آگے سبق دیکھیے بھئی:
قَالَ: ”وَأَمَّا شَرِكَةُ الْعِنَانِ فَتَنْعَقِدُ عَلَى الْوَكَالَةِ دُونَ الْكَفَالَةِ، وَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ فِي نَوْعِ بَزٍّ أَوْ طَعَامٍ أَوْ يَشْتَرِكَانِ فِي عُمُومِ التِّجَارَاتِ وَلَا يَذْكُرَانِ الْكَفَالَةَ“.
بھئی، شرکت مفاوضہ کے مسائل بیان ہو رہے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ شرکتِ مفاوضہ وہ صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ میں جائز ہے، جبکہ ان کے علاوہ سامان اور مثلیات وغیرہ کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر سونے اور چاندی کے ٹکڑے ہیں اور ان کے اندر لوگوں کا تعامل جاری ہے، لوگ اس کے ساتھ بیع و شراء کرتے ہیں، اس کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، تو پھر سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے تفصیل بیان فرمائی تھی کہ یہاں پر ایک عبارت جامع صغیر کی ہے اور ایک عبارت جو ہے وہ وہ کتاب الصرف کی ہے، یعنی مبسوط کی کتاب الصرف بھئی۔ جامع صغیر کی عبارت سے پتا چلتا ہے کہ یہ جو سونے چاندی کے جو ٹکڑے ہیں، ان کے ساتھ عقدِ مفاوضہ جائز نہیں، معلوم ہوا یہ تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو چیزیں تعیین سے متعین ہو جاتی ہیں ان کے اندر شرکت جائز نہیں ہوتی، اور وہ چیزیں جو تعیین سے متعین نہیں ہوتیں ان کے اندر عقدِ شرکت جائز ہوتا ہے۔
تو جامع صغیر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ عقدِ مفاوضہ جائز نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ سامان کے حکم میں ہیں۔ جس طرح سامان تعیین سے متعین ہو جاتا ہے، یہ سونے چاندی کے ٹکڑے بھی تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں، اور جب یہ تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں تو پھر تو ان کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں۔ لیکن کتاب الصرف کی عبارت سے پتا چلتا ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑے تعیین سے متعین نہیں ہوتے۔ تو جب یہ متعین نہیں ہوتے تو ان کا وہی حکم ہو گا جو درہم دینار اور فلوسِ نافقہ کا ہے، اور درہم دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ تو عقدِ شرکت جائز ہے، تو کتاب الصرف کی عبارت سے معلوم ہوا کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ زیادہ صحیح قول وہ ہے جو جامع صغیر کے اندر ذکر ہے۔ جو قول کتاب الصرف میں ذکر ہے وہ بھی صحیح ہے، لیکن جو جامع صغیر کے اندر ذکر ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ تو اس کے مطابق یہ جو سونے اور چاندی کے ٹکڑے ہیں، ان کے ساتھ عقدِ شرکت جائز نہیں ہے، الا یہ کہ لوگ ان پر باہم تعامل کرتے ہوں اور ان کو ثمن کی طرح استعمال کرتے ہوں۔ تو جب ثمن کی طرح استعمال کرتے ہوں تو پھر سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز ہے بھئی۔
اور پھر بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ یہ جو مثلیات ہیں، ان میں تین صورتیں بنتی ہیں مثلیات کے اندر۔ ایک صورت یہ ہے کہ مثلیات کو آپس میں ملایا نہ گیا ہو۔ زید کے پاس بھی سو من گندم ہے، عمرو کے پاس بھی سو من گندم ہے، ان دونوں کو ملایا نہیں گیا، اسی طرح بغیر ملائے ہی زید اور عمرو آپس میں عقدِ شرکت کرنا چاہتے ہیں، تو بالاتفاق ہمارے ائمہ کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ یعنی یہ مثلیات آپس میں ملانے سے پہلے سامان کے حکم میں ہیں، اور سامان جو ہے اس پر تو عقدِ شرکت جائز نہیں، تو ان مثلیات پر بھی عقدِ شرکت جائز نہیں ہے۔
لیکن اگر مثلیات کو ملا دیا گیا تو پھر یہاں دو صورتیں بنتی ہیں، کہ یہ دونوں مثلیات یا تو ایک ہی جنس کے ہوں گے، یعنی دونوں طرف سے گندم ہو گی، یا دونوں کی جنسیں الگ الگ ہوں گی، یعنی ایک کی طرف سے گندم ہے تو دوسرے کی طرف سے مثلاً جو ہے بھئی۔ تو اس میں بتایا کہ اگر دونوں طرف سے ایک ہی جنس ہو اور ان کو ملا دیا گیا ہے اور پھر اس میں دو شریک عقدِ شرکت کرنا چاہتے ہیں تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے یہ مثلیات ملانے سے پہلے سامان کے حکم میں تھے، اسی طرح ملانے کے بعد بھی یہ سامان کے حکم میں ہیں، لہٰذا ان پر عقدِ شرکت جائز نہیں ہے، بلکہ یہاں صرف شرکتِ ملک آ گئی ہے، دونوں اس کے مالک بن گئے ہیں، تو دونوں کو اپنے حصے کا نفع اور اپنے حصے کا نقصان پہنچے گا بھئی۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جب جنس ایک ہے تو یہاں عقدِ شرکت جائز ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مثلیات ہیں، ان کی مشابہت ثمن کے ساتھ بھی ہے اور ان کی مشابہت مبیع کے ساتھ بھی ہے۔ ثمن تعیین سے متعین نہیں ہوتے اور مبیع تعیین سے متعین ہو جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہ جو مثلیات ہیں، ان کی مشابہت ثمن کے ساتھ بھی ہے کہ جس طرح ثمن کسی کے ذمے میں رہ سکتے ہیں اسی طرح یہ مثلیات بھی کسی کے ذمے میں رہ سکتے ہیں۔ اور اسی طرح ان مثلیات کی مشابہت مبیع کے ساتھ بھی ہے، جس طرح مبیع تعیین سے متعین ہو جاتا ہے اسی طرح یہ مثلیات بھی تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ تو معلوم ہوا مثلیات کی مشابہت ثمن سے بھی ہے اور مبیع سے بھی ہے۔
اور یہاں حالتیں بھی دو ہیں: ایک حالت ہے ان کے ملانے سے پہلے کی، اور ایک حالت ہے ان کے ملانے کے بعد کی۔ تو ہم نے دونوں مشابہتوں کا اعتبار کیا ہے۔ ملانے سے پہلے ہم نے ان مثلیات کو سامان والا حکم دیا، لہٰذا ان کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں ملانے سے پہلے۔ اور ملانے کے بعد ہم نے ان کو ثمن والا حکم دے دیا، اور ثمن میں تو عقدِ شرکت جائز ہے، لہٰذا ان میں بھی عقدِ شرکت جائز ہے۔
اور پھر تیسری صورت بیان کی تھی کہ اگر ان مثلیات کو آپس میں ملا دیا گیا لیکن دونوں کی جنسیں الگ الگ ہیں، ایک کی طرف سے گندم ہے اور دوسرے کی طرف سے جو ہے، یا ایک کی طرف سے گھی ہے اور دوسرے کی طرف سے زیتون کا تیل ہے، تو دو الگ الگ جنسوں کو ملا دیا گیا اگرچہ دونوں مثلیات میں سے ہیں، لیکن جب ان کو آپس میں ملا دیا گیا تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں عقدِ شرکت جائز نہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب دونوں طرف سے ایک ہی جنس ہو تو ملانے کے بعد بھی وہ مثلیات میں سے ہی ہیں، اس کو اگر کوئی ہلاک بھی کر دے گا تو اس کو اس کا مثل ہی دینا پڑے گا۔ اور اگر دونوں طرف سے جنسیں الگ الگ ہیں تو ملانے کے بعد اب یہ مثلیات میں سے نہ رہے، کیونکہ بازار میں تو ان کا مثل نہیں ملتا، بازار میں تو اس طرح یہ چیزیں ملی ہوئی نہیں ملتیں بھئی۔ تو اب یہ مثلیات نہ رہیں بلکہ یہ ذوات القیم ہو گئیں بھئی۔ اور جب ذوات القیم ہو گئیں تو اب ان کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں ہے جیسے سامان کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں ہوتی۔
وجہ یہ کہ سامان کے اندر اگر عقدِ شرکت کر لیا جائے اور پھر بعد میں وہ دونوں شریک عقدِ شرکت کو توڑنا چاہیں اور اپنے اپنے راس المال کو، یعنی اپنے اپنے سامان کو الگ کرنا چاہیں تو وہاں پر جہالت آ جاتی ہے، ہر ایک کے لیے اپنا سرمایہ الگ کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ مثلاً زید اور عمرو نے برتن ملائے ہیں اور دونوں ایک جیسے برتن ہیں، تو اب دونوں کے لیے اپنا اپنا راس المال الگ کرنا ممکن ہی نہ رہا۔ تو دونوں کے راس المال کے اندر جہالت آ گئی، دونوں کو پتا ہی نہیں چل رہا کہ ہمارا راس المال کون سا ہے۔
جبکہ مثلیات کے اندر دونوں طرف سے جب گندم ہے اور دونوں نے اس کو ملا دیا ہے تو اب بھی یہ مثلیات میں سے ہے، اور پھر کسی وقت اگر دونوں عقدِ شرکت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اسی گندم کو آپس میں تقسیم کر لیں گے، اور مثلیات کے اندر تقسیم جو ہے وہ افراز کے حکم میں ہے، یوں سمجھیں گے ہر شریک کو اپنے حصے کا راس المال واپس مل گیا، کیونکہ یہاں افراز ہے مبادلہ نہیں۔ تو معلوم ہوا مثلیات کے اندر مال کو ملانے کے بعد بھی اپنا مال الگ کرنا ممکن ہے، جبکہ سامان کے اندر ملانے کے بعد اپنا سامان الگ کرنا ممکن نہیں ہے جب ایک جیسا سامان ہو بھئی۔
اور یہ جو ایک طرف سے گندم ہے اور دوسرے کی طرف سے جو ہے، تو جب ان کو ملا دیا تو ان کا حکم بھی سامان والا ہو گیا، اور سامان کے اندر جب اس کو ملا دیا جاتا ہے تو وہاں پھر جہالت آ جاتی ہے، اپنا اصل راس المال الگ کرنا ممکن نہیں رہتا، تو اس وجہ سے بھی سامان کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں، تو اسی طرح یہ جو دو الگ الگ جنسوں کو آپس میں ملایا ہے اس کے اندر بھی عقدِ شرکت جائز نہیں ہو گا بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ قدوری نے حیلہ ذکر فرمایا کہ اگر سامان کے اندر دو افراد جو ہیں وہ عقدِ شرکت کرنا چاہتے ہیں تو اپنا نصف نصف سامان دوسرے کے ہاتھ بیچ دیں، لیکن تعیین نہیں ہونی چاہیے کہ یہ والا نصف میں آپ کو بیچ رہا ہوں، بلکہ اپنے مال کا نصفِ غیر متعین دوسرے کے سامان کے نصفِ غیر متعین کے بدلے بیچ دے، اس طرح دونوں سامان کے اندر دونوں کی شرکت آ جائے گی اور اس کے بعد پھر آپس میں عقدِ شرکت کر لیں۔ تو یہ تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں، جبکہ صاحبِ ہدایہ ان فقہاء کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں کہ جن کے نزدیک سامان کو ملا بھی دیا جائے، آپس میں بیع بھی کر دی جائے، پھر بھی اس کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
قَالَ: ”وَأَمَّا شَرِكَةُ الْعِنَانِ فَتَنْعَقِدُ عَلَى الْوَكَالَةِ دُونَ الْكَفَالَةِ، وَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ فِي نَوْعِ بَزٍّ أَوْ طَعَامٍ أَوْ يَشْتَرِكَانِ فِي عُمُومِ التِّجَارَاتِ“.
بھئی، اب شرکتِ عنان کی بات آ گئی۔ ابھی تک تفصیل بیان ہو رہی تھی شرکتِ مفاوضہ کی۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ عقدِ شرکت چار قسم پر ہے: ایک شرکتِ مفاوضہ ہے، ایک شرکتِ عنان ہے، ایک شرکت الصنائع ہے، اور ایک شرکت الوجوہ ہے بھئی۔ تو شرکتِ مفاوضہ کا بیان ختم ہوا، اب شرکتِ عنان کا بیان آیا۔
بھئی، شرکتِ مفاوضہ کے اندر تو آپ نے پڑھا کہ دونوں شریکوں کا مال بھی برابر ہونا چاہیے اور نیز وہ تصرف اور دین کے اندر بھی برابر ہونے چاہئیں، اور نیز شرکتِ مفاوضہ میں ہر شریک دوسرے کا وکیل بھی ہوتا ہے اور کفیل بھی ہوتا ہے۔ جبکہ شرکتِ عنان کے اندر یاد رکھو دونوں کا مال برابر ہونا ضروری نہیں۔ یعنی وہ مال جس کے اندر شرکت کی جاتی ہے، یعنی درہم دینار اور فلوسِ نافقہ، وہ دونوں کا برابر ہونا ضروری نہیں، اور نیز اس کے اندر سارے مال کے اندر بھی شرکت ضروری نہیں ہے۔ آپ کے پاس مثلاً پچاس لاکھ ہیں اور آپ صرف پانچ لاکھ پر کسی کے ساتھ عقدِ شرکت کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے لیے جائز ہے بھئی۔ اور اسی طرح شرکتِ عنان کے اندر یاد رکھو دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل تو ہوتے ہیں، البتہ ایک دوسرے کے کفیل نہیں ہوتے۔ دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل تو ہوتے ہیں لیکن کفیل نہیں ہوتے الا یہ کہ کفالت کو الگ سے باقاعدہ ذکر کر دیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے کفیل بھی ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو شرکتِ عنان میں مال کا برابر ہونا بھی ضروری نہیں، اور سارے مال کے اندر بھی شرکت ضروری نہیں، اور شرکتِ عنان میں دونوں شریک ایک دوسرے کے صرف وکیل ہوتے ہیں، کفیل نہیں ہوتے الا یہ کہ وہ کفالت کو باقاعدہ ذکر کر دیں۔
تو دیکھیے بھئی کتاب پر:
”قَالَ“: صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”أَمَّا شَرِكَةُ الْعِنَانِ“: تو شرکتِ عنان جو ہے، ”فَتَنْعَقِدُ عَلَى الْوَكَالَةِ دُونَ الْكَفَالَةِ“: تو یہ وکالت پر منعقد ہوتی ہے نہ کہ کفالت پر۔ ”وَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ“: اور وہ یہ کہ دو آدمی شریک ہو جائیں، ”فِي نَوْعِ بَزٍّ“: بزّ بھئی، یاد رکھو یہ کپڑے کو کہتے ہیں، زا مشدد ہے، بزّ یہ کپڑے کو کہتے ہیں، اور کپڑے بیچنے والے کو عربی میں بزاز کہتے ہیں بھئی۔ تو دو آدمی شرکت کر لیتے ہیں مثلاً پانچ لاکھ آپ نے ملائے اور پانچ لاکھ عمرو نے ملائے، اور آپ دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم کپڑے کی تجارت کریں گے، یا آپ دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم دونوں گندم کی تجارت کریں گے، تو اس کے اندر دونوں کی مرضی ہے۔ بعض اوقات ایک خاص قسم کی تجارت کرتے ہیں اور بعض اوقات عام تجارتوں پر یہ عقد کر لیا جاتا ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا ہے، وہ جو بھی تجارت کرنا چاہے چاہے کپڑے کی ہو، چاہے گندم کی ہو، چاہے سامان وغیرہ کی ہو، جو بھی تجارت کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے۔
معلوم ہوا شرکتِ عنان عام بھی ہو سکتی ہے اور خاص بھی۔ عام ہونے کا کیا معنی؟ یعنی کسی قسم کی تجارت کی قید نہیں ہوتی، دونوں شریک عام تجارتوں کے اندر عقد کر لیتے ہیں کہ جس کا جو دل چاہے وہ تجارت کرے، لیکن نفع کے اندر دونوں شریک ہوں گے بھئی۔ تو یہ ہے شرکتِ عنان جو عام ہے۔ اور ایک شرکتِ عنان خاص ہے جو خاص قسم کی تجارت میں کی جائے کہ دونوں کپڑے کی تجارت کریں گے، یا دونوں غلے کی تجارت کریں گے۔
تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ“: اور شرکتِ عنان وہ یہ ہے، ”أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ“: کہ دو آدمی شریک ہو جائیں، ”فِي نَوْعِ بَزٍّ“: ایک قسم کے کپڑے میں، ”أَوْ طَعَامٍ“: میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عربی زبان میں طعام جو ہے وہ گندم کو کہتے ہیں، تو فقہ کی کتابوں میں جہاں بھی طعام کا لفظ آئے اس سے عموماً یہ گندم ہی مراد ہوتی ہے۔ اور وہ کھانا جو ہم کھاتے ہیں، جو روزانہ تیار کیا جاتا ہے اور کھایا جاتا ہے اس کو بھی طعام کہتے ہیں، لیکن اگر اس طعام سے وہ روزانہ کھایا جانے والا کھانا مراد ہو گا تو وہاں پھر فقہاء اس کی تصریح کرتے ہیں۔ تو فقہ کی کتابوں میں عام طعام کا لفظ آئے تو اس سے گندم مراد لیتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ فِي نَوْعِ بَزٍّ أَوْ طَعَامٍ“: اور وہ یہ کہ دو افراد آپس میں شریک ہو جائیں ایک قسم کے کپڑے کے اندر یا گندم کے اندر کہ اس کی تجارت کریں گے، ”أَوْ يَشْتَرِكَانِ فِي عُمُومِ التِّجَارَاتِ“: یا دو آدمی آپس میں شرکت کر لیتے ہیں عام تجارتوں کے اندر کہ دونوں کو اجازت ہے جس چیز کی بھی وہ تجارت کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ”أَوْ يَشْتَرِكَانِ فِي عُمُومِ التِّجَارَاتِ“: یا دونوں شرکت کر لیتے ہیں عام تجارتوں کے اندر، ”وَلَا يَذْكُرَانِ الْكَفَالَةَ“: اور کفالت کو وہ ذکر نہیں کرتے، عقد کے اندر کفالت کو ذکر نہیں کرتے بھئی۔ ہاں، اگر وہ کفالت کو طے کر لیتے ہیں کہ ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہو گا اور کفیل بھی ہو گا، پھر دونوں ایک دوسرے کے کفیل بھی ہوں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَذْكُرَانِ الْكَفَالَةَ“: اور وہ دونوں کفالت کو عقد میں ذکر نہیں کرتے۔
”وَانْعِقَادُهُ عَلَى الْوَكَالَةِ“: بھئی، سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرکتِ عنان کے اندر وکالت کو ذکر نہ کیا جائے پھر بھی ہر شریک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: وجہ یہ تاکہ مقصود ثابت ہو سکے، اور شرکت کا مقصد کیا ہے؟ نفع کے اندر شرکت، اور نفع کے اندر شرکت تبھی ہو سکتی ہے جب ہر ایک دوسرے کا وکیل ہو گا۔ دونوں شریک جو بھی بیع و شراء کریں جب اس کے اندر وہ دوسرے کا وکیل بھی ہو گا تو ضمان بھی دونوں پر آئے گا اور نفع میں بھی دونوں شریک ہوں گے۔
تو کہتے ہیں: ”وَانْعِقَادُهُ عَلَى الْوَكَالَةِ لِتَحَقُّقِ مَقْصُودِهِ كَمَا بَيَّنَّاهُ“: اور شرکتِ عنان کا وکالت پر منعقد ہونا تاکہ اس عقد کا مقصد جو ہے وہ ثابت ہو جائے، جیسے کہ ہم نے بیان کر دیا کہ یہاں مقصد جو ہے وہ نفع کے اندر شرکت ہے بھئی۔ ”وَلَا يَنْعَقِدُ عَلَى الْكَفَالَةِ“: اور یہ شرکت جو ہے کفالت پر منعقد نہیں ہوتی۔ یہ شرکت کفالت پر منعقد نہیں ہوتی، یعنی جب ذکر نہ کیا جائے۔ توجہ ہے؟ اگر ذکر کریں گے پھر تو دونوں ایک دوسرے کے کفیل بھی بن جائیں گے، پھر ہر ایک سے دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر کفالت کو وہ ذکر نہیں کرتے تو پھر کفالت پر یہ شرکتِ عنان منعقد نہیں، دونوں ایک دوسرے کے کفیل نہیں ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَنْعَقِدُ عَلَى الْكَفَالَةِ لِأَنَّ اللَّفْظَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْإِعْرَاضِ يُقَالُ عَنَّ لَهُ أَيْ أَعْرَضَ“: بھئی، یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں۔ یہاں صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ عنان کا لفظ اعراض سے مشتق ہے۔ ”لِأَنَّ اللَّفْظَ“: اس لیے کیونکہ یہ والا لفظ جو ہے، یعنی عنان جو ہے، ”مُشْتَقٌّ مِنَ الْإِعْرَاضِ“: یہ اعراض سے مشتق ہے۔ تو سب سے پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ عنان کا مادہ جو ہے عین، نون، نون ہے، اور اعراض کا مادہ جو ہے عین، را، ضاد ہے، تو دونوں کا مادہ ہی الگ ہے، پھر مشتق ہونے کا کیا معنی؟ تو شارحین جواب دیتے ہیں کہ مراد معنوی اشتقاق ہے، یعنی معنی کے اعتبار سے یہ عنان مشتق ہے اعراض سے، یعنی دونوں کا معنی ایک ہے۔ جو عنان کا معنی ہے وہی اعراض کا بھی معنی ہے۔ تو یہ عنان معنی کے اعتبار سے اعراض سے مشتق ہے۔
اب اعراض کا کیا معنی ہے یہ اچھی طرح سمجھ لو۔ یاد رکھو، أَعْرَضَ يُعْرِضُ إِعْرَاضًا، جب اس کا صلہ ”عَنْ“ آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے رخ پھیرنا، روگردانی کرنا۔ ”أَعْرَضَ زَيْدٌ“: زید نے اعراض کیا، ”عَنْ عَمْرٍو“: عمرو سے۔ زید نے عمرو سے اعراض کیا، یعنی اس سے رخ پھیر لیا۔ توجہ ہے؟ تو اعرض کا معنی رخ پھیرنے کے ہیں، اعراض کرنے کے ہیں جب اس کا صلہ ”عن“ آ رہا ہو۔ اسی طرح یاد رکھو، عَنَّ يَعِنُّ عَنًّا وَعُنُونًا، اس کا معنی بھی ہوتا ہے اعراض کرنا اور رخ پھیرنا جب اس کا صلہ ”عن“ آئے۔ ”عَنَّ زَيْدٌ“: زید نے اعراض کیا، ”عَنْ عَمْرٍو“: کس سے؟ عمرو سے۔ تو ”أَعْرَضَ زَيْدٌ عَنْ عَمْرٍو“ اور ”عَنَّ زَيْدٌ عَنْ عَمْرٍو“، دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ ”عَنَّ زَيْدٌ عَنْ عَمْرٍو“، کیا معنی؟ زید نے عمرو سے اعراض کیا، اور ”أَعْرَضَ زَيْدٌ عَنْ عَمْرٍو“، اس کا بھی کیا معنی ہے؟ زید نے عمرو سے اعراض کیا۔ تو اعرض کا صلہ جب عن آئے تو اس کا معنی بھی اعراض کرنا، اور عنّ کا صلہ جب عن آئے تو اس کا معنی بھی اعراض کرنا۔
اور اسی طرح یاد رکھو اعرض کا ایک معنی ہے ظاہر ہونا۔ اعرض کا ایک معنی کیا ہے؟ ظاہر ہونا۔ اسی طرح عنّ کا ایک معنی بھی ہے ظاہر ہونا۔ تو اعرض کے دو معنی میں نے ذکر کر دیے: اعرض عنہ ہو تو معنی ہے اعراض کرنا، اور صرف اعرض ہو تو اس کا معنی ہے ظاہر ہونا۔ اور اسی طرح عنّ ہے: عنّ عنہ، اس کا معنی ہے اعراض کرنا، اور صرف عنّ ہو تو اس کا معنی ہے ظاہر ہونا۔
توجہ ہے؟ تو یہاں پر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ عنان اعراض سے مشتق ہے، یعنی جیسے اعراض کا معنی ہے ظاہر ہونا، عنان کا معنی بھی ظاہر ہونا ہے۔ کس طرح ظاہر ہونا؟ بھئی، شرکتِ عنان میں دو آدمی آپس میں عقدِ شرکت کرتے ہیں۔ مثلاً زید اور عمرو، یہ دونوں آپس میں عقدِ شرکت کرتے ہیں تو زید کی بھی یہ رائے بنی کہ مجھے عمرو سے شرکت کرنی چاہیے، اور عمرو کی بھی یہ رائے بنی کہ مجھے زید کے ساتھ شرکت کرنی چاہیے، تو دونوں کی یہ رائے بنی، یعنی دونوں کے لیے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مجھے شرکت کرنی چاہیے۔ اور ظاہر ہونے کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ ”عَنَّ لَهُ“، اس کے لیے یہ بات ظاہر ہوئی۔ ابھی میں نے بتایا عنّ اور اعرض کا ایک معنی کیا ہے؟ ظاہر ہونا۔ تو زید اور عمرو دونوں نے شرکت کی ہے، معلوم ہوا دونوں کے لیے یہ بات ظاہر ہوئی، دونوں کی یہ رائے بنی، دونوں کا یہ خیال بنا کہ ہمیں آپس میں شرکت کرنی چاہیے، اور رائے بننا اور خیال بننا اس کے لیے عربی میں کیا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ ”عَنَّ لَهُ“، یعنی ظاہر ہونا۔ اور اسی طرح اعرض کا بھی ایک معنی کیا ہے؟ ظاہر ہونا۔ توجہ ہے؟
تو معلوم ہوا یہ عنان مشتق ہے اعراض سے۔ جس طرح اعراض کا معنی ظاہر ہونا ہے، اسی طرح ”عَنَّ لَهُ“ کا بھی کیا معنی ہے؟ ظاہر ہونا۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ اللَّفْظَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْإِعْرَاضِ يُقَالُ عَنَّ لَهُ أَيْ أَعْرَضَ“: اس لیے کیونکہ یہ لفظِ عنان مشتق ہے اعراض سے، عربی میں کہا جاتا ہے ”عَنَّ لَهُ أَيْ أَعْرَضَ“، یعنی اس کے لیے یہ بات ظاہر ہوئی، اس کی یہ رائے بنی۔ ”وَهَذَا لَا يُنْبِئُ عَنِ الْكَفَالَةِ“: اور یہ لفظ جو ہے یہ کفالت کی خبر نہیں دیتا۔ عنان کا کیا معنی ہے؟ ظاہر ہونا، رائے بننا۔ اس میں تو کہیں کفالت والا معنی نہیں۔ مفاوضہ کے اندر کفالت والا معنی تھا، بھئی کس طرح تھا؟ بھئی مفاوضہ کا معنی ہے مساوات اور برابری، اور برابری تبھی ہو سکتی ہے کہ ایک چیز کا مطالبہ ایک شریک سے ہو سکتا ہے تو دوسرے سے بھی اس کا مطالبہ ہو۔ اگر دوسرے سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا پھر تو مفاوضہ نہیں، پھر تو مساوات نہیں بھئی۔ توجہ ہے؟ تو مفاوضہ کا کیا معنی تھا؟ مساوات، اور مساوات تبھی ہو سکتی تھی جب ایک مال کا مطالبہ دونوں سے ہو سکے بھئی۔ تو اس لیے وہاں کفالت کا معنی بھی تھا، لیکن یہاں پر عنان کا معنی تو صرف ظاہر ہونے کے ہے، تو یہ لفظ کفالت کا تقاضا نہیں کرتا۔
جب یہ لفظ کفالت کا تقاضا نہیں کرتا تو کفالت کے لیے کوئی اور دلیل چاہیے، مثلاً دونوں آپس میں طے کر لیتے ہیں کہ ہم شرکتِ عنان کر رہے ہیں لیکن ایک دوسرے کے کفیل بھی ہوں گے، تو دیکھو اب انہوں نے الگ کفالت کو ذکر کر دیا، خود لفظ سے کفالت ثابت نہیں ہوئی۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا شرکتِ عنان کے اندر عنان کا لفظ وہ کفالت کا تقاضا نہیں کر رہا، اور کفالت کے ثابت ہونے کی دو ہی صورتیں تھیں: یا تو لفظ سے کفالت ثابت ہو یا کسی اور دلیل سے کیا ہو؟ کفالت ثابت ہو۔ اور کوئی دلیل تو یہاں ہے نہیں، صرف لفظ ہی ہے، اور لفظ سے تو کفالت ثابت نہیں ہو رہی۔ لیکن اگر اور دلیل موجود ہے، دونوں نے آپس میں طے کر لیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ضامن بھی ہوں گے تو پھر کفالت بھی آ جائے گی، لیکن وہ کفالت اس لفظِ عنان کی وجہ سے نہیں آئی بلکہ اس الگ دلیل کی وجہ سے آئی کہ دونوں نے اس کو الگ آپس میں طے کر لیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لَا يُنْبِئُ عَنِ الْكَفَالَةِ“: اور یہ لفظِ عنان جو ہے یہ کفالت کی خبر نہیں دیتا، ”وَحُكْمُ التَّصَرُّفِ لَا يَثْبُتُ بِخِلَافِ مُقْتَضَى اللَّفْظِ“: اور کسی تصرف کا حکم وہ لفظ کے مقتضی کے خلاف ثابت نہیں ہو سکتا۔ بھئی، ایک لفظ ایک چیز کا تقاضا کرے گا وہی تصرف ثابت ہو سکتا ہے، لفظ جس کا تقاضا ہی نہیں کر رہا وہ لفظ سے وہ ثابت بھی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً مفاوضہ کس چیز کا تقاضا کر رہا تھا؟ برابری کا، اور برابری کیا چاہتی ہے؟ کہ دونوں تصرف میں برابر ہوں اور نیز مطالبے کے اندر بھی دونوں کیا ہوں؟ برابر ہوں، ایک سے مال کا مطالبہ ہو سکتا ہے تو دوسرے سے بھی مال کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ تو وہاں وہ لفظ ہی لفظ ہی برابری کا تقاضا کر رہا تھا، اور عنان کا لفظ جو ہے یہ تو برابری کا تقاضا نہیں کر رہا، تو لہٰذا لفظ کے ذریعے ایسی چیز کو نہیں ثابت کیا جا سکتا جس کا لفظ تقاضا ہی نہیں کر رہا، لفظ سے صرف اسی چیز کو ثابت کیا جا سکتا ہے جس کا لفظ تقاضا کر رہا ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَحُكْمُ التَّصَرُّفِ لَا يَثْبُتُ بِخِلَافِ مُقْتَضَى اللَّفْظِ“: اور تصرف کا جو حکم ہے وہ ثابت نہیں ہوتا لفظ کے مقتضی کے خلاف۔ تصرف کا حکم لفظ کے مقتضی کے خلاف ثابت نہیں ہو سکتا، یعنی لفظ سے وہی چیز ثابت ہو گی جس کا لفظ تقاضا کر رہا ہے، کوئی اور چیز ثابت کرنی ہے تو اس کے لیے الگ دلیل چاہیے، لفظ کے مقتضی سے آپ اسے ثابت نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَحُكْمُ التَّصَرُّفِ لَا يَثْبُتُ بِخِلَافِ مُقْتَضَى اللَّفْظِ“: اور تصرف کا حکم جو ہے لفظ کے مقتضی کے خلاف ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے:
”وَيَصِحُّ التَّفَاضُلُ فِي الْمَالِ“: اور مال کے اندر کمی بیشی صحیح ہے۔ بھئی، شرکتِ عنان کرنے والوں کا مال برابر ہونا ضروری نہیں، یعنی وہ مال جس پر آپس میں شرکت کر رہے ہیں اس مال کا برابر ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً زید سو درہم ملاتا ہے تو عمرو بھی سو درہم ہی ملائے اور اس پر عقدِ شرکت کریں یہ ضروری نہیں، بلکہ مال کے اندر کمی بیشی بھی جائز ہے۔ مثلاً عمرو کی طرف سے سو درہم ہیں اور زید کی طرف سے دو سو درہم ہیں اور اس پر وہ عقدِ شرکت کر لیتے ہیں، یعنی زید کا مال عمرو سے دگنا ہے تو اس پر بھی شرکت کر سکتے ہیں، یعنی مال کا برابر ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَصِحُّ التَّفَاضُلُ فِي الْمَالِ“: اور صحیح ہے کمی بیشی اس مال کے اندر، یعنی وہ مال جس کے اندر شرکت کی جا رہی ہے اس میں کمی بیشی صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَصِحُّ التَّفَاضُلُ فِي الْمَالِ لِلْحَاجَةِ إِلَيْهِ“: اور مال کے اندر کمی بیشی صحیح ہے اس کی حاجت ہونے کی وجہ سے۔ وجہ یہ کہ اس کی حاجت پیش آتی ہے، بعض اوقات ایک انسان جو ہے وہ کم مال کے اندر شرکت کرنا چاہتا ہے اور بعض اوقات زیادہ مال کے ساتھ وہ شرکت کرنا چاہتا ہے، تو ضرورت اور حاجت کی وجہ سے مال کی کمی بیشی ہو پھر بھی شرکتِ عنان جائز ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَيَصِحُّ التَّفَاضُلُ فِي الْمَالِ لِلْحَاجَةِ إِلَيْهِ“: اور مال کے اندر کمی بیشی صحیح ہے اس کی حاجت ہونے کی وجہ سے۔
”وَلَيْسَ مِنْ قَضِيَّةِ اللَّفْظِ الْمُسَاوَاةُ“: اور اس لفظ کے قضیے میں سے برابری نہیں ہے۔ قضیہ کا ویسے معنی ہوتا ہے فیصلہ اور معاملہ۔ قضیۃٌ کا کیا معنی ہے؟ معاملہ اور فیصلہ، لیکن یہاں اس سے مراد ہے مقتضا، جس کا لفظ تقاضا کرے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ مِنْ قَضِيَّةِ اللَّفْظِ“: اور لفظ کے مقتضا میں سے نہیں ہے، ”الْمُسَاوَاةُ“: برابری۔ لفظ یہاں برابری کا تقاضا نہیں کرتا، لہٰذا دونوں کا مال برابر ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”وَلَيْسَ مِنْ قَضِيَّةِ اللَّفْظِ الْمُسَاوَاةُ“: اور لفظ کے مقتضا میں سے مساوات اور برابری نہیں ہے۔
”وَيَصِحُّ أَنْ يَتَسَاوَيَا فِي الْمَالِ وَيَتَفَاضَلَا فِي الرِّبْحِ“: بھئی، ادھر دیکھیے۔ دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا۔ ایک نے بھی پانچ لاکھ روپے ملائے ہیں اور دوسرے نے بھی پانچ لاکھ روپے ملائے ہیں، تو جب مال برابر ہو تو کیا نفع میں بھی برابری ضروری ہے یا نفع میں کمی بیشی مقرر کی جا سکتی ہے؟ تو یاد رکھو، عند الاحناف نفع کے اندر کمی بیشی جائز ہے۔ نفع کے اندر کمی بیشی جائز، زید کا مال بھی پانچ لاکھ، عمرو کا مال بھی پانچ لاکھ ہے، لیکن زید کہتا ہے کہ نفع کے اندر میرا حصہ ستر فیصد ہو گا اور عمرو کا حصہ صرف تیس فیصد ہو گا اور اس پر دونوں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں۔ اب دونوں کا مال اگرچہ برابر ہے لیکن نفع دونوں کا برابر مقرر نہیں کیا، پھر بھی یہ عقدِ شرکت جائز ہے۔ پھر بھی یہ عقدِ شرکت جائز ہے، جبکہ آگے آپ کو بتلائیں گے کہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، نفع جو ہے وہ مال کے بقدر ہو گا، اگر دونوں کا مال آدھا آدھا ہے تو نفع بھی آدھا آدھا ہی تقسیم کرنا پڑے گا، نفع کے اندر کمی بیشی جائز نہیں ہے بھئی۔ جبکہ عند الاحناف مال بے شک برابر ہو پھر بھی نفع میں کمی بیشی مقرر کرنا جائز ہے۔
البتہ یاد رکھو، نفع میں تو کمی بیشی مقرر کر لیں گے، لیکن اگر نقصان ہوا تو جتنا مال اتنا ہی نقصان ہو گا۔ مال دونوں کا آدھا آدھا ہے اور زید کا نفع ستر فیصد ہے اور عمرو کا نفع تیس فیصد ہے، لیکن نقصان اگر ہوا تو نقصان دونوں پر برابر تقسیم ہو گا کیونکہ مال آدھا آدھا ہے بھئی۔ تو یہ ہمیشہ یاد رکھنا، جہاں بھی شرکت والے عقد ہوں گے، جب بھی نقصان ہوا تو نقصان مال کے بقدر ہو گا۔ نقصان مال کے بقدر ہو گا، اگر آدھا آدھا مال ہے تو نقصان بھی آدھا آدھا، اور اگر زید کا مال جو ہے مثلاً دس لاکھ ہے اور عمرو کا مال صرف پانچ لاکھ ہے تو نقصان کے اندر بھی زید کا حصہ دگنا ہو گا عمرو سے، کیونکہ زید کا مال دگنا ہے تو نقصان کے اندر بھی اس کا حصہ دگنا ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بہت قیمتی ضابطہ ہے یہ آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے کہ شرکت کے اندر نفع کے اندر تو کمی بیشی مقرر کی جا سکتی ہے لیکن نقصان جو ہے ہمیشہ مال کے بقدر ہو گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَصِحُّ أَنْ يَتَسَاوَيَا فِي الْمَالِ وَيَتَفَاضَلَا فِي الرِّبْحِ“: اور صحیح ہے کہ دونوں شریک آپس میں مال کے اندر برابر ہوں اور نفع کے اندر کمی بیشی کریں۔ مال کے اندر برابری ہو اور نفع کے اندر کمی بیشی کریں یہ صحیح ہے۔
”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ“: اور امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں۔ مال میں برابری ہو اور نفع میں کمی بیشی ہو یہ جائز نہیں، بلکہ نفع بھی اتنا ہی ہو گا جتنا مال ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں ”لَا يَجُوزُ“: کہ نفع میں کمی بیشی جائز نہیں ہے، ”لِأَنَّ التَّفَاضُلَ فِيهِ يُؤَدِّي إِلَى رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ“: وہ فرماتے ہیں کہ اگر نفع میں کمی بیشی کی جائے گی تو اس میں تو ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ کی خرابی لازم آئے گی۔ زید نے بھی پانچ لاکھ روپے ملائے ہیں، عمرو نے بھی پانچ لاکھ روپے ملائے ہیں، تو زید کو اگر آپ ستر فیصد نفع دیں گے تو پچاس فیصد تو زید کا حق بنتا ہے کیونکہ اس کا مال بھی پچاس فیصد ہے، اور یہ جو بیس فیصد آپ زائد زید کو دے رہے ہیں یہ ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ ہے، یہ تو عمرو کے مال کا نفع ہے اور عمرو کے مال کا ضمان عمرو پر آئے گا تو نفع بھی عمرو ہی کو ملنا چاہیے، زید کو یہ نفع نہیں مل سکتا کیونکہ نفع تو ضمان کے بدلے ہوتا ہے، اور یہ جو پچاس فیصد سے زائد مال ہے اس کے اندر تو زید پر ضمان نہیں، تو اس میں زید کا نفع بھی نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّفَاضُلَ فِيهِ يُؤَدِّي إِلَى رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ“: اس لیے کیونکہ نفع کے اندر کمی بیشی جو ہے یہ پہنچا دیتی ہے ”رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ تک اور وہ جائز نہیں، ”فَإِنَّ الْمَالَ إِذَا كَانَ نِصْفَيْنِ“: اس لیے کیونکہ دونوں کا مال جب وہ آدھا آدھا ہے، ”وَالرِّبْحُ أَثْلَاثًا“: اور نفع کے تین حصے ہیں۔ مثلاً زید اور عمرو نے عقدِ شرکت کر لیا، دونوں کا مال تو آدھا آدھا ہے، پانچ لاکھ زید کے ہیں پانچ لاکھ عمرو کے ہیں، لیکن زید کہتا ہے کہ نفع جو بھی آئے گا اس نفع کے تین حصے کریں گے، دو حصے میرے ہوں گے اور ایک حصہ تمہارا ہو گا، تو مال آدھا آدھا اور نفع کے تین حصے تو اس میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“، امام شافعی اور امام زفر رحمہما اللہ کے نزدیک۔
کہتے ہیں: ”فَإِنَّ الْمَالَ إِذَا كَانَ نِصْفَيْنِ وَالرِّبْحُ أَثْلَاثًا فَصَاحِبُ الزِّيَادَةِ يَسْتَحِقُّهَا بِلَا ضَمَانٍ“: اس لیے کیونکہ مال جب آدھا آدھا ہے اور نفع کے تین حصے ہیں تو زیادتی والا وہ اس زیادتی کا مستحق ہو جائے گا بغیر ضمان کے، وہ اس زائد نفع کا مستحق ہو جائے گا بغیر ضمان کے، ”إِذِ الضَّمَانُ بِقَدْرِ رَأْسِ الْمَالِ“: اس لیے کیونکہ ضمان تو راس المال کے بقدر آتا ہے، نقصان تو راس المال کے بقدر آتا ہے۔
چنانچہ اسی لیے یاد رکھو بیع کے اندر آپ نے پڑھا ہو گا کہ جب تک انسان مبیع پر قبضہ نہ کر لے تب تک اس کے لیے وہ مبیع آگے بیچنا جائز نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ جب کوئی چیز آپ کے قبضے میں آ جاتی ہے تو اب وہ آپ کے ضمان میں آ گئی، اب اگر وہ چیز ہلاک ہوئی تو آپ کا اپنا مال ضائع ہو گا، اور جب تک آپ نے ایک چیز پر قبضہ نہیں کیا تو چیز آپ کے ضمان میں نہیں، جب آپ کے ضمان میں نہیں تو آپ اسے آگے بھی نہیں بیچ سکتے۔
تو بات چل رہی تھی شرکتِ عنان کی۔ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں شرکتِ عنان کے اندر اگر مال برابر ہے تو نفع بھی برابر ہو گا، اور اگر نفع میں کمی بیشی کریں گے تو ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ کی خرابی لازم آئے گی اور یہ جائز نہیں۔ تو ایک دلیل یہ تھی امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی، نیز وہ فرماتے ہیں کہتے ہیں یہ جو نفع کے اندر دونوں کی شرکت آتی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ اصل یعنی سرمائے میں دونوں کی شرکت ہے، اور سرمائے کے اندر جب دونوں کی شرکت آدھی آدھی ہے تو اسی سرمائے سے جو آگے نفع حاصل ہوا اس کے اندر بھی شرکت آدھی آدھی ہو گی بھئی، کیونکہ یہ نفع یہ فرع ہے اصل یعنی سرمائے کی۔ اصل کیا ہے؟ سرمایہ۔ جب سرمایہ آدھا آدھا ہے، زید کی طرف سے بھی پانچ لاکھ ہے، عمرو کی طرف سے بھی پانچ لاکھ ہے، تو جو اس میں زیادتی ہوئی یعنی جو نفع آیا وہ نفع فرع ہے کس کی؟ اصل یعنی سرمائے کی، تو...
توجہ ہے؟ پھر سنو۔ یہ جو سرمایہ ہے دونوں نے مال ملایا ہے یہ ہے اصل سرمایہ اور نفع جو ہے وہ زیادتی ہے یعنی وہ فرع ہے جیسے ایک درخت کی جڑیں اور تنا ہے اور آگے اس سے شاخیں نکلتی ہیں تو جڑیں اور تنا ہوگا تو آگے شاخیں بھی نکلیں گی۔ اگر جڑیں اور تنا ہی نہیں تو آگے شاخیں بھی نہیں نکل سکتیں۔ تو یہ نفع جو ہے یہ فرع ہے، یہ شاخ ہے، کس چیز کی؟ اصل یعنی سرمائے کی۔ یہ اصل اور سرمائے کی شاخ ہے اور اصل کے اندر دونوں کا حصہ نصف نصف ہے تو شاخ کے اندر بھی یعنی نفع کے اندر بھی دونوں کا حصہ نصف نصف ہوگا، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الشَّرِكَةَ عِنْدَهُمَا فِي الرِّبْحِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو شرکت ہے دونوں کے نزدیک نفع کے اندر ”لِشَرِكَةٍ فِي الْأَصْلِ“ یہ اصل یعنی سرمائے میں شرکت کی وجہ سے ہے۔ نفع میں جو شرکت آرہی ہے وہ کیوں آرہی ہے؟ اصل یعنی سرمائے میں شرکت کی وجہ سے آرہی ہے، اگر سرمائے میں شرکت نہ ہوتی تو نفع میں بھی شرکت نہ ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الشَّرِكَةَ عِنْدَهُمَا فِي الرِّبْحِ“ اس لیے کیونکہ دونوں کے نزدیک نفع کے اندر جو شرکت ہے ”لِشَرِكَةٍ فِي الْأَصْلِ“ وہ اصل یعنی سرمائے میں شرکت کی وجہ سے ہے ”وَلِهٰذَا يَشْتَرِطَانِ الْخَلْطَ“ اور اسی لیے دونوں ملانے کی شرط لگاتے ہیں۔
یاد رکھو امام شافعی اور امام زفر رحمہما اللہ کے نزدیک شرکت کے اندر مال کا ملانا شرط ہے۔ زید کا حصہ بھی پانچ لاکھ، عمرو کا حصہ بھی پانچ لاکھ۔ ہمارے نزدیک دونوں کا مال ملانا شرط نہیں۔ دونوں نے آپس میں عقدِ شرکت کرلیا تو یہ عقد کافی ہے، یہ عقد کافی ہے چاہے دونوں کا مال ان کے اپنے پاس ہی ہے لیکن اسی کے اندر وہ تجارت کر رہے ہیں۔ جب عقد کرلیا ہے تو نفع کے اندر دونوں شریک ہوں گے۔ زید اپنے مال سے جو نفع کما رہا ہے اس میں عمرو کا بھی حصہ ہوگا اور عمرو اپنے مال کے ذریعے تجارت کر رہا ہے اس کے اندر زید کا بھی حصہ ہوگا کیونکہ دونوں نے عقد کرلیا، جب عقد کرلیا دونوں ایک دوسرے کے وکیل بن گئے۔ اب زید جو بھی چیز خریدے گا یا بیچے گا تو وہ اس میں نصف عقد اس نے اپنے لیے کیا ہے اور نصف عقد کس کے لیے کیا ہے؟ شریک کے لیے کیونکہ اس کی طرف سے وکیل بھی ہے بھئی۔ تو لہٰذا جب ہر ایک اپنے تصرف میں دوسرے کی طرف سے وکیل بھی ہے تو پھر وہاں اس موکل پر ضمان بھی آتا ہے تو نفع کے اندر بھی اس کا حصہ آئے گا بھئی۔
جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نفع ہوتا ہے یہ فرع ہے اصل کی، اصل میں شرکت ہے تو فرع یعنی نفع میں بھی شرکت ہوگی۔ لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ اصل کا بھی ملانا ضروری ہے۔ زید اور عمرو دونوں اپنے اپنے پانچ لاکھ روپے ملا دیں گے کہ پتہ ہی نہ چلے کہ کون سا مال کس کا ہے بھئی، کہ کون سا مال کس کا ہے، اس طریقے سے ملانا ہے۔
چنانچہ وہ فرماتے ہیں اگر ایک کی طرف سے درہم ہیں اور دوسرے کی طرف سے دینار ہیں اور دونوں نے اس کو ملا دیا تو بھی یوں سمجھو نہیں ملایا کیونکہ درہم اور دینار ایک دوسرے سے الگ پہچانے جائیں گے یا نہیں پہچانے جائیں گے؟ درہم اور دینار تو ایک دوسرے سے الگ پہچانے جائیں گے تو یوں سمجھو دونوں ملے ہی نہیں حالانکہ ملانا تو شرط ہے ان کے نزدیک، ان کے نزدیک راس المال کا ملانا شرط ہے اس طریقے پر کہ پہچان ہی نہ ہوسکے کہ کس کا مال کون سا ہے۔
یا اسی طرح وہ فرماتے ہیں، آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے، ایک کی طرف سے سفید درہم ہیں یعنی نئے درہم ہیں اور دوسرے کی طرف سے کالے درہم ہیں یعنی پرانے درہم ہیں تو اب بھی اگر دونوں کو ملائیں گے تو یہ شرکت صحیح نہیں ان کے نزدیک کیونکہ دونوں کا مال پہچانا جارہا ہے۔ دونوں نے ملا دیا ہے پھر بھی الگ کرنا چاہیں تو آرام سے الگ کرلیں گے کیونکہ دونوں کے درہم الگ الگ قسم کے ہیں، ایک کے درہم بالکل سفید چمکدار ہیں، دوسرے کے درہم پرانے اور میلے اور کالے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔
تو امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نفع ہے یہ اصل کی یعنی سرمائے کی فرع ہے اور اصل کے اندر شرکت ہے اس لیے نفع کے اندر بھی شرکت ہوگی۔ چنانچہ اسی لیے فرماتے ہیں کہ اصل کو ملانا ضروری ہے، زید اور عمرو کا دونوں پیسوں کو ملانا ضروری ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الشَّرِكَةَ عِنْدَهُمَا فِي الرِّبْحِ“ اس لیے کیونکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک نفع کے اندر جو شرکت ہے ”لِشَرِكَةٍ فِي الْأَصْلِ“ وہ اصل کے اندر شرکت کی وجہ سے ہے ”وَلِهٰذَا يَشْتَرِطَانِ الْخَلْطَ“ اور اسی لیے دونوں ملانے کی شرط لگاتے ہیں کہ دونوں مالوں کو ملایا جائے گا۔ اگر دونوں مالوں کو ملایا نہیں یا ملایا تو ہے لیکن وہ ملے نہیں، ایک کے درہم ہیں ایک کے دینار ہیں تو شرکت ہی صحیح نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا يَشْتَرِطَانِ الْخَلْطَ“ اور اسی لیے دونوں جو ہیں خلط کی یعنی ملانے کی شرط لگاتے ہیں ”فَصَارَ رِبْحُ الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ نَمَاءِ الْأَعْيَانِ“ تو یہ مال کا نفع بھی نماءِ اعیان کے درجے میں ہوگیا۔ بھئی بعض اوقات بعض چیزوں میں افزائش آتی ہے، وہ بڑھ جاتی ہیں، مثلاً آپ کے پاس بکریاں ہیں پچاس بکریاں ہیں تو سال بھر کے دوران مثلاً انہوں نے پانچ دس بچے دے دیے، تو اب دیکھو اصل مال تھی بکریاں لیکن اب ان میں افزائش آگئی، بڑھوتری آگئی، ان کی تعداد بڑھ گئی انہوں نے بچے دے دیے۔ تو جو اصل کا مالک ہوتا ہے وہ بڑھوتری اور افزائش کا بھی وہی مالک ہوتا ہے تو جس کی بکریاں تھیں یہ بکریوں کے بچے بھی اسی کے ہیں۔
تو امام شافعی اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں جس طرح عین کے اندر زیادتی آجائے، کس کے اندر؟ عین، جیسے مثلاً بکری تھی اور اس میں کیا آگئی؟ زیادتی کہ اس نے بچہ دے دیا۔ تو امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے عین کے اندر زیادتی آتی ہے تو جس کی عین ہوتی ہے اسی کے وہ بچے ہوتے ہیں، اسی طرح یہاں پر بھی دونوں نے سرمایہ ملایا ہے جب سرمایہ دونوں کا ہے تو نفع بھی دونوں کا ہوگا اور جتنا جتنا سرمایہ ہے دونوں کا اتنا اتنا ہی دونوں کا نفع بھی ہوگا بھئی، اس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ معلوم ہوا امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک شرکت کے اندر جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے عین کے اندر نماء آجائے، بڑھوتری اور افزائش آجائے۔
تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ رِبْحُ الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ نَمَاءِ الْأَعْيَانِ“ نماء کہتے ہیں بڑھوتری اور افزائش کو بھئی، اعیان جمع ہے عین کی کوئی معین چیز بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ رِبْحُ الْمَالِ“ تو مال کا نفع ہوگیا ”بِمَنْزِلَةِ نَمَاءِ الْأَعْيَانِ“ اعیان کی بڑھوتری کے درجے میں ”فَيَسْتَحِقُّ بِقَدْرِ الْمِلْكِ فِي الْأَصْلِ“ تو لہٰذا یہ دونوں شریک جو ہیں وہ اس نفع کے مستحق ہوں گے ”بِقَدْرِ الْمِلْكِ فِي الْأَصْلِ“ اصل کے اندر جتنی ان کی ملکیت ہے اس کے بقدر۔ یہ دونوں شریک نفع کے مستحق ہوں گے اتنی ہی مقدار جتنی اصل کے اندر دونوں کی ملکیت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَسْتَحِقُّ بِقَدْرِ الْمِلْكِ فِي الْأَصْلِ“ تو دونوں شریک نفع کے مستحق ہوں گے اصل کے اندر اپنی ملکیت کے بقدر، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ اصل سے کیا مراد ہے؟ سرمایہ، سرمائے میں جتنی ملکیت ہے اسی کے بقدر نفع میں بھی شرکت ہوگی بھئی۔
یہ تھی امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل۔ وہ فرماتے ہیں کہ شرکتِ عنان کے اندر جتنا مال اتنا ہی نفع، نفع کے اندر کمی بیشی جائز نہیں کیونکہ اس میں ایک تو رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کی خرابی لازم آئے گی اور دوسرا یہ کہ یہ جو نفع ہوتا ہے یہ اسی سرمائے کی افزائش اور نماء کے درجے میں ہے، تو جس کا جتنا سرمایہ اتنا ہی اس کا نفع بھی۔
اب آگے ہماری دلیل آرہی ہے: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا، وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ“ یہاں تک ہے حدیث بھئی۔ حضور فرماتے ہیں: ”الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا“ کہ نفع اسی کے بقدر ہوگا جو دونوں نے شرط لگائی ہے یعنی جتنا دونوں نے طے کیا ہے۔ زید اور عمرو نے شرکت کرلی تو زید نے کیا شرط لگائی کہ نفع میں میرا حصہ ستر فیصد ہوگا اور تمہارا حصہ تیس فیصد ہوگا تو حدیث میں آتا ہے: ”الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا“ کہ نفع اسی کے بقدر ہوگا جتنی دونوں نے شرط لگائی ہے جتنا دونوں نے طے کیا ہے، مقرر کیا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا“ کہ نفع اسی کے بقدر ہوگا جتنا دونوں نے شرط ٹھہرایا ہے ”وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ“ وضیعہ کہتے ہیں نقصان کو ”وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ“ اور نقصان جو ہے وہ دونوں مالوں کے بقدر ہوگا یعنی جس کا جتنا مال ہے اس کا اتنا ہی نقصان میں حصہ ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ یہ ہے احناف کا ضابطہ بھئی۔ عند الاحناف نفع میں کمی بیشی جائز ہے جتنا بھی مقرر کرلیں جتنا بھی آپس میں طے کرلیں، لیکن نقصان مال کے بقدر ہوگا بھئی۔
حدیث کا ترجمہ دوبارہ دیکھ لیجیے: ”الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا“ کہ نفع اسی کے بقدر ہوگا جتنے کی وہ شرط ٹھہرا لیں ”وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ“ اور نقصان جو ہے، خسارہ جو ہے وہ دونوں مالوں کے بقدر ہوگا، حدیث یہیں تک ہے بھئی۔
آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَلَمْ يَفْصِلْ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کے اندر مطلقاً فرمایا ”الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا“ کہ نفع اسی کے بقدر ہوگا جتنا دونوں شریک آپس میں طے کرلیں جتنا آپس میں وہ دونوں مقرر کرلیں۔ اس حدیث کے اندر حضور علیہ السلام نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ نفع مال کے برابر ہوگا یعنی سرمائے کے اندر جس کا جتنا حصہ ہے نفع کے اندر بھی اس کا اتنا ہی حصہ ہوگا، حضور علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا بلکہ مطلقاً فرمایا ہے کہ نفع اسی کے بقدر ہوگا جتنا دونوں شریک آپس میں طے کرلیں۔ معلوم ہوا نفع کے اندر کمی بیشی بھی جائز ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ معنی ہے کہتے ہیں: ”وَلَمْ يَفْصِلْ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرق نہیں فرمایا، حضور علیہ السلام نے فرق نہیں فرمایا، کس چیز میں فرق نہیں فرمایا؟ یہ جو حضور نے فرمایا ”الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا“ نفع اسی کے بقدر ہوگا جتنا دونوں آپس میں شرط ٹھہرا لیں، تو حضور علیہ السلام نے یہاں پر اس نفع کے مال کے ساتھ برابر ہونے یا نہ ہونے کو ذکر نہیں فرمایا، مطلقاً فرمایا نفع جتنا بھی آپس میں طے کرلیں تو حضور علیہ السلام نے کوئی فرق نہیں فرمایا مال کے برابر یا کم ہونے کے اندر بھئی۔ مطلقاً حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ نفع اسی کے بقدر ہوگا جتنا دونوں آپس میں طے کرلیں گے، معلوم ہوا نفع کے اندر کمی بیشی جائز ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّ الرِّبْحَ كَمَا يُسْتَحَقُّ بِالْمَالِ يُسْتَحَقُّ بِالْعَمَلِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ احناف کی عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ عند الاحناف دونوں شریکوں کا مال اور سرمایہ بے شک برابر ہو پھر بھی نفع کے اندر کمی بیشی جائز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے، وجہ یہ کہ یہ نفع کا مستحق انسان صرف مال کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ عمل کی وجہ سے بھی نفع کا مستحق ہوجاتا ہے جیسے عقدِ مضاربت ہے۔ عقدِ مضاربت میں مال ایک کا ہے اور عمل دوسرے کا ہے اور نفع دونوں آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو مال ایک کا ہے عمل دوسرے کا ہے اور نفع دونوں تقسیم کر رہے ہیں۔ اب جو صاحبِ عمل ہے جو تجارت کر رہا ہے وہ جو مضارب ہے اس کا تو مال میں کوئی حصہ نہیں لیکن پھر بھی وہ نفع کا مستحق بن رہا ہے۔ معلوم ہوا نفع کا مستحق انسان صرف سرمائے اور مال کی وجہ سے نہیں بنتا بلکہ کبھی کبھار عمل کی وجہ سے بھی نفع کا مستحق بن جاتا ہے اور نیز صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بعض اوقات دو شریکوں میں سے ایک شریک جو ہے وہ تجارت کا زیادہ ماہر ہوتا ہے تو وہ تو کبھی بھی راضی نہیں ہوگا کہ میرا نفع دوسرے شریک کے برابر ہوگا، کیونکہ دونوں میں سے مثلاً ایک کو تجارت زیادہ نہیں آتی اور ایک تجارت کا زیادہ ماہر ہے تو ظاہر سی بات ہے جو زیادہ ماہر ہے وہ اپنے لیے زیادہ نفع پر ہی راضی ہوگا، یا اسی طرح بعض اوقات دونوں میں سے ایک عمل کے اعتبار سے زیادہ ہوتا ہے مثلاً دو آدمی آپس میں شریک ہوگئے، ایک جو ہے وہ اپنا سارا وقت تجارت کے اندر لگا رہا ہے اور دوسرا اس کے اور بھی کام ہیں اور بھی مصروفیات ہیں وہ اپنا سارا وقت تجارت میں نہیں لگا رہا بلکہ کچھ وقت تجارت میں لگاتا ہے تو ایک شریک کچھ وقت لگا رہا ہے اور دوسرا شریک زیادہ وقت لگا رہا ہے زیادہ کام کر رہا ہے تو زیادہ کام والا تو کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہوگا کہ میرا اور دوسرے شریک کا نفع برابر ہو۔ ظاہر سی بات ہے وہ نفع کے اندر بھی زیادہ حصے ہی کا مطالبہ کرے گا۔ تو لہٰذا لوگوں کو حاجت پیش آتی ہے کہ وہ کمی بیشی کے ساتھ نفع کو آپس میں طے کریں تو ضرورت اور حاجت کی وجہ سے نفع کے اندر کمی بیشی جائز ہوگی، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الرِّبْحَ كَمَا يُسْتَحَقُّ بِالْمَالِ يُسْتَحَقُّ بِالْعَمَلِ“ اور اس لیے کیونکہ نفع جو ہے جیسے اس کا استحقاق مال کی وجہ سے ہوتا ہے ”يُسْتَحَقُّ بِالْعَمَلِ“ اسی طرح نفع کا استحقاق عمل کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ”كَمَا فِي الْمُضَارَبَةِ“ جیسے کہ مضاربت کے اندر ہے۔ توجہ ہے؟ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل اوپر گزری وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نفع کے اندر شرکت آتی ہے یہ اصل سرمائے یعنی مال کے اندر شرکت کی وجہ سے آتی ہے لہٰذا جس شریک کا جتنا مال ہے نفع کے اندر بھی اس کا اتنا حصہ ہوگا تو صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ نہیں، صرف یہ مال کی وجہ سے کوئی شخص نفع کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ عمل کی وجہ سے بھی نفع کا مستحق ہوجاتا ہے، لہٰذا مال کے بقدر نفع کا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الرِّبْحَ كَمَا يُسْتَحَقُّ بِالْمَالِ يُسْتَحَقُّ بِالْعَمَلِ“ اس لیے کیونکہ نفع جو ہے جیسے اس کا استحقاق مال کی وجہ سے ہوتا ہے اسی طرح نفع کا استحقاق عمل کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ”كَمَا فِي الْمُضَارَبَةِ“ جیسے کہ مضاربت کے اندر ہے ”وَقَدْ يَكُونُ أَحَدُهُمَا أَحْذَقَ وَأَهْدَى“ اور کبھی کبھار دونوں میں سے جو ہے وہ ایک زیادہ ماہر ہوتا ہے ”أَحْذَقَ“ بھئی اس میں تفضیل ہے، حاذق کا معنی ہے ماہر بھئی۔ آپ بھی پڑھتے رہتے ہیں طبیبِ حاذق بھئی، ماہر طبیب جو ہے اس کو طبیبِ حاذق کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَكُونُ أَحَدُهُمَا أَحْذَقَ وَأَهْدَى“ اور کبھی کبھار دونوں شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ زیادہ ماہر ہوتا ہے ”وَأَهْدَى“ اور زیادہ ہدایت یافتہ ہوتا ہے یعنی تجارت کو زیادہ سمجھنے والا ہوتا ہے ”أَوْ أَكْثَرَ عَمَلًا“ یا کبھی کبھار دونوں میں سے ایک شریک زیادہ عمل کرنے والا ہوتا ہے ”وَأَقْوَى“ اور زیادہ قوی ہوتا ہے، تو کہتے ہیں اور کبھی کبھار دونوں شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ عمل کے اعتبار سے زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ قوی ہوتا ہے ”فَلَا يَرْضَى بِالْمُسَاوَاةِ“ تو وہ راضی نہیں ہوگا برابری پر۔ تو اس بات پر کبھی بھی راضی نہیں ہوگا کہ نفع کے اندر برابری ہوگی۔ وہ کہے گا بھئی تجارت ساری میں کروں گا تجارت تو میں جانتا ہوں دوسرے کو تو تجارت آتی نہیں ہے لہٰذا میرا نفع بھی زیادہ ہونا چاہیے یا سارا عمل تو میں کروں گا دوسرا تو تھوڑا سا عمل کرے گا لہٰذا نفع کے اندر میرا حصہ بھی زیادہ ہونا چاہیے وہ برابری پر کبھی بھی راضی نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَرْضَى بِالْمُسَاوَاةِ“ لہٰذا وہ شریک برابری پر راضی نہیں ہوگا ”فَمَسَّتِ الْحَاجَةُ إِلَى التَّفَاضُلِ“ تو کمی بیشی کی حاجت پیش آگئی اور جب حاجت پیش آئے تو شریعت حاجت کی وجہ سے بھی تصرف کی اجازت دے دیتی ہے۔
آگے دیکھیے: ”بِخِلَافِ اشْتِرَاطِ جَمِيعِ الرِّبْحِ لِأَحَدِهِمَا“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ دونوں شریکوں میں سے ایک کے لیے سارے نفع کی شرط لگانا یہ جائز نہیں۔ زید اور عمرو دونوں نے عقدِ شرکت کیا اور شرط یہ ٹھہرائی کہ سارے نفع کا مستحق زید ہوگا تو یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے۔ تو معترض اعتراض کرتا ہے جس طرح سارے نفع کی شرط کسی ایک شریک کے لیے لگانا جائز نہیں اسی طرح نفع کی زیادتی کی شرط ایک شریک کے لیے لگانا یہ بھی جائز نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی اگر سارے نفع کی شرط ایک شریک کے لیے لگا لی جائے پھر تو شرکت ہی ختم ہوگئی، اس عقد کا مقصد ہی یہ تھا کہ نفع کے اندر دونوں شریک ہوں گے۔ صرف ویسے مال کو آپس میں ملانا مقصود نہیں تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ پھر آگے جب تجارت کریں گے تو نفع کے اندر بھی دونوں شریک ہوں گے۔ تو جب نفع کے اندر ہی شرکت نہ رہی تو یہ تو عقدِ شرکت ہی نہ رہا بھئی، کیونکہ یہاں تو مقصود ہی کیا تھا؟ نفع کے اندر شرکت بھئی۔ نیز اسی طرح صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر نفع کی شرط کسی ایک شریک کے لیے لگا دی جائے تو مضاربت بھی مضاربت نہیں رہتا، وہ قرض یا بضاعت بن جاتا ہے۔
توجہ ہے؟ ایک ہے شرکت، شرکت کے اندر مال دونوں کی طرف سے ہوتا ہے عمل بھی دونوں کرتے ہیں اور نفع میں بھی دونوں شریک ہوتے ہیں۔ اگر شرکت کے اندر بھی ایک شریک کے لیے نفع کی شرط لگا دی تو بھی یہ عقدِ شرکت نہ رہا، یہاں تو شرکت ہی ختم ہوگئی۔ اور مضاربت کے اندر بھی مال ایک کا ہوتا ہے محنت اور عمل دوسرے کا ہوتا ہے اور نفع کے اندر دونوں شریک ہوتے ہیں تو مضاربت کے اندر بھی اگر نفع کی شرط کسی ایک کے لیے لگا دی جائے تو وہ عقدِ مضاربت رہتا ہی نہیں، یا تو وہ قرض بن جاتا ہے یا وہ بضاعت بن جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اس لیے شرکت کے اندر یا مضاربت کے اندر ایک شریک کے لیے سارے نفع کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ اشْتِرَاطِ جَمِيعِ الرِّبْحِ لِأَحَدِهِمَا“ بخلاف اس کے کہ سارے نفع کی شرط لگا دی جائے دو شریکوں میں سے کسی ایک کے لیے ”لِأَنَّهُ يَخْرُجُ الْعَقْدُ بِهِ مِنَ الشَّرِكَةِ“ کیونکہ اس کی وجہ سے تو یہ عقد شرکت سے ہی نکل جاتا ہے، یہاں تو اب شرکت رہی ہی نہیں کیونکہ مقصد ہی کیا تھا؟ نفع کے اندر شرکت اور وہ شرکت تو باقی ہی نہ رہی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَخْرُجُ الْعَقْدُ بِهِ مِنَ الشَّرِكَةِ“ کیونکہ اس کی وجہ سے تو عقد جو ہے وہ شرکت سے ہی نکل جاتا ہے ”وَمِنَ الْمُضَارَبَةِ أَيْضًا“ اور مضاربت سے بھی نکل جاتا ہے یعنی اگر مضاربت کے اندر بھی دونوں میں سے ایک کے لیے نفع کی شرط لگا دی تو یہ عقدِ مضاربت نہ رہے گا یہ قرض یا بضاعت بن جائے گا۔ مثلاً زید اور عمرو نے آپس میں عقدِ مضاربت کرلیا، زید کا مال ہے اور عمرو جو ہے وہ تجارت زیادہ جانتا ہے وہ تجارت کرے گا۔ جس کا مال ہو اس کو کہتے ہیں رب المال بھئی، مال والا۔ رب کا کیا معنی؟ والا۔ رب المال یعنی مال والا۔ یاد رکھو یہ عربی کے اندر رب کا لفظ والے کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح یاد رکھو اب کا لفظ ہے، اب کا لفظ بھی والا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے ابو الخیر۔ ابو الخیر کا معنی ہے خیر والا۔ ابو الخیر کا کیا معنی؟ خیر والا۔ ویسے لفظی ترجمہ تو بنتا ہے خیر کا باپ لیکن ابو الخیر خیر والے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح ابو الشر شر والے کو کہتے ہیں۔ ایک آدمی کا شر بہت زیادہ ہو تو اسے ابو الشر کہتے ہیں کہ یہ شر والا آدمی ہے۔ اور ایک آدمی کی خیر زیادہ ہو ہر ایک کو اس سے نفع پہنچتا ہے تو اس کو ابو الخیر کہتے ہیں کہ یہ خیر والا ہے بھئی، یہ آدمی خیر والا ہے ہر ایک کو اس سے خیر پہنچتی ہے۔ تو رب المال کا معنی ہے مال والا۔ تو مضاربت کے اندر جس کا مال ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں رب المال اور دوسرے آدمی کا عمل ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں مضارب بھئی۔ توجہ ہے؟ تو مضاربت کے اندر بھی نفع کے اندر دونوں شریک ہوتے ہیں، مضارب کا بھی حصہ ہوتا ہے اور رب المال کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ لیکن مضاربت کے اندر بھی اگر سارا نفع کسی ایک شریک کے لیے متعین کر دیا جائے تو اس صورت میں یہ مضاربت نہیں رہتا یا یہ قرض بن جاتا ہے یا یہ بضاعت بن جاتا ہے۔
مثلاً مال زید کا ہے اور عمل عمرو کا ہے اور سارا نفع مثلاً عمرو لے کر جائے گا جو عمل کرنے والا ہے، تو یہ تو مضاربت نہ رہی یہ تو قرض بن گیا گویا زید نے عمرو کو قرض دے دیا ہے، عمرو اس کے اندر محنت کرکے نفع کما رہا ہے اور بعد میں زید کا سارا سرمایہ زید کو واپس کر دے گا تو یہ تو قرض بن جائے گا، مضاربت رہے گی ہی نہیں جب سارے نفع کی شرط مضارب کے لیے لگا دی اور اسی طرح اگر سارے نفع کی شرط رب المال کے لیے لگا دی جائے تو پھر یہ بضاعت بن جائے گا۔ یاد رکھو بضاعت اسے کہتے ہیں کہ آپ کسی کو اپنا سرمایہ دیتے ہیں تجارت کے لیے اور وہ آپ کے مال سے حاصل ہونے والا سارا نفع آپ کو دے دے تو اس کو کہتے ہیں بضاعت۔ مثلاً زید جو ہے وہ غلے کا تاجر ہے اور بڑا تاجر ہے تو آپ زید کو اپنا سرمایہ دے دیتے ہیں کہ میں تو تجارت نہیں کرسکتا تو آپ میرا سرمایہ لے لیجیے، اپنے سرمائے کے ساتھ اسے بھی کاروبار میں لگا دیجیے اور جو بھی میرے مال کا نفع بنتا ہو وہ سارا نفع مجھے دے دیا کریں۔ تو اس کو بضاعت کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بضاعت کہتے ہیں۔ تو زید دیکھو تجارت کر رہا ہے اس کا اپنا کاروبار کا سلسلہ چل رہا ہے، ساتھ اس نے آپ کا مال بھی ملا لیا اور آپ کے مال کا سارا نفع وہ آپ ہی کو دے رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بضاعت۔ تو بضاعت کا معنی ہے سرمایہ اور پونجی یعنی اپنا مال بطورِ سرمائے کے کسی کو دینا۔
تو بات چل رہی تھی مضاربت کے اندر اگر سارے نفع کی شرط جو ہے عمل والے کے لیے لگا دی جائے تو یہ قرض بن جاتا ہے اور اگر سارے نفع کی شرط رب المال کے لیے لگا دی جائے تو پھر تو یہ بضاعت بن جائے گا بھئی۔ سارا مال کس کا؟ زید کا، اور وہ کس کو دیا ہے اس نے؟ عمرو کو، اور عمرو اس زید کے سارے مال کا نفع زید ہی کو دے رہا ہے یہ تو مضاربت نہ ہوئی یہ تو بضاعت ہوگئی بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو حاصلِ کلام یہ اعتراض یہ ہوتا تھا کہ اے صاحبِ ہدایہ! اگر شرکت کے اندر سارے نفع کی شرط کسی ایک شریک کے لیے لگا دی جائے تو یہ جائز نہیں، تو جب سارے نفع کی شرط ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے تو زائد نفع کی شرط بھی ایک شریک کے لیے لگانا جائز نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس کا جواب دیا کہ نہیں، سارے نفع کی اگر شرط لگائیں گے پھر تو وہ عقدِ شرکت ہی نہیں رہے گا اور اگر مضاربت ہے تو وہ تو مضاربت ہی نہیں رہے گی لہٰذا آپ نفع کی کمی بیشی کو سارے نفع کی شرط پر قیاس نہیں کر سکتے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ اشْتِرَاطِ جَمِيعِ الرِّبْحِ لِأَحَدِهِمَا“ بخلاف اس کے کہ سارے نفع کی شرط لگا دی جائے دونوں شریکوں میں سے کسی ایک کے لیے ”لِأَنَّهُ يَخْرُجُ الْعَقْدُ بِهِ مِنَ الشَّرِكَةِ“ اس لیے کیونکہ اس شرط کی وجہ سے یہ عقد شرکت سے نکل جائے گا، یہ عقدِ شرکت ہی نہ رہے گا ”وَمِنَ الْمُضَارَبَةِ أَيْضًا“ اور اس شرط کی وجہ سے یہ عقد مضاربت سے بھی نکل جائے گا ”إِلَى قَرْضٍ“ قرض کی طرف، مضاربت میں بھی اگر ایک کے لیے شرط لگا دیں گے تو یہ مضاربت سے نکل جائے گا ”إِلَى قَرْضٍ“ کس کی طرف؟ قرض کی طرف، یہ تو قرض بن جائے گا ”بِاشْتِرَاطِهِ لِلْعَامِلِ“ عامل کے لیے اس کی شرط لگانے سے۔ عامل جو عمل کر رہا ہے اس کے لیے نفع کی شرط لگائیں گے تو یہ کیا بن جائے گا؟ یہ قرض بن جائے گا یہ مضاربت نہ رہے گا ”أَوْ إِلَى بِضَاعَةٍ“ یا یہ عقد مضاربت سے نکل جائے گا بضاعت کی طرف یعنی بضاعت بن جائے گا ”بِاشْتِرَاطِهِ لِرَبِّ الْمَالِ“ جب نفع کی شرط لگا دی جائے رب المال کے لیے، بات سمجھ میں آگئی۔
”وَهٰذَا الْعَقْدُ يُشْبِهُ الْمُضَارَبَةَ“ یہاں سے امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے قول کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے تھے اگر دونوں شریکوں کا مال برابر ہے تو نفع بھی برابر ہوگا، اگر آپ ایک کے لیے زائد نفع کی شرط لگا دیتے ہیں تو اس میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کی خرابی لازم آئے گی۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ جو شرکتِ عنان ہے اس کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی ہے اور اس کی مشابہت شرکتِ مفاوضہ کے ساتھ بھی ہے۔ بات کس کی چل رہی ہے؟ شرکتِ عنان کی، ہمارے نزدیک شرکتِ عنان میں نفع کی کمی بیشی مقرر کرنا جائز ہے۔ تو ہم کہتے ہیں یہ جو عنان ہے اس کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی ہے اور اس کی مشابہت شرکتِ مفاوضہ کے ساتھ بھی ہے۔ شرکتِ مفاوضہ، بھئی یہ شرکتِ عنان یہ بھی شرکت ہے اور مفاوضہ بھی کیا ہے؟ شرکت ہے، تو نام کے اعتبار سے بھی اس عنان کی مشابہت ہے مفاوضہ کے ساتھ۔ نام کے اعتبار سے بھی اس عنان کی مشابہت ہے مفاوضہ کے ساتھ، عنان بھی شرکت اور مفاوضہ بھی شرکت اور نیز مفاوضہ کے اندر جیسے دونوں شریک عمل کرتے ہیں، بھئی مضاربت کے اندر تو آپ نے پڑھ لیا مال ایک کا ہوتا ہے اور عمل دوسرے کا لیکن شرکت کے اندر تو دونوں عمل کرتے ہیں بھئی، دونوں شریک عمل کرتے ہیں دونوں تجارت کرتے ہیں تو یہ جو عنان ہے اس کی مشابہت ہے مفاوضہ کے ساتھ نام کے اعتبار سے بھی کہ دونوں کا نام شرکت ہے اور عمل کے اعتبار سے بھی کہ دونوں کے اندر دونوں شریک عمل کرتے ہیں۔ مفاوضہ کے اندر جیسے دونوں شریک عمل کرتے ہیں اسی طرح عنان کے اندر بھی دونوں شریک عمل کرتے ہیں۔ معلوم ہوا عنان کی مشابہت ہے مفاوضہ کے ساتھ نام کے اندر بھی اور دونوں کے عمل کرنے کے اندر بھی بھئی۔
اور نیز یہ جو عنان ہے اس کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی ہے۔ بھئی کس طرح مضاربت کے ساتھ اس کی مشابہت ہے؟ کہتے ہیں دیکھو مضاربت کے اندر جیسے مال ایک کا ہوتا ہے اور عمل دوسرے کا ہوتا ہے تو گویا وہ دوسرا پہلے شخص کے مال میں عمل کر رہا ہے، تو مضاربت میں ایک شخص دوسرے شخص کے مال میں عمل کرتا ہے۔ تو شرکت میں بھی اسی طرح ہے، شرکت کے اندر بھی دونوں شریک اپنا مال ملا دیتے ہیں اور پھر دونوں اس مال کے اندر تصرف کرتے ہیں تو ہر شریک اپنے مال میں بھی تصرف کر رہا ہے اور دوسرے شریک کے مال میں بھی تصرف کر رہا ہے کیونکہ ہر شریک دوسرے کا وکیل بھی ہے۔ تو جس طرح مضاربت کے اندر ایک شریک دوسرے کے مال میں عمل کرتا ہے اسی طرح شرکت کے اندر بھی دونوں شریک ایک دوسرے کے مال میں عمل کرتے ہیں کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہوتے ہیں۔ تو معلوم ہوا عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی ہے۔ تو عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی اور عنان کی مشابہت مفاوضہ کے ساتھ بھی ہے بھئی۔ تو ہم نے دونوں مشابہتوں پر عمل کیا اور کس طرح عمل کیا وہ آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی کہ یہ شرکتِ عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی ہے اور شرکتِ مفاوضہ کے ساتھ بھی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا الْعَقْدُ يُشْبِهُ الْمُضَارَبَةَ“ اور یہ عقدِ عنان جو ہے اس کی مشابہت مضاربت کے ساتھ ہے ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ يَعْمَلُ فِي مَالِ شَرِيكِهِ“ اس حیثیت سے کہ یہ عمل کرتا ہے اپنے شریک کے مال میں، جیسے مضاربت میں ایک شخص دوسرے کے مال میں عمل کرتا ہے اسی طرح یہاں شرکت کے اندر بھی دونوں شریک ایک دوسرے کے مال میں عمل کرتے ہیں۔ تو یہ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا الْعَقْدُ يُشْبِهُ الْمُضَارَبَةَ“ یہ عقد جو ہے مضاربت کے مشابہ ہے ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ يَعْمَلُ فِي مَالِ شَرِيكِهِ“ اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے اپنے شریک کے مال میں عمل کرتا ہے ”وَيُشْبِهُ الشَّرِكَةَ“ اور یہ عنان جو ہے شرکت کے بھی مشابہ ہے یعنی شرکتِ مفاوضہ کے بھی مشابہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُشْبِهُ الشَّرِكَةَ“ اور یہ عقدِ عنان جو ہے شرکت کے بھی مشابہ ہے ”اسْمًا وَعَمَلًا“ نام کے اعتبار سے اور عمل کے اعتبار سے۔ عنان بھی شرکت ہے اور نیز جیسے مفاوضہ میں دونوں عمل کرتے ہیں عنان میں بھی دونوں عمل کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُشْبِهُ الشَّرِكَةَ اسْمًا وَعَمَلًا“ اور یہ عنان جو ہے یہ شرکت کے بھی مشابہ ہے نام کے اعتبار سے اور عمل کے اعتبار سے ”فَإِنَّهُمَا يَعْمَلَانِ“ اس لیے کیونکہ دونوں عمل کرتے ہیں، اس لیے کیونکہ دونوں عمل کرتے ہیں۔ دیکھو یہ فا کا ترجمہ ”کیونکہ“ کے ساتھ کریں گے۔ آپ نے اصولِ فقہ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ یہ جو فا ہے یہ کبھی کبھار تعلیل کے لیے آتی ہے، تعلیل کا معنی ہے کسی چیز کی علت بیان کرنا، وجہ بیان کرنا۔ تو یہ فا تعلیل کے لیے آتی ہے، کبھی فا سے ماقبل معلول ہوتا ہے یعنی جس چیز کی علت بیان کی جارہی ہے اور فا کے بعد آگے اس کی علت بیان کی جاتی ہے اور کبھی اس کا برعکس ہوتا ہے فا سے پہلے علت بیان کی جاتی ہے اور فا کے بعد معلول بیان کیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو یہ عنان جو ہے یہ شرکت ہے نام کے اعتبار سے بھی اور عمل کے اعتبار سے بھی۔ بھئی عمل کے اعتبار سے یہ شرکت کیسے ہے؟ کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُمَا يَعْمَلَانِ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں عمل کرتے ہیں، دونوں شریک عمل کرتے ہیں۔ بھئی یاد رکھو، بھئی یاد رکھو یہ جو مضاربت ہے نا مضاربت کے اندر مال ایک کا ہوتا ہے اور عمل دوسرے کا ہوتا ہے۔ یاد رکھو مضاربت میں اگر رب المال کے عمل کی بھی شرط لگا دی جائے تو مضاربت ہی باطل ہے۔ مال زید کا ہے اور عمل عمرو کر رہا ہے پھر تو عقدِ مضاربت ٹھیک ہے، لیکن اگر عمرو نے شرط لگا دی کہ زید بھی میرے ساتھ کام کرے گا جو رب المال ہے تو یہ عقد جائز ہی نہیں بھئی، یہ عقد کیونکہ مضاربت جو ہے خلافِ قیاس حدیث سے ثابت ہے اور اس میں مال ایک کا ہوتا ہے اور عمل دوسرے کا۔ تو لہٰذا یہاں پر رب المال جو ہے وہ جو مال والا ہے اس کے عمل کی شرط نہیں لگائی جاسکتی، اگر اس کے عمل کی بھی شرط لگا دی کہ رب المال کو بھی میرے ساتھ کام کرنا پڑے گا، تجارت کرنا پڑے گی تو یہ عقدِ مضاربت ہی باطل ہے۔ تو مضاربت میں عمل ایک کا ہوتا ہے دوسرے کے عمل کی شرط نہیں لگائی جاسکتی اور شرکت کے اندر دونوں عمل کرتے ہیں۔ فرق سمجھ میں آرہا ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُمَا يَعْمَلَانِ“ اس لیے کیونکہ شرکت کے اندر دونوں عمل کرتے ہیں ”فَعَمِلْنَا بِشَبَهِ الْمُضَارَبَةِ“ اب بتلا رہے ہیں کہ ہم نے دونوں مشابہتوں پر عمل کیا، عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی اور عنان کی مشابہت مفاوضہ کے ساتھ بھی تو ہم نے دونوں مشابہتوں پر عمل کیا اور وہ اس طرح کہ عنان کی مشابہت ہے مضاربت کے ساتھ لہٰذا اس میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ بھی جائز ہوگا۔ بھئی آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ جائز نہیں ہے کیونکہ نفع جو ہوتا ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے، حدیث میں آیا ہے: ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ نقصان جو ہے وہ نفع کے بدلے ہوتا ہے، ایک شخص ایک چیز کا نقصان اٹھا رہا ہے تو وہ نفع بھی حاصل کرے گا اس کا، لیکن اگر ایک شخص پر ایک چیز کا ضمان نہیں آتا تو اس کے لیے اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں ہے۔ اور مضاربت کے اندر دیکھو مال ایک کا ہے عمل دوسرے کا ہے اور نفع میں دونوں شریک ہیں اور یاد رکھو مضاربت کے اندر اگر نقصان ہوا تو وہ سارا نقصان رب المال کا ہوگا۔ مضارب کا کوئی نقصان نہیں، جو عمل کر رہا ہے اس کا کوئی نقصان نہیں تو دیکھو مضاربت کے اندر مضارب پر مال کا ضمان تو نہیں آرہا لیکن وہ نفع کا مستحق بن رہا ہے اور ضمان کے بغیر نفع کا مستحق بننا تو جائز نہیں ہے، لیکن چونکہ مضاربت خلافِ قیاس حدیث سے ثابت ہے اس لیے اس لیے یہ جائز ہے اگرچہ اس میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کی خرابی لازم آتی ہے، قیاس تقاضا کرتا ہے اسے جائز نہیں ہونا چاہیے لیکن خلافِ قیاس مضاربت حدیث سے ثابت ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو بات چل رہی تھی کہ یہ جو عنان ہے اس کی مشابہت مضاربت کے ساتھ ہے اور مضاربت کے اندر تو رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ جائز ہے لہٰذا عنان کی جب مشابہت مضاربت کے ساتھ ہے تو شرکتِ عنان میں بھی رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ جائز ہوگا۔ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے تھے کہ دونوں شریکوں کا مال برابر ہو تو نفع بھی برابر ہوگا نفع میں کمی بیشی مقرر نہیں کی جاسکتی اس لیے کیونکہ اس صورت میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کی خرابی لازم آتی ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے اس کا جواب دیا کہ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ مضاربت میں جائز ہے اور عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ ہے لہٰذا عنان میں بھی رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ جائز ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ اور کس طرح رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم آتا ہے؟ وہ بھی پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ دیکھو دونوں کا مال پانچ پانچ لاکھ ہے اور نفع دونوں نے طے کیا کہ ایک کو ستر فیصد ملے گا اور ایک کو تیس فیصد، تو جس کو ستر فیصد مل رہا ہے تو بیس فیصد نفع اس کو زیادہ مل رہا ہے اور جبکہ اس پر مال کا ضمان جو ہے وہ پچاس فیصد کے اعتبار سے آرہا ہے، ستر فیصد کے اعتبار سے ضمان نہیں آرہا تو اس کو بیس فیصد نفع بغیر ضمان کے مل رہا ہے، اس کو کہتے ہیں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَعَمِلْنَا بِشَبَهِ الْمُضَارَبَةِ فِي تَجْوِيزِ التَّفَاضُلِ“ تو ہم نے عمل کیا مضاربت کی مشابہت پر نفع میں کمی بیشی کے جائز ہونے میں، یعنی جس طرح مضاربت میں نفع میں کمی بیشی جائز ہے اسی طرح عنان میں بھی کمی بیشی جائز ہوگی ”وَتَجْوِيزِ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ اور رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کے جائز ہونے میں، جس طرح مضاربت میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ جائز ہے اسی طرح عنان میں بھی رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ جائز ہوگا ”وَبِشَبَهِ الشَّرِكَةِ“ اور ہم نے عمل کیا شرکت کی مشابہت پر ”فِي جَوَازِ عَمَلِهِمَا“ دونوں کے عمل کے جائز ہونے میں، یعنی جس طرح مفاوضہ میں دونوں شریک عمل کرتے ہیں اسی طرح عنان میں بھی دونوں شریک عمل کریں گے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو احناف نے دونوں مشابہتوں کا لحاظ رکھا، عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ بھی رکھی اور عنان کی مشابہت مفاوضہ کے ساتھ بھی رکھی اور دونوں پر احناف نے عمل کیا۔
تو کہتے ہیں: ”فَعَمِلْنَا بِشَبَهِ الْمُضَارَبَةِ فِي تَجْوِيزِ التَّفَاضُلِ وَتَجْوِيزِ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ تو ہم نے عمل کیا مضاربت کی مشابہت پر نفع کے اندر کمی بیشی کے جائز ہونے میں اور رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کے جائز ہونے میں ”وَبِشَبَهِ الشَّرِكَةِ فِي جَوَازِ عَمَلِهِمَا“ اور ہم نے شرکت کی مشابہت پر عمل کیا دونوں کے عمل کے جائز ہونے میں ”تَحْقِيقًا لِلشَّبَهَيْنِ“ دونوں مشابہتوں کو ثابت کرنے کے لیے ”بِقَدْرِ الْإِمْكَانِ“ ممکنہ حد تک۔ یعنی جہاں تک ممکن ہوسکا ہم نے دونوں مشابہتوں کو ثابت کیا اور دونوں پر عمل کیا، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔
اب آگے دیکھیے: ”وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ“ اور خسارہ اور نقصان جو ہے وہ دونوں مالوں کے بقدر ہوگا، چاہے نفع جتنا بھی آپس میں طے کر لیں لیکن نقصان جو ہے وہ مال کے بقدر ہوگا ”أَبَدًا“ ہمیشہ، یعنی کسی صورت میں بھی نقصان مال کے بقدر سے زیادہ یا کم نہیں ہوگا، ہمیشہ نقصان مال کے بقدر ہی ہوگا۔ زید کا مال پانچ لاکھ ہے، عمرو کا مال پانچ لاکھ ہے تو نقصان دونوں کا پچاس پچاس فیصد ہوگا، چاہے نفع زید ستر فیصد لے رہا ہو اور عمرو تیس فیصد لے رہا ہو لیکن جب نقصان کی باری آئے گی تو دونوں پچاس پچاس فیصد کے اعتبار سے نقصان برداشت کریں گے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ أَبَدًا“ اور نقصان ہمیشہ دونوں مالوں کے بقدر ہوگا، اس کی دلیل کیا ہے؟ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوَضِيعَةَ اسْمٌ لِهَلَاكِ جُزْءٍ مِنَ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ نقصان جو ہے وہ مال کے ایک جز کے ہلاک ہونے کا نام ہے ”فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهِ“ تو لہٰذا وہ نقصان بھی مقدر ہوگا اسی مال کے بقدر، جب نقصان مال کے ایک حصے کے ہلاک ہونے کا نام ہے تو جس کا جتنا مال ہلاک ہوا ہے اس کا اتنا ہی نقصان ہوگا۔ زید کا مال پانچ لاکھ تھا اس میں سے ایک لاکھ ہلاک ہوگیا تو زید کا نقصان ایک لاکھ کا ہوا اور عمرو کا پانچ لاکھ تھا اس میں سے ایک لاکھ ہلاک ہوگیا تو عمرو کا نقصان بھی ایک لاکھ روپے کا ہوا، تو نقصان ہمیشہ مال کے بقدر ہی ہوگا، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوَضِيعَةَ اسْمٌ لِهَلَاكِ جُزْءٍ مِنَ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ نقصان جو ہے وہ مال کے ایک جز کے ہلاک ہونے کا نام ہے ”فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهِ“ تو لہٰذا وہ نقصان بھی مقدر ہوگا اسی مال کے بقدر۔
”وَالشَّرْطُ فِي حَقِّ الرِّبْحِ لَا يُوجِبُ زِيَادَةَ ضَمَانٍ“ اور یہ جو شرط ہے نفع کے حق میں، یعنی نفع میں جو ایک کے لیے زیادہ نفع کی شرط لگائی ہے ”لَا يُوجِبُ زِيَادَةَ ضَمَانٍ“ وہ زیادہ ضمان کو واجب نہیں کرتی۔ یہ صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی جب زید کے لیے زیادہ نفع کی شرط لگائی ہے تو زید کے اوپر نقصان بھی زیادہ آنا چاہیے، کیونکہ حدیث میں ہے: ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ کہ نفع ضمان کے بدلے ہوتا ہے تو جب نفع زید کو زیادہ مل رہا ہے تو زید کے اوپر ضمان بھی زیادہ آنا چاہیے، نقصان بھی زیادہ آنا چاہیے، تو اس کا جواب دیا کہ نہیں، نفع کی زیادتی کی شرط سے ضمان میں زیادتی لازم نہیں آتی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرْطُ فِي حَقِّ الرِّبْحِ لَا يُوجِبُ زِيَادَةَ ضَمَانٍ“ اور نفع کے حق میں جو شرط ہے وہ ضمان کی زیادتی کو واجب نہیں کرتی ”كَمَا فِي الْمُضَارَبَةِ“ جیسا کہ مضاربت کے اندر ہے کہ مضاربت میں سارا نقصان رب المال کا ہوتا ہے، مضارب کا کوئی نقصان نہیں ہوتا اگرچہ نفع دونوں میں تقسیم ہوتا ہے، تو دیکھو مضاربت کے اندر مضارب نفع کا مستحق بن رہا ہے لیکن اس پر کوئی ضمان نہیں آتا، اسی طرح یہاں پر بھی جس شریک کے لیے زیادہ نفع کی شرط لگائی ہے اس پر زیادہ نقصان نہیں آئے گا، نقصان مال ہی کے بقدر رہے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرْطُ فِي حَقِّ الرِّبْحِ لَا يُوجِبُ زِيَادَةَ ضَمَانٍ كَمَا فِي الْمُضَارَبَةِ“ اور نفع کے حق میں جو شرط ہے وہ ضمان کی زیادتی کو واجب نہیں کرتی جیسا کہ مضاربت کے اندر ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔
چلیے سبق یہیں پر موقوف کرتے ہیں۔ ”وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ“۔
صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ چونکہ اس عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ ہے اور مضاربت کے اندر تو ربح ما لم یضمن جائز ہے لہٰذا عنان کے اندر بھی ربح ما لم یضمن جائز ہوگا، تو کہتے ہیں:
”فَعَمِلْنَا بِشَبَهِ الْمُضَارَبَةِ“ تو ہم نے مضاربت کی مشابہت پر عمل کیا، ”وَقُلْنَا: يَصِحُّ اشْتِرَاطُ الرِّبْحِ مِنْ غَيْرِ ضَمَانٍ“ اور ہم نے کہا کہ اس کے اندر نفع کی شرط بغیر ضمان کے صحیح ہے، ”وَيُشْبِهُ الشَّرِكَةَ“ اور اس عنان کی مشابہت شرکت کے ساتھ بھی ہے، ”حَتَّى لَا يَبْطُلُ بِاشْتِرَاطِ الْعَمَلِ عَلَيْهِمَا“ یہاں تک کہ دونوں کے لیے عمل کی شرط لگانے سے یہ باطل نہیں ہوتا۔
بھئی، میں نے آپ کو ابھی بتلایا کہ مضاربت کے اندر مال ایک کا ہوتا ہے اور عمل دوسرے کا۔ اگر رب المال کے لیے بھی عمل کی شرط لگا دی جائے تو یہ عقدِ مضاربت ہی باطل ہے۔ توجہ ہے؟ اور شرکتِ عنان میں تو دونوں عمل کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس عنان کی مشابہت شرکتِ مفاوضہ کے ساتھ ہے اور مفاوضہ کے اندر تو دونوں عمل کرتے ہیں اس لیے ہم نے بھی کہا شرکتِ عنان کے اندر بھی دونوں عمل کریں گے۔ اگر اس بات کی طرف نظر کی جائے کہ یہ عنان کی مشابہت تو کس کے ساتھ ہے؟ مضاربت کے ساتھ، اور مضاربت میں تو دونوں کے عمل کی شرط لگائی جائے تو وہ عقد ہی باطل ہو جاتا ہے۔ اس عنان کی مشابہت ہے مضاربت کے ساتھ یہ تقاضا کر رہی ہے کہ دونوں کے عمل کی شرط لگائی جائے تو اس شرکتِ عنان کو باطل ہونا چاہیے کیونکہ اس کی مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ مضاربت کے ساتھ ہے اور مضاربت میں دونوں کے عمل کی شرط لگائی جائے تو وہ باطل ہوتا ہے لہٰذا یہ عنان میں بھی دونوں کے عمل کی شرط لگائی جائے تو اسے کیا ہونا چاہیے؟ باطل ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں ہم نے اس عنان کی مفاوضہ کے ساتھ مشابہت کا اعتبار کیا اور مفاوضہ کے اندر تو دونوں عمل کرتے ہیں اور ان کے دونوں کے عمل کی شرط لگانے سے بھی وہ عقد باطل نہیں ہوتا تو یہ عنان کے اندر بھی دونوں کے عمل کی شرط ہوگی اور پھر بھی یہ عقد باطل نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: ”فَعَمِلْنَا بِشَبَهِ الْمُضَارَبَةِ“ تو ہم نے مضاربت کی مشابہت پر عمل کیا، ”وَقُلْنَا: يَصِحُّ اشْتِرَاطُ الرِّبْحِ مِنْ غَيْرِ ضَمَانٍ“ اور ہم نے کہا کہ بغیر ضمان کے ہی نفع کی شرط صحیح ہے، ”وَيُشْبِهُ الشَّرِكَةَ“ اور یہ جو عنان ہے اس کی مشابہت شرکت کے ساتھ بھی ہے، ”حَتَّى لَا يَبْطُلُ بِاشْتِرَاطِ الْعَمَلِ عَلَيْهِمَا“ یہاں تک کہ یہ باطل نہیں ہوتا دونوں شریکوں کے لیے عمل کی شرط لگانے سے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اور یہاں یاد رکھنا ”حَتَّى لَا يَبْطُلُ“ یہ حتّٰی نصب نہیں دے گا کیونکہ یہ حتّٰی تفریع کے لیے ہے۔ حتّٰی تفریع کے لیے ہے کہ اس عنان کی مشابہت شرکت کے ساتھ ہے اسی لیے دونوں کے عمل کی شرط ہونے کے باوجود یہ عقد باطل نہیں ہوتا بھئی۔
یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے بھئی، اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں بتلایا کہ مضاربت خلافُ القیاس ہے کیونکہ مضاربت کے اندر ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے۔ جب مضاربت خلافُ القیاس ہے تو آپ عنان کو مضاربت والا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟ آپ نے ہمیں کیا کہا کہ عنان کی مشابہت ہے مضاربت کے ساتھ بھی اور مضاربت کے اندر ربح ما لم یضمن جائز ہے تو عنان کے اندر بھی ربح ما لم یضمن جائز ہوگا تو اعتراض ہوتا ہے کہ مضاربت تو آپ نے ہمیں بتلایا خلافُ القیاس ہے اور جو چیز خلافُ القیاس ہو اس کے ساتھ تو دوسری چیز کو نہیں ملایا جا سکتا، اس پر تو دوسری چیز کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ قیاس تو ان چیزوں پر کیا جاتا ہے جو قیاس کے مطابق ہوں یعنی جو ہماری عقل میں بات آتی ہے اور اگر ایک چیز کی وجہ ہماری عقل میں ہی نہیں آتی تو اس پر دوسری چیز کو آپ کیسے قیاس کر سکتے ہیں؟ بات سمجھ میں آگئی؟ تو اعتراض یہ ہوتا ہے کہ مضاربت کے اندر ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے معلوم ہوا مضاربت خلافُ القیاس حدیث سے ثابت ہے اور آپ نے کہا کہ یہ عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ ہے تو لہٰذا عنان کے اندر بھی ربح ما لم یضمن جائز ہوگا کیونکہ عنان کی مشابہت مضاربت کے ساتھ ہے۔ تو یہ اشکال یہاں ہوتا ہے کہ مضاربت خلافُ القیاس ہے تو عنان کو مضاربت پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟
تو اس کا جواب یاد رکھنا کہ یہاں پر عنان کو جو مضاربت پر قیاس کیا گیا اور مضاربت والا حکم عنان کو دیا گیا اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ جو مضاربت ہے اس کو بھی خلافُ القیاس قرار نہ دیا جائے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ہم یوں کہیں گے کہ مضاربت کے اندر رب المال جو ہے وہ نفع کا مستحق ہوتا ہے مال کی وجہ سے اور جو مضارب جو ہے وہ نفع کا مستحق بن رہا ہے اپنے عمل کی وجہ سے۔ مضارب نفع کا مستحق بن رہا ہے؟ اپنے عمل کی وجہ سے مستحق بن رہا ہے اور مضارب جب اپنے عمل کی وجہ سے نفع کا مستحق بن رہا ہے تو اب مضاربت خلافُ القیاس نہ رہا۔ مضاربت خلافُ القیاس اس لیے تھا نا کہ اگر نقصان ہو جائے تو نقصان صرف رب المال پر آئے گا، مضارب پر نہیں آئے گا اور نفع مضارب کو بھی مل رہا ہے تو یہ تو ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آ رہی ہے۔ تو جواب یہ کہ یہاں پر مضارب کو جو نفع مل رہا ہے وہ نفع نہیں ہے وہ دراصل اس کے کام کی اجرت ہے بھئی۔ لہٰذا مضاربت کے اندر ربح ما لم یضمن ہے ہی نہیں، معلوم ہوا یہ خلافُ القیاس نہیں ہے بلکہ قیاس کے مطابق ہے۔ جیسے آپ کسی کام کے لیے مزدور کو لاتے ہیں اور بعد میں وہ کام کرنے پر اس کو اجرت دیتے ہیں تو جیسے عمل کی وجہ سے مزدور جو ہے وہ اجرت کا مستحق بنتا ہے اسی طرح مضاربت کے اندر مضارب جو ہے وہ بھی عمل کرنے کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہو گیا ہے۔ معلوم ہوا مضاربت کے اندر مضارب کو جو نفع مل رہا ہے وہ خلافُ القیاس نہیں ہے وہ قیاس کے مطابق ہے۔ تو جب مضاربت قیاس کے مطابق ہے تو عنان کو بھی مضاربت پر قیاس کرنا صحیح ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے بھئی، ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَجُوزُ أَنْ يَعْقِدَهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِبَعْضِ مَالِهِ دُونَ الْبَعْضِ“ بھئی یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ شرکتِ عنان کے اندر دونوں کا سارے مال پر عقدِ شرکت ضروری نہیں ہے۔ دونوں شریکوں کا اپنے سارے مال پر عقدِ شرکت کرنا ضروری نہیں۔ مفاوضہ کے اندر تو ضروری تھا کہ دونوں شریکوں کا مال بھی برابر ہونا چاہیے اور دونوں اپنے سارے مال پر عقدِ شرکت کریں گے۔ چنانچہ آپ نے پڑھا تھا دونوں شریکوں میں سے اگر ایک شریک کو کچھ زائد مال کہیں سے مل گیا اور ایسا مال ملا جس میں شرکت ہو سکتی ہے یعنی درہم ملے یا دینار ملے یا فلوسِ نافقہ مل گئے بھئی، چاہے مثلاً وراثت کے طور پر اس کو مل گئے یا چاہے اس کو کسی نے ہبہ کر دیے یعنی تحفے کے طور پر دے دیے تو دونوں کا مال برابر نہ رہا تو وہ مفاوضہ باطل ہو جائے گا اور وہ عنان بن جائے گا۔ لیکن عنان کے اندر دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا ضروری نہیں اور نیز اس کے اندر یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اپنے سارے مال پر یہ عقدِ شرکت کریں بلکہ اپنے بعض مال پر بھی شرکت کر لیں تو یہ درست ہے۔ مثلاً زید کے پاس پچاس لاکھ مال ہے اور وہ صرف دس لاکھ پر کسی کے ساتھ شرکت کرتا ہے تو یہ صحیح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَجُوزُ أَنْ يَعْقِدَهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“ اور جائز ہے کہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ عقد کر لے ”بِبَعْضِ مَالِهِ دُونَ الْبَعْضِ“ اپنے بعض مال پر نہ کہ بعض پر، یعنی اپنے سارے مال پر عقد نہ کرے بلکہ بعض پر کرے یہ جائز ہے، ”لِأَنَّ الْمُسَاوَاةَ فِي الْمَالِ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ عنان کے اندر مال کے اندر برابری شرط نہیں ہے، ”إِذِ اللَّفْظُ لَا يَقْتَضِيهِ“ اس لیے کیونکہ عنان کا جو لفظ ہے وہ برابری کا تقاضا نہیں کرتا۔ عنان کا معنی تو ظاہر ہونے کے ہیں، اس میں برابری والا معنی نہیں ہے۔ کہتے ہیں: ”إِذِ اللَّفْظُ لَا يَقْتَضِيهِ“ اس لیے کیونکہ عنان کا جو لفظ ہے وہ برابری کا تقاضا نہیں کرتا، ”وَلَا يَصِحُّ إِلَّا بِمَا بَيَّنَّا“ اور یہ عنان صحیح نہیں ہے مگر انہی چیزوں کے ساتھ جن کو ہم نے بیان کر دیا۔ وہ جو پیچھے مفاوضہ میں بیان کیا تھا کہ شرکتِ مفاوضہ صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے تو کہتے ہیں عنان بھی صرف انہی چیزوں کے ساتھ جائز ہے۔ یا اسی طرح اگر سونے چاندی کے ٹکڑے جو ہیں ان میں لوگ باہم تجارت کرتے ہوں تو پھر ان میں بھی جائز ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَصِحُّ“ اور یہ عقدِ عنان صحیح نہیں ہے ”إِلَّا بِمَا بَيَّنَّا“ مگر ان چیزوں کے ساتھ جن کو ہم نے بیان کر دیا، ”أَنَّ الْمُفَاوَضَةَ تَصِحُّ بِهِ“ کہ ان کے ساتھ عقدِ مفاوضہ صحیح ہے ”لِلْوَجْهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا۔ یعنی جیسے شرکتِ مفاوضہ صرف ان چیزوں میں صحیح ہے جو تعین سے متعین نہیں ہوتیں اور وہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ ہیں اور جو چیزیں تعین سے متعین ہو جاتی ہیں یعنی سامان ہے یا مکیلات اور موزونات وغیرہ ان میں شرکتِ عنان بھی صحیح نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ پھر اگر سامان وغیرہ کے اندر بھی شرکت جائز ہو جائے تو پھر اس میں ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِلْوَجْهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ“ اسی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ اس صورت میں ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے۔
”وَيَجُوزُ أَنْ يَشْتَرِكَا وَمِنْ جِهَةِ أَحَدِهِمَا دَنَانِيرُ وَمِنَ الْآخَرِ دَرَاهِمُ“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ دونوں کا مال ایک جنس کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ ایک شریک کی طرف سے درہم ہیں دوسرے کی طرف سے دینار ہیں اور پھر وہ عقدِ شرکت کر لیتے ہیں تو یہ بھی جائز ہے۔ یا ایک کی طرف سے سفید درہم ہیں اور دوسرے کی طرف سے سیاہ درہم ہیں اور دونوں آپس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں تو یہ عقدِ شرکت بھی جائز ہے۔ جبکہ آپ کو آگے بتلائیں گے کہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ عقدِ شرکت میں دونوں مالوں کا ملانا ضروری ہے اور اس طرح ملایا جائے کہ پھر پہچان ہی نہ رہے کہ زید کا مال کون سا تھا اور عمرو کا مال کون سا تھا۔ اگر پہچان ہو رہی ہے تو بھی معلوم ہوا آپ نے تو مالوں کو ملا دیا لیکن یہ ملے ہی نہیں، جب ملے ہی نہیں تو شرکت بھی نہ آئی۔ مثلاً ایک کی طرف سے درہم ہیں، دوسرے کی طرف سے دینار ہیں، ان کو اگر آپ ملا بھی دیں پھر بھی درہم الگ ہیں دینار الگ ہیں، آپ آرام سے ان کو جدا کر سکتے ہیں تو گویا دونوں کے مال ملے ہی نہیں۔ جب ملے ہی نہیں تو شرکت بھی صحیح نہیں۔ یا اسی طرح وہ فرماتے ہیں ایک شریک کی طرف سے سفید درہم ہیں یعنی نئے اور چمکدار درہم ہیں اور دوسرے شریک کی طرف سے سیاہ درہم ہیں یعنی پرانے درہم ہیں، حتّٰی کہ دونوں کی الگ الگ پہچان ہو رہی ہے تو اگرچہ دونوں کو ملا دیا لیکن پھر بھی پہچان تو ہو رہی ہے کہ کون سے درہم زید کے ہیں اور کون سے عمرو کے ہیں، لہٰذا اس صورت میں بھی عقدِ شرکت صحیح نہیں امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک۔ جبکہ یاد رکھو عند الاحناف دونوں مالوں کی جنس الگ الگ ہو یا دونوں ایک دوسرے سے پہچانے جائیں پھر بھی عقدِ شرکت جائز ہے بلکہ ہمارے نزدیک، یعنی عند الاحناف دونوں مالوں کا ملانا بھی ضروری نہیں ہے۔ زید اپنا مال اپنے پاس رکھتا ہے، عمرو اپنا مال اپنے پاس رکھتا ہے لیکن آپس میں عقد کر لیتے ہیں کہ آج کے بعد ہم جو بھی بیع و شراء کریں گے شرکت کے ارادے سے تو اس کے اندر ہم دونوں شریک ہوں گے۔ تو دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا وکیل بنا دیا تو لہٰذا مال بے شک نہیں ملایا لیکن پھر بھی عقدِ شرکت صحیح ہے۔ زید تجارت کی نیت سے جو بھی چیز خریدے گا تو وہ نصف تصرف تو زید اپنے لیے کر رہا ہے اور نصف تصرف اپنے شریک کے لیے کر رہا ہے اس کی طرف سے وکیل ہو کر۔ تو جب نصف تصرف وہ اپنے شریک کی طرف سے کر رہا ہے تو اس کا ضمان بھی اس شریک پر آئے گا اور نیز جب ضمان اس شریک پر آ رہا ہے تو اس نفع کے اندر بھی وہ شریک ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں ”وَيَجُوزُ أَنْ يَشْتَرِكَا“ اور یہ جائز ہے کہ دونوں شریک ہو جائیں ”وَمِنْ جِهَةِ أَحَدِهِمَا دَنَانِيرُ“ اور دونوں میں سے ایک کی جانب سے دینار ہوں ”وَمِنَ الْآخَرِ دَرَاهِمُ“ اور دوسرے کی جانب سے درہم ہوں ”وَكَذَا مِنْ أَحَدِهِمَا دَرَاهِمُ بِيضٌ“ اور اسی طرح دونوں میں سے ایک کی جانب سے سفید درہم ہوں—بیض جمع ہے ابیض کی، اور ابیض کا کیا معنی؟ سفید، اور ابیض کون سا صیغہ ہے؟ ابیض یاد رکھو ابیض یہ صفتِ مشبہ ہے، بظاہر طلباء کو دھوکا لگتا ہے وہ سمجھتے ہیں شاید یہ اسمِ تفضیل ہے، اگر یہ اسمِ تفضیل ہوتا تو ابیض کا معنی ہوتا زیادہ سفید، حالانکہ ابیض کا معنی زیادہ سفید نہیں بلکہ سفید ہے۔ البتہ وزن اس کا وہی ہے جو اسمِ تفضیل کا ہے، اسمِ تفضیل کا وزن بھی ”أَفْعَلُ“ اور اس صفتِ مشبہ کا وزن بھی ”أَفْعَلُ“ ہے۔ تو یہ جو ”أَفْعَلُ“ ہے اس کو افعلِ صفتی کہتے ہیں یعنی یہ صفتِ مشبہ ہے، صفت والا ”أَفْعَلُ“ ہے بھئی تفضیل والا ”أَفْعَلُ“ نہیں ہے بھئی۔ تو یہ بیض جمع ہے ابیض کی—تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا مِنْ أَحَدِهِمَا دَرَاهِمُ بِيضٌ“ اور اسی طرح ہے حکم جب دونوں میں سے ایک کی طرف سے سفید درہم ہوں ”وَمِنَ الْآخَرِ سُودٌ“ اور دوسرے کی طرف سے سیاہ درہم ہوں، سود جمع ہے اسود کی۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو افعلِ صفتی کی جمع آتی ہے ”فُعْلٌ“ وزن پر۔ افعلِ صفتی کی جمع ”فُعْلٌ“ وزن پر آتی ہے تو اسود کی جمع سود۔ اسی طرح ابیض جو ہے ابیض اس کی جمع بھی ”فُعْلٌ“ آنی چاہیے تھی، با پر پیش ہونی چاہیے تھی، بُیْضٌ، لیکن وہاں یا کی وجہ سے ماقبل با کو کسرہ دے دیا گیا تو وہ کیا بن گیا؟ بیض، ورنہ اصل اس جمع کا وزن ”فُعْلٌ“ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَكَذَا مِنْ أَحَدِهِمَا دَرَاهِمُ بِيضٌ وَمِنَ الْآخَرِ سُودٌ“ اور اسی طرح ہے جب دونوں میں سے ایک کی طرف سے سفید درہم ہوں اور دوسرے کی طرف سے سیاہ درہم، ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ“ اور امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں، یعنی اگر دونوں کے مال کی جنس الگ ہے، ایک کی طرف سے درہم ایک کی طرف سے دینار، یا دونوں کی صفت الگ ہے کہ وہ پہچان ہوتی ہے ایک کے درہم سفید ہیں ایک کے درہم سیاہ رنگ کے ہیں تو یہ شرکت جائز نہیں کیونکہ ان کے نزدیک مال کا ملانا اس طریقے پر کہ پہچان ہی نہ ہو سکے کون سا مال کس کا ہے یہ ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ“ اور امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہے، ”وَهَذَا بِنَاءٌ عَلَى اشْتِرَاطِ الْخَلْطِ وَعَدَمِهِ“ اور یہ ملانے اور نہ ملانے کی شرط لگانے کی وجہ سے ہے کہ ان کے نزدیک دونوں مالوں کا ملانا شرط ہے کہ پہچان ہی نہ ہو سکے اور عند الاحناف یہ شرط نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ جو اختلاف ہے ”بِنَاءٌ عَلَى اشْتِرَاطِ الْخَلْطِ وَعَدَمِهِ“ یہ بنا بر خلط اور عدمِ خلط کی شرط پر ہے، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر ذرا ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَهَذَا“ اور یہ جو اختلاف ہے ”بِنَاءٌ عَلَى اشْتِرَاطِ الْخَلْطِ وَعَدَمِهِ“ یہ ملانے اور نہ ملانے کے شرط ہونے کی بنا پر ہے، یہ اختلاف ملانے اور نہ ملانے کے شرط ہونے کی بنا پر ہے، ”فَإِنَّ عِنْدَهُمَا شَرْطٌ“ بھئی آپ کی کتاب میں بھی عبارت اسی طرح ہے؟ ”فَإِنَّ عِنْدَهُمَا شَرْطٌ“ یاد رکھو یہ عبارت درست نہیں ہے بھئی، یہ ”إِنَّ“ کے ساتھ ہا ضمیر بھی ہونی چاہیے: ”فَإِنَّهُ عِنْدَهُمَا شَرْطٌ“، توجہ ہے؟ ”فَإِنَّهُ“ اور ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں ہا ضمیر موجود ہے اور وہی درست عبارت ہے، وجہ یہ کہ ”إِنَّ“ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور یہاں ایک تو بات پوری نہیں بنتی ”فَإِنَّ عِنْدَهُمَا شَرْطٌ“ اور اگر بات پوری بھی ہوتی تو پھر یہ ”شَرْطًا“ ہونا چاہیے تھا بھئی، تو یہاں ہدایہ کے دیگر نسخوں میں ”فَإِنَّهُ“ ہے بھئی اور وہی صحیح عبارت ہے۔ کہتے ہیں ”فَإِنَّهُ عِنْدَهُمَا شَرْطٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ملانا یہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک شرط ہے، ”وَلَا يَتَحَقَّقُ ذَلِكَ فِي مُخْتَلِفَيِ الْجِنْسِ“ اصل میں تھا ”مُخْتَلِفَيْنِ“ پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَتَحَقَّقُ ذَلِكَ فِي مُخْتَلِفَيِ الْجِنْسِ“ اور یہ پایا نہیں جا سکتا دو مختلف جنسوں میں۔ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک دونوں مالوں کا ملانا شرط ہے اور جب دونوں کی جنس ہی الگ ہو یا دونوں کی صفت الگ ہو تو ملا بھی دیں پھر بھی ملنا تو نہ پایا گیا، پہچان تو ہو رہی ہے کہ درہم کس کے ہیں اور دینار کس کے ہیں، یا سفید درہم کس کے ہیں اور سیاہ درہم کس کے ہیں وہ پہچان ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ ملانا شرط ہے ”وَلَا يَتَحَقَّقُ ذَلِكَ فِي مُخْتَلِفَيِ الْجِنْسِ“ اور دو مختلف جنسوں کے اندر یہ پایا نہیں جا سکتا یعنی ملنا نہیں پایا جا سکتا، ”وَسَنُبَيِّنُهُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور عنقریب ہم اس کو بعد میں ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔ ایک صفحے کے بعد آگے پھر صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرمائیں گے کہ ہمارے نزدیک مال کا ملانا شرط نہیں اور امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک مال کا ملانا شرط ہے۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَا اشْتَرَاهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِلشَّرِكَةِ طُولِبَ بِثَمَنِهِ دُونَ الْآخَرِ“ بھئی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ شرکتِ عنان کے اندر دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل تو ہوتے ہیں، کفیل نہیں ہوتے۔ جب دونوں ایک دوسرے کے کفیل نہیں ہیں تو دونوں شریکوں میں سے ایک جو ہے کوئی چیز خریدے گا تو ثمن کا مطالبہ اسی سے ہو سکتا ہے جس نے عقد کیا ہے، اس کے دوسرے شریک سے ثمن کا مطالبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس کا کفیل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا اشْتَرَاهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“ اور دونوں شریکوں میں سے ہر ایک جو چیز بھی خریدے گا ”لِلشَّرِكَةِ“ شرکت کے لیے ”طُولِبَ بِثَمَنِهِ“ تو اسی سے اس کے ثمن کا مطالبہ کیا جائے گا ”دُونَ الْآخَرِ“ نہ کہ دوسرے سے، دوسرے شریک سے ثمن کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، ”لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ يَتَضَمَّنُ الْوَكَالَةَ دُونَ الْكَفَالَةِ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ عقدِ عنان جو ہے یہ وکالت کو متضمن ہے کفالت کو متضمن نہیں ہے، ”وَالْوَكِيلُ هُوَ الْأَصْلُ فِي الْحُقُوقِ“ اور وکیل جو ہے وہی اصل ہوتا ہے حقوق کے اندر۔ یاد رکھو بیع و شراء کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے ہی ہوتا ہے۔ میں نے ایک آدمی سے کہا کہ جاؤ جا کر میرے لیے گاڑی خرید لاؤ، تو یہ وکیل گیا اور کہیں اس نے گاڑی خرید لی، تو یاد رکھو یہ جو خریداری والا فعل ہے وکیل نے کیا ہے لہٰذا گاڑی کا مطالبہ کرنا بائع سے یہ بھی اس وکیل ہی کا حق ہے میرا حق نہیں، موکل جا کر اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اگر میں بائع کے پاس چلا بھی جاؤں اور کہوں کہ بھئی آپ سے فلاں نے گاڑی خریدی تھی وہ میرا وکیل تھا وہ گاڑی اب لاؤ میرے حوالے کر دو، تو بائع مجھے جواب میں کہے گا بھئی میں آپ کو نہیں جانتا، میرا معاملہ تو فلاں آدمی کے ساتھ ہے، وہ جو وکیل ہے وہ خود آئے میں گاڑی اس کے حوالے کر دوں گا۔ اور نیز اسی طرح میرے وکیل نے بیع و شراء والا فعل کیا ہے لہٰذا ثمن کا مطالبہ بھی میرے وکیل سے ہی کیا جائے گا، مجھ سے آ کر یعنی موکل سے آ کر ثمن کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بیع و شراء کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْوَكِيلُ هُوَ الْأَصْلُ فِي الْحُقُوقِ“ اور وکیل جو ہے وہ حقوقِ عقد کے اندر اصل ہوتا ہے یعنی اسی سے مطالبہ ہوتا ہے اور وہی مطالبہ کرتا ہے۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يَرْجِعُ عَلَى شَرِيكِهِ بِحِصَّتِهِ مِنْهُ“ پھر وہ مشتری جو ہے اپنے شریک پر رجوع کرے گا ”بِحِصَّتِهِ“ اس کا جو حصہ بنتا ہے، اس شریک کا جو حصہ بنتا ہے اس میں اس شریک پر رجوع کرے گا ”مِنْهُ“ اس ثمن میں سے۔ بھئی دونوں شریکوں میں سے ایک نے کوئی چیز خرید لی ہے تو ثمن تو یہی ادا کرے گا۔ یہ جو مشتری ہے جس نے چیز خریدی ہے لیکن یہ چیز اس نے شرکت کے طریقے پر خریدی ہے تو اپنے شریک پر ثمن کے اندر جتنا اس شریک کا حصہ بنتا ہے اس پر رجوع کرے گا۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يَرْجِعُ عَلَى شَرِيكِهِ بِحِصَّتِهِ مِنْهُ“ پھر یہ جو مشتری ہے یہ اپنے شریک پر رجوع کرے گا ”بِحِصَّتِهِ“ جو اس شریک کا حصہ ہے ”مِنْهُ“ اس ثمن میں سے، اس ثمن میں سے جتنا شریک کا حصہ بنتا ہے اس میں اس پر رجوع کرے گا۔ ”مَعْنَاهُ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ متن کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ متن کے اندر کیا آیا؟ دونوں شریکوں میں سے ایک نے کوئی چیز خریدی ہے تو وہ اپنے شریک پر اس کے حصے کے بقدر ثمن میں رجوع کرے گا۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں یہ رجوع اس صورت میں کرے گا جب اس مشتری نے اپنے مال سے ادائیگی کی ہو۔ اگر اس نے مالِ مشترکہ میں سے ادائیگی کی ہے پھر تو رجوع نہیں کرے گا کیونکہ مشترکہ مال کے اندر تو شریک کا بھی حصہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”مَعْنَاهُ“ معنی اس کا یہ ہے ”إِذَا أَدَّى مِنْ مَالِ نَفْسِهِ“ جب اس مشتری نے اپنے ذاتی مال میں سے ادائیگی کی ہو، ”لِأَنَّهُ وَكِيلٌ مِنْ جِهَتِهِ فِي حِصَّتِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مشتری جو ہے یہ وکیل ہے ”مِنْ جِهَتِهِ“ اپنے شریک کی جانب سے ”فِي حِصَّتِهِ“ اس کے حصے میں۔ یہ جو مشتری ہے اس نے یہ مثلاً گاڑی خریدی ہے تو صرف اپنے لیے خریدی ہے یا اپنے شریک کے لیے بھی خریدی ہے؟ اپنے شریک کے لیے بھی خریدی ہے کیونکہ یہ اس کے حصے میں اس کی طرف سے وکیل ہے بھئی، دونوں نے عقد کیا ہے دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہیں۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ وَكِيلٌ مِنْ جِهَتِهِ فِي حِصَّتِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مشتری جو ہے اپنے شریک کی طرف سے وکیل ہے اس کے حصے میں، ”فَإِذَا نَقَدَ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ رَجَعَ عَلَيْهِ“ تو جب اس مشتری نے اپنے ذاتی مال میں سے ادائیگی کی ہے تو اپنے شریک پر رجوع کرے گا۔
”فَإِنْ كَانَ لَا يُعْرَفُ ذَلِكَ إِلَّا بِقَوْلِهِ“ اور اگر اس کو نہیں جانا جاتا مگر اس کے قول کے ذریعے ہی، مشتری کے صرف قول سے ہی خریدنے کا اور ادائیگی کا پتہ چل رہا ہے اور کسی چیز سے پتہ نہیں چل رہا، مثلاً زید عمرو کے پاس آیا کہ بھئی میں نے ایک غلام خریدا تھا شرکت کے لیے لیکن وہ غلام تو ہلاک ہو گیا مر گیا، تو اب آپ کے حصے میں نصف ثمن بنتے ہیں وہ مجھے ادا کریں۔ تو زید خریدنے کو اور ادائیگی کو ذکر کر رہا ہے اور کوئی دلیل وغیرہ وہاں موجود نہیں تو اس صورت میں اگر شریک بھی یہ بات تسلیم کر لیتا ہے پھر تو کوئی اشکال نہیں وہ اپنے حصے کے ثمن ادا کرے گا، لیکن اگر شریک اس کا انکار کر رہا ہے کہ نہیں مجھے یقین نہیں آتا کہ تم نے کوئی غلام خریدا ہے شرکت کے ارادے سے تو پھر اس صورت میں زید کے ذمے بینہ لازم ہوگا کہ وہ گواہ پیش کرے کیونکہ آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ“ تو زید جب دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نے غلام شرکت کے ارادے سے خریدا تھا اور وہ ہلاک ہو گیا ہے تو اب زید پر بینہ پیش کرنا یعنی دو گواہ پیش کرنا ضروری ہے اور اگر زید دو گواہ پیش نہ کر سکا تو پھر عمرو کا قول معتبر ہوگا کیونکہ عمرو منکر ہے اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ قول منکر کا معتبر ہوتا ہے قسم کے ساتھ بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانَ لَا يُعْرَفُ ذَلِكَ إِلَّا بِقَوْلِهِ“ اور اگر یہ خریدنے کا اور ادائیگی کا پتہ نہیں چلتا مگر اس خریدنے والے کے قول سے ہی ”فَعَلَيْهِ الْحُجَّةُ“ تو اس پر حجت یعنی بینہ کا پیش کرنا لازم ہے ”لِأَنَّهُ يَدَّعِي وُجُوبَ الْمَالِ فِي ذِمَّةِ الْآخَرِ“ اس لیے کیونکہ یہ مشتری جو ہے یہ مال کے وجوب کا دعویٰ کر رہا ہے دوسرے شریک کے ذمے میں ”وَهُوَ يُنْكِرُ“ اس حال میں کہ دوسرا شریک اس کا انکار کر رہا ہے ”وَالْقَوْلُ لِلْمُنْكِرِ مَعَ يَمِينِهِ“ اور قول جو ہے وہ منکر کا معتبر ہوتا ہے ساتھ اس کی قسم کے۔ تو اگر دوسرا شریک ویسے ہی تسلیم کر لیتا ہے پھر تو اشکال ہی کوئی نہیں، اشکال صرف اس صورت میں بنتا ہے جب دوسرا شریک اس خریدنے کا انکار کرے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَإِذَا هَلَكَ مَالُ الشَّرِكَةِ أَوْ أَحَدُ الْمَالَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَشْتَرِيَا شَيْئًا بَطَلَتِ الشَّرِكَةُ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ اگر دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا لیکن تجارت شروع کرنے سے پہلے ہی، کوئی چیز خریدنے سے پہلے ہی دونوں کا مالِ شرکت ہلاک ہو گیا یا دونوں میں سے ایک کا مالِ شرکت ہلاک ہو گیا تو اس صورت میں یہ شرکت ہی باطل ہو جائے گی۔ کیونکہ عقد کس پر کیا تھا؟ اس مال پر، جب وہ مال ہی نہ رہا تو شرکت بھی نہ رہی۔ جیسے بیع کس کی کی جاتی ہے؟ مبیع کی، اور مبیع ہی ہلاک ہو جائے سپرد کرنے سے پہلے تو بیع ہی باطل ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا هَلَكَ مَالُ الشَّرِكَةِ أَوْ أَحَدُ الْمَالَيْنِ“ جب مالِ شرکت ہلاک ہو جائے یا دونوں مالوں میں سے کوئی ایک ہلاک ہو جائے ”قَبْلَ أَنْ يَشْتَرِيَا شَيْئًا“ قبل اس کے کہ دونوں خریدیں کوئی چیز ”بَطَلَتِ الشَّرِكَةُ“ تو شرکت باطل ہوگی، ”لِأَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ فِي عَقْدِ الشَّرِكَةِ الْمَالُ“ اس لیے کیونکہ عقدِ شرکت کے اندر جو معقود علیہ ہے ”الْمَالُ“ وہ مال ہے۔ عقدِ شرکت میں معقود علیہ مال ہے اس پر عقد کیا ہے، تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ فِي عَقْدِ الشَّرِكَةِ الْمَالُ“ اس لیے کیونکہ عقدِ شرکت کے اندر جو معقود علیہ ہے یعنی وہ چیز جس پر عقد کیا گیا ہے وہ مال ہے ”فَإِنَّهُ يَتَعَيَّنُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو مال ہے یہ عقدِ شرکت میں متعین ہو جاتا ہے ”كَمَا فِي الْهِبَةِ وَالْوَصِيَّةِ“ جیسے کہ ہبہ اور وصیت کے اندر ہے۔ بھئی ابھی تک آپ نے یہ پڑھا تھا کہ یہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ یہ تعین سے متعین نہیں ہوتے لیکن یاد رکھو بعض اوقات یہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں جیسے درہم اور دینار پر عقدِ شرکت کیا جائے یا ہبہ کیا جائے یا ان کی وصیت کی جائے۔ کس طرح؟ دیکھیے بھئی: مثلاً زید نے اور عمرو نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا، زید بھی پانچ لاکھ روپے لے آیا، عمرو بھی پانچ لاکھ روپے لے آیا اور دونوں نے ان کو ملا دیا تو اب دیکھو یہ جو مال ہے اس مال پر عقدِ شرکت ہوا ہے، یہ مال متعین ہے، یہ مال موجود ہے تو عقدِ شرکت بھی ٹھیک ہے، اور اگر یہ مال کوئی چوری کر کے لے گیا یا یہ دریا میں گر گیا ڈوب گیا تو اس صورت کے اندر جب مال ہلاک معقود علیہ ہلاک تو عقد بھی ختم ہو جائے گا۔ معلوم ہوا شرکت کے اندر مال متعین ہوتا ہے۔ یہ تو وہ صورت تھی جب دونوں نے مال کو آپس میں ملا لیا، اگر دونوں نے مال کو آپس میں ملایا نہیں تھا اور اس سے پہلے ہی ایک کا مال ہلاک ہو گیا تو اس صورت میں بھی عقدِ شرکت باطل ہو جائے گا۔ مثلاً زید، زید نے پانچ لاکھ الگ کر لیے، عمرو نے بھی اپنے پانچ لاکھ الگ کر لیے کہ اس پر ہم دونوں عقدِ شرکت کریں گے اور دونوں نے عقد کر لیا آپس میں لیکن اسی رات عمرو کے پاس سے اس کا مال کوئی چوری کر کے لے گیا تو دیکھو وہ مال ہی باقی نہ رہا جس پر عمرو نے عقدِ شرکت کیا تھا لہٰذا اس صورت میں بھی عقدِ شرکت باطل ہو جائے گا۔ یہ تو وہ صورت تھی کہ عمرو کے اپنے پاس سے ہی اس کا وہ مالِ شرکت چوری ہو گیا، دوسری صورت یہ ہے کہ عمرو نے اپنا مال زید کو دے دیا لیکن زید نے ابھی دونوں مالوں کو ملایا نہیں تو یہ عمرو کا مال زید کے پاس بطورِ امانت کے موجود ہے اور وہ اس کے ساتھ اپنا مال بھی ملائے گا لیکن اپنا مال ملانے سے پہلے ہی عمرو کا مال کوئی زید سے چرا کر لے گیا تو اس صورت میں بھی عقدِ شرکت باطل ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ کیونکہ ویسے تو مال متعین نہیں ہوتا لیکن جب کسی کو بطورِ امانت کے مال دے دیا جائے یا شرکت کے لیے متعین کر لیا جائے تو پھر وہ مال تعین سے متعین ہو جاتا ہے، تو جب تک وہ مال ہے عقدِ شرکت بھی ہے اور دونوں مال یا دونوں میں سے ایک کا مال ضائع ہو گیا تو عقدِ شرکت بھی باطل ہوگا بھئی۔
اسی طرح یاد رکھو ویسے تو درہم اور دینار متعین نہیں ہوتے لیکن ہبہ کے اندر جو ہے درہم دینار متعین ہو جاتے ہیں۔ مثلاً میرے سامنے سو درہم پڑے ہوئے ہیں میں نے کہا یہ جو سو درہم ہیں یہ میں نے زید کو ہبہ کر دیے، یہ سو درہم میں نے زید کو ہبہ کر دیے یا میں زید سے کہتا ہوں کہ یہ درہم میں نے تمہیں دے دیے یہ درہم لے جاؤ، زید نے ابھی یہ درہم نہیں اٹھائے تھے کہ یہ درہم دریا میں گرے اور ڈوب گئے تو اب دیکھو معلوم ہوا ہبہ باطل ہو گیا۔ ہبہ کیا ہوا؟ باطل ہو گیا کیونکہ یہی درہم تو میں نے ہبہ کیے تھے اور ہبہ کے اندر بھی درہم کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں، تو جب موہوب ہی باقی نہ رہا تو ہبہ بھی باقی نہ رہا بھئی۔
اسی طرح وصیت کے اندر دیکھ لیں بھئی، مثلاً ایک تو صورت یہ ہے کہ زید وصیت کرتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد دس لاکھ روپے عمرو کو دے دینا، اب دیکھو زید نے مال متعین نہیں کیا، مطلقاً کہا ہے میرے مال میں سے دس لاکھ عمرو کو دے دینا، توجہ ہے؟ تو اس صورت میں تو زید کے مرنے کے بعد زید کے مال میں سے ثلث کے اندر یہ وصیت نافذ کی جائے گی بھئی، لیکن اگر زید روپے یا درہم سامنے رکھ کر کہتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ والا جو مال ہے یہ عمرو کو دے دینا، یہ والا مال، یہ والے درہم اور دینار عمرو کو دے دینا تو یاد رکھو اس صورت میں اشارہ کرنے سے یہ مال متعین ہو گیا وصیت کے لیے۔ اب یہی مال زید کے مرنے کے بعد عمرو کو ملے گا، لیکن اگر یہ مالِ وصیت ہلاک ہو گیا اس کو کوئی چوری کر کے لے گیا یا یہ جل گیا یا یہ دریا میں گر کر ڈوب گیا تو ان تمام صورتوں کے اندر وصیت باطل ہو جائے گی کیونکہ وصیت اس مال کی کی تھی جب یہ مال ہی نہ رہا تو وصیت بھی باقی نہ رہے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا بعض اوقات مال یعنی درہم اور دینار وغیرہ وہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ فِي عَقْدِ الشَّرِكَةِ الْمَالُ“ اس لیے کیونکہ عقدِ شرکت کے اندر وہ چیز جس پر عقد کیا گیا ہے وہ مال ہے ”فَإِنَّهُ يَتَعَيَّنُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ مال جو ہے وہ شرکت کے اندر متعین ہو جاتا ہے ”كَمَا فِي الْهِبَةِ وَالْوَصِيَّةِ“ جیسے کہ ہبہ اور وصیت کے اندر کہ اس میں بھی مال متعین ہو جاتا ہے ”وَبِهَلَاكِ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ يَبْطُلُ الْعَقْدُ“ اور معقود علیہ کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے عقد باطل ہو جاتا ہے ”كَمَا فِي الْبَيْعِ“ جیسے کہ بیع کے اندر ہے۔ بیع کس چیز کی کی جاتی ہے؟ مبیع کی، تو مبیع معقود علیہ ہے اور معقود علیہ ہلاک ہو جائے سپرد کرنے سے پہلے تو عقد ہی باطل ہو جاتا ہے، تو مبیع ہلاک ہو جائے سپرد کرنے سے پہلے تو بیع ہی باطل ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَبِهَلَاكِ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ يَبْطُلُ الْعَقْدُ كَمَا فِي الْبَيْعِ“ اور معقود علیہ کے ہلاک ہونے کی وجہ سے عقد باطل ہو جاتا ہے جیسے کہ بیع کے اندر ہے ”بِخِلَافِ الْمُضَارَبَةِ وَالْوَكَالَةِ الْمُفْرَدَةِ“ بخلاف مضاربت کے اور وکالتِ مفردہ کے ”لِأَنَّهُ لَا يَتَعَيَّنُ الثَّمَنَانِ فِيهِمَا بِالتَّعْيِينِ“ کیونکہ ان کے اندر ثمن جو ہیں وہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے یعنی درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے ”وَإِنَّمَا يَتَعَيَّنَانِ بِالْقَبْضِ عَلَى مَا عُرِفَ“ اور یہ درہم اور دینار ان میں متعین ہوتے ہیں قبضے کی وجہ سے اس وجہ سے جو جانا گیا ہے۔ بھئی دیکھیے یاد رکھو، یہ جو مضاربت ہے اور وکالتِ مفردہ، وکالتِ مفردہ کے ذریعے دراصل احتراز کیا وہ وکالت جو شرکت میں یا رہن کے اندر آتی ہے۔ بھئی دو آدمی آپس میں عقد کر لیتے ہیں...
آپس میں عقدِ شرکت کرتے ہیں، تو عقدِ شرکت کے اندر یہ ضروری نہیں کہ وہ وکالت کو الگ سے ذکر کریں۔ جب آپس میں کہہ دیا ہم دونوں نے عقدِ شرکت کر لیا، تو اس کے ضمن میں خود بخود وکالت آ جائے گی، دونوں ایک دوسرے کے وکیل بن جائیں گے۔ کیونکہ جب دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہیں، تب ہی ایک دوسرے پر ثمن کا ضمان بھی آئے گا اور پھر اسی کی وجہ سے نفع کے اندر بھی شرکت آئے گی۔ تو جب بھی عقدِ شرکت کیا جائے گا، اس میں وکالت کو ذکر کریں یا نہ کریں، خود بخود ضمناً وکالت ثابت ہو جائے گی، اور اسی طرح یاد رکھو جب کسی کے پاس آپ کوئی چیز رہن رکھواتے ہیں، آپ کو قرض کی ضرورت تھی، آپ زید کے پاس چلے گئے کہ مجھے دس لاکھ روپے قرض چاہیے، تو زید آپ سے کہتا ہے کوئی چیز میرے پاس بطورِ رہن کے رکھواؤ، تو آپ اپنی گاڑی زید کے پاس بطورِ رہن کے رکھوا دیتے ہیں، تو زید آپ کو قرض دے دیتا ہے۔ یاد رکھو رہن کے ضمن میں بھی وکالت آ جاتی ہے۔ آپ نے اپنی یہ جو گاڑی زید کے پاس بطورِ رہن کے رکھوائی ہے، یہ کس لیے رکھوائی ہے؟ اعتماد کے لیے کہ اگر میں آپ کا دین ادا نہ کر سکا تو پھر آپ اس گاڑی کو بیچ کر اپنا دین وصول کر لینا۔ تو جب آپ کسی کے پاس اپنا مال رہن رکھواتے ہیں، گویا آپ نے اس کو وکیل بنا دیا کہ اگر میں آپ کا دین ادا نہ کر سکا، مثلاً میری موت آ گئی تو تم میرا یہ مال بیچ کر اپنا دین وصول کر لینا اور باقی مال جو ہے میرے وارثوں کے سپرد کر دینا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا شرکت کے اندر بھی ضمناً ہر ایک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے، اسی طرح رہن کے اندر بھی مرتہن جو ہے وہ راہن کی طرف سے وکیل ہوتا ہے۔ وہاں ذکر نہیں کیا جاتا، لیکن جب رہن رکھوایا ہے تو معنی یہی ہے کہ اس نے دوسرے کو وکیل بنا دیا ہے کہ آپ اس مال کو بیچ کر اپنا دین وصول کر سکتے ہیں اگر میں دین ادا نہ کر سکا۔
تو لہٰذا یہ تو تھی وکالت ضمناً جو شرکت میں آتی ہے یا رہن کے اندر آتی ہے، اور ایک ہے وکالتِ مفردہ، الگ وکالت۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ جاؤ بھئی جا کر میرے لیے ایک گاڑی خرید کر لے آؤ، تو یہ ہے وکالتِ مفردہ۔ یہ شرکت کے ضمن میں نہیں آ رہی، یہ رہن کے ضمن میں نہیں آ رہی، بلکہ باقاعدہ الگ سے میں آپ کو ایک کام میں اپنا وکیل بنا رہا ہوں۔ تو یہاں بات چل رہی ہے مضاربت کی اور وکالتِ مفردہ کی بھئی۔ یاد رکھو یہ جو مضاربت اور وکالتِ مفردہ ہے، ان کے اندر قبضے سے پہلے مال متعین نہیں، ہاں قبضے کے بعد مال متعین ہو جاتا ہے۔ مثلاً زید عمرو کے ساتھ عقدِ مضاربت کر لیتا ہے کہ مال زید کا ہوگا اور عمل جو ہے وہ عمرو کرے گا اور نفع آپس میں تقسیم کریں گے۔ تو زید کے پاس دس لاکھ روپے تھے جو اس نے عقدِ مضاربت کے لیے رکھے ہوئے تھے۔ ابھی اس نے وہ عمرو کے حوالے نہیں کیے، زید کے پاس ہی وہ مال ہلاک ہو گیا، تو زید کے پاس مال ہلاک ہونے سے عقدِ مضاربت باطل نہیں ہوگا، کیونکہ عقدِ مضاربت میں قبضے سے پہلے مال متعین ہی نہیں ہے بھئی۔ یوں سمجھا جائے گا زید کا ویسے دس لاکھ مال ہلاک ہو گیا، مضاربت کا مال ابھی بھی اس کے ذمے ہے، الّا یہ کہ زید خود عمرو کو منع کر دے بھئی۔ ہاں جب مضارب اس مال پر قبضہ کر لے گا، پھر اب مال متعین ہو گیا۔ اب مال متعین ہو گیا، لہٰذا مضارب کے پاس سے اگر یہ سارا مال چوری ہو گیا تو اس صورت کے اندر بھی عقدِ مضاربت ختم ہو جائے گا، کیونکہ مضاربت کے لیے یہ مال متعین تھا اور جب مال ہی باقی نہ رہا، معقود علیہ ہی باقی نہ رہا تو عقدِ مضاربت بھی باقی نہیں رہے گا۔
اسی طرح مثلاً زید نے عمرو کو اپنا وکیل بنا دیا کہ جاؤ میرے لیے جا کر دس لاکھ روپے کی ایک گاڑی خرید لاؤ، زید نے ابھی وہ مال عمرو کو نہیں دیا، زید کے پاس سے وہ مال چوری ہو گیا یا ہلاک ہو گیا تو اس کی وجہ سے یاد رکھو عمرو کی وکالت ختم نہیں ہوگی، کیونکہ وکالت کے اندر قبضے سے پہلے مال متعین نہیں ہوتا۔ ہاں اگر زید نے یہ مال عمرو کو دے دیا کہ یہ دس لاکھ روپے لے جاؤ اور اس کے ذریعے میری گاڑی خرید کر لے آؤ، تو اس صورت میں یاد رکھو جب وکیل نے اس مال پر قبضہ کر لیا اب یہ مال متعین ہے گاڑی خریدنے کے لیے، لہٰذا اگر وکیل کے پاس سے یہ مال چوری ہو گیا تو اس صورت میں بھی اس وکیل کی وکالت ختم ہو جائے گی، کیونکہ وہ مال جو گاڑی خریدنے کے لیے دیا گیا تھا وہ باقی ہی نہ رہا بھئی، تو وکالت بھی ختم ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُضَارَبَةِ وَالْوَكَالَةِ الْمُفْرَدَةِ“ بخلاف مضاربت اور وکالتِ مفردہ کے، ”لِأَنَّهُ لَا يَتَعَيَّنُ الثَّمَنَانِ فِيهِمَا بِالتَّعْيِينِ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں ثمن جو ہیں، یعنی درہم اور دینار جو ہیں، وہ اس مضاربت اور وکالتِ مفردہ کے اندر تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے، ”وَإِنَّمَا يَتَعَيَّنَانِ بِالْقَبْضِ“ اور یہ درہم اور دینار جو ہیں وہ قبضے کے بعد متعین ہوتے ہیں، ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جو جانا گیا ہے۔
”وَهَذَا ظَاهِرٌ فِيمَا إِذَا هَلَكَ الْمَالَانِ“ دلیل چل رہی ہے، صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں کہ دو آدمیوں نے عقدِ شرکت کیا اور عقدِ شرکت کے بعد ابھی انہوں نے تجارت شروع نہیں کی، کسی چیز کو خریدا نہیں ہے، اس سے پہلے ہی دونوں کا مال ہلاک ہو گیا یا ایک کا مال ہلاک ہو گیا تو اس صورت میں عقدِ شرکت ہی باطل ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ شرکت کے اندر قبضے سے پہلے ہی مال متعین ہو جاتا ہے، جیسے ہبہ اور وصیت کے اندر قبضے سے پہلے ہی مال متعین ہو جاتا ہے بھئی۔ جبکہ مضاربت اور وکالتِ مفردہ جو ہے، اس کے اندر قبضے سے پہلے مال متعین نہیں ہوتا، قبضے کے بعد مال متعین ہوتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا ظَاهِرٌ فِيمَا إِذَا هَلَكَ الْمَالَانِ“ اور یہ بات ظاہر ہے، یعنی شرکت کا باطل ہونا ظاہر ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا ظَاهِرٌ“ اور یہ شرکت کا باطل ہونا ظاہر ہے، ”فِيمَا إِذَا هَلَكَ الْمَالَانِ“ اس صورت میں جب دونوں مال ہلاک ہو جائیں۔ جب دو شریک ہیں اور دونوں کا مالِ شرکت ہلاک ہو جائے تو اس صورت کے اندر جب مال ہلاک، معقود علیہ ہلاک تو عقد بھی ختم ہو جائے گا۔ تو اس صورت میں شرکت کا باطل ہونا ظاہر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا ظَاهِرٌ فِيمَا إِذَا هَلَكَ الْمَالَانِ“ اور یہ شرکت کا باطل ہونا اس صورت میں تو ظاہر ہے جب دونوں مال ہلاک ہو جائیں، ”وَكَذَا إِذَا هَلَكَ أَحَدُهُمَا“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب دونوں مالوں میں سے کوئی ایک ہلاک ہو جائے، یعنی دونوں شریکوں میں سے ایک کا مال ہلاک ہو جائے تو اس صورت کے اندر بھی شرکت باطل ہو جائے گی۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ پھر کیوں شرکت باطل ہوگی؟ ایک کا مال ہلاک ہوا ہے، دوسرے کا مال تو ہلاک نہیں ہوا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ زید اور عمرو میں عقدِ شرکت ہوا ہے، بے شک دونوں نے ابھی اپنا مال ملایا نہیں لیکن عقد تو کر لیا، دونوں نے ایک دوسرے کو وکیل تو بنا دیا، تو زید اپنے مال کے ذریعے جو بھی بیع و شراء کر رہا ہے اس کے اندر وہ عمرو کی طرف سے وکیل بھی ہے اور نفع کے اندر عمرو کا بھی حصہ ہوگا، اسی طرح عمرو بھی جو بیع و شراء کرے گا تو نفع کے اندر زید کا بھی حصہ ہوگا۔ تو جب دونوں نفع کے اندر ایک دوسرے کا حصہ نکالیں گے تو اس شرکت پر دونوں راضی ہیں، لیکن اگر عمرو کا مال ہلاک ہو گیا اور زید کا مال باقی ہے تو زید تو کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہوگا کہ میں اپنے مال کے ساتھ بیع و شراء کروں اور نفع کا حقدار عمرو بھی ہو، نفع کا حقدار عمرو بھی ہو۔ زید تو صرف اس وجہ سے راضی تھا کہ جیسے زید کے نفع کے اندر عمرو کا حصہ تھا، تو عمرو کے نفع میں بھی زید کا حصہ آ رہا تھا، تو جب عمرو کا مال ہی ہلاک ہو گیا تو اب زید اپنے نفع کے اندر عمرو کی شرکت پر کبھی بھی راضی نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا هَلَكَ أَحَدُهُمَا“ اور اسی طرح جب دونوں مالوں میں سے کوئی ایک ہلاک ہو جائے تو اس صورت میں بھی عقدِ شرکت باطل ہوگا، ”لِأَنَّهُ مَا رَضِيَ بِشِرْكَةِ صَاحِبِهِ فِي مَالِهِ“ اس لیے کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ اپنے مال کے اندر اپنے ساتھی کی شرکت پر راضی نہیں ہے، ”إِلَّا لِيُشْرِكَهُ فِي مَالِهِ“ مگر جبکہ وہ دوسرا بھی اپنے مال کے اندر اس کو شریک کرے۔ دونوں میں سے ہر ایک اپنے مال کے اندر دوسرے کو شریک کر رہا ہے اس وجہ سے کہ دوسرا بھی اس پہلے کو اپنے مال میں شریک کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَا رَضِيَ بِشِرْكَةِ صَاحِبِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ شریک جو ہے اپنے ساتھی کی شرکت پر راضی نہیں ہے، ”فِي مَالِهِ“ اپنے مال میں، ”إِلَّا لِيُشْرِكَهُ فِي مَالِهِ“ مگر یہ کہ وہ دوسرا بھی اپنے مال کے اندر اسے شریک کرے، ”فَإِذَا فَاتَ ذَلِكَ“ تو جب اس دوسرے شریک کا مال فوت ہو گیا اور ہلاک ہو گیا، ”لَمْ يَكُنْ رَاضِيًا بِشِرْكَتِهِ“ تو اب یہ اس کی شرکت پر راضی نہیں ہوگا، ”فَيَبْطُلُ الْعَقْدُ“ تو یہ عقد ہی باطل ہو جائے گا، ”لِعَدَمِ فَائِدَتِهِ“ فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ اب عقد کا کوئی فائدہ ہی نہیں، عقد کا تو فائدہ کیا تھا؟ کہ نفع کے اندر دونوں شریک ہوں گے، تو جب نفع کے اندر شرکت نہ رہی تو اب عقد ہی باطل ہو جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”فَيَبْطُلُ الْعَقْدُ لِعَدَمِ فَائِدَتِهِ“ تو عقد ہی باطل ہو جائے گا اس کا فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے۔ ”وَأَيُّهُمَا هَلَكَ هَلَكَ مِنْ مَالِ صَاحِبِهِ“ اور دونوں مالوں میں سے جو مال بھی ہلاک ہو گیا، وہ اسی مال والے کے مال میں سے ہلاک ہوا ہے۔ زید کا مال ہلاک ہوا تو زید کے مال میں سے ہلاک ہوا، اور عمرو کا مال ہلاک ہوا تو عمرو کے مال میں سے ہلاک ہوا۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَيُّهُمَا هَلَكَ“ اور دونوں مالوں میں سے جو بھی ہلاک ہوا، ”هَلَكَ مِنْ مَالِ صَاحِبِهِ“ وہ اپنے صاحب کے مال میں سے ہی ہلاک ہوا ہے۔ ”إِنْ هَلَكَ فِي يَدِهِ فَظَاهِرٌ“ بھئی ادھر دیکھیے، زید اور عمرو دونوں میں سے ایک کا مال ہلاک ہوا ہے تو دو ہی صورتیں ہیں: مثلاً زید کا مال ہلاک ہوا ہے، زید کا مال یا تو زید کے اپنے قبضے میں ہلاک ہوا ہوگا، یا زید نے عمرو کو تو دے دیا تھا لیکن ابھی دونوں نے ملایا نہیں تھا، تو عمرو کے پاس وہ مال ہلاک ہوا۔ تو کہتے ہیں بھئی اگر زید کا مال زید کے پاس ہی ہلاک ہوا ہے تو پھر تو بات ظاہر سی ہے کہ یہ زید کے مال میں سے ہی ہلاک ہوا ہے، اور اگر زید نے عمرو کو مال دے دیا تھا تو عمرو کے پاس بھی یہ مال امانت کے درجے میں ہے، اور امانت بغیر تعدی کے کسی کے پاس ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان نہیں آتا بھئی، تو زید کا مال عمرو کے پاس بھی ہلاک ہو جائے تو زید ہی کا مال ہلاک ہوا ہے، عمرو کا مال ہلاک نہیں، کیونکہ عمرو پر کوئی ضمان نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”إِنْ هَلَكَ فِي يَدِهِ فَظَاهِرٌ“ اگر یہ مال ہلاک ہوا ہے اسی مال والے کے قبضے میں تو یہ بات ظاہر ہے کہ یہ اسی کا مال ہلاک ہوا ہے، ”وَكَذَا إِذَا كَانَ هَلَكَ فِي يَدِ الْآخَرِ“ اور اسی طرح اگر یہ مال جو ہے دوسرے کے قبضے میں ہلاک ہوا ہے تب بھی اسی مال والے کا مال ہلاک ہوا ہے، ”لِأَنَّهُ أَمَانَةٌ فِي يَدِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مال دوسرے کے قبضے میں امانت ہے۔ ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْخَلْطِ“ ہاں اگر دونوں نے مال ملا دیا تھا اور اس کے بعد کچھ مال ہلاک ہو گیا، تو اب تو دونوں مال مل چکے ہیں، دونوں مالوں میں فرق ہی نہ رہا، لہٰذا اس صورت کے اندر دونوں کا مال ہلاک ہوا ہے۔ اب دونوں مال ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، اب پہچان نہیں ہے کہ کون سا مال کس کا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْخَلْطِ“ بخلاف دونوں مالوں کے ملنے کے بعد، یعنی اس کے بعد پھر جب مال ہلاک ہو، ”حَيْثُ يَهْلِكُ عَلَى الشَّرِكَةِ“ کیونکہ یہ مال شرکت پر ہلاک ہوگا، یعنی دونوں کا مال ہلاک ہوگا، ”لِأَنَّهُ لَا يَتَمَيَّزُ“ کیونکہ وہاں فرق نہیں ہوتا۔ جب دونوں کے مال مل گئے ہیں اور اب مال کچھ ہلاک ہوا ہے تو اب فرق نہیں ہو سکتا، لہٰذا یوں ہی سمجھا جائے گا دونوں کا مال ہلاک ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يَتَمَيَّزُ“ کیونکہ فرق نہیں ہو سکتا، ”فَيُجْعَلُ الْهَلَاكُ مِنَ الْمَالَيْنِ“ تو وہ جو ہلاک شدہ مال ہے اس کو دونوں مالوں میں سے قرار دیا جائے گا کہ دونوں کا مال ہلاک ہوا ہے۔
بھئی یہاں تک وہ صورت ذکر ہو رہی تھی کہ تجارت شروع کرنے سے پہلے ہی دونوں کا مال ہلاک ہوا یا دونوں میں سے ایک کا مال ہلاک ہوا تو عقدِ شرکت ہی باطل ہو جائے گا۔ لیکن اگر دونوں میں سے ایک نے تجارت شروع کر دی تھی، ایک نے کوئی چیز شرکت کے لیے خرید لی تھی اور اس کے بعد دوسرے شریک کا مال ہلاک ہو گیا، تو یاد رکھو اس صورت میں بھی عقدِ شرکت باطل ہو جائے گا، البتہ وہ چیز جو خرید چکا ہے وہ تو اس نے اس وقت خریدی ہے جب ابھی عقدِ شرکت موجود تھا، لہٰذا یہ جو خریدی ہوئی چیز ہے یہ شرکت ہی کے طریقے پر رہے گی۔ البتہ باقی عقدِ شرکت ختم ہو جائے گا، کیونکہ دوسرے کا مال ہلاک ہو گیا اور جب دوسرے کا مال ہلاک ہوا تو عقدِ شرکت ہی ختم ہو گیا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اشْتَرَى أَحَدُهُمَا بِمَالِهِ“ اور اگر دونوں شریکوں میں سے ایک نے اپنے مال کے ذریعے کوئی چیز خریدی، دونوں میں سے ایک نے اپنے مال کے ذریعے کوئی چیز خرید لی، ”وَهَلَكَ مَالُ الْآخَرِ قَبْلَ الشِّرَاءِ“ اور دوسرے کا مال ہلاک ہو گیا اس کے خریدنے سے پہلے، اس دوسرے کے خریدنے سے پہلے۔ ایک نے تو خریداری کر لی اور دوسرے نے ابھی خریداری نہیں کی تھی کہ اس کے خریدنے سے پہلے ہی اس کا مال ہلاک ہو گیا، تو یہ ”قَبْلَ الشِّرَاءِ“ سے مراد یہ جس شخص کا مال ہلاک ہوا ہے اسی کی شراء مراد ہے، وہ دوسرے کی شراء جو پیچھے گزری وہ مراد نہیں۔ توجہ ہے؟ زید اور عمرو نے شرکت کر لی، زید نے اپنے مال کے ذریعے کچھ خریدا اور ادھر عمرو کا مال ہلاک ہو گیا، قبل اس کے کہ عمرو اس کے ذریعے کچھ خریدتا۔ زید نے تو کچھ خرید لیا ہے لیکن عمرو کے کچھ خریدنے سے پہلے ہی عمرو کا مال ہلاک ہو گیا، تو اس صورت میں بھی عقدِ شرکت باطل ہو جائے گا، البتہ زید نے جو چیز خریدی تھی وہ تو عقد کے دوران خریدی تھی، اس وقت تک تو ابھی عقد باطل نہیں ہوا تھا، تو اس چیز کے اندر ابھی بھی عقدِ شرکت باقی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اشْتَرَى أَحَدُهُمَا بِمَالِهِ“ اور اگر دونوں میں سے ایک نے اپنے مال کے ذریعے کوئی چیز خرید لی، ”وَهَلَكَ مَالُ الْآخَرِ قَبْلَ الشِّرَاءِ“ اور دوسرے کا مال ہلاک ہو گیا اس دوسرے کے کچھ خریدنے سے پہلے ہی، ”فَالْمُشْتَرَى بَيْنَهُمَا عَلَى مَا شَرَطَا“ تو وہ چیز جس کو خریدا گیا ہے وہ ان دونوں کے درمیان مشترکہ ہے اسی طور پر جو شرط ٹھہرائی تھی، یعنی جس طرح مقرر کیا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بعض اوقات دونوں کا مال برابر ہوتا ہے تو جو بھی چیز خریدیں گے آدھے کا مالک ایک ہے، آدھے کا مالک دوسرا ہے، یعنی آدھا ضمان ایک پر آتا ہے آدھا ضمان دوسرے پر، اور بعض اوقات ایک کا مال دوسرے سے دگنا ہوتا ہے کہ جو بھی چیز خریدیں گے اس میں سے ایک حصہ ایک کا ہوگا اور دو حصے دوسرے کے ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْمُشْتَرَى بَيْنَهُمَا عَلَى مَا شَرَطَا“ تو وہ چیز جس کو خریدا گیا ہے وہ ان دونوں کے درمیان مشترکہ ہے اسی طور پر جس طرح دونوں نے آپس میں شرط ٹھہرایا ہے، ”لِأَنَّ الْمِلْكَ حِينَ وَقَعَ“ اس لیے کیونکہ اس چیز پر جب ملکیت واقع ہوئی تھی، ”وَقَعَ مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا“ تو یہ ملکیت دونوں کے درمیان مشترکہ ہو کر واقع ہوئی تھی، ”لِقِيَامِ الشَّرِكَةِ وَقْتَ الشِّرَاءِ“ اس لیے کیونکہ خریدنے کے وقت تو شرکت موجود تھی، اس وقت تو عقدِ شرکت موجود تھا، ”فَلَا يَتَغَيَّرُ الْحُكْمُ بِهَلَاكِ مَالِ الْآخَرِ بَعْدَ ذَلِكَ“ تو شرکت کا حکم بدلے گا نہیں دوسرے کا مال ہلاک ہو جانے کی وجہ سے اس خریدنے کے بعد۔ خریدنے کے بعد اس خریدی ہوئی چیز میں تو دونوں کی شرکت آ چکی ہے، لہٰذا اس خریداری کے بعد دوسرے کا مال اگر ہلاک بھی ہو جائے تو اس خریدی ہوئی چیز کے اندر شرکت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَتَغَيَّرُ الْحُكْمُ بِهَلَاكِ مَالِ الْآخَرِ بَعْدَ ذَلِكَ“ تو شرکت کا حکم بدلے گا نہیں جب اس شراء کے بعد دوسرے کا مال ہلاک ہو جائے۔
”ثُمَّ الشَّرِكَةُ شَرِكَةُ عَقْدٍ“ بھئی ادھر دیکھیے، زید اور عمرو دونوں نے عقدِ شرکت کی ہے، زید نے اپنے مال کے ذریعے تجارت شروع کر دی، اس نے ایک چیز خرید لی ہے، اور اس کے بعد عمرو کا مال کچھ خریدنے سے پہلے ہی ہلاک ہو گیا، تو زید نے جو چیز خریدی ہے اس میں ابھی بھی شرکت باقی ہے۔ لیکن اب یہ کون سی شرکت ہے؟ یہ شرکتِ ملک ہے یا یہ شرکتِ عقد ہے؟ شرکتِ ملکیت کے اندر آپ جانتے ہیں ایک شریک دوسرے کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا۔ میں نے اور عمرو نے مل کر گاڑی خرید لی، تو میں صرف اپنے حصے میں تصرف کر سکتا ہوں، اپنا نصف حصہ کسی کو فروخت کر سکتا ہوں، عمرو کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا۔ لیکن عقدِ شرکت کے اندر دونوں شریک ایک دوسرے کے حصے میں بھی تصرف کر سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہوتے ہیں۔ تو زید نے ایک چیز خرید لی اور اس کے بعد عمرو کا مال ہلاک ہو گیا، تو یہ خریدی ہوئی چیز دونوں کے درمیان مشترکہ ہے۔ تو یہ کون سی شرکت ہے اس چیز کے اندر؟ شرکتِ ملک ہے یا شرکتِ عقد ہے؟ تو یاد رکھو امام صاحب کے شاگرد حسن ابن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو خریدی ہوئی چیز ہے، اس میں اب شرکتِ ملک ہے، اس میں شرکتِ ملک ہے، کیونکہ عمرو کا سارا مال جب ختم ہو گیا تو عقدِ شرکت ختم ہو گیا۔ جب عقدِ شرکت ختم ہے تو اب صرف اس خریدی ہوئی چیز میں دونوں کی ملکیت باقی ہے، تو ہر ایک اپنی ملکیت کے بقدر اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جس وقت اس چیز کو خریدا گیا تھا اس وقت عقدِ شرکت موجود تھا، تو لہٰذا اس خریدی ہوئی چیز کے اندر ابھی بھی عقدِ شرکت موجود ہے۔ باقی مال کے اندر تو عقدِ شرکت ختم ہو گیا لیکن اس خریدی ہوئی چیز میں ابھی بھی عقدِ شرکت موجود ہے، لہٰذا اس کے اندر زید بھی تصرف کر سکتا ہے اور عمرو بھی تصرف کر سکتا ہے، کیونکہ دونوں میں عقدِ شرکت موجود ہے اس چیز کے اندر اور دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الشَّرِكَةُ شَرِكَةُ عَقْدٍ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ پھر یہ جو شرکت ہے اس خریدی ہوئی چیز کے اندر، یہ شرکتِ عقد ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ”خِلَافًا لِلْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ شرکتِ عقد نہیں ہے بلکہ شرکتِ ملک ہے۔ ”حَتَّى أَنَّ أَيَّهُمَا بَاعَ جَازَ بَيْعُهُ“ یہ تفریع ہے امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ خریدی ہوئی چیز اس میں ابھی بھی عقدِ شرکت ہے، جب عقدِ شرکت ہے تو دونوں اس کے اندر تصرف کر سکتے ہیں۔ یہ معنی ہے: ”حَتَّى أَنَّ أَيَّهُمَا بَاعَ“ یہاں تک کہ ان دونوں میں سے جس نے بھی اس چیز کو بیچ دیا، ”جَازَ بَيْعُهُ“ تو اس کی بیع جائز ہے، کیونکہ اس چیز میں دونوں کا عقدِ شرکت ہے۔ ”لِأَنَّ الشَّرِكَةَ قَدْ تَمَّتْ فِي الْمُشْتَرَى“ اس لیے کیونکہ شرکت جو ہے وہ تحقیق پوری ہو چکی ہے اس خریدی ہوئی چیز میں۔ اس چیز کو جب خریدا گیا تھا اس وقت عقدِ شرکت موجود تھا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الشَّرِكَةَ قَدْ تَمَّتْ فِي الْمُشْتَرَى“ اس لیے کیونکہ شرکت جو ہے وہ پوری ہو چکی ہے اس خریدی ہوئی چیز میں، ”فَلَا يَنْتَقِضُ بِهَلَاكِ الْمَالِ بَعْدَ تَمَامِهَا“ تو لہٰذا یہ شرکت نہیں ٹوٹے گی مال کے ہلاک ہونے کی وجہ سے اس کے پورا ہو جانے کے بعد۔ جب اس خریدی ہوئی چیز میں شرکت پوری ہو چکی ہے تو باقی کا مال ہلاک بھی ہو جائے تو اس کی وجہ سے اس خریدی ہوئی چیز میں شرکت نہیں ٹوٹے گی، یعنی ختم نہیں ہوگی بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَلَا يَنْتَقِضُ بِهَلَاكِ الْمَالِ بَعْدَ تَمَامِهَا“ تو اس خریدی ہوئی چیز میں شرکت کے پورا ہو جانے کے بعد مال کے ہلاک ہونے کی وجہ سے یہ شرکت نہیں ٹوٹے گی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَرْجِعُ عَلَى شَرِيكِهِ بِحِصَّةٍ مِنْ ثَمَنِهِ“ بھئی زید اور عمرو دونوں نے عقدِ شرکت کر لیا اور اس کے بعد زید نے شرکت کے لیے ایک چیز خرید لی اور ادھر عمرو کا سارا مال ہلاک ہو گیا، تو یہ جو خریدی ہوئی چیز ہے اس میں ابھی بھی عقدِ شرکت باقی ہے۔ یہ چیز زید نے اپنے لیے بھی خریدی تھی اور عمرو کے لیے بھی خریدی تھی اس کا وکیل بن کر، لہٰذا عمرو کا جتنا حصہ اس کے ثمن میں بنتا ہے، زید اس میں عمرو پر رجوع کرے گا۔ یہ معنی ہے: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَرْجِعُ عَلَى شَرِيكِهِ“ کہ یہ خریدنے والا اپنے شریک پر رجوع کرے گا، ”بِحِصَّةٍ مِنْ ثَمَنِهِ“ اس چیز کے ثمن میں سے جتنا اس شریک کا حصہ ہے، ”لِأَنَّهُ اشْتَرَى نِصْفَهُ بِوَكَالَتِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اس نصف چیز کو خریدا ہے اس دوسرے کی طرف سے وکالت کی وجہ سے، ”وَنَقَدَ الثَّمَنَ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ“ اور اس نے ثمن کی ادائیگی کی ہے اپنے ذاتی مال میں سے، تو لہٰذا یہ اپنے شریک پر رجوع کرے گا، ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ“ اور تحقیق ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ ہر شریک دوسرے کی طرف سے وکیل ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ“ اور تحقیق یہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ ”هَذَا إِذَا اشْتَرَى أَحَدُهُمَا بِأَحَدِ الْمَالَيْنِ أَوَّلًا ثُمَّ هَلَكَ مَالُ الْآخَرِ“ اب آگے تیسری صورت بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں یہ جو ہم نے بیان کیا، یہ اس صورت میں تھا جب ایک شریک نے چیز کو خریدا اور خریدنے کے بعد دوسرے کا مال ہلاک ہوا، تو اس صورت میں یہ چیز دونوں کے درمیان مشترکہ ہوگی۔ لیکن اگر ایک شریک کا مال ہلاک ہو گیا اور اس کے ہلاک ہونے کے بعد دوسرے شریک نے اپنے مال سے کوئی چیز خریدی ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں دو صورتیں بنتی ہیں: دونوں نے جب عقدِ شرکت کیا تھا تو کیا وکالت کو الگ سے ذکر کیا تھا یا نہیں؟ توجہ ہے؟ میں نے بتایا تھا کہ شرکت کو ذکر کیا جائے تو خود بخود ضمناً وکالت بھی آ جاتی ہے۔ اسی طرح کسی کے پاس رہن رکھوایا جائے تو ضمناً خود بخود وکالت بھی وہاں آ جاتی ہے، اور بعض اوقات عقدِ شرکت کرتے ہوئے باقاعدہ وکالت کو صاف لفظوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔ زید اور عمرو آپس میں عقدِ شرکت کرتے ہیں، زید کہتا ہے کہ ہم اتنے اتنے مال پر عقدِ شرکت کرتے ہیں اور عمرو کہتا ہے مجھے قبول ہے، تو دونوں نے عقدِ شرکت کر لیا اور ساتھ ہی زید یہ بھی کہتا ہے کہ آج کے بعد ہم دونوں تجارت کی نیت سے جو چیز بھی خریدیں گے وہ شرکت کے طریقے پر ہوگا، اور عمرو اس کو قبول کر لیتا ہے، تو دیکھو یہاں پر وکالت کو باقاعدہ صراحتاً الگ ذکر کر دیا۔ تو اگر وکالت کو صراحتاً ذکر نہیں کیا تو اس کا حکم اور، اور اگر وکالت کو صراحتاً الگ ذکر کیا تھا تو پھر اس کا حکم اور ہے۔
توجہ ہے؟ صورت کون سی ذکر ہو رہی ہے؟ کہ زید اور عمرو نے عقدِ شرکت کیا اور کچھ خریدنے سے پہلے ہی عمرو کا مال ہلاک ہو گیا، اور عمرو کا مال ہلاک ہونے کے بعد اب زید کوئی چیز خریدتا ہے، اب کوئی چیز خریدتا ہے، تو یاد رکھو اگر وکالت الگ سے ذکر نہیں کی تھی، تو جیسے ہی عمرو کا مال ہلاک ہوا تو عقدِ شرکت ختم ہو گیا۔ ایک کا مال جب ہلاک ہو جائے تو عقدِ شرکت ختم ہو جاتا ہے، تو عمرو کا مال جب ہلاک ہوا تو عقدِ شرکت ختم ہو گیا۔ جب عقدِ شرکت ختم ہو گیا تو اسی عقدِ شرکت کے ضمن میں وکالت بھی تھی۔ تو جب عقدِ شرکت ختم تو عقدِ وکالت بھی ختم ہو گیا، لہٰذا اس کے بعد زید اگر کوئی چیز خریدتا ہے تو زید ہی کے ذمے اس کے ثمن ہیں، عمرو سے وہ مطالبہ نہیں کر سکتا، کیونکہ جب شرکت ختم تو اس کے ضمن میں وکالت بھی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد زید جو چیز خریدے گا وہ اپنے لیے خرید رہا ہے، وہ شرکت کے طریقے پر نہیں خرید رہا، کیونکہ اب زید عمرو کی طرف سے وکیل نہ رہا بھئی۔
لیکن اگر شرکت کرتے وقت دونوں نے وکالت کو صراحتاً ذکر کیا تھا کہ ہم دونوں جو بھی چیز خریدیں گے اس میں ہم ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوں گے، تو شرکت بے شک ختم ہو جائے پھر بھی وکالت ختم نہیں، کیونکہ وکالت کو دونوں نے باقاعدہ الگ ذکر کیا تھا، تو اس کو ختم کرنے کے لیے الگ صراحت ضروری ہے کہ اب آج سے ہم دونوں ایک دوسرے کے وکیل بھی نہیں ہیں۔ تو لہٰذا اگر دونوں نے وکالت کو الگ ذکر کیا تھا اور عمرو کا مال ہلاک ہو گیا اور اس کے بعد پھر زید کوئی چیز خریدتا ہے، تو زید ابھی بھی عمرو کی طرف سے وکیل ہے، لہٰذا اس خریدی ہوئی چیز کے ثمن میں جتنا حصہ عمرو کا بنتا ہے زید اس پر رجوع کرے گا۔ بے شک عمرو کا مال ہلاک ہو چکا، لیکن یہ زید نے جو چیز خریدی ہے یہ اپنے لیے بھی خریدی ہے اور عمرو کے لیے بھی خریدی ہے، تو عمرو پر بھی رجوع کرے گا اور اس سے نصف ثمن وصول کرے گا۔
تو کہتے ہیں: ”هَذَا إِذَا اشْتَرَى أَحَدُهُمَا بِأَحَدِ الْمَالَيْنِ أَوَّلًا“ کہتے ہیں یہ اس وقت ہے جب دونوں میں سے ایک نے دونوں مالوں میں سے ایک کے ذریعے پہلے خریدا، ”ثُمَّ هَلَكَ مَالُ الْآخَرِ“ پھر دوسرے کا مال ہلاک ہوا۔ اوپر وہ صورت بیان ہو رہی تھی جب دونوں میں سے ایک نے کوئی چیز خریدی ہے اور اس کے بعد دوسرے کا مال ہلاک ہوا، تو عقدِ شرکت ختم ہونے سے پہلے جو چیز خریدی ہے اس میں ابھی بھی شرکت موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”هَذَا إِذَا اشْتَرَى أَحَدُهُمَا“ یہ اس وقت ہے جب دونوں شریکوں میں سے ایک خرید لے، ”بِأَحَدِ الْمَالَيْنِ أَوَّلًا“ دونوں مالوں میں سے ایک کے ذریعے پہلے، ”ثُمَّ هَلَكَ مَالُ الْآخَرِ“ پھر اس خریدنے کے بعد دوسرے کا مال ہلاک ہو جائے، تو خریدی ہوئی چیز میں دونوں کی شرکت ہوگی۔ ”أَمَّا إِذَا هَلَكَ مَالُ أَحَدِهِمَا“ اور باقی اگر دونوں میں سے ایک کا مال ہلاک ہو گیا، ”ثُمَّ اشْتَرَى الْآخَرُ بِمَالِ الْآخَرِ“ تو پھر اس دوسرے نے دوسرے کے مال یعنی اپنے مال کے ذریعے کوئی چیز خریدی۔ مال کس کا ہلاک ہوا؟ عمرو کا، تو زید ہے آخر۔ اس آخر نے کوئی چیز خریدی آخر کے مال کے ذریعے، یعنی زید نے اپنے مال کے ذریعے کوئی چیز خریدی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا إِذَا هَلَكَ مَالُ أَحَدِهِمَا“ پھر دونوں میں سے جب ایک کا مال ہلاک ہو گیا، ”ثُمَّ اشْتَرَى الْآخَرُ بِمَالِ الْآخَرِ“ پھر دوسرے نے اپنے مال کے ذریعے کوئی چیز خریدی، تو کہتے ہیں: ”إِنْ صَرَّحَا بِالْوَكَالَةِ فِي عَقْدِ الشَّرِكَةِ“ اگر دونوں نے صراحت کی تھی وکالت کی عقدِ شرکت میں، یعنی وکالت کو باقاعدہ صاف لفظوں میں الگ ذکر کیا تھا، ”فَالْمُشْتَرَى مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا“ تو یہ خریدی ہوئی چیز دونوں کے درمیان مشترک ہے، ”عَلَى مَا شَرَطَا“ اسی طریقے پر جو شرط ٹھہرائی تھی، اسی طریقے پر جو شرط ٹھہرائی تھی۔ اگر یہ شرط ٹھہرائی تھی کہ جو بھی چیز خریدیں گے اس میں نصف نصف دونوں کا حصہ ہوگا تو اس کے مطابق، اور اگر یہ شرط ٹھہرائی تھی کہ جو بھی چیز خریدیں گے زید کا حصہ عمرو کے حصے سے دگنا ہوگا تو اس کے مطابق بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”إِنْ صَرَّحَا بِالْوَكَالَةِ فِي عَقْدِ الشَّرِكَةِ“ اور اگر دونوں نے عقدِ شرکت کے اندر وکالت کی تصریح کی تھی، یعنی صاف لفظوں میں اسے الگ ذکر کیا تھا، ”فَالْمُشْتَرَى مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا“ تو وہ خریدی ہوئی چیز دونوں کے درمیان مشترک ہوگی، ”عَلَى مَا شَرَطَا“ اسی طور پر جس طریقے پر آپس میں شرط ٹھہرائی تھی، ”لِأَنَّ الشَّرِكَةَ إِنْ بَطَلَتْ“ اس لیے کیونکہ شرکت اگرچہ وہ باطل ہو گئی، عمرو کا مال ہلاک ہوا تو شرکت اگرچہ باطل ہو گئی، ”فَالْوَكَالَةُ الْمُصَرَّحُ بِهَا قَائِمَةٌ“ لیکن وہ وکالت جس کی تصریح کی گئی تھی وہ ابھی بھی موجود ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الشَّرِكَةَ إِنْ بَطَلَتْ“ اس لیے کیونکہ شرکت اگرچہ وہ باطل ہو گئی ہے، ”فَالْوَكَالَةُ الْمُصَرَّحُ بِهَا قَائِمَةٌ“ تو وہ وکالت جس کی تصریح کی گئی، یعنی جسے صاف لفظوں میں ذکر کیا گیا، ”قَائِمَةٌ“ وہ ابھی بھی موجود ہے، ”فَكَانَ مُشْتَرَكًا بِحُكْمِ الْوَكَالَةِ“ تو یہ خریدی ہوئی چیز دونوں کے درمیان مشترک ہوگی وکالت کے حکم کی وجہ سے، ”وَيَكُونُ شَرِكَةَ مِلْكٍ“ اور یہ شرکتِ ملک ہوگی۔ یہ خریدی ہوئی چیز اس میں جو شرکت ہے وہ شرکتِ ملک ہوگی، کیونکہ عقدِ شرکت تو ختم ہو چکا ہے، اس کے بعد صرف وکالت کی وجہ سے چیز خریدی ہے تو اس چیز کے اندر شرکتِ ملک تو ہوگی شرکتِ عقد نہیں، تو کہتے ہیں: ”وَيَكُونُ شَرِكَةَ مِلْكٍ“ اور یہ شرکت جو ہے وہ شرکتِ ملک ہوگی، ”وَيَرْجِعُ عَلَى شَرِيكِهِ“ اور یہ خریدنے والا اپنے شریک پر رجوع کرے گا، ”بِحِصَّتِهِ مِنَ الثَّمَنِ“ ثمن میں سے اس کے حصے کے اندر، شریک کا ثمن کے اندر جو حصہ بنتا ہے اس کے اندر اس پر رجوع کرے گا، ”لِمَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کیونکہ یہ دوسرے کی طرف سے وکیل ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَرْجِعُ عَلَى شَرِيكِهِ بِحِصَّتِهِ مِنَ الثَّمَنِ لِمَا بَيَّنَّاهُ“ تو یہ خریدار اپنے شریک پر رجوع کرے گا ثمن کے اندر اس کے حصے میں اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ اس کی طرف سے وکیل ہے۔ ”وَإِنْ ذَكَرَا مُجَرَّدَ الشَّرِكَةِ“ اور اگر دونوں نے محض شرکت کو ذکر کیا، بھئی جب دونوں عقدِ شرکت کر رہے تھے تو اس وقت انہوں نے وکالت کو الگ ذکر نہیں کیا، صرف شرکت کو ذکر کیا، اور شرکت کے ضمن میں وکالت بھی آ گئی، لیکن یہ وکالت ہے ضمناً، جب شرکت ختم ہوگی یہ وکالت بھی ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد جب زید نے کوئی چیز خریدی ہے تو اب صرف زید ہی اس کا مالک ہے، اس چیز کے اندر شرکت نہیں، کیونکہ اب زید عمرو کا وکیل ہی نہ رہا، کیونکہ جب عمرو کا سارا سامان ہلاک ہو گیا تو شرکت ختم، جب شرکت ختم تو اس کے ضمن میں موجود وکالت بھی ختم ہو گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ ذَكَرَا مُجَرَّدَ الشَّرِكَةِ“ اور اگر ان دونوں نے صرف شرکت کو ذکر کیا تھا، ”وَلَمْ يَنُصَّا عَلَى الْوَكَالَةِ فِيهَا“ اور دونوں نے اس کے اندر وکالت پر تصریح نہیں کی تھی، نص ینص صاد کے ساتھ، اس کا کیا معنی ہے؟ تصریح کرنا۔ ”وَلَمْ يَنُصَّا عَلَى الْوَكَالَةِ فِيهَا“ اور دونوں نے وکالت پر تصریح نہیں کی تھی فیہا اس شرکت میں، ”كَانَ الْمُشْتَرَى“ تو خریدی ہوئی چیز جو ہے، ”لِلَّذِي اشْتَرَاهُ خَاصَّةً“ یہ خاص طور پر اسی کے لیے ہوگی جس نے اس کو خریدا ہے۔ زید اور عمرو نے عقدِ شرکت کیا تھا اور عمرو کا مال ہلاک ہو گیا اور اس کے بعد زید کوئی چیز خریدتا ہے، تو جب شرکت ختم تو شرکت کے ضمن میں جو وکالت تھی وہ بھی ختم، لہٰذا اب جو چیز زید خرید رہا ہے وہ خاص طور پر زید ہی کی ہے، اس کے ثمن میں وہ عمرو پر رجوع نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنْ ذَكَرَا مُجَرَّدَ الشَّرِكَةِ“ اور اگر دونوں نے صرف شرکت کو ذکر کیا، ”وَلَمْ يَنُصَّا عَلَى الْوَكَالَةِ فِيهَا“ اور شرکت کے اندر وکالت پر تصریح نہیں کی، ”كَانَ الْمُشْتَرَى لِلَّذِي اشْتَرَاهُ خَاصَّةً“ تو خریدی ہوئی چیز خاص طور پر اسی کے لیے ہوگی جس نے اس کو خریدا ہے، ”لِأَنَّ الْوُقُوعَ عَلَى الشَّرِكَةِ“ اس لیے کیونکہ اس عقد کا شرکت پر واقع ہونا، ”حُكْمُ الْوَكَالَةِ“ یہ اس وکالت کا حکم تھا، ”الَّتِي تَضَمَّنَتْهَا الشَّرِكَةُ“ جس کو شرکت متضمن تھی۔ اس خریدی ہوئی چیز کا مشترک ہونا کس وجہ سے تھا؟ وکالت کی وجہ سے، وہ وکالت جو شرکت کے ضمن میں تھی اور جب وہ شرکت ختم تو اس کے ضمن میں وکالت بھی ختم، لہٰذا اب اس خریدی ہوئی چیز میں شرکت نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوُقُوعَ عَلَى الشَّرِكَةِ“ اس لیے کیونکہ خریدی ہوئی چیز کا شرکت پر واقع ہونا، ”حُكْمُ الْوَكَالَةِ“ یہ اس وکالت کا حکم تھا، ”الَّتِي تَضَمَّنَتْهَا الشَّرِكَةُ“ جس کو شرکت متضمن تھی، ”فَإِذَا بَطَلَتْ“ جب یہ شرکت باطل ہو گئی، ”يَبْطُلُ مَا فِي ضِمْنِهَا“ تو وہ چیز بھی باطل ہو جائے گی جو اس شرکت کے ضمن میں تھی، یعنی وہ وکالت بھی باطل ہو جائے گی، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا صَرَّحَا بِالْوَكَالَةِ“ بخلاف اس کے کہ جب وکالت کی تصریح کر دی تھی، ”لِأَنَّهَا مَقْصُودَةٌ“ اس لیے کیونکہ اس وقت پھر وکالت بھی مقصود ہو جاتی ہے۔ جب وکالت کو باقاعدہ الگ صراحتاً ذکر کر دیں تو وکالت بھی مقصود ہو جاتی ہے، لہٰذا محض شرکت ختم کرنے سے وکالت ختم نہیں ہوگی بلکہ وکالت کو الگ سے ختم کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا صَرَّحَا بِالْوَكَالَةِ“ بخلاف اس کے کہ جب وکالت کی تصریح کر دی، تو اس وقت پھر وہ شرکت ختم ہونے سے وکالت ختم نہیں ہوگی، ”لِأَنَّهَا مَقْصُودَةٌ“ اس لیے کیونکہ وکالت کی تصریح کر دی جاتی ہے تو وہ مقصود ہوتی ہے، لہٰذا شرکت کے ختم ہونے سے وہ وکالت ختم نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.