Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-103

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 75
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ فَهُوَ عَلَى ثَمَرِهَا؛ لِأَنَّهُ أَضَافَ الْيَمِينَ إِلَى مَا لَا يُؤْكَلُ فَيَنْصَرِفُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهُ وَهُوَ الثَّمَرُ؛ لِأَنَّهُ سَبَبٌ لَهُ فَيَصْلُحُ مَجَازًا عَنْهُ، لَكِنَّ الشَّرْطَ أَنْ لَا يَتَغَيَّرَ بِصَنْعَةٍ جَدِيدَةٍ حَتَّى لَا يَحْنَثَ بِالنَّبِيذِ وَالْخَلِّ وَالدِّبْسِ الْمَطْبُوخِ۔ بھئی گزشتہ سبق کے اندر ہم کتاب الایمان میں سے بَابُ الْيَمِينِ فِي الْخُرُوجِ وَالْإِتْيَانِ وَالرُّكُوبِ وَغَيْرِ ذَلِكَ پڑھ رہے تھے بھئی، کہ مثلاً کوئی شخص جو ہے اپنی یمین کے اندر خروج یا اتیان یا رکوب وغیرہ کو ذکر کرتا ہے تو اس کا کیا حکم ہو گا۔ تو صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کسی شخص نے کسی جگہ سے نہ نکلنے کی قسم اٹھائی اور پھر اس کے کہنے پر کسی آدمی نے اس کو اٹھا کر وہاں سے نکال دیا تو اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا، وجہ یہ ہے کیونکہ مامور کا جو فعل ہوتا ہے وہ آمر کی طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ گویا یہ فعل کرنے والا آمر ہی ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ بادشاہ کوئی شہر تعمیر کرواتا ہے، اب شہر کو تعمیر کرنے والے تو مزدور وغیرہ ہیں لیکن اس کی نسبت بادشاہ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ بادشاہ آمر ہے اور یوں کہتے ہیں کہ بادشاہ نے یہ شہر بنایا ہے۔ تو لہذا اگر کسی نے اس کے کہنے پر بھی اس کو اس جگہ سے نکالا تو یہ حانث ہو جائے گا، لیکن اگر اس کو زبردستی کسی نے نکالا تو پھر یہ حانث نہیں ہو گا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ زبردستی نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے اس کو اٹھایا اور اٹھا کر اس جگہ سے باہر لے گیا تو اس صورت میں یہ حانث نہیں ہو گا، لیکن اگر کسی نے تلوار نکالی اور کہا کہ اس جگہ سے باہر نکلو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں یا تمہارا ہاتھ یا پاؤں کاٹتا ہوں اور پھر یہ خود ہی چل کر وہاں سے باہر نکلا تو اس صورت میں حانث ہو جائے گا، کیونکہ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ فعلِ محلوف کرنے والا چاہے مکرہ ہو چاہے ناسی ہو چاہے قاصد ہو سب برابر ہیں بھئی، سب برابر ہیں۔ اور پھر اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں گھر سے جنازے کے علاوہ کسی اور کام کے لیے نہیں نکلوں گا اور پھر وہ جنازے کے لیے نکلا اور پھر جنازے کے بعد وہیں سے وہ کسی اور کام کے لیے چلا گیا اور وہ بھی کر کے آ گیا تو یہ حانث نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ یہ جو نکلا تھا یہ جنازے کے ارادے سے نکلا تھا اور جنازے کے ارادے سے نکلنے کا تو اس نے استثناء کیا تھا، اور اس کے بعد جب جنازے سے آگے وہ دوسرے کام کی طرف چلا گیا تو یہاں خروج نہیں پایا گیا اور اس نے بھی قسم کس چیز کی کھائی تھی کہ میں جنازے کے علاوہ گھر سے نہیں نکلوں گا، تو یہ قسم ابھی بھی اپنے حال پر ہے یہ حانث نہیں ہوا بھئی۔ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ مکہ کی طرف نہیں نکلے گا، اس صورت میں اگر وہ شخص مکہ کے ارادے سے نکل گیا اور چل پڑا اور پھر درمیانِ راستے سے واپس آ گیا مکہ نہیں پہنچا پھر بھی حانث ہو جائے گا کیونکہ اس نے مکہ کی طرف نہ نکلنے کی قسم کھائی تھی اور جب یہ مکہ کے لیے نکلا تو حانث ہو گیا اب اس میں مکہ پہنچنا ضروری نہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کسی نے مکہ نہ آنے کی قسم کھائی تو پھر اس صورت میں تب حانث ہو گا جب یہ مکہ آ جائے گا بھئی۔ اور اگر کسی نے مکہ کی جانب نہ جانے کی قسم کھائی تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جانا بھی آنے کی طرح ہے اور یہ جب مکہ پہنچے گا تب حانث ہو گا، لیکن صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ جو جانا ہے یہ خروج کی طرح ہے، جیسے خروج میں اپنی جگہ سے وہ نکل پڑا، اپنی جگہ سے وہ جدا ہو گیا تو اس کو خروج کہا جاتا ہے، اسی طرح اپنی جگہ سے جدا ہو گیا تو اس کو ذہاب بھی کہا جاتا ہے لہذا اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا۔ اور اگر کسی شخص نے ایسی بات کی قسم اٹھائی کہ تمام زندگی اس کے کرنے کا امکان ہے تو پھر اس شخص کو حانث قرار نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی زندگی کا آخری لمحہ آ جائے، جب اس کی روح نکل رہی ہے آخری لمحہ ہے اب ہم اس کو حانث قرار دیں گے۔ مثلاً ایک آدمی نے کہا کہ واللہ میں بصرہ ضرور جاؤں گا اور پھر تمام زندگی نہیں گیا تو ہم حانث قرار نہیں دیں گے کیونکہ وہ کسی بھی وقت بصرہ جا سکتا ہے، لیکن عین موت کا جب وقت آ گیا، آخری لمحات آ گئے، اس کی روح نکل رہی ہے اب اس کو حانث قرار دیا جائے گا۔ لیکن اب تو اس کے پاس سانس لینے کا وقت بھی نہیں، اب تو اس کے پاس وصیت کرنے کا وقت بھی نہیں ہے، لہذا علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس قسم کی کوئی قسم کھا لے تو اسے اپنی زندگی میں ہی وصیت کر دینی چاہیے کہ میرے مرنے کے بعد میری اس قسم کا کفارہ دے دینا اگر میں پوری نہ کر سکا۔ اور خود یہ شخص زندگی میں کفارہ نہیں دے سکتا کیونکہ کفارے کے لیے حانث ہونا ضروری ہے اور حانث تو یہ زندگی کے آخری لمحے میں ہو گا تو اس کے بعد ہی کفارہ دیا جا سکتا ہے اس سے پہلے کفارہ نہیں دیا جا سکتا۔ اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کوئی شخص یہ قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ میں فلاں کام ضرور کروں گا اگر مجھ میں استطاعت ہوئی، تو پھر اس صورت میں اس سے کون سی استطاعت مراد لی جائے گی؟ کیونکہ استطاعت دو قسم پر ہے: ایک استطاعتِ صحت ہے اور ایک استطاعتِ قدرت اور قضاء ہے بھئی۔ استطاعتِ صحت یہ ہے کہ جب انسان جو ہے بیماری وغیرہ سے سلامت ہو اور نیز کوئی اور مانع بھی نہ ہو تو کہتے ہیں اس شخص میں اس کام کی استطاعت ہے اور پھر بھی وہ کام نہ کرے تو پھر وہ شخص حانث ہو جائے گا۔ اور جبکہ دوسری جو ہے وہ استطاعتِ قدرت ہے اور استطاعتِ قضاء ہے، اور استطاعتِ قدرت اور قضاء عین جب وہ فعل پایا جائے تو وہ اس کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے، یہ جو استطاعتِ قضاء و قدرت ہے یہ فعل پر مقدم نہیں ہو سکتی اور یہ اللہ کسی شخص کے پختہ ارادے پر اس فعل کو وجود دیتے ہیں، تو لہذا چونکہ یہ فعل اللہ کے پیدا کرنے سے، اللہ کے وجود دینے سے اس فعل کا وجود پایا گیا تو اس لیے اس کو استطاعتِ قضاء و قدرت کہتے ہیں یعنی اللہ نے اس کے لیے مقدر کر دیا، اللہ نے اس کے لیے مقدر کر دیا۔ تو یہ استطاعتِ قدرت ہے بھئی۔ تو اب اس شخص نے کہا کہ واللہ میں فلاں کام ضرور کروں گا اگر مجھ میں استطاعت ہوئی، تو اس سے کون سی استطاعت مراد لی جائے گی؟ تو یاد رکھو عرف کے اندر اس سے استطاعتِ صحت مراد لی جاتی ہے، تو وہ شخص اگر صحیح سلامت بھی ہوا، بیمار بھی نہیں ہے اور کوئی مانع بھی نہیں ہے اور پھر بھی وہ شخص وہ کام نہ کرے تو اس کو حانث قرار دیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے تو استطاعتِ قدرت کا ارادہ کیا تھا کہ اگر اللہ نے میرے لیے مقدر کیا تو پھر میں یہ کام ضرور کروں گا، تو اس صورت میں بھی دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ بھی اس کے کلام کا حقیقی معنی ہے۔ البتہ قضاءً جو ہے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ خلافِ ظاہر ہے کیونکہ ظاہر یہی ہے عرف کے اندر اس استطاعت سے استطاعتِ صحت مراد لی جاتی ہے بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا کہ اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میری بیوی گھر سے نہیں نکلے گی إِلَّا بِإِذْنِي مگر میری اجازت سے، اگر وہ میری اجازت کے بغیر نکلی تو اسے طلاق ہے، تو لہذا اس نے طلاق کو معلق کر دیا کہ اگر عورت گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نکلے۔ تو اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں إِلَّا بِإِذْنِي اس میں یہاں اس نے با ذکر کیا ہے اور با الصاق کے لیے آتا ہے، الصاق ص کے ساتھ ہے، اور أَلْصَقَ يُلْصِقُ إِلْصَاقًا کا معنی ہے ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ ملنا یا ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ ملانا، تو لہذا یہاں پر بھی ہر خروج کے ساتھ اجازت کا ملا ہوا ہونا ضروری ہے، اگر بغیر اجازت کے ایک مرتبہ بھی عورت نکلے گی تو وہ خاوند حانث ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر میں نے بتلایا کہ علماء نے اس کو ساقط کرنے کا طریقہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ وہ خاوند اب چاہتا ہے غصے میں اس نے قسم تو یہ کھا لی تھی اب وہ اس کو ساقط کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی بیوی سے یوں کہے کہ جب بھی تیرا باہر جانے کا ارادہ ہو تو تجھے میری طرف سے اجازت ہے، تو اب ہر خروج کے ساتھ اجازت مل جائے گی لہذا اب وہ حانث نہیں ہو گا بھئی۔ اور اگر خاوند نے با استعمال نہیں کی اور یوں کہا کہ إِلَّا أَنْ آذَنَ لَكِ، کہ تو میری اجازت کے بغیر نہیں نکلے گی إِلَّا أَنْ آذَنَ لَكِ مگر یہ کہ میں تجھے اجازت دے دوں، تو یہاں خاوند نے إِلَّا أَنْ استعمال کیا اور إِلَّا أَنْ جو ہے وہ غایہ کے لیے استعمال ہوتا ہے کسی چیز کی انتہا بیان کرتا ہے، تو اس کے اندر پھر ایک دفعہ بھی بیوی اجازت لے لے گی تو پھر اس قسم کی انتہا ہو گئی، قسم ختم ہو گئی، پوری ہو گئی، اب اس کے بعد وہ چاہے بغیر اجازت کے بھی نکلتی رہے تو وہ شخص حانث نہیں ہو گا یعنی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ اور اس کے بعد پھر یمینِ فور کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا بھئی۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یمینِ فور وہ ہے جو اسی وقت اور اسی حالت کے ساتھ متعلق ہوتی ہے جس وقت انسان وہ قسم کھا لے، اور اس کو سب سے پہلے بیان کرنے والے اور اس کا استنباط کرنے والے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں، امام صاحب سے پہلے کسی عالم نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ یمینِ فور جو ہے یہ فَوَرَانُ الْقِدْرِ سے ماخوذ ہے، فَوَرَانُ الْقِدْرِ، فوران کا معنی ہے ابلنا، ابلنا، جوش مارنا اور قِدْرٌ ہانڈی کو کہتے ہیں، فَوَرَانُ الْقِدْرِ ہانڈی کا جوش مارنا یعنی ہانڈی جب خوب ابل رہی ہو اس میں جوش آ رہا ہو تو یہ ہے فَوَرَانُ الْقِدْرِ۔ اسی طرح یہ جو اس قسم کی قسم کھائی جائے جس وقت غصہ خوب عروج پر ہوتا ہے، انسان کا غصہ جوش مار رہا ہوتا ہے، اس وقت جو قسم کھاتا ہے اس کا تعلق اسی غصے کی حالت کے ساتھ ہے، لہذا تھوڑی دیر گزر گئی وہ آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو اب وہ یمین بھی ختم ہو گئی۔ لہذا ایک شخص نے انتہائی غصے، لڑتے ہوئے لڑائی کی حالت میں بیوی سے کہا اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے، تو یہ یمینِ فور ہے، لہذا اگر اسی وقت عورت نکلی تو اس کو طلاق ہو جائے گی، لیکن اگر عورت جو ہے وہ تھوڑی دیر بیٹھ گئی یہاں تک کہ خاوند کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور پھر اس کے بعد عورت گھر سے نکلی تو اب طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ خاوند نے جو اسے باہر نکلنے سے منع کیا تھا وہ زندگی بھر کے لیے منع کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ عین اس غصے کی حالت میں اس کے نکلنے کو وہ منع کر رہا تھا کہ اس وقت تو نکلی تو تجھے طلاق ہے بھئی۔ یا اسی طرح ایک آدمی اپنے غلام کی پٹائی کرنے لگا تو دوسرے آدمی نے کہا اگر تم نے اپنے غلام کی پٹائی کی تو میرا غلام آزاد ہے، تو اس صورت میں بھی یہ یمینِ فور ہے، لہذا وہ جو پہلا شخص ہے وہ تھوڑی دیر ٹھہر گیا، جب دوسرے شخص کا غصہ کچھ ختم ہوا کم ہو گیا اب اس نے غلام کی پٹائی کی تو یہ دوسرا شخص حانث نہیں ہو گا اور اس کا غلام آزاد نہیں ہو گا بھئی۔ تو عرف کے اندر متکلم کا اس طرح کسی کو روکنا اس سے مراد زندگی بھر کے لیے روکنا مراد نہیں ہوتا بلکہ عین اسی ضرب یا اسی خروج کو روکنا مقصود ہوتا ہے، تو لہذا یہ قسم اسی خروج یا اسی ضرب کے ساتھ متعلق ہو گی عرف کے اعتبار سے بھئی، اور آپ جانتے ہیں کہ یمین کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے بھئی کہ لوگ ایک بات کا کیا معنی سمجھتے ہیں بھئی۔ پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ آؤ ہمارے پاس بیٹھو اور ناشتہ کرو، دوسرے شخص نے کہا اگر میں ناشتہ کروں تو میرا غلام آزاد ہے۔ تو اب اس نے دیکھو لفظ تو مطلق ذکر کیے ہیں اگر میں ناشتہ کروں تو میرا غلام آزاد ہے، لیکن چونکہ وہ اس آدمی کے سوال کے جواب میں بات کر رہا ہے لہذا اس جواب کو بھی اس سوال کے مطابق کر دیا جائے گا اور اس کا معنی یہ ہو گا کہ وہ عین اس ناشتے کی بات کر رہا ہے کہ جس کی طرف اس کو دعوت دی گئی ہے ہر ناشتے کی بات نہیں کر رہا، لہذا یہ شخص یہاں سے نکلا اور پھر اپنے گھر جا کر اس نے ناشتہ کر لیا تو حانث نہیں ہو گا۔ لیکن اگر اس نے اپنے الفاظ کے اندر کوئی چیز بڑھا دی مثلاً یہ کہا کہ میں آج ناشتہ نہیں کروں گا ورنہ میرا غلام آزاد ہے، تو یہ جو اس نے آج کا لفظ بڑھا دیا اب اس کے کلام کو جواب قرار نہیں دیا جا سکتا تو اب اس کو نیا کلام قرار دیا جائے گا اور یہ جہاں کہیں پر بھی ناشتہ کر لے گا تو حانث ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک شخص نے قسم اٹھا لی کہ واللہ وہ زید کی سواری پر سوار نہیں ہو گا اور پھر اس کے بعد اس نے زید کے عبدِ ماذون کی سواری پر سواری کی تو کیا وہ حانث ہو گا یا نہیں؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدِ ماذون کی سواری بھی حقیقت کے اندر اسی آقا کی مملوک سواری ہے، اگرچہ اس کی نسبت اس غلام کی طرف کی جاتی ہے کہ یہ اس کی سواری ہے لیکن حقیقتاً ملکیت اس کے اندر آقا کی ہے بھئی، تو غلام کی طرف نسبت کرنے سے بھی اس ملکیت کے اندر کوئی خلل نہیں آیا بھئی، تو اس میں عبدِ ماذون کی سواری کی نیت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے، جب اس نے کہا ہے میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا تو اس کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے بھی یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی زید ہی کی مملوک سواری ہے بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں نیت ضروری ہے، اگر اس نے زید کی سواری سے زید کی مملوک سواری مراد لی تو پھر تو وہ حانث ہو گا کیونکہ عبدِ ماذون کی سواری بھی زید کی مملوک ہے، اور اگر اس نے زید کی سواری سے زید کی مملوک سواری نہیں مراد لی بلکہ جس پر زید خود سوار ہوتا ہے وہ سواری مراد لی ہے تو پھر یہ عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے حانث نہیں ہو گا۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ دو شرطیں ذکر فرماتے ہیں: ایک شرط یہ کہ اس کی نیت ہونی چاہیے اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس غلام پر دینِ مستغرق نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ غلام پر جب دینِ مستغرق آ جائے یعنی اتنا دین جو اس کی قیمت کا احاطہ کر لے تو پھر اس صورت کے اندر اس غلام کے اندر، اس عبدِ ماذون کے اندر آقا کی ملکیت باقی نہیں رہتی، جب وہ غلام اس آقا کا نہیں ہے تو اس کی سواری بھی اس آقا کی سواری نہیں ہے لہذا اب اس پر نیت کرنے کے باوجود سواری کر لے پھر بھی حانث نہیں ہو گا۔ کیا صورت ہے؟ ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں زید کی سواری پر سوار نہیں ہوں گا اور اس نے نیت زید کی مملوک سواری کی نیت کی ہے اور پھر اس کے بعد یہ اس کے عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہوا، تو اگر اس عبدِ ماذون پر دینِ مستغرق ہے تو پھر نیت کرنے کے باوجود یہ ابھی بھی حانث نہیں کیونکہ یہ غلام اب زید کا مملوک ہی نہیں رہا، تو یہاں نیت کرنے سے بھی وہ حانث نہیں ہو گا۔ لیکن اگر عبدِ ماذون پر دین نہیں ہے یا دین ہے تو لیکن کم دین ہے، تھوڑا دین ہے جو اس کی ساری قیمت کا احاطہ نہیں کر رہا تو پھر اس میں نیت ضروری ہے، وہ اس کی نیت کرے گا تو اس عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے حانث ہو گا، اگر نیت نہیں کرے گا تو پھر حانث بھی نہیں ہو گا کیونکہ عبدِ ماذون کی جو سواری ہوتی ہے اس کی نسبت اس عبدِ ماذون ہی کی طرف کی جاتی ہے عرف کے اعتبار سے بھی اور شریعت کے اعتبار سے بھی، اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ حدیث کے اندر بھی آتا ہے کہ ”مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَهُوَ لِلْبَائِعِ“ کہ جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کا کوئی مال تھا تو وہ بائع کا ہو گا کیونکہ آقا نے غلام کو بیچا ہے اس کے سامان کو نہیں بیچا، تو یہاں دیکھو اس سامان اور اس مال کی نسبت غلام کی طرف کی جا رہی ہے حدیث کے اندر، معلوم ہوا عبدِ ماذون کا جو مال ہے وہ اس کی نسبت عبدِ ماذون ہی کی طرف کی جاتی ہے، تو آقا کی طرف نسبت میں خلل آ گیا، خرابی آ گئی، لہذا عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہو گا تو اگر نیت کی ہے تب حانث ہو گا ورنہ حانث نہیں ہو گا۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ امام صاحب کے نزدیک دو شرطیں ہیں عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے حانث ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ نیت ہو اور دوسری یہ کہ اس پر دینِ مستغرق نہ ہو بھئی، اور جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف ایک ہی شرط ہے کہ نیت ہو بھئی، جب نیت ہے تو اس پر سوار ہونے سے حانث ہو جائے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کوئی شرط نہیں ہے چاہے نیت کرے یا نیت نہ کرے ہر حال میں عبدِ ماذون کی سواری پر سوار ہونے سے یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ۔ یہ باب ہے اس یمین کے بارے میں جو کھانے اور پینے کے بارے میں ہو۔ اگر کوئی شخص یمین کے اندر کھانے یا پینے کا فعل ذکر کرتا ہے تو اس قسم کو کس چیز پر محمول کیا جائے گا؟ تو اب وہ تفصیل صاحب ہدایہ بیان فرمائیں گے اس باب کے اندر۔ تو کہتے ہیں: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، یہ باب ہے اس قسم کے بیان میں جو کھانے اور پینے کے بارے میں ہو۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ فَهُوَ عَلَى ثَمَرِهَا۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھاؤں گا، واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھاؤں گا۔ نَخْلَةٌ یاد رکھو یہ کھجور کے درخت کو کہتے ہیں، اب دیکھو اس نے قسم کی نسبت کی ہے کھجور کا درخت کھانے کی طرف اور کھجور کا درخت تو نہیں کھایا جاتا، تو معلوم ہوا یہاں حقیقی معنی متعذر ہے، حقیقی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا کہ کھجور کا درخت بول کر مراد یہ ہے کہ وہ کھجور کا تنا یا کھجور کے پتے وغیرہ کھا لے، وہ مراد نہیں لیے جا سکتے کیونکہ کھجور کے تنے کو یا اس کے پتوں وغیرہ کو عام طور پر نہیں کھایا جاتا۔ لہذا جب حقیقی معنی متعذر ہو گیا کھجور کا تنا یا پتے وغیرہ یہ معنی ہم مراد نہیں لے سکتے تو پھر اب ہمیں مجازی معنی کی طرف جانا پڑے گا، اور مجازی معنی جو ہے وہ کھجور کے پھل ہیں، تو اب یہ شخص اس کھجور کا پھل کھائے گا یعنی اس کھجور کے درخت کی کھجوریں کھائے گا تو حانث ہو گا ویسے حانث نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، اس قال سے مراد صاحب قدوری ہیں، قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ اور جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھائے گا فَهُوَ عَلَى ثَمَرِهَا تو یہ قسم محمول ہو گی اس کھجور کے پھل پر، لِأَنَّهُ أَضَافَ الْيَمِينَ إِلَى مَا لَا يُؤْكَلُ اس لیے کیونکہ اس شخص نے قسم کی نسبت کی ہے اس چیز کی طرف جس کو کھایا نہیں جاتا، کھجور کے درخت کو تو کھایا نہیں جاتا، فَيَنْصَرِفُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهُ تو یہ قسم پلٹ جائے گی، یہ قسم پھر جائے گی إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهُ اس چیز کی طرف جو اس کھجور کے درخت سے نکلتا ہے وَهُوَ الثَّمَرُ اور وہ اس کا پھل ہے، لِأَنَّهُ سَبَبٌ لَهُ، یہاں سے مجاز کا طریقہ بتلا رہے ہیں کہ کھجور کا درخت بول کر ہم پھل کیسے مراد لے سکتے ہیں؟ تو صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ کھجور کا درخت سبب ہے پھل کا، یہ درخت ہے تو اس کا پھل بھی ہے درخت نہیں تو اس کا پھل بھی نہیں، تو کھجور کا درخت ہے سبب اور پھل ہے مسبب، اور مجاز کے اندر یہ عام رائج ہے کہ سبب بول کر مسبب کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ سَبَبٌ لَهُ اس لیے کیونکہ کھجور کا یہ درخت اس پھل کا سبب ہے فَيَصْلُحُ مَجَازًا عَنْهُ لہذا یہ اس پھل سے مجاز ہو سکتا ہے، لَكِنَّ الشَّرْطَ أَنْ لَا يَتَغَيَّرَ بِصَنْعَةٍ جَدِيدَةٍ، یہاں سے بتلا رہے ہیں صاحب ہدایہ کہ شرط یہ ہے کہ اس پھل کے اندر کوئی تبدیلی نہ آئے کسی نئی کاریگری کی وجہ سے۔ کوئی شخص اس میں نیا طریقہ استعمال کر کے اس پھل کی صورت کو بدل دے تو پھر اس کو کھانے سے یہ حانث نہیں ہو گا، یعنی اس درخت کی کھجوریں یہ ویسے کھا لے تو بھی حانث ہو جائے گا، اسی طرح اگر اس درخت کی کھجوروں کا جو شیرہ ہے، کھجور کے پھل جو ہیں ان کا جو شیرہ ہے ان کا جو رس ہے جو ان سے ٹپک رہا ہو اس کو کھائے گا پھر بھی حانث ہو جائے گا کیونکہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی گئی یہ عام کھجور سے جو مثلاً رس ٹپک رہا ہے۔ لیکن اگر اس کھجور سے نبیذ بنا لی گئی تو اب کسی بنانے والے نے اپنی کاریگری دکھائی اور صورت ہی بدل دی۔ نبیذ یاد رکھو عرب کا طریقہ یہ تھا یہ کھجوروں کو پانی میں ڈال دیتے تھے اور کئی گھنٹے اسی طرح اس کو رکھتے تھے اس کی وجہ سے اس پانی کے اندر کھجوروں کی مٹھاس آ جاتی تھی اور پھر اس کو وہ پیتے تھے استعمال کرتے تھے تو اس کے اندر بڑی قوت ہوتی تھی تو وہ عام طور پر اس کو استعمال کرتے تھے، اس کو نبیذ کہتے ہیں۔ یہ جو کھجور کو پانی میں ڈالا اور یہ پھر میٹھا پانی تیار ہو گیا یہ نبیذ ہے بھئی۔ تو لہذا اگر کوئی شخص اس درخت کے پھل کو لے اور اس سے نبیذ بنا لے اور اس نبیذ کو استعمال کرے تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہاں اس کی صورت بدل دی گئی، بنانے والے نے اپنی کاریگری اور طریقہ استعمال کیا تو اس کی صورت بدل دی لہذا اس نبیذ کو پینے سے وہ حانث نہیں ہو گا۔ یا کسی نے اس کھجور کے پھل سے سرکہ بنا لیا، کھجور سے بھی بعض اوقات سرکہ بنایا جاتا ہے تو وہ سرکہ استعمال کرنے سے بھی دیکھو اس میں کاریگری آ گئی اس کی ماہیت بدل گئی لہذا اس کو استعمال کرنے سے بھی یہ حانث نہیں ہو گا بھئی۔ اور یا اسی طرح کھجور کا جو شیرہ ہے، یاد رکھو یہ جو تازہ کھجوریں ہوتی ہیں ان میں بے تحاشا رس ہوتا ہے تو ان کو جب اتار کر رکھیں گے تو اس میں سے بعض اوقات رس ٹپکتا ہے، بعض قسموں کے اندر بہت زیادہ رس ہوتا ہے وہ رس ان سے ٹپکتا ہے یہ ہے کھجور کا شیرہ، تو یہ اگر کوئی استعمال کرے گا اس میں تو کسی نے کوئی کاریگری نہیں دکھائی، کسی نے اس کو بدلا نہیں ہے لہذا اس کو وہ استعمال کرے گا تو حانث ہو جائے گا، لیکن اگر اس شیرے کو کسی نے پکا لیا تو پکانے سے اس کی حالت بدل دی لہذا اب اس کو کھائے گا تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لَكِنَّ الشَّرْطَ أَنْ لَا يَتَغَيَّرَ بِصَنْعَةٍ جَدِيدَةٍ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ پھل بدلے نہ بِصَنْعَةٍ جَدِيدَةٍ نئی کاریگری سے، حَتَّى لَا يَحْنَثَ بِالنَّبِيذِ وَالْخَلِّ وَالدِّبْسِ الْمَطْبُوخِ، حَتَّى لَا يَحْنَثُ یہاں پر بھی يَحْنَثُ پر ضمہ پڑھیں گے، میں نے آپ کو بتلایا حَتَّى کے بعد فعل پر نصب آئے گا جب حَتَّى کا مابعد جو ہے وہ حَتَّى کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو تو پھر اس حَتَّى نصب دے گا ورنہ نصب نہیں دے گا بھئی۔ چنانچہ کافیہ میں اس کی مثال ہے: مَرِضَ حَتَّى لَا يَرْجُونَهُ، وہ مریض ہوا یہاں تک کہ لوگوں کو اب اس کی صحت کی امید نہیں ہے، اس کے باقی بچنے کی امید نہیں ہے، تو دیکھو مَرِضَ حَتَّى لَا يَرْجُونَهُ وہ بیمار ہوا یہاں تک کہ لوگوں کو اب اس کی زندگی کی امید نہیں ہے، لَا يَرْجُونَهُ دیکھو نونِ اعرابی موجود ہے۔ يَضْرِبُونَ اس کی گردان کرو لَنْ ناصبہ کے ساتھ: لَنْ يَضْرِبَ لَنْ يَضْرِبَا لَنْ يَضْرِبُوا، دیکھو نونِ اعرابی گر گیا تو نصب کی حالت میں نونِ اعرابی گر جاتا ہے لیکن مَرِضَ حَتَّى لَا يَرْجُونَهُ یہاں پر یہ نونِ اعرابی موجود ہے، معلوم ہوا يَرْجُونَ فعل جو ہے مرفوع ہے منسوب نہیں ہے، یہاں حَتَّى نے اس کو نصب نہیں دیا کیونکہ حَتَّى کا مابعد یہ جو حَتَّى لَا يَرْجُونَهُ امید نہ ہونا، امید کا ختم ہونا یہ ماقبل بیماری کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل نہیں ہے۔ مجھے آپ بتائیے کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو بیماری کے گزر جانے کے بعد ایک حالت اتی ہے جب لوگوں کو اس کی زندگی کی امید ختم ہو جاتی ہے یا بیماری کے اندر ہی ایک حالت اتی ہے جب اس کی زندگی کی امید ختم ہو جاتی ہے؟ بیماری کے اندر ہی، معلوم ہوا جس وقت عدمِ امید ہے اس کی زندگی کی اس وقت بھی مرض موجود ہے، تو حَتَّى سے پہلے کیا ہے؟ مَرِضَ، تو لہذا حَتَّى لَا يَرْجُونَهُ یہ مستقبل نہیں ہے مَرِضَ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بلکہ دونوں کا زمانہ ایک ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ لہذا یہاں حَتَّى نصب نہیں دے گا تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: حَتَّى لَا يَحْنَثُ بِالنَّبِيذِ وَالْخَلِّ وَالدِّبْسِ الْمَطْبُوخِ یہاں تک کہ یہ شخص حانث نہیں ہو گا بِالنَّبِيذِ اس پھل کی نبیذ سے وَالْخَلِّ اور اس پھل کے سرکے سے وَالدِّبْسِ الْمَطْبُوخِ اور اس پھل کے پکے ہوئے شیرے سے، دِبْسٌ شیرے کو کہتے ہیں۔ وَإِنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذَا الْبُسْرِ فَصَارَ رُطَبًا فَأَكَلَهُ لَمْ يَحْنَثْ۔ بھئی اگلا مسئلہ سمجھنے سے پہلے ایک بات سمجھ لیجیے کہ کھجور جو کھائی جاتی ہے اس کی تین حالتیں ہیں بھئی: سب سے پہلے جو ہے کچا پھل لگتا ہے درخت پر اور وہ سبز رنگ کا ہوتا ہے، پھر اس کے بعد وہ اس میں مٹھاس آنا شروع ہوتی ہے اور پھر وہ زرد رنگ کا یا سرخ رنگ کا ہو جاتا ہے تو ابھی بھی وہ پھل سخت ہے، وہ پھل ابھی بھی سخت ہوتا ہے لیکن اس کے اندر اچھی خاصی مٹھاس آ چکی ہے بھئی، تو اس کو بُسْرٌ کہتے ہیں، بُسْرٌ بھئی۔ اردو زبان میں اس کا کوئی خاص نام نہیں البتہ سرائیکی اور پشتو وغیرہ میں اس کو ڈوکا کہتے ہیں، ڈوکا، تو اردو میں اس کا کوئی خاص نام نہیں ہے، تو یہ جو پھل ہے اس کو عربی زبان میں بُسْرٌ کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ کھجور کا پھل ہے ابتداء میں سبز تھا پھر وہ اب پیلے رنگ کا ہو گیا ہے یا سرخ رنگ کا ہو گیا ہے اور اس میں اچھی خاصی مٹھاس آ گئی ہے اور اس کو بھی عام کھایا جاتا ہے لیکن اس کو بُسْرٌ کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد کچھ دن اور گزرتے ہیں تو اس کھجور کا نیچے والا کنارہ جو ہے وہ نرم ہونا شروع ہو جاتا ہے، نرم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ سارا پھل نرم ہو جاتا ہے اور اس کو یاد رکھو رُطَبٌ کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رُطَبٌ، ر ہے، ط ہے اور ب: رُطَبٌ، اور یہ جو ہے تازہ کھجور ہے، تازہ کھجور ہے۔ اور یاد رکھو یہ جو رُطَبٌ ہے اس کے اندر رس بہت زیادہ ہوتا ہے تو لہذا اس رُطَبٌ کو درخت سے اتار کر فوراً بیچنے کے لیے بازار میں نہیں لے کر اتے کیونکہ اگر اس کو اس طرح رکھیں گے تو اس کے اندر بدبو پیدا ہو جائے گی اس رس کی زیادتی کی وجہ سے، تو لہذا اس کو پھر درخت سے اتارنے کے بعد پھر اس کو کچھ دھوپ لگوائی جاتی ہے اور دھوپ کی وجہ سے اس کا جو زائد شیرہ ہے جو زائد رس ہے وہ خشک ہو جاتا ہے اب اس کو تَمْرٌ کہتے ہیں۔ تو یہ جو بازار میں ہمیں کھجور ملتی ہے یہ تَمْرٌ ہے بھئی دھوپ لگوائی ہوئی بھئی۔ تو بعض علماء جو ہیں تَمْرٌ کا معنی چھوہارے کے کرتے ہیں، تَمْرٌ کا کیا معنی کرتے ہیں؟ چھوہارا، وجہ یہ کہ لغت کے اندر تَمْرٌ کا معنی دیکھیں تو لکھا ہوتا ہے کھجور جسے دھوپ میں خشک کیا گیا ہو، تو وہ سمجھتے ہیں یہ چھوہارا ہے جس کو دھوپ میں خشک کیا گیا ہے یہ ہے تَمْرٌ، لیکن میں نے بتایا نہیں یہ عام کھجور کو بھی تَمْرٌ کہتے ہیں اور یہ عام کھجور جو بازار میں بیچی جاتی ہے تو پہلے اس کو دھوپ لگواتے ہیں کیونکہ اس میں اتنا زیادہ رس ہوتا ہے کہ اگر اس کو بند کر کے لے کر آئیں گے تو ایک دو دن میں اس میں بدبو پیدا ہو جائے گی، تو دھوپ جب لگوا دی اب وہ زائد رس اور زائد شیرہ خشک ہو گیا، کھجور ابھی بھی اسی طرح نرم ہے لیکن کچھ زائد شیرہ اور زائد رس خشک ہو گیا اب اس کو بازار میں بیچنے کے لیے لایا جاتا ہے تو اسے تَمْرٌ کہتے ہیں، تو تَمْرٌ بالخصوص چھوہارے کا نام نہیں ہے یہ عام کھجور کا نام ہے۔ تو معلوم ہوا کھجور کی تین حالتیں ہیں: پہلی حالت ہے بُسْرٌ بھئی جب اس میں مٹھاس آ چکی ہے اور اس کو کھایا بھی جاتا ہے لیکن ابھی یہ سخت ہے نرم نہیں ہوئی، پھر یہ نرم ہو گئی اور پھر اس کو رُطَبٌ کہا جاتا ہے یہ ہے تازہ کھجور بھئی، اور پھر اس کے بعد تیسرا مرحلہ ہے جب اس رُطَبٌ کو اتار کر کچھ دھوپ میں خشک کر لیا گیا تو اب یہ تَمْرٌ کہلاتی ہے۔ تو یہ تینوں الگ الگ نام ہیں اسی کھجور کے، تو ان میں سے گویا ہر ایک کو الگ جنس شمار کرتے ہیں: بُسْرٌ کہا تو وہی سخت پھل مراد ہے، رُطَبٌ کہا تو تازہ کھجور مراد ہو گی اور تَمْرٌ کہا تو جس کو دھوپ لگوائی گئی ہو وہ مراد ہوتی ہے۔ اب صورت یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس بُسْرٌ میں سے نہیں کھاؤں گا، کسی معین درخت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں اس درخت کی بُسْرٌ نہیں کھاؤں گا، پھر اس نے اسی درخت کی رُطَبٌ کھا لی، وہ کھجور جو نرم ہو چکی ہے، تو کہتے ہیں حانث نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ اس نے بُسْرٌ کے نہ کھانے کی قسم کھائی تھی اور بُسْرٌ تو اور ہے اور رُطَبٌ اور ہے تو رُطَبٌ کھانے سے حانث نہیں ہو گا بھئی۔ یا پھر دوسری صورت: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے رُطَبٌ نہیں کھاؤں گا اور پھر اس کے بعد اس نے اس کی تَمْرٌ کھائی یعنی کچھ دھوپ لگوانے کے بعد جو رُطَبٌ کو خشک کیا گیا تھا، تو اس صورت میں بھی یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ اب اس کا نام ہی بدل چکا ہے گویا یہ ایک نئی جنس بن گئی۔ اور اسی طرح ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں یہ دودھ نہیں پیوں گا اور پھر وہ دودھ جو ہے اس کا دہی بن گیا اور پھر اس نے وہ دہی استعمال کر لیا تو کہتے ہیں حانث نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ اس نے دودھ پینے پر قسم کھائی تھی اور اس نے اس وقت دودھ تو نہیں پیا اس نے تو دہی کھائی ہے بھئی۔ تو ضابطہ اس میں یہ ہے یاد رکھو جب قسم کے اندر کسی چیز کی کوئی صفت ذکر کی جائے، یہ بسر ہونا، رطب ہونا اور تمر ہونا یا اسی طرح دودھ ہونا یا دہی ہونا یہ سب کیا ہیں؟ اس چیز کی ایک طرح کی صفات ہیں ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو۔ تو اگر صفت ایسی ہے جو قسم کی طرف داعی بن سکتی ہے، جو قسم کھانے کے لیے داعی بن سکتی ہے، جو قسم کا سبب بن سکتی ہے، تو پھر اس قسم کو اسی صفت کے ساتھ مقید کیا جائے گا۔ جب اس شخص نے کہا واللہ میں اس درخت کی بسر نہیں کھاؤں گا تو بسر ہونا یہ ایسی صفت ہے جو داعی الی الیمین ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے اس آدمی کو اس کی بسر پسند نہیں ہے، کسی نے کہا لو بھئی یہ کھا لو، اس کو پسند نہیں تھی اس نے کہا واللہ میں اس درخت کی بسر نہیں کھاؤں گا، تو معلوم ہوا بسر ہونا ایسی صفت ہے جو یمین کی طرف لے جا سکتی ہے انسان کو، تو ایسی صفت جو یمین کی طرف لے جانے کا باعث بن سکے تو پھر قسم بھی اسی صفت کے ساتھ مقید ہو گی۔ لہذا اب اگر یہ بسر کے بجائے اسی درخت کی رطب یا تمر کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ اور اسی طرح ایک آدمی کو دودھ پیش کیا گیا، اس نے کہا واللہ میں یہ دودھ نہیں پیوں گا۔ تو اب یہ دودھ ہونا یہ داعی ہو سکتا ہے قسم کے لیے کہ ہو سکتا ہے یہ جس گائے کا دودھ ہے اس گائے کا دودھ اس کو پسند نہیں ہے، تو یہ دودھ ہونا یہ داعی الی القسم ہو سکتا ہے، تو لہذا اس کی قسم اسی دودھ کے ساتھ مقید ہو گی۔ جب یہ دہی بن گیا تو اب تو دودھ نہ رہا تو نام ہی بدل گیا تو اب اس کو کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذَا الْبُسْرِ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس بسر میں سے نہیں کھائے گا، دیکھو هَذَا الْبُسْرِ کسی معین بسر کی طرف اشارہ کیا، کسی معین درخت کے پھل کی طرف اشارہ کیا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذَا الْبُسْرِ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس بسر میں سے نہیں کھائے گا فَصَارَ رُطَبًا تو وہ کھجور جو ہے وہ بسر جو ہے رطب بن گئی فَأَكَلَهُ پھر اس نے اس کو کھا لیا لَمْ يَحْنَثْ تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا۔ وَكَذَا إِذَا حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذَا الرُّطَبِ اور اسی طرح اگر کسی شخص نے جب قسم اٹھا لی کہ وہ اس رطب میں سے نہیں کھائے گا أَوْ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ یا اس دودھ میں سے وہ نہیں پیے گا فَصَارَ تَمْرًا پھر وہ رطب جو ہے کھجور بن گئی أَوْ صَارَ اللَّبَنُ شِيرَازًا یا اس دودھ سے دہی بن گیا لَمْ يَحْنَثْ تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا۔ یہاں شِيرَازٌ کا لفظ آیا، شیراز۔ یاد رکھو شیراز یہ فارسی لفظ ہے، فارسی زبان میں شِیر دودھ کو کہتے ہیں، شِیر دودھ کو کہتے ہیں اسی لیے اردو میں بھی آپ سنتے ہیں شیر خوار بچہ جو دودھ پینے والا بچہ ہو، اور اسی طرح اردو زبان میں بھی بہن کو ہمشیرہ کہتے ہیں، ہمشیرہ کہ اس نے بھی اسی ماں کا دودھ پیا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ شیراز جو ہے یہ خاص طور پر دہی کو نہیں کہتے بلکہ دہی بنانے کے بعد پھر اس دہی کو ایک کپڑے میں ڈال کر اس کو لٹکا دیتے ہیں تو وہ جو زائد پانی ہوتا ہے وہ اس سے ٹپکتا رہتا ہے یہاں تک کہ زائد پانی سارا نکل جاتا ہے اور خوب گاڑھی شکل کی دہی بن جاتی ہے، تو اس کو شیراز کہتے ہیں، اس کو شیراز، لیکن بہرحال مراد دہی ہے بھئی خاص وہی چیز مراد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: أَوْ صَارَ اللَّبَنُ شِيرَازًا یا وہ دودھ جو ہے وہ جمع ہوا دہی بن گیا لَمْ يَحْنَثْ تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا لِأَنَّ صِفَةَ الْبُسُورَةِ وَالرُّطُوبَةِ اس لیے کیونکہ بسر ہونے کی جو صفت ہے اور رطب ہونے کی جو صفت ہے، بُسُورَةٌ با پر بھی ضمہ پڑھیں اور س پر بھی ضمہ، اسی طرح رُطُوبَةٌ اس میں بھی را اور طا دونوں پر ضمہ پڑھیں، بُسُورَةٌ کا معنی ہے بسر ہونا یہ مصدر ہے، رُطُوبَةٌ کا معنی ہے رطب ہونا یہ مصدر ہے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ صِفَةَ الْبُسُورَةِ وَالرُّطُوبَةِ دَاعِيَةٌ إِلَى الْيَمِينِ اس لیے کیونکہ بسر اور رطب ہونے کی صفت یہ دعوت دینے والی ہے یمین کی طرف یعنی یہ قسم کھانے پر کسی کو مجبور کر سکتی ہے یہ ایسی صفت ہے، وَكَذَا كَوْنُهُ لَبَنًا اور اسی طرح اس چیز کا دودھ ہونا فَيَتَقَيَّدُ بِهِ تو لہذا وہ قسم مقید ہو جائے گی دودھ کے ساتھ، وَلِأَنَّ اللَّبَنَ مَأْكُولٌ فَلَا يَنْصَرِفُ الْيَمِينُ إِلَى مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ، وَلِأَنَّ اللَّبَنَ مَأْكُولٌ اور اس لیے کیونکہ دودھ جو ہے اس کو کھایا جاتا ہے یعنی پیا جاتا ہے فَلَا يَنْصَرِفُ الْيَمِينُ لہذا یہ قسم پلٹے گی نہیں إِلَى مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ اس چیز کی طرف جو دودھ سے بنائی جاتی ہے۔ دودھ کو جب خود کھایا پیا جاتا ہے اور اس نے دودھ کو ذکر کیا ہے تو یہ قسم دودھ ہی کے ساتھ مقید رہے گی، اس کا مجازی معنی یعنی دہی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہتے ہیں: وَلِأَنَّ اللَّبَنَ مَأْكُولٌ اور اس لیے کیونکہ دودھ جو ہے اس کو کھایا جاتا ہے، بھئی دودھ کو کبھی ویسے پیا جاتا ہے کبھی اس میں روٹی وغیرہ ڈال کر اس کو کھایا جاتا ہے تو یہ دودھ جو ہے یہ غذا ہے، تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ اللَّبَنَ مَأْكُولٌ اس لیے کیونکہ دودھ جو ہے وہ کھائی جانے والی چیز ہے فَلَا يَنْصَرِفُ الْيَمِينُ إِلَى مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ لہذا یہ قسم پلٹے گی نہیں اس چیز کی طرف جس کو دودھ سے بنایا گیا ہو۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ هَذَا الصَّبِيَّ أَوْ هَذَا الشَّابَّ فَكَلَّمَهُ بَعْدَ مَا شَاخَ۔ اچھا بھئی صورت یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں اس بچے سے بات نہیں کروں گا یا واللہ میں اس جوان سے بات نہیں کروں گا، اور پھر اس کے بعد جب وہ بوڑھا ہو گیا اب اس نے اس سے بات کر لی تو کیا حانث ہو گا یا حانث نہیں ہو گا؟ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی وہ حانث ہو جائے گا، اس صورت میں بھی وہ حانث ہو جائے گا۔ یہاں پر دیکھو بچہ یا جوان ہونے کی صفت وہ قسم کی طرف داعی ہو سکتی ہے کیونکہ بچہ جو ہے اس میں کم عقلی ہوتی ہے، اس کی عقل کامل نہیں تو اس کے بعض کاموں کی وجہ سے یہ داعی ہو سکتا ہے کہ انسان قسم کھا لے کہ واللہ میں اس سے بات نہیں کروں گا۔ اسی طرح جوانی جو ہے جب انسان کی ساری قوتیں عروج پر ہوتی ہیں اس وقت بھی انسان کی عقل کامل نہیں ہوتی لہذا اس کی وجہ سے بھی بعض اوقات انسان حماقتیں کرتا ہے تو لہذا یہ جوانی بھی داعی بن سکتی ہے قسم کے لیے۔ تو یہ بچہ ہونا یا جوان ہونا یہ داعی بن سکتا ہے یمین کے لیے لیکن یہاں پر اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، یہاں پر اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، وجہ یہ اس لیے کیونکہ مسلمان کو چھوڑنا اور اس سے کلام بند کر دینا اس سے بات چیت ختم کر دینا اس سے شریعت نے منع کیا ہے، لہذا یہ چیز داعی تو ہے لیکن اس کو داعی شمار نہیں کیا جائے گا، یہ بچہ ہونا یا جوان ہونا یہ وصف داعی تو بن سکتا ہے لیکن اس کو داعی شمار نہیں کیا جائے گا اس لیے کیونکہ یہ چیز شرعاً مہجور ہے، شرعاً کیا ہے؟ مہجور ہے، متروک ہے، کسی مسلمان سے بات چیت ختم کرنا اور بند کرنا شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی، اور جو چیز شرعاً مہجور ہو اس کو اسی طرح سمجھا جائے گا جیسے یہ عادتاً مہجور ہے، عادتاً مہجور ہے، تو شرعاً یہ صفت داعی نہیں بن سکتی تو یوں سمجھا جائے گا گویا کہ عادتاً بھی یہ صفت داعی نہیں بن سکتی، لہذا یہاں اس کی ذات مراد ہو گی یہ صفت مراد نہیں۔ صفت مراد نہیں جب یہ صفت مراد نہیں تو اس کی ذات مراد ہے اور بوڑھا بھی ہو جائے ذات تو وہی ہے لہذا اس سے بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ بخلاف اس کے کہ جب اس شخص نے قسم اٹھائی لَا يُكَلِّمُ هَذَا الصَّبِيَّ کہ وہ بات نہیں کرے گا اس بچے سے أَوْ هَذَا الشَّابَّ یا وہ اس جوان سے بات نہیں کرے گا فَكَلَّمَهُ بَعْدَ مَا شَاخَ تو اس نے اس سے بات کی بعد اس کے جب وہ بوڑھا ہو گیا تھا، شَاخَ يَشِيخُ شَيْخًا کا معنی ہے بوڑھا ہونا، فَكَلَّمَهُ بَعْدَ مَا شَاخَ تو اس نے اس سے بات کی اس کے بوڑھا ہونے کے بعد تو بھی حانث ہو جائے گا، پیچھے بتایا نا بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ کہ یہ مسئلہ پہلے مسئلے کے برخلاف ہے، یہاں صفت بدل بھی جائے بچے سے جوان ہو جائے یا جوان سے بوڑھا ہو جائے پھر بھی صفت کا اعتبار نہیں ہے تو لہذا اس سے کلام کرے گا تو حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ هِجْرَانَ الْمُسْلِمِ بِمَنْعِ الْكَلَامِ مَنْهِيٌّ عَنْهُ اس لیے کیونکہ مسلمان کو چھوڑنا، ہجران کا کیا معنی؟ چھوڑنا، ترک کرنا، علیحدگی اختیار کرنا، لِأَنَّ هِجْرَانَ الْمُسْلِمِ بِمَنْعِ الْكَلَامِ کہ کلام کو منع کرتے ہوئے مسلمان کو چھوڑنا یعنی اس سے بات چیت کو ختم کرنا مَنْهِيٌّ عَنْهُ یہ منہی عنہ ہے، اس سے شریعت نے منع کیا ہے روکا ہے، فَلَا يُعْتَبَرُ الدَّاعِي دَاعِيًا فِي الشَّرْعِ تو یہ جو داعی ہے اس کو شریعت میں داعی شمار نہیں کیا جائے گا اور جب شریعت میں یہ داعی نہیں بن سکتا تو گویا عادتاً بھی یہ داعی نہیں بن سکتا اس لیے کیونکہ وہ چیز جو شرعاً مہجور ہو وہ اسی طرح ہے جیسے عادتاً مہجور ہو بھئی۔ لیکن علماء اور فقہاء فرماتے ہیں یہ اس صورت میں ہے جب اس نے کوئی نیت نہیں کی تھی، اگر اس کی نیت اسی بچپنے کی حالت کی ہے کیونکہ بچہ جو ہے وہ کم عقل ہوتا ہے یا اس کی نیت جو ہے اسی جوانی کی صفت کی ہے کیونکہ جوان جو ہے وہ بھی بعض اوقات ایسے افعال کرتا ہے جو کوئی زیادہ پسندیدہ نہیں ہوتے، تو پھر اس صورت میں اس کی نیت معتبر ہو گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ وہ صورت ہے جب اس کی نیت نہ ہو بھئی۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ لَحْمَ هَذَا الْحَمَلِ فَأَكَلَ بَعْدَ مَا صَارَ كَبْشًا حَنِثَ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس بھیڑ کے بچے کا گوشت نہیں کھاؤں گا، یہاں لفظ آ رہا ہے حَمَلٌ، حَمَلٌ م کے فتحہ کے ساتھ۔ حَمَلٌ یاد رکھو بھیڑ اور دنبے کا جو ایک سال تک کا بچہ ہوتا ہے یہ حَمَلٌ کہلاتا ہے، یعنی یوں کہو بھیڑ کا بچہ اپنی عمر کے پہلے سال میں یہ حَمَلٌ کہلاتا ہے، ایک سال عمر ہو جائے پھر یہ حَمَلٌ نہیں کہلاتا اس سے پہلے پہلے یہ حَمَلٌ کہلاتا ہے، تو بھیڑ کا ایک سال تک کا بچہ حَمَلٌ کہلاتا ہے اور ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس حَمَلٌ کا، اس بھیڑ کے بچے کا گوشت نہیں کھاؤں گا اور پھر اس کے بعد وہ بچہ بڑا ہو گیا اور كَبْشٌ بن گیا، كَبْشٌ کہتے ہیں دنبے کو، كَبْشٌ کسے کہتے ہیں؟ دنبہ یعنی وہ جو مذکر ہے، بھیڑ مؤنث ہے اور كَبْشٌ کیا ہے؟ مذکر، مذکر کو عربی میں کہتے ہیں كَبْشٌ اور مؤنث کو کہتے ہیں نَعْجَةٌ۔ تو وہ مثلاً كَبْشٌ بن گیا، سال گزر گیا، اور پھر اس کے بعد اس نے اس کا گوشت کھایا تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی یہ حانث ہو جائے گا، اس صورت میں بھی یہ حانث ہو جائے گا، وجہ یہ کہ یہاں حَمَلٌ ہونے کی صفت داعی الی القسم نہیں بن سکتی، حَمَلٌ ہونے کی صفت یہ داعی الی القسم نہیں ہو سکتی یعنی بھیڑ کا بچہ ہونے کی وجہ سے کوئی آدمی اس کا گوشت نہ کھائے ایسا نہیں ہوتا کیونکہ بھیڑ کا جو بچہ ہے اس کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے لوگ اس کو زیادہ پسند کرتے ہیں كَبْشٌ کے مقابلے میں یعنی بڑے جانور کے مقابلے میں، تو لہذا یہ صفت جو ہے حَمَلٌ ہونے کی صفت یہ قسم کی داعی نہیں بن سکتا، یہ قسم کے لیے داعی نہیں بن سکتا۔ دیکھو اگر یہ شخص بھیڑ کے بچے کا گوشت کھانے سے رک رہا ہے تو پھر تو كَبْشٌ کے گوشت کھانے سے یہ بطریقِ اولیٰ رکے گا، توجہ ہے؟ کیونکہ حَمَلٌ کا گوشت تو زیادہ لذیذ ہے كَبْشٌ کے مقابلے میں، تو معلوم ہوا یہاں حَمَلٌ ہونے کی صفت یہ مانع نہیں، اگر یہ مانع ہے پھر تو كَبْشٌ کے لیے بطریقِ اولیٰ مانع ہو گی، تو حَمَلٌ ہونے کی صفت یہ داعی الی الیمین نہیں، یہ اس قسم تک لے جانے والی نہیں لہذا اس کے ساتھ قسم مقید بھی نہیں ہو گی، مراد وہی حیوان ہو گا کہ میں اس حیوان کا گوشت نہیں کھاؤں گا اب چاہے چھوٹا ہونے کی حالت میں کھائے تب بھی حانث اور بڑا ہو جائے وہ حیوان كَبْشٌ بن جائے کھائے گا تو پھر بھی حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ لَحْمَ هَذَا الْحَمَلِ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس بھیڑ کے بچے کا گوشت نہیں کھائے گا فَأَكَلَ بَعْدَ مَا صَارَ كَبْشًا تو اس نے اس کا گوشت کھایا بعد اس کے کہ جب وہ كَبْشٌ بن گیا تھا یعنی دنبہ بن گیا تھا حَنِثَ تو یہ حانث ہو جائے گا۔ یاد رکھو بھیڑ کا جو بچہ ہے یہ پہلے سال کے دوران حَمَلٌ کہلاتا ہے جبکہ بکری کا جو بچہ ہے وہ پہلے سال کے دوران اگر مذکر ہو تو جَدْيٌ کہلاتا ہے، جَدْيٌ، اور اگر مؤنث ہو تو پھر عَنَاقٌ کہلاتا ہے، ع، ن، ا اور ق ہے دو نقطوں والا، تو وہ عَنَاقٌ کہلاتا ہے۔ تو کہتے ہیں اس نے كَبْشٌ ہونے کے بعد بھی گوشت کھایا تو حانث ہو جائے گا لِأَنَّ صِفَةَ الصِّغَرِ فِي هَذَا اس لیے کیونکہ چھوٹا ہونے کی جو صفت ہے اس قول میں لَيْسَتْ بِدَاعِيَةٍ إِلَى الْيَمِينِ وہ یمین کی طرف دعوت دینے والی نہیں ہے فَإِنَّ الْمُمْتَنِعَ عَنْهُ أَكْثَرُ امْتِنَاعًا عَنْ لَحْمِ الْكَبْشِ، فَإِنَّ الْمُمْتَنِعَ عَنْهُ اس لیے کیونکہ جو شخص اس حَمَلٌ کے گوشت سے رکنے والا ہے أَكْثَرُ امْتِنَاعًا وہ زیادہ رکنے والا ہو گا عَنْ لَحْمِ الْكَبْشِ دنبے کے گوشت سے، تو معلوم ہوا یہ صفت داعی الی الیمین نہیں ہے بھئی لہذا اس صفت کے ساتھ یہ قسم مقید بھی نہیں ہو گی بھئی۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ، اس قال سے مراد صاحب قدوری ہیں، قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ بُسْرًا اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ بُسْرٌ نہیں کھائے گا فَأَكَلَ رُطَبًا تو پھر اس نے رُطَبٌ کھا لی لَمْ يَحْنَثْ تو حانث نہیں ہو گا۔ بھئی آپ کہیں گے یہ مسئلہ تو پیچھے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ ایک آدمی نے قسم اٹھائی میں بُسْرٌ نہیں کھاؤں گا اور رُطَبٌ کھائے گا تو حانث نہیں؟ تو جواب یاد رکھنا پیچھے جو بُسْرٌ ذکر ہوا تھا وہ معرفہ تھا اور یہاں جو بُسْرٌ ذکر ہوا ہے یہ نکرہ ہے، پہلے کسی معین بُسْرٌ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ میں نہیں کھاؤں گا اور اب مطلقاً بُسْرٌ کے بارے میں کہہ رہا ہے کوئی بھی بُسْرٌ میں نہیں کھاؤں گا، تو بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ بُسْرٌ کا لفظ چاہے معرفہ ہو چاہے نکرہ ہو ایک ہی حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ بُسْرًا اور جس نے قسم اٹھائی کہ وہ بُسْرٌ نہیں کھائے گا فَأَكَلَ رُطَبًا تو اس نے رُطَبٌ کھا لی لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ لَيْسَ بِبُسْرٍ اس لیے کیونکہ یہ جو رُطَبٌ ہے یہ تو بُسْرٌ نہیں ہے۔ وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ رُطَبًا أَوْ بُسْرًا أَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ رُطَبًا وَلَا بُسْرًا فَأَكَلَ مُذَنِّبًا حَنِثَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَقَالَا لَا يَحْنَثُ فِي الرُّطَبِ۔ بھئی یہاں ایک اور لفظ آ گیا مُذَنِّبٌ بھئی، مُذَنِّبٌ یہ ذَنَبٌ سے ہے، ذَنَبٌ۔ ذَنَبٌ میں ن پر فتحہ ہے، ذَنَبٌ کہتے ہیں دم کو، کسی چیز کا جو پچھلا کنارہ ہے یہ اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ذَنَبٌ، اور اگر ن ساکن ہو ذَنْبٌ تو یہ گناہ کو کہتے ہیں۔ تو اسی ذَنَبٌ سے مُذَنِّبٌ ہے، مُذَنِّبٌ، بُسْرٌ مُذَنِّبٌ، بُسْرٌ مُذَنِّبٌ اس ڈوکے کو کہتے ہیں، وہ بُسْرٌ جس کا نچلا کنارہ نرم ہونا شروع ہو جائے۔ اب تھوڑا سا حصہ نرم ہے اور باقی اسی طرح سخت ہے اور پھر یہ نرم حصہ پھیلتا چلا جائے گا آہستہ آہستہ پوری کھجور نرم ہو جائے گی۔ تو بُسْرٌ جو ہے وہ سخت ہوتا ہے اور رُطَبٌ نرم ہوتی ہے، تو بُسْرٌ کا ایک کنارہ نرم ہونا شروع ہو جاتا ہے جو نیچے والا کنارہ ہو تو اس کو کہتے ہیں بُسْرٌ مُذَنِّبٌ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ۔ لہذا اب صورت یہ ہے: ایک شخص نے قسم کھا لی کہ واللہ میں بُسْرٌ نہیں کھاؤں گا، یا اس نے قسم کھا لی واللہ میں رُطَبٌ نہیں کھاؤں گا، یا اس نے دونوں کی قسم کھا لی واللہ میں رُطَبٌ بھی نہیں کھاؤں گا اور بُسْرٌ بھی نہیں کھاؤں گا، اور پھر اس نے بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کھا لی تو امام صاحب فرماتے ہیں حانث ہو گیا کیونکہ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ اس میں یہ بُسْرٌ بھی ہے اوپر والا حصہ بُسْرٌ ہے اور نیچے والا حصہ رُطَبٌ بن چکا ہے نرم ہو چکا ہے تو اس نے دونوں چیزیں کھا لیں تو ہر صورت میں یہ حانث ہو جائے گا۔ اس نے اگر صرف بُسْرٌ کی قسم کھائی تھی میں بُسْرٌ نہیں کھاؤں گا تو اس بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کا کچھ حصہ بُسْرٌ ہے تو بھی کھانے سے حانث، اگر اس نے صرف رُطَبٌ کی قسم کھائی تھی تو بھی اس کا کچھ حصہ کیا ہے؟ اس بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کا کچھ حصہ تو رُطَبٌ ہے تو اس کو کھانے سے وہ حانث، اور اگر اس نے کہا تھا میں بُسْرٌ بھی نہیں کھاؤں گا رُطَبٌ بھی نہیں کھاؤں گا تو یہاں پر بھی یہ جو کھجور بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کھا رہا ہے یہ تو بُسْرٌ بھی ہے اور رُطَبٌ بھی ہے تو اس کو کھانے سے حانث ہو جائے گا۔ تو چاہے صرف بُسْرٌ کے نہ کھانے کی قسم کھائے چاہے صرف رُطَبٌ کے نہ کھانے کی قسم کھائے چاہے دونوں کے نہ کھانے کی قسم کھائے تو تمام صورتوں میں امام صاحب کے نزدیک جب یہ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کھائے گا تو حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ رُطَبًا أَوْ بُسْرًا اور جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ رُطَبٌ یا بُسْرٌ نہیں کھائے گا أَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ رُطَبًا وَلَا بُسْرًا یا اس نے قسم اٹھائی کہ وہ رُطَبٌ بھی نہیں کھائے گا اور بُسْرٌ بھی نہیں کھائے گا فَأَكَلَ مُذَنِّبًا تو پھر اس نے مُذَنِّبٌ کھا لی یعنی بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کھا لی حَنِثَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو حانث ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا لَا يَحْنَثُ فِي الرُّطَبِ اور صاحبین فرماتے ہیں رُطَبٌ کی صورت میں حانث نہیں ہو گا۔ بھئی دیکھیے آگے صاحب ہدایہ بتلائیں گے ایک ہے بُسْرٌ مُذَنِّبٌ اسی طرح ایک رُطَبٌ مُذَنِّبٌ بھی ہے، بُسْرٌ مُذَنِّبٌ اور رُطَبٌ مُذَنِّبٌ۔ اب اس کا کیا معنی ہے؟ تو فقہاء فرماتے ہیں صاحب ہدایہ خود بھی بیان فرمائیں گے کہ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ اس کو کہیں گے جس کا زیادہ حصہ بُسْرٌ ہے اور تھوڑا سا حصہ رُطَبٌ بنا ہے تو یہ کیا ہے؟ زیادہ کے اعتبار سے نام ہو گا، زیادہ حصہ بُسْرٌ ہے تو اس کو بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کہیں گے۔ اور اگر زیادہ حصہ رُطَبٌ بن گیا ہے اور تھوڑا حصہ بُسْرٌ بچ گیا ہے تو اس کو کہیں گے رُطَبٌ مُذَنِّبٌ یعنی ایسی رُطَبٌ جس کا ایک کنارہ ابھی بھی بُسْرٌ ہے بھئی۔ تو فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو نام جو ہے ان کا وہ زیادہ کے اعتبار سے ہو گا: اگر کھجور کا بُسْرٌ والا حصہ زیادہ ہے تو یہ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ ہے اور اگر رُطَبٌ والا حصہ زیادہ ہو چکا ہے تو اب یہ رُطَبٌ مُذَنِّبٌ کہلائے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر اس نے قسم کھائی تھی واللہ میں رُطَبٌ نہیں کھاؤں گا اور اس نے بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کھا لی تو حانث نہیں۔ کیا کھائی؟ قسم کس کی کھائی تھی؟ رُطَبٌ کی کہ رُطَبٌ نہیں کھاؤں گا، اور کھایا کسے؟ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کو، دیکھو بُسْرٌ ہے اس کا نام بُسْرٌ ہے رُطَبٌ نہیں، اگرچہ تھوڑا سا کنارہ رُطَبٌ بن گیا ہے لیکن اس کو کہتے کیا ہیں؟ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ، تو بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کھانے سے حانث نہیں۔ اور اگر اس نے قسم کھائی بُسْرٌ کی کہ بُسْرٌ نہیں کھاؤں گا اور کھائی اس نے رُطَبٌ مُذَنِّبٌ جس کا اکثر حصہ رُطَبٌ بن چکا ہے تو اس کا نام رُطَبٌ ہے لہذا اس صورت میں بھی یہ حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں لَا يَحْنَثُ فِي الرُّطَبِ کہ رُطَبٌ کے اندر وہ حانث نہیں ہو گا، بھئی کیا معنی رُطَبٌ کے اندر حانث نہیں ہو گا؟ میں نے تفصیل بیان کر دی کہ رُطَبٌ کی قسم کھائی ہے اور کھایا کس کو ہے؟ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کو تو حانث نہیں ہو گا یہی بیان کر رہے ہیں: وَقَالَا صاحبین فرماتے ہیں لَا يَحْنَثُ فِي الرُّطَبِ يَعْنِي بِالْبُسْرِ الْمُذَنِّبِ کہ رُطَبٌ میں وہ حانث نہیں ہو گا یعنی بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کے ذریعے، قسم کھائی ہے رُطَبٌ کی تو بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کے ذریعے وہ حانث نہیں ہو گا، وَلَا فِي الْبُسْرِ بِالرُّطَبِ الْمُذَنِّبِ اور بُسْرٌ کے اندر بھی یہ حانث نہیں ہو گا رُطَبٌ مُذَنِّبٌ کھا لینے سے بھئی، لِأَنَّ الرُّطَبَ الْمُذَنِّبَ يُسَمَّى رُطَبًا اس لیے کیونکہ رُطَبٌ مُذَنِّبٌ کو رُطَبٌ کہا جاتا ہے وَالْبُسْرُ الْمُذَنِّبُ يُسَمَّى بُسْرًا اور بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کو بُسْرٌ کہا جاتا ہے، فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ الْيَمِينُ عَلَى الشِّرَاءِ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ قسم ہو خریدنے پر۔ بھئی ایک آدمی قسم کھاتا ہے کہ واللہ میں بُسْرٌ نہیں خریدوں گا اور پھر اس نے رُطَبٌ کا خوشہ خریدا، قسم کس کی کھائی تھی؟ بُسْرٌ کی کہ بُسْرٌ میں نہیں خریدوں گا اور پھر اس نے رُطَبٌ کا خوشہ خریدا لیکن اس رُطَبٌ کے اندر کچھ کھجوریں بُسْرٌ بھی تھیں، تو کہتے ہیں اس صورت میں حانث نہیں ہو گا کیونکہ خریدنے میں ساری چیز کو اکٹھا لیا جاتا ہے، اکٹھا خریدا جاتا ہے تو اس میں اکثر کا اعتبار ہو گا اور اکثر جب رُطَبٌ ہیں تو سارے کو ہی رُطَبٌ سمجھیں گے، سارے کو ہی رُطَبٌ سمجھیں گے اس نے تو بُسْرٌ کی قسم کھائی تھی تو لہذا یہ تو ساری رُطَبٌ ہی سمجھو اگرچہ تھوڑی سی بُسْرٌ ہے لیکن اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یا اسی طرح ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں رُطَبٌ نہیں خریدوں گا اور پھر اس نے بُسْرٌ کا گچھا خریدا، کھجور کا ایسا گچھا جس میں بُسْرٌ زیادہ تھیں وہ خریدا، اب اس میں کچھ رُطَبٌ بھی ہیں اور اس نے بھی قسم کھائی تھی میں رُطَبٌ نہیں خریدوں گا تو بھی یہ حانث نہیں کیونکہ خریدنے میں چیز کو اکٹھا خریدا جاتا ہے اور وہاں غالب کا اعتبار کیا جاتا ہے اور اس نے قسم کیا کھائی ہے کہ مثلاً میں رُطَبٌ نہیں خریدوں گا اور اس گچھے کے اندر تو اکثر کیا ہیں؟ بُسْرٌ ہیں تو رُطَبٌ اگر تھوڑی سی ہیں بھی تو ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا خریدنے کی قسم کھائی جائے تو اس خریدنے کے اندر اکثر کا اعتبار کیا جائے گا، جو غالب ہو گا اس کا اعتبار ہو گا اور جو مغلوب ہے اس کا اعتبار نہیں۔ تو یہاں پر بھی صاحبین فرماتے ہیں ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں رُطَبٌ نہیں کھاؤں گا اور پھر کس کو کھایا؟ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کو تو اس کا اکثر حصہ بُسْرٌ ہے تو اکثر کا اعتبار کریں گے لہذا بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کھانے سے یہ حانث نہیں، اسی طرح ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں بُسْرٌ نہیں کھاؤں گا اور اس نے رُطَبٌ مُذَنِّبٌ کھا لی تو رُطَبٌ مُذَنِّبٌ کے اندر اکثر حصہ رُطَبٌ ہے تو لہذا یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ غالب کا اعتبار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ الْيَمِينُ عَلَى الشِّرَاءِ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ یہ قسم خریدنے پر ہو۔ وَلَهُ، اب امام صاحب کی دلیل آ گئی، وَلَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الرُّطَبَ الْمُذَنِّبَ مَا يَكُونُ فِي ذَنَبِهِ قَلِيلُ بُسْرٍ، امام صاحب فرماتے ہیں کہ أَنَّ الرُّطَبَ الْمُذَنِّبَ کہ رُطَبٌ مُذَنِّبٌ جو ہے مَا وہ کھجور ہے يَكُونُ فِي ذَنَبِهِ جس کے نچلے کنارے میں قَلِيلُ بُسْرٍ تھوڑا سا بُسْرٌ ہو۔ رُطَبٌ مُذَنِّبٌ اسے کہتے ہیں جس کے نچلے کنارے میں تھوڑا سا بُسْرٌ ہو، وَالْبُسْرُ الْمُذَنِّبُ عَلَى عَكْسِهِ اور بُسْرٌ مُذَنِّبٌ جو ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ رُطَبٌ مُذَنِّبٌ کسے کہتے ہیں؟ جس کا تھوڑا سا کنارہ بُسْرٌ ہے، جبکہ بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کسے کہتے ہیں؟ جس کا تھوڑا سا کنارہ رُطَبٌ ہے۔ تو لہذا جب اس قسم کے پھل کو یہ کھائے گا تو یہ دونوں چیزیں کھا رہا ہے بُسْرٌ بھی کھا رہا ہے اور رُطَبٌ بھی تو یہ حانث ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ الرُّطَبَ الْمُذَنِّبَ مَا يَكُونُ فِي ذَنَبِهِ قَلِيلُ بُسْرٍ کہ رُطَبٌ مُذَنِّبٌ وہ کھجور ہے جس کے نچلے کنارے میں تھوڑا سا بُسْرٌ ہو، وَالْبُسْرُ الْمُذَنِّبُ عَلَى عَكْسِهِ، بُسْرٌ پر رفع پڑھیں یا اس پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں أَنَّ کے اسم پر اس کا عطف کر دیں، کہتے ہیں: وَالْبُسْرَ الْمُذَنِّبَ عَلَى عَكْسِهِ اور بُسْرٌ مُذَنِّبٌ جو ہے اس کے برعکس ہوتی ہے فَيَكُونُ آكِلُهُ آكِلَ الْبُسْرِ وَالرُّطَبِ تو اس کو کھانے والا وہ بُسْرٌ اور رُطَبٌ دونوں کو کھانے والا ہے چاہے وہ رُطَبٌ مُذَنِّبٌ کو کھائے چاہے بُسْرٌ مُذَنِّبٌ کو کھائے یہ دونوں کھا رہا ہے بُسْرٌ کو بھی اور رُطَبٌ کو بھی تو یہ حانث ہو جائے گا، وَكُلُّ وَاحِدٍ مَقْصُودٌ فِي الْأَكْلِ اور ان دونوں میں سے ہر ایک کھانے میں مقصود ہے، بُسْرٌ بھی کھانے میں مقصود ہوتی ہے کبھی آدمی صرف بُسْرٌ کھاتا ہے اور رُطَبٌ بھی کھانے میں مقصود ہوتی ہے کبھی انسان صرف رُطَبٌ کھاتا ہے تو یہاں پر بھی دونوں کا اعتبار کیا جائے گا تو یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَكُلُّ وَاحِدٍ مَقْصُودٌ فِي الْأَكْلِ اور ان دونوں میں سے ہر ایک کھانے میں مقصود ہوتی ہے بِخِلَافِ الشِّرَاءِ بخلاف شراء کے، خریدنے کے، صاحبین نے اس مسئلے کو قیاس کیا تھا خریدنے کے مسئلے پر کہ خریدنے میں جیسے غالب کا اعتبار ہوتا ہے یہاں پر بھی غالب کا اعتبار ہو گا، امام صاحب کی طرف سے صاحب ہدایہ جواب دے رہے ہیں کہ نہیں خریدنے کا معاملہ اور ہے کھانے کا معاملہ اور ہے، کھانے کے اندر ہر چیز الگ الگ مقصود ہوتی ہے اور جبکہ خریدنے کے اندر غالب کا اعتبار ہوتا ہے اگر تھوڑی بہت کوئی اور چیز بھی ملی ہو اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الشِّرَاءِ بخلاف خریدنے کے لِأَنَّهُ يُصَادِفُ الْجُمْلَةَ کیونکہ خریدنے کی ملاقات ہوتی ہے مجموعے سے یعنی ساری چیز کو اکٹھا خریدا جاتا ہے، صَادَفَ يُصَادِفُ کے معنی ملاقات کرنا، کہتے ہیں: بِخِلَافِ الشِّرَاءِ لِأَنَّهُ يُصَادِفُ الْجُمْلَةَ اس لیے کیونکہ خریدنے کی ملاقات مجموعے سے ہوتی ہے یعنی سارے مجموعے کو اکٹھا خریدا جاتا ہے فَيَتْبَعُ الْقَلِيلُ فِيهِ الْكَثِيرَ تو اس کے اندر جو قلیل ہوتا ہے وہ کثیر کے تابع ہو جاتا ہے، اس قلیل کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ آگے دیکھیے بھئی: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَشْتَرِي رُطَبًا فَاشْتَرَى كِبَاسَةَ بُسْرٍ فِيهَا رُطَبٌ لَا يَحْنَثُ۔ بھئی كِبَاسَةٌ بھئی، كِبَاسَةٌ کہتے ہیں کھجور کے خوشے کو، کھجور کا جو گچھا ہے۔ یہ مسئلہ میں نے ابھی ذکر کیا تھا بھئی وہی اب صاحب ہدایہ تفصیل سے بیان کریں گے۔ صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں رُطَبٌ نہیں خریدوں گا پھر اس نے بُسْرٌ کا گچھا خرید لیا اور اس گچھے کے اندر کچھ رُطَبٌ بھی ہیں، تو کیا یہ حانث ہو جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں یہاں اکثر کا اعتبار ہے اور اکثر تو بُسْرٌ ہیں، اکثر تو بُسْرٌ ہیں تو وہ غالب ہیں اور رُطَبٌ مغلوب ہیں تو غالب کا اعتبار کیا جاتا ہے خریدنے میں لہذا یہ شخص حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَشْتَرِي رُطَبًا اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ لَا يَشْتَرِي رُطَبًا کہ وہ رُطَبٌ نہیں خریدے گا فَاشْتَرَى كِبَاسَةَ بُسْرٍ فِيهَا رُطَبٌ تو پھر اس نے بُسْرٌ کا ایسا گچھا خریدا فِيهَا رُطَبٌ جس میں رُطَبٌ بھی تھیں لَا يَحْنَثُ تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّ الشِّرَاءَ يُصَادِفُ الْجُمْلَةَ اس لیے کیونکہ خریداری ملاقات کرتی ہے مجموعے سے وَالْمَغْلُوبُ تَابِعٌ اور مغلوب جو ہے وہ تابع ہوتا ہے، وَلَوْ كَانَتِ الْيَمِينُ عَلَى الْأَكْلِ يَحْنَثُ اور اگر یہ قسم کھانے پر ہوتی تو یہ حانث ہو جاتا یعنی اکثر بُسْرٌ کے ساتھ کچھ رُطَبٌ بھی یہ کھا لیتا تو حانث ہو جاتا۔ کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَتِ الْيَمِينُ عَلَى الْأَكْلِ يَحْنَثُ اور اگر قسم کھانے پر ہوتی تو یہ حانث ہو جاتا لِأَنَّ الْأَكْلَ يُصَادِفُهُ شَيْئًا فَشَيْئًا اس لیے کیونکہ کھانا جو ہے وہ رُطَبٌ سے ملاقات کرتا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے، کھاتے وقت تھوڑی تھوڑی چیز کھائی جاتی ہے تو اس وقت اکثر بُسْرٌ ہوں لیکن ایک آدھی بھی رُطَبٌ آ جائے گی تو پھر یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَكْلَ يُصَادِفُهُ شَيْئًا فَشَيْئًا اس لیے کیونکہ کھانا جو ہے اس رُطَبٌ سے ملاقات کرتا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے فَكَانَ كُلٌّ مِنْهُمَا مَقْصُودًا تو ان میں سے ہر ایک مقصود ہو گا یعنی کھانے میں، کھانے میں رُطَبٌ اور بُسْرٌ میں سے ہر ایک مقصود بن جائے گا کیونکہ کھاتے ہوئے تھوڑی تھوڑی چیز کو کھایا جاتا ہے اور جب خریدا جاتا ہے تو پھر سارے مجموعے کو خریدا جاتا ہے تو دونوں میں فرق ہے۔ تو کہتے ہیں: فَكَانَ كُلٌّ مِنْهُمَا مَقْصُودًا تو کھانے میں سے ان کے اندر ہر ایک مقصود ہوتا ہے وَصَارَ كَمَا إِذَا حَلَفَ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ جب ایک شخص نے قسم اٹھائی۔ لَا يَشْتَرِي شَعِيرًا أَوْ لَا يَأْكُلُهُ کہ وہ شعیر یعنی جو جو ہے کہ وہ جو نہیں خریدے گا یا جو نہیں کھائے گا، فَاشْتَرَى حِنْطَةً فِيهَا حَبَّاتُ شَعِيرٍ وَأَكَلَهَا يَحْنَثُ فِي الْأَكْلِ دُونَ الشِّرَاءِ لِمَا قُلْنَا۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں جو نہیں خریدوں گا اور پھر اس نے گندم خریدی اور اس گندم کے اندر کچھ دانے جو کے بھی تھے، تو یہ حانث نہیں کیونکہ خریدنے میں اکثر کا اعتبار ہوتا ہے اور جو مغلوب ہوتا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں جو نہیں کھاؤں گا اور پھر اس نے گندم کھائی اور اس گندم کے اندر کچھ دانے جو کے بھی آ گئے تو پھر یہ حانث ہو جائے گا، تو پھر یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ کھاتے ہوئے تھوڑی تھوڑی چیز الگ الگ مقصود ہوتی ہے، تھوڑی تھوڑی چیز کو الگ الگ کھایا جاتا ہے منہ میں ڈالا جاتا ہے۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ کھانے میں بھی اس وقت یہ حانث ہو گا جب جو کے ایک دو دانے اس نے الگ منہ میں ڈالے، اگر کھاتے ہوئے بھی اس نے گندم کے کئی دانے منہ میں ڈالے اور ان میں ایک دو دانے جو کے بھی تھے تو یہاں پر بھی غالب ہی کا اعتبار ہو گا وہ حانث نہیں ہو گا۔ تو فرق سمجھ میں آیا کہ جو کے نہ خریدنے کی قسم کھائی اور پھر گندم خریدی اس میں کچھ دانے جو کے ہیں تو حانث نہیں، اور اگر یہی قسم کھانے کے بارے میں تھی تو پھر اس صورت میں جو کے ایک دو دانے بھی اس نے الگ کھا لیے تو حانث ہو جائے گا کیونکہ وہ مقصود ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَصَارَ كَمَا إِذَا حَلَفَ لَا يَشْتَرِي شَعِيرًا أَوْ لَا يَأْكُلُهُ اور یہ ایسے ہی ہو گیا جب ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ جو نہیں خریدے گا یا اسے نہیں کھائے گا فَاشْتَرَى حِنْطَةً فِيهَا حَبَّاتُ شَعِيرٍ۔ دیکھو حِنْطَةً نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آ رہا ہے: فِيهَا حَبَّاتُ شَعِيرٍ، فِيهَا خبرِ مقدم ہے اور حَبَّاتُ شَعِيرٍ یہ مبتدا مؤخر ہے، اور مبتدا خبر مل کر یہ جملہ اسمیہ ہو کر یہ صفت بنے گا حِنْطَةً کی، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ ذکر کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَاشْتَرَى حِنْطَةً فِيهَا حَبَّاتُ شَعِيرٍ تو اس نے ایسی گندم خریدی کہ اس کے اندر جو کے دانے تھے وَأَكَلَهَا اور اس کو کھا لیا یعنی خریدنے کی قسم کھائی تھی تو اس نے خرید لیا یا کھانے کی قسم کھائی تھی تو اس نے کھا لیا، تو يَحْنَثُ فِي الْأَكْلِ دُونَ الشِّرَاءِ تو یہ کھانے کی صورت میں تو حانث ہو جائے گا خریدنے کی صورت میں نہیں، لِمَا قُلْنَا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ خریدنا مجموعے کا ہوتا ہے اور اس میں غالب کا اعتبار ہوتا ہے اور کھایا تھوڑا تھوڑا جاتا ہے اور اس میں ہر مرتبہ کا کھانا الگ مقصود ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ لَحْمًا فَأَكَلَ لَحْمَ السَّمَكِ لَا يَحْنَثُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا پھر اس نے مچھلی کا گوشت کھا لیا تو کیا حانث ہو گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی حانث نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ مچھلی کو عرف میں گوشت نہیں کہا جاتا۔ آپ بھی مچھلی کھا لیں تو آپ کسی ساتھی کو بتلاتے ہیں تو یہ نہیں کہتے میں نے مچھلی کا گوشت کھایا تھا آپ کہتے ہیں میں نے مچھلی کھائی تھی، توجہ ہے؟ تو مچھلی کے لیے گوشت کا لفظ عرف میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے قرآن کے اندر تو مچھلی کو گوشت کہا گیا ہے، قرآن میں مچھلی کو گوشت کہا گیا ہے، قرآن میں اللہ تعالیٰ نمکین پانی اور میٹھے پانی کا ذکر فرماتے ہیں۔ یاد رکھو یہ جو دریا اور چشموں وغیرہ کا پانی ہے یہ تو میٹھا پانی ہے لیکن یہ جو سمندر کا پانی ہے یہ انتہائی نمکین ہے بھئی، انتہائی نمکین یہاں تک کہ کڑواہٹ تک پہنچ جاتا ہے، یوں سمجھیں ایک گلاس پانی کے اندر آپ دو چمچ یا تین چمچ نمک کے ملا دیں تو اس طرح سمندر کا پانی نمکین ہوتا ہے، ایک گھونٹ پینا مشکل ہے اگر ایک گھونٹ بھی آپ پیئیں گے تو حلق جلے گا بھئی تکلیف محسوس ہو گی تو وہ بہت کڑوا ہوتا ہے، تو اللہ ان دونوں کا ذکر فرماتے ہیں اور آگے فرماتے ہیں: ﴿وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا﴾ اور ان دونوں میں سے ہر ایک سے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے یعنی چاہے میٹھے پانی کا دریا ہے یا نمکین پانی کا سمندر ہے ان دونوں سے تَأْكُلُونَ تم لوگ کھاتے ہو لَحْمًا طَرِيًّا تروتازہ گوشت۔ ان دونوں قسم کے پانیوں سے تم تروتازہ گوشت کھاتے ہو اور اس لحم سے مراد مچھلی ہے، تو مچھلی کو لحم کہا گیا ہے قرآن میں اور اے صاحب ہدایہ! آپ فرما رہے ہیں کہ مچھلی گوشت نہیں ہے؟ تو اس کا جواب بھی دیں گے صاحب ہدایہ کہ قرآن میں بھی جو مچھلی کو لحم کہا گیا ہے وہ مجازاً کہا گیا ہے حقیقت میں وہ لحم نہیں ہے اور نیز قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے اور عرف کے اندر تو مچھلی کو گوشت نہیں کہا جاتا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، یہ اس قال سے مراد امام محمد ہیں، قَالَ امام محمد رحمہ اللہ جامعِ صغیر میں فرماتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ لَحْمًا اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ گوشت نہیں کھائے گا فَأَكَلَ لَحْمَ السَّمَكِ تو اس نے مچھلی کا گوشت کھا لیا لَا يَحْنَثُ تو یہ حانث نہیں ہو گا، وَالْقِيَاسُ أَنْ يَحْنَثَ اور قیاس تو یہ ہے کہ یہ حانث ہو جائے لِأَنَّهُ يُسَمَّى لَحْمًا فِي الْقُرْآنِ اس لیے کیونکہ اس کو لحم کہا گیا ہے قرآن میں، وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ أَنَّ التَّسْمِيَةَ مَجَازِيَّةٌ کہ یہ نام جو ہے مجازی ہے، قرآن میں اس کا یہ جو نام رکھا گیا ہے یہ مجازی ہے لِأَنَّ اللَّحْمَ مَنْشَؤُهُ مِنَ الدَّمِ، مَنْشَأٌ کا معنی ہے پیدائش، لِأَنَّ اللَّحْمَ مَنْشَؤُهُ مِنَ الدَّمِ اس لیے کیونکہ گوشت جو ہے اس کی پیدائش خون سے ہوتی ہے وَلَا دَمَ فِيهِ اور مچھلی کے اندر خون نہیں ہوتا لِسُكُونِهِ فِي الْمَاءِ پانی میں رہنے کی وجہ سے۔ سَكَنَ يَسْكُنُ سُكُونًا کا کیا معنی ہے؟ رہنا، لِسُكُونِهِ فِي الْمَاءِ پانی میں رہنے کی وجہ سے۔ اور یہ بھی یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے اور عرف کے اندر مچھلی کے گوشت کو گوشت نہیں کہا جاتا لیکن اگر کوئی عرف ایسا ہے کہ وہاں مچھلی کے گوشت کو گوشت کہتے ہیں تو پھر وہاں مچھلی کھانے سے وہ حانث ہو جائے گا کیونکہ قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے۔ وَإِنْ أَكَلَ لَحْمَ خِنْزِيرٍ أَوْ لَحْمَ إِنْسَانٍ يَحْنَثُ، اور اگر اس شخص نے خنزیر کا یا انسان کا گوشت کھا لیا، خنزیر کا گوشت بھی حرام، انسان کا گوشت بھی حرام لیکن خنزیر کا گوشت اس کے نجس ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور انسان کا گوشت اس کے معزز ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ تو فقہاء پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں ہوں بھئی ایک ایک صورت ذکر فرما دی چاہے احتمالی صورت ہی کیوں نہ ہو لیکن اس کا حکم ہمیں بتلا دیا کہ اگر یہ مسئلہ پیش آیا تو اس کا یہ حکم ہو گا، اب حالانکہ مسلمان کے لیے خنزیر کا یا انسان کا گوشت کھانا یہ تو بڑی بعید بات ہے بھئی لیکن پھر بھی ذکر کر دیا کہ اس کا حکم کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ أَكَلَ لَحْمَ خِنْزِيرٍ أَوْ لَحْمَ إِنْسَانٍ يَحْنَثُ اور اگر اس شخص نے خنزیر یا انسان کا گوشت کھا لیا يَحْنَثُ تو یہ حانث ہو جائے گا لِأَنَّهُ لَحْمٌ حَقِيقِيٌّ اس لیے کیونکہ یہ بھی حقیقی گوشت ہے إِلَّا أَنَّهُ حَرَامٌ مگر یہ کہ یہ حرام ہے، وَالْيَمِينُ قَدْ تُعْقَدُ لِلْمَنْعِ مِنَ الْحَرَامِ اور قسم بھی کبھی کبھار اپنے آپ کو حرام سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے تو اگر یہ حرام بھی ہے تو اس سے تو قسم پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا، قسم بھی کبھی کبھار حرام سے اپنے آپ کو روکنے کے لیے بھی کھائی جاتی ہے تو لہذا اس کو کھائے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ لیکن یاد رکھو متن کے اندر تو یہ آیا لیکن فقہاء فرماتے ہیں صحیح قول یہ ہے کہ خنزیر یا انسان کا گوشت کھانے سے وہ قسم کھانے والا حانث نہیں ہو گا۔ ان کا حرام ہونا اپنی جگہ ہے وہ الگ گناہ ہے اس کی بات نہیں ہو رہی، بات یہ ہے کہ ان کے کھانے سے حانث ہو گا یا نہیں اس نے جو قسم کھائی ہے تو اب اس پر کفارہ آئے گا یا نہیں، تو صحیح قول یہی ہے کہ خنزیر یا انسان کا گوشت کھانے سے وہ قسم کھانے والا حانث نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے اور عرف کے اندر گوشت سے خنزیر یا انسان کا گوشت مراد نہیں لیا جاتا کیونکہ یہ حرام ہے یہ کھایا ہی نہیں جاتا، اور یہ اسی طرح ہے جیسے کچا گوشت، ایک آدمی قسم کھا لے واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور پھر اس نے بکری کا کچا گوشت تھوڑا سا کھا لیا تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ گوشت کھانے سے عرف میں پکا ہوا گوشت کھانا مراد لیا جاتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا أَكَلَ كَبِدًا أَوْ كَرِشًا، كَبِدٌ، کبد کہتے ہیں کلیجی کو اور كَرِشٌ کہتے ہیں اوجھڑی کو، اوجھڑی۔ تو اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور پھر اس نے کلیجی کھا لی یا اوجھڑی کھا لی تو کیا حانث ہو گا یا نہیں؟ تو اس میں متن میں آپ کو بتلائیں گے کہ اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا اس لیے کیونکہ کبد اور کرش بھی حقیقت میں گوشت ہی ہیں اس لیے کیونکہ یہ بھی خون سے بنتے ہیں اور ان کو بھی گوشت کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور پکایا جاتا ہے۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ہمارے عرف میں وہ حانث نہیں ہو گا اور ہمارے ہاں برصغیر کے اندر بھی یہی رائج ہے، یہی رائج ہے گوشت کے لفظ سے کلیجی اور اوجھڑی مراد نہیں لی جاتی ان کو الگ شمار کیا جاتا ہے، لہذا گوشت کی قسم کھائی ہے تو کلیجی یا اوجھڑی کھانے سے وہ شخص حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا أَكَلَ كَبِدًا أَوْ كَرِشًا اور اسی طرح ہو گا یعنی حانث ہو جائے گا جب اس شخص نے کلیجی کھائی أَوْ كَرِشًا یا اس نے اوجھڑی کھائی لِأَنَّهُ لَحْمٌ حَقِيقَةً اس لیے کیونکہ یہ بھی حقیقت میں گوشت ہیں فَإِنَّ نُمُوَّهُ مِنَ الدَّمِ اس لیے کیونکہ ان کی افزائش بھی خون سے ہوتی ہے وَيُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَ اللَّحْمِ اور ان کو گوشت کی طرح استعمال کیا جاتا ہے، وَقِيلَ اور کہا گیا ہے بعض فقہاء فرماتے ہیں: فِي عُرْفِنَا لَا يَحْنَثُ کہ ہمارے عرف میں وہ شخص حانث نہیں ہو گا جس نے گوشت نہ کھانے کی قسم کھائی ہے اور پھر وہ کلیجی یا اوجھڑی کھا لیتا ہے تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ لَا يُعَدُّ لَحْمًا اس لیے کیونکہ ان کو گوشت شمار نہیں کیا جاتا۔ قَالَ: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ أَوْ لَا يَشْتَرِي شَحْمًا۔ اب بھئی شحم کا ذکر آیا، شَحْمٌ، شحم جو ہے چربی کو کہتے ہیں اور آپ کو صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ چربی کی تین قسمیں ہیں: ایک وہ چربی ہے جو حیوان کے پیٹ پر ہوتی ہے، گائے وغیرہ یا بکری ذبح کی تو اس کے پیٹ میں جو چربی ہے وہ ایک قسم ہے، تو یہ جو پیٹ کی جانب چربی ہے تو یہ زیادہ تر چربی ہی ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم ہے چربی کی جو کمر کی جانب یعنی پشت کی جانب ہو اور اس میں یاد رکھو اس میں زیادہ تر گوشت ہوتا ہے البتہ تھوڑی سی مقدار چربی کی بھی ہوتی ہے، اور تیسری قسم کی چربی وہ ہے وہ جو دنبے کے اندر آپ نے دیکھا ہو گا دنبے کی بڑی دم ہوتی ہے بھئی اور وہ چربی سے بھری ہوئی ہوتی ہے تو وہ تیسری قسم ہے چربی کی بھئی۔ لہذا ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ چربی نہیں خریدے گا تو پھر کس صورت میں یہ حانث ہو گا؟ تو کہتے ہیں یہ اس سے مراد پیٹ کی چربی ہو گی، پیٹ کی چربی کو اگر یہ خریدے گا تو یہ حانث ہو جائے گا، اگر کمر کی چربی کو خریدا تو یہ حانث نہیں کیونکہ اس میں گوشت زیادہ ہے اس کو گوشت ہی شمار کیا جاتا ہے چربی شمار ہی نہیں کرتے، اور جبکہ دنبے کی جو دم کی چربی ہے وہ الگ قسم ہے اس کو بھی خریدے گا تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ تو اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ میں چربی نہیں خریدوں گا تو صرف اس گائے بکری وغیرہ کے پیٹ کی چربی اس سے مراد ہو گی۔ قَالَ امام محمد رحمہ اللہ جامعِ صغیر میں فرماتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ أَوْ لَا يَشْتَرِي شَحْمًا اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ نہیں کھائے گا یا نہیں خریدے گا شَحْمًا چربی کو لَمْ يَحْنَثْ إِلَّا فِي شَحْمِ الْبَطْنِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا مگر صرف پیٹ کی چربی میں امام صاحب کے نزدیک، اس کو خریدے گا یا کھائے گا تو حانث ہو جائے گا۔ وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: يَحْنَثُ فِي شَحْمِ الظَّهْرِ أَيْضًا کہ یہ شخص کمر کی چربی کے اندر بھی حانث ہو جائے گا وَهُوَ اللَّحْمُ السَّمِينُ، سَمِينٌ بھئی، سَمِينٌ سِمَنٌ سے ہے اور سمن چربی کو کہتے ہیں، وَهُوَ اللَّحْمُ السَّمِينُ اور یہ جو کمر کی چربی ہے یہ چربی والا گوشت ہے تو اس میں بھی کیا ہے؟ چربی ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں يَحْنَثُ فِي شَحْمِ الظَّهْرِ أَيْضًا کہ پشت کی چربی خریدنے یا کھانے کی صورت میں بھی یہ شخص حانث ہو جائے گا وَهُوَ اللَّحْمُ السَّمِينُ اور وہ جو کمر کی چربی جو ہے وہ بھی چربی والا گوشت ہے لِوُجُودِ خَاصِّيَّةِ الشَّحْمِ فِيهِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر بھی چربی کی خاصیت پائی جاتی ہے یعنی چربی کی صفت پائی جاتی ہے وَهُوَ الذَّوْبُ بِالنَّارِ۔ ذَابَ يَذُوبُ ذَوْبًا کا معنی ہے پگھلنا، وَهُوَ الذَّوْبُ بِالنَّارِ اور وہ آگ سے پگھلنا ہے، چربی کی صفت ہے وہ آگ پر پگھل جاتی ہے اور کمر کی جو چربی ہے اس میں بھی یہی صفت موجود ہے تو وہ بھی چربی ہے، تو اس کو بھی کھانے سے یا خریدنے سے یہ شخص حانث ہو جائے گا یہ صاحبین فرماتے ہیں۔ وَلَهُ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی وہ فرماتے ہیں کہ أَنَّهُ لَحْمٌ حَقِيقَةً کہ جو کمر کی چربی ہے وہ حقیقت میں گوشت ہے أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَنْشَأُ مِنَ الدَّمِ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ یہ بھی خون سے پیدا ہوتی ہے وَيُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَهُ اور اس کو بھی گوشت کی طرح استعمال کیا جاتا ہے وَيَحْصُلُ بِهِ قُوَّتُهُ اور اس چربی کے ذریعے یہ جو کمر کی چربی ہے اس کے ذریعے گوشت کی قوت حاصل ہوتی ہے، وَلِهَذَا يَحْنَثُ بِأَكْلِهِ فِي الْيَمِينِ عَلَى أَكْلِ اللَّحْمِ اور اسی وجہ سے کوئی شخص حانث ہو جائے گا بِأَكْلِهِ اس کے کھا لینے سے فِي الْيَمِينِ عَلَى أَكْلِ اللَّحْمِ گوشت کھانے کی قسم پر۔ بھئی دیکھیے صورت یہ: امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، امام صاحب فرماتے ہیں یہ جو کمر کی چربی ہے یہ دراصل گوشت ہی ہے کیونکہ یہ خون سے ہی بنتی ہے اور اس کو گوشت کی طرح ہی استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے گوشت کی طرح ہی بدنِ انسانی کو قوت حاصل ہوتی ہے، اور نیز اسی وجہ سے اگر کوئی شخص قسم اٹھا لے کہ واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور پھر اس کمر کی چربی کو کھا لے تو بالاتفاق سب کے نزدیک یہ حانث ہو جائے گا، معلوم ہوا اس کمر کی چربی کا حکم گوشت والا ہے۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص کہتا ہے کہ واللہ میں چربی نہیں بیچوں گا اور پھر یہ کمر کی چربی بیچتا ہے تو بالاتفاق یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہ چربی گوشت کے حکم میں ہے اور اس نے کیا قسم کھائی ہے؟ میں چربی نہیں بیچوں گا، اور کمر کی چربی اس کو تو گوشت سمجھا جاتا ہے تو کمر کی چربی بیچنے سے یہ حانث نہیں ہو گا، ان سب چیزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کمر کی جو چربی ہے اس کا حکم چربی والا نہیں بلکہ گوشت والا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا يَحْنَثُ اور اسی وجہ سے وہ شخص حانث ہو جائے گا بِأَكْلِهِ اس کمر کی چربی کو کھانے سے فِي الْيَمِينِ عَلَى أَكْلِ اللَّحْمِ اس قسم کے اندر جو گوشت کے کھانے پر کھائی جائے، ایک شخص گوشت کے کھانے پر قسم کھاتا ہے کہ واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا تو وہ اس کمر کی چربی کو کھانے سے حانث ہو جائے گا معلوم ہوا اس کا حکم گوشت والا ہے، وَلَا يَحْنَثُ بِبَيْعِهِ اور اسی طرح کوئی شخص جو ہے وہ حانث نہیں ہوتا ہے بِبَيْعِهِ اس کمر کی چربی کو بیچنے سے فِي الْيَمِينِ عَلَى بَيْعِ الشَّحْمِ اس قسم کے اندر جو چربی بیچنے پر ہو، ایک آدمی قسم کھاتا ہے واللہ میں چربی نہیں بیچوں گا اور پھر کمر کی چربی بیچتا ہے تو حانث نہیں کیونکہ اس کو گوشت ہی سمجھا جاتا ہے یہ چربی ہے ہی نہیں یہ گوشت ہے۔ وَقِيلَ هَذَا بِالْعَرَبِيَّةِ اور کہا گیا ہے کہ یہ عربی میں ہے، عربی زبان کے اندر یہ جو پیٹ کی چربی ہے اس کو تو چربی سمجھا جاتا ہے لیکن کمر کی چربی کو چربی نہیں سمجھا جاتا تو یہ صرف عربی کے اندر ایسا ہے، تو کہتے ہیں: وَقِيلَ هَذَا بِالْعَرَبِيَّةِ کہ یہ صرف عربی زبان میں ہے فَأَمَّا اسْمُ پَيِهْ بِالْفَارِسِيَّةِ لَا يَقَعُ عَلَى شَحْمِ الظَّهْرِ بِحَالٍ۔ پَيِهْ بھئی پَيِهْ، پ پر زبر ہے اور ی کے نیچے زیر ہے اور پھر گول ہا ہے: فَأَمَّا اسْمُ پَيِهْ یہ فارسی لفظ ہے، پیہ فارسی زبان میں پیٹ کی چربی کو کہتے ہیں اور یہ لفظ کمر کی چربی پر بولا ہی نہیں جاتا، تو معلوم ہوا اس کا حکم عربی زبان والا نہیں ہے، تو کہتے ہیں: فَأَمَّا اسْمُ پَيِهْ بِالْفَارِسِيَّةِ اور باقی پیہ کا اسم جو ہے فارسی زبان میں لَا يَقَعُ عَلَى شَحْمِ الظَّهْرِ بِحَالٍ یہ کسی بھی حال میں کمر کی چربی پر واقع نہیں ہوتا، کمر کی چربی کے لیے پیہ کا لفظ کبھی بھی فارسی زبان میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَشْتَرِي أَوْ لَا يَأْكُلُ لَحْمًا أَوْ شَحْمًا فَاشْتَرَى أَلْيَةً أَوْ أَكَلَهَا لَمْ يَحْنَثْ۔ أَلْيَةٌ بھئی أَلْيَةٌ، وہ جو دنبے کی بڑی دم ہے چربی والی تو وہ جو دنبے کی بڑی دم ہے اس کو أَلْيَةٌ کہتے ہیں بھئی۔ تو اب صورت یہ ہے ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ وہ گوشت یا چربی نہیں خریدے گا یا واللہ وہ گوشت یا چربی نہیں کھائے گا پھر اس شخص نے وہ دنبے کی وہ دم جو ہے چربی والی اس کو خریدا یا اس کو کھایا تو یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہ گوشت بھی نہیں ہے اور عام چربی بھی نہیں ہے یہ تیسری قسم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَشْتَرِي أَوْ لَا يَأْكُلُ لَحْمًا أَوْ شَحْمًا اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ نہیں خریدے گا یا نہیں کھائے گا لَحْمًا أَوْ شَحْمًا گوشت یا چربی کو فَاشْتَرَى أَلْيَةً تو پھر اس نے وہ دنبے کی وہ دم والی چربی خریدی أَوْ أَكَلَهَا یا اس کو کھا لیا لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ نَوْعٌ ثَالِثٌ اس لیے کیونکہ یہ جو الیہ ہے یہ ایک تیسری قسم ہے حَتَّى لَا يُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَ اللُّحُومِ وَالشُّحُومِ۔ حَتَّى لَا يُسْتَعْمَلُ یہاں پر بھی يُسْتَعْمَلُ پر ضمہ پڑھیں گے، یہاں یہ حَتَّى نصب نہیں دے گا کیونکہ یہ حَتَّى کا مابعد حَتَّى کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل نہیں ہے، تو حَتَّى لَا يُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَ اللُّحُومِ وَالشُّحُومِ یہاں تک کہ یہ جو دم کی جو چربی ہے اس کو گوشت اور چربی کی طرح استعمال نہیں کیا جاتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ الْحِنْطَةِ لَمْ يَحْنَثْ حَتَّى يَقْضِمَهَا، وَلَوْ أَكَلَ مِنْ خُبْزِهَا لَمْ يَحْنَثْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں یہ گندم نہیں کھاؤں گا، کسی معین گندم کی طرف اشارہ کیا کہ واللہ میں یہ گندم نہیں کھاؤں گا، تو اب اس کلام کا ایک حقیقی معنی ہے اور ایک اس کا مجازی معنی ہے: حقیقی معنی یہ ہے کہ میں عین یہ گندم کے دانے نہیں کھاؤں گا، اور گندم کے دانے بھی ان کو بھی ابال کر یا بھون کر کبھی ایسے ہی چبا کر کھایا جاتا ہے، اور ایک اس کلام کا مجازی معنی ہے اس نے کیا کہا ہے واللہ میں یہ گندم نہیں کھاؤں گا تو اس کی مراد یہ ہے کہ میں اس گندم کی روٹی نہیں کھاؤں گا اور یہ اس کا مجازی معنی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، تو گندم کو عام طور پر پیس کر روٹی بنا کر کھایا جاتا ہے۔ تو یاد رکھو امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر حقیقت مستعمل ہوتی ہے یعنی حقیقی معنی استعمال ہوتا ہے اس پر لوگ عمل کرتے ہیں تو وہ اولیٰ ہے مجاز کے مقابلے میں چاہے مجاز مشہور ہی کیوں نہ ہو۔ اب دیکھیے گندم کو ویسے بھی کھایا جاتا ہے ابال کر یا بھون کر اور روٹی بنا کر بھی کھایا جاتا ہے، ابال کر یا بھون کر کھائے گا چبا کر کھائے گا تو یہ اس کا حقیقی معنی ہے اور روٹی بنا کر کھائے گا تو اس کا مجازی معنی ہے، اور مجھے بتائیے کس طریقے سے گندم کو زیادہ کھایا جاتا ہے؟ روٹی بنا کر، معلوم ہوا یہ جو مجاز ہے یہ مجازِ متعارف ہے یعنی مشہور ہے، اس کا یہ گندم کھانے کا یہ معنی مشہور ہے متعارف ہے لوگوں کے اندر، تو امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ حقیقت جب مستعمل ہو رہی ہے تو چاہے اس کے مقابلے میں مجازِ متعارف ہی کیوں نہ ہو پھر بھی حقیقی معنی اولیٰ ہے حقیقی معنی پر ہی عمل کیا جائے گا مجازی معنی کی طرف ہم نہیں جائیں گے، لہذا یہ شخص عین اسی گندم کو کھائے بھون کر یا ابال کر اور پھر چبا کر کھائے تو پھر حانث ہو گا، اس گندم کی بنی ہوئی روٹی کھائے تو پھر حانث نہیں ہو گا کیونکہ وہ مجازی معنی ہے اور ہم نے حقیقی معنی مراد لے لیا۔ ہم نے حقیقی معنی مراد لے لیا جبکہ صاحبین کے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ اگر ایک طرف حقیقتِ مستعملہ ہے اور دوسری طرف مجازِ متعارف ہے یعنی حقیقت بھی استعمال ہوتی ہے لیکن وہ قلیل ہے اور مجاز بھی استعمال ہوتا ہے لیکن وہ متعارف ہے مشہور ہے زیادہ استعمال ہوتا ہے تو اس صورت میں صاحبین کا ضابطہ یہ ہے کہ پھر عمومِ مجاز پر عمل کیا جائے گا۔ کس پر؟ عمومِ مجاز۔ عمومِ مجاز اسے کہتے ہیں کہ لفظ کا کوئی ایسا مجازی معنی مراد لے لیا جائے کہ حقیقت بھی اسی کے اندر داخل ہو جائے، حقیقت بھی اسی کے اندر داخل ہو جائے، تو گویا چاہے وہ حقیقی معنی پر عمل کرے پھر بھی حانث ہو گا چاہے مجازی معنی پر عمل کرے پھر بھی حانث ہو گا، تو صاحبین کے نزدیک چاہے اسی گندم کو بھون کر اور ابال کر چبا کر کھائے پھر بھی حانث ہو جائے گا اور اس کی روٹی بنا کر کھائے تو بھی حانث ہو جائے گا۔ تو عمومِ مجاز سمجھ میں آیا کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ کا کوئی ایسا مجازی معنی کیا جائے کہ حقیقی معنی بھی اس کے اندر ہی داخل ہو جائے۔ تو صاحبین کے نزدیک یہاں حقیقتِ مستعملہ بھی ہے اور دوسری طرف مجازِ متعارف بھی ہے تو اس صورت میں عمومِ مجاز پر عمل کرتے ہیں، اور عمومِ مجاز یہ ہے کہ جس طریقے سے بھی وہ اس گندم کو کھا لے گا استعمال کر لے گا تو یہ حانث ہو جائے گا چاہے اسی طرح چبا کر کھائے چاہے روٹی بنا کر کھائے، بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک حقیقتِ مستعملہ وہ اولیٰ ہے مجازِ متعارف کے مقابلے میں تو حقیقتِ مستعملہ وہ غالب ہو گی اور اسی کا اعتبار کیا جائے گا اور مجاز کا اعتبار نہیں ہو گا امام صاحب کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ الْحِنْطَةِ اور جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس گندم میں سے نہیں کھائے گا لَمْ يَحْنَثْ حَتَّى يَقْضِمَهَا تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا یہاں تک کہ اس کو چبا کر کھا لے۔ قَضِمَ يَقْضِمُ ض کے ساتھ، اس کے معنی ہیں دانتوں سے چبا کر کسی چیز کو کھانا، تو کہتے ہیں: لَمْ يَحْنَثْ حَتَّى يَقْضِمَهَا تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا یہاں تک کہ اس گندم کے دانوں کو چبا کر کھا لے، وَلَوْ أَكَلَ مِنْ خُبْزِهَا لَمْ يَحْنَثْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اگر اس شخص نے اس گندم کی روٹی کھا لی لَمْ يَحْنَثْ تو حانث نہیں ہو گا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے کیونکہ حقیقتِ مستعملہ اولیٰ ہے مجازِ متعارف کے مقابلے میں تو حقیقی معنی ہی مراد لیں گے، تو اسی گندم کو چبا کر کھائے گا تو حانث ہو گا روٹی بنا کر کھائے گا تو حانث نہیں کیونکہ وہ مجازی معنی ہے۔ وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: إِنْ أَكَلَ مِنْ خُبْزِهَا حَنِثَ أَيْضًا کہ اگر اس شخص نے اس گندم کی روٹی کھا لی حَنِثَ أَيْضًا تو پھر بھی حانث ہو جائے گا۔ پھر بھی حانث ہو جائے گا معلوم ہوا گندم کو چبا کر کھائے گا پھر بھی حانث اور روٹی بنا کر کھائے گا پھر بھی حانث ہو جائے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: إِنْ أَكَلَ مِنْ خُبْزِهَا حَنِثَ أَيْضًا کہ اگر یہ اس کی روٹی کھائے گا تو پھر بھی حانث ہو جائے گا لِأَنَّهُ مَفْهُومٌ مِنْهُ عُرْفًا اس لیے کیونکہ یہی معنی مفہوم ہوتا ہے اس سے عُرْفًا عرف کے اعتبار سے، گندم کھانے سے عرف کے اندر روٹی کھانا ہی مراد لیا جاتا ہے یہ معنی زیادہ مشہور ہے بھئی، تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مَفْهُومٌ مِنْهُ عُرْفًا اس لیے کیونکہ اس کلام سے روٹی کھانے کا معنی ہی مفہوم ہوتا ہے عرف کے اعتبار سے۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ لَهُ حَقِيقَةً مُسْتَعْمَلَةً کہ اس گندم کھانے کی ایک حقیقتِ مستعملہ بھی ہے فَإِنَّهَا تُغْلَى وَتُقْلَى وَتُؤْكَلُ قَضْمًا۔ فَإِنَّهَا تُغْلَى، غَلَى يَغْلِي غَلْيًا کا معنی ہے ابالنا، اور تُقْلَى، قَلَى يَقْلِي قَلْيًا کا معنی ہے بھوننا آگ پر کسی چیز کو بھوننا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ أَنَّ لَهُ حَقِيقَةً مُسْتَعْمَلَةً کہ اس گندم کھانے کی حقیقتِ مستعملہ بھی ہے فَإِنَّهَا تُغْلَى وَتُقْلَى اس لیے کیونکہ اس گندم کو ابالا جاتا ہے وَتُقْلَى اور بھونا جاتا ہے وَتُؤْكَلُ قَضْمًا اور اس کو چبا کر کھایا جاتا ہے، وَهِيَ قَاضِيَةٌ عَلَى الْمَجَازِ الْمُتَعَارَفِ عَلَى مَا هُوَ الْأَصْلُ عِنْدَهُ۔ وَهِيَ قَاضِيَةٌ، بھئی قَضَى يَقْضِي کے ساتھ جب اس کا صلہ عَلَى آ جائے، قَضَيْتُ عَلَى زَيْدٍ تو اس کا ایک معنی یہ ہے میں نے زید کے خلاف فیصلہ کیا، قَضَيْتُ عَلَى زَيْدٍ یہ عَلَى ضرر اور نقصان کے لیے آتا ہے، قَضَيْتُ عَلَى زَيْدٍ میں نے زید کے خلاف فیصلہ کیا، اور کبھی جب قضا کے ساتھ عَلَى صلہ آئے تو اس کے معنی ختم کرنا اور فنا کرنے کے ہیں: قَضَيْتُ عَلَى الشَّيْءِ میں نے اس شے کو ختم کر دیا فنا کر دیا، تو یہاں پر بھی قَاضِيَةٌ کا صلہ عَلَى آ رہا ہے عَلَى الْمَجَازِ الْمُتَعَارَفِ تو یہاں پر بھی وہ فنا کرنے اور ختم کرنے والا معنی کر لیں گے: وَهِيَ قَاضِيَةٌ عَلَى الْمَجَازِ الْمُتَعَارَفِ اور یہ جو حقیقتِ مستعملہ ہے یہ ختم کرنے والی ہے مجازِ متعارف کو، یہ مجازِ متعارف کو ختم کرنے والی ہے یعنی یوں کہو حقیقتِ مستعملہ غالب ہے مجازِ متعارف پر، یہ غالب ہے، تو کہتے ہیں: وَهِيَ قَاضِيَةٌ عَلَى الْمَجَازِ الْمُتَعَارَفِ اور حقیقتِ مستعملہ جو ہے وہ غالب ہوتی ہے مجازِ متعارف پر عَلَى مَا هُوَ الْأَصْلُ عِنْدَهُ اس وجہ سے جو ضابطہ ہے امام صاحب کے نزدیک، امام صاحب کے نزدیک حقیقتِ مستعملہ چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہے لیکن وہ مجازِ متعارف پر غالب ہوتی ہے۔ وَلَوْ قَضِمَهَا حَنِثَ عِنْدَهُمَا اور اگر اس شخص نے اس گندم کے دانوں کو چبا کر کھایا حَنِثَ عِنْدَهُمَا تو بھی حانث ہو جائے گا صاحبین کے نزدیک، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، میں نے آپ کو بتلایا صاحبین کون سا معنی مراد لیتے ہیں؟ عمومِ مجاز کہ حقیقت بھی اس کے اندر داخل ہو جائے تو روٹی کھائے تب بھی حانث اور گندم کو چبا کر کھائے تب بھی حانث۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَضِمَهَا حَنِثَ عِنْدَهُمَا تو اگر یہ شخص اس گندم کو چبا کر کھائے گا تو بھی حانث ہو جائے گا صاحبین کے نزدیک هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے لِعُمُومِ الْمَجَازِ عمومِ مجاز کی وجہ سے، كَمَا إِذَا حَلَفَ جیسے کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ لَا يَضَعُ قَدَمَهُ فِي دَارِ فُلَانٍ کہ وہ فلاں کے گھر میں قدم نہیں رکھے گا۔ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں فلاں کے گھر قدم نہیں رکھوں گا تو اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ وہ ننگے پاؤں اس کے گھر میں قدم رکھے اور اس کا مجازی معنی یہ ہے کہ وہ اس کے اندر اس کے گھر میں جوتے پہن کر قدم رکھے یا سواری کے ساتھ قدم رکھے، تو یہاں پر صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں دیکھو بالاتفاق عمومِ مجاز مراد لیا جاتا ہے، اور عمومِ مجاز کسے کہتے ہیں؟ ایسا عام مجازی معنی مراد لے لیا جائے کہ حقیقت بھی اس میں داخل ہو جائے، تو یہاں قدم رکھنے کا معنی کر لیں گے داخل ہونا کیونکہ عرف میں قدم رکھنے کا کیا معنی کیا جاتا ہے؟ داخل ہونا، کوئی آدمی کہتا ہے میں فلاں کے گھر قدم نہیں رکھوں گا اس کا مطلب میں فلاں کے گھر نہیں جاؤں گا میں اس کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا، تو یہاں پر بھی داخل ہونا اس کا معنی ہم کر لیں گے اور داخل ہونا یہ تو قدم رکھنے کا حقیقی معنی نہیں ہے، یہ تو اس کا حقیقی معنی نہیں تو یہ مجازی معنی ہے لیکن یہ اس میں عمومِ مجاز ہے یہ ایسا مجازی معنی ہے کہ حقیقت بھی اس میں داخل ہو گئی اور مجازی معنی بھی داخل ہو گیا لہذا ننگے پاؤں قدم رکھے تب بھی یہ گھر کے اندر داخل ہو گیا تو حانث ہو جائے گا اور جوتے پہن کر یا سواری کے ساتھ قدم رکھے تب بھی حانث ہو جائے گا کہ یہ داخل ہو گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا حَلَفَ جیسے ایک شخص نے قسم اٹھائی لَا يَضَعُ قَدَمَهُ فِي دَارِ فُلَانٍ کہ وہ قدم نہیں۔ رکھے گا فلاں کے گھر میں۔ وَإِلَيْهِ الْإِشَارَةُ بِقَوْلِهِ فِي الْخُبْزِ حَنِثَ أَيْضًا، اور کہتے ہیں اسی بات کی طرف اشارہ ہے امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کے ذریعے کہ فِي الْخُبْزِ حَنِثَ أَيْضًا کہ روٹی میں بھی وہ حانث ہو جائے گا۔ اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ إِنْ أَكَلَ مِنْ خُبْزِهَا حَنِثَ أَيْضًا، روٹی کھانے سے بھی یہ حانث ہو جائے گا۔ تو یہاں روٹی کھانے سے بھی حانث ہو جائے گا یہ بھی کا لفظ بتلا رہا ہے کہ چبا کر کھائے گا تب بھی حانث ہو جائے گا، معلوم ہوا عمومِ مجاز مراد لیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: وَإِلَيْهِ الْإِشَارَةُ بِقَوْلِهِ فِي الْخُبْزِ حَنِثَ أَيْضًا اور امام محمد رحمہ اللہ کا اوپر متن میں جو قول آیا تھا کہ فِي الْخُبْزِ حَنِثَ أَيْضًا اس سے بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے یعنی عمومِ مجاز کی طرف اشارہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذَا الدَّقِيقِ فَأَكَلَ مِنْ خُبْزِهِ حَنِثَ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس آٹے میں سے نہیں کھاؤں گا، دَقِيقٌ جو ہے آٹے کو کہتے ہیں، کہ واللہ میں اس آٹے میں سے نہیں کھاؤں گا پھر اس نے اسی آٹے کی بنی ہوئی روٹی کھا لی تو کہتے ہیں حانث ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ آٹے کو کھایا ہی اسی طرح جاتا ہے اس کو ویسے نہیں کھایا جاتا بلکہ روٹی وغیرہ بنا کر ہی اس کو کھایا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذَا الدَّقِيقِ اگر کسی شخص نے قسم کھا لی کہ وہ اس آٹے میں سے نہیں کھائے گا فَأَكَلَ مِنْ خُبْزِهِ تو اس نے اس کی روٹی میں سے کھا لیا حَنِثَ تو یہ بالاتفاق حانث ہو جائے گا لِأَنَّ عَيْنَهَا غَيْرُ مَأْكُولٍ اس لیے کیونکہ عین آٹے کی ذات جو ہے وہ تو غیر ماکول ہے اس کو ویسے نہیں کھایا جاتا فَانْصَرَفَ إِلَى مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ تو یہ قسم پلٹ جائے گی اس چیز کی طرف جو اس آٹے سے بنائی جاتی ہے، تو آٹے سے بنائی ہوئی چیز کھانے سے وہ حانث ہو جائے گا۔ وَلَوِ اسْتَفَّهُ كَمَا هُوَ لَا يَحْنَثُ۔ اسْتَفَّ يَسْتَفُّ اسْتِفَافًا کا معنی ہے سفوف وغیرہ کو پھانکنا، سفوف وغیرہ کو پھانکنا اور نگلنا۔ تو یہ اسْتَفَّ یہ یاد رکھو اس کا مادہ ہے س، ف، ف۔ تو یہ بابِ استفعال نہ سمجھیے گا بھئی یہ بابِ افتعال ہے، یہ س اس کا اصلی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوِ اسْتَفَّهُ اور اگر اس شخص نے اسی آٹے کو پھانک لیا كَمَا هُوَ جیسے کہ وہ ہے یعنی آٹا جیسا ہے اسی طرح اس کو پھانک لیا لَا يَحْنَثُ تو یہ حانث نہیں ہو گا هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے لِتَعَيُّنِ الْمَجَازِ مُرَادًا اس لیے کیونکہ اس سے مجاز ہی مراد ہو کر متعین ہے، کیونکہ اس کو روٹی وغیرہ کی شکل میں ہی کھایا جاتا ہے تو وہی مجازی معنی متعین ہو گیا۔ تو لہذا جب مجازی معنی متعین ہو گیا اب حقیقی معنی پر وہ عمل کر بھی لے تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہاں حقیقی معنی مراد ہی نہیں ہے، یہ معنی ہے: لِتَعَيُّنِ الْمَجَازِ مُرَادًا اس لیے کیونکہ مجاز جو ہے وہی متعین ہے مراد ہو کر۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ خُبْزًا فَيَمِينُهُ عَلَى مَا يَعْتَادُ أَهْلُ الْمِصْرِ أَكْلَهُ خُبْزًا۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں روٹی نہیں کھاؤں گا تو اس سے کون سی روٹی مراد لیں گے؟ کہتے ہیں اس علاقے کے اندر، اس شہر والوں کے ہاں عادتاً عام طور پر جو روٹی کھائی جاتی ہے وہی روٹی مراد لیں گے، لہذا اگر اس نے کوئی خاص الگ قسم کی میٹھی روٹی وغیرہ کھا لی تو پھر اس صورت میں یہ حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ خُبْزًا کہ اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ روٹی نہیں کھائے گا فَيَمِينُهُ عَلَى مَا يَعْتَادُ أَهْلُ الْمِصْرِ تو اس کی قسم اس چیز پر ہو گی جو اس شہر والوں کے ہاں معتاد ہو، اس شہر والوں کو جس چیز کی عادت ہو أَكْلَهُ اس کے کھانے کی خُبْزًا بطور روٹی کے۔ تو شہر والوں کو جس چیز کے بطور روٹی کے کھانے کی عادت ہو وہی چیز اس سے مراد لی جائے گی، وہ چیز یہ کھائے گا تو حانث ہو جائے گا، وَذَلِكَ خُبْزُ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ اور وہ گندم اور جو کی روٹی ہے لِأَنَّهُ هُوَ الْمُعْتَادُ فِي غَالِبِ الْبُلْدَانِ اس لیے کیونکہ یہی روٹی جو ہے معتاد ہے اکثر شہروں میں یعنی اسی قسم کی روٹی کھائی جاتی ہے۔ وَلَوْ أَكَلَ مِنْ خُبْزِ الْقَطَائِفِ اور اگر اس نے قطائف کی روٹی کھا لی، قطائف کوئی خاص قسم کی روٹی ہے جس میں مختلف چیزیں ملائی جاتی ہیں اور میٹھی روٹی ہوتی ہے یہ، تو اگر اس نے قطائف کی روٹی کھا لی تو لَا يَحْنَثُ یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى خُبْزًا مُطْلَقًا اس لیے کیونکہ اس کو خبزِ مطلق نہیں کہتے، مطلقاً روٹی کا لفظ بولا جائے تو اس سے قطائف روٹی مراد نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى خُبْزًا مُطْلَقًا اس لیے کیونکہ اس کو مطلقاً روٹی نہیں کہتے إِلَّا إِذَا نَوَاهُ مگر یہ کہ جب یہ اس کی نیت کر لے۔ اگر اس نے قسم کھاتے وقت اسی قطائف روٹی کی نیت کی ہے، اس میٹھی روٹی کی نیت کی ہے تو پھر قسم اسی پر محمول ہو گی۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا إِذَا نَوَاهُ مگر یہ کہ جب یہ اس خاص روٹی کی نیت کر لے لِأَنَّهُ مُحْتَمَلُ كَلَامِهِ اس لیے کیونکہ یہ بھی اس کے کلام کا محتمل ہے کیونکہ ہے تو وہ بھی روٹی ہی، اگرچہ عام استعمال نہیں ہوتی لیکن ہے تو روٹی ہی بھئی، تو لہذا اس کے کلام میں اس کا بھی احتمال ہے اور جب کلام کے اندر ایک چیز کا احتمال ہو اور اس کی نیت بھی کر لی جائے تو وہ احتمال ثابت ہو جاتا ہے۔ وَكَذَا إِذَا أَكَلَ خُبْزَ الْأُرُزِّ بِالْعِرَاقِ۔ أُرُزٌّ بھئی، ہمزہ ہے را پر پیش ہے اور پھر زا مشدد ہے: وَكَذَا إِذَا أَكَلَ خُبْزَ الْأُرُزِّ بِالْعِرَاقِ اور اسی طرح اگر اس نے چاول کی روٹی کھا لی عراق میں، تو بعض علاقوں میں چاول کو پیس کر بھی روٹی بنائی جاتی ہے، تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا أَكَلَ خُبْزَ الْأُرُزِّ بِالْعِرَاقِ اور اسی طرح اگر اس نے عراق کے اندر چاول کی روٹی کھا لی لَمْ يَحْنَثْ تو حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ غَيْرُ مُعْتَادٍ عِنْدَهُمْ اس لیے کیونکہ یہ چاول کی روٹی ان کے ہاں معتاد نہیں عادتاً اس طرح کی روٹی نہیں بنائی جاتی، حَتَّى لَوْ كَانَ بِطَبَرِسْتَانَ أَوْ فِي بَلْدَةٍ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ يَحْنَثُ۔ طَبَرٌ بھئی ط اور ب دونوں پر زبر ہے، طبرستان بھئی یہ عراق کا کوئی علاقہ ہے بھئی، تو اگر طبرستان کے اندر اگر کسی نے چاول کی روٹی کھائی پھر حانث ہو جائے گا اس لیے کیونکہ وہاں کے لوگوں کی عادت ہے وہ چاول کی روٹی بنا کر کھاتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: حَتَّى لَوْ كَانَ بِطَبَرِسْتَانَ یہاں تک کہ اگر یہ شخص طبرستان میں ہوا أَوْ فِي بَلْدَةٍ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ یا ایسے شہر میں ہوا کہ ان کا طعام یہ چاول کی روٹی ہے يَحْنَثُ تو پھر حانث ہو جائے گا۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ الشِّوَاءَ فَهُوَ عَلَى اللَّحْمِ دُونَ الْبَاذِنْجَانِ وَالْجَزَرِ۔ ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں کوئی بھنی ہوئی چیز نہیں کھاؤں گا، شِوَاءٌ بھئی، شِوَاءٌ کہتے ہیں بھنی ہوئی چیز کو، اور بَاذِنْجَانٌ یہ کہتے ہیں بینگن کو بھئی، اور جَزَرٌ، جَزَرٌ اور جِزَرٌ، ز پر زبر ہے البتہ ج پر فتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں اور کسرہ بھی: جَزَرٌ اور جِزَرٌ، یہ گاجر کو کہتے ہیں۔ اب دیکھو یہ بینگن جو ہے اس کو بھی کبھی آگ پر بھون کر کھایا جاتا ہے اسی طرح گاجر وغیرہ بعض سبزیوں کو آگ پر بھون کر کھایا جاتا ہے، تو اس نے کیا کہا ہے واللہ میں کوئی بھنی ہوئی چیز نہیں کھاؤں گا تو اس سے کیا مراد لیں گے؟ کہتے ہیں اس سے مراد گوشت لیا جائے گا کیونکہ عام طور پر بھنی ہوئی چیز سے گوشت ہی مراد لیا جاتا ہے لوگوں کے اندر بھئی۔ کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ الشِّوَاءَ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ بھنی ہوئی چیز نہیں کھائے گا فَهُوَ عَلَى اللَّحْمِ تو یہ قسم محمول ہو گی گوشت پر دُونَ الْبَاذِنْجَانِ وَالْجَزَرِ بینگن اور گاجر پر نہیں لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ اللَّحْمُ الْمَشْوِيُّ عِنْدَ الْإِطْلَاقِ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے بھنے ہوئے گوشت کا عِنْدَ الْإِطْلَاقِ اطلاق کے وقت یعنی یہ لفظ جب مطلقاً بولا جائے تو شواء سے مراد گوشت ہی لیا جاتا ہے اور چیزیں مراد نہیں لی جاتیں، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ مَا يُشْوَى مِنْ بَيْضٍ أَوْ غَيْرِهِ مگر یہ کہ یہ شخص نیت کر لے مَا يُشْوَى اس چیز کی جس کو بھونا جاتا ہے مِنْ بَيْضٍ أَوْ غَيْرِهِ، بَيْضٌ انڈوں کو کہتے ہیں، مِنْ بَيْضٍ أَوْ غَيْرِهِ انڈوں وغیرہ کا۔ اگر یہ نیت کرتا ہے ان چیزوں کی جن کو بھونا جاتا ہے جیسے انڈے وغیرہ ہیں تو پھر اس صورت میں اسی چیز پر محمول ہو گی جس کی اس نے نیت کی ہے۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ مَا يُشْوَى مِنْ بَيْضٍ أَوْ غَيْرِهِ مگر یہ کہ یہ نیت کر لے اس چیز کی جس کو بھونا جاتا ہے یعنی انڈے وغیرہ لِمَكَانِ الْحَقِيقَةِ، أَيْ لِوُجُودِ الْحَقِيقَةِ، مکان بمعنی وجود کے مصدر ہے بھئی، لِمَكَانِ الْحَقِيقَةِ حقیقت کے پائے جانے کی وجہ سے کیونکہ یہ بھی کیا ہے؟ اس کا حقیقی معنی ہے وہ بھی بھنی ہوئی چیز ہے بھئی وہ انڈے وغیرہ۔ وَإِنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ الطَّبِيخَ فَهُوَ عَلَى مَا يُطْبَخُ مِنَ اللَّحْمِ۔ ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں طبیخ نہیں کھاؤں گا، طبیخ کا معنی ہے پکی ہوئی چیز بھئی، کہ واللہ میں کوئی پکی ہوئی چیز نہیں کھاؤں گا تو کہتے ہیں: فَهُوَ عَلَى مَا يُطْبَخُ مِنَ اللَّحْمِ تو یہ قسم محمول ہو گی اس گوشت پر جس کو پکایا جاتا ہے یعنی گوشت کو پانی کے اندر پکایا جائے یعنی شوربے اور سالن کی صورت میں تو پھر اس کو طبیخ کہتے ہیں عرف کے اندر، تو قسم کا دارومدار عرف پر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ طبیخ یعنی پکی ہوئی چیز نہیں کھائے گا فَهُوَ عَلَى مَا يُطْبَخُ مِنَ اللَّحْمِ تو یہ قسم محمول ہو گی اس گوشت پر جس کو پکایا جاتا ہے وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ اعْتِبَارًا لِلْعُرْفِ اور یہ استحسان ہے عرف کا اعتبار کرتے ہوئے۔ بھئی قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس نے کہا ہے طبیخ، طبیخ کہتے ہیں پکی ہوئی چیز کو تو اس میں ہر پکی ہوئی چیز داخل ہونی چاہیے، لیکن عرف کے اندر طبیخ کا اطلاق گوشت پر کیا جاتا ہے تو لہذا عرف کی وجہ سے استحساناً گوشت مراد لیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ اعْتِبَارًا لِلْعُرْفِ اور یہ استحسان ہے عرف کا اعتبار کرتے ہوئے وَهَذَا لِأَنَّ التَّعْمِيمَ مُتَعَذِّرٌ اور یہ اس لیے کیونکہ تعمیم متعذر ہے، ہر پکی ہوئی چیز مراد نہیں لے سکتے فَيُصْرَفُ إِلَى خَاصٍّ هُوَ مُتَعَارَفٌ لہذا اس قسم کو پھیرا جائے گا إِلَى خَاصٍّ، دیکھو خَاصٍّ ہے نکرہ اور اس کے بعد هُوَ مُتَعَارَفٌ مبتدا خبر آ رہے ہیں تو یہ جملہ صفت بنے گا خاص کے لیے: فَيُصْرَفُ إِلَى خَاصٍّ هُوَ مُتَعَارَفٌ لہذا اس قسم کو پھیرا جائے گا ایسے خاص کی طرف جو کہ متعارف ہو جو لوگوں میں رائج ہو وَهُوَ اللَّحْمُ الْمَطْبُوخُ بِالْمَاءِ اور وہ وہ گوشت ہے جس کو پانی کے ساتھ پکایا گیا ہو، إِلَّا إِذَا نَوَى غَيْرَ ذَلِكَ مگر یہ کہ یہ شخص اس کے علاوہ کی نیت کرے لِأَنَّ فِيهِ تَشْدِيدًا اس لیے کیونکہ اس کے اندر سختی کرنا ہے۔ یعنی عرف کے اندر یہ لفظ گوشت پر بولا جاتا ہے اگر اس نے کسی اور چیز کی نیت کی ہے تو وہ بھی داخل ہو جائے گی، گوشت بھی داخل کیونکہ عرف میں گوشت مراد ہوتا ہے اور اور چیز بھی داخل ہو جائے گی اور اس کے اندر گویا وہ اپنے اوپر سختی کر رہا ہے، ویسے تو صرف گوشت داخل ہو رہا تھا لیکن جب اس نے ایک چیز اور کی بھی نیت کی ہے تو وہ بھی داخل ہو گئی تو قسم کے اندر سختی بڑھ گئی اب دونوں چیزوں سے بچنا ہو گا ورنہ کھائے گا تو حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ فِيهِ تَشْدِيدًا اس لیے کیونکہ اس کے اندر اس کا اپنی ذات پر سختی کرنا ہے، وَإِنْ أَكَلَ مِنْ مَرَقِهِ يَحْنَثُ اور اگر اس نے اس گوشت کے شوربے میں سے کھا لیا تو حانث ہو جائے گا۔ بھئی اس نے کہا ہے میں کوئی پکی ہوئی چیز نہیں کھاؤں گا تو عرف کے اندر اس سے گوشت مراد لیتے ہیں لہذا گوشت کھایا تو حانث ہو جائے گا وہ گوشت جس کو پانی کے ساتھ پکایا گیا ہو، اور اگر صرف اس نے شوربہ استعمال کیا وہ جو سالن ہے صرف اس کو استعمال کیا تو پھر بھی حانث ہو جائے گا کہتے ہیں اس لیے کیونکہ سالن کے اندر بھی گوشت کے اجزاء ہوتے ہیں اس کے ساتھ جو مل گئے ہیں بھئی اس کا ذائقہ آ گیا ہے اس شوربے کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ أَكَلَ مِنْ مَرَقِهِ يَحْنَثُ اور اگر اس نے شوربے میں سے کھایا تو حانث ہو جائے گا لِمَا فِيهِ مِنْ أَجْزَاءِ اللَّحْمِ اس وجہ سے کہ اس شوربے کے اندر بھی گوشت کے اجزاء ہوتے ہیں وَلِأَنَّهُ يُسَمَّى طَبِيخًا اور نیز اس لیے بھی کیونکہ اس شوربے کو بھی طبیخ کہتے ہیں۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ الرُّؤُوسَ۔ ایک آدمی نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں سریاں نہیں کھاؤں گا، رُؤُوسٌ جمع ہے رَأْسٌ کی یہ سر کو کہتے ہیں، سر۔ بھئی بعض حیوانات کے سر پکا کر کھائے جاتے ہیں جیسے بکرے کا سر ہے یا اسی طرح گائے وغیرہ کا سر ہے تو ان کو بعض اوقات پکا کر کھایا جاتا ہے۔ قسم کا دارومدار عرف پر ہے اب ایک شخص نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں سری نہیں کھاؤں گا تو اب اس سے کس چیز کی سری مراد لی جائے گی؟ کہتے ہیں اس کے علاقے میں، اس کے شہر میں جس سری کا رواج ہو پکا کر کھانے کا وہ سری مراد لی جائے گی۔ مثلاً اگر ایک علاقے میں صرف بکری کی سری جو ہے وہ پکا کر کھائی جاتی ہے تو اب یہ بکری کی سری کھائے گا تو حانث ہو گا، گائے وغیرہ یا مرغی وغیرہ کی سری پکا کر کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ اور اگر کسی علاقے میں گائے کی سری کا بھی رواج ہے اور بکرے کی سری کا بھی رواج ہے ان کو پکا کر کھایا جاتا ہے تو ان دونوں میں سے جس کو بھی وہ کھائے گا وہ حانث ہو جائے گا لیکن اس کے علاوہ اگر یہ مرغی وغیرہ کی سری کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ الرُّؤُوسَ اور جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ سریاں نہیں کھائے گا فَيَمِينُهُ عَلَى مَا يُكْبَسُ فِي التَّنَانِيرِ وَيُبَاعُ فِي الْمِصْرِ، فَيَمِينُهُ تو اس کی قسم جو ہے عَلَى مَا يُكْبَسُ فِي التَّنَانِيرِ وہ محمول ہو گی ان سریوں پر جن کو داخل کیا جاتا ہے تنوروں میں، تَنَانِيرُ جمع ہے تَنُّورٌ کی بھئی، اور كَبَسَ کے معنی ہوتے ہیں داخل کرنا، تو کہتے ہیں: فَيَمِينُهُ عَلَى مَا يُكْبَسُ فِي التَّنَانِيرِ تو اس کی قسم ان سریوں پر ہو گی جن کو تنوروں میں داخل کیا جاتا ہے یعنی تنوروں میں ڈال کر پکایا جاتا ہے وَيُبَاعُ فِي الْمِصْرِ اور شہر میں ان کو بیچا جاتا ہے، وَيُقَالُ يُكْنَسُ اور يُكْنَسُ بھی کہتے ہیں، صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں يُكْبَسُ فِي التَّنَانِيرِ بھی کہا جاتا ہے اور يُكْنَسُ فِي التَّنَانِيرِ یعنی ن کے ساتھ بھی کہا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اس کی قسم محمول ہو گی ان سریوں پر جن کو تنوروں میں داخل کیا جاتا ہے یعنی تنوروں میں پکایا جاتا ہے اور شہر میں بیچا جاتا ہے، اور يُكْبَسُ کی جگہ يُكْنَسُ بھی کہا جاتا ہے۔ وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ، بھئی یہ تو قدوری کی عبارت تھی کہ جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ سریاں نہیں کھائے گا تو اس کی قسم ان سریوں پر محمول ہو گی جن کو تنوروں میں پکایا جاتا ہے اور شہر میں بیچا جاتا ہے، جبکہ جامعِ صغیر کی عبارت ذرا مختلف ہے تو اس کو بھی صاحب ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور جامعِ صغیر کے اندر ہے: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ رَأْسًا اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ سری نہیں کھائے گا فَهُوَ عَلَى رُؤُوسِ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو یہ قسم محمول ہو گی بقر یعنی گائے بیل والغنم، غنم بھیڑ بکری دونوں پر بولتے ہیں، بکرا بکری اور بھیڑ اور دنبہ سب پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ تو اگر کسی شخص نے یہ قسم کھائی کہ وہ سری نہیں کھائے گا فَهُوَ عَلَى رُؤُوسِ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو اس کی یہ قسم محمول ہو گی گائے بیل اور بھیڑ بکری کی سریوں پر امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى عَلَى الْغَنَمِ خَاصَّةً اور صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ قسم جو ہے خاص طور پر بھیڑ بکریوں پر محمول ہو گی، بھیڑ بکریوں کی سری کھائے گا تو حانث ہو گا گائے کی سری کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ وَهَذَا اخْتِلَافُ عَصْرٍ وَزَمَانٍ، صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو امام صاحب اور صاحبین کا الگ الگ قول ذکر ہوا یہ کوئی دلیل وغیرہ کے اندر اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ زمانے کا اختلاف ہے: امام صاحب کے زمانے میں گائے بیل اور بھیڑ بکری دونوں کی سریاں بازاروں میں بیچی جاتی تھیں تو انہوں نے دونوں کو اس میں داخل کیا، اور صاحبین کے زمانے میں صرف بھیڑ بکریوں کی سریاں بازار میں بیچی جاتی ہیں لہذا انہوں نے صرف اسی کا اعتبار کیا۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا اخْتِلَافُ عَصْرٍ وَزَمَانٍ، عصر کا معنی بھی زمانہ، تو کہتے ہیں یہ زمانے کا اختلاف ہے كَانَ الْعُرْفُ فِي زَمَنِهِ فِيهِمَا عرف جو ہے وہ امام صاحب کے زمانے میں ان دونوں میں تھا یعنی گائے وغیرہ کی سری بھی اور بھیڑ بکری کی سری بھی وَفِي زَمَانِهِمَا فِي الْغَنَمِ خَاصَّةً اور صاحبین کے زمانے میں عرف جو ہے خاص طور پر بھیڑ بکری کے بارے میں تھا، وَفِي زَمَانِنَا يُفْتَى عَلَى حَسَبِ الْعَادَةِ اور ہمارے زمانے میں فتویٰ دیا جائے گا عادت کے مطابق یعنی عرف میں جو عادت ہو اس کے مطابق كَمَا هُوَ الْمَذْكُورُ فِي الْمُخْتَصَرِ جیسا کہ مختصر القدوری میں مذکور ہے۔ بھئی قدوری میں اوپر آیا تھا کہ وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ الرُّؤُوسَ فَيَمِينُهُ عَلَى مَا يُكْبَسُ فِي التَّنَانِيرِ وَيُبَاعُ فِي الْمِصْرِ، صاحب قدوری نے کوئی خاص قسم ذکر نہیں کی بلکہ جو بھی اس شہر کے اندر تنوروں میں جس کو پکایا جاتا ہے اور بیچا جاتا ہے، یعنی صاحب قدوری کے نزدیک بھی عرف ہی کا اعتبار کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَأْكُلُ فَاكِهَةً۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں فاکہہ نہیں کھاؤں گا، فاکہہ کہتے ہیں پھل بھئی، فاکہہ پھل کو کہتے ہیں۔ اب ایک شخص نے قسم کھا لی کہ واللہ میں پھل نہیں کھاؤں گا تو پھر اس سے کون سے پھل مراد ہوں گے اور کون سی چیزیں کھانے سے وہ حانث ہو جائے گا؟ تو کہتے ہیں: قَالَ امام محمد رحمہ اللہ جامعِ صغیر میں فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ اور جس شخص نے قسم کھا لی لَا يَأْكُلُ فَاكِهَةً کہ وہ پھل نہیں کھائے گا فَأَكَلَ عِنَبًا أَوْ رُمَّانًا أَوْ رُطَبًا أَوْ قِثَّاءً أَوْ خِيَارًا لَمْ يَحْنَثْ۔ فَأَكَلَ عِنَبًا پھر اس شخص نے انگور کھا لیے أَوْ رُمَّانًا یا انار کھا لیا أَوْ رُطَبًا یا تازہ کھجوریں کھا لیں أَوْ قِثَّاءً، قِثَّاءٌ کہتے ہیں کھیرے کو بھئی، یا اس نے کھیرا کھا لیا أَوْ خِيَارًا، خِيَارٌ ککڑی کو کہتے ہیں بھئی، ککڑی یہ بھی کھیرے کی طرح ہی ہے سبزی ہے البتہ یہ کھیرے کے مقابلے میں باریک ہوتی ہے اور لمبی ہوتی ہے، أَوْ قِثَّاءً یا اس نے کھیرا کھا لیا أَوْ خِيَارًا یا اس نے ککڑی کھا لی لَمْ يَحْنَثْ تو حانث نہیں ہو گا۔ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ وَإِنْ أَكَلَ تُفَّاحًا اور اگر اس نے سیب کھا لیا أَوْ بِطِّيخًا یا اس نے بطیخ کھا لیا، یاد رکھو بطیخ کا اطلاق عربی زبان میں تربوز پر بھی ہوتا ہے اور خربوزے پر بھی، تو اس نے تربوز یا خربوزہ کھا لیا أَوْ مِشْمِشًا، مِشْمِشٌ جو ہے خوبانی کو کہتے ہیں، تو اگر اس نے سیب کھا لیا یا تربوز یا خربوزہ کھا لیا أَوْ مِشْمِشًا یا خوبانی کھا لی حَنِثَ تو حانث ہو جائے گا وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک عنب جو ہے اور رمان جو ہے اور رطب جو ہیں ان کے کھانے سے بھی وہ حانث نہیں ہو گا۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور صاحبین فرماتے ہیں: حَنِثَ فِي الْعِنَبِ وَالرُّطَبِ وَالرُّمَّانِ أَيْضًا کہ یہ شخص انگور اور تازہ کھجور اور انار کھانے سے بھی حانث ہو جائے گا۔ وَالْأَصْلُ أَنَّ الْفَاكِهَةَ اسْمٌ لِمَا يُتَفَكَّهُ بِهِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ۔ بھئی کہتے ہیں فاکہہ عربی زبان میں پھل کو فاکہہ کہتے ہیں اور فاکہہ نام ہے اس چیز کا کہ جس کو کھانے سے پہلے یا بعد میں بطور لذت کے کھایا جاتا ہو۔ فاکہہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کھانے سے پہلے یا کھانے کے بعد بطور لذت کے کھایا جاتا ہو۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَصْلُ اور اصل یہ ہے أَنَّ الْفَاكِهَةَ اسْمٌ لِمَا يُتَفَكَّهُ بِهِ کہ فاکہہ نام ہے اس چیز کا کہ جس سے لذت حاصل کی جائے قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد أَيْ يُتَنَعَّمُ بِهِ زِيَادَةً عَلَى الْمُعْتَادِ یعنی اس کے ذریعے لذت حاصل کی جائے معتاد غذا پر زیادہ کرتے ہوئے، ایک عام کھانا ہے اور ایک اس پر لذت میں زیادتی ہے تو فاکہہ اس کو کہتے ہیں جس کے ذریعے معتاد کھانے کی لذت کو بڑھایا جائے زیادہ کیا جائے۔ تو کہتے ہیں: أَيْ يُتَنَعَّمُ بِهِ زِيَادَةً عَلَى الْمُعْتَادِ یعنی اس کے ذریعے لذت حاصل کی جائے معتاد غذا پر زیادتی کرتے ہوئے، وَالرَّطْبُ وَالْيَابِسُ فِيهِ سَوَاءٌ، رَطْبٌ بھئی را پر فتحہ پڑھیں بھئی، وَالرَّطْبُ وَالْيَابِسُ فِيهِ سَوَاءٌ اور اس کے اندر تر اور خشک برابر ہیں، تر اور خشک برابر ہیں، تر یعنی تروتازہ ہے اور یابس جس کو خشک کر لیا جائے۔ کہتے ہیں اس میں تر اور خشک برابر ہیں یعنی یہ جو چیزیں ذکر کیں اگر ان کو تروتازہ ہی استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا یہی حکم ہے اور اگر ان میں سے بعض کو خشک کیا جاتا ہے تو تازہ کا بھی وہی حکم اور خشک کا بھی وہی حکم، جیسے انگور ہیں، انگور کو خشک کر کے اس سے کشمش بنا لی جاتی ہے تو جو تازہ انگور کا حکم ہے وہی کشمش کا بھی حکم ہے: تازہ انگور کھانے سے امام صاحب کے نزدیک حانث نہیں ہو گا تو کشمش کھانے سے بھی حانث نہیں ہو گا، اور صاحبین کے نزدیک تازہ انگور کھانے سے حانث ہے تو کشمش کھانے سے بھی حانث ہو گا۔ یہ معنی ہے: وَالرَّطْبُ وَالْيَابِسُ فِيهِ سَوَاءٌ اور تروتازہ اور خشک اس کے اندر اس تفکہ میں برابر ہیں بَعْدَ أَنْ يَكُونَ التَّفَكُّهُ بِهِ مُعْتَادًا بعد اس کے کہ ان کے ذریعے لذت حاصل کرنا معتاد ہو یعنی لوگوں میں اس کی عادت ہو رائج ہو، حَتَّى لَا يَحْنَثُ بِيَابِسِ الْبِطِّيخِ یہاں تک کہ یہ شخص حانث نہیں ہو گا بِيَابِسِ الْبِطِّيخِ خشک تربوز یا خربوزے کے ذریعے، کیونکہ خشک تربوز یا خربوزہ کھانے کا لوگوں میں رواج نہیں ہے تو اس سے حانث نہیں ہو گا، تو اس کے اندر لوگوں کے عرف کو بھی دیکھا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى لَا يَحْنَثُ بِيَابِسِ الْبِطِّيخِ یہاں تک کہ یہ شخص جو ہے خشک تربوز یا خربوزے کے ذریعے حانث نہیں ہو گا، وَهَذَا الْمَعْنَى مَوْجُودٌ فِي التُّفَّاحِ وَأَخَوَاتِهِ اور یہ تفکہ والا معنی یعنی لذت حاصل کرنے والا معنی پایا جا رہا ہے فِي التُّفَّاحِ سیب کے اندر بھی وَأَخَوَاتِهِ اور اس سیب کے جو مشابہ پھل ہیں یعنی ناشپاتی ہے یا اسی طرح خوبانی ہے یا اسی طرح سفرجل وغیرہ، سفرجل بھی یہ سیب جیسا ایک پھل ہوتا ہے بھئی جس کو بہی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا الْمَعْنَى مَوْجُودٌ فِي التُّفَّاحِ وَأَخَوَاتِهِ اور یہ والا تفکہ والا معنی موجود ہے سیب کے اندر بھی اور اس کے مشابہ چیزوں میں بھی فَيَحْنَثُ بِهَا تو اس کی وجہ سے وہ حانث ہو جائے گا، وَغَيْرُ مَوْجُودٍ فِي الْقِثَّاءِ وَالْخِيَارِ اور یہ تفکہ والا معنی نہیں پایا جا رہا فِي الْقِثَّاءِ کھیرے میں وَالْخِيَارِ اور ککڑی میں لِأَنَّهُمَا مِنَ الْبُقُولِ بَيْعًا وَأَكْلًا اس لیے کیونکہ یہ دونوں جو ہیں یعنی کھیرا اور ککڑی جو ہیں مِنَ الْبُقُولِ یہ سبزیوں میں سے ہیں بَيْعًا وَأَكْلًا بیچنے اور کھانے کے اعتبار سے، کھانے میں بھی ان کو سبزی شمار کیا جاتا ہے اور بیچنے میں بھی ان کو سبزی شمار کیا جاتا ہے حتی کہ سبزی فروش کے پاس آپ کو کھیرے اور ککڑیاں ملیں گی لیکن سبزی فروش کے پاس آپ کو سیب نہیں ملیں گے۔ تو یہ لِأَنَّهُمَا مِنَ الْبُقُولِ بَيْعًا وَأَكْلًا اس لیے کیونکہ یہ کھیرا اور ککڑی جو ہیں یہ بیچنے اور کھانے کے اعتبار سے سبزیوں میں سے ہیں فَلَا يَحْنَثُ بِهَا لہذا ان کی وجہ سے وہ حانث نہیں ہو گا۔ وَأَمَّا الْعِنَبُ وَالرُّطَبُ وَالرُّمَّانُ، بھئی انگور، تازہ کھجور اور انار اس میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے: امام صاحب کے نزدیک یہ کھانے سے حانث نہیں، صاحبین کے نزدیک یہ کھانے سے بھی حانث ہو جائے گا، اس کی وجہ کیا ہے؟ تو اس کی اب وجہ ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا الْعِنَبُ وَالرُّطَبُ وَالرُّمَّانُ اور باقی انگور اور تازہ کھجور اور انار جو ہے فَهُمَا يَقُولَانِ تو صاحبین فرماتے ہیں: إِنَّ مَعْنَى التَّفَكُّهِ مَوْجُودٌ فِيهَا کہ تفکہ یعنی لذت حاصل کرنے کا معنی ان کے اندر بھی موجود ہے، تفکہ کا کیا معنی تھا کہ وہ چیز جس سے لذت حاصل کی جائے کھانے سے پہلے یا کھانے کے بعد بھئی، تو کہتے ہیں ان کے اندر بھی تفکہ والا معنی موجود ہے فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْفَوَاكِهِ اس لیے کیونکہ یہ پھلوں میں سے سب سے معزز ہیں یعنی سب سے اعلیٰ اور عمدہ ہیں بھئی، وَالتَّنَعُّمُ بِهَا يَفُوقُ التَّنَعُّمَ بِغَيْرِهَا اور ان کے ذریعے لذت حاصل کرنا وہ زیادہ ہے ان کے علاوہ کے ذریعے لذت حاصل کرنے سے یعنی ان کے ذریعے جو لذت حاصل ہوتی ہے وہ اور پھلوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے تو یہ فاکہہ ہیں، جب فاکہہ ہیں تو ان کے کھانے سے وہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْفَوَاكِهِ اس لیے کیونکہ یہ پھلوں میں سب سے عمدہ ہیں وَالتَّنَعُّمُ بِهَا يَفُوقُ التَّنَعُّمَ بِغَيْرِهَا اور ان کے ذریعے لذت اٹھانا یہ اور پھلوں سے لذت اٹھانے سے بڑھ کر ہے۔ وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ اور امام صاحب فرماتے ہیں: امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو انگور ہے اور تازہ کھجور ہے اور یہ انار ہیں ان کو پھل کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے اور ان کو غذا کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے، بعض اوقات انسان کھانا وغیرہ کھاتا ہی نہیں یہ صرف کشمش کھا لی یا اسی طرح صرف کھجوروں پر گزارا کر لیتا ہے وہ تو معلوم ہوا کہ ان کو بطور غذا کے بھی کھایا جاتا ہے اور نیز بعض اوقات ان کو بطور دوا اور علاج کے بھی کھایا جاتا ہے جیسے انار ہے انار کو بعض اوقات دوا کے طور پر کھایا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ان کے اندر تفکہ کے معنی کی کمی آ گئی، تفکہ تو وہ چیز تھی جس کو صرف لذت کے لیے کھایا جائے اور ان کو تو بطور غذا اور دوا کے بھی استعمال کیا جاتا ہے لہذا ان میں تفکہ کے معنی کی کمی آ گئی، جب کمی آ گئی تو ان کے کھانے سے وہ حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ اور امام صاحب فرماتے ہیں: إِنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ مِمَّا يُتَغَذَّى بِهِ وَيُتَدَاوَى بِهِ کہ یہ جو چیزیں ہیں یہ ان چیزوں میں سے ہیں جن کے ذریعے غذا حاصل کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے فَأَوْجَبَ قُصُورًا فِي مَعْنَى التَّفَكُّهِ تو اس نے ثابت کر دیا کمی کو۔ فَأَوْجَبَ أَيْ أَثْبَتَ، قُصُورٌ کہتے ہیں کمی کو، فَأَوْجَبَ قُصُورًا فِي مَعْنَى التَّفَكُّهِ تو اس نے تفکہ کے معنی میں کمی ثابت کر دی لِلِاسْتِعْمَالِ فِي حَاجَةِ الْبَقَاءِ اس وجہ سے کہ ان کو استعمال کیا جاتا ہے بقا کی حاجت میں، بقائے انسان کی حاجت میں یعنی خوراک کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور بطور دوا کے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا كَانَ الْيَابِسُ مِنْهَا مِنَ التَّوَابِلِ أَوْ مِنَ الْأَقْوَاتِ اور اسی وجہ سے ان میں سے جو خشک ہوتا ہے مِنَ التَّوَابِلِ وہ مسالوں میں سے ہے، بھئی سالن کے اندر جو مسالے وغیرہ ڈالے جاتے ہیں تو ان میں سے جو خشک ہو جائے اس کو بعض اوقات بطور مسالوں کے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے انار ہے بھئی، خشک انار کو بطور مسالے کے سالن وغیرہ میں ڈالا جاتا ہے، أَوْ مِنَ الْأَقْوَاتِ یا یہ جو خشک ہے ان میں سے اس کو خوراک کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے انگور ہے بھئی، خشک کر کے اس کو بطور خوراک کے استعمال کیا جاتا ہے یا اسی طرح کھجور ہے اس کو بھی خشک کر کے بطور خوراک کے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر دیکھ لیجیے امام صاحب کی دلیل: کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں إِنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ مِمَّا يُتَغَذَّى بِهَا وَيُتَدَاوَى بِهَا کہ یہ چیزیں جو ہیں ان چیزوں میں سے ہیں جن کے ذریعے غذا بھی حاصل کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے دوا بھی کی جاتی ہے فَأَوْجَبَ قُصُورًا فِي مَعْنَى التَّفَكُّهِ تو اس نے کمی ثابت کر دی ان کے تفکہ کے معنی میں لِلِاسْتِعْمَالِ فِي حَاجَةِ الْبَقَاءِ اس لیے کیونکہ ان کو استعمال کیا جاتا ہے انسانی بقا کی حاجت میں یعنی بطور غذا کے اور بطور دوا کے وَلِهَذَا كَانَ الْيَابِسُ مِنْهَا مِنَ التَّوَابِلِ أَوْ مِنَ الْأَقْوَاتِ اور اسی لیے ان میں سے جو خشک ہوتا ہے وہ مسالوں میں سے ہے اور خوراکوں میں سے ہے۔ تو جب ان میں سے خشک جو ہے وہ مسالوں اور خوراکوں میں سے ہے یعنی اس کو فاکہہ نہیں شمار کیا جاتا تو جو تروتازہ ہے اس کو بھی فاکہہ شمار نہیں کرنا چاہیے، یہ کس کی دلیل ہے؟ امام صاحب کی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 103 of 160