آگے سبق دیکھیے بھئی:
”وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِلْإِمَامِ حَمُولَةٌ تُحْمَلُ عَلَيْهَا الْغَنَائِمُ قَسَمَهَا بَيْنَ الْغَانِمِينَ قِسْمَةَ إِيدَاعٍ لِيَحْمِلُوهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ يَرْتَجِعُهَا مِنْهُمْ فَيَقْسِمُهَا“
بھئی غنیمتوں اور ان کی تقسیم کا باب چل رہا ہے بھئی۔ اور شروع میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ غنیمتیں دو قسم پر ہیں بھئی: کچھ منقولی ہیں اور کچھ غیر منقولی بھئی۔ اور غیر منقولی کے اندر تو کفار پر احسان کرتے ہوئے وہ زمینیں انہی کے پاس چھوڑنا جائز ہے، لیکن منقولی غنیمت کے اندر ان پر احسان کرتے ہوئے وہ مال و اسباب انہی کے پاس چھوڑنا جائز نہیں ہے بھئی۔ اور قیدیوں کے بارے میں امام کو اختیار ہے: وہ چاہے تو انہیں قتل کر دے، چاہے تو انہیں غلام بنا لے، اور چاہے تو انہیں اسی طرح آزاد چھوڑ دے ذمی بنا کر، جن سے سالانہ جزیہ وصول کیا جائے بھئی۔ البتہ مشرکینِ عرب اور مرتدین کا یہ حکم نہیں ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے بدلے کفار کے قیدیوں کو بھی آزاد کیا جا سکتا ہے۔ البتہ کفار کے قیدیوں کو ویسے ہی احسان کرتے ہوئے بغیر کسی عوض کے چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر امام جو ہے وہ جہاد کے بعد واپس دار الاسلام آنا چاہتا ہے اور اس کے پاس بہت سارے مویشی ہیں جن کو وہ دار الاسلام منتقل کرنے پر قادر نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں ان مویشیوں کو ذبح کر کے جلا دیا جائے گا تاکہ یہ کفار کے کام نہ آئیں بھئی۔ اور اگر ایسا اسلحہ وغیرہ ہے کہ اسے بھی امام دار الاسلام منتقل نہیں کر سکتا تو اسے بھی اگر جلایا جا سکتا ہے تو جلا دیا جائے گا، اور اگر جلایا نہیں جا سکتا تو پھر اس صورت میں اس کو کسی ایسی جگہ امام دفن کروا دے گا کہ جس پر کفار مطلع نہ ہوں بھئی۔
اس کے بعد پھر گزشتہ سبق کے اندر ہم نے اس باب کی دوسری بحث شروع کی تھی بھئی کہ غنیمت کو دار الحرب میں تقسیم کیا جائے گا یا دار الاسلام میں تقسیم کیا جائے گا؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غنیمت کو دار الحرب ہی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک غنیمت کو دار الحرب میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو دار الاسلام لائیں گے اور پھر یہاں اس کو تقسیم کیا جائے گا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بھی ذکر فرمائی تھی کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مالِ غنیمت ہے، مجاہدین اور غانمین جو ہیں اس کے مالک بن چکے ہیں اس لیے کہ ان کے، ان کا اس پر غلبہ آ گیا ہے، اور مالِ مباح پر جس کا غلبہ آ جائے اور قبضہ آ جائے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے جیسے شکار ہے۔ تمام مسلمانوں کے لیے شکار جائز ہے اور جو شخص شکار کرتا ہے وہ اس شکار کا مالک بن جاتا ہے کیونکہ مالِ مباح پر جب انسان کو غلبہ مل جائے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ مجاہدین اور غانمین جو ہیں، یہ دار الحرب کے اندر اس مالِ غنیمت کے مالک نہیں بنے، صرف ان کا حق اس کے اندر آیا ہے۔ جب تک مالِ غنیمت دار الحرب میں ہے تو یہ غانمین کا صرف حق اس مالِ غنیمت کے اندر آیا ہے، یہ مالک نہیں بنے۔ مالک تب بنیں گے جب وہ اس مال کو دار الاسلام لے آئیں کیونکہ دار الاسلام لائیں گے تو یہ مال محفوظ ہو جائے گا تو اب مالک بن جائیں گے بھئی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کو ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ جب تک مجاہدین وہاں پر ہیں ان کا پورا غلبہ ہی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ غلبے کے اندر یدِ حافظہ کے ساتھ ساتھ یدِ ناقلہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یدِ حافظہ یعنی حفاظت والا قبضہ، اور یدِ ناقلہ یعنی منتقل کرنے والا قبضہ کہ انسان اس چیز میں ہر طرح کے تصرف کا مالک ہو جائے۔ اور جب مجاہدین نے مالِ غنیمت پر قبضہ کر لیا ہے دار الحرب کے اندر تو ان کا قبضہ تو آ گیا ان چیزوں پر لیکن یہ حفاظت والا قبضہ ہے، تصرفات والا قبضہ نہیں ہے، اس لیے کیونکہ ابھی بھی مال محفوظ نہیں ہے، دشمن پھر حملہ کر کے اس مال کو ہم سے واپس چھین سکتا ہے، لہٰذا یہ ابھی مال محفوظ نہیں۔ جب ہم اس مال کو دار الاسلام منتقل کر لیں گے تو پھر حفاظت والا قبضہ بھی آ جائے گا اور تصرفات والا قبضہ بھی آ جائے گا، جبکہ اس سے پہلے تصرفات والا قبضہ موجود نہیں ہے کیونکہ دشمن ہم سے یہ مال واپس چھین سکتا ہے بھئی۔
پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہمارے فقہاء کا آپس میں اختلاف ہے اس بات پر کہ یہ جو ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے یہ جواز اور عدمِ جواز والا اختلاف ہے یا کراہت اور عدمِ کراہت والا اختلاف ہے؟ تو بعض فقہاء ہمارے اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ جو ہمارا اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ سے، یہ جواز اور عدمِ جواز والا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک دار الحرب کے اندر غنیمت کو تقسیم کرنا جائز ہی نہیں ہے، جب جائز ہی نہیں ہے تو پھر اس پر اس کے احکام بھی مرتب نہیں ہوں گے۔ معلوم ہوا اگر امام وہاں تقسیم کر دے گا غازیوں کے اندر تو غازی اس مال کے مالک نہیں بنیں گے، ان کے لیے اس مال سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہوگا کیونکہ مال سے نفع اٹھانا یہ ملکیت کا حکم ہے۔ یہ ملکیت کا حکم ہے، کوئی چیز آپ کی مملوکہ ہو تو پھر آپ کے لیے اس سے نفع اٹھانا جائز ہو جاتا ہے۔ تو لہٰذا ملکیت آئے گی تو ملکیت والا حکم بھی آ جائے گا کہ نفع اٹھانا جائز ہو جائے گا، لیکن دار الحرب میں تقسیم کرنا جائز ہی نہیں تو وہاں پر ملکیت بھی نہیں آئے گی، اور جب ملکیت نہیں آئے گی تو غانمین کے لیے اس مالِ غنیمت سے نفع اٹھانا بھی جائز نہیں ہوگا بھئی۔
جبکہ ہمارے بعض فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ جو ہمارا امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف ہے یہ کراہت اور عدمِ کراہت کا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دار الحرب میں مالِ غنیمت تقسیم کیا جائے تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے اور ہمارے نزدیک کراہت ہے۔ البتہ پھر یہ جو کراہت ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کراہتِ تنزیہی ہے جو حلال کے قریب ہے۔ کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ افضل یہ ہے کہ دار الاسلام کے اندر لا کر غنیمت کو تقسیم کیا جائے۔ معلوم ہوا دار الحرب میں بھی تقسیم کرنا جائز ہے، البتہ یہ افضل نہیں ہے، بہتر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس میں کراہتِ تحریمی ہے بھئی۔ اور کراہت کیوں ہے؟ اس کی دلیل بھی ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے۔ کراہت کی دلیل یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ دار الحرب کے اندر مالِ غنیمت تقسیم کرنا جائز ہے اور شیخین رحمہما اللہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ دار الحرب کے اندر مال تقسیم کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ تو ہماری دلیل ہوئی محرم، وہ اس تقسیم کو حرام قرار دے رہی ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے وہ ہے مبیح، وہ اس تقسیم کو مباح اور جائز قرار دے رہی ہے۔ اور جب بھی ایک چیز کے بارے میں دو دلیلیں جمع ہو جائیں، ایک دلیل ہو اباحت والی اور ایک دلیل ہو حرمت والی، تو یاد رکھو اس صورت میں حرمت والی دلیل کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے۔
مثلاً ایک چیز ہے اور اس کے بارے میں دونوں قسم کی دلیلیں موجود ہیں، تو اگر آپ محرم دلیل کو ترجیح دے دیتے ہیں اور اس چیز کو حرام قرار دے دیتے ہیں، لیکن حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ حقیقت میں یہ چیز حلال ہے یا حرام ہے۔ ہمارے پاس دلیلیں تو دونوں موجود ہیں لیکن یہ چیز حقیقت کے اعتبار سے حلال ہے یا حرام یہ تو اللہ ہی جانتے ہیں۔ تو مثلاً ہم نے حرمت والی دلیل کو ترجیح دے دی اور اس کو حرام قرار دے دیا، لیکن ہو سکتا ہے حقیقت کے اعتبار سے یہ چیز حلال ہو تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ ایک حلال چیز کے استعمال سے ہم رک گئے اور کوئی نقصان نہیں، لیکن اگر ہم اس چیز کو حلال قرار دے دیں اور حقیقت کے اندر یہ چیز حرام ہو تو پھر اس صورت کے اندر ایک حرام چیز کا استعمال کرنا لازم آئے گا۔ تو لہٰذا اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ جب حرمت والی اور اباحت والی دلیلیں جمع ہو جائیں تو حرمت والی دلیل کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ اس کے اندر احتیاط زیادہ ہے۔ تو یہاں پر بھی دار الحرب کے اندر مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا مسئلہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل اباحت ثابت کر رہی ہے اور ہماری دلیل حرمت ثابت کر رہی ہے، تو حرمت والی دلیل کو ترجیح ہوگی۔ لیکن ہمارے نزدیک بھی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے امام دار الحرب میں ہی مالِ غنیمت تقسیم کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک بھی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے امام مالِ غنیمت کو دار الحرب ہی میں تقسیم کر سکتا ہے کیونکہ یہاں جب حرمت والی دلیل موجود ہے تو ساتھ اباحت والی دلیل بھی موجود ہے۔ تو حرمت والی دلیل کو ترجیح ہوگی لیکن بہرحال اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ دوسری طرف اباحت والی دلیل بھی موجود ہے۔ تو اس حرمت والی دلیل سے حرمت تو ثابت نہ ہوئی لیکن کم از کم کراہت تو ضرور ثابت ہو گئی۔ معلوم ہوا دار الحرب کے اندر مالِ غنیمت کو تقسیم کرنا یہ مکروہ ہے بھئی۔ یہ مکروہ ہے یعنی مکروہِ تحریمی ہے بھئی۔
اور اس کے بعد اس باب کی تیسری بحث ہم نے شروع کی تھی۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے تھے کہ کون کون مالِ غنیمت کا مستحق ہوگا۔ مالِ غنیمت میں سے کس کس کو حصہ دیا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ لشکر کے اندر وہ لوگ جو لڑنے کے لیے شامل ہیں اور اسی طرح جو مدد کے لیے شامل ہیں، وہ سارے برابر ہیں مالِ غنیمت کا مستحق ہونے میں۔ اس لیے کیونکہ ان سب کے اندر مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب پایا جا رہا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا جو سبب ہے وہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان جہاد کی نیت سے دار الاسلام کی سرحد سے گزر جائے دار الحرب کی طرف۔ تو یہ جو دار الاسلام کی سرحد کو اس نے عبور کیا ہے جہاد کی نیت سے یہ سبب ہے مالِ غنیمت کے مستحق ہونے کا۔ اور چاہے لڑنے کے لیے کوئی گیا ہے، چاہے مجاہدین کی مدد کے لیے کوئی گیا ہے، دونوں کے اندر یہ سبب پایا جا رہا ہے، یہ دونوں جہاد کی نیت سے سرحد عبور کر رہے ہیں لہٰذا یہ دونوں مالِ غنیمت کے مستحق ہوں گے۔ حتیٰ کہ ایک شخص نے اس نیت کے ساتھ سرحد عبور کر لی لیکن وہاں جا کر لڑائی سے پہلے وہ بیمار ہو گیا اور لڑائی کے اندر شرکت نہ کر سکا، پھر بھی اس کو مالِ غنیمت میں سے حصہ دیا جائے گا اس لیے کیونکہ اس کے اندر مالِ غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب پایا جا رہا ہے۔ اور وہ کیا سبب ہے؟ کہ وہ دار الاسلام کی سرحد عبور کر کے دار الحرب میں جہاد کی نیت سے داخل ہوا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا جو سبب ہے وہ لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے۔ جو لڑائی میں حاضر ہے وہ مالِ غنیمت کا مستحق ہے، جو لڑائی میں حاضر نہیں وہ مالِ غنیمت کا مستحق بھی نہیں ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ لڑائی میں حاضر ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ جو جا کر لڑ رہا ہے، بلکہ جب لشکر لڑائی کے لیے پہنچ گیا تو کچھ لوگ آگے لڑ رہے ہیں اور کچھ لوگ پیچھے لشکر کے اندر مدد کے لیے موجود ہیں تو یہ سارے دیکھو لڑائی کے وقت موجود ہیں لہٰذا یہ سب مالِ غنیمت کے مستحق ہوں گے۔ تو ہمارے نزدیک مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ مجاوزت ہے، یعنی اسلامی سرحد کو عبور کرنا جہاد کی نیت سے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مالِ غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ لڑائی میں حاضر ہونا ہے بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کچھ لوگ لشکر کے ساتھ تجارت کی نیت سے گئے ہیں، یعنی ان کا لڑائی کا ارادہ نہیں ہے، تو یاد رکھو ان لوگوں کا مالِ غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ ہاں، اگر یہ جا کر لڑائی کریں گے پھر اس صورت میں مالِ غنیمت کے مستحق ہو جائیں گے اس لیے کیونکہ سببِ ظاہری جو ہے وہ تو ان کے حق میں نہیں پایا گیا۔ سببِ ظاہری کیا تھا؟ کہ یہ دار الاسلام کی سرحد عبور کر کے دار الحرب آئیں جہاد کی نیت سے، اور یہ تو جہاد کی نیت سے انہوں نے یہ سرحد عبور نہیں کی، انہوں نے تو تجارت کی نیت سے یہ سرحد عبور کی ہے، تو مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا ظاہری سبب تو ان کے حق میں نہیں پایا جا رہا تو اب سببِ حقیقی یعنی لڑائی میں حاضر ہونے کو دیکھا جائے گا۔ تو اگر یہ لڑائی میں حاضر ہوتے ہیں، لڑائی کرتے ہیں تو پھر یہ بھی مالِ غنیمت کے مستحق ہو جائیں گے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ اس تاجر کی بات ہو رہی ہے جو صرف تجارت کی نیت سے لشکر کے ساتھ گیا ہے، اور اگر ایک شخص ابتدا ہی سے جہاد کی نیت بھی ہے اور ساتھ تجارت کا بھی اس نے ارادہ کیا ہے کہ ساتھ ساتھ میں تجارت بھی کرتا رہوں گا تو اس کے اندر تو مالِ غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب پایا جا رہا ہے، لہٰذا یہ مالِ غنیمت کا مستحق ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِلْإِمَامِ حَمُولَةٌ تُحْمَلُ عَلَيْهَا الْغَنَائِمُ قَسَمَهَا بَيْنَ الْغَانِمِينَ قِسْمَةَ إِيدَاعٍ لِيَحْمِلُوهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ يَرْتَجِعُهَا مِنْهُمْ فَيَقْسِمُهَا“
بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ جہاد کے بعد اب امام واپس دار الاسلام جانا چاہتا ہے، لیکن مالِ غنیمت بہت زیادہ ہے اور امام کے پاس باربرداری کے جانور نہیں ہیں کہ جن پر اس سامان کو لاد کر دار الاسلام پہنچایا جا سکے۔ تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر امام اس مالِ غنیمت کو مجاہدین اور غازیوں کے درمیان تقسیم کر دے گا، اور یہ تقسیم بطورِ امانت کے ہوگی یعنی اس سامان کو لے کر وہ دار الاسلام پہنچیں گے اور پھر وہاں ان سے امام یہ مالِ غنیمت واپس جمع کر لے گا اور پھر ان سارے غازیوں میں اس مال کو تقسیم کر دے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِلْإِمَامِ حَمُولَةٌ“ حمولہ کہتے ہیں باربرداری کا جانور بھئی جس پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ ”وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِلْإِمَامِ حَمُولَةٌ“ اور اگر امام کے پاس ایسا باربرداری کا جانور نہ ہو ”تُحْمَلُ عَلَيْهَا الْغَنَائِمُ“ کہ جن پر غنیمتوں کو لادا جا سکے، ”قَسَمَهَا بَيْنَ الْغَانِمِينَ قِسْمَةَ إِيدَاعٍ“ تو امام جو ہے وہ مال غانمین کے درمیان تقسیم کر دے گا بطورِ امانت کے، ان میں یہ تقسیم کر دے گا امانت کے طور پر، ”لِيَحْمِلُوهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ تاکہ وہ اس کو لے جائیں دار الاسلام، ”ثُمَّ يَرْتَجِعُهَا مِنْهُمْ“ پھر امام ان سے وہاں واپس لے لے گا۔ ارْتَجَعَ يَرْتَجِعُ کے معنی ہیں واپس لوٹانا۔ ”ثُمَّ يَرْتَجِعُهَا مِنْهُمْ“ پھر امام ان سے وہ غنیمتیں واپس لے لے گا، ”فَيَقْسِمُهَا“ پھر ان میں تقسیم کر دے گا۔
”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اس عبدِ ضعیف سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ صاحبِ ہدایہ اس کی وضاحت فرمانا چاہتے ہیں کہ متن کے اندر تو صرف اتنا آیا کہ امام کے پاس اگر باربرداری کے جانور نہ ہوں تو وہ غازیوں کے سپرد کر دے گا مال اور وہ اس کو دار الاسلام پہنچائیں گے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں: ایک سیرِ صغیر کی روایت ہے اور ایک سیرِ کبیر کی روایت ہے۔ سیرِ صغیر کی روایت کے مطابق امام یہ جو سامان کو منتقل کروا رہا ہے ان غازیوں کے باربرداری کے جانوروں پر، تو اس کے اندر ان مجاہدین اور غازیوں کی رضامندی ضروری ہے اس لیے کیونکہ کسی دوسرے کے مال سے اس کی رضامندی کے بغیر فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔ تو لہٰذا امام ان کو مجبور نہیں کر سکتا۔ اگر وہ مجاہدین راضی ہیں اور ان کے پاس زائد باربرداری کے جانور ہیں اور وہ خود اس بات پر راضی ہیں کہ وہ اپنے جانوروں پر اس سامان کو منتقل کر دیں گے پھر تو یہ سامان ان کو دیا جائے گا، اور اگر وہ اس پر راضی نہیں ہیں تو ان کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ روایت ہے سیرِ صغیر کی۔ جبکہ سیرِ کبیر کی روایت کے مطابق امام ان کو مجبور کر سکتا ہے جب ان مجاہدین اور غازیوں کے پاس باربرداری کے زائد جانور موجود ہیں تو امام ان کو مجبور کر سکتا ہے کہ تمہیں یہ سامان لے جانا پڑے گا، اور یہ بھی یاد رکھنا یہ اپنے جانوروں پر اس سامان کو منتقل کریں گے تو ان کو اجرت بھی دی جائے گی سامان کو منتقل کرنے کی، اسی مالِ غنیمت میں سے ان کو اجرت بھی ادا کی جائے گی، اور سیرِ کبیر کی روایت کے مطابق امام ان کو مجبور بھی کر سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر مالِ غنیمت کو یہیں چھوڑا جائے گا تو اس میں تمام مجاہدین کا نقصان ہے، اور اگر امام ان کو مجبور کرے گا تو اس صورت میں صرف ان مجاہدین اور غازیوں کا نقصان ہے جن کے باربرداری کے جانور ہیں۔ اس کے اندر اگرچہ ضرر ہے، نقصان ہے کہ آپ ان سے زبردستی یہ کام کروا رہے ہیں، لیکن یہ ضرر چند غازیوں یا چند مجاہدین کا ہے جن کے پاس باربرداری کے زائد جانور ہیں، اور اگر سامان کو یہیں چھوڑ دیا جائے تو اس میں تو تمام غازیوں کا نقصان ہے۔ تو ضررِ عام سے بچنے کے لیے ضررِ خاص کو برداشت کر لیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جی دیکھیے بھئی: ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ میں نے آپ کو بتلایا کہ اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں بھئی۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے: ”هَكَذَا ذَكَرَ فِي الْمُخْتَصَرِ“ کہ اسی طرح ذکر فرمایا ہے صاحبِ قدوری نے، ”فِي الْمُخْتَصَرِ“ اپنی مختصر کے اندر یعنی مختصرِ قدوری میں، ”وَلَمْ يَشْتَرِطْ رِضَاهُمْ“ اور صاحبِ قدوری نے ان غنیمت والوں کی رضامندی کی شرط نہیں لگائی، ان کی رضامندی کی شرط نہیں لگائی کہ ان کی رضامندی ہو تو پھر یہ سامان ان کے حوالے کیا جائے۔ تو صاحبِ قدوری نے ان غنیمت والوں کی رضامندی کی شرط نہیں لگائی، ”وَهُوَ رِوَايَةُ السِّيَرِ الْكَبِيرِ“ اور یہ سیرِ کبیر کی روایت ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا سیرِ کبیر کی روایت کے مطابق ان کو مجبور کر سکتا ہے امام، اور سیرِ صغیر کی روایت کے مطابق ان غازیوں کو امام اس کام پر مجبور نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ رِوَايَةُ السِّيَرِ الْكَبِيرِ“ یہ سیرِ کبیر کی روایت ہے۔ ”وَالْجُمْلَةُ فِي هَذَا“ یہاں کیا آیا: ”وَالْجُمْلَةُ فِي هَذَا“ أَيْ ”جُمْلَةُ الْكَلَامِ فِي هَذَا الْمَقَامِ“ بھئی، اس مقام پر حاصلِ کلام یہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْجُمْلَةُ فِي هَذَا“ اور اس مقام پر حاصلِ کلام یہ ہے ”أَنَّ الْإِمَامَ إِذَا وَجَدَ فِي الْمَغْنَمِ حَمُولَةً“ کہ جب امام کو مالِ غنیمت کے اندر باربرداری کے جانور مل جائیں ”يَحْمِلُ الْغَنَائِمَ عَلَيْهَا“ تو امام غنیمتوں کو ان کے اوپر لاد دے گا، تو پھر غنیمتوں کو انہی کے اوپر لاد دے گا، ”لِأَنَّ الْحَمُولَةَ وَالْمَحْمُولَةَ مَالُهُمْ“ اس لیے کیونکہ باربرداری کا جانور ”وَالْمَحْمُولَةَ“ اور وہ سامان جو اس کے اوپر لادا گیا ہے ”مَالُهُمْ“ وہ انہی مسلمانوں کا مال ہے۔ وہ باربرداری کے جانور بھی ان غازیوں کے اور جو مالِ غنیمت جو ان جانوروں پر لادا جائے گا وہ بھی ان غازیوں کا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحَمُولَةَ وَالْمَحْمُولَةَ مَالُهُمْ“ اس لیے کیونکہ وہ باربرداری کا جانور اور وہ مالِ غنیمت جو اس پر لادا جائے گا وہ ان غنیمت والوں کا ہے، ”وَكَذَا إِذَا كَانَ فِي بَيْتِ الْمَالِ فَضْلُ حَمُولَةٍ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب بیت المال کے اندر زائد باربرداری کے جانور ہوں، اگر مالِ غنیمت میں باربرداری کے جانور نہیں ہیں تو پھر بیت المال کے اندر دیکھا جائے گا کہ اس میں باربرداری کے جانور ہیں یا نہیں۔ اگر وہاں موجود ہیں تو ان پر سامان لاد کر منتقل کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا كَانَ فِي بَيْتِ الْمَالِ فَضْلُ حَمُولَةٍ“ اور اسی طرح ہے حکم جب بیت المال کے اندر زائد باربرداری کے جانور ہوں ”لِأَنَّهُ مَالُ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ وہ بھی مسلمانوں کا مال ہے، ”وَلَوْ كَانَ لِلْغَانِمِينَ أَوْ لِبَعْضِهِمْ“ اور اگر وہ باربرداری کے جانور غنیمت والوں کے ہیں ”أَوْ لِبَعْضِهِمْ“ یا ان میں سے بعض کے ہیں ”لَا يُجْبِرُهُمْ فِي رِوَايَةِ السِّيَرِ الصَّغِيرِ“ تو امام ان کو مجبور نہیں کر سکتا سیرِ صغیر کی روایت کے مطابق ”لِأَنَّهُ ابْتِدَاءُ إِجَارَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ابتدائے اجارہ ہے۔
میں نے آپ کو بتلایا کہ اگر ان غازیوں کے جانوروں پر امام مالِ غنیمت کو لادتا ہے تو پھر ان کو کرایہ بھی دیا جائے گا۔ معلوم ہوا یہ عقدِ اجارہ ہو رہا ہے یعنی کرائے پر کوئی چیز لینا۔ اور عقدِ اجارہ کے اندر آپ جانتے ہیں کہ دونوں کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، جو شخص کرائے پر اپنی چیز دے رہا ہے اور جو شخص کرائے پر لے رہا ہے دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ تو لہٰذا چونکہ یہ ابتدائے اجارہ ہے لہٰذا اس میں ان غازیوں کی رضامندی بھی ضروری ہوگی۔ یہ صاحبِ ہدایہ نے ابتدائے اجارہ کی قید لگائی کہ یہ ابتدائے اجارہ ہے یعنی کسی کے ساتھ ایک نیا اجارے کا عقد کیا جا رہا ہے۔ یاد رکھو کسی کے ساتھ جب نیا اجارے کا عقد کیا جائے وہاں دونوں کی رضامندی شرط ہے، لیکن بعض اوقات بقائے اجارہ کی صورت بن جاتی ہے۔ بعض اوقات بقائے اجارہ کی صورت ہو وہاں یاد رکھو بعض اوقات رضامندی ضروری نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک آدمی نے دس دن کے لیے کشتی کرائے پر لی ہے اور وہ سمندر میں سفر پر چلا گیا اور ابھی وہ واپس نہیں پہنچا وہ سمندر میں ہی ہے کہ وہ دس دن پورے ہو گئے، تو یاد رکھو یہاں خود بخود نیا عقدِ اجارہ منعقد ہو جائے گا۔ اور جب وہ واپس آئے گا جتنے دن زائد لگے ہیں ان کا کرایہ بھی اس کو دینا پڑے گا۔ تو دیکھو یہاں خود بخود عقدِ اجارہ منعقد ہو گیا کیونکہ یہ ابتدائے اجارہ کی حالت نہیں تھی، کوئی نیا اجارہ نہیں کیا جا رہا تھا، پہلے سے ایک اجارے کا معاملہ ہو چکا ہے اسی کی بقا کی حالت ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا ابتدائے اجارہ کے اندر تو دونوں کی رضامندی ضروری ہوتی ہے لیکن بقائے اجارہ کے اندر بعض اوقات بغیر رضامندی کے بھی عقدِ اجارہ منعقد ہو جاتا ہے جب وہاں پر ضرورت ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَا يُجْبِرُهُمْ فِي رِوَايَةِ السِّيَرِ الصَّغِيرِ“ سیرِ صغیر کی روایت کے مطابق امام ان کو مجبور نہیں کر سکتا کیونکہ غیر کے مال سے نفع اٹھانا اس کی رضامندی کے بغیر یہ جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں کہ امام ان کو مجبور نہیں کر سکتا سیرِ صغیر کی روایت کے مطابق ”لِأَنَّهُ ابْتِدَاءُ إِجَارَةٍ“ کیونکہ یہ ابتدائے اجارہ ہے لہٰذا بغیر رضامندی کے جائز نہیں۔
”وَصَارَ كَمَا إِذَا نَفَقَتْ دَابَّتُهُ فِي مَفَازَةٍ“ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کسی کا باربرداری کا جانور جنگل کے اندر سفر کے دوران مر جائے اور اس کا ساتھی اس کے ساتھ ہے اور اس ساتھی کے پاس ایک زائد باربرداری کا جانور موجود ہے تو اس ساتھی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا عقدِ اجارہ پر۔ اس ساتھی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ابتدائے اجارہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَمَا إِذَا نَفَقَتْ دَابَّتُهُ فِي مَفَازَةٍ“ نَفَقَ يَنْفُقُ کا معنی ہے ختم ہو جانا، ہلاک ہو جانا، اور مفازہ جو ہے جنگل کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَمَا إِذَا نَفَقَتْ دَابَّتُهُ فِي مَفَازَةٍ“ اور کہتے ہیں یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اس کا سواری کا جانور جنگل میں ہلاک ہو جائے ”وَمَعَ رَفِيقِهِ فَضْلُ حَمُولَةٍ“ اور اس کے ساتھی کے پاس ایک زائد باربرداری کا جانور ہے تو جیسے اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح ان غازیوں کو بھی مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
آگے دیکھیے: ”وَيُجْبِرُهُمْ فِي رِوَايَةِ السِّيَرِ الْكَبِيرِ“ اور سیرِ کبیر کی روایت کے مطابق امام ان کو مجبور کر سکتا ہے ”لِأَنَّهُ دَفْعُ الضَّرَرِ الْعَامِّ بِتَحْمِيلِ ضَرَرٍ خَاصٍّ“ میں نے آپ کو بتلایا بھئی کہ اگر اس سامان کو ان جانوروں پر لادا جائے گا تو اس میں تو صرف ان غازیوں کا نقصان ہے جن کے یہ باربرداری کے جانور ہیں، اور اگر اس سامان کو یہیں چھوڑا جاتا ہے تو اس میں تمام مسلمانوں کا نقصان ہے، تو ایک طرف ضررِ خاص ہے اور ایک طرف ضررِ عام ہے، اور ضررِ عام سے بچنے کے لیے ضررِ خاص کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ تو یہ بیان کر رہے ہیں: ”لِأَنَّهُ دَفْعُ الضَّرَرِ الْعَامِّ“ اس لیے کیونکہ یہ ضررِ عام کو دور کرنا ہے ”بِتَحْمِيلِ ضَرَرٍ خَاصٍّ“ ضررِ خاص کو برداشت کرتے ہوئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اس لیے بھی امام مجبور کر سکتا ہے کہ اس مالِ غنیمت کو دار الاسلام منتقل کرنے میں انہی غازیوں کا فائدہ ہے، یہ مال انہی کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور نیز ان کو باربرداری کی اجرت بھی ملے گی، اسی مالِ غنیمت سے لے کر ان کو اجرت بھی ادا کی جائے گی، تو انہی غازیوں کا اس میں فائدہ ہے لہٰذا امام ان کو مجبور کر سکتا ہے سیرِ کبیر کی روایت کے مطابق۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ الْغَنَائِمِ قَبْلَ الْقِسْمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور جائز نہیں ہے غنیمتوں کو بیچنا تقسیم سے پہلے دار الحرب میں۔ دار الحرب کے اندر غنیمتوں کو بیچنا تقسیم سے پہلے یہ جائز نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بیچنا یہ حکم ہے ملکیت کا، آپ ایک چیز کے مالک ہوں گے تو تبھی اس کو بیچیں گے، جب مالک ہی نہیں ہیں تو آپ بیچ بھی نہیں سکتے، اور ہم پہلے بیان کر چکے کہ یہ جو مالِ غنیمت ہے اس کے اندر غازیوں کا صرف حق آیا ہے، یہ اس کے مالک نہیں بنے لہٰذا یہ بیچ بھی نہیں سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ الْغَنَائِمِ قَبْلَ الْقِسْمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور غنیمتوں کو بیچنا جائز نہیں ہے تقسیم سے پہلے دار الحرب میں ”لِأَنَّهُ لَا مِلْكَ قَبْلَهَا“ اس لیے کیونکہ تقسیم سے پہلے ملکیت نہیں ہے ”وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں کہ غازی مالک بن چکے ہیں لہٰذا وہ بیچ سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے ”وَقَدْ بَيَّنَّا الْأَصْلَ“ اور تحقیق ہم نے ضابطہ ذکر کر دیا کہ ان کا ضابطہ ہے کہ یہ مالک بن چکے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا یہ وہ صورت ہے جب مسلمانوں کو حاجت نہ ہو۔ اگر مسلمانوں کو حاجت ہے پھر امام مالِ غنیمت کو دار الحرب میں بھی بیچ سکتا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَمَنْ مَاتَ مِنَ الْغَانِمِينَ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ مجاہدین کو دار الحرب کے اندر فتح حاصل ہو گئی ہے، مالِ غنیمت ان کے ہاتھ آ گیا ہے، لیکن ابھی اس کو دار الاسلام منتقل نہیں کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی کسی غازی کا انتقال ہو جاتا ہے تو کیا اب اس کا حصہ اس مالِ غنیمت میں سے نکالا جائے گا؟ کیونکہ جس وقت یہ مالِ غنیمت حاصل ہوا اس وقت یہ زندہ تھا بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہم ضابطہ بیان کر چکے ہیں کہ جب تک یہ غازی دار الحرب کے اندر ہیں یہ اس مال کے مالک ہی نہیں بنے، جب مالک نہیں بنے تو اس کے اندر ان کی وراثت بھی جاری نہیں ہوگی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مجاہدین اس مال کے مالک بن چکے تھے لہٰذا اگر ان میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کے حصے کے اندر وراثت جاری ہوگی اور اس کا حصہ اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ مَاتَ مِنَ الْغَانِمِينَ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور غنیمت والوں میں سے کوئی دار الحرب کے اندر مر گیا ”فَلَا حَقَّ لَهُ فِي الْغَنِيمَةِ“ تو اس کا غنیمت میں کوئی حق نہیں ہے، ”وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ بَعْدَ إِخْرَاجِهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ اور جو ان میں سے مر گیا بعد اس کے کہ غنیمتوں کو نکال لیا گیا تھا دار الاسلام کی طرف۔ جب دار الاسلام لے آئے سامان تو اب وہ مالک بن چکے ہیں، اب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اب اس کے حصے میں وراثت جاری ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ بَعْدَ إِخْرَاجِهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ اور جو ان میں سے مر گیا ان غنیمتوں کو دار الاسلام کی طرف نکالنے کے بعد ”فَنَصِيبُهُ لِوَرَثَتِهِ“ تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کے لیے ہوگا ”لِأَنَّ الْإِرْثَ يَجْرِي فِي الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ وراثت جو ہے ملکیت کے اندر جاری ہوتی ہے ”وَلَا مِلْكَ قَبْلَ الْإِحْرَازِ“ اور احراز سے پہلے ملکیت نہیں ہے۔ أَحْرَزَ يُحْرِزُ إِحْرَاز کا کیا معنی ہے؟ محفوظ کرنا، جمع کر لینا، اور یہ احراز کب ہوگا؟ جب ہم مالِ غنیمت کو دار الاسلام لے آئیں گے تو اب یہ مال محرز ہو گیا، محفوظ ہو گیا، تو اب اس کے اندر غازیوں کی ملکیت آ گئی تو پھر اس کے اندر وراثت جاری ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مِلْكَ قَبْلَ الْإِحْرَازِ“ اور احراز سے پہلے ملکیت نہیں ہے ”وَإِنَّمَا الْمِلْكُ بَعْدَهُ“ اور ملکیت تو احراز کے بعد ہی ہوتی ہے۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ بَعْدَ اسْتِقْرَارِ الْهَزِيمَةِ يُورَثُ نَصِيبُهُ“ ہزیمت کہتے ہیں شکست کو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کفار کو شکست ہو گئی تو اس کے بعد اب مجاہدین مالِ غنیمت کے مالک بن چکے ہیں، چاہے دار الحرب ہی میں کیوں نہ ہوں پھر بھی یہ مالک بن چکے ہیں تو ان کے حصے میں وراثت جاری ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ بَعْدَ اسْتِقْرَارِ الْهَزِيمَةِ“ کہ جو ان غنیمت والوں میں سے مر گیا بعد استقرار الہزیمۃ دشمن کی شکست ثابت ہونے کے بعد ”يُورَثُ نَصِيبُهُ“ تو اس کا حصہ موروث ہوگا یعنی اس کے اندر وراثت جاری ہوگی ”لِقِيَامِ الْمِلْكِ فِيهِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ ملکیت موجود ہے اس مال کے اندر ”عِنْدَهُ“ دشمن کی شکست ثابت ہونے کے وقت۔ جب دشمن کی شکست ثابت ہو گئی تو اس وقت اس میں ملکیت موجود ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِقِيَامِ الْمِلْكِ فِيهِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ اس مال کے اندر ملکیت موجود ہے اس دشمن کی شکست ثابت ہوتے وقت ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ“ اور تحقیق اس کو ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان کے نزدیک فتح ہوتے ہی مجاہدین مال کے مالک بن جاتے ہیں۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَعْلِفَ الْعَسْكَرُ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَيَأْكُلُوا مِمَّا وَجَدُوهُ مِنَ الطَّعَامِ“ یہ اب چوتھی بحث آ گئی اس باب کی بھئی۔ پہلی بحث کے اندر صاحبِ ہدایہ نے غنیمت کی تفصیل بیان فرمائی تھی کہ غنیمت دو قسم پر ہے یا وہ منقولی ہوگی یا غیر منقولی ہوگی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ قیدیوں کے ساتھ امام کیا سلوک کر سکتا ہے بھئی، اور پھر صاحبِ ہدایہ نے اس کے اندر یہ بھی بیان فرمایا تھا کہ اگر غنیمتوں کو امام دار الاسلام منتقل کرنے پر قادر نہ ہو...
تو پھر ان کو وہیں پر نہ چھوڑے بلکہ ان کو ضائع کر دے تاکہ یہ کفار کے کام نہ آئیں بھئی۔ اور پھر اس کے بعد دوسری بحث ہم نے اس باب کے اندر پڑھی تھی کہ غنیمتوں کو دار الاسلام لا کر تقسیم کیا جائے گا۔ دار الحرب کے اندر عند الاحناف غنیمتوں کو تقسیم کرنا جائز نہیں ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دار الحرب میں ہی غازی اس مال کے مالک بن چکے ہیں لہٰذا وہاں پر بھی تقسیم جائز ہے بھئی۔ اور اس کے بعد تیسری بحث ہم نے پڑھی تھی کہ کون کون غنیمت کا مستحق ہوگا؟ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ لڑنے والا اور مددگار جو ہیں سارے کے سارے جو ہیں یہ غنیمت کے مستحق ہیں اس لیے کہ ہمارے نزدیک غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ دار الاسلام کی سرحد عبور کر کے دار الحرب جانا ہے جہاد کی نیت سے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک غنیمت کا مستحق ہونے کا جو سبب ہے وہ لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے۔ تو ہمارے نزدیک مددگار ہو یا لڑنے والا ہو سب کا حصہ ہوگا غنیمت کے اندر۔ البتہ اگر کوئی صرف تجارت کی نیت سے لشکر کے ساتھ گیا ہے تو اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ہاں اگر وہاں جا کر وہ پھر لڑائی میں حصہ لے لیتا ہے تو اب چونکہ وہ لڑائی میں حاضر تھا تو اب غنیمت کے اندر اسے بھی حصہ ملے گا بھئی۔
اور اب یہ چوتھی بحث آ گئی۔ اس کے اندر صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ دار الحرب کے اندر غازیوں کے لیے مالِ غنیمت کی کن چیزوں سے فائدہ اٹھانا اور انہیں استعمال کرنا جائز ہے اور کن چیزوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے بھئی؟
تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
قَالَ: ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَعْلِفَ الْعَسْكَرُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“
عَلَفَ يَعْلِفُ عَلْفًا کا معنی ہے اپنے جانور کو چارہ کھلانا، اس کو گھاس کھلانا۔ تو کہتے ہیں قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَعْلِفَ الْعَسْكَرُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لشکر اپنے جانوروں کو چارہ کھلائے دار الحرب میں ”وَيَأْكُلُوا مِمَّا وَجَدُوهُ مِنَ الطَّعَامِ“ اور اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لشکر والوں کو جو طعام ملے اس میں سے وہ کھا لیں۔ یعنی لشکر والوں کو مالِ غنیمت میں جو چارہ ملا ہے وہ بھی استعمال کر سکتے ہیں، اپنے جانوروں کو کھلا سکتے ہیں اور کھانے کی چیزیں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے ”أَرْسَلَ وَلَمْ يُقَيِّدْ بِالْحَاجَةِ“ کہ صاحبِ قدوری نے اس کو مطلق رکھا اور اس کو حاجت کے ساتھ قید نہیں کیا۔ بھئی پیچھے متن کے اندر صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا کہ لشکر والے دار الحرب میں مالِ غنیمت میں سے اپنے جانوروں کو چارہ بھی کھلا سکتے ہیں اور خود بھی کھانے وغیرہ کی چیزیں استعمال کر سکتے ہیں لیکن وہاں انہوں نے اس کو مطلق ذکر کیا ہے، حاجت اور ضرورت کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ جی۔ حاجت اور ضرورت کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ بھئی حاجت کے ساتھ یوں مقید فرماتے کہ اگر مجاہدین کو جانوروں کے لیے چارے کی ضرورت ہے، ان کے پاس خود چارہ موجود نہیں یا ان مجاہدین کو کھانے کی ضرورت ہے، خود ان کے پاس کھانا موجود نہیں تو پھر وہ استعمال کر سکتے ہیں لیکن صاحبِ قدوری نے یہ حاجت اور ضرورت کی قید نہیں لگائی، مطلقاً کہا کہ مجاہدین دار الحرب کے اندر اپنے جانوروں کو چارہ بھی کھلا سکتے ہیں اور کھانے کی جو چیز ملے اسے کھا سکتے ہیں بھئی۔
تو یہ معنی ہے ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے ”أَرْسَلَ“ کہ صاحبِ قدوری نے مطلق رکھا، ارسل کا معنی آزاد چھوڑنا، ”أَرْسَلَ“ کہ صاحبِ قدوری نے مطلق رکھا ”وَلَمْ يُقَيِّدْ بِالْحَاجَةِ“ اور اس کو حاجت کے ساتھ مقید نہیں کیا ”وَقَدْ شَرَطَهَا فِي رِوَايَةٍ وَلَمْ يَشْتَرِطْهَا فِي الْأُخْرَى“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے اندر انہوں نے حاجت کی شرط لگائی ہے کہ اگر مجاہدین کو جانوروں کے چارے کی حاجت ہے یعنی ان کے پاس خود موجود نہیں، ان کو جانوروں کے چارے کی حاجت ہے یا ان کے پاس خود کھانے کی چیز نہیں ہے، ان کو کھانے کی حاجت ہے تو پھر وہ غنیمت میں سے یہ چیزیں استعمال کر سکتے ہیں۔ تو ایک روایت کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے مجاہدین کے حاجت کی قید لگائی ہے اور دوسری روایت میں انہوں نے مجاہدین کی حاجت کی قید نہیں لگائی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَدْ شَرَطَهَا فِي رِوَايَةٍ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے حاجت کی شرط لگائی ہے ایک روایت میں ”وَلَمْ يَشْتَرِطْهَا فِي الْأُخْرَى“ اور حاجت کی شرط نہیں لگائی دوسری روایت میں۔
پہلی روایت وہ سیرِ صغیر کی روایت ہے جس میں امام محمد رحمہ اللہ نے حاجت کی شرط لگائی ہے اور دوسری روایت سیرِ کبیر کی ہے جس کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے حاجت کی شرط نہیں لگائی۔ اب ان کی وجہ ذکر کریں گے کہ ایک روایت کے مطابق امام محمد رحمہ اللہ نے حاجت کی شرط لگائی ہے اس کی کیا وجہ ہے اور ایک روایت کے اندر انہوں نے حاجت کی شرط نہیں لگائی اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اب وہ دونوں ذکر کریں گے۔
”وَجْهُ الْأُولَى أَنَّهُ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ الْغَانِمِينَ“ یہاں سے پہلی روایت کی وجہ بیان فرما رہے ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ بغیر حاجت کے مجاہدین کے لیے اس چارے کو یا کھانے کی چیزوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے بھئی، اس کی وجہ بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اور یاد رکھو اس وجہ کی بنیاد قیاس پر ہے۔ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ جو چارہ ہے یا یہ جو کھانا ہے یہ تو تمام مجاہدین کا مشترکہ ہے، یہ تو مالِ غنیمت کے طور پر ہاتھ آیا ہے اور جب مشترکہ مال ہو تو کسی ایک فرد کے لیے اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ چارہ اور یہ کھانا یہ مشترکہ ہے لہٰذا مجاہدین کو اس کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں ”وَجْهُ الْأُولَى“ پہلی روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّهُ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ الْغَانِمِينَ“ کہ یہ جو چارہ ہے یا یہ جو کھانا ہے یہ مشترک ہے غنیمت حاصل کرنے والوں کے درمیان ”فَلَا يُبَاحُ الِانْتِفَاعُ بِهِ إِلَّا لِلْحَاجَةِ“ لہٰذا اس سے فائدہ اٹھانا مباح نہیں ہوگا، جائز نہیں ہوگا ”إِلَّا لِلْحَاجَةِ“ مگر حاجت اور ضرورت کی وجہ سے ”كَمَا فِي الثِّيَابِ وَالدَّوَابِّ“ جیسے کہ کپڑوں میں ہے ”وَالدَّوَابِّ“ اور سواری کے جانوروں میں ہے۔ دواب بھئی، جمع ہے دابۃ کی اور یہ سواری کے جانور کو کہتے ہیں بھئی۔ کپڑے اور سواری کے جانور جو ہیں وہ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے تو غازی استعمال کر سکتے ہیں ورنہ بغیر ضرورت کے استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ یہ مالِ غنیمت ہے، تمام مجاہدین کا اس کے اندر حق ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَلَا يُبَاحُ الِانْتِفَاعُ بِهِ إِلَّا لِلْحَاجَةِ“ تو ان چیزوں سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہوگا مگر ضرورت کی وجہ سے ”كَمَا فِي الثِّيَابِ وَالدَّوَابِّ“ جیسے کہ کپڑوں اور سواری کے جانوروں میں ہے۔
”وَجْهُ الْأُخْرَى“ دوسری روایت کی وجہ یہ ہے۔ اب دوسری روایت کی وجہ ذکر کریں گے۔ دوسری روایت یہ تھی کہ حاجت کی قید نہیں ہے، مجاہدین مطلقاً چارہ بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کھانے کی چیزیں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ تو اب اس کی وجہ ذکر کریں گے اور یاد رکھو اس وجہ کی بنیاد ہے استحسان پر۔ جی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے یہ چارہ اور کھانا مالِ مشترکہ ہے، کسی ایک کے لیے بھی اس کا استعمال بغیر حاجت کے جائز نہیں لیکن استحساناً ان کے لیے ان چیزوں کا استعمال جائز ہے بھئی۔ تو اس وجہ کی بنیاد استحسان پر ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اکثر اکثر استحسان کو ترجیح ہوتی ہے قیاس پر۔ جی۔ ویسے تو میں نے بتلایا تھا استحسان متفق علیہ دلیل کو کہتے ہیں لیکن زیادہ تر اس کا اطلاق قیاسِ خفی پر ہوتا ہے لیکن قیاسِ خفی کو بھی تب استحسان کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں قیاس موجود ہو اور عموماً استحسان کو ترجیح ہوتی ہے قیاس پر بھئی، تو لہٰذا اسی لیے یہاں پر بھی استحسان کو ترجیح ہوگی۔
کہتے ہیں ”وَجْهُ الْأُخْرَى“ اور دوسری روایت کی وجہ جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي طَعَامِ خَيْبَرَ“ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے خیبر کے طعام کے بارے میں، خیبر کے غلے کے بارے میں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”كُلُوهَا وَاعْلِفُوهَا وَلَا تَحْمِلُوهَا“ ”كُلُوهَا“ کہ تم اسے کھاؤ ”وَاعْلِفُوهَا“ اور تم اس کو اپنے جانوروں کو کھلاؤ ”وَلَا تَحْمِلُوهَا“ اور ان کو تم جانوروں پر نہ لادو یعنی ان کو ذخیرہ نہ کرو۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”كُلُوهَا وَاعْلِفُوهَا وَلَا تَحْمِلُوهَا“ کہ تم اسے کھاؤ اور اپنے جانوروں کو کھلاؤ اور ان کو جمع نہ کرو۔
”وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ وَهُوَ كَوْنُهُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل ذکر فرما رہے ہیں بھئی۔ جی۔ بھئی دیکھیے! بعض اوقات علت پر مطلع ہونا دشوار ہوتا ہے تو پھر حکم کا مدار دلیلِ علت پر ہو جاتا ہے۔ کس پر؟ دلیلِ علت۔ جیسے دیکھو، سفر کے اندر شریعت نے رخصت دی ہے کہ چار رکعت فرض کے بجائے دو رکعت فرض پڑھیں گے، نماز میں قصر کریں گے۔ اور اس حکم کی بنیاد مشقت پر ہے کہ سفر کے اندر مشقت ہوتی ہے، تکلیف ہوتی ہے تو شریعت نے احکام کے اندر نرمی کر دی بھئی۔ لیکن یہ مشقت، یہ تو ایک امرِ باطنی ہے، اس کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا کہ کس شخص کو کتنی مشقت ہوئی ہے۔ میں نے بتلایا تھا بعض لوگوں کو اللہ نے بڑا مضبوط جسم دیا ہوتا ہے، کئی کئی دن سفر کر کے بھی ان کو ذرا بھی تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا مشقت چونکہ ایک امرِ باطنی ہے اس کا پتہ نہیں چل سکتا تو حکم کا مدار جو ہے دلیلِ علت یعنی سفر پر کر دیا گیا۔ جی۔ یہ مشقت کی دلیل کیا ہے؟ یہ سفر ہے۔ تو جو بھی شخص تین دن کی مسافت یا اس سے زیادہ کی مسافت کا ارادہ کرتا ہے تو یوں سمجھو مشقت موجود ہے کیونکہ اس کی دلیل موجود ہے یعنی سفر موجود ہے۔ تو سفر پر ہی حکم کا مدار ہو جائے گا، جو بھی اتنے سفر کا ارادہ کرے گا اب وہ نماز قصر کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب علت پر مطلع ہونا دشوار ہو یا ممکن نہ ہو تو حکم کا مدار دلیلِ علت پر ہو جاتا ہے۔ یہاں پر بھی صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو مجاہدین اور غازی ہیں مالِ غنیمت میں سے چارہ اور کھانا استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ یہاں دلیلِ حاجت موجود ہے۔ جی۔ وجہ یہ کہ یہ دار الحرب میں ہیں، مجاہدین جہاد کے لیے گئے ہیں تو اتنے دن کا کھانا تو وہ اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے کہ جتنے دن ان کو جہاد کرنا پڑے گا یا اتنے دن کا تو وہ چارہ اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ تو لہٰذا چونکہ وہ دار الحرب میں ہیں اور دار الحرب کے اندر اب دار الاسلام سے تو کھانا وغیرہ پہنچ نہیں سکتا تو گویا حاجت موجود ہے۔ جی۔ حقیقۃً حاجت کو نہیں دیکھا جائے گا یہاں پر بلکہ صرف دلیلِ حاجت ہی کافی ہے۔ جی۔ کیونکہ یہ کہاں پر ہیں؟ دار الحرب میں۔ اور دار الحرب میں کھانا پہنچانا دار الاسلام سے ممکن نہیں ہے تو ان کو حاجت ہے اور جب ان کو حاجت ہے تو مالِ غنیمت میں سے چارہ اور کھانے کی چیزیں استعمال کرنا ان کے لیے جائز ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ الْحَاجَةِ“ اور اس لیے کیونکہ اس حکم کی بنیاد جو ہے وہ دلیلِ حاجت پر ہے ”وَهُوَ كَوْنُهُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور وہ اس کا دار الحرب میں ہونا ہے، اس غازی کا دار الحرب میں ہونا ہے۔ ”لِأَنَّ الْغَازِيَ لَا يَسْتَصْحِبُ قُوتَ نَفْسِهِ وَعَلَفَ ظَهْرِهِ مُدَّةَ مُقَامِهِ فِيهَا“ استصحب يستصحب استصحاب کا معنی ہے اپنے ساتھ رکھنا۔ اور قوت نفسہ، قوت کہتے ہیں خوراک کو بھئی، ”وَعَلَفَ ظَهْرِهِ“ علف کہتے ہیں جانوروں کا گھاس اور چارہ وغیرہ جو ہے، ”ظَهْرِهِ“ ظہر کہتے ہیں پشت کو، مراد یہاں سواری کا جانور ہے جی، کیونکہ اس کی پشت پر سواری کی جاتی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”لِأَنَّ الْغَازِيَ“ اس لیے کیونکہ غازی جو ہے ”لَا يَسْتَصْحِبُ“ وہ اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ”قُوتَ نَفْسِهِ“ اپنی خوراک ”وَعَلَفَ ظَهْرِهِ“ اور اپنی سواری کا چارہ ”مُدَّةَ مُقَامِهِ فِيهَا“ اتنی مدت کا جتنی دیر اس کی اقامت ہوگی دار الحرب میں۔ جی۔ جتنی دیر اس کی دار الحرب میں اقامت ہوگی اتنی مدت کی خوراک یا چارہ وہ اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ”وَالْمِيرَةُ مُنْقَطِعَةٌ“ میرۃ بھئی، یاد رکھو مار یمیر کا معنی ہے گھر والوں کو خوراک مہیا کرنا، اور میرۃ کہتے ہیں سفر کے لیے جمع کی ہوئی جو کھانے کی چیزیں ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ میرۃ، لیکن یہاں مطلقاً یہ کھانے کے معاملہ میں ہے۔ ”وَالْمِيرَةُ مُنْقَطِعَةٌ“ اور کھانے پینے کی چیزیں جو ہیں وہ یہاں منقطع ہیں، دار الاسلام سے یہاں نہیں لائی جا سکتیں بھئی۔ ”فَبَقِيَ عَلَى أَصْلِ الْإِبَاحَةِ لِلْحَاجَةِ“ تو یہ چیزیں جو ہم نے ذکر کیں، جو کھانے پینے کی چیزیں ہیں یہ اپنی اصل اباحت پر باقی رہیں گی ”لِلْحَاجَةِ“ حاجت کی وجہ سے۔ جی۔ بھئی دلیلِ حاجت موجود ہے کہ مجاہدین دار الحرب میں ہیں تو جب دلیلِ حاجت موجود ہے تو معلوم ہوا حاجت موجود ہے اور جب حاجت موجود ہے تو یہ چیزیں مباح رہیں گی مجاہدین اور غازیوں کے لیے۔ یہ معنی ہے ”فَبَقِيَ عَلَى أَصْلِ الْإِبَاحَةِ لِلْحَاجَةِ“ تو یہ چیزیں اپنی اصل اباحت پر ہی باقی رہیں گی حاجت کی وجہ سے۔
”بِخِلَافِ السِّلَاحِ“ بخلاف اسلحے کے۔ یاد رکھو اگر مالِ غنیمت کے اندر اسلحہ ہے تو اس اسلحے کے اندر تمام مجاہدین کا حق ہے لہٰذا اس کو بغیر ضرورت کے اس کو استعمال کرنا کسی غازی کے لیے جائز نہیں۔ ہاں اگر ضرورت پیش آ گئی، اس کا اپنا اسلحہ ٹوٹ گیا ہے، ضائع ہو گیا ہے تو پھر ضرورت کی وجہ سے اسلحے کا استعمال بھی اس کے لیے جائز ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جانوروں کا چارہ یا اپنی خوراک وہاں دلیلِ حاجت موجود ہے تو وہاں حقیقی حاجت کو نہیں دیکھیں گے کہ اس کو حاجت ہے یا نہیں۔ مطلقاً ان کے لیے یہ استعمال جائز ہوگا لیکن اسلحے کے اندر اسلحہ تو مجاہد اپنے ساتھ رکھتا ہے تو وہاں حقیقتِ حاجت کو دیکھیں گے کہ حقیقت میں اس کو حاجت ہے یا نہیں۔ اگر حقیقت میں حاجت ہے اس کو، واقعی اس کا اسلحہ ٹوٹ چکا ہے، ضائع ہو چکا ہے اور اس کو اسلحے کی ضرورت ہے تو پھر اس کے لیے اس اسلحے کا استعمال جائز ہوگا جو مالِ غنیمت میں ملا ہے ورنہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ السِّلَاحِ“ بخلاف اسلحے کے ”لِأَنَّهُ يَسْتَصْحِبُهُ“ اس لیے کیونکہ غازی جو ہے وہ اسلحے کو اپنے ساتھ رکھتا ہے ”فَانْعَدَمَ دَلِيلُ الْحَاجَةِ“ تو اسلحے کے بارے میں حاجت کی دلیل معدوم ہوئی، اسلحے کے بارے میں حاجت کی دلیل موجود نہیں ”وَقَدْ تَمَسُّ إِلَيْهِ الْحَاجَةُ“ اور تحقیق اس کو حاجت پیش آ گئی ہے۔ مس الحاجۃ کا کیا معنی ہے؟ حاجت کا پیش آنا۔ ”وَقَدْ تَمَسُّ إِلَيْهِ الْحَاجَةُ“ اور تحقیق اس کو حاجت پیش آ گئی ہے ”فَيُعْتَبَرُ حَقِيقَتُهَا“ لہٰذا حقیقتِ حاجت جو ہے وہ معتبر ہوگی ”فَيَسْتَعْمِلُهُ“ تو وہ اس اسلحے کو استعمال کر سکتا ہے ”ثُمَّ يَرُدُّهُ فِي الْمَغْنَمِ إِذَا اسْتَغْنَى عَنْهُ“ پھر وہ غازی اس اسلحے کو واپس غنیمت میں لوٹا دے گا ”إِذَا اسْتَغْنَى عَنْهُ“ جب وہ اس سے بے نیاز ہو جائے یعنی جب ضرورت پوری ہو جائے تو پھر اس کو مالِ غنیمت میں جمع کروا دے گا۔ یہ اسلحے کا مالک نہیں بنا، ضرورت کی وجہ سے اس کے لیے استعمال جائز ہوا تھا۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ يَرُدُّهُ فِي الْمَغْنَمِ إِذَا اسْتَغْنَى عَنْهُ“ پھر وہ اسلحہ واپس غنیمت میں لوٹا دے گا جب اس سے بے نیازی ہو جائے یعنی جب اس سے حاجت پوری ہو جائے ”وَالدَّابَّةُ مِثْلُ السِّلَاحِ“ اور سواری کا جانور بھی اسلحے کے مثل ہے۔ جی۔ یعنی جیسے اسلحہ حقیقۃً ضرورت ہو تو پھر ہی استعمال جائز ہے ویسے نہیں، اسی طرح اگر مالِ غنیمت کے اندر سواری کے جانور ہیں تو وہاں بھی اگر حقیقۃً مجاہد کو حاجت ہے تو وہ استعمال کر سکتا ہے، بغیر حاجت کے استعمال کرنا جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَالدَّابَّةُ مِثْلُ السِّلَاحِ“ اور سواری کا جانور جو ہے وہ بھی اسلحے کے مثل ہے۔
”وَالطَّعَامُ كَالْخُبْزِ وَاللَّحْمِ وَمَا يُسْتَعْمَلُ فِيهِ كَالسَّمْنِ وَالزَّيْتِ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں بھئی متن میں آیا تھا کہ طعام بھی استعمال کر سکتا ہے، کھانے کی چیزیں بھی استعمال کر سکتا ہے۔ تو اس طعام سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں ”وَالطَّعَامُ كَالْخُبْزِ وَاللَّحْمِ“ اور طعام جو ہے جیسے کہ روٹی ہے ”وَاللَّحْمِ“ اور گوشت ہے ”وَمَا يُسْتَعْمَلُ فِيهِ“ اور وہ جو روٹی میں استعمال ہوتا ہے ”كَالسَّمْنِ وَالزَّيْتِ“ جیسے کہ گھی ہے اور زیتون کا تیل ہے، یہ سب کیا ہیں؟ یہ کھانے کی چیزیں ہیں، ان کو استعمال کیا جا سکتا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَيَسْتَعْمِلُ الْحَطَبَ“ اس قال سے بھی مراد صاحبِ قدوری ہیں ”وَيَسْتَعْمِلُ الْحَطَبَ“ اس کا عطف بھی پیچھے وہ جو آیا تھا ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَعْلِفَ الْعَسْكَرُ“ اور کوئی حرج نہیں کہ لشکر والے جانوروں کو چارہ کھلا سکتے ہیں اور کھانا کھا سکتے ہیں ”وَيَسْتَعْمِلُ الْحَطَبَ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ لشکر والے لکڑیاں استعمال کر سکتے ہیں۔ جی۔ اگر جلانے کے لیے لکڑیوں کی ضرورت ہے تو ان مالِ غنیمت کی لکڑیوں کو استعمال کر سکتے ہیں بھئی۔ وجہ یہ کہ ان کو تو ہم دار الاسلام منتقل ہی نہیں کر سکتے جی، تو لہٰذا ان کا استعمال جائز ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں ”وَيَسْتَعْمِلُ الْحَطَبَ“ اور لکڑیاں استعمال کر سکتے ہیں ”وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ الطِّيبُ“ کہتے ہیں قدوری کے بعض نسخوں میں حطب کی جگہ طیب کا ذکر آیا ہے، طیب خوشبو کو کہتے ہیں، کہ مالِ غنیمت میں سے خوشبو استعمال کر سکتے ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے جی، لیکن یہ درست نہیں ہے۔ کہتے ہیں کیونکہ صاحبِ قدوری نے خود بھی اپنی بعض کتابوں میں ذکر فرمایا ہے کہ مالِ غنیمت میں خوشبو ہو تو اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں کیونکہ وہ حاجاتِ اصلیہ میں سے نہیں ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بھی بس صرف اتنا بتلایا کہ بعض نسخوں میں یہاں طیب کا لفظ بھی آیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ الطِّيبُ“ اور قدوری کے بعض نسخوں میں طیب کا لفظ آیا ہے۔
”وَيَدَّهِنُ بِالدُّهْنِ وَيُوَقِّحُ بِهِ الدَّابَّةَ“ دہن کہتے ہیں تیل کو بھئی تیل، ”وَيَدَّهِنُ بِالدُّهْنِ“ اور تیل استعمال کر سکتے ہیں، تیل وغیرہ کو کھانے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ویسے بھی بدن پر بالوں وغیرہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ”وَيُوَقِّحُ“ وقح يوقح توقیح کا معنی ہے جانوروں کے کھر کو پگھلی ہوئی چربی کے ذریعے سخت کرنا۔ جی۔ بھئی یہ کوئی خاص طریقہ ہوگا کہ جس کے ذریعے جانوروں کے کھروں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ چونکہ بہت لمبا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے تو یہ کھر جو ہیں کمزور ہو جائیں گے لہٰذا ان کو پگھلی ہوئی چربی کے ذریعے سخت کرنا یہ بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَيَدَّهِنُ بِالدُّهْنِ وَيُوَقِّحُ بِهِ الدَّابَّةَ“ اور تیل کو بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اس کے ذریعے جانوروں کے کھر بھی مضبوط کر سکتے ہیں ”لِمِسَاسِ الْحَاجَةِ إِلَى جَمِيعِ ذَلِكَ“ بوجہ حاجت کے پیش آنے ان تمام چیزوں کی طرف، کہ ان سب چیزوں میں حاجت ہے، چارہ کھلانا یا کھانا کھانا یا اسی طرح جلانے کے لیے لکڑیاں استعمال کرنا یا تیل استعمال کرنا ان کی حاجت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِمِسَاسِ الْحَاجَةِ إِلَى جَمِيعِ ذَلِكَ“ بوجہ حاجت کے پیش آنے ان تمام چیزوں کی طرف۔
”وَيُقَاتِلُ بِمَا يَجِدُونَهُ مِنَ السِّلَاحِ“ یہ پھر متن آ گیا بھئی: ”وَيُقَاتِلُ بِمَا يَجِدُونَ مِنَ السِّلَاحِ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ مجاہدین لڑائی کریں اس اسلحے کے ذریعے جس کو وہ پا لیں یعنی غنیمت کے اندر جو اسلحہ ملے اس اسلحے کے ذریعے لڑائی کرنا ان کے لیے جائز ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَيُقَاتِلُ بِمَا يَجِدُونَهُ مِنَ السِّلَاحِ“ اور غازیوں کے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ لڑائی کریں جو اسلحہ ان کو ملے اس کے ذریعے ”كُلُّ ذَلِكَ بِلَا قِسْمَةٍ“ یہ سارا بغیر تقسیم کے ہوگا۔ جی۔ یعنی یہ جو چارہ کھلا رہے ہیں یا کھانے کی چیزیں استعمال کر رہے ہیں یا لکڑیاں جلا رہے ہیں یا تیل استعمال کر رہے ہیں یہ سب بغیر تقسیم کے ہے یعنی یہ اس کے مالک نہیں بنے، ان کے لیے ان کے لیے ان کا استعمال جائز ہے بھئی۔ تو اسی کے اندر اسلحے کو بھی ذکر کر دیا، جی، اسی کے اندر اسلحے کو بھی ذکر کر دیا۔ ابھی پیچھے بات گزری بھئی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسلحہ بغیر حقیقی حاجت کے استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ مجاہد اسلحے کو اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ تو اب اس کا جواب دینے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ متن میں جو آیا نا کہ اسلحہ استعمال کر سکتے ہیں اس سے مراد یہ ہے جب مجاہد کو اس کی حاجت اور ضرورت ہو، اگر حاجت اور ضرورت نہیں پھر اسلحہ استعمال نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں ”كُلُّ ذَلِكَ بِلَا قِسْمَةٍ“ اور یہ سارا بغیر تقسیم کے ہے ”وَتَأْوِيلُهُ إِذَا احْتَاجَ إِلَيْهِ“ اور تاویل اس کی یہ ہے کہ جب غازی کو اس کی حاجت ہو ”بِأَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ سِلَاحٌ“ بایں صورت کہ اس کے پاس اسلحہ نہ ہو ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ“ اور تحقیق یہ بات ہم نے بیان کر دی کہ مجاہد تو اسلحہ اپنے ساتھ رکھتا ہے لہٰذا مالِ غنیمت کا اسلحہ استعمال کرنے کی اس کو اجازت نہیں ہوگی الا ضرورت کی وجہ سے۔ تو ضابطہ یہاں پر یہ ہوا کہ وہ چیزیں جو غازی اپنے ساتھ رکھتا ہے جیسے اسلحہ ہے اور سواری کا جانور ہے اور اپنے کپڑے وغیرہ ہیں تو بغیر حاجت کے یہ چیزیں مالِ غنیمت میں سے لینا اور استعمال کرنا اس کے لیے جائز نہیں اور وہ چیزیں جو غازی اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا جیسے اپنے جانوروں کا چارہ ہے یا اپنی خوراک وغیرہ ہے اور جیسے لکڑیاں وغیرہ ہے جلانے کے لیے تو ان سب کو وہ استعمال کر سکتا ہے، اس کے لیے جائز ہے اور یہ چیزیں بغیر تقسیم کے ہوں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَبِيعُوا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا“ اور جائز نہیں ہے کہ غازی ان چیزوں میں سے کسی چیز کو بیچیں ”وَلَا يَتَمَوَّلُونَهُ“ اور نہ وہ اس کو ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ تمول کا معنی ہے مال اکٹھا کرنا۔ جی۔ تمول کا کیا معنی؟ مال اکٹھا کرنا، تو یہاں مراد ہے ان چیزوں کو ذخیرہ کرنا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَبِيعُوا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا“ اور غازیوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کو بیچیں ”وَلَا يَتَمَوَّلُونَهُ“ اور نہ وہ اس کو ذخیرہ کر سکتے ہیں ”لِأَنَّ الْبَيْعَ يَتَرَتَّبُ عَلَى الْمِلْكِ“ وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ بیچ کیوں نہیں سکتے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ بیچنا یہ تو ملکیت کا حکم ہے، کوئی شخص ایک چیز کا مالک ہو تب ہی بیچ سکتا ہے اور یہ تو ابھی تک اس چیز کے مالک نہیں بنے، ان کے لیے صرف مباح ہوا ہے ان چیزوں کا استعمال، ان کے لیے بیچنا جائز نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی یہ جو چارہ اور کھانا ہے، لکڑیاں وغیرہ، یہ تیل وغیرہ جو ہم نے ذکر کیا یہ چیزیں ان کے لیے مباح ہیں، ان کو بیچنا جائز نہیں اور نہ یہ اس کو ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْبَيْعَ يَتَرَتَّبُ عَلَى الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ بیع جو ہے وہ تو ملکیت پر مرتب ہوتی ہے ”وَلَا مِلْكَ عَلَى مَا قَدَّمْنَاهُ“ اور ملکیت نہیں ہے اس وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں بیان کر دیا کہ دار الاسلام منتقل کریں گے تو پھر مالک بنیں گے، اس سے پہلے مالک نہیں بھئی، ”وَإِنَّمَا هُوَ إِبَاحَةٌ“ اور یہ تو اباحت ہی ہے، یہ جو یہ چیزیں استعمال کر رہے ہیں یہ صرف اباحت ہے، ان کے لیے استعمال جائز ہے ”وَصَارَ كَالْمُبَاحِ لَهُ الطَّعَامُ“ اور یہ ہو گیا اس شخص کی طرح جس کے لیے کھانا مباح کر دیا گیا ہو۔ جیسے دیکھو آپ کسی کی دعوت کرتے ہیں تو آپ اس کے سامنے بہت ساری چیزیں رکھ دیتے ہیں تو یہ چیزیں آپ نے اس کے لیے مباح کی ہیں کہ جتنا اس میں سے وہ کھانا چاہے وہ کھا سکتا ہے لہٰذا اس کے لیے ان چیزوں کو بیچنا یا جمع کرنا جائز نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَصَارَ كَالْمُبَاحِ لَهُ الطَّعَامُ“ اور یہ اسی شخص کی طرح ہو گیا جس کے لیے کھانے کو مباح کر دیا گیا ہو۔ یہ عبارت پہ نظر رکھیں: ”كَالْمُبَاحِ لَهُ الطَّعَامُ“ مباح اسم مفعول ہے اور اسم مفعول کے لیے نائب الفاعل چاہیے اور آپ جانتے ہیں فاعل بھی مرفوع ہوتا ہے اور نائب الفاعل بھی مرفوع ہوتا ہے تو یہاں پر یہ جو آگے آ رہا ہے ”الطَّعَامُ“ یہ نائب الفاعل ہے مباح کے لیے۔ تو کہتے ہیں ”وَصَارَ كَالْمُبَاحِ لَهُ الطَّعَامُ“ تو یہ اس شخص کی طرح ہو گیا کہ جس کے لیے مباح کر دیا گیا ہو طعام کو۔
”وَقَوْلُهُ: وَلَا يَتَمَوَّلُونَهُ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُمْ لَا يَبِيعُونَهُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْعُرُوضِ“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ متن میں آیا تھا ”وَلَا يَتَمَوَّلُونَهُ“ اور اس کا ہم نے کیا معنی کیا؟ ذخیرہ نہیں کر سکتے۔ لیکن تمول کا معنی مالدار ہونے کے بھی آتے ہیں۔ اس کا مادہ مال ہے بھئی، تمول کا مادہ کیا ہے؟ مال ہے۔ تو صاحبِ قدوری نے یہاں ذخیرہ کرنے کے لیے تمول کا لفظ استعمال فرمایا اس میں اشارہ کر دیا اس بات کی طرف کہ ان چیزوں کو بیچ کر مال بنانا یعنی سونا اور چاندی لے کر جمع کر لینا یہ بھی جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَوْلُهُ: وَلَا يَتَمَوَّلُونَهُ“ اور صاحبِ قدوری کا یہ جو قول ہے ”وَلَا يَتَمَوَّلُونَهُ“ ”إِشَارَةٌ“ یہ اشارہ ہے ”إِلَى أَنَّهُمْ لَا يَبِيعُونَهُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْعُرُوضِ“ کہ یہ اس کو سونے اور چاندی اور سامان کے بدلے نہیں بیچ سکتے ”لِأَنَّهُ لَا ضَرُورَةَ إِلَى ذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اور حاجت تھی تو صرف ان کے استعمال کی ہے، ان کو بیچ کر سونا وغیرہ جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی، تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
”فَإِنْ بَاعَهُ أَحَدُهُمْ رَدَّ الثَّمَنَ إِلَى الْغَنِيمَةِ“ بھئی اگر غازیوں میں سے کسی کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اور اس نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو بیچ دیا اور پھر بعد میں اس کو مسئلے کا پتہ چل گیا تو کہتے ہیں اس صورت میں اس کو وہ قیمت جو ہے وہ ثمن جو ہے وہ مالِ غنیمت میں لوٹانے پڑیں گے کیونکہ اس میں تمام مسلمانوں کا حق ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ بَاعَهُ أَحَدُهُمْ“ اگر ان غازیوں میں سے کسی ایک نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو بیچ دیا ”رَدَّ الثَّمَنَ إِلَى الْغَنِيمَةِ“ تو وہ ثمن کو واپس لوٹائے گا مالِ غنیمت میں ”لِأَنَّهُ بَدَلُ عَيْنٍ كَانَتْ لِلْجَمَاعَةِ“ ”لِأَنَّهُ بَدَلُ عَيْنٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسی چیز کا بدل ہے ”كَانَتْ لِلْجَمَاعَةِ“ جو ساری جماعت کے لیے تھی۔ وہ جو چارہ یا کھانا وغیرہ جو اس نے بیچا ہے یہ ایسی عین تھی جو کس کی تھی؟ تمام مسلمانوں کی مشترکہ تھی بھئی۔ تو عین موصوف ہے اور ”كَانَتْ لِلْجَمَاعَةِ“ یہ اس کی صفت ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ بَدَلُ عَيْنٍ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ثمن ہے یہ ایسی چیز کا بدل ہے ”كَانَتْ لِلْجَمَاعَةِ“ جو ساری جماعت کے لیے تھی، وہ چیز ساری جماعت کے لیے تھی۔
آگے دیکھیے: ”وَأَمَّا الثِّيَابُ وَالْمَتَاعُ فَيُكْرَهُ الِانْتِفَاعُ بِهَا قَبْلَ الْقِسْمَةِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ لِلِاشْتِرَاكِ“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ اگر مالِ غنیمت کے اندر کپڑے ہیں یا اور استعمال کی چیزیں ہیں، کیا غازی ان کو استعمال کر سکتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں، کھانے پینے کی تو حاجت تھی لیکن کپڑوں وغیرہ کی تو کوئی حاجت نہیں لہٰذا ان کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہاں اگر کسی کو حقیقۃً حاجت پیش آ گئی، اس کے کپڑے وغیرہ پھٹ گئے ہیں لڑائی کے دوران تو پھر اس حاجت کی وجہ سے اس کے لیے جائز ہے، بغیر حاجت کے جائز نہیں۔ جیسے مالِ غنیمت کا اسلحہ وہ حاجت کی وجہ سے استعمال کرنا جائز ہے، بغیر حاجت کے استعمال کرنا جائز نہیں، اسی طرح مالِ غنیمت کے اندر جو کپڑے اور سامان وغیرہ ہیں وہ بھی حاجت ہے تو استعمال کیے جا سکتے ہیں، حاجت نہیں تو ان کا استعمال بھی جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَأَمَّا الثِّيَابُ وَالْمَتَاعُ“ اور باقی کپڑے اور اور سامان جو ہے ”فَيُكْرَهُ الِانْتِفَاعُ بِهَا قَبْلَ الْقِسْمَةِ“ تو ان سے فائدہ اٹھانا مکروہ ہے تقسیم سے پہلے ”مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ“ بغیر حاجت کے۔ حاجت کے بغیر ان چیزوں سے فائدہ اٹھانا تقسیم سے پہلے ہی یہ مکروہ ہے ”لِلِاشْتِرَاكِ“ بوجہ اشتراک کے کہ اس میں تمام غنیمت والے شریک ہیں ”إِلَّا أَنَّهُ يَقْسِمُ الْإِمَامُ بَيْنَهُمْ“ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی قَسَمَ يَقْسِمُ مجرد سے بھی آپ پڑھ سکتے ہیں اور بابِ تفعیل سے بھی قَسَّمَ يُقَسِّمُ دونوں کا معنی ایک ہی ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ يَقْسِمُ الْإِمَامُ بَيْنَهُمْ فِي دَارِ الْحَرْبِ إِذَا احْتَاجُوا إِلَى الثِّيَابِ وَالدَّوَابِّ وَالْمَتَاعِ“ ہاں کہتے ہیں ایک بات ہے اگر مجاہدین کو ضرورت ہے کپڑوں اور سامان وغیرہ کی، وہ محتاج ہیں تو پھر دار الحرب کے اندر بھی امام حاجت کی وجہ سے یہ چیزیں ان میں تقسیم کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”إِلَّا أَنَّهُ يَقْسِمُ الْإِمَامُ بَيْنَهُمْ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ مگر یہ کہ امام یہ چیزیں غازیوں کے درمیان تقسیم کر سکتا ہے دار الحرب میں ہی ”إِذَا احْتَاجُوا إِلَى الثِّيَابِ وَالدَّوَابِّ وَالْمَتَاعِ“ جب ان غنیمت والوں کو حاجت ہو کپڑوں کی اور سواری کے جانوروں کی اور سامان کی ”لِأَنَّ الْمُحَرَّمَ يُسْتَبَاحُ لِلضَّرُورَةِ فَالْمَكْرُوهُ أَوْلَى“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جو چیز حرام ہوتی ہے ضرورت کی وجہ سے وہ مباح ہو جاتی ہے تو مکروہ تو بطریقِ اولیٰ مباح ہو جائے گا ضرورت کی وجہ سے۔ جی۔ بھئی آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: ”الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ“ کہ ضرورتیں جو ہیں ”تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ“، محظورات ظا کے ساتھ ہے ط ظ، تو ”الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ“ ضرورتیں جو ہیں وہ ممنوع چیزوں کو بھی مباح کر دیتی ہیں یعنی حرام چیزیں بھی ضرورت کی وجہ سے مباح ہو جاتی ہیں تو مکروہ چیزیں تو بطریقِ اولیٰ جو ہیں ضرورت کی وجہ سے حلال ہوں گی بھئی۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْمُحَرَّمَ يُسْتَبَاحُ لِلضَّرُورَةِ“ اس لیے کیونکہ حرام چیز جو ہے وہ ضرورت کی وجہ سے مباح ہو جاتی ہے ”فَالْمَكْرُوهُ أَوْلَى“ تو مکروہ جو ہے وہ بطریقِ اولیٰ مباح ہوگی ”وَهَذَا لِأَنَّ حَقَّ الْمَدَدِ مُحْتَمَلٌ وَحَاجَةُ هَؤُلَاءِ مُتَيَقَّنٌ بِهَا“ بھئی یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ضرورت اور حاجت پیش آ جائے پھر بھی امام کے لیے یہ تقسیم جائز نہیں ہونی چاہیے۔ جی۔ وجہ یہ کہ ہو سکتا ہے اور مجاہدین کی کمک پہنچے، اور مجاہدین مدد کے لیے آ جائیں دار الاسلام سے اور جب وہ آئیں گے تو ان کا بھی حق بن جائے گا اس مالِ غنیمت کے اندر۔ اگر آپ یہ مالِ غنیمت انہی مجاہدین میں تقسیم کریں گے تو وہ جو بعد میں مجاہدین کی کمک پہنچے گی وہ تو محروم رہ جائیں گے۔ تو صاحبِ ہدایہ
آپ کو بتلائیں گے کہ اور کمک کے آنے کا صرف احتمال ہے، اور ان مجاہدین کی حاجت وہ تو یقینی ہے۔ لہٰذا یقینی چیز کو احتمالی چیز پر ترجیح ہوگی بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے ”لِأَنَّ حَقَّ الْمَدَدِ مُحْتَمَلٌ“ مدد، میں نے بتلایا تھا وہ جو فوجی کمک پہنچتی ہے بعد میں، وہ جو بعد میں مجاہدین پہنچیں گے وہ کیا ہے؟ اس کو مدد کہتے ہیں عربی زبان میں۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے ”لِأَنَّ حَقَّ الْمَدَدِ مُحْتَمَلٌ“ اس لیے کیونکہ فوجی کمک کا حق اس کا تو صرف احتمال ہے ”وَحَاجَةُ هَؤُلَاءِ مُتَيَقَّنٌ بِهَا“ اور یہ جو موجود ہیں ان کی حاجت تو یقینی ہے ”فَكَانَ أَوْلَى بِالرِّعَايَةِ“ تو یہ زیادہ لائق ہے رعایت کے، کہ ان کا لحاظ رکھا جائے بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِسْمَةَ فِي السِّلَاحِ“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے اسلحے کی تقسیم کو ذکر نہیں فرمایا۔ یہ کپڑے اور سامان کی تقسیم کو تو ذکر فرمایا کہ اگر حاجت ہو تو پھر یہ استعمال کیے جا سکتے ہیں یا تقسیم کیے جا سکتے ہیں، لیکن اسلحے کی تقسیم کو ذکر نہیں فرمایا۔ لیکن کہتے ہیں کوئی فرق نہیں ہے، اسلحے کا بھی وہی حکم ہے جو کپڑے اور دوسرے سامان کا ہے۔ جیسے کپڑا اور سامان بغیر حاجت کے استعمال جائز نہیں، لیکن حاجت کی وجہ سے ان کا استعمال جائز ہوتا ہے، اور اگر ساروں کو حاجت ہو تو پھر امام ان میں یہ کپڑے اور سامان تقسیم بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح اسلحے کے اندر بھی اگر تمام مجاہدین کو حاجت ہے تو امام اس اسلحے کو بھی ان سب میں تقسیم کر سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِسْمَةَ فِي السِّلَاحِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے اسلحے کے اندر تقسیم کو ذکر نہیں کیا ”وَلَا فَرْقَ فِي الْحَقِيقَةِ“ اور حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے، یعنی کپڑے اور اسلحے میں کوئی فرق نہیں ہے ”فَإِنَّهُ إِذَا احْتَاجَ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ جب کسی ایک کو حاجت پیش آ گئی ”يُبَاحُ لَهُ الِانْتِفَاعُ لَهُ“ تو اس کے لیے اس چیز سے نفع اٹھانا مباح ہو جاتا ہے ”فِي الْفَصْلَيْنِ“ دونوں فصلوں میں، یعنی چاہے کپڑے ہوں اور چاہے اسلحہ ہو، دونوں فصلوں میں جب کسی کو حاجت پیش آ جائے تو وہ چیز اس کے لیے مباح ہو جاتی ہے۔ تو یہ معنی ہے۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَإِنَّهُ إِذَا احْتَاجَ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے کسی ایک کو جب حاجت پیش آ جائے ”يُبَاحُ لَهُ الِانْتِفَاعُ لَهُ“ تو اس کے لیے نفع اٹھانا جائز ہو جاتا ہے ”فِي الْفَصْلَيْنِ“ دونوں فصلوں میں، یعنی کپڑے اور اسلحے میں ”فَإِنِ احْتَاجَ الْكُلُّ“ اور اگر سب کو حاجت پیش آ گئی ”يَقْسِمُ فِي الْفَصْلَيْنِ“ تو دونوں فصلوں میں امام تقسیم کر سکتا ہے، یعنی کپڑے بھی اور اسلحہ بھی۔
”بِخِلَافِ مَا إِذَا احْتَاجُوا إِلَى السَّبْيِ“ ہاں اگر مجاہدین کو باندیاں قید کرنے کی حاجت پیش آ جائے، کہ وہ ان باندیوں سے خدمت لینا چاہتے ہیں یا ان کے ساتھ صحبت کرنا چاہتے ہیں، کہتے ہیں نہیں، یہ کوئی حاجتِ اصلیہ نہیں ہے، لہٰذا ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا احْتَاجُوا إِلَى السَّبْيِ“ بخلاف اس کے کہ جب وہ غازی جو ہیں وہ قید کرنے کے محتاج ہوئے ”حَيْثُ لَا يُقْسَمُ“ کیونکہ اس صورت میں ان قیدیوں کو تقسیم نہیں کیا جائے گا ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَيْهِ فِي فُضُولِ الْحَوَائِجِ“ اس لیے کیونکہ ان کی جو حاجت ہے وہ زائد حاجتوں میں ہے، ان چیزوں کی جو حاجت ہے وہ کس میں سے ہے؟ وہ زائد حاجتوں میں سے ہے۔ ”فُضُولِ الْحَوَائِجِ“ یہ صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف، ایسی حاجتیں جو فضول یعنی زائد ہیں، حاجاتِ اصلیہ نہیں ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ قید کرنے کی جو ضرورت ہے ”فِي فُضُولِ الْحَوَائِجِ“ وہ زائد حاجتوں میں ہے، یعنی ان میں سے ہے۔
آگے دیکھیے:
”قَالَ: وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ مَعْنَاهُ فِي دَارِ الْحَرْبِ أَحْرَزَ بِإِسْلَامِهِ نَفْسَهُ“ یہ پانچویں بحث آ گئی اس باب کی۔ پہلی بحث کے اندر مالِ غنیمت کی تفصیل بیان فرمائی۔ دوسری بحث کے اندر یہ بیان فرمایا کہ مالِ غنیمت کہاں تقسیم کیا جائے گا۔ تیسری بحث میں یہ ذکر فرمایا کہ مالِ غنیمت کا مستحق کون کون ہوگا۔ چوتھی بحث میں یہ ذکر فرمایا کہ مالِ غنیمت میں سے کن چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے اور کن چیزوں میں سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ اب پانچویں بحث آ گئی کہ کن چیزوں کو مالِ غنیمت سمجھا جائے گا اور کن چیزوں کو مالِ غنیمت نہیں سمجھا جائے گا۔
صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، اگر ان حربیوں میں سے کوئی مسلمان ہو گیا قیدی بنانے سے پہلے، تو اس کی جان بھی محفوظ ہو گئی، جو اس کے قبضے میں مال ہے وہ بھی محفوظ ہو گیا، وہ بھی مالِ غنیمت نہیں ہے۔ اور اس کی نابالغ جو اولاد ہے اس کو بھی اس نے محفوظ کر لیا، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ اولاد جو ہے غلامی اور آزادی میں ماں کے تابع ہوتی ہے، ماں آزاد تو اولاد بھی آزاد، ماں باندی ہے تو اولاد بھی غلام اور باندیاں ہوں گے، جبکہ دین کے اندر اولاد ماں باپ میں سے جس کا دین بہتر ہو اس کے تابع ہوتے ہیں، اور ظاہر سی بات ہے دینِ اسلام تمام دینوں سے بہتر ہے، تو جب یہ شخص مسلمان ہو گیا تو اس کی نابالغ اولاد بھی اس کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوگی، اور مسلمان کو تو غلام نہیں بنایا جا سکتا، لہٰذا اس لیے اس کی نابالغ اولاد بھی محفوظ ہو گئی۔
اسی طرح یاد رکھو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس نے اگر کسی مسلمان یا ذمی کے پاس کوئی امانت رکھوائی تھی تو وہ مال بھی اس کا محفوظ ہو گیا۔ لیکن اس کی جو زمین اور جائداد ہے وہاں پر، وہ مالِ غنیمت ہے بھئی، وہ مالِ غنیمت ہے۔ وجہ یہ کہ وہ دار الحرب کے اندر ہے اس کی جائداد، اور دار الحرب کی زمینیں جو ہیں وہ تو دار الحرب والوں کے قبضے میں ہیں بھئی اور ان کے بادشاہ کے قبضے میں ہیں، تو یہ شخص، یہ حربی جو مسلمان ہوا ہے قیدی بنانے سے پہلے ہی، اس کی جائداد اور زمین وغیرہ وہ مالِ غنیمت میں شمار ہوں گی بھئی۔ اور اسی طرح اس کی جو بالغ اولاد ہے، بالغ اولاد بھی دین کے اندر اس کے تابع نہیں ہے، لہٰذا وہ بھی اگر پکڑے گئے تو وہ بھی مالِ غنیمت ہیں۔ اور اسی طرح اگر اس کا کوئی ایسا غلام ہے جو اس کی نافرمانی کرتے ہوئے دشمن کی طرف سے لڑ رہا ہے تو اس صورت میں وہ بھی مالِ غنیمت میں شمار ہوگا۔ اگر اس کا کوئی سامان کسی حربی کے پاس ہے چاہے اس نے غصب کیا ہے چاہے اس کے پاس بطورِ امانت کے ہے، تو لہٰذا وہ مال بھی اگر مسلمانوں کے قبضے میں آتا ہے وہ بھی مالِ غنیمت ہے۔ اسی طرح اگر اس کا کوئی مال جو ہے کسی مسلمان یا ذمی نے غصب کیا ہے تو وہ بھی سارا مالِ غنیمت میں شمار ہوگا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ“ اور صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ“ اور ان کفار میں سے جو مسلمان ہو گیا ”مَعْنَاهُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ معنی اس کا یہ ہے کہ دار الحرب میں ہی، دار الحرب میں ہی وہ کیا ہو گیا؟ مسلمان ہو گیا ”أَحْرَزَ بِإِسْلَامِهِ نَفْسَهُ“ تو اس نے محفوظ کر لیا اپنے اسلام کے ذریعے ”نَفْسَهُ“ اپنی ذات کو ”لِأَنَّ الْإِسْلَامَ يُنَافِي ابْتِدَاءَ الِاسْتِرْقَاقِ“ اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے وہ منافی ہے ابتدائے غلامی کے۔ جب کوئی مسلمان ہو اس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، حربی پکڑا جائے تو اس کو غلام بنایا جا سکتا ہے، اور آپ نے پڑھا ہے یہ بطورِ سزا کے ہے کہ اس حربی، اس نے دینِ اسلام قبول نہیں کیا، اس نے اللہ کا بندہ بننا قبول نہیں کیا، تو اللہ نے اسے اپنے بندوں کا بندہ بنا دیا یعنی ان کا غلام بنا دیا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِسْلَامَ يُنَافِي ابْتِدَاءَ الِاسْتِرْقَاقِ“ اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے وہ منافی ہے ابتدا سے غلام بنانے کا، کہ اگر وہ مسلمان ہو تو ابتدائے غلامی مسلمان پر نہیں ہو سکتی بھئی۔
”وَأَوْلَادَهُ الصِّغَارَ“ اور نیز اس نے محفوظ کر لیا اپنی نابالغ اولاد کو بھی۔ یہ جو مسلمان ہوا ہے اس نے اپنی نابالغ اولاد کو بھی محفوظ کر لیا ”لِأَنَّهُمْ مُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ تَبَعًا“ اس لیے کیونکہ اس کی نابالغ اولاد بھی اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے تابع ہو کر مسلمان ہیں۔ ”لِأَنَّهُمْ مُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ تَبَعًا“ اس لیے کیونکہ اس کی نابالغ اولاد بھی اس کے اسلام کی وجہ سے تابع ہو کر مسلمان ہیں۔
”وَكُلَّ مَالٍ هُوَ فِي يَدَيْهِ“ اسی طرح اس شخص نے، یہ شخص جو مسلمان ہوا ہے اس نے وہ سارا مال بھی محفوظ کر لیا جو اس کے قبضے میں ہے۔ ”وَكُلَّ مَالٍ هُوَ فِي يَدَيْهِ“ اور اس نے محفوظ کر لیا وہ سارا مال بھی جو اس کے قبضے میں ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ أَسْلَمَ عَلَى مَالٍ فَهُوَ لَهُ“ کہ جو شخص مسلمان ہوا ”عَلَى مَالٍ“ أَيْ: مَعَ مَالٍ، یہاں ”عَلَى“ کس معنی میں ہے؟ ”مَعَ“ کے معنی میں، کہ ”مَنْ أَسْلَمَ عَلَى مَالٍ“ جو شخص کسی مال کے ساتھ مسلمان ہوا ”فَهُوَ لَهُ“ تو یہ مال اسی کا ہے۔
”وَلِأَنَّهُ سَبَقَتْ يَدُهُ الْحَقِيقِيَّةُ إِلَيْهِ يَدَ الظَّاهِرِينَ غَلَبَةً“ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ عقل بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ یہ شخص جو مسلمان ہوا ہے اس کے قبضے میں جو مال ہے اس کا مالک اسی کو ہونا چاہیے، اس کو مالِ غنیمت میں شمار نہیں کرنا چاہیے۔ وجہ یہ کہ ایک ہے اس شخص کا قبضہ اور ایک ہے مجاہدین کا قبضہ، اور یہ شخص جب پہلے مسلمان ہو گیا تو اس کا قبضہ اس مال پر مقدم ہو گیا، اور جس کا قبضہ مقدم ہو وہی مالک ہوتا ہے مال کا، تو لہٰذا یہ مال اسی کا مملوک رہے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ سَبَقَتْ يَدُهُ الْحَقِيقِيَّةُ إِلَيْهِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ شخص جو مسلمان ہوا ہے اس کا حقیقی قبضہ اس مال پر سبقت کر گیا ہے۔ اس کا قبضہ سبقت کر گیا ہے کس کے قبضے پر؟ کہتے ہیں: ”يَدَ الظَّاهِرِينَ عَلَيْهِ“ اس پر جو غلبہ پانے والے ہیں ان کے قبضے پر۔ اس مال پر جو غلبہ پانے والے ہیں یعنی وہ جو غازی اور مجاہدین ہیں ان کے قبضے پر اس کا قبضہ مقدم ہو گیا ہے۔ یہ معنی ہے کہ اس کا قبضہ مقدم ہو گیا ہے ”يَدَ الظَّاهِرِينَ عَلَيْهِ“ ان لوگوں کے قبضے پر جو اس پر غالب ہوئے ہیں۔ یاد رکھو ”ظَهَرَ يَظْهَرُ“ کا معنی ظاہر ہونا بھی اور اس کے معنی غالب ہونے کے بھی ہیں، اور یہاں بھی ”الظَّاهِرِينَ“ کا معنی ہے وہ لوگ جو غالب ہوئے ہیں، یعنی مسلمان مجاہدین مراد ہیں۔ اور میری کتاب میں ”الظَّاهِرِينَ“ کے بعد لفظ ہے ”غَلَبَةً“۔ لفظ کیا ہے؟ ”غَلَبَةً“۔ تو ”الظَّاهِرِينَ“ کا معنی بھی غالب ہونے والے اور ”غَلَبَةً“ آگے مصدر آ گیا تو یہ مفعولِ مطلق بنے گا، لیکن یہ درست نہیں ہے بھئی۔ ہدایہ کے دیگر نسخوں میں صحیح عبارت موجود ہے اور وہاں ”غَلَبَةً“ کے بجائے ”عَلَيْهِ“ کا لفظ ذکر ہے، أَيْ: ”يَدَ الظَّاهِرِينَ عَلَيْهِ“ وہ جو غالب ہونے والے ہیں اس مال پر، یعنی مجاہدین۔ اس آدمی، یہ جو مسلمان ہوا ہے اس کا قبضہ مقدم ہو گیا ہے ”يَدَ الظَّاهِرِينَ عَلَيْهِ“ ان لوگوں کے قبضے پر جو اس مال پر غالب ہوئے ہیں یعنی مجاہدین۔ تو مجاہدین پر اس آدمی کا قبضہ مقدم ہے لہٰذا یہی آدمی اس مال کا مالک ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ”غَلَبَةً“ صحیح نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ مفعولِ مطلق جو ہے اس کے تین بڑے فائدے علماء نے لکھے ہیں: کہ مفعولِ مطلق یا تو تاکید کے لیے آتا ہے، یعنی مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے، یا مفعولِ مطلق جو ہے وہ عدد بیان کرنے کے لیے آتا ہے: ”ضَرَبْتُ ضَرْبَةً“ میں نے اس کی ایک مرتبہ پٹائی کی، اور کبھی یہ مفعولِ مطلق جو ہے نوع بیان کرنے کے لیے آتا ہے: ”جَلَسْتُ جِلْسَةَ الْقَارِئِ“ کہ میں قاری کی طرح بیٹھا۔ لیکن یہاں کوئی ایک فائدہ بھی اس کا نہیں بنتا بھئی۔ نہ یہ تاکید کے لیے ہو سکتا ہے کیونکہ مجاز کا احتمال یہاں نہیں آتا ذہن میں، اور نہ یہ عدد بیان کرنے کے لیے ہو سکتا ہے کہ ایک مرتبہ کا غلبہ مراد ہو، اور نہ یہ تشبیہ کے لیے ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے آگے تو کوئی مضاف الیہ ذکر ہی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ درست لفظ جو ہے یہاں ”عَلَيْهِ“ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ سَبَقَتْ يَدُهُ الْحَقِيقِيَّةُ إِلَيْهِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو مسلمان ہونے والا ہے اس کا حقیقی قبضہ وہ سبقت کر گیا ہے ”يَدَ الظَّاهِرِينَ عَلَيْهِ“ ان لوگوں کے قبضے پر، اس کا قبضہ سبقت کر گیا ہے ان لوگوں کے قبضے پر جو اس مال پر غالب ہونے والے ہیں یعنی مجاہدین۔ یعنی اس آدمی کا قبضہ مقدم ہے مجاہدین کے قبضے سے بھئی۔
آگے دیکھیے:
”أَوْ وَدِيعَةً فِي يَدِ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ“ اسی طرح اس کا وہ سامان بھی محفوظ ہو گیا جو کسی مسلمان یا ذمی کے پاس اس نے بطورِ امانت کے رکھوایا تھا، وہ بھی مالِ غنیمت میں شمار نہیں ہوگا، وہ بھی اسی آدمی کا مال ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ وَدِيعَةً فِي يَدِ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ“ اور اسی طرح اس نے محفوظ کر لیا وہ امانت بھی جو کسی مسلمان یا ذمی کے قبضے میں ہے ”لِأَنَّهُ فِي يَدٍ صَحِيحَةٍ مُحْتَرَمَةٍ“ ”لِأَنَّهُ فِي يَدٍ صَحِيحَةٍ“ اس لیے کیونکہ وہ مال جو ہے وہ امانت جو ہے ”فِي يَدٍ صَحِيحَةٍ“ وہ صحیح قبضے میں ہے۔ بھئی یاد رکھو، ایک ہے ایک شخص کے پاس امانت رکھوائی جائے تو یہ مودَع کا قبضہ صحیح ہے، اور ایک ہے کہ کوئی شخص کسی مال کو غصب کر لے۔ یاد رکھو یہ غاصب کے قبضے میں بھی مال ہے لیکن اس کا یہ قبضہ صحیح نہیں ہے، ناجائز قبضہ ہے بھئی۔ تو اس ”صَحِيحَةٍ“ کی قید کے ذریعے غاصب کے قبضے سے احتراز کیا، اور آگے ”مُحْتَرَمَةٍ“ اور یہ قبضہ محترم بھی ہے۔ یہ قبضہ محترم بھی ہے کیونکہ ذمی اور مسلمان کا جان بھی محفوظ اور مال بھی محفوظ، تو ان کا قبضہ مال پر، اس قبضے کا احترام ہے، اس قبضے کی حرمت ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر حربی کے قبضے میں کوئی چیز ہے تو اس کے قبضے کی کوئی حرمت نہیں ہے، جہاد میں جو کچھ ہمارے ہاتھ آئے گا وہ سارا غنیمت شمار ہوگا۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ فِي يَدٍ صَحِيحَةٍ مُحْتَرَمَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ جو امانت والا مال ہے یہ ایک ایسے قبضے میں ہے جو صحیح ہے اور ”مُحْتَرَمَةٍ“ اور محترم ہے، تو صحیح کے ذریعے کس سے احتراز کیا؟ غاصب کے قبضے سے، اور محترم کے ذریعے کس سے احتراز کیا؟ حربی کے قبضے سے۔ اس لیے کیونکہ یہ مال ایسے قبضے میں ہے ”صَحِيحَةٍ“ کہ وہ قبضہ صحیح ہے ”مُحْتَرَمَةٍ“ اور محترم ہے یعنی اس کی حرمت ہے، اس کی عزت ہے ”وَيَدُهُ كَيَدِهِ“ اور اس مودَع کا قبضہ بھی اسی کے قبضے کی طرح ہے۔ بھئی ایک آدمی کے پاس آپ اپنا مال بطورِ امانت کے رکھواتے ہیں تو جس کے پاس آپ نے امانت رکھوائی ہے وہ مودَع کہلاتا ہے، جس کے پاس امانت رکھوائی گئی۔ اور یاد رکھو مودَع کا قبضہ بھی مالک کے قبضے ہی کی طرح ہے کیونکہ وہ مالک کا نائب ہے، مالک نے خود چیز اس کے قبضے میں دی ہے، تو مودَع کا قبضہ بھی کس کے قبضے کی طرح ہوتا ہے؟ مالک کے قبضے کی طرح۔ یہی بیان فرما رہے ہیں: ”وَيَدُهُ كَيَدِهِ“ یہ جو اس شخص نے مال رکھوایا تھا مسلمان یا ذمی کے پاس بطورِ امانت کے، تو ان کا قبضہ بھی اسی آدمی کے قبضے کی طرح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَدُهُ كَيَدِهِ“ اور اس مودَع کا قبضہ بھی اسی کے قبضے کی طرح ہے۔
آگے دیکھیے:
”فَإِنْ ظَهَرْنَا عَلَى دَارِ الْحَرْبِ فَعَقَارُهُ فَيْءٌ“ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس مسلمان ہونے والے کی اگر کوئی زمین جائداد وغیرہ ہے دار الحرب کے اندر، وہ سارا مالِ غنیمت میں شمار ہوگا، کیونکہ وہ جو زمینیں ہیں وہ تو دار الحرب والوں کے قبضے میں ہیں اور ان کے بادشاہ کے قبضے میں ہیں۔ وجہ یہ کہ آپ کو بتلائیں گے کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک زمین پر یا غیر منقولی جائداد پر حقیقی قبضہ ہو ہی نہیں سکتا، وہاں ہمیشہ حکمی قبضہ ہوتا ہے، یعنی حکم لگا دیا جاتا ہے۔ آپ نے گھر خرید لیا تو حقیقۃً یہ گھر آپ کے قبضے میں نہیں ہے۔ بھئی منقولی چیزیں ہیں وہ تو حقیقۃً آپ کے قبضے میں ہوتی ہیں آپ ان کو جہاں چاہتے ہیں لے جاتے ہیں، لیکن یہ گھر تو یہی رہے گا آپ اس کو دوسری جگہ منتقل نہیں کر سکتے، تو جو یہ غیر منقولی جائداد ہوتی ہے شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کے اندر حقیقی قبضہ ہو ہی نہیں سکتا، اس میں صرف حکماً قبضہ ہوتا ہے یعنی حکم لگا دیا جاتا ہے کہ یہ فلاں آدمی کی چیز ہے، توجہ ہے؟ کیونکہ وہ اس جائداد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل نہیں کر سکتا۔ تو معلوم ہوا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک منقولی چیزوں کے اندر تو حقیقی قبضہ ہوتا ہے لیکن غیر منقولی جائداد ہے جیسے گھر ہے، باغ ہے، کھیت ہے یہ سب کیا ہیں؟ ان میں حکماً قبضہ ہوتا ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک زمین وغیرہ پر حقیقی قبضہ نہیں ہو سکتا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک زمین پر بھی حقیقی قبضہ ہوتا ہے بھئی۔ تو بات چل رہی تھی کہ ایک حربی مسلمان ہو گیا ہے پکڑے جانے سے پہلے ہی، تو اب اس کی جو غیر منقولی جائداد ہے وہ سارا مالِ غنیمت شمار ہوگا کیونکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس جائداد پر اس کا حقیقی قبضہ نہیں، صرف حکماً قبضہ ہو سکتا ہے لیکن دار الحرب میں حکمی قبضے کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ دار الاسلام ہوتا تو حکمی قبضہ معتبر ہوتا، لیکن یہ تو دار الحرب ہے اور دار الحرب میں حکمی قبضے کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ ظَهَرْنَا عَلَى دَارِ الْحَرْبِ“ اگر ہم غالب آ گئے دار الحرب پر ”فَعَقَارُهُ فَيْءٌ“ تو یہ جو آدمی مسلمان ہوا ہے اس کی جو غیر منقولی جائداد ہے ”فَيْءٌ“ وہ مالِ غنیمت ہے۔ بھئی یاد رکھو، ایک ہے مالِ غنیمت اور ایک ہے مالِ فے، مالِ غنیمت وہ ہے جو لڑائی کے اندر مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور یاد رکھو اس کے اندر خمس نکالا جاتا ہے، پانچواں حصہ جو ہے وہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے اور باقی چار حصے مجاہدین اور غازیوں میں تقسیم ہوتے ہیں، جبکہ مالِ فے وہ مال ہے جو بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے ہاتھ آ جائے جیسے جزیہ ہے اور جیسے خراج ہے۔ دیکھو یہ جزیہ اور خراج ہر سال مسلمانوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ بغیر لڑائی کے حاصل ہوتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مالِ فے۔ تو مالِ غنیمت وہ مال جو لڑائی میں ہاتھ آئے اور مالِ فے وہ ہے جو بغیر لڑائی کے ہاتھ آئے۔ لیکن یہاں جو آیا ”فَعَقَارُهُ فَيْءٌ“ اس فے سے مراد مطلقاً غنیمت ہے، یعنی یہ سارا اس کی جائداد کیا شمار ہوگی؟ وہ مالِ غنیمت شمار ہوگی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَعَقَارُهُ فَيْءٌ“ تو یہ شخص جو مسلمان ہوا اس کے غیر منقولی جائداد وہ مالِ غنیمت ہے ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: هُوَ لَهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی غیر منقولی جائداد اسی آدمی کی ہے ”لِأَنَّهُ فِي يَدِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اسی کے قبضے میں ہے۔ امام شافعی اور امام محمد رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ زمین اور جائداد پر بھی حقیقی قبضہ ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ فِي يَدِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ جائداد جو ہے یہ اسی آدمی کے قبضے میں ہے ”فَصَارَ كَالْمَنْقُولِ“ تو یہ منقول کی طرح ہو گیا، اور منقولی مال کے اندر تو بالاتفاق اس کا قبضہ ہوتا ہے، اس آدمی، اس مسلمان ہونے والے کا قبضہ ہے بالاتفاق وہی ان کا مالک ہے، تو یہ غیر منقولی جائداد بھی اس منقولی مال کی طرح ہو گئی کیونکہ یہ اس کے قبضے میں ہے۔ جب یہ اس کے قبضے میں ہے تو یہی شخص اس کا مالک ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَصَارَ كَالْمَنْقُولِ“ تو یہ عقار بھی جو ہے منقولی سامان کی طرح ہو گئے۔
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْعَقَارَ فِي يَدِ أَهْلِ الدَّارِ وَسُلْطَانِهَا“ کہ یہ جو غیر منقولی جائداد ہے ”فِي يَدِ أَهْلِ الدَّارِ وَسُلْطَانِهَا“ یہ وہ اہل دار اور ان کے بادشاہ کے قبضے میں ہے، یہ دار الحرب والوں کے اور ان کے بادشاہ کے قبضے میں ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”وَلَنَا أَنَّ الْعَقَارَ فِي يَدِ أَهْلِ الدَّارِ وَسُلْطَانِهَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ غیر منقولی جائداد جو ہے دار الحرب والوں اور ان کے بادشاہ کے قبضے میں ہے ”إِذْ هُوَ مِنْ جُمْلَةِ دَارِ الْحَرْبِ“ اس لیے کیونکہ یہ زمین بھی دار الحرب کے مجموعے میں سے ہے، یہ بھی کس کا حصہ ہے؟ دار الحرب کا حصہ ہے تو انہی کے قبضے میں ہے بھئی، یہاں تو مسلمانوں کی حکومت نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”إِذْ هُوَ مِنْ جُمْلَةِ دَارِ الْحَرْبِ“ اس لیے کیونکہ یہ غیر منقولی جائداد جو ہے یہ بھی دار الحرب کے مجموعے میں سے ہی ہے ”فَلَمْ يَكُنْ فِي يَدِهِ حَقِيقَةً“ تو لہٰذا یہ حقیقۃً اس آدمی کے قبضے میں نہیں ہے۔ حقیقۃً اس مسلمان ہونے والے کے قبضے میں نہیں، حکماً قبضہ ہو سکتا تھا لیکن حکماً قبضے کا تو دار الحرب میں کوئی اعتبار ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَكُنْ فِي يَدِهِ حَقِيقَةً“ تو لہٰذا یہ غیر منقولی جائداد حقیقۃً اس آدمی کے قبضے میں نہیں ہے۔
”وَقِيلَ: هَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى الْآخِرُ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا آخری قول ہے۔ بھئی متن میں تو مطلقاً آیا کہ یہ جو مسلمان ہونے والے کی غیر منقولی جائداد ہے یہ بھی مالِ غنیمت میں سے ہے، لیکن بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہی آخری قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی۔ اور اس سلسلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا ایک پہلا قول یہ تھا کہ ان کے نزدیک یہ جائداد کا یہی شخص مالک رہے گا، یہ مالِ غنیمت نہیں ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے اس سلسلے میں دو قول ہو گئے۔ پہلے قول کے مطابق اس شخص کی غیر منقولی جائداد وہ مالِ غنیمت نہیں ہے، اور دوسرے قول کے مطابق یہ بھی مالِ غنیمت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: هَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى الْآخِرُ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ امام صاحب کا قول ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا آخری قول ہے ”وَفِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْأَوَّلُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول میں اور یہی پہلا قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی ”هُوَ كَغَيْرِهِ مِنَ الْأَمْوَالِ“ کہ یہ غیر منقولی جائداد بھی اس شخص کے باقی مالوں کی طرح ہے، اور باقی مال تو اسی کے قبضے میں ہے وہی ان کا مالک ہے تو اس غیر منقولی جائداد کا بھی یہی مالک ہے، وہ مالِ غنیمت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”هُوَ كَغَيْرِهِ مِنَ الْأَمْوَالِ“ کہ یہ عقار بھی اس کے باقی مالوں کی طرح ہے ”بِنَاءً عَلَى أَنَّ الْيَدَ حَقِيقَةً لَا يَثْبُتُ عَلَى الْعَقَارِ عِنْدَهُمَا وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَثْبُتُ“ یہاں سے وہی بات کر رہے ہیں جو میں نے بیان کر دی، کہ عقار پر حقیقی قبضہ نہیں ہو سکتا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک عقار میں بھی حقیقی قبضہ ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِنَاءً عَلَى“ بناء بر اس وجہ کے ”أَنَّ الْيَدَ حَقِيقَةً“ کہ حقیقت کے اندر قبضہ جو ہے ”لَا يَثْبُتُ عَلَى الْعَقَارِ عِنْدَهُمَا“ وہ عقار پر ثابت نہیں ہو سکتا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک عقار پر حقیقۃً قبضہ نہیں ہو سکتا ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَثْبُتُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ثابت ہو سکتا ہے، عقار پر بھی حقیقی قبضہ ثابت ہو سکتا ہے۔
آگے دیکھیے:
”وَزَوْجَتُهُ فَيْءٌ“ اور اس مسلمان ہونے والے کی جو بیوی ہے، اس مسلمان ہونے والے حربی کی جو بیوی ہے ”فَيْءٌ“ وہ بھی مالِ غنیمت ہے، کیونکہ بیوی تو نہیں مسلمان ہوئی، وہ تو حربیہ ہے بھئی، لہٰذا وہ بھی کیا ہے؟ وہ مالِ غنیمت ہے یعنی باندی اس کو بنایا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَزَوْجَتُهُ فَيْءٌ“ اور اس کی بیوی جو ہے وہ بھی مالِ غنیمت ہے ”لِأَنَّهَا كَافِرَةٌ حَرْبِيَّةٌ“ اس لیے کیونکہ وہ کافرہ ہے حربیہ ہے ”لَا تَتْبَعُهُ فِي الْإِسْلَامِ“ اور وہ اسلام کے اندر اس کے تابع نہیں، نابالغ اولاد تو اس کے تابع تھی لیکن بیوی تو اس کے تابع نہیں اسلام کے اندر، تو وہ بھی مالِ غنیمت ہے۔
”وَكَذَا حَمْلُهَا فَيْءٌ“ اور اسی طرح اس عورت کا جو حمل ہے وہ بھی فے ہے، یعنی اگر بیوی حاملہ ہوئی تو وہ حمل بھی فے ہے یعنی اس کو بھی غلام بنایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا حَمْلُهَا فَيْءٌ“ اور اسی طرح اس عورت کا جو حمل ہے وہ بھی مالِ غنیمت ہے ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ”هُوَ يَقُولُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”إِنَّهُ مُسْلِمٌ تَبَعًا“ کہ اس کا حمل مسلمان ہے تابع ہو کر، یعنی باپ کے تابع ہو کر حمل بھی کیا ہے؟ مسلمان ہے ”كَالْمُنْفَصِلِ“ جیسے وہ بچہ جو جدا ہو جائے۔ جیسے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ بچہ جس کی پیدائش ہو چکی ہے، یعنی وہ جو نابالغ اولاد ہے، جیسے وہ اسلام کے اندر باپ کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوگی تو یہ حمل جو ہے یہ بھی مسلمان شمار ہوگا، اور مسلمان کو تو غلام نہیں بنایا جا سکتا لہٰذا اس عورت کا حمل آزاد ہوگا اس کو غلام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”هُوَ يَقُولُ“ وہ فرماتے ہیں ”إِنَّهُ مُسْلِمٌ تَبَعًا“ کہ یہ حمل بھی مسلمان ہے تابع ہو کر ”كَالْمُنْفَصِلِ“ جیسے کہ وہ بچہ جو جدا ہو جاتا ہے، وہ بچہ جو ماں سے جدا ہو جاتا ہے یعنی جس کی پیدائش ہو جاتی ہے، ”كَالْمُنْفَصِلِ“ جیسے وہ بچہ جو جدا ہو جاتا ہے ماں سے۔
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ عورت جو ہے یہ مالِ غنیمت ہے تو حمل تو اسی عورت کا جز ہے، تو جب ساری عورت مالِ غنیمت ہے تو اس کا جز بھی مالِ غنیمت ہوگا۔ ”وَلَنَا أَنَّهُ جُزْؤُهَا“ ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ حمل اس عورت کا جز ہے ”فَيَرِقُّ بِرِقِّهَا“ تو وہ بھی غلام ہوگا اس عورت کے غلام ہونے کی وجہ سے ”وَالْمُسْلِمُ مَحَلٌّ لِلتَّمَلُّكِ تَبَعًا لِغَيْرِهِ“ یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حمل بھی باپ کے تابع ہو کر مسلمان ہے اور مسلمان کو تو غلام نہیں بنایا جا سکتا، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ مسلمان جو ہے وہ بھی غیر کے تابع ہو کر غلام ہو سکتا ہے۔ مسلمان بھی غیر کے تابع ہو کر غلام ہو سکتا ہے، وہ اس طرح کہ ایک آدمی ایک باندی سے نکاح کر لیتا ہے تو اب اس باندی سے جو اولاد ہوگی وہ اسی باندی کے آقا کے مملوک ہوں گے۔ اگر ایک آزاد مسلمان آدمی نے ایک مسلمان باندی کے ساتھ نکاح کر لیا تو یہ جو اولاد پیدا ہوئی یہ مسلمان بھی ہے اور یہ اس باندی کے آقا کی مملوک بھی ہے، معلوم ہوا مسلمان بھی غیر کے تابع ہو کر مملوک ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُسْلِمُ مَحَلٌّ لِلتَّمَلُّكِ“ اور مسلمان محل ہے اس بات کا کہ اس کا مالک ہوا جائے ”تَبَعًا لِغَيْرِهِ“ غیر کے تابع ہو کر، غیر کے تابع ہو کر مسلمان بھی محلِ تملک ہے کہ اس کا مالک ہوا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُسْلِمُ مَحَلٌّ لِلتَّمَلُّكِ تَبَعًا لِغَيْرِهِ“ اور مسلمان بھی مملوک ہونے کا محل ہے غیر کے تابع ہو کر ”بِخِلَافِ الْمُنْفَصِلِ“ بخلاف وہ بچہ جو جدا ہو گیا، وہ حمل جو ماں سے جدا ہو گیا ہے یعنی جس کی پیدائش ہو گئی، بخلاف اس کے، یعنی اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تو ماں کا جز نہیں، جب ماں کا جز نہیں تو وہ باپ کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُنْفَصِلِ“ بخلاف اس بچے کے جو ماں سے جدا ہو چکا ہے ”لِأَنَّهُ حُرٌّ“ کیونکہ وہ تو آزاد ہے ”لِانْعِدَامِ الْجُزْئِيَّةِ عِنْدَ ذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ اس وقت جزئیت معدوم ہے، اب تو یہ ماں کا جز نہیں، بے شک ماں کو باندی بنا لیا جائے لیکن یہ تو ماں کا جز نہیں، یہ باپ کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوگا۔
”وَأَوْلَادُهُ الْكِبَارُ فَيْءٌ“ اور یہ شخص جو مسلمان ہوا اس کی جو بڑی اولاد ہے یعنی جو بالغ اولاد ہے وہ بھی مالِ غنیمت ہے ”لِأَنَّهُمْ كُفَّارٌ حَرْبِيُّونَ“ اس لیے کیونکہ وہ کفار ہیں، حربی ہیں ”وَلَا تَبَعِيَّةَ“ اور تابعیت بھی نہیں ہے، بالغ اولاد تو دین کے اندر ماں باپ کے تابع نہیں ہوتی تو یہاں تابع ہونا بھی نہیں ہے۔
”وَمَنْ قَاتَلَ مِنْ عَبِيدِهِ فَيْءٌ“ اور جس نے لڑائی کی اس کے غلاموں میں سے وہ بھی فے ہے، اس کے غلاموں میں سے جنہوں نے حربیوں کی طرف سے لڑائی کی ہے معلوم ہوا وہ آقا کی مخالفت کر رہا ہے، معلوم ہوا وہ آقا کے قبضے میں نہیں، جب آقا کے قبضے میں نہیں تو وہ بھی مالِ غنیمت شمار ہوگا۔ لیکن وہ غلام جو اس کے پاس ہیں اور اس کے تابع ہیں وہ مالِ فے نہیں، وہ مالِ غنیمت نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَاتَلَ مِنْ عَبِيدِهِ فَيْءٌ“ اور اس کے غلاموں میں سے جنہوں نے لڑائی کی وہ بھی مالِ غنیمت ہیں ”لِأَنَّهُ لَمَّا تَمَرَّدَ عَلَى مَوْلَاهُ“ تمرد کا معنی ہے نافرمانی کرنا ”لِأَنَّهُ لَمَّا تَمَرَّدَ عَلَى مَوْلَاهُ“ اس لیے کیونکہ جب اس غلام نے آقا کی نافرمانی کی ”خَرَجَ مِنْ يَدِهِ“ تو وہ آقا کے قبضے سے نکل گیا، اور جب آقا کے قبضے میں نہیں ہے تو اب یہ مالِ غنیمت ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”خَرَجَ مِنْ يَدِهِ“ یہ نافرمانی کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ”فَصَارَ تَبَعًا لِأَهْلِ دَارِهِمْ“ تو یہ ان دار والوں کے تابع ہو گیا، یہ دار الحرب والوں کے تابع ہو گیا، اور جیسے وہ مالِ غنیمت ہیں تو یہ بھی مالِ غنیمت ہوگا بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَمَا كَانَ مِنْ مَالِهِ فِي يَدِ حَرْبِيٍّ فَهُوَ فَيْءٌ“ اب صورت یہ ہے: یہ شخص مسلمان ہو گیا لیکن اس کا کچھ مال کسی حربی کے پاس موجود ہے چاہے وہ امانت کے طور پر ہو چاہے وہ غصب کے طور پر ہو وہ سارا مالِ غنیمت ہے، وہ سارا مالِ غنیمت ہے کیونکہ حربی کا قبضہ وہ قبضہ محترم نہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کا کوئی احترام نہیں ہے اس مال کو چھین لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا كَانَ مِنْ مَالِهِ فِي يَدِ حَرْبِيٍّ“ اور اس کا جو مال کسی حربی کے قبضے میں ہے ”فَهُوَ فَيْءٌ“ تو وہ مالِ غنیمت ہے ”غَصْبًا كَانَ أَوْ وَدِيعَةً“ چاہے وہ مال بطورِ غصب کے حربی کے پاس ہو ”أَوْ وَدِيعَةً“ یا بطورِ امانت کے ہو ”لِأَنَّ يَدَهُ لَيْسَتْ بِمُحْتَرَمَةٍ“ اس لیے کیونکہ اس کا قبضہ جو ہے وہ محترم نہیں ہے یعنی اس کی کوئی عزت نہیں ہے۔
”وَمَا كَانَ غَصْبًا فِي يَدِ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ فَهُوَ فَيْءٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اچھا بھئی! اگر یہ شخص جو مسلمان ہوا، اگر اس کا کچھ مال کسی مسلمان یا ذمی نے غصب کر لیا ہے تو وہ مال مالِ غنیمت میں شمار ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں، وہ مالِ غنیمت میں شمار ہوگا۔ یہ امام صاحب فرماتے ہیں۔ امام صاحب کے نزدیک اگرچہ مسلمان اور حربی جو ہیں ان کا قبضہ حرمت والا ہے لیکن یہاں انہوں نے غصب کیا ہے تو غصب کی وجہ سے یہ قبضہ صحیح نہیں، غصب کی وجہ سے قبضہ صحیح نہیں اور یہ مالک کے نائب نہیں مالک کے نائب نہیں—
نائب تو تب ہوتے اگر مالک نے خود ان کے پاس سامان رکھوایا ہوتا۔ تو یہ شخص جو مسلمان ہو گیا، یہ ہے مالک، اور اس کے مال پر کسی مسلمان یا حربی نے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے، تو ان کا قبضہ مالک کے قبضے کی طرح نہیں ہے، لہٰذا وہ مال بھی مالِ غنیمت شمار ہوگا۔
تو کہتے ہیں:
”وَمَا كَانَ غَصْبًا فِي يَدِ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ“
اور اس کا جو مال بطورِ غصب کے ہے کسی مسلمان یا ذمی کے پاس،
”فَهُوَ فَيْءٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
تو یہ بھی مالِ غنیمت ہے امام صاحب کے نزدیک،
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا يَكُونُ فَيْئًا“
اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مالِ غنیمت نہیں ہے۔
”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“
اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔
”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: كَذَا ذَكَرَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى الِاخْتِلَافَ فِي السِّيَرِ الْكَبِيرِ“
کہتے ہیں: اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ نے اختلاف ذکر فرمایا ہے سیر کبیر میں۔
بھئی متن میں آیا کہ کسی مسلمان یا ذمی کے پاس اس آدمی کا مال بطورِ غصب کے ہے تو وہ مالِ فیء ہے امام صاحب کے نزدیک، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مالِ فیء نہیں ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اس مسئلے کو امام محمد رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر فرمایا ہے سیر کبیر میں، یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ذکر نہیں کیا اس مسئلے میں۔ توجہ ہے؟ تو پھر بعض علماء پھر لکھتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس مسئلے میں امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ امام محمد رحمہ اللہ نے خود امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا تذکرہ نہیں کیا اس مسئلے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو متن میں کیا آیا؟ امام صاحب کے نزدیک یہ مال جو کسی مسلمان یا ذمی نے غصب کیا تھا یہ مالِ فیء ہے، مالِ غنیمت ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مالِ غنیمت نہیں۔ تو کہتے ہیں:
”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے:
”كَذَا ذَكَرَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یعنی امام ابو یوسف کا ذکر نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں:
”كَذَا ذَكَرَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے
”الِاخْتِلَافَ“
اس اختلاف کو
”فِي السِّيَرِ الْكَبِيرِ“
سیر کبیر میں
”وَذَكَرُوا فِي شُرُوحِ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: أَنَّ قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ مَعَ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
اور علماء نے جامع صغیر کی شروحات میں ذکر فرمایا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے ساتھ ہے۔
”لَهُمَا“
اب دلیل آ گئی صاحبین کی۔ علماء نے کیا لکھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، معلوم ہوا صاحبین کا یہ قول ہے کہ یہ مسلمان ہونے والے کا جو مال کسی مسلمان یا ذمی کے پاس بطورِ غصب کے موجود ہے یہ مالِ فیء نہیں ہے، یہ اسی کا مال ہے۔ تو اب صاحبین کی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
”لَهُمَا: أَنَّ الْمَالَ تَابِعٌ لِلنَّفْسِ“
صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ مال جو ہے وہ جان کے تابع ہوتا ہے۔ کسی کا مال اس کی ذات کے تابع ہوتا ہے، تو جب ایک شخص مسلمان ہو گیا تو اس کی جان معصوم اور محفوظ ہو گئی، اور جب اس کی جان محفوظ ہوئی تو مال تو اس کے تابع ہے، اس کا مال بھی معصوم اور محفوظ ہو گیا۔
”لَهُمَا: أَنَّ الْمَالَ تَابِعٌ لِلنَّفْسِ“
صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ مال جو ہے وہ تو ذات کے تابع ہوتا ہے
”وَقَدْ صَارَتْ مَعْصُومَةً بِالْإِسْلَامِ“
اور تحقیق اس شخص کی ذات جو ہے وہ تو محفوظ ہو چکی ہے اسلام کی وجہ سے
”فَيَتْبَعُهَا مَالُهُ فِيهَا“
لہٰذا اس ذات کا جو مال ہے وہ بھی اس عصمت کے اندر اس کے تابع ہوگا، وہ بھی مالِ معصوم بن جائے گا۔ اب وہ مالِ غنیمت نہیں ہو سکتا۔
”وَلَهُ“
اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔
”وَلَهُ: أَنَّهُ مَالٌ مُبَاحٌ“
امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو مال جس کو مسلمان یا ذمی نے غصب کیا ہے یہ مالِ مباح ہے
”فَيُمْلَكُ بِالِاسْتِيلَاءِ“
تو یہ مملوک ہو جائے گا غلبے سے۔ یعنی جب اس پر غلبہ پا لیا جائے گا اور قبضے میں آ جائے گا تو یہ مملوک ہو جائے گا۔
یاد رکھو، ضابطہ یاد رکھو، فقہاء ضابطہ ذکر فرماتے ہیں: ایک ہے انسانی جان اور ایک ہے مال۔ یاد رکھو انسانی جان کے اندر اصل حرمت ہے، کسی انسان کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ اور مال کے اندر اباحت ہے، اگر مال معصوم اور محفوظ نہیں ہے تو جس کے ہاتھ وہ مال آ گیا وہی اس کا مالک بن جائے گا، جیسے شکار ہے بھئی، شکار جس کے ہاتھ آ جائے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ تو مال کے اندر اصل کیا ہے؟ اباحت ہے، جس کے ہاتھ آ جائے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، اور دلیل اس کی کہ خود قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا“، کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ نے تمہارے لیے پیدا کیا ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے اللہ نے وہ انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے تو معلوم ہوا مال کے اندر اصل اباحت ہے، جس کے قبضے میں آ جائے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ہاں اگر وہ مالِ محفوظ ہے پھر تو جس ذمی یا مسلمان کے قبضے میں ہے وہی اس کا مالک ہے بھئی۔ تو ضابطہ کیا ہوا؟ انسانی جان کے اندر اصل حرمت ہے، کسی انسان کو قتل نہیں کیا جا سکتا، اور مال کے اندر اصل کیا ہے؟ اباحت ہے، اگر وہ مالِ معصوم نہیں ہے تو وہ اس کو لینا جائز ہے بھئی۔
تو امام صاحب کی دلیل ذکر ہو رہی ہے:
”وَلَهُ: أَنَّهُ مَالٌ مُبَاحٌ فَيُمْلَكُ بِالِاسْتِيلَاءِ“
امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو مال ہے یہ مالِ مباح ہے تو یہ مملوک ہو جائے گا غلبے کی وجہ سے۔ بھئی یہ جو مال ہے جس کو کسی ذمی یا مسلمان نے غصب کیا ہے تو یہ قبضہ صحیح نہیں ہے، تو یہ ابھی بھی مالِ مباح ہی ہے، جب یہ مالِ مباح ہے تو لہٰذا یہ بھی غنیمت میں شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں:
”أَنَّهُ مَالٌ مُبَاحٌ فَيُمْلَكُ بِالِاسْتِيلَاءِ“
یہ مالِ مباح ہے تو یہ بھی غلبے کی وجہ سے مملوک ہو جائے گا۔
”وَالنَّفْسُ لَمْ تَصِرْ مَعْصُومَةً بِالْإِسْلَامِ“
یہاں سے صاحبین کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں۔ صاحبین نے دلیل دی تھی کہ یہ جو مال ہوتا ہے یہ ذات کے تابع ہوتا ہے اور ذات تو معصوم ہو گئی کیونکہ وہ شخص مسلمان ہو گیا ہے، تو جب اس کی ذات معصوم اور محفوظ ہو گئی تو اس کے تابع ہو کر اس کا یہ والا مال جو کسی مسلمان یا ذمی نے غصب کیا ہے یہ بھی معصوم اور محفوظ ہو گیا بھئی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، اسلام لانے کی وجہ سے اس آدمی کی جان معصوم اور محفوظ نہیں ہوئی۔ اسلام لانے کی وجہ سے اس آدمی کی جان اور مال معصوم اور محفوظ نہیں ہوئی۔ چنانچہ اسی لیے یہ شخص جو دار الحرب میں مسلمان ہو گیا ہے اس کو اگر کوئی مسلمان یا ذمی قتل کر دے گا تو اس کے قتل کی وجہ سے نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی۔ معلوم ہوا اس شخص کو عصمتِ متقومہ ابھی بھی حاصل نہیں ہوئی۔
بھئی تفصیلِ کلام یاد رکھو۔ ایک ہے عصمتِ مؤثمہ، ”أَثَّمَ يُؤَثِّمُ تَأْثِيمًا“ ثا کے ساتھ ہے، اس کا معنی ہے گنہگار بنانا۔ تو یہ شخص جو دار الحرب میں مسلمان ہو گیا ہے اس کو عصمتِ متقومہ تو حاصل نہیں ہے، یعنی ایسی حفاظت جو قیمت رکھتی ہو، جو قیمت والی ہے۔ وہ دار الاسلام کے اندر آئے گا تب حاصل ہوگی۔ دار الاسلام میں اگر کوئی مسلمان یا ذمی کو کوئی قتل کرتا ہے تو وہاں قصاص بھی آ سکتا ہے اور وہاں دیت بھی آ سکتی ہے کیونکہ ان کو عصمتِ متقومہ حاصل ہے، یعنی ایسی عصمت حاصل ہے جو قیمت والی ہے۔ اب ان لوگوں کی جان قیمت والی بن گئی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عصمتِ متقومہ جو ہے یہ دار الاسلام میں حاصل ہوتی ہے اور دار الحرب کے اندر اگر کوئی شخص مسلمان ہو گیا تو اب اس کی جان محفوظ تو ہے لیکن اس کو صرف عصمتِ مؤثمہ حاصل ہے۔ عصمتِ مؤثمہ، یعنی اگر کوئی مسلمان یا ذمی اس کو قتل کرے گا تو قصاص یا دیت تو نہیں آئیں گے کیونکہ عصمتِ متقومہ حاصل نہیں، البتہ قتل کا عظیم گناہ اس شخص کو ہوگا۔ اس شخص کو قتل کا عظیم گناہ ہوگا کہ اس نے ناحق طور پر ایک مسلمان کو قتل کیا ہے۔ تو معلوم ہوا دار الحرب کے اندر جو شخص مسلمان ہو جائے اس کو عصمتِ مؤثمہ، یعنی دوسرے کو گنہگار بنانے والی حفاظت تو حاصل ہو گئی ہے، کوئی اگر اس کے ساتھ تعرض کرے گا یا قتل کرے گا تو وہ گنہگار ہوگا لیکن اس کو عصمتِ متقومہ حاصل نہیں ہے، یعنی اس کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے، یعنی اس کی وجہ سے قصاص اور دیت نہیں آئیں گے۔
تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے۔ صاحبین فرماتے تھے کہ یہ مالِ مغصوبہ جو ہے یہ بھی معصوم ہو گیا ہے کیونکہ اس شخص کی ذات معصوم ہو گئی ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، اس شخص کی ذات اسلام کی وجہ سے معصوم نہیں ہوئی۔ اسی لیے تو اس کو عصمتِ متقومہ حاصل نہیں، اس کو اگر کسی نے دار الحرب میں قتل کر دیا تو نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی۔ معلوم ہوا اسلام نے اس کی ذات کو اور اس کی جان کو ابھی تک معصوم نہیں بنایا۔
تو کہتے ہیں:
”وَالنَّفْسُ لَمْ تَصِرْ مَعْصُومَةً بِالْإِسْلَامِ“
اور اس شخص کی جان جو ہے وہ اسلام کی وجہ سے محفوظ نہیں ہوئی،
”أَلَا تَرَى أَنَّهَا لَيْسَتْ بِمُتَقَوِّمَةٍ“
کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس کی جان ابھی تک قیمت والی نہیں ہے، کوئی قتل کر دے تو قصاص یا دیت نہیں آتی۔
”إِلَّا أَنَّهُ مُحَرَّمُ التَّعَرُّضِ“
یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ اگر اسلام کی وجہ سے اس کی جان معصوم اور محفوظ نہیں ہوئی پھر تو اس کا قتل جائز ہونا چاہیے، لیکن آپ کہتے ہیں کہ اس کا قتل جائز نہیں ہے، اس آدمی سے تعرض کرنا اور اس کے پیچھے پڑنا جائز نہیں ہے، جو اس کو قتل کرے گا اس کو قتل کا عظیم گناہ ملے گا۔ تو اس کا جواب دیں گے کہ انسانی جان کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ محترم ہے، اس کو قتل کرنا جائز نہیں، اور اس آدمی کو جو قتل کرنا پہلے جائز تھا اسلام لانے سے پہلے وہ ایک عارض کی وجہ سے اور وہ عارض کیا تھا کہ یہ حربی تھا۔ اس عارض کی وجہ سے اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اس کو قتل کرنا جائز تھا، لیکن جب یہ اسلام لے آیا تو وہ شر والا جو عارض ہے وہ دور ہو گیا، اب یہ حربی نہ رہا، مسلمانوں سے جنگ کرنے والا نہ رہا، تو جب مسلمانوں سے جنگ کرنے والا نہیں تو اب اس کے ساتھ تعرض حرام ہو گیا کیونکہ انسانی جان میں اصل کیا ہے کہ انسانی جان کی حرمت ہے، اس کے ساتھ تعرض نہیں کیا جائے گا۔ اور اس کے ساتھ تعرض کیا جا رہا تھا اس کے حربی ہونے کی وجہ سے اور جب وہ حربی ہونے کی صفت ختم ہو گئی تو پھر یہ اپنی اصل پر لوٹ آیا اور اصل تو کیا ہے انسانی جان کے ساتھ تعرض نہیں کیا جا سکتا، اس کو قتل نہیں کیا جا سکتا، تو اس لیے اس کے ساتھ تعرض نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی قتل کرے گا تو اسے قتل کا عظیم گناہ ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
اور انسانی جان محترم کیوں ہے، اس کو قتل کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اس کی بھی وجہ ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ کہ وجہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے مکلف بنایا ہے، وہ ذمہ دار ہے، اس کے لیے شرعی احکام اللہ نے نازل فرمائے ہیں، تو یہ شرعی احکام پر تب ہی عمل کر سکتا ہے جب یہ زندہ رہے اور زندہ رہنا تب ہی ہوگا جب اس کی جان کو محفوظ قرار دیا جائے۔ جب یہ محفوظ ہوگا تو باقی رہے گا اور باقی رہے گا تو شریعت کے احکام پر عمل کرے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو انسان کو اللہ نے مکلف بنایا ہے لہٰذا اصل کے اعتبار سے، یعنی نفس الامر اور واقعے کے اعتبار سے اس کے ساتھ کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جا سکتا، اس کو قتل نہیں کیا جا سکتا، ہاں اگر کوئی شر والا عارض پیش آ جائے مثلاً وہ حربی ہے تو پھر اس صورت میں اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اسے قتل کرنا جائز ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ آدمی جو ہے اس کو عصمتِ متقومہ تو حاصل نہیں ہے کیونکہ عصمتِ متقومہ تو دار الاسلام میں جائے گا پھر حاصل ہوگی، البتہ یہ شخص جب مسلمان ہو گیا تو اب یہ اپنی اصل پر واپس آ گیا اور اصل کے اعتبار سے تو اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اسے قتل کرنا حرام تھا لہٰذا اب اسے کوئی قتل کرے گا تو اسے قتل کا عظیم گناہ ملے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں:
”إِلَّا أَنَّهُ مُحَرَّمُ التَّعَرُّضِ فِي الْأَصْلِ“
مگر یہ کہ اس شخص کے ساتھ تعرض کرنا حرام ہے، اس کے پیچھے پڑنا یا اسے قتل کرنا حرام ہے، اصل کے اعتبار سے۔ کیونکہ اصل میں انسانی جان محترم ہے، اس سے تعرض کرنا یا اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ کہتے ہیں:
”إِلَّا أَنَّهُ مُحَرَّمُ التَّعَرُّضِ فِي الْأَصْلِ لِكَوْنِهِ مُكَلَّفًا“
مگر یہ کہ اس شخص کے ساتھ تعرض حرام قرار دیا گیا ہے اصل کے اعتبار سے، بوجہ اس کے مکلف ہونے کے، کہ یہ مکلف ہے، اللہ نے اس کو ذمہ دار بنایا ہے اور یہ ان شرعی احکام پر تب ہی عمل کر سکتا ہے جب یہ باقی رہے، اور باقی تب ہی رہ سکتا ہے جب اس کو معصوم اور محفوظ قرار دیا جائے۔ تو کہتے ہیں:
”لِكَوْنِهِ مُكَلَّفًا“
اس کے مکلف ہونے کی وجہ سے اس سے تعرض جائز نہیں ہے
”وَإِبَاحَةُ التَّعَرُّضِ بِعَارِضِ شَرِّهِ“
اور اس کے ساتھ جو تعرض مباح ہوا تھا، یعنی اس کو جو قتل کرنا جائز تھا وہ اس کے شر کے عارض کی وجہ سے تھا کہ اس کو شر عارض تھا، یعنی یہ حربی تھا، یہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تھا بھئی۔ کہتے ہیں:
”وَإِبَاحَةُ التَّعَرُّضِ بِعَارِضِ شَرِّهِ وَقَدِ انْدَفَعَ بِالْإِسْلَامِ“
اور اس کے ساتھ جو تعرض مباح تھا وہ اس کے شر کے عارض کی وجہ سے تھا اور تحقیق وہ شر والا عارض جو ہے وہ تو دور ہو گیا اسلام کی وجہ سے،
”بِخِلَافِ الْمَالِ“
بخلاف مال کے
”لِأَنَّهُ خُلِقَ عُرْضَةً لِلِامْتِهَانِ“
عرضہ کہتے ہیں نشانے کو، عرضہ کسے کہتے ہیں؟ نشانہ۔ اور امتهان بھئی، امتهان کا معنی ہے حقیر اور معمولی ہونا۔ یہ مَہِين سے ہے، مَہِين کسے کہتے ہیں؟ حقیر اور معمولی چیز کو، تو اسی سے امتهان بھی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْمَالِ لِأَنَّهُ خُلِقَ عُرْضَةً لِلِامْتِهَانِ“
بخلاف مال کے اس لیے کیونکہ مال جو ہے اس کو تو حقارت کا نشانہ بنا کر پیدا کیا گیا ہے۔ مال جو ہے وہ تو حقارت کا نشانہ ہے، کیا معنی؟ بھئی دیکھیے، یہ جو لوگ مال جمع کرتے ہیں، وہ مال کس لیے جمع کرتے ہیں؟ کہ اس مال کو خرچ کر کے وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرتے ہیں تو مال دے دیتے ہیں اور اپنی ضرورت کی چیز لے لیتے ہیں، تو جو بھی شخص ہے وہ مال اسی لیے کماتا ہے کہ اس کے ذریعے اپنی ضرورتیں پوری کرے تو مال ہوتا ہی خرچ کرنے کے لیے ہے، اور جب ایک چیز آپ خرچ کر رہے ہیں وہ دوسرے کے حوالے کر رہے ہیں معلوم ہوا آپ کے نزدیک یہ چیز اہم نہیں ہے اور دوسری چیز جو لے رہے ہیں وہ آپ کے نزدیک اہم ہے، تو گویا مال کی آپ اہانت کر رہے ہیں دوسروں کو دے کر اس کے بدلے میں دوسری چیزیں لے کر۔ تو معلوم ہوا مال جو ہے وہ حقارت کا نشانہ ہے، اس کو پیدا ہی بطورِ حقارت کے نشانے کے کیا گیا ہے کہ اس کو لوگ خرچ کر کے اپنی ضرورتیں پوری کریں، بات بھی سمجھ میں آئی یا نہیں؟ مال کو خرچ کیا جاتا ہے، آپ مال دیتے ہیں اور گاڑی خریدتے ہیں، معلوم ہوا یہ مال آپ کے نزدیک ضروری نہیں ہے بلکہ ضروری چیز گاڑی ہے تو دیکھو مال کی آپ اہانت کر رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْمَالِ لِأَنَّهُ خُلِقَ عُرْضَةً لِلِامْتِهَانِ“
بخلاف مال کے اس لیے کیونکہ مال کو تو پیدا کیا گیا ہے حقارت کے لیے بطورِ نشانے کے
”فَكَانَ مَحَلًّا لِلتَّمَلُّكِ“
تو مال جو ہے وہ محل ہوگا کہ اس کا مالک ہوا جائے۔ مال محل ہے، اس کا مالک ہوا جا سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ نفس جو ہے وہ تو اصل ہی اس کے اندر یہ ہے اس کے ساتھ تعرض نہیں کیا جا سکتا، لیکن مال کو تو پیدا ہی حقارت کے لیے کیا گیا ہے لہٰذا اس کا مالک ہوا جا سکتا ہے۔ ہاں، البتہ اگر کسی مسلمان یا ذمی کا مال ہے وہ تو مالِ معصوم اور مالِ محفوظ ہے اس پر تو آپ قبضہ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تو پہلے ہی ان کے قبضے میں ہے، ان کے علاوہ حربیوں کا جو مال ہے تو حربیوں کا قبضہ تو محترم نہیں ہے لہٰذا اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”فَكَانَ مَحَلًّا لِلتَّمَلُّكِ“
تو مال جو ہے وہ محل ہے اس بات کا کہ اس کا مالک ہوا جائے، اس کا مالک بنا جائے
”وَلَيْسَتْ فِي يَدِهِ حُكْمًا“
اور نیز یہ مال اس شخص کے قبضے میں نہیں ہے حکم کے اعتبار سے۔ بھئی یہ شخص مسلمان ہو گیا ہے اور اس کے مال پر ایک مسلمان یا ذمی نے قبضہ کیا تھا، تو اب وہ مسلمان یا ذمی کا جو قبضہ ہے مال پر وہ اس مالک کا قبضہ نہیں شمار ہوگا کیونکہ انہوں نے مال غصب کیا ہے، ان کے پاس کوئی مال بطورِ امانت کے نہیں ہے بھئی، تو ان کا قبضہ مالک کا قبضہ نہیں۔ معلوم ہوا حقیقت کے اعتبار سے بھی مالک کا قبضہ نہیں اور حکم کے اعتبار سے بھی مالک کا قبضہ نہیں کیونکہ وہ مالک کے نائب نہیں ہیں۔ تو اس مالِ مغصوبہ پر نہ مالک کا حقیقتاً قبضہ ہے اور نہ حکماً قبضہ ہے لہٰذا یہ مالِ معصوم نہیں۔ جب مالِ معصوم نہیں تو اس پر مسلمان قبضہ کریں گے تو یہ بھی مالِ غنیمت میں شمار ہوگا۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَيْسَتْ فِي يَدِهِ حُكْمًا فَلَمْ تَثْبُتِ الْعِصْمَةُ“
اور یہ مالِ مغصوبہ جو ہے یہ بھی اس شخص کے قبضے میں نہیں ہے حکم کے اعتبار سے، یعنی نہ حقیقتاً اس کا قبضہ ہے اور نہ حکماً اس کا قبضہ ہے، لہٰذا اس مال کی عصمت ثابت نہ ہوئی۔ اس مال کی عصمت ثابت نہیں، یہ مالِ معصوم نہیں، یہ مالِ غنیمت میں شمار ہوگا۔
آگے دیکھیے:
”وَإِذَا خَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَعْلِفُوا مِنَ الْغَنِيمَةِ وَلَا يَأْكُلُوا مِنْهَا“
بھئی یہ اس باب کی آخری بحث آ گئی، اس کے اندر صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ غنیمت کو جب دار الاسلام منتقل کر دیا جائے تو اب کیا اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ مثلاً مجاہدین نے وہاں غنیمت میں سے اپنے جانوروں کے لیے چارہ لیا تھا یا کھانے وغیرہ کی چیزیں لی ہوئی تھیں تو کیا اب وہ یہاں اس کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ وہاں ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ان چیزوں کے استعمال کی اجازت تھی، لیکن جب دار الاسلام آ گئے ہیں اب کوئی ضرورت نہیں ہے لہٰذا ان چیزوں کو غنیمت میں واپس جمع کروایا جائے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا خَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَعْلِفُوا مِنَ الْغَنِيمَةِ وَلَا يَأْكُلُوا مِنْهَا“
اور جب مسلمان دار الحرب سے نکل جائیں تو ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو چارہ کھلائیں غنیمت میں سے اور ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ غنیمت میں سے خود کھائیں
”لِأَنَّ الضَّرُورَةَ قَدِ ارْتَفَعَتْ“
اس لیے کیونکہ ضرورت تحقیق وہ اٹھ گئی، یعنی ختم ہو گئی، اب ضرورت اور حاجت نہیں ہے۔ دار الحرب میں تو حاجت تھی، وہاں تو کھانے پینے کی چیزیں نہیں پہنچ سکتی تھیں تو وہاں غنیمت سے فائدہ اٹھانا جائز تھا، لیکن یہاں اب دار الاسلام میں حاجت نہیں تو اب ان چیزوں سے فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ الضَّرُورَةَ قَدِ ارْتَفَعَتْ“
اس لیے کیونکہ ضرورت جو ہے وہ ختم ہو چکی
”وَالْإِبَاحَةُ بِاعْتِبَارِهَا“
اور اباحت جو ہے وہ ضرورت کے اعتبار سے تھی، ان چیزوں کا مباح ہونا ضرورت کی وجہ سے تھا
”وَلِأَنَّ الْحَقَّ قَدْ تَأَكَّدَ“
اور نیز اس لیے کیونکہ مسلمانوں کا حق تحقیق وہ پکا ہو گیا، یعنی مجاہدین اب اس مالِ غنیمت کے مالک بن گئے ہیں بھئی، اب کسی اور کے لیے ان سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ کہتے ہیں:
”وَلِأَنَّ الْحَقَّ قَدْ تَأَكَّدَ حَتَّى يُورَثَ نَصِيبُهُ“
اور نیز اس لیے کیونکہ ان مسلمانوں کا حق پختہ ہو گیا یہاں تک کہ وراثت جاری ہوگی ان کے حصے میں، اب اگر کوئی مجاہد مر جاتا ہے تو اس کے حصے کے اندر وراثت بھی جاری ہوگی، وہ اس کے وارثوں کو ملے گا۔ تو کہتے ہیں:
”حَتَّى يُورَثَ نَصِيبُهُ“
یہاں تک کہ اس کا حصہ جو ہے وہ بھی موروث ہوگا
”وَلَا كَذٰلِكَ قَبْلَ الْإِخْرَاجِ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“
اور دار الاسلام کی طرف نکالنے سے پہلے ایسا نہیں تھا
”وَمَنْ فَضَلَ مَعَهُ عَلَفٌ أَوْ طَعَامٌ“
اور جس شخص کے پاس زائد ہو چارہ یا کھانا، کسی کے پاس اگر باقی بچ گیا ہے چارہ یا کھانا، فَضَلَ يَفْضُلُ کا معنی ہے ضرورت سے زائد ہونا یا باقی بچنا بھئی۔ کہتے ہیں:
”وَمَنْ فَضَلَ مَعَهُ عَلَفٌ أَوْ طَعَامٌ رَدَّهُ إِلَى الْغَنِيمَةِ“
اور جس کے پاس چارہ یا کھانا باقی بچ جائے تو وہ اس کو غنیمت میں واپس لوٹائے گا
”مَعْنَاهُ: إِذَا لَمْ تُقْسَمْ“
معنی اس کا یہ ہے جب غنیمت کو تقسیم نہ کیا گیا ہو۔
بھئی متن میں صرف اتنا آیا کہ جس کے پاس زائد چارہ یا کھانا ہے تو وہ غنیمت میں واپس لوٹائے گا۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”مَعْنَاهُ: إِذَا لَمْ تُقْسَمْ“، معنی اس کا یہ ہے جب غنیمت کو ابھی تقسیم نہ کیا گیا ہو۔ بھئی اگر غنیمت تقسیم ہو گئی ہے تو اب غنیمت میں لوٹانے کا کیا معنی؟ غنیمت تو تقسیم ہو چکی ہے اور تمام مجاہدین تک یہ مال پہنچانا تو اب ممکن نہیں، تو پھر بتلائیں گے کہ اگر غنیمت تقسیم ہو چکی ہے تو پھر اگر مجاہد مالدار ہے تو وہ اس کھانے یا چارے وغیرہ کو صدقہ کر دے اور اگر وہ مجاہد فقیر ہے تو وہ خود بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں:
”مَعْنَاهُ: إِذَا لَمْ تُقْسَمْ“
صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے جب غنیمت کو تقسیم نہ کیا گیا ہو
”وَعَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى مِثْلُ قَوْلِنَا“
اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھی ہمارے قول کے مثل ہی روایت ہے، یعنی وہ بھی یہی فرماتے ہیں
”وَعَنْهُ: أَنَّهُ لَا يُرَدُّ“
اور ان سے ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ مجاہدین واپس دار الاسلام پہنچ گئے اور کچھ کے پاس زائد چارہ یا کھانا موجود ہے تو ایک روایت امام شافعی رحمہ اللہ سے اسی طرح کی ہے جیسے ہمارا مذہب ہے کہ مالِ غنیمت میں یہ چیزیں واپس کی جائیں گی، اور ایک روایت یہ ہے کہ ان کے نزدیک ان چیزوں کو واپس نہیں کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَعَنْهُ: أَنَّهُ لَا يُرَدُّ اعْتِبَارًا بِالْمُتَلَصِّصِ“
اور امام شافعی رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ یہ زائد چیزیں واپس نہیں کی جائیں گی، متلصص پر قیاس کرتے ہوئے۔
لِصٌّ بھئی صاد کے ساتھ، لِصٌّ عربی میں چور کو کہتے ہیں، اور مُتَلَصِّصْ یہ بابِ تفعل ہے بھئی اور بابِ تفعل کے اندر تکلف اور بناوٹ والا معنی پایا جاتا ہے تو متلصص کا معنی ہوا: بتکلف چور بننے والا۔ اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو چھپ کر دار الحرب چلے گئے اور وہاں حملہ کر کے کچھ مال چھین کر لے آئے، تو یہ متلصص ہیں بھئی، چور تو نہیں لیکن بتکلف چور جیسا کام کیا انہوں نے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو متلصص ہیں، یہ جو کچھ مسلمان دار الحرب سے مال لے کر آ جاتے ہیں یہ اس مال کے مالک ہو جاتے ہیں، تو جیسے یہ مالک ہو جاتے ہیں اسی طرح یہ مجاہدین بھی جب دار الاسلام کے اندر آئے اور ان کے پاس کچھ زائد چارہ یا کھانا تھا تو یہ اس کے مالک بن جائیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”وَعَنْهُ: أَنَّهُ لَا يُرَدُّ اعْتِبَارًا بِالْمُتَلَصِّصِ“
اور امام شافعی رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ یہ زائد چیزیں واپس نہیں کی جائیں گی متلصص پر قیاس کرتے ہوئے
”وَلَنَا: أَنَّ الِاخْتِصَاصَ ضَرُورَةُ الْحَاجَةِ“
اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اختصاص حاجت کی ضرورت کی وجہ سے تھا۔ بھئی یہ عبارت پہ نظر رکھیں، ”وَلَنَا: أَنَّ الِاخْتِصَاصَ ضَرُورَةُ الْحَاجَةِ“، ”الِاخْتِصَاصَ“ اس کو بنائیں گے انّ کا اسم، ”أَنَّ الِاخْتِصَاصَ“، اور ”ضَرُورَةُ الْحَاجَةِ“ اس کو خبر بنائیں گے اور خبر بھی مرفوع ہوتی ہے، اور ”ضَرُورَةَ الْحَاجَةِ“ اس پر آپ نصب بھی پڑھ سکتے ہیں، اس صورت میں پھر یہ مفعول لہ بن جائے گا اور انّ کی خبر محذوف نکالنا پڑے گی کہ ”أَنَّ الِاخْتِصَاصَ ثَابِتٌ ضَرُورَةَ الْحَاجَةِ“، کہ اختصاص ثابت ہے حاجت کی ضرورت کی وجہ سے۔ اس صورت میں پھر یہ مفعول لہ بن جائے گا، جیسے ”قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا“، میں جنگ سے بیٹھا بزدلی کی وجہ سے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ”أَنَّ الِاخْتِصَاصَ ثَابِتٌ ضَرُورَةَ الْحَاجَةِ“، کہ اختصاص ثابت ہے حاجت کی ضرورت کی وجہ سے۔ بھئی دیکھیے، اختصاص ثابت ہے حاجت کی ضرورت کی وجہ سے، معنی یہ ہے کہ یہ جو مجاہدین جب دار الحرب میں تھے تو ان کو حاجت تھی تو ان کے حاجت کی وجہ سے یہ جو چارہ اور کھانا وغیرہ لیتے تھے وہ ان کا ہو جاتا تھا، وہ اس کو استعمال کر لیتے تھے، اس چارے اور کھانے کا ان کے ساتھ اختصاص ہو جاتا تھا، کس وجہ سے؟ ضرورت کی وجہ سے، لیکن جب دار الاسلام آ گئے ہیں اب ضرورت نہ رہی لہٰذا اب یہ کھانا اور چارہ اس کا ان کے ساتھ اختصاص نہیں۔
اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ نے ان کو قیاس کیا تھا متلصص پر، تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ نہیں، آپ اس کو متلصص پر قیاس نہیں کر سکتے۔ متلصص وہ مسلمان جو وہاں جا کر کچھ مال چھین لیتے ہیں تو وہ دار الاسلام لانے سے پہلے بھی اس کے مالک ہیں اور دار الاسلام لانے کے بعد بھی اس کے مالک ہیں، جبکہ یہ مجاہدین جو ہیں یہ تو دار الاسلام لانے سے پہلے اس کے مالک نہیں ہیں بھئی، تو دونوں میں فرق ہے تو آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَنَا: أَنَّ الِاخْتِصَاصَ ضَرُورَةُ الْحَاجَةِ“
اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جو ان چیزوں کے استعمال کا اختصاص تھا یہ ان مجاہدین کی حاجت کی ضرورت کی وجہ سے تھا
”وَقَدْ زَالَتْ“
اور تحقیق یہ ضرورت تو ختم ہو چکی
”بِخِلَافِ الْمُتَلَصِّصِ“
بخلاف متلصص کے
”لِأَنَّهُ كَانَ أَحَقَّ بِهِ قَبْلَ الْإِحْرَازِ“
اس لیے کیونکہ وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے احراز سے پہلے، اس کو محفوظ کرنے سے پہلے، یعنی دار الاسلام لانے سے پہلے بھی وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے
”فَكَذَا بَعْدَهُ“
تو احراز کے بعد، یعنی دار الاسلام لانے کے بعد بھی وہ اس کا زیادہ حقدار ہوگا۔ تو دونوں میں فرق آ گیا تو آپ اس مجاہد کو اس متلصص پر قیاس نہیں کر سکتے۔
آگے دیکھیے:
”وَبَعْدَ الْقِسْمَةِ تَصَدَّقُوا بِهِ إِنْ كَانُوا أَغْنِيَاءَ“
یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: اگر مالِ غنیمت تقسیم ہو چکا ہے اور کچھ مجاہدین کے پاس ابھی بھی وہ زائد کھانا یا چارہ موجود ہے، تو اب غنیمت کے اندر تو واپس کر نہیں سکتے کیونکہ غنیمت تو تقسیم ہو چکی ہے، تو پھر اگر وہ مجاہد مالدار ہے تو پھر وہ اس چارے یا کھانے کو فقراء پر صدقہ کر دے گا اور اگر وہ مجاہد خود غریب ہے اور محتاج ہے تو اس کے لیے خود بھی اس چارے یا کھانے سے نفع اٹھانا جائز ہے۔
تو کہتے ہیں:
”وَبَعْدَ الْقِسْمَةِ تَصَدَّقُوا بِهِ إِنْ كَانُوا أَغْنِيَاءَ“
اور تقسیم کے بعد وہ اس زائد چیز کو صدقہ کر دیں گے اگر وہ غازی مالدار ہیں
”وَانْتَفَعُوا بِهِ إِنْ كَانُوا مَحَاوِيجَ“
اور وہ غازی خود بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر وہ ضرورت مند لوگ ہیں۔
”مَحَاوِيجَ“ جمع ہے ”مُحْوِجْ“ کی، مُحْوِجْ اسمِ فاعل بھئی، جو حاجت مند ہو، ضرورت مند ہو۔ حاجت بھئی یہ حاجَ يَحُوجُ سے ہے تو اسی سے مُحْوِجْ اسمِ فاعل ہے بابِ افعال سے اور اس کی جمع کیا ہے؟ مَحَاوِيجَ بھئی، جو محتاج لوگ ہیں۔ تو کہتے ہیں:
”وَانْتَفَعُوا بِهِ إِنْ كَانُوا مَحَاوِيجَ“
اور وہ غازی جو ہیں خود بھی اس زائد چیز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر وہ ضرورت مند ہیں
”لِأَنَّهُ صَارَ فِي حُكْمِ اللُّقَطَةِ“
اس لیے کیونکہ یہ لقطے کے حکم میں ہو گیا، لقطہ بھئی، لقطہ کہتے ہیں راستے میں کوئی چیز کسی کو مل جائے۔ راستے میں کسی کی کوئی چیز کسی کو مل جائے تو یاد رکھو اس چیز اٹھانے والے پر لازم ہے کہ وہ اس چیز کو اس کے مالک تک پہنچائے۔ اگر پوری کوشش کے باوجود کوئی صورت نہ بن سکی مالک تک وہ چیز پہنچانے کی تو پھر اس صورت میں اگر مالدار آدمی ہے تو اس چیز کو فقراء پر صدقہ کر دے اور اگر وہ غریب آدمی ہے تو خود بھی اس کو استعمال کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّهُ صَارَ فِي حُكْمِ اللُّقَطَةِ“
اس لیے کیونکہ یہ جو زائد چیزیں ہیں یہ لقطہ کے حکم میں ہو گئیں
”لِتَعَذُّرِ الرَّدِّ عَلَى الْغَانِمِينَ“
اس وجہ سے کہ غنیمت والوں پر اس کو لوٹانا ممکن نہ رہا کیونکہ غنیمت تقسیم ہو چکی ہے
”وَإِنْ كَانُوا انْتَفَعُوا بِهِ بَعْدَ الْإِحْرَازِ تُرَدُّ قِيمَتُهُ إِلَى الْمَغْنَمِ إِنْ كَانَ لَمْ يُقْسَمْ“
اور اگر مجاہدین نے ان چیزوں سے فائدہ اٹھایا دار الاسلام میں اس کو محفوظ کرنے کے بعد، تو پھر ان چیزوں کی قیمت جو ہے وہ مالِ غنیمت میں لوٹائی جائے گی اگر اس مالِ غنیمت کو ابھی تقسیم نہیں کیا گیا۔ اگر ان مجاہدین نے دار الاسلام آنے کے بعد بھی ان چیزوں سے فائدہ اٹھایا ہے تو اگر غنیمت ابھی تقسیم نہیں ہوئی تو جتنا فائدہ اٹھایا ہے ان کی قیمت مالِ غنیمت میں جمع کروانا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں:
”تُرَدُّ قِيمَتُهُ إِلَى الْمَغْنَمِ إِنْ كَانَ لَمْ يُقْسَمْ“
کہ اس کی قیمت لوٹائی جائے گی مالِ غنیمت میں اگر مالِ غنیمت کو ابھی تقسیم نہیں کیا گیا
”وَإِنْ قُسِمَتِ الْغَنِيمَةُ فَالْغَنِيُّ يَتَصَدَّقُ بِقِيمَتِهِ وَالْفَقِيرُ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“
اور اگر غنیمت کو تقسیم کر دیا گیا ہے تو مالدار غازی ان چیزوں کی قیمت صدقہ کرے گا اور فقیر پر کوئی چیز نہیں ہوگی، اگر اس نے خود استعمال کر لیا ہے تو فقیر پر کوئی چیز نہیں ہے
”لِقِيَامِ الْقِيمَةِ مَقَامَ الْأَصْلِ“
دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ اگر دار الاسلام میں آنے کے بعد غازی نے ان چیزوں سے فائدہ اٹھا لیا اور وہ مالدار ہے تو پھر قیمت کیوں صدقہ کرنا پڑے گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اصل چیز جو ہے وہ تو یہ استعمال کر چکا ہے تو اصل تو صدقہ کر نہیں سکتے تو قیمت اس کا قائم مقام ہو جائے گی تو قیمت کو صدقہ کرے گا بھئی، یہ معنی ہے۔
”لِقِيَامِ الْقِيمَةِ مَقَامَ الْأَصْلِ“
اس وجہ سے کہ قیمت جو ہے اصل کے قائم مقام ہو گئی
”فَأَخَذَ حُكْمَهُ“
تو قیمت نے اس کا حکم لے لیا، اس اصل والا حکم لے لیا، تو جیسے اصل کو واپس لوٹانا ضروری تھا تو اب قیمت کو کیا کیا جائے گا؟ واپس لوٹایا جائے گا اور اگر غنیمت تقسیم ہو چکی ہے تو پھر اس قیمت کو صدقہ کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔