بَابُ الْيَمِينِ فِي الْخُرُوجِ وَالْإِتْيَانِ وَالرُّكُوبِ وَغَيْرِ ذَلِكَ۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَمَرَ إِنْسَانًا فَحَمَلَهُ فَأَخْرَجَهُ حَنِثَ لِأَنَّ فِعْلَ الْمَأْمُورِ مُضَافٌ إِلَى الْآمِرِ، فَصَارَ كَمَا إِذَا رَكِبَ دَابَّةً فَخَرَجَتْ، وَلَوْ أَخْرَجُوهُ مُكْرَهًا لَمْ يَحْنَثْ۔
گزشتہ سبق میں ہم نے قسم کے کفارے کے بارے میں پڑھا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ قسم کا کفارہ جو ہے اس میں اختیار ہے کہ اگر کفارہ دینے والا چاہے تو ایک رقبہ کو آزاد کر دے اور اگر چاہے تو دس مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دے، اور کھانا کھلانا ہے تو اگر وہ گندم دینا چاہتا ہے تو پھر نصف صاع گندم دے گا ہر فقیر کو، اور اگر وہ جو دینا چاہتا ہے یا کھجور دینا چاہتا ہے تو پھر ایک صاع دینا پڑے گا۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ نصف صاع جو ہے پونے دو سیر سے پونے دو سیر سے دو چھٹانک زیادہ ہے، یعنی دو سیر سے نصف پاؤ کم ہے، دو سیر سے نصف پاؤ کم ہے بھئی، اور بہتر یہ ہے کہ پورے دو سیر ہی دے دے بھئی۔ اور اگر ان فقیروں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا چاہتا ہے تو پھر ان کو دو وقت کا کھانا کھلا دے کہ وہ سیر ہو کر اسے کھا لیں۔ اور جس شخص میں ان تینوں میں سے کسی کی بھی استطاعت نہ ہو اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو پھر اس کو تین مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے بھئی۔
اور پھر اگر کپڑا دینا چاہتا ہے تو اتنا کپڑا کہ جس سے مرد کے بدن کا اکثر حصہ ڈھانپا جائے، یعنی ایک بڑی چادر دے دے یا ایک لمبا کرتا دے دے ہر فقیر کو، اور اگر عورتوں کو کپڑے دینا چاہتا ہے تو پھر ہر عورت کو اتنا کپڑا ہو جس میں اس کا سارا بدن چھپ جائے اور جس میں وہ نماز ادا کرنا چاہے تو نماز ادا کر سکے بھئی۔ اور عِنْدَ الْأَحْنَافِ اگر کفارے کو حانث ہونے پر مقدم کر دیا جائے تو کفارہ ادا نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ کفارے کا سبب حانث ہونا ہے، تو جب تک سبب نہیں کفارہ بھی واجب نہیں، تو اگر کسی نے پہلے ہی کفارہ دے دیا تو وہ کفارہ ادا ہی نہیں ہوا وہ صدقہ ہو گیا، جب قسم توڑے گا تو پھر اس کو دوبارہ کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قسم کا کفارہ اگر مال کے ساتھ ادا کرتا ہے یعنی روزوں کے علاوہ باقی جو صورتیں ہیں تو پھر اس صورت میں حانث ہونے سے پہلے بھی کفارہ ادا کر سکتا ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کسی شخص نے گناہ کی قسم اٹھا لی کہ وہ مثلاً نماز نہیں پڑھے گا یا کسی فلاں مسلمان سے بات نہیں کرے گا یا فلاں کو قتل کرے گا، تو پھر اس صورت میں واجب ہے کہ وہ اپنے آپ کو حانث کرے، وہ گناہ نہ کرے بلکہ اپنے آپ کو حانث کرے، قسم توڑ دے اور پھر کفارہ ادا کر دے، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کسی بات پر قسم اٹھائی اور اس کے علاوہ دوسری بات کو اس نے بہتر جانا تو اسے وہی بہتر چیز کرنی چاہیے اور پھر اپنی قسم کا کفارہ دینا چاہیے بھئی۔ اور اگر کسی کافر نے قسم اٹھائی ہے اور پھر کفر کی حالت میں ہی وہ حانث ہو گیا اور پھر بعد میں مسلمان ہوا تو کیا اب اس قسم کا کفارہ دے گا؟ کہتے ہیں نہیں، کافر کی قسم منعقد ہی نہیں ہوئی اور وہ کفارے کا اہل بھی نہیں ہے تو قسم منعقد ہی نہیں ہوئی لہذا اس پر کفارہ بھی نہیں ہے بھئی۔ اور اگر مسلمان ہونے کے بعد یہ اپنی اس قسم کو توڑتا ہے تو بھی اس کی قسم منعقد ہی نہیں ہوئی تھی تو اس پر کفارہ بھی نہیں ہے بھئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ جس شخص نے اپنے اوپر کسی چیز کو حرام کر لیا تو وہ چیز اس پر حرام نہیں ہو گی یعنی حرام لعینہ نہیں ہو گی بلکہ حرام لغیرہ ہو جائے گی یعنی قسم کی وجہ سے، چنانچہ وہ اگر اس چیز کو مباح سمجھے یعنی اس کو استعمال کر لے تو پھر حانث ہو جائے گا اور اسے کفارہ ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ اور اگر کسی شخص نے کہا میرے اوپر ہر حلال چیز حرام ہے تو پھر اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں کہ ظاہرِ لفظ کو دیکھا جائے تو دنیا کی ہر چیز اس پر حرام ہو گئی جو بھی مباح چیز تھی اور اس کے اندر تو اس کا سانس لینا بھی شامل ہے، اس کا آنکھوں سے دیکھنا بھی شامل ہے، اس کا پلکوں کو جھپکنا بھی شامل ہے، لیکن لیکن عرف میں اس قسم کی قسم کو کھانے اور پینے کے ساتھ خاص سمجھا جاتا ہے تو لہذا یہ قسم صرف کھانے پینے کی چیزوں پر واقع ہوئی ہے، کوئی چیز کھائے گا یا پیئے گا تو حانث ہو گا کسی اور فعل کی وجہ سے وہ حانث نہیں ہو گا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ کسی نے مطلق منت مانی تو اس پر منت کو پورا کرنا واجب ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے نذرِ مطلق اور ایک ہے نذرِ معلق۔ نذرِ معلق وہ ہے جس کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے، مثلاً کہے اگر میرا یہ مریض شفایاب ہو گیا تو پھر میں پانچ روزے رکھوں گا، تو یہ نذرِ معلق ہے اور جب یہ مریض ٹھیک ہو جائے گا تو اس پر اب پانچ روزے رکھنا لازم ہو جائیں گے۔ اور دوسری نذرِ مطلق ہے جس میں کسی قسم کی شرط ذکر نہ کرے انسان، مثلاً ویسے ہی کہتا ہے کہ اللہ کے لیے میرے اوپر پانچ روزے واجب ہیں یا میں اللہ کے لیے پانچ روزوں کی منت مانتا ہوں، دیکھو شرط کوئی نہیں ذکر کی تو یہ نذرِ مطلق ہے، کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں، تو لہذا اس صورت کے اندر جس چیز کی منت مانی ہے اسے پورا کرنا پڑے گا، اب اسے پانچ روزے رکھنے پڑیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ کیونکہ حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ نَذَرَ وَسَمَّى فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ بِمَا سَمَّى“ کہ جس نے منت مانی اور جس چیز کی منت مانی ہے اس کو ذکر کیا تو اس پر جو چیز اس نے ذکر کی ہے اس کو پورا کرنا واجب ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر منت کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو جب وہ شرط پائی جائے گی تو اس شخص پر اس منت کو پورا کرنا واجب ہے بھئی۔ اور بتلایا تھا کہ امام صاحب کا پہلے یہی مذہب تھا کہ جس چیز کی منت مانی ہے جب شرط پوری ہو جائے تو اسی چیز کو کرنا پڑے گا جو اس نے ذکر کی تھی یعنی کفارۂ یمین اس کے اندر نہیں دے سکتا، لیکن بعد میں امام صاحب نے اپنے اس قول سے رجوع فرمایا تھا کہ نہیں اس میں کفارۂ قسم بھی کافی ہو جائے گا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کے دونوں قولوں میں تطبیق دی تھی اور بتلایا تھا کہ یہاں دو صورتیں ہیں کہ جس شرط کے ساتھ منت کو معلق کیا ہے وہ ایسی شرط ہے کہ جس کے ہونے کو یہ چاہتا ہے، ایسی شرط ہے جس کے ہونے کو چاہتا ہے اس کے ہونے کی تمنا ہے تو پھر اس صورت میں جس چیز کی منت مانی ہے وہی چیز کرنا پڑے گی۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں اللہ کے لیے پانچ روزے رکھوں گا اگر میرا یہ مریض شفایاب ہو جائے، اب دیکھو مریض کا شفایاب ہونا یہ اس کی تمنا ہے یہ اس کے ہونے کو چاہتا ہے، تو اس صورت میں اگر یہ شرط پوری ہو گئی اس مریض کو شفا مل گئی تو پھر یہی پانچ روزے رکھنا پڑیں گے، کفارۂ قسم کافی نہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر اس نے جو منت مانی ہے اس میں ایسی شرط ذکر کی ہے کہ جس کے نہ ہونے کو یہ چاہتا ہے کہ مثلاً کہتا ہے اگر میں نے جھوٹ بولا تو مجھ پر اللہ کے لیے پانچ روزے لازم ہیں، تو اب دیکھو یہ جھوٹ بولنے کو وہ نہیں چاہتا، جھوٹ بولنے کو نہیں چاہتا، تو اس صورت کے اندر جب شرط ایسی ہو کہ جس کو وہ چاہتا نہیں ہے بلکہ یوں کہیں جس کے نہ ہونے کو وہ چاہتا ہے، تو پھر جب یہ شرط پائی جائے تو پھر اس صورت میں اگر چاہے تو جس چیز کی منت مانی ہے وہی ادا کرے اور چاہے تو قسم کا کفارہ ادا کر دے، اس لیے کیونکہ اس نے شرط ایسی ذکر کی جس کے نہ ہونے کو چاہتا ہے، تو یہ جو منت مانی ہے یہ اپنے آپ کو روکنے کے لیے مانی ہے اور اپنے آپ کو روکنا یہ تو قسم کے اندر بھی ہوتا ہے، قسم کس لیے کھائی جاتی ہے؟ کسی چیز سے اپنے آپ کو روکنے کے لیے، تو یہ بعض اعتبار سے دیکھیں تو منت ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ قسم ہے۔ یعنی یوں کہو لفظوں کے اعتبار سے یہ منت ہے کیونکہ منت کو وہ ذکر کر رہا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے غور کریں تو یہ قسم بھی ہے، تو لہذا وہ جس پر بھی عمل کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ منت ہے لہذا جس چیز کی منت مانی ہے وہی کرنا پڑے گا، اور دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ قسم ہے اور قسم میں وہ حانث ہو گیا ہے تو قسم کا کفارہ بھی دے سکتا ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ جس شخص نے قسم اٹھائی اور اس کے ساتھ انشاء اللہ کو ملا دیا یعنی درمیان میں وقفہ نہیں کیا، درمیان میں رکا نہیں تو وہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، لہذا اس پر حانث ہونا بھی نہیں ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ کسی کمرے میں داخل نہیں ہو گا پھر وہ بیت اللہ میں داخل ہوا یا پھر وہ کسی مسجد میں داخل ہوا یا یہودیوں یا عیسائیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہوا تو حانث نہیں ہو گا۔ اس لیے کیونکہ بیت عربی زبان میں بَاتَ يَبِيتُ بَيْتًا سے ہے اور یہ اس کمرے کو کہتے ہیں، اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر رات گزاری جائے، اور بیت اللہ جو ہے اور مسجد جو ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کی جو عبادت گاہیں ہیں یہ تو رات گزارنے کے لیے نہیں بنائے گئے بھئی، لہذا ان میں داخل ہونے سے وہ حانث نہیں ہو گا، اس نے قسم کیا کھائی تھی کہ میں کسی بیت میں داخل نہیں ہو گا، تو ان میں داخل ہونے سے وہ حانث نہیں ہو گا بھئی۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ دار جو ہے، دار کا اطلاق جو ہے وہ چاہے آباد گھر ہو چاہے غیر آباد گھر ہو چاہے بالکل ختم ہو جائے کھلا میدان رہ جائے پھر بھی اس کو دار ہی کہتے ہیں۔ لہذا اگر ایک شخص نے نکرہ دار کو ذکر کیا کہ واللہ میں کسی دار میں داخل نہیں ہو گا، تو دار آباد بھی ہے غیر آباد بھی ہے لیکن عرف میں زیادہ تر یہ آباد گھر پر استعمال ہوتا ہے، تو لہذا عرف کی وجہ سے یہاں آباد گھر کو ترجیح دیں گے، وہ آباد گھر میں داخل ہو گا تو حانث ہو گا اور کھنڈر کے اندر داخل ہو گا یا گرے ہوئے گھر کے اندر داخل ہو گا تو وہ حانث نہیں ہو گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کسی نے گھر کی طرف اشارہ کر دیا کہ واللہ میں اس گھر کے اندر داخل نہیں ہو گا تو پھر یہاں پر وصف کو نہیں دیکھا جائے گا کہ عمارت ہے یا نہیں، آباد ہے یا نہیں، بلکہ صرف وہ جگہ مراد ہو گی تو اس گھر چاہے وہ آباد ہو وہ داخل ہو جائے پھر بھی حانث، وہ گر جائے اور کھنڈر بن جائے اور یہ اس میں داخل ہو جائے تو پھر بھی حانث، اور اگر وہاں سے وہ دیواروں کے نشانات بھی ختم ہو گئے اور مٹ گئے اور کھلا میدان رہ گیا پھر بھی اس جگہ پر جائے گا تو حانث ہو جائے گا بھئی، کیونکہ دار کا لفظ ان سب کو شامل ہے: آباد گھر کو بھی، کھنڈر کو بھی اور کھلے میدان کو بھی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ میں اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اور پھر اس گھر کے گرنے کے بعد وہاں مسجد یا حمام وغیرہ بنا لیا گیا تو اب نام بدل گیا لہذا اب اس میں داخل ہو گا تو حانث نہیں ہو گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ واللہ میں اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اور پھر وہ باہر کی جانب سے اس کی چھت پر چڑھ گیا تو بھی حانث ہو جائے گا بھئی۔
پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی گھر کے اندر بیٹھا ہوا ہے اور کہتا ہے واللہ میں اس گھر میں داخل نہیں ہو گا، تو اس گھر کے اندر چاہے وہ دس گھنٹے رہے یا دس دن رہے وہ حانث نہیں ہے کیونکہ یہاں داخل ہونا نہیں پایا گیا، داخل ہونا اسے کہتے ہیں کہ یہ باہر سے اندر آئے اور یہاں ابھی تک ایسا نہیں ہوا قسم کھانے کے بعد، تو یہ حانث نہیں ہے بھئی۔ اور اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی ایک شخص نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کہتا ہے واللہ یہ کپڑے میں نہیں پہنوں گا اور پھر ساتھ ہی اس نے کپڑے اتارنا شروع کر دیے تو یہ حانث نہیں ہے، کیونکہ قسم کھانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے پورا کیا جائے تو لہذا اتنا وقت جس کے اندر وہ قسم پوری کر سکے وہ مستثنیٰ ہو گا، تو اس آدمی کو اتنا وقت دیں گے جس میں یہ کپڑے اتار سکے، اگر اس نے تھوڑی سی بھی تاخیر کر دی تو پھر یہ حانث ہو جائے گا بھئی۔ اسی طرح ایک آدمی سواری پر سوار ہے اور کہتا ہے واللہ میں اس سواری پر سوار نہیں ہو گا تو اس نے فوراً اترنا شروع کر دیا تو حانث نہیں ہو گا لیکن اگر اس نے کچھ دیر بھی لگا دی تو یہ حانث ہو جائے گا اور اس کو قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ایک آدمی ایک گھر میں رہتا ہے اور کہتا ہے واللہ میں اس گھر میں نہیں رہوں گا اور پھر وہ فوراً ہی اپنا سامان اٹھانا اس نے شروع کر دیا گھر سے منتقل کرنا شروع کر دیا تو اس صورت میں یہ شخص حانث نہیں ہو گا کیونکہ اتنا وقت قسم سے مستثنیٰ ہوتا ہے جس میں اپنی قسم وہ پوری کر سکے۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں تمام صورتوں میں یہ قسم کھانے والا حانث ہو جائے گا کیونکہ اس نے اگرچہ کہا ہے کہ واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور پھر فوراً اتارنا بھی شروع کر دیے لیکن کچھ لمحے تو گزر گئے بھئی، اتارنے میں کچھ لمحے تو گزر گئے تو یہ حانث ہو گیا۔ یا اسی طرح اس نے کہا میں اس سواری پر نہیں بیٹھوں گا اور اس نے فوراً اترنا شروع کر دیا لیکن کچھ لمحے تو گزر گئے یہ سواری پر ہی ہے تو لہذا فوراً حانث ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح ایک آدمی نے کہا واللہ میں اس گھر میں نہیں رہوں گا اور اس نے فوراً سامان منتقل کرنا شروع کر دیا لیکن کچھ لمحے تو اسی گھر میں رہا تو یہ حانث ہو جائے گا، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی مسئلہ ذکر فرمایا کہ کسی شخص نے اگر قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس گھر میں نہیں رہوں گا اور پھر اس گھر سے نکل گیا اور اس کا پکا ارادہ ہے اب میں واپس اس گھر میں نہیں آؤں گا، لیکن حال یہ ہے کہ اس کے گھر والے بھی اس گھر میں ہیں اور اس کا سامان بھی وہیں پر ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ جہاں پر آدمی کے گھر کا سامان ہو اور گھر والے ہوں تو کہا جاتا ہے یہ یہاں یہ اس جگہ رہتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، لہذا ضروری ہے کہ اپنے گھر والوں کو بھی فوراً منتقل کرے اور گھر کے سامان کو بھی فوراً منتقل کرے پھر ہی یہ حانث نہیں ہو گا۔ اور پھر کتنا سامان منتقل کرے؟ امام صاحب فرماتے ہیں سارا سامان منتقل کرنا پڑے گا حتیٰ کہ اگر ایک کیل بھی رہ گئی، ایک میخ بھی رہ گئی تو بھی یہ حانث ہو جائے گا۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکثر سامان منتقل کر لے تو لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اکثر کے لیے کل والا حکم ہوتا ہے، تو جب اکثر سامان اس نے منتقل کر دیا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کل سامان منتقل کر دیا، تو لہذا یہ اب حانث نہیں ہو گا اس نے قسم پوری کر دی، اس نے قسم پوری کر دی کیونکہ سارا سامان منتقل کرنا تو مشکل کام ہے، تو اکثر منتقل کر دے تو ہم کہیں گے اس نے قسم پوری کر دی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گھر کے ساز و سامان میں سے جو ضروری چیزیں ہیں جو گھر کے لیے ضروری ہوتی ہیں اگر وہ چیزیں منتقل کر دے گا تو ہم کہیں گے یہ شخص یہاں سے منتقل ہو گیا ہے، لیکن میں نے بتایا فتویٰ جو ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے کہ اکثر سامان منتقل کر دے تو اس کا مطلب ہے اس نے قسم پوری کر دی یہ حانث شمار نہیں ہو گا بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْخُرُوجِ وَالْإِتْيَانِ وَالرُّكُوبِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، یہ باب ہے اس قسم کے بارے میں جو خروج کے بارے میں ہو یعنی باہر نکلنا، وَالْإِتْيَانِ، اتیان کا معنی ہے آنا، اور یہ باب ہے اس قسم کے بارے میں جو آنے کے بارے میں ہو، وَالرُّكُوبِ اور اس قسم کے بارے میں جو سوار ہونے کے بارے میں ہو، وَغَيْرِ ذَلِكَ اور اس کے علاوہ۔ یعنی اس باب کے اندر، اس باب کے اندر صاحبِ ہدایہ ان قسموں کو بیان کریں گے جس میں باہر نکلنا یا آنا یا سوار ہونا وغیرہ ذکر ہوں۔ ایک آدمی قسم کھاتا ہے کہ واللہ میں مکہ کی طرف نہیں نکلوں گا، یا کہتا ہے کہ واللہ میں مکہ نہیں آؤں گا، یا ایک آدمی کہتا ہے کہ واللہ میں اج سواری نہیں کروں گا، تو اس قسم کی جب کوئی قسم کھا لے تو اس میں کیا تفصیل ہے اب اس باب میں صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْخُرُوجِ وَالْإِتْيَانِ وَالرُّكُوبِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، یہ باب ہے اس قسم کے بارے میں جو نکلنے کے بارے میں اور آنے کے بارے میں اور سواری کرنے کے بارے میں اور ان کے علاوہ اور چیزوں کے بارے میں ہو، قَالَ، اس قال سے مراد امام محمد رحمہ اللہ ہیں، قَالَ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ، اچھا بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں اس مسجد سے نہیں نکلوں گا، اور پھر اس نے کسی دوسرے انسان سے کہا کہ میں نے تو قسم کھائی ہے میں جاؤں گا باہر تو حانث ہو جاؤں گا مجھے کفارہ دینا پڑے گا، تم یوں کرو مجھے اٹھا کر باہر لے جاؤ، تو اس آدمی نے اس کو اٹھایا اور مسجد سے باہر لے گیا، کہتے ہیں پھر بھی حانث ہو گیا۔ وجہ یہ کہ اس کے کہنے پر وہ یہ فعل سرانجام دے رہا ہے اور کسی کے کہنے پر کوئی کام کیا جائے تو اس فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف ہوتی ہے گویا اس نے یہ کام کیا ہے، جیسے بادشاہ کسی عمارت کی تعمیر کا حکم دیتا ہے کہ یہ عمارت بنوائی جائے، تو وہ عمارت بن رہی ہے یا تیار ہو گئی تو لوگ بادشاہ کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ اس بادشاہ نے یہ عمارت بنائی ہے یا یہ بادشاہ یہ عمارت بنا رہا ہے، تو کسی بھی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف ہوتی ہے یعنی وہ جو مامور ہے جس کو حکم دیا گیا وہ مامور کا فعل آمر کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، مامور کا فعل آمر، آمر کون ہے؟ حکم دینے والا، اور مامور جسے حکم دیا گیا، تو مامور کا فعل آمر کی طرف منتقل ہو جاتا ہے تو یہاں بھی اس کو دوسرا آدمی باہر لے کر گیا ہے لیکن یہ آمر ہے اور وہ مامور ہے اور مامور کا فعل اس آمر کی طرف منتقل ہو گیا گویا یہ خود ہی باہر گیا ہے تو حانث ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَمَرَ إِنْسَانًا فَحَمَلَهُ فَأَخْرَجَهُ حَنِثَ، اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ مسجد سے نہیں نکلے گا تو اس نے کسی انسان کو حکم دیا تو اس نے اس کو اٹھایا اور اس کو مسجد سے باہر نکال دیا تو یہ حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ فِعْلَ الْمَأْمُورِ مُضَافٌ إِلَى الْآمِرِ اس لیے کیونکہ مامور کا جو فعل ہے اس کی نسبت کی جاتی ہے آمر کی طرف، فَصَارَ كَمَا إِذَا رَكِبَ دَابَّةً فَخَرَجَتْ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے یہ کسی سواری پر سوار ہوا اور وہ پھر وہ سواری باہر نکل گئی، صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں، مثال بھی دیتے ہیں تو مثال کے اندر ایک نیا مسئلہ سمجھاتے چلے جاتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے سواری پر کوئی سوار ہو کر نکلے، معلوم ہوا سواری پر بھی سوار ہو کر یہ نکلے گا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ سواری کی نسبت سوار کی طرف کی جاتی ہے کہ وہ یہ کام کر رہا ہے وہ چل رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَصَارَ كَمَا إِذَا رَكِبَ دَابَّةً فَخَرَجَتْ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے وہ شخص ایک سواری پر سوار ہوا اور پھر وہ سواری باہر نکل گئی۔
وَلَوْ أَخْرَجُوهُ مُكْرَهًا لَمْ يَحْنَثْ، ہاں اگر اس کو کسی نے زبردستی باہر نکالا تو پھر حانث نہیں ہو گا۔ پھر حانث نہیں، دو آدمی آئے انہوں نے اس کو پکڑ کر اٹھایا اور مسجد سے باہر لے آئے اب حانث نہیں ہے بھئی کیونکہ یہ جو انہوں نے باہر نکالا ہے یہ کوئی اس کے کہنے پر نہیں نکالا تو یہاں یہ فعل اس کی طرف منتقل بھی نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ أَخْرَجُوهُ مُكْرَهًا لَمْ يَحْنَثْ اور اگر اس کو انہوں نے نکالا اس حال میں کہ یہ مکرہ تھا اس پر زبردستی کی گئی تھی تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّ الْفِعْلَ لَمْ يَنْتَقِلْ إِلَيْهِ لِعَدَمِ الْأَمْرِ اس لیے کیونکہ مکرِہ کا وہ فعل اس کی طرف منتقل نہیں ہوا حکم نہ ہونے کی وجہ سے۔
وَلَوْ حَمَلَهُ بِرِضَاهُ لَا بِأَمْرِهِ لَا يَحْنَثُ فِي الصَّحِيحِ، صورت یہ: اس نے کسی کو کہا تو نہیں لیکن یہ بھی یہی چاہتا ہے مجھے باہر لے جائیں، ایک اور آدمی نے اس کو اٹھایا اور باہر لے گیا، تو اب اس کے کہنے پر تو نہیں لے کر گیا لیکن اس کی رضامندی تو تھی، تو کیا حانث ہو گا یا نہیں؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں اب بھی حانث ہو گیا کیونکہ اس کی رضامندی تو تھی، لیکن لیکن صحیح قول یہ ہے کہ رضامندی حکم کے درجے میں نہیں ہے لہذا صرف رضامندی ہے اور اس نے حکم نہیں دیا تو پھر اس صورت میں حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَمَلَهُ بِرِضَاهُ لَا بِأَمْرِهِ لَا يَحْنَثُ فِي الصَّحِيحِ، اور اگر اس کو اٹھایا اس کی رضامندی سے نہ کہ اس کے حکم سے تو یہ حانث نہیں ہو گا صحیح قول میں، لِأَنَّ الِانْتِقَالَ بِالْأَمْرِ لَا بِمُجَرَّدِ الرِّضَا، لِأَنَّ الِانْتِقَالَ بِالْأَمْرِ اس لیے کیونکہ فعل کا اس کی طرف منتقل ہونا وہ اس کے حکم دینے سے ہو گا، جب یہ حکم دے گا تب اس شخص کا فعل اس کی طرف منتقل ہو جائے گا لیکن جب حکم نہیں تو وہ فعل بھی اس کی طرف منتقل نہیں بھئی، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الِانْتِقَالَ بِالْأَمْرِ لَا بِمُجَرَّدِ الرِّضَا اس لیے کیونکہ فعل کا منتقل ہونا وہ حکم دینے سے ہو گا وہ صرف رضامندی سے نہیں ہو گا، بات سمجھ میں آ گئی۔
لیکن یاد رکھنا یہ جو زبردستی والا مسئلہ ذکر کیا اگر کوئی اس کو زبردستی باہر لے جائے تو پھر یہ حانث نہیں ہو گا، یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زبردستی کرنے والا اس کو اٹھا کر باہر لے گیا، اگر زبردستی اس طریقے پر ہوئی کہ اس نے تلوار نکالی کہ میں تمہیں قتل کرتا ہوں یا تمہارا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہوں تم مسجد سے باہر نکلو، اس صورت میں اگر یہ باہر گیا پھر حانث ہو جائے گا، کیونکہ یہ فعل تو خود کر رہا ہے اور اس نے حانث ہونے کی شرط کیا لگائی تھی کہ یہ فعل اگر میں کروں تو اس نے کیا تو ہے وہ فعل، وہ فعل تو پایا گیا ہے بھئی، اور گزشتہ سے پیوستہ سبق کے اندر آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ قسم کے اندر مکرَہ، ناسی اور قاصد یعنی جو اپنے ارادے سے کرتا ہے یہ تینوں برابر ہیں، اور اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا: ”وَمَنْ فَعَلَ الْمَحْلُوفَ عَلَيْهِ مُكْرَهًا أَوْ نَاسِيًا فَهُوَ سَوَاءٌ“ جس نے محلوف علیہ فعل کو کر لیا یعنی جس چیز کی قسم اٹھائی تھی اس کو کر لیا چاہے یہ مکرہ تھا چاہے ناسی تھا یعنی چاہے اس پر زبردستی کی گئی تھی چاہے یہ بھول گیا تھا، ہر حال میں یہ حانث ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں جب اس نے تلوار نکالی ہے اور یہ خود باہر نکلا ہے تو اس فعل کی نسبت اسی کی طرف ہو گی کہ اس نے یہ فعل کیا ہے، لیکن اگر کوئی اٹھا کر زبردستی باہر لے جائے تو پھر یہ نہیں کہیں گے کہ یہ باہر نکلا ہے بلکہ کہیں گے اس کو باہر نکالا گیا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَخْرُجُ مِنْ دَارِهِ إِلَّا إِلَى جَنَازَةٍ فَخَرَجَ إِلَيْهَا ثُمَّ أَتَى حَاجَةً أُخْرَى لَمْ يَحْنَثْ، بھئی صورت یہ ہے: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں گھر سے جنازے کے علاوہ کسی اور کام کے لیے نہیں نکلوں گا، تو چنانچہ واقعی اس کو جنازے کے لیے نکلنا پڑا، تو جنازے کے لیے نکلے گا پھر تو حانث نہیں، چنانچہ یہ چلا گیا جنازے میں شرکت کی، جنازے کے بعد اب یہ ایک اور کام کے لیے وہیں سے چلا گیا اور ایک اور کام بھی کر کے آ گیا تو کیا حانث ہوا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس نے قسم کھائی تھی گھر سے نہ نکلنے کی اور صرف جنازے کا استثناء کیا تھا، تو اس وقت بھی جو نکلا ہے وہ کس لیے نکلا ہے؟ جنازے ہی کے لیے نکلا ہے، اور جنازے سے جب وہ آگے کسی اور فعل کی طرف گیا ہے تو یہاں نکلنے کا فعل تو نہیں پایا گیا، یہاں گھر سے نکلنے کا فعل تو نہیں پایا گیا لہذا اب حانث نہیں ہے بھئی، ہاں اگر کسی اور ارادے سے نکلے گا گھر سے تو پھر حانث ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَخْرُجُ مِنْ دَارِهِ إِلَّا إِلَى جَنَازَةٍ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اپنے گھر سے نہیں نکلے گا الا الی جنازۃ مگر صرف جنازے کی طرف، فَخَرَجَ إِلَيْهَا تو پھر یہ جنازے کی طرف نکلا ثُمَّ أَتَى حَاجَةً أُخْرَى پھر یہ کسی اور کام کے لیے بھی آیا یعنی کسی اور کام کے لیے بھی یہ چلا گیا، لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّ الْمَوْجُودَ خُرُوجٌ مُسْتَثْنًى اس لیے کیونکہ یہ جو پایا جا رہا ہے یہ تو مستثنیٰ خروج ہے، یہ جو نکلا ہے یہ تو جنازے کے لیے نکلا ہے اور اس کا تو اس نے استثناء کیا تھا کہ میں جنازے کے علاوہ کسی اور کام کے لیے نہیں نکلوں گا تو جنازے کا تو اس نے استثناء کیا تھا، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَوْجُودَ خُرُوجٌ مُسْتَثْنًى اس لیے کیونکہ اس وقت جو خروج پایا جا رہا ہے یہ تو وہ والا خروج ہے جس کا اس نے استثناء کیا تھا، وَالْمُضِيُّ بَعْدَ ذَلِكَ لَيْسَ بِخُرُوجٍ اور اس کے بعد جانا یہ خروج نہیں ہے، اور اس کے بعد جانا یہ خروج نہیں ہے لہذا یہ حانث نہیں ہے بھئی۔
وَلَوْ حَلَفَ لَا يَخْرُجُ إِلَى مَكَّةَ فَخَرَجَ يُرِيدُهَا ثُمَّ رَجَعَ حَنِثَ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں مکہ کی طرف نہیں نکلوں گا، واللہ میں مکہ کی طرف نہیں نکلوں گا، اور پھر یہ مکہ کے ارادے سے نکل پڑا لیکن پھر درمیان راستے سے ہی واپس آ گیا، تو کیا حانث ہوا یا نہیں؟ کہتے ہیں حانث ہو گیا۔ اس نے نکلنے کی بات کی تھی اور نکلا تو یہ ہے، اس نے پہنچنے کی بات تو نہیں کی تھی اس نے تو صرف کیا کہا تھا کہ میں مکہ کے لیے نہیں نکلوں گا اور یہ نکلا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَخْرُجُ إِلَى مَكَّةَ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ مکہ کی طرف نہیں نکلے گا فَخَرَجَ يُرِيدُهَا تو یہ شخص نکلا اس حال میں کہ یہ مکہ کا ارادہ کر رہا ہے ثُمَّ رَجَعَ پھر یہ واپس لوٹ آیا حَنِثَ تو یہ حانث ہو جائے گا لِوُجُودِ الْخُرُوجِ عَلَى قَصْدِ مَكَّةَ اس لیے کیونکہ مکہ کے ارادے سے خروج پایا گیا، وَهُوَ الشَّرْطُ اور وہی تو شرط تھی، إِذِ الْخُرُوجُ هُوَ الِانْفِصَالُ مِنَ الدَّاخِلِ إِلَى الْخَارِجِ اس لیے کیونکہ نکلنا جو ہے وہ جدا ہونا ہے داخل سے خارج کی طرف۔ نکلنا کسے کہتے ہیں کہ داخل سے انسان جدا ہو جائے اور کدھر پہنچ جائے؟ خارج میں، تو اس کو خروج کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: إِذِ الْخُرُوجُ هُوَ الِانْفِصَالُ مِنَ الدَّاخِلِ إِلَى الْخَارِجِ اس لیے کیونکہ خارج ہونا جو ہے وہ داخل سے خارج کی طرف جدا ہونا ہے۔
وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْتِيهَا، صورت یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں مکہ نہیں آؤں گا، واللہ میں مکہ نہیں آؤں گا، پھر یہ اس شہر سے مکہ کے ارادے سے چل پڑا اور پھر درمیان راستے میں واپس آ گیا تو کیا حانث ہوا؟ کہتے ہیں نہیں حانث نہیں ہوا اس لیے کیونکہ یہ مکہ نہیں پہنچا، اس نے بھی کیا کہا تھا میں مکہ نہیں آؤں گا اور آنا تب ہو گا جب یہ وہاں پہنچ جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْتِيهَا لَمْ يَحْنَثْ اور اگر اس نے قسم اٹھائی کہ یہ مکہ نہیں آئے گا لم یحنث تو حانث نہیں ہو گا یعنی وہی پچھلی صورت ملائیں، اگر قسم کیا کھائی کہ میں مکہ نہیں آؤں گا اور پھر یہ نکلا مکہ کے ارادے سے لیکن درمیان راستے سے واپس آ گیا تو حانث نہیں ہو گا، یہ معنی ہے: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْتِيهَا اور اگر اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ میں مکہ نہیں آؤں گا لَمْ يَحْنَثْ تو پھر اس صورت میں نکلنے سے حانث نہیں ہو گا حَتَّى يَدْخُلَهَا یہاں تک کہ یہ مکہ میں داخل ہو جائے پھر حانث ہو جائے گا، لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الْوُصُولِ اس لیے کیونکہ آنا جو ہے وہ پہنچنے سے عبارت ہے، آنا جو ہے وہ پہنچنے کو کہتے ہیں۔ ایک شخص ایک جگہ آ گیا ہے یہ تب کہتے ہیں جب یہ وہاں پہنچ جائے، تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الْوُصُولِ اس لیے کیونکہ آنا جو ہے یہ عبارت ہے پہنچنے سے، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا﴾ کہ تم دونوں فرعون کے پاس آؤ پھر تم دونوں اس سے کہو، تو یہاں دیکھو تم دونوں فرعون کے پاس آؤ پھر تم دونوں اس سے کہو، تو یہاں پر دیکھو اتیان ذکر ہے: فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ آنے کو ذکر کیا جا رہا ہے، اور آگے اللہ فرما رہے ہیں: فَقُولَا تم دونوں اس سے کہو، اور کسی سے بات اس کے پاس پہنچنے کے بعد ہی کی جاتی ہے، معلوم ہوا آنے کا معنی ہے پہنچنا بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا لَهُ﴾، یہ لَهُ جو ہے یہ آیت کا حصہ نہیں ہے بھئی، فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا لَهُ کہ پس تم دونوں فرعون کے پاس آؤ پس تم دونوں اس سے کہو۔
آگے دیکھیے: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَذْهَبُ إِلَيْهَا، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ مکہ کی طرف نہیں جائے گا اور پھر وہ اپنے شہر سے چلا اور راستے سے واپس آ گیا تو حانث ہوا یا نہیں؟ تو بعضوں نے کہا کہ مکہ کی طرف ذہاب جو ہے، مکہ کی طرف جانا یہ بھی اتیان کی طرح ہے، جب یہ پہنچے گا تو ہم کہیں گے یہ مکہ چلا گیا ہے، جب یہ نہیں پہنچا تو ہم یہ نہیں کہیں گے یہ مکہ چلا گیا ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جانا جو ہے یہ خروج کی طرح ہے۔ جیسے جب مکہ کے ارادے سے وہ نکل پڑا تو ہم کہیں گے خروج پایا گیا لہذا حانث ہو گیا مکہ پہنچنا ضروری نہیں، اسی طرح جانا بھی خروج کی طرح ہے، جب یہ مکہ کے لیے چل پڑا اپنی جگہ سے جدا ہو گیا تو ہم کہیں گے کہ مکہ کی طرف ذہاب پایا گیا، مکہ کی طرف جانا پایا گیا لہذا یہ حانث ہو گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَذْهَبُ إِلَيْهَا اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ مکہ کی طرف نہیں جائے گا قِيلَ: هُوَ كَالْإِتْيَانِ کہا گیا ہے کہ یہ جانا بھی آنے کی طرح ہے یعنی پہنچنے پر کہا جائے گا کہ یہ مکہ گیا ہے، وَقِيلَ: كَالْخُرُوجِ اور کہا گیا ہے کہ یہ جانا خروج کی طرح ہے وَهُوَ الْأَصَحُّ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الزَّوَالِ، زوال کا معنی ہے جدا ہونا، الگ ہونا۔ تو بعضوں نے کہا یہ خروج کی طرح ہے اور یہی قول زیادہ صحیح ہے لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الزَّوَالِ اس لیے کیونکہ جانا یہ عبارت ہے زوال سے یعنی جدا ہونے سے، کہ وہ شخص اپنی جگہ سے جدا ہو جائے مکہ کے ارادے سے چل پڑے تو ہم کہتے ہیں یہ مکہ کی طرف گیا ہے، مکہ پہنچنا اس میں ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الزَّوَالِ اس لیے کیونکہ جانا جو ہے وہ عبارت ہے جدا ہونے سے یعنی اپنی جگہ سے جدا ہونا۔
قَالَ: وَإِنْ حَلَفَ لَيَأْتِيَنَّ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَأْتِهَا حَتَّى مَاتَ حَنِثَ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاتِهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں بصرہ ضرور آؤں گا، بصرہ ضرور آؤں گا، تو کب اس کو حانث قرار دیا جائے گا؟ کہتے ہیں بھئی زندگی کے آخری جز میں یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اب بصرہ جانا ممکن نہ رہا اب تو یہ مرنے لگا ہے، لیکن اس سے پہلے تو احتمال ہے کسی بھی وقت زندگی میں وہ بصرہ جا سکتا ہے تو لہذا اس سے پہلے اس کو حانث قرار نہیں دیں گے، ہاں زندگی کے آخری جز میں یہ حانث ہو جائے گا۔ اور ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ وصیت کر جائے، پہلے سے ہی کیا کر دے؟ وصیت کر جائے کہ اگر میں زندگی میں بصرہ نہ جا سکا تو میں نے قسم کھائی تھی میری طرف سے کفارہ ادا کر دینا۔ یہ شخص خود کفارہ ادا نہیں کر سکتا کیونکہ کفارہ تب ادا ہوتا ہے جب انسان حانث ہو جائے، اور حانث تو یہ زندگی کے آخری جز میں ہو رہا ہے بالکل جب مرنے لگا ہے، اب تو اتنا وقت ہی نہیں کہ زبان سے کچھ کہہ بھی سکے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ: وَإِنْ حَلَفَ، اس قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَيَأْتِيَنَّ الْبَصْرَةَ کہ اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ ضرور بالضرور بصرہ آئے گا فَلَمْ يَأْتِهَا حَتَّى مَاتَ تو وہ بصرہ نہیں آیا یہاں تک کہ مر گیا حَنِثَ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاتِهِ تو یہ شخص حانث ہو جائے گا اپنی زندگی کے اجزاء میں سے آخری جز کے اندر کہ اس وقت حانث ہو جائے گا لِأَنَّ الْبِرَّ قَبْلَ ذَلِكَ مَرْجُوٌّ اس لیے کیونکہ قسم کو پورا کرنا اس سے پہلے مرجوٌّ اس کی امید کی جاتی ہے۔ جب تک موت نہیں آئی اس سے پہلے تو امید ہے کسی بھی وقت یہ وہاں چلا جائے گا، تو لہذا جب بھی اس طرح کی کوئی قسم اٹھائے کوئی شخص جس کے احتمال ہو زندگی میں وہ کسی بھی وقت پورا کر سکتا ہے تو اس کو حانث قرار نہیں دیا جائے گا، اور یہ اب کفارہ بھی نہیں ادا کر سکتا یہ قسم ابھی تک معلق ہے اس کے سر پر، اور آخری جز کے اندر جا کر یہ قسم ٹوٹے گی اور اس وقت تو اس کے پاس سانس لینے کی مہلت بھی نہیں ہے بھئی، روح نکل رہی ہے بالکل، تو اس وقت تو سانس لینے کی مہلت بھی نہیں ہے اس وقت تو وصیت کرنے کا وقت بھی نہیں ہے لہذا زندگی میں ہی وصیت کر جائے بھئی۔ لِأَنَّ الْبِرَّ قَبْلَ ذَلِكَ مَرْجُوٌّ اس لیے کیونکہ زندگی کے آخری جز سے پہلے تو اس قسم کا پورا کرنا جو ہے اس کی امید کی جاتی ہے۔
وَلَوْ حَلَفَ لَيَأْتِيَنَّهُ غَدًا إِنِ اسْتَطَاعَ فَهَذَا عَلَى اسْتِطَاعَةِ الصِّحَّةِ دُونَ الْقُدْرَةِ۔ بھئی ایک آدمی نے دوسرے شخص سے وعدہ کیا اور قسم کھائی کہ واللہ میں تمہارے پاس کل صبح ضرور آؤں گا إِنِ اسْتَطَعْتُ اگر میرے اندر استطاعت ہوئی، کل میں تمہارے پاس ضرور آؤں گا اگر مجھ میں استطاعت ہوئی بھئی، اب استطاعت سے کیا مراد لیں گے؟ یاد رکھو استطاعت دو قسم کی ہے: ایک کو استطاعتِ صحت کہتے ہیں اور ایک کو استطاعتِ قضاء کہتے ہیں، استطاعتِ قضاء۔ استطاعتِ صحت وہ ہے جس کے اندر انسان صحیح سلامت ہے کوئی بیماری وغیرہ نہیں اور کوئی اور رکاوٹ بھی نہیں ہے، تو یہ ہے استطاعتِ صحت۔ جبکہ دوسری قسم ہے استطاعتِ قدرت یا استطاعتِ قضاء، وہ چونکہ اللہ کی قضاء اور قدرت کی وجہ ساتھ ہوتی ہے اس لیے اس کو استطاعتِ قضاء اور قدرت کہتے ہیں، اور وہ عین اس فعل کے ساتھ ہوتی ہے، جب آپ کوئی فعل کر لیتے ہیں تو آپ کہتے ہیں یہ اللہ کی توفیق سے ہوا، یہ اللہ نے میرے لیے مقدر کیا تھا اس لیے ہو گیا، اگر اللہ نے مقدر نہ کیا ہوتا تو پھر ہزار اسباب کے باوجود میں ایسا نہیں کر سکتا تھا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا استطاعت کتنی قسم پر؟ دو قسم پر: ایک استطاعتِ صحت ہے اور ایک استطاعتِ قضاء اور قدرت ہے بھئی۔
تو ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ اگر مجھ میں استطاعت ہوئی تو میں کل صبح آپ کے پاس آؤں گا، تو اس نے قسم کھا لی اور یہ نہیں گیا، اور یہ آدمی اگلے دن وہاں نہیں گیا اور پھر اس نے کہا کہ آپ آئے نہیں، تو یہ کہتا ہے مجھ میں استطاعت ہی نہیں تھی یعنی اللہ نے میرے لیے مقدر ہی نہیں فرمایا تھا اگر اللہ نے میرے لیے مقدر فرمایا ہوتا تو پھر تو میں ضرور آپ کے پاس آتا بھئی، تو بات کو وہ تقدیر پر ڈال دیتا ہے، اللہ نے میرے لیے مقدر ہی نہیں فرمایا تھا، تو دیکھو معلوم ہوا وہ استطاعتِ قضاء مراد لے رہا ہے، اور حالانکہ عرف میں اس سے مراد استطاعتِ صحت ہوتی ہے، استطاعتِ صحت یہ ہے کہ انسان صحیح سلامت ہے تندرست ہے اور کسی قسم کا کوئی مانع موجود نہیں ہے تو ہم کہیں گے اس آدمی میں اس کام کی استطاعت ہے۔ ایک آدمی میں ایک کام کی استطاعت ہے لیکن وہ کرتا نہیں، مثلاً ایک آدمی ہے اس کو اللہ نے مال بھی دیا ہوا ہے اور صحت بھی ہے لیکن وہ حج پر نہیں جا رہا تو ہم کیا کہیں گے کہ اس میں استطاعت ہے لیکن پھر بھی یہ حج پر نہیں جا رہا، بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ دوسری قسم ہے استطاعتِ قدرت یا استطاعتِ قضاء، وہ چونکہ اللہ کی قضاء اور قدرت کی وجہ ساتھ ہوتی ہے اس لیے اس کو استطاعتِ قضاء اور قدرت کہتے ہیں اور وہ عین اس فعل کے ساتھ ہوتی ہے، جب آپ کوئی فعل کر لیتے ہیں تو آپ کہتے ہیں یہ اللہ کی توفیق سے ہوا، یہ اللہ نے میرے لیے مقدر کیا تھا اس لیے ہو گیا، اگر اللہ نے مقدر نہ کیا ہوتا تو پھر ہزار اسباب کے باوجود میں ایسا نہیں کر سکتا تھا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا استطاعت کتنی قسم پر؟ دو قسم پر: ایک استطاعتِ صحت ہے اور ایک استطاعتِ قضاء اور قدرت ہے بھئی۔
تو ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ اگر مجھ میں استطاعت ہوئی تو میں کل صبح آپ کے پاس آؤں گا، تو اس نے قسم کھا لی اور یہ نہیں گیا، تو پھر کیا اس کو حانث قرار دیں گے یا حانث قرار نہیں دیں گے؟ تو کہتے ہیں کہ اگر استطاعتِ صحت موجود تھی تو یہ حانث ہو چکا، اگر استطاعتِ صحت تھی تو یہ شخص حانث ہو گیا، اور اگر یہ شخص کہتا ہے کہ استطاعت سے تو میں نے استطاعتِ قضاء اور قدرت کا ارادہ کیا تھا کہ اللہ نے اگر میرے مقدر میں کیا ہوا تو میں ضرور آؤں گا، تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ بھی استطاعت کا معنی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَيَأْتِيَنَّهُ غَدًا إِنِ اسْتَطَاعَ اور اگر کسی نے قسم اٹھائی کہ وہ ضرور بضرور اس کے پاس کل آئے گا اگر اس میں استطاعت ہوئی فَهَذَا عَلَى اسْتِطَاعَةِ الصِّحَّةِ دُونَ الْقُدْرَةِ تو یہ قسم محمول ہو گی استطاعتِ صحت پر نہ کہ استطاعتِ قدرت پر، استطاعتِ قدرت پر محمول نہیں ہو گی، وَفَسَّرَهُ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور اس کی تفسیر کی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر کے اندر وَقَالَ اور فرمایا ہے: إِذَا لَمْ يَمْرَضْ جب یہ آدمی بیمار بھی نہیں ہوا یعنی صحت بھی صحیح تھی، وَلَمْ يَمْنَعْهُ السُّلْطَانُ اور بادشاہ نے بھی اس کو نہیں روکا، بادشاہ بھی مانع نہیں بنا، وَلَمْ يَجِدْ حَبْسًا اور اس نے قید کو نہیں پایا، یعنی اس کو کسی نے قید بھی نہیں کیا، وَلَمْ يَحْدُثْ بِهِ شَيْءٌ يُعْجِزُهُ اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز پیش نہیں آئی جو اس کو عاجز کر دے، یعنی کوئی اور بھی مانع اور رکاوٹ نہیں ہے تو پھر اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا، یعنی استطاعتِ صحت موجود تھی پھر بھی یہ نہیں گیا تو یہ حانث ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
وَلَمْ يَجِئْ أَمْرٌ لَا يَقْدِرُ عَلَى إِتْيَانِهِ، اور کوئی ایسا معاملہ بھی نہیں آیا کہ لَا يَقْدِرُ عَلَى إِتْيَانِهِ کہ یہ قادر نہ ہو اس کے پاس آنے پر، کوئی ایسی کوئی اور رکاوٹ وغیرہ بھی پیش نہیں آئی کہ جس کی وجہ سے یہ نہ آ سکتا، فَلَمْ يَأْتِ پھر بھی نہ آیا اس کے پاس، حَنِثَ تو حانث ہو جائے گا۔ اگر اس کی صحت بھی ٹھیک تھی اور کسی قسم کا کوئی مانع اور رکاوٹ بھی نہیں تھی اور پھر بھی یہ وہاں نہ گیا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ یہ حانث ہو جائے گا۔
دوبارہ ترجمہ دیکھیے: امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: إِذَا لَمْ يَمْرَضْ وَلَمْ يَمْنَعْهُ السُّلْطَانُ جب یہ شخص بیمار بھی نہ ہوا اور بادشاہ نے بھی اس کو نہیں روکا، وَلَمْ يَجِئْ أَمْرٌ لَا يَقْدِرُ عَلَى إِتْيَانِهِ اور کوئی ایسا معاملہ بھی نہیں آیا کہ یہ قادر ہی نہ ہوتا اس آدمی کے پاس آنے پر یعنی کوئی اور رکاوٹ بھی نہیں آئی، فَلَمْ يَأْتِ پھر بھی یہ اس آدمی کے پاس نہ آیا، حَنِثَ تو حانث ہو جائے گا۔ وَإِنْ عَنَى اسْتِطَاعَةَ الْقَضَاءِ، عَنَى يَعْنِي کا معنی ہے ارادہ کرنا، وَإِنْ عَنَى اسْتِطَاعَةَ الْقَضَاءِ اور اگر اس نے ارادہ کیا استطاعتِ قضاء کا کہ میں نے تو استطاعتِ قضاء کا ارادہ کیا تھا، دُيِّنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى، تو دُيِّنَ اس کی تصدیق کی جائے گی فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى اس کے اور اللہ کے درمیان، یعنی یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے اس کی تصدیق کی جائے گی۔
وَهَذَا لِأَنَّ حَقِيقَةَ الِاسْتِطَاعَةِ فِيمَا يُقَارِنُ الْفِعْلَ، اور یہ اس وجہ سے لِأَنَّ حَقِيقَةَ الِاسْتِطَاعَةِ اس لیے کیونکہ استطاعت کی جو حقیقت ہے یعنی اس کا جو حقیقی معنی ہے فِيمَا يُقَارِنُ الْفِعْلَ وہ فعل کے ساتھ ملے ہوئے ہونے میں ہے۔ حقیقی استطاعت کسے کہتے ہیں؟ جو فعل کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ آپ ایک کام کرتے ہیں تو آپ کہتے ہیں یہ اللہ کی توفیق سے ہوا، یہ اللہ نے میرے لیے مقدر کیا تھا اس لیے میں نے کیا، ورنہ اگر ہزار اسباب بھی میرے پاس موجود ہوتے پھر بھی میں یہ کام خود نہیں کر سکتا تھا، بات سمجھ میں آ گئی۔ یاد رکھو یہ جو استطاعتِ قدرت ہے یہ اس فعل کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے، جب آپ وہ فعل کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے اللہ نے آپ کے لیے یہ فعل مقدر فرمایا تھا اسی لیے آپ کر رہے ہیں، اگر اللہ نے مقدر نہ کیا ہوتا تو آپ یہ فعل نہ کرتے، تو یہ استطاعتِ قدرت کب ہوتی ہے؟ عین وہ فعل کرتے وقت وہ استطاعتِ قدرت ہے اس سے پہلے نہیں ہے بھئی، تو جب وہ فعل پایا جائے گا معلوم ہوا استطاعتِ قدرت ہے، استطاعتِ قدرت کے بغیر تو وہ فعل ہی نہیں ہو سکتا تھا بھئی۔ تو استطاعتِ قدرت جو ہے وہ فعل کے ساتھ ہوتی ہے فعل پر کبھی مقدم نہیں ہوتی بھئی، اور جب وہ فعل پایا جائے تو اس کا مطلب ہے استطاعتِ قدرت بھی ہے، اور جب وہ فعل نہیں پایا گیا معلوم ہوا استطاعتِ قدرت بھی نہیں ہے بھئی۔ اور اس کو استطاعتِ قضاء اور قدرت کہتے ہیں کیونکہ اللہ اپنی قضاء اور قدرت سے اس فعل کو وجود دیتے ہیں، آدمی ایک فعل کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اللہ اپنی قضاء اور قدرت سے اس فعل کو وجود دیتے ہیں، ورنہ ورنہ ہزار ارادے بھی کرتا رہے ایک آدمی جب تک اللہ کی طرف سے مقدر نہیں ہو گا وہ کام نہیں کر سکتا۔ ایک آدمی جتنا مرضی مالدار ہو، جتنا مرضی ارادہ کرے حج پر جانے کا، لیکن مالدار ہونے کے باوجود جب تک اللہ اس کے لیے مقدر نہیں فرمائیں گے وہ ان اسباب کے ہونے کے باوجود حج پر نہیں جا سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ حَقِيقَةَ الِاسْتِطَاعَةِ فِيمَا يُقَارِنُ الْفِعْلَ اور یہ اس لیے کیونکہ حقیقی استطاعت جو ہے وہ فعل کے ساتھ ملے ہوئے ہونے میں ہے یعنی فعل کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے، وَيُطْلَقُ الِاسْمُ عَلَى سَلَامَةِ الْآلَاتِ وَصِحَّةِ الْأَسْبَابِ فِي الْمُتَعَارَفِ، اور استطاعت کا اسم جو ہے اس کا اطلاق کیا جاتا ہے یعنی اس کو بولا جاتا ہے عَلَى سَلَامَةِ الْآلَاتِ آلات کی سلامتی پر وَصِحَّةِ الْأَسْبَابِ اور اسباب کے صحیح ہونے پر فِي الْمُتَعَارَفِ عرف کے اندر۔ یعنی عام لوگوں کے نزدیک متعارف کیا ہے؟ استطاعت کسے کہتے ہیں کہ اسباب موجود ہیں اور صحت بھی ہے اور کوئی مانع اور رکاوٹ بھی نہیں ہے تو کہتے ہیں اس میں اس کام کی استطاعت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَيُطْلَقُ الِاسْمُ عَلَى سَلَامَةِ الْآلَاتِ وَصِحَّةِ الْأَسْبَابِ فِي الْمُتَعَارَفِ، فَعِنْدَ الْإِطْلَاقِ يَنْصَرِفُ إِلَيْهِ تو اطلاق کے وقت یہ اسی کی طرف پلٹ جائے گا، یعنی جب مطلق استطاعت کا لفظ بولا جائے گا تو اس متعارف معنی کی طرف پلٹ جائے گا، اور متعارف تو کیا ہے اس کا معنی؟ آلات اور صحت کا سلامت ہونا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَعِنْدَ الْإِطْلَاقِ يَنْصَرِفُ إِلَيْهِ تو یہ استطاعت کا لفظ اطلاق کے وقت یَنْصَرِفُ إِلَيْهِ یہ اسی متعارف معنی کی طرف پلٹ جائے گا، وَيَصِحُّ نِيَّةُ الْأَوَّلِ دِيَانَةً اور اول کی نیت بھی دیانتاً صحیح ہے یعنی استطاعتِ قدرت مراد لینا بھی صحیح ہے، لِأَنَّهُ نَوَى حَقِيقَةَ كَلَامِهِ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے کلام کی حقیقت کا ارادہ کیا، کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کیا۔ ثُمَّ قِيلَ: يَصِحُّ قَضَاءً أَيْضًا لِمَا بَيَّنَّا، پھر کہا گیا ہے کہ قضاءً بھی صحیح ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی، کہ قاضی کے پاس اگر مسئلہ آیا تو قاضی بھی اس کی تصدیق کرے گا، بعض فقہاء فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ قِيلَ يَصِحُّ قَضَاءً أَيْضًا لِمَا بَيَّنَّا کہ قضاءً بھی اس پہلے معنی کی نیت صحیح ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ اس نے اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کیا ہے۔ وَقِيلَ: لَا يَصِحُّ اور کہا گیا ہے کہ پہلے معنی کی نیت صحیح نہیں، لِأَنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ کیونکہ یہ ظاہر کے خلاف ہے اور نیز اس میں اس کے اوپر آسانی ہے۔ اگر وہ شخص نہیں گیا، اب اگر استطاعتِ صحت مراد لیں تو یہ حانث ہو چکا ہے اور اگر استطاعتِ قدرت مراد لیں وہ تو عین اس فعل کے جب پایا جائے تب ہوتی ہے اس سے پہلے ہے ہی نہیں، تو پھر تو یہ حانث نہیں ہوتا اس پر قسم کا کفارہ نہیں آتا، تو اس صورت میں تو اس پر آسانی ہے۔ اس پر اس صورت میں آسانی ہے اس پر قسم کا کفارہ واجب نہیں ہوتا تو دلوں میں بدگمانی اتی ہے کہ شاید اپنی سہولت کے لیے یہ بیان کر رہا ہے کہ میں نے اس معنی کا ارادہ کیا تھا، تو اس لیے قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ خلافِ ظاہر ہے اور اس میں اس کے لیے آسانی ہے۔ تو یہ معنی ہے: وَقِيلَ لَا يَصِحُّ لِأَنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ اور کہا گیا ہے یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ ظاہر کے خلاف ہے۔
قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا تَخْرُجُ امْرَأَتُهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے کہا کہ اس کی بیوی نہیں نکلے گی گھر سے إِلَّا بِإِذْنِهِ مگر اس کی اجازت کے ساتھ، إِلَّا بِإِذْنِهِ کہ اس کی بیوی گھر سے نہیں نکلے گی مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔ تو اس صورت میں ہر مرتبہ بیوی کے لیے اجازت ضروری ہو گی جب بھی وہ گھر سے نکلنے لگے کیونکہ اس نے کیا کہا ہے؟ إِلَّا بِإِذْنِهِ یہ با لے کر آیا، اور با کس لیے اتی ہے؟ الصاق کے لیے، معلوم ہوا جب بھی اس کی بیوی کا خروج پایا جائے گا اس وقت اس کے ساتھ اجازت کا ملا ہوا ہونا ضروری ہے، تو لہذا اگر بغیر اجازت کے ایک مرتبہ بھی نکلے گی تو وہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ جس شخص نے قسم اٹھائی لَا تَخْرُجُ امْرَأَتُهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ کہ اس کی بیوی نہیں نکلے گی الا باذنہ مگر اس کی اجازت سے، تو دیکھو اس نے با کو ذکر کیا ہے بِإِذْنِهِ، فَأَذِنَ لَهَا مَرَّةً فَرَخَجَتْ تو اس نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو اجازت دے دی تو وہ بیوی باہر نکلی، ثُمَّ خَرَجَتْ مَرَّةً أُخْرَى بِغَيْرِ إِذْنِهِ پھر دوسری مرتبہ وہ باہر نکلی بغیر اس خاوند کی اجازت کے، حَنِثَ تو وہ حانث ہو جائے گا، خاوند جو ہے حانث ہو جائے گا یعنی اگر اس نے طلاق معلق کی تھی تو طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: حَنِثَ وہ خاوند حانث ہو جائے گا، وَلَا بُدَّ مِنَ الْإِذْنِ فِي كُلِّ خُرُوجٍ اور اجازت ضروری ہے ہر خروج میں، ہر مرتبہ نکلتے وقت اجازت ضروری ہے بھئی۔
تو تو پھر علماء طریقہ بتلاتے ہیں کہ اس کو وہ اپنے اوپر سے ساقط کرنا چاہے تو اب کیا کرے؟ ایک وقت تو خاوند نے غصے میں یہ قسم کھا لی لیکن اب وہ اس کو ساقط کرنا چاہتا ہے تو خاوند اس کو یوں کہے کہ جب بھی تیرا نکلنے کا ارادہ ہو تو میری طرف سے اجازت ہے، جب بھی تیرا نکلنے کا ارادہ ہو تو میری طرف سے اجازت ہے۔ اب اس کو اجازت ہو گئی تو ہر خروج کے ساتھ اجازت گویا پائی جا رہی ہے اب حانث نہیں ہو گی بھئی۔ تو لہذا یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے کبھی بھی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کرنا کیونکہ وہ تمام زندگی پھر معلق رہے گی، ایک وقت غصے میں تو انسان تعلیق کر دیتا ہے لیکن پھر بعد میں تکلیف میں پڑ جاتا ہے اس کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بُدَّ مِنَ الْإِذْنِ فِي كُلِّ خُرُوجٍ اور اس عورت کے لیے اجازت ضروری ہے ہر مرتبہ نکلنے میں، لِأَنَّ الْمُسْتَثْنَى خُرُوجٌ مَقْرُونٌ بِالْإِذْنِ اس لیے کیونکہ مستثنیٰ وہ خروج ہے جو اجازت کے ساتھ ملا ہوا ہو، وَمَا وَرَاءَهُ دَاخِلٌ فِي الْحَظْرِ الْعَامِّ اور اس کے علاوہ جو ہے وہ تو داخل ہے عام ممانعت میں۔ حظر بھئی ظا کے ساتھ بھئی، طا ظا: وَمَا وَرَاءَهُ دَاخِلٌ فِي الْحَظْرِ الْعَامِّ اور اس کے علاوہ جو ہے وہ تو عام ممانعت میں داخل ہے، بھئی خاوند نے عام ممانعت کی ہے نا کہ میری بیوی گھر سے نہیں نکل سکتی الا باذنی مگر میری اجازت سے، تو لہذا ہر مرتبہ اجازت ہونا ضروری ہے اور جبکہ اجازت کے بغیر جو بھی نکلنا ہے وہ ممنوع ہے، تو یہ معنی ہے: وَمَا وَرَاءَهُ دَاخِلٌ فِي الْحَظْرِ الْعَامِّ اور اس کے علاوہ جو نکلنا ہے وہ عام ممانعت میں داخل ہے یعنی وہ ممنوع ہو گا بغیر اجازت کے۔
وَلَوْ نَوَى الْإِذْنَ مَرَّةً يُصَدَّقُ دِيَانَةً لَا قَضَاءً، اگر خاوند بعد میں کہتا ہے لفظ یہی استعمال کیے إِلَّا بِإِذْنِي با کو ذکر کیا، اور بعد میں کہتا ہے میرا ارادہ تو ایک مرتبہ کا تھا کہ پہلی مرتبہ اس کو مجھ سے اجازت لینا پڑے گی، تو کہتے ہیں اس صورت میں دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی لیکن قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ اپنے لیے نرمی پسند کر رہا ہے، دلوں میں بدگمانی اتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ نَوَى الْإِذْنَ مَرَّةً اور اگر خاوند نے ایک مرتبہ اجازت کی نیت کی، يُصَدَّقُ دِيَانَةً لَا قَضَاءً تو دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی، لِأَنَّهُ مُحْتَمَلُ كَلَامِهِ کیونکہ یہ اس کے کلام کا محتمل ہے، اس کی دیانتاً کیوں تصدیق کریں گے؟ کیونکہ یہ اس کے کلام کا محتمل ہے یعنی اس کے کلام میں اس کا بھی احتمال ہے، لَكِنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے اور جو چیز بھی ظاہر کے خلاف ہو قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جاتی، ظاہر یہی ہے اس نے با ذکر کیا ہے اور با الصاق کے لیے اتی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ جوڑنے کے لیے۔
وَلَوْ قَالَ: إِلَّا أَنْ آذَنَ لَكِ، اور اگر خاوند نے یہ کہا: إِلَّا أَنْ آذَنَ لَكِ کہ تم گھر سے باہر نہیں نکل سکتی الا ان اذن لک مگر یہ کہ میں تجھے اجازت دے دوں، تو یہاں اس نے الا ان ذکر کیا اور الا ان غایہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، الا ان غایہ کسی چیز کی انتہا بیان کرتا ہے، تو لہذا یہاں پر بھی جب ایک دفعہ خاوند اجازت دے دے گا تو قسم کی انتہا ہو گئی، قسم ختم ہو گئی، کھل گئی، اب دوبارہ جائے گی بھی تو پھر اجازت کی ضرورت نہیں لہذا پھر حانث نہیں ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ إِلَّا أَنْ آذَنَ لَكِ اور اگر خاوند نے کہا مگر یہ کہ میں تجھے اجازت دے دوں، فَأَذِنَ لَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً فَرَخَجَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ بَعْدَهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِ لَمْ يَحْنَثْ، پھر ایک مرتبہ خاوند نے اسے اجازت دے دی تو وہ عورت نکلی پھر اس کے بعد وہ بغیر اجازت کے نکلی لم یحنث تو وہ حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّ هَذِهِ كَلِمَةُ غَايَةٍ اس لیے کیونکہ یہ جو الا ان کا کلمہ ہے یہ غایہ کے لیے ہے یعنی مجازاً یہ غایہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، فَيَنْتَهِي الْيَمِينُ بِهِ تو اس اجازت کی وجہ سے قسم کی انتہا ہو جائے گی، الا ان کس لیے اتا ہے؟ غایہ کے لیے، تو جب یہ ایک دفعہ اجازت دے دے گا تو قسم کی انتہا ہو گئی، قسم پوری ہو گئی بھئی۔ تو فَيَنْتَهِي الْيَمِينُ بِهِ تو لہذا اس اجازت کی وجہ سے قسم جو ہے اس کی انتہا ہو جائے گی، كَمَا إِذَا قَالَ: حَتَّى آذَنَ لَكِ، یہ اسی طرح ہے جب خاوند نے کہا حَتَّى آذَنَ لَكِ کہ تو گھر سے نہیں نکلے گی حَتَّى آذَنَ لَكِ یہاں تک کہ میں تجھے اجازت دے دوں، اور حتیٰ اتا ہے غایہ کے لیے کسی چیز کی انتہا بیان کرتا ہے، تو خاوند جب ایک دفعہ اجازت دے دے گا تو اب قسم کی انتہا ہو گئی وہ اپنی حد کو پہنچ گئی اب اس کے بعد دوبارہ اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا قَالَ حَتَّى آذَنَ لَكِ تو یہ ایسے ہی ہے جب خاوند نے کہا حتیٰ اذن لک۔
آگے دیکھیے: وَلَوْ أَرَادَتِ الْمَرْأَةُ الْخُرُوجَ فَقَالَ: إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ، جی اب یہ یمینِ فور آ گئی۔ یمینِ فور، یمینِ فور وہ ہے جو اسی گھڑی اور اسی حالت کے ساتھ جس کا تعلق ہوتا ہے، اور یاد رکھو یہ یمینِ فور جو ہے اس کا استنباط سب سے پہلے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا، امام صاحب سے پہلے علماء اس کو نہیں جانتے تھے کسی نے اس کو بیان نہیں کیا تھا، تو امام صاحب سب سے پہلے وہ فرد ہیں جنہوں نے اس قسم کو بیان فرمایا اور اس کا استنباط کیا، تو یہ یمینِ فور اور یہ فورانِ قدر سے ماخوذ ہے۔ قدر کہتے ہیں ہانڈی کو، فورانِ قدر ہانڈی کا ابلنا، ہانڈی کا جوش مارنا، تو اسی سے یہ یمینِ فور ہے، جب کسی کا غصہ بھڑک رہا ہو جیسے ہانڈی جوش مار رہی ہوتی ہے تو اسی طرح غصہ بھڑک رہا ہے اور اس وقت خاوند بیوی سے کہتا ہے اگر تو گھر سے باہر گئی تو تجھے طلاق ہے۔ عورت نے ہدایہ پڑھی ہوئی تھی وہ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گئی یہاں تک کہ خاوند کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور پھر اٹھ کر چلی گئی تو اب طلاق واقع نہیں ہو گی، وجہ یہ کہ وہاں خاوند کے روکنے کا مقصد زندگی بھر کے لیے روکنا مقصد نہیں تھا بلکہ عین اس غصے کی حالت میں اس کے نکلنے کو وہ منع کر رہا تھا کہ اس وقت تو نکلی تو تجھے طلاق ہے بھئی، تو لہذا وہ عورت رک گئی اس وقت اور پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر وہ چلی گئی تو اب وہ طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ أَرَادَتِ الْمَرْأَةُ الْخُرُوجَ فَقَالَ إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ فَرَجَلَسَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ، اور اگر عورت نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو خاوند نے کہا اگر تو نکلی تو تجھے طلاق ہے فَرَجَلَسَتْ تو وہ عورت بیٹھ گئی ثُمَّ خَرَجَتْ، دیکھو ثُمَّ لے کر آئے، ثُمَّ کس لیے اتا ہے؟ ثُمَّ تراخی کے لیے اتا ہے، پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ نکلی لَمْ يَحْنَثْ تو خاوند حانث نہیں ہو گا یعنی طلاق واقع نہیں ہو گی۔
وَكَذَلِكَ إِنْ أَرَادَ رَجُلٌ ضَرْبَ عَبْدِهِ فَقَالَ لَهُ آخَرُ: إِنْ ضَرَبْتَهُ فَعَبْدِي حُرٌّ، اور اسی طرح ہے اگر ایک ادمی نے اپنے غلام کو مارنے کا ارادہ کیا تو دوسرے ادمی نے اس سے کہا اگر تو نے اس کو مارا تو میرا غلام آزاد ہے۔ فَتَرَكَهُ ثُمَّ ضَرَبَهُ، تو اس پہلے ادمی نے غلام کو چھوڑ دیا، جب دوسرے شخص کا غصہ کچھ ختم ہوا کم ہو گیا ثُمَّ ضَرَبَهُ پھر اس کو مارا، تو وہ شخص جس نے اپنے غلام کو آزاد کرنے کی بات کی تھی وہ حانث نہیں ہوا کیونکہ اس قسم کا مقصد عین اس وقت وہ جو فعل کیا جا رہا ہے اس کو روکنا مقصد ہے زندگی بھر کے لیے روکنا مقصد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ إِنْ أَرَادَ رَجُلٌ ضَرْبَ عَبْدِهِ فَقَالَ لَهُ آخَرُ إِنْ ضَرَبْتَهُ فَعَبْدِي حُرٌّ فَتَرَكَهُ ثُمَّ ضَرَبَهُ، اور اسی طرح اگر ایک ادمی نے اپنے غلام کو مارنے کا ارادہ کیا تو دوسرے ادمی نے اس سے کہا اگر تو نے اسے مارا تو میرا غلام آزاد ہے تو اس پہلے ادمی نے اس غلام کو چھوڑ دیا پھر کچھ دیر بعد اس کو مارا تو بھی مسئلہ اسی طرح ہے یعنی یہ دوسرا شخص حانث نہیں ہو گا۔
وَهَذَا تُسَمَّى يَمِينَ الْفَوْرِ، اور اس کو یمینِ فور کہتے ہیں، وَتَفَرَّدَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِإِظْهَارِهِ، اور امام صاحب اکیلے ہیں اس کے اظہار میں، اس کو ظاہر کرنے میں یعنی اس کو بیان کرنے میں وہ اکیلے ہیں یعنی سب سے پہلے انہوں نے اس کو بیان کیا۔ تو کہتے ہیں: وَتَفَرَّدَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِإِظْهَارِهِ اور امام صاحب یکتا ہیں اس کے اظہار میں، اس کے بیان میں، وَوَجْهُهُ اور وجہ اس کی یہ ہے: أَنَّ مُرَادَ الْمُتَكَلِّمِ الرَّدُّ عَنْ تِلْكَ الضَّرْبَةِ وَالْخَرْجَةِ عُرْفًا، کہ متکلم کی جو مراد ہے وہ عرفاً اسی ضرب اور اسی نکلنے سے روکنا ہے۔ متکلم کا ارادہ کیا ہوتا ہے؟ وہ غصے کی حالت میں ہے اس کا مقصد اس وقت کے نکلنے کو اور اس وقت کی پٹائی کو روکنا مقصد ہے زندگی بھر کے لیے روکنا مقصد نہیں، یہ معنی ہے: وَوَجْهُهُ أَنَّ مُرَادَ الْمُتَكَلِّمِ الرَّدُّ عَنْ تِلْكَ الضَّرْبَةِ وَالْخَرْجَةِ عُرْفًا، وَمَبْنَى الْأَيْمَانِ عَلَيْهِ اور قسموں کی بنیاد بھی عرف پر ہوتی ہے، قسموں کی بنیاد بھی عرف پر ہوتی ہے اور اسی طرح یہ جو یمینِ فور ہے اس میں عرف کے اندر اسی نکلنے سے روکنا مقصد ہوتا ہے ہر نکلنے سے روکنا مقصد نہیں ہوتا بھئی۔
آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: اجْلِسْ فَتَغَدَّ عِنْدِي، فَقَالَ: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک ادمی نے دوسرے سے کہا کہ بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، تو اس نے جواب میں کہا اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ اس کے بعد پھر یہ ادمی یہاں سے نکل گیا، اپنے گھر گیا اور وہاں اس نے ناشتہ کیا، تو کیا یہ حانث ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں حانث نہیں ہو گا کیونکہ اس ادمی نے اسے کھانے کی دعوت دی تھی، اس نے اس کے جواب میں کہا تھا: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ کہ اگر میں نے ناشتہ کیا، اور مراد ہر ناشتہ نہیں تھا بلکہ وہ جس کا جواب دے رہا ہے کہ یعنی جس ناشتے کی طرف تم نے مجھے دعوت دی ہے اگر میں نے یہ والا ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے، اگرچہ لفظ اس نے مطلق بولا ہے: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد، لیکن یہاں ہر ناشتہ مراد نہیں لیں گے بلکہ یہ سوال کے جواب میں کہہ رہا ہے تو سوال کے مطابق اس کو مانا جائے گا بھئی۔ ہاں اس کے مقابلے میں اگر اس نے کہا کہ آؤ ہمارے ساتھ ناشتہ کرو اور اس نے جواب میں کہا اج اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے، تو اب اج کے دن جہاں بھی یہ ناشتہ کر لے گا غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے یہ بھی تو جواب دے رہا ہے اس کا؟ کہتے ہیں نہیں اس نے یہاں ایک لفظ بڑھا دیا، اس نے جو جواب دیا اس میں ایک لفظ بڑھا دیا اور وہ لفظ کیا تھا؟ اج کے دن، اج کے دن اگر میں نے ناشتہ کیا۔ تو اب اس کو جواب قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کو ایک نئی بات قرار دیا جائے گا، گویا ایک وہ الگ بات کر رہا ہے جواب نہیں دے رہا، نئی بات ہے اور اس میں تو وہ کہہ رہا ہے کہ اج میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد، تو جہاں بھی ناشتہ کر لے غلام آزاد ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ اجْلِسْ فَتَغَدَّ عِنْدِي اور اگر اس شخص سے کسی ادمی نے کہا کہ بیٹھیے پس ناشتہ کیجیے ہمارے پاس۔ غداء بھئی، یاد رکھو غداء بھئی اج کل تو ہم دن میں تین مرتبہ کھانا کھاتے ہیں: ناشتہ، پھر دوپہر کا کھانا اور پھر رات کا کھانا، لیکن قدیم لوگوں کا یہ طریقہ نہیں تھا، قدیم لوگ صبح کا کھانا کھاتے تھے جس وقت ہم عموماً ناشتہ کرتے ہیں یہ اٹھ نو بجے تک، دس بجے تک زیادہ سے زیادہ، یہ یہی ان کا دوپہر کا کھانا بھی ہوتا تھا اور یہی ناشتہ بھی ہوتا تھا، اور پھر عین سورج ڈوبنے کے قریب اس وقت یہ یا سورج ڈوبنے کے فوراً بعد رات کا کھانا کھاتے تھے۔ تو غداء عین ناشتے کو نہیں کہتے لیکن بہرحال یہاں ناشتے کے معنی میں ہم کر لیں گے۔ تو ایک شخص نے دوسرے سے کہا: اجْلِسْ فَتَغَدَّ عِنْدِي کہ بیٹھیے آپ ہمارے پاس ناشتہ کیجیے، فَقَالَ: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے، فَخَرَجَ فَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَتَغَدَّى تو یہ ادمی نکلا پھر یہ اپنے گھر آ گیا اور اس نے ناشتہ کیا، لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّ كَلَامَهُ خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَوَابِ اس لیے کیونکہ اس کا کلام جو ہے جواب کے مقام میں ادا ہوا ہے، خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَوَابِ جواب کے مقام میں ادا ہوا ہے، فَيَنْطَبِقُ عَلَى السُّؤَالِ، اِنْطَبَقَ يَنْطَبِقُ کے معنی ہیں موافق ہونا، مل جانا، فَيَنْطَبِقُ عَلَى السُّؤَالِ تو یہ موافق ہو جائے گا سوال کے، فَيَنْصَرِفُ إِلَى الْغَدَاءِ الْمَدْعُوِّ إِلَيْهِ تو یہ پھر جائے گا، یہ پلٹ جائے گا اسی ناشتے کی طرف جس کی طرف اس کو دعوت دی گئی تھی، بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ: إِنْ تَغَدَّيْتُ الْيَوْمَ فَعَبْدِي حُرٌّ، بخلاف اس کے جب اس نے جواب میں یہ کہا کہ اگر اج میں نے ناشتہ کیا، تو اس صورت یہ صورت اس کے برعکس ہے، لِأَنَّهُ زَادَ عَلَى حَرْفِ الْجَوَابِ اس لیے کیونکہ اس شخص نے جواب کے حرف پر بڑھا دیا۔ حرف کنارے کو کہتے ہیں، تو یا تو حرف کا معنی وہی حروف ہی کے کر لیں یا حرف کا معنی کنارے کے کر لیں: لِأَنَّهُ زَادَ عَلَى حَرْفِ الْجَوَابِ اس لیے کیونکہ اس شخص نے جواب کے حروف پر بڑھا دیا، یا حرف کا معنی کنارے کے کر لیں تو وہ زیادہ بہتر ہے: اس لیے کیونکہ اس شخص نے جواب کے کنارے پر زیادتی کر دی، ایک لفظ زائد بڑھا دیا، فَيُجْعَلُ مُبْتَدِئًا تو لہذا اس کو ابتداء کرنے والا قرار دیں گے یعنی یہ نہیں کہیں گے یہ اس کا جواب دے رہا ہے بلکہ ہم یہ کہیں گے یہ ایک نئی بات کر رہا ہے، ایک نئی بات کی ابتداء کر رہا ہے کہ اج میں کہیں پر بھی ناشتہ کروں تو میرا غلام آزاد ہے بھئی۔ یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: لِأَنَّهُ زَادَ عَلَى حَرْفِ الْجَوَابِ فَيُجْعَلُ مُبْتَدِئًا اس لیے کیونکہ اس ادمی نے جواب کے کنارے پر زیادتی کی ہے تو اس کو ابتداء کرنے والا قرار دیں گے جواب دینے والا قرار نہیں دیں گے۔
وَمَنْ حَلَفَ لَا يَرْكَبُ دَابَّةَ فُلَانٍ فَرَكِبَ دَابَّةَ عَبْدٍ مَأْذُونٍ لَهُ مَدْيُونٍ أَوْ غَيْرِ مَدْيُونٍ لَمْ يَحْنَثْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک ادمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا، واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا، اس کے بعد پھر یہ زید کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہوتا ہے۔ زید کا ایک عبدِ ماذون ہے، ایک غلام ہے جسے زید نے تجارت کی اجازت دی ہوئی ہے، تو یہ زید کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہوتا ہے تو کیا حانث ہو گا یا نہیں؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حانث ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون اور اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سارا اسی آقا یعنی زید کا ہے۔ اسی شخص یعنی زید کا ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس شخص نے، اگر اس شخص نے غلام کی سواری کی بھی نیت کی تھی قسم کھاتے ہوئے، مثلاً اس نے کیا کہا تھا: واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا، اور نیت کیا کی کہ زید کی جو بھی مملوک سواری ہے چاہے اس کی ہو چاہے عبدِ ماذون کی ہے اس کا اس نے ارادہ کیا دل میں کہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا یعنی زید کی جو بھی مملوک سواری ہے چاہے اس کی اپنی ہے چاہے اس کے عبدِ ماذون کی ہے، تو اگر اس نے یہ نیت کی تھی تو پھر تو عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے حانث ہو گا ورنہ حانث نہیں۔
پھر مسئلہ سنیں: ایک ادمی نے قسم اٹھائی واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا اور پھر وہ شخص اس زید کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہو گیا، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ہر حال میں حانث ہو گیا کیونکہ عبدِ ماذون کی سواری بھی کس کی مملوک ہے؟ زید ہی کی ہے بھئی، لہذا یہ حانث ہو گیا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاں بات ایسی ہی ہے عبدِ ماذون کی جو بھی چیز ہے وہ کس کی ہے؟ آقا کی ہے، لیکن اس کی نسبت عبدِ ماذون کی طرف ہی کی جاتی ہے لہذا آقا کی طرف نسبت انے میں خلل آ گیا، اس سواری کے بارے میں لوگ یہ نہیں کہتے یہ زید کی سواری ہے بلکہ یہ جو زید کا غلام ہے اس کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ یہ اس کی سواری ہے۔ حقیقت میں مالک کون؟ زید، لیکن نسبت کس کی طرف ہے؟ عبدِ ماذون کی طرف، لوگ عبدِ ماذون کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ یہ اس کی سواری ہے، تو آقا کی طرف نسبت میں خرابی آ گئی، آقا مالک تو ہے لیکن آقا کی طرف نسبت پوری طرح نہیں ہے، لہذا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر نیت کی تھی اس نے کہ زید کی جو بھی مملوک سواری ہے چاہے اس کی ہے چاہے عبدِ ماذون کی ہے پھر تو حانث ہو گا ورنہ حانث نہیں، اگر اس نے صرف یہ کہا ہے میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا تو اب صرف زید کی سواری پر سوار ہونے سے حانث ہو گا اس کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے حانث نہیں ہو گا، ہاں اگر نیت میں اس کو بھی رکھا ہے اور نیت عبدِ ماذون کی سواری کی بھی کی ہے تو پھر اس میں بھی حانث ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نیت وغیرہ کو نہیں دیکھا جائے گا بس عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہوا تو یہ بھی زید ہی کی سواری ہے یہ حانث ہو جائے گا۔
جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے: ایک تو غلام میں حق الغیر نہ ہو اور دوسرا نیت بھی ہو پھر حانث ہو گا۔ دو شرطیں ہیں: ایک تو اس کی نیت بھی کرے باقاعدہ اور نیز غلام کے اندر حق الغیر بھی نہ ہو۔ یاد رکھو یہ جو عبدِ ماذون ہے جس کو اقا نے تجارت کی اجازت دی ہے یہ تجارت کر رہا ہے کاروبار کر رہا ہے تو کاروبار میں ہمیشہ فائدہ ہی نہیں ہوتا کبھی نقصان بھی ہو جاتا ہے، تو لہذا اگر یہ عبدِ ماذون پر دین چڑھ گیا، قرضہ چڑھ گیا، تو اگر تھوڑا بہت قرضہ ہے پھر تو خیر ہے لیکن اگر اتنا قرضہ چڑھ گیا اس کے اوپر کہ اس نے اس کی ساری قیمت کا احاطہ کر لیا، مثلاً غلام جو ہے وہ بیس ہزار درہم کا ہے اور یہ قرضہ بھی اس پر بیس ہزار درہم یا اس سے بھی زیادہ ہو گیا، تو یاد رکھو اس صورت کے اندر اب اس کے اندر وہ قرض خواہوں کا حق آ گیا، قرض خواہوں کا حق آ گیا، اور اگر آقا یہ دین ادا نہیں کرے گا تو قرض خواہ اس غلام کو بیچ سکتے ہیں، اس غلام کو بیچ کر ان کا قرضہ ادا کیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو اس غلام میں غیر کا حق بھی آ گیا، کب؟ جب اس کے اوپر دینِ مستغرق ہو۔ کیا ہو؟ دینِ مستغرق، اِسْتَغْرَقَ يَسْتَغْرِقُ اِسْتِغْرَاقٌ کا معنی ہے گھیر لینا، دینِ مستغرق جو اس سارے غلام کی قیمت کو گھیر لے، اور یہ غلام خود کیا ہے؟ یہ مُسْتَغْرَقٌ فِي الدَّيْنِ ہے، را پر فتحہ پڑھیں گے اسمِ مفعول ہے: مُسْتَغْرَقٌ فِي الدَّيْنِ یعنی ڈوبا ہوا ہے دین میں، اور وہ جو دین ہے وہ کیا ہے؟ مستغرِق ہے، وہ دین نے اس کو گھیرا ہوا ہے بھئی۔
تو لہذا امام صاحب کا مذہب بیان ہو رہا تھا، امام صاحب فرماتے ہیں کہ عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے تب حانث ہو گا جب اس نے اس عبدِ ماذون کی سواری کی نیت بھی کی ہو اور نیز اس میں غیر کا حق بھی نہ ہو، غیر کا حق بھی نہ ہو یعنی چاہے قرضہ ہو یا نہ ہو لیکن دینِ مستغرق نہ ہو بھئی، تو پھر حانث ہو گا ورنہ نہیں۔ تو یہ تین صورتیں بن گئیں: ایک صورت کیا؟ عبدِ ماذون ہے اس پر دین ہے ہی نہیں سرے سے، دوسرا عبدِ ماذون ہے وہ مدیون تو ہے لیکن دینِ مستغرق نہیں تھوڑا دین ہے، اور تیسرا وہ عبدِ ماذون ہے جس پر دینِ مستغرق ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جس غلام پر دینِ مستغرق ہے اس کے اندر تو غیر کا حق آ گیا، غیر کا حق آ گیا لہذا اگرچہ اس نے عبدِ ماذون کی سواری کی نیت کی ہو پھر بھی اب اس کی سواری پر سوار ہونے سے حانث نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون اب زید کا مملوک نہیں ہے اس میں غیروں کا بھی حق آ چکا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس صورت میں چاہے نیت کر بھی لے لیکن دینِ مستغرق موجود ہے تو یہ حانث نہیں ہو گا، لیکن اگر دینِ مستغرق نہیں ہے تو پھر نیت کا ہونا ضروری ہے، نیت کرے گا یعنی عبدِ ماذون کی سواری کی بھی نیت کی ہے تو پھر اس پر سوار ہونے سے حانث ہو جائے گا چاہے اس پر سرے سے دین ہو ہی نہ، چاہے دین ہے تو لیکن تھوڑا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَرْكَبُ دَابَّةَ فُلَانٍ فَرَكِبَ دَابَّةَ عَبْدٍ مَأْذُونٍ لَهُ مَدْيُونٍ أَوْ غَيْرِ مَدْيُونٍ لَمْ يَحْنَثْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ فلاں کی سواری پر سوار نہیں ہو گا پھر یہ اس کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہو گیا چاہے وہ عبدِ ماذون جو ہے مقروض ہو یا مقروض نہ ہو، لم یحنث عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ امام صاحب کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں، تو یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ اس نے اس کے غلام کی سواری کی نیت نہیں کی یہ وہ صورت ہے، عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ امام صاحب کے نزدیک، إِلَّا أَنَّهُ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ مُسْتَغْرِقٌ لَا يَحْنَثُ وَإِنْ نَوَى، مگر یہ کہ جب اس عبدِ ماذون پر دینِ مستغرق ہو یعنی اتنا دین ہے جس نے اس کی قیمت کا احاطہ کر لیا ہے لا یحنث تو پھر یہ شخص حانث نہیں ہو گا وان نویٰ اگرچہ یہ نیت کر لے۔ اگر اس نے یہ قسم کھاتے وقت نیت کی کہ میں زید کی کسی مملوک سواری پر سوار نہیں ہوں گا چاہے اس کی سواری ہو چاہے اس کے عبدِ ماذون کی سواری ہو، اور پھر اس عبدِ ماذون کی سواری پر وہ سوار ہوا جس پر دینِ مستغرق ہے تو یہ اس نے اگرچہ نیت کی تھی پھر بھی یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ اب اس عبدِ ماذون پر آقا کی ملکیت باقی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ جب یہ آقا کی ملکیت نہیں ہے آقا کا مملوک ہی نہیں ہے تو لہذا یہ شخص اس پر سوار ہونے سے حانث بھی نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں جب وہ عبدِ ماذون پر دینِ مستغرق ہو تو لَا يَحْنَثُ وَإِنْ نَوَى تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا اگرچہ اس نے نیت کی ہو، لِأَنَّهُ لَا مِلْكَ لِلْمَوْلَى فِيهِ عِنْدَهُ اس لیے کیونکہ آقا کی اس عبدِ ماذون کے اندر ملکیت نہیں ہوتی عندہ امام صاحب کے نزدیک، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایسا عبدِ ماذون جس پر دینِ مستغرق ہو امام صاحب کے نزدیک اب آقا کی اس کے اندر ملکیت ہی نہیں ہے بھئی، یہ اب آقا کا مملوک رہا ہی نہیں۔ وَإِنْ كَانَ الدَّيْنُ غَيْرَ مُسْتَغْرِقٍ أَوْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَحْنَثُ مَا لَمْ يَنْوِهِ، اور اگر وہ جو دین ہے وہ غیرِ مستغرق ہے یا اس غلام پر دین ہے ہی نہیں، لَا يَحْنَثُ مَا لَمْ يَنْوِهِ تو بھی یہ شخص حانث نہیں ہو گا جب تک اس کی نیت نہ کرے، جب تک اس کی نیت نہ کرے، اگر نیت کرے گا پھر اس عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے بھی حانث ہو جائے گا اور اگر نیت نہیں کی تو حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لَا يَحْنَثُ مَا لَمْ يَنْوِهِ تو حانث نہیں ہو گا جب تک اس کی نیت نہ کرے، لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهِ لِلْمَوْلَى اس لیے کیونکہ اس عبدِ ماذون کے اندر اور اسی طرح اس کی مملوکہ چیزوں کے اندر آقا کی ملکیت ہے، لَكِنَّهُ يُضَافُ إِلَى الْعَبْدِ عُرْفًا لیکن یہ کہ اس کی نسبت کی جاتی ہے غلام کی طرف عرفاً عرف کے اعتبار سے، غلام کی سواری کی نسبت عرف میں غلام کی طرف اس سواری کی نسبت کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: لَكِنَّهُ يُضَافُ إِلَى الْعَبْدِ عُرْفًا وَكَذَا شَرْعًا، لیکن اس سواری کی نسبت غلام کی طرف کی جاتی ہے عرف کے اعتبار سے اور اسی طرح شرعاً بھی، شرعاً بھی سواری کی نسبت کس کی طرف ہوتی ہے؟ غلام کی طرف۔ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَهُوَ لِلْبَائِعِ“ جس شخص نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کا کوئی مال تھا تو وہ بائع کا ہے۔ جو آقا ہے یہ مال آقا ہی کا ہے، جس شخص نے اپنا غلام بیچا اور اس غلام کا بھی کوئی مال ہے یعنی عبدِ ماذون ہے تو اس کا مال کس کا ہے؟ اسی آقا ہی کا ہے جو بیچ رہا ہے اس کو، تو غلام کو اس نے بیچا ہے غلام کے مال کو نہیں بیچا لہذا وہ اسی بیچنے والے آقا کے لیے ہو گا بھئی۔ تو بات چل رہی تھی کہ غلام کی جو سواری ہے اس کی نسبت بھی غلام کی طرف ہی کی جاتی ہے عرفاً بھی یعنی عام لوگ بھی غلام کی طرف نسبت کرتے ہیں اور شرعاً بھی اس کی نسبت غلام کی طرف ہوتی ہے، چنانچہ اسی لیے حدیث میں آیا: وَلَهُ مَالٌ اس غلام کا کوئی مال تھا، دیکھو مال کی نسبت غلام کی طرف ہو رہی ہے حدیث میں۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا شَرْعًا اور اسی طرح شرعاً بھی غلام کی طرف نسبت ہوتی ہے، قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَهُوَ لِلْبَائِعِ جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کا کوئی مال تھا تو وہ بائع کا ہے، الْحَدِيثَ، أَيِ الْحَدِيثُ مَعْلُومٌ حدیث معلوم ہے بھئی۔
فَتَخْتَلُّ الْإِضَافَةُ إِلَى الْمَوْلَى، تو لہذا خلل آ گیا اس نسبت کے اندر جو آقا کی طرف ہے، اِخْتَلَّ يَخْتَلُّ کا کیا معنی؟ خلل آنا، خرابی آنا، فَتَخْتَلُّ الْإِضَافَةُ إِلَى الْمَوْلَى تو آقا کی طرف جو اضافت ہو رہی تھی جو نسبت ہو رہی تھی اس میں خلل آ گیا، فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ لہذا نیت کا ہونا ضروری ہے۔ عبدِ ماذون کی سواری کی نسبت عبدِ ماذون کی طرف ہی کی جاتی ہے اس کے آقا کی طرف نہیں کی جاتی لہذا آقا کی طرف نسبت میں خلل آ گیا لہذا اس کی الگ سے نیت ضروری ہے، تو لہذا اس میں باقاعدہ نیت کا ہونا ضروری ہے کہ میں زید کی کسی مملوک سواری پر سوار نہیں ہوں گا چاہے زید کی اپنی ہو چاہے اس کے عبدِ ماذون کی ہو۔ تو کہتے ہیں: فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ تو نیت کا ہونا ضروری ہے، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا يَحْنَثُ إِذَا نَوَاهُ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان تمام صورتوں میں وہ حانث ہو جائے گا إذا نواہ جب وہ نیت کرے گا، کیونکہ آقا کی طرف نسبت میں خلل آ گیا لہذا اب باقاعدہ نیت کرنا پڑے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا يَحْنَثُ إِذَا نَوَاهُ کہ ان تمام صورتوں میں یہ حانث ہو جائے گا جب یہ اس کی نیت کرے، کتنی صورتیں بنتی ہیں یہاں؟ تین: ایک صورت کیا؟ عبدِ ماذون پر کوئی دین نہیں۔ دوسری صورت: عبدِ ماذون پر دین تو ہے لیکن مستغرق نہیں، اور تیسری صورت ہے دینِ مستغرق ہے، تمام صورتوں میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نیت کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں تمام صورتوں میں وہ حانث ہو گا جب وہ نیت کرے گا، لِاخْتِلَالِ الْإِضَافَةِ اس نسبت کے اندر خلل آ جانے کی وجہ سے وہ جو آقا کی طرف نسبت تھی اس میں خلل آ گیا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَحْنَثُ وَإِنْ لَمْ يَنْوِ، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حانث ہو جائے گا اگرچہ نیت نہ کرے لِاعْتِبَارِ حَقِيقَةِ الْمِلْكِ حقیقتِ ملک کے اعتبار سے، اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون کے پاس جو کچھ ہے وہ آقا ہی کا ہے، تو حقیقتِ ملک کے اعتبار سے یہ آقا ہی کی سواری ہے، آقا کی اس میں حقیقتاً ملکیت ہے تو حقیقتِ ملک کے اعتبار سے یہ آقا کی سواری ہے، جب آقا کی سواری ہے تو نیت کرے یا نہ کرے جب بھی اس عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہو گا یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: لِاعْتِبَارِ حَقِيقَةِ الْمِلْكِ حقیقتِ ملک کے اعتبار سے، إِذِ الدَّيْنُ لَا يَمْنَعُ وُقُوعَهُ لِلسَّيِّدِ عِنْدَهُمَا، إِذِ الدَّيْنُ اس لیے کیونکہ دین جو ہے لَا يَمْنَعُ یہ منع نہیں کرتا وُقُوعَهُ کہ وہ ملکیت واقع ہو جائے لِلسَّيِّدِ آقا کے لیے عِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک۔ صاحبین کے نزدیک عبدِ ماذون پر جتنا بھی دین آ جائے پھر بھی آقا اس کا مالک ہے، دین آنے کے باوجود اس کی ملکیت آقا ہی کے لیے ہے، دین کی وجہ سے ملکیت آقا کے لیے ممنوع ہو جائے ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: إِذِ الدَّيْنُ لَا يَمْنَعُ وُقُوعَهُ لِلسَّيِّدِ عِنْدَهُمَا اس لیے کیونکہ دین جو ہے اس ملکیت کے آقا کے لیے واقع ہونے کو منع نہیں کرتا عِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام، حاصلِ کلام بھئی اس مسئلے کا کہ امام صاحب کے نزدیک حانث ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں بھئی: ایک تو یہ کہ وہ نیت کرے اور دوسرا یہ کہ اس غلام پر دینِ مستغرق نہ ہو، دینِ مستغرق نہ ہو، اگر اس پر دینِ مستغرق ہے پھر نیت بھی کر لے گا تو اس کی سواری پر سوار ہونے سے حانث نہیں ہو گا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک نیت کی شرط ہے بس۔ تو امام صاحب کے نزدیک دو شرطیں ہیں: نیت بھی کرے اور نیز اس غلام پر دینِ مستغرق بھی نہ ہو۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف ایک شرط ہے کہ نیت کرے پھر حانث ہو گا ویسے حانث نہیں، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کوئی شرط نہیں ہے عبدِ ماذون کی سواری پر بھی سوار ہو گا تو حانث ہو جائے گا چاہے نیت کی ہے چاہے نیت نہیں کی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
وَفِي كُلِّ خُرُوجٍ، اور اجازت ضروری ہے ہر خروج میں، الا ان کس لیے اتا ہے؟ غایہ کے لیے، تو جب یہ ایک دفعہ اجازت دے دے گا تو قسم کی انتہا ہو گئی، قسم پوری ہو گئی بھئی۔ فَيَنْتَهِي الْيَمِينُ بِهِ تو لہذا اس اجازت کی وجہ سے قسم جو ہے اس کی انتہا ہو جائے گی، كَمَا إِذَا قَالَ: حَتَّى آذَنَ لَكِ، یہ اسی طرح ہے جب خاوند نے کہا حَتَّى آذَنَ لَكِ کہ تو گھر سے نہیں نکلے گی حَتَّى آذَنَ لَكِ یہاں تک کہ میں تجھے اجازت دے دوں، اور حتیٰ اتا ہے غایہ کے لیے، کسی چیز کی انتہا بیان کرتا ہے، تو خاوند جب ایک دفعہ اجازت دے دے گا تو اب قسم کی انتہا ہو گئی، وہ اپنی حد کو پہنچ گئی، اب اس کے بعد دوبارہ اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا قَالَ حَتَّى آذَنَ لَكِ تو یہ ایسے ہی ہے جب خاوند نے کہا حتى اذن لك۔
آگے دیکھیے: وَلَوْ أَرَادَتِ الْمَرْأَةُ الْخُرُوجَ فَقَالَ: إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ، جی اب یہ یمینِ فور آ گئی۔ یمینِ فور، یمینِ فور وہ ہے جو اسی گھڑی اور اسی حالت کے ساتھ جس کا تعلق ہوتا ہے۔ اور یاد رکھو یہ یمینِ فور جو ہے اس کا استنباط سب سے پہلے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا، امام صاحب سے پہلے علماء اس کو نہیں جانتے تھے، کسی نے اس کو بیان نہیں کیا تھا، تو امام صاحب سب سے پہلے وہ فرد ہیں جنہوں نے اس قسم کو بیان فرمایا اور اس کا استنباط کیا۔ تو یہ یمینِ فور، اور یہ فورانِ قدر سے ماخوذ ہے۔ قدر کہتے ہیں ہانڈی کو، فورانِ قدر ہانڈی کا ابلنا، ہانڈی کا جوش مارنا، تو اسی سے یہ یمینِ فور ہے، جب کسی کا غصہ بھڑک رہا ہو جیسے ہانڈی جوش مار رہی ہوتی ہے تو اسی طرح غصہ بھڑک رہا ہے اور اس وقت خاوند بیوی سے کہتا ہے اگر تو گھر سے باہر گئی تو تجھے طلاق ہے۔ عورت نے ہدایہ پڑھی ہوئی تھی وہ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گئی یہاں تک کہ خاوند کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور پھر اٹھ کر چلی گئی تو اب طلاق واقع نہیں ہو گی، وجہ یہ کہ وہاں خاوند کے روکنے کا مقصد زندگی بھر کے لیے روکنا مقصد نہیں تھا بلکہ عین اس غصے کی حالت میں اس کے نکلنے کو وہ منع کر رہا تھا کہ اس وقت تو نکلی تو تجھے طلاق ہے بھئی، تو لہذا وہ عورت رک گئی اس وقت اور پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر وہ چلی گئی تو اب وہ طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ أَرَادَتِ الْمَرْأَةُ الْخُرُوجَ فَقَالَ إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ فَرَجَلَسَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ، اور اگر عورت نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو خاوند نے کہا اگر تو نکلی تو تجھے طلاق ہے فَرَجَلَسَتْ تو وہ عورت بیٹھ گئی ثُمَّ خَرَجَتْ، دیکھو ثُمَّ لے کر آئے، ثُمَّ کس لیے اتا ہے؟ ثُمَّ تراخی کے لیے اتا ہے، پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ نکلی لَمْ يَحْنَثْ تو خاوند حانث نہیں ہو گا یعنی طلاق واقع نہیں ہو گی۔
وَكَذَلِكَ إِنْ أَرَادَ رَجُلٌ ضَرْبَ عَبْدِهِ فَقَالَ لَهُ آخَرُ: إِنْ ضَرَبْتَهُ فَعَبْدِي حُرٌّ، اور اسی طرح ہے اگر ایک ادمی نے اپنے غلام کو مارنے کا ارادہ کیا تو دوسرے ادمی نے اس سے کہا اگر تو نے اس کو مارا تو میرا غلام آزاد ہے۔ فَتَرَكَهُ ثُمَّ ضَرَبَهُ، تو اس پہلے ادمی نے غلام کو چھوڑ دیا، جب دوسرے شخص کا غصہ کچھ ختم ہوا کم ہو گیا ثُمَّ ضَرَبَهُ پھر اس کو مارا، تو وہ شخص جس نے اپنے غلام کو آزاد کرنے کی بات کی تھی وہ حانث نہیں ہوا کیونکہ اس قسم کا مقصد عین اس وقت وہ جو فعل کیا جا رہا ہے اس کو روکنا مقصد ہے زندگی بھر کے لیے روکنا مقصد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ إِنْ أَرَادَ رَجُلٌ ضَرْبَ عَبْدِهِ فَقَالَ لَهُ آخَرُ إِنْ ضَرَبْتَهُ فَعَبْدِي حُرٌّ فَتَرَكَهُ ثُمَّ ضَرَبَهُ، اور اسی طرح اگر ایک ادمی نے اپنے غلام کو مارنے کا ارادہ کیا تو دوسرے ادمی نے اس سے کہا اگر تو نے اسے مارا تو میرا غلام آزاد ہے تو اس پہلے ادمی نے اس غلام کو چھوڑ دیا پھر کچھ دیر بعد اس کو مارا تو بھی مسئلہ اسی طرح ہے یعنی یہ دوسرا شخص حانث نہیں ہو گا۔
وَهَذَا تُسَمَّى يَمِينَ الْفَوْرِ، اور اس کو یمینِ فور کہتے ہیں، وَتَفَرَّدَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِإِظْهَارِهِ، اور امام صاحب اکیلے ہیں اس کے اظہار میں، اس کو ظاہر کرنے میں یعنی اس کو بیان کرنے میں وہ اکیلے ہیں یعنی سب سے پہلے انہوں نے اس کو بیان کیا۔ تو کہتے ہیں: وَتَفَرَّدَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِإِظْهَارِهِ اور امام صاحب یکتا ہیں اس کے اظہار میں، اس کے بیان میں، وَوَجْهُهُ اور وجہ اس کی یہ ہے: أَنَّ مُرَادَ الْمُتَكَلِّمِ الرَّدُّ عَنْ تِلْكَ الضَّرْبَةِ وَالْخَرْجَةِ عُرْفًا، کہ متکلم کی جو مراد ہے وہ عرفاً اسی ضرب اور اسی نکلنے سے روکنا ہے۔ متکلم کا ارادہ کیا ہوتا ہے؟ وہ غصے کی حالت میں ہے اس کا مقصد اس وقت کے نکلنے کو اور اس وقت کی پٹائی کو روکنا مقصد ہے زندگی بھر کے لیے روکنا مقصد نہیں، یہ معنی ہے: وَوَجْهُهُ أَنَّ مُرَادَ الْمُتَكَلِّمِ الرَّدُّ عَنْ تِلْكَ الضَّرْبَةِ وَالْخَرْجَةِ عُرْفًا، وَمَبْنَى الْأَيْمَانِ عَلَيْهِ اور قسموں کی بنیاد بھی عرف پر ہوتی ہے، قسموں کی بنیاد بھی عرف پر ہوتی ہے اور اسی طرح یہ جو یمینِ فور ہے اس میں عرف کے اندر اسی نکلنے سے روکنا مقصد ہوتا ہے ہر نکلنے سے روکنا مقصد نہیں ہوتا بھئی۔
آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: اجْلِسْ فَتَغَدَّ عِنْدِي، فَقَالَ: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک ادمی نے دوسرے سے کہا کہ بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، تو اس نے جواب میں کہا اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ اس کے بعد پھر یہ ادمی یہاں سے نکل گیا، اپنے گھر گیا اور وہاں اس نے ناشتہ کیا، تو کیا یہ حانث ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں حانث نہیں ہو گا کیونکہ اس ادمی نے اسے کھانے کی دعوت دی تھی، اس نے اس کے جواب میں کہا تھا: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ کہ اگر میں نے ناشتہ کیا، اور مراد ہر ناشتہ نہیں تھا بلکہ وہ جس کا جواب دے رہا ہے کہ یعنی جس ناشتے کی طرف تم نے مجھے دعوت دی ہے اگر میں نے یہ والا ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے، اگرچہ لفظ اس نے مطلق بولا ہے: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد، لیکن یہاں ہر ناشتہ مراد نہیں لیں گے بلکہ یہ سوال کے جواب میں کہہ رہا ہے تو سوال کے مطابق اس کو مانا جائے گا بھئی۔ ہاں اس کے مقابلے میں اگر اس نے کہا کہ آؤ ہمارے ساتھ ناشتہ کرو اور اس نے جواب میں کہا اج اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے، تو اب اج کے دن جہاں بھی یہ ناشتہ کر لے گا غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے یہ بھی تو جواب دے رہا ہے اس کا؟ کہتے ہیں نہیں اس نے یہاں ایک لفظ بڑھا دیا، اس نے جو جواب دیا اس میں ایک لفظ بڑھا دیا اور وہ لفظ کیا تھا؟ اج کے دن، اج کے دن اگر میں نے ناشتہ کیا۔ تو اب اس کو جواب قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کو ایک نئی بات قرار دیا جائے گا، گویا ایک وہ الگ بات کر رہا ہے جواب نہیں دے رہا، نئی بات ہے اور اس میں تو وہ کہہ رہا ہے کہ اج میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد، تو جہاں بھی ناشتہ کر لے غلام آزاد ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ اجْلِسْ فَتَغَدَّ عِنْدِي اور اگر اس شخص سے کسی ادمی نے کہا کہ بیٹھیے پس ناشتہ کیجیے ہمارے پاس۔ غداء بھئی، یاد رکھو غداء بھئی اج کل تو ہم دن میں تین مرتبہ کھانا کھاتے ہیں: ناشتہ، پھر دوپہر کا کھانا اور پھر رات کا کھانا، لیکن قدیم لوگوں کا یہ طریقہ نہیں تھا، قدیم لوگ صبح کا کھانا کھاتے تھے جس وقت ہم عموماً ناشتہ کرتے ہیں یہ اٹھ نو بجے تک، دس بجے تک زیادہ سے زیادہ، یہ یہی ان کا دوپہر کا کھانا بھی ہوتا تھا اور یہی ناشتہ بھی ہوتا تھا، اور پھر عین سورج ڈوبنے کے قریب اس وقت یہ یا سورج ڈوبنے کے فوراً بعد رات کا کھانا کھاتے تھے۔ تو غداء عین ناشتے کو نہیں کہتے لیکن بہرحال یہاں ناشتے کے معنی میں ہم کر لیں گے۔ تو ایک شخص نے دوسرے سے کہا: اجْلِسْ فَتَغَدَّ عِنْدِي کہ بیٹھیے آپ ہمارے پاس ناشتہ کیجیے، فَقَالَ: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے ناشتہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے، فَخَرَجَ فَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَتَغَدَّى تو یہ ادمی نکلا پھر یہ اپنے گھر آ گیا اور اس نے ناشتہ کیا، لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّ كَلَامَهُ خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَوَابِ اس لیے کیونکہ اس کا کلام جو ہے جواب کے مقام میں ادا ہوا ہے، خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَوَابِ جواب کے مقام میں ادا ہوا ہے، فَيَنْطَبِقُ عَلَى السُّؤَالِ، اِنْطَبَقَ يَنْطَبِقُ کے معنی ہیں موافق ہونا، مل جانا، فَيَنْطَبِقُ عَلَى السُّؤَالِ تو یہ موافق ہو جائے گا سوال کے، فَيَنْصَرِفُ إِلَى الْغَدَاءِ الْمَدْعُوِّ إِلَيْهِ تو یہ پھر جائے گا، یہ پلٹ جائے گا اسی ناشتے کی طرف جس کی طرف اس کو دعوت دی گئی تھی، بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ: إِنْ تَغَدَّيْتُ الْيَوْمَ فَعَبْدِي حُرٌّ، بخلاف اس کے جب اس نے جواب میں یہ کہا کہ اگر اج میں نے ناشتہ کیا، تو اس صورت یہ صورت اس کے برعکس ہے، لِأَنَّهُ زَادَ عَلَى حَرْفِ الْجَوَابِ اس لیے کیونکہ اس شخص نے جواب کے حرف پر بڑھا دیا۔ حرف کنارے کو کہتے ہیں، تو یا تو حرف کا معنی وہی حروف ہی کے کر لیں یا حرف کا معنی کنارے کے کر لیں: لِأَنَّهُ زَادَ عَلَى حَرْفِ الْجَوَابِ اس لیے کیونکہ اس شخص نے جواب کے حروف پر بڑھا دیا، یا حرف کا معنی کنارے کے کر لیں تو وہ زیادہ بہتر ہے: اس لیے کیونکہ اس شخص نے جواب کے کنارے پر زیادتی کر دی، ایک لفظ زائد بڑھا دیا، فَيُجْعَلُ مُبْتَدِئًا تو لہذا اس کو ابتداء کرنے والا قرار دیں گے یعنی یہ نہیں کہیں گے یہ اس کا جواب دے رہا ہے بلکہ ہم یہ کہیں گے یہ ایک نئی بات کر رہا ہے، ایک نئی بات کی ابتداء کر رہا ہے کہ اج میں کہیں پر بھی ناشتہ کروں تو میرا غلام آزاد ہے بھئی۔ یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: لِأَنَّهُ زَادَ عَلَى حَرْفِ الْجَوَابِ فَيُجْعَلُ مُبْتَدِئًا اس لیے کیونکہ اس ادمی نے جواب کے کنارے پر زیادتی کی ہے تو اس کو ابتداء کرنے والا قرار دیں گے جواب دینے والا قرار نہیں دیں گے۔
وَمَنْ حَلَفَ لَا يَرْكَبُ دَابَّةَ فُلَانٍ فَرَكِبَ دَابَّةَ عَبْدٍ مَأْذُونٍ لَهُ مَدْيُونٍ أَوْ غَيْرِ مَدْيُونٍ لَمْ يَحْنَثْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک ادمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا، واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا، اس کے بعد پھر یہ زید کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہوتا ہے۔ زید کا ایک عبدِ ماذون ہے، ایک غلام ہے جسے زید نے تجارت کی اجازت دی ہوئی ہے، تو یہ زید کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہوتا ہے تو کیا حانث ہو گا یا نہیں؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حانث ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون اور اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سارا اسی آقا یعنی زید کا ہے۔ اسی شخص یعنی زید کا ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس شخص نے، اگر اس شخص نے غلام کی سواری کی بھی نیت کی تھی قسم کھاتے ہوئے، مثلاً اس نے کیا کہا تھا: واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا، اور نیت کیا کی کہ زید کی جو بھی مملوک سواری ہے چاہے اس کی ہو چاہے عبدِ ماذون کی ہے اس کا اس نے ارادہ کیا دل میں کہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا یعنی زید کی جو بھی مملوک سواری ہے چاہے اس کی اپنی ہے چاہے اس کے عبدِ ماذون کی ہے، تو اگر اس نے یہ نیت کی تھی تو پھر تو عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے حانث ہو گا ورنہ حانث نہیں۔
پھر مسئلہ سنیں: ایک ادمی نے قسم اٹھائی واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا اور پھر وہ شخص اس زید کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہو گیا، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ہر حال میں حانث ہو گیا کیونکہ عبدِ ماذون کی سواری بھی کس کی مملوک ہے؟ زید ہی کی ہے بھئی، لہذا یہ حانث ہو گیا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاں بات ایسی ہی ہے عبدِ ماذون کی جو بھی چیز ہے وہ کس کی ہے؟ آقا کی ہے، لیکن اس کی نسبت عبدِ ماذون کی طرف ہی کی جاتی ہے لہذا آقا کی طرف نسبت انے میں خلل آ گیا، اس سواری کے بارے میں لوگ یہ نہیں کہتے یہ زید کی سواری ہے بلکہ یہ جو زید کا غلام ہے اس کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ یہ اس کی سواری ہے۔ حقیقت میں مالک کون؟ زید، لیکن نسبت کس کی طرف ہے؟ عبدِ ماذون کی طرف، لوگ عبدِ ماذون کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ یہ اس کی سواری ہے، تو آقا کی طرف نسبت میں خرابی آ گئی، آقا مالک تو ہے لیکن آقا کی طرف نسبت پوری طرح نہیں ہے، لہذا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر نیت کی تھی اس نے کہ زید کی جو بھی مملوک سواری ہے چاہے اس کی ہے چاہے عبدِ ماذون کی ہے پھر تو حانث ہو گا ورنہ حانث نہیں، اگر اس نے صرف یہ کہا ہے میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا تو اب صرف زید کی سواری پر سوار ہونے سے حانث ہو گا اس کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے حانث نہیں ہو گا، ہاں اگر نیت میں اس کو بھی رکھا ہے اور نیت عبدِ ماذون کی سواری کی بھی کی ہے تو پھر اس میں بھی حانث ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نیت وغیرہ کو نہیں دیکھا جائے گا بس عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہوا تو یہ بھی زید ہی کی سواری ہے یہ حانث ہو جائے گا۔
جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے: ایک تو غلام میں حق الغیر نہ ہو اور دوسرا نیت بھی ہو پھر حانث ہو گا۔ دو شرطیں ہیں: ایک تو اس کی نیت بھی کرے باقاعدہ اور نیز غلام کے اندر حق الغیر بھی نہ ہو۔ یاد رکھو یہ جو عبدِ ماذون ہے جس کو اقا نے تجارت کی اجازت دی ہے یہ تجارت کر رہا ہے کاروبار کر رہا ہے تو کاروبار میں ہمیشہ فائدہ ہی نہیں ہوتا کبھی نقصان بھی ہو جاتا ہے، تو لہذا اگر یہ عبدِ ماذون پر دین چڑھ گیا، قرضہ چڑھ گیا، تو اگر تھوڑا بہت قرضہ ہے پھر تو خیر ہے لیکن اگر اتنا قرضہ چڑھ گیا اس کے اوپر کہ اس نے اس کی ساری قیمت کا احاطہ کر لیا، مثلاً غلام جو ہے وہ بیس ہزار درہم کا ہے اور یہ قرضہ بھی اس پر بیس ہزار درہم یا اس سے بھی زیادہ ہو گیا، تو یاد رکھو اس صورت کے اندر اب اس کے اندر وہ قرض خواہوں کا حق آ گیا، قرض خواہوں کا حق آ گیا، اور اگر آقا یہ دین ادا نہیں کرے گا تو قرض خواہ اس غلام کو بیچ سکتے ہیں، اس غلام کو بیچ کر ان کا قرضہ ادا کیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو اس غلام میں غیر کا حق بھی آ گیا، کب؟ جب اس کے اوپر دینِ مستغرق ہو۔ کیا ہو؟ دینِ مستغرق، اِسْتَغْرَقَ يَسْتَغْرِقُ اِسْتِغْرَاقٌ کا معنی ہے گھیر لینا، دینِ مستغرق جو اس سارے غلام کی قیمت کو گھیر لے، اور یہ غلام خود کیا ہے؟ یہ مُسْتَغْرَقٌ فِي الدَّيْنِ ہے، را پر فتحہ پڑھیں گے اسمِ مفعول ہے: مُسْتَغْرَقٌ فِي الدَّيْنِ یعنی ڈوبا ہوا ہے دین میں، اور وہ جو دین ہے وہ کیا ہے؟ مستغرِق ہے، وہ دین نے اس کو گھیرا ہوا ہے بھئی۔
تو لہذا امام صاحب کا مذہب بیان ہو رہا تھا، امام صاحب فرماتے ہیں کہ عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے تب حانث ہو گا جب اس نے اس عبدِ ماذون کی سواری کی نیت بھی کی ہو اور نیز اس میں غیر کا حق بھی نہ ہو، غیر کا حق بھی نہ ہو یعنی چاہے قرضہ ہو یا نہ ہو لیکن دینِ مستغرق نہ ہو بھئی، تو پھر حانث ہو گا ورنہ نہیں۔ تو یہ تین صورتیں بن گئیں: ایک صورت کیا؟ عبدِ ماذون ہے اس پر دین ہے ہی نہیں سرے سے، دوسرا عبدِ ماذون ہے وہ مدیون تو ہے لیکن دینِ مستغرق نہیں تھوڑا دین ہے، اور تیسرا وہ عبدِ ماذون ہے جس پر دینِ مستغرق ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جس غلام پر دینِ مستغرق ہے اس کے اندر تو غیر کا حق آ گیا، غیر کا حق آ گیا لہذا اگرچہ اس نے عبدِ ماذون کی سواری کی نیت کی ہو پھر بھی اب اس کی سواری پر سوار ہونے سے حانث نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون اب زید کا مملوک نہیں ہے اس میں غیروں کا بھی حق آ چکا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس صورت میں چاہے نیت کر بھی لے لیکن دینِ مستغرق موجود ہے تو یہ حانث نہیں ہو گا، لیکن اگر دینِ مستغرق نہیں ہے تو پھر نیت کا ہونا ضروری ہے، نیت کرے گا یعنی عبدِ ماذون کی سواری کی بھی نیت کی ہے تو پھر اس پر سوار ہونے سے حانث ہو جائے گا چاہے اس پر سرے سے دین ہو ہی نہ، چاہے دین ہے تو لیکن تھوڑا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَرْكَبُ دَابَّةَ فُلَانٍ فَرَكِبَ دَابَّةَ عَبْدٍ مَأْذُونٍ لَهُ مَدْيُونٍ أَوْ غَيْرِ مَدْيُونٍ لَمْ يَحْنَثْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ فلاں کی سواری پر سوار نہیں ہو گا پھر یہ اس کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہو گیا چاہے وہ عبدِ ماذون جو ہے مقروض ہو یا مقروض نہ ہو، لم یحنث عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ امام صاحب کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں، تو یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ اس نے اس کے غلام کی سواری کی نیت نہیں کی یہ وہ صورت ہے، عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ امام صاحب کے نزدیک، إِلَّا أَنَّهُ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ مُسْتَغْرِقٌ لَا يَحْنَثُ وَإِنْ نَوَى، مگر یہ کہ جب اس عبدِ ماذون پر دینِ مستغرق ہو یعنی اتنا دین ہے جس نے اس کی قیمت کا احاطہ کر لیا ہے لا یحنث تو پھر یہ شخص حانث نہیں ہو گا وان نویٰ اگرچہ یہ نیت کر لے۔ اگر اس نے یہ قسم کھاتے وقت نیت کی کہ میں زید کی کسی مملوک سواری پر سوار نہیں ہوں گا چاہے اس کی سواری ہو چاہے اس کے عبدِ ماذون کی سواری ہو، اور پھر اس عبدِ ماذون کی سواری پر وہ سوار ہوا جس پر دینِ مستغرق ہے تو یہ اس نے اگرچہ نیت کی تھی پھر بھی یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ اب اس عبدِ ماذون پر آقا کی ملکیت باقی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ جب یہ آقا کی ملکیت نہیں ہے آقا کا مملوک ہی نہیں ہے تو لہذا یہ شخص اس پر سوار ہونے سے حانث بھی نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں جب وہ عبدِ ماذون پر دینِ مستغرق ہو تو لَا يَحْنَثُ وَإِنْ نَوَى تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا اگرچہ اس نے نیت کی ہو، لِأَنَّهُ لَا مِلْكَ لِلْمَوْلَى فِيهِ عِنْدَهُ اس لیے کیونکہ آقا کی اس عبدِ ماذون کے اندر ملکیت نہیں ہوتی عندہ امام صاحب کے نزدیک، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایسا عبدِ ماذون جس پر دینِ مستغرق ہو امام صاحب کے نزدیک اب آقا کی اس کے اندر ملکیت ہی نہیں ہے بھئی، یہ اب آقا کا مملوک رہا ہی نہیں۔ وَإِنْ كَانَ الدَّيْنُ غَيْرَ مُسْتَغْرِقٍ أَوْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَحْنَثُ مَا لَمْ يَنْوِهِ، اور اگر وہ جو دین ہے وہ غیرِ مستغرق ہے یا اس غلام پر دین ہے ہی نہیں، لَا يَحْنَثُ مَا لَمْ يَنْوِهِ تو بھی یہ شخص حانث نہیں ہو گا جب تک اس کی نیت نہ کرے، جب تک اس کی نیت نہ کرے، اگر نیت کرے گا پھر اس عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے بھی حانث ہو جائے گا اور اگر نیت نہیں کی تو حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لَا يَحْنَثُ مَا لَمْ يَنْوِهِ تو حانث نہیں ہو گا جب تک اس کی نیت نہ کرے، لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهِ لِلْمَوْلَى اس لیے کیونکہ اس عبدِ ماذون کے اندر اور اسی طرح اس کی مملوکہ چیزوں کے اندر آقا کی ملکیت ہے، لَكِنَّهُ يُضَافُ إِلَى الْعَبْدِ عُرْفًا لیکن یہ کہ اس کی نسبت کی جاتی ہے غلام کی طرف عرفاً عرف کے اعتبار سے، غلام کی سواری کی نسبت عرف میں غلام کی طرف اس سواری کی نسبت کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: لَكِنَّهُ يُضَافُ إِلَى الْعَبْدِ عُرْفًا وَكَذَا شَرْعًا، لیکن اس سواری کی نسبت غلام کی طرف کی جاتی ہے عرف کے اعتبار سے اور اسی طرح شرعاً بھی، شرعاً بھی سواری کی نسبت کس کی طرف ہوتی ہے؟ غلام کی طرف۔ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَهُوَ لِلْبَائِعِ“ جس شخص نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کا کوئی مال تھا تو وہ بائع کا ہے۔ جو آقا ہے یہ مال آقا ہی کا ہے، جس شخص نے اپنا غلام بیچا اور اس غلام کا بھی کوئی مال ہے یعنی عبدِ ماذون ہے تو اس کا مال کس کا ہے؟ اسی آقا ہی کا ہے جو بیچ رہا ہے اس کو، تو غلام کو اس نے بیچا ہے غلام کے مال کو نہیں بیچا لہذا وہ اسی بیچنے والے آقا کے لیے ہو گا بھئی۔ تو بات چل رہی تھی کہ غلام کی جو سواری ہے اس کی نسبت بھی غلام کی طرف ہی کی جاتی ہے عرفاً بھی یعنی عام لوگ بھی غلام کی طرف نسبت کرتے ہیں اور شرعاً بھی اس کی نسبت غلام کی طرف ہوتی ہے، چنانچہ اسی لیے حدیث میں آیا: وَلَهُ مَالٌ اس غلام کا کوئی مال تھا، دیکھو مال کی نسبت غلام کی طرف ہو رہی ہے حدیث میں۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا شَرْعًا اور اسی طرح شرعاً بھی غلام کی طرف نسبت ہوتی ہے، قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَهُوَ لِلْبَائِعِ جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کا کوئی مال تھا تو وہ بائع کا ہے، الْحَدِيثَ، أَيِ الْحَدِيثُ مَعْلُومٌ حدیث معلوم ہے بھئی۔
فَتَخْتَلُّ الْإِضَافَةُ إِلَى الْمَوْلَى، تو لہذا خلل آ گیا اس نسبت کے اندر جو آقا کی طرف ہے، اِخْتَلَّ يَخْتَلُّ کا کیا معنی؟ خلل آنا، خرابی آنا، فَتَخْتَلُّ الْإِضَافَةُ إِلَى الْمَوْلَى تو آقا کی طرف جو اضافت ہو رہی تھی جو نسبت ہو رہی تھی اس میں خلل آ گیا، فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ لہذا نیت کا ہونا ضروری ہے۔ عبدِ ماذون کی سواری کی نسبت عبدِ ماذون کی طرف ہی کی جاتی ہے اس کے آقا کی طرف نہیں کی جاتی لہذا آقا کی طرف نسبت میں خلل آ گیا لہذا اس کی الگ سے نیت ضروری ہے، تو لہذا اس میں باقاعدہ نیت کا ہونا ضروری ہے کہ میں زید کی کسی مملوک سواری پر سوار نہیں ہوں گا چاہے زید کی اپنی ہو چاہے اس کے عبدِ ماذون کی ہو۔ تو کہتے ہیں: فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ تو نیت کا ہونا ضروری ہے، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا يَحْنَثُ إِذَا نَوَاهُ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان تمام صورتوں میں وہ حانث ہو جائے گا إذا نواہ جب وہ نیت کرے گا، کیونکہ آقا کی طرف نسبت میں خلل آ گیا لہذا اب باقاعدہ نیت کرنا پڑے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا يَحْنَثُ إِذَا نَوَاهُ کہ ان تمام صورتوں میں یہ حانث ہو جائے گا جب یہ اس کی نیت کرے، کتنی صورتیں بنتی ہیں یہاں؟ تین: ایک صورت کیا؟ عبدِ ماذون پر کوئی دین نہیں۔ دوسری صورت: عبدِ ماذون پر دین تو ہے لیکن مستغرق نہیں، اور تیسری صورت ہے دینِ مستغرق ہے، تمام صورتوں میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نیت کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں تمام صورتوں میں وہ حانث ہو گا جب وہ نیت کرے گا، لِاخْتِلَالِ الْإِضَافَةِ اس نسبت کے اندر خلل آ جانے کی وجہ سے وہ جو آقا کی طرف نسبت تھی اس میں خلل آ گیا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَحْنَثُ وَإِنْ لَمْ يَنْوِ، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حانث ہو جائے گا اگرچہ نیت نہ کرے لِاعْتِبَارِ حَقِيقَةِ الْمِلْكِ حقیقتِ ملک کے اعتبار سے، اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون کے پاس جو کچھ ہے وہ آقا ہی کا ہے، تو حقیقتِ ملک کے اعتبار سے یہ آقا ہی کی سواری ہے، آقا کی اس میں حقیقتاً ملکیت ہے تو حقیقتِ ملک کے اعتبار سے یہ آقا کی سواری ہے، جب آقا کی سواری ہے تو نیت کرے یا نہ کرے جب بھی اس عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہو گا یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: لِاعْتِبَارِ حَقِيقَةِ الْمِلْكِ حقیقتِ ملک کے اعتبار سے، إِذِ الدَّيْنُ لَا يَمْنَعُ وُقُوعَهُ لِلسَّيِّدِ عِنْدَهُمَا، إِذِ الدَّيْنُ اس لیے کیونکہ دین جو ہے لَا يَمْنَعُ یہ منع نہیں کرتا وُقُوعَهُ کہ وہ ملکیت واقع ہو جائے لِلسَّيِّدِ آقا کے لیے عِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک۔ صاحبین کے نزدیک عبدِ ماذون پر جتنا بھی دین آ جائے پھر بھی آقا اس کا مالک ہے، دین آنے کے باوجود اس کی ملکیت آقا ہی کے لیے ہے، دین کی وجہ سے ملکیت آقا کے لیے ممنوع ہو جائے ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: إِذِ الدَّيْنُ لَا يَمْنَعُ وُقُوعَهُ لِلسَّيِّدِ عِنْدَهُمَا اس لیے کیونکہ دین جو ہے اس ملکیت کے آقا کے لیے واقع ہونے کو منع نہیں کرتا عِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام، حاصلِ کلام بھئی اس مسئلے کا کہ امام صاحب کے نزدیک حانث ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں بھئی: ایک تو یہ کہ وہ نیت کرے اور دوسرا یہ کہ اس غلام پر دینِ مستغرق نہ ہو، دینِ مستغرق نہ ہو، اگر اس پر دینِ مستغرق ہے پھر نیت بھی کر لے گا تو اس کی سواری پر سوار ہونے سے حانث نہیں ہو گا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک نیت کی شرط ہے بس۔ تو امام صاحب کے نزدیک دو شرطیں ہیں: نیت بھی کرے اور نیز اس غلام پر دینِ مستغرق بھی نہ ہو۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف ایک شرط ہے کہ نیت کرے پھر حانث ہو گا ویسے حانث نہیں، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کوئی شرط نہیں ہے عبدِ ماذون کی سواری پر بھی سوار ہو گا تو حانث ہو جائے گا چاہے نیت کی ہے چاہے نیت نہیں کی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔