Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 71
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: فَإِنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى هَذَا الدَّنِّ مِنَ الْخَلِّ فَإِذَا هُوَ خَمْرٌ فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا لَهَا مِثْلُ وَزْنِهِ خَلًّا، وَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَا الْعَبْدِ فَإِذَا هُوَ حُرٌّ يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَجِبُ الْقِيمَةُ۔ بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور ساتھ کوئی ایسی شرط ذکر کرتا ہے جس میں عورت کا نفع ہے، اور اس نفع کی وجہ سے عورت اپنے مہرِ مثل سے کم مہر کے اندر راضی ہو جائے، تو اس صورت میں اگر خاوند نے وہ شرط پوری کی تو عورت کو وہ جو مہر ذکر کیا ہے وہی ملے گا، اور اگر خاوند نے شرط پوری نہ کی تو پھر اس صورت میں عورت کو پورا مہرِ مثل دینا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ عورت جو ہے اپنے نفع کی وجہ سے کم مہر کے اندر راضی ہوئی تھی، تو جب اس کو وہ نفع نہیں ملا، معلوم ہوا اب اس کم مہر پر اس کی رضامندی بھی نہیں ہے بھئی۔ اور پھر دوسری صورت ذکر کی تھی کہ اگر ایک عورت کسی شخص سے نکاح کرتی ہے اور دو مسمیٰ ذکر کر دیتی ہے دو الگ الگ شرطوں کے ساتھ۔ مثلاً عورت نے کہا کہ میرا مہر ایک ہزار ہوگا اگر تم نے مجھے اسی شہر میں ٹھہرایا اور میرا مہر دو ہزار ہوگا اگر تم نے مجھے دوسرے شہر منتقل کیا۔ خاوند اس پر راضی ہو گیا۔ تو یاد رکھو اس میں امام صاحب اور صاحبین اور امامِ زفر تینوں اختلاف کرتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر جو پہلی شرط ذکر کی وہ منجز ہے یعنی فوراً واقع ہو گئی، یعنی مہر ایک ہزار درہم ہی مقرر ہو گیا، اس لیے کیونکہ جب پہلا مہر ذکر کیا ہے تو ابھی دوسرا مہر آیا ہی نہیں۔ لہٰذا وہ متعین ہو گیا۔ اور پھر جو دوسری شرط ذکر کی وہ معلق ہو گئی۔ اگر وہ یہاں سے کسی اور جگہ منتقل کرے گا تو پھر دوسرا تسمیہ بھی آ جائے گا، اور پہلا بھی موجود ہے، تو اس وقت جو ہے تسمیہ کے اندر فساد آ گیا، تعیین نہیں ہو رہی، ہزار دیں یا دو ہزار؟ تو پھر اس صورت میں مہرِ مثل ملے گا عورت کو۔ تو اگر اسی شہر میں رکھا تو پھر وہی ہزار، اور اگر دوسرے شہر منتقل کیا تو پھر دو ہزار نہیں ہوگا بلکہ مہرِ مثل ہوگا۔ البتہ یہ مہرِ مثل جو ہے ہزار سے کم نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ کم از کم ہزار دینے کا تو خاوند خود اقرار کر چکا ہے، اور دو ہزار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ عورت بھی زیادہ سے زیادہ دو ہزار پر راضی ہو چکی ہے، تو لہٰذا زائد گویا وہ خود ہی کمی کر چکی ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک پہلی شرط منجز اور دوسری معلق، جبکہ صاحبین کے نزدیک دونوں شرطیں جائز ہیں اور دونوں معلق ہیں۔ جب دونوں معلق ہیں تو دو تسمیہ پائے ہی نہیں جا رہے، جو شرط بھی وہ پوری کر دے گا وہی والا تسمیہ آ جائے گا، تو ایک وقت میں ایک ہی تسمیہ آئے گا۔ لہٰذا شرطیں بھی جائز اور یہ تسمیہ بھی جائز۔ جو شرط وہ پوری کرے گا اسی کے مطابق مہر عورت کو دے دے گا۔ اگر شہر میں رکھتا ہے تو ایک ہزار دے دے گا، اور اگر شہر سے منتقل کرتا ہے تو دو ہزار مہر دے دے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں شرطیں جو ہیں فاسد ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب مہر کے اندر مال کو بھی ذکر کریں اور مال کے ساتھ کوئی شرط ذکر کی جائے تو اصل مہر وہ مال ہوا کرتا ہے، شرط کو ویسے ہی ترغیب کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی جب دو شرطیں ذکر کیں تو دونوں شرطیں ترغیب کے لیے ہیں لیکن مال تو دو ذکر ہو گئے، تو ابتدا سے ہی تسمیہ کے اندر جہالت آ گئی کہ ہزار ہوگا یا دو ہزار ہوگا، تو لہٰذا اس صورت میں وہ فرماتے ہیں کہ مہرِ مثل دینا پڑے گا۔ جب تسمیہ، تسمیہ میں فساد آ جائے تو کیا دینا پڑتا ہے؟ مہرِ مثل۔ تو وہ فرماتے ہیں یہاں مہرِ مثل آ جائے گا، چاہے شہر میں رکھے چاہے شہر سے منتقل کرے، ہر حال میں مہرِ مثل ہی آئے گا۔ لیکن یہ مہرِ مثل ہزار سے کم نہیں ہونا چاہیے اور دو ہزار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ایک مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور مہر کی تعیین نہیں کی کہ میں تم سے اس غلام پر نکاح کرتا ہوں یا اس غلام پر، تو دو الگ الگ غلام ذکر کر دیے۔ تو اب دیکھو مہر متعین نہیں ہے، اور پھر جب دیکھا تو ان غلاموں میں سے ایک ادنیٰ ہے یعنی مثلاً پانچ لاکھ کا ہے اور دوسرا اعلیٰ ہے مثلاً دس لاکھ کا ہے، تو پھر اس صورت میں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہرِ مثل کو فیصلہ بنائیں گے، مہرِ مثل کے لیے فیصلہ کیا جائے گا، کیونکہ تسمیہ کے اندر فساد آ گیا، تعیین نہیں ہے، تو مہرِ مثل دیں گے۔ تو مہرِ مثل اگر دونوں کے درمیان ہوا مثلاً مہرِ مثل اس عورت کا سات لاکھ ہے تو پھر یہی مہرِ مثل عورت کا حق ہو جائے گا۔ اور اگر مہرِ مثل وہ ادنیٰ غلام سے کم ہے تو پھر وہ ادنیٰ غلام ہی عورت کو دے دیں گے کیونکہ کم از کم اس کا اعتراف خاوند کر چکا ہے۔ اور اگر مہرِ مثل جو ہے وہ اعلیٰ غلام سے زیادہ ہوا تو پھر اعلیٰ والا دے دیں گے، زیادتی نہیں دیں گے کیونکہ زیادہ سے زیادہ وہ اعلیٰ پر عورت خود راضی ہو چکی ہے، یہ معلوم ہوا اس سے جو زائد ہے وہ اس نے خود اس میں کمی کر دی ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ان تمام صورتوں کے اندر وہ ناقص اور ادنیٰ غلام ہے وہی مہر ہوگا، چاہے مہرِ مثل جو ہے وہ ان دونوں کے بیچ ہو یا کم ہو دونوں سے یا دونوں سے زیادہ ہو، تینوں صورتوں میں وہ فرماتے ہیں جو ادنیٰ غلام ہے وہی دینا پڑے گا کیونکہ وہ اقل ہے، اور اقل کا ہونا تو یقینی ہے، جبکہ زائد کے اندر شک آ گیا کہ یہ ہونا چاہیے مہر یا نہیں؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کیونکہ کم جو ہے وہ تو یقینی ہے، اقل جو ہے وہ تو یقینی ہے لہٰذا وہی مہر بنے گا تینوں صورتوں میں۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک نکاح کے اندر اصل میں مہرِ مثل ہوتا ہے، ہاں اور مہرِ مثل جو ہے اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے مسمیٰ کی وجہ سے، کیونکہ جب میاں بیوی خود ایک چیز پر راضی ہو گئے ہیں تو پھر وہی مسمیٰ آ جائے گا، مہرِ مثل نہیں آئے گا۔ لیکن یہ اس وقت ہوگا جب مسمیٰ صحیح تو ہو، لیکن یہاں تو مسمیٰ ہی فاسد ہے، تعیین نہیں ہے اس لیے شروع سے ہی کیا آ جائے گا؟ مہرِ مثل آ جائے گا۔ لیکن یہ مہرِ مثل اوقص غلام سے کم اور ارفع غلام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک اصل جو ہے وہ مسمیٰ ہے، لہٰذا جب مسمیٰ ہو تو مہرِ مثل کی طرف نہیں جائیں گے، اور یہاں پر مسمیٰ کو واجب کرنا ممکن بھی ہے کہ اقل وہ تو یقینی ہے لہٰذا اسی کو واجب قرار دے دیا جائے۔ لیکن اگر اسی صورت میں خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر بالاتفاق تینوں ائمہ کے نزدیک جو اوقص ہے اس کا نصف دینا پڑے گا۔ تو صاحبین کی بات تو ان کے ضابطے کے مطابق ہے، انہوں نے بھی کہا تھا کہ مہر یہ اوقص یا ادنیٰ غلام آئے گا، اور صحبت سے پہلے طلاق دی تو اسی مقررہ مہر کا نصف دیا جاتا ہے، تو نصفِ اوقص ان کے نزدیک آئے گا اور ضابطے کے مطابق بھی یہی بنتا ہے۔ جبکہ امام صاحب پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے تو مہرِ مثل کو فیصلہ بنایا تھا اس کے ذریعے فیصلہ کیا تھا اور جہاں مہرِ مثل آ رہا ہو وہاں صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو متعہ آیا کرتا ہے، تو امام صاحب کی طرف سے جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ہاں واقعی اس مسئلے کے اندر متعہ آنا چاہیے اصل متعہ ہی ہے، لیکن خاوند کم سے کم اوقص کا خود اقرار کر چکا ہے، تو جتنا کم سے کم جس کا اس نے اقرار کیا ہے اس کا نصف ہی عورت کو دلایا جائے گا، اور عادتاً یہ متعہ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس زیادتی کا خاوند خود اعتراف کر چکا ہے، لہٰذا یہ نصفِ اوقص اس کو دلایا جائے گا۔ لیکن اگر متعہ نصفِ اوقص سے زیادہ ہے پھر متعہ ہی دینا پڑے گا وہی واجب ہے کیونکہ اس مقام پر اصل کیا ہے؟ متعہ ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور کوئی حیوان ذکر کیا لیکن اس کی صفت ذکر نہیں کی کہ اعلیٰ ہوگا یا ادنیٰ ہوگا یا متوسط ہوگا یہ ذکر نہیں کیا، تو اس صورت میں متوسط حیوان آ جائے گا اور خاوند کو اختیار ہوگا چاہے وہی والا متوسط حیوان دے دے یا اس کی قیمت دے دے، اس لیے کیونکہ متوسط کا پتہ ہی قیمت سے چلتا ہے لہٰذا اس اعتبار سے قیمت بھی اصل ہے لیکن ذکر تو حیوان کو کیا تھا تو اس اعتبار سے حیوان بھی اصل ہے، تو دونوں میں سے جس پر چاہے خاوند عمل کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو اس نکاح کے اندر مہر کے اندر کچھ جہالت آ گئی تھی، حیوان تو ذکر کیا تھا کہ گائے دوں گا یا اونٹ دوں گا یا گھوڑا دوں گا لیکن اس کی صفت ذکر نہیں کی تھی، لیکن نکاح کی بنیاد نرمی پر ہوتی ہے لہٰذا جہالتِ یسیرہ کو برداشت کر لیا جائے گا۔ لیکن اگر جہالتِ فاحشہ آ جائے مثلاً کہا کہ میں آپ کو دابہ دوں گا یعنی سواری وغیرہ کا کوئی جانور دوں گا تو اب اس صورت میں تو جنس کا ہی پتہ نہیں ہے، سواری کا جانور تو گھوڑا بھی ہو گیا، گدھا بھی ہو گیا، خچر بھی ہو گیا، تو لہٰذا اس صورت میں یہ جہالتِ فاحشہ ہے اور جب جہالتِ فاحشہ آ گئی مسمیٰ کے اندر تو پھر وہ نہیں آ سکتا تو پھر وہاں مہرِ مثل آ جایا کرتا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اس کو قیاس کرتے ہیں بیع پر، ان کے نزدیک یہ نکاح عقدِ معاوضہ ہے جیسے بیع عقدِ معاوضہ ہے، تو جو چیز بیع کے اندر ثمن بن سکتی ہے وہ فرماتے ہیں وہی نکاح کے اندر مہر بھی بن سکتی ہے۔ اور بیع کے اندر تو جہالتِ یسیرہ بھی برداشت نہیں کی جاتی لہٰذا نکاح کے اندر بھی جہالتِ یسیرہ برداشت نہیں کی جائے گی۔ بیع کے اندر اگر ایسا حیوان ذکر کیا جس کی صفت ذکر نہیں کی یعنی اس حیوان کی تعیین نہیں کی تو پھر اس صورت کے اندر بیع ہی فاسد ہوتی ہے کیونکہ جھگڑا آئے گا، مشتری چاہے گا مجھے اعلیٰ جانور ملے اور بائع چاہے گا اس کو ادنیٰ جانور دے دے، تو لہٰذا یہ جہالتِ یسیرہ بھی بیع میں برداشت نہیں۔ جس چیز میں جہالتِ یسیرہ ہو وہ بیع میں ثمن نہیں بن سکتی، تو جب بیع میں وہ ثمن نہیں بن سکتی تو نکاح میں وہ مہر بھی نہیں بن سکتی۔ تو وہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں مہرِ مثل آئے گا چاہے جہالتِ یسیرہ ہو چاہے جہالتِ فاحشہ ہو۔ اور پھر ہم نے اس کا جواب دیا تھا کہ نکاح میں دونوں جہتیں ہیں، بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ عقدِ معاوضہ ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ عقدِ معاوضہ نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ یہاں پر خاوند مال دے رہا ہے غیرِ مال کے بدلے میں، کیونکہ ایک طرف سے اگر مال آ رہا ہے تو دوسری طرف سے صرف بضع کے منافع ہیں بھئی، اور وہ تو غیرِ مال ہے بھئی۔ تو بایں لحاظ دیکھیں تو یہ عقدِ معاوضہ نہیں۔ اور بایں لحاظ دیکھیں کہ کچھ نہ کچھ عوض تو آ رہا ہے تو بایں لحاظ یہ عقدِ معاوضہ ہے۔ تو ہم نے دونوں جہتوں کا اعتبار کیا، ابتداءً جو ہے ہم نے اس کا غیرِ معاوضہ ہونے کا اعتبار کیا یعنی خاوند خود ہی اپنے اوپر ویسے مال لازم کر رہا ہے کوئی عقدِ معاوضہ یہاں پر نہیں ہے، جب خود ابتداءً اپنے اوپر ویسے تبرعاً مال لازم کر رہا ہے تو جہالتِ یسیرہ برداشت کر لی جائے گی جیسے کہ دیت اور اقرار کے اندر ہوتا ہے۔ دیت کے اندر سو اونٹ تو ذکر ہیں لیکن ان کی صفت شریعت نے ذکر نہیں کی بھئی۔ اسی طرح اقرار کوئی کرتا ہے کہ میں نے زید کی بکری دینی ہے یا گائے دینی ہے اور اس کی صفت ذکر نہیں کی تو وہ بھی جائز ہے۔ تو لہٰذا جیسے دیت اور اقرار کے اندر نفسِ جہالت آ رہی ہے لیکن پھر بھی جائز ہے، اسی طرح یہاں نکاح کے اندر بھی اگر نفسِ جہالت یعنی جہالتِ یسیرہ آ جائے گی تو یہ جائز ہوگا۔ اور انتہاء کے اعتبار سے ہم نے اس نکاح کے عقدِ معاوضہ ہونے کا اعتبار کیا۔ جب عقدِ معاوضہ ہونے کا اعتبار کیا تو ہم نے شرط لگا دی کہ مسمیٰ ایسا مال ہو جس کا وسط معلوم ہو سکے، جس کے وسط کا پتہ چل سکے تاکہ میاں بیوی دونوں کی رعایت ہو سکے۔ تو اعلیٰ بھی واجب نہیں کیا جائے گا ورنہ تو خاوند کا نقصان ہوگا، اور ادنیٰ بھی واجب نہیں کیا جائے گا ورنہ تو بیوی کا نقصان ہوگا، تو پھر متوسط چیز کو واجب کر دیا جائے گا کیونکہ اس میں دونوں کی رعایت ہے، تو عقدِ معاوضہ ہونے کے اعتبار سے ہم نے یہ شرط لگا دی۔ اور یہ اسی وقت ہوگا جب جنس کا پتہ ہو، جب جنس کا پتہ ہو پھر ہی متوسط کا پتہ چل سکتا ہے کیونکہ جنس کے اندر چیزیں عمدہ بھی ہوتی ہیں، ادنیٰ بھی ہوتی ہیں اور متوسط بھی ہوتی ہیں، اور نیز یہ جو متوسط ہے یہ دونوں سے حصہ لیتا ہے، اعلیٰ سے بھی اور ادنیٰ سے بھی۔ متوسط کی نسبت ادنیٰ کی طرف کریں تو اس اعتبار سے متوسط اعلیٰ ہوا، اور متوسط کی نسبت اعلیٰ کی طرف کر کے دیکھیں تو متوسط اس سے ادنیٰ ہے، تو متوسط اعلیٰ بھی ہے بعض اعتبار سے اور ادنیٰ بھی ہے بعض اعتبار سے تو اس میں دونوں سے حصہ آ گیا، دونوں کی رعایت ہو گئی بھئی۔ جبکہ اگر جنس ہی مجہول ہے تو پھر اس صورت میں وسط کا پتہ نہیں چل سکتا اس لیے کیونکہ جنسوں کے مقاصد الگ الگ ہیں، بعض جنسیں جو ہیں ان میں گوشت مقصود ہوتا ہے، بعض کے اندر سواری وغیرہ مقصود ہوتی ہے، بعض میں اور منافع مقصود ہوتے ہیں، تو جب ان کے مقاصد ہی الگ الگ ہیں تو وسط کا پتہ نہیں چل سکتا۔ ایک مقصد ہوتا پھر بھی وسط کا کچھ نہ کچھ پتہ چل سکتا تھا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو کپڑے ہیں یہ کئی جنسیں شمار ہوتی ہیں کیونکہ کپڑے مختلف قسم کے ہیں ان کے مقاصد مختلف ہیں، کوئی سردی کے کپڑے ہیں، کوئی گرمی کے کپڑے ہیں، کوئی زیب و زینت والے کپڑے ہیں وغیرہ، تو یہ کپڑا کئی جنسیں شمار ہوتا ہے۔ لہٰذا صرف کپڑا کہا جائے کہ میں تمہیں پچاس کپڑے کے تھان دوں گا تو یہ جہالتِ فاحشہ ہے کیونکہ جنس کا ہی پتہ نہیں ہے، کس قسم کے کپڑے دو گے؟ اس کی نوع ہی بیان نہیں کی، لہٰذا اس صورت میں مہرِ مثل آ جائے گا۔ لیکن اگر کپڑے کی نوع بیان کر دی کہ مثلاً ہروی کپڑا میں دوں گا فلاں علاقے کا یا فلاں قسم کا کپڑا دوں گا، تو پھر اس صورت میں یہ تسمیہ صحیح ہے اور اسی قسم کا متوسط درجے والا کپڑا آ جائے گا۔ تو کپڑا جو ہے ذوات القیم میں سے ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ چیزیں دو قسم پر ہیں: کچھ مثلیات ہیں جن کا مثل بازار سے مل جاتا ہے اور باقی ذوات القیم ہیں قیمت والی ہیں، اور مثلیات جو ہیں وہ تین چیزیں ہیں: موزونات، مکیلات اور معدوداتِ متقاربۃ۔ تو یہ کپڑا جو ہے یہ ذوات القیم میں سے ہے، اور ذوات القیم وہ ہیں جن کا مثل بازار سے نہیں ملتا، اور ذوات القیم کے اندر ضابطہ یہ ہے کہ اگر جنس اور نوع بیان کر دی تو پھر اس صورت میں وہ متوسط درجے والا آ جائے گا اور وہاں خاوند کو اختیار ہوتا ہے وہ چاہے قیمت دے اور چاہے وہی چیز لا کر دے دے متوسط درجے والی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے پھر یہ بھی بتلایا کہ کپڑا ذوات القیم ہے اگر اس کے اوصاف میں خوب مبالغہ بھی کر دیا جائے کہ ہر کپڑا اتنے گز لمبا ہوگا اور اتنے گز چوڑا ہوگا اور اس طرح اس طرح کا ہوگا اور بھی خوب صفات ذکر کر دیں، پھر بھی یہ ذوات القیم ہی میں سے رہے گا یہ مثلیات میں سے نہیں بنے گا، لہٰذا خاوند کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ کپڑا ہی دینا پڑے گا بلکہ اس کو اختیار رہے گا وہ چاہے قیمت دے اور چاہے اسی قسم کا متوسط کپڑا دے بھئی۔ جبکہ مکیلات اور موزونات ان کے اندر بھی اگر مکیلات اور موزونات کا وصف بیان کر دیا تو پھر اس صورت میں وہی دینا پڑے گا، وہی کیونکہ مکیلات اور موزونات کسی کے ذمے میں رہ سکتے ہیں تو پھر وہی دینا پڑے گا۔ لیکن اگر مکیلات اور موزونات جو ہیں ان کا وصف بیان نہیں کیا کہ اعلیٰ ہوگا یا ادنیٰ ہوگا یا متوسط ہوگا تو یہ بھی متوسط درجے والے آ جائیں گے اور پھر وہاں خاوند کو اختیار ہوگا چاہے قیمت دے اور چاہے متوسط درجے کی وہی مکیلی یا موزونی چیز دے۔ اور پھر یہ بھی بتلایا اگر ایک مسلمان شراب یا خنزیر پر نکاح کرتا ہے تو پھر اس صورت میں نکاح ہو جائے گا، البتہ یہ شرطِ فاسد ہے یہ جو شراب یا خنزیر کے قبول کرنے کی شرط لگائی اور شرطِ فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا، تو نکاح صحیح ہو جائے گا اور شرط فاسد ہے بھئی، اور اس صورت میں عورت کو مہرِ مثل ملے گا کیونکہ تسمیہ صحیح نہیں ہے اور جب تسمیہ صحیح نہ ہو تو پھر مہرِ مثل دیا جاتا ہے۔ اب آئیے آج کے سبق پر: فَإِنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى هَذَا الدَّنِّ مِنَ الْخَلِّ فَإِذَا هُوَ خَمْرٌ فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ بھئی یہ مشکل مسئلہ ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا یہ جو سامنے مٹکا پڑا ہوا ہے سرکے کا، تو یہ جو مٹکا سامنے سرکے سے بھرا ہوا پڑا ہے یہ میں تمہیں مہر کے طور پر دوں گا، اور عورت اس پر راضی ہو گئی، نکاح ہو گیا۔ اب بعد میں دیکھا گیا تو اس مٹکے کے اندر سرکہ نہیں تھا، شراب تھی۔ تو دیکھو ذکر کیا تھا مال کو، سرکہ کیا ہے؟ مال، اور شراب وہ تو مسلمانوں کے نزدیک مال ہی نہیں، کفار کے نزدیک وہ مال ہے، مسلمانوں کے نزدیک مال نہیں، مسلمان کے لیے شراب کا نہ تملک جائز ہے نہ تملیک، نہ وہ خود مالک بن سکتا ہے نہ کسی دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے۔ تو ذکر کی تھی حلال چیز اور نکلی کیا؟ حرام چیز۔ یا دوسری صورت لے لیں، دوسری صورت لے لیں: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا یہ جو سامنے غلام ہے میں تمہیں مہر کے طور پر یہ غلام دوں گا، تو نکاح کر لیا، بعد میں پتہ چلا وہ تو غلام ہے ہی نہیں وہ تو آزاد آدمی ہے۔ تو دیکھو بتلایا کیا تھا؟ غلام ہے یعنی مال ہے، اور بعد میں آزاد نکلا یعنی غیرِ مال نکلا کیونکہ آزاد آدمی تو مال نہیں۔ تو اس صورت میں یاد رکھو ہمارے تینوں ائمہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ ان مسئلوں کے اندر یاد رکھو تفصیل بھئی۔ یہاں اس میں اشارہ کے ساتھ تسمیہ جمع ہو رہا ہے۔ اشارہ بھی خاوند کر رہا ہے: یہ جو مٹکا ہے، اور تسمیہ بھی ذکر کر رہا ہے کہ یہ جو مٹکا سرکے کا ہے بھئی۔ تو دیکھا؟ اشارہ بھی کیا اور تسمیہ یعنی نام بھی ذکر کیا کہ یہ سرکہ ہے۔ دوسری صورت میں دیکھو غلام کی طرف اشارہ کیا: یہ والا غلام، تو اشارہ بھی کیا کہ یہ والا، اور ساتھ تسمیہ بھی ہے کہ غلام ہے یہ۔ تو امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے، ضابطہ یہ ہے کہ جب اس میں اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو اس میں اشارہ کا اعتبار کیا جائے گا۔ کس کا؟ اس میں اشارہ کا اعتبار کیا جائے گا، تو لہٰذا یہاں پر اشارے کا اعتبار ہے۔ جو مشارٌ الیہ ہے وہی وہی مہر بنے گا۔ تسمیہ یعنی نام جو سرکے کا ذکر کیا اس کو نہیں دیکھیں گے، جو بھی مشارٌ الیہ ہے وہی مہر بنے گا اور وہ تو مال نہیں وہ تو شراب ہے، لہٰذا اس صورت میں مہرِ مثل آ جائے گا۔ یا اسی طرح کہا: یہ والا غلام تمہیں مہر میں دوں گا، تو اس میں اشارہ بھی ہے اور تسمیہ بھی ہے، تو یہاں پر وہ فرماتے ہیں اشارے کا اعتبار کیا جائے گا اور اشارہ اس کی طرف کیا ہے، یہی مہر بنے گا لیکن یہ تو آزاد آدمی ہے، یہ تو مہر بن ہی نہیں سکتا تو پھر اس صورت میں مہرِ مثل آ جایا کرتا ہے۔ جب اشارے کے ساتھ تسمیہ جمع ہو جائے تو امام صاحب کے نزدیک کس کا اعتبار ہے؟ اشارے کا اعتبار ہے۔ یہ جو مشارٌ الیہ ہے یہی مہر بنے گا، اور مشارٌ الیہ تو مہر بن ہی نہیں سکتا دونوں صورتوں میں، ایک میں شراب ہے ایک میں آزاد آدمی ہے، تو پھر اس صورت میں پھر مہرِ مثل آ جائے گا دونوں صورتوں میں، کس کے نزدیک؟ امام صاحب کے نزدیک۔ تو ضابطہ کیا ہوا امام صاحب کے نزدیک؟ کہ جب اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو کس کا اعتبار ہے؟ اشارے کا اعتبار ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تسمیہ اور اشارہ جمع ہو جائیں تو پھر تسمیہ کا اعتبار ہے۔ کس کا اعتبار ہے؟ تسمیہ کا اعتبار ہے، لہٰذا جب خاوند نے کہا: یہ جو سرکے کا مٹکا ہے یہ تمہیں بطورِ مہر کے دوں گا، تو ذکر کس کو کیا؟ سرکے کو، سرکہ، تو تسمیہ کا اعتبار ہے، تو یہ سرکہ جو ہے وہ مہر بن جائے گا لیکن یہ تو شراب ہے، تو پھر اس سرکے کا مثل دینا پڑے گا، تو اس سرکے کا مثل دینا پڑے گا کیونکہ سرکہ مثلیات میں سے ہے بھئی۔ یاد رکھو مثلی چیز میں اس کا مثل آیا کرتا ہے، کسی نے کسی کی سو من گندم ضائع کر دی تو اس پر اسی کے مثل سو من گندم واجب ہوگی وہ اس کو لا کر دینا پڑے گی۔ جبکہ ذوات القیم میں اس چیز کی قیمت آیا کرتی ہے، کسی نے کسی کا جانور ضائع کر دیا ہلاک کر دیا تو پھر اس جانور کا مثل نہیں واجب ہوگا کیونکہ جانور کا تو مثل نہیں مل سکتا بھئی، تو وہاں پر پھر اس کی قیمت واجب ہوا کرتی ہے۔ تو یہاں پر بھی اس نے ذکر کس کو کیا تھا؟ سرکے کو، اور سرکہ تو مثلیات میں سے ہے لہٰذا اس کا مثل لا کر دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی طرح اسی طرح جب آزاد آدمی کی طرف اشارہ کیا کہ یہ والا غلام میں بطورِ مہر کے دوں گا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تسمیہ کا اعتبار ہے، اور تسمیہ نام کیا ذکر کیا؟ یہ والا غلام، تو دیکھو غلام جو ہے وہ تو ذوات القیم میں سے ہے، تو اسی آدمی کو اگر غلام، اگر یہی آدمی غلام ہوتا تو اس کی کیا قیمت ہوتی؟ وہ قیمت لگا کر وہ عورت کو مہر کے طور پر ملے گی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو کس کا اعتبار ہے؟ تسمیہ کا اعتبار ہے اور تسمیہ تو سرکے کا ہوا تھا لہٰذا اسی کے ہم وزن سرکہ دینا پڑے گا، اور اسی طرح اشارہ اور غلام کا لفظ جمع کیا تو غلام کے لفظ کا اعتبار ہے لہٰذا یہی آدمی اگر غلام ہوتا تو اس کی کیا قیمت ہوتی وہی قیمت جو ہے اب اس خاوند پر لازم ہو جائے گی، کیونکہ جو ذکر کیا ہے جس کا نام ذکر کیا ہے وہی مہر ہوگا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مشارٌ الیہ جو ہے وہ مہر ہوگا لیکن اس میں تو مہر بننے کی صلاحیت نہیں کیونکہ وہ مال ہی نہیں، تو مہرِ مثل آ جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تسمیہ کا اعتبار ہے جس کا نام ذکر کیا ہے وہ مہر بنے گا، تو اگر وہ مثلیات میں سے ہے تو اس کا مثل دینا پڑے گا اور اگر وہ ذوات القیم میں سے ہے تو اس کی قیمت لگا کر قیمت دی جائے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو پھر دیکھا جائے گا کہ مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنس ایک ہے یا الگ الگ؟ بھئی اشارہ کر دیا، تو جس چیز کی طرف اشارہ کیا وہی مشارٌ الیہ، اور جس چیز کا نام ذکر کیا تو وہ چیز ہوئی مسمیٰ، تو اشارہ اور تسمیہ جمع ہو رہے ہیں یعنی مشارٌ الیہ اور مسمیٰ جمع ہو رہے ہیں، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی اگر ایک ہی جنس ہوئی، اگر دونوں کی ایک ہی جنس ہوئی تو پھر مشارٌ الیہ کا اعتبار ہے، تو پھر اور اگر مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنسیں الگ الگ ہیں تو پھر اس صورت میں تسمیہ کا اعتبار ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کا کیا ضابطہ ہوا؟ کہ اگر مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنس ایک ہی ہے تو پھر مشارٌ الیہ کا اعتبار ہے یعنی اشارے کا اعتبار ہے، یعنی جس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے وہی مہر بنے گا، اور اگر مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنس الگ الگ ہے تو پھر مسمیٰ کا اعتبار ہے جس کا نام لیا تھا وہ مہر بنے گا بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب میں نے بیان کر دیا تو یہاں اب آپ کو پہلے جنس کی پہچان ہونی چاہیے پھر بات آپ کو پوری سمجھ میں آئے گی۔ تو جنس کو سمجھ لیں، یاد رکھیے ہمارے تینوں ائمہ جنس کی الگ الگ تعریف کرتے ہیں۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنس وہ ہے جو مقول علی کثیرین مختلفین فی الصورۃ والمعنی جمیعا، یعنی جنس وہ چیز ہے مقول جو بولی جاتی ہے علی کثیرین ایسے بہت سی چیزوں پر مختلفین جو مختلف ہیں فی الصورۃ والمعنی جمیعا صورت اور معنی یعنی صورت اور مقصد دونوں کے اعتبار سے۔ وہ چیز جو اور چیزوں سے صورت میں بھی مختلف ہو اور مقاصد کے اور مقاصد کے اندر یعنی منافع کے اندر بھی مختلف ہو، یہ باقی چیزوں سے الگ ایک جنس ہے۔ تو جنس کے اندر کیا ضروری ہے؟ اس کی صورت بھی الگ ہونی چاہیے اور ان کے منافع بھی منافع اور مقاصد بھی الگ ہونے چاہییں۔ اگر صورت ایک جیسی ہے صرف منافع الگ ہیں، یا منافع ایک جیسے ہیں صورتیں الگ ہیں، نہیں دونوں چیزیں الگ ہوں پھر الگ جنس شمار ہوگی، صورت بھی الگ ہونی چاہیے اور منافع بھی الگ ہونے چاہییں، بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنس جو ہے مقول علی کثیرین مختلفین فی الاحکام، کہ جنس وہ چیز ہے جو بولی جاتی ہے ایسے کثیرین پر جو مختلف ہیں احکام میں، یعنی جو دوسری چیزوں سے احکام کے اندر مختلف ہیں۔ تو وہ احکام پر نظر کرتے ہیں جنس کے اندر، چیزوں کے حکم الگ الگ ہیں تو وہ الگ جنسیں شمار ہوں گی اور اگر حکم ایک جیسے ہیں تو پھر ایک ہی جنس شمار ہوں گے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ جنس کے اندر مقاصد کا اعتبار کرتے ہیں، تو وہ فرماتے ہیں جنس جو ہے وہ چیز ہے مقول علی کثیرین مختلفین فی المقاصد، وہ کثیر چیزیں جو مختلف ہیں فی المقاصد مقاصد یعنی منافع میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں: امام صاحب کے نزدیک جنس کسے کہتے ہیں؟ مقول علی کثیرین مختلفین فی الصورۃ والمعنی، جمیعا کی قید لگائیں یا نہ لگائیں، کلی مقول علی کثیرین مختلفین فی الصورۃ والمعنی، وہ کثیرین جو صورت اور معنی یعنی صورت اور مقاصد میں دوسروں سے مختلف ہوں وہ الگ جنس ہیں، تو صورت بھی الگ ہونی چاہیے اور مقصد اور منافع بھی الگ ہونے چاہییں پھر ہی الگ جنس شمار ہوگی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جنس کیا ہے؟ کلی مقول علی کثیرین مختلفین فی الاحکام، کہ وہ کثیرین جو ہیں جو احکام کے اندر اور چیزوں سے مختلف ہیں وہ ایک جنس شمار ہوں گے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کلی مقول علی کثیرین مختلفین فی المقاصد، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک فی الاحکام، احکام کی بات کی ہے انہوں نے، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مختلف ہوں گے فی المقاصد، مقاصد یعنی منافع کے اندر۔ تعریف سمجھ میں آ گئی؟ تو اب آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو دو صورتیں ذکر کیں: اشارہ کیا سرکے کی طرف اور نکلی شراب، یا اشارہ کیا غلام کی طرف اور نکلا آزاد آدمی، تو اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ایک جنس ہیں یا الگ الگ جنس ہیں۔ سب سے پہلے امام صاحب کا مذہب دیکھ لیتے ہیں، بھئی دیکھیے اس شخص نے کیا کہا ہے؟ یہ سرکہ یہ سرکہ مہر ہوگا۔ اب اشارہ بھی ہے اور تسمیہ بھی ہے، اشارہ بھی ہے اور تسمیہ بھی ہے، تو تسمیہ کس کا ہے؟ سرکے کا، اور اشارہ کس کی طرف ہے؟ شراب کی طرف۔ تو شراب اور سرکہ یہ دونوں ایک جنس ہیں یا الگ جنس ہیں؟ تو یاد رکھو امام صاحب کے نزدیک ایک ہی جنس ہیں۔ امام صاحب کے نزدیک ایک ہی جنس ہے، وہی جنس والی تعریف لاگو کرو، امام صاحب کے نزدیک ایک جنس کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کی صورت اور منافع دوسری چیزوں سے مختلف ہیں، یعنی جنس والوں کی صورت اور منافع ایک جیسے ہوں گے۔ تو یہاں پر دیکھو سرکے اور شراب دونوں کے منافع تو الگ الگ ہیں، سرکہ تو کھانے وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے اور شراب وہ تو نشے کے لیے استعمال کی جاتی ہے تو منافع الگ ہیں، لیکن صورت تو ایک جیسی ہے۔ یاد رکھو یہی انگور کا رس اس کو خاص طریقے سے رکھا جائے تو یہ شراب بن جاتا ہے اور اسی انگور کے رس کو خاص طریقے سے رکھا جائے تو یہ سرکہ بن جاتا ہے، اور یہی اگر شراب بن جائے اس کو بھی پھر سرکے میں بدلا جا سکتا ہے، کہتے ہیں کہ اگر اسی شراب کو خاص طریقے سے دھوپ میں رکھ دیا جائے یا اس کے اندر نمک وغیرہ ڈال دیا جائے تو پھر یہ بھی آہستہ آہستہ ساری سرکے میں بدل جائے گی۔ تو دیکھو صورت تو دونوں کی ایک جیسی ہے البتہ منافع الگ ہیں، لیکن امام صاحب فرماتے ہیں صورت اور منافع دونوں الگ ہوں گے تو پھر الگ جنس شمار ہوگی، تو یہاں تو صرف منافع الگ ہیں صورت الگ نہیں، تو لہٰذا یہ ایک ہی جنس شمار ہوں گے۔ اسی طرح آزاد آدمی اور غلام ان کے بھی منافع ایک جیسے ہیں، جو کام آزاد آدمی کر سکتا ہے وہی سارے کام غلام بھی کر سکتا ہے تو دونوں کے منافع تقریباً ایک جیسے ہیں، ہاں تھوڑا سا فرق ہے کہ آزاد آدمی کچھ تصرفات کر سکتا ہے اور غلام وہ تصرفات نہیں کر سکتا، باقی کام کاج کے اعتبار سے، منافع کے اعتبار سے آزاد اور غلام آدمی ایک جیسے ہیں، جو کام آزاد آدمی کر سکتا ہے وہی کام غلام بھی کر سکتا ہے، تو دونوں ایک ہی جنس ہیں۔ تو امام صاحب کے نزدیک دونوں کیا ہوئے؟ سرکہ اور شراب بھی ایک جنس اور غلام اور آزاد آدمی بھی ایک جنس۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ان کے نزدیک احکام کے بدلنے سے جنس بدل جائے گی، تو لہٰذا ان کے نزدیک شراب اور سرکہ الگ الگ جنسیں ہیں کیونکہ شراب کے احکام اور ہیں وہ حرام ہے اور سرکے کے احکام اور ہیں وہ حلال ہے بھئی، تو لہٰذا یہ دو الگ الگ جنسیں شمار ہوں گی۔ جبکہ آزاد آدمی اور غلام یہ بھی ان کے نزدیک دونوں الگ الگ جنسیں ہیں، غلام کے احکام اور ہیں آزاد آدمی کے احکام اور ہیں، آزاد آدمی کو تصرفات کی اجازت ہوتی ہے، غلام کو تصرفات کی اجازت نہیں ہوتی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں مسئلوں میں مشارٌ الیہ اور مسمیٰ ان کی جنس الگ الگ ہے۔ امام صاحب کے نزدیک دونوں مسئلوں میں مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنس ایک ہی ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں وہ منافع کا اعتبار کرتے ہیں اور منافع کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سرکے کے منافع اور ہیں وہ کھانے پینے وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے اور شراب جو ہے اس کے منافع اور ہیں وہ تو نشے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں الگ الگ جنسیں ہیں کیونکہ منافع الگ الگ ہیں۔ اور جبکہ آزاد آدمی اور غلام یہ دونوں جو ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہی جنس ہیں کیونکہ منافع ان کے ایک جیسے ہیں، جو کام آزاد آدمی کر سکتا ہے وہ غلام بھی کر سکتا ہے، تھوڑا بہت فرق ہے تصرفات کا لیکن باقی کام کاج وغیرہ کے اعتبار سے ان کے منافع تقریباً ایک جیسے ہیں، تو لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ایک ہی جنس ہیں دونوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں: امام صاحب کے نزدیک مشارٌ الیہ اور مسمیٰ دونوں مثالوں میں ایک ہی جنس ہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مشارٌ الیہ اور مسمیٰ دونوں مثالوں میں الگ الگ جنسیں ہیں کیونکہ احکام الگ الگ ہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک شراب اور سرکے کے مسئلے میں مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنس الگ الگ ہے کیونکہ منافع الگ ہیں، اور غلام اور آزاد آدمی کے مسئلے میں مشارٌ الیہ اور مسمیٰ ایک ہی جنس ہے کیونکہ دونوں کے منافع ایک جیسے ہیں۔ تو اب ضابطہ پھر دہرا لیں، ضابطہ پھر دہرا لیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جب اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو چاہے جنسیں الگ ہوں چاہے جنس ایک ہی ہو، ہر حال میں اشارے ہی کا اعتبار ہے۔ ہر حال میں اشارے کا اعتبار ہے۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جب اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو چاہے جنسیں الگ ہوں چاہے جنس ایک ہو، تسمیہ کا اعتبار ہے۔ کس کا؟ تسمیہ کا اعتبار ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اشارے کا اعتبار اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تسمیہ کا اعتبار۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے ہاں تفصیل ہے: اگر اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں اور مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنس ایک ہو تو پھر اشارے کا اعتبار ہے، اور اگر مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنسیں الگ الگ ہوں تو پھر مسمیٰ کا یعنی تسمیہ کا اعتبار ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ اب ذرا پھر اس پر آ جائیے۔ امام صاحب کے نزدیک کس کا اعتبار؟ اشارے کا، لہٰذا اس نے کیا کہا: یہ سرکہ میں تمہیں دوں گا مہر کے طور پر، تو اشارہ بھی کیا اور تسمیہ بھی ذکر کیا لیکن امام صاحب کے نزدیک اعتبار کس کا ہے؟ اشارے کا، کس کا؟ تو جو مشارٌ الیہ ہے وہی مہر بنے گا، اور مشارٌ الیہ تو شراب ہے وہ تو مہر بن نہیں سکتی لہٰذا مہرِ مثل آ جائے گا۔ پھر دوسری صورت امام صاحب کے نزدیک، دوسری صورت کہ یہ جو غلام ہے میں اس پر تم سے نکاح کرتا ہوں، تو اب اشارہ بھی ذکر کیا اور تسمیہ بھی ذکر کیا تو کس کا اعتبار؟ اشارے کا، یعنی جو مشارٌ الیہ ہے وہی مہر بنے گا اور مشارٌ الیہ تو آزاد آدمی ہے، وہ تو مال ہے ہی نہیں لہٰذا کیا آ جائے گا؟ مہرِ مثل آ جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو امام صاحب کے نزدیک ہر صورت میں کس کا اعتبار؟ اشارے کا، جو بھی مشارٌ الیہ ہوگا وہی مہر بنے گا، تسمیہ ساتھ جو ذکر کیا یعنی سرکہ ہے یا غلام ہے اس کو نہیں دیکھا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک چاہے جنسیں الگ ہوں چاہے جنس ایک ہی ہو، ہر حال میں تسمیہ ہی کا اعتبار ہے۔ تو نام تو اس نے سرکے کا ذکر کیا تھا لہٰذا سرکہ ہی مہر بنے گا تو اسی وزن کے برابر سرکہ دینا پڑے گا، اور غلام کو ذکر کیا تھا تو تسمیہ ہی کا اعتبار ہے، یہی آدمی اگر غلام ہو تو اس کی کیا قیمت ہوگی اب وہ دینی پڑے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اگر دونوں کی جنس ایک ہو تو اشارے کا اعتبار ہے، تو جب اشارہ کیا: یہ غلام میں تمہیں مہر میں دوں گا، تو دیکھو غلام اور آزاد آدمی دونوں کی جنس ایک ہے کیونکہ منافع ایک جیسے ہیں تقریباً، جب دونوں کی ایک جنس ہو تو اشارے کا اعتبار ہوگا، یعنی یہ جو مشارٌ الیہ ہے یہی مہر بنے گا، لفظِ غلام کو نہیں دیکھا جائے گا۔ تو یہ مشارٌ الیہ یہی مہر بنے گا لیکن یہ تو آزاد آدمی ہے یہ تو مہر بن نہیں سکتا تو پھر مہرِ مثل آ جائے گا۔ تو اس میں وہ امام صاحب کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں، امام صاحب بھی فرماتے تھے مہرِ مثل آئے گا، امام محمد بھی کیا فرماتے ہیں؟ مہرِ مثل آ جائے گا۔ اور اگر اگر مشارٌ الیہ اور مسمیٰ کی جنس الگ الگ ہو جیسے شراب اور سرکہ تو۔۔۔ مشار الیہ کیا تھا؟ شراب۔ اشارہ کس کی طرف کیا ہے؟ شراب کی طرف، اور نام کیا ذکر کیا؟ سرکہ۔ تو مشار الیہ اور مسمی کی جنس الگ الگ ہے یہاں پر، کیونکہ دونوں کے منافع الگ ہیں بھئی۔ تو اس صورت میں وہ فرماتے ہیں کہ مسمی کا اعتبار ہے، یعنی تسمیہ کا اعتبار ہے، اور تسمیہ تو کس کا کیا ہے؟ سرکے کا، لہٰذا سرکہ مہر بنے گا بھئی۔ تو اسی کے ہم وزن سرکہ اب دینا پڑے گا۔ تو وہ شراب اور سرکے کے مسئلے میں وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مسئلہ حل ہو گیا؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى هَذَا الدَّنِّ مِنَ الْخَلِّ“۔ دَنٌّ، یاد رکھو دَنٌّ جو ہے یہ مٹکے کو کہتے ہیں، بڑا مٹکا جو ہو۔ ”فَإِنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى هَذَا الدَّنِّ مِنَ الْخَلِّ“، اگر کسی شخص نے نکاح کیا کسی عورت سے، ”عَلَى هَذَا الدَّنِّ مِنَ الْخَلِّ“، سرکے کے اس مٹکے پر، کہ میں تم سے نکاح کرتا ہوں سرکے کے اس مٹکے پر نکاح کرتا ہوں۔ ”فَإِذَا هُوَ خَمْرٌ“، تو اچانک وہ شراب نکلی، ”فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، تو اس عورت کے لیے مہر مثل ہوگا امام صاحب کے نزدیک، کیونکہ مشار الیہ نے مہر بننا ہے اور مشار الیہ تو شراب ہے۔ ”وَقَالَا: لَهَا مِثْلُ وَزْنِهِ خَلًّا“، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے اسی کا ہم وزن جو ہے سرکہ ہوگا، کیونکہ امام ابو یوسف کے نزدیک تسمیہ کا اعتبار ہے اور اس نے تو سرکہ ذکر کیا تھا، لہٰذا سرکہ ہی مہر بنے گا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ دونوں کی جنس الگ الگ ہے اور جب جنس الگ ہو تو تسمیہ کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا سرکہ مہر بنے گا اور سرکہ تو موجود نہیں لہٰذا اس کا ہم وزن سرکہ دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَا: لَهَا مِثْلُ وَزْنِهِ خَلًّا“، اور صاحبین فرماتے ہیں اس عورت کے لیے اس کا ہم وزن سرکہ ہوگا، ”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَا الْعَبْدِ“، اور اگر کسی شخص نے نکاح کیا کسی عورت سے ”عَلَى هَذَا الْعَبْدِ“، اس غلام پر، یعنی اشارہ کیا کسی غلام کی طرف، ”فَإِذَا هُوَ حُرٌّ“، تو اچانک وہ آزاد آدمی تھا، ”يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، تو اس صورت میں مہر مثل واجب ہوگا طرفین کے نزدیک۔ یہاں امام محمد رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں، کیونکہ غلام اور آزاد آدمی کی جنس ایک ہے۔ غلام اور آزاد آدمی کی جنس ایک ہے اور اس صورت میں امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشار الیہ کا اعتبار ہے، اشارے کا اعتبار ہے۔ اور امام صاحب کے نزدیک تو ویسے ہی اشارے کا اعتبار ہے ہر حال میں، اور مشار الیہ تو کون ہے؟ آزاد آدمی ہے، جس کی طرف اشارہ کیا ہے وہ تو آزاد آدمی ہے، وہی مہر بنے گا لیکن وہ تو مہر بن نہیں سکتا، تو یہاں تسمیہ کا اعتبار نہیں بلکہ مشار الیہ کا اعتبار ہے۔ تو جب وہ مہر بن نہیں سکتا وہ آزاد آدمی جو مشار الیہ ہے تو پھر مہر مثل آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، تو مہر مثل واجب ہوگا طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: تَجِبُ الْقِيمَةُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیمت واجب ہوگی، کیونکہ ان کے نزدیک تو ضابطہ ہے کہ تسمیہ کا اعتبار ہوگا اور اس نے ”هَذَا الْعَبْدَ“، اس نے عبد یعنی غلام کو ذکر کیا ہے تو یہی آدمی اگر غلام فرض کر لیا جائے تو اس کی جو قیمت ہوگی وہ لگا کر وہ قیمت دینی پڑے گی اب بطور مہر کے۔ تو وہ فرماتے ہیں: ”تَجِبُ الْقِيمَةُ“، اس کی قیمت واجب ہوگی۔ ”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اب دلیل ہر ایک کی ذکر کریں گے۔ ”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهُ أَطْمَعَهَا مَالًا“، کہ خاوند نے اس عورت کو لالچ دلایا ہے ”مَالًا“ مال کا۔ بھئی اشارہ تو کر رہا ہے شراب کی طرف، لیکن لفظ تو ذکر کر رہا ہے سرکے کا، تو دیکھو سرکہ تو مال ہے، شراب تو مال نہیں لیکن سرکہ تو مال ہے۔ بھئی وہی ضابطہ ذہن میں رکھیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہر حال میں کس کا اعتبار ہے؟ تسمیہ کا۔ تو اس خاوند نے اشارہ تو شراب کی طرف کیا ہے لیکن تسمیہ کیا ذکر کی؟ سرکہ، اور سرکہ تو مال ہے۔ تو مال کا لالچ دیا عورت کو، لہٰذا وہی مال دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آزاد کی طرف اشارہ کیا: یہ والا غلام! تو تسمیہ کا اعتبار ہے، تو خاوند نے غلام یعنی مال کا نام لے کر عورت کو لالچ دلایا ہے، تو جس چیز کو ذکر کیا ہے، جس کا لالچ دلایا ہے وہی بطور مہر کے آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ أَطْمَعَهَا مَالًا“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ خاوند نے اس عورت کو لالچ دلایا ہے مال کا، ”وَعَجَزَ عَنْ تَسْلِيمِهِ“، اور عاجز آ گیا اس کے سپرد کرنے سے، کیونکہ جس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے وہ تو مال نہیں، تو اس کے سپرد کرنے سے عاجز آ گیا، ”فَتَجِبُ قِيمَتُهُ“، تو اس چیز کی قیمت واجب ہوگی اگر وہ ذوات القیم میں سے ہے، ”أَوْ مِثْلُهُ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ“، یا اس چیز کا مثل واجب ہوگا اگر وہ چیز ذوات الامثال میں سے ہوئی یعنی مثلیات میں سے ہوئی، ”كَمَا إِذَا هَلَكَ الْعَبْدُ الْمُسَمَّى قَبْلَ التَّسْلِيمِ“، جیسے کہ مقررہ غلام ہلاک ہو جائے سپرد کرنے سے پہلے۔ مثلاً دیکھو ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں یہ والا اپنا غلام بطور مہر کے دوں گا۔ دوسری صورت ہے، یہ واقعی اس کا غلام ہے، تو اس نے کیا کہا: میں تمہیں یہ والا غلام بطور مہر کے دوں گا۔ تو نکاح کر لیا، بعد میں ابھی غلام عورت کے حوالے نہیں کیا تھا کہ غلام ہلاک ہو گیا، اس کا انتقال ہو گیا۔ تو خاوند نے ذکر مال کا کیا تھا اور اب اس کے ادا کرنے سے عاجز آ گیا تو پھر اس کی قیمت آیا کرتی ہے۔ تو یہاں بھی غلام کی قیمت آئے گی، تو جیسے اس مسئلے میں غلام کی قیمت آئی ہے گزشتہ دونوں مسئلوں کے اندر بھی خاوند وہ مال سپرد کرنے سے عاجز آیا ہے تو اب ان کی قیمت یا ان کا مثل دینا پڑے گا۔ کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا هَلَكَ الْعَبْدُ الْمُسَمَّى قَبْلَ التَّسْلِيمِ“، جیسے کہ مقررہ غلام ہلاک ہو جائے سپرد کرنے سے پہلے، تو پھر اس کی قیمت آیا کرتی ہے۔ ”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: اجْتَمَعَتِ الْإِشَارَةُ وَالتَّسْمِيَةُ فَتُعْتَبَرُ الْإِشَارَةُ لِكَوْنِهَا أَبْلَغَ فِي الْمَقْصُودِ“، اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ اشارہ اور تسمیہ جمع ہو گئے تو اشارہ ہی معتبر ہے بوجہ اس کے ابلغ فی المقصود ہونے کے، کیونکہ یہ مقصود کے اندر زیادہ اعلیٰ ہے۔ اور مقصود کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ التَّعْرِيفُ“، وہ پہچان کروانا ہے۔ یاد رکھو تسمیہ سے بھی کسی چیز کی پہچان ہوتی ہے، اشارے سے بھی کسی چیز کی پہچان ہوتی ہے، لیکن اشارہ پہچان کروانے میں اعلیٰ ہے۔ یعنی اشارے کے ذریعے جب کسی چیز کی پہچان کروا دی جائے وہاں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہتا۔ مثلاً یہ سامنے کتاب پڑی ہے، میں نے آپ کو کہا کہ میں نے یہ کتاب آپ کو بیچ دی، دیکھو اشارہ کر کے کہا۔ جب اشارہ کر دیا اب یہ کتاب تمام کتابوں سے ممتاز ہو گئی، آپ سمجھ گئے اسی کتاب کی بات ہو رہی ہے، کسی اور کتاب کی بات نہیں ہو رہی۔ تو دیکھو اشارہ سب سے زیادہ تعریف کرواتا ہے۔ جبکہ تسمیہ، نام ذکر کیا جائے اس میں اس درجے کی پہچان نہیں، وجہ یہ کہ کیونکہ بعض اوقات کسی لفظ کے حقیقی معنی کا ارادہ ہوتا ہے تو کبھی مجازی معنی کا بھی ارادہ کر لیا جاتا ہے۔ جیسے شیر، شیر جنگلی درندے کا نام ہے لیکن بہادر آدمی کو بھی شیر کہہ دیتے ہیں۔ تو دیکھو شیر کا لفظ جو ہے، شیر کا تسمیہ اس کے ذریعے اس درجے کی پہچان نہیں ہوگی کہ پتہ نہیں یہ کس معنی کا یہ ارادہ کر رہا ہے، حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہے یا مجازی معنی کا ارادہ کر رہا ہے۔ تو پہچان تو تسمیہ کے ذریعے بھی ہوگی لیکن وہاں اس درجے کی پہچان نہیں ہے جس درجے کی پہچان اشارہ کے اندر ہے۔ اشارہ تو اس طرح ہے جیسے کسی چیز پر آپ نے باقاعدہ ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ چیز بھئی۔ تو وہ چیز سب سے ممتاز ہو گئی، پتہ چل گیا اسی کی بات ہو رہی ہے کسی اور کی بات نہیں ہو رہی، لیکن تسمیہ میں تو حقیقی معنی کے ساتھ مجازی معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ معلوم ہوا پہچان کروانے میں اعلیٰ اور افضل کیا ہے؟ اشارہ۔ تو تسمیہ کے ساتھ جب اشارہ جمع ہوا تو جو اعلیٰ ہے یعنی اشارہ، اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ تو جب اس نے کہا یہ والا سرکہ، تو اشارہ کر دیا تو اشارے کا اعتبار ہے، تسمیہ کا اعتبار نہیں۔ تو جو بھی مشار الیہ ہے اسی نے مہر بننا ہے لیکن وہ تو شراب نکلی، تو پھر مہر مثل آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: اجْتَمَعَتِ الْإِشَارَةُ وَالتَّسْمِيَةُ فَتُعْتَبَرُ الْإِشَارَةُ لِكَوْنِهَا أَبْلَغَ فِي الْمَقْصُودِ“، امام صاحب فرماتے ہیں کہ اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو اشارہ کا اعتبار کیا جائے گا اس لیے کیونکہ اشارہ جو ہے وہ زیادہ افضل ہوتا ہے، اعلیٰ ہوتا ہے فی المقصود مقصود کے اندر۔ بھئی مقصود کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ التَّعْرِيفُ“، وہ پہچان کروانا ہے، تو پہچان کے اندر اشارہ ابلغ ہے یعنی افضل و اعلیٰ ہے۔ ”فَكَأَنَّهُ تَزَوَّجَ عَلَى خَمْرٍ أَوْ حُرٍّ“، تو گویا کہ اس شخص نے نکاح کیا ہے شراب یا آزاد آدمی پر، کیونکہ مشار الیہ کا اعتبار ہے اور مشار الیہ تو ایک میں شراب ہے اور ایک میں آزاد آدمی ہے، تو گویا اس نے شراب یا آزاد آدمی پر ہی نکاح کیا ہے لیکن یہ تو مہر بن نہیں سکتے لہٰذا کیا آ جائے گا؟ مہر مثل آ جائے گا۔ ”فَكَأَنَّهُ تَزَوَّجَ عَلَى خَمْرٍ أَوْ حُرٍّ“، تو گویا کہ اس نے نکاح کیا ہے شراب یا آزاد آدمی پر۔ ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: الْأَصْلُ أَنَّ الْمُسَمَّى إِذَا كَانَ مِنْ جِنْسِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ يَتَعَلَّقُ الْعَقْدُ بِالْمُشَارِ إِلَيْهِ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ضابطہ یہ ہے کہ جب مسمی جو ہے وہ مشار الیہ کی جنس سے ہو تو عقد کا تعلق جو ہے مشار الیہ سے ہوتا ہے، وہی ضابطہ جو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا۔ کیا؟ کہ اشارہ اور تسمیہ جب جمع ہو جائیں پھر دیکھا جائے گا کہ مشار الیہ اور مسمی کی جنس ایک ہے یا الگ الگ۔ اگر دونوں کی جنس ایک ہے تو کس کا اعتبار؟ مشار الیہ کا، جو مشار الیہ ہے وہی مہر بنے گا۔ تو ”هَذَا الْعَبْدَ“ کہا اور اشارہ کس کی طرف کیا؟ آزاد آدمی کی طرف۔ تو غلام اور آزاد آدمی کی جنس ایک ہے، جب جنس ایک ہے تو اعتبار کس کا؟ مشار الیہ کا، اور مشار الیہ کون ہے جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے؟ آزاد ہے، مسمی غلام ہے نام ذکر غلام کا کر رہا ہے لیکن مشار الیہ آزاد آدمی ہے وہی مہر بنے گا، لیکن وہ تو مہر بن نہیں سکتا تو کیا آ جائے گا؟ مہر مثل۔ تو اس مسئلے میں وہ امام صاحب کے ساتھ ہیں۔ تو کیا ضابطہ ہوا امام محمد رحمہ اللہ کا؟ میں بار بار تکرار کروا رہا ہوں اسی لیے کہ مشکل مسئلہ ہے، باتیں سمجھ میں آ رہی ہیں؟ جتنا مشکل مسئلہ ہے تکرار زیادہ ہوگا، بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے گی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب دونوں کی جنس ایک ہو تو کس کا اعتبار؟ مشار الیہ کا، جو مشار الیہ ہے وہ مہر بنے گا اور وہ تو آزاد آدمی ہے لہٰذا مہر مثل آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: الْأَصْلُ أَنَّ الْمُسَمَّى إِذَا كَانَ مِنْ جِنْسِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ يَتَعَلَّقُ الْعَقْدُ بِالْمُشَارِ إِلَيْهِ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضابطہ یہ ہے کہ مسمی جب وہ مشار الیہ کی جنس میں سے ہو تو عقد کا تعلق مشار الیہ سے ہوگا، یعنی وہی مہر بنے گا۔ ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ ذَاتًا“، اس لیے کیونکہ مسمی جو ہے وہ موجود ہے مشار الیہ میں ذات کے اعتبار سے۔ بھئی دیکھو نا، آزاد آدمی اور غلام کے منافع ایک جیسے ہیں، ان کے مقاصد تقریباً ایک جیسے ہیں تو لہٰذا یہ ایک جنس ہیں۔ تو اس آدمی نے ذکر کس کو کیا؟ غلام کو، تسمیہ کس کا ہے؟ غلام کا، اور اشارہ کس کی طرف ہے؟ آزاد آدمی کی طرف، تو وہ غلام جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس آدمی میں موجود ہے، کیونکہ آزاد آدمی یہ بھی کسے کہتے ہیں؟ مذکر انسان کو، اور غلام بھی کسے کہتے ہیں؟ مذکر انسان کو۔ تو جس کی طرف اشارہ کیا یہ بھی کیا ہے؟ مذکر انسان ہے، تو دیکھو غلام اپنی ذات کے اعتبار سے اس کے اندر ہی موجود ہے۔ غلام بھی کیا ہے؟ مذکر انسان ہے، تو غلام اپنی ذات کے اعتبار سے موجود ہے، ہاں وصف کے اعتبار سے موجود نہیں کیونکہ یہ آزاد آدمی ہے غلام نہیں۔ تو ذات وہی ہے، وصف وہ والا نہیں۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ ذَاتًا“، اس لیے کیونکہ مسمی یعنی وہ جس کا نام ذکر کیا گیا تھا یعنی غلام جو ہے ”مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ“ وہ اس مشار یعنی آزاد آدمی کے اندر موجود ہے ”ذَاتًا“ اپنی ذات کے اعتبار سے، کیونکہ غلام کی ذات بھی کیا؟ مذکر انسان، اور آزاد آدمی کی ذات بھی کیا؟ مذکر انسان، تو یہاں پر غلام کی ذات موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ ذَاتًا“، تو مسمی جو ہے وہ مشار کے اندر موجود ہے ذات کے اعتبار سے، ”وَالْوَصْفُ يَتْبَعُهُ“، اور وصف تو ذات کے تابع ہوتا ہے، اصل ذات ہے، وصف ذات کے تابع ہوا کرتا ہے۔ تو غلام ہونا یا نہ ہونا یہ وصف ہے، تو اس آزاد آدمی کے اندر غلام کی ذات تو موجود ہے لیکن غلام کا وصف موجود نہیں، وہ تو آزاد آدمی ہے غلام نہیں ہے۔ لیکن کوئی حرج نہیں، وصف ذات کے تابع ہوا کرتا ہے، وصف کا اعتبار نہیں اصل اعتبار ذات کا ہے۔ جب ذات موجود ہے تو وہ مشار الیہ ہی مہر بنے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ ذَاتًا وَالْوَصْفُ يَتْبَعُهُ“، اس لیے کیونکہ وہ جو مسمی ہے وہ موجود ہے مشار الیہ میں ذات کے اعتبار سے اور وصف جو ہے وہ تو ذات کے تابع ہوتا ہے، تابع کا اعتبار نہیں ہوتا اصل کا اعتبار ہوتا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى“، اور اگر مسمی جو ہے وہ مشار الیہ کی جنس کے خلاف ہو تو پھر عقد کا تعلق کس سے ہوگا؟ مسمی سے ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى“، اور اگر مسمی جو ہے مشار الیہ کی جنس کے خلاف ہو، یعنی دونوں کی جنسیں الگ الگ ہوں، تو پھر عقد کا تعلق مسمی سے ہوتا ہے، یعنی مشار الیہ اور مسمی کی جنسیں الگ الگ ہوں تو پھر تسمیہ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا ضابطہ چل رہا ہے۔ تو شراب اور سرکے کی جنس الگ الگ ہے، تو کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ مسمی کا، جس کا نام ذکر کیا تھا، تو لہٰذا اس کا ہم وزن سرکہ دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى لِأَنَّ الْمُسَمَّى مِثْلٌ لِلْمُشَارِ إِلَيْهِ وَلَيْسَ بِتَابِعٍ لَهُ“، اس لیے کیونکہ مسمی مشار الیہ کے مثل تو ہے لیکن اس کے تابع نہیں، ایک جنس دوسری جنس کے تابع نہیں ہوتی، وصف تو ذات کے تابع ہوتا ہے لیکن ایک جنس دوسری جنس کے تابع نہیں ہوتی، لہٰذا یہاں پر مسمی ہی کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ وہ جو غلام والا مسئلہ تھا وہاں ہم نے مشار الیہ کا اعتبار کیا تھا کیونکہ ذات تو وہی تھی، غلام بھی مذکر انسان ہوتا ہے اور وہ آدمی بھی کیا تھا؟ مذکر انسان تھا، تو اسی کا اعتبار کیا جائے گا اور غلامی والے وصف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ وصف تابع ہوتا ہے ذات کا اعتبار کیا جائے گا وصف کا اعتبار نہیں۔ تو وہی ذات ہی جو ہے وہ مہر بنے گی لیکن وہ تو بن نہیں سکتی وہ تو آزاد آدمی ہے تو پھر مہر مثل آ جائے گا۔ لیکن اگر دونوں کی جنسیں الگ الگ ہوں تو پھر وہاں پر ایک جنس کو دوسری جنس کے تابع نہیں بنایا جا سکتا، نام تو سرکے کا ذکر کیا ہے، اشارہ شراب کی طرف ہے لیکن اس شراب کو سرکے کے تابع نہیں بنایا جا سکتا بھئی، کیونکہ جنسیں کیا ہیں؟ الگ ہیں۔ صفت تو ذات کے تابع ہو جاتی ہے لیکن ایک جنس دوسری جنس کے تابع نہیں ہو سکتی، تو لہٰذا اس صورت میں جو مسمی ہے جس کا نام ذکر کیا ہے وہی مہر بنے گا، یہ جو مشار الیہ ہے یہ اس کے تابع ہو کر یہ مہر نہیں بنے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مِثْلٌ لِلْمُشَارِ إِلَيْهِ وَلَيْسَ بِتَابِعٍ لَهُ“، اس لیے کیونکہ مسمی یعنی وہ جو سرکہ ہے وہ مشار الیہ یعنی شراب کے مثل ہے ”وَلَيْسَ بِتَابِعٍ لَهُ“ اور یہ اس کے تابع نہیں ہے، کیونکہ دونوں کی جنسیں الگ الگ ہیں۔ ”وَالتَّسْمِيَةُ أَبْلَغُ فِي التَّعْرِيفِ“، امام صاحب تو فرماتے تھے کہ اشارہ ابلغ ہے پہچان کروانے میں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تسمیہ ابلغ اور اعلیٰ ہے پہچان کروانے میں۔ کس طرح؟ دیکھیے۔ کہتے ہیں: ”وَالتَّسْمِيَةُ أَبْلَغُ فِي التَّعْرِيفِ“، اور تسمیہ جو ہے وہ زیادہ افضل ہے تعریف میں یعنی پہچان کروانے میں، وہ اعلیٰ ہے پہچان کروانے میں، ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهَا تُعَرِّفُ الْمَاهِيَّةَ“، اس حیثیت سے کہ یہ تسمیہ جو ہے یہ ماہیت کی پہچان کروا دیتا ہے، ”وَالْإِشَارَةُ تُعَرِّفُ الذَّاتَ“، اور اشارہ ذات کی پہچان کرواتا ہے۔ دیکھو، اشارہ کرو گے یہ والی چیز، اس سے ذات کی تو پہچان ہو گئی کہ یہ والی چیز مراد ہے کوئی اور چیز مراد نہیں، لیکن ”هَذَا“ یہ کہنے سے اس چیز کی حقیقت کا پتہ نہیں چلا، تو اشارے سے ذات کا تو پتہ چلتا ہے، ذات کی تعیین ہو جاتی ہے کہ یہ والی چیز یہ والی ذات مراد ہے، لیکن اس کی ماہیت کا پتہ نہیں چلتا۔ وہ ”هَذَا“ کتاب بھی ہو سکتی ہے، قلم بھی ہو سکتا ہے، دیوار بھی ہو سکتی ہے، مسجد بھی ہو سکتی ہے، کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے۔ تو ”هَذَا“ سے ذات کا تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، اس کی حقیقت اور ماہیت کا پتہ نہیں چلتا، جبکہ تسمیہ سے ماہیت کا پتہ چل جاتا ہے، تسمیہ سے ماہیت اور حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے۔ مثلاً سرکہ کہا تو سرکے کی ماہیت کا پتہ چل گیا، معلوم ہوا وہ چیز جس کو کھانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ معلوم ہوا اشارے سے صرف ذات کی پہچان ہوتی ہے اور تسمیہ سے کسی چیز کی ماہیت اور حقیقت کی بھی پہچان ہو جاتی ہے۔ تو سرکہ کہا اشارہ نہیں کیا، صرف نام لیا، تو سمجھ گئے کھانے والی چیز کی بات ہو رہی ہے ماہیت کا پتہ چل گیا۔ شراب کہا تو ماہیت کا پتہ چل گیا یعنی وہ چیز جو نشہ آور ہے اور اسلام میں حرام ہے اس کی بات ہو رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تسمیہ ابلغ ہے پہچان کے اندر کیونکہ اس کے ذریعے چیز کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے، اور اشارے کے ذریعے ذات کا تو پتہ چلتا ہے حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّسْمِيَةُ أَبْلَغُ فِي التَّعْرِيفِ مِنْ حَيْثُ إِنَّهَا تُعَرِّفُ الْمَاهِيَّةَ“، اور تسمیہ جو ہے وہ افضل ہے تعریف میں یعنی پہچان کروانے میں، اس حیثیت سے کہ یہ ماہیت کی پہچان کروا دیتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جب ماہیت کا پتہ چل جائے گا تو ماہیت کے منافع کا بھی پتہ چل جائے گا کہ اس کے کیا کیا فائدے ہیں۔ ”وَالْإِشَارَةُ تُعَرِّفُ الذَّاتَ“، اور اشارہ جو ہے وہ صرف ذات کی پہچان کرواتا ہے۔ ”أَلَا تَرَى“، اب مزید وضاحت کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّ مَنِ اشْتَرَى فَصًّا عَلَى أَنَّهُ يَاقُوتٌ فَإِذَا هُوَ زُجَاجٌ لَا يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ“۔ بھئی صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے انگوٹھی وغیرہ کا ایک نگینہ بیچا، آپ جانتے ہیں انگوٹھیوں میں قیمتی پتھر وغیرہ لوگ لگواتے ہیں، تو ایک نگینہ تھا، قیمتی پتھر تھا، ایک شخص نے دوسرے کو بیچا کہ بھئی یہ یاقوت ہے یہ میں تمہیں پانچ سو درہم میں فروخت کرتا ہوں۔ اس نے کہا: مجھے قبول ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو شیشہ تھا بھئی، یہ کیا تھا؟ شیشہ تھا جس کو رنگ دیا گیا تھا، حقیقت میں وہ یاقوت اور وہ قیمتی پتھر نہیں تھا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو یہاں پر ذکر اس نے یاقوت کو کیا لیکن وہ نکلا شیشہ، تو بیع کس پر ہوئی تھی؟ ہاں بیع مسمی پر ہوئی تھی جس کا نام ذکر کیا گیا تھا، اور مسمی تو یہاں موجود ہی نہیں ہے لہٰذا یہ بیع منعقد ہی نہیں ہوگی، کیونکہ مسمی کا اعتبار ہے، کیونکہ دونوں کی جنس الگ ہے، یاقوت کی جنس اور ہے اور شیشے کی جنس اور ہے، تو جب جنس الگ ہو تو کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ تسمیہ کا اعتبار، مسمی کا اعتبار ہوتا ہے، گویا مسمی کی بیع یہاں ہوئی لیکن مسمی تو موجود ہی نہیں یاقوت تو یہاں ہے ہی نہیں، لہٰذا اس صورت میں یہ بیع منعقد نہیں ہوگی۔ جبکہ اس کے برعکس اگر ایک شخص کسی کو ایک یاقوت بیچتا ہے اور مثلاً اندھیرے میں بیچ رہا ہے وہاں روشنی نہیں ہے اور کہتا ہے یہ سرخ یاقوت ہے میں تمہیں پانچ سو درہم میں بیچتا ہوں، بعد میں دیکھا تو وہ سبز یاقوت نکلا، وہ سبز یاقوت نکلا، تو پھر اس صورت میں دیکھو دونوں کی جنس ایک ہے اگرچہ صفت الگ الگ ہے۔ بیع کس کی کر رہا ہے؟ سرخ یاقوت کی، اور نکلا کیا؟ سبز یاقوت، تو جنس تو وہی ہے البتہ صفت الگ الگ ہے تو پھر اس صورت میں بیع منعقد ہو جائے گی، کیونکہ دونوں کی جنس ایک ہے، جنس ایک ہو تو پھر مشار الیہ کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا اس نے سرخ یاقوت کہہ کر بیچا اور وہ سبز یاقوت نکلا تو دونوں کی جنس ایک ہے، جب جنس ایک ہے تو مشار الیہ کا اعتبار ہے اور مشار الیہ یعنی جس کی طرف اشارہ کیا تھا وہ تو موجود تھا بھئی، تو بیع منعقد ہو گئی، البتہ وصف وہ والا نہیں تھا تو مشتری کو اختیار مل جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ صرف صفت الگ ہے پھر اس شخص کو اختیار ہوگا، اس نے تو سرخ سمجھ کر خریدا تھا اور نکلا سبز تو پھر اس خریدار کو اختیار ہوگا، بیع منعقد ہو چکی ہے وہ چاہے اس کو قبول کرے چاہے رد کر دے۔ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّ مَنِ اشْتَرَى فَصًّا“، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ کسی نے کوئی نگینہ خریدا، وہ جو انگوٹھیوں میں پتھر لگایا جاتا ہے اس کو نگینہ کہتے ہیں، ”مَنِ اشْتَرَى فَصًّا عَلَى أَنَّهُ يَاقُوتٌ“، جس نے نگینہ خریدا اس شرط پر کہ یہ یاقوت ہے، ”فَإِذَا هُوَ زُجَاجٌ لَا يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ“، تو اچانک وہ شیشہ تھا ”لَا يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ“ تو عقد منعقد نہیں ہوگا، کیونکہ مسمی یعنی یاقوت موجود ہی نہیں ہے یہاں پر۔ تو کہتے ہیں: ”لَا يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ لِاخْتِلَافِ الْجِنْسِ“، عقد منعقد نہیں ہوگا جنس کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ ”وَلَوِ اشْتَرَى عَلَى أَنَّهُ يَاقُوتٌ أَحْمَرُ فَإِذَا هُوَ أَخْضَرُ يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ لِاتِّحَادِ الْجِنْسِ“، اور اگر خریدا اس شرط پر کہ یہ سرخ یاقوت ہے تو اچانک وہ سبز یاقوت تھا تو عقد منعقد ہو جائے گا جنس کے متحد ہونے کی وجہ سے۔ تو دیکھو امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت کر رہے ہیں صاحب ہدایہ دو مثالوں کے ذریعے، کہتے ہیں: دیکھو مثلاً کوئی شخص یاقوت بیچتا ہے اور وہ شیشہ نکلا تو دونوں کی جنس الگ الگ ہے تو اس صورت میں مسمی کا اعتبار ہوگا اور مسمی تو یاقوت تھا اور وہ تو یہاں موجود ہی نہیں لہٰذا بیع ہی منعقد نہیں ہوگی، اور اگر جنس ایک ہو تو پھر مشار الیہ کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا اس نے سرخ یاقوت کہہ کر بیچا اور وہ سبز یاقوت نکلا تو دونوں کی جنس ایک ہے، جب جنس ایک ہے تو مشار الیہ کا اعتبار ہے اور مشار الیہ یعنی جس کی طرف اشارہ کیا تھا وہ تو موجود تھا بھئی، تو بیع منعقد ہو گئی البتہ وصف وہ والا نہیں تھا تو مشتری کو اختیار مل جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَفِي مَسْأَلَتِنَا الْعَبْدُ مَعَ الْحُرِّ جِنْسٌ وَاحِدٌ“، اب اسی مسئلے کی وضاحت کر رہے ہیں، وہ جو پیچھے بتایا تھا کہ غلام اور آزاد دونوں ایک ہی جنس ہیں، جب ایک ہی جنس ہے تو مشار الیہ کا اعتبار ہوگا اور مشار الیہ تو وہ تو آزاد آدمی ہے لہٰذا وہ تو مہر نہیں بن سکتا تو مہر مثل آ جائے گا، اور جبکہ شراب اور سرکے کے اندر دونوں کی جنسیں الگ الگ تھیں اور جب جنسیں الگ ہوں تو پھر مسمی کا اعتبار ہوتا ہے لہٰذا وہ اتنا ہی سرکہ دینا پڑے گا۔ اب اسی کو بیان کر رہے ہیں: ”وَفِي مَسْأَلَتِنَا الْعَبْدُ مَعَ الْحُرِّ جِنْسٌ وَاحِدٌ“، اور ہمارے مسئلے کے اندر غلام آزاد کے ساتھ جو ہے ”جِنْسٌ وَاحِدٌ“ یہ ایک ہی جنس ہے، ”لِقِلَّةِ التَّفَاوُتِ فِي الْمَنَافِعِ“، اس لیے کیونکہ ان کے منافع اور مقاصد میں بہت تھوڑا فرق ہے، لہٰذا یہاں مشار الیہ کا اعتبار کریں گے۔ ”وَالْخَمْرُ مَعَ الْخَلِّ جِنْسَانِ لِفُحْشِ التَّفَاوُتِ فِي الْمَقَاصِدِ“، اور شراب سرکے کے ساتھ یہ دو الگ جنسیں ہیں اس لیے کیونکہ بہت زیادہ فرق ہے ان کے مقاصد میں، تو لہٰذا یہاں پر مسمی کا اعتبار ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ فَإِذَا أَحَدُهُمَا حُرٌّ فَلَيْسَ لَهَا إِلَّا الْبَاقِي إِذَا سَاوَى عَشَرَةَ دَرَاهِمَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“۔ اب دوسری صورت ہے بھئی، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا کہ مہر میں یہ دو غلام میں تمہیں دوں گا۔ اب ان دو غلاموں میں سے ایک آزاد نکلا، اب وہی ضابطہ ہے لیکن اب صورت مرکب بن گئی۔ پچھلی صورت میں سارا ہی غیر مال نکلا تھا، سرکے کے بجائے شراب نکلی اور غلام کے بجائے آزاد آدمی نکلا، اور شراب بھی مال نہیں اور آزاد آدمی بھی مال نہیں۔ لیکن اب دو غلاموں کی طرف اشارہ کیا دونوں میں سے ایک آزاد نکلا اور ایک غلام ہی ہے۔ تو ضابطے وہی ہیں جو پیچھے ذکر ہو گئے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ تسمیہ اور اشارہ جمع ہو گئے: ”هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ“ یہ والے دو غلام، تو اشارہ بھی ہے اور تسمیہ بھی ہے اور امام صاحب کے نزدیک کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ مشار الیہ کا، تو یہی مہر بنے گا، اور ان میں سے ایک تو آزاد ہے وہ تو مہر بن نہیں سکتا لیکن دوسرا تو مہر بن سکتا ہے لہٰذا یہی مہر بن جائے گا۔ ہاں یہ ہے، یہ مثلاً یہ تو غلام کی مثال ہے کہیں اور کسی اور چیز میں بھی اسی طرح مسئلہ ہو، دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جائے اور دو میں سے ایک مہر بن سکے اور ایک مہر نہ بن سکے تو پھر اس صورت میں یہ دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک مشار الیہ جو ہے وہی مہر بنے گا اور اس میں سے ایک تو آزاد ہے وہ مہر بن نہیں سکتا تو دوسرا جو غلام ہے وہی مہر بن جائے گا لیکن اس کی قیمت دس درہم سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ تو پچھلے مسئلہ میں امام صاحب نے کہا تھا مہر مثل آئے گا، وجہ یہ کہ وہاں سارا ہی مشار الیہ مال نہیں تھا لیکن یہاں کچھ مشار الیہ تو مال ہے تو وہی مہر بن جائے گا، مہر مثل تب آتا ہے جب مسمی نہ ہو، جب مسمی موجود ہے تو پھر مہر مثل نہیں آ سکتا۔ تو امام صاحب کے نزدیک یہی ایک غلام یہی مہر بن جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اشارہ اور تسمیہ جب جمع ہو جائیں تو اس میں تسمیہ کا اعتبار کرتے ہیں۔ تو ان کے نزدیک تسمیہ کا اعتبار ہے اور تسمیہ میں تو دو غلام ذکر کیے ہیں لہٰذا دونوں ہی مہر بنیں گے، لہٰذا ایک تو ہے ہی غلام وہ بھی مہر بن جائے گا، دوسرے کی قیمت لگا لی جائے گی اور وہ قیمت بطور مہر کے دینا پڑے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، امام محمد رحمہ اللہ اس مسئلے میں امام صاحب کے ساتھ تھے، پیچھے جو گزرا تھا اشارہ کیا تھا آزاد آدمی کی طرف اور ذکر کیا تھا غلام کو، تو وہاں کیا آتا تھا؟ مہر مثل، تو امام محمد رحمہ اللہ یہاں بھی فرماتے ہیں کہ یہاں یہی غلام مہر بنے گا لیکن مہر مثل کو پورا کر دیا جائے گا اگر مہر مثل پورا نہیں ہے۔ مثلاً غلام دو ہزار کا ہے اور عورت کا مہر مثل ڈھائی ہزار بنتا ہے تو یہ غلام بھی دے دیں گے اور پانچ سو درہم بھی ساتھ دے دیں گے تاکہ مہر مثل پورا ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک جو مشار الیہ ہے وہی مہر بن جائے گا بس دس درہم سے وہ کم نہیں ہونا چاہیے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جو مسمی ہے وہی دینا پڑے گا لہٰذا دو غلام ہی دینے پڑیں گے بھئی، ایک تو غلام موجود ہے اور دوسرے آزاد کی قیمت لگا لی جائے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں مہر مثل آتا ہے لہٰذا اگر اسی ایک غلام سے مہر مثل پورا ہو رہا ہے یہی دے دیں گے اور اگر مہر مثل اس سے زائد ہے تو ساتھ کچھ اور زائد پیسے بھی ملا کر عورت کو دے دیے جائیں گے۔ ضابطے سمجھ میں آ گئے؟ انہی ضابطوں پر یہ مسئلہ بھی مبنی ہے۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ“، اور اگر کسی شخص نے نکاح کیا کسی عورت سے ”عَلَى هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ“ ان دو غلاموں پر، تو دیکھو اشارہ بھی ہے اور تسمیہ بھی ہے، ”فَإِذَا أَحَدُهُمَا حُرٌّ“، تو ان میں سے اچانک ایک آزاد تھا، ”فَلَيْسَ لَهَا إِلَّا الْبَاقِي“، تو اس عورت کے لیے نہیں ہوگا مگر باقی ہی یعنی وہ ایک غلام، ”إِذَا سَاوَى عَشَرَةَ دَرَاهِمَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، جب یہ دس درہم کے برابر ہو کیونکہ دس سے کم تو مہر نہیں ہو سکتا، امام صاحب کے نزدیک۔ ”لِأَنَّهُ مُسَمًّى“، اس لیے کیونکہ یہی مسمی ہے، یہ ذرا سمجھ لو۔ اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو امام صاحب کے نزدیک کس کا اعتبار؟ اشارے کا، معلوم ہوا یہ جن دو غلاموں کی طرف اشارہ کیا ہے یہی مہر بنیں گے، معلوم ہوا یہی مہر مسمی ہو گیا۔ یہ کیا ہوا؟ مہر مسمی، مہر مسمی کسے کہتے ہیں؟ جو نکاح میں مہر مقرر کیا جائے۔ توجہ ہے؟ پھر دہراؤ ضابطے کو، امام صاحب کے نزدیک جب تسمیہ اور اشارہ جمع ہو جائیں تو کس کا اعتبار؟ اشارے کا، تو جو مشار الیہ ہے اسی نے مہر بننا ہے، وہی مہر مسمی بنے گا، تو لہٰذا ان میں سے ایک تو آزاد ہے وہ تو مہر بن نہیں سکتا لیکن دوسرا تو غلام ہے تو یہی غلام کیا ہو گیا؟ مہر مسمی ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ مُسَمًّى“، اس لیے کیونکہ یہ جو باقی ہے یہی وہ مسمی ہے، ”وَوُجُوبُ الْمُسَمَّى وَإِنْ قَلَّ يَمْنَعُ وُجُوبَ مَهْرِ الْمِثْلِ“، اور جب مسمی واجب ہو رہا ہو اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، وہ مہر مثل کے وجوب سے مانع ہوتا ہے۔ بھئی نکاح میں مہر مثل کب آتا ہے؟ جب مسمی مہر نہ ہو، تو جب مسمی مہر نہ ہو پھر مہر مثل آیا کرتا ہے، اور یہاں تو مسمی موجود ہے، یہ جو مشار الیہ ہے یہی مہر مسمی بن گیا، تو مہر مسمی چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو پھر بھی مہر مثل نہیں آ سکتا، جیسے وہ پیچھے مثال گزری تھی، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا اور پانچ درہم مہر مقرر کیا تھا، اور وہاں آپ نے کیا پڑھا تھا کہ اسی پانچ کو پورا کر دیا جائے گا دس تک بھئی۔ مہر مثل نہیں آئے گا بلکہ اسی پانچ کو دس تک پورا کر دیا جائے گا۔ تو یہاں پر بھی مہر مسمی موجود ہے کیونکہ ایک غلام ہے، اور جب مہر مسمی موجود ہو تو مہر مثل نہیں آتا، چاہے مسمی تھوڑا ہی کیوں نہ ہو پھر بھی مہر مثل نہیں آتا، اگر مسمی تھوڑا ہے تو اس کو دس تک پورا کر دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُسَمًّى وَوُجُوبُ الْمُسَمَّى وَإِنْ قَلَّ يَمْنَعُ وُجُوبَ مَهْرِ الْمِثْلِ“، کیونکہ یہ جو باقی کا غلام ہے یہی مہر مسمی ہے اور مہر مسمی کا واجب ہونا اگرچہ وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو، وہ مہر مسمی مہر مثل کے وجوب کو روک دیتا ہے، یعنی مسمی کے ساتھ مہر مثل نہیں آ سکتا۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَهَا الْعَبْدُ وَقِيمَةُ الْحُرِّ لَوْ كَانَ عَبْدًا“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے یہ والا غلام، امام ابو یوسف کیا فرماتے تھے؟ تسمیہ کا اعتبار ہے اور تسمیہ میں دو غلام ذکر کیے ہیں تو دونوں دینے پڑیں گے، ایک تو غلام ہے وہی دے دیں گے اور دوسرے کی قیمت۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَهَا الْعَبْدُ وَقِيمَةُ الْحُرِّ لَوْ كَانَ عَبْدًا“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے وہ ایک باقی غلام ہوگا اور آزاد آدمی کی قیمت ہوگی اگر وہ غلام ہوتا یعنی اس کی قیمت لگا لیں گے۔ ”لِأَنَّهُ أَطْمَعَهَا سَلَامَةَ الْعَبْدَيْنِ“، اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو لالچ دلایا ہے دو غلاموں کی سلامتی کا، کہ یہ دونوں صحیح سالم غلام میں تمہارے حوالے کروں گا، ”وَعَجَزَ عَنْ تَسْلِيمِ أَحَدِهِمَا فَتَجِبُ قِيمَتُهُ“، اور ان دو میں سے ایک کے سپرد کرنے سے تو وہ عاجز آ گیا وہ خاوند، تو اس ایک کی قیمت واجب ہوگی۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی ایک روایت ہے امام صاحب سے بھی، امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ یہی ایک غلام دیں گے اور اگر یہ مہر مثل سے کم ہے تو مہر مثل تک اس کو پورا کر دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَهَا الْعَبْدُ الْبَاقِي وَتَمَامُ مَهْرِ مِثْلِهَا إِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَكْثَرَ مِنْ قِيمَةِ الْعَبْدِ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی ایک روایت ہے امام صاحب سے بھی، کیا فرماتے ہیں؟ کہ عورت کے لیے یہ باقی کا غلام ہوگا اور پورا کرنا ہوگا مہر مثل کا اگر اس عورت کا مہر مثل اس غلام کی قیمت سے زیادہ ہے، تو اس کو پورا کر دیں گے، وہ اتنے پیسے ساتھ دے دیں گے۔ ”لِأَنَّهُمَا لَوْ كَانَا حُرَّيْنِ يَجِبُ تَمَامُ مَهْرِ الْمِثْلِ“، وہ فرماتے ہیں دیکھو یہ تو ایک غلام آزاد نکلا ہے، اگر دونوں آزاد نکلتے پھر کیا ہوتا؟ پھر وہی جو پچھلے مسئلے میں تھا تسمیہ اور اشارہ جمع ہوئے تھے، یہ والا غلام تمہیں دوں گا اور وہ کیا نکلا؟ آزاد۔ تو جب دونوں کی جنس ایک ہو تو پھر کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ مشار الیہ کا، اور مشار الیہ تو آزاد ہے لہٰذا وہاں مہر مثل آیا۔ چاہے ایک غلام ہو چاہے دس غلام ہوں، دس غلاموں کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا یہ سارے غلام میں تمہیں دوں گا، وہ سارے ہی آزاد نکلے۔ غلام اور آزاد دونوں کی جنس کیا ہے؟ ایک، جب جنس ایک ہو تو کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ مشار الیہ کا، تو ان دس نے ہی مہر بننا تھا لیکن یہ تو سارے آزاد ہیں، جب سارے آزاد ہیں یہ تو مہر نہیں بن سکتے تو پھر کیا آ جائے گا؟ مہر مثل۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دونوں غلام آزاد نکلتے تب بھی مہر مثل نے آنا تھا لہٰذا ایک آزاد نکلا ہے اب بھی مہر مثل آئے گا، لہٰذا یہ غلام جو ایک سالم بچ گیا ہے یہ بھی دیں گے اور مہر مثل کو پورا کر دیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُمَا لَوْ كَانَا حُرَّيْنِ يَجِبُ تَمَامُ مَهْرِ الْمِثْلِ عِنْدَهُ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُهُمَا عَبْدًا يَجِبُ الْعَبْدُ وَتَمَامُ مَهْرِ الْمِثْلِ“، اس لیے کیونکہ اگر یہ دونوں غلام آزاد ہوتے تو بھی مہر مثل پورا واجب ہوتا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، تو جب ان دونوں میں سے ایک غلام ہے تو یہ غلام بھی واجب ہوگا اور مہر مثل کا پورا کرنا بھی ہوگا، اس کو بھی پورا کیا جائے گا اگر پورا نہیں ہو رہا۔ اگر پورا ہو چکا ہے پھر تو اور کچھ مزید دینے کی ضرورت نہیں یہی غلام دے دیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور یاد رکھنا میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صاحب ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ مذاہب بیان کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہ مذہب بیان کرتے ہیں جو مذہب راجح ہو، اور جب دلائل ذکر کرتے ہیں تو جو مذہب راجح ہوتا ہے اس کی دلیل سب سے آخر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ اس مذہب کی دلیل بھی ہو جائے اور باقیوں کے لیے جواب بھی ہو جائے، اور ان دونوں مسئلوں میں آپ دیکھیں صاحب ہدایہ نے امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل کو سب سے آخر میں ذکر فرمایا ہے، معلوم ہوا صاحب ہدایہ یہاں امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ اس کی طرف اشارہ کیا، یہ بھی کیا ہے؟ مذکر انسان ہے۔ تو دیکھو غلام اپنی ذات کے اعتبار سے اس کے اندر بھی موجود ہے۔ جی۔ غلام بھی کیا ہے؟ مذکر انسان ہے۔ تو غلام اپنی ذات کے اعتبار سے موجود ہے، ہاں وصف کے اعتبار سے موجود نہیں کیونکہ یہ آزاد آدمی ہے، غلام نہیں۔ تو ذات وہی ہے، وصف وہ والا نہیں۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ ذَاتًا“ اس لیے کیونکہ مسمی یعنی وہ جس کا نام ذکر کیا گیا تھا یعنی غلام جو ہے ”مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ“ وہ اس مشار یعنی آزاد آدمی کے اندر موجود ہے ”ذَاتًا“ اپنی ذات کے اعتبار سے، کیونکہ غلام کی ذات بھی کیا؟ مذکر انسان، اور آزاد آدمی کی ذات بھی کیا؟ مذکر انسان۔ تو یہاں پر غلام کی ذات موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ ذَاتًا“ تو مسمی جو ہے وہ مشار کے اندر موجود ہے ذات کے اعتبار سے ”وَالْوَصْفُ يَتْبَعُهُ“ اور وصف تو ذات کے تابع ہوتا ہے۔ جی۔ اصل ذات ہے، وصف ذات کے تابع ہوا کرتا ہے۔ تو غلام ہونا یا نہ ہونا، یہ وصف ہے۔ تو اس آزاد آدمی کے اندر غلام کی ذات تو موجود ہے لیکن غلام کا وصف موجود نہیں، وہ تو آزاد آدمی ہے، غلام نہیں ہے۔ لیکن کوئی حرج نہیں، وصف ذات کے تابع ہوا کرتا ہے، وصف کا اعتبار نہیں، اصل اعتبار ذات کا ہے۔ جب ذات موجود ہے تو وہ مشار الیہ مہر بنے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَوْجُودٌ فِي الْمُشَارِ ذَاتًا“ اس لیے کیونکہ وہ جو مسمی ہے وہ موجود ہے مشار الیہ میں ”ذَاتًا“ ذات کے اعتبار سے ”وَالْوَصْفُ يَتْبَعُهُ“ اور وصف جو ہے وہ تو ذات کے تابع ہوتا ہے۔ تابع کا اعتبار نہیں ہوتا، اصل کا اعتبار ہوتا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ“ اور اگر مسمی جو ہے وہ مشار الیہ کی جنس کے خلاف ہو ”يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى“ تو پھر عقد کا تعلق کس سے ہوگا؟ مسمی سے ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ“ اور اگر مسمی جو ہے مشار الیہ کی جنس کے خلاف ہو یعنی دونوں کی جنسیں الگ الگ ہوں ”يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى“ تو پھر عقد کا تعلق مسمی سے ہوتا ہے۔ یعنی مشار الیہ اور مسمی کی جنسیں الگ الگ ہوں تو پھر تسمیہ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا ضابطہ چل رہا ہے۔ تو شراب اور سرکے کی جنس الگ الگ ہے، تو کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ مسمی کا، جس کا نام ذکر کیا تھا، تو لہٰذا اس کا ہم وزن سرکہ دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ“ اور اگر مسمی جو ہے وہ مشار الیہ کی جنس کے خلاف ہو ”يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى“ تو عقد کا تعلق مسمی سے ہوگا ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مِثْلٌ لِلْمُشَارِ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ مسمی مشار الیہ کے مثل تو ہے ”وَلَيْسَ بِتَابِعٍ لَهُ“ لیکن اس کے تابع نہیں، ایک جنس دوسری جنس کے تابع نہیں ہوتی، وصف تو ذات کے تابع ہوتا ہے لیکن ایک جنس دوسری جنس کے تابع نہیں ہوتی، لہٰذا یہاں پر مسمی ہی کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ وہ جو غلام والا مسئلہ تھا وہاں ہم نے مشار الیہ کا اعتبار کیا تھا کیونکہ ذات تو وہی تھی، غلام بھی مذکر انسان ہوتا ہے اور وہ آدمی بھی کیا تھا؟ مذکر انسان تھا، تو اسی کا اعتبار کیا جائے گا اور غلامی والے وصف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ وصف تابع ہوتا ہے، ذات کا اعتبار کیا جائے گا وصف کا اعتبار نہیں، تو وہی ذات ہی جو ہے وہ مہر بنے گی، لیکن وہ تو بن نہیں سکتی وہ تو آزاد آدمی ہے تو پھر مہر مثل آ جائے گا۔ لیکن اگر دونوں کی جنسیں الگ الگ ہوں تو پھر وہاں پر ایک جنس کو دوسری جنس کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔ نام تو سرکے کا ذکر کیا ہے، اشارہ شراب کی طرف ہے لیکن اس شراب کو سرکے کے تابع نہیں بنایا جا سکتا بھئی کیونکہ جنسیں کیا ہیں؟ الگ۔ صفت تو ذات کے تابع ہو جاتی ہے لیکن ایک جنس دوسری جنس کے تابع نہیں ہو سکتی، تو لہٰذا اس صورت میں جو مسمی ہے جس کا نام ذکر کیا ہے وہی مہر بنے گا، یہ جو مشار الیہ ہے یہ اس کے تابع ہو کر یہ مہر نہیں بنے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مِثْلٌ لِلْمُشَارِ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ مسمی یعنی وہ جو سرکہ ہے وہ مشار الیہ یعنی شراب کے مثل ہے ”وَلَيْسَ بِتَابِعٍ لَهُ“ اور یہ اس کے تابع نہیں ہے کیونکہ دونوں کی جنسیں الگ الگ ہیں۔ ”وَالتَّسْمِيَةُ أَبْلَغُ فِي التَّعْرِيفِ“ امام صاحب تو فرماتے تھے کہ اشارہ ابلغ ہے پہچان کروانے میں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تسمیہ ابلغ و اعلیٰ ہے پہچان کروانے میں، کس طرح؟ دیکھیے۔ کہتے ہیں: ”وَالتَّسْمِيَةُ أَبْلَغُ فِي التَّعْرِيفِ“ اور تسمیہ جو ہے وہ زیادہ افضل ہے پہچان کروانے میں، وہ اعلیٰ ہے پہچان کروانے میں ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهَا تُعَرِّفُ الْمَاهِيَّةَ“ اس حیثیت سے کہ تسمیہ جو ہے یہ ماہیت کی پہچان کروا دیتا ہے۔ جی۔ تسمیہ جو ہے ماہیت کی پہچان کروا دیتا ہے ”وَالْإِشَارَةُ تُعَرِّفُ الذَّاتَ“ اور اشارہ ذات کی پہچان کرواتا ہے۔ دیکھو اشارہ کرو گے یہ والی چیز، اس سے ذات کی تو پہچان ہو گئی یہ والی چیز مراد ہے، کوئی اور چیز مراد نہیں، لیکن ھٰذا یہ کہنے سے اس چیز کی حقیقت کا پتہ نہیں چلا۔ تو اشارے سے ذات کا تو پتہ چلتا ہے ذات کی تعین ہو جاتی ہے یہ والی چیز، یہ والی ذات مراد ہے، لیکن اس کی ماہیت کا پتہ نہیں چلتا۔ وہ ھٰذا کتاب بھی ہو سکتی ہے، قلم بھی ہو سکتا ہے، دیوار بھی ہو سکتی ہے، مسجد بھی ہو سکتی ہے، کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے۔ تو ھٰذا سے ذات کا تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، اس کی حقیقت اور ماہیت کا پتہ نہیں چلتا، جبکہ تسمیہ سے ماہیت کا پتہ چل جاتا ہے۔ جی۔ تسمیہ سے ماہیت اور حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے۔ جی۔ مثلاً سرکہ کہا، تو سرکے کی ماہیت کا پتہ چل گیا، معلوم ہوا وہ چیز جس کو کھانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ معلوم ہوا اشارے سے صرف ذات کی پہچان ہوتی ہے اور تسمیہ سے کسی چیز کی ماہیت اور حقیقت کی بھی پہچان ہو جاتی ہے۔ تو سرکہ کہا، اشارہ نہیں کیا صرف نام لیا، تو سمجھ گئے کھانے والی چیز کی بات ہو رہی ہے، ماہیت کا پتہ چل گیا۔ شراب کہا، تو ماہیت کا پتہ چل گیا یعنی وہ چیز جو نشہ آور ہے اور اسلام میں حرام ہے اس کی بات ہو رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تسمیہ ابلغ ہے پہچان کے اندر کیونکہ اس کے ذریعے چیز کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے، اور اشارے کے ذریعے ذات کا تو پتہ چلتا ہے حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّسْمِيَةُ أَبْلَغُ فِي التَّعْرِيفِ“ اور تسمیہ جو ہے وہ افضل ہے تعریف میں یعنی پہچان کروانے میں ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهَا تُعَرِّفُ الْمَاهِيَّةَ“ اس حیثیت سے کہ یہ ماہیت کی پہچان کروا دیتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جب ماہیت کا پتہ چل جائے گا تو ماہیت کے منافع کا بھی پتہ چل جائے گا جی کہ اس کے کیا کیا فائدے ہیں۔ ”وَالْإِشَارَةُ تُعَرِّفُ الذَّاتَ“ اور اشارہ جو ہے وہ صرف ذات کی پہچان کرواتا ہے۔ ”أَلَا تَرَى“ اب مزید وضاحت کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّ مَنِ اشْتَرَى فَصًّا عَلَى أَنَّهُ يَاقُوتٌ فَإِذَا هُوَ زَجَاجٌ لَا يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے انگوٹھی وغیرہ کا ایک نگینہ بیچا، آپ جانتے ہیں انگوٹھیوں میں قیمتی پتھر وغیرہ لوگ لگواتے ہیں، تو ایک نگینہ تھا، قیمتی پتھر تھا ایک شخص نے دوسرے کو بیچا کہ بھئی یہ یاقوت ہے، یہ میں تمہیں پانچ سو درہم میں فروخت کرتا ہوں۔ جی۔ اس نے کہا: مجھے قبول ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو شیشہ تھا بھئی۔ یہ کیا تھا؟ شیشہ تھا جس کو رنگ دیا گیا تھا، حقیقت میں وہ یاقوت اور وہ قیمتی پتھر نہیں تھا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو یہاں پر ذکر اس نے یاقوت کا کیا لیکن وہ نکلا شیشہ، تو بیع کس پر ہوئی تھی؟ ہاں، بیع مسمی پر ہوئی تھی جس کا نام ذکر کیا گیا تھا، اور مسمی تو یہاں موجود ہی نہیں ہے، لہٰذا یہ بیع منعقد ہی نہیں ہوگی۔ جی۔ کیونکہ مسمی کا اعتبار ہے، کیونکہ دونوں کی جنس الگ ہے، یاقوت کی جنس اور ہے اور شیشے کی جنس اور ہے۔ تو جب جنس الگ ہو تو کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ تسمیہ کا اعتبار، مسمی کا اعتبار ہوتا ہے، گویا مسمی کی بیع یہاں ہوئی لیکن مسمی تو موجود ہی نہیں، یاقوت تو یہاں ہے ہی نہیں، تو لہٰذا اس صورت میں یہ بیع منعقد نہیں ہوگی۔ جبکہ اس کے برعکس اگر ایک شخص کسی کو ایک یاقوت بیچتا ہے اور مثلاً اندھیرے میں بیچ رہا ہے وہاں روشنی نہیں ہے، اور کہتا ہے یہ سرخ یاقوت ہے میں تمہیں پانچ سو درہم میں بیچتا ہوں، بعد میں دیکھا تو وہ سبز یاقوت نکلا۔ جی۔ وہ سبز یاقوت نکلا، تو پھر اس صورت میں دیکھو دونوں کی جنس ایک ہے اگرچہ صفت الگ الگ ہے۔ بیع کس کی کر رہا ہے؟ سرخ یاقوت کی، اور نکلا کیا؟ سبز یاقوت۔ تو جنس تو وہی ہے البتہ صفت الگ الگ ہے، تو پھر اس صورت میں بیع منعقد ہو جائے گی کیونکہ دونوں کی جنس ایک ہے۔ جنس ایک ہو تو پھر مشار الیہ کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا اس نے سرخ یاقوت کہہ کر بیچا اور وہ سبز یاقوت نکلا، تو دونوں کی جنس ایک ہے، جب جنس ایک ہے تو مشار الیہ کا اعتبار ہے، اور مشار الیہ یعنی جس کی طرف اشارہ کیا تھا وہ تو موجود تھا بھئی۔ تو بیع منعقد ہو گئی، البتہ وصف وہ والا نہیں تھا تو مشتری کو اختیار مل جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ صرف صفت الگ ہے، پھر اس شخص کو اختیار ہوگا، اس نے تو سرخ سمجھ کر خریدا تھا اور نکلا سبز تو پھر اس خریدار کو اختیار ہوگا، بیع منعقد ہو چکی ہے، وہ چاہے اس کو قبول کرے چاہے رد کر دے۔ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّ مَنِ اشْتَرَى فَصًّا“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جس نے نگینہ خریدا، وہ جو انگوٹھیوں میں پتھر لگایا جاتا ہے اس کو نگینہ کہتے ہیں، ”مَنِ اشْتَرَى فَصًّا“ جس نے نگینہ خریدا ”عَلَى أَنَّهُ يَاقُوتٌ“ اس شرط پر کہ یہ یاقوت ہے ”فَإِذَا هُوَ زَجَاجٌ“ تو اچانک وہ شیشہ تھا ”لَا يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ“ تو عقد منعقد نہیں ہوگا، کیونکہ مسمی یعنی یاقوت موجود ہی نہیں ہے یہاں پر۔ تو کہتے ہیں: ”لَا يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ لِاخْتِلَافِ الْجِنْسِ“ عقد منعقد نہیں ہوگا جنس کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ ”وَلَوِ اشْتَرَى عَلَى أَنَّهُ يَاقُوتٌ أَحْمَرُ“ اور اگر خریدا اس شرط پر کہ یہ سرخ یاقوت ہے ”فَإِذَا هُوَ أَخْضَرُ“ تو اچانک وہ سبز یاقوت تھا ”يَنْعَقِدُ الْعَقْدُ لِاتِّحَادِ الْجِنْسِ“ تو عقد منعقد ہو جائے گا جنس کے متحد ہونے کی وجہ سے۔ تو دیکھو امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ دو مثالوں کے ذریعے، کہتے ہیں: دیکھو مثلاً کوئی شخص یاقوت بیچتا ہے اور وہ شیشہ نکلا تو دونوں کی جنس الگ الگ ہے، تو اس صورت میں مسمی کا اعتبار ہوگا اور مسمی تو یاقوت تھا اور وہ تو یہاں موجود ہی نہیں لہٰذا بیع ہی منعقد نہیں ہوگی، اور اگر جنس ایک ہو تو پھر مشار الیہ کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا اس نے سرخ یاقوت کہہ کر بیچا اور وہ سبز یاقوت نکلا تو دونوں کی جنس ایک ہے، جب جنس ایک ہے تو مشار الیہ کا اعتبار ہے اور مشار الیہ یعنی جس کی طرف اشارہ کیا تھا وہ تو موجود تھا بھئی، تو بیع منعقد ہو گئی، البتہ وصف وہ والا نہیں تھا تو مشتری کو اختیار مل جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَفِي مَسْأَلَتِنَا الْعَبْدُ مَعَ الْحُرِّ جِنْسٌ وَاحِدٌ“ اب اسی مسئلے کی وضاحت کر رہے ہیں، وہ جو پیچھے بتایا تھا کہ غلام اور آزاد دونوں ایک ہی جنس ہیں، جب ایک ہی جنس ہے تو مشار الیہ کا اعتبار ہوگا اور مشار الیہ تو وہ تو آزاد آدمی ہے، لہٰذا وہ تو مہر نہیں بن سکتا تو مہر مثل آ جائے گا۔ اور جبکہ شراب اور سرکے کے اندر دونوں کی جنسیں الگ الگ تھیں اور جب جنسیں الگ ہوں تو پھر تو پھر مسمی کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا وہ اتنا ہی سرکہ دینا پڑے گا۔ اب اسی کو بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَفِي مَسْأَلَتِنَا الْعَبْدُ مَعَ الْحُرِّ جِنْسٌ وَاحِدٌ“ اور ہمارے مسئلے کے اندر غلام آزاد کے ساتھ جو ہے ”جِنْسٌ وَاحِدٌ“ یہ ایک ہی جنس ہے ”لِقِلَّةِ التَّفَاوُتِ فِي الْمَنَافِعِ“ اس لیے کیونکہ ان کے منافع اور مقاصد میں بہت تھوڑا فرق ہے، لہٰذا یہاں مشار الیہ کا اعتبار کریں گے۔ ”وَالْخَمْرُ مَعَ الْخَلِّ جِنْسَانِ“ اور شراب سرکے کے ساتھ یہ دو الگ جنسیں ہیں ”لِفُحْشِ التَّفَاوُتِ فِي الْمَقَاصِدِ“ اس لیے کیونکہ بہت زیادہ فرق ہے ان کے مقاصد میں، تو لہٰذا یہاں پر مسمی کا اعتبار ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ فَإِذَا أَحَدُهُمَا حُرٌّ فَلَيْسَ لَهَا إِلَّا الْبَاقِي إِذَا سَاوَى عَشَرَةَ دَرَاهِمَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب دوسری صورت ہے بھئی۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا کہ مہر میں یہ دو غلام میں تمہیں دوں گا، اب ان دو غلاموں میں سے ایک آزاد نکلا۔ جی۔ دو غلاموں میں سے ایک آزاد نکلا، اب یہی وہی ضابطہ ہے لیکن اب صورت مرکب بن گئی۔ پچھلی صورت میں سارا ہی غیر مال نکلا تھا، سرکے کے بجائے شراب نکلی اور غلام کے بجائے آزاد آدمی نکلا، اور شراب بھی مال نہیں اور آزاد آدمی بھی مال نہیں۔ لیکن اب دو غلاموں کی طرف اشارہ کیا، دونوں میں سے ایک آزاد نکلا اور ایک غلام ہی ہے۔ تو ضابطے وہی ہیں جو پیچھے ذکر ہو گئے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ تسمیہ اور اشارہ جمع ہو گئے: ”هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ“ یہ والے دو غلام، تو اشارہ بھی ہے اور تسمیہ بھی ہے، اور امام صاحب کے نزدیک کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ مشار الیہ کا۔ تو یہی مہر بنے گا، اور ان میں سے ایک تو آزاد ہے وہ تو مہر بن نہیں سکتا لیکن دوسرا تو مہر بن سکتا ہے، لہٰذا یہی مہر بن جائے گا۔ جی۔ ہاں یہ ہے، یہ مثلاً یہ تو غلام کی مثال ہے، کہیں اور کسی اور چیز میں بھی اسی طرح مسئلہ ہو، دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جائے اور دو میں سے ایک مہر بن سکے اور ایک مہر نہ بن سکے، تو پھر اس صورت میں یہ دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک مشار الیہ جو ہے وہی مہر بنے گا اور اس میں سے ایک تو آزاد ہے وہ مہر بن نہیں سکتا تو دوسرا جو غلام ہے وہی مہر بن جائے گا لیکن اس کی قیمت دس درہم سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ تو پچھلے مسئلہ میں امام صاحب نے کہا تھا مہر مثل آئے گا، وجہ یہ کہ وہاں سارا ہی مشار الیہ مال نہیں تھا۔ جی۔ لیکن یہاں کچھ مشار الیہ تو مال ہے، تو وہی مہر بن جائے گا۔ مہر مثل تب آتا ہے جب مسمی نہ ہو، جب مسمی موجود ہے تو پھر مہر مثل نہیں آ سکتا۔ تو امام صاحب کے نزدیک ایک غلام یہی مہر بن جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اشارہ اور تسمیہ جب جمع ہو جائیں تو اس میں تسمیہ کا اعتبار کرتے ہیں۔ جی۔ تو ان کے نزدیک تسمیہ کا اعتبار ہے اور تسمیہ میں تو دو غلام ذکر کیے ہیں لہٰذا دونوں ہی مہر بنیں گے۔ جی۔ لہٰذا ایک تو ہے ہی غلام وہ بھی مہر بن جائے گا، دوسرے کی قیمت لگا لی جائے گی اور وہ قیمت بطورِ مہر کے دینا پڑے گی۔ جی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ اس مسئلے میں امام صاحب کے ساتھ تھے، پیچھے جو گزرا تھا اشارہ کیا تھا آزاد آدمی کی طرف اور ذکر کیا تھا غلام کو تو وہاں کیا آتا تھا؟ مہر مثل۔ تو امام محمد رحمہ اللہ یہاں بھی فرماتے ہیں کہ یہاں یہی غلام مہر بنے گا لیکن مہر مثل کو پورا کر دیا جائے گا اگر مہر مثل پورا نہیں ہے۔ جی۔ مثلاً غلام دو ہزار کا ہے اور عورت کا مہر مثل ڈھائی ہزار بنتا ہے تو یہ غلام بھی دے دیں گے اور پانچ سو درہم بھی ساتھ دے دیں گے تاکہ مہر مثل پورا ہو جائے۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک جو مشار الیہ ہے وہی مہر بن جائے گا بس دس درہم سے وہ کم نہیں ہونا چاہیے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جو مسمی ہے وہی دینا پڑے گا لہٰذا دو غلام ہی دینے پڑیں گے بھئی، ایک تو غلام موجود ہے اور دوسرے آزاد کی قیمت لگا لی جائے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں مہر مثل آتا ہے، لہٰذا اگر اسی ایک غلام سے مہر مثل پورا ہو رہا ہے یہی دے دیں گے، اور اگر مہر مثل اس سے زائد ہے تو ساتھ کچھ اور زائد پیسے بھی ملا کر عورت کو دے دیے جائیں گے۔ جی۔ ضابطے سمجھ میں آ گئے؟ انہی ضابطوں پر یہ مسئلہ بھی مبنی ہے۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ“ اور اگر کسی شخص نے نکاح کیا کسی عورت سے ”عَلَى هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ“ ان دو غلاموں پر، تو دیکھو اشارہ بھی ہے اور تسمیہ بھی ہے ”فَإِذَا أَحَدُهُمَا حُرٌّ“ تو ان میں سے اچانک ایک آزاد تھا ”فَلَيْسَ لَهَا إِلَّا الْبَاقِي“ تو اس عورت کے لیے نہیں ہوگا مگر باقی ہی یعنی وہ ایک غلام ”إِذَا سَاوَى عَشَرَةَ دَرَاهِمَ“ جب یہ دس درہم کے برابر ہو، کیونکہ دس سے کم تو مہر نہیں ہو سکتا ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”لِأَنَّهُ مُسَمًّى“ اس لیے کیونکہ یہی مسمی ہے، یہ ذرا سمجھ لو۔ اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں تو امام صاحب کے نزدیک کس کا اعتبار؟ اشارے کا۔ معلوم ہوا یہ جن دو غلاموں کی طرف اشارہ کیا ہے یہی مہر بنیں گے، معلوم ہوا یہی مہرِ مسمی ہو گیا۔ جی۔ یہ کیا ہوا؟ مہر مسمی۔ مہر مسمی کسے کہتے ہیں؟ جو نکاح میں مہر مقرر کیا جائے۔ توجہ ہے؟ پھر دہراؤ ضابطے کو۔ امام صاحب کے نزدیک جب تسمیہ اور اشارہ جمع ہو جائیں تو کس کا اعتبار؟ اشارے کا، تو جو مشار الیہ ہے اسی نے مہر بننا ہے، وہی مہر مسمی بنے گا۔ جی۔ وہی کیا ہے؟ مہر مسمی بنے گا، تو لہٰذا ان میں سے ایک تو آزاد ہے وہ تو مہر بن نہیں سکتا لیکن دوسرا تو غلام ہے تو یہی غلام کیا ہو گیا؟ مہر مسمی ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ مُسَمًّى“ اس لیے کیونکہ یہ جو باقی ہے یہی وہ مسمی ہے ”وَوُجُوبُ الْمُسَمَّى“ اور جب مسمی واجب ہو رہا ہو ”وَإِنْ قَلَّ“ اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ”يَمْنَعُ وُجُوبَ مَهْرِ الْمِثْلِ“ وہ مہر مثل کے وجوب سے مانع ہوتا ہے۔ بھئی نکاح میں مہر مثل کب آتا ہے؟ جب مسمی مہر نہ ہو۔ تو جب مسمی مہر نہ ہو پھر مہر مثل آیا کرتا ہے اور یہاں تو مسمی موجود ہے، یہ جو مشار الیہ ہے یہی مہر مسمی بن گیا، تو مہر مسمی چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو پھر بھی مہر مثل نہیں آ سکتا، جیسے وہ پیچھے مثال گزری تھی، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا اور پانچ درہم مہر مقرر کیا تھا، اور وہاں آپ نے کیا پڑھا تھا؟ کہ اسی پانچ کو پورا کر دیا جائے گا دس تک بھئی۔ جی۔ مہر مثل نہیں آئے گا بلکہ اسی پانچ کو دس تک پورا کر دیا جائے گا۔ تو یہاں پر بھی مہر مسمی موجود ہے کیونکہ ایک غلام ہے، اور جب مہر مسمی موجود ہو تو مہر مثل نہیں آتا، چاہے مسمی تھوڑا ہی کیوں نہ ہو پھر بھی مہر مثل نہیں آتا، اگر مسمی تھوڑا ہے تو اس کو دس تک پورا کر دیا جاتا ہے۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُسَمًّى“ کیونکہ یہ جو باقی کا غلام ہے یہی مہر مسمی ہے ”وَوُجُوبُ الْمُسَمَّى وَإِنْ قَلَّ يَمْنَعُ وُجُوبَ مَهْرِ الْمِثْلِ“ اور مہر مسمی کا واجب ہونا اگرچہ وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو وہ مہر مسمی ”يَمْنَعُ وُجُوبَ مَهْرِ الْمِثْلِ“ یہ مہر مثل کے وجوب کو روک دیتا ہے، یعنی مسمی کے ساتھ مہر مثل نہیں آ سکتا۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَهَا الْعَبْدُ وَقِيمَةُ الْحُرِّ لَوْ كَانَ عَبْدًا“ کہ اس عورت کے لیے یہ والا غلام، امام ابو یوسف کیا فرماتے تھے؟ تسمیہ کا اعتبار ہے اور تسمیہ میں دو غلام ذکر کیے ہیں تو دونوں دینے پڑیں گے، ایک تو غلام ہے وہی دے دیں گے اور دوسرے کی قیمت۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَهَا الْعَبْدُ وَقِيمَةُ الْحُرِّ لَوْ كَانَ عَبْدًا“ کہ اس عورت کے لیے وہ ایک باقی غلام ہوگا ”وَقِيمَةُ الْحُرِّ“ اور آزاد آدمی کی قیمت ہوگی ”لَوْ كَانَ عَبْدًا“ اگر وہ غلام ہوتا، یعنی اس کی قیمت لگا لیں گے ”لِأَنَّهُ أَطْمَعَهَا سَلَامَةَ الْعَبْدَيْنِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو لالچ دلایا ہے ”سَلَامَةَ الْعَبْدَيْنِ“ دو غلاموں کی سلامتی کا کہ یہ دونوں صحیح سالم غلام میں تمہارے حوالے کروں گا ”وَعَجَزَ عَنْ تَسْلِيمِ أَحَدِهِمَا“ اور ان دو میں سے ایک کے سپرد کرنے سے تو وہ عاجز آ گیا وہ خاوند ”فَتَجِبُ قِيمَتُهُ“ تو اس ایک کی قیمت واجب ہوگی۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت امام صاحب سے بھی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ یہی ایک غلام دیں گے اور اگر یہ مہر مثل سے کم ہے تو مہر مثل تک اس کو پورا کر دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی ایک روایت ہے امام صاحب سے بھی، کیا فرماتے ہیں؟ کہ ”لَهَا الْعَبْدُ الْبَاقِي وَتَمَامُ مَهْرِ مِثْلِهَا“ کہ عورت کے لیے یہ باقی کا غلام ہوگا اور پورا کرنا ہوگا مہر مثل کا ”إِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَكْثَرَ مِنْ قِيمَةِ الْعَبْدِ“ اگر اس عورت کا مہر مثل اس غلام کی قیمت سے زیادہ ہے تو اس کو پورا کر دیں گے، وہ اتنے پیسے ساتھ دے دیں گے۔ ”لِأَنَّهُمَا لَوْ كَانَا حُرَّيْنِ يَجِبُ تَمَامُ مَهْرِ الْمِثْلِ“ وہ فرماتے ہیں دیکھو یہ تو ایک غلام آزاد نکلا ہے، اگر دونوں آزاد نکلتے پھر کیا ہوتا؟ پھر وہی جو پچھلے مسئلے میں تھا، پچھلے مسئلے میں تسمیہ اور اشارہ جمع ہوئے تھے، یہ والا غلام تمہیں دوں گا، اور وہ کیا نکلا؟ آزاد۔ تو جب دونوں کی جنس ایک ہو تو پھر کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ مشار الیہ کا، اور مشار الیہ تو آزاد ہے، لہٰذا وہاں مہر مثل آیا۔ چاہے ایک غلام ہو چاہے دس غلام ہوں، دس غلاموں کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا: یہ سارے غلام میں تمہیں دوں گا، وہ سارے ہی آزاد نکلے۔ غلام اور آزاد دونوں کی جنس کیا ہے؟ ایک۔ جب جنس ایک ہو تو کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ مشار الیہ کا، تو ان دس نے ہی مہر بننا تھا لیکن یہ تو سارے آزاد ہیں، جب سارے آزاد ہیں یہ تو مہر نہیں بن سکتے تو پھر کیا آ جائے گا؟ مہر مثل۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر دونوں غلام آزاد نکلتے تب بھی مہر مثل نے آنا تھا، لہٰذا ایک آزاد نکلا ہے اب بھی مہر مثل آئے گا، لہٰذا یہ غلام جو ایک سالم بچ گیا ہے یہ بھی دیں گے اور مہر مثل کو پورا کر دیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُمَا لَوْ كَانَا حُرَّيْنِ يَجِبُ تَمَامُ مَهْرِ الْمِثْلِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ اگر یہ دونوں غلام آزاد ہوتے تو بھی مہر مثل پورا واجب ہوتا ”عِنْدَهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”فَإِذَا كَانَ أَحَدُهُمَا عَبْدًا يَجِبُ الْعَبْدُ وَتَمَامُ مَهْرِ الْمِثْلِ“ تو جب ان دونوں میں سے ایک غلام ہے تو ”يَجِبُ الْعَبْدُ“ تو یہ غلام بھی واجب ہوگا ”وَتَمَامُ مَهْرِ الْمِثْلِ“ اور مہر مثل کا پورا کرنا بھی ہوگا، اس کو بھی پورا کیا جائے گا اگر پورا نہیں ہو رہا۔ اگر پورا ہو چکا ہے پھر تو اور کچھ مزید دینے کی ضرورت نہیں، یہی غلام دے دیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور یاد رکھنا میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ مذاہب بیان کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہ مذہب بیان کرتے ہیں جو مذہب راجح ہو، اور جب دلائل ذکر کرتے ہیں تو جو مذہب راجح ہوتا ہے اس کی دلیل سب سے آخر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ اس مذہب کی دلیل بھی ہو جائے اور باقیوں کے لیے جواب بھی ہو جائے، اور ان دونوں مسئلوں میں آپ دیکھیں صاحبِ ہدایہ نے امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل کو سب سے آخر میں ذکر فرمایا ہے، معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ یہاں امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں بھئی۔ چلیے، بس بھئی! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 31 of 160