آگے سبق دیکھیے بھئی۔
”فَصْلٌ: وَلَا يَنْعَقِدُ الشِّرْكَةُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ وَالْفُلُوسِ النَّافِقَةِ، وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَجُوزُ بِالْعُرُوضِ وَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ إِذَا كَانَ الْجِنْسُ وَاحِدًا؛ لِأَنَّهَا عُقِدَتْ عَلَى رَأْسِ مَالٍ مَعْلُومٍ فَأَشْبَهَ النُّقُودَ“.
بھئی، گزشتہ سبق میں آپ مسئلہ پڑھ رہے تھے کہ دو شریک ہیں جنہوں نے آپس میں عقدِ مفاوضہ کیا ہوا ہے اور ان میں سے ایک شریک جو ہے کسی اجنبی کی طرف سے کفیل بن جاتا ہے مال کا بھئی۔ تو آپ نے پڑھا کہ یہ جو شریک جو کفیل بن گیا ہے اجنبی کی طرف سے مال کا، یا تو یہ اس اجنبی کے کہنے پر کفیل بنا ہے یا اس کے کہے بغیر ہی کفیل بنا ہے۔ اگر اس اجنبی کے کہنے پر یہ کفیل بنا ہے تو اگر اس کفیل کو وہ مال ادا کرنا پڑا تو وہ اس اجنبی سے اس کا ضمان وصول کر سکتا ہے کہ آپ کی وجہ سے مجھے یہ مال ادا کرنا پڑا، لہٰذا آپ مجھے اس کا ضمان ادا کریں۔ لیکن اگر وہ شخص کفیل بنا ہے اس اجنبی کے کہے بغیر ہی، تو اس صورت کے اندر یہ کفیل اگر مال ادا کر دے تو پھر یہ اس اجنبی پر یعنی اس مکفول عنہ پر رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ اجنبی کہے گا کہ میں نے تو آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری طرف سے ضامن بنیں اور میری طرف سے مال ادا کریں۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ کفیل اس اجنبی پر رجوع نہیں کر سکتا، معنی یہ ہے کہ جبراً اس پر رجوع نہیں کر سکتا۔ جب یہ کفیل اس اجنبی کے کہے بغیر کفیل بنا ہے اور پھر اس نے مال ادا کیا ہے تو یہ جبراً اس پر رجوع نہیں کر سکتا، یعنی کہ اسے قاضی کے پاس لے جائے اور اس سے ضمان وصول کر لے، ایسا نہیں کر سکتا۔ ہاں البتہ اگر اس اجنبی کے کہنے پر اس نے ضمانت دی تھی اور پھر اسے مال ادا کرنا پڑا تو پھر یہ جبراً اس سے ضمان وصول کر سکتا ہے قاضی کے پاس لے جا کر بھی بھئی۔
تو صورتِ مسئلہ یہ ذکر ہو رہی تھی متن کے اندر کہ اگر دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ کسی اجنبی کی طرف سے کفیل بن گیا اور اس اجنبی کے کہنے پر یہ کفیل بنا ہے تو کیا اس کفیل کے شریک سے بھی اس دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کیا اس پر بھی یہ دین لازم ہوا ہے یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کفیل کے شریک پر بھی یہ دین لازم ہو گیا ہے، اس سے بھی اس مال کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ عقدِ کفالت جو ہے عقدِ تبرع ہے اور ایک شریک کا تبرع دوسرے شریک پر لازم نہیں ہوتا بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ عقدِ کفالت عقدِ تبرع ہے، اس میں آپ کی مرضی ہے، آپ کسی کی طرف سے کفیل بننا چاہیں یا نہ بننا چاہیں، یہ آپ کی مرضی ہے۔ معلوم ہوا عقدِ کفالت عقدِ تبرع ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ عقدِ کفالت جب عقدِ تبرع ہے تو ایک شریک کا تبرع وہ دوسرے شریک پر لازم نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ یہ عقدِ کفالت عقدِ تبرع ہے اسی وجہ سے بچہ اور عبدِ ماذون اور مکاتب جو ہیں وہ اس کے اہل نہیں ہیں، اور یہ عقدِ کفالت عقدِ تبرع ہے اسی وجہ سے مرض الموت میں مبتلا مریض جو ہے وہ اپنے ثلثِ مال سے زائد کے اندر کفیل نہیں بن سکتا۔ چنانچہ یہ جو کفالت بالمال ہے بامر الاجنبی، یہ کفالت بالنفس کی طرح ہو گئی اور کفالت بالنفس کے اندر جو شخص کسی کی جان کا کفیل بن گیا، اس کی ذات کا کفیل بن گیا، مثلاً آپ زید کی ذات کے کفیل بن گئے کہ زید کو فلاں دن قاضی کے پاس حاضر کرنا میری ذمہ داری ہے تو یہ کفالت بالنفس ہے۔ اور کفالت بالنفس میں جو کفیل بنتا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے اس مکفول عنہ کے حاضر کرنے کا، دوسرے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو یہ کفالت بالمال بھی کس کی طرح ہو گئی؟ کفالت بالنفس کی طرح ہو گئی۔ اور نیز یہ کفالت بالمال جو ہے یہ اقراض کی طرح ہو گئی۔ جیسے اقراض کے اندر جو شریک قرض لیتا ہے صرف اسی سے قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں یہ عقدِ کفالت عقدِ تبرع ہے تو یہ اقراض اور کفالت بالنفس کی طرح ہو گیا اور جیسے ان کے اندر صرف قرض والے سے یا کفیل سے مطالبہ ہو سکتا ہے، شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا تو کفالت بالمال کے اندر بھی شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی دلیل ذکر فرمائی تھی کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو کفالت بالمال ہے بامر المکفول عنہ یا بامر الاجنبی کہہ لیں، تو یہ جو کفالت بالمال ہے بامر الاجنبی یہ ابتداء کے اعتبار سے عقدِ تبرع ہے لیکن انتہاء کے اعتبار سے یہ عقدِ معاوضہ ہے، کیونکہ اگر یہ کفیل مال ادا کر دیتا ہے تو پھر یہ اس مکفول عنہ پر یعنی اس اجنبی پر رجوع کر سکتا ہے کہ آپ کے کہنے پر میں نے ضمانت دی تھی اور آپ کی وجہ سے مجھے یہ مال ادا کرنا پڑا، اب آپ مجھے اس کا ضمان ادا کریں۔ تو معلوم ہوا یہ کفالت بالمال جو بامر الاجنبی ہو، یہ ابتداء کے اعتبار سے تو تبرع ہے لیکن انتہاء کے اعتبار سے معاوضہ ہے۔ تو عقدِ مفاوضہ اس کو بھی متضمن ہوا، کیونکہ عقدِ مفاوضہ جو کیا جاتا ہے وہ عقدِ معاوضہ کے اندر شرکت کے لیے کیا جاتا ہے کہ جو بھی عقدِ معاوضہ دونوں میں سے کوئی ایک کرے گا دوسرا اس میں شریک ہو گا۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی اس مال کا مطالبہ اس کے شریک سے کیا جا سکتا ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی طرف سے جواب بھی دیا تھا، صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ عقدِ کفالت عقدِ تبرع ہے اس لیے بچہ اور عبدِ ماذون اور مکاتب اس کے اہل نہیں ہیں، تو اس کا جواب دیا کہ ہم نے ذکر کر دیا کہ ابتداء کے اعتبار سے یہ عقدِ کفالت جو ہے یہ تبرع ہے تو ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے بچہ اور عبدِ ماذون اور مکاتب اس کے اہل نہیں، اور اسی ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے چونکہ یہ عقدِ تبرع ہے اسی لیے مریض جو مرض الموت میں مبتلا ہے اس کے مال کے ثلث سے زائد کے اندر یہ کفالت صحیح نہیں ہے۔ اور جہاں تک کفالت بالنفس کی بات ہے تو وہ تو ابتداءً بھی تبرع ہے، انتہاءً بھی تبرع ہے، اس کے اندر تو اس شخص کو حاضر کرنا ہے، یہاں معاوضے والی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ تو یہ کفالت بالنفس ابتداءً بھی تبرع ہے اور انتہاءً بھی تبرع ہے بھئی۔
اور نیز پھر اقراض کا بھی جواب دیا تھا، صاحبین فرماتے تھے کہ یہ کفالت بالمال جو ہے یہ اقراض کی طرح ہے، قرض دینے کی طرح ہے، اور اقراض کے اندر جس کو قرض دیا جاتا ہے صرف اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو اس کے دو جواب دیے: ایک انکاری جواب دیا اور ایک تسلیمی۔ پہلا انکاری جواب دیا کہ آپ کا یہ کہنا کہ اقراض کے اندر صرف اس قرض لینے والے پر قرض لازم ہوتا ہے، اس کے شریک پر قرض لازم نہیں ہوتا، ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں ہے، بلکہ اس کے شریک پر بھی یہ قرض لازم ہو جاتا ہے اور اس سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ یہ اقراض بھی عقدِ معاوضہ ہے۔ ایک آدمی دوسرے سے سو درہم لے آیا اور اس نے وہ درہم خرچ کر دیے، اب ایک مہینے کے بعد جب یہ درہم واپس کرے گا تو یہ وہ والے درہم نہیں ہیں، یہ اور درہم ہیں۔ تو یہ درہم وہ ان درہموں کے عوض کے طور پر دے رہا ہے تو یہ اقراض بھی عقدِ معاوضہ ہے۔ تو آپ کا یہ جو دعویٰ ہے کہ اقراض دوسرے شریک پر لازم نہیں ہوتا، ہمیں یہ تسلیم نہیں، امام صاحب کی ایک روایت کے مطابق یہ اقراض بھی دوسرے شریک پر لازم ہو جاتا ہے، اس سے بھی اس قرض کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دوسرا جواب تسلیمی دیا تھا کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اقراض کی وجہ سے جو قرض آیا ہے وہ صرف اسی شخص سے مطالبہ ہو سکتا ہے جس نے قرض لیا ہے، اس کے شریک پر یہ قرض اور یہ دین لازم نہیں ہے بھئی، اور وجہ یہ کہ اقراض جو ہے وہ اعارہ ہے۔ تو پہلا جواب انکاری تھا، اس میں کہا تھا کہ یہ اقراض یہ عقدِ معاوضہ ہے، اور دوسرا جواب تسلیمی دیا کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اقراض جو ہے وہ عقدِ معاوضہ نہیں ہے بلکہ یہ اعارہ ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ یہ اعارہ ہے یعنی یہ عقدِ تبرع ہے، کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا اعارہ یعنی عاریتاً کسی کو کوئی چیز دینا یہ عقدِ تبرع ہے، آپ سے کوئی چیز استعمال کے لیے لے جاتا ہے اور پھر واپس کر دیتا ہے تو اس کو عاریت کہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دوسرے جواب کے مطابق ایک شریک کا اقراض دوسرے پر لازم نہیں ہوتا کیونکہ یہ اعارہ ہے۔ البتہ اعارہ کے اندر عین وہی چیز واپس کی جاتی ہے جو استعمال کے لیے لی تھی لیکن اقراض کے اندر جو ہے وہاں پر تو اس قرض کا مثل واپس کیا جاتا ہے۔ جو درہم لیے تھے وہ تو خرچ کر دیے، اب اس کے مثل درہم واپس کیے جا رہے ہیں لیکن اس مثل کا بھی وہی حکم ہے جو عین ان اصل درہموں کا تھا، یوں سمجھیں گے بعینہٖ وہی درہم واپس کیے جا رہے ہیں بھئی۔ اور چونکہ یہ قرض اعارہ ہے اسی لیے تو اس کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عام طور پر لوگ جو ہیں قرض لیتے ہیں تو اس میں مدت مقرر کرتے ہیں، لیکن قرض کے اندر یاد رکھو مدت مقرر کرنے سے مقرر نہیں ہوتی، مقرر نہیں ہوتی کیونکہ یہ اعارہ ہے اور اعارے کے اندر بھی مدت مقرر کرنا صحیح نہیں۔ وجہ یہ کہ یہ جو اعارہ اور اقراض ہے یہ عقدِ تبرع ہیں اور تبرع جو ہے وہ چیز ادا کرنا جو آپ پر لازم نہیں ہے، تو آپ ایک چیز کو بطورِ احسان کے ادا کر رہے ہیں تو اس میں دوسرے پر جبر کو لازم نہیں کیا جا سکتا کہ اتنی مدت کے بعد آپ کو ہر حال میں یہ چیز واپس کرنا پڑے گی۔ تو جب یہ تبرع ہے تو اس کے ساتھ جبر نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ جبر لازم نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا معلوم ہوا اقراض یہ عقدِ معاوضہ نہیں ہے، یہ اعارہ ہے، اور جب یہ اعارہ ہے تو یہ تبرع ہے اور جب یہ تبرع ہے تو ایک شریک کا تبرع دوسرے شریک پر لازم نہیں ہوتا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر دو شریکوں میں سے ایک کفیل بن گیا ہے اجنبی کا اس کے کہے بغیر ہی، پہلی صورت تو کیا ذکر ہو رہی تھی کہ ایک شریک کفیل بنا تھا اجنبی کے کہنے پر، اور دوسری صورت اگر یہ شریک جو ہے وہ اجنبی کے کہے بغیر ہی کفیل بن گیا اس کی طرف سے، تو اس کے اندر تو وہ ضمان وصول نہیں کر سکتا، تو لہٰذا یہاں پر انتہاء کے اعتبار سے بھی معاوضے کی صورت نہیں ہے۔ تو وہ کفالت بالمال جو بغیر امر الاجنبی ہو، یا یوں کہو جو بغیر امر المکفول عنہ ہو، وہ ابتداءً بھی تبرع ہے اور انتہاءً بھی تبرع ہے کیونکہ وہاں پر ضمان وصول نہیں کیا جا سکتا تو وہاں معاوضے کی کوئی صورت نہیں۔ جب معاوضے کی کوئی صورت نہیں تو پھر اس کے اندر جس نے وہ ضمانت دی ہے وہ جو کفیل ہے اسی سے دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے دین کا مطالبہ نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ صحیح قول کے مطابق وہ کفالت بالمال جو بغیر امر المکفول عنہ ہو، اس کا مطالبہ اسی کفیل سے ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے نہیں ہو سکتا، صحیح قول کے مطابق بھئی، صحیح قول کے مطابق۔ اور نیز یہ بھی بتلایا کہ متن کے اندر یعنی جامع صغیر کے اندر تو یہ مسئلہ مطلقاً ذکر ہے، وہاں تو بامر الاجنبی کی قید موجود نہیں، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ وہاں پر اگرچہ مسئلہ مطلقاً ذکر ہے لیکن وہ مقید پر محمول ہے، یعنی وہاں پر کفالت بامر الاجنبی مراد ہے، مطلق کفالت مراد نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یاد رکھنا، یاد رکھنا، بہت سے فقہاء جو ہیں وہ مطلق کفالت کی طرف گئے ہیں کہ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف جو ہے مطلق کفالت کے اندر ہے۔ ایک کفالت بامر الاجنبی ہے، ایک کفالت بغیر امر الاجنبی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا متن کے اندر مطلق کفالت ذکر ہے لیکن مراد کیا ہے؟ کفالت بامر الاجنبی مراد ہے۔ لیکن یاد رکھنا بہت سے فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ جو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے یہ مطلق کفالت کے اندر ہے، چاہے وہ کفالت بامر الاجنبی ہو، چاہے وہ کفالت بغیر امر الاجنبی ہو، دونوں صورتوں کے اندر امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے بھئی۔ امام صاحب کے نزدیک اس کفیل کے شریک پر وہ دین لازم ہو گا دونوں صورتوں میں، اور صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں اس کفیل کے شریک پر وہ دین لازم نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ دو شریکوں میں سے اگر ایک شریک جو ہے کسی کی چیز غصب کر لیتا ہے اور اس کی وجہ سے ضمان اس پر لازم آتا ہے، یا ایک شریک کسی اجنبی کی کوئی چیز ہلاک کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس شریک پر ضمان آتا ہے، تو یہ غصب اور استہلاک جو ہے یہ بھی انتہاء کے اعتبار سے معاوضہ کے قبیل سے ہے کہ یہ اس غصب کا ضمان دے رہا ہے یا اس استہلاک کا ضمان دے رہا ہے، تو لہٰذا اس دین کا مطالبہ بھی دونوں شریکوں سے کیا جا سکتا ہے بھئی۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ وہ دو شریک جنہوں نے آپس میں عقدِ مفاوضہ کیا ہوا ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک ایسے مال کا وارث بن گیا جس میں شرکت صحیح ہے، یعنی درہم اور دینار اور فلوسِ نافقہ یعنی جو رائج پیسے ہیں، تو اگر دونوں شریکوں میں سے ایک جو ہے اس کو وراثت میں درہم یا دینار وغیرہ مل گئے یا اس کو کسی نے درہم اور دینار وغیرہ ہبہ کر دیے تو اس صورت میں اب دونوں کا مال برابر نہ رہا، لہٰذا عقدِ مفاوضہ باطل ہو جائے گا، کیونکہ مفاوضہ کی بنیاد برابری پر ہے۔ ابتداء کے اندر بھی دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا چاہیے اور بقاء کے اندر بھی دونوں کا مال برابر ہونا چاہیے، تو جب ایک کو وراثت میں یا ہبہ کے اندر ایسا مال زائد مل گیا جس کے اندر شرکت ہو سکتی ہے تو پھر ایک کا مال زائد ہو گیا، دونوں کا مال برابر نہ رہا، لہٰذا عقدِ مفاوضہ باطل ہو جائے گا اور یہ شرکتِ عنان بن جائے گی۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو بقاءً شرکتِ عنان بن رہی ہے، یہ جو شرکتِ عنان بن رہی ہے یہ تو بقاءً ہے بھئی، ابتداءً یعنی نیا عنان کا وہ عقد تو نہیں کر رہے آپس میں، تو یہ تو بقاء کی حالت میں یہ شرکتِ عنان بن رہی ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو شرکت ہے اس کے دوام کا بھی وہی حکم ہوتا ہے جو ابتداء کا ہوتا ہے۔ تو یہاں پر یہ جو بقائے عنان ہے اس کو بھی یوں ہی سمجھیں گے گویا ابتدائے عنان ہے، بقائے عنان بھی کس کی طرح ہے؟ ابتدائے عنان کی طرح ہے، اور وجہ یہ کہ یہ جو عقدِ شرکت ہوتا ہے یہ لازم نہیں ہوتا، تو جیسے ابتداءً لازم نہیں ہے کسی کی مرضی ہے عقدِ شرکت کرے اور اس کی مرضی ہے تو عقدِ شرکت نہ کرے، اسی طرح بقاءً بھی یہ عقدِ شرکت لازم نہیں ہوتا، تو بقاء کا بھی وہی حکم ہے جو ابتداء کا ہے، تو یہاں پر بقاء کی صورت میں یہ شرکتِ عنان بن رہی ہے لیکن بقاء کا بھی وہی حکم ہے جو ابتداء کا ہے تو یوں سمجھو ابتدائے عنان ہو رہی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ دو شریک جنہوں نے آپس میں عقدِ مفاوضہ کیا ہوا ہے، اگر دونوں میں سے کوئی ایک جو ہے ایسے زائد مال کا مالک بن گیا جس میں شرکت صحیح نہیں ہے، جیسے ایک کو ورثے میں کچھ سامان مل گیا یا کچھ زمین وغیرہ مل گئی، تو اس صورت میں عقدِ مفاوضہ باطل نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ عقدِ مفاوضہ کے اندر درہم، دینار اور رائج کرنسی کے اندر برابری ضروری ہے اور زمین اور سامان وغیرہ میں برابری ضروری نہیں ہے بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”فَصْلٌ: وَلَا يَنْعَقِدُ الشِّرْكَةُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ وَالْفُلُوسِ النَّافِقَةِ“
بھئی، یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بتلائیں گے کہ وہ کون سا مال ہے کہ جس پر عقدِ شرکت کیا جا سکتا ہے، جس پر شرکتِ مفاوضہ کی جا سکتی ہے؟ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ شرکتِ مفاوضہ جو ہے وہ صرف درہم، دینار اور وہ جو رائج پیسے ہیں ان کے اندر یہ شرکتِ مفاوضہ ہو سکتی ہے۔ لہٰذا دونوں شریکوں کے درہم، دینار اور رائج کرنسی برابر ہونی چاہیے، اگر ایک کے پاس بیس درہم ہیں تو دوسرے کے پاس بھی بیس درہم ہونے چاہئیں بھئی، اور اگر دونوں کا مال برابر نہیں تو پھر عقدِ مفاوضہ نہیں ہو سکتا، پھر وہاں شرکتِ عنان ہی کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اب وہی صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ کس مال کے اندر شرکت صحیح ہے؟ تو کہتے ہیں:
”فَصْلٌ: وَلَا يَنْعَقِدُ الشِّرْكَةُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ وَالْفُلُوسِ النَّافِقَةِ“
اور شرکت منعقد نہیں ہوتی مگر درہموں سے اور دیناروں سے اور رائج پیسوں سے۔ فلوس کہتے ہیں پیسوں کو، اور نافقہ کا معنی ہے رائج جو بازار میں چلتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں شرکت منعقد نہیں ہوتی، یعنی شرکتِ مفاوضہ مراد ہے، کیا مراد ہے؟ شرکتِ مفاوضہ منعقد نہیں ہوتی مگر درہموں سے یا دیناروں سے یا رائج پیسوں سے۔
”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَجُوزُ بِالْعُرُوضِ وَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ إِذَا كَانَ الْجِنْسُ وَاحِدًا“
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو شرکتِ مفاوضہ ہے یہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ ساتھ سامان اور مکیلات اور موزونات میں بھی ہو سکتی ہے۔ موزونات آپ جانتے ہیں وہ چیزیں جن کو وزن کر کے بیچا جاتا ہے، مکیلات وہ چیزیں ہیں جن کو کسی پیمانے کے اندر کسی برتن وغیرہ میں ماپ کر بیچا جاتا ہے، جیسے دودھ جو ہے اس کو برتن میں ماپ کر بیچتے ہیں تو دودھ کس میں سے ہے؟ مکیلات میں سے۔ اسی طرح قدیم زمانے کے اندر یہ غلہ وغیرہ جو ہے پیمانے کے اندر ماپ کر بیچا جاتا تھا تو یہ مکیلات میں سے ہے بھئی۔ اور عروض جو ہے سامان بھئی، مکیلات اور موزونات کے علاوہ اور سامان ہے وہ سب اس کے اندر آ گیا: برتن ہیں، کپڑے وغیرہ اور چیزیں سب اس کے اندر آ گئیں۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو شرکتِ مفاوضہ ہے یہ صرف درہم اور دینار وغیرہ میں نہیں ہو سکتا بلکہ سامان اور مکیلات اور موزونات میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے دونوں شریکوں کے پاس ایک ہی جنس کا مال ہونا چاہیے، یعنی اگر ایک شریک کے پاس برتن ہیں تو دوسرے کے پاس بھی برتن ہونے چاہئیں، اگر ایک کے پاس گندم ہے بھئی تو دوسرے کے پاس بھی گندم ہونی چاہیے، یعنی جنس ایک ہونی چاہیے اس راس المال، راس المال کہتے ہیں سرمایہ۔ راس المال کسے کہتے ہیں؟ سرمایہ، دو آدمی آپس میں مال ملاتے ہیں اور تجارت کرتے ہیں، تو یہ جو مال دونوں نے آپس میں ملایا اس کو کہتے ہیں راس المال بھئی، یعنی اصل سرمایہ جو کاروبار کے اندر لگایا گیا ہے۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرکتِ مفاوضہ جو ہے جس طرح درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ میں صحیح ہے اسی طرح سامان اور مکیلات اور موزونات میں بھی صحیح ہے، البتہ راس المال ایک جنس کا ہونا چاہیے، ایک کے پاس اگر برتن ہے تو دوسرے کے پاس بھی برتن ہونے چاہئیں، ایک کے پاس اگر گندم ہے تو دوسرے کے پاس بھی گندم ہونی چاہیے، یعنی راس المال ایک جنس ہونی چاہیے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”يَجُوزُ بِالْعُرُوضِ وَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ“ کہ یہ شرکتِ مفاوضہ جائز ہے سامان کے ساتھ بھی اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی،
”إِذَا كَانَ الْجِنْسُ وَاحِدًا“ جب ان کی جنس ایک ہی ہو۔
ہمارے نزدیک تو عقدِ مفاوضہ صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ میں جائز ہے، اور چیزوں میں جائز نہیں، لیکن امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک سامان اور مکیلات اور موزونات میں بھی عقدِ مفاوضہ جائز ہے۔
کہتے ہیں:
”لِأَنَّهَا عُقِدَتْ عَلَى رَأْسِ مَالٍ مَعْلُومٍ“
اس لیے کیونکہ یہ جو شرکتِ مفاوضہ کا عقد کیا جاتا ہے یہ معلوم راس المال پر کیا جاتا ہے، یہ شرکتِ مفاوضہ کا عقد معلوم راس المال پر کیا جاتا ہے، یعنی عقدِ مفاوضہ کے اندر راس المال جو ہے یعنی جو اصل سرمایہ ہے وہ معلوم ہونا چاہیے، جیسے ایک کی طرف سے بیس درہم ہیں تو دوسرے کی طرف سے بھی بیس درہم ہوں تو اب دیکھو راس المال معلوم ہے۔ راس المال معلوم ہے، اصل سرمایہ جو ہے بیس درہم ایک کی طرف سے ہیں اور بیس درہم دوسرے کی طرف سے ہیں، تو اگر سامان یا مکیلات اور موزونات ہوں دونوں کی طرف سے اور ایک ہی جنس ہو تو اس صورت میں بھی یہ راس المال معلوم ہے، ایک کی طرف سے مثلاً اگر سو درہم کے برتن ہیں تو دوسرے کی طرف سے بھی مثلاً سو درہم کے برتن ہیں تو دیکھو یہاں پر بھی راس المال معلوم ہے۔ توجہ ہے؟ جیسے درہم اور دینار پر عقدِ شرکت جائز ہے کیونکہ وہاں راس المال معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے بیس درہم ہیں تو دوسرے کے بھی بیس درہم ہیں، تو جب اگر دونوں کی طرف سے ایک ہی جنس کا سامان یا مکیلات یا موزونات ہوں تو اس صورت میں بھی راس المال معلوم ہے، ایک کی طرف سے سو من گندم ہے تو دوسرے کی طرف سے بھی مثلاً سو من گندم ہے تو یہ راس المال معلوم ہے، اور جب راس المال معلوم ہے تو یہ سامان یا مکیلات اور موزونات جو ہیں یہ بھی نقدیوں کی طرح یعنی درہم اور دینار جیسے ہو گئے۔ درہم اور دینار پر عقدِ مفاوضہ کیوں جائز ہے؟ تاکہ راس المال معلوم ہو، پتہ چلے کس کا کتنا سرمایہ ہے، تو جب دونوں کی طرف سے سامان ہے یا مکیلات اور موزونات ہیں لیکن جنس ایک ہے تب بھی راس المال معلوم ہے، لہٰذا اس صورت میں بھی عقدِ مفاوضہ جائز ہے کیونکہ اس سامان یا مکیلات اور موزونات کی مشابہت آ گئی نقدیوں کے ساتھ، کس چیز میں؟ راس المال کے معلوم ہونے میں، کہ دونوں میں راس المال معلوم ہے بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں:
”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَجُوزُ بِالْعُرُوضِ وَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ“
اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک عقدِ مفاوضہ جائز ہے سامان کے ساتھ بھی اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی،
”إِذَا كَانَ الْجِنْسُ وَاحِدًا“ جب جنس ایک ہی ہو،
”لِأَنَّهَا عُقِدَتْ عَلَى رَأْسِ مَالٍ مَعْلُومٍ“ اس لیے کیونکہ شرکتِ مفاوضہ کا عقد کیا جاتا ہے معلوم راس المال پر،
”فَأَشْبَهَ النُّقُودَ“ تو یہ جو سامان، مکیلات اور موزونات وغیرہ ہیں، ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ نقدیوں کے مشابہ ہو گیا، یہ بھی نقدیوں یعنی درہم اور دینار کے مشابہ ہیں۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
بھئی، یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے۔ ایک دو صفحے قبل امام مالک رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا تھا صاحبِ ہدایہ نے، امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا عقدِ مفاوضہ کے بارے میں تو امام مالک رحمہ اللہ جواب میں فرمانے لگے: ”لَا أَعْرِفُ مَا الْمُفَاوَضَةُ“ کہ میں تو نہیں جانتا کہ مفاوضہ کیا ہے۔ وہاں میں نے دو تقریریں ذکر کی تھیں کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ مفاوضہ سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں، یہ دراصل کنایہ ہے مفاوضہ کے فاسد ہونے سے، معلوم ہوا امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک عقدِ مفاوضہ فاسد ہے، جائز ہی نہیں ہے، یہ بعض شارحین نے تقریر کی۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ نہیں، امام مالک رحمہ اللہ کا لاعلمی کا اظہار کرنا یہ مفاوضہ کے فساد کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ سوال کرنے والے نے یہ ذکر کیا تھا کہ عقدِ مفاوضہ کے اندر دونوں شریکوں کا مال کے اندر برابر ہونا ضروری ہے، ایک کا کل مال اگر بیس درہم ہے تو دوسرے کا کل مال بھی بیس درہم ہونا چاہیے بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ اس پر فرما رہے ہیں: ”لَا أَعْرِفُ مَا الْمُفَاوَضَةُ“ یہ مفاوضہ جو تم ذکر کر رہے ہو کہ جس میں دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا چاہیے، یہ مفاوضہ تو میں نہیں جانتا، ”لَا أَعْرِفُ مَا الْمُفَاوَضَةُ“ میں نہیں جانتا یہ مفاوضہ کیا ہے جو تم ذکر کر رہے ہو۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا ان شارحین کے مطابق امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مفاوضہ جائز ہے، البتہ دونوں شریکوں میں مال کے اندر برابری ضروری نہیں ہے، چنانچہ بعض کبار مالکی فقہاء جو ہیں وہ بھی ذکر فرماتے ہیں کہ مفاوضہ جائز ہے البتہ اس میں مال کی برابری کی شرط نہیں ہے بھئی۔ تو وہ شارحین جنہوں نے کہا تھا کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مفاوضہ جائز ہی نہیں ہے، تو ان پر اعتراض ہوتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک جب عقدِ مفاوضہ جائز ہی نہیں ہے تو پھر یہاں یہ کہنے کا کیا معنی: ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجُوزُ بِالْعُرُوضِ وَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ“؟ تو ان شارحین پر اعتراض ہوتا ہے۔ تو ان کی طرف سے پھر یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ معلوم ہوا اس مفاوضہ کے سلسلے میں امام مالک رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں: ایک روایت کے مطابق مفاوضہ جائز نہیں، چنانچہ اسی لیے امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا مفاوضہ کیا ہے، یعنی وہ اس کے فساد کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں، اور دوسری روایت کے مطابق معلوم ہوا ان کے نزدیک مفاوضہ جائز ہے اور اس میں پھر وہ سامان، مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْمُضَارَبَةِ؛ لِأَنَّ الْقِيَاسَ يَأْبَاهَا لِمَا فِيهَا مِنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ فَتَقْتَصِرُ عَلَى مَوْرِدِ الشَّرْعِ“
یہاں سے امام مالک رحمہ اللہ پر ہونے والے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔
بھئی، آپ جانتے ہیں مضاربہ اسے کہتے ہیں کہ مال ایک شخص کا ہو اور محنت دوسرے شخص کی ہو اور نفع آپس میں تقسیم کر لیں، اس کو کہتے ہیں عقدِ مضاربت۔ مثلاً میرے پاس مال موجود ہے لیکن مجھے تجارت نہیں آتی، اور زید جو ہے اس کو تجارت آتی ہے لیکن اس کے پاس مال موجود نہیں ہے، تو میں اپنا مال زید کے حوالے کرتا ہوں کہ آپ اس کے ساتھ تجارت کریں اور نفع ہم آپس میں تقسیم کریں گے، تو یہ جو زید کے اور میرے درمیان عقد ہوا اس کو کہتے ہیں عقدِ مضاربت بھئی، اور یاد رکھو یہ جو عقدِ مضاربت ہے یہ خلافِ قیاس حدیث سے ثابت ہے بھئی، احادیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے، تو بالاجماع تمام فقہاء کے نزدیک یہ عقدِ مضاربت جائز ہے۔ اور یاد رکھنا، ہمارے نزدیک یہ عقدِ مضاربت بھی عقدِ شرکت کی طرح ہے، اور جیسے عقدِ شرکت جو ہے ہمارے نزدیک صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ سے جائز ہے، اسی طرح مضاربت بھی صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ سے جائز ہے۔ توجہ ہے؟ ہمارے نزدیک عقدِ مضاربت کا وہی حکم ہے جو عقدِ شرکت کا ہے، اور عقدِ شرکت تو صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ذریعے جائز ہے، تو اسی طرح عقدِ مضاربت بھی صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے۔ لیکن امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں ان کے نزدیک عقدِ مضاربت صرف درہم اور دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے، عقدِ مضاربت ان کے نزدیک صرف درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ کے ساتھ جائز ہے، جبکہ شرکتِ مفاوضہ کے بارے میں ابھی بات گزر گئی، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَجُوزُ بِالْعُرُوضِ وَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ“ کہ شرکتِ مفاوضہ وہ سامان اور موزونات اور مکیلات کے ساتھ بھی جائز ہے۔ تو امام مالک رحمہ اللہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے یہ مضاربت اور شرکت میں فرق کیوں کیا؟ مضاربت آپ صرف درہم اور دنانیر وغیرہ کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں، اور شرکت آپ درہم اور دینار وغیرہ کے ساتھ ساتھ آپ سامان اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی جائز قرار دیتے ہیں، تو ان دونوں میں آپ نے فرق کیوں کیا؟ تو اس کا جواب دینے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ امام مالک رحمہ اللہ کی طرف سے کہ یہ جو عقدِ مضاربت ہے یہ خلافِ قیاس حدیث سے ثابت ہے۔ یہ عقدِ مضاربت کیا ہے؟ یہ خلافِ قیاس حدیث سے ثابت ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مضاربت جائز ہی نہیں ہونی چاہیے، وجہ یہ کہ اس کے اندر ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ لازم آتا ہے، ایسی چیز کا نفع کہ جس کا ضمان انسان پر نہیں آتا۔ توجہ ہے؟ بھئی، کچھ سبق قبل ایک حدیث گزری تھی: ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“، ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ کہ نقصان جو ہے وہ نفع کے بدلے میں ہے، یعنی اگر ایک چیز کا نفع ایک آدمی کو مل رہا ہے تو نقصان بھی اسی پر آئے گا۔ نقصان بھی اسی پر آئے گا، معلوم ہوا جس چیز کا نقصان آپ کو پہنچ سکتا ہے اس کا نفع بھی آپ کو مل سکتا ہے، اور جس چیز کا نقصان آپ کو نہیں پہنچ سکتا اس کا نفع بھی آپ کو نہیں پہنچ سکتا۔ چنانچہ اسی لیے دیکھیں بھئی، یہ جو قرض دیتے ہیں کسی کو، ایک شخص دوسرے آدمی کو قرض دیتا ہے کہ مثلاً یہ سو درہم ہیں یہ میں آپ کو قرض کے طور پر دے رہا ہوں، تو یہ جو قرض ہے یہ دوسرے شخص کے ذمے میں ہوتا ہے، یہ قرض اس کو ہر حال میں ادا کرنا ہے، جس نے قرض لیا ہے اسے ہر حال میں یہ قرض ادا کرنا ہے۔ توجہ ہے؟ مثلاً زید نے ایک شخص کو سو درہم دے دیے قرض کے طور پر، اب مجھے بتائیے وہ جو مقروض ہے جو یہ درہم لے کر گیا ہے، اس کے پاس سے یہ درہم چوری ہو گئے تو کیا پھر بھی اس کو قرض واپس کرنا پڑے گا یا نہیں کرنا پڑے گا؟ اس کو پھر بھی یہ قرض واپس کرنا پڑے گا۔ وہ شخص جس نے بطورِ قرض کے درہم لیے ہیں اس کے پاس سے یہ قرض چوری ہی کیوں نہ ہو جائے، پھر بھی اس کو سو درہم واپس کرنے پڑیں گے۔ معلوم ہوا یہ جو قرض والے سو درہم چوری ہو گئے ان کا نقصان اس مقروض کو ہوا ہے، وہ قرض دینے والے کو کوئی نقصان نہیں، اس کا مال ابھی بھی محفوظ ہے، اس نے سو درہم ہی وصول کرنے ہیں۔ معلوم ہوا قرض کا نقصان قرض دینے والے کو نہیں پہنچتا، جب نقصان نہیں پہنچتا تو اس قرض پر نفع لینا بھی حرام ہے، جائز نہیں ہے۔ ایک آدمی دوسرے کو قرض دیتا ہے یہ لو سو درہم لے لو اور دو مہینے بعد آپ نے مجھے ایک سو دس درہم واپس کرنے ہیں بھئی، دیکھو اوپر دس درہم زائد بتا رہا ہے تو یہ تو نفع لے رہا ہے، اور نفع ہے ایسے مال کا جس کا نقصان یہ نہیں اٹھائے گا۔ اس مقروض کے پاس یہ قرض چوری ہو گیا تو قرض دینے والے کا کوئی نقصان نہیں، تو جب نقصان قرض دینے والے کا نہیں ہے تو نفع بھی وہ نہیں لے سکتا۔ توجہ ہے؟ ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“، نقصان کس کے بدلے میں ہے؟ نفع کے بدلے میں ہے، اگر آپ کو ایک چیز کا نقصان پہنچ رہا ہے تو آپ کو اس کا نفع بھی پہنچ سکتا ہے، لیکن اگر ایک چیز کا نقصان آپ کو نہیں پہنچ رہا تو آپ اس کا نفع کے بھی مستحق نہیں ہیں بھئی۔ یہاں تک ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ معلوم ہوا قرض پر نفع نہیں لیا جا سکتا کیونکہ قرض کے اندر قرض دینے والے کو کوئی نقصان نہیں ہو گا تو جب نقصان کا وہ ذمہ دار نہیں تو نفع بھی اس کا حق نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو بات چل رہی تھی مضاربت کی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ مضاربت جو ہے خلافِ قیاس حدیث سے ثابت ہے، قیاس تو مضاربت کا انکار کرتا ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے عقدِ مضاربت جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کے اندر ایک شخص کو نفع مل رہا ہے بغیر نقصان کے۔ ایک شخص کو نفع مل رہا ہے بغیر نقصان کے، وہ کس طرح؟ مثلاً دیکھو میں نے زید سے عقدِ مضاربت کر لیا تو مال میرا ہے اور تجارت زید کرے گا، اور نفع ہم دونوں آپس میں تقسیم کریں گے۔ تو میں نے اپنا مال زید کو دے دیا عقدِ مضاربت کے بعد۔ یاد رکھو یہ جو مضاربت کا مال میں نے اس مضارب کو دیا ہے یہ مال اس کے پاس بطورِ امانت کے ہے، یہ مال اس کے پاس بطورِ امانت کے ہے، لہٰذا زید سے اگر کوئی یہ مال چوری کر کے لے گیا تو زید کا کوئی نقصان نہیں ہوا، میرا ہی نقصان ہوا، وہ جو رب المال ہے، وہ جو مال والا ہے، اسی کا نقصان ہے، مضارب کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ مضارب کے پاس یہ مال بطورِ امانت کے ہے، اور آپ جانتے ہیں امانت کے اندر اگر کوئی زیادتی نہ کی جائے تو اس کا ضمان نہیں آتا، ہاں اگر کوئی امانت کے اندر زیادتی کرتا ہے تو پھر اس پر ضمان آتا ہے۔ تو یہ جو مال ہوتا ہے مضارب کے پاس یہ امانت کے حکم میں ہے، یہ اس کے پاس سے چوری ہو جائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں، یہ رب المال کا یعنی مال والے ہی کا نقصان ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں میں نے مال زید کو دے دیا، زید اس مال کے ذریعے تجارت کر رہا ہے تو تجارت کے اندر جتنا بھی نقصان ہو گا وہ سارا میرا ہی نقصان ہو رہا ہے کیونکہ مال تو سارا میرا ہے، زید پر کوئی نقصان نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو قیاس تو یہ تقاضا کر رہا ہے کہ یہ جو تجارت کے اندر مال لگا ہوا ہے اس کا نقصان مضارب یعنی زید کو نہیں پہنچ رہا تو نفع کا مستحق بھی زید کو نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“، نقصان کس کے بدلے ہے؟ نفع کے بدلے ہے، تو لہٰذا جب زید کو اس مالِ مضاربت کا نقصان نہیں تو نفع بھی اس کو نہیں ملنا چاہیے، معلوم ہوا یہ جو مضاربت جائز ہے یہ خلافِ قیاس ہے۔ کیونکہ اس کے اندر کیا لازم آتا ہے؟ ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“، ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ یعنی ایک غیر مضمون چیز کا نفع، ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“، ”مَا لَمْ يُضْمَنْ“ کا کیا ترجمہ کریں؟ غیر مضمون چیز۔ غیر مضمون چیز، نفع مضمون چیز کا آتا ہے جس کا آپ پر ضمان بھی آتا ہو، غیر مضمون چیز کا نفع آپ کے لیے درست نہیں، تو یہاں پر بھی مال میرا تھا، محنت زید کر رہا ہے اور نفع ہم دونوں آپس میں تقسیم کر رہے ہیں تو زید کو نفع مل رہا ہے حالانکہ زید پر ضمان نہیں آ رہا، مضارب پر ضمان نہیں آ رہا لیکن اسے نفع مل رہا ہے تو یہ تو ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ ہوا بھئی، ایک غیر مضمون چیز کا نفع مل رہا ہے زید کو، تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے یہ جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، لیکن خلافِ قیاس یہ مضاربت احادیث سے ثابت ہے کہ یہ عقد جائز ہے بھئی۔
تو امام مالک رحمہ اللہ پر اعتراض ہوتا تھا کہ عقدِ شرکت اور عقدِ مضاربت دونوں کا حکم ایک ہونا چاہیے، لیکن آپ کے نزدیک عقدِ مضاربت تو صرف درہم اور دینار وغیرہ کے ساتھ جائز ہے جبکہ عقدِ شرکت درہم اور دینار وغیرہ کے علاوہ سامان اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی جائز ہے تو آپ نے ان دونوں میں یہ فرق کیوں کیا؟ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ امام مالک رحمہ اللہ کی طرف سے کہ یہ جو مضاربت ہے یہ خلافِ قیاس حدیث سے ثابت ہے۔ خلافِ قیاس کیوں ہے؟ کیونکہ اس کے اندر ”رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ لازم آتا ہے، یعنی غیر مضمون چیز کا نفع اس میں لازم آتا ہے، تو قیاس تو اس کو رد کرتا ہے لیکن خلافِ قیاس یہ حدیث سے ثابت ہے، اور جو چیز خلافِ قیاس نص سے ثابت ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، لہٰذا یہ مضاربت کا جو جواز ذکر ہوا ہے وہ صرف درہم اور دینار وغیرہ میں ذکر ہے تو مضاربت صرف درہم اور دینار وغیرہ میں ہی جائز ہو گی، سامان اور مکیلات اور موزونات کو ان پر قیاس کرتے ہوئے ان میں مضاربت کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ مضاربت خود خلافِ قیاس ہے تو اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْمُضَارَبَةِ“ بخلاف مضاربت کے،
”لِأَنَّ الْقِيَاسَ يَأْبَاهَا“ اس لیے کیونکہ قیاس جو ہے مضاربت کا انکار کرتا ہے،
”لِمَا فِيهَا مِنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ“ اس وجہ سے کہ مضاربت کے اندر جو ہے ایک غیر مضمون چیز کا نفع لازم آتا ہے،
”فَتَقْتَصِرُ عَلَى مَوْرِدِ الشَّرْعِ“ لہٰذا یہ مضاربت بند رہے گی شریعت کے وارد ہونے کی جگہ میں،
اور شریعت تو مضاربت کے بارے میں وارد ہوئی ہے درہم اور دینار میں، تو صرف درہم اور دینار میں ہی مضاربت جائز ہو گی اور چیزوں میں جائز نہیں، اور یہی حکم ہے فلوسِ نافقہ کا بھی، ان کا حکم بھی کس کی طرح ہے؟ درہم اور دینار والا، تو صرف انہی کے اندر یہ مضاربت جائز ہے اور سامان اور مکیلات اور موزونات میں مضاربت جائز نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ امام مالک رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ شرکتِ مفاوضہ سامان اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ بھی جائز ہے، ہم کہتے ہیں نہیں شرکتِ مفاوضہ صرف درہم اور دینار اور فلوسِ نافقہ میں تو جائز ہے، سامان اور مکیلات اور موزونات میں جائز نہیں۔ اب اس کی دلیل ذکر کریں گے:
”وَلَنَا: أَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ“
اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ عقدِ شرکت پہنچا دے گا ربحِ ما لم یضمن تک۔ اگر ہم یہ عقدِ شرکت کر لیں سامان پر یا مکیلات اور موزونات پر تو یہ کہاں تک پہنچائے گا؟ ربحِ ما لم یضمن تک، اور ابھی آپ نے پڑھا ربحِ ما لم یضمن یہ تو جائز ہی نہیں ہے، نفع تو صرف اسی چیز کا جائز ہے کہ جس کا ضمان...
ضمان بھی آپ پر آئے، اور جس چیز کا ضمان آپ پر نہیں آتا اس کا نفع بھی آپ کے لیے جائز نہیں۔ تو ہمارے نزدیک اگر سامان یا مکیلات اور موزونات پر عقد شرکت جائز ہو جائے تو یہ کہاں تک پہنچا دے گا؟ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ تک پہنچا دے گا، اور وہ تو جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَنَا أَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ، کہ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ عقد شرکت جو سامان وغیرہ پر کیا جائے، یہ پہنچا دے گا رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ تک، اور وہ تو جائز نہیں ہے، لِأَنَّهُ إِذَا بَاعَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رَأْسَ مَالِهِ۔ کس طرح رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم آئے گا؟ وہ اب بیان کرنے لگے ہیں، آپ یہیں سمجھ لیجیے۔
مثلاً بھئی! میرے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں، آپ کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں۔ اب ہم دونوں آپس میں عقد شرکت کر لیتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ کے قول کے مطابق۔ ہم نے عقد شرکت کر لیا، اب میں نے اپنا سامان بیچا، مثلاً میرے برتن تھے سو درہم کے اور میں نے بیچا تو وصول بھی سو درہم ہی ہوئے، جو ان کی قیمت بنتی تھی وہی وصول ہوئے۔ لیکن زید نے جب وہی اپنے سو درہم والے برتن بیچے، اس کو کوئی اچھا گاہک مل گیا، کوئی اچھا مشتری مل گیا، وہ اس نے ایک سو دس درہم میں بیچ دیے۔ جب ایک سو دس درہم میں بیچے ہیں تو سو درہم تو وہ سامان کی قیمت تھی اور باقی دس درہم نفع آیا ہے اور ہم دونوں نے عقد شرکت کیا ہوا ہے، تو اس دس درہم میں سے پانچ درہم وہ مجھے دینے پڑیں گے۔ تو مجھے نفع ملا اور کس چیز کا نفع ملا ہے؟ ایک غیر مضمون چیز کا۔ اگر وہ برتن زید کے پاس ہلاک ہو جاتے تو زید کا نقصان ہونا تھا، میرا نقصان تو نہیں تھا، تو دیکھو مجھے نفع مل رہا ہے ان برتنوں کا جن کا ضمان میرے اوپر نہیں آ رہا بھئی! تو کیا لازم آیا؟ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم آیا۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ إِذَا بَاعَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رَأْسَ مَالِهِ، اس لیے کیونکہ جب دونوں شریکوں میں سے ہر ایک نے اپنے راس المال کو فروخت کر دیا، وَتَفَاضَلَ الثَّمَنَانِ، اور دونوں ثمن جو ہیں ان میں کمی بیشی ہوئی۔ تفاضل کا معنی ہے ایک چیز کا دوسری پر زائد ہونا، جب ایک چیز زائد ہوگی تو دوسری کم ہو جائے گی، تو ترجمہ کیا کر لیں گے؟ کمی بیشی۔ تو کہتے ہیں: جب دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے راس المال کو بیچا، میرا راس المال کیا تھا؟ سو درہم کے برتن، زید کا راس المال بھی کیا ہے؟ سو درہم کے برتن ہیں، تو ہم دونوں نے اپنے راس المال کو بیچا، وَتَفَاضَلَ الثَّمَنَانِ، اور وہ دو ثمن جو ہیں ان میں کمی بیشی ہوئی، مثلاً ایک کا اسی قیمت پر فروخت ہوا اور دوسرے کے اندر نفع بھی آ گیا۔
تو کہتے ہیں: فَمَا يَسْتَحِقُّهُ أَحَدُهُمَا مِنَ الزِّيَادَةِ فِي مَالِ صَاحِبِهِ، تو دونوں میں سے ایک جو ہے اپنے ساتھی کے مال کے اندر جس زیادتی کا مستحق ہو گیا، میرے برتن تو کتنے کے فروخت ہوئے؟ سو درہم کے، لیکن زید کے برتن کتنے کے فروخت ہوئے؟ ایک سو دس درہم کے، تو سو درہم تو برتنوں کی قیمت تھی دس درہم نفع آ گیا، تو دیکھو یہ جو میرے ساتھی کے مال کے اندر جو زیادتی آ گئی، جو نفع آ گیا، اس کا میں مستحق بن گیا، تو یہ کیا ہے؟ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ ہے۔ یہ معنی ہے: فَمَا يَسْتَحِقُّهُ أَحَدُهُمَا مِنَ الزِّيَادَةِ فِي مَالِ صَاحِبِهِ۔ بھئی! یہ مِنَ الزِّيَادَةِ فِي مَالِ صَاحِبِهِ یہ بیان ہے مَا يَسْتَحِقُّهُ کا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیان کو مبین کی جگہ لے آئیں، مَا کی جگہ اس مِنَ الزِّيَادَةِ فِي مَالِ صَاحِبِهِ کو لے آئیں، ترجمہ بہترین ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: فَمَا يَسْتَحِقُّهُ أَحَدُهُمَا مِنَ الزِّيَادَةِ فِي مَالِ صَاحِبِهِ، تو ان دونوں میں سے ایک جو اس زیادتی کا مستحق ہو رہا ہے جو اس کے ساتھی کے مال میں آئی، رِبْحُ مَا لَمْ يَمْلِكْ وَمَا لَمْ يَضْمَنْ، تو یہ نفع ہے اس چیز کا جس کا یہ مالک نہیں ہے اور جس کا یہ ضامن نہیں ہے۔ فَمَا يَسْتَحِقُّهُ أَحَدُهُمَا، تو وہ زیادتی جس کا ایک مستحق ہو گیا، رِبْحُ مَا لَمْ يَمْلِكْ وَمَا لَمْ يَضْمَنْ، یہ نفع ہے اس چیز کا جس کا وہ مالک بھی نہیں تھا اور جس کا وہ ضامن بھی نہیں تھا بھئی!
بِخِلَافِ الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ، بخلاف درہموں اور دیناروں کے۔ بھئی صورت یہ ہے: میں نے اور زید نے عقد شرکت کر لیا، میرے پاس بھی بیس درہم، زید کے پاس بھی بیس درہم۔ توجہ ہے؟ میرے پاس بیس درہم ہیں، زید کے پاس بھی بیس درہم ہیں، ہم دونوں نے عقد شرکت کر لیا، اور میں نے اس بیس درہم کی کوئی چیز خریدی اور پھر بیچ دی تو دس درہم کا مجھے نفع ہو گیا۔ تو اب یہ نفع مجھے زید کو بھی نصف دینا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ تو اشکال ہوتا ہے یہ نفع تو میں نے اپنے درہموں سے کمایا ہے، زید ان درہموں کا مالک بھی نہیں اور زید ان درہموں کا ضامن بھی نہیں، تو پھر کیسے زید جو ہے اس نفع کے اندر شریک ہو سکتا ہے؟ تو وہی اب صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے کہ بھئی یہ درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔
میں نے کسی سے گاڑی خریدی ہے عقد شرکت کے بعد، تو ضروری نہیں ہے میں یہی درہم ادا کروں جو میرے پاس ہیں۔ بلکہ اس گاڑی کے ثمن دینا میرے ذمے ہے اور پھر اس کے نصف کے اندر میں زید پر رجوع کروں گا۔ میں زید پر رجوع کروں گا، معلوم ہوا نصف ضمان زید پر آ رہا ہے اس چیز کا۔ معلوم ہوا درہم اور دینار کے اندر جو نفع آتا ہے وہ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ نہیں ہے بلکہ رِبْحُ مَا يُضْمَنُ ہے، اس میں دوسرے پر ضمان آتا ہے۔ میں بے شک اپنے درہموں سے چیز خرید رہا ہوں لیکن پھر میں نصف ثمن کے اندر زید پر رجوع کروں گا کہ نصف ثمن اب آپ کو دینے پڑیں گے کیونکہ آپ نے اور میں نے عقد شرکت کیا ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
شاید ابھی بھی آپ پر بات پوری طرح واضح نہ ہوئی ہو کہ یہ درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ دیکھیے ایک دو اور مثالیں دیکھ لیجیے، ان شاء اللہ پھر بات پوری طرح واضح ہو جائے گی۔ بھئی یاد رکھو، یہ جو عروض سامان ہے یا مکیلات اور موزونات ہیں وہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ میں آپ کے ساتھ بیع کرتا ہوں اور آپ سے کوئی سامان خریدتا ہوں یا میں آپ سے مکیلات اور موزونات میں سے کوئی چیز خریدتا ہوں تو وہ تعین سے متعین ہو جائیں گے۔ مثلاً آپ کے پاس کچھ برتن موجود ہیں، میں نے ان برتنوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ جو برتن ہیں یہ میں نے آپ سے اتنے ثمن کے بدلے خرید لیے، اور آپ نے کہا مجھے قبول ہے، تو یاد رکھو ایجاب اور قبول ہوتے ہی بیع منعقد ہو گئی اور یہ سامان جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا، جن کی ہم نے آپس میں بیع کی ہے، یہ متعین ہو گیا بطور مبیع کے۔ اب آپ کو یہی سامان میرے حوالے کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ سامان مبیعہ ہے بھئی! اور سامان تعین سے متعین ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ سامان مشتری کے حوالے کرنے سے پہلے ہی بائع کے پاس ہی ہلاک ہو گیا تو یاد رکھو بیع ہی ختم ہو جائے گی، کیونکہ مبیع ہی نہ رہا تو بیع بھی باقی نہیں رہے گی، کیونکہ بیع تو اسی مبیع کی ہوئی تھی، جب مبیع کا وجود نہیں تو بیع کا وجود بھی باقی نہ رہا۔
اور اسی طرح یاد رکھو، یہ جو مکیلات اور موزونات ہیں یہ بھی تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ مثلاً آپ کے پاس سو من گندم موجود ہے، میں نے اس گندم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو آپ کی سو من گندم ہے یہ میں نے آپ سے اتنے ثمن کے بدلے میں خرید لی، آپ نے کہا مجھے قبول ہے، تو یاد رکھو یہ گندم جس کی طرف میں نے اشارہ کیا یہ بھی اب تعین سے متعین ہو گئی، یہی مبیع ہے۔ اب آپ کو یہی گندم میرے حوالے کرنا پڑے گی، اگر یہ گندم آپ کے پاس ہلاک ہو گئی تو یاد رکھو بیع ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ مبیع ہی باقی نہ رہا۔
جبکہ اس کے مقابلے میں درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ مثلاً میں آپ سے ایک بیع کرنے لگا، میں نے سو درہم سامنے رکھے اور ان کی طرف باقاعدہ اشارہ کر کے کہا کہ یہ جو درہم ہیں ان کے بدلے میں نے آپ کی گاڑی خرید لی، اور آپ نے قبول کر لیا، ہم دونوں کے درمیان بیع منعقد ہو گئی۔ لیکن یاد رکھو یہ جو سو درہم ہیں جن کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا، یہ اشارے کے باوجود، تعین کے باوجود، یہ متعین نہیں ہوئے، لہٰذا اس بیع کے اندر یہی درہم آپ کے حوالے کرنا مجھ پر لازم نہیں ہے، بلکہ اس کے بجائے میں اس جیسے اور سو درہم لے آتا ہوں اور وہ آپ کے حوالے کرتا ہوں تو بھی بائع انکار نہیں کر سکتا، بائع اعتراض نہیں کر سکتا کہ یہ جو درہم سامنے پڑے ہیں جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا تھا آپ کو یہی درہم دینے پڑیں گے، میں اور درہم نہیں لوں گا۔ نہیں بھئی! درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
یا دوسری صورت دیکھ لیں: میں نے سو درہم سامنے رکھے اور ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ جو درہم ہیں ان کے بدلے میں نے آپ سے گاڑی خرید لی، اور آپ نے قبول کر لیا، ہم دونوں کے درمیان بیع منعقد ہو گئی، اور پھر وہ درہم ابھی میں نے آپ کے حوالے نہیں کیے تھے کہ یہ درہم جو سامنے موجود تھے یہ نیچے دریا میں گرے اور ڈوب گئے۔ مبیع ہلاک ہو تو بیع باطل ہو جاتی ہے لیکن یہ درہم اور دینار یہ تو تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے، لہٰذا یہ اگرچہ ہلاک ہو گئے ہیں لیکن بیع باطل نہیں ہے بلکہ اب مشتری کے ذمے ہے کہ وہ اس جیسے اور درہم ادا کرے۔ تو اگر یہ درہم اور دینار تعین سے متعین ہوتے پھر تو یہ درہم ضائع ہونے پر بیع کو فاسد ہونا چاہیے تھا لیکن بیع پھر بھی فاسد نہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ درہم اور دنانیر کی طرف اشارہ بھی کر دیا جائے پھر بھی وہ متعین نہیں ہیں، وہی درہم بائع کو دینا یہ ضروری نہیں ہے بلکہ ان جیسے اور درہم بھی ادا کیے جا سکتے ہیں۔ تو معلوم ہوا درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، جبکہ سامان اور مکیلات اور موزونات جو ہیں وہ تعین سے متعین ہو جاتے ہیں۔ جب متعین سامان کی یا متعین مکیلات اور موزونات کی بیع کی ہے تو وہی مبیع ہے، وہی مشتری کے حوالے کرنے پڑیں گے۔ اگر وہ متعین مبیع یعنی وہ سامان یا مکیلات اور موزونات ہلاک ہو گئے تو بیع ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ مبیع کا وجود نہ رہا تو بیع کا وجود بھی باقی نہیں رہے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ، بخلاف درہموں اور دیناروں کے، لِأَنَّ ثَمَنَ مَا يَشْتَرِيهِ فِي ذِمَّتِهِ، اس لیے کیونکہ ثمن اس چیز کے جس کو دونوں میں سے ہر ایک خریدتا ہے، فِي ذِمَّتِهِ اس کے ذمے میں ہوتے ہیں۔ بھئی میرے پاس بیس درہم ہیں، زید کے پاس بھی بیس درہم ہیں، میں نے بیس درہم کی کوئی چیز خرید لی، تو اب ضروری نہیں ہے کہ میں یہی بیس درہم اس کے حوالے کروں، بلکہ میرے ذمے ہیں بیس درہم مجھے دینے پڑیں گے، اور ان بیس میں سے بھی دس میں کس سے لے سکتا ہوں؟ زید سے لے سکتا ہوں کہ مجھے اب دس درہم دے دیں۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ ثَمَنَ مَا يَشْتَرِيهِ فِي ذِمَّتِهِ، اس لیے کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک جو ہے جس چیز کو بھی خریدتا ہے اس کے ثمن اس کے ذمے میں ہوتے ہیں، إِذْ هِيَ لَا تَتَعَيَّنُ، اس لیے کیونکہ یہ درہم اور دینار متعین نہیں ہوتے، فَكَانَ الرِّبْحَ مَا ضَمِنَ، تو یہ نفع ہے اس چیز کا جو مضمون ہے۔ فَكَانَ الرِّبْحَ، كَانَ کے اندر هُوَ ضمیر راجع ہے رِبْحُ کو۔ عبارت گویا یوں ہے: فَكَانَ الرِّبْحُ رِبْحَ مَا ضَمِنَ، تو یہ نفع جو ہے یہ مضمون چیز کا نفع ہے، غیر مضمون چیز کا نفع نہیں ہے بھئی! تو کہتے ہیں: فَكَانَ الرِّبْحَ مَا ضَمِنَ، تو یہ نفع جو ہے ایک مضمون چیز کا نفع ہے۔
وَلِأَنَّ أَوَّلَ تَصَرُّفٍ فِي الْعُرُوضِ الْبَيْعُ وَفِي النُّقُودِ الشِّرَاءُ، یہاں سے دوسری دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سامان وغیرہ میں بھی شرکتِ مفاوضہ جائز ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، سامان میں شرکتِ مفاوضہ جائز نہیں، ورنہ تو رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ لازم آئے گا۔ اور جبکہ درہم اور دینار جو ہیں اس کے اندر جو نفع ہوتا ہے وہ رِبْحُ مَا يُضْمَنُ ہوتا ہے، کیونکہ دوسرے شریک پر نصف ثمن کے اندر رجوع کیا جاتا ہے وہاں، معلوم ہوا اس پر ضمان آ رہا ہے۔ جب ضمان اس پر آ رہا ہے تو اس کے لیے نفع بھی جائز ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی ایک ہے درہم اور دینار میں شرکت اور ایک ہے سامان کے اندر شرکت، دونوں میں فرق ہے۔ درہم اور دینار کے اندر جب شرکت کریں گے تو پہلا عمل کیا کریں گے؟ کوئی چیز خریدیں گے اس درہم اور دینار کے ذریعے اور پھر اس کو بیچیں گے۔ بھئی آپ کے پاس بھی بیس درہم ہیں، ایک اور آدمی کے پاس بھی بیس درہم ہیں، آپ دونوں آپس میں عقد شرکت کر لیتے ہیں۔ اب آپ کاروبار شروع کرنے لگے ہیں تو پہلا عمل کیا کریں گے؟ اس درہم اور دینار کے ذریعے کسی چیز کو خریدیں گے، تو معلوم ہوا جب نقدیوں پر شرکت کی جاتی ہے تو پہلا عمل خریداری ہوتا ہے، اور خریداری کے اندر شرکت جائز ہے۔ آپ اپنے مال سے ایک گاڑی خریدتے ہیں اس میں آپ اور زید شریک ہوں، یہ جائز ہے۔ آپ خریدتے کس کے ذریعے ہیں؟ اپنے مال کے ذریعے، لیکن زید بھی آپ کے ساتھ شریک ہو جائے یہ ممکن ہے، جائز ہے۔ کس طرح جائز ہے؟ مثلاً زید نے آپ سے کہا تھا کہ آپ ایک گاڑی خرید لیں، آپ اپنے پیسے لگا دیں، بعد میں مجھ سے آدھے پیسے لے لینا، آپ کی میری مشترکہ گاڑی ہو جائے گی۔ تو اب آپ اپنے مال سے گاڑی خریدتے ہیں لیکن اس میں زید بھی کیا ہو گیا آپ کے ساتھ؟ شریک۔ تو لہٰذا جب درہم اور دینار کے اندر شرکت کی جاتی ہے تو پہلا عمل اس کے اندر خریداری ہوتا ہے، اور خریداری کے اندر، مبیع کے اندر، دوسرا آدمی بھی اس خریدار کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر شرکت سامان پر ہے، آپ کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں اور دوسرے آدمی کے پاس بھی سو درہم کے برتن ہیں، اور آپ نے آپس میں عقد شرکت کر لیا، تو اب پہلا عمل کیا کرنا پڑے گا؟ سامان کو بیچنا پڑے گا۔ سامان کو بیچنا پڑے گا، اور یاد رکھو آپ اپنا سامان بیچیں اور اس کے ثمن میں آپ کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہو جائے، یہ جائز نہیں۔ توجہ ہے؟ آپ اپنے مال سے کوئی چیز خریدیں تو اس میں تو کوئی دوسرا آپ کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے، اس نے آپ کو وکیل بنایا ہو۔ لیکن آپ اپنے مال کو بیچیں اور اس کے ثمن میں کوئی اور بھی آپ کے ساتھ شریک ہو جائے، یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنی گاڑی بیچتے ہیں اور زید کہتا ہے کہ آپ اپنی گاڑی بیچ دیں اور اس کے ثمن کے اندر میں بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گا، نہیں بھئی! گاڑی آپ کی ہے تو ثمن بھی آپ ہی کے ہیں۔ حاصلِ کلام یہ کہ اپنے مال سے کوئی چیز خریدی جائے اس میں غیر شریک ہو سکتا ہے، لیکن اپنے مال کو بیچا جائے تو ثمن میں غیر شریک نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا سامان اور مکیلات اور موزونات میں عقد شرکت جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں سامان کے ثمن میں دوسرے کو شریک کرنا لازم آئے گا اور یہ جائز نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ أَوَّلَ تَصَرُّفٍ فِي الْعُرُوضِ الْبَيْعُ، اور اس لیے کیونکہ سامان کے اندر جو پہلا تصرف ہوتا ہے وہ بیع ہے، وَفِي النُّقُودِ الشِّرَاءُ، اور نقدیوں کے اندر پہلا تصرف جو ہے وہ خریداری ہوتی ہے، وَبَيْعُ أَحَدِهِمَا مَالَهُ، اور دونوں شریکوں میں سے ایک کا اپنے مال کو بیچنا، عَلَى أَنْ يَكُونَ الْآخَرُ شَرِيكًا فِي ثَمَنِهِ، اس شرط پر کہ دوسرا بھی اس کے ساتھ ثمن میں شریک ہوگا، لَا يَجُوزُ، یہ جائز نہیں ہے، وَشِرَاءُ أَحَدِهِمَا شَيْئًا بِمَالِهِ، اور دونوں شریکوں میں سے ایک کا کسی چیز کو اپنے مال سے خریدنا، عَلَى أَنْ يَكُونَ الْمَبِيعُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ غَيْرِهِ، اس شرط پر کہ مبیع اس کے اور غیر کے درمیان مشترکہ ہوگا، جَائِزٌ، یہ جائز ہے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا سامان اور مکیلات اور موزونات میں عقد شرکت جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں سامان کے ثمن میں دوسرے کو شریک کرنا لازم آئے گا اور یہ جائز نہیں ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: وَأَمَّا الْفُلُوسُ النَّافِقَةُ تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، ان کے ساتھ بھی عقد شرکت جائز ہے یا جائز نہیں؟ ان کے ساتھ بھی عقد مضاربت جائز ہے یا جائز نہیں؟ اس میں امام محمد رحمہ اللہ کا اور شیخین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، یہ جو بازار میں ثمن چلتے ہیں جن کے ساتھ لوگ خرید و فروخت کرتے ہیں جیسے روپے پیسے وغیرہ، تو ان کا حکم بھی درہم اور دینار والا ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ جیسے درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، اسی طرح یہ فلوسِ نافقہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ لہٰذا ان کا حکم بھی درہم اور دینار والا ہے اور جیسے درہم اور دینار کے ساتھ عقد شرکت اور عقد مضاربت جائز ہے تو فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی عقد شرکت اور عقد مضاربت جائز ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔
بھئی یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا۔ یاد رکھو یہ جو سونا اور چاندی ہیں، ان کو اللہ نے پیدا ہی بطور ثمن کے فرمایا ہے، ان کو پیدا ہی تجارت کے لیے کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگ آپس میں تجارت کر سکیں، آپس میں بیع و شراء کر سکیں۔ تو یہ جو سونا اور چاندی ہیں یہ خلقۃً ثمن ہیں۔ یعنی ان کو اللہ نے پیدا ہی بطور ثمن کے فرمایا ہے، چنانچہ اسی لیے سونے سے دینار بنائے جاتے ہیں اور چاندی سے درہم بنائے جاتے ہیں، تو یہ درہم اور دینار یہ ثمن ہیں، یہ اسی سونے اور چاندی سے بنے ہیں۔ معلوم ہوا یہ درہم اور دینار، یا یوں کہیں یہ جو سونا اور چاندی، یہ خلقۃً ثمن ہیں، اور دوسرے ثمن جو بازار میں، کسی ملک کی جو کرنسی ہوتی ہے، یاد رکھو وہ ثمنِ اصطلاحی ہے، یعنی جس کو ثمن قرار دے دیا جاتا ہے آپس میں اتفاق کرتے ہوئے۔ جیسے ہر ملک کی اپنی اپنی کرنسی ہے تو اس ملک کے اندر وہی کرنسی چلتی ہے اور اس کے ذریعے خرید و فروخت کی جاتی ہے، یعنی اس کرنسی کو ثمن مقرر کر لیا جاتا ہے۔ اس کرنسی کو ثمن مقرر کر لیا جاتا ہے، خلقت کے اعتبار سے وہ ثمن نہیں ہے لیکن انہوں نے اس کو ثمن مقرر کر دیا ہے، تو اس کو کہتے ہیں ثمنِ اصطلاحی۔ تو یہ جو درہم اور دینار ہیں یہ ثمن ہیں خلقۃً، اور یہ جو کرنسی اور سکے وغیرہ ہیں، یاد رکھو یہ ثمنِ اصطلاحی ہیں بھئی!
ثمنِ اصطلاحی ہیں، اور پھر یہاں عقد صرف کو بھی سمجھ لیں۔ یاد رکھو عقد صرف اسے کہتے ہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان بیع ہوتی ہے اور دونوں طرف عوض جو ہے وہ ثمن کی جنس سے ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ درہم بیچتے ہیں اور اس کے بدلے میں دینار خریدتے ہیں، تو درہم یہ بھی ثمن کے قبیل سے اور دینار یہ بھی ثمن کے قبیل سے، تو دونوں طرف سے جب عوضین جو ہیں وہ ثمن کی قبیل سے ہوں تو اس کو عقد صرف کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقد صرف بھئی، ص کے ساتھ ہے۔ اور یاد رکھو عقد صرف کے اندر عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ شرط ہے۔ آپ درہم بیچ کر دینار خریدنا چاہتے ہیں تو اسی مجلس کے اندر دونوں عقد کرنے والے عوضین پر قبضہ کریں گے۔ اس میں ادھار جائز نہیں، آپ دینار آج دے رہے ہیں اور وہ درہم کل دے گا تو یاد رکھو یہ عقد صرف جائز نہیں ہے۔ جس مجلس میں بیع ہوئی ہے، جس مجلس میں ایجاب اور قبول ہوا ہے، اسی مجلس کے اندر عوضین پر قبضہ شرط ہے۔ اور نیز عقد صرف کا ایک اور ضابطہ یاد رکھنا، اگر دونوں طرف سے جنس ایک ہے مثلاً آپ درہم دے کر درہم ہی لینا چاہتے ہیں، تو اس صورت میں پھر برابری بھی شرط ہے۔ آپ دس درہم بیچ رہے ہیں تو بدلے میں دس درہم ہی خرید سکتے ہیں، یہاں برابری ضروری ہے۔ برابری ضروری ہے، چاہے آپ کے درہم اعلیٰ قسم کے ہیں اور دوسرے شخص کے درہم ادنیٰ قسم کے ہیں، پھر بھی جب جنس ایک ہے تو برابری شرط ہے۔ اگر کمی بیشی کریں گے تو سود لازم آئے گا، ربا لازم آئے گا اور وہ حرام ہے جائز نہیں ہے۔ تو عقد صرف میں دونوں طرف سے جو عوض ہوتے ہیں وہ ثمن کی قبیل سے ہوتے ہیں اور وہاں پر ادھار کسی بھی صورت میں جائز نہیں اور کمی بیشی صرف اس صورت میں جائز ہے جب دونوں طرف سے الگ الگ جنس ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو بات چل رہی تھی کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کا بھی وہی حکم ہے جو درہم اور دینار کا ہے، اور درہم اور دینار جو ہیں جیسے ان کے اندر آپس میں بیع کی جائے، دونوں طرف سے ثمن کی جنس ہو اور ایک ہی جنس ہو تو پھر برابری شرط ہے، اسی طرح فلوسِ نافقہ جو ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے۔ لہٰذا ایک سکے کی بیع کرنا دو سکوں کے بدلے جب جنس ایک ہی ہو یہ جائز نہیں ہے، جیسے ایک درہم کو بیچنا دو درہموں کے بدلے یہ جائز نہیں ہے۔ یا اسی طرح ایک روپیہ دے کر دو روپے خریدنا یہ جائز نہیں کیونکہ جنس ایک ہے، لیکن اگر جنس الگ ہے پھر کمی بیشی جائز ہے۔ مثلاً آپ کے پاس ہیں ڈالر اور دوسرے شخص کے پاس ہیں پاکستانی روپے، تو اب آپ ایک ڈالر کے بدلے مثلاً دو سو روپے لیتے ہیں تو یہ جائز ہے کیونکہ جنس الگ ہے، البتہ ادھار یہاں بھی جائز نہیں، نقد ہو بھئی! نقد ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہ کہ عقد صرف میں ادھار کسی بھی صورت میں جائز نہیں اور کمی بیشی صرف اس صورت میں جائز ہے جب دونوں عوضین کی جنس الگ الگ ہو۔
تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کا حکم بھی درہم اور دینار والا ہے، لہٰذا ان کے اندر بھی جب آپس میں بیع کریں تو ایک سکے کے بدلے دو سکے لینا جائز نہیں، ایک روپے کے بدلے دو روپے لینا جائز نہیں ہے، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کا حکم سامان والا ہے، ان کا حکم درہم اور دینار والا نہیں۔ جب درہم اور دینار والا حکم نہیں سامان والا حکم ہے تو کمی بیشی کے ساتھ بیع جائز ہے، یعنی ایک سکہ دے کر دو سکے خریدنا جائز ہے۔ البتہ ادھار وہ بھی فرماتے ہیں یہاں ادھار جائز نہیں ہے کیونکہ جنس ایک ہی ہے۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی، ربا کی تفصیل علماء ذکر فرماتے ہیں اگر جنس اور قدر ایک ہوں، جنس اور قدر ایک ہوں تو پھر کمی بیشی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں ہے۔ جنس یعنی دونوں طرف مثلاً گندم ہے اور قدر یعنی گندم جو ہے وہ کیلی ہے، حضور علیہ السلام کے زمانے میں اس کو برتن میں ناپ کر بیچا جاتا تھا، تو دونوں طرف جب گندم ہے تو پھر ان کو اسی طرح ناپ کر برابری کے ساتھ بیچنا پڑے گا بھئی! تو معلوم ہوا کہ مکیلات اور موزونات جو ہیں ان کی جب بیع کی جائے تو اگر ایک ہی جنس ہو تو پھر کمی بیشی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں۔ لیکن اگر جنس تو ایک ہے لیکن قدر نہیں ہے یعنی وہ چیز کیلی یا وزنی نہیں ہے تو پھر نقد تو کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے ادھار جائز نہیں۔ نقد تو کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے ادھار جائز نہیں، چنانچہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ایک سکہ نقد دے کر اسی جیسے دو سکے لینا عوض کے اندر، بیع کے اندر، یہ جائز ہے کیونکہ یہ سامان کے حکم میں ہیں۔ لیکن جنس ایک ہی ہے، یہ بھی سکہ ہے اور وہ بھی ایک سکے ہیں، لہٰذا ادھار جائز نہیں ہے بھئی! ادھار جائز نہیں، کمی بیشی جائز ہے اور ادھار جائز نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ درہم اور دینار کی قبیل سے ہیں یہ جو سکے ہیں، لہٰذا یہاں نقد بھی بیچیں تو کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے بلکہ برابری ہونی چاہیے، اور نیز وہ بھی فرماتے ہیں یہ چونکہ عقد صرف کی قبیل سے ہے لہٰذا یہاں ادھار بھی جائز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: وَأَمَّا الْفُلُوسُ النَّافِقَةُ، اور باقی رائج پیسے جو ہوتے ہیں، تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ، وہ ثمن کی طرح رائج ہوتے ہیں۔ فلوسِ نافقہ کس کی طرح رائج ہوتے ہیں؟ ثمن کی طرح، جیسے ثمن کے ذریعے یعنی درہم اور دینار کے ذریعے بازار میں خرید و فروخت ہوتی ہے، اسی طرح یہ جو رائج کرنسی ہوتی ہے اس کے ذریعے بھی بازار میں خرید و فروخت ہوتی ہے، تو فلوسِ نافقہ جو ہیں وہ ثمن کی طرح رائج ہوتے ہیں بھئی! اور یاد رکھنا یہاں لفظ آیا: تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ، رَاجَ يَرُوجُ رَوَاجًا بھئی۔ یہ رَوَاج مصدر ہے، اردو میں تو رواج را کے کسرہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے لیکن عربی میں یہ را کے فتحہ کے ساتھ ہے بھئی: رَوَاج بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا الْفُلُوسُ النَّافِقَةُ تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ، اور باقی فلوسِ نافقہ جو ہوتے ہیں وہ ثمنوں کی طرح رائج ہوتے ہیں، فَأُلْحِقَتْ بِهَا، تو ان کو ثمنوں کے ساتھ ہی ملایا جائے گا، یعنی ان کا حکم بھی وہی درہم اور دینار والا ہوگا، قَالُوا، فقہاء فرماتے ہیں: هَذَا قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، کہ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے، لِأَنَّهَا مُلْحَقَةٌ بِالنُّقُودِ عِنْدَهُ، اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں یہ نقدیوں کے ساتھ ملحق ہوتے ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فلوسِ نافقہ کا وہی حکم ہے جو نقدیوں کا یعنی درہم اور دینار کا ہے۔
تو کہتے ہیں: فقہاء فرماتے ہیں هَذَا قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے، لِأَنَّهَا مُلْحَقَةٌ بِالنُّقُودِ عِنْدَهُ، اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فلوسِ نافقہ جو ہیں ان کو نقدیوں کے ساتھ ملایا گیا ہے، حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ، یہاں تک کہ یہ فلوسِ نافقہ جو ہیں تعین سے متعین نہیں ہوتے، جیسے درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے اسی طرح فلوسِ نافقہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ اور یاد رکھنا یہاں آیا حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ، یہاں پر یہ حَتَّى نَصْب نہیں دے گا یعنی حَتَّى کے بعد اَنْ مقدر نہیں، حَتَّى کے بعد اَنْ کے مقدر ہونے کے لیے آپ نے پڑھا ہے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ حَتَّى کا مابعد مستقبل ہونا چاہیے حَتَّى کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسرا وہ حَتَّى غایت یا سببیت کا فائدہ دے اور یہاں یہ شرطیں پوری نہیں ہیں۔ اکثر یہ صاحبِ ہدایہ جو حَتَّى لے کر آتے ہیں وہ تفریع کے لیے لاتے ہیں، ماقبل پر ایک بات کی تفریع کرتے ہیں، جیسے یہاں بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فلوسِ نافقہ جو ہیں یہ نقدیوں کے ساتھ ملحق ہیں، ان کا نقدیوں والا حکم ہے، حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ، یہاں تک کہ یہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے، یعنی جیسے وہ نقدیاں درہم اور دینار جو ہیں وہ تعین سے متعین نہیں ہوتے یہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے، تو صاحبِ ہدایہ اکثر جگہ یہ حَتَّى کے ذریعے تفریع کرتے ہیں ماقبل پر۔
تو کہتے ہیں: حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ، یہاں تک کہ یہ تعین سے متعین نہیں ہوتے، وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ بِأَعْيَانِهَا، اور جائز نہیں ہے ان میں سے دو معین کی بیع ایک کے بدلے میں، عَلَى مَا عُرِفَ، اس وجہ سے جو جان لیا گیا، کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ نقدیوں کے حکم میں ہیں بھئی! بھئی یہاں آیا بِأَعْيَانِهَا، یاد رکھنا بِأَعْيَانِهَا سے مراد یہ ہے کہ یہ جو دو فلوسِ نافقہ کی بیع کی جا رہی ہے ایک کے بدلے میں، یہ متعین ہوں یعنی نقد ہوں۔ متعین تب ہی ہوں گے نا جب سامنے موجود ہیں، تو اس وقت یہ متعین ہیں یعنی نقد بیع ہو رہی ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو فلوسِ نافقہ دے کر بدلے میں ایک لینا یہ جائز نہیں ہے جیسے دو درہم دے کر بدلے میں ایک درہم لینا۔ اور نقد کی قید لگائی بِأَعْيَانِهَا کہ معین ہوں یعنی نقد ہوں، کیونکہ ادھار تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ہی جائز نہیں ہے بھئی!
تو کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ بِأَعْيَانِهَا، یہاں تک کہ جائز نہیں ہے دو معین فلوسِ نافقہ کی بیع ایک کے بدلے میں، عَلَى مَا عُرِفَ، اس وجہ سے جس کو جان لیا گیا، کہ اوپر ہم نے بتلا دیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فلوسِ نافقہ یہ نقدیوں کے حکم میں ہیں یعنی درہم اور دینار کے حکم میں ہیں۔
أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ نقدیوں کے حکم میں ہیں یعنی درہم اور دینار کے حکم میں ہیں، اور درہم اور دینار کے ساتھ تو شرکت بھی جائز اور مضاربت بھی جائز، لہٰذا فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی شرکت بھی جائز اور مضاربت بھی جائز ہے۔ اب آگے شیخین رحمہما اللہ کا مذہب آ رہا ہے۔ کہتے ہیں: أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، اور باقی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، لَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ وَالْمُضَارَبَةُ بِهَا، کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے، لِأَنَّ ثَمَنِيَّتَهَا تَتَبَدَّلُ سَاعَةً فَسَاعَةً، اس لیے کیونکہ ان فلوسِ نافقہ کا ثمن ہونا وہ گھڑی گھڑی بدلتا رہتا ہے۔ بھئی بعض اوقات ایک ملک کے اندر ایک کرنسی چل رہی ہوتی ہے اور پھر اعلان کر دیا جاتا ہے کہ فلاں تاریخ کے بعد یہ پرانی کرنسی اس کے ذریعے بیع و شراء جائز نہیں بلکہ اس کے بعد نئی کرنسی جو ہے وہ استعمال کی جائے گی، تو معلوم ہوا کہ وہ فلوس جو پہلے چل رہے تھے اب وہ کس کے حکم میں ہو گئے؟ سامان کے حکم میں ہو گئے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہوتے ہیں ان کی ثمنیت بدلتی رہتی ہے، کبھی ان کو بطور ثمن کے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی ان کی ثمنیت ختم کر کے ان کو سامان قرار دے دیا جاتا ہے بھئی!
تو کہتے ہیں: لِأَنَّ ثَمَنِيَّتَهَا، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کا ثمن ہونا، تَتَبَدَّلُ سَاعَةً فَسَاعَةً، یہ گھڑی گھڑی بدلتا رہتا ہے، وَتَصِيرُ سِلَعًا، اور یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں یہ سامان بن جاتے ہیں۔ معلوم ہوا فلوسِ نافقہ انتہاءً سامان بن جاتے ہیں۔ انتہاءً سامان بن جاتے ہیں، تو اگر کوئی چیز ابتداءً سامان ہو اس کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں تو جو انتہاءً سامان ہو اس کے ساتھ بھی اس کے ساتھ بھی شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہوگی۔ توجہ ہے؟ بھئی ابھی اوپر آپ کو بتلایا کہ ہمارے نزدیک سامان اور مکیلات اور موزونات کے اندر شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے، معلوم ہوا ابتداءً سامان اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ عقد شرکت اور مضاربت جائز نہیں، جب ابتداءً اس سامان کے ساتھ شرکت جائز نہیں تو جو چیز انتہاءً سامان بن جائے اس کے ساتھ بھی عقد شرکت جائز نہیں ہوگا بھئی! تو یہ فلوسِ نافقہ انتہاءً سامان کے حکم میں ہیں، تو جب یہ انتہاءً سامان کے حکم میں ہیں تو ان کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہوگی بھئی!
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَيُرْوَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِثْلُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، بھئی اوپر اختلاف ذکر ہو گیا: امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں۔ کہتے ہیں لیکن ایک قول امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اسی طرح کا نقل کیا گیا ہے جیسا امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت کے اندر نقل کیا گیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے بھئی!
تو کہتے ہیں: وَيُرْوَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِثْلُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے مثل روایت کیا گیا ہے، وَالْأَوَّلُ أَقْيَسُ وَأَظْهَرُ، اور پہلا قول زیادہ قیاس کے مطابق ہے، وَأَظْهَرُ اور زیادہ ظاہر ہے۔ بھئی دیکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے دو قول آ گئے یہاں پر: ایک قول اوپر ذکر ہوا کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے اندر شرکت اور مضاربت جائز نہیں اور شیخین رحمہما اللہ میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی داخل ہیں، تو معلوم ہوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق فلوسِ نافقہ سے شرکت اور مضاربت جائز نہیں، اور دوسرا قول جو ان سے نقل کیا گیا ہے وہ امام محمد رحمہ اللہ کے مثل ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی شرکت اور مضاربت جائز ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول جو ہے وہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے کہ ان فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، یہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے۔
بھئی کیا معنی یہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے؟ کہتے ہیں دیکھو دو فلوسِ نافقہ کو دے کر ایک لینا یعنی دو سکے دے کر ایک سکہ خریدنا یا ایک روپیہ دے کر دو روپے خریدنا، اوپر گزر گیا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں کیونکہ ان کا حکم درہم اور دینار والا ہے، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے۔ ایک سکے کی بیع دو سکے کے بدلے جائز ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس بیع کے مسئلے میں امام صاحب کے ساتھ ہیں۔ کس کے ساتھ؟ امام صاحب کے ساتھ ہیں، تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ شرکت اور مضاربت کے مسئلے میں بھی وہ امام صاحب کے ساتھ ہوں گے۔
بھئی دیکھیے اوپر مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو سکوں کی بیع ایک کے بدلے جائز نہیں ہے چاہے نقد ہو پھر بھی جائز نہیں، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ایک سکے کی بیع دو سکوں کے بدلے جائز ہے کیونکہ یہ سامان کے حکم میں ہیں۔ تو وہاں پر دیکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں، کس کے ساتھ ہیں؟ تو جب اس بیع کے مسئلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ شرکت اور مضاربت کے مسئلے میں بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہوں گے۔ میرا خیال بات واضح نہیں ہو رہی، پھر سمجھو پھر سمجھو۔
بھئی دیکھیے یہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہو گئیں: ایک روایت میں وہ امام صاحب کے ساتھ ہیں اور ایک روایت میں وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ پہلی روایت کیا آئی؟ بھئی گزشتہ سطر میں آیا تھا: أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ وَالْمُضَارَبَةُ بِهَا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ ایک روایت کے مطابق امام صاحب کے ساتھ ہیں اور ان کے مطابق فلوسِ نافقہ کے ساتھ نہ شرکت جائز ہے اور نہ مضاربت جائز ہے۔ اور دوسری روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے جس میں وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، معلوم ہوا فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت بھی جائز اور مضاربت بھی جائز۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَالْأَوَّلُ أَقْيَسُ وَأَظْهَرُ، اور پہلا قول زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے، یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا جو قول ہم نے پہلے ذکر کیا کہ وہ امام صاحب کے ساتھ ہیں کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت بھی جائز نہیں اور مضاربت بھی جائز نہیں، یہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے یہ قیاس کے زیادہ مطابق کس طرح ہے؟ تو وجہ سمجھ لیں، بھئی وجہ یہ کہ پیچھے بیع کا مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ بِأَعْيَانِهَا عَلَى مَا عُرِفَ، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ میں سے دو معین سکوں کو بیچنا ایک سکے کے بدلے میں یہ جائز نہیں ہے، جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے کیونکہ فلوسِ نافقہ سامان کے درجے میں ہیں۔ تو جب بیع کے مسئلے کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں کہ دو سکوں کی بیع ایک سکے کے بدلے جائز ہے، تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ شرکت کے مسئلے میں بھی امام صاحب کے ساتھ ہوں گے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ نہیں ہوں گے، یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: وَالْأَوَّلُ أَقْيَسُ وَأَظْهَرُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول کہ جس کے مطابق ان کے نزدیک شرکت اور مضاربت فلوسِ نافقہ سے جائز نہیں، وہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے وَأَظْهَرُ اور زیادہ ظاہر ہے۔
وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ صِحَّةُ الْمُضَارَبَةِ بِهَا، اور امام صاحب سے روایت کیا گیا ہے کہ ان فلوسِ نافقہ کے ساتھ مضاربت صحیح ہے۔ امام صاحب سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ مضاربت صحیح ہے۔ ایک روایت تو اوپر گزر گئی امام صاحب فرماتے ہیں فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، لیکن ایک روایت امام صاحب سے یہ بھی نقل کی گئی ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ مضاربت جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
حاصلِ کلام یہاں پر یہ کہ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے۔ البتہ امام ابو یوسف اور امام صاحب سے ایک روایت امام محمد رحمہ اللہ کی طرح بھی نقل کی گئی ہے۔ یاد رکھو علماء فرماتے ہیں شامی وغیرہ کے اندر ہے کہ اس سلسلے میں زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے۔ زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں صحیح قول کے مطابق یہ درہم اور دینار کے حکم میں ہی ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ عقد مضاربت بھی جائز ہے اور ان کے ساتھ عقد شرکت بھی جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
بھئی! آپ کے پاس بھی 20 درہم ہیں، ایک اور آدمی کے پاس بھی 20 درہم ہیں، آپ دونوں آپس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں۔ اب آپ کاروبار شروع کرنے لگے ہیں، تو پہلا عمل کیا کریں گے؟ اس درہم اور دینار کے ذریعے کسی چیز کو خریدیں گے۔ تو معلوم ہوا جب نقدیوں پر شرکت کی جاتی ہے، تو پہلا عمل خریداری ہوتا ہے، اور خریداری کے اندر شرکت جائز ہے۔ آپ اپنے مال سے ایک گاڑی خریدتے ہیں، اس میں آپ اور زید شریک ہوں، یہ جائز ہے۔
آپ خریدتے کس کے ذریعے ہیں؟ اپنے مال کے ذریعے، لیکن زید بھی آپ کے ساتھ شریک ہو جائے، یہ ممکن ہے، جائز ہے۔ کس طرح جائز ہے؟ مثلاً زید نے آپ سے کہا تھا کہ آپ ایک گاڑی خرید لیں، آپ اپنے پیسے لگا دیں، بعد میں مجھ سے آدھے پیسے لے لینا، آپ کی میری مشترکہ گاڑی ہو جائے گی۔ تو اب آپ اپنے مال سے گاڑی خریدتے ہیں، لیکن اس میں زید بھی کیا ہو گیا آپ کے ساتھ؟ شریک۔ تو لہٰذا جب درہم اور دینار کے اندر شرکت کی جاتی ہے، تو پہلا عمل اس کے اندر خریداری ہوتا ہے، اور خریداری کے اندر، مبیع کے اندر دوسرا آدمی بھی اس خریدار کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر شرکت سامان پر ہے، آپ کے پاس بھی 100 درہم کے برتن ہیں اور دوسرے آدمی کے پاس بھی 100 درہم کے برتن ہیں، اور آپ نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا، تو اب پہلا عمل کیا کرنا پڑے گا؟ سامان کو بیچنا پڑے گا۔
سامان کو بیچنا پڑے گا، اور یاد رکھو! آپ اپنا سامان بیچیں، اور اس کے ثمن میں آپ کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہو جائے، یہ جائز نہیں۔ توجہ ہے؟ آپ اپنے مال سے کوئی چیز خریدیں، تو اس میں تو کوئی دوسرا آپ کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے، اس نے آپ کو وکیل بنایا ہو۔ لیکن آپ اپنے مال کو بیچیں، اور اس کے ثمن میں کوئی اور بھی آپ کے ساتھ شریک ہو جائے، یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنی گاڑی بیچتے ہیں، اور زید کہتا ہے کہ آپ اپنی گاڑی بیچ دیں، اور اس کے ثمن کے اندر میں بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گا، نہیں بھئی! گاڑی آپ کی ہے، تو ثمن بھی آپ ہی کے ہیں۔ حاصلِ کلام یہ کہ اپنے مال سے کوئی چیز خریدی جائے، اس میں غیر شریک ہو سکتا ہے، لیکن اپنے مال کو بیچا جائے، تو ثمن میں غیر شریک نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا سامان اور مکیلات و موزونات میں عقدِ شرکت جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں سامان کے ثمن میں دوسرے کو شریک کرنا لازم آئے گا، اور یہ جائز نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ أَوَّلَ التَّصَرُّفِ فِي الْعُرُوضِ الْبَيْعُ“ اور اس لیے کیونکہ سامان کے اندر جو پہلا تصرف ہوتا ہے وہ بیع ہے ”وَفِي النُّقُودِ الشِّرَاءُ“ اور نقدیوں کے اندر پہلا تصرف جو ہے وہ خریداری ہوتی ہے ”وَبَيْعُ أَحَدِهِمَا مَا لَهُ“ اور دونوں شریکوں میں سے ایک کا اپنے مال کو بیچنا ”عَلَى أَنْ يَكُونَ الْآخَرُ شَرِيكًا فِي ثَمَنِهِ“ اس شرط پر کہ دوسرا بھی اس کے ساتھ ثمن میں شریک ہو گا ”لَا يَجُوزُ“ یہ جائز نہیں ہے ”وَشِرَاءُ أَحَدِهِمَا شَيْئًا بِمَالِهِ“ اور دونوں شریکوں میں سے ایک کا کسی چیز کو اپنے مال سے خریدنا ”عَلَى أَنْ يَكُونَ الْمَبِيعُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ غَيْرِهِ جَائِزٌ“ اس شرط پر کہ مبیع اس کے اور غیر کے درمیان مشترکہ ہو گا ”جَائِزٌ“ یہ جائز ہے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا سامان اور مکیلات و موزونات میں عقدِ شرکت جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں سامان کے ثمن میں دوسرے کو شریک کرنا لازم آئے گا، اور یہ جائز نہیں ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَأَمَّا الْفُلُوسُ النَّافِقَةُ تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، ان کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز ہے یا جائز نہیں؟ ان کے ساتھ بھی عقدِ مضاربت جائز ہے یا جائز نہیں؟ اس میں امام محمد رحمہ اللہ کا اور شیخین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، یہ جو بازار میں ثمن چلتے ہیں جن کے ساتھ لوگ خرید و فروخت کرتے ہیں جیسے روپے، پیسے وغیرہ، تو ان کا حکم بھی درہم اور دینار والا ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ جیسے درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، اسی طرح یہ فلوسِ نافقہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ لہٰذا ان کا حکم بھی درہم اور دینار والا ہے، اور جیسے درہم اور دینار کے ساتھ عقدِ شرکت اور عقدِ مضاربت جائز ہے، تو فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی عقدِ شرکت اور عقدِ مضاربت جائز ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔
بھئی! یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا۔ یاد رکھو! یہ جو سونا اور چاندی ہیں، ان کو اللہ نے پیدا ہی بطورِ ثمن کے فرمایا ہے، ان کو پیدا ہی تجارت کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ اس کے ذریعے لوگ آپس میں تجارت کر سکیں، آپس میں بیع و شراء کر سکیں۔ تو یہ جو سونا اور چاندی ہیں، یہ خلقۃً ثمن ہیں۔ یعنی ان کو اللہ نے پیدا ہی بطورِ ثمن کے فرمایا ہے، چنانچہ اسی لیے سونے سے دینار بنائے جاتے ہیں اور چاندی سے درہم بنائے جاتے ہیں۔ تو یہ درہم اور دینار یہ ثمن ہیں، یہ اسی سونے اور چاندی سے بنے ہیں۔ معلوم ہوا یہ درہم اور دینار یا یوں کہیں یہ جو سونا اور چاندی، یہ خلقۃً ثمن ہیں، اور دوسرے ثمن جو بازار میں، کسی ملک کی جو کرنسی ہوتی ہے، یاد رکھو! وہ ثمنِ اصطلاحی ہے، یعنی جس کو ثمن قرار دے دیا جاتا ہے آپس میں اتفاق کرتے ہوئے۔ جیسے ہر ملک کی اپنی اپنی کرنسی ہے، تو اس ملک کے اندر وہی کرنسی چلتی ہے اور اس کے ذریعے خرید و فروخت کی جاتی ہے، یعنی اس کرنسی کو ثمن مقرر کر لیا جاتا ہے۔ اس کرنسی کو ثمن مقرر کر لیا جاتا ہے، خلقت کے اعتبار سے وہ ثمن نہیں ہے، لیکن انہوں نے اس کو ثمن مقرر کر دیا ہے، تو اس کو کہتے ہیں ثمنِ اصطلاحی۔ تو یہ جو درہم اور دینار ہیں، یہ ثمن ہیں خلقۃً، اور یہ جو کرنسی اور سکے وغیرہ ہیں، یاد رکھو! یہ ثمنِ اصطلاحی ہیں بھئی۔
ثمنِ اصطلاحی ہیں، اور پھر یہاں عقدِ صرف کو بھی سمجھ لیں۔ یاد رکھو! عقدِ صرف اسے کہتے ہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان بیع ہوتی ہے اور دونوں طرف عوض جو ہے وہ ثمن کی جنس سے ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ درہم بیچتے ہیں اور اس کے بدلے میں دینار خریدتے ہیں، تو درہم یہ بھی ثمن کی قبیل سے اور دینار یہ بھی ثمن کی قبیل سے، تو دونوں طرف سے جب عوضین جو ہیں وہ ثمن کی قبیل سے ہوں، تو اس کو عقدِ صرف کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقدِ صرف بھئی، صاد کے ساتھ ہے۔ اور یاد رکھو! عقدِ صرف کے اندر عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ شرط ہے۔ آپ درہم بیچ کر دینار خریدنا چاہتے ہیں، تو اسی مجلس کے اندر دونوں عقد کرنے والے عوضین پر قبضہ کریں گے۔ اس میں ادھار جائز نہیں۔ آپ دینار آج دے رہے ہیں اور وہ درہم کل دے گا، تو یاد رکھو! یہ عقدِ صرف جائز نہیں ہے۔ جس مجلس میں بیع ہوئی ہے، جس مجلس میں ایجاب و قبول ہوا ہے، اسی مجلس کے اندر عوضین پر قبضہ شرط ہے۔ اور نیز عقدِ صرف کا ایک اور ضابطہ یاد رکھنا، اگر دونوں طرف سے جنس ایک ہے، مثلاً آپ درہم دے کر درہم ہی لینا چاہتے ہیں، تو اس صورت میں پھر برابری بھی شرط ہے۔ آپ 10 درہم بیچ رہے ہیں، تو بدلے میں 10 درہم ہی خرید سکتے ہیں، یہاں برابری ضروری ہے۔ برابری ضروری ہے، چاہے آپ کے درہم اعلیٰ قسم کے ہیں اور دوسرے شخص کے درہم ادنیٰ قسم کے ہیں، پھر بھی جب جنس ایک ہے، تو برابری شرط ہے۔ اگر کمی بیشی کریں گے تو سود لازم آئے گا، ربا لازم آئے گا، اور وہ حرام ہے، جائز نہیں ہے۔ تو عقدِ صرف میں دونوں طرف سے جو عوض ہوتے ہیں وہ ثمن کی قبیل سے ہوتے ہیں، اور وہاں پر ادھار کسی بھی صورت میں جائز نہیں، اور کمی بیشی صرف اس صورت میں جائز ہے جب دونوں طرف سے الگ الگ جنس ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو بات چل رہی تھی کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، ان کا بھی وہی حکم ہے جو درہم اور دینار کا ہے، اور درہم اور دینار جو ہیں، جیسے ان کے اندر آپس میں بیع کی جائے، دونوں طرف سے ثمن کی جنس ہو اور ایک ہی جنس ہو، تو پھر برابری شرط ہے، اسی طرح فلوسِ نافقہ جو ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے، لہٰذا ایک سکے کی بیع کرنا دو سکوں کے بدلے جب جنس ایک ہی ہو، یہ جائز نہیں ہے، جیسے ایک درہم کو بیچنا دو درہموں کے بدلے، یہ جائز نہیں ہے۔ یا اسی طرح ایک روپیہ دے کر دو روپے خریدنا، یہ جائز نہیں کیونکہ جنس ایک ہے۔ لیکن اگر جنس الگ ہے پھر کمی بیشی جائز ہے۔ مثلاً آپ کے پاس ہیں ڈالر اور دوسرے شخص کے پاس ہیں پاکستانی روپے، تو اب آپ ایک ڈالر کے بدلے مثلاً 200 روپے لیتے ہیں، تو یہ جائز ہے کیونکہ جنس الگ ہے۔ البتہ ادھار یہاں بھی جائز نہیں، نقد ہو بھئی۔ نقد ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہ کہ عقدِ صرف میں ادھار کسی بھی صورت میں جائز نہیں، اور کمی بیشی صرف اس صورت میں جائز ہے جب دونوں عوضین کی جنس الگ الگ ہو۔
تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، ان کا حکم بھی درہم اور دینار والا ہے۔ لہٰذا ان کے اندر بھی جب آپس میں بیع کریں، تو ایک سکے کے بدلے دو سکے لینا جائز نہیں، ایک روپے کے بدلے دو روپے لینا جائز نہیں ہے، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، ان کا حکم سامان والا ہے، ان کا حکم درہم اور دینار والا نہیں۔ جب درہم اور دینار والا حکم نہیں، سامان والا حکم ہے، تو کمی بیشی کے ساتھ بیع جائز ہے، یعنی ایک سکہ دے کر دو سکے خریدنا جائز ہے۔ البتہ ادھار وہ بھی فرماتے ہیں یہاں ادھار جائز نہیں ہے، کیونکہ جنس ایک ہی ہے۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی! ربا کی تفصیل علماء ذکر فرماتے ہیں، اگر جنس اور قدر ایک ہوں، جنس اور قدر ایک ہوں، تو پھر کمی بیشی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں ہے۔ جنس یعنی دونوں طرف مثلاً گندم ہے، اور قدر یعنی گندم جو ہے وہ کیلی ہے، حضور علیہ السلام کے زمانے میں اس کو برتن میں ناپ کر بیچا جاتا تھا، تو دونوں طرف جب گندم ہے، تو پھر ان کو اسی طرح ناپ کر برابری کے ساتھ بیچنا پڑے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ مکیلات اور موزونات جو ہیں ان کی جب بیع کی جائے، تو اگر ایک ہی جنس ہو، تو پھر کمی بیشی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں۔ لیکن اگر جنس تو ایک ہے لیکن قدر نہیں ہے یعنی وہ چیز کیلی یا وزنی نہیں ہے، تو پھر نقد تو کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے ادھار جائز نہیں۔ نقد تو کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے، ادھار جائز نہیں، چنانچہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ایک سکہ نقد دے کر اسی جیسے دو سکے لینا عوض کے اندر، بیع کے اندر، یہ جائز ہے کیونکہ یہ سامان کے حکم میں ہیں، لیکن جنس ایک ہی ہے، یہ بھی سکہ ہے اور وہ بھی سکے ہیں، لہٰذا ادھار جائز نہیں ہے بھئی۔ ادھار جائز نہیں، کمی بیشی جائز ہے اور ادھار جائز نہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ درہم اور دینار کی قبیل سے ہیں یہ جو سکے ہیں، لہٰذا یہاں نقد بھی بیچیں تو کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے بلکہ برابری ہونی چاہیے، اور نیز وہ بھی فرماتے ہیں یہ چونکہ عقدِ صرف کی قبیل سے ہے، لہٰذا یہاں ادھار بھی جائز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْفُلُوسُ النَّافِقَةُ“ اور باقی رائج پیسے جو ہوتے ہیں ”تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ“ وہ ثمن کی طرح رائج ہوتے ہیں۔ فلوسِ نافقہ کس کی طرح رائج ہوتے ہیں؟ ثمن کی طرح، جیسے ثمن کے ذریعے یعنی درہم اور دینار کے ذریعے بازار میں خرید و فروخت ہوتی ہے، اسی طرح یہ جو رائج کرنسی ہوتی ہے، اس کے ذریعے بھی بازار میں خرید و فروخت ہوتی ہے۔ تو فلوسِ نافقہ جو ہیں، وہ ثمن کی طرح رائج ہوتے ہیں بھئی۔ اور یاد رکھنا! یہاں لفظ آیا ”تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ“، رَاجَ يَرُوجُ رَوَاجًا بھئی، یہ رَوَاج مصدر ہے، اردو میں تو رِواج را کے کسرہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، لیکن عربی میں یہ را کے فتحہ کے ساتھ ہے بھئی، رَوَاج بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْفُلُوسُ النَّافِقَةُ تَرُوجُ رَوَاجَ الْأَثْمَانِ“ اور باقی فلوسِ نافقہ جو ہوتے ہیں وہ ثمنوں کی طرح رائج ہوتے ہیں ”فَأُلْحِقَتْ بِهَا“ تو ان کو ثمنوں کے ساتھ ہی ملایا جائے گا، یعنی ان کا حکم بھی وہی درہم اور دینار والا ہو گا۔ ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں ”هَذَا قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ کہ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے ”لِأَنَّهَا مُلْحَقَةٌ بِالنُّقُودِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، یہ نقدیوں کے ساتھ ملحق ہوتے ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فلوسِ نافقہ کا وہی حکم ہے جو نقدیوں کا یعنی درہم اور دینار کا ہے۔ تو کہتے ہیں فقہاء فرماتے ہیں: ”هَذَا قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے ”لِأَنَّهَا مُلْحَقَةٌ بِالنُّقُودِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فلوسِ نافقہ جو ہیں، ان کو نقدیوں کے ساتھ ملایا گیا ہے ”حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ“ یہاں تک کہ یہ فلوسِ نافقہ جو ہیں تعین سے متعین نہیں ہوتے، جیسے درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، اسی طرح فلوسِ نافقہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔
اور یاد رکھنا! یہاں آیا ”حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ“، یہاں پر یہ ”حَتَّىٰ“ نصب نہیں دے گا یعنی حتٰی کے بعد ان مقدر نہیں، حتٰی کے بعد ان کے مقدر ہونے کے لیے آپ نے پڑھا ہے دو شرطیں ہیں، ایک تو یہ کہ حتٰی کا مابعد مستقبل ہونا چاہیے حتٰی کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسرا وہ حتٰی غایت یا سببيت کا فائدہ دے، اور یہاں یہ شرطیں پوری نہیں ہیں۔ اکثر یہ صاحبِ ہدایہ جو حتٰی لے کر آتے ہیں وہ تفریع کے لیے لاتے ہیں، ماقبل پر ایک بات کی تفریع کرتے ہیں، جیسے یہاں بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فلوسِ نافقہ جو ہیں یہ نقدیوں کے ساتھ ملحق ہیں، ان کا نقدیوں والا حکم ہے ”حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ“ یہاں تک کہ یہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے یعنی جیسے وہ نقدیاں درہم اور دینار جو ہیں وہ متعین سے متعین نہیں ہوتے، یہ بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے، تو صاحبِ ہدایہ اکثر جگہ یہ حتٰی کے ذریعے تفریع کرتے ہیں ماقبل پر۔
تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَا تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ“ یہاں تک کہ یہ تعین سے متعین نہیں ہوتے ”وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ بِأَعْيَانِهَا“ اور جائز نہیں ہے ان میں سے دو متعین کی بیع ایک کے بدلے میں ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جو جان لیا گیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ نقدیوں کے حکم میں ہیں بھئی۔ بھئی! یہاں آیا ”بِأَعْيَانِهَا“، یاد رکھنا! ”بِأَعْيَانِهَا“ سے مراد یہ ہے کہ یہ جو دو فلوسِ نافقہ کی بیع کی جا رہی ہے ایک کے بدلے میں، یہ متعین ہوں یعنی نقد ہوں۔ متعین تب ہی ہوں گے نا جب سامنے موجود ہیں، تو اس وقت یہ متعین ہیں یعنی نقد بیع ہو رہی ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو فلوسِ نافقہ دے کر بدلے میں ایک لینا یہ جائز نہیں ہے جیسے دو درہم دے کر بدلے میں ایک درہم لینا۔ اور نقد کی قید لگائی ”بِأَعْيَانِهَا“ کہ متعین ہوں یعنی نقد ہوں، کیونکہ ادھار تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ہی جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ بِأَعْيَانِهَا“ یہاں تک کہ جائز نہیں ہے دو متعین فلوسِ نافقہ کی بیع ایک کے بدلے میں ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جس کو جان لیا گیا کہ اوپر ہم نے بتلا دیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فلوسِ نافقہ یہ نقدیوں کے حکم میں ہیں یعنی درہم اور دینار کے حکم میں ہیں۔
”أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ نقدیوں کے حکم میں ہیں یعنی درہم اور دینار کے حکم میں ہیں، اور درہم اور دینار کے ساتھ تو شرکت بھی جائز اور مضاربت بھی جائز، لہٰذا فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی شرکت بھی جائز اور مضاربت بھی جائز ہے۔ اب آگے شیخین رحمہما اللہ کا مذہب آ رہا ہے۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور باقی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ”لَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ وَالْمُضَارَبَةُ بِهَا“ کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، ان کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے ”لِأَنَّ ثَمَنِيَّتَهَا تَتَبَدَّلُ سَاعَةً فَسَاعَةً“ اس لیے کیونکہ ان فلوسِ نافقہ کا ثمن ہونا وہ گھڑی گھڑی بدلتا رہتا ہے۔
بھئی! بعض اوقات ایک ملک کے اندر ایک کرنسی چل رہی ہوتی ہے اور پھر اعلان کر دیا جاتا ہے کہ فلاں تاریخ کے بعد یہ پرانی کرنسی، اس کے ذریعے بیع و شراء جائز نہیں بلکہ اس کے بعد نئی کرنسی جو ہے وہ استعمال کی جائے گی، تو معلوم ہوا کہ وہ فلوس جو پہلے چل رہے تھے اب وہ کس کے حکم میں ہو گئے؟ سامان کے حکم میں ہو گئے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ جو فلوسِ نافقہ ہوتے ہیں ان کی ثمنیت بدلتی رہتی ہے، کبھی ان کو بطورِ ثمن کے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی ان کی ثمنیت ختم کر کے ان کو سامان قرار دے دیا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ ثَمَنِيَّتَهَا“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں ان کا ثمن ہونا ”تَتَبَدَّلُ سَاعَةً فَسَاعَةً“ یہ گھڑی گھڑی بدلتا رہتا ہے ”وَتَصِيرُ سِلْعَةً“ اور یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں، یہ سامان بن جاتے ہیں۔ معلوم ہوا فلوسِ نافقہ انتہاءً سامان بن جاتے ہیں، انتہاءً سامان بن جاتے ہیں۔ تو اگر کوئی چیز ابتداءً سامان ہو اس کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، تو جو انتہاءً سامان ہو اس کے ساتھ بھی، اس کے ساتھ بھی شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہو گی۔ توجہ ہے؟ بھئی! ابھی اوپر آپ کو بتلایا کہ ہمارے نزدیک سامان اور مکیلات اور موزونات کے اندر شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے۔ معلوم ہوا ابتداءً سامان اور مکیلات اور موزونات کے ساتھ عقدِ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، جب ابتداءً اس سامان کے ساتھ شرکت جائز نہیں تو جو چیز انتہاءً سامان بن جائے، اس کے ساتھ بھی عقدِ شرکت جائز نہیں ہو گا بھئی۔ تو یہ فلوسِ نافقہ انتہاءً سامان کے حکم میں ہیں، تو جب یہ انتہاءً سامان کے حکم میں ہیں تو ان کے ساتھ شرکت جائز نہیں ہو گی بھئی۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَيُرْوَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِثْلُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ بھئی! اوپر اختلاف ذکر ہو گیا، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، کہتے ہیں لیکن ایک قول امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اسی طرح کا نقل کیا گیا ہے جیسا امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت کے اندر نقل کیا گیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُرْوَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِثْلُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے مثل روایت کیا گیا ہے ”وَالْأَوَّلُ أَقْيَسُ وَأَظْهَرُ“ اور پہلا قول زیادہ قیاس کے مطابق ہے ”وَأَظْهَرُ“ اور زیادہ ظاہر ہے۔
بھئی! دیکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے دو قول آ گئے یہاں پر، ایک قول اوپر ذکر ہوا کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے اندر شرکت اور مضاربت جائز نہیں، اور شیخین رحمہما اللہ میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی داخل ہیں، تو معلوم ہوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق فلوسِ نافقہ سے شرکت اور مضاربت جائز نہیں، اور دوسرا قول جو ان سے نقل کیا گیا ہے وہ امام محمد رحمہ اللہ کے مثل ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ بھی شرکت اور مضاربت جائز ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول جو ہے وہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، یہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے۔
بھئی! کیا معنی یہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے؟ کہتے ہیں دیکھو! دو فلوسِ نافقہ کو دے کر ایک لینا یعنی دو سکے دے کر ایک سکہ خریدنا یا ایک روپیہ دے کر دو روپے خریدنا، اوپر گزر گیا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں کیونکہ ان کا حکم درہم اور دینار والا ہے، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے۔ ایک سکے کی بیع دو سکے کے بدلے جائز ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس بیع کے مسئلے میں امام صاحب کے ساتھ ہیں۔ کس کے ساتھ؟ امام صاحب کے ساتھ ہیں، تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ شرکت اور مضاربت کے مسئلے میں بھی وہ امام صاحب کے ساتھ ہوں گے۔ بھئی! دیکھیے اوپر مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو سکوں کی بیع ایک کے بدلے جائز نہیں ہے چاہے نقد ہو پھر بھی جائز نہیں، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ایک سکے کی بیع دو سکوں کے بدلے جائز ہے کیونکہ یہ سامان کے حکم میں ہیں، تو وہاں پر دیکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں، کس کے ساتھ ہیں؟ تو جب اس بیع کے مسئلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں، تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ شرکت اور مضاربت کے مسئلے میں بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہوں گے۔ میرا خیال بات واضح نہیں ہو رہی، پھر سمجھو پھر سمجھو۔
بھئی! دیکھیے، یہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہو گئیں، ایک روایت میں وہ امام صاحب کے ساتھ ہیں، اور ایک روایت میں وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ پہلی روایت کیا آئی؟ بھئی گزشتہ سطر میں آیا تھا: ”أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ وَالْمُضَارَبَةُ بِهَا“ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ ایک روایت کے مطابق امام صاحب کے ساتھ ہیں اور ان کے مطابق فلوسِ نافقہ کے ساتھ نہ شرکت جائز ہے اور نہ مضاربت جائز ہے، اور دوسری روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے جس میں وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں معلوم ہوا فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت بھی جائز اور مضاربت بھی جائز۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَالْأَوَّلُ أَقْيَسُ وَأَظْهَرُ“ اور پہلا قول زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے، یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا جو قول ہم نے پہلے ذکر کیا کہ وہ امام صاحب کے ساتھ ہیں کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت بھی جائز نہیں اور مضاربت بھی جائز نہیں، یہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے اور زیادہ ظاہر ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے یہ قیاس کے زیادہ مطابق کس طرح ہے؟ تو وجہ سمجھ لیں، بھئی! وجہ یہ کہ پیچھے بیع کا مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ ”وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ بِأَعْيَانِهَا عَلَى مَا عُرِفَ“، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ میں سے دو متعین سکوں کو بیچنا ایک سکے کے بدلے میں یہ جائز نہیں ہے، جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے کیونکہ فلوسِ نافقہ سامان کے درجے میں ہے۔ تو جب بیع کے مسئلے کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں کہ دو سکوں کی بیع ایک سکے کے بدلے جائز ہے، تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ شرکت کے مسئلے میں بھی امام صاحب کے ساتھ ہوں گے، امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ نہیں ہوں گے، یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: ”وَالْأَوَّلُ أَقْيَسُ وَأَظْهَرُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول کہ جس کے مطابق ان کے نزدیک شرکت اور مضاربت فلوسِ نافقہ سے جائز نہیں، وہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے ”وَأَظْهَرُ“ اور زیادہ ظاہر ہے۔
”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب سے روایت کیا گیا ہے ”صِحَّةُ الْمُضَارَبَةِ بِهَا“ کہ ان فلوسِ نافقہ کے ساتھ مضاربت صحیح ہے۔ امام صاحب سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ مضاربت صحیح ہے۔ ایک روایت تو اوپر گزر گئی، امام صاحب فرماتے ہیں فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں، لیکن ایک روایت امام صاحب سے یہ بھی نقل کی گئی ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ مضاربت جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہاں پر یہ کہ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز نہیں ہے۔ البتہ امام ابو یوسف اور امام صاحب سے ایک روایت امام محمد رحمہ اللہ کی طرح بھی نقل کی گئی ہے۔ یاد رکھو! علماء فرماتے ہیں، شامی وغیرہ کے اندر ہے کہ اس سلسلے میں زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ فلوسِ نافقہ کے ساتھ شرکت اور مضاربت جائز ہے۔ زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ جو فلوسِ نافقہ ہیں صحیح قول کے مطابق یہ درہم اور دینار کے حکم میں ہی ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ عقدِ مضاربت بھی جائز ہے اور ان کے ساتھ عقدِ شرکت بھی جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی! ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.