں گے کہ خاوند نے اور بات کی تھی، بیوی نے اور ہی بات کر دی۔ یہ اسی طرح ہے، خاوند نے کہا تھا اپنے آپ کو طلاق دے دے، بیوی کہتی ہے میں نے اپنی سوکن کو طلاق دے دی۔ بھئی خاوند نے کب سوکن کی طلاق آپ کے سپرد کی ہے؟ یہ تو آپ نے بالکل ایک الگ نئی بات کر دی، یہ آپ خاوند کا جواب نہیں دے رہیں، ایک نئی بات کر رہی ہیں۔ تو عورت کی طلاق کب واقع ہوتی ہے؟ جب اس کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہو، اگر اس کے مطابق نہیں پھر اس کو ہم جواب نہیں کہیں گے، یہ ایک نئی بات شمار کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا فَطَلَّقَتْ وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے، تو عورت نے ایک طلاق دے دی تو یہ ایک ہی طلاق ہو گی ”لِأَنَّهَا مَلَكَتْ إِيقَاعَ الثَّلَاثِ“ اس لیے کیونکہ عورت تین طلاقوں کے واقع کرنے کی مالک بن گئی، جب تین کے واقع کرنے کی مالک بن گئی ہے تو ایک کے واقع کرنے کی بھی مالک بن گئی، تو ایک واقع ہو جائے گی، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا مَلَكَتْ إِيقَاعَ الثَّلَاثِ فَتَمْلِكُ إِيقَاعَ الْوَاحِدِ ضَرُورَةً“ اس لیے کیونکہ عورت تین طلاقوں کے واقع کرنے کی مالک بن گئی تو وہ ایک طلاق کے واقع کرنے کی بھی مالک بن گئی ضرورۃً یقینی طور پر۔ ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے، تو عورت نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، تو کچھ بھی واقع نہیں ہوگا امام صاحب کے نزدیک ”وَقَالَا: يَقَعُ وَاحِدَةٌ“ صاحبین فرماتے ہیں اس صورت میں بھی ایک طلاق ہو جائے گی ”لِأَنَّهَا أَتَتْ بِمَا مَلَكَتْهُ وَزِيَادَةٍ“ اس لیے کیونکہ عورت لائی ہے اس چیز کو جس کا خاوند نے اس کو مالک بنایا تھا، یعنی عورت نے وہ چیز بھی ذکر کی ہے جس کا خاوند نے اس کو مالک بنایا تھا ”وَزِيَادَةٍ“ اور زائد کو بھی لائی ہے، تو زائد کا تو اعتبار نہیں ہوگا ایک کا اعتبار ہوگا تو وہ واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا أَتَتْ بِمَا مَلَكَتْهُ وَزِيَادَةٍ“ اس لیے کیونکہ عورت لے کر آئی ہے اس چیز کو جس چیز کا اس کو خاوند نے مالک بنایا تھا اور زائد کو بھی لائی ہے ”فَصَارَ كَمَا إِذَا طَلَّقَهَا الزَّوْجُ أَلْفًا“ یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خاوند نے بیوی کو ہزار طلاقیں دیں، خاوند اگر بیوی کو ہزار طلاقیں دیتا ہے کہ تمہیں ہزار طلاقیں ہیں، تو کتنی واقع ہوں گی؟ تین واقع ہوں گی کیونکہ خاوند تین کا مالک ہے، زیادہ کا تو مالک ہی نہیں ہے، اور اسی طرح جب خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے تو عورت کتنی طلاقوں کی مالک بن گئی؟ ایک کی مالک بن گئی، تو جب اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ ایک واقع ہو گی اور وہ دو لغو چلی جائیں گی، جیسے خاوند جب ہزار کہتا تھا تو تین واقع ہو جاتی تھیں اور باقی لغو چلی جاتی تھیں۔ جتنے کا مالک ہوتا تھا اتنی واقع ہو جاتی تھیں، تو عورت بھی جتنے کی مالک ہے اتنی واقع ہو جائیں گی یعنی ایک طلاق۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَمَا إِذَا طَلَّقَهَا الزَّوْجُ أَلْفًا“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ خاوند نے اس کو ہزار طلاقیں دیں، تو ان ہزار میں سے تین واقع ہوئیں کیونکہ خاوند تین کا مالک تھا، اور عورت نے بھی اپنے اوپر تین طلاقیں واقع کیں تو صرف ایک واقع ہوئی دو لغو چلی گئیں کیونکہ وہ ایک کی مالک تھی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ اگر خاوند نے ایک کا مالک بنایا ہے اور عورت نے کہا میں نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں تو ایک بھی واقع نہیں ہوئی، اب امام صاحب کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهَا أَتَتْ بِغَيْرِ مَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ کہ عورت لائی ہے اس چیز کو ”بِغَيْرِ مَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ کہ جو اس کے سپرد کی گئی تھی اس سے غیر ہے، جو چیز اس کے سپرد کی گئی تھی اس کے علاوہ کو عورت نے ذکر کر دیا ہے، یعنی خاوند نے ایک کا کہا اور یہ تین لے آئی تو یہ اس سے غیر ہے۔ ”فَكَانَتْ مُبْتَدِئَةً“ تو یہ عورت مبتدئہ ہوئی یعنی ایک نئی بات کرنے والی ہو گئی، کہنا یہ چاہتے ہیں عورت کا یہ قول خاوند کی تفویض کا جواب نہیں قرار دیا جا سکتا، یہ ایک الگ بات ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”فَكَانَتْ مُبْتَدِئَةً“ تو یہ عورت جو ہے مبتدئہ ہوئی یعنی ایک نئی بات کر رہی ہے، خاوند نے جو چیز سپرد کی ہے اس کا وہ جواب نہیں دے رہی ”وَهَذَا لِأَنَّ الزَّوْجَ مَلَّكَهَا الْوَاحِدَةَ“ اور یہ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس کو ایک طلاق کا مالک بنایا ہے ”وَالثَّلَاثُ غَيْرُ الْوَاحِدَةِ“ اور تین تو ایک سے غیر ہیں ”لِأَنَّ الثَّلَاثَ اسْمٌ لِعَدَدٍ مُرَكَّبٍ مُجْتَمِعٍ وَالْوَاحِدُ فَرْدٌ لَا تَرْكِيبَ فِيهِ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ثلاثہ جو ہے یہ عدد ہے، آپ نے پڑھا تھا کہ ایک عدد نہیں ہے باقی دو تین چار یہ سب کیا ہیں؟ عدد۔ تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں خاوند نے اس کو ایک طلاق کا مالک بنایا تھا اور ایک جو ہے وہ مفرد ہے، اس میں کوئی ترکیب نہیں، اس میں کوئی افراد نہیں، ایک ہی فرد ہے، وہاں ترکیب نہیں ہے، جبکہ عورت نے تین واقع کی ہیں اور تین جو ہے وہ ایک کے بالکل مخالف ہے کیونکہ تین عدد ہے، وہاں ترکیب ہوتی ہے، وہاں افراد ہوتے ہیں، رَكَّبَ يُرَكِّبُ تَرْكِيب کا معنیٰ جوڑنا۔ دیکھو دو تین چار ان سب میں افراد بڑھتے جا رہے ہیں، دو کے اندر دو افراد ہیں، تین میں تین افراد ہیں، چار میں چار افراد، تو ایک کے اندر ترکیب نہیں ہے جبکہ دو اور تین وغیرہ کے اندر ترکیب ہے، افراد ہیں، لہٰذا یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوئے۔ خاوند نے اس کو ایک کا مالک بنایا ہے اور تین تو ایک سے غیر ہے ”لِأَنَّ الثَّلَاثَ اسْمٌ لِعَدَدٍ مُرَكَّبٍ مُجْتَمِعٍ“ اس لیے کیونکہ ثلاثہ یہ اسم ہے عدد کا، ایسا عدد ”مُرَكَّبٍ“ جو مرکب ہے جس میں ترکیب ہے یعنی افراد ہیں ”مُجْتَمِعٍ“ اور اکٹھے ہیں، تین افراد جمع ہیں اس کے اندر ”وَالْوَاحِدُ فَرْدٌ“ اور واحد جو ہے وہ تو مفرد ہے ”لَا تَرْكِيبَ فِيهِ“ اس کے اندر کوئی ترکیب نہیں ہے ”فَكَانَتْ بَيْنَهُمَا مُغَايَرَةٌ عَلَى سَبِيلِ الْمُضَادَّةِ“ تو ایک اور تین کے درمیان مغایرت ہے تضاد کے طریقے پر، یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں، بالکل ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ ایک مفرد ہے اس میں کوئی ترکیب نہیں، افراد نہیں ہیں اس میں، اور تین اس میں ترکیب ہے یعنی افراد ہیں اور اکٹھے ہیں سارے، تو یہ دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں، مخالف ہیں، یہ اسی طرح ہے جیسے سردی اور گرمی، سردی اور گرمی ایک دوسرے کی ضد ہیں، ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، یا سردی ہو گی یا گرمی ہو گی، دن اور رات ایک دوسرے کی ضد ہیں، ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے یا دن ہو گا یا رات ہو گی بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں پر بھی ایک اور تین جو ہیں وہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، جو ایک ہے وہ تین نہیں، جو تین ہے وہ ایک نہیں ہے۔ لہٰذا خاوند نے تو اختیار دیا ایک کا اور بیوی نے واقع کتنے کیے؟ تین، تو وہ چیز تو واقع نہیں کی جو خاوند نے اس کو دی تھی، لہٰذا یہ نئی بات ایک کر رہی ہے اور خاوند کا جواب ہی نہیں دے رہی، لہٰذا اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔ یہ اسی طرح ہے خاوند اسے کہے: اپنے آپ کو طلاق دے دے، اور وہ کہے: میری سوکن کو طلاق ہے۔ بھئی خاوند نے تو سوکن کی طلاق کی بات نہیں کی تو یہ بیوی نے ایک نئی بات کر دی ہے، خاوند کا جواب نہیں دے رہی۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَانَتْ بَيْنَهُمَا مُغَايَرَةٌ عَلَى سَبِيلِ الْمُضَادَّةِ“ تو یہ ایک اور تین جو ہیں ان کے درمیان مغایرت ہے ”عَلَى سَبِيلِ الْمُضَادَّةِ“ مخالفت کے طریقے پر ”بِخِلَافِ الزَّوْجِ“ صاحبین نے اس کو قیاس کیا تھا خاوند پر، جیسے خاوند تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے اور وہ ہزار دے دے تو تین واقع ہو جاتی ہیں باقی لغو چلی جاتی ہیں، تو اسی طرح خاوند نے جب بیوی کو ایک طلاق کا مالک بنایا ہے تو بیوی نے جب تین واقع کر دیں تو ایک واقع ہو جائے گی دو لغو چلی جائیں گی، تو اب اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی خاوند تو ان تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے بھئی! دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الزَّوْجِ لِأَنَّهُ يَتَصَرَّفُ بِحُكْمِ الْمِلْكِ“ بخلاف خاوند کے، اس لیے کیونکہ وہ تصرف کرتا ہے ملکیت کے حکم سے، کیونکہ وہ ان طلاقوں کا مالک ہوتا ہے، یعنی ملکیت کے مقتضیٰ کے مطابق عمل کر رہا ہے، بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے رہا ہے تو باقی لغو ہو جائیں گی اور تین واقع ہو جائیں گی، اس لیے کیونکہ خاوند تصرف کر رہا ہے کس وجہ سے؟ اپنی ملکیت کے مقتضیٰ کی وجہ سے، اپنی ملکیت کے حکم سے۔ جبکہ یہاں پر عورت جو تصرف کر رہی ہے وہ خاوند کے تفویض کے جواب میں تصرف کر رہی ہے۔ خاوند نے تو کہا ایک طلاق اپنے آپ کو دے دے اور عورت کیا کر رہی ہے؟ اپنے آپ کو تین طلاقیں دے رہی ہے، تو لہٰذا یہاں پر جو عورت تصرف کر رہی ہے وہ خاوند کی تفویض کے جواب میں کر رہی ہے، لہٰذا عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن یہاں تو عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق نہیں، خاوند نے سپرد کی ہے ایک طلاق اور یہ کتنا ذکر کر رہی ہے؟ تین، اور ایک اور تین دونوں تو ایک دوسرے کی ضد ہیں بھئی، ایک دوسرے کے مخالف ہیں بھئی، تو عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق نہ ہوا تو لہٰذا طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ یہ اسی طرح ہے، آپ جیسے ایک شخص سے کہتے ہیں: یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں بیچ دی، اور وہ جواب میں کہتا ہے: میں نے آپ کا قلم پانچ سو میں خرید لیا، بھئی آپ نے تو قلم کی بات ہی نہیں کی، آپ نے تو کس کی بات کی تھی؟ کتاب کی بات کی تھی، تو اس کا قبول کرنا بھی آپ کے ایجاب کے مطابق ہونا چاہیے، پھر ہی بیع منعقد ہوتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہونا چاہیے تھا بھئی۔ ”لِأَنَّهُ يَتَصَرَّفُ بِحُكْمِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ خاوند تصرف کرتا ہے ملکیت کے حکم سے ”وَكَذَا هِيَ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى“ اور اسی طرح ہے عورت بھی پہلے مسئلے میں۔ پہلا مسئلہ کون سا؟ خاوند نے تین کا مالک بنایا، عورت نے ایک واقع کی، تو جیسے وہاں پر عورت تینوں کی مالک تھی تو تینوں میں سے ایک کو واقع کرنا چاہتی ہے تو وہ ایک کو واقع کر سکتی ہے، تو اس لیے ہم نے وہاں کہا تھا کہ ایک ہی طلاق واقع ہو گئی، لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا هِيَ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى“ اور اسی طرح تھی یہ عورت پہلے مسئلے میں کہ وہاں وہ تین کی مالک تھی اور ایک اس نے واقع کر دی تھی ”لِأَنَّهَا مَلَكَتِ الثَّلَاثَ“ اس لیے کیونکہ وہاں وہ تین طلاقوں کی مالک تھی ”أَمَّا هَاهُنَا لَمْ تَمْلِكِ الثَّلَاثَ“ جبکہ یہاں پر یہ تین کی مالک نہیں ہے، یہ واقع کتنی کر رہی ہے؟ ”طَلَّقْتُ نَفْسِي ثَلَاثًا“، یہاں تو یہ تین کی مالک ہی، جس کو واقع کر رہی ہے یہ اس کی مالک ہی نہیں ہے بھئی، تو کہتے ہیں: ”أَمَّا هَاهُنَا لَمْ تَمْلِكِ الثَّلَاثَ“ یہاں پر وہ تین کی مالک نہیں ہے ”وَمَا أَتَتْ بِمَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ اور وہ نہیں لائی ”بِمَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ جو اس کے سپرد کیا گیا تھا، اس کے سپرد تو ایک طلاق کی گئی تھی، وہ تو اس نے جواب میں ذکر نہیں کی بلکہ تین ذکر کر دیں، اور تین تو اس کے سپرد نہیں تھیں ”فَلَغَا“ تو اس عورت کا کلام لغو ہو جائے گا، اس کا کوئی اعتبار نہیں، کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ یہ معنی ہے ”وَمَا أَتَتْ بِمَا فُوِّضَ إِلَيْهَا“ اور عورت نہیں لائی اس کو جو اس کے سپرد کی گئی تھی ”فَلَغَا“ تو عورت کا کلام لغو ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
160 approved lectures · 57 of 160