بَابُ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ، الطَّلَاقُ عَلَى ضَرْبَيْنِ صَرِيحٌ وَكِنَايَةٌ، فَالصَّرِيحُ قَوْلُهُ: أَنْتِ طَالِقٌ، وَمُطَلَّقَةٌ، وَطَلَّقْتُكِ، فَهَذَا يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ، لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ تُسْتَعْمَلُ فِي الطَّلَاقِ، وَلَا تُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِهِ، فَكَانَ صَرِيحاً، وَأَنَّهُ يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ بِالنَّصِّ، وَلَا يَفْتَقِرُ إِلَى النِّيَّةِ۔
گزشتہ سبق میں آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ وہ عورت جس کو حیض نہیں آتا یعنی صغیرہ ہے یا آئسہ ہے، اور صغیرہ بھی ایسی ہے کہ جس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے یعنی قریب البلوغ ہے اور خاوند اس کے ساتھ صحبت کر چکا ہے، ان کو اگر خاوند طلاقِ حسن دینا چاہتا ہے تو ان کو صحبت کے فوراً بعد بھی طلاق دے سکتا ہے، اور پھر ایک مہینے کے فصل کے بعد دوسری طلاق دے دے گا، اور پھر ایک مہینے کے فصل کے بعد تیسری طلاق دے دے گا۔ جیسے وہ عورت جس کو حیض آتے ہیں، اس کو طلاقِ حسن دینے کا کیا طریقہ تھا؟ کہ اس کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو، اور نیز طلاق بھی رجعی دے، اور پھر اگلے طہر میں دوسری طلاق دے، اور اس سے اگلے طہر میں تیسری طلاق دے۔ تو جیسے وہاں پر ہر دو طلاقوں کے درمیان حیض کا فصل کیا جاتا تھا، تو یہاں پر بھی ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینے کا فصل کیا جائے گا، کیونکہ وہ عورتیں جن کو حیض نہیں آتا ان کے حق میں مہینہ جو ہے وہ حیض کے قائم مقام ہے۔
البتہ وہ جس کو حیض آتا ہے، اس کو جب پہلی طلاق دے تو صحبت اور پہلی طلاق کے درمیان ایک حیض کا فصل ضروری تھا۔ وجہ یہ، کیونکہ وہاں پر جب صحبت کر لے گا تو خاوند کی خواہش پوری ہو گئی، جس کی وجہ سے عارضی عدمِ رغبت آگئی، تو کہیں اس عارضی عدمِ رغبت کی وجہ سے خاوند طلاق نہ دے دے اس لیے شریعت نے اسے منع کیا ہے۔ تو جب اگلا نیا طہر آئے گا تو یہ رغبت کے نیا ہونے کا زمانہ ہے، تو اس میں پھر خاوند پہلی طلاق دے گا بھئی۔
اور جب کہ یہ عورتیں جن کو حیض نہیں آتا، چاہے یہ صغیرہ ہے، صغیرہ مدخول بہا ہے، یا آئسہ ہے، یا حاملہ ہے، ان کے اندر صحبت کے فوراً بعد بھی طلاق دے سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ ان کے اندر جو صحبت ہوگی وہ غیر معلِق ہوگی، یعنی صحبت کی وجہ سے علوق نہیں ہوگا، یعنی حمل نہیں ٹھہرے گا، اور خاوند جو ہے ایسی وطی کے اندر راغب ہوگا جس کی وجہ سے علوق نہ ہو بھئی، بچے کی پرورش کی مشقتوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔ تو لہٰذا اگر دیکھا جائے تو ایک اعتبار سے ان میں رغبت کم ہو رہی ہے کہ صحبت کی ہے ابھی ابھی، اور دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو رغبت بڑھ رہی ہے بایں اعتبار کہ ان میں وطی جو ہے وہ غیر معلِق ہے بھئی، تو اس لیے ان کو فوراً بھی طلاق دے سکتا ہے۔
جب کہ امام محمد رحمہ اللہ وہ حاملہ کے مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کو طلاقِ حسن نہیں دے سکتا، وہ طلاقِ بدعت ہو جائے گی، بلکہ حاملہ کو صرف طلاقِ احسن دے سکتا ہے، یعنی ایک ہی طلاق پر اکتفا کرے گا خاوند اور پھر عدت کو گزرنے دے گا یعنی وضعِ حمل تک۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں اس عورت پر جس کا طہر لمبا ہو گیا ہو، اور جس عورت کا طہر لمبا ہو گیا ہے اس کے اندر تو بالاتفاق جو ہے مہینے جو ہیں وہ فصولِ عدت نہیں ہیں، وہ عدت کی فصلیں نہیں ہیں۔ میں نے بتایا عدت کی فصلوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے ساتھ عدت کو شمار کیا جاتا ہے، اور وہ حائضہ کے اندر حیض ہے اور آئسہ وغیرہ کے اندر وہ مہینے ہیں، لیکن یہاں پر جو حاملہ ہے یا اسی طرح وہ عورت جس کا طہر لمبا ہو گیا ہے، ان میں تو بالاتفاق جو ہے عدت کی فصلیں وہ مہینہ نہیں ہے۔ تو وہ عورت جس کا طہر لمبا ہو گیا ہو، پانچ چھ مہینے گزر گئے یا سال گزر گیا ہے، تو وہاں دیکھو طہر لمبا ہو گیا لیکن بالاتفاق یہاں پر مہینوں کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ اگلے طہر ہی کا انتظار کیا جائے گا پھر ہی وہ طلاقِ سنت اس کو دے سکتا ہے بھئی، طلاقِ سنت یعنی طلاقِ حسن۔ تو جیسے یہ عورت جس کا طہر لمبا ہو گیا ہے اس کے حق میں مہینے جو ہیں وہ عدت کی فصلیں نہیں، اسی طرح حاملہ کے حق میں بھی جو مہینے ہیں وہ عدت کی فصلیں نہیں، حالانکہ عدت کی فصلوں کے ساتھ تو تفریق ضروری تھی ہر دو طلاقوں کے درمیان۔ تو لہٰذا یہاں چونکہ عدت کی فصلیں ہی نہیں ہیں حاملہ میں، لہٰذا یہاں پر طلاقِ حسن دینے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
جب کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کے اندر بھی ایک مہینے کے فصل کے ساتھ تینوں طلاقیں دے سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو ایک مہینہ ہے فطرتِ سلیمہ پر اس میں رغبت نئی ہو جاتی ہے، لہٰذا یہ ایک مہینہ گزر گیا اور رغبت نئی ہو گئی، پھر بھی خاوند طلاق پر اقدام کرنا چاہتا ہے تو یہ علامت ہے اور دلیل ہے کہ خاوند کو طلاق دینے کی حاجت ہے۔ تو اس حاجت کی وجہ سے اس کو طلاق کی اجازت ہوگی اور اس طرح وہ تین طلاقیں حاملہ کو بھی دے سکتا ہے۔ جب کہ وہ عورت جس کا طہر لمبا ہو گیا ہو، کہتے ہیں آپ حاملہ کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ وہاں پر تو کسی بھی وقت دوبارہ حیض آ سکتا ہے اور پھر نیا طہر شروع ہو سکتا ہے، لیکن حاملہ کے اندر تو ایسی کوئی امید ہی نہیں ہے، لہٰذا آپ ایک کو دوسری پر قیاس نہیں کر سکتے، دونوں میں فرق ہے بھئی۔
اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ مسئلہ بتلایا تھا کہ حیض کے اندر طلاق دینے سے بھی شریعت نے منع کیا ہے، اور حیض کے اندر اگر کوئی طلاق دے دے تو اس پر واجب ہے کہ وہ رجوع کرے، اور پھر اس کے بعد جو طہر آئے اس میں بھی طلاق نہ دے بلکہ اگلا حیض جب گزر جائے تو پھر اس کے بعد اگلا طہر جو آئے تو اس میں پھر وہ طلاق سنت طریقے پر اس کو دے سکتا ہے بھئی۔
اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا جو ذوات الحیض ہے اور خاوند اس کے ساتھ صحبت بھی کر چکا ہے کہ: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثاً لِلسُّنَّةِ“، تو کہتے ہیں اگر اس کے اندر اس نے کوئی نیت نہیں کی تو سنت کے مطابق ہر طہر میں ایک ایک طلاق واقع ہوتی چلی جائے گی۔ اور اگر اس نے ہر مہینے کے آغاز کی نیت کی ہے تو اس کی نیت کے مطابق ہر مہینے کے آغاز میں طلاق واقع ہوگی بھئی۔ اور اگر اس نے تینوں اکٹھی دینے کی نیت کی ہے تو تین اکٹھی بھی واقع ہو جائیں گی، اس لیے کیونکہ تین اکٹھی طلاقیں یہ اس کے کلام کا محتمل ہے، کیونکہ اس نے کیا کہا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثاً لِلسُّنَّةِ“۔ توجہ ہے؟ صرف سنت کی وجہ سے ذرا شبہ پڑتا ہے کہ سنت طریقہ تو یہ نہیں ہے کہ اکٹھی طلاقیں دی جائیں، تو اس کا جواب دیا تھا کہ بھئی سنت سے یہاں معنی یہ کر لیں گے جو سنت سے ثابت ہے، کہ تجھے تین طلاقیں اکٹھی ہیں جو سنت سے ثابت ہیں، اور عند الاحناف بھی اکٹھی تین طلاقیں دی جائیں تو وہ واقع ہو جاتی ہیں، جیسے کہ حدیثِ رکانہ میں نے ذکر کی تھی، اس سے معلوم ہوتا ہے حضور نے ایک کے ارادے پر قسم دی۔ معلوم ہوا ایک مجلس میں تین ہو سکتی ہیں، اسی لیے تو حضور علیہ السلام قسم دے رہے ہیں ان کو ایک طلاق پر۔ اگر ایک مجلس میں تین واقع نہ ہو سکتیں تو پھر قسم کھلانے کا کوئی مقصد نہیں بنتا، بلکہ پھر تو ایک کے ارادے کی ضرورت ہی نہیں ہے، جتنی بھی دے دو واقع ایک ہی ہونی ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔
اور اگر یہی طلاق دی: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثاً لِلسُّنَّةِ“، اور وہ جو عورت ہے وہ صغیرہ مدخول بہا ہے یا آئسہ ہے، تو پھر اس صورت کے اندر ایک طلاق تو اسی وقت ہو جائے گی اور اگلی طلاقیں ایک ایک مہینے کے وقفے سے واقع ہو جائیں گی۔ اور اگر ان میں بھی تین کی نیت کی تو اکٹھی تین واقع ہو جائیں گی۔
لیکن اس کے برخلاف اگر اس نے ثلاثاً کا لفظ ذکر نہیں کیا، صرف کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“، اور اب وہ تین کی نیت کرتا ہے تو آپ کو بتلایا کہ اب بھی اس کی نیت صحیح ہے، اس لیے کیونکہ سنت طلاق جو ہے یعنی طلاقِ حسن اس میں تین طلاقیں ہوتی ہیں بھئی، اور اس نے بھی کیا کہا ہے: ”لِلسُّنَّةِ“ أَيْ ”وَقْتَ السُّنَّةِ“، یہ لام کس لیے ہے؟ وقت کے لیے ہے۔ تو دیکھو لفظ کیا بولے: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“ أَيْ ”وَقْتَ السُّنَّةِ“، اور نیت کس کی ہے؟ تین طلاق کی ہے۔ تو گویا وہ وقت میں تعمیم کر رہا ہے، وقت السنہ میں تعمیم کر رہا ہے، ہر سنت کے وقت میں تمہیں طلاق ہے، تو ہر طہر میں ایک ایک طلاق ہوتی چلی جائے گی۔ اور اگر وہ صغیرہ یا آئسہ ہے تو ہر ایک مہینے کے بعد ایک ایک طلاق ہوتی چلی جائے گی، پہلی طلاق فوراً ہوگی اور اگلی طلاقیں ایک ایک مہینے کے وقفے سے ہوتی چلی جائیں گی۔
لیکن اگر اس نے: ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“، ثلاثاً کا لفظ نہیں بولا، اور وہ تین اکٹھی واقع کرنے کی نیت کرتا ہے تو پھر تین اکٹھی واقع نہیں ہوں گی، اس لیے کیونکہ ”لِلسُّنَّةِ“ کا کیا معنی تھا؟ ”وَقْتَ السُّنَّةِ“، اور جب اس نے تین اکٹھی کی نیت کی ہے تو اس وقت کی تعمیم کو باطل کر دیا۔ پہلے کیا تھا؟ اس نے تین کی نیت کی تھی تو گویا اس وقت میں اس نے تعمیم کی نیت کی تھی، تو جب بھی سنت وقت آئے گا طلاق واقع ہوتی چلی جائے گی، اور اب اس نے خود تین اکٹھی کا ارادہ کیا ہے تو گویا اس نے وقت کے اندر تعمیم کو باطل کر دیا۔ اور جب وقت کے اندر تعمیم باطل ہوئی تو اس کے اندر جو واقع ہونے والی طلاق تھی اس کے اندر بھی تعمیم باطل ہو گئی، اب ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔
بھئی پچھلے مسئلے میں دیکھو: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثاً لِلسُّنَّةِ“، اس میں ثلاثاً کا لفظ خود موجود تھا، وہاں اگر وہ تین کی اکٹھی نیت کرتا تھا تو بھی ”لِلسُّنَّةِ“ کی تعمیم تو اگرچہ باطل ہو گئی تھی لیکن ثلاثاً کا لفظ خود موجود تھا اس لیے تین طلاقیں ہو جاتی تھیں، لیکن یہاں پر تو ثلاثاً کا لفظ نہیں ہے، اسی ”لِلسُّنَّةِ“ کے اندر ہم تعمیم پیدا کر دیں گے، کیا کر دیں گے؟ تعمیم۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلسُّنَّةِ“، تمہیں سنت طریقے پر طلاق ہے، اور نیت کتنے کی کر رہا ہے؟ تین طلاقوں کی، اور سنت طریقہ کیا ہے طلاقِ حسن کا؟ ہر ایسا طہر جس میں صحبت نہ کی ہو اس میں طلاق دی جاتی ہے۔ تو لہٰذا گویا وہ تین کی نیت کر کے اس ”لِلسُّنَّةِ“ یعنی ”وَقْتَ السُّنَّةِ“ کے اندر تعمیم کر رہا ہے۔ اور جب وقت کے اندر تعمیم آئے گی تو وقت کے اندر جو طلاق واقع ہو رہی تھی اس میں بھی تعمیم آتی چلی جائے گی اور تین طلاقیں پوری ہو جائیں گی۔ لیکن جب اس نے تین اکٹھی واقع کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے وقت کے اندر تعمیم کو باطل کر دیا۔ وقت تھا ظرف اور طلاق تھی اس کے اندر مظروف، تو جب ظرف میں تعمیم ختم تو مظروف کی تعمیم بھی ختم، کیونکہ مظروف میں تو تعمیم آ ہی ظرف کی تعمیم کی وجہ سے رہی تھی۔ تو لہٰذا اس لیے ایک ہی طلاق واقع ہوگی اس صورت میں، بات سمجھ میں آگئی، اکٹھی یعنی تین نہیں ہو سکتیں۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عاقل بالغ کی طلاق واقع ہو جاتی ہے، جب کہ بچے، مجنون اور سوئے ہوئے کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اسی طرح جس شخص پر زبردستی کی جائے، جبر کیا جائے، کوئی شخص تلوار یا بندوق نکالتا ہے کہ بھئی تم اپنی بیوی کو طلاق دو ورنہ تمہیں قتل کرتا ہوں یا تمہیں تمہارے اعضا کاٹتا ہوں، شدید زخمی کرتا ہوں، تو اس صورت میں اگر یہ طلاق دے دیتا ہے تو پھر عند الاحناف طلاق واقع ہو جائے گی، جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جب اس کو مجبور کر دیا گیا تو اس کا اختیار ختم ہوا اور شرعی تصرفات تو اپنے اختیار سے ہوتے ہیں بغیر اختیار کے نہیں ہوتے۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہاں پر اس کے سامنے دو شر سامنے آئے تھے، ایک طرف اس کی جان جا رہی تھی تو دوسری طرف بیوی جا رہی تھی، اور اس نے اپنے اختیار سے ہلکے شر کا انتخاب کیا، تو معلوم ہوا اختیار موجود تھا اور ارادہ بھی موجود تھا، تو اپنے اختیار اور اپنے ارادے سے بیوی کو طلاق دے رہا ہے لہٰذا یہ طلاق ہو جائے گی۔ اور نیز ہم اس مکروہ کو طائع پر قیاس کرتے ہیں، یعنی ہم مکروہ کو طائع پر قیاس کرتے ہیں، مکروہ وہ جس کے ساتھ زبردستی کی گئی ہے اور طائع کا اصل معنی کیا میں نے بتایا؟ فرماں بردار بھئی، تو یہاں مراد ہے جو اپنی مرضی سے طلاق دے رہا ہو۔ تو ہم اس مکروہ کو طائع پر قیاس کرتے ہیں، جیسے اپنی مرضی سے جو طلاق دینے والا ہے اس کو شریعت نے حاجت کی وجہ سے طلاق کی اجازت دی ہے، وہ عورت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے ورنہ تو طلاق تو اصل میں ممنوع چیزوں میں سے ہے لیکن اس کی حاجت کی وجہ سے شریعت نے اس کو اجازت دی ہے، اسی طرح یہاں پر بھی مکروہ جو ہے اس کی حاجت ہے وہ اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے، تو جیسے طائع کو حاجت کی وجہ سے طلاق کی اجازت ہے تو مکروہ کو بھی اپنے چھٹکارے کی حاجت کی وجہ سے طلاق کی اجازت ہوگی، بات سمجھ میں آگئی بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ مدہوش کی طلاق بھی واقع ہو جائے گی، مدہوش کی طلاق بھی واقع ہو جائے گی، اور یاد رکھنا یہاں مدہوش سے مراد وہ شخص ہے جو نشے میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے، حتیٰ کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان بھی فرق نہیں کر سکتا۔ تو جب یہ مدہوش جس کو زمین اور آسمان کا ہی پتہ نہیں چل رہا، بطورِ سزا کے جب اس کی طلاق واقع ہو جاتی ہے تو اس سے جو کم نشے والا ہوگا، وہ شخص جو کم نشے میں ہے اس کی طلاق تو بطریقِ اولیٰ واقع ہو جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ نیز انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جس شخص کی عقل زائل ہو جائے اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن یہ جو مدہوش ہے اس نے نشہ کیا ہے تو بطورِ ڈانٹ کے اس کی عقل پر باقی ہونے کا حکم لگایا جائے گا اور اس کی طلاق واقع ہوگی، تو یہ بطورِ ڈانٹ کے ہے یعنی یوں کہو بطورِ سزا کے ہے بھئی، بطورِ سزا کے اس کی طلاق واقع ہوگی بھئی۔
اور آخر میں آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ طلاقوں کا تعلق ہمارے نزدیک عورت سے ہے، عورت اگر باندی ہے تو خاوند دو طلاقیں دے سکتا ہے زیادہ سے زیادہ، اور اگر عورت آزاد ہے تو خاوند تین طلاقیں دے سکتا ہے۔ جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک طلاق کا تعلق خاوند سے ہے، خاوند آزاد ہو تو وہ تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے اور اگر وہ غلام ہو تو وہ دو طلاقوں کا مالک ہوتا ہے بھئی۔ اور نیز اگر غلام اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کر لے تو طلاق کا اختیار غلام کو ہوگا عند الاحناف، اس کے آقا کو طلاق کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ ملکِ نکاح غلام کو حاصل ہوئی ہے تو اس ملکِ نکاح کو ساقط کرنا بھی کس کے اختیار میں ہوگا؟ غلام کے اختیار میں ہوگا، بات سمجھ میں آگئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر: ”بَابُ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ“، یہ باب ہے طلاق واقع کرنے کے بیان میں، کہ طلاق کے واقع کرنے سے متعلق جو احکام ہیں کہ کن لفظوں سے طلاق واقع ہوگی، خاوند مختلف قسم کے الفاظ ذکر کرتا ہے تو اس میں کیا حکم ہوگا وہ اب بیان فرمائیں گے۔
تو کہتے ہیں: ”الطَّلَاقُ عَلَى ضَرْبَيْنِ“، کہ طلاق جو ہے دو قسم پر ہے: ”صَرِيحٌ وَكِنَايَةٌ“، ایک صریح ہے اور ایک کنایہ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا صریح یعنی صاف لفظوں میں طلاق دینا جس میں اور کسی معنی کا احتمال نہ ہو، خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔ دیکھو اب اس کا اور کوئی معنی نہیں ہے، اس کلام کا ایک ہی معنی ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دے رہا ہے۔ اور بعض اوقات خاوند گول مول سے الفاظ استعمال کرتا ہے، مثلاً بیوی سے کہتا ہے: تو جدا ہے۔ تو جدا ہے۔ اب یاد رکھو ”تو جدا ہے“ اس کے اندر طلاق والا معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو جدا ہے مجھ سے کیونکہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، اور اس کے اندر اور معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو اور عورتوں سے جدا ہے حسن و جمال کے اندر یا اپنی اور صفات کے اندر تو اور عورتوں سے جدا ہے۔ تو کنائے کے اندر طلاق والے معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے اور دوسرے معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے، جب کہ صریح کے اندر اور کسی معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔
لہٰذا یاد رکھنا، جب صریح لفظ استعمال کرے گا طلاق میں تو اس میں نیت کی کوئی حاجت نہیں۔ خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تجھے طلاق ہے، بس طلاق فوراً واقع ہو گئی۔ اب خاوند سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کی نیت کیا تھی، بھئی نیت تو وہاں پوچھیں گے جہاں اور معانی کا بھی احتمال ہو، یہاں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں تو اور کسی معنی کا احتمال نہیں، لہٰذا یاد رکھنا صریح نیت کا محتاج نہیں، صریح طلاق نیت کی محتاج نہیں، فوراً طلاق واقع ہو جائے گی وہاں نیت پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا صریح لفظ سے طلاقِ رجعی واقع ہوگی بھئی، طلاقِ رجعی۔
جب کہ اس کے مقابلے میں کنایہ ہے، کنائے کے اندر تو اور معانی کا بھی احتمال ہوتا ہے لہٰذا وہاں کوئی دلیل چاہیے جس سے پتہ چلے کہ طلاق کا ارادہ تھا، اور وہ دلیل عموماً اس کی نیت ہوگی، اس سے پوچھا جائے گا بھئی کہ تم نے کہا ہے تو مجھ سے جدا ہے، تمہاری نیت کیا تھی؟ اور اگر کوئی اور دلیل موجود ہے، کوئی اور قرینہ موجود ہے جو بتلا رہا ہے کہ اس کی طلاق ہی کی نیت تھی تو پھر وہاں اس سے نیت بھی نہیں پوچھی جائے گی۔ مثلاً میاں بیوی کے درمیان مذاکرۂ طلاق ہو رہا تھا، طلاق پر بحث ہو رہی تھی، بیوی کہتی تھی میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مجھے طلاق دو، اور خاوند اس سے بحث وغیرہ کر رہا ہے، اس بحث کے دوران خاوند اس کو کہتا ہے: تو جدا ہے۔ اب خاوند سے نیت پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے، بات ہی طلاق کی چل رہی ہے اور خاوند کیا کہہ رہا ہے تو جدا ہے، معلوم ہوا یہاں طلاق ہی کا ارادہ ہے، کس کا ارادہ ہے؟ طلاق ہی کا ارادہ ہے۔ تو جو کنایہ ہوتا ہے اس کے لیے کوئی دلیل چاہیے کہ اس سے طلاق کا ارادہ کیا گیا تھا، تو دلیل کیا ہوگی؟ یا تو اس آدمی کی نیت ہوگی یا کوئی اور دلیل مثلاً مذاکرۂ طلاق وغیرہ ہو رہا تھا تو پھر اس صورت میں اس کنائے کے ذریعے بھی طلاق ہو جائے گی۔
اور میں نے آپ کو بتلایا تھا آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کریں گے کنائے کے الفاظ بھئی، مختلف صورتیں کہ خاوند نے یہ لفظ استعمال کیا یا یہ لفظ استعمال کیا تو پھر کیا حکم ہے۔ یاد رکھو کنائے کے الفاظ کے اندر صرف تین الفاظ ایسے ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، تین الفاظ ہیں آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، باقی جتنے کنایات ہیں ان سے طلاقِ بائن ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”الطَّلَاقُ عَلَى ضَرْبَيْنِ“، طلاق دو قسم پر ہے: ”صَرِيحٌ وَكِنَايَةٌ“، ایک صریح ہے اور ایک کنایہ ہے۔ ”فَالصَّرِيحُ قَوْلُهُ“، تو صریح جو ہے خاوند کا یہ قول ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ، وَمُطَلَّقَةٌ، وَطَلَّقْتُكِ“، یہ الفاظ ہیں۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“، مثلاً خاوند بیوی سے کیا کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تو یہ صریح ہے اور اس میں نیت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں، اور نیز اس سے کون سی طلاق ہوگی؟ طلاقِ رجعی۔ یا ”أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ“، یہ مطلقہ کے ساتھ بھی انتِ کو جوڑیں: ”أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ“، تو اس صورت میں بھی یہ صریح لفظ ہے، ایک طلاقِ رجعی ہوگی۔ یا ”طَلَّقْتُكِ“، فعل استعمال کرتا ہے خاوند: ”طَلَّقْتُكِ“، میں نے تجھے طلاق دے دی، تو اس صورت میں بھی ایک طلاق ہوگی اور رجعی ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”فَالصَّرِيحُ قَوْلُهُ“، تو صریح جو ہے خاوند کا یہ قول ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ، وَمُطَلَّقَةٌ، وَطَلَّقْتُكِ“، تو یہ سارے صریح ہیں۔ ”فَهَذَا يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ“، تو یہ جو ہیں ان کے ذریعے طلاقِ رجعی واقع ہوگی، ”لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ تُسْتَعْمَلُ فِي الطَّلَاقِ“، اس لیے کیونکہ یہ والے الفاظ طلاق میں استعمال کیے جاتے ہیں، ”وَلَا تُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِهِ“، اور عرف میں یا اور چیزوں کے اندر استعمال نہیں ہوتے، ”فَكَانَ صَرِيحاً“، تو یہ صریح ہیں، ”وَأَنَّهُ يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ بِالنَّصِّ“، اور یہ جو صریح طلاق ہے ”يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ“ یہ اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے ”بِالنَّصِّ“ نص کی وجہ سے۔ نص سے ثابت ہے کہ صریح طلاق اپنے بعد رجوع کو لاتی ہے، اس کے بعد رجوع ہو سکتا ہے۔ کس سے ثابت ہے؟ نص سے۔ کیسے؟ نص کیا ہے؟ یہ میرے حاشیے میں دی ہوئی ہے آیت: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ﴾۔ ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ﴾، بعول جمع ہے بَعل کی، اور یاد رکھو بعل خاوند کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ﴾ اور ان عورتوں کے خاوند جو ہیں، ﴿أَحَقُّ﴾ وہ زیادہ لائق ہیں، ﴿بِرَدِّهِنَّ﴾ ان کے لوٹانے کے۔ ان عورتوں کے خاوند زیادہ لائق ہیں ان عورتوں کے لوٹانے کے کہ وہ ان کو لوٹا سکتے ہیں، طلاق کے بعد بھی لوٹا سکتے ہیں۔ اور نیز خاوند طلاق دے چکا ہے پھر بھی قرآن میں کہا جا رہا ہے: ﴿بُعُولَتُهُنَّ﴾ ان کے خاوند، پھر بھی کہا جا رہا ہے ان کے خاوند، معلوم ہوا ابھی بھی نکاح موجود ہے، اگر نکاح موجود نہ ہوتا پھر تو یہ اب ان کے خاوند نہیں تھے یہ تو طلاق دے چکے تھے۔ تو طلاق کے باوجود ان پر خاوند کے لفظ کا اطلاق کیا جا رہا ہے، معلوم ہوا نکاح ابھی ٹوٹا نہیں وہ رجوع کر سکتا ہے۔ تو اس نص سے پتہ چلا کہ طلاقِ صریح کے بعد خاوند رجوع کر سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَنَّهُ يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ بِالنَّصِّ“، اور یہ طلاقِ صریح جو ہے اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے نص کی وجہ سے، ”وَلَا يَفْتَقِرُ إِلَى النِّيَّةِ“، اور یہ طلاقِ صریح جو ہے نیت کی محتاج نہیں ہوتی، ”لِأَنَّهُ صَرِيحٌ فِيهِ“، اس لیے کیونکہ یہ صریح ہے طلاق میں، یہ لفظ کیا ہے؟ صریح ہے طلاق میں، ”لِغَلَبَةِ الِاسْتِعْمَالِ“، غلبۂ استعمال سے بھئی، غلبۂ استعمال سے، یعنی عرف کے اندر یہ طلاق کا لفظ غالباً اور اکثر اس عورت کو طلاق دینے کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ تو غلبۂ استعمال سے کیا مراد ہے؟ عرف کا غلبۂ استعمال، یعنی عام لوگ طلاق کا لفظ طلاق ہی میں استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھو عربی زبان میں طلاق کا لفظ عموماً طلاق کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے، کبھی کبھار اور چیزوں کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے لیکن وہ بہت کم ہے، عام طور پر یہ کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ طلاق کے لیے ہی بھئی، بالخصوص جب عورت کی بات کی جا رہی ہے تو وہاں یہ قیدِ نکاح کو اٹھانے والی چیز جو ہے طلاق اسی کا ارادہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات قید یا بند سے آزادی کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن وہ بہت کم ہے، زیادہ تر یہ عورت کو طلاق دینے کے لیے ہی یہ طلاق کا لفظ استعمال ہوتا ہے، یہ ہے غلبۂ استعمال۔
یہاں صاحبِ ہدایہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ پچھلی سطر میں آپ نے کہا: ”وَلَا تُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِهِ“، یہ طلاق کا لفظ طلاق کے غیر میں استعمال ہی نہیں ہوتا، اور اب کہہ رہے ہیں غلبۂ استعمال ہے بھئی۔ غلبۂ استعمال تو بتلا رہا ہے کہ اور جگہ بھی استعمال ہوتا ہے لیکن بہت کم ہے، اور اوپر والا لفظ آپ کا بتلا رہا ہے ”لَا تُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِهِ“ غیر میں استعمال بالکل ہوتا ہی نہیں، یہ تو آپ کے اپنے کلام میں تناقض آگیا۔ ایک جگہ کہہ رہے ہیں دوسری جگہ بالکل استعمال ہوتا ہی نہیں، اور دوسری جگہ کہہ رہے ہیں کچھ نہ کچھ استعمال ہوتا ہے۔ تو شارحین اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی صاحبِ ہدایہ کی مراد یہ ہے اوپر جو انہوں نے کہا ”لَا تُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِهِ غَالِباً“ وہاں پر بھی غالباً کی قید ملحوظ ہے، کہ غالباً وہ غیر میں استعمال ہوتا ہی نہیں، بہت کم استعمال ہوتا ہے، تو وہاں بھی غالب کی بات چل رہی ہے یہاں بھی غالب ہی کی بات چل رہی ہے بھئی۔
”وَكَذَا إِذَا نَوَى الْإِبَانَةَ“، اور اسی طرح اگر خاوند نے ابانت کی نیت کی۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تجھے طلاق ہے، اور ارادہ اس کا طلاقِ بائن کا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ طلاقِ رجعی وہ ہے کہ عدت کے اندر اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، صرف اتنا کہہ دے میں نے رجوع کر لیا بس وہ طلاق ختم ہو گئی، یعنی اس کا اثر ختم ہو گیا، ہاں اب باقی تمام زندگی یہ شخص دو ہی طلاقوں کا مالک ہے لیکن اب یہ عورت پھر اس کی بیوی بن گئی، یعنی اب عدت گزرنے سے وہ جدا نہیں ہوگی کیونکہ وہ رجوع کر چکا ہے، توجہ ہے؟ تو لہٰذا طلاقِ رجعی کے اندر عدت کے اندر اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے اپنی زبان کے ذریعے بھی یا اپنے کسی عمل کے ذریعے بھی وہ رجوع کر سکتا ہے۔ جب کہ طلاقِ بائن کے اندر نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور پھر خاوند اسی عورت کو دوبارہ رکھنا چاہتا ہے تو نیا نکاح کرنا پڑے گا، چاہے عدت کے اندر نکاح کرے چاہے عدت کے بعد نکاح کرے، نیا نکاح نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا بھئی۔
مسئلہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ صریح سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، بائن نہیں۔ اگر ایک آدمی صریح لفظ استعمال کرتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، اور نیت کرتا ہے طلاقِ بائن کی تو کہتے ہیں اس کی یہ نیت لغو ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، طلاقِ رجعی ہی ہوگی، طلاقِ رجعی ہی ہوگی۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ شریعت نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ جو صریح لفظ ہے، اس کے بعد شریعت نے رجوع کو رکھا ہے، کس کو رکھا ہے؟ رجوع کو۔ صریح کے بعد شریعت نے کیا ابھی میں نے آیت ذکر کی: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ﴾، شریعت کیا بتلا رہی ہے؟ کہ طلاقِ رجعی دینے سے ابھی نکاح نہیں ٹوٹا، خاوند اس کو روک سکتا ہے، رجوع کر سکتا ہے، اور یہ شخص جو ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے بائن کی نیت کر رہا ہے یعنی شریعت کے ایک حکم کو باطل کرنا چاہتا ہے تو اس کی نیت کو اس پر رد کر دیا جائے گا کہ تمہاری اس نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔ شریعت نے تو صریح کے بعد رجعت کو رکھا ہے اور یہ کیا کرنا چاہتا ہے طلاقِ بائن واقع کر کے رجعت کو یعنی شریعت کے حکم کو باطل کرنا چاہتا ہے کہ رجوع نہ ہو سکے؟ نہیں بھئی، آپ شریعت کے حکم کو باطل نہیں کر سکتے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا نَوَى الْإِبَانَةَ“، اور اسی طرح ہے جب خاوند نے ابانت یعنی جدائی کی نیت کی، تو یعنی اس کی نیت لغو ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ قَصَدَ تَنْجِيزَ مَا عَلَّقَهُ الشَّرْعُ بِانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ فَيُرَدُّ عَلَيْهِ“، یاد رکھو ایک ہے تنجیز اور ایک ہے تعلیق۔ تعلیق کا معنی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ معلق کرنا، اور تنجیز کا معنی ہے ایک چیز کو پورا کر دینا یعنی واقع کر دینا۔ تو لہٰذا جب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا صریح کہا، تو شریعت نے نکاح کے ٹوٹنے کو یا یوں کہو جدائی کو معلق کر دیا عدت کے گزرنے پر۔ جب کیا کہا؟ کسی خاوند نے اپنی بیوی سے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یا ”أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ“ یا ”طَلَّقْتُكِ“، کوئی صریح لفظ استعمال کیا۔ تو شریعت نے جدائی کو معلق کر دیا کہ ان دونوں خاوند اور بیوی میں جدائی ابھی نہیں آئی، کب آئے گی جدائی؟ جب عدت گزر جائے گی۔ تو صریح کے اندر شریعت نے جدائی کو معلق کر دیا ہے عدت کے گزرنے کے ساتھ، اور یہ شخص صریح کے ذریعے فوری طور پر جدائی واقع کرنا چاہتا ہے، تو یعنی یہ تنجیز کا ارادہ کر رہا ہے۔ شریعت نے تو تعلیق کی ہے کہ صریح میں طلاق دے دی ہے، جدائی ابھی نہیں آئی، جدائی کب آئے گی؟ عدت کے گزرنے کے بعد، اور یہ شخص فوری جدائی واقع کر کے شریعت کے حکم کو باطل کرنا چاہتا ہے تو اس کی نیت کو رد کر دیا جائے گا، یہ شریعت کے حکم کو باطل نہیں کر سکتا۔ ہاں، یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ کوئی اور لفظ ساتھ بڑھاتا پھر ہو سکتا تھا، لیکن اس نے تو کوئی لفظ بھی نہیں بڑھایا اور ارادہ طلاقِ بائن کا کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی ایسا نہیں کر سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا نَوَى الْإِبَانَةَ“، اور اسی طرح جب خاوند نے جدائی کی نیت کی تو یعنی اس کی نیت لغو ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ قَصَدَ“، اس لیے کیونکہ خاوند نے ارادہ کیا ہے ”تَنْجِيزَ مَا عَلَّقَهُ الشَّرْعُ“، اس جدائی کو پورا کرنے کا ما علقہ الشرع جس کو شریعت نے معلق کیا تھا ”بِانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“، عدت کے گزرنے کے ساتھ، ”فَيُرَدُّ عَلَيْهِ“، تو خاوند پر اس کے ارادے کو رد کر دیا جائے گا۔
”وَلَوْ نَوَى الطَّلَاقَ عَنْ وِثَاقٍ لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ“، صورتِ مسئلہ یہ ہے، خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، یا کہا: ”أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ“، یا کہا: ”طَلَّقْتُكِ“، اور پھر بعد میں کہتا ہے: نہیں میرا ارادہ تو اس کو طلاق دینے کا نہیں تھا، میرا ارادہ تو اس کو قید سے آزاد کرنے کا تھا، قید سے آزاد۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یعنی میں تمہیں قید نہیں کروں گا تم آزاد ہو، یا ”أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ“ تم قید سے آزاد ہو میں تمہیں قید نہیں کروں گا میں تمہیں بند نہیں کروں گا، یا ”طَلَّقْتُكِ“ میں نے تجھے آزاد کر دیا، قید سے آزاد کر دیا، میں تجھے بند نہیں کروں گا قید نہیں کروں گا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، ہاں دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی۔ قضاءً یعنی اگر قاضی کے پاس مسئلہ چلا گیا تو قاضی پھر طلاق ہی کا فیصلہ کرے گا کہ طلاق واقع ہوئی ہے، تم نے جس کا ارادہ کیا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ توجہ ہے؟ مسئلہ کیا چل رہا ہے، خاوند نے صریح لفظ کہا ہے، جب صریح کہا ہے تو ایک طلاق واقع ہو گئی، لیکن وہ کیا کہنا چاہتا ہے ایک بھی نہیں واقع ہوئی، میرا تو طلاق کا ارادہ ہی نہیں تھا، میں تو صرف قید سے آزادی کی بات کر رہا تھا، تو آپ کو بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ اگر قاضی کے پاس مسئلہ چلا گیا تو قاضی طلاق ہی کا فیصلہ کرے گا۔ ہاں دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، یعنی یہ اس کے اور اللہ کا معاملہ ہے، اگر قاضی کے پاس مسئلہ نہیں جاتا اس کے اور اللہ کے درمیان معاملہ ہے، اگر اس نے یہ نیت کی تھی تو پھر ایسا ہی ہوگا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ نَوَى الطَّلَاقَ عَنْ وِثَاقٍ“، وثاق بھئی ثاء کے ساتھ یہ قید اور بند کو کہتے ہیں، ”وَلَوْ نَوَى الطَّلَاقَ عَنْ وِثَاقٍ“، اور اگر اس شخص نے طلاق عن وثاق کی نیت کی یعنی قید سے آزادی کی نیت کی، ”لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ“،
فِي الْقَضَاءِ تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی فِي الْقَضَاءِ قضاء میں، لِأَنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ کیونکہ اس کی یہ بات جو ہے ظاہر کے خلاف ہے۔ ظاہر تو کیا ہے؟ اس لفظ کے ذریعے طلاق کا ارادہ کیا جاتا ہے، قید سے آزادی کا ارادہ نہیں کیا جاتا۔ وَيُدَيَّنُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى ہاں اس کی تصدیق کی جائے گی اس کے اور اللہ کے بیچ، یعنی یہ اس کے اور اللہ کا معاملہ ہے، اگر قاضی تک مسئلہ نہ گیا تو پھر تصدیق کی جائے گی، لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُهُ اس لیے کیونکہ اس کا کلام اس کا احتمال رکھتا ہے۔ کیونکہ ہم نے بتا دیا کہ طلاق عرف میں زیادہ تر تو قیدِ نکاح سے آزادی کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار اور قیدوں سے آزادی کے لیے بھی طلاق کا لفظ استعمال ہو جاتا ہے، تو لہٰذا بہرحال بایں اعتبار دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس کے کلام میں اس معنی کا بھی احتمال تھا، لیکن قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
وَلَوْ نَوَى بِهِ الطَّلَاقَ عَنِ الْعَمَلِ لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ وَلَا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى دوسری صورت، اس نے بیوی سے کہا: أَنْتِ طَالِقٌ یا أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ یا طَلَّقْتُكِ، اور نیت یہ کی کہ بھئی میرا ارادہ تو یہ تھا کہ تو کام کاج سے آزاد ہے۔ تو؟ کام کاج سے آزاد ہے۔ میرا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر قضاءً بھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور دیانتاً بھی نہیں۔ دیانتاً بھی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ نَوَى بِهِ الطَّلَاقَ عَنِ الْعَمَلِ اور اگر اس نے نیت کی عمل سے یعنی کام کاج سے آزادی کی، لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی قضا میں، وَلَا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى اور نہ اس کے اور اللہ کے درمیان، یعنی دیانتاً بھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
لِأَنَّ الطَّلَاقَ لِرَفْعِ الْقَيْدِ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ رفعِ قید کے لیے آتی ہے، جیسے قیدِ نکاح۔ قید سے آزادی کے لیے طلاق کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اور کام کاج کے ساتھ تو کوئی قید نہیں ہوتا۔ کام کاج کے ساتھ کوئی مشغول تو ہوتا ہے، قید نہیں ہوتا۔ تو طلاق تو رفعِ قید کے لیے آتی ہے، لہٰذا طلاق عن العمل کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الطَّلَاقَ لِرَفْعِ الْقَيْدِ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ قید کو اٹھانے کے لیے، قید کو ختم کرنے کے لیے ہوتی ہے، وَهُوَ غَيْرُ مُقَيَّدٍ بِالْعَمَلِ اور وہ جو ہے وہ تو عمل کے ساتھ تو مقید نہیں ہے، عمل کے ساتھ تو کوئی مشغول ہوتا ہے قید نہیں ہوتا تو یہاں قید ہے ہی نہیں۔
وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب سے البتہ ایک روایت یہ ہے، أَنَّهُ يُدَيَّنُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى کہ اس کی تصدیق کی جائے گی اس کے اور اللہ کے درمیان۔ امام صاحب سے البتہ ایک روایت یہ ہے کہ دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی۔ ظاہر روایت میں تو بتلا دیا کہ اگر اس نے کام کاج سے آزادی کا ارادہ کیا ہے تو نہ قضاءً اس کی تصدیق کی جائے گی اور نہ دیانتاً، لیکن امام صاحب سے ایک روایت ہے کہ دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی۔ اس لیے کیونکہ یہ طلاق کا لفظ کبھی چھٹکارے کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ کس کے لیے؟ چھٹکارے کے لیے۔ یعنی خاوند کہہ رہا ہے میں نے کام کاج سے چھٹکارے کی نیت کی تھی، تو لہٰذا دیانتاً تصدیق کی جائے گی اور قضاءً تصدیق نہیں۔ دیانتاً کیوں تصدیق کی جائے گی؟ کیونکہ کہتے ہیں کبھی طلاق کا لفظ چھٹکارے کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ لِلتَّخْلِيصِ اس لیے کیونکہ کبھی کبھار طلاق کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے لِلتَّخْلِيصِ چھٹکارے کے لیے۔
وَلَوْ قَالَ أَنْتِ مُطْلَقَةٌ بِتَسْكِينِ الطَّاءِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: أَنْتِ مُطْلَقَةٌ، کہنا تو کیا چاہیے تھا؟ أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ یا أَنْتِ طَالِقٌ، لیکن خاوند نے مُطْلَقَةٌ کہا۔ اور أَطْلَقَ يُطْلِقُ إِطْلَاق کا معنی تو ہے آزاد کرنا۔ أَنْتِ مُطْلَقَةٌ تو آزاد ہے۔ اب اس میں تو کئی معانی کا احتمال آ گیا۔ ہو سکتا ہے اس کا معنی یہ ہے: تو کام کاج سے آزاد ہے، میں غلام یا باندی کا بندوبست کروں گا وہ کام کاج کریں گے، تو کام کاج سے آزاد ہے۔ یا أَنْتِ مُطْلَقَةٌ تو میری خدمت سے آزاد ہے، تجھے میری خدمت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یا أَنْتِ مُطْلَقَةٌ تو میرے نکاح سے آزاد ہے یعنی تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو أَنْتِ مُطْلَقَةٌ اس میں معلوم ہوا طلاق کا بھی احتمال اور غیرِ طلاق کا بھی احتمال، لہٰذا یہ صریح نہیں یہ کنایہ ہے۔ اور جب یہ کنایہ ہے تو اب اس کی نیت دیکھی جائے گی۔ اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی تھی تو طلاق واقع ہو گئی اور اگر اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ یا طَلَّقْتُكِ یہ تو صریح ہے لیکن أَنْتِ مُطْلَقَةٌ طاء کے سکون کے ساتھ یہ صریح نہیں، یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے۔
وَلَوْ قَالَ أَنْتِ مُطْلَقَةٌ بِتَسْكِينِ الطَّاءِ اور اگر خاوند نے أَنْتِ مُطْلَقَةٌ کہا طاء کو ساکن کرتے ہوئے، لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ تو یہ طلاق نہیں ہو گی مگر نیت سے ہی، کیونکہ یہ کنایہ ہے اور کنائے کے لیے نیت ضرور چاہیے۔ لِأَنَّهَا غَيْرُ مُسْتَعْمَلَةٍ فِيهِ عُرْفًا اس لیے کیونکہ یہ جو طاء کے سکون کے ساتھ لفظ ہے یہ غیر مستعمل ہے طلاق میں عرفاً، عرف میں عام لوگوں کی عادت میں اس کو وہ طلاق کے لیے استعمال نہیں کرتے، فَلَمْ يَكُنْ صَرِيحًا تو یہ صریح نہیں ہو گا۔
قَالَ: وَلَا يَقَعُ بِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ وَإِنْ نَوَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ میں نے آپ کو بتلایا کہ صریح لفظ کے ذریعے طلاقِ رجعی واقع ہو گی۔ نیز وہاں نیت کی بھی کوئی حاجت نہیں، بغیر نیت کے ہی کیونکہ اس کلام کا اور کوئی معنی ہی نہیں ہے، تو اس میں نیت کو بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور نیز اب بتلا رہے ہیں کہ اس سے ایک طلاق ہی واقع ہو گی، ایک سے زیادہ کی نیت کی تو وہ صحیح نہیں۔ لہٰذا ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ اور نیت تین کی کرتا ہے، نہیں تین نہیں ہو سکتیں۔ یا أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ اور نیت تین کی کرتا ہے، نہیں تین نہیں ہو سکتیں۔ یا کہتا ہے طَلَّقْتُكِ میں نے تجھے طلاق دے دی اور نیت تین کی کرتا ہے، نہیں تین کی نیت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ صریح ہے۔ صریح کے ذریعے رجعی ہوتی ہے اور رجعی بھی کون سی؟ ایک طلاق بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَلَا يَقَعُ بِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ کہ اس کے ذریعے واقع نہیں ہو گی مگر ایک ہی، وَإِنْ نَوَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ اگرچہ خاوند اس سے زیادہ کی نیت کرے، ایک ہی واقع ہو گی۔
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقَعُ مَا نَوَى امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں واقع ہو جائے گی وہ جو خاوند نے نیت کی ہے، ایک کی نیت کی ہے، دو کی کی ہے یا تین کی، جتنے کی نیت کی ہے وہ طلاق واقع ہو جائے گی۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقَعُ مَا نَوَى اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں واقع ہو جائے گی وہ جو خاوند نے نیت کی ہے، لِأَنَّهُ مُحْتَمَلُ لَفْظِهِ اس لیے کیونکہ یہ اس کے لفظ کا محتمل ہے، اس أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر ایک طلاق ہونے کا بھی احتمال، دو کا بھی احتمال، تین کا بھی احتمال۔ آگے چل کر ہم بتائیں گے عند الاحناف اس میں ایک ہی طلاق کا احتمال ہے دو یا تین کا احتمال ہی نہیں۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے وہ کیا فرماتے ہیں؟ أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر، أَنْتِ طَالِقٌ یا کوئی بھی جو صریح لفظ پیچھے ذکر ہوئے، کہ أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر ایک کا بھی احتمال، دو کا بھی احتمال اور تین کا بھی احتمال، تو جو خاوند نیت کرے گا وہی واقع ہو جائے گی۔ تو یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ مُحْتَمَلُ لَفْظِهِ اس لیے کیونکہ یہ اس کے لفظ کا محتمل ہے، فَإِنَّ ذِكْرَ الطَّالِقِ ذِكْرٌ لِلطَّلَاقِ لُغَةً كَذِكْرِ الْعَالِمِ ذِكْرٌ لِلْعِلْمِ۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: یاد رکھو سب سے پہلے مصدر کے بارے میں سمجھ لیں۔ مصدر جو ہے وہ اسمِ جنس ہے۔ مصدر کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے۔ اسمِ جنس اسے کہتے ہیں جو قلیل اور کثیر سب پر بولا جائے۔ ویسے تو دیکھو ایک کتاب ہو تو آپ کہتے ہیں كِتَابٌ، دو ہوں تو آپ کہتے ہیں كِتَابَانِ، زیادہ ہوں تو آپ کہتے ہیں كُتُبٌ، دیکھو جمع کا لفظ لاتے ہیں۔ تو دیکھو ویسے تو مفرد، تثنیہ، جمع الگ الگ ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ لفظ ہی الگ ہیں، كِتَابٌ مفرد کا لفظ ہے، كِتَابَانِ تثنیہ کا لفظ ہے اور كُتُبٌ کیا ہے؟ جمع کا لفظ ہے۔ لیکن اسمِ جنس جو ہے وہ قلیل اور کثیر پر یعنی سارے مجموعے پر بولا جاتا ہے اور لفظ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ مثلاً ایک انسان ہو تب بھی آپ کہتے ہیں یہ انسان ہے، اور تمام دنیا کے انسانوں کی آپ نیت کریں تب بھی آپ کہیں گے یہ انسان ہے، تو پہلے بھی لفظ انسان تھا اب بھی کیا ہے؟ انسان، دیکھو لفظ میں ذرہ بھی تبدیلی نہیں آئی۔ جبکہ وہاں تبدیلی آ رہی تھی: كِتَابٌ، كِتَابَانِ، كُتُبٌ دیکھو لفظ ہی بدل رہا تھا، لیکن اسمِ جنس میں لفظ نہیں بدلتا، اسی لفظ کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر یعنی سارے مجموعے پر بھی۔ سارے مجموعے پر، تو یہ اسمِ جنس ہوتا ہے، اور یاد رکھو مصدر بھی اسمِ جنس ہے۔ مصدر بھی اسمِ جنس ہے، ایک ضرب ہو تب بھی آپ کہیں گے ضرب ہے، اور ساری دنیا کی ضربیں مراد لے لیں پھر بھی آپ کہیں گے ضرب ہے۔ مصدر کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے۔
تو چنانچہ اسی لیے کتابوں کے اندر آتا ہے كِتَابُ الْبُيُوعِ پھر وہاں شارحین اعتراض کرتے ہیں کہ بَیْع مصدر ہے۔ مصدر ہے اور مصدر تو اسمِ جنس ہے اور اسمِ جنس کا اطلاق تو قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے تو پھر بُيُوع جمع لانے کی کیا ضرورت تھی؟ تو جواب دیتے ہیں کہ بیع کی مختلف اقسام کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ بیع کی بہت سی اقسام ہیں اس لیے كِتَابُ الْبُيُوعِ کا وہ لفظ ذکر کرتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا معلوم ہوا مصدر کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے۔
اب دلیل چل رہی تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر مشتق کے ضمن میں مشتق منہ ضرور پایا جاتا ہے۔ یاد رکھو یہ جو مصدر ہے یہ ہے مشتق منہ، یعنی جس سے اشتقاق کیا گیا ہے، ایک نیا لفظ بنایا گیا ہے۔ مصدر ہے ضَرْبٌ، اس سے فعل بنا ضَرَبَ، اسی طرح اس ضَرْبٌ سے بنا يَضْرِبُ، اسی طرح اس ضَرْبٌ سے بنا ضَارِبٌ اسمِ فاعل اور اسی طرح مَضْرُوبٌ، تو یہ سب ان سب کا اشتقاق مصدر سے ہوتا ہے۔ مصدر کہلائے گا مشتق منہ جس سے اشتقاق کیا گیا یعنی لفظ کو بنایا گیا، اور جو لفظ بنائے گئے یعنی ماضی مضارع، اسمِ فاعل اسمِ مفعول وغیرہ یہ سب کیا ہیں؟ مشتقات ہیں۔ تو جب بھی مشتق کا ذکر آتا ہے اس کے ضمن میں مشتق منہ خود بخود آ جاتا ہے۔ دلیل چل رہی ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی، وہ فرماتے ہیں جب بھی مشتق آتا ہے تو اس کے ضمن میں مشتق منہ آ جاتا ہے۔ مثلاً دیکھو مشتق منہ کیا ہے؟ ضَرْبٌ، پٹائی کرنا، یہ مصدر کیا ہے؟ مشتق منہ، اور اس سے فعل بنا ضَرَبَ۔ ضَرَبَ کا ترجمہ کریں: ضَرَبَ زَيْدٌ، زید نے پٹائی کی، یا یوں کہو: زید نے ضرب لگائی۔ زید نے ضرب لگائی، دیکھو ضرب آ گیا یا نہیں؟ یا ضَارِبٌ ترجمہ کرو: ضرب لگانے والا، دیکھو ضرب کا ترجمہ آ گیا۔ مَضْرُوبٌ جس کو ضرب لگائی گئی، دیکھو ہر جگہ ضرب آ رہا ہے، جہاں بھی مشتق آتا ہے وہاں مشتق منہ ضرور آتا ہے۔
یا دوسرے طریقے سے سمجھ لیں، آپ نے نحو کے اندر پڑھا ہو گا کہ فعل جو ہے فعل کا لفظ یہ تو مفرد ہے لیکن اس کا معنی مرکب ہے۔ فعل کا معنی تین چیزوں سے مرکب ہوتا ہے: ایک اس میں معنیِ مصدری ہوتا ہے، تو اس ضَرَبَ کے اندر ضرب مصدر بھی آ گیا، دوسرا اس کے اندر زمانہ ہوتا ہے، ضَرَبَ سے زمانے کا بھی پتہ چل گیا کہ یہ ماضی کا زمانہ ہے، ضَرَبَ ماضی کا صیغہ ہے تو ماضی کا زمانہ ہے، اور نیز نسبت الی الفاعل بھی آ گئی، معلوم ہوا کوئی ذات ہے ضرب لگانے والی ورنہ یہ ضَرَبَ کا فعل ویسے نہیں ہو سکتا تھا۔ تو فعل جو ہے لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے لیکن اس کا مفہوم مرکب ہے تین چیزوں سے: ایک اس کے اندر معنیِ مصدری ہو گا یعنی مصدر ہو گا، دوسرا زمانہ ہو گا اور تیسرا نسبت الی الفاعل ہو گی۔ اسی طرح اسمِ فاعل ہے ضَارِبٌ، اس کے اندر بھی اس کے اندر بھی ایک وہ ضرب مصدر والا معنی ہے اور دوسرا ایک ذات ہے جو یہ ضرب لگانے والی ہے۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا مشتق کے ضمن میں مشتق منہ بھی آ جاتا ہے۔ تو جب خاوند نے بیوی سے کہا أَنْتِ طَالِقٌ، تو طَالِقٌ اسمِ فاعل ہے اور اسمِ فاعل مشتق ہے، اور مشتق کے ضمن میں مشتق یعنی طلاق بھی آ گئی۔ طَالِقٌ تو اسمِ فاعل ہے لیکن اس کے ضمن میں مصدر طلاق بھی آ گئی، اور طلاق کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے، اس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ اس أَنْتِ طَالِقٌ کے ذریعے بھی ایک سے زیادہ کی نیت صحیح ہے۔
تو کہتے ہیں: فَإِنَّ ذِكْرَ الطَّالِقِ ذِكْرٌ لِلطَّلَاقِ لُغَةً اس لیے کیونکہ طَالِقٌ کو ذکر کرنا یہ طلاق کو ذکر کرنا ہے لغةً عربی زبان کے اعتبار سے۔ جب آپ نے طَالِقٌ کو ذکر کیا تو گویا طلاق کو بھی آپ نے ذکر کر دیا۔ ضَرَبَ کو آپ نے ذکر کیا تو گویا ضرب کو بھی ذکر کر دیا، شَرِبَ کو آپ نے ذکر کیا تو شرب کو بھی ذکر کر دیا، سَمِعَ کو ذکر کیا تو سمع کو بھی ذکر کر دیا۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّ ذِكْرَ الطَّالِقِ ذِكْرٌ لِلطَّلَاقِ لُغَةً اس لیے کیونکہ طَالِقٌ یعنی مشتق کا جو ذکر ہے ذِكْرٌ لِلطَّلَاقِ یہ طلاق یعنی مصدر کا بھی ذکر ہے لُغَةً عربی زبان کے اعتبار سے، كَذِكْرِ الْعَالِمِ ذِكْرٌ لِلْعِلْمِ جیسے کہ عالم کا ذکر یہ علم کا بھی ذکر ہے۔
وَلِهَذَا يَصِحُّ قِرَانُ الْعَدَدِ بِهِ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، کہتے ہیں: وَلِهَذَا اور اسی وجہ سے يَصِحُّ قِرَانُ الْعَدَدِ بِهِ اس کے ساتھ عدد کو ملانا بھی صحیح ہے۔ خاوند بیوی کو کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا تو اس صورت میں اے احناف آپ کے نزدیک بھی تین طلاقیں ہو جاتی ہیں، یا خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ کہ تجھے دو طلاقیں ہیں تو اے احناف آپ کے نزدیک بھی دو طلاقیں ہو جاتی ہیں، اور یہ ثَلَاثًا اور اثْنَتَيْنِ یہ تمییز واقع ہو رہے ہیں، یہ کیا ہیں؟ تمییز، اور تمییز کسے کہتے ہیں؟ آپ نے پڑھا ہے تمییز جو ہے وہ نسبت سے ابہام کو دور کرتی ہے۔ مثلاً میں نے کہا: طَابَ زَيْدٌ، طَابَ طاء کے ساتھ، طَابَ زَيْدٌ زید اچھا ہے، اب بھئی کس اعتبار سے اچھا ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے اچھا ہے، یا اپنے علم کے اعتبار سے اچھا ہے، یا باپ ہونے کے اعتبار سے اچھا ہے؟ تو اس کے اندر ابہام ہے، تو آگے تمییز آ کر اس ابہام کو دور کر دے گی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا، زید اچھا ہے نَفْسًا اپنی ذات کے اعتبار سے، یا میں علم کا لفظ لے آتا ہوں: طَابَ زَيْدٌ عِلْمًا، زید اچھا ہے علم کے اعتبار سے، یعنی اس کے پاس اچھا علم ہے، یا طَابَ زَيْدٌ أَبًا، زید اچھا ہے باپ ہونے کے اعتبار سے کہ وہ اچھا باپ ہے یا اس کا باپ اچھا ہے۔ تو تمییز جو ہے وہ نسبت سے ابہام کو دور کرتی ہے۔
بات چل رہی ہے أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو أَنْتِ طَالِقٌ کے ساتھ ثَلَاثًا تمییز کا لانا صحیح ہے، اور تمییز کیا کرتی ہے؟ نسبت کے اندر جو ابہام ہوتی ہے اس کو دور کرتی ہے۔ پھر دہرائیں، پھر دہرائیں، تمییز جو ہے نسبت کے اندر جو ابہام ہوتی ہے اس کو دور کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ ماقبل والے کلام میں کئی احتمال تھے تمییز آ کر اس ایک احتمال کو متعین کر دیتی ہے۔ طَابَ زَيْدٌ زید اچھا ہے، اس میں احتمال تھا پتہ نہیں ذات کے اعتبار سے اچھا ہے یا علم کے اعتبار سے اچھا ہے یا باپ ہونے کے اعتبار سے اچھا ہے، اس میں تینوں احتمال تھے تو آگے آپ نَفْسًا لائے تو اس نے متعین کر دیا کہ زید اپنی ذات کے اعتبار سے اچھا ہے، اگر آپ عِلْمًا لے آئیں گے تو پتہ چلا زید اپنے علم کے اعتبار سے اچھا ہے، اور اگر آپ أَبًا لے آئے تو معلوم ہوا زید اپنے باپ کے اعتبار سے اچھا ہے یعنی زید کا باپ اچھا ہے یا زید خود اچھا باپ ہے۔ تو تمییز کیا کرتی ہے؟ نسبت سے ابہام کو دور کرتی ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ اس نسبت کے اندر جو احتمالات تھے ان میں سے ایک احتمال کو تمییز متعین کر دیتی ہے، پکا کر دیتی ہے۔ تو معلوم ہوا طَابَ زَيْدٌ کے اندر کئی احتمال تھے آگے جو بھی تمییز آپ لائیں گے اس احتمال کو پکا کر دے گی۔ اگر کلام کے اندر ایک چیز کا احتمال ہی نہ ہو تو آگے آپ وہ تمییز بھی نہیں لا سکتے۔ تمییز وہی لائیں گے جس کا احتمال بھی تھا ماقبل میں۔ طَابَ زَيْدٌ کے اندر طَابَ زَيْدٌ کے اندر ذات کے اچھا ہونے کا بھی احتمال تھا، علم کے اچھا ہونے کا بھی احتمال تھا اور باپ کے اچھا ہونے کا بھی احتمال تھا، اسی لیے آگے آپ نَفْسًا، عِلْمًا یا أَبًا لا سکتے ہیں۔ اگر ایک چیز کا احتمال ہی نہ ہوتا نسبت کے اندر تو آپ وہ آگے تمییز بھی نہیں لا سکتے۔ اور أَنْتِ طَالِقٌ کے آگے ثَلَاثًا جو آ رہا ہے یہ تمییز ہے۔ یہ؟ اور تمییز کیا کرتی ہے؟ کلام کے احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کر دیتی ہے، معلوم ہوا أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر ثَلَاثًا کا احتمال تھا، اسی احتمال کو آگے ثَلَاثًا نے آ کر پکا کر دیا۔ اگر أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر ثَلَاثًا کا احتمال نہ ہوتا تو آگے ثَلَاثًا تمییز لانا بھی جائز نہ ہوتا بھئی۔ تو آگے ثَلَاثًا تمییز لانا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ أَنْتِ طَالِقٌ میں ثَلَاثًا کا احتمال تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ ہمارا مذہب آپ نے پڑھ لیا، ہمارے نزدیک أَنْتِ طَالِقٌ سے تین کی نیت صحیح نہیں ہے۔ جبکہ وہ فرماتے ہیں ایک سے زیادہ کی نیت بھی صحیح ہے کیونکہ اس کلام کے اندر احتمال ہے بھئی، کیونکہ مشتق کے ضمن میں مشتق منہ یعنی مصدر بھی آ جاتا ہے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں۔
تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا اور اسی وجہ سے يَصِحُّ قِرَانُ الْعَدَدِ بِهِ صحیح ہے، قِرَان کا معنی ملانا، يَصِحُّ قِرَانُ الْعَدَدِ بِهِ اس کے ساتھ عدد کا ملانا بھی صحیح ہے، یعنی أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا کہنا بھی صحیح، اور ثَلَاثًا کیا ہے؟ تمییز، اور تمییز کیا کرتی ہے؟ نسبت سے ابہام کو دور کرتی ہے اور یعنی ماقبل میں جو احتمالات تھے ان میں احتمالات میں سے ایک کو اس احتمال کو متعین کر دیتی ہے۔ معلوم ہوا أَنْتِ طَالِقٌ میں تین کا احتمال تھا، یا أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ تو یہاں پر بھی معلوم ہوا أَنْتِ طَالِقٌ میں اثْنَتَيْنِ کا احتمال تھا جبھی تو اثْنَتَيْنِ نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا يَصِحُّ قِرَانُ الْعَدَدِ بِهِ اور اسی لیے اس أَنْتِ طَالِقٌ کے ساتھ عدد کا ملانا صحیح ہے، فَيَكُونُ نَصْبًا عَلَى التَّفْسِيرِ تو یہ جو نصب ہو گا یہ تفسیر پر ہو گا، یعنی یہ جو ثَلَاثًا پر نصب آیا ہے یہ تفسیر یعنی تمییز بھی کیا کرتی ہے؟ ابہام کو دور کرتی ہے یعنی تفسیر کرتی ہے، تو یہاں تفسیر سے کیا مراد ہے؟ تمییز ہی مراد ہے۔ فَيَكُونُ نَصْبًا عَلَى التَّفْسِيرِ تو یہ جو نصب ہے یہ تفسیر یعنی تمییز ہونے کی بنا پر ہے۔
اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّهُ نَعْتُ فَرْدٍ کہ یہ جو أَنْتِ طَالِقٌ ہے یہ مفرد کی صفت ہے، نَعْت کا معنی صفت۔ أَنْتِ طَالِقٌ یہ طَالِقٌ مفرد کی صفت ہے، اصل میں کلام یوں ہے: أَنْتِ امْرَأَةٌ طَالِقٌ۔ أَنْتِ امْرَأَةٌ طَالِقٌ تو یہ امْرَأَةٌ مفرد ہے اور طَالِقٌ اس مفرد کی صفت ہے۔ توجہ ہے؟ تو ہم کہتے ہیں: وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّهُ نَعْتُ فَرْدٍ کہ یہ جو طَالِقٌ کا لفظ ہے یہ مفرد کی صفت ہے، حَتَّى قِيلَ لِلْمُثَنَّى طَالِقَانِ وَلِلثَّلَاثِ طَوَالِقُ یہاں تک کہ طَالِقٌ مفرد کے لیے استعمال ہوتا ہے، تثنیہ کے لیے طَالِقَانِ لفظ استعمال ہوتا ہے اور جمع کے لیے طَوَالِقُ۔ طَالِقٌ کا معنی طلاق والی، طَالِقَانِ دو طلاق والیاں، اور طَوَالِقُ کئی طلاق والیاں۔ تو اگر ایک بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو خاوند کیا کہے گا؟ أَنْتِ طَالِقٌ۔ اور اگر دو کو طلاق دینا چاہتا ہے تو أَنْتُمَا طَالِقَانِ، اور اگر زیادہ کو طلاق دینا چاہتا ہے تو أَنْتُنَّ طَوَالِقُ کہے گا۔ تو معلوم ہوا یہ جو طَالِقٌ ہے یہ کس کی صفت ہے؟ مفرد کی صفت۔ یہ؟ جب یہ مفرد کی صفت ہے تو جب موصوف مفرد ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ مفرد ہی ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ دیکھو ابھی دلیل چل رہی ہے۔ تو یہ مفرد کی صفت ہے لہٰذا اس میں عدد کا احتمال نہیں ہے۔ اس میں عدد یعنی دو اور تین کا احتمال نہیں ہے۔
یاد رکھو، علمِ ریاضی والوں کے نزدیک یہ جو ایک ہے یہ عدد نہیں۔ علمِ ریاضی والوں کے نزدیک یہ جو ایک ہے یہ عدد نہیں۔ ہاں اوپر دو، تین، چار یہ سب عدد ہیں۔ دراصل وہ عدد کی تعریف کرتے ہیں وہ تعریف اس ایک پر صادق نہیں آتی۔ عدد کی وہ تعریف کرتے ہیں: مَجْمُوعَةُ حَاشِيَتَيْنِ کا نصف۔ عدد کسے کہتے ہیں؟ مَجْمُوعَةُ، دہرائیں بھئی، مَجْمُوعَةُ حَاشِيَتَيْنِ کا نصف۔ حاشیہ کنارے کو کہتے ہیں، مَجْمُوعَةُ حَاشِيَتَيْنِ دو کناروں کا جو مجموعہ ہے اس کا نصف جو ہے وہ عدد ہوتا ہے۔ دو کناروں کا؟ دو کناروں کا جو مجموعہ ہے اس کا نصف یہ ہے عدد بھئی۔ مثلاً ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ دو عدد ہے یا دو عدد نہیں، تو دو سے اوپر کیا ہے؟ تین، اور نیچے کیا ہے؟ ایک، تو یہ ایک اور تین یہ دو کے دو کنارے ہو گئے۔ نچلے کنارے پر کیا؟ ایک، اور اوپر والے کنارے پر؟ تین، ایک اور تین کو جمع کریں کتنے ہو گئے؟ چار، اور اس چار کا نصف کریں: دو، معلوم ہوا دو عدد ہے۔ مَجْمُوعَةُ حَاشِيَتَيْنِ کا نصف، دونوں کناروں کا جو مجموعہ ہے اس کا نصف یہ عدد ہوتا ہے۔ اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں تین عدد ہے یا نہیں، تو تین سے اوپر کا کنارہ کیا؟ چار، اور تین سے نیچے کا کنارہ کیا؟ دو، تو ان دو کناروں کو جمع کریں دو اور چار: چھ، اس چھ کا نصف کریں: تین، معلوم ہوا تین عدد ہے۔ اسی طرح ہم دیکھنا چاہتے ہیں پانچ جو ہے یہ عدد ہے یا نہیں، تو پانچ کے اوپر کا کنارہ: چھ، اور پانچ سے نیچے: چار، تو دو کنارے کیا ہو گئے؟ چھ اور چار، ان کو جمع کریں: دس، اور اس دس کا نصف: پانچ، معلوم ہوا پانچ عدد ہے۔ تو عدد کسے کہتے ہیں؟ مَجْمُوعَةُ حَاشِيَتَيْنِ کا نصف، اور ایک جو ہے یہ ایک عدد نہیں۔ اس لیے کیونکہ ایک کے اوپر تو دو کا عدد ہے لیکن ایک سے نیچے تو کوئی عدد نہیں ہے۔ معلوم ہوا ایک عدد نہیں۔
تو ہماری دلیل چل رہی ہے، دلیل یہ چل رہی ہے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر یہ جو طَالِقٌ ہے یہ مفرد کی صفت ہے۔ یہ کس کی صفت ہے؟ مفرد کی صفت ہے، یہ تثنیہ یا جمع کی صفت نہیں ہے، اگر تثنیہ کی صفت ہوتی تو طَالِقَانِ ہوتا، اگر جمع کی صفت ہوتی تو طَوَالِقُ ہوتا، لیکن یہ تو طَالِقٌ ہے یہ مفرد کی صفت ہے۔ جب یہ مفرد کی صفت ہے تو اس میں عدد کا احتمال نہیں، کیونکہ جب موصوف مفرد ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ مفرد، اس میں تثنیہ یا جمع وغیرہ کا احتمال نہیں ہوتا۔ لہٰذا لہٰذا اس میں عدد کا احتمال نہیں کیونکہ عدد وہ تو اس کی ضد ہے۔ ایک عدد نہیں ہے اور اوپر والے باقی سارے کیا ہیں؟ عدد ہیں، معلوم ہوا عدد اور مفرد ان دونوں میں منافات ہے۔ ایک چیز مفرد ہو تو عدد نہیں ہو سکتی اور جو عدد ہے وہ مفرد نہیں ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ لہٰذا یہ جو صفت ہے یہ کس کی صفت ہے؟ مفرد کی صفت، تو معلوم ہوا اس میں عدد کا احتمال نہیں کیونکہ عدد تو اس کی ضد ہے، اس کے مخالف ہے بھئی۔ لہٰذا اس طَالِقٌ میں تثنیہ اور جمع والا معنی نہیں ہے اس کا آپ ارادہ نہیں کر سکتے۔ توجہ ہے؟ لفظ سے اسی معنی کا ارادہ ہو سکتا ہے جس کا اس میں احتمال ہو، ایک لفظ کے اندر ایک معنی کا احتمال ہی نہیں ہے آپ اس کا ارادہ بھی نہیں کر سکتے۔ مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے أَنْتِ طَالِقٌ اور بعد میں کہتا ہے بھئی میرا تو مطلب یہ تھا: أَنْتِ جَمِيلَةٌ جِدًّا، تم بہت خوبصورت ہو۔ بھئی یہ کیسا معنی آپ کر رہے ہیں؟ لفظ بول رہے ہیں أَنْتِ طَالِقٌ اور ارادہ کیا کر رہے ہیں أَنْتِ جَمِيلَةٌ؟ أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر تو أَنْتِ جَمِيلَةٌ کے معنی کا احتمال ہی نہیں ہے۔ لہٰذا وہاں طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو لفظ سے ایسے معنی کا ارادہ تو ہو سکتا ہے جس میں اس کا احتمال بھی ہو۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے أَنْتِ طَالِقٌ اس کے ذریعے ایک سے زیادہ طلاقوں کا ارادہ بھی صحیح ہے کیونکہ زیادہ کا بھی اس کے اندر احتمال موجود ہے، اور ہمارے نزدیک یہ أَنْتِ طَالِقٌ یہ مفرد کی صفت ہے، یہ جب مفرد کی صفت ہے تو یہ صفت مفرد ہوئی تو اس کے اندر عدد یعنی دو یا تین کا احتمال نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو دو اور تین کا جب اس کے اندر احتمال ہی نہیں ہے تو آپ اس کی نیت بھی کریں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس کا اعتبار نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّهُ نَعْتُ فَرْدٍ کہ یہ جو طَالِقٌ ہے یہ مفرد کی صفت ہے، حَتَّى قِيلَ لِلْمُثَنَّى طَالِقَانِ یہاں تک کہ تثنیہ کے لیے طَالِقَانِ کہتے ہیں، وَلِلثَّلَاثِ طَوَالِقُ اور تین کے لیے طَوَالِقُ کہتے ہیں، فَلَا يَحْتَمِلُ الْعَدَدَ تو لہٰذا یہ جو مفرد ہے یہ عدد کا احتمال نہیں رکھتا، لِأَنَّهُ ضِدُّهُ اس لیے کیونکہ یہ عدد جو ہے یہ تو اس مفرد کی ضد ہے، وَذِكْرُ الطَّالِقِ ذِكْرٌ لِطَلَاقٍ هُوَ صِفَةٌ لِلْمَرْأَةِ لَا لِطَلَاقٍ هُوَ تَطْلِيقٌ۔
امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ مشتق کے ضمن میں مشتق منہ بھی آ جاتا ہے، تو طَالِقٌ کے ضمن میں طلاق مصدر بھی آ گیا۔ طَالِقٌ کے ضمن میں طلاق مصدر بھی آ گیا، یاد رکھو، یاد رکھو ایک ہے طلاق، ایک ہے تطلیق۔ طلاق یہ عورت کی صفت ہے۔ عورت طلاق والی ہو جاتی ہے، اور تطلیق، طَلَّقَ يُطَلِّقُ تَطْلِيقًا کا معنی ہے طلاق دینا، اور یہ طلاق دینا یہ خاوند کا کام ہوتا ہے، یہ خاوند کی صفت ہے، خاوند طلاق دیتا ہے۔ تو طلاق بھی مصدر اور تطلیق بھی مصدر، لیکن طلاق صفت ہے عورت کی اور مرد کی جو صفت ہے وہ طلاق نہیں ہے وہ تطلیق ہے۔ تو طلاق مصدر جو ہے وہ عورت کی صفت ہے اور تطلیق یعنی طلاق دینا یہ مرد کی صفت ہے بھئی۔ مرد تطلیق کرتا ہے یعنی طلاق دیتا ہے تو یہ تطلیق جو خاوند کی صفت ہے اس میں تو عدد کا احتمال ہے، خاوند ایک بھی طلاق دے سکتا ہے، دو تطلیق بھی کر سکتا ہے، تین تطلیق بھی کر سکتا ہے، جبکہ طلاق مصدر جو عورت کی صفت بنتا ہے، یاد رکھو، یاد رکھو اس میں تعدد نہیں ہوتا۔ اس میں تعدد نہیں ہوتا، عورت طلاق والی ہے اس میں تعدد نہیں ہوتا کہ ایک والی ہے، دو والی ہے یا تین والی ہے۔ ہاں اس میں کیفیت میں فرق ہوتا ہے کہ یا تو عورت طلاقِ رجعی والی ہے یا طلاقِ بائن والی ہے بھئی۔ تو تطلیق جو مرد کی صفت ہے اس میں تو عدد کا احتمال ہے لیکن طلاق جو عورت کی صفت ہے اس میں تو عدد کا احتمال نہیں، اس میں صرف کیفیت مختلف ہوتی ہے، یہ طلاق والی ہے تو طلاقِ رجعی والی ہو گی یا طلاقِ بائن والی ہو گی بھئی، ایک اور دو سے وہاں کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ تو یہاں پر بھی أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ یہ طَالِقٌ یہ مشتق ہے اور مشتق کے ضمن میں مشتق منہ آ جاتا ہے، تو طَالِقٌ کے ضمن میں طلاق آ گئی۔ تو ہم کہتے ہیں طَالِقٌ کے ضمن میں جو طلاق مصدر آیا ہے وہ وہ والا مصدر ہے جو عورت کی صفت ہے جو مرد کی صفت ہے وہ نہیں، اور جو عورت کی صفت ہے اس کے اندر تو عدد کا احتمال نہیں، اس کے اندر تو صرف کیفیت مختلف ہوتی ہے، رجعی ہو گی یا بائن ہو سکتی ہے وہاں عدد کا احتمال نہیں۔ تو أَنْتِ طَالِقٌ کے ضمن میں جو مصدر آیا ہے وہ طلاق مصدر ہے تطلیق نہیں، اور طلاق مصدر میں عدد کا احتمال نہیں کیونکہ وہ عورت کی صفت ہے بھئی۔ تو وہ عورت کی صفت ہے اور تطلیق مصدر ہوتا، تطلیق مصدر جو ہے وہ نیت کا محل ہے، تطلیق کے اندر خاوند ایک یا ایک سے زیادہ کی نیت کر سکتا ہے لیکن طلاق جو عورت کی صفت ہے وہ تو نیت کا محل نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَذِكْرُ الطَّالِقِ ذِكْرٌ لِطَلَاقٍ هُوَ صِفَةٌ لِلْمَرْأَةِ اور طَالِقٌ کا ذکر یہ ذکر کرنا ہے اس طلاق کو جو عورت کی صفت ہے، لَا لِطَلَاقٍ هُوَ تَطْلِيقٌ یہ اس طلاق کا ذکر نہیں جو تطلیق ہے یعنی جو خاوند کی صفت ہے، وَالْعَدَدُ الَّذِي يَقْتَرِنُ بِهِ نَعْتٌ لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ مَعْنَاهُ طَلَاقًا ثَلَاثًا۔
اب امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، یہ أَنْتِ طَالِقٌ کے ساتھ ثَلَاثًا تمییز آتی ہے اور تمییز ابہام کو دور کرتی ہے یعنی کلام کے احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کرتی ہے، معلوم ہوا أَنْتِ طَالِقٌ کے اندر بھی ثَلَاثًا کا احتمال تھا جبھی ثَلَاثًا نے آ کر اس ابہام کو دور کیا۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، یہ جو ثَلَاثًا آگے آیا ہے یہ تمییز نہیں ہے بلکہ یہ صفت ہے مصدرِ محذوف کی، اصل میں ہے مثلاً خاوند نے کہا: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا تو یہ ثَلَاثًا یہ صفت ہے اس سے پہلے موصوف طَلَاقًا محذوف نکال لیں گے، تو گویا کلام یوں ہے: أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا ثَلَاثًا۔ أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا ثَلَاثًا تو یہ جو ثَلَاثًا ہے یہ مصدرِ محذوف کی صفت ہے، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص
کہتا ہے: أَعْطَيْتُهُ جَزِيلًا۔ جزیل کا معنی کثیر، یعنی بہت زیادہ۔ أَعْطَيْتُهُ جَزِيلًا۔ اب یہ جَزِيلًا جو ہے، یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے۔ أَعْطَيْتُهُ إِعْطَاءً جَزِيلًا۔ جی۔ أَعْطَيْتُهُ إِعْطَاءً جَزِيلًا، یعنی میں نے اس کو بہت کثیر اعطا کی بھئی۔ یا یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کہتے ہیں: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا۔ جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا۔ اصل میں کیا ہے؟ یہ خَيْرًا صفت ہے موصوفِ محذوف کی۔ جَزَاكَ اللهُ جَزَاءً خَيْرًا۔ جَزَاكَ اللهُ، اللہ آپ کو بدلہ دے، جَزَاءً خَيْرًا، اچھا بدلہ۔ تو بامحاورہ ترجمہ کیا ہوگا؟ جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے بھئی۔ جی۔ تو جیسے یہ خَيْرًا کا موصوف محذوف ہے، جَزِيلًا کا موصوف محذوف ہے، اسی طرح ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“، اس کے اندر بھی یہ ثَلَاثًا کا موصوف بھی محذوف ہے جو مصدر ہے۔ لہٰذا یہ تمییز ہے ہی نہیں۔ جی۔ اگر ثَلَاثًا تمییز ہوتی پھر آپ کی دلیل بن جاتی، لیکن یہ تو تمییز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
وَالْعَدَدُ الَّذِي يَقْتَرِنُ بِهِ نَعْتٌ لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ، اور وہ عدد جو اس کے ساتھ مل گیا ہے، نَعْتٌ لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ، وہ مصدرِ محذوف کی صفت ہے، مَعْنَاهُ، اور معنی اس کا ہے: طَلَاقًا ثَلَاثًا۔ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا کا کیا معنی ہے؟ أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا ثَلَاثًا۔ كَقَوْلِكَ، جیسے کہ آپ کا یہ قول ہے: أَعْطَيْتُهُ جَزِيلًا، أَيْ: إِعْطَاءً جَزِيلًا۔ تو یہاں پر بھی جَزِيلًا، إِعْطَاءً کی صفت ہے کہ میں نے اس کو بہت زیادہ عطا کیا بھئی۔ جی۔
آگے دیکھیے:
وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ الطَّلَاقُ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ أَوْ نَوَى وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ فَهِيَ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ، وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ۔
اب دیکھو مصدر لے آئیں گے۔ مصدر لے آئے، مثلاً خاوند پہلے کیا کہا تھا؟ أَنْتِ طَالِقٌ۔ اب کہتا ہے: أَنْتِ الطَّلَاقُ۔ الطَّلَاقُ مصدر لے آیا معرف باللام، الف لام کے ساتھ۔ أَنْتِ الطَّلَاقُ، اس صورت میں یاد رکھو، ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ ایک طلاق تو اس سے قطعی طور پر ہو جائے گی کیونکہ یہ صریح ہے، اور صریح سے ایک ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ مصدر ہے اور مصدر اس میں جنس ہے جو قلیل کے ساتھ کثیر کا یعنی پوری جنس کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ پوری جنس کا بھی احتمال رکھتا ہے اور عورت کی جنسِ طلاق کتنی ہے؟ زیادہ سے زیادہ کتنی طلاقیں ہیں؟ تین۔ یعنی پوری جنسِ طلاق تین ہے، تین افراد پر مشتمل ہے۔ تو پوری جنس کا ارادہ بھی صحیح ہو جائے گا کیونکہ الطَّلَاقُ کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر اس میں جنس ہے اور اس میں جنس وہ قلیل اور کثیر سب پر بولا جاتا ہے بھئی۔ وہ قلیل اور کثیر سب پر بولا جاتا ہے۔ تو أَنْتِ الطَّلَاقُ، توجہ ہے؟ لفظوں میں فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ پہلے کیا تھا؟ أَنْتِ طَالِقٌ۔ جی۔ طَالِقٌ وہ تو امرأۃ کی، صفت کا صیغہ استعمال کیا تھا کہ تو طلاق والی ہے، لیکن یہاں وہ مصدر بول رہا ہے: أَنْتِ الطَّلَاقُ، تو طلاق ہے۔ تو یہاں آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ طَلَاقٌ بھی بمعنی طَالِقٌ کے ہے۔ طَلَاقٌ بھی بمعنی طَالِقٌ کے ہے، لہٰذا ایک طلاق تو اس سے قطعی ہو جائے گی، لیکن استعمال تو اس نے مصدر کیا ہے اور مصدر کے اندر قلیل اور کثیر کا احتمال ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر تین کی نیت کی تو تین بھی ہو جائیں گی۔ لیکن اگر دو کی نیت کی، دو نہیں ہوں گی۔ دو نہیں، کیونکہ دو عددِ محض ہے۔ یاد رکھو، آگے چل کر صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے، آپ یہیں سمجھ لیں۔ کہ جنس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی۔ قلیل یعنی ایک فرد پر، قلیل یعنی ایک فرد۔ ایک انسان ہو تب بھی کہیں گے ایک انسان، اور اگر آپ پوری جنسِ انسان کے افراد کا احاطہ کرتے ہیں، جی، تو یعنی پوری جنس کا ارادہ کر لیا، اور پوری جنس، یہ بھی تو ایک ہی جنس ہے۔ یہ بھی تو ایک ہی جنس ہے، تو پوری جنس کا بھی ارادہ کر سکتے ہیں۔ توجہ ہے؟ دیکھو، پھر سنو، پھر سنو۔ طَلَاقٌ مصدر ہے۔ جی۔ طَلَاقٌ کیا ہے؟ مصدر ہے۔ صیغہ تو مفرد کا ہے، صیغہ تو مفرد کا ہے، لیکن ہے تو اس میں جنس، اور اس میں جنس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی۔ جی۔ اور قلیل کم سے کم کتنا ہے؟ ایک فرد، ایک۔ جی۔ تو ایک کا بھی ارادہ صحیح، اور کثیر یعنی ساروں کا مجموعہ بنا کر ان کو ایک فرد بنا لو، یعنی ساری جنس۔ جی۔ تو یہ بھی فرد ہے لیکن حکماً فرد ہے یعنی پوری جنس کے افراد آپ نے ملا لیے اور یہ سارا اس کو ایک کا ہی حکم دے دیا، یہ سارا ایک ہی مجموعہ ہے۔ یہ سارا ایک، تو یاد رکھو کہ جنس جو ہے اس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی، یا یوں کہو کہ جنس جو ہے اس کا اطلاق فرد پر ہو گا۔ کس پر؟ فرد، لیکن وہ فرد حقیقتاً بھی فرد ہو سکتا ہے اور حکماً بھی فرد ہو سکتا ہے، یا یوں کہو مفرد، کہ جنس کا اطلاق مفرد پر ہو گا کیونکہ جنس کا لفظ مفرد کا لفظ ہے۔ انسان کیا ہے؟ جمع ہے یا مفرد کا لفظ ہے؟ لفظ تو مفرد ہے اگرچہ اس میں جنس ہے، لیکن لفظ تو مفرد کا ہے۔ اسی طرح طَلَاقٌ اگرچہ مصدر ہے لیکن مفرد کا لفظ ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اس کا اطلاق مفرد پر ہی ہو گا لیکن مفرد دو طرح سے ہو سکتا ہے: ایک حقیقتاً مفرد ہو یعنی ایک، ایک فرد جب ہے تو یہ حقیقت میں ہی مفرد ہے، اور ایک ہے مفردِ حکمی یعنی جس پر مفرد ہونے کا حکم لگا دیا گیا اور وہ پوری جنس ہے۔ جی۔ ساری جنس کو یعنی انسان کے سارے افراد کو آپ نے ملا لیا، یہ ساری کیا ہے؟ ایک ہی جنس ہے، یہ ایک ہی فرد کے درجے میں ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا جنس کا اطلاق مفرد پر کرنا ہے لیکن وہ مفرد کبھی حقیقتاً ہو گا اور کبھی حکماً ہو گا یعنی پوری جنس مراد ہو گی۔ جی۔ تو انسان بول کر آپ ایک انسان کا ارادہ بھی کر سکتے ہیں اور پوری جنسِ انسان کا ارادہ بھی کر سکتے ہیں، ہاں دو یا تین انسانوں کا ارادہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ عدد ہیں۔ دو اور تین نہ یہ حقیقتاً مفرد ہیں اور نہ یہ حکماً مفرد ہیں یعنی یہ پوری جنس بھی نہیں ہیں۔ جی۔ جنس بول کر آپ مفردِ حقیقی کا بھی ارادہ کر سکتے ہیں اور پوری جنس کا یعنی مفردِ حکمی کا بھی ارادہ کر سکتے ہیں لیکن درمیان والے جو عدد ہیں یعنی دو، تین یا چار، پانچ، مثلاً انسان، انسان بول کر آپ ایک انسان بھی مراد لے سکتے ہیں کیونکہ یہ حقیقتاً مفرد ہے، جی، اور آپ پورے انسان کے افراد بھی مراد لے سکتے ہیں کہ یہ پوری ایک ہی جنس ہے یعنی یہ مفرد ہے حکماً، ہم نے حکم لگا دیا یہ ایک ہی ہے، سارے انسان کیا ہیں؟ ایک، یعنی ایک ہی جنس ہے، لیکن اگر آپ اس کے ذریعے دو یا تین یا چار یا پانچ افراد کا ارادہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ جو دو، تین، چار ہیں یہ نہ حقیقتاً مفرد ہیں اور نہ حکماً مفرد ہیں، لہٰذا ان کے لیے آپ جنس کا لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔ جی۔ تو اسی طرح طَلَاقٌ بھی اس میں جنس ہے، اس میں جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر دونوں پر ہو سکتا ہے لیکن عدد پر اطلاق نہیں، لہٰذا أَنْتِ الطَّلَاقُ، دیکھو الطَّلَاقُ مصدر لے آیا اور مصدر اس میں جنس ہے لہٰذا اس کا اطلاق ایک طلاق پر بھی ہے، ایک طلاق وہ حقیقتاً مفرد ہے، اور طلاق کی پوری جنس، پوری طلاقیں کتنی ہیں ایک خاوند کے پاس زیادہ سے زیادہ؟ تین۔ تو پوری جنس یعنی تین طلاقوں کا ارادہ بھی ہو سکتا ہے، جی، لیکن دو کا ارادہ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ الطَّلَاقُ، اور اگر خاوند نے بیوی سے أَنْتِ الطَّلَاقُ کہا، اب ادھر دیکھیے، ادھر دیکھیے۔ أَنْتِ الطَّلَاقُ کہا، مصدر لایا ہے۔ جی، مجھے بتائیے، طلاق واقع ہو گی یا نیت ضروری ہے؟ طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ صریح ہے، اور صریح کے اندر کسی نیت کی ضرورت نہیں۔ جی۔ اور اگر خاوند نے أَنْتِ الطَّلَاقُ کے اندر دو طلاقوں کی نیت کی تو کتنی واقع ہوں گی؟ ایک، کیونکہ دو تو عدد ہے بھئی، اور جنس کے اندر عدد کا احتمال نہیں، یا فردِ حقیقی ہونا چاہیے یا فردِ حکمی یعنی ساروں کا مجموعہ۔ اور اگر اس نے تین کی نیت کی یعنی ساری جنس کا ارادہ کر لیا تو پھر تین واقع ہو جائیں گی کیونکہ یہ ساری جنس ہے۔ جی۔
اسی طرح اگلی مثال ہے، دیکھو متن میں:
أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ۔ جی۔ أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، یہ مفعولِ مطلق لے آئے، ملا کر پڑھیں: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ۔ جی۔ تو اس صورت کے اندر بھی أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، جی، اگر خاوند کوئی نیت نہ کرے تو بھی ایک واقع ہو گئی، جی، کیونکہ یہ جو أَنْتِ طَالِقٌ اور آگے الطَّلَاقَ مصدر کیا آ رہا ہے؟ مفعولِ مطلق۔ جی۔ اور مفعولِ مطلق کس لیے لاتے ہیں؟ ماقبل کے اندر تاکید پیدا کرتا ہے، تو اسی الطَّلَاقَ جو آخر میں آ رہا ہے اس نے طَالِقٌ میں تاکید پیدا کر دی، اور أَنْتِ طَالِقٌ سے ایک طلاق ہوتی تھی تو أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ اس کے اندر بھی ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔ اور اگر خاوند دو کی نیت کرے تو بھی ایک ہی ہو گی کیونکہ الطَّلَاقَ مصدر موجود ہے اور وہ اس میں جنس ہے لیکن اس میں جنس عدد پر دلالت نہیں کرتا، وہ فردِ حقیقی پر دلالت کرتا ہے یا فردِ حکمی یعنی پوری جنس پر۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اگر خاوند نے تین طلاقوں کی نیت کی تو پھر یہاں تین طلاقیں ہو جائیں گی، کیونکہ لفظ کیا ہے؟ أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، تو طَالِقٌ صرف ہوتا پھر تو تین کی نیت نہیں ہو سکتی تھی لیکن الطَّلَاقَ مفعولِ مطلق آگے مصدر آ رہا ہے اور مصدر بول کر تو پوری جنس کا ارادہ صحیح ہے تو پوری جنسِ طلاق یعنی تینوں کا ارادہ بھی یہاں ہو سکتا ہے۔ جی۔
اور پھر اگلی مثال، یہ تو کیا مثال تھی؟ أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ۔ الطَّلَاقَ مصدر، یہ جو مفعولِ مطلق ہے معرفہ ہے، اس پر الف لام ہے۔ الف لام کو ذرا ہٹا دیں: أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا۔ أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا۔ تو اب یہاں پر بھی طَلَاقًا مصدر آ رہا ہے، لہٰذا اگر بغیر نیت کے اس نے کہا: أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا، تو کتنی طلاقیں ہوں گی؟ ایک، ایک۔ کسی نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں، اور اگر دو کی نیت کی تو بھی ایک ہی ہو گی کیونکہ مصدر عدد پر دلالت نہیں کرتا۔ لیکن اگر اس نے تین کی نیت کی تو چونکہ طَلَاقًا مصدر موجود ہے اور تین کیا ہے؟ پوری جنس ہے، تو پوری جنس کا ارادہ بھی صحیح تو تین بھی ہو جائیں گی۔ جی۔
دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں:
وَلَوْ قَالَ، اور اگر خاوند نے کہا: أَنْتِ الطَّلَاقُ، دیکھو بیوی پر طلاق مصدر کا حمل کر دیا، جی، تو أَنْتِ الطَّلَاقُ کہا، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، یا أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ کہا، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا، یہ لفظ اس نے کہے یعنی مفعولِ مطلق کو معرفہ لائے یا نکرہ لائے، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ، تو اگر خاوند کی کوئی نیت نہیں ہے، أَوْ نَوَى وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، یا خاوند نے ایک یا دو کی نیت کی ہے، فَهِيَ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ، تو ان سب صورتوں کے اندر ایک رجعی ہو گی، جی، چاہے کوئی نیت نہ کرے پھر بھی ایک رجعی، ایک کی نیت کرے پھر بھی ایک رجعی، دو کی نیت کرے پھر بھی ایک رجعی ہو گی۔ وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ، اور اگر خاوند نے تین کی نیت کی ہے تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔
وَوُقُوعُ الطَّلَاقِ بِاللَّفْظَةِ الثَّانِيَةِ وَالثَّالِثَةِ ظَاهِرٌ، اور طلاق کا واقع ہونا دوسرے اور تیسرے لفظ سے تو ظاہر ہے۔ بھئی دوسرا لفظ کون سا تھا؟ أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، جی، مفعولِ مطلق جو آگے لے کر آئے اور معرفہ لائے، جی، اور تیسرا لفظ اس میں مفعولِ مطلق نکرہ لائے: أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا۔ کہتے ہیں اس کے اندر تو طلاق کا ہونا ظاہر ہے۔ کیوں؟ کیونکہ صرف أَنْتِ طَالِقٌ سے طلاق ہو رہی ہے، کس سے؟ أَنْتِ طَالِقٌ۔ تو طَالِقٌ کے ساتھ اگر مفعولِ مطلق بھی لے آئے گا تو مفعولِ مطلق اسی طَالِقٌ میں تاکید پیدا کر دے گا، اسی کو پکا کر دے گا۔ جی۔ تو جب اکیلے طَالِقٌ سے بغیر تاکید کے ایک طلاق ہو رہی ہے تو تاکید کی صورت میں تو بطریقِ اولیٰ اس سے ایک طلاق ہو گی۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
وَوُقُوعُ الطَّلَاقِ بِاللَّفْظَةِ الثَّانِيَةِ وَالثَّالِثَةِ ظَاهِرٌ، اور طلاق کا واقع ہونا دوسرے اور تیسرے لفظ سے تو ظاہر ہے، لِأَنَّهُ لَوْ ذَكَرَ النَّعْتَ وَحْدَهُ، اس لیے کیونکہ اگر خاوند صرف صفت کو ذکر کرتا یعنی أَنْتِ طَالِقٌ کہتا، يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ، تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی، فَإِذَا ذَكَرَهُ وَذَكَرَ الْمَصْدَرَ مَعَهُ، تو جب خاوند نے اس صفت کو بھی ذکر کیا اور اس کے ساتھ مصدر کو بھی ذکر کر دیا، وَأَنَّهُ يَزِيدُهُ وِكَادَةً، اور حال یہ ہے کہ مصدر جو ہے وہ اس صفت کو بڑھا دیتا ہے وِكَادَةً، قوت کے اعتبار سے یعنی اس میں تاکید پیدا کر دیتا ہے، جی، أَوْلَى، تو پھر اس صورت میں بطریقِ اولیٰ طلاق ہو گی جب صرف صفت سے طلاق ہو رہی ہے تو مصدر ساتھ ذکر کر دو تو مصدر نے اس میں تاکید پیدا کر دی تو اس میں بطریقِ اولیٰ طلاق ہو گی بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں:
لِأَنَّهُ لَوْ ذَكَرَ النَّعْتَ وَحْدَهُ يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ، اس لیے کیونکہ خاوند اگر صرف صفت ذکر کرتا یعنی أَنْتِ طَالِقٌ کہتا تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی، فَإِذَا ذَكَرَهُ وَذَكَرَ الْمَصْدَرَ مَعَهُ، تو جب اس نے صفت بھی ذکر کی اور اس کے ساتھ مصدر کو بھی ذکر کیا، أَوْلَى، تو یہ بطریقِ اولیٰ طلاق واقع ہو گی۔ درمیان میں بتلا دیا: وَأَنَّهُ يَزِيدُهُ وِكَادَةً، کہ یہ جو مصدر ہے یہ اس صفت کو تاکید کے اعتبار سے بڑھا دیتا ہے یعنی اس میں تاکید پیدا کر دیتا ہے۔
وَأَمَّا وُقُوعُهُ بِاللَّفْظَةِ الْأُولَى، باقی پہلے لفظ سے طلاق کا واقع ہونا، پہلا لفظ کون سا تھا؟ أَنْتِ الطَّلَاقُ۔ تو عورت پر الطَّلَاقُ مصدر کا لفظ بول رہا ہے، جی، کہ تو طلاق ہے۔ تو اس کا جواب دیں گے کہ بھئی بعض اوقات مصدر کا حمل ذات پر کر دیا جاتا ہے اور وہ مصدر بمعنی صفت کے ہوتا ہے، جیسے زَيْدٌ عَدْلٌ کس معنی میں ہے؟ زَيْدٌ عَادِلٌ کے معنی میں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا وُقُوعُهُ بِاللَّفْظَةِ الْأُولَى، اور باقی طلاق کا واقع ہونا پہلے لفظ سے، فَلِأَنَّ الْمَصْدَرَ يُذْكَرُ وَيُرَادُ بِهِ الِاسْمُ، اس لیے کیونکہ مصدر کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے اسم یعنی صفت کا ارادہ کیا جاتا ہے، يُقَالُ: رَجُلٌ عَدْلٌ، کہا جاتا ہے: رَجُلٌ عَدْلٌ، أَيْ: عَادِلٌ، تو یہ عَدْلٌ کس معنی میں ہوتا ہے؟ عَادِلٌ، یعنی مصدر بول کر صفت کا ارادہ کیا جاتا ہے، فَصَارَ بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ، تو یہ خاوند کے أَنْتِ طَالِقٌ قول کے درجے میں ہو گیا۔ أَنْتِ الطَّلَاقُ، یہ کس درجے میں ہو گیا؟ أَنْتِ طَالِقٌ کے درجے میں۔ الطَّلَاقُ، طَالِقٌ کے درجے میں ہو گیا۔ پھر دیکھیں: أَنْتِ الطَّلَاقُ، یہ کس درجے میں ہوا؟ أَنْتِ طَالِقٌ کے درجے میں ہوا، یہ معنی ہے: فَصَارَ بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ، تو خاوند کا قول أَنْتِ الطَّلَاقُ یہ أَنْتِ طَالِقٌ کے درجے میں ہو گیا۔
وَعَلَى هَذَا لَوْ قَالَ: أَنْتِ طَلَاقٌ يَقَعُ الطَّلَاقُ بِهِ أَيْضًا۔ بھئی پیچھے تو متن میں آیا تھا: أَنْتِ الطَّلَاقُ، الف لام تھا اس پر، تو کہتے ہیں بھئی الف لام ہو چاہے نہ ہو دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ أَنْتِ الطَّلَاقُ یہ بھی کس معنی میں؟ أَنْتِ طَالِقٌ کے معنی میں، اور أَنْتِ طَلَاقٌ یہ بھی کس معنی میں ہے؟ أَنْتِ طَالِقٌ کے معنی میں ہے، تو دونوں سے طلاق ہو گی۔
وَعَلَى هَذَا، اور اسی بنا پر، لَوْ قَالَ، اگر خاوند نے کہا: أَنْتِ طَلَاقٌ، یعنی مصدر کا حمل کیا عورت پر اور بغیر الف لام کے، يَقَعُ الطَّلَاقُ بِهِ أَيْضًا، تو اس کے ذریعے بھی طلاق واقع ہو جائے گی، وَلَا يُحْتَاجُ فِيهِ إِلَى النِّيَّةِ، اور اس میں نیت کی احتیاج بھی نہیں ہو گی کیونکہ صریح لفظ ہے، وَيَكُونُ رَجْعِيًّا، اور طلاق بھی کون سی ہو گی؟ رجعی ہو گی، لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ صَرِيحُ الطَّلَاقِ، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ صریح طلاق ہے، لِغَلَبَةِ الِاسْتِعْمَالِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ یہ غالب الاستعمال ہے طلاق میں۔ جی۔ یہ طلاق کا لفظ کیا ہے؟ طلاق میں غالب الاستعمال ہے لہٰذا ان سب سے طلاق واقع ہو جائے گی۔
وَتَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ، اور تین کی نیت بھی صحیح ہے، لِأَنَّ الْمَصْدَرَ يَحْتَمِلُ الْعُمُومَ وَالْكَثْرَةَ، اس لیے کیونکہ مصدر جو ہے وہ عموم اور کثرت کا احتمال رکھتا ہے، لِأَنَّهُ اسْمُ جِنْسٍ، اس لیے کیونکہ مصدر جو ہے وہ اسمِ جنس ہے، فَيُعْتَبَرُ بِسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَجْنَاسِ، لہٰذا اس کو قیاس کیا جائے گا باقی اسمائے اجناس پر، اور باقی اسمائے اجناس تو قلیل اور کثیر پر ان کا اطلاق ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی مصدر ہے تو قلیل یعنی ایک اور کثیر یعنی ساری جنس جو ہے تین طلاقیں ان پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے تو تین کی نیت صحیح ہو گی۔ تو کہتے ہیں: فَيُعْتَبَرُ بِسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَجْنَاسِ، تو اس مصدر کو قیاس کیا جائے گا باقی اسمائے اجناس پر، فَيَتَنَاوَلُ الْأَدْنَى مَعَ احْتِمَالِ الْكُلِّ، تو یہ ادنیٰ کو شامل ہو گا مع احتمال الکل، ساتھ کل کے احتمال کے۔ أَنْتِ طَلَاقٌ یا أَنْتِ الطَّلَاقُ، طَلَاقٌ کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی۔ تو قلیل تو یقینی ہے، کثیر کا احتمال ہے۔ تو جب وہ نیت کر لے گا تو کلام کے احتمال کی اس نے نیت کی ہے، کلام میں اس کا احتمال بھی تھا لہٰذا وہ تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ تو یہ معنی ہے: فَيَتَنَاوَلُ الْأَدْنَى، تو یہ ادنیٰ یعنی ایک کو تو شامل ہو گا ہی یقینی طور پر، مَعَ احْتِمَالِ الْكُلِّ، ساتھ کل کے احتمال کے کہ اس کا بھی احتمال ہے، وَلَا تَصِحُّ نِيَّةُ الثِّنْتَيْنِ فِيهَا، اور اس کے اندر دو کی نیت صحیح نہیں ہے، خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللهُ، بخلاف امامِ زفر رحمہ اللہ کے، هُوَ يَقُولُ، وہ فرماتے ہیں: إِنَّ الثِّنْتَيْنِ بَعْضُ الثَّلَاثِ۔ امامِ زفر فرماتے ہیں دو کی نیت بھی صحیح ہے۔ وہ فرماتے ہیں دیکھو، جب أَنْتِ الطَّلَاقُ کے ذریعے آپ تین کی نیت کر سکتے ہیں اور تین تو کل ہے اور دو اس کا جزو ہے، تو جب کل کی نیت کی جا سکتی ہے تو جزو کی بھی نیت کی جا سکتی ہے۔ هُوَ يَقُولُ، وہ فرماتے ہیں: إِنَّ الثِّنْتَيْنِ بَعْضُ الثَّلَاثِ، کہ دو جو ہے وہ تین کا جزو ہے، اس کا بعض ہے، فَلَمَّا صَحَّتْ نِيَّةُ الثَّلَاثِ، تو جب تین کی نیت صحیح ہے، صَحَّتْ نِيَّةُ بَعْضِهَا ضَرُورَةً، تو اس تین کے بعض یعنی اس کے جزو کی نیت بھی صحیح ہو گی، ضَرُورَةً یقینی طور پر۔ ضَرُورَةً کا معنیٰ بدیہی کے بھی آپ کر سکتے ہیں۔ بدیہی وہ چیز جس میں دلیل کی ضرورت نہیں، جس کا سب کو، سب کو پتا ہے، یعنی خوب ظاہر ہے، اور ضرورت کا معنی یقینی کے بھی آپ کر سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جو معنی آپ کو بہتر لگے۔ تو کہتے ہیں: فَلَمَّا صَحَّتْ نِيَّةُ الثَّلَاثِ، تو جب تین کی نیت صحیح ہے، صَحَّتْ نِيَّةُ بَعْضِهَا، تو اس کے بعض کی نیت بھی صحیح ہے، ضَرُورَةً، یقینی طور پر۔
وَنَحْنُ نَقُولُ: نِيَّةُ الثَّلَاثِ إِنَّمَا صَحَّتْ لِكَوْنِهَا جِنْسًا، اور ہم کہتے ہیں کہ تین کی نیت جو ہے وہ اس لیے صحیح ہے لِكَوْنِهَا جِنْسًا کہ تین جو ہے وہ کل جنس ہے۔ وہ طلاق کی کل جنس ہے، پوری جنس ہے، حَتَّى لَوْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ أَمَةً تَصِحُّ نِيَّةُ الثِّنْتَيْنِ بِاعْتِبَارِ مَعْنَى الْجِنْسِيَّةِ، کہتے ہیں اگر عورت باندی ہوتی جس کو خاوند طلاق دے رہا ہے اور باندی کی تو طلاقیں زیادہ سے زیادہ کتنی ہیں؟ دو۔ تو پھر اس صورت میں أَنْتِ الطَّلَاقُ سے دو کی نیت بھی صحیح تھی، لیکن عدد ہونے کے اعتبار سے دو کی نیت صحیح نہیں تھی، کل جنس ہونے کے اعتبار سے نیت صحیح تھی۔ تو یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ حَتَّى لَوْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ أَمَةً، یہاں تک کہ اگر یہ عورت باندی ہوتی، تَصِحُّ نِيَّةُ الثِّنْتَيْنِ، تو دو کی نیت بھی صحیح ہوتی، بِاعْتِبَارِ مَعْنَى الْجِنْسِيَّةِ، جنس ہونے کے معنی کے اعتبار سے، عدد کے اعتبار سے نہیں بھئی۔
أَمَّا الثِّنْتَانِ فِي حَقِّ الْحُرَّةِ عَدَدٌ، باقی دو جو ہے آزاد عورت کے حق میں عَدَدٌ، یہ عدد ہے، وَاللَّفْظُ لَا يَحْتَمِلُ الْعَدَدَ، اور یہ لفظ جو ہے یہ عدد کا احتمال نہیں رکھتا۔ ہم نے پہلے بتلا دیا کہ عدد اور مفرد میں کیا ہے؟ عدد اور مفرد ایک دوسرے کی ضد ہیں، جو مفرد ہے وہ عدد نہیں، جو عدد ہے وہ مفرد نہیں ہے۔ وَهَذَا لِأَنَّ مَعْنَى التَّوَحُّدِ مُرَاعًى فِي أَلْفَاظِ الْوُحْدَانِ۔ وُحْدَان جمع ہے واحد کی، وُحْدَان کس کی جمع؟ واحد۔ تَوَحُّد، تَوَحُّد کا معنی ہے ایک ہونا۔ مُرَاعًى، جس کی رعایت رکھی جائے، اسمِ مفعول ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا، اور یہ اس لیے، لِأَنَّ مَعْنَى التَّوَحُّدِ مُرَاعًى، اس لیے کیونکہ ایک ہونے کے معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے، فِي أَلْفَاظِ الْوُحْدَانِ، مفرد کے الفاظ میں۔ جب لفظ مفرد ہو تو معنی بھی مفرد ہی ہوتا ہے، لفظ مفرد ہو معنی جمع نہیں ہو سکتا، توجہ ہے؟ تو مفرد لفظوں کے اندر مفرد معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے۔ تو لہٰذا جنس کے ذریعے آپ فردِ حقیقی کا بھی ارادہ کر سکتے ہیں اور فردِ حکمی، جنس کا لفظ کیا ہے؟ مفرد ہے نا؟ جی۔ تو اس کے ذریعے مفرد ہی کا ارادہ کرنا پڑے گا لیکن مفرد دو ہیں بھئی: ایک مفردِ حقیقی یعنی ایک جو حقیقتاً مفرد ہے، اور ایک مفردِ حکمی یعنی پوری جنس بھئی، پوری جنس بھی تو ایک ہی جنس ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا طلاق کا لفظ مفرد ہے اور مفرد لفظ کے اندر مفرد کی رعایت رکھی جاتی ہے، لہٰذا اس کے ذریعے مفرد ہی مراد ہو گا چاہے وہ مفردِ حقیقی ہو چاہے مفردِ حکمی ہو۔ لیکن عدد جو ہے، دو کا ارادہ یہاں نہیں ہو سکتا۔ تو یہ معنی ہے: وَهَذَا لِأَنَّ مَعْنَى التَّوَحُّدِ مُرَاعًى فِي أَلْفَاظِ الْوُحْدَانِ، اس لیے کیونکہ مفرد کے معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے مفرد الفاظ میں، وَذَلِكَ بِالْفَرْدِيَّةِ أَوِ الْجِنْسِيَّةِ، اور اس معنی کی رعایت جو ہے وہ مفرد ہونے کے ذریعے ہو گی یا جنس ہونے کے ذریعے ہو گی۔ مفرد لفظوں میں مفرد معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے اور وہ رعایت یہاں تب ہی ہو سکتی ہے جب فردیت ہو یا جنسیت ہو، یعنی ایک فرد مراد لیں یا پوری جنس مراد لیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَذَلِكَ بِالْفَرْدِيَّةِ أَوِ الْجِنْسِيَّةِ، اور یہ فرد ہونے کے ذریعے ہو گا یا جنس ہونے کے ذریعے یعنی پھر ہی رعایت ہو سکے گی، وَالْمُثَنَّى بِمَعْزِلٍ مِنْهُمَا۔ عَزَلَ يَعْزِلُ کا معنی ہوتا ہے جدا ہونا۔ وَالْمُثَنَّى بِمَعْزِلٍ مِنْهُمَا، اور تثنیہ تو ان دونوں سے الگ ہے، ان دونوں سے جدا ہے، نہ تو وہ فرد ہے، نہ وہ جنس ہے، تو وہ مراد نہیں لے سکتے۔ ایک فرد یا ایک جنس مراد لے سکتے ہیں لیکن تثنیہ دو طلاقیں یہاں مراد نہیں لے سکتے۔ ایک کا ارادہ بھی صحیح کیونکہ وہ فردِ حقیقی ہے، تین طلاقوں کا ارادہ بھی صحیح کیونکہ وہ پوری جنس ہے، لیکن دو طلاقوں کا ارادہ صحیح نہیں کیونکہ وہ عدد ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقُ، دوسری صورت، یہ وہی مثال، وہی مثال: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقُ یا الطَّلَاقَ جس طرح بھی بول دیں۔ توجہ ہے؟ اگر الطَّلَاقُ پڑھیں: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقُ، تو اس کے لیے ایک اور مبتدا نکال لیں: أَنْتِ الطَّلَاقُ۔ توجہ ہے؟ کتاب کی عبارت پر نظر رکھیں: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقُ، تو یہ جو الطَّلَاقُ ہے اس سے پہلے ایک اور أَنْتِ نکال لیں: أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ الطَّلَاقُ، یوں بھی ہو سکتا ہے۔ اور آپ چاہیں تو الطَّلَاقَ اس کو مفعولِ مطلق پڑھیں اور مفعولِ مطلق منصوب ہوتا ہے۔ جی۔ تو اگر خاوند نے یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ یا أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقُ، اور پھر کہتا ہے، پھر کہتا ہے میں نے دو کی نیت کی تھی۔ ہم نے بتایا دو کی نیت نہیں ہو سکتی، لیکن اگر خاوند کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ، اس طَالِقٌ سے میں نے ایک طلاق کی نیت کی اور آگے الطَّلَاقَ یا الطَّلَاقُ اس کے ذریعے میں نے دوسری طلاق کی نیت کی، تو کہتے ہیں پھر اس کی بات ٹھیک ہے۔ جی۔ اب اس کی بات ٹھیک ہے کیونکہ طَالِقٌ یہ بھی صریح اور الطَّلَاقُ یہ بھی کیا ہے؟ صریح، تو دو صریح لفظوں سے دو طلاقوں کا ارادہ صحیح ہو گیا۔ جی۔ صرف مصدر ہونے کے اعتبار سے دو کا ارادہ صحیح نہیں لیکن دو لفظوں کے اعتبار سے دو کا ارادہ صحیح ہے، فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ جی۔
وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، اور اگر خاوند نے کہا: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، وَقَالَ، اور پھر کہتا ہے: أَرَدْتُ بِقَوْلِي: طَالِقٌ وَاحِدَةً، کہ میں نے اپنے قول طَالِقٌ کے ذریعے ایک کا ارادہ کیا، وَبِقَوْلِي: الطَّلَاقُ أُخْرَى، اور میں نے اپنے قول الطَّلَاقُ کے ذریعے دوسری طلاق کا ارادہ کیا، يُصَدَّقُ، تو اس کی تصدیق کی جائے گی، لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَالِحٌ لِلْإِيقَاعِ، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر لفظ طلاق واقع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، طَالِقٌ سے بھی طلاق واقع ہوتی ہے اور طَلَاقٌ سے بھی طلاق واقع ہوتی ہے، فَكَأَنَّهُ قَالَ، گویا کہ خاوند نے یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ وَطَالِقٌ۔ مصدر بھی کس معنی میں ہوتا ہے؟ طَالِقٌ کے معنی میں، تو گویا دو دفعہ طَالِقٌ کہا۔ تو یہ معنی ہے: فَكَأَنَّهُ قَالَ، گویا کہ خاوند نے کہا: أَنْتِ طَالِقٌ وَطَالِقٌ، فَتَقَعُ رَجْعِيَّتَانِ إِذَا كَانَتْ مَدْخُولًا بِهَا، تو دو رجعی طلاقیں واقع ہو جائیں گی اگر عورت مدخول بہا ہوئی۔ اگر عورت مدخول بہا یعنی جس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے، پھر دو رجعی طلاقیں واقع ہو جائیں گی، خاوند رجوع کر سکتا ہے، لیکن اب تمام زندگی اس کے پاس ایک ہی طلاق کا حق باقی رہے گا بھئی۔ جی۔ اور اگر عورت غیر مدخول بہا ہوئی، اور پھر کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، اس کے اندر میں نے طَالِقٌ سے ایک کی نیت کی ہے اور الطَّلَاقَ سے دوسری کی نیت کی ہے، تو پھر یاد رکھو صرف ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔ اگر عورت غیر مدخول بہا ہے جس سے خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی، وجہ یہ کہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ غیر مدخول بہا ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جاتی ہے اور اس پر عدت بھی نہیں ہے وہ آگے فوراً نکاح کر سکتی ہے کسی اور سے۔ جی۔ وہ ایک ہی طلاق سے کیا ہو جاتی ہے؟ بائنہ۔ اور خاوند کیا کہہ رہا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ، طَالِقٌ سے میں نے ایک طلاق کی نیت کی ہے اور الطَّلَاقَ سے دوسری طلاق کی نیت کی ہے، تو اس صورت میں جیسے ہی پہلی طلاق واقع ہو گی ساتھ ہی وہ عورت بائنہ ہو گئی، اور اب جب خاوند نے اگلا لفظ کہا وہ تو پہلے سے ہی بائنہ ہو چکی ہے۔ جی۔ لہٰذا دوسری طلاق لغو چلی جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے:
وَإِذَا أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى جُمْلَتِهَا أَوْ إِلَى مَا يُعَبَّرُ بِهِ عَنِ الْجُمْلَةِ وَقَعَ الطَّلَاقُ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے، اگر خاوند طلاق کی نسبت پوری عورت کی طرف کرتا ہے پھر بھی طلاق واقع ہو جائے گی، اور اگر خاوند نے طلاق کی نسبت کسی ایسے جزو کی طرف کی جس سے پورے بدن کو تعبیر کیا جاتا ہے تو بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ مثلاً خاوند کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ، اب یہ أَنْتِ تو ضمیر ہے، اور أَنْتِ ضمیر کے ذریعے پورا مخاطب مراد ہوتا ہے اس کی پوری ذات مراد ہوتی ہے، یہ نہیں کہ اس کا بازو مراد ہے یا صرف پاؤں مراد ہے یا صرف سر مراد ہے، تو أَنْتِ ضمیر کے ذریعے پورا مخاطب مراد ہوتا ہے، توجہ ہے؟ تو جب کہا: أَنْتِ طَالِقٌ، تو طلاق کی نسبت پوری عورت کی طرف کی لہٰذا طلاق واقع ہو گئی۔ جی۔ اور اگر ایسے عضو کی طرف نسبت کی جس کے ساتھ پورے بدن کو تعبیر کیا جاتا ہے جیسے عربی زبان میں رَأْسٌ، سر جو ہے سر، رَأْسٌ بول کر پوری ذات مراد لیتے ہیں، جیسے کسی قوم کا سردار آئے تو کہتے ہیں: جَاءَ رَأْسُ الْقَوْمِ، ان لوگوں کا سردار میرے پاس آیا تھا، تو رَأْسٌ بول کر کیا مراد لیتے ہیں؟ پوری ذات۔ یا اسی طرح وَجْهٌ، چہرہ، چہرے کے ساتھ بھی پوری ذات مراد لیتے ہیں، کہتے ہیں: جَاءَنِي وَجْهُ الْقَوْمِ، اس قوم کا چہرہ یعنی سردار میرے پاس آیا تھا۔ توجہ ہے؟ اسی طرح رَقَبَةٌ ہے، رَقَبَةٌ سے پوری ذات مراد لی جاتی ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ، گردن کا آزاد کرنا، تو گردن آزاد کی جاتی ہے یا پورا غلام یا باندی کو آزاد کیا جاتا ہے؟ پورا غلام یا باندی۔ تو رَقَبَةٌ بول کر بھی پوری ذات مراد ہوتی ہے۔ تو اگر طلاق کی نسبت پوری عورت کی طرف کی پھر بھی طلاق واقع ہو جائے گی، اور اگر طلاق کی نسبت ایسے جزو کی طرف کی جس سے پورے بدن کو تعبیر کیا جاتا ہے، پوری ذات کو تعبیر کیا جاتا ہے پھر بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ لہٰذا خاوند نے اگر اپنی بیوی سے کہا: وَجْهُكِ طَالِقٌ، تیرے چہرے کو طلاق ہے، تو طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ وَجْهٌ سے کیا مراد ہے؟ پوری ذات۔ یا رَأْسُكِ طَالِقٌ، تیرے سر کو طلاق ہے، تو بھی طلاق ہو جائے گی کیونکہ رَأْسٌ بول کر پوری ذات مراد ہوتی ہے۔ لیکن اگر خاوند کہتا ہے: يَدُكِ طَالِقٌ، تیرے ہاتھ کو طلاق ہے، نہیں بھئی، ہاتھ بول کر پوری ذات مراد نہیں لی جاتی، لہٰذا اس صورت میں ہمارے نزدیک طلاق واقع نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں:
وَإِذَا أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى جُمْلَتِهَا، اور اگر خاوند نے طلاق کی نسبت کی إِلَى جُمْلَتِهَا اس پوری عورت کی طرف، أَوْ إِلَى مَا يُعَبَّرُ بِهِ عَنِ الْجُمْلَةِ، یا ایسے عضو کی طرف کہ جس کے ذریعے تعبیر کیا جاتا ہے پوری ذات کو، وَقَعَ الطَّلَاقُ، تو طلاق واقع ہو جائے گی، لِأَنَّهُ أُضِيفَ إِلَى مَحَلِّهِ، اس لیے کیونکہ طلاق کی نسبت کی گئی ہے اس کے محل کی طرف، وہ پوری عورت کیا ہے؟ محلِ طلاق ہے، جب وہ محلِ نکاح ہے تو وہی محلِ طلاق بھی ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی، وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ، اور وہ یہ کہ مثال کے طور پر خاوند یوں کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ، اس میں دیکھو طلاق کی نسبت پوری عورت کی طرف کی ہے، لِأَنَّ التَّاءَ ضَمِيرُ الْمَرْأَةِ، اس لیے کیونکہ تا جو ہے عورت کی ضمیر ہے: أَنْتِ طَالِقٌ۔ أَنْتِ طَالِقٌ، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اس کے اندر یہ جو...
تو ”تَاء“ ہے یہ عورت کی ضمیر ہے۔ بھئی یاد رکھو! یہ جو ضمیریں ہیں ”أَنْتَ“، ”أَنْتُمَا“، ”أَنْتُمْ“، ”أَنْتِ“، ”أَنْتُمَا“، ”أَنْتُنَّ“، اس کے اندر امام فراء کا مذہب یہ ہے کہ یہ سارا لفظ ضمیر ہے۔ ”أَنْتَ“ کیا ہے؟ یہ ساری ضمیر ہے۔ ”أَنْتُمَا“ یہ ساری ضمیر ہے۔ ”أَنْتُمْ“ یہ سارا لفظ کیا ہے؟ ضمیر ہے۔ اسی طرح ”أَنْتِ“ اور ”أَنْتُمَا“، ”أَنْتُنَّ“ بھی۔
جبکہ علمائے بصرہ فرماتے ہیں کہ ان کے اندر علمائے بصرہ فرماتے ہیں کہ ان کے اندر صرف یہ جو ”أَنْ“ آ رہا ہے، ہمزہ اور نون ”أَنْ“، یہ ضمیر ہے اور آگے جو ”تَ“، ”تُمَا“، ”تُمْ“، ”تِ“، ”تُمَا“، ”تُنَّ“ حروف ساتھ جڑتے چلے جا رہے ہیں، یہ ضمیریں نہیں ہیں، یہ صرف مخاطب پر دلالت کر رہی ہیں کہ وہ مفرد ہے، تثنیہ ہے یا جمع ہے، مذکر ہے یا مؤنث ہے۔ یہ ضمیریں نہیں، تو صرف ”أَنْ“ ضمیر ہے۔ ”أَنْتَ“، ”أَنْتُمَا“، ”أَنْتُمْ“، ”أَنْتِ“، ”أَنْتُمَا“، ”أَنْتُنَّ“ اس میں ”أَنْ“ صرف ضمیر ہے اور باقی جو حروف ساتھ جڑ رہے ہیں وہ صرف مفرد، تثنیہ، جمع اور مذکر، مؤنث پر دلالت کر رہے ہیں۔
جبکہ علمائے کوفہ کا مذہب علمائے بصرہ کے برعکس ہے۔ علمائے بصرہ نے کیا کہا تھا؟ ”أَنْ“ ضمیر ہے اور ”تَ“ صرف مفرد کی علامت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ کوفہ والے اس کے برعکس کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”أَنْتَ“ کے اندر ”تَ“ ضمیر ہے اور ”أَنْ“ جو ہے یہ صرف ویسے ہی ساتھ جوڑ دیا گیا ہے تاکہ ”تَ“ کو سہارا مل جائے۔ تو ”أَنْتَ“ میں ”تَ“ ضمیر، ”أَنْتُمَا“ میں ”تُمَا“ ضمیر، ”أَنْتُمْ“ میں ”تُمْ“ ضمیر، ”أَنْتِ“ میں ”تِ“ ضمیر، ”أَنْتُمَا“ میں ”تُمَا“ ضمیر اور ”أَنْتُنَّ“ میں ”تُنَّ“ ضمیر ہے۔ یہ علمائے کوفہ کا مذہب ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ کو علمائے کوفہ کا مذہب پسند ہے، اسی لیے فرمایا کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر ”لِأَنَّ التَّاءَ ضَمِيرُ الْمَرْأَةِ“، کہ ”أَنْتِ“ کے اندر یہ جو ”تَاء“ ہے یہ عورت کی ضمیر ہے۔ پورا لفظ یہ ضمیر نہیں اور صرف ”أَنْ“ یہ بھی ضمیر نہیں، صرف ”تَاء“ ضمیر ہے۔
اور نیز میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ جب کوئی کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ با معنی لفظ، وہ لفظ جس کا کچھ معنی ہو۔ کہ جب کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو تو اور اس کا آپ نے نام لینا ہو تو وہ نام لیتے ہیں جو حروفِ تہجی میں ہوتا ہے۔ جیسے ”بِسْمِ اللّٰهِ“ میں یہ ”بَاء“ جارہ ہے۔ یہ کلمہ ہے، اس کا معنی ہے، یہ جوڑ کے لیے آتی ہے۔ تو اس کو کیسے ذکر کریں گے؟ حروفِ تہجی میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ ”بَا“، اسی لیے کہتے ہیں ”بِسْمِ اللّٰهِ“ کے اندر ”بَاء“ جارہ ہے۔ اسی طرح ”أَنْتِ“ کے اندر علمائے کوفہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ ”أَنْ“ جو ہے صرف سہارے کے لیے ہے اور آخر میں یہ ”تَاء“ جو ہے یہ ضمیر ہے۔ دیکھو اس کو صاحبِ ہدایہ بھی ”لِأَنَّ التَّاءَ ضَمِيرُ الْمَرْأَةِ“، ”أَنْتِ“ کے اندر یہ نہیں کہہ رہے کہ ”تِ“ ضمیر ہے بلکہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ”تَاء“ ضمیر ہے۔
تو کہتے ہیں ”وَذٰلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ“ اور وہ یہ کہ مثلاً خاوند یوں کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ”لِأَنَّ التَّاءَ ضَمِيرُ الْمَرْأَةِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو ”تَاء“ ہے یہ عورت کی ضمیر ہے۔ تو دیکھو پوری ذات کی طرف نسبت کر دی طلاق کی، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پوری عورت کی ذات کی طرف طلاق کی نسبت کر دی اور اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔
یا ایسے عضو کی طرف نسبت کی جس سے پورے بدن کو تعبیر کیا جاتا ہے تب بھی طلاق ہو جائے گی، جیسے دیکھو ”أَوْ يَقُولَ“ یا خاوند یوں کہتا ہے ”رَقَبَتُكِ طَالِقٌ“ تیری گردن کو طلاق ہے ”أَوْ عُنُقُكِ طَالِقٌ“ یا تیری گردن کو طلاق ہے۔ ”رَقَبَة“ یہ گردن کا پیچھے کی جانب حصہ ہے جس کو گدی کہتے ہیں، کمر کی جانب جو گردن کا حصہ ہے اور ”عُنُق“ یہ جو سامنے گردن کا حصہ ہے سینے کی طرف، تو ”رَقَبَة“ کے ذریعے بھی پوری ذات کو تعبیر کرتے ہیں، ”عُنُق“ کے ذریعے بھی کیا کرتے ہیں؟ پوری ذات کو تعبیر کرتے ہیں، تو اس سے طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں ”أَوْ يَقُولَ“ یا خاوند کہتا ہے ”رَقَبَتُكِ طَالِقٌ“ تیری گردن کو طلاق ہے ”أَوْ عُنُقُكِ طَالِقٌ“ تیری گردن کو طلاق ہے ”أَوْ رَأْسُكِ طَالِقٌ“ یا تیرے سر کو طلاق ہے ”أَوْ رُوحُكِ طَالِقٌ“ یا تیری روح کو ”أَوْ بَدَنُكِ“ یا تیرے بدن کو ”أَوْ جَسَدُكِ“ یا تیرے جسم کو ”أَوْ فَرْجُكِ“ یا تیری شرم گاہ کو ”أَوْ وَجْهُكِ“ یا تیرے چہرے کو۔ تو یہ سارے وہ الفاظ ہیں جن سے عربی زبان میں پوری ذات کو تعبیر کیا جاتا ہے، تو ان سے طلاق واقع ہو جائے گی۔
”لِأَنَّهُ يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنْ جَمِيعِ الْبَدَنِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو اعضا ہیں ان کے ذریعے تعبیر کیا جاتا ہے پورے بدن کو۔ ”أَمَّا الْجَسَدُ وَالْبَدَنُ فَظَاهِرٌ“ تو ان کے اندر جو جسد اور بدن کا لفظ ہے وہ تو ظاہر ہے، جسد سے بھی پورا جسم مراد، بدن سے بھی پورا جسم مراد۔ ”وَكَذَا غَيْرُهُمَا“ اور ان کے علاوہ بھی باقی بھی اسی طرح ہیں۔ ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ“، کفارۂ یمین میں کیا فرماتے ہیں؟ ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ“ تو ”رَقَبَة“ بول کر پوری ذات مراد ہے۔ ”وَقَالَ“ اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں ”فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ“ تو ہو گئیں ان کی گردنیں یعنی ان کی ذات، یہاں ”أَعْنَاق“ سے کیا مراد ہے؟ ان کی ذات مراد ہے۔ ”وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور اسی طرح حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ”لَعَنَ اللّٰهُ الْفُرُوجَ عَلَى السُّرُوجِ“ کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان عورتوں پر ”عَلَى السُّرُوجِ“ جو زین پر سواری کریں۔ ”فُرُوج“ جمع ہے ”فَرْج“ کی، عورت کی شرم گاہ اور مراد ”صَاحِبَاتُ الْفُرُوجِ“ ہیں، فُروج والیاں یعنی عورتیں مراد ہیں اور ”سُرُوج“ جمع ہے ”سَرْج“ کی، یہ گھوڑے کی زین جو ہے، گھوڑے پر بیٹھنے کے لیے جو رکھی جاتی ہے اس کو ”سَرْج“ کہتے ہیں، تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ”لَعَنَ اللّٰهُ الْفُرُوجَ“ کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ”الْفُرُوجَ“ أَيْ ”صَاحِبَاتِ الْفُرُوجِ“ ان شرم گاہ والیوں پر یعنی ان عورتوں پر ”عَلَى السُّرُوجِ“ جو کس پر سواری کرتی ہیں؟ گھوڑے پر سواری کرتی ہیں، جو زین پر سواری کرتی ہیں۔ توجہ ہے؟
تو علماء محشی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہمیں ان الفاظ کے ساتھ نہیں ملی۔ یہ حدیث ہمیں ان الفاظ کے ساتھ نہیں ملی۔ ہاں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ایک حدیث ہمیں ملی، اس حدیث میں ہے ”نَهَى ذَوَاتِ الْفُرُوجِ أَنْ يَرْكَبْنَ السُّرُوجَ“، ”نَهَى ذَوَاتِ الْفُرُوجِ“ حضور علیہ السلام نے فُروج والیوں کو منع کیا ”أَنْ يَرْكَبْنَ السُّرُوجَ“ کہ وہ زینوں پر سواری کریں۔ حضور علیہ السلام نے فُروج والیوں کو یعنی عورتوں کو منع کیا ”أَنْ يَرْكَبْنَ السُّرُوجَ“ کہ وہ زینوں پر یعنی گھوڑوں پر سواری کریں۔ تو بہرحال اس حدیث کے اندر ”ذَوَاتِ الْفُرُوجِ“ کا لفظ آ رہا ہے، ”فُرُوج“ کا اطلاق عورتوں پر نہیں کیا گیا بلکہ عورتوں کو ”ذَوَاتِ الْفُرُوجِ“ کہا گیا ہے جبکہ صاحبِ ہدایہ جو حدیث ذکر فرما رہے ہیں اس کے اندر تو ”فُرُوج“ کا اطلاق کیا گیا ہے کس پر؟ عورتوں پر۔ تو محشی حضرات فرماتے ہیں کہ ان الفاظ کے ساتھ ہمیں یہ حدیث نہیں ملی کہ جس میں ”فُرُوج“ کا اطلاق پوری عورت پر کیا گیا ہو۔ تو بہرحال فرج بول کر پوری عورت کا ارادہ کیا جاتا ہے عربی زبان میں۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں ”وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ”لَعَنَ اللّٰهُ الْفُرُوجَ عَلَى السُّرُوجِ“ کہ اللہ تعالیٰ لعنت فرماتے ہیں ان عورتوں پر جو گھوڑوں پر سواری کرتی ہیں۔
یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ عورت گھوڑے پر سواری کر سکتی ہے۔ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے عورت گھوڑے پر سواری کر سکتی ہے اور یہ جو حدیث میں بالخصوص جن کے اوپر لعنت آئی ہے یا جن کو منع کیا گیا گھوڑے پر سواری کرنے سے، اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو مردوں کو اپنا آپ دکھانے کے لیے گھوڑوں پر سواری کرتی ہیں یا مردوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے گھوڑوں پر سواری کرتی ہیں تو ان کے بارے میں لعنت آئی ہے یا ان کو منع کیا گیا ہے حدیث میں بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَيُقَالُ فُلَانٌ رَأْسُ الْقَوْمِ وَوَجْهُ الْعَرَبِ“ اور عربی زبان میں کہتے ہیں ”فُلَانٌ رَأْسُ الْقَوْمِ“ فلاں قوم کا سردار ہے، دیکھو ”رَأْس“ کا اطلاق پوری ذات پر ہو رہا ہے ”وَوَجْهُ الْعَرَبِ“ اور فلاں جو ہے عرب کا چہرہ ہے یعنی عرب کا سردار ہے، دیکھو ”وَجْه“ کا اطلاق پوری ذات پر ہو رہا ہے۔ ”وَهَلَكَ رُوحُهُ بِمَعْنَى نَفْسُهُ“ اور عربی میں کہتے ہیں اس کی روح ہلاک ہو گئی یعنی اس کی ذات ہلاک ہو گئی، تو روح بول کر پوری ذات مراد لیتے ہیں۔ ”وَمِنْ هٰذَا الْقَبِيلِ الدَّمُ فِي رِوَايَةٍ“ اور اسی قبیل سے دَم بھی ہے ”فِي رِوَايَةٍ“ ایک روایت کے مطابق۔ دم جو ہے، دم اگر خاوند یوں کہتا ہے ”دَمُكِ طَالِقٌ“ تیرے خون کو طلاق ہے تب بھی طلاق ہو جائے گی ایک روایت کے مطابق۔ کیونکہ دم کا اطلاق بھی کہتے ہیں پوری ذات پر ہوتا ہے۔ ”يُقَالُ“ دیکھو ”يُقَالُ“ کہا جاتا ہے ”دَمُهُ هَدْرٌ“ اس کا خون رائیگاں چلا گیا، ”دَمُهُ هَدْرٌ“ اس کا خون رائیگاں چلا گیا۔ یہ تب کہتے ہیں جب کسی کو قتل کرنے کی وجہ سے نہ تو قصاص آئے اور نہ دیت۔ تو عربی میں کیا کہتے ہیں کہ ”دَمُهُ هَدْرٌ“ اس کا خون رائیگاں ہے یعنی نہ اسے قصاص آیا ہے اور نہ دیت آئی ہے۔ مثلاً ایک شخص مرتد ہو گیا بھئی اور جیسے مرتد ہوا دوسرے شخص نے اس کو قتل کر دیا۔ تو یاد رکھو جس نے قتل کیا ہے، قاتل جو ہے نہ اس پر قصاص آئے گا اور نہ دیت۔ کیونکہ ارتداد کی وجہ سے وہ شخص مباح الدم ہو چکا تھا، اس کی جان اور مال محفوظ نہ رہے، اب کوئی بھی اس کو قتل کر دے تو قصاص یا دیت نہیں آئے گی، تو کہیں گے ”دَمُهُ هَدْرٌ“ اس کا خون رائیگاں ہے۔ توجہ ہے؟ تو دم بول کر بھی دیکھو اس کی پوری ذات یعنی اس کی جان رائیگاں چلی گئی، اس کی ذات ضائع چلی گئی، پوری ذات مراد ہے۔ ”وَمِنْهُ النَّفْسُ“ اور اسی سے نَفْس کا لفظ بھی ہے ”وَهُوَ ظَاهِرٌ“ اور یہ ظاہر ہے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے ”نَفْسُكِ طَالِقٌ“ تیری ذات کو طلاق ہے تو اس صورت میں بھی طلاق ہو جائے گی۔
”وَكَذٰلِكَ إِنْ طَلَّقَ جُزْءًا شَائِعًا مِثْلُ أَنْ يَقُولَ نِصْفُكِ أَوْ ثُلُثُكِ طَالِقٌ“ یاد رکھو عند الاحناف اگر عورت کے ایسے جز کو طلاق دیتا ہے جو پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے تو اس صورت میں بھی طلاق ہو جائے گی۔ مثلاً کہتا ہے ”نِصْفُكِ طَالِقٌ“ تیرے نصف کو طلاق ہے۔ اب یہ نصف تو پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے، ہر ہر جز کا نصف، انگلی کا بھی نصف، ناخن کا بھی نصف، ہاتھ کا بھی نصف، پاؤں کا بھی نصف، سر کا بھی نصف، آنکھ کا بھی نصف، ناک کا بھی نصف، چہرے کا بھی نصف، یہ تو پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے، لہٰذا اس سے بھی طلاق ہو جائے گی یا تیرے بدن کے تیسرے حصے کو طلاق یا تیرے بدن کے سوویں حصے کو طلاق تو بھی طلاق ہو جائے گی کیونکہ سوواں حصہ پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے، ہر ہر عضو کا سوواں حصہ۔ توجہ ہے؟ تو اس سے طلاق ہو جائے گی۔
”وَكَذٰلِكَ“ اور اسی طرح ہے ”إِنْ طَلَّقَ جُزْءًا شَائِعًا“ اگر خاوند نے طلاق دی ”جُزْءًا“ ایسے جز کو ”شَائِعًا“ جو پھیلا ہوا ہے یعنی پورے بدن میں ”مِثْلُ أَنْ يَقُولَ“ مثال کے طور پر خاوند یوں کہتا ہے ”نِصْفُكِ أَوْ ثُلُثُكِ طَالِقٌ“ کہ تیرے نصف یا تیرے ثلث کو طلاق ہے ”لِأَنَّ الْجُزْءَ الشَّائِعَ مَحَلٌّ لِسَائِرِ التَّصَرُّفَاتِ“ اس لیے کیونکہ وہ جز جو پھیلا ہوتا ہے ”مَحَلٌّ لِسَائِرِ التَّصَرُّفَاتِ“ وہ باقی تصرفات کا محل ہے۔ بھئی غلام کوئی بیچتا ہے، بعض اوقات نصف بیچتا ہے، بعض اوقات ثلث بیچتا ہے، بعض اوقات ربع بیچتا ہے، تو دیکھا یہ جو جز جو پھیلا ہوا ہے اس میں اور تصرفات بھی ہو رہے ہیں۔ کسی کو آپ بیچنا چاہیں تو نصف یا ثلث بیچ سکتے ہیں، کسی کو آپ ہبہ کرنا چاہیں تو نصف یا ثلث ہبہ کر سکتے ہیں، معلوم ہوا یہ جو جز پھیلا ہوا ہے یہ محل ہے باقی تصرفات کا۔ جب اس میں باقی تصرفات ہو سکتے ہیں تو طلاق بھی ایک تصرف ہے وہ بھی ہو سکتا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ باقی تصرف تو اتنے میں ہی رہے گا، ثلث بیچا ہے تو ثلث کا ہی مالک ہوگا مشتری لیکن طلاق کے اعتبار سے اس طرح تقسیم نہیں ہو سکتی لہٰذا پھر پوری ذات کو ہی طلاق ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ طلاق میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کا نصف کو طلاق ہو اور نصف کو طلاق نہ ہو، پھر پورے ہی عورت کو ہی طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْجُزْءَ الشَّائِعَ مَحَلٌّ لِسَائِرِ التَّصَرُّفَاتِ“ اس لیے کیونکہ وہ جز جو پھیلا ہوا ہو وہ باقی تمام تصرفات کا محل ہے ”كَالْبَيْعِ وَغَيْرِهِ“ جیسے کہ بیع وغیرہ ہے ”فَكَذَا يَكُونُ مَحَلًّا لِلطَّلَاقِ“ تو اسی طرح یہ طلاق کا بھی محل ہوگا ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَتَجَزَّأُ فِي حَقِّ الطَّلَاقِ“ مگر یہ کہ یہ جز تقسیم نہیں ہوگا طلاق کے حق میں، یعنی صرف اسی پر طلاق آئے ایسا نہیں ہوگا ”فَيَثْبُتُ فِي الْكُلِّ ضَرُورَةً“ تو طلاق ساری عورت میں ہی ثابت ہو جائے گی ضرورۃً یقینی طور پر۔
”وَلَوْ قَالَ يَدُكِ طَالِقٌ أَوْ رِجْلُكِ طَالِقٌ لَمْ يَقَعِ الطَّلَاقُ“ بھئی میں نے بتایا تھا اگر ایسا جز ذکر کیا جس کے ساتھ پوری ذات کو تعبیر نہیں کیا جاتا تو پھر طلاق نہیں ہوگی۔ مثلاً عورت سے کہتا ہے ”يَدُكِ طَالِقٌ“ تیرے ہاتھ کو طلاق ہے ”أَوْ رِجْلُكِ طَالِقٌ“ تو ید اور رجل کے ساتھ تو پوری ذات کو تعبیر نہیں کیا جاتا، لہٰذا اس سے طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اس سے بھی طلاق ہو جائے گی، اس سے بھی طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں ”وَلَوْ قَالَ يَدُكِ طَالِقٌ أَوْ رِجْلُكِ طَالِقٌ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا تیرے ہاتھ کو طلاق ہے یا تیرے پاؤں کو طلاق ہے ”لَمْ يَقَعِ الطَّلَاقُ“ تو طلاق واقع نہیں ہوگی ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى يَقَعُ“ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی ”وَكَذَا الْخِلَافُ فِي كُلِّ جُزْءٍ مُعَيَّنٍ لَا يُعَبَّرُ بِهِ عَنْ جَمِيعِ الْبَدَنِ“، ”وَكَذَا الْخِلَافُ“ اور اسی طرح اختلاف ہے ”فِي كُلِّ جُزْءٍ مُعَيَّنٍ“ ہر اس معین جز میں ”لَا يُعَبَّرُ بِهِ عَنْ جَمِيعِ الْبَدَنِ“ جس کے ساتھ سارے بدن کو تعبیر نہیں کیا جاتا، ان سب میں ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے۔
”لَهُمَا“ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ جُزْءٌ مُتَمَتَّعٌ بِعَقْدِ النِّكَاحِ“ کہ یہ ایسا جز ہے ”مُتَمَتَّعٌ“ جس سے نفع اٹھایا جاتا ہے ”بِعَقْدِ النِّكَاحِ“ عقدِ نکاح کے ذریعے سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عقدِ نکاح کی وجہ سے عورت کا ہاتھ یا پاؤں بھی مرد کے لیے حلال ہو گیا۔ جب پوری عورت مرد کے لیے حلال تو اس کا ہاتھ اور پاؤں بھی کیا ہو گئے؟ حلال۔ تو معلوم ہوا یہ ایسا جز ہے جس سے خاوند نفع اٹھا سکتا ہے یعنی شہوت سے اس کے ہاتھ کو بھی ہاتھ لگا سکتا ہے، شہوت سے اس کے پاؤں کو بھی ہاتھ لگا سکتا ہے تو معلوم ہوا یہ ایسا جز ہے جو اس خاوند کے لیے حلال ہو گیا، وہ اس سے نفع اٹھا سکتا ہے۔ اور جس جز کا بھی یہ حال ہے جو نکاح کی وجہ سے حلال ہوا ہے تو وہ طلاق کی وجہ سے حرام بھی کیا جا سکتا ہے۔ توجہ ہے؟
دیکھیے بھئی ”لَهُمَا“ ان کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ جُزْءٌ مُتَمَتَّعٌ بِعَقْدِ النِّكَاحِ“ کہ یہ ایسا جز ہے جس سے نفع اٹھایا جاتا ہے عقدِ نکاح کی وجہ سے ”وَمَا هٰذَا حَالُهُ“ اور جس عضو کا یہ حال ہو، جس جز کا یہ حال ہو ”يَكُونُ مَحَلًّا لِحُكْمِ النِّكَاحِ“ تو وہ محل ہوگا حکمِ نکاح کا بھی، حکمِ نکاح کا وہ محل ہے ”فَيَكُونُ مَحَلًّا لِلطَّلَاقِ“ تو یہ طلاق کا بھی محل ہوگا۔ جس جز سے فائدہ اٹھانا جائز معلوم ہوا وہ محلِ نکاح بھی ہے اور جب وہ محلِ نکاح ہے تو پھر محلِ طلاق بھی ہوگا۔ ”فَيَثْبُتُ الْحُكْمُ فِيهِ“ تو اس کے اندر بھی حکم یعنی طلاق ثابت ہو جائے گی ”قَضِيَّةً لِلْإِضَافَةِ“، قضیہ کا معنی ہے حکم اور مقتضا، حکم اور مقتضا، توجہ ہے؟ ”قَضِيَّةٌ“ کا کیا معنی یہاں؟ حکم اور مقتضا۔ اور اضافت کا معنی ہے نسبت۔ دیکھو خاوند نے بیوی کی طرف نسبت کی ہے ”يَدُكِ طَالِقٌ“، ید کی نسبت کس کی طرف کی ہے؟ عورت کی طرف، ”يَدُكِ طَالِقٌ“ تیرے ہاتھ کو طلاق ہے۔ تو یہاں پر اس عورت کے ہاتھ کو طلاق دے رہا ہے اور یہ ہاتھ تو اس آدمی کے لیے حلال تھا لہٰذا یہ کیا ہو جائے گا؟ اس کو طلاق ہو جائے گی اور جب اس ہاتھ کو طلاق ہو گی تو پوری عورت کو ہی طلاق ہو جائے گی، پوری عورت کو ہی طلاق ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں ”فَيَثْبُتُ الْحُكْمُ فِيهِ“ تو اس جز کے اندر طلاق والا حکم ثابت ہو جائے گا ”قَضِيَّةً لِلْإِضَافَةِ“ اس اضافت کے مقتضا کے طور پر کہ نسبت جو تم نے کیا اس کا یہی تقاضا ہے ”ثُمَّ يَسْرِي إِلَى الْكُلِّ“۔ بھئی ادھر دیکھو، طلاق کا حکم صرف کس میں آیا؟ عورت کے ہاتھ میں مثلاً، اس نے کہا تھا ”يَدُكِ طَالِقٌ“ تو جب ہاتھ کے اندر طلاق آ گئی، ہاتھ اس آدمی پر حرام ہوا تو پھر یہ حرمت سرایت کر جائے گی اور ساری عورت آدمی پر حرام ہو جائے گی، ساری بیوی انسان پر حرام ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے ”ثُمَّ يَسْرِي إِلَى الْكُلِّ“ پھر یہ جو طلاق کا حکم ہے یعنی حرمت والا یہ سرایت کر جائے گا ”إِلَى الْكُلِّ“ پوری عورت کی طرف ”كَمَا فِي الْجُزْءِ الشَّائِعِ“ جیسے کہ اس جز میں تھا جو پھیلا ہوا تھا۔ اے احناف! آپ کہتے تھے کسی خاوند بیوی سے کہتا ہے ”نِصْفُكِ طَالِقٌ“ تو آپ کے نزدیک نصف کو طلاق ہوتی تھی اور پھر وہ طلاق سرایت کر جاتی تھی پوری عورت کو طلاق ہوتی تھی، ابھی آپ نے ہمیں بتایا تو یہاں پر بھی جب اس عورت کے ہاتھ کو طلاق ہو گئی تو یہ طلاق سرایت کر جائے گی اور ساری عورت ہی مطلقہ ہو جائے گی، وہ ساری عورت ہی خاوند پر حرام ہو جائے گی۔ تو یہ معنی ہے ”ثُمَّ يَسْرِي إِلَى الْكُلِّ“ پھر یہ طلاق کا حکم سرایت کر جائے گا ساری عورت کی طرف ”كَمَا فِي الْجُزْءِ الشَّائِعِ“ جیسے کہ اس جز کے اندر تھا جو پھیلا ہوا تھا ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أُضِيفَ“۔ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ دلیل چل رہی ہے امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ ہاتھ یا پاؤں کو یا کوئی کسی ایسے جز کو طلاق دیں گے تو اس میں طلاق کا حکم آ جائے گا اور پھر سارے بدن کی طرف سرایت کر جائے گا۔
تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے نزدیک ہاتھ کو طلاق دیں تو وہ پورے بدن میں سرایت کر جاتا ہے تو پھر تو ہاتھ کے ساتھ نکاح بھی جائز ہونا چاہیے۔ ایک شخص ایک عورت سے کہتا ہے میں نے تیرے ہاتھ سے نکاح کیا اور وہ عورت کہتی ہے میں نے قبول کیا۔ تو پھر یہ ہاتھ کیا ہو گیا؟ حلال۔ جب ہاتھ حلال ہوا تو یہ حلت سرایت کر کے پورے بدن میں آنی چاہیے اور پوری عورت حلال ہو جانی چاہیے۔ لیکن آپ لوگوں کے نزدیک بھی ہاتھ کے ساتھ اگر نکاح کیا جائے تو نکاح نہیں ہوتا یعنی وہ حلت سرایت نہیں کرتی پورے بدن میں۔ تو یہ عجیب بات ہے، طلاق کی حرمت تھی وہ تو ہاتھ سے پورے بدن میں پھیل جاتی تھی لیکن نکاح کی حلت ہاتھ سے پورے بدن کی طرف سرایت نہیں کر رہی۔ تو اس کا وہ جواب دیتے ہیں کہ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی تو ضابطہ یہی ہے کہ حرمت اور حلت جب جمع ہو جائیں تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔ ایک چیز میں ایک دلیل سے پتہ چل رہا ہے یہ حلال ہے، دوسری دلیل سے پتہ چلا یہ حرام ہے تو حرام کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے۔ مثلاً ایک چیز ہے اس کے بارے میں دو دلیلیں آ گئیں، ایک دلیل سے پتہ چلا یہ حلال ہے، ہم نے فتویٰ دے دیا یہ حلال ہے لیکن ہو سکتا ہے حقیقت میں یہ عند اللہ حرام ہو کیونکہ اس کے حرام ہونے کی بھی تو دلیل آ رہی ہے۔ ایک ہی چیز کی دونوں دلیلیں آ رہی ہیں، حلال ہونے کی بھی حرام ہونے کی بھی، ہم نے کس کو ترجیح دے دی؟ حلال ہونے کی دلیل کو ہم نے ترجیح دے دی، ہم نے کہا یہ چیز حلال ہے لیکن ہو سکتا ہے عند اللہ یہ حرام ہو، حقیقت میں یہ حرام ہو، تو دیکھو اب ہمارے اس فتوے کی وجہ سے ایک حرام چیز کو استعمال کرنا لازم آئے گا۔ لیکن اگر اس کے بجائے ہم اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیتے، دلیلیں دونوں ہیں لیکن ہم فتویٰ کیا دیتے؟ حرام ہونے کا تو ہم نے تو حرام ہونے کا فتویٰ دے دیا، ہو سکتا ہے یہ چیز حقیقت میں حلال ہو، تو کیا خرابی لازم آئی؟ زیادہ سے زیادہ ایک حلال چیز کے استعمال سے ہم رک گئے اور تو کوئی خرابی نہیں لیکن اگر ہم حلال ہونے کا فتویٰ دیں گے تو ہو سکتا ہے وہ چیز کیا ہو؟ حرام، تو ایک حرام چیز کا استعمال لازم آئے گا۔ تو ضابطہ کیا ہے کہ حلت اور حرمت جمع ہو جائیں تو کس کو ترجیح دیتے ہیں؟ جانبِ حرمت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لہٰذا یہاں پر بھی طلاق کے مسئلے میں حرمت آئی تھی لہٰذا ایک جز بھی حرام ہوا تو وہ حرمت سرایت کر گئی، ساری عورت ہی کیا ہو گئی؟ حرام، کیونکہ حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن حلت جب ایک ہاتھ میں حلت آئی تو یہ حلت سارے بدن پر سرایت نہیں کرے گی کیونکہ سارا بدن تو حرام ہے تو وہ حرمت جو ہے اس حلت پر غالب آ جائے گی تو لہٰذا یہ عورت حلال نہیں ہوگی بھئی۔
تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أُضِيفَ إِلَيْهِ النِّكَاحُ“ بخلاف اس کے کہ جب کسی ایسے عضو کی طرف نکاح کی نسبت کر دی جائے ”لِأَنَّ التَّعَدِّيَ مُمْتَنِعٌ“ اس لیے کیونکہ اس کا متعدی ہونا ممتنع ہے، یہ سرایت نہیں کرے گا ”إِذِ الْحُرْمَةُ فِي سَائِرِ الْأَجْزَاءِ“ اس لیے کیونکہ باقی کے تمام اجزا میں جو حرمت ہے ”تَغْلِبُ الْحِلَّ فِي هٰذَا الْجُزْءِ“ وہ جو اس جز کے اندر حلت ہے اس پر غالب آ جائے گی۔ نکاح کیا ہے صرف ہاتھ سے تو نکاح ہاتھ میں حلت آئی لیکن باقی سارا بدن تو کیا ہے؟ حرام۔ تو وہ حرمت اس حلت پر غالب آ جائے گی اور یہ بھی پھر کیا بن جائے گا؟ اسی طرح حرام ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ التَّعَدِّيَ مُمْتَنِعٌ“ اس لیے کیونکہ اس حلت کا متعدی ہونا ممتنع ہے ”إِذِ الْحُرْمَةُ فِي سَائِرِ الْأَجْزَاءِ“ اس لیے کیونکہ باقی اجزا کے اندر جو حرمت ہے ”تَغْلِبُ الْحِلَّ فِي هٰذَا الْجُزْءِ“ وہ اس جز کے اندر جو حلت ہے اس پر وہ حرمت غالب آ جائے گی ”وَفِي الطَّلَاقِ الْأَمْرُ عَلَى الْقَلْبِ“ اور طلاق میں تو معاملہ علی القلب ہے، اس کے برعکس ہے، وہاں تو حرمت تھی ایک جز میں اور حرمت تو حلت پر غالب آ سکتی ہے تو سارا بدن ہی یعنی ساری عورت ہی حرام ہو جائے گی۔
اب ہماری دلیل آ گئی ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى غَيْرِ مَحَلِّهِ“ کہ خاوند نے جب یوں کہا ”يَدُكِ طَالِقٌ“ یا ”رِجْلُكِ طَالِقٌ“ تو خاوند نے طلاق کی نسبت غیر محل کی طرف کر دی۔ کس کی طرف؟ طلاق کا محل وہ عورت تو ہے لیکن اس کا ہاتھ یا پاؤں نہیں بھئی۔ تو لہٰذا ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى غَيْرِ مَحَلِّهِ“ کہ خاوند نے طلاق کی نسبت کی ہے غیر محل کی طرف یعنی وہ طلاق کا محل نہیں ہے ”فَيَلْغُو“ لہٰذا وہ طلاق لغو ہو جائے گی، بےکار چلی جائے گی ”كَمَا إِذَا أَضَافَهُ إِلَى رِيقِهَا أَوْ ظُفْرِهَا“ جیسے کہ خاوند طلاق کی نسبت کرے ”إِلَى رِيقِهَا“ اس عورت کے لعاب کی طرف کہ تمہارے لعاب کو طلاق ہے ”أَوْ ظُفْرِهَا“ یا اس کے ناخن کی طرف کہ تمہارے ناخن کو طلاق ہے، تو دیکھو لعاب اور ناخن یہ تو طلاق کا محل نہیں لہٰذا جیسے اس کے اندر طلاق لغو چلی جاتی ہے اسی طرح ید اور رجل کے اندر بھی طلاق جو ہے وہ لغو چلی جائے گی کیونکہ وہ طلاق کا محل نہیں۔
”وَهٰذَا“ اور یہ اس وجہ سے، اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ ہاتھ اور پاؤں طلاق کا محل کیوں نہیں ہے؟ ہم نے تو کہہ دیا یہ طلاق کا محل ہی نہیں، تو وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَهٰذَا لِأَنَّ مَحَلَّ الطَّلَاقِ مَا يَكُونُ فِيهِ الْقَيْدُ“ کہ محلِ طلاق وہ چیز ہوگی جس میں قید ہو، قیدِ نکاح ہو، جس میں قید یعنی قیدِ نکاح موجود ہو ”لِأَنَّهُ يُنْبِئُ عَنْ رَفْعِ الْقَيْدِ“ اس لیے کیونکہ طلاق یہ خبر دیتی ہے ”عَنْ رَفْعِ الْقَيْدِ“ قید کے اٹھانے کا۔ طلاق کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ قیدِ نکاح کو اٹھایا جاتا ہے، تو طلاق وہیں آئے گی جہاں قیدِ نکاح بھی پائی جائے۔ توجہ ہے؟ طلاق کا کیا معنی ہے؟ نکاح کو اٹھانا یعنی رفعِ قید، قید کو اٹھانا، تو رفعِ قید وہیں ہو سکتا ہے جہاں قید تو پائی جائے، جہاں قید ہی نہیں ہے وہاں رفعِ قید کا کیا معنی؟ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يُنْبِئُ عَنْ رَفْعِ الْقَيْدِ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ رفعِ قید کی خبر دیتی ہے ”وَلَا قَيْدَ فِي الْيَدِ“ اور ہاتھ میں تو کوئی قید نہیں ہے۔ پوری عورت میں تو قیدِ نکاح موجود ہے، ہاتھ میں کوئی الگ قید تو موجود نہیں کہ آپ جس کو طلاق کے ذریعے اٹھا رہے ہیں۔ توجہ ہے؟
یا یوں کہو، یوں کہو، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ہاتھ حرام ہوا تو پوری عورت حرام اور ہاتھ حلال ہوگا تو پوری عورت حلال نہیں ہوگی کیونکہ حرمت غالب آ جاتی ہے، توجہ ہے؟ ہم کہتے ہیں یہ جو عورت کے ہاتھ اور پاؤں سے بھی نفع اٹھانا حلال ہو گیا، خاوند شہوت سے ان کو ہاتھ لگا سکتا ہے، وہ اس وجہ سے کہ یہ ہاتھ اور پاؤں کل عورت کے تابع ہیں تو جب کل عورت کے اندر نکاح آیا تو طبعاً ہاتھ اور پاؤں میں بھی نکاح آ گیا، وہ بھی حلال ہو گئے۔ تو ہاتھ اور پاؤں جو حلال ہوئے ہیں خاوند کے لیے وہ اصلاً حلال ہیں یا طبعاً؟ وہ طبعاً حلال ہوئے ہیں، اصل تو یہ عورت حلال ہوئی ہے، جب عورت حلال ہوئی تو اس کے سارے اعضا بھی کیا ہو گئے؟ حلال۔ تو معلوم ہوا کہ ہاتھ اور پاؤں میں جو حلت آ رہی ہے وہ طبعاً آ رہی ہے، ہاتھ اور پاؤں میں جو حلت آ رہی ہے وہ طبعاً آ رہی ہے، معلوم ہوا ہاتھ اور پاؤں تابع ہیں لہٰذا ان کو اصل نہیں بنایا جا سکتا کہ آپ کہیں ان کو طلاق دے دی تو ساری عورت کو ہی طلاق ہو گئی، یہ تو آپ نے ہاتھ اور پاؤں کو اصل بنا دیا بھئی۔ جب نکاح کے اندر یہ تابع تھے تو طلاق میں بھی کیا رہیں گے؟ تابع ہی رہیں گے، یہ اصل نہیں ہو سکتے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”وَهٰذَا لِأَنَّ مَحَلَّ الطَّلَاقِ مَا يَكُونُ فِيهِ الْقَيْدُ“ اس لیے کیونکہ محلِ طلاق وہ عضو ہوگا جس کے اندر قیدِ نکاح ہو ”لِأَنَّهُ يُنْبِئُ عَنْ رَفْعِ الْقَيْدِ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ رفعِ قید کی خبر دیتی ہے ”وَلَا قَيْدَ فِي الْيَدِ“ اور ہاتھ میں تو کوئی علیحدہ قید نہیں ہے ”وَلِهٰذَا لَا تَصِحُّ إِضَافَةُ النِّكَاحِ إِلَيْهِ“ اور اسی لیے نکاح کی نسبت بھی اس کی طرف صحیح نہیں ہے۔ نکاح کی نسبت بھی صحیح نہیں، میں تیرے ہاتھ سے نکاح کرتا ہوں، نہیں بھئی اس سے واقع نہیں ہوگا کیونکہ ہاتھ جو حلال ہوتا ہے وہ طبعاً حلال ہوتا ہے اور اگر آپ ہاتھ سے نکاح کو پورا نکاح قرار دے دیں تو پھر تو گویا آپ نے ہاتھ کو اصل بنا دیا بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں ”وَلِهٰذَا لَا تَصِحُّ إِضَافَةُ النِّكَاحِ إِلَيْهِ“ اور اسی لیے اس جز معین کی طرف نکاح کی اضافت صحیح نہیں ہے ”بِخِلَافِ الْجُزْءِ الشَّائِعِ“ بخلاف وہ جز جو پھیلا ہوا ہے ”لِأَنَّهُ مَحَلٌّ لِلنِّكَاحِ عِنْدَنَا“ کیونکہ وہ ہمارے نزدیک وہ جز شائع جو ہے وہ محلِ نکاح ہے ہمارے نزدیک ”حَتَّى تَصِحَّ إِضَافَتُهُ إِلَيْهِ“ یہاں تک کہ اس کی طرف نکاح کی نسبت بھی صحیح ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ جز جو ہے، یہ جو جز شائع ہے جو پھیلا ہوا جز ہے یہ ہمارے نزدیک محلِ نکاح بھی ہے، جب یہ محلِ نکاح ہے تو محلِ طلاق بھی ہوگا۔ نصف یا ثلث سے نکاح کرے گا تو پوری عورت سے نکاح ہو جائے گا کیونکہ وہ نصف یا ثلث پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے۔ تو جب اس کے ساتھ نکاح صحیح ہے تو اس نصف یا ثلث کو طلاق بھی صحیح ہے، جبکہ جز معین کوئی ہاتھ یا پاؤں ہے، جب صرف اس سے نکاح کیا جائے تو نکاح صحیح نہیں ہے تو اس کو طلاق دینا بھی صحیح نہیں ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
یہ معنی ہے ”بِخِلَافِ الْجُزْءِ الشَّائِعِ“ بخلاف اس جز کے جو پھیلا ہوا ہے ”لِأَنَّهُ مَحَلٌّ لِلنِّكَاحِ عِنْدَنَا“ اس لیے کیونکہ وہ ہمارے نزدیک وہ جز شائع جو ہے وہ محلِ نکاح ہے ہمارے نزدیک ”حَتَّى تَصِحَّ إِضَافَتُهُ إِلَيْهِ“ یہاں تک کہ اس کی طرف نکاح کی نسبت بھی صحیح ہے۔ بھئی یاد رکھیے یہاں پر بھی یہ ”حَتَّى“ نَصْب نہیں دے گا کیونکہ ”حَتَّى“ کے نَصْب کے لیے میں نے بتلایا تھا دو شرطیں ہیں، ایک تو یہ کہ ”حَتَّى“ کا ما بعد مستقبل ہونا چاہیے ”حَتَّى“ کے ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے اور دوسری شرط یہ تھی کہ ”حَتَّى“ جو ہے وہاں سببيت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو یعنی ”حَتَّى“ کے ما قبل کو سبب ہونا چاہیے ما بعد کے لیے یا ”حَتَّى“ کے ما بعد کو غایت ہونا چاہیے ما قبل کے لیے، پھر ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے، تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں لہٰذا ”حَتَّى“ نَصْب نہیں دے گا یعنی اس ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر نہیں ہوگا۔
”حَتَّى تَصِحَّ إِضَافَتُهُ إِلَيْهِ“ یہاں تک کہ اس کی طرف نکاح کی نسبت بھی صحیح ہے ”فَكَذَا يَكُونُ مَحَلًّا لِلطَّلَاقِ“ تو اسی طرح یہ جز شائع جو ہے طلاق کا بھی محل ہوگا ”وَاخْتَلَفُوا فِي الظَّهْرِ وَالْبَطْنِ“ اور اختلاف کیا ہے فقہاء نے ظہر اور بطن میں۔ ظہر یعنی کمر اور بطن یعنی پیٹ۔ اگر خاوند کمر کی طرف نسبت کرے طلاق کی، عورت کو کہے ”ظَهْرُكِ طَالِقٌ“ تیری کمر کو طلاق ہے یا ”بَطْنُكِ طَالِقٌ“ تیرے پیٹ کو طلاق ہے تو کیا اس صورت میں بھی طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ تو فقہاء کا اختلاف ہے۔ بعض فرماتے ہیں ہو جائے گی طلاق اور بعض فرماتے ہیں طلاق نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں ”وَاخْتَلَفُوا فِي الظَّهْرِ وَالْبَطْنِ“ اور فقہاء نے اختلاف کیا ہے کمر اور پیٹ میں ”وَالْأَزْهَرُ“ اور زیادہ ظاہر قول یہ ہے ”أَنَّهُ لَا يَصِحُّ“ کہ اس صورت میں طلاق صحیح نہیں، طلاق نہیں ہوگی ”لِأَنَّهُ لَا يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنْ جَمِيعِ الْبَدَنِ“ اس لیے کیونکہ ان کے ساتھ پورے بدن کو تعبیر نہیں کیا جاتا۔ چلیے بس بھئی بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی: هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔