Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-073

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 65
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”فَإِنْ أُعْتِقَتِ الْأَمَةُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ انْتَقَلَتْ عِدَّتُهَا إِلَى عِدَّةِ الْحَرَائِرِ لِقِيَامِ النِّكَاحِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ، وَإِنْ أُعْتِقَتْ وَهِيَ مَبْتُوتَةٌ أَوْ مُتَوَفًّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَمْ تَنْتَقِلْ عِدَّتُهَا إِلَى عِدَّةِ الْحَرَائِرِ لِزَوَالِ النِّكَاحِ بِالْبَيْنُونَةِ أَوِ الْمَوْتِ“۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے عدت کا باب شروع کیا تھا بھئی، اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ کوئی شخص جب اپنی بیوی کو طلاق دے چاہے طلاقِ بائن ہو یا طلاقِ رجعی ہو، یعنی خاوند بیوی سے صحبت کر چکا ہو، تو چاہے وہ طلاقِ بائن دے چاہے رجعی دے یا ان میں بغیر طلاق کے جدائی واقع ہو جائے اور حال یہ ہے کہ یہ عورت آزاد عورت ہے جس کو حیض آتا ہے، تو اس کی عدت تین حیض ہیں کیونکہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ“ کہ وہ عورتیں جن کو طلاق دی گئی ہے وہ اپنے آپ کو روکے رکھیں، وہ اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں، ”ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ“ ان تین حیضوں تک بھئی۔ اور جس طرح یہ مطلقَات کے اندر عدت ہے اسی طرح اگر جدائی بغیر طلاق کے ہو مثلاً عورت کی طرف سے جدائی آئی ہے، تو اس صورت کے اندر بھی ان پر یہی عدت واجب ہوگی کیونکہ اس عدت کا مقصد جو ہے یہ رحم کی صفائی کو جاننا ہے، تو یہی علت وہاں بھی پائی جائے گی کیونکہ وہ عورت جہاں جدائی بغیر طلاق کے آئی ہے وہاں بھی خاوند صحبت کر چکا ہے، تو وہاں بھی رحم کی صفائی کا جاننا ضروری ہے تو اس پر بھی یہی عدت واجب ہوگی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ قرآن میں قروء کا لفظ آیا ہے اور یہ اضداد میں سے ہے، یعنی اس کا معنی طہر بھی ہے اور اس کا معنی حیض بھی ہے۔ لیکن ہم نے اس کو حیض پر محمول کیا کہ عورت کی عدت تین حیض ہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو طہر پر محمول کیا کہ عورت کی عدت تین طہر ہیں۔ لیکن پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ حیض پر اس کو محمول کرنا اولیٰ ہے بھئی۔ یا تو اس لیے کیونکہ قروء جمع کا لفظ ہے اور جمع کے افراد کم از کم تین ہوتے ہیں، تو قروء کا معنی حیض کے کریں گے تو پورے تین حیض عدت کے اندر آ جائیں گے تو جمع پر عمل ہو جائے گا۔ اور اگر اس سے طہر مراد لیں اس قروء سے، تو پھر اس صورت کے اندر جس طہر کے اندر عورت کو طلاق دی گئی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ اس کو بھی عدت کے اندر شمار کرتے ہیں، تو ایک یہ والا طہر اور دو اگلے طہر تو یہ تو پورے تین طہر نہ ہوئے کیونکہ پہلے طہر کا کچھ حصہ گزر چکا تھا، تو جمع پر عمل نہ ہو سکے گا۔ تو لہٰذا حیض پر اس قروء کو محمول کرنا اولیٰ ہے۔ یا دوسری وجہ انہوں نے یہ ذکر کی کیونکہ یہ جو عدت کا مقصد ہوتا ہے وہ رحم کی صفائی کو جاننا ہے، اور اس کا پتہ حیض سے چلتا ہے طہر سے پتہ نہیں چلتا۔ یا تیسری وجہ یہ ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ باندی کی عدت دو حیض ہیں۔ جب باندی کے اندر عدت حیض کے ساتھ شمار ہو رہی ہے تو معلوم ہوا آزاد عورت کے اندر بھی عدت حیض کے ساتھ ہی شمار ہوگی بھئی۔ اور اگر عورت ایسی ہے کہ جس کو حیض نہیں آتا صغیرہ ہونے کی وجہ سے یا بڑی عمر والی ہونے کی وجہ سے، میں نے بتایا تھا کہ پچاس پچپن سال کی عمر میں عورت کو حیض آنا بند ہو جاتے ہیں اور اس کو آیسہ کہتے ہیں۔ آیسہ کا معنی ہے ناامید، یعنی اگر ابھی تک اس عورت کی اولاد نہیں ہوئی تو اب یہ اولاد سے مکمل مایوس ہے اب اولاد ہونے کا امکان نہیں بھئی۔ تو لہٰذا اگر عورت ایسی ہے جس کو حیض نہیں آتا، یعنی چاہے صغیرہ ہے یا بڑی عمر والی ہے، پچاس پچپن سال سے زائد عمر والی ہے، تو ان کو تو حیض آتا نہیں، تو ان کی عدت تین مہینے ہیں بھئی۔ اور اسی طرح وہ لڑکی جو عمر کے اعتبار سے تو بالغہ ہو گئی ہے لیکن ابھی اس کو حیض شروع نہیں ہوئے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صاحبین کے نزدیک اگر لڑکی پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو شرعاً یہ بالغہ متصور ہوگی اور اس پر تمام بالغوں کے احکام جاری ہو جائیں گے، اور جبکہ امام صاحب کے نزدیک بلوغت کی عمر سترہ سال ہے۔ لیکن علماء نے صاحبین کے قول کو ترجیح دی ہے، تو اگر کوئی لڑکی پندرہ سال کی عمر کو پہنچ گئی ہے اور ابھی تک اس کو حیض شروع نہیں ہوئے تو اس کی عدت بھی تین مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی بھئی۔ اور اگر وہ عورت جس کو طلاق ملی ہے وہ حاملہ ہے، تو اس کی عدت جو ہے وضعِ حمل ہے بھئی۔ اور اگر باندی ہے تو اس کی عدت دو حیض ہیں بھئی۔ اور اگر باندی کو حیض نہیں آتے تو پھر اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہے، وجہ یہ ہے کہ مہینے کی تو تنصیف ہو سکتی ہے البتہ حیض کی تنصیف نہیں ہو سکتی، تو دوسرے حیض کو بھی پورا کر لیا جائے گا، تو حیضوں میں عدت گزارے گی تو دو پورے حیض اور اگر حیض نہیں آتے باندی کو تو پھر اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے عدتِ وفات ذکر فرمائی کہ اگر آزاد عورت جو ہے اس کے خاوند کا انتقال ہو جائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہیں بھئی، اور جبکہ باندی کی عدت نصف ہوگی اگر اس کے خاوند کا انتقال ہو جائے تو پھر باندی کی عدت دو مہینے پانچ دن ہوگی۔ اور اگر وہ عورت حاملہ ہے جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہے، تو اس کی عدت وضعِ حمل ہے بھئی، وجہ یہ کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ“ اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل کو جنم دے دیں، تو یہاں مطلقاً حمل والیوں کی عدت جو ہے وضعِ حمل کو قرار دیا گیا ہے، یہاں کوئی فرق نہیں کیا گیا کہ یہ آزاد ہوگی تو تب یہ عدت ہے، تو معلوم ہوا کہ عورت چاہے آزاد ہو چاہے باندی ہو لیکن اگر وہ حاملہ ہے خاوند کی وفات کے وقت تو اس کی عدت وضعِ حمل ہے۔ اور نیز یہ آیت مطلق ہے اس میں یہ بھی نہیں ذکر کہ یہ وفات کی عدت ہے یا یہ طلاق وغیرہ کی عدت ہے، معلوم ہوا عورت کو چاہے طلاق ملے، چاہے خاوند کا انتقال ہو، چاہے آزاد ہو، چاہے باندی ہو، اگر وہ خاوند کی وفات کے وقت یا طلاق کے وقت حاملہ ہے تو تمام احوال کے اندر اس کی عدت وضعِ حمل ہے بھئی، کیونکہ قرآن کے اندر مطلق آیا ہے بھئی۔ اور چنانچہ پھر حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بھی ذکر فرمایا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو سورۃ النساء القصریٰ ہے یعنی چھوٹی سورۃ النساء ہے یعنی سورۃ الطلاق، یہ سورۃ البقرہ کی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اور سورۃ البقرہ کی آیت کے اندر تو عدت چار مہینے دس دن ذکر ہے لیکن اس کے اندر عدت وضعِ حمل ہے معلوم ہوا یہ پہلے حکم کے لیے ناسخ ہے بھئی۔ تو حاملہ کی عدت ہر حال میں وضعِ حمل ہی ہوگی، چاہے عدتِ وفات ہے چاہے عدتِ نکاح ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر مسئلہ ذکر فرمایا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر ایک عورت ہے اس کا خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے اور وہ اپنی اس بیوی کو طلاقِ بائن دے دیتا ہے یا تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو اس کی عدت تین حیض ہیں۔ لیکن اسی دوران عدت کے اندر ہی خاوند کا انتقال ہو گیا تو اس صورت کے اندر یہ عورت وارثہ بنے گی، کیونکہ ویسے تو طلاقِ بائن والی یا تین طلاقوں والی جو ہوتی ہے وہ خاوند کی وارثہ نہیں بنتی چاہے خاوند کا عدت کے اندر ہی انتقال کیوں نہ ہو جائے۔ لیکن یہاں معاملہ خاص ہے کہ یہ شخص مرض الموت میں مبتلا ہو چکا ہے اور مرض الموت میں تو بیوی کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو گیا ہے بھئی، تمام وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو گیا ہے، اس کے بعد یہ بیوی کو طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دے رہا ہے۔ بھئی اگر آپ نے طلاقیں دینی ہی تھیں تو آپ صحت کی حالت میں دیتے، اب جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہو گئے، اب آپ کا انتقال ہونے والا ہے، بیوی وارثہ بننے والی ہے، آپ کا مال اس کی طرف منتقل ہونے والا ہے، اب آپ اس وقت بسترِ مرگ پر بیوی کو تین طلاقیں دے رہے ہیں یا طلاقِ بائن دے رہے ہیں، معلوم ہوا آپ عورت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، آپ اس کو وراثت سے محروم کرنا چاہتے ہیں، تو لہٰذا دلوں میں بدگمانی آتی ہے، چنانچہ صحابہ کا اس پر اجماع ہے کہ مرض الموت کے اندر اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دے گا اور عدت کے اندر اس کا انتقال ہو گیا تو وہ عورت اس کی وارثہ بنے گی، معلوم ہوا وراثت کے حق میں نکاح کو باقی شمار کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ورنہ تو نکاح ٹوٹ چکا ہے، طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں، لیکن وراثت کے حق میں نکاح کو باقی شمار کیا جائے گا۔ تو لہٰذا اب ایک عورت ہے اور اس کو خاوند نے تین طلاقیں یا طلاقِ بائن دے دی مرض الموت کے اندر اور پھر اسی عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو گیا، تو اب اس پر کون سی عدت آئے گی؟ تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت پر دونوں عدتوں میں سے جو لمبی عدت ہے وہ عدت اس کو گزارنا پڑے گی، یعنی یہ ایک تو عدتِ طلاق ہے تین حیض اور دوسری طرف عدتِ وفات ہے، تو جو عدت لمبی ہوگی وہ اس کو گزارے گی اور عدتوں کے اندر تداخل ہو جائے گا، ایک عدت دوسری عدت کے اندر داخل ہو جائے گی، تو جب لمبی والی عدت گزارے گی تو چھوٹی عدت اس کے اندر ہی آ جائے گی۔ آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ بھئی تین حیض تو ڈھائی تین مہینے میں گزر جائیں گے، جبکہ چار مہینے دس دن یہ تو عدت لمبی ہے تو مختصراً یوں کہہ دیا جاتا کہ یہ وفات والی عدت گزارے گی، تو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ دو عدتوں میں سے جو لمبی عدت ہے وہ عدت یہ عورت گزارے گی؟ میں نے آپ کو بتلایا کہ وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات عورت کا طہر لمبا ہو جاتا ہے، کئی کئی مہینے تک اسے حیض آتا ہی نہیں ہے، لہٰذا تین حیضوں کا تین مہینے میں آنا قطعی اور یقینی نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ تین حیض چھ مہینے میں پورے ہوں، ہو سکتا ہے یہ دس مہینے میں پورے ہوں، تو لہٰذا معلوم ہوا ان تین حیضوں کی عدت کے بھی طویل ہونے کا احتمال ہے، تو لہٰذا جو عدت لمبی ہوگی وہ عورت گزار لے گی، اور جب لمبی والی عدت گزارے گی تو چھوٹی عدت اس کے اندر آ جائے گی۔ تو یہ تو طرفین کا مذہب ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ عورت جو ہے اس کا نکاح ٹوٹ چکا ہے، یعنی اس کو طلاقِ بائن ملی ہے یا تین طلاقیں ملی ہیں، اور جب نکاح ٹوٹ جائے تو وہی عدت اس عورت پر لازم ہوتی ہے یعنی عدتِ نکاح ہی اس پر لازم ہوتی ہے عدتِ طلاق ہی اس پر لازم ہوتی ہے اور وہ تو تین حیض ہیں، لہٰذا تین حیض ہی گزارے گی، وفات والی عدت اس عورت پر نہیں آئے گی کیونکہ خاوند سے تو رشتۂ نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے طلاقِ بائن یا تین طلاقوں کی وجہ سے۔ ہاں البتہ وہ فرماتے ہیں کہ وراثت کے حق میں اس نکاح کو باقی شمار کیا جائے گا صحابہ کے اجماع کی وجہ سے، جبکہ باقی چیزیں یعنی عدت وغیرہ کے حق میں اس نکاح کو باقی شمار نہیں کیا جائے گا، جب نکاح باقی نہیں تو لہٰذا خاوند کا انتقال بھی ہوا بھئی وہ تو اجنبی ہو چکا ہے، اجنبی کے انتقال سے تو عورت پر عدتِ وفات نہیں آتی بھئی۔ نیز امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس مریض کی بیوی کو قیاس کیا تھا مرتد کی بیوی پر کہ جیسے یہ مریض کی بیوی وارثہ بن رہی ہے اسی طرح العیاذ باللہ کوئی شخص مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی بھی اس کی وارثہ بنتی ہے اور یہ مرتد اگر مر جائے یا اس کو قتل کر دیا جائے ارتداد کی وجہ سے، تو بھی اس عورت کی عدت نہیں بدلتی۔ اس لیے کیونکہ اس عورت پر جو عدت آئی ہے وہ خاوند کے مرتد ہونے کی وجہ سے آئی ہے، خاوند کے انتقال کی وجہ سے اس پر عدت نہیں آئی، لہٰذا جب ارتداد کی وجہ سے اس مرتد کی بیوی پر عدتِ نکاح آ گئی، پھر عدت کے اندر خاوند مر گیا یا اس کو قتل کر دیا گیا تو بھی اس عورت کی عدت عدتِ وفات کی طرف نہیں بدلتی، تو معلوم ہوا یہ مریض کی بیوی بھی بالکل اس مرتد کی بیوی کی طرح ہے۔ جیسے مرتد کی بیوی کے اندر نکاح ارتداد سے ٹوٹ گیا تھا اور جو عدت ایک دفعہ آ گئی وہی عدت رہے گی اب بیچ میں خاوند کا انتقال بھی ہو گیا اب وہ عدت بدلے گی نہیں، جبکہ یہاں پر بھی اسی طرح ہے مریض کی بیوی پر طلاق کی وجہ سے ایک عدت آ چکی ہے اب خاوند کا انتقال بھی ہو جائے تو عدت بدلے گی نہیں بھئی۔ اور جیسے مریض کی بیوی وارثہ بن رہی ہے اسی طرح مرتد کی بیوی بھی وارثہ بن رہی ہے تو دونوں صورتیں بالکل ایک جیسی ہیں، تو جب مرتد کی بیوی کے اندر بالاتفاق عدتِ نکاح ہے تو یہاں اس مریض کی بیوی میں بھی عدتِ نکاح ہونی چاہیے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے طرفین کی طرف سے دلیل ذکر فرمائی تھی، طرفین فرماتے ہیں کہ جب مریض کی بیوی میں اس نکاح کو وارثہ ہونے کے حق میں باقی شمار کیا گیا، یہ عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو جائے تو یہ وارثہ بنتی ہے، تو جب وارثہ ہونے کے حق میں نکاح کو باقی شمار کیا گیا تو عدت کے حق میں بھی اس نکاح کو باقی شمار کیا جائے گا بطورِ احتیاط کے بھئی۔ وجہ یہ کہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو عدت ہے یہ شک کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہے، جبکہ وارث ہونا یہ تو شک کی وجہ سے ثابت نہیں ہوتا، تو جب اس عورت کے وارث ہونے کے اندر نکاح کو باقی شمار کیا گیا ہے، یعنی وہ چیز جو شک سے ثابت ہی نہیں ہوتی جب اس کے حق میں نکاح کو باقی شمار کیا گیا ہے، تو اس عدت کے حق میں بھی اس نکاح کو باقی شمار کیا جائے گا جو شک کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہے۔ تو لہٰذا اس عورت پر دو عدتوں میں سے جو لمبی عدت ہے وہ آئے گی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب بھی دیا تھا۔ پہلا جواب انکاری دیا کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ مرتد کی بیوی پر عدتِ نکاح آئے گی بلکہ وہاں پر بھی طرفین اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ دونوں عدتوں میں سے جو لمبی عدت ہے وہ عورت گزارے گی۔ اور دوسرا جواب تسلیمی دیا تھا کہ مرتد کی بیوی کے اندر بالاتفاق عدتِ نکاح ہی آئے گی عدتِ وفات نہیں، وجہ یہ کہ وہاں پر نکاح کو باقی شمار نہیں کیا گیا وارثہ ہونے کے لیے، وہاں پر مرتد کی بیوی میں نکاح کو باقی شمار نہیں کیا گیا وارثہ ہونے کے لیے جبکہ مریض کی بیوی میں نکاح کو باقی شمار کیا گیا وارثہ ہونے کے لیے۔ توجہ ہے؟ تو مرتد کی بیوی کے اندر وارثہ ہونے کے لیے نکاح کو باقی شمار نہیں کیا گیا، اور جو مرتد کی بیوی وارثہ بنتی ہے وہ اس وجہ سے نہیں بنتی کہ اس کے نکاح کو باقی شمار کیا گیا ہے بلکہ اس وارثہ ہونے کی نسبت وقتِ ارتداد کی طرف ہوتی ہے کہ جس وقت خاوند مرتد ہوا تو وہ ماتَ حُکماً ہے، یعنی موت کا حکم لگا دیا جاتا ہے، تو جب خاوند پر موت آ گئی تو بیوی کیا بنتی ہے؟ وارثہ۔ تو لہٰذا جو مرتد کی بیوی وارثہ بن رہی ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ وارثہ ہونے کے حق میں اس کے نکاح کو باقی شمار کیا گیا ہے، بلکہ اس وجہ سے وارثہ بن رہی ہے کہ اس وارثہ ہونے کی نسبت ارتداد کے وقت کی طرف کی جائے گی، ارتداد کے بعد کی طرف نسبت نہیں کی جائے گی کیونکہ ارتداد کے بعد تو وہ شخص کافر ہو چکا ہے، اور جب دین مختلف ہو ایک شخص مسلمان ہو اور دوسرا کافر ہو تو پھر وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”فَإِنْ أُعْتِقَتِ الْأَمَةُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ انْتَقَلَتْ عِدَّتُهَا إِلَى عِدَّةِ الْحَرَائِرِ“۔ بھئی اب صاحبِ ہدایہ کچھ وہ مسائل ذکر فرمائیں گے جہاں عورت کی عدت بدلتی ہے بھئی، جہاں عورت کی عدت ایک عدت سے بدلتی ہے دوسری عدت کی طرف، جیسے ایک صورت پیچھے ذکر ہو گئی گزشتہ سبق میں کہ اگر مطلقہ رجعیہ ہے اور عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو جائے تو اس پر بالاتفاق وفات والی عدت یعنی چار مہینے دس دن آ جائیں گے۔ پہلے اس کی عدت کیا تھی؟ تین حیض، اور عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہوا تو اس کی عدت بدل گئی عدتِ وفات کی طرف چار مہینے دس دن، تو اب اسی طرح کی کچھ جگہیں بیان فرمائیں گے جہاں عورت کی عدت بدلتی ہے بھئی۔ پہلی صورت ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”فَإِنْ أُعْتِقَتِ الْأَمَةُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ انْتَقَلَتْ عِدَّتُهَا إِلَى عِدَّةِ الْحَرَائِرِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک باندی ہے اس کو خاوند نے طلاق دے دی اور یہ عدت گزار رہی ہے۔ باندی کا آقا نے کسی سے نکاح کروایا ہوا تھا اور خاوند نے اس کو طلاق دے دی، یہ عورت جو ہے یہ جو باندی ہے یہ اپنی عدت گزار رہی ہے، اسی عدت کے دوران اس کے آقا نے اس کو آزاد کر دیا۔ تو پہلے تو یہ باندی تھی اور باندی کی عدت کتنی ہے؟ دو حیض، لیکن اب یہ آزاد ہو گئی ہے لہٰذا اب یہ تین حیض گزارے گی، وجہ یہ کہ نکاح موجود ہے، خاوند نے کون سی طلاق دی ہے؟ طلاقِ رجعی دی ہے اور وہ عدت گزار رہی ہے، اور نکاح پورے طور پر قائم ہے طلاقِ رجعی کے اندر، تو جب نکاح پورے طور پر قائم ہے اور اس دوران وہ آزاد ہو گئی تو اب اس پر آزاد عورتوں والی عدت آئے گی۔ توجہ ہے؟ بات شاید ابھی بھی آپ پر واضح نہ ہوئی ہو کہ کس طرح اس کی عدت بدل رہی ہے، بھئی دیکھو! جب طلاقِ رجعی ہو تو نکاح باقی ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے تو عدت بدل سکتی ہے، لیکن اگر طلاقِ بائن آ جائے یا تین طلاقیں آ جائیں یا خاوند کا انتقال ہو جائے پھر یاد رکھو عدت لازم ہو جاتی ہے۔ طلاقِ بائن میں اور تین طلاقوں میں چونکہ نکاح ٹوٹ گیا، جب نکاح پورے طور پر ٹوٹ گیا تو جو عدت آ گئی اب وہی گزارنا پڑے گی اب دوبارہ بدلے گی نہیں، طلاق کی وجہ سے تین حیض اس عورت پر لازم ہو گئے ہیں اب اس دوران اگر خاوند کا انتقال بھی ہو جائے تو عدت نہیں بدلے گی کیونکہ نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ اسی طرح اگر خاوند کا انتقال ہو جائے تو اس وقت بھی جو عدت عورت پر لازم ہو گئی وہی گزارنی پڑے گی وہ عدت دوبارہ بدلے گی نہیں۔ توجہ سے سنو: خاوند کا انتقال یا نکاح کے پورے طور پر ٹوٹنے کی وجہ سے جو عورت پر عدت آتی ہے وہ لازم ہو جاتی ہے وہ دوبارہ بدل نہیں سکتی بھئی، البتہ طلاقِ رجعی کی وجہ سے جو عدت آئی ہے چونکہ وہاں تو ابھی نکاح باقی ہے لہٰذا وہاں عدت بدل سکتی ہے۔ تو یہ عورت باندی تھی، خاوند نے اس کو طلاق دے دی، اس کی عدت کتنی؟ دو حیض، اور اس عدت کے دوران ہی اس کو آزاد کر دیا گیا، تو اب نکاح پورے طور پر موجود ہے تو لہٰذا اب اس کی عدت جو ہے وہ آزاد عورتوں والی عدت کی طرف بدل جائے گی، اب دو حیضوں سے یہ بائنہ نہیں ہوگی بلکہ اب تین حیض گزارے گی تو پھر یہ بائنہ ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک باندی ہے اس کے خاوند کا انتقال ہو گیا، اس کی عدت کتنی؟ دو ماہ پانچ دن، کیونکہ باندی کا حکم نصف ہوتا ہے آزاد عورت کے مقابلے میں، تو یہ باندی دو ماہ پانچ دن کی عدت گزار رہی ہے، اسی دوران آقا نے اس کو آزاد کر دیا۔ لیکن خاوند کی وفات کی وجہ سے جو عدت آئی تھی وہ کیا ہو چکی؟ لازم ہو چکی ہے، اب وہ بدلے گی نہیں، تو یہ بے شک آزاد ہو گئی ہے لیکن عدت وہی دو ماہ پانچ دن گزارے گی۔ یا خاوند نے اس باندی کو طلاقِ بائن دے دی ہے، جب طلاقِ بائن دے دی تو نکاح پورے طور پر ٹوٹ گیا۔ جب نکاح پورے طور پر ٹوٹ گیا اب اس عدت کے اندر اس کو آزاد کر دیا گیا، لیکن اب تو نکاح ٹوٹ چکا ہے اور نکاح ٹوٹنے کی وجہ سے جو عدت عورت پر لازم ہونی تھی وہ لازم ہو چکی ہے، اور وہ کون سی عدت تھی؟ وہ دو حیض تھے، تو اب اس دوران اگر اس کو آزاد بھی کر دیا جائے اب اس کی عدت نہیں بدلے گی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ أُعْتِقَتِ الْأَمَةُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ“ اور اگر آزاد کر دیا جائے باندی کو اس کی عدت کے اندر ”مِنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ“ طلاقِ رجعی سے، کس چیز کی عدت گزار رہی ہے؟ طلاقِ رجعی والی، نکاح قائم ہے اور اس کو آزاد کر دیا گیا، ”انْتَقَلَتْ عِدَّتُهَا إِلَى عِدَّةِ الْحَرَائِرِ“ تو منتقل ہو جائے گی اس عورت کی عدت آزاد عورتوں کی عدت کی طرف، ”لِقِيَامِ النِّكَاحِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ کیونکہ نکاح قائم ہے ہر اعتبار سے۔ ”وَإِنْ أُعْتِقَتْ وَهِيَ مَبْتُوتَةٌ“ اور اگر اس باندی کو آزاد کیا گیا ”وَهِيَ مَبْتُوتَةٌ“ اس حال میں کہ یہ مبتوتہ ہے۔ تو یاد رکھو! بَتَّ يَبُتُّ بَتًّا کا معنی ہے کاٹنا۔ تو اسی سے بَتَّ يَبُتُّ بَتًّا سے اسمِ مفعول ہے ”مَبْتُوتَةٌ“، یعنی جس کو کاٹ دیا گیا ہے، یعنی جدا کر دیا گیا ہے۔ تو مبتوتہ وہ عورت ہے جس کو خاوند سے کاٹ دیا گیا ہے، خاوند سے الگ کر دیا گیا ہے، یعنی اس کو طلاقِ بائن مل گئی ہے یا تین طلاقیں مل گئی ہیں، تو یہ جس عورت کو طلاقِ بائن مل جائے یا تین طلاقیں مل جائیں یعنی جس کا نکاح پورے طور پر ٹوٹ گیا خاوند سے، اس کو مبتوتہ کہتے ہیں بھئی۔ تو مبتوتہ کا کیا معنی؟ کاٹی ہوئی، جدا کی ہوئی، یعنی یہ عورت خاوند سے جدا کر دی گئی ہے یا یہ کہ عورت یوں کہیں نکاح سے جدا کر دی گئی ہے، یا یوں کہیں کہ یہ عورت رجوع سے کاٹ دی گئی ہے اب یہاں رجوع نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أُعْتِقَتْ وَهِيَ مَبْتُوتَةٌ“ اور اگر باندی کو آزاد کیا گیا ”وَهِيَ مَبْتُوتَةٌ“ اس حال میں کہ یہ مبتوتہ ہے یعنی رجوع سے یہ کاٹ دی گئی ہے، ”أَوْ مُتَوَفًّى عَنْهَا زَوْجُهَا“ یا اس کا خاوند جو ہے اس کا انتقال ہو چکا ہے، ”لَمْ تَنْتَقِلْ عِدَّتُهَا إِلَى عِدَّةِ الْحَرَائِرِ“ تو اس باندی کی عدت آزاد عورتوں کی عدت کی طرف منتقل نہیں ہوگی، ”لِزَوَالِ النِّكَاحِ بِالْبَيْنُونَةِ أَوِ الْمَوْتِ“ اس لیے کیونکہ نکاح زائل ہو چکا ہے ختم ہو چکا ہے ”بِالْبَيْنُونَةِ“ جدائی کی وجہ سے ”أَوِ الْمَوْتِ“ یا موت کی وجہ سے نکاح زائل ہو گیا، اور جب نکاح زائل ہو تو اس وقت جو عدت آتی ہے وہ لازم ہو جاتی ہے وہ پھر بعد میں بدلتی نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِنْ كَانَتْ آيِسَةً فَاعْتَدَّتْ بِالشُّهُورِ“۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک عورت ہے وہ پچاس پچپن سال سے زیادہ عمر کی ہے اور اس کے حیض رک چکے ہیں، اس کے حیض رک چکے ہیں یہ آیسہ کہلاتی ہے، آیسہ۔ تو یہ جو آیسہ ہے اس نے اپنی عدت گزار لی مہینوں کے ساتھ، اس کو تو حیض آتا نہیں ہے تو اس کو خاوند نے طلاق دی تھی، تو اس نے اپنی عدت تین مہینے گزار لی ہے، اور پھر بعد میں کچھ عرصے کے بعد چاہے سال بعد، دو سال بعد، پانچ سال بعد، پھر اس کو عورت کو حیض آنا شروع ہو گیا تو یاد رکھو اب یہ دوبارہ حیض کے ساتھ عدت گزارے گی۔ چاہے جتنے سالوں کے بعد بھی دوبارہ حیض شروع ہوا، طلاق ملی تھی پانچ سال پہلے اور آج یہ حیض کو دیکھ رہی ہے تو یہ اب پھر حیض کے ساتھ عدت گزارے گی۔ بھئی کیا وجہ؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ یہ جو مہینے ہیں یہ حیض کے قائم مقام ہیں۔ جب حیض نہ آتا ہو پھر مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی، اور اس عورت کو تو حیض آ رہا ہے معلوم ہوا اس کی عدت مہینوں کی طرف منتقل نہیں ہوئی۔ جیسے دیکھو بھئی، کوئی شخص بہت بوڑھا ہو گیا اور کمزور ہو گیا اب وہ روزے نہیں رکھ سکتا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شیخِ فانی، یعنی وہ شخص جو فنا ہونے والا ہے، موت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ تو شیخِ فانی جو ہے جو روزے نہیں رکھ سکتا اس کو فدیہ دینے کا حکم ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے فدیہ دے بھئی، وہ رمضان کے روزے تو نہیں رکھ سکتا تو فدیہ ادا کرتا رہے ہر روزے کا۔ لیکن اس میں یاد رکھو شرط یہ ہے کہ موت تک اس میں روزے رکھنے کی استطاعت اور قدرت نہ آئے، اگر وہ شخص اس کی صحت دوبارہ ٹھیک ہو گئی اور وہ روزے رکھنے پر قادر ہو گیا تو جو پیچھے اس نے جتنے روزوں کے فدیے ادا کیے تھے وہ روزے اب اس کو دوبارہ رکھنے پڑیں گے وہ فدیہ کافی نہیں۔ کیونکہ فدیے کے کافی ہونے کے لیے شرط تھی کہ موت تک وہ اصل یعنی روزوں پر قادر نہ ہو سکے، اور وہ تو بات پوری نہ ہوئی بھئی۔ اسی طرح یہاں یہ جو عورت تھی اس نے اپنی عدت مہینوں کے ساتھ پوری کر لی تھی، لیکن اس کے اندر شرط ہے کہ یہ مہینے حیض کے قائم مقام تب بنیں گے جب موت تک دوبارہ حیض نہ آئے بھئی، اور یہاں تو حیض دوبارہ آ گیا، لہٰذا معلوم ہوا یہ مہینے حیض کا قائم مقام نہیں ہیں، اصل پر جب یہ قادر ہو گئی تو اصل کے ساتھ ہی اس کو ادا کرے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی صاحبِ ہدایہ اس کو اور اچھے الفاظ میں ذکر فرمائیں گے، کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتْ آيِسَةً“ اور اگر یہ مطلقہ جو ہے وہ آیسہ ہے، ”فَاعْتَدَّتْ بِالشُّهُورِ“ تو اس نے عدت گزار لی مہینوں کے ساتھ، ”ثُمَّ رَأَتِ الدَّمَ“ پھر اس نے بعد میں کسی وقت خون دیکھا، ”انْتَقَضَ مَا مَضَى مِنْ عِدَّتِهَا“ تو ٹوٹ جائے گی وہ جو گزری ہے اس کی عدت بھئی، یعنی وہ عدت شمار نہیں ہوگی، ”وَعَلَيْهَا أَنْ تَسْتَأْنِفَ الْعِدَّةَ بِالْحِيَضِ“ اور اس عورت پر واجب ہے کہ وہ نئے سرے سے عدت گزارے ”بِالْحِيَضِ“ حیضوں کے ساتھ۔ صاحبِ ہدایہ اب اس کا معنی بیان کریں گے، یہ تو متن تھا۔ کہتے ہیں بھئی خون دیکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے تھوڑا سا خون اس نے دیکھ لیا تو آپ فوراً حکم لگا دیں کہ اب اس کو حیض گزارنے پڑیں گے۔ بھئی حیض آئیں گے تو یہ حیض گزارے گی نا، تو صرف خون دیکھنے پر یہ حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ جب اس کو عادت کے مطابق پھر حیض آنا شروع ہو جائیں، جب پورا حیض عادت کے مطابق اس کو آیا معلوم ہوا یہ حیض ہے، پھر ہم یہ حکم لگائیں گے کہ اب اس کو دوبارہ عدت گزارنا پڑے گی حیضوں کے ساتھ، اور اگر تھوڑا سا خون آیا اور پھر بند ہو گیا تو پھر تو معلوم ہوا دوبارہ حیض نہیں آئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَاهُ“ اور معنی اس قول کا یہ ہے ”إِذَا رَأَتِ الدَّمَ عَلَى الْعَادَةِ“ کہ جب اس عورت نے عادت کے موافق خون دیکھا، ”لِأَنَّ عَوْدَهَا يُبْطِلُ الْإِيَاسَ“ اس لیے کیونکہ خون کا لوٹنا یہ باطل کر دیتا ہے الایاس ایاس کو۔ پچاس پچپن سال کی عمر میں عورت کو حیض نہیں آتا اس کو ایاس کہتے ہیں، ناامید ہونا۔ بابِ سمع سے ہے: ”أَيِسَ يَيْأَسُ إِيَاسًا فَهُوَ آيِسٌ“۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عَوْدَهَا يُبْطِلُ الْإِيَاسَ“ اس لیے کیونکہ خون کا دوبارہ لوٹنا یہ ایاس کو باطل کر دیتا ہے، معلوم ہوا یہ آیسہ نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ یہ آیسہ میں یاء کے نیچے زیر ہے بھئی: ”آيِسَةٌ“ ”فَاعِلَةٌ“۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عَوْدَهَا يُبْطِلُ الْإِيَاسَ“ اس لیے کیونکہ خون کا لوٹنا یہ آیسہ ہونے کو باطل کر دیتا ہے، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، ”فَظَهَرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ خَلَفًا“ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ مہینہ جو ہے وہ حیض کا بدل نہیں تھا، ”خَلَفٌ“ بدل کو کہتے ہیں اور خلیفہ کو کہتے ہیں، ”فَظَهَرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ خَلَفًا“ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ جو مہینہ تھا یہ حیض کا بدل نہیں تھا، ”وَهَذَا لِأَنَّ شَرْطَ الْخَلَفِيَّةِ تَحَقُّقُ الْيَأْسِ“ اور یہ اس وجہ سے ہے اس لیے کیونکہ بدل ہونے کی شرط یہ ہے ”تَحَقُّقُ الْيَأْسِ“ کہ آیسہ ہونا پایا جائے، ”وَذَلِكَ بِاسْتِدَامَةِ الْعَجْزِ إِلَى الْمَمَاتِ“ استدامت کا معنی برقرار رہنا، ”وَذَلِكَ بِاسْتِدَامَةِ الْعَجْزِ“ اور وہ عاجزی کا برقرار رہنا ”إِلَى الْمَمَاتِ“ موت تک۔ عاجزی کا برقرار رہنا موت تک، یعنی یہ عورت عاجز ہے یہ حیض کے ساتھ عدت نہیں گزار سکتی کیونکہ اس کو حیض آتے ہی نہیں بھئی، تو یہ عاجزی ہے لیکن یہ عاجزی کب تک رہنی چاہیے؟ موت تک رہے گی تو پھر ہی مہینہ جو ہے وہ حیض کا قائم مقام ہو جائے گا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَهَذَا لِأَنَّ شَرْطَ الْخَلَفِيَّةِ تَحَقُّقُ الْيَأْسِ“ اور یہ اس لیے ہے کیونکہ خلیفہ ہونے کی شرط جو ہے وہ آیسہ ہونے کا پایا جانا ہے، ”وَذَلِكَ بِاسْتِدَامَةِ الْعَجْزِ إِلَى الْمَمَاتِ“ اور یہ آیسہ ہونے کا پایا جانا یہ عاجزی کے برقرار رہنے سے ہوگا ”إِلَى الْمَمَاتِ“ موت تک، ”كَالْفِدْيَةِ فِي حَقِّ الشَّيْخِ الْفَانِي“ جیسے کہ فدیہ جو ہے شیخِ فانی کے حق میں، اس کے حق میں فدیہ جو ہے یہ روزے کا بدل ہوگا لیکن موت تک عاجزی رہنی چاہیے، موت تک وہ روزے پر قادر نہ ہو سکے بھئی۔ ”وَلَوْ حَاضَتْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ أَيِسَتْ تَعْتَدُّ بِالشُّهُورِ“۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک عورت ہے اس کو خاوند نے طلاق دے دی اور اس نے حیضوں کے ساتھ عدت گزارنا شروع کی۔ ایک یا دو حیض گزر گئے اور پھر حیض ختم ہو گئے، آیسہ ہو گئی، تو اب دو حیض تو گزار چکی ہے تو کیا اب ایک مہینہ اور گزار لے؟ اب تو مہینوں کے ساتھ عدت گزارنی پڑے گی، تو کیا ایک مہینہ اور عدت گزار لے؟ کہتے ہیں نہیں، حیض اصل ہے اور مہینہ اس کا بدل ہے، اور کچھ عدت اصل کے ساتھ گزارے اور کچھ عدت بدل کے ساتھ گزارے ایسا نہیں ہو سکتا، دونوں کو جمع نہیں کر سکتے، ایک عدت میں دونوں کو جمع نہیں کر سکتے، لہٰذا اب مہینوں کے ساتھ جب اس نے عدت گزارنی ہے تو پوری عدت دوبارہ گزارے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ حَاضَتْ حَيْضَتَيْنِ“ اور اگر عورت کو دو حیض آئے ”ثُمَّ أَيِسَتْ“ پھر وہ آیسہ ہو گئی ”تَعْتَدُّ بِالشُّهُورِ“ تو یہ عدت مہینوں کے ساتھ گزارے گی ”تَحَرُّزًا عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْبَدَلِ وَالْمُبْدَلِ“ بدل اور مبدل کے درمیان جمع سے بچنے کے لیے، بدل اور مبدل کو جمع نہیں کیا جائے گا بھئی، تو کہتے ہیں: ”تَحَرُّزًا عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْبَدَلِ وَالْمُبْدَلِ“ بچنے کے لیے بدل اور مبدل کے درمیان جمع سے۔ ”وَالْمَنْكُوحَةُ نِكَاحًا فَاسِدًا وَالْمَوْطُوءَةُ بِشُبْهَةٍ“۔ اچھا بھئی، اب نکاحِ فاسد کے اندر کیا عدت ہوگی؟ یا کسی عورت سے شبہ کے اندر وطی کر لی گئی، نکاحِ فاسد میں نے ذکر کیا تھا کہ نکاحِ فاسد کہہ لیں یا نکاحِ باطل کہہ لیں ایک ہی بات ہے، اور نکاحِ فاسد کسی شخص نے کسی عورت سے کر لیا مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح کر لیا، یا اس کی عدت کے اندر نکاح کر لیا، یا چوتھی کے ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح کر لیا، یا ایک عورت کے ساتھ نکاح موجود ہے اور اس کی بہن کے ساتھ نکاح کر رہا ہے تو دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا لازم آئے گا، تو یہ سب نکاحِ فاسد ہیں بھئی۔ اور نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے، ہاں جب یہ شخص اس عورت سے صحبت کر لے گا اب احکام آ گئے۔ اب اس عورت کو اس کو پورا مہر بھی دینا پڑے گا اور نیز اگر بچہ پیدا ہوا اس کا نسب بھی اس آدمی سے ثابت ہوگا وہ بچہ ولد الزنا شمار نہیں ہوگا بھئی۔ اور نیز اس عورت پر جدائی کے بعد عدت بھی لازم ہوگی اس عدت کے بغیر یہ آگے نکاح نہیں کر سکتی، تو یہ تو تھا نکاحِ فاسد۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ نکاحِ فاسد کے اندر بھی جو وطی کی جائے وہ بھی وطی بالشبہ ہی ہے، وہ بھی وطی بالشبہ ہی ہے کہ اس شخص نے شبۂ نکاح میں وطی کر لی ہے، اس کا خیال تھا شاید میرا نکاح ہو چکا ہے حالانکہ اس نے تو بغیر گواہوں کے نکاح کیا ہے نکاح تو اس کا نہیں ہوا۔ تو یہ جو نکاحِ فاسد کی وجہ سے جو وطی کرتا ہے یہ بھی کیا ہے؟ وطی بالشبہ ہے، یعنی شبۂ نکاح کی وجہ سے اس نے وطی کر لی حالانکہ حقیقت میں تو نکاح نہیں ہوا بھئی۔ اور آپ کو صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر کوئی بھی صحبت مہر یا حد سے خالی نہیں ہوگی، جو شخص بھی صحبت کرے گا یا تو وہاں مہر آئے گا یا وہاں حد جاری ہوگی، اور یہاں حد تو جاری نہیں ہوگی کیونکہ شبہ آ گیا ان کا خیال تھا ہمارا نکاح ہو چکا ہے، تو لہٰذا اب مہر دینا پڑے گا۔ تو نکاحِ فاسد کہیں یا نکاحِ باطل ایک ہی چیز ہے، اور نکاحِ فاسد کے کوئی احکام نہیں الا یہ کہ جب خاوند بیوی سے صحبت کر لے، پھر اس کے احکام آئیں گے، پھر مہر بھی دینا پڑے گا، نسب بھی ثابت ہوگا بچے کا، اور نیز عورت کو عدت بھی گزارنا پڑے گی۔ جبکہ بعض اوقات وطی بغیر نکاح کے خاوند کر لیتا ہے عورت سے، وہ بھی وطی بالشبہ ہے۔ مثلاً ایک شخص کا ایک عورت سے نکاح ہوا ہے، پہلی رات جب خاوند بیوی کے پاس جا رہا ہے تو عورتوں نے اس کی دلہن کے بجائے ایک اور عورت کو وہاں بٹھا دیا کہ دیکھو وہ پہچانتا ہے یا نہیں پہچانتا یہ میری دلہن ہے۔ وہ تو شخص تو اس نے تو اس کو نہیں دیکھا ہوا تھا وہ نہیں پہچانتا تھا، وہ آیا اور اس نے آ کر اس عورت سے صحبت کر لی بھئی، اب دیکھو یہ بھی وطی بالشبہ ہے کیونکہ یہ شخص کیا سمجھا یہ میری بیوی ہے بھئی، تو یہاں نکاحِ فاسد بھی نہیں ہے کیونکہ اس کا نکاح تو کسی اور سے ہوا ہے۔ تو وطی بالشبہ بغیر نکاحِ فاسد کے بھی ہو سکتی ہے اور نکاحِ فاسد کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔ تو اب اگر ایک عورت نے نکاحِ فاسد کیا تھا اور اس میں اس سے وطی کر لی گئی، یا بغیر نکاحِ فاسد کے ہی کسی عورت سے وطی بالشبہ کر لی گئی، تو اس کے اندر عورت پر عدت آئے گی، تو کون سی عدت آئے گی؟ اور وہ عورت جس سے نکاحِ فاسد کیا گیا ہے، اور اسی طرح وہ عورت جس سے شبہ کے اندر وطی کی گئی ہے، ”عِدَّتُهُمَا الحِیَضُ فِی الفُرقَةِ وَالمَوتِ“ ان کی عدت جو ہے وہ حیض ہیں، جدائی میں اور موت میں۔ یعنی خاوند سے جب جدائی کروائے گا قاضی یا یہ خود ایک دوسرے کو چھوڑنے کا جب پکا ارادہ کر لیں گے، تو پھر عورت حیضوں کے ساتھ عدت گزارے گی، اگر حیض آتے ہیں۔ اگر حیض نہیں آتے تو پھر مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی۔ اور اگر اس شخص کا انتقال ہو گیا، تو انتقال کی صورت میں بھی ان پر عدتِ وفات نہیں آئے گی بلکہ یہی تین حیض ہی گزارنا پڑیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”عِدَّتُهُمَا الحِیَضُ فِی الفُرقَةِ وَالمَوتِ“ ان کی عدت جو ہے وہ حیض ہیں جدائی اور موت کے اندر، ”لِأَنَّهَا لِلتَّعَرُّفِ عَن بَرَاءَةِ الرَّحِمِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو عدت ہے یہ رحم کی صفائی جاننے کے لیے ہے، ”لَا لِقَضَاءِ حَقِّ النِّکَاحِ“ یہ نکاح کا حق ادا کرنے کے لیے نہیں۔ یاد رکھو بھئی! یاد رکھو، یہ جو آزاد عورت پر عدت آتی ہے خاوند کی وفات کی صورت میں، خاوند کی وفات کی صورت میں جو آزاد عورت پر یا باندی پر جو عدت آتی ہے، یہ حقِ نکاح کو ادا کرنے کے لیے ہے۔ علماء اس کی کئی وجہیں ذکر فرماتے ہیں: ایک کیا ہے؟ حقِ نکاح کو ادا کرنا ہے، اور دوسرا نکاح کی نعمت سے عورت محروم ہو گئی، خاوند کا انتقال ہو گیا، تو اظہارِ غم کے لیے کہ میں نکاح جیسی نعمت سے محروم ہو گئی، تو شریعت نے چار مہینے دس دن کی عدت لازم کی ہے۔ اور یہ جو نکاحِ فاسد والی ہے یا جس کے ساتھ وطی بالشبہ کی گئی ہے، ان کا تو نکاح ہی نہیں ہوا تھا، تو ان پر وفات والی عدت تو نہیں آئے گی۔ وہ عدت تو کس لیے ہوتی ہے؟ نکاح کا حق ادا کرنے کے لیے، یا نکاح کی نعمت سے محروم ہونے کی وجہ سے۔ جبکہ ان کا تو نکاح ہی نہیں ہوا، لہٰذا ان پر وفات والی عدت نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا لِلتَّعَرُّفِ عَن بَرَاءَةِ الرَّحِمِ“ اس لیے کیونکہ ان کی عدت جو ہے وہ رحم کی صفائی جاننے کے لیے ہے، ”لَا لِقَضَاءِ حَقِّ النِّکَاحِ“ نکاح کا حق ادا کرنے کے لیے نہیں، ”وَالحَیضُ هُوَ المُعَرِّفُ“ اور حیض جو ہے وہی پہچان کروانے والا ہے۔ حیض ہی پہچان کرواتا ہے رحم کی صفائی کی، لہٰذا یہ حیضوں کے ساتھ عدت گزاریں گی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا مَاتَ مَولَى أُمِّ الوَلَدِ عَنهَا أَو أَعتَقَهَا فَعِدَّتُهَا ثَلَاثُ حِیَضٍ“ اب امِ ولد کی عدت بیان کرنے لگے ہیں۔ امِ ولد وہ باندی جس نے بچے کو جنم دیا اور آقا نے کہا کہ یہ میرا بچہ ہے، آقا نے اقرار کر لیا تو یہ اس کی امِ ولد بن گئی۔ اور آقا کے مرنے کے بعد اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے، اس کا بچہ اس کی آزادی کا سبب بن گیا۔ تو اب یہ جو امِ ولد ہے اس کے آقا کا انتقال ہو گیا۔ تو انتقال ہوتے ہی یہ آزاد ہو گئی۔ تو اب یہ کون سی عدت گزارے گی؟ تو یاد رکھو، اس صورت میں یہ آزاد عورت والی عدت گزارے گی کیونکہ یہ کیا ہو گئی ہے؟ آزاد، لہٰذا تین حیض گزارے گی پھر یہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے بھئی۔ یا اسی طرح امِ ولد کو آقا نے مرنے سے پہلے ہی آزاد کر دیا، تو اس صورت میں بھی وہ تین حیض ہی عدت گزارے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا مَاتَ مَولَى أُمِّ الوَلَدِ عَنهَا“ اور جب امِ ولد کا آقا اس کو چھوڑ کر مر گیا، ”أَو أَعتَقَهَا“ یا آقا نے اس کو آزاد کر دیا، ”فَعِدَّتُهَا ثَلَاثُ حِیَضٍ“ تو اس عورت کی عدت تین حیض ہیں، ”وَقَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى رَحمَةً وَاسِعَةً حَیضَةٌ وَاحِدَةٌ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی عدت ایک حیض ہے، ”لِأَنَّهَا تَجِبُ بِزَوَالِ مِلكِ الیَمِینِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عدت واجب ہوئی ہے اس عورت پر، یہ زوالِ ملکِ یمین کی وجہ سے واجب ہوئی ہے۔ ملکِ یمین یعنی آقا کی ملکیت اس پر سے ختم ہوئی ہے۔ یہ بات میں نے پہلے بھی ذکر کی تھی کہ اگر آقا اپنی باندی کو بیچتا ہے، تو جو نیا خریدنے والا ہے، جو نیا مالک ہے اس باندی کا، اس کے لیے یہ باندی حلال ہو گی لیکن فوراً اس کے لیے صحبت کرنا جائز نہیں بلکہ ایک حیض انتظار کرنا پڑے گا۔ جب ایک حیض باندی کو آ جائے گا پتا چل گیا کہ یہ باندی پچھلے آقا سے حاملہ نہیں۔ تو رحم کی صفائی کا پتا چل گیا، اس کے بعد پھر وہ نئے آقا کے لیے صحبت جائز ہو جائے گی، اور اس کو کہتے ہیں استبراء۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ استبراء، یعنی رحم کی صفائی طلب کرنا، س-ت طلب کے لیے ہے بھئی، تو رحم کی صفائی کو طلب کرنا۔ تو لہٰذا امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے وہ باندی جس کو بیچا جائے وہاں پہلے آقا کی ملکیت ختم ہوتی ہے، لہٰذا وہاں ایک حیض گزارنا پڑتا ہے استبراء کے ساتھ، تو یہاں پر بھی جب امِ ولد کو آقا نے آزاد کیا یا آقا کا انتقال ہو گیا تو باندی پر سے ملکیت ختم ہو گئی، اور جب باندی پر سے پہلے آقا کی ملکیت ختم ہو تو پھر وہ ایک حیض گزارا کرتی ہے، تو لہٰذا یہ عورت بھی، یہ امِ ولد بھی ایک حیض گزارے گی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے ان کی؟ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ حَیضَةٌ وَاحِدَةٌ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی عدت جو ہے ایک حیض ہو گی، ”لِأَنَّهَا تَجِبُ بِزَوَالِ مِلكِ الیَمِینِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو امِ ولد ہے اس کی عدت واجب ہوئی ہے بَزَوَالِ مِلْكِ الْيَمِينِ آقا کی ملکیت کے ختم ہونے کی وجہ سے، ”فَشَابَهَتِ الِاستِبرَاءَ“ تو یہ استبراء کے مشابہ ہو گئی، اور استبراء میں تو ایک حیض گزارا جاتا ہے تو یہاں بھی ایک حیض ہی اس پر عدت ہو گی۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ”أَنَّهَا وَجَبَت بِزَوَالِ الفِرَاشِ“ کہ یہ جو عدت امِ ولد پر واجب ہوئی ہے یہ زوالِ فراش کی وجہ سے ہے، ”فَأَشبَهَ عِدَّةَ النِّکَاحِ“ تو یہ عدتِ نکاح کے مشابہ ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو بیوی ہے یہ خاوند کا فراش ہے۔ فراش فراش کا معنیٰ یہ ہے کہ ایک عورت کا کسی شخص کے بچوں کو جنم دینے کے لیے خاص ہونا۔ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کے لیے وطی جائز ہے، کسی اور کے لیے وطی جائز نہیں، اور اس عورت سے جو بچے بھی ہوں گے وہ اسی خاوند کے شمار ہوں گے بھئی۔ تو منکوحہ جو ہے وہ فراش ہے اور وہ فراشِ قوی ہے۔ حتیٰ کہ اس سے جو بھی بچہ پیدا ہو وہ خود بخود خاوند کا شمار ہوتا ہے، اور اگر خاوند بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے اپنے سے، تو پھر پیدائش کے ابتدائی دنوں میں کرنا ہو گی وہ نفی، اور نیز اس کے اندر لعان بھی کرنا ہو گا، ویسے نفی نہیں کر سکتا۔ اگر وہ وقت گزر گیا تو یہ بچہ اسی کا شمار ہو گا بعد میں نفی کرتا بھی رہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو یہ بیوی جو ہے یہ فراشِ قوی ہے، اور سب سے ضعیف فراش جو ہے وہ باندی کا ہے، آقا کے لیے اس سے صحبت جائز ہے اور اس باندی سے جو بھی بچہ پیدا ہو وہ خود بخود آقا کا شمار نہیں ہو گا، تو ہاں جب آقا اقرار کر لے یہ میرا بچہ ہے پھر وہ اس کا بچہ شمار ہو گا، پھر اب یہ اس کی امِ ولد بن گئی۔ اور جب ایک دفعہ امِ ولد بن گئی تو اب یہ فراشِ متوسط ہو گئی۔ فراشِ متوسط امِ ولد ہے۔ امِ ولد سے جو بھی اولاد پیدا ہو گی وہ خود بخود اسی آقا کی شمار ہو گی، اسی آقا کی شمار ہو گی، لیکن اگر آقا نفی کرنا چاہے اگلے بچے کی تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا سب سے قوی فراش منکوحہ کا ہے جہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ خود ہی اس خاوند کا شمار ہوتا ہے اور اس کی نفی بغیر لعان کے نہیں ہو سکتی، اور سب سے ضعیف فراش باندی کا ہے کہ وہاں پیدا ہونے والا بچہ خود بخود آقا کا شمار ہی نہیں ہوتا جب تک وہ اقرار نہ کرے، اور فراشِ متوسط امِ ولد کا ہے کہ اس سے جو بچہ پیدا ہو گا وہ خود بخود آقا کا شمار ہو گا لیکن اگر آقا نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا امِ ولد فراشِ متوسط ہے۔ تو ہماری دلیل چل رہی تھی، ہمارے نزدیک جب اس امِ ولد کے آقا کا انتقال ہو گیا یا آقا نے اس کو آزاد کر دیا، تو اس کا فراش ہونا زائل ہو گیا۔ اس کا فراش ہونا زائل ہو گیا، جس طرح منکوحہ کو جب طلاق دی جاتی ہے تو چونکہ اس کا فراش ہونا ختم ہو جاتا ہے لہٰذا اس پر عدت آتی ہے، تو لہٰذا اس امِ ولد کے اندر بھی جو عدت آئے گی یہ زوالِ فراش کی وجہ سے آئے گی، زوالِ ملکِ یمین کی وجہ سے نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ اس کا فراش ہونا ختم ہوا ہے، لہٰذا یہ کس کے مشابہ ہے؟ یہ عدتِ نکاح کے مشابہ ہے، یہ استبراء کے مشابہ نہیں ہے۔ جب یہ عدتِ نکاح کے مشابہ ہے تو اس پر عدتِ نکاح آئے گی، اور عدتِ نکاح یہ تو آزاد ہو چکی ہے تو اس پر تین حیض پورے آئیں گے بھئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ”أَنَّهَا وَجَبَت بِزَوَالِ الفِرَاشِ“ کہ یہ جو عدت واجب ہوئی ہے امِ ولد پر یہ واجب ہوئی ہے فراش زائل ہونے کی وجہ سے، ”فَأَشبَهَ عِدَّةَ النِّکَاحِ“ تو یہ مشابہ ہو گئی عدتِ نکاح کے۔ ”ثُمَّ إِمَامُنَا فِیهِ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنهُ“ پھر اس بات کے اندر ہمارے امام اور ہمارے مقتدیٰ جو ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، ”فَإِنَّهُ قَالَ“ وہ فرماتے ہیں: ”عِدَّةُ أُمِّ الوَلَدِ ثَلَاثُ حِیَضٍ“ کہ امِ ولد کی عدت تین حیض ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرما رہے ہیں، معلوم ہوا ہمارا مذہب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَو كَانَت مِمَّن لَا تَحِیضُ فَعِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشهُرٍ“ اور اگر یہ امِ ولد ان عورتوں میں سے ہے جن کو حیض نہیں آتا، ”فَعِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشهُرٍ“ تو پھر اس کی عدت تین مہینے ہوں گے، ”کَمَا فِی النِّکَاحِ“ جیسے نکاح کے اندر ہوتا ہے، کہ نکاح والی کو اگر حیض نہ آتے ہوں تو پھر وہ تین مہینوں کے ساتھ عدت گزارتی ہے بھئی۔ ”وَإِذَا مَاتَ الصَّغِیرُ عَنِ امرَأَتِهِ وَبِهَا حَبَلٌ فَعِدَّتُهَا أَن تَضَعَ حَملَهَا“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک صغیر کا انتقال ہوا، ایک نابالغ تھا اور اس کے ولی نے نکاح کروا دیا تھا کسی بالغہ عورت کے ساتھ۔ اب اس صغیر کا انتقال ہوا، بیوی اس کے پیچھے باقی ہے اور بیوی حاملہ ہے۔ تو اب اس حاملہ کی عدت کیا ہو گی؟ تو یاد رکھو، طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ اس کی عدت وضعِ حمل ہو گی، اس کی عدت وضعِ حمل ہو گی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کی عدت چار مہینے دس دن ہو گی کیونکہ خاوند کا جب انتقال ہو جائے تو بیوی کی عدت کتنی ہوتی ہے؟ چار مہینے اور دس دن۔ بھئی یہ تو حاملہ تھی، تو پھر اس کی عدت تو وضعِ حمل ہونی چاہیے۔ کہتے ہیں بھئی یہ صغیر ہے نابالغ ہے، اور یہ جب نابالغ ہے تو نابالغ سے تو حمل نہیں ٹھہر سکتا عورت کا، معلوم ہوا یہ حمل یہ زنا سے حاملہ ہے یہ عورت، صغیر کی اولاد نہیں ہے اس کے پیٹ میں۔ تو لہٰذا یہ زنا سے حاملہ ہے، تو اس کے حمل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ جب اس کے حمل کا کوئی اعتبار نہیں ہے تو اس پر وہی وفات کی عدت چار مہینے دس دن آئیں گے۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَإِذَا مَاتَ الصَّغِیرُ عَنِ امرَأَتِهِ“ اور جب صغیر مر گیا اپنی بیوی کو چھوڑ کر، ”وَبِهَا حَبَلٌ“ اور اس عورت کو حمل ہے، حَبَل میں نے بتایا حبل کا کیا معنیٰ ہے؟ حمل، اور اس میں با متحرک ہے با کو ساکن نہ پڑھنا بھئی، ”وَبِهَا حَبَلٌ“ اور اس عورت کو، یہ جو صغیر کی جو بیوی ہے اس کو حمل ہے، ”فَعِدَّتُهَا أَن تَضَعَ حَملَهَا“ تو اس عورت کی عدت جو ہے وہ یہ ہے کہ اپنے حمل کو جنم دے دے، ”وَهٰذَا عِندَ أَبِی حَنِیفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ أَبُو یُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ عِدَّتُهَا أَربَعَةُ أَشهُرٍ وَعَشرٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی عدت چار مہینے اور دس دن ہیں، ”وَهُوَ قَولُ الشَّافِعِیِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، ”لِأَنَّ الحَملَ لَیسَ بِثَابِتِ النَّسَبِ مِنهُ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو حمل ہے یہ اس صغیر سے ثابت نہیں ہے، ”لِأَنَّ الحَملَ لَیسَ بِثَابِتِ النَّسَبِ مِنهُ“ اس لیے کیونکہ یہ والا جو حمل ہے اس کا نسب ثابت نہیں ہے منہ اس صغیر سے، ”فَصَارَ کَالحَادِثِ بَعدَ المَوتِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یہ حمل پیش آیا ہو موت کے بعد۔ جیسے موت کے بعد صغیر کی بیوی حاملہ ہوئی تو اس پر موت کی وجہ سے وفات والی عدت پہلے ہی آ چکی ہے وہی اس کو گزارنا پڑے گی۔ تو یہاں موت سے پہلے بھی جو حاملہ ہوئی ہے تو یہ حمل بھی اسی حمل کی طرح ہے جو موت کے بعد پیش آئے، کیونکہ جیسے موت کے بعد پیش آنے والا حمل وہ صغیر کا نہیں ہو سکتا اسی طرح اس وفات کے وقت بھی عورت حاملہ ہے تو یہ حمل بھی صغیر کا نہیں ہو سکتا، تو دونوں ایک دوسرے جیسے ہوئے تو دونوں کا ایک ہی حکم ہو گا۔ اور موت کے بعد جو حمل پیش آئے اس میں تو بالاتفاق وہاں عورت کی عدت چار مہینے دس دن ہے، تو اس کے اندر بھی، یہ جو پہلے سے حاملہ ہے اس کے اندر بھی عورت کی عدت چار مہینے دس دن ہی ہو گی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ کَالحَادِثِ بَعدَ المَوتِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یہ حمل پیش آیا ہو اس صغیر کی موت کے بعد۔ ”وَلَهُمَا“ اب طرفین کی دلیل آ گئی۔ ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل جو ہے، ”إِطلَاقُ قَولِهِ تَعَالَى“ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلق ہونا ہے: ”وَأُولَاتُ الأَحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن یَضَعنَ حَملَهُنَّ“ اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنم دے دیں۔ یہاں مطلقاً حمل والیوں کی عدت وضعِ حمل قرار دی گئی ہے، اس میں یہ قید نہیں ہے کہ یہ حمل اسی شخص خاوند کا ہو یا کسی اور کا ہو، نہیں، کوئی قید نہیں ہے۔ تو جو بھی وفات کے وقت یا طلاق کے وقت حاملہ ہے اس کی عدت وضعِ حمل ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا إِطلَاقُ قَولِهِ تَعَالَى: وَأُولَاتُ الأَحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن یَضَعنَ حَملَهُنَّ“ طرفین کی دلیل جو ہے اطلاق قولہ تعالیٰ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلق ہونا ہے: ”وَأُولَاتُ الأَحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن یَضَعنَ حَملَهُنَّ“ اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنم دے دیں، تو اس کے اندر کوئی قید نہیں ہے کہ حمل خاوند سے ہو یا کسی اور سے، سب حاملہ کی عدت مطلقاً وضعِ حمل بیان کی گئی ہے۔ ”وَلِأَنَّهَا مُقَدَّرَةٌ بِمُدَّةِ وَضعِ الحَملِ فِی أُولَاتِ الأَحمَالِ“ دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کا قول ذکر کر دیا، دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ طرفین کی طرف سے۔ طرفین فرماتے ہیں کہ یہ جو عدتِ وفات شریعت نے واجب کی ہے یہ کوئی رحم کی صفائی جاننے کے لیے نہیں ہے، اس لیے کیونکہ وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے اور ان کے خاوند کا انتقال ہو گیا ان کو بھی شریعت نے حیض کے ساتھ عدت گزارنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ان کی عدت بھی چار مہینے دس دن ہی ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں حیض والی اور غیر حیض والی میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، سب کی عدت چار مہینے دس دن ہے خاوند کی وفات پر۔ تو معلوم ہوا یہ جو عدت شریعت نے واجب کی ہے یہ رحم کی صفائی جاننے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ نکاح کا حق ادا کرنے کے لیے ہے۔ تو لہٰذا وضعِ حمل والی کے اندر بھی وضعِ حمل جو ہے اس کو عدت قرار دیا گیا ہے بطورِ نکاح کے حق کے، بطورِ نکاح کا حق ادا کرنے کے طور پر اس کو عدت قرار دیا گیا ہے۔ اور نکاح کا حق تو چاہے صغیر ہی کیوں نہیں تھا نکاح تو وہاں موجود تھا، اور جب صغیر کا انتقال ہوا ہے تو حقِ نکاح عورت کو ادا کرنا پڑے گا اور عدت گزارنا پڑے گی، اور وہ حاملہ ہے تو وہ وضعِ حمل تک وہ عدت گزارے گی چاہے یہ مدت چھوٹی ہو چاہے لمبی ہو، لیکن یہ جو مدت گزار رہی ہے وضعِ حمل تک یہ یہ نکاح کا حق ادا کرنے کے لیے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو اور اچھے الفاظ میں بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا مُقَدَّرَةٌ بِمُدَّةِ وَضعِ الحَملِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو عدتِ وفات ہے، ”مُقَدَّرَةٌ بِمُدَّةِ وَضعِ الحَملِ“ یہ وضعِ حمل کی مدت کے ساتھ مقرر ہے حاملہ کے لیے۔ حاملہ کے لیے عدتِ وفات کیا ہے؟ غیر حاملہ کے لیے تو چار مہینے دس دن، لیکن حمل والی کے لیے عدتِ وفات وضعِ حمل ہے۔ تو حمل والیوں کے اندر عدتِ وفات وضعِ حمل کے ساتھ مقرر کی گئی ہے، توجہ ہے؟ دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا مُقَدَّرَةٌ بِمُدَّةِ وَضعِ الحَملِ فِی أُولَاتِ الأَحمَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ عدتِ وفات مقرر ہے وضعِ حمل کی مدت کے ساتھ حمل والیوں میں، ”قَصُرَتِ المُدَّةُ أَو طَالَت“ چاہے یہ مدت تھوڑی ہو چاہے لمبی، یعنی چاہے خاوند کی وفات کے چند گھنٹوں بعد بھی بیوی بچے کو جنم دے دے گی تو عدت ختم، اور چاہے خاوند کی وفات کے بعد سات آٹھ مہینے کے بعد بھی بچے کو جنم دے گی تو تب عدت ختم ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَصُرَتِ المُدَّةُ أَو طَالَت“ چاہے یہ مدت چھوٹی ہو یا لمبی ہو، ”لَا لِلتَّعَرُّفِ عَن فَرَاغِ الرَّحِمِ“ رحم کی فارغ ہونے کو جاننے کے لیے نہیں ہے، یہ عدت رحم کے فارغ ہونے کو جاننے کے لیے نہیں ہے، ”لِشَرعِهَا بِالأَشهُرِ مَعَ وُجُودِ الأَقرَاءِ“ اس لیے کیونکہ یہ عدتِ وفات مشروع ہے مہینوں کے ساتھ، حیضوں کے پائے جانے کے باوجود۔ عورت کو حیض آ رہے ہوں اس کے باوجود یہ عدتِ وفات مہینوں کے ساتھ واجب ہے، معلوم ہوا یہ رحم کی صفائی کو جاننے کے لیے نہیں ہے بھئی۔ تو پھر یہ کس لیے ہے؟ کہتے ہیں: ”لَکِن لِقَضَاءِ حَقِّ النِّکَاحِ“ لیکن یہ نکاح کا حق ادا کرنے کے لیے ہے۔ یہ جو وفات والی عدت ہے یہ کس لیے ہے؟ وفات کا حق ادا کرنے کے لیے ہے، ”وَهٰذَا المَعنَى یَتَحَقَّقُ فِی الصَّبِیِّ“ اور یہ والا معنیٰ یہ علت تو بچے میں بھی پائی جا رہی ہے، اس کے بھی نکاح کا حق ادا کرنا ہے اس عورت کو۔ اس کے نکاح کا حق بھی اس عورت کو ادا کرنا ہے، تو اگر یہ غیر حاملہ ہوتی تو چار مہینے دس دن تھے اور جب یہ حاملہ ہے تو چاہے حمل اس سے خاوند سے ہے یا کسی اور سے، لیکن اس کی عدت کیا ہو گی؟ وضعِ حمل ہو گی حقِ نکاح کو ادا کرنے کے لیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا المَعنَى یَتَحَقَّقُ فِی الصَّبِیِّ“ اور یہ حقِ نکاح کو ادا کرنے والا معنیٰ یہ علت جو ہے یہ بچے میں بھی پائی جاتی ہے، ”وَإِن لَم یَکُنِ الحَملُ مِنهُ“ اگرچہ حمل بچے سے نہ ہو۔ حمل بچے سے نہیں ہے لیکن پھر بھی حقِ نکاح کو یہاں بھی عورت کو ادا کرنا پڑے گا، تو وہ حاملہ ہے تو وضعِ حمل ہی اس کی عدت ہو گی۔ بھئی دیکھو، یہ دلیل کا حاصل پھر سمجھ لو۔ طرفین فرماتے ہیں کہ یہ جو وفات والی عدت شریعت نے واجب کی ہے، یہ رحم کی فراغت کو جاننے کے لیے نہیں ہے کہ رحم صاف ہے یا نہیں، بلکہ یہ حقِ نکاح کو ادا کرنے کے لیے ہے، اور حاملہ کے اندر یہ وضعِ حمل کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔ لہٰذا صغیر کا جب انتقال ہوا اور اس کی بیوی حاملہ ہے، تو حقِ نکاح کا تقاضا یہ ہے کہ یہ عورت وضعِ حمل تک نکاح سے رکی رہے۔ اگرچہ یہ حمل ثابت النسب نہیں لیکن پھر بھی یہ جو شریعت نے یہ جو عدت واجب کی ہے یہ رحم کی صفائی جاننے کے لیے نہیں ہے بلکہ حقِ نکاح کو ادا کرنے کے لیے ہے، اور حقِ نکاح تو صغیر کے نکاح کے اندر بھی پایا جا رہا ہے۔ لہٰذا یہاں پر بھی عورت یہ وضعِ حمل ہی گزارے گی، وہ چار مہینے دس دن نہیں گزارے گی کیونکہ رحم کی صفائی کا جاننا یہاں مقصود نہیں ہے بھئی۔ بات واضح ہو گئی۔ تو یہ معنیٰ ہے: ”وَهٰذَا المَعنَى یَتَحَقَّقُ فِی الصَّبِیِّ وَإِن لَم یَکُنِ الحَملُ مِنهُ“ اور یہ حقِ نکاح کو ادا کرنے والا معنیٰ بچے میں بھی پایا جاتا ہے اگرچہ حمل اس سے نہ ہو، ”بِخِلَافِ الحَملِ الحَادِثِ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حمل کو قیاس کیا تھا اس حمل پر جو موت کے بعد آئے۔ صغیر کا انتقال ہو گیا بیوی حاملہ نہیں ہے، اس کے بعد زنا سے وہ حاملہ ہو گئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ جیسے وہ حمل ثابت النسب نہیں ہوتا لہٰذا وہاں عورت چار مہینے دس دن ہی گزارتی ہے، وہاں وضعِ حمل کا اعتبار نہیں، تو یہاں پر بھی یہ جو حمل ہے جو موت کے وقت موجود ہے یہ بھی ثابت النسب نہیں یہ بھی اسی کی طرح ہے، لہٰذا وہ حمل جو ثابت النسب نہ ہو اس میں عورت کو چار مہینے دس دن کی عدت گزارنا پڑے گی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، آپ اس حمل کو جو موت کے وقت موجود ہے، آپ اس کو قیاس نہیں کر سکتے اس حمل پر جو موت کے بعد پیش آیا ہے۔ وجہ یہ کہ جو حمل موت کے بعد پیش آیا ہے، وہاں تو وفات کے وقت پہلے ہی کون سی عدت لازم ہو چکی؟ چار مہینے دس دن، اس کے بعد حمل پیش آ بھی جائے تو عدت بدل نہیں سکتی، وہاں تو چار مہینے دس دن ہی گزارنے پڑیں گے کیونکہ وہ عدت لازم ہو چکی ہے اس عورت پر۔ جبکہ یہاں پر تو موت کے وقت ہی عورت حاملہ تھی، تو ابتداءً ہی جو عدت واجب ہوئی وہ وضعِ حمل ہے۔ تو آپ کا یہ کہنا کہ جو حمل وفات کے بعد پیش آیا اس کی وجہ سے عدت نہیں بدلتی بلکہ چار مہینے دس دن رہتے ہیں، تو یہ حمل جو پہلے سے ہے لیکن ثابت النسب نہیں ہے تو اس کا بھی اعتبار نہیں ہو گا عدت کیا آئے گی چار مہینے دس دن، کہتے ہیں نہیں دونوں میں فرق ہے بھئی۔ وہ جو حمل جو موت کے بعد پیش آیا ہے وہاں تو پہلے ہی عدت آ چکی ہے چار مہینے دس دن والی، لہٰذا اس نئے حمل سے جو زنا سے ہوا ہے اس سے عدت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اور جبکہ یہاں پر تو وفات کے وقت یہ عورت حاملہ ہے تو وفات کے وقت سے ہی اس پر وضعِ حمل والی عدت آئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الحَملِ الحَادِثِ“ بخلاف وہ حمل جو نیا پیش آیا ہے، ”لِأَنَّهُ وَجَبَتِ العِدَّةُ بِالشُّهُورِ“ اس لیے کیونکہ وہاں پر عدت واجب ہوئی تھی مہینوں کے ساتھ، ”فَلَا تَتَغَیَّرُ بِحُدُوثِ الحَملِ“ تو وہاں پر عدت جو ہے حمل پیش آنے سے بدلے گی نہیں، ”وَفِیمَا نَحنُ فِیهِ کَمَا وَجَبَت وَجَبَت مُقَدَّرَةً بِمُدَّةِ الحَملِ“ ترجمہ توجہ سے سنو: ”وَفِیمَا نَحنُ فِیهِ“ اور اس مسئلے کے اندر، اس صورت میں جس کے اندر ہم ہیں یعنی جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں، ”کَمَا وَجَبَت“ جب عدت واجب ہوئی تھی، ”وَجَبَت مُقَدَّرَةً بِمُدَّةِ الحَملِ“ تو واجب ہوئی تھی وہ مدتِ حمل کے ساتھ مقرر ہو کر۔ یہاں پر جب عدت واجب ہی ہوئی ہے تو ابتداءً ہی وضعِ حمل کے ساتھ مقرر ہو کر واجب ہوئی ہے، ”فَافتَرَقَا“ تو دونوں جدا ہو گئے۔ کیا دونوں جدا ہو گئے؟ ایک وہ حمل جو موت کے وقت موجود ہے، اور ایک وہ حمل جو موت کے بعد پیش آیا ہے تو دونوں جدا ہو گئے بھئی۔ جو موت کے بعد پیش آیا وہاں پہلے ہی مہینوں والی عدت آ چکی ہے، اور وہ حمل جو موت کے وقت موجود ہے وہاں ابتداءً ہی عدت کون سی آ رہی ہے؟ وضعِ حمل والی بھئی۔ تو لہٰذا دونوں مختلف ہیں بھئی، تو آپ ایک کا حکم دوسرے کو نہیں دے سکتے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا یَلزَمُ امرَأَةُ الکَبِیرِ إِذَا حَدَثَ لَهَا الحَبَلُ بَعدَ المَوتِ لِأَنَّ النَّسَبَ یَثبُتُ مِنهُ فَکَانَ کَالقَائِمِ عِندَ المَوتِ حُکمًا“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امرأۃ الکبیر کا اعتراض بھی اس پر لازم نہیں آتا۔ یہ تو صغیر کی بیوی تھی، اگر کبیر کی بیوی ہو یعنی بالغ آدمی کی بیوی، یاد رکھو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شریعت ثبوتِ نسب میں بے انتہا احتیاط سے کام لیتی ہے۔ شریعت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ بچے کا نسب ثابت ہو جائے۔ وجہ یہ کہ بچے کا نسب اگر ثابت نہیں ہو گا تو یہ ولد الزنا ہو گا، تو کوئی اس کا خیال رکھنے والا اور پرورش کرنے والا نہیں ہو گا بھئی، تو یہ بچہ ہلاک ہو جائے گا، اور اگر ہلاکت سے بچ بھی گیا تو یہ جب بڑا ہو گا تو یہ ولد الزنا ہی مشہور ہو گا، کہ اس کے باپ کا پتا ہی نہیں ہے، تو معاشرے کے اندر بھی اس کو بے انتہا حقارت کی نظر سے دیکھا جائے گا بھئی۔ تو شریعت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح بچے کا نسب ثابت کر دیا جائے۔ لہٰذا یاد رکھو، خاوند کا انتقال ہوا، بیوی حاملہ نہیں ہے، لیکن اس عورت نے کچھ مدت کے بعد ایک بچے کو جنم دیا، چاہے سال بعد جنم دیا، چاہے ڈیڑھ سال بعد جنم دیا لیکن دو سال سے کم کم، اس لیے کیونکہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت کتنی ہے؟ دو سال ہے، بچہ زیادہ سے زیادہ دو سال تک ماں کے پیٹ میں رہ سکتا ہے اس سے زیادہ وہ ماں کے پیٹ میں نہیں رہ سکتا۔ تو اب خاوند کا انتقال ہوا، عورت غیر حاملہ ہے، بعد میں اس نے ایک بچے کو جنم دیا سال ڈیڑھ سال بعد، شریعت پھر بھی اس بچے کا نسب ثابت کر دے گی کہ یہ اسی شخص مرنے والے کا بیٹا ہے، لیکن یہ شرط ہے عورت نے اس دوران یہ اقرار نہ کیا ہو کہ میری عدت گزر گئی، اگر اس نے بیچ میں کسی وقت کہہ دیا تھا میری عدت گزر گئی اب نہیں، اب ہم ثابت کر ہی نہیں سکتے عورت خود کہہ چکی ہے میری عدت گزر گئی، معنٰی یہ اس کے بعد حمل ٹھہرا ہے یہ زنا سے حمل ہے۔ تو لہٰذا عورت نے اقرار نہ کیا ہو اور خاوند کی وفات کے بعد وہ سال بعد ڈیڑھ سال بعد لیکن دو سال سے کم کے اندر بچے کو جنم دیتی ہے، اب یہ حمل بھی ظاہر سی بات ہے کہ خاوند کی وفات کے بعد حمل پیش آیا ہے۔ ظاہر یہی ہے خاوند کی، لیکن شریعت نسب ثابت کرے گی اور اس کو اس شخص کا بچہ قرار دیا جائے گا بھئی۔ تو یوں سمجھیں گے کہ گویا موت کے وقت یہ حمل موجود تھا۔ موت کے وقت حکم لگا دیا جائے گا۔ موت کے وقت یہ حمل موجود تھا، بھئی بچے کا نسب ثابت کرنا ہے اس خاوند سے، تو لہٰذا حکم لگا دیا جائے گا کہ یہ حمل موجود تھا اور یہ زیادہ دیر تک ماں کے پیٹ میں رہا۔ تو چونکہ اس بچے کا نسب ثابت ہو رہا ہے اس مرنے والے خاوند سے، تو لہٰذا یہ حکم لگایا جائے گا کہ یہ موت کے وقت بھی یہ حمل موجود تھا۔ موت کے وقت یہ حمل موجود تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اشکال سنو یہاں پر۔ صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں طرفین کی طرف سے۔ طرفین نے کیا کہا کہ ایک وہ حمل ہے جو صغیر کی موت کے وقت موجود ہے، ایک وہ حمل ہے جو صغیر کی موت کے بعد پیش آئے۔ صغیر کے موت کے وقت جو حمل موجود ہے اس عورت کی عدت وضعِ حمل ہے، اور صغیر کی موت کے بعد جو حمل پیش آئے وہاں عدت چار مہینے دس دن ہے بھئی۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ صغیر کے انتقال کے وقت بیوی کا حمل نہیں ہے اور پھر بعد میں بیوی حاملہ ہوئی، تو بھی آپ کہتے ہیں اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے، آپ اس کی عدت وضعِ حمل قرار نہیں دیتے، حالانکہ کبیر کی بیوی کے اندر اگر موت کے بعد حمل پیش آ جائے تو جب کبیر کا انتقال ہوا تھا تو عورت تو حاملہ نہیں تھی تو عدت چار مہینے دس دن تھی، لیکن بعد میں نیا حمل پیش آیا تو آپ نے اس کی عدت کو بدل دیا وضعِ حمل کی طرف۔ تو صغیر کی بیوی کے اندر بھی جب موت کے بعد حمل پیش آئے تو اس کی عدت کو بدلنا چاہیے وضعِ حمل کی طرف۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں دونوں میں فرق ہے۔ صغیر کے مسئلے میں وفات کے بعد جو حمل پیش آیا ہے اس کا نسب صغیر سے ثابت نہیں ہو سکتا، لہٰذا وہاں عدت نہیں بدلی جا سکتی۔ جبکہ کبیر کی بیوی کے اندر جو حمل وفات کے بعد پیش آیا ہے وہاں کبیر سے نسب ثابت ہو گا اس بچے کا، جب نسب ثابت ہو گا تو حکماً یوں سمجھا جائے گا کہ وفات کے وقت یہ حمل موجود تھا، اور جب وفات کے وقت یہ حمل موجود ہونے کا حکم لگایا جائے گا تو معلوم ہوا اس وقت عورت حاملہ تھی، اور جب حاملہ تھی تو اس کی عدت کیا قرار دی جائے گی؟ وضعِ حمل۔ تو لہٰذا کبیر کی بیوی کے اندر تو عدت مہینوں سے بدل کر وضعِ حمل کی طرف منتقل ہو جائے گی جب حمل بعد میں پیش آئے، لیکن صغیر کے اندر ایسا نہیں ہو گا کیونکہ وہاں حمل ثابت النسب نہیں بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا یَلزَمُ امرَأَةُ الکَبِیرِ“ اور لازم نہیں آتا اس پر کبیر کی یعنی بالغ آدمی کی بیوی کا اعتراض، ”إِذَا حَدَثَ لَهَا الحَبَلُ بَعدَ المَوتِ“ جب اس عورت کو پیش آ جائے حمل خاوند کی موت کے بعد، خاوند کی موت کے بعد حاملہ ہوئی ہے لیکن میں نے بتایا اس نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہ کیا ہو بھئی، ”لِأَنَّ النَّسَبَ یَثبُتُ مِنهُ“ اس لیے کیونکہ اس حمل کا نسب جو ہے اس فوت ہونے والے خاوند سے ثابت ہو جائے گا، ”فَکَانَ کَالقَائِمِ عِندَ المَوتِ حُکمًا“ تو گویا کہ یہ حمل جو ہے وہ موجود تھا اس خاوند کی موت کے وقت حکماً باعتبار حکم کے، یعنی یہ حکم لگا دیا جائے گا کہ یہ حمل اس وقت موجود تھا کیونکہ نسب ثابت ہو رہا ہے، ”وَلَا یَثبُتُ نَسَبُ الوَلَدِ فِی الوَجهَینِ“ جبکہ صغیر کے معاملے میں اس بچے کا نسب ثابت نہیں ہو گا دونوں صورتوں میں، چاہے وفات کے وقت حاملہ ہو چاہے وفات کے بعد حاملہ ہو جائے، دونوں صورتوں میں اس حمل کا نسب صغیر سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا یَثبُتُ نَسَبُ الوَلَدِ فِی الوَجهَینِ“ اور صغیر کے معاملے کے اندر اس بچے کا نسب دونوں صورتوں میں ثابت نہیں ہو گا، ”لِأَنَّ الصَّبِیَّ لَا مَاءَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ بچہ جو ہوتا ہے اس کا پانی نہیں ہوتا، یعنی پانی سے مراد مادہ منویہ ہے جس سے بچے کی پیدائش ہوتی ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الصَّبِیَّ لَا مَاءَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ بچے کا پانی نہیں ہوتا، ”فَلَا یُتَصَوَّرُ مِنهُ العُلُوقُ“ علوق کہتے ہیں حمل کا ٹھہرنا، حمل قرار پانا، ”فَلَا یُتَصَوَّرُ مِنهُ العُلُوقُ“ لہٰذا بچے سے حمل ٹھہرنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ یہ حمل اس سے ٹھہرا ہو، ”وَالنِّکَاحُ یُقَامُ مَقَامَهُ فِی مَوضِعِ التَّصَوُّرِ“ سوال پیدا ہوتا ہے بچے سے علوق نہیں ہو سکتا، بچہ ہے بالغ ہی نہیں ہے تو اس سے عورت کا حمل نہیں ٹھہر سکتا، لیکن نکاح تو موجود ہے، نکاح تو موجود تھا اور حدیث میں آیا ہے: ”الوَلَدُ لِلفِرَاشِ“ ای لصاحب الفراش کہ بچہ ہمیشہ کس کا ہوتا ہے؟ صاحبِ فراش یعنی خاوند کا ہوتا ہے، تو نکاح تو موجود ہے؟ کہتے ہیں بھئی نکاح بھی، نکاح موجود ہو تب بھی نسب ثابت ہو جاتا ہے لیکن علوق کا تصور تو ہو سکے! جہاں علوق کا تصور ہی نہیں ہو سکتا ایک نابالغ ہے اس سے عورت حاملہ ہو ہی نہیں سکتی، تو وہاں پر نکاح کو علوق کے قائم مقام نہیں قرار دیا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالنِّکَاحُ یُقَامُ مَقَامَهُ“ اور نکاح جو ہے اس کو علوق کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے، ”فِی مَوضِعِ التَّصَوُّرِ“ جہاں علوق کا تصور کیا جا سکے بھئی۔ ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امرَأَتَهُ فِی حَالَةِ الحَیضِ لَم تَعتَدَّ بِالحَیضَةِ“ بھئی دیکھو خاوند نے بیوی کو حیض کے اندر طلاق دے دی، تو کیا اس حیض کو بھی عدت میں شمار کریں گے؟ کہتے ہیں نہیں، اس حیض کو عدت میں شمار نہیں کریں گے، وجہ یہ کہ عدت پورے تین حیض گزارنے ہیں اور اس حیض کا تو کچھ حصہ گزر چکا ہے بھئی، لہٰذا اگلے پورے تین حیض عورت شمار کرے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امرَأَتَهُ فِی حَالَةِ الحَیضِ“ اور جب کوئی شخص طلاق دے دے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں، ”لَم تَعتَدَّ بِالحَیضَةِ الَّتِی وَقَعَ فِیهَا الطَّلَاقُ“ تو یہ عورت شمار نہیں کرے گی اس حیض کو جس کے اندر طلاق واقع ہوئی ہے، ”لِأَنَّ العِدَّةَ مُقَدَّرَةٌ بِثَلَاثِ حِیَضٍ کَوَامِلَ“ اس لیے کیونکہ یہ عدت مقرر ہے پورے تین حیضوں کے ساتھ، ”لِأَنَّ العِدَّةَ مُقَدَّرَةٌ بِثَلَاثِ حِیَضٍ کَوَامِلَ“ اس لیے کیونکہ یہ عدت مقرر ہے تین پورے حیضوں کے ساتھ، ”فَلَا یُنقَصُ عَنهَا“ لہٰذا اس سے اس کو کم نہیں کیا جائے گا، پورے تین حیض اگلے گزارنے پڑیں گے۔ ”وَإِذَا وُطِئَتِ المُعتَدَّةُ بِشُبهَةٍ فَعَلَیهَا عِدَّةٌ أُخرَى“ اب وہ مسائل ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ جہاں عدتوں کے اندر تداخل ہوتا ہے، ایک عدت دوسری عدت کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔ اب صورتِ مسئلہ یہ: ایک عورت ہے اس کو خاوند نے طلاق دے دی ہے، وہ عدت گزار رہی ہے مثلاً طلاقِ بائن دی ہے۔ طلاقِ بائن، تو طلاقِ بائن سے نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے یہ عورت خاوند کے لیے حرام ہو چکی ہے، لیکن اسی عدت کے اندر خاوند پھر صحبت کر لیتا ہے اور کہتا ہے میں تو سمجھا تھا ابھی تک عدت باقی ہے یہ عورت میرے لیے حلال ہے۔ یا کوئی اجنبی اس کے ساتھ وطی بالشبہ کر لیتا ہے، مثلاً اس عورت نے نکاحِ فاسد کر لیا اس دوران اور اس نے صحبت کر لی، تو اس صورت میں اس عورت پر ایک نئی عدت آئے گی بھئی صحبت کے بعد سے پھر نئی عدت شمار کرے گی اور پہلی عدت کے ساتھ اس عدت کا تداخل ہو جائے گا۔ پہلی عدت کے ساتھ اس عدت کا تداخل ہو جائے گا۔ تو لہٰذا یا تو دونوں عدتیں اکٹھی پوری ہوں گی، مثلاً خاوند نے طلاق دی تھی اور اسی طہر کے اندر خاوند نے صحبت بھی کر لی، تو ابھی تو حیض آئے ہی نہیں، تو اگلے تینوں حیض دونوں عدتوں کے شمار ہوں گے، یا اس کے ساتھ جو وطی بالشبہ کی گئی وہ پہلے حیض یا دوسرے حیض کے بعد کی گئی، تو پہلی عدت کے تو دو حیض مثلاً گزر چکے ہیں ایک حیض باقی ہے، لیکن اگلی عدت کے تین پورے حیض گزارنے پڑیں گے، تو لہٰذا جو اگلا حیض آئے گا یہ پہلی عدت کا آخری حیض اور دوسری عدت کا پہلا حیض شمار ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو اگلے تین حیض عورت پورے کر لے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا وُطِئَتِ الْمُعْتَدَّةُ بِشُبْهَةٍ“ اور جب صحبت کر لی گئی کسی معتدہ سے شبہے کی وجہ سے، ”فَعَلَيْهَا عِدَّةٌ أُخْرَى“ تو اس عورت پر ایک اور عدت ہوگی، ”وَتَدَاخَلَتِ الْعِدَّتَانِ“ اور تداخل ہو جائے گا دونوں عدتوں میں، ”وَيَكُونُ مَا تَرَاهُ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحَيْضِ مُحْتَسَبًا مِنْهُمَا جَمِيعًا“ اور وہ جس کو عورت دیکھے گی حیض میں سے اس کو شمار کیا جائے گا ان دونوں میں سے۔ اگلے حیض اب ان دونوں میں شمار ہوں گے۔ ”وَإِذَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ الْأُولَى وَلَمْ تُكْمِلِ الثَّانِيَةَ فَعَلَيْهَا إِتْمَامُ الْعِدَّةِ الثَّانِيَةِ“ اور جب پہلی عدت گزر گئی اور حال یہ ہے کہ دوسری عدت ابھی پوری نہیں ہوئی تو اس عورت پر واجب ہے دوسری عدت کو پورا کرنا، ”وَهَذَا عِنْدَنَا“ اور یہ ہمارے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا تَتَدَاخَلَانِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں عدتوں میں تداخل نہیں ہوگا، ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ الْعِبَادَةُ“ اس لیے کیونکہ عدت کے ذریعے مقصود جو ہے وہ اللہ کی عبادت ہے، اللہ کے حکم پر عمل ہو رہا ہے، ”فَإِنَّهَا عِبَادَةُ كَفٍّ عَنِ التَّزَوُّجِ وَالْخُرُوجِ“ کف کا معنی ہے رکنا بھی اور روکنا بھی۔ ”فَإِنَّهَا عِبَادَةُ كَفٍّ“ اس لیے کیونکہ یہ جو عدت ہے یہ رکنے کی عبادت ہے، ”عَنِ التَّزَوُّجِ وَالْخُرُوجِ“ نکاح سے اور باہر نکلنے سے۔ یاد رکھو آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو تفصیل بتلائیں گے کہ عدت کے اندر کیا کیا پابندیاں آتی ہیں عورت پر بھئی۔ تو یاد رکھو عورت پر تین پابندیاں آتی ہیں: ایک یہ کہ وہ نکاح آگے نہیں کر سکتی، تو یہ تزوج کی پابندی آگئی؛ دوسرا خروج، گھر سے وہ نہیں نکل سکتی، تو خروج کی بھی پابندی آگئی؛ اور نیز زیب و زینت بھی نہیں کر سکتی یعنی تزیّن بھی۔ تو عدت کے اندر عورت پر تین پابندیاں آتی ہیں۔ تزیّن والی تو سب پر نہیں آتی، تزیّن والی، لیکن گھر سے نکلنا بھی منع اور آگے نکاح کرنا بھی منع، یہ تو ہر معتدہ پر آئے گی۔ جبکہ جس کو طلاقِ رجعی ہوئی ہو وہ زیب و زینت کر سکتی ہے بلکہ اس کے لیے پسندیدہ ہے، وہ زیب و زینت اختیار کرے تاکہ خاوند رجوع کر لے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ عدت جو ہے یہ بھی عبادت ہے اور یہ رکنے والی عبادت ہے، کس چیز سے رکنا ہے؟ تزوج اور خروج سے، تزوج اور خروج سے۔ جس طرح روزہ جو ہے، روزہ بھی رکنے والی عبادت ہے، انسان کی دو بڑی شہوتیں ہیں: ایک کھانے کی شہوت اور ایک بیوی کی شہوت بھئی، تو ان دو شہوتوں سے اپنے آپ کو روکنے کا نام روزہ ہے۔ اسی طرح عدت بھی جو ہے وہ رکنے کی عبادت ہے اور کن دو چیزوں سے رکنا؟ تزوج اور گھر سے نکلنے سے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهَا عِبَادَةُ كَفٍّ عَنِ التَّزَوُّجِ وَالْخُرُوجِ“ اس لیے کیونکہ یہ نکاح اور گھر سے باہر نکلنے سے رکنے کی عبادت ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بعض عبادتوں میں ہمیں فعل کرنا پڑتے ہیں، نماز ہے، زکوٰۃ ہے، حج ہے، ان میں ہمیں باقاعدہ افعال کرنے پڑتے ہیں، اور کچھ عبادتوں کے اندر صرف نفس کو روکنا ہوتا ہے بھئی۔ ”فَإِنَّهَا عِبَادَةُ كَفٍّ عَنِ التَّزَوُّجِ وَالْخُرُوجِ، فَلَا تَتَدَاخَلَانِ كَالصَّوْمَيْنِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ“ لہٰذا ان دونوں میں باہم تداخل نہیں ہوگا جیسے دو روزے ایک دن میں۔ جیسے ایک دن میں دو روزے نہیں ہو سکتے، اسی طرح ایک وقت کے اندر دو عدتیں نہیں ہو سکتیں بھئی، الگ الگ گزارنا پڑے گا بھئی۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْمَقْصُودَ التَّعَرُّفُ عَنْ فَرَاغِ الرَّحِمِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ عدت کے ذریعے مقصود جو ہوتا ہے وہ رحم کے فارغ ہونے کو جاننا ہوتا ہے، عدت کے ذریعے مقصود رحم کے فارغ ہونے کو جاننا ہے، ”وَقَدْ حَصَلَ بِالْوَاحِدَةِ“ اور تحقیق یہ جاننا تو حاصل ہو جاتا ہے ایک ہی عدت سے۔ ایک ہی عدت سے پتہ چل جاتا ہے رحم کے فارغ ہونے کا، ”فَتَتَدَاخَلَانِ“ تو لہٰذا دونوں عدتوں کا آپس میں تداخل ہوگا بھئی۔ ”وَمَعْنَى الْعِبَادَةِ تَابِعٌ“ اور باقی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ یہ عدت، یہ تو عبادت ہے، ہم کہتے ہیں ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، یہ عبادت ہے، لیکن یہ عبادت کا معنی اس کے اندر تابع ہے بھئی، اصل رحم کی صفائی کا جاننا مقصود ہے اور عبادت کا معنی اس میں تابع ہے۔ چنانچہ اسی لیے آگے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے، ادھر دیکھیے، ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور اس عورت کو طلاق کی خبر نہیں پہنچی، چار پانچ مہینے بعد اس کو خبر پہنچی، اس دوران تین حیض گزر گئے تھے، تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ جس وقت طلاق دی تھی اس وقت سے عدت شروع ہو گئی تھی، عورت کو چاہے علم ہو یا علم نہ ہو تین حیض گزر چکے ہیں تو عدت پوری ہو چکی ہے، اب اس کو خبر جیسے ہی ملی ہے یہ فوراً آگے نکاح کر سکتی ہے۔ یا اسی طرح ایک شخص ہے اس کا انتقال ہو گیا سفر پر گیا ہوا تھا اور اس کے انتقال کی وجہ سے بیوی پر عدت آتی ہے چار مہینے دس دن، لیکن کوئی خبر لانے والا نہیں تھا چھ سات مہینوں بعد خبر یہاں پہنچی، تو اس دوران دیکھو اس کی عدت چار مہینے دس دن گزر چکی ہے، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ جیسے ہی عورت کو خبر ملے اور پتہ چل گیا کہ اس کی وفات کے بعد اتنا عرصہ گزر چکا ہے وہ فوراً آگے نکاح کر سکتی ہے جب عدتِ وفات گزر چکی ہے بھئی۔ معلوم ہوا عدت کا علم ہو یا نہ ہو پھر بھی عدت گزر جاتی ہے۔ حالانکہ عبادت تو بغیر نیت کے نہیں ہو سکتی بھئی، کوئی شخص روزہ رکھتا ہے تو اس کو باقاعدہ روزے کی نیت کرنا پڑے گی ورنہ صبح سے شام تک وہ بھوکا پیاسا رہے، بیوی سے الگ رہے، اس کو کوئی ثواب نہیں ملے گا، یہ روزہ نہیں شمار ہوگا بھئی۔ تو عبادت میں کیا ضروری ہے؟ نیت ضروری ہے۔ اور نیز یہ جو عورت نے عدت گزاری، یہ تین حیض گزارے ہیں یا خاوند کی وفات کے بعد چار مہینے دس دن گزارے ہیں اور اس کو قطعاً نہیں تھا کہ مجھے طلاق مل چکی ہے یا میرے خاوند کا انتقال ہو چکا ہے، تو عدت کے دوران تو عورت کے لیے گھر سے نکلنا منع ہوتا ہے، حرام ہے اس کے لیے گھر سے نکلنا عدت کے دوران، اور اس عورت کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مجھے خاوند طلاق دے چکا ہے یا اس کا انتقال ہو چکا ہے، یہ تو اس دوران گھر سے نکلتی رہی بھئی، حالانکہ گھر سے نہ نکلنا یہ تو باقاعدہ رکن ہے اس عدت کا، اور کوئی عبادت بغیر رکن کے نہیں پائی جا سکتی۔ تو یہاں پر دیکھو ایک عورت کو خاوند نے طلاق دی اور عدت کے بعد اس کو جا کر خبر ملی تو فقہاء فرماتے ہیں عدت گزر گئی، اسی طرح ایک عورت کے خاوند کا انتقال ہوا اور عدت کے بعد جا کر عورت کو خبر ملی تو فقہاء فرماتے ہیں کہ عدت گزر چکی ہے۔ معلوم ہوا یہ عدت عبادت تو ہے لیکن عبادت کا معنی اس میں تابع ہے، عبادت کا معنی اس میں تابع ہے، ورنہ بغیر نیت کے عدت کیسے گزر سکتی تھی؟ اور نیز بغیر رکن کے، کیونکہ پابندی تھی گھر سے نہ نکلے اور یہ تو نکلتی رہی ہے، تو بغیر رکن کے تو عدت نہیں ہو سکتی۔ اگر عدت عبادتِ مقصودہ ہوتی تو پھر بغیر نیت کے عدت گزر نہیں سکتی تھی بھئی، اس کو باقاعدہ نیت کرنا پڑے گی، یا رکن کے بغیر عدت کا وجود نہیں ہو سکتا بھئی، جیسے روزے کا وجود کھانے اور پینے کے ساتھ نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْعِبَادَةِ تَابِعٌ، أَلَا تَرَى أَنَّهَا تَنْقَضِي بِدُونِ عِلْمِهَا“ اور عبادت کا معنی اس کے اندر تابع ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ یہ عدت گزر جاتی ہے عورت کے علم کے بغیر ہی؟ یعنی بغیر نیت کے گزر جاتی ہے، ”وَمَعَ تَرْكِهَا الْكَفَّ“ اور ساتھ عورت کے ترک کرنے کے الکفّ، رکنے کو۔ گھر سے باہر نکلنے کو اس نے ترک کر رکھا تھا، تو ترکِ کف کے باوجود عدت گزر رہی ہے، حالانکہ رکن کے بغیر تو عبادت کا تصور نہیں ہو سکتا جیسے نماز ہے بھئی، نماز کے اندر رکوع اور سجدہ نہیں، ارکان نہیں تو پھر نماز بھی نہیں بھئی، دلیل سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے: ”وَالْمُعْتَدَّةُ عَنْ وَفَاةٍ إِذَا وُطِئَتْ بِشُبْهَةٍ“ صورتِ مسئلہ یہ، ایک عورت ہے وہ عدتِ وفات گزار رہی ہے چار مہینے دس دن، اور اس دوران اس کے ساتھ وطی بالشبہ کر لی گئی، تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر یہ اسی عدتِ وفات کو گزارے گی اور اس کے اندر ہی وہ اس وطی بالشبہ کی وجہ سے جو عدت آئی ہے اس کو بھی شمار کرے گی۔ تو اگر وہ چار مہینے دس دن کے اندر تین حیض بھی پورے ہو گئے تو دونوں عدتیں پوری ہو جائیں گی، ورنہ جتنے حیض اس چار مہینے دس دن میں پورے ہو گئے وہ شمار کر لے اور جو باقی ہیں وہ اس چار مہینے دس دن کے بعد پورے کر لے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَدَّةُ عَنْ وَفَاةٍ إِذَا وُطِئَتْ بِشُبْهَةٍ تَعْتَدُّ بِالشُّهُورِ“ اور وہ عورت جو عدت گزار رہی ہے خاوند کی وفات سے جب اس کے ساتھ وطی بالشبہ کر لی گئی تو یہ عدت مہینوں سے گزارے گی یعنی وہی چار مہینے دس دن، ”وَتَحْتَسِبُ بِمَا تَرَاهُ مِنَ الْحَيْضِ فِيهَا“ اور وہ شمار کرے گی اس حیض کو جس کو یہ دیکھے گی فیہا، وہ اس کو بھی انہی مہینوں میں شمار کرے گی یعنی دونوں عدتیں پوری کرے گی، چار مہینے دس دن بھی اور تین حیض بھی لیکن تداخل ہو جائے گا۔ ”تَحْقِيقًا لِلتَّدَاخُلِ بِقَدْرِ الْإِمْكَانِ“ تداخل کو ثابت کرنے کے لیے جس قدر ممکن ہو سکے۔ آگے دیکھیے: ”وَابْتِدَاءُ الْعِدَّةِ فِي الطَّلَاقِ عَقِيبَ الطَّلَاقِ، وَفِي الْوَفَاةِ عَقِيبَ الْوَفَاةِ“ اور عدت کی ابتدا جو ہے طلاق کے اندر وہ طلاق کے بعد ہوگی، اور وفات کی عدت کے اندر اس کی ابتدا جو ہے وفات کے بعد ہوگی، ”فَإِنْ لَمْ تَعْلَمْ بِالطَّلَاقِ أَوِ الْوَفَاةِ حَتَّى مَضَتْ مُدَّةُ الْعِدَّةِ فَقَدِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا“ اگر عورت کو پتہ نہ چلا طلاق یا وفات کا یہاں تک کہ مدتِ عدت گزر گئی، اس کے بعد جا کر اس کو پتہ چلا، تو تحقیق اس کی عدت گزر چکی ہے، ”لِأَنَّ سَبَبَ وُجُوبِ الْعِدَّةِ الطَّلَاقُ أَوِ الْوَفَاةُ“ اس لیے کیونکہ اس عدت کے وجوب کا سبب یا تو طلاق ہے یا وفات ہے، ”فَيُعْتَبَرُ ابْتِدَاؤُهَا مِنْ وَقْتِ وُجُودِ السَّبَبِ“ تو لہٰذا اس عدت کی ابتدا کا اعتبار کیا جائے گا سبب کے پائے جانے کے وقت سے۔ جب طلاق ہوئی ہے عدت شروع ہو گئی، چاہے عورت کو پتہ ہے یا نہیں، جب وفات ہوئی ہے تو عدت شروع ہو گئی، کیونکہ طلاق اور وفات اس کے سبب ہیں، جب سبب پایا گیا تو عدت شروع ہو گئی۔ ”وَمَشَايِخُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى يُفْتُونَ فِي الطَّلَاقِ أَنَّ ابْتِدَاءَهَا مِنْ وَقْتِ الْإِقْرَارِ نَفْيًا لِتُهْمَةِ الْمُوَاَضَعَةِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ہمارے فقہاء جو ہیں یعنی بخارا اور سمرقند کے فقہاء جو ہیں یعنی متاخرین فقہاء جو ہیں وہ فتویٰ دیتے ہیں اگر خاوند اور بیوی اقرار کر لیں طلاق اور عدت کے گزرنے کا، خاوند نے لوگوں کے سامنے بیوی سے کہا کہ میں تو تمہیں طلاق بھی دے چکا ہوں اور تمہاری عدت بھی گزر چکی ہے، تو اس صورت میں ہمارے فقہاء فتویٰ اس پر دیتے ہیں کہ جس وقت اقرار کیا ہے اب عدت عورت شمار کرے گی، یہ تو کہہ رہے ہیں کہ عدت گزر چکی ہے لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، خاوند تو کہہ رہا ہے میں نے طلاق بھی دے دی تھی عدت بھی گزر گئی تھی لیکن جس وقت اقرار کیا ہے اب عورت عدت شمار کرے گی۔ اور یاد رکھنا علماء فرماتے ہیں کہ مشائخِ بخارا اور سمرقند کا یہ فتویٰ، یہ فتویٰ ہمارے تمام ائمہ کے خلاف ہے، تمام صحابہ اور تابعین کے خلاف ہے، لیکن یہ وہ تہمت کے مقام پر فرماتے ہیں، ہر جگہ نہیں بھئی، اگر تہمت کا مقام نہیں ہے وہاں پر خاوند کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق بھی دے دی تھی اور تیری عدت بھی گزر گئی تھی اور عورت بھی کہہ رہی ہے کہ ہاں ایسا ہی ہے تو وہاں اقرار کو قبول کیا جائے گا، عورت فوراً آگے نکاح کر سکتی ہے، لیکن جہاں دلوں میں بدگمانی آئے وہاں پر اس بات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً پیچھے مسئلہ گزرا تھا خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے اور اس مرض الموت میں لوگوں کے سامنے کہتا ہے اپنی بیوی کو کہ تجھے تو میں نے طلاق بھی دے دی تھی اور تیری تو عدت بھی گزر چکی ہے، اور پھر اس کے بعد خاوند بیوی کے لیے وصیت بھی کر دیتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد پچاس لاکھ روپے اس کو دے دینا، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے، معلوم ہوا یہ بیوی کو فائدہ پہنچانا چاہتا تھا۔ مثلاً اس شخص کی تین یا چار بیویاں ہیں اور اولاد ہو تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے اور اگر بیویاں دو یا تین یا چار ہیں تو اس ایک آٹھویں حصے کو آپس میں تقسیم کریں گی تو دیکھو وہ آٹھویں کا بھی نصف یا ثلث بنے گا یا ربع بنے گا بھئی، تو بہت تھوڑا سا حصہ بیوی کو ملے گا، اور آپ جانتے ہیں کہ وارث کے لیے وصیت بھی نہیں جائز اور اقرار بھی نہیں جائز، تو اب دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ مرض الموت کے اندر خاوند کہہ رہا ہے کہ میں نے تجھے طلاق بھی دے دی تھی اور تیری عدت بھی گزر چکی ہے اور بیوی بھی کہتی ہے آپ سچ کہہ رہے ہو، معلوم ہوا دونوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا ہے، خاوند اس کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے، تو دونوں مل کر یہ طلاق اور عدت کے گزرنے کی بات کر رہے ہیں کیونکہ جب طلاق بھی مل چکی اور عدت بھی گزر چکی تو عورت تو اجنبیہ بن گئی اب وارثہ نہیں، تو اب خاوند کے لیے اقرار اور وصیت کا دروازہ کھل جائے گا، تو لہٰذا دلوں میں بدگمانی آتی ہے تو اس صورت میں ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ اس عورت کی عدت اقرار کے وقت سے شمار کی جائے گی، اور اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو گیا تو پھر عورت کو میراث اور وصیت میں سے جو کمتر ہوگا وہ دیا جائے گا بھئی۔ تو لہٰذا کہتے ہیں ہمارے مشائخ اور ہمارے فقہاء جو ہیں انہوں نے فتویٰ دیا ہے کہ جس وقت خاوند اور بیوی اقرار کریں تو اس وقت سے عدت شمار کی جائے گی، لیکن یاد رکھنا یہ اس مقام کی بات ہو رہی ہے جہاں دلوں میں بدگمانی آتی ہو، جہاں دونوں کے گٹھ جوڑ کا امکان ہو، اور جہاں دونوں کے گٹھ جوڑ کا امکان نہیں ہے یا جہاں دلوں میں بدگمانی نہیں آتی تو وہاں پر ان کی بات کو تسلیم کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَشَايِخُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى يُفْتُونَ فِي الطَّلَاقِ أَنَّ ابْتِدَاءَهَا مِنْ وَقْتِ الْإِقْرَارِ نَفْيًا لِتُهْمَةِ الْمُوَاَضَعَةِ“ اور ہمارے فقہاء جو ہیں یعنی بخارا اور سمرقند کے جو علماء ہیں، ”يُفْتُونَ فِي الطَّلَاقِ“ وہ فتویٰ دیتے ہیں طلاق کے بارے میں، ”أَنَّ ابْتِدَاءَهَا مِنْ وَقْتِ الْإِقْرَارِ“ کہ اس کی عدت کی ابتدا جو ہے اقرار کے وقت سے ہوگی، ”نَفْيًا لِتُهْمَةِ الْمُوَاَضَعَةِ“ نفی کرنے کے لیے باہم اتفاق کی تہمت کی، مواضعت کا معنی ہے موافقت، دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ موافق ہو جانا، کہ دونوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا ہوگا، تو یہ آپس کے گٹھ جوڑ کی تہمت کی نفی کے لیے۔ توجہ ہے؟ یہ معنی ہے: ”نَفْيًا لِتُهْمَةِ الْمُوَاَضَعَةِ“ باہمی موافقت کی تہمت کی نفی کے لیے۔ تو عام احوال کے اندر یہ فتویٰ نہیں دیا جائے گا، عام احوال کے اندر ان کی یہ بات قبول کر لی جائے گی، اور جہاں دلوں میں بدگمانی آتی ہو کہ یہ خاوند مثلاً مرض الموت میں ہے اور فائدہ پہنچانا چاہتا ہے تو پھر اس صورت کے اندر اقرار کے وقت سے ہی عدت کو شمار کیا جائے گا۔ ”وَالْعِدَّةُ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ عَقِيبَ التَّفْرِيقِ أَوْ عَزْمِ الْوَاطِئِ عَلَى تَرْكِ وَطْئِهَا“ ”وَالْعِدَّةُ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ عَقِيبَ التَّفْرِيقِ أَوْ عَزْمِ الْوَاطِئِ عَلَى تَرْكِ وَطْئِهَا“ بھئی میں نے آپ کو بتلایا کہ نکاحِ فاسد اور باطل دونوں ایک ہی چیز ہیں، فاسد کہہ لیں یا باطل کہہ لیں ایک ہی بات ہے یعنی یہ شرعاً نکاح ہے ہی نہیں، اس کا اعتبار ہی کوئی نہیں، اور اس کا کوئی حکم نہیں آتا جب تک خاوند صحبت نہ کر لے، جب صحبت کر لے گا اب اس کے بعد نکاحِ فاسد کے احکام آجائیں گے۔ اب مسئلہ یہ، نکاحِ فاسد کیا ہے مثلاً ایک شخص اور ایک عورت نے، مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح کر لیا یا عورت کی عدت میں نکاح کر لیا وغیرہ، تو اس میں ضروری ہے کہ جب ان کو مسئلے کا پتہ چل گیا تو اب یہ دونوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیں اور زبان سے اس کا اظہار کریں کیونکہ دل کی بات کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، زبان سے اظہار کریں کہ وہ شخص کیا کہے میں نے اس کو پکا چھوڑ دیا، طلاق تو نہیں کہے گا کیونکہ نکاح ہی نہیں ہوا، نکاح ہوتا تو طلاق کہتا، تو بس ایک دوسرے کو ترک کرنے کا اظہار کر دیں کہ ہم نے ایک دوسرے کو ترک کر دیا، چھوڑ دیا، اور اگر یہ ایک دوسرے کو ترک نہیں کرتے ہم نے مسئلہ بھی بتلا دیا تو پھر ان کو قاضی کے پاس لے جایا جائے گا اور قاضی ان میں جدائی کروا دے گا کہ تمہارا نکاح نہیں ہوا، بغیر گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا۔ تو اب ہمارے نزدیک جب قاضی ان میں جدائی کروا دے گا یا یہ دونوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کر دیں گے تو اب عدت شروع ہو جائے گی۔ اب عورت جو ہے وہ تین حیض گزارے گی اور پھر اس کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، آخری وطی سے ہی اس کی عدت شمار کی جائے گی۔ مثلاً ایسی صورت تھی ان دونوں نے نکاح کیا ہے لیکن اکٹھے ہمیشہ اکٹھے نہیں رہے، جب انہوں نے یہ نکاحِ فاسد کیا تھا تو ایک مہینہ یہ دونوں اکٹھے رہے، اس کے بعد خاوند دو تین مہینے کے لیے کہیں سفر پہ چلا گیا ہے اب واپس آیا ہے اور ابھی بیوی کے پاس نہیں گیا، لوگوں نے اس کو مسئلہ بتایا اور قاضی نے ان میں تفریق کروا دی یا اس نے چھوڑنے کا پکا ارادہ کر دیا تو امام زفر فرماتے ہیں آخری وطی کا اعتبار ہے، اور آخری وطی کو تو کچھ مدت گزر چکی ہے کچھ حیض بیچ میں گزر چکے ہیں تو اگر وہ حیض تین ہو چکے ہیں تو جدائی آگئی اب وہ عورت آگے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، جبکہ ہمارے نزدیک نہیں، جب خاوند چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لے گا یا جب قاضی جدائی کروا دے گا اس کے بعد عدت شروع ہوگی، اس سے پہلے عدت نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعِدَّةُ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ عَقِيبَ التَّفْرِيقِ“ اور نکاحِ فاسد کے اندر جو عدت ہوتی ہے وہ جدائی کے بعد ہوتی ہے یعنی جب قاضی تفریق کروائے، قاضی جدائی کروائے، ”أَوْ عَزْمِ الْوَاطِئِ عَلَى تَرْكِ وَطْئِهَا“ عزم کہتے ہیں پختہ ارادے کو، ”أَوْ عَزْمِ الْوَاطِئِ“ یا وطی کرنے والا پکا ارادہ کر لے، ”عَلَى تَرْكِ وَطْئِهَا“ اس کی وطی کے ترک پر، کہ میں نے اس سے وطی اب ترک کر دی، پکا ارادہ کر لے، اور ارادہ تو دل کی بات ہے، دل کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا یعنی وہ زبان سے اظہار کرے اس کا۔ تو جب قاضی جدائی کروا دے گا یا وہ وطی کرنے والا پکا ارادہ کر لے گا اب عدت شروع ہو جائے گی۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: مِنْ آخِرِ الْوَطْآتِ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی آخری وطی سے عدت شروع ہو جائے گی، آخری وطی سے عدت شمار کریں گے، جب جدائی کا ارادہ کیا اس وقت نہیں بلکہ پہلے سے ہی عدت کو شمار کریں گے، ”لِأَنَّ الْوَطْءَ هُوَ السَّبَبُ الْمُوجِبُ“ اس لیے کیونکہ وطی جو ہے وہی السبب الموجب، وہی سبب ہے جو اس عدت کو ثابت کرنے والا ہے۔ یہ عدت کیوں آئی ہے عورت پر نکاحِ فاسد میں؟ اس شخص کے وطی کرنے کی وجہ سے، یہ وطی نہ کرتا پھر تو نکاحِ فاسد کا کوئی حکم ہی نہیں تھا، وہ تو کالعدم تھا جیسے ہوا ہی نہیں، تو اس وطی کی وجہ سے یہ عدت آئی ہے، تو کہتے ہیں امام زفر آخری وطی سے عدت شمار ہوگی ”لِأَنَّ الْوَطْءَ هُوَ السَّبَبُ الْمُوجِبُ“ اس لیے کیونکہ وطی جو ہے وہی اس عدت کو ثابت کرنے کا سبب ہے۔ ”وَلَنَا: أَنَّ كُلَّ وَطْءٍ وُجِدَ فِي الْعَقْدِ الْفَاسِدِ يَجْرِي مَجْرَى الْوَطْأَةِ الْوَاحِدَةِ“ ہم کہتے ہیں ہماری دلیل یہ ہے کہ یاد رکھو عقدِ فاسد کے اندر جتنی بھی وطیاں پائی جائیں گی وہ ساری ایک ہی وطی کے حکم میں ہیں۔ نکاحِ فاسد میں جتنی مرتبہ بھی خاوند نے وطی کی ہے وہ ساری ایک ہی وطی کے حکم میں ہیں، بھئی کیوں؟ ایک وطی کے حکم میں کیوں ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ان سب کی نسبت اس عقد کی طرف ہے، یہ خاوند اس سے وطی کیوں کر رہا ہے؟ یہ سمجھتا ہے میرا نکاح ہو چکا ہے یعنی شبہۂ نکاح کی وجہ سے وطی کر رہا ہے اور شبہۂ نکاح وہ تو عقد تو ایک ہی کیا تھا ان دونوں نے آپس میں، تو جب عقد ایک ہی کیا تھا تو یہ ساری وطی جو اس نے کی ہے اس دوران وہ ایک ہی وطی کے حکم میں ہے۔ اگر یہ ایک وطی کے حکم میں نہیں پھر تو ہم نے آپ کو ضابطہ بتلایا ہے کہ مملکتِ اسلامیہ میں کوئی شخص کسی عورت سے وطی کرے تو وہاں یا مہر آتا ہے یا حد آتی ہے، تو یہاں اگر ہر وطی الگ الگ شمار کریں گے تو پھر تو ہر وطی کی وجہ سے خاوند پر مہر آنا چاہیے لیکن بالاتفاق یہاں خاوند پر ایک ہی مہر آئے گا، معلوم ہوا جس قدر وطی بھی کی ہے خاوند نے وہ سب ایک ہی وطی کے حکم میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اسی لیے ان سب کے مقابلے میں ایک ہی مہر ادا کیا جاتا ہے۔ اور نیز جب تک ان میں جدائی نہ کروائیں یا جب تک یہ ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ نہیں کریں گے اس وقت تک اور وطی ہونے کا بھی امکان ہے بھئی۔ امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ امام زفر فرماتے ہیں آخری وطی سے عدت کو شمار کرنا شروع کر دیں گے۔ مثلاً میں نے مثال ذکر کی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاحِ فاسد کیا ہے، ایک مہینہ اس کے پاس رہا یا دو مہینے اس کے پاس رہا پھر وہ سفر پر چلا گیا اب وہ پانچ مہینے بعد آیا ہے لیکن ابھی بیوی کے پاس نہیں گیا، اس کو مسئلے کا پتہ چل گیا کہ ہمارا تو نکاح ہی نہیں ہوا، ہم نے تو بغیر گواہوں کے نکاح کیا تھا، تو اب امام زفر فرماتے ہیں آخری وطی سے عدت کا شمار کریں گے اور تین حیض اگر گزر چکے ہیں تو عدت پوری ہو چکی اب عورت جہاں چاہے نکاح کر لے، جبکہ ہمارے نزدیک یہ آدمی اس وقت پکا ارادہ کر رہا ہے اس عورت کو چھوڑنے کا، اس عورت کو چھوڑنے کا اور اس کی وطی کو چھوڑنے کا پکا ارادہ یہ شخص اس وقت کر رہا ہے لہٰذا اس وقت سے عدت شمار کریں گے، کیونکہ جب تک یہ شخص پکا ارادہ نہیں کرتا یا قاضی ان میں جدائی نہیں کرواتا تب تک اور وطی کا بھی امکان ہے، اور وطی کا بھی امکان ہے۔ تو لہٰذا آخری وطی کا پتہ ہی تب چلے گا جب یہ دونوں میں جدائی کروا دی جائے گی یا دونوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیں گے۔ جب تک یہ ایک دوسرے کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کرتے آخری وطی کا تو پتہ ہی نہیں ہے بھئی کیونکہ ہو سکتا ہے آگے بھی وہ کر لیں کیونکہ ان کا کیا خیال ہے ہمارا نکاح ہو چکا ہے۔ تو یوں کہو حاصلِ کلام یہ امام زفر نے کہا تھا کہ آخری وطی کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ یہ عدت وطی کی وجہ سے آئی ہے بھئی، وطی نہ کرتا تو کوئی عدت بھی نہ آتی، ہم کہتے ہیں ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے کہ یہ عدت وطی کی وجہ سے آئی ہے اور یہ عدت آخری وطی سے شروع ہوگی لیکن آخری وطی کا پتہ ہی نہیں چل سکتا جب تک کہ ایک دوسرے کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کر لیں، جب ایک دوسرے کو چھوڑنے کا ارادہ کر دیں گے اب پتہ چل گیا کہ آخری وطی ہو چکی ہے۔ تو ”وَلَنَا: أَنَّ كُلَّ وَطْءٍ وُجِدَ فِي الْعَقْدِ الْفَاسِدِ يَجْرِي مَجْرَى الْوَطْأَةِ الْوَاحِدَةِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ ہر ایسی وطی جو عقدِ فاسد کے اندر پائی جائے یہ قائم مقام ہے ایک ہی وطی کے، ”لِاسْتِنَادِ الْكُلِّ إِلَى حُكْمِ عَقْدٍ وَاحِدٍ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک منسوب ہے، استناد کا کیا معنی؟ منسوب ہونا، ”لِاسْتِنَادِ الْكُلِّ“ کیونکہ ان میں سے ہر وطی جو ہے وہ منسوب ہے، اس کی نسبت ہو رہی ہے، ”إِلَى حُكْمِ عَقْدٍ وَاحِدٍ“ ایک ہی عقد کے حکم کی طرف، ایک ہی عقد کا یہ حکم ہے یعنی یہ جو ان کو شبہۂ نکاح ہوا ہے اسی کی طرف نسبت ہو رہی ہے اس کی وجہ سے یہ ساری وطی ہو رہی ہے، ”وَلِهَذَا يُكْتَفَى فِي الْكُلِّ بِمَهْرٍ وَاحِدٍ“ اور اسی لیے اکتفاء کیا جائے گا ان تمام وطیوں میں ایک ہی مہر پر، ”فَقَبْلَ الْمُتَارَكَةِ أَوِ الْعَزْمِ لَا تَثْبُتُ الْعِدَّةُ مَعَ جَوَازِ وُجُودِ غَيْرِهِ“ تو باہم ایک دوسرے کو چھوڑنے سے پہلے، متارکت بابِ مفاعلہ ہے باہم ایک دوسرے کو چھوڑنا، تو کہتے ہیں ”فَقَبْلَ الْمُتَارَكَةِ أَوِ الْعَزْمِ“ تو لہٰذا باہم ایک دوسرے کو چھوڑنے یا پکے ارادے سے پہلے ”لَا تَثْبُتُ الْعِدَّةُ“ عدت ثابت نہیں ہو سکتی ”مَعَ جَوَازِ وُجُودِ غَيْرِهِ“ ساتھ جائز ہونے اور وطی کے بھی، کیونکہ ممکن ہے اور بھی یہ وطی کر لیں، ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، عدت کب سے شمار ہونی چاہیے؟ آخری وطی سے، لیکن آخری وطی کا پتہ ہی نہیں چل سکتا جب تک پکا ارادہ نہیں کریں گے، ان میں جدائی نہیں آئے گی۔ ”وَلِأَنَّ التَّمَكُّنَ عَلَى وَجْهِ الشُّبْهَةِ“ یہ دوسری دلیل دے رہے ہیں، یہ ہماری طرف سے دوسری دلیل ہے، ہم کہتے ہیں کہ وطی جو ہے خاوند اور بیوی کے درمیان ایک خفیہ معاملہ ہے، ہمیں اس کا علم نہیں ہو سکتا، جب ایک حکم کی علت کا پتہ نہ چل سکے تو سبب کو اس کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے، کس کو؟ سبب کو، جیسے نیند کے اندر بھئی وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جاتا ہے جب کوئی شخص ٹیک لگا کر سو جائے یا لیٹ کر سو جائے، حالانکہ وضو تو خروجِ نجاست سے ٹوٹتا ہے لیکن نیند کی حالت میں چونکہ خروجِ نجاست ہوگا اور انسان سویا ہوا ہے اس کو پتہ ہی نہیں چلے گا تو جب علت کا پتہ نہ چل سکا تو اس علت کا جو سبب تھا یعنی نیند اسی پر حکم کا دارومدار کر دیا گیا، جو شخص بھی ٹیک لگا کر سو جائے یا لیٹ کر سو جائے تو اس پر وضو ٹوٹنے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ تو یہاں پر بھی یہ جو وطی ہے میاں اور بیوی کے درمیان ایک خفیہ معاملہ ہے اور اس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا تو اس وطی کا جو سبب ہے یعنی یہ جو شبہۂ نکاح ہے، یہ شبہۂ نکاح جو ہے اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا، جب تک یہ شبہۂ نکاح ہے تو یوں کہیں گے وطی موجود ہے اور جب شبہۂ نکاح ختم ہوگا تب ہم کہیں گے اب وطی ختم، اور شبہۂ نکاح کیسے ختم ہوگا؟ جب قاضی جدائی کروا دے گا یا دونوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ، تو شبہۂ نکاح ختم، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ التَّمَكُّنَ عَلَى وَجْهِ الشُّبْهَةِ أُقِيمَ مَقَامَ حَقِيقَةِ الْوَطْءِ لِخَفَائِهِ“ اور اس لیے کیونکہ خاوند کا قادر ہونا وطی پر شبہے کے طریقے پر، خاوند وطی پر قادر ہے کس طریقے پر؟ شبہ کے یعنی شبہۂ نکاح کے طریقے پر، ان دونوں کو شبہ ہے کہ شاید ہمارا نکاح ہو چکا ہے، تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ التَّمَكُّنَ عَلَى وَجْهِ الشُّبْهَةِ“ اس لیے کیونکہ خاوند کا وطی پر قادر ہونا شبہۂ نکاح کے طریقے پر ”أُقِيمَ مَقَامَ حَقِيقَةِ الْوَطْءِ“ اس کو حقیقتِ وطی کے قائم مقام کر دیا گیا ”لِخَفَائِهِ“ اس لیے کیونکہ وطی تو خفی ہے، وہ تو پوشیدہ ہے اس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، ”وَمِسَاسِ الْحَاجَةِ إِلَى مَعْرِفَةِ الْحُكْمِ فِي حَقِّ غَيْرِهِ“ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی وطی بے شک خاوند اور بیوی کا پوشیدہ معاملہ ہے لیکن عدت عورت نے گزارنی ہے خاوند اور بیوی کو تو پتہ ہے نا کہ ہم نے آخری وطی اس وقت کی تھی، ہم نے آخری وطی اس وقت کی تھی لہٰذا ان پر تو بات پوشیدہ نہیں ہے، ہمارے لیے تو پوشیدہ ہے ان پر تو بات پوشیدہ نہیں، عدت تو اس عورت نے گزارنی ہے، کہتے ہیں بھئی آپ نے کہا خاوند اور بیوی کے علاوہ کسی اور کو حاجت ہی نہیں ہے اس کی عدت کے جاننے کی؟ کہتے ہیں نہیں، کوئی اور شخص جو اس عورت سے نکاح کی خواہش رکھتا ہو تو اس کو تو حاجت ہے، وہ تو جاننا چاہتا ہے کہ اس کی عدت کب شروع ہوگی اور کب ختم ہوگی، لہٰذا جب تک یہ ایک دوسرے کو چھوڑتے نہیں اس وقت تک وطی پر قدرت موجود ہے اور وطی پر قدرت یہ حقیقتِ وطی کے قائم مقام ہم نے کر دی ہے، تو گویا حقیقتاً اس وقت تک وطی موجود ہے، اور جب قاضی ان میں تفریق کروا دے گا یا وہ پکا ارادہ کر لیں گے ایک دوسرے کو چھوڑنے کا، زبان سے اظہار کر دیں گے تو اب معلوم ہوا اس کی عدت شروع ہو گئی ہے اب اس سے سب کو پتہ چل جائے گا بھئی۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ التَّمَكُّنَ عَلَى وَجْهِ الشُّبْهَةِ“ اس لیے کیونکہ شبہۂ نکاح کے طریقے پر وطی پر قادر ہونا، یہ جو وطی پر قدرت ہے، ”أُقِيمَ مَقَامَ حَقِيقَةِ الْوَطْءِ لِخَفَائِهِ“ اس کو حقیقتِ وطی کے قائم مقام کر دیا گیا وطی کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے، ”وَمِسَاسِ الْحَاجَةِ إِلَى مَعْرِفَةِ الْحُكْمِ فِي حَقِّ غَيْرِهِ“ اور نیز حاجت کے پیش آنے کی وجہ سے اس عورت کے حکم کو جاننے کے لیے خاوند کے علاوہ کے حق میں۔ خاوند کے علاوہ کوئی اور اس عورت کے حکم کو جاننا چاہتا ہے کہ کب یہ حلال ہوگی نکاح کے لیے، تو حاجت ہے اس حکم کو جاننے کی، تو لہٰذا جب یہ جدائی اختیار کر لیں گے تو اب معلوم ہوا کہ اب وطی نہیں ہے بھئی، اب عدت شروع ہو چکی ہے بھئی، تو وہ عدت کے بعد پھر کوئی شخص بھی اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ ”وَإِذَا قَالَتِ الْمُعْتَدَّةُ: انْقَضَتْ عِدَّتِي، وَكَذَّبَهَا الزَّوْجُ كَانَ الْقَوْلُ قَوْلَهَا مَعَ الْيَمِينِ“ صورتِ مسئلہ یہ، ایک عورت عدت گزار رہی تھی اور اس نے کہہ دیا کہ میری عدت گزر گئی ہے اور خاوند اس کو جھٹلا رہا ہے تو اب کس کا قول معتبر ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی عدت کے گزرنے کا پتہ عورت ہی کو ہو سکتا ہے لہٰذا عورت کا قول معتبر ہے لیکن اس کو قسم کھانا پڑے گی کیونکہ وہ عورت اس مسئلے میں امین ہے اور امین کو جب جھٹلایا جائے تو اس کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَتِ الْمُعْتَدَّةُ: انْقَضَتْ عِدَّتِي، وَكَذَّبَهَا الزَّوْجُ كَانَ الْقَوْلُ قَوْلَهَا مَعَ الْيَمِينِ“ اور جب عدت گزارنے والی عورت نے کہا میری عدت گزر گئی اور خاوند نے اس کو جھٹلایا، تو وہ قول جو معتبر ہے وہ اس عورت کا قول ہے ساتھ قسم کے، لیکن یہ ضروری ہے مدت اس کا احتمال رکھتی ہو، مدت اس کا احتمال رکھتی ہو جس میں عدت گزر سکے، ”لِأَنَّهَا أَمِينَةٌ فِي ذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ یہ عورت جو ہے یہ اپنے قول کے اندر امین ہے، امانت دار ہے، ”وَقَدِ اتُّهِمَتْ بِالْكَذِبِ“ اور اس پر تہمت لگائی گئی جھوٹ کے ساتھ، خاوند تکذیب کر رہا ہے، تو اس پر تہمت لگائی گئی ہے جھوٹ کی، ”فَتُحَلَّفُ كَالْمُودَعِ“ تو لہٰذا اس کو قسم دی جائے گی جیسے مودَع، وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی جائے۔ اَوْدَعَ يُوْدِعُ اِیْدَاعًا کا معنی ہے کسی کے پاس امانت رکھوانا۔ جیسے کسی شخص نے کسی دوسرے کے پاس اپنی امانت رکھوائی اور پھر بعد میں دونوں کے اندر اختلاف آیا، وہ مودَع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی وہ کہتا ہے میں نے امانت آپ کو واپس کر دی تھی آپ مجھ سے لے گئے تھے، اور مودِع جس نے امانت رکھوائی تھی وہ کہتا ہے نہیں میں نے آپ سے ابھی تک اپنی امانت وصول نہیں کی، تو دونوں میں اختلاف آیا، تو مسئلہ قاضی کے پاس چلا گیا تو یاد رکھو اس صورت میں مودَع یعنی وہ جو امین ہے جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی اس کا قول معتبر ہے ساتھ قسم کے بھئی۔ ”كَالْمُودَعِ“ جیسے کہ مودَع ہے یعنی وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی جائے، جب وہ اس کو جھٹلایا جائے تو اس کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوتا ہے۔ ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَلَاقًا بَائِنًا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا وَطَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ صورتِ مسئلہ یہ بھئی، یاد رکھو ایک شخص ہے اس نے اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دی، توجہ ہے؟ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دی، طلاقِ بائن ہوتے ہی نکاح ٹوٹ گیا اب خاوند کے ساتھ صحبت جائز نہیں۔ اور پھر عدت کے اندر اسی خاوند نے دوبارہ اس عورت سے نکاح کر لیا، رجوع تو ہو نہیں سکتا تو دوبارہ نکاح کر لیا، اور دوبارہ نکاح کرنے کے بعد پھر خاوند نے بغیر صحبت کے ہی پھر اس عورت کو طلاق دے دی۔ پھر اس عورت کو طلاق دے دی۔ تو اس صورت میں یاد رکھو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عورت وہی پہلی عدت پوری کرے گی، کچھ عدت گزر گئی تھی کچھ باقی تھی تو وہی باقی عدت پوری کر لے گی اور پھر جہاں چاہے نکاح کر لے، بھئی کیوں؟ پہلی عدت کیوں پوری کرے گی؟ دوسری عدت کیوں نہیں گزارے گی؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ دوسرے نکاح کے بعد خاوند نے صحبت نہیں کی، تو دوسرے نکاح میں یہ غیر مدخول بہا ہے اور غیر مدخول بہا پر کوئی عدت نہیں ہوتی، توجہ ہے؟ لہٰذا اس دوسرے نکاح کی وجہ سے اس پر کوئی عدت نہیں آئے گی یہ اسی پہلی عدت کو پورا کرے گی، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس عورت پر نئی عدت آگئی، یہ ایک نئی عدت گزارے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَلَاقًا بَائِنًا“ اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دی، ”ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا“ پھر اس سے عدت کے اندر نکاح کر لیا، ”وَطَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اور پھر دوبارہ اس کو طلاق دے دی اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی، ”فَعَلَيْهِ مَهْرٌ كَامِلٌ“ بھئی یاد رکھو، یہاں دراصل شیخین اور امام محمد ان کا آپس میں اختلاف ہے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے نکاح کے اندر تو خاوند نے صحبت کی تھی تو وہی پہلے نکاح کی صحبت دوسرے نکاح میں بھی شمار کی جائے گی، دوسرے نکاح میں بھی صحبت شمار کی جائے گی، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، پہلے نکاح کی صحبت دوسرے نکاح میں شمار نہیں کی جائے گی، اور دوسرے نکاح میں خاوند نے صحبت نہیں کی تو بغیر صحبت کے طلاق دی ہے یہ غیر مدخول بہا ہے لہٰذا خاوند پر اب نصفِ مہر آئے گا کیونکہ صحبت سے پہلے بیوی کو طلاق دے دی جائے تو نصفِ مہر آتا ہے اور نیز اس پر عدت بھی نہیں ہوتی لہٰذا وہی عدت پہلی عدت پوری کرے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے نکاح کے اندر جو صحبت تھی وہ دوسرے نکاح کے اندر بھی صحبت شمار ہوگی، گویا دوسرے نکاح کے بعد بھی صحبت پائی گئی، اور جب دوسرے نکاح کے بعد صحبت پائی گئی ہے اور پھر طلاق دی ہے تو پورا مہر بھی دینا پڑے گا اور نئی عدت بھی دوبارہ سے شمار کرنا پڑے گی۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَلَاقًا بَائِنًا“ اور جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دے، ”ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا“ پھر خاوند اس سے اس کی عدت کے اندر دوبارہ نکاح کر لے، ”وَطَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اور پھر خاوند دوبارہ اس کو طلاق دے دے اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی، صحبت کرنے سے پہلے۔ ”فَعَلَيْهِ مَهْرٌ كَامِلٌ“ تو اس خاوند پر پورا مہر ہے، گویا صحبت کر چکا ہے یوں سمجھیں گے، تو اس پر پورا مہر ہے۔ ”وَعَلَيْهَا عِدَّةٌ مُسْتَقِلَّةٌ“ اور اس عورت پر ایک مستقل عدت ہے یعنی پوری عدت ہے۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ نِصْفُ الْمَهْرِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس خاوند پر نصف مہر ہے، کیونکہ صحبت سے پہلے طلاق دے دی۔ ”وَعَلَيْهَا إِتْمَامُ الْعِدَّةِ الْأُولَى“ اور اس عورت پر وہی پہلی عدت کا پورا کرنا واجب ہے، اسی کو پورا کرے گی، نئی عدت نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ هَذَا طَلَاقٌ قَبْلَ الْمَسِيسِ“ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا طَلَاقٌ قَبْلَ الْمَسِيسِ“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق ہے قبل المسیس، اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے۔ ”فَلَا يُوجِبُ كَمَالَ الْمَهْرِ“ لہٰذا یہ پورے مہر کو واجب نہیں کرے گی۔ ”وَلَا اسْتِئْنَافَ الْعِدَّةِ“ اور نہ یہ عدت کے نئے ہونے کو واجب کرے گی۔ یہ طلاق نہ تو کامل مہر کو واجب کرے گی اور نہ نئے سرے سے عدت کو واجب کرے گی۔ ”وَإِكْمَالُ الْعِدَّةِ الْأُولَى إِنَّمَا يَجِبُ بِالطَّلَاقِ الْأَوَّلِ“ اچھا بھئی! تو پہلی عدت کیوں یہ پورا کرے گی؟ پہلی عدت کیوں پورا کرے گی؟ اس کے بعد تو نکاح آ گیا تھا، جب نکاح آ گیا تو پہلی عدت تو ختم ہو گئی۔ کہتے ہیں بھئی، جب دوسرا نکاح آیا، جب دوسرا نکاح آیا عدت کے اوپر، تو پہلی عدت کا حکم چھپ گیا۔ ختم نہیں ہوئی پہلی عدت، اس کا حکم چھپ گیا، کیونکہ احتمال تھا خاوند صحبت کر لے گا۔ جب صحبت کر لے گا تو وہ بالکل ختم ہو جائے گی۔ لیکن خاوند نے صحبت نہیں کی اور اس کے بغیر ہی پھر دوبارہ طلاق دے دی، تو وہ جو حکم جو پہلی عدت کا چھپ گیا تھا وہ پھر ظاہر ہو گیا۔ وہ حکم کچھ دیر کے لیے چھپ گیا تھا، خاوند صحبت کر لیتا تو وہ عدت ہی ختم ہو جاتی، لیکن خاوند نے صحبت نہیں کی اور پھر طلاق دے دی، تو وہ جو پہلی عدت کا حکم چھپ گیا تھا وہ دوبارہ ظاہر ہو گیا، تو کچھ گزار چکی ہے اور جو باقی ہے اس کو پورا کر لے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِكْمَالُ الْعِدَّةِ الْأُولَى“ اور کہتے ہیں پہلی عدت کا پورا کرنا ”إِنَّمَا يَجِبُ بِالطَّلَاقِ الْأَوَّلِ“ وہ تو پہلی طلاق کی وجہ سے ہی واجب ہوئی ہے پہلی عدت۔ ”إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ حَالَ التَّزَوُّجِ الثَّانِي“ مگر یہ کہ اس کا حکم ظاہر نہیں ہوا تھا دوسرے نکاح کی حالت میں۔ دوسرے نکاح کی حالت میں اس پہلی عدت کا حکم ظاہر نہیں تھا، وہ چھپ گئی تھی۔ ”فَإِذَا ارْتَفَعَ بِالطَّلَاقِ الثَّانِي“ پھر جب یہ دوسرا نکاح بھی اٹھ گیا دوسری طلاق کی وجہ سے ”ظَهَرَ حُكْمُهُ“ تو اب اس پہلی طلاق کا حکم دوبارہ ظاہر ہو گیا۔ ”كَمَا لَوْ اشْتَرَى أُمَّ وَلَدٍ ثُمَّ أَعْتَقَهَا“ جیسے کوئی شخص اپنی ام ولد کو خرید لے پھر اسے آزاد کر دے۔ صورت مسئلہ یہ: ایک شخص ہے، اس نے کسی باندی سے نکاح کیا ہوا ہے اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی پیدا ہوئی اور یہ اولاد جو ہے وہ تو اسی خاوند کی شمار ہوگی کیونکہ آقا کی اولاد نہیں ہے، خاوند کی اولاد ہے۔ تو یہ باندی جو ہے یہ اس کی منکوحہ ہے، منکوحہ ہے۔ البتہ ایک بات ہے کہ اس کے جتنے بچے ہوں گے وہ اس باندی کے آقا کے غلام اور باندیاں شمار ہوں گے۔ یہ باندی جس کی ہے، یہ اس کے بچے اسی کے غلام اور باندیاں شمار ہوں گے، کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بچے آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتے ہیں۔ ماں آزاد تو بچے آزاد، ماں اگر باندی ہے تو بچے بھی غلام اور باندیاں ہوں گے۔ تو یہ شخص اس کے اس باندی سے بچے پیدا ہوئے، وہ بچے اس باندی کے آقا کے غلام اور باندیاں ہیں۔ لیکن بہرحال اس شخص کے بچے تو اس باندی سے ہو چکے ہیں، تو یہ شخص جو ہے اس اپنی منکوحہ کو آقا سے خرید لیتا ہے۔ تو جب آقا سے باندی کو خریدے گا آپ نے پڑھا ہے کہ جیسے ہی میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے کا مالک بنتا ہے، ساتھ ہی نکاح ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ ملک یمین آ گئی۔ جب خاوند اپنی بیوی کی پوری ذات کا مالک بن گیا تو ملک نکاح کی کوئی حاجت نہ رہی، کیونکہ ملک نکاح میں تو صرف وہ صحبت کا مالک تھا، لیکن اب پوری ذات کا مالک بن گیا ہے، تو اب وہ جو کمزور ملکیت تھی وہ ختم ہو گئی۔ تو خاوند نے اپنی بیوی کو خرید لیا اور خریدتے ہی نکاح ختم ہو گیا۔ تو خاوند اس کا مالک بن گیا، اب خاوند کے لیے اس کے ساتھ صحبت جائز ہے۔ اگرچہ اس عورت کا نکاح ٹوٹا ہے۔ یہ جو باندی ہے اس کا نکاح تھا یا نہیں؟ نکاح ٹوٹا ہے اور جب نکاح ٹوٹے تو باندی پر کتنی عدت آتی ہے؟ باندی کی عدت دو حیض ہیں۔ تو دو حیض آئے، لیکن اس آقا کے حق میں یہ جو خاوند جس نے اس کو خرید لیا ہے، اس کے حق میں یہ عدت ظاہر نہیں، یہ اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے، کیونکہ پہلے اس کی بیوی تھی اب یہ مالک بن گیا ہے۔ تو اس عورت پر عدت تو آئی ہے کہ اس کا نکاح ٹوٹا ہے، لیکن اپنے آقا کے حق میں یہ عدت ظاہر نہیں ہوگی۔ اور نیز یہ باندی اب اس کی ام ولد بن گئی۔ کیوں؟ کیونکہ اسی باندی سے اس کے بچے بھی ہیں۔ تو یہ اس کی ام ولد بن گئی اور پھر اس باندی کو اس خاوند نے آزاد کر دیا۔ جب آزاد کر دیا تو آپ نے پڑھا ہے ابھی پیچھے مسئلہ گزرا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ام ولد کی عدت تین حیض ہیں۔ تو آقا نے اس کو آزاد کر دیا، تو اب اس عورت پر یہ عدت بھی آ گئی۔ نکاح ٹوٹنے کے بھی دو حیض تھے اور آزاد کیا ہے تو اس کے بھی تین حیض آ گئے، تو ان میں تداخل ہو جائے گا۔ تو یہ عورت تین حیض گزارے گی، یہ اس کی عدت ہے۔ اب یہ خاوند جس نے اس کو خرید کر آزاد کیا ہے، یہ خاوند جس نے اپنی ام ولد کو خرید کر آزاد کیا یہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کہتے ہیں تین حیض کے بعد نکاح کر سکتا ہے۔ تین حیض کے بعد نکاح کر سکتا ہے۔ جس وقت اس نے باندی کو خریدا تھا نکاح ٹوٹ گیا تھا، دو حیض عدت آ گئی تھی، لیکن خود اس آقا کے حق میں عدت ظاہر نہیں تھی کیونکہ یہ پہلے اس کی منکوحہ تھی بھئی۔ لہٰذا عورت پر دو حیض تو آ گئے، لیکن آقا کے لیے صحبت حرام نہیں۔ اور جب اس آقا نے آزاد کر دیا تو اب وہ آزادی والی عدت بھی آ گئی، تو اب دونوں عدتوں میں تداخل ہوگا اور اب یہ عدت اس آقا کے یعنی اس خاوند کے حق میں بھی ظاہر ہو گئی، یہ اب اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اب تین حیض انتظار کرے پھر اس کے بعد یہ اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو دیکھو بات یہ چل رہی تھی، مسئلہ یہ چل رہا تھا ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دی ہے، پھر عدت کے اندر دوبارہ نکاح کر لیا ہے اور پھر بغیر صحبت کے دوبارہ طلاق دے دی ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ پہلی عدت کو پورا کرے گی۔ اور جب دوسرا نکاح کیا تھا تو کچھ دیر کے لیے اس طلاق کا حکم چھپ گیا تھا اور پھر جب بغیر صحبت کیے طلاق دے دی تو اس طلاق کا حکم دوبارہ ظاہر ہوا، اب یہ عدت پوری کرے گی۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص، یہ جو مسئلہ میں نے ذکر کیا، کوئی شخص اپنی ام ولد کو خریدے اور پھر آزاد کر دے۔ تو دیکھو جب اس نے اپنے ام ولد کو خریدا تو نکاح ٹوٹ گیا اور جب نکاح ٹوٹا تو دو حیض عدت آئے، لیکن وہ خاوند کے حق میں وہ حیض ظاہر نہیں، وہ جو آقا بن چکا ہے، وہ خاوند جو اب کیا بن چکا ہے؟ آقا بن چکا ہے۔ اس کے حق میں یہ عدت ظاہر نہیں ہے، یہ صحبت کر سکتا ہے۔ لیکن جب یہ اس کو آزاد کر دے گا تو اب ان کا حکم ظاہر ہو جائے گا۔ جیسے یہاں پر عدت کا حکم ظاہر ہو گیا آزاد کرنے کے بعد، تو اسی طرح جو مسئلہ ہم نے ذکر کیا اس کے اندر بھی خاوند جب دوسری طلاق دے گا تو پہلی عدت کا حکم ظاہر ہو جائے گا۔ دونوں میں مشابہت سمجھ میں آئی؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”كَمَا لَوْ اشْتَرَى أُمَّ وَلَدٍ ثُمَّ أَعْتَقَهَا“ جیسے کہ کوئی شخص اپنی ام ولد کو خرید لے ”ثُمَّ أَعْتَقَهَا“ اور پھر اس کو آزاد کر دے، پھر اس کو آزاد کر دے۔ تو اس صورت کے اندر دیکھو پہلے دو حیض عدت آئی، لیکن اس خاوند کے حق میں وہ ظاہر نہیں تھیں، لیکن جب آزاد کر دیا تو اب وہ عدت جو ہے وہ ظاہر ہو جائے گی خاوند کے حق میں بھی اور ایک حیض اور بھی گزارے گی کیونکہ ام ولد آزاد ہوئی ہے، تو تین حیضوں کے بعد یہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَهُمَا“ اب شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آ گئی۔ شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ پہلے نکاح کے اندر صحبت یوں ہی شمار کریں گے گویا دوسرے نکاح میں بھی صحبت ہے۔ اور جب دوسرے نکاح میں صحبت آئی تو اب مہر بھی پورا دینا پڑے گا اور عدت بھی نئی مستقل آ جائے گی۔ ”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهَا مَقْبُوضَةٌ فِي يَدِهِ حَقِيقَةً بِالْوَطْأَةِ الْأُولَى“ بھئی دیکھو، پہلے سمجھ لو۔ شیخین اس کو قیاس کرتے ہیں غاصب کے مسئلے پر۔ غاصب وہ شخص کہ جو کسی دوسرے کی چیز چھین لے۔ کسی دوسرے کی چیز چھین لے اس کو کیا کہتے ہیں؟ غاصب کہتے ہیں، کسی کی چیز پر قبضہ کر لے۔ تو ایک شخص ہے اس نے کسی دوسرے کی چیز پر قبضہ کر لیا۔ تو اس پر شرعاً واجب ہے کہ یہ اس چیز کو واپس لوٹائے۔ پھر بعد میں یہ غاصب اسی شخص کے پاس چلا گیا جس کی چیز تھی اور اس کو کہتا ہے کہ وہ چیز تو میں آپ کو واپس نہیں دوں گا، ہاں آپ میرے ساتھ بیع کرنا چاہتے ہیں تو بیع کر لیں، میں اس کے پیسے آپ کو دے دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ مالک راضی ہو گیا، تو دونوں کے درمیان عقد ہوا، غاصب نے پیسے دے دیے، غاصب اس کا مالک بن گیا۔ اب دیکھو، یہاں پر غاصب کا جو پہلا قبضہ تھا وہ قبضہ غصب والا تھا اور بعد میں یہ اس چیز کا مالک بن رہا ہے، بیع کر رہا ہے اور بیع کے بعد ضروری ہوتا ہے کہ انسان مبیع پر قبضہ کرے۔ لیکن چونکہ یہ چیز اس کے قبضے میں پہلے سے موجود ہے تو یہی پہلا قبضہ دوسرے قبضے کے بھی قائم مقام ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ کوئی شخص کوئی چیز خریدے تو اس کو کیا کرنا پڑے گا اس چیز پر؟ قبضہ کرنا پڑے گا، لیکن یہاں پر پہلا قبضہ جو غصب کی وجہ سے ہے وہی قائم مقام ہو جائے گا دوسرے قبضے کے۔ ایسا نہیں کرنا پڑے گا کہ بھئی نیا قبضہ ضروری ہے، غاصب یہ چیز واپس مالک کو دے، پھر مالک اپنے قبضے میں کر لے اور پھر اس کے بعد غاصب بیع کی وجہ سے دوبارہ قبضہ کرے۔ نہیں نہیں، دوبارہ نئے قبضے کی کوئی ضرورت نہیں، وہی پہلا قبضہ دوسرے قبضے کے بھی قائم مقام ہو جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اسی طرح شیخین فرماتے ہیں کہ خاوند نے جب پہلی طلاق بیوی کو دی تو بیوی اس کے قبضے میں تھی، وہ اس کے ساتھ صحبت کر چکا ہے۔ جب بیوی سے صحبت کر لی معلوم ہوا بیوی اس کے قبضے میں ہے اور پھر اس نے طلاق دے دی۔ جب طلاق دے دی تو عورت عدت گزار رہی ہے اور یہ عدت بھی کس کا اثر ہے؟ اسی پہلے قبضے کا اثر ہے۔ یہ عدت بھی کس کا اثر ہے؟ اسی پہلے قبضے کا یعنی اس پہلے نکاح کا اثر ہے، تو گویا ابھی بھی قبضہ موجود ہے کیونکہ قبضے کا اثر چل رہا ہے اور اس عدت کے اندر خاوند نے دوسرا نکاح اس عورت سے کر لیا اب، کیونکہ طلاق بائن دی تھی۔ تو جب اس نے دوسرا نکاح کیا تو اب یہ دوسرے نکاح کے اندر ابھی تک عدت چل رہی ہے، معلوم ہوا پہلا قبضہ موجود ہے تو وہی قبضہ یہ دوسرے قبضے کے بھی قائم مقام ہو جائے گا۔ خاوند صحبت کرے یا نہ کرے یوں سمجھیں گے بیوی خاوند کے قبضے میں ہے یعنی صحبت کر چکا ہے۔ جب صحبت کر چکا ہے تو اب پورا مہر بھی دینا پڑے گا اور اب طلاق دے گا تو پوری نئی عدت گزارنا پڑے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ ”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهَا مَقْبُوضَةٌ فِي يَدِهِ حَقِيقَةً“ کہ یہ عورت خاوند کے قبضے میں ہے حقیقتاً ”بِالْوَطْأَةِ الْأُولَى“ پہلی وطی کی وجہ سے۔ شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ عورت پہلی وطی کی وجہ سے ہی خاوند کے قبضے میں ہے۔ ”وَبَقِيَ أَثَرُهُ“ اور اس پہلی وطی کا اثر ابھی بھی باقی ہے ”وَهُوَ الْعِدَّةُ“ اور وہ عدت ہے۔ ”فَإِذَا جَدَّدَ النِّكَاحَ“ جب خاوند نے اس کے ساتھ نیا نکاح کر لیا ”وَهِيَ مَقْبُوضَةٌ“ اور حال یہ ہے کہ یہ ابھی بھی مقبوضہ ہے، اس پر ابھی بھی خاوند کا قبضہ ہے کیونکہ عدت باقی ہے بھئی، یہ اسی وطی کا اثر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا جَدَّدَ النِّكَاحَ“ جب خاوند نے اس سے نیا نکاح کر لیا ”وَهِيَ مَقْبُوضَةٌ“ اور حال یہ ہے کہ یہ اب مقبوضہ ہے ”نَابَ ذَلِكَ الْقَبْضُ عَنِ الْقَبْضِ الْمُسْتَحَقِّ فِي هَذَا النِّكَاحِ“ تو ”نَابَ ذَلِكَ الْقَبْضُ“ تو وہ جو پہلا قبضہ تھا وہ قائم مقام ہو جائے گا ”عَنِ الْقَبْضِ الْمُسْتَحَقِّ“ اس قبضے سے المستحق جس کا استحقاق ہوا ہے ”فِي هَذَا النِّكَاحِ“ اس نکاح میں۔ تو وہ جو پہلا قبضہ ہے وہ اس نکاح کے قبضے کے قائم مقام ہو جائے گا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے کہ ”نَابَ ذَلِكَ الْقَبْضُ عَنِ الْقَبْضِ الْمُسْتَحَقِّ فِي هَذَا النِّكَاحِ“ تو وہ جو پہلا قبضہ ہے وہ اس نکاح کے کی وجہ سے جس قبضے کا استحقاق آیا ہے یہ اس کا قائم مقام ہو جائے گا۔ ”كَالْغَاصِبِ يَشْتَرِي الْمَغْصُوبَ“ جیسے کہ غصب کرنے والا شخص جو ہے وہ خرید لے المغصوب غصب کی ہوئی چیز کو، وہ غصب کی ہوئی چیز ”الَّذِي فِي يَدِهِ“ جو ابھی اسی غاصب کے قبضے میں ہے ”فَيَصِيرُ قَابِضًا بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ“ تو یہ غاصب اس پر قبضہ کرنے والا ہو جائے گا محض عقد سے ہی، صرف عقد کرنے سے ہی قبضہ کرنے والا شمار ہو جائے گا، یعنی پہلا قبضہ دوسرے قبضے کے قائم مقام ہو جائے گا۔ ”فَوَضَحَ بِهَذَا“ تو یہ بات اس سے واضح ہو گئی ”أَنَّهُ طَلَاقٌ بَعْدَ الدُّخُولِ“ کہ یہ طلاق جو ہے صحبت کے بعد ہے۔ یہ جو دوسری طلاق ہے یہ کس کے بعد ہے؟ صحبت کے بعد ہے کیونکہ پہلا قبضہ دوسرے قبضے کے قائم مقام ہو گیا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا عِدَّةَ عَلَيْهَا أَصْلًا“ کہ اس عورت پر سرے سے کوئی عدت ہے ہی نہیں۔ اس عورت پر سرے سے کوئی عدت ہے ہی نہیں۔ امام زفر فرماتے ہیں کہ خاوند نے پہلے طلاق بائن دی تھی، عورت عدت گزار رہی تھی۔ پھر خاوند نے ہی دوبارہ نکاح کر لیا تو پہلی عدت ختم۔ پھر خاوند نے جب دوبارہ طلاق دی تو وہ بغیر صحبت کے طلاق دی ہے، لہٰذا اس طلاق کی وجہ سے نئی اس عورت پر عدت نہیں آئے گی اور پہلے والی عدت بھی ختم ہو چکی، لہٰذا اس عورت پر سرے سے کوئی عدت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا عِدَّةَ عَلَيْهَا أَصْلًا“ کہ اس عورت پر سرے سے کوئی عدت ہی نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ الْأُولَى قَدْ سَقَطَتْ بِالتَّزَوُّجِ“ اس لیے کیونکہ پہلی عدت وہ ساقط ہو گئی ہے دوسرا نکاح کرنے کی وجہ سے ”فَلَا تَعُودُ“ تو وہ واپس نہیں لوٹے گی ”وَالثَّانِيَةُ لَمْ تَجِبْ“ اور دوسری عدت واجب ہی نہیں ہوئی، کیونکہ اس نے صحبت ہی نہیں کی۔ ”وَجَوَابُهُ مَا قُلْنَا“ اور جواب اس کا وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا اوپر۔ امام محمد رحمہ اللہ اور شیخین کے مذہب میں ذکر ہو گیا بھئی جواب سارا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا طَلَّقَ الذِّمِّيُّ الذِّمِّيَّةَ فَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا، وَكَذَا إِذَا خَرَجَتِ الْحَرْبِيَّةُ إِلَيْنَا مُسْلِمَةً فَإِنْ تَزَوَّجَتْ جَازَ“ صورت مسئلہ یہ: ایک ذمی نے ذمیہ کو طلاق دی ہے تو کیا اس پر عدت آئے گی یا نہیں؟ اسی طرح ایک حربیہ ہے، وہ مسلمان ہو کر دار الحرب آ گئی۔ تو کیا اس پر عدت ہے یا نہیں؟ یہ مسئلے پہلے بھی ذکر ہو چکے بھئی، باب نکاح اہل الشرک کے اندر۔ آپ نے پڑھا تھا، امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ دیکھو، وہ پھر ذرا سمجھ لیں، وہ پھر ذہن میں تازہ ہو جائیں گے تو یہ مسئلے فوراً آپ کو سمجھ میں آ جائیں گے۔ امام صاحب کے نزدیک شرعی احکام غیر مسلموں پر لاگو نہیں ہوتے۔ امام صاحب کا مذہب کیا ہے؟ شرعی احکام غیر مسلموں پر لاگو نہیں ہوتے۔ لہٰذا ذمی اگر ذمیہ کو طلاق دیتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ طلاق کے بعد عورت پر کوئی عدت نہیں ہوتی، تو لہٰذا وہ عورت عدت کے اندر بھی جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ وہ غیر مسلم ہیں، ان پر اسلامی احکام لاگو نہیں ہوتے اور خود ان کا اپنا بھی یہی عقیدہ ہے کہ عورت پر عدت نہیں ہوتی، لہٰذا وہ آگے نکاح کرے گی وہ نکاح صحیح ہو جائے گا۔ اور بعد میں یہ دونوں مسلمان ہو گئے جس کے ساتھ عورت نے عدت میں نکاح کیا تھا، تو امام صاحب فرماتے ہیں ان کو اسی نکاح پر برقرار رکھیں گے۔ اسی نکاح پر برقرار رکھیں گے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق نکاح صحیح تھا بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، ان کو نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ ہمارے جو مسائل ہیں دین کے وہ دو قسم کے ہیں: کچھ مسائل متفق علیہ ہیں جس میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے اور کچھ مسائل اجتہادی ہیں جن کے اندر فقہاء کا آپس میں اختلاف ہوتا ہے۔ تو جو متفق علیہ یعنی یوں کہو، اجماعی مسئلے ہوں گے، ان کے اندر یہ غیر مسلموں پر بھی لاگو ہوں گے۔ کیونکہ یہ ہمارے وطن میں رہتے ہیں، انہوں نے خود ہمارے قوانین اور احکام کو ماننے کا اپنے اوپر التزام کیا ہے۔ تو لہٰذا ذمی نے ذمیہ کو طلاق دے دی، اس عورت نے عدت کے اندر نکاح کر لیا، صاحبین فرماتے ہیں یہ نکاح جائز نہیں۔ لیکن ہم ان کو چھیڑیں گے نہیں، یہ نہیں کہیں گے کہ تم اب جدا ہو جاؤ، نہیں، کیونکہ ہم نے ان سے عقد ذمہ کیا ہوا ہے۔ تو یہ رہیں گے تو اسی طرح، البتہ ان کا یہ نکاح جائز نہیں۔ لہٰذا جیسے ہی یہ مسلمان ہوں گے قاضی جدائی کروائے گا، تو اب نکاح دوبارہ کیا جائے گا شرعی ضابطے کے مطابق بھئی۔ تو معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک ذمیہ پر عدت نہیں ہوگی اگر ان کا یہی عقیدہ ہو، یہ قید ضرور یاد رکھنا، اگر ان کا یہی عقیدہ ہے کہ عورت پر عدت نہیں ہوتی تو امام صاحب فرماتے ہیں وہ شرعی احکام کے مکلف نہیں ہیں لہٰذا ان پر عدت نہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں ان پر عدت ہے، لیکن ہم ان کو چھیڑیں گے نہیں۔ ہاں اگر وہ مسلمان ہوئے یا انہوں نے مرافعہ کیا۔ مرافعہ ذکر ہوا تھا کہ قاضی کے پاس وہ آ گئے اسلامی حکم معلوم کرنے کہ ہمیں اسلامی حکم بتائیں ہم اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمان نہیں ہونا چاہتے، ہم صرف اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں، اس کو مرافعہ کہتے ہیں۔ دیکھو دونوں قاضی کے پاس کوئی مقدمہ نہیں لے کر آئے، صرف اسلامی حکم معلوم کرنے آئے ہیں، تو صاحبین فرماتے ہیں جب تک یہ اسلام نہیں لاتے یا یہ مرافعہ نہیں کرتے ہم ان کے معاملے میں دخل نہیں دیں گے، اگرچہ یہ نکاح جائز نہیں۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں یہ نکاح ہی جائز ہے۔ لہٰذا یہ مسلمان بھی ہو گئے تو اسی نکاح پر برقرار رکھا جائے گا۔ تو حاصل کلام کیا؟ کہ امام صاحب کے نزدیک غیر مسلموں پر شرعی احکام لاگو نہیں، جبکہ صاحبین کے نزدیک غیر مسلموں پر شرعی احکام لازم ہیں جب وہ مملکت اسلامیہ میں رہتے ہیں۔ دار الحرب میں رہنے والوں پر تو ہمارا اختیار ہی نہیں ہے، لیکن دار الاسلام کے اندر رہنے والوں پر شرعی قوانین لازم ہوں گے، البتہ اسلام یا مرافعہ سے قبل ہم ان کو چھیڑیں گے نہیں، ان کے معاملے میں دخل نہیں دیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب صورت مسئلہ یہ: ایک ذمی نے ذمیہ کو طلاق دے دی تو کیا اس پر عدت ہے یا نہیں؟ امام صاحب فرماتے ہیں اگر ان کا عقیدہ ہے کہ عدت نہیں ہوتی تو عدت نہیں ہے۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ عورت پر عدت ہے۔ اسی طرح دوسرا مسئلہ صاحب ہدایہ یہاں یہ ذکر فرمائیں گے کہ ایک عورت دار الحرب سے مسلمان ہو کر آ گئی اور آپ نے پڑھا تھا کہ جب تباین دار پایا جائے، تباین دار یعنی دونوں میاں بیوی الگ الگ ملکوں میں رہتے ہیں۔ خاوند دار الحرب میں ہے اور بیوی مسلمان ہو کر دار الاسلام آ گئی ہے، تو یہ تباین دار ہے حقیقتاً بھی، حقیقتاً دونوں کا ملک الگ الگ ہے اور تباین دار حکماً بھی ہے یعنی حکم بھی تباین دار کا لگایا جائے گا کیونکہ بیوی کا اب یہیں رہنے کا ارادہ ہے، واپسی کا ارادہ نہیں۔ تو عند الاحناف جب تباین دار حقیقتاً بھی ہو اور حکماً بھی ہو، تو پھر اس صورت میں میاں بیوی میں فوراً جدائی آ جاتی ہے۔ وہ عورت جیسے ہی مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئی، ساتھ ہی جدائی آ گئی۔ اب اس عورت پر کیا عدت ہے یا یہ فوراً نکاح کر سکتی ہے؟ امام صاحب فرماتے ہیں یہ فوراً نکاح کر سکتی ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، یہ مسلمان ہوئی ہے، لہٰذا اس پر اسلامی احکام لاگو ہوں گے۔ جی دیکھیے بھئی، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ اب یہی بیان فرمائیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَ الذِّمِّيُّ الذِّمِّيَّةَ“ اور جب طلاق دے دی کسی ذمی نے کسی ذمیہ کو، یعنی وہ کافر جو دار الاسلام میں رہتے ہیں۔ تو جب ایک ذمی نے طلاق دے دی کسی ذمیہ کو ”فَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا“ تو اس عورت پر کوئی عدت نہیں ہے، یہ امام صاحب کے نزدیک۔ لیکن میں نے بتلایا کیا قید ضروری ہے؟ کہ ان کا اپنا بھی یہی اعتقاد ہو۔ ”وَكَذَا إِذَا خَرَجَتِ الْحَرْبِيَّةُ إِلَيْنَا مُسْلِمَةً“ اور اسی طرح ہے جب کوئی حربیہ ہماری طرف مسلمان ہو کر نکل آئے ”فَإِنْ تَزَوَّجَتْ جَازَ“ تو اگر اس نے نکاح کر لیا تو یہ جائز ہے۔ امام صاحب کے نزدیک یہ عورت فوراً نکاح کر سکتی ہے۔ ”إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا“ مگر یہ کہ یہ عورت حاملہ ہو۔ اگر یہ جو حربیہ مسلمان ہو کر آئی ہے اگر یہ حاملہ ہے پھر اس کو نکاح کی اجازت نہیں، وضع حمل کے بعد نکاح کر سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا“ مگر یہ کہ یہ عورت جو ہے حاملہ ہو۔ ”وَهَذَا كُلُّهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ سارا امام صاحب کے نزدیک ہے ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں: ”عَلَيْهَا وَعَلَى الذِّمِّيَّةِ الْعِدَّةُ“ کہ یہ جو مہاجرہ ہے اور یہ جو ذمیہ ہے ان دونوں پر عدت ہے۔ یہ جو ہجرت کر کے آئی ہے اس پر اور ذمیہ جس کو ذمی نے طلاق دی ہے دونوں پر عدت ہے۔ تو ”وَقَالَا“ صاحبین فرماتے ہیں: ”عَلَيْهَا وَعَلَى الذِّمِّيَّةِ الْعِدَّةُ“ کہ اس عورت پر یہ جو ہجرت کر کے آئی ہے اور ذمیہ پر عدت ہے۔ ”أَمَّا الذِّمِّيَّةُ فَالِاخْتِلَافُ فِيهَا نَظِيرُ الِاخْتِلَافِ فِي نِكَاحِهِمْ مَحَارِمَهُمْ“ جی، صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں یہ جو ذمیہ کے مسئلے میں اختلاف ہے امام صاحب اور صاحبین کا، یہ اسی اختلاف کی طرح ہے وہ جو محارم کے ساتھ نکاح کی بات آئی تھی۔ بھئی، محارم کے ساتھ نکاح، کوئی ذمی ہے وہ اپنی محرم کے ساتھ نکاح کر لیتا ہے، ماں، بہن، بیٹی وغیرہ سے، اور ان کے دین میں یہ جائز ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ ان کا یہ نکاح جائز ہے۔ جائز ہے کیونکہ وہ شریعت اسلامیہ کے مکلف نہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ بھئی ہم نے ضابطہ بتلا دیا کہ متفق علیہ احکام جو ہیں وہ ان پر بھی لازم ہیں، اجماعی احکام ان پر بھی لازم ہے اور محرم کے ساتھ تو نکاح نہیں ہو سکتا یہ اجماعی مسئلہ ہے تمام امت کا، لہٰذا یہ ان کا نکاح جائز نہیں۔ البتہ ہم دخل نہیں دیں گے ان کے نکاح میں کیونکہ ہم نے ان سے عہد ذمہ لیا ہوا ہے، جب تک یہ مسلمان نہیں ہوتے یا مرافعہ نہیں کرتے قاضی کے پاس تب تک ہم دخل نہیں دیں گے۔ تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں دخل نہیں دیں گے، صاحبین بھی فرماتے ہیں دخل نہیں دیں گے، لیکن فرق اتنا ہے امام صاحب فرماتے ہیں ان کے لیے یہ نکاح ہی جائز ہے اور صاحبین کے نزدیک ان کے لیے یہ نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَالِاخْتِلَافُ فِيهَا نَظِيرُ الِاخْتِلَافِ فِي نِكَاحِهِمْ مَحَارِمَهُمْ“ تو یہ جو ذمیہ ہے اس کے اندر جو اختلاف ہے وہ نظیر ہے اس اختلاف کی ”فِي نِكَاحِهِمْ مَحَارِمَهُمْ“ یہ جو ذمیوں کا اپنے محرموں سے نکاح کرنا ہے، جیسے اس کے اندر صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف تھا اسی طرح یہ ذمیہ کی عدت میں بھی اسی طرح اختلاف ہے۔ ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ“ اور تحقیق ہم اس کو بیان کر چکے ہیں کتاب النکاح کے اندر یعنی باب نکاح اہل الشرک میں۔ ”وَقَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا إِذَا كَانَ مُعْتَقَدُهُمْ أَنَّهُ لَا عِدَّةَ عَلَيْهَا“ میں نے آپ کو کیا بتلایا؟ امام صاحب کے نزدیک بھی یہ نکاح وغیرہ جائز ہوگا، لیکن شرط کیا ہے؟ کہ ان کا اپنا اعتقاد بھی یہی ہو یعنی ان کے دین میں بھی یہ جائز ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کا قول جو ہے ”فِيمَا“ اس صورت میں ہے ”إِذَا كَانَ مُعْتَقَدُهُمْ“ جب ان کا بھی یہ اعتقاد ہو ”أَنَّهُ لَا عِدَّةَ عَلَيْهَا“ کہ اس ذمیہ پر عدت نہیں ہے۔ ”وَأَمَّا الْمُهَاجِرَةُ“ اور باقی جو مہاجرہ ہے جو ہجرت کر کے آئی ہے ”فَوَجْهُ قَوْلِهِمَا“ تو اس کے اندر صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْفُرْقَةَ لَوْ وَقَعَتْ بِسَبَبٍ آخَرَ“ کہ اگر اس کی جدائی واقع ہوتی کسی اور وجہ سے، یہ جو عورت ہجرت کر کے دار الاسلام میں آئی ہے، تو جیسے ہی یہ مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئی تباین دار حقیقتاً بھی پایا گیا اور اس کا ارادہ ہی یہیں رہنے کا ہے تو تباین دار حکماً بھی پایا گیا، فوراً جدائی واقع ہو گئی بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی اور وجہ سے جدائی آئی ہوتی تو اس عورت پر عدت لازم تھی، تو تباین دار کی وجہ سے جو جدائی آئی ہے اس کی وجہ سے بھی اس عورت پر عدت واجب ہوگی، کیونکہ یہ مسلمان ہے، یہ اسلامی احکام اس پر لاگو ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: ”فَوَجْهُ قَوْلِهِمَا“ تو صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْفُرْقَةَ لَوْ وَقَعَتْ بِسَبَبٍ آخَرَ“ کہ اگر یہ جدائی جو اس عورت کی مہاجرہ کی آئی ہے اپنے خاوند سے ”لَوْ وَقَعَتْ بِسَبَبٍ آخَرَ“ اگر یہ جدائی کسی اور سبب سے آتی جیسے طلاق ہے یا خاوند کی موت وغیرہ ”وَجَبَتِ الْعِدَّةُ“ تو اس عورت پر عدت واجب ہوتی ”فَكَذَا بِسَبَبِ التَّبَايُنِ“ تو اسی طرح تباین دار کے سبب سے بھی ہوگا، یعنی یہاں بھی عدت واجب ہوگی۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا هَاجَرَ الرَّجُلُ وَتَرَكَهَا“ بخلاف اس کے کہ اگر آدمی ہجرت کر کے آ جائے، دار الحرب سے ایک آدمی مسلمان ہو کر دار الاسلام میں آ گیا۔ بیوی اس کی وہیں پر ہے، تو یہاں پر بھی جیسے ہی دار الاسلام کے اندر یہ داخل ہوگا تو فوراً نکاح ختم ہو جائے گا، کیونکہ تباین دار حقیقتاً بھی ہے اور نیز حکماً بھی ہے کیونکہ اس کا اب یہیں رہنے کا ارادہ ہے۔ تو یہاں بھی جدائی آ گئی اور اس کی بیوی جو دار الحرب میں ہے اس پر عدت واجب نہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں اس پر عدت واجب نہیں۔ بھئی آپ نے تو کہا تھا صاحبین کہ جو اجماعی مسئلہ ہوگا وہ غیر مسلموں پر بھی لازم ہوگا، توجہ ہے؟ تو اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے بھئی کہ یہ اگرچہ اجماعی مسئلہ ہے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَلِلْمُطَلَّقَاتِ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ“ تو طلاق ہو یا غیر طلاق دونوں کا حکم ایک ہی ہے کہ جب جدائی آئے گی تو تین حیض گزارنے پڑیں گے۔ لیکن یہ جو عورت دار الحرب میں رہ گئی ہے اس پر عدت صاحبین بھی فرماتے ہیں واجب نہیں، کیونکہ کہتے ہیں کہ وہاں شرعی احکام پہنچے ہی نہیں۔ وہاں شرعی احکام پہنچے نہیں، اس کو شرعی حکم کا پتہ ہی نہیں ہے، ورنہ تو یہ مخاطبہ یہ بھی ہے حضور علیہ السلام کی یہ بھی امت میں سے ہے اور حضور علیہ السلام کے احکام سب کے لیے ہیں چاہے کافر ہو چاہے مسلمان ہو، تو یہ بھی مخاطبہ تو ہے لیکن وہاں تک اسلامی احکام پہنچے نہیں لہٰذا اس لیے اس پر عدت نہیں ہوگی۔ اگر دار الاسلام میں ہوتی تو اس پر عدت واجب ہونی تھی، لیکن ہم نے دخل نہیں دینا تھا، کیونکہ ہم نے ان سے کیا کیا ہوا ہے؟ عقد ذمہ۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا هَاجَرَ الرَّجُلُ وَتَرَكَهَا“ بخلاف اس کے کہ جب آدمی جو ہے وہ ہجرت کر لے ہماری طرف ”وَتَرَكَهَا“ اور بیوی کو وہیں چھوڑ دے ”لِعَدَمِ التَّبْلِيغِ“ احکام شرع کے نہ پہنچنے کی وجہ سے۔ ”وَلَهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ ذمیہ پر بھی عدت نہیں کیونکہ یہ احکام شرعیہ کے مکلف نہیں اور نیز مہاجرہ پر بھی عدت نہیں ہے، اب اس کی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل ”قَوْلُهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ“ کہ اے مسلمانوں! تم پر کوئی حرج نہیں ہے یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ”أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ“ کہ تم ان ہجرت کرنے والیوں سے نکاح کر لو۔ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آ جائیں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم ان سے نکاح کر لو۔ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، امام صاحب فرماتے ہیں یہ آیت مطلق ہے، اس کے اندر کوئی عدت کی قید نہیں کہ جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں ”لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ“ تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم ان سے نکاح کر لو، معلوم ہوا ان پر عدت نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر آپ حدیث کے ذریعے اس پر عدت بڑھائیں گے تو خبر واحد کے ذریعے آپ کتاب اللہ پر زیادتی نہیں کر سکتے۔ خبر مشہور ہو، خبر مشہور کے ذریعے تو آپ کتاب اللہ پر زیادتی کر سکتے ہیں، لیکن خبر واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی نہیں کر سکتے۔ معلوم ہوا اس عورت پر عدت نہیں ہے۔ اور نیز آگے عقلی دلیل بھی دے رہے ہیں صاحب ہدایہ امام صاحب کی طرف سے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْعِدَّةَ حَيْثُ وَجَبَتْ كَانَ فِيهَا حَقُّ بَنِي آدَمَ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ”وَلِأَنَّ الْعِدَّةَ“ اس لیے کیونکہ عدت جو ہے ”حَيْثُ وَجَبَتْ“ جہاں بھی واجب ہوتی ہے ”كَانَ فِيهَا حَقُّ بَنِي آدَمَ“ اس میں بنی آدم کا حق ہوتا ہے یعنی انسان کا حق ہوتا ہے۔ بھئی دیکھو، یہ جو عورت عدت گزارتی ہے، یہ حق شرع بھی ہے، شریعت کا حکم ہے۔ نیز یہ اس بچے کا بھی حق ہے، ہو سکتا ہے یہ عورت کہیں حاملہ نہ ہو بھئی، یہ تو بچے کا نسب مشتبہ ہو جائے گا، تو یہ بچے کا بھی حق ہے۔ اور نیز یہ خاوند کا بھی حق ہے، کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو اس عورت کے پیٹ میں خاوند کی اولاد ہو بھئی، تو یہ حق شرع بھی ہے، حق ولد بھی ہے اور حق زوج بھی ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ عدت جو واجب ہوتی ہے یہ خاوند کا حق ہے تاکہ پتہ چل جائے کہیں اس عورت کے پیٹ میں خاوند کی اولاد تو نہیں، کہیں یہ خاوند سے حاملہ تو نہیں، لیکن یہاں یہ جو عورت ہجرت کر کے آئی ہے یہ تو حربی کی بیوی تھی بھئی اور حربی کی تو کوئی عزت اور احترام نہیں ہے، ان کے ساتھ تو ہم حالت جنگ میں ہیں بھئی۔ وہ تو ہمارے مسلمانوں میں سے کوئی قابو ان کے آ جائے اس کو پکڑ لیتے ہیں اور مسلمانوں کا جو مال ان کے ہاتھ آ جائے وہ اس کو لوٹ لیتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھ بھی حربی آ جائے مسلمان جنگ کرتے ہیں، پکڑ لیتے ہیں ان کو غلام بنا لیتے ہیں۔ تو لہٰذا حربی کی کوئی عزت نہیں، جب حربی کی کوئی عزت نہیں ہے تو اس کی وجہ سے عورت پر عدت بھی واجب نہیں کی جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ عدت تو عورت پر خاوند کی عزت اور احترام اور اس کے حق کے طور پر واجب کی جاتی ہے اور حربی کی تو کوئی عزت، حق اور احترام نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْعِدَّةَ حَيْثُ وَجَبَتْ“ اس لیے کیونکہ عدت جو ہے وہ جہاں واجب ہوتی ہے ”كَانَ فِيهَا حَقُّ بَنِي آدَمَ“ تو اس کے اندر بنی آدم یعنی انسان کا حق ہوتا ہے یعنی خاوند کا حق ہوتا ہے۔ ”وَالْحَرْبِيُّ مُلْحَقٌ بِالْجَمَادِ“ اور حربی جو ہے اس کو تو ملایا گیا ہے بالجماد بے جان چیزوں کے ساتھ۔ یاد رکھو یہ دنیا کے اندر چیزیں تین قسم پر ہیں: کچھ حیوانات ہیں، کچھ نباتات ہیں یعنی پودے وغیرہ، اور باقی چیزیں ہیں ان کو جمادات کہتے ہیں۔ حیوانات، نباتات اور جمادات۔ جمادات وہ چیزیں جن میں زندگی اور شعور وغیرہ نہیں ہے بھئی، یہ پتھر وغیرہ یہ چیزیں جو ہیں یہ سب کیا ہیں؟ یہ جمادات ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَرْبِيُّ مُلْحَقٌ بِالْجَمَادِ“ اور یہ حربی جو ہے اس کو تو ملایا گیا ہے بے جان چیزوں کے ساتھ ”حَتَّى كَانَ مَحَلًّا لِلتَّمَلُّكِ“ یہاں تک کہ یہ محل ہے تملک کا، اس کا تو مالک ہوا جاتا ہے، اس کو تو پکڑ لیا جائے تو اس کو تو غلام بنا لیا جاتا ہے تو اس کی کوئی عزت اور حرمت نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى كَانَ مَحَلًّا لِلتَّمَلُّكِ“ یہاں تک کہ یہ تو محل ہے کہ اس کا مالک ہوا جائے ”إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا“ ہاں مگر یہ کہ اگر وہ عورت حاملہ ہے، وہ جو ہجرت کر کے آئی ہے وہ حاملہ ہے، تو اس صورت میں جب تک وہ حمل کو جنم نہ دے دے اس وقت تک وہ نکاح نہیں کر سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا“ مگر یہ کہ وہ عورت حاملہ ہو ”لِأَنَّ فِي بَطْنِهَا وَلَدًا ثَابِتَ النَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ اس کے پیٹ میں ایسا بچہ ہے جو ثابت النسب ہے، یہ اس حربی کا بچہ ہے۔ تو جب اس عورت کے پیٹ میں ایسا حمل ہے جو ثابت النسب ہے معلوم ہوا حمل کے اعتبار سے اس عورت کا فراش ہونا ظاہر ہے۔ حمل کے اعتبار سے یہ عورت کیا ہے؟ اس حربی کی فراش ہے کیونکہ حدیث میں کیا آیا تھا: ”اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ“ تو یہ بچہ بھی کس کا شمار ہوگا؟ اس حربی کا شمار ہوگا، تو یہ بچہ ثابت النسب ہے۔ توجہ ہے؟ تو جب یہ بچہ ثابت النسب ہے یعنی بچے اور حمل کے اعتبار سے عورت فراش ہے، تو نکاح کے سلسلے میں بھی اس کو کیا سمجھا جائے گا؟ یہ ابھی تک اس کی فراش ہے، تو جب تک بچے کو جنم نہ دے دے اس سے نکاح کی اجازت نہیں ہوگی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ فِي بَطْنِهَا وَلَدًا ثَابِتَ النَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ اس کے پیٹ میں ایسا بچہ ہے جس کا نسب ثابت ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَجُوزُ نِكَاحُهَا وَلَا يَطَؤُهَا“ اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے ”أَنَّهُ يَجُوزُ نِكَاحُهَا وَلَا يَطَؤُهَا“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو مہاجرہ آئی ہے اور حاملہ ہے، تو امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے نکاح جائز ہے البتہ خاوند صحبت نہ کرے جب تک یہ عورت بچے کو جنم نہ دے دے۔ کہتے ہیں جیسے زنا والی، یاد رکھو کوئی عورت زنا سے حاملہ ہو گئی تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے البتہ اس سے صحبت نہیں کی جائے گی جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے دے، کیونکہ حدیث میں منع آیا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ہرگز غیر کی کھیتی کو سیراب نہ کرے۔ تو لہٰذا عورت زنا سے حاملہ ہے وہاں نکاح جائز ہے لیکن جب تک وہ وضع حمل نہ ہو جائے خاوند صحبت نہیں کر سکتا۔ تو امام صاحب کا ایک قول یہ ہے کہ یہ جو عورت ہے، یہ جو ہجرت کر کے آئی ہے اور حاملہ ہے، اس کے اندر بھی نکاح جائز ہوگا البتہ خاوند وضع حمل تک اس کے ساتھ صحبت نہ کرے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے ”أَنَّهُ يَجُوزُ نِكَاحُهَا“ کہ اس کے ساتھ نکاح جائز ہے ”وَلَا يَطَؤُهَا“ اور خاوند اس سے صحبت نہ کرے ”كَالْحُبْلَى مِنَ الزِّنَا“ جیسے کہ وہ عورت جو حاملہ ہوتی ہے زنا سے۔ ”وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ“ اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام صاحب کا یہ دوسرا قول بھی صحیح ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے کہ نکاح بھی جائز نہیں۔ اگر مہاجرہ حاملہ ہے تو اس سے نکاح بھی جائز نہیں جب تک وضع حمل نہ کر لے، تو پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ وجہ یہ کہ دونوں میں فرق ہے بھئی، کہ یہ جو مہاجرہ ہے اس کا حمل ثابت النسب ہے اور جو زنا سے حاملہ ہے اس کا حمل تو ثابت النسب نہیں ہے، لہٰذا دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 73 of 160