Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-160

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 67
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: فَصْلٌ: ”وَإِذَا بَنَى مَسْجِدًا لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْهُ حَتَّى يُفْرِزَهُ عَنْ مِلْكِهِ بِطَرِيقِهِ وَيَأْذَنَ لِلنَّاسِ بِالصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِذَا صَلَّى فِيهِ وَاحِدٌ زَالَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْ مِلْكِهِ“. بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ وقف کی جو آمدنی ہے اسی میں سے سب سے پہلے وقف کی تعمیر و مرمت کروائی جائے گی اور وجہ یہ کہ واقف نے یہ وقف اس لیے کیا ہے تاکہ یہ ہمیشہ باقی رہے اور اس کو ہمیشہ اجر و ثواب ملتا رہے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب وقف کی تعمیر اور مرمت کروائی جائے، تو لہٰذا وقف کی تعمیر و مرمت جو ہے وہ اقتضاءً ثابت ہو جائے گی یعنی وقف خود ہی اس کا تقاضا کرتا ہے، تو چاہے واقف نے تعمیر و مرمت کی شرط لگائی ہو یا نہ لگائی ہو، ہر حال میں اسی آمدنی سے وقف کی تعمیر و مرمت کروائی جائے گی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہ وقف کی جو آمدنی ہے یا تو اس نے عام فقراء پر وقف کی ہوگی یا کسی معین آدمی پر اور پھر اس کے بعد فقراء کے لیے، تو اگر وہ فقراء کے لیے وقف کی ہے تو فقراء جو ہیں وہ تو غیر محصور ہیں، کوئی معین نہیں ہیں یا ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، تو یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس وقف پر خرچ کریں، لیکن وہ فقراء تو غیر معین ہیں اور ان کے اور مالوں کا تو علم نہیں ہے البتہ یہ ان کا سب سے قریبی مال ہے یہ جو وقف کی آمدنی ہے۔ وجہ یہ کہ وقف کی آمدنی ان فقراء ہی کو دی جائے گی تو یہ انہی کا مال ہے، یہ انہی کا حق ہے، تو لہٰذا اس صورت میں پھر اس وقف کی آمدنی کے ذریعے ہی وقف کی تعمیر اور مرمت کروا دی جائے گی۔ لیکن اگر وقف کسی معین شخص پر کیا ہے اور اس کے بعد پھر فقراء کے لیے کیا ہے تو پھر اس معین شخص سے تو مطالبہ ممکن ہے، لہٰذا اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ وقف کی تعمیر اور مرمت کروائے، تو وہ اپنے جس مال سے بھی تعمیر و مرمت کروانا چاہے وہ کر سکتا ہے بھئی، چاہے وہ اسی آمدنی سے تعمیر و مرمت کروائے کیونکہ یہ بھی اسی کا حق ہے، اسی کا مال ہے، اور وہ چاہے تو اپنے کسی دوسرے مال سے اس وقف کی تعمیر اور مرمت کروا دے بھئی۔ اور پھر وقف کی اتنی ہی تعمیر و مرمت اس پر لازم ہے کہ یہ وقف اسی حالت پر رہے جس حالت پر واقف نے اس کو وقف کیا تھا بھئی، زائد وصف پر اس کی تعمیر و مرمت جو ہے یہ اس پر لازم نہیں۔ لہٰذا اگر وہ زائد وصف پر تعمیر و مرمت کی اجازت دیتا ہے تو پھر تو زائد وصف پر تعمیر و مرمت کروائی جائے گی، اور اگر وہ زائد خرچ نہیں کرنا چاہتا تو اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اور پھر یہ بھی بتلایا کہ اگر وقف جو ہے عام فقراء پر کیا ہے تو کیا اس صورت کے اندر بھی وقف کو اعلیٰ اور بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ تو بتلایا کہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر بھی اس پر زائد خرچ کرنا جائز نہیں، جبکہ بعض فرماتے ہیں کہ نہیں اس صورت میں وقف پر زائد خرچ کرنا جائز ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ ان فقہاء کا قول زیادہ صحیح ہے جو فرماتے ہیں کہ زائد خرچ کرنا جائز نہیں ہے بھئی، اس لیے کیونکہ یہ جو وقف کی تعمیر و مرمت پر خرچہ کیا جاتا ہے وہ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے کیا جاتا ہے تاکہ وقف جو ہے وہ دیر تک باقی رہے اور اس کا اجر و ثواب واقف کو ملتا رہے۔ تو معلوم ہوا یہ تعمیر و مرمت ہے اس کی اجازت ضرورت کی وجہ سے ہے اور زائد خرچ کرنے کی تو ضرورت نہیں ہے لہٰذا زائد خرچ کرنا جائز بھی نہیں ہوگا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ تو وہ وقف تھا جس کی آمدنی ہو، اگر ایسا وقف ہے جس کی آمدنی نہیں ہے بلکہ اس کے منافع کسی کے لیے وقف کیے ہیں تو اس صورت میں وقف کی تعمیر و مرمت اسی کے ذمے ہے جس کے لیے وقف کے منافع ہیں، اس لیے کیونکہ حدیث میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ“ کہ نفع جو ہوتا ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ یہ شخص جو ہے وقف کے منافع سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو لہٰذا اس وقف کی تعمیر و مرمت کا خرچہ بھی اسی پر آئے گا، یہ اسی طرح ہے جیسے کسی شخص کے لیے غلام کی خدمت کی وصیت کر دی جائے، تو اب وہ جو موصیٰ لہٗ ہے وہ تو غلام کا مالک نہیں ہے صرف اس کے لیے غلام کی خدمت ہے، لیکن غلام کی خدمت کا نفع وہ اٹھا رہا ہے تو غلام کے کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچہ بھی اسی کے ذمے ہوگا۔ اور اگر اس موقوف علیہ کو کہا گیا کہ اس وقف کی تعمیر و مرمت کروا دو اور اس نے انکار کر دیا کہ نہیں میں تو اس پر اپنا مال خرچ نہیں کروں گا، یا وہ فقیر ہے اس کے پاس مال ہے ہی نہیں، تو کہتے ہیں اس صورت میں پھر حاکم کو چاہیے کہ یہ وقف اس سے لے لے اور کسی کو کرائے پر دے دے اور پھر جب اتنا کرایہ جمع ہو جائے کہ جس کے ذریعے وقف کی تعمیر اور مرمت کروائی جا سکتی ہے تو پھر اس وقف کی تعمیر و مرمت کروا لے اور پھر اسی موقوف علیہ کے حوالے کر دے بھئی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب موقوف علیہ اس پر خرچ کرنے پر راضی نہیں معلوم ہوا وہ اس کے اندر اپنے حق کو باطل کر رہا ہے، وہ اس وقف کے اندر جو اپنی رہائش ہے اس سے دستبردار ہو رہا ہے، تو لہٰذا تعمیر و مرمت کروانے کے بعد یہ وقف واپس اس موقوف علیہ کو نہیں دینا چاہیے، تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ نہیں، وہ جو خرچ کرنے سے رک گیا اس میں دو احتمال ہیں: ہو سکتا ہے وہ اپنا حق چھوڑ رہا ہو، اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو نقصان سے بچانا چاہتا ہے، وہ اپنا مال نہیں خرچ کرنا چاہتا، تو لہٰذا جب اس تعمیر و مرمت سے رکنے میں دو احتمال آ گئے تو معلوم ہوا اس کا اپنے حق کو چھوڑنا قطعی نہ رہا، جب قطعی نہ رہا تو لہٰذا اس کی وجہ سے اس کے حق کو باطل قرار نہیں دیا جائے گا اور یہ وقف پھر بھی اسی کے حوالے کیا جائے گا بھئی۔ اور بتلایا تھا کہ اگر یہ وقف پر خرچ کرنے سے رک جائے تو پھر اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ قاضی جبراً اس سے خرچہ کروائے، نہیں اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا اس لیے کیونکہ جب یہ وقف کی مرمت کروائے گا تو پھر اس کا مال خرچ ہوگا اور یہ اہم ضابطہ ہے فقہ کا کہ کسی کو بھی اپنا مال خرچ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کے ساتھ کھیتی باڑی کے اندر شرکت کا عقد کر لیا کہ ہم دونوں مل کر اس زمین میں کھیتی باڑی کریں گے اور پیداوار پھر ہم دونوں آپس میں تقسیم کریں گے، تو اب یہاں پر جس شخص کے لیے بیج کی شرط طے ہوئی تھی کہ بیج یہ لے کر آئے گا بیج اس کے ذمے ہے، اگر وہ اس کھیتی باڑی کے عقد پر چلنے سے رک گیا کہ نہیں میں اس عقد پر نہیں چلوں گا تو اس صورت میں قاضی بھی اس کو مجبور نہیں کر سکتا، وجہ یہ کیونکہ اس عقد پر چلنے میں اس کو اپنا بیج خرچ کرنا پڑے گا اور کسی بھی انسان کو اپنا مال خرچ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ موقوف علیہ جو وقف کی مرمت سے رک گیا ہے یہ اس بیج والے کی طرح ہے جو عقدِ مزارعت پر چلنے سے رک گیا ہے، اور جیسے اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح اس موقوف علیہ کو بھی وقف کی مرمت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ جو وقف کو کرائے پر دے گا یہ قاضی دے گا، خود وہ موقوف علیہ اس وقف کو آگے کسی کو کرائے پر نہیں دے سکتا، وجہ یہ ہے کہ وہ نہ اس وقف کا مالک ہے اور نہ اس کے منافع کا مالک ہے، اس کے لیے صرف منافع مباح کیے گئے ہیں، وہ اس وقف سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس میں رہائش رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ مباح کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص کوئی مکان وغیرہ کرائے پر لیتا ہے تو وہاں وہ چونکہ اجرت ادا کرتا ہے تو اس مکان کی رہائش کا مالک بن جاتا ہے، اس مکان کے منافع کا مالک بن جاتا ہے، تو وہ اس مکان کو آگے بھی کسی اور کو کرائے پر دے سکتا ہے، لیکن یہ جو موقوف علیہ ہے یہ تو اس وقف کے منافع کا مالک نہیں بنا بلکہ اس کے لیے منافع صرف مباح کیے گئے ہیں کہ اگر وہ اس میں رہنا چاہتا ہے تو رہ سکتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا موقوف علیہ جو ہے وہ اس وقف کو آگے کرائے پر نہیں دے سکتا کیونکہ نہ وہ اس وقف کا مالک ہے اور نہ اس کے منافع کا مالک ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر وقف کی عمارت میں سے کچھ حصہ گر جائے یا اس کے آلات جو ہیں یعنی دروازے، کھڑکیاں یا کوئی اور اس طرح کی چیز گر جائے، تو پھر واقف اگر ضرورت ہو تو اسی کو لگوا دے اور اگر فی الحال ضرورت نہیں ہے تو حاکم اس کو محفوظ رکھ لے تاکہ جب ضرورت پیش آئے ان کو لگوانے کی تو پھر ان کو لگوا لیا جائے بھئی۔ اور اگر یہ جو وقف کا حصہ گر گیا ہے اگر اس کو اسی جگہ پر لگانا ممکن نہیں یہ اتنا خراب ہو گیا ہے تو پھر اس صورت میں اس دروازے کو مثلاً ایک دروازہ خراب ہو گیا ہے، اب اس دروازے کو تو وہاں لگوانے کی صورت نہیں یہ اتنا زیادہ خراب ہو گیا ہے تو پھر اس صورت میں اس دروازے کو مستحقینِ وقف پر تقسیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ان کا حق نہیں ہے بلکہ اس دروازے کو بیچ دیا جائے گا اور پھر جو ثمن حاصل ہوں گے وہ اس جگہ پر لگوائے جائیں گے یعنی ان کے ذریعے نیا دروازہ خرید کر لگا دیا جائے گا۔ تو مبدل تو وہاں نہ لگ سکا، مبدل کیا تھا؟ وہ دروازہ جو اکھڑ گیا تھا، تو مبدل تو وہاں نہیں لگ سکتا تھا تو مبدل کو بیچ کر جو اس کا بدل یعنی ثمن حاصل ہوئے ان کو وہاں پر لگوا دیا گیا یعنی ان کے ذریعے نیا دروازہ وہاں پر لگوا دیا گیا۔ تو جب مبدل کا لگوانا ممکن نہ تھا تو پھر اس کے بدل کو یعنی اس کے ثمن کے ذریعے خریدے ہوئے نئے دروازے کو مثلاً وہاں لگوا دیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر واقف جو ہے یعنی وقف کرنے والا اگر وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگا لیتا ہے کہ زندگی بھر اس وقف کی آمدنی سے میں نفع اٹھاؤں گا اور میرے مرنے کے بعد یہ فقراء پر خرچ کی جائے، یا نصف آمدنی اپنے لیے شرط کر لی کہ یہ باغ میری طرف سے وقف ہے اور اس کی نصف آمدنی زندگی بھر میں استعمال کروں گا اور نصف فقراء پر خرچ کی جائے اور میرے مرنے کے بعد پھر ساری آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے، تو آپ کو بتلایا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے، البتہ اس میں امام محمد رحمہ اللہ کا اختلاف ہے بھئی۔ کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے اندر متولی کا قبضہ شرط ہے اور متولی کا قبضہ اس لیے شرط ہے تاکہ واقف کا حق اس وقف سے منقطع ہو جائے، ختم ہو جائے، اور جب واقف نے اپنے لیے آمدنی کی شرط لگا دی پھر تو واقف کا حق اس وقف سے منقطع نہیں ہوا تو یہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔ تو یہ جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف آیا اس مسئلے میں کہ واقف اپنے لیے اس وقف کی آمدنی کی شرط لگا سکتا ہے یا نہیں؟ پھر اس کے بارے میں بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس اختلاف کی بنیاد دراصل ایک اور اختلاف پر ہے جو صاحبین کے درمیان ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف جائز نہیں بلکہ اس وقف کو الگ کرنا اور متولی کے قبضے میں دینا ان کے نزدیک شرط ہے جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کو الگ کرنا اور متولی کے قبضے میں دینا شرط نہیں ہے، تو چونکہ اس قبضے اور افراز کے اندر دونوں کا اختلاف تھا اس لیے متولی کی اپنے لیے آمدنی کی شرط لگانے میں بھی اختلاف آیا۔ تو اس اختلاف کی بنیاد اس دوسرے اختلاف پر ہے، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں یہ الگ نیا مسئلہ ہے، اس اختلاف کی بنیاد اس اختلاف پر نہیں ہے بلکہ یہ الگ مسئلہ ہے، اس کی الگ دلیل ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر واقف جو ہے وہ اپنے مدبر اور امہاتِ اولاد کے لیے وقف کی آمدنی کی شرط لگا دے تو بعض فقہاء فرماتے ہیں یہ صاحبین کے نزدیک بالاتفاق صحیح ہے بھئی، لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ صحیح قول یہی ہے کہ اپنے مدبر اور امہاتِ اولاد کے لیے آمدنی کی شرط لگا دے تو اس میں بھی صاحبین کا اختلاف ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اس کی آمدنی کی شرط اپنے مدبر اور امہاتِ اولاد کے لیے لگانا یہ اسی طرح ہے جیسے اپنے لیے آمدنی کی شرط لگا رہا ہے کیونکہ مدبر اور امہاتِ اولاد کا جو خرچہ ہوگا وہ اسی مالک پر ہے اسی واقف پر ہے، تو جب ان پر خرچ کرنے کی شرط لگائی تو گویا اپنے لیے خرچ کرنے کی شرط لگا دی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وجہ ذکر فرمائی تھی کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: واقف کا وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا یہ صحیح نہیں ہے، اس لیے کیونکہ وقف جو ہے یہ تبرع ہے، یہ بطورِ نیکی اور احسان کے ہوتا ہے اور اس میں تملیک ہوتی ہے، اس میں اللہ کو اس کا مالک بنایا جاتا ہے، لہٰذا بعض آمدنی کی یا ساری آمدنی کی اپنے لیے شرط لگانا یہ تو ایسے ہی ہے جیسے اپنے آپ کو مالک بنا رہا ہے، حالانکہ اپنے آپ کو مالک بنانا نہیں ہو سکتا، مالک دوسرے کو بنایا جاتا ہے، تو تملیک کا معنی ہے دوسرے کو مالک بنانا، اور تملیک جو ہے دوسرے کی ہی ہو سکتی ہے اپنے آپ کی تملیک نہیں ہو سکتی کیونکہ واقف تو خود ہی پہلے سے اس کا مالک ہے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا یہ اسی طرح ہے جیسے صدقے کی شرط اپنے لیے لگانا کہ ایک شخص جو ہے وہ فقیر کو دس درہم دیتا ہے کہ یہ لو یہ میری طرف سے صدقہ ہے اور شرط یہ ہے کہ اس میں سے پانچ درہم میرے ہیں تو یہ تو جائز نہیں ہے، یا ایک شخص اپنی زمین وقف کرتا ہے کہ یہ میری ساری زمین جو ہے یہ مسجد کے لیے وقف ہے لیکن شرط یہ ہے اس مسجد کا ایک ٹکڑا میرا ہوگا بھئی تو یہ شرط تو جائز نہیں ہے، تو لہٰذا اس لیے وہ فرماتے ہیں وقف کی شرط اپنے لیے لگانا جائز نہیں ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وقف کی آمدنی میں سے کھاتے تھے اور اپنے وقف کی آمدنی میں سے کھانا یہ تو بغیر شرط کے جائز نہیں ہے، معلوم ہوا وقف کی آمدنی کی شرط اپنے لیے لگانا جائز ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے عقلی دلیل بھی ذکر فرمائی تھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف سے، وہ فرماتے ہیں کہ جب واقف وقف کی شرط اپنے لیے لگا دے تو یہ اپنے آپ کو مالک نہیں بنا رہا بلکہ وقف تو اللہ کا مملوک ہو جاتا ہے اور اللہ کے مملوک کی وہ اپنے لیے شرط لگا رہا ہے اور اللہ کی مملوک چیز کی شرط اپنے لیے لگانا جائز ہے کیونکہ اللہ کی مملوک چیز سے نفع اٹھانا اور اس کو اپنے لیے خاص کرنا جائز ہے جیسے ہم جنگل سے شکار پکڑتے ہیں یا لکڑیاں لاتے ہیں تو یہ شکار اور لکڑیاں یہ تو اللہ کی مملوک تھیں لیکن اس کو لانے والے نے اپنے لیے خاص کر لیا، تو اللہ کی مملوک چیز کو اپنے لیے خاص کرنا جائز ہے تو واقف کے لیے بھی وقف کی آمدنی اپنے لیے خاص کرنا جائز ہے۔ اور نیز دوسری عقلی دلیل ذکر کی تھی کہ وقف کے ذریعے جو مقصد ہوتا ہے وہ اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے تاکہ اس وقف کی آمدنی صدقہ ہو اور واقف کو ثواب ملتا رہے اور حدیث میں آتا ہے آدمی کا اپنے اوپر خرچ کرنا یہ بھی صدقہ ہے، اسی طرح اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا یہ بھی صدقہ ہے، معلوم ہوا اپنے لیے بھی وقف کی آمدنی رکھے گا تو بھی وقف کا مقصد حاصل ہو رہا ہے، لہٰذا یہ جائز ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر واقف نے یہ شرط لگا دی کہ میں یہ زمین وقف کر رہا ہوں لیکن اگر میں نے چاہا تو اس زمین کو بدل دوں گا دوسری زمین کے ساتھ، یعنی یہ زمین میں لے لوں گا اور اس کی جگہ دوسری زمین بطورِ وقف کے دے دوں گا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شرط جائز ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وقف تو جائز ہے لیکن یہ شرط باطل ہے، کیونکہ یہ ایسی شرط ہے جس کی وجہ سے ملکیت ختم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں آ رہی۔ بعض اوقات تو ایسی شرط لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ملکیت ختم ہونے میں ہی رکاوٹ آ جاتی ہے، واقف کی ملکیت ختم ہوتی ہی نہیں ہے جیسے اگلے مسئلے میں خیارِ شرط کے اندر ہے بھئی، توجہ ہے؟ لیکن یہ جو شرط ہے یہ ایسی شرط ہے جس کی وجہ سے واقف کی ملکیت ختم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں آ رہی، لہٰذا جب وہ وقف کرے گا اس شرط کے ساتھ تو واقف کی ملکیت ختم ہو جائے گی، اس کی ولایت ختم ہو گئی اور یہ زمین وقف ہو گئی، اور اب اس کو اس پر ولایت ہی نہیں لہٰذا اب وہ اس زمین کو بدل نہیں سکتا کیونکہ یہ زمین اس کی ملکیت سے نکل چکی ہے، تو وقف تو صحیح ہو گیا اور شرط جو ہے وہ باطل ہو گئی۔ اور اگر اس کے مقابلے میں اگر کسی نے وقف کے اندر اپنے لیے خیارِ شرط رکھا کہ میری یہ زمین وقف ہے لیکن مجھے تین دن تک اختیار ہے، میں اس وقف کو فسخ کرنا چاہوں تو فسخ کر سکتا ہوں، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وقف بھی جائز ہے اور شرط بھی جائز ہے، اس لیے کیونکہ واقف جب وقف کی آمدنی اپنے لیے خاص کر سکتا ہے تو اپنے لیے خیارِ شرط بھی رکھ سکتا ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وقف ہی باطل ہے، اس لیے کیونکہ خیارِ شرط جب واقف نے اپنے لیے رکھا ہے تو وقف اس کی ملکیت سے نہیں نکلا، جب اس کی ملکیت سے نہیں نکلا تو وقف ہی نہیں ہوا کیونکہ وقف کے ہونے کے لیے تو واقف کی ملکیت کا ختم ہونا ضروری تھا بھئی، تو جب واقف کی ملکیت سے وقف نہیں نکلا تو یہ وقف ہی نہ ہوا، یہ وقف باطل ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ اگر واقف جو ہے یہ شرط لگا دے کہ وقف کی ولایت مجھے حاصل رہے گی کہ میں اس کا خود متولی ہوں گا، میں خود اس کی نگرانی کروں گا اور اس میں تصرفات کروں گا، تو اس میں بھی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے اور یہی ظاہرِ مذہب ہے احناف کا بھئی، اور دلیل ذکر فرمائی تھی کہ وقف پر جو متولی ہے اس کو یہ جو ولایت ملتی ہے یہ واقف کی طرف سے ملتی ہے، تو یہ محال ہے کہ دوسرے کو تو واقف کی طرف سے وقف کی ولایت مل رہی ہو اور واقف کو خود وہ ولایت حاصل نہ ہو، بلکہ جب دوسرے کو ولایت واقف سے مل رہی ہے تو واقف کو خود بھی ولایت حاصل ہوگی وقف پر بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا کہ اگر واقف جو ہے اپنے لیے ولایت کی شرط لگا دے لیکن وہ قابلِ اعتماد آدمی نہیں ہے، اس وقت تو وہ فقراء پر خرچ کر رہا ہے لیکن کہیں ایسا نہ ہو بعد میں اس کی نیت خراب ہو جائے اور یہ اس وقف پر پورا قبضہ کر لے، فقراء پر پھر خرچ ہی نہ کرے، تو لہٰذا اگر واقف اس قسم کا آدمی ہے جو قابلِ اعتماد نہیں ہے تو قاضی پھر اس کو وقف سے الگ کر سکتا ہے کہ اس وقف کو اس سے لے لے اور کسی اور کے حوالے کر دے، کسی اور کی نگرانی میں دے دے فقراء کی رعایت رکھتے ہوئے، جیسے قاضی کے لیے جائز ہے کہ وصی جو ہے اگر وہ قابلِ اعتماد نہ ہو تو اس کی جگہ کسی دوسرے آدمی کو مقرر کر دے ان نابالغوں کی رعایت رکھتے ہوئے۔ اور اگر واقف نے یہ شرط لگا دی کہ یہ میری زمین وقف ہے اور میں خود ہی اس کا متولی ہوں اور کسی بادشاہ یا قاضی کو بھی یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ مجھے اس کی ولایت سے ہٹا سکے، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا اگر واقف نے ایسی شرط بھی لگا دی پھر بھی قاضی کے لیے واقف کو ہٹانا جائز ہے، اس شرط کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ واقف نے ایسی شرط لگائی ہے جو شرعی حکم کے خلاف ہے، لہٰذا یہ شرط باطل ہوگی، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: فَصْلٌ: ”وَإِذَا بَنَى مَسْجِدًا لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْهُ حَتَّى يُفْرِزَهُ عَنْ مِلْكِهِ بِطَرِيقِهِ وَيَأْذَنَ لِلنَّاسِ بِالصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِذَا صَلَّى فِيهِ وَاحِدٌ زَالَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْ مِلْكِهِ“. اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ ایک خاص وقف یعنی مسجد کے احکام بیان فرمائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ عام وقف کے احکام بھی بیان فرمائیں گے۔ یاد رکھو یہ جو مسجد ہے یہ عام اوقاف سے مختلف ہے، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہ عام اوقاف سے مختلف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ وقف کے اندر شرط لگاتے ہیں کہ وقف متولی کے قبضے میں دیا جائے، لیکن مسجد کے معاملے میں وہ بھی فرماتے ہیں کہ مسجد کسی کے قبضے میں دینے کی ضرورت نہیں، اس کے بغیر ہی واقف کی ملکیت اس پر سے ختم ہو جائے گی۔ اور نیز یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی عام وقف سے مختلف ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک عام وقف جو ہے مشاع کے اندر بھی جائز ہے، ایک آدمی کا حصہ پھیلا ہوا ہے اس کے اندر بھی عام وقف جائز ہے، لیکن مسجد کے اندر وہ فرماتے ہیں مشاع کا وقف جائز نہیں ہے بھئی۔ اور نیز یہ مسجد امام صاحب کے نزدیک بھی عام وقف سے مختلف ہے، امام صاحب کے نزدیک جو ہے عام وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم نہیں ہوتی الّا یہ کہ قاضی یا حاکم اس کا فیصلہ کر دے، تو جب قاضی یا حاکم فیصلہ کرے گا پھر وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہوگی ورنہ واقف جو ہے اس وقف میں رجوع بھی کر سکتا ہے اور اس کو بیچ بھی سکتا ہے اور ہبہ بھی کر سکتا ہے، تو امام صاحب کے نزدیک عام وقف سے واقف کی ملکیت ختم نہیں ہوتی الّا یہ کہ حاکم اس کا فیصلہ کر دے، لیکن مسجد کے بارے میں وہ بھی فرماتے ہیں کہ مسجد پر سے واقف کی ملکیت ختم ہو جائے گی بغیر کسی حاکم کے فیصلے کے ہی۔ معلوم ہوا مسجد کا وقف عام اوقاف سے مختلف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ، میں نے آپ کو بتلایا اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ مسجد کے احکام بھی بیان فرمائیں گے اور عام وقف سے متعلق کچھ احکام بھی بیان فرمائیں گے، یعنی یوں سمجھو اس فصل میں دو بحثیں ہوں گی: پہلی بحث مسجد کے بارے میں ہوگی اور پھر دوسری بحث جو ہے عام اوقاف کے بارے میں ہوگی بھئی، تو اب یہ پہلی بحث شروع ہو رہی ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا بَنَى مَسْجِدًا“: اور جب کسی شخص نے کوئی مسجد بنائی، ”لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْهُ“: تو اس واقف کی ملکیت اس مسجد پر سے ختم نہیں ہوگی، ”حَتَّى يُفْرِزَهُ عَنْ مِلْكِهِ بِطَرِيقِهِ“: ”حَتَّى يُفْرِزَهُ“ یہاں تک کہ وہ واقف اس مسجد کو جدا کر دے ”عَنْ مِلْكِهِ“ اپنی ملکیت سے ”بِطَرِيقِهِ“ اس کے راستے کے ساتھ۔ دو شرطیں ذکر کریں گے بھئی: کوئی واقف جو ہے اپنی زمین، اپنی جائیداد کو مسجد بنانا چاہتا ہے تو ایک شرط یہ ہے کہ اس مسجد کو اپنی ملکیت سے جدا کر دے راستے کے ساتھ، کیونکہ مسجد میں عام لوگوں کے آنے کے لیے راستہ بھی چاہیے، تو مسجد کو اپنی ملکیت سے جدا کر دے اس کے راستے کے ساتھ، اور دوسری شرط آپ کو یہ بتلائیں گے کہ اس میں لوگوں کو نماز کی اجازت دے دے، تو جب اس کے اندر ایک بھی شخص نماز پڑھ لے گا تو اب یہ مسجد ہو گئی اور اس واقف کی ملکیت سے نکل گئی۔ اب وہ اس واقف کی ملکیت سے نکل گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا بَنَى مَسْجِدًا“ اور جب کسی شخص نے کوئی مسجد بنائی، ”لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْهُ“ تو اس کی ملکیت اس مسجد پر سے ختم نہیں ہوگی، ”حَتَّى يُفْرِزَهُ عَنْ مِلْكِهِ بِطَرِيقِهِ“ یہاں تک کہ وہ اس مسجد کو اپنی ملکیت سے جدا کر دے اس کے راستے کے ساتھ، تو یہ پہلی شرط ہے: مسجد کو اپنی ملکیت سے جدا کر دے۔ اور دوسری شرط جو ہے کہ: ”وَيَأْذَنَ لِلنَّاسِ بِالصَّلَاةِ فِيهِ“: اور لوگوں کو اس کے اندر نماز پڑھنے کی اجازت دے دے، ”فَإِذَا صَلَّى فِيهِ وَاحِدٌ“: جب اس کے اندر کوئی ایک شخص بھی نماز پڑھ لے گا، ”زَالَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْ مِلْكِهِ“: تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسجد اس شخص کی ملکیت سے زائل ہو جائے گی، اس شخص کی ملکیت اس مسجد پر سے ختم ہو جائے گی۔ ”أَمَّا الْإِفْرَازُ“: اب وجہ بیان کرنے لگے ہیں کہ ہم نے کہا کہ مسجد کے اندر دو شرطیں ہیں کہ اپنی ملکیت سے اس کو جدا کرے اور دوسرا اس کے اندر عام لوگوں کو نماز کی اجازت ہو اور کوئی ایک بھی آ کر نماز پڑھ لے گا تو پھر یہ مسجد بن جائے گی، تو جدا کرنے کی شرط ہم نے اس لیے لگائی کیونکہ مسجد جو ہے یہ خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے، یہ مسجد جو ہے خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ﴾ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں بھئی، ویسے تو ہر چیز اللہ کی ہے لیکن بالخصوص مسجدوں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی بھئی، تو اس نسبت اور اس اضافت کا فائدہ جو ہے وہ یہ ہے کہ یہ مسجد جو ہوتی ہے یہ خاص اللہ کی ہوتی ہے یعنی اللہ کی مملوکہ ہوتی ہے، اللہ کے قبضے میں ہوتی ہے، کسی اور کے قبضے میں نہیں ہوتی، اور نیز یہ مسجد جو ہے اس سے بندوں کا حق منقطع ہو جاتا ہے، عام جو وقف ہیں اس سے تو عام لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، کوئی باغ ہے تو اس کی آمدنی سے فقراء فائدہ اٹھا رہے ہیں، کوئی سرائے بنوائی ہے تو اس کے اندر لوگ آ کر ٹھہرتے ہیں وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، کوئی پانی کی سبیل لگائی ہے تو لوگ اس سے پانی لے کر جاتے ہیں وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، کسی نے قبرستان وقف کیا ہے تو لوگ اس میں اپنے مردے دفن کر کے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن مسجد جو ہے اس سے بندوں کا حق منقطع ہو جاتا ہے، اس سے بندوں کے لیے فائدہ اٹھانا جائز نہیں، وہ صرف عبادت کے لیے ہوگی، لہٰذا بندے اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں مثلاً مسجد کو کرائے پر دینا چاہتے ہیں یا مسجد کے اندر اپنا سامان وغیرہ رکھنا چاہتے ہیں یا مسجد کو اپنی رہائش کی جگہ بنانا چاہتے ہیں، نہیں بھئی، مسجد صرف اللہ کی عبادت کے لیے ہے بھئی، بندوں کے لیے اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں، بندوں کا حق اس سے منقطع ہو چکا ہے، تو اسی لیے کہتے ہیں ہم نے یہ شرط لگا دی کہ مسجد کو اپنی ملکیت سے جدا کر دے تاکہ یہ خالص اللہ کے لیے ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْإِفْرَازُ“ تو مسجد کو اپنی ملکیت سے جو الگ کرنا ہے، ”فَلِأَنَّهُ لَا يَخْلُصُ لِلَّهِ تَعَالَى إِلَّا بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ خالص اللہ کے لیے نہیں ہو سکتی ”إِلَّا بِهِ“ مگر اس جدا کرنے سے ہی، جدا کرے گا تو پھر یہ خالص اللہ کے لیے ہو جائے گی۔ ”وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِيهِ“: اور باقی مسجد کے اندر جو نماز ہے، ہم نے جو مسجد میں نماز کی شرط لگائی کہ عام لوگوں کو اس میں نماز کی اجازت ہو اب اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِيهِ“ اور باقی مسجد کے اندر نماز جو ہے، ”فَلِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ التَّسْلِيمِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“: اس لیے کیونکہ سپرد کرنا یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ضروری ہے، واقف کا وقف کو سپرد کرنا یہ طرفین کے نزدیک ضروری ہے، ”وَيُشْتَرَطُ تَسْلِيمُ نَوْعِهِ“: اور جو نوع ہو، جو قسم ہو، اسی نوع کا سپرد کرنا شرط ہوگا۔ جس قسم کی چیز ہے اسی قسم کا سپرد کرنا بھی شرط ہوگا، اب اگر کوئی اپنا باغ وقف کرتا ہے تو باغ کے لیے تو متولی چاہیے، نگران چاہیے، اس کا انتظام سنبھالنے والا چاہیے، لہٰذا اس کے سپرد کرنا شرط ہوگا، لیکن مسجد کا تو کوئی متولی نہیں ہوتا، مسجد کا تو— یہ یاد رکھو یہ قدیم زمانے کے اندر عام طور پر دیہات وغیرہ میں یہ کوئی مسجد ہوتی اس کا کوئی متولی نہیں ہوتا تھا، بات سمجھ میں آ گئی؟ آج بھی بہت سے دیہات میں اسی طرح ہوتا ہے مسجد کا کوئی متولی نہیں ہوتا، کسی کی نگرانی وغیرہ کی وہاں ضرورت نہیں، لوگ آتے ہیں نماز کے وقت اور جماعت کروائی جاتی ہے، باقی کوئی اور الگ متولی نہیں ہوتا، اس میں کسی انتظام و انصرام کی ضرورت نہیں، لیکن آج کل تو مسجدوں کے بھی متولی ہوتے ہیں، مسجد کے انتظامات کو چلایا جاتا ہے— تو دلیل چل رہی ہے کہ ہم نے مسجد کے اندر نماز کی شرط لگائی، مسجد میں نماز کی شرط لگائی پھر یہ مسجد بنے گی اس سے پہلے یہ مسجد نہیں، اس سے پہلے یہ وقف نہیں ہے، کہتے ہیں وجہ یہ کیونکہ یہاں مسجد کا تو کوئی متولی ہوتا نہیں، مسجد تو کسی کے قبضے میں نہیں دی جاتی وہ تو اللہ کے قبضے میں ہوتی ہے تو جس نوع کی چیز ہو اسی نوع کا قبضہ بھی شرط ہوتا ہے اور مسجد کے اندر وہ نماز سے ہوگا کہ جب عام لوگوں کو نماز پڑھنے کی اس میں اجازت ہوگی کہ عام لوگ اس میں نماز شروع کر دیں تو مسجد پر قبضہ آ گیا، اور جب قبضہ آ گیا تو یہ زمین وقف ہو گئی، مسجد ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَيُشْتَرَطُ تَسْلِيمُ نَوْعِهِ“ اور اسی نوع کا سپرد کرنا شرط ہوگا، ”وَذَلِكَ فِي الْمَسْجِدِ بِالصَّلَاةِ فِيهِ“ اور یہ مسجد کے اندر اس میں نماز پڑھنے سے ہوگا، ”أَوْ لِأَنَّهُ“ یا اس وجہ سے، ہم نے مسجد کے اندر نماز کی بھی شرط لگائی، ایک تو اس وجہ سے کہ یہ سپرد کرنا شرط ہے اور ہر نوع میں سپرد کرنا اسی نوع کے مطابق ہوگا اور مسجد کے اندر سپرد کرنا نماز کے ذریعے ہوگا، اب دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ مسجد کے اندر ہم نے نماز کی شرط اس لیے لگائی کیونکہ مسجد کے اندر قبضہ متعذر ہے، مسجد کا متولی نہیں ہوتا، مسجد کسی متولی کے قبضے میں نہیں دی جا سکتی، تو جب قبضہ متعذر ہو گیا تو مسجد کا جو مقصد تھا اس مقصد کو قبضے کے قائم مقام کر دیا اور مقصد مسجد میں نماز پڑھنا تھا، تو جب مقصد حاصل ہو جائے گا، ایک بھی شخص اس کے اندر نماز پڑھ لے گا تو مقصد حاصل ہو گیا اور یہ مقصد قبضے کے قائم مقام ہے، گویا قبضہ پایا گیا، اور جب قبضہ پایا گیا تو یہ مسجد ہو گئی، یہ وقف ہو گیا، تو کہتے ہیں: ”أَوْ لِأَنَّهُ“ یا اس وجہ سے، ”لَمَّا تَعَذَّرَ الْقَبْضُ“: جب قبضہ متعذر ہو گیا، کیونکہ مسجد میں حقیقی قبضہ اللہ ہی کا ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا تَعَذَّرَ الْقَبْضُ“ اس لیے کیونکہ جب مسجد پر قبضہ ممکن نہ رہا، ”يُقَامُ تَحَقُّقُ الْمَقْصُودِ مَقَامَهُ“: تو لہٰذا مقصود کا پایا جانا اس کو اس قبضے کے قائم مقام کر دیا جائے گا، ”ثُمَّ يُكْتَفَى بِصَلَاةِ الْوَاحِدِ فِيهِ“: اور اس کے بعد پھر انہوں نے متن میں بتلایا تھا کہ ایک شخص بھی اس میں نماز پڑھ لے گا تو یہ مسجد ہو جائے گی۔ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ ایک آدمی بھی اس مسجد کے اندر نماز پڑھ لے گا تو یہ مسجد ہو جائے گی، یہ وقف ہو جائے گی یعنی اس پر قبضہ آ گیا، جب قبضہ آ گیا تو... ”ثُمَّ يُكْتَفَى بِصَلَاةِ الْوَاحِدِ فِيهِ“ پھر اکتفا کیا جائے گا اس مسجد میں ایک شخص کی نماز پر ہی۔ اوپر متن میں بتلایا، ایک شخص بھی اس مسجد میں نماز پڑھ لے گا تو یہ مسجد ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ يُكْتَفَى بِصَلَاةِ الْوَاحِدِ فِيهِ“ پھر اس مسجد کے اندر ایک شخص کی نماز پر ہی اکتفا کر لیا جائے گا، یعنی اسی سے وہ مسجد ہو جائے گی۔ ”فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب سے ایک روایت کے مطابق۔ ”وَكَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ سے بھی روایت ہے کہ ایک ہی آدمی کی نماز اس میں کافی ہے بھئی۔ ”لِأَنَّ فِعْلَ الْجِنْسِ مُتَعَذِّرٌ“ بھئی کیوں؟ ایک آدمی کی نماز کیوں کافی ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ سارے لوگوں کی نماز تو ممکن نہیں، کہ ساری دنیا کے نمازی اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں۔ تو جب ساری جنس کا فعل، یعنی تمام انسانوں کا اس میں نماز پڑھنا ممکن نہیں، تو اس کے ادنیٰ یعنی ایک فرد پر ہی اکتفا کر لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِعْلَ الْجِنْسِ مُتَعَذِّرٌ“ اس لیے کیونکہ ساری جنسِ انسان کا فعل تو اس میں متعذر ہے، ممکن نہیں ہے۔ ”فَيُشْتَرَطُ أَدْنَاهُ“ تو لہٰذا کم سے کم جو ہے اس کی شرط لگا دی جائے گی، اور وہ ایک فرد ہے بھئی۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھنا، فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر واقف نے خود ہی اس میں نماز پڑھ لی، تو کیا اس سے بھی وہ وقف ہو جائے گی، وہ مسجد ہو جائے گی؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ہاں، اس صورت میں بھی یہ مسجد ہو جائے گی۔ لیکن صحیح قول اس کے اندر یہ ہے کہ واقف کا خود نماز پڑھنا کافی نہیں ہے بھئی، اس لیے کیونکہ یہ جو نماز کی شرط لگائی گئی ہے وہ اس لیے ہے تاکہ عام لوگوں کے قبضے میں آ جائے وہ مسجد بھئی، اور عام لوگوں کا قبضہ تب ہی ثابت ہو گا جب واقف کے علاوہ کوئی اور اس میں نماز آ کر پڑھے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الصَّلَاةُ بِالْجَمَاعَةِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ مسجد کے اندر جماعت کے ساتھ نماز شرط ہو گی۔ ”لِأَنَّ الْمَسْجِدَ بُنِيَ لِذَلِكَ فِي الْغَالِبِ“ اس لیے کیونکہ غالباً جو ہے مسجد کو اسی لیے بنایا جاتا ہے، اکثر مسجد کو اسی لیے بنایا جاتا ہے تاکہ اس میں باقاعدگی سے باجماعت نماز ادا کی جائے۔ ویسے اکیلے تو کہیں اور بھی نماز ادا ہو سکتی ہے یا ویسے ایک آدھ مرتبہ جماعت کے ساتھ تو کہیں اور بھی نماز ادا ہو سکتی ہے، لیکن مسجد کو کس لیے بنایا جاتا ہے؟ تاکہ اس میں باقاعدگی سے جماعت کے ساتھ نماز کو ادا کیا جائے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں چونکہ مسجد کو اس مقصد کے لیے بنایا جاتا ہے لہٰذا اس میں ایک دفعہ باجماعت نماز ہو گی تو پھر ہی یہ مسجد بنے گی۔ یہ ایک روایت ہے امام محمد رحمہ اللہ سے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَزُولُ مِلْكُهُ بِقَوْلِهِ جَعَلْتُهُ مَسْجِدًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ واقف جب یہ کہہ دے گا: میں نے یہ زمین مسجد بنا دی، تو اس کے یہ کہتے ہی یہ زمین مسجد ہو گئی، یہ وقف ہو گیا بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قبضہ شرط نہیں ہے، صرف واقف کے کہنے سے ہی یہ مسجد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَزُولُ مِلْكُهُ بِقَوْلِهِ جَعَلْتُهُ مَسْجِدًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ واقف کے یہ کہنے سے ہی اس کی ملکیت ختم ہو جائے گی کہ: ”جَعَلْتُهُ مَسْجِدًا“ میں نے اس کو مسجد بنا دیا ہے۔ ”لِأَنَّ التَّسْلِيمَ عِنْدَهُ لَيْسَ بِشَرْطٍ“ اس لیے کیونکہ متولی کے سپرد کرنا یہ ان کے نزدیک شرط نہیں ہے۔ ”لِأَنَّهُ إِسْقَاطٌ لِمِلْكِ الْعَبْدِ“ اس لیے کیونکہ جو وقف ہے ان کے نزدیک بندے کی ملکیت کو ساقط کرنا ہے۔ وقف میں بندے کی ملکیت ساقط کی جاتی ہے، اور وہ صرف زبان کے ذریعے ہو جاتی ہے، جیسے اعتاق ہے۔ اعتاق میں آقا غلام پر سے اپنی ملکیت ساقط کرتا ہے تو صرف زبان کے ذریعے ہی ملکیت ساقط ہو جاتی ہے، تو اسی طرح وقف میں بھی صرف زبان سے کہنے سے ہی وہ وقف ہو جائے گا اور واقف کی ملکیت سے نکل جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ إِسْقَاطٌ لِمِلْكِ الْعَبْدِ“ اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک وقف جو ہے وہ بندے کی ملکیت کو ساقط کرنا ہے۔ ”فَيَصِيرُ خَالِصًا لِلَّهِ تَعَالَى بِسُقُوطِ حَقِّ الْعَبْدِ“ تو پھر یہ خالص اللہ کے لیے ہو جاتا ہے بندے کے حق کے ساقط ہونے کی وجہ سے۔ وقف کے اندر جب بندہ زبان سے کہہ دے میں نے یہ وقف کر دیا ہے تو اس کے یہ کہتے ہی اس بندے کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ وقف خالص اللہ کے لیے ہو جاتا ہے، تو یہاں مسجد میں بھی اسی طرح ہو گا، صرف زبان سے کہنے سے ہی وہ مسجد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِيرُ خَالِصًا لِلَّهِ تَعَالَى بِسُقُوطِ حَقِّ الْعَبْدِ، وَصَارَ كَالْإِعْتَاقِ“ تو وہ وقف پھر خالص اللہ کے لیے ہو جاتا ہے بندے کے حق کے ساقط ہو جانے کی وجہ سے، اور یہ اعتاق کی طرح ہو گیا۔ یہ وقف جو ہے اعتاق کی طرح ہو گیا، جیسے اعتاق کے اندر آقا اپنی ملکیت غلام سے ساقط کرتا ہے، اسی طرح وقف میں بھی وقف پر سے اپنی ملکیت وہ ساقط کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَالْإِعْتَاقِ، وَقَدْ بَيَّنَّاهُ مِنْ قَبْلُ“ اور یہ وقف جو ہے اعتاق کی طرح ہو گیا اور تحقیق یہ بات ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ وقف اعتاق کی طرح ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَنْ جَعَلَ مَسْجِدًا تَحْتَهُ سِرْدَابٌ أَوْ فَوْقَهُ بَيْتٌ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر کسی نے ایسی مسجد وقف کی ہے کہ اس کے اوپر جو ہے وہ بندوں کا حق ہے یا اس مسجد کے نیچے بندوں کا حق ہے، آپ کو میں نے بتلایا کہ مسجد سے بندوں کا حق منقطع ہو جاتا ہے، وہ اس مسجد کو اپنے استعمال میں نہیں لا سکتے، یہ صرف عبادت کے لیے ہے۔ تو مسجد میں بندوں کا حق ہر اعتبار سے منقطع ہونا چاہیے۔ لیکن ایک شخص نے ایک مسجد وقف کی ہے اور اس مسجد کے نیچے ایک تہہ خانہ ہے، اور وہ تہہ خانہ اسی شخص کی ملکیت میں ہے، وہ اس کو اپنے کام میں لاتا ہے، اپنی چیزیں وغیرہ اس میں رکھتا ہے یا کرائے پر دیتا ہے، یا مسجد کے اوپر ایک کمرہ ہے اور وہ کمرہ جو ہے وہ لوگوں کو کرائے پر دیا جاتا ہے اگرچہ اس کی آمدنی پھر مسجد پر ہی خرچ کی جاتی ہے لیکن بہرحال لوگوں کا حق تو اس سے منقطع نہیں ہے، لوگ اس سے نفع تو اٹھا رہے ہیں، تو کیا اس صورت میں بھی یہ مسجد ہو جائے گی یا نہیں جس کے اوپر والی منزل سے بندوں کا حق وابستہ ہو یا جس کے تہہ خانے کے ساتھ بندوں کا حق وابستہ ہو؟ تو کیا ایسی مسجد وقف کی جائے تو وہ مسجد ہو جائے گی یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، مسجد سے واقف کی ملکیت کا ختم ہونا اور بندوں کے حق کا منقطع ہونا ضروری ہے، لہٰذا یہ مسجد اس نے اگرچہ مسجد بنا دی ہے لیکن یہ مسجد ہوئی نہیں، یہ اس وقف کرنے والے کے لیے بیچنا بھی جائز ہے اور ہبہ کرنا بھی جائز ہے اور اس کے اندر اس کی وراثت بھی جاری ہو گی، یہ مسجد نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَمَنْ جَعَلَ مَسْجِدًا تَحْتَهُ سِرْدَابٌ“ اور جس نے ایسی مسجد بنائی کہ جس کے نیچے تہہ خانہ ہے، سرداب، سرداب کسے کہتے ہیں؟ تہہ خانے کو۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ جَعَلَ مَسْجِدًا تَحْتَهُ سِرْدَابٌ أَوْ فَوْقَهُ بَيْتٌ“ کہ جس نے ایسی مسجد بنائی کہ اس کے نیچے تہہ خانہ ہے یا ایسی مسجد بنائی کہ اس کے اوپر ایک کمرہ ہے، ”وَجَعَلَ بَابَ الْمَسْجِدِ إِلَى الطَّرِيقِ“ اور اس نے مسجد کا دروازہ راستے کی طرف کر دیا، یعنی مسجد کے لیے راستہ بھی موجود ہے۔ اوپر بتلایا تھا مسجد کے لیے راستہ ہونا چاہیے بھئی تاکہ لوگ اس میں آ سکیں، اس نے بھی راستے کی طرف دروازہ کھول دیا تو مسجد کے لیے راستہ بھی ہے لیکن پھر بھی یہ مسجد نہیں ہو گی کیونکہ لوگوں کا حق اس سے منقطع نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجَعَلَ بَابَ الْمَسْجِدِ إِلَى الطَّرِيقِ، وَعَزَلَهُ عَنْ مِلْكِهِ“ اور اس نے مسجد کا دروازہ بھی راستے کی طرف بنا دیا اور اس مسجد کو اس نے اپنی ملکیت سے جدا بھی کر دیا، ہم نے بھی بتایا تھا کہ واقف مسجد کو اپنی ملکیت سے جدا کر دے، تو ساری چیزیں یہاں پوری ہیں صرف مسجد کے اوپر والی منزل یا تہہ خانے کے ساتھ لوگوں کا حق وابستہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَزَلَهُ عَنْ مِلْكِهِ، فَلَهُ أَنْ يَبِيعَهُ“ اور اس مسجد کو اس نے اپنی ملکیت سے جدا کر دیا تو اس شخص کے لیے اس مسجد کو بیچنا جائز ہے، جائز ہے یعنی ابھی بھی یہ مسجد نہیں بنی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَهُ أَنْ يَبِيعَهُ، وَإِنْ مَاتَ يُورَثُ عَنْهُ“ تو اس شخص کے لیے اس مسجد کو بیچنا جائز ہے اور اگر یہ شخص مر گیا تو یہ مسجد اس سے موروث ہو گی، یعنی اس میں اس کی وراثت جاری ہو گی۔ ”لِأَنَّهُ لَمْ يَخْلُصْ لِلَّهِ تَعَالَى لِبَقَاءِ حَقِّ الْعَبْدِ مُتَعَلِّقًا بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مسجد جو ہے خالص اللہ کے لیے نہیں ہوئی اس وجہ سے کہ بندے کا حق ابھی بھی باقی ہے اس سے متعلق ہو کر۔ ”وَلَوْ كَانَ السِّرْدَابُ لِمَصَالِحِ الْمَسْجِدِ جَازَ“ ہاں، اگر مسجد کے نیچے تہہ خانہ تو ہے لیکن وہ مسجد کے کام کے لیے ہی بنایا گیا ہے، مسجد کی چیزیں ہی اس کے اندر رکھی جاتی ہیں، یا مسجد کے اوپر ایک کمرہ تو ہے لیکن اس میں مسجد ہی کی چیزیں رکھی جاتی ہیں، اس کو کرائے وغیرہ پر نہیں دیا جاتا تو پھر یہ صورت جائز ہے، یہ مسجد ہو گئی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ کیونکہ اب مسجد کی اوپر والی منزل یا نیچے والی منزل کے ساتھ لوگوں کا حق وابستہ نہیں ہے، وہ اوپر یا نیچے والی منزل بھی مسجد ہی کے کام میں آتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ السِّرْدَابُ لِمَصَالِحِ الْمَسْجِدِ جَازَ“ اور اگر وہ تہہ خانہ مسجد کی مصلحتوں کے لیے تھا تو پھر یہ جائز ہے۔ ”كَمَا فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمُقَدَّسِ“ جیسے کہ بیت المقدس کی مسجد میں ہے۔ بیت المقدس کی مسجد کے نیچے کہتے ہیں تہہ خانہ موجود ہے اور وہ کسی کا مملوکہ نہیں، وہ مسجد ہی کا حصہ ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو جیسے بیت المقدس کے اندر نیچے تہہ خانہ موجود ہے، لوگوں کا حق اس سے وابستہ نہیں اور وہ مسجد ہے، تو اسی طرح عام مسجد کے اندر بھی اسی طرح ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمُقَدَّسِ“ جیسے کہ بیت المقدس کی مسجد میں ہے۔ یاد رکھو یہ جو لفظ آیا بیت المقدس، اس کو بیتِ مُقَدَّس پڑھنا بھی صحیح اور بیتِ مَقْدِس پڑھنا بھی صحیح ہے، بیتِ مَقْدِس پڑھنا بھی صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ“ جیسے کہ بیت المقدس کی مسجد میں۔ ”وَرَوَى الْحَسَنُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا جَعَلَ السِّفْلَ مَسْجِدًا“ اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے امام صاحب سے کہ وہ فرماتے ہیں: ”إِذَا جَعَلَ السِّفْلَ مَسْجِدًا“۔ سِفل اور سُفل بھئی، سین کے کسرہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ یہ عربی میں استعمال ہوتا ہے: سِفل اور سُفل بھئی۔ یہ کسی چیز کے نچلے حصے کو کہتے ہیں یعنی نچلی منزل بھئی، اور اس کے مقابلے میں علو آتا ہے۔ عُلو بھی اسی طرح ہے عین کے ضمہ کے ساتھ بھی صحیح اور عین کے کسرہ کے ساتھ بھی: عُلو اور عِلو، اور وہ کسی چیز کے اوپر والے حصے کو کہتے ہیں۔ تو حسن ابن زیاد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں امام صاحب سے کہ انھوں نے فرمایا: ”إِذَا جَعَلَ السِّفْلَ مَسْجِدًا وَعَلَى ظَهْرِهِ مَسْكَنٌ“ کہ جب کسی شخص نے نچلی منزل کو مسجد بنا دیا اور اس مسجد کی پشت پر رہائش ہے، نچلی منزل مسجد ہے اور اوپر کسی کی رہائش ہے، تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى ظَهْرِهِ مَسْكَنٌ“ اور اس مسجد کی پشت پر یعنی اس کے اوپر جو ہے رہائش ہے، ”فَهُوَ مَسْجِدٌ“ تو یہ مسجد ہے۔ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مسجد ہے اگرچہ اس کے اوپر رہائش ہے، پھر بھی یہ شرعی مسجد ہی ہے۔ ”لِأَنَّ الْمَسَاجِدَ مِمَّا يَتَأَبَّدُ“ امام صاحب کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نیچے مسجد ہو تو یہ ٹھیک ہے لیکن اگر نیچے رہائش ہے اور مسجد اوپر ہے یہ ٹھیک نہیں۔ وجہ یہ کہ نیچے جو ہے نچلا حصہ تو زمین پر ہے اور زمین تو مؤبد ہوتی ہے، تو نچلا حصہ مؤبد ہے ہمیشہ کے لیے ہے اور وقف بھی مؤبد ہونا چاہیے، لہٰذا مسجد نیچے ہو تو یہ جائز ہے۔ لیکن اگر مسجد اوپر ہے اور نیچے رہائش ہے، پھر یہ اوپر والا حصہ تو مؤبد نہیں ہے، لہٰذا یہ مسجد نہیں ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ اس کے برعکس فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ مسجد جو ہے اس کی تعظیم کی جاتی ہے، اس کی تعظیم تقاضا کرتی ہے اوپر مسجد ہو تو جائز ہونی چاہیے اور نیچے مسجد ہو تو جائز نہیں ہونی چاہیے کیونکہ نیچے مسجد ہے تو پھر تو اس کی تعظیم نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَسَاجِدَ مِمَّا يَتَأَبَّدُ وَذَلِكَ يَتَحَقَّقُ فِي السِّفْلِ دُونَ الْعُلْوِ“ اس لیے کیونکہ مسجد جو ہے وہ ان چیزوں میں سے ہے جو مؤبد رہتی ہیں اور یہ مؤبد ہونا یہ تو نچلی منزل میں ہو سکتا ہے نہ کہ اوپر والی منزل میں۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى عَكْسِ هَذَا“ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت ہے اس کے برعکس بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ سے اس کے برعکس روایت ہے۔ ”لِأَنَّ الْمَسْجِدَ مُعَظَّمٌ“ وہ فرماتے ہیں کیونکہ مسجد جو ہے وہ معظم ہوتی ہے، وہ قابلِ تعظیم ہوتی ہے۔ ”وَإِذَا كَانَ فَوْقَهُ مَسْكَنٌ أَوْ مُسْتَغَلٌّ“ اور اگر اس مسجد کے اوپر رہائش گاہ ہے، مسکن رہائش کی جگہ، اور اگر اس مسجد کے اوپر رہائش کی جگہ ہے: ”أَوْ مُسْتَغَلٌّ“۔ مستغل غلہ سے ہے اور غلہ آپ پڑھ چکے ہیں آمدنی کو کہتے ہیں، اور اگر مسجد کے اوپر مستغل ہے یعنی آمدنی کی جگہ ہے، مستغل بھئی یہ ظرف کا صیغہ ہے، یہ ظرف کا صیغہ ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ مزید فیہ کے ابواب کے اندر جو اسم مفعول کا صیغہ ہوتا ہے وہی ظرف کا بھی صیغہ ہوتا ہے اور اسی وزن پر مصدرِ میمی بھی عموماً آتا ہے بھئی، تو یہاں یہ اسم ظرف کا صیغہ ہے۔ تو مسجد کے اوپر مستغل ہے یعنی آمدنی کی جگہ ہے، یعنی اس کو کرائے پر دیا گیا ہے اگرچہ وہ کرایہ بھی مسجد ہی پر لگتا ہے، اگرچہ وہ کرایہ مسجد پر ہی لگتا ہے لیکن پھر بھی لوگوں کا حق تو وابستہ ہے، لوگ اس سے نفع تو اٹھاتے ہیں اور مسجد سے تو نفع اٹھانا صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ فَوْقَهُ مَسْكَنٌ أَوْ مُسْتَغَلٌّ يَتَعَذَّرُ تَعْظِيمُهُ“ اور اگر مسجد کے اوپر رہائش کی جگہ ہے یا آمدنی کی جگہ ہے تو اس صورت میں تو مسجد کی تعظیم ممکن نہ رہے گی، لہٰذا یہ مسجد نہیں ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب دو اور اقوال ذکر کریں گے امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے۔ پیچھے انھوں نے بتا دیا کہ مسجد خالص اللہ کے لیے ہونی چاہیے، نہ اس کے اوپر والی منزل کے ساتھ لوگوں کا حق وابستہ ہو نہ اس کی نیچے والی منزل کے ساتھ لوگوں کا حق وابستہ ہو۔ لیکن اب آپ کو بتائیں گے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ بغداد تشریف لے گئے، بغداد تو پرانا شہر تھا بھئی، تو اس کے اندر تو لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مکان تھے، تنگ گلیاں تھیں اور اس کے اندر تو اتنی جگہ ہی نہیں ہوتی تھی کہ باقاعدہ الگ سے مسجد کے لیے کوئی جگہ وقف کی جائے، تو وہاں انھوں نے پھر اجازت دے دی کہ صرف نچلی منزل کو کوئی مسجد بناتا ہے یا صرف اوپر والی منزل کو کوئی مسجد بناتا ہے تو یہ جائز ہے۔ معلوم ہوا انھوں نے ضرورت کی وجہ سے اجازت دی۔ تو ضرورت کی وجہ سے صرف نچلی یا صرف اوپر والی منزل کو مسجد بنانا بھی جائز ہے۔ اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ شہرِ رے کے اندر تشریف لے گئے، رے یہ ایک شہر ہے ایران کے اندر بھئی، اس کا ذکر پچھلے سبق میں بھی گزرا تھا بھئی، اس رے کے رہنے والے کو رازی کہتے ہیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ شہرِ رے کے اندر تشریف لے گئے تھے، وہاں بھی اسی طرح تھا کہ وہ تنگ گلیاں تھیں، چھوٹے چھوٹے لوگوں کے مکانات تھے، تو وہاں انھوں نے بھی ضرورت کی وجہ سے اجازت دی کہ صرف نیچے والے حصے کو مسجد بنایا جائے یا صرف اوپر والے حصے کو مسجد بنایا جائے تو یہ جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ جَوَّزَ فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے جائز قرار دیا ہے دونوں صورتوں میں، یعنی چاہے مسجد کے نچلے حصے میں لوگوں کا حق وابستہ ہے، چاہے مسجد کے اوپر والے حصے سے لوگوں کا حق وابستہ ہے دونوں صورتوں میں اس کا مسجد بنانا، اس کا مسجد ہونا جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے دونوں صورتوں میں اس کو جائز قرار دیا: ”حِينَ قَدِمَ بَغْدَادَ وَرَأَى ضِيقَ الْمَنَازِلِ“ جس وقت وہ بغداد تشریف لائے اور انھوں نے گھروں کی تنگی کو دیکھا، لوگوں کے گھروں کی تنگی کو دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے گھر ہیں۔ ”فَكَأَنَّهُ اعْتَبَرَ الضَّرُورَةَ“ تو گویا انھوں نے ضرورت کا اعتبار کیا کہ ضرورت کی وجہ سے اس طرح کی مسجد بھی جائز ہے بھئی۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ حِينَ دَخَلَ الرَّيَّ أَجَازَ ذَلِكَ كُلَّهُ لِمَا قُلْنَا“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس وقت وہ شہرِ رے کے اندر داخل ہوئے تو انھوں نے بھی اس سب کی اجازت دے دی اس وجہ سے جو ہم نے کہا کہ ضرورت کی وجہ سے ہے۔ کیا شان ہے ان فقہائے کرام کی بھئی! کیا شان ہے بھئی! حدیث و قرآن سے مسائل اخذ کر کے لوگوں کو بتلائے اور سینکڑوں سال گزر گئے، ہزار سے بھی زیادہ سال گزر گئے، لوگ ان کے بتلائے ہوئے مسائل پر عمل کر رہے ہیں۔ کتنے اجر و ثواب کے سمندر کے سمندر ان کے لیے چل رہے ہوں گے جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ ایک آدمی کو ایک نیکی بتاتے ہیں اور وہ اس پر عمل کر لے تو آپ بڑے خوش ہوتے ہیں کہ مجھے بھی اجر مل رہا ہو گا، اور یہاں؟ یہاں تو معاملہ ہی بڑا عجیب ہے، انسان تصور کرتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے، کتنے سمندر کے سمندر ثواب کے چل رہے ہیں اور ہزار سے بھی زیادہ سال ہو گئے یہ ان کے نامۂ اعمال میں جمع ہو رہے ہیں، تو ان کا کیا مقام ہو گا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے بھئی۔ تو افسوس ہوتا ہے ان لوگوں پر جو ان فقہاء پر تنقید کرتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ ان فقہاء کا مقام بہت اونچا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَكَذَلِكَ إِنِ اتَّخَذَ وَسَطَ دَارِهِ مَسْجِدًا وَأَذِنَ لِلنَّاسِ بِالدُّخُولِ فِيهِ“ کہتے ہیں یہ مسئلہ بھی اسی طرح ہے۔ بھئی پچھلے متن میں آیا تھا کہ اگر کسی نے مسجد بنائی اور اس کے نیچے تہہ خانہ ہے، یا مسجد بنائی اور اس کے اوپر ایک کمرہ ہے اور مسجد کو اس نے اپنی ملکیت سے بھی الگ کر دیا ہے، اس کو راستہ بھی دے دیا ہے، پھر بھی یہ مسجد نہیں ہوئی، پھر بھی یہ مسجد نہیں ہوئی، اس کے لیے بیچنا بھی جائز اور اس میں اس کی وراثت بھی جاری ہو گی۔ یہ اگلا مسئلہ بھی اسی طرح ہے، یعنی اس میں بتلائیں گے ایک شخص نے اپنے گھر کے بیچ میں مسجد بنا لی، گھر کے اندر ہی کسی جگہ مسجد بنائی لیکن اس مسجد کے چاروں طرف اس کی ملکیت موجود ہے، اور پھر اس نے لوگوں کو اس میں آنے کی اجازت بھی دے دی، پھر بھی امام صاحب فرماتے ہیں یہ مسجد نہیں ہوئی، اس لیے کیونکہ مسجد کو اپنی ملکیت سے الگ کرنا ضروری ہے تاکہ کوئی لوگوں کو اس میں آنے سے نہ روک سکے، لیکن یہ مسجد تو اس کے گھر کے اندر ہے، یہ تو لوگوں کو یہاں آنے سے کسی بھی وقت روک سکتا ہے، لہٰذا یہ مسجد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ إِنِ اتَّخَذَ وَسَطَ دَارِهِ مَسْجِدًا“ اور اسی طرح ہے مسئلہ، یعنی مسجد نہیں ہو گی: ”إِنِ اتَّخَذَ وَسَطَ دَارِهِ مَسْجِدًا“ اگر کسی شخص نے اپنے گھر کے بیچ میں مسجد بنا لی، ”وَأَذِنَ لِلنَّاسِ بِالدُّخُولِ فِيهِ“ اور لوگوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دی کہ وہ اس میں آ کر نماز پڑھ سکتے ہیں، تو بھی یہ مسئلہ اسی طرح ہے یعنی وہ مسجد نہیں ہوئی۔ تو اب وہی صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ یہ مسئلہ بھی اسی کی طرح ہے: ”يَعْنِي لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ وَيُورَثُ عَنْهُ“ یعنی اس کے لیے جائز ہے اس کو بیچنا اور نیز یہ مسجد اس میں اس کی وراثت بھی جاری ہو گی۔ ”لِأَنَّ الْمَسْجِدَ مَا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ فِيهِ حَقُّ الْمَنْعِ“ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ مسجد جو ہے وہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر کسی کو بھی منع کا حق نہ ہو۔ مسجد وہ ہوتی ہے جس میں کسی کو بھی منع کا حق نہ ہو، کوئی لوگوں کو روک نہ سکے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَسْجِدَ مَا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ فِيهِ حَقُّ الْمَنْعِ“ اس لیے کیونکہ مسجد وہ ہوتی ہے کہ کسی کو بھی اسے منع کرنے کا حق نہ ہو۔ ”وَإِذَا كَانَ مِلْكُهُ مُحِيطًا بِجَوَانِبِهِ“ اور جب اس واقف کی ملکیت جو ہے اس نے احاطہ کیا ہوا ہے اس مسجد کی جانبوں کا، جب اس واقف کی ملکیت نے مسجد کی جانبوں کا احاطہ کیا ہوا ہے، ہر طرف اس واقف کی ملکیت موجود ہے تو یہ تو لوگوں کو کسی بھی وقت منع کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ مِلْكُهُ مُحِيطًا بِجَوَانِبِهِ كَانَ لَهُ حَقُّ الْمَنْعِ“ اور جب اس شخص کی ملکیت نے اس مسجد کی جانبوں کا احاطہ کیا ہوا ہے تو اس کے لیے تو منع کا حق ہے۔ ”فَلَمْ يَصِرْ مَسْجِدًا“ تو یہ مسجد نہیں ہوئی۔ ”لِأَنَّهُ أَبْقَى الطَّرِيقَ لِنَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ راستہ اس نے اپنے لیے باقی رکھا ہے۔ اس نے تو راستہ بھی لوگوں کے لیے چھوڑا تھا، کہتے ہیں نہیں، یہ راستہ بھی اپنے لیے ہی چھوڑا ہے بھئی، کیونکہ یہ اس کے گھر کا راستہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ أَبْقَى الطَّرِيقَ لِنَفْسِهِ فَلَمْ يَخْلُصْ لِلَّهِ تَعَالَى“ اس لیے کیونکہ اس نے یہ راستہ اپنے لیے چھوڑا ہے تو یہ مسجد خالص اللہ کے لیے نہ ہوئی۔ آگے دیکھیے: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب امام محمد رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں بتلائیں گے کہ وہ فرماتے ہیں یہ مسجد ہو گئی۔ ایک شخص نے اپنے گھر کے بیچ میں مسجد بنائی اور لوگوں کو آنے کی اجازت دی، امام صاحب کے نزدیک یہ مسجد نہیں ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ مسجد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا يُبَاعُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ اس کو بیچا نہیں جا سکتا، یعنی یہ مسجد ہو گئی ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کو بیچا نہیں جا سکتا، ”وَلَا يُورَثُ وَلَا يُوهَبُ“ اور اس میں وراثت جاری نہیں ہو سکتی اور اس کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ آگے شرح شروع ہو رہی ہے: ”اعْتَبَرَهُ مَسْجِدًا“ صاحبِ ہدایہ بتلانا چاہتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو مسجد اعتبار کیا ہے، انھوں نے اس کو مسجد شمار کیا ہے اسی لیے متن میں آیا کہ وہ فرماتے ہیں نہ اس کو بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اس میں وراثت جاری ہو گی، معلوم ہوا انھوں نے اس کو مسجد شمار کیا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”اعْتَبَرَهُ مَسْجِدًا“ امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو مسجد اعتبار کیا ہے۔ ”وَهَكَذَا عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَصِيرُ مَسْجِدًا“ اور اسی طرح روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی کہ یہ مسجد ہو گئی۔ ”لِأَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ بِكَوْنِهِ مَسْجِدًا وَلَا يَصِيرُ مَسْجِدًا إِلَّا بِالطَّرِيقِ“ اس لیے کیونکہ جب وہ وقف کرنے والا اس کے مسجد ہونے پر راضی ہے اور مسجد نہیں ہو سکتی مگر راستے کے ساتھ، بھئی امام صاحب فرماتے تھے کہ یہ جو راستہ بھی اس نے چھوڑا ہے اس مسجد کے لیے، یہ تو اس نے اپنے لیے چھوڑا ہے، یہی اس کے گھر کا راستہ ہے بھئی۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مسجد ہو گئی اور یہ مسجد جو ہے وہ تو بغیر راستے کے نہیں ہو سکتی، تو راستہ خود بخود مسجد کے ساتھ لازم ہو جائے گا، راستہ خود بخود ثابت ہو جائے گا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی سے کرائے پر مکان لیتا ہے تو اس نے صرف مکان کرائے پر لیا ہے، راستے کی کوئی بات نہیں ہوئی لیکن پھر بھی اس کے لیے راستہ ثابت ہو گا کیونکہ بغیر راستے کے تو وہ اس میں رہائش نہیں رکھ سکتا بھئی۔ تو اسی طرح بغیر راستے کے تو لوگ مسجد میں نماز ادا نہیں کر سکتے، لہٰذا اپنے گھر کے اندر اس نے بے شک مسجد بنائی ہے لیکن مسجد کے ساتھ راستہ بھی ثابت ہو جائے گا، یعنی وہ بھی اسی کے ساتھ لازم ہو جائے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ بِكَوْنِهِ مَسْجِدًا وَلَا يَصِيرُ مَسْجِدًا إِلَّا بِالطَّرِيقِ دَخَلَ فِيهِ الطَّرِيقُ وَصَارَ مُسْتَحَقًّا“ اس لیے کیونکہ وہ شخص جب اس کے مسجد ہونے پر راضی ہے اور مسجد تو نہیں ہو سکتی مگر راستے کے ساتھ ہی، تو اس کے اندر راستہ بھی داخل ہو جائے گا اور یہ راستہ بھی لازم ہو جائے گا، وہ یہ راستہ بھی لازم ہو جائے گا۔ ”كَمَا يَدْخُلُ فِي الْإِجَارَةِ مِنْ غَيْرِ ذِكْرٍ“ جیسے کہ راستہ اجارے کے اندر داخل ہو جاتا ہے بغیر ذکر کے۔ کسی سے کوئی گھر کرائے پر لیا تو راستہ ذکر نہ کرے پھر بھی راستہ ثابت ہو جاتا ہے، اس کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو اپنے گھر میں مسجد بنائے اس کے اندر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام صاحب کے نزدیک یہ مسجد نہیں ہوئی جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ مسجد ہو گئی۔ لیکن یہ یاد رکھنا اس کے بارے میں طرفین سے ایک ایک روایت اور بھی ہے: امام صاحب سے ایک روایت ہے کہ مسجد ہو گئی اور امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے کہ یہ مسجد نہیں ہوئی، تو دونوں روایتیں ہیں طرفین سے اس بارے میں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَنِ اتَّخَذَ أَرْضَهُ مَسْجِدًا“ اب یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ جس نے اپنی زمین مسجد بنا دی تو اب وہ اس میں رجوع نہیں کر سکتا، وہ اس کے قبضے سے نکل گئی۔ عام وقف کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک متولی کا قبضہ ضروری ہے لیکن مسجد کے بارے میں وہ بھی فرماتے ہیں کہ کسی کا قبضہ ضروری نہیں، جب اس کو اپنی ملکیت سے الگ کر دیا، لوگوں کو راستہ دے دیا اور ایک شخص نے بھی نماز پڑھ لی تو یہ مسجد ہو گئی، اس واقف کی ملکیت سے نکل گئی، نہ وہ اس میں رجوع کر سکتا ہے اور نہ اس کو بیچ سکتا ہے۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وقف واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا جب تک حاکم فیصلہ نہ کر دے، لیکن مسجد کے معاملے میں وہ بھی فرماتے ہیں کہ جب ایک جگہ مسجد ہو گئی تو اب اس واقف کی ملکیت سے یہ نکل گئی، اب اس کے اندر وہ رجوع نہیں کر سکتا، اب وہ اسے بیچ نہیں سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَمَنِ اتَّخَذَ أَرْضَهُ مَسْجِدًا لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهِ وَلَا يَبِيعَهُ وَلَا يُورَثُ عَنْهُ“ اور جس شخص نے اپنی زمین کو مسجد بنا دیا تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں رجوع کرے اور نہ وہ اس کو بیچ سکتا ہے اور نہ یہ اس سے موروث ہو گا، یعنی اس کے اندر اس کی وراثت بھی جاری نہیں ہو سکتی۔ ”لِأَنَّهُ يُحْرَزُ عَنْ حَقِّ الْعِبَادِ“ اس لیے کیونکہ مسجد جو ہے اس کو بندوں کے حق سے محفوظ کیا جاتا ہے، بندوں کے حق سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے، اس میں بندوں کا حق نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُحْرَزُ عَنْ حَقِّ الْعِبَادِ، وَصَارَ خَالِصًا لِلَّهِ“ اس لیے کیونکہ مسجد جو ہے اس کو لوگوں کے حق سے محفوظ کیا جاتا ہے اور یہ مسجد خالص اللہ کے لیے ہو گئی۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے، خالص اللہ کے لیے ہو گئی اب اس کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے ہے: ”لِأَنَّ الْأَشْيَاءَ كُلَّهَا لِلَّهِ تَعَالَى“ اس لیے کیونکہ چیزیں تو ساری اللہ کی ہیں، ساری کی ساری چیزیں اللہ کی ہیں۔ ”وَإِذَا أَسْقَطَ الْعَبْدُ مَا ثَبَتَ مِنَ الْحَقِّ“ اور جب بندہ ساقط کر دے اپنے اس حق کو جو ثابت ہے اس میں، جب اس چیز کے اندر جو بندے کا حق ہے بندہ جب اس کو ساقط کر دے: ”رَجَعَ إِلَى أَصْلِهِ“ تو وہ چیز پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گی، یعنی اللہ کی ملکیت کی طرف لوٹ جائے گی بھئی، تو وہ چیز پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گی: ”فَانْقَطَعَ تَصَرُّفُهُ عَنْهُ“ تو لہٰذا اس بندے کا تصرف اس سے منقطع ہو جائے گا، اب وہ اس میں کوئی تصرف نہیں کر سکتا، وہ رجوع نہیں کر سکتا، بیچ نہیں سکتا، ہبہ نہیں کر سکتا، وراثت اس میں جاری نہیں ہو سکتی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَانْقَطَعَ تَصَرُّفُهُ عَنْهُ، كَمَا فِي الْإِعْتَاقِ“ تو اس کا تصرف اس سے منقطع ہو گیا جیسے کہ اعتاق میں ہے، غلام کو آزاد کرنے میں ہے۔ آقا جب غلام کو آزاد کر دے تو آقا کا اس سے حق ساقط ہو گیا، اب آقا اس میں کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ خَرِبَ مَا حَوْلَ الْمَسْجِدِ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں: اگر کسی شخص نے کوئی مسجد وقف کی تھی لیکن پھر وہ آبادی ختم ہو گئی، وہ جگہ ویرانہ بن گئی، تو کیا یہ مسجد اب بھی مسجد ہی کے حکم میں ہے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس مسجد کو بنایا گیا تھا نماز کے لیے اور جب اس مسجد میں مقصد حاصل نہیں ہو رہا، اب نمازیں اس میں نہیں پڑھی جا رہیں، تو یہ مسجد دوبارہ اس واقف کی ملکیت میں لوٹ آئے گی، وہ دوبارہ اس کا مالک بن جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ایک جگہ کو جب مسجد بنا دیا تو اب وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے، چاہے وہاں آبادی ختم ہو جائے، وہ جگہ ویرانہ بن جائے پھر بھی وہ جو مسجد ہے وہ خالص اللہ کا حق ہے، وہ واقف کی ملکیت میں واپس نہیں لوٹتی، وہ واقف کی ملکیت میں واپس نہیں لوٹتی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ مسجد کو قیاس کرتے ہیں خانہ کعبہ پر، بیت اللہ پر۔ اور بیت اللہ جو ہے، دیکھو اسے اللہ کی عبادت کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر فرمایا تھا لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد حضور علیہ السلام تک سینکڑوں سال کا یہ زمانہ جس کے اندر کوئی نبی نہیں آیا، اس کو زمانۂ فترت کہتے ہیں، اور اس زمانۂ فترت کے اندر دیکھو وہاں مکہ کے لوگوں نے خانہ کعبہ کے اندر بت وغیرہ رکھ دیے بھئی، بت وغیرہ رکھ دیے اور اللہ کی عبادت ختم ہو گئی لیکن پھر بھی حضور علیہ السلام تشریف لائے تو پھر اسی طرح بیت اللہ کو عبادت کی جگہ قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا ایک مرتبہ جب مسجد بنا دی جائے پھر چاہے وہ ویرانہ ہی کیوں نہ ہو جائے پھر بھی وہ ہمیشہ مسجد ہی کے حکم میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ خَرِبَ مَا حَوْلَ الْمَسْجِدِ“ ”وَلَوْ خَرِبَ“ یاد رکھو خَرِبَ يَخْرَبُ کا ایک معنی ہوتا ہے ویران ہو جانا، اور خَرِبَ يَخْرَبُ کا ایک معنی ہوتا ہے برباد ہو جانا، گر جانا۔ کوئی عمارت گر جائے تو اس کے لیے بھی خَرِبَ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور کہیں آبادی ختم ہو جائے ویرانہ ہو جائے اس کے لیے بھی خَرِبَ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، تو یہاں یہ ویرانے کے معنی میں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ خَرِبَ مَا حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَاسْتُغْنِيَ عَنْهُ يَبْقَى مَسْجِدًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اگر مسجد کے ارد گرد جو ہے وہ ویرانہ ہو گیا اور اس مسجد سے بے نیازی ہو گئی، اب اس میں کوئی نماز پڑھنے والا ہی نہیں ہے: ”يَبْقَى مَسْجِدًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو یہ پھر بھی مسجد ہو کر ہی باقی رہے گی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ان کے نزدیک یہ ابھی بھی مسجد رہے گی اس لیے کیونکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ مسجد کے مسجد ہونے کے لیے ابتداء میں نماز کی شرط نہیں لگاتے، وہ فرماتے ہیں بس زبان سے کہہ دیا تو مسجد ہو گئی۔ طرفین کے نزدیک تو کوئی اس میں نماز آ کر پڑھے گا پھر مسجد ہو گی، ویسے مسجد نہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ ابتداء کے اندر بھی کسی نماز کی شرط نہیں لگاتے تو انتہاء میں بھی وہ کسی نماز کی شرط نہیں لگاتے کہ نماز پڑھی جائے گی تو مسجد ہے، نہیں پڑھی جائے گی تو مسجد نہیں ہے، نہیں، ایسا نہیں ہے، نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے یہ مسجد ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: یہ مسجد ہو کر باقی رہے گی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک: ”لِأَنَّهُ إِسْقَاطٌ مِنْهُ فَلَا يَعُودُ إِلَى مِلْكِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اس واقف کی طرف سے اسقاط ہے، اس نے اپنی ملکیت اس پر سے ساقط کر دی ہے، لہٰذا یہ مسجد پھر اس کی ملکیت میں واپس نہیں لوٹے گی۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَعُودُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک: ”يَعُودُ“ ”يَعُودُ إِلَى مِلْكِ الْبَانِي“ کہ یہ مسجد پھر لوٹ جائے گی اس بنانے والے کی ملکیت کی طرف۔ بانی، بَنَى يَبْنِي کا معنیٰ ہے بنانا، تعمیر کرنا۔ بانی، تعمیر کرنے والا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَعُودُ إِلَى مِلْكِ الْبَانِي“ کہ یہ مسجد اس مسجد تعمیر کرنے والے کی ملکیت کی طرف لوٹ جائے گی ”أَوْ إِلَى وَارِثِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ“ یا اس کے وارث کی طرف لوٹ جائے گی اس کے مرنے کے بعد۔ اگر تعمیر کرنے والا مر چکا ہے تو پھر اس کے وارث کی ملکیت میں داخل ہو جائے گی۔ ”لِأَنَّهُ عَيَّنَهُ لِنَوْعِ قُرْبَةٍ“ اس لیے کیونکہ بنانے والے نے اس مسجد کو معین کیا تھا لِنَوْعِ قُرْبَةٍ ایک خاص قسم کی قربت کے لیے، کہ اس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہو اور کس طریقے پر؟ نماز کے ذریعے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَيَّنَهُ لِنَوْعِ قُرْبَةٍ“ اس لیے کیونکہ اس بنانے والے نے اس مسجد کو متعین کیا تھا ایک خاص قسم کی قربت کے لیے، ایک خاص قسم کی عبادت یعنی نماز کے لیے ”وَقَدِ انْقَطَعَ“ اور وہ قربت تو منقطع ہو گئی، وہ عبادت تو ختم ہو گئی، یہاں آبادی ہی اب نہیں ہے۔ ”فَصَارَ كَحَصِيرِ الْمَسْجِدِ أَوْ حَشِيشِهِ“ حصیر، حصیر چٹائی کو کہتے ہیں، وہ جو مسجد کے اندر نیچے بچھائی جاتی ہیں نماز پڑھنے کے لیے، أَوْ حَشِيشِهِ، حشیش گھاس کو کہتے ہیں۔ یاد رکھو بعض علاقوں کے اندر یہ مسجد کے اندر چٹائی وغیرہ نہیں بچھاتے بلکہ خاص گھاس ہوتی ہے اس کو مسجد کے اندر زمین پر بچھا دیا جاتا ہے، تو وہ چٹائی کی طرح بہترین کام کرتی ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مسجد جب اس مسجد میں کوئی نماز پڑھنے والا نہ رہا تو یہ پھر بنانے والے کی ملکیت میں لوٹ جائے گی جیسے مسجد کی چٹائی اور مسجد کی گھاس ہے کہ جب اس کی مسجد میں ضرورت نہ رہے تو یہ پھر اسی شخص کی ملکیت کی طرف واپس لوٹ جاتی ہے جس نے وہ چٹائی یا گھاس رکھی تھی، وہ دوبارہ ان کا مالک بن جاتا ہے۔ تو جس طرح چٹائی اور گھاس کا مالک رکھنے والا بن جاتا ہے جب اس کی ضرورت نہ رہی، اسی طرح مسجد کے اندر جب نمازی کوئی نہ رہا تو یہ مسجد بھی دوبارہ بنانے والے کی ملکیت کی طرف لوٹ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَحَصِيرِ الْمَسْجِدِ أَوْ حَشِيشِهِ“ تو یہ اسی طرح ہو گئی جیسے مسجد کی چٹائی اور مسجد کی گھاس ہے ”إِذَا اسْتُغْنِيَ عَنْهُ“ جب ان سے بے نیازی حاصل ہو جائے، یعنی جب ان کی ضرورت نہ رہے تو پھر یہ چٹائی اور گھاس جو ہے اس رکھنے والے کی ملکیت میں لوٹ جاتی ہیں۔ ”إِلَّا أَنَّ أَبَا يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ فِي الْحَصِيرِ وَالْحَشِيشِ إِنَّهُ يُنْقَلُ إِلَى مَسْجِدٍ آخَرَ“ مگر یہ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ مسجد کی چٹائی اور گھاس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کو منتقل کیا جائے گا کسی دوسری مسجد میں۔ وہ فرماتے ہیں جیسے مسجد دوبارہ واقف کی ملکیت میں نہیں لوٹتی، اسی طرح یہ مسجد کی چٹائی اور گھاس جو ہے یہ بھی رکھنے والے کی ملکیت میں واپس نہیں لوٹتی بلکہ جب اس مسجد میں ان کی ضرورت نہ رہی تو پھر ان کو کسی دوسری مسجد میں منتقل کر دیا جائے گا اور وہاں ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ تو وہ فرماتے ہیں مسجد کی چٹائی اور گھاس کے بارے میں: ”إِنَّهُ يُنْقَلُ إِلَى مَسْجِدٍ آخَرَ“ کہ اس کو منتقل کیا جائے گا دوسری مسجد کی طرف۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَنْ بَنَى سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ أَوْ خَانًا يَسْكُنُهُ بَنُو السَّبِيلِ أَوْ رِبَاطًا أَوْ جَعَلَ أَرْضَهُ مَقْبَرَةً لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَحْكُمَ بِهِ الْحَاكِمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب یہ اس فصل کی دوسری بحث آ گئی، مسجد کے مسائل مکمل ہوئے۔ اب عام وقف کے مسائل ذکر کریں گے اور بتلائیں گے کہ مسجد کے اندر تو واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے لیکن عام وقف کا یہ حکم نہیں ہے۔ تو وہ اب بیان فرمائیں گے تینوں ائمہ کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ بَنَى سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ“ میں نے آپ کو بتلایا، سقایہ کہتے ہیں پانی کی سبیل کو جس سے لوگ پانی لیں۔ تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ بَنَى سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ“ اور جس شخص نے مسلمانوں کے لیے کوئی پانی کی سبیل بنوائی ”أَوْ خَانًا يَسْكُنُهُ بَنُو السَّبِيلِ“ یا ایسی سرائے بنوائی کہ اس کے اندر مسافر ٹھہرتے ہیں ”أَوْ رِبَاطًا“ یا کسی نے رباط بنوایا۔ یاد رکھو رباط کے کئی معانی آتے ہیں۔ رباط کا ایک معنیٰ ہے گھوڑوں کا اصطبل۔ اسی طرح رباط جو ہے فقراء کی سرائے کو بھی کہتے ہیں، وہ سرائے جس میں فقراء آ کر ٹھہرتے ہیں، کوئی پیسے وغیرہ وہاں ان سے نہیں لیے جاتے، اس کو بھی رباط کہتے ہیں۔ اور اسی طرح سرحدوں کے قریب جو ہے اگر یہ گھوڑوں کے اصطبل اور مجاہدین کے رہنے کے لیے جگہ بنائی جائے یعنی سرحدی چوکی جو ہے اس کو بھی رباط کہتے ہیں، اس کو بھی رباط۔ تو آپ یہاں جو بھی معنیٰ مناسب سمجھیں کر سکتے ہیں۔ تو آپ چاہیں تو رباط کا معنیٰ کر لیں فقراء کی سرائے، یا آپ اس کا معنیٰ کر لیں سرحدی چوکی جہاں پر سرحدی محافظین ٹھہرتے ہیں اور اپنے گھوڑے رکھتے ہیں۔ تو کہتے ہیں جس نے کوئی پانی کی سبیل بنائی مسلمانوں کے لیے یا ایسی سرائے بنوائی جس میں مسافر ٹھہرتے ہیں، ”أَوْ رِبَاطًا“ یا فقراء کی سرائے بنائی، یا یوں کہو ”أَوْ رِبَاطًا“ یا سرحدی چوکی بنائی جہاں سرحدی محافظ رہتے ہیں ”أَوْ جَعَلَ أَرْضَهُ مَقْبَرَةً“ یا کسی نے اپنی زمین کو قبرستان بنا دیا، تو ان تمام صورتوں میں ”لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَحْكُمَ بِهِ الْحَاكِمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اس واقف کی ملکیت ان چیزوں سے ختم نہیں ہوتی یہاں تک کہ حاکم اور قاضی اس کا فیصلہ کر دے امام صاحب کے نزدیک۔ تو یہ بات پہلے ذکر ہو چکی ہے، امام صاحب کے نزدیک وقف واقف کی ملکیت سے صرف اس وقت نکلتا ہے جب قاضی فیصلہ کر دے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَحْكُمَ بِهِ الْحَاكِمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو واقف کی ملکیت اس وقف سے ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ قاضی اس کا فیصلہ کر دے امام صاحب کے نزدیک۔ ”لِأَنَّهُ لَمْ يَنْقَطِعْ عَنْ حَقِّ الْعَبْدِ“ یہ عبارت پر نظر ہے؟ میری کتاب میں ہے: ”لِأَنَّهُ لَمْ يَنْقَطِعْ عَنْ حَقِّ الْعَبْدِ“ یاد رکھیے یہ عبارت صحیح نہیں ہے، یہ عَنْ کی جگہ عَنْهُ ہونا چاہیے۔ اس لیے کیونکہ يَنْقَطِعْ کے لیے فاعل چاہیے۔ ”لِأَنَّهُ لَمْ يَنْقَطِعْ“ اس لیے کیونکہ منقطع نہیں ہوا، کیا منقطع نہیں ہوا؟ آگے آ رہا ہے ”حَقُّ الْعَبْدِ“ یہ فاعل ہے، بندے کا حق منقطع نہیں ہوا۔ اور درمیان میں آیا ”عَنْهُ“ اس وقف سے۔ امام صاحب کے نزدیک اس واقف کا حق وقف سے منقطع نہیں ہوا۔ تو یہاں عَنْ کی جگہ عَنْهُ ہونا چاہیے اور ہدایہ کے دیگر نسخوں میں یہاں عَنْهُ موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمْ يَنْقَطِعْ عَنْهُ حَقُّ الْعَبْدِ“ اس لیے کیونکہ اس وقف سے بندے کا حق منقطع نہیں ہوا ”أَلَا تَرَى أَنَّ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهِ فَيَسْكُنَ فِي الْخَانِ وَيَنْزِلَ فِي الرِّبَاطِ وَيَشْرَبَ مِنَ السِّقَايَةِ وَيُدْفَنَ فِي الْمَقْبَرَةِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ بندے کے لیے جائز ہے اس سے نفع اٹھانا، تو وہ رہ سکتا ہے اس سرائے میں، اور وہ قیام کر سکتا ہے اس رباط میں یعنی اس سرحدی چوکی میں، اور وہ اس پانی کی سبیل سے پانی پی سکتا ہے، اور اس کو اس قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے؟ اس میں دفن کیا جا سکتا ہے، معلوم ہوا بندوں کا حق اس سے ابھی بھی منقطع نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُشْتَرَطُ حُكْمُ الْحَاكِمِ“ لہٰذا حاکم کے حکم کی شرط لگائی جائے گی، واقف کی ملکیت ختم کرنے کے لیے حکمِ حاکم کی شرط لگائی جائے گی ”أَوِ الْإِضَافَةُ إِلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ“ یا موت کے بعد کی طرف نسبت کی شرط لگائی جائے گی۔ جہاں کتاب الوقف شروع ہوئی تھی وہاں بتلایا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک واقف کی ملکیت وقف سے دو صورتوں میں ختم ہوتی ہے: ایک تو یہ کہ قاضی اس کا فیصلہ کر دے، اور دوسری یہ کہ واقف اس وقف کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دے۔ لیکن پھر آگے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ صحیح قول یہی ہے کہ صرف قاضی کے فیصلے سے واقف کی ملکیت ختم ہوتی ہے، اگر واقف وقف کو اپنی موت کے ساتھ بھی معلق کر دے پھر بھی واقف کی ملکیت ختم نہیں ہوتی، ہاں وہ وقف لازم ہو جاتا ہے، اس میں اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ ویسے عام وقف میں تو امام صاحب کے نزدیک رجوع ہو سکتا ہے، واقف اسے بیچ سکتا ہے، لیکن جب اپنی موت کے ساتھ معلق کر دے گا تو پھر وہ وقف لازم ہو جائے گا، اس میں اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ تو بہرحال بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جب واقف اپنی موت کے ساتھ وقف کو معلق کر دے تو امام صاحب کے نزدیک ملکیت ختم ہو جاتی ہے۔ تو یہ اسی پر مبنی ہے، توجہ ہے؟ یہ جو سبق میں آیا: ”فَيُشْتَرَطُ حُكْمُ الْحَاكِمِ أَوِ الْإِضَافَةُ إِلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ“ لہٰذا حاکم کا فیصلہ شرط ہوگا یا موت کے مابعد کی طرف نسبت شرط ہوگی۔ تو یہ اس بعض فقہاء کے قول پر ہے، جبکہ بتلایا کہ صحیح قول کے مطابق واقف اگر اپنی موت کے مابعد کی طرف بھی نسبت کر دے پھر بھی وقف اس کی ملکیت سے نہیں نکلتا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُشْتَرَطُ حُكْمُ الْحَاكِمِ أَوِ الْإِضَافَةُ إِلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ كَمَا فِي الْوَقْفِ عَلَى الْفُقَرَاءِ“ لہٰذا حاکم کا فیصلہ شرط ہوگا یا موت کے مابعد کی طرف نسبت شرط ہوگی جیسا کہ فقراء پر وقف کے اندر ہے، یعنی اس میں بھی یہ شرط ہے۔ ”بِخِلَافِ الْمَسْجِدِ لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَهُ حَقُّ الِانْتِفَاعِ بِهِ“ بخلاف مسجد کے، اس لیے کیونکہ مسجد کے اندر بندے کے لیے کوئی نفع اٹھانے کا حق نہ رہا۔ وہ مسجد سے کسی قسم کا نفع اب نہیں اٹھا سکتا، اسے کرائے وغیرہ پر نہیں دے سکتا، اپنے کسی اور کام میں نہیں لا سکتا، اب وہ صرف عبادت کے لیے ہے۔ تو لہٰذا مسجد عام وقف کے برخلاف ہے، اس میں واقف کی ملکیت ختم کرنے کے لیے نہ حکمِ حاکم کی ضرورت ہے اور نہ اپنی موت کی شرط کی ضرورت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمَسْجِدِ لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَهُ حَقُّ الِانْتِفَاعِ بِهِ فَخَلَصَ لِلَّهِ تَعَالَى مِنْ غَيْرِ حُكْمِ الْحَاكِمِ“ بخلاف مسجد کے، اس لیے کیونکہ واقف کے لیے اس مسجد سے نفع اٹھانے کا حق باقی نہ رہا تو وہ خالص اللہ کے لیے ہو گئی بغیر کسی حاکم کے فیصلے کے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو انہوں نے آپ کو بتلایا اگر کوئی مسلمانوں کے لیے پانی کی سبیل بنائے یا سرائے بنوائے یا سرحدی چوکی بنوائے یا اپنی زمین کو قبرستان قرار دے دے، تو امام صاحب کے نزدیک واقف کی ملکیت اس پر سے ختم نہیں ہوگی۔ جبکہ اب آگے صاحبین کا مذہب ذکر کریں گے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف کہنے سے ہی ملکیت ختم ہو جائے گی اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک سپرد کرنا اور قبضہ شرط ہے متولی کا، اور اگر جہاں متولی نہیں ہوتا تو پھر وہاں اسی نوع کا قبضہ شرط ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَزُولُ مِلْكُهُ بِالْقَوْلِ كَمَا هُوَ أَصْلُهُ إِذِ التَّسْلِيمُ عِنْدَهُ لَيْسَ بِشَرْطٍ وَالْوَقْفُ لَازِمٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے کہنے سے ہی، جیسے کہ ان کا ضابطہ ہے، اس لیے کیونکہ متولی کے سپرد کرنا یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک شرط نہیں ہے اور وقف لازم ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک متولی کے سپرد کرنا شرط نہیں لیکن وقف لازم ہے، جب لازم ہے تو واقف کی ملکیت سے نکل گیا ہے اگرچہ متولی کے سپرد اس نے نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَقْفُ لَازِمٌ“ اور وقف جو ہے لازم ہے یعنی ان کے نزدیک۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، اب امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب آ گیا۔ میں نے بتلایا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک متولی کا قبضہ شرط ہے، لیکن اگر ایسی چیز ہے کہ اس کا متولی نہیں ہوتا، عادۃً کوئی اس کا متولی نہیں ہوتا، جیسے پانی کی سبیل بنا دی اب اس کا کوئی متولی نہیں، بس پانی پینے کی ایک جگہ ہے اور وہاں سے لوگ آتے ہیں اور پانی لے کر چلے جاتے ہیں، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے نزدیک سپرد کرنا شرط ہے، تو ہر چیز میں سپرد کرنا اس کی نوع کے مطابق ہوگا۔ تو جن چیزوں کا متولی ہوتا ہے ان میں متولی کے سپرد کرنا شرط ہوگا اور جن چیزوں کا متولی نہیں ہوتا تو وہاں جب اس سے ایک شخص بھی استعمال کر لے گا، اس پانی کی سبیل سے ایک شخص بھی اس سے پانی لے لے گا تو اس صورت میں وہ وقف ہو جائے گی اور واقف کا قبضہ اس پر سے ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا اسْتَقَى النَّاسُ مِنَ السِّقَايَةِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، استقیٰ کا معنیٰ ہے پانی لینا، کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”إِذَا اسْتَقَى النَّاسُ مِنَ السِّقَايَةِ“ جب لوگ پانی لے لیں اس پانی کی سبیل سے ”وَسَكَنُوا الْخَانَ وَالرِّبَاطَ“ اور اسی طرح لوگ جو ہیں اس سرائے اور سرحدی چوکی کے اندر ٹھہر جائیں ”وَدَفَنُوا فِي الْمَقْبَرَةِ“ اور اسی طرح لوگ جو ہیں قبرستان کے اندر دفن کریں ”زَالَ الْمِلْكُ“ تو ان تمام صورتوں میں واقف کی ملکیت ختم ہو جائے گی ”لِأَنَّ التَّسْلِيمَ عِنْدَهُ شَرْطٌ وَالشَّرْطُ تَسْلِيمُ نَوْعِهِ“ اس لیے کیونکہ سپرد کرنا یہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک شرط ہے اور شرط جو ہے اسی نوع کا سپرد کرنا ہوگا، یعنی جس نوع کی چیز ہے اسی نوع کا سپرد کرنا شرط ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرْطُ تَسْلِيمُ نَوْعِهِ وَذَلِكَ بِمَا ذَكَرْنَاهُ“ اور شرط جو ہے اسی نوع کا سپرد کرنا ہوگا اور یہ اس چیز کے ذریعے ہوگا جو ہم نے ذکر کر دیا۔ ہر چیز میں قبضہ اسی کی نوع کے مطابق ہوگا اور پانی کی سبیل جو ہے اس کا تو متولی نہیں ہوتا تو وہاں قبضہ اسی طرح ہوگا کہ جب ایک آدمی اس سے پانی لے لے گا، اور سرائے کا کوئی متولی نہیں ہوتا لہٰذا اس میں جب ایک بھی آدمی آ کر ٹھہر جائے گا تو گویا لوگوں کا قبضہ آ گیا، یا اسی طرح قبرستان کا تو متولی نہیں ہوتا تو وہاں ایک بھی شخص اپنے مردے کو دفن کر دے گا تو گویا لوگوں کا قبضہ آ گیا، تو یہ وقف ہو جائے گا، وقف ہو جائے گا کیونکہ عام لوگوں کا قبضہ پایا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ بِمَا ذَكَرْنَاهُ وَيُكْتَفَى بِالْوَاحِدِ“ اور یہ سپرد کرنا ان چیزوں کے ذریعے ہوگا جو ہم نے ذکر کر دیا، اور ایک ہی پر اکتفاء کر لیا جائے گا، یعنی ایک ہی آدمی یہ فعل کر لے گا تو یہ کافی ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُكْتَفَى بِالْوَاحِدِ“ اور ایک پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا کہ ایک آدمی سرائے میں رہے یا ایک آدمی پانی لے لے یا ایک آدمی جو ہے اس کو دفن کر دیا جائے تو ان تمام صورتوں میں قبضہ پایا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُكْتَفَى بِالْوَاحِدِ لِتَعَذُّرِ فِعْلِ الْجِنْسِ كُلِّهِ“ اور ایک ہی فرد پر اکتفاء کیا جائے گا اس لیے کیونکہ ساری جنس کا فعل تو متعذر ہے، تمام انسان آ کر یہاں سے پانی پییں یا تمام انسان آ کر اس سرائے میں ٹھہریں یا تمام انسان اپنے مردے اس میں دفن کریں یہ تو ممکن نہیں ہے۔ تو ساری جنس کا فعل وہ ممکن نہیں لہٰذا ایک پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُكْتَفَى بِالْوَاحِدِ لِتَعَذُّرِ فِعْلِ الْجِنْسِ كُلِّهِ وَعَلَى هَذَا الْبِئْرُ الْمَوْقُوفَةُ وَالْحَوْضُ“ اور ایک فرد پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا اس لیے کیونکہ ساری جنس کا فعل تو ممکن نہیں ہے، بئر، بئر کنوئیں کو کہتے ہیں اور حوض، پانی کا تالاب، تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْبِئْرُ الْمَوْقُوفَةُ وَالْحَوْضُ“ اور اسی اختلاف پر ہے وہ کنواں بھی جس کو وقف کیا جائے اور تالاب بھی۔ یعنی امام صاحب کے نزدیک واقف کی ملکیت ختم نہیں ہوگی جب تک حاکم فیصلہ نہ کر دے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف کہنے سے ہی وقف ہو گیا، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب کوئی ایک شخص اس سے پانی لے لے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْبِئْرُ الْمَوْقُوفَةُ وَالْحَوْضُ“ اور اسی اختلاف پر ہے وقف کیا ہوا کنواں بھی اور پانی کا تالاب بھی۔ ”وَلَوْ سَلَّمَ إِلَى الْمُتَوَلِّي صَحَّ التَّسْلِيمُ فِي هَذِهِ الْوُجُوهِ كُلِّهَا“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو پانی کی سبیل ہے یا سرائے ہے یا قبرستان ہے ان کا کوئی متولی ہوتا تو نہیں لیکن اگر کسی کو متولی بنا کر اس کے قبضے میں دے دیا تو کیا اس صورت میں بھی وقف صحیح ہو جائے گا؟ یا کسی کا سبیل سے پانی لینا یا کسی کا سرائے میں ٹھہرنا یا کسی کا قبرستان میں مردہ دفن کرنا پھر بھی شرط ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں، اگر کسی کو متولی بنا کر ان کے قبضے میں یہ چیزیں دے دے پھر بھی قبضہ پایا گیا، جب قبضہ پایا گیا تو لہٰذا اب یہ وقف ہو گیا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سَلَّمَ إِلَى الْمُتَوَلِّي صَحَّ التَّسْلِيمُ فِي هَذِهِ الْوُجُوهِ كُلِّهَا“ اور اگر متولی کے سپرد کر دیا تو سپرد کرنا صحیح ہے ان تمام صورتوں میں ”لِأَنَّهُ نَائِبٌ عَنِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ متولی جو ہے وہ موقوف علیہ سے نائب ہوتا ہے۔ ادھر دیکھیے، زید نے پانی کی سبیل وقف کی ہے عام لوگوں کے لیے، تو زید ہے واقف اور عام لوگ ہیں موقوف علیہ، تو یہ جو متولی ہوتا ہے یہ واقف کا نائب نہیں ہوتا، واقف کی ملکیت سے تو چیز نکل گئی ہے، یہ موقوف علیہ کا نائب ہوتا ہے، یہ جن پر یہ چیز وقف کی گئی ہے ان کی طرف سے نائب ہے، اور نائب کا عمل بھی اسی طرح ہے جیسے اصل کا عمل ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ نَائِبٌ عَنِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ وَفِعْلُ النَّائِبِ كَفِعْلِ الْمَنُوبِ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو متولی ہے یہ موقوف علیہ سے نائب ہوتا ہے اور نائب کا فعل بھی منوب عنہ کے فعل کی طرح ہوتا ہے، یعنی نائب کا فعل بھی اس کی طرح ہوتا ہے جس سے اس کو نائب بنایا گیا ہے۔ تو یہاں بھی متولی کا قبضہ عام لوگوں کے قبضے کی طرح ہوگا کیونکہ یہ عام لوگوں کا نائب ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَأَمَّا فِي الْمَسْجِدِ فَقَدْ قِيلَ“ اب مسجد میں یہی بیان فرما رہے ہیں۔ پہلے بتلایا تھا کہ مسجد میں کوئی ایک آدمی بھی آ کر نماز پڑھ لے گا تو مسجد وقف ہو جائے گی، مسجد وقف ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص مسجد کا کوئی متولی بنا کر مسجد اس کے سپرد کر دے گا تو کیا اس صورت میں بھی بغیر نماز پڑھے ہی مسجد وقف ہو گئی یا نہیں؟ تو کہتے ہیں بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں، اس صورت میں ابھی بھی یہ مسجد نہیں، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں مسجد کے لیے بھی اگر متولی بنا دیا تو اس کے قبضے میں دینے سے وہ مسجد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا فِي الْمَسْجِدِ فَقَدْ قِيلَ: لَا يَكُونُ تَسْلِيمًا“ اور باقی مسجد کے اندر تو تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ سپرد کرنا نہیں ہے، متولی کے سپرد کر دیا جائے تو یہ سپرد کرنا نہیں ہے بلکہ جب اس میں کوئی ایک نماز پڑھ لے گا پھر یہ وقف ہوگی اس سے پہلے نہیں۔ تو کہتے ہیں باقی مسجد جو ہے تحقیق اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ متولی کے سپرد کرنا یہ سپرد کرنا نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَا تَدْبِيرَ لِلْمُتَوَلِّي فِيهِ“ اس لیے کیونکہ مسجد کے اندر متولی کی کوئی تدبیر نہیں ہوتی، متولی کے کسی انتظام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں نے بتلایا یہ قدیم زمانے میں تھا، آج کل تو اکثر مسجدوں کے اندر تدبیر کی اور انتظام کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ہاں بعض دیہات میں بعض مسجدیں ابھی بھی ایسی ہی ہوں گی جہاں کسی متولی کی ضرورت نہ ہو، تو ان کا یہی حکم ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا تَدْبِيرَ لِلْمُتَوَلِّي فِيهِ“ اس لیے کیونکہ متولی جو ہے اس کی مسجد میں کوئی تدبیر نہیں ہوتی، متولی کے لیے اس میں کسی انتظام وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ”وَقِيلَ: يَكُونُ تَسْلِيمًا“ اور کہا گیا ہے کہ مسجد کے اندر بھی متولی کے سپرد کرنا یہ سپرد کرنا ہی ہے اور یہ نماز پڑھنے سے پہلے ہی یہ مسجد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: يَكُونُ تَسْلِيمًا لِأَنَّهُ يَحْتَاجُ إِلَى مَنْ يَكْنُسُهُ وَيُغْلِقُ بَابَهُ“ اور کہا گیا ہے کہ مسجد کے اندر بھی متولی کے سپرد کرنا یہ سپرد کرنا ہوگا اس لیے کیونکہ مسجد بھی محتاج ہے اس شخص کی جو اس کے اندر جھاڑو دے اور اس کا دروازہ بند کرے۔ کَنَسَ يَكْنُسُ کا معنیٰ ہے جھاڑو دینا، جھاڑو سے صفائی کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَحْتَاجُ إِلَى مَنْ يَكْنُسُهُ وَيُغْلِقُ بَابَهُ فَإِذَا سَلَّمَ إِلَيْهِ صَحَّ التَّسْلِيمُ“ اس لیے کیونکہ مسجد بھی محتاج ہے اس شخص کی جو اس میں جھاڑو دے اور اس کے دروازے کو بند کرے، تو جب مسجد کو اس متولی کے سپرد کر دیا تو یہ سپرد کرنا صحیح ہے اور نماز پڑھنے سے پہلے ہی یہ مسجد ہو جائے گی۔ ”وَالْمَقْبَرَةُ فِي هَذَا بِمَنْزِلَةِ الْمَسْجِدِ عَلَى مَا قِيلَ“ اب قبرستان کا کیا حکم ہے؟ قبرستان کا بھی کوئی متولی نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی کو متولی بنا کر وہ زمین اس کے سپرد کر دی کہ یہ قبرستان ہے، تو کیا اس سے بھی وہ قبرستان وقف ہو جائے گا؟ تو بتلائیں گے کہ قبرستان بھی اسی طرح ہے، اس کا متولی نہیں ہوتا لہٰذا متولی کے سپرد کر بھی دیا جائے تو یہ سپرد کرنا نہیں ہے جب تک اس میں کوئی مردہ دفن نہ کیا جائے۔ یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قبرستان جو ہے اس کا حکم بھی یہ سرائے اور پانی کی سبیل وغیرہ کی طرح ہے، جیسے پانی کی سبیل اور سرائے کے اندر اس کا متولی کوئی ہوتا تو نہیں لیکن اگر کسی کو متولی بنا کر اس کے سپرد کریں گے تو وہ سپرد کرنا ثابت ہو جائے گا اور وہ سرائے اور پانی کی سبیل وقف ہو جائیں گی، اسی طرح قبرستان کا بھی یہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَقْبَرَةُ فِي هَذَا بِمَنْزِلَةِ الْمَسْجِدِ عَلَى مَا قِيلَ لِأَنَّهُ لَا مُتَوَلِّيَ لَهُ عُرْفًا“ اور قبرستان جو ہے اس سلسلے میں مسجد کے درجے میں ہے اس وجہ سے جو کہا گیا ہے، اس لیے کیونکہ قبرستان کا کوئی متولی نہیں ہوتا عرفاً عرف کے اعتبار سے، عام لوگوں کی عادت اسی طرح جاری ہے کہ قبرستان کا کوئی متولی نہیں ہوتا۔ ”وَقِيلَ: هِيَ بِمَنْزِلَةِ السِّقَايَةِ وَالْخَانِ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ جو قبرستان ہے یہ پانی کی سبیل اور سرائے کے درجے میں ہے، اور پانی کی سبیل اور سرائے جو ہے اس میں کوئی متولی ہوتا تو نہیں لیکن اگر کسی کو متولی بنا کر اس کے حوالے کریں گے تو سپرد کرنا صحیح ہو جائے گا اور وہ سرائے اور پانی کی سبیل وقف ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: هِيَ بِمَنْزِلَةِ السِّقَايَةِ وَالْخَانِ فَيَصِحُّ التَّسْلِيمُ إِلَى الْمُتَوَلِّي“ اور کہا گیا ہے کہ قبرستان جو ہے وہ پانی کی سبیل اور سرائے کے درجے میں ہے تو اس کے اندر متولی کے سپرد کرنا صحیح ہے ”لِأَنَّهُ لَوْ نَصَبَ الْمُتَوَلِّيَ يَصِحُّ وَإِنْ كَانَ بِخِلَافِ الْعَادَةِ“ اس لیے کیونکہ اگر یہ وقف کرنے والا اس قبرستان کے لیے کوئی متولی مقرر کر دے تو یہ متولی مقرر کرنا صحیح ہے اور اس کا قبضہ صحیح ہے، اگرچہ یہ خلافِ عادت ہے۔ عام طور پر قبرستان کا کوئی متولی نہیں ہوتا لیکن اگر واقف کسی کو متولی بنا کر اس کے سپرد کر دے تو یہ سپرد کرنا صحیح ہے اور صرف سپرد کرنے سے ہی یہ قبرستان ہو جائے گا حالانکہ ابھی اس میں کوئی ایک بھی مردہ دفنایا نہیں گیا۔ ”وَلَوْ جَعَلَ دَارًا لَهُ بِمَكَّةَ سُكْنَى لِحَاجِّ بَيْتِ اللَّهِ وَالْمُعْتَمِرِينَ أَوْ جَعَلَ دَارَهُ فِي غَيْرِ مَكَّةَ سُكْنَى لِلْمَسَاكِينِ أَوْ جَعَلَهَا فِي ثَغْرٍ مِنَ الثُّغُورِ سُكْنَى لِلْغُزَاةِ وَالْمُرَابِطِينَ أَوْ جَعَلَ غَلَّةَ أَرْضِهِ لِلْغُزَاةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَدَفَعَ ذَلِكَ إِلَى وَالٍ يَقُومُ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ وَلَا رُجُوعَ فِيهِ لِمَا بَيَّنَّا“ اب صورت یہ ہے ایک شخص نے مکہ کے اندر ایک گھر جو ہے وہ حاجیوں کی رہائش کے لیے وقف کر دیا، یا کسی نے کسی اور جگہ جو گھر ہے وہ غریبوں اور مسکینوں کی رہائش کے لیے وقف کر دیا، یا کسی نے سرحدوں پر کوئی سرحدی چوکی جو ہے وہ محافظوں کے لیے وقف کر دی، یا کسی نے اپنی زمین کی جو آمدنی ہے وہ غازیوں کے لیے، غازیوں کے لیے وقف کر دی اور اس مکان وغیرہ کو اس نے کسی متولی کے سپرد کر دیا، تو ان تمام کے اندر وقف صحیح ہو جائے گا اور اب اس کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ جَعَلَ دَارًا لَهُ بِمَكَّةَ سُكْنَى“ اور اگر کسی نے اپنے ایسے گھر کو جو مکہ میں ہے اس کو کر دیا سکنیٰ رہائش، کسی نے مکہ کے اندر جو اپنا گھر تھا اس کو رہائش بنا دیا، تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ جَعَلَ دَارًا لَهُ بِمَكَّةَ سُكْنَى لِحَاجِّ بَيْتِ اللَّهِ وَالْمُعْتَمِرِينَ“ اور اگر کسی نے مکہ میں اپنے گھر کو رہائش بنا دیا بیت اللہ کے حج کرنے والوں کے لیے اور عمرہ کرنے والوں کے لیے، ایک صورت۔ ”أَوْ جَعَلَ دَارَهُ فِي غَيْرِ مَكَّةَ سُكْنَى لِلْمَسَاكِينِ“ یا مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ میں اپنے گھر کو رہائش بنا دیا فقراء اور مساکین کے لیے، دوسری صورت۔ اب تیسری صورت آ گئی: ”أَوْ جَعَلَهَا فِي ثَغْرٍ مِنَ الثُّغُورِ“ ثغر، ث کے ساتھ ہے، ثغر کہتے ہیں سرحد کو، سرحد جو دو ملکوں کے درمیان سرحد ہوتی ہے، تو کہتے ہیں: ”أَوْ جَعَلَهَا فِي ثَغْرٍ مِنَ الثُّغُورِ سُكْنَى“ یا کسی نے سرحدوں میں سے کسی سرحد پر کوئی گھر جو ہے اس کو رہائش بنا دیا ”لِلْغُزَاةِ وَالْمُرَابِطِينَ“ غازیوں کے لیے، مجاہدوں کے لیے اور سرحدی محافظوں کے لیے۔ مرابط کہتے ہیں سرحدوں پر مقیم رہنے والا، جہاد وغیرہ کے لیے سرحدوں پر جو مقیم ہے اس کو مرابط کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ جَعَلَهَا فِي ثَغْرٍ مِنَ الثُّغُورِ سُكْنَى لِلْغُزَاةِ وَالْمُرَابِطِينَ“ یا کسی نے سرحدوں میں سے کسی سرحد پر اپنے گھر کو رہائش بنا دیا غازیوں کے لیے اور سرحدوں پر مقیم رہنے والوں کے لیے، ”أَوْ جَعَلَ غَلَّةَ أَرْضِهِ لِلْغُزَاةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى“ یا کسی نے اپنی زمین کی آمدنی کر دی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے ”وَدَفَعَ ذَلِكَ إِلَى وَالٍ يَقُومُ عَلَيْهِ“ اور پھر اس گھر کو اس نے سپرد کر دیا کسی والی کے یعنی کسی متولی کے جو اس کا انتظام کرے، تو کہتے ہیں: ”وَدَفَعَ ذَلِكَ إِلَى وَالٍ يَقُومُ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ وَلَا رُجُوعَ فِيهِ لِمَا بَيَّنَّا“ اور یہ گھر اس نے حوالے کر دیا ایسے متولی کے جو اس کا انتظام کرے تو یہ جائز ہے اور اس کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، کہ متولی کے قبضے میں دے دیا تو یہ اس کی ملکیت سے نکل گیا ہے۔ آگے دیکھیے: ”إِلَّا أَنَّ فِي الْغَلَّةِ يَحِلُّ لِلْفُقَرَاءِ دُونَ الْأَغْنِيَاءِ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں ایک ہے وقف کی آمدنی اور وقف کی آمدنی کہتے ہیں صرف فقراء پر خرچ کی جائے گی مالداروں پر نہیں، اور ایک ہے وقف کے باقی منافع جیسے پانی کی سبیل ہے اس سے کوئی آمدنی نہیں حاصل ہو رہی اس سے لوگ پانی پیتے ہیں، اس سے لوگ پانی لے کر جاتے ہیں، یا اسی طرح سرائے ہے سرائے کے اندر لوگ آ کر رہائش رکھتے ہیں، تو اس قسم کے جو منافع ہیں اس میں فقیر اور مالدار سب برابر ہیں، فقیر بھی اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں اور مالداروں کا بھی اس سے نفع اٹھانا جائز ہے۔ ہاں البتہ اگر وقف کی آمدنی ہے وہ صرف فقراء کے لیے ہوگی کیونکہ مالدار کے پاس مال موجود ہے، اسے اس آمدنی کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ فِي الْغَلَّةِ يَحِلُّ لِلْفُقَرَاءِ دُونَ الْأَغْنِيَاءِ“ مگر یہ کہ آمدنی میں وہ فقراء کے لیے حلال ہوگی نہ کہ مالداروں کے لیے ”وَفِيمَا سِوَاهُ مِنْ سُكْنَى الْخَانِ وَالِاسْتِقَاءِ مِنَ الْبِئْرِ وَالسِّقَايَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ يَسْتَوِي فِيهِ الْغَنِيُّ وَالْفَقِيرُ“ اور اس کے علاوہ جو چیزیں ہیں یعنی کہ سرائے کی جو رہائش ہے اور اسی طرح پانی لینا ہے کنوئیں سے اور پانی کی سبیل سے اور اس کے علاوہ اور چیزیں جو ہیں اس کے اندر مالدار اور فقیر برابر ہیں، اس میں مالدار اور فقیر برابر ہیں سب اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں۔ تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کیوں کیا گیا؟ یہ فرق کیوں کیا گیا کہ آمدنی سے صرف فقراء فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور باقی منافع سے مالدار بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہ فرق کرنے والی چیز جو ہے لوگوں کی عادت ہے، لوگوں کی عادت ہی اس طرح جاری ہے، جب وہ وقف کی آمدنی وقف کرتے ہیں تو ان کا ارادہ فقراء کا ہوتا ہے اور جب وہ وقف کے منافع وقف کرتے ہیں تو اس میں مالدار اور فقراء سب شامل ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْفَارِقُ هُوَ الْعُرْفُ فِي الْفَصْلَيْنِ“ اور فرق کرنے والی چیز وہ عرف ہے یعنی لوگوں کی عادت ہے دونوں فصلوں میں، ایک آمدنی ہے اور ایک باقی منافع ہیں، تو ان میں جو فرق کرنے والی چیز ہے وہ عرف ہے ”فَإِنَّ أَهْلَ الْعُرْفِ يُرِيدُونَ بِذَلِكَ فِي الْغَلَّةِ الْفُقَرَاءَ“ اس لیے کیونکہ اہل عرف جو ہیں یعنی عام لوگ جو ہیں وہ آمدنی میں اس کے ذریعے ارادہ کرتے ہیں فقراء کا، آمدنی کے وقف میں وہ فقراء کا ارادہ کرتے ہیں ”وَفِي غَيْرِهَا التَّسْوِيَةَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ“ اور آمدنی کے علاوہ وقف میں وہ ارادہ کرتے ہیں فقراء اور مالداروں کے درمیان برابری کا، اس میں برابری کا ارادہ کرتے ہیں کہ سب اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں ”وَلِأَنَّ الْحَاجَةَ تَشْمَلُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ فِي الشِّرْبِ وَالنُّزُولِ“ اور اس لیے کیونکہ حاجت اور ضرورت جو ہے وہ شامل ہے مالدار اور فقیر دونوں کو پانی پینے میں بھی اور قیام کرنے میں بھی۔ توجہ ہے؟ کیونکہ پانی پینے کا جیسے فقیر محتاج ہے اسی طرح مالدار بھی محتاج ہے، اور سرائے میں رہنے کا جیسے فقیر محتاج ہے مالدار بھی محتاج ہے، تو لہٰذا ان سے مالدار بھی نفع اٹھا سکتا ہے لیکن آمدنی جو ہے اس سے مالدار کے لیے نفع اٹھانا جائز نہیں کیونکہ اس کے پاس اپنا مال موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحَاجَةَ تَشْمَلُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ فِي الشِّرْبِ وَالنُّزُولِ وَالْغَنِيُّ لَا يَحْتَاجُ إِلَى صَرْفِ هَذِهِ الْغَلَّةِ لِغِنَاهُ“ اس لیے کیونکہ حاجت جو ہے وہ مالدار اور فقیر دونوں کو شامل ہے پانی پینے میں اور ٹھہرنے اور قیام کرنے میں، اور مالدار جو ہے وہ اس آمدنی کے خرچ کرنے کا محتاج نہیں ہے اپنی مالداری کی وجہ سے، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ درست بات کو خوب جاننے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ الحمد للہ، الحمد للہ، دین کی ایک عظیم کتاب ہم نے مکمل کر لی، آپ سب کو بھی بہت مبارک ہو اور دعا کرو اللہ اس کو ہم سب کے لیے عظیم صدقہ جاریہ فرمائے۔ سبق سمجھ میں آ گیا؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس: ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
160 approved lectures · 160 of 160
⏮ First ◀ Previous
Current dars-160