اگے سبق دیکھیے بھئی۔
قَالَ: ”وَالْوَاجِبُ أَنْ يَبْتَدِئَ مِنْ ارْتِفَاعِ الْوَقْفِ بِعِمَارَتِهِ شَرَطَ ذَلِكَ الْوَاقِفُ أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْ، لِأَنَّ قَصْدَ الْوَاقِفِ صَرْفُ الْغَلَّةِ مُؤَبَّدًا، وَلَا يَبْقَى دَائِمَةً إِلَّا بِالْعِمَارَةِ فَيَثْبُتُ شَرْطُ الْعِمَارَةِ اقْتِضَاءً، وَلِأَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ“.
بھئی! گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ مشاع چیز کا وقف جو ہے، اس میں صاحبین کا آپس میں اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع حصے کا وقف جائز ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع کا وقف جائز نہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مشاع کا معنیٰ ہے پھیلا ہوا۔ بعض اوقات ایک زمین کے اندر دو آدمیوں کی شرکت ہوتی ہے تو ہر ایک کا حصہ اس زمین میں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ مثلاً زید اور عمرو نے مل کر زمین خرید لی، تو اب اس زمین کے اندر نصف حصہ زید کا ہے اور نصف حصہ عمرو کا ہے، لیکن جب تک یہ دونوں تقسیم نہیں کرتے تو اس وقت تک دونوں کا حصہ پوری زمین کے اندر پھیلا ہوا ہے۔ زمین کا کوئی ایک جزء بھی ایسا نہیں کہ اس کے بارے میں ہم کہہ سکیں یہ زید کا حصہ ہے، یا ہم اس کے بارے میں کہہ سکیں کہ یہ عمرو کا حصہ ہے، بلکہ اس زمین کا کوئی بھی حصہ لے لیں، اس میں زید کا بھی حصہ ہے اور عمرو کا بھی حصہ ہے۔ اس زمین کا ایک انچ ٹکڑا بھی لیں گے تو اس میں زید کا بھی حصہ اور عمرو کا بھی حصہ ہے۔ تو زید اور عمرو دونوں کا حصہ زمین کے اندر پھیلا ہوا ہے، تو اس کو کہتے ہیں مشاع بھئی۔
اب زید اپنے مشاع حصے کو وقف کرنا چاہتا ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع کا وقف بھی جائز ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، مشاع چیز کا وقف جائز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہبہ اور صدقہ ہے بھئی، یاد رکھو یہ ہبہ اور صدقہ ان دونوں کے اندر قبضہ ضروری ہے۔ صرف زبان سے کہنے سے نہ ہبہ پورا ہوتا ہے اور نہ صدقہ۔ مثلاً میرے سامنے ایک کتاب پڑی ہے، میں نے زید سے کہا ہے کہ یہ کتاب میں نے آپ کو ہبہ کر دی، تو صرف میرے کہنے سے زید اس کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ جب زید اس پر قبضہ کر لے گا اب زید مالک بن جائے گا۔ اسی طرح صدقہ بھی ہے، صرف زبان سے کہنے سے فقیر جو ہے درہم اور دینار کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ جب وہ درہم آپ فقیر کے حوالے کر دیں گے اور فقیر ان پر قبضہ کر لے گا، پھر وہ ان درہم اور دینار کا مالک بن جائے گا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہبہ اور صدقہ ان کے اندر قبضہ شرط ہے اور مشاع چیز کا نہ ہبہ جائز اور نہ صدقہ جائز ہے، مشاع چیز کا نہ ہبہ جائز اور نہ صدقہ۔
جیسے میں نے مثال ذکر کی کہ زید اور عمرو نے مل کر زمین خریدی ہے۔ اب زید اپنا مشاع حصہ جو ہے وہ کسی کو ہبہ کرنا چاہتا ہے، تحفے کے طور پر دینا چاہتا ہے، یا کسی غریب کو اپنا حصہ صدقہ کرنا چاہتا ہے تو یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ ہبہ اور صدقے میں قبضہ ضروری ہے اور جب تک حصہ الگ نہیں ہوگا، اس وقت تک فقیر کے لیے یا موہوب لہ کے لیے اس پر پوری طرح قبضہ کرنا ممکن نہیں ہے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح مشاع چیز کا ہبہ اور صدقہ جائز نہیں، اسی طرح مشاع چیز کا وقف بھی جائز نہیں ہے بھئی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع چیز کا وقف بھی جائز ہے بھئی۔
لیکن اگر کوئی چیز اتنی چھوٹی ہے کہ اس کے اندر تقسیم ممکن ہی نہیں ہے، یعنی اگر تقسیم کیا جائے تو وہ اس کا کوئی فائدہ ہی باقی نہیں رہتا، جیسے حمام ہے یا پن چکی ہے۔ اب دو آدمیوں کی شرکت ہے حمام کے اندر یا پن چکی کے اندر، اب حمام تو چھوٹا سا ہوتا ہے، اگر اس کو تقسیم کریں گے پھر تو اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں رہے گا، وہ تو بے کار ہو جائے گا۔ اسی طرح پن چکی بھی چھوٹی سی ہوتی ہے، اگر اس میں بھی تقسیم کر دیں گے تو وہ تو کسی کام کی نہیں رہے گی، اس کا تو فائدہ ہی ختم ہو جائے گا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ویسے تو مشاع چیز جو ہے اس کے اندر جس طرح ہبہ اور صدقہ نہیں جائز، اسی طرح اس کا وقف بھی جائز نہیں، لیکن اگر کوئی چیز اتنی چھوٹی ہے کہ اسے تقسیم ہی نہیں کیا جا سکتا تو اس کے اندر پھر ہبہ بھی جائز اور صدقہ بھی جائز، کیونکہ وہاں مجبوری ہے۔ تو وہاں پر اس چھوٹی سی چیز کے اندر مشاع حصے کا ہبہ بھی جائز اور صدقہ بھی جائز، اور جب اس چھوٹی چیز میں مشاع کا ہبہ اور صدقہ جائز ہے تو اس کے اندر وقف بھی جائز ہوگا۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ویسے تو مشاع کا وقف جائز نہیں، لیکن اگر وہ چیز اتنی چھوٹی ہے کہ تقسیم نہیں ہو سکتی تو پھر اس کے اندر مشاع کا وقف بھی جائز ہے۔
اور نیز پھر آگے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ مسجد اور قبرستان کی زمین، اس کے اندر بالاتفاق جو ہے مشاع کا وقف جائز نہیں ہے۔ حتیٰ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو مشاع کے وقف کو جائز کہتے ہیں، وہ بھی فرماتے ہیں کہ مشاع کا وقف بطورِ مسجد کے یا بطورِ قبرستان کے درست نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ جب تک یہ مسجد میں یا قبرستان میں کسی کی شرکت رہے گی تو یہ تو خالص اللہ کے لیے نہیں ہو سکتا، جب خالص اللہ کے لیے نہیں ہو سکتا تو ان کا وقف بھی جائز نہیں ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف جائز نہیں، لیکن اس سے مراد شیوعِ اصلی ہے۔ شیوعِ اصلی، شیوعِ اصلی وہ ہے کہ جس وقت کسی چیز کو وقف کیا جائے، اس وقت ہی شیوع موجود تھا، اس وقت ہی وہ حصہ مشاع تھا بھئی۔ تو یاد رکھیں یہ جو شیوع ہے یہ دو قسم پر ہے: ایک شیوعِ اصلی ہے اور ایک شیوعِ طاری ہے۔ شیوعِ اصلی وہ ہے جو وقف کرتے وقت ہو یا جو ہبہ اور صدقہ کرتے وقت موجود ہو، اس کو کہتے ہیں شیوعِ اصلی۔ اور ایک وہ شیوع ہے جو بعد میں آ جائے تو اس کو شیوعِ طاری کہتے ہیں، یعنی وہ شیوع پیش آیا ہے۔ تو یاد رکھو یہ جو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع کا وقف جائز نہیں، اس سے مراد شیوعِ اصلی ہے جو وقف کے وقت ہی موجود ہو، اور اگر یہ شیوع بعد میں طاری ہوا ہے پھر اس کی وجہ سے وقف باطل نہیں ہوگا۔ تو لہٰذا وہ فرماتے ہیں اگر ایک شخص نے اپنا باغ یا زمین وقف کی اور بعد میں اس کے اندر کسی اور کا حصہ نکل آیا اور اس کا حصہ مشاع ہے، پورے باغ میں پھیلا ہوا ہے تو اس قسم کے باغ کا وقف جو ہے وہ باطل ہے، کیونکہ معلوم ہوا جس وقت اس نے باغ کو وقف کیا تھا اس وقت ہی شیوع موجود تھا بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کسی معین حصے کے اندر، کسی معین حصے کے اندر کسی کا استحقاق نکل آئے، مثلاً زید نے اپنا باغ وقف کیا اور پھر بعد میں اس کا ایک مستحق نکل آیا اور اس نے دعویٰ کر دیا کہ اس باغ کا جو فلاں کنارہ ہے، فلاں کنارے کی جو زمین ہے وہ میری ہے، تو اب دیکھو ایک معین حصے کا استحقاق نکلا ہے، تو اب یہاں شیوع نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں وقف باطل نہیں ہوگا۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ جس طرح ہبہ اور صدقہ ان میں شیوعِ اصلی ہو تو ہبہ اور صدقہ جائز نہیں اور ہبہ اور صدقہ کے اندر اگر شیوعِ طاری آ جائے تو اس کی وجہ سے ہبہ اور صدقے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقف کے اندر بھی اگر شیوعِ اصلی ہوا تو وہ وقف باطل ہے اور اگر وہ شیوعِ طاری ہوا، بعد میں پیش آیا تو اس کی وجہ سے وقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جیسے ہبہ اور صدقے پر شیوعِ طاری کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جو وقف کیا جاتا ہے، اس کی آخر ایسی جہت پر ہو کہ وہ ختم ہونے والی نہ ہو، منقطع ہونے والی نہ ہو۔ اگر کوئی چیز وقف کی لیکن اس طور پر کہ اس کا آخر منقطع ہونے والا ہے، پھر یہ وقف جائز نہیں۔ مثلاً ایک آدمی نے اپنا باغ وقف کر دیا کہ یہ باغ میں اللہ کے راستے میں دیتا ہوں اور آج کے بعد اس کی آمدنی زید پر خرچ کی جائے، تو اب دیکھو زید جو ہے، زید تو ہمیشہ رہنے والا نہیں، کچھ سال تک زندہ رہے گا پھر اس کا انتقال ہو جائے گا۔ معلوم ہوا اس شخص نے باغ کو ایسے طریقے پر وقف کیا ہے کہ اس کے آمدنی کی جو جہت بیان کی ہے وہ منقطع ہونے والی ہے، کوئی ایک وقت آئے گا وہ آمدنی خرچ کرنے کی جو جہت ہے وہ ختم ہو جائے گی، تو لہٰذا طرفین فرماتے ہیں یہ وقف جائز نہیں ہے، وقف مؤبد ہونا چاہیے۔ وقف مؤبد ہونا چاہیے، ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میرے اس باغ کی آمدنی زید پر خرچ کی جائے اور زید کے انتقال کے بعد پھر فقراء پر یہ آمدنی خرچ کی جائے، تو اب دیکھو اس نے ایسی جہت بیان کر دی جو منقطع ہونے والی نہیں ہے بھئی۔ اس کی آمدنی کو زید پر خرچ کیا جائے گا اور جب زید کا انتقال ہو جائے گا پھر فقراء پر خرچ کیا جائے گا اور یہ جہت ختم ہونے والی نہیں، فقراء پر ہمیشہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔ تو لہٰذا طرفین فرماتے ہیں کہ وقف کا جو آخر ہے وہ ایسی جہت ہونی چاہیے جو منقطع ہونے والی نہ ہو۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ وقف جو ہے یہ تابید کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ مؤبد ہونا چاہیے، ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ وقف جو ہے اس کے اندر زوالِ ملک لا الیٰ مالک ہوتا ہے۔ واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور کوئی اور بھی اس کا مالک نہیں بنتا، اور زوالِ ملک تو ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا یہ وقف بھی ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے، وقف بھی تقاضا کرتا ہے کہ یہ بھی ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے بھئی۔
اس پر میں نے اشکال ذکر کیا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک تو وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہی نہیں ہوتی، تو پھر یہاں یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ وقف جو ہے اس کے اندر زوالِ ملک ہوتا ہے، امام صاحب کے نزدیک تو زوالِ ملک نہیں ہوتا، واقف کی ملکیت وقف پر سے ختم نہیں ہوتی؟ تو میں نے جواب دیا تھا کہ یا تو یہ محمول ہے امام صاحب کی دوسری روایت پر، امام صاحب سے ایک روایت امام محمد رحمہ اللہ کے موافق بھی ہے کہ وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے۔ یا اس کو امام صاحب کی پہلی روایت پر ہی محمول کر لیں، لیکن اس صورت پر جب امام صاحب کے نزدیک بھی وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ جب حاکم اس کا فیصلہ کر دے، جب حاکم اس کا فیصلہ کر دے، آپ کو صاحبِ قدوری نے بتلایا تھا کہ جب واقف وقف کے لازم ہونے کا فیصلہ کر دے تو پھر امام صاحب کے نزدیک بھی واقف کی ملکیت وقف پر سے ختم ہو جاتی ہے، تو اس صورت پر محمول کر لیں گے بھئی۔
تو حاصلِ کلام یہ کہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہے، اگر مؤبد جہت بیان نہ کی تو یہ وقف ہی باطل ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ ان کے نزدیک اگر وقف کے لیے کوئی مؤبد جہت بیان نہ کی جائے، پھر بھی وقف صحیح ہے۔ کوئی مؤبد جہت بیان نہ کی جائے، یعنی ہمیشہ رہنے والی کوئی جہت بیان نہ کی جائے، پھر بھی وقف صحیح ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے اپنا باغ وقف کر دیا کہ اس کی آمدنی زید پر خرچ کی جائے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگرچہ اس وقف کی ایسی جہت بیان کی ہے جو مؤبد نہیں، لیکن پھر بھی یہ وقف صحیح ہے۔ تو اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے اس کہنے کا کیا معنیٰ کہ وقف کی جہت اگر مؤبد بیان نہ کی جائے پھر بھی وقف صحیح ہے؟ تو بعض فقہاء فرمانے لگے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہی نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ وقف کے ذریعے ثواب مقصود ہے، اللہ کا قرب مقصود ہے کہ عند اللہ انسان کے درجات بڑھتے چلے جائیں، اور یہ اس وقف میں بھی ہو سکتا ہے جو کچھ وقت کے لیے ہو اور اس وقف میں بھی ہو سکتا ہے جو ہمیشہ کے لیے ہو۔ تو دونوں کے ذریعے ثواب بھی ملتا ہے اور اللہ کا قرب بھی ملتا ہے، ہاں البتہ جو مؤبد ہوگا اس میں ثواب زیادہ ہوگا اور اس میں اللہ کا قرب زیادہ ملے گا، لیکن بہرحال موقت بھی ہو، کچھ وقت کے لیے بھی اگر وقف ہو پھر بھی ثواب تو ملے گا، اللہ کا قرب تو ملے گا، تو یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں، وقف مؤبد نہ ہو پھر بھی جائز ہے۔
توجہ ہے؟ یہ بعض فقہاء کی تقریر چل رہی ہے، وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کا یہ معنیٰ بیان کرتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے جو ذکر کیا کہ واقف اگر وقف کی کوئی ایسی جہت بیان کر دے جو منقطع ہونے والی ہے پھر بھی وقف جائز ہے، تو بعض فقہاء فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وقف مؤبد ہونا ضروری نہیں ہے۔ لیکن دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، وقف کا مؤبد ہونا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ضروری ہے، ہاں صرف فرق اتنا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس وقف کے مؤبد ہونے کو لفظوں میں ذکر نہ بھی کیا جائے پھر بھی کوئی حرج نہیں، وہ مؤبد ہی رہے گا۔ رہے گا مؤبد ہی اگرچہ لفظوں میں ذکر نہ کیا جائے، وجہ یہ کہ وقف کا اپنا لفظ جب ذکر کر دیا یا صدقے کا لفظ ذکر کر دیا کہ میں یہ باغ وقف کرتا ہوں یا یہ باغ میں صدقہ کرتا ہوں، تو وقف اور صدقہ ہوتا ہی ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا اس لفظ سے ہی ہمیشگی کا پتہ چل گیا، دوام کا پتہ چل گیا، لہٰذا اس کو علیحدہ لفظوں میں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہی قول صحیح ہے کہ وقف کا مؤبد ہونا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی شرط ہے اگرچہ واقف اس کو لفظوں میں ذکر نہ کرے، چنانچہ اسی لیے صاحبِ قدوری نے بھی متن میں ذکر فرمایا: ”وَصَارَ بَعْدَهَا لِلْفُقَرَاءِ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّهِمْ“ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ایسی جہت ذکر کر دی جائے جو منقطع ہونے والی ہے تو بھی وقف صحیح ہے اور اس جہت کے منقطع ہو جانے کے بعد وہ وقف جو ہے عام فقراء کے لیے ہو جائے گا۔ تو صاحبِ قدوری کی عبارت سے بھی پتہ چل رہا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف مؤبد ہوگا اگرچہ اس کو ذکر نہ بھی کیا جائے۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقف کا مؤبد ہونا شرط ہے، وقف کا مؤبد ہونا شرط ہے، وقف کے اندر منافع اور آمدنی جو ہے اس کا صدقہ کیا جاتا ہے اور یہ صدقہ کچھ وقت کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور ہمیشہ کے لیے بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہمیشہ ہونے کو وہ لفظوں میں ذکر کرے، اگر وہ ہمیشہ ہونے کو لفظوں میں ذکر نہیں کرتا تو اس کو مؤبد قرار نہیں دیا جا سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور نیز پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے صحیح ہونے کے لیے تین شرطیں ہیں بھئی: ایک شرط تو پہلے ذکر کی کہ وہ وقف کسی متولی کے قبضے میں دیا جائے اور وہ اس پر قبضہ کر لے۔ دوسری شرط کہ وقف مشاع نہیں ہونا چاہیے، مشاع کا وقف امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ اور تیسری شرط یہ کہ وقف جو ہے اس کا آخر ایسا ہو جو منقطع ہونے والا نہ ہو، تو یہ تین شرطیں ہیں وقف کے صحیح ہونے کے لیے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ کن چیزوں کا وقف صحیح ہے اور کن چیزوں کا وقف صحیح نہیں ہے۔ بتلایا کہ یہ جو غیر منقولی جائداد ہے، جیسے زمین ہے، مکان ہے، فیکٹری ہے، دکان ہے، باغ ہے، کھیت ہے، یہ ہمیشہ رہنے والی چیزیں ہیں، ان کے اندر تو بالاتفاق وقف جائز ہے، کیونکہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے منقول ہے، بہت سے صحابہ نے اپنی جائدادیں وقف فرمائی تھیں، حتیٰ کہ چاروں خلفائے راشدین نے بھی اپنی جائدادیں وقف کی ہیں اور دیگر صحابہ نے بھی، تو غیر منقولی جائداد جو ہے اس میں تو بالاتفاق وقف جائز ہے ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک۔ البتہ منقولی چیزوں میں وقف جائز ہے یا نہیں؟ تو امام صاحب کے نزدیک منقولی چیزوں کا وقف جائز نہیں ہے۔ مطلقاً، کوئی بھی منقولی چیز ہو اس کا وقف جائز نہیں ہے، وجہ یہ کیونکہ ابھی پیچھے ذکر کیا کہ وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہے اور منقولی چیز تو ہمیشہ نہیں رہتی، جتنی مرضی اعلیٰ چیز ہو کچھ سالوں کے بعد آہستہ آہستہ وہ ختم ہو جائے گی، تو منقولی چیز مؤبد نہیں، لہٰذا ان کا وقف بھی جائز نہیں، تو یہ امام صاحب کا قول ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک منقولی چیز کا وقف علی الاطلاق جائز ہی نہیں ہے، یعنی کسی بھی منقولی چیز کا وقف جائز نہیں ہے۔
جبکہ اس کے مقابلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منقولی چیزوں میں سے گھوڑا اور اسلحہ جو ہیں ان کا وقف جائز ہے، وجہ یہ کہ ان کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے، اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ غیر منقولی چیز کا وقف تو بالاتفاق جائز ہے، تو اس غیر منقولی جائداد کے تابع کرتے ہوئے منقولی چیزوں کا وقف بھی اس کے ساتھ جائز ہوگا۔ مثلاً ایک آدمی اپنا کھیت وقف کرتا ہے اور کھیت کے ساتھ جو ہے وہ اس کے ساتھ بیل وغیرہ ہیں یا مشینری ہے یا اور کھیت سے متعلق منقولی چیزیں ہیں ان کو بھی وقف کرتا ہے، تو اصل وقف تو کھیت کا ہوا اور کھیت مؤبد ہے، توجہ ہے؟ وہ کاشت والی زمین وہ ہمیشہ رہنے والی ہے، تو اصل وقف جو ہے وہ اس قابلِ کاشت زمین کا ہوا اور باقی منقولی چیزیں جو ہیں وہ اس کے تابع ہو کر وہ بھی وقف ہو جائیں گی، ان میں بھی وقف صحیح ہو جائے گا۔
چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات ایک چیز کے اندر ایک حکم قصداً تو ثابت نہیں ہو سکتا، لیکن طبعاً اس کے اندر ایک حکم ثابت ہو جایا کرتا ہے۔ جیسے پانی کی باری ہے، میں نے بتلایا کہ مثلاً ایک چھوٹی سی نہر آ رہی ہے، زید بھی اس سے اپنی زمین سیراب کرتا ہے اور عمرو بھی اس سے اپنی زمین سیراب کرتا ہے، معلوم ہوا اس پانی کی باری کے اندر زید کا حصہ ہے۔ اب زید اپنی پانی کی باری بیچنا چاہتا ہے تو یہ اس کے لیے جائز نہیں کیونکہ یہ تو ایک حق کا نام ہے، یہ کوئی وجودی چیز نہیں ہے، لہٰذا اس کی بیع جائز نہیں۔ تو لہٰذا پانی کی باری کی بیع قصداً جائز نہیں، ہاں زمین کے تابع اس کی بیع جائز ہے کہ زید اپنی زمین بیچتا ہے تو اس کے تابع اس پانی کی باری کو بھی بیچ دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔ یا اسی طرح عمارت جو ہے، زمین کے اوپر کوئی عمارت بنائی جائے، اب یہ عمارت تو منقولی چیز ہے، اس کو یہاں سے اکھاڑ کر ملبے کی صورت میں دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے کہ اس عمارت کو گرا دیا جائے اور پھر ملبے کو دوسری جگہ لے جائیں، تو عمارت منقولی چیز ہے، اور صرف عمارت کے اندر وقف جائز نہیں، لیکن جب اس زمین کو وقف کیا جائے جس کے اندر یہ عمارت موجود ہے تو زمین کے تابع ہو کر یہ عمارت بھی وقف ہو جائے گی۔
تو حاصلِ کلام یہ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اسلحے اور گھوڑے کا وقف بھی جائز ہے اور غیر منقولی چیز کے تابع ہو کر منقولی چیز کا وقف بھی جائز ہے، اور یہی ایک قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا بھی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک اور روایت ہے کہ اس کے مطابق ان چیزوں میں بھی وقف جائز ہے جو ابھی ذکر ہوئیں اور ان کے علاوہ ایسی منقولی چیزیں ہیں کہ ان میں لوگوں کا تعامل جاری ہے وقف کرنے کا، مثلاً جنازے کی چارپائی لوگ وقف کر دیتے ہیں، یا جنازے کے اوپر جو کپڑا ڈالتے ہیں وہ وقف کر دیتے ہیں، یا کوئی اوزار وغیرہ لوگ وقف کر دیتے ہیں بعض علاقوں کے اندر، یا اسی طرح قرآن جو ہے اس کو لوگ مسجدوں میں لاتے ہیں اور اس کو وقف کر دیتے ہیں، تو یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن کے اندر لوگوں کا تعامل جاری ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کا دوسرا قول جو ہے اس کے مطابق جن منقولی چیزوں کے اندر لوگوں کا تعامل ہو ان کو وقف کرنے کا، ان کا وقف بھی جائز ہے۔
اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر فرمایا کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر منقولی چیز کا وقف جائز ہے، بس اس میں دو شرطیں ہونی چاہئیں: ایک تو یہ کہ اس کے اصل کو باقی رکھتے ہوئے اس سے نفع اٹھانا جائز ہو، اس کے اصل کو باقی رکھتے ہوئے اس سے نفع اٹھانا جائز ہو، اور دوسری شرط یہ کہ اس کو بیچنا بھی جائز ہو۔ دیکھیے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے جب آپ نفع اٹھاتے ہیں تو وہ باقی نہیں رہتیں، مثلاً درہم اور دینار سے آپ تبھی نفع اٹھا سکتے ہیں جب آپ اس درہم اور دینار کو خرچ کریں گے، تو درہم اور دینار جو ہیں آپ کے ہاتھ سے نکل گئے، خرچ ہو گئے، ختم ہو گئے، پھر ہی آپ نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ یا اسی طرح جو کھانا ہم روزانہ کھاتے ہیں، اس کھانے سے بھی ہم جب نفع اٹھاتے ہیں تو اسی صورت میں نفع اٹھاتے ہیں کہ اس کو کھا لیا جائے، تو جب آپ اس کھانے کو کھاتے ہیں تو وہ کھانا ختم ہو جاتا ہے۔ تو کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے نفع اٹھایا جائے تو وہ ختم ہو جاتی ہیں، وہ باقی نہیں رہتیں، اور کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے باقی رہتے ہوئے ان سے نفع اٹھانا ممکن ہے، جیسے آپ کپڑے پہنتے ہیں، اب دیکھو کپڑوں سے آپ نفع اٹھا رہے ہیں لیکن یہ باقی ہیں، یا آپ کسی سواری پر سوار ہوتے ہیں تو آپ سواری سے نفع اٹھا رہے ہیں اور وہ سواری باقی ہے۔ گاڑی پر آپ سفر کر کے آ گئے، گاڑی ابھی بھی موجود ہے، آپ نے نفع بھی اٹھا لیا اور گاڑی ابھی بھی موجود ہے، تو اس طرح بعض چیزیں جو ہیں ان سے نفع اٹھایا جائے پھر بھی وہ باقی رہتی ہیں بھئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر منقولی چیز میں وقف جائز ہے بشرطیکہ اس کے اندر دو شرطیں پائی جائیں: ایک تو یہ کہ اس سے نفع اٹھانا جائز ہو اس کے باقی رہتے ہوئے، اور دوسرا یہ کہ اس کو بیچنا جائز ہو۔ وہ فرماتے ہیں جب ایک منقولی چیز کے اندر جب یہ دونوں شرطیں پائی جائیں گی تو وہ عقار کی طرح ہو گیا، یعنی غیر منقولی جائداد کی طرح، جیسے غیر منقولی جائداد سے نفع اٹھایا جاتا ہے اور وہ باقی رہتی ہے، آپ دکان سے نفع اٹھا رہے ہیں اور دکان باقی ہے بھئی، آپ کھیت سے نفع اٹھا رہے ہیں اور کھیت باقی ہے بھئی، آپ باغ سے نفع اٹھا رہے ہیں اور باغ باقی ہے بھئی، آپ گھر کے اندر رہائش رکھتے ہیں، آپ گھر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور گھر باقی ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے عقار جو ہے اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور وہ باقی رہتی ہے اور اس کو بیچنا بھی جائز ہے، اسی طرح منقولی چیز کے اندر بھی جب یہ دونوں صفتیں پائی جائیں گی تو وہ بھی عقار کی طرح ہو جائے گا، اور عقار میں تو بالاتفاق وقف جائز ہے، تو اس منقولی چیز میں بھی وقف جائز ہو جائے گا۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ یہ منقولی چیز جو ہے گھوڑے اور اسلحے کی طرح ہو جائے گی، گھوڑے اور اسلحے سے نفع اٹھایا جاتا ہے اور نفع اٹھانے کے بعد بھی یہ باقی رہتے ہیں، اور نیز ان کو بیچنا بھی جائز ہے، تو اور منقولی چیزیں جو ہیں ان میں بھی جب یہ دو صفتیں پائی جائیں گی تو وہ بھی گھوڑے اور اسلحے کی طرح ہو گئیں، اور گھوڑے اور اسلحے کا وقف تو جائز ہے، لہٰذا ان منقولی چیزوں کا وقف بھی جائز ہوگا۔
لیکن ہمارے نزدیک ہر منقولی چیز میں وقف جائز نہیں۔ ایک تو غیر منقولی جائداد کے اندر وقف جائز ہے، اور پھر گھوڑے اور اسلحے میں وقف جائز ہے کیونکہ اس کے بارے میں احادیثِ مبارکہ آئی ہیں، اور نیز چند منقولی چیزیں وہ ہیں جن میں لوگوں کا تعامل ہو تو اس کے اندر بھی وقف جائز ہے اور منقولی چیزوں میں وقف جائز نہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ آپ باقی منقولی چیزوں کو عقار پر قیاس نہیں کر سکتے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نا کہ منقولی چیزوں میں دو صفتیں پائی جائیں تو یہ کس کی طرح ہو گئیں؟ عقار کی طرح، غیر منقولی جائداد کی طرح، ہم کہتے ہیں نہیں، عقار تو مؤبد ہے، ہمیشہ رہنے والی ہے اور منقولی چیز جو ہے وہ ہمیشہ رہنے والی نہیں، تو دونوں میں فرق ہے، لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ نیز ہم کہتے ہیں کہ گھوڑے اور اسلحے پر بھی آپ قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ گھوڑا اور اسلحہ جو ہے ان کا ذکر تو احادیثِ مبارکہ میں ہے جبکہ اور منقولی چیزوں کا ذکر تو احادیثِ مبارکہ میں نہیں، اور کچھ چیزوں کے اندر ہم جو ہے لوگوں کے تعامل کی وجہ سے وقف کو جائز قرار دیتے ہیں اور ہر منقولی چیز کے اندر تو لوگوں کا تعامل نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ جب وقف صحیح ہو جائے، یعنی لازم ہو جائے تو پھر نہ اس کا بیچنا جائز ہے اور نہ کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا جائز ہے، الا یہ کہ وہ وقف جو ہے مشاع ہو، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق، تو اس کے اندر بھی وقف جائز ہوتا ہے۔ تو اب اگر ایک شخص نے اپنے مشاع حصے کو وقف کر دیا اور اس کا شریک اب تقسیم کا مطالبہ کرتا ہے کہ اپنا حصہ میرے سے الگ کر دو، زید اور عمرو نے مل کر زمین خریدی اور زید نے اپنا حصہ وقف کر دیا، تو اب دوسرا شریک جو ہے وہ تقاضا کرتا ہے کہ میرا حصہ الگ کر دو، تو اب دیکھو زید نے جو حصہ وقف کیا وہ تو پوری زمین کے اندر پھیلا ہوا تھا، پوری زمین میں پھیلا ہوا تھا، تو اب یہاں پر، یہاں پر جب تقسیم کریں گے تو یہاں مبادلہ لازم آئے گا، یعنی یعنی یہاں بیع لازم آئے گی، لیکن پھر بھی یہ وقف جائز ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا جب بھی ایک چیز دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہو اور پھر جب وہ اس کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں تو وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی۔ افراز کا معنیٰ ہے اپنا حصہ الگ کرنا، مبادلہ کا معنیٰ ہے دوسرے کے کچھ حصے کے ساتھ کچھ اپنے حصے کا مبادلہ کر لینا۔
مثلاً دیکھو، زید اور عمرو نے مل کر سو من گندم خریدی، سو من گندم خریدی، اب یہ جو گندم ہے یہ دونوں کے درمیان مشترکہ ہے۔ گندم کے ہر ہر دانے میں زید کا بھی حصہ اور عمرو کا بھی حصہ ہے، گندم کا ایک دانہ بھی آپ نہیں کہہ سکتے یہ صرف زید کا ہے یا یہ صرف عمرو کا ہے، بلکہ ہر دانے میں دونوں کا حصہ ہے۔ اب دونوں آپس میں اس کو تقسیم کرتے ہیں، آدھی گندم زید لے لیتا ہے اور آدھی گندم عمرو لے لیتا ہے۔ اب دیکھو، زید کے پاس جو گندم آئی ہے وہ ساری زید کی نہیں تھی، کچھ حصہ زید کا تھا اور کچھ حصہ کس کا تھا؟ عمرو کا تھا، اسی طرح عمرو کے پاس جو گندم آئی ہے وہ ساری گندم عمرو کی نہیں تھی بلکہ کچھ حصہ اس میں زید کا بھی تھا بھئی۔ تو یہاں پر جب دونوں نے اپنا حصہ الگ الگ کیا تو افراز بھی پایا گیا اور مبادلہ بھی پایا گیا۔ افراز کا کیا معنیٰ؟ اپنا حصہ الگ کرنا، تو زید نے جب اپنا حصہ الگ کیا تو اس حصے کے اندر کچھ حصہ تو تھا ہی زید کا، تو افراز پایا گیا، زید نے کیا کیا ہے؟ اپنا حصہ الگ کیا ہے۔ عمرو کے حصے میں جو گندم آئی اس میں بھی کچھ حصہ تو تھا ہی عمرو کا، تو افراز پایا گیا کہ عمرو نے اپنا حصہ الگ کیا ہے، لیکن ساتھ مبادلہ بھی پایا جا رہا ہے۔ زید کے حصے میں جو گندم آئی ہے اس میں تو کچھ حصہ عمرو کا تھا اور عمرو کے حصے میں جو گندم آئی ہے اس میں کچھ حصہ زید کا تھا، تو زید کے حصے میں جو گندم آئی ہے اس کے اندر جو عمرو کا حصہ بنتا تھا وہ زید نے لے لیا، اور بدلے میں عمرو کی گندم کے اندر جو زید کا حصہ بنتا تھا وہ زید نے عمرو کو دے دیا، تو مبادلہ بھی پایا گیا۔ افراز بھی پایا گیا، زید کے حصے میں جو گندم آئی کچھ تو تھی ہی زید کی تو افراز پایا گیا کہ زید نے اپنا حصہ الگ کیا ہے، افراز کا معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ جدا کرنا، زید نے اپنا حصہ الگ کیا ہے، اور مبادلہ بھی پایا گیا کہ کچھ حصہ تو عمرو کا تھا جو زید نے لے لیا اور بدلے میں عمرو کو وہ حصہ دے دیا جو عمرو کی گندم میں زید کا بنتا تھا بھئی۔ تو جب بھی کسی چیز کے اندر شرکت ہو اور اس کو تقسیم کیا جائے، وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی ہوتا ہے۔
توجہ ہے؟ لیکن یاد رکھو یہ جو چیزیں ہیں یہ دو قسم پر ہیں: کچھ کو مثلیات کہتے ہیں جن کا مثل بازار سے مل جاتا ہے، اور مثلیات تین چیزیں ہیں: مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربۃ۔ مکیلات جن کو پیمانے میں ماپ کر بیچا جاتا ہے، جیسے دودھ ہے اور پیٹرول ہے ان کو ایک پیمانے کے اندر بھر کر بیچا جاتا ہے تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ مکیلات، اور جیسے قدیم زمانے میں گندم جو ہے اس کو بھی ایک پیمانے کے اندر ماپ کر بیچا جاتا تھا، ایک برتن ہوتا تھا اس کو بھر کر بیچتے تھے کہ مثلاً ایک قفیز جو ہے ایک درہم کا ہے، دو قفیز دو درہم کے ہیں بھئی، تو ان کو مکیلات کہتے ہیں جن کو پیمانے میں ماپ کر بیچا جاتا ہے۔ کچھ چیزوں کو وزن کر کے بیچا جاتا ہے ان کو موزونات کہتے ہیں، اور کچھ چیزیں جو ہیں جن کو گن کر بیچا جاتا ہے جیسے انڈے ہیں، یا جیسے بعض علاقوں میں اخروٹ جو ہیں وہ بھی گن کر بیچے جاتے ہیں، تو یہ جو معدودات ہیں یہ جن کو گن کر بیچا جاتا ہے تو یہ معدوداتِ متقاربۃ یہ بھی مثلیات میں سے ہیں۔ تو مثلیات تین قسم کی چیزیں ہیں: موزونات، مکیلات اور معدوداتِ متقاربۃ۔
توجہ ہے؟ اور ان کے علاوہ باقی چیزیں ذوات القیم کہلاتی ہیں، یعنی قیمت والی۔ تو یاد رکھو، جب بھی ایک چیز دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہو اور پھر اس کو وہ آپس میں تقسیم کریں، تو ہمیشہ وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ چیز جس کو آپس میں تقسیم کر رہے ہیں اگر وہ مثلیات میں سے ہے، جیسے گندم کس میں سے ہے؟ مثلیات میں سے ہے، تو زید نے اور عمرو نے گندم تقسیم کر لی تو یہاں افراز بھی پایا گیا اور مبادلہ بھی، لیکن مثلیات کے اندر افراز غالب ہے، افراز کو غالب قرار دیا جاتا ہے اور یوں سمجھو افراز ہوا ہے مبادلہ ہے ہی نہیں۔ یہ جو زید کے حصے میں گندم آئی ہے یوں سمجھو یہ تھی ہی زید کی، زید نے صرف اپنا حصہ الگ کیا ہے، اور عمرو کے حصے میں جو گندم آئی ہے وہ تھی ہی عمرو کی، یہاں کوئی زید کا حصہ نہیں تھا۔ توجہ ہے؟ ویسے تو افراز بھی تھا اور مبادلہ بھی، لیکن مثلیات میں جب تقسیم کی جائے تو افراز کو غالب قرار دیا جاتا ہے اور یوں سمجھا جاتا ہے افراز ہی ہوا ہے، مبادلہ ہوا ہی نہیں ہے۔
جبکہ ذوات القیم کے اندر جب تقسیم کی جائے، جیسے زمین، زید اور عمرو نے زمین آپس میں تقسیم کر لی تو اب یہ زمین ذوات القیم میں سے ہے، تو اس کے اندر بھی دیکھو جو زمین کا ٹکڑا زید کے حصے میں آیا، اس میں کچھ حصہ تھا ہی زید کا اور کچھ حصہ عمرو کا تھا، اور عمرو کے حصے میں جو زمین کا ٹکڑا آیا اس میں کچھ حصہ تو تھا ہی عمرو کا اور کچھ حصہ زید کا تھا۔ تو گویا زید کے حصے میں جو زمین آئی ہے اس میں کچھ زید کا حصہ تھا اور کچھ عمرو کا حصہ تھا، لیکن زید نے عمرو کا حصہ بھی لے لیا اور بدلے میں وہ حصہ جو عمرو کی زمین میں زید کا بنتا تھا وہ اس نے عمرو کو دے دیا۔ تو یہاں پر بھی افراز بھی ہے اور مبادلہ بھی ہے، لیکن ذوات القیم کے اندر جب تقسیم کی جائے تو وہاں مبادلے کو غالب قرار دیا جاتا ہے، تو یوں سمجھا جاتا ہے یہاں مبادلہ ہوا ہے۔ تو مثلیات میں تقسیم ہو تو اس کو افراز سمجھا جاتا ہے کہ مبادلہ ہوا ہی نہیں، اور ذوات القیم کے اندر تقسیم ہو تو اس کو مبادلہ سمجھا جاتا ہے۔
توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی یہ جو زمین ہے، یہ زید نے اپنا مشاع حصہ وقف کر دیا اور عمرو نے کہا کہ اب میرے ساتھ تقسیم کر دو، اپنا وقف حصہ میرے سے الگ کر دو، تو جب دونوں الگ کریں گے تو یہ تقسیم کس کے اندر کر رہے ہیں؟ زمین میں، اور زمین کس میں سے؟ ذوات القیم، اور ذوات القیم کے اندر تقسیم ہو تو وہاں پر مبادلہ غالب ہوتا ہے، یوں سمجھو کیا کیا جا رہا ہے؟ مبادلہ کیا جا رہا ہے، اور جب مبادلہ کیا جا رہا ہے تو گویا بیع ہو رہی ہے۔ بیع بھی کسے کہتے ہیں؟ ”مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ“، آپ ایک مال دیتے ہیں اور بائع سے دوسرا مال لے لیتے ہیں، تو بیع کے اندر بھی مبادلۃ المال بالمال ہوتا ہے، اور یہاں بھی زمین کے اندر کچھ حصہ تو تھا ہی زید کا اور کچھ حصہ عمرو کا بنتا تھا وہ زید نے لے لیا، اور بدلے میں عمرو کی زمین میں جو زید کا حصہ بنتا تھا وہ اس کو دے دیا، تو مبادلہ پایا گیا، اور مبادلۃ المال بالمال ہے اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیع کہتے ہیں، یعنی یوں سمجھو زید نے اپنے کچھ حصے کا مالک عمرو کو بنا دیا اور عمرو نے اپنے کچھ حصے کا مالک زید کو بنا دیا تو تملیک پائی گئی، کیا پائی گئی؟ تملیک پائی گئی۔ حالانکہ حالانکہ جب وقف لازم ہو جائے، وقف لازم ہو جائے تو آپ پڑھ چکے ہیں اس میں کسی قسم کا تصرف جائز نہیں، نہ اسے بیچا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، یعنی کسی دوسرے کو اس کا مالک نہیں بنایا جا سکتا، تو یہاں پر جب وقف کی تقسیم کی جائے گی تو یہاں تو یہ تملیک پائی جا رہی ہے تو یہ تو جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وقف کی تملیک جائز نہیں ہے، کسی دوسرے کو مالک نہیں بنایا جا سکتا۔
تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں پر زمین کے اندر تقسیم ہو رہی ہے اور اس کو مبادلہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہاں پر اس کو افراز قرار دیں گے۔ یہاں پر اس کو افراز قرار دے دیں گے، ویسے تو زمین کے اندر تقسیم ہو تو وہ مبادلہ ہوتا ہے لیکن یہاں اس کو افراز قرار دیں گے وقف کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ جب افراز پایا گیا تو مبادلہ ہے ہی نہیں، جب مبادلہ ہے ہی نہیں تو تملیک نہیں، جب تملیک نہیں تو لہٰذا کوئی خرابی لازم نہیں آئی بھئی، کیونکہ وقف میں تو تملیک جائز نہیں تھی لیکن یہاں تو تملیک ہے ہی نہیں۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ جب واقف جو ہے اپنے شریک کے ساتھ اس زمین کو تقسیم کرتا ہے تو یاد رکھو اس کو مقاسمہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اپنا حصہ لینا ایک چیز میں سے۔
اپنا حصہ الگ کرنا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقاسمہ۔ اور مقاسمہ ہمیشہ دو افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک ہوتا ہے مُقَاسِم اپنا حصہ لینے والا اور دوسرا ہوتا ہے مُقَاسَم جس سے اپنا حصہ لیا گیا ہے۔ تو جب بھی مقاسمہ ہوگا یعنی اپنا حصہ الگ کیا جائے گا وہاں مقاسم اور مقاسم کا الگ الگ ہونا ضروری ہے۔ ایک ہی آدمی مقاسم اور مقاسم نہیں ہو سکتا۔
زید ہے مقاسم اپنا حصہ لینے والا، اور آپ کہیں بھئی کس سے آپ نے اپنا حصہ لیا؟ تو زید کہتا ہے جی میں نے اپنے آپ سے ہی اپنا حصہ لیا۔ تو دیکھو کوئی بھی اس طرح نہیں کہتا کہ اپنے آپ سے ہی حصہ لیا ہے۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا مقاسم اور ہونا چاہیے، مقاسم اور۔ یا یوں کہو، مطالب جو ہے مطالبہ کرنے والا وہ اور ہوتا ہے اور جس سے مطالبہ کیا جائے وہ اور ہوتا ہے۔ تو زید نے وقف کی ہے اس کا شریک جو ہے وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ میرا حصہ اب الگ کر دو، تو وہ کیا بن گیا؟ مُطَالِب، اور مطالبہ کس سے ہے؟ زید سے، تو زید کیا بن گیا؟ مُطَالَب۔ تو مطالب اور ہوتا ہے مطالب اور ہوتا ہے۔ ایک ہی شخص مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا۔ مثلاً زید کہتا ہے میں نے مطالبہ کیا۔ معلوم ہوا زید مطالب ہے۔ پوچھا گیا کس سے مطالبہ کیا؟ کہتا ہے میں نے اپنے آپ سے ہی مطالبہ کیا۔ نہیں بھئی یہ تو آپ مطالب بھی بن گئے اور مطالب بھی بن گئے۔ ایک ہی شخص مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا۔ مطالبہ ہمیشہ کسی دوسرے سے کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جب بھی وقف کے اندر تقسیم کی جائے گی تو وہاں مقاسمہ ہوگا، تو وہ دو افراد میں ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر ایک شخص نے اپنی ہی زمین کے کچھ حصے کو وقف کر دیا مثلاً زید کا ایک باغ ہے، زید نے کہا میں نے اس میں سے نصف باغ وقف کر دیا۔ نصف باغ وقف کر دیا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگرچہ یہ مشاع حصے کا وقف اس نے کیا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔
باقاعدہ حد بندی نہیں کی کہ یہ والا حصہ میں نے وقف کیا ہے یا یہ والا، بس مطلقاً کہا اس باغ کا نصف میں نے کیا کر دیا؟ وقف کر دیا۔ معلوم ہوا مشاع حصے کا وقف کیا ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وقف جائز ہے۔ اب اگر اس کو تقسیم کرنے کی ضرورت پیش آ جائے تو اب کیا کریں؟ اب تو کوئی دوسرا شریک نہیں ہے زمین کے اندر۔ یہی آدمی ہے جس کا کچھ حصہ ابھی بھی اس کا اپنا ہی ہے اور کچھ حصہ اس نے وقف کر دیا ہے۔ تو پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اس صورت میں پھر قاضی اس کے ساتھ مقاسمہ کرے گا کیونکہ مقاسم اور مقاسم الگ ہونے چاہییں۔ یا یوں کرے یہ آدمی جو ہے نصف باغ کسی دوسرے آدمی کو بیچ دے۔
نصف تو وقف کر دیا ہے اور باقی نصف کسی دوسرے کو بیچ دے، تو اب وقف بھی مشاع ہے اور دوسرے کو جو نصف بیچا ہے وہ بھی مشاع ہے۔ پھر وہ دوسرا آدمی اس سے تقاضا کرے کہ بھئی میرا حصہ الگ کر دو، تو وہ آدمی مقاسم ہو جائے گا کہ وہ اپنا حصہ الگ کرنا چاہتا ہے اور یہ کیا بن جائے گا؟ مقاسم بن جائے گا۔ پھر دونوں تقسیم کر لیں گے۔ جب تقسیم ہو گیا اب آدھا باغ متعین ہو گیا، یہ والا آدھا باغ جو ہے یہ وقف ہے اور دوسرا باغ اس دوسرے آدمی کا ہے، اس کو پھر وہ واقف واپس اس سے خرید لے گا۔ تو اس طرح وہ مقاسمہ کر لیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
قَالَ: ”وَالْوَاجِبُ أَنْ يَبْتَدِئَ مِنْ ارْتِفَاعِ الْوَقْفِ بِعِمَارَتِهِ شَرَطَ ذَلِكَ الْوَاقِفُ أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْ“.
بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ وقف کی آمدنی میں سے سب سے پہلے جو ہے اس وقف کی تعمیر و مرمت کروائی جائے گی۔ وجہ یہ کہ وہ جو وقف کرنے والا تھا وہ چاہتا تھا کہ اس وقف کی آمدنی ہمیشہ صدقہ ہوتی رہے اور اس کو اس کا اجر و ثواب ملتا رہے۔ لہٰذا اس وقف کے ہمیشہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تعمیر اور مرمت کروائی جائے اور وہ تعمیر اور مرمت جو ہے وہ انہی لوگوں پر آئے گی جن کے لیے اس کی آمدنی وقف کی گئی ہے۔ یعنی اس وقف سے فائدہ فقراء اٹھا رہے ہیں تو اس وقف کی تعمیر و مرمت کا خرچہ بھی انہی فقراء پر آئے گا کیونکہ حدیث میں آتا ہے: ”الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ“. نفع جو ہوتا ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ کسی چیز سے ایک آدمی جب نفع اٹھاتا ہے تو اس چیز کا ضمان بھی اسی شخص پر آتا ہے۔ یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے بھئی البتہ ذرا دوسرے الفاظ کے ساتھ کہ ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ بھئی۔ تو حدیث میں آتا ہے: ”الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ“، خراج ضمان کے بدلے ہے۔ لہٰذا یہ جو وقف کی آمدنی ہے اس میں سے سب سے پہلے اس وقف کی تعمیر اور مرمت کروائی جائے گی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں دو صورتیں ہیں کہ واقف نے یا تو اس وقف کی آمدنی عام فقراء پر صدقہ کی ہوگی اور عام فقراء کا تو پتہ نہیں چل سکتا، لہٰذا پھر اس صورت میں اسی وقف کی آمدنی جو آ رہی ہے اسی سے تعمیر اور مرمت کروائیں گے۔ وجہ یہ کہ یہ جو وقف کی آمدنی ہے یہ فقراء کا حق ہے اور اس وقف کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری بھی فقراء پر آتی ہے، لہٰذا یہ آمدنی انہی کا حق ہے، انہی فقراء کا مال ہے تو انہی کے مال میں سے پھر اس وقف کی مرمت کروائی جائے گی بھئی۔ لیکن اگر واقف نے یہ وقف کیا ہے کسی معین آدمی پر تو پھر اس صورت کے اندر اس معین آدمی سے تو مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقف کی مرمت کروا لو، لہٰذا پھر اس سے مطالبہ کیا جائے گا اور پھر اس کی مرضی ہے جس مرضی آمدنی سے اس وقف کی تعمیر کروائے، اس وقف کی مرمت کروائے، چاہے اسی آمدنی میں سے وہ مرمت کروا دے اور چاہے تو اپنے کسی دوسرے مال سے اس وقف کی مرمت کروا دے۔
توجہ ہے؟ تو فقراء پر جب وقف کیا ہے تو فقراء تو متعین نہیں، لہٰذا اس صورت میں اسی آمدنی سے ہی وقف کی مرمت کروائی جائے گی کیونکہ یہ آمدنی فقراء کا حق ہے، فقراء کا مال ہے، تو فقراء کے مال سے ہی اس کی اصلاح اور مرمت کروا دی جائے گی۔ لیکن اگر کوئی معین آدمی ہے اس سے تو مطالبہ ہو سکتا ہے کہ اس وقف کی مرمت کروا دو، کیونکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو مرمت کروانے کی ذمہ داری بھی اس کی ہے، لہٰذا لہٰذا اس سے کہا جائے گا اور پھر وہ چاہے اسی وقف کی آمدنی کو اس پر خرچ کر دے کیونکہ یہ بھی اسی کا مال ہے اور چاہے اپنا کوئی دوسرا مال جو ہے اس وقف کی تعمیر اور مرمت پر خرچ کر دے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ یہ بھی بتلائیں گے کہ وقف کی تعمیر اور مرمت جو ہے اسی صورت پر کروائی جائے گی جس صورت پر واقف نے اس کو وقف کیا تھا۔ اس کو مزید اعلیٰ بنانے کے لیے زائد خرچہ نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ وہ معین شخص اس کی اجازت دے دے۔ وہ معین شخص جس پر وقف کیا ہے وہ اس کی اجازت دے دے۔ اور اگر فقراء پر وقف کیا ہے تو وہاں تو اجازت کی بھی صورت نہیں ہے، تو پھر اس میں بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ وقف کو پہلے سے بہتر حالت پر کرنا یہ جائز ہے، اور بعض کہتے ہیں نہیں اس کی زائد تعمیر و مرمت کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ اس وقف کی تعمیر و مرمت کروائی جائے گی کہ یہ اسی حالت پر رہے جس حالت پر وقف کیا تھا۔ اس سے زائد اس پر خرچ کرنے اور اس کو اعلیٰ بنانے کی حاجت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں:
قَالَ: (صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:)
”وَالْوَاجِبُ أَنْ يَبْتَدِئَ مِنْ ارْتِفَاعِ الْوَقْفِ بِعِمَارَتِهِ“
یہاں ایک لفظ آ رہا ہے ارتفاع بھئی۔ ارتفاع یاد رکھو محاسل اور آمدنی جو ہے اس کو ارتفاع کہتے ہیں۔ ”وَبِعِمَارَتِهِ“ یاد رکھو عَمَرَ يَعْمُرُ عِمَارَةً کا معنی ہوتا ہے عربی زبان میں تعمیر کرنا اور کسی عمارت کو بنانا، عَمَرَ يَعْمُرُ عِمَارَةً، البتہ یہاں یہ عمارت کا لفظ تعمیر اور مرمت کے معنی میں استعمال ہوگا۔ توجہ ہے؟
تو کہتے ہیں:
قَالَ: (صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:)
”وَالْوَاجِبُ أَنْ يَبْتَدِئَ مِنْ ارْتِفَاعِ الْوَقْفِ“
اور واجب یہ ہے کہ وقف کی آمدنی سے ابتدا کی جائے،
”بِعِمَارَتِهِ“
اس وقف کی مرمت کی،
”شَرَطَ ذَلِكَ الْوَاقِفُ أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْ“
چاہے وقف کرنے والے نے اس تعمیر اور مرمت کی شرط لگائی تھی یا شرط نہیں لگائی تھی۔ چاہے اس نے شرط لگائی تھی یا شرط نہیں لگائی تھی لیکن پھر بھی اس کی آمدنی سے وقف کی تعمیر اور مرمت کروائی جائے گی۔
تو کہتے ہیں:
”شَرَطَ ذَلِكَ الْوَاقِفُ أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْ“
واقف نے اس کی شرط لگائی تھی یا شرط نہیں لگائی تھی۔
”لِأَنَّ قَصْدَ الْوَاقِفِ صَرْفُ الْغَلَّةِ مُؤَبَّدًا“
کہتے ہیں اس لیے کیونکہ واقف کا جو ارادہ ہے ”صَرْفُ الْغَلَّةِ مُؤَبَّدًا“ وہ اس وقف کی آمدنی کو خرچ کرنا ہے مؤبداً ہمیشہ۔ وہ چاہتا ہے کہ اس وقف کی آمدنی کو ہمیشہ خرچ کیا جائے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ قَصْدَ الْوَاقِفِ صَرْفُ الْغَلَّةِ مُؤَبَّدًا“
اس لیے کیونکہ وقف کرنے والے کا جو ارادہ ہے وہ اس آمدنی کو خرچ کرنا ہے ہمیشہ کے طریقے پر،
”وَلَا يَبْقَى دَائِمَةً إِلَّا بِالْعِمَارَةِ“
اور یہ دائمی طور پر وقف باقی نہیں رہ سکتا مگر تعمیر اور مرمت کے ذریعے ہی،
”فَيَثْبُتُ شَرْطُ الْعِمَارَةِ اقْتِضَاءً“
تو تعمیر کی شرط جو ہے وہ اقتضاءً کے طریقے پر ثابت ہو جائے گی۔ یعنی وقف خود ہی اس کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی تعمیر و مرمت کروائی جائے تاکہ یہ باقی رہ سکے اور اس کی آمدنی صدقہ ہوتی رہے اور واقف کو ثواب ملتا رہے۔ تو یہاں تعمیر و مرمت کی جو شرط ہے وہ اقتضاءً ثابت ہوگی۔ کیا معنی اقتضاءً؟ یعنی وقف خود ہی تقاضا کرتا ہے کہ اس کی تعمیر و مرمت کروائی جائے تاکہ یہ مؤبد رہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”فَيَثْبُتُ شَرْطُ الْعِمَارَةِ اقْتِضَاءً“
تو لہٰذا تعمیر و مرمت کی جو شرط ہے وہ اقتضاء کے طریقے پر ثابت ہوگی۔
”وَلِأَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ“
اور نیز اس لیے کیونکہ نفع جو ہوتا ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ جو لوگ اس وقف کی آمدنی سے نفع اٹھا رہے ہیں تو ضمان بھی انہی پر آئے گا، تعمیر اور مرمت کا خرچہ بھی انہی پر آئے گا بھئی۔ اور نیز یہ جو وقف کی آمدنی ہے یہ انہی کا حق ہے، یہ انہی لوگوں کا حق ہے جن پر یہ خرچ کی جا رہی ہے، تو یہ آمدنی ان لوگوں کا مال ہے تو یہ تعمیر و مرمت کا خرچہ ان پر ہے لہٰذا اسی آمدنی میں سے اس پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِأَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ“
اور اس لیے کیونکہ نفع جو ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔
”وَصَارَ كَنَفَقَةِ الْعَبْدِ الْمُوصَى بِخِدْمَتِهِ“
بھئی ایک شخص ہے وہ اپنے غلام کی وصیت کرتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرا یہ غلام عمر کی خدمت کرتا رہے گا۔ تو اب دیکھو اس نے عمر کو غلام کا مالک نہیں بنایا صرف غلام کی خدمت کی وصیت کی ہے عمر کے لیے۔ غلام تو اس کے وارثوں ہی کا ہوگا البتہ غلام کی خدمت اس عمر کے لیے ہوگی۔ اور پھر یاد رکھو یہ جو وصیت کرنے والا ہے اس کو کہتے ہیں موصی بھئی، أَوْصَى يُوصِي إِيصَاءً فَهُوَ مُوصٍ، تو یہ جو وصیت کرنے والا ہے یہ ہے موصی اور جس چیز کی وصیت کی ہے وہ ہے موصیٰ، یعنی یہ غلام کی جو خدمت ہے وہ ہے موصیٰ بھئی، اور جس کے لیے وصیت کی ہے اس کو کہتے ہیں موصیٰ لہ۔ موصیٰ لہ جس کے لیے وصیت کی گئی ہے بھئی۔ تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ جب ایک شخص کسی شخص کے لیے اپنے غلام کی خدمت کی وصیت کر دے تو اب اس غلام کی خدمت سے وہ موصیٰ لہ فائدہ اٹھا رہا ہے لہٰذا اس غلام کے کھانے پینے کا خرچہ بھی اسی موصیٰ لہ پر ہوگا۔ کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچہ بھی اسی موصیٰ لہ پر ہوگا کیونکہ ”الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ“، نفع جو ہے وہ ضمان کے بدلے ہے۔ موصیٰ لہ اس غلام سے نفع اٹھا رہا ہے اس کی خدمت کے ذریعے تو اس غلام کا خرچہ وغیرہ اسی موصیٰ لہ پر ہوگا۔ تو یہاں پر بھی ایک شخص نے کوئی عمارت کسی کے لیے وقف کی ہے تو اس عمارت کی آمدنی سے جو لوگ نفع اٹھا رہے ہیں تو عمارت کی تعمیر و مرمت بھی انہی کی ذمہ داری ہوگی، انہی کو کہا جائے گا اس پر خرچ کریں اور یہ جو آمدنی ہے یہ انہی کا حق ہے ان کو مل رہا ہے تو اس آمدنی کو بھی اس تعمیر و مرمت پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِأَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ“
اور اس لیے کیونکہ نفع جو ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے،
”وَصَارَ كَنَفَقَةِ الْعَبْدِ الْمُوصَى بِخِدْمَتِهِ“
اور یہ وقف کی تعمیر ہو گئی اس غلام کے نفقے کی طرح جس کی خدمت کی وصیت کی گئی ہے۔ یہ جو وقف کی تعمیر ہے یہ اس غلام کے نفقے کی طرح ہو گئی جس کی خدمت کی وصیت کی گئی ہے، اور جس کے لیے وصیت کی ہے وہ نفع اٹھا رہا ہے تو غلام کا نفقہ بھی اسی پر، اور جس کے لیے وقف کیا ہے وہ نفع اٹھا رہے ہیں تو وقف کی تعمیر و مرمت بھی انہی کے ذمے ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَصَارَ كَنَفَقَةِ الْعَبْدِ الْمُوصَى بِخِدْمَتِهِ“
تو یہ وقف کی تعمیر و مرمت جو ہے اس غلام کے نفقے کی طرح ہو گئی جس کی خدمت کی وصیت کی گئی ہے،
”فَإِنَّهَا عَلَى الْمُوصَى لَهُ بِهَا“
اس لیے کیونکہ یہ جو غلام کا نفقہ ہے یہ موصیٰ لہ پر ہوگا، ”بِهَا“ أَيْ بِالْخِدْمَةِ اس خدمت کی وجہ سے۔ اس غلام کا نفقہ موصیٰ لہ پر ہوگا خدمت کی وجہ سے۔
تو کہتے ہیں:
”فَإِنَّهَا عَلَى الْمُوصَى لَهُ بِهَا“
تو یہ جو نفقہ ہے یہ موصیٰ لہ پر ہوگا اس خدمت کی وجہ سے۔
آگے دیکھیے:
”ثُمَّ إِنْ كَانَ الْوَقْفُ عَلَى الْفُقَرَاءِ“
تو میں نے بتلایا بھئی کہ وقف یا تو عام فقراء پر ہوگا یا کسی معین آدمی پر ہوگا۔ فقراء پر اگر وقف کیا ہے تو فقراء تو متعین نہیں ہیں لہٰذا یہ جو وقف کی آمدنی ہے اسی کے ذریعے تعمیر و مرمت کروا دیں گے کیونکہ یہ فقراء ہی کا مال ہے تو گویا انہی کے مال سے تعمیر و مرمت کروائی جا رہی ہے۔ اور اگر وہ شخص معین ہے جس پر وقف کیا ہے تو پھر اس صورت میں یہ جو اس عمارت کی آمدنی ہے اسی کو تعمیر و مرمت پر خرچ نہیں کریں گے بلکہ اس شخص سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اس عمارت کی تعمیر اور مرمت کرواؤ، پھر اس کی مرضی ہے چاہے اسی آمدنی میں سے تعمیر و مرمت کروائے اور چاہے اپنے کسی دوسرے مال سے تعمیر اور مرمت کروائے۔
تو کہتے ہیں:
”ثُمَّ إِنْ كَانَ الْوَقْفُ عَلَى الْفُقَرَاءِ“
پھر اگر یہ وقف جو ہے وہ فقراء پر تھا،
”وَلَا يُظْفَرُ لَهُمْ“
اور ان کو پایا نہیں جا سکتا۔ ظَفِرَ يَظْفَرُ کے معنی ہیں کسی چیز کو پا لینا، حاصل کر لینا۔ اور اگر اس وقف کو فقراء پر کیا گیا ہے ”وَلَا يُظْفَرُ لَهُمْ“ اور ان فقراء کو پایا نہیں جا سکتا کیونکہ وہ غیر متعین ہیں یا بہت زیادہ ہیں بھئی، تو ان کو پایا نہیں جا سکتا کہ ان سے مطالبہ کیا جائے، تو کہتے ہیں:
”وَأَقْرَبُ أَمْوَالِهِمْ هَذِهِ الْغَلَّةُ“
اور ان کے مالوں میں سب سے قریبی مال یہ والی آمدنی ہے۔ غلہ کا کیا معنی؟ آمدنی۔
”وَأَقْرَبُ أَمْوَالِهِمْ هَذِهِ الْغَلَّةُ“
اور ان کے مالوں میں سب سے قریب جو ہے یہ والی آمدنی ہے۔ یہ وقف کی جو آمدنی ہے یہ یہ فقراء پر خرچ کی جا رہی ہے تو یہ فقراء کا مال ہے تو فقراء کے اور مال کا تو پتہ نہیں۔ لیکن یہ آمدنی ان کا سب سے قریبی مال ہے جو ہمارے قابو میں ہے اور اختیار میں ہے اور جسے اس وقف پر خرچ کیا جا سکتا ہے لہٰذا اسی میں سے وقف پر خرچ کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَأَقْرَبُ أَمْوَالِهِمْ هَذِهِ الْغَلَّةُ“
اور ان کے مالوں میں سب سے قریبی مال یہ آمدنی ہے یعنی جسے خرچ کیا جا سکتا ہے،
”فَتَجِبُ فِيهَا“
تو اسی کے اندر وہ تعمیر اور مرمت واجب ہوگی۔
”وَلَوْ كَانَ الْوَقْفُ عَلَى رَجُلٍ بِعَيْنِهِ“
اور اگر وقف جو ہے کسی معین آدمی پر تھا،
”وَآخِرُهُ لِلْفُقَرَاءِ“
اور اس کا آخر فقراء کے لیے تھا، تاکہ وقف مؤبد ہو جائے۔ آپ نے پڑھا ہے وقف کا آخر مؤبد ہونا چاہیے۔ اگر ایک معین آدمی کے لیے وقف کی آمدنی کی شرط لگائی ہے تو یہ موقوف علیہ جو ہے یہ تو کچھ عرصے کے بعد مر جائے گا تو یہ تو وقف مؤبد نہ رہا۔ لہٰذا مؤبد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ساتھ یہ بھی ذکر کیا جائے کہ اس کے بعد پھر فقراء کے لیے ہوگا یا آگے اور مصارف ذکر کیے جائیں جو ہمیشہ والے ہوں بھئی۔ تو اسی لیے صاحبِ ہدایہ نے بھی کہا:
”وَلَوْ كَانَ الْوَقْفُ عَلَى رَجُلٍ بِعَيْنِهِ وَآخِرُهُ لِلْفُقَرَاءِ“
اور اگر وقف کسی معین آدمی پر تھا اور وقف کا آخر جو ہے فقراء کے لیے تھا،
”فَهُوَ فِي مَالِهِ“
تو یہ تعمیر و مرمت جو ہے اسی معین آدمی کے مال میں سے ہوگی،
”أَيِّ مَالٍ شَاءَ فِي حَالِ حَيَاتِهِ“
جس مال سے بھی وہ چاہے اپنی زندگی میں۔ یعنی وہ چاہے اسی آمدنی کو خرچ کرے چاہے اپنے کسی دوسرے مال کو تعمیر و مرمت پر خرچ کرے، یہ اس کی مرضی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”فَهُوَ فِي مَالِهِ“
تو یہ تعمیر و مرمت جو ہے اسی موقوف علیہ کے مال میں ہوگی،
”أَيِّ مَالٍ شَاءَ فِي حَالِ حَيَاتِهِ“
جو مال بھی وہ چاہے اپنی زندگی میں،
”وَلَا يُؤْخَذُ مِنْ الْغَلَّةِ“
اور یہ تعمیر و مرمت جو ہے یہ اس آمدنی میں سے نہیں لیا جائے گا، اس آمدنی سے نہیں کروائی جائے گی یعنی قطعی اور یقینی طور پر۔ بلکہ یہ اس آدمی کی مرضی ہے چاہے اسی آمدنی کو خرچ کرے چاہے کوئی اور مال دے دے۔ تو اسی آمدنی میں سے لینا یہ قطعی طور پر نہیں ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا يُؤْخَذُ مِنْ الْغَلَّةِ“ اور یہ تعمیر و مرمت جو ہے اسی آمدنی میں سے نہیں لی جائے گی یعنی اس سے نہیں کروائی جائے گی یعنی قطعی طور پر،
”لِأَنَّهُ مُعَيَّنٌ“
اس لیے کیونکہ وہ موقوف علیہ تو متعین ہے،
”يُمْكِنُ مُطَالَبَتُهُ“
اس سے مطالبہ ممکن ہے۔
”وَإِنَّمَا يُسْتَحَقُّ الْعِمَارَةُ عَلَيْهِ“
یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ اس پر کتنی تعمیر و مرمت لازمی ہے۔ بتلائیں گے کہ وقف اسی صورت پر ہو جائے جس صورت پر واقف نے وقف کیا تھا۔ زائد خرچے کی ضرورت نہیں، وہ اس موقوف علیہ پر لازم نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِنَّمَا يُسْتَحَقُّ الْعِمَارَةُ عَلَيْهِ“
یاد رکھو بھئی اسْتَحَقَّ يَسْتَحِقُّ کا ایک معنی آتا ہے کسی چیز کو واجب کر لینا، کسی چیز کو لازم کر لینا اور یہاں یہی معنی ہے بھئی۔ کہتے ہیں:
”وَإِنَّمَا يُسْتَحَقُّ الْعِمَارَةُ عَلَيْهِ“
اور موقوف علیہ پر یہ تعمیر و مرمت جو ہے واجب ہے،
”بِقَدْرِ مَا يُبْقِي الْمَوْقُوفَ“
اتنی مقدار کہ جو اس موقوف کو باقی رکھے،
”عَلَى الصِّفَةِ الَّتِي وَقَفَهُ“
اسی صفت پر جس صفت پر واقف نے اس کو وقف کیا تھا۔ اتنا خرچہ اس پر لازم ہے زائد خرچہ اس پر لازم نہیں۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں:
”وَإِنَّمَا يُسْتَحَقُّ الْعِمَارَةُ عَلَيْهِ“
اور موقوف علیہ پر اس کی تعمیر و مرمت جو ہے واجب ہے،
”بِقَدْرِ مَا يُبْقِي الْمَوْقُوفَ“
اتنی مقدار کہ جو اس موقوف چیز کو باقی رکھے،
”عَلَى الصِّفَةِ الَّتِي وَقَفَهُ“
اسی صفت پر جس صفت پر واقف نے اسے وقف کیا تھا۔
”وَإِنْ خَرِبَ“
اور اگر یہ وقف جو ہے یہ برباد ہو جائے، خراب ہو جائے۔ خَرِبَ يَخْرَبُ کا معنی ویران ہونے کے بھی آتے ہیں اور اس کے معنی برباد ہونے کے بھی ہیں۔ معنی یہ ہے اگر وقف کی عمارت گر جائے۔ اگر وقف کی عمارت گر جائے تو پھر بھی اس کو اسی صفت پر تعمیر کروایا جائے گا اس سے زائد خرچہ لازمی نہیں۔ ہاں اگر وہ موقوف علیہ خود زائد خرچہ کرنا چاہتا ہے تو پھر یہ اس کی مرضی ہے پھر زائد خرچہ کر سکتا ہے لیکن یہ اس پر لازم نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِنْ خَرِبَ“
اور اگر وہ وقف جو ہے خراب ہو جائے یعنی گر جائے اس کی عمارت،
”يُبْنَى عَلَى ذَلِكَ الْوَصْفِ“
تو اس کو تعمیر کیا جائے گا اسی وصف پر، یعنی زائد وصف پر تعمیر کرنا ضروری نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِنْ خَرِبَ يُبْنَى عَلَى ذَلِكَ الْوَصْفِ“
اور اگر وہ وقف جو ہے گر جائے اس کی عمارت تو اس کو اسی وصف پر تعمیر کیا جائے گا،
”لِأَنَّهَا بِصِفَتِهَا“
اس لیے کیونکہ تعمیر و مرمت جو ہے اسی صفت پر ہونے کی وجہ سے
”صَارَتْ غَلَّتُهَا مَصْرُوفَةً إِلَى الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ“
اس وقف کی جو آمدنی ہے وہ خرچ کی جائے گی موقوف علیہ پر۔ جب یہ اسی وصف پر ہوگا تو اس کی آمدنی اسی موقوف علیہ پر خرچ کرنا ممکن ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهَا بِصِفَتِهَا“ اس لیے کیونکہ تعمیر و مرمت کے اسی صفت پر ہونے کی وجہ سے ”صَارَتْ غَلَّتُهَا مَصْرُوفَةً إِلَى الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ“ اس وقف کی آمدنی جو ہے اس موقوف علیہ پر خرچ کی جا سکتی ہے۔
”فَأَمَّا الزِّيَادَةُ عَلَى ذَلِكَ فَلَيْسَتْ بِمُسْتَحَقَّةٍ عَلَيْهِ“
باقی اس پر زیادتی کرنا یہ اس پر واجب اور لازم نہیں ہے۔ اس سے زائد کی تعمیر و مرمت اس پر واجب اور لازم نہیں ہے،
”وَالْغَلَّةُ مُسْتَحَقَّةٌ لَهُ“
اور آمدنی جو ہے وہ تو اسی کے لیے واجب ہے۔ آمدنی کا حقدار تو وہی ہے لہٰذا اس کی اجازت کے بغیر زائد پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ توجہ ہے؟ زائد تعمیر کرنا، اعلیٰ تعمیر کرنا یہ اس پر لازم نہیں لیکن آمدنی اسی کے لیے لازم ہے، تو آمدنی کو زائد پر آپ خرچ کر ہی نہیں سکتے الا یہ کہ وہ خود اجازت دے دے کیونکہ آمدنی اس کا حق ہے اور زائد تعمیر تو اس پر لازم نہیں لہٰذا اس میں اس کی مرضی ضروری ہے اگر آپ زائد تعمیر کرنا چاہتے ہیں، وقف کو اور زیادہ بہتر بنانا چاہتے ہیں بھئی۔ تو آمدنی اسی کا حق ہے،
”فَلَا يَجُوزُ صَرْفُهَا إِلَى شَيْءٍ آخَرَ إِلَّا بِرِضَاهُ“
لہٰذا جائز نہیں ہے کہ اس آمدنی کو خرچ کیا جائے کسی اور چیز پر مگر اس موقوف علیہ کی مرضی سے۔
”وَلَوْ كَانَ الْوَقْفُ عَلَى الْفُقَرَاءِ“
اب دوسری صورت بیان کر رہے ہیں۔ وقف کیا ہے اور وقف کیا ہے عام فقراء پر، تو اس کی آمدنی کے ذریعے تعمیر و مرمت کروائیں گے تو کیا ذرا زیادہ اچھے طریقے سے تعمیر و مرمت کروا سکتے ہیں؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جب عام فقراء کے لیے وقف کیا ہے تو ذرا اچھے طریقے سے بھی تعمیر و مرمت جائز ہے۔ لیکن دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں یہاں پر بھی ضرورت کی وجہ سے ہی تعمیر و مرمت کی جائے گی اور ضرورت یہ ہے کہ اسی حالت پر اس کو کر دیا جائے جس حالت پر واقف نے وقف کیا تھا۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ عام فقراء کے لیے بھی وقف کیا جائے تو اس وصف سے زیادہ تعمیر و مرمت کرنا جس وصف پر واقف نے وقف کیا تھا اس سے زیادہ تعمیر و مرمت جائز نہیں ہے۔ یہ زیادہ صحیح قول ہے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ كَانَ الْوَقْفُ عَلَى الْفُقَرَاءِ فَكَذَلِكَ عِنْدَ الْبَعْضِ“
اور اگر وہ وقف فقراء پر تھا تو بھی اسی طرح ہے بعض فقہاء کے نزدیک، یعنی اس تعمیر و مرمت میں زیادتی جائز نہیں ہے،
”وَعِنْدَ الْآخَرِينَ يَجُوزُ ذَلِكَ“
اور دیگر فقہاء کے نزدیک یہ جائز ہے کہ اور اچھے طریقے سے تعمیر و مرمت کروا لی جائے،
”وَالأَوَّلُ أَصَحُّ“
اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے کہ تعمیر و مرمت میں زیادتی جائز نہیں ہے۔
”وَالأَوَّلُ أَصَحُّ“
تو پہلا قول زیادہ صحیح ہے،
”لِأَنَّ الصَّرْفَ إِلَى الْعِمَارَةِ ضَرُورَةَ إِبْقَاءِ الْوَقْفِ“
اس لیے کیونکہ یہ جو تعمیر و مرمت پر خرچ کیا جاتا ہے یہ وقف کو باقی رکھنے کی ضرورت کی وجہ سے ہے کہ وقف باقی رہے اس کو باقی رکھا جائے، اور زیادتی کی کوئی ضرورت نہیں تو جو تعمیر و مرمت کی جاتی ہے اس کی اجازت ضرورت کی وجہ سے ہے ورنہ تو وہ فقراء کا حق ہے تو ضرورت کی وجہ سے اس تعمیر و مرمت کی اجازت ہے اور زائد کرنے کی تو کوئی ضرورت نہیں، جب ضرورت نہیں تو وہ جائز بھی نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ الصَّرْفَ إِلَى الْعِمَارَةِ ضَرُورَةَ إِبْقَاءِ الْوَقْفِ“
اس لیے کیونکہ تعمیر و مرمت پر جو خرچ کرنا ہے وہ وقف کو باقی رکھنے کی ضرورت کی وجہ سے ہے،
”وَلَا ضَرُورَةَ فِي الزِّيَادَةِ“
اور زیادتی کے اندر کوئی ضرورت نہیں ہے لہٰذا وہ جائز نہیں ہوگی۔
آگے دیکھیے:
قَالَ: ”فَإِنْ وَقَفَ دَارًا عَلَى سُكْنَى وَلَدِهِ فَالْعِمَارَةُ عَلَى مَنْ لَهُ السُّكْنَى“.
اب دوسری صورت آ گئی۔ پہلی صورت میں تو وقف کی آمدنی فقراء وغیرہ پر خرچ کی جا رہی تھی، وقف سے باقاعدہ آمدنی حاصل ہو رہی تھی۔ اب دوسری صورت ہے ایک شخص نے ایک عمارت وقف کر دی کسی کی رہائش کے لیے کہ میں یہ عمارت وقف کرتا ہوں جب تک عمر زندہ ہے وہ اس کے اندر رہائش رکھے اور جب عمر کا انتقال ہو جائے تو پھر اس کے بعد اس کے اندر دین پڑھنے والے جو طلباء ہیں وہ رہائش رکھا کریں۔ توجہ ہے؟ تو اب اس صورت میں یہاں پر وقف کی آمدنی ہے ہی نہیں صرف اس کے منافع ہیں اس کی رہائش سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ تو کیا اب بھی جس کے لیے وقف کیا ہے اسی پر خرچہ آئے گا؟ کہتے ہیں ہاں اس صورت میں بھی خرچہ اسی پر آئے گا کیونکہ ”الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ“. عمر اس سے رہائش کا نفع اٹھا رہا ہے تو تعمیر اور مرمت کا خرچہ بھی اسی پر ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں:
قَالَ: (صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:)
”فَإِنْ وَقَفَ دَارًا عَلَى سُكْنَى وَلَدِهِ“
اگر کسی شخص نے کوئی گھر اپنی اولاد کی رہائش کی شرط پر وقف کر دیا، اپنی اولاد کی رہائش کی شرط پر۔ اپنی اولاد کو ویسے ہی ذکر کر دیا چاہے اپنی اولاد کی رہائش کی شرط لگائے چاہے اور دینی طلباء کی رہائش کی شرط لگائے یا کسی اجنبی کی رہائش کی شرط لگائے، سب کا حکم ایک ہی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
قَالَ: (صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:)
”فَإِنْ وَقَفَ دَارًا عَلَى سُكْنَى وَلَدِهِ“
اگر کسی نے کوئی گھر اپنی اولاد کی رہائش کی شرط پر وقف کر دیا،
”فَالْعِمَارَةُ عَلَى مَنْ لَهُ السُّكْنَى“
تو تعمیر و مرمت جو ہے اسی شخص پر ہوگی جس کے لیے رہائش ہے،
”لِأَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ عَلَى مَا مَرَّ“
اس لیے کیونکہ نفع جو ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ جو شخص جس چیز کا نفع اٹھاتا ہے ضمان اور خرچہ بھی اسی پر آتا ہے۔
”وَصَارَ كَنَفَقَةِ الْعَبْدِ الْمُوصَى بِخِدْمَتِهِ“
تو یہ تعمیر و مرمت جو ہے اس غلام کے نفقے کی طرح ہو گئی جس کی خدمت کی وصیت کی گئی ہے، جس کے لیے خدمت کی وصیت کی ہے اس پر اس غلام کا نفقہ آتا ہے اسی طرح یہاں پر جس کی رہائش کے لیے وقف کیا ہے اسی پر تعمیر و مرمت کا خرچہ بھی آئے گا بھئی۔
آگے دیکھیے:
”فَإِنْ امْتَنَعَ مِنْ ذَلِكَ أَوْ كَانَ فَقِيرًا“
بھئی صورت یہ: زید نے اپنی ایک عمارت وقف کر دی کہ اس کے اندر عمر رہا کرے گا اور عمر کے انتقال کے بعد پھر اس میں دین پڑھنے والے طلباء اس میں رہائش رکھیں گے۔ تو اب اس عمارت کی تعمیر و مرمت کی ضرورت پیش آ گئی۔ عمر سے کہا گیا کہ تعمیر و مرمت کرواؤ، عمر نے انکار کر دیا یا وہ غریب ہے فقیر ہے اس کے پاس مال ہے ہی نہیں کہ وہ اس تعمیر و مرمت پر خرچ کروائے۔ تو اب کیا کیا جائے؟ اس عمارت کی آمدنی تو کوئی ہے نہیں اور تعمیر و مرمت کی حاجت ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں حاکم جو ہے قاضی جو ہے اس موقوف علیہ سے یہ مکان لے لے گا اور اس مکان کو کرائے پر دے دے گا اور پھر اس کے کرائے کو جمع کر لے گا اور پھر اس کے ذریعے اس مکان کی تعمیر و مرمت کروا دے گا اور پھر جب تعمیر و مرمت ہو جائے تو اب پھر وہ مکان اسی موقوف علیہ کو یعنی عمر کو دے دے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں:
”فَإِنْ امْتَنَعَ مِنْ ذَلِكَ“
اگر موقوف علیہ اس سے رک گیا یعنی وہ اس پر خرچ نہیں کر رہا اس کی تعمیر و مرمت نہیں کروا رہا،
”أَوْ كَانَ فَقِيرًا“
یا وہ موقوف علیہ جو ہے وہ فقیر ہے،
”آجَرَهَا الْحَاكِمُ“
تو حاکم اور قاضی جو ہے وہ اس مکان کو اجرت پر دے دے گا یعنی کرائے پر دے دے گا،
”وَعَمَرَهَا بِأُجْرَتِهَا“
بھئی میری کتاب میں ہے ”عَمَّرَهَا“، میم پر شد ہے، یاد رکھو یہ درست نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ ایک ہے اردو میں تعمیر اور ایک ہے عربی میں تعمیر، دونوں کا معنی الگ الگ ہے۔ اردو میں تعمیر کا معنی ہوتا ہے کسی عمارت وغیرہ کو بنانا، اور عربی میں عَمَّرَ يُعَمِّرُ تَعْمِيرًا کا معنی ہوتا ہے کسی جگہ کو آباد کرنا، کسی جگہ میں انسانوں کو لا کر بسانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعمیر کہتے ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر اس کو مجرد سے پڑھیں بھئی، عَمَرَ يَعْمُرُ عِمَارَةً۔ میں نے آپ کو بتلایا عَمَرَ يَعْمُرُ عِمَارَةً کا کیا معنی ہے؟ کوئی عمارت بنانا، تعمیر کرنا، اور مراد کیا ہے؟ یہاں مرمت مراد ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہاں جو ”عَمَّرَ“ آیا ہے یہ درست نہیں ہے، یہ بابِ تفعیل سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ مجرد سے ہونا چاہیے بابِ نصر سے ہے بھئی یہ۔
تو کہتے ہیں کہ اگر وہ خرچ نہیں کرتا:
”آجَرَهَا الْحَاكِمُ“
تو حاکم جو ہے اس مکان کو کرائے پر دے دے،
”وَعَمَرَهَا بِأُجْرَتِهَا“
اور اس کی تعمیر کروا دے اس کی اجرت کے ذریعے،
”وَإِذَا عَمَرَهَا“
اور جب حاکم اس کی تعمیر و مرمت کروا دے،
”رَدَّهَا إِلَى مَنْ لَهُ السُّكْنَى“
تو پھر یہ مکان واپس کر دے اس شخص کے لیے جس کے لیے رہائش ہے، یعنی وہ جو موقوف علیہ ہے جس کے لیے رہائش کی شرط لگائی گئی تھی اس کے حوالے کر دے۔
”لِأَنَّ فِي ذَلِكَ رِعَايَةَ الْحَقَّيْنِ“
اس لیے کیونکہ اس کے اندر دونوں کے حق کی رعایت ہے۔ یہ جو مکان کرائے پر دیا اور تعمیر اور مرمت کروا لی اس میں دونوں کے حق کی رعایت ہے، واقف کی بھی رعایت ہو گئی کہ یہ مکان باقی رہے گا تو جب تک باقی ہے اس کو اجر و ثواب ملتا رہے گا، اور موقوف علیہ کے حق کی بھی رعایت ہو گئی کہ اب وہ اس میں رہائش رکھ سکتا ہے، اب یہ مکان جلدی خراب نہیں ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ فِي ذَلِكَ رِعَايَةَ الْحَقَّيْنِ“
اس لیے کیونکہ اس تعمیر و مرمت کے اندر دونوں کے حق کی رعایت ہے،
”حَقُّ الْوَاقِفِ وَحَقُّ صَاحِبِ السُّكْنَى“
واقف کا حق اور رہائش والے کا حق، دونوں کے حق کی رعایت ہے۔
”لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْمُرْهَا تَفُوتُ السُّكْنَى أَصْلًا“
اس لیے کیونکہ اگر قاضی اس کو تعمیر نہ کرواتا ”تَفُوتُ السُّكْنَى أَصْلًا“ تو رہائش سرے سے ہی فوت ہو جاتی، رہائش سرے سے ہی ختم ہو جاتی،
”وَالأَوَّلُ أَوْلَى“
اور پہلی صورت بہتر ہے۔ ایک ہے کہ حاکم اس کو کرائے پر دے اور تعمیر کروا دے، اور دوسری صورت ہے حاکم تعمیر نہ کروائے، تو تعمیر کروانا اولیٰ ہے کہ اس میں دونوں کے حق کی رعایت ہے۔ اور تعمیر نہیں کروائیں گے پھر تو یہ مکان خراب ہو جائے گا تو پھر دونوں کا حق فوت ہو جائے گا۔ نہ تو اس میں رہائش رکھی جا سکے گی اور نہ ہی واقف کو اس کا اجر و ثواب ملے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَالأَوَّلُ أَوْلَى“
اور پہلی صورت بہتر ہے یعنی تعمیر کروانا بہتر ہے،
”وَلَا يُجْبَرُ الْمُمْتَنِعُ عَلَى الْعِمَارَةِ“
اور وہ جو رکنے والا ہے اس کو تعمیر پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ زید نے عمارت وقف کی ہے عمر کی رہائش کے لیے اور عمر کے بعد پھر دین پڑھنے والے طلباء کے لیے، تو اب عمر کے پاس مال موجود ہے لیکن وہ اس پر مکان کی تعمیر و مرمت پر خرچ نہیں کر رہا تو کیا اس کو قاضی مجبور کر سکتا ہے؟ جبراً اس سے تعمیر اور مرمت کروائی جا سکتی ہے؟ کہتے ہیں نہیں اس کو جبراً مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی وجہ یہ ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ تعمیر و مرمت کروائے گا تو اس کے اندر اس کا مال خرچ ہوگا، اس کا مال ہلاک ہوگا اور کسی کو اپنے مال کے ہلاک کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شریعت کا اہم ضابطہ ہے کہ کسی کو بھی اپنا مال خرچ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں بھی یہ جو موقوف علیہ ہے جس کے لیے رہائش کی شرط لگائی گئی ہے اگر یہ اس پر خرچ کرے گا تو اس کا مال خرچ ہوگا اس کا مال ہلاک ہوگا، لہٰذا قاضی بھی اس کو اس پر مجبور نہیں کر سکتا۔ تو یہ بیج والے کے مشابہ ہو گیا جو مزارعت کے اندر ہوتا ہے۔ یاد رکھو دو آدمی آپس میں عقدِ مزارعت کر لیتے ہیں کہ ہم مل جل کر کھیتی باڑی کریں گے اور جو پیداوار حاصل ہوگی اس کو ہم دونوں آپس میں تقسیم کریں گے، تو یہ جو مزارعت ہے اس کے اندر ایک کے لیے بیج کی شرط لگائی گئی کہ بیج یہ والا آدمی لائے گا، اس نے قبول کر لیا کہ بیج میرے ذمے ہے میں بیج لاؤں گا لیکن پھر بعد میں یہ بیج والا اس عقد سے رک گیا، اس نے کہا نہیں میں یہ کھیتی باڑی نہیں کروں گا۔ اب حالانکہ اس نے عقد کیا ہوا ہے اور جب عقد کر لیا جائے تو اس عقد پر عمل کرنا پڑتا ہے لیکن یہاں پر بیج والا اگر اس عقد پر چلنے سے رک جائے تو قاضی بھی اس کو مجبور نہیں کر سکتا کہ تمہیں اس عقد پر چلنا پڑے گا تم نے خود عقد کیا تھا۔ وجہ یہ کہ یہاں بیج والے کو اپنا بیج خرچ کرنا پڑے گا اور کسی بھی انسان کو اپنا مال خرچ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں پر اس عقد پر چلنے میں بیج والے کا بیج ہلاک ہو رہا ہے اس کا مال خرچ ہو رہا ہے تو لہٰذا اس کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ اپنی مرضی سے تیار ہوتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جبراً اس کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَا يُجْبَرُ الْمُمْتَنِعُ عَلَى الْعِمَارَةِ“
اور وہ شخص جو رک گیا ہے اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا تعمیر و مرمت پر،
”لِمَا فِيهِ مِنْ إِتْلَافِ مَالِهِ“
اس وجہ سے کہ اس کے اندر اس کے مال کا تلف کرنا ہے، اس کو اپنا مال ہلاک کرنا پڑے گا،
”فَأَشْبَهَ امْتِنَاعَ صَاحِبِ الْبَذْرِ فِي الْمُزَارَعَةِ“
تو یہ مشابہ ہو گیا بیج والے کے رکنے کے مزارعت میں۔ اس کا خرچ کرنے سے رکنا یہ بیج والے کے مشابہ ہو گیا جب وہ مزارعت پر چلنے سے رک جائے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”فَأَشْبَهَ امْتِنَاعَ صَاحِبِ الْبَذْرِ فِي الْمُزَارَعَةِ“
تو یہ مزارعت کے اندر بیج والے کے رکنے کے مشابہ ہو گیا۔
”فَلَا يَكُونُ امْتِنَاعُهُ رِضًا مِنْهُ بِإِبْطَالِ حَقِّهِ فِي السُّكْنَى“
یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ اس عمارت کی رہائش کی شرط لگائی گئی تھی عمر کے لیے۔ یہ عمارت وقف کی گئی اور عمر کی رہائش کی شرط لگائی گئی تھی کہ عمر اس میں رہائش رکھے گا۔ جب عمر اس کی تعمیر و مرمت پر خرچ نہیں کر رہا معلوم ہوا وہ اپنا حق چھوڑ رہا ہے، وہ اس عمارت میں نہیں رہنا چاہتا۔ وہ اس عمارت میں نہیں رہنا چاہتا لہٰذا حاکم اس عمارت کو کرائے پر دے گا اور آمدنی سے تعمیر و مرمت کروا لے گا اور پھر چاہیے کہ حاکم یہ عمارت دوبارہ اس موقوف علیہ کو نہ دے کیونکہ وہ اپنا حق باطل کر چکا ہے، اس نے خود ہی جب خرچ کرنے سے انکار کیا معلوم ہوا کہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہو گیا۔ جب دستبردار ہو گیا تو اب وہ مکان اس کو واپس نہیں دیا جائے گا۔ یہ ایک اعتراض ہے تو اس کا جواب دے رہے ہیں۔ توجہ ہے؟
کہتے ہیں:
”فَلَا يَكُونُ امْتِنَاعُهُ رِضًا مِنْهُ بِإِبْطَالِ حَقِّهِ فِي السُّكْنَى“
اس موقوف علیہ کا تعمیر و مرمت پر خرچ کرنے سے رک جانا یہ رضامندی نہیں ہے اس کی طرف سے اپنے رہائش کے حق کو باطل کرنے پر، اپنے رہائش کے حق کو ساقط کرنے پر۔ خرچ کرنے سے رکنا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ رہائش کے حق کو ساقط کر رہا ہے بھئی۔ وجہ یہ ہے کہ خرچ کرنے سے تو آدمی اس لیے بھی رک جاتا ہے کہ اس کے پاس مال موجود نہیں ہوتا، یا خرچ کرنے سے آدمی اس لیے بھی رک جاتا ہے کہ مال تو ہے لیکن ابھی اس کے پاس کوئی اور ضروری حاجت درپیش ہے۔ تو خرچ کرنے سے رکنا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ رہائش کے حق کو ساقط کر رہا ہے۔ لہٰذا جب تعمیر و مرمت ہو جائے گی تو اب وہ مکان واپس اس کو دیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں:
”فَلَا يَكُونُ امْتِنَاعُهُ“
تو اس کا تعمیر و مرمت پر خرچ کرنے سے رک جانا نہیں ہوگا
”رِضًا مِنْهُ بِإِبْطَالِ حَقِّهِ فِي السُّكْنَى“
اس کی طرف سے رضامندی اپنے رہائش کے حق کو باطل کرنے پر،
”لِأَنَّ امْتِنَاعَهُ قَدْ يَكُونُ لِعَدَمِ الْقُدْرَةِ“
کیونکہ اس کا رکنا جو ہے وہ عدمِ قدرت کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے یعنی عاجز ہونے کی وجہ سے، اس کے پاس مال نہیں ہے،
”أَوْ لِمَانِعٍ آخَرَ“
یا کسی اور مانع کی وجہ سے کہ مال ہے لیکن کوئی اور ضرورت درپیش ہے، تو اس کا رکنا کسی اور رکاوٹ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے تو لہٰذا اس کے رکنے کو رہائش کے حق کو باطل کرنے پر محمول نہیں کیا جائے گا پھر تعمیر و مرمت کے بعد وہ مکان واپس اس کو دیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آگے دیکھیے بھئی:
قَالَ: ”وَإِنْ كَانَتْ الدَّارُ كَانَتْ مُعَيَّنَةً فِي أَصْلِ الْوَقْفِ جَازَ لَهُ أَنْ يُؤَجِّرَهَا وَيَصْرِفَ أُجْرَتَهَا إِلَى الْعِمَارَةِ“.
اب یہاں سے تیسری صورت بیان کر رہے ہیں۔ دو صورتیں تو پیچھے گزر چکی ہیں۔ ایک صورت یہ گزری کہ وقف کی آمدنی ہے اور اس آمدنی سے تعمیر و مرمت کروائی جائے۔ دوسری صورت گزری کہ وقف کی آمدنی تو نہیں ہے بلکہ وقف جو کیا گیا ہے وہ منافع کے لیے کیا گیا ہے رہائش کے لیے وقف کیا گیا ہے اور اب اس کی تعمیر و مرمت کی ضرورت ہے اور جس کے لیے رہائش کی شرط لگائی ہے وہ خرچ کرنے سے رک گیا ہے تو پھر حاکم نے اس کو کرائے پر دے دیا اور اس سے تعمیر و مرمت کروا لی اور جب تعمیر ہو گئی تو واپس اس کو دے دیا۔ اب یہاں تیسری صورت یہ ہے کہ واقف نے ایک مکان وقف کیا، اور مکان وقف کیا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جو موقوف علیہ ہے وہ اس مکان کو کرائے پر دے دے۔ موقوف علیہ اس مکان کو کرائے پر دے دے اور کرایہ خود اپنے استعمال میں لائے اور جب یہ انتقال کر جائے تو اس کے بعد پھر طلباء کو یا فقراء کو یہ مکان دے دیا جائے۔ تو اب دیکھو یہاں پر منافع کے لیے بھی اس کو دیا گیا ہے اور اس کو کرائے پر دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے یعنی اس سے آمدنی حاصل کرنے کی اجازت بھی اس موقوف علیہ کو دی گئی ہے۔ تو اب یہاں اگر یہ مکان خراب ہو جائے اور تعمیر و مرمت کی ضرورت پیش آ جائے تو اب اس صورت کے اندر قاضی اور حاکم کی اجازت کے بغیر بھی یہ موقوف علیہ اس کو کرائے پر دے سکتا ہے اور اس کے کرائے کو جمع کر کے اس کی تعمیر و مرمت کروا سکتا ہے بھئی۔ وجہ یہ ہے کہ واقف نے خود ہی اس کو کرائے پر دینے کی اجازت دی ہے تو اس کے کرائے پر دینے میں حاکم کی اجازت کی کوئی حاجت نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں:
قَالَ: (صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:)
”وَإِنْ كَانَتْ الدَّارُ كَانَتْ مُعَيَّنَةً“
اور اگر مکان جو ہے وہ متعین تھا
”لِلْأُجْرَةِ“
کرائے پر دینے کے لیے
”فِي أَصْلِ الْوَقْفِ“
اصل وقف کے اندر۔
یہاں میری کتاب میں ”مُعَيَّنَةً“ کے بعد ”لِلْأُجْرَةِ“ چھوٹ گیا ہے بھئی۔
”وَإِنْ كَانَتْ الدَّارُ مُعَيَّنَةً لِلْأُجْرَةِ فِي أَصْلِ الْوَقْفِ“
اور اگر مکان متعین تھا کرائے پر دینے کے لیے اصل وقف کے اندر یعنی واقف نے وقف کرتے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ اس کو کرائے پر دیا جائے،
”جَازَ لَهُ أَنْ يُؤَجِّرَهَا“
تو اس موقوف علیہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اس مکان کو کرائے پر دے دے،
”وَيَصْرِفَ أُجْرَتَهَا إِلَى الْعِمَارَةِ“
اور اس کی اجرت کو خرچ کرے تعمیر و مرمت پر۔ تو اب اس صورت میں قاضی اور حاکم کی اجازت کی کوئی حاجت نہیں ہے یہ خود ہی اس کو کرائے پر دے سکتا ہے اور اس کی آمدنی کو تعمیر و مرمت پر خرچ کر سکتا ہے۔
”لِأَنَّ الْأُجْرَةَ كَانَ حَقًّا لَهُ“
اس لیے کیونکہ اجرت جو ہے وہ اسی موقوف علیہ کا حق تھا،
”فَكَانَ لَهُ أَنْ يَصْرِفَهُ إِلَى الْعِمَارَةِ“
تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس اجرت کو خرچ کرے تعمیر و مرمت پر،
”بِخِلَافِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ السُّكْنَى“
برخلاف اس شخص کے جس کے لیے صرف رہائش کے طور پر وقف کیا گیا تھا، جس کا ذکر پیچھے گزرا کہ کسی کے لیے صرف رہائش کی شرط پر وقف کیا تھا کرائے پر دینے کی شرط پر وقف نہیں کیا تھا تو اس صورت کے اندر اس موقوف علیہ کو خود کرائے پر دینے کا اختیار نہیں ہوگا بلکہ وہاں حاکم ہی اس کو کرائے پر دے گا۔
تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ السُّكْنَى“
برخلاف اس موقوف علیہ کے جس کے لیے رہائش کے طور پر وقف کیا گیا تھا،
”لِأَنَّ حَقَّهُ فِي الْمَنْفَعَةِ“
اس لیے کیونکہ اس موقوف علیہ کا جو حق ہے وہ صرف اس مکان کے نفع کے اندر ہے،
”لَا فِي الْأُجْرَةِ“
نہ کہ اس کی اجرت کے اندر۔ اس کا حق اجرت میں نہیں ہے بلکہ صرف منافع حاصل کرنے میں اس کی رہائش اختیار کرنے میں ہے، تو لہٰذا وہ خود اس کو کرائے پر نہیں دے سکتا وہاں حاکم اس کو کرائے پر دے گا۔
”فَلَا يَجُوزُ لَهُ الْإِجَارَةُ إِلَّا بِإِذْنِ الْحَاكِمِ“
اس لیے کہ اس موقوف علیہ کے لیے اس مکان کو کرائے پر دینا جائز نہیں ہے الا یہ کہ حاکم کی اجازت سے، کیونکہ اس کا حق صرف منافع میں ہے اجرت میں نہیں ہے لہٰذا وہ حاکم کی اجازت کے بغیر اس کو کرائے پر نہیں دے سکتا تو وہاں حاکم ہی کرائے پر دے گا اور کرایہ وصول کر کے تعمیر کروائے گا اور پھر اس کے حوالے کر دے گا۔ اور یہاں چونکہ واقف نے خود ہی اس کو کرائے پر دینے کی اجازت دے دی ہے تو اس کا حق اجرت میں بھی ہو گیا لہٰذا وہ حاکم کی اجازت کے بغیر بھی اس کو کرائے پر دے کر تعمیر و مرمت کروا سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟
الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے باب الوقف بھی مکمل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس کی برکتوں سے ہم سب کو مالا مال فرمائے۔ اب آگے آ رہا ہے کتاب البیوع، ان شاء اللہ العزیز اس کو کل کے سبق میں شروع کریں گے۔ چلیے بھئی صلوا علی النبی:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ وَصَلِّ عَلَيْهِ.
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.
تو اس مکان میں رہنا نہیں چاہتا۔ جی۔ تو لہٰذا پھر تعمیر و مرمت کے بعد اب یہ مکان اس کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں: نہیں، اس کا رکنا اور باز رہنا وہ اس میں تردد ہے۔ ہو سکتا ہے وہ واقعی اس مکان میں رہنا نہیں چاہتا اس لیے خرچ نہیں کر رہا، اور ہو سکتا ہے وہ اس لیے خرچ نہیں کر رہا کہ اپنا مال بچانا چاہتا ہے بھئی، وہ چاہتا ہے کہ قاضی کوئی صورت نکال لے، وہ خرچ کر دے اور مجھے خرچ نہ کرنا پڑے۔ لہٰذا اس کا تعمیر و مرمت سے رکنا یہ قطعی نہیں ہے کہ وہ اپنا حق باطل کر رہا ہے، بلکہ اس میں دو احتمال آ گئے؛ ہو سکتا ہے اپنا حق چھوڑ رہا ہو، اور ہو سکتا ہے وہ اپنا مال بچا رہا ہو بھئی۔ لہٰذا تردد کی وجہ سے اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا حق باطل ہو گیا ہے، اب اس کے حوالے نہ کیا جائے، بلکہ پھر بھی اسی کے حوالے کیا جائے گا۔ جی۔
تو کہتے ہیں: فَلَا يَكُونُ امْتِنَاعُهُ، لہٰذا اس موقوف علیہ کا رکنا نہیں ہو گا، رِضًى مِنْهُ، اس کی طرف سے رضامندی، بِبُطْلَانِ حَقِّهِ، اپنے حق کے باطل ہونے کی۔ جی۔ موقوف علیہ کا تعمیر و مرمت سے رکنا یہ اپنے حق کے باطل ہونے پر رضامندی نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں: فَلَا يَكُونُ امْتِنَاعُهُ رِضًى مِنْهُ بِبُطْلَانِ حَقِّهِ، لہٰذا اس موقوف علیہ کا تعمیر و مرمت سے رکنا یہ اپنے حق کے باطل ہونے پر رضامندی نہیں ہو گی، لِأَنَّهُ فِي حَيِّزِ التَّرَدُّدِ، اس لیے کیونکہ یہ رکنا جو ہے یہ تردد کے محل میں ہے۔ حیّز کا معنیٰ محل بھئی، جگہ بھئی۔ لِأَنَّهُ فِي حَيِّزِ التَّرَدُّدِ، اس لیے کیونکہ اس کا خرچ کرنے سے رکنا یہ تردد کے محل میں ہے، یہاں دو احتمال ہیں؛ ہو سکتا ہے یہ اپنا حق چھوڑ رہا ہو، اور ہو سکتا ہے یہ اپنا مال بچا رہا ہو۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ فِي حَيِّزِ التَّرَدُّدِ، اس لیے کیونکہ یہ رکنا جو ہے یہ تردد کے محل میں ہے، وَلَا يَصِحُّ إِجَارَةُ مَنْ لَهُ السُّكْنَى لِأَنَّهُ غَيْرُ مَالِكٍ۔ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے کہا کہ اگر موقوف علیہ اس پر خرچ نہیں کرتا تو قاضی اس سے لے لے گا اور قاضی کسی کو کرائے پر دے دے گا۔ تو بھئی موقوف علیہ خود ہی کسی کو کرائے پر دے دے۔ موقوف علیہ کیا کرے؟ خود ہی یہ مکان کسی کو کرائے پر دے دے اور کرایہ جب آ جائے تو پھر تعمیر و مرمت کروا لے۔ کہتے ہیں: نہیں، موقوف علیہ کو یہ حق نہیں ہے، وہ اس کو کرائے پر نہیں دے سکتا۔ جی۔ وہ اس کو کرائے پر نہیں دے سکتا کیونکہ وہ اس مکان کا مالک نہیں ہے، اس کے لیے صرف منافع مباح کیے گئے ہیں کہ آپ اس مکان میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ اس میں رہیں بھئی۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ اس مکان کا یا اس کے منافع کا مالک نہیں، لہٰذا وہ کسی کو کرائے پر یہ مکان نہیں دے سکتا۔
تو کہتے ہیں: وَلَا يَصِحُّ، اور صحیح نہیں ہے، إِجَارَةُ مَنْ لَهُ السُّكْنَى، وہ شخص جس کے لیے رہائش ہے اس کا کرائے پر دینا۔ جی۔ جس شخص کے لیے رہائش ہے اس کا کرائے پر دینا صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَصِحُّ إِجَارَةُ مَنْ لَهُ السُّكْنَى، اور جس شخص کے لیے رہائش ہے اس کا کرائے پر دینا صحیح نہیں ہے، لِأَنَّهُ غَيْرُ مَالِكٍ، کیونکہ وہ مالک نہیں ہے۔ جی۔ کیونکہ وہ نہ اس وقف کا مالک ہے اور نہ اس کے منافع کا مالک ہے۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ رہائش کی شرط تو اسی موقوف علیہ یعنی عمرو کے لیے لگائی گئی تھی کہ عمرو اس مکان میں رہا کرے گا۔ جی۔ تو لہٰذا عمرو کے لیے جائز ہونا چاہیے کہ وہ آگے بھی کسی کو کرائے پر دے سکے کیونکہ رہائش اس کا حق ہے، اس کی مرضی ہے کسی اور کو رہائش دے دے اور کرایہ لیتا رہے، جیسے جیسے ایک شخص جو ہے وہ ایک مکان کرائے پر لے لیتا ہے، مثلاً آپ نے ایک مکان کرائے پر لے لیا ایک مہینے کے لیے اور آپ نے ایک مہینے کا کرایہ بھی ادا کر دیا۔ تو یاد رکھیے آپ ہوئے مستأجر بھئی، اجرت پر اس مکان کو لینے والے۔ آپ کے لیے جائز ہے آپ یہ مکان آگے کسی اور کو بھی کرائے پر دے سکتے ہیں ایک مہینے کے لیے۔ توجہ ہے؟
تو لہٰذا مستأجر جو ہوتا ہے جو ایک مکان کرائے پر لے لیتا ہے، اس کے لیے جائز ہوتا ہے وہ اس مکان کو آگے کسی اور کو بھی کرائے پر دے سکتا ہے۔ تو جب مستأجر جس نے یہ مکان کرائے پر لیا ہے یعنی جس کے لیے اس مکان کی رہائش ہے، جب وہ مکان آگے کرائے پر دے سکتا ہے تو موقوف علیہ کے لیے جب ایک مکان کی رہائش کی شرط لگا دی گئی تو موقوف علیہ کے لیے بھی جائز ہونا چاہیے وہ آگے کسی اور کو یہ مکان کرائے پر دے سکتا ہے۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، آپ اس موقوف علیہ کو مستأجر پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ کہ مستأجر نے اجرت ادا کی ہے، وہ اس مکان کی رہائش کا مالک بن گیا ہے، وہ اس مکان کے منافع کا مالک بن گیا ہے اجرت ادا کر کے، جبکہ موقوف علیہ جو ہے وہ اس عمارت کی رہائش کا مالک نہیں ہے، اس کے لیے رہائش مباح کی گئی ہے کہ آپ رہنا چاہتے ہو تو آپ رہ لیں۔ جی۔ توجہ ہے؟
تو مستأجر وہ منافع کا مالک بن جاتا ہے اور یہ موقوف علیہ منافع کا مالک نہیں ہے بلکہ صرف اس کے لیے منافع مباح ہیں، تو جب اس کے لیے مباح ہیں تو یہ آگے کسی اور کو کرائے پر نہیں دے سکتا، اور مستأجر جب منافع کا مالک بن گیا تو یہ منافع تو اس کے ہو گئے اب اس کی مرضی ہے کسی اور کو آگے ان منافع کا مالک بنا دے اور یہ مکان آگے کسی کو کرائے پر دے دے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: قَالَ: ”وَمَنْ هَدَمَ مِنْ بِنَاءِ الْوَقْفِ وَآلَتِهِ صَرَفَهُ الْحَاكِمُ فِي عِمَارَةِ الْوَقْفِ إِنِ احْتَاجَ إِلَيْهِ“. بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بتلائیں گے کہ اگر وقف کی جو عمارت ہے اس میں سے کوئی چیز گر جاتی ہے، ٹوٹ جاتی ہے، الگ اکھڑ جاتی ہے، تو پھر یاد رکھو اگر حاجت اور ضرورت ہے تو اسی کو لگوا لیا جائے گا، اور اگر فی الحال اس کی حاجت اور ضرورت نہیں تو قاضی اور حاکم اس کو سنبھال کر رکھ لے گا اور جب ضرورت پیش آئے گی پھر اس کو لگوا لے گا، اور اگر وہ چیز ایسی ہے کہ اب اس کو دوبارہ نہیں لگوایا جا سکتا تو پھر اس کو بیچ دیا جائے گا اور اس کے ثمن جو ہیں وہ پھر اس کی تعمیر اور مرمت میں لگوا دیے جائیں گے۔ لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ وہ چیزیں جو اکھڑی ہیں یا گری ہیں وہ انہی فقراء کو دے دی جائیں جن کے لیے یہ وقف ہے۔ ان کو یہ چیزیں دے دی جائیں یا ان چیزوں کو بیچ کر ان کے ثمن فقراء کو دے دیے جائیں، نہیں یہ جائز نہیں ہے کیونکہ فقراء کا جو حق ہے وہ اس وقف کے منافع ہیں، عینِ وقف جو ہے وقف کی عمارت اور اس کے اجزاء ہیں وہ فقراء کا حق نہیں ہے بلکہ وہ تو اللہ کا حق ہے بھئی۔ تو لہٰذا جب یہ فقراء کا حق نہیں ہے تو یہ فقراء کے حوالے بھی نہیں کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ هَدَمَ مِنْ بِنَاءِ الْوَقْفِ وَآلَتِهِ، انہدم ینھدم کے معنیٰ ہیں گرنا۔ مِنْ بِنَاءِ الْوَقْفِ، بناء کہتے ہیں عمارت کو۔ کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ هَدَمَ مِنْ بِنَاءِ الْوَقْفِ، اور وہ جو وقف کی عمارت گر جائے، وَآلَتِهِ، اور اسی طرح وقف کی کوئی آلہ وغیرہ کوئی چیز دروازے یا کھڑکیاں وغیرہ گر جائیں، نکل آئیں، صَرَفَهُ الْحَاكِمُ فِي عِمَارَةِ الْوَقْفِ، تو حاکم اس کو اسی وقف کی تعمیر و مرمت میں خرچ کر دے گا، إِنِ احْتَاجَ إِلَيْهِ، اگر اس کو حاجت ہو، ضرورت ہو، وَإِنِ اسْتُغْنِيَ عَنْهُ، اور اگر اس سے بے نیازی ہو یعنی خرچ کرنے کی فی الحال ضرورت ہی نہیں ہے، أَمْسَكَهُ، تو حاکم اور قاضی اس کو روک لے گا، حَتَّى يَحْتَاجَ إِلَى عِمَارَتِهِ، یہاں تک کہ وہ محتاج ہو جائے تعمیر و مرمت کا۔ یعنی فی الحال تو ضرورت نہیں لیکن بعد میں کسی وقت تعمیر و مرمت کی ضرورت پیش آئے گی تو پھر اس وقت ان کو وہاں لگوا دے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَإِنِ اسْتُغْنِيَ عَنْهُ، اور اگر تعمیر و مرمت سے فی الحال بے نیازی ہے یعنی فی الحال تعمیر کی کوئی ضرورت نہیں، أَمْسَكَهُ، تو قاضی اس کو روک لے گا، حَتَّى يَحْتَاجَ إِلَى عِمَارَتِهِ، یہاں تک کہ وہ محتاج ہو اس کی تعمیر و مرمت کا، فَيَصْرِفُهُ فِيهَا، تو پھر اس کے اندر اس کو وہ خرچ کر دے، لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْعِمَارَةِ، اس لیے کیونکہ وقف کی تعمیر و مرمت ضروری ہے، لِيَبْقَى عَلَى التَّأْبِيدِ، تاکہ یہ وقف ہمیشہ باقی رہے، فَيَحْصُلَ مَقْصُودُ الْوَاقِفِ، تو وقف کرنے والے کا مقصد حاصل ہوتا رہے۔ جب وقف ہمیشہ رہے گا تو اس کا نفع صدقہ ہوتا رہے گا اور واقف کو اجر و ثواب ملتا رہے گا۔ تو کہتے ہیں تاکہ یہ وقف ہمیشہ رہے: فَيَحْصُلَ مَقْصُودُ الْوَاقِفِ، تو واقف کا مقصد حاصل ہوتا رہے گا۔
فَإِنْ مَسَّتِ الْحَاجَةُ إِلَيْهِ فِي الْحَالِ، اگر فی الحال ہی اس کی حاجت پیش آ جائے، صَرَفَهَا فِيهَا، تو پھر ان چیزوں کو اسی وقف کے اندر وہ حاکم خرچ کر دے گا، وَإِلَّا أَمْسَكَهَا، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی فی الحال ضرورت نہیں ہے تو قاضی ان چیزوں کو روک لے گا، حَتَّى لَا يَتَعَذَّرَ عَلَيْهِ ذَلِكَ، تاکہ کہیں قاضی پر یہ متعذر نہ ہو جائے، أَوَانَ الْحَاجَةِ، ضرورت کے وقت۔ فی الحال اگر ضرورت نہیں ہے تو سنبھال کر رکھ لے تاکہ ضرورت کے وقت قاضی کے لیے یہ نہ ہو مشکل پیش آئے۔ تو ضرورت کے وقت مشکل پیش آئے گی تو تعمیر نہیں ہو سکے گی اور جب تعمیر نہیں ہو سکے گی تو وقف تو خراب ہو جائے گا اور وقف خراب ہو جائے گا تو واقف کا مقصد تو حاصل نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں: وَإِلَّا أَمْسَكَهَا، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی فی الحال ضرورت نہیں ہے تو قاضی ان چیزوں کو روک لے، حَتَّى لَا يَتَعَذَّرَ عَلَيْهِ ذَلِكَ أَوَانَ الْحَاجَةِ، تاکہ ضرورت کے وقت قاضی پر یہ خرچ کرنا متعذر نہ ہو، فَيَبْطُلَ الْمَقْصُودُ، پھر تو مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ اگر ضرورت کے وقت چیز نہ ہوئی پھر تو وقف کا مقصد ہی باطل ہو جائے گا۔ واقف تو چاہتا تھا کہ یہ وقف ہمیشہ رہے، اس کی آمدنی ہمیشہ خرچ کی جائے تاکہ اس کو اجر و ثواب ملتا رہے، تو لہٰذا یہ جو وقف کی آلات وغیرہ ٹوٹ گئے ہیں ان کو قاضی یا حاکم سنبھال کر رکھے اور ضرورت کے وقت پھر ان کو وقف کے اندر لگا دے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ معنیٰ ہے: وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو کہ یعنی فی الحال ضرورت نہیں ہے، أَمْسَكَهَا، تو قاضی اس کو روک لے گا، حَتَّى لَا يَتَعَذَّرَ عَلَيْهِ ذَلِكَ، تاکہ حاکم پر یہ متعذر نہ ہو جائے، أَوَانَ الْحَاجَةِ، ضرورت کے وقت، فَيَبْطُلَ الْمَقْصُودُ، پھر تو واقف کا مقصد ہی باطل ہو جائے گا کیونکہ وقف ہی باقی نہ رہے گا۔ جب وقف باقی نہ رہے گا تو پھر اس کی آمدنی بھی واقف کی طرف سے صدقہ نہیں ہو سکے گی بھئی۔
وَإِنْ تَعَذَّرَ إِعَادَةُ عَيْنِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ، اور اگر متعذر ہو جائے عین اس چیز کو لوٹانا اپنے مقام پر، اگر عین اس چیز کو اپنے مقام پر لوٹانا ممکن نہ رہے، وہ چیز خراب ہو گئی ہے اب کسی کام کی ہی نہیں رہی، تو پھر سنبھال کر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ پھر اس کو بیچ دے اور جو ثمن آ جائیں اس کے ذریعے وقف کی تعمیر و مرمت کروا دے۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ تَعَذَّرَ إِعَادَةُ عَيْنِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ، اور اگر عین اسی چیز کو اپنے مقام پر واپس لوٹانا ممکن نہ رہے، بِيعَ وَصُرِفَ ثَمَنُهُ إِلَى الْمَرَمَّةِ، تو اس کو بیچا جائے گا اور اس کے ثمن کو خرچ کیا جائے گا تعمیر و مرمت میں۔ تعمیر اور مرمت میں۔ رَمَّ يَرُمُّ مَرَمَّةً کا معنیٰ ہوتا ہے مرمت کرنا، ٹھیک کرنا۔ رَمَّ يَرُمُّ مَرَمَّةً۔
تو کہتے ہیں اگر اس چیز کو پھر دوبارہ لگانا ممکن نہ ہو تو بِيعَ، اس کو بیچا جائے گا، وَصُرِفَ ثَمَنُهُ إِلَى الْمَرَمَّةِ، اور اس کے ثمن کو خرچ کیا جائے گا مرمت کروانے میں، صَرْفًا لِلْبَدَلِ، بدل کو خرچ کرتے ہوئے، إِلَى مَصْرِفِ الْمُبْدَلِ، مبدل کے خرچ کرنے کی جگہ میں۔ بھئی ادھر دیکھیے۔ مثلاً ایک دروازہ اکھڑ گیا ہے، خراب ہو گیا ہے، جی، تو اسی دروازے کو یہیں لگوانا چاہیے تھا، لیکن یہ دروازہ اتنا خراب ہو گیا ہے اب اس جگہ نہیں لگ سکتا، تو دروازے کو بیچ دیں گے اور اس کا جو بدل آ گیا یعنی ثمن وہ پھر یہاں لگا دیے جائیں گے، تو مبدل کے خرچ کرنے کی جگہ یعنی دروازے کی جگہ اس کا بدل یعنی ثمن کو وہاں لگا دیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس ثمن کے ذریعے نیا دروازہ خرید کر وہاں لگوا دیا جائے۔ تو اولاً تو وہی دروازہ جو وقف کا جزو تھا اسے لگوانا چاہیے تھا مگر وہ نہیں لگ سکتا تو پھر اسے بیچ کر اس کے ثمن وہاں لگا دیے جائیں نئے دروازے کی صورت میں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنیٰ ہے: صَرْفًا لِلْبَدَلِ إِلَى مَصْرِفِ الْمُبْدَلِ، بدل کو خرچ کرتے ہوئے مبدل کے خرچ کرنے کی جگہ میں۔
وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَقْسِمَهُ، اور جائز نہیں ہے کہ قاضی جو ہے تقسیم کر دے اس کو، يَعْنِي النِّقْضَ، یعنی اس کے ملبے کو۔ وہ جو وقف گر گیا ہے یا اس کی کوئی چیز گر گئی ہے تو اس ملبے کو مستحقینِ وقف پر تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَقْسِمَهُ، اور جائز نہیں ہے کہ اس کو تقسیم کر دے، يَعْنِي النِّقْضَ، یعنی ملبے کو۔ نقض بھئی، نون ہے، قاف اور ضاد ہے بھئی، یہ نِقض اور نُقض نون کے ضمہ کے ساتھ بھی صحیح اور نون کے کسرہ کے ساتھ بھی صحیح ہے اور یہ ملبے کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَقْسِمَهُ يَعْنِي النِّقْضَ، اور جائز نہیں ہے کہ اس کو یعنی ملبے کو تقسیم کر دے، بَيْنَ مُسْتَحِقِّي الْوَقْفِ، وقف کے مستحقین میں۔ بَيْنَ مُسْتَحِقِّي الْوَقْفِ اصل میں تھا بَيْنَ مُسْتَحِقِّينَ الْوَقْفِ اور پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا اور پھر یا بھی اجتماعِ ساکنین سے گر گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے کہ اس ملبے کو تقسیم کر دے بَيْنَ مُسْتَحِقِّي الْوَقْفِ، وقف کے مستحقین میں، لِأَنَّهُ جُزْءٌ مِنَ الْعَيْنِ، اس لیے کیونکہ یہ تو عین یعنی عینِ وقف کا جزو ہے، وَلَا حَقَّ لِلْمَوْقُوفِ عَلَيْهِمْ فِيهِ، اور موقوف علیہم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ فقراء کا تو صرف اس کی آمدنی میں حق ہے یا اس کے منافع میں حق ہے، اس وقف کے جزو میں ان کا کوئی حق نہیں۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ جُزْءٌ مِنَ الْعَيْنِ، اس لیے کیونکہ یہ اس عینِ وقف کا جزو ہے، وَلَا حَقَّ لِلْمَوْقُوفِ عَلَيْهِمْ فِيهِ، اور عینِ وقف کے اندر تو موقوف علیہ کا کوئی حق نہیں ہے، وَإِنَّمَا حَقُّهُمْ فِي الْمَنَافِعِ، اور ان کا حق تو صرف منافع کے اندر ہے، وَالْعَيْنُ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى، اور عینِ وقف جو ہے وہ تو اللہ کا حق ہے، وہ تو اللہ کی ملکیت ہے، فَلَا يُصْرَفُ إِلَيْهِمْ غَيْرُ حَقِّهِمْ، لہٰذا ان مستحقین پر خرچ نہیں کیا جائے گا غَيْرُ حَقِّهِمْ ان کے حق کے علاوہ کو۔ جو ان کا حق ہے وہ ان پر خرچ کیا جائے گا، جو ان کا حق نہیں بنتا وہ ان پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔ تو فَلَا يُصْرَفُ إِلَيْهِمْ غَيْرُ حَقِّهِمْ، لہٰذا ان فقراء پر ان کے حق کے علاوہ کو خرچ نہیں کیا جائے گا۔
آگے دیکھیے: قَالَ: ”وَإِذَا جَعَلَ الْوَاقِفُ غَلَّةَ الْوَقْفِ لِنَفْسِهِ أَوْ جَعَلَ الْوِلَايَةَ إِلَيْهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“. اب صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بتلائیں گے کہ اگر وقف کرنے والا وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگا دیتا ہے، مثلاً ایک شخص کہتا ہے: میرا یہ باغ وقف ہے، لیکن جب تک میں زندہ ہوں اس باغ کی آمدنی میں کھاتا رہوں گا، میں استعمال کرتا رہوں گا اور میرے بعد پھر اس کی آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے۔ جی۔ تو اس واقف نے وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگا دی، چاہے ساری آمدنی کی شرط اپنے لیے لگائے چاہے بعض آمدنی کی شرط اپنے لیے لگائے کہ نصف آمدنی میں استعمال کروں گا اور نصف جو ہے وہ فقراء پر خرچ کی جائے اور جب میرا انتقال ہو جائے تو پھر ساری آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے۔ تو کیا اس طرح وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا جائز ہے یا نہیں؟ اور نیز اسی طرح اگر واقف جو ہے یہ شرط لگا دے کہ میری یہ زمین وقف ہے لیکن اس کا متولی اور نگران میں خود ہی ہوں گا۔ امام محمد رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ وقف کو متولی کے سپرد کرنا ضروری ہے کہ کسی دوسرے شخص کو نگران بنایا جائے اور یہ وقف اس کے سپرد کر دیا جائے، لیکن اگر واقف یہ شرط لگاتا ہے کہ میں خود ہی اس وقف کا متولی ہوں گا، جی، تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ تو اب وہ تفصیل بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ بھئی۔ تو یہ خوب طویل بحث فرمائیں گے، یہ تقریباً ایک دو صفحے تک یہ بحث چلے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَإِذَا جَعَلَ الْوَاقِفُ غَلَّةَ الْوَقْفِ لِنَفْسِهِ، اور جب وقف کرنے والا وقف کی آمدنی کو اپنے لیے قرار دے دے، أَوْ جَعَلَ الْوِلَايَةَ إِلَيْهِ، یا وقف کی جو ولایت ہے وہ اپنے لیے قرار دے دے، جَازَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے۔ صاحبِ قدوری نے بتلا دیا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں چیزیں جائز ہیں، واقف اپنے لیے وقف کی آمدنی کی شرط بھی لگا سکتا ہے اور اپنے لیے وقف کی ولایت کی شرط بھی لگا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: جَازَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے۔
قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، اب صاحبِ ہدایہ شرح کر رہے ہیں اور بحث فرمائیں گے اور بتلائیں گے کہ یہاں دو چیزیں ہیں؛ ایک آمدنی کی اپنے لیے شرط لگانا اور دوسرا ولایت کی اپنے لیے شرط لگانا، تو دونوں پر الگ الگ بحث فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ تو قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ذَكَرَ فَصْلَيْنِ، کہ صاحبِ قدوری نے دو فصلیں ذکر کیں یعنی دو چیزیں ذکر فرمائیں: شَرَطَ الْغَلَّةَ لِنَفْسِهِ، ایک تو یہ کہ واقف نے غلے کی یعنی آمدنی کی شرط لگائی ہے اپنے لیے، وَجَعَلَ الْوِلَايَةَ إِلَيْهِ، اور دوسری چیز یہ کہ واقف نے ولایت اپنے لیے قرار دے دی ہے۔
أَمَّا الْأَوَّلُ، تو پہلی چیز جو ہے یعنی آمدنی کی شرط لگانا اپنے لیے، اب اس کی بحث شروع ہو رہی ہے، اور پھر آخر میں جا کر ولایت اپنے لیے رکھنا اس کو بھی بیان کریں گے۔ سب سے پہلے کسے بیان کریں گے؟ آمدنی کی شرط واقف اپنے لیے لگا دے چاہے ساری آمدنی کی شرط لگائے چاہے بعض آمدنی کی۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا الْأَوَّلُ، تو پہلی فصل جو ہے یعنی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا، فَهُوَ جَائِزٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، وَلَا يَجُوزُ عَلَى قِيَاسِ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر قیاس کرتے ہوئے یہ جائز نہیں ہے۔ تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر قیاس کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے یہ جائز نہیں ہونا چاہیے۔ جی۔ امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر قیاس کیا جائے تو یہ جائز نہیں ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے اندر شرط ہے کہ واقف جو ہے کسی کو نگران اور متولی مقرر کرے اور یہ وقف اس کے قبضے میں دے دے، اس کی ولایت میں دے دے، جب متولی کے قبضے میں وہ وقف چلا جائے گا تو واقف کا حق اس سے منقطع ہو جائے گا۔ جی۔ واقف کا حق اس سے منقطع ہو جائے گا کیونکہ متولی نے جب قبضہ کر لیا تو وقف تام ہو گیا، جب تام ہو گیا تو واقف کی ملکیت سے نکل گیا، اب واقف اس میں رجوع بھی نہیں کر سکتا اور اس میں کوئی دخل بھی نہیں دے سکتا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر قیاس کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ واقف اپنے لیے آمدنی کی شرط لگائے یہ جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس صورت میں تو پھر بھی واقف کا حق جڑا ہوا ہے وقف کے ساتھ۔ جی۔ واقف جب آمدنی اپنے لیے شرط لگا رہا ہے تو واقف کا حق تو ابھی بھی منقطع نہیں ہوا، حالانکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو شرط ہے کہ یہ وقف جو ہے متولی کے قبضے میں دیا جائے تاکہ واقف کا حق منقطع ہو جائے، جی، اور جب اپنے لیے شرط لگائے گا پھر تو واقف کا حق منقطع نہیں ہوا، لہٰذا یہ جائز نہیں ہونا چاہیے۔
تو کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ عَلَى قِيَاسِ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر قیاس کرتے ہوئے یہ جائز نہیں ہے، وَهُوَ قَوْلُ هِلَالِ الرَّأْيِ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہی قول ہے ہلال الرائے رحمہ اللہ کا بھی، وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور اسی کے قائل ہیں امام شافعی رحمہ اللہ بھی۔
بھئی یہاں ہلال الرازی رحمہ اللہ کا ذکر آیا، یاد رکھو یہ جو ہلال رازی ہیں یہ امام صاحب کے شاگردوں کے شاگرد ہیں، یہ احناف کے بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں اور امام صاحب کے شاگردوں کے شاگرد ہیں، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بھی شاگرد ہیں، یہ امام زفر رحمہ اللہ کے بھی شاگرد ہیں اور اسی طرح امام صاحب کے اور بعض شاگردوں کے بھی یہ شاگرد ہیں اور بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں احناف کے، اور یہ بصرہ میں رہتے تھے، یہ بصرہ میں رہتے تھے، بصرہ والے تھے، تو یہاں جو آیا ہلال رازی، یاد رکھو یہ جو رازی ہے یہ شہرِ رے کے رہنے والے کو رازی کہتے ہیں۔ رے ایک شہر ہے آج بھی ایران کے اندر موجود ہے، اس کا نام کیا ہے؟ رے۔ رے اس شہر کا نام ہے، اور جیسے لاہور کے رہنے والے کو لاہوری کہتے ہیں اسی طرح رے کے رہنے والے کو رازی کہتے ہیں۔ جی۔ رے کے رہنے والے کو رازی کہتے ہیں۔ رازی کا کیا معنیٰ؟ شہرِ رے والا۔ شہرِ رے والا۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ یہ جو آیا: وَهُوَ قَوْلُ هِلَالِ الرَّازِيِّ کہ یہ ہلال رازی کا قول ہے، کہتے ہیں یہ درست نہیں ہے، یہ ہلال رازی نہیں ہیں، یہ رے کے رہنے والے نہیں تھے یہ تو بصرہ کے رہنے والے تھے، جی، یہ بصرہ کے رہنے والے تھے، تو اصل میں یہ ہلال الرائی کہلاتے تھے۔ بھئی رائے، ایک آدمی کے ایک مسئلے میں ایک رائے ہوتی ہے، ایک چیز کے اندر اس کا ایک مذہب ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رائے، اور اسی رائے کی طرف نسبت کر دیں: رَائِيٌّ، رائے والا، رائے والا۔ تو یہ جو ہلال ہیں یہ ہلال الرائی ہیں بھئی یعنی رائے والے ہلال بھئی، اور یہ اس نام سے مشہور ہو گئے، کہتے ہیں اپنی وسعتِ علمی کی وجہ سے، اللہ نے ان کو بہت علم نصیب فرمایا تھا تو وسعتِ علم کی وجہ سے یہ ہلال الرائی کے نام سے مشہور ہو گئے یعنی اتنا علم ہے ہر چیز کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں یعنی ان کے پاس علم موجود ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اس وجہ سے یہ ہلال الرائی کے نام سے مشہور ہو گئے، جبکہ بعض کہتے ہیں کہ یہ رہتے تو بصرہ میں تھے لیکن ان کی رائے اور مذہب وہ تھا جو کوفہ والوں کا تھا یعنی امام صاحب کا جو شہر ہے، تو چونکہ ان کی رائے اور مذہب کوفہ والوں کا تھا اس لیے یہ ہلال الرائی کے نام سے مشہور ہو گئے، وہ ہلال جو رائے والے ہیں یعنی یعنی کوفہ والوں کے مذہب والے ہیں۔ اب کوفہ کے مذہب والوں سے کیا مراد ہے؟ عام کتابوں میں اس کی صراحت نہیں، لیکن ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یا تو یہ امام صاحب کے مذہب کی طرف نسبت ہے کہ یہ کوفہ والوں کے مذہب پر ہیں یعنی امام صاحب کے مذہب پر ہیں، لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ یہ جو کوفہ اور بصرہ والے تھے ان کے نحویوں میں آپس میں اختلاف تھا، ان کا آپس میں اختلاف ہے، تقریباً ایک سو دس کے لگ بھگ مسائل ہیں جن میں کوفہ اور بصرہ والے اختلاف کرتے ہیں، کوفہ والوں کی رائے ایک ہوتی ہے، بصرہ والوں کی رائے دوسری ہوتی ہے، تو یہ رہتے تو بصرہ میں تھے لیکن چونکہ بہت بڑے عالم تھے تو ظاہر سی بات ہے بڑے فقیہ بھی ہیں، بڑے محدث بھی ہوں گے، تو اسی طرح نحو کے مسائل کے بھی ماہر ہوں گے، لیکن اس کے اندر ان کی رائے رہتے تو بصرہ میں تھے لیکن ان کی رائے بصرہ والوں جیسی نہیں تھی بلکہ کوفہ والوں کی رائے کے مطابق تھی، تو اس لیے ان کو ہلال الرائی کہتے تھے، زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے، زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے بھئی۔ لیکن بہرحال یہ بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے امام صاحب کے مذہب پر ہونے کی وجہ سے ان کو ہلال الرائی کہا جاتا ہو، اور بعضوں نے ذکر کیا کہ ان کی وسعتِ علمی کی وجہ سے ان کو رائی کہا جاتا تھا بھئی۔ تو بہرحال بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جو آیا ہلال رازی یہ درست نہیں ہے، یہ ہلال الرائی ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ عَلَى قِيَاسِ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے قیاس پر جائز نہیں ہے، وَهُوَ قَوْلُ هِلَالِ الرَّأْيِ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہی قول ہے ہلال الرائی کا بھی، وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور اسی کے قائل ہیں امام شافعی رحمہ اللہ بھی۔
وَقِيلَ، اب آگے تفصیل بیان کریں گے۔ مسئلہ چل رہا ہے کہ واقف وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگا سکتا ہے یا نہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے لیے یہ شرط لگا سکتا ہے، امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے قیاس پر یہ شرط وہ نہیں لگا سکتا بھئی۔ تو اب آگے آپ کو بتلائیں گے کہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کا اس مسئلے کے اندر اختلاف ہے، اس اختلاف کی بنیاد ایک اور اختلاف پر ہے اور وہ جو قبضے اور افراز والا اختلاف پیچھے ذکر ہو چکا، قبضے اور افراز والا، اَفْرَزَ یُفْرِزُ اِفْرَاز کا معنیٰ الگ کرنا۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف جائز نہیں ہے بلکہ وقف کو علیحدہ کرنا اور متولی کے قبضے میں دینا یہ ان کے نزدیک شرط ہے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا علیحدہ کرنا اور متولی کے قبضے میں دینا شرط نہیں ہے، تو چونکہ یہ جو قبضے اور افراز کے اندر دونوں کا اختلاف ہے اسی وجہ سے آمدنی اپنے لیے شرط لگانے کے اندر بھی دونوں کا اختلاف ہوا۔ تو بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ وقف کی آمدنی کے اپنے لیے شرط لگانا یہ جو صاحبین کا آپس میں اختلاف ہے اس کی بنیاد دوسرے اختلاف پر ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے اندر قبضہ اور افراز شرط ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قبضہ اور افراز شرط نہیں، تو اس اختلاف کی بنیاد اس اختلاف پر ہے بھئی۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس اختلاف کی بنیاد اس اختلاف پر نہیں ہے، یہ ایک الگ مسئلہ ہے، یہ ایک الگ نیا مسئلہ ہے اور اس کی دلیل بھی الگ ہے بھئی، اس کی دلیل بھی الگ ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے، إِنَّ الِاخْتِلَافَ بَيْنَهُمَا، کہ یہ جو اختلاف ہے صاحبین کے درمیان، بِنَاءٌ عَلَى الِاخْتِلَافِ، اس کی بنیاد اس اختلاف پر ہے، فِي اشْتِرَاطِ الْقَبْضِ وَالْإِفْرَازِ، جو قبضے اور افراز کی شرط میں ہے، قبضے اور افراز کی شرط میں ہے، وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے، هِيَ مَسْأَلَةٌ مُبْتَدَأَةٌ، کہ یہ ایک نیا مسئلہ ہے، یہ الگ مسئلہ ہے، اس اختلاف کی بنیاد اس اختلاف پر نہیں ہے بلکہ یہ الگ مسئلہ ہے اور اس کی الگ دلیل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ الگ مسئلہ ہے۔
وَالْخِلَافُ فِيمَا إِذَا شَرَطَ الْبَعْضَ لِنَفْسِهِ، یہاں سے آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو صاحبین کا آپس میں اختلاف ہے یہ واقف چاہے بعض آمدنی کی اپنے لیے شرط لگائے کہ بعض آمدنی میں لوں گا اور میرے بعد فقراء لیں گے، یا چاہے ساری آمدنی کی اپنے لیے شرط لگائے کہ میں ساری آمدنی لوں گا اور جب میں مر جاؤں تو پھر فقراء پر خرچ کرنا، تو دونوں دونوں برابر ہیں، یہاں دونوں چاہے بعض کی شرط اپنے لیے لگائے چاہے ساری آمدنی کی اپنے لیے شرط لگائے دونوں کے اندر اختلاف ہے بھئی۔ یہ نہیں کہ ایک تو جائز ہو دونوں کے نزدیک اور ایک میں اختلاف ہے، نہیں، دونوں کے اندر اختلاف ہے۔
تو کہتے ہیں: وَالْخِلَافُ فِيمَا إِذَا شَرَطَ الْبَعْضَ لِنَفْسِهِ، اور یہ جو اختلاف ہے اس صورت میں کہ جب اپنے لیے بعض کی شرط لگائی، فِي حَيَاتِهِ، اپنی زندگی میں، وَبَعْدَ مَوْتِهِ لِلْفُقَرَاءِ، اور اپنے مرنے کے بعد فقراء کے لیے، ایک صورت، اس کے اندر جو اختلاف ہے، اور اسی طرح: وَفِيمَا إِذَا شَرَطَ الْكُلَّ لِنَفْسِهِ، اور اس صورت میں کہ جب اس نے ساری آمدنی کی شرط اپنے لیے لگا دی، فِي حَيَاتِهِ، اپنی زندگی میں، وَبَعْدَ مَوْتِهِ لِلْفُقَرَاءِ، اور موت کے بعد فقراء کے لیے، ان دونوں صورتوں میں جو اختلاف ہے: سَوَاءٌ، یہ برابر ہے، یعنی دونوں میں ایک جیسا اختلاف ہے چاہے بعض آمدنی کی اپنے لیے شرط لگائے چاہے ساری آمدنی کی۔
ترجمہ ایک دفعہ پھر دیکھ لیجیے: وَالْخِلَافُ فِيمَا إِذَا شَرَطَ الْبَعْضَ لِنَفْسِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ لِلْفُقَرَاءِ وَفِيمَا إِذَا شَرَطَ الْكُلَّ لِنَفْسِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ لِلْفُقَرَاءِ سَوَاءٌ، اور اختلاف اس صورت میں جب بعض آمدنی کی شرط اپنے لیے لگائی اپنی زندگی میں اور موت کے بعد فقراء کے لیے، اور اختلاف اس صورت کے اندر کہ جب ساری آمدنی کی شرط اپنے لیے لگا دی اپنی زندگی میں اور موت کے بعد فقراء کے لیے، یہ اختلاف برابر ہے یعنی دونوں صورتوں میں ایک جیسا ہے۔
وَلَوْ وَقَفَ وَشَرَطَ الْبَعْضَ، اب دوسری صورت آ گئی۔ ایک شخص ہے اس نے اپنا باغ وقف کر دیا کہ اس باغ کی آمدنی میرے مدبروں اور میری امہاتِ اولاد پر خرچ کی جائے، جی، میرے مدبروں اور میری امہاتِ اولاد پر خرچ کی جائے، آپ جانتے ہیں مدبر وہ غلام ہے جسے آقا نے کہہ دیا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، اور امِ ولد وہ باندی ہے جس نے بچے کو جنم دیا اور آقا نے اقرار کر لیا کہ یہ بچہ میرا ہے تو یہ باندی اس کی امِ ولد بن جائے گی اور یہ بھی آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے گی۔ تو اگر ایک شخص نے ایک باغ وقف کیا اور یہ شرط لگا دی کہ اس باغ کی آمدنی میری امہاتِ اولاد جو ہیں اور میرے جو مدبر ہیں ان پر خرچ کی جائے گی جب تک وہ زندہ ہیں، اور جب ان کا انتقال ہو جائے تو پھر اس کی آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے، تو اس میں بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جائز ہے بالاتفاق۔ جی۔ یعنی اس میں صاحبین کا اتفاق ہے کہ وقف کی آمدنی کی شرط اپنے مدبر اور امہاتِ اولاد کے لیے جائز ہے، جبکہ بعض کہتے ہیں نہیں اس میں بھی اختلاف ہے، اس لیے کیونکہ اپنے مدبر اور اپنی امہاتِ اولاد کے لیے آمدنی کی شرط لگانا یہ اسی طرح ہے جیسے اپنے لیے شرط لگا رہا ہے، کیونکہ مدبر اور امہاتِ اولاد کا خرچہ کس پر آتا ہے؟ آقا پر آتا ہے، تو ان پر خرچ کرنا بھی اسی طرح ہے جیسے آقا کے لیے خرچ ہو رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ وَقَفَ، اور اگر کسی نے کوئی چیز وقف کی، وَشَرَطَ الْبَعْضَ أَوِ الْكُلَّ، اور اس کی بعض آمدنی یا ساری آمدنی کی شرط لگا دی، لِأُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ وَمُدَبَّرِيهِ، اپنی امہاتِ اولاد اور اپنے مدبروں کے لیے، مَا دَامُوا أَحْيَاءً، جب تک وہ زندہ ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے، فَإِذَا مَاتُوا فَهُوَ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ، جب وہ مر جائیں تو پھر یہ وقف فقراء اور مساکین کے لیے ہے، فَقَدْ قِيلَ، تو تحقیق کہا گیا ہے، يَجُوزُ بِالِاتِّفَاقِ، کہ یہ بالاتفاق جائز ہے۔ صاحبین کے درمیان یہ بالاتفاق جائز ہے۔ اس قول کو اگر لیا جائے کہ اپنے امہاتِ اولاد اور مدبر کے لیے وقف کی آمدنی کی شرط لگانا بالاتفاق جائز ہے دونوں کے نزدیک تو معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ نے اس میں فرق کیا ہے۔ اپنے اوپر خرچ کرنے کی شرط لگائے تو یہ ان کے نزدیک جائز نہیں، لیکن اپنے مدبر اور امہاتِ اولاد پر خرچ کرنے کی شرط لگائے تو یہ ان کے نزدیک جائز ہے، معلوم ہوا انہوں نے فرق کیا ہے، تو فقہاء اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ استحساناً بھئی، یہ استحساناً ہے کہ یہ جو امہاتِ اولاد ہیں اور یہ جو مدبر ہیں انہوں نے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہونا ہے، انہوں نے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہونا ہے، تو ان کے لیے شرط لگانا ایسے ہی ہے جیسے کسی اجنبی کے لیے آمدنی کی شرط لگائی جائے، اور اجنبی کے لیے تو آمدنی کی شرط لگانا جائز ہے تو اپنے امہاتِ اولاد اور مدبر بھی اجنبی کے درجے میں ہو گئے کیونکہ انہوں نے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہونا ہے، تو ان کے لیے بھی وقف کی آمدنی کی شرط لگانا جائز ہو گا بھئی، لیکن اپنے لیے وقف کی آمدنی کی شرط لگانا جائز نہیں ہے، یہ ایک قول ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: فَقَدْ قِيلَ يَجُوزُ بِالِاتِّفَاقِ، تو تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ بالاتفاق صاحبین کے نزدیک جائز ہے، وَقَدْ قِيلَ، اور تحقیق کہا گیا ہے، هُوَ عَلَى الْخِلَافِ أَيْضًا، کہ یہ بھی اختلاف پر ہے، اس میں بھی اختلاف ہے، امام محمد رحمہ اللہ اس میں بھی فرماتے ہیں کہ اپنے مدبر اور امہاتِ اولاد پر خرچ کرنا بھی اسی طرح ہے جیسے اپنے اوپر خرچ کر رہا ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ قِيلَ هُوَ عَلَى الْخِلَافِ أَيْضًا، اور کہا گیا ہے کہ یہ بھی اختلاف پر ہے، وَهُوَ الصَّحِيحُ، اور یہی قول صحیح ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: یہی قول صحیح ہے، اپنے امہاتِ اولاد اور مدبر کے لیے آمدنی کی شرط لگانے میں بھی اختلاف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ الصَّحِيحُ، اور یہی قول صحیح ہے، لِأَنَّ اشْتِرَاطَهُ لَهُمْ فِي حَيَاتِهِ كَاشْتِرَاطِهِ لِنَفْسِهِ، اس لیے کیونکہ واقف کا ان کے لیے شرط لگانا اپنی زندگی میں یہ اسی طرح ہے جیسے یہ اپنی ذات کے لیے شرط لگا رہا ہے، اور اپنی ذات کے لیے تو شرط لگانا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: وَوَجْهُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، اب امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ اس اختلاف کی بنیاد اس قبضے اور افراز والے اختلاف پر نہیں ہے بلکہ یہ الگ مسئلہ ہے، اس کی الگ دلیل ہے، چنانچہ اب وہ دلیل ذکر کرنے لگے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے: أَنَّ الْوَقْفَ تَبَرُّعٌ عَلَى وَجْهِ التَّمْلِيكِ، کہ وقف جو ہے تبرع ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تبرع کہتے ہیں ایک چیز اپنی طرف سے ادا کرنا جو آپ پر لازم نہ ہو، یعنی آپ نفل نماز ادا کرتے ہیں تو یہ تبرع ہے، آپ نفلی روزے رکھتے ہیں یہ تو آپ پر لازم نہیں تو یہ تبرع ہے، یا آپ فقراء پر زکوٰۃ کے علاوہ اور ویسے ہی اپنی طرف سے زائد مال فقراء کو دیتے ہیں تو یہ بھی تبرع ہے بھئی، یہ بھی تبرع ہے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ وقف جو ہے تبرع ہے۔
ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے:
”أَنَّ الْوَقْفَ تَبَرُّعٌ“
کہ یہ وقف جو ہے تبرع ہے یعنی نیکی اور احسان ہے۔ ایک شخص اپنی طرف سے ایک چیز صدقہ کر رہا ہے جو اس پر لازم نہیں تھی۔ تو کہتے ہیں:
”أَنَّ الْوَقْفَ تَبَرُّعٌ عَلَى وَجْهِ التَّمْلِيكِ“
کہ یہ جو وقف ہے یہ تبرع ہے، نیکی اور احسان ہے، تملیک کے طریقے پر کہ اس میں مالک بنایا جاتا ہے۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ واقف جب کوئی وقف کرتا ہے تو صاحبین کے نزدیک اللہ اس وقف کے مالک بن جاتے ہیں بھئی۔ تو یہ تملیک ہے، اللہ کو مالک بنانا ہے۔ تو کہتے ہیں:
”أَنَّ الْوَقْفَ تَبَرُّعٌ عَلَى وَجْهِ التَّمْلِيكِ بِالطَّرِيقِ الَّذِي قَدَّمْنَاهُ“
کہ وقف جو ہے وہ تبرع ہے، وہ نیکی اور احسان ہے، مالک بنانے کے طریقے پر، اس طریقے پر جو ہم نے مقدم ذکر کر دیا کہ اللہ کو مالک بنایا جاتا ہے، اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اور اس کے منافع کو فقراء وغیرہ پر صدقہ کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں:
”وَوَجْهُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الْوَقْفَ تَبَرُّعٌ عَلَى وَجْهِ التَّمْلِيكِ بِالطَّرِيقِ الَّذِي قَدَّمْنَاهُ، فَاشْتِرَاطُ الْبَعْضِ أَوِ الْكُلِّ لِنَفْسِهِ يُبْطِلُهُ“
امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ وقف جو ہے وہ نیکی اور احسان ہے، اللہ کو مالک بنانے کے طریقے پر، اس طریقے پر جو ہم نے مقدم کر دیا کہ اس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ تو بعض وقف کی یا سارے وقف کی اپنے لیے شرط لگانا، یہ اس وقف کو باطل کر دیتا ہے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں:
”لِأَنَّ التَّمْلِيكَ مِنْ نَفْسِهِ لَا يَتَحَقَّقُ“
اس لیے کیونکہ اپنے آپ کو مالک بنانا، یہ تو ثابت نہیں ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ مالک کسی اور کو بنایا جاتا ہے۔ وقف کرنے والا تو پہلے سے ہی اس چیز کا مالک ہے، تو اس میں کسی اور کو مالک بنایا جاتا ہے یعنی اللہ تعالی کو مالک بنایا جاتا ہے۔ خود اپنے آپ کو مالک بنانا یہاں ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ خود تو یہ پہلے سے ہی مالک ہے اس کا۔ توجہ ہے؟ تو وقف میں تملیک ہوتی ہے اور تملیک دوسرے کو مالک بنایا جا سکتا ہے، اپنے آپ کو مالک نہیں بنایا جا سکتا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں:
”فَاشْتِرَاطُهُ الْبَعْضَ أَوِ الْكُلَّ لِنَفْسِهِ يُبْطِلُهُ؛ لِأَنَّ التَّمْلِيكَ مِنْ نَفْسِهِ لَا يَتَحَقَّقُ، فَصَارَ كَالصَّدَقَةِ الْمُنَفَّذَةِ، وَشَرْطِ بَعْضِ بُقْعَةِ الْمَسْجِدِ لِنَفْسِهِ“
تو بعض وقف کی یا سارے وقف کی اپنے لیے شرط لگانا، یہ وقف کو باطل کر دیتا ہے؛ اس لیے کیونکہ اپنے آپ کو مالک بنانا یہ تو ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو یہ صدقہ منَفَّذَہ کی طرح ہو گیا اور مسجد کے بعض ٹکڑے کی اپنے لیے شرط لگانے کی طرح ہو گیا۔
بھئی دیکھیے! امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے کہ وقف کی آمدنی کی اپنے لیے شرط لگانا، یہ تو اسی طرح ہو گیا جیسے ایک شخص فقیر کو دس درہم دیتا ہے کہ یہ دس درہم میں نے تمہیں صدقہ کر دیے لیکن اس میں سے پانچ درہم میرے ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ اپنے لیے صدقے کی شرط نہیں لگائی جا سکتی، صدقے کا مالک تو فقیر کو بنایا جاتا ہے۔ یا یہ اسی طرح ہے جیسے ایک آدمی کہتا ہے: میری یہ جو زمین ہے یہ میں نے مسجد کے لیے وقف کر دی اور اس مسجد کا ایک ٹکڑا میرا ہوگا، تو جس طرح مسجد کے ایک ٹکڑے کی اپنے لیے شرط لگانا صحیح نہیں ہے یا جس طرح صدقے کے کچھ حصے کی اپنے لیے شرط لگانا صحیح نہیں ہے، اسی طرح وقف کی آمدنی کی شرط بھی اپنے لیے لگانا صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”فَصَارَ كَالصَّدَقَةِ الْمُنَفَّذَةِ“
تو یہ اپنے لیے شرط لگانا ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ صدقہ منَفَّذَہ ہے کہ اس کے اندر شرط لگائی جائے۔ صدقہ منَفَّذَہ، میں نے بتلایا تھا ”نَفَّذَ يُنَفِّذُ تَنْفِيذًا“ کا معنی ہے پورا کرنا، وہ صدقہ جو پورا کر دیا جائے جس میں فقیر کو ایک چیز کا مالک بنا دیا جائے۔ اور یہ دراصل احتراز ہے وقف سے کیونکہ وقف بھی صدقہ ہے، البتہ وقف صدقہ موقوفہ ہے۔ صدقہ موقوفہ ہے، وقف کیا ہوا صدقہ ہے، اور جس میں فقیر کو مالک بنا دیا جاتا ہے اس چیز کا وہ صدقہ منَفَّذَہ ہے یا وہ صدقہ مملوکہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”فَصَارَ كَالصَّدَقَةِ الْمُنَفَّذَةِ، وَشَرْطِ بَعْضِ بُقْعَةِ الْمَسْجِدِ لِنَفْسِهِ“
تو یہ صدقہ منَفَّذَہ کی طرح ہو گیا اور یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے مسجد کے بعض ٹکڑے کی اپنے لیے شرط لگانا، اور یہ جائز نہیں۔ تو یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل تھی۔ اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آگئی کہ یہ جائز ہے کہ وقف کی بعض آمدنی یا ساری آمدنی کی اپنے لیے شرط لگائی جائے بھئی۔
”وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَا رُوِيَ: أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ صَدَقَتِهِ“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، وہ جو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صدقے میں سے کھایا کرتے تھے۔
”وَالْمُرَادُ مِنْهَا: صَدَقَتُهُ الْمَوْقُوفَةُ“
اور اس سے مراد جو ہے صدقہ موقوفہ ہے کہ حضور علیہ السلام اپنے صدقہ موقوفہ میں سے کھایا کرتے تھے۔
”وَلَا يَحِلُّ الْأَكْلُ مِنْهَا إِلَّا بِالشَّرْطِ، فَدَلَّ عَلَى صِحَّتِهِ“
اور صدقہ موقوفہ میں سے تو کھانا جائز نہیں ہوتا مگر شرط لگانے سے ہی، تو اس نے دلالت کر دی شرط کے صحیح ہونے پر۔ تو اس حدیث نے دلالت کر دی کہ اپنے لیے شرط لگانا صحیح ہے۔ حضور علیہ السلام اپنے صدقے میں سے کھاتے تھے اور اپنے صدقے میں سے تو بغیر شرط کے کھانا صحیح نہیں، معلوم ہوا اپنے لیے شرط لگانا صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں:
”وَلَا يَحِلُّ الْأَكْلُ مِنْهَا إِلَّا بِالشَّرْطِ، فَدَلَّ عَلَى صِحَّتِهِ، وَلِأَنَّ الْوَقْفَ إِزَالَةُ الْمِلْكِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى عَلَى وَجْهِ الْقُرْبَةِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“
اور صدقہ موقوفہ میں سے کھانا تو حلال نہیں ہوتا مگر شرط کے ذریعے ہی، تو اس روایت نے دلالت کر دی شرط کے صحیح ہونے پر۔ اور اس لیے کیونکہ وقف جو ہے وہ ملکیت کو ختم کرنا ہے اللہ تعالی کی جانب یعنی اللہ کو مالک بنانا ہے، قربت کے طریقے پر یعنی کہ اللہ کا قرب اور ثواب اور اجر مقصود ہوتا ہے، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔
اب یہ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذہب کے لیے بھئی۔ دلیل ذکر کریں گے، کہتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وقف کی اپنے لیے شرط لگانا تو ایسے ہی ہے جیسے کہ اپنے آپ کو مالک بنا رہا ہے اور اپنے آپ کو تو مالک نہیں بنایا جا سکتا، تملیک تو غیر کی ہوتی ہے، غیر کو مالک بنایا جاتا ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ جب اپنے لیے بعض یا سارے کی شرط لگائی جائے گی تو معنی یہ ہے کہ وقف ہے تو اللہ ہی کا مملوک، وقف جو ہے وہ اللہ کا مملوک ہے اور اس اللہ کے مملوک کی اپنے لیے شرط لگا دی اور اللہ کے مملوک کی تو اپنے لیے شرط لگانا اور اس سے نفع اٹھانا جائز ہے۔ اللہ کے مملوک کی اپنے لیے شرط لگانا یا اللہ کے مملوک چیزوں سے نفع اٹھانا تو جائز ہے، جیسے آپ جنگل میں جاتے ہیں، شکار پکڑ کر لاتے ہیں، اب یہ شکار یہ تو پہلے کسی کا نہیں تھا، یہ تو اللہ کا مملوک تھا، تو اب آپ اللہ کے مملوک سے نفع اٹھا رہے ہیں، آپ نے اس کو اپنے لیے کر لیا، یا آپ جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کر کے لاتے ہیں تو یہ لکڑیاں یہ تو اللہ کی مملوک تھیں تو آپ نے اللہ کی مملوک چیزوں کو اپنے لیے کر لیا، اب خود آپ ان سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اگر اپنے لیے وقف کی شرط لگائے گا تو یہ تو اپنے آپ کو مالک بنانا لازم آئے گا اور اپنے آپ کو مالک نہیں بنایا جا سکتا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ جواب دیتے ہیں کہ یہاں اپنے آپ کو مالک نہیں بنایا جا رہا بلکہ وہ چیز جو اللہ کی مملوک ہو چکی ہے اس کی اپنے لیے شرط لگا رہا ہے اور اس کی اپنے لیے شرط لگانا تو صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَلِأَنَّ الْوَقْفَ إِزَالَةُ الْمِلْكِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى عَلَى وَجْهِ الْقُرْبَةِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ، فَإِذَا شَرَطَ الْبَعْضَ أَوِ الْكُلَّ لِنَفْسِهِ فَقَدْ جَعَلَ مَا صَارَ مَمْلُوكًا لِلَّهِ تَعَالَى لِنَفْسِهِ“
اور اس لیے کیونکہ وقف جو ہے وہ ملکیت کو ختم کرنا ہے اللہ تعالی کی جانب یعنی اللہ کو مالک بنانا ہے، قربت کے طریقے پر یعنی کہ اللہ کا قرب اور ثواب اور اجر مقصود ہوتا ہے، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، جب اس واقف نے بعض وقف کی یا سارے وقف کی اپنے لیے شرط لگا دی تو تحقیق واقف نے کر دیا وہ جو اللہ کا مملوک ہو گیا تھا، اس کو کر دیا اپنے لیے۔ اس کو اس نے اپنے لیے کر دیا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے:
”فَإِذَا شَرَطَ الْبَعْضَ أَوِ الْكُلَّ لِنَفْسِهِ فَقَدْ جَعَلَ مَا صَارَ مَمْلُوكًا لِلَّهِ تَعَالَى لِنَفْسِهِ، لَا أَنْ يَجْعَلَ مِلْكَ نَفْسِهِ لِنَفْسِهِ“
جب واقف نے بعض وقف کو یا سارے وقف کو اپنے لیے کر لیا تو تحقیق وہ چیز جو اللہ کی مملوک ہو گئی تھی اس کو اس نے کر دیا اپنے لیے، ایسا نہیں کہ اپنی ملکیت کو اپنے لیے کر دیا یعنی خود کو اس کا مالک بنا دیا، حالانکہ مالک تو غیر کو بنایا جاتا ہے تو یہاں اپنے آپ کو مالک بنانا ہے ہی نہیں بلکہ وہ چیز جو اللہ کی مملوک ہو گئی تھی اس کی شرط اپنے لیے لگائی گئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”لَا أَنْ يَجْعَلَ مِلْكَ نَفْسِهِ لِنَفْسِهِ، وَهَذَا جَائِزٌ“
ایسا نہیں ہے کہ اس نے اپنی ملکیت کو اپنے لیے کر دیا ہے، اور یہ تو جائز ہے۔ اللہ کی ملکیت کو اپنے لیے کرنا جائز ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی کہ آپ شکار پکڑ کر لاتے ہیں، جنگل سے لکڑیاں لاتے ہیں یا جنگل سے گھاس لے کر آتے ہیں تو یہ دیکھو اللہ کی مملوک چیز کو اپنے لیے آپ نے کر لیا بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَهَذَا جَائِزٌ كَمَا إِذَا بَنَى خَانًا أَوْ سِقَايَةً أَوْ جَعَلَ أَرْضَهُ مَقْبَرَةً“
اور یہ جائز ہے یعنی اللہ کی مملوک چیز کو اپنے لیے کرنا جائز ہے، جیسے کہ ایک شخص نے سرائے تعمیر کی یا اس نے کوئی پانی کی سبیل بنوائی یا اس نے اپنی زمین کو قبرستان بنا دیا۔ یہاں خان لفظ آ رہا ہے، یاد رکھو خان سرائے کو کہتے ہیں، جیسے آج کل ہوٹل ہیں جن میں مسافر جا کر ٹھہرتے ہیں۔ اسی طرح قدیم زمانے میں اس کو سرائے کہتے تھے جہاں مسافر آ کر ٹھہرا کرتے تھے اور وہاں مسافروں کی سواریاں وغیرہ رکھنے کا بھی انتظام ہوتا تھا، ان کے گھوڑے یا اونٹ یا خچر وغیرہ بھی وہاں ان کے رکھنے کا انتظام ہوتا تھا۔ تو ایک آدمی سرائے بنواتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس میں خود بھی پڑاؤ ڈالا کروں گا، خود بھی مجھے ضرورت پیش آئے تو اس میں رہوں گا، یا اسی طرح ایک آدمی جو ہے وہ پانی کی سبیل لگاتا ہے، پانی پینے کی کوئی جگہ بناتا ہے کہ مجھے بھی ضرورت پیش آئے گی تو میں بھی اس میں سے پیا کروں گا، یا اسی طرح ایک آدمی قبرستان کے لیے زمین وقف کرتا ہے اور یہ شرط ذکر کرتا ہے کہ مجھے بھی اس میں دفن کیا جائے، تو دیکھو ان چیزوں میں اپنے استعمال کی شرط لگانا جائز ہے، اسی طرح وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا جائز ہے۔ تو کہتے ہیں:
”كَمَا إِذَا بَنَى خَانًا“
جیسے کہ ایک شخص نے سرائے تعمیر کی،
”أَوْ سِقَايَةً“
سقایہ کہتے ہیں پانی پینے کی جگہ، پانی کی سبیل بھئی،
”أَوْ سِقَايَةً أَوْ جَعَلَ أَرْضَهُ مَقْبَرَةً وَشَرَطَ أَنْ يَنْزِلَهُ أَوْ يَشْرَبَ مِنْهُ أَوْ يُدْفَنَ فِيهِ“
یا اس نے کوئی پانی کی سبیل بنوائی، یا اس نے اپنی زمین کو قبرستان بنا دیا، اور یہ شرط لگا دی کہ وہ خود بھی اس سرائے میں اترے گا، اس میں قیام کرے گا، یا یہ شرط لگا دی کہ وہ خود بھی اس پانی کی سبیل سے پیئے گا، یا اس نے یہ شرط لگا دی کہ اسے خود بھی اس قبرستان میں دفن کیا جائے، تو یہ جائز ہے۔
”وَلِأَنَّ مَقْصُودَهُ الْقُرْبَةُ، وَفِي الصَّرْفِ إِلَى نَفْسِهِ ذَلِكَ“
اب یہ دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا جائز ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ وقف کے ذریعے مقصد جو ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے تاکہ اللہ کا قرب حاصل ہو، اور انسان کا اپنے اوپر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے، اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے جس کا ذکر احادیث مبارکہ میں آتا ہے، معلوم ہوا اپنے لیے شرط لگانا بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَلِأَنَّ مَقْصُودَهُ الْقُرْبَةُ، وَفِي الصَّرْفِ إِلَى نَفْسِهِ ذَلِكَ“
اور اس لیے کیونکہ وقف کا جو مقصد ہے وہ اللہ کی قربت ہے، اور اپنی ذات پر خرچ کرنے میں بھی یہ ہے، اور اپنی ذات پر خرچ کرنے میں بھی ذٰلک، یہ چیز ہے یعنی اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے بھئی۔
”قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى نَفْسِهِ صَدَقَةٌ“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کسی شخص کا اپنے اوپر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔ کسی شخص کا اپنی ذات پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔ آگے دیکھیے:
”وَلَوْ شَرَطَ الْوَاقِفُ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهِ أَرْضًا أُخْرَى“
اب یہاں ایک دو اور چھوٹے سے مسئلے ذکر فرمائیں گے صاحب ہدایہ۔ ایک شخص نے ایک باغ وقف کیا لیکن شرط لگا دی کہ اگر میں نے کسی وقت چاہا تو اس باغ کی جگہ میں دوسری زمین وقف میں دے دوں گا، یہ باغ میں لے لوں گا اور دوسری زمین دے دوں گا۔ تو کیا اس طرح وقف کو بدلنے کی شرط لگانا جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جائز ہے۔ یہ جائز ہے کیونکہ جب وہ بدلنے کی شرط لگا رہا ہے، معلوم ہوا وہ وقف کو باطل نہیں کر رہا بلکہ اس کی جگہ اور زمین وقف کر دے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یہی باغ وقف ہو گیا، یہ اس کی ملکیت سے نکل گیا اور یہ جو شرط اس نے لگائی تھی وہ شرط باطل ہے، وقف صحیح ہے اور شرط باطل، کیونکہ یہ ایسی شرط ہے جس کی وجہ سے ملکیت ختم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں آ رہی۔ بعض اوقات تو ایسی شرط لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ملکیت ختم ہونے میں ہی رکاوٹ آ جاتی ہے، واقف کی ملکیت ختم ہوتی ہی نہیں ہے جیسے اگلے مسئلے میں خیارِ شرط کے اندر ہے بھئی، توجہ ہے؟ تو لیکن یہ جو شرط ہے یہ ایسی شرط ہے جس کی وجہ سے واقف کی ملکیت ختم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں آ رہی، لہٰذا جب وہ وقف کرے گا اس شرط کے ساتھ تو واقف کی ملکیت ختم ہو جائے گی، اس کی ولایت ختم ہو گئی اور یہ زمین وقف ہو گئی، اور اب اس کو اس پر ولایت ہی نہیں، لہٰذا اب وہ اس زمین کو بدل نہیں سکتا کیونکہ یہ زمین اس کی ملکیت سے نکل چکی ہے، تو وقف تو صحیح ہو گیا اور شرط جو ہے وہ باطل ہو گئی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک شرط بھی صحیح اور وقف بھی صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ شَرَطَ الْوَاقِفُ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهِ أَرْضًا أُخْرَى إِذَا شَاءَ ذَلِكَ“
اور اگر وقف کرنے والے نے شرط لگا دی کہ وہ اس وقف کی جگہ دوسری زمین بدل دے گا جب وہ یہ چاہے گا، وہ جب یہ چاہے گا وہ اس وقف کی جگہ دوسری زمین بدل دے گا،
”فَهُوَ جَائِزٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے،
”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْوَقْفُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ“
اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وقف جائز ہے کیونکہ اس شرط کی وجہ سے وقف باطل نہیں ہو رہا بھئی، تو یہ وقف جائز ہے اور شرط باطل ہے کیونکہ جب وقف کر دیا تو اس کی ملکیت سے نکل گیا، اب یہ اس کو بدل نہیں سکتا، اس کو کوئی ولایت حاصل نہیں ہے بھئی۔
”وَلَوْ شَرَطَ الْخِيَارَ لِنَفْسِهِ“
اب یہ دوسرا مسئلہ ذکر کر رہے ہیں، ایک الگ مسئلہ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنا باغ وقف کیا کہ میرا یہ باغ وقف ہے لیکن مجھے تین دن تک خیارِ شرط ہے، میں چاہوں تو تین دن کے اندر یہ وقف جو ہے اس کے رجوع کر سکتا ہوں، میں اس وقف کو ختم کر سکتا ہوں۔ تو اب ایک شخص نے وقف کے اندر خیارِ شرط لگا دی ایک معین مدت کے لیے، تو کیا یہ جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا جائز ہے تو وقف کے اندر خیارِ شرط بھی جائز ہے، لیکن مدت معلوم ہونی چاہیے۔ اگر مدت مجہول ہوئی تو پھر خیارِ شرط امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ وقف ہی باطل ہے، وقف ہوا ہی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ آپ بیع کے مسئلے میں پڑھ چکے ہیں کہ بائع یا مشتری جو ہیں وہ بعض اوقات اپنے لیے خیارِ شرط رکھ لیتے ہیں، اور یاد رکھو جب خیارِ شرط بائع رکھے، میں اپنی گاڑی بیچ رہا ہوں لیکن کہتا ہوں: مجھے اختیار ہے تین دن کے اندر اگر میں اس بیع کو فسخ کرنا چاہوں تو میں فسخ کر سکتا ہوں، اور مشتری اس کو قبول کر لیتا ہے تو بائع نے خیارِ شرط اپنے لیے رکھ لی، اور یاد رکھو بائع جب خیارِ شرط رکھتا ہے تو مبیعہ اس کی ملک سے نہیں نکلتا، وہ مبیعہ کا ابھی بھی مالک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہاں جب واقف نے خیارِ شرط اپنے لیے رکھا ہے تو وقف ابھی بھی اس کی ملکیت سے نہیں نکلا، جب اس کی ملکیت سے نہیں نکلا تو وقف ہوا ہی نہیں، وقف کے اندر تو ملکیت سے نکلنا ضروری ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اگر واقف اپنے لیے خیارِ شرط رکھے تو یہ وقف بھی باطل اور شرط بھی باطل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ شَرَطَ الْخِيَارَ لِنَفْسِهِ فِي الْوَقْفِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“
اور اگر واقف نے اپنے لیے خیارِ شرط رکھا وقف میں تین دن کے لیے، دیکھو تین دن کو بھی ساتھ ذکر کیا کیونکہ میں نے بتایا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک خیارِ شرط کے ساتھ وقف جائز ہے لیکن مدت معلوم ہونی چاہیے، اگر مدت معلوم نہیں تو پھر یہ وقف جائز نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ شَرَطَ الْخِيَارَ لِنَفْسِهِ فِي الْوَقْفِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ جَازَ الْوَقْفُ وَالشَّرْطُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور اگر واقف نے وقف کے اندر اپنے لیے خیارِ شرط رکھا تین دن کے لیے، تو یہ وقف اور یہ شرط دونوں جائز ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک،
”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْوَقْفُ بَاطِلٌ“
اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وقف باطل ہے، جب وقف باطل تو شرط بھی باطل، اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ کہتے ہیں: اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وقف باطل ہے،
”وَهَذَا بِنَاءٌ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“
اور یہ اختلاف اس وجہ سے ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، جو ہم نے ذکر کر دیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک متولی کے سپرد کرنا ضروری ہے، اور جب خیارِ شرط اپنے لیے رکھا تو وقف تو واقف کی ملکیت سے نکلا ہی نہیں، متولی کے قبضے میں گیا ہی نہیں، لہٰذا یہ وقف باطل ہے بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب اپنے لیے آمدنی کی شرط جائز ہے تو اپنے لیے خیارِ شرط بھی جائز ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے:
”وَأَمَّا فَصْلُ الْوِلَايَةِ“
اب ولایت کی بات آ گئی بھئی، وہ جہاں سے متن ہم نے شروع کیا تھا کہ وقف کرنے والے نے وقف کی آمدنی کی اپنے لیے شرط لگائی یا یہ شرط لگائی کہ وقف کی ولایت مجھے ہوگی، میں متولی ہوں گا، میں اس کا نگران ہوں گا، تو آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا اس کی تفصیل تو بیان ہو گئی۔ تو دوسری چیز جو تھی کہ واقف جو ہے وقف کی ولایت اپنے لیے مقرر کر دے، اب اس کو صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں:
”وَأَمَّا فَصْلُ الْوِلَايَةِ فَقَدْ نَصَّ فِيهِ عَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
باقی ولایت کی جو فصل ہے، بھئی ذرا پیچھے متن پر آئیے، متن میں صاحبِ قدوری نے فرمایا تھا:
”وَإِذَا جَعَلَ الْوَاقِفُ غَلَّةَ الْوَقْفِ لِنَفْسِهِ، أَوْ جَعَلَ الْوِلَايَةَ إِلَيْهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
کہ جب وقف کرنے والا وقف کی آمدنی کی شرط لگا دے اپنے لیے یا وقف کی ولایت اپنے لیے قرار دے دے تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے۔ تو دیکھو صاحبِ قدوری نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کی تصریح کر دی کہ ان کے نزدیک واقف کا ولایت اپنے لیے رکھنا جائز ہے بھئی۔ اب آئیے سبق پر، کہتے ہیں:
”وَأَمَّا فَصْلُ الْوِلَايَةِ فَقَدْ نَصَّ فِيهِ عَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
تو ولایت کی جو فصل ہے، تو تحقیق اس کے اندر صاحبِ قدوری نے تصریح کر دی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر،
”وَهُوَ قَوْلُ هِلَالٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَيْضًا، وَهُوَ ظَاهِرُ الْمَذْهَبِ“
اور یہ ہلال رحمہ اللہ کا قول بھی ہے اور یہی ظاہرِ مذہب بھی ہے، یہی احناف کا ظاہرِ مذہب بھی ہے کہ واقف وقف کی ولایت اپنے لیے بھی رکھ سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: اور یہی ظاہرِ مذہب ہے،
”وَذَكَرَ هِلَالٌ فِي وَقْفِهِ“
اور ہلال رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الوقف میں ذکر کیا ہے، انہوں نے اپنی کتاب الوقف میں ذکر کیا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: اور ہلال رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے اپنی کتاب الوقف میں:
”وَقَالَ أَقْوَامٌ“
یہ اب ان کا قول ذکر کر رہے ہیں جو ہلال رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الوقف میں ذکر فرمایا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَقْوَامٌ“ ہلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَقَالَ أَقْوَامٌ“ کہ کچھ لوگوں نے کہا ہے، مراد فقہاء ہیں لیکن نام نہیں ذکر کیا کہ اس سے کون مراد ہیں۔ تو ہلال الرائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَقَالَ أَقْوَامٌ“ اور بعض فقہاء نے کہا ہے:
”إِنْ شَرَطَ الْوَاقِفُ الْوِلَايَةَ لِنَفْسِهِ كَانَتْ لَهُ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ لَمْ تَكُنْ لَهُ وِلَايَةٌ“
اگر واقف نے وقف کی ولایت کی اپنے لیے شرط لگا دی تو یہ ولایت اسی کے لیے ہوگی، اور اگر واقف نے یہ شرط نہ لگائی تو پھر واقف کے لیے وقف کی ولایت نہیں ہوگی۔ یہاں تک قول ہے ہلال الرائی رحمہ اللہ کا۔ وہ فرماتے ہیں کہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ واقف نے اگر وقف کی ولایت کی شرط اپنے لیے لگا دی تو اس کو ولایت رہے گی اور اگر اپنے لیے ولایت کی شرط نہ لگائی تو پھر اس کو وقف کی ولایت نہیں ہوگی۔ آگے پھر فقہاء فرماتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہو۔ اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا متولی کے قبضے میں دینا شرط ہے اور جب متولی کے قبضے میں دے گا تو واقف کی ولایت ختم ہو جائے گی، الا یہ کہ واقف اپنے لیے ولایت کی شرط لگا دے پھر اس کو ولایت رہے گی، ورنہ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب متولی قبضہ کرے گا تو واقف کی ولایت ختم ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں:
”قَالَ مَشَايِخُنَا: الْأَشْبَهُ“
ہمارے فقہاء فرماتے ہیں، الاشبہ کا ترجمہ کر لیں زیادہ مناسب کے بھئی، تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں:
”الْأَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا قَوْلَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“
کہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہو، یہ جو ہلال رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے یہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہو،
”لِأَنَّ مِنْ أَصْلِهِ: أَنَّ التَّسْلِيمَ إِلَى الْقَيِّمِ شَرْطٌ لِصِحَّةِ الْوَقْفِ“
اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے ضابطے میں سے ہے کہ قیم کے، قیم کہتے ہیں نگران اور ذمہ دار کو، تو کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے ضابطے میں سے ہے کہ نگران کے سپرد کرنا شرط ہے وقف کے صحیح ہونے کے لیے،
”فَإِذَا سَلَّمَ لَمْ يَبْقَ لَهُ وِلَايَةٌ فِيهِ“
تو جب واقف نے نگران کے سپرد کر دیا تو واقف کی اس میں کوئی ولایت باقی نہ رہی، الا یہ کہ اس نے اپنے لیے شرط لگائی ہو بھئی۔ تو پھر واقف کی ولایت رہے گی اس لیے کیونکہ وقف کے اندر شرطوں کی رعایت رکھی جاتی ہے، اگر اپنے لیے ولایت کی شرط لگائی ہے تو پھر واقف کو ولایت رہے گی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے:
”وَلَنَا:“
اب ہماری دلیل آگئی۔ بتلایا تھا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اپنے لیے ولایت کی شرط لگانا جائز ہے اور یہی قول ہے ہلال رحمہ اللہ کا اور یہی ظاہرِ مذہب بھی ہے یعنی احناف کا ظاہرِ مذہب یہی ہے، اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں:
”وَلَنَا: أَنَّ الْمُتَوَلِّيَ إِنَّمَا يَسْتَفِيدُ الْوِلَايَةَ مِنْ جِهَتِهِ بِشَرْطِهِ“
اور ہماری دلیل یہ ہے کہ متولی جو ہے وہ ولایت حاصل کرتا ہے، بھئی دلیل سمجھ لیں ادھر دیکھیے بھئی، ہم کہتے ہیں کہ یہ جو متولی کو وقف کی ولایت ملتی ہے یہ واقف کی طرف سے ملتی ہے، واقف اس کو متولی بناتا ہے، وہ اس کو ولایت دیتا ہے، تو یہ بات محال ہے کہ متولی کو تو ولایت واقف سے مل رہی ہے اور واقف خود ولایت نہیں رکھ سکتا، لہٰذا کہنا پڑے گا کہ واقف بھی ولایت رکھ سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اور ہماری دلیل یہ ہے کہ متولی جو ہے وہ ولایت حاصل کرتا ہے واقف کی جانب سے اس کی شرط کے ساتھ۔ ادھر دیکھیے، میں نے اپنا باغ وقف کیا اور متولی کے حوالے کر دیا تو متولی کو اب اس باغ پر ولایت حاصل ہو گئی لیکن شرط متولی کی چلے گی یا واقف کی؟ اس وقف کی آمدنی کہاں خرچ کرنی ہے یہ شرط متولی لگائے گا یا واقف لگائے گا؟ واقف لگائے گا، تو متولی کو بےشک ولایت ملی ہے لیکن واقف کی شرط کے ساتھ ولایت ملی ہے، واقف کی شرط کا اسے خیال رکھنا پڑے گا۔ تو جب متولی کو واقف کی طرف سے ہی ولایت ملی ہے تو کہنا پڑے گا کہ واقف کو بھی ولایت حاصل ہے، ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص سے دوسرا تو ولایت حاصل کر رہا ہے لیکن خود اس کو ولایت نہیں ہے؟ ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو:
”وَلَنَا: أَنَّ الْمُتَوَلِّيَ إِنَّمَا يَسْتَفِيدُ الْوِلَايَةَ مِنْ جِهَتِهِ بِشَرْطِهِ، فَيَسْتَحِيلُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ الْوِلَايَةُ وَغَيْرُهُ يَسْتَفِيدُ الْوِلَايَةَ مِنْهُ“
اور ہماری دلیل یہ ہے کہ متولی جو ہے وہ ولایت حاصل کرتا ہے واقف کی جانب سے اس کی شرط کے ساتھ، تو یہ بات محال ہے کہ واقف کے لیے تو ولایت نہ ہو اور غیر جو ہیں وہ اس سے ولایت حاصل کر رہے ہیں۔ واقف کو خود تو ولایت نہیں اور غیر اس سے ولایت حاصل کر رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
”وَلِأَنَّهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَى هَذَا الْوَقْفِ، فَيَكُونُ أَوْلَى لِوِلَايَتِهِ“
اور اس لیے کیونکہ یہ جو واقف ہے وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہے اس وقف کے، تو وہ زیادہ لائق ہے اس کی ولایت کے،
”كَمَنِ اتَّخَذَ مَسْجِدًا يَكُونُ أَوْلَى بِعِمَارَتِهِ وَنَصْبِ الْمُؤَذِّنِ فِيهِ“
جیسے کسی نے کوئی مسجد بنائی تو وہ تعمیر کروانے والا زیادہ لائق ہے اس کی تعمیر و مرمت کا اور اس میں مؤذن مقرر کرنے کا، جس نے مسجد بنوائی ہے وہ اس مسجد کی تعمیر و مرمت اور مؤذن مقرر کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔
”وَكَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا كَانَ الْوَلَاءُ لَهُ“
اور جیسے کوئی غلام کو آزاد کرے تو اس غلام کی میراث جو ہے اسی آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ولاء جو ہے مالِ میراث کو کہتے ہیں۔ آپ نے پڑھا ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو اس کے مال میں سے سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے اور پھر جو باقی مال بچ جائے اس کے ثلث کے اندر اگر اس نے کوئی وصیت کی ہے وہ نافذ کی جائے گی اور پھر اس کے بعد جو مال بچے گا وہ وارثوں کو دیں گے، اور وارث بھی کئی قسم کے ہیں بھئی، سب سے پہلے ذوی الفروض کو دیں گے، وہ وارث جن کے باقاعدہ قرآن اور حدیث میں حصے مقرر ہیں، کسی کو نصف دینا ہے، کسی کو ثلث دینا ہے، کسی کو سدس دینا ہے، یہ ہیں ذوی الفروض یعنی حصوں والے، تو پہلے ان میں تقسیم کریں گے، پھر اگر مال بچ گیا تو پھر جو عصبات ہیں یعنی وہ مرد کہ میت کے ساتھ ان کا رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے، جیسے اپنے بیٹے ہیں، پوتے پڑپوتے ہیں نیچے تک بھئی، یا اوپر کی طرف باپ، دادا، پردادا وغیرہ ہیں، توجہ ہے؟ یہ سارے عصبات ہیں تو پہلے ذوی الفروض کو دیں گے ان کا حصہ، پھر جو مال بچ جائے گا وہ عصبات لے جائیں گے۔ اگر عصبات نہ ہوئے تو پھر اس کے بعد تیسرا درجہ وارثوں کے اندر وہ اس معتق کا ہے، اگر یہ میت کسی زمانے میں غلام تھی اور کسی نے اس کو آزاد کیا تھا تو پھر اگر یہ مال بچ گیا ہے تو تیسرے نمبر پر یہ معتق آئے گا اور اس کو وہ مال دے دیا جائے گا، اور اس مال کو ولاء کہتے ہیں۔ یہ جو معتق کو مالِ میراث ملا ہے اپنے آزاد کردہ غلام یا باندی کا، اس کو ولاء کہتے ہیں کیونکہ معتق اس غلام یا باندی کے سب سے قریب تھا، اس نے اس کو آزاد کیا تھا تو لہٰذا ولاء اور میراث کا بھی وہی مستحق ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَكَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا كَانَ الْوَلَاءُ لَهُ؛ لِأَنَّهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ“
اور جیسے کوئی شخص غلام کو آزاد کرے تو ولاء اسی آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے؛ اس لیے کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہے اس آزاد کیے ہوئے غلام کے۔
”وَلَوْ أَنَّ الْوَاقِفَ شَرَطَ الْوِلَايَةَ لِنَفْسِهِ“
ادھر دیکھیے بھئی، صورت یہ ہے کہ واقف نے وقف کی ولایت اپنے لیے رکھ لی کہ میں اس کا متولی ہوں گا لیکن وہ واقف ایسا ہے کہ اس کی ذات پر اطمینان نہیں ہے، کہیں ایسا نہ ہو ابھی تو اس نے وقف کیا ہے، بعد میں سارے پر خود ہی قبضہ کر لے اور فقراء وغیرہ پر پھر خرچ ہی نہ کرے، تو کہتے ہیں: اگر واقف اس قسم کا آدمی ہے تو پھر قاضی اس وقف کو اس سے لے لے گا اور کسی قابلِ اعتماد شخص کے سپرد کر دے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ أَنَّ الْوَاقِفَ شَرَطَ الْوِلَايَةَ لِنَفْسِهِ، وَكَانَ الْوَاقِفُ غَيْرَ مَأْمُونٍ عَلَى الْوَقْفِ“
اور اگر وقف کرنے والے نے وقف کی ولایت کی شرط اپنے لیے لگا دی اور وقف کرنے والا جو ہے وہ غیر مامون ہے وقف پر یعنی اس پر اطمینان نہیں ہے، کہیں ایسا نہ ہو ایک وقت تو اس نے وقف تو کیا تھا لیکن دوسرے وقت اس کی نیت خراب ہو جائے اور وہ پھر فقراء پر خرچ ہی نہ کرے، پورے وقف پر ہی قبضہ کر کے بیٹھ جائے تو پھر قاضی اس سے لے لے گا۔ تو کہتے ہیں:
”وَكَانَ الْوَاقِفُ غَيْرَ مَأْمُونٍ عَلَى نَفْسِهِ، فَلِلْقَاضِي أَنْ يَنْزِعَهَا مِنْ يَدِهِ نَظَرًا لِلْفُقَرَاءِ“
اور وہ جو وقف کرنے والا ہے وہ وقف پر مامون نہیں ہے یعنی اس پر اطمینان نہیں ہے تو قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ وقف کو لے لے اس کے قبضے سے، فقراء کی رعایت کرتے ہوئے تاکہ فقراء کو یہ مال ملتا رہے،
”كَمَا لَهُ أَنْ يُخْرِجَ الْوَصِيَّ نَظَرًا لِلصِّغَارِ“
بھئی صورت یہ ہے، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص مرنے لگا اور اس کے نابالغ بچے ہیں تو اس نے اپنے مال کا نگران ایک شخص کو مقرر کر دیا، اس کو وصی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ وصی، یہ جو مرنے والا شخص اپنے مال کا نگران کسی کو بنا جائے اس کو وصی کہتے ہیں۔ تو ایک شخص مر گیا اور اس کے نابالغ اولاد ہے اور اس نے ایک آدمی کو وصی مقرر کر دیا کہ میرے اس مال کا خیال رکھنا اور میرے بچوں پر خرچ کرنا اور جب بالغ ہو جائیں تو پھر ان کے حوالے کر دینا۔ تو اب یہ جو وصی ہے یہ قابلِ اعتماد آدمی نہیں ہے تو قاضی کے لیے جائز ہے وہ اس وصی سے مال لے کر کسی دوسرے کو وصی مقرر کر دے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”كَمَا لَهُ أَنْ يُخْرِجَ الْوَصِيَّ نَظَرًا لِلصِّغَارِ“
جیسے کہ قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ وصی کو نکال دے نابالغوں پر شفقت کرتے ہوئے، یا یوں کہو ”نَظَرًا لِلصِّغَارِ“ نابالغوں کی رعایت رکھتے ہوئے۔
”وَكَذَا إِذَا شَرَطَ“
دوسری صورت بھئی: ایک آدمی نے اپنا باغ وقف کر دیا کہ میں اپنا یہ باغ وقف کرتا ہوں اس کی آمدنی آئندہ فقراء پر خرچ کی جائے لیکن اس کا متولی میں خود ہوں گا، اور اس آدمی کو پتہ تھا کہ مجھے قاضی یا بادشاہ کہیں ایسا نہ ہو اس ولایت سے ہٹا نہ دے، تو اس نے شرط اسی وقت شرط لگا دی کہ میں یہ باغ وقف کرتا ہوں اس کی آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے گی اور میں خود اس کا متولی ہوں گا اور اگر قاضی یا بادشاہ بھی مجھے اس ولایت سے ہٹانا چاہے تو وہ مجھے نہیں ہٹا سکتا۔ اس نے وقف کے اندر شرط لگا دی، اور آپ جانتے ہیں کہ وقف کے اندر شرطوں کی رعایت رکھی جاتی ہے، تو کیا اب قاضی اس کو ہٹا سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں: بھئی اگر یہ ایسا آدمی ہے جو قابلِ اعتماد نہیں ہے تو پھر قاضی اس کو ہٹا سکتا ہے اور اس نے جو شرط لگائی تھی اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ اس نے ایسی شرط لگائی ہے جو شریعت کے حکم کے مخالف ہے۔ شریعت نے تو قاضی کو اختیار دیا تھا، یہ اس قاضی کے اختیار کو ختم کرنا چاہتا ہے، لہٰذا اس کی یہ شرط صحیح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں:
”وَكَذَا إِذَا شَرَطَ أَنْ لَيْسَ لِسُلْطَانٍ وَلَا لِقَاضٍ أَنْ يُخْرِجَهَا مِنْ يَدِهِ وَيُوَلِّيَهَا غَيْرَهُ“
اور اسی طرح اگر واقف نے شرط لگا دی کہ جائز نہیں ہے بادشاہ کے لیے یا کسی قاضی کے لیے کہ وہ اس وقف کو نکال دے اس کے قبضے سے اور دوسرے کو اس کا متولی بنا دے، یہ شرط اس نے لگا دی کہ یہ بادشاہ اور قاضی کو یہ حق نہیں ہے کہ مجھے نکال دے اور کسی دوسرے کو متولی بنا دے، تو کہتے ہیں: یہ شرط بھی صحیح نہیں ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہے یعنی قاضی کے لیے جائز ہے اس واقف کو نکالنا، اسی طرح ہے جیسے اوپر پیچھے مسئلہ گزرا کہ جیسے پچھلے مسئلے میں تھا کہ اگر واقف قابلِ اعتماد نہیں ہے تو قاضی اسے ہٹا سکتا ہے تو اس مسئلے میں بھی اسی طرح ہے، اگر واقف یہ شرط لگا دے پھر بھی قاضی اسے ہٹا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہے حکم یعنی قاضی اس واقف کو ہٹا سکتا ہے:
”إِذَا شَرَطَ أَنْ لَيْسَ لِسُلْطَانٍ وَلَا لِقَاضٍ أَنْ يُخْرِجَهَا مِنْ يَدِهِ وَيُوَلِّيَهَا غَيْرَهُ؛ لِأَنَّهُ شَرْطٌ مُخَالِفٌ لِحُكْمِ الشَّرْعِ فَبَطَلَ“
جب واقف نے یہ شرط لگا دی کہ جائز نہیں ہے کسی بادشاہ اور کسی قاضی کے لیے کہ وہ وقف کو اس کے قبضے سے نکال دے اور دوسرے کو اس کا متولی بنا دے تو بھی قاضی اس کو نکال سکتا ہے؛ اس لیے کیونکہ یہ ایسی شرط ہے جو شریعت کے حکم کے مخالف ہے، تو یہ شرط باطل ہوگی اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.