Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-118

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 59
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ "وَإِذَا كَانَ الْمَقْذُوفُ مُحْصَنًا جَازَ لِابْنِهِ الْكَافِرِ وَالْعَبْدِ أَنْ يُطَالِبَ بِالْحَدِّ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، هُوَ يَقُولُ: الْقَذْفُ يَتَنَاوَلُهُ مَعْنًى لِرُجُوعِ الْعَارِ إِلَيْهِ، وَلَيْسَ طَرِيقُهُ الْإِرْثَ عِنْدَنَا، فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ مُتَنَاوِلًا لَهُ صُورَةً وَمَعْنًى." بھئی گزشتہ سبق کے اندر ہم نے باب حد الشرب شروع کیا تھا بھئی، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدود کل چھ ہیں اور ان میں سے دو حدود جو ہیں اس باب کے اندر بیان ہوں گی۔ ایک ہے حد شرب خمر، شراب پینے کی حد، اور ایک ہے حد سکر من غیر الخمر، شراب کے علاوہ کوئی اور نشہ آور مشروب پیا اور اس کی وجہ سے نشہ ہو گیا تو اس کی وجہ سے جو حد واجب ہوتی ہے وہ بھی یہیں پر بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ اسی لیے انہوں نے باب کا نام رکھا "بَابُ حَدِّ الشُّرْبِ" کہ یہ باب ہے نشہ آور مشروب کے پینے کی حد کے بیان میں، چاہے وہ شراب ہو چاہے غیر شراب ہو بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شراب کی وجہ سے حد واجب ہوگی اور اس کے اندر نشہ ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص شراب کا ایک قطرہ بھی پی لے گا تو اس پر حد واجب ہو جائے گی، جبکہ شراب کے علاوہ کوئی اور نشہ آور مشروب پیتا ہے تو اس کے اندر نشہ ہونا ضروری ہے۔ اس سے نشہ ہوگا تو حد واجب ہوگی، اگر نشہ نہیں تو حد بھی واجب نہیں ہے بھئی۔ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر کسی کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہو یا کوئی شخص مدہوش ہو تو صرف اس وجہ سے اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یہ بو کسی اور چیز کی ہو، اور نیز یہ ہو سکتا ہے کہ یہ جو مدہوش ہے کہ کسی نے اس کو زبردستی شراب پلائی ہو یا اس نے مجبوری کی وجہ سے کچھ شراب پی لی ہو بھئی، یعنی شدید بھوک کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے کچھ شراب اس نے پی لی ہو بھئی۔ تو لہٰذا کسی کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے یا وہ نشے میں مدہوش ہے تو صرف اس بنا پر اس پر حد شرب جاری نہیں کی جائے گی بلکہ ضروری ہے کہ اس پر کوئی گواہ بھی موجود ہوں۔ گواہوں نے اس کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے یا نشہ آور مشروب پیتے ہوئے دیکھا ہے، اور پھر اس کے بعد اس کو پکڑا گیا اور قاضی کے پاس لے آئے اور اس وقت بھی اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے یا یہ نشے میں مدہوش ہے تو اس پر حد شرب قائم کی جائے گی بھئی۔ یا وہ اقرار کر لیتا ہے اور اس وقت بھی شراب کی بو موجود ہو پھر ہی اس کا اقرار معتبر ہے، اور اگر نشے کی حالت میں یہ اقرار کرتا ہے تو وہ اقرار معتبر نہیں ہے کیونکہ نشے کے اندر جھوٹ بولنے کا بھی احتمال ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ہمارے ائمہ کا اس بات میں تو اتفاق ہے کہ یہ جو شرب ہے اگر اس میں زمانہ زیادہ گزر جائے تو حد ساقط ہو جائے گی، لیکن اس میں کیا زمانے کا اعتبار کیا جائے گا یا بو اور نشے کا اعتبار کیا جائے گا؟ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر شراب کی بو یا نشے کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر شراب کی بو ختم ہو چکی یا نشہ ختم ہو چکا تو بات پرانی ہو گئی، لہٰذا اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر بھی زمانے کا اعتبار کیا جائے گا، بو تو کسی اور چیز کی بھی ہو سکتی ہے، لہٰذا یہاں زمانے کو دیکھا جائے گا اور ایک مہینے کا وقت گزر جائے تو پھر ہم کہیں گے کہ بات پرانی ہو گئی، حد ساقط ہو گئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ اس حد شرب کو قیاس کرتے ہیں حد زنا پر، حد زنا پر، اور حد زنا کے اندر ایک مہینہ گزر جائے تو حد ساقط ہو جاتی ہے تو یہاں پر بھی ایک مہینہ گزر جائے تو حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں پر صاحبِ ہدایہ نے شیخین رحمہما اللہ کے قول کو ترجیح دی ہے، لیکن عام فقہاء اور عام علماء جو ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو یہاں ترجیح دیتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول اس سلسلے میں راجح ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ حد شرب خمر ہو یا حد سکر من غیر الخمر ہو دونوں کی مقدار اسی (80) کوڑے ہیں اور اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔ معلوم ہوا یہ حد جو ہے اجماع صحابہ سے ثابت ہے بھئی۔ اور اس کے اندر جو ضرب لگائی جائے گی تو مشہور روایت کے مطابق اس مرد کی قمیص اتار لی جائے گی اور پھر اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس کی قمیص نہیں اتاری جائے گی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر کوئی شخص جو ہے شراب پینے کا یا کوئی نشہ آور مشروب پینے کا اقرار کر لیتا ہے اور پھر بعد میں رجوع کر لیتا ہے تو اس کا یہ رجوع معتبر ہے، اس لیے کیونکہ حد شرب جو ہے یہ خالص اللہ کا حق ہے۔ اگر یہ بندے کا حق ہوتا تو پھر اس کا رجوع معتبر نہ ہوتا، لیکن چونکہ یہ حد شرب تو خالص اللہ کا حق ہے لہٰذا اس کا رجوع معتبر ہے بھئی۔ اور نیز حد شرب کے لیے دو گواہ کافی ہیں بھئی۔ زنا کے مسئلے میں چار گواہ چاہیے تھے لیکن حد شرب کے لیے دو گواہ کافی ہیں۔ اور اگر وہ شخص اقرار کرتا ہے تو ایک ہی مرتبہ کا اقرار کافی ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حد شرب کے اندر جب گواہ دو ہیں تو لہٰذا اقرار بھی دو مرتبہ الگ الگ مجلسوں میں چاہیے، نیز اسی طرح وہ حد سرقہ کے اندر بھی فرماتے ہیں کہ وہاں بھی جس طرح گواہ دو ہیں تو اقرار بھی دو الگ الگ مجلسوں میں چاہیے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں حد زنا پر۔ حد زنا کے اندر گواہ چار تھے تو اقرار بھی چار مرتبہ معتبر تھا، تو یہاں پر حد شرب میں اور حد سرقہ میں گواہ دو ہیں تو اقرار بھی دو مرتبہ چاہیے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے اس نشے کی مقدار اور اس نشے کی حد بیان کی جس کی وجہ سے کسی پر حد شرب واجب ہوگی۔ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ حد کا معاملہ ہے اور حد کا معاملہ بڑا نازک ہوتا ہے، پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح اس کو ٹال دیا جائے۔ لہٰذا یہاں پر نشے سے مراد انتہا درجے کا نشہ ہوگا، یعنی کوئی شخص نشے میں اتنا مدہوش ہو جائے کہ اسے کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی اور زمین اور آسمان کے درمیان امتیاز کرنا بھی اس کے لیے ممکن نہیں رہا، وہ مرد اور عورت کے درمیان بھی فرق نہیں کر سکتا، جب اتنا نشہ کسی کو ہو جائے تو پھر اس پر حد شرب قائم کی جائے گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ جس شخص کو اتنا نشہ ہو جائے کہ وہ ہذیان بکنے لگے، وہ ملا جلا کلام کرنے لگے، کبھی وہ عقل والوں کی طرح باتیں کرتا ہے اور کبھی وہ بے عقلی والی باتیں کرتا ہے تو اس شخص کو مدہوش کہیں گے اور عرف کے اندر اسی قسم کے آدمی کو مدہوش کہا جاتا ہے، لہٰذا کسی کو اتنا نشہ ہو جائے تو اس پر حد شرب قائم کی جائے گی بھئی۔ تو یہ تو حد شرب کے بارے میں اختلاف تھا۔ امام صاحب کے نزدیک انتہا درجے کا نشہ معتبر ہے اور صاحبین کے نزدیک عرف کے اندر جس کو نشہ کہتے ہیں وہ نشہ معتبر ہے۔ لیکن اس مشروب کے اندر کس پیالے کو حرام قرار دیا جائے گا؟ تو مثلاً مثلاً فرض کریں نبیذ کے دو پیالے پینے سے نشہ نہیں ہوتا، البتہ تیسرا پیالہ پیا جائے تو وہ کم درجے کا نشہ ہو جاتا ہے جو صاحبین ذکر فرماتے ہیں کہ وہ آدمی ملا جلا کلام کرنے لگے۔ اور چوتھا پیالہ اگر اس مشروب کا پیا جائے تو پھر وہ انتہا درجے کا نشہ ہو جاتا ہے جو امام صاحب بیان فرما رہے ہیں۔ تو اب اس کے کون سے پیالے کو حرام قرار دیا جائے گا؟ صاحبین کے قول کو لیا جائے تو تیسرا پیالہ ہی حرام ہے کیونکہ اس کی وجہ سے نشہ ہو رہا ہے۔ اور امام صاحب کا قول لیا جائے تو پھر چوتھا پیالہ حرام ہونا چاہیے کیونکہ اس سے انتہا درجے کا نشہ ہو رہا ہے۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہاں پر امام صاحب بھی صاحبین کے ساتھ ہیں اور فرماتے ہیں کہ تیسرا پیالہ پینا ہی حرام ہے اس لیے کیونکہ اس کی وجہ سے نشہ ہو رہا ہے۔ تو جہاں حرام اور حلال کی بات تھی تو وہاں امام صاحب نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے صاحبین کے قول کو اختیار کیا، اور جہاں حد کی بات تھی تو وہاں بھی امام صاحب نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے انتہا درجے کے نشے کا اعتبار کیا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر مدہوش آدمی جو ہے کسی چیز کا اقرار کر لے تو اگر وہ خالص اللہ کا حق ہے تو پھر اس کا اعتبار نہیں ہے۔ مثلاً وہ چوری کا اقرار کرتا ہے یا وہ زنا کا اقرار کرتا ہے یا وہ شراب پینے کا اقرار کرتا ہے، تو حد شرب، حد زنا اور حد سرقہ یہ سب تو خالص اللہ کا حق ہیں۔ لہٰذا اس سلسلے میں اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اس کے نشے کے اندر اس اقرار کی وجہ سے اس پر حد زنا یا حد سرقہ یا حد شرب خمر ثابت نہیں ہوگی۔ لیکن اس سے بجائے اگر وہ کسی ایسی حد کا اقرار کرتا ہے جس میں بندے کا بھی حق ہے جیسے حد قذف ہے تو پھر اس کا یہ اقرار معتبر ہے بطور ڈانٹ کے اور بطور سزا کے کہ اس نے یہ نشہ کیوں کیا۔ تو چنانچہ نشے کے اندر اگر وہ قذف کا اقرار کرتا ہے کہ میں نے فلاں آدمی پر زنا کا الزام لگایا تھا تو یہ معتبر ہے اور اس کی وجہ سے اس کو حد قذف لگائی جائے گی۔ جس طرح نشے کے اندر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو علماء فرماتے ہیں یہ طلاق واقع ہو جائے گی، یا نشے کے اندر کوئی شخص اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرے تو یہ آزادی واقع ہو جائے گی بطور سزا کے۔ تو جس طرح مدہوش آدمی کے باقی تصرفات بطور سزا کے نافذ ہو جاتے ہیں اسی طرح حد قذف بھی نافذ ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتایا صاحبِ ہدایہ نے کہ نشے کی حالت میں اگر کوئی شخص کفریہ کلمات کہتا ہے تو اس صورت میں اس کو مرتد قرار نہیں دیا جائے گا اور اس سے اس کا نکاح نہیں ٹوٹے گا، اس لیے کیونکہ کفر جو ہے وہ اعتقادی چیز ہے، وہ اعتقاد کا نام ہے اور یہ مدہوش آدمی اس کی تو عقل ہی نہیں ہے، یہ تو ہوش میں ہی نہیں ہے، لہٰذا یہاں اعتقاد ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اعتقاد کے لیے عقل ضروری ہے بھئی۔ اس کے بعد ہم نے باب حد القذف پڑھنا شروع کیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی پاکدامن مرد یا پاکدامن عورت پر زنا کا الزام لگا دے اور پھر وہ جو مقذوف ہے جس پر الزام لگایا گیا تھا وہ حد قذف کا مطالبہ کرے تو پھر اس قاذف پر حد قذف جاری کی جائے گی، اسے اسی (80) کوڑے لگائے جائیں گے اور نیز آئندہ زندگی بھر کے لیے اب اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی بھئی۔ اور اگر یہ تہمت لگانے والا غلام ہے تو پھر اس کی سزا چالیس (40) کوڑے ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو احصان القذف کی تفصیل بتلائی تھی کہ کسی محسن پر اگر کوئی الزام لگائے زنا کا تو اس محسن سے مراد وہ شخص ہے جس میں پانچ صفات پائی جائیں: وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اور زنا سے پاکدامن ہو۔ تو یہ پانچ شرطیں ہیں احصان القذف کے لیے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے کہتا ہے "تو اپنے باپ کا نہیں ہے" تو اس صورت میں یہ دراصل زنا کا الزام لگا رہا ہے اس کی ماں پر، تو اگر اس کی ماں محسنہ ہے تو پھر اس شخص کو حد لگائی جائے گی بھئی۔ اور اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا اس کے باپ کا نام ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "تو فلاں کا بیٹا نہیں"، مثلاً زید کا بیٹا ہے، ایک آدمی اسے کہتا ہے "تو زید کا بیٹا نہیں ہے" تو پھر اس صورت کے اندر دیکھا جائے گا کہ یہ بات اس نے غضب اور غصے کی حالت میں کہی ہے یا غیر غضب کی حالت میں یہ بات کہی ہے۔ تو اگر اس نے غضب کی حالت میں یہ بات کی ہے تو پھر معلوم ہوا وہ اس کو گالی دے رہا تھا، وہ اس کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا تھا، لہٰذا اس صورت میں یہ زنا کا الزام ہے تو پھر حد لگائی جائے گی بھئی اس آدمی کو۔ اور اگر اس نے غضب کے علاوہ عام حالت کے اندر یہ بات اس نے کہی ہے اس بیٹے سے تو معلوم ہوا وہ یہاں گالی نہیں دے رہا بلکہ اس کو ملامت کر رہا ہے کہ تجھ میں اپنے باپ جیسی اعلیٰ صفات نہیں ہیں بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر کسی شخص پر زنا کا الزام لگایا جائے تو حد قذف کا مطالبہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے، کوئی اور اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ مقذوف کا انتقال ہو جائے تو حد قذف کے اندر وراثت بھی جاری نہیں ہوتی، لہٰذا کوئی اور اب حد کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر کسی مرے ہوئے شخص پر، کسی میت پر کسی نے زنا کا الزام لگایا اور وہ میت جو ہے محسن ہے، پاکدامن ہے، تو پھر اس میت کے اصول اور فروع جو ہیں وہ سب حد قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں، اس لیے کیونکہ ان سب کا اس میت کے ساتھ جزئیت والا تعلق ہے یعنی پیدائش والا تعلق ہے، تو ان کو بھی عار لاحق ہوا۔ ان کے لیے بھی یہ عار اور شرم کی بات ہے، تو لہٰذا یہ جو شخص نے قذف کیا، توجہ ہے، یہ جو شخص نے قذف کیا، میت کا اس نے نام لیا، میت کو ذکر کیا اور اس پر زنا کا الزام لگایا، تو میت کو قذف ہے صورۃً بھی اور معنًی بھی۔ صورۃً بھی میت کو قذف ہے کیونکہ اس نے میت کے بارے میں کہا ہے، اور معنًی بھی میت کو قذف ہے کیونکہ میت کو عار لاحق ہوا، میت کو عار لاحق ہوا۔ تو جس پر الزام لگایا ہے اس پر صورۃً بھی قذف ہے اور معنًی بھی قذف ہے، جبکہ اس کے اصول اور فروع جو ہیں ان کے لیے معنًی قذف ہے، صورۃً تو قذف نہیں، اصول اور فروع کو تو اس نے ذکر نہیں کیا زنا کا الزام لگانے والے نے۔ زنا کا الزام لگانے والے نے اصول اور فروع کو تو ذکر نہیں کیا لہٰذا صورۃً تو ان پر قذف نہیں ہے، ان پر زنا کا الزام نہیں، لیکن معنًی ان پر بھی زنا کا الزام ہے اس لیے کیونکہ یہ بات ان کے لیے بھی عار کا باعث ہے۔ تو جس شخص پر الزام لگایا جاتا ہے اس پر صورۃً بھی قذف ہے اور معنًی بھی قذف ہے، اور جبکہ اس کے اصول اور فروع جو ہیں ان پر صرف معنًی قذف ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ حد قذف جو ہے ہمارے ہاں اس کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حد قذف کے اندر بھی وراثت جاری ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک آدمی پر زنا کا الزام لگایا گیا اور پھر اس کا انتقال ہوا تو پھر اس کے وارث بھی حد قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک اس کے وارث حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتے بھئی۔ اور نیز جیسے بیٹے کی اولاد حد قذف کا مطالبہ کر سکتی ہے اسی طرح بیٹی کی اولاد جو ہے وہ بھی حد قذف کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور نیز اسی طرح جیسے اولاد جو ہے حد قذف کا مطالبہ کر سکتی ہے تو اولاد کی موجودگی میں اولاد کی جو اولاد ہے وہ بھی حد قذف کا مطالبہ کر سکتی ہے، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اولاد خود موجود ہے تو وہی حد قذف کا مطالبہ کر سکتی ہے، اولاد کی اولاد جو ہے وہ اس صورت میں حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: "وَإِذَا كَانَ الْمَقْذُوفُ مُحْصَنًا جَازَ لِابْنِهِ الْكَافِرِ وَالْعَبْدِ أَنْ يُطَالِبَ بِالْحَدِّ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ" بھئی آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر میت پر زنا کا الزام لگایا جائے اور وہ محسن ہے تو اس کے اصول اور فروع دونوں جو ہیں وہ حد قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے نزدیک اگر میت کا ایسا بیٹا ہے جو وراثت سے محروم ہو رہا ہے، میت کا ایسا بیٹا ہے جو وراثت سے محروم ہو رہا ہے وہ بھی حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ مثلاً میت کا بیٹا وراثت سے محروم ہوگا کس طرح؟ کہ مثلاً اسی نے اس میت کو قتل کیا اور آپ نے پڑھا ہے وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو پھر وہ وارث نہیں بنتا۔ یا اسی طرح وارث اور مورث کا دین الگ الگ ہو یعنی دونوں میں سے ایک مسلمان ہے اور دوسرا غیر مسلم ہے تو اس صورت میں بھی وہ شخص اس کا وارث نہیں بنتا۔ تو مثلاً باپ مسلمان تھا اور بیٹا کافر ہے تو یہ کافر بیٹا اپنے مسلمان باپ کا وارث نہیں بن سکتا۔ اور اسی طرح اگر بیٹا مثلاً غلام ہے تو پھر وہ بھی وارث نہیں بنے گا اس لیے کیونکہ غلام تو کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اس غلام کو دینا تو اسی طرح ہے جیسے گویا اس کے مالک کو دیا جا رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک میت پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ میت محسن ہے، پاکدامن ہے، اور اس کا ایک کافر بیٹا ہے یا اس کا ایک غلام بیٹا ہے، تو کیا یہ کافر بیٹا اور غلام بیٹا جو وارث نہیں بن سکتے، محروم ہیں وراثت سے، کیا یہ حد قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ تو ہمارے نزدیک یہ بھی حد قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا كَانَ الْمَقْذُوفُ مُحْصَنًا" اور جب وہ شخص جس پر زنا کی تہمت لگائی گئی ہے وہ محسن تھا، یعنی وہ میت ہے اور محسن ہے، "جَازَ لِابْنِهِ الْكَافِرِ وَالْعَبْدِ" تو اس کے کافر اور غلام بیٹے کے لیے جائز ہے "أَنْ يُطَالِبَ بِالْحَدِّ" کہ وہ حد کا مطالبہ کرے۔ بھئی عبارت دیکھیے: "جَازَ لِابْنِهِ الْكَافِرِ وَالْعَبْدِ"، "لِابْنِهِ" یہ "ابْنِهِ" ہے موصوف، مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف، اور "الْكَافِرِ" یہ ہے اس کی صفت، اور "وَالْعَبْدِ" یہ "الْعَبْدِ" کا عطف "الْكَافِرِ" پر ہے تو یہ بھی صفت ہے اسی "ابْنِهِ" کی کہ اس کا بیٹا کافر ہو اور غلام ہو، یعنی چاہے دونوں ہو کافر بھی ہے اور غلام بھی ہے، یا صرف کافر ہے یا صرف غلام ہے، یعنی وراثت سے محروم ہو رہا ہے پھر بھی وہ حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "جَازَ لِابْنِهِ الْكَافِرِ وَالْعَبْدِ أَنْ يُطَالِبَ بِالْحَدِّ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ" تو اس میت کے کافر اور غلام بیٹے کے لیے جائز ہے کہ وہ حد کا مطالبہ کرے، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے۔ "هُوَ يَقُولُ" امام زفر فرماتے ہیں: "الْقَذْفُ يَتَنَاوَلُهُ مَعْنًى لِرُجُوعِ الْعَارِ إِلَيْهِ" بھئی یاد رکھو، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کافر بیٹا یا یہ غلام بیٹا یہ اس میت کے حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا بھئی۔ وجہ یہ ہے، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل سنو: امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ زنا کا الزام لگانے والا اگر اس بیٹے پر الزام لگاتا براہِ راست بھئی، اس بیٹے پر زنا کا الزام لگاتا تو پھر اس صورت میں وہ تہمت لگانے والے پر حد قذف نہیں آنی تھی کیونکہ بیٹا کافر ہے یا غلام ہے، جب کافر یا غلام ہے تو یہ محسن نہیں۔ اور غیر محسن پر اگر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس پر حد قذف جاری نہیں کی جاتی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ زنا کا الزام لگانے والا اس کافر یا غلام بیٹے پر زنا کا الزام لگاتا اور اس صورت میں یہ الزام بیٹے پر تھا صورۃً بھی اور معنًی بھی، اس صورت میں بھئی جس شخص پر کوئی الزام لگا رہا ہے تو صورۃً بھی اسی پر الزام ہے، توجہ ہے؟ اسی کو ذکر کر رہا ہے کہ تو نے زنا کیا ہے، اور معنی کے اعتبار سے بھی اسی پر الزام ہے کیونکہ یہ بات اسی کے لیے باعثِ عار ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ جب کوئی شخص کسی پر زنا کا الزام لگاتا ہے تو صورۃً بھی اس پر زنا کا الزام ہے کیونکہ اسی کو وہ ذکر کر رہا ہے، اور معنًی بھی اس پر زنا کا الزام ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اس کو عار لاحق ہوگا۔ تو یہاں پر اگر اس میت کے کافر بیٹے یا غلام بیٹے پر اگر کوئی براہِ راست زنا کا الزام لگاتا تو دیکھو اس صورت میں صورۃً بھی اس بیٹے پر قذف ہے اور معنًی بھی قذف ہے اور پھر بھی حد واجب نہیں ہو رہی، صورۃً بھی قذف اور معنًی بھی قذف لیکن پھر بھی حد واجب نہیں ہو رہی کیونکہ بیٹا محسن نہیں ہے۔ تو جب بیٹے پر صورۃً اور معنًی دونوں اعتبار سے قذف ہو پھر وہاں حد واجب نہیں ہوتی، تو جب میت باپ پر جب الزام لگایا گیا زنا کا تو بیٹے پر الزام ہوا صرف معنًی۔ تو اس صورت میں بیٹے پر صرف معنًی الزام ہے، اصل الزام تو وہ مرے ہوئے باپ پر ہے۔ مرے ہوئے باپ پر صورۃً بھی الزام ہے اور معنًی بھی، اور بیٹے پر، بیٹے کو صرف عار لاحق ہوا ہے، بیٹے کو تو اس نے ذکر نہیں کیا زنا کے الزام میں، تو بیٹے پر صرف معنًی جو ہے وہ قذف ہے۔ تو امام زفر فرماتے ہیں کہ اگر بیٹے پر وہ براہِ راست زنا کا الزام لگاتا یعنی صورۃً بھی قذف ہوتا بیٹے پر، معنًی بھی قذف ہوتا تو پھر بھی اس قاذف پر حد نہیں آنی تھی، تو جب اس کے مرے ہوئے باپ پر اس نے زنا کا الزام لگایا ہے تو اس میں تو بیٹے پر صرف معنًی قذف ہے صورۃً قذف نہیں ہے، تو لہٰذا اس صورت میں تو بطریقِ اولیٰ اس شخص پر حد نہیں آئے گی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں: "خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ" بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، "هُوَ يَقُولُ" وہ فرماتے ہیں: "الْقَذْفُ يَتَنَاوَلُهُ مَعْنًى" کہ یہ الزام جو ہے یہ بیٹے کو معنی کے اعتبار سے شامل ہے، یعنی معنی کے اعتبار سے بیٹے پر الزام ہے، صورت کے اعتبار سے یہاں بیٹے پر الزام نہیں بلکہ صورت کے اعتبار سے تو اس مرے ہوئے باپ پر الزام لگا رہا ہے زنا کا۔ تو کہتے ہیں: "الْقَذْفُ يَتَنَاوَلُهُ مَعْنًى" کہ یہ زنا کا جو الزام ہے یہ بیٹے کو معنی کے اعتبار سے شامل ہے، "لِرُجُوعِ الْعَارِ إِلَيْهِ" اس لیے کیونکہ یہ عار جو ہے بیٹے کی طرف لوٹتا ہے، یہ عار بیٹے کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ دونوں میں پیدائش کا رشتہ ہے بھئی، تو یہ عار جو ہے بیٹے کی طرف لوٹ رہا ہے لہٰذا یہ معنی کے اعتبار سے بیٹے پر بھی الزام ہے۔ "وَلَيْسَ طَرِيقُهُ الْإِرْثَ عِنْدَنَا" اور حد قذف جو ہے اس کا طریقہ وراثت نہیں ہے ہمارے نزدیک، اس کا طریقہ ہمارے نزدیک وراثت نہیں ہے، یعنی اگر وراثت ہوتی تو پھر ہم کہہ سکتے تھے صورۃً بھی بیٹے پر الزام ہے، معنًی بھی الزام ہے کیونکہ باپ پر صورۃً بھی الزام تھا اور معنًی بھی، اور بیٹا اسی کا وارث بن گیا تو گویا بیٹے پر بھی صورۃً بھی الزام ہوتا اور معنًی بھی۔ لیکن یہاں تو وراثت جاری ہوتی نہیں، وراثت جاری نہیں ہوتی تو صورۃً الزام صرف باپ پر ہی ہے، وہ بیٹے کی طرف منتقل ہی نہیں ہوا۔ تو بیٹے پر صرف معنًی الزام ہے۔ تو معنًی الزام کی وجہ سے حد نہیں آ سکتی کیونکہ اگر وہ بیٹے پر صورۃً بھی الزام لگاتا اور معنًی بھی الزام لگاتا تو پھر بھی حد نے نہیں آنا تھا، تو صرف معنًی الزام ہونے کی صورت میں تو بطریقِ اولیٰ وہ الزام لگانے والے پر حد قذف نہیں آئے گی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: "وَلَيْسَ طَرِيقُهُ الْإِرْثَ عِنْدَنَا" اور اس حد قذف کا طریقہ وراثت نہیں ہے ہمارے نزدیک، "فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ مُتَنَاوِلًا لَهُ صُورَةً وَمَعْنًى" تو یہ اسی طرح ہو گیا کہ جیسے یہ الزام شامل ہے بیٹے کو صورۃً بھی اور معنًی بھی، تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یہ الزام بیٹے کو شامل ہو صورۃً بھی اور معنًی بھی، اور صورۃً اور معنًی میں تو قاذف پر حد نہیں آتی تھی تو لہٰذا صرف معنًی کی صورت میں بھی قاذف پر حد نہیں آئے گی۔ "وَلَنَا" اب ہماری دلیل آ گئی: "وَلَنَا: أَنَّهُ عَيَّرَهُ بِقَذْفِ مُحْصَنٍ فَيَأْخُذُهُ بِالْحَدِّ" بھئی دیکھیے، ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک اس شخص نے اس میت پر زنا کا الزام لگایا ہے جو محسن ہے۔ جب محسن ہے تو گویا یہ کامل درجے کا عار دلایا اس نے۔ بھئی دیکھو جب کسی پر زنا کا الزام لگایا جاتا ہے تو شریعت نے اسے حد قذف کا حق دیا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ زنا کا الزام اس پاکدامن آدمی کے لیے عار کا باعث ہے، شرم کا باعث ہے، یہ اس کے لیے طعنے کا باعث ہے بھئی۔ تو لہٰذا شریعت نے محسن ہونے کی قید اس لیے لگائی ہے تاکہ یہ جو زنا کا الزام لگایا ہے یہ کامل طور پر عار دلانے والی بات ہو۔ یہ کامل طور پر عار دلانے والی بات ہو۔ بھئی اگر اس آدمی کے اندر یہ محسن ہونے والی صفات میں سے کوئی صفت کم ہے مثلاً وہ غلام ہے، اور غلام پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو یہ بات غلام کے لیے بھی باعثِ عار ہے لیکن کامل طور پر باعثِ عار نہیں ہے۔ یا اسی طرح ایک شخص کافر ہے، اس پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو یہ بات اس کے لیے بھی باعثِ عار ہے لیکن کامل عار کا باعث نہیں ہے۔ کامل عار کا باعث اس آدمی کے لیے ہوگی جس میں احسان والی صفات موجود ہوں یعنی وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اور زنا سے پاکدامن ہو۔ جب یہ ساری صفات اس میں موجود ہیں اب اس پر کوئی زنا کا الزام لگاتا ہے تو یہ اس نے کامل درجے کا عار دلایا ہے، یعنی یہ بات اس آدمی کے لیے بہت زیادہ عار کا باعث ہے بھئی، کامل درجے کا عار ہے یہ اس کے لیے۔ جب یہ کامل درجے کا عار ہوا تو دیکھو ہماری دلیل چل رہی ہے، ہم کہتے ہیں بیٹا بے شک کافر ہے یا غلام ہے، اس کو خود کوئی الزام لگائے گا تو وہ کامل درجے کا عار نہیں لیکن یہاں پر الزام لگایا ہے اس کے باپ پر اور باپ مر چکا ہے اور وہ محسن تھا، اور محسن پر جب زنا کا الزام لگایا جائے تو وہ کامل درجے کا عار ہے۔ اور یہی کامل درجے کا عار اب بیٹے کی طرف بھی لوٹ رہا ہے۔ خود بیٹے پر الزام لگاتے تو کامل درجے کا عار نہ ہوتا، لیکن یہاں پر محسن باپ پر الزام لگایا ہے تو یہ کامل درجے کا عار ہے اور یہی عار لوٹ رہا ہے بیٹے کی طرف، اس کے لیے بھی یہ عار کا باعث ہے تو وہی کامل درجے کا عار کس کی طرف آ گیا؟ بیٹے کی طرف، لہٰذا وہ حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ "وَلَنَا: أَنَّهُ عَيَّرَهُ بِقَذْفِ مُحْصَنٍ" اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اس تہمت لگانے والے نے بیٹے کو عار دلایا ہے ایک پاکدامن شخص پر زنا کا الزام لگا کر، ایک پاکدامن شخص پر زنا کا الزام لگا کر اس نے بیٹے کو عار دلایا ہے، "فَيَأْخُذُهُ بِالْحَدِّ" تو بیٹا اس کا مواخذہ کر سکتا ہے حد کے ذریعے، "وَهَذَا لِأَنَّ الْإِحْصَانَ فِي الَّذِي يُنْسَبُ إِلَى الزِّنَا شَرْطٌ" کہتے ہیں: اور یہ اس لیے ہے کہ بیٹا جو ہے حد کا مطالبہ کر سکتا ہے، اب اس کی تفصیل بیان کریں گے جو میں نے بتلا دیا کہ باپ پر زنا کا الزام ہے تو یہ کامل درجے کا عار ہے اور یہی عار پھر کس کی طرف لوٹا ہے؟ بیٹے کی طرف۔ تو کہتے ہیں: "وَهَذَا لِأَنَّ الْإِحْصَانَ فِي الَّذِي يُنْسَبُ إِلَى الزِّنَا شَرْطٌ" اور یہ اس لیے کیونکہ وہ شخص جس کی زنا کی طرف نسبت کی گئی ہے اس کے اندر احسان شرط ہے، جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے اس کا محسن ہونا شرط ہے حد کے لیے، "لِيَقَعَ تَعْيِيرًا عَلَى الْكَمَالِ" تاکہ یہ الزام کامل طور پر عار دلانے والا ہو کر واقع ہو، تاکہ یہ الزام کامل طور پر عار دلانے والا بنے۔ جب ایک شخص محسن ہوگا اس پر کوئی زنا کا الزام لگائے گا تو یہ کامل درجے کا عار ہے، اور اگر اس میں احسان والی صفات نہیں تو پھر عار تو ہے لیکن کامل درجے کا عار نہیں۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: "وَهَذَا لِأَنَّ الْإِحْصَانَ فِي الَّذِي يُنْسَبُ إِلَى الزِّنَا شَرْطٌ" اور یہ اس لیے کیونکہ وہ شخص جس کی زنا کی طرف نسبت کی گئی ہے اس کا محسن ہونا شرط ہے حد کے لیے، "لِيَقَعَ تَعْيِيرًا عَلَى الْكَمَالِ" تاکہ یہ جو الزام ہے یہ کامل طریقے پر تعییر بن جائے، کامل طریقے پر عار دلانا بن جائے، "ثُمَّ يَرْجِعُ هَذَا التَّعْيِيرُ الْكَامِلُ إِلَى وَلَدِهِ" پھر یہی کامل عار دلانا جو ہے یہ لوٹتا ہے اس کی اولاد کی طرف، تو لہٰذا اولاد مطالبہ کر سکتی ہے۔ "وَالْكُفْرُ لَا يُنَافِي أَهْلِيَّةَ الِاسْتِحْقَاقِ" اور کفر جو ہے وہ اہلیتِ استحقاق کے منافی نہیں ہے۔ استحقاق سے مراد ہے استحقاقِ خصومت۔ بیٹا قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ عار اصل میں تھا میت کے لیے اور کامل درجے کا عار تھا، اور یہی عار لوٹا ہے کس کی طرف؟ بیٹے کی طرف۔ تو بیٹا قاضی سے جا کر مطالبہ کر سکتا ہے یعنی خصومت کر سکتا ہے، مقدمہ کر سکتا ہے۔ اور کوئی کافر ہو تو کافر جو ہے وہ بھی خصومت کا مستحق ہوتا ہے، وہ بھی قاضی کے پاس کسی بھی معاملے کے اندر مقدمہ لے جا سکتا ہے۔ تو کفر یا غلامی یہ خصومت کے استحقاق سے مانع نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَالْكُفْرُ لَا يُنَافِي أَهْلِيَّةَ الِاسْتِحْقَاقِ" اور کفر جو ہے خصومت کا مستحق ہونے کی اہلیت کے منافی نہیں ہے، کفر کی وجہ سے کوئی خصومت کا مستحق نہ رہے ایسا نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَالْكُفْرُ لَا يُنَافِي أَهْلِيَّةَ الِاسْتِحْقَاقِ" اور کفر جو ہے وہ اہلیتِ استحقاق کے منافی نہیں ہے یعنی خصومت کے استحقاق کی اہلیت کے منافی نہیں ہے کفر۔ "بِخِلَافِ مَا إِذَا تَنَاوَلَ الْقَذْفُ نَفْسَهُ" بخلاف اس کے کہ جب وہ الزام اس بیٹے کی ذات کو شامل ہو، اگر بیٹے پر براہِ راست الزام لگائیں گے تو وہ کامل درجے کی تعییر نہیں کیونکہ بیٹا خود جو ہے وہ محسن نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "بِخِلَافِ مَا إِذَا تَنَاوَلَ الْقَذْفُ نَفْسَهُ" بخلاف اس کے کہ قذف جو ہے خود بیٹے کو شامل ہو، "لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ التَّعْيِيرُ عَلَى الْكَمَالِ" اس لیے کیونکہ یہاں کامل طور پر عار دلانا نہیں پایا گیا، "لِفَقْدِ الْإِحْصَانِ فِي الْمَنْسُوبِ إِلَى الزِّنَا" اس لیے کیونکہ احسان موجود نہیں ہے اس بیٹے کے اندر جس کی نسبت کی گئی ہے زنا کی طرف۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: "وَلَيْسَ لِلْعَبْدِ أَنْ يُطَالِبَ مَوْلَاهُ بِقَذْفِ أُمِّهِ الْحُرَّةِ، وَلَا لِلِابْنِ أَنْ يُطَالِبَ أَبَاهُ بِقَذْفِ أُمِّهِ الْحُرَّةِ الْمُسْلِمَةِ" صورتِ مسئلہ یہ کہ آقا نے اپنے غلام کو پکارا "اے زانیہ کے بیٹے!" یعنی اس کی ماں پر زانیہ ہونے کا الزام لگا دیا آقا نے، اور حال یہ ہے کہ اس کی ماں جو ہے وہ مر چکی ہے اور وہ محسنہ ہے۔ تو کیا یہ اب اپنے آقا پر حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں، غلام اپنے آقا پر حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ یا اسی طرح اگر باپ نے اپنے بیٹے کو اس طرح پکارا کہ "اے زانیہ کے بیٹے!" اور اس بیٹے کی جو ماں ہے اس کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ محسنہ تھی بھئی، تو کیا بیٹا اپنے باپ پر حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں، بیٹا اپنے باپ کے خلاف حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں: "وَلَيْسَ لِلْعَبْدِ أَنْ يُطَالِبَ مَوْلَاهُ بِقَذْفِ أُمِّهِ الْحُرَّةِ" اور غلام کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ مطالبہ کرے اپنے آقا پر اپنی آزاد ماں کی تہمت کا، غلام کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی آزاد ماں کی تہمت کا مطالبہ کرے آقا پر، "وَلَا لِلِابْنِ" اور بیٹے کا بھی یہ حق نہیں ہے "أَنْ يُطَالِبَ أَبَاهُ" کہ وہ اپنے باپ سے مطالبہ کرے "بِقَذْفِ أُمِّهِ الْحُرَّةِ الْمُسْلِمَةِ" اپنی آزاد مسلمان ماں کی تہمت کا۔ "لِأَنَّ الْمَوْلَى لَا يُعَاقَبُ بِسَبَبِ عَبْدِهِ" اس لیے کیونکہ آقا جو ہوتا ہے اس کو سزا نہیں دی جا سکتی اس کے غلام کی وجہ سے۔ آقا کو اپنے غلام کی وجہ سے سزا نہیں دی جا سکتی، اس لیے کیونکہ غلام کا جو حق ہے وہ دراصل آقا کا حق ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ غلام کا جو حق ہے وہ آقا کا حق ہے تو غلام کے حق کی وجہ سے آقا کو سزا دینا اسی طرح ہے جیسے آقا کو اپنے ہی حق میں سزا دی جا رہی ہے، اور اپنے ہی حق میں تو کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْمَوْلَى لَا يُعَاقَبُ بِسَبَبِ عَبْدِهِ" اس لیے کیونکہ آقا جو ہے اس کو سزا نہیں دی جا سکتی اپنے غلام کی وجہ سے، "وَكَذَا الْأَبُ بِسَبَبِ ابْنِهِ" اور اسی طرح باپ کو سزا نہیں دی جا سکتی اپنے بیٹے کی وجہ سے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا" تو اف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے، معلوم ہوا بیٹے کے لیے باپ کو تکلیف دینا کسی صورت بھی جائز نہیں، اور اگر بیٹے کی وجہ سے باپ کو سزا دی جائے تو یہ تو دیکھو بیٹا سبب بن رہا ہے باپ کو تکلیف دینے کا، لہٰذا اس لیے بیٹا بھی باپ سے حد قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا اپنی محسنہ ماں کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: "وَكَذَا الْأَبُ بِسَبَبِ ابْنِهِ" اور جس طرح باپ کو سزا نہیں دی جا سکتی اپنے بیٹے کی وجہ سے، "وَلِهَذَا لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِوَلَدِهِ وَلَا السَّيِّدُ بِعَبْدِهِ" اور اسی وجہ سے والد سے قصاص نہیں لیا جا سکتا اس کی اولاد کی وجہ سے اور نہ آقا سے اس کے غلام کی وجہ سے۔ یاد رکھو یہ حدیث ہے بھئی، صاحبِ ہدایہ نے یہاں صراحت نہیں فرمائی کہ یہ حدیث ہے، آگے دوسرے مقام پر وہ اس کو ذکر فرماتے ہیں، تو حدیث میں آتا ہے کہ اولاد کی وجہ سے والد سے قصاص نہیں لیا جا سکتا اور غلام کی وجہ سے آقا سے قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: "وَلِهَذَا لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِوَلَدِهِ" اور اسی وجہ سے والد سے قصاص نہیں لیا جا سکتا اس کی اولاد کی وجہ سے "وَلَا السَّيِّدُ بِعَبْدِهِ" اور نہ آقا سے اس کے غلام کی وجہ سے۔ بھئی دیکھو، باپ اگر اپنے بیٹے کو قتل کر دے تلوار سے قتل کیا ہے اور آپ نے پڑھا ہے کوئی دوسرے کو آلۂ قتل سے قتل کرے تو اس پر قصاص آتا ہے، تو یاد رکھو یہاں پر بھی باپ پر اولاً قصاص آیا لیکن پھر شبۂ ملکیت کی وجہ سے قصاص ساقط ہو گیا کیونکہ حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا تھا: "أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ"، اور نیز یہاں حدیث میں بھی آ گیا "لَا يُقَادُ الْوَالِدُ لِوَلَدِهِ" بھئی۔ تو لہٰذا باپ سے قصاص نہیں لیا جا سکتا، البتہ باپ پر اب باپ پر اب دیت واجب ہو جائے گی جیسے گزشتہ... گزشتہ سبق کے اندر مسئلہ آیا تھا کہ قاضی نے ایک آدمی کو رجم کرنے کا حکم دیا اور پھر ایک آدمی نے اس آدمی کو قتل کر دیا تلوار سے، اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ جو گواہ تھے وہ غلام تھے۔ تو پھر اس صورت میں قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس قاتل کو بھی قصاص میں قتل کرنا چاہیے، لیکن استحساناً ہم نے کہا تھا کہ وہاں شبہ موجود ہے اور وہ تھا قاضی کا فیصلہ۔ جو قاضی نے رجم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت تک تو وہ صحیح تھا ظاہری اعتبار سے، تو لہٰذا وہاں پھر جب قصاص نہیں آیا تو دیت آ گئی۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی باپ اپنے بیٹے کو قتل کرے گا تو قصاص تو نہیں آئے گا، قصاص تو نہیں آئے گا، البتہ دیت آ جائے گی بھئی۔ تو باپ پر قصاص تو نہیں آیا، البتہ یاد رکھو اخروی سزا ملے گی بھئی، کہ اس نے عظیم جرم کیا ہے، ایک مسلمان کو قتل کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَٰذَا لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِوَلَدِهِ وَلَا السَّيِّدُ بِعَبْدِهِ“ اور اسی وجہ سے والد سے اولاد کا قصاص نہیں لیا جا سکتا اور آقا سے اپنے غلام کا قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ ”وَلَوْ كَانَ لَهَا ابْنٌ مِنْ غَيْرِهِ لَهُ أَنْ يُطَالِبَ لِتَحَقُّقِ السَّبَبِ وَانْعِدَامِ الْمَانِعِ“ ہاں، اگر اس عورت کا کوئی اور بیٹا ہے جو کسی اور خاوند سے ہے، مثلاً وہ عورت جس کا انتقال ہو چکا ہے، اس عورت نے پہلے نکاح کیا تھا زید سے اور اس زید سے اس کا ایک بیٹا ہے۔ اس کے بعد اس عورت نے مثلاً نکاح کیا عمرو سے اور پھر عمرو سے بھی اس کا ایک بیٹا ہے۔ اب اس عورت کا انتقال ہو چکا ہے وہ محصنہ تھی۔ تو اب یہ جو دوسرا خاوند ہے عمرو، اس نے اپنے بیٹے سے کہا: اے زانیہ کے بیٹے! تو عمرو کا اپنا بیٹا جو ہے جو اس عورت کا بھی بیٹا ہے، یہ تو قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا اپنے باپ سے، لیکن اس عورت کا جو دوسرا بیٹا ہے جو زید سے تھا، وہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ اس نے میری ماں پر زنا کا الزام لگایا ہے، لہٰذا اس پر حد قذف جاری کی جائے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَوْ كَانَ لَهَا ابْنٌ مِنْ غَيْرِهِ“ اور اگر اس عورت کا بیٹا تھا اس خاوند کے علاوہ کسی اور سے، ”لَهُ أَنْ يُطَالِبَ“ تو اس بیٹے کے لیے جائز ہے کہ وہ مطالبہ کرے، ”لِتَحَقُّقِ السَّبَبِ“ اس لیے کیونکہ سبب پایا گیا، وجوب حد کا سبب پایا گیا کہ اس شخص نے زنا کا الزام لگایا ہے اس کی محصنہ ماں پر، ”وَانْعِدَامِ الْمَانِعِ“ اور اس لیے کیونکہ مانع معدوم ہے۔ اس آدمی کا اپنا بیٹا جو ہے، وہ تو قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہاں مانع موجود تھا، لیکن یہ تو اس کا اپنا بیٹا نہیں، یہاں مانع نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ قَذَفَ غَيْرَهُ فَمَاتَ الْمَقْذُوفُ بَطَلَ الْحَدُّ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَبْطُلُ“ بھئی، اب وہ مسئلہ آ گیا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حد قذف کے اندر وراثت جاری ہوتی ہے، جبکہ ہمارے نزدیک حد قذف میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ جس شخص پر الزام لگایا گیا ہے، وہ زندہ ہے تو وہی حد قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں۔ اور اگر یہ شخص مر گیا تو پھر حد ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَذَفَ غَيْرَهُ“ اور جس شخص نے دوسرے پر زنا کا الزام لگایا، ”فَمَاتَ الْمَقْذُوفُ“ تو وہ شخص جس پر زنا کا الزام لگایا گیا تھا وہ مر گیا، ”بَطَلَ الْحَدُّ“ تو حد باطل ہو گئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَبْطُلُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حد باطل نہیں ہے، اس میں وراثت جاری ہوگی۔ ”وَلَوْ مَاتَ بَعْدَ مَا أُقِيمَ بَعْضُ الْحَدِّ“ اور اگر وہ مقذوف مر گیا بعد اس کے کہ جب بعض حد قائم کر دی گئی تھی، ”بَطَلَ الْبَاقِي“ تو باقی حد باطل ہو جائے گی۔ بھئی، کچھ حد قائم کی گئی تھی کہ درمیان میں مقذوف کا انتقال ہو گیا۔ توجہ ہے؟ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے پر زنا کا الزام لگایا اور پھر قاضی کے پاس الزام ثابت ہو گیا اور اس شخص کو، قاذف کو کوڑے لگائے جا رہے تھے، ابھی دو چار کوڑے ہی لگے تھے کہ وہ جو مقذوف تھا اس کا انتقال ہو گیا۔ تو یاد رکھو، باقی حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ مَاتَ بَعْدَ مَا أُقِيمَ بَعْضُ الْحَدِّ“ اور اگر مقذوف کا انتقال ہو گیا کچھ حد کے قائم ہونے کے بعد، ”بَطَلَ الْبَاقِي عِنْدَنَا“ تو باقی حد باطل ہو جائے گی ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لَهُ“ برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک باقی حد ساقط نہیں ہوگی، وہ لگائی جائے گی۔ ”بِنَاءً عَلَى أَنَّهُ يُورَثُ عِنْدَهُ“ بنا بر اس کے کہ یہ جو حد قذف ہے، اس میں وراثت جاری ہوتی ہے عندہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، ”وَعِنْدَنَا لَا يُورَثُ“ اور ہمارے نزدیک اس کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ”وَلَا خِلَافَ أَنَّ فِيهِ حَقَّ الشَّرْعِ وَحَقَّ الْعَبْدِ“ اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حد قذف کے اندر شریعت کا بھی حق ہے اور بندے کا بھی حق ہے۔ ہمارے نزدیک بھی حد قذف کے اندر شریعت کا بھی حق ہے اور بندے کا بھی حق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی ہمارے ساتھ اس بات میں اتفاق کرتے ہیں کہ حد قذف کے اندر بندے کا بھی حق ہے اور شریعت کا بھی حق ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا خِلَافَ أَنَّ فِيهِ حَقَّ الشَّرْعِ وَحَقَّ الْعَبْدِ“ اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حد قذف کے اندر شریعت کا بھی حق ہے اور بندے کا بھی حق ہے۔ ”فَإِنَّهُ شُرِعَ لِدَفْعِ الْعَارِ عَنِ الْمَقْذُوفِ“ اب صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ کیسے پتہ چلا کہ یہ شریعت کا حق ہے؟ اور بندے کا حق ہے یہ کیسے پتہ چلا؟ تو یاد رکھو، آپ کو بتلائیں گے اگر ایک چیز کا فائدہ کسی خاص آدمی کو پہنچ رہا ہے، معلوم ہوا یہ حق العبد ہے، یہ اس آدمی کا حق ہے۔ اور اگر ایک چیز کا فائدہ تمام لوگوں کو پہنچ رہا ہے، معلوم ہوا یہ حق اللہ ہے بھئی، یہ حق شرع ہے۔ تو حد قذف کے اندر دونوں پہلو ہیں۔ حد قذف کی وجہ سے اس مقذوف کو فائدہ ہوگا کہ اس سے عار ختم ہو جائے گا، اس سے عار ختم ہو جائے گا، تو دیکھو اس مخصوص آدمی کو فائدہ ہو رہا ہے اس حد قذف کی وجہ سے، معلوم ہوا یہ حد قذف جو ہے یہ حق العبد ہے۔ اور دوسری طرف اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے اور لوگ بھی اس جرم سے رکیں گے، تو دیکھو دنیا سے فساد ختم ہوگا، تو یہ علامت ہے حق شرع ہونے کی۔ تو ایک چیز کا فائدہ خاص ہو تو معلوم ہوا یہ حق العبد ہے، اور ایک چیز کا فائدہ عام ہو تو معلوم ہوا یہ حق شرع ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُ شُرِعَ لِدَفْعِ الْعَارِ عَنِ الْمَقْذُوفِ“ اس لیے کیونکہ یہ حد قذف مشروع ہوئی ہے مقذوف سے عار کو دور کرنے کے لیے، ”وَهُوَ الَّذِي يَنْتَفِعُ بِهِ عَلَى الْخُصُوصِ“ اور یہ مقذوف ہے جو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے خصوص کے طریقے پر، یعنی خاص طور پر اسی کو یہ فائدہ ہو رہا ہے، ”فَمِنْ هَٰذَا الْوَجْهِ حَقُّ الْعَبْدِ“ تو اس اعتبار سے یہ حد قذف جو ہے بندے کا حق ہے، ”ثُمَّ إِنَّهُ شُرِعَ زَاجِرًا“ پھر اس کے بعد یہ جو حد قذف ہے یہ مشروع کی گئی ہے زاجراً اس اعتبار سے کہ یہ دھمکانے والی ہے۔ زاجر کا معنی ہے دھمکانے والا، ڈرانے والا، ڈانٹنے والا۔ ”ثُمَّ إِنَّهُ شُرِعَ زَاجِرًا“ پھر یہ حد قذف جو ہے یہ مشروع ہوئی ہے دھمکانے والی ہو کر، ”وَمِنْهُ سُمِّيَ حَدًّا“ اور اسی وجہ سے اس کو حد کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کو حد کہتے ہیں۔ حد کو حد کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ حد کا معنی ہے روکنا، اور یہ حد بھی لوگوں کو جرم سے روکتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنَّهُ شُرِعَ زَاجِرًا وَمِنْهُ سُمِّيَ حَدًّا“ پھر یہ حد قذف مشروع ہوئی ہے دھمکانے والی ہو کر اور اسی وجہ سے اس کو حد کہتے ہیں، ”وَالْمَقْصُودُ مِنْ شَرْعِ الزَّاجِرِ إِخْلَاءُ الْعَالَمِ عَنِ الْفَسَادِ“ اور دھمکانے والی چیز کے مشروع کرنے سے جو مقصود ہوتا ہے، عالم کو خالی کرنا ہے فساد سے۔ کوئی ڈرانے والی یا دھمکانے والی چیز اس کے مشروع کرنے کا مقصد عالم کو فساد سے خالی کرنا ہوتا ہے، اور یہ حق شرع ہونے کی علامت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَقْصُودُ مِنْ شَرْعِ الزَّاجِرِ إِخْلَاءُ الْعَالَمِ عَنِ الْفَسَادِ وَهَٰذَا آيَةُ حَقِّ الشَّرْعِ“ اور زاجر کے مشروع کرنے کا جو مقصد ہے وہ عالم کو فساد سے خالی کرنا ہے، اور یہ حق شرع ہونے کی نشانی ہے۔ ”وَبِكُلِّ ذَٰلِكَ تَشْهَدُ الْأَحْكَامُ“ اور ان میں سے ہر ایک پر احکام گواہی دیتے ہیں۔ یعنی یہ جو حد قذف ہے، اس کے بعض احکام سے پتہ چلتا ہے یہ بندے کا حق ہے، اور اسی طرح اس کے بعض احکام سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شریعت کا حق ہے۔ یہ حد قذف سے متعلق بعض احکام کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے یہ بندے کا حق ہے، اور بعض احکام کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے یہ شریعت کا حق ہے۔ مثلاً دیکھو یہ حاشیے میں انہوں نے بعض ذکر کیے ہوئے ہیں کہ یہ حد قذف جو ہے، پرانی ہونے سے بھی ساقط نہیں ہوتی۔ اور حدود پرانی ہونے سے ساقط ہو جاتی ہیں، لیکن حد قذف پرانی ہونے سے بھی ساقط نہیں ہوتی۔ یہ علامت ہے حق عبد ہونے کی۔ اور نیز اسی طرح حد قذف کے اندر ایک دفعہ کوئی اقرار کر لے تو وہ رجوع نہیں کر سکتا، اس کے رجوع کا کوئی اعتبار نہیں ہے، معلوم ہوا یہ حق العبد ہے، کیونکہ حق اللہ کے اندر تو رجوع کیا جا سکتا ہے بھئی۔ مثلاً حد زنا ہے، یا حد سرقہ ہے، یا اسی طرح حد شرب خمر ہے، یہ اقرار کی وجہ سے حد ثابت ہوئی اور بعد میں وہ آدمی رجوع کر لے تو یہ حد ساقط ہو جاتی ہے کیونکہ خالص اللہ کا حق ہیں، جبکہ حد قذف بندے کا حق ہے، اقرار کی وجہ سے ایک دفعہ ثابت ہو گئی تو بعد میں رجوع بھی کرے گا تو اب یہ ساقط نہیں ہوگی بھئی۔ تو یہ بھی علامت ہے کہ یہ حق العبد ہے بھئی۔ اور اسی طرح حد قذف کے اندر دعویٰ ضروری ہے، اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ حق العبد ہے، کیونکہ حقوق اللہ کے اندر تو دعویٰ ضروری نہیں ہوتا بھئی۔ اور اسی طرح بعض احکام سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شریعت کا حق ہے، یہ شریعت کا حق ہے بندے کا حق نہیں، اور وہ اس طرح کہ جب قاضی کے پاس حد قذف ثابت ہو گئی اب وہ جو صاحبِ حق ہے وہ معاف کرنا چاہتا ہے کہ قاضی صاحب، اس نے مجھ پر زنا کا الزام لگایا تھا لیکن میں اس کو معاف کرتا ہوں، نہیں بھئی اب آپ معاف نہیں کر سکتے کیونکہ یہ حق شریعت ہے، یہ آپ کا حق نہیں۔ تو صاحب حق بھی اس کو معاف نہیں کر سکتا، یہ علامت ہے اس بات کی کہ یہ حق عبد نہیں ہے بلکہ یہ حق شرع ہے بھئی۔ اور اسی طرح اس کے اندر اگر گواہ نہ پیش کر سکا وہ آدمی، وہ مدعی اگر گواہ نہ پیش کر سکا تو الزام لگانے والے پر قسم نہیں آئے گی۔ حالانکہ حق العبد کے اندر ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ“ مدعی کے ذمے بینہ ہوتی ہے اور اگر وہ بینہ پیش نہ کر سکے تو دوسرے شخص پر قسم آتی ہے۔ لیکن یہاں پر اگر مدعی بینہ پیش نہ کر سکا تو دوسرے شخص پر قسم نہیں آئے گی۔ یہ علامت ہے اس بات کی کہ یہ حق شرع ہے، یہ حق عبد نہیں۔ اگر حق عبد ہوتا تو منکر پر قسم آتی بھئی۔ اور اسی طرح غلامی کی وجہ سے یہ حد قذف جو ہے نصف ہو جاتی ہے، یہ بھی علامت ہے حق شرع ہونے کی، معلوم ہوا یہ حق شرع ہے، یہ حق عبد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِكُلِّ ذَٰلِكَ تَشْهَدُ الْأَحْكَامُ“ اور ان میں سے ہر ایک پر احکام گواہی دیتے ہیں، یعنی اس کے حق شرع ہونے پر بھی بعض احکام گواہی دیتے ہیں اور اس کے حق عبد ہونے پر بھی بعض احکام گواہی دیتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَعَارَضَتِ الْجِهَتَانِ“ تو معلوم ہوا یہ جو حد قذف ہے، اس کے اندر حق العبد بھی ہے اور اس کے اندر حق شرع بھی ہے۔ اب امام شافعی رحمہ اللہ نے اس میں حق عبد کو غالب قرار دے دیا۔ حق عبد کو غالب قرار دے دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بندہ محتاج ہے، بندہ محتاج ہے اور شریعت بے نیاز ہے، شریعت کسی چیز کی محتاج نہیں، لہٰذا یہاں پر حق تو دونوں کا ہے لیکن بندہ چونکہ محتاج ہے اور شریعت بے نیاز ہے، لہٰذا بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے گا۔ بندہ محتاج ہے، لہٰذا بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے گا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ نہیں، یہاں پر حق شریعت کو غالب قرار دیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہاں بندے کا بھی حق ہے اور شریعت کا بھی حق ہے، یعنی یوں کہو اللہ کا بھی حق ہے، تو اللہ کے حق کو اگر آپ غالب قرار دے دیں گے تو اللہ ہی نگہبان ہے بندوں کے حقوق کا بھی۔ تو اللہ ہی بندوں کے حقوق کا بھی نگہبان ہے، تو دیکھو یہاں حق العبد کی بھی رعایت ہو گئی۔ جب اللہ کے حق کو آپ نے غالب قرار دے دیا اور اللہ تو بندوں کے حقوق کا بھی نگہبان ہے، تو بندے کے حق کی بھی نگہبانی ہو گئی اور حفاظت ہو گئی۔ توجہ ہے؟ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ہم بندے کے حق کو غالب قرار دے دیں، تو پھر اس صورت کے اندر حق شرع بالکل باطل ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس میں بندے کے حق کو غالب قرار دیا کیونکہ بندہ محتاج ہے اور شریعت بے نیاز ہے، لہٰذا بندے کے حق کو انہوں نے غالب قرار دے دیا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، یہاں شریعت کے حق کو غالب قرار دیا جائے گا، اس لیے کیونکہ اللہ بندے کے حق کے بھی نگہبان ہیں، تو بندے کے حق کی بھی رعایت ہو گئی اور اللہ کے حق کی بھی رعایت ہو گئی۔ اور اگر ہم بندے کے حق کو غالب قرار دے دیں، تو بندہ جو ہے وہ تو شریعت کے حق وصول نہیں کر سکتا، تو لہٰذا صرف بندے کے حق کی رعایت ہوگی اور اللہ کا حق جو ہے وہ ساقط ہو جائے گا، وہ باطل ہو جائے گا۔ کیونکہ بندہ اللہ کے حق کا نگہبان بن جائے، اس کو وصول کرنے والا بن جائے، ایسا نہیں ہے۔ اللہ کے حقوق وہ خلیفۃ المسلمین وصول کرتا ہے، امام وصول کرتا ہے۔ یہ حدود کون نافذ کرتا ہے؟ خلیفۃ المسلمین جو ہے مسلمانوں کا امام ہے اور اس کے مقرر کیے ہوئے جو قاضی ہیں، یہ اللہ کے حقوق وصول کرتے ہیں۔ ہر بندہ اللہ کے حقوق وصول کرنے والا نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر اگر اللہ کے حق کو غالب قرار دیا جائے تو اللہ تو سب کے حقوق کے نگہبان ہیں، تو بندے کے حق کی بھی رعایت ہو گئی۔ اور اگر ہم بندے کے حق کو غالب قرار دے دیں گے تو بندہ جو ہے وہ تو اللہ کے حقوق کو وصول کرنے والا نہیں بن سکتا بھئی، تو پھر اس صورت میں حق اللہ کو باطل قرار دینا پڑے گا۔ تو ہم نے جو صورت اختیار کی اس میں دونوں حقوق کی رعایت ہو گئی اور یہ اولیٰ ہے بجائے اس کے کہ صرف ایک جانب کی رعایت کی جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَعَارَضَتِ الْجِهَتَانِ“ اور جب یہ دونوں جانبوں کے درمیان تعارض آ گیا، ایک جہت کیا ہے کہ یہ حق العبد ہے، دوسری جہت کیا ہے کہ یہ حق شرع ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَعَارَضَتِ الْجِهَتَانِ“ اور جب یہ دونوں جہتیں، یہ دونوں جانبیں جو ہیں ان میں تعارض آ گیا، ”فَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَالَ إِلَى تَغْلِيبِ حَقِّ الْعَبْدِ“ تو امام شافعی رحمہ اللہ مائل ہوئے ہیں اس بات کی طرف کہ بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے گا، ”تَقْدِيمًا لِحَقِّ الْعَبْدِ بِاعْتِبَارِ حَاجَتِهِ وَغِنَى الشَّرْعِ“ بندے کے حق کو مقدم کرتے ہوئے، بندے کی حاجت اور شریعت کی بے نیازی کے اعتبار سے۔ ”تَقْدِيمًا لِحَقِّ الْعَبْدِ“ یاد رکھو یہ تقدیماً یہ مفعول لہ ہے۔ مفعول لہ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے: ضربتہ تادیباً، میں نے اس کی پٹائی کی تادیباً، ادب سکھانے کے لیے۔ معلوم ہوا ضرب لگانے کی علت کیا تھی؟ ادب سکھانا۔ تو یہاں پر بھی یہ تقدیماً مفعول لہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے بندے کے حق کو غالب قرار دیا ہے کس وجہ سے؟ ”تَقْدِيمًا لِحَقِّ الْعَبْدِ“ بندے کے حق کو مقدم کرنے کے لیے، بندے کے حق کو مقدم کرنے کے لیے ”بِاعْتِبَارِ حَاجَتِهِ وَغِنَى الشَّرْعِ“ اس اعتبار سے کہ بندہ جو ہے وہ محتاج ہے اور شریعت بے نیاز ہے، شریعت کسی کی محتاج نہیں ہے بھئی۔ تو یہ تقدیماً جو ہے یہ مفعول لہ ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَالَ إِلَى تَغْلِيبِ حَقِّ الْعَبْدِ تَقْدِيمًا لِحَقِّ الْعَبْدِ بِاعْتِبَارِ حَاجَتِهِ وَغِنَى الشَّرْعِ“ تو امام شافعی رحمہ اللہ مائل ہوئے ہیں اس بات کی طرف کہ بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے بندے کے حق کو مقدم کرنے کے لیے، اس اعتبار سے کہ بندہ محتاج ہے اور شریعت بے نیاز ہے، ”وَنَحْنُ صِرْنَا إِلَى تَغْلِيبِ حَقِّ الشَّرْعِ“ اور ہم شریعت کے حق کو غالب قرار دینے کی طرف گئے ہیں، ”لِأَنَّ مَا لِلْعَبْدِ مِنَ الْحَقِّ يَتَوَلَّاهُ مَوْلَاهُ“ اس لیے کیونکہ بندے کا جو حق ہے اس کا متولی ہو جائے گا اس کا مولا یعنی اللہ، اللہ اس کے نگہبان ہو جائیں گے، ”فَيَصِيرُ حَقُّ الْعَبْدِ مَرْعِيًّا بِهِ“ تو اس سے بندے کا حق جو ہے اس کی بھی رعایت ہو جائے گی، ”وَلَا كَذَٰلِكَ عَكْسُهُ“ اور اس کا برعکس جو ہے وہ ایسا نہیں، یعنی اگر بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے تو اس صورت میں اللہ کے حق کو باطل قرار دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا كَذَٰلِكَ عَكْسُهُ“ اور اس کا برعکس ایسا نہیں ہے، یعنی اس کے اندر اللہ کے حق کی رعایت نہیں ہوگی اگر ہم بندے کے حق کو غالب قرار دے دیں۔ کس طرح؟ وہ بھی آگے بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لِلْعَبْدِ فِي اسْتِيفَاءِ حُقُوقِ الشَّرْعِ إِلَّا نِيَابَةً“ اس لیے کیونکہ بندے کو کوئی ولایت حاصل نہیں ہے حقوق شریعت کو وصول کرنے کی الا نیابۃً مگر بطور نائب ہونے کے۔ بطور نائب ہونے کے وہ شریعت کے حقوق وصول کر سکتا ہے اور وہ اختیار صرف امام کو ہے یعنی خلیفۃ المسلمین کو، یا اس کے جو نائب ہیں ان کو حق ہے، ہر بندے کو یہ حق نہیں ہے۔ یاد رکھو، امام المسلمین اور خلیفۃ المسلمین جو ہے وہ اللہ کا نائب ہے بھئی، وہ اللہ کے جو حقوق ہیں وہ وصول کرتا ہے۔ تو خلیفۃ المسلمین اللہ کا نائب ہو کر اللہ کے حقوق وصول کرتا ہے، یا اسی طرح یہ خلیفۃ المسلمین آگے جن کو اپنا نائب بنا دے اللہ کے حقوق وصول کرنے کے لیے، جیسے مختلف شہر کے گورنر ہوتے تھے، یا جیسے قاضی ہوتا تھا، تو یہ ان سب کو خلیفہ مقرر کرتا ہے تو یہ خلیفہ کے نائب ہو گئے۔ معلوم ہوا اللہ کا حق وصول کرنا یہ صرف خلیفہ کا یا اس کے نائبوں کا کام ہے، عام لوگوں کا یہ حق نہیں ہے۔ تو لہٰذا اگر بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے گا تو پھر عام بندے وہ تو اللہ کے نائب نہیں ہیں، وہ تو اللہ کا حق وصول کرنے کے اہل نہیں ہیں، تو پھر اس صورت میں بندے کے حق کی تو رعایت ہو جائے گی کہ آپ نے بندے کے حق کو غالب قرار دے دیا، لیکن اللہ کے حق کی رعایت نہیں ہوگی، اللہ کے حق کو باطل قرار دینا پڑے گا۔ تو اگر بندے کے حق کو غالب قرار دیا جائے تو اللہ کے حق کو باطل قرار دینا پڑتا ہے، اور اگر اللہ کے حق کو غالب قرار دیا جائے تو اس میں بندے کے حق کی بھی حفاظت اور رعایت ہو گئی کیونکہ اللہ سب کے حقوق کی حفاظت فرمانے والے ہیں، سب کے حقوق کی اللہ حفاظت فرمانے والے ہیں۔ تو لہٰذا ہماری صورت اولیٰ ہے کہ اس کے اندر دونوں حقوق کی رعایت ہو گئی، حق العبد کی بھی اور حق شرع کی بھی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ جس طرف گئے ہیں اس کے اندر صرف بندے کے حق کی رعایت ہے، شریعت کے حق کی رعایت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لِلْعَبْدِ فِي اسْتِيفَاءِ حُقُوقِ الشَّرْعِ إِلَّا نِيَابَةً“ اس لیے کیونکہ بندے کو ولایت نہیں ہے شریعت کے حقوق کے وصول کرنے میں مگر بطور نائب ہونے کے۔ یہاں اعتراض ہوتا ہے، اعتراض یہ کہ اے احناف! یہاں پر آپ نے حق اللہ کو غالب قرار دیا کہ اگر ہم اللہ کے حق کو غالب قرار دیں گے تو بندے کے حق کی بھی رعایت ہو جائے گی، اور بندے کے حق کو غالب قرار دیں تو اللہ کے حق کی رعایت نہیں ہوتی، لہٰذا اے احناف آپ نے یہاں اللہ کے حق کو غالب قرار دیا۔ لیکن کتنے ہی مسائل کے اندر جہاں حق اللہ اور حق العبد کے درمیان ٹکراؤ آتا ہے آپ بندے کے حق کو غالب قرار دیتے ہیں، اور وہاں آپ بھی یہی دلیل ذکر کرتے ہیں جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کی کہ بندہ محتاج ہے اور اللہ بے نیاز ہیں بھئی۔ توجہ ہے؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ اے احناف! آپ نے مختلف مسائل کے اندر بندے کے حق کو غالب قرار دیا ہے تو یہاں پھر آپ کیسے امام شافعی رحمہ اللہ کی مخالفت کر رہے ہیں اور اللہ کے حق کو غالب قرار دے رہے ہیں؟ تو جواب اس کا یاد رکھنا، جواب یہ کہ جہاں پر اللہ کا حق اور بندے کے حق میں ایسا ٹکراؤ ہے کہ دونوں کو جمع کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو پھر وہاں پر بندے کے حق کو غالب ہم قرار دیتے ہیں، لیکن جہاں دونوں کو جمع کرنا اور دونوں کی رعایت رکھنا ممکن ہو جیسے یہاں پر ہے، یہاں پر اللہ کے حق کو ہم غالب قرار دیں تو بندے کے حق کی بھی رعایت ہو جاتی ہے، تو ایسے مقام پر ہم دونوں حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے اللہ کے حق کو غالب قرار دیتے ہیں، اور جہاں پر دونوں حقوق کی رعایت ممکن ہی نہ ہو، جمع کی کوئی صورت ہی نہ ہو تو پھر مجبورا ہم بندے کے حق کو غالب قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہاں دونوں حقوق کی رعایت ممکن تھی اس لیے ہم نے دونوں کی رعایت کی اور اللہ کے حق کو غالب قرار دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَهَٰذَا هُوَ الْأَصْلُ الْمَشْهُورُ الَّذِي يَتَخَرَّجُ عَلَيْهِ الْفُرُوعُ الْمُخْتَلَفُ فِيهَا“ اور یہ ہے وہ مشہور ضابطہ کہ جس پر نکلتے ہیں وہ فروع جن میں اختلاف کیا گیا ہے۔ یہ ہے وہ ضابطہ جس پر ایسی فروع نکلتی ہیں جن میں اختلاف کیا گیا ہے، یعنی جن میں ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے۔ ”الْفُرُوعُ الْمُخْتَلَفُ فِيهَا“ یاد رکھو یہ المختلف یہ اسم مفعول کا صیغہ پڑھیں گے، ”الْفُرُوعُ الْمُخْتَلَفُ فِيهَا“ وہ فروع جن کے اندر اختلاف کیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَٰذَا هُوَ الْأَصْلُ الْمَشْهُورُ الَّذِي يَتَخَرَّجُ عَلَيْهِ الْفُرُوعُ الْمُخْتَلَفُ فِيهَا“ یہی وہ مشہور ضابطہ ہے جس پر وہ فروع نکلتی ہیں جن کے اندر اختلاف کیا گیا ہے، ”مِنْهَا الْإِرْثُ“ ان فروع میں سے ایک وراثت ہے، ان فروع میں سے ایک وراثت ہے، ”إِذِ الْإِرْثُ يَجْرِي فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ لَا فِي حُقُوقِ الشَّرْعِ“ اس لیے کیونکہ وراثت جو ہے وہ حقوق العباد کے اندر جاری ہوتی ہے، حقوق شرع کے اندر نہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے بندے کے حق کو غالب قرار دیا ہے اس لیے وہ فرماتے ہیں اس میں وراثت جاری ہوگی، اور جبکہ ہم نے شریعت کے حق کو غالب قرار دیا ہے اور شریعت کے حقوق میں تو وراثت جاری نہیں ہوتی اس لیے ہمارے نزدیک اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”مِنْهَا الْإِرْثُ إِذِ الْإِرْثُ يَجْرِي فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ لَا فِي حُقُوقِ الشَّرْعِ“ ان فروع میں سے ایک وراثت ہے اس لیے کیونکہ وراثت جو ہے حقوق العباد میں جاری ہوتی ہے نہ کہ حقوق شرع کے اندر، ”وَمِنْهَا الْعَفْوُ“ اور ان فروع میں سے ایک معاف کرنا ہے، ”فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ عَفْوُ الْمَقْذُوفِ عِنْدَنَا“ اس لیے کیونکہ ہمارے نزدیک مقذوف کا معاف کرنا صحیح نہیں ہے۔ قاضی کے پاس جب ایک دفعہ حد قذف ثابت ہو گئی تو پھر اب مقذوف کا معاف کرنا صحیح نہیں کیونکہ یہ حق شرع ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مقذوف کا معاف کرنا صحیح ہے کیونکہ یہ حق عبد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَا يَصِحُّ عَفْوُ الْمَقْذُوفِ عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک معاف کرنا صحیح نہیں ہے، ”وَيَصِحُّ عِنْدَهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہے، ”وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الِاعْتِيَاضُ عَنْهُ“ اور ان فروع میں سے ایک یہ ہے کہ جائز نہیں ہے اس حد قذف سے عوض لینا۔ حد قذف کا عوض لینا صحیح نہیں، جیسے دیکھو بھئی کسی پر قصاص آتا ہے، قصاص آتا ہے تو مقتول کے اولیاء قصاص کے بدلے مال لے سکتے ہیں، عوض لے سکتے ہیں، لیکن یہ حد قذف جو ہے یہ حق شرع ہے یہ حق عبد نہیں ہے، لہٰذا یہاں حد قذف کا عوض نہیں لیا جا سکتا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حد قذف جو ہے وہ حق عبد ہے لہٰذا اس کا عوض لینا صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الِاعْتِيَاضُ عَنْهُ“ اور ان فروع میں سے ایک یہ ہے کہ اس حد قذف کا عوض لینا جائز نہیں ہے ہمارے نزدیک، ”وَيَجْرِي فِيهِ التَّدَاخُلُ“ اور نیز اس کے اندر تداخل جاری ہوتا ہے۔ ان فروع میں سے ایک کیا ہے کہ اس کے اندر تداخل جاری ہوتا ہے۔ دیکھو جیسے آپ ایک ہی مجلس کے اندر ایک ہی آیت سجدہ کو جتنی دفعہ بھی پڑھ لیں ایک ہی سجدہ آپ پر واجب ہوگا کیونکہ یہ حق شرع ہے، اور حق شرع کے اندر تداخل ہوتا ہے۔ اسی طرح حد قذف بھی ہمارے نزدیک حد شرع ہے، لہٰذا ایک آدمی کئی آدمیوں پر زنا کی تہمت لگا دے یا ایک ہی آدمی پر کئی دفعہ زنا کی تہمت لگا دے، تو تمام صورتوں میں ایک ہی حد جو ہے وہ کافی ہو جائے گی، ان حدود کے اندر تداخل ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے اندر بندے کا حق غالب ہے، اور حقوق العباد کے اندر تو تداخل نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک آدمی نے زید سے بھی پانچ ہزار لیے، عمرو سے بھی پانچ ہزار لیے، بکر سے بھی پانچ ہزار لیے، خالد سے بھی پانچ ہزار لیے اور پھر کہتا ہے بھئی ان میں تداخل ہو گیا اب میں صرف پانچ ہزار واپس کروں گا، اسی کو آپس میں تقسیم کر لو، تو آپ کہیں گے کہ بھئی یہ حق العبد ہے اور حق العبد کے اندر تداخل نہیں ہوتا۔ تو چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حد قذف چونکہ حق العبد ہے لہٰذا اس کے اندر تداخل نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجْرِي فِيهِ التَّدَاخُلُ“ اور اس حد قذف کے اندر تداخل بھی جاری ہوگا ہمارے نزدیک، ”وَعِنْدَهُ لَا يَجْرِي“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں تداخل جاری نہیں ہوگا، ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْعَفْوِ مِثْلُ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے معاف کر دینے کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے مثل روایت ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت آتی ہے معاف کر دینے کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے مثل، یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ حد قذف کو صاحب حق معاف کرنا چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔ آگے دیکھیے، تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ إِنَّ الْغَالِبَ حَقُّ الْعَبْدِ وَخَرَّجَ الْأَحْكَامَ، وَالْأَوَّلُ أَظْهَرُ“ اور ہمارے فقہاء میں سے بھی بعض وہ ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ حد قذف کے اندر بندے کا حق غالب ہے اور اسی پر انہوں نے احکام نکالے ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی معاف کر دینے کے بارے میں ایک روایت اسی طرح ہے جیسے امام شافعی رحمہ اللہ سے ہے، اور نیز ہمارے بعض دیگر فقہاء بھی اس بات کی طرف گئے ہیں کہ حد قذف کے اندر بندے کا حق غالب ہے اور اسی ضابطے پر پھر انہوں نے احکام بھی نکالے ہیں، لیکن پہلا قول وہ زیادہ ظاہر ہے جو ہم نے ذکر کیا کہ ہمارے نزدیک حد قذف کے اندر حق اللہ غالب ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ أَقَرَّ بِالْقَذْفِ ثُمَّ رَجَعَ لَمْ يُقْبَلْ رُجُوعُهُ“ کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَقَرَّ بِالْقَذْفِ“ اور جس شخص نے زنا کا الزام لگانے کا اقرار کر لیا، ”ثُمَّ رَجَعَ“ پھر اس نے رجوع کر لیا، ”لَمْ يُقْبَلْ رُجُوعُهُ“ تو اس کے رجوع کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے رجوع کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہاں مقذوف اس کو جھٹلا رہا ہے، مقذوف اس کو جھٹلا رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَمْ يُقْبَلْ رُجُوعُهُ“ تو اس کا رجوع قبول نہیں کیا جائے گا، ”لِأَنَّ لِلْمَقْذُوفِ فِيهِ حَقًّا“ اس لیے کیونکہ اس حد قذف کے اندر مقذوف کا بھی حق ہے، ”فَيُكَذِّبُهُ فِي الرُّجُوعِ“ تو وہ جھٹلائے گا اس کو رجوع کے اندر، ”بِخِلَافِ مَا هُوَ خَالِصُ حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى“ برخلاف اس حد کے جو خالص اللہ کا حق ہو، وہاں رجوع کر لے تو رجوع معتبر ہے، ”لِأَنَّهُ لَا مُكَذِّبَ لَهُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہاں پر اس کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہے۔ ”وَمَنْ قَالَ لِلْعَرَبِيِّ: يَا نَبَطِيُّ، لَمْ يُحَدَّ، لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ التَّشْبِيهُ فِي الْأَخْلَاقِ أَوْ عَدَمِ الْفَصَاحَةِ“ بھئی، ایک عربی کو ایک شخص نے ندا دی اور کہا: ”يَا نَبَطِيُّ“ اے قوم نبط والے! نبطی بھئی، نون پر بھی فتحہ ہے اور با پر بھی فتحہ ہے۔ یاد رکھو، یہ نبط جو ہے یہ ایک قوم تھی عراق کے اندر آباد تھی، اور یہ اپنے برے اخلاق کی وجہ سے مشہور تھے، کہ عربوں کے اندر کسی کی مذمت بیان کرنی ہوتی تھی تو ان کے ساتھ تشبیہ دی جاتی تھی برے اخلاق کے اندر، یا اسی طرح کوئی عرب جو ہے فصیح کلام پر قادر نہ ہوتا تو اس کو بھی نبط والوں کے ساتھ تشبیہ دی جاتی تھی کہ تم تو ان کی طرح ہو بھئی۔ تو لہٰذا ایک شخص نے ایک عربی سے کہا: ”يَا نَبَطِيُّ“ اے نبط والے! تو کیا تو کیا یہ زنا کا الزام ہے؟ کیا یہ اس آدمی کے نسب پر الزام لگا رہا ہے کہ تم قوم عرب سے نہیں ہو بلکہ قوم نبط سے ہو، لہٰذا کیا اس صورت میں حد آئے گی؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، کسی عرب کو جب نبطی کہا جاتا ہے تو وہاں نسب کی نفی مراد نہیں ہوتی، بلکہ وہاں پر اس شخص کی مشابہت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے قوم نبط کے ساتھ اس آدمی کے برے اخلاق کی وجہ سے یا غیر فصیح ہونے کی وجہ سے۔ تو یہ زنا کا الزام نہیں ہے، یہ صرف اس آدمی کی مذمت کی جا رہی ہے برے اخلاق کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِعَرَبِيٍّ: يَا نَبَطِيُّ“ اور جس شخص نے کسی عربی سے کہا: اے نبطی! ”لَمْ يُحَدَّ“ تو اس آدمی کو حد نہیں لگائی جائے گی، ”لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ التَّشْبِيهُ فِي الْأَخْلَاقِ أَوْ عَدَمِ الْفَصَاحَةِ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے اخلاق یا عدمِ فصاحت میں تشبیہ کا۔ اخلاق کی تشبیہ دی جاتی ہے برے اخلاق ہونے کی وجہ سے یا عدمِ فصاحت یعنی غیر فصیح ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ التَّشْبِيهُ فِي الْأَخْلَاقِ أَوْ عَدَمِ الْفَصَاحَةِ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے اخلاق میں یا عدمِ فصاحت میں تشبیہ کا۔ ”وَكَذَا إِذَا قَالَ: لَسْتَ بِعَرَبِيٍّ“ اور اسی طرح جب ایک شخص نے دوسرے سے کہا: ”لَسْتَ بِعَرَبِيٍّ“ تو عربی نہیں ہے۔ ایک آدمی نے ایک عرب سے کہا: ”لَسْتَ بِعَرَبِيٍّ“ تو عربی نہیں ہے، تو کیا یہ اس کے نسب پر طعن کر رہا ہے؟ کیا اس پر حد جاری ہوگی؟ کہتے ہیں نہیں، جب کسی شخص کو یوں کہا جاتا ہے کہ تو عربی نہیں ہے، تو یہاں بھی دراصل اس کی مذمت بیان کی جا رہی ہوتی ہے اس کے اخلاق میں یا عدمِ فصاحت کے اندر، یعنی تم تو فصیح کلام پر قادر ہی نہیں ہو تم تو ایسے ہی ہو جیسے غیر عربی ہوتا ہے، یا تمہارے تو اخلاق بڑے برے ہیں معلوم ہوتا ہے تم عربی ہو ہی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا قَالَ: لَسْتَ بِعَرَبِيٍّ“ اور اسی طرح ہے حکم یعنی حد نہیں آئے گی جب ایک شخص نے دوسرے سے کہا: ”لَسْتَ بِعَرَبِيٍّ“ کہ تو عربی نہیں ہے، تو اس میں بھی حد نہیں آئے گی ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ اس کے ذریعے تشبیہ کا ارادہ ہوتا ہے برے اخلاق میں یا عدمِ فصاحت میں اور یہ بطور مذمت کے کہا جاتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ قَالَ لِرَجُلٍ: يَا ابْنَ مَاءِ السَّمَاءِ، فَلَيْسَ بِقَاذِفٍ“ اور جس شخص نے دوسرے سے کہا: ”يَا ابْنَ مَاءِ السَّمَاءِ“ اے آسمان کے پانی کے بیٹے! ”يَا ابْنَ مَاءِ السَّمَاءِ“ اے آسمان کے پانی کے بیٹے! تو کیا اس صورت میں حد قذف آئے گی؟ کہتے ہیں نہیں، اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو یا ابن ماء السماء کہتا ہے تو اس صورت میں حد قذف نہیں آئے گی، یہ کوئی زنا کا الزام نہیں لگا رہا بلکہ یہ تو تعریف کر رہا ہے۔ ماء السماء بھئی، ماء السماء سے مراد ہے بارش کا پانی، اور بارش کا پانی جو ہے دیکھو بارش کا فائدہ عام ہوتا ہے، وہ برستی ہے ہر جگہ پر برستی ہے اور سب لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے۔ تو بارش کا فائدہ جس طرح عام ہے، اسی طرح کوئی بہت بڑا سخی ہو جس سے ہر آدمی کو فائدہ پہنچ رہا ہو تو عربی میں اس کو ماء السماء کہتے ہیں، کہ یہ تو آسمان کے پانی یعنی بارش کی طرح ہے، ہر ایک کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یا اسی طرح کوئی شخص زیادہ حسین و جمیل ہو تو اس کو بھی ماء السماء کہا جاتا ہے، بھئی جس طرح آسمان کا پانی صاف ستھرا اور خالص ہوتا ہے، اسی طرح وہ شخص جو ہے وہ بھی حسن و جمال کے اندر بڑا نکھرا ہوا اور خوبصورت ہے اور صاف ستھرا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا ماء السماء اس سے مراد سخاوت یا حسن و جمال ہوتا ہے۔ تو یا ابن ماء السماء کا معنی ہوا: اے سخی آدمی کے بیٹے! یا یا ابن ماء السماء اے حسین و جمیل آدمی کے بیٹے! تو یہ معنی مراد ہوتا ہے، یہ تو تعریف ہے، اس میں تو کسی قسم کا الزام ہے ہی نہیں، لہٰذا اس کی وجہ سے کوئی حد قذف نہیں آئے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِرَجُلٍ: يَا ابْنَ مَاءِ السَّمَاءِ“ اور جس شخص نے دوسرے آدمی سے کہا: اے آسمان کے پانی کے بیٹے! ”فَلَيْسَ بِقَاذِفٍ“ تو یہ اس پر الزام لگانے والا نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ التَّشْبِيهُ فِي الْجُودِ وَالسَّمَاحَةِ وَالصَّفَاءِ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے، ”التَّشْبِيهُ فِي الْجُودِ وَالسَّمَاحَةِ“ جود کا معنی بھی سخاوت، سماحت کا معنی بھی سخاوت، اور صفا کا معنی صاف ستھرا ہونا بھئی، نکھرا ہوا ہونا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ التَّشْبِيهُ فِي الْجُودِ وَالسَّمَاحَةِ“ اس کے ذریعے سخاوت اور فیاضی کے اندر تشبیہ کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”وَالصَّفَاءِ“ اور صفائی اور نکھرا ہوا ہونے کے اندر تشبیہ کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”لِأَنَّ مَاءَ السَّمَاءِ لُقِّبَ بِهِ لِصَفَائِهِ وَسَخَائِهِ“ اس لیے کیونکہ ماء السماء جو ہے ”لُقِّبَ بِهِ“ اس کے ساتھ لقب دیا جاتا ہے ”لِصَفَائِهِ وَسَخَائِهِ“ کسی شخص کے نکھرا ہوا ہونے اور اس کی سخاوت کی وجہ سے۔ کوئی شخص نکھرا ہوا ہے یعنی خوب حسین و جمیل ہے، یا کوئی شخص بہت سخی ہے تو پھر ماء السماء کے ساتھ اس کو لقب دیا جاتا ہے۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ مَاءَ السَّمَاءِ لُقِّبَ بِهِ لِصَفَائِهِ وَسَخَائِهِ“ اس لیے کیونکہ ماء السماء جو ہے اس کے ساتھ لقب دیا جاتا ہے کسی آدمی کو اس کے صاف اور نکھرا ہوا ہونے کی وجہ سے اور اس کی سخاوت کی وجہ سے۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِنْ نَسَبَهُ إِلَى عَمِّهِ أَوْ خَالِهِ أَوْ إِلَى زَوْجِ أُمِّهِ فَلَيْسَ بِقَاذِفٍ“ بھئی صورت یہ ایک شخص نے ایک آدمی کی نسبت کر دی اس کے چچا... کی طرف، کہ اے فلاں کے بیٹے، یا ماموں کی طرف نسبت کر دی کہ اے فلاں کے بیٹے، یا ماں کا خاوند جو ہے، یعنی اس کی ماں نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ہے اور یہ جو اس کا سوتیلا باپ ہے، اس کی طرف نسبت کر کے کہا اے فلاں کے بیٹے، تو کیا یہ زنا کی تہمت ہے؟ کہتے ہیں نہیں، یہ زنا کی تہمت نہیں ہے، ان سب پر عربی زبان میں اَب کا لفظ بولا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ نَسَبَهُ إِلَى عَمِّهِ، اور اگر کسی شخص نے نسبت کر دی کسی کی اس کے چچا کی طرف، أَوْ خَالِهِ، یا اس کے ماموں کی طرف، أَوْ إِلَى زَوْجِ أُمِّهِ، یا اس کی ماں کے خاوند کی طرف، یعنی سوتیلے باپ کی طرف، فَلَيْسَ بِقَاذِفٍ، تو یہ نسبت کرنے والا تہمت لگانے والا نہیں ہے، لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ يُسَمَّى أَبًا، اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جو ہے اس کو اَب کہتے ہیں۔ أَمَّا الْأَوَّلُ، تو پہلا جو ہے یعنی چچا، دلیل ہر ایک کی ذکر کریں گے کہ ان کو اَب کیوں کہتے ہیں۔ کہتے ہیں پہلا جو ہے چچا جو ہے: فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى، وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا جب انتقال ہونے لگا، تو اس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور ان کو نصیحتیں کیں اور ان سے کہنے لگے میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ یعنی انہیں توحید پر جمے رہنے کا درس دے رہے تھے، تو ان سے کہا میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، ذرا مجھے بتلاؤ تو سہی؟ تو وہ کہنے لگے کہ ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے اور آپ کے جو آبا ہیں، ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم الصلوٰۃ والسلام، ہم ان کے معبود کی عبادت کریں گے۔ تو اب یہاں پر دیکھو، حضرت یعقوب علیہ السلام وہ بیٹے ہیں حضرت اسحاق علیہ السلام کے، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کے چچا ہیں، لیکن بیٹوں نے آبا کو شمار کرتے ہوئے چچا کو بھی ساتھ ذکر کیا۔ ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے اور آپ کے آبا، یعنی ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم الصلوٰۃ والسلام جو ہیں، ان کے معبود کی ہم عبادت کریں گے، تو آبا کے اندر چچا کو بھی انہوں نے شمار کیا بھئی۔ تو معلوم ہوا چچا کو بھی اَب کہا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا الْأَوَّلُ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى، تو اول جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ، کہ ہم عبادت کریں گے آپ کے معبود کی اور آپ کے آبا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم الصلوٰۃ والسلام کے معبود کی، وَإِسْمَاعِيلُ كَانَ عَمًّا لَهُ، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جو تھے وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا تھے۔ وَالثَّانِي لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اور دوسرا جو ہے یعنی ماموں کو بھی اَب کہا جاتا ہے، وہ اس کی دلیل جو ہے حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”الْخَالُ أَبٌ“، ماموں جو ہے وہ باپ ہے۔ وَالثَّالِثُ، اور تیسرا جو ہے یعنی سوتیلا باپ جو ہے، جو ماں کا خاوند ہے، اس کو بھی اَب کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: وَالثَّالِثُ لِلتَّرْبِيَةِ، اور تیسرا جو ہے اس کو اَب کہتے ہیں للتربیۃ، پرورش کرنے کی وجہ سے، کہ یقیناً اب یہ بیٹا جو ہے اس ماں کے نئے خاوند کی پرورش میں ہے بھئی، تو اس کو بھی اَب کہا جاتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ لِغَيْرِهِ: زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ، وَقَالَ: عَنَيْتُ صُعُودَ الْجَبَلِ حُدَّ۔ بھئی یاد رکھو، جیسے زَنَى يَزْنِي، زَنَى يَزْنِي کا معنی ہے زنا کرنا، یہ ناقص ہے بھئی۔ ہفت اقسام میں کیا ہے یہ؟ ناقص ہے۔ اور اسی طرح یہ مہموز بھی استعمال ہوتا ہے، زَنَأَ يَزْنَأُ، اس کا معنی بھی زنا کرنا۔ اسی طرح زَنَأَ يَزْنَأُ جو مہموز ہے، اس کا معنی اوپر چڑھنے کے بھی آتا ہے بھئی۔ اب صورت مسئلہ یہ، ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا: زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ۔ زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ، اور پھر پوچھا گیا کہ بھئی اس کا کیا معنی ہے، آپ کیا کہنا چاہتے تھے؟ تو اس نے کہا میرا مطلب یہ تھا، میری مراد تھی پہاڑ پر چڑھنا، زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ کا معنی ہے کہ تو پہاڑ میں چڑھا، یعنی پہاڑ پر چڑھا بھئی۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر اس آدمی پر حد جاری کی جائے گی، اس لیے کیونکہ یہ اس نے زنا کا الزام لگایا ہے اور اب جان چھڑانے کے لیے کہہ رہا ہے میں نے تو پہاڑ پر چڑھنے کے معنی کا ارادہ کیا تھا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، زَنَأَ جب مہموز ہو تو اس کے معنی اوپر چڑھنے کے بھی آتے ہیں، اور ساتھ اس نے پہاڑ کا لفظ بھی ذکر کر دیا ہے، معلوم ہوا اس نے اوپر چڑھنے کے معنی کا ہی ارادہ کیا ہے، لہٰذا اس شخص کو حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ لِغَيْرِهِ، اور جس شخص نے دوسرے سے کہا: زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ، وَقَالَ، اور وہ شخص کہنے والا کہتا ہے: عَنَيْتُ صُعُودَ الْجَبَلِ، کہ میں نے پہاڑ پر چڑھنے کا ارادہ کیا، عَنَى يَعْنِي کا معنی ارادہ کرنا، اور صُعُود ص کے ساتھ ہے، صَعِدَ يَصْعَدُ صُعُود کا معنی اوپر چڑھنا۔ وَقَالَ: عَنَيْتُ صُعُودَ الْجَبَلِ، وہ کہتا ہے میں نے پہاڑ پر چڑھنے کا ارادہ کیا، حُدَّ، تو اس کو حد لگائی جائے گی، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يُحَدُّ، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو حد نہیں لگائی جائے گی، لِأَنَّ الْمَهْمُوزَ مِنْهُ لِلصُّعُودِ حَقِيقَةً، اس لیے کیونکہ یہ زَنَى يَزْنِي سے جو مہموز آتا ہے زَنَأَ يَزْنَأُ، یہ لِلصُّعُودِ حَقِيقَةً، یہ حقیقۃً اوپر چڑھنے کے لیے ہے، اس کا معنی کیا ہے؟ اوپر چڑھنا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَهْمُوزَ مِنْهُ لِلصُّعُودِ حَقِيقَةً، کہ اس مادے سے جو مہموز آتا ہے وہ اوپر چڑھنے کے لیے ہے حقیقت کے اعتبار سے۔ قَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْعَرَبِ، عرب کا کلام ذکر کر رہے ہیں، شعر کا ایک مصرع ذکر کر رہے ہیں، ایک عورت نے اپنے بچے سے کہا تھا: وَارْقَ إِلَى الْخَيْرَاتِ زِنَاءً فِي الْجَبَلِ۔ وَارْقَ، یاد رکھو رَقِيَ يَرْقَى، رَقِيَ يَرْقَى کا معنی بھی ہے اوپر چڑھنا، اور اسی سے امر ہے اِرْقَ، اِرْقَ، اور پھر ہمزہ وصلی ہے وہ درج عبارت میں گر جائے گا، وَارْقَ۔ اصل میں کیا تھا؟ وَارْقَ، تو وَارْقَ، اور تو اوپر چڑھ جا، إِلَى الْخَيْرَاتِ، نیکیوں کی طرف، زِنَاءً فِي الْجَبَلِ، زِنَاءً دیکھا یہ وہ آ گیا، زَنَأَ يَزْنَأُ زِنَاءً، تو یہ زِنَاءً فِي الْجَبَلِ، پہاڑ میں چڑھنے کی طرح۔ یہ مفعول مطلق ہے اور آپ نے پڑھا ہے مفعول مطلق کبھی تشبیہ کے لیے آتا ہے، ضَرَبْتُهُ ضَرْبَ الْقَارِئِ، میں نے اس کی قاری کی طرح پٹائی کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: زِنَاءً فِي الْجَبَلِ، پہاڑ میں چڑھنے کی طرح۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہی ہے، خوب نیکیاں کرو اور نیکیوں پر اسی طرح چڑھتے چلے جاؤ جس طرح پہاڑ میں کوئی آدمی چڑھتا چلا جاتا ہے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، دیکھو یہاں پر بھی زِنَاءً کا لفظ آیا اور آگے فِي الْجَبَلِ آ رہا ہے، اور اس سے مراد پہاڑ پر چڑھنا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْعَرَبِ، عرب میں سے ایک عورت نے کہا ہے: وَارْقَ إِلَى الْخَيْرَاتِ زِنَاءً فِي الْجَبَلِ، کہ تو نیکیوں کی طرف چڑھ جا، پہاڑ میں چڑھنے کی طرح، تو نیکیوں کی طرف چڑھ جا جیسے کہ پہاڑ میں چڑھتے ہیں۔ وَذِكْرُ الْجَبَلِ يُقَرِّرُهُ مُرَادًا، امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں یہ زَنَأَ يَزْنَأُ جو مہموز ہے، یہ اوپر چڑھنے کے لیے آتا ہے، اور پھر کلام عرب بھی انہوں نے ذکر کر دیا، اور نیز فرماتے ہیں کہ یہاں آدمی نے کیا کہا ہے؟ زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ، تو یہاں اس نے جبل کا لفظ بھی ذکر کر دیا، اور یہ قرینہ بتلا رہا ہے کہ یہاں اس نے اوپر چڑھنے کے معنی کا ارادہ کیا ہے، زنا کے معنی کا ارادہ نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: وَذِكْرُ الْجَبَلِ، اور پہاڑ کا ذکر کرنا، يُقَرِّرُهُ، وہ اس اوپر چڑھنے کے معنی کو پکا کر رہا ہے، مُرَادًا، باعتبار مراد ہونے کے۔ اس آدمی نے زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ کہا ہے، جبل کا لفظ ساتھ ذکر کر دیا، یہ جبل کا لفظ بتلا رہا ہے کہ یہاں اس نے زَنَأَ سے اوپر چڑھنے کے معنی کا ارادہ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَذِكْرُ الْجَبَلِ يُقَرِّرُهُ مُرَادًا، اور جبل کا ذکر جو ہے وہ اسی معنی کو مراد ہونے کے اعتبار سے پکا کر رہا ہے۔ وَلَهُمَا، اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ فِي الْفَاحِشَةِ مَهْمُوزًا أَيْضًا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ زَنَأَ کا لفظ جو مہموز ہے، یہ بھی فاحشہ کے اندر استعمال ہوتا ہے، فاحشہ یعنی برائی، زنا کی جو برائی ہے اس کے اندر بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: أَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ فِي الْفَاحِشَةِ مَهْمُوزًا أَيْضًا، کہ یہ لفظ جو ہے مہموز ہوتے ہوئے بھی برائی یعنی زنا کے لیے استعمال ہوتا ہے، لِأَنَّ مِنْ الْعَرَبِ مَنْ يَهْمِزُ الْمُلَيَّنَ، اس لیے کیونکہ عرب میں سے بعض جو ہیں مَنْ يَهْمِزُ، جو ہمزہ بناتے ہیں، الْمُلَيَّنَ، نرم کو، كَمَا يُلَيَّنُ الْمَهْمُوزُ، جیسے کہ نرم بنایا جاتا ہے مہموز کو۔ بھئی دیکھو، ایک ہے ہمزہ، ہمزہ جو ہے وہ ذرا سختی سے ادا ہوتا ہے، اور ایک ہیں حروف علت، الف، واؤ اور یا، یہ جب ساکن ہوں تو یہ بڑی نرمی سے ادا ہوتے ہیں۔ جیسے باب، دیکھو درمیان میں الف ہے، باب، تو یہ الف نرمی سے ادا ہو رہا ہے، لیکن یہیں پر اگر ہمزہ ساکن ہوتا، تو بَأْبٌ دیکھو جھٹکے کے ساتھ ادا ہوتا۔ تو جیسے آپ نے صرف کے اندر قوانین پڑھے ہیں، کہ اگر ہمزہ ساکن آئے تو اس کو ماقبل حرکت کے موافق حرف علت سے بدلنا جائز ہے۔ جیسے يُؤْمِنُ، اس کو يُومِنُ پڑھنا بھی جائز ہے۔ توجہ ہے؟ ہمزہ ساکن کو ماقبل کی حرکت کے موافق حرف علت سے بدلنا جائز ہے، بدلنا جائز ہے۔ تو حروف علت جو ہیں وہ تو نرمی سے ادا ہوتے ہیں، معلوم ہوا مہموز کو نرم بنا دیا۔ تو اسی طرح بعض عرب اس کا برعکس بھی کرتے ہیں، وہ ملین کو مہموز بنا دیتے ہیں، مثلاً باب ہے، اس کو وہ کہیں گے بَأْبٌ۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہاں پر بھی اصل میں تو ہے زَنَى، لیکن بعض کیا پڑھتے ہیں؟ زَنَأَ، اور اصل میں کیا ہے؟ يَزْنِي، بعض کیا پڑھتے ہیں؟ يَزْنَأُ، معلوم ہوا یہ جو مہموز ہے، یہ بھی زنا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ مِنْ الْعَرَبِ مَنْ يَهْمِزُ الْمُلَيَّنَ، اور عربوں میں سے ہیں جو ہمزہ بناتے ہیں ملین یعنی نرم کو، نرم کیے ہوئے لفظ کو، یعنی جس کے اندر حرف علت موجود ہے بھئی، كَمَا يُلَيَّنُ الْمَهْمُوزُ، جیسے کہ مہموز کو جو ہے نرم کیا جاتا ہے، یعنی ہمزہ کو کبھی کس سے بدل لیتے ہیں؟ حرف علت سے بدل لیتے ہیں۔ وَحَالَةُ الْغَضَبِ وَالسِّبَابِ تُعَيِّنُ الْفَاحِشَةَ مُرَادًا، بھئی امام محمد رحمہ اللہ کیا فرما رہے تھے؟ کہ زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ، یہاں جبل کا قرینہ بتلا رہا ہے کہ اس سے مراد پہاڑ پر چڑھنا ہے، اس سے زنا مراد نہیں۔ تو شیخین رحمہما اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حالت غضب کے اندر یہ لفظ بولا گیا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ گالی دے رہا ہے، زنا کی تہمت لگا رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَحَالَةُ الْغَضَبِ وَالسِّبَابِ، اور غصے اور گالی دینے کی جو حالت ہے، تُعَيِّنُ الْفَاحِشَةَ مُرَادًا، وہ فاحشہ کو متعین کر رہی ہے مراد ہونے کے اعتبار سے، کہ اس سے فاحشہ ہی مراد ہے، بِمَنْزِلَةِ مَا إِذَا قَالَ: يَا زَانِئُ، یہ اسی درجے میں ہے جب وہ کہے: يَا زَانِئُ، اگر صرف يَا زَانِئُ کہے، تو اس میں تو امام محمد رحمہ اللہ بھی ہمارے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ یہ زنا کا الزام لگا رہا ہے۔ تو بِمَنْزِلَةِ مَا إِذَا قَالَ: يَا زَانِئُ، یہ اسی درجے میں ہے جب وہ کہے يَا زَانِئُ، أَوْ قَالَ: زَنَأْتَ، یا وہ زَنَأْتَ کہے، یعنی بغیر فِي الْجَبَلِ کے، جبل کا لفظ ذکر نہ کرے ساتھ، صرف زَنَأْتَ کہے، تو یہ بھی اسی طرح ہے۔ زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ، یہ کس کی طرح ہے؟ صرف زَنَأْتَ کی طرح ہے یا صرف يَا زَانِئُ کی طرح ہے، اور اس کے اندر تو بالاتفاق حد قذف آئے گی، تو زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ کے اندر بھی حد قذف آئے گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَحَالَةُ الْغَضَبِ وَالسِّبَابِ، اور غصے اور گالی دینے کی جو حالت ہے، تُعَيِّنُ الْفَاحِشَةَ مُرَادًا، یہ متعین کر رہی ہے فاحشہ کو باعتبار مراد ہونے کے، بِمَنْزِلَةِ مَا إِذَا قَالَ: يَا زَانِئُ أَوْ قَالَ زَنَأْتَ، یہ اسی درجے میں ہے جب وہ یہ کہے يَا زَانِئُ یا یہ جب وہ کہے زَنَأْتَ۔ وَذِكْرُ الْجَبَلِ، امام محمد رحمہ اللہ فرما رہے تھے کہ یہ جو جبل کا لفظ اس نے ساتھ ذکر کیا ہے، یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ یہ اوپر چڑھنے کے معنی کا ارادہ کر رہا ہے، تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی، یہاں اس نے جبل سے پہلے فِي کا لفظ ذکر کیا ہے، زَنَأْتَ فِي الْجَبَلِ، اگر پہاڑ پر چڑھنے کے معنی کا ارادہ ہوتا تو وہ زَنَأْتَ عَلَى الْجَبَلِ کہتا۔ تو کہتے ہیں: وَذِكْرُ الْجَبَلِ إِنَّمَا يُعَيِّنُ الصُّعُودَ مُرَادًا إِذَا كَانَ مَقْرُونًا بِكَلِمَةِ ”عَلَى“، اور پہاڑ کا ذکر جو ہے وہ اوپر چڑھنے کے معنی کو متعین کرتا ہے مراد ہونے کے اعتبار سے، اس وقت جب یہ ملا ہوا ہو کلمۂ علیٰ کے ساتھ، إِذْ هُوَ الْمُسْتَعْمَلُ فِيهِ، اس لیے کیونکہ علیٰ ہی اس میں استعمال ہوتا ہے، اوپر چڑھنے کے معنی میں جب استعمال کیا جائے تو پھر اس کے ساتھ علیٰ استعمال ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: زَنَأْتَ عَلَى الْجَبَلِ، اچھا بھئی، اگر کسی نے یہی لفظ کہے علیٰ کے ساتھ، زَنَأْتَ عَلَى الْجَبَلِ، تو کیا اس صورت میں حد آئے گی یا نہیں؟ تو بعض فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نہیں، اب حد نہیں آئے گی، کیونکہ اب علیٰ بتلا رہا ہے کہ یہاں زَنَأْتَ سے اوپر چڑھنے کا معنی مراد ہے، جبکہ بعض کہتے ہیں نہیں، پھر بھی حد آئے گی، اس لیے کیونکہ ہم نے آپ کو بتا دیا کہ غصے اور غضب کی حالت بتلا رہی ہے کہ وہ گالی دینے کا اور زنا کا الزام لگانے کا ارادہ کر رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ: زَنَأْتَ عَلَى الْجَبَلِ، اور اگر اس شخص نے زَنَأْتَ عَلَى الْجَبَلِ کہا، قِيلَ: لَا يُحَدُّ لِمَا قُلْنَا، تو کہا گیا ہے اس کو حد نہیں لگائی جائے گی اس وجہ سے جو ہم نے کہی، کہ یہ اوپر چڑھنے کے معنی میں ہے بھئی، وَقِيلَ: يُحَدُّ لِلْمَعْنَى الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، اور کہا گیا ہے کہ اس کو حد لگائی جائے گی اسی سبب سے جو ہم نے ذکر کر دیا، معنی کا یہاں کیا ترجمہ کریں گے؟ سبب، لِلْمَعْنَى الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، اسی سبب کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ غضب اور گالی دینے کی حالت وہ متعین کر رہی ہے کہ یہاں فاحشہ کا معنی یعنی زنا کا معنی مراد ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ لِآخَرَ: يَا زَانِي، اور جس شخص نے دوسرے سے کہا يَا زَانِي، بھئی صورت یہ، ایک آدمی نے دوسرے سے کہا يَا زَانِي، اے زانی، اس نے جواب میں کہا: لَا بَلْ أَنْتَ، نہیں بلکہ تو ہے۔ لَا بَلْ أَنْتَ، نہیں بلکہ تو ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو دونوں پر حد قذف واجب ہوگی، اگر یہ مطالبہ کریں گے تو دونوں کو حد قذف لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ لِآخَرَ: يَا زَانِي، اور جس شخص نے دوسرے سے کہا اے زنا کرنے والے، اے زناکار، فَقَالَ: لَا بَلْ أَنْتَ، تو دوسرے نے کہا نہیں بلکہ تو ہے، فَإِنَّهُمَا يُحَدَّانِ، تو ان دونوں کو حد لگائی جائے گی، لِأَنَّ مَعْنَاهُ، بھئی دوسرے نے تو کوئی زنا کا الزام نہیں لگایا، اس نے تو صرف کہا ہے لَا بَلْ أَنْتَ، یہاں تو زنا کا لفظ ہی نہیں ہے، کہتے ہیں بھئی یہاں بَلْ کا لفظ لے کر آیا ہے، اور بَلْ جو آتا ہے وہ غلطی کی تلافی کے لیے آتا ہے۔ مثلاً آپ کہنا چاہتے تھے میرے پاس عمرو آیا، لیکن زبان پر غلطی سے زید آ گیا، جَاءَنِي زَيْدٌ، اور آپ کہنا کیا چاہتے تھے؟ عمرو آیا ہے، تو فوراً بَلْ کے ذریعے تلافی کریں گے، جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، بَلْ عَمْرٌو، یہ بَلْ کس لیے آیا؟ غلطی کی تلافی کے لیے آتا ہے یہ بھئی، تو لہٰذا یہاں پر بھی لَا بَلْ أَنْتَ اس نے بَلْ ذکر کیا ہے، اور بَلْ غلطی کی تلافی کے لیے آتا ہے، کہنا یہ چاہتا ہے کہ نہیں میں زانی نہیں ہوں بلکہ تو ہے، توجہ ہے؟ اور خبر یہاں پر نہیں ہے، خبر یہاں پر نہیں، تو جواب یہ کہ خبر جب ساتھ ذکر نہ ہو، تو پھر اس صورت میں جو اول کے لیے خبر ذکر ہوتی ہے وہی یہاں مذکور مان لی جاتی ہے۔ وہی یہاں پر مذکور مان لی جاتی ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: زَيْدٌ ضَرَبَ بَلْ عَمْرٌو، زید نے پٹائی کی بلکہ عمرو نے، اب عمرو کے آگے میں خبر تو نہیں لایا، لیکن ماقبل میں خبر گزر گئی تھی تو اسی پر میں نے اکتفا کر لیا، تو آگے گویا عمرو کی خبر بھی یہی ضَرَبَ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ مَعْنَاهُ لَا بَلْ أَنْتَ زَانٍ، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس دوسرے کے قول کا معنی یہ ہے: لَا بَلْ أَنْتَ زَانٍ، نہیں بلکہ تو زناکار ہے، إِذْ هِيَ كَلِمَةُ عَطْفٍ يُسْتَدْرَكُ بِهَا الْغَلَطُ، اس لیے کیونکہ بَلْ جو ہے یہ کلمۂ عطف ہے، اس کے ذریعے تلافی کی جاتی ہے غلطی کی، فَيَصِيرُ الْخَبَرُ الْمَذْكُورُ فِي الْأَوَّلِ مَذْكُورًا فِي الثَّانِي، تو وہ خبر جو اول کے اندر مذکور ہوئی تھی، وہی ثانی میں بھی مذکور ہوگی، جو پہلے کلام میں خبر مذکور تھی وہی ثانی کے اندر بھی مذکور ہوگی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں تو خبر ہے ہی نہیں، يَا زَانِي یہ تو ندا ہے، یہ تو ندا ہے، تو جواب یہ ہے کہ یہ صورتاً ندا ہے لیکن حقیقت میں یہ بھی خبر ہے۔ حقیقت میں یہ بھی خبر ہے، ندا میں بھی گویا دوسرے پر وہ زنا کا الزام لگا رہا ہے اور یوں کہہ رہا ہے کہ أَنْتَ زَانٍ، تو زانی ہے، أَدْعُوكَ وَأَنْتَ زَانٍ، میں تجھے پکار رہا ہوں اس حال میں کہ تو زناکار ہے۔ تو یہاں ندا کے اندر اس نے ایک صفت ذکر کی ہے، معلوم ہوا وہ اس صفت کی خبر دے رہا ہے بھئی، تو یہ خبر کے درجے میں ہے، یا یوں کہو یہ ضمناً خبر ہے۔ لفظاً تو خبر نہیں لیکن ضمناً یہ خبر ہی کے درجے میں ہے، تو وہی خبر ثانی کے اندر بھی مذکور مان لی جائے گی۔ تو یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: إِذْ هِيَ كَلِمَةُ عَطْفٍ يُسْتَدْرَكُ بِهَا الْغَلَطُ، اس لیے کیونکہ بَلْ جو ہے ایسا کلمۂ عطف ہے اس کے ذریعے غلطی کی تلافی کی جاتی ہے، فَيَصِيرُ الْخَبَرُ الْمَذْكُورُ فِي الْأَوَّلِ مَذْكُورًا فِي الثَّانِي، تو وہ خبر جو اول کے اندر مذکور تھی، وہ ثانی کے اندر بھی مذکور ہوگی۔ وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا زَانِيَةُ، فَقَالَتْ: لَا بَلْ أَنْتَ، حُدَّتْ الْمَرْأَةُ وَلَا لِعَانَ۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ خاوند اگر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے، تو پھر اس صورت میں وہاں لعان آتا ہے۔ وہاں لعان آتا ہے، اور لعان آپ نے پڑھا تھا کہ وہ شہادتوں کا نام ہے جو قسم کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ مثلاً خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور بیوی پھر خاوند کو قاضی کے پاس لے گئی، تو قاضی ان دونوں میں لعان کروائے گا، اور پہلے چار مرتبہ خاوند گواہی دے گا قسم کے ساتھ، کہ قاضی صاحب میں گواہی دیتا ہوں کہ واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں، پھر دوبارہ کہے گا، چار مرتبہ یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں، اور پانچویں مرتبہ میں کہے گا اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے اوپر اللہ کی لعنت ہو بھئی، اور پھر اس کے بعد عورت جو ہے وہ یہی شہادتیں دے گی، اور وہ کہے گی کہ قاضی صاحب میں شہادت دیتی ہوں کہ واللہ اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اس میں یہ آدمی جھوٹا ہے، اور پھر چار مرتبہ یہ کہے گی، اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گی کہ اگر یہ شخص اس الزام میں سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو بھئی، اور پھر قاضی ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دے گا۔ قاضی ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دے گا۔ اور اس میں یاد رکھو بعض اوقات بچے کے نسب کے سلسلے میں بھی لعان کیا جاتا ہے، مثلاً خاوند اپنے سے بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے، لیکن میں نے بتایا تھا یہ پیدائش کے ابتدائی دنوں میں، اسی وقت وہ بچے کے نسب کی نفی کر سکتا ہے، تو لہٰذا بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں خاوند نے کہا یہ بچہ میرا نہیں ہے، تو اس صورت میں بھی عورت اس کو قاضی کے پاس لے جا کر لعان کروا سکتی ہے بھئی، اور جب دونوں لعان کر لیں گے تو پھر قاضی بچے کا نسب باپ سے کاٹ کر صرف عورت کے ساتھ جوڑ دے گا، اب یہ صرف اس عورت کا بچہ شمار ہوگا، اس آدمی کا بچہ شمار نہیں ہوگا بھئی۔ اور اگر پیدائش کے ابتدائی دنوں میں خاوند نے نسب کی نفی نہیں کی، لیکن بعد میں کچھ مدت کے بعد پھر خاوند جو ہے اس بچے کے نسب کی نفی کرتا ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو بچے کے نسب کی نفی نہیں ہوگی، البتہ عورت لعان کر سکتی ہے۔ عورت لعان کر سکتی ہے لیکن بچہ اسی خاوند کا شمار ہوگا بھئی۔ تو لعان جو ہے صراحۃً زنا کا الزام لگانے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے، اور بچے کے نسب کی جب نفی کی جائے تو یہ بھی درحقیقت زنا ہی کا الزام ہے، تو اس صورت میں بھی لعان ہو سکتا ہے بھئی۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ یہ جو لعان ہے، یہ خاوند کے لیے حد قذف کے درجے میں ہے، اور بیوی کے لیے یہ حد زنا کے درجے میں ہے۔ بھئی اگر یہ لعان نہ ہوتا، تو خاوند پر حد قذف آنی تھی کہ اس نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا ہے، تو یہ لعان خاوند کے لیے حد قذف کے درجے میں ہے، اور بیوی کے لیے یہ حد زنا کے درجے میں ہے، بیوی کے لیے حد زنا کے درجے میں ہے بھئی۔ اب صورت یہ کہ خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: يَا زَانِيَةُ، اے زناکار عورت، اور اس نے جواب میں کہا: لَا بَلْ أَنْتَ، نہیں بلکہ تم ہو، تو بھئی پچھلے مسئلے میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر کوئی اجنبی کسی اجنبی سے اس طرح کہے تو دونوں پر حد آتی ہے، لیکن خاوند اور بیوی کے مسئلے میں یاد رکھو صرف عورت پر حد آئے گی۔ عورت پر حد آئے گی اور لعان بھی نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ یہاں دو چیزیں آ رہی ہیں، لعان بھی آ رہا ہے اور عورت پر حد بھی آ رہی ہے۔ لعان کیوں آ رہا ہے؟ کیونکہ خاوند نے زنا کی تہمت لگائی ہے بیوی پر، اور اس صورت میں لعان ہوتا ہے، اور حد قذف عورت پر آ رہی ہے کیونکہ اس نے کیا کہا ہے؟ لَا بَلْ أَنْتَ، أَيْ لَا بَلْ أَنْتَ زَانٍ، کہ تو زناکار ہے، تو عورت پر حد قذف بھی آ رہی ہے، تو لعان بھی آ رہا ہے اور حد قذف بھی۔ اور یہ لعان جو ہے یہ بھی حد کے معنی میں ہی ہے، کیونکہ میں نے ابھی بتایا یہ لعان مرد کے لیے حد قذف کے درجے میں اور عورت کے لیے حد زنا کے درجے میں، تو لعان بھی حد کے درجے میں ہے، اور یاد رکھو ضابطہ ہے، ضابطہ ہے: اگر کسی مقام پر دو حدیں جمع ہو جائیں اور ایک حد کو مقدم کرنے سے دوسری حد ساقط ہو جاتی ہے، تو پھر اس حد کو مقدم کریں گے جس کی وجہ سے دوسری حد ساقط ہو رہی ہے۔ اگر کسی مقام پر دو حدیں جمع ہو جائیں اور ایک حد کو مقدم کریں تو دوسری ساقط ہو جاتی ہے، تو پھر اس حد کو مقدم کریں گے تاکہ دوسری حد ساقط ہو جائے، اس لیے کیونکہ حدود کو ساقط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہاں پر، توجہ سے سنو، اگر ہم پہلے لعان کروا دیں، تو لعان کے بعد بھی عورت پر حد قذف آئے گی، تو لعان بھی حد کے معنی میں وہ بھی آ گیا اور پھر عورت پر حد قذف بھی آئے گی، لیکن اگر ہم عورت پر حد قذف پہلے لگوا دیں، تو پھر لعان ساقط ہو جائے گا۔ بھئی کس طرح ساقط ہوگا؟ کہتے ہیں دیکھو، عورت پر جب حد قذف لگ گئی، اور حد قذف والے کے بارے میں اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا، کہ ان کی گواہی بھی کبھی قبول نہ کرو، تو لہٰذا اب عورت اہل شہادت نہ رہی، اور جب وہ اہل شہادت نہ رہی تو اب وہ لعان نہیں کر سکتی کیونکہ لعان تو شہادتوں کا نام تھا، تو لہٰذا لعان ساقط ہو جائے گا۔ تو لہٰذا یہاں عورت پر حد قذف کو مقدم کر دیا جائے تو لعان ساقط ہو جاتا ہے، تو لہٰذا اس لیے اس حد قذف کو مقدم کر دیا جائے گا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا زَانِيَةُ، فَقَالَتْ: لَا بَلْ أَنْتَ، حُدَّتْ الْمَرْأَةُ وَلَا لِعَانَ، اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا يَا زَانِيَةُ اے زناکار، تو عورت نے کہا نہیں بلکہ تو ہے، تو عورت کو حد لگائی جائے گی اور لعان نہیں ہوگا، لِأَنَّهُمَا قَاذِفَانِ، اس لیے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کو تہمت لگا رہے ہیں۔ خاوند نے کہا يَا زَانِيَةُ تو خاوند نے بھی زنا کی تہمت لگائی، اور عورت نے بھی لَا بَلْ أَنْتَ کہہ کر خاوند پر زنا کی تہمت لگائی، تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُمَا قَاذِفَانِ، اس لیے کیونکہ خاوند اور بیوی دونوں تہمت لگا رہے ہیں، وَقَذْفُهُ يُوجِبُ اللِّعَانَ، اور خاوند کی تہمت جو ہے وہ لعان کو واجب کرتی ہے، وَقَذْفُهَا الْحَدَّ، اور عورت کی تہمت جو ہے وہ حد کو واجب کرتی ہے کہ اس عورت کو حد قذف لگائی جائے، وَفِي الْبِدَايَةِ بِالْحَدِّ إِبْطَالُ اللِّعَانِ، اور حد کے ذریعے ابتدا کرنے میں لعان کو باطل کرنا ہے، لِأَنَّ الْمَحْدُودَ فِي الْقَذْفِ لَيْسَ بِأَهْلٍ لَهُ، اس لیے کیونکہ محدود فی القذف جو ہوتا ہے لَيْسَ بِأَهْلٍ لَهُ، وہ لعان کا اہل نہیں ہوتا، کیونکہ لعان تو شہادتوں کا نام ہے اور محدود فی القذف وہ تو اہل شہادت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَحْدُودَ فِي الْقَذْفِ لَيْسَ بِأَهْلٍ لَهُ، اور محدود فی القذف جو ہے وہ لعان کا اہل نہیں ہوتا، وَلَا إِبْطَالَ فِي عَكْسِهِ أَصْلًا، اور اس کے برعکس صورت میں کوئی ابطال نہیں ہے، اگر لعان پہلے کر دیں تو پھر بھی حد قذف ساقط نہیں ہوگی وہ پھر بھی لگے گی، تو لعان کو مقدم کیا جائے تو حد قذف تو باطل نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا إِبْطَالَ فِي عَكْسِهِ أَصْلًا، اور اس کے برعکس صورت میں باطل کرنا نہیں ہے اصلاً، یعنی قطعاً، فَيُحْتَالُ لِلدَّرْءِ، لہٰذا حیلہ کیا جائے گا لعان کو دور کرنے کے لیے، إِذْ اللِّعَانُ فِي مَعْنَى الْحَدِّ، اس لیے کیونکہ لعان بھی حد کے معنی میں ہے۔ وَلَوْ قَالَتْ: زَنَيْتُ بِكَ فَلَا حَدَّ وَلَا لِعَانَ۔ بھئی خاوند نے بیوی سے کہا يَا زَانِيَةُ، اے زناکار، عورت نے جواب میں کہا: زَنَيْتُ بِكَ، تمہارے ساتھ میں نے زنا کیا ہے۔ تو پھر کہتے ہیں اس صورت میں نہ عورت پر حد آئے گی اور نہ لعان آئے گا۔ بھئی کیوں؟ حد کیوں نہیں آئے گی اور لعان کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ یہاں شبہ آ گیا، کیونکہ عورت نے جواب میں کیا کہا ہے؟ زَنَيْتُ بِكَ، اس کا ایک معنی یہ ہو سکتا ہے کہ ہاں میں نے تجھ سے ہی زنا کیا تھا نکاح سے پہلے، اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تم نے میرے ساتھ یہ جو حلال وطی کی ہے، اگر اسی کو زنا کہتے ہو تو وہ تو میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے کیونکہ میں نے اپنے اوپر کسی اور کو قدرت نہیں دی۔ توجہ ہے؟ خاوند نے بیوی سے کیا کہا: يَا زَانِيَةُ اے زناکار، اور جواب میں عورت کہتی ہے: زَنَيْتُ بِكَ میں نے تمہارے ساتھ زنا کیا ہے، تو اس صورت کے اندر اس کلام میں دو احتمال آ گئے، یا تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہاں واقعی میں نے تمہارے ساتھ نکاح سے پہلے زنا کیا تھا، یا اس کا معنی یہ ہے کہ تم میرے ساتھ یہ جو حلال وطی کرتے ہو اگر اس کو تم زنا شمار کرتے ہو تو میں نے تو یہی زنا کیا ہے، تمہارے علاوہ تو میں نے کسی کو اپنے اوپر قدرت نہیں دی، اور عموماً اسی معنی کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ خاوند جب بیوی کو کہے اے زناکار اور وہ کیا کہے میں نے تمہارے ساتھ زنا کیا ہے، تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ میں نے تو اور کسی کو اپنے اوپر قدرت نہیں دی، یہی حلال وطی جو تم میرے ساتھ کرتے ہو اگر یہ تمہارے خیال میں زنا ہے تو میں نے یہی زنا کیا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں دونوں معنی کا احتمال آ گیا، لہٰذا اگر پہلا احتمال ہم لیں کہ عورت اقرار کر رہی ہے کہ ہاں نکاح سے پہلے میں نے تمہارے ساتھ زنا کیا تھا، تو پھر اس صورت کے اندر خاوند نے کیا کہا؟ تو زناکار ہے، بیوی نے کیا کر دی زنا کی خاوند کی تصدیق کر دی، تو لعان نہیں آئے گا، تو پھر اس صورت میں لعان نہیں آئے گا، کیونکہ لعان کے اندر تو خاوند اور بیوی ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں، خاوند کہتا ہے یہ زناکار ہے، بیوی کہتی ہے کہ میں زناکار نہیں ہوں، اور یہاں وہ تسلیم کر رہی ہے، لہٰذا لعان نہیں آئے گا، ہاں البتہ عورت پر حد قذف آ جائے گی اس لیے کیونکہ وہ خاوند پر زنا کا الزام لگا رہی ہے۔ خاوند نے جو اس پر زنا کا الزام لگایا تھا وہ الزام نہ رہا، عورت نے اس کی تصدیق کر دی، لیکن عورت نے جواب میں خاوند پر زنا کا الزام لگا دیا ہے اور خاوند نے تو اس کی تصدیق نہیں کی، جب تصدیق نہیں کی تو عورت کا الزام الزام ہی ہے، لہٰذا یہ تقاضا کر رہا ہے عورت کو حد قذف لگنی چاہیے۔ توجہ ہے؟ اگر ہم پہلے معنی کا ارادہ کریں کہ عورت کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نکاح سے پہلے میں نے تمہارے ساتھ زنا کیا تھا، تو پھر لعان تو ساقط ہو گیا، کیونکہ لعان میں تو دونوں ایک دوسرے کی تکذیب کرتے ہیں، ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں، خاوند کہتا ہے اس نے زنا کیا ہے، بیوی کہتی ہے میں نے نہیں کیا، دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا رہے ہوتے ہیں، لیکن یہاں تو بیوی نے تصدیق کر دی کہ میں نے تمہارے ساتھ زنا کیا ہے، تو لہٰذا لعان تو ساقط ہوا، البتہ عورت پر حد قذف آنی چاہیے، خاوند پر نہیں، کیونکہ خاوند نے کیا کہا تھا؟ تو زناکار ہے، بیوی نے کیا کر لیا؟ تسلیم کر لیا کہ الزام نہیں ہے یہ حقیقت ہے، میں واقعی کیا ہوں؟ زناکار ہوں، لیکن کس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ تمہارے ساتھ، معلوم ہوا خاوند پر اس نے زنا کا الزام لگا دیا ہے، اور خاوند نے تو اس الزام کی تصدیق نہیں کی، لہٰذا یہ تقاضا کر رہا ہے عورت پر حد قذف آنی چاہیے۔ لیکن اگر دوسرا معنی لیا جائے کہ عورت یہ کہنا چاہتی ہے کہ یہ جو تم میرے ساتھ حلال وطی کرتے ہو، اس کو اگر تم زنا کہتے ہو تو یہ زنا ہے، کیونکہ اس کے علاوہ تو میں نے اور کسی کو اپنے اوپر قدرت نہیں دی، تو اس صورت کے اندر لعان واجب ہوتا ہے۔ اس صورت میں لعان واجب ہوتا ہے کیونکہ خاوند نے زنا کا الزام لگایا ہے اور عورت نے کوئی تصدیق نہیں کی اس کی، توجہ ہے؟ تو اس صورت میں لعان واجب ہوتا ہے، اور پہلی صورت میں عورت پر حد قذف واجب ہوتی ہے، تو اب شک آ گیا، شبہ آ گیا کہ عورت نے پتہ نہیں کس معنی کا ارادہ کیا ہے، اگر پہلے معنی کا ارادہ کیا ہے تو عورت کو حد قذف لگنی چاہیے، اگر دوسرے معنی کا ارادہ کیا ہے تو پھر لعان ہونا چاہیے، تو شبہے کی وجہ سے نہ حد آ سکتی ہے اور نہ لعان، کیونکہ حدود شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتی ہیں، اور لعان بھی حد کے معنی میں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَتْ: زَنَيْتُ بِكَ فَلَا حَدَّ وَلَا لِعَانَ، اور اگر اس عورت نے جواب میں کہا زَنَيْتُ بِكَ میں نے تجھ سے زنا کیا ہے، تو پھر نہ حد ہوگی اور نہ لعان ہوگا، وَمَعْنَاهُ، صاحبِ ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں، متن میں تو صرف آیا: وَلَوْ قَالَتْ: زَنَيْتُ بِكَ، اگر عورت کہے میں نے تجھ سے زنا کیا ہے، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ خاوند کے اسی قول کے جواب میں عورت نے کہا ہے، وہ جو خاوند نے کیا کہا تھا؟ يَا زَانِيَةُ، اس کے جواب میں عورت کہتی ہے: زَنَيْتُ بِكَ، تو کہتے ہیں: مَعْنَاهُ، اس قول کا معنی یہ ہے: قَالَتْ بَعْدَ مَا قَالَ لَهَا: يَا زَانِيَةُ، کہ عورت نے یہ کہا ہے بعد اس کے جب اس خاوند نے اس سے کہا تھا اے زانیہ۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ حد اور لعان کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں: لِوُقُوعِ الشَّكِّ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے اندر شک آ گیا، لعان میں بھی اور حد کے اندر بھی شک آ گیا، لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنَّهَا أَرَادَتْ الزِّنَا قَبْلَ النِّكَاحِ، اس لیے کیونکہ یہ کلام یہ احتمال بھی رکھتا ہے کہ عورت نے اس زنا کا ارادہ کیا ہے جو نکاح سے پہلے تھا، فَيَجِبُ الْحَدُّ، تو اس صورت میں عورت پر حد آئے گی، کون سی حد؟ حد قذف، حد قذف، تو اس عورت پر حد قذف آئے گی، دُونَ اللِّعَانِ، نہ کہ لعان۔ بھئی یہ اقرار کر رہی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں حد قذف آئے گی، یہاں تو حد زنا آنی چاہیے۔ جواب یہ کہ حد زنا میں چار اقرار ضروری ہیں، چار الگ الگ مجلسوں میں، تو یہاں حد قذف آ رہی ہے، حد زنا نہیں، تو کہتے ہیں کہ اس نے نکاح سے پہلے زنا کا ارادہ کیا ہے، فَيَجِبُ الْحَدُّ دُونَ اللِّعَانِ لِتَصْدِيقِهَا إِيَّاهُ وَانْعِدَامِهِ مِنْهُ، تو اس صورت میں حد قذف واجب ہوگی نہ کہ لعان، بوجہ عورت کے خاوند کی تصدیق کرنے کے، کہ عورت کیا کر رہی ہے؟ خاوند کی تصدیق کر رہی ہے کہ ہاں میں نے زنا کیا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ہے، وَانْعِدَامِهِ مِنْهُ، اور یہ تصدیق خاوند کی طرف سے تو معدوم ہے، خاوند نے تو تصدیق نہیں کی کہ میں نے زنا کیا ہے، تو خاوند پر گویا یہ الزام لگا رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: فَيَجِبُ الْحَدُّ دُونَ اللِّعَانِ لِتَصْدِيقِهَا إِيَّاهُ وَانْعِدَامِهِ مِنْهُ، تو حد قذف واجب ہوگی نہ کہ لعان، اس لیے کیونکہ بیوی نے تو خاوند کی تصدیق کی ہے اور خاوند نے بیوی کی تصدیق نہیں کی ہے، وَيَحْتَمِلُ أَنَّهَا أَرَادَتْ: زِنَايَ مَا كَانَ مَعَكَ بَعْدَ النِّكَاحِ، اور یہ بھی احتمال ہے کہ عورت نے یہ ارادہ کیا ہو کہ زِنَايَ مَا كَانَ مَعَكَ بَعْدَ النِّكَاحِ، کہ زِنَايَ، میرا زنا جو ہے، مَا وہ ہے، كَانَ مَعَكَ بَعْدَ النِّكَاحِ، جو تمہارے ساتھ تھا نکاح کے بعد۔ میرا زنا تو وہ ہے جو تمہارے ساتھ تھا نکاح کے بعد، زِنَايَ مَا كَانَ مَعَكَ بَعْدَ النِّكَاحِ، یاد رکھو زِنَايَ یہ ہے مبتدا اور مَا كَانَ مَعَكَ بَعْدَ النِّكَاحِ یہ مَا کیا ہے؟ خبر ہے، تو زِنَايَ میرا زنا جو ہے، مَا كَانَ مَعَكَ بَعْدَ النِّكَاحِ وہ ہے جو تمہارے ساتھ تھا نکاح کے بعد، لِأَنِّي مَا مَكَّنْتُ أَحَدًا غَيْرَكَ، اس لیے کیونکہ میں نے تو تمہارے علاوہ کسی اور کو قدرت نہیں دی اپنے اوپر، وَهُوَ الْمُرَادُ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ، اور یہی مراد ہوتا ہے اس جیسی حالت میں، یہی دوسرا معنی ہی عموماً مراد ہوتا ہے، وَعَلَى هَذَا الِاعْتِبَارِ يَجِبُ اللِّعَانُ دُونَ الْحَدِّ عَلَى الْمَرْأَةِ، اور اس اعتبار سے تو لعان واجب ہوتا ہے نہ کہ عورت پر حد، اس صورت میں تو لعان واجب ہوتا ہے نہ کہ عورت پر حد، لِوُجُودِ الْقَذْفِ مِنْهُ وَعَدَمِهِ مِنْهَا، اس وجہ سے کہ خاوند کی طرف سے تو تہمت پائی جا رہی ہے، وَعَدَمِهِ مِنْهَا، اور عورت کی طرف سے نہیں پائی جا رہی، فَجَاءَ مَا قُلْنَا، تو وہ آ گیا جو ہم نے کہا تھا، وہ چیز آ گئی جو ہم نے کہی تھی یعنی شک آ گیا، کہ حد قذف آئے گی یا لعان آئے گا، کیونکہ کلام کے اندر دونوں کا احتمال ہے، اور شک کی وجہ سے دونوں میں سے ایک بھی نہیں آ سکتا کیونکہ حدود جو ہیں شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، تو حد قذف بھی ساقط ہو گئی اور لعان جو ہے وہ بھی حد کے معنی میں ہے وہ بھی ساقط ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: فَجَاءَ مَا قُلْنَا، تو وہی چیز آ گئی جو ہم نے کہی تھی یعنی شک آ گیا ان دونوں کے اندر۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 118 of 160