Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-113

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 66
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ قَالَ: ”وَإِذَا زَنَى الصَّبِيُّ أَوِ الْمَجْنُونُ بِامْرَأَةٍ طَاوَعَتْهُ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهَا“. ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى: يَجِبُ الْحَدُّ عَلَيْهَا، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“. ”وَإِنْ زَنَى صَحِيحٌ بِمَجْنُونَةٍ أَوْ صَغِيرَةٍ تُجَامَعُ مِثْلُهَا حُدَّ الرَّجُلُ خَاصَّةً“، ”وَهَذَا بِالْإِجْمَاعِ“. بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایت نے آپ کو مسئلہ بتلایا تھا کہ اگر ایک شخص کے پاس اس کی شادی کے موقع پر کسی غیر عورت کو اس کے پاس بھیج دیا گیا اور عورتوں نے بتلایا اسے کہ یہ تمہاری بیوی ہے اور اس شخص نے اس خبر پر اعتماد کرتے ہوئے اس عورت سے صحبت کر لی، تو پھر اس صورت میں اس شخص پر حد جاری نہیں ہو گی۔ البتہ اس کو مہر دینا پڑے گا کیونکہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر کوئی بھی وطی ان دو چیزوں سے خالی نہیں: یا تو وہاں حد آئے گی یا وہاں مہر آئے گا۔ تو اس شخص پر حد تو نہ آئی البتہ مہر آ جائے گا اور نیز صاحبِ ہدایت نے یہ بھی بتلایا کہ اب یہ شخص محسن نہ رہا، یعنی یہ زنا سے پاک دامن نہ رہا، لہٰذا اس پر کوئی زنا کا الزام لگاتا ہے تو اس پر حد قذف جاری نہیں کی جا سکتی۔ اور پھر صاحبِ ہدایت نے یہ مسئلہ بھی بتلایا کہ ایک شخص نے اگر اپنے بچھونے پر کسی عورت کو سویا ہوا پایا اور اس نے اس کے ساتھ وطی کر لی، تو اس صورت میں اس پر حد جاری ہو گی کیونکہ یہ اشتباہ کا مقام نہیں ہے۔ بیوی کے ساتھ طویل عرصے تک ساتھ رہنے کی وجہ سے یہاں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہو سکتا اور اگر اشتباہ تھا بھی تو یہ شخص سوال کے ذریعے اپنے اس اشتباہ کو دور کر سکتا تھا۔ اور صاحبِ ہدایت نے مسئلہ ذکر کیا کہ ایک شخص نے ایک ایسی عورت سے نکاح کر لیا جو اس کی محرم ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح جائز ہی نہیں ہے اور اس نے اس کے ساتھ صحبت بھی کر لی، تو اس عقد کی وجہ سے یہاں شبہ آ گیا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، چاہے یہ شخص جانتا بھی ہو کہ یہ عورت مجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام تھی، پھر بھی عقد اس نے کیا ہے تو عقد کی وجہ سے شبہ آ گیا، لہٰذا اس شخص پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ اور صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں اس شخص پر حد جاری کی جائے گی جب اس کو علم ہو کہ اس عورت سے نکاح میرے لیے حرام ہے۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ یہ جو عقدِ نکاح اس شخص نے کیا یہ اپنے محل میں نہیں ہے۔ عقدِ نکاح کا محل وہ عورت ہوتی ہے جو حلال ہونے کو قبول کر لے، یعنی جو عقدِ نکاح کی وجہ سے اس آدمی کے لیے حلال ہو جائے اور یہ عورت جو ہے یہ تو اس آدمی کی محرم ہے یہاں تو حلال ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں، تو عقدِ نکاح نے اپنے محل سے ملاقات نہ کی لہٰذا اس عقدِ نکاح کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تو اب اس شخص پر حد جاری کی جائے گی۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقدِ نکاح نے اپنے محل سے ملاقات کی ہے، اس لیے کیونکہ عقدِ نکاح جو ہے اس محل میں کیا جاتا ہے جہاں پر اس عقدِ نکاح کا مقصود حاصل ہو سکے اور اس عقدِ نکاح کا جو مقصد ہے وہ تو اولاد کا حاصل کرنا ہے نسل کا بڑھانا ہے اور یہ جو عورت ہے جس کے ساتھ اس نے نکاح کیا ہے اگرچہ ہے اس کی محرم لیکن یہ بھی عورت ہے مؤنث ہے اور اس کے ذریعے مقصودِ نکاح حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں پر جو رکاوٹ آئی ہے وہ خاص طور پر اس مرد کی وجہ سے آئی ہے کہ یہ اس عورت کا محرم ہے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور مرد اس عورت سے نکاح کرتا تو نکاح ہو جاتا۔ معلوم ہوا عورت جو ہے وہ محلِ نکاح ہے۔ تو یہاں پر جو رکاوٹ آئی وہ خاص طور پر اس آدمی کی وجہ سے آئی ہے۔ تو معلوم ہوا عقدِ نکاح نے اپنے محل سے ہی ملاقات کی ہے، البتہ ایک مانع آ گیا جس کی وجہ سے نکاح کا حکم ثابت نہیں ہو گا۔ تو بے شک نکاح کا حکم ثابت نہ ہو لیکن بہرحال عقد نے تو اپنے محل سے ملاقات کی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جایا کرتی ہے لہٰذا اس آدمی پر بھی حد واجب نہیں ہو گی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایت نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص اجنبیہ عورت کے ساتھ شرم گاہ کے علاوہ کے اندر وطی کر لے، مثلاً رانوں پر یا پیٹ پر، تو پھر اس صورت میں اس نے ناپسندیدہ فعل کیا ہے اور اس کی وجہ سے اس کو سزا ملنی چاہیے، لیکن شریعت کے اندر اس کی کوئی سزا مقرر نہیں لہٰذا یہاں بھی تعزیر کی جائے گی قاضی اس کو سخت سزا دے گا بھئی۔ اور اسی طرح اگر کوئی شخص جو ہے اس نے کسی اجنبیہ عورت کے ساتھ پچھلے مقام میں بدکاری کی یا کسی مرد کے ساتھ اس نے بدکاری کی، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں اس شخص پر حد نہیں ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ فعل بھی یہ بھی زنا کی طرح ہے لہٰذا ان کو بھی حد لگائی جائے گی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایت نے بتلایا کہ اس سلسلے میں امامِ شافعی رحمہ اللہ کے دو قول ہیں۔ ایک قول تو ان کا صاحبین کے قول کے مطابق ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں ان دونوں پر حد جاری کی جائے گی۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ان پر حد جاری کی جائے گی۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ ان دونوں کو قتل کر دیا جائے گا ہر حال میں، چاہے یہ محسن ہوں اور چاہے غیر محسن ہوں۔ وہ دلیل ذکر کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ“، کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو، اور نیز حدیث میں آتا ہے: ”فَارْجُمُوا الْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ“، کہ اوپر والے کو بھی رجم کر دو اور نیچے والے کو بھی رجم کر دو۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ جبکہ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ یہ دونوں فعل بھی زنا کے معنیٰ میں ہیں۔ یہ دونوں فعل بھی زنا کے معنیٰ میں ہیں، اس لیے کیونکہ زنا اسے کہتے ہیں کہ اپنی شہوت کو ایسے مقام پر پورا کرنا جو کامل درجے کا قابلِ شہوت ہے اور نیز وہ فعل محض فعلِ حرام ہو اور وہاں صرف شہوت کا پورا کرنا مقصود ہو اور کوئی مقصد نہ ہو، اور یہ تو ان دونوں کے اندر بھی پایا جا رہا ہے، یعنی عورت سے یہ جو بدکاری کی ہے یا مرد کے ساتھ جو بدکاری کی ہے اس کے اندر بھی یہ والا معنیٰ پایا جا رہا ہے کہ اس کے اندر بھی شہوت پوری کی جا رہی ہے ایک ایسے محل کے اندر جو کامل طور پر قابلِ شہوت ہے اور ایسے طریقے پر کہ یہ فعل محض حرام ہے اور یہاں مقصد جو ہے صرف شہوت کا پورا کرنا ہے۔ تو یہ فعل بھی زنا کے معنیٰ میں ہیں لہٰذا ان پر بھی حد جاری کی جائے گی۔ اس پر صاحبین پر اشکال ہوتا ہے، یہ تو آپ قیاس کے ذریعے حد ثابت کر رہے ہیں، حالانکہ حد تو ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہے، اس کو تو قیاس کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس کا جواب میں نے بتلایا تھا کہ صاحبین جو ہیں وہ قیاس کے ذریعے یہاں حد نہیں ثابت کر رہے بلکہ دلالۃ النص کے ذریعے، یعنی نص اس پر دلالت کر رہی ہے۔ وہ جو نص آئی تھی: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دلالۃ النص اس علت کو کہتے ہیں جو نص سے سمجھ میں آئے اور عام عربی زبان جاننے والا بھی اس کو سمجھ لے، وہاں کسی قسم کے غور و فکر کی ضرورت نہ ہو۔ جیسے قرآن میں اللہ والدین کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ﴾، والدین کو اف بھی نہ کہو۔ اب عربی زبان جاننے والا ہر شخص یہ بات سمجھ لیتا ہے کہ یہاں پر جو والدین کو اف کہنے سے منع کیا گیا ہے اس کی علت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے والدین کو تکلیف ہو گی۔ تو جب والدین کو اف کہنے سے منع کیا گیا ہے تو والدین کو گالی دینا یا ان کی پٹائی کرنا بطریقِ اولیٰ منع ہو گا۔ تو والدین کو گالی دینا یہ بھی ممنوع ہو گا اور والدین کو مارنا یہ بھی ممنوع ہو گا، یہ حکم کس سے ثابت ہوا؟ دلالۃ النص سے، نص نے اس پر دلالت کی ہے۔ نص سے جب پتہ چلا کہ اف کہنا حرام ہے ممنوع ہے کیونکہ اس کی وجہ سے والدین کو تکلیف ہوتی ہے، تو معلوم ہوا ہر وہ فعل ممنوع ہو گا جس سے والدین کو تکلیف ہو اور جس کے اندر اس سے بھی بڑھ کر تکلیف ہے وہ تو بطریقِ اولیٰ ممنوع ہو گا بھئی۔ تو دلالۃ النص اس علت کو کہتے ہیں جو عربی زبان کے اعتبار سے نص سے سمجھ میں آئے، وہاں کسی غور و فکر کی ضرورت نہ ہو۔ تو یہاں پر بھی صاحبین نے یہ جو عورت کے ساتھ جو بدکاری کی یا جو مرد کے ساتھ جو بدکاری کی ہے اس کو زنا والا حکم دیا ہے دلالۃ النص کے ذریعے کہ نص اس پر دلالت کر رہی ہے، کیونکہ نص کے اندر کیا آیا: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾، معلوم ہوا زنا کرنے والے کی یہ سزا ہے، اور زنا کسے کہتے ہیں کہ ایک کامل درجے کے شہوت والے مقام میں اپنی شہوت کو پورا کرنا اس طور پر کہ وہ فعل محض حرام ہو اور وہاں مقصد صرف شہوت کا پورا کرنا ہو اور کوئی مقصد نہ ہو بھئی، اور یہ معنیٰ تو ان دونوں کے اندر بھی پایا جا رہا ہے تو یہ بھی زنا ہی کے معنیٰ میں ہیں لہٰذا ان میں بھی حد جاری کی جائے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ زنا نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ زنا ہوتا تو صحابہؓ اس کے اندر اختلاف نہ فرماتے۔ حالانکہ صحابہ میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ فاعل اور مفعول جو ہیں ان کو قتل کر دیا جائے اور پھر آگ سے جلا دیا جائے، بعض فرماتے ہیں کہ ان پر اونچی دیوار گرا دی جائے تاکہ یہ اس کے نیچے دب کر مر جائیں اور بعض کہتے ہیں کہ ان کو اونچی جگہ سے اوندھے منہ گرا دیا جائے اور پھر ان پر اوپر سے پتھر گرا دیے جائیں تاکہ یہ ختم ہو جائیں۔ تو اگر یہ زنا ہوتا تو صحابہ کے اندر اس کی سزا کے معاملے میں اختلاف نہ ہوتا۔ اور نیز یہ زنا کے معنیٰ میں بھی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ یہ زنا سے مختلف ہیں۔ بہ ایں اعتبار کہ زنا کے اندر اولاد کا ضائع کرنا ہے، زنا سے اگر اولاد ہوئی تو وہ ضائع ہو گی کوئی اس کا خیال رکھنے والا نہیں ہو گا، اور نیز زنا کی وجہ سے نسب کے اندر اشتباہ آ جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ کس کی اولاد ہے۔ جبکہ اس بدکاری کے اندر تو ایسا نہیں ہے، یہاں پر بچوں کا ضائع کرنا یا اشتباہِ نسب کا امکان نہیں ہے اور نیز یہ اس اعتبار سے بھی یہ فعل زنا سے مختلف ہیں کہ زنا جو ہے وہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر جو داعی ہے وہ مرد اور عورت دونوں کی طرف سے پایا جا رہا ہے وہاں شہوت دونوں کی طرف سے ہے، جبکہ یہ جو ہے زنا کے مقابلے میں قلیل ہے نادر ہے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو داعی ہے وہ صرف ایک جانب سے ہے، یعنی صرف فاعل کی جانب سے داعی ہے جبکہ مفعول کی طرف سے داعی نہیں ہے لہٰذا یہ زنا کے معنیٰ میں بھی نہیں ہے، لہٰذا یہاں پر تعزیر ہی جاری کی جائے گی بھئی۔ اور باقی وہ جو حدیث کے اندر آیا تھا کہ فاعل اور مفعول کو قتل کر دو یا ان کو رجم کر دو، تو ہم کہتے ہیں وہ محمول ہے سیاست پر کہ حاکم جو ہے سیاسۃً ان کو قتل کروانا چاہے تو قتل کر سکتا ہے، اور یا وہ محمول ہے حلال سمجھنے والے پر کہ اگر کوئی اس فعلِ لواطت کو حلال سمجھتا ہے تو وہ تو مرتد ہو گیا کافر ہو گیا لہٰذا اس کو تو قتل کیا جائے گا بھئی، تو یہ حدیث ان کے بارے میں ہے۔ اس کے بعد ہم نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کسی شخص نے چوپائے کے ساتھ وطی کر لی تو اس پر بھی حد جاری نہیں کی جائے گی، اس لیے کیونکہ چوپائے کے ساتھ وطی کرنا یہ زنا کی طرح نہیں ہے اور نیز اس سے طبیعتِ سلیمہ نفرت کرتی ہے اور کوئی انتہائی شہوت کی وجہ سے یا انتہا درجے کی حماقت کی وجہ سے اس قسم کے فعل پر آمادہ ہوتا ہے، تو یہ جب زنا کی طرح نہیں ہے تو اس کو زنا والا حکم بھی نہیں دیا جائے گا اور اس کو تعزیر کی جائے گی۔ اور اس کے بعد میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدِ زنا جاری کرنے کے لیے پانچ شرطیں ہیں۔ پانچ شرطیں پائی جائیں گی پھر ہی حدِ زنا جاری کی جائے گی اور وہ پانچ شرطوں میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ زنا دار الاسلام میں ہو۔ لہٰذا اگر باغیوں کے علاقے میں یا دار الحرب کے اندر زنا ہوا ہو تو اس شخص پر حد جاری نہیں کی جائے گی، چاہے وہ یہاں آ کر اقرار ہی کیوں نہ کر لے پھر بھی حد جاری نہیں کی جائے گی کیونکہ اجراءِ حدِ زنا کے لیے دار الاسلام کا ہونا شرط ہے۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ زنا کے اندر اصل جو ہے وہ مرد ہے، تو وہ زنا کرنے والا مکلف ہونا چاہیے، اور تیسری شرط یہ ہے کہ وہ زنا رضامندی سے ہو بھئی، لہٰذا اگر زبردستی کسی سے زنا کروایا گیا تو وہاں حد جاری نہیں ہو گی بھئی، اور چوتھی شرط یہ تھی کہ دونوں جانبوں کا اتفاق ہو اس کے زنا ہونے پر، اگر دونوں میں سے ایک بھی کہہ دے کہ ہم دونوں نے تو نکاح کیا تھا تو حد ساقط ہو جائے گی بھئی، اور پانچویں شرط جو ہے وہ امیر کا ہونا ہے، یعنی امیر ہو جو اس حدِ زنا کو نافذ کروائے، اگر کسی مقام پر امیر نہیں ہے تو حدِ زنا بھی نافذ نہیں کی جا سکتی۔ تو کتنی شرطیں ہیں حدِ زنا کے جاری کرنے کی؟ پانچ شرطیں ہیں۔ پہلی شرط: دار الاسلام، دوسرا یہ کہ زنا کرنے والا مکلف ہو، تیسری شرط کہ زنا جو ہے رضامندی سے کیا جائے اور چوتھی شرط کہ مرد اور عورت کا اتفاق ہو اس کے زنا ہونے پر اور پانچویں شرط یہ ہے کہ حد نافذ کرنے والا مسلمانوں کا امیر یا خلیفہ ہو یا اس کا نائب ہو بھئی۔ تو صاحبِ ہدایت نے مسئلہ ذکر کیا تھا کہ اگر کسی شخص نے دار الحرب کے اندر زنا کیا یا باغیوں کے علاقے کے اندر زنا کیا اور پھر وہ نکل کر دار الاسلام کے اندر آ گیا، تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی، چاہے یہ حاکم کے سامنے آ کر اقرار ہی کیوں نہ کر لے کہ میں نے وہاں پر زنا کیا تھا۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر حد جاری کی جائے گی، اس لیے کیونکہ جب یہ ہمارے علاقے میں آ گیا مسلمان ہو کر تو اس نے اپنے لیے اسلامی احکام کا التزام کر لیا اپنے اوپر اسلامی احکامات کو لازم کر لیا لہٰذا اس پر حد جاری کی جائے گی، جبکہ ہم کہتے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے: ”لَا يُقَامُ الْحُدُودُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“، کہ دار الحرب کے اندر حدود قائم نہیں کی جائیں گی، اور دار الحرب میں حدود قائم نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ دار الحرب میں حدود واجب ہی نہیں ہوں گی۔ اس لیے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ دار الحرب کے اندر تو ہمارے خلیفہ کی حکومت ہی نہیں ہے، وہاں تو وہ حد نافذ کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، پھر بھی حدیث میں کہا جا رہا ہے: ”لَا يُقَامُ الْحُدُودُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“، کہ دار الحرب میں حدود کو قائم نہیں کیا جائے گا۔ معلوم ہوا یہاں قائم کرنے سے قائم کرنا مراد نہیں ہے بلکہ وجوب مراد ہے کہ دار الحرب کے اندر حدود واجب نہیں ہوں گی بھئی۔ اور نیز اس لیے بھی دار الحرب کے اندر حد واجب نہیں ہو گی کیونکہ حد کے واجب ہونے کا مقصد یہ ہے تاکہ لوگ اس جرم سے رک جائیں اس جرم سے باز آ جائیں، اور لوگ اس جرم سے تب ہی باز آئیں گے کہ جب اس حد کو جاری بھی کیا جائے اس کو نافذ بھی کیا جائے۔ اگر صرف حد واجب ہوئی ہے اور نافذ نہیں کیا جا سکتا اس کو، پھر تو حد کے واجب ہونے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے، تو لہٰذا حد کے واجب ہونے کا فائدہ اسی وقت ہے جب اس حد کو جاری بھی کیا جا سکے جب اس حد کو نافذ بھی کیا جا سکے۔ لہٰذا چونکہ وہاں تو ہمارے خلیفہ کی حکومت نہیں ہے تو وہاں حد نافذ نہیں کی جا سکتی، جب نافذ نہیں کی جا سکتی تو وجوب بھی نہیں ہو گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایت نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک حربی امان لے کر دار الاسلام میں آیا اور اس نے کسی ذمیہ کے ساتھ زنا کر لیا، یا دار الحرب سے ایک حربی عورت جو ہے امان لے کر دار الاسلام میں آئی اور اس کے ساتھ کسی ذمی مرد نے زنا کر لیا، تو پھر اس صورت میں ہمارے ائمہ کا آپس میں اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان چاروں پر حد جاری کی جائے گی، چاہے حربی مرد ہے یا عورت ہے یا ذمی مرد ہے یا ذمیہ عورت ہے بھئی۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حربی مرد اور عورت پر تو حد جاری نہیں ہو گی، ذمی مرد اور ذمی عورت پر حد جاری ہو گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف ذمی مرد پر حد جاری ہو گی اور باقی تینوں میں سے کسی پر بھی حد جاری نہیں ہو گی، یعنی حربی مرد پر بھی حد نہیں، حربی عورت پر بھی حد نہیں اور ذمیہ عورت پر بھی حد نہیں ہے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایت نے ہر ایک کے دلائل ذکر فرمائے تھے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ طرفین سے اختلاف کرتے ہیں حربی مرد اور حربی عورت کے بارے میں۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حربی مرد اور حربی عورت یہ بھی ذمی کی طرح ہیں، صرف فرق اتنا ہے کہ ذمی نے ہمیشہ کے لیے یہاں رہنا ہے تو اس نے ہمیشہ کے لیے اسلامی احکام کا اپنے اوپر التزام کیا ہے، جبکہ حربی مرد اور عورت جو ہیں وہ تو کچھ عرصے کے لیے آئے ہیں تو جتنے عرصے کے لیے آئے ہیں اس دوران اسلامی احکام کا اپنے لیے انہوں نے التزام کر لیا۔ تو یہ حربی مرد اور عورت بھی جب تک مملکتِ اسلامیہ میں ہیں یہ ذمی کے درجے میں ہیں، اور ذمی مرد اور عورت پر تو بالاتفاق حد جاری کی جاتی ہے تو اس حربی مرد اور عورت پر بھی حد جاری کی جائے گی بھئی۔ اور اس کے بعد پھر طرفین کی دلیل آئی تھی، میں نے بتلایا تھا کہ طرفین کا آپس میں بھی اختلاف ہے البتہ ایک چیز میں دونوں کا اتفاق ہے کہ حربی مرد اور عورت پر حد نہیں آئے گی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں حربی مرد اور عورت پر بھی حد آئے گی جبکہ طرفین فرماتے ہیں حربی مرد اور عورت پر حد نہیں آئے گی، تو پہلے ان کی دلیل ذکر فرمائی صاحبِ ہدایت نے اور بتلایا کہ یہ جو حربی مرد اور عورت دار الاسلام میں آئے ہیں یہ یہاں رہنے کے لیے نہیں آئے کہ آپ ان کو ذمیوں والا حکم دے دیں، بلکہ یہ اپنی حاجت اور ضرورت کی وجہ سے یہاں آئے ہیں اور اسی لیے یہ ذمی کے حکم میں نہیں ہیں۔ ذمی کا تو یہ حکم ہے کہ اگر اس کو کوئی قتل کر دیتا ہے تو قاتل کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا، حالانکہ حربی مرد اور عورت کا یہ حکم نہیں ہے، اگر ان کو کوئی قتل کر دیتا ہے چاہے کوئی مسلمان قتل کرے چاہے کوئی ذمی قتل کرے، ان کو قصاص کے اندر قتل نہیں کیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ حربی مرد اور عورت جو ہیں یہ محفوظ الدم نہیں ہیں علی التابید، یعنی ہمیشہ کے لیے یہ محفوظ الدم نہیں، یہ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے ان کو امان دیا ہے تو یہ محفوظ الدم ہوئے تو ہیں لیکن عارضی طور پر ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مسلمان اور ذمی جو ہیں وہ تو محفوظ الدم ہیں علی التابید کیونکہ وہ مملکتِ اسلامیہ میں رہتے ہیں اور مملکتِ اسلامیہ کے ہر باشندے کی جان اور مال محفوظ ہے بھئی۔ تو لہٰذا اگر وہ حربی مرد یا عورت جو ہیں کسی مسلمان یا ذمی کو قتل کرتے ہیں تو حربی مرد یا عورت کو تو قصاصاً قتل کیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان یا ذمی اس حربی مرد یا عورت کو قتل کرتا ہے تو پھر اس مسلمان یا ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ جو حربی مرد اور عورت تھے وہ علی التابید محفوظ الدم نہیں تھے بھئی۔ اور نیز امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے احکام کو ماننے کا التزام کیا ہے، تو اس کا بھی جواب دیا کہ انہوں نے ہمارے تمام احکام کے ماننے کا التزام نہیں کیا بلکہ صرف ان احکام کو ماننے کا التزام کیا ہے جن کے ذریعے ان کا مقصود حاصل ہو سکے، یہ جس مقصد کے لیے آئے ہیں ان کا مقصد پورا ہو سکے اور وہ احکام وہ ہیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں، وہ احکام ہیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں جبکہ حدِ زنا یہ تو حقوق العباد میں سے نہیں ہے یہ تو حق الشرع ہے لہٰذا حربی مرد اور عورت پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ اور اس کے بعد پھر طرفین رحمہما اللہ میں آپس میں اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ذمی مرد اور ذمی عورت دونوں پر حد جاری کی جائے گی جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف ذمی مرد پر حد جاری کی جائے گی ذمی عورت پر حد جاری نہیں کی جائے گی، اور اس کی وجہ اور فرق بھی ذکر فرمایا تھا صاحبِ ہدایت نے کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زنا جو ہے اصل کے اندر مرد کا فعل ہے اور عورت جو ہے وہ اس کے تابع ہے، لہٰذا اگر اصل سے حد ساقط ہو جائے تو تابع سے بھی حد ساقط ہو جائے گی اور اگر تابع سے حد ساقط ہو تو اصل سے حد ساقط نہیں ہو گی، چنانچہ جب حربی مرد نے ذمیہ عورت کے ساتھ زنا کیا تو اس صورت کے اندر حربی مرد سے حد ساقط ہو گئی کیونکہ اس نے ہمارے تمام احکام کا التزام نہیں کیا، اور جب اصل یعنی مرد پر سے حد ساقط ہو گئی تو تابع یعنی جو ذمیہ عورت ہے اس سے بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ جبکہ جب ذمی مرد نے حربیہ عورت سے زنا کیا تو وہاں پر حربیہ عورت سے تو حد ساقط ہو گئی کیونکہ اس نے ہمارے تمام احکام کا التزام نہیں کیا لیکن تابع پر سے حد ساقط ہو جائے تو اس کی وجہ سے اصل سے حد ساقط نہیں ہو گی لہٰذا اس ذمی پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نظیر جو ہے اگر کوئی بالغ جو ہے کسی صغیرہ یا مجنونہ سے زنا کر لے، تو اس بالغ پر تو حد آئے گی جبکہ صغیرہ اور مجنونہ پر حد نہیں، تو دیکھو یہاں تابع سے حد ساقط ہو گئی لیکن تابع کی وجہ سے اصل یعنی اس بالغ مرد سے حد ساقط نہیں ہو گی، جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک بالغہ عورت جو ہے وہ کسی بچے یا مجنون کو اپنے اوپر قدرت دے دے، تو بچہ یا مجنون جو ہے وہ ان پر تو حد نہیں ہے اور جب ان پر حد نہیں ہے تو تابع جو بالغہ عورت ہے اس پر بھی حد نہیں آئے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر یہ جو حربی نے فعل کیا ہے وہ بھی زنا ہے، اس لیے کیونکہ کفار بھی حرمات کے مخاطب ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا شرعی احکام تین قسم کے ہیں: کچھ عبادات ہیں، کچھ معاملات ہیں اور کچھ حرمات ہیں، کچھ عبادات ہیں کچھ معاملات ہیں اور کچھ حرمات ہیں، اور صحیح قول کے مطابق یہ جو کفار ہیں یہ حرمات کے مکلف ہیں، جیسے مسلمانوں کو حرام چیزوں سے رکنے کا حکم ہے ان کو بھی حرام چیزوں سے رکنے کا حکم ہے۔ تو لہٰذا جیسے مسلمان کو زنا سے روکا گیا ہے اسی طرح ذمی اور حربی کو بھی زنا سے روکا گیا ہے، تو حربی کی یہ جو ذمیہ کے ساتھ زنا کر رہا ہے یہ فعلِ زنا ہی ہے بھئی۔ کیونکہ زنا وہ فعل ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہو اور اس کا کرنے والا گناہ گار ہو، اور یہ صفت اس حربی کے اندر بھی پائی جا رہی ہے، ایک تو اس کے کفر کا گناہ ہے اور نیز یہ حرام فعل کر رہا ہے اس کا بھی اس کو گناہ ملے گا اور اس کو دوگنا عذاب ملے گا بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا حربی کا ذمیہ کے ساتھ جو یہ بدکاری والا فعل ہے یہ بھی زنا ہی ہے بھئی۔ تو ذمیہ کا اس حربی کو اپنے اوپر قدرت دینا یہ بھی حد کا باعث ہے اس لیے کیونکہ وہ فعلِ زنا پر قدرت دے رہی ہے اس کو۔ وہ فعلِ زنا پر قدرت دے رہی ہے لہٰذا لہٰذا یہ حد دونوں پر آ گئی، البتہ پھر حربی سے یہ حد ساقط ہو گئی اس لیے کیونکہ اس نے ہمارے تمام احکام کا التزام نہیں کیا ہے، تو صرف ذمیہ جو ہے اس پر حد جاری ہو گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں صبی اور مجنون جو ہیں وہ تو مکلف ہی نہیں ہیں بھئی، وہ تو مکلف ہی نہیں ہیں وہ شرعی احکام کے مخاطب ہی نہیں ہیں، تو لہٰذا ان کا جو فعل ہے وہ زنا ہے ہی نہیں۔ جب ان کا فعل زنا نہیں ہے تو وہ بالغہ عورت جس نے اس بچے اور مجنون کو اپنے اوپر قدرت دی ہے اس نے زنا کی قدرت نہیں دی، اس نے برے فعل کی قدرت تو دی ہے لیکن اس کو زنا کی قدرت نہیں کہیں گے بھئی، تو اس بالغہ نے بچے اور مجنون کو جو اپنے اوپر قدرت دی ہے یہ زنا کی قدرت نہیں ہے بھئی۔ جب یہ زنا کی قدرت نہیں ہے تو لہٰذا یہاں پر اس بالغہ پر بھی حد جاری نہیں ہو گی بھئی۔ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ضابطہ بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ زنا کے اندر اصل مرد ہے۔ اصل مرد ہے، اگر مرد پر حد آئے گی تو عورت پر بھی حد آئے گی لیکن اگر مرد پر حد نہ آئے تو عورت پر بھی حد نہیں آئے گی، لیکن اگر مرد پر حد آئی اور پھر کسی عارض کی وجہ سے ساقط ہو گئی، تو پھر اس صورت کے اندر عورت سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ تو یہاں پر بھی یہ جو حربی مرد نے ذمیہ عورت سے زنا کیا ہے تو حربی مرد پر اولاً حد واجب ہوئی اور پھر عارض کی وجہ سے ساقط ہو گئی، لیکن ذمیہ سے ساقط نہیں ہو گی اس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”قَالَ: وَإِذَا زَنَى الصَّبِيُّ أَوِ الْمَجْنُونُ بِامْرَأَةٍ طَاوَعَتْهُ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهَا“. بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک بچے نے یا ایک مجنون نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا اور اس عورت نے ان کو اپنے اوپر قدرت دی، یعنی عورت جو ہے اس نے اس زنا کے اندر ان کا ساتھ دیا، یعنی یوں کہو عورت کی رضامندی اس میں شامل تھی، تو اس صورت میں کہتے ہیں کسی پر بھی حد نہیں آئے گی۔ وجہ یہ کہ کیونکہ یہ بچے اور مجنون کا فعل زنا نہیں کہلاتا، تو اس عورت نے جس فعل پر ان کو قدرت دی ہے وہ فعلِ زنا نہیں ہے، لہٰذا نہ اس مجنون اور بچے پر حد ہے کیونکہ وہ تو مکلف ہی نہیں ہیں اور نہ اس عورت پر بھی حد نہیں کیونکہ اس نے فعلِ زنا پر قدرت نہیں دی بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اجراءِ حد کے لیے پانچ شرطیں ہیں، پہلی شرط کیا تھی کہ دار الاسلام ہو، دوسری شرط کہ وہ فعل کرنے والا یعنی زنا کرنے والا جو مرد ہے وہ مکلف ہونا چاہیے، تو یہاں پر وہ دوسری شرط معدوم ہے، بچہ اور مجنون یہ تو مکلف نہیں ہیں بھئی۔ تو جب یہ مکلف نہیں تو یہاں حد بھی نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَإِذَا زَنَى الصَّبِيُّ أَوِ الْمَجْنُونُ بِامْرَأَةٍ طَاوَعَتْهُ“، طَاوَعَ يُطَاوِعُ مُطَاوَعَةً کا معنیٰ ہے کسی کا ساتھ دینا، فرماں برداری کرنا، یعنی اپنی رضامندی سے کوئی فعل کرنا۔ ”قَالَ“، امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَإِذَا زَنَى الصَّبِيُّ أَوِ الْمَجْنُونُ بِامْرَأَةٍ طَاوَعَتْهُ“، کہ جب زنا کیا کسی بچے نے یا مجنون نے ”بِامْرَأَةٍ طَاوَعَتْهُ“، ایک ایسی عورت سے جس نے ان کا ساتھ دیا، یعنی رضامندی سے زنا کیا، ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهَا“، تو نہ تو اس بچے اور مجنون پر حد ہے ”وَلَا عَلَيْهَا“، اور نہ اس عورت پر حد ہے، ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى: يَجِبُ الْحَدُّ عَلَيْهَا“، اور امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت پر حد واجب ہو گی، ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“، اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی۔ یاد رکھو یہ اور اگلا مسئلہ دونوں کی آگے اکھٹی دلیل ذکر کریں گے۔ یہ پہلی صورت تھی جس میں زنا کرنے والا نابالغ بچہ ہے یا مجنون ہے اور عورت جو ہے وہ بالغہ ہے۔ اب اس کا برعکس کر لیں: زنا کرنے والا مرد جو ہے وہ ہے بالغ عاقل اور جس سے زنا کیا وہ نابالغہ یا مجنونہ ہے، تو دونوں کی دلیلیں آگے پھر ذکر فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ زَنَى صَحِيحٌ“، اور اگر ایک صحیح مرد نے زنا کیا، صحیح یعنی عاقل بالغ نے زنا کیا، ”بِمَجْنُونَةٍ أَوْ صَغِيرَةٍ“، کسی مجنونہ عورت سے ”أَوْ صَغِيرَةٍ تُجَامَعُ مِثْلُهَا“، صَغِيرَةٍ نکرہ ہے اور ”تُجَامَعُ مِثْلُهَا“ یہ اس کے بعد فعل آ رہا ہے، تو یہ اس کی صفت بنے گا۔ تو کسی عاقل بالغ مرد نے زنا کیا ”بِمَجْنُونَةٍ“، کسی مجنونہ عورت سے ”أَوْ صَغِيرَةٍ تُجَامَعُ مِثْلُهَا“، یا ایسی نابالغہ سے کہ اس جیسی سے جماع کیا جا سکتا ہے، کہ اس جیسی سے جماع کیا جا سکتا ہے یعنی بالغہ ہونے کے قریب ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ صَغِيرَةٍ تُجَامَعُ مِثْلُهَا“، یا ایسی نابالغہ کے ساتھ کہ اس جیسی کے ساتھ جماع کیا جا سکتا ہے یعنی وہ قابلِ جماع ہے، ”حُدَّ الرَّجُلُ خَاصَّةً“، تو حد لگائی جائے گی خاص طور پر اس آدمی کو، یعنی وہ مجنونہ یا نابالغہ پر تو حد نہیں لیکن اس آدمی پر حد واجب ہو گی۔ ”وَهَذَا بِالْإِجْمَاعِ“، اور یہ بالاجماع ہے یعنی اس میں ہمارے ائمہ کا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے بھئی۔ ”لَهُمَا“، اب دلیل آ گئی امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کی۔ یہ ”لَهُمَا“ کی ہما ضمیر کس کو راجع ہے؟ پیچھے کس کا مذہب ذکر ہوا تھا؟ ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ: يَجِبُ الْحَدُّ عَلَيْهَا“، تو یہ ضمیر ان کو راجع ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لَهُمَا“، امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْعُذْرَ مِنْ جَانِبِهَا لَا يُوجِبُ سُقُوطَ الْحَدِّ مِنْ جَانِبِهِ“، ادھر دیکھیے بھئی، امامِ شافعی اور امامِ زفر رحمہما اللہ دلیل ذکر فرماتے ہیں کہ جب مرد نابالغہ یا مجنونہ کے ساتھ زنا کرتا ہے تو بالاتفاق مرد پر حد آتی ہے۔ معلوم ہوا عورت کی طرف سے اگر کوئی عذر آ جائے تو اس عذر کی وجہ سے مرد سے حد ساقط نہیں ہوتی۔ تو لہٰذا اگر مرد کی جانب سے کوئی عذر آ جائے تو عورت سے بھی حد ساقط نہیں ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَهُمَا“، امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْعُذْرَ مِنْ جَانِبِهَا“، کہ عورت کی جانب سے عذر کا آنا ”لَا يُوجِبُ سُقُوطَ الْحَدِّ مِنْ جَانِبِهِ“، یہ حد کے ساقط ہونے کو ثابت نہیں کرتا مرد کی جانب سے، یعنی عورت کی طرف سے عذر آ گیا ہے وہ نابالغہ ہے یا مجنونہ ہے تو اس کی وجہ سے مرد سے حد ساقط نہیں ہوتی، تو کہتے ہیں: ”أَنَّ الْعُذْرَ مِنْ جَانِبِهَا“، عورت کی جانب سے عذر جو ہے ”لَا يُوجِبُ سُقُوطَ الْحَدِّ“، یہ سقوطِ حد کو ثابت نہیں کرتا ”مِنْ جَانِبِهِ“، مرد کی جانب سے، ”فَكَذَا الْعُذْرُ مِنْ جَانِبِهِ“، تو اسی طرح وہ عذر ہو گا جو مرد کی جانب سے آئے، مرد کی جانب سے عذر آ گیا یعنی وہ بچہ ہے یا نابالغ ہے تو اس کی وجہ سے عورت سے حد ساقط نہیں ہو گی، ”وَهَذَا لِأَنَّ كُلًّا مِنْهُمَا مُؤَاخَذٌ بِفِعْلِهِ“، اور یہ اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے اس کا مواخذہ کیا جائے گا اس کے اپنے فعل کی وجہ سے۔ ہر ایک کا مواخذہ اپنے فعل کی وجہ سے ہو گا، بچہ اور مجنون تو مکلف نہیں ہیں ان سے تو حد ساقط ہو جائے گی لیکن عورت تو مکلفہ ہے بالغہ ہے لہٰذا اس پر حد جاری کی جائے گی، اور اسی طرح مرد نے نابالغہ یا مجنونہ سے صحبت کی ہے تو ہر ایک کا مواخذہ ہو گا، وہ نابالغہ اور مجنونہ وہ تو مکلف نہیں ہیں لیکن مرد تو مکلف ہے لہٰذا اس پر حد جاری کی جائے گی، یہ معنیٰ ہے ”وَهَذَا لِأَنَّ كُلًّا مِنْهُمَا مُؤَاخَذٌ بِفِعْلِهِ“، اور یہ اس لیے کیونکہ یہ زانی اور زانیہ میں سے ہر ایک جو ہے اس کا مواخذہ کیا جائے گا اس کے اپنے فعل کی وجہ سے۔ ”وَلَنَا“، اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ اگر زنا کرنے والا نابالغ ہے یا مجنون ہے تو پھر عورت پر بھی حد نہیں، اور اگر زنا کرنے والا بالغ ہے تو پھر اس پر حد آئے گی۔ ”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ فِعْلَ الزِّنَا يَتَحَقَّقُ مِنْهُ“، کہ فعلِ زنا جو ہے وہ مرد کی طرف سے پایا جاتا ہے، فعلِ زنا مرد سے ہوتا ہے، یعنی زنا کرنے والا اصل میں مرد ہے، عورت تو صرف اس کو قدرت دے رہی ہے اس فعل پر۔ اسی لیے مرد کو زانی کہتے ہیں اور عورت کو مزنیہ کہتے ہیں، مزنیہ اسمِ مفعول ہے بھئی جیسے ”رَمَى يَرْمِي رَمْيًا فَهُوَ رَامٍ وَرُمِيَ يُرْمَى رَمْيًا فَذَاكَ مَرْمِيٌّ“، اسی طرح ”زَنَى يَزْنِي زِنًى فَهُوَ زَانٍ وَزُنِيَ يُزْنَى زِنًى فَذَاكَ مَزْنِيٌّ“، تو مزنیٌ اسمِ مفعول ہے اور یہ مؤنث ہے تو گول تا بھی ساتھ لگا دیں گے: مزنیہ بھئی۔ تو زنا اصل میں مرد کا فعل ہے اسی لیے اس کو زانی کہتے ہیں، عورت کا فعل نہیں ہے عورت کو مزنیہ کہتے ہیں۔ اور نیز اسی طرح مرد کو واطی کہتے ہیں، وطی کرنے والا، اور عورت جو ہے وہ محلِ وطی ہے اس کو موطوءہ کہتے ہیں۔ تو وطی کس کا فعل؟ مرد کا، اسی طرح زنا بھی کس کا فعل؟ مرد کا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ عورت کو بھی تو زانیہ کہا جاتا ہے، قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي﴾، عورت کو زانیہ کہا گیا ہے، تو صاحبِ ہدایت آپ کو بتلائیں گے کہ عورت کو جو زانیہ کہا جاتا ہے وہ مجازاً ہے بھئی، حقیقت میں وہ زانیہ نہیں ہے بھئی۔ ”وَلَنَا“، ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ فِعْلَ الزِّنَا يَتَحَقَّقُ مِنْهُ“، کہ فعلِ زنا جو ہے وہ مرد کی طرف سے ہوتا ہے ”وَإِنَّمَا هِيَ مَحَلُّ الْفِعْلِ“، اور عورت جو ہے یہ تو اس فعلِ زنا کا محل ہے، ”وَلِهَذَا يُسَمَّى هُوَ وَاطِئًا أَوْ زَانِيًا“، اور اسی لیے اس مرد کو واطی اور زانی کہا جاتا ہے ”وَالْمَرْأَةُ مَوْطُوءَةً وَمَزْنِيًّا بِهَا“، اور عورت کو موطوءہ اور مزنیاً بہا کہتے ہیں ”إِلَّا أَنَّهَا سُمِّيَتْ زَانِيَةً مَجَازًا“، مگر یہ کہ عورت کو بھی زانیہ کہہ دیا جاتا ہے مجازاً، عورت کو بھی مجازاً زانیہ کہہ دیا جاتا ہے، بھئی کیوں زانیہ مجازاً کہتے ہیں؟ اس کی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وجہ یہ کہ عربی زبان کے اندر کبھی کبھار مفعول کے لیے بھی اسمِ فاعل والا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے جیسے قرآن کے اندر جنتیوں کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾، ﴿فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾، عِيشَة کا معنیٰ ہے زندگی اور رَاضِيَة کا معنیٰ ہے راضی ہونے والی۔ اب مجھے آپ بتائیے کہ وہ زندگی راضی ہو گی یا زندگی والے راضی ہوں گے؟ زندگی والے راضی ہوں گے، تو یہاں یہ جو ”رَاضِيَةٍ“ آیا یہ بمعنیٰ ”مَرْضِيَّةٍ“ کے ہے، زندگی مرضیہ ہو گی پسندیدہ ہو گی لیکن اس مرضیہ کے لیے اسمِ فاعل استعمال کر لیا گیا، معلوم ہوا کبھی مفعول کے لیے بھی اسمِ فاعل استعمال کر لیا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهَا سُمِّيَتْ زَانِيَةً مَجَازًا“، مگر یہ کہ عورت کو زانیہ مجازاً کہہ دیا جاتا ہے ”تَسْمِيَةً لِلْمَفْعُولِ بِاسْمِ الْفَاعِلِ“، مفعول کو اسمِ فاعل کے ساتھ موسوم کرتے ہوئے ”كَالرَّاضِيَةِ فِي مَعْنَى الْمَرْضِيَّةِ“، جیسے راضیہ جو ہے مرضیہ کے معنیٰ میں یہ عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے ”أَوْ لِكَوْنِهَا مُسَبِّبَةً بِالتَّمْكِينِ“، سَبَّبَ يُسَبِّبُ تَسْبِيبًا کا معنیٰ ہے سبب بننا، یا اس وجہ سے کہ عورت زنا کا سبب بنی ہے کہ اس نے زنا کی قدرت دی، اگر یہ زنا کی قدرت نہ دیتی تو زنا نہ ہوتا، تو چونکہ یہ زنا کا سبب بنی ہے لہٰذا اسی کو زانیہ کہہ دیا گیا کیونکہ بعض اوقات سبب پر وہی مسبب والا لفظ بول دیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ سبب بنی ہے اس شخص کے زانی ہونے کا، تو اس شخص کا زانی ہونا یہ ہے مسبب اور یہ عورت کیا ہے؟ سبب، اور کبھی کبھار سبب کو وہی مسبب والا نام دے دیا جاتا ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے ”أَوْ لِكَوْنِهَا مُسَبِّبَةً بِالتَّمْكِينِ“، یا اس وجہ سے کہ یہ عورت جو ہے وہ سبب بنی ہے قدرت دینے کی وجہ سے، ”فَيَتَعَلَّقُ الْحَدُّ فِي حَقِّهَا بِالتَّمْكِينِ مِنْ قَبِيحِ الزِّنَا“، جی یہاں تک تو صاحبِ ہدایت نے اتنا بتلا دیا کہ زنا اصل میں مرد کا فعل ہے اور عورت جو ہے وہ محلِ زنا ہے، لہٰذا عورت پر حد تب آئے گی جب وہ کسی کو زنا پر قدرت دے اور مرد اس عورت کے ساتھ کوئی بالغ مرد اس عورت کے ساتھ زنا کرتا ہے تو مرد کا فعل ہے زنا اور اس عورت نے زنا پر قدرت دے دی تو دونوں پر حد آئے گی، لیکن اگر اس کا بچہ یا نابالغ جو ہے وہ وطی کرتا ہے تو بچہ یا نابالغ جو ہے اس کا فعل تو زنا نہیں کہلاتا، اس کا فعل تو زنا نہیں کہلاتا اس لیے کیونکہ زنا تو وہ فعل ہے جسے شریعت نے منع کیا ہے اور جس کا کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے، اور بچے اور مجنون میں تو یہ صفت نہیں وہ تو مخاطب بھی نہیں ہیں ان کو تو حکم بھی نہیں ہے اور نیز وہ گناہ گار بھی نہیں، تو معلوم ہوا بچے اور مجنون کا فعل زنا نہیں۔ لہٰذا بچہ اور مجنون جو ہے ان کو ایک عورت اپنے اوپر قدرت دے رہی ہے تو یہ فعلِ زنا پر قدرت نہیں دے رہی، جب یہ فعلِ زنا پر قدرت نہیں دے رہی تو اس عورت پر حد بھی واجب نہیں ہو گی، فرق سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: ”فَيَتَعَلَّقُ الْحَدُّ فِي حَقِّهَا“، لہٰذا حد کا تعلق ہو گا اس عورت کے حق میں ”بِالتَّمْكِينِ“، قدرت دینے سے، کس چیز کی قدرت؟ ”مِنْ قَبِيحِ الزِّنَا“، اس زنا کی جو قبیح ہے، قَبِيحِ الزِّنَا قبیح مضاف الزِّنَا مضاف الیہ، اور یاد رکھو یہ صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف، وہ زنا قبیح ہے تو عربی میں بعض اوقات صفت کو موصوف پر مقدم کر کے اس کی طرف اضافت کر دی جاتی ہے، تو اس عورت پر بھی حد آتی ہے، عورت پر بھی حد آتی ہے لیکن کس وقت؟ جب وہ جب زنا جیسے فعلِ قبیح پر کسی کو قدرت دے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَتَعَلَّقُ الْحَدُّ فِي حَقِّهَا بِالتَّمْكِينِ مِنْ قَبِيحِ الزِّنَا“، تو حد کا تعلق ہو گا اس عورت کے حق میں قبیح زنا پر قدرت دینے کی وجہ سے ”وَهُوَ فِعْلُ مَنْ هُوَ مُخَاطَبٌ بِالْكَفِّ عَنْهُ“، اب بتلا رہے ہیں فعلِ زنا کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ فِعْلُ مَنْ“، اور زنا فعل ہے اس شخص کا ”هُوَ مُخَاطَبٌ بِالْكَفِّ عَنْهُ“، کہ اس کو مخاطب کیا گیا ہے اس سے رکنے کے ساتھ کہ تم یہ فعل نہ کرو۔ زنا اس آدمی کا فعل ہے جس کو شریعت نے اس سے رکنے کا حکم دیا ہو یعنی مکلف ہونا چاہیے، وہ زنا کرنے والا مکلف ہونا چاہیے کیونکہ اس کو شریعت نے زنا سے روکا ہے، اور یہاں پر تو زنا کرنے والا بچہ یا نابالغ ہے وہ تو مکلف ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ فِعْلُ مَنْ هُوَ مُخَاطَبٌ بِالْكَفِّ عَنْهُ“، اور زنا جو ہے وہ تو اس شخص کا فعل ہے کہ جس کو مخاطب کیا گیا ہو اس زنا سے رکنے کے ساتھ ”وَمُؤْثَمٌ عَلَى مُبَاشَرَتِهِ“، اور وہ گناہ گار ہوتا ہے اس کو سرانجام دینے پر، فعلِ زنا تو اس آدمی کا فعل ہے جس کو اس فعلِ زنا سے روکا گیا ہے اور جو اس فعل کو کر لیتا ہے تو گناہ گار ہوتا ہے، اور بچے کے اندر تو یہ چیزیں نہیں وہ تو شریعت کے احکام کا مخاطب بھی نہیں اور نیز وہ یہ فعل کرتا ہے تو وہ گناہ گار بھی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُؤْثَمٌ عَلَى مُبَاشَرَتِهِ“، اور وہ شخص جو ہے وہ گناہ گار ہوتا ہے اس فعل کے سرانجام دینے پر ”وَفِعْلُ الصَّبِيِّ لَيْسَ بِهَذِهِ الصِّفَةِ“، اور بچے کا فعل جو ہے وہ تو اس صفت پر نہیں ہے ”فَلَا يُنَاطُ بِهِ الْحَدُّ“، لہٰذا اس بچے کے فعل پر حد کا مدار نہیں ہو گا، اس بچے اور مجنون کے فعل پر حد کا مدار نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يُنَاطُ بِهِ الْحَدُّ“، لہٰذا اس بچے اور مجنون کے فعل پر حد کا مدار نہیں ہو گا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَنْ أَكْرَهَهُ السُّلْطَانُ حَتَّى زَنَى فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“. بھئی اب وہ تیسری شرط کا بیان آ گیا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدِ زنا کے اجراء کے لیے پانچ شرطیں ہیں، پہلی شرط یہ کہ دار الاسلام ہونا چاہیے اس کا بیان گزر گیا، دوسری شرط یہ کہ وہ زنا کرنے والا مکلف ہونا چاہیے اس کا بیان ابھی ابھی گزرا، اور اب تیسری شرط یہ تھی کہ وہ زنا اپنی رضامندی سے کیا گیا ہو۔ تو اب اگر کوئی کسی سے زبردستی زنا کرواتا ہے تو پھر کیا اس صورت میں اس پر حد آئے گی یا نہیں؟ تو یاد رکھو اس میں امامِ زفر، امامِ ابو حنیفہ اور صاحبین اختلاف کرتے ہیں۔ امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکراہ چاہے بادشاہ کرے چاہے کوئی اور کرے، ہر حال میں حد آئے گی۔ اکراہ چاہے بادشاہ کرے یعنی بادشاہ چاہے زبردستی مجبور کرے کسی کو اور وہ شخص زنا کر لے پھر بھی حد آئے گی اور اگر بادشاہ کے علاوہ کوئی اور اکراہ کرتا ہے پھر بھی حد آئے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اکراہ کرنے والا چاہے بادشاہ ہو چاہے کوئی اور ہو، کسی صورت میں حد نہیں آئے گی کیونکہ جب اکراہ آ گیا معلوم ہوا اس شخص کی رضامندی نہیں ہے بھئی لہٰذا اس کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اکراہ بادشاہ کی طرف سے ہو پھر تو یہ معتبر ہے لہٰذا یہ شخص جس نے بادشاہ کے اکراہ کی وجہ سے زنا کیا ہے اس کو حد نہیں لگائی جا سکتی، لیکن اگر اکراہ کسی اور نے کیا ہے تو کسی اور کے اکراہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے لہٰذا اس شخص کو حدِ زنا لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“، امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَمَنْ أَكْرَهَهُ السُّلْطَانُ حَتَّى زَنَى“، اور جس کو بادشاہ نے مجبور کیا یہاں تک کہ اس نے زنا کر لیا ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“، تو اس پر حد نہیں ہے ”وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ أَوَّلًا: يُحَدُّ“، اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پہلے فرماتے تھے کہ اس کو حد لگائی جائے گی، بادشاہ بھی اکراہ کرے اور کوئی زنا کر لے... کر لے تو اس کو حد لگائی جائے گی۔ ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر کا بھی، امام زفر بھی فرماتے ہیں بادشاہ بھی اکراہ کرے تو یہ اکراہ معتبر نہیں۔ تو اس آدمی کو حد لگائیں گے اور جب بادشاہ کا اکراہ معتبر نہیں تو کسی اور کا اکراہ بطریق اولیٰ معتبر نہیں۔ لہٰذا امام زفر کے نزدیک کوئی بھی اکراہ کرے تو پھر بھی حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا ”لِأَنَّ الزِّنَا مِنَ الرَّجُلِ لَا يَكُونُ إِلَّا بَعْدَ انْتِشَارِ الْآلَةِ“ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الزِّنَا مِنَ الرَّجُلِ“ اس لیے کیونکہ زنا جو ہے مرد کی طرف سے ”لَا يَكُونُ“ وہ نہیں ہو سکتا ”إِلَّا بَعْدَ انْتِشَارِ الْآلَةِ“ مگر اس کے آلۂ تناسل میں انتشار کے بعد۔ آلۂ تناسل میں انتشار آ جائے یعنی سختی آ جائے اس کے بعد ہی زنا ہو سکتا ہے، اس کے بغیر زنا نہیں ہو سکتا اور یہ آلۂ تناسل میں انتشار کا آنا یہ زنا پر راضی ہونے کی دلیل ہے۔ معلوم ہوا یہ فعل وہ اپنی مرضی سے کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الزِّنَا مِنَ الرَّجُلِ لَا يَكُونُ إِلَّا بَعْدَ انْتِشَارِ الْآلَةِ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مرد کی طرف سے زنا نہیں ہو سکتا مگر انتشارِ آلہ کے بعد ”وَذٰلِكَ دَلِيلُ التَّوَاعِيَةِ“ اور یہ انتشارِ آلہ جو ہے تواعیۃ کی دلیل ہے یعنی ساتھ دینے کی دلیل ہے کہ وہ رضامندی سے یہ فعل کر رہا ہے۔ ”ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ“ پھر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس سے رجوع فرما لیا ”فَقَالَ لَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو فرمایا اس پر حد نہیں ہے جس کو بادشاہ نے مجبور کیا ہے، اس پر حد نہیں ہے ”لِأَنَّ سَبَبَهُ الْمُلْجِئَ قَائِمٌ ظَاهِرًا“۔ ملجئ بھئی، الجأ یلجئ الجاءً کا معنی ہے کسی کو مجبور کرنا۔ اس لیے کیونکہ جب بادشاہ نے مجبور کیا ہے تو وہ سببِ ملجئ موجود ہے۔ بادشاہ یا اس کے آدمی تلوار لے کر سر پر کھڑے ہیں بھئی تو وہ سبب جو اکراہ پر مجبور کر رہا ہے وہ ظاہراً موجود ہے۔ لہٰذا اس کے یہ فعل جو ہے رضامندی سے نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ سَبَبَهُ الْمُلْجِئَ قَائِمٌ ظَاهِرًا“ اس لیے کیونکہ وہ سبب جو مجبور کرنے والا ہے ”قَائِمٌ“ وہ موجود ہے ”ظَاهِرًا“ ظاہری طور پر۔ ”وَالِانْتِشَارُ دَلِيلٌ مُتَرَدِّدٌ“ اور آلۂ تناسل کا انتشار جو ہے ”دَلِيلٌ مُتَرَدِّدٌ“ وہ تو ایک متردد دلیل ہے۔ اس دلیل میں تردد ہے یعنی اس میں رضامندی کے علاوہ غیر کا بھی احتمال ہے اور جب غیرِ رضامندی کا بھی احتمال وہاں پر آ گیا تو اب اس کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالِانْتِشَارُ دَلِيلٌ مُتَرَدِّدٌ“ اور انتشارِ آلہ جو ہے یہ ایسی دلیل ہے جس میں تردد ہے یعنی جس میں غیر کا بھی احتمال ہے ”لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ“ اس لیے کیونکہ انتشار کبھی بغیر ارادے کے بھی ہوتا ہے ”لِأَنَّ الِانْتِشَارَ قَدْ يَكُونُ طَبْعًا لَا طَوْعًا“ اس لیے کیونکہ انتشار جو ہے کبھی کبھار طبعاً ہوتا ہے ”لَا طَوْعًا“ رضامندی کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ طبعاً ہوتا ہے ”كَمَا فِي النَّائِمِ“ جیسے کہ سوئے ہوئے شخص میں ہے ”فَأَوْرَثَ شُبْهَةً“ تو اس نے شبہ پیدا کر دیا۔ جب انتشار طبعاً بھی ہو سکتا ہے تو اس انتشار کو ساتھ دینے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اس کے دلیل ہونے میں شبہ آ گیا۔ تو یہ معنی ہے ”فَأَوْرَثَ شُبْهَةً“ تو اس نے شبہ پیدا کر دیا۔ ”وَإِنْ أَكْرَهَهُ غَيْرُ السُّلْطَانِ“ اور اگر اس شخص کو بادشاہ کے علاوہ کسی اور نے مجبور کیا ہے زنا پر ”حُدَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو اس کو حد لگائی جائے گی امام صاحب کے نزدیک ”وَقَالَا: لَا يُحَدُّ“ اور صاحبین فرماتے ہیں اس کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّ الْإِكْرَاهَ عِنْدَهُمَا قَدْ يَتَحَقَّقُ مِنْ غَيْرِ السُّلْطَانِ“ اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک اکراہ جو ہے غیرِ بادشاہ کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے ”لِأَنَّ الْمُؤَثِّرَ خَوْفُ الْهَلَاكِ“ اس لیے کیونکہ اکراہ کے اندر وہ چیز جو اثر ڈالتی ہے وہ ہلاکت کا خوف ہے۔ اکراہ کی وجہ سے ایک آدمی ایک فعل کیوں کرتا ہے؟ کیونکہ اسے ہلاکت کا خوف ہوتا ہے اور ہلاکت کا یہ خوف جیسے بادشاہ کی وجہ سے ہو سکتا ہے کسی اور کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِكْرَاهَ عِنْدَهُمَا قَدْ يَتَحَقَّقُ مِنْ غَيْرِ السُّلْطَانِ“ اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک مجبور کرنا بادشاہ کے علاوہ سے بھی ہو سکتا ہے ”لِأَنَّ الْمُؤَثِّرَ خَوْفُ الْهَلَاكِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو اثر ڈالنے والی ہے وہ ہلاکت کا خوف ہے ”وَأَنَّهُ يَتَحَقَّقُ مِنْ غَيْرِهِ“ اور یہ ہلاکت کا خوف تو بادشاہ کے علاوہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک چاہے اکراہ کرنے والا بادشاہ ہو چاہے کوئی اور ہو، دونوں صورتوں میں اکراہ موجود ہے، لہٰذا حد ساقط ہو جائے گی کیونکہ حد کے لیے حد کے لیے رضامندی کا ہونا ضروری تھا بھئی۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِكْرَاهَ مِنْ غَيْرِهِ لَا يَدُومُ إِلَّا نَادِرًا“ ”أَنَّ الْإِكْرَاهَ مِنْ غَيْرِهِ“ کہ بادشاہ کے علاوہ کسی اور کی جانب سے اکراہ پایا جائے تو ”لَا يَدُومُ“ یہ دائمی نہیں ہو سکتا یعنی لمبا نہیں ہو سکتا ”إِلَّا نَادِرًا“ مگر نادر طور پر ہی۔ یعنی بادشاہ کے علاوہ کوئی اور اکراہ کرے وہ تھوڑی دیر کا اکراہ ہو سکتا ہے، دائمی یا طویل مدت کے لیے نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِكْرَاهَ مِنْ غَيْرِهِ لَا يَدُومُ إِلَّا نَادِرًا“ کہ بادشاہ کے علاوہ کی طرف سے جو اکراہ ہو گا وہ دائمی یعنی طویل نہیں ہو سکتا ”إِلَّا نَادِرًا“ مگر نادر طور پر ہی ”لِتَمَكُّنِهِ مِنَ الِاسْتِعَانَةِ بِالسُّلْطَانِ أَوْ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ بھئی امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بادشاہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے اگر اکراہ ہو بھی تو وہ تھوڑی دیر کے لیے ہو سکتا ہے زیادہ دیر کے لیے نہیں ہو سکتا، کیوں؟ کہتے ہیں ”لِتَمَكُّنِهِ مِنَ الِاسْتِعَانَةِ بِالسُّلْطَانِ“ اس وجہ سے کہ یہ شخص قادر ہے کہ بادشاہ سے مدد طلب کر لے ”أَوْ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ یا مسلمانوں کی جماعت سے مدد طلب کر لے ”وَتَمَكُّنِهِ دَفْعَهُ بِنَفْسِهِ بِالسِّلَاحِ“ اور نیز یہ شخص اس بات پر قادر ہے ”دَفْعَهُ بِنَفْسِهِ“ کہ وہ خود اس اکراہ کو دور کر دے ”بِالسِّلَاحِ“ اسلحے کے ذریعے۔ غیر کی طرف سے اکراہ جو ہے وہ طویل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ شخص بادشاہ سے بھی مدد مانگ سکتا ہے اور اپنے قریبی مسلمانوں سے بھی مدد مانگ سکتا ہے اور خود بھی اسلحے کے ذریعے اس اکراہ کو دور کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَمَكُّنِهِ دَفْعَهُ بِنَفْسِهِ بِالسِّلَاحِ“ اور اس وجہ سے کہ یہ شخص قادر ہے کہ یہ خود بھی اس اکراہ کو دور کر دے اسلحے کے ذریعے ”وَالنَّادِرُ لَا حُكْمَ لَهُ“ اور نادر جو ہے اس کا حکم نہیں ہوتا۔ یعنی غیر کی طرف سے اکراہ طویل نہیں ہو سکتا مگر نادر طور پر ہی اور نادر کا تو کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالنَّادِرُ لَا حُكْمَ لَهُ“ اور نادر جو ہے اس کا تو کوئی حکم نہیں ہوتا ”فَلَا يَسْقُطُ بِهِ الْحَدُّ“ لہٰذا اس اکراہ کی وجہ سے حد ساقط نہیں ہو گی ”بِخِلَافِ السُّلْطَانِ“ بخلاف بادشاہ کے ”لِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُهُ الِاسْتِعَانَةُ بِغَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ یہاں اس آدمی کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ دوسروں سے مدد طلب کر لے، کوئی دوسرا اس کی مدد کے لیے نہیں آئے گا بادشاہ کے خلاف بھئی، تو یہاں اس کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ دوسروں سے مدد طلب کر لے ”وَلَا الْخُرُوجُ بِالسِّلَاحِ عَلَيْهِ“ اور یہ خود بھی اسلحے کے ساتھ اس کے مقابلے میں نہیں نکل سکتا ”فَافْتَرَقَا“ تو دونوں میں فرق آ گیا، سلطان اور غیر سلطان جدا ہو گئے، دونوں کے اکراہ مختلف ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”بِخِلَافِ السُّلْطَانِ“ بخلاف بادشاہ کے ”لِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُهُ الِاسْتِعَانَةُ بِغَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص کے لیے ممکن نہیں ہے کہ بادشاہ کے علاوہ کسی اور سے مدد طلب کرے، کیونکہ کوئی بھی بادشاہ کے مقابلے میں مدد کے لیے نہیں آئے گا اور نیز ”وَلَا الْخُرُوجُ بِالسِّلَاحِ عَلَيْهِ“ اور اس شخص کے لیے ممکن نہیں ہے کہ یہ اسلحے کے ساتھ بادشاہ کے خلاف نکلے ”فَافْتَرَقَا“ تو بادشاہ اور غیر بادشاہ جدا ہو گئے۔ اور یاد رکھو، علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے، امام صاحب فرماتے ہیں اکراہ صرف بادشاہ کی طرف سے ہو سکتا ہے کسی اور کی طرف سے نہیں اور صاحبین فرماتے ہیں اکراہ کسی کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے، تو علماء فرماتے ہیں یہاں جو صاحبین اور امام صاحب کے اختلاف ہے وہ کوئی دلائل کی وجہ سے اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ زمانے کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کا زمانہ ایسا تھا کہ اس کے اندر بادشاہ کے علاوہ کوئی شخص تصور نہیں کر سکتا تھا کسی پر اکراہ کا، کسی پر ظلم کرنے کا، جبکہ صاحبین کا زمانہ دیکھو امام صاحب کے زمانے کے قریب ہی ہے، ساتھ ہی ہے لیکن تھوڑا سا ہی زمانہ گزرا تو اتنا فرق پڑ گیا کہ ان کے زمانے میں بادشاہ کے علاوہ کوئی اور بھی اکراہ کر سکتا تھا، تو اس لیے انہوں نے کہا بادشاہ کے علاوہ کوئی اور بھی اکراہ کر سکتا ہے اور ہمارے زمانے میں؟ ہمارے زمانے میں تو کوئی بھی اکراہ کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ وَقَالَتْ هِيَ تَزَوَّجَنِي أَوْ أَقَرَّتْ بِالزِّنَا وَقَالَ الرَّجُلُ تَزَوَّجْتُهَا فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ فِي ذٰلِكَ“ اب بھئی وہ چوتھی شرط کا بیان آ گیا۔ اجرائے حد کے لیے چار شرطیں تھیں: پہلی شرط کہ دار الاسلام ہو، دوسری شرط کہ زنا کرنے والا مکلف ہو، تیسری شرط کہ رضامندی ہو اور چوتھی شرط کہ دونوں کا اس فعل کے زنا ہونے پر اتفاق ہو۔ اگر دونوں میں سے ایک بھی کہہ دیتا ہے کہ میں نے تو زنا نہیں کیا، میں نے تو نکاح کیا تھا تو اس کی وجہ سے شبہ آ گیا اور حد شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا حد ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے چار مختلف مجلسوں میں اقرار کیا کہ میں نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے۔ چار مجلسوں کو ذکر کیا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اقرار والے کی ہر مجلس الگ ہونی چاہیے پھر ہی اس کے چار اقرار شمار ہوں گے۔ تو اس نے چار الگ مجلسوں کے اندر اقرار کیا کہ میں نے فلانی سے زنا کیا ہے، لیکن وہ فلانی عورت سے پوچھا گیا تو اس نے کہا میں نے تو اس سے نکاح کیا ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں حد ساقط ہو جائے گی۔ عورت پر بھی حد نہیں اور مرد پر بھی حد نہیں۔ بھئی مرد پر کیوں نہیں حد آئے گی؟ اس نے چار مجلسوں کے اندر اقرار کیا ہے کہ میں نے زنا کیا ہے، کہتے ہیں وجہ یہ کہ دونوں ایک ہی فعل کے بارے میں بیان کر رہے ہیں وہ مرد اور عورت۔ مرد اس کو زنا کہہ رہا ہے اور عورت اس کو نکاح کہہ رہی ہے، لہٰذا جب ایک ہی فعل کی وجہ سے عورت پر حد نہیں آ رہی تو مرد پر بھی حد نہیں آ سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ“ اور جس شخص نے چار مرتبہ اقرار کیا مختلف مجلسوں میں ”فِي مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ“ یاد رکھو ”مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ“ یہ موصوف صفت ہیں۔ ”مَجَالِسَ“ یہ موصوف ہے اور ”مُخْتَلِفَةٍ“ اس کی صفت ہے کیونکہ جمع بتاویلِ جماعت واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے بھئی، اور ان پر ”فِي“ داخل ہو رہا ہے۔ البتہ ”مَجَالِسَ“ پر کسرہ نہیں آیا کیونکہ یہ غیر منصرف ہے، یہ جمع منتہی الجموع کا وزن ہے اور یہ خود دو سببوں کے قائم مقام ہے، تو یہ ”مَجَالِسَ“ کا لفظ مجرور ہے البتہ اس کا جر آتا ہی فتحہ کی صورت میں ہے کیونکہ یہ غیر منصرف ہے اور جبکہ ”مُخْتَلِفَةٍ“ اس پر جر آئے گا کیونکہ وہ تو غیر منصرف نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ“ اور جس شخص نے مختلف مجلسوں میں چار مرتبہ اقرار کیا ”أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ“ کہ اس نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے ”بِفُلَانَةَ“ یہاں یہ تنوین نہیں آئے گی کیونکہ یہ بھی غیر منصرف ہے، یہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ”فُلَانَةُ“ کا لفظ غیر منصرف ہے کیونکہ یہ فلان اور فلانۃ یہ کنایہ ہوتے ہیں کسی علم سے تو یہ علم کے درجے میں ہیں، تو یہاں دو سبب آ گئے ”فُلَانَةُ“ کے اندر ایک تو علمیت آ گئی کیونکہ یہ علم کے درجے میں ہے اور دوسری تانیث آ گئی تو یہ غیر منصرف ہے بھئی، اور حوالہ بھی میں ذکر کرتا ہوں کیونکہ بعض اوقات کوئی اشکال کر دے، یاد رکھنا کافیہ کی مشہور و معروف شرح ہے علامہ رضی کی، تو کافیہ کے اندر جہاں معرفہ اور نکرہ کی بحث آتی ہے وہاں پر علامہ رضی یہ بات ذکر فرماتے ہیں کہ یہ فلان اور فلانۃ جو ہیں یہ معرفہ ہیں بھئی، اور کہتے ہیں اسی لیے ان پر الف لام بھی داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ پہلے سے ہی معرفہ ہیں تو ان پر الف لام لانے کا کوئی فائدہ نہیں، تو ان پر الف لام بھی داخل نہیں ہوتا اور نیز یہ ”فُلَانَةُ“ یہ غیر منصرف ہے اس بات کو بھی وہ ذکر فرماتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اقرار کیا چار مجلسوں میں ”أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ“ کہ اس نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے ”وَقَالَتْ هِيَ“ اور وہ عورت کہتی ہے ”تَزَوَّجَنِي“ کہ اس آدمی نے مجھ سے نکاح کیا ہے ”وَقَالَتْ هِيَ“ یاد رکھو یہ جو ”هِيَ“ ہے یہ ”قَالَتْ“ کے لیے فاعل ہے بھئی، یا یوں کہیں کہ یہ فاعلِ معنوی ہے، قالت کے اندر ہی ضمیر وہ مؤکد اور ”هِيَ“ ضمیر اس کی تاکید ہے۔ تو ”وَقَالَتْ هِيَ“ اور وہ عورت کہتی ہے ”تَزَوَّجَنِي“ کہ اس آدمی نے تو مجھ سے نکاح کیا ہے ”أَوْ أَقَرَّتْ بِالزِّنَا“ یا وہ عورت زنا کا اقرار کرتی ہے ”وَقَالَ الرَّجُلُ تَزَوَّجْتُهَا“ اور مرد کہتا ہے کہ میں نے تو اس سے نکاح کیا ہے ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس شخص پر حد نہیں ہے ”وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ فِي ذٰلِكَ“ اور اس مرد پر مہر واجب ہے اس میں، یعنی دونوں صورتوں میں اس آدمی کو مہر دینا پڑے گا۔ حد تو نہیں آئے گی لیکن مملکتِ اسلامیہ کے اندر جو بھی وطی ہو وہ حد یا مہر سے خالی نہیں، حد نہیں آئی تو مہر آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ فِي ذٰلِكَ“ اور اس آدمی پر مہر ہو گا اس صورت میں یعنی ان دونوں صورتوں میں ”لِأَنَّ دَعْوَى النِّكَاحِ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ“ اس لیے کیونکہ نکاح کا جو دعویٰ ہے وہ بھی سچ کا احتمال رکھتا ہے، دونوں میں سے ایک نے نکاح کا دعویٰ کر دیا تو یہ بھی سچ کا احتمال رکھتا ہے ”وَهُوَ يَقُومُ بِالطَّرَفَيْنِ“ اور نکاح جو ہے وہ تو دونوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے، نکاح تو دونوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے، نکاح تو مرد اور عورت کے درمیان ہوتا ہے تو اس کا تعلق دونوں سے ہے بھئی ”فَأَوْرَثَ شُبْهَةً“ تو اس دعوے نے دوسرے کے دعوے میں شبہ پیدا کر دیا، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا سَقَطَ الْحَدُّ“ اور جب حد ساقط ہو گئی ”وَجَبَ الْمَهْرُ“ تو مہر واجب ہو گیا ”تَعْظِيمًا لِخَطَرِ الْبُضْعِ“۔ بضع میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فرج المرأۃ کو کہتے ہیں بھئی، عورت کی شرمگاہ کو۔ ”تَعْظِيمًا لِخَطَرِ الْبُضْعِ“ خطر کہتے ہیں حرمت اور احترام کو بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا سَقَطَ الْحَدُّ“ اور جب حد ساقط ہو گئی ”وَجَبَ الْمَهْرُ“ تو مہر واجب ہو گیا ”تَعْظِيمًا لِخَطَرِ الْبُضْعِ“ بضعہ کی حرمت کی تعظیم کے طور پر، کہ بضعہ کیا ہے؟ ایک انسانی عضو ہے اور انسان کو اللہ نے معزز بنایا ہے تو ہر انسانی عضو بھی معزز ہے لہٰذا بضعہ بھی ایک معزز عضو ہوا، لہٰذا اس کی تعظیم کے طور پر مہر واجب ہو گا کہ حد تو نہیں آ سکی لیکن بہرحال جرمانے کے طور پر جرمانے کے طور پر مہر واجب ہو جائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ زَنَى بِجَارِيَةٍ فَقَتَلَهَا فَإِنَّهُ يُحَدُّ وَعَلَيْهِ الْقِيمَةُ“ جی یہ مشکل مسئلہ ہے بھئی توجہ سے سنیے۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے ایک باندی سے زنا کر لیا اور پھر اس فعلِ زنا سے ہی وہ باندی ہلاک ہو گئی۔ تو اس صورت میں اس آدمی کے دو جرم ہو گئے: ایک اس نے زنا کیا ہے تو اس کو حد بھی لگائی جائے گی اور دوسرا اس نے اس باندی کو ہلاک کیا ہے لہٰذا اب اس کے ذمے باندی کی قیمت ہے، یہ باندی کے مالک کو ادا کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ زَنَى بِجَارِيَةٍ“ اور جس شخص نے کسی باندی سے زنا کیا ”فَقَتَلَهَا“ تو اس نے اس کو قتل کر دیا ”فَإِنَّهُ يُحَدُّ“ تو اس آدمی کو حد لگائی جائے گی ”وَعَلَيْهِ الْقِيمَةُ“ اور اس آدمی پر اس باندی کی قیمت واجب ہو گی۔ ”مَعْنَاهُ“ اب صاحبِ ہدایہ یہاں سے اس قول کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں، اس کی وضاحت کر رہے ہیں کہ باندی سے زنا کیا اور اسے قتل کر دیا اس کا کیا معنی؟ صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے معنیٰ یہ ہے کہ فعلِ زنا ہی کے ذریعے اس کو قتل کیا ہے۔ کہتے ہیں ”مَعْنَاهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کا معنیٰ یہ ہے ”قَتَلَهَا بِفِعْلِ الزِّنَا“ کہ اس شخص نے فعلِ زنا کے ذریعے ہی سے قتل کیا ہے۔ اب علت بیان کرنے لگے ہیں، متن میں آیا تھا اس آدمی پر حد بھی ہو گی اور اس کو باندی کی قیمت بھی دینا پڑے گی، تو اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ جَنَى جِنَايَتَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس آدمی نے دو جرم کیے ہیں ”فَيُوَفَّرُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حُكْمُهُ“ وفر یوفر توفیر کا معنیٰ ہے کسی کو اس کا پورا حصہ دینا، کسی کو اس کا پورا حق ادا کرنا، تو یہاں اس نے دو جرم کیے ہیں لہٰذا ہر جرم کو اس کا پورا حکم دیا جائے گا۔ ایک جرم زنا ہے اس کی وجہ سے حد آئے گی اور دوسرا جرم باندی کا قتل ہے لہٰذا اس کی وجہ سے اس باندی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آپ کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ اس آدمی کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا، نہیں بھئی قصاصاً قتل وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی شخص دوسرے کو آلۂ قتل سے قتل کرے یعنی اسے گولی مار دی یا اسے تلوار وغیرہ کے ذریعے قتل کیا تو پھر وہاں قصاص آتا ہے اور صورتوں کے اندر تو دیت آیا کرتی ہے اور یہ باندی ہے تو یہاں باندی کی قیمت آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ جَنَى جِنَايَتَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص نے دو جرم کیے ہیں ”فَيُوَفَّرُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حُكْمُهُ“ لہٰذا ان دونوں جرموں میں سے ہر ایک جرم کو اس کا پورا حکم دیا جائے گا۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ لَا يُحَدُّ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّ تَقَرُّرَ ضَمَانِ الْقِيمَةِ سَبَبٌ لِمِلْكِ الْأَمَةِ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جب باندی کا ضمان ادا کر دے گا تو یہ باندی کا مالک بن گیا، باندی کا اس لیے کیونکہ اس نے قیمت ادا کرنی ہے باندی کی تو جب یہ ضمانِ قیمت ادا کرے گا، کسی چیز کی جب قیمت ادا کر دی جائے تو انسان اس کا مالک بن جاتا ہے تو یہاں پر بھی یہ شخص باندی کا مالک ہو گا اور کس وقت سے مالک ہو گا؟ جس وقت باندی ہلاک ہوئی تھی۔ اور یاد رکھو حد قائم ہونے سے پہلے اگر انسان اس مال کا مالک بن جائے تو پھر حد ساقط ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے چوری کی ہے اور چوری قاضی کے پاس ثابت بھی ہو گئی، چوری قاضی کے پاس ثابت بھی ہو گئی اور آپ جانتے ہیں حد جو ہے اللہ کا حق ہے، کسی کو اس میں سفارش کرنے کی یا معاف کرنے کی اجازت نہیں ہے، تو قاضی کے پاس چور کی چوری ثابت ہو گئی لیکن ابھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا تھا کہ وہ جو مالک تھا جس کی چوری ہوئی تھی اس مالک نے وہ سامان چور کو ہبہ کر دیا کہ تم اس کے مالک ہو گئے، تو یاد رکھو یہاں حد جاری ہونے سے پہلے چور اس مالِ مسروق کا، اس چوری شدہ مال کا مالک بن گیا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ تو مالک نے اسے ہبہ کر دیا تو اس مالک ہونے کی نسبت اس وقت کی طرف کی جائے گی جب اس نے یہ سامان اٹھایا تھا چوری کیا تھا، گویا اس وقت سے ہی یہ مالک ہے، گویا اس نے اپنا ہی مال اٹھایا تھا تو لہٰذا حد ساقط ہو گئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں جب یہ باندی کی قیمت دے گا ضمان کے طور پر تو یہ باندی کا مالک بن گیا، جب مالک بن گیا حد قائم ہونے سے پہلے ہی تو پھر اس صورت میں حد ساقط ہو جایا کرتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ لَا يُحَدُّ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّ تَقَرُّرَ ضَمَانِ الْقِيمَةِ“ اس لیے کیونکہ قیمت کے ضمان کا ثابت ہونا ”سَبَبٌ لِمِلْكِ الْأَمَةِ“ یہ باندی کی ملکیت کا سبب ہے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”لِأَنَّ تَقَرُّرَ ضَمَانِ الْقِيمَةِ“ اس لیے کیونکہ ضمانِ قیمت کا ثابت ہو جانا ”سَبَبٌ لِمِلْكِ الْأَمَةِ“ یہ باندی کی ملکیت کا سبب ہے ”فَصَارَ كَمَا إِذَا اشْتَرَاهَا بَعْدَ مَا زَنَى بِهَا“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس نے اس باندی کو خرید لیا ہو ”بَعْدَ مَا زَنَى بِهَا“ بعد اس کے ساتھ زنا کرنے کے۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص ایک باندی سے زنا کرے اور پھر حد قائم ہونے سے پہلے اس باندی کو خرید لے، تو اس صورت میں بھی یاد رکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اختلاف ہے طرفین سے، طرفین فرماتے ہیں کہ حد آئے گی، اس نے بعد میں خریدا ہے جس وقت اس نے زنا کیا تھا اس وقت تو یہ اس باندی کا مالک نہیں تھا لہٰذا طرفین فرماتے ہیں اس آدمی پر حد آئے گی جس نے باندی کو زنا کے بعد خریدا ہے جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آدمی پر حد نہیں آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی توجہ ہے؟ مسئلہ ذکر ہو رہا ہے کہ ایک شخص نے باندی سے زنا کیا اور اسی سے وہ مر گئی تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس باندی کی قیمت دے دے گا جب قیمت دے دے گا تو حد بھی ساقط ہو گئی، یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی باندی سے زنا کرے اور پھر حد قائم ہونے سے پہلے اس کو خرید لے تو جب حد سے پہلے مالک بن گیا تو وہ حد ساقط ہو جائے گی جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ نہیں حد ساقط نہیں ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَمَا إِذَا اشْتَرَاهَا بَعْدَ مَا زَنَى بِهَا“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس شخص نے باندی کو خرید لیا ہو اس کے ساتھ زنا کرنے کے بعد ”وَهُوَ عَلَى هٰذَا الِاخْتِلَافِ“ اور یہ مسئلہ بھی اسی اختلاف پر ہے، یعنی اس میں بھی یہ جو باندی خریدنے والا مسئلہ ہے اس میں بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور طرفین کا اختلاف ہے بھئی۔ ”وَاعْتِرَاضُ سَبَبِ الْمِلْكِ قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ يُوجِبُ سُقُوطَهُ“ ابھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے کہ یہاں پر یہ شخص جو ہے باندی کی قیمت ادا کرے گا بطورِ ضمان کے تو لہٰذا یہ حد کے قائم ہونے سے پہلے ہی مالک بن گیا، جب مالک بن گیا تو اب حد ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَاعْتِرَاضُ سَبَبِ الْمِلْكِ“ اور ملکیت کے سبب کا پیش آ جانا ”قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ“ حد کے قائم کرنے سے پہلے ”يُوجِبُ سُقُوطَهُ“ یہ اس حد کے ساقط ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ حد لگنے سے پہلے اگر ملکیت کا سبب پیش آ جائے تو یہ حد کو ساقط کر دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَاعْتِرَاضُ سَبَبِ الْمِلْكِ قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ“ اور حد قائم کرنے سے پہلے ملکیت کا سبب پیش آنا ”يُوجِبُ سُقُوطَهُ“ یہ ثابت کرتا ہے حد کے ساقط ہو جانے کو ”كَمَا إِذَا مَلَكَ الْمَسْرُوقَ قَبْلَ الْقَطْعِ“ جیسے کہ چور جو ہے اس مسروقہ سامان کا مالک بن جائے ”قَبْلَ الْقَطْعِ“ ہاتھ کاٹنے سے پہلے بھئی۔ تو جیسے چور اگر مسروقہ مال کا مالک بن جائے ہاتھ کٹنے سے پہلے تو پھر بالاتفاق حد ساقط ہو جاتی ہے تو یہاں پر بھی یہاں پر بھی حد سے پہلے سببِ ملکیت آ گیا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ ”وَلَهُمَا“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ ضَمَانُ قَتْلٍ فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ لِأَنَّهُ ضَمَانُ دَمٍ“ طرفین فرماتے ہیں کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ یہ ضمانِ قیمت ہے، یہ جو باندی کی قیمت ادا کر رہا ہے یہ ضمانِ قیمت نہیں ہے بلکہ ہم کہتے ہیں یہ ضمانِ قتل ہے۔ ضمانِ قیمت وہ ہوتا ہے جس میں آدمی دوسری چیز کا مالک بن جاتا ہے لیکن یہاں تو باندی ہلاک ہو چکی ہے، اس کے مالک کیسے بن سکتا ہے اب یہ؟ تو یہ جو ضمان دے رہا ہے یہ ضمانِ قیمت نہیں ہے بلکہ یہ ضمانِ قتل ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ ضَمَانُ قَتْلٍ“ کہ یہ ضمانِ قتل ہے ضمانِ قیمت نہیں ”فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ“ لہٰذا یہ ملکیت ثابت نہیں کرتا کیونکہ مردہ باندی وہ تو ملکیت کا محل ہی نہیں ہے، تو کہتے ہیں یہ ضمانِ قتل ہے ”فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ“ تو یہ ملکیت کو ثابت نہیں کرتا ”لِأَنَّهُ ضَمَانُ دَمٍ“ اس لیے کیونکہ یہ خون کا ضمان ہے یعنی قتل کا ضمان ہے۔ ”وَلَوْ كَانَ يُوجِبُهُ“ یہاں سے تسلیمی جواب دے رہے ہیں، پہلا جواب کیا کہ یہ ضمانِ قیمت ہے یہ بات ہمیں تسلیم ہی نہیں ہے بلکہ یہ ضمانِ قتل ہے بھئی اور اب تسلیمی جواب دے رہے ہیں کہ اگر ہم آپ کی بات مان بھی لیں کہ یہ ضمانِ قیمت ہے تو پھر بھی جو ضمانِ قیمت دے گا تو یہ باندی کا مالک بنے گا تو اس ملکیت کی نسبت کی جائے گی اس ہلاکت کے وقت کی طرف جس وقت باندی ہلاک ہوئی تھی، لیکن زنا تو باندی کی ہلاکت سے پہلے ہی ہو چکا ہے لہٰذا اس زنا کے وقت میں اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا اگر اس کو ضمانِ قیمت بھی مان لیا جائے پھر بھی پھر بھی حد ساقط نہیں ہوتی کیونکہ حد تو ہلاکت سے پہلے ہی ثابت ہو چکی ہے بھئی اور مالک تو یہ ہلاکت کے وقت بنا ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھو، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو صفات ہیں، چیزوں کی جو صفات ہیں ان میں تجدد ہوتا رہتا ہے، ہر ہر لمحے کے اندر نئی صفت آ رہی ہے، مثلاً یہ جو چیزوں کا رنگ ہے یہ رنگ بھی ایک صفت ہے ان کی، اور علماء فرماتے ہیں کہ صفات کے اندر تجدد ہوتا ہے، صفات کے اندر بقا نہیں، ہر ہر لمحے میں نئی صفت آ رہی ہے یا دوسری مثال لے لو جیسے ایک گھر کی رہائش ہے، کوئی آدمی گھر کو کرائے پر دیتا ہے اور اس کرایہ وصول کرتا ہے، یہ کرایہ عوض ہے اس رہائش کا، اور یہ رہائش گھر کی صفت ہے اور صفت کے اندر بقا نہیں، جوں جوں وقت گزر رہا ہے گھر کی رہائش گزرتی جا رہی ہے۔ کیا کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ سارا سال اپنا گھر کرائے پر نہیں دیتا بلکہ اس کی رہائش کو جمع کرتا جائے اور پھر سال کے آخر میں اکٹھی وہ ساری رہائش کرائے پر دے دے؟ تو ایسا نہیں ہو سکتا بھئی کیونکہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے اس گھر کی رہائش یعنی یوں کہو اس گھر کے منافع گزرتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ رہائش کیا ہے؟ صفت ہے، یہ منافع ہیں اور منافع کے اندر بقا نہیں۔ ذات کے اندر تو بقا ہوتی ہے، ایک پتھر آپ کے سامنے آج پڑا ہے دس دن بعد بھی یہ پتھر اسی طرح ہے کیونکہ یہ ایک ذات ہے، ذات کے اندر تو بقا ہوتی ہے لیکن صفات کے اندر بقا نہیں ہے تو لہٰذا اگر ہم اس کو ضمانِ قیمت بھی مان لیں تو پھر بھی ہلاکت کے وقت یہ باندی کا مالک بنا ہے اور ہلاکت سے پہلے ہی یہ منافع وصول کر چکا ہے اور ان منافع کے وقت تو یہ مالک نہیں تھا، لہٰذا اس وقت تو حد ثابت ہو گئی تھی تو وہ حد اب ساقط نہیں ہو گی، یہ طرفین فرماتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ يُوجِبُهُ“ اور اگر آپ کی بات مان لیں کہ یہ جو ضمان ہے یہ ملکیت کو ثابت کرتا ہے، پیچھے آیا تھا نا ”أَنَّهُ ضَمَانُ قَتْلٍ فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ“ یہ ملکیت کو ثابت ہی نہیں کرتا اور ”وَلَوْ كَانَ يُوجِبُهُ“ اور اگر ہم آپ کی بات مان لیں کہ یہ ملکیت کو ثابت کرتا ہے یعنی یہ ضمانِ قیمت ہے تو ”فَإِنَّمَا يُوجِبُهُ فِي الْعَيْنِ“ تو یہ تو ملکیت کو ثابت کرے گا اس ذات کے اندر، ذات کا مالک بنے گا صفات کا مالک تو نہیں، صفات تو پہلے ہی گزر چکی ہیں یعنی منافع تو پہلے ہی گزر چکے ہیں بھئی۔ توجہ سے سنو بھئی تو کہتے ہیں ”فَإِنَّمَا يُوجِبُهُ فِي الْعَيْنِ“ تو یہ تو ملکیت کو اس باندی کی ذات میں ثابت کرے گا ”كَمَا فِي هِبَةِ الْمَسْرُوقِ“ جیسے چوری شدہ مال کے ہبہ کے اندر، اگر مالک اس چور کو اپنا چوری کیا ہوا مال ہبہ کر دے تو دیکھو وہاں ملکیت اس عین کے اندر آ گئی، اس عین کے اندر آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”كَمَا فِي هِبَةِ الْمَسْرُوقِ“ جیسے چوری شدہ مال کے ہبہ کرنے کے اندر ذات کے اندر ہی ملکیت آ جاتی ہے ”لَا فِي مَنَافِعِ الْبُضْعِ“ تو یہ باندی کی ذات میں ملکیت آئے گی ”لَا فِي مَنَافِعِ الْبُضْعِ“ بضع کے منافع کے اندر تو ملکیت نہیں آئی ”لِأَنَّهَا اسْتُوْفِيَتْ“ اس لیے کیونکہ وہ منافع تو وصول ہو چکے ہیں یعنی اس سے پہلے ہی زنا وہ کر چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا اسْتُوْفِيَتْ“ اس لیے کیونکہ وہ منافع تو وصول ہو چکے ہیں ”وَالْمِلْكُ يَثْبُتُ مُسْتَنِدًا“ اور یہ ملکیت ثابت ہو گی منسوب ہو کر، یعنی جس وقت باندی ہلاک ہوئی تھی اس وقت سے یہ مالک ہے لیکن اس ہلاکت سے بھی پہلے یہ منافع وصول کر چکا ہے یعنی زنا کر چکا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمِلْكُ يَثْبُتُ مُسْتَنِدًا“ اور یہ ملکیت جو ہے منسوب ہو کر ثابت ہو گی ”فَلَا يَظْهَرُ فِي الْمُسْتَوْفَى“ لہٰذا یہ ملکیت ظاہر نہیں ہو گی ان منافع کے حق میں ”الْمُسْتَوْفَى“ جو پہلے ہی وصول کیے جا چکے ہیں ”لِكَوْنِهَا مَعْدُومَةً“ اس لیے کیونکہ وہ معدوم ہو چکے ہیں کیونکہ صفات میں تجدد آتا ہے، ہر ہر لمحے میں نئی صفت آ رہی ہے تو گذشتہ صفت گزرتی جا رہی ہے تو یہاں پر بھی باندی کے جو منافع ہیں وہ گزرتے چلے جا رہے ہیں تو جس وقت یہ مالک بنا اس وقت تو وہ منافع جو یہ وصول کر چکا تھا وہ تو معدوم ہو چکے ہیں وہ تو گزر چکے ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِكَوْنِهَا مَعْدُومَةً“ اس وجہ سے کہ وہ معدوم ہو چکے ہیں۔ ”وَهٰذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا زَنَى بِهَا فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ اور یہ مسئلہ برخلاف ہے اس کے کہ جب ایک شخص نے ایک باندی سے زنا کیا ”فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ تو یہ اس کی آنکھ لے گیا۔ آنکھ سے مراد بینائی ہے۔ یعنی اس کی بینائی ہی ختم ہو گئی باندی ہی اندھی ہو گئی۔ وجہ یہ کہ آگے ذکر آ رہا ہے اسی سطر میں ”لِأَنَّ الْمِلْكَ هُنَالِكَ يَثْبُتُ فِي الْجُثَّةِ الْعَمْيَاءِ“۔ جثہ جسم، عمیاء اندھا، اندھے جسم کے اندر ملکیت آ رہی ہے۔ بھئی باندی کے ساتھ زنا کیا اور اس کو اندھا کر دیا تو اس صورت کے اندر اب یہ قیمت دے گا اور باندی کا یہ مالک بن جائے گا، تو ملکیت آ رہی ہے اندھی باندی کے اندر، تو باندی موجود تو ہے جبکہ پچھلے مسئلے میں تو باندی ہی مر چکی ہے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اس مسئلے کے اندر بھی توجہ سے سنو، اس مسئلے کے اندر بھی اس نے باندی سے زنا کیا اور باندی کو اندھا کر دیا تو اب یہ باندی کی قیمت دے گا اور یہ مالک بن جائے گا لیکن مالک ہونے کی نسبت اس وقت کی طرف کریں گے جب اس نے باندی کو اندھا کیا تھا اور اندھا کرنے سے پہلے ہی یہ تو زنا کر چکا ہے، منافع وصول کر چکا ہے، حد ثابت ہو چکی ہے لیکن پھر بھی باندی تو موجود ہے، زندہ تو ہے، تو لہٰذا جب عین باقی ہے تو عین کے تابع کرتے ہوئے ہم منافع کو بھی باقی شمار کریں گے اور یوں سمجھیں گے کہ اس ان منافع کا بھی یہ مالک ہو گیا، جب ان منافع کا بھی مالک ہو گیا تو پھر اب اس پر حد نہیں آئے گی، یہ منافع کے وقت ہی باندی کا مالک تھا۔ یعنی یوں کہو وہ منافع بھی اسی کے مملوکہ تھے۔ بھئی وہ منافع کیسے اس کے مملوکہ ہو سکتے ہیں؟ وہ منافع یعنی وہ زنا تو پہلے ہوا ہے اور مالک بعد میں بن رہا ہے، توجہ ہے؟ بھئی ضمان تو یہ اس وقت دے رہا ہے لیکن اس اس مالک ہونے کی نسبت اس اندھے ہونے کے وقت کی طرف کی جائے گی، تو اندھے ہونے کے وقت یہ مالک بن رہا ہے لیکن زنا تو اس سے پہلے یہ کر چکا ہے، منافع تو اس سے پہلے وصول ہو چکے ہیں تو پھر یہاں آپ کیسے کہتے ہیں کہ وہ منافع اس کے مملوک تھے لہٰذا اس پر حد نہیں آئے گی؟ شبہ آ گیا کہ منافع اس کے مملوک تھے لہٰذا حد نہیں آئے گا، کہتے ہیں بھئی دونوں مسئلوں میں فرق ہے، پچھلے مسئلے کے اندر باندی ہلاک ہو چکی ہے جب عین ہلاک ہو چکی ہے تو جب عین میں بقا نہیں تو وہاں عین کے تابع رکھتے ہوئے منافع کی بقا کا حکم نہیں لگایا جا سکتا لیکن یہاں پر یہ باندی اندھی ہوئی ہے لیکن ہے تو زندہ، تو جب عین کے اندر بقا ہے تو اس عین کے تابع کرتے ہوئے منافع کے اندر بھی بقا مان لی جائے گی۔ یا یوں کہو کہ دونوں میں فرق ہے وہاں پر وہاں پہلے مسئلے میں وہ باندی ہلاک ہو چکی ہے تو جب باندی ہلاک ہو چکی ہے تو وہاں پر باندی کے تابع کر کے بھی ہم منافع کا مالک اس کو قرار نہیں دے سکتے جبکہ یہاں پر باندی زندہ ہے اگرچہ اندھی ہو گئی ہے لیکن زندہ تو ہے، تو باندی ہے اصل اور منافع ہیں اس کے تابع تو جب ہم باندی کا مالک قرار دے رہے ہیں تو عین کے تابع کرتے ہوئے منافع کا بھی ہم اسی کو مالک قرار دے دیں گے، جب یہ ان منافع کا بھی مالک ہے تو یہ زنا نہیں، یہ اپنی باندی سے اس نے وطی کی ہے تو جب زنا نہیں تو اس پر حد بھی نہیں آئے گی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ ایک مسئلے میں باندی ہلاک ہو چکی ہے تو وہاں جب عین ہی باقی نہیں، جب عین کے اندر ہی ملکیت نہیں آ سکتی تو منافع میں بھی ملکیت نہیں آ سکتی اور یہاں پر جب عین باقی ہے، عین کے اندر ملکیت آ رہی ہے تو عین کے تابع کرتے ہوئے منافع کے اندر بھی ہم ملکیت ثابت کر دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا زَنَى بِهَا فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ اور یہ مسئلہ برخلاف ہے اس صورت کے کہ جب اس شخص نے اس باندی سے زنا کیا ”فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ تو یہ اس کی بینائی لے گیا یعنی اس نے اس کی بینائی ختم کر دی۔ تو عین کا کیا معنی کیا میں نے؟ بینائی۔ جبکہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں تثنیہ ہے ”فَأَذْهَبَ عَيْنَيْهَا“ بھئی، وہ اس کی دونوں آنکھیں لے گیا تو پھر بینائی کا معنیٰ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی کیونکہ جب دونوں آنکھیں چلی گئیں معلوم ہوا دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی۔ ”فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ تو یہ اس کی بینائی لے گیا یعنی اس نے اس کی بینائی ختم کر دی ”يَجِبُ عَلَيْهِ قِيمَتُهَا“ تو اس شخص پر اس باندی کی قیمت واجب ہو گی ”وَيَسْقُطُ الْحَدُّ“ اور حد ساقط ہو جائے گی ”لِأَنَّ الْمِلْكَ هُنَالِكَ يَثْبُتُ“ اس لیے کیونکہ ملکیت جو ہے یہاں پر ثابت ہو رہی ہے ”فِي الْجُثَّةِ الْعَمْيَاءِ“ اندھے جسم کے اندر ”وَهِيَ عَيْنٌ“ اور یہ اندھا جسم یہ تو ذات ہے، یہ تو صفت اور منافع نہیں ہیں ”وَهِيَ عَيْنٌ“ اور یہ تو ذات ہے ”فَأَوْرَثَتْ شُبْهَةً“ تو اس نے شبہ پیدا کر دیا کہ جب یہ ذات کا مالک ہے تو شبہ آیا کہ یہ منافع کا بھی مالک ہے بھئی تو اس لیے حد ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ إِلَّا الْقِصَاصَ“ بھئی اب وہ پانچویں شرط کا بیان آ گیا۔ اجرائے حد کے لیے پانچ شرطیں تھیں: پہلی شرط کہ دار الاسلام ہو، دوسری شرط کہ وہ زنا کرنے والا مکلف ہو، تیسری شرط کہ وہ رضامندی سے زنا کرے اور چوتھی شرط کہ دونوں اس کے زنا ہونے پر اتفاق کریں اور پانچویں شرط یہ کہ حد قائم کرنے والا امام ہو یعنی خلیفۃ المسلمین ہو، اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ إِلَّا الْقِصَاصَ“ بھئی صورت یہ کہ امام نے امام نے کوئی ایسا جرم کر لیا جس کی وجہ سے اس پر حد واجب ہوتی ہے تو کیا امام پر بھی حد واجب ہو گی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں امام پر حد واجب نہیں ہو گی اس لیے کیونکہ حد وصول کرنا خود امام کا کام ہے اور اس امام کے اوپر تو کوئی اور امام ہے نہیں جو اس سے حد وصول کر سکے، لہٰذا اس پر حد واجب کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ وصول پھر کون کرے گا اگر آپ واجب قرار دے دیں؟ اور وصول نہیں ہوتی تو اس کے واجب کرنے کا فائدہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں ”وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ“ کہ ہر ایسی چیز جس کو وہ امام کرے ”الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ“ کہ جس کے اوپر کوئی اور امام نہیں یعنی کوئی گورنر یا قاضی نہیں بلکہ خود بادشاہ یا امام ایسا کرتا ہے، تو کہتے ہیں: ”وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ“ اور ہر ایسی چیز جس کو وہ امام کرے ”الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ“ جس کے اوپر کوئی اور امام نہیں ہے ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس پر حد نہیں ہے ”إِلَّا الْقِصَاصَ“ سوائے قصاص کے۔ ہاں اگر یہ امام قتل کرتا ہے کسی کو تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا الْقِصَاصَ“ سوائے قصاص کے ”فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ بِهِ وَبِالْأَمْوَالِ“ اس لیے کیونکہ امام جو ہے وہ ماخوذ ہو گا قصاص کے ساتھ بھی ”وَبِالْأَمْوَالِ“ اور لوگوں کے مال کے ساتھ بھی۔ اگر امام کسی کے مال غصب کر لیتا ہے یا کسی کو قتل کر دیتا ہے آلۂ قتل سے تو وہاں اس سے قصاص لیا جا سکتا ہے اور وہ مال والے اس سے اپنا حق وصول کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحُدُودَ حَقُّ اللّٰهِ تَعَالَى“ کیونکہ حدود جو ہیں وہ اللہ کا حق ہیں ”وَإِقَامَتُهَا إِلَيْهِ لَا إِلَى غَيْرِهِ“ اور ان حدود کو قائم کرنا اس امام ہی کے سپرد ہے ”لَا إِلَى غَيْرِهِ“ نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور کے ”وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى نَفْسِهِ“ اور اس کے لیے تو ممکن نہیں ہے کہ اپنے اوپر حد قائم کرے ”لِأَنَّهُ لَا يُفِيدُ“ کیونکہ یہ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ یہ فائدہ نہیں دے گا کہ اس پر حد کو واجب قرار دیا جائے، اس لیے کیونکہ حد کا اجراء جو ہے یہ ذلت اور رسوائی کا باعث ہے۔ حد جب کسی شخص پر جاری کی جاتی ہے تو یہ اس کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث ہے تو کون بادشاہ جو ہے اپنی ذلت اور رسوائی پر راضی ہو گا بھئی؟ تو لہٰذا اس پر حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى نَفْسِهِ“ اور یہ اس کے لیے ممکن نہیں ہے کہ اپنے اوپر حد قائم کرے ”لِأَنَّهُ لَا يُفِيدُ“ کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ یہ تو قائم ہی نہیں کرے گا ذلت اور رسوائی کی وجہ سے، لہٰذا اس پر یوں کہیں گے حد واجب ہی نہیں ہے۔ ہاں اگر قصاص میں کسی کو قتل کیا ہے تو یہ حق العبد ہے یا لوگوں کا مال اس نے چھین لیا ہے تو یہ حق العبد ہے، تو یہاں پر وہ مقتول کے اولیاء یا جو صاحبِ مال ہے وہ مطالبہ کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ حُقُوقِ الْعِبَادِ“ بخلاف حقوق العباد کے ”لِأَنَّهُ يَسْتَوْفِيهِ وَلِيُّ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ اس کو وصول کرتا ہے ولی الحق، حق والا جو صاحبِ حق ہے وہ اس کو وصول کرتا ہے ”إِمَّا بِتَمْكِينِهِ“ بھئی کس طرح وصول کرے گا صاحبِ حق بادشاہ سے؟ کہتے ہیں ”إِمَّا بِتَمْكِينِهِ“ یا تو بادشاہ کے قدرت دینے سے کہ بادشاہ اس کو قدرت دے کہ مجھ سے قصاص لے لو یا مجھ سے اپنا وال مال وصول کر لو اور ان کو ادائیگی کر دے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”إِمَّا بِتَمْكِينِهِ“ یا تو اس بادشاہ کے قدرت دینے سے ”أَوْ بِالِاسْتِعَانَةِ بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ یا مدد لیتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر سے، منعۃ کہتے ہیں لشکر کو بھئی، ”أَوْ بِالِاسْتِعَانَةِ بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ یا مسلمانوں کے لشکر سے مدد مانگ کر ”وَالْقِصَاصُ وَالْأَمْوَالُ مِنْهَا“ اور قصاص اور مال جو ہیں ”مِنْهَا“ وہ حقوق العباد میں سے ہیں۔ حقوق العباد وصول کیے جا سکتے ہیں تو یہ قصاص اور لوگوں کے مال حقوق العباد میں سے ہیں۔ ”وَأَمَّا حَدُّ الْقَذْفِ“ اور حدِ قذف بھئی، کیا بادشاہ اگر کسی پر زنا کا الزام لگا دے تو کیا بادشاہ پر حدِ قذف جاری کی جا سکتی ہے؟ کہتے ہیں نہیں حدِ قذف جو ہے اس کے اندر بندے کا بھی حق ہے۔ ایک شخص پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے تو اس کا حق ہے وہ قاضی سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ اس شخص پر حدِ قذف جاری کی جائے تو حدِ قذف جو ہے یہ حق العبد بھی ہے اور یہ حق اللہ بھی ہے لیکن اس کے اندر حق اللہ کو غالب قرار دیا گیا ہے اور حق اللہ جو ہے وہ تو بادشاہ سے وصول نہیں ہو سکتے، لہٰذا حدِ قذف بھی بادشاہ پر واجب نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا حَدُّ الْقَذْفِ“ اور باقی حدِ قذف جو ہے ”قَالُوا“ تو فقہاء فرماتے ہیں ”الْمُغَلَّبُ فِيهِ حَقُّ الشَّرْعِ“ غلب یغلب تغلیب کا معنیٰ ہے غالب قرار دینا، کہتے ہیں ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں ”الْمُغَلَّبُ فِيهِ“ کہ حدِ قذف کے اندر غالب قرار دیا گیا ہے ”حَقُّ الشَّرْعِ“ حقِ شریعت کو، حدِ قذف کے اندر حقِ شریعت کو غالب قرار دیا گیا ہے ”فَحُكْمُهُ كَحُكْمِ سَائِرِ الْحُدُودِ الَّتِي هِيَ حَقُّ اللّٰهِ تَعَالَى“ تو اس حد کا بھی وہی حکم ہے جیسے کہ باقی وہ حدود جو اللہ کا حق ہیں جیسے ان کا حکم ہے اور باقی وہ حدود جو اللہ کا حق ہیں وہ تو بادشاہ پر واجب نہیں تو یہ حدِ قذف بھی بادشاہ پر واجب نہیں ہو گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں ”وَأَمَّا حَدُّ الْقَذْفِ“ اور باقی حدِ قذف جو ہے ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں ”الْمُغَلَّبُ فِيهِ حَقُّ الشَّرْعِ“ تو اس کے اندر بھی شریعت کے حق کو غالب قرار دیا گیا ہے ”فَحُكْمُهُ“ تو حدِ قذف کا جو حکم ہے ”كَحُكْمِ سَائِرِ الْحُدُودِ“ اس کا حکم بھی ان باقی حدود کے حکم کی طرح ہی ہے ”الَّتِي هِيَ حَقُّ اللّٰهِ تَعَالَى“ وہ حدود جو اللہ کا حق ہیں، اس کا حکم بھی ان حدود کی طرح ہے اور وہ حدود تو بادشاہ پر واجب نہیں تو یہ حدِ قذف بھی بادشاہ پر واجب نہیں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔ نہیں، حد نہیں آئی تو مہر آجائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ فِي ذَلِكَ“ اور اس آدمی پر مہر ہوگا اس صورت میں، یعنی یہ دونوں صورتوں میں۔ ”لِأَنَّ دَعْوَى النِّكَاحِ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ“ اس لیے کیونکہ نکاح کا جو دعویٰ ہے وہ بھی سچ کا احتمال رکھتا ہے۔ دونوں میں سے ایک نے نکاح کا دعویٰ کر دیا تو یہ بھی سچ کا احتمال رکھتا ہے۔ ”وَهُوَ يَقُومُ بِالطَّرَفَيْنِ“ اور نکاح جو ہے وہ تو دونوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ نکاح تو دونوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے، نکاح تو مرد اور عورت کے درمیان ہوتا ہے تو اس کا تعلق دونوں سے ہے بھئی۔ ”فَأَوْرَثَ شُبْهَةً“ تو اس دعوے نے دوسرے کے دعوے میں شبہ پیدا کر دیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا سَقَطَ الْحَدُّ“ اور جب حد ساقط ہوگئی ”وَجَبَ الْمَهْرُ“ تو مہر واجب ہو گیا ”تَعْظِيمًا لِخَطَرِ الْبُضْعِ“۔ بضعٌ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فرج المراۃ کو کہتے ہیں بھئی، عورت کی شرمگاہ کو۔ ”تَعْظِيمًا لِخَطَرِ الْبُضْعِ“ خطر کہتے ہیں حرمت اور احترام کو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا سَقَطَ الْحَدُّ“ اور جب حد ساقط ہو گئی ”وَجَبَ الْمَهْرُ“ تو مہر واجب ہو گیا ”تَعْظِيمًا لِخَطَرِ الْبُضْعِ“ بضعہ کی حرمت کی تعظیم کے طور پر۔ کہ بضعہ کیا ہے؟ ایک انسانی عضو ہے اور انسان کو اللہ نے معزز بنایا ہے، تو ہر انسانی عضو بھی معزز ہے۔ لہٰذا بضعہ بھی ایک معزز عضو ہوا، لہٰذا اس کی تعظیم کے طور پر مہر واجب ہوگا۔ کہ حد تو نہیں آسکی لیکن بہرحال جرمانے کے طور پر جرمانے کے طور پر مہر واجب ہو جائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ زَنَى بِجَارِيَةٍ فَقَتَلَهَا فَإِنَّهُ يُحَدُّ وَعَلَيْهِ الْقِيمَةُ“۔ جی، یہ مشکل مسئلہ ہے بھئی، توجہ سے سنیے۔ صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک باندی سے زنا کر لیا اور پھر اس فعل زنا سے ہی وہ باندی ہلاک ہوگئی۔ تو اس صورت میں اس آدمی کے دو جرم ہو گئے: ایک اس نے زنا کیا ہے تو اس کو حد بھی لگائی جائے گی اور دوسرا اس نے اس باندی کو ہلاک کیا ہے لہٰذا اب اس کے ذمے باندی کی قیمت ہے، یہ باندی کے مالک کو ادا کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ زَنَى بِجَارِيَةٍ“ اور جس شخص نے کسی باندی سے زنا کیا ”فَقَتَلَهَا“ تو اس نے اس کو قتل کر دیا ”فَإِنَّهُ يُحَدُّ“ تو اس آدمی کو حد لگائی جائے گی ”وَعَلَيْهِ الْقِيمَةُ“ اور اس آدمی پر اس باندی کی قیمت واجب ہوگی۔ ”مَعْنَاهُ“ اب صاحبِ ہدایہ یہاں سے اس قول کا معنی بیان کر رہے ہیں، اس کی وضاحت کر رہے ہیں کہ باندی سے زنا کیا اور اسے قتل کر دیا اس کا کیا معنی؟ صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے معنی یہ ہے کہ فعل زنا ہی کے ذریعے اس کو قتل کیا ہے۔ کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کا معنی یہ ہے ”قَتَلَهَا بِفِعْلِ الزِّنَى“ کہ اس شخص نے فعل زنا کے ذریعے ہی اسے قتل کیا ہے۔ اب علت بیان کرنے لگے ہیں۔ متن میں آیا تھا اس آدمی کے اوپر حد بھی ہوگی اور اس کو باندی کی قیمت بھی دینا پڑے گی، تو اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ جَنَى جِنَايَتَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس آدمی نے دو جرم کیے ہیں ”فَيُوَفَّرُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حُكْمُهُ“۔ وفّر یوفّر توفیر کا معنی ہے کسی کو اس کا پورا حصہ دینا، کسی کو اس کا پورا حق ادا کرنا۔ تو یہاں اس نے دو جرم کیے ہیں، لہٰذا ہر جرم کو اس کا پورا حکم دیا جائے گا۔ ایک جرم زنا ہے اس کی وجہ سے حد آئے گی اور دوسرا جرم باندی کا قتل ہے لہٰذا اس کی وجہ سے اس باندی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ آپ کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ اس آدمی کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ نہیں بھئی، قصاصاً قتل وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی شخص دوسرے کو آلۂ قتل سے قتل کرے۔ یعنی اسے گولی مار دی یا اسے تلوار وغیرہ کے ذریعے قتل کیا، تو پھر وہاں قصاص آتا ہے اور صورتوں کے اندر تو دیت آیا کرتی ہے اور یہ باندی ہے تو یہاں باندی کی قیمت آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ جَنَى جِنَايَتَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص نے دو جرم کیے ہیں ”فَيُوَفَّرُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حُكْمُهُ“ لہٰذا ان دونوں جرموں میں سے ہر ایک جرم کو اس کا پورا حکم دیا جائے گا۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يُحَدُّ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّ تَقَرُّرَ ضَمَانِ الْقِيمَةِ سَبَبٌ لِمِلْكِ الْأَمَةِ“۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جب باندی کا ضمان ادا کر دے گا تو یہ باندی کا مالک بن گیا۔ باندی کا مالک اس لیے کیونکہ اس نے قیمت ادا کرنی ہے باندی کی، تو جب یہ ضمان قیمت ادا کرے گا، کسی چیز کی جب قیمت ادا کر دی جائے تو انسان اس کا مالک بن جاتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ شخص باندی کا مالک ہوگا اور کس وقت سے مالک ہوگا؟ جس وقت باندی ہلاک ہوئی تھی۔ اور یاد رکھو حد قائم ہونے سے پہلے اگر انسان اس مال کا مالک بن جائے تو پھر حد ساقط ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے چوری کی ہے اور چوری قاضی کے پاس ثابت بھی ہوگئی، چوری قاضی کے پاس ثابت بھی ہوگئی اور آپ جانتے ہیں حد جو ہے اللہ کا حق ہے، کسی کو اس میں سفارش کرنے کی یا معاف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تو قاضی کے پاس چور کی چوری ثابت ہوگئی لیکن ابھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا تھا کہ وہ جو مالک تھا جس کی چوری ہوئی تھی، اس مالک نے وہ سامان چور کو ہبہ کر دیا کہ تم اس کے مالک ہو گئے، تو یاد رکھو یہاں حد جاری ہونے سے پہلے چور اس مال مسروق کا، اس چوری شدہ مال کا مالک بن گیا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ تو مالک نے اسے ہبہ کر دیا، تو اس مالک ہونے کی نسبت اس وقت کی طرف کی جائے گی جب اس نے یہ سامان اٹھایا تھا، چوری کیا تھا۔ گویا اس وقت سے ہی یہ مالک ہے، گویا اس نے اپنا ہی مال اٹھایا تھا، تو لہٰذا حد ساقط ہوگئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں جب یہ باندی کی قیمت دے گا ضمان کے طور پر، تو یہ باندی کا مالک بن گیا، جب مالک بن گیا حد قائم ہونے سے پہلے ہی، تو پھر اس صورت میں حد ساقط ہو جایا کرتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يُحَدُّ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّ تَقَرُّرَ ضَمَانِ الْقِيمَةِ“ اس لیے کیونکہ قیمت کے ضمان کا ثابت ہونا ”سَبَبٌ لِمِلْكِ الْأَمَةِ“ یہ سبب ہے باندی کی ملکیت کا۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ ”لِأَنَّ تَقَرُّرَ ضَمَانِ الْقِيمَةِ“ اس لیے کیونکہ ضمانِ قیمت کا ثابت ہو جانا ”سَبَبٌ لِمِلْكِ الْأَمَةِ“ یہ باندی کی ملکیت کا سبب ہے ”فَصَارَ كَمَا إِذَا اشْتَرَاهَا بَعْدَ مَا زَنَى بِهَا“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس نے اس باندی کو خرید لیا ہو بعد اس کے ساتھ زنا کرنے کے۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص ایک باندی سے زنا کرے اور پھر حد قائم ہونے سے پہلے اس باندی کو خرید لے۔ تو اس صورت میں بھی یاد رکھو، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اختلاف ہے طرفین سے۔ طرفین فرماتے ہیں کہ حد آئے گی۔ اس نے بعد میں خریدا ہے، جس وقت اس نے زنا کیا تھا اس وقت تو یہ اس باندی کا مالک نہیں تھا، لہٰذا طرفین فرماتے ہیں اس آدمی پر حد آئے گی جس نے باندی کو زنا کے بعد خریدا ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آدمی پر حد نہیں آئے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر بھی توجہ ہے؟ مسئلہ ذکر ہو رہا ہے کہ ایک شخص نے باندی سے زنا کیا اور اسی سے وہ مر گئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس باندی کی قیمت دے دے گا، جب قیمت دے دے گا تو حد بھی ساقط ہو گئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی باندی سے زنا کرے اور پھر حد قائم ہونے سے پہلے اس کو خرید لے، تو جب حد سے پہلے مالک بن گیا تو وہ حد ساقط ہو جائے گی، جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ نہیں، حد ساقط نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَمَا إِذَا اشْتَرَاهَا بَعْدَ مَا زَنَى بِهَا“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس شخص نے باندی کو خرید لیا ہو اس کے ساتھ زنا کرنے کے بعد ”وَهُوَ عَلَى هَذَا الِاخْتِلَافِ“ اور یہ مسئلہ بھی اسی اختلاف پر ہے، یعنی اس میں بھی، یہ جو باندی خریدنے والا مسئلہ ہے اس میں بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور طرفین کا اختلاف ہے بھئی۔ ”وَاعْتِرَاضُ سَبَبِ الْمِلْكِ قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ يُوجِبُ سُقُوطَهُ“ ابھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے کہ یہاں پر یہ شخص جو ہے باندی کی قیمت ادا کرے گا بطورِ ضمان کے، تو لہٰذا یہ حد کے قائم ہونے سے پہلے ہی مالک بن گیا۔ جب مالک بن گیا تو اب حد ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَاعْتِرَاضُ سَبَبِ الْمِلْكِ“ اور ملکیت کے سبب کا پیش آجانا ”قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ“ حد کے قائم کرنے سے پہلے ”يُوجِبُ سُقُوطَهُ“ یہ اس حد کے ساقط ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ حد لگنے سے پہلے اگر ملکیت کا سبب پیش آ جائے تو یہ حد کو ساقط کر دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَاعْتِرَاضُ سَبَبِ الْمِلْكِ قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ“ اور حد قائم کرنے سے پہلے ملکیت کا سبب پیش آنا ”يُوجِبُ سُقُوطَهُ“ یہ ثابت کرتا ہے حد کے ساقط ہو جانے کو ”كَمَا إِذَا مَلَكَ الْمَسْرُوقَ قَبْلَ الْقَطْعِ“ جیسے کہ چور جو ہے وہ اس مسروقہ سامان کا مالک بن جائے قبل القطع ہاتھ کاٹنے سے پہلے بھئی۔ تو جیسے چور اگر مسروقہ مال کا مالک بن جائے ہاتھ کٹنے سے پہلے تو پھر بالاتفاق حد ساقط ہو جاتی ہے، تو یہاں پر بھی یہاں پر بھی حد سے پہلے سببِ ملکیت آ گیا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ ”وَلَهُمَا“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ ضَمَانُ قَتْلٍ فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ لِأَنَّهُ ضَمَانُ دَمٍ“۔ طرفین فرماتے ہیں کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ یہ ضمانِ قیمت ہے۔ یہ جو باندی کی قیمت ادا کر رہا ہے یہ ضمانِ قیمت نہیں ہے بلکہ ہم کہتے ہیں یہ ضمانِ قتل ہے۔ ضمانِ قیمت وہ ہوتا ہے جس میں آدمی دوسری چیز کا مالک بن جاتا ہے، لیکن یہاں تو باندی ہلاک ہو چکی ہے، اس کے مالک کیسے بن سکتا ہے اب یہ؟ تو یہ جو ضمان دے رہا ہے یہ ضمانِ قیمت نہیں ہے بلکہ یہ ضمانِ قتل ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ ضَمَانُ قَتْلٍ“ کہ یہ ضمانِ قتل ہے، ضمانِ قیمت نہیں ”فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ“ لہٰذا یہ ملکیت ثابت نہیں کرتا کیونکہ مردہ باندی وہ تو ملکیت کا محل ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں یہ ضمانِ قتل ہے ”فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ“ تو یہ ملکیت کو ثابت نہیں کرتا ”لِأَنَّهُ ضَمَانُ دَمٍ“ اس لیے کیونکہ یہ خون کا ضمان ہے، یعنی قتل کا ضمان ہے۔ ”وَلَوْ كَانَ يُوجِبُهُ“ یہاں سے تسلیمی جواب دے رہے ہیں۔ پہلا جواب کیا؟ کہ یہ ضمانِ قیمت ہے، یہ بات ہمیں تسلیم ہی نہیں ہے بلکہ یہ ضمانِ قتل ہے بھئی۔ اور اب تسلیمی جواب دے رہے ہیں کہ اگر ہم آپ کی بات مان بھی لیں کہ یہ ضمانِ قیمت ہے تو پھر بھی جو ضمانِ قیمت دے گا تو یہ باندی کا مالک بنے گا، تو اس ملکیت کی نسبت کی جائے گی اس ہلاکت کے وقت کی طرف جس وقت باندی ہلاک ہوئی تھی۔ لیکن زنا تو باندی کی ہلاکت سے پہلے ہی ہو چکا ہے، لہٰذا اس زنا کے وقت میں اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا اگر اس کو ضمانِ قیمت بھی مان لیا جائے پھر بھی پھر بھی حد ساقط نہیں ہوتی، کیونکہ حد تو ہلاکت سے پہلے ہی ثابت ہو چکی ہے بھئی اور مالک تو یہ ہلاکت کے وقت بنا ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھو، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو صفات ہیں، چیزوں کی جو صفات ہیں، ان میں تجدد ہوتا رہتا ہے، ہر ہر لمحے کے اندر نئی صفت آ رہی ہے۔ مثلاً یہ جو چیزوں کا رنگ ہے، یہ رنگ بھی ایک صفت ہے ان کی اور علماء فرماتے ہیں کہ صفات کے اندر تجدد ہوتا ہے، صفات کے اندر بقا نہیں، ہر ہر لمحے میں نئی صفت آ رہی ہے۔ یا دوسری مثال لے لو: جیسے ایک گھر کی رہائش ہے، کوئی آدمی گھر کو کرائے پر دیتا ہے اور اس کرایہ وصول کرتا ہے، یعنی کرایہ عوض ہے اس رہائش کا اور یہ رہائش گھر کی صفت ہے اور صفت کے اندر بقا نہیں، جوں جوں وقت گزر رہا ہے گھر کی رہائش گزرتی جا رہی ہے۔ کیا کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ سارا سال اپنا گھر کرائے پر نہیں دیتا بلکہ اس کی رہائش کو جمع کرتا جائے اور پھر سال کے آخر میں اکٹھی وہ ساری رہائش کرائے پر دے دے؟ تو ایسا نہیں ہو سکتا بھئی، کیونکہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے اس گھر کی رہائش، یعنی یوں کہو، اس گھر کے منافع گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ کیونکہ رہائش کیا ہے؟ صفت ہے، یہ منافع ہیں اور منافع کے اندر بقا نہیں۔ ذات کے اندر تو بقا ہوتی ہے، ایک پتھر آپ کے سامنے آج پڑا ہے، دس دن بعد بھی یہ پتھر اسی طرح ہے، کیونکہ یہ ایک ذات ہے، ذات کے اندر تو بقا ہوتی ہے لیکن صفات کے اندر بقا نہیں ہے۔ تو لہٰذا اگر ہم اس کو ضمانِ قیمت بھی مان لیں تو پھر بھی ہلاکت کے وقت یہ باندی کا مالک بنا ہے اور ہلاکت سے پہلے ہی یہ منافع وصول کر چکا ہے اور ان منافع کے وقت تو یہ مالک نہیں تھا، لہٰذا اس وقت تو حد ثابت ہو گئی تھی تو وہ حد اب ساقط نہیں ہوگی، یہ طرفین فرماتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ يُوجِبُهُ“ اور اگر آپ کی بات مان لیں کہ یہ جو ضمان ہے یہ ملکیت کو ثابت کرتا ہے، پیچھے آیا تھا نا ”أَنَّهُ ضَمَانُ قَتْلٍ فَلَا يُوجِبُ الْمِلْكَ“ یہ ملکیت کو ثابت ہی نہیں کرتا اور ”وَلَوْ كَانَ يُوجِبُهُ“ اور اگر ہم آپ کی بات مان لیں کہ یہ ملکیت کو ثابت کرتا ہے یعنی یہ ضمانِ قیمت ہے ”فَإِنَّمَا يُوجِبُهُ فِي الْعَيْنِ“ تو یہ تو ملکیت کو ثابت کرے گا اس ذات کے اندر۔ ذات کا مالک بنے گا، صفات کا مالک تو نہیں، صفات تو پہلے ہی گزر چکی ہیں یعنی منافع تو پہلے ہی گزر چکے ہیں بھئی۔ توجہ سے سنو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّمَا يُوجِبُهُ فِي الْعَيْنِ“ تو یہ تو ملکیت کو اس باندی کی ذات میں ثابت کرے گا ”كَمَا فِي هِبَةِ الْمَسْرُوقِ“ جیسے چوری شدہ مال کے ہبہ کے اندر۔ اگر مالک اس چور کو اپنا چوری کیا ہوا مال ہبہ کر دے تو دیکھو وہاں ملکیت اس عین کے اندر آگئی، اس عین کے اندر آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي هِبَةِ الْمَسْرُوقِ“ جیسے چوری شدہ مال کے ہبہ کرنے کے اندر ذات کے اندر ہی ملکیت آجاتی ہے ”لَا فِي مَنَافِعِ الْبُضْعِ“ تو یہ باندی کی ذات میں ملکیت آئے گی ”لَا فِي مَنَافِعِ الْبُضْعِ“ بضع کے منافع کے اندر تو ملکیت نہیں آئی ”لِأَنَّهَا اسْتُوْفِيَتْ“ اس لیے کیونکہ وہ منافع تو وصول ہو چکے ہیں، یعنی اس سے پہلے ہی زنا وہ کر چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا اسْتُوْفِيَتْ“ اس لیے کیونکہ وہ منافع تو وصول ہو چکے ہیں ”وَالْمِلْكُ يَثْبُتُ مُسْتَنِدًا“ اور یہ ملکیت ثابت ہوگی منسوب ہو کر، یعنی جس وقت باندی ہلاک ہوئی تھی اس وقت سے یہ مالک ہے لیکن اس ہلاکت سے بھی پہلے یہ منافع وصول کر چکا ہے یعنی زنا کر چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمِلْكُ يَثْبُتُ مُسْتَنِدًا“ اور یہ ملکیت جو ہے منسوب ہو کر ثابت ہوگی ”فَلَا يَظْهَرُ فِي الْمُسْتَوْفَى“ لہٰذا یہ ملکیت ظاہر نہیں ہوگی ان منافع کے حق میں ”الْمُسْتَوْفَى“ جو پہلے ہی وصول کیے جا چکے ہیں ”لِكَوْنِهَا مَعْدُومَةً“ اس لیے کیونکہ وہ معدوم ہو چکے ہیں۔ کیونکہ صفات میں تجدد آتا ہے، ہر ہر لمحے میں نئی صفت آرہی ہے تو گذشتہ صفت گزرتی جا رہی ہے، تو یہاں پر بھی باندی کے جو منافع ہیں وہ گزرتے چلے جا رہے ہیں، تو جس وقت یہ مالک بنا اس وقت تو وہ منافع جو یہ وصول کر چکا تھا وہ تو معدوم ہو چکے ہیں، وہ تو گزر چکے ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِكَوْنِهَا مَعْدُومَةً“ اس وجہ سے کہ وہ معدوم ہو چکے ہیں۔ ”وَهَذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا زَنَى بِهَا فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ اور یہ مسئلہ بر خلاف ہے اس کے کہ جب ایک شخص نے ایک باندی سے زنا کیا ”فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ تو یہ اس کی آنکھ لے گیا۔ آنکھ سے مراد بینائی ہے۔ یعنی اس کی بینائی ہی ختم ہوگئی، باندی ہی اندھی ہوگئی۔ وجہ یہ کہ آگے ذکر آ رہا ہے اسی سطر میں: ”لِأَنَّ الْمِلْكَ هُنَالِكَ يَثْبُتُ فِي الْجُثَّةِ الْعَمْيَاءِ“ جثہ جسم، عمیاء اندھا، اندھے جسم کے اندر ملکیت آ رہی ہے۔ بھئی باندی کے ساتھ زنا کیا اور اس کو اندھا کر دیا، تو اس صورت کے اندر اب یہ قیمت دے گا اور باندی کا یہ مالک بن جائے گا۔ تو ملکیت آ رہی ہے اندھی باندی کے اندر۔ تو باندی موجود تو ہے جبکہ پچھلے مسئلے میں تو باندی ہی مر چکی ہے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اس مسئلے کے اندر بھی توجہ سے سنو، اس مسئلے کے اندر بھی اس نے باندی سے زنا کیا اور باندی کو اندھا کر دیا تو اب یہ باندی کی قیمت دے گا اور یہ مالک بن جائے گا، لیکن مالک ہونے کی نسبت اس وقت کی طرف کریں گے جب اس نے باندی کو اندھا کیا تھا اور اندھا کرنے سے پہلے ہی یہ تو زنا کر چکا ہے، منافع وصول کر چکا ہے، حد ثابت ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی باندی تو موجود ہے، زندہ تو ہے، تو لہٰذا جب عین باقی ہے تو عین کے تابع کرتے ہوئے ہم منافع کو بھی باقی شمار کریں گے اور یوں سمجھیں گے کہ اس ان منافع کا بھی یہ مالک ہو گیا۔ جب ان منافع کا بھی مالک ہو گیا تو پھر اب اس پر حد نہیں آئے گی، یہ منافع کے وقت ہی باندی کا مالک تھا۔ یا یوں کہو وہ منافع بھی اسی کے مملوکہ تھے۔ بھئی وہ منافع کیسے اس کے مملوکہ ہو سکتے ہیں؟ وہ منافع یعنی وہ زنا تو پہلے ہوا ہے اور مالک بعد میں بن رہا ہے۔ توجہ ہے؟ بھئی ضمان تو یہ اس وقت دے رہا ہے لیکن اس مالک ہونے کی نسبت اس اندھے ہونے کے وقت کی طرف کی جائے گی۔ تو اندھے ہونے کے وقت یہ مالک بن رہا ہے لیکن زنا تو اس سے پہلے یہ کر چکا ہے، منافع تو اس سے پہلے وصول ہو چکے ہیں، تو پھر یہاں آپ کیسے کہتے ہیں کہ وہ منافع اس کے مملوک تھے لہٰذا اس پر حد نہیں آئے گی؟ شبہ آ گیا کہ یہ منافع اس کے مملوک تھے لہٰذا حد نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں بھئی دونوں مسئلوں میں فرق ہے: پچھلے مسئلے کے اندر باندی ہلاک ہو چکی ہے، جب عین ہلاک ہو چکی ہے تو جب عین میں بقا نہیں تو وہاں عین کے تابع رکھتے ہوئے منافع کی بقا کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن یہاں پر یہ باندی اندھی ہوئی ہے لیکن ہے تو زندہ، تو جب عین کے اندر بقا ہے تو اس عین کے تابع کرتے ہوئے منافع کے اندر بھی بقا مان لی جائے گی۔ یا یوں کہو کہ دونوں میں فرق ہے: وہاں پر وہاں پہلے مسئلے میں وہ باندی ہلاک ہو چکی ہے تو جب باندی ہلاک ہو چکی ہے تو وہاں پر باندی کے تابع کر کے بھی ہم منافع کا مالک اس کو قرار نہیں دے سکتے، جبکہ یہاں پر باندی زندہ ہے اگرچہ اندھی ہو گئی ہے لیکن زندہ تو ہے، تو باندی ہے اصل اور منافع ہیں اس کے تابع، تو جب ہم باندی کا مالک قرار دے رہے ہیں تو عین کے تابع کرتے ہوئے منافع کا بھی ہم اسی کو مالک قرار دے دیں گے۔ جب یہ ان منافع کا بھی مالک ہے تو یہ زنا نہیں، یہ اپنی باندی سے اس نے وطی کی ہے، تو جب زنا نہیں تو اس پر حد بھی نہیں آئے گی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ ایک مسئلے میں باندی ہلاک ہو چکی ہے تو وہاں جب عین ہی باقی نہیں، جب عین کے اندر ہی ملکیت نہیں آسکتی تو منافع میں بھی ملکیت نہیں آسکتی، اور یہاں پر جب عین باقی ہے، عین کے اندر ملکیت آ رہی ہے، تو عین کے تابع کرتے ہوئے منافع کے اندر بھی ہم ملکیت ثابت کر دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا زَنَى بِهَا“ اور یہ مسئلہ بر خلاف ہے اس صورت کے جب اس شخص نے اس باندی سے زنا کیا ”فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ تو یہ اس کی بینائی لے گیا، یعنی اس نے اس کی بینائی ختم کر دی، تو عین کا کیا معنی کیا میں نے؟ بینائی۔ جبکہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں تثنیہ ہے: ”فَأَذْهَبَ عَيْنَيْهَا“ بھئی، وہ اس کی دونوں آنکھیں لے گیا۔ تو پھر بینائی کا معنی کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی، کیونکہ جب دونوں آنکھیں چلی گئیں تو معلوم ہوا دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی۔ ”فَأَذْهَبَ عَيْنَهَا“ تو یہ اس کی بینائی لے گیا یعنی اس نے اس کی بینائی ختم کر دی ”يَجِبُ عَلَيْهِ قِيمَتُهَا“ تو اس شخص پر اس باندی کی قیمت واجب ہوگی ”وَيَسْقُطُ الْحَدُّ“ اور حد ساقط ہو جائے گی ”لِأَنَّ الْمِلْكَ هُنَالِكَ يَثْبُتُ“ اس لیے کیونکہ ملکیت جو ہے یہاں پر ثابت ہو رہی ہے ”فِي الْجُثَّةِ الْعَمْيَاءِ“ اندھے جسم کے اندر ”وَهِيَ عَيْنٌ“ اور یہ اندھا جسم یہ تو ذات ہے، یہ تو صفت اور منافع نہیں ہے، ”وَهِيَ عَيْنٌ“ اور یہ تو ذات ہے ”فَأَوْرَثَتْ شُبْهَةً“ تو اس نے شبہ پیدا کر دیا کہ جب یہ ذات کا مالک ہے تو شبہ آیا کہ یہ منافع کا بھی مالک ہے بھئی، تو اس لیے حد ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ إِلَّا الْقِصَاصَ“۔ بھئی اب وہ پانچویں شرط کا بیان آ گیا۔ اجرائے حد کے لیے پانچ شرطیں تھیں: پہلی شرط کہ دار الاسلام ہو، دوسری شرط کہ وہ زنا کرنے والا مکلف ہو، تیسری شرط کہ وہ رضامندی سے زنا کرے، اور چوتھی شرط کہ دونوں اس کے زنا ہونے پر اتفاق کریں، اور پانچویں شرط یہ کہ حد قائم کرنے والا امام ہو یعنی خلیفۃ المسلمین ہو۔ اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ إِلَّا الْقِصَاصَ“۔ بھئی صورت یہ کہ امام نے امام نے کوئی ایسا جرم کر لیا جس کی وجہ سے اس پر حد واجب ہوتی ہے، تو کیا امام پر بھی حد واجب ہوگی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، امام پر حد واجب نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ حد وصول کرنا خود امام کا کام ہے اور اس امام کے اوپر تو کوئی اور امام ہے نہیں جو اس سے حد وصول کر سکے، لہٰذا اس پر حد واجب کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ وصول پھر کون کرے گا اگر آپ واجب قرار دے دیں؟ اور وصول نہیں ہوتی تو اس کے واجب کرنے کا فائدہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں ”وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ“ کہ ہر ایسی چیز جس کو وہ امام کرے ”الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ“ کہ جس کے اوپر کوئی اور امام نہیں، یعنی کوئی گورنر یا قاضی نہیں بلکہ خود بادشاہ یا امام ایسا کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكُلُّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْإِمَامُ“ اور ہر ایسی چیز جس کو وہ امام کرے ”الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ إِمَامٌ“ جس کے اوپر کوئی اور امام نہیں ہے ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس پر حد نہیں ہے ”إِلَّا الْقِصَاصَ“ سوائے قصاص کے۔ ہاں اگر یہ امام قتل کرتا ہے کسی کو تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا الْقِصَاصَ“ سوائے قصاص کے ”فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ بِهِ وَبِالْأَمْوَالِ“ اس لیے کیونکہ امام جو ہے وہ ماخوذ ہوگا قصاص کے ساتھ بھی ”وَبِالْأَمْوَالِ“ اور لوگوں کے مال کے ساتھ بھی۔ اگر امام کسی کے مال غصب کر لیتا ہے یا کسی کو قتل کر دیتا ہے آلۂ قتل سے، تو وہاں اس سے قصاص لیا جا سکتا ہے اور وہ مال والے اس سے اپنا حق وصول کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحُدُودَ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى“ کیونکہ حدود جو ہیں وہ اللہ کا حق ہیں ”وَإِقَامَتُهَا إِلَيْهِ لَا إِلَى غَيْرِهِ“ اور ان حدود کو قائم کرنا اس امام ہی کے سپرد ہے ”لَا إِلَى غَيْرِهِ“ نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور کے ”وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى نَفْسِهِ“ اور اس کے لیے تو ممکن نہیں ہے کہ اپنے اوپر حد قائم کرے ”لِأَنَّهُ لَا يُفِيدُ“ کیونکہ یہ فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ یہ فائدہ نہیں دے گا کہ اس پر حد کو واجب قرار دیا جائے، اس لیے کیونکہ حد کا اجراء جو ہے یہ ذلت اور رسوائی کا باعث ہے۔ حد جب کسی شخص پر جاری کی جاتی ہے تو یہ اس کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث ہے، تو کون بادشاہ جو ہے اپنی ذلت اور رسوائی پر راضی ہوگا بھئی؟ تو لہٰذا اس پر حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى نَفْسِهِ“ اور یہ اس کے لیے ممکن نہیں ہے کہ اپنے اوپر حد قائم کرے ”لِأَنَّهُ لَا يُفِيدُ“ کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ یہ تو قائم ہی نہیں کرے گا ذلت اور رسوائی کی وجہ سے، لہٰذا اس پر یوں کہیں گے حد واجب ہی نہیں ہے۔ ہاں اگر قصاص میں کسی کو قتل کیا ہے تو یہ حق العبد ہے، یا لوگوں کا مال اس نے چھین لیا ہے تو یہ حق العبد ہے، تو یہاں پر وہ مقتول کے اولیاء یا جو صاحب مال ہے وہ مطالبہ کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ حُقُوقِ الْعِبَادِ“ بخلاف حقوق العباد کے ”لِأَنَّهُ يَسْتَوْفِيهِ وَلِيُّ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ اس کو وصول کرتا ہے ولی الحق، حق والا، جو صاحب حق ہے وہ اس کو وصول کرتا ہے۔ ”إِمَّا بِتَمْكِينِهِ“ بھئی کس طرح وصول کرے گا صاحب حق بادشاہ سے؟ کہتے ہیں: ”إِمَّا بِتَمْكِينِهِ“ یا تو بادشاہ کے قدرت دینے سے، کہ بادشاہ اس کو قدرت دے کہ مجھ سے قصاص لے لو یا مجھ سے اپنا مال وصول کر لو اور ان کو ادائیگی کر دے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِمَّا بِتَمْكِينِهِ“ یا تو اس بادشاہ کے قدرت دینے سے ”أَوْ بِالِاسْتِعَانَةِ بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ یا مدد لیتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر سے، منعۃ کہتے ہیں لشکر کو بھئی، ”أَوْ بِالِاسْتِعَانَةِ بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ یا مسلمانوں کے لشکر سے مدد مانگ کر ”وَالْقِصَاصُ وَالْأَمْوَالُ مِنْهَا“ اور قصاص اور مال جو ہیں ”مِنْهَا“ وہ حقوق العباد میں سے ہیں۔ حقوق العباد وصول کیے جا سکتے ہیں تو یہ قصاص اور لوگوں کے مال حقوق العباد میں سے ہیں۔ ”وَأَمَّا حَدُّ الْقَذْفِ“ اور حدِ قذف بھئی، کیا بادشاہ اگر کسی پر زنا کا الزام لگا دے تو کیا بادشاہ پر حد قذف جاری کی جا سکتی ہے؟ کہتے ہیں نہیں، حد قذف جو ہے اس کے اندر بندے کا بھی حق ہے۔ ایک شخص پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے تو اس کا حق ہے وہ قاضی سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ اس شخص پر حد قذف جاری کی جائے، تو حد قذف جو ہے یہ حق العبد بھی ہے اور یہ حق اللہ بھی ہے، لیکن اس کے اندر حق اللہ کو غالب قرار دیا گیا ہے اور حق اللہ جو ہے وہ تو بادشاہ سے وصول نہیں ہو سکتے لہٰذا حد قذف بھی بادشاہ پر واجب نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا حَدُّ الْقَذْفِ“ اور باقی حد قذف جو ہے ”قَالُوا: الْمُغَلَّبُ فِيهِ“ غلّب یغلّب تغلیب کا معنی ہے غالب قرار دینا۔ کہتے ہیں: ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں ”الْمُغَلَّبُ فِيهِ“ کہ حد قذف کے اندر غالب قرار دیا گیا ہے ”حَقُّ الشَّرْعِ“ حقِ شریعت کو۔ حد قذف کے اندر حق شریعت کو غالب قرار دیا گیا ہے ”فَحُكْمُهُ كَحُكْمِ سَائِرِ الْحُدُودِ الَّتِي هِيَ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى“ تو اس حد کا بھی وہی حکم ہے جیسے کہ باقی وہ حدود جو اللہ کا حق ہیں جیسے ان کا حکم ہے۔ اور باقی وہ حدود جو اللہ کا حق ہیں وہ تو بادشاہ پر واجب نہیں تو یہ حد قذف بھی بادشاہ پر واجب نہیں ہوگی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَأَمَّا حَدُّ الْقَذْفِ“ اور باقی حد قذف جو ہے ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں ”الْمُغَلَّبُ فِيهِ حَقُّ الشَّرْعِ“ تو اس کے اندر بھی شریعت کے حق کو غالب قرار دیا گیا ہے ”فَحُكْمُهُ“ تو حد قذف کا جو حکم ہے ”كَحُكْمِ سَائِرِ الْحُدُودِ“ اس کا حکم بھی ان باقی حدود کے حکم کی طرح ہی ہے ”الَّتِي هِيَ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى“ وہ حدود جو اللہ کا حق ہیں، اس کا حکم بھی ان حدود کی طرح ہے اور وہ حدود تو بادشاہ پر واجب نہیں تو یہ حد قذف بھی بادشاہ پر واجب نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی۔ هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 113 of 160