Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-147

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 64
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
كِتَابُ اللُّقَطَةِ قَالَ: اللُّقَطَةُ أَمَانَةٌ إِذَا أَشْهَدَ المُلْتَقِطُ أَنَّهُ يَأْخُذُهَا لِيَحْفَظَهَا وَيَرُدَّهَا عَلَى صَاحِبِهَا، لِأَنَّ الأَخْذَ عَلَى هَذَا الوَجْهِ مَأْذُونٌ فِيهِ شَرْعًا، بَلْ هُوَ الأَفْضَلُ عِنْدَ عَامَّةِ العُلَمَاءِ، وَهُوَ الوَاجِبُ إِذَا خَافَ الضَّيَاعَ عَلَى مَا قَالُوا. گزشتہ سبق میں ہم نے باغیوں کے احکام پڑھے تھے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ باغیوں کے احکام کے سلسلے میں ہمارے مقتدا جو ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، کیونکہ باغیوں کے احکام کا پتہ انہی سے چلتا ہے۔ ان سے پہلے جس قدر لڑائیاں تھیں، وہ کفار کے ساتھ تھیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں باغیوں کے ساتھ بھی لڑائی ہوئی، تو ان سے ان باغیوں کے احکام کا پتہ چلتا ہے۔ اور آپ کو میں نے بتلایا کہ باغی وہ ہیں جو امام حق کی اطاعت سے نکل جائیں اور دعویٰ کریں کہ ہم حق پر ہیں۔ اگر کچھ مسلمان جو ہیں وہ امام حق کی اطاعت سے نکل گئے اس وجہ سے کہ امام نے ان پر ظلم کیا ہے، تو ان کو باغی نہیں کہیں گے، ان کے ساتھ لڑائی کرنا یا انہیں قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر وہ لوگ امام حق کی اطاعت سے نکلے ہیں اور امام حق ان کو حق کی طرف بلاتا ہے اور دعوت دیتا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں، ہم حق پر ہیں، تو یہ لوگ باغی ہیں۔ اب ان کے ساتھ کیا ابتداءً جنگ کی جائے گی یا وہ لڑائی کی ابتداء کریں تو پھر جنگ جائز ہے؟ تو صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ صاحب قدوری کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب باغی لڑائی کا آغاز کریں تو پھر امام ان کے ساتھ لڑائی کرے گا، لیکن مشہور امام، امام خواہر زادہ رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ باغیوں کے ساتھ لڑائی کی ابتداء کرنا بھی جائز ہے جب وہ جمع ہو جائیں۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر حکم کا دارومدار وہ ان کے قتال پر نہیں ہوگا بلکہ دلیل قتال پر ہوگا۔ جب وہ ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں اور امام کی اطاعت کا انہوں نے انکار کر دیا ہے، تو یہ لڑائی کی دلیل موجود ہے۔ جب یہ دلیل موجود ہے تو اب ان کی طرف سے باقاعدہ لڑائی کی ابتداء کا انتظار نہیں کیا جائے گا، بلکہ امام بھی لڑائی کی ابتداء کر سکتا ہے۔ اور نیز اس لیے کیونکہ اگر امام مزید انتظار کرے گا تو کہیں ایسا نہ ہو وہ لوگ اور زیادہ قوت پکڑ جائیں اور پھر ان کا مقابلہ کرنا ہی ممکن نہ رہے۔ تو لہٰذا یہاں حکم کا مدار دلیل قتال پر ہوگا اور وہ ان کا جمع ہونا ہے اور امام کی اطاعت سے رکنا ہے۔ اور اگر لڑائی سے پہلے امام کو پتہ چل گیا کہ یہ لوگ اسلحہ وغیرہ خرید رہے ہیں، تو امام ان کو پکڑ لے اور قید میں ڈال دے یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں، تو پھر ان کو چھوڑ دے۔ اور کہتے ہیں امام صاحب سے جو روایت ہے کہ مسلمانوں کے اندر فتنہ واقع ہو تو آدمی کو اپنے گھر کو لازم پکڑنا چاہیے یعنی اس فتنے میں دخل نہیں دینا چاہیے، کہتے ہیں وہ روایت اس حالت پر محمول ہے جب مسلمانوں کا کوئی امام حق نہ ہو، اور اگر امام حق موجود ہے تو پھر اس کی مدد کرنا مسلمانوں پر واجب ہے۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر باغیوں کی ایک جماعت کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی ہو رہی ہے اور دوسری جگہ ان کی دوسری جماعت بھی موجود ہے، تو پھر ان باغیوں میں سے جو زخمی ہوں ان کو فوراً قتل کیا جائے گا اور جو بھاگ رہے ہیں ان کا پیچھا کیا جائے گا تاکہ ان کو قیدی بنایا جائے یا قتل کیا جائے۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو یہ اپنی اس دوسری جماعت کے ساتھ جا کر مل جائیں، تو لہٰذا ان کے شر کو ختم کرنے کے لیے ان کے زخمیوں کو قتل کیا جائے گا اور بھاگنے والوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ لیکن اگر ان کی اور کوئی جماعت موجود نہیں ہے، تو پھر ان کے زخمیوں کو قتل بھی نہیں کیا جائے گا اور بھاگنے والوں کا پیچھا بھی نہیں کیا جائے گا۔ اور نیز صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ باغیوں کی اولاد وغیرہ جو ہے ان کو قیدی نہیں بنایا جائے گا اور نہ ان کے مال کو مجاہدین کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ جمل کے دوران فرمایا جب مقابلے کے اندر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آئے تھے، تو جب حضرت زبیر اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ان کے ساتھی قتل ہو گئے اور ان کو شکست ہو گئی، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان فرمایا کہ کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور کسی عورت کے پردے کو نہ کھولا جائے اور کسی کا مال نہ لیا جائے۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر امام کو حاجت ہو تو باغیوں کے اسلحے وغیرہ کو بھی اپنے غازیوں میں تقسیم کر سکتا ہے اور اسے لڑائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور نیز امام جو ہے ان باغیوں کے مالوں کو روک لے گا اور ان کو واپس نہیں کرے گا یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں، جب وہ توبہ کر لیں گے تو پھر ان کا مال ان کو واپس لوٹا دیا جائے گا۔ نیز صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر باغی کسی علاقے کو فتح کر لیں اور وہاں لوگوں سے خراج اور عشر بھی وصول کر لیں، تو باغیوں کو شکست دینے کے بعد امام دوبارہ ان لوگوں سے خراج اور عشر وصول نہیں کر سکتا۔ اس لیے کیونکہ امام یہ جو خراج اور عشر وصول کرتا ہے وہ اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ تو جب باغیوں نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تو معلوم ہوا امام نے ان لوگوں کی حفاظت نہیں کی، جب حفاظت نہیں کی تو وہ عشر اور خراج بھی وصول نہیں کر سکتا۔ ہاں البتہ وہ عشر اور خراج جو باغیوں نے وصول کیا، اس کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ باغیوں نے اس کو جہاں شریعت نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہیں خرچ کیا ہے یا دوسری جگہ خرچ کیا ہے۔ اگر باغیوں نے عشر اور خراج کو اپنے مصرف میں خرچ کیا ہے، تو جن لوگوں سے یہ وصول کیا گیا تھا ان کی طرف سے یہ عشر اور خراج ادا ہو گیا۔ اور اگر باغیوں نے اپنے مصرف میں خرچ نہیں کیا، تو پھر اس صورت کے اندر ان کو دیانۃً کہا جائے گا کہ یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے، ان لوگوں کو وہ دوبارہ ادا کرنا چاہیے۔ اور صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ فقہاء فرماتے ہیں مسلمانوں کے جو لڑنے والے ہیں وہ بھی خراج کا مصرف ہیں۔ لہٰذا اگر باغیوں نے خراج کو اپنے اوپر لگایا ہے، تو خراج ادا ہو گیا۔ اور نیز اگر باغی فقراء ہیں اور عشر انہوں نے اپنے اوپر لگایا ہے، تو وہ عشر کا مصرف ہیں، لہٰذا عشر بھی ادا ہو گیا، دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس کے بعد صاحب ہدایہ نے جنایات کو بیان فرمایا کہ اگر کوئی باغی باغی کو قتل کر دے اور اس کے بعد پھر ان پر غلبہ پا لیا جائے، تو وہاں نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی کیونکہ امام کو ان پر ولایت حاصل نہیں تھی۔ اور اگر باغیوں نے کسی شہر پر قبضہ کیا اور وہاں ایک عادل مسلمان نے یعنی غیر باغی نے غیر باغی کو قتل کر دیا اور پھر امام نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا، تو اس صورت کے اندر پھر وہاں قصاص اور دیت کا حکم جاری ہوگا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جب باغیوں کا وہاں قبضہ تھا تو امام کو ولایت نہیں تھی، جب ولایت نہیں تھی تو پھر قصاص اور دیت کیسے آ سکتا ہے وہاں پر؟ تو اس کا جواب دیا تھا صاحب ہدایہ نے کہ اس کی تاویل یہ ہے کہ جب وہاں پر باغیوں نے ابھی اپنے احکام جاری نہ کیے ہوں اور اس سے پہلے ہی امام نے ان پر حملہ کر دیا، تو یہ اس صورت میں ہے کیونکہ جب باغیوں نے اپنے احکام ابھی جاری نہیں کیے تو معلوم ہوا ابھی بھی امام کی ولایت وہاں موجود ہے، لہٰذا قصاص اور دیت کا حکم جاری ہوگا۔ اسی طرح اگر مسلمانوں میں سے کسی مسلمان نے باغی کو قتل کیا ہے یعنی اپنے مورث کو قتل کیا ہے، تو پھر بھی یہ وارث بنے گا کیونکہ یہ قتل جو ہے وہ ناحق نہیں ہے بلکہ یہ قتل بحق ہے۔ وہ حق کے ساتھ قتل کر رہا ہے، لہٰذا وارث بنے گا۔ اور جبکہ اس کے مقابلے میں اگر باغی نے مسلمانوں کی فوج میں سے اپنے مورث کو قتل کیا اور پھر مسلمانوں کو فتح ہو گئی اور پھر اگر بعد میں باغی کہتا ہے کہ میں پہلے بھی حق پر تھا اور اب بھی میں حق پر ہوں، تو اس صورت میں اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ اور اگر باغی کہتا ہے کہ مجھے پتہ ہے کہ میں پہلے باطل پر تھا، تو اس صورت میں پھر ضمان اور دیت آئے گی۔ اس سلسلے میں ہماری دلیل جو ہے وہ صحابہ کا اجماع ہے جس کو امام زہری رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے۔ اور آپ کو صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ جو خوارج تھے یہ مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتے تھے اور قرآن میں تاویل فاسد کرتے تھے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے ﴿فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ تو وہ خوارج اس آیت سے استدلال کرتے تھے کہ معلوم ہوا کوئی بھی شخص جب کوئی گناہ کر لے چاہے صغیرہ ہو یا کبیرہ، وہ کافر ہو جاتا ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ تو اگرچہ ان کی تاویل فاسد تھی، غلط تھی، لیکن بہرحال وہ قرآن سے استدلال کرتے تھے، لہٰذا اس تاویل فاسد جو ہے اس کا بھی وہی حکم ہوگا جو تاویل صحیح کا ہوتا ہے۔ تو جو تاویل صحیح یعنی جو صحیح تفسیر کا حکم ہوتا ہے، جب اس کے ساتھ طاقت بھی مل جائے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تاویل فاسد کے ساتھ جب قوت مل جائے گی تو پھر اس صورت میں یہ دلیل بنے گی دفع کے لیے، یہ دفع کے لیے دلیل بنے گی کسی حکم کو دور کرنے کے لیے کہ اس حکم کو نہ آنے دے۔ تو یہ اس بات کی دلیل تو نہیں بنے گی اس کے ذریعے کسی چیز کو ثابت تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن تاویل فاسد کے ساتھ قوت جمع ہو جائے تو یہ دفعِ حکم کے لیے دلیل بن سکتی ہے۔ چنانچہ اسی لیے اگر کوئی شخص مرتد ہو کر حربیوں سے مل گیا اور پھر انہوں نے ہمارے ساتھ جنگ کی اور اس مرتد نے مسلمانوں کو جانی نقصان بھی پہنچایا ہے اور مالی نقصان بھی پہنچایا ہے، اور پھر بعد میں یہ دوبارہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ اس کو قوت بھی حاصل تھی اور ان کے تاویل بھی تھی کہ یہ مسلمانوں کو باطل پر سمجھتے تھے۔ اور اس کی وجہ ذکر کی صاحب ہدایہ نے کہ تاویل فاسد کے ساتھ قوت مل جائے تو یہ دفع کی دلیل اس لیے بنے گی کیونکہ احکام اسلام کے لیے یا تو التزام چاہیے یا الزام۔ التزام کا معنی ہے کوئی شخص خود اپنے اوپر احکام کو لازم کر لے، اور الزام کا معنی ہے کہ اس پر خلیفہ کو ولایت حاصل ہو، خلیفہ اس پر احکام کو لازم کر دے۔ تو یہاں پر جب ان کو قوت حاصل ہے تو خلیفہ کو ولایت الزام بھی نہیں ہے۔ اور نیز جب وہ تاویل فاسد کرتے ہیں تو معلوم ہوا وہ ان احکام کو اپنے اوپر لازم بھی نہیں کر رہے، تو نہ الزام ہے اور نہ التزام ہے، لہٰذا یہ دفع کی دلیل بنیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ عادل جب باغی کو قتل کر دے تو یہ اس نے حق کے ساتھ قتل کیا ہے، لہٰذا وہ وراثت سے محروم نہیں ہوگا۔ اور صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ باغیوں کو اسلحہ بیچنا مکروہ ہے، کیونکہ اگر ان کو اسلحہ بیچا جائے گا تو یہ تو گناہ پر معاونت ہو جائے گی جو حرام ہے۔ اور پھر اس کے بعد ہم نے کتاب اللقیط شروع کی تھی۔ لقیط میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کسی نے کسی بچے کو راستے میں پھینک دیا ہے فقر و فاقے کے خوف سے یا زنا کی تہمت کے خوف سے، تو یہ جو بچہ راستے میں پڑا ہوا ملے اس کو لقیط کہتے ہیں، اور لَقَطَ يَلْقُطُ کے معنی ہیں اٹھانا، تو یہ لقیط بمعنی ملقوط کے ہے جیسے جریح بمعنی مجروح کے ہے، لقیط کا معنی ہوگا اٹھایا ہوا، تو یہ جو بچہ راستے میں پڑا ہوا ہے تو اس کو ہی نتیجے اور مآل کے اعتبار سے لقیط کہہ دیا گیا کیونکہ بالاخر اس کو اٹھایا جائے گا۔ اور صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ لقیط کو اٹھانا مستحب ہے تاکہ اس کی زندگی بچ جائے، اور اگر اس کی ہلاکت کا خوف غالب ہو پھر تو اس کو اٹھانا واجب ہے، اور اس کو آزاد شمار کیا جائے گا، اور اس کا نفقہ بیت المال میں سے ادا کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ اس کی میراث جو ہے وہ بیت المال میں جمع ہوگی، تو لہٰذا جو اس کے نفقہ ہے یا اگر یہ کوئی جنایت کر دیتا ہے تو وہ بھی بیت المال سے ادا کی جائے گی، اس لیے کیونکہ ”الغُرْمُ بِالغُنْمِ“ کیونکہ نقصان جو ہے وہ نفع کے بدلے ہوتا ہے، تو یہاں نفع بیت المال کو ہے کہ اس میں اس کی میراث آئے گی تو لہٰذا خرچہ بھی بیت المال کے ذمے ہوگا۔ اور صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جس شخص کو یہ بچہ ملا ہے وہ اس کے حفاظت کا زیادہ حقدار ہے، لہٰذا کوئی اور اس سے جبراً اس بچے کو نہیں لے سکتا۔ اور اگر کوئی شخص دعویٰ کر دے اس بچے کے نسب کا تو اس کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ بچے کو نسب کی شدید حاجت ہے۔ اور اگر دو افراد نے بچے کے نسب کا دعویٰ کیا، تو جس کا دعویٰ مقدم ہے اس سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ اور اگر دونوں نے اکٹھا دعویٰ کیا ہے یا دونوں نے الگ الگ مجلس میں دعویٰ کیا ہے اور تقدیم و تاخیر کا پتہ نہیں چل سکتا، تو اس کو بھی اکٹھا ہی شمار کیا جائے گا اور وہاں ترجیح کی کوئی صورت بھی موجود نہیں ہے تو پھر دونوں سے بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ لیکن اگر ترجیح کی صورت موجود ہے، مثلاً ان دونوں افراد میں سے ایک آزاد ہے اور ایک غلام ہے، تو آزاد کو ترجیح ہوگی اس سے بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا، یا وہ دونوں دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک مسلمان ہے اور دوسرا ذمی ہے، تو مسلمان کو ترجیح ہوگی، مسلمان سے اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اگر مسلمانوں کے علاقے کے اندر کسی مسلمان کو لقیط ملتا ہے تو یہ بچہ مسلمان شمار ہوگا۔ اور اگر ذمی نے اس کے نسب کا دعویٰ کر دیا، تو نسب تو ثابت ہو جائے گا البتہ بچہ مسلمان ہی شمار ہوگا۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ نسب ثابت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں بچے کا نقصان ہے، اس کا وہ اسلام جو دار الاسلام کی وجہ سے ثابت ہو رہا ہے اس کو باطل قرار دینا پڑے گا، لہٰذا ذمی سے نسب ثابت ہی نہیں ہونا چاہیے، لیکن استحساناً جو ہے نسب ثابت ہو جائے گا، البتہ بچہ مسلمان ہی شمار ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں دو چیزیں ہیں: ذمی کے دعوے کے اندر ایک تو بچے کو نسب مل جائے گا اور اس میں بچے کا فائدہ ہے، اور دوسری طرف اگر دیکھیں تو اس دعوے کی وجہ سے اس بچے کے اسلام کو باطل قرار دینا پڑے گا اور اس میں بچے کا نقصان ہے، لہٰذا جس چیز میں بچے کا فائدہ ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا اور جس چیز میں بچے کا نقصان ہے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، تو ذمی سے نسب تو ثابت ہو جائے گا البتہ بچہ مسلمان ہی شمار ہوگا۔ اور اگر اس کے مقابلے میں اگر ذمیوں کی بستی میں یا ان کی عبادت گاہ کے اندر ذمی کو کوئی بچہ ملا ہے تو وہ بچہ ذمی ہی شمار ہوگا۔ اور اگر بچے کو پانے والا تو مسلمان ہے لیکن وہ ذمیوں کے علاقے میں بچہ ملا ہے یا ذمیوں کے عبادت گاہ کے اندر بچہ ملا ہے، یا اس کا برعکس ہے کہ بچہ تو مسلمانوں کے علاقے میں ملا ہے لیکن اس کو پانے والا کوئی ذمی ہے، تو اس بارے میں کہتے ہیں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے اندر جگہ کا اعتبار ہے کیونکہ جگہ مقدم ہے پانے والے پر، لہٰذا جگہ کا اعتبار ہے یعنی مسلمانوں کی جگہ میں ملا ہے تو مسلمان شمار ہوگا، ذمیوں کی جگہ میں ملا ہے تو ذمی شمار ہوگا، جبکہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس بچے کو پانے والے شخص کا اعتبار ہے، اگر وہ شخص مسلمان ہے تو بچہ مسلمان شمار ہوگا چاہے ذمیوں کے علاقے میں ہی کیوں نہ ملا ہو، اور اگر پانے والا ذمی ہے تو بچہ ذمی ہی شمار ہوگا چاہے مسلمانوں کے علاقے میں ہی کیوں نہ ملا ہو، اور بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کا اعتبار ہے کیونکہ اسلام کے اندر بچے کا نفع ہے، لہٰذا ہر حال میں بچے کو مسلمان ہی شمار کیا جائے گا۔ اور اگر کسی نے دعویٰ کر دیا کہ یہ لقیط میرا غلام ہے، تو اس صورت کے اندر بغیر بینہ کے اس کے دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر کسی غلام نے دعویٰ کر دیا کہ یہ لقیط جو ہے میرا بیٹا ہے، میری اولاد ہے، تو اس صورت کے اندر نسب تو ثابت ہو جائے گا کیونکہ لقیط کو نسب کی شدید حاجت ہے ورنہ تو یہ اس کی ساری زندگی کے لیے طعنے کا باعث بنے گا کہ لوگ اسے طعنہ دیں گے کہ تمہارے تو باپ کا ہی پتہ نہیں ہے، تو لہٰذا اگر غلام بھی دعویٰ نسب کا کرے تو وہ لقیط کا نسب ثابت ہو جائے گا، البتہ بچہ جو ہے وہ آزاد ہی شمار ہوگا۔ اس لیے کیونکہ غلام کا بچہ آزاد بھی ہو سکتا ہے اور غلام بھی، اگر غلام کی بیوی آزاد ہے تو اس کے بچے آزاد شمار ہوں گے، اگر غلام کی بیوی باندی ہے تو وہ بچے غلام اور باندیاں شمار ہوں گے، تو لہٰذا اس بچے کا نسب تو غلام سے ثابت ہو گیا لیکن اس کے آزاد اور غلام ہونے میں شک آ گیا اور شبہ آ گیا، تو لہٰذا شک اور شبہے کی وجہ سے اس کی غلامی ثابت نہیں ہوگی کیونکہ اصل جو ہے ہر ایک کے اندر وہ آزادی ہے، غلامی کسی عارض کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ اور یہ بھی صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اگر لقیط کے ساتھ کوئی مال بندھا ہوا ملا ہے یا جس سواری پر لقیط ملا ہے اس کے ساتھ مال بندھا ہوا تھا، تو یہ لقیط ہی کا مال شمار ہوگا، اور پھر کیا وہ اس لقیط کو پانے والا شخص کیا اس مال کو لقیط پر خرچ کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قاضی کی اجازت کے بغیر بھی وہ خرچ کر سکتا ہے، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، ہاں قاضی کی اجازت ضروری ہے۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ملتقط جو ہے اس کو اس بات کی ولایت نہیں ہے کہ وہ اس لقیط کا نکاح کروا دے، اس کا نکاح کروانے کی ولایت حاصل نہیں، اس لیے کیونکہ نکاح کی ولایت یا تو رشتہ داری کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے یا مالک کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ جس کا نکاح کروا رہا ہے وہ اس کا مملوک ہے، یا بادشاہ کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ نابالغ جو ہے اس کا کوئی رشتہ دار وغیرہ نہیں ہے تو بادشاہ کو ولایت حاصل ہوتی ہے، لیکن یہاں ملتقط کے اندر کوئی ایک سبب بھی نہیں پایا جا رہا ولایت نکاح کا، نہ تو وہ اس لقیط کا قریبی رشتہ دار ہے، نہ وہ اس کا مالک ہے اور نہ بادشاہ اور حاکم ہے۔ اور اسی طرح یہ جو ملتقط ہے اس کو لقیط کے مال کے اندر تصرف کا حق بھی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ نابالغ کے مال میں جو تصرف کا حق شریعت دیتی ہے وہ مال کو بڑھانے کے لیے وہ حق دیا جاتا ہے، اور مال کو بڑھانے کے لیے شفقت بھی کامل چاہیے اور عقل بھی کامل چاہیے، تو لقیط کے اندر عقل تو کامل ہے لیکن شفقت کامل نہیں کیونکہ اس کا بچے سے کوئی رشتہ نہیں ہے، لہٰذا اس کو یہ ولایت حاصل نہیں ہوگی۔ البتہ وہ بچے کے لیے تحفے وغیرہ پر قبضہ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے اندر بچے کا نفع ہی نفع ہے، کوئی نقصان نہیں۔ اور نیز یہ شخص جو ہے اس بچے کو کاریگری وغیرہ کے اندر بھی دے سکتا ہے کہ بچہ کوئی کاریگری سیکھ لے، البتہ اجارے کے طور پر یہ بچے کو نہیں دے سکتا کسی کو، اس لیے کیونکہ ملتقط جو ہے وہ خود بچے سے خدمت نہیں لے سکتا، تو عوض لے کر دوسرے کو بھی اس خدمت کا مالک نہیں بنا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ كِتَابُ اللُّقَطَةِ قَالَ: اللُّقَطَةُ أَمَانَةٌ إِذَا أَشْهَدَ المُلْتَقِطُ أَنَّهُ يَأْخُذُهَا لِيَحْفَظَهَا وَيَرُدَّهَا عَلَى صَاحِبِهَا. کتاب اللقطہ بھئی۔ لقطہ بھئی راستے میں پڑی ہوئی جو چیز ملے اس کو لقطہ کہتے ہیں۔ راستے میں پڑا ہوا بچہ ملے اس کو لقیط کہتے ہیں، اور کوئی اور چیز، کوئی اور مال راستے میں پڑا ہوا ملے تو اس کو لقطہ کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو، لقطہ کے اندر یہ قاف پر سکون بھی صحیح ہے اور اس پر فتحہ بھی صحیح ہے۔ لُقْطَہ بھی اور لُقَطَہ بھی۔ لُقْطَہ بھی اور لُقَطَہ بھی، تو دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے۔ تو لقطہ کسے کہتے ہیں؟ راستے میں پڑا ہوا جو مال ملے اس کو لقطہ کہتے ہیں۔ كِتَابُ اللُّقَطَةِ یہ کتاب ہے لقطہ کے بیان میں۔ قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: اللُّقَطَةُ أَمَانَةٌ إِذَا أَشْهَدَ المُلْتَقِطُ أَنَّهُ يَأْخُذُهَا لِيَحْفَظَهَا وَيَرُدَّهَا عَلَى صَاحِبِهَا۔ بھئی دیکھیے راستے میں ایک چیز پڑی ہوئی ملی، ایک شخص اس کو اٹھاتا ہے تو اس میں دونوں احتمال ہیں: ہو سکتا ہے یہ چیز مالک کے لیے اٹھا رہا ہو کہ میں اس کو پہنچا دوں گا، اور جب وہ مالک کو دینے کے لیے اٹھا رہا ہے تو اس چیز کا حکم امانت والا ہوگا تو یہ امانت کے حکم میں ہے۔ اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے یہ اٹھانے والا اپنے لیے اٹھا رہا ہو کہ یہ تو مجھے چیز مل گئی، یہ تو میری ہو گئی، تو اس صورت میں یہ غاصب کے درجے میں ہوگا۔ تو اگر مالک کو دینے کے لیے چیز کو اٹھایا ہے تو چیز امانت کے درجے میں ہے، اور آپ جانتے ہیں امانت اگر اس امانت دار کے پاس ہلاک ہو جائے تو پھر اس کا ضمان نہیں آتا۔ تو لہٰذا اگر اس نے مالک کو دینے کی نیت سے وہ چیز اٹھائی ہے اور اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو اس پر ضمان نہیں آئے گا، لیکن اگر یہ چیز اس نے اپنے لیے اٹھائی ہے اور اس کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی تو اس پر ضمان آئے گا، اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ تو لہٰذا اب پتہ کیسے چلے گا یہ چیز اس نے اپنے لیے اٹھائی ہے یا مالک کو پہنچانے کے لیے؟ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر اس نے مالک کو یہ چیز پہنچانے کے لیے اٹھائی ہے تو اس کو چاہیے کہ اس پر گواہ بنا لے۔ چیز اٹھاتے ہوئے کیا کر لے؟ گواہ بنا لے، یعنی وہاں لوگوں کو کہہ دے کہ ایک چیز مجھے ملی ہے، اگر کوئی آدمی اس چیز کو تلاش کرتا ہوا ملے تو میری طرف اس کو بھیج دینا۔ توجہ ہے؟ تو لوگوں کو اس پر گواہ بنا دیا کہ مجھے ایک چیز ملی ہے، تو اس سے پتہ چل جائے گا کہ معلوم ہوا اس کا ارادہ مالک تک پہنچانے کا ہے، اور اگر اس نے گواہ نہیں بنائے تو پھر معلوم ہوا اس کا ارادہ مالک تک پہنچانے کا نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں اگر وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: اللُّقَطَةُ أَمَانَةٌ کہ لقطہ جو ہے وہ امانت ہے إِذَا أَشْهَدَ المُلْتَقِطُ جب ملتقط نے گواہ بنا لیے۔ ایک ہے شَهِدَ يَشْهَدُ مجرد سے، اس کا معنی ہے گواہ بننا، اور ایک ہے أَشْهَدَ يُشْهِدُ إِشْهَادًا اس کا معنی ہے دوسرے کو گواہ بنانا۔ تو کہتے ہیں لقطہ جو ہے امانت ہے۔ کب ہے لقطہ امانت؟ إِذَا أَشْهَدَ المُلْتَقِطُ جب ملتقط نے گواہ بنا لیے أَنَّهُ يَأْخُذُهَا لِيَحْفَظَهَا کہ اس نے یہ چیز اٹھائی ہے تاکہ وہ اس کی حفاظت کرے وَيَرُدَّهَا عَلَى صَاحِبِهَا اور اس کے مالک کو واپس لوٹا دے، جب اس پر وہ گواہ بنا لے تو پھر یہ لقطہ امانت ہے۔ لِأَنَّ الأَخْذَ عَلَى هَذَا الوَجْهِ مَأْذُونٌ فِيهِ شَرْعًا اس لیے کیونکہ اس طریقے پر اٹھانا یعنی گواہ بنا کر چیز کو اٹھانا شرعاً اس کی اجازت ہے۔ شرعاً یہ ماذون فیہ ہے، شرعاً اس کی اجازت دی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے، حدیث یہ حاشیے میں دی ہوئی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ أَصَابَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ“ کہ جس شخص کو کوئی لقطہ ملے تو اس کو چاہیے کہ دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لے۔ جس شخص کو کوئی لقطہ ملے اسے چاہیے کہ دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لے۔ معلوم ہوا اس طریقے پر اٹھانا یعنی گواہ بنا کر تاکہ پتہ چل جائے یہ مالک تک پہنچانا چاہتا ہے، اس طریقے پر لقطے کو اٹھانے کی شرعاً اجازت ہے۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّ الأَخْذَ عَلَى هَذَا الوَجْهِ مَأْذُونٌ فِيهِ شَرْعًا اس لیے کیونکہ اس طریقے پر اٹھانا لقطے کو یعنی گواہ بنا کر، یہ شرعاً ماذون فیہ ہے یعنی شرعاً اس کی اجازت ہے، بَلْ هُوَ الأَفْضَلُ عِنْدَ عَامَّةِ العُلَمَاءِ بلکہ یہ افضل ہے اکثر علماء کے نزدیک۔ ایک ہے کہ اس چیز کو وہیں پڑا رہنے دے اور ایک ہے کہ اس چیز کو اٹھا لے مالک تک پہنچانے کے لیے، تو علماء فرماتے ہیں کہ اس کا اٹھانا افضل ہے، اس کا اٹھانا افضل ہے بجائے اس کے کہ اس چیز کو وہیں رہنے دے۔ تو کہتے ہیں بَلْ هُوَ الأَفْضَلُ عِنْدَ عَامَّةِ العُلَمَاءِ بلکہ یہ افضل ہے اکثر علماء کے نزدیک، وَهُوَ الوَاجِبُ إِذَا خَافَ الضَّيَاعَ عَلَى مَا قَالُوا اور اگر اس چیز کے ضائع ہونے کا خوف ہے تو پھر اس صورت کے اندر اس کا اٹھانا واجب ہے۔ کہتے ہیں وَهُوَ الوَاجِبُ اور یہ اٹھانا واجب ہے إِذَا خَافَ الضَّيَاعَ جب اس چیز کے ضائع ہونے کا خوف ہو عَلَى مَا قَالُوا اس وجہ سے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ اور جب معاملہ ایسا ہے، جب معاملہ ایسا ہے یعنی جب گواہ بنانے سے لقطہ امانت کے حکم میں ہو جاتا ہے، بھئی متن میں آیا نا: ”اللُّقَطَةُ أَمَانَةٌ إِذَا أَشْهَدَ المُلْتَقِطُ“، جب معاملہ ایسا ہی ہے کہ گواہ بنانے سے لقطہ کس کے حکم میں ہو جاتا ہے؟ امانت کے حکم میں ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ اور جب معاملہ ایسا ہے لَا تَكُونُ مَضْمُونَةً عَلَيْهِ تو یہ لقطہ جو ہے اس اٹھانے والے پر مضمون نہیں ہوگا یعنی اس پر اس کا ضمان نہیں آئے گا کیونکہ امانت کا ضمان نہیں آتا جب اس کے اندر کوئی تعدی اور زیادتی نہ ہو۔ وَكَذَلِكَ إِذَا تَصَادَقَا أَنَّهُ أَخَذَهَا لِلْمَالِكِ بھئی ایک شخص نے ایک چیز اٹھائی تھی لیکن اس نے گواہ نہیں بنائے، اور پھر بعد میں البتہ جب وہ اصل مالک آیا تو یہ بھی کہتا ہے میں نے مالک کو دینے کے لیے اٹھائی تھی اور اصل مالک جو ہے وہ بھی اس کی تصدیق کر رہا ہے کہ ہاں اس نے مجھے پہنچانے کے لیے ہی چیز اٹھائی تھی۔ تو یاد رکھو اس صورت کے اندر بے شک اس کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی ہے، پھر بھی اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ جب باہم دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کر رہے ہیں، یہ اٹھانے والا بھی کہہ رہا ہے میں نے مالک کے لیے اٹھائی تھی اور مالک بھی کہہ رہا ہے کہ ہاں یہ نیک آدمی ہے تبلیغی آدمی ہے بھئی اس نے واقعی مجھ تک پہنچانے کے لیے یہ چیز اٹھائی تھی، تو یاد رکھو اس صورت کے اندر بھی ضمان نہیں آئے گا وہ چیز چاہے اس کے پاس ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائے۔ وجہ یہ کہ یہ دونوں کا معاملہ ہے، جیسے گواہی کے ذریعے ایک چیز ثابت ہو جاتی ہے تو دونوں کا ایک دوسرے کی تصدیق کرنا یہ بھی کس کے درجے میں ہو گیا؟ گواہی کے درجے میں ہو گیا، لہٰذا اس کی وجہ سے بھی اب ضمان نہیں آئے گا۔ یہ معنی ہے وَكَذَلِكَ إِذَا تَصَادَقَا اور اسی طرح ہوگا یعنی ضمان نہیں آئے گا جب وہ دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کریں أَنَّهُ أَخَذَهَا لِلْمَالِكِ کہ اس نے یہ لقطہ اٹھایا تھا مالک کے لیے، لِأَنَّ تَصَادُقَهُمَا حُجَّةٌ فِي حَقِّهِمَا اس لیے کیونکہ ان کا باہم ایک دوسرے کی تصدیق کرنا ان کے اپنے حق میں حجت ہے، دلیل ہے، فَصَارَ كَالبَيِّنَةِ تو یہ بھی بینہ کی طرح ہی ہو گیا۔ وَلَوْ أَقَرَّ أَنَّهُ أَخَذَهُ لِنَفْسِهِ اور اگر اس نے اقرار کیا کہ اس نے یہ چیز اپنے لیے اٹھائی تھی يَضْمَنُ بِالإِجْمَاعِ تو بالاتفاق وہ ضامن ہوگا۔ بالإجماع یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک وہ شخص جو ہے وہ ضامن ہوگا۔ بھئی اگر وہ اقرار کرتا ہے کہ یہ چیز میں نے اپنے لیے اٹھائی تھی تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہ شخص ضامن ہوگا، یہ شخص ضامن ہوگا۔ یہ احتراز ہے اس صورت میں جب اس نے ایک چیز اٹھائی ہے لیکن گواہ نہیں بنائے، تو یاد رکھو آگے اختلاف ذکر کریں گے صاحب ہدایہ، طرفین فرماتے ہیں گواہ اس نے نہیں بنائے معلوم ہوا اس نے چیز اپنے لیے اٹھائی تھی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا جب یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے مالک کے لیے اٹھائی تھی۔ تو کہتے ہیں وَلَوْ أَقَرَّ أَنَّهُ أَخَذَهُ لِنَفْسِهِ اور اگر اس لقطے کو اٹھانے والے نے یہ اقرار کر لیا کہ یہ لقطہ اس نے اپنے لیے اٹھایا تھا يَضْمَنُ بِالإِجْمَاعِ تو بالاتفاق وہ ضامن ہوگا، بالإجماع سے کیا مراد ہے؟ ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق مراد ہے، تو بالاتفاق ضامن ہوگا لِأَنَّهُ أَخَذَ مَالَ غَيْرِهِ اس لیے کیونکہ اس نے غیر کا مال اٹھایا تھا بِغَيْرِ إِذْنِهِ بغیر اس مال والے کی اجازت کے وَبِغَيْرِ إِذْنِ الشَّرْعِ اور بغیر شریعت کی اجازت کے۔ اس نے غیر کا مال اٹھایا ہے، غیر کی طرف سے بھی اس کو مال اٹھانے کی اجازت نہیں تھی اور شریعت کی طرف سے بھی اجازت نہیں تھی، کیونکہ شریعت کی طرف سے اٹھانے کی اجازت اس وقت ہے جب وہ مالک تک پہنچانے کے ارادے سے اٹھاتا ہے اور پھر اس پر گواہ بھی بنا لیتا ہے، تو لہٰذا یہاں پر جب اس نے اپنے لیے اٹھائی ہے تو نہ اس مال کے مالک کی طرف سے اٹھانے کی اجازت ہے نہ شریعت کی طرف سے اجازت ہے، تو اس صورت کے اندر یہ غاصب کے درجے میں ہو گیا۔ یہ شخص کس کے درجے میں ہوا؟ غاصب کے درجے میں ہوا، غاصب جو کسی کی چیز پر زبردستی قبضہ کر لیتا ہے اور غاصب پر تو ضمان آیا کرتا ہے لہٰذا اس آدمی پر بھی ضمان آئے گا۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ أَخَذَ مَالَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ وَبِغَيْرِ إِذْنِ الشَّرْعِ اس لیے کیونکہ اس نے کسی دوسرے کا مال اٹھایا ہے اس کی اجازت کے بغیر اور شریعت کی اجازت کے بغیر، تو یہ غاصب ہوا۔ اور یاد رکھنا بھئی، یہاں پر ذکر... توجہ چل رہا ہے لقطہ کا بھئی، اور لقطہ کے آخر میں گول تا ہے بھئی۔ تو لہذا اس کی طرف مؤنث کی ضمیر راجع کریں گے، لیکن بہت سی جگہ مذکر ضمیر بھی اس کی طرف راجع کر دیں گے صاحبِ ہدایہ۔ توجہ ہے؟ تو اس میں تاویل کرتے ہیں کہ یہ ”مَذْكُورٌ“ کی تاویل میں ہے۔ مذکور کا لفظ دیکھو مذکر ہے، وہ جس کو ذکر کر دیا گیا۔ اور زیادہ بہتر اس کے اندر تاویل یہ ہے کہ وہ لقطہ وہ مال ہے، اور مال کا لفظ تو مذکر ہے۔ تو اس مال کی تاویل میں اس کی طرف واحد مذکر کی ضمیر بھی راجع کریں گے، اور جگہ جگہ اس طرح ہو گا تو آپ نے پریشان نہیں ہونا کہ ذکر لقطہ کا ہو رہا ہے اور مذکر ضمیریں اس کی طرف لوٹائی جا رہی ہیں۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِنْ لَمْ يُشْهِدْ شُهُودًا عَلَيْهِ﴾ اور اگر اٹھانے والے نے اس پر گواہ نہیں بنائے، ﴿وَقَالَ الْآخِذُ: أَخَذْتُهُ لِلْمَالِكِ﴾ اور اٹھانے والا کہتا ہے کہ یہ لقطہ میں نے مالک کے لیے اٹھایا تھا، ﴿وَكَذَّبَهُ الْمَالِكُ﴾ اور مالک اس کو جھٹلاتا ہے، ﴿يَضْمَنُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى﴾ تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ ضامن ہو گا۔ جس نے گواہ نہیں بنائے اور مالک اس کو جھٹلا رہا ہے تو یہ اس پر ضمان آئے گا، طرفین کے نزدیک۔ ﴿وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَضْمَنُ وَالْقَوْلُ قَوْلُهُ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ضامن نہیں ہو گا، اور وہ قول جس کا اعتبار کیا جائے گا وہ اس اٹھانے والے کا قول ہے۔ یہ جو چیز کو اٹھانے والا ہے اس کا قول معتبر ہے۔ وجہ یہ کہ مالک اس پر ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے۔ جب وہ مالک کہہ رہا ہے کہ اس نے اپنے لیے اٹھائی ہے، معلوم ہوا وہ اس پر ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے، اور یہ اٹھانے والا اس ضمان کا انکار کر رہا ہے، اور آپ جانتے ہیں ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ“، تو لہذا مالک کے پاس تو بینہ ہے نہیں، لہذا منکر کا قول یعنی اس چیز کو اٹھانے والے کا قول معتبر ہو گا قسم کے ساتھ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْقَوْلُ قَوْلُهُ﴾ اور وہ قول جس کا اعتبار کیا جائے گا وہ اس اٹھانے والے کا قول ہے، ﴿لِأَنَّ الظَّاهِرَ شَاهِدٌ لَهُ﴾، بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس اٹھانے والے پر ضمان نہیں آئے گا اور اسی کا قول معتبر ہے، ﴿لِأَنَّ الظَّاهِرَ شَاهِدٌ لَهُ﴾ اس لیے کیونکہ ظاہر اس کا گواہ ہے۔ ظاہر اس کا گواہ ہے اس لیے کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں مسلمان کے فعل میں ایک خیر والا پہلو ہو اور گناہ والا پہلو ہو تو خیر والے پہلو پر اس کو محمول کیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اس نے اس چیز کو اٹھایا ہے تو اگر مالک تک پہنچانے کے لیے اٹھایا ہے تو اس میں اجر و ثواب ہے، اور اگر اپنے لیے اٹھایا ہے تو یہ معصیت اور گناہ ہے، اور مسلمان کے فعل کو خیر پر محمول کیا جاتا ہے، تو ظاہر اسی کی تائید کر رہا ہے کیونکہ اٹھانے والا مسلمان ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الظَّاهِرَ شَاهِدٌ لَهُ لِاخْتِيَارِهِ الْحِسْبَةَ دُونَ الْمَعْصِيَةِ﴾، حسبہ کہتے ہیں اجر و ثواب کے طور پر۔ ﴿لِاخْتِيَارِهِ الْحِسْبَةَ دُونَ الْمَعْصِيَةِ﴾ اس وجہ سے کہ یہ اجر و ثواب کو اختیار کرے گا نہ کہ گناہ کو۔ ﴿وَلَهُمَا﴾ اب طرفین کی دلیل آ گئی۔ طرفین فرماتے ہیں گواہ نہیں بنائے تو اس پر ضمان آئے گا۔ کہتے ہیں ﴿وَلَهُمَا﴾ طرفین کی دلیل یہ ہے: ﴿أَنَّهُ أَقَرَّ بِسَبَبِ الضَّمَانِ﴾، بھئی دیکھیے! طرفین فرماتے ہیں کہ اس نے اقرار کر لیا ہے کہ یہ میں نے اٹھایا ہے، اور کسی کی چیز اٹھانا یہ ضمان کا سبب ہے۔ اس نے ضمان کے سبب کا تو اقرار کر لیا ہے۔ اب وہ ایسی چیز کا دعویٰ کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ بری ہو جائے، اس پر ضمان نہ آئے، کہ میں نے مالک کے لیے اٹھایا تھا۔ تو اب معلوم نہیں اس نے مالک کے لیے اٹھایا ہے یا نہیں، تو مالک کے لیے اٹھانے میں شک آ گیا، کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے اپنے لیے اٹھایا ہو۔ تو مالک کے لیے اٹھانے میں یہ شک آ گیا، تو لہذا شک کی وجہ سے یہ ضمان سے بری نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَهُمَا أَنَّهُ أَقَرَّ بِسَبَبِ الضَّمَانِ﴾ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ اس نے ضمان کے سبب کا اقرار کر لیا ہے، ﴿وَهُوَ أَخْذُ مَالِ الْغَيْرِ﴾ اور ضمان کا سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں: ﴿وَهُوَ أَخْذُ مَالِ الْغَيْرِ﴾ اور وہ غیر کے مال کو لینا ہے اس کی اجازت کے بغیر، ﴿وَادَّعَى مَا يُبْرِئُهُ﴾ اور اس نے دعویٰ کیا ہے اس چیز کا جو اس کو بری کر دے، جو اس کو بری الذمہ قرار دے دے، ﴿وَهُوَ الْأَخْذُ لِمَالِكِهِ﴾ اور وہ مالک کے لیے اٹھانا ہے، یعنی یہ اس کا دعویٰ کر رہا ہے، ﴿وَفِيهِ وَقَعَ الشَّكُّ﴾ اور اس کے اندر شک واقع ہو گیا کہ پتہ نہیں اس نے مالک کے لیے اٹھایا ہے یا اپنے لیے اٹھایا ہے، ﴿فَلَا يَبْرَأُ﴾ لہذا یہ بری الذمہ نہیں ہو گا، اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ ﴿وَمَا ذَكَرَ مِنَ الظَّاهِرِ يُعَارِضُهُ مِثْلُهُ﴾، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ ظاہرِ حال جو ہے وہ اس کی تائید کر رہا ہے کیونکہ اٹھانے والا مسلمان ہے اور مسلمان کے فعل کو خیر پر محمول کیا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں: اگر ایک ظاہر اس اٹھانے والے کی تائید کر رہا ہے تو ایک ظاہر اس کے معارض اور مقابل بھی ہے، اور وہ یہ کہ آدمی جو بھی فعل اور تصرف کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے، تو ایک ظاہر اگر اس کی تائید کر رہا ہے تو دوسرا ظاہر اس کے معارض بھی ہے کہ معلوم ہوا یہ اپنے لیے اٹھا رہا ہے۔ کہتے ہیں: ﴿وَمَا ذَكَرَ مِنَ الظَّاهِرِ﴾ اور وہ ظاہر جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا، ﴿يُعَارِضُهُ مِثْلُهُ﴾ اس کے معارض اور مقابل ہے اسی کے مثل یعنی دوسرا ظاہر، دوسرا ظاہر اس کے مقابل ہے، ﴿لِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنْ يَكُونَ الْمُتَصَرِّفُ عَامِلًا لِنَفْسِهِ﴾ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ تصرف کرنے والا اپنے لیے عمل کرنے والا ہوتا ہے۔ ﴿وَيَكْفِيهِ فِي الْإِشْهَادِ أَنْ يَقُولَ﴾، یہاں سے اب بتلا رہے ہیں کہ دوسروں کو گواہ کس طرح بنائے گا؟ کیا ان کو پوری تفصیل بیان کرے کہ یہ یہ چیز مجھے ملی ہے؟ کہتے ہیں نہیں، تفصیل بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ بس اتنا بتا دے کہ مجھے کوئی چیز ملی ہے، اگر کوئی آدمی گم شدہ چیز تلاش کرتا ہوا ملے تو میری طرف اس کو بھیج دینا، یعنی تعیین ضروری نہیں ہے اس چیز کی۔ کہتے ہیں: ﴿وَيَكْفِيهِ فِي الْإِشْهَادِ﴾ اور کافی ہے اس اٹھانے والے کے لیے گواہ بنانے کے اندر، ﴿أَنْ يَقُولَ﴾ کہ وہ یوں کہے: ﴿مَنْ سَمِعْتُمُوهُ يَنْشُدُ لُقَطَةً﴾، ﴿مَنْ سَمِعْتُمُوهُ﴾ جس کو تم لوگ سنو، ﴿يَنْشُدُ لُقَطَةً﴾ کہ وہ اعلان کر رہا ہے لقطے کا۔ انشد ینشد کا ایک معنی ہے تشہیر کرنا، اعلان کرنا گم شدہ چیز کا۔ تو وہ کہے: ﴿مَنْ سَمِعْتُمُوهُ﴾ کہ جس کو تم لوگ سنو، ﴿يَنْشُدُ لُقَطَةً﴾ کہ وہ لقطے کا اعلان کر رہا ہے، ﴿فَدُلُّوهُ عَلَيَّ﴾ تو اس کی رہنمائی کرنا مجھ پر، یعنی میری طرف، ﴿وَاحِدَةً كَانَتِ اللُّقَطَةُ أَوْ أَكْثَرَ﴾ چاہے لقطہ ایک ہو یا زیادہ ہوں، ﴿لِأَنَّهُ اسْمُ جِنْسٍ﴾ کیونکہ وہ اسمِ جنس ہے۔ یعنی لقطہ چاہے ایک ہو یا کئی قسم کا ہو، کئی جنسیں ہوں، پھر بھی لقطہ کا لفظ کہنا کافی ہے کہ کوئی بھی شخص اگر لقطہ کا اعلان کر رہا ہے، کسی کی کوئی چیز گر گئی ہے تو پھر میری طرف بھیج دینا، تو لقطہ اسم جنس ہے وہ سب کو شامل ہے۔ یعنی تعیین وغیرہ اور تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿قَالَ: فَإِنْ كَانَتْ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ عَرَّفَهَا أَيَّامًا﴾، بھئی یہاں تعریف کا ذکر آئے گا۔ تعریف کا معنی ہے تشہیر کرنا، مشہور کرانا، یعنی اعلان کروائے گا وہ، جو چیز کو اٹھانے والا ہے وہ اعلان کروائے گا، اس کی تشہیر کروائے گا۔ اب کتنے دن اس کی تشہیر کروائے؟ تو آپ کو بتلائیں گے وہ اس چیز کی مالیت کے اعتبار سے ہے۔ اگر زیادہ مال ہے تو پھر وہ زیادہ عرصے تک اس کی تشہیر کروائے، اگر تھوڑا مال ہے تو تھوڑی مدت تک اس کی تشہیر کروائے۔ ﴿قَالَ﴾ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ كَانَتْ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ﴾ اگر وہ لقطہ جو ہے دس درہم سے کم ہے، ﴿عَرَّفَهَا أَيَّامًا﴾ تو اس کی تشہیر کروائے چند دن، ﴿وَإِنْ كَانَتْ عَشَرَةً فَصَاعِدًا﴾ اور اگر وہ لقطہ دس درہم یا زیادہ کا ہے، ﴿عَرَّفَهَا حَوْلًا﴾ تو ایک سال اس کی تشہیر کرے۔ حول سال کو کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ ایک سال تک اس کی تشہیر کرے۔ اس کا یہ معنی نہیں ہر روز اعلان کرتا رہے گا، نہیں، کچھ وقت کے بعد پھر کچھ وقت کے بعد اعلان وغیرہ کرواتا رہے تاکہ مالک تک خبر پہنچ جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿عَرَّفَهَا حَوْلًا﴾ تو ایک سال تک اس کی تشہیر کروائے۔ ﴿قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ﴾ اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ ﴿قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ﴾ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے: ﴿وَهَذِهِ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ اور یہ روایت ہے امام صاحب سے۔ یہ جو متن میں آیا: اگر وہ لقطہ دس درہم سے کم ہے تو چند دن تشہیر کروائے اور دس درہم سے زیادہ ہے تو ایک سال تک تشہیر کروائے، یہ امام صاحب کی روایت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذِهِ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ اور یہ ایک روایت ہے امام صاحب سے۔ نیز صاحبِ ہدایہ نے اشارہ فرما دیا کہ یہ ظاہرِ روایت نہیں ہے۔ ﴿وَهَذِهِ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ یہ ایک روایت ہے امام صاحب سے جو صاحبِ قدوری نے متن میں ذکر کی، ظاہرِ روایت یہ نہیں ہے بھئی۔ ظاہرِ روایت علماء فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک سال تک اس کی تشہیر کروائے بھئی۔ ظاہرِ روایت یہ ہے کہ ایک سال تک تشہیر کروائے۔ تو کہتے ہیں یہ ایک روایت ہے امام صاحب سے۔ ﴿وَقَوْلُهُ أَيَّامًا﴾ اور اوپر صاحبِ قدوری کا جو قول آیا ”أَيَّامًا“ کہ اگر دس درہم سے کم ہے تو چند ایام تک اس کی تشہیر کروائے، کہتے ہیں یہ جو ”أَيَّامًا“ کا لفظ آیا صاحبِ قدوری کا، ﴿مَعْنَاهُ عَلَى حَسَبِ مَا يَرَى الْإِمَامُ﴾ کہ اسی کے بقدر جتنی امام صاحب کی رائے ہے۔ امام صاحب کی رائے ہے، یہ حاشیے میں دیا ہوا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر لقطہ دو سو درہم یا اس سے زیادہ قیمت والا ہے تو پھر ایک سال تک اس کی تشہیر کروائے گا۔ اور اگر دس درہم یا دس سے زیادہ درہم ہیں تو پھر ایک مہینے تک تشہیر کروائے گا۔ اور اگر تین درہم یا تین سے زیادہ ہیں تو پھر دس دن تک تشہیر کروائے۔ دو سو درہم یا زیادہ ہوں تو ایک سال، دس درہم یا دس سے زیادہ ہیں لیکن دو سو سے کم ہیں تو پھر ایک مہینہ تشہیر کروائے، اور اگر تین درہم یا تین سے زیادہ ہیں لیکن دس سے کم ہیں تو پھر دس دن تک تشہیر کروائے گا، اور اگر ایک درہم یا دو درہم ہیں تو پھر تین دن تک تشہیر کروا لے، اور اگر درہم سے بھی کم ہے تو ایک دن تشہیر کروا لے، ایک دن۔ اور بھی زیادہ کم ہے تو پھر کہتے ہیں وہ چیز اٹھائے دائیں بائیں دیکھے، اگر کوئی تلاش کرتا ہوا نظر آ جائے تو ٹھیک ہے نہیں تو وہیں پر فقیر کو دے دے، صدقہ کر دے مالک کی طرف سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھ لیجیے: ﴿قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ: وَهَذِهِ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں یہ جو متن کے اندر آیا یہ امام صاحب کی ایک روایت ہے، ﴿وَقَوْلُهُ أَيَّامًا مَعْنَاهُ عَلَى حَسَبِ مَا يَرَى الْإِمَامُ﴾ اور صاحبِ قدوری کا یہ جو قول ”أَيَّامًا“ آیا، معنی اس کا یہ ہے اسی کے بقدر جتنی امام صاحب کی رائے ہے۔ ﴿وَقَدَّرَهُ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْأَصْلِ بِالْحَوْلِ﴾، ﴿وَقَدَّرَهُ﴾ اور اس کا اندازہ لگایا ہے، یا یوں کہیں اس کو مقرر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے، ﴿فِي الْأَصْلِ﴾ اصل یعنی مبسوط کے اندر۔ میں نے آپ کو بتلایا قدر یقدر تقدیر کا معنی اندازہ لگانا بھی اور اس کا معنی مقرر کرنا بھی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَدَّرَهُ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْأَصْلِ بِالْحَوْلِ﴾ اور اس کو مقرر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے اصل یعنی مبسوط کے اندر ایک سال کے ساتھ۔ اس کا اندازہ لگایا ہے ایک سال کے ساتھ کہ ایک سال تشہیر کرے گا، ﴿مِنْ غَيْرِ تَفْصِيلٍ بَيْنَ الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ﴾ بغیر کوئی تفصیل کیے قلیل اور کثیر میں۔ قلیل اور کثیر میں فرق کیے بغیر ہی مطلقاً جو بھی لقطہ ہو اس میں ایک سال تشہیر کروائی جائے گی۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے مبسوط میں۔ ﴿وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ﴾ اور یہی قول ہے امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا بھی، ﴿لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ﴾ بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً“، ”مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا“ جس نے کوئی چیز زمین سے اٹھائی، ”فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً“ تو چاہیے کہ وہ اس کی تشہیر کروائے ایک سال تک۔ تو یہ حدیث ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ﴿مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ﴾ بغیر کسی فرق کے، یعنی اس حدیث کے اندر کثیر اور قلیل مال میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، ایک سال کی مدت ذکر ہے بھئی۔ ﴿وَجْهُ الْأَوَّلِ﴾ اب پہلے قول کی وجہ، وہ جو متن میں آیا تھا۔ اوپر جو متن میں آیا تھا بھئی: ﴿فَإِنْ كَانَتْ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ عَرَّفَهَا أَيَّامًا وَإِنْ كَانَتْ عَشَرَةً فَصَاعِدًا عَرَّفَهَا حَوْلًا﴾ دس درہم سے کم ہے تو چند دن، اور اگر دس درہم یا دس درہم سے زیادہ ہیں تو پھر ایک سال تشہیر کروائے، اب اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ ﴿وَجْهُ الْأَوَّلِ﴾ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو حدیث میں ایک سال کا ذکر آیا ہے یہ اس لقطہ کے بارے میں ہے جو ایک سو دینار تھا بھئی، یعنی سو اشرفیاں تھیں سونے کی بھئی، اور دینار تو بہت قیمتی ہوتا تھا اس زمانے کے اندر بھئی، اور یہ سو دینار یہ برابر تھے ایک ہزار درہم کے بھئی۔ تو اس لیے حضور علیہ السلام نے وہاں ایک سال تک تشہیر کا حکم دیا بھئی، تشہیر کا حکم دیا۔ جو ہزار درہم ہیں ان کا حکم حدیث سے معلوم ہو گیا کہ ان کی تشہیر ایک سال کی جائے گی بھئی۔ اور جو دس درہم ہیں، دس درہم، ہم نے دیکھا کہ یہ جو دس درہم ہیں یہ بعض اعتبار سے اس ہزار درہم کی طرح ہی ہیں۔ یہ دس درہم کس کی طرح ہیں؟ ہزار درہم کی طرح ہیں بعض اعتبار سے۔ بھئی کس طرح دس درہم ہزار درہم کی طرح ہیں؟ کہتے ہیں جس طرح ہزار درہم کی چوری میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے اسی طرح کم از کم دس درہم کے اندر ہاتھ کاٹا جاتا ہے، معلوم ہوا دس درہم کا بھی وہی حکم ہے جو ہزار درہم کا ہے۔ اسی طرح ایک عورت کا مہر ہزار درہم ہو سکتا ہے تو کم سے کم مہر جو ہو سکتا ہے وہ دس درہم ہے، معلوم ہوا جیسے ہزار درہم مہر رکھنے سے عورت حلال ہو جاتی ہے اسی طرح دس درہم مہر سے بھی عورت حلال ہو جاتی ہے، تو معلوم ہوا دس درہم کا وہی حکم ہے جو ہزار درہم والا ہے۔ لیکن بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ دس درہم ہزار درہم کی طرح نہیں ہیں۔ ہزار درہم پر سال گزرے تو اس پر زکوٰۃ آتی ہے لیکن دس درہم پر سال گزرے تو اس پر زکوٰۃ نہیں آتی۔ تو دیکھیں بعض تو معلوم ہوا یہ دس درہم بعض اعتبار سے ہزار درہم کی طرح ہیں اور بعض اعتبار سے ہزار درہم کی طرح نہیں ہیں۔ تو لہذا یہاں پر ہم نے بطورِ احتیاط کے اس کو ہزار والا ہی حکم دے دیا۔ احتیاط کس میں تھی؟ کہ بعض اعتبار سے تو دس کا وہی حکم ہے جو ہزار والا حکم ہے، لہذا ہزار والا ہی حکم دے دو، احتیاط اسی کے اندر ہے بھئی۔ اگرچہ بعض اعتبار سے یہ اس کی طرح نہیں ہے، لیکن بہرحال بعض اعتبار سے تو یہ ہزار درہم کی طرح ہے، لہذا دس درہم کو بھی احتیاطاً ہزار والا ہی حکم دے دیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہذا ہم نے دس درہم یا اس سے زیادہ کے اندر حکم لگا دیا کہ اس میں ایک سال تشہیر کروائی جائے گی۔ اور جو دس درہم سے کم ہیں، وہ تو کسی بھی اعتبار سے ہزار درہم کی طرح نہیں، جب وہ اس کی طرح نہیں ہے تو وہاں پھر پورے سال کی تشہیر بھی واجب نہیں ہو گی، بلکہ اس میں پھر اس مبتلیٰ بہ کی رائے کے سپرد ہو گا۔ جتنا وہ مناسب سمجھے تشہیر کروائے گا، یہاں تک کہ اس کا غالب گمان ہو جائے کہ اب مالک اس کو تلاش نہیں کر رہا ہو گا تو پھر وہ کسی فقیر پر صدقہ کر دے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَجْهُ الْأَوَّلِ أَنَّ التَّقْدِيرَ بِالْحَوْلِ وَرَدَ فِي لُقَطَةٍ﴾ پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ یہ جو سال کے ساتھ مقرر کرنا ہے یہ وارد ہوا ہے اس لقطہ کے بارے میں، ﴿كَانَتْ مِائَةَ دِينَارٍ﴾ جو ایک سو دینار تھا، ﴿تُسَاوِي أَلْفَ دِرْهَمٍ﴾ جو برابر ہے ایک ہزار درہم کے، ﴿وَالْعَشَرَةُ وَمَا فَوْقَهَا فِي مَعْنَى الْأَلْفِ﴾ اور دس درہم اور اس سے جو زیادہ ہے وہ بھی ہزار کے معنی میں ہی ہے، ﴿فِي تَعَلُّقِ الْقَطْعِ بِهِ فِي السَّرِقَةِ﴾ اس بات کے اندر کہ اس کے ساتھ ہاتھ کاٹنے کا تعلق ہوتا ہے چوری میں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہتے ہیں: ﴿وَالْعَشَرَةُ وَمَا فَوْقَهَا فِي مَعْنَى الْأَلْفِ﴾ اور دس درہم اور اس سے جو زیادہ ہے وہ ہزار درہم کے معنی میں ہے، بھئی کس چیز میں؟ کہتے ہیں: ﴿فِي تَعَلُّقِ الْقَطْعِ بِهِ فِي السَّرِقَةِ﴾ چوری کے اندر ہاتھ کاٹنے کے تعلق میں، جیسے ہزار میں ہاتھ کاٹتے ہیں دس میں بھی ہاتھ کاٹتے ہیں، ﴿وَتَعَلُّقِ اسْتِحْلَالِ الْفَرْجِ بِهِ﴾ اور عورت کی شرمگاہ کے حلال ہونے کے تعلق میں، یعنی جیسے ہزار درہم سے عورت کی شرمگاہ حلال ہو گئی یعنی اس کو مہر مقرر کرنا صحیح ہے، اسی طرح دس درہم کا بھی یہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَتَعَلُّقِ اسْتِحْلَالِ الْفَرْجِ بِهِ﴾ اور اس کی وجہ سے عورت کے شرمگاہ کے حلال ہونے کے تعلق میں، ﴿وَلَيْسَتْ فِي مَعْنَاهَا فِي حَقِّ تَعَلُّقِ الزَّكَاةِ﴾ اور یہ دس جو ہیں وہ ہزار کے معنی میں نہیں ہیں زکوٰۃ کے تعلق کے حق میں۔ ہزار کے ساتھ تو زکوٰۃ کا تعلق ہے لیکن دس درہم کے ساتھ تو زکوٰۃ کا تعلق نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ﴿وَلَيْسَتْ فِي مَعْنَاهَا فِي حَقِّ تَعَلُّقِ الزَّكَاةِ﴾ اور یہ دس جو ہے ہزار کے معنی میں نہیں ہے زکوٰۃ کے تعلق کے اعتبار سے، ﴿فَأَوْجَبْنَا التَّعْرِيفَ بِالْحَوْلِ احْتِيَاطًا﴾، ﴿فَأَوْجَبْنَا﴾ تو ہم نے واجب قرار دے دیا، ﴿التَّعْرِيفَ بِالْحَوْلِ﴾ سال بھر کی تشہیر کو، ﴿احْتِيَاطًا﴾ بطورِ احتیاط کے۔ ہم نے سال کی تشہیر کو بطورِ احتیاط کے واجب قرار دے دیا۔ ﴿وَمَا دُونَ الْعَشَرَةِ لَيْسَ فِي مَعْنَى الْأَلْفِ بِوَجْهٍ مَّا﴾ ﴿وَمَا دُونَ الْعَشَرَةِ﴾ اور وہ جو دس درہم سے کم ہیں، ﴿لَيْسَ فِي مَعْنَى الْأَلْفِ﴾ وہ ہزار کے معنی میں نہیں ہیں، ﴿بِوَجْهٍ مَّا﴾ کسی بھی اعتبار سے، ﴿فَفَوَّضْنَا إِلَى رَأْيِ الْمُبْتَلَى بِهِ﴾ تو اس کو ہم نے سپرد کیا مبتلیٰ بہ کی رائے کے۔ وہ شخص جس کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ہے جس کو یہ مال ملا ہے اس کی رائے کے سپرد کر دیا کہ وہ جتنا مناسب سمجھے اتنے دن تشہیر کروا لے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَفَوَّضْنَا إِلَى رَأْيِ الْمُبْتَلَى بِهِ﴾ تو اس کو ہم نے اس مبتلیٰ بہ شخص کی رائے کے سپرد کر دیا۔ ﴿وَقِيلَ﴾ اور کہا گیا ہے، اب یہ تیسرا قول آ گیا۔ پہلا قول امام صاحب کا اور اس کی وجہ بھی ذکر کر دی، دوسرا قول امام محمد رحمہ اللہ کا کہ ایک سال تشہیر کروائی جائے گی قلیل اور کثیر میں کوئی فرق نہیں ہے، اور اب یہ تیسرا قول آ گیا۔ کہتے ہیں: ﴿وَقِيلَ: الصَّحِيحُ أَنَّ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْمَقَادِيرِ لَيْسَ بِلَازِمٍ﴾ اور کہا گیا ہے کہ صحیح قول یہ ہے کہ کوئی بھی چیز ان مقداروں میں سے لازم نہیں ہے۔ یہ جو ایک سال یا ایک سال سے کم ذکر کیا گیا کوئی بھی ان میں سے لازم نہیں ہے، بلکہ مبتلیٰ بہ کی رائے کے سپرد ہے بھئی۔ یعنی جتنا وہ مناسب سمجھے وہ تشہیر کروا لے یہاں تک کہ اس کا غالب گمان ہو جائے کہ اب مالک اس مال کو نہیں ڈھونڈ رہا ہو گا۔ اور یہ یاد رکھو یہ قول اس کو اختیار کیا ہے امام سرخسی رحمہ اللہ نے، اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقِيلَ: الصَّحِيحُ أَنَّ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْمَقَادِيرِ لَيْسَ بِلَازِمٍ﴾ اور کہا گیا ہے کہ ان مقداروں میں سے کوئی بھی چیز لازم نہیں ہے، ﴿وَيُفَوَّضُ إِلَى رَأْيِ الْمُلْتَقِطِ﴾ اور یہ اٹھانے والے کی رائے کے سپرد ہے، ﴿يُعَرِّفُهَا إِلَى أَنْ يَغْلِبَ عَلَى ظَنِّهِ أَنَّ صَاحِبَهَا لَا يَطْلُبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ﴾ تو وہ اس کی تعریف اس کی تشہیر کروائے گا یہاں تک کہ اس کا غالب گمان ہو جائے کہ اس لقطے کا مالک اس کو طلب نہیں کر رہا ہو گا اس مدت کے بعد، ﴿ثُمَّ يَتَصَدَّقُ بِهِ﴾ پھر وہ اس کو صدقہ کر دے۔ ﴿وَإِنْ كَانَتِ اللُّقَطَةُ شَيْئًا لَا يَبْقَى﴾، بھئی اگر لقطہ ایسی چیز ہے جو باقی نہیں رہتی یعنی جلدی خراب ہو جاتی ہے تو پھر کچھ تشہیر کروائے اور خراب ہونے سے پہلے پہلے پھر اس کو صدقہ کر دے، بات سمجھ میں؟ کچھ تشہیر کروائے خراب ہونے سے پہلے پہلے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ كَانَتِ اللُّقَطَةُ شَيْئًا لَا يَبْقَى﴾ اور اگر لقطہ ایسی چیز ہے جو باقی نہیں رہتی یعنی خراب ہو جاتی ہے، ﴿عَرَّفَهُ حَتَّى إِذَا خَافَ أَنْ يَفْسُدَ تَصَدَّقَ بِهِ﴾ تو اس کی تشہیر کروائے یہاں تک کہ اس کو خوف ہونے لگے کہ یہ خراب ہو جائے گی تو اس کو صدقہ کر دے۔ ﴿وَيَنْبَغِي أَنْ يُعَرِّفَهَا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي أَصَابَهَا﴾، اب بتلا رہے ہیں کہاں کہاں اس کی تشہیر کروائے؟ کہتے ہیں جہاں وہ چیز ملی تھی اس جگہ پر بھی تشہیر کروائے لوگوں کو کہے، اور اسی طرح جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں پر بھی تشہیر کروائے، اور اسی طرح مسجد کے دروازوں میں تشہیر کروائے، اس طرح جلد ہی مالک تک خبر پہنچ جائے گی بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿وَيَنْبَغِي أَنْ يُعَرِّفَهَا﴾ اور مناسب یہ ہے کہ اس کی تشہیر کروائے، ﴿فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي أَصَابَهَا﴾ اس جگہ کے اندر جہاں اس کو پایا ہے، ﴿وَفِي الْمَجَامِعِ﴾ اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں میں، جیسے بازار وغیرہ ہیں یا مسجد کے دروازے ہیں، ﴿فَإِنَّ ذَلِكَ أَقْرَبُ إِلَى الْوُصُولِ إِلَى صَاحِبِهَا﴾ اس لیے کیونکہ یہ زیادہ قریب ہے کہ یہ مالک تک پہنچ جائے۔ ﴿وَإِنْ كَانَتْ شَيْئًا يَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَهَا لَا يَطْلُبُهَا﴾، بھئی اگر ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں علم ہے کہ مالک اس کو تلاش نہیں کر رہا ہو گا، جیسے گھٹلیاں ہیں، جیسے گھٹلیاں وغیرہ ہیں یا انار کے چھلکے وغیرہ ہیں، تو کہتے ہیں پھر اس صورت میں اس کو استعمال کرنا مباح ہے۔ مالک یہ نہیں بنے گا اٹھانے سے، ہاں اس کے لیے استعمال کرنا مباح ہے بھئی۔ آپ کہیں گے بھئی گھٹلیاں اور انار کے چھلکے یہ تو کسی کو بھی ضرورت نہیں ہوتی، بھئی یہ آج کل کے زمانے کی بات نہیں ہو رہی، آج کل تو اللہ نے اتنی نعمتیں کر دیں پھر بھی بعض ایسی جگہیں ہیں جہاں یہ ساری نعمتیں نہیں ملتیں بھئی۔ تو بعض اوقات ایک شخص کو ایک کوئی درخت یا پودے کے لیے گھٹلیوں کی ضرورت ہے لیکن وہاں ملتی ہی نہیں ہیں، اس کو کہیں راستے میں پڑی ہوئی مل گئیں بھئی، تو معلوم ہوا اس کے لیے اٹھانا مباح ہے۔ توجہ ہے؟ یا اسی طرح انار کے چھلکے ان کے بھی بعض فائدے ہیں بھئی، تو کسی کو اگر یہ مل گئے اور اس علاقے میں ملتے ہی نہیں ہیں تو اس کے لیے ان کو اٹھانا اور استعمال کرنا جائز ہے۔ البتہ یہ ان کے اٹھانے سے مالک نہیں بنے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ كَانَتْ شَيْئًا﴾ اور اگر وہ لقطہ ایسی چیز ہے، ﴿يَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَهَا لَا يَطْلُبُهَا﴾ کہ اٹھانے والا جانتا ہے کہ ان کا مالک اس کو طلب نہیں کر رہا ہو گا، ﴿كَالنَّوَاةِ﴾ جیسے کہ گھٹلیاں ہیں، ﴿وَقُشُورِ الرُّمَّانِ﴾ اور انار کے چھلکے ہیں، ﴿يَكُونُ إِلْقَاؤُهُ إِبَاحَةً﴾ تو مالک کا ان کو گرانا یہ اباحت ہے۔ مالک نے جب ان گھٹلیوں اور چھلکوں کو گرا دیا ہے معلوم ہوا وہ ان کو لوگوں کے لیے مباح کر رہا ہے، جو بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے۔ ہاں مالک وہی ہے، مالک وہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿يَكُونُ إِلْقَاؤُهُ إِبَاحَةً﴾ تو مالک کا ان چیزوں کو راستے میں ڈال دینا یہ مباح کرنا ہے، ﴿حَتَّى جَازَ الِانْتِفَاعُ بِهِ مِنْ غَيْرِ تَعْرِيفٍ﴾ یہاں تک کہ ان سے نفع اٹھانا جائز ہے بغیر تشہیر کے ہی، ﴿وَلَكِنَّهُ مُبْقًى عَلَى مِلْكِ مَالِكِهِ﴾ لیکن یہ باقی ہوں گی اسی مالک کی ملکیت پر۔ ﴿وَلَكِنَّهُ مُبْقًى﴾ لیکن یہ باقی ہوں گی، ﴿عَلَى مِلْكِ مَالِكِهِ﴾ ان کے مالک کی ملکیت پر، یعنی وہی مالک رہے گا ان کا البتہ لوگوں کے لیے ان سے نفع اٹھانا جائز ہو گا۔ ”مُبْقًى“ یہ اسم مفعول ہے بھئی، أبقى يبقي إبقاءً سے بھئی۔ بقی یبقی سے اس کو اسم مفعول نہ بنائیں ”مَبْقِيٌّ“، کیونکہ وہاں اسم فاعل آ جاتا ”وَلَكِنَّهُ بَاقٍ عَلَى مِلْكِ مَالِكِهِ“، تو ”بَاقٍ“ اسم فاعل کہنا چاہیے تھا، لیکن صاحبِ ہدایہ کیا لائے ہیں؟ ”مُبْقًى“، اگر مجرد سے ہوتا تو ”بَاقٍ“ صیغہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ مالک کی ملکیت پر باقی ہے بھئی۔ تو اس کو اسم مفعول پڑھیں بابِ افعال سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَكِنَّهُ مُبْقًى عَلَى مِلْكِ مَالِكِهِ﴾ لیکن یہ ڈالی ہوئی چیز اس مالک کی ملکیت پر باقی ہے، ﴿لِأَنَّ التَّمْلِيكَ مِنَ الْمَجْهُولِ لَا يَصِحُّ﴾، بھئی یہاں ترجمے پر نظر رکھنا بھئی، ﴿لِأَنَّ التَّمْلِيكَ مِنَ الْمَجْهُولِ﴾ اس لیے کیونکہ مالک بنانا، ﴿مِنَ الْمَجْهُولِ﴾ مجہول کو، مجہول کی طرف سے مالک بنانا نہیں، مالک تو ایک متعین شخص ہے جس نے یہ چیزیں ڈالی ہیں۔ ہاں مجہول کو مالک بنانا صحیح نہیں۔ آپ اپنی چیز کا مالک کسی کو بنانا چاہتے ہیں تو کسی متعین کو مالک بنائیں گے۔ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ التَّمْلِيكَ مِنَ الْمَجْهُولِ لَا يَصِحُّ﴾ اس لیے کیونکہ مجہول کو مالک بنانا صحیح نہیں۔ یاد رکھو ملّک یملّک تملیک کا صلہ من آتا ہے۔ مثلاً میں نے زید کو ایک چیز کا مالک بنا دیا تو میں کہوں گا: ”مَلَّكْتُ مِنْ زَيْدٍ“، ”مَلَّكْتُ مِنْ زَيْدٍ“ میں نے زید کو اس کا مالک بنا دیا۔ تو یہاں پر بھی ﴿مِنَ الْمَجْهُولِ﴾ یعنی مجہول کو مالک بنانا صحیح نہیں ہے۔ مالک نے چھلکے راستے میں ڈال دیے ہیں کہ جو بھی اٹھائے گا وہ مالک ہو جائے گا، نہیں بھئی یہ تو آپ مجہول آدمی کو مالک بنا رہے ہیں، کسی مجہول کو مالک نہیں بنا سکتے کسی معین کو مالک بنا سکتے ہیں۔ لہذا مجہول کو مالک بنانا صحیح نہیں، تو جو بھی اٹھا لے وہ مالک نہیں بن سکتا کیونکہ وہ مجہول ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ التَّمْلِيكَ مِنَ الْمَجْهُولِ لَا يَصِحُّ﴾ اس لیے کیونکہ مجہول کو مالک بنانا صحیح نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی: ﴿قَالَ: فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا تَصَدَّقَ بِهَا﴾، ﴿قَالَ﴾ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا﴾ اگر اس لقطے کا مالک آ گیا، جزا محذوف ہے، تو اچھی بات ہے، یہ چیز اس کے سپرد کر دے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا﴾ اگر اس لقطے کا مالک آ گیا تو وہ چیز اس کے حوالے کر دے، ﴿وَإِلَّا تَصَدَّقَ بِهَا﴾ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی مالک نہ آئے تو ﴿تَصَدَّقَ بِهَا﴾ تو اس کو صدقہ کر دے، ﴿إِيصَالًا لِلْحَقِّ إِلَى الْمُسْتَحِقِّ﴾ حقدار کو اس کا حق پہنچانے کے لیے۔ حقدار کو اس کا حق پہنچانے کے لیے بھئی اس چیز کا جو مالک ہے اس کو آپ یہ اصل چیز تو نہیں پہنچا سکے لیکن چلو اس کے بدلے میں اس کو ثواب مالک کو پہنچ جائے گا بھئی۔ تو حقدار کو اس کا حق پہنچ گیا جس قدر ممکن ہو سکے۔ اصل چیز تو ہم نہ پہنچا سکے تو کم از کم ثواب ہم نے پہنچا دیا۔ یہ معنی ہے: ﴿إِيصَالًا لِلْحَقِّ إِلَى الْمُسْتَحِقِّ﴾ حقدار کو اس کا حق پہنچانے کے لیے، ﴿وَهُوَ وَاجِبٌ بِقَدْرِ الْإِمْكَانِ﴾ اور یہ واجب ہے جس قدر ممکن ہو سکے، حقدار کو حق پہنچانا واجب ہے جس قدر ممکن ہو سکے، ﴿وَذَلِكَ بِإِيصَالِ عَيْنِهَا﴾ اور یہ عین اس چیز کو پہنچانے سے ہو گا، ﴿عِنْدَ الظَّفَرِ بِصَاحِبِهَا﴾، ظفر یظفر ظفراً کا معنی ہے کوشش کے بعد کسی چیز کو حاصل کر لینا، کوشش کے بعد کسی چیز کو پا لینا۔ تو یہاں پر بھی اگر مالک آپ کو ملتا بھی ہے تو کوشش کے بعد ملے گا، آسانی سے نہیں ملے گا۔ تو اگر مالک مل جائے تو پھر تو عین وہی چیز اس کو دینا پڑے گی، اور اگر مالک آپ کو نہیں ملتا کوشش کے باوجود، پھر اب آپ اس کو اس کا ثواب پہنچا دیتے ہیں، اس کی طرف سے صدقہ کر دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جس قدر ممکن ہو سکے حقدار کو اس کا حق پہنچانا واجب ہے، ﴿وَذَلِكَ بِإِيصَالِ عَيْنِهَا عِنْدَ الظَّفَرِ بِصَاحِبِهَا﴾ اور وہ عین لقطہ کو پہنچانے سے ہو گا اس لقطہ کے مالک کو پا لینے کے وقت، اس لقطہ کے مالک کو پا لینے کے وقت عین لقطہ اس تک پہنچانے سے حقدار کو اس کا حق پہنچے گا، ﴿وَإِيصَالِ الْعِوَضِ﴾ یا عوض پہنچانے کے ذریعے ہو گا، اور عوض کیا ہے؟ کہتے ہیں: ﴿وَهُوَ الثَّوَابُ﴾ اور وہ ثواب ہے، ﴿عَلَى اعْتِبَارِ إِجَازَتِهِ﴾ اس مالک کی اجازت کے اعتبار سے۔ مالک کی طرف سے اجازت کا اعتبار کرتے ہوئے ہم اس کی طرف سے کیا کر دیں گے؟ صدقہ کر دیں گے بھئی۔ اور یہ صاحبِ ہدایہ نے اس لیے ذکر کیا کہ اگر مالک کی طرف سے اجازت نہ ہو تو اس کو ثواب نہیں ملے گا بھئی۔ چنانچہ آگے آپ کو بتائیں گے اگر مالک آ گیا اور یہ اس چیز کو صدقہ کر چکا ہے، تو پھر مالک چاہے اجازت دے دے، اسی طرح صدقے کو چلنے دے، تو مالک کو ثواب مل گیا۔ اور اگر اس نے کہا نہیں، تم نے میری چیز کیوں صدقہ کی، مجھے ضمان دو! تو یاد رکھو پھر صدقے کا ثواب نہ ملا کیونکہ اس کی طرف سے اجازت نہیں ہے، اور نیز اب اس آدمی کو ضمان دینا پڑے گا۔ ضمان دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِيصَالِ الْعِوَضِ“ اور یا اس کا عوض پہنچانے کے ذریعے ہوگا ”وَهُوَ الثَّوَابُ“ اور وہ ثواب ہے ”عَلَى اعْتِبَارِ إِجَازَتِهِ“ مالک کی اجازت کا اعتبار کرتے ہوئے ”التَّصَدُّقَ بِهَا“۔ بھئی کس چیز کی اجازت؟ ”التَّصَدُّقَ بِهَا“ اس کے صدقہ کرنے کی، کہ مالک کی طرف سے اس کے صدقہ کرنے کی اجازت کا اعتبار کرتے ہوئے۔ ”وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا“ اور اگر چاہے تو یہ آدمی جس کو لقطہ ملا ہے یہ اس لقطے کو اپنے پاس روک لے ”رَجَاءَ الظَّفَرِ بِصَاحِبِهَا“ اس کے مالک کو پا لینے کی امید کرتے ہوئے کہ شاید مل جائے تو میں اس کو دے دوں گا۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا“ اگر اس لقطے کا مالک آگیا ”يَعْنِي بَعْدَ مَا تَصَدَّقَ بِهَا“ یعنی بعد اس کے کہ جب اٹھانے والا اس کو صدقہ کر چکا ہے، تو مالک آگیا ”فَهُوَ بِالْخِيَارِ“ تو مالک کو اختیار ہے۔ یاد رکھو مالک کو تین اختیار ہیں: یا تو اسی صدقے کو اسی طرح چلنے دے، مالک کو ثواب مل جائے گا۔ اور اگر وہ مالک چاہے تو اس اٹھانے والے سے ضمان لے لے، اور چاہے تو اس فقیر سے ضمان لے لے، اس فقیر سے بھی ضمان لے سکتا ہے، کیونکہ فقیر نے بھی مالک کی چیز اس کی اجازت کے بغیر لی، جس طرح ملتقط نے مالک کی اجازت کے بغیر چیز لی تھی، اسی طرح فقیر نے بھی مالک کی اجازت کے بغیر لی ہے وہ چیز۔ اور آپ یہ نہ کہیں کہ فقیر کو تو اس صدقہ کرنے والے نے دھوکا دیا ہے، نہیں بھئی، کوئی دھوکا نہیں ہے۔ فقیر اور اس کے درمیان کوئی عقد نہیں ہو رہا، عقد ہوا ہوتا تو پھر اس صورت میں فقیر اس پر رجوع کر سکتا تھا، یہاں کوئی عقد وغیرہ نہیں ہوا، لہٰذا فقیر پر بھی مالک رجوع کر سکتا ہے، اور فقیر پھر اس چیز اٹھانے والے کی طرف رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے کسی عقد میں یہ چیز نہیں دی تھی فقیر کو، ویسے ہی دی تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَهُوَ بِالْخِيَارِ“ اگر صدقے کے بعد مالک آگیا تو اس کو اختیار ہے۔ ”إِنْ شَاءَ أَمْضَى الصَّدَقَةَ“ وہ چاہے تو صدقے کو چلنے دے، صدقے کو جاری رکھے ”وَلَهُ ثَوَابُهَا“ اور اس کے لیے اس صدقے کا ثواب ہوگا ”لِأَنَّ التَّصَدُّقَ“ اس لیے کیونکہ صدقہ کرنا ”وَإِنْ حَصَلَ بِإِذْنِ الشَّرْعِ“ اگرچہ وہ شریعت کی اجازت سے حاصل ہوا ہے، اگرچہ صدقہ کرنا کس کی اجازت سے ہوا ہے؟ شریعت کی اجازت سے، لیکن مالک کی اجازت تو نہیں تھی، تو لہٰذا مالک کی اجازت بھی ضروری ہے کہ وہ اجازت دے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّصَدُّقَ وَإِنْ حَصَلَ بِإِذْنِ الشَّرْعِ لَمْ يَحْصُلْ بِإِذْنِهِ“ اس لیے کیونکہ صدقہ اگرچہ شریعت کی اجازت سے حاصل ہوا ہے لیکن مالک کی اجازت سے تو نہیں ہوا۔ صدقہ کس کی اجازت سے ہوا ہے؟ شریعت کی اجازت سے، اگرچہ مالک کی اجازت نہیں، بھئی شریعت کی طرف سے کیسے اجازت ہے؟ یہ حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے بھئی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا“ حدیث مل گئی بھئی حاشیے میں؟ ”مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا“ جس نے زمین سے کوئی چیز اٹھا لی ”فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً“ تو اسے چاہیے کہ ایک سال تک اس کی تشہیر کروائے ”فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ فَلْيَرُدَّهُ“ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے چاہیے اس کو لوٹا دے ”وَإِنْ لَمْ يَأْتِ صَاحِبُهُ“ اور اگر اس کا مالک نہ آیا ”فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ“ تو اس اٹھانے والے کو چاہیے کہ اسے صدقہ کر دے۔ تو معلوم ہوا شریعت نے لقطے کو صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ اب پھر متن پر آئیے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّصَدُّقَ وَإِنْ حَصَلَ بِإِذْنِ الشَّرْعِ لَمْ يَحْصُلْ بِإِذْنِهِ فَيَتَوَقَّفُ عَلَى إِجَازَتِهِ“ اس لیے کیونکہ صدقہ کرنا اگرچہ شریعت کی اجازت سے ہوا ہے لیکن اس مالک کی اجازت سے تو نہیں ہوا، تو یہ موقوف رہے گا مالک کی اجازت پر ”وَالْمِلْكُ يَثْبُتُ لِلْفَقِيرِ قَبْلَ الْإِجَازَةِ فَلَا يَتَوَقَّفُ عَلَى قِيَامِ الْمَحَلِّ“ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہاں یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ صدقہ مالک کی اجازت پر موقوف ہے تو ابھی تک فقیر اس کا مالک نہیں بنا، اور جب فقیر اس کا مالک نہیں بنا، اب اجازت کے بعد مالک بنے گا تو ضروری ہے کہ وہ چیز فقیر کے پاس ابھی بھی موجود ہو، ابھی ہلاک نہ ہوئی ہو، ابھی ہلاک نہ ہوئی ہو، اگر وہ چیز فقیر کے پاس ہلاک ہو چکی ہے یا وہ اس کو خرچ کر چکا ہے تو پھر اجازت دینے کا کیا معنی؟ جب وہ چیز ہی نہیں ہے جس کی اجازت دی جا رہی ہے تو پھر یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جیسے فضولی کی بیع بھئی، آپ کو میں نے بتلایا تھا فضولی کہتے ہیں زائد شخص کو جس کا کسی ایک چیز سے تعلق نہیں ہے۔ مثلاً آپ کی گاڑی ہے، آپ اس گاڑی کو بیچنا چاہیں تو بیچ سکتے ہیں، کسی اور کو یہ گاڑی بیچنے کی اجازت نہیں کیونکہ یہ آپ کی مملوکہ ہے، لیکن آپ کے ایک دوست نے آپ کو بتائے بغیر ہی آپ کی گاڑی کسی کو بیچ دی، تو اس کو کہیں گے بیعِ فضولی، کیونکہ وہ یہ گاڑی کا نہ وہ مالک ہے، نہ وہ آپ کی طرف سے وکیل ہے، تو یہ فضولی کی بیع ہے۔ اور آپ کو اس بیع کا پتہ چلا تو آپ اس بیع کی اجازت دیں گے تو یہ بیع نافذ ہو جائے گی، آپ اجازت نہیں دیں گے تو بیع باطل ہو جائے گی، ختم ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ تو فضولی کی بیع جو ہے وہ بھی مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، لیکن اس میں ضروری ہے جس وقت مالک اجازت دے وہ مبیع موجود ہونا چاہیے، اگر وہ مبیع ہی ختم ہو چکا ہے تو پھر مالک کی اجازت دینے سے بھی وہ بیع منعقد نہیں ہوگی۔ تو جیسے فضولی کی بیع جو ہے وہ مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے اور مالک کی اجازت کے بعد وہ دوسرا آدمی مالک بنتا ہے، لہٰذا جب دوسرا آدمی اجازت کے بعد مالک بن رہا ہے تو معلوم ہوا اس وقت اس مبیع کا موجود ہونا ضروری ہے، پھر ہی مالک بنے گا، جب ختم ہو چکی ہے پھر مالک کس چیز کا بنے گا؟ تو لہٰذا یہاں پر بھی اگر یہ صدقہ جو ہے مالک کی اجازت پر موقوف ہے تو پھر مالک کی اجازت کے بعد فقیر مالک بنے گا، لہٰذا اس وقت ضروری ہے کہ وہ چیز وہ لقطہ موجود ہونا چاہیے فقیر کے پاس، پھر ہی وہ مالک بنے گا۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، یہاں پر شریعت کی طرف سے اجازت تھی، لہٰذا فقیر کو جب صدقہ دیا، فقیر اسی وقت مالک بن گیا۔ ہاں، ابھی اصل مالک کی طرف سے اجازت نہیں، فقیر مالک تو بنا ہے لیکن یہ ملکیت لازم نہیں ہے۔ مالک آجائے تو واپس لے سکتا ہے۔ فقیر مالک بن گیا لیکن یہ ملکیت لازم نہیں، مالک آ کر واپس لے سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا فقیر مالک کے اجازت دینے سے پہلے ہی مالک بن چکا ہے، لہٰذا جب مالک اجازت دے تو اس وقت اس لقطے کا ہونا ضروری نہیں کیونکہ فقیر پہلے سے ہی مالک بن چکا ہے بھئی، اگرچہ یہ ملکیت لازم نہیں تھی لیکن بہرحال مالک تو بن چکا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمِلْكُ يَثْبُتُ لِلْفَقِيرِ قَبْلَ الْإِجَازَةِ“ اور یہ ملکیت جو ہے ثابت ہو جاتی ہے فقیر کے لیے اس لقطے کے مالک کی اجازت سے پہلے ہی ”فَلَا يَتَوَقَّفُ عَلَى قِيَامِ الْمَحَلِّ“ لہٰذا یہ اجازت موقوف نہیں ہے اس محل کی موجودگی پر، یعنی اس لقطے کی موجودگی پر یہ اجازت موقوف نہیں ہے۔ محل سے کیا مراد ہے؟ وہ جو صدقہ کیا ہے فقیر پر وہ جو لقطہ ہے بھئی۔ تو ”فَلَا يَتَوَقَّفُ عَلَى قِيَامِ الْمَحَلِّ“ لہٰذا یہ اجازت جو ہے اس محل کی موجودگی یعنی اس لقطے کی موجودگی پر موقوف نہیں ہے ”بِخِلَافِ بَيْعِ الْفُضُولِيِّ“ بخلاف فضولی کی بیع کے ”لِثُبُوتِهِ بَعْدَ الْإِجَازَةِ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر ملکیت اجازت کے بعد ثابت ہوتی ہے، لہٰذا وہاں پر مبیع کا اجازت کے وقت موجود ہونا وہ ضروری ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَ الْمُلْتَقِطَ“ اور اگر مالک چاہے تو اٹھانے والے کو ضامن بنا دے، اس سے ضمان لے لے ”لِأَنَّهُ سَلَّمَ مَالَهُ إِلَى غَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ“ اس لیے کیونکہ اس ملتقط نے مالک کے مال کو دوسرے کے حوالے کر دیا ہے مالک کی اجازت کے بغیر ہی ”إِلَّا أَنَّهُ بِإِبَاحَةٍ مِنْ جِهَةِ الشَّرْعِ“۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شریعت کی طرف سے جب اجازت تھی صدقہ کرنے کی تو پھر ضمان کیوں آئے گا اس پر؟ کہتے ہیں: شریعت کی طرف سے اجازت تھی، کوئی شریعت نے لازم نہیں کیا تھا۔ یہ اپنے پاس لقطہ روک بھی سکتا تھا اور صدقہ بھی کر سکتا تھا، تو شریعت نے صدقہ کرنا مباح کیا تھا، اور شریعت ایک چیز کو لازم نہ کرے بلکہ صرف جائز کرے تو اس کے ساتھ ضمان جمع ہو سکتا ہے۔ جیسے شدید بھوک کی حالت میں ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا جائز ہو جاتا ہے اپنی جان بچانے کے لیے، شریعت نے اس کے لیے وہ مال ہی مباح کر دیا ہے، لیکن پھر بھی ضمان دینا پڑتا ہے، دوسرے کا مال کھایا ہے، زندگی تو بچ گئی، دوسرے کو اب اس کے مال کا ضمان دینا پڑے گا، تو شریعت کے کسی چیز کو مباح کرنے کے ساتھ ضمان جمع ہو سکتا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَ الْمُلْتَقِطَ“ اور اگر مالک چاہے تو اس اٹھانے والے کو ضامن بنا دے ”لِأَنَّهُ سَلَّمَ مَالَهُ إِلَى غَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ“ اس لیے کیونکہ اس ملتقط نے اس کا مال کسی دوسرے کے سپرد کر دیا ہے اس مالک کی اجازت کے بغیر ہی ”إِلَّا أَنَّهُ بِإِبَاحَةٍ مِنْ جِهَةِ الشَّرْعِ“ مگر یہ کہ یہ اس کا سپرد کرنا شریعت کی جانب سے مباح کر دینے کی وجہ سے تھا، شریعت کی طرف سے اجازت کی وجہ سے تھا ”وَهَذَا لَا يُنَافِي الضَّمَانَ حَقًّا لِلْعَبْدِ“ اور یہ بطور بندے کے حق کے ضمان کے منافی نہیں ہے، شریعت کی طرف سے ایک چیز کو مباح کر دینا یہ بطور بندے کے حق کے ضمان کے منافی نہیں ہے، ضمان بھی وہاں آ سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لَا يُنَافِي الضَّمَانَ“ اور شریعت کا یہ مباح کر دینا یہ ضمان کے منافی نہیں ہے ”حَقًّا لِلْعَبْدِ“ بطور بندے کے حق کے، کہ بطور بندے کے حق کے اس پر ضمان آ جائے ”كَمَا فِي تَنَاوُلِ مَالِ الْغَيْرِ حَالَةَ الْمَخْمَصَةِ“ جیسے کہ غیر کا مال کھا لینا بھوک کی حالت میں، شریعت نے مباح کیا ہے لیکن اس میں بھی ضمان آتا ہے۔ ”وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَ الْمِسْكِينَ“ اور اگر چاہے تو وہ مالک جو ہے اس مسکین یعنی فقیر کو ضامن بنا دے ”إِذَا هَلَكَ فِي يَدِهِ“ جب وہ لقطہ اس فقیر کے قبضے میں ہلاک ہو جائے ”لِأَنَّهُ قَبَضَ مَالَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ“ اس لیے کیونکہ فقیر نے اس مالک کے مال پر اس کی اجازت کے بغیر قبضہ کیا تھا ”وَإِنْ كَانَ قَائِمًا أَخَذَهُ“ اور اگر وہ لقطہ ابھی بھی اس فقیر کے پاس موجود ہے ”أَخَذَهُ“ تو اس کو لے لے گا ”لِأَنَّهُ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ“ اس لیے کیونکہ مالک نے عین اپنے مال کو پا لیا ہے، تو اس کو لے سکتا ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ فقیر سے ضمان لیا جا رہا ہے، فقیر کو تو اس اٹھانے والے نے چیز دی تھی، معلوم ہوا اس نے فقیر کو دھوکا دیا ہے، تو میں نے جواب ذکر کر دیا کہ اس کی جانب سے کوئی دھوکا نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اس نے کوئی عقد وغیرہ کر کے فقیر کو یہ مال نہیں دیا تھا، ویسے ہی دیا تھا، لہٰذا فقیر ضمان دینے کے بعد اس ملتقط پر رجوع نہیں کر سکتا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَيَجُوزُ الِالْتِقَاطُ فِي الشَّاةِ وَالْبَقَرِ وَالْبَعِيرِ“ بھئی اگر کسی کو صحرا کے اندر کوئی اونٹ، بکری، گائے، بیل وغیرہ مل جاتے ہیں تو کیا یہ بھی لقطہ ہیں؟ کیا ان کو بھی مالک تک پہنچانے کی نیت سے رکھنا جائز ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ہمارے نزدیک جائز ہے۔ البتہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو چیزیں اپنی حفاظت خود کر سکتی ہیں جیسے گائے ہے، اونٹ ہے، گھوڑا وغیرہ، یہ کسی حد تک اپنی حفاظت خود کر سکتے ہیں، لہٰذا ان کو پکڑنا یہ مکروہ ہے بھئی، مکروہِ تحریمی ہے بھئی۔ اور جو چیز اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتی اور اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، مثلاً بکری وغیرہ ہے کہ اسے بھیڑیے وغیرہ یا کوئی چیزیں کھا لیں گی تو وہ لقطہ کے حکم میں ہے، اس کو حفاظت کی نیت سے پکڑا جا سکتا ہے۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَجُوزُ الِالْتِقَاطُ فِي الشَّاةِ وَالْبَقَرِ وَالْبَعِيرِ“ اور التقاط جائز ہے، یعنی اٹھانا پکڑنا جائز ہے ”فِي الشَّاةِ“ بھیڑ بکری میں ”وَالْبَقَرِ“ اور گائے بیل میں ”وَالْبَعِيرِ“ اور اونٹ کے اندر۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ”إِذَا وُجِدَ الْبَعِيرُ وَالْبَقَرُ فِي الصَّحْرَاءِ“ کہ جب صحرا کے اندر کوئی اونٹ یا گائے بیل وغیرہ ملیں ”فَالتَّرْكُ أَفْضَلُ“ تو ان کو چھوڑنا افضل ہے ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْفَرَسُ“ اور اسی اختلاف پر گھوڑا بھی ہے۔ ”لَهُمَا“ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْأَصْلَ فِي أَخْذِ مَالِ الْغَيْرِ الْحُرْمَةُ“ کہ غیر کے مال کو لینے میں اصل جو ہے وہ حرمت ہے، اصل کیا ہے؟ غیر کا مال لینا حرام ہے۔ تو ”لَهُمَا أَنَّ الْأَصْلَ فِي أَخْذِ مَالِ الْغَيْرِ الْحُرْمَةُ“ امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ غیر کا مال لینے میں اصل جو ہے ”الْحُرْمَةُ“ وہ حرام ہونا ہے ”وَالْإِبَاحَةُ مَخَافَةَ الضَّيَاعِ“ اور اباحت اس چیز کے ضائع ہونے کے خوف سے ہوتی ہے ”وَإِذَا كَانَ مَعَهَا مَا يَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا“ اور جب اس لقطے کے ساتھ ایسی چیز موجود ہے جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کر سکتا ہے، جب لقطے کے ساتھ ایسی چیز موجود ہے کہ وہ اپنا دفاع کر سکتا ہے، تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ مَعَهَا مَا يَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا“ اور جب اس لقطے کے ساتھ ایسی چیز موجود ہے جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کر سکتا ہے یعنی اپنا بچاؤ کر سکتا ہے ”يَقِلُّ الضَّيَاعُ“ تو ضائع ہونا کم ہو جاتا ہے، اب ضائع ہونے کا احتمال کم ہو جاتا ہے ”وَلَكِنَّهُ يُتَوَهَّمُ“ لیکن اس کا وہم ہوتا ہے، ضائع ہونے کا احتمال کم ہو گیا اگرچہ اب بھی وہم ہے لیکن کم احتمال ہے۔ ”فَيُقْضَى بِالْكَرَاهَةِ“ تو فیصلہ کیا جائے گا کراہت کا، اس پکڑنے کے مکروہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا ”وَالنَّدْبِ إِلَى التَّرْكِ“ ”نَدَبَ يَنْدُبُ“ کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کی طرف دعوت دینا، مستحب کو بھی مندوب کہتے ہیں کیونکہ اس کے بھی کرنے کی دعوت دی جاتی ہے کہ ایسا کرنا بہتر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُقْضَى بِالْكَرَاهَةِ وَالنَّدْبِ إِلَى التَّرْكِ“ تو فیصلہ کیا جائے گا کراہت کا اور ترک کی طرف دعوت دینے کا، یعنی اس کا چھوڑنا مندوب اور مستحب ہوگا اور پکڑنا مکروہ ہوگا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَيُقْضَى بِالْكَرَاهَةِ وَالنَّدْبِ إِلَى التَّرْكِ“ تو پکڑنے کے مکروہ ہونے کا اور چھوڑنے کے مندوب ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهَا لُقَطَةٌ يُتَوَهَّمُ ضَيَاعُهَا“ کہ یہ جانور جو ہیں یہ بھی ایسا لقطہ ہیں کہ ان کے ضائع ہونے کا وہم ہوتا ہے ”فَيُسْتَحَبُّ أَخْذُهَا وَتَعْرِيفُهَا“ لہٰذا ان کو پکڑنا اور ان کی تشہیر کرنا یہ مستحب ہے ”صِيَانَةً لِأَمْوَالِ النَّاسِ“ لوگوں کے مالوں کی حفاظت کرنے کے لیے ”كَمَا فِي الشَّاةِ“ جیسے کہ بھیڑ بکری میں ہے۔ بھیڑ بکری کے اندر تو آپ بھی کہتے ہیں کہ ان کو پکڑنا حفاظت کی نیت سے جائز ہے، تو یہ گائے بیل وغیرہ بھی اسی کی طرح ہو گئے۔ ”فَإِنْ أَنْفَقَ الْمُلْتَقِطُ عَلَيْهَا“ اب یہ جو لقطہ ہے اگر یہ جانور ہے کوئی تو اس پر وہ خرچہ کرتا ہے چارہ وغیرہ اس کو کھلاتا ہے تو آپ کو بتلائیں گے، اگر اس ملتقط نے قاضی اور حاکم کی اجازت کے بغیر اس جانور پر خرچہ کیا ہے تو یہ متبرع ہے۔ متبرع میں نے آپ کو بتلایا تھا تبرع کہتے ہیں اپنی طرف سے کوئی چیز دینا جو کسی پر لازم نہ ہو، تو گویا یہ اپنی جیب سے ویسے ہی خرچہ کر رہا ہے، یہ مالک کے ذمے دین نہیں ہے، مالک کے ذمے دین نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ أَنْفَقَ الْمُلْتَقِطُ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنِ الْحَاكِمِ فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ“ اور اگر ملتقط نے اس لقطے پر خرچ کیا حاکم کی اجازت کے بغیر ہی تو یہ خرچ کرنے والا اس میں متبرع ہے ”لِقُصُورِ وِلَايَتِهِ عَنْ ذِمَّةِ الْمَالِكِ“ اس لیے کیونکہ اس کی ولایت ناقص ہے مالک کے ذمے سے، یعنی یہ ملتقط اس جانور پر خرچ کر رہا ہے تو مالک کے ذمے یہ قرض لازم نہیں کر سکتا کیونکہ اس کو مالک کے ذمے کی ولایت حاصل نہیں ہے، یہ معنی ہے ”لِقُصُورِ وِلَايَتِهِ عَنْ ذِمَّةِ الْمَالِكِ“ بوجہ اس کی ولایت کے ناقص ہونے کے اس چیز کے مالک کے ذمے سے، کہ اس مالک کے ذمے کسی ولایت حاصل نہیں، یہ اس پر قرضے کو لازم نہیں کر سکتا کہ میں نے تمہارے جانور پر خرچ کیا ہے اب تمہیں وہ دینا پڑے گا، نہیں بھئی، یہ اس پر قرضے کو لازم نہیں کر سکتا، ہاں مالک کو اخلاقاً دینے چاہئیں بھئی، لیکن یہ لازم نہیں کر سکتا، جبراً نہیں لے سکتا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ أَنْفَقَ بِأَمْرِهِ“ اور اگر یہ ملتقط نے حاکم کے حکم سے اس جانور پر خرچ کیا ہے ”كَانَ ذَلِكَ دَيْنًا عَلَى صَاحِبِهَا“ تو یہ خرچہ جو ہے یہ اس لقطے کے مالک پر دین ہوگا ”لِأَنَّ لِلْقَاضِي وِلَايَةً فِي مَالِ الْغَائِبِ“ اس لیے کیونکہ قاضی کو ولایت ہوتی ہے غائب آدمی کے مال میں ”نَظَرًا لَهُ“ اس پر شفقت کرتے ہوئے، اس کی رعایت رکھتے ہوئے ”وَقَدْ يَكُونُ النَّظَرُ فِي الْإِنْفَاقِ عَلَى مَا نُبَيِّنُ“ اور کبھی کبھار جو رعایت اور شفقت ہوتی ہے وہ خرچ کرنے میں ہوتی ہے اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے۔ بعض اوقات شفقت کس میں ہوتی ہے؟ خرچ کرنے میں۔ قاضی اس کو اجازت دے دے دو تین دن تک اس جانور پر خرچ کرو اور مالک کا انتظار کرو، اگر دو تین دن تک مالک نہیں آتا پھر قاضی اس کو حکم دے دے گا کہ اس چیز کو بیچ دو اور پیسے محفوظ رکھ لو، جب مالک آئے تو اس کے حوالے کر دینا، اور یہ دو تین دن جو اس نے خرچہ کیا ہے قاضی کے کہنے پر تو پھر وہ جو چیز بیچے گا اسی کے ثمن میں سے اپنا دین وصول کر لے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَكُونُ النَّظَرُ فِي الْإِنْفَاقِ عَلَى مَا نُبَيِّنُ“ اور کبھی کبھار جو شفقت ہوتی ہے وہ اس لقطے پر خرچ کرنے میں ہوتی ہے ”عَلَى مَا نُبَيِّنُ“ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے، یہ دو تین سطروں کے بعد ہی صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا رُفِعَ ذَلِكَ إِلَى الْحَاكِمِ نَظَرَ فِيهِ“ بھئی اگر یہ مسئلہ حاکم کے پاس لے جایا گیا، ایک آدمی نے کہا مجھے اونٹ یا گائے ملی ہے، تو حاکم اس کے اندر غور کرے گا، اگر اس جانور سے کوئی کام لیا جا سکتا ہے، اسے کوئی کرائے پر دیا جا سکتا ہے، پھر تو حاکم اس کو کرائے پر دے دے، اس صورت میں جو کرایہ آئے گا اسی کے ذریعے جانور کا خرچہ پورا ہوتا رہے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا رُفِعَ ذَلِكَ إِلَى الْحَاكِمِ نَظَرَ فِيهِ“ اور جب یہ لقطے کا معاملہ حاکم تک لے جایا گیا تو حاکم اس کے اندر غور و فکر کرے گا ”فَإِنْ كَانَ لِلْبَهِيمَةِ مَنْفَعَةٌ آجَرَهَا“ اور اگر اس چوپائے کا کوئی فائدہ ہے تو اس کو کرائے پر دے دے گا حاکم ”وَأَنْفَقَ عَلَيْهَا مِنْ أُجْرَتِهَا“ اور اس پر خرچ کرے گا اسی کی اجرت اور کرائے میں سے ”لِأَنَّ فِيهِ إِبْقَاءَ الْعَيْنِ عَلَى مِلْكِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اس عین کو باقی رکھنا ہے، اس چیز کو باقی رکھنا ہے ”عَلَى مِلْكِهِ“ اسی مالک کی ملکیت پر ”مِنْ غَيْرِ إِلْزَامِ الدَّيْنِ عَلَيْهِ“ بغیر اس پر دین کو لازم کیے۔ اس کے اندر بھئی مالک کا فائدہ ہے کہ اس کی چیز اسی طرح محفوظ رہے گی اور اس کے اوپر دین بھی لازم نہیں آئے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ فِيهِ إِبْقَاءَ الْعَيْنِ عَلَى مِلْكِهِ مِنْ غَيْرِ إِلْزَامِ الدَّيْنِ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اس چیز کو باقی رکھنا ہے اسی مالک کی ملکیت پر بغیر اس پر کوئی دین لازم کیے ”وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْعَبْدِ الْآبِقِ“ اور اسی طرح حاکم کرے بھاگے ہوئے غلام کے بارے میں۔ اگر کسی کا کوئی غلام بھاگ گیا ہے اور وہ کسی نے پکڑ لیا اور حاکم کے پاس لے آیا کہ یہ کسی کا بھاگا ہوا غلام ہے تو اب اس غلام کو اگر اجارے پر دیا جا سکتا ہے تو اجارے پر اور خدمت کے لیے دے دیا جائے گا اور اسی آمدنی سے غلام پر خرچ کیا جائے گا اور پھر مالک تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْعَبْدِ الْآبِقِ“ اور اسی طرح کرے گا حاکم بھاگے ہوئے غلام میں۔ ”أَبَقَ يَأْبِقُ“ کا معنی ہے بھاگ جانا، تو آبق وہ بھاگا ہوا غلام۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْعَبْدِ الْآبِقِ“ اور اسی طرح حاکم کرے گا بھاگے ہوئے غلام میں۔ ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا مَنْفَعَةٌ“ اور اگر اس چوپائے کا کوئی فائدہ نہیں، جو کسی کو لقطہ ملا ہے اونٹ یا گائے وہ جانور جو ملا ہے، تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا مَنْفَعَةٌ“ اور اگر اس چوپائے کا کوئی فائدہ نہیں یعنی اسے اجارے پر نہیں دیا جا سکتا جیسے بھیڑ بکری وغیرہ ہے ”وَخَافَ أَنْ تَسْتَغْرِقَ النَّفَقَةُ قِيمَتَهَا“ اور حاکم کو یہ خوف ہے کہ نفقہ گھیر لے گا اس کی قیمت کو، کہ اگر اس پر خرچ کیا جائے گا تو اس کے تو خرچہ اس کی اپنی قیمت سے بھی بڑھ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَخَافَ أَنْ تَسْتَغْرِقَ النَّفَقَةُ قِيمَتَهَا“ اور حاکم کو یہ خوف ہے کہ اس کا نفقہ جو ہے وہ اس کی قیمت کو گھیر لے گا ”بَاعَهَا“ تو حاکم اس کو بیچ دے ”وَأَمَرَ بِحِفْظِ ثَمَنِهَا“ اور اس کے ثمن محفوظ کرنے کا حکم دے دے ”إِبْقَاءً لَهُ مَعْنًى عِنْدَ تَعَذُّرِ إِبْقَائِهِ صُورَةً“ اس چیز کو معنیٰ کے اعتبار سے باقی رکھنے کے لیے جب صورۃً اس کو باقی رکھنا مشکل تھا۔ بھئی صورت کے اعتبار سے تو بکری کو ہم نہ رکھ سکے اس کو بیچ دیں گے لیکن اس کی قیمت جو ہے وہ بھی اسی بکری کے مثل ہے معنیٰ کے اعتبار سے، تو گویا معنیٰ کے اعتبار سے وہ چیز ابھی بھی محفوظ ہے۔ یہ معنی ہے کہ اس کے ثمن کی حفاظت کا حکم دے دے گا ”إِبْقَاءً لَهُ مَعْنًى“ اس چیز کو معنیٰ کے اعتبار سے باقی رکھنے کے لیے یعنی مالیت کے اعتبار سے باقی رکھنے کے لیے ”عِنْدَ تَعَذُّرِ إِبْقَائِهِ صُورَةً“ جس وقت صورۃً اس کو باقی رکھنا ممکن نہ رہے، تو صورۃً ممکن نہیں ہے تو معنًی یعنی مالیت کے اعتبار سے اس کو باقی رکھا جائے گا۔ ”وَإِنْ كَانَ الْأَصْلَحُ الْإِنْفَاقَ عَلَيْهَا“ بھئی دیکھیے، صاحبِ ہدایہ نے دو سطریں پہلے وعدہ کیا تھا کہ بعض اوقات جانور پر خرچ کرنے میں شفقت ہوتی ہے اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْأَصْلَحُ الْإِنْفَاقَ عَلَيْهَا“ اور اگر زیادہ بہتر جو ہے اس لقطے پر خرچ کرنا ہو ”أَذِنَ فِي ذَلِكَ“ تو قاضی اس کی اجازت دے دے گا ”وَجَعَلَ النَّفَقَةَ دَيْنًا عَلَى مَالِكِهَا“ اور وہ جو خرچہ ہے وہ مالک پر دین قرار دے دے گا، اس خرچے کو مالک پر دین بنا دے گا ”لِأَنَّهُ نُصِبَ نَاظِرًا“ اس لیے کیونکہ حاکم کو مقرر کیا گیا ہے ناظراً، شفقت کرنے والا بنا کر، کہ وہ لوگوں پر شفقت کرتا ہے ان کی جان، مال اور عزت کا خیال رکھتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ نُصِبَ نَاظِرًا“ اس لیے کیونکہ حاکم کو شفقت کرنے والے کے طور پر مقرر کیا گیا ہے ”وَفِي هَذَا نَظَرٌ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اور اس کے اندر دونوں جانب کی رعایت ہے۔ دونوں جانب کی رعایت ہے، جب اس جانور پر خرچ کرنے کا قاضی نے حکم دے دیا کہ یہ مالک پر دین ہو جائے گا تو مالک کی بھی رعایت ہو گئی، اس کا جانور محفوظ رہے گا، اور جو اس پر خرچ کر رہا ہے اس کی بھی رعایت ہو گئی کہ اسے اس کا مال بعد میں مل جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَفِي هَذَا نَظَرٌ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اور اس کے اندر دونوں جانب کی رعایت ہے۔ ”قَالُوا: إِنَّمَا يَأْمُرُ بِالْإِنْفَاقِ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى“ فقہاء فرماتے ہیں کہ قاضی دو تین دن تک خرچ کرنے کا حکم دے گا، زیادہ کا نہیں، کیونکہ اگر زیادہ عرصے تک اس جانور پر خرچہ کیا جائے گا پھر تو وہ خرچہ جانور کی اصل قیمت سے بھی بڑھ جائے گا، تو جانور تو گویا بالکل ہلاک ہی ہو گیا بھئی۔ ”قَالُوا: إِنَّمَا يَأْمُرُ بِالْإِنْفَاقِ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ فقہاء فرماتے ہیں کہ قاضی حکم دے خرچ کرنے کا دو دن یا تین دن کا ”عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى“ جتنی قاضی کی رائے ہو ”رَجَاءَ أَنْ يَظْهَرَ مَالِكُهَا“ یہ امید کرتے ہوئے کہ اس کا مالک ظاہر ہو جائے ”فَإِذَا لَمْ يَظْهَرْ يَأْمُرُ بِبَيْعِهَا“ جب اس کا مالک ظاہر نہ ہوا تو قاضی حکم دے دے گا اس لقطے کو بیچنے کا ”لِأَنَّ دَارَّةَ النَّفَقَةِ مُسْتَأْصِلَةٌ“ بھئی ”دَرَّ يَدُرُّ“ اور ”دَرَّ يَدِرُّ“ اسی سے اسمِ فاعل ہے ”دَارَّةٌ“ بھئی، اسمِ فاعل ہے مؤنث ہے، گول تا بھی ہے آخر میں، اور ”دَرَّ يَدُرُّ“ اور ”دَرَّ يَدِرُّ“ کا معنی ہے کثیر ہونا۔ اور ”مُسْتَأْصِلَةٌ“ ”اِسْتَأْصَلَ يَسْتَأْصِلُ“ کے معنی ہے کسی چیز کو ہلاک کر دینا، ختم کر دینا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ دَارَّةَ النَّفَقَةِ“ اس لیے کیونکہ نفقے کا کثیر ہو جانا ”مُسْتَأْصِلَةٌ“ یہ تو اس جانور کو ہی ہلاک کر دے گا، اس کی ساری قیمت ختم ہو جائے گی، تو مالک کا تو نقصان ہوگا۔ ”فَلَا نَظَرَ فِي الْإِنْفَاقِ مُدَّةً مَدِيدَةً“ لہٰذا کوئی شفقت نہیں ہے لمبی مدت تک خرچ کرنے میں۔ ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اس ”قَالَ“ سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَفِي الْأَصْلِ“ اصل سے مراد مبسوط ہے ”وَفِي الْأَصْلِ شَرَطَ إِقَامَةَ الْبَيِّنَةِ“ اور مبسوط کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے بینہ قائم کرنے کی شرط لگائی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص قاضی کے پاس کوئی جانور لے آیا کہ یہ مجھے ملا ہے، تو قاضی فوراً ہی اس پر خرچ کرنے کا حکم نہ دے بلکہ قاضی اس سے بینہ طلب کرے، قاضی اس سے بینہ طلب کرے، وجہ یہ کہ اس نے جب جانور کو پکڑا تو دونوں احتمال ہیں، ہو سکتا ہے اس نے مالک کو دینے کا ارادہ کیا ہو، اگر مالک کو دینے کا ارادہ تھا تو اس کو گواہ بنانے چاہیے تھے ہم نے پہلے بتایا تھا، اور اگر مالک کو دینے کا ارادہ نہیں تو معلوم ہوا یہ غاصب ہے، لہٰذا قاضی اس سے گواہ طلب کرے کہ گواہ لے کر آؤ تم نے مالک کے لیے اس چیز کو اٹھایا تھا، تو گواہ اگر یہ لے آئے گا معلوم ہوا یہ چیز اس نے بطور امانت کے اٹھائی ہے لہٰذا قاضی اس پر خرچ کرنے کا حکم دے دے گا، لیکن اگر گواہ نہیں لا سکا معلوم ہوا اس نے چیز کو اپنے لیے اٹھایا ہے، اور اگر اس نے اپنے لیے اٹھایا ہے پھر تو یہ غاصب ہوا، اور غصب کے اوپر تو قاضی خرچ کرنے کا حکم نہیں دے سکتا۔ تو ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: وَفِي الْأَصْلِ شَرَطَ إِقَامَةَ الْبَيِّنَةِ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں اور مبسوط کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے بینہ قائم کرنے کی شرط لگائی ہے ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ اور یہی صحیح ہے ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ غَصْبًا فِي يَدِهِ“ اس لیے کیونکہ احتمال ہے کہ یہ اس کے ہاتھ میں غصب ہو یعنی اس نے اس جانور کو اپنے لیے پکڑا ہو ”وَلَا يَأْمُرُ فِيهِ بِالْإِنْفَاقِ“ اور غصب کے اندر تو قاضی خرچ کرنے کا حکم نہیں دے سکتا ”وَإِنَّمَا يَأْمُرُ بِهِ فِي الْوَدِيعَةِ“ اور قاضی خرچ کرنے کا حکم جو ہے وہ تو ودیعت یعنی امانت میں دے سکتا ہے ”فَلَا بُدَّ مِنَ الْبَيِّنَةِ لِكَشْفِ الْحَالِ“ لہٰذا بینہ کا ہونا ضروری ہے حالت کو کھولنے کے لیے تاکہ صورتِ حال کا پتہ چل جائے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنَ الْبَيِّنَةِ لِكَشْفِ الْحَالِ“ تو اس کی حالت کھولنے کے لیے بینہ کا ہونا ضروری ہے ”وَلَيْسَتِ الْبَيِّنَةُ تُقَامُ لِلْقَضَاءِ“ اور یہ بینہ جو ہے قاضی کے فیصلے کے لیے قائم نہیں کی جائے گی، یہ بینہ جو قائم کی جا رہی ہے یہ قاضی کے فیصلے کے لیے نہیں ہے بلکہ کشفِ حال کے لیے ہے تاکہ معاملے کا پتہ چل جائے کہ یہ چیز اس نے اپنے لیے پکڑی تھی یا مالک کے لیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَتِ الْبَيِّنَةُ تُقَامُ لِلْقَضَاءِ“ اور یہ بینہ جو ہے یہ قاضی کے فیصلے کے لیے قائم نہیں کی جا رہی۔ ”وَإِنْ قَالَ: لَا بَيِّنَةَ لِي“ اور اگر اس شخص نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی بینہ نہیں ہے ”يَقُولُ الْقَاضِي لَهُ: أَنْفِقْ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فِيمَا قُلْتَ“ تو قاضی اس سے کہے گا ”أَنْفِقْ عَلَيْهِ“ کہ تو اس پر خرچ کر ”إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فِيمَا قُلْتَ“ اگر تو سچا ہے اس میں جو تو نے کہا ہے۔ یعنی قاضی اس سے کیا کہے گا کہ اگر تو نے جو کہا ہے اگر تو سچا ہے تو اس کے اوپر خرچ کر۔ تو دیکھو یہاں پر بھی جب اس کے پاس بینہ نہیں ہے تو قاضی اسے خرچ کرنے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ معاملہ اسی کے اوپر ڈال رہا ہے اگر تو نے سچ کہا ہے تو اس کے اوپر خرچ کر، تو لہٰذا اب اس آدمی نے اگر مالک کے لیے پکڑا ہے تو وہ خرچ کرے گا اور پھر مالک پر رجوع کر لے گا، اور اگر اس نے اپنے لیے پکڑا تھا تو پھر وہ رجوع نہیں کر سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ: لَا بَيِّنَةَ لِي يَقُولُ الْقَاضِي لَهُ: أَنْفِقْ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فِيمَا قُلْتَ“ اور اگر اس نے کہا میری کوئی بینہ نہیں ہے تو قاضی اس سے کہے گا: اگر تو نے جو کہا ہے اس میں سچا ہے تو اس پر خرچ کر۔ ”أَنْفِقْ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فِيمَا قُلْتَ“ کہ اس لقطے پر خرچ کرو اگر تم سچے ہو اس بات میں جو تم نے کہی ہے، ”حَتَّى تَرْجِعَ عَلَى الْمَالِكِ إِنْ كَانَ صَادِقًا“ یہاں تک کہ وہ پھر مالک پر رجوع کرے گا اگر وہ سچا ہوا، ”وَلَا يَرْجِعَ إِنْ كَانَ غَاصِبًا“ اور وہ رجوع نہیں کر سکتا اگر وہ غاصب ہوا۔ ”وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ“، یہاں الکتاب سے مراد قدوری ہے۔ ”وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ“ اور صاحب قدوری کا جو قول آیا کتاب میں یعنی اوپر متن کے اندر، ”وَجَعَلَ النَّفَقَةَ دَيْنًا عَلَى صَاحِبِهَا“، یہ جو اوپر آخری متن گزرا تھا: ”وَإِنْ كَانَ الْأَصْلَحُ الْإِنْفَاقَ عَلَيْهَا“ اور اگر اس لقطے پر خرچ کرنا بہتر ہوا، ”أَذِنَ فِي ذَلِكَ“ قاضی اس کی اجازت دے گا، ”وَجَعَلَ النَّفَقَةَ دَيْنًا عَلَى مَالِكِهَا“ اور اس نفقے کو مالک پر دین قرار دے دے گا، تو اب اس کی وضاحت کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ“ اور صاحب قدوری کا قول جو ان کی کتاب مختصر میں آیا کہ ”وَجَعَلَ النَّفَقَةَ دَيْنًا عَلَى صَاحِبِهَا، إِشَارَةٌ“ اس قول کے اندر اشارہ ہے، ”إِلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَرْجِعُ عَلَى الْمَالِكِ بَعْدَمَا حَضَرَ“ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ملتقط جو ہے یہ مالک پر رجوع کرے گا ”بَعْدَمَا حَضَرَ“ بعد اس کے جب مالک حاضر ہو جائے، ”وَلَمْ تُبَعِ اللُّقَطَةُ“ اس حال میں کہ لقطہ بیچا نہ گیا ہو۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا اگر لقطہ بیچنے کی ضرورت پیش آ گئی تو پھر مالک پر رجوع نہیں کریں گے بلکہ اسی لقطے کے ثمن میں سے یہ اپنا دین وصول کر لے گا۔ توجہ ہے؟ یہ جو اوپر متن میں آیا کہ یہ ملتقط جو ہے مالک پر رجوع کر لے گا، یہ اس صورت میں ہے جب ابھی لقطہ نہ بیچا ہو اور مالک آ جائے تو پھر اب یہ مالک پر رجوع کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ جو صاحب قدوری کا قول تھا، ”إِشَارَةٌ“ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے، ”إِلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَرْجِعُ عَلَى الْمَالِكِ بَعْدَمَا حَضَرَ“ کہ یہ مالک پر رجوع کرے گا بعد اس کے کہ جب مالک حاضر ہو جائے، ”وَلَمْ تُبَعِ اللُّقَطَةُ“ اور لقطہ ابھی بیچا نہ گیا ہو پھر رجوع کرے گا۔ اور آگے دیکھیے بھئی، ”إِذَا شَرَطَ الْقَاضِي الرُّجُوعَ عَلَى الْمَالِكِ“، یہ ”إِذَا“ یہ متعلق ہے یہ جو ابھی چند لفظ پیچھے آیا تھا کہ اشارہ ہے ”إِلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَرْجِعُ عَلَى الْمَالِكِ“ کہ یہ مالک پر رجوع کر سکتا ہے۔ یہ مالک پر رجوع کر سکتا ہے کب؟ ”إِذَا شَرَطَ الْقَاضِي الرُّجُوعَ عَلَى الْمَالِكِ“ جب قاضی نے بھی مالک پر رجوع کی شرط لگائی ہو۔ بھئی اگر قاضی نے صرف یہ کہا کہ تم اس پر خرچ کرو، تو یاد رکھو اس صورت میں یہ مالک پر رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ قاضی نے یہ نہیں کہا کہ مالک پر دین ہوگا، تم بعد میں مالک سے لے لینا۔ تو اگر قاضی نے صرف خرچ کرنے کا کہا ہے تو پھر مالک پر رجوع نہیں کر سکتا۔ اور اگر قاضی نے رجوع کرنے کی بھی شرط لگائی ہے کہ تم اس جانور پر خرچ کرو بعد میں مالک سے لے لینا، تو اب یہ مالک پر رجوع کر سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ پیچھے انہوں نے ذکر کیا کہ امام قدوری رحمہ اللہ کا یہ جو قول ہے، اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ”أَنَّهُ إِنَّمَا يَرْجِعُ عَلَى الْمَالِكِ بَعْدَمَا حَضَرَ وَلَمْ تُبَعِ اللُّقَطَةُ“ کہ بعد اس کے کہ جب مالک حاضر ہو جائے اور لقطہ بیچا نہیں گیا تو یہ مالک پر رجوع کر سکتا ہے، ”إِذَا شَرَطَ الْقَاضِي الرُّجُوعَ عَلَى الْمَالِكِ“ جب قاضی نے مالک پر رجوع کی شرط لگائی ہو، ”وَهَذِهِ رِوَايَةٌ“ اور یہ ایک روایت ہے۔ ایک روایت کے مطابق تو قاضی نے صرف خرچ کرنے کا کہہ دیا تو پھر بھی مالک پر رجوع کر سکتا ہے، لیکن دوسری روایت کے مطابق اگر قاضی نے یہ شرط لگائی ہے کہ خرچ کرو اور پھر مالک سے لے لینا تو پھر ہی مالک پر رجوع کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذِهِ رِوَايَةٌ“ یہ ایک روایت ہے، ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہے، یعنی قاضی نے نہ کہا ہو پھر بھی رجوع کر سکتا ہے یہ روایت بھی صحیح ہے لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ قاضی نے کہا ہو تو پھر رجوع کر سکتا ہے۔ ”قَالَ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِذَا حَضَرَ يَعْنِي الْمَالِكَ“ کہ جب حاضر ہو جائے یعنی کہ مالک، ”فَلِلْمُلْتَقِطِ أَنْ يَمْنَعَهَا مِنْهُ حَتَّى يُحْضِرَ النَّفَقَةَ“۔ بھئی مالک آ گیا اس جانور کو لینے کے لیے، تو کیا ملتقط اس حیوان کو روک سکتا ہے نفقہ وصول کرنے کے لیے؟ کہتے ہیں: ہاں، ملتقط جو ہے اس لقطے کو روک سکتا ہے جب تک اپنا قرضہ وصول نہ کر لے، وہ جو اس نے اس پر مال خرچ کیا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِذَا حَضَرَ يَعْنِي الْمَالِكَ“ اور جب وہ حاضر ہو جائے یعنی کہ مالک، ”فَلِلْمُلْتَقِطِ أَنْ يَمْنَعَهَا مِنْهُ“ تو ملتقط کے لیے جائز ہے کہ اس لقطے کو مالک سے روک لے، ”حَتَّى يُحْضِرَ النَّفَقَةَ“ یہاں تک کہ مالک جو ہے وہ نفقہ حاضر کر دے۔ ”لِأَنَّهُ يَحْيَا بِنَفَقَتِهِ“ اس لیے کیونکہ لقطہ جو ہے وہ زندہ ہے ”بِنَفَقَتِهِ“ اس ملتقط کے نفقے کی وجہ سے، ”فَصَارَ كَأَنَّهُ اسْتَفَادَ الْمِلْكَ مِنْ جِهَتِهِ“، بھئی ادھر دیکھیے۔ یہ جو لقطہ ہے یہ اس ملتقط کے نفقے کی وجہ سے زندہ رہا ہے، اگر وہ نفقہ نہ دیتا تو یہ جانور مر جاتا۔ تو جب ملتقط یہ لقطہ مالک کو دے رہا ہے، تو یہ اسی طرح ہے گویا وہ مالک کو اس وقت اس چیز کا مالک بنا رہا ہے، مالک کو گویا نئی ملکیت مل رہی ہے اپنے لقطے پر۔ اس لیے کیونکہ یہ جو لقطہ زندہ رہا ہے یہ اس ملتقط کے خرچے کی وجہ سے زندہ رہا ہے، تو ملتقط جب یہ لقطہ مالک کے حوالے کر رہا ہے تو یوں سمجھو یہ نئی ملکیت مالک کو حاصل ہو رہی ہے۔ اگر ملتقط اس پر خرچہ نہ کرتا تو یہ تو ہلاک ہو گیا تھا، تو گویا ملتقط نے اس جانور کو زندگی دی ہے، اس نے اس کو زندہ کیا ہے، تو یہ جو مالک کو دے رہا ہے گویا مالک کو نئی ملکیت مل رہی ہے اپنے مال پر۔ تو یہ مبیع کی طرح ہو گیا۔ جیسے کوئی شخص کوئی چیز خریدتا ہے تو بیع کی وجہ سے اس کو مبیع پر ملکیت مل جاتی ہے، تو یہاں بھی یوں سمجھو گویا مالک کو اپنے لقطے پر نئی ملکیت مل رہی ہے۔ تو یہ کس کی طرح ہوا؟ مبیع کی طرح۔ اور جیسے مبیع کے اندر بائع کو حق ہوتا ہے وہ مبیع کو روک لے ثمن وصول کرنے کے لیے، توجہ ہے؟ جیسے ایک آدمی دوسرے سے بیع کرتا ہے تو ایجاب و قبول کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، اب مشتری کہتا ہے لاؤ بھئی ہم نے ایجاب اور قبول کر لیا، یہ مبیع میرے حوالے کرو، تو بائع کہہ سکتا ہے نہیں، تمہارے ذمے ثمن آ گئے ہیں، تم پہلے ثمن میرے حوالے کرو پھر میں مبیع تمہارے حوالے کروں گا۔ تو جیسے بائع کو ثمن کے لیے مبیع کو روکنے کا حق ہے، تو یہاں پر بھی یہ جو ملتقط ہے اس کی وجہ سے لقطے کو نئی زندگی ملی ہے اور مالک کو گویا اپنے لقطے پر نئی ملکیت مل رہی ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی یہ ملتقط اس لقطے کو روک سکتا ہے اپنا نفقہ وصول کرنے کے لیے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَحْيَا بِنَفَقَتِهِ“ اس لیے کیونکہ لقطہ جو ہے یہ زندہ ہے اس ملتقط کے نفقے کی وجہ سے، ”فَصَارَ كَأَنَّهُ اسْتَفَادَ الْمِلْكَ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ مالک نے ملکیت حاصل کی ہے، ”مِنْ جِهَتِهِ“ ملتقط کی طرف سے، مالک کو ملکیت مل رہی ہے ملتقط کی جانب سے، ”فَأَشْبَهَ الْمَبِيعَ“ تو یہ لقطہ جو ہے مبیع کے مشابہ ہو گیا، تو اس کے اندر بائع کو ثمن روکنے کا حق ہے تو یہاں پر بھی ملتقط کو لقطہ روکنے کا حق ہے اپنا نفقہ وصول کرنے کے لیے۔ ”وَأَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ رَادُّ الْآبِقِ“، آبق کہتے ہیں بھاگا ہوا غلام، ”رَادٌّ“ اسم فاعل ہے، ”رَدَّ يَرُدُّ“ کا معنی رد کرنا اور اس میں فاعل کیا آئے گا؟ ”رَادٌّ“ واپس کرنے والا۔ کہتے ہیں ”وَأَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ“ اور اس کے زیادہ قریب جو ہے، ”رَادُّ الْآبِقِ“ بھاگے ہوئے غلام کو واپس کرنے والا ہے۔ بھئی آگے بھاگے ہوئے غلام کے مسائل ذکر ہوں گے، کتاب الاباق آ رہی ہے ایک صفحے کے بعد بھئی، وہاں صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر کوئی شخص کسی کے غلام کو پکڑ کر لے آئے سفر کی مسافت سے، یعنی تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت سے کوئی شخص کسی کے غلام کو پکڑ کر لے آئے۔ ایک آدمی کا غلام بھاگ گیا تھا اور سفر کی مسافت یعنی تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت سے کوئی آدمی اس بھاگے ہوئے غلام کو پکڑ کر مالک کے پاس لاتا ہے تو یاد رکھو مالک کو اب اس کو خرچہ دینا پڑے گا، اور وہ چالیس درہم ہیں بھئی۔ کتنا دینا پڑے گا؟ چالیس درہم دینے پڑیں گے بھئی، اور وہ غلام کو واپس لانے والا وہ اس غلام کو روک سکتا ہے جب تک اپنے یہ چالیس درہم وصول نہ کر لے بھئی، توجہ ہے؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ کہتے ہیں: ”وَأَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ رَادُّ الْآبِقِ“ اور اس کے زیادہ قریب جو ہے وہ شخص ہے جو بھاگے ہوئے غلام کو واپس کرنے والا ہے، ”فَإِنَّ لَهُ الْحَبْسَ“ اس لیے کیونکہ اس واپس کرنے والے کو اس غلام کو روکنے کا حق ہے، ”لِاسْتِيفَاءِ الْجُعْلِ“، جعل کہتے ہیں مزدوری اور اجرت بھئی، ”لِاسْتِيفَاءِ الْجُعْلِ“ اپنی اجرت وصول کرنے کے لیے، ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، یعنی جس طرح یہ بھاگے ہوئے غلام کو لانے والا، اس کی وجہ سے مالک کو غلام مل گیا ورنہ تو غلام اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، یوں سمجھو اس کے لیے غلام ایک لحاظ سے ہلاک ہی ہو گیا تھا، تو اس لانے والے کی وجہ سے اس مالک کو گویا نئی ملکیت مل گئی غلام کے اوپر، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اس ملتقط کے نفقے کی وجہ سے اس لقطے کو گویا نئی زندگی مل گئی ہے بھئی، لہٰذا وہ لقطے کو روک سکتا ہے اپنا نفقہ وصول کرنے کے لیے۔ یہ معنی ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَإِنَّ لَهُ الْحَبْسَ“ اس لیے کیونکہ بھاگے ہوئے غلام کو واپس لانے والے کو اس غلام کو روکنے کا حق ہے، ”لِاسْتِيفَاءِ الْجُعْلِ“ اپنی اجرت وصول کرنے کے لیے، ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ اس کی وجہ سے نئی زندگی ملی ہے۔ ”ثُمَّ لَا يَسْقُطُ دَيْنُ النَّفَقَةِ بِهَلَاكِهِ فِي يَدِ الْمُلْتَقِطِ قَبْلَ الْحَبْسِ“، اچھا بھئی صورت یہ کہ مالک لقطہ کو لینے کے لیے آ گیا اور وہ لقطہ اس ملتقط کے پاس ہلاک ہو گیا، تو کیا اس پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ تو ہم پہلے بیان کر چکے کہ یہ اگر گواہ اس نے بنائے ہیں تو یہ امانت کے حکم میں ہے۔ لہٰذا اگر لقطے کو روکنے سے پہلے لقطہ اس کے پاس ہلاک ہوا ہے تو اس پر ضمان نہیں آئے گا، اور اگر اس کے روکنے کے بعد اس کے پاس ہلاک ہوا ہے تو پھر اس پر ضمان آئے گا۔ کیا معنی؟ معنی یہ ہے مالک آیا کہ لاؤ میرے جانور حوالے کرو، اور وہ کہتا ہے کہ نہیں پہلے میرا خرچہ دو پھر میں حیوان دوں گا، تو معلوم ہوا اس نے حیوان کو روک لیا، اب اگر اس کے پاس لقطہ ہلاک ہوا روکنے کے بعد، تو اس پر ضمان آئے گا بھئی۔ اور اگر روکنے سے پہلے اس کے پاس ہلاک ہو گیا کہ مالک نے کہا کہ لاؤ بھئی وہ میرا حیوان میرے حوالے کرو، اور اس نے آدمی کو بھیجا کہ جاؤ اس کا حیوان لے آؤ، اس نے کوئی انکار وغیرہ نہیں کیا لیکن وہ حیوان مالک کو دینے سے پہلے ہی ہلاک ہو گیا، تو اس صورت میں ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ لَا يَسْقُطُ دَيْنُ النَّفَقَةِ بِهَلَاكِهِ“ پھر جو نفقے کا دین ہے وہ ساقط نہیں ہوتا اس لقطے کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے، ”فِي يَدِ الْمُلْتَقِطِ“ ملتقط کے قبضے میں، ملتقط کے قبضے میں لقطے کے ہلاک ہونے کی وجہ سے جو نفقے کا دین ہے وہ ساقط نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ لَا يَسْقُطُ دَيْنُ النَّفَقَةِ“ پھر نفقے کا جو دین ہے وہ ساقط نہیں ہوتا، ”بِهَلَاكِهِ فِي يَدِ الْمُلْتَقِطِ“ جب لقطہ ہلاک ہو جائے ملتقط کے قبضے میں، ”قَبْلَ الْحَبْسِ“ روکنے سے پہلے، ”وَيَسْقُطُ“ اور وہ دین ساقط ہو جاتا ہے، ”إِذَا هَلَكَ بَعْدَ الْحَبْسِ“ جب وہ لقطہ ہلاک ہو جائے روکنے کے بعد، ”لِأَنَّهُ يَصِيرُ بِالْحَبْسِ شَبِيهَ الرَّهْنِ“ اس لیے کیونکہ روکنے کی وجہ سے وہ رہن کے مشابہ ہو گیا۔ رہن کے مشابہ ہو گیا بھئی۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ رہن جو ہے بطور ضمانت کے کسی کے پاس رکھوایا جاتا ہے، مثلاً ایک آدمی دوسرے کے پاس گیا کہ مجھے دس لاکھ روپے کی ضرورت ہے، تو اس نے کہا کہ دس لاکھ روپے میں آپ کو دے دوں لیکن مجھے اعتماد نہیں، پتہ نہیں آپ میرا قرض واپس کرتے ہیں یا نہیں، آپ یوں کریں میرے پاس کوئی چیز بطور رہن کے میرے پاس رکھوا دیں۔ چنانچہ اس آدمی قرض لینے والے نے اپنی گاڑی بطور رہن کے رکھوا دی اور دس لاکھ روپے قرض اس نے لے لیا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ رہن جو ہے اگر وہ مرتہن کے پاس ہلاک ہو جائے تو اسی کے بقدر دین گویا اس نے وصول کر لیا۔ فرض کریں اگر وہ گاڑی بھی دس لاکھ کی تھی اور اس نے قرضہ بھی دس لاکھ لیا ہے، تو اگر مرتہن کے پاس یہ گاڑی ہلاک ہو گئی تو یوں سمجھیں گے کہ گویا مرتہن نے اپنا قرضہ وصول کر لیا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی ملتقط نے جب لقطے کو اپنے پاس روک لیا تو یہ رہن کے درجے میں ہو گیا، رہن کے مشابہ ہو گیا، اور رہن جب مرتہن کے پاس ہلاک ہو جائے تو اس میں ضمان آتا ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی ضمان آئے گا اور وہ جو نفقے کا دین ہے وہ ساقط ہو جائے گا، وہ نفقے کا جو دین ہے وہ ساقط ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے۔ ”وَيَسْقُطُ إِذَا هَلَكَ بَعْدَ الْحَبْسِ“ اور وہ نفقے کا دین ساقط ہو جائے گا جب وہ لقطہ روکنے کے بعد ہلاک ہوا، ”لِأَنَّهُ يَصِيرُ بِالْحَبْسِ“ اس لیے کیونکہ وہ لقطہ جو ہے روکنے کی وجہ سے ہو گیا، ”شَبِيهَ الرَّهْنِ“ رہن کے مشابہ، وہ رہن کے مشابہ ہو گیا۔ تو صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر یہ لقطہ روکنے کے بعد ہلاک ہوا ہے تو دین نفقہ ساقط ہو جائے گا، اور اگر روکنے سے پہلے ہلاک ہوا ہے تو پھر دین نفقہ ساقط نہیں ہوگا۔ تو بعض محشی حضرات نے لکھا ہے کہ یہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ایسا ہے کہ اگر لقطہ روک لے گا تو پھر یہ رہن کے مشابہ ہو گیا، لہٰذا اس میں ضمان آئے گا۔ جبکہ ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک چاہے روکنے سے پہلے لقطہ ہلاک ہو چاہے روکنے کے بعد لقطہ ہلاک ہو، کسی صورت کے اندر بھی دین نفقہ ساقط نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ یہ لقطہ ہے، یہ رہن نہیں ہے، لہٰذا اس پر رہن والا حکم جاری نہیں ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”قَالَ“ اور صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلُقَطَةُ الْحِلِّ وَالْحَرَمِ سَوَاءٌ“ اور حل اور حرم دونوں کا لقطہ برابر ہیں۔ حل اور حرم کسے کہتے ہیں بھئی یہ سمجھ لیجیے۔ یاد رکھو بیت اللہ زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے، تو جیسے بیت اللہ کی بے انتہا عزت اور حرمت ہے، اسی طرح اس بیت اللہ کے ارد گرد کی جگہ جو ہے اس کی بھی تعظیم کا حکم دیا ہے شریعت نے۔ چنانچہ بیت اللہ کے ارد گرد کا کچھ علاقہ جو ہے یہ حرم کہلاتا ہے، تو بیت اللہ کے چاروں طرف کا آس پاس کا جو علاقہ ہے وہ حرم کہلاتا ہے اور اس کی باقاعدہ حدود ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائی تھیں بھئی۔ بعض طرف یہ بیت اللہ سے پانچ چھ میل کے فاصلے تک ہے اور بعض طرف یہ دس پندرہ میل کے فاصلے تک یہ حرم کی حدود ہیں بھئی۔ اور جس طرح بیت اللہ کی بے انتہا عزت اور حرمت ہے اسی طرح بیت اللہ کے آس پاس کی اس جگہ کی بھی بے انتہا عزت اور حرمت ہے۔ اس حرم کے اندر شریعت نے کسی بھی چیز کو کسی قسم کا نقصان دینے سے منع کیا ہے، یہاں تک کہ اس حرم کی حدود میں شکار کھیلنا بھی منع ہے، اسی طرح اس حرم کی حدود کے اندر درختوں وغیرہ کو کاٹنا بھی منع ہے بھئی۔ تو یہ بیت اللہ کے ارد گرد کا جو علاقہ ہے اس کے قریب قریب کا، یہ حرم کہلاتا ہے۔ پھر یاد رکھو اس حرم سے باہر ایک اور حد ہے جس کو حل کہتے ہیں، اور وہ بیت اللہ کے چاروں طرف جو ہے بعض طرف سو دو سو کلو میٹر، بعض طرف تین سو چار سو کلو میٹر دور تک جو ہے وہ حدود پھیلی ہوئی ہیں، تو یہ حرم کے ارد گرد کا جو علاقہ ہے یہ حل کہلاتا ہے۔ اور اس سے باہر ساری دنیا جو ہے وہ آفاق کہلاتی ہے۔ یہ تفصیل حج کے اندر بیان ہوتی ہے بھئی۔ بیت اللہ کے قریب والا علاقہ حرم، اور وہاں کے رہنے والے اہل حرم، اور بیت اللہ کے ارد گرد جو بڑی حدود ہیں ذرا وہ علاقہ حل، اور وہاں کے رہنے والے اہل حل کہلاتے ہیں، اور حل سے باہر کے رہنے والے آفاقی کہلاتے ہیں۔ تو یہاں پر حل اور حرم کا ذکر آیا، تو یہاں حل سے مراد وہ خاص حل کا علاقہ نہیں ہے بلکہ حرم کے علاوہ باقی سب اس کے اندر آ گئے۔ تو حل سے کیا مراد ہوا؟ غیر حرم یعنی حرم کے علاوہ۔ تو صورت مسئلہ یہ: ایک وہ لقطہ ہے جو حرم کے اندر کسی کو ملے، اور ایک وہ لقطہ ہے جو حرم کے علاوہ کسی اور جگہ کے اندر ملے، تو عند الاحناف دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جیسے غیر حرم کے لقطے کے اندر اس میں تشہیر کروائی جائے گی اور پھر اگر مالک کا پتہ نہیں چلتا تو کچھ مدت کے بعد اس کو پھر صدقہ کر دیا جائے گا، اسی طرح حرم کے لقطے کا بھی یہی حکم ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حرم کے لقطے کو صدقہ کرنے کی اجازت نہیں، اس میں ہمیشہ تشہیر کرواتے رہیں گے یہاں تک کہ اصل مالک کا پتہ چل جائے۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلُقَطَةُ الْحِلِّ وَالْحَرَمِ سَوَاءٌ“ اور حل اور حرم دونوں کا لقطہ برابر ہیں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَجِبُ التَّعْرِيفُ فِي لُقَطَةِ الْحَرَمِ“ کہ حرم کے لقطے کے اندر تشہیر واجب ہے، ”إِلَى أَنْ يَجِيءَ صَاحِبُهَا“ یہاں تک کہ اس لقطے کا مالک آ جائے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي الْحَرَمِ“ اس وجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کے بارے میں فرمایا ہے: ”وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا“ یہ حدیث ہے۔ ”وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا“ کہ حرم کا لقطہ حلال نہیں ہے، ”إِلَّا لِمُنْشِدِهَا“ مگر اس کے اعلان کروانے والے کے لیے، یعنی جو اس کی تشہیر کروائے۔ معلوم ہوا حرم کے لقطے میں ہمیشہ تشہیر ہی کروائی جائے گی۔ حدیث سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ فرماتے ہیں حدیث میں آیا ہے: ”وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا“ کہ حرم کا لقطہ حلال نہیں ہے یعنی اس کا اٹھانا حلال نہیں ہے، ”إِلَّا لِمُنْشِدِهَا“ مگر اس کی تشہیر کروانے والے کے لیے۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہمارے نزدیک حرم اور غیر حرم سب لقطے برابر ہیں حکم کے اعتبار سے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً“۔ ”اعْرِفْ“، ”عَرَفَ يَعْرِفُ“ کے معنی ہوتے ہیں پہچان لینا، ”عِفَاصٌ“ بھئی صاد ہے آخر میں، عفاص کہتے ہیں وہ جو لقطے کا جو ظرف ہے یعنی چمڑا یا کپڑا وغیرہ جس کے اندر لقطہ موجود تھا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عفاص بھئی، وہ جو ظرف ہے اس لقطے کا۔ اور ”وِكَاءٌ“ بھئی، وکاء کہتے ہیں ڈوری کو جس کے ساتھ اس لقطے کو باندھا گیا تھا، مثلاً کسی کو لقطہ ملا ہے تھیلی کے اندر درہم ملے تو وہ جو تھیلی ہے وہ ہے عفاص، اور تھیلی کا منہ جس ڈوری سے باندھا گیا ہے وہ ہے وکاء بھئی۔ کسی کو لقطہ ملا تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا“ کہ اس لقطے کی تھیلی اور اس کی ڈوری کو اچھی طرح پہچان لو، ”ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً“ پھر اس کی تشہیر کرو ایک سال تک۔ یعنی جس کو لقطہ ملا ہے وہ لقطے کو تو گھر پر رکھ لے گا لیکن اس کی ڈوری اور تھیلی کو اچھی طرح پہچان لے گا تاکہ کوئی آ کر نشانی بیان کرے تو اس کو پتہ چلے کہ یہ اسی کا ہے۔ تو ”وَلَنَا“ ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا قول ہے: ”اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا“ کہ اس لقطے کی تھیلی اور اس کی ڈوری کو پہچان لو، ”ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً“ پھر اس کی تشہیر کرو ایک سال تک۔ تو اس حدیث میں یہ آیا ہے، ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ اس حدیث میں حرم اور غیر حرم کے لقطے میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، مطلقاً ذکر ہے کہ لقطے کی ایک سال تک تشہیر کا حکم دیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ بغیر کسی فرق کے، ”وَلِأَنَّهَا لُقَطَةٌ“ اب یہاں سے دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ حرم کا لقطہ بھی عام لقطے کی طرح ہے، ”وَلِأَنَّهَا لُقَطَةٌ“ اور اس لیے کیونکہ یہ بھی لقطہ ہی ہے، یہ حرم کا لقطہ بھی یہ لقطہ ہی ہے، ”وَفِي التَّصَدُّقِ بَعْدَ مُدَّةِ التَّعْرِيفِ“ اور تشہیر کی مدت کے بعد صدقہ کرنے میں، ”إِبْقَاءُ مِلْكِ الْمَالِكِ مِنْ وَجْهٍ“ اس کے اندر مالک کی ملکیت کو باقی رکھنا ہے بعض اعتبار سے۔ بھئی اب اگر ایک سال تک تشہیر کے بعد اس لقطے کو ہم صدقہ کریں گے تو مالک کی ملکیت بعض اعتبار سے ابھی بھی باقی ہے کیونکہ اس کو ثواب مل گیا، اس کو ثواب مل گیا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا لُقَطَةٌ“ اس لیے کیونکہ حرم کا لقطہ بھی لقطہ ہی ہے، ”وَفِي التَّصَدُّقِ بَعْدَ مُدَّةِ التَّعْرِيفِ“ اور تشہیر کی مدت کے بعد صدقہ کرنے میں، ”إِبْقَاءُ مِلْكِ الْمَالِكِ مِنْ وَجْهٍ“ اس میں مالک کی ملکیت کو باقی رکھنا ہے بعض اعتبار سے، ”فَيَمْلِكُهُ“ تو فقیر اس کا مالک بن جائے گا، ”كَمَا فِي سَائِرِهَا“ جیسے کہ باقی لقطوں میں ہوتا ہے۔ یہاں پر بھی صدقہ کریں گے تو فقیر اس کا مالک بن جائے گا۔ ”وَتَأْوِيلُ مَا رُوِيَ“ اور تاویل اس حدیث کی جس کو روایت کیا گیا، وہ جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا حدیث ذکر کی تھی کہ حضور فرماتے ہیں: ”وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا“ کہ حرم کا لقطہ اٹھانا جائز نہیں مگر تشہیر کروانے والے کے لیے ہی، تو اس کا ہم جواب دیتے ہیں، کہتے ہیں: ”وَتَأْوِيلُ مَا رُوِيَ“ اور تاویل اس حدیث کی جس کو روایت کیا گیا وہ یہ ہے: ”أَنَّهُ لَا يَحِلُّ الِالْتِقَاطُ“ کہ حرم کے لقطے کو اٹھانا حلال نہیں ہے، ”إِلَّا لِلتَّعْرِيفِ“ مگر تشہیر کے لیے ہی۔ حدیث کا معنی حدیث میں کیا تھا؟ ”وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا“ معنی یہ ہے حرم کے لقطے کو اٹھانا جائز نہیں ہے مگر تشہیر کے لیے، اس حدیث کا یہ معنی ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تشہیر تو ہر لقطے میں ہوتی ہے چاہے حرم کا ہو یا غیر حرم کا، تو آپ اس حدیث کا معنی کر رہے ہیں کہ لقطے کو وہی اٹھائے جو اس کی تشہیر کروائے، یہ تو ہر لقطے میں ہوتا ہے، تو پھر حرم کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ حضور علیہ السلام نے تو حرم کے لقطے کے بارے میں فرمایا ہے، تو ہم اس کا بھی جواب دیتے ہیں کہ حرم کا خاص طور پر حضور علیہ السلام نے اس لیے ذکر فرمایا کیونکہ کسی کے ذہن میں شبہ آ سکتا ہے کہ حرم کے اندر تو سارا سال مسافر ہی آتے رہتے ہیں، کوئی حج کے لیے آ رہا ہے، کوئی عمرے کے لیے آ رہا ہے اور پھر واپس جا رہا ہے، تو شاید کسی کے ذہن میں خیال آئے کہ حرم کے لقطے کے اندر تشہیر کی ضرورت ہی نہیں ہے بس فوراً ہی صدقہ کر دو، تو حضور علیہ السلام نے اس وہم کو دور فرمایا کہ نہیں حرم کے لقطے میں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ تشہیر کرنا پڑے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَأْوِيلُ مَا رُوِيَ“ اور تاویل اس حدیث کی جس کو روایت کیا گیا ہے: ”أَنَّهُ لَا يَحِلُّ الِالْتِقَاطُ إِلَّا لِلتَّعْرِيفِ“ کہ حرم کا لقطہ اٹھانا حلال نہیں ہے مگر تشہیر کے لیے ہی، ”وَالتَّخْصِيصُ بِالْحَرَمِ“ اور حرم کی جو تخصیص کی گئی ہے، ”لِبَيَانِ أَنَّهُ لَا يَسْقُطُ التَّعْرِيفُ فِيهِ“ وہ یہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ حرم کے لقطے کے اندر بھی تشہیر ساقط نہیں ہوتی، ”لِمَكَانِ أَنَّهُ لِلْغُرَبَاءِ ظَاهِرًا“، غرباء جمع ہے غریب کی اور غریب کا معنی ہے مسافر، ”لِمَكَانِ“، مکان میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ مصدر ہے اور یہ بمعنی وجود کے ہے، اور وجود، کون، ثبوت، سب کا ایک ہی معنی ہے، لیکن یہاں آپ ذرا اس کو کون کے معنی میں کر لیں، یہ مکان بمعنی کون کے ہے، ”كَانَ يَكُونُ كَوْنًا وَمَكَانًا“، تو پھر آپ کے لیے بات ذرا واضح ہوگی۔ کہتے ہیں کہ یہ بیان کرنے کے لیے کہ حرم کے لقطے کے اندر بھی تشہیر ساقط نہیں ہوتی، ”لِمَكَانِ أَنَّهُ لِلْغُرَبَاءِ ظَاهِرًا أَيْ لِكَوْنِ أَنَّهُ لِلْغُرَبَاءِ ظَاهِرًا“، اس لیے کیونکہ اس کا مسافروں کے لیے ہونا ظاہر ہے، اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے یہ لقطہ مسافروں کا ہے تو کسی کے ذہن میں آ سکتا ہے یہاں تشہیر کی ضرورت نہیں ہے فائدہ ہی کوئی نہیں ہے یہ تو کوئی مسافر تھا جا چکا ہوگا اب تک، تو اس احتمال کو دور فرمایا حضور علیہ السلام نے۔ تو یہ معنی ہے: ”لِمَكَانِ أَنَّهُ لِلْغُرَبَاءِ ظَاهِرًا“ اس وجہ سے کہ اس کا غرباء کے لیے ہونا ہی ظاہر ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا حَضَرَ رَجُلٌ فَادَّعَى اللُّقَطَةَ“، صورت مسئلہ یہ: ایک شخص کو لقطہ ملا اور اس نے لوگوں کے اندر اس کی تشہیر کروائی اور ایک شخص اس لقطے کو لینے کے لیے آ گیا، اب وہ جو مالک آیا ہے اس نے لقطے کی علامت کوئی بیان کر دی اور وہ علامت اس نے صحیح بیان کی، مثلاً درہموں کی تعداد بیان کر دی یا تھیلی کا رنگ بیان کر دیا یا وہ ڈوری کا رنگ بیان کر دیا، کوئی تفصیل وغیرہ بیان کر دی، صحیح نشانیاں بتلا دیں، تو کیا مالک اب اس کو لقطہ دے سکتا ہے؟ کہتے ہیں: ہاں، مالک کے لیے جب اس نے نشانیاں بتا دی ہیں تو مالک کے لیے لقطہ دینا جائز ہے۔ البتہ، البتہ واجب نہیں ہے، مالک پر واجب نہیں ہے بلکہ مالک اس سے بینہ یعنی گواہ طلب کر سکتا ہے، تو اگر وہ گواہ پیش کر دیتا ہے پھر لقطہ دینا واجب ہو جائے گا، لیکن علامتوں کی وجہ سے مالک کے لیے دینا تو جائز ہے لیکن واجب نہیں۔ حتی کہ قاضی بھی اس کو مجبور نہیں کر سکتا صرف علامتوں کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا حَضَرَ رَجُلٌ“ اور جب کوئی آدمی حاضر ہو گیا، ”فَادَّعَى اللُّقَطَةَ“ اس نے لقطے کا دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا ہے، ”لَمْ تُدْفَعْ إِلَيْهِ“ تو یہ لقطہ اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا، ”حَتَّى يُقِيمَ الْبَيِّنَةَ“ یہاں تک کہ وہ بینہ قائم کر دے، ”فَإِنْ أَعْطَى عَلَامَتَهَا“ اگر اس آدمی نے لقطے کی علامت دے دی یعنی علامت بیان کر دی، ”حَلَّ لِلْمُلْتَقِطِ أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَيْهِ“ تو ملتقط کے لیے جائز ہے کہ یہ لقطہ اس آدمی کو دے دے، ”وَلَا يُجْبَرُ عَلَى ذَلِكَ فِي الْقَضَاءِ“ اور ملتقط کو مجبور نہیں کیا جا سکتا اس پر فی القضاء قضا کے اندر، یعنی صرف علامت کی وجہ سے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يُجْبَرُ“ اور امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ملتقط کو علامت کی وجہ سے بھی مجبور کیا جا سکتا ہے، ”وَالْعَلَامَةُ“ اب علامت کیسی ہو وہ صاحب ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں: ”وَالْعَلَامَةُ مِثْلُ أَنْ يُسَمِّيَ وَزْنَ الدَّرَاهِمِ“ اور علامت جیسے کہ وہ درہموں کا وزن ذکر کر دیتا ہے، ”وَعَدَدَهَا“ اور ان کی تعداد ذکر کر دیتا ہے، ”وَوِكَاءَهَا“ اور ان کی ڈوری جو ہے اس کو ذکر کر دیتا ہے، ”وَوِعَاءَهَا“ یا ان کا جو ظرف ہے وہ چمڑا یا تھیلا وغیرہ وہ وہ بتلا دیتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”لَهُمَا“ اب دلیل آ گئی امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کی، ”لَهُمَا“ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ صَاحِبَ الْيَدِ يُنَازِعُهُ فِي الْيَدِ“، ادھر دیکھیے، امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر صاحب قبضہ جو ہے وہ ملتقط ہے، اور ملتقط بھی مان رہا ہے کہ میں اس کا مالک نہیں ہوں، تو معلوم ہوا جھگڑا مالک ہونے میں نہیں ہے بلکہ جھگڑا صرف قبضے کے بارے میں ہے، جھگڑا قبضے کے بارے میں ہے۔ مالک ہونے کے بارے میں جھگڑا ہو تو وہاں بینہ پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آپ کے پاس ایک چیز ہے کوئی آدمی دعویٰ کر دیتا ہے یہ چیز میری ہے، تو وہاں وہ مالک ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے لہٰذا وہاں بینہ ضروری ہے، لیکن یہاں مالک ہونے کا جھگڑا نہیں ہے صرف قبضے کا جھگڑا ہے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا یہاں پر بینہ کی شرط نہیں لگائی جائے گی بلکہ علامت ہی کافی ہوگی قبضے کو ثابت کرنے کے لیے۔ تو کہتے ہیں: ”لَهُمَا“ اور امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ صَاحِبَ الْيَدِ يُنَازِعُهُ فِي الْيَدِ“ کہ صاحب قبضہ جو ہے وہ اس آنے والے آدمی سے جھگڑ رہا ہے قبضے میں، ”وَلَا يُنَازِعُهُ فِي الْمِلْكِ“ اور وہ اس کے ساتھ ملکیت کے اندر نہیں جھگڑ رہا، کیونکہ اٹھانے والا خود اقرار کر رہا ہے میں اس کا مالک نہیں ہوں یہ مجھے راستے میں ملی ہے، تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُنَازِعُهُ فِي الْمِلْكِ“ اور وہ ملکیت کے اندر نہیں جھگڑ رہا، ”فَيُشْتَرَطُ الْوَصْفُ“ تو وصف کی شرط لگائی جائے گی، ”لِوُجُودِ الْمُنَازَعَةِ مِنْ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ یہ جھگڑا بعض اعتبار سے ہے۔ مالک ہونے کے اندر جھگڑا ہوتا تو پھر تو ہر اعتبار سے جھگڑا تھا لیکن یہ تو صرف قبضے کا جھگڑا ہے، تو بعض اعتبار سے جھگڑا ہے بعض اعتبار سے جھگڑا نہیں، لہٰذا صرف وصف یعنی علامت بیان کرنا ہی کافی ہے، بینہ کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُشْتَرَطُ الْوَصْفُ“ تو وصف کی شرط لگائی جائے گی کہ وہ لقطے کا وصف یعنی علامت بیان کرے، ”لِوُجُودِ الْمُنَازَعَةِ مِنْ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ جھگڑا بعض اعتبار سے پایا جا رہا ہے، ”وَلَا تُشْتَرَطُ إِقَامَةُ الْبَيِّنَةِ“ اور بینہ قائم کرنے کی شرط نہیں لگائی جائے گی، ”لِعَدَمِ الْمُنَازَعَةِ مِنْ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ بعض اعتبار سے جھگڑا نہیں ہے، یعنی مالک ہونے کے اعتبار سے تو جھگڑا نہیں ہے۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آگئی۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں پر قبضہ ہی مقصود ہے۔ یہاں پر قبضہ ہی مقصود ہے، تو یہ قبضہ بھی ملکیت کے مشابہ ہو گیا جیسے ملکیت مقصود ہوتی ہے، یہاں پر قبضہ مقصود ہے۔ جیسے دیکھو، ایک شخص کسی کا مدبر غصب کر لے۔ ایک شخص کسی کا مدبر غصب کر لے، آپ جانتے ہیں مدبر انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا، وہ کسی کو بیچا نہیں جا سکتا، کسی کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس نے آزاد ہونا ہے اپنے مالک کے مرنے کے بعد۔ تو مدبر انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا، اس کو کوئی آدمی غصب کر کے لے گیا، چھین کر لے گیا بھئی۔ تو یہاں پر اب مالک جو ہے اس سے وہ مدبر واپس لینا چاہتا ہے تو مالک کو بینہ قائم کرنا پڑے گی۔ اگرچہ یہاں پر جھگڑا ملکیت میں نہیں ہے، صرف قبضے کے اندر جھگڑا ہے۔ کیونکہ غاصب اس مدبر کا مالک ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ مدبر انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا۔ تو یہاں پر بھی مالک کا قبضہ جو ہے وہ مدبر پر ملکیت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ قبضے کے بارے میں ہے، پھر بھی وہاں اس کو بینہ قائم کرنا پڑتا ہے، اس لیے کیونکہ وہاں قبضہ ہی مقصود ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی جب قبضہ ہی مقصود ہے اور یہ قبضہ ملکیت کی طرح ہو گیا اور ملکیت کے لیے تو بینہ چاہیے ہوتی ہے، لہٰذا قبضے کے لیے بھی بینہ چاہیے ہوگی۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْيَدَ حَقٌّ مَقْصُودٌ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ قبضہ جو ہے یہ ایسا حق ہے جو مقصود ہے، ”كَالْمِلْكِ“ جیسے کہ ملکیت ہوتی ہے کہ وہ بھی مقصود ہوتی ہے، ”فَلَا يُسْتَحَقُّ إِلَّا بِحُجَّةٍ“ لہٰذا مدعی اس قبضے کا مستحق نہیں ہوگا مگر حجت کے ذریعے، دلیل کے ذریعے، ”وَهُوَ الْبَيِّنَةُ“ اور وہ بینہ ہے، ”اعْتِبَارًا بِالْمِلْكِ“ ملکیت پر قیاس کرتے ہوئے۔ ”إِلَّا أَنَّهُ تَحِلُّ لَهُ الدَّفْعُ عِنْدَ إِصَابَةِ الْعَلَامَةِ“ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اے احناف! اگر یہ جھگڑا صرف قبضے کے بارے میں ہے تو لہٰذا اس کے اندر بینہ ضروری ہے تو پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ آنے والا اگر علامتیں ٹھیک بتلا دیتا ہے پھر بھی مالک کے لیے جائز ہے لقطہ دینا؟ اگر بینہ ضروری ہے پھر تو بغیر بینہ کے دینا جائز ہی نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس کا بھی جواب دیں گے کہ ہاں قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ بغیر بینہ کے جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہاں ایک اور حدیث آگئی لہٰذا ہم نے قیاس کو ترک کر دیا اور حدیث پر عمل کیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ تَحِلُّ لَهُ الدَّفْعُ“ مگر یہ کہ مالک کے لیے اس کو دینا حلال ہے، ”عِنْدَ إِصَابَةِ الْعَلَامَةِ“ علامت کے صحیح ہوتے وقت، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے کہ آپ نے فرمایا: ”فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا“ اگر اس لقطے کا مالک آگیا، ”وَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا“ اور اس نے پہچان لیا اس لقطے کی تھیلی کو اور اس کی تعداد کو، یعنی ان درہموں کی تعداد کو، ”فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ“ تو اسے اس کے حوالے کر دو، تو وہ لقطہ اس آنے والے کے حوالے کر دو۔ تو یہاں پر امر آیا: ”فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ“ اس نے علامتیں صحیح بیان کر دیں تو یہ لقطہ اس کے حوالے کر دو۔ تو اس امر کو ہم نے اباحت پر محمول کیا۔ امر تو اصل میں آتا ہے وجوب کے لیے، لیکن یہاں امر ہم نے اباحت پر محمول کر لیا، اب ملتقط کے لیے جائز ہو گیا کہ وہ آنے والے کو یہ لقطہ دے سکتا ہے۔ بھئی کیا وجہ ہے امر آیا ہے وجوب کے بجائے آپ اباحت کے کیوں قائل ہوئے؟ تو ہم جواب دیتے ہیں وجہ یہ کہ یہاں ایک اور حدیث بھی مشہور ہے اور وہ حضور فرماتے ہیں: ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ“ کہ بینہ مدعی کے ذمے ہے اور منکر کے ذمے قسم ہے۔ تو اس حدیث سے معلوم ہوا مدعی کے ذمے بینہ لازم ہے۔ تو ہم نے دونوں حدیثوں کو جمع کر لیا، دونوں پر عمل کر لیا، کہ وہ جو حدیثِ مشہور ہے وہ وجوب پر محمول ہے اور یہ جو حدیث ہے یہ اباحت پر محمول ہے۔ یعنی اگر مدعی بینہ قائم کر دیتا ہے تو وہ چیز اس کو دینا واجب ہو جاتا ہے، اور اگر علامت بیان کر دیتا ہے تو اس کو دینا مباح ہو جاتا ہے بھئی۔ تو دونوں حدیثوں پر عمل ہو گیا۔ تو یہ جو امر آیا ”فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ“ اس کو ہم وجوب پر محمول نہیں کر سکتے کہ صرف علامتوں کی وجہ سے اس کا دعویٰ مان لیا جائے اور یہ چیز اس کو دینا واجب ہو جائے، ورنہ تو پھر دونوں احادیث میں تعارض آجائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس مشہور حدیث سے پتہ چلا بینہ کی وجہ سے دینا واجب ہوگا اور اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ صرف علامتیں دینے سے واجب ہوگا، تو دونوں میں تو ٹکراؤ آجائے گا، لہٰذا حدیثِ مشہور کو ہم نے وجوب پر محمول کیا اور اس حدیث کو ہم نے اباحت پر محمول کیا کہ یہ امر اباحت کے لیے ہے کہ اگر آنے والا صحیح علامتیں بتلا دے تو پھر اس ملتقط کے لیے وہ لقطہ اس کو دینا مباح ہے، جائز ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے، پھر حدیث کا ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا“ اگر اس لقطے کا مالک آگیا، ”وَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا“ اور اس نے اس کی تھیلی کو بیان کر دیا اور ان کی تعداد کو بیان کر دیا، ”فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ“ تو اس کے حوالے کر دے، ”وَهَذَا لِلْإِبَاحَةِ عَمَلًا بِالْمَشْهُورِ“ اور یہ امر جو ہے یہ اباحت کے لیے ہے حدیثِ مشہور پر عمل کرتے ہوئے، ”وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي“ کہ بینہ جو ہے مدعی کے ذمے ہے، ”الْحَدِيثَ، أَيِ الْحَدِيثُ مَعْرُوفٌ“۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے: ”وَيَأْخُذُ مِنْهُ كَفِيلًا“ اور یہ ملتقط جو ہے اس مدعی سے کفیل لے لے۔ وہ شخص جس نے آکر دعویٰ کیا ہے کہ یہ مال میرا ہے، یہ لقطہ میرا ہے، اور اس نے صرف علامتیں بیان کی ہیں، بینہ قائم نہیں کی، تو پھر اس صورت میں اس سے ضامن لے لے۔ اگر اس نے بینہ قائم کر دی ہے پھر تو ضامن لینے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر اس نے بینہ قائم نہیں کی صرف علامتیں بتلائی ہیں اور یہ لقطہ اس کو دے رہا ہے تو اس سے ضامن لے لو۔ ضامن لے لو کیونکہ اگر بعد میں کوئی اور مالک نکل آیا تو پھر تو اس ملتقط کو ضمان دینا پڑے گا بھئی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ فقیر کو بھی اگر یہ دے دے گا تو مالک پھر بھی اس سے ضمان لے سکتا ہے، تو لہٰذا یہ اپنے اطمینان کے لیے اس مدعی سے ضامن لے سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَأْخُذُ مِنْهُ كَفِيلًا“ اور یہ ملتقط جو ہے اس مدعی سے ضامن لے لے گا، یہ اس وقت ہے جب صرف علامت کی وجہ سے دے رہا ہے، تو یہ اس سے ضامن لے لے گا، ”إِذَا كَانَ يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ اسْتِيثَاقًا“ جب یہ اس کے حوالے کر رہا ہے، استیثاقاً، استیثاق کا معنی ہے اطمینان حاصل کرنا، تو اطمینان کے لیے، اپنے اطمینان کے لیے۔ تو یہ معنی ہے: ”إِذَا كَانَ يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ“ جب وہ لقطہ اس کے حوالے کر رہا ہے تو یہ اس سے ضامن لے لے، ”اسْتِيثَاقًا“ اطمینان کے لیے، ”وَهَذَا بِلَا خِلَافٍ“ اور یہ ضامن لینا بغیر اختلاف کے ہے، یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ضامن اور کفیل لینا صحیح ہے، ”لِأَنَّهُ يَأْخُذُ الْكَفِيلَ لِنَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ ملتقط اپنے لیے ضامن لے رہا ہے۔ ”لِأَنَّهُ يَأْخُذُ الْكَفِيلَ لِنَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ اپنی ذات کے لیے ضامن لے رہا ہے، ”بِخِلَافِ التَّكْفِيلِ لِوَارِثٍ غَائِبٍ عِنْدَهُ“ بخلاف وارثِ غائب کے لیے کفیل بنانا، اس میں یاد رکھو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ بھئی ایک آدمی کا انتقال ہو گیا اور اس کا مال وارثوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، اب احتمال ہے ہو سکتا ہے وارث صرف یہی نہ ہوں جو اس وقت جمع ہیں، ہو سکتا ہے کوئی اور بھی وارث ہو، کسی اور وارث کا ہونے کا بھی احتمال ہے، یا ایک شخص کا انتقال ہوا اور قرض خواہ اپنا قرضہ لینے آگئے اور اس کے مال کے ذریعے سارے قرضوں کی ادائیگی نہیں ہو سکتی، تو اب یہ مال ان قرض خواہوں میں تقسیم کیا جائے گا لیکن احتمال ہے ہو سکتا ہے کل کوئی اور قرض خواہ بھی آجائے۔ تو مرنے والے کا مال وارثوں میں تقسیم کرنے لگے ہیں تو احتمال ہے ہو سکتا ہے کوئی وارث اور بھی ہو جو ابھی آیا نہیں ہے، یا مرنے والے کا مال قرض خواہوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے تو وہاں بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے کوئی اور قرض خواہ بھی باقی ہو جو ابھی نہ آیا ہو، تو ان دونوں صورتوں میں صاحبین فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے کوئی ضامن لے لیا جائے گا۔ یہ جو قرض خواہ ہیں یا وارث جو موجود ہیں، ان سے ضامن لے لیا جائے گا کہ اگر کوئی اور وارث نکل آیا تو اسی کے مطابق تمہارے حصوں میں کمی آئے گی، لہٰذا تم اپنے زائد مال واپس دے دو گے۔ توجہ ہے؟ یا اسی طرح قرض خواہوں میں اگر کوئی اور قرض خواہ نکل آیا تو اس کا بھی کچھ حصہ بنے گا مال کے اندر، کیونکہ ساری ادائیگی تو ہو نہیں سکتی، تو بہرحال جتنا جتنا حصہ ہو سکتا ہے ہر ایک کو ادا کر دیا جائے گا، یعنی جس کا قرضہ زیادہ ہے اس کو مال بھی زیادہ ملے گا، جس کا قرضہ کم ہے اس کو مال بھی کم ملے گا، ساری ادائیگی تو نہیں ہو سکتی، توجہ ہے؟ تو کچھ کچھ مال سب کو دیں گے لیکن ان کے قرضوں کے بقدر دیں گے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں یہاں وارثِ غائب کے ہونے کا احتمال ہے لہٰذا وارثوں سے ضامن لیا جائے گا، اور قرض خواہوں کو جب مال دیا جا رہا ہے تو کسی غائب قرض خواہ کے آنے کا بھی احتمال ہے لہٰذا ان سے ضامن لیا جائے گا پھر ان کے اندر مال تقسیم کیا جائے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، کسی اور قرض خواہ کا ہونا یا کسی اور وارث کا ہونا یہ ایک وہمی چیز ہے اور وہمی چیز کی وجہ سے ضامن نہیں لیا جائے گا۔ وہمی چیز کی وجہ سے ضامن نہیں لیا جائے گا، یعنی یوں کہو وہاں مکفول لہٗ مجہول ہے جس کے لیے ضامن لیا جا رہا ہے۔ وہ جو غائب وارث ہے یا وہ جو غائب قرض خواہ ہے وہ تو مجہول ہے، تو مجہول کے لیے ضامن لیا جا رہا ہے، تو وہاں تو امام صاحب کہتے ہیں نہیں، کوئی ضامن لینے کی ضرورت نہیں، لیکن یہاں پر تو ملتقط اپنے لیے ضامن لے رہا ہے لہٰذا یہاں پر امام صاحب بھی فرماتے ہیں ضامن بنانا صحیح ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ التَّكْفِيلِ لِوَارِثٍ غَائِبٍ عِنْدَهُ“ بخلاف غائب وارث کے لیے کفیل بنانے کے اندر، ”عِنْدَهُ“ امام صاحب کے نزدیک، یعنی اس میں وہ اختلاف کرتے ہیں کہ وہاں کفیل بنانا درست نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِذَا صَدَّقَهُ“ بھئی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اگر کوئی شخص آگیا ملتقط کے پاس اور اس نے کہا یہ لقطہ میرا ہے اور اس کے پاس بینہ نہیں ہے وہ صرف نشانیاں بتلاتا ہے، تو ملتقط کے لیے جائز ہے کہ وہ نشانیوں کی وجہ سے وہ لقطہ اس آدمی کو دے دے، لیکن ملتقط کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو اگر ملتقط اس آنے والے آدمی کی تصدیق کر دے تو کیا پھر بھی اس کو مجبور نہیں کر سکتے؟ مثلاً آنے والے نے نشانیاں بتلائیں، ملتقط نے کہا ہاں میں تسلیم کرتا ہوں یہ چیز آپ ہی کی ہے، تو اس کی تصدیق کر دی اس نے کہ یہ چیز آپ کی ہی ہے، تو کیا اب ملتقط کو مجبور کر سکتے ہیں؟ اب تو اس نے اقرار کر لیا ہے۔ تو کہتے ہیں اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں اب اس کو مجبور کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس نے خود اقرار کر لیا ہے اور اس کے اقرار کی وجہ سے اب اسے مجبور کیا جا سکتا ہے، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں، اب بھی اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَدَّقَهُ“ اور جب ملتقط نے اس مدعی کی تصدیق کر دی، ”قِيلَ لَا يُجْبَرُ عَلَى الدَّفْعِ“ تو کہا گیا ہے پھر بھی اس ملتقط کو مجبور نہیں کیا جا سکتا لقطہ دینے پر، ”كَالْوَكِيلِ بِقَبْضِ الْوَدِيعَةِ إِذَا صَدَّقَهُ“ جیسے وکیل بقبض الودیعت ہوتا ہے جب مودع اس کی تصدیق کر دے۔ صورت یہ ہے: میرے پاس زید نے اپنی امانت رکھوائی ہے، اور پھر زید نے اپنا ایک وکیل بھیجا میرے پاس وہ امانت لینے کے لیے، تو وکیل نے آکر مجھے کہا میں زید کا وکیل ہوں اور مجھے وہ امانت دے دیجیے، زید نے وہ امانت منگوائی ہے۔ میں نے اس کی تصدیق کر دی کہ ہاں مجھے تسلیم ہے تم زید کے وکیل ہو۔ پھر بھی یاد رکھو، مودع کو مجبور نہیں کیا جا سکتا وہ امانت دینے پر۔ مودع کو وہ امانت دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اگرچہ مودع نے تصدیق کر دی ہے کہ یہ اس مالک کا وکیل ہے، کیونکہ یہ بہرحال وکیل ہے، اصل مالک نہیں ہے۔ اصل مالک ہو پھر تو مودع کو، یعنی جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اس کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ اب امانت اس کے حوالے کرو، لیکن اگر مالک کا وکیل آیا ہے اور مودع نے تصدیق بھی کر دی ہے کہ یہ اسی کا وکیل ہے، پھر بھی مودع کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں پر بھی، یہاں پر بھی یہ شخص جو حاضر ہوا ہے علامتوں کی وجہ سے کوئی اس کا مالک ہونا یقینی نہیں، تو صرف تصدیق کی وجہ سے یہاں بھی اس لقطے کو اس کے حوالے کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ آنے والے کا مالک ہونا یقینی نہیں، چاہے بےشک ملتقط اس کی تصدیق بھی کر دے کہ آپ ہی اس کے مالک ہیں، پھر بھی ملتقط کو دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے مودع جو ہے وکیل کی تصدیق کر دے کہ ہاں آپ زید ہی کے وکیل ہیں لیکن پھر بھی مودع کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ وکیل مالک نہیں ہے اس چیز کا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَدَّقَهُ“ اور جب ملتقط نے اس مدعی کی تصدیق کر دی علامت کی وجہ سے، ”قِيلَ لَا يُجْبَرُ عَلَى الدَّفْعِ“ تو کہا گیا ہے پھر بھی اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا اس لقطہ کے دینے پر، ”كَالْوَكِيلِ بِقَبْضِ الْوَدِيعَةِ إِذَا صَدَّقَهُ“ جیسے امانت پر قبضے کا وکیل ہوتا ہے، ”إِذَا صَدَّقَهُ“ جب مودع جو ہے اس کی تصدیق کر دے، ”وَقِيلَ يُجْبَرُ“ اور کہا گیا ہے کہ اب مجبور کیا جا سکتا ہے، جب اس نے کہہ دیا کہ آپ ہی اس چیز کے مالک ہیں تو اب اس کو مجبور کیا جا سکتا ہے، ”لِأَنَّ الْمَالِكَ هَاهُنَا غَيْرُ ظَاهِرٍ“ اس لیے کیونکہ مالک یہاں پر ظاہر نہیں ہے، ”وَالْمُودِعُ مَالِكٌ ظَاهِرًا“ اور امانت رکھوانے والا تو مالک ہے ظاہراً، ظاہر کے اعتبار سے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جب ملتقط نے آنے والے کی تصدیق کر دی نشانیوں کی وجہ سے کہ ہاں آپ ہی اس چیز کے مالک ہیں، پھر اس ملتقط کو مجبور کیا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں پر مالک ظاہر نہیں ہے، جبکہ وہ جو وکیل والے مسئلے کے اندر تو مالک ظاہر تھا کہ وکیل نہیں ہے مالک، دوسرا آدمی مالک ہے، لیکن یہاں پر تو مالک ظاہر ہی نہیں، لہٰذا آپ اس مسئلے کو اس وکیل والے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ تو وکیل والے مسئلے میں تو مجبور نہیں کر سکتے لیکن یہاں مجبور کیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَقِيلَ يُجْبَرُ“ اور کہا گیا ہے مجبور کیا جائے گا، ”لِأَنَّ الْمَالِكَ هَاهُنَا غَيْرُ ظَاهِرٍ“ اس لیے کیونکہ مالک جو ہے وہ یہاں پر ظاہر نہیں ہے، ظاہر نہیں ہے، ”وَالْمُودِعُ“ اور وہ جو امانت رکھوانے والا ہے، یعنی جس نے وکیل بھیجا ہے، ”وَالْمُودِعُ مَالِكٌ ظَاهِرًا“ اور امانت رکھوانے والا تو مالک ہے ظاہر کے اعتبار سے، لہٰذا اس مسئلے پر آپ اس مسئلے کو قیاس نہیں کر سکتے۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَلَا يُتَصَدَّقُ بِاللُّقَطَةِ عَلَى غَنِيٍّ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں، یاد رکھو ہمارے نزدیک یہ جو لقطہ ہے اس کو صدقہ کیا جائے گا، اور صدقہ فقیر پر کیا جاتا ہے، لہٰذا مالدار کو لقطہ دینا یا مالدار کے لیے خود لقطے سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُتَصَدَّقُ بِاللُّقَطَةِ عَلَى غَنِيٍّ“ اور لقطہ جو ہے اس کو صدقہ نہیں کیا جا سکتا مالدار پر، ”لِأَنَّ الْمَأْمُورَ بِهِ هُوَ التَّصَدُّقُ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کا حکم دیا گیا ہے وہ صدقہ کرنا ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”فَإِنْ لَمْ يَأْتِ“ اگر وہ نہ آیا، ”يَعْنِي صَاحِبَهَا“ یعنی لقطے کا مالک، ”فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ“ تو چاہیے کہ اس کا صدقہ کر دے۔ تو حدیث کے اندر معلوم ہوا صدقہ کرنے کا حکم ہے، ”وَالصَّدَقَةُ لَا تَكُونُ عَلَى غَنِيٍّ“ اور صدقہ جو ہے وہ تو مالدار پر نہیں ہو سکتا، ”فَأَشْبَهَ الصَّدَقَةَ الْمَفْرُوضَةَ“ تو یہ مشابہ ہو گیا اس صدقے کے، ”الْمَفْرُوضَةَ“ جو فرض کیا گیا ہے، یعنی یہ زکوٰۃ کی طرح ہو گیا، اور جیسے زکوٰۃ مالدار کو نہیں دی جا سکتی لہٰذا یہ لقطہ بھی مالدار کو نہیں دیا جا سکتا۔ ”وَإِنْ كَانَ الْمُلْتَقِطُ غَنِيًّا لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا“ اور اگر اس لقطے کو اٹھانے والا مالدار ہے، ”لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا“ تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس لقطے سے نفع اٹھائے، ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَجُوزُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ملتقط کے لیے بھی اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي حَدِيثِ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے جو حدیثِ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر آیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا اس کے اندر: ”فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ“ کہ اگر لقطے کا مالک آگیا تو وہ لقطہ اس کے حوالے کر دے، ”وَإِلَّا فَانْتَفِعْ بِهَا“ ورنہ اس لقطے سے نفع اٹھاؤ۔ تو یہ حدیث ہے بھئی، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے بھئی، ان کو لقطہ ملا تھا تو حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ”فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ“ کہ اگر اس لقطے کا مالک آگیا تو یہ لقطہ اس کے حوالے کر دے، ”وَإِلَّا فَانْتَفِعْ بِهَا“ اور اگر ایسا نہ ہوا، یعنی مالک نہ آیا، ”فَانْتَفِعْ بِهَا“ تو تو اس سے فائدہ اٹھا۔ یہاں تک ہے حدیث۔ آگے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَكَانَ مِنَ الْمَيَاسِيرِ“ اور حضرت ابی بن کعب جو تھے وہ مالداروں میں سے تھے، پھر بھی حضور انہیں فرما رہے ہیں کہ تم اس لقطے سے پھر خود نفع اٹھا لو۔ ”وَلِأَنَّهُ إِنَّمَا يُبَاحُ لِلْفَقِيرِ“ یہ عقلی دلیل آگئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فقیر کے لیے یہ جو لقطے کو مباح قرار دیا گیا ہے وہ صرف اس لیے ہے تاکہ فقیر کو ابھارا جائے کہ وہ اس لقطے کو اٹھا لے، جب فقیر کو پتہ چلے گا کہ تشہیر کے بعد میرے لیے خود بھی اس لقطے سے نفع اٹھانا جائز ہوگا تو فقیر اس لقطے کو اٹھائے گا۔ تو یہ جو فقیر کے لیے لقطے کو مباح قرار دیا گیا ہے وہ اس کو ابھارنے کے لیے ہے تاکہ یہ اس لقطے کو اٹھا لے تاکہ لوگوں کا مال محفوظ ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ“ اور اس لیے کیونکہ لقطے سے فائدہ اٹھانا جو ہے، ”إِنَّمَا يُبَاحُ لِلْفَقِيرِ“ وہ فقیر کے لیے مباح ہے، ”حَمْلًا لَهُ عَلَى رَفْعِهَا“ اس کو ابھارنے کے لیے اس لقطہ کے اٹھانے پر، ”صِيَانَةً لَهَا“ اس لقطے کی حفاظت کے لیے، ”وَالْغَنِيُّ يُشَارِكُهُ فِيهِ“ اور مالدار بھی اس معنی کے اندر اس کے ساتھ شریک ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، ایک دلیل انہوں نے حدیث ذکر کر دی کہ حضور علیہ السلام نے حضرت ابی بن کعب کو لقطے سے خود بھی فائدہ اٹھانے کی اجازت دی تشہیر کے بعد اور وہ مالدار تھے، معلوم ہوا مالدار بھی لقطے سے نفع اٹھا سکتا ہے۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فقیر کے لیے لقطے کو مباح کیا گیا ہے وہ اس لیے ہے تاکہ اس کو ابھارا جائے کہ یہ اس چیز کو اٹھا لے تاکہ مسلمانوں کا مال محفوظ ہو جائے، کیونکہ جب فقیر کو علم ہوگا کہ تشہیر کے بعد خود میرے لیے بھی اس سے نفع اٹھانا جائز ہو جائے گا تو وہ اس کو اٹھائے گا بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس علت کے اندر تو مالدار بھی شریک ہے، مالدار کو بھی جب یہ پتہ چلے گا کہ تشہیر کے بعد میرے لیے اس مال سے نفع اٹھانا جائز ہوگا تو وہ لقطے کو اٹھائے گا اور اس طرح لوگوں کے مال کی حفاظت ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْغَنِيُّ يُشَارِكُهُ فِيهِ“ اور مالدار بھی اس علت کے اندر، اس معنی کے اندر اس کے ساتھ شریک ہے۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آگئی۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ مَالُ الْغَيْرِ“ کہ یہ جو لقطہ ہے یہ کسی دوسرے کا مال ہے، ”فَلَا يُبَاحُ الِانْتِفَاعُ بِهِ إِلَّا بِرِضَاهُ“ لہٰذا اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں مگر اس شخص کی رضامندی سے، ”لِإِطْلَاقِ النُّصُوصِ“ نصوص کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ نصوص میں مطلقاً دوسروں کے مال سے ان کی رضامندی کے بغیر فائدہ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے، جیسے دیکھو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ“ کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، ”إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ“ مگر یہ کہ تجارت ہو تمہارے درمیان باہمی رضامندی سے۔ باہمی رضامندی ہو تجارت وغیرہ کے معاملات ہوں پھر تو ٹھیک ہے، ویسے باطل طریقے سے کسی کا مال کھانا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو یہ اور اس طرح کی اور آیات، احادیث وغیرہ مطلق ہیں۔ پھر دیکھیے: ”وَلَنَا أَنَّهُ مَالُ الْغَيْرِ“ کہ یہ لقطہ غیر کا مال ہے، ”فَلَا يُبَاحُ الِانْتِفَاعُ بِهِ إِلَّا بِرِضَاهُ“ لہٰذا اس غیر کی رضامندی کے بغیر اس سے نفع اٹھانا مباح نہیں ہوگا، ”لِإِطْلَاقِ النُّصُوصِ“ نصوص کے یعنی آیات کے مطلق ہونے کی وجہ سے، ”وَالْإِبَاحَةُ لِلْفَقِيرِ لِمَا رَوَيْنَاهُ“ اور فقیر کے لیے جو اباحت ہے اس سے نفع اٹھانے کی ”لِمَا رَوَيْنَاهُ“ وہ اس حدیث کی وجہ سے ہے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور نے فرمایا ”فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ“ کہ ملتقط اسے صدقہ کر دے اور صدقہ تو فقیر پر کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْإِبَاحَةُ لِلْفَقِيرِ“ اور فقیر کے لیے اس سے نفعے کا مباح ہونا، ”لِمَا رَوَيْنَاهُ“ اس حدیث کی وجہ سے ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، ”أَوْ بِالْإِجْمَاعِ“ یا اجماع کی وجہ سے ہے کہ ساری امت کا اجماع ہے کہ صدقہ فقیر کے لیے جائز ہے، ”أَوْ بِالْإِجْمَاعِ“ یا فقیر کے لیے جو اباحت ہے وہ اجماع کی وجہ سے ہے، ”فَيَبْقَى مَا وَرَاءَهُ عَلَى الْأَصْلِ“ تو اس کے علاوہ جو ہے وہ اپنی اصل پر باقی رہا۔ اس کے علاوہ یعنی غیر کے مال سے نفع اٹھانا وہ اپنی اصل اور ضابطے پر برقرار ہے کہ کسی دوسرے کے مال سے بغیر مالک کی اجازت کے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَبْقَى مَا وَرَاءَهُ عَلَى الْأَصْلِ“ تو اس کے علاوہ جو ہے وہ باقی رہا اپنی اصل پر۔ ”وَالْغَنِيُّ مَحْمُولٌ عَلَى الْأَخْذِ“ یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل کا جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے یہ جو لقطے کو فقیر کے لیے مباح قرار دیا گیا ہے وہ اس لیے ہے تاکہ اس فقیر کو ابھارا جائے کہ یہ اس لقطے کو اٹھا لے، کیونکہ جب اس کو پتہ ہوگا کہ تشہیر کے بعد میرے لیے خود اس سے نفع اٹھانا جائز ہوگا تو وہ اٹھائے گا اس لقطے کو اور اس طرح لوگوں کے مال کی حفاظت ہوگی، تو یہی چیز تو مالدار کے اندر بھی موجود ہے، اگر مالدار کو بھی یہ پتہ ہو کہ تشہیر کے بعد میرے لیے اس مال سے نفع اٹھانا جائز ہوگا تو وہ لقطے کو اٹھائے گا اور اس طرح لوگوں کے مال کی حفاظت ہوگی، تو اصل مقصود یہاں کیا ہے؟ لوگوں کے مال کی حفاظت مقصود ہے، اور وہ جس طرح فقیر کو ابھارنے سے ہوگی اسی طرح مالدار کو ابھارنے سے بھی ہوگی۔ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں کہ ”وَالْغَنِيُّ مَحْمُولٌ عَلَى الْأَخْذِ“ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں کہ فقیر کے لیے اس لقطے سے جو نفع اٹھانا مباح ہے وہ اس لیے ہے تاکہ اس کو ابھارا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ فقیر اگر اس وجہ سے اس کو اٹھائے گا کہ میرے لیے نفع اٹھانا جائز ہے تشہیر کے بعد، تو اس مدتِ تشہیر کے اندر تو فقیر کے مالدار ہونے کا بھی احتمال ہے، تو ہو سکتا ہے فقیر سستی کرے کہ مدتِ تشہیر کے دوران تو میں مالدار بھی ہو سکتا ہوں کیونکہ مال تو آنے جانے والی چیز ہے، تو اس وقت تو میں فقیر ہوں لیکن مدتِ تشہیر کے اندر تو میں مالدار ہو جاؤں گا تو میرے لیے تو اس چیز سے نفع اٹھانا ہی جائز نہیں ہوگا تو فقیر اس چیز کے اٹھانے میں سستی کرے گا۔ فقیر اس چیز کے اٹھانے میں سستی کرے گا، لیکن مالدار کو ابھارا گیا ہے اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے مدتِ تشہیر کے دوران مالدار فقیر ہو جائے تو اس کے لیے بھی اس لقطے سے نفع اٹھانا جائز ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْغَنِيُّ مَحْمُولٌ عَلَى الْأَخْذِ“ اور مالدار جو ہے اس کو بھی لقطہ اٹھانے پر ابھارا گیا ہے، ”لِاحْتِمَالِ افْتِقَارِهِ فِي مُدَّةِ التَّعْرِيفِ“ اس لیے کیونکہ اس کے فقیر ہونے کا احتمال ہے مدتِ تشہیر کے اندر، ”وَالْفَقِيرُ قَدْ يَتَوَانَى“ اور فقیر جو ہے وہ بھی کبھی کبھار سستی کرتا ہے، ”لِاحْتِمَالِ اسْتِغْنَائِهِ فِيهَا“ اس وجہ سے کہ اس مدت کے دوران اس کے مالدار ہونے کا احتمال ہے۔ لہٰذا فقیر کے لیے نفع اٹھانا اس لیے مباح قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ اس کو اٹھا لے، ہمیں یہ علت منظور نہیں، کیونکہ اس علت کے باوجود ہو سکتا ہے وہ اٹھائے اور ہو سکتا ہے وہ نہ اٹھائے کہ اگر میں مالدار ہو گیا پھر تو میرے لیے نفع اٹھانا ہی جائز نہیں ہوگا، تو وہ اس کو پھر بھی نہیں اٹھائے گا بھئی۔ اور مالدار جو ہے، مالدار تو ویسے بھی اس پر ابھارا گیا ہے کیونکہ مال آنے جانے والی چیز ہے، ہو سکتا ہے اس مدت کے دوران وہ مالدار فقیر ہو جائے تو اس کے لیے خود بھی نفع اٹھانا جائز ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ ”وَانْتِفَاعُ أُبَيٍّ كَانَ بِإِذْنِ الْإِمَامِ“ امام شافعی رحمہ اللہ دلیل ذکر فرماتے ہیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کہ حضور علیہ السلام نے انہیں اس مال سے نفع اٹھانے کا حکم دیا تھا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں: ”وَانْتِفَاعُ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس لقطے سے نفع اٹھانا، ”كَانَ بِإِذْنِ الْإِمَامِ“ وہ امام کی اجازت سے تھا، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے تھا، ”وَهُوَ جَائِزٌ بِإِذْنِهِ“ اور امام کی اجازت سے یہ جائز ہے۔ امام کی اجازت سے یہ جائز ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، جبھی تو ہمارے نزدیک مالدار نفع نہیں اٹھا سکتا لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نفع اٹھا سکتا ہے، معلوم ہوا اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، تو یہ مجتہد فیہ مسئلہ ہوا، لہٰذا امام کی اجازت سے یہاں امیر کے لیے بھی نفع اٹھانا جائز ہوگا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَانْتِفَاعُ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ بِإِذْنِ الْإِمَامِ“ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس لقطے سے نفع اٹھانا وہ امام کی اجازت کی وجہ سے تھا، ”وَهُوَ جَائِزٌ بِإِذْنِهِ“ اور مالدار کا نفع اٹھانا امام کی اجازت سے جائز ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ نیز ہمارے فقہاء اور بھی جواب دیتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابی بن کعب بھی فقراء میں سے تھے۔ کس میں سے تھے؟ فقراء میں سے تھے، تو ہو سکتا ہے حضور علیہ السلام نے جس زمانے میں انہیں اس لقطہ سے نفع اٹھانے کی اجازت دی ہو سکتا ہے اس زمانے میں وہ فقیر ہوں، مالدار نہ ہوں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ كَانَ الْمُلْتَقِطُ فَقِيرًا“ اور اگر وہ لقطہ اٹھانے والا فقیر ہے، ”فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا“ تو کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس لقطے سے نفع اٹھا لے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَحْقِيقِ النَّظَرِ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس میں رعایت ثابت ہے دونوں جانب کی، دونوں جانب کی رعایت اور شفقت ہے۔ ملتقط اٹھانے والے کی رعایت ہو گئی کہ وہ اس سے نفع اٹھا سکے گا تشہیر کے بعد، اور مالک کی بھی رعایت ہو گئی کہ اس کو ثواب مل سکے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَحْقِيقِ النَّظَرِ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر شفقت کو ثابت کرنا ہے دونوں جانب، ”وَلِهَذَا جَازَ الدَّفْعُ إِلَى فَقِيرٍ غَيْرِهِ“ اور اسی لیے جائز ہے اس لقطے کو دینا کسی دوسرے فقیر کو۔ دوسرے فقیر کو بھی اسی لیے دینا جائز ہے کہ مالک کو اس کا ثواب مل جائے گا بھئی۔ ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْفَقِيرُ أَبَاهُ أَوْ ابْنَهُ أَوْ زَوْجَتَهُ وَإِنْ كَانَ هُوَ غَنِيًّا لِمَا ذَكَرْنَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ بھئی کہتے ہیں اسی طرح اگر یہ ملتقط یہ تو مالدار ہے لیکن اس کا باپ غریب ہے یا بیٹا غریب ہے یا اس کی بیوی جو ہے وہ فقیر ہے، تو ان کو بھی وہ دے سکتا ہے۔ ان کو بھی وہ دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْفَقِيرُ أَبَاهُ“ اور اسی طرح ہے، یعنی اس سے نفع اٹھانے میں کوئی حرج نہیں اگر وہ فقیر جو ہے ملتقط کا باپ ہو، ”أَوْ ابْنَهُ“ یا اس کا بیٹا ہو، ”أَوْ زَوْجَتَهُ“ یا اس کی بیوی ہو، ”وَإِنْ كَانَ هُوَ غَنِيًّا“ اگرچہ وہ ملتقط خود مالدار ہو، ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ اس میں دونوں جانب کی رعایت ہے کہ مالک کو ثواب مل جائے گا اور فقیر اس سے نفع اٹھا سکے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 147 of 160