آگے سبق دیکھیے بھئی:
بَابُ اسْتِيلَاءِ الْكُفَّارِ
”وَإِذَا غَلَبَ التُّرْكُ عَلَى الرُّومِ فَسَبَوْهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ مَلَكُوهَا لِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ قَدْ تَحَقَّقَ فِي مَالٍ مُبَاحٍ، وَهُوَ السَّبَبُ عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، فَإِنْ غَلَبْنَا عَلَى التُّرْكِ حَلَّ لَنَا مَا نَجِدُهُ مِنْ ذَلِكَ اعْتِبَارًا بِسَائِرِ أَمْلَاكِهِمْ“
بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ غنیمتوں کی تقسیم کا طریقہ بیان فرما رہے تھے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام جو ہے سب سے پہلے غنیمتوں میں سے خمس نکال لے گا یعنی پانچواں حصہ بھئی، پانچواں حصہ، اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾
کہ جان لو تم جو کچھ تمہیں غنیمت میں حاصل ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے، تو لہٰذا یہ خمس نکال لیا جائے گا اور باقی کے چار خمس جو ہیں وہ غازیوں کے درمیان تقسیم کر دیے جائیں گے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی فرماتے تھے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ایک ہے پیادہ اور ایک ہے گھڑ سوار، تو گھڑ سوار کو پیادے کے مقابلے میں دگنا حصہ ملے گا، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ گھڑ سوار کو پیادے کے مقابلے میں تین گنا مال ملے گا اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بیان فرمایا کہ اگر ایک شخص ایک سے زیادہ گھوڑے لے کر جہاد کے لیے نکلا ہے تو اس کو ایک ہی گھوڑے کا حصہ دیا جائے گا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو دو گھوڑوں کا حصہ دیا جائے گا۔
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ چاہے عربی گھوڑا ہو چاہے غیر عربی گھوڑا ہو وہ دونوں برابر ہیں بھئی، اس لیے کیونکہ قرآن میں خیل کا ذکر آیا ہے اور خیل کا اطلاق عربی اور غیر عربی تمام گھوڑوں پر برابری کے ساتھ ہوتا ہے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ عند الاحناف گھڑ سواروں والا حصہ کسے ملے گا اور پیادوں والا حصہ کسے ملے گا؟ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہمارے نزدیک غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ دار الاسلام کی سرحد عبور کر کے دار الحرب میں داخل ہونا ہے جہاد کی نیت سے، لہٰذا اس سرحد کو عبور کرتے وقت جس کے پاس گھوڑا تھا تو اس کو گھڑ سواروں والا حصہ ملے گا، چاہے لڑائی سے پہلے اس کا گھوڑا مر ہی کیوں نہ جائے پھر بھی اس کو گھڑ سواروں والا حصہ ملے گا کیونکہ سرحد عبور کرتے ہوئے اس کے پاس گھوڑا موجود تھا، اور اگر اس کے برعکس ہوتا ہے یعنی ایک شخص نے بغیر گھوڑے کے سرحد عبور کی اور پھر دار الحرب میں جا کر گھوڑا خرید لیا تو ہمارے نزدیک سرحد عبور کرتے وقت اس کے پاس گھوڑا نہیں تھا لہٰذا اس کو پیادوں والا حصہ ملے گا۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ ان دونوں مسئلوں میں اس کے برعکس فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ اگر سرحد عبور کرتے ہوئے گھوڑا موجود ہو لیکن لڑائی میں حاضر ہونے سے پہلے وہ گھوڑا مر جائے تو پھر اس شخص کو پیادوں والا حصہ ملے گا، اور اگر سرحد عبور کرتے ہوئے کوئی آدمی گھوڑے کے بغیر ہے لیکن دار الحرب میں جا کر وہ گھوڑا خرید لیتا ہے اور اس کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرتا ہے تو اس کو گھڑ سواروں والا حصہ ملے گا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے دلیلیں ذکر فرمائی تھیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غنیمت کا سبب جو ہے، غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ غلبہ اور لڑائی ہے بھئی، اور باقی سرحد کو عبور کرنا یہ تو وسیلہ ہے لڑائی تک پہنچنے کا، اور وسیلے کا اعتبار نہیں کیا جاتا سبب کا اعتبار کیا جاتا ہے اور سبب تو لڑائی اور غلبہ ہے بھئی، لہٰذا لڑائی کا اعتبار کیا جائے گا۔
اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ نے ہماری دلیل کا جواب بھی ذکر کیا، میں نے بتلایا کہ ہماری دلیل یہ ہے کہ لڑائی میں حاضر ہونا یا لڑائی کرتے وقت کسی کی حالت پر مطلع ہونا یہ امام یا اس کے نائب کے لیے ممکن نہیں ہے، میں نے بتلایا یہاں تین صورتیں بنتی ہیں بھئی: ایک ہے سرحد کو عبور کرنا، اور ایک ہے جب وہ دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کر پڑاؤ ڈال لیتی ہیں لڑائی شروع ہونے لگی ہے اس کو کہتے ہیں شہودِ وقعہ یعنی لڑائی میں حاضر ہونا، اور ایک ہے پھر باقاعدہ صفیں بنا کر آگے لڑائی کی جاتی ہے تو یہ ہے لڑائی، تو لڑائی اور چیز، لڑائی میں حاضر ہونا اور چیز، اور سرحد عبور کرنا اور چیز ہے۔ تو احناف کہتے ہیں کہ عینِ لڑائی جب ہو رہی ہے اس وقت بھی لوگوں کی حالت پر امام مطلع نہیں ہو سکتا کہ یہ گھوڑوں پر سوار ہو کر لڑ رہے ہیں یا پیدل لڑ رہے ہیں، اور نیز لڑائی سے پہلے جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے اور انہوں نے پڑاؤ ڈال لیا تو اس وقت بھی کسی کی حالت پر مطلع ہونا امام یا اس کے نائب کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ اس وقت لڑائی کی تیاری ہو رہی ہے، صفیں بنائی جا رہی ہیں، لڑائی شروع ہونے والی ہے، تو معلوم ہوا لڑائی کے دوران کی حالت کا بھی پتہ نہیں چل سکتا اور لڑائی کے وقت جو لشکر آمنے سامنے آ گئے یعنی وہ جو شہودِ وقعہ ہے لڑائی میں حاضر ہونا۔ توجہ ہے؟ ایک ہے عینِ لڑائی، ایک ہے لڑائی میں حاضر ہونا یعنی اس لشکر میں موجود ہونا جو اب لڑائی شروع کرنے والا ہے، تو ہمارے نزدیک نہ لڑائی کے اندر امام اور نائب کو کسی کی حالت کا پتہ چل سکتا ہے اور نہ لڑائی سے پہلے جو لشکر موجود ہے اس کے اندر کسی کی حالت کا پتہ چل سکتا ہے کیونکہ اس وقت بھی لڑائی کی تیاری ہو رہی ہے، ہاں البتہ سرحد کو عبور کرتے وقت جو ہے وہ پتہ چل سکتا ہے کہ کون گھوڑے پر سوار ہے اور کون پیدل ہے، لہٰذا سرحد کو عبور کرنے کا اعتبار کیا جائے گا۔
تو دلیل چل رہی تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہاد کے بعض احکام کا تعلق عینِ لڑائی سے ہے، مثلاً غلام یا بچہ لڑائی کرے، عینِ لڑائی میں حصہ لے تو ان کو کچھ مال دیا جاتا ہے، اسی طرح عینِ لڑائی کے اندر کوئی شہید ہو جائے تو اس کو غسل نہیں دیا جاتا، تو معلوم ہوا جہاد کے کچھ احکام کا تعلق عینِ لڑائی سے ہے، معلوم ہوا لڑائی کے دوران بھی ان چیزوں پر امام یا اس کا نائب مطلع ہو سکتے ہیں، لہٰذا لڑائی ہی کو غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب قرار دینا چاہیے۔
اور اگر آپ کی بات مان لی جائے کہ لڑائی کے اندر کسی کی حالت پر مطلع ہونا ممکن نہیں، تو بھی لڑائی سے پہلے وہ جو دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے بھئی یعنی شہودِ وقعہ، ایک ہے لڑائی، ایک ہے لڑائی میں حاضر ہونا یعنی اس لشکر میں حاضر ہونا، اور ایک ہے سرحد عبور کرنا، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ لڑائی کے اندر کسی کی حالت کا پتہ امام کو نہیں چل سکتا تو بھی سرحد کو عبور کرنے کو سبب قرار نہیں دینا چاہیے بلکہ شہودِ وقعہ یعنی وہ جو لشکر جو لڑائی کے وقت موجود ہے اس لشکر کے اندر موجود ہونا اور حاضر ہونا اس کو غنیمت کے استحقاق کا سبب قرار دینا چاہیے، وجہ یہ کہ یہ لڑائی کے قریب ہے، لشکر دونوں آمنے سامنے آئے، لڑائی کی تیاری شروع ہوئی اور پھر اس کے بعد لڑائی ہو گئی، تو لشکر کے اندر حاضر ہونا یہ لڑائی کے قریب ہے بمقابلہ سرحد کے عبور کرنے کے کہ وہ بات تو پیچھے گزر چکی ہے بھئی، لہٰذا اگر آپ لڑائی کو سبب قرار نہیں دیتے غنیمت کا تو پھر لڑائی کے جو قریب ہے یعنی لڑائی میں حاضر ہونا، اس لشکر میں حاضر ہونا اس کو سبب قرار دینا چاہیے نہ کہ سرحد کو عبور کرنا جو کہ بعید ہے یعنی جو دور بات گزر چکی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ نہیں، یہ جو سرحد کو عبور کرنا ہے یہی لڑائی ہے، یہیں سے گویا لڑائی شروع ہو گئی کیونکہ جب مسلمان سرحد کو عبور کریں گے ان کی تعداد زیادہ ہو گی اور وہ قوت کے ساتھ اور گھوڑوں کے ساتھ حملہ آور ہوں گے تو دشمن کو اس کی خبر پہنچے گی تو ان پر ہیبت طاری ہو جائے گی بھئی، اور باقی اس کے بعد جو ہے وہ تو دوامِ لڑائی ہے اور دوامِ لڑائی کا اعتبار نہ ہمارے نزدیک ہے نہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، دوامِ لڑائی مثلاً ایک آدمی گھوڑے کے ساتھ لڑائی اس نے شروع کی ہے اور لڑائی کے بیچ میں اس کا گھوڑا مارا گیا تو اب دیکھو یہ دوامِ لڑائی کی حالت ہے تو بھی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آدمی کو گھڑ سوار کا حصہ ملے گا، معلوم ہوا دوامِ قتال کا اعتبار وہ بھی نہیں کرتے، ابتدائے قتال کا اعتبار کرتے ہیں، تو یہاں بھی ابتدائے قتال یعنی سرحد کو عبور کرنے کا ہی اعتبار ہو گا بھئی، تو لہٰذا ہمارے نزدیک سرحد کو عبور کرنے کا ہی اعتبار ہو گا بھئی۔
تو حاصلِ کلام یہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہے لڑائی اور ایک ہے لڑائی سے پہلے وہ جو دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے یعنی شہودِ وقعہ، لڑائی میں حاضر ہونا یعنی لڑائی کے وقت لشکر میں حاضر ہونا۔ توجہ ہے؟ تو ایک ہے لڑائی اور ایک ہے لڑائی کے وقت لشکر میں حاضر ہونا، اور ایک ہے سرحد کو عبور کرنا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل میں تو غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب لڑائی کو قرار دینا چاہیے، کس کو؟ لڑائی کو قرار دینا چاہیے کیونکہ لڑائی کے اندر بھی امام دوسروں کی حالت پر مطلع ہو سکتا ہے اسی لیے تو جہاد کے بعض احکام جو ہیں وہ لڑائی کی حالت سے ہی متعلق ہیں، اور اگر ہم آپ کی بات مان بھی لیں کہ لڑائی کے اندر امام یا اس کا نائب سب کی حالت پر مطلع نہیں ہو سکتے تو پھر بھی لڑائی سے پہلے جو شہودِ وقعہ ہے یعنی لشکر کے اندر حاضر ہونا اس کو سبب قرار دینا چاہیے نہ کہ سرحد کو عبور کرنے کو، کیونکہ سرحد کو عبور کرنا وہ بات تو دور گزر چکی ہے بھئی اس کو تو وقت گزر گیا ہے، جبکہ لشکر کے اندر حاضر ہونا یہ تو لڑائی کے قریب ہے، تو قریب والی چیز کو سبب قرار دینا چاہیے غنیمت کا نہ کہ دور والی چیز کو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی مسئلہ بیان فرمایا کہ غلام ہے یا عورت ہے یا بچہ ہے یا مجنون ہے یا ذمی ہے، اگر انہوں نے لڑائی میں حصہ لیا تو ان کو بالغ مرد جتنا حصہ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کو تھوڑا سا مال دیا جائے گا بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے خمس کی تقسیم بیان فرمائی تھی کہ عند الاحناف خمس جو ہے اس کے تین حصے کیے جائیں گے، تمام خلفائے راشدین کا عمل اسی طرح تھا، قرآن میں اگرچہ پانچ حصے ذکر ہیں البتہ اس میں اللہ کا نام جو ذکر کیا گیا ہے وہ بطورِ برکت کے ہے آغاز کے اندر، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ تھا وہ ان کی رسالت کی وجہ سے تھا اور حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد اب وہ حصہ خلفاء کو نہیں ملے گا کیونکہ رسالت ختم ہو چکی ہے بھئی، اور حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کو جو حصہ دیا جاتا تھا وہ اس وجہ سے کیونکہ وہ رشتہ دار حضور علیہ السلام کی مدد کرتے تھے، تو لہٰذا جب حضور وفات پا گئے تو اب رشتہ داروں کا وہ مدد کرنا بھی ختم ہو گیا لہٰذا رشتہ داروں کا حصہ بھی نہیں ہو گا بھئی، اور البتہ تین حصے ہوں گے: یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے بھئی، اور حضور علیہ السلام کے خاندان والوں میں سے جو فقراء ہیں وہ بھی انہی تین کے اندر داخل ہو جائیں گے ان کو بھی مال دیا جائے گا، البتہ وہ ان پر مقدم ہوں گے، وہ باقی لوگوں پر مقدم ہوں گے بھئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر ایک دو مسلمان دار الحرب کے اندر جاتے ہیں اور کچھ مال چھین کر لے آتے ہیں تو پھر اس کے اندر خمس نہیں نکالا جائے گا، لیکن اگر مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت گئی جس کے پاس قوت اور طاقت تھی تو پھر اس میں سے خمس نکالا جائے گا بھئی۔
اور اس کے بعد ہم نے تنفیل کے مسائل پڑھے تھے، میں نے بتلایا تھا تنفیل جو ہے نفل سے ہے اور نفل کا معنی ہے زائد بھئی، زائد، تو امام جو ہے حصوں سے زائد انعام کا اعلان بھی کر سکتا ہے ان کو ابھارنے کے لیے، اور اس طرح مجاہدین کو ابھارنا مستحب ہے، مثلاً امام کہتا ہے: ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کافر سے چھینا ہوا سارا مال اس قاتل ہی کا ہے بھئی، تو یہ تحریص جو ہے مستحب ہے بھئی۔ مطلقاً تحریص یعنی مطلقاً لڑائی پر ابھارنا، جہاد پر ابھارنا یہ واجب ہے اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ﴾
اے پیغمبر! مومنین کو قتال پر ابھاریے، تو یہاں ”حَرِّضْ“ امر کا صیغہ آیا اور امر وجوب کے لیے آتا ہے تو مطلقاً ابھارنا جو ہے وہ واجب ہو گا، اور یہ ابھارنا وعظ و نصیحت اور ترغیب کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور زائد انعام کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے بھئی، تو زائد انعام کے ساتھ بالخصوص ابھارنا یہ مستحب ہے، یہ واجب نہیں ہے بھئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر امام نے یہ اعلان نہ کیا کہ ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ اس قسم کا اعلان اگر امام نے نہیں کیا تو پھر کسی بھی مقتول کافر کے پاس سے جو کچھ مال ملے گا وہ سارا مالِ غنیمت میں شمار ہو گا وہ اسی قاتل کا نہیں ہو گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا: ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ اور حضور علیہ السلام شرعی احکام بتلانے کے لیے تشریف لائے تھے تو یہ حضور علیہ السلام شرعی حکم ہی بتلا رہے ہیں، معلوم ہوا جو بھی کسی کافر کو قتل کر دے بشرطیکہ وہ کافر اس کے مقابلے میں ہو، وہ کافر اس کے مقابلے میں آیا ہو اس کی طرف متوجہ ہو، تو اس کافر سے چھینا ہوا سارا مال اسی قاتل کا ہو گا، جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کسی نے بھاگتے ہوئے کافر کو قتل کیا یا سوئے ہوئے کافر کو قتل کیا تو اس کا یہ حکم نہیں ہے۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ جو حضور علیہ السلام نے فرمایا ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ تو اس کے اندر یہ بھی احتمال ہے کہ حضور علیہ السلام شرعی حکم بیان فرما رہے ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ حضور علیہ السلام بطورِ انعام کے یہ فرما رہے ہوں، تو پھر ہم نے انعام والی جانب کو ترجیح دے دی حضرت حبیب ابن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے، کہ ان سے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ تمہارے لیے مقتول سے چھینا ہوا سارا مال نہیں ہو گا مگر وہ جو تمہارے لیے امام پسند کرے، اور یہ الفاظ تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں لیکن اس کی اصل جو ہے وہ حضور علیہ السلام کے قول سے ہی ماخوذ ہے، حضور علیہ السلام نے ہی اس طرح فرمایا تھا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ سلب میں کیا کیا چیزیں شامل ہوں گی، تو بتلایا کہ اس کے اندر مقتول کے کپڑے، اسلحہ، اس کی سواری، اسی طرح گھوڑے پر اس نے کوئی تھیلے کے اندر مال رکھا ہے یا اپنے بدن پر اس نے کمر کے ساتھ تھیلی وغیرہ میں کوئی مال وغیرہ باندھا ہوا ہے تو یہ ساری چیزیں سلب میں داخل ہوں گی، لیکن اس کے علاوہ اور مال سلب میں داخل نہیں ہو گا، اسی مقتول کافر کا اگر کوئی غلام لڑ رہا ہے تو وہ غلام یا اس کی سواری وغیرہ جو ہے وہ اس سلب کے اندر داخل نہیں ہو گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”بَابُ اسْتِيلَاءِ الْكُفَّارِ“
استیلاء آپ پڑھ چکے ہیں، استیلاء کا معنی ہے غلبہ بھئی، غلبہ اور قبضہ بھئی۔ ”بَابُ اسْتِيلَاءِ الْكُفَّارِ“ یہ باب ہے کفار کے غلبے کے بیان میں۔ بھئی کفار کا غلبہ، بعض اوقات ایک ملک کے کفار وہ غالب آئیں گے دوسرے ملک کے کفار پر، یا بعض اوقات کفار غالب آئیں گے مسلمانوں پر، تو دونوں کو بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَإِذَا غَلَبَ التُّرْكُ عَلَى الرُّومِ“ اور جب ترکی والے غالب آ گئے روم والوں پر، تُرک جمع ہے تُرکی کی اور روم جمع ہے رومی کی جیسے عرب جمع ہے عربی کی بھئی۔ تو تُرک والے یعنی ترک والے جو کفار ہیں وہ مراد ہیں اور روم والے کفار اور عیسائی یعنی انگریز مراد ہیں، کون مراد ہیں؟ انگریز۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا غَلَبَ التُّرْكُ عَلَى الرُّومِ“ اور جب ترکی کے کفار غالب آ گئے روم کے کفار پر ”فَسَبَوْهُمْ“ تو انہوں نے ان کو قیدی بنا لیا ”وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ“ اور ان کے مالوں کو لے لیا ”مَلَكُوهَا“ تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔ ترکی کے کفار نے روم کے کفار پر حملہ کیا اور ان کو قیدی بنا لیا اور ان کے مال چھین لیے تو یہ کفار جو غالب ہوئے ہیں یہ اس مال کے مالک بن جائیں گے، تو کہتے ہیں ”مَلَكُوهَا“ تو یہ ترکی کے کفار اس مال کے مالک بن جائیں گے۔ یاد رکھو یہ تمہید باندھ رہے ہیں، اصل مقصد جس کے لیے یہ مسئلہ ذکر کیا جا رہا ہے متن کے اندر وہ مقصود آگے بیان ہو گا، یہ کیا ہے اس مقصود کے لیے تمہید ہے، بھئی دیکھو بلکہ یہیں سمجھ لو: ترکی والوں نے روم والوں پر قبضہ کر لیا، ان کے مال و اسباب چھین لیے اور ان کو قیدی بنا لیا، اب بعد میں مسلمانوں کی ان ترکی والوں سے لڑائی ہوئی اور مسلمان ترکی والوں پر غالب آ گئے تو آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ کفار کا جو مال بھی مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا وہ مالِ غنیمت ہے، لیکن ترکی والوں کے پاس وہ روم والوں کا مال بھی ہے، تو کیا مسلمان اس مال پر جب غلبہ پا لیں تو اس کے بھی مالک بنیں گے یا نہیں؟ تو بتلائیں گے کہ ہاں مسلمان اس کے بھی مالک بن جائیں گے۔ تو یہ جو ترکی کا روم پر غلبہ ذکر ہو رہا ہے یہ کس لیے ذکر ہو رہا ہے؟ کہ بعد میں ترکی والوں پر اگر مسلمان غالب آ گئے تو ترکی والوں کے پاس روم والوں کا مال موجود ہے اب مسلمان تو ترکی والوں پر غالب ہوئے ہیں تو کیا وہ روم والوں کا مال بھی مسلمانوں کا مملوک ہو گا یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ہاں وہ مال بھی مسلمانوں کو مملوک ہو جائے گا اس لیے کیونکہ ترکی والے اس مال کے مالک بن چکے ہیں تو یہ ترکی والوں کے باقی مالوں کی طرح ہو گیا، اور ترکی والوں کے باقی مالوں پر مسلمان قبضہ کر لیں گے تو وہ مالِ غنیمت بن جائے گا تو یہ مال بھی مالِ غنیمت بن جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا غَلَبَ التُّرْكُ عَلَى الرُّومِ“ اور جب ترک والے غالب آ گئے روم والوں پر ”فَسَبَوْهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ“ تو ترک والوں نے ان روم والوں کو قید کر لیا اور ان کے اموال کو چھین لیا ”مَلَكُوهَا“ تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ قَدْ تَحَقَّقَ فِي مَالٍ مُبَاحٍ“ اس لیے کیونکہ غلبہ پایا گیا مالِ مباح کے اندر۔ بھئی مالِ مباح پر جو قبضہ کر لے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے جیسے جنگل کے اندر شکار ہے، لکڑیاں ہیں، گھاس ہیں، تو یہ تمام دار الاسلام والوں کے لیے مباح ہیں، تو جو اس شکار کو پکڑ لے گا یا ان لکڑیوں اور گھاس کو جمع کر لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا، تو یہاں پر بھی، یہاں پر بھی ترک والوں نے جو روم والوں کے مال پر قبضہ کیا تو یہ مالِ مباح پر انہوں نے قبضہ کیا ہے، ان کے لیے یہ مال کیا ہے؟ مالِ مباح ہے۔ آگے چل کر صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے، صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ دار الحرب کے اندر مال کی عصمت نہیں ہے وہ مالِ مباح ہے جو اس پر قبضہ کر لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا، تو لہٰذا ترک والوں نے کس پر قبضہ کیا؟ مالِ مباح پر، لہٰذا وہ مالک بن گئے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ قَدْ تَحَقَّقَ فِي مَالٍ مُبَاحٍ“ اس لیے کیونکہ غلبہ پایا گیا مالِ مباح کے اندر ”وَهُوَ السَّبَبُ عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور وہ غلبہ ہی سبب ہے ملکیت کا، اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ، ”فَإِنْ غَلَبْنَا عَلَى التُّرْكِ“ پھر اگر ہم ترک والوں پر غالب آ گئے ”حَلَّ لَنَا مَا نَجِدُهُ مِنْ ذَلِكَ“ تو حلال ہو گا ہمارے لیے اس میں سے ہم جو پا لیں، تو یہ ہے مقصودِ مسئلہ، بات سمجھ میں آ گئی؟ ”حَلَّ لَنَا مَا نَجِدُهُ مِنْ ذَلِكَ“ تو حلال ہو گا ہمارے لیے ہم جو اس مال میں سے پا لیں ”اعْتِبَارًا بِسَائِرِ أَمْلَاكِهِمْ“ قیاس کرتے ہوئے ترکوں کی باقی املاک پر۔ جیسے ترکوں کی باقی املاک ہمارے لیے مباح ہے اور حلال ہیں ہم ان پر قبضہ کریں گے تو وہ مالِ غنیمت بن جائے گا تو ترکی والے اس مال کے بھی مالک بن چکے ہیں تو یہ بھی ان کے باقی اموال کی طرح ہے تو یہ بھی ہمارے لیے حلال ہو گا، یہ معنی ہے ”اعْتِبَارًا بِسَائِرِ أَمْلَاكِهِمْ“ قیاس کرتے ہوئے ترک والوں کی باقی ملکیتوں پر۔
”وَإِذَا غَلَبُوا عَلَى أَمْوَالِنَا وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ وَأَحْرَزُوهَا بِدَارِهِمْ مَلَكُوهَا“
”وَإِذَا غَلَبُوا عَلَى أَمْوَالِنَا“ اور کفار اگر ہمارے مالوں پر غالب آ گئے ”وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ“ اور ہم اللہ سے اس کی پناہ مانگتے ہیں کہ کفار ہمارے مال پر غالب آئیں، تو کہتے ہیں ”وَإِذَا غَلَبُوا عَلَى أَمْوَالِنَا“ اور جب کفار ہمارے مالوں پر غالب آ گئے ”وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ“ اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے ”وَأَحْرَزُوهَا بِدَارِهِمْ“ اور کفار نے ہمارے مالوں کو محفوظ کر لیا اپنے دار میں یعنی اس کو وہ دار الحرب لے گئے ”مَلَكُوهَا“ تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔ یاد رکھو کفار ہماری مملکتِ اسلامیہ پر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے مال وغیرہ چھین لیا تو ابھی تک وہ مالک نہیں، جب وہ اپنے دار میں لے جائیں گے پھر وہ مالک بنیں گے، جیسے مسلمانوں کے ہاتھ مالِ غنیمت آتا تھا تو جب تک وہ اپنے دار میں مسلمان نہیں لے جاتے تھے مالک نہیں بنتے تھے، تو یہاں پر بھی جب تک کفار ہمارے مال کو اپنے دار الحرب میں نہیں لے جائیں گے مالک نہیں بنیں گے۔
اور یاد رکھو یہ جو ذکر کیا کہ کفار ہمارے مال پر غالب آ گئے اور اس کو اپنے وطن لے گئے تو مالک بن جائیں گے، یہ بھی تمہید ذکر کی جا رہی ہے اگلے مسئلے کے لیے۔ یہ بھی تمہید ذکر کی جا رہی ہے اگلے مسئلے کے لیے۔ اگلے مسئلے میں ذکر فرمائیں گے کہ پھر اگر ہم دوبارہ یہ مال ان سے واپس چھین لیں تو کیا جن کا مال تھا انہی کو لوٹانا پڑے گا یا یہ مالِ غنیمت شمار ہو گا؟ کفار ہم سے مال چھین کر لے گئے تھے اور پھر بعد میں مجاہدین گئے اور انہوں نے پھر ان کفار پر غلبہ پا لیا اور وہ سارا مال لے کر آ گئے، تو کیا یہ پرانے مالکوں کو لوٹایا جائے گا کیونکہ یہ تو مسلمانوں کا مال ہے یا یہ مالِ غنیمت شمار ہو گا؟ تو وہ آگے مسئلہ ذکر فرمائیں گے تو یہ اس کی تمہید ہے۔ جی ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: ”وَإِذَا غَلَبُوا عَلَى أَمْوَالِنَا وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ وَأَحْرَزُوهَا بِدَارِهِمْ مَلَكُوهَا“ اور جب کفار نے ہمارے مالوں پر قبضہ کر لیا اور ہم اللہ سے اس کی پناہ مانگتے ہیں اور انہوں نے اس کو جمع کر لیا اپنے دار میں یعنی دار الحرب میں، تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَمْلِكُونَهَا“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اس کے مالک نہیں بنیں گے۔ کفار ہمارا مال چھین کر لے گئے، ہمارے نزدیک کفار مالک بن گئے اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، کفار ابھی بھی اس کے مالک نہیں، بھئی کیوں نہیں مالک بنے؟ دلیل ذکر کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک کفار نے یہ جو مسلمانوں کے مال پر قبضہ کیا یہ حرام قبضہ کیا کیونکہ یہ تو مالِ معصوم تھا۔ تو ابتداءً بھی یہ قبضہ حرام، ابتداءً قبضہ کہاں تھا؟ دار الاسلام آئے اور مال پر قبضہ کر لیا۔ پھر اس مال کو لے گئے دار الحرب میں، تو انتہاء کے اعتبار سے بھی یہ قبضہ حرام ہے، تو یہ قبضہ ابتداءً بھی حرام کیونکہ شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور انتہاءً بھی حرام۔ بھئی شریعت نے ہر مسلمان اور ذمی کے مال کو محترم قرار دیا ہے، کسی کے لیے جائز نہیں کہ اس پر قبضہ کرے بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے مال پر قبضہ حرام ہے، شریعت نے اس سے منع کیا ہے، اور بالاتفاق جن چیزوں سے مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے کفار کو بھی ان سے منع کیا گیا ہے۔ توجہ ہے؟ پیچھے مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ اگر ذمی بھی زنا کرے گا تو اس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی، اس لیے کیونکہ زنا سے جس طرح مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے اسی طرح کفار کو بھی منع کیا گیا ہے، تو عبادات وغیرہ تو کفار پر لازم نہیں ہیں لیکن جن چیزوں کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے ان چیزوں سے بچنا ان پر بھی واجب ہے، اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا یہ اس لیے ہے تاکہ ان کو اور زیادہ سزا ملے آخرت کے اندر، ایک سزا ہو گی کفر کی اور ایک سزا ہو گی جرم کرنے کی بھئی، تو لہٰذا جو چیزیں مسلمانوں کے لیے حرام ہیں وہ کفار کے لیے بھی حرام ہیں، تو یہ جو حربیوں نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کیا یہ حرام قبضہ کیا، ابتداءً بھی یہ قبضہ حرام تھا جب دار الاسلام میں انہوں نے قبضہ کیا، اور انتہاء کے اعتبار سے بھی یہ قبضہ حرام ہے جب وہ دار الحرب لے گئے، تو لہٰذا اس کی وجہ سے یہ اس مال کے مالک نہیں بن سکتے، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ ہے کہ جب ایک چیز سے شریعت نے منع کیا ہو تو وہ چیز مشروع ہی نہیں، جائز ہی نہیں، جب وہ چیز جائز ہی نہیں ہے تو اس پر اس کے احکام بھی مرتب نہیں ہوں گے۔ اس پر اس کے احکام بھی مرتب نہیں ہوں گے۔ جیسے دیکھو، شکار کھیلنا تو مباح ہے، شریعت نے منع نہیں کیا تو لہٰذا جو کوئی شکار کو پکڑے گا تو وہاں اس کا حکم ثابت ہو جائے گا اور وہ اس کا مالک بن جائے گا، لیکن جس چیز سے شریعت نے منع کیا ہے جیسے شریعت نے خنزیر بیچنے سے منع کیا ہے یا شریعت نے مردار کو بیچنے سے منع کیا ہے یا شریعت نے شراب کو بیچنے سے منع کیا ہے تو لہٰذا اگر کوئی ان چیزوں کی بیع کر بھی لے پھر بھی وہ مالک نہیں بن سکتا، کوئی مسلمان ان کا مالک نہیں بن سکتا کیونکہ ان کو شریعت نے منع کیا ہے، جب شریعت نے منع کیا ہے تو یہ چیزیں مشروع ہی نہیں، جائز ہی نہیں، جب یہ جائز ہی نہیں ہیں تو ان کی وجہ سے ان کا حکم یعنی ملکیت بھی نہیں آ سکتی۔ توجہ ہے؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو انہوں نے قبضہ کیا ہے یہ قبضہ حرام تھا لہٰذا یہ ملکیت کا سبب نہیں بن سکتا، کیونکہ مالک بننا یہ تو نعمت ہے، یہ تو اللہ کی طرف سے انعام ہے کہ ایک آدمی ایک چیز کا مالک بن جاتا ہے، وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے زنا کی وجہ سے مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، بھئی ہمارے نزدیک آپ پڑھ چکے ہیں، ہمارے نزدیک کوئی شخص زنا بھی کر لے تو وہاں حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی یعنی اس مرد اور عورت کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں گے، عورت پر مرد کے اصول اور فروع حرام ہو گئے زنا کی وجہ سے اور مرد پر عورت کے اصول اور فروع حرام ہو گئے زنا کی وجہ سے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، مصاہرت یعنی سسرالی رشتہ وہ تو اللہ کی نعمت ہے تو فعلِ حرام کی وجہ سے یہ نعمت ثابت نہیں ہو سکتی بھئی۔ یا یہ اسی طرح ہے، وہ فرماتے ہیں، جیسے کوئی شخص سفر پر جائے تو وہ قصر نماز ادا کرتا ہے اگر اس نے تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت کا ارادہ کیا ہو، لیکن اگر ایک شخص ڈاکے کی نیت یا چوری کی نیت سے یہ سفر کر رہا ہے اور نماز بھی پڑھ رہا ہے تو دیکھو اس شخص کو رخصت نہیں ہو گی کیونکہ رخصت وہ تو اللہ کی نعمت ہے اور اس کا یہ سفر یہ تو گناہ کا سفر ہے اور گناہ جو ہے وہ انعام کا سبب نہیں ہو سکتا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو کفار ہمارے اوپر غالب آئے اور ہمارے مال کو چھین کر لے گئے یہ اس کے مالک نہیں بنے۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَمْلِكُونَهَا“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار ہمارے اس مال کے مالک نہیں بنیں گے ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ مَحْظُورٌ“ اس لیے کیونکہ یہ غلبہ ممنوع ہے، محظور بھئی ظاء کے ساتھ ہے، میں نے بتلایا تھا اس کا معنی کیا ہے؟ ممنوع بھئی، جیسے وہ ضابطہ آپ نے پڑھا ہے: ”الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ“ کہ ضرورت جو ہے ممنوع چیزوں کو یعنی حرام چیزوں کو بھی مباح کر دیتی ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ مَحْظُورٌ“ اس لیے کیونکہ یہ غلبہ جو ہے یہ ممنوع ہے ”ابْتِدَاءً وَانْتِهَاءً“ ابتداء کے اعتبار سے بھی اور انتہاء کے اعتبار سے بھی، ابتداء کے اعتبار سے یعنی کہاں پر؟ قبضہ کہاں کیا؟ دار الاسلام میں، اور انتہاء کے اعتبار سے بھی یہ قبضہ ممنوع ہے اور انتہاءً قبضہ کہاں پر کیا؟ دار الحرب لے گئے وہاں قبضہ ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ مَحْظُورٌ ابْتِدَاءً وَانْتِهَاءً“ اس لیے کیونکہ یہ غلبہ ممنوع ہے ابتداء کے اعتبار سے بھی اور انتہاء کے اعتبار سے بھی، ”وَالْمَحْظُورُ لَا يَنْتَهِزُ سَبَبًا لِلْمِلْكِ عَلَى مَا عُرِفَ مِنْ قَاعِدَةِ الْخَصْمِ“ انتھز ینتھز کے معنی ہیں کسی کام کے لیے اٹھنا، کسی کام کے لیے تیار ہونا، کہتے ہیں: ”وَالْمَحْظُورُ لَا يَنْتَهِزُ سَبَبًا“ اور ممنوع چیز جو ہے ”لَا يَنْتَهِزُ سَبَبًا“ وہ سبب ہو کر قائم نہیں ہوتی، وہ سبب ہو کر قائم نہیں ہوتی یعنی وہ سبب نہیں بنتی ”لِلْمِلْكِ“ ملکیت کے لیے ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جس کو جانا گیا ہے ”مِنْ قَاعِدَةِ الْخَصْمِ“ یعنی کہ فریقِ مخالف کا ضابطہ، خصم کہتے ہیں فریقِ مخالف کو، اور یہ جو آیا ”مِنْ قَاعِدَةِ الْخَصْمِ“ یہ بیان ہے ”مَا عُرِفَ“ کا، ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جس کو جانا گیا ہے، اور بھئی کس چیز کو جانا گیا ہے؟ ”مِنْ قَاعِدَةِ الْخَصْمِ“ یعنی فریقِ مخالف کا ضابطہ۔ یہ جگہ جگہ اس طرح کی عبارت آتی ہے بھئی، میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس صورت میں چونکہ یہ ”قَاعِدَةِ الْخَصْمِ“ یہ بیان ہے ”مَا عُرِفَ“ کا تو لہٰذا اس ”مَا“ کی جگہ پر ”قَاعِدَةِ الْخَصْمِ“ کو لے آیا کریں ترجمے میں، ترجمے میں اس ”مَا“ کی جگہ اس بیان کو لے آیا کریں جو آگے ”مِنْ“ کے بعد آ رہا ہے تو بہترین ترجمہ ہو جائے گا، جیسے دیکھیے پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَالْمَحْظُورُ لَا يَنْتَهِزُ سَبَبًا لِلْمِلْكِ“ اور ممنوع چیز جو ہے وہ ملکیت کا سبب نہیں ہو سکتی ”عَلَى مَا عُرِفَ مِنْ قَاعِدَةِ الْخَصْمِ“ بوجہ فریقِ مخالف کے اس ضابطے کے کہ جس کو جانا گیا ہے۔
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ بھئی آگے صاحبِ ہدایہ بھی دلیل ذکر فرمائیں گے، حاشیے میں ایک بڑی پیاری دلیل ذکر ہے وہ بھی دیکھ لیجیے بھئی۔ میں نے بتلایا تھا بھئی کہ یہ صاحبِ ہدایہ مختصر بات کرتے ہیں، کسی مسئلے میں ایک آدھ دلیل ذکر کرتے ہیں، کوشش ہوتی ہے کہ نقلی دلیل بھی ہو جائے اور عقلی بھی ہو جائے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ عند الاحناف یہی دلائل ہیں یا امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس یہی ایک دلیل ہے، بلکہ دلائل اور بھی ہوتے ہیں لیکن صاحبِ ہدایہ کوئی موٹی اور واضح دلیل جو ان کی طرف سے ہو اس کو بھی ذکر کرتے ہیں اور ہماری طرف سے کوئی واضح اور موٹی دلیل ہو اس کو بھی ذکر کر دیتے ہیں۔ تو حاشیے میں دلیل ذکر کی گئی ہے، ہمارے نزدیک بھئی، ہمارے نزدیک کفار جب مسلمانوں کے مال پر غلبہ پا لیں اور اس کو اپنے وطن لے جائیں تو اس کے مالک بن جاتے ہیں، دلیل اس کی یہ ہے کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں:
﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾
”لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ“ ان فقراء کے لیے جو مہاجرین ہیں ”الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ“ جن کو ان کے گھروں سے اور مالوں سے نکال دیا گیا۔ تو اس آیت کے اندر مہاجرین جو ہیں یعنی وہ جو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے ان کو فقراء قرار دیا گیا حالانکہ ان میں سے بہت سے مالدار تھے، مکہ کے اندر ان کی جائیدادیں موجود تھیں، مال موجود تھا لیکن پھر بھی ان کو آیت کے اندر فقراء کہا گیا۔ ان کو؟ ان کو فقراء کہا گیا کہ یہ فقیر ہیں محتاج ہیں، معلوم ہوا وہ جو ان کا مال تھا وہ ان کے قبضے سے نکل چکا ہے، کفار اس کے مالک بن گئے ہیں تبھی تو ان کو فقیر اور محتاج کہا گیا، اگر وہ مال ابھی بھی ان کی ملکیت میں ہوتا تو اس صورت میں تو یہ فقیر نہیں رہتے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
جی اب دیکھیے متن پر: ”وَلَنَا: أَنَّ الِاسْتِيلَاءَ وَرَدَ عَلَى مَالٍ...“
مُبَاحٍ، کہ یہ غلبہ وارد ہوا ہے مباح مال پر۔ یہ قبضہ آیا ہے کس پر؟ مالِ مباح پر۔ فَيَنْعَقِدُ سَبَبًا لِلْمِلْكِ، تو لہٰذا یہ ملکیت کا سبب ہو کر منعقد ہوگا۔ دَفْعًا لِحَاجَةِ الْمُكَلَّفِ، مکلف کی حاجت کو دور کرنے کے لیے۔
توجہ ہے؟ یہ ذرا مشکل دلیل ہے بھئی، توجہ سے سمجھنا۔ بھئی ہم کہتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾ کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ نے تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اللہ انسانوں کو خطاب فرما رہے ہیں کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ ہم نے، وہ ہم نے تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس آیت سے پتہ چلا زمین کا ہر مال مباح ہے۔ ہر مال مباح ہے، ہر انسان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اب ایک آدمی شکار پکڑ کے لے آیا، اس آیت کے مطابق یہ اس کا مالک نہیں بنتا، کیونکہ اگر یہ مالک بنے گا پھر تو صرف اس کے لیے فائدہ اٹھانا جائز ہے، باقیوں کے لیے فائدہ اٹھانا جائز نہیں، حالانکہ آیت میں کیا بتلا رہے ہیں اللہ تعالیٰ؟ کہ ہم نے تمہارے یعنی تم سب کے فائدے کے لیے یہ چیزیں پیدا کی ہیں۔ معلوم ہوا اس سے ابھی بھی اور لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، یہ آیت تقاضا کر رہی ہے۔ توجہ ہے؟ آیت کیا تقاضا کر رہی ہے؟ کہ ہر مال مباح ہونا چاہیے، کسی کو بھی اس کا مالک نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو سب کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے، اگر آپ اس کو کسی کا مملوک قرار دے دیں گے پھر تو باقی لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، صرف مالک فائدہ اٹھا سکے گا، حالانکہ اللہ تو فرما رہے ہیں ہم نے سب کچھ تم سب کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے۔
دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ لیکن چونکہ انسان مکلف ہے اور اس کو حاجت ہے اور ضرورت ہے اپنی حاجات کو پورا کرنے کی، لہٰذا ضروری ہے کہ اس کو مالک قرار دیا جائے۔ انسان محتاج ہے، اپنی ضرورتیں پوری کرنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی چیز اس کے ہاتھ آ جائے وہ پھر بھی مالک نہیں بنتا تو وہ تو اس سے اپنی ضرورت ہی نہیں پوری کر سکتا۔ ایک آدمی شکار پکڑ کر لے آیا، دوسرا آئے گا وہ اس سے لے جائے گا۔ تو یہ آدمی تو اس سے اپنی حاجت پوری نہیں کر سکتا۔ یا ایک آدمی جنگل میں جاتا ہے اور لکڑیاں لے آتا ہے، دوسرا آتا ہے اور اس کی لکڑیاں اٹھا کر لے جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو انسان کو تو حاجت ہے اپنی ضروریات پوری کرنے کی، لہٰذا اس آیت کے منافی ہو کر مالِ مباح جس کے ہاتھ آئے گا اس کے لیے ملکیت ثابت ہو جائے گی۔
لیکن یہ جو ملکیت ثابت ہوگی یہ اس آیت کے منافی ہو کر ثابت ہوگی، آیت تو کیا تقاضا کرتی ہے کہ ملکیت ثابت ہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن یہ ملکیت ثابت ہوگی اور یہ حکم آیت کے منافی ہے۔ بھئی آیت کے منافی کیسے حکم آپ ثابت کر سکتے ہیں؟ کہتے ہیں ضرورت اور حاجت کی وجہ سے۔ اَلضَّرُورَةُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ، ضرورت کی وجہ سے حرام چیز بھی حلال ہو جاتی ہے۔ تو یہاں بھی انسان کو حاجت اور ضرورت ہے، وہ ایک چیز اس کے قبضے میں آئی ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور فائدہ تب ہی اٹھا سکتا ہے جب اس کو اس کا مالک قرار دیا جائے، اگر آپ اس کو مالک قرار نہیں دیں گے پھر تو دوسرا آدمی آئے گا وہ اٹھا کر لے جائے گا بھئی، تو یہ تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا بھئی۔
لہٰذا آیت کیا تقاضا کرتی ہے کہ ہر مال مباح ہے۔ لیکن اس آیت کے منافی مکلف کے لیے ملکیت ثابت کر دی گئی کس کی وجہ سے؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے۔ لہٰذا بات چل رہی تھی کہ کفار آئے ہیں دار الاسلام کے اندر اور انہوں نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا، تو آپ نے پڑھا کہ کفار ابھی بھی اس کے مالک نہیں بنے، کفار کا قبضہ تو اس مال پر آ گیا ہے لیکن ابھی مالک نہیں بنے، لیکن جب وہ اس کو دار الحرب لے کر جائیں گے تو اب وہ مالک بن جائیں گے۔ بھئی اب کیوں مالک بنیں گے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ جب تک یہ مال دار الاسلام کے اندر ہے ابھی بھی احتمال ہے مسلمان دوبارہ حملہ کر کے واپس چھین لیں، لہٰذا ان کا پورا قبضہ مال پر نہیں، پوری طرح استیلا نہیں آیا، کیونکہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں استیلا کے اندر دو چیزیں ہیں، کہ استیلا کے اندر یدِ حافظہ کا ہونا بھی ضروری ہے اور یدِ ناقلہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یدِ حافظہ یعنی حفاظت والا قبضہ، اور یدِ ناقلہ یعنی ہر طرح کے تصرفات والا قبضہ۔
تو کفار نے آ کر مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا ہے تو یدِ حافظہ تو آ گیا، حفاظت والا قبضہ تو آ گیا، اب یہ چیز ان کی حفاظت میں ہے، لیکن اس کے اندر وہ تصرف بھی کر سکیں یعنی مالک بھی بن جائیں وہ قبضہ ابھی بھی ان کو حاصل نہیں، کیونکہ احتمال ہے مسلمان پھر حملہ آور ہوں اور یہ مال ان سے واپس چھین لیں۔ تو ان کو یدِ ناقلہ کب حاصل ہوگا یعنی تصرفات والا قبضہ کب حاصل ہوگا؟ جب یہ دار الحرب لے جائیں گے۔ جب یہ دار الحرب لے جائیں گے، جب یہ مال کو دار الحرب لے گئے تو مال اس مسلمان مالک کے قبضے سے نکل گیا۔ جب کہاں لے گئے؟ دار الحرب لے گئے۔ اب پوری طرح مال مسلمان مالک کے قبضے سے نکل گیا۔ جب مسلمان مالک کے قبضے سے مال نکل گیا تو مالِ مباح ہو گیا، اور مالِ مباح پر جو قبضہ کر لے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ معلوم ہوا یہ جو کفار نے قبضہ کیا ہے، ابتداءً تو وہ مالک نہیں بنے، ابتداءً تو ان کا قبضہ مالِ معصوم پر تھا، لیکن انتہاءً دار الحرب میں ان کا قبضہ مالِ مباح پر ہے اور مالِ مباح پر جو بھی قبضہ کر لے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، لہٰذا یہ کفار بھی اس مال کے مالک بن جائیں گے۔
دلیل سمجھ میں آ گئی۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ الِاسْتِيلَاءَ وَرَدَ عَلَى مَالٍ مُبَاحٍ کہ یہ غلبہ آیا ہے مالِ مباح پر، یہ جو کفار نے ہمارے مال پر قبضہ کیا یہ غلبہ مالِ مباح پر آیا ہے یعنی جب وہ دار الحرب لے جائیں گے وہاں پر، تو یہ مالِ مباح پر قبضہ آیا ہے فَيَنْعَقِدُ سَبَبًا لِلْمِلْكِ تو یہ ملکیت کا سبب ہو کر منعقد ہو جائے گا دَفْعًا لِحَاجَةِ الْمُكَلَّفِ مکلف کی حاجت کو دور کرنے کے لیے یعنی انسان کی حاجت کو دور کرنے کے لیے كَاسْتِيلَائِنَا عَلَى أَمْوَالِهِمْ جیسے کہ ہمارا غلبہ ہوتا تھا ان کے مالوں پر، کہ ان کے مالوں پر جب ہم قبضہ کرتے تھے تو جب دار الاسلام منتقل کرتے تھے ہم اس کے مالک بن جاتے تھے، كَاسْتِيلَائِنَا عَلَى أَمْوَالِهِمْ جیسے کہ ہمارا غلبہ ہوتا تھا ان کے مالوں پر۔
وَهَذَا اور یہ اس لیے، یہ استیلا مالِ مباح پر ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے ذکر کر دیا کہ مکلف کو حاجت ہے۔ انسان کو حاجت ہے وہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھا سکے اور فائدہ تب ہی اٹھا سکتا ہے جب اس کو مالک قرار دیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا اور یہ اس وجہ سے لِأَنَّ الْعِصْمَةَ تَثْبُتُ عَلَى مُنَافَاةِ الدَّلِيلِ، ترجمہ غور سے سننا بھئی، یہ مشکل جگہ ہے۔ لِأَنَّ الْعِصْمَةَ تَثْبُتُ اس لیے کیونکہ مال کی عصمت ثابت ہو جاتی ہے، مال مالِ معصوم بن جاتا ہے، مالِ محفوظ بن جاتا ہے، اصل تو کیا ہے؟ مال مباح ہے۔ لیکن، لیکن پھر کبھی مالِ محفوظ بنتا ہے یعنی کوئی شخص مالک بن جاتا ہے اور مالک کیوں بنتا ہے؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے، اگرچہ یہ اس آیت کے منافی ہے لیکن پھر بھی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے وہ مال معصوم ہو جاتا ہے بھئی۔
کہتے ہیں: وَهَذَا اور یہ مالِ مباح پر قبضہ ہے اس لیے لِأَنَّ الْعِصْمَةَ تَثْبُتُ عَلَى مُنَافَاةِ الدَّلِيلِ اس لیے کیونکہ اس مال کی عصمت اور حفاظت ثابت ہو جاتی ہے عَلَى مُنَافَاةِ الدَّلِيلِ اس دلیل کے منافی ہو کر، وہ جو آیت تھی، وہ آیت کیا تقاضا کر رہی ہے؟ کہ مال ہر ایک کے لیے مباح ہونا چاہیے، لیکن مال کی عصمت یعنی حفاظت ثابت ہو جائے گی اس آیت کے منافی ہو کر، یہ معنی ہے۔ لِأَنَّ الْعِصْمَةَ تَثْبُتُ عَلَى مُنَافَاةِ الدَّلِيلِ اس لیے کیونکہ اس مال کی عصمت ثابت ہو جاتی ہے دلیل کے منافی ہو کر ضَرُورَةَ تَمَكُّنِ الْمَالِكِ مِنَ الِانْتِفَاعِ اس ضرورت کی وجہ سے کہ مالک قادر ہو مِنَ الِانْتِفَاعِ اس سے فائدہ اٹھانے پر۔ مالک اس سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ مال کو معصوم قرار دیا جائے، اس کے لیے مملوک قرار دیا جائے۔
توجہ ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: لِأَنَّ الْعِصْمَةَ تَثْبُتُ عَلَى مُنَافَاةِ الدَّلِيلِ اس لیے کیونکہ اس مال کی عصمت اور حفاظت ثابت ہو جاتی ہے اس دلیل کے منافی ہو کر ضَرُورَةَ تَمَكُّنِ الْمَالِكِ مِنَ الِانْتِفَاعِ اس ضرورت کی وجہ سے کہ مالک جو ہے وہ قادر ہو جائے مِنَ الِانْتِفَاعِ اس سے فائدہ اٹھانے پر۔ مالک ہوگا تو تب ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے ورنہ تو کوئی اور لے جائے گا اس سے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
فَإِذَا زَالَتِ الْمُكْنَةُ، بحث چل رہی تھی کفار ہمارے مال کو چھین کر دار الحرب لے گئے، جب دار الحرب لے گئے تو مالک کا قبضہ پوری طرح ختم ہو گیا۔ جب تک دار الاسلام میں تھے مالک کا قبضہ بھی پوری طرح ختم نہیں تھا، مسلمان دوبارہ بھی اس مال کو چھین سکتے تھے، لیکن جب دار الحرب لے گئے تو مالک کی قدرت پوری طرح ختم ہو گئی اور جب قدرت ختم ہوئی تو وہ مالِ مباح بن گیا اور جب مالِ مباح بنا تو اس پر ان کفار کا قبضہ ہے تو وہ اس کے مالک بن گئے۔ تو کہتے ہیں: فَإِذَا زَالَتِ الْمُكْنَةُ، مکنۃ کا معنی ہے قدرت بھئی، قدرت بھئی۔ مکنۃ بھئی، گول تا ہے آخر میں۔ کہتے ہیں: فَإِذَا زَالَتِ الْمُكْنَةُ اور جب مالک کی قدرت زائل ہو گئی، ختم ہو گئی عَادَ مُبَاحًا كَمَا كَانَ تو وہ مال مباح ہو گیا جیسے کہ وہ پہلے تھا غَيْرَ أَنَّ الِاسْتِيلَاءَ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالْإِحْرَازِ بِالدَّارِ مگر یہ کہ استیلا جو ہے، غلبہ جو ہے لَا يَتَحَقَّقُ وہ پایا نہیں جاتا إِلَّا بِالْإِحْرَازِ بِالدَّارِ مگر دار کے اندر محفوظ کرنے سے، جب وہ اپنے دار میں لے جائیں گے تو پھر استیلا کامل ہو جائے گا لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الِاقْتِدَارِ عَلَى الْمَحَلِّ حَالًا وَمَآلًا۔
بھئی پیچھے بتلایا تھا استیلا کسے کہتے ہیں؟ یدِ حافظہ بھی ہو اور یدِ ناقلہ بھی ہو یعنی ہر طرح کا تصرف بھی کر سکیں۔ اب اسی بات کو صاحبِ ہدایہ دوسرے لفظوں میں ذکر کر رہے ہیں کہ استیلا اس چیز کا نام ہے کہ انسان ایک چیز میں فی الحال بھی تصرف کر سکے اور مستقبل میں بھی تصرف کر سکے۔ غلبہ کس چیز کا نام ہے؟ کہ انسان فی الحال بھی اس چیز میں تصرف کر سکے اور مستقبل میں بھی تصرف کر سکے، اس کو کہتے ہیں استیلا۔ اگر صرف فی الحال تصرف کر سکتا ہے مستقبل میں نہیں کر سکتا تو یہ استیلا نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا کفار جب دار الاسلام آئے انہوں نے ہمارے مال پر قبضہ کر لیا تو استیلا تو پایا گیا لیکن فی الحال کے اعتبار سے غلبہ ہے، مستقبل کے اعتبار سے غلبہ نہیں، ہو سکتا ہے مسلمان پھر حملہ کر کے واپس چھین لیں۔ لیکن جب دار الحرب لے جائیں گے اب فی الحال بھی قبضہ ہوا اور مستقبل کے اعتبار سے بھی ان کا قبضہ ہو گیا، اب مسلمانوں کے لیے چھیننا آسان نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: غَيْرَ أَنَّ الِاسْتِيلَاءَ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالْإِحْرَازِ بِالدَّارِ مگر یہ کہ غلبہ وہ نہیں پایا جاتا مگر دار کے اندر محفوظ کرنے سے لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الِاقْتِدَارِ عَلَى الْمَحَلِّ اس لیے کیونکہ استیلا جو ہے وہ عبارت ہے عن الاقتدار علی المحل کہ اس محل پر قدرت ہو جائے حَالًا وَمَآلًا فی الحال بھی اور مآل کے اعتبار سے بھی یعنی مستقبل کے اعتبار سے بھی۔ مآل جس کی طرف ایک چیز لوٹتی ہے، مراد مستقبل ہے۔ فی الحال بھی اس محل پر یعنی اس چیز پر قدرت اور تصرف ہو اور مستقبل کے اعتبار سے بھی اس چیز پر قدرت اور تصرف ہو۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عِبَارَةٌ اس لیے کیونکہ استیلا جو ہے یعنی غلبہ جو ہے وہ عبارت ہے عَنِ الِاقْتِدَارِ عَلَى الْمَحَلِّ اس محل پر قدرت سے، محل سے مراد وہ چیز ہے جس پر انہوں نے قبضہ کیا ہے، کہ اس محل پر ان کو قدرت حاصل ہو، اس چیز پر قدرت ہو حَالًا وَمَآلًا فی الحال بھی اور مستقبل کے اعتبار سے بھی۔
وَالْمَحْظُورُ لِغَيْرِهِ إِذَا صَلُحَ سَبَبًا لِكَرَامَةٍ تَفُوقُ الْمِلْكَ وَهُوَ الثَّوَابُ الْآجِلُ فَمَا ظَنُّكَ بِالْمِلْكِ الْعَاجِلِ، یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار نے مسلمانوں کے یہ جو مال پر قبضہ کیا ہے یہ قبضہ ممنوع اور حرام ہے اور ایک غیر مشروع چیز کی وجہ سے ملکیت کا حکم نہیں آ سکتا۔ تو اس کا جواب دینے لگے ہیں، اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ ایک ہے حرام لعینہٖ اور ایک ہے حرام لغیرہٖ۔ حرام لعینہٖ جو اپنی ذات کی وجہ سے حرام ہے، اور حرام لغیرہٖ وہ چیز جو اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں ہے بلکہ غیر کی وجہ سے حرام ہے، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ حرام لغیرہٖ جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے حلال ہوتی ہے، جیسے زید کی گندم ہے، کسی دوسرے کے لیے اس گندم کو لینا جائز نہیں۔ ویسے تو یہ گندم ہے اور گندم تو کھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، لیکن یہ حرام ہوئی غیر کی وجہ سے یعنی زید کے حق کی وجہ سے کہ یہ زید کا حق ہے۔ اور جو چیز حرام لغیرہٖ ہوتی ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے حلال ہے، کیونکہ گندم ہے، گندم کھائی جاتی ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے یہ حلال ہے لیکن زید کا حق ہونے کی وجہ سے یہ حرام ہے۔ تو حرام لغیرہٖ جو ہے وہ تو اپنی ذات کے اعتبار سے حلال ہوتی ہے بھئی، لہٰذا اس کی وجہ سے حکم ثابت ہو جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ حرام کی وجہ سے اس چیز کا حکم نہیں آ سکتا، ہم کہتے ہیں حرام لعینہٖ میں تو ہمیں آپ کی یہ بات قبول ہے، حرام لعینہٖ جو ہے اس کے اندر حکم ملکیت والا نہیں آ سکتا، لیکن حرام لغیرہٖ کے اندر تو ملکیت والا حکم آ سکتا ہے، کیونکہ وہ غیر کی وجہ سے اگر حرام ہے تو اپنی ذات کی وجہ سے وہ حلال بھی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالْمَحْظُورُ لِغَيْرِهِ، محظور بھئی وہی ممنوع بھئی۔ بھئی میں نے کیا کہا آپ کو حرام لغیرہٖ، اسی کو وہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ ممنوع لغیرہٖ۔ جو حرام لغیرہٖ ہے معلوم ہوا وہ ممنوع لغیرہٖ ہے، غیر کی وجہ سے اس سے منع کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں: وَالْمَحْظُورُ لِغَيْرِهِ إِذَا صَلُحَ سَبَبًا لِكَرَامَةٍ، اچھا ایک اور بات بھی یہاں سمجھ لیجیے۔ بھئی یاد رکھو، ارضِ مغصوبہ کے اندر اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے، ایک آدمی نے دوسرے کی زمین چھین لی، اس پر قبضہ کر لیا، اب اس زمین کے اندر وہ نماز پڑھتا ہے تو یاد رکھو یہ نماز اللہ کی رضا کا باعث تو نہیں ہے، کیونکہ یہ دوسرے سے چھینی ہوئی زمین میں نماز ادا کر رہا ہے، اس نے ظلم کیا ہے، تو یہ نماز اللہ کی رضا کا باعث تو نہیں ہے لیکن فقہاء فرماتے ہیں بہرحال اس کی نماز ادا ہو جائے گی۔ یہ نماز اللہ کی رضا کا باعث تو نہیں لیکن بہرحال یہ نماز ادا ہو جائے گی، اور نماز ادا ہو گئی معلوم ہوا اس کے ذمے سے فرض ساقط ہو گیا۔ اس نے وہاں ظہر کی نماز پڑھی تو نماز ادا ہو گئی، اس کے ذمے سے ظہر کا فرض ساقط ہو گیا، اور ذمے سے فرض کا ساقط ہونا یہ بھی تو ثواب ہے بھئی، یہ بھی کیا ہے؟ معلوم ہوا ارضِ مغصوبہ میں نماز پڑھی جائے پھر بھی وہ ثواب کا باعث ہے، اگرچہ اللہ کی رضا کا باعث تو نہیں لیکن کم از کم فرض تو ساقط ہو گیا اور فرض کا ساقط ہونا بھی تو ثواب ہے بھئی۔ لہٰذا معلوم ہوا ارضِ مغصوبہ کے اندر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو اس کو ثواب ملتا ہے۔
تو یہ جو نماز اس نے ارضِ مغصوبہ میں پڑھی، یہ نماز اپنی ذات کے اعتبار سے تو جائز ہے، شریعت نے خود حکم دیا ہے، لیکن ارضِ مغصوبہ میں پڑھنے کی وجہ سے یہ نماز اس سے شریعت نے منع کیا تھا۔ توجہ ہے؟ تو یہ کس قسم کی نماز ہوئی؟ ممنوع لغیرہٖ۔ یہ نماز کیا ہوئی؟ ممنوع لغیرہٖ، غیر کی وجہ سے ممنوع ہے یعنی ارضِ مغصوبہ کی وجہ سے ممنوع ہے یہاں پر یہ نماز۔ تو ممنوع لغیرہٖ جب وہ ثواب کا باعث بنتا ہے آخرت کے اعتبار سے تو دنیا کے اعتبار سے وہ ملکیت کا سبب کیسے نہیں بنے گا؟ ایک ہے آخرت کا ثواب اور ایک ہے دنیا کی ملکیت، ظاہر سی بات ہے آخرت کا ثواب اعلیٰ چیز ہے اور دنیاوی ملکیت اس کے سامنے معمولی چیز ہے، تو جب اس ممنوع لغیرہٖ کی وجہ سے آخرت کا ثواب یعنی اعلیٰ چیز مل رہی ہے تو ادنیٰ چیز یعنی دنیاوی ملکیت جو ہے وہ کیسے اس سے حاصل نہیں ہوگی؟ لہٰذا اس کی وجہ سے وہ مالک بن جائے گا۔ ہمارے نزدیک یہ یہ حربی اس مال کے مالک بن جائیں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالْمَحْظُورُ لِغَيْرِهِ اور وہ چیز جو غیر کی وجہ سے ممنوع ہوتی ہے إِذَا صَلُحَ سَبَبًا جب وہ صلاحیت رکھتی ہے سبب بننے کی لِكَرَامَةٍ ایسی عزت کی تَفُوقُ الْمِلْكَ جو ملکیت سے بڑھ کر ہے، بھئی اخروی ثواب کا ملنا یہ ملکیت سے بڑھ کر ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَالْمَحْظُورُ لِغَيْرِهِ اور ممنوع لغیرہٖ جو ہے إِذَا صَلُحَ سَبَبًا لِكَرَامَةٍ تَفُوقُ الْمِلْكَ جب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ سبب بن جائے اس عزت کا جو ملکیت سے بڑھ کر ہے وَهُوَ الثَّوَابُ الْآجِلُ اور وہ بعد میں ملنے والا ثواب ہے، آجل بھئی، آجل اجل سے ہے، مدت سے یعنی بعد میں ہو، مراد ہے اخروی ثواب۔ اخروی ثواب۔ کہتے ہیں: وَهُوَ الثَّوَابُ الْآجِلُ اور وہ اخروی ثواب ہے فَمَا ظَنُّكَ بِالْمِلْكِ الْعَاجِلِ تو آپ کا کیا گمان ہے ملکِ عاجل کے بارے میں؟ عاجل جو جلدی حاصل ہو جائے یعنی دنیا کے اندر ہی۔ تو ممنوع لغیرہٖ جب وہ اخروی ثواب کا باعث بن سکتا ہے تو وہ دنیاوی ملکیت کا سبب بطریقِ اولیٰ بن سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: فَإِنْ ظَهَرَ عَلَيْهَا الْمُسْلِمُونَ فَوَجَدَهَا الْمَالِكُونَ قَبْلَ الْقِسْمَةِ فَهِيَ لَهُمْ بِغَيْرِ شَيْءٍ وَإِنْ وَجَدُوهَا بَعْدَ الْقِسْمَةِ أَخَذُوهَا بِالْقِيمَةِ إِنْ أَحَبُّوا۔ اب وہ مسئلہ ذکر ہو رہا ہے جس کے لیے تمہید باندھی تھی متن میں۔ متن میں کیا ذکر کیا تھا؟ کہ کفار اگر ہمارے مال پر قبضہ کریں گے تو مالک بن جائیں گے، یہ تمہید تھی، اور پھر آگے مسئلہ اب ذکر کر رہے ہیں اگر مسلمانوں نے کفار کے ملک پر قبضہ کر لیا اور وہ مال لے آئے جو یہاں سے وہ مسلمانوں سے چھین کر لے کر گئے تھے، تو کیا مسلمانوں کو وہ مال واپس ملے گا یا نہیں؟ تو اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں، اس تمہید سے جو مقصود تھا اب اس کو ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
بھئی یاد رکھو، یہاں تین صورتیں بنیں گی۔ وہ مال واپس دار الاسلام پہنچا جو کفار چھین کر لے گئے تھے مسلمانوں سے، یا تو مسلمان اس مال کو بطورِ غنیمت کے چھین کر لے آئے ہیں، یا کوئی تاجر وہاں سے خرید کر لے آیا ہے، یا کفار نے ہی کسی مسلمان کو تحفے کے طور پر دیا اور وہ یہ مال لے کر یہاں آ گیا۔ تو تینوں کو تفصیل سے بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ وہ مال جو کفار نے مسلمانوں سے چھینا تھا اس کو مسلمان دوبارہ واپس لے آتے ہیں، یا تو اس کو بطورِ مالِ غنیمت کے واپس لائیں گے، یا اس کو کوئی تاجر خرید کر لائے گا، یا کسی کو کفار وہ تحفہ دے دیں گے اور وہ مسلمان اس تحفے کو لے کر آ جائے گا، تو ان تمام صورتوں میں کیا حکم ہے اب وہ بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: فَإِنْ ظَهَرَ عَلَيْهَا الْمُسْلِمُونَ اگر مسلمان غالب ہو گئے ان مالوں پر، علیہا کی ضمیر کس کو راجع؟ وہ جو پیچھے اموال ذکر ہوئے تھے جو کفار نے مسلمانوں سے چھینے تھے۔ کہتے ہیں: فَإِنْ ظَهَرَ عَلَيْهَا الْمُسْلِمُونَ اگر مسلمانوں نے ان مالوں پر غلبہ حاصل کر لیا فَوَجَدَهَا الْمَالِكُونَ قَبْلَ الْقِسْمَةِ تو مالکوں نے اس مال کو پا لیا قبل القسمۃ تقسیم سے پہلے ہی فَهِيَ لَهُمْ بِغَيْرِ شَيْءٍ تو یہ مال ان مالکوں کا ہی ہے، ان مسلمانوں کا ہی ہے بغیر شیءٍ بغیر کسی چیز کے یعنی مفت میں یہ مال ان کو دے دیا جائے گا، وَإِنْ وَجَدُوهَا بَعْدَ الْقِسْمَةِ اور اگر مالکوں نے تقسیم کے بعد اس مال کو پایا، وہ مال کسی غازی کے حصے میں آ گیا تھا اس کو دے دیا گیا اور اب مالک کو اس مال کا پتہ چلا، کہتے ہیں: وَإِنْ وَجَدُوهَا بَعْدَ الْقِسْمَةِ اور اگر ان مالکوں نے اس مال کو تقسیم کے بعد پایا أَخَذُوهَا بِالْقِيمَةِ إِنْ أَحَبُّوا تو وہ اس مال کو لے لیں گے قیمت کے بدلے ان احبوا اگر وہ پسند کریں یعنی اگر وہ چاہتے ہیں اس مال کو واپس لینا تو اب قیمت دے کر لینا پڑے گا۔
اب قیمت دے کر لینا پڑے گا بھئی۔ اور یاد رکھو، یہاں عام لینے کی بات نہیں ہو رہی، یہاں ہے جبراً لینا۔ وہ مال کس کے حصے میں آیا ہے؟ ایک غازی کے حصے میں آیا ہے، لیکن پرانا مالک اس کو لینا چاہتا ہے تو اب غازی کی رضامندی کو نہیں دیکھا جائے گا۔ غازی کی رضامندی کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اگر مالک لینا چاہتا ہے تو جبراً بھی لے سکتا ہے اور غازی کو اس مال کی قیمت دے دے گا، تو دونوں کی رعایت ہو گئی۔ مالک کو اس کا مال مل گیا اور غازی کو اس کے مثل، اس کے برابر قیمت مل گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَجَدُوهَا بَعْدَ الْقِسْمَةِ اور اگر مالکوں نے اس مال کو تقسیم کے بعد پایا أَخَذُوهَا بِالْقِيمَةِ إِنْ أَحَبُّوا تو وہ اس مال کو لے لیں گے قیمت کے بدلے میں اگر وہ پسند کریں یعنی اگر وہ چاہیں، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِيهِ بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے اس بارے میں کہ آپ نے فرمایا: ”إِنْ وَجَدْتَهُ قَبْلَ الْقِسْمَةِ فَهُوَ لَكَ بِغَيْرِ شَيْءٍ“ اگر تقسیم سے پہلے تو اس چیز کو پا لے تو وہ تیری ہے بغیر کسی چیز کے عوض کے، ”وَإِنْ وَجَدْتَهُ بَعْدَ الْقِسْمَةِ فَهُوَ لَكَ بِالْقِيمَةِ“ اور اگر اس کو تو تقسیم کے بعد پا لے تو وہ تیری ہے قیمت کے بدلے میں۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا۔ آگے دیکھیے: وَلِأَنَّ الْمَالِكَ الْقَدِيمَ، یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْمَالِكَ الْقَدِيمَ اس لیے کیونکہ وہ جو پرانا مالک ہے زَالَ مِلْكُهُ بِغَيْرِ رِضَاهُ اس کی ملکیت زائل ہوئی تھی، ختم ہوئی تھی اس کی رضامندی کے بغیر، کفار چھین کر لے گئے تھے نا تو اس کی ملکیت بغیر رضامندی کے ختم ہوئی تھی، تو کہتے ہیں: زَالَ مِلْكُهُ بِغَيْرِ رِضَاهُ اس پرانے مالک کی ملکیت اس کی رضامندی کے بغیر ختم ہوئی تھی فَكَانَ لَهُ حَقُّ الْأَخْذِ نَظَرًا لَهُ تو اس کے لیے اس چیز کو لینے کا حق ہے نظراً لہ اس کی رعایت رکھنے کے لیے، اس پرانے مالک کی رعایت رکھتے ہوئے، اس پر شفقت کرتے ہوئے، تو نظراً لہ، نظر کا ترجمہ چاہے شفقت کے ساتھ کر لیں، چاہے رعایت کے ساتھ کر لیں۔ کفار اس کا مال چھین کر لے گئے تھے اس کی رضامندی کے بغیر لہٰذا مالک پر شفقت کرتے ہوئے یہ مال لینے کا اس کو حق ہوگا، یا مالک کی رعایت رکھتے ہوئے اس کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کو یہ مال جبراً لینے کا حق ہوگا۔
إِلَّا أَنَّ فِي الْأَخْذِ، یہاں سے شبہے کا جواب دے رہے ہیں، شبہ یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں کیا کہا کہ تقسیم سے پہلے اگر وہ لے گا تو مفت لے لے گا اور تقسیم کے بعد لینا چاہتا ہے کسی خاص غازی کے پاس وہ مال پہنچ چکا ہے تو قیمت دے کر لینا پڑے گا۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے دلیل کیا ذکر کی کہ یہ مال مالک کی رضامندی کے بغیر اس سے لیا گیا تھا لہٰذا اس کو یہ مال واپس لینے کا حق ہے، تو پھر تو جیسے تقسیم سے پہلے اس مال کو لینے کا حق ہے تقسیم کے بعد بھی اس کو وہ مال لینے کا حق ہونا چاہیے۔ تقسیم کے بعد بھی اس کو اس مال کے لینے کا حق ہونا چاہیے، لیکن اس صورت میں آپ کہتے ہیں کہ نہیں، اب اس کو قیمت دینا پڑے گی۔ تو اس کی وجہ ذکر کریں گے، کہتے ہیں بھئی تقسیم سے پہلے یہ مالِ مشترکہ تھا تمام غازیوں کا، تو اس صورت میں اگر یہ اس مال کو مفت بھی لے لے گا تو ہر ایک کو بڑا معمولی معمولی نقصان پہنچے گا۔ تمام غازیوں کو بڑا معمولی معمولی سا نقصان پہنچے گا، لیکن جب یہ مال ایک غازی کو مل گیا اب اس سے یہ مال لیتا ہے تو اس کا نقصان ہے، اس کا نقصان ہے لہٰذا یہاں پھر اس کی قیمت دینا پڑے گی، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّ فِي الْأَخْذِ بَعْدَ الْقِسْمَةِ مگر یہ کہ تقسیم کے بعد لینے میں ضَرَرًا بِالْمَأْخُوذِ مِنْهُ نقصان ہے ماخوذ منہ کا، ماخوذ منہ جس سے یہ مال لیا جائے گا، وہ جو غازی ہے اس کا اس میں نقصان ہے، تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّ فِي الْأَخْذِ بَعْدَ الْقِسْمَةِ مگر یہ کہ تقسیم کے بعد اس مال کو لینے میں ضَرَرًا بِالْمَأْخُوذِ مِنْهُ وہ غازی جس سے یہ مال لیا گیا اس کا نقصان ہے بِإِزَالَةِ مِلْكِهِ الْخَاصِّ بوجہ اس کی خاص ملکیت کو زائل کرنے کے۔ اگر آپ اس سے یہ مال لے لیں گے تو پہلے تو ملکِ عام تھی، تمام غازیوں کا اس میں حصہ تھا، اب یہ اس کی ملکِ خاص ہے تو اس ملکِ خاص کو آپ ختم کریں گے تو اس بیچارے کا نقصان ہوگا بھئی، یہ معنی ہے کہ ضَرَرًا بِالْمَأْخُوذِ مِنْهُ کہ اس کے اندر وہ شخص جس سے یہ مال لیا جائے گا اس کا نقصان ہے بِإِزَالَةِ مِلْكِهِ الْخَاصِّ اس کی خاص ملکیت کو ختم کرنے کی وجہ سے فَيَأْخُذُهُ بِالْقِيمَةِ لہٰذا وہ پرانا مالک اس کو قیمت کے بدلے لے گا لِيَعْتَدِلَ النَّظَرُ مِنَ الْجَانِبَيْنِ تاکہ برابر ہو جائے نظر یعنی رعایت۔ لِيَعْتَدِلَ النَّظَرُ، اعتدل یعتدل کے معنی ہیں برابر ہونا، لِيَعْتَدِلَ النَّظَرُ تاکہ برابر ہو جائے رعایت مِنَ الْجَانِبَيْنِ دونوں جانب سے یعنی مالکِ قدیم کی بھی رعایت ہو جائے اور مالکِ جدید کی بھی رعایت ہو جائے۔ مالکِ قدیم کو اس کا مال مل جائے گا اور مالکِ جدید کو اس کے بدلے قیمت مل جائے گی، تو یہ معنی ہے: فَيَأْخُذُهُ بِالْقِيمَةِ تو اس کو قیمت کے عوض میں لے لے گا لِيَعْتَدِلَ النَّظَرُ مِنَ الْجَانِبَيْنِ تاکہ رعایت برابر ہو جائے دونوں جانب سے۔
وَالشِّرْكَةُ قَبْلَ الْقِسْمَةِ عَامَّةٌ اور تقسیم سے پہلے تو شرکت عام تھی، سارے مجاہدین اس میں شریک تھے فَيَقِلُّ الضَّرَرُ تو اس صورت میں نقصان تھوڑا تھا فَيَأْخُذُهُ بِغَيْرِ قِيمَةٍ تو اس صورت میں بغیر قیمت کے لے لے گا۔
وَإِنْ دَخَلَ دَارَ الْحَرْبِ تَاجِرٌ، اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں، کوئی تاجر جاتا ہے اور یہ مال خرید کر لے آتا ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ پرانا مالک اس تاجر سے یہ مال لے سکتا ہے اور تاجر نے جو ثمن ادا کیے تھے وہ ثمن یہ تاجر کے حوالے کر دے گا۔ کہتے ہیں: وَإِنْ دَخَلَ دَارَ الْحَرْبِ تَاجِرٌ اور اگر دار الحرب میں کوئی تاجر داخل ہوا فَاشْتَرَى ذَلِكَ اس نے وہ مال خرید لیا وَأَخْرَجَهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ اور اس مال کو وہ نکال لایا دار الاسلام کی طرف فَمَالِكُهُ الْأَوَّلُ بِالْخِيَارِ تو اس مال کے پہلے مالک کو اختیار ہے إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ بِالثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَاهُ اگر وہ چاہے تو اس مال کو لے لے اس ثمن کے بدلے میں جس کے ساتھ اس تاجر نے اس کو خریدا ہے وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ اور اگر چاہے تو اس کو چھوڑ دے۔ لینا چاہتا ہے تو وہی ثمن دینے پڑیں گے جو تاجر نے ادا کیے تھے۔
لِأَنَّهُ يَتَضَرَّرُ بِالْأَخْذِ مَجَّانًا اس لیے کیونکہ تاجر کو نقصان ہوگا مفت لینے کی وجہ سے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ تاجر سے مفت لے سکتا ہے تو پھر اس صورت میں تاجر کا نقصان ہوگا، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يَتَضَرَّرُ بِالْأَخْذِ مَجَّانًا اس لیے کیونکہ تاجر کو نقصان ہوگا اس کے مفت لینے کی وجہ سے أَلَا تَرَى کیا آپ دیکھتے نہیں أَنَّهُ قَدْ دَفَعَ الْعِوَضَ بِمُقَابَلَتِهِ کہ تاجر نے اس کے مقابلے میں عوض حوالے کیا تھا؟ تاجر مفت تو نہیں لایا، تاجر نے تو اس کے مقابلے میں عوض دیا تھا کفار کو، لہٰذا مالک بھی وہی عوض دے کر تاجر سے اپنا مال لے سکتا ہے۔ أَلَا تَرَى کیا آپ دیکھتے نہیں أَنَّهُ قَدْ دَفَعَ الْعِوَضَ بِمُقَابَلَتِهِ کہ تاجر نے عوض حوالے کیا تھا اس مال کے مقابلے میں فَكَانَ اعْتِدَالُ النَّظَرِ فِيمَا قُلْنَا تو لہٰذا نظر کی برابری اسی صورت میں ہے جو ہم نے کہا، نظر کی برابری، نظر یعنی رعایت، رعایت، رعایت اور شفقت، شفقت کی برابری اسی صورت میں ہے جو ہم نے کہی ہے کہ اگر مالک لینا چاہتا ہے تو وہ ثمن تاجر کو دے دے اور اگر نہیں لینا چاہتا تو چھوڑ دے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: فَكَانَ اعْتِدَالُ النَّظَرِ فِيمَا قُلْنَا تو رعایت کی برابری اس صورت میں ہے جو ہم نے کہی، وَلَوِ اشْتَرَاهُ بِعِرْضٍ يَأْخُذُ بِقِيمَةِ الْعِرْضِ، بھئی صورت یہ کہ یہ تاجر وہاں ثمن یعنی درہم یا دینار دے کر نہیں لایا بلکہ تاجر نے کچھ سامان دے کر اس کو خریدا ہے، مثلاً تاجر نے برتن وغیرہ کے بدلے یہ مال خریدا کافر سے، تاجر نے کچھ برتن دیے اور یہ مال خرید کر لے آیا، تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ جو برتن اس نے، وہ جو عوض دیا تھا اس کی قیمت دے دے گا اس تاجر کو، اب یہ پرانا مالک اس سامان کی قیمت دے دے گا اس تاجر کو اور اپنا مال لے لے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوِ اشْتَرَاهُ بِعِرْضٍ اور اگر تاجر نے اس کو سامان کے بدلے خریدا ہے يَأْخُذُ بِقِيمَةِ الْعِرْضِ تو پرانا مالک سامان کی قیمت کے بدلے اس کو لے لے گا۔
وَلَوْ وَهَبُوهُ لِمُسْلِمٍ يَأْخُذُهُ بِقِيمَتِهِ، اب تیسری صورت آ گئی کہ کفار نے وہ مال کسی مسلمان کو تحفے کے طور پر دے دیا اور وہ اس مال کو لے کر دار الاسلام آ گیا، تو اب مسلمان کو تو یہ مال مفت ملا ہے تو کیا پرانا مالک اس کو مفت لے گا؟ کہتے ہیں نہیں، اب بھی اگر یہ لینا چاہتا ہے تو اب اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ تاجر لایا تھا تو تاجر کو ثمن دینے پڑیں گے یعنی جو ثمن اس نے ادا کیے تھے، اور یہ جو موہوب لہ ہے اس سے لینا چاہتا ہے تو اس کو تو مفت ملی ہے، یہاں تو کوئی ثمن ہے ہی نہیں، تو پھر قیمت دے کر لینا پڑے گا یعنی بازار میں اس مال کی جو قیمت ہوتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آپ پڑھ چکے ہیں ایک ہے ثمن اور ایک ہے قیمت، ثمن وہ ہے جو بائع اور مشتری کے درمیان جو کچھ طے ہو جائے اور قیمت جو ہے وہ جو بازار کے اندر ایک چیز کا ریٹ ہوتا ہے اسے قیمت کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ وَهَبُوهُ لِمُسْلِمٍ اور اگر کفار نے وہ مال ہبہ کر دیا کسی مسلمان کو يَأْخُذُهُ بِقِيمَتِهِ تو پرانا مالک اس مال کو لے لے گا اس کی قیمت کے بدلے میں لِأَنَّهُ ثَبَتَ لَهُ مِلْكٌ خَاصٌّ اس لیے کیونکہ موہوب لہ کے لیے بھی اس کی خاص ملکیت ثابت ہو گئی، وہ اس مال کا مالک بن گیا فَلَا يُزَالُ إِلَّا بِالْقِيمَةِ لہٰذا اس موہوب لہ کی خاص ملکیت کو ختم نہیں کیا جائے گا إِلَّا بِالْقِيمَةِ مگر قیمت کے بدلے میں۔
وَلَوْ كَانَ مَغْنُومًا وَهُوَ مِثْلِيٌّ، اب وہی تینوں صورتیں ذکر کریں گے لیکن اب وہ جو مال ہے وہ مثلی ہے۔ وہ مال کیا ہے؟ مثلی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ کچھ چیزیں ذوات القیم ہیں اور کچھ مثلیات ہیں، مثلیات کے اندر مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربۃ داخل ہیں۔ مکیلات جن کو ماپ کر بیچا جاتا ہے جیسے دودھ کو ایک برتن میں ماپ کر بیچتے ہیں، پٹرول کو ایک برتن میں ماپ کر بیچتے ہیں یا جیسے قدیم زمانے میں گندم کو ایک برتن میں ماپ کر بیچتے تھے، ان کو کہتے ہیں مکیلات۔ اور موزونات جن کو وزن کر کے بیچتے ہیں۔ اور معدوداتِ متقاربۃ یعنی جن کو گن کر بیچا جاتا ہے لیکن وہ ایک دوسرے کے قریب قریب ہوتے ہیں جیسے انڈے ہیں بھئی، بھئی ہر انڈے کا دوسرے انڈے سے کچھ نہ کچھ فرق تو ہوگا لیکن بہرحال اس فرق کو شمار ہی نہیں کیا جاتا، تو یہ چیزیں مثلیات میں سے ہیں۔
اب صورت یہ ہے کہ کفار مسلمان کا جو مال یہاں سے چھین کر لے گئے تھے وہ مثلیات میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ مثلیات میں سے ہے، مثلاً گندم چھین کر لے گئے تھے یا اسی طرح سونا چھین کر لے گئے تھے یا چاندی چھین کر لے گئے تھے، تو یہ سب مثلیات میں سے ہیں، اس لیے کیونکہ سونا اور چاندی ان کا وزن کیا جاتا ہے اور موزونات بھی کس میں سے ہیں؟ مثلیات میں سے ہیں اور ان کو مثلیات کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ان کا مثل بازار سے مل جاتا ہے۔ گندم کا مثل گندم بازار سے مل جائے گی، سونے چاندی کا مثل بازار سے مل جائے گا۔
ابھی تک جو مسئلہ بیان ہوا اس میں وہ صورت تھی جب کفار مسلمان کا ایسا مال چھین کر لے گئے تھے جو ذوات القیم میں سے تھا، قیمت والی چیزوں میں سے تھا۔ اور اگر اس کے بجائے کفار مسلمان کا ایسا مال چھین کر لے گئے جو مثلیات میں سے ہے، مثلاً گندم چھین کر لے گئے یا سونا یا چاندی چھین کر لے گئے ہیں تو اس صورت میں پھر کہتے ہیں یاد رکھو، مثلاً سونا یا چاندی چھین کر لے گئے تھے تو اگر تقسیم سے پہلے مالک کو پتہ چل گیا تو پھر وہ اس کو بغیر کسی عوض کے ویسے ہی لے لے گا، جیسے قیمت والی چیز تقسیم سے پہلے وہ مفت میں لے لیتا تھا، جیسے قیمت والی چیز تقسیم سے پہلے وہ مفت میں لے لیتا تھا۔
...میں لے لیتا تھا کیونکہ وہاں ملک عام تھی، کسی ایک آدمی کا نقصان نہیں تھا، ساروں کا نقصان تھا اور بڑا معمولی معمولی نقصان تھا، توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی اگر مسلمان کا وہ مال مثلیات میں سے ہے تو تقسیم سے پہلے اس کو اس کا پتہ چل گیا تو اس کو بغیر کسی عوض کے لے لے گا، لیکن اگر تقسیم کے بعد پتہ چلا، کہتے ہیں اب یہ اس مال کو نہیں لے سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ مَغْنُومًا وَهُوَ مِثْلِيٌّ“ اور اگر وہ مال جو ہے وہ مغنوم تھا، یعنی غنیمت کے طور پر حاصل کیا گیا ہے، ”وَهُوَ مِثْلِيٌّ“ اس حال میں کہ وہ مال مثلی ہے، یعنی مثلیات میں سے ہے، ”يَأْخُذُهُ قَبْلَ الْقِسْمَةِ“ تو وہ پرانا مالک اس کو تقسیم سے پہلے لے لے گا، یعنی مفت میں ہی لے لے گا، بغیر کسی عوض کے، ”وَلَا يَأْخُذُهُ بَعْدَهَا“ اور تقسیم کے بعد وہ اس کو نہیں لے سکتا، ”لِأَنَّ الْأَخْذَ بِالْمِثْلِ غَيْرُ مُفِيدٍ“ اس لیے کیونکہ مثل کے بدلے لینا وہ کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
بھئی وہ سونا یا چاندی اگر ایک غازی کے حصے میں آگیا اور اب یہ اس مال کو لینا چاہتا ہے اس سے، تو بدلے میں ویسا ہی سونا اور چاندی دینا پڑے گا۔ تو اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے کہ جس طرح کا سونا یا چاندی یہ لے رہا ہے، اسی قسم کا سونا یا چاندی یہ دے رہا ہے، لہٰذا اس میں تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَخْذَ بِالْمِثْلِ غَيْرُ مُفِيدٍ“ اس لیے کیونکہ اس مال کو لینا اس کے مثل کے ذریعے، غیر مفید، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ”وَكَذَا إِذَا كَانَ مَوْهُوبًا“ اور اسی طرح اگر وہ مال موہوب ہوا، یعنی کفار نے کسی مسلمان کو ہبہ کر دیا ہے، ”لَا يَأْخُذُهُ“ تو اس کو بھی وہ نہیں لے سکتا، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ کفار نے یہ مال کسی مسلمان کو تحفے کے طور پر دے دیا، تو اب اس سے بھی یہ مال لے گا تو اس کے مثل دینا پڑے گا، اور مثل دے کر لینے میں تو کوئی فائدہ نہیں ہے کہ جو چیز لے رہا ہے، اسی جیسی چیز اس کو دے بھی رہا ہے، تو لہٰذا اس میں تو کوئی فائدہ نہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا كَانَ مَوْهُوبًا لَا يَأْخُذُهُ لِمَا بَيَّنَّا“ اور اسی طرح اگر وہ چیز موہوب ہوئی تو بھی اس کو نہیں لے سکتا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی، ”وَكَذَا إِذَا كَانَ مُشْتَرًى بِمِثْلِهِ قَدْرًا وَوَصْفًا“ اور اسی طرح ہے حکم ”إِذَا كَانَ مُشْتَرًى“ جب اس چیز کو خریدا گیا ہے، یعنی کوئی تاجر لایا ہے، اور اسی طرح ہے حکم جب اس چیز کو خریدا گیا ہے ”بِمِثْلِهِ“ اسی کے مثل کے بدلے میں ”قَدْرًا وَوَصْفًا“ مقدار اور صفت کے اعتبار سے۔ بھئی ایک تاجر وہی سونا یا چاندی لے آیا، لیکن اس نے اسی جیسا سونا یا چاندی دیا، اس کا وصف بھی اس جیسا تھا اور مقدار بھی اتنی تھی۔ مثلاً دس مثقال عمدہ قسم کا سونا دے کر وہ یہ والا سونا لے آیا اور یہ بھی دس مثقال عمدہ قسم کا سونا ہے۔ یہ بھی دس مثقال عمدہ قسم کا سونا ہے، اور تاجر نے بھی کیا دیا تھا؟ دس مثقال عمدہ قسم کا سونا، تو مقدار میں بھی اس کے برابر کہ وہ بھی دس مثقال تھا، یہ بھی دس مثقال، اور وصف میں بھی اس کے برابر کہ وہ بھی عمدہ قسم کا سونا تھا، یہ بھی عمدہ قسم کا سونا ہے۔ تو جب تاجر اسی جیسے وصف اور مقدار والی چیز دے کر اس کو لایا ہے، تو اس پرانے مالک کو بھی اب اسی جیسی چیز دے کر اسے لینا پڑے گا، تو اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ اس سے دس مثقال عمدہ قسم کا سونا لے اور بدلے میں دس مثقال عمدہ قسم کا سونا دے دے، اس میں تو کوئی فائدہ نہیں۔ توجہ ہے؟
تو یہ معنی ہے ”وَكَذَا إِذَا كَانَ مُشْتَرًى بِمِثْلِهِ قَدْرًا وَوَصْفًا“ اور اسی طرح ہے حکم یعنی مالک اس کو واپس نہیں لے سکتا جب اس چیز کو خریدا گیا ہو اسی چیز کے مثل کے بدلے میں ”قَدْرًا وَوَصْفًا“ قدر اور وصف کے اعتبار سے۔ جب اس چیز کو خریدا گیا ہے اسی جیسی چیز کے بدلے میں جو اسی جیسی چیز ہے، ”قَدْرًا وَوَصْفًا“ مقدار اور وصف کے اعتبار سے اس کے بدلے میں اس کو خریدا گیا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں صاحبِ ہدایت نے ”قَدْرًا وَوَصْفًا“ کی قید لگا دی، خریدا گیا ہے، اسی جیسی چیز دی ہے جو مقدار میں بھی اتنی ہے، وصف میں بھی اتنی ہے، اور مثلیات میں سے ہے، تو اس کو یہ پرانا مالک نہیں لے سکتا کیونکہ فائدہ ہی کوئی نہیں لینے کا۔ لیکن اگر تاجر نے اس کو اور قیمت دے کر خریدا ہے، مثلاً تاجر نے ردی قسم کا سونا دے کر یہ اعلیٰ والا سونا خریدا ہے، ردی قسم کا سونا دے کر اعلیٰ سونا خریدا ہے، تو اصل مالک بھی ردی قسم کا سونا دے کر یہ اعلیٰ سونا اس سے لے سکتا ہے، کیونکہ اب فائدہ ہے۔ پہلے تو تھا اتنا ہی سونا دے، اسی قسم کا دے، تو پھر تو فائدہ ہی نہیں کہ پرانا مالک بھی دس مثقال عمدہ قسم کا سونا دے کر دس مثقال ہی عمدہ قسم کا سونا لے لے، اس میں تو کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن اگر تاجر نے ردی قسم کا سونا دے کر مثلاً خریدا ہے، یا کوئی اور چیز دے کر خریدا ہے، تو پھر پرانا مالک بھی وہی چیز دے کر یا اس کی قیمت دے کر یہ سونا لے سکتا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ پھر تو سود لازم آئے گا، تو وہی چیز دے کر یہ تاجر سے لے گا، تو یہ تو سود لازم آیا، کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ مثلیات کے اندر جب مثل کے بدلے میں مثل کی بیع ہو تو وہاں برابری ضروری ہے، وہاں برابری ضروری ہے، اور یہاں تو مثلاً یوں کہو تاجر آٹھ مثقال ردی سونا دے کر یہ دس مثقال اعلیٰ سونا لے آیا، تو مالک بھی آٹھ مثقال ردی سونا دے کر یہ دس مثقال عمدہ سونا لے لے گا۔ تو اب آٹھ مثقال تو آٹھ مثقال کے بدلے میں ہوگئے لیکن دو مثقال تو مالک کو زائد مل رہا ہے، تو یہ تو سود لازم آیا، کیونکہ مثلیات کے اندر بیع میں برابری ضروری ہے بھئی، ورنہ سود لازم آتا ہے۔ تو اس کا بھی جواب دیتے ہیں علماء کہ بھئی یہاں پر سود لازم نہیں آئے گا کیونکہ مالک اپنی پرانی چیز چھڑوا رہا ہے، یہ کوئی نئے سرے سے بیع نہیں ہو رہی بلکہ اپنی پرانی چیز چھڑوا رہا ہے۔ اگر یہ نئی بیع ہو رہی ہوتی پھر تو سود لازم آتا، پھر یہ حرام تھا، لیکن مالک اپنی پرانی مملوکہ چیز چھڑوا رہا ہے لہٰذا یہاں سود بھی لازم نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: فَإِنْ أَسَرُوا عَبْدًا فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ وَأَخْرَجَهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ وَأَخَذَ أَرْشَهَا، فَإِنَّ الْمَوْلَى يَأْخُذُهُ بِالثَّمَنِ الَّذِي أُخِذَ بِهِ مِنَ الْعَدُوِّ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ کفار ایک غلام چھین کر لے گئے تھے، بعد میں ایک شخص گیا اور اس غلام کو خرید کر لے آیا۔ اگر پرانا مالک اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ جتنے ثمن اس مشتری نے ادا کیے ہیں وہی ثمن دے کر پرانا آقا اس غلام کو اس سے لے سکتا ہے، لیکن اب صورت یہ ہے کہ یہ آدمی جو اس غلام کو خرید کر لایا تھا، اس کے پاس تھا غلام کہ کسی نے اس غلام کی ایک آنکھ پھوڑ دی، اس کی ایک آنکھ ضائع کر دی، اور آپ جانتے ہیں کہ ایک آنکھ جو ہے اس کے اندر نصف دیت آیا کرتی ہے۔ اگر آزاد آدمی ہو تو نصف دیت، کوئی آزاد آدمی کو قتل کر دے غلطی سے تو وہاں پوری دیت آتی ہے، یعنی سو اونٹ بھئی۔ لیکن اگر کوئی کسی کی ایک آنکھ پھوڑ دے یا ایک ہاتھ کاٹ دے یا ایک پاؤں کاٹ دے، تو اس صورت میں پھر نصف دیت آیا کرتی ہے، لیکن یہ تو آزاد آدمی کے اندر ہے۔ آزاد آدمی میں آنکھ کے اندر نصف دیت آئے گی لیکن غلام کے اندر قیمت کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی کسی کے غلام کو غلطی سے قتل کر دے تو وہاں دیت نہیں آئے گی، سو اونٹ نہیں دینے پڑیں گے، بلکہ اس غلام کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو لہٰذا جب غلام کے اندر اس کی قیمت آتی ہے تو غلام کی آنکھ پھوڑنے کی صورت میں اس غلام کی نصف قیمت آئے گی۔
تو صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی کفار سے وہ غلام خرید لایا، اور پھر اس کے پاس اس غلام کی آنکھ کسی نے پھوڑ دی، اور اس خریدار نے پھر اس جنایت کرنے والے سے اس غلام کی نصف قیمت وصول کر لی، مثلاً فرض کرو یہ غلام ایک ہزار درہم کا تھا، تو اس خریدار نے اس جنایت کرنے والے سے پانچ سو درہم بطورِ ارش کے وصول کر لیے، یعنی بطورِ ضمان کے وصول کر لیے۔ اب پرانے مالک کو پتہ چلا کہ میرا غلام فلاں آدمی کے پاس ہے، تو پرانا مالک اس غلام کو لینا چاہتا ہے، لیکن اب تو غلام کی ایک آنکھ پھوڑ دی گئی ہے، تو کیا اب بھی پورے ثمن دے کر لینا پڑے گا یا اب نصف ثمن کے بدلے یہ غلام لے گا؟ کہتے ہیں نہیں، اگر پرانا مالک اب بھی اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو اس کو پورے ثمن ادا کرنے پڑیں گے، وہ جو خریدار کفار کو ثمن ادا کرکے لایا تھا اس غلام کو، اس نے جتنے ثمن ادا کیے تھے وہی ثمن مالک کو بھی ادا کرنے پڑیں گے۔ اور یہاں پر یہ جو غلام کی ایک آنکھ پھوڑ دی گئی ہے، یہ آنکھ وصف کے درجے میں ہے، یہ آنکھ کس کے درجے میں ہے؟ وصف کے درجے میں ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے دیکھنے کی قوت کم ہوگئی، تو یہ وصف کے درجے میں ہے، تو ایک آنکھ جب چلی گئی تو اس کے وصف میں کمی آگئی، تو آنکھ کس کے درجے میں ہے؟ وصف کے درجے میں، اور یاد رکھنا، یاد رکھنا اوصاف کے مقابلے میں ثمن وغیرہ نہیں ہوتے۔ اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں ہوتا، لہٰذا پرانا آقا اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو یہ وہی غلام ہے، صرف اس کے وصف میں کمی آئی ہے، تو وصف میں کمی کی وجہ سے اس کے ثمن میں کمی نہیں آئے گی، پورے ثمن دے کر اس کو لینا پڑے گا۔ جتنے کا وہ خریدار لایا تھا وہی پورے ثمن ادا کرکے اس غلام کو لینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
دیکھیے بھئی: ”قَالَ“ اس ”قَالَ“ سے مراد امام محمد رحمہ اللہ ہیں، ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامعِ صغیر میں فرماتے ہیں: ”فَإِنْ أَسَرُوا عَبْدًا“ اگر کفار نے کوئی غلام قید کر لیا ”فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ“ پھر ایک آدمی نے اس غلام کو کفار سے خرید لیا ”وَأَخْرَجَهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ اور وہ آدمی اس غلام کو نکال لایا دار الاسلام کی طرف ”فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ“ پھر اس غلام کی ایک آنکھ پھوڑ دی گئی ”وَأَخَذَ أَرْشَهَا“ اور اس خریدار نے پھر اس کی آنکھ کا ارش وصول کر لیا، اس کی آنکھ کا ارش وصول کر لیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ پوری انسانی جان کا جو بدل ہے اس کو دیت کہتے ہیں، یعنی سو اونٹ جو ہیں یہ دیت ہیں، اور جان سے کم کے اندر جو مال آتا ہے اس کو ارش کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ“ تو اس غلام کی ایک آنکھ پھوڑ دی گئی ”وَأَخَذَ أَرْشَهَا“ اور مشتری نے اس کا ارش، اس کا ضمان لے لیا ”فَإِنَّ الْمَوْلَى يَأْخُذُهُ“ تو اس غلام کا جو پرانا آقا ہے وہ اس غلام کو لے سکتا ہے ”بِالثَّمَنِ الَّذِي أُخِذَ بِهِ مِنَ الْعَدُوِّ“ اسی ثمن کے بدلے میں جس کے بدلے میں دشمن سے اس کو لیا گیا تھا۔ یہ پرانا مالک اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو اسی ثمن کے بدلے لے سکتا ہے جس کے بدلے اس غلام کو دشمن سے لیا گیا تھا، یعنی پورے ثمن ادا کرنے پڑیں گے، آنکھ کے ضائع ہونے کی وجہ سے ثمن میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْأَخْذُ بِالثَّمَنِ فَلِمَا قُلْنَا“ تو ثمن کا لینا اس وجہ سے ہے جو ہم نے کہا۔ اگر ہم کہیں کہ آقا اس غلام کو مفت لے سکتا ہے اس مشتری سے، پھر تو اس مشتری بیچارے کا نقصان ہوگا، اس کو تو یہ غلام مفت نہیں ملا، وہ تو ثمن دے کر لایا تھا، لہٰذا اس کو ضرر سے بچانے کے لیے مالک کو ثمن ادا کرنے پڑیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْأَخْذُ بِالثَّمَنِ فَلِمَا قُلْنَا“ تو ثمن کے بدلے لینا جو ہے اس وجہ سے ہے جو ہم نے کہا ”وَلَا يَأْخُذُ الْأَرْشَ“ اور یہ جو پرانا آقا ہے یہ اس ارش کو نہیں لے سکتا۔ بھئی خریدار نے غلام کی آنکھ کا ارش اور ضمان بھی وصول کر لیا ہے، تو کیا یہ پرانا آقا جب پورے ثمن ادا کرے گا تو کیا غلام کے ساتھ ساتھ اس کا ارش بھی لے لے گا جو اس خریدار کو ملا ہے؟ کہتے ہیں نہیں، ارش نہیں لے سکتا، صرف غلام ہی کو لینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَأْخُذُ الْأَرْشَ“ اور یہ پرانا آقا جو ہے یہ اس ارش کو نہیں لے سکتا ”لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهِ صَحِيحٌ“ اس لیے کیونکہ اس غلام کے اندر اس نئے آقا کی ملکیت صحیح ہے۔ یہ جو نیا آقا تھا یہ اس کی ملکیت صحیح ہے کیونکہ یہ خرید کر لایا ہے، توجہ ہے؟ اور جب یہ اس کی ملکیت صحیح ہے تو پھر اس صورت میں اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں آتا۔
یاد رکھو اگر کوئی شخص کسی کی چیز کو غصب کر لے تو ویسے تو اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں ہوتا، لیکن اگر کوئی شخص کسی کی چیز غصب کر لے تو وہاں پر اوصاف کے مقابلے میں بھی ضمان اور مال آئے گا۔ مثلاً ایک آدمی دوسرے کا صحیح سلامت غلام غصب کرکے لے گیا، اور غاصب کے پاس اس غلام کی آنکھ کسی نے پھوڑ دی، تو یہ آنکھ وصف ہے اور وصف کے مقابلے میں مال نہیں ہوتا، لیکن یہ معاملہ ہے غصب کا، لہٰذا یہاں پر غاصب کو یہ غلام بھی واپس کرنا پڑے گا اور آنکھ پھوڑنے کی وجہ سے غلام کی قیمت میں جو کمی آئی ہے وہ ضمان بھی دینا پڑے گا۔ تو ویسے تو اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں ہوتا لیکن غصب کے اندر اوصاف کے مقابلے میں بھی مال آجاتا ہے، اور وہ اس لیے تاکہ مالک کے حق کی پوری رعایت ہوجائے۔ اس غاصب نے ظلم کیا تھا، ایک آدمی کا مال چھین کر لے گیا تھا، تو غاصب کے حق کی پوری رعایت اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ اوصاف کے مقابلے میں بھی مال کو لازم کر دیا جائے اور ظلم کو پوری طرح ختم کر دیا جائے۔ تو معلوم ہوا غصب کے اندر اوصاف کے مقابلے میں بھی مال آتا ہے۔ اسی طرح یاد رکھو بیعِ فاسد کے اندر بھی اوصاف کے مقابلے میں مال آتا ہے۔ عام بیع کے اندر اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں آتا لیکن بیعِ فاسد کے اندر اوصاف کے مقابلے میں مال آتا ہے۔
بھئی دیکھیے! ایک ہے عام بیع، عام بیع کے اندر مشتری اور بائع جب آپس میں ایجاب و قبول کرتے ہیں، اسی وقت مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، جیسے میری جیب پر ایک قلم لگا ہوا ہے، میں نے آپ سے کہا کہ یہ قلم میں نے آپ کو سو روپے کا بیچ دیا اور آپ نے کہا میں نے خرید لیا، تو فوراً ہی آپ اس قلم کے مالک بن گئے اگرچہ یہ قلم ابھی بھی میری جیب پر لگا ہوا ہے۔ تو عام بیع کے اندر ایجاب و قبول کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، لیکن، لیکن بیعِ فاسد جو ہے، بیعِ فاسد کے اندر جب مشتری مبیع پر بائع کی مرضی سے قبضہ کر لے پھر مالک بنتا ہے، ویسے مالک نہیں بنتا۔ اور بیعِ فاسد اسے کہتے ہیں کہ بیع کے اندر کوئی خرابی آجائے، مثلاً بیع کے اندر کوئی ایسی شرط لگا دی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے، مثلاً ایک آدمی اپنا مکان دوسرے کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے یہ مکان میں نے آپ کو پچاس لاکھ روپے میں فروخت کر دیا لیکن شرط یہ ہے کہ میں دو مہینے تک خود ہی اس مکان میں رہوں گا، دو مہینے بعد میں تمہارے حوالے کروں گا، تو دیکھو یہ بائع ایسی شرط لگا رہا ہے جس میں بائع کا فائدہ ہے، بیع تو تقاضا کر رہی ہے کہ جیسے ہی بیع ہوئی ہے مشتری مکان کا مالک بن گیا لہٰذا فوراً مکان اس کے حوالے کرو، لیکن بائع نے ایسی شرط لگا دی جس میں اس کا اپنا فائدہ ہے، وہ دو مہینے مزید اس مکان میں رہنا چاہتا ہے، تو یاد رکھو یہ بیعِ فاسد ہوگئی۔ یہ بیع فاسد ہے، یعنی شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ بیعِ فاسد کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا ایجاب و قبول کر لیا اس بیعِ فاسد کا، پھر بھی مشتری ابھی تک مبیع کا مالک نہیں بنا کیونکہ اس بیع کا اعتبار ہی نہیں ہے شرعاً بھئی۔ ہاں جب مشتری اس مکان پر قبضہ کر لے گا بائع کی مرضی سے، اب مشتری مالک بن جائے گا۔ تو بیعِ فاسد میں صرف ایجاب و قبول سے مشتری مبیع کا مالک نہیں بنتا بلکہ جب مشتری مبیع پر قبضہ کر لے بائع کی مرضی سے تو پھر مشتری مالک بنتا ہے۔ لیکن اس ملکیت کے اندر بھی خباثت اور خرابی آگئی بھئی، اس ملکیت میں بھی خباثت اور خرابی آگئی کیونکہ یہ ایسے طریقے سے اس مال کا مالک بنا ہے جس سے شریعت نے منع کیا تھا، توجہ ہے؟ لہٰذا اس پر لازم ہے کہ اس ملکیت کو ختم کر دے اور توڑ دے، یعنی یہ مبیع بائع کو واپس کرے اور پھر نئے سرے سے صحیح بیع کی جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا بیعِ فاسد کے اندر مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے جب بائع کی مرضی سے وہ مبیع پر قبضہ کر لے لیکن یہ ملکیت جو ہے یہ بھی خرابی سے خالی نہیں ہے، اس بیع کا توڑنا دونوں پر واجب ہے ورنہ دونوں گناہ گار ہوں گے۔ معلوم ہوا بیعِ فاسد کے اندر مشتری کی جو مبیع پر ملکیت آئی ہے وہ ملکیت صحیح نہیں، اس میں خرابی ہے۔ توجہ ہے؟ جب ملکیت صحیح نہیں ہے، اس کے اندر خرابی ہے تو اب یہاں اوصاف کے مقابلے میں بھی مال آئے گا۔ اوصاف کے مقابلے میں بھی مال آئے گا، لہٰذا ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے بیعِ فاسد کے ذریعے غلام خریدا اور پھر اس نے اس غلام پر قبضہ کر لیا تو مشتری مبیع کا مالک بن گیا لیکن دونوں پر اس بیع کو توڑنا واجب ہے، اور یہ مشتری کی ملکیت تو آگئی لیکن یہ ملکیت صحیح نہیں اس کے اندر خرابی ہے۔ اب اس غلام کی ایک آنکھ کسی نے پھوڑ دی اور پھر مشتری یہ غلام واپس کرتا ہے بائع کو، تو اب اس صورت میں یہ وصف کے مقابلے میں بھی مال آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا غصب کے اندر بھی اوصاف کے مقابلے میں مال آتا ہے اور بیعِ فاسد بھی بعض اعتبار سے غصب جیسی ہے، جیسے غصب کے اندر اس چیز کو واپس کرنا ضروری ہوتا ہے بیعِ فاسد کے اندر بھی اس چیز کو واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، تو اس کے اندر بھی اوصاف کے مقابلے میں مال آئے گا بھئی۔
اسی طرح یاد رکھو شفعہ، شفعہ بھئی! شفعہ اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی زمین وغیرہ یا کوئی غیر منقولی جائیداد بیچتا ہے تو اس زمین کے جو پڑوسی ہیں ان کو شریعت نے شفعے کا حق دیا ہے، یعنی وہ جبراً اس مبیع کو نئے مشتری سے خرید سکتے ہیں۔ مثلاً ایک آدمی نے اپنا مکان پچاس لاکھ روپے میں فروخت کر دیا، تو اس مکان کے پڑوسیوں کو شریعت نے شفعے کا حق دیا ہے، وہ جو نیا خریدار ہے یہ اس کو اس مکان کی جتنے پیسے اس نے ادا کیے ہیں تو یہ پڑوسی اس نئے خریدار کو وہ پیسے ادا کرکے جبراً یہ مکان اس سے لے سکتے ہیں۔ توجہ ہے؟ اور عند الاحناف شفعے کی وجہ جو ہے وہ ضررِ جوار سے بچنا ہے، پڑوسی کے نقصان سے بچنا ہے، پڑوسی کے نقصان سے بچنا ہے۔ وجہ یہ کہ اگر انسان کو اچھا پڑوسی مل جائے تو زندگی آرام سے اور راحت سے گزرتی ہے، اور اگر پڑوسی برا آدمی ہو تو پھر تو زندگی عذاب بن جاتی ہے اور اس سے جان چھوٹنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ وہ آپ کے پڑوس میں ہی رہتا ہے بھئی، تو جان چھوٹنے کی بھی کوئی صورت نہیں۔ لہٰذا اب ایک آدمی ایک مکان بیچ رہا ہے، تو یہ جو پرانا مالک ہے یہ تو اچھا آدمی تھا اس کے پڑوس پر تو پڑوسی راضی تھے، لیکن پتہ نہیں نیا آنے والا آدمی کیسا ہوگا؟ اگر وہ برا آدمی ہوا تو پھر تو ان کی زندگی عذاب بن جائے گی، تو لہٰذا شریعت نے ان پڑوسیوں کو حق دیا ہے کہ وہ نئے آدمی کو آنے ہی نہ دیں بلکہ خود ہی پیسے دے کر اس مکان کو خرید لیں۔ توجہ ہے؟ اس کو کہتے ہیں شفعہ، کیا کہتے ہیں؟ شفعہ۔ اور شفعہ بھی جبراً ہوتا ہے، یعنی وہ جو نیا خریدار ہے وہ اس مکان کو بیچنا چاہے یا نہ بیچنا چاہے لیکن پڑوسی ہر حال میں جبراً یہ مکان اس سے لے سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ مثلاً دیکھو زید نے اپنا مکان ایک نئے خریدار کو بیچ دیا اور ساتھ والے پڑوسی نے شفعہ کر دیا۔ تو اب وہ جو نیا خریدار ہے اس نے یہ مکان پچاس لاکھ روپے میں خریدا تھا، تو یہ پڑوسی اس نئے خریدار کو پچاس لاکھ دے دے گا اور یہ مکان اس سے لے لے گا۔ تو اس کے اندر بھی دیکھو یہ جو نیا خریدار آیا ہے، اس کو یہ مکان اب پڑوسی کو دینا پڑے گا شفعے کی وجہ سے، تو جیسے بیعِ فاسد کے اندر اس چیز کا واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح شفعے کے اندر بھی نئے خریدار پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس مکان کو پڑوسی کے حوالے کرے، تو بہ ایں اعتبار شفعے کی بھی مناسبت آگئی بیعِ فاسد کے ساتھ، اور جب بیعِ فاسد کے ساتھ مناسبت آئی تو بیعِ فاسد کے اندر تو اوصاف کے مقابلے میں بھی مال ہوتا تھا، تو یہاں شفعے کے اندر بھی اوصاف کے اندر مال ہوگا، لہٰذا اگر نئے خریدار کی وجہ سے اس زمین کے وصف میں کسی طرح کی اگر کوئی کمی آگئی ہے تو اس کی وجہ سے ثمن بھی ساقط ہوں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا غصب اور بیعِ فاسد اور اسی طرح شفعہ، ان کے اندر اوصاف کے مقابلے میں بھی مال ہوتا ہے، لیکن ملکِ صحیح کے اندر اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں ہوتا۔ توجہ ہے؟ غصب کے اندر بھی ملکِ صحیح نہیں، شرائے فاسد کے اندر بھی ملکِ صحیح نہیں، اور شفعے کے اندر بھی ملکِ صحیح نہیں کیونکہ اس مکان کا واپس کرنا ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ تو جب ملکِ صحیح ہو پھر تو اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں ہوتا، لیکن اگر ملکِ صحیح نہ ہو تو پھر اوصاف کے مقابلے میں مال ہوتا ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهِ صَحِيحٌ“ اس لیے کیونکہ اس غلام کے اندر نئے خریدار کی ملکیت صحیح ہے۔ وہ جو نیا خریدار جو کفار سے اس غلام کو خرید کر لایا ہے، اس کی ملکیت اس کے اندر صحیح ہے، اس نے کوئی بیعِ فاسد کے ذریعے نہیں خریدا، اس نے کوئی غصب کے ذریعے قبضہ نہیں کیا، تو اس کی ملکیت صحیح ہے۔ جب اس کی ملکیت صحیح ہے اور پرانا آقا اس سے لینا چاہتا ہے تو اوصاف کے مقابلے میں مال نہیں ہوگا، پورے ثمن دے کر ہی اس غلام کو لینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهِ صَحِيحٌ“ اس لیے کیونکہ اس غلام کے اندر اس نئے آقا کی ملکیت صحیح ہے ”فَلَوْ أَخَذَهُ أَخَذَهُ بِمِثْلِهِ“ اور اگر پرانا آقا ارش لیتا ہے تو ”أَخَذَهُ بِمِثْلِهِ“ تو وہ اس کو اس کے مثل کے بدلے لے گا ”وَهُوَ لَا يُفِيدُ“ اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ بھئی بات یہ چل رہی ہے کہ نئے آقا نے، وہ آدمی جو خرید کر لایا تھا وہ جو نیا آقا ہے، اس نے غلام کا ارش وصول کیا ہے، تو کیا پرانا آقا غلام کے ساتھ ساتھ اس ارش کو بھی لے گا؟ کہتے ہیں نہیں، پرانا آقا ارش نہیں لے سکتا۔ اگر پرانا آقا غلام کے ساتھ ارش بھی لینا چاہتا ہے تو غلام کے ثمن بھی ادا کرنے پڑیں گے، اور وہ ارش کا مثل دینا پڑے گا، کیونکہ درہم اور دینار کس میں سے ہیں؟ مثلیات میں سے ہیں۔ مثلاً اس نے پانچ سو درہم ارش وصول کیا تھا تو پرانے آقا کو بھی پانچ سو درہم دینے پڑیں گے تو اس میں تو کوئی فائدہ ہی نہیں ہے کہ پانچ سو درہم دے کر پانچ سو درہم لے لیے جائیں۔ یہ معنی ہے: ”فَلَوْ أَخَذَهُ أَخَذَهُ بِمِثْلِهِ“ اگر پرانا آقا ارش کو لیتا ہے تو وہ اس کو اس کے مثل کے بدلے لے گا ”وَهُوَ لَا يُفِيدُ“ اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ”وَلَا يُحَطُّ شَيْءٌ مِنَ الثَّمَنِ“ اور ثمن میں کسی چیز کی کمی نہیں کی جائے گی ”لِأَنَّ الْأَوْصَافَ لَا يُقَابِلُهَا شَيْءٌ مِنَ الثَّمَنِ“ اس لیے کیونکہ اوصاف جو ہوتے ہیں ان کے مقابلے میں ثمن میں سے کوئی چیز نہیں ہوتی ”بِخِلَافِ الشُّفْعَةِ“ بخلاف شفعہ کے کہ اس کے اندر اوصاف کے مقابلے میں ثمن آتے ہیں ”بِخِلَافِ الشُّفْعَةِ“ بخلاف شفعہ کے ”لِأَنَّ الصَّفْقَةَ لَمَّا تَحَوَّلَتْ إِلَى الشَّفِيعِ“ صفقہ کہتے ہیں سودا بھئی، سودا، وہ جو خرید و فروخت کا معاملہ ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ صفقہ۔ بھئی ادھر دیکھیے! زید نے ایک مکان بیچا اور زید کے پڑوسی نے شفعہ کر دیا اس مکان پر، تو یہ جو پڑوسی ہے اس کو کہیں گے شفیع، یہ ہے شفعہ کرنے والا۔ اور زید نے تو یہ مکان بیچا تھا ایک نئے خریدار کو، لیکن اس کو پڑوسی لے لے گا شفعہ کرکے، تو وہی خرید و فروخت کا معاملہ جو زید نے ایک اجنبی کے ساتھ کیا تھا، وہ پلٹ کر کس کی طرف چلا جائے گا؟ اس شفیع کی طرف۔ زید نے یہ مکان کس کو بیچا؟ نئے خریدار کو، لیکن پڑوسی نے شفعہ کرکے یہ مکان لے لیا، تو زید نے وہ جو بیع و شراء کا معاملہ کیا تھا نئے خریدار کے ساتھ، وہ معاملہ پلٹ گیا، پھر گیا، اور کس کی طرف چلا گیا؟ شفیع کی طرف یعنی پڑوسی کی طرف بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الصَّفْقَةَ لَمَّا تَحَوَّلَتْ إِلَى الشَّفِيعِ“ اس لیے کیونکہ وہ خرید و فروخت کا معاملہ جب پلٹ گیا شفیع کی طرف ”صَارَ الْمُشْتَرَى فِي يَدِ الْمُشْتَرِي بِمَنْزِلَةِ الْمُشْتَرَى شِرَاءً فَاسِدًا“ تو وہ چیز جس کو خریدا گیا تھا وہ مشتری کے قبضے میں ہوئی اس چیز کے درجے میں جس کو شراءِ فاسد کے ساتھ خریدا گیا ہو۔ زید نے مکان ایک اجنبی کو بیچا لیکن پڑوسی نے شفعہ کر دیا، تو اب یہ خرید و فروخت کا معاملہ اجنبی سے پلٹ کر کس کی طرف چلا گیا؟ شفیع کی طرف یعنی پڑوسی کی طرف۔ اس نئے خریدار نے تو مکان پر قبضہ کر لیا تھا تو اس نئے خریدار کے قبضے میں جو خریدی ہوئی چیز ہے وہ شراءِ فاسد کے درجے میں ہوگئی، جیسے شراءِ فاسد میں چیز کو واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح یہاں پر بھی اس نئے خریدار کو یہ چیز لوٹانا ضروری ہے کہ وہ شفیع کو یہ چیز لوٹا دے۔ یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الصَّفْقَةَ لَمَّا تَحَوَّلَتْ إِلَى الشَّفِيعِ صَارَ الْمُشْتَرَى فِي يَدِ الْمُشْتَرِي بِمَنْزِلَةِ الْمُشْتَرَى شِرَاءً فَاسِدًا“ اس لیے کیونکہ یہ خرید و فروخت کا معاملہ جب شفیع کی طرف پلٹ گیا تو یہ خریدی ہوئی چیز جو مشتری کے قبضے میں ہے یہ اس خریدی ہوئی چیز کے درجے میں ہوگئی جسے شراءِ فاسد کے ساتھ خریدا گیا ہو، جیسے اس کا لوٹانا ضروری ہوتا ہے اس کا لوٹانا بھی ضروری ہوا ”وَالْأَوْصَافُ تُضْمَنُ فِيهِ كَمَا فِي الْغَصْبِ“ اور شراءِ فاسد کے اندر تو اوصاف جو ہیں مضمون ہوتے ہیں ”كَمَا فِي الْغَصْبِ“ جیسے کہ غصب کے اندر اوصاف مضمون ہوتے ہیں، ان کا ضمان آتا ہے ”أَمَّا هَاهُنَا الْمِلْكُ صَحِيحٌ“ باقی یہاں پر تو ملکیت صحیح ہے، یہ جو نیا آقا غلام کو خرید کر لایا ہے اس کی ملکیت صحیح ہے ”فَافْتَرَقَا“ تو دونوں جدا ہوگئے، یعنی ملکِ صحیح اور وہ چیز جس کو شراءِ فاسد سے خریدا گیا ہے دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے بھئی۔ ملکِ صحیح کے اندر تو اوصاف کے مقابلے میں ثمن نہیں آئیں گے لیکن وہ چیز جس کو شراءِ فاسد سے خریدا گیا ہے اس کے اندر تو اوصاف کے مقابلے میں ثمن آئیں گے، تو یہ معنی ہے: ”فَافْتَرَقَا“ تو دونوں جدا ہوگئے، یعنی ملکِ صحیح اور وہ چیز جس کو شراءِ فاسد سے خریدا گیا ہے وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔
آگے دیکھیے: ”وَإِنْ أَسَرُوا عَبْدًا فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ فَأَسَرُوهُ ثَانِيَةً“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ کفار نے ہمارے دار الاسلام پر حملہ کیا اور ایک غلام کو چھین کر لے گئے، اور پھر ایک مشتری گیا اور وہ جا کر اس غلام کو خرید کر لے آیا، یہ ہے مشتریِ اول، توجہ ہے؟ پھر اس کے بعد کفار نے دوبارہ کسی وقت حملہ کیا اور اس مشتریِ اول سے دوبارہ اس غلام کو قیدی بنا کر لے گئے، اور اس کے بعد پھر ایک اور شخص گیا اور وہ اس غلام کو دوبارہ خرید کر لے آیا، یہ ہے مشتریِ ثانی۔ تو اب مالک کو اس غلام کا پتہ چل گیا، وہ جو پرانا مالک تھا جس سے پہلی مرتبہ اس غلام کو چھینا گیا تھا، تو کیا وہ پہلا مالک جو ہے اس مشتریِ ثانی سے اس غلام کو جبراً لے سکتا ہے یا نہیں اس کی قیمت دے کر؟ کہتے ہیں نہیں، وہ جو پرانا مالک ہے وہ اس مشتریِ ثانی سے جبراً یہ غلام قیمت دے کر نہیں لے سکتا۔ وجہ یہ کہ دوسری مرتبہ میں یہ غلام مشتریِ اول سے چھینا ہے کافروں نے، لہٰذا مشتریِ اول جو ہے وہ تو اس مشتریِ ثانی سے جبراً یہ غلام خرید سکتا ہے۔ دوسری مرتبہ میں کفار اس مشتریِ اول سے غلام چھین کر لے کر گئے ہیں تو مشتریِ اول کی ملکیت کو انہوں نے توڑا ہے، لہٰذا مشتریِ اول جو ہے وہ مشتریِ ثانی سے یہ غلام جبراً لے سکتا ہے اس کے ثمن دے کر۔ اور پھر اگر مشتریِ اول اس غلام کو لے لیتا ہے مشتریِ ثانی سے، تو اس مشتریِ اول سے پھر وہ پرانا آقا اس غلام کو لے سکتا ہے، لیکن مشتریِ اول کو دو ثمن ادا کرنے پڑے، پہلی مرتبہ اس مشتریِ اول نے اس غلام کو کفار سے خریدا تھا اور وہاں ثمن ادا کیے تھے، اور دوسری مرتبہ اس مشتریِ اول نے اس غلام کو مشتریِ ثانی سے خریدا ہے اور وہاں بھی ثمن ادا کیے ہیں، تو معلوم ہوا مشتریِ اول کو یہ غلام دو ثمنوں میں پڑا ہے، تو پرانا مالک اگر اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو اس کو بھی یہ دونوں ثمن ادا کرنے پڑیں گے مشتریِ اول کو، پھر ہی وہ یہ غلام لے سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَسَرُوا عَبْدًا“ اور اگر کفار نے کسی غلام کو قید کر لیا ”فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ“ پھر اس غلام کو ایک آدمی نے ایک ہزار درہم کے بدلے خرید لیا، یہ ہے مشتریِ اول بھئی ”فَأَسَرُوهُ ثَانِيَةً“ پھر کفار نے اس غلام کو قیدی بنا لیا دوسری مرتبہ ”وَأَدْخَلُوهُ دَارَ الْحَرْبِ“ اور کفار نے اس قیدی کو دار الحرب میں داخل کر دیا ”فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ آخَرُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ“ پھر ایک اور آدمی نے اس غلام کو ایک ہزار درہم کے بدلے خرید لیا، یہ ہے مشتریِ ثانی بھئی ”فَلَيْسَ لِلْمَوْلَى الْأَوَّلِ أَنْ يَأْخُذَهُ مِنَ الثَّانِي بِالثَّمَنِ“ تو غلام کا جو پہلا آقا تھا وہ جو پرانا مالک تھا، تو کہتے ہیں ”فَلَيْسَ لِلْمَوْلَى الْأَوَّلِ“ تو وہ جو غلام کا پہلا آقا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے ”أَنْ يَأْخُذَهُ مِنَ الثَّانِي“ کہ وہ اس غلام کو لے لے دوسرے مشتری سے ”بِالثَّمَنِ“ اس کے ثمن کے بدلے ”لِأَنَّ الْأَسْرَ مَا وَرَدَ عَلَى مِلْكِهِ“ اس لیے کیونکہ قیدی بنانا وہ اس کی ملکیت پر وارد نہیں ہوا۔ یہ جو دوسری مرتبہ کفار نے غلام کو قیدی بنایا تھا، یہ قیدی بنانا اس پرانے مالک کی ملکیت پر وارد نہیں ہوا بلکہ مشتریِ اول کی ملکیت پر یہ وارد ہوا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْأَسْرَ مَا وَرَدَ عَلَى مِلْكِهِ“ اس لیے کیونکہ قیدی بنانا اس پرانے پہلے مالک کی ملکیت پر نہیں آیا ”وَلِلْمُشْتَرِي الْأَوَّلِ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الثَّانِي بِالثَّمَنِ“ اور مشتریِ اول کے لیے جائز ہے کہ وہ مشتریِ ثانی سے اس غلام کو لے لے ثمن کے بدلے میں ”لِأَنَّ الْأَسْرَ وَرَدَ عَلَى مِلْكِهِ“ اس لیے کیونکہ قیدی بنانا مشتریِ اول کی ملکیت پر وارد ہوا تھا، دوسری مرتبہ میں کفار کس سے چھین کر لے کر گئے ہیں؟ مشتریِ اول سے ”ثُمَّ يَأْخُذُهُ الْمَالِكُ الْقَدِيمُ بِأَلْفَيْنِ إِنْ شَاءَ“ پھر پرانا مالک اس غلام کو لے سکتا ہے دو ہزار کے بدلے اگر وہ چاہے، کیونکہ مشتریِ اول کو یہ غلام دو ہزار کا پڑا ہے تو پرانا مالک بھی دو ہزار کے بدلے لے سکتا ہے ”لِأَنَّهُ قَامَ عَلَيْهِ بِالثَّمَنَيْنِ“ اس لیے کیونکہ یہ غلام جو ہے مشتریِ اول کو دو ثمنوں میں پڑا ہے ”فَيَأْخُذُهُ بِهِمَا“ لہٰذا پرانا مالک اس کو ان دونوں ثمنوں کے بدلے لے سکتا ہے ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَأْسُورُ مِنْهُ الثَّانِي غَائِبًا“ بھئی یہ تو وہ صورت تھی کہ مشتریِ اول موجود ہے اور پھر وہ غلام لیتا ہے یا نہیں لیتا، تو اس کی موجودگی کی حالت میں پرانے آقا کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ مشتریِ ثانی سے لے لے اس غلام کو، توجہ ہے؟ جب مشتریِ اول موجود ہے۔ اور اگر مشتریِ اول غائب ہے، پتہ ہی نہیں وہ کہاں گیا ہوا ہے، تو اس صورت میں بھی پرانے مالک کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ مشتریِ ثانی سے اس غلام کو ثمن کے بدلے لے لے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَأْسُورُ مِنْهُ الثَّانِي غَائِبًا“
مأسور منہ جس سے غلام کو قید کیا گیا تھا۔ اور اولاً کس سے قید کیا تھا؟ پرانے مالک سے، اور ثانیاً کس سے کیا؟ مشتری اول سے۔ تو کہتے ہیں:
”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَأْسُورُ مِنْهُ الثَّانِي غَائِبًا“
اور اسی طرح حکم ہے جب مأسور منہ ثانی غائب ہو، مأسور منہ ثانی جس سے دوبارہ کفار نے غلام کو قیدی بنایا تھا یعنی مشتری اول، اگر وہ غائب ہے تب بھی اسی طرح ہے حکم۔ یعنی پرانا آقا وہ اس مشتری ثانی سے غلام کو قیمت کے بدلے زبردستی نہیں لے سکتا۔ ہاں، اگر وہ مشتری ثانی بیچنے کو تیار ہے، پھر تو آقا لے سکتا ہے، لیکن یہاں بات چل رہی ہے جبراً لینے کی تو جبراً نہیں لے سکتا۔
تو کہتے ہیں:
”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَأْسُورُ مِنْهُ الثَّانِي غَائِبًا لَيْسَ لِلْأَوَّلِ أَنْ يَأْخُذَهُ اعْتِبَارًا بِحَالِ حَضْرَتِهِ“
اور اسی طرح ہے مسئلہ جب مأسور منہ ثانی غائب ہو، تو مأسور منہ اول جو ہے یعنی پرانا مالک جو ہے اس کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس غلام کو لے لے مشتری ثانی سے، اس مشتری اول کی موجودگی کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے۔ جب مشتری اول موجود ہو تو پرانا مالک مشتری ثانی سے نہیں لے سکتا، تو اگر مشتری اول غائب ہے تو بھی پرانا آقا مشتری ثانی سے نہیں لے سکتا۔ یہ معنی ہے: ”اعْتِبَارًا بِحَالِ حَضْرَتِهِ“ قیاس کرتے ہوئے اس مشتری اول کی موجودگی کی حالت پر، جیسے اس کی موجودگی کی حالت میں پرانا مالک نہیں لے سکتا، اسی طرح اس کی غیر موجودگی میں بھی پرانا مالک مشتری ثانی سے نہیں لے سکتا۔
آگے دیکھیے:
”وَلَا يَمْلِكُ عَلَيْنَا أَهْلُ الْحَرْبِ بِالْغَلَبَةِ مُدَبَّرِينَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا وَمُكَاتَبِينَا وَأَحْرَارَنَا، وَنَمْلِكُ عَلَيْهِمْ جَمِيعَ ذَلِكَ“
بھئی ابھی تک بات چل رہی تھی مال پر قبضے کی۔ اب اگر کفار ہمارے آزاد آدمیوں کو قید کر لیں یا ہمارے مدبر جو ہیں، یا ہماری جو ام ولد ہے کسی کی، یا اسی طرح مکاتب ہے اس کو اگر وہ قید کر لیں تو کیا وہ اس کے مالک بنیں گے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ کفار ہمارے مال کو اگر لے جاتے ہیں دار الحرب اس کے بھی مالک بن جائیں گے، ہمارے غلام کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اس کے بھی مالک بن جائیں گے، لیکن ہمارے آزاد آدمی کو پکڑ کر لے جائیں یا ہمارے مدبر یا ام ولد یا مکاتب کو پکڑ کر لے جائیں تو ان کے وہ مالک نہیں بنیں گے۔ لیکن اگر ہم ان کے آزاد آدمی کو پکڑ لیں یا مدبر یا مکاتب وغیرہ کو پکڑ لیں تو ہم ان کے مالک بنیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَا يَمْلِكُ عَلَيْنَا أَهْلُ الْحَرْبِ بِالْغَلَبَةِ مُدَبَّرِينَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا وَمُكَاتَبِينَا وَأَحْرَارَنَا، وَنَمْلِكُ عَلَيْهِمْ جَمِيعَ ذَلِكَ“
اور اہل حرب جو ہیں وہ ہمارے خلاف مالک نہیں بنیں گے غلبے کی وجہ سے ہمارے مدبروں کے، اور ہماری امہات اولاد کے، اور ہمارے مکاتبوں کے، اور ہمارے آزاد لوگوں کے، اور ہم ان کے خلاف مالک بنیں گے ان سب کے۔
”لِأَنَّ السَّبَبَ إِنَّمَا يُفِيدُ الْمِلْكَ فِي مَحَلِّهِ“
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر بھی تو استیلاء اور غلبہ پایا جا رہا ہے۔ استیلاء اور غلبہ پایا جا رہا ہے جب کفار نے ہمارے مدبر یا مکاتب یا آزاد لوگوں کو پکڑ لیا ہے تو ان پر غلبہ پا لیا اور پھر جب اپنے وطن لے گئے تو استیلاء کامل ہو گیا۔ تو لہٰذا مالک بننا چاہیے، تو آپ کو جواب دیں گے کہ نہیں، استیلاء اپنے محل پر ہو تو وہ ملکیت کا فائدہ دیتا ہے، غیر محل میں وہ ملکیت کا فائدہ نہیں دیتا، اور استیلاء کا محل کیا ہے؟ کہتے ہیں: مال مباح۔ استیلاء کا کیا محل ہے؟ مال مباح پر قبضہ آئے تو اس کے وہ مالک بنیں گے اور مال معصوم پر قبضہ آئے تو اس کے وہ مالک نہیں بنیں گے۔ تو استیلاء ملکیت کا سبب ہے، وہ ملکیت کا فائدہ دیتا ہے لیکن اپنے محل میں یعنی مال مباح کے اندر۔
کہتے ہیں:
”لِأَنَّ السَّبَبَ إِنَّمَا يُفِيدُ الْمِلْكَ فِي مَحَلِّهِ“
کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو سبب ہے ملکیت کا یعنی یہ جو استیلاء ہے، ”إِنَّمَا يُفِيدُ الْمِلْكَ“ یہ ملکیت کا فائدہ دیتا ہے ”فِي مَحَلِّهِ“ اپنے محل میں ہی۔ یہ استیلاء اپنے محل ہی میں ملکیت کا فائدہ دیتا ہے۔
”وَالْمَحَلُّ الْمَالُ الْمُبَاحُ“
اور استیلاء کا جو محل ہے وہ مال مباح ہے،
”وَالْحُرُّ مَعْصُومٌ بِنَفْسِهِ“
اور آزاد آدمی جو ہے وہ تو معصوم بنفسہ ہے یعنی وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی معصوم اور محفوظ ہے۔ آزاد آدمی معصوم اور محفوظ ہے، وجہ گزشتہ سبق میں ذکر ہوئی تھی، کیونکہ آزاد آدمی جو ہے اس کو اللہ نے مکلف بنایا ہے، مکلف بنایا ہے یعنی اس کے لیے احکام نازل فرمائے ہیں اور آزاد آدمی ان احکام پر تب ہی عمل کر سکتا ہے جب وہ باقی رہے، جب وہ زندہ رہے، اور زندہ وہ تب ہی رہ سکتا ہے جب اس کے ساتھ تعرض حرام ہو، اس کی جان کو معصوم اور محفوظ قرار دیا جائے۔ پھر ہی وہ عمل کر سکتا ہے۔ اگر اس کی جان معصوم اور محفوظ ہی نہیں ہے، ہر ایک کے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہو تو پھر وہ کیسے احکام پر عمل کرے گا بھئی؟ تو معلوم ہوا آزاد آدمی وہ اپنی ذات کے اعتبار سے معصوم ہے۔ ہاں، اگر وہ حربی ہے تو اس کو شرع عارض ہو گیا، پھر اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اسے قتل کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن ویسے آزاد آدمی کے ساتھ تعرض کرنا جائز نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَالْحُرُّ مَعْصُومٌ بِنَفْسِهِ، وَكَذَا مَنْ سِوَاهُ“
اور آزاد آدمی جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے محفوظ ہوتا ہے کیونکہ وہ مکلف ہے، اور اسی طرح جو اس کے علاوہ ہیں، اس کے علاوہ جو ہیں یعنی جو ہمارے مکاتب ہیں یا ہمارے مدبر ہیں یا ہماری ام ولد ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے۔ بھئی کیوں، ان کا کیوں یہ حکم ہے؟ وہ تو غلام اور باندیاں ہیں۔ کہتے ہیں بھئی وہ بھی بعض اعتبار سے آزاد ہیں کیونکہ مدبر نے آزاد ہونا ہے، مدبر وہ غلام جسے آقا نے کہہ دیا: میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، تو اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے۔ تو بعض اعتبار سے دیکھیں یہ آزاد ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ غلام ہے۔ اسی طرح ام ولد جو ہے جو آقا کے بچے کو جنم دے اور آقا کہہ دے: یہ میری اولاد ہے، تو یہ ام ولد بن گئی اور اس نے بھی آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہونا ہے، تو آزادی اس کا حق بن چکا ہے۔ اسی طرح مکاتب وہ ہے جسے آقا نے مثلاً کہا کہ دو سال میں اتنا مال لے آؤ تو تم آزاد ہو، اور مکاتب کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ مکاتب آزاد آدمی کے درجے میں ہوتا ہے، آقا اس سے زبردستی خدمت نہیں لے سکتا۔ تو معلوم ہوا مدبر، ام ولد اور مکاتب یہ آزاد تو نہیں لیکن بعض اعتبار سے ان میں آزادی ہے۔ تو بعض اعتبار سے ان میں آزادی ہے اور آزادی کی وجہ سے تو انسان کی جان معصوم اور محفوظ ہو جاتی ہے، لہٰذا یہ بھی معصوم اور محفوظ ہو گئے، لہٰذا کفار ان کو پکڑ بھی لیں تو ان کے مالک نہیں بن سکتے۔
تو کہتے ہیں:
”وَالْحُرُّ مَعْصُومٌ بِنَفْسِهِ وَكَذَا مَنْ سِوَاهُ لِأَنَّهُ تَثْبُتُ الْحُرِّيَّةُ فِيهِ مِنْ وَجْهٍ“
اور آزاد جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے معصوم اور محفوظ ہے، اور اسی طرح جو اس کے علاوہ ہیں یعنی ام ولد، مدبر اور مکاتب وغیرہ، اس لیے کیونکہ ان کے اندر بھی آزادی ثابت ہے بعض اعتبار سے،
”بِخِلَافِ رِقَابِهِمْ“
بخلاف ان کفار کی گردنوں کے، کہ وہ اگر ہمارے قابو میں آتے ہیں چاہے ان کے آزاد ہوں، مکاتب ہوں، مدبر ہوں یا ام ولد ہوں، ہم ان کے مالک بن جائیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ رِقَابِهِمْ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَسْقَطَ عِصْمَتَهُمْ جَزَاءً عَلَى جِنَايَتِهِمْ“
بخلاف ان کفار کی گردنوں کے، اس لیے کیونکہ شریعت نے ان کی حفاظت کو ساقط کر دیا ان کے جرم کی جزا کے طور پر۔ انہوں نے کفر کیا ہے، تو کفر کی جنایت کی وجہ سے بدلے کے طور پر شریعت نے ان کی عصمت کو ساقط کر دیا، ان کو اگر مسلمان پکڑ لیں گے تو مسلمان ان کے مالک بن جائیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ الشَّرْعَ أَسْقَطَ عِصْمَتَهُمْ جَزَاءً عَلَى جِنَايَتِهِمْ وَجَعَلَهُمْ أَرِقَّاءَ، وَلَا جِنَايَةَ مِنْ هَؤُلَاءِ“
اس لیے کیونکہ شریعت نے ان کفار کی عصمت کو ساقط کر دیا ہے بطور جزا کے ان کے جرم پر اور ان کو غلام قرار دے دیا، جبکہ اوپر مذکورہ لوگوں میں سے تو کسی کا جرم نہیں ہے۔ اوپر جو ذکر ہوئے، کوئی مسلمان ہے یا اس کے مکاتب ہیں یا مدبر ہیں یا ام ولد ہیں ان کی تو کوئی جنایت نہیں، لیکن کفار کی تو جنایت ہے کہ وہ اسلام نہیں لاتے، کفر پر ہیں۔ تو شریعت نے ان کے کفر کی جنایت کے بدلے کے طور پر ان کو مسلمانوں کا غلام بنا دیا، اور یہ بات پہلے ذکر ہو چکی ہے کہ انہوں نے اللہ کا بندہ اور اللہ کا غلام بننا قبول نہیں کیا تو اللہ نے ان کو اپنے غلاموں کا غلام بنا دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے:
”وَإِذَا أَبَقَ عَبْدٌ مُسْلِمٌ لِمُسْلِمٍ فَدَخَلَ إِلَيْهِمْ فَأَخَذُوهُ لَمْ يَمْلِكُوهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: يَمْلِكُونَهُ“
فقہاء پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں ہوں بھئی، ایسے ایسے مسائل کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے اور ایک ایک مسئلہ انہوں نے قرآن و حدیث میں غور کر کے اسے درج فرما دیا۔ پہلے صورت بیان ہوئی تھی، کفار نے دار الاسلام پر حملہ کیا تھا اور ہمارے غلام کو پکڑ کر لے گئے تھے تو آپ پڑھ چکے ہیں وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔ اب صورت یہ ہے کہ دار الاسلام سے ایک آدمی کا غلام بھاگا اور وہ دار الحرب چلا گیا اور وہاں کفار نے اس کو پکڑ لیا، تو کیا کفار اس کے مالک بن جائیں گے؟ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، اب مالک نہیں بنیں گے۔ اگر کفار خود یہاں آ کر اس کو پکڑ کر لے کر جاتے پھر انہوں نے مالک بن جانا تھا، لیکن اگر کوئی غلام بھاگ کر ادھر گیا ہے تو کفار اس کے مالک نہیں ہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، جیسے کفار یہاں آ کر کسی غلام کو پکڑ کر لے جائیں تو اس کے مالک بن جاتے ہیں، اسی طرح یہ غلام خود بھاگ کر وہاں چلا گیا ہے اور انہوں نے پکڑ لیا ہے تو بھی اس کے وہ مالک بن گئے ہیں۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا أَبَقَ عَبْدٌ مُسْلِمٌ لِمُسْلِمٍ“
اور جب بھاگا کوئی مسلمان غلام کسی مسلمان کا، جب کسی مسلمان کا مسلمان غلام بھاگا، تو یہاں مسلمان کی قید کہتے ہیں اتفاقی ہے، ذمی کا غلام بھاگے اس کا بھی یہی حکم ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا أَبَقَ عَبْدٌ مُسْلِمٌ لِمُسْلِمٍ فَدَخَلَ إِلَيْهِمْ فَأَخَذُوهُ لَمْ يَمْلِكُوهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: يَمْلِكُونَهُ“
اور جب کسی مسلمان کا کوئی مسلمان غلام بھاگا، وہ ان حربیوں کی طرف داخل ہو گیا، انہوں نے اس کو پکڑ لیا، تو وہ حربی اس کے مالک نہیں بنیں گے امام صاحب کے نزدیک، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ کفار اس کے مالک بن جائیں گے،
”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ لِحَقِّ الْمَالِكِ لِقِيَامِ يَدِهِ“
اس لیے کیونکہ اس غلام کی جو عصمت تھی وہ مالک کے حق کی وجہ سے تھی اس کا قبضہ پائے جانے کی وجہ سے۔ یہ غلام آقا کا مال تھا، آقا کا اس پر قبضہ تھا تو آقا کے حق کی وجہ سے یہ ابھی بھی کیا ہے؟ مال معصوم ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ مال معصوم ہے اور جب یہ دار الحرب گیا تو اس کی عصمت ختم ہو گئی اور جب عصمت ختم ہو گئی تو یہ مال مباح بن گیا اور جب مال مباح بنا تو اس پر کفار نے قبضہ کر لیا تو وہ مال مباح کے مالک بن گئے بھئی۔
کہتے ہیں:
”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ لِحَقِّ الْمَالِكِ لِقِيَامِ يَدِهِ، وَقَدْ زَالَتْ“
اس لیے کیونکہ اس غلام کی جو عصمت اور حفاظت تھی وہ آقا کے حق کی وجہ سے تھی اس وجہ سے کہ آقا کا قبضہ موجود تھا، اور تحقیق آقا کا وہ قبضہ ختم ہو گیا کیونکہ غلام بھاگ کر دار الحرب چلا گیا ہے تو لہٰذا وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔
”وَلِهَذَا لَوْ أَخَذُوهُ مِنْ دَارِ الْإِسْلَامِ مَلَكُوهُ“
اور اسی وجہ سے اگر انہوں نے اس بھاگے ہوئے غلام کو دار الاسلام سے پکڑ لیا تو اس کے مالک بن جائیں گے۔ صاحبین فرماتے ہیں: اگر کسی مسلمان یا ذمی کا کوئی غلام بھاگ گیا اور دار الاسلام کے اندر ہی ہے، کبھی چھپ کر ایک علاقے کی طرف چلا جاتا ہے اور کبھی دوسرے علاقے کی طرف، یعنی اپنے آقا سے چھپتا پھر رہا ہے بھئی، توجہ ہے؟ تو یاد رکھو، کفار نے حملہ کیا اور اس بھگوڑے غلام کو انہوں نے دار الاسلام ہی سے پکڑ لیا، تو اس صورت میں بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں: کفار جب اس غلام کو اپنے دار الحرب لے جائیں گے تو اس کے مالک بن جائیں گے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: جیسے کفار دار الاسلام سے کسی بھگوڑے غلام کو پکڑیں تو اس کے مالک بن جاتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی بھاگا ہوا غلام دار الحرب میں بھی چلا جائے تو اس کو بھی پکڑیں گے تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
جبکہ امام صاحب فرق کرتے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں: اگر کفار یہاں آئے اور یہاں سے انہوں نے کسی بھاگے ہوئے غلام کو پکڑ لیا، پھر تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے، لیکن اگر کوئی غلام بھاگ کر دار الحرب چلا گیا اور وہاں انہوں نے پکڑا تو مالک نہیں بنیں گے۔ توجہ ہے؟ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، پھر دیکھیے کہتے ہیں:
”وَلِهَذَا لَوْ أَخَذُوهُ مِنْ دَارِ الْإِسْلَامِ مَلَكُوهُ“
اور اسی وجہ سے اگر کافروں نے اس بھاگے ہوئے غلام کو پکڑ لیا دار الاسلام میں سے ہی، تو وہ بالاتفاق اس کے مالک بن جائیں گے۔ تو غلام اگر دار الحرب بھاگا ہے اور انہوں نے پکڑ لیا ہے تو وہاں بھی اس کے مالک بن جائیں گے۔
”وَلَهُ: أَنَّهُ ظَهَرَتْ يَدُهُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْخُرُوجِ مِنْ دَارِنَا“
اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ غلام کا قبضہ اپنی ذات پر ظاہر ہو گیا ہمارے دار سے نکلنے کی وجہ سے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ غلام جو ہے، یہ مال معصوم تھا، محفوظ تھا۔ اس پر آقا کا قبضہ تھا اور یہ آقا سے بھاگ گیا لیکن دار الاسلام کے اندر ہی چھپتا پھر رہا ہے، تب بھی یوں سمجھو تقدیراً آقا کا قبضہ ابھی بھی ہے کیونکہ وہ دار الاسلام میں ہے، کسی بھی وقت کسی کے قابو آیا تو وہ آقا تک پہنچا دے گا۔ تو کسی آقا کا غلام بھاگ جائے جب تک وہ دار الاسلام میں ہے تو یوں سمجھا جائے گا کہ ابھی بھی آقا کا قبضہ اس پر موجود ہے۔ لیکن جب غلام بھاگ کر دار الحرب چلا گیا تو آقا کا قبضہ ختم ہوا، اور جیسے ہی آقا کا قبضہ ختم ہوا، غلام کا اپنی ذات پر خود قبضہ آ گیا۔ غلام کا اپنی ذات پر خود قبضہ آ گیا، توجہ ہے؟ بھئی دار الحرب میں جاتے ہی فوراً تو وہ نہیں پکڑیں گے، تو لہٰذا جیسے ہی سرحد عبور کی، غلام کا اپنی ذات پر خود قبضہ آ گیا، تو وہ معصوم بنفسہ بن گیا۔ وہ معصوم بنفسہ بن گیا یعنی وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی معصوم بن گیا، وہ مال مباح نہ بنا۔ جب وہ مال مباح نہیں ہے تو کفار اس کو پکڑ بھی لیں گے تو مالک نہیں بنیں گے، کیونکہ وہ تو مال مباح پر قبضہ کریں تب اس کے مالک بنتے ہیں اور یہ غلام تو مال مباح نہیں ہے، یہ تو معصوم بنفسہ ہے یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے معصوم ہے، جیسے آزاد آدمی ہوتا ہے، وہ معصوم بنفسہ ہوتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے معصوم اور محفوظ ہے، اسی طرح غلام جب دار الحرب گیا تو آقا کا قبضہ ختم اور آقا کا قبضہ جیسے ہی ختم ہوا غلام کا اپنی ذات پر خود قبضہ آ گیا تو غلام معصوم بنفسہ بن گیا۔ اور اب کفار نے اس کو پکڑا ہے تو یہ معصوم بنفسہ ہے، یہ مال مباح نہیں ہے، لہٰذا وہ اس کے مالک نہیں بنیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَهُ: أَنَّهُ ظَهَرَتْ يَدُهُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْخُرُوجِ مِنْ دَارِنَا“
امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ غلام کا قبضہ اپنی ذات پر ظاہر ہو گیا ہمارے دار سے نکلنے کی وجہ سے۔
”لِأَنَّ سُقُوطَ اعْتِبَارِهَا لِتَحَقُّقِ يَدِ الْمَوْلَى عَلَيْهِ تَمْكِينًا لَهُ مِنَ الِانْتِفَاعِ“
بھئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ دار الحرب جاتے ہی غلام کا اپنی ذات پر قبضہ آ گیا تو دار الاسلام میں اس کا اپنی ذات پر قبضہ کیوں نہیں آتا تھا؟ کہتے ہیں بھئی دار الاسلام کے اندر آقا کا قبضہ موجود تھا اور جب آقا کا قبضہ موجود ہے تو غلام کا اپنی ذات پر قبضہ ظاہر نہیں ہو رہا تھا، کیونکہ اگر ہم غلام کے اپنی ذات پر قبضے کے ظاہر ہونے کا حکم لگا دیں گے پھر تو آقا اس سے خدمت نہیں لے سکتا، آقا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، تو لہٰذا دار الاسلام میں جب تک تھا تو آقا کا قبضہ اس پر موجود تھا تاکہ آقا اس سے فائدہ اٹھا سکے، اور جب آقا کا قبضہ موجود ہے تو غلام کا اپنی ذات پر قبضہ ظاہر نہیں ہو رہا تھا، لیکن جب یہ دار الحرب گیا تو آقا کا قبضہ ختم، اب غلام کا اپنی ذات پر قبضہ ظاہر ہو گیا۔
کہتے ہیں: ”لِأَنَّ سُقُوطَ اعْتِبَارِهَا“ اعتبارِہا کی ہا ضمیر راجع ہے وہ جو پیچھے آیا ”يَدُهُ عَلَى نَفْسِهِ“ کہ اس غلام کا قبضہ ہے اپنی ذات پر۔ تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ سُقُوطَ اعْتِبَارِهَا لِتَحَقُّقِ يَدِ الْمَوْلَى عَلَيْهِ تَمْكِينًا لَهُ مِنَ الِانْتِفَاعِ“
اس لیے کیونکہ غلام کے اپنے قبضے کے اعتبار کا ساقط ہونا، جب تک غلام آقا کے قبضے میں ہے تو غلام کے اپنی ذات پر قبضے کا اعتبار نہیں تھا، تو کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ غلام کے اپنے قبضے کے اعتبار کا ساقط ہونا اس پر آقا کے قبضے کے ثابت ہونے کی وجہ سے تھا، آقا کو اس سے فائدہ اٹھانے کی قدرت دینے کے لیے، کہ آقا اس سے فائدہ اٹھا سکے، اس لیے غلام کے اپنے قبضے کا اعتبار یہاں ساقط تھا۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے:
”لِأَنَّ سُقُوطَ اعْتِبَارِهَا لِتَحَقُّقِ يَدِ الْمَوْلَى عَلَيْهِ تَمْكِينًا لَهُ مِنَ الِانْتِفَاعِ“
اس لیے کیونکہ غلام کے اپنے قبضے کے اعتبار کا ساقط ہونا کہ اس کا اپنا قبضہ معتبر نہیں ہے، تاکہ آقا کا قبضہ اس پر ثابت ہو جائے آقا کو اس غلام سے فائدہ اٹھانے پر قدرت دینے کے لیے،
”وَقَدْ زَالَتْ يَدُ الْمَوْلَى فَظَهَرَتْ يَدُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَصَارَ مَعْصُومًا بِنَفْسِهِ فَلَمْ يَبْقَ مَحَلًّا لِلْمِلْكِ“
اور تحقیق آقا کا قبضہ تو ختم ہو گیا کیونکہ غلام دار الحرب چلا گیا، تو غلام کا اپنی ذات پر قبضہ ظاہر ہو گیا اور وہ غلام اپنی ذات کے اعتبار سے معصوم ہو گیا، تو لہٰذا وہ محل ملک نہ رہا، وہ ملکیت کا محل نہ رہا جیسے آزاد مسلمان وہ ملکیت کا محل نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں:
”فَلَمْ يَبْقَ مَحَلًّا لِلْمِلْكِ بِخِلَافِ الْمُتَرَدِّدِ“
تو یہ غلام جو ہے ملکیت کا محل ہو کر باقی نہ رہا، بخلاف اس غلام کے جو متردد ہے، تردد کا ایک معنی ہے آنا جانا، کسی کے پاس آتے جاتے رہنا اس کو کیا کہتے ہیں؟ تردد۔ تو یہاں بھی وہ غلام جو دار الاسلام کے اندر ہی چھپتا پھر رہا ہے اس کو کیا کہا؟ عبد متردد۔ یعنی کبھی چھپ کر ایک علاقے میں چلا جاتا ہے، کبھی چھپ کر دوسرے علاقے میں کہ کہیں مجھے پکڑ کر آقا تک نہ لے جائیں۔ تو صاحبین فرما رہے تھے: دار الاسلام کے اندر جو غلام بھاگا ہوا ہے اور متردد ہے، جیسے کفار اس کو پکڑ لیتے ہیں تو اس کے مالک بن جاتے ہیں، تو جو غلام بھاگ کر ان کی طرف چلا گیا ہے اس کو بھی پکڑیں گے تو اس کے بھی مالک بن جائیں گے۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے صاحب ہدایہ، کہ عبد متردد کو جب کفار پکڑتے تھے دار الاسلام آ کر تو پھر اس صورت میں کفار اس کے مالک بن جاتے تھے جب اس کو دار الحرب لے جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ وہ عبد متردد جب تک دار الاسلام میں ہے تو آقا کا اس پر تقدیراً قبضہ ہے، جب آقا کا تقدیراً قبضہ ہے تو غلام کا اپنی ذات پر قبضہ ابھی بھی ظاہر نہیں۔ جب اپنی ذات پر ابھی بھی قبضہ ظاہر نہیں ہے تو اب جب حربیوں نے اس کو پکڑ لیا اور لے گئے دار الحرب میں تو اب یہ معصوم بنفسہ نہیں ہے، یہ مال مباح ہے تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْمُتَرَدِّدِ لِأَنَّ يَدَ الْمَوْلَى بَاقِيَةٌ لِقِيَامِ يَدِ أَهْلِ الدَّارِ فَمَنَعَ ظُهُورَ يَدِهِ“
بخلاف اس غلام کے جو متردد ہے یعنی دار الاسلام میں ہی بھاگتا پھر رہا ہے، اس لیے کیونکہ اس پر آقا کا قبضہ ابھی بھی باقی ہے یعنی تقدیراً ابھی بھی اس پر آقا کا قبضہ ہے، بوجہ دار الاسلام والوں کے قبضے کے پائے جانے کے، دار الاسلام میں جو کچھ ہے وہ دار الاسلام والوں کے قبضے میں ہے بھئی، تو دار الاسلام والوں کے قبضے نے روک دیا غلام کے اپنے قبضے کے ظاہر ہونے کو۔
”وَإِذَا لَمْ يَثْبُتِ الْمِلْكُ لَهُمْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
تو یہاں تک مسئلہ یہ ہوا کہ اگر کوئی غلام بھاگ کر دار الحرب چلا جائے تو صاحبین کے نزدیک دار الحرب والے اس کے مالک بن گئے ہیں، لیکن امام صاحب کے نزدیک دار الحرب والے اس کے مالک نہیں بنے۔ جب امام صاحب کے نزدیک دار الحرب والے اس کے مالک نہیں بنے تو یہ غلام جس شکل میں بھی دار الاسلام واپس آئے گا تو آقا اس کو مفت میں لے لے گا، کیونکہ آقا کی ملکیت ابھی تک اس پر سے ختم نہیں ہوئی، کفار اس کے مالک ہی نہیں بنے۔ لہٰذا جس صورت میں بھی یہ غلام واپس آئے، چاہے بعد میں مجاہدین گئے اور پھر اس غلام کو مال غنیمت کے اندر لے آئے، یا کوئی تاجر وہاں گیا اور وہ اس غلام کو خرید کر لے آیا، یا کوئی شخص مسلمانوں میں سے وہاں گیا تھا اور کفار نے اس کو یہ غلام ہبہ کر دیا تحفے کے طور پر دے دیا، جس صورت میں بھی یہ غلام واپس آ جائے، چاہے یہ موہوب ہو یعنی تحفہ ہو، یا چاہے یہ مشترا ہو یعنی خرید کر لایا گیا ہے، یا چاہے یہ مال غنیمت کے طور پر لایا گیا ہے، تمام صورتوں میں کفار اس کے مالک ہی نہیں بنے تھے، وہی پرانا مالک ابھی بھی اس کا مالک ہے تو وہ ان سب سے بغیر عوض کے ہی لے لے گا۔ تاجر سے بھی بغیر عوض کے لے لے گا اگرچہ تاجر پیسے دے کر لایا ہے، جس کو تحفہ ملا ہے اس سے بھی بغیر پیسوں کے لے لے گا مالک، اور مال غنیمت کے اندر اگر یہ غلام آیا ہے تو تقسیم سے پہلے بغیر پیسوں کے ہی اس غلام کو لے لے گا، اور اگر مال غنیمت کی تقسیم ہو چکی ہے، یہ غلام کسی ایک غازی کے حصے میں آیا ہے پھر بھی آقا اس کو مفت میں لے لے گا، اور بیت المال سے پھر اس غازی کو اس غلام کا عوض دے دیا جائے گا۔ یہ غلام مال غنیمت میں آیا ہو، اگر تقسیم سے پہلے آقا کو پتہ چل گیا تو آقا اس کو مفت میں لے لے گا، اور اگر تقسیم کے بعد آقا کو پتہ چلا تب بھی آقا اس غلام کو لے لے گا اور اس کا عوض آئے گا لیکن وہ عوض وہ آقا نہیں ادا کرے گا بلکہ بیت المال سے وہ عوض ادا کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا لَمْ يَثْبُتِ الْمِلْكُ لَهُمْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَأْخُذُهُ الْمَالِكُ الْقَدِيمُ بِغَيْرِ شَيْءٍ مَوْهُوبًا كَانَ أَوْ مُشْتَرًى أَوْ مَغْنُومًا قَبْلَ الْقِسْمَةِ، وَبَعْدَ الْقِسْمَةِ يُؤَدَّى عِوَضُهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ“
اور جب ان کفار کے لیے ملکیت ثابت نہیں ہوئی امام صاحب کے نزدیک، تو وہ پرانا مالک اس غلام کو لے لے گا بغیر کسی چیز کے بدلے میں، چاہے وہ غلام ہبہ کیا گیا ہے یا اس کو خریدا گیا ہے یا اس کو غنیمت کے طور پر حاصل کیا گیا ہے تقسیم سے پہلے، اور تقسیم کے بعد اس غلام کا عوض بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ بھئی یہ بیت المال کا جو مال ہے یہ مسلمانوں کا مال ہے۔ اب آقا کو اپنا غلام مل گیا ہے تو آقا ابھی بھی اس کا مالک ہے، تو آقا اس کو لے لے گا لیکن اس غازی کا نقصان ہو چکا ہے جس کے حصے میں یہ غلام آیا تھا، تو اب اس کی تلافی کس طرح کی جائے گی کہ بیت المال سے اس غازی کو عوض دے دیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَبَعْدَ الْقِسْمَةِ يُؤَدَّى عِوَضُهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ لِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ إِعَادَةُ الْقِسْمَةِ لِتَفَرُّقِ الْغَانِمِينَ وَتَعَذُّرِ اجْتِمَاعِهِمْ“
اور تقسیم کے بعد اس غلام کا عوض ادا کر دیا جائے گا بیت المال سے، اس لیے کیونکہ تقسیم کو لوٹانا ممکن نہیں ہے، مال ایک دفعہ تقسیم کر دیا گیا ہے، اب اس تقسیم کو واپس کیا جائے تو وہ ممکن نہیں کیونکہ سارے مجاہدین اپنے اپنے علاقے میں جا چکے ہیں اور اب ان ساروں کو پھر اکٹھا کرنا اور ان سے مال غنیمت لینا ممکن نہیں ہے بھئی، غنیمت والوں کے متفرق ہو جانے کی وجہ سے کہ غنیمت والے بکھر گئے ہیں اپنے اپنے علاقے میں چلے گئے ہیں، اور اس وجہ سے کہ اب ان غنیمت والوں کا جمع ہونا وہ متعذر ہے، ممکن نہیں ہے یا مشکل ہے۔ تو لہٰذا بیت المال میں سے اس کا عوض ادا کر دیا جائے گا۔
”وَلَيْسَ لَهُ عَلَى الْمَالِكِ جُعْلُ الْآبِقِ“
جُعل بھئی، جعل کہتے ہیں اجرت اور مزدوری۔ یاد رکھو اگر کسی کا کوئی غلام بھاگ جائے اور کوئی آدمی اس کو پکڑ کر لاتا ہے تو اس کو اس کے لانے کا خرچہ دیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ اس کو کہتے ہیں جُعل الآبق بھئی، بھگوڑے غلام کی مزدوری یا اس کا خرچہ جو ہے۔ تو جو بھی کسی بھگوڑے غلام کو مالک تک پہنچاتا ہے اس کو اس کا خرچہ دیا جائے گا۔ تو یہ جو غازی ہے جس سے آقا نے اپنا غلام لے لیا ہے اور جس کو بیت المال سے عوض مل چکا، کیا یہ غازی آقا سے جعل آبق لے گا؟ کیا اس غلام کے واپس کرنے کی اجرت اور مزدوری لے گا؟ کہتے ہیں: نہیں، یہ غازی جو ہے آقا سے بھگوڑے غلام کی اجرت نہیں لے سکتا۔ بھئی کیوں نہیں لے سکتا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ اس نے جب غلام پر قبضہ کیا تھا تو یہ اس نے اپنا مال سمجھ کر قبضہ کیا تھا، جبکہ جو شخص غلام کو واپس لاتا ہے وہ غلام کو اپنا مال سمجھ کر اس پر قبضہ نہیں کرتا، وہ ابتدا سے ہی غلام پر قبضہ کرتا ہے کہ میں اس کو لے جا کر مالک تک پہنچاؤں گا۔ توجہ ہے؟ تو بھگوڑے غلام کا خرچہ اس آدمی کو دیا جاتا ہے جس کا ابتدا سے ہی یہ ارادہ ہوتا ہے کہ میں غلام کو مالک تک پہنچاؤں گا، اور یہ جو غازی نے اس غلام پر قبضہ کیا تھا اس نے تو اس نیت سے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا، اس نے تو اپنی ملکیت سمجھ کر اس پر قبضہ کیا تھا بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَيْسَ لَهُ عَلَى الْمَالِكِ جُعْلُ الْآبِقِ لِأَنَّهُ عَامِلٌ لِنَفْسِهِ إِذْ فِي زَعْمِهِ أَنَّهُ مِلْكُهُ“
اور اس غازی کے لیے اس غلام کے آقا پر نہیں ہے بھگوڑے غلام کی مزدوری، اس لیے کیونکہ یہ غازی تو اپنے لیے عمل کر رہا ہے، اس لیے کیونکہ اس کے اپنے گمان میں تو یہ اس کی ملکیت تھی۔
آگے دیکھیے بھئی:
”وَإِنْ نَدَّ بَعِيرٌ إِلَيْهِمْ فَأَخَذُوهُ مَلَكُوهُ“
ندّ یا نَدَّ يَنِدُّ کے معنی ہیں اونٹ وغیرہ کا بدک جانا اور بھاگ جانا۔ تو کہتے ہیں: اور اگر ان کفار کی طرف کوئی اونٹ بھاگ گیا، دار الاسلام والوں کا کوئی اونٹ بھاگ کر ادھر چلا گیا، انہوں نے اس کو پکڑ لیا، تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے،
”لِتَحَقُّقِ الِاسْتِيلَاءِ إِذْ لَا يَدَ لِلْعَجْمَاءِ لِتَظْهَرَ عِنْدَ الْخُرُوجِ مِنْ دَارِنَا“
استیلاء پائے جانے کی وجہ سے، عجماء بھئی، عجماء کہتے ہیں چوپایوں کو۔ عجماء چوپایوں کو کہتے ہیں اور یہ اعجم سے ہے، اعجم کا معنی ہے گونگا گونگا، تو یہ چوپائے بھی بے زبان جانور ہیں اس لیے ان کو عجماء کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”إِذْ لَا يَدَ لِلْعَجْمَاءِ“ بھئی دیکھیے، غلام جب بھاگ کر دار الحرب جاتا تھا تو اس کا اپنی ذات پر قبضہ آ جاتا تھا، لیکن چوپایوں کا تو کوئی قبضہ نہیں ہے کہ وہ دار الحرب جائیں تو وہ قبضہ ظاہر ہو جائے اور وہ معصوم بنفسہ بن جائیں، چوپایوں کا تو ایسا قبضہ نہیں، لہٰذا چوپایوں کے وہ مالک بنیں گے۔
کہتے ہیں:
”إِذْ لَا يَدَ لِلْعَجْمَاءِ لِتَظْهَرَ عِنْدَ الْخُرُوجِ مِنْ دَارِنَا بِخِلَافِ الْعَبْدِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“
اس لیے کیونکہ چوپایوں کا کوئی قبضہ نہیں ہے تاکہ وہ ظاہر ہو جائے ہمارے دار سے نکلتے وقت، بخلاف غلام کے، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، کہ اس غلام کا اپنی ذات پر قبضہ آ جائے گا۔
”وَإِنِ اشْتَرَاهُ رَجُلٌ وَأَدْخَلَهُ دَارَ الْإِسْلَامِ“
اب صورت یہ ہے کہ اونٹ بھاگ کر دار الحرب چلا گیا، کفار نے اس کو پکڑ لیا، پھر کوئی تاجر اس اونٹ کو خرید کر لے آیا، تو کیا پرانا مالک اس کو لے سکتا ہے؟ کہتے ہیں: ہاں پرانا مالک لے سکتا ہے لیکن اس کو ثمن ادا کرنے پڑیں گے، جیسے پیچھے بیان ہو چکا۔
کہتے ہیں:
”وَإِنِ اشْتَرَاهُ رَجُلٌ وَأَدْخَلَهُ دَارَ الْإِسْلَامِ فَصَاحِبُهُ يَأْخُذُهُ بِالثَّمَنِ إِنْ شَاءَ لِمَا بَيَّنَّا“
اور اگر کسی آدمی نے اس اونٹ کو خرید لیا اور اس کو دار الاسلام میں داخل کر دیا، تو اس اونٹ کا مالک جو ہے وہ اس اونٹ کو ثمن کے بدلے لے سکتا ہے اگر وہ چاہے، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، کہ اگر مفت میں لے گا پھر تو خریدار کا نقصان ہو گا بھئی، تو لہٰذا قیمت دے کر لے سکتا ہے۔
”فَإِنْ أَبَقَ عَبْدٌ إِلَيْهِمْ وَذَهَبَ مَعَهُ بِفَرَسٍ وَمَتَاعٍ“
صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک غلام یہاں سے بھاگ کر دار الحرب چلا گیا ہے اور اس کے پاس گھوڑا اور سامان وغیرہ بھی ہیں، وہ بھی وہ ساتھ لے گیا ہے، اور پھر کوئی آدمی جب گیا اور وہ اس غلام کو اور اس کے سارے سامان کو خرید کر لے آیا، تو امام صاحب کے نزدیک یہ جو کفار ہیں یہ اس بھگوڑے غلام کے مالک نہیں بنے، البتہ اس سامان کے مالک بن گئے تھے۔ لہٰذا یہ پرانا آقا اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو اس غلام کو مفت میں لے لے گا اگرچہ تاجر پیسے دے کر لایا ہے، لیکن ابھی بھی وہی پرانا آقا اس کا مالک ہے تو وہ پرانا آقا اس غلام کو مفت میں لے لے گا۔ البتہ گھوڑا اور سامان وغیرہ جو ہیں وہ تو کفار ان کے مالک بن گئے تھے اور وہ یہ تاجر ثمن ادا کر کے لایا ہے تو ان کے ثمن ادا کرنے پڑیں گے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ کفار جو ہیں اس غلام کے بھی مالک بن گئے تھے، لہٰذا اگر آقا ان چیزوں کو لینا چاہتا ہے تو اس غلام کی، اس گھوڑے کی اور سامان سب کے ثمن ادا کرنے پڑیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”فَإِنْ أَبَقَ عَبْدٌ إِلَيْهِمْ وَذَهَبَ مَعَهُ بِفَرَسٍ وَمَتَاعٍ فَأَخَذَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ كُلَّهُ، وَاشْتَرَى رَجُلٌ ذَلِكَ كُلَّهُ وَأَخْرَجَهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ، فَإِنَّ الْمَوْلَى يَأْخُذُ الْعَبْدَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، وَالْفَرَسَ وَالْمَتَاعَ بِالثَّمَنِ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اگر ایک غلام ان کفار کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور وہ اپنے ساتھ گھوڑے اور سامان کو بھی لے گیا، تو مشرکین نے ان سب کو پکڑ لیا، اور ایک آدمی نے وہ سارا کچھ خرید لیا اور اس سارے کو وہ دار الاسلام نکال لایا، تو وہ جو پرانا آقا ہے وہ اس غلام کو بغیر کسی چیز کے بدلے لے سکتا ہے، اور گھوڑے اور سامان کو ثمن کے بدلے لے سکتا ہے، اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔
”وَقَالَا: يَأْخُذُ الْعَبْدَ وَمَا مَعَهُ بِالثَّمَنِ إِنْ شَاءَ اعْتِبَارًا لِحَالَةِ الِاجْتِمَاعِ بِحَالَةِ الِانْفِرَادِ“
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ آقا اس غلام کو اور جو کچھ اس غلام کے ساتھ ہے اس کو ثمن کے بدلے لے سکتا ہے اگر وہ چاہے، قیاس کرتے ہوئے اجتماع کی حالت کو انفراد کی حالت پر۔ بھئی جیسے اکیلا غلام تھا تو امام صاحب کے نزدیک آقا اس کو مفت میں لے سکتا ہے، تو اسی طرح اگر سامان کے ساتھ بھاگا ہے وہ غلام پھر بھی آقا اس غلام کو مفت میں لے سکتا ہے، اور صاحبین کے نزدیک اکیلا غلام جو ہے وہ بھی اگر بھاگے تو پرانے آقا کو ثمن ادا کر کے لینا پڑے گا، تو سامان کے ساتھ اگر وہ بھاگا ہے تو اس صورت میں بھی اس کے ثمن ادا کر کے لینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: ”اعْتِبَارًا لِحَالَةِ الِاجْتِمَاعِ“ قیاس کرتے ہوئے اس غلام کے اکٹھے ہونے کی حالت کو یہ جو سامان کے ساتھ اکٹھا تھا، ”بِحَالَةِ الِانْفِرَادِ“ اس کے اکیلے ہونے کی حالت پر، اس کے اجتماع کی حالت کو اس کے اکیلے ہونے کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے۔
”وَقَدْ بَيَّنَّا الْحُكْمَ فِي كُلِّ فَرْدٍ“
اور تحقیق ہم نے ہر فرد کے اندر حکم بیان کر دیا، یعنی ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں بھئی، کہ سامان اگر کوئی خرید کر لاتا ہے تو وہ ثمن کے بدلے لیا جائے گا اور غلام اگر لے کر آتا ہے تو اس میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔