اگے سبق دیکھیے بھئی۔
قَالَ: "وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَّتَعَامَلَ النَّاسُ بِالتِّبْرِ وَالنُّقْرَةِ فَتَصِحُّ الشِّرْكَةُ بِهِمَا هَكَذَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ. وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: "وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ بِمَثَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ".
شرکتِ مفاوضہ کے مسائل صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔ گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا کہ وہ کون سا مال ہے جس کے ساتھ عقدِ شرکت جائز ہے۔ تو اپ نے پڑھا کہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ جو ہیں، یعنی جو رائج پیسے ہیں جو بازار میں چلتے ہیں جس سے لوگ خریدوفرخت کرتے ہیں، تو یہ تین چیزیں جو ہیں ان کے ساتھ شرکتِ مفاوضہ جائز ہے۔ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ۔
جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرکتِ مفاوضہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی جائز ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سامان اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی جائز ہے جب ان کی جنس ایک ہی ہو، یعنی دونوں کی طرف سے ایک جیسا سامان ہو یا ایک جیسی مکیلی اور وزنی چیز ہو بھئی۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ جو عقدِ شرکت کیا جاتا ہے اس کے اندر راس المال معلوم ہونا چاہیے اور جب دونوں طرف سے درہم یا دینار یا فلوسِ نافقہ ہوتے ہیں تو دونوں کا راس المال معلوم ہوتا ہے اور بعد میں پھر یہ اپس میں اس کو جدا بھی کرنا چاہیں، تقسیم بھی کرنا چاہیں تو اسانی سے تقسیم کر لیں گے۔ اسی طرح جب دونوں طرف سے ایک ہی قسم کا سامان ہو گا یا ایک ہی جیسے مکیلات اور موزونات ہوں گے تو اس صورت میں بھی دونوں کا راس المال معلوم ہے۔ مثلاً ایک کی طرف سے بھی سو من گندم ہے اور دوسرے کی طرف سے بھی سو من گندم ہے، یا ایک کی طرف سے بھی سو درہم کے برتن ہیں اور دوسرے کی طرف سے بھی سو درہم کے برتن ہیں تو اس صورت میں راس المال معلوم ہو گا۔ اور جب راس المال معلوم ہے تو یہ مکیلات، موزونات اور یہ جو سامان ہیں یہ بھی نقدیوں کی طرح ہو گئے، یعنی درہم اور دینار کی طرح ہو گئے۔ اور درہم اور دینار کے ساتھ تو عقدِ شرکت جائز ہے تو یہ سامان، مکیلات اور موزونات ان کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز ہے جب دونوں شریکوں کی طرف سے ایک ہی جنس کا سامان یا مکیلات اور موزونات ہوں بھئی۔
اور اس کے بعد امام مالک رحمہ اللہ پر ہونے والے ایک اعتراض کا جواب بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا تھا۔ یاد رکھو، ایک ہے عقدِ مضاربت جس میں مال ایک شخص کا ہوتا ہے اور محنت دوسرے شخص کی ہوتی ہے اور نفع پھر اپس میں تقسیم کرتے ہیں، تو یہ عقدِ مضاربت کا بھی وہی حکم ہے جو عقدِ شرکت کا ہے بھئی۔ جیسے عقدِ شرکت درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے عند الاحناف بھئی، اسی طرح عقدِ مضاربت بھی درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے عند الاحناف۔ لیکن امام مالک رحمہ اللہ نے عقدِ شرکت اور عقدِ مضاربت میں فرق فرمایا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عقدِ شرکت، یہ تو درہم اور دینار کے ساتھ ساتھ مکیلات و موزونات اور سامان کے ساتھ بھی جائز ہے، لیکن عقدِ مضاربت صرف درہم اور دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ اپ نے یہ عقدِ شرکت اور عقدِ مضاربت میں فرق کیوں کیا؟ عقدِ شرکت تو اپ کے نزدیک سامان اور مکیلات اور موزونات سے بھی جائز ہے، لیکن عقدِ مضاربت اپ کے نزدیک سامان اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ جائز نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اس کا بھی جواب ذکر فرمایا تھا امام مالک رحمہ اللہ کی طرف سے کہ یہ جو مضاربت ہے یہ خلافِ قیاس نص سے ثابت ہے، حدیث سے ثابت ہے۔ اور جو چیز خلافِ قیاس ثابت ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے۔ تو یہ مضاربت حدیث سے صرف درہم اور دینار وغیرہ میں ثابت ہے تو یہ اپنے مورد پر بند رہے گی، اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
اور بتلایا کہ یہ عقدِ مضاربت یہ اس لیے خلافِ قیاس ہے کہ اس میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم اتا ہے۔ ایک غیر مضمون چیز کا نفع ایک شخص کو ملتا ہے اور غیر مضمون چیز کا نفع تو جائز نہیں ہے۔ ایک چیز کا نقصان اپ برداشت کرتے ہیں تو اس کا نفع بھی اپ کے لیے جائز ہے، اور ایک چیز کا نقصان اپ پر نہیں اتا تو اس کا نفع بھی اپ نہیں لے سکتے۔ میں نے اپ کو بتلایا تھا جیسے قرض ہے۔ قرض ہے، دیکھو ایک شخص دوسرے کو سو درہم بطورِ قرض کے دیتا ہے تو وہ قرض دینے والا وہی سو درہم ہی واپس لے سکتا ہے، زائد مال نہیں لے سکتا کیونکہ وہ سود بن جائے گا بھئی۔ وہ کیا ہے؟ سود بن جائے گا، ربا بن جائے گا۔ وجہ یہ کہ اپ سے جب کوئی شخص قرض لے جاتا ہے تو وہ قرض اب اس شخص کے ذمے ہے وہ اس نے ادا کرنا ہے۔ چاہے اس کے پاس وہ قرض والا مال سارا چوری ہی کیوں نہ ہو جائے، سارا مال اس کے پاس ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائے، پھر بھی اس کو وہ قرض ادا کرنا پڑے گا۔ معلوم ہوا جب ایک ادمی کو قرض کے طور پر کچھ مال دے دیا جائے تو وہ اب اس مقروض کے ذمے ہے اس دین کو ادا کرنا، اور اگر وہ مال ضائع بھی ہوتا ہے تو نقصان وہ مقروض ہی کا ہو گا، یہ قرض دینے والے کا کوئی نقصان نہیں۔ جب قرض دینے والے کا کوئی نقصان نہیں ہے تو وہ اس قرض پر نفع بھی نہیں لے سکتا کہ کہے کہ میں سو درہم دیتا ہوں اور اپ مجھے بعد میں ایک سو دس درہم واپس دے دینا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟
تو حاصلِ کلام یہ کہ جس چیز کا ضمان اپ پر اتا ہے اس کا نفع بھی اپ لے سکتے ہیں اور جس کا ضمان اپ پر نہیں اتا اپ اس کا نفع بھی نہیں لے سکتے۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جو عقدِ مضاربت ہے یہ خلافِ قیاس ہے کیونکہ اس کے اندر بھی رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم اتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک شخص کا مال ہے جسے رب المال کہتے ہیں اور دوسرے شخص کی محنت اور عمل ہے اور اسے مضارب کہتے ہیں، تو یہ جو رب المال نے اپنا مال دیا ہے مضارب کو، یہ مال مضارب کے پاس بطورِ امانت کے ہے۔ حتیٰ کہ اگر مضارب کے پاس یہ سارا مال ہلاک ہو گیا یا سارا مال کاروبار کے اندر خسارہ ایا اور وہ سارا مال ختم ہو گیا تو بھی مضارب کا کوئی نقصان نہیں، وہ سارا نقصان جو ہے وہ رب المال کا ہے یعنی جس کا مال تھا۔ تو لہٰذا معلوم ہوا مالِ مضاربت کے اندر مضارب پر نقصان نہیں اتا، البتہ نفعے کے اندر وہ شریک ہوتا ہے، نفعے کے اندر اس کا حصہ ہوتا ہے۔ معلوم ہوا مضاربت کے اندر رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم ا رہا ہے اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اسے جائز نہیں ہونا چاہیے لیکن خلافِ قیاس احادیث سے عقدِ مضاربت ثابت ہے اور جو چیز خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے۔ اور مضاربت کا ثبوت جو ہے وہ احادیث کے اندر صرف درہم اور دینار میں ہے تو لہٰذا سامان اور مکیلات اور موزونات کو اس پر قیاس کرتے ہوئے اس پر عقدِ مضاربت کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے احناف کی طرف سے جواب بھی ذکر کیا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ یہ عقدِ مفاوضہ جو ہے یہ درہم اور دینار کے علاوہ یہ سامان، مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی جائز ہے جب جنس ایک ہی ہو، لیکن عند الاحناف یہ عقدِ مفاوضہ صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ عقدِ مفاوضہ سامان اور اسی طرح مکیلات اور موزونات کے ساتھ جائز ہو جائے تو پھر تو اس میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم ائے گا اور رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ تو جائز نہیں ہے۔
اور کس طرح رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم ائے گا؟ صاحبِ ہدایہ نے مثال سے وضاحت کی تھی۔ مثلاً ایک ادمی کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں، دوسرے ادمی کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں اور انہوں نے اپس میں عقدِ مفاوضہ کر لیا، تو اب ایک نے اپنے برتن بیچے تو وہ سو درہم کے برتن ہیں وہ سو درہم ہی میں فروخت ہو گئے، اور دوسرے ساتھی کے جو سو درہم کے برتن تھے مثلاً وہ ایک سو دس درہم میں فروخت ہو گئے، تو دیکھو ایک کے پاس دس درہم کا نفع ا گیا اور اس دس درہم کے اندر اس کو دوسرے ساتھی کو بھی شریک کرنا پڑے گا حالانکہ یہ جن برتنوں کے بیچنے سے یہ نفع حاصل ہوا ہے وہ دوسرا ساتھی نہ تو ان برتنوں کا مالک تھا اور نہ ہی اس پر ان کا ضمان اتا تھا۔ تو لہٰذا معلوم ہوا اگر سامان یا مکیلات و موزونات کے اندر اگر عقدِ مفاوضہ کو جائز قرار دیا جائے تو اس میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم ائے گا اور وہ تو جائز نہیں ہے۔
اور دوسری دلیل صاحبِ ہدایہ نے یہ ذکر فرمائی کہ درہم اور دینار جو ہیں ان کے اندر عقدِ شرکت کیا جائے تو وہاں جو پہلا تصرف کرنا پڑتا ہے وہ شراء ہے، یعنی کسی چیز کو خریدنا پڑے گا۔ اور کسی چیز کو خریدا جائے اس شرط پر کہ دوسرا ادمی بھی اس کے ساتھ شریک ہو گا تو یہ جائز ہے۔ یہ جائز ہے کہ دوسرے ادمی نے اس کو وکیل بنا دیا تھا کہ اپ یہ فلاں چیز خرید لیں، اپنے پیسوں سے خرید لیں اور اس میں ہم دونوں شریک ہوں گے، میں اپ کو نصف پیسے ادا کر دوں گا۔ تو معلوم ہوا کسی چیز کو خریدنا اس شرط پر کہ کوئی دوسرا بھی اس خریدار کے ساتھ شریک ہو جائے گا اس مبیع کے اندر، یہ جائز ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر سامان یا مکیلات اور موزونات پر عقدِ مفاوضہ کیا جائے گا تو وہاں پہلا تصرف جو کرنا پڑے گا وہ بیع والا کرنا پڑے گا، یعنی وہ سامان یا مکیلات اور موزونات کو پہلے بیچنا پڑے گا۔ اور کسی کا اپنی چیز کو بیچنا اس شرط پر کہ دوسرا بھی اس کے ثمن کے اندر اس کے ساتھ شریک ہو گا یہ جائز نہیں ہے۔ چیز اپ کی ہے تو اس کے جو ثمن ملیں گے وہ بھی اپ ہی کے ہوں گے، کوئی دوسرا اس میں اپ کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا معلوم ہوا کہ مکیلات، موزونات اور سامان پر عقدِ مفاوضہ جائز نہیں ورنہ اس کے اندر لازم ائے گا کہ سامان وغیرہ کو بیچنے کے بعد ثمن میں دوسرے ساتھی کو بھی شریک کرنا پڑے اور حالانکہ یہ تو جائز نہیں ہے، اپنی چیز کی بیع کے اندر ثمن میں دوسرے ادمی کو شریک نہیں کیا جا سکتا۔
بات سمجھ میں ا گئی۔ اور پھر اخر میں صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا تھا کہ عند الاحناف یہ جو عقدِ مفاوضہ ہے یا اسی طرح عقدِ مضاربت جو ہے، یہ دونوں درہم اور دینار کے ساتھ ساتھ فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی جائز ہیں۔ فلوسِ نافقہ میں نے بتلایا وہ رائج پیسے جو بازار میں چلتے ہیں جس کے ذریعے لوگ خریدوفرخت کرتے ہیں، تو ان کے ساتھ بھی یہ عقدِ شرکت اور مضاربت جائز ہے۔ اور بتلایا کہ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو رائج پیسے ہوتے ہیں ان کا وہی حکم ہے جو درہم اور دینار کا ہے۔ جیسے درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، اسی طرح یہ فلوسِ نافقہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے بھئی۔
اور میں نے یہ بھی اپ کو بتلایا تھا کہ یہ درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے لیکن دوسرے سامان تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ بھئی، اپ کے پاس برتن ہیں، یاد رکھو یہ برتن تعین سے متعین ہیں۔ اپ کے پاس برتن موجود ہیں اور میں اپ سے بیع کرتا ہوں کہ یہ والے برتن میں نے اپ سے سو درہم میں خرید لیے، تو دیکھو اب یہ برتن متعین ہیں، ان کی بیع ہوئی ہے۔ اسی طرح اپ کے پاس سو من گندم پڑی ہوئی ہے، میں اس گندم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوں کہ یہ گندم میں نے اپ سے سو درہم کے اندر خرید لی، تو یاد رکھو یہ جو مکیلات اور موزونات ہیں یہ بھی تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اپ نے اور میرے درمیان بیع ہو گئی اور وہ سامان یا وہ مکیلات اور موزونات متعین ہیں، اور اگر یہ سامان مشتری کے حوالے کرنے سے پہلے ہی بائع کے پاس ہی ہلاک ہو گیا تو وہ تو مبیع ہے اور مبیع ہلاک ہو جائے تو بیع ہی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ بیع تو کس پر منعقد ہوئی تھی؟ مبیع پر منعقد ہوئی تھی اور وہ مبیع جب نہ رہا تو بیع بھی نہ رہی۔
ثمن جو ہیں یاد رکھو، ثمن تعین سے متعین نہیں ہوتے، ثمن دوسرے ادمی کے ذمے میں رہتے ہیں۔ یعنی درہم اور دینار دوسرے ادمی کے ذمے میں رہتے ہیں، وہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ مثلاً میں نے سو درہم سامنے رکھے اور اپ سے کہا: یہ جو سو درہم ہیں ان کے بدلے اپ کی یہ سو من گندم میں نے خرید لی، اور اپ نے قبول کر لیا، میرے اور اپ کے درمیان بیع ہو گئی۔ لیکن اس کے بعد یہ جو سامنے درہم جن کی طرف میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا، جن کو میں نے متعین کیا تھا، یہی درہم اپ کو دینے کے بجائے میں اور درہم نکالتا ہوں اور اپ کے حوالے کر دیتا ہوں کہ یہ لیجیے، یہ ہیں اپ کی گندم کے ثمن۔ تو یاد رکھو، درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں، میرے اشارہ کرنے کے باوجود یہ درہم اور دینار متعین نہیں ہوئے۔ میرے لیے جائز ہے یہی درہم نہ دوں، اس جیسے اور درہم اپ کو دے دوں۔ اور بائع بھی اعتراض نہیں کر سکتا کہ نہیں بھئی، مجھے دوسرے درہم نہیں چاہئیں، مجھے یہی درہم چاہئیں جن کی طرف اپ نے اشارہ کیا تھا۔ نہیں بھئی، درہم اور دینار متعین ہوتے ہی نہیں۔ لہٰذا میں ان درہموں کی جگہ دوسرے اسی طرح کے درہم اپ کو دے سکتا ہوں اور بائع اعتراض نہیں کر سکتا۔
بات سمجھ میں ا گئی؟ یا میں نے اپ کے ساتھ بیع کی، درہم سامنے پڑے ہوئے تھے، میں نے کہا کہ یہ جو درہم ہیں ان کے بدلے میں نے اپ کی یہ گندم خرید لی۔ تو وہ گندم، وہ جو سامنے موجود ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا، وہ تو متعین ہو گئی اور یہ درہم جو سامنے موجود ہیں جو میں بطورِ ثمن کے ذکر کر رہا ہوں یہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوئے۔ لہٰذا اگر وہ گندم ہلاک ہو گئی تو بیع ہی ختم ہو جائے گی لیکن اگر یہ درہم ہلاک ہوئے پھر بھی بیع ختم نہیں ہو گی، مثلاً یہ درہم اچانک نیچے گرے دریا میں اور ڈوب گئے۔ تو یہ درہم ختم ہو گئے لیکن بیع پھر بھی ختم نہ ہوئی بلکہ میرے ذمے ہے اسی جیسے سو درہم اپ کو دینا۔ معلوم ہوا کہ سامان، مکیلات اور موزونات یہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں لیکن درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔
تو بات چل رہی تھی، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، اسی طرح یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں یہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ ان کا بھی وہی حکم ہے جو درہم اور دینار والا ہے۔ چنانچہ اسی لیے وہ فرماتے ہیں کہ جیسے ایک درہم کی بیع دو درہموں کے بدلے جائز نہیں۔ اسی طرح فلوسِ نافقہ، ایک سکے کی بیع دو سکوں کے بدلے جائز نہیں، یا ایک روپے کی بیع دو روپے کے بدلے جائز نہیں۔
اپ عقدِ صرف پڑھ چکے ہیں۔ یاد رکھو، عقدِ صرف کے اندر دونوں طرف ثمن کی جنس ہوتی ہے، یعنی دونوں طرف درہم یا دینار ہوں گے یا فلوسِ نافقہ ہوں گے بھئی۔ اور یاد رکھو، عقدِ صرف کے اندر جب دونوں طرف ایک ہی جنس ہو تو برابری بھی ضروری ہے اور نقد بھی ضروری ہے، ادھار بھی جائز نہیں۔ مثلاً میں اور اپ اپس میں بیع کر رہے ہیں، اپ کچھ درہم دے رہے ہیں اور بدلے میں میں بھی درہم ہی دے رہا ہوں تو جنس ایک ہے اور ثمنیت ہے، یعنی عقدِ صرف ہے، تو کمی بیشی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں۔ لہٰذا اپ دس درہم دے رہے ہیں تو بدلے میں مجھے بھی دس ہی درہم دینا پڑیں گے، میں گیارہ یا بارہ درہم نہیں دے سکتا۔ بے شک اپ کے درہم اعلیٰ ہوں، میرے درہم ادنیٰ ہوں لیکن پھر بھی برابری شرط ہے عقدِ صرف میں۔ اور نیز اسی مجلس میں عوضین پر قبضہ بھی ضروری ہے، یعنی یہ معاملہ نقد ہونا چاہیے، اپ دس درہم دیں اس مجلس میں اور میں بھی اسی طرح دس درہم اپ کے حوالے کروں۔
تو عقدِ صرف جو ہے جس میں دونوں طرف سے ثمن ہوتے ہیں اس کے اندر مجلس میں قبضہ بھی ضروری اور دونوں میں برابری بھی ضروری ہے جب جنس ایک ہو۔ لیکن اگر جنس ایک نہیں ہے، جنس ایک نہیں ہے تو پھر کمی بیشی تو جائز ہے لیکن ادھار پھر بھی نہیں جائز۔ مثلاً اپ دینار دے رہے ہیں اور میں درہم دے رہا ہوں، اب برابری ضروری نہیں ہے، اپ ایک دینار دیں اور میں دس درہم اپ کو دے دیتا ہوں، یہ جائز ہے۔ لیکن ادھار کر لیں کہ اپ ایک دینار ابھی دیں گے اور میں دس درہم بعد میں کسی وقت ادا کروں گا، نہیں بھئی، ادھار جائز نہیں ہے۔
تو لہٰذا معلوم ہوا عقدِ صرف کے اندر دونوں طرف سے ثمن کی جنس ہوتی ہے تو اگر ایک ہی جنس ہوئی تو کمی بیشی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں۔ اور اگر جنسیں الگ الگ ہیں تو پھر کمی بیشی تو جائز ہے لیکن ادھار پھر بھی جائز نہیں ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب ذکر ہو رہا ہے بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کا بھی وہی حکم ہے جو درہم اور دینار کا ہے۔ جیسے درہم اور دینار میں ایک ہی جنس ہو تو کمی بیشی جائز نہیں ہوتی، اسی طرح فلوسِ نافقہ کے اندر بھی جب ایک ہی جنس ہو تو کمی بیشی جائز نہیں۔ لہٰذا اپ ایک سکہ دیں اور میں دو سکے دوں بیع کے اندر یہ جائز نہیں۔ یا اپ ایک روپیہ دیں اور میں بدلے میں دو روپے دوں، یاد رکھو یہ جائز نہیں بلکہ برابری ضروری ہے۔
برابری ضروری ہے۔ تو جب ایک جنس ہے تو برابری بھی ضروری اور نقد بھی ضروری ہے۔ لیکن اگر جنس ایک نہیں ہے، مثلاً اپ ڈالر دے رہے ہیں اور میں روپے دے رہا ہوں تو پھر اپ ایک ڈالر دیتے ہیں اور میں مثلاً دو سو روپے اپ کو ادا کرتا ہوں تو یہ جائز ہے۔ البتہ نقد ہونا چاہیے، ادھار نہیں۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ عقدِ صرف کے اندر جب دونوں طرف سے جنس ایک ہو تو کمی بیشی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں۔ لیکن اگر دونوں طرف سے جنس ایک نہ ہو تو پھر کمی بیشی تو جائز ہے لیکن ادھار پھر بھی جائز نہیں۔
تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلوسِ نافقہ کا بھی وہی حکم ہے جو درہم اور دینار کا ہے۔ جیسے درہم اور دینار کے اندر نقد بیع کے اندر کمی بیشی جائز نہیں ہے، اسی طرح ان فلوسِ نافقہ میں بھی کمی بیشی کے ساتھ بیع جائز نہیں۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کا حکم سامان والا ہے، اور سامان کی بیع کے اندر تو برابری شرط نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہاں پر بھی ایک سکہ دے کر دو سکے لینا یہ جب نقد ہو پھر جائز ہے۔ یہ جب نقد ہو تو پھر جائز ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ میں دو سکے دے کر ایک سکہ خریدنا جائز نہیں، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ فلوسِ نافقہ کا حکم درہم اور دینار والا نہیں ہے، ان کا حکم سامان والا ہے، لہٰذا دو سکے دے کر ایک سکے کی بیع جائز ہے بھئی۔
وہ فرماتے ہیں وجہ یہ کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں یہ سامان کے حکم میں ہیں، وجہ یہ کہ ان کی ثمنیت بدلتی رہتی ہے۔ بعض اوقات یہ ثمن کے طور پر چلتے ہیں بازار میں ان کے ذریعے خریدوفرخت ہو سکتی ہے، اور بعض اوقات ان کی ثمنیت ختم ہو جاتی ہے۔ ان کی ثمنیت، جیسے میں نے مثال ذکر کی کہ ایک ملک کے اندر بعض کرنسی چل رہی ہوتی ہے تو بعض اوقات اعلان کر دیا جاتا ہے کہ فلاں تاریخ کے بعد نئی کرنسی جو ہے اسی کے ساتھ بیع وشراء جائز ہے، پرانی کرنسی کے ساتھ بیع وشراء جائز نہیں۔ تو معلوم ہوا وہ پرانی کرنسی اب وہ ثمن کے درجے میں نہ رہی بلکہ وہ سامان بن گئی۔ وہ کیا بن گئی؟ سامان۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: یہ جو ثمنِ اصطلاحی ہے، یعنی یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، ان کی ثمنیت بدلتی رہتی ہے بھئی۔ جب ان کی ثمنیت بدلتی رہتی ہے، کبھی یہ ثمن ہوں گے اور کبھی ثمن نہیں ہوں گے، لہٰذا یہ سامان کے حکم میں ہیں، یہ درہم اور دینار کے حکم میں نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ویسی ہی نقل کی گئی ہے جیسے امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ عقدِ شرکت جائز ہے اور مضاربت بھی جائز ہے۔ تو اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت یہی ہے کہ ان کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے۔ اور اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت یہ ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ عقدِ مضاربت جائز ہے بھئی۔ اور میں نے اپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ فقہاء فرماتے ہیں شامی وغیرہ کے اندر ہے کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، صحیح قول کے مطابق یہ درہم اور دینار کے حکم میں ہی ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ عقدِ مضاربت بھی جائز ہے اور ان کے ساتھ عقدِ شرکت بھی جائز ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
اب ائیے اج کے سبق پر:
قَالَ: "وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَّتَعَامَلَ النَّاسُ بِالتِّبْرِ وَالنُّقْرَةِ فَتَصِحُّ الشِّرْكَةُ بِهِمَا".
بھئی، صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا تھا کہ جو شرکت ہے یہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے اندر تو جائز ہے اور سامان اور مکیلات اور موزونات میں جائز نہیں۔ وجہ یہ کہ سامان، مکیلات اور موزونات کے اندر اگر عقدِ شرکت جائز ہو جائے گا تو اس صورت میں رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کی خرابی لازم ائے گی، یعنی ایسی چیز کا نفع انسان کو حاصل ہو گا جس کا ضمان اس پر نہیں ا رہا۔ تو نفع تو ہمیشہ ضمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ حدیث کے اندر اتا ہے: ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ کہ نقصان جو ہے وہ نفعے کے بدلے ہے، یعنی ایک چیز کا ادمی نفع اٹھا رہا ہے تو نقصان بھی اس کو اٹھانا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ ان کے اندر تو شرکت اور مضاربت جائز ہے لیکن سامان، مکیلات اور موزونات کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں کیونکہ اس کے اندر رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ کی خرابی لازم اتی ہے۔
اب اگے صاحبِ ہدایہ اپ کو یہ بتلائیں گے کہ سونے اور چاندی کے جو ٹکڑے ہیں ان کے ساتھ بھی عقدِ شرکت اور عقدِ مضاربت جائز ہے یا نہیں ہے۔ تو اس سلسلے میں بتلائیں گے کہ صاحبِ قدوری نے اپنی "مختصر القدوری" کے اندر ذکر فرمایا ہے کہ یہ جو درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ ہیں ان کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ عقدِ شرکت جائز ہی نہیں ہے، الا یہ کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے ہوں اور ان میں لوگوں کا تعامل جاری ہو، لوگ اس کے ساتھ بیع وشراء کرتے ہوں، تو تعاملِ ناس کی وجہ سے، لوگوں کے باہم اس پر عمل کرنے کی وجہ سے پھر ان کے اندر بھی یہ جو سونے اور چاندی کے ٹکڑے ہیں ان کے اندر بھی شرکت اور مضاربت جائز ہو گی۔ اور اگر لوگوں کے اندر سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ تجارت وغیرہ کا تعامل نہیں ہے تو پھر اس صورت کے اندر سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی شرکت جائز نہیں، صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
تو ایک تو یہاں صاحبِ ہدایہ متن ذکر فرمائیں گے کہ صاحبِ قدوری یہ فرماتے ہیں کہ یہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے علاوہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں میں تب شرکت جائز ہے جب لوگوں کا اس میں تعامل ہو بھئی۔ اور اپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو ہدایہ کا متن ہے، صاحبِ ہدایہ نے اسے قدوری اور جامع صغیر سے اخذ کرتے ہوئے ترتیب دیا ہے اور وہ زیادہ تر عبارت قدوری کی ذکر فرماتے ہیں لیکن اگر کہیں جامع صغیر کی عبارت کے اندر کوئی زائد فائدہ ہو یا نئی بات ہو یا وہاں عبارت مختلف ہو تو پھر اس کو بھی وہ ذکر فرماتے ہیں۔ تو یہاں صاحبِ ہدایہ پہلے صاحبِ قدوری کی عبارت ذکر فرمائیں گے متن کے اندر، پھر اس کے بعد جامع صغیر کا حوالہ دیں گے کہ جامع صغیر سے معلوم ہوتا ہے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے جو ہیں ان کے ساتھ شرکت جائز نہیں۔ جامع صغیر کی عبارت سے کیا پتہ چلتا ہے؟ کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ "کتاب الصرف" کا حوالہ بھی ذکر کریں گے کہ کتاب الصرف کے اندر، کتاب الصرف وہی بھئی جس میں عقدِ صرف کا ذکر ہے بھئی، جب بیع کے اندر دونوں جانب کے عوض وہ ثمن کی قبیل سے ہوں تو اس کو عقدِ صرف کہتے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ کتاب الصرف کا حوالہ بھی ذکر کریں گے کہ کتاب الصرف کے اندر ذکر ہے کہ یہ جو سونے چاندی کے ٹکڑے ہیں یہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ یہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو سونا اور چاندی ہیں یہ خلقتاً ثمن ہیں۔ ان کو اللہ نے پیدا ہی تجارت کے لیے فرمایا ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگ تجارت کر سکیں اور بیع وشراء کر سکیں۔ چنانچہ اسی لیے انہی سے درہم اور دینار بنائے جاتے ہیں۔ سونے سے دینار بنائے جاتے ہیں اور چاندی سے درہم بنائے جاتے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ اپ کو بتلائیں گے کہ کتاب الصرف کے اندر ذکر ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑے تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ جب یہ تعین سے متعین نہیں ہوتے تو ان کا وہی حکم ہو گا جو درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کا ہے، کیونکہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ تو جب یہ سونے چاندی کے ٹکڑے ان کا بھی وہی حکم ہے جو درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کا ہے تو معلوم ہوا ان کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
پھر سمجھ لیں، پھر سمجھ لیں۔ سب سے پہلے صاحبِ ہدایہ متن کے اندر قدوری کی عبارت ذکر فرمائیں گے کہ صاحبِ قدوری کے نزدیک صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت جائز ہے۔ ہاں، اگر لوگوں میں سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی تجارت کا رواج ہو، لوگ ان کو بھی استعمال کرتے ہیں، لوگوں کا اس پر بھی تعامل ہے تو پھر سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی شرکت جائز ہو جائے گی۔ اور پھر اس کے بعد جامع صغیر کی عبارت ذکر فرمائیں گے کہ جامع صغیر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑے جو ہیں ان کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے۔ معلوم ہوا سونے چاندی کے ٹکڑے وہ سامان کے درجے میں ہیں جو تعین سے متعین ہو جاتا ہے۔ جو تعین سے متعین ہو جاتا ہے، لہٰذا جامع صغیر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ کتاب الصرف کی عبارت ذکر فرمائیں گے کہ کتاب الصرف سے معلوم ہوتا ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑے بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے، معلوم ہوا ان کا بھی وہی حکم ہے جو درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کا ہے۔ جب سونے چاندی کے ٹکڑوں کا وہی حکم ہے جو درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کا ہے تو ان کے ساتھ تو شرکت اور مضاربت جائز ہوتی ہے تو اس کتاب الصرف سے معلوم ہوتا ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی شرکت اور مضاربت جائز ہے۔
اور پھر اخر میں صاحبِ ہدایہ نتیجہ نکالیں گے۔ نتیجہ وہی نکالیں گے جو صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا تھا کہ یہاں پر جامع صغیر کی عبارت سے پتہ چل رہا ہے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے، اور کتاب الصرف کی عبارت سے پتہ چل رہا ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ مضاربت جائز ہے۔ لیکن جامع صغیر کی عبارت کو وہ زیادہ صحیح قرار دیں گے کہ یہ قول زیادہ صحیح ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑے جو ہیں وہ سامان کے حکم میں ہیں، وہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں، لہٰذا زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ مضاربت اور شرکت جائز نہیں ہے۔ ہاں، اگر لوگوں کا تعامل ہو جائے، لوگوں کا تعامل ہو جائے تو پھر اس صورت کے اندر لوگوں کے تعامل کی وجہ سے یہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی شرکت اور مضاربت جائز ہو جائے گی، اور صاحبِ قدوری نے بھی یہی ذکر فرمایا۔ صاحبِ قدوری نے بھی یہی ذکر فرمایا، بات سمجھ میں ا گئی۔
اور یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا جس سے یہ مقام سمجھنا اور بھی اسان ہو جائے گا۔ یاد رکھو، یاد رکھو شرکت ان چیزوں میں جائز ہے جو تعین سے بھی متعین نہ ہوتے ہوں۔ شرکت صرف ان چیزوں میں جائز ہے جو تعین سے متعین نہ ہوتے ہوں اور وہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ ہیں۔ اور جو چیزیں تعین سے متعین ہو جاتی ہیں جیسے سامان ہے، مکیلات اور موزونات ہیں ان کے اندر شرکت جائز نہیں ہے۔ تو جامع صغیر کی عبارت سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ سونے چاندی کے ٹکڑے تعین سے متعین ہو جاتے ہیں، اس سے پتہ چلا کہ ان سے شرکت جائز نہیں۔ اور کتاب الصرف کی عبارت سے پتہ چلا کہ یہ سونے چاندی کے ٹکڑے تعین سے متعین نہیں ہوتے، جب یہ متعین نہیں ہوتے تو پھر ان کے ساتھ شرکت بھی جائز ہو گی۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
اب دیکھیے کتاب پر۔ تو کہتے ہیں:
قَالَ:
صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:
"وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ
اور ان کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے،
ان کے علاوہ، کون سی چیزیں بھئی؟ وہ جو پیچھے متن میں ذکر ہوا تھا: درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ بھئی۔ تو کہتے ہیں:
وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ
اور ان کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے،
إِلَّا أَنْ يَّتَعَامَلَ النَّاسُ بِالتِّبْرِ وَالنُّقْرَةِ
مگر یہ کہ لوگ باہم معاملات کریں بِالتِّبْرِ وَالنُّقْرَةِ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ۔
تِبر اور نُقرہ کا ایک ہی معنی ہے۔ تِبْرٌ، تبر بھی سونے چاندی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں اور نُقرہ بھی سونے چاندی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ البتہ پھر بعض علماء نے اور بعض شارحین نے اور بھی فرق کیا، وہ فرماتے ہیں: تبر سونے اور چاندی کی وہ ڈلی ہے، وہ ٹکڑا ہے جو خام ہو، یعنی جس کے اندر میل کچیل وغیرہ شامل ہے جس کو ابھی پگھلایا نہیں گیا۔ اپ جانتے ہیں سونے اور چاندی کو پگھلا کر ان کو صاف کیا جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو سونے اور چاندی کو بھٹی میں پگھلاتے ہیں اور اس سے وہ میل کچیل ان سے الگ ہو جاتا ہے۔ تو بعض علماء نے لکھا ہے کہ تبر وہ سونے اور چاندی کا ٹکڑا ہے جو خام ہو یعنی جس میں میل کچیل کی امیزش ہے جسے ابھی پگھلایا نہیں گیا، اور نُقرہ جو ہے سونے اور چاندی کا وہ ٹکڑا ہے جسے پگھلایا گیا ہے یعنی جس کی صفائی کی گئی ہے۔ تو گویا کہ نُقرہ کا اطلاق چاندی پر بھی ہوتا ہے اور نُقرہ کا اطلاق سونے پر بھی ہوتا ہے۔ سونے کی جو ڈلی ہے اس پر بھی نُقرہ کا اطلاق ہوتا ہے، اسی طرح چاندی کی جو ڈلی ہے، چاندی کا جو ٹکڑا ہے اس پر بھی نُقرہ کا اطلاق ہوتا ہے۔
تو فرماتے ہیں کہ:
إِلَّا أَنْ يَّتَعَامَلَ النَّاسُ بِالتِّبْرِ وَالنُّقْرَةِ فَتَصِحُّ الشِّرْكَةُ بِهِمَا
مگر یہ کہ لوگ سونا اور چاندی کے جو ٹکڑے ہیں، جو ڈلیاں ہیں ان کے ساتھ باہم معاملات کریں، خریدوفرخت کا رواج ہو تو پھر ان دونوں کے ساتھ بھی شرکت صحیح ہو جائے گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ تعاملِ ناس کی وجہ سے اب یہ بھی ثمن کے درجے میں ہو گئے۔
هَكَذَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ
اسی طرح صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا ہے اپنی کتاب "مختصر القدوری" میں۔
وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ:
اور امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "الجامع الصغیر" کے اندر ذکر فرمایا ہے:
وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ بِمَثَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ
کہ شرکتِ مفاوضہ سونے اور چاندی کے مثقالوں کے ساتھ نہیں ہو گی۔
مثقال کس کو کہتے ہیں؟ مِثْقَالٍ، مَثَاقِيل، یہ ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ جو ٹکڑے ہیں، جو ڈلیاں ہیں۔ تو کہتے ہیں سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ، ان کے مثقالوں کے ساتھ شرکتِ مفاوضہ نہیں ہو گی۔ معلوم ہوا "الجامع الصغیر" کی عبارت سے پتہ چلا کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکتِ مفاوضہ جائز نہیں ہے، خواہ لوگوں کا تعامل ہو یا لوگوں کا تعامل نہ ہو۔ مطلقاً انہوں نے نفی کر دی:
وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ بِمَثَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ
کہ سونے اور چاندی کے مثقالوں کے ساتھ شرکتِ مفاوضہ نہیں ہو گی۔
وَفِي الصَّرْفِ: تَعَيَّنَا
اور "کتاب الصرف" کے اندر ذکر فرمایا ہے کہ سونا اور چاندی کے ٹکڑے متعین کرنے سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ جب متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے،
فَيَجُوزُ
تو پھر سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی شرکت اور مضاربت جائز ہونی چاہیے۔ کیوں جائز ہونی چاہیے؟ بھئی، جو چیزیں تعین سے متعین نہیں ہوتیں ان کے ساتھ شرکت جائز ہوتی ہے نا، جیسے درہم و دینار۔ تو "کتاب الصرف" کے اندر ذکر فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے۔
فَيَجُوزُ
تو پھر سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ بھی شرکت جائز ہونی چاہیے۔
تو اب یہ تین حوالے ا گئے:
ایک "مختصر القدوری" کا حوالہ، وہ فرماتے ہیں کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت جائز ہے بشرطیکہ تعامل ہو۔
دوسرا "الجامع الصغیر" کا حوالہ، وہ فرماتے ہیں کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے۔
اور تیسرا "کتاب الصرف" کا حوالہ، وہ فرماتے ہیں کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ جب متعین نہیں ہوتے تو ان کے ساتھ شرکت جائز ہونی چاہیے، خواہ تعامل ہو یا تعامل نہ ہو۔
اب صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
وَالْأَصَحُّ أَنَّهُمَا كَالْعُرُوضِ لِأَنَّهُمَا لَا يُعْرَفَانِ بِالْجَوْدَةِ وَالرَّدَاءَةِ
اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے یہ سامان کے حکم میں ہیں، یہ عروض کے حکم میں ہیں۔ کیوں؟ "لِأَنَّهُمَا" اس لیے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے معلوم نہیں ہوتے کہ عمدہ ہیں یا ردی ہیں۔ سونا اور چاندی کے ٹکڑوں میں تو کھوٹ بھی ہو سکتا ہے۔ جب کھوٹ ہو سکتا ہے تو وہ ردی ہو گئے۔ اور اگر بالکل خالص ہے تو پھر وہ عمدہ ہو گئے۔ تو سونا اور چاندی کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کے تو پتہ نہیں چلتا کہ یہ کھوٹ والے ہیں یا خالص ہیں۔ اس کے اندر تو پھر دیکھنا پڑے گا، جوہری کے پاس جانا پڑے گا۔ وہ اس کو کھرنڈی وغیرہ لگائے گا، اس کو گھسے گا اور پھر بتلائے گا کہ یہ خالص ہے یا اس کے اندر کھوٹ شامل ہے۔ تو کہتے ہیں کہ:
وَالْأَصَحُّ أَنَّهُمَا كَالْعُرُوضِ
اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے یہ سامان کے حکم میں ہیں،
لِأَنَّهُمَا لَا يُعْرَفَانِ بِالْجَوْدَةِ وَالرَّدَاءَةِ
اس لیے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے نہیں پہچانے جاتے عمدگی اور ردی ہونے کے اعتبار سے۔ دیکھ کر نہیں پہچانے جاتے۔
إِلَّا بِالسَّبْكِ
مگر پگھلانے کے ساتھ۔ بھٹی کے اندر پگھلاؤ گے تو اس سے میل کچیل الگ ہو جائے گی اور خالص سونا الگ ہو جائے گا۔ تب جا کر پتہ چلے گا کہ یہ کتنا سونا ہے اور کتنی اس کے اندر کھوٹ تھی۔
فَصَارَا كَالْعُرُوضِ
تو سونے اور چاندی کے ٹکڑے یہ سامان کے حکم میں ہو گئے۔ تو لہٰذا "الجامع الصغیر" کے اندر جو فرمایا گیا تھا کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے، یہ قول زیادہ صحیح ہے۔
فَإِنْ كَانَ يُتَعَامَلُ بِهِمَا جَازَ
ہاں، اگر لوگوں کا سونا چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ باہم معاملات کرنے کا رواج ہو، لوگ ان کے ساتھ بیع وشراء کرتے ہوں،
جَازَ
تو پھر ان کے ساتھ شرکت جائز ہو گی۔
لِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا عَنْ حَدِّ الْعُرُوضِ بِالتَّعَامُلِ
اس لیے کہ یہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے عروض کی حد سے نکل گئے، سامان کی حد سے نکل گئے لوگوں کے تعامل کی وجہ سے، اور یہ ثمن بن گئے۔ اور ثمن کے ساتھ شرکت جائز ہوتی ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ اگر لوگوں کا تعامل نہ ہو تو پھر سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے۔ اور اگر لوگوں کا تعامل ہو تو پھر سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ شرکت جائز ہے۔
وَعَلَى هَذَا الْخِلَافُ فِي الْمُضَارَبَةِ
اور اسی اختلاف پر ہے مضاربت کے اندر اختلاف۔ یعنی مضاربت کا بھی یہی حکم ہے کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ مضاربت جائز نہیں ہے، ہاں اگر لوگوں کا تعامل ہو تو پھر سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ مضاربت جائز ہو گی۔
دیکھیے ایک مرتبہ پھر عبارت دیکھ لیں:
قَالَ: "وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَّتَعَامَلَ النَّاسُ بِالتِّبْرِ وَالنُّقْرَةِ فَتَصِحُّ الشِّرْكَةُ بِهِمَا هَكَذَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ. وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: "وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ بِمَثَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ". وَفِي الصَّرْفِ: تَعَيَّنَا فَيَجُوزُ، وَالْأَصَحُّ أَنَّهُمَا كَالْعُرُوضِ لِأَنَّهُمَا لَا يُعْرَفَانِ بِالْجَوْدَةِ وَالرَّدَاءَةِ إِلَّا بِالسَّبْكِ فَصَارَا كَالْعُرُوضِ، فَإِنْ كَانَ يُتَعَامَلُ بِهِمَا جَازَ لِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا عَنْ حَدِّ الْعُرُوضِ بِالتَّعَامُلِ، وَعَلَى هَذَا الْخِلَافُ فِي الْمُضَارَبَةِ".
اور اگے فرماتے ہیں:
قَالَ: "وَإِنِ اشْتَرَيَا بِالْعُرُوضِ وَقَدْ كَانَا تَفَاوَضَا فَاشْتَرَيَا لِلتِّجَارَةِ فَالشِّرْكَةُ جَائِزَةٌ وَالْبَيْعُ عَلَى الْمُفَاوَضَةِ".
صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:
وَإِنِ اشْتَرَيَا بِالْعُرُوضِ
اور اگر ان دونوں نے سامان کے بدلے خریدا،
وَقَدْ كَانَا تَفَاوَضَا
اور حالانکہ ان دونوں نے شرکتِ مفاوضہ کی تھی،
فَاشْتَرَيَا لِلتِّجَارَةِ
اور ان دونوں نے تجارت کی نیت سے خریدا،
فَالشِّرْكَةُ جَائِزَةٌ وَالْبَيْعُ عَلَى الْمُفَاوَضَةِ
تو شرکت جائز ہے اور بیع شرکتِ مفاوضہ پر واقع ہو گی۔
یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک مسئلہ بیان فرما رہے ہیں۔ مسئلہ کو پہلے سمجھ لیں:
دو ادمیوں نے شرکتِ مفاوضہ کا عقد کیا۔ کیا کیا بھئی؟ شرکتِ مفاوضہ کا عقد کیا۔ اور راس المال بنایا درہم اور دینار کو۔ راس المال کس کو بنایا؟ درہم اور دینار کو بنایا، یا فلوسِ نافقہ کو بنایا۔ اور اس کے بعد انہوں نے کیا کیا کہ درہم اور دینار راس المال سے انہوں نے سامان خریدا۔ کیا خریدا بھئی؟ سامان خریدا۔ اور پھر اس سامان کو وہ اگے بیع وشراء کرتے رہے۔ سامان کے بدلے سامان خریدا، پھر اس کو بیچا اور درہم دینار لیے۔ پھر درہم دینار کے ساتھ سامان خریدا، پھر سامان کے بدلے سامان خریدا۔ تو درہم اور دینار جو راس المال تھا اس کے ذریعے انہوں نے سامان خریدا، اب ان دونوں کے پاس سامان ہے۔ اب وہ جو نیا سامان خریدتے ہیں وہ اس درہم دینار سے نہیں خریدتے بلکہ اس سامان کو دے کر وہ نیا سامان خریدتے ہیں۔
تو اس کو فرمایا:
وَإِنِ اشْتَرَيَا بِالْعُرُوضِ
کہ اگر ان دونوں نے سامان دے کر کے نیا سامان خریدا تجارت کے لیے، اور انہوں نے عقدِ مفاوضہ کیا تھا درہم اور دینار سے، تو کیا یہ بیع شرکتِ مفاوضہ پر واقع ہو گی؟ تو فرماتے ہیں: ہاں، یہ بیع بھی شرکتِ مفاوضہ پر واقع ہو گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ بنیادی طور پر انہوں نے جو شرکتِ مفاوضہ کا عقد کیا تھا وہ درہم اور دینار سے کیا تھا، سامان کے ساتھ انہوں نے شرکت کا عقد نہیں کیا تھا بلکہ عقد درہم اور دینار سے کیا تھا۔ اور سامان تو بعد میں خریدا گیا تھا۔ جب سامان بعد میں خریدا گیا تو اب اس سامان کے ساتھ بیع وشراء کرنا یہ درہم اور دینار کے ساتھ ہی بیع وشراء کرنا ہے، کیونکہ یہ سامان درہم اور دینار کے بدلے ہی تو خریدا گیا تھا۔ لہٰذا اب یہ دونوں شریک، اس سامان کو دے کر کے جو نیا سامان خریدیں گے، تو یہ بیع ان دونوں کے درمیان شرکتِ مفاوضہ پر ہی واقع ہو گی۔ یعنی وہ دونوں اس نئے خریدے گئے سامان کے اندر برابر کے شریک ہوں گے، اور ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل اور ضامن ہو گا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟
تو فرماتے ہیں کہ:
وَإِنِ اشْتَرَيَا بِالْعُرُوضِ وَقَدْ كَانَا تَفَاوَضَا فَاشْتَرَيَا لِلتِّجَارَةِ فَالشِّرْكَةُ جَائِزَةٌ وَالْبَيْعُ عَلَى الْمُفَاوَضَةِ
کہ اگر ان دونوں نے سامان کے بدلے سامان خریدا اور حالانکہ ان دونوں نے شرکتِ مفاوضہ کی تھی درہم اور دینار سے، اور ان دونوں نے نیا سامان تجارت کی نیت سے خریدا، تو یہ شرکت جائز ہے اور یہ بیع شرکتِ مفاوضہ پر ہی واقع ہو گی۔
کیوں واقع ہو گی؟ فرماتے ہیں:
لِأَنَّ الْمُفَاوَضَةَ صَحَّتْ بِالنَّقْدَيْنِ
اس لیے کہ شرکتِ مفاوضہ صحیح ہو چکی تھی نقدین کے ساتھ، یعنی درہم اور دینار کے ساتھ۔
فَتَصِحُّ التِّجَارَةُ بِالْعُرُوضِ كَمَا بِالنُّقُودِ
تو اب اس سامان کے ساتھ تجارت کرنا بھی ایسے ہی صحیح ہو گا جیسے نقد رقم کے ساتھ، درہم و دینار کے ساتھ تجارت کرنا صحیح ہوتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ سامان بھی تو اسی نقد رقم کے بدلے خریدا گیا تھا، لہٰذا اب یہ سامان بھی نقد کے قائم مقام ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب سامان کے ساتھ تجارت کرنا بھی ایسے ہی صحیح ہے جیسے درہم و دینار کے ساتھ تجارت کرنا صحیح تھا۔
اور فرماتے ہیں:
وَالشِّرَاءُ يَكُونُ عَلَى الْمُفَاوَضَةِ لِأَنَّهُ مِنْ صَنِيعِ التِّجَارَةِ
اور یہ جو نئے سامان کی خریداری ہے، یہ شرکتِ مفاوضہ پر واقع ہو گی۔ کیوں شرکتِ مفاوضہ پر واقع ہو گی؟
لِأَنَّهُ مِنْ صَنِيعِ التِّجَارَةِ
اس لیے کہ یہ تجارت کے کاموں میں سے ہے۔ بھئی، سامان کے بدلے سامان خریدنا یہ بھی تو تاجروں کا کام ہے، یہ بھی تجارت کے کاموں میں سے ہے۔ اور اپ پڑھ چکے ہیں کہ مفاوضہ کے اندر تاجر جو بھی تجارت کا عمل کرے گا وہ دونوں کے درمیان شرکتِ مفاوضہ پر ہی واقع ہو گا۔ لہٰذا یہ خریداری بھی شرکتِ مفاوضہ پر ہی واقع ہو گی۔
وَيَكُونُ الْمُشْتَرَى بَيْنَهُمَا
اور خریدی گئی چیز ان دونوں کے درمیان برابر سرایت کرے گی، دونوں اس میں برابر کے شریک ہوں گے۔
وَإِنْ كَانَ لَمْ يَحْضُرْ إِلَّا أَحَدُهُمَا
اگرچہ مجلسِ عقد میں ایک ہی شریک حاضر ہوا ہو۔ دوسرا شریک حاضر نہ بھی ہو، تب بھی وہ نیا خریدا گیا سامان دونوں کے درمیان برابر کا مشترک ہو گا۔ کیوں مشترک ہو گا؟ اس لیے کہ جو شریک حاضر ہے وہ دوسرے غیر حاضر شریک کا وکیل ہے اور اس کا ضامن بھی ہے۔
لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا وَكِيلُ صَاحِبِهِ وَكَفِيلُهُ فِي التِّجَارَةِ
اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے دوسرے ساتھی کا تجارت کے اندر وکیل بھی ہے اور کفیل یعنی ضامن بھی ہے۔ تو جب وکیل ہے تو اس نے اپنے لیے بھی خریدا، اپنے موکل کے لیے بھی خریدا۔ تو وہ دونوں اس نئے سامان کے اندر برابر کے شریک ہو جائیں گے، خواہ دوسرا شریک مجلسِ عقد میں حاضر ہو یا مجلسِ عقد میں حاضر نہ ہو۔ بات سمجھ میں ا گئی؟
چلیے، اج کا سبق یہیں تک رکھتے ہیں۔
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ نَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ إِلَيْكَ۔
انہوں نے یہ فرق کیا ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ کے عمل سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے دونوں میں کوئی فرق نہیں کیا، ان کے نزدیک تِبر بھی سونے اور چاندی کے ٹکڑے کا نام ہے اور نُقرہ بھی سونے اور چاندی کے ٹکڑے کا نام ہے بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ“ اور ان چیزوں کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے، ”إِلَّا أَنْ يَتَعَامَلَ النَّاسُ بِالتِّبْرِ وَالنُّقْرَةِ“ مگر یہ کہ لوگ جو ہیں سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ باہم معاملات کرنے لگیں، ”فَتَصِحُّ الشِّرْكَةُ بِهِمَا“ تو پھر اس صورت میں ان دونوں کے ساتھ بھی شرکت صحیح ہوگی، یعنی سونے چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ۔ اچھا بھئی! یہاں تک قدوری کی عبارت ہے، یعنی متن ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”هٰكَذَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ“ اس طرح ذکر کیا ہے صاحبِ قدوری نے اپنی کتاب میں، کہ سونے چاندی اور فلوسِ نافقہ کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں، الا یہ کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کے ساتھ لوگ باہم تجارت وغیرہ کرتے ہوں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”هٰكَذَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ“ اس طرح ذکر فرمایا ہے صاحبِ قدوری نے اپنی کتاب مختصر القدوری میں، ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ بِمَسَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے: ”وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ“ اور مفاوضہ نہیں ہو سکتا ”بِمَسَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ“ سونے اور چاندی کے مثقالوں کے ساتھ۔ جامع صغیر میں کیا آیا؟ ”وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ بِمَسَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ“ کہ عقدِ مفاوضہ نہیں ہو سکتا سونے اور چاندی کے مثقالوں کے ساتھ۔ یاد رکھو! مساقیل جمع ہے مثقال کی، اور مثقال جو ہے یہ ایک مخصوص وزن کا نام ہے۔ یہ جو دینار ہے اس کا وزن ایک مثقال ہوتا ہے۔ یعنی دینار کہہ لیں یا مثقال کہہ لیں یہ ایک ہی وزن ہے۔ اور یہ کتنا وزن ہے؟ یاد رکھنا، یہ مثقال جو ہے ساڑھے چار ماشے کا ہے۔ یعنی ایک دینار کتنے وزن کا ہے؟ ساڑھے چار ماشے کا بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ آٹھ چاول کے دانے ہوں تو یہ ایک رتی بنتی ہے، اور آٹھ رتیاں ہوں تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے، اور بارہ ماشے ہوں تو یہ ایک تولہ بنتا ہے، تو ایک دینار ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے۔ جبکہ درہم اس سے چھوٹا ہوتا ہے۔ درہم جو ہے وہ تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ۔ توجہ ہے؟ تو درہم کتنا ہے؟ تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی ہے بھئی۔ تو جامع صغیر کے اندر ذکر ہوا کہ سونے اور چاندی کے مثقالوں کے ساتھ عقدِ مفاوضہ جائز نہیں۔ صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ سونے اور چاندی کے مثقالوں سے مراد سونے اور چاندی کے ٹکڑے ہیں بھئی۔ اس سے مراد سونے اور چاندی کے ٹکڑے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: وَلَا يَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ بِمَسَاقِيلِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے کہ مفاوضہ نہیں ہو سکتا سونے چاندی کے مثقالوں کے ساتھ، ”وَمُرَادُهُ التِّبْرُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کی اس سے مراد جو ہے وہ تبر ہے۔ سونے اور چاندی کے مثقالوں سے ان کی مراد تبر ہے، یعنی سونے اور چاندی کے ٹکڑے مراد ہیں۔ ”فَعَلَى هٰذِهِ الرِّوَايَةِ“ تو اس روایت پر، یہ جو جامع صغیر کی عبارت آگئی، تو اس روایت پر: ”التِّبْرُ سِلْعَةٌ يَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ“ تبر یعنی سونے چاندی کا جو ٹکڑا ہے ”سِلْعَةٌ“ وہ سامان ہے ”يَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ“ جو تعیین سے متعین ہو جاتا ہے۔ جب سونے چاندی کے ٹکڑے یہ سامان ہیں جو تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں تو معلوم ہوا ان کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، کیونکہ شرکت اور مضاربت صرف اسی چیز کے ساتھ جائز ہے جو تعیین سے متعین نہیں ہوتے، اور وہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَعَلَى هٰذِهِ الرِّوَايَةِ التِّبْرُ سِلْعَةٌ يَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ فَلَا يَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ فِي الْمُضَارَبَاتِ وَالشِّرْكَاتِ“ تو اس روایت پر سونے چاندی کا جو ٹکڑا ہے وہ ایسا سامان ہے جو تعیین سے متعین ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ سونے چاندی کا ٹکڑا صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ راس المال ہو جائے، یعنی اصل سرمایہ بن جائے ”فِي الْمُضَارَبَاتِ وَالشِّرْكَاتِ“ مضاربتوں اور شرکتوں میں۔ یہ سونے چاندی کا ٹکڑا مضاربتوں اور شرکتوں میں راس المال ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا، یعنی اصل سرمایہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ“ لہٰذا یہ سونے چاندی کا جو ٹکڑا ہے یہ راس المال ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ”فِي الْمُضَارَبَاتِ وَالشِّرْكَاتِ“ مضاربتوں اور شرکتوں میں۔ بھئی! کیوں نہیں راس المال ہونے کی صلاحیت رکھتا؟ کیونکہ یہ تعیین سے متعین ہو جاتا ہے، تو معلوم ہوا یہ سامان کے درجے میں ہے، اور سامان کے اندر تو شرکت جائز نہیں، کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ اس کے اندر ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے۔ ایسی چیز کا نفع حاصل ہو رہا ہے جس کا ضمان اس شخص پر نہیں ہے بھئی، حالانکہ نفع تو ضمان کے ساتھ ہوتا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَذَكَرَ فِي كِتَابِ الصَّرْفِ“ اب کتاب الصرف کا حوالہ ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ”وَذَكَرَ فِي كِتَابِ الصَّرْفِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب الصرف میں ذکر فرمایا ہے: ”أَنَّ النُّقْرَةَ لَا يَتَعَيَّنُ“ نقرہ، دیکھو یہاں بھی نقرہ سے مراد سونے چاندی کا ٹکڑا ہے۔ مطلق ٹکڑا ہے، خام ٹکڑا یا صاف شدہ ٹکڑا یہ مراد نہیں ہے۔ اوپر جیسے ”وَمُرَادُهُ التِّبْرُ“، صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا ”وَمُرَادُهُ التِّبْرُ“ وہاں بھی تبر سے کیا مراد تھا؟ سونے چاندی کا ٹکڑا، اور یہاں پر بھی کیا آیا؟ ”أَنَّ النُّقْرَةَ لَا يَتَعَيَّنُ“ یہاں بھی معلوم ہوا نقرہ سے کیا مراد ہے؟ سونے چاندی کا ٹکڑا مراد ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَكَرَ فِي كِتَابِ الصَّرْفِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب الصرف میں ذکر فرمایا ہے ”أَنَّ النُّقْرَةَ لَا يَتَعَيَّنُ“ کہ سونے چاندی کا ٹکڑا جو ہے وہ متعین نہیں ہوتا ”حَتَّى لَا يَنْفَسِخُ الْعَقْدُ بِهَلَاكِهِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ بھئی! میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو درہم اور دینار اور فلوسِ نافقہ ہیں یہ تعیین سے متعین نہیں ہوتے۔ لہٰذا آپ کسی سے کوئی چیز خریدتے ہیں مبیع تو متعین ہے، لیکن ثمن جو درہم اور دینار ہے وہ متعین نہیں، لہٰذا آپ کے اور بائع کے درمیان بیع ہو گئی، ایجاب اور قبول ہو گیا۔ بائع نے مبیع ابھی آپ کے سپرد نہیں کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی مبیع ہلاک ہو گیا، تو یاد رکھو بیع ہی ختم ہو گئی کیونکہ معقود علیہ مبیع تھا، جب معقود علیہ کا وجود نہ رہا تو عقد کا بھی وجود نہ رہا بھئی۔ جبکہ درہم اور دینار جو ہیں وہ تو متعین نہیں ہوتے، تو بیع کرنے کے بعد اگر درہم اور دینار ہلاک بھی ہو جائیں اس سے بیع فاسد نہیں ہوتی۔ مثلاً میں نے آپ کے سامنے درہم اور دینار رکھے اور میں نے آپ سے کہا کہ یہ جو آپ کا مبیع ہے میں نے ان درہم اور دیناروں کے ذریعے خرید لیا، تو میں نے دیکھو ہاتھ کا اشارہ کیا اور ان درہموں اور دیناروں کی تعیین کی، پھر بھی یہ تعیین سے متعین نہیں ہوئے۔ چنانچہ بیع کے بعد مجھ پر ضروری نہیں ہے کہ میں یہی درہم آپ کے حوالے کروں، میں اور درہم بھی لا کر آپ کو دے سکتا ہوں۔ اور نیز اگر یہ درہم ہلاک بھی ہو گئے تو بیع ختم نہیں ہوگی کیونکہ یہ درہم اور دینار تعیین سے متعین نہیں۔ مبیع تو متعین تھا، وہ ہلاک تو بیع ہی ختم، لیکن درہم اور دینار تو متعین نہیں ہوتے، وہ اس شخص کے ذمے میں رہتے ہیں، لہٰذا یہ درہم اور دینار جن کی طرف میں نے اشارہ کیا اور جن پر آپ کے ساتھ میں نے عقد کیا ہے، اگر آپ کو دینے سے پہلے یعنی یہ ثمن بائع کے حوالے کرنے سے پہلے ہی یہ درہم اور دینار دریا میں گر گئے، ڈوب گئے، ہلاک ہو گئے پھر بھی بیع ختم نہیں، پھر بھی بیع باطل نہیں، بلکہ اب میرے ذمے ہے کہ اسی جیسے اور درہم آپ کے حوالے کروں۔
اب پھر دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَذَكَرَ فِي كِتَابِ الصَّرْفِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب الصرف میں ذکر فرمایا ہے ”أَنَّ النُّقْرَةَ لَا يَتَعَيَّنُ“ کہ سونے چاندی کا ٹکڑا جو ہے وہ متعین نہیں ہوتا ”حَتَّى لَا يَنْفَسِخُ الْعَقْدُ بِهَلَاكِهِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ ”حَتَّى لَا يَنْفَسِخُ الْعَقْدُ“ یہاں تک کہ عقد فسخ نہیں ہوتا ”بِهَلَاكِهِ“ اس سونے چاندی کے ٹکڑے کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے ”قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ سپرد کرنے سے پہلے۔ ادائیگی کرنے سے پہلے اگر وہ سونے چاندی کا ٹکڑا ہلاک ہو جائے پھر بھی عقد فسخ نہیں ہوتا، معلوم ہوا یہ تعیین سے متعین نہیں ہوتے۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَا يَنْفَسِخُ الْعَقْدُ بِهَلَاكِهِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ یہاں تک کہ عقد فسخ نہیں ہوتا سونے اور چاندی کے ٹکڑے کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے سپرد کرنے سے پہلے۔ اور یاد رکھنا یہاں آیا ”حَتَّى لَا يَنْفَسِخُ“، میں نے آپ کو بتلایا یہ حتیٰ صاحبِ ہدایہ اکثر کس لیے لاتے ہیں؟ تفریع کے لیے، ماقبل پر آگے کسی بات کی تفریع کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا نقرہ متعین نہیں ہوتا یہاں تک کہ بیع کے اندر اگر یہ ادائیگی سے پہلے ہلاک بھی ہو جائے تو بیع فسخ نہیں ہوتی، تو یہ حتیٰ جو ہے تفریع کے لیے ہے، تو اس کے بعد ان مقدر نہیں ہے لہٰذا یہ نصب نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَا يَنْفَسِخُ الْعَقْدُ بِهَلَاكِهِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ یہاں تک کہ ادائیگی سے پہلے سونے چاندی کا ٹکڑا ہلاک ہونے سے وہ عقد فسخ نہیں ہوتا۔ ”فَعَلَى تِلْكَ الرِّوَايَةِ“ تو اس روایت پر، یہ جو کتاب الصرف کی عبارت آئی کہ ”أَنَّ النُّقْرَةَ لَا يَتَعَيَّنُ“، تو ”فَعَلَى تِلْكَ الرِّوَايَةِ يَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ فِيهِمَا“ تو اس روایت پر یہ جو سونے چاندی کا ٹکڑا ہے یہ راس المال ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ان دونوں میں، یعنی شرکت اور مضاربت کے اندر۔ ”وَهٰذَا لِمَا عُرِفَ أَنَّهُمَا خُلِقَا ثَمَنَيْنِ فِي الْأَصْلِ“ اور یہ اس وجہ سے کہ ہے جو جانا گیا ہے کہ ان دونوں کو بطورِ ثمن کے پیدا کیا گیا ہے اصل میں۔ کہ سونے اور چاندی کو اصل میں بطورِ ثمن ہی کے پیدا کیا گیا ہے، اللہ نے سونے اور چاندی کو تجارت کے لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ لوگ اس کے ذریعے تجارت کریں۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا“ اور یہ جو سونے اور چاندی کے ٹکڑے کا متعین نہ ہونا ہے ”لِمَا عُرِفَ“ یہ اس وجہ سے ہے جس کو جانا گیا ”أَنَّهُمَا خُلِقَا ثَمَنَيْنِ فِي الْأَصْلِ“ کہ ان دونوں کو اصل کے اندر بطورِ ثمن کے پیدا کیا گیا ہے۔
یہاں ایک اور بات یاد رکھیں: بھئی دیکھیے! سب سے پہلے اوپر قدوری کی عبارت آئی، اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے جامع صغیر کی عبارت ذکر کی، اور پھر آخر میں کتاب الصرف کی عبارت ذکر کی۔ اب یہ کتاب الصرف کون سی کتاب الصرف مراد ہے؟ تو میری کتاب میں بین السطور دیا ہے: ”مِنَ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“، یعنی جامع صغیر ہی کی کتاب الصرف مراد ہے۔ عام علماء و شارحین کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ کتاب الصرف سے بھی جامع صغیر ہی کی کتاب الصرف مراد ہے، لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ کتاب الصرف سے مراد مبسوط کی کتاب الصرف ہے، اور یہی بات زیادہ زیادہ مناسب ہے۔ یہی بات زیادہ مناسب ہے کہ کتاب الصرف سے جامع صغیر کی کتاب الصرف مراد نہ لی جائے بلکہ مبسوط کی کتاب الصرف مراد لی جائے۔ چنانچہ بعض شارحین نے لکھا کہ جامع صغیر کی کتاب الصرف میں ہمیں یہ بات نہیں ملی۔ جامع صغیر کی کتاب الصرف میں ہمیں یہ بات نہیں ملی، البتہ مبسوط کی کتاب الصرف میں یہ بات موجود ہے۔ تو معلوم ہوا کتاب الصرف سے مبسوط کی کتاب الصرف مراد ہے، اور نیز صاحبِ ہدایہ کا انداز بھی بتلا رہا ہے۔ اوپر انہوں نے جامع صغیر کو الگ ذکر کیا اور کتاب الصرف کو الگ ذکر کر رہے ہیں، اگر کتاب الصرف بھی جامع صغیر والی ہی مراد تھی وہ تو جامع صغیر کے اندر ہی پھر داخل تھی بھئی۔ معلوم ہوا یہ مبسوط کی عبارت ہے جو کتاب الصرف کے حوالے سے صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائی ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ بھئی سب سے پہلے صاحبِ ہدایہ نے متن یعنی قدوری کی عبارت ذکر فرمائی، اور پھر اس کے بعد جامع صغیر اور کتاب الصرف کی عبارتیں ذکر فرمائیں۔ جامع صغیر سے پتہ چلا کہ سونے اور چاندی کے ٹکڑے تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں، اور کتاب الصرف سے پتہ چلا کہ سونے چاندی کے ٹکڑے تعیین سے متعین نہیں ہوتے۔ تو اب صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول وہ پہلا قول ہے، یعنی جامع صغیر والا، کہ سونے چاندی کے ٹکڑے تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں، جب تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں تو ان کے ساتھ عقدِ شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ الْأَوَّلَ أَصَحُّ“ مگر یہ کہ پہلا قول جو ہے وہ زیادہ صحیح ہے، یعنی جامع صغیر والا قول زیادہ صحیح ہے۔ جو قول کتاب الصرف میں ذکر ہے وہ بھی صحیح ہے لیکن جو جامع صغیر کے اندر ذکر ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ ”لِأَنَّهَا وَإِنْ خُلِقَتْ لِلتِّجَارَةِ فِي الْأَصْلِ لٰكِنَّ الثَّمَنِيَّةَ تَخْتَصُّ بِالضَّرْبِ الْمَخْصُوصِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو سونا اور چاندی ہیں اگرچہ اصل کے اندر ان کو تجارت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ”لٰكِنَّ الثَّمَنِيَّةَ تَخْتَصُّ بِالضَّرْبِ الْمَخْصُوصِ“ بھئی پہلے دلیل سمجھ لیجیے۔ صاحبِ ہدایہ نے جامع صغیر کی عبارت کو ترجیح دی کہ سونا اور چاندی تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں اور اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ اگرچہ یہ سونا اور چاندی ان کو تجارت کے لیے اللہ نے پیدا فرمایا ہے لیکن ان کے ساتھ ثمن ہونا خاص ہوتا ہے جب ان پر خاص مہر لگا دی جائے، یعنی ان سے درہم اور دینار بنا لیے جائیں، پھر اس کے بعد یہ ثمن بنتے ہیں، اس سے پہلے یہ ثمن نہیں ہیں بھئی۔ جب اس سے پہلے یہ ثمن نہیں ہیں تو یہ سامان کے حکم میں ہیں، تو ان کے ساتھ شرکت اور مضاربت بھی جائز نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا وَإِنْ خُلِقَتْ لِلتِّجَارَةِ فِي الْأَصْلِ“ اس لیے کیونکہ یہ سونا اور چاندی جو ہیں اگرچہ انہیں اصل کے اندر تجارت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ”لٰكِنَّ الثَّمَنِيَّةَ تَخْتَصُّ بِالضَّرْبِ الْمَخْصُوصِ“ مگر ان کا ثمن ہونا خاص ہے مخصوص مہر کے ساتھ۔ ضرب یضرب کا ایک معنی آتا ہے مہر لگانا۔ تو ضرب جو ہے وہ سکہ جس پر مہر لگی ہوئی ہے، جس پر حکومت کی طرف سے باقاعدہ ٹھپا لگا ہوا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضرب بھئی۔ یہ درہم اور دینار کیا ہیں؟ یہ ضرب ہیں، یعنی مہر لگے ہوئے سکے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لٰكِنَّ الثَّمَنِيَّةَ تَخْتَصُّ بِالضَّرْبِ الْمَخْصُوصِ“ لیکن ان کا ثمن ہونا وہ خاص ہے مخصوص مہر کے ساتھ، ”لِأَنَّ عِنْدَ ذٰلِكَ لَا يُصْرَفُ إِلَى شَيْءٍ آخَرَ ظَاهِرًا“ کہتے ہیں بھئی وجہ یہ ہے کہ جب سونے اور چاندی سے درہم اور دینار بنا لیے جاتے ہیں، ان پر حکومت کی طرف سے خاص مہر لگا دی جاتی ہے تو اب وہ صرف تجارت کے لیے ہی استعمال ہوتے ہیں، اور کاموں کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ لیکن جب تک مہر نہیں لگی تب تک تو سونے اور چاندی سے زیور بھی بنائے جاتے ہیں، یہ تو اور چیزوں پر بھی خوبصورتی کے لیے ان کو چڑھایا جاتا ہے۔ تو جب تک ان پر خاص مہر نہیں لگے گی ان کا ثمن ہونا معین نہیں ہے، جب تک ان پر وہ مہر نہ لگے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عِنْدَ ذٰلِكَ“ اس لیے کیونکہ اس وقت، یعنی جب ان پر مہر لگا دی جائے ”لَا يُصْرَفُ إِلَى شَيْءٍ آخَرَ ظَاهِرًا“ تو پھر ان کو کسی دوسری چیز میں نہیں لگایا جاتا ظاہر کے اعتبار سے، یعنی پھر صرف ان سے تجارت کی جاتی ہے۔ ”إِلَّا أَنْ يَجْرِيَ التَّعَامُلُ بِاسْتِعْمَالِهِمَا ثَمَنًا“ ”إِلَّا أَنْ يَجْرِيَ التَّعَامُلُ“ مگر یہ کہ لوگوں کا تعامل جاری ہو جائے ”بِاسْتِعْمَالِهِمَا ثَمَنًا“ ان دونوں کو بطورِ ثمن کے استعمال کرنے کے، کہ لوگ ان دونوں کو بطورِ ثمن کے استعمال کرنے لگیں، ”فَيُنَزَّلُ التَّعَامُلُ بِمَنْزِلَةِ الضَّرْبِ“ لہٰذا تعامل کو ہی اس مہر کے درجے میں اتار لیا جائے گا، ”فَيَكُونُ ثَمَنًا“ تو اس صورت میں یہ ثمن ہو جائیں گے ”وَيَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ“ اور پھر یہ صلاحیت رکھیں گے راس المال ہونے کی، دیکھو وہی حاصل کلام جو صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا تھا بھئی۔
آگے دیکھیے: ”ثُمَّ قَوْلُهُ: وَلَا يَجُوزُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ“ بھئی پیچھے ذرا پھر متن پر آئیے۔ صاحبِ قدوری نے فرمایا تھا: ”وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ“ یہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس میں ساری چیزیں آگئیں، اس کے اندر سامان بھی آگیا، اس کے اندر مکیلات اور موزونات اور معدوداتِ متقاربَہ بھی آگئے، یعنی ان کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو چیزیں دو قسم پر ہیں: کچھ کو ذوات القیم کہتے ہیں اور کچھ کو مثلیات کہتے ہیں۔ ذوات القیم وہ چیزیں ہیں جو قیمت والی ہیں، یعنی ان کا مثل بازار سے نہیں ملتا، جیسے گائے، بیل، بکری وغیرہ ہے بھئی، تو ان کا مثل بازار سے نہیں ملتا۔ ایک شخص کسی کی بکری ہلاک کر دے تو بدلے میں اس کو قیمت دینا پڑتی ہے، کیونکہ اسی جیسی اور بکری بازار سے نہیں مل سکتی، اگر ظاہری طور پر اس جیسی ہو پھر بھی باطنی صفات ویسی نہیں ہوتیں، مثلاً یہ بکری آرام سے دودھ نکالنے دیتی تھی اور ہو سکتا ہے دوسری بکری لائیں وہ آرام سے دودھ ہی نہ نکالنے دے، تو ظاہری طور پر ایک جیسی بھی ہوں چیزیں پھر بھی باطنی صفات الگ الگ ہوتی ہیں۔ تو کچھ چیزیں ذوات القیم کہلاتی ہیں، یعنی ان کا مثل بازار سے نہیں مل سکتا۔ اور کچھ چیزیں مثلیات کہلاتی ہیں کہ ان کا مثل بازار سے مل جاتا ہے۔ اور یاد رکھو مثلیات جو ہیں وہ تین قسم کی چیزیں ہیں: ایک مکیلات ہیں، ایک موزونات ہیں اور ایک معدوداتِ متقاربَہ ہیں۔ مکیلات بھئی وہ چیزیں جن کو ایک پیمانے کے اندر ماپ کر بیچا جاتا ہے، جیسے دودھ ایک پیمانے کے اندر ماپ کر بیچا جاتا ہے کہ آپ نے ایک لیٹر لینا ہے یا دو لیٹر لینا ہے، تو یہ جو ایک لیٹر یا دو لیٹر ہے یہ کوئی وزن نہیں کیا جاتا بلکہ خاص پیمانے کے اندر بھر کر دیا جاتا ہے بھئی۔ اور اسی طرح قدیم زمانے کے اندر اور آج کل بھی دنیا کے بعض حصوں میں اسی طرح رائج ہے کہ یہ گندم جو ہے اس کو ایک برتن کے اندر ماپ کر بیچا جاتا تھا کہ ایک برتن ایک درہم کا ہے تو دو برتن دو درہم کے ہیں، تو یہ ہیں مکیلات بھئی۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کو وزن کر کے بیچا جاتا ہے، جیسے آپ بازار سے چینی لینے جاتے ہیں یا آپ لوہا خریدتے ہیں، تو یہ چیزیں جو ہیں ان کا وزن کیا جاتا ہے۔ اور کچھ چیزیں جو ہیں وہ معدوداتِ متقاربَہ ہیں، یعنی جن کو گنا جاتا ہے البتہ وہ متقارب ہیں یعنی ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، جیسے انڈے ہیں، دیکھو انڈے بازار میں گن کر بیچے جاتے ہیں درجن کے حساب سے، اب دو انڈے بالکل ایک جیسے تو نہیں ہوتے ان میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے لیکن اس فرق کو شمار ہی نہیں کیا جاتا، تو یہ ایک دوسرے کے متقارب ہیں، قریب قریب ہیں، ایک جیسے ہیں۔ یا جیسے بعض علاقوں کے اندر یہ اخروٹ گن کر بیچے جاتے ہیں، اب ہر اخروٹ دوسرے اخروٹ جیسا تو نہیں، تھوڑا بہت فرق ہوگا لیکن اس فرق کو شمار نہیں کیا جاتا۔ تو یہ جو مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربَہ ہیں ان کو مثلیات کہتے ہیں کیونکہ ان کا مثل بازار سے مل جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے دوسرے کی سو من گندم ضائع کر دی تو اسی جیسی گندم بازار سے مل جائے گی وہ اس کو لا کر ادا کر سکتا ہے، یا کسی نے ایک شخص کی ایک بوری چینی کی ضائع کر دی تو اسی جیسی چینی بازار سے مل جاتی ہے وہ اتنی ہی چینی لا کر اسے ادا کر دے گا، یا کسی نے مثلاً معدوداتِ متقاربَہ کسی کے ضائع کر دیے تو وہی چیز بازار سے مل جائے گی وہ لا کر اسے دے دے گا بھئی۔ تو یہ جو مثلیات ہیں ان کا مثل بازار سے مل جاتا ہے اس لیے ان کو مثلیات کہتے ہیں۔ اور یاد رکھنا ذوات القیم چیزیں جو ہیں چونکہ ان کا مثل نہیں ملتا تو اگر کسی نے کسی کی ذوات القیم چیزوں میں سے کوئی ہلاک کر دی تو اسے قیمت دینا پڑے گی کیونکہ وہاں مثل ملنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اگر کسی نے دوسرے کی مثلیات میں سے کوئی چیز ضائع کر دی تو ان چیزوں کا تو مثل بازار سے مل جاتا ہے تو ضمان کے طور پر مثل دینا پڑے گا، یعنی اسی قسم کی اتنی مقدار میں وہ چیز دینا پڑے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو بات چل رہی تھی کہ پیچھے بھئی صاحبِ قدوری نے متن میں ذکر فرمایا: ”وَلَا يَجُوزُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ“ کہ عقدِ شرکت ان کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ جائز نہیں، تو اس کے اندر سامان بھی آگیا، اس کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز نہیں کیونکہ اس میں ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے، اور نیز اسی کے اندر مثلیات بھی داخل ہو گئے، یعنی مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربَہ، یعنی ان کے ساتھ بھی شرکت جائز نہیں ہے۔ اب پھر سبق پر آئیے بھئی، کہتے ہیں: ”ثُمَّ قَوْلُهُ: وَلَا يَجُوزُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ يَتَنَاوَلُ الْمَكِيلَ وَالْمَوْزُونَ وَالْعَدَدِيَّ الْمُتَقَارِبَ“ کہتے ہیں صاحبِ قدوری کا یہ جو قول آیا تھا متن کے اندر ”وَلَا يَجُوزُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ“ یعنی درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ شرکت جائز نہیں، یہ مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربَہ کو بھی شامل ہے، یعنی ان کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ قَوْلُهُ: وَلَا يَجُوزُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ“ پھر صاحبِ قدوری کا یہ جو قول آیا ”وَلَا يَجُوزُ بِمَا سِوَى ذٰلِكَ“ تو صاحبِ قدوری کا یہ قول جو ہے ”يَتَنَاوَلُ الْمَكِيلَ وَالْمَوْزُونَ وَالْعَدَدِيَّ الْمُتَقَارِبَ“ یہ شامل ہے مکیلات، موزونات اور عددی متقارب کو، ”وَلَا خِلَافَ فِيهِ بَيْنَنَا قَبْلَ الْخَلْطِ“ بھئی آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو مثلیات ہیں، یعنی مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربَہ، ان کے اندر تین صورتیں بنتی ہیں: دو صورتیں تو اتفاقی ہیں، ایک صورت میں اختلاف ہے۔ یاد رکھو یہ جو مثلیات ہیں یعنی مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربَہ، اس کے اندر دو آدمی شرکت کرنا چاہتے ہیں، یا تو ان کو آپس میں ملانے سے پہلے شرکت کرنا چاہتے ہیں، مثلاً زید کے پاس بھی پچاس من گندم ہے اور عمرو کے پاس بھی پچاس من گندم ہے، تو دونوں کے پاس گندم الگ الگ موجود ہے، اور ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس گندم کو آپس میں ملا دیتے ہیں۔ تو پہلی صورت ہے جب ابھی انہوں نے آپس میں گندم کو ملایا ہی نہیں، تو یہ جو مثلیات ہیں جب ان کو ابھی ملایا ہی نہیں گیا تو بالاتفاق ان کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں۔ ان میں عقدِ شرکت جائز نہیں۔ زید کے پاس بھی پچاس من گندم، عمرو کے پاس بھی پچاس من گندم، اور دونوں آپس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی اس عقدِ شرکت کا کوئی اعتبار نہیں، زید اپنی گندم بیچے گا تو وہ نفع زید ہی کا ہوگا اس میں عمرو کا کوئی حق نہیں، اور عمرو اپنی گندم بیچے گا تو اس کا نفع عمرو ہی کا ہوگا زید کا اس میں کوئی حق نہیں، اور اگر زید یا عمرو اپنی گندم بیچتے ہیں اور نقصان ہوتا ہے تو جس کی گندم ہے اسی کا نقصان ہوگا کیونکہ یہاں عقدِ شرکت جائز ہی نہیں ہے، کیونکہ یہ مثلیات ملانے سے پہلے سامان کے حکم میں ہیں اور جب یہ سامان کے حکم میں ہیں تو سامان کے اندر تو عقدِ شرکت جائز نہیں، ورنہ تو ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ایک صورت کیا؟ کہ یہ مثلیات کو ملانے سے پہلے عقدِ شرکت کیا جائے۔ دوسری صورت ہے کہ ان کو ملانے کے بعد عقدِ شرکت کیا جائے، لیکن ملانے کے بعد پھر یہاں دو صورتیں بنتی ہیں: یا تو دونوں کا راس المال ایک ہی جنس ہوگا، زید کے پاس بھی پچاس من گندم تھی، عمرو کے پاس بھی پچاس من گندم تھی، دونوں نے اس گندم کو ملا دیا آپس میں، تو اب دیکھو دونوں کا راس المال کیا ہے؟ ایک ہی جنس ہے، گندم ہے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ دونوں نے اپنے راس المال کو ملا دیا لیکن دونوں کی جنس الگ الگ ہے، مثلاً زید کے پاس گندم تھی اور عمرو کے پاس مثلاً جو تھی بھئی، تو زید کی پچاس من گندم اور عمرو کے پچاس من جو دونوں نے ان کو ملا دیا، دونوں نے ان کو ملا دیا۔ تو یاد رکھو! پہلی صورت، پہلی صورت مثلیات کو ملانے سے پہلے تو بالاتفاق اس میں عقدِ شرکت جائز نہیں۔ اور ملانے کے بعد، ملانے کے بعد اگر دونوں کی جنس الگ الگ ہے تو اس میں بھی بالاتفاق عقدِ شرکت جائز نہیں ہے۔ اور اگر دونوں کی جنس ایک ہے اور انہوں نے اس کو ملا دیا ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے ملانے سے پہلے یہ سامان کے حکم میں تھے اور سامان کے اندر تو عقدِ شرکت جائز نہیں ہوتا کیونکہ وہاں ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے، تو ملانے کے بعد بھی یہ اسی سامان ہی کے حکم میں ہیں اور لہٰذا اس کے اندر بھی عقدِ شرکت جائز نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ملانے سے پہلے تو یہ سامان کے حکم میں تھے لیکن جب یہ دونوں نے اپنی اپنی گندم ملا دی یعنی ایک ہی جنس ہے دونوں کی اور دونوں نے اس کو ملا دیا تو اب یہ ثمن کے درجے میں ہو گئے۔ تو ثمن کے درجے میں ہو گئے اور ثمن یعنی درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ جو ہیں ان کے اندر تو شرکت جائز ہے تو یہ جو مثلیات جو ایک ہی جنس کے تھے اور ان کو انہوں نے آپس میں ملا دیا تو یہ بھی ثمن کے درجے میں ہو گئے لہٰذا ان پر عقدِ شرکت جائز ہے۔ تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین صورتیں۔ ایک صورت ہے کہ مثلیات کو ملانے سے پہلے عقدِ شرکت کر لیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان کو ملانے کے بعد شرکت کیا تو وہاں دو صورتیں بنتی ہیں: یہ جو مثلیات جن کو آپس میں ملایا یا تو یہ متحد الجنس ہوں گے یا مختلف الجنس ہوں گے۔ اگر متحد الجنس ہیں تو پھر اس صورت میں اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ملانے سے پہلے ہی یہ دونوں کی گندم سامان کے حکم میں تھی تو ملانے کے بعد بھی یہ گندم سامان کے حکم میں ہے لہٰذا اس کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ملانے سے پہلے تو یہ گندم سامان کے حکم میں تھی لیکن ملانے کے بعد اب یہ ثمن کے حکم میں ہو گئی لہٰذا اب اس کے اندر عقدِ شرکت جائز ہے بھئی۔ اور اگر یہ مثلیات جن کو آپس میں ملایا ہے اگر ان کی جنس الگ الگ ہے یعنی مختلف الجنس ہے، ایک کی طرف سے گندم ہے اور دوسرے کی طرف سے جو ہیں، تو پھر اس صورت کے اندر بھی بالاتفاق اس کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی صاحبِ ہدایہ اور وضاحت کے ساتھ اور بہتر الفاظ کے ساتھ اس کو ذکر فرمائیں گے۔
تو کہتے ہیں کہ صاحبِ قدوری کا یہ قول جو ہے کہ ان کے علاوہ اور چیزوں سے شرکت جائز نہیں یہ مکیلات، موزونات اور عددی متقارب کو شامل ہے، ”وَلَا خِلَافَ فِيهِ بَيْنَنَا قَبْلَ الْخَلْطِ“ اور کوئی اختلاف نہیں ہے ہمارے درمیان ”قَبْلَ الْخَلْطِ“ ان کو ملانے سے پہلے۔ یعنی ملانے سے پہلے یہ کس کے حکم میں ہے؟ سامان کے حکم میں ہے، اور سامان کے اندر تو عقدِ شرکت جائز نہیں کیونکہ کیا خرابی لازم آتی ہے؟ ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا خِلَافَ فِيهِ بَيْنَنَا قَبْلَ الْخَلْطِ“ اور اس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے ہمارے درمیان ان کے ملانے سے پہلے۔ ”وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رِبْحُ مَتَاعِهِ وَعَلَيْهِ وَضِيعَتُهُ“ میں نے آپ کو بتلایا، زید کی گندم زید کے پاس ہے، عمرو کی گندم عمرو کے پاس ہے، دونوں نے صرف زبان کے ذریعے عقدِ شرکت کر لیا تو یہ عقدِ شرکت جائز نہیں، یہ ہوا ہی نہیں۔ لہٰذا زید اپنی گندم بیچے گا تو نفع جو آئے گا وہ بھی زید کا، اور اگر نقصان ہوا تو وہ بھی زید ہی پر ہے۔ اسی طرح عمرو اپنی گندم بیچے گا تو نفع ہوا تو وہ عمرو ہی کا نفع ہے اور اگر نقصان ہوا تو نقصان بھی عمرو ہی کا ہے۔ یہی بیان فرما رہے ہیں کہ ”وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رِبْحُ مَتَاعِهِ“ اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اس کے سامان کا نفع ہوگا ”وَعَلَيْهِ وَضِيعَتُهُ“ اور اسی پر اس کا نقصان بھی ہوگا۔ وضیعہ کہتے ہیں نقصان کو۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَيْهِ وَضِيعَتُهُ“ اور اسی پر اس کا نقصان اور خسارہ بھی ہوگا۔ ”وَإِنْ خَلَطَا“ یہ دوسری صورت آگئی: ملا دیا اور ایک ہی جنس ہے۔ تیسری صورت آگے ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ خَلَطَا“ اور اگر ان دونوں شریکوں نے ان مثلیات کو ملا دیا اور متحد الجنس ہے، دونوں کی جنس ایک ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ خَلَطَا“ اور اگر دونوں شریکوں نے اپنے ان مثلیات کو ملا دیا ”ثُمَّ اشْتَرَكَا“ پھر اس کے بعد دونوں شریک ہو گئے یعنی اس میں عقدِ شرکت کر لیا ”فَكَذٰلِكَ فِي قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو بھی مثلاً اسی طرح ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول میں، یعنی جیسے پہلے یہ سامان کے حکم میں تھے ملانے کے بعد بھی سامان کے حکم میں ہے اور سامان کے اندر تو عقدِ شرکت جائز نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ خَلَطَا ثُمَّ اشْتَرَكَا فَكَذٰلِكَ فِي قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالشِّرْكَةُ شِرْكَةُ مِلْكٍ لَا شِرْكَةُ عَقْدٍ“ اور اگر دونوں نے ان کو ملا دیا اور پھر شرکت کر لی تو بھی اسی طرح ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول میں، اور یہ جو شرکت ہوگی یہ شرکتِ ملک ہوگی نہ کہ شرکتِ عقد۔ بھئی جہاں شرکت کا باب شروع ہوا تھا صاحبِ ہدایہ نے وہاں شروع میں آپ کو بتلایا تھا کہ شرکت دو قسم پر ہے: ایک شرکتِ املاک ہے اور ایک شرکتِ عقد ہے۔ شرکتِ املاک یہ ہے کہ ایک چیز کے اندر دو آدمی شریک ہو جائیں، مثلاً دو آدمیوں نے پیسے ملا کر ایک گاڑی خرید لی، تو یہ گاڑی اب دونوں کے درمیان مشترکہ ہے بھئی۔ یا دونوں کو ایک شخص نے تحفے کے طور پر گاڑی دے دی، مثلاً زید اور عمرو کو کسی شخص نے گاڑی تحفے کے طور پر دے دی تو یہ گاڑی زید اور عمرو کے درمیان مشترکہ ہے بھئی۔ تو یہ دیکھو اس چیز کی ملکیت میں دونوں شریک ہیں، یہ ہے شرکتِ ملکیت بھئی۔ اور ایک شرکتِ عقد ہے بھئی جس میں باقاعدہ دونوں ایجاب اور قبول کے ساتھ شرکت والا عقد کرتے ہیں بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو دونوں نے آپس میں گندم ملا دی ہے تو یہاں اب شرکتِ ملکیت آگئی، یعنی اس گندم کے اندر زید کا بھی حصہ ہے اور عمرو کا بھی حصہ ہے، لہٰذا اس گندم کو بیچیں گے تو نفع حاصل ہو...
ہوگا تو وہ نفع بھی جس کا جتنا حصہ ہے گندم کے اندر اتنا ہی نفع اس کو ملے گا اور اگر نقصان ہوا تو جس کا جتنا حصہ ہے اسی کے مطابق نقصان بھی تقسیم ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرِكَةُ شَرِكَةُ مِلْكٍ لَا شَرِكَةُ عَقْدٍ“ اور یہ جو شرکت ہے، یہ شرکتِ ملک ہے، ”لَا شَرِكَةُ عَقْدٍ“ شرکتِ عقد نہیں ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔
”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”تَصِحُّ شَرِكَةُ الْعَقْدِ“ شرکتِ عقد صحیح ہے۔ جب وہ دونوں مثلیات ایک ہی جنس کی ہوں، زید کی طرف سے بھی گندم، عمرو کی طرف سے بھی گندم، تو ان کو ملانے سے پہلے ان کا حکم سامان والا ہے، لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب ان کو ملا دیں گے تو اب ان کا حکم ثمن والا ہو گیا، لہٰذا اب یہاں وہ دونوں عقد کر لیں گے تو یہ شرکتِ عقد ہو گئی بھئی۔ شرکتِ عقد ہو گئی، یاد رکھو۔
فرق کیا ہے شرکتِ ملک اور شرکتِ عقد میں؟ اپ کو بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ شرکتِ ملک کے اندر ایک شریک صرف اپنے حصے میں تصرف کر سکتا ہے، دوسرے کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا۔ مثلاً میں نے اور زید نے مل کر ایک گاڑی خرید لی، تو اس گاڑی کے اندر مثلاً نصف حصہ میرا ہے اور نصف حصہ زید کا ہے، تو میں زید کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا، اپنے حصے میں تصرف کر سکتا ہوں۔ مثلاً میں اپنا حصہ خالد کو بیچ دیتا ہوں، میں خالد سے کہتا ہوں کہ یہ گاڑی میرے اور زید کے درمیان مشترکہ ہے، اس میں میرا نصف حصہ ہے، میں اپنا نصف حصہ اپ کو فروخت کرتا ہوں، اپ خرید لیں، اپ زید کے ساتھ شریک ہو جائیں گے، میں اس شرکت سے نکل جاؤں گا۔
توجہ ہے؟ تو یاد رکھو، شرکتِ املاک میں ہر شریک جو ہے وہ دوسرے شریک کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا، صرف اپنے حصے میں تصرف کر سکتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں شرکتِ عقد کے اندر انسان دوسرے شریک کے مال میں بھی تصرف کر سکتا ہے۔ مثلاً میں نے اور اپ نے پانچ پانچ لاکھ روپے ملائے، اب ہم دونوں مل کر تجارت کر رہے ہیں، تو یاد رکھو دونوں میں سے ہر شریک دوسرے کا وکیل بھی ہے، لہٰذا وہ اس سارے مال کے اندر تصرف کر سکتا ہے۔ وہ اس سارے مال کے اندر، کیونکہ اس کے اندر اس شریک کا اپنا بھی حصہ ہے تو اپنے حصے میں ہوا وہ اصیل اور دوسرے کے حصے میں کیا بن گیا؟ وکیل۔ تو شرکتِ عقد کے اندر ہر شریک دوسرے شریک کے حصے میں بھی تصرف کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کی طرف سے وکیل ہوتا ہے۔ تو یہ ایک فرق ہے۔ شرکتِ ملک کے اندر ایک شریک دوسرے شریک کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا، لیکن شرکتِ عقد کے اندر ہر شریک دوسرے کا وکیل بھی ہے لہٰذا وہ دوسرے کے حصے میں بھی تصرف کر سکتا ہے۔
اور دوسرا فرق یہ ہے شرکتِ ملک کے اندر جب دونوں تصرف کریں گے تو نفع ان کے حصوں کے برابر تقسیم ہو گا۔ مثلاً نصف گاڑی میری ہے اور نصف گاڑی زید کی ہے تو ہم دونوں جب گاڑی کو فروخت کریں گے تو جو نفع حاصل ہو گا نصف میرا ہو گا اور نصف زید کا ہو گا۔ اور اگر گاڑی کے اندر زید کا حصہ دگنا ہے میرے حصے سے، میں نے دس لاکھ دیے تھے اور زید نے بیس لاکھ دیے تھے اور ہم نے تیس لاکھ روپے کی ایک گاڑی خریدی ہے تو اس گاڑی کو جب بیچیں گے تو میری ملکیت تیسرا حصہ ہے لہٰذا نفع میں بھی مجھے صرف تیسرا حصہ ملے گا اور زید کا حصہ دو تہائی ہے لہٰذا نفع میں بھی اس کا حصہ دو تہائی ہو گا۔ یہ کس میں ہے؟ شرکتِ ملک میں، جتنا حصہ اتنا نفع۔ لیکن شرکتِ عقد میں جتنا نفع اپس میں طے کر لیں۔ جتنا نفع اپس میں طے کر لیں، مثلاً پانچ لاکھ زید نے ملائے اور پانچ لاکھ عمرو نے ملائے اور دونوں مل کر کاروبار کرتے ہیں تو مال تو دونوں کا ادھا ادھا ہے، لیکن زید تجارت کا زیادہ ماہر ہے، اس نے عقدِ شرکت کرتے وقت عمرو سے کہا تھا میں تبھی تمہارے ساتھ شرکت کروں گا کہ جو بھی نفع ائے گا دو تہائی میرا ہو گا اور تین میں سے ایک حصہ تمہارا ہو گا۔
توجہ ہے؟ تو عمرو راضی ہو گیا کیونکہ زید تجارت کا زیادہ ماہر ہے۔ تو اب دیکھو، مال دونوں کا ادھا ادھا ہے لیکن ایک کا نفع زیادہ ہے بھئی۔ تو یہ عقدِ شرکت میں تو جائز ہے کہ نفع جتنا بھی مقرر کرنا چاہیں مقرر کر سکتے ہیں، اپنے حصے سے بھی زیادہ نفع مقرر کر سکتے ہیں، لیکن شرکتِ املاک میں یہ جائز نہیں، جتنا حصہ ہے اسی کے بقدر نفع بھی ملے گا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ خَلَطَا ثُمَّ اشْتَرَكَا“ اور اگر دونوں نے ان دونوں مثلیات کو ملا دیا ”ثُمَّ اشْتَرَكَا“ پھر دونوں اس میں شریک ہو گئے ”فَكَذٰلِكَ فِي قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو اسی طرح ہو گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول میں، یعنی جیسے ان کو ملانے سے پہلے عقدِ شرکت جائز نہیں تھا ملانے کے بعد بھی عقدِ شرکت جائز نہیں۔ اسی طرح ہو گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول میں، ”وَالشَّرِكَةُ شَرِكَةُ مِلْكٍ لَا شَرِكَةُ عَقْدٍ“ اور یہ شرکت جو ہے یہ شرکتِ ملک ہے شرکتِ عقد نہیں ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”تَصِحُّ شَرِكَةُ الْعَقْدِ“ شرکتِ عقد بھی صحیح ہے۔ ”وَثَمَرَةُ الِاخْتِلَافِ تَظْهَرُ عِنْدَ التَّسَاوِي فِي الْمَالَيْنِ وَاشْتِرَاطِ التَّفَاضُلِ فِي الرِّبْحِ“ بھئی، زید کی بھی پچاس من گندم ہے عمرو کی بھی پچاس من گندم، دونوں نے اس کو اپس میں ملا دیا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ شرکتِ ملک ہے، دونوں کی گندم ادھی ادھی ہے تو نفع بھی ادھا ادھا ہو گا، نفع کے اندر کمی بیشی نہیں کر سکتے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہاں پر شرکتِ عقد صحیح ہے، لہٰذا نفع کے اندر کمی بیشی بھی جائز ہے کہ زید کہے میں دو تہائی نفع لوں گا اور عمرو کو صرف ایک تہائی نفع ملے گا، یہ جائز ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔
تو کہتے ہیں: ”وَثَمَرَةُ الِاخْتِلَافِ تَظْهَرُ“ اور ثمرۂ اختلاف ظاہر ہو گا، یعنی ہمارے ائمہ کے اختلاف کا ثمرہ ظاہر ہو گا ”عِنْدَ التَّسَاوِي فِي الْمَالَيْنِ“ جب دونوں مالوں کے اندر برابری ہو ”وَاشْتِرَاطِ التَّفَاضُلِ فِي الرِّبْحِ“ اور نفع کے اندر کمی بیشی کی شرط لگائی جائے۔ تو اس وقت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہو گا اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہو گا۔
”فَظَاهِرُ الرِّوَايَةِ مَا قَالَهُ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ ظاہرِ روایت وہ ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ یعنی امام صاحب سے جو روایت نقل کی گئی ہے وہ ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ جو مثلیات ہیں، جیسے ان کو ملانے سے پہلے ان کے اندر شرکت جائز نہیں، ملانے کے بعد بھی ان میں شرکت جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَظَاهِرُ الرِّوَايَةِ“ تو امام صاحب سے جو ظاہرِ روایت ہے ”مَا قَالَهُ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ وہی ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، ”لِأَنَّهُ تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ بَعْدَ الْخَلْطِ“ اس لیے کیونکہ یہ مثلیات جو ہیں یہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں ”بَعْدَ الْخَلْطِ“ ملانے کے بعد ”كَمَا يَتَعَيَّنُ قَبْلَهُ“ جیسے یہ ملانے سے پہلے متعین ہوتے ہیں۔
بھئی، میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ یہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ یہ تو تعین سے متعین نہیں ہوتے لیکن باقی چیزیں جو سامان ہیں یا مثلیات ہیں وہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ تو دلیل چل رہی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے یہ جو مثلیات ہیں ملانے سے پہلے متعین تھے، زید کی گندم الگ ہے اور عمرو کی گندم الگ ہے، تو ملانے کے بعد بھی یہ متعین ہیں، ان میں سے کچھ دانے وہ زید ہی کے ہیں اور کچھ دانے عمرو ہی کے ہیں بھئی۔ تو جیسے ملانے سے پہلے یہ متعین تھے تو ملانے کے بعد بھی یہ متعین ہیں، لہٰذا یہاں شرکتِ عقد نہیں ہو سکتی، شرکتِ عقد صرف اس چیز میں ہو سکتی ہے جو تعین سے متعین نہ ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ بَعْدَ الْخَلْطِ“ اس لیے کیونکہ یہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں ملانے کے بعد بھی ”كَمَا يَتَعَيَّنُ قَبْلَهُ“ جیسے یہ ملانے سے پہلے متعین ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ بھئی، دیکھیے سامان کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں۔ کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ وہاں ربح ما لم یضمن لازم ائے گا، کیونکہ وہ تعین سے متعین ہو جاتا ہے۔ اسی طرح زید اور عمرو کی گندم جو ہے وہ ملانے سے پہلے جیسے متعین ہے ملانے کے بعد بھی متعین ہے، لہٰذا اس صورت کے اندر بھی اگر نفع کے اندر کمی بیشی وہ مقرر کریں گے تو یہ تو ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم ائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
اگے دیکھیے: ”وَلِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اب امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ا گئی۔ امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ جو مثلیات ہیں ان کو ملانے سے پہلے ان کے اندر شرکت جائز نہیں، اور جب ان کو اپس میں ملا دیا جائے اور ایک ہی جنس ہو تو پھر ان کے اندر شرکت جائز ہے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مثلیات ہیں ان کی مشابہت ہے ثمن کے ساتھ بھی اور ان کی مشابہت ہے مبیع کے ساتھ بھی، تو ہم نے دونوں مشابہتوں پر عمل کیا۔ یہ جو مثلیات ہیں، یعنی مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربۃ، ان کی مشابہت ثمن کے ساتھ ہے اس طرح کہ جس طرح ثمن کسی کے ذمے میں باقی ہو کر رہ سکتے ہیں اسی طرح یہ مثلیات بھی کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتے ہیں۔ مثلاً میں اپ سے اپ کی گاڑی خریدتا ہوں اور ثمن میں ایک مہینے کے بعد ادا کروں گا، یعنی درہم، دینار یا فلوسِ نافقہ جو بھی طے ہوئے، تو دیکھو میرے اور اپ کے درمیان بیع ہو گئی اور مبیع متعین ہے، میں نے گاڑی خریدی ہے اور ثمن میرے ذمے میں ہے جو میں مثلاً ایک مہینے یا دو مہینے بعد ادا کروں گا۔ تو معلوم ہوا ثمن کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتے ہیں، اسی طرح یہ مثلیات بھی کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتی ہیں۔ مثلاً میں اپ سے اپ کی گاڑی خریدتا ہوں لیکن سونے چاندی یا کرنسی کے بجائے میں گندم ذکر کرتا ہوں کہ میں نے اپ کی گاڑی اپ سے فلاں قسم کی پانچ سو من گندم کے بدلے خرید لی اور اپ نے قبول کر لیا، تو دیکھو اب یہاں پر میرے ذمے ہے کہ اس خاص قسم کی پانچ سو من گندم اپ کے حوالے کروں، اور گندم کس میں سے ہے؟ مثلیات میں سے ہے۔ تو دیکھو معلوم ہوا مثلیات بھی کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتی ہیں۔ مثلاً یہ گندم اب میں نے اپ کو ایک مہینے بعد ادا کرنی ہے تو یہ گندم میرے ذمے میں ہے۔ تو جیسے ثمن کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتے ہیں اسی طرح مثلیات بھی کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتی ہیں، تو یہ مثلیات کی مشابہت ا گئی ثمن کے ساتھ۔ اور نیز یہ جو مثلیات ہیں ان کی مشابہت مبیع کے ساتھ بھی ہے، جیسے مبیع جو ہے وہ بیع کے اندر متعین ہوتا ہے، تعین سے متعین ہو جاتا ہے، اسی طرح یہ جو مثلیات ہیں یہ بھی تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اپ کے پاس سو من گندم موجود ہے، میں ہاتھ سے اس گندم کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں: یہ جو سو من گندم ہے یہ میں نے اپ سے سو درہم کے بدلے خرید لی، اب دیکھو میں نے گندم کی طرف اشارہ کیا تو یہ گندم متعین ہو گئی بطورِ مبیع کے، اب یہی گندم اپ کو میرے حوالے کرنا پڑے گی۔ تو معلوم ہوا یہ جو مثلیات ہیں یہ تعین سے متعین ہو جاتی ہیں، معلوم ہوا ان کا وہی حکم ہے جو سامان کا حکم ہوتا ہے یعنی جو مبیع کا حکم ہوتا ہے۔ تو مثلیات کی مشابہت ثمن کے ساتھ بھی ہے کہ یہ کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتے ہیں، اور مثلیات کی مشابہت مبیع یعنی سامان کے ساتھ بھی ہے کہ وہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔
تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہاں دونوں مشابہتوں پر عمل کیا۔ مثلیات کی مشابہت ثمن کے ساتھ بھی اور مبیع یعنی سامان کے ساتھ بھی ہے، اور یہاں حالتیں بھی دو ہیں: ایک حالت ہے ان مثلیات کو اپس میں ملانے سے پہلے شرکت کر لی جائے، اور ایک حالت یہ ہے کہ ان دونوں کو ملانے کے بعد شرکت کر لی جائے اور دونوں کی جنس ایک ہی ہو۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک ان مثلیات کو اپس میں ملایا نہیں گیا تو ان کا حکم سامان والا ہے، مبیع والا ہے جو تعین سے متعین ہو جاتا ہے، اور جو چیز تعین سے متعین ہو جاتی ہے تو اس کے اندر تو عقدِ شرکت جائز ہی نہیں، لہٰذا یہ جو مثلیات ہیں ان کو ملانے سے پہلے ان میں عقدِ شرکت جائز ہی نہیں۔ زید کے پاس سو من گندم الگ موجود ہے عمرو کے پاس سو من گندم الگ موجود ہے اور دونوں اس کو ملانے سے پہلے ہی عقدِ شرکت کرنا چاہتے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی یہ شرکت جائز نہیں ہے۔ اور دوسری حالت ہے ان کے ملانے کے بعد کی کہ ان مثلیات کو اپس میں ملا دیا گیا، تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر ہم نے اس کو ثمن والا حکم دے دیا۔ یہ زید اور عمرو نے اپنی گندم اپس میں ملا دی، اب ان کا حکم ثمن والا ہو گیا، اور جب ثمن والا حکم ہے اور ثمن کے اندر تو عقدِ شرکت بالاتفاق جائز ہے، لہٰذا ان مثلیات کے اندر بھی بعد الخلط ان کے اندر شرکت جائز ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ حاصلِ کلام یہ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مثلیات کی مشابہت ثمن سے بھی ہے اور مثلیات کی مشابہت مبیع کے ساتھ بھی ہے، اور یہاں حالتیں بھی دو ہیں: ایک ہے قبل الخلط ان کو ملانے سے پہلے، اور ایک ہے بعد الخلط یعنی ان کو ملانے کے بعد، تو ہم نے دونوں مشابہتوں پر عمل کیا: قبل الخلط ہم نے اس کو مبیع قرار دے دیا لہٰذا اس میں شرکت جائز ہی نہیں، اور بعد الخلط ہم نے اس کو ثمن قرار دے دیا اور ثمن کے اندر تو شرکت جائز ہوتی ہے لہٰذا ان کے اندر بھی اب شرکت جائز ہو گی۔ بات سمجھ میں ا گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهَا ثَمَنٌ مِنْ وَجْهٍ“ کہ یہ جو مثلیات ہیں یہ بعض اعتبار سے ثمن ہیں ”حَتَّىٰ جَازَ الْبَيْعُ بِهَا دَيْنًا فِي الذِّمَّةِ“ یہاں تک کہ ان کے بدلے بیع بھی جائز ہے ”دَيْنًا فِي الذِّمَّةِ“ کہ یہ ذمہ کے اندر دین ہو کر رہیں، مثلیات کے ساتھ بیع جائز ہے کہ یہ دین ہو کر کسی کے ذمے میں باقی رہیں۔ کہتے ہیں: ”حَتَّىٰ جَازَ الْبَيْعُ بِهَا“ یہاں تک کہ مثلیات کے ساتھ بیع جائز ہے ”دَيْنًا فِي الذِّمَّةِ“ ذمے کے اندر دین ہو کر، ”وَمَبِيعٌ“ اور یہ مثلیات مبیع بھی ہیں ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ يَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ“ اس حیثیت سے کہ یہ تعین سے متعین ہو جاتا ہے ”فَعَمِلْنَا بِالشَّبَهَيْنِ“ تو ہم نے دونوں مشابہتوں پر عمل کیا ”بِالْإِضَافَةِ إِلَى الْحَالَيْنِ“ ان دونوں حالتوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے، یعنی قبل الخلط ہم نے اس کو مبیع یعنی سامان والا حکم دیا اور بعد الخلط ہم نے اس کو ثمن والا حکم دیا۔ ”بِخِلَافِ الْعُرُوضِ“ بخلاف سامان کے ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ ثَمَنًا بِحَالٍ“ اس لیے کیونکہ یہ کسی بھی حال میں ثمن نہیں ہیں۔ سامان کسی بھی حال میں ثمن نہیں، اس کی کوئی مشابہت ثمن کے ساتھ نہیں ہے۔ مثلیات کسی کے ذمے میں باقی رہ سکتی ہیں، سامان کسی کے ذمے میں باقی نہیں رہ سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْعُرُوضِ“ بخلاف سامان کے ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ ثَمَنًا بِحَالٍ“ اس لیے کیونکہ یہ کسی بھی حال میں ثمن نہیں ہے۔
”وَلَوِ اخْتَلَفَا جِنْسًا“ اب یہ تیسری صورت ا گئی کہ مثلیات کو ملا دیا اپس میں لیکن دونوں کی جنس الگ الگ ہے، مثلاً زید کی طرف سے گندم ہے اور عمرو کی طرف سے جو ہے بھئی، یا زید کی طرف سے مثلاً گھی ہے اور عمرو کی طرف سے زیتون کا تیل ہے، تو جنس الگ ہے لیکن دونوں کو اپس میں ملا دیا، تو اگر مختلف الجنس کو اپس میں ملا دیا جائے تو پھر یاد رکھو اس صورت میں بعد الخلط بھی شرکت جائز نہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوِ اخْتَلَفَا جِنْسًا“ اور اگر وہ مثلیات دونوں مختلف ہوں جنس کے اعتبار سے ”كَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ“ جیسے گندم اور جو ہے ”وَالزَّيْتِ وَالسَّمْنِ“ اور جیسے زیتون کا تیل اور گھی ہے ”فَخُلِطَا“ پھر ان دونوں کو ملا دیا گیا یعنی گندم اور جو کو یا زیتون کا تیل اور گھی کو، تو کہتے ہیں: ”فَخُلِطَا“ پھر ان دونوں کو ملا دیا گیا ”لَا يَنْعَقِدُ الشَّرِكَةُ بِهَا بِالِاتِّفَاقِ“ تو بالاتفاق ان کے ساتھ شرکت منعقد نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ فرق کرتے ہیں: ایک ہے متحد الجنس کا اپس میں ملنا اور ایک ہے مختلف الجنس کا اپس میں ملنا۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک متحد الجنس جب اپس میں ملیں گے تو پھر اس میں شرکت جائز ہے، اور مختلف الجنس اپس میں ملیں گے تو ان میں شرکت جائز نہیں ہے۔ تو اس کی کیا وجہ ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ نے اس میں فرق کیوں کیا ہے؟ تو اس کی وجہ بتلائیں گے، وجہ یہ ہے کہ دونوں طرف سے جب گندم ہے تو گندم ہے مثلیات سے، تو ملنے سے پہلے بھی یہ مثلیات میں سے ہیں اور ملنے کے بعد بھی یہ مثلیات ہی میں سے ہیں۔ لیکن اگر جنس الگ الگ ہے تو ملنے سے پہلے تو وہ مثلیات میں سے تھے لیکن جب دونوں اپس میں مل جائیں گے اب یہ مثلیات نہ رہے بلکہ یہ تو ذوات القیم بن گئے۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فرق جو ہے وہ یہ ہے ”أَنَّ الْمَخْلُوطَ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ مِنْ ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ“ کہ وہ جس کو ملایا گیا ہے جنسِ واحد میں سے وہ ذوات الامثال میں سے ہے یعنی مثلیات میں سے ہے، وہ مثلیات میں سے ہے۔ چنانچہ اگر کسی نے یہ جو زید اور عمرو نے گندم ملا لی اور کسی نے یہ گندم ضائع کر دی تو اس کو اسی قسم کی گندم دینا پڑے گی، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ مثلیات میں سے ہے۔ اور زید کی گندم ہے اور عمرو کے جو ہیں، انہوں نے اپس میں ان کو ملا دیا اور کسی نے ان کو ہلاک کر دیا تو اس صورت میں اس کو قیمت دینا پڑے گی، کیونکہ گندم اور جو جب اپس میں مل گئے تو اب یہ مثلیات میں سے نہ رہے بلکہ ذوات القیم میں سے بن گئے، کیونکہ یہ اس طرح ملے ہوئے تو بازار میں نہیں ملتے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فرق کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْمَخْلُوطَ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ مِنْ ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ“ کہ وہ جس کو ملایا گیا ہے ایک ہی جنس میں سے وہ ذوات الامثال میں سے ہے ”وَمِنْ جِنْسَيْنِ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيَمِ“ اور دو جنسوں میں سے ہے تو وہ ذوات القیم میں سے ہے ”فَتَمَكَّنَ الْجَهَالَةُ“ تو جہالت بیٹھ گئی یعنی اس کے اندر جہالت ا گئی ”كَمَا فِي الْعُرُوضِ“ جیسے کہ سامان کے اندر ہوتا ہے۔
بھئی، سب سے پہلے یہ سمجھ لیں۔ ایک ہے مثلیات کے اندر تقسیم اور ایک ہے ذوات القیم کے اندر تقسیم۔ کس میں؟ ایک ہے ذوات القیم میں تقسیم اور ایک ہے مثلیات میں تقسیم۔ مثلاً زید اور عمرو نے پیسے ملا کر گندم خرید لی، پچاس ہزار زید نے ملائے اور پچاس ہزار عمرو نے ملائے اور دونوں نے اس کی گندم خرید لی۔ اب یہ گندم جو ہے یہ مثلیات میں سے ہے، یہ جو انہوں نے گندم خریدی ہے اس کے ہر ہر جز میں دونوں شریک ہیں۔ یہ جو گندم انہوں نے خریدی ہے ان میں سے ایک دانہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جس کے بارے میں کہا جا سکے یہ صرف زید کا ہے یا یہ صرف عمرو کا ہے، بلکہ ہر ہر دانہ بلکہ دانے کا ہر ہر جز جو ہے اس میں دونوں کی شرکت ہے۔ دونوں کی شرکت ہے، تو لہٰذا جب اس گندم کو یہ اپس میں تقسیم کرتے ہیں، نصف گندم زید لے لیتا ہے اور نصف گندم عمرو لے لیتا ہے۔ یاد رکھو، یہ دانے جب عمرو اور زید اپس میں تقسیم کریں گے تو یہاں افراز بھی ہے اور یہاں مبادلہ بھی ہے۔ افراز کہتے ہیں اپنا حصہ الگ کرنا اور مبادلہ کہتے ہیں کہ ایک چیز دے کر دوسری چیز لینا۔ تو زید اور عمرو نے پیسے ملا کر گندم خریدی ہے، اور میں نے اپ کو بتلایا کہ گندم کے ہر ہر دانے میں زید کا بھی حصہ ہے اور عمرو کا بھی حصہ ہے، تو لہٰذا جب اس گندم کو وہ اپس میں تقسیم کریں گے تو زید کے حصے میں جو دانے ائے ہیں ان کے اندر زید کا بھی حصہ تھا اور کچھ حصہ عمرو کا ہے۔ تو جب کچھ حصہ زید ہی کا تھا اور یہ زید نے لے لیا تو افراز پایا گیا، زید نے اپنا حصہ الگ کر لیا۔ لیکن انہی دانوں کے اندر جو زید کے حصے میں ائے ہیں کچھ حصہ عمرو کا بھی تو تھا بھئی، کیونکہ ہر دانے میں دونوں شریک تھے۔ تو اس میں عمرو کا بھی حصہ تھا لیکن وہ بھی زید نے لے لیا اور بدلے میں جو گندم عمرو کے حصے میں ائی ہے اس کے اندر جو زید کا حصہ بنتا تھا وہ زید نے عمرو کو دے دیا۔
توجہ ہے؟ زید اور عمرو نے اپس میں گندم تقسیم کر لی تو زید کے حصے میں جو گندم ائی اس کے ہر ہر جز میں زید کا بھی حصہ تھا اور عمرو کا بھی حصہ تھا، اسی طرح عمرو کے حصے میں جو گندم ائی اس کے ہر ہر جز کے اندر زید کا بھی حصہ تھا اور عمرو کا بھی حصہ تھا۔ تو زید نے جب اپنا حصہ الگ کیا تو کچھ حصہ تو اس میں تھا ہی زید کا تو اس کو کہتے ہیں افراز، زید نے کیا کر لیا؟ اپنا حصہ الگ کر لیا۔ لیکن ان میں سے ہر دانے کے اندر عمرو کا بھی تو حصہ تھا، زید نے وہ عمرو کا حصہ بھی لے لیا اور بدلے میں عمرو کے دانوں کے اندر جو زید کا حصہ بنتا تھا وہ عمرو کو دے دیا۔ تو زید نے جو گندم الگ کی وہاں افراز بھی ایا کہ زید نے اپنا حصہ الگ کیا ہے اور مبادلہ بھی پایا گیا کہ زید نے اس کے اندر عمرو کا حصہ لے کر بدلے میں عمرو کی گندم کے اندر اپنا حصہ عمرو کو دے دیا۔ تو معلوم ہوا جب بھی مثلیات کے اندر تقسیم کی جاتی ہے وہاں افراز بھی ہوتا ہے یعنی اپنا حصہ بھی الگ کر رہا ہے اور مبادلہ بھی پایا جاتا ہے کیونکہ وہاں دونوں پہلے ہر ہر جز میں شریک تھے۔ تو مثلیات کے اندر جب بھی تقسیم کی جائے وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی ہوتا ہے، لیکن وہاں افراز کو غالب قرار دیا جاتا ہے، یوں سمجھتے ہیں مبادلہ ہے ہی نہیں افراز ہی ہوا ہے۔ مبادلہ ہے ہی نہیں بلکہ افراز ہی ہوا ہے، یوں سمجھیں گے زید کے حصے میں جو گندم ائی ہے وہ تھی ہی زید کی اور عمرو کے جو حصے میں گندم ائی ہے وہ تھی ہی عمرو کی، دونوں نے صرف اپنے اپنے حصے الگ کیے ہیں، افراز پایا گیا ہے، مبادلہ ہے ہی نہیں یوں سمجھو۔ تو جب مثلیات کے اندر تقسیم کی جائے وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی، لیکن وہاں افراز کو غالب قرار دیا جاتا ہے اور یوں سمجھتے ہیں یہاں افراز ہوا ہے مبادلہ ہوا ہی نہیں۔
جبکہ ذوات القیم کے اندر جب ان کے اندر تقسیم کی جاتی ہے تو وہاں بھی افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی، لیکن وہاں مبادلے کو غالب قرار دیا جاتا ہے۔ وہاں مبادلے کو غالب قرار دیا جاتا ہے یعنی اس کو مبادلہ شمار کیا جاتا ہے۔ مثلاً زید اور عمرو دونوں نے پچاس پچاس ہزار روپے ملائے اور دونوں چار بکریاں خرید کر لے ائے۔ چار بکریاں، اب کوئی طے نہیں ہے کون سی بکری زید کی ہے اور کون سی عمرو کی ہے بلکہ چاروں بکریاں زید اور عمرو کی مشترکہ ہیں۔ معلوم ہوا ہر بکری کے اندر زید کا بھی حصہ اور عمرو کا بھی حصہ ہے اور یہ بکریاں ذوات القیم میں سے ہیں۔ پھر انہوں نے اپس میں بکریوں کو تقسیم کیا، دو بکریاں زید نے لے لیں اور دو بکریاں عمرو نے لے لیں۔ تو زید نے جو دو بکریاں لی ہیں ان میں زید کا اپنا حصہ بھی تھا تو افراز پایا گیا، زید نے اپنا حصہ الگ کیا ہے۔ اور مبادلہ بھی پایا گیا کیونکہ یہ جو زید کے حصے میں دو بکریاں ائی ہیں ان میں عمرو کا بھی تو حصہ تھا، تو زید نے عمرو کا حصہ لے لیا اور بدلے میں عمرو کے حصے میں جو بکریاں ائی ہیں ان میں اپنا حصہ عمرو کو دے دیا۔
توجہ ہے؟ تو ذوات القیم کے اندر جب چیزوں کو اپس میں تقسیم کیا جاتا ہے تو وہاں بھی افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی، لیکن وہاں اس مبادلے کو غالب قرار دیا جاتا ہے اور یوں سمجھتے ہیں کہ مبادلہ ہوا ہے، یوں سمجھتے ہیں کہ مبادلہ ہوا ہے۔ تو مثلیات میں تقسیم ہو تو اس کو افراز قرار دیا جاتا ہے کہ ہر ایک نے اپنا حصہ الگ کیا ہے، کوئی مبادلہ نہیں ہوا یہاں پر۔ اور ذوات القیم کے اندر جب تقسیم کی جائے تو وہاں اس کو مبادلہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں ا گئی؟
تو کہتے ہیں: ”فَتَمَكَّنَ الْجَهَالَةُ“ تو جہالت ا گئی ”كَمَا فِي الْعُرُوضِ“ جیسے کہ سامان میں ہوتی ہے۔ جیسے سامان میں ہوتی ہے۔ بھئی دیکھیے، زید کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں اور عمرو کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں اور ان دونوں میں وہ عقدِ شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ اپ پڑھ چکے ہیں کہ عقدِ شرکت صرف ان چیزوں میں جائز ہے جو تعین سے متعین نہیں ہوتی، لیکن برتن، سامان وغیرہ یہ تو تعین سے متعین ہو جاتے ہیں لہٰذا ان میں عقدِ شرکت جائز نہیں۔ لیکن فرض کرو زید اور عمرو کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا، دونوں نے ان برتنوں کو اپس میں ملا دیا اور اپس میں عقدِ شرکت کر لیا، دونوں نے ان برتنوں کو ملا دیا اور اپس میں عقدِ شرکت کر لیا اور دونوں کے برتن ایک جیسے تھے۔ اب جب دونوں کو ملا دیا اب پتہ ہی نہیں چل سکتا کون سا برتن زید کا ہے اور کون سا برتن عمرو کا ہے، پھر اس کے بعد دونوں کسی وقت عقدِ شرکت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اپنا اپنا سرمایہ یعنی اپنا اپنا مال اور اپنے اپنے برتن الگ کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھو اب دونوں کے لیے اپنا اپنا سرمایہ الگ کرنا ممکن ہی نہ رہا، اب جھگڑا ہو گا۔ بعض کے بارے میں زید کہے گا یہ میرے برتن ہیں اور عمرو کہے گا یہ میرے برتن ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ جو برتن اور سامان وغیرہ ہیں ان کے اندر اگر یہ شرکت جائز ہو جائے اور ان کو اپس میں ملا دیا جائے اور پھر بعد میں کسی وقت وہ عقدِ شرکت کو ختم کرنا چاہیں تو ہر ایک کے لیے اپنا اپنا راس المال الگ کرنا ممکن نہ رہے گا، ہر ایک کا راس المال مجہول ہو گیا، پتہ ہی نہیں چل رہا زید کے برتن کون سے ہیں اور عمرو کے برتن کون سے ہیں۔ معلوم ہوا سامان کے اندر جب عقدِ شرکت کیا جائے گا تو وہاں ایک خرابی تو ربح ما لم یضمن کی ائے گی، ایسی چیز کا نفع حاصل ہو گا جس کا ضمان اس شخص پر نہیں ا رہا، اور نیز اگر اس عقدِ شرکت کو وہ ختم کر کے اس راس المال کو پھر اپس میں تقسیم کرنا چاہیں تو ہر ایک کو اپنا راس المال نہیں مل سکتا کیونکہ دونوں برتن ایک جیسے ہیں۔ برتن انہوں نے اپس میں ملا دیے ہیں اب دونوں کو پہچان نہیں ہو رہی، لیکن بہرحال ان برتنوں میں سے کچھ برتن زید ہی کے ہیں اور کچھ برتن عمرو ہی کے ہیں بھئی۔ تو اب دونوں اگر اس کو علیحدہ کریں گے تو ہر ایک کو اپنا راس المال نہیں مل سکتا۔ تو دونوں کا راس المال کیا ہو جائے گا تقسیم کے وقت؟ مجہول ہو جائے گا، اور یہ بات جھگڑے تک پہنچائے گی، زید اور عمرو اپس میں جھگڑا کریں گے، کچھ برتنوں کے بارے میں زید کہے گا یہ تو میرے برتن تھے اور عمرو کہے گا نہیں یہ تو میرے برتن تھے۔ تو معلوم ہوا سامان وغیرہ کے اندر عقدِ شرکت اس لیے نہیں جائز کیونکہ ایک تو اس میں ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم اتی ہے اور نیز اگر وہ شرکت کو ختم کر کے اپنا اپنا راس المال الگ کرنا چاہیں تو اس پر بھی وہ قادر نہیں رہیں گے کیونکہ وہاں جہالت ا چکی ہے، ہر ایک کا راس المال مجہول ہو چکا ہے ایک دوسرے کے ساتھ مل چکا ہے بھئی۔
اسی طرح اگر زید کی طرف سے گندم تھی اور عمرو کی طرف سے جو تھی تو یہ الگ الگ جنسیں ہیں، دونوں مثلیات ہیں لیکن الگ الگ جنسیں ہیں۔ جب ان دونوں کو زید اور عمرو نے اپس میں ملا دیا اور اس پر عقدِ شرکت کر لیا تو یہ بھی اب مثلیات کے قبیل سے نہ رہے بلکہ ذوات القیم کے قبیل سے ہو گئے یعنی سامان کے حکم میں ہو گئے۔ اور جس طرح سامان کے اندر اگر وہ دونوں شریک عقدِ شرکت کو ختم کر کے اپنا اپنا راس المال الگ کرنا چاہیں تو اب اس پر وہ قادر نہ رہے، تو جب دونوں کی طرف سے الگ الگ جنس تھی ایک کی طرف سے گندم ایک کی طرف سے جو اور دونوں کو ملا دیا اور بعد میں اب یہ دونوں عقدِ شرکت ختم کر کے اپنا اپنا راس المال جو ہے الگ کرنا چاہتے ہیں تو اب دونوں اس پر قادر نہ رہے، اب دونوں تقسیم کریں گے زید کا حصہ گندم تھا تو زید کے پاس اب جو گندم ائے گی اس میں جو کے دانے بھی ملے ہوں گے اور عمرو کا حصہ جو تھی لیکن عمرو کے پاس اب جو کے دانے ائیں گے تو اس میں گندم کے دانے بھی ملے ہوں گے۔ تو معلوم ہوا اب دونوں اپنا اصل راس المال علیحدہ کرنے پر قادر نہ رہے، تو راس المال کے اندر جہالت ا جائے گی اور یہ جھگڑے تک پہنچائے گی، اس لیے دو الگ جنسیں ہوں تو ان میں عقدِ شرکت جائز نہیں ہے۔
جبکہ دونوں کی طرف سے جب ایک جنس ہو، دونوں کی طرف سے ایک جنس ہو، زید کی طرف سے بھی گندم ہے عمرو کی طرف سے بھی گندم ہے اور اس کو دونوں نے ملا دیا اور عقدِ شرکت کر لیا۔ تو جب دونوں طرف سے گندم ہے یعنی مثلیات ہیں تو ملانے کے بعد بھی یہ گندم ہی ہے، یہ اب بھی مثلیات میں سے ہے، اس جیسی گندم بازار سے مل جائے گی بھئی، اس جیسی گندم بازار سے مل جائے گی، تو لہٰذا اس کے اندر عقدِ شرکت جائز ہے۔ اور اگر کسی وقت دونوں عقدِ شرکت ختم کرنا چاہیں، زید اپنی گندم علیحدہ کرنا چاہتا ہے اور عمرو اپنی گندم علیحدہ کرنا چاہتا ہے تو دونوں اس گندم کو اپس میں تقسیم کر لیں گے۔ اب اگرچہ زید کے حصے میں جو گندم ائی ہے یقیناً اس میں عمرو کی گندم کے بھی کچھ دانے ہوں گے اور عمرو کے پاس جو گندم ائی ہے اس میں زید کی گندم کے بھی کچھ دانے ہوں گے، لیکن پھر بھی اس کو افراز ہی سمجھا جاتا ہے۔ گویا جو گندم زید کے حصے میں ائی ہے وہ تھی ہی زید کی اس میں کوئی دانہ عمرو کا نہیں ہے، اور عمرو کے پاس جو گندم ائی ہے یوں سمجھیں گے یہ ساری گندم تھی ہی عمرو کی اس میں کوئی ایک دانہ بھی زید کا نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا جب جنس ایک ہو تو اس وقت اگر عقدِ شرکت کو ختم کر کے راس المال کو اپس میں تقسیم کریں گے تو بھی ہر ایک کو اپنا اپنا اصل راس المال مل جائے گا۔ تو لہٰذا اگر ایک جنس کی مثلیات ہوں اور ان کو ملایا ہے تو اس میں تو عقدِ شرکت جائز ہے، کیونکہ وہاں پر اگر عقدِ شرکت کو ختم کر کے دونوں اپنا اپنا سرمایہ الگ بھی کریں گے تو ہر ایک کو اپنا راس المال بآسانی مل جائے گا اور کوئی خرابی لازم نہیں ائے گی۔
کرنا چاہیں تو وہاں کوئی جہالت نہیں، ہر ایک کو اس کا حصہ الگ مل جائے گا۔ لیکن اگر جنسیں الگ الگ ہیں تو اگر عقد شرکت کو ختم کر کے ہر ایک اپنا اپنا سرمایہ الگ کرنا چاہے تو وہ اب اس پر قادر نہ رہا۔ اصل راس المال میں کیا آ چکی ہے؟ جہالت آ گئی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: فَتَمَكَّنَ الْجَهَالَةُ، تو اس کے اندر جہالت آ گئی، جب دونوں کی جنسیں الگ الگ ہیں اور ان کو ملا دیا ہے تو اب اس میں جہالت آ گئی یعنی ہر ایک اپنے اصل سرمائے کو الگ نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کا اصل سرمایہ اب کیا ہو گیا؟ مجہول ہو گیا یعنی اس کو الگ کرنا ممکن نہ رہا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: فَتَمَكَّنَ الْجَهَالَةُ، تو اس کے اندر جہالت آ گئی۔ كَمَا فِي الْعُرُوضِ، جیسے کہ سامان کے اندر ہوتی ہے۔ زید اور عمرو سامان بھی ملا لیں گے اور دونوں کے برتن مثلاً ایک جیسے ہیں تو بعد میں تقسیم کے وقت اپنے اپنے برتن پھر وہ الگ نہیں کر سکیں گے، وہاں جہالت آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: وَالْفَرْقُ لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى، اور ان دونوں میں فرق جو ہے وہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ یہ ہے: أَنَّ الْمَخْلُوطَ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ مِنْ ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ، کہ وہ جس کو ملایا گیا ہے ایک ہی جنس میں سے، یہ ذوات الامثال میں سے ہے یعنی مثلیات میں سے ہے۔ وَمِنْ جِنْسَيْنِ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيَمِ، اور وہ جس کو ملایا گیا ہے دو جنسوں میں سے وہ ذوات القیم میں سے ہے۔ فَتَمَكَّنَ الْجَهَالَةُ، تو اس کے اندر جہالت آ گئی یعنی اگر ملا بھی لیتے ہیں تو ہر ایک تقسیم کے وقت اپنے راس المال کو الگ نہیں کر سکتا۔ فَتَمَكَّنَ الْجَهَالَةُ، تو جہالت آ گئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ جہالت آ گئی کیا معنی جہالت آ گئی؟ یعنی اب اپنا اصل راس المال الگ کرنا ممکن ہی نہ رہا، اصل راس المال اس کے لیے مجہول ہو گیا۔ اصل راس المال مجہول ہو گیا۔ جیسے دیکھو زید اور عمرو کے برتن تھے، دونوں کے برتن ایک جیسے ہیں لیکن دونوں نے اس کو ملا دیا ہے اور اس پر عقد شرکت کر لیا ہے اور اب وہ مسئلے کا ان کو پتہ چل گیا کہ برتنوں پر تو عقد شرکت جائز نہیں ہے، اب دونوں اس عقد شرکت کو ختم کرتے ہیں اور اپنے اپنے برتن علیحدہ کرنا چاہتے ہیں تو ہر ایک کا راس المال مجہول ہو گیا، پتہ ہی نہیں چل رہا کون سے برتن زید کے تھے اور کون سے عمرو کے تھے کیونکہ برتن ایک ہی جیسے تھے۔ تو معلوم ہوا ہر ایک کا اصل راس المال مجہول ہو گیا، اب وہ اس کو نکال نہیں سکتا بھئی۔ یہ معنی ہے: فَتَمَكَّنَ الْجَهَالَةُ، تو اس کے اندر جہالت آ گئی۔ كَمَا فِي الْعُرُوضِ، جیسے کہ سامان میں ہوتی ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: وَإِذَا لَمْ تَصِحَّ الشَّرِكَةُ فَحُكْمُ الْخَلْطِ قَدْ بَيَّنَّاهُ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ۔ بھئی یہاں سے صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ مثلیات جو ہیں وہ مثلیات جن کو آپس میں ملایا گیا ہے اگر ان کی جنس الگ الگ ہے مثلاً ایک کی طرف سے گندم ہے اور دوسرے کی طرف سے جَو ہے تو پھر اس کے اندر ہم نے آپ کو بتا دیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس کے اندر شرکت جائز نہیں، تو پھر یہ جو دو چیزیں آپس میں ملا دی ہیں ان کا کیا حکم ہے جب ان کے اندر شرکت نہیں جائز؟ کہتے ہیں وہ ہم نے کتاب القضاء میں ذکر کیا ہے۔ اس خلط کا حکم ہم نے کتاب القضاء میں ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں: وَإِذَا لَمْ تَصِحَّ الشَّرِكَةُ، اور جب اس مخلوط کے اندر شرکت صحیح نہیں ہے، فَحُكْمُ الْخَلْطِ قَدْ بَيَّنَّاهُ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ، تو اس خلط کا حکم جو ہے ہم نے کتاب القضاء کے اندر ذکر کیا ہے۔
شارحین فرماتے ہیں کہ صاحب ہدایہ نے حوالہ تو کتاب القضاء کا دیا لیکن ہدایہ کی کتاب القضاء کے اندر صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر نہیں کیا بلکہ ہدایہ کی کتاب الودیعة کے اندر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا ہے۔ اور کتاب الودیعة کے اندر اس مسئلے کو اس لیے ذکر کیا صاحب ہدایہ نے کہ جس شریک کے پاس بھی یہ مال شرکت ہوتا ہے یہ امانت کے حکم میں ہوتا ہے اور امانت کا ضمان دوسرے پر نہیں آتا، لیکن اگر کوئی شخص امانت کے اندر تعدی کرے اور زیادتی کرے تو اس پر ضمان آیا کرتا ہے۔ تو یہاں بھی یہ جو مال شرکت تھا ایک شریک کے پاس یہ امانت کے حکم میں تھا اور جب اس نے اس کے اندر دوسری جنس کی چیز کو ملا دیا تو اس نے امانت کے اندر تعدی کی ہے اور زیادتی کی ہے لہٰذا اس پر ضمان آئے گا بھئی۔ تو اس پر ضمان آئے گا۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ صاحب ہدایہ نے کتاب القضاء کا حوالہ دیا لیکن ہدایہ کی کتاب القضاء کے اندر صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر نہیں فرمایا بلکہ صاحب ہدایہ نے مسئلہ ہدایہ کی کتاب الودیعة کے اندر ذکر فرمایا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ جو کتاب القضاء کا حوالہ دیا صاحب ہدایہ نے، اس سے ہدایہ کی کتاب القضاء مراد نہ ہو بلکہ شرح جامع صغیر کی کتاب القضاء مراد ہو۔ صاحب ہدایہ نے جامع صغیر کی بھی شرح لکھی اور اس شرح کے اندر کتاب القضاء کے اندر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا ہے، تو شاید اس کتاب القضاء کے ذریعے وہ جو شرح جامع صغیر ہے اس کی کتاب القضاء کی طرف اشارہ ہو۔ اور بعض شارحین نے یہ بھی لکھا کہ صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ کفایة المنتہی کی کتاب القضاء میں ذکر فرمایا ہے۔ صاحب ہدایہ نے کتاب کے شروع میں آپ کو بتلایا تھا کہ اس متن کی پہلی شرح جو میں نے لکھی تھی اس کا نام کفایة المنتہی ہے اور وہ اسی (80) جلدوں پر مشتمل ہے لیکن وہ کتاب چونکہ بہت بڑی ہو گئی تھی تو پھر میں نے اس کا خلاصہ چار جلدوں کے اندر لکھا اور اس کا نام ہدایہ رکھا۔ تو یہ ہدایہ خلاصہ ہے کفایة المنتہی کا، تو ہدایہ کی کتاب القضاء کے اندر تو وہ مسئلہ ذکر نہیں لیکن کفایة المنتہی کی کتاب القضاء کے اندر یہ مسئلہ ذکر ہے۔ تو بعض شارحین نے یہ جواب دیا کہ یہ کتاب القضاء سے کفایة المنتہی کی کتاب القضاء مراد ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا لَمْ تَصِحَّ الشَّرِكَةُ، اور جب اس کے اندر شرکت صحیح نہیں ہے، فَحُكْمُ الْخَلْطِ قَدْ بَيَّنَّاهُ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ، تو خلط کا حکم تحقیق ہم نے کتاب القضاء کے اندر بیان کیا ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: قَالَ: وَإِذَا أَرَادَا الشَّرِكَةَ بِالْعُرُوضِ بَاعَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفَ مَالِهِ بِنِصْفِ مَالِ الْآخَرِ ثُمَّ عَقَدَا الشَّرِكَةَ۔ بھئی آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ صرف درہم، دینار اور فلوس نافقہ جو ہیں صرف ان کے اندر شرکت جائز ہے اور چیزوں کے اندر شرکت جائز نہیں۔ اب صاحب قدوری آپ کو حیلہ بتلائیں گے کہ آپ اگر سامان کے اندر عقد شرکت کرنا چاہتے ہیں تو اس کا کیا حیلہ ہے، اس کا کیا طریقہ ہے بھئی۔ چنانچہ صاحب قدوری آپ کو بتلائیں گے کہ مثلاً زید کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں اور عمرو کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں اور اب دونوں عقد شرکت کرنا چاہتے ہیں تو پہلے کیا خرابی لازم آ رہی تھی؟ کہ زید کے برتنوں سے اگر نفع آتا تو اس میں عمرو کا حصہ نہیں بن سکتا، کیونکہ یہ جو زید کے برتن ہیں ان کا مالک زید ہے اور ان میں نقصان بھی آئے گا تو کس کا نقصان ہے؟ زید کا۔ تو جب عمرو زید کے برتنوں کا مالک بھی نہیں اور نیز زید کے برتن اگر ہلاک ہوتے ہیں تو عمرو پر اس کا ضمان بھی نہیں آتا لہٰذا عمرو کے لیے زید کے برتنوں کا نفع لینا جائز نہیں۔ اسی طرح عمرو کے جو برتن ہیں ان کا مالک تو عمرو ہے، زید ان کا مالک بھی نہیں اور زید پر ان کا ضمان بھی نہیں آتا تو زید کے لیے بھی عمرو کے برتنوں کا نفع لینا جائز نہیں۔
تو سامان کے اندر عقد شرکت کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ اس میں ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے یعنی بغیر ضمان کے ہی نفع کا مستحق ہونا لازم آتا ہے حالانکہ نفع کا مستحق انسان ضمان کی وجہ سے ہوتا ہے، بغیر ضمان کے نفع کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ تو اب صاحب قدوری حیلہ بتلا رہے ہیں کہ ایک طریقہ ہے کہ آپ جس کے ذریعے سامان میں بھی عقد شرکت کر سکتے ہیں، وہ یہ کہ مثلاً زید کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں، عمرو کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں تو زید اپنے نصف برتن عمرو کو بیچ دے عمرو کے نصف برتنوں کے بدلے میں۔ زید اپنے نصف برتن بیچ دے عمرو کے نصف برتنوں کے بدلے میں یعنی دونوں کے نصف نصف برتن ایک دوسرے کا عوض بن جائیں گے بھئی۔ لیکن متعین برتن نہیں بیچنے بھئی بلکہ غیر متعین طور پر۔ یعنی زید عمرو سے یوں کہے کہ یہ جو میرے سو درہم کے برتن ہیں ان میں سے نصف میں نے آپ کو بیچ دیے آپ کے نصف برتنوں کے بدلے میں، تو لہٰذا دونوں طرف سے جن برتنوں کی بیع ہوئی ہے وہ غیر متعین ہیں۔ تو معلوم ہوا اب زید کے برتنوں کے اندر بھی نصف حصہ زید کا ہے اور نصف کس کا آ گیا؟ عمرو کا۔ اور عمرو کے برتنوں کے اندر نصف حصہ عمرو ہی کا ہے اور نصف حصہ اب زید کا آ گیا، تو اب دونوں برتنوں کے اندر دونوں شریکوں کا حصہ آ گیا۔ اب اس کے اندر جب نفع آئے گا تو اب ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم نہیں آئے گی بلکہ اب یہ ربح ما یضمن ہو جائے گا بھئی، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے برتنوں میں شریک بن گئے بھئی، لہٰذا اب ان کے لیے نفع لینا بھی جائز ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی: قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَإِذَا أَرَادَا، دیکھو یہ تثنیہ کا صیغہ ہے: أَرَادَا، جب دونوں شریکوں نے ارادہ کر لیا، اور درج عبارت کے اندر یہ جو تثنیہ کا الف ہے یہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے گا بھئی۔ قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَإِذَا أَرَادَا الشَّرِكَةَ بِالْعُرُوضِ، اور جب دونوں شریکوں نے سامان کے ساتھ شرکت کا ارادہ کیا، بَاعَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفَ مَالِهِ، تو دونوں میں سے ہر ایک اپنے نصف مال کو بیچ دے، بِنِصْفِ مَالِ الْآخَرِ، دوسرے کے نصف مال کے بدلے میں، ثُمَّ عَقَدَا، پھر دونوں عقد کر لیں، دیکھو یہ تثنیہ کا صیغہ ہے، یہاں پر بھی یہ تثنیہ کا الف درج عبارت میں گر جائے گا، ثُمَّ عَقَدَا الشَّرِكَةَ، پھر دونوں عقد شرکت کر لیں۔ صاحب قدوری حیلہ بتلا رہے ہیں کہ سامان کے اندر دو افراد شرکت کرنا چاہتے ہیں تو ہر ایک اپنے نصف مال کو دوسرے کے نصف مال کے بدلے میں بیچ دے تو دونوں مالوں کے اندر دونوں کی شرکت آ گئی، تو اب دونوں عقد شرکت کر لیں۔ اب دونوں کیا کر لیں؟ عقد شرکت کر لیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ثُمَّ عَقَدَا الشَّرِكَةَ، پھر دونوں عقد شرکت کر لیں۔
قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ: وَهٰذِهِ شَرِكَةُ مِلْكٍ۔ بھئی یاد رکھو سامان کے اندر عقد شرکت جائز ہے یا نہیں۔ صاحب قدوری حیلہ بتلا رہے ہیں کہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک اپنے نصف غیر معین سامان کو دوسرے کے نصف غیر معین کے بدلے میں بیچ دے تو اس طرح دونوں سامان کے اندر دونوں کی شرکت آ جائے گی اور پھر اس کے بعد وہ آپس میں عقد شرکت کر لیں۔ یاد رکھیے بعض فقہاء فرماتے ہیں اس طرح عقد شرکت جائز ہے، اس طریقے سے عقد شرکت کیا جائے گا سامان کے اندر بھی تو عقد شرکت جائز ہو جائے گا، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس طور پر بھی اگر شرکت کی جائے گی تو صرف شرکت ملک آئے گی، یہاں شرکت عقد نہیں ہو سکتی۔ سامان کے اندر شرکت عقد نہیں ہو سکتی۔ دونوں شریکوں نے اپنا آدھا آدھا مال دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دیا تو دونوں مالوں کے اندر دونوں کی شرکت آ جائے گی، یہ شرکت ملکیت ہے۔ اب زید کے برتن صرف زید کے نہ رہے، زید اور عمرو دونوں کے مشترکہ ہو گئے، اور عمرو کے برتن بھی اب صرف عمرو کے نہ رہے وہ زید اور عمرو کے مشترکہ ہو گئے، تو دونوں کے مالوں میں دونوں شریکوں کی ملکیت آ گئی۔ توجہ ہے؟ بھئی جہاں ہم نے یہ باب شروع کیا تھا کتاب الشركۃ والا صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ شرکت دو قسم پر ہے: ایک شرکت املاک ہے اور ایک شرکت عقد ہے۔ شرکت عقد جس میں باقاعدہ شرکت والا عقد کرتے ہیں دو آدمی آپس میں یعنی ایجاب و قبول کرتے ہیں، اور شرکت ملکیت انہوں نے بتلایا تھا کہ ایک چیز کے دو یا زیادہ افراد مالک ہوں۔ ایک چیز کے دو یا زیادہ افراد مالک ہوں اس کو شرکت ملکیت کہتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں شرکت ملکیت کے اندر ایک شریک صرف اپنے حصے میں تصرف کر سکتا ہے، دوسرے کے حصے میں وہ اجنبی کی طرح ہے، اس کے اندر وہ تصرف نہیں کر سکتا۔ تصرف نہیں کر سکتا۔ لیکن شرکت عقد میں ایک شریک دوسرے کے حصے میں بھی تصرف کر سکتا ہے کیونکہ وہاں دونوں نے عقد کیا ہوتا ہے اور ہر شریک دوسرے کی طرف سے وکیل ہوتا ہے، تو وہ اپنے مال میں بھی تصرف کر سکتا ہے اور دوسرے شریک کے مال میں بھی تصرف کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کی طرف سے وکیل ہے۔ تو حاصل کلام یہ: شرکت ملک میں صرف اپنے حصے میں تصرف ہو سکتا ہے دوسرے کے حصے میں تصرف نہیں ہو سکتا، اور شرکت عقد کے اندر دوسرے کے حصے میں بھی تصرف کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر شریک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے۔ تو صاحب قدوری فرماتے ہیں دونوں شریک اپنا نصف نصف مال ایک دوسرے کے ہاتھ بیچ دیں اور پھر عقد شرکت کر لیں تو عقد شرکت ہو جائے گا۔ جب عقد شرکت ہو گیا تو ہر ایک دوسرے کا وکیل بن گیا لہٰذا اب اس سارے مال کے اندر ہر ایک تصرف کر سکتا ہے بھئی۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، سامان کے اندر عقد شرکت ہو ہی نہیں سکتا۔ بیشک انہوں نے اپنا آدھا آدھا مال ایک دوسرے کو بیچ دیا ہے لیکن یہاں شرکت ملک آئی ہے۔ دونوں سامان کے اندر دونوں کی ملکیت آ گئی ہے تو وہ صرف اپنی ملکیت میں تصرف کر سکتا ہے، دوسرے کی ملکیت میں تصرف نہیں کر سکتا، تو یہاں صرف شرکت ملکیت ہے، یہاں شرکت عقد جائز ہی نہیں۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا اس طریقے سے سامان کے اندر شرکت عقد کرنا، اس میں فقہاء کے دو گروہ ہیں: بعض فقہاء فرماتے ہیں اس طریقے پر شرکت عقد کرنا جائز ہے اور جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں، اس طرح اگر دونوں اپنا آدھا آدھا سامان ایک دوسرے کو بیچ بھی دیں تو وہاں شرکت ملکیت آ جائے گی، شرکت عقد وہاں پھر بھی جائز نہیں۔ توجہ ہے؟ تو صاحب قدوری نے ان فقہاء کے قول کو ترجیح دی جن کے مطابق اس طرح سامان میں بھی شرکت عقد کیا جا سکتا ہے، اور صاحب ہدایہ جو ہیں وہ ان فقہاء کے قول کو ترجیح دیتے ہیں جو فرماتے ہیں کہ سامان کے اندر اگر اس طریقے سے بھی شرکت عقد کیا جائے تو شرکت عقد نہیں ہوتا، وہ شرکت ملک ہی رہتی ہے۔
تو صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ ایک شریک دوسرے شریک کے ہاتھ اپنا نصف مال بیچ دے، ثُمَّ عَقَدَا الشَّرِكَةَ، پھر دونوں آپس میں عقد شرکت کر لیں۔ قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ، اس قال سے مراد صاحب ہدایہ ہیں، قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَهٰذِهِ شَرِكَةُ مِلْكٍ، اور یہ شرکت ملک ہے۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں شرکت عقد کر بھی لیں شرکت عقد یہاں سامان میں ہو ہی نہیں سکتی، یہ شرکت ملک ہے، جبکہ صاحب قدوری کی رائے میں یہاں شرکت عقد ہو سکتی ہے۔ تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَهٰذِهِ شَرِكَةُ مِلْكٍ، اور یہ شرکت ملک ہے، لِمَا بَيَّنَّا أَنَّ الْعُرُوضَ لَا تَصْلُحُ رَأْسَ مَالِ الشَّرِكَةِ، لِمَا بَيَّنَّا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، أَنَّ الْعُرُوضَ، کہ جو سامان ہے، لَا تَصْلُحُ رَأْسَ مَالِ الشَّرِكَةِ، وہ شرکت کا راس المال بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سامان جو ہے وہ شرکت کا راس المال ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَهٰذِهِ شَرِكَةُ مِلْكٍ، اور یہ شرکت ملک ہے، لِمَا بَيَّنَّا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، أَنَّ الْعُرُوضَ لَا تَصْلُحُ رَأْسَ مَالِ الشَّرِكَةِ، کہ سامان جو ہے وہ شرکت کا راس المال ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
وَتَأْوِيلُهُ، اور تاویل اس کی یہ ہے۔ بھئی اوپر متن میں صاحب قدوری نے ذکر فرمایا تھا کہ سامان کے اندر اگر دو آدمی شرکت کرنا چاہتے ہیں تو ہر ایک اپنے نصف سامان کو دوسرے کے نصف سامان کے بدلے بیچ دے۔ توجہ ہے؟ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک کا سامان زیادہ ہے اور دوسرے کا سامان کم ہے تو زیادہ مال والا اپنے نصف مال کو کم مال کے بدلے بیچنے پر تو راضی نہیں ہوگا، مثلاً زید کے پاس دو سو درہم کے برتن ہیں اور عمرو کے پاس سو درہم کے برتن ہیں تو عمرو کے نصف برتن پچاس درہم کے بن گئے اور زید کے برتن دو سو درہم کے ہیں اس کا نصف سو درہم بن گیا، تو زید تو کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہوگا کہ اپنا نصف مال یعنی سو درہم کے برتن وہ بیچ دے عمرو کے پچاس درہموں کے برتنوں کے بدلے میں۔ اس پر تو زید راضی نہیں ہوگا حالانکہ متن میں تو یہی آیا کہ ایک شریک اپنے نصف مال کو دوسرے شریک کے نصف مال کے بدلے میں بیچ دے، تو صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو متن کے اندر آیا اس کی تاویل اور تفسیر یہ ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب دونوں کا مال برابر ہو۔ زید کے برتن بھی سو درہم کے اور عمرو کے برتن بھی سو درہم کے، تو اب دونوں کا جو نصف مال ہے وہ پچاس درہم کا بنتا ہے تو اس صورت میں ایک شریک اپنے نصف مال کو دوسرے شریک کے نصف مال کے بدلے میں بیچ دے گا جب دونوں کا مال برابر ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَتَأْوِيلُهُ، اور تاویل اس کی یہ ہے: إِذَا كَانَ قِيمَةُ مَتَاعِهِمَا عَلَى السَّوَاءِ، کہ جب ان دونوں شریکوں کے سامان کی قیمت جو ہے وہ برابر ہو، وَلَوْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا تَفَاوُتٌ، اور اگر ان دونوں کی قیمت کے درمیان فرق ہو، فَيَبِيعُ صَاحِبُ الْأَقَلِّ بِقَدْرِ مَا تَثْبُتُ بِهِ الشَّرِكَةُ، تو قلیل مال والا بیچ دے گا اتنی مقدار جس سے شرکت ثابت ہو جائے۔ مثلاً زید اور عمرو کے سامان کی قیمت مختلف ہے، زید کے سامان کی قیمت ہے دو سو درہم، تو زید کے سامان کا نصف بنتا ہے سو درہم کا، اور عمرو کا کل سامان ہے سو درہم کا، تو اس کا نصف سامان بنتا ہے پچاس درہم کا۔ تو زید تو کبھی بھی راضی نہیں ہوگا کہ اپنا نصف سامان یعنی سو درہم کا سامان وہ بیچ دے عمرو کے نصف سامان یعنی پچاس درہم کے بدلے میں۔ تو صاحب ہدایہ اس کا طریقہ بتلا رہے ہیں کہ اگر دونوں سامان کی قیمت میں فرق ہو تو صاحب اقل اتنی مقدار بیچ دے جس کے ذریعے شرکت ثابت ہو جائے۔ شارحین اس کی تفصیل بیان فرماتے ہیں: مثلاً زید کا سامان ہے دو سو درہم اور عمرو کا سامان ہے سو درہم کا، زید کا سامان دو سو درہم کا اور عمرو کا سامان سو درہم کا، تو معلوم ہوا زید کا سامان عمرو سے دوگنا ہے، زید کے سامان کی قیمت عمرو کے سامان سے دوگنی ہے۔ اب اگر ہم زید کے سامان کے دو حصے کریں تو ہر حصے کے اندر سو درہم کا سامان آئے گا کیونکہ زید کا کل سامان ہے دو سو درہم کا، تو اس کے دو حصے کریں تو ایک حصے کے اندر سو درہم آئے گا، اور اس سامان کو اگر ہم عمرو کے سامان کے بدلے بیچیں تو عمرو کا تو سارا سامان ہی سو درہم کا ہے، تو سو درہم کے سامان کے بدلے جب سو درہم کے سامان کی بیع ہوگی تو زید کے سامان کے اندر تو عمرو کی شرکت آ جائے گی اس لیے کیونکہ زید نے اپنا نصف مال عمرو کو فروخت کیا ہے تو نصف مال کا مالک ابھی بھی زید ہے اور نصف کا مالک عمرو بن گیا تو زید کے مال میں دونوں کی شرکت آ گئی۔ لیکن عمرو کا تو سارا سامان ہی سو درہم کا تھا، وہ جب اس نے زید کے سو درہم کے سامان کے بدلے بیچ دیا تو عمرو کے سارے مال کا مالک جو ہے زید بن گیا، تو عمرو کا سامان اس کا مالک پہلے عمرو تھا اور اب اس کا مالک زید بن گیا تو اس کے اندر تو شرکت نہ آئی، حالانکہ ہمارا مقصد تو یہ تھا کہ ایسے طریقے پر بیع کی جائے کہ دونوں مالوں کے اندر دونوں کی شرکت آ جائے، صاحب اکثر کے مال میں صاحب اقل کی شرکت آ جائے اور صاحب اقل کے مال میں صاحب اکثر کی شرکت آ جائے۔ لہٰذا اب ہم ایسا طریقہ اختیار کریں گے کہ جس سے بیع کے بعد بھی صاحب اقل یعنی عمرو کے سارے مال کا مالک زید نہ بنے بلکہ کچھ حصہ عمرو کی ملکیت میں ہی باقی رہ جائے تاکہ دونوں مالوں میں دونوں کی شرکت آ جائے۔
چنانچہ اب مثلاً دیکھیے زید کا سامان عمرو کے سامان سے دوگنا ہے اور ہم نے زید کے سامان کے دو حصے کیے تھے اور پھر بیع کی تھی تو اس صورت میں عمرو کے مال کے اندر شرکت نہیں آ رہی تھی بلکہ عمرو کے سارے مال کا مالک زید بن جاتا تھا۔ اب ہم یوں کرتے ہیں کہ زید اور عمرو دونوں کے سامان کے تین تین حصے کر دیتے ہیں، زید کے سامان کے بھی تین حصے کر دیے اور عمرو کے سامان کے بھی تین حصے کر دیے۔ توجہ ہے؟ زید کا سامان عمرو کے سامان سے دوگنا تھا، جب زید کا سامان عمرو کے سامان سے دوگنا تھا تو زید کے سامان کا ہر ثلث عمرو کے سامان کے ثلث سے دوگنا ہو گا۔ زید کا سامان عمرو سے دوگنا تھا تو زید کے سامان کا ثلث بھی عمرو کے سامان کے ثلث سے دوگنا ہو گا۔ جیسے دیکھو بیشک آپ حساب لگا کر دیکھ لیں، زید کا سامان تھا دو سو درہم کا، اس دو سو درہم کے ذرا تین حصے کیجیے تو ایک ثلث کے اندر تقریباً چھیاسٹھ (66) درہم آئیں گے۔ چھیاسٹھ درہم سے کچھ زائد درہم آئیں گے ایک ثلث کے اندر، لیکن اس کو چھیاسٹھ فرض کر لیں حساب کی آسانی کے لیے۔ مثلاً زید کے سامان کا ایک ثلث جو ہے وہ تقریباً چھیاسٹھ درہم ہے بھئی، اور عمرو کا کل سامان تھا سو درہم، اس کے تین حصے کیے تو ہر ثلث جو ہے وہ تقریباً تینتیس (33) درہم کا ہے، کچھ معمولی سا زائد ہوگا تینتیس درہم سے، تو بہرحال اس کو تینتیس درہم شمار کر لیں۔ تو زید کے سامان کا ثلث وہ چھیاسٹھ درہم بنتا ہے اور عمرو کے سامان کا ثلث وہ تقریباً تینتیس درہم بنتا ہے، تو عمرو کا سامان جو ہے اس کے دو ثلث کر لیں تو تینتیس اور تینتیس چھیاسٹھ۔ تو دیکھو زید کے مال کا ایک ثلث عمرو کے مال کے دو ثلث کے برابر ہے۔ تو اب یوں کریں گے زید اپنے مال میں سے ایک غیر متعین ثلث بھئی، متعین نہیں کرنا کیونکہ مقصد شرکت ہے، تو زید عمرو سے کہتا ہے کہ میں نے اپنے مال کا ایک ثلث تمہارے مال کے دو ثلث کے بدلے بیچ دیا اور عمرو کہتا ہے مجھے قبول ہے، تو دیکھو دونوں کے درمیان شرکت منعقد ہو گئی۔ زید نے اپنا صرف ایک ثلث مال بیچا ہے تو دو ثلث کا مالک ابھی بھی زید ہے اور ایک ثلث کا مالک عمرو بن گیا۔ اور عمرو کے مال کے بھی تین حصے کیے تھے اور اس میں سے عمرو نے دو ثلث بیچا ہے تو وہ دو ثلث زید کے ہو گئے اور ایک ثلث کا مالک ابھی بھی عمرو ہے، تو اس طرح دونوں مالوں میں دونوں کی شرکت آ گئی۔ اور جس جس حصے کی آپس میں بیع کی ان کی قیمت بھی برابر تھی، زید کا ایک ثلث چھیاسٹھ درہم کا تھا تو عمرو کے دو ثلث جو ہیں وہ چھیاسٹھ درہم کے تھے تو اس طرح دونوں آپس میں بیع کر لیں گے۔
یا دوسری صورت لے لیں: مثلاً زید کا مال جو ہے وہ تین سو درہم کا ہے اور عمرو کا سامان سو درہم کا ہے تو زید کا سامان عمرو کے سامان سے تین گنا ہے۔ تو اگر ہم زید کے سامان کے تین حصے کریں گے تو ایک حصہ سو درہم کا بنے گا اور عمرو کا سارا سامان سو درہم کا ہے، تو اگر اس طرح ہم بیع کریں گے پھر تو عمرو کے سارے مال کا مالک زید بن جائے گا حالانکہ ہمارا مقصد یہاں شرکت کو ثابت کرنا ہے۔ لہٰذا زید کا سامان عمرو سے تین گنا ہے، ہم اس کے چار حصے کر دیتے ہیں، اور اسی طرح عمرو کا جو سامان ہے سو درہم کا اس کے بھی ہم چار حصے کر دیتے ہیں۔ تو زید کے سامان کے بھی چار حصے ہو گئے اور عمرو کے سامان کے بھی چار حصے ہو گئے۔ اب زید اپنے سامان کا ایک ربع، اپنے سامان کا ایک ربع یعنی چوتھا حصہ وہ بیچ دے گا عمرو کے سامان کے تین ربع کے بدلے میں، کیونکہ زید کا سامان عمرو سے تین گنا تھا تو زید کے سامان کے بھی چار حصے کیے عمرو کے سامان کے بھی چار حصے کیے تو زید کا سامان جب عمرو سے تین گنا تھا تو زید کا ہر ربع بھی عمرو کے سامان سے تین گنا ہے۔ لہٰذا زید اپنے مال میں سے ایک ربع بیچ دے گا عمرو کے سامان کے تین ربع کے بدلے میں۔ تو عمرو کے سامان میں ایک ربع کا مالک عمرو ہی رہا اور تین ربع کا مالک زید بن گیا، اور زید کے سامان میں تین ربع کا مالک زید ہی رہا اور ایک ربع کا مالک عمرو بن گیا، اور اس طرح دونوں مالوں میں شرکت آ جائے گی۔ آپ اگر حساب لگانا چاہتے ہیں حساب بھی لگا کر دیکھ لیجیے: مثلاً زید کا سامان ہے تین سو درہم کا، اس تین سو درہم کے چار حصے کیجیے تو یاد رکھیے ہر ربع کے اندر پچھتر (75) درہم آئیں گے۔ پچھتر اور پچھتر ڈیڑھ سو، اور پھر پچھتر ملائے تو دو سو پچیس، اور پھر پچھتر ملائے تو تین سو۔ معلوم ہوا تین سو درہم کے چار حصے کیے جائیں تو ہر ربع کے اندر پچھتر درہم آتے ہیں تو زید کے سامان کے ایک ربع کی قیمت پچھتر درہم بنتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں عمرو، عمرو کا تو کل سامان ہی سو درہم کا ہے تو اس کے اگر چار ربع کریں تو ہر ربع کے اندر پچیس (25) درہم آتے ہیں۔ سو کے چار حصے کیجیے، ہر حصے میں پچیس درہم آئیں گے۔ تو عمرو کے مال کے تین ربع ملائیں تو یہ پچیس تیا پچھتر، تو یہ پچھتر درہم ان کی قیمت بن گئی۔ تو زید کے مال کا ایک ربع پچھتر درہم کا اور عمرو کے مال کے تین ربع یہ پچھتر درہم کے، تو زید اپنے مال کا ایک ربع عمرو کے مال کے تین ربع کے بدلے بیچ دے گا تو دیکھو عمرو کے مال کے تین ربع کا مالک زید بن گیا اور ایک ربع اسی طرح عمرو کی ملکیت میں ہے، تو دونوں مالوں میں شرکت آ گئی۔ زید کے مال کے ایک ربع کا مالک عمرو بن گیا اور عمرو کے مال کے تین ربع کا مالک زید بن گیا۔
یا اور صورت دیکھ لیجیے: مثلاً زید کا مال ہے چار سو درہم کا اور عمرو کا مال سو درہم کا ہے تو زید کا مال عمرو سے چار گنا ہے۔ تو چار گنا سے اوپر والا عدد یعنی پانچ لے لیں گے، زید کے مال کے بھی پانچ حصے کر دیں گے اور عمرو کے مال کے بھی پانچ حصے کر دیں گے۔ عمرو کے مال کے ذرا پانچ حصے کیجیے، سو کے پانچ حصے کیجیے تو ہر خمس کے اندر بیس (20) درہم آئیں گے۔ معلوم ہوا عمرو کے مال کا ہر خمس، ہر خمس جو ہے وہ بیس درہم ہے، جبکہ زید، زید کا مال ہے چار سو درہم، اس چار سو کے ذرا پانچ حصے کیجیے، پانچ سے چار سو کو تقسیم کریں تو اسی (80) جواب آتا ہے۔ اسی پنجے چار سو۔ تو معلوم ہوا زید کے مال کا ایک خمس اسی درہم ہے اور عمرو کے مال کا ایک خمس بیس درہم ہے، تو عمرو کے مال کے چار خمس لے لیں گے تو چار خمس وہ اسی درہم کے بن گئے۔ تو زید اپنے مال کا ایک خمس جو اسی درہم ہے اس کو بیچ دے گا عمرو کے مال کے چار خمس کے بدلے میں اور وہ چار خمس بھی اسی درہم کے ہیں، تو ایک خمس کا مالک ابھی بھی عمرو ہی ہے اس کے اندر۔ تو عمرو کا جو مال ہے اس کے پانچ حصے کیے اس میں سے چار خمس کا مالک زید بن گیا اور ایک خمس کا مالک ابھی بھی عمرو ہے تو اس میں شرکت آ گئی۔ اور دوسری طرف جو زید کا مال ہے چار سو درہم، اس کے اندر ایک خمس یعنی اسی درہم کا مالک عمرو بن گیا اور باقی چار خمس جو ہیں یعنی تین سو بیس درہم کا مالک ابھی بھی زید ہی ہے۔ تو اس طریقے پر دونوں شریک آپس میں اپنے اپنے مال کے بعض حصے کی بیع کر لیں گے تو اس صورت میں پھر دونوں مالوں کے اندر دونوں کی شرکت آ جائے گی اور پھر وہ آپس میں عقد شرکت کر لیں گے۔ اور اس صورت میں جو نفع آئے گا وہ اب ربح ما لم یضمن نہیں رہا کیونکہ دونوں مالوں کے اندر دونوں کی شرکت ہے۔ جب دونوں کی شرکت ہے تو نقصان کے اندر بھی دونوں شریک ہوں گے، جب نقصان کے اندر دونوں شریک ہیں تو نفع کے اندر بھی دونوں شریک ہوں گے، تو جب اس طریقے پر سامان کے اندر عقد شرکت کیا جائے گا تو ربح ما لم یضمن کی خرابی نہیں آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ معنی ہے: وَلَوْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا تَفَاوُتٌ، اور اگر دونوں کے جو سامان ہے اس کی قیمت میں فرق ہو، فَيَبِيعُ صَاحِبُ الْأَقَلِّ، تو کم مال والا جو ہے وہ بیچ دے، بِقَدْرِ مَا تَثْبُتُ بِهِ الشَّرِكَةُ، اتنی مقدار جس کے ساتھ شرکت ثابت ہو سکے۔ کم مال والا اتنی مقدار بیچ دے جس سے شرکت ثابت ہو سکے۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا تَفَاوُتٌ، اور اگر دونوں کے مالوں کی قیمت میں فرق ہے، فَيَبِيعُ صَاحِبُ الْأَقَلِّ، تو کم مال والا بیچ دے، بِقَدْرِ مَا تَثْبُتُ بِهِ الشَّرِكَةُ، اتنی مقدار جس سے شرکت ثابت ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی۔ هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔