آگے سبق دیکھیے بھئی:
وَإِذَا أَقَرَّ الْعَبْدُ الْمَحْجُورُ عَلَيْهِ بِسَرِقَةِ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ بِعَيْنِهَا فَإِنَّهُ يُقْطَعُ وَتُرَدُّ السَّرِقَةُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُقْطَعُ وَالْعَشَرَةُ لِلْمَوْلَى، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يُقْطَعُ وَالْعَشَرَةُ لِلْمَوْلَى، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَمَعْنَى هَذَا إِذَا كَذَّبَهُ الْمَوْلَى.
بھئی گزشتہ سبق کے اندر قطع کی شرائط چل رہی تھیں بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ قطع کے لیے چھ شرطیں ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو یہ چھ شرطیں پوری ہوں گی تو تب چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی پوری نہ ہوئی تو پھر اس صورت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اور پہلی شرط آپ نے یہ پڑھی تھی کہ اس قطع کی وجہ سے چور کا چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے یا چور کے چلنے کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اگر چور کا بایاں ہاتھ پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے یا شل ہے، یا چور کا دایاں پاؤں پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے یا شل ہے تو پھر چور کا دایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اور دوسری شرط آپ نے یہ پڑھی تھی کہ قطع کے لیے خصومت شرط ہے، یعنی یوں کہیں کہ مطالبہ شرط ہے، یعنی مالک مطالبہ کرے یا مالک کا جو نائب ہے یعنی امین یا ضامن وہ مطالبہ کرے پھر ہی چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے، ویسے نہیں۔
اور تیسری شرط یہ ذکر ہوئی تھی کہ قطع کے وقت مسروق منہ کا موجود ہونا ضروری ہے، پھر ہی قطع کیا جائے گا اگر وہ موجود نہیں تو قطع نہیں کیا جائے گا۔
اور چوتھی شرط آپ نے یہ پڑھی تھی کہ جس وقت قطع کیا جائے اس وقت بھی خصومت کا ہونا ضروری ہے چاہے یہ خصومت ظاہراً ہو چاہے تقدیراً ہو بھئی، تو اس وقت خصومت کا ہونا ضروری ہے۔
اور پانچویں شرط آپ نے یہ پڑھی تھی کہ قطع کے وقت بھی نصاب کا کامل ہونا شرط ہے۔ جس طرح قضائے قاضی کے وقت نصاب کا کامل ہونا شرط ہے اسی طرح ہاتھ کاٹتے وقت بھی اس چوری کے نصاب کا کامل ہونا شرط ہے۔
اور چھٹی شرط آپ نے یہ پڑھی تھی کہ قطع سے پہلے اگر چور نے یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ مال میرا ہی ہے جس کو میں نے چرایا تھا تو اس صورت میں بھی قطع ساقط ہو جائے گی، تو معلوم ہوا قطع کے وقت چور کا ملکیت کا دعویٰ نہ کرنا شرط ہے بھئی۔ تو یہ چھ شرطیں تھیں بھئی، اور صاحبِ ہدایہ نے ان کو صراحۃً ذکر تو نہیں فرمایا لیکن جو مسائل وہ ذکر فرما رہے ہیں ان سے یہ شرطیں واضح طور پر مفہوم ہوتی ہیں بھئی۔
تو مسائل صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائے اور گزشتہ سبق میں ہم نے مسئلہ پڑھا تھا کہ امین یا ضامن جو ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے، جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ امین یا ضامن جو ہے وہ قطع کے لیے خصومت نہیں کر سکتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ یہ جو امین یا ضامن ہے یہ مال کے مالک نہیں، تو یہ مال کو واپس لینے کے لیے سرے سے خصومت کر ہی نہیں سکتے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ خصومت کر تو سکتے ہیں لیکن ان کی خصومت صرف مال کی حفاظت کے لیے ہے، لہٰذا قطع کے حق میں ان کی خصومت ظاہر نہیں ہوگی اور اس کی وجہ سے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ اگر ان کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو ان کو شریعت نے جو خصومت کا حق دیا تھا وہ تو مال کی حفاظت کے لیے دیا تھا اور قطع کی وجہ سے تو مال کی حفاظت ہی ساقط ہو جاتی ہے، مال کی عصمت ہی ساقط ہو جاتی ہے، وہ مالِ محفوظ رہتا ہی نہیں، تو لہٰذا اس لیے ان لوگوں کی خصومت جو ہے وہ صرف اس مال کو واپس لینے کے لیے ہو سکتی ہے لیکن قطع کے لیے نہیں ہو سکتی۔
جبکہ ہم کہتے ہیں کہ نہیں، یہ لوگ خصومت بھی کر سکتے ہیں اور ان کی خصومت قطع کے لیے بھی معتبر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ جو چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے یہ کوئی خصومت کی وجہ سے نہیں کاٹا جاتا، خصومت کی وجہ سے تو صرف چور کا جرم ظاہر ہوتا ہے، اصل میں تو وہ ہاتھ کاٹنے کا مستحق ہو چکا ہے چوری کی وجہ سے ہی۔ جس وقت چور نے چوری کی اس وقت ہی وہ مستحق ہو گیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، تو چوری کا یہ فعل ہی تقاضا کرتا ہے چور کے ہاتھ کے کاٹنے کا۔ اور یہ لوگ جو ہیں یہ خصومت کر سکتے ہیں تاکہ یہ مال ان کو واپس مل جائے اور تاکہ مالک کو اس کا حق لوٹا سکیں، اس لیے کیونکہ ان میں سے کچھ امین ہیں اور امین کے ذمے ہوتا ہے کہ وہ مال مالک کو واپس کرے اور کچھ ان میں سے ضامن ہیں اور ضامن کے ذمے ہے کہ وہ مال واپس کرے ورنہ اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ تو لہٰذا یہ ان لوگوں کا حق ہے کہ یہ خصومت کریں۔ جب یہ اپنے حق کی وجہ سے خصومت کر رہے ہیں تو معلوم ہوا یہ خصومت ہر اعتبار سے معتبر ہے، اور جب یہ خصومت ہر اعتبار سے معتبر ہے تو قطع کے حق میں بھی خصومت معتبر ہو گئی۔ تو جب انہوں نے دو گواہ پیش کر دیے مال کو واپس لینے کے لیے تو اس کی وجہ سے چوری بھی ظاہر ہو گئی اور جب چوری ظاہر ہو گئی تو اب یہ اللہ کا حق ہے کہ چور کو سزا دی جائے اور اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔
اور باقی امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس چوری کی وجہ سے مال کی حفاظت ساقط ہو جاتی ہے تو اس کا جواب بھی صاحبِ ہدایہ نے دیا کہ یہ جو مال کی حفاظت ساقط ہوتی ہے یہ قطع کے ساتھ ضروری ہے کیونکہ ہمارے نزدیک قطع اور ضمان اکٹھے نہیں ہو سکتے، تو جب بھی قطع کیا جائے گا اس کے ساتھ ضروری طور پر یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ مال کی عصمت ساقط ہوئی ہے۔ تو یہاں پر جو مال کی عصمت ساقط ہو رہی ہے وہ اصل میں مقصود نہیں ہے وہ ضمناً ساقط ہو رہی ہے، اس کے بغیر قطع ہو ہی نہیں سکتا، تو قطع کے ساتھ ضروری ہے کہ مال کی عصمت ساقط ہو جائے یعنی یوں کہیں یہاں پر مال کی جو عصمت ساقط ہو رہی ہے وہ ضمناً ساقط ہو رہی ہے، ضمناً اور طبعاً ساقط ہو رہی ہے اور جو چیز ضمناً اور طبعاً ثابت ہو اس کی طرف نظر نہیں کی جاتی اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا، لہٰذا اس بات کو نہیں دیکھا جائے گا کہ مال کی عصمت ساقط ہو رہی ہے، بس چور کو اس کے جرم کی سزا دی جائے گی بھئی۔
پھر یہاں صاحبِ ہدایہ نے ایک اعتراض کا جواب بھی دیا تھا۔ اعتراض یہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ جو خصومت کرنے والے ہیں ان میں سے بعض امین ہیں اور بعض ضامن ہیں تو جب انہوں نے خصومت کر دی تو پھر بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے اس لیے کیونکہ مالک موجود نہیں ہے، ہو سکتا ہے مالک موجود ہوتا تو شبہ پیدا ہو جاتا اور قطع ساقط ہو جاتی۔ بھئی کس طرح شبہ پیدا ہوتا؟ کہتے ہیں ہو سکتا ہے مالک یہ مال چور کو ہبہ کر دیتا یا مالک یہ مال چور کے ہاتھ فروخت کر دیتا یا مالک یہ کہہ دیتا کہ یہ مال تو تھا ہی چور کا، تو اس صورت کے اندر قطع ساقط ہو جانی تھی۔ تو لہٰذا اعتراض ہوتا ہے کہ امین یا ضامن اگر خصومت کریں اور مالک موجود نہ ہو پھر بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے کیونکہ اگر مالک موجود ہوتا تو شبہ ہو سکتا تھا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ بھئی اگر مالک ہوتا اور وہ یوں کہہ دیتا پھر شبہے نے آنا تھا اور پھر حد ساقط ہو جاتی لیکن اس وقت تو مالک یہاں موجود ہی نہیں ہے تو یہاں شبہ ہے ہی نہیں، ہاں صرف شبہے کا ایک احتمال ہے، شبہے کا صرف وہم ہوتا ہے اور شبہے کا وہم جو ہے اس کی وجہ سے حد ساقط نہیں کی جا سکتی بھئی۔ تو اس کو شبہۃ الشبہ کہتے ہیں کہ شبہ ہونے کا شبہ ہو جائے اور شبہۃ الشبہ کی وجہ سے حد ساقط نہیں ہوتی بلکہ حقیقۃً شبہ ہو تو پھر حد ساقط ہوتی ہے بھئی۔
اور فرمایا یہ اسی طرح ہے کہ اگر آپ اس کا برعکس کر لیں کہ مالک خصومت کرتا ہے اور وہ جو امین یا ضامن ہے جس سے چوری ہوئی ہے وہ اگر موجود نہیں ہے پھر بھی مالک کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ظاہر روایت کے مطابق، اگرچہ یہاں بھی شبہ ہوتا ہے کہ وہ امین یا ضامن جس سے چوری ہوئی ہے اگر وہ یہاں موجود ہوتا تو ہو سکتا ہے وہ کہہ دیتا کہ یہ چور تو میرا مہمان تھا، اس کو تو میں خود حرز کے اندر لے کر گیا تھا، اور جب اس نے چور کو حرز کے اندر آنے کی اجازت دے دی تو چور کے حق میں وہ حرز نہ رہا اور اس شبہے کی وجہ سے پھر حد ساقط ہو جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود مالک کی خصومت سے بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ ضامن اور امین اگر ہوتے اور وہ اس طرح کہتے پھر شبہے نے آنا تھا لیکن ابھی تو ضامن اور امین موجود نہیں ہیں تو شبہ موجود نہیں، شبہے کا صرف ایک احتمال ہے، ایک وہم ہے اور شبہے کا وہم اور احتمال جو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس کی وجہ سے حد ساقط نہیں ہو سکتی بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک چور نے مال چرا لیا اور پھر اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا اور چور نے ابھی وہ مال مالک کو واپس نہیں کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی ایک دوسرے چور نے اس پہلے چور سے مال چرا لیا، تو کہتے ہیں اس صورت میں دوسرے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، نہ یہ پہلا چور خصومت کر سکتا ہے اور نہ مالک خصومت کر سکتا ہے ہاتھ کٹوانے کے لیے۔ وجہ یہ ہے کہ جب پہلے چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو مال کی عصمت ساقط ہو گئی، کیا معنی مال کی عصمت ساقط ہو گئی؟ معنی یہ ہے کہ وہ مال متقوم ہی نہ رہا، اب وہ غیر متقوم ہے، اس مال کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے۔ تو جب دوسرے چور نے مال چرایا تو یہ مال غیر متقوم ہے اس کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے اور غیر متقوم مال کے اندر تو ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، مال تو کم از کم دس درہم کے اندر کاٹا جاتا ہے اور یہ مال اس کی تو کوئی قیمت ہی نہیں تو اس کے اندر چور کا ہاتھ کاٹا ہی نہیں جا سکتا، خود مالک کی خصومت کے ذریعے بھی نہیں کاٹا جا سکتا اور پہلے چور کی خصومت کے ذریعے بھی دوسرے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ لیکن اگر پہلے چور کا ابھی ہاتھ نہیں کاٹا گیا تھا کہ اس سے پہلے ہی دوسرے چور نے وہ مال چوری کر لیا تو پھر اس صورت میں یاد رکھو یہ پہلا چور بھی خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے کیونکہ ابھی تک پہلے چور کا ہاتھ نہیں کٹا، جب ہاتھ نہیں کٹا تو مال کی عصمت ابھی تک ساقط نہیں ہوئی، مال ابھی بھی مالِ محفوظ ہے، ابھی بھی وہ مالِ متقوم ہے بھئی اور جب وہ مالِ متقوم ہے اور دوسرے چور نے چوری کیا ہے تو اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جب تک چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے اس وقت تک چور غاصب کے درجے میں ہے۔ اس وقت تک چور غاصب کے درجے میں ہے، تو جب تک پہلے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا تو پہلا چور غاصب کے درجے میں ہے اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ غاصب جو ہے وہ ضامن ہوتا ہے، اس پر ضمان آتا ہے اور وہ خصومت کر سکتا ہے، تو جب پہلا چور ابھی غاصب کے درجے میں ہے تو یہ خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک چور نے چوری کر لی لیکن خصومت سے پہلے ہی اس نے وہ مال جو ہے مالک کو واپس کر دیا تو اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، چاہے خصومت سے پہلے ہی چور مال واپس کر دے پھر بھی اس کا ہاتھ کٹوایا جا سکتا ہے خصومت کر کے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں کہ جب مرافعہ کے بعد چور مال واپس کر دے تو وہاں اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو یہاں پر بھی مرافعہ سے پہلے اس نے مال واپس کیا ہے تو بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ میں نے بتلایا تھا مرافعہ کا معنی ہے معاملے کو قاضی تک لے جانا، یعنی قاضی کے پاس مقدمہ کر دینا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب ایک دفعہ مرافعہ کر دیا گیا، قاضی تک بات پہنچ گئی اس کے بعد پھر چور چاہے مال واپس بھی کر دے پھر بھی اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، تو یہاں مرافعہ سے پہلے بھی جب اس نے چوری کی ہے تو چاہے مال وہ واپس بھی کر دے پھر بھی اس کا ہاتھ کٹوایا جا سکتا ہے، جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، ہم کہتے ہیں کہ آپ مرافعہ سے پہلے کی حالت کو مرافعہ کے بعد کی حالت پر قیاس نہیں کر سکتے اس لیے کیونکہ دونوں میں فرق ہے بھئی، اس لیے کیونکہ جب مرافعہ سے پہلے چور نے مال واپس کر دیا تو اب خصومت ختم ہو گئی اور خصومت تو ضروری تھی چوری کے ظہور کے لیے، جب خصومت ختم ہو گئی تو چوری قاضی کے پاس ظاہر ہی نہیں ہو سکتی، جب ظاہر نہیں ہو سکتی تو چور کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا، جبکہ مرافعہ کے بعد اگر چور مال واپس بھی کر دے پھر بھی جو خصومت ہے وہ ختم نہیں ہوتی کیونکہ خصومت یعنی جھگڑا اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے یعنی بات قاضی تک پہنچ گئی ہے، کسی جھگڑے کی انتہا کیا ہوتی ہے؟ کہ بات قاضی تک پہنچ جائے اور قاضی پھر ان میں فیصلہ کروا دے، تو خصومت اپنی آخری حد کو پہنچ چکی ہے یعنی بات قاضی تک پہنچ چکی ہے اور جب کوئی چیز اپنی آخری حد کو پہنچ جائے تو پھر اس کے بعد وہ باطل نہیں ہو سکتی، جیسے میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی کہ اگر خاوند صحبت سے پہلے بیوی کو طلاق دے دے تو نصف مہر دینا پڑتا ہے اور یہ نصف مہر بھی ساقط ہونے کا احتمال رکھتا ہے کہ ہو سکتا ہے عورت مرتد ہو جائے یا عورت کی طرف سے جدائی آ جائے کسی وجہ سے، تو اس صورت میں یہ نصف مہر بھی ساقط ہو جاتا ہے لیکن اگر صحبت سے پہلے خاوند یا بیوی کا انتقال ہو گیا تو پھر اس صورت میں اب یہ مہر پکا ہو گیا وجہ یہ کہ اب نکاح اپنی آخری حد کو پہنچ گیا اب نکاح کے باطل ہونے کی کوئی صورت نہیں، یوں سمجھیں گے یہ نکاح ہوا ہی اتنی مدت کے لیے تھا اور جب اتنی مدت کے لیے نکاح ہوا تھا اور وہ مدت پوری ہو چکی ہے تو لہٰذا اب خاوند کے ذمے لازم ہے کہ جو عوض اس نے طے کیا تھا وہ عوض یعنی مہر اس کو اب دینا پڑے گا ہر حال کے اندر۔ تو چیز جب اپنی انتہا کو پہنچ جائے پھر اس کو باطل نہیں کیا جا سکتا، تو یہاں پر بھی جب خصومت قاضی تک پہنچ گئی تو اب چاہے چور مال واپس بھی کر دے اب خصومت باطل نہیں ہو سکتی بلکہ تقدیراً باقی رہے گی۔ چور نے بے شک مال واپس کر دیا ہے، بظاہر جھگڑا ختم ہو گیا ہے لیکن تقدیراً خصومت اب بھی باقی ہے کیونکہ خصومت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، لہٰذا اس صورت میں پھر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور صاحبِ ہدایہ نے پھر یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر مالک نے وہ مالِ مسروقہ جو ہے وہ چور کو ہبہ کر دیا اور اس کے حوالے کر دیا ہاتھ کٹنے سے پہلے ہی تو اس صورت میں بھی قطع ساقط ہو جائے گی بھئی، یا مالک نے وہ مال چور کے ہاتھ فروخت کر دیا ہاتھ کٹنے سے پہلے تو اس صورت میں بھی قطع ساقط ہو جائے گی بھئی، جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قطع ساقط نہیں ہوگی اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی، یہ فرماتے ہیں کہ جس وقت چوری کی تھی اس وقت چور مال کا مالک نہیں تھا اور اب بعد میں آ کر مالک بنا ہے، جب چوری کی تھی اس وقت بھی مالک نہیں تھا اور جب قاضی کے پاس گواہی پیش ہوئی اور چوری ظاہر ہوئی اس وقت بھی یہ مال کا مالک نہیں تھا اسی لیے تو قاضی نے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کیا بھئی، اور اب اس کے بعد جا کر یہ چور اس مال کا مالک بن رہا ہے تو اس کی وجہ سے کسی قسم کا شبہ نہیں آتا۔ اگر چوری کے وقت چور مال کا مالک ہوتا یا قاضی کے فیصلے کے وقت چور مال کا مالک ہوتا پھر تو شبہ آ جاتا کہ اس نے اپنا مال لیا ہے اور اپنے مال کی وجہ سے کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، لیکن یہاں تو جو چور مال کا مالک بن رہا ہے وہ سرقہ اور ظہورِ سرقہ کے بعد مالک بن رہا ہے لہٰذا اس کی وجہ سے کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں آتا، لہٰذا اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
جبکہ ہم کہتے ہیں کہ حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا بھی قضا کا حصہ ہے لہٰذا جو شرطیں قضا کے وقت ضروری ہیں وہی شرطیں قطع کے وقت بھی ضروری ہیں، اور جس طرح قضا کے وقت ضروری ہے کہ چور اس مال کا مالک نہ ہو اسی طرح قطع کے وقت بھی ضروری ہے کہ چور اس مال کا مالک نہ ہو بھئی۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا یہ قضائے قاضی کا حصہ اس لیے ہے، وجہ صاحبِ ہدایہ نے بتلائی تھی کہ وجہ یہ ہے کہ عام معاملات کے اندر جب قاضی فیصلہ کرتا ہے تو وہاں صرف وہ حق کا اظہار کر دیتا ہے، دو آدمیوں کے درمیان ایک مسئلے میں جھگڑا ہے وہ قاضی کے پاس چلے گئے تو قاضی وہاں بتلا دے گا کہ یہ والا آدمی حق پر ہے، تو عام معاملات میں قاضی کا کام کیا ہے؟ اظہارِ حق ہے کہ وہ حق کو ظاہر کر دے اور بتلا دے کہ ان دو جھگڑنے والوں میں سے کون سا آدمی حق پر ہے لیکن حدود کے مسئلے میں یہ جو حد وصول کی جاتی ہے یہ تو حقِ شریعت ہے، یہ تو اللہ کا حق ہے اور اللہ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں، لہٰذا اگر یہ حد کے مسئلے میں قاضی صرف فیصلے پر اکتفا کر لے گا تو بھئی یہ فیصلہ تو کس لیے ہوتا ہے؟ حق کے اظہار کے لیے اور حق تو اللہ کے نزدیک پہلے سے ہی ظاہر ہے، اللہ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں تو پھر تو قضائے قاضی کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوا بھئی، تو حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا بھی قاضی کی ذمہ داری ہے، یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے بھئی۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ہاتھ کٹنے سے پہلے اس مالِ مسروقہ کی قیمت نصاب سے کم ہو گئی یعنی دس درہم سے کم ہو گئی تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ کاٹنے سے پہلے چاہے اس مال کی قیمت نصاب سے کم ہی کیوں نہ ہو جائے پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہی قول ہے امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا بھی اور وہ اس کو قیاس کرتے ہیں عین کے اندر کمی پر۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں عین کے اندر کمی پر، مثلاً دیکھو ایک چور نے بیس درہم چوری کیے، اب اگر ان بیس درہموں میں سے وہ پندرہ درہم خرچ کر دیتا ہے تو دیکھو اس مال کی عین میں اس کی ذات میں کمی آ گئی، نصاب سے کم ہو گیا لیکن پھر بھی بالاتفاق اس چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اگرچہ عین میں کمی آ گئی ہے۔ تو جب اس مالِ مسروقہ کی عین اور اس کی ذات میں کمی آ جائے اس وقت چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اس کی قیمت میں اگر کمی آ جائے پھر بھی اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
جبکہ ہم جواب دیتے ہیں کہ جس طرح قضائے قاضی کے وقت جو ہے نصاب کا کامل ہونا شرط تھا اسی طرح قطع کے وقت بھی نصاب کا کامل ہونا شرط ہے کیونکہ قطع بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے بھئی، اور باقی آپ نے کہا کہ عین کے اندر کمی آ جائے تو پھر بھی ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی عین کے اندر جو کمی آتی ہے وہ چور اس میں سے جتنا خرچ کرتا جائے گا یا جتنا مال اس سے ضائع ہوگا وہ چور پر دین بنتا چلا جائے گا کیونکہ جب تک ہاتھ نہیں کٹا چور غاصب کے درجے میں ہے اور غاصب کے پاس مال چاہے ہلاک ہو چاہے وہ خود ہلاک کرے اس پر ضمان آیا کرتا ہے تو چور غاصب کے درجے میں ہے، لہٰذا اس نے بیس درہم چوری کیے ان بیس درہموں میں سے جتنے درہم ضائع ہو گئے یا جتنے درہم اس نے خرچ کر دیے تو ان کا ضمان چور پر آئے گا، تو مثلاً اس نے بیس میں سے پندرہ درہم خرچ کر دیے اور پانچ درہم اس کے پاس باقی ہیں تو پانچ درہم تو عین ہیں اور پندرہ درہم جو ہیں وہ چور پر دین ہیں تو پندرہ اور پانچ ابھی بھی دیکھو بیس درہم ہیں یعنی نصاب پورا ہے، تو لہٰذا عین کے اندر جو کمی آتی ہے وہ دین بنتا چلا جاتا ہے تو وہاں نصاب پھر بھی پورا رہتا ہے، کچھ نصاب عین ہوتا ہے اور کچھ نصاب دین ہوتا ہے تو لہٰذا اس کے اندر تو ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن قیمت کے اندر جو کمی آتی ہے اس کا تو ضمان کسی پر نہیں آتا۔ ایک آدمی نے کسی کی کوئی چیز غصب کر لی اور اس وقت اس کی قیمت مثلاً ایک لاکھ روپے تھی اور پھر دس دن بعد اس نے وہ چیز واپس کر دی اور اس دوران اس چیز کی قیمت کم ہو کر پچاس ہزار ہو چکی ہے تو دیکھو قیمت کے اندر نقصان آ گیا لیکن اس کے باوجود اس غاصب پر اس کا کوئی ضمان نہیں آئے گا کیونکہ اس قیمت کے کم ہونے میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ عین کے اندر جو کمی ہے اس میں ضمان آتا ہے اور جو قیمت کے اندر کمی ہے اس میں ضمان نہیں آتا تو دونوں الگ الگ چیزیں ہو گئیں، عین کے اندر کمی اور چیز اور قیمت کے اندر کمی اور چیز تو آپ ایک کو دوسری پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ بیان فرمایا تھا کہ اگر چور چوری سے پہلے کہہ دے کہ یہ مال جو میں نے چرایا تھا یہ تو میرا اپنا مملوکہ مال تھا تو اس صورت میں بھی حد ساقط ہو جائے گی جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اگر اس کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے یہ تو ہر چور کہہ سکتا ہے تو پھر تو حد کا دروازہ ہی بند ہو جائے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، اقرار کی وجہ سے بھی چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے حالانکہ اقرار کے بعد رجوع معتبر ہے اور ہر مقر رجوع کر سکتا ہے پھر بھی اس کا رجوع معتبر ہے، تو یہاں پر بھی ہر چور یہ کہہ سکتا ہے پھر بھی اس کا یہ کہنا معتبر ہے اور اس کی وجہ سے شبہ آئے گا اور حد ساقط ہو جائے گی، اور نیز اس لیے بھی کیونکہ چور کو تو ان مسائل کا علم نہیں ہوگا تو ہر چور یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ مال میرا ہے؟ چوروں کو تو ان مسائل کا علم ہی نہیں ہوگا بھئی۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ دو آدمیوں نے اقرار کر لیا کہ ہم دونوں نے مل کر یہ چوری کی تھی اور پھر ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ جو مال ہم نے چرایا یہ تو میرا مال تھا تو گویا اس نے چوری سے رجوع کر لیا، اور چونکہ چوری دونوں نے مل کر کی تھی تو جب ایک کے اوپر حد نہیں آ رہی تو دوسرے پر بھی حد نہیں آئے گی شبہے کی وجہ سے۔
اور اسی طرح اگر دو چور جو ہیں انہوں نے چوری کی اور پھر ان میں سے ایک غائب ہے اور دوسرے پر گواہی پیش ہو گئی قاضی کے پاس تو اس ایک چور کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا یہ امام صاحب کا آخری قول ہے، امام صاحب کا پہلا قول یہ تھا کہ اگر ایک چور غائب ہے تو دوسرے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے اگر وہ دوسرا چور موجود ہوتا تو وہ یہ کہہ دیتا کہ یہ مال جو ہم نے چوری کیا یہ تو میرا اپنا مال تھا تو اس کی وجہ سے شبہ آ جاتا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے، تو امام صاحب کا پہلا قول یہ تھا کہ جب ایک چور غائب ہو تو دوسرے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا لیکن پھر بعد میں امام صاحب نے اس قول سے رجوع کیا اور امام صاحب کا آخری قول یہ ہے اور یہی صاحبین کا بھی قول ہے کہ اگر ایک چور غائب ہو تو دوسرے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس لیے کیونکہ غائب کے خلاف تو چوری ثابت ہی نہیں ہوئی اس لیے کیونکہ قاضی غائب کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا، تو یہ جو بینہ پیش ہوئی اس بینہ کی وجہ سے اس حاضر کے خلاف تو چوری ثابت ہو گئی لیکن غائب کے خلاف تو چوری ثابت ہی نہیں ہوئی یعنی اس کی چوری معدوم ہے، اس کی چوری معدوم ہے جیسے اس نے چوری کی ہی نہیں اور معدوم کی وجہ سے تو کوئی شبہ پیدا نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس ایک چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے جواب بھی دیا تھا امام صاحب کے پہلے قول کا، امام صاحب کا پہلا قول کیا تھا کہ اگر ایک چور غائب ہو تو دوسرے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے وہ دوسرا چور اگر موجود ہوتا تو وہ کہہ دیتا کہ یہ مال جو ہم نے چوری کیا یہ میرا اپنا مال تھا، تو اس کا بھی جواب دیا کہ اگر وہ موجود ہوتا اور یوں کہہ دیتا پھر شبہے نے آنا تھا لیکن اس وقت تو دوسرا چور موجود ہی نہیں تو شبہ بھی نہیں ہے صرف شبہے کا ایک احتمال ہے، شبہے کا صرف وہم ہوتا ہے اور شبہے کا وہم یا شبہے کا احتمال اس کا تو کوئی اعتبار نہیں ہے، اس کی وجہ سے حد ساقط نہیں ہو سکتی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
وَإِذَا أَقَرَّ الْعَبْدُ الْمَحْجُورُ عَلَيْهِ بِسَرِقَةِ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ بِعَيْنِهَا فَإِنَّهُ يُقْطَعُ وَتُرَدُّ السَّرِقَةُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُقْطَعُ وَالْعَشَرَةُ لِلْمَوْلَى، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يُقْطَعُ وَالْعَشَرَةُ لِلْمَوْلَى، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَمَعْنَى هَذَا إِذَا كَذَّبَهُ الْمَوْلَى.
بھئی یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے بھئی، توجہ سے اس کو سمجھ لیں۔
بھئی آپ جانتے ہیں کہ یہ جو عام غلام ہے اس کو عبدِ محجور کہتے ہیں۔ محجور یعنی جس پر پابندیاں ہیں، جس پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، یہ عام غلام تجارت نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مال کا مالک ہی نہیں ہے، جو بھی مال اس کے پاس ہے وہ سارا اس کے آقا کا ہے بھئی، تو یہ جو عام غلام ہے اس کو عبدِ محجور کہتے ہیں۔ اور ایک وہ غلام ہوتا ہے جسے آقا تجارت کی اجازت دے دے، مثلاً آقا کا ایک غلام ہے اور وہ سمجھدار ہے، ہوشیار ہے تو آقا اس کو تجارت کی اجازت دے دیتا ہے کہ جاؤ جا کر تجارت کرو اور پیسے کما کر لاؤ بھئی، تو یہ جو غلام جس کو آقا نے تجارت کی اجازت دے دی اس کو عبدِ ماذون کہتے ہیں بھئی۔
اب صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ عبدِ محجور نے کچھ معین مال کے بارے میں اقرار کر لیا کہ یہ مال مثلاً میں نے زید سے چوری کیا تھا، غلام کسی اور کا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ جو بیس درہم پڑے ہیں یہ میں نے زید سے چوری کیے تھے، تو اس صورت میں یاد رکھو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس غلام کا جس نے چوری کی ہے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ جو مال ہے یہ اس مسروق منہ کو واپس کیا جائے گا یعنی جس سے غلام نے چوری کی تھی، تو یہ مال زید کو واپس کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اقرار کرنے والا غلام جو ہے وہ عبدِ محجور ہے اور جس مال کی چوری کا اس نے اقرار کیا ہے وہ معین مال ہے، معین دراہم موجود ہیں سامنے پڑے ہوئے ہیں، غلام کہتا ہے یہ والے جو معین بیس درہم ہیں یہ میں نے زید سے چوری کیے تھے۔ تو امام صاحب کے نزدیک اس غلام کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور یہ جو مال ہے یہ اس زید کو یعنی مسروق منہ کو واپس کیا جائے گا۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس غلام کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا اس نے چوری کی ہے لیکن یہ درہم جو ہیں یہ زید کو نہیں دیے جائیں گے، یہ درہم اس غلام کے آقا کے ہی ہیں کیونکہ غلام کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کے آقا کا ہے بھئی، تو یہ معین دراہم بھی کس کے ہیں؟ غلام کے آقا کے ہیں۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور یہ درہم جو ہیں یہ اس کے آقا کے ہی ہیں بھئی، اور یہی قول ہے امام زفر کا بھی، امام زفر بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس غلام کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا اور یہ درہم بھی اسی کے آقا کے ہیں یہ اس مسروق منہ یعنی زید کو نہیں دیے جائیں گے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں، پھر دہرا لیں۔ بھئی دیکھیے، عبدِ محجور نے اقرار کیا ہے، یہ دونوں قیدیں یاد رکھنا، یہ اقرار کرنے والا غلام کون سا ہے؟ عبدِ محجور، اور جس مال کا اس نے اقرار کیا ہے وہ معین مال ہے، وہ معین مال ہے۔ اگر غلام ماذون ہوا یا وہ مال غیر معین ہوا، مال سامنے موجود نہیں اور غلام ویسے کہتا ہے کہ میں نے چوری کی تھی اتنے مال کی، تو اس صورت میں پھر مسئلہ بدل جائے گا تو یہ دونوں شرطیں ہیں اس کے اندر: غلام کون سا ہو؟ محجور، اور مال کس قسم کا ہو؟ معین ہو۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں جب عبدِ محجور کسی معین مال کا اقرار کر لے کہ یہ میں نے فلاں سے چوری کیا تھا تو اس غلام کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور وہ مال بھی مسروق منہ کو واپس کیا جائے گا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ ایک حکم کے اندر تو امام صاحب کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن دوسرے حکم میں اختلاف کرتے ہیں کہ یہ مال مسروق منہ کو نہیں دیں گے یہ اسی غلام کے آقا کا رہے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ دونوں حکموں میں اختلاف کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں چور کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا اور مال بھی اس مسروق منہ کو نہیں دیں گے بلکہ اسی غلام کے آقا کا مال رہے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں:
وَإِذَا أَقَرَّ الْعَبْدُ الْمَحْجُورُ عَلَيْهِ: اور جب اقرار کر لیا محجور علیہ غلام نے
بِسَرِقَةِ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ بِعَيْنِهَا: معین دس درہم کی چوری کا
فَإِنَّهُ يُقْطَعُ: تو اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا
وَتُرَدُّ السَّرِقَةُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ: اور وہ مالِ مسروقہ واپس کیا جائے گا مسروق منہ کو
وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں
يُقْطَعُ: کہ اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا
وَالْعَشَرَةُ لِلْمَوْلَى: اور وہ دس درہم جو ہیں وہ آقا ہی کے ہیں، وہ اس مسروق منہ کو نہیں دیے جائیں گے
وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں
لَا يُقْطَعُ: اس غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
وَالْعَشَرَةُ لِلْمَوْلَى: اور یہ دس درہم بھی اسی غلام کے آقا کے ہیں
وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ: اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی
وَمَعْنَى هَذَا: یہاں سے صاحبِ ہدایہ متن کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ متن میں تو صرف اتنا آیا کہ عبدِ محجور نے معین دس درہموں کا اقرار کیا ہے تو امام صاحب فرماتے ہیں اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور وہ مال بھی مسروق منہ کو واپس کیا جائے گا، اور پھر اسی میں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ اختلاف کرتے ہیں، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ سارا مسئلہ اس صورت میں ہے جب آقا غلام کو جھٹلائے۔ غلام نے تو کہا ہے یہ دس درہم میں نے زید سے چوری کیے تھے، آقا کہتا ہے نہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے یہ دس درہم میرے اپنے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو اس وقت پھر ان تینوں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے، اور اگر آقا جھٹلاتا نہیں ہے آقا کہتا ہے یہ غلام سچ کہہ رہا ہے پھر تو یاد رکھو بالاتفاق سب کے نزدیک اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی اور یہ مال بھی اس آدمی کو واپس دیا جائے گا جس سے چور نے چوری کی تھی کیونکہ آقا خود اقرار کر رہا ہے کہ یہ غلام سچ کہہ رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں:
وَمَعْنَى هَذَا: اور اس قول کا معنی یہ ہے
إِذَا كَذَّبَهُ الْمَوْلَى: کہ جب آقا جو ہے اس غلام کو جھٹلا دے۔
جی اب صورت ذکر کریں گے کہ اگر وہ مال معین نہیں ہے، عبدِ محجور نے چوری کا اقرار تو کیا ہے لیکن مال معین نہیں، کہتا ہے وہ مال میں خرچ کر چکا ہوں یا وہ مال غیر معین ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ توجہ ہے؟ اور اگر وہ عبدِ ماذون ہوا، اقرار کرنے والا عبدِ ماذون ہوا پھر چاہے وہ معین مال کا اقرار کرے چاہے غیر معین یعنی مستهلک مال کا اقرار کرے تو اس میں بھی بالاتفاق سب کے نزدیک ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو اختلاف صرف کس غلام میں ہے؟ عبدِ محجور کے بارے میں، اور کس صورت میں اختلاف ہے؟ جب وہ مال معین ہو۔
تو کہتے ہیں:
وَلَوْ أَقَرَّ بِسَرِقَةِ مَالٍ مُسْتَهْلَكٍ: اور اگر اس عبدِ محجور نے اقرار کیا ایسے مال کی چوری کا مُسْتَهْلَكٍ جس کو وہ ہلاک کر چکا ہے، جس کو وہ ہلاک کر چکا ہے یعنی خرچ کر چکا ہے یعنی یوں کہو غیر معین مال کی چوری کا اقرار کرتا ہے، تو کہتے ہیں:
وَلَوْ أَقَرَّ بِسَرِقَةِ مَالٍ مُسْتَهْلَكٍ قُطِعَتْ يَدُهُ: اور اگر اس عبدِ محجور نے اقرار کیا مالِ مستهلک کی چوری کا تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور میں نے بتایا اس میں ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے بھئی۔
وَلَوْ كَانَ الْعَبْدُ مَأْذُونًا لَهُ: اور اگر وہ غلام جو ہے جو اقرار کرنے والا ہے، اور اگر وہ غلام جو ہے مَأْذُونًا لَهُ وہ ماذون لہ ہوا
يُقْطَعُ فِي الْوَجْهَيْنِ: تو اس کا ہاتھ دونوں صورتوں میں کاٹا جائے گا۔ اگر وہ غلام عبدِ ماذون ہوا پھر اس کا ہاتھ دونوں صورتوں میں کاٹا جائے گا، کون سی دو صورتیں؟ چاہے وہ مال معین ہو چاہے غیر معین یعنی مستهلک ہو بھئی۔ تو یہ معنی ہے:
وَلَوْ كَانَ الْعَبْدُ مَأْذُونًا لَهُ يُقْطَعُ فِي الْوَجْهَيْنِ: اور اگر وہ اقرار کرنے والا غلام ماذون لہ ہے تو دونوں صورتوں میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں
لَا يُقْطَعُ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا: کہ اس غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان تمام صورتوں میں۔
امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں چاروں صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے اندر بھی غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا چاہے عبدِ محجور ہو چاہے عبدِ ماذون ہو اور چاہے مالِ معین ہو چاہے مالِ غیر معین ہو، کسی صورت کے اندر بھی غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
تو کہتے ہیں:
وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں
لَا يُقْطَعُ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا: کہ ان تمام صورتوں کے اندر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا یعنی کسی بھی صورت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
لِأَنَّ الْأَصْلَ عِنْدَهُ: آگے ضابطہ ذکر فرما رہے ہیں۔ امام زفر رحمہ اللہ کا ضابطہ یہ ہے وہ فرماتے ہیں کہ غلام کا حدود یا قصاص کا اقرار صحیح ہی نہیں ہے، اس کا اعتبار ہی نہیں ہے۔ اگر غلام کسی حد کا اقرار کرے یا قصاص کا اقرار کرے تو یہ اقرار صحیح ہی نہیں ہے۔ جیسے یہاں پر، غلام نے چوری کا اقرار کیا ہے اور چوری کی وجہ سے حد آئے گی، اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، یا غلام جو ہے قصاص کا اقرار کرتا ہے کہ فلاں آدمی کو
"میں نے قتل کیا تھا جان بوجھ کر، بھئی!" تو امام زفر فرماتے ہیں کہ حدود اور قصاص کے مسئلے میں غلام کا اقرار صحیح ہی نہیں ہے، معتبر ہی نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ اس اقرار کی وجہ سے یا تو غلام کی جان جائے گی، اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا، یا اس اقرار کی وجہ سے غلام کا عضو کٹے گا یعنی ہاتھ کاٹا جائے گا، اس نے چوری کی ہے۔ اور چاہے غلام کی جان جائے، چاہے غلام کا ہاتھ جائے، یہ دونوں تو آقا کا مال ہیں۔
غلام کیا ہے؟ آقا کا مال ہے۔ لہٰذا غلام کی ذات وہ بھی آقا کا مال اور غلام کے اعضا یہ بھی کیا ہے؟ آقا کا مال ہے۔ تو گویا جب غلام حدود اور قصاص کا اقرار کر رہا ہے تو وہ گویا آقا کے خلاف اقرار کر رہا ہے۔ اور ایک آدمی کا اقرار اپنی ذات کے بارے میں تو معتبر ہوتا ہے، کسی دوسرے کے خلاف تو اس کا اقرار معتبر نہیں ہوتا۔
توجہ ہے؟ اقرار اپنے بارے میں کیا جاتا ہے، دوسروں کے خلاف اقرار معتبر نہیں۔ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے کہ: "میں اقرار کرتا ہوں زید نے عمرو کے بیس لاکھ روپے دینے ہیں۔" بھئی، اس اقرار کی وجہ سے اس اقرار کرنے والے پر مال آ رہا ہے یا زید پر آ رہا ہے؟ زید پر مال آ رہا ہے۔ تو گویا یہ تو زید کے خلاف اقرار کر رہا ہے تو یہ اقرار معتبر نہیں ہے، بھئی۔ زید خود اقرار کرے پھر تو اس پر مال لازم ہو سکتا ہے، کسی اور کے اقرار کی وجہ سے زید پر مال لازم نہیں ہو سکتا۔ یا یہ غلام ہے ایک آدمی اور وہ کہتا ہے کہ: "میں اپنے اس آقا کا غلام نہیں ہوں، میں تو زید کا غلام ہوں۔" تو دیکھو، غلام اقرار کر رہا ہے اور اس اقرار کی وجہ سے نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ آقا کا۔ لہٰذا یہ اقرار معتبر نہیں ہے، یہ تو آقا کے خلاف اقرار کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام حدود یا قصاص کے اندر اقرار کرے تو وہ معتبر نہیں، کیونکہ اس کے اندر آقا کا نقصان ہے اور کسی غیر کے خلاف اقرار کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْأَصْلَ عِنْدَهُ" اس لیے کیونکہ ضابطہ جو ہے امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک وہ یہ ہے کہ "أَنَّ إِقْرَارَ الْعَبْدِ عَلَى نَفْسِهِ" کہ غلام کا اپنی ذات پر اقرار کرنا "بِالْحُدُوْدِ وَالْقِصَاصِ" حدود اور قصاص کا "لَا يَصِحُّ" یہ اقرار صحیح نہیں ہے، "لِأَنَّهُ يَرِدُ عَلَى نَفْسِهِ وَطَرَفِهِ" اس لیے کیونکہ یہ اقرار تو وارد ہوگا اس غلام کی جان پر "وَطَرَفِهِ" اور اس کے عضو پر "وَكُلُّ ذٰلِكَ مَالُ الْمَوْلَى" اور وہ سارا تو اس کے آقا کا مال ہے "وَالْإِقْرَارُ عَلَى الْغَيْرِ غَيْرُ مَقْبُوْلٍ" اور غیر کے خلاف کوئی اقرار کیا جائے تو وہ مقبول نہیں ہوتا، اس کو قبول نہیں کیا جاتا، بھئی۔ "إِلَّا أَنَّ الْمَأْذُوْنَ لَهُ يُؤَاخَذُ بِالضَّمَانِ وَالْمَالِ لِصِحَّةِ إِقْرَارِهِ بِهِ" ہاں، البتہ امام زفر فرماتے ہیں کہ عبدِ ماذون جو ہے اگر وہ مال کا اقرار کرے گا وہ معتبر ہے۔
عبدِ ماذون مال کا اقرار کرے تو وہ اقرار معتبر ہے۔ عبدِ ماذون قصاص یا حدود کا اقرار کرے تو وہ تو معتبر نہیں، وہ تو معتبر نہیں، لیکن مال کے سلسلے میں اس کا اقرار معتبر ہے۔ تو اس کی اب وجہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ اس کے اندر بھی تو مال گویا آقا کے ذمے ہی آ رہا ہے۔ عبدِ ماذون لہٗ بھی جب مال کا اقرار کرے گا کہ میں نے فلاں کا اتنا مال دینا ہے تو وہ مال بھی تو گویا آقا کے اوپر ہی آ رہا ہے؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ عبدِ ماذون لہٗ کا اقرار مال کے سلسلے میں اس لیے معتبر ہے کہ خود آقا نے ہی اس کو اس کی اجازت دی ہے۔ کیونکہ آقا نے جب اس کو تجارت کی اجازت دے دی تو گویا اس کو اقرار کا بھی اختیار دے دیا، کیونکہ تجارت میں ہمیشہ فائدہ تو نہیں ہوتا، کبھی نقصان بھی ہوتا ہے۔ تو لہٰذا اگر نقصان ہوتا ہے اور اس کے اوپر لوگوں کا قرض آتا ہے تو وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، بھئی۔ لہٰذا اس کا اقرار معتبر ہے۔
تو کہتے ہیں: "إِلَّا أَنَّ الْمَأْذُوْنَ لَهُ يُؤَاخَذُ بِالضَّمَانِ وَالْمَالِ" مگر یہ کہ ماذون لہٗ غلام جو ہے "يُؤَاخَذُ" اس کا مؤاخذہ ہوگا "بِالضَّمَانِ وَالْمَالِ" ضمان اور مال کے ساتھ۔ یعنی عبدِ ماذون کا مؤاخذہ کیا جا سکتا ہے ضمان اور مال کے ساتھ۔ ضمان کے ساتھ تب مؤاخذہ ہوگا جب مال یہ خرچ کر چکا ہے یا مال غیرِ معین ہے۔ اور مال کے ساتھ مؤاخذہ ہوگا اس صورت میں جب مال موجود ہے۔ توجہ ہے؟ تو جب مال موجود ہے، عبدِ ماذون نے کہا: "یہ والا مال میں نے زید سے چوری کیا تھا۔" تو اب اس مال کے سلسلے میں عبدِ ماذون کا مؤاخذہ ہو سکتا ہے اور یہ مال پھر اس مال کے مالک کو لوٹایا جائے گا۔ یا وہ عبدِ ماذون اگر غیرِ معین مال کا اقرار کرتا ہے تو پھر اس صورت کے اندر اس پر ضمان آئے گا، وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا۔
تو یہ معنی ہے: "إِلَّا أَنَّ الْمَأْذُوْنَ لَهُ يُؤَاخَذُ بِالضَّمَانِ وَالْمَالِ" مگر یہ کہ عبدِ ماذون لہٗ جو ہے اس کا مؤاخذہ کیا جا سکتا ہے "بِالضَّمَانِ وَالْمَالِ" ضمان اور مال کے ساتھ۔ ضمان کے ساتھ مؤاخذہ کب ہوگا؟ جب مال غیرِ معین ہے یا وہ خرچ کر چکا ہے۔ "وَالْمَالِ" اور مال کے ساتھ اس کا مؤاخذہ کب ہوگا؟ جب وہ مال معین ہے، سامنے موجود ہے۔ تو یہ معنی ہے کہ: "إِلَّا أَنَّ الْمَأْذُوْنَ لَهُ يُؤَاخَذُ بِالضَّمَانِ وَالْمَالِ" مگر یہ کہ عبدِ ماذون جو ہے اس کا مؤاخذہ ضمان اور مال کے ساتھ کیا جا سکتا ہے "لِصِحَّةِ إِقْرَارِهِ بِهِ" اس وجہ سے کہ اس کا مال کا اقرار کرنا صحیح ہے، مال کا اقرار کرنا صحیح ہے "لِكَوْنِهِ مُسَلَّطًا عَلَيْهِ" اس لیے کیونکہ یہ عبدِ ماذون لہٗ جو ہے یہ مسلط ہے "عَلَيْهِ" اس اقرار پر "مِنْ جِهَتِهِ" آقا کی جانب سے۔ اس اقرار کی اجازت اس کو آقا نے دی ہے، آقا نے جب اس کو تجارت کی اجازت دے دی تو گویا اقرار کی بھی اجازت دے دی۔ یہ معنی ہے: "لِكَوْنِهِ مُسَلَّطًا عَلَيْهِ مِنْ جِهَتِهِ" اس وجہ سے کہ عبدِ ماذون جو ہے وہ اقرار پر مسلط کیا گیا ہے "مِنْ جِهَتِهِ" آقا کی جانب سے۔ "وَالْمَحْجُوْرُ عَلَيْهِ لَا يَصِحُّ إِقْرَارُهُ بِالْمَالِ أَيْضًا" اور محجور علیہ غلام جو ہے اس کا اقرار بالمال بھی صحیح نہیں ہوتا۔
پیچھے تو ہم نے بتا دیا تھا کہ غلام جو ہے حدود اور قصاص کے مسئلے میں اس کا اقرار معتبر ہی نہیں، البتہ مال کے سلسلے میں ماذون لہٗ کا اقرار معتبر ہے جبکہ محجور لہٗ کا اقرار تو مال کے سلسلے میں بھی معتبر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بات چل رہی ہے امام زفر رحمہ اللہ کی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک چاروں صورتوں کے اندر قطع نہیں ہوگا، غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ حدود اور قصاص کے سلسلے میں غلام کا اقرار معتبر نہیں ہے۔ البتہ عبدِ محجور جو ہے، عبدِ محجور اس پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ اگر اس پر آپ ضمان لازم کرتے ہیں، چاہے مال معین ہے، چاہے غیرِ معین ہے، دونوں صورتوں میں وہ آقا پر آ جائے گا اور غیر کے خلاف تو اقرار معتبر نہیں ہوتا۔ جبکہ عبدِ ماذون جو ہے اس کو تو آقا نے اجازت دی ہے اقرار کرنے کی، لہٰذا وہ اگر چوری کا اقرار کرتا ہے تو اس کا ہاتھ تو نہیں کاٹا جائے گا لیکن اس پر ضمان آ جائے گا اگر وہ مال خرچ کر چکا ہے، یا اگر وہ معین مال موجود ہے تو وہی مال واپس دینا پڑے گا۔
تو یہ معنی ہے: "وَالْمَحْجُوْرُ عَلَيْهِ لَا يَصِحُّ إِقْرَارُهُ بِالْمَالِ أَيْضًا" اور محجور علیہ غلام جو ہے اس کا اقرار بالمال بھی صحیح نہیں ہے۔ "وَنَحْنُ نَقُوْلُ" اور ہم کہتے ہیں، یہاں سے صاحبِ ہدایہ امام زفر رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں ہمارے ائمہ کی طرف سے، بھئی: "وَنَحْنُ نَقُوْلُ" اور ہم کہتے ہیں "يَصِحُّ إِقْرَارُهُ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ آدَمِيٌّ" کہ اس غلام کا اقرار بھی صحیح ہے۔ اس غلام کا چاہے عبدِ محجور ہو، چاہے عبدِ ماذون ہو، اس کا اقرار بھی صحیح ہے حدود اور قصاص میں۔ آپ نے تو کہا کہ غلام کا اقرار حدود اور قصاص کے مسئلے میں سرے سے صحیح ہی نہیں ہے، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، غلام کا اقرار بھی حدود اور قصاص کے مسئلے میں صحیح ہے۔ وجہ یہ کہ اس کا یہ اقرار آدمی ہونے کی حیثیت سے ہے۔ وہ ایک جرم کا اقرار کر رہا ہے اور وہ غلام مکلف ہے، شرعی احکام کا مخاطب ہے۔ مکلف کا کیا معنی؟ ذمہ دار، بھئی۔ یعنی وہ شرعی احکام کا ذمہ دار ہے، شریعت نے اسے مکلف بنایا ہے یعنی نماز روزہ وغیرہ جیسے عام آزاد آدمی پر فرض ہیں، اسی طرح غلام پر بھی فرض ہیں۔ اسی طرح جن چیزوں سے شریعت نے آزاد آدمی کو روکا ہے، انہی چیزوں سے غلام کو بھی روکا ہے۔ معلوم ہوا غلام جو ہے شرعی احکام کا مکلف ہے کیونکہ وہ بھی آدمی ہے، اس کی طرف بھی شرعی احکام متوجہ ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر وہ ایک جرم کا اقرار کر رہا ہے تو یہ اقرار معتبر ہے۔ حدود یا قصاص کے اندر وہ ایک جرم کا اقرار کر رہا ہے تو آدمی ہونے کی حیثیت سے اس کا یہ اقرار معتبر ہے، بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَنَحْنُ نَقُوْلُ" اور ہم کہتے ہیں "يَصِحُّ إِقْرَارُهُ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ آدَمِيٌّ" کہ اس غلام کا اقرار بھی صحیح ہے اس حیثیت سے کہ یہ آدمی ہے "ثُمَّ يَتَعَدَّى إِلَى الْمَالِيَّةِ" پھر یہ اقرار متعدی ہو جائے گا مال ہونے کی طرف۔ بھئی، اس نے جو اقرار کیا ہے وہ آدمی ہونے کی حیثیت سے کیا ہے، لیکن آدمی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ غلام مال بھی ہے۔ تو اب یہ اقرار مال ہونے کی طرف بھی متعدی ہو گیا یعنی مال ہونے کے اعتبار سے بھی یہ اقرار صحیح ہے، چاہے آقا کا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، بھئی۔ تو یہ معنی ہے: "ثُمَّ يَتَعَدَّى إِلَى الْمَالِيَّةِ" پھر غلام کا یہ اقرار جو ہے متعدی ہو جائے گا "إِلَى الْمَالِيَّةِ" مال ہونے کی طرف بھی "فَيَصِحُّ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ مَالٌ" تو اس کا یہ اقرار مال ہونے کی حیثیت سے بھی صحیح ہے "وَلِأَنَّهُ لَا تُهْمَةَ فِيْ هٰذَا الْإِقْرَارِ" اور نیز اس لیے کیونکہ اس اقرار کے اندر کوئی بدگمانی نہیں ہے۔
امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے حدود اور قصاص کے اندر غلام کا اقرار معتبر ہی نہیں ہے کیونکہ اس میں آقا کا نقصان ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس اقرار کے اندر کسی قسم کی بدگمانی دلوں میں نہیں آتی، کیونکہ اس اقرار کی وجہ سے غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا اس اقرار کی وجہ سے غلام کو قتل کیا جائے گا۔ تو غلام کا جو نقصان ہے وہ آقا سے بھی بڑھ کر ہے۔ آقا کا تو صرف مال جائے گا، غلام کا تو ہاتھ ضائع ہو جائے گا یا اس کی جان ہی چلی جائے گی۔ تو معلوم ہوا غلام کا جو نقصان ہے وہ آقا سے بھی بڑھ کر ہے اور اس قسم کا مقام جہاں پر اقرار کرنے والے کا اپنا نقصان زیادہ ہو، وہاں کسی قسم کی بدگمانی دلوں میں نہیں آتی کہ یہ آقا کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
امام زفر رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ یہ حدود اور قصاص کا اقرار کرے گا تو گویا معلوم ہوا یہ آقا کو نقصان دینا چاہتا ہے، دلوں میں بدگمانی آتی ہے، لہٰذا اس کا اقرار معتبر ہی نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہاں غلام کو جو نقصان ہو رہا ہے وہ آقا سے بھی بڑھ کر ہے۔ آقا کے تو صرف مال چلا جائے گا، لیکن غلام کی جان ہی چلی جائے گی یا اس کا ہاتھ ہی چلا جائے گا۔ تو غلام کا نقصان آقا سے بڑھ کر ہے، لہٰذا یہاں اس قسم کے مقام میں جہاں اقرار کرنے والے کا اپنا نقصان دوسرے آدمی کے مقابلے میں زیادہ ہو، وہاں کسی قسم کی بدگمانی دلوں میں نہیں آتی۔ تو جب غلام کی اپنی ذات کے بارے میں یہ اقرار صحیح ہے تو طبعاً آقا کے حق میں بھی یہ اقرار صحیح ہو جائے گا یعنی چاہے آقا کا مال جا رہا ہے لیکن پھر بھی یہ اقرار معتبر ہے، بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّهُ لَا تُهْمَةَ فِيْ هٰذَا الْإِقْرَارِ" اور اس لیے کیونکہ اس اقرار کے اندر کسی قسم کی بدگمانی نہیں ہے "لِمَا يَشْتَمِلُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِضْرَارِ" اس وجہ سے کہ یہ نقصان دینے پر مشتمل ہے کہ غلام کیا کر رہا ہے؟ اپنی ہی ذات کو نقصان دے رہا ہے۔ "لِمَا يَشْتَمِلُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِضْرَارِ" اس لیے کیونکہ یہ اپنے آپ کو نقصان دینے پر مشتمل ہے "وَمِثْلُهُ مَقْبُوْلٌ عَلَى الْغَيْرِ" اور اس قسم کا اقرار غیر کے خلاف بھی مقبول ہوتا ہے یعنی اس کو قبول کیا جاتا ہے۔ جب اقرار کرنے والے کا اپنا نقصان زیادہ ہے تو یہ اقرار غیر کے حق میں بھی مقبول ہے، اس کو قبول کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: "لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْمَحْجُوْرِ عَلَيْهِ" اب ہمارے ائمہ کی طرف سے دلیلیں ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ۔ ایک مرتبہ پھر مذاہب دہرا لیں۔ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک کسی بھی صورت میں اس غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، چاہے عبدِ محجور ہو اور چاہے عبدِ ماذون ہو، بھئی۔ البتہ عبدِ ماذون ہے تو اس پر مال کا ضمان آئے گا، لیکن عبدِ محجور ہے تو اس پر مال کا ضمان بھی نہیں، چاہے مالِ معین ہو، چاہے غیرِ معین ہو، وہ مسروق منہٗ کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ ان چار صورتوں میں سے تین صورتوں کے اندر غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تین صورتوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور ایک صورت میں غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور وہ کون سی صورت ہے؟ جب غلام محجور ہو اور مال معین ہو، تو پھر غلام کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا اور وہ مال بھی مسروق منہٗ کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ باقی تینوں صورتوں کے اندر غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور عبدِ ماذون کے سلسلے میں اس پر مال کا ضمان بھی آئے گا، بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاروں صورتوں میں غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چاروں صورتوں میں غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ البتہ ضمان صرف ماذون لہٗ کی صورت میں آئے گا، عبدِ محجور کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، چاہے مال معین ہو، چاہے غیرِ معین ہو، بھئی۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاروں صورتوں میں غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور جب مال معین ہو تو پھر اس صورت کے اندر وہ مال مسروق منہٗ کو واپس کیا جائے گا۔ اور اگر وہ مال غیرِ معین ہے اور عبدِ محجور ہے، پھر ضمان نہیں آئے گا۔ البتہ اگر عبدِ ماذون ہے، پھر دونوں صورتوں میں ضمان بھی آئے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
یاد رکھیے، ہمارے ائمہ کا یہاں پر جو آپس میں اختلاف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ائمہ ایک ضابطے کے اندر آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ چوری کے مسئلے میں مال اصل ہے یا قطع اصل ہے؟ اس میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چوری کے مسئلے میں مال اصل ہے اور ہاتھ کا کاٹنا اس کے تابع ہے۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس کے برعکس فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں قطع یعنی ہاتھ کا کاٹنا اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں اصل ہیں: ہاتھ کا کاٹنا بھی اصل اور مال بھی اصل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ضابطہ ہے؟ مال اصل ہے اور ہاتھ کا کاٹنا تابع ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں اصل ہیں۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہاتھ کا کاٹنا اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے، بھئی۔
اب دیکھیے، بھئی، کتاب پر: "لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْمَحْجُوْرِ عَلَيْهِ" تو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل محجور علیہ غلام کے اندر وہ یہ ہے "أَنَّ إِقْرَارَهُ بِالْمَالِ بَاطِلٌ" کہ محجور علیہ غلام کا مال کا اقرار جو ہے وہ باطل ہے۔ محجور علیہ غلام مال کا اقرار کرے تو وہ باطل ہے، کیونکہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ آقا کا ہے، تو گویا وہ آقا کے خلاف اقرار کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبدِ محجور کے بارے میں: "أَنَّ إِقْرَارَهُ بِالْمَالِ بَاطِلٌ" کہ محجور علیہ کا اقرار مال کے سلسلے میں باطل ہے "وَلِهٰذَا لَا يَصِحُّ مِنْهُ الْإِقْرَارُ بِالْغَصْبِ" اور اسی وجہ سے محجور علیہ کا اقرار بالغصب صحیح نہیں ہے۔ اگر عبدِ محجور اقرار کر لیتا ہے کہ میں نے کوئی چیز فلاں آدمی سے چھینی تھی تو یاد رکھو، اس عبدِ محجور کے اس اقرار کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ یہ اقرار دراصل کس کے خلاف ہے؟ آقا کے خلاف ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر ذرا ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: "لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْمَحْجُوْرِ عَلَيْهِ" محجور علیہ غلام کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے "أَنَّ إِقْرَارَهُ بِالْمَالِ بَاطِلٌ" کہ مال کے لیے اس کا اقرار باطل ہے "وَلِهٰذَا لَا يَصِحُّ مِنْهُ الْإِقْرَارُ بِالْغَصْبِ" اور اسی وجہ سے محجور علیہ غلام کا غصب کا اقرار جو ہے وہ صحیح نہیں ہے "فَيَبْقَى مَالُ الْمَوْلَى" تو آقا کا مال باقی رہے گا۔
صورت کیا چل رہی ہے؟ عبدِ محجور نے اقرار کیا ہے کہ میں نے چوری کی اور مال معین ہے، سامنے موجود ہے۔ عبدِ محجور کہتا ہے: "یہ والے جو درہم ہیں، یہ میں نے فلاں آدمی سے چوری کیے تھے۔" تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبدِ محجور کا اقرار مال کے سلسلے میں درست نہیں ہے۔ جب اقرار درست نہیں تو یہ مال آقا ہی کا ہے۔ یہ جو معین درہم پڑے ہیں یہ آقا ہی کے ہیں۔ "فَيَبْقَى مَالُ الْمَوْلَى" تو آقا کا مال باقی رہا "وَلَا قَطْعَ عَلَى الْعَبْدِ فِيْ سَرِقَةِ مَالِ الْمَوْلَى" اور غلام پر قطع نہیں ہوتی آقا کا مال چوری کرنے میں۔ بھئی، عبدِ محجور نے اقرار کیا کہ میں نے چوری کی ہے اور یہ والے درہم میں نے چوری کیے تھے زید سے، تو عبدِ محجور کا یہ اقرار معتبر نہیں، جب اقرار معتبر نہیں تو یہ دس درہم کس کے ہوئے؟ آقا کے ہوئے اور ان دس درہموں کے ہی چوری کرنے کا غلام اقرار کر رہا ہے، گویا غلام اپنے ہی آقا کے مال کو چوری کرنے کا اقرار کر رہا ہے۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ غلام اپنے آقا کا مال چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ پیچھے مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ والدین اپنی اولاد سے چوری کر لیں یا اولاد اپنی والدین سے چوری کر لے، یا میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے سے چوری کر لے، یا غلام اپنے آقا سے چوری کر لے تو ان میں سے کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں حرز نہیں ہے، سب بے تکلفی سے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں معلوم ہوا کہ یہ جو غلام نے اقرار کیا ہے، یہ اپنے ہی آقا کے مال کے چوری کرنے کا اقرار کر رہا ہے اور اپنے ہی آقا کے مال کی چوری کے اندر تو غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو یہ معنی ہے: "وَلَا قَطْعَ عَلَى الْعَبْدِ فِيْ سَرِقَةِ مَالِ الْمَوْلَى" اور غلام پر قطع نہیں ہے اپنے آقا کے مال کی چوری کے اندر۔
"يُؤَيِّدُهُ أَنَّ الْمَالَ أَصْلٌ فِيْهَا" اور اس کی تائید ہوتی ہے اس بات سے بھی کہ مال جو ہے چوری میں اصل ہے۔ یہ جو پیچھے بات ذکر ہوئی جو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا کہ یہاں پر اس غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کہتے ہیں اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ چوری کے اندر مال اصل ہے اور قطع اس کے تابع ہے۔ تو کہتے ہیں: "يُؤَيِّدُهُ" امام محمد رحمہ اللہ نے جو ذکر کیا اس کی تائید ہوتی ہے اس بات سے بھی "أَنَّ الْمَالَ أَصْلٌ فِيْهَا" کہ چوری کے اندر مال اصل ہے "وَالْقَطْعَ تَابِعٌ" اور ہاتھ کا کاٹنا جو ہے وہ تابع ہے "حَتَّى تُسْمَعُ الْخُصُوْمَةُ فِيْهِ بِدُوْنِ الْقَطْعِ"۔ یہاں یاد رکھنا یہاں پر بھی "حَتَّى" نَصْب نہیں دے گا، اس لیے کیونکہ حتیٰ کے نصب کے دینے کے لیے دو شرطیں ہیں: کہ حتیٰ کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو اور نیز وہ حتیٰ سببیّت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو، بھئی۔ تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں، لہٰذا حتیٰ کے بعد "أنْ" مقدر نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: "وَالْقَطْعَ تَابِعٌ" اور قطع جو ہے وہ تابع ہے "حَتَّى تُسْمَعُ الْخُصُوْمَةُ فِيْهِ بِدُوْنِ الْقَطْعِ" یہاں تک کہ مال کے سلسلے میں خصومت کو سنا جاتا ہے "بِدُوْنِ الْقَطْعِ" بغیر قطع کے۔
بھئی، ایک آدمی قاضی کے پاس چلا گیا: "قاضی صاحب! یہ جو آدمی ہے اس نے میرا مال چوری کیا ہے، لیکن میں صرف مال کی خصومت کرنا چاہتا ہوں، میں چوری کی خصومت نہیں کرنا چاہتا، میں اس کا ہاتھ نہیں کٹوانا چاہتا۔" تو کہتے ہیں پھر بھی قاضی اس خصومت کو سنے گا۔ قاضی اس خصومت کو سنے گا، اگرچہ وہ مال کے لیے خصومت کر رہا ہے، قطع کے لیے خصومت نہیں کر رہا۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا قاضی اس خصومت کو سنے گا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پھر اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، بھئی۔ بھئی، چور کا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، وہ تو اللہ کا حق ہے، وہ اس آدمی کا حق تو نہیں ہے کہ یہ کہے کہ میں ہاتھ نہیں کٹوانا چاہتا۔ توجہ ہے؟ ہاتھ جو چور کا کاٹا جاتا ہے وہ اللہ کا حق ہے اور اس کو کوئی معاف نہیں کر سکتا، بھئی۔ تو لہٰذا جب آدمی قاضی کے پاس چلا گیا کہ میں صرف مال کے لیے خصومت کرنا چاہتا ہوں، قطع کے لیے خصومت نہیں کرنا چاہتا، تو قاضی پھر بھی اس خصومت کو سنے گا، البتہ ایسا نہیں ہے کہ قطع ثابت نہ ہو، قطع پھر بھی ثابت ہو جائے گی۔ تو یہ خصومت صرف کس کے لیے تھی؟ مال کے لیے، قطع کے لیے نہیں تھی، پھر بھی سنی گئی اور پھر بھی ہاتھ کاٹا گیا۔
لیکن اس کا برعکس نہیں ہے۔ ایک آدمی قاضی کے پاس چلا گیا: "قاضی صاحب! اس آدمی نے میرا مال چوری کیا ہے، لیکن میں مال کی خصومت نہیں کرنا چاہتا، میں مال واپس نہیں چاہتا، میں چاہتا ہوں اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔" تو اب یہ خصومت کس کے لیے کر رہا ہے؟ قطع کے لیے، مال کے لیے نہیں۔ تو یاد رکھو، قاضی اس خصومت کو نہیں سنے گا اور اس خصومت کی وجہ سے مال بھی ثابت نہیں ہوگا کیونکہ وہ مال کے لیے خصومت کر ہی نہیں رہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں چوری کے اندر مال اصل ہے اور قطع تابع ہے، اسی لیے صرف مال کے لیے خصومت کی جائے تو وہ سن لی جاتی ہے اور صرف قطع کے لیے خصومت کی جائے تو وہ نہیں سنی جاتی۔
تو کہتے ہیں: "حَتَّى تُسْمَعُ الْخُصُوْمَةُ فِيْهِ بِدُوْنِ الْقَطْعِ" یہاں تک کہ مال کے سلسلے میں خصومت کو سنا جاتا ہے "بِدُوْنِ الْقَطْعِ" بغیر قطع کے۔ قطع کے بغیر مال کے لیے خصومت ہو، اس خصومت کو سنا جا سکتا ہے۔ "وَيَثْبُتُ الْمَالُ دُوْنَهُ" اور مال ثابت ہو سکتا ہے "دُوْنَهُ" دون القطع، قطع کے بغیر۔ ایک آدمی سے دوسرے آدمی نے مال چوری کر لیا ہے تو یہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ مال ثابت ہو جائے اور قطع ثابت نہ ہو۔ کس طرح؟ دیکھو، یہ آدمی گواہی کے طور پر ایک مرد اور دو عورتوں کو لے گیا۔ یہ آدمی ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہی کے اندر لے گیا کہ قاضی صاحب! اس آدمی نے میرا مال چوری کیا ہے۔ تو یاد رکھو، اس صورت میں مال تو ثابت ہو جائے گا کیونکہ گواہ موجود ہیں، ایک آدمی ہے اور دو عورتیں۔ لیکن قطع نہیں ثابت ہوگی، اس لیے کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ حدود کا مسئلہ بڑا نازک ہے، ادنیٰ شبہے سے بھی حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو لہٰذا حدود کے مسئلے میں صرف مردوں کی گواہی قابلِ قبول ہے، عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ مال وغیرہ کے سلسلے میں تو عورتوں کی گواہی قبول کی جا سکتی ہے، لیکن حدود کے مسئلے میں قبول نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا یہ آدمی جب ایک مرد اور دو عورتوں کو لے گیا تو اس کی وجہ سے مال تو ثابت ہو جائے گا لیکن قطع ثابت نہیں ہوگا۔ معلوم ہوا مال بغیر قطع کے ثابت ہو سکتا ہے۔
یا دوسری صورت لے لیں۔ ایک چور نے خود اقرار کر لیا کہ میں نے فلاں آدمی کا ایک لاکھ روپیہ چوری کیا تھا اور بعد میں پھر چور نے رجوع کر لیا۔ پہلے اقرار کیا تھا اور بعد میں رجوع کر لیا تو یاد رکھو، اس رجوع کی وجہ سے حد تو ساقط ہو جائے گی کیونکہ شبہ آ گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہو۔ تو حد تو ساقط ہو جائے گی لیکن مال ساقط نہیں ہوگا، مال دینا پڑے گا۔ معلوم ہوا مال بغیر قطع کے ثابت ہو سکتا ہے، معلوم ہوا مال اصل ہے اور قطع اس کے تابع ہے، بھئی۔
تو یہ معنی ہے: "وَيَثْبُتُ الْمَالُ دُوْنَهُ" اور مال ثابت ہو سکتا ہے بغیر قطع کے "وَفِيْ عَكْسِهِ لَا تُسْمَعُ وَلَا يَثْبُتُ" اور اس کے برعکس صورت میں، پیچھے آیا تھا "حَتَّى تُسْمَعُ الْخُصُوْمَةُ فِيْهِ بِدُوْنِ الْقَطْعِ" خصومت کو سنا جائے گا مال کے سلسلے میں "بِدُوْنِ الْقَطْعِ" بغیر قطع کے، لیکن اب کہہ رہے ہیں "وَفِيْ عَكْسِهِ" اس کے برعکس صورت میں "لَا تُسْمَعُ" خصومت کو نہیں سنا جائے گا یعنی جب کہنے والا کیا کہے؟ میں مال نہیں چاہتا، میں صرف قطع چاہتا ہوں، تو پھر خصومت کو نہیں سنا جا سکتا "وَلَا يَثْبُتُ" اور اس صورت میں مال بھی ثابت نہیں ہوگا۔ تو معلوم ہوا مال کے بغیر قطع تو ثابت نہیں ہو سکتی، لیکن قطع کے بغیر مال ثابت ہو سکتا ہے، معلوم ہوا مال اصل ہے، بھئی۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: "وَإِذَا بَطَلَ فِيْمَا هُوَ الْأَصْلُ بَطَلَ فِي التَّبَعِ"۔ بھئی، امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ نے بتلایا کہ چوری کے مسئلے میں مال اصل ہے اور قطع جو ہے وہ اس کے تابع ہے۔ لہٰذا مال کے اندر تو غلام کا اقرار معتبر نہیں۔ ہم نے آپ کو پیچھے بتلا دیا، مال کے اندر غلام کا اقرار معتبر نہیں، وہ مال کس کا رہے گا؟ آقا ہی کا رہے گا۔ تو جب مال کے اندر غلام کا اقرار صحیح نہیں ہے حالانکہ مال اصل ہے، تو پھر قطع جو تابع ہے اس کے اندر بطریقِ اولیٰ اس کا اقرار صحیح نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: "وَإِذَا بَطَلَ فِيْمَا هُوَ الْأَصْلُ" اور جب اس غلام کا اقرار باطل ہو گیا اس چیز کے اندر جو اصل ہے یعنی مال "بَطَلَ فِي التَّبَعِ" تو وہ جو تابع ہے اس کے اندر بھی اس کا اقرار باطل ہو جائے گا یعنی اس کی وجہ سے اس غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ "بِخِلَافِ الْمَأْذُوْنِ" بخلاف عبدِ ماذون کے "لِأَنَّ إِقْرَارَهُ بِالْمَالِ الَّذِيْ فِيْ يَدِهِ صَحِيْحٌ" "لِأَنَّ إِقْرَارَهُ بِالْمَالِ" اس لیے کیونکہ اس عبدِ ماذون کا اقرار کر لینا اس مال کا "الَّذِيْ فِيْ يَدِهِ" جو اس کے قبضے میں ہے "صَحِيْحٌ" وہ صحیح ہے۔
بھئی، عبدِ ماذون نے کہا: "یہ جو سامنے دس درہم پڑے ہیں، یہ میں نے فلاں سے چوری کیے تھے۔" تو عبدِ ماذون کے قبضے میں جو مال ہے اس کے بارے میں اس کا اقرار صحیح ہے۔ جب معین مال کے اندر عبدِ ماذون کا اقرار صحیح ہے تو غیرِ معین کے اندر تو بطریقِ اولیٰ اس کا اقرار صحیح ہوگا، بھئی، کیونکہ اس کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ آقا نے دیا ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: "بِخِلَافِ الْمَأْذُوْنِ" بخلاف عبدِ ماذون کے "لِأَنَّ إِقْرَارَهُ بِالْمَالِ الَّذِيْ فِيْ يَدِهِ صَحِيْحٌ" اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون کا اقرار کرنا اس مال کے بارے میں جو اس عبدِ ماذون کے قبضے میں ہے "صَحِيْحٌ" اس کا یہ اقرار صحیح ہے "فَيَصِحُّ فِيْ حَقِّ الْقَطْعِ تَبَعًا" تو لہٰذا قطع کے حق میں بھی اس کا اقرار صحیح ہوگا، تبعاً تابع ہونے کے اعتبار سے۔ بھئی، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک چوری کے اندر اصل مال ہے اور قطع اس کے تابع ہے۔ تو جب عبدِ ماذون کا اقرار مال کے سلسلے میں صحیح ہے تو قطع کے سلسلے میں بھی صحیح ہوگا، کیونکہ وہ قطع تو اس کے تابع ہے، بھئی۔ یہ معنی ہے کہ جب مال کے بارے میں اس کا اقرار صحیح ہے "فَيَصِحُّ فِيْ حَقِّ الْقَطْعِ تَبَعًا" تو لہٰذا قطع کے حق میں بھی اس کا اقرار صحیح ہوگا، تبعاً باعتبارِ تابع ہونے کے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: "وَلِأَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے "أَنَّهُ أَقَرَّ بِشَيْئَيْنِ"۔ بھئی، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا ضابطہ یہ ہے کہ چوری کے اندر مال اور قطع دونوں اصل ہیں۔ چوری کے اندر مال اور قطع دونوں اصل ہیں، دونوں میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے تابع نہیں ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں: "وَلِأَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے "أَنَّهُ أَقَرَّ بِشَيْئَيْنِ" کہ اس غلام نے دو چیزوں کا اقرار کیا ہے۔ دو چیزوں کا اقرار: ایک قطع کا اور ایک مال کا، اور دونوں اصل ہیں۔ تو "أَنَّهُ أَقَرَّ بِشَيْئَيْنِ" کہ اس غلام نے دو چیزوں کا اقرار کیا ہے "بِالْقَطْعِ" ایک تو قطع کا "وَهُوَ عَلَى نَفْسِهِ" اور یہ اقرار اس نے اپنی ذات کے خلاف کیا ہے۔ یہ اقرار اس نے اپنی ذات کے خلاف کیا ہے "فَيَصِحُّ عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ" تو یہ اقرار صحیح ہوگا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا۔ یہ اقرار اس نے خود اپنی ذات کے خلاف کیا ہے تو اس کا یہ اقرار معتبر ہوگا اس وجہ سے جو ہم نے پیچھے ذکر کر دی کہ یہ جو اس نے اقرار کیا ہے یہ آدمی ہونے کی حیثیت سے کیا ہے۔ یہ ایک جرم کا اقرار کر رہا ہے اور یہ مکلف ہے، شریعت نے اس کو بھی چوری سے منع کیا ہے، تو یہ مکلف ہونے کی حیثیت سے اقرار کر رہا ہے، لہٰذا اس کا یہ اقرار معتبر ہے۔
تو کہتے ہیں کہ اس نے دو چیزوں کا اقرار کیا ہے "بِالْقَطْعِ" ایک تو ہاتھ کاٹنے کا "وَهُوَ عَلَى نَفْسِهِ" اور یہ اقرار اس نے اپنی ذات کے خلاف کیا ہے "فَيَصِحُّ" تو یہ اقرار صحیح ہوگا "عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ" اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ یہ آدمی ہونے کی حیثیت سے اقرار کر رہا ہے۔ "وَبِالْمَالِ" اور دوسرا اقرار اس نے مال کے بارے میں کیا ہے "وَهُوَ عَلَى الْمَوْلَى" اور یہ اقرار اس نے آقا کے خلاف کیا ہے "فَلَا يَصِحُّ فِيْ حَقِّهِ فِيْهِ" لہٰذا آقا کے حق میں یہ اقرار صحیح نہیں ہے "فِيْهِ" اس مال کے اندر۔ آقا کے حق میں اس مال کے اندر یہ اقرار صحیح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَبِالْمَالِ" اور دوسرا اقرار اس نے مال کا کیا ہے "وَهُوَ عَلَى الْمَوْلَى" اور وہ اقرار آقا کے خلاف ہے "فَلَا يَصِحُّ فِيْ حَقِّهِ فِيْهِ" تو لہٰذا یہ اقرار آقا کے حق میں صحیح نہیں ہے "فِيْهِ" اس مال کے اندر "وَالْقَطْعُ يُسْتَحَقُّ بِدُوْنِهِ" اور قطع جو ہے یعنی ہاتھ کا کاٹنا "يُسْتَحَقُّ" اس کا تو استحقاق ہوتا ہے "بِدُوْنِهِ" أَيْ بِدُوْنِ الْمَالِ، مال کے بغیر بھی۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چوری کے مسئلے میں قطع اور مال دونوں اصل ہیں، دونوں میں سے ایک بھی دوسرے کے تابع نہیں ہے۔ پیچھے امام محمد رحمہ اللہ نے بتلا دیا تھا کہ بعض صورتوں میں صرف مال آتا ہے اور قطع نہیں آتا۔ مال آتا ہے، قطع نہیں آتا، معلوم ہوا مال اصل ہے اور قطع تابع ہے۔ لیکن ایسا کہیں نہیں ہے کہ قطع ہو اور مال نہ ہو۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، مال کے بغیر بھی قطع ہو سکتا ہے، معلوم ہوا قطع بھی مال کے تابع نہیں ہے۔ اور وہ اس طرح، کہتے ہیں مثلاً دیکھو، ایک چور نے اقرار کر لیا کہ: "یہ جو زید کے پاس کپڑا ہے، یہ میں نے عمرو سے چوری کیا تھا۔" کپڑا کس کے پاس ہے؟ زید کے پاس۔ اور چور اقرار کر رہا ہے کہ یہ کپڑا میں نے عمرو سے چوری کیا تھا، تو یاد رکھو، اس صورت میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لیکن وہ کپڑا زید سے لے کر عمرو کو نہیں دلایا جائے گا کیونکہ زید مثلاً کہہ رہا ہے کہ یہ میرا اپنا کپڑا ہے۔ چور تو کیا کہتا ہے؟ یہ کپڑا میں نے کس سے چرایا تھا؟ عمرو سے۔ کپڑا ہے زید کے پاس اور چور کہہ رہا ہے میں نے یہ کپڑا کس سے چوری کیا تھا؟ عمرو سے۔ تو چور کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا لیکن زید کہہ رہا ہے یہ کپڑا تو میرا اپنا ہے، لہٰذا زید سے وہ کپڑا لے کر عمرو کو نہیں دلایا جائے گا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھو، اس مسئلے کے اندر قطع تو ثابت ہو رہی ہے لیکن مال ثابت نہیں ہو رہا، مال نہیں واپس کرنا پڑا۔ تو معلوم ہوا قطع بغیر مال کے ثابت ہو سکتی ہے۔
تو یہاں پر بھی اسی طرح عبدِ محجور نے چوری کی ہے، توجہ ہے؟ عبدِ محجور نے چوری کی ہے اور معین درہموں کے بارے میں کہتا ہے کہ: "یہ والا مال میں نے فلاں سے چوری کیا تھا۔" تو یہاں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور مال بھی واپس نہیں کیا جائے گا، جیسے اس کپڑے کے مسئلے کے اندر اقرار کرنے والے کا ہاتھ تو کاٹا گیا تھا لیکن کپڑا عمرو کو واپس نہیں دلایا گیا تھا۔ تو یہاں پر بھی عبدِ محجور نے معین مال کی چوری کا اقرار کیا ہے تو عبدِ محجور کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا لیکن یہ مال اس اجنبی کو واپس نہیں کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: "وَالْقَطْعُ يُسْتَحَقُّ بِدُوْنِهِ" اور قطع جو ہے اس کا استحقاق ہوتا ہے مال کے بغیر بھی یعنی مال کے بغیر بھی کبھی کبھار چور قطع کا مستحق ہو جاتا ہے۔ "كَمَا إِذَا قَالَ الْحُرُّ" جیسے کہ کوئی آزاد آدمی کہے "اَلثَّوْبُ الَّذِيْ فِيْ يَدِ زَيْدٍ" کہ وہ کپڑا جو زید کے ہاتھ میں ہے یا وہ کپڑا جو زید کے قبضے میں ہے "سَرَقْتُهُ مِنْ عَمْرٍو" یہ کپڑا میں نے عمرو سے چوری کیا تھا "وَزَيْدٌ يَقُوْلُ هُوَ ثَوْبِيْ" اور حال یہ ہے کہ زید کہہ رہا ہے کہ یہ میرا اپنا کپڑا ہے "يُقْطَعُ يَدُ الْمُقِرِّ" تو اس اقرار کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا "وَإِنْ كَانَ لَا يُصَدَّقُ فِيْ تَعْيِيْنِ الثَّوْبِ" اگرچہ کپڑے کی تعیین کے سلسلے میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی "حَتَّى لَا يُؤْخَذُ مِنْ زَيْدٍ" یہاں تک کہ وہ کپڑا زید سے نہیں لیا جائے گا۔ زید سے لے کر وہ کپڑا عمرو کو نہیں دیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا یہاں پر جس طرح قطع تو ثابت ہو گئی لیکن مال اس مسروق منہٗ کو واپس نہیں دلایا گیا، اسی طرح اس غلام کے مسئلے میں بھی غلام نے جب چوری کا اقرار کیا ہے تو اس کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا لیکن وہ دس درہم وہ جو معین موجود ہیں وہ اس مسروق منہٗ کو واپس نہیں کیے جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
بھئی، یاد رکھنا "حَتَّى لَا يُؤْخَذُ مِنْ زَيْدٍ" بھئی، یاد رکھنا یہاں پر بھی یہ "حَتَّى" نَصْب نہیں دے گا کیونکہ حتیٰ کے نَصْب دینے کی شرائط یہاں پر پوری نہیں۔ تو "حَتَّى لَا يُؤْخَذُ مِنْ زَيْدٍ" یہاں تک کہ وہ مال زید سے نہیں لیا جائے گا۔
آگے دیکھیے: "وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى" اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ عبدِ محجور جس نے معین درہموں کی چوری کا اقرار کیا ہے، اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور وہ درہم بھی تاوان دینا پڑے گا۔ تو امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ دونوں کا اقرار صحیح ہے کیونکہ چوری کا اقرار یہ دونوں باتوں کو شامل ہے: قطع کا بھی اقرار ہے اور تاوان کا بھی اقرار ہے۔ اور امام صاحب کے ہاں قطع اصل ہے، تاوان اس کے تابع ہے۔ جب اصل میں اقرار صحیح ہے تو تابع میں بھی اقرار صحیح ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ درہم زید کو واپس کیے جائیں گے۔
تو کہتے ہیں: "وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى أَنَّ الْإِقْرَارَ بِالسَّرِقَةِ إِقْرَارٌ بِالْفِعْلِ الْمُوْجِبِ لِلْقَطْعِ وَالرَّدِّ جَمِيْعًا" اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی دلیل یہ ہے کہ چوری کا اقرار کرنا یہ ایسے فعل کا اقرار کرنا ہے جو موجب ہے قطع کا اور مال کے لوٹانے کا، دونوں کا۔ "وَهُوَ حَقُّ اللّٰهِ تَعَالَى وَحَقُّ الْعَبْدِ" اور وہ فعل جو ہے ایک طرف اللہ کا حق ہے اور دوسری طرف بندے کا حق ہے۔ "وَهُوَ مُؤَاخَذٌ بِحُقُوْقِ الْعِبَادِ فَيَصِحُّ إِقْرَارُهُ" اور یہ غلام جو ہے، اس کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے حقوق العباد کے ساتھ "فَيَصِحُّ إِقْرَارُهُ" تو اس کا اقرار صحیح ہوگا "كَمَا فِي الْمَأْذُوْنِ" جیسا کہ عبدِ ماذون کے اندر۔
بھئی! عبدِ محجور ہو یا عبدِ ماذون ہو، حقوق العباد کے سلسلے میں اس کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ ابھی پیچھے پڑھ کر آئے ہیں کہ عبدِ محجور نے چوری کی ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کہ نہیں؟ کاٹا جائے گا۔ اور وہ چوری کیا ہے؟ حقوق العباد ہے، کسی کا مال چرایا ہے۔ تو حقوق العباد کے سلسلے میں اس کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہاں پر بھی اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا اور وہ مال واپس کیا جائے گا۔
کہتے ہیں: "كَمَا فِي الْمَأْذُوْنِ" جیسا کہ عبدِ ماذون کے اندر "وَالْحَجْرُ كَانَ لِحَقِّ الْمَوْلَى" اور حجر جو تھا وہ تو آقا کے حق کی خاطر تھا "فَيَبْطُلُ فِيْ حَقِّهِ" وہ حجر باطل ہو جائے گا آقا کے حق میں "فَلَا يُبْطِلُ حَقَّ غَيْرِهِ" تو وہ حجر باطل نہیں کرے گا کسی دوسرے کے حق کو۔
بھئی! آقا نے اس غلام کو محجور بنایا تھا اپنے حق کی حفاظت کی خاطر کہ یہ غلام باہر جا کر کہیں میرا مال ضائع نہ کر دے، میرے اوپر قرض نہ لا دے۔ تو یہ حجر کس کے حق کے لیے تھا؟ آقا کے حق کے لیے تھا۔ لیکن جب یہ غلام چوری کر رہا ہے تو اس نے کسی دوسرے کا حق ضائع کیا ہے اور آقا کا یہ حجر کسی دوسرے کے حق کو باطل نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس چوری کے مال کو واپس کیا جائے گا۔
کہتے ہیں: "فَلَا يُبْطِلُ حَقَّ غَيْرِهِ" تو وہ حجر باطل نہیں کرے گا کسی دوسرے کے حق کو "وَصَارَ كَالْجِنَايَةِ" اور یہ مسئلہ جنایت کی طرح ہو گیا "بِخِلَافِ الْغَصْبِ" بخلاف غصب کے "لِأَنَّهُ لَا يُوْجِبُ الْقَطْعَ" اس لیے کیونکہ غصب جو ہے وہ قطع کو واجب نہیں کرتا۔
جنایت کے اندر مثلاً اس غلام نے کسی کا ہاتھ کاٹ دیا تو اس کا بدلہ لیا جائے گا، خواہ آقا راضی ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح یہاں چوری کے اندر بھی اس نے کسی کا مال چرایا ہے تو اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور مال بھی لوٹایا جائے گا۔ بخلاف غصب کے کہ غصب کے اندر صرف مال کا ضمان آتا ہے، قطع نہیں آتا۔ اور یہاں چوری کے اندر قطع اصل ہے اور ردِ مال اس کے تابع ہے۔ تو جب اصل ثابت ہو گئی تو تابع بھی ثابت ہو جائے گا۔
یہاں پر سبق نمبر 126 کا یہ حصہ مکمل ہوا۔
مسروق منہ کو واپس کیے جائیں گے۔
وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے كَأَنَّ الْإِقْرَارَ بِالْقَطْعِ قَدْ صَحَّ مِنْهُ کہ یہ جو ہاتھ کاٹنے کا اقرار ہے قَدْ صَحَّ مِنْهُ یہ اس غلام کی طرف سے صحیح ہے لِمَا بَيَّنَّا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ یہ جو چوری کا اقرار کر رہا ہے یعنی ہاتھ کاٹنے کا اقرار کر رہا ہے یہ اقرار صحیح ہے۔ اس وجہ سے جو ہم نے پیچھے بیان کر دیا کہ وہ یہ اقرار آدمی ہونے کی حیثیت سے کر رہا ہے اور آدمی ہونے کی حیثیت سے تو یہ مکلف ہے، ذمہ دار ہے اور اس نے چوری کی ہے، جرم کیا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو امام صاحب کی دلیل یہ ہے كَأَنَّ الْإِقْرَارَ بِالْقَطْعِ کہ اس چور کا ہاتھ کے کاٹنے کا اقرار کرنا قَدْ صَحَّ مِنْهُ یہ اس کی طرف سے صحیح ہے لِمَا بَيَّنَّا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ فَيَصِحُّ بِالْمَالِ تو جب اقرار قطع کے لیے صحیح ہے فَيَصِحُّ بِالْمَالِ تو مال کے لیے بھی یہ اقرار صحیح ہوگا کیونکہ قطع اصل ہے اور مال اس کے تابع۔ تو جب اصل کے لیے اقرار صحیح ہے تو مال کے لیے بھی اقرار صحیح ہوگا۔ تو کہتے ہیں فَيَصِحُّ بِالْمَالِ تو مال پر بھی اقرار صحیح ہوگا بِنَاءً عَلَيْهِ اسی بنیاد پر۔ جب قطع کے لیے اقرار صحیح ہے تو اسی بنیاد پر مال کے لیے بھی اقرار صحیح ہے کیونکہ مال تابع ہے بھئی۔
لِأَنَّ الْإِقْرَارَ يُلَاقِي حَالَةَ الْبَقَاءِ اس لیے کیونکہ یہ جو اقرار کیا ہے اس غلام نے يُلَاقِي اس اقرار نے ملاقات کی ہے حَالَةَ الْبَقَاءِ بقا کی حالت کے ساتھ۔ بقا کی حالت سے مراد ہے چوری کی بقا کی حالت۔ چوری کی بقا کی حالت۔ بھئی دیکھو اقرار کے اندر خبر دی جاتی ہے ماضی کے کسی فعل کے بارے میں کہ میں نے ماضی میں اس طرح کیا تھا تو اس کے لیے اس فعل کا ہونا ضروری ہے۔ جب وہ فعل پایا گیا ہے تب ہی آپ اس کے بارے میں خبر دے سکتے ہیں کہ میں نے ایسا کیا تھا تو یہاں پر بھی چور نے جب اقرار کیا ہے تو ماضی کے اندر چوری کر چکا ہے تو اس وقت چوری کی بقا کی حالت ہے۔ چوری کی ابتدا نہیں ہے۔ ابتدا تو چوری کی اس وقت تھی جب وہ مال اٹھا رہا تھا بلکہ اب تو چوری ہو چکی ہے تو یہ چوری کی بقا کی حالت ہے۔ تو چور جس وقت اقرار کر رہا ہے وہ بقائے سرقہ کی حالت میں اقرار کر رہا ہے بھئی اور بقائے سرقہ کی حالت میں مال تابع ہوتا ہے۔ بقائے سرقہ کی حالت میں مال تابع ہوتا ہے۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں لِأَنَّ الْإِقْرَارَ يُلَاقِي حَالَةَ الْبَقَاءِ اس لیے کیونکہ اس غلام کا یہ جو اقرار ہے يُلَاقِي اس نے ملاقات کی ہے حَالَةَ الْبَقَاءِ چوری کے باقی رہنے کی حالت کے ساتھ وَالْمَالُ فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ تَابِعٌ لِلْقَطْعِ اور مال جو ہے چوری کی بقا کی حالت میں قطع کے تابع ہوتا ہے۔ قطع اصل اور مال اس کے تابع ہوتا ہے۔ اب بیان کریں گے کس طرح قطع اصل ہوتا ہے اور مال تابع ہوتا ہے بقا کی حالت میں یعنی جب چوری باقی ہے۔ کہتے ہیں وَالْمَالُ فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ تَابِعٌ لِلْقَطْعِ اور مال جو ہے چوری کے باقی ہونے کی حالت میں قطع کے تابع ہوتا ہے حَتَّى تَسْقُطُ عِصْمَةُ الْمَالِ بِاعْتِبَارِهِ بھئی یاد رکھنا یہاں پر بھی یہ حتی نصب نہیں دے گا بھئی تو تَسْقُطُ پر رفع پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں بقا کی حالت کے اندر مال جو ہے وہ تابع ہوتا ہے حَتَّى تَسْقُطُ عِصْمَةُ الْمَالِ بِاعْتِبَارِهِ یہاں تک کہ مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے بِاعْتِبَارِهِ قطع کے اعتبار سے۔ چوری کے اندر جب ہاتھ کاٹ دیا جائے تو مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے، معلوم ہوا قطع اصل ہے اور مال اس کے تابع۔ تو کہتے ہیں حَتَّى تَسْقُطُ عِصْمَةُ الْمَالِ بِاعْتِبَارِهِ یہاں تک کہ قطع کے اعتبار سے مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے وَيُسْتَوْفَى الْقَطْعُ بَعْدَ اسْتِهْلَاكِهِ یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ قطع اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے۔ کہتے ہیں چور اگر چوری کر لے اور چوری کرنے کے بعد وہ سارا مال خرچ کر دے پھر بھی اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے حالانکہ مال ختم ہو چکا ہے، معلوم ہوا قطع اصل ہے اور مال تابع۔ یہ معنی ہے وَيُسْتَوْفَى الْقَطْعُ بَعْدَ اسْتِهْلَاكِهِ اور قطع کو وصول کیا جاتا ہے اس مال کے استہلاک کے بعد بھی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے ہلاک اور ایک ہے استہلاک۔ ہلاک کا معنی ہے خود بخود ایک چیز کا ہلاک ہو جانا جس میں آدمی کا دخل نہ ہو اور استہلاک وہ ہے جس میں اس آدمی کے فعل کا دخل ہو کہ وہ خود اس مال کو خرچ کرتا ہے یا خود اس کو اٹھا کر دریا میں پھینک دیتا ہے تو یہ ہے استہلاک بھئی۔ تو کہتے ہیں وَيُسْتَوْفَى الْقَطْعُ بَعْدَ اسْتِهْلَاكِهِ اور مال کے ہلاک کر دینے کے بعد بھی قطع کو وصول کیا جائے گا۔
بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْحُرِّ بخلاف آزاد آدمی کے مسئلے کے۔ یہاں سے جواب دے رہے ہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس غلام کے مسئلے کو قیاس کیا تھا آزاد آدمی کے مسئلے پر کہ ایک آزاد آدمی نے اقرار کر لیا کہ یہ جو کپڑا زید کے پاس ہے یہ میں نے عمرو سے چوری کیا تھا تو آپ نے پڑھا کہ اس صورت میں چور کا ہاتھ تو کاٹا جائے گا لیکن وہ کپڑا اگر زید کہتا ہے میرا اپنا کپڑا ہے تو وہ عمرو کو واپس نہیں دلایا جائے گا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس غلام کے مسئلے کو قیاس کیا اس آزاد آدمی کے مسئلے پر، وہ جو آزاد آدمی نے چوری کا اقرار کیا تھا۔ تو اس کا جواب دینے لگے ہیں کہ نہیں، آپ غلام کے مسئلے کو آزاد آدمی کے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں مسئلے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرتے ہیں، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کرتے۔ کس طرح بھئی؟ دیکھیے بھئی امام صاحب مسئلے کی کتنی گہرائی میں چلے جاتے ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْحُرِّ بخلاف اس آزاد آدمی کے مسئلے کے لِأَنَّ الْقَطْعَ إِنَّمَا يَجِبُ بِالسَّرِقَةِ مِنَ الْمُودَعِ أَمَّا لَا يَجِبُ بِسَرِقَةِ الْعَبْدِ مَالَ الْمَوْلَى بھئی دیکھیے پہلے بات سمجھ لیجیے۔ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ وہ جو آزاد آدمی کا مسئلہ ہے وہ اس غلام کے مسئلے کی طرح نہیں ہے۔ اس کی طرح نہیں، اس لیے کیونکہ اس آزاد آدمی کے مسئلے میں وہ چور کہہ رہا ہے کہ یہ مال میں نے عمرو سے چوری کیا تھا تو کسی سے مال چوری کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ مال اسی آدمی کا تھا۔ ہو سکتا ہے اس کے پاس وہ مال بطور امانت کے ہو۔ یہ کپڑا اس وقت زید کے پاس ہے اور زید کہہ رہا ہے یہ میرا اپنا کپڑا ہے تو ہو سکتا ہے زید نے یہ کپڑا عمرو کے پاس بطور امانت کے رکھوایا ہو اور چور نے اس امانت کو چوری کیا لیکن بہرحال چاہے مالک سے چوری کرے چاہے امانت کو کوئی شخص چوری کرے دونوں صورتوں میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو لہٰذا اس لیے وہاں پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے وہاں پر ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن غلام کے مسئلے میں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ غلام کا ہاتھ تو کاٹا جائے اور یہ مال اس مسروق منہ کو واپس نہیں کریں گے کیونکہ اگر آپ یہ مال مسروق منہ کو واپس نہیں کرتے تو اس کا تو مطلب ہے غلام نے آقا کا مال چرایا تھا۔ معلوم ہوا آقا نے ہی یہ مال اس مسروق منہ کے پاس بطور امانت کے رکھوایا تھا اور غلام چوری کر کے لے آیا، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ مال آقا کا ہے، آقا کا تو تبھی ہو سکتا ہے نا جب آقا کا یہ مال اس کے پاس بطور امانت کے تھا۔ آقا کا مال اس کے پاس بطور امانت کے موجود تھا پھر ہی آپ کہہ سکتے ہیں یہ آقا کا مال ہے اور جب یہ آقا کا مال ہے تو اس کے اندر تو غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، چاہے آقا سے چوری کرے، چاہے آقا نے کسی کے پاس بطور امانت کے رکھوایا ہو اس سے چوری کر لے، دونوں صورتوں میں غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ آزاد آدمی چاہے مالک سے چوری کرے چاہے مودَع یعنی جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی، آزاد آدمی چاہے مالک سے چوری کرے چاہے مودَع سے چوری کر لے دونوں صورتوں میں اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے لیکن غلام چاہے اپنے آقا سے چوری کرے یا چاہے اپنے آقا کے مودَع سے آقا کا مال چوری کر لے دونوں صورتوں میں غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو لہٰذا اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ غلام کا ہاتھ تو کاٹو لیکن مال نہیں واپس کرنا، جب مال واپس نہیں کرنا معلوم ہوا یہ مال کس کا ہے؟ آقا کا ہے تو پھر آقا کے مال کے اندر آپ غلام کا ہاتھ کیسے کاٹ سکتے ہیں؟ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو کہتے ہیں بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْحُرِّ بخلاف اس آزاد آدمی کے مسئلے میں لِأَنَّ الْقَطْعَ إِنَّمَا يَجِبُ بِالسَّرِقَةِ مِنَ الْمُودَعِ اس لیے کیونکہ ہاتھ کا کاٹنا وہ تو واجب ہو جاتا ہے مودَع سے چوری کے اندر بھی۔ مودَع سے بھی اگر مال چوری کیا جائے تو ہاتھ کا کاٹنا واجب ہو جاتا ہے۔ أَمَّا لَا يَجِبُ بِسَرِقَةِ الْعَبْدِ مَالَ الْمَوْلَى باقی آقا کے مال کو اگر غلام چوری کرے تو اس کے اندر قطع واجب نہیں ہوتا، چاہے آقا سے براہ راست چوری کرے، چاہے آقا نے کسی کے پاس بطور امانت کے رکھوایا ہو۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب کیا تھا کہ غلام کا ہاتھ کاٹیں گے اور مال واپس نہیں کریں گے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، مال واپس کرنا پڑے گا، اگر مال واپس نہیں کرتے آپ اس مال کو آقا کا ہی مال قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے غلام نے آقا کا مال چوری کیا تھا اور غلام اپنے آقا کا مال چوری کر لے تو پھر تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ معنی ہے کہتے ہیں أَمَّا لَا يَجِبُ بِسَرِقَةِ الْعَبْدِ مَالَ الْمَوْلَى باقی غلام اگر آقا کے مال کو چوری کر لے تو اس کی وجہ سے ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہوتا فَافْتَرَقَا تو یہ دونوں حکم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے بھئی۔ ایک حکم وہ تھا جو آزاد آدمی کے مسئلے میں تھا اور ایک حکم جو ہے وہ غلام کے مسئلے میں ہے تو آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ فَافْتَرَقَا تو یہ دونوں مذکورہ حکم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی، مسئلہ مکمل ہو گیا۔
یہ سارا مسئلہ اور یہ سارا اختلاف اس صورت میں تھا جب آقا غلام کی تکذیب کرے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو یہ میرے اپنے درہم ہیں۔ لیکن اگر آقا تصدیق کر دے پھر یاد رکھو پھر ہمارے ائمہ کا اختلاف نہیں، اس صورت میں پھر غلام کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور وہ مال بھی مسروق منہ کو واپس کیا جائے گا۔ تو اب یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں وَلَوْ صَدَّقَهُ الْمَوْلَى اور اگر آقا نے غلام کی تصدیق کر دی يُقْطَعُ فِي الْفُصُولِ كُلِّهَا تو تمام فصلوں کے اندر غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا یعنی تمام صورتوں میں، چاہے عبد محجور ہو اور چاہے عبد ماذون ہو، چاہے مال معین ہو، چاہے مال غیر معین ہو یعنی مستہلک ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں وَلَوْ صَدَّقَهُ الْمَوْلَى اور اگر آقا نے غلام کی تصدیق کر دی يُقْطَعُ فِي الْفُصُولِ كُلِّهَا تو اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے گا ان تمام فصلوں کے اندر یعنی تمام صورتوں میں لِزَوَالِ الْمَانِعِ مانع کے ختم ہو جانے کی وجہ سے۔ پہلے مانع کیا تھا؟ کہ آقا غلام کو جھٹلا رہا تھا اور جب آقا تصدیق کر رہا ہے تو اب کوئی مانع نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے تو پھر تمام صورتوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا لِزَوَالِ الْمَانِعِ مانع کے ختم ہو جانے کی وجہ سے۔
آگے دیکھیے بھئی۔ قَالَ وَإِذَا قُطِعَ السَّارِقُ وَالْعَيْنُ قَائِمَةٌ فِي يَدِهِ رُدَّتْ إِلَى صَاحِبِهَا لِبَقَائِهَا عَلَى مِلْكِهِ بھئی میں نے یہ مسئلہ پہلے بھی آپ کو بتلایا تھا کہ اگر چوری کے اندر چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا لیکن وہ مال ابھی چور کے پاس موجود ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو وہ مال مالک کو واپس دلایا جائے گا کیونکہ اس مال کے اندر مالک کی ملکیت ابھی بھی موجود ہے، ابھی بھی وہی شخص اس مال کا مالک ہے۔ لیکن اگر وہ مال چور نے خرچ کر دیا ہے یا وہ چور کے پاس ہلاک ہو گیا ہے تو ان صورتوں کے اندر پھر چور پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ ہمارے نزدیک قطع اور ضمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ تو کہتے ہیں قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں وَإِذَا قُطِعَ السَّارِقُ اور جب چور کا قطع کر دیا گیا یعنی اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا وَالْعَيْنُ قَائِمَةٌ فِي يَدِهِ اس حال میں کہ وہ چیز جو ہے اس کے قبضے میں موجود ہے، وہ چیز ابھی بھی اس کے قبضے میں موجود ہے، رُدَّتْ إِلَى صَاحِبِهَا تو وہ چیز واپس لوٹائی جائے گی اس چیز کے مالک کو لِبَقَائِهَا عَلَى مِلْكِهِ اس لیے کیونکہ وہ چیز ابھی بھی اس مالک کی ملکیت پر باقی ہے۔ یاد رکھو، چور کے پاس ہی ہونا ضروری نہیں ہے اس چیز کا، چاہے چور کے ہاتھ سے نکل گئی ہے چور نے آگے کسی اور کو تحفے کے طور پر دے دی یا چور نے کسی کو بیچ دی ہے لیکن وہ چیز ابھی بھی موجود ہے تو اس صورت کے اندر بھی وہ مال مالک کو واپس لوٹایا جائے گا، وہ بیع یا ہبہ باطل ہے تو وہ مال مالک کو واپس لوٹایا جائے گا بھئی۔
آگے دیکھیے وَإِنْ كَانَتْ مُسْتَهْلَكَةً لَمْ يَضْمَنْ اور اگر وہ مال جو ہے مستہلک ہو چکا ہے یعنی اس کو ہلاک کر دیا گیا ہے، اس چور نے خود کیا کر دیا اس کو؟ خرچ کر دیا یا ضائع کر دیا تو لَمْ يَضْمَنْ تو اس صورت میں وہ ضامن نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ كَانَتْ مُسْتَهْلَكَةً لَمْ يَضْمَنْ اور اگر وہ مال ہلاک کر دیا گیا ہے تو پھر چور ضامن نہیں ہوگا وَهَذَا الْإِطْلَاقُ يَشْمَلُ الْهَلَاكَ وَالِاسْتِهْلَاكَ اور یہ اطلاق شامل ہے ہلاک اور استہلاک کو۔ بھئی قدوری کے اندر تو مطلقاً آیا وَإِنْ كَانَتْ مُسْتَهْلَكَةً اگر وہ مال ہلاک کر دیا گیا ہے لیکن صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ اطلاق شامل ہے ہلاک کو بھی اور استہلاک کو بھی۔ دونوں صورتوں کے اندر چور پر ضمان نہیں آئے گا چاہے وہ مال اس کے پاس خود بخود ہلاک ہو گیا یعنی اس سے کوئی اور چرا کر لے گیا یا مال وہ اس کے پاس کسی آسمانی آفت سے خود ضائع ہو گیا تب بھی ضمان نہیں ہے اور اگر چور نے خود ضائع کیا ہے یا خرچ کیا ہے پھر بھی ضمان نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں وَهَذَا الْإِطْلَاقُ يَشْمَلُ الْهَلَاكَ وَالِاسْتِهْلَاكَ اور یہ جو اطلاق ہے یعنی صاحب قدوری نے یہ جو مطلقاً ذکر فرمایا يَشْمَلُ الْهَلَاكَ وَالِاسْتِهْلَاكَ یہ ہلاک اور استہلاک دونوں کو شامل ہے وَهُوَ رِوَايَةُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی روایت ہے امام صاحب سے وَهُوَ الْمَشْهُورُ اور یہی روایت مشہور ہے۔ یہ روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کی ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اور یہی روایت مشہور ہے بھئی کہ مال اگر ہلاک ہو چکا ہے تو چور پر ضمان نہیں آئے گا۔
وَرَوَى الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے امام صاحب سے روایت کیا ہے أَنَّهُ يَضْمَنُ بِالِاسْتِهْلَاكِ کہ وہ چوری کرنے والا ضامن ہوگا بِالِاسْتِهْلَاكِ اس مال کو ہلاک کرنے کی صورت میں۔ اگر چور نے خود وہ مال خرچ کیا ہے یا ضائع کیا ہے پھر اس پر ضمان آئے گا۔ تو معلوم ہوا امام صاحب سے اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت حسن ابن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک اگر وہ مال چور کے پاس ہلاک ہوا ہے پھر تو ضمان نہیں آئے گا لیکن اگر چور نے خود ہلاک کیا ہے پھر اس پر ضمان آئے گا جبکہ مشہور روایت کے مطابق امام صاحب کے نزدیک کسی صورت میں بھی چور پر ضمان نہیں آئے گا چاہے ہلاک ہو اور چاہے استہلاک ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں وَرَوَى الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے امام صاحب سے روایت کیا ہے أَنَّهُ يَضْمَنُ بِالِاسْتِهْلَاكِ کہ یہ چور جو ہے استہلاک کی صورت میں ضامن ہوگا وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں يَضْمَنُ فِيهِمَا کہ دونوں صورتوں میں ضامن ہوگا۔ چاہے چور کے پاس مال خود ہلاک ہوا ہے چاہے اس نے ہلاک کیا ہے دونوں صورتوں میں چور ضامن ہوگا۔ معلوم ہوا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قطع اور ضمان جمع ہو سکتے ہیں۔ چور نے چوری کی ہے اور اس کے پاس مال ہلاک ہو گیا ہے یا اس نے خود ہلاک کیا ہے تو اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور ضمان بھی لیا جائے گا تو ہمارے نزدیک قطع اور ضمان جمع نہیں ہو سکتے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قطع اور ضمان جمع ہو سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں يَضْمَنُ فِيهِمَا کہ وہ چور جو ہے ان دونوں صورتوں میں ضامن ہوگا یعنی چاہے ہلاک ہو یا چاہے استہلاک ہو۔
لِأَنَّهُمَا حَقَّانِ قَدِ اخْتَلَفَ سَبَبَاهُمَا لِأَنَّهُمَا حَقَّانِ اس لیے کیونکہ یہ دو حق ہیں۔ ایک ہے قطع اور ایک ہے ضمان۔ قطع الگ حق ہے، یہ شریعت کا حق ہے اور ضمان الگ حق ہے اور یہ بندے کا حق ہے کہ اس کو اس کے مال کا ضمان دیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّهُمَا حَقَّانِ اس لیے کیونکہ یہ قطع اور ضمان جو ہیں دو ایسے حق ہیں قَدِ اخْتَلَفَ سَبَبَاهُمَا کہ ان دونوں کے سبب مختلف ہیں۔ قطع اور ضمان دو ایسے حق ہیں جن کے سبب مختلف ہیں۔ کس طرح سبب مختلف ہیں وہ آگے صاحب ہدایہ بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں لِأَنَّهُمَا حَقَّانِ قَدِ اخْتَلَفَ سَبَبَاهُمَا اس لیے کیونکہ یہ قطع اور ضمان دو ایسے حق ہیں کہ ان دونوں کے سبب مختلف ہیں فَلَا يَمْتَنِعَانِ لہٰذا یہ دونوں ممتنع نہیں ہوں گے یعنی ایک کی وجہ سے دوسرا ممتنع ہو جائے اور نہ آسکے ایسا نہیں ہے بلکہ دونوں حق ثابت ہوں گے۔ تو کہتے ہیں فَلَا يَمْتَنِعَانِ تو یہ دونوں حق جو ہیں ممتنع نہیں ہوں گے فَالْقَطْعُ حَقُّ الشَّرْعِ تو ہاتھ کا کاٹنا جو ہے حَقُّ الشَّرْعِ وہ شریعت کا حق ہے وَسَبَبُهُ اور اس ہاتھ کاٹنے کا جو سبب ہے تَرْكُ الِانْتِهَاءِ انتہاء کا معنی ہے باز آ جانا، رک جانا، تَرْكُ الِانْتِهَاءِ رکنے کو ترک کرنا، رکنے کو ترک کرنا، بھئی کس چیز سے رکنا؟ کہتے ہیں عَمَّا نُهِيَ عَنْهُ اس چوری سے جس سے منع کیا گیا تھا۔ عَمَّا، ما سے کیا مراد ہے یہاں؟ چوری، کیونکہ چوری کا مسئلہ چل رہا ہے۔ وَسَبَبُهُ اس قطع کا جو سبب ہے تَرْكُ الِانْتِهَاءِ عَمَّا نُهِيَ عَنْهُ وہ چیز جس سے منع کیا گیا تھا اس سے رکنے کو چھوڑ دینا، اس سے باز آنے کو ترک کر دینا۔ چور اس سے باز نہیں آیا، اس کو تو کہا گیا تھا چوری نہیں کرنی لیکن یہ اس سے نہیں رکا۔ ترجمہ پھر دیکھ لیجیے، کہتے ہیں وَسَبَبُهُ تَرْكُ الِانْتِهَاءِ عَمَّا نُهِيَ عَنْهُ اور اس ہاتھ کاٹنے کا جو سبب ہے تَرْكُ الِانْتِهَاءِ عَمَّا نُهِيَ عَنْهُ وہ چوری جس سے منع کیا گیا تھا اس سے رکنے کو چھوڑ دینا، اس سے باز آنے کو ترک کر دینا یہ اس کا سبب ہے وَالضَّمَانُ حَقُّ الْعَبْدِ اور جو مال کا ضمان ہے وہ بندے کا حق ہے وَسَبَبُهُ أَخْذُ الْمَالِ اور اس کا سبب جو ہے چور کا اس مال کو لینا ہے کہ چور نے وہ مال لیا تھا تو اب اس کو ضمان دینا پڑے گا۔
فَصَارَ كَاسْتِهْلَاكِ صَيْدٍ مَمْلُوكٍ فِي الْحَرَمِ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کسی مملوکہ شکار کو ہلاک کر دیا جائے حرم میں أَوْ شُرْبِ خَمْرٍ مَمْلُوكَةٍ لِلذِّمِّيِّ یا یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی ذمی کی مملوکہ شراب پی لی جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں ایک ہے قطع اور ایک ہے ضمان۔ قطع کا سبب اور لہٰذا قطع بھی وصول کی جائے گی اور ضمان کا سبب اور لہٰذا ضمان بھی وصول کیا جائے گا۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کہ حرم کے اندر کوئی کسی کے مملوکہ شکار کو ہلاک کر دے۔ بھئی یاد رکھو زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے جو پہلا گھر بنایا گیا وہ ہے بیت اللہ بھئی، تو جیسے اس بیت اللہ کی عظمت ہے اسی طرح بیت اللہ کے ارد گرد کا جو قریب کا علاقہ ہے شریعت نے اس کی بھی تعظیم کا حکم دیا تو بیت اللہ کے ارد گرد کا یہ علاقہ جو ہے یہ حرم کہلاتا ہے۔ حرم کے اندر کسی کو کسی قسم کی تکلیف دینے کی اجازت نہیں۔ اجازت تو ویسے بھی نہیں ہے کسی کو دوسرے کو تکلیف دینے کی لیکن حرم کے اندر تو بالخصوص یہ اور زیادہ بڑا گناہ بن جاتا ہے۔ چنانچہ حرم کے اندر آپ کو درخت کاٹنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح حرم کے اندر آپ کو شکار کھیلنے کی بھی اجازت نہیں ہے یعنی کسی چیز کو آپ یہاں تکلیف نہیں دے سکتے اور یاد رکھو حرم کے اندر اگر کوئی شخص شکار کر لیتا ہے تو اس پر جرمانہ آئے گا، اس کو اس جانور کی قیمت جو ہے وہ فقراء پر صدقہ کرنا پڑے گی۔ حرم کے اندر اگر کوئی شکار کر لے تو اس پر جرمانہ آئے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو چوری ہے اس کے اندر ایک ہاتھ کا کاٹنا ہے اور ایک ضمان ہے، دونوں کا سبب الگ الگ ہے لہٰذا دونوں چیزیں وصول کی جائیں گی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے حرم کے اندر کوئی کسی کے مملوکہ شکار کو ہلاک کر دے تو حرم کے اندر اس نے شکار ہلاک کیا ہے لہٰذا اس کی جزا بھی اس پر واجب ہوگی اور نیز یہ شکار تو کسی کا مملوکہ تھا تو مالک کو بھی اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ توجہ ہے؟ کیونکہ دونوں الگ الگ حق ہیں، ایک شریعت کا حق ہے اور ایک اس مالک کا حق ہے۔ شریعت کا حق اس لیے ہے کیونکہ شریعت نے تو حرم کے اندر شکار کو ہلاک کرنے سے منع کیا تھا اور اس نے شکار کو ہلاک کیا ہے لہٰذا اس پر جزا واجب ہوگی اور نیز دوسرا حق جو ہے وہ اس آدمی کا ہے کہ اس نے ایک آدمی کے مملوکہ چیز کو ہلاک کیا ہے تو اس آدمی کو بھی اس شکار کی قیمت دینا پڑے گی۔ اور یا کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی کسی ذمی کی شراب پی لے، ایک مسلمان نے ایک ذمی کی شراب پی لی تو اس صورت میں اس مسلمان کو حد بھی لگائی جائے گی کیونکہ اس نے شراب پی ہے اور اس پر ضمان بھی آئے گا کہ اس نے ذمی کا مال ضائع کیا ہے تو لہٰذا اس کو ضمان بھی دینا پڑے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے یہ حرم کے اندر مملوکہ شکار کو ہلاک کرنا یا کسی ذمی کی مملوکہ شراب کو پی لینا اس کے اندر دو حق ہیں دونوں کا سبب الگ الگ ہے تو دونوں حق وصول کیے جاتے ہیں تو یہاں اسی طرح چوری کے اندر بھی دو الگ الگ حق ہیں دونوں کا سبب الگ ہے تو دونوں حق وصول کیے جائیں گے، ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور ضمان بھی لیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے فَصَارَ كَاسْتِهْلَاكِ صَيْدٍ مَمْلُوكٍ فِي الْحَرَمِ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے حرم کے اندر کسی مملوکہ شکار کو ہلاک کر دیا جائے أَوْ شُرْبِ خَمْرٍ مَمْلُوكَةٍ لِلذِّمِّيِّ یا یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کسی ذمی کی مملوکہ شراب جو ہے وہ پی لی جائے۔
وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اب ہماری دلیل آگئی بھئی۔ وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور ہماری دلیل جو ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لَا غُرْمَ عَلَى السَّارِقِ بَعْدَ مَا قُطِعَتْ يَمِينُهُ“ ”لَا غُرْمَ عَلَى السَّارِقِ“ غرم کہتے ہیں ضمان کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لَا غُرْمَ عَلَى السَّارِقِ“ کہ چور پر کوئی ضمان نہیں ہے بَعْدَ مَا قُطِعَتْ يَمِينُهُ بعد اس کے جب اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ جب چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا تو اب اس پر کوئی ضمان نہیں ہے، یہ حدیث کے اندر ہے۔ یہ تو تھی نقلی دلیل۔ اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ بھئی۔ انسان احناف کے دلائل سنتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے فقہاء بات کی کتنی گہرائی تک جاتے ہیں۔ عقلی دلیل سنیے بھئی، کہتے ہیں وَلِأَنَّ وُجُوبَ الضَّمَانِ يُنَافِي الْقَطْعَ ہم کہتے ہیں اگر چور پر ضمان بھی واجب کر دیا جائے تو یہ ضمان تو قطع کے منافی ہے، اگر ضمان آئے گا تو پھر قطع نہیں کیا جا سکتا اور جب قطع کیا جائے تو پھر ضمان نہیں آ سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر آپ چور پر ضمان واجب کریں گے تو اس ضمان کے ادا کرنے سے چور اس مال مسروق کا مالک بن جائے گا۔ چور مال مسروق کا مالک بن جائے گا بھئی، اس لیے کیونکہ چور جب عوض دے رہا ہے تو اب عوض کا مالک وہ مسروق منہ بن گیا۔ تو اگر مال مسروقہ کا مالک بھی ابھی بھی وہی شخص ہو پھر تو عوضین ایک ہی آدمی کی ملک میں جمع ہو گئے۔ مسروق منہ وہ مال بھی اسی کا ہے اور عوض بھی آپ نے اس کو دے دیا تو دونوں بدل ایک ہی آدمی کی ملک میں جمع ہو گئے حالانکہ بدل اور مبدل کا مالک ایک ہی شخص نہیں ہو سکتا تو لہٰذا جب ضمان آپ چور سے لے رہے ہیں تو کہنا پڑے گا کہ جس وقت چور ضمان ادا کرے گا وہ اس چیز کا مالک بن جائے گا اور یاد رکھو جب چور مالک بنے گا تو یہ نہیں کہیں گے چور ابھی مالک بنا ہے بلکہ جس وقت چور اس سامان کو اٹھا رہا تھا ہم کہیں گے اسی وقت سے چور مال کا مالک بن گیا۔ ضمان آج ادا کر رہا ہے لیکن مالک کب سے شمار کریں گے؟ جس وقت یہ چوری کر رہا تھا اور سامان اٹھا رہا تھا اس وقت سے ہی مالک ہے۔ جب اس وقت سے ہی مالک ہے تو معلوم ہوا چور نے تو اپنا مال اٹھایا ہے۔ جب اپنا مال اٹھایا تھا تو آپ اس کا ہاتھ کیسے کاٹ سکتے ہیں؟ تو اگر آپ ضمان واجب کریں تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو یہ معنی ہے کہتے ہیں وَلِأَنَّ وُجُوبَ الضَّمَانِ يُنَافِي الْقَطْعَ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ضمان کا واجب ہونا یہ قطع کے منافی ہے لِأَنَّهُ يَتَمَلَّكُهُ بِأَدَاءِ الضَّمَانِ اس لیے کیونکہ چور جو ہے اس مال کا مالک بن جائے گا ضمان ادا کرنے کی وجہ سے مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْأَخْذِ اور اس مالک بننے کی نسبت ہوگی اٹھانے کے وقت کی طرف کہ جس وقت اس چور نے اس سامان کو اٹھایا تھا اس وقت سے ہی یہ مالک ہے۔ تو یہ معنی ہے مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْأَخْذِ اور اس مالک ہونے کی نسبت ہوگی اس اٹھانے کے وقت کی طرف فَتَبَيَّنَ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مِلْكِهِ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ مال کا اٹھانا وارد ہوا تھا عَلَى مِلْكِهِ چور کی اپنی ملکیت پر، چور نے اپنے ہی مال کو اٹھایا تھا، جب اپنے ہی مال کو اٹھایا تھا فَيَنْتَفِي الْقَطْعُ لِلشُّبْهَةِ تو قطع جو ہے وہ منتفی ہو جائے گی شبہے کی وجہ سے۔ قطع منتفی ہو جائے گی شبہے کی وجہ سے کیونکہ چور ضمان ادا کرنے کی وجہ سے مالک بنا ہے اور اس ملکیت کی نسبت اس وقت کی طرف کی جائے گی جب اس نے مال کو اٹھایا تھا تو معلوم ہوا اس نے جب مال چوری کیا تھا تو یہ اپنا ہی مال اس نے اٹھایا تھا، کسی اور کا مال نہیں اٹھایا تو اس کی وجہ سے شبہ آگیا۔ شبہ آگیا اور شبہے کی وجہ سے حد کیا ہوتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔
اور دیکھیے صاحب ہدایہ کی فصاحت و بلاغت ذرا دیکھیے، دیکھیے عبارت انہوں نے ذکر کی لِأَنَّهُ يَتَمَلَّكُهُ بِأَدَاءِ الضَّمَانِ اس لیے کیونکہ چور جو ہے وہ مالک بن جائے گا ضمان ادا کرنے کی وجہ سے مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْأَخْذِ اور اس مالک ہونے کی نسبت ہوگی إِلَى وَقْتِ الْأَخْذِ اٹھانے کے وقت کی طرف۔ صاحب ہدایہ یہ نہیں فرما رہے: إِلَى وَقْتِ السَّرِقَةِ چوری کے وقت کی طرف۔ چوری کے وقت کی طرف نسبت نہیں فرما رہے اس لیے کیونکہ جب چور اپنا مال اٹھا رہا ہے تو یہ تو سرقہ نہیں ہے، یہ تو اخذ ہے، یہ تو سرقہ نہیں ہے بلکہ اخذ ہے، اپنا مال اٹھا رہا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں فَتَبَيَّنَ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مِلْكِهِ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ چور کا مال کو جو اٹھانا ہے وہ اس کی اپنی ملکیت پر ہوا تھا فَيَنْتَفِي الْقَطْعُ لِلشُّبْهَةِ تو لہٰذا ہاتھ کا کاٹنا منتفی ہو جائے گا شبہے کی وجہ سے۔ بھئی ادھر دیکھیے چور ضمان آج ادا کر رہا ہے اور مالک بننے کی نسبت ہے جب اس نے سامان کو اٹھایا تھا۔ توجہ ہے؟ تو حقیقتاً اس وقت مالک نہیں ہے بلکہ کہہ رہے ہیں شبہ آگیا، صرف شبہ آیا ہے۔ کیا آیا ہے؟ شبہ، وجہ یہ کہ ضمان دینے سے مالک بن رہا ہے، ضمان سے پہلے تو مالک نہیں تو بعض اعتبار سے دیکھیں تو ضمان کے بعد مالک ہے، ضمان سے پہلے مالک ہی نہیں ہے کیونکہ ضمان کے بعد مالک بن رہا ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں کہ نسبت تو اٹھانے کے وقت کی طرف کی جائے گی تو اس اعتبار سے دیکھیں تو ضمان سے پہلے ہی یہ کیا بن چکا ہے؟ مالک۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا اس وقت چور کا مالک بننا قطعی اور یقینی نہیں ہے لیکن شبہ تو آگیا اور اس شبہے کی وجہ سے حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے فَيَنْتَفِي الْقَطْعُ لِلشُّبْهَةِ تو لہٰذا ہاتھ کا کاٹنا منتفی ہو جائے گا شبہے کی وجہ سے وَمَا يُؤَدِّي إِلَى انْتِفَائِهِ فَهُوَ الْمُنْتَفِي اور وہ چیز جو قطع کے انتفاء تک لے جانے والی ہو فَهُوَ الْمُنْتَفِي وہ خود ہی منتفی ہوگا۔ بھئی قطع تو قرآن سے ثابت ہے، چور کا ہاتھ کاٹنا یہ تو قرآن سے ثابت ہے، یہ تو اجماع سے ثابت ہے لہٰذا جو چیز قطع کی نفی کرے گی خود اس چیز کی نفی ہو جائے گی۔ قطع کی نفی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ قرآن سے اور اجماع سے ثابت ہے، ہاں جس چیز کی وجہ سے قطع منتفی ہو رہی ہے خود وہ چیز ہی منتفی ہو جائے گی اور قطع منتفی ہو رہا ہے کس کی وجہ سے؟ ضمان کی وجہ سے تو لہٰذا ضمان ہی منتفی ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے وَمَا يُؤَدِّي إِلَى انْتِفَائِهِ اور وہ چیز جو قطع کے انتفاء تک لے جانے والی ہو فَهُوَ الْمُنْتَفِي تو وہ خود ہی منتفی ہے۔
وَلِأَنَّ الْمَحَلَّ لَا يَبْقَى مَعْصُومًا یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، دوسری عقلی دلیل۔ یاد رکھو ایک ہے حرام لعینہٖ اور ایک ہے حرام لغیرہٖ۔ حرام لعینہٖ وہ ہے جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے وہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے اور ایک وہ چیز ہے جو کسی غیر کا حق ہونے کی وجہ سے حرام ہو مثلاً مثلاً زید کا سامان پڑا ہے آپ کے لیے زید کا یہ سامان وغیرہ اٹھانا حرام ہے، کیوں حرام ہے؟ زید کے حق کی وجہ سے۔ مثلاً کوئی کھانے کی چیز دیکھ لے زید کی گندم پڑی ہوئی ہے، زید کی گندم۔ اب دیکھو یہ گندم کسی دوسرے آدمی کے لیے بغیر اجازت کے لینا حرام ہے، کیوں حرام ہے؟ زید کے حق کی وجہ سے ورنہ خود گندم؟ گندم تو کھانے کے لیے ہی تو استعمال ہوتی ہے تو گندم اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں ہے بلکہ یہ گندم چونکہ زید کا حق ہے اس لیے حرام ہے تو یہ اس کو کہیں گے حرام لغیرہٖ یعنی یہ گندم حرام تو ہے لیکن اپنی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر کی وجہ سے یعنی زید کے حق کی وجہ سے۔ تو یاد رکھو حرام دو قسم پر ہیں ایک حرام لعینہٖ اور ایک حرام لغیرہٖ۔ حرام لعینہٖ وہ ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے کسی کے حق کی وجہ سے نہیں، ویسے ہی شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور ایک حرام لغیرہٖ ہے جسے شریعت نے کسی دوسرے کے حق کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے۔ اب مسئلہ یاد رکھنا، چور جس وقت چوری کرنے جاتا ہے تو عین جس وقت وہ سامان کو اٹھانے لگا تو یہ سامان مال معصوم تھا، یہ مال محفوظ تھا، یہ کسی دوسرے کا حق ہے لہٰذا اس کا احترام ضروری ہے تو یہ مال محترم ہے اور مال معصوم ہے۔ چور جب اس کو اٹھانے لگا عین اس وقت اس مال کی عصمت اس بندے سے ختم ہو کر اللہ کی طرف منتقل ہو گئی اب اس مال کے مالک اللہ بن گئے۔ مثلاً ایک چور زید کے گھر داخل ہوا اب مثلاً چور زید کی کوئی چیز اٹھانے لگا ہے تو وہ چیز زید کی مملوکہ ہے، یہ چیز معصوم ہے محفوظ ہے لیکن زید کے حق کی وجہ سے، لیکن عین جب چور اس کو اٹھانے لگا اب اس کی عصمت منتقل ہو گئی اللہ کی طرف، اب یہ چیز معصوم ہے بندے کے حق کی وجہ سے نہیں اللہ کے حق کی وجہ سے، یہ اب یہ اللہ کی مملوک چیز ہو گئی، بات سمجھ میں آگئی۔ بھئی کیا وجہ ہے کہ عین چوری سے پہلے آپ کہتے ہیں مال کی عصمت بندے سے منتقل ہو گئی اللہ کی طرف؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اگر آپ اس مال کی عصمت بندے سے اللہ کی طرف منتقل نہیں مانتے تو پھر چور کا ہاتھ آپ نہیں کاٹ سکتے۔ تو پھر چور کا ہاتھ آپ نہیں کاٹ سکتے، کیوں نہیں کاٹ سکتے؟ وجہ یہ مثلاً اگر چور آیا اور اس نے سامان اٹھا لیا اور آپ کہتے ہیں کہ یہ مال اٹھاتے وقت بھی کس کا ہے؟ زید ہی کا ہے تو پھر معلوم ہوا یہ حرام لعینہٖ نہیں یہ حرام لغیرہٖ ہے۔ اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں ہے بلکہ زید کے حق کی وجہ سے حرام ہے اور حرام لغیرہٖ کسے کہتے ہیں؟ کہ وہ بعض اعتبار سے حلال ہوتا ہے بعض اعتبار سے حرام۔ ایک آدمی زید کی گندم اٹھانا چاہتا ہے بغیر اجازت کے تو یہ زید کا حق ہے اس کے لیے یہ گندم اٹھانا حرام ہے لیکن یہ حرام لغیرہٖ ہے، حرام لغیرہٖ کا کیا معنی؟ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے تو یہ حرام نہیں یہ تو کھانے والی چیز ہے لیکن غیر یعنی زید کے حق کی وجہ سے یہ حرام ہے تو معلوم ہوا جو حرام لغیرہٖ ہوتی ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے حلال ہوتی ہے، مباح ہوتی ہے۔ اپنی ذات کے اعتبار سے مباح یا یوں کہو حرام لغیرہٖ جو ہے وہ بعض اعتبار سے حرام ہے بعض اعتبار سے حرام نہیں۔ خود گندم کی ذات کے اعتبار سے دیکھیں تو اس گندم کا کھانا جائز ہے لیکن زید کا حق ہونے کے اعتبار سے دیکھیں تو اس کا کھانا جائز نہیں تو حرام لغیرہٖ جو ہوتی ہے وہ بعض اعتبار سے حرام ہے بعض اعتبار سے حرام نہیں یا یوں کہو بعض اعتبار سے وہ حلال...
حلال ہے، بعض اعتبار سے وہ حلال نہیں۔ تو چور بھی جب مال اٹھا کر لے جانے لگا، اگر آپ ابھی بھی کہتے ہیں اس مال کا مالک زید ہی ہے، تو یہ حرام لغیرہٖ ہوا۔ معلوم ہوا، چور کے لیے بعض اعتبار سے اس کو اٹھانا جائز ہے اور بعض اعتبار سے اٹھانا جائز نہیں۔ بعض اعتبار سے چور کے لیے یہ حلال ہے، بعض اعتبار سے چور کے لیے یہ حرام ہے۔ جب بعض اعتبار سے یہ چیز چور کے لیے حلال ہے، تو اب آپ چور کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتے کیونکہ شبہ آگیا۔ ہاتھ تو تب کاٹیں گے جب چور ایسی چیز کو لے کر جائے جو ہر اعتبار سے اس کے لیے حرام ہو۔ جب وہ ایک ایسی چیز لے جا رہا ہے جو بعض اعتبار سے اس کے لیے جائز ہے، تو پھر اس کا تو آپ ہاتھ نہیں کاٹ سکتے کیونکہ شبہ آگیا حلال ہونے کا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ عین جس وقت چور چوری کرنے لگتا ہے اور اس چیز کو اٹھانے لگتا ہے تو اس وقت اس مال کی عصمت بندے سے منتقل ہو جاتی ہے اللہ کی طرف۔ اب یہ مالِ معصوم ہے لیکن اللہ کے حق کے طور پر، نہ کہ بندے کے حق کے طور پر۔ تو جب اللہ کے حق کے طور پر مالِ معصوم ہو گیا، اب یہ حرام لعینہٖ بن گیا۔ اب جب یہ حرام لعینہٖ بن گیا، اب چور اس کو لے کر جاتا ہے تو اب یہاں کسی اعتبار سے بھی حلال ہونے کا شبہ نہیں۔ جب کسی بھی اعتبار سے حلال ہونے کا شبہ نہیں تو اب اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْمَحَلَّ لَا يَبْقَىٰ مَعْصُومًا حَقًّا لِلْعَبْدِ“ محل سے مراد ہے وہ مالِ مسروق بھئی جس کو چرایا جا رہا ہے۔ وہ مالِ مسروق کیونکہ وہ محل ہے چوری کا، اس کو چرایا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْمَحَلَّ“ اس لیے کیونکہ وہ مالِ مسروق جو ہے ”لَا يَبْقَىٰ مَعْصُومًا حَقًّا لِلْعَبْدِ“ یہ بندے کے حق کے طور پر اب معصوم ہو کر باقی نہیں، یہ بندے کے حق کے طور پر معصوم ہو کر باقی نہیں رہا، بلکہ یہ اللہ کے حق کے طور پر معصوم ہو کر باقی ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّ الْمَحَلَّ“ اس لیے کیونکہ وہ مالِ مسروق جو ہے ”لَا يَبْقَىٰ مَعْصُومًا حَقًّا لِلْعَبْدِ“ یہ مالِ مسروق جو ہے یہ بندے کے حق کے طور پر معصوم ہو کر باقی نہیں ہے، ”إِذْ لَوْ بَقِيَ“ اس لیے کیونکہ یہ بندے کے حق کے طور پر معصوم ہو کر باقی رہتا ”لَكَانَ مُبَاحًا فِي نَفْسِهِ“ پھر تو یہ اپنی ذات کے اعتبار سے مباح ہوتا۔ اپنی ذات کے اعتبار سے مباح اور غیر کی وجہ سے غیرِ مباح ہوتا۔ تو کہتے ہیں: ”إِذْ لَوْ بَقِيَ“ تو اگر یہ مال جو ہے بندے کے حق ہونے کے اعتبار سے معصوم ہو کر باقی رہتا ”لَكَانَ مُبَاحًا فِي نَفْسِهِ“ تو یہ اپنی ذات کے اعتبار سے مباح ہوتا ”فَيَنْتَفِي الْقَطْعُ لِلشُّبْهَةِ“ تو ہاتھ کا کاٹنا منتفی ہو جاتا شبہے کی وجہ سے۔ کیونکہ یہ تو اپنی ذات کے اعتبار سے مباح ہے، جب مباح ہے پھر تو ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے، شبہ آگیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَنْتَفِي الْقَطْعُ لِلشُّبْهَةِ“ تو ہاتھ کا کاٹنا منتفی ہو جاتا شبہے کی وجہ سے۔ اگر یہ مباح ہو کر باقی رہتا تو ہاتھ کا کاٹنا منتفی ہو جاتا شبہے کی وجہ سے۔ ”فَيَصِيرُ مُحَرَّمًا حَقًّا لِلشَّرْعِ“ تو یہ مال جو ہے، ”فَيَصِيرُ مُحَرَّمًا“ تو یہ مال حرام ہوا ”حَقًّا لِلشَّرْعِ“ شریعت کے حق کے طور پر۔ اب یہ مال حرام ہے شریعت کے حق کے طور پر، یعنی اب اس کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہوگئی، اب یہ حرام لغیرہٖ نہ رہا بلکہ یہ حرام لعینہٖ بن گیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِيرُ مُحَرَّمًا حَقًّا لِلشَّرْعِ“ تو یہ مال جو ہے اب بطورِ شریعت کے حق کے حرام ہو گیا ”كَالْمَيْتَةِ“ جیسے کہ مردار ہے۔ جیسے مردار کا کھانا منع ہے، اور وہ کیوں منع ہے؟ شریعت کے حق کے طور پر منع ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالْمَيْتَةِ“ جیسے کہ مردار ہے ”وَلَا ضَمَانَ فِيهِ“ اور شریعت کے حق میں تو کوئی ضمان نہیں ہوتا۔ شریعت کے حق کے اندر تو کوئی ضمان نہیں ہوتا کیونکہ اللہ ضمان کے محتاج نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا ضَمَانَ فِيهِ“ اور اللہ کے حق کے اندر تو کوئی ضمان نہیں ہوتا۔
”إِلَّا أَنَّ الْعِصْمَةَ لَا يَظْهَرُ سُقُوطُهَا فِي حَقِّ الِاسْتِهْلَاكِ“ یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ جب چور چوری کرنے لگتا ہے تو عین چوری کے وقت اس مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ جب مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہوگئی ہے تو پھر تو اس کا ضمان نہیں آنا چاہیے، تو پھر استہلاک کی صورت میں کیسے ضمان آسکتا ہے؟ حالانکہ، حالانکہ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ استہلاک کی صورت میں ضمان آئے گا۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ جب اس مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہوگئی ہے، اللہ تو ضمان کے محتاج نہیں، لہٰذا ضمان نہیں آنا چاہیے، لیکن امام صاحب سے ایک روایت ہے جو اوپر گزر گئی، حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت کرتے ہیں کہ استہلاک کی صورت میں مالِ مسروق کا ضمان آئے گا۔ تو اب اس کا جواب دینے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ الْعِصْمَةَ لَا يَظْهَرُ سُقُوطُهَا فِي حَقِّ الِاسْتِهْلَاكِ“ مگر ایک بات ہے کہ ”أَنَّ الْعِصْمَةَ“ کہ اس مال کی جو عصمت ہے ”لَا يَظْهَرُ سُقُوطُهَا“ اس عصمت کا ساقط ہونا ظاہر نہیں ہوتا ”فِي حَقِّ الِاسْتِهْلَاكِ“ استہلاک کے حق میں۔ مال کی عصمت ساقط تو ہوئی ہے لیکن استہلاک کے حق میں عصمت کا ساقط ہونا ظاہر نہیں۔ یوں سمجھو استہلاک کے حق میں مال کی عصمت ساقط ہی نہیں ہوئی۔ توجہ ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ الْعِصْمَةَ“ مگر یہ کہ اس مال کی جو عصمت ہے ”لَا يَظْهَرُ سُقُوطُهَا“ اس عصمت کا ساقط ہونا ظاہر نہیں ہوتا ”فِي حَقِّ الِاسْتِهْلَاكِ“ اس مال کے استہلاک کے حق میں ”لِأَنَّهُ فِعْلٌ آخَرُ غَيْرُ السَّرِقَةِ“ اس لیے کیونکہ استہلاک چوری کے علاوہ ایک دوسرا فعل ہے۔ چوری کے اندر تو مال کی عصمت ساقط ہوگئی تھی لیکن اس کے بعد چور استہلاک کرتا ہے، تو استہلاک یعنی مال کو ضائع کرنا یا خرچ کرنا وہ تو چور کا ایک الگ فعل ہے۔ تو چوری کے حق میں مال کی عصمت ساقط ہوگئی تھی۔ کیوں ساقط ہوئی تھی؟ کیونکہ اگر مال کی عصمت آپ ساقط نہیں کریں گے تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتے آپ۔ آپ کو کہنا پڑے گا مال کی عصمت ساقط ہوکر کس کی طرف منتقل ہوگئی؟ اللہ کی طرف۔ اگر آپ ایسا نہیں کہتے پھر تو وہاں حلال ہونے کا شبہ آتا ہے بھئی کیونکہ وہ حرام لغیرہٖ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا چوری کے اندر تو قطع کے لیے ضروری ہے کہ کہا جائے کہ مال کی عصمت منتقل ہوگئی ہے اللہ کی طرف، لیکن استہلاک تو ایک الگ فعل ہے، وہاں کوئی ضرورت نہیں ہے عصمت کو ساقط کرنے کی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ فِعْلٌ آخَرُ غَيْرُ السَّرِقَةِ“ اس لیے کیونکہ استہلاک تو چوری کے علاوہ ایک دوسرا فعل ہے ”وَلَا ضَرُورَةَ فِي حَقِّهِ“ اور استہلاک کے حق میں کوئی ضرورت نہیں ہے عصمت کو ساقط کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چوری کے اندر ضرورت تھی، اس کے بغیر تو قطع ہی ثابت نہیں ہوسکتا تھا، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا ضَرُورَةَ فِي حَقِّهِ“ اور استہلاک کے حق میں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ مال کی عصمت کو ساقط کیا جائے ”وَكَذَا الشُّبْهَةُ تُعْتَبَرُ فِيمَا هُوَ السَّبَبُ دُونَ غَيْرِهِ“ اور اسی طرح شبہ جو ہے وہ معتبر ہے ”فِيمَا هُوَ السَّبَبُ“ اس چوری میں جو قطع کا سبب ہے ”دُونَ غَيْرِهِ“ نہ کہ اس کے علاوہ کے اندر۔ بھئی دیکھیے! ہم نے کیا کہا؟ کہ عین چوری سے پہلے مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہوگئی تاکہ یہ چیز حرام لعینہٖ بن جائے، ورنہ تو یہ حرام لغیرہٖ ہے اور حرام لغیرہٖ کے اندر تو مباح ہونے کا بھی شبہ ہوتا ہے، اس میں تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو ہم نے کہا عین چوری سے پہلے اس مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہو گئی یعنی یہ حرام لعینہٖ بن گیا، حرام لعینہٖ بن گیا۔ لہٰذا اب، اب چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا چوری کے اندر شبہ نہیں آنا چاہیے۔ چوری کے اندر اگر شبہ آگیا تو پھر قطع نہیں ہو سکے گا۔ اور شبہ ہم نے کس طرح ختم کیا؟ کہ مال کی عصمت ہم نے اللہ کی طرف منتقل کر دی، ورنہ تو شبہ پایا جاتا اس چیز کے مباح ہونے کا شبہ پایا جاتا۔ تو لہٰذا چوری کے فعل میں شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ چوری کے بعد کسی اور فعل میں شبہ آجائے تو اس سے کوئی خرابی نہیں آتی۔ چوری کے اندر شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ بھئی ہاتھ کاٹنے کا سبب کیا ہے؟ چوری ہے۔ تو چوری کے اندر شبہ نہیں آنا چاہیے، چوری کے بعد کسی اور فعل میں شبہ آجائے تو اس سے کوئی حرج نہیں ہے، یعنی استہلاک کے اندر اگر شبہ بھی آجائے تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا الشُّبْهَةُ تُعْتَبَرُ فِيمَا هُوَ السَّبَبُ“ بھئی دیکھیے، شبہے سے کیا مراد ہے؟ مباح ہونے کا شبہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الشُّبْهَةُ“ اور اسی طرح مباح ہونے کا جو شبہ ہے ”تُعْتَبَرُ“ اس کا اعتبار کیا جائے گا ”فِيمَا هُوَ السَّبَبُ“ اس چوری کے اندر جو اس قطع کا سبب ہے۔ اس مباح ہونے کا شبہ اس چیز کے اندر معتبر ہے جو قطع کا سبب بن رہی ہے، وہاں شبہ نہیں آنا چاہیے، ”دُونَ غَيْرِهِ“ نہ کہ اس کے علاوہ، یعنی استہلاک کے اندر شبہے کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور مشہور قول کی وجہ یہ ہے، بھئی بتلایا تھا امام صاحب سے دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت جو حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی ہے، اس کے مطابق استہلاک کے اندر ضمان آئے گا اور ہلاک کے اندر ضمان نہیں، تو استہلاک میں کیوں ضمان آئے گا وہ وجہ بیان کر دی کہ چوری کے اندر شبہ نہیں آنا چاہیے، استہلاک تو ایک الگ فعل ہے اگر اس میں شبہ آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن امام صاحب کا مشہور قول تو یہ ہے کہ ہلاک ہو یا استہلاک، کسی صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا۔ اب اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور قولِ مشہور کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الِاسْتِهْلَاكَ إِتْمَامُ الْمَقْصُودِ“ بھئی حاصلِ کلام سمجھ لیں پہلے۔ قولِ مشہور کی وجہ یہ ہے، کہتے ہیں کہ یہ جو استہلاک ہے یہ بھی چوری کا حصہ ہے۔ استہلاک یعنی چور نے اس مال کو لے جا کر خرچ کر دیا۔ تو یہ بھی چوری کا حصہ ہے۔ بھئی کس طرح چوری کا حصہ ہے؟ ابھی آپ نے ہمیں بتایا یہ الگ فعل ہے۔ کہتے ہیں نہیں، بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ چوری کا ہی حصہ ہے۔ چوری کا حصہ اس طرح کہ چور گیا چوری کرنے، مجھے بتائیے کیا اس کا مقصد اس مال کو لا کر ویسے ہی رکھنا تھا یا اس مال کے ذریعے وہ اپنی حاجتیں پوری کرنا چاہتا تھا؟ وہ اپنی حاجتیں پوری کرنا چاہتا تھا۔ معلوم ہوا اس چور کا مقصد صرف چوری نہیں ہے بلکہ چوری کے بعد اس مال سے فائدہ اٹھانا بھی ہے۔ تو معلوم ہوا فائدہ اٹھانا جو ہے یعنی مال کو خرچ کرنا، یہ بھی چوری ہی کا حصہ ہے، یہ بھی چوری ہی کا حصہ ہے۔ تو جب یہ چوری کا حصہ ہے تو لہٰذا اس کے اندر بھی شبہ نہیں آنا چاہیے۔ اس کے اندر بھی، چوری کے اندر بھی شبہ نہیں کہ مال کی عصمت اللہ کی طرف منتقل ہو گئی اور استہلاک کے اندر بھی شبہ نہیں آنا چاہیے کہ اگر آپ استہلاک کے اندر ضمان واجب کریں گے تو وہاں شبہ آ جائے گا، کیونکہ آپ پیچھے پڑھ چکے، ضمان آئے تو پھر قطع نہیں ہو سکتا۔ ضمان آئے تو قطع؟ تو استہلاک کے اندر بھی اگر آپ ضمان واجب کریں گے پھر تو کہنا پڑے گا کہ چور اس مال کا مالک بن گیا۔ جب مال کا مالک بن گیا تھا تو گویا اس نے اپنا مال اٹھایا تھا، جب اپنا مال اٹھایا تھا تو شبہ آگیا پھر تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور مشہور قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الِاسْتِهْلَاكَ إِتْمَامُ الْمَقْصُودِ“ کہ استہلاک جو ہے یعنی مال کو ہلاک کرنا اور اس کو خرچ کرنا ”إِتْمَامُ الْمَقْصُودِ“ وہ مقصد کو پورا کرنا ہے، وہ اپنے مقصد کو پورا کرنا ہے ”فَيُعْتَبَرُ الشُّبْهَةُ فِيهِ“ لہٰذا اس کے اندر شبہ آئے تو وہ بھی معتبر ہوگا۔ اس کے اندر بھی شبہ معتبر ہوگا، اس میں بھی شبہ نہیں آنا چاہیے اور شبہ تبھی نہیں آئے گا جب آپ اس میں ضمان واجب نہ کریں۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُعْتَبَرُ الشُّبْهَةُ فِيهِ“ تو استہلاک کے اندر بھی شبہ معتبر ہوگا، جیسے چوری میں شبہ معتبر تھا اسی طرح استہلاک میں بھی شبہ معتبر ہوگا۔ ”وَكَذَا يَظْهَرُ سُقُوطُ الْعِصْمَةِ فِي حَقِّ الضَّمَانِ“ اور اسی طرح عصمت کا ساقط ہونا ظاہر ہوگا ”فِي حَقِّ الضَّمَانِ“ ضمان کے حق میں، یعنی استہلاک کے اندر بھی مال کی عصمت، مال کی عصمت ساقط شمار کی جائے گی تاکہ چور پر ضمان نہ آئے کیونکہ اگر ضمان آئے گا تو پھر تو شبہ آ جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا يَظْهَرُ سُقُوطُ الْعِصْمَةِ فِي حَقِّ الضَّمَانِ“ اور اسی طرح اس مال کی عصمت کا ساقط ہونا ظاہر ہوگا کہ اس مال کی عصمت ساقط ہو گئی ہے ”فِي حَقِّ الضَّمَانِ“ ضمان کے حق میں۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھیے: ”وَكَذَا يَظْهَرُ سُقُوطُ الْعِصْمَةِ فِي حَقِّ الضَّمَانِ“ کہ عصمت کا ساقط ہونا ظاہر ہو جائے گا ”فِي حَقِّ الضَّمَانِ“ ضمان کے حق میں یعنی ضمان نہیں آئے گا۔ یہ استہلاک کی بات چل رہی ہے، کس کی بات چل رہی ہے؟ استہلاک کے اندر بھی ضمان نہیں آنا چاہیے ورنہ شبہ آ جائے گا۔ تو یہ استہلاک کی بات چل رہی ہے، اگرچہ اس جملے کے اندر استہلاک کا ذکر نہیں لیکن آپ ذہن میں رکھیں کہ یہ کس کی بات چل رہی ہے؟ استہلاک۔ پھر ذرا ترجمہ دیکھیں: ”وَكَذَا يَظْهَرُ سُقُوطُ الْعِصْمَةِ“ بلکہ یہاں استہلاک کا لفظ بھی لے آئیں ترجمے میں، ”وَكَذَا يَظْهَرُ سُقُوطُ الْعِصْمَةِ“ اور اسی طرح استہلاک کے اندر بھی عصمت کا ساقط ہونا ظاہر ہوگا ”فِي حَقِّ الضَّمَانِ“ ضمان کے حق میں کہ ضمان نہیں آئے گا استہلاک کے اندر بھی، بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے: ”لِأَنَّهُ مِنْ ضَرُورَاتِ سُقُوطِهَا فِي حَقِّ الْهَلَاكِ“ ”لِأَنَّهُ“ یہ ”أَنَّهُ“ کی ہا ضمیر، یہ جو پیچھے آیا عصمت کا ساقط ہونا، پیچھے جو آیا ”سُقُوطُ الْعِصْمَةِ“ عصمت کا ساقط ہونا اور کون سی عصمت کا ساقط ہونا؟ استہلاک کے مسئلے میں۔ تو ”لِأَنَّهُ“ کی ہا ضمیر لوٹا دیں ”سُقُوطُ الْعِصْمَةِ فِي حَقِّ الِاسْتِهْلَاكِ“۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ“ اس لیے کیونکہ استہلاک کے حق میں عصمت کا ساقط ہونا ”مِنْ ضَرُورَاتِ سُقُوطِهَا فِي حَقِّ الْهَلَاكِ“ ہلاک کے حق میں عصمت کے ساقط ہونے کی ضرورت میں سے ہے۔ اِدھر دیکھیے، یہ ذرا مشکل جگہ ہے بھئی۔ بات چل رہی ہے کہ استہلاک کی صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا قولِ مشہور کے مطابق، تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ ایک وجہ تو ذکر کر دی کہ استہلاک بھی چوری کا حصہ ہے، تو چوری کے اندر شبہ معتبر ہے تو استہلاک میں بھی شبہ معتبر ہے، لہٰذا دونوں کے اندر عصمت ساقط ہونی چاہیے۔ دونوں کے اندر مالِ مسروقہ کی عصمت ساقط ہونی چاہیے اور نیز اب دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ جب ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آتا تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ استہلاک کی صورت میں بھی ضمان نہیں آنا چاہیے۔ توجہ ہے؟ مشکل جگہ ہے۔ جب ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آتا تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ استہلاک کی صورت میں بھی ضمان نہیں آنا چاہیے۔ توجہ ہے؟ پھر دہرائیں۔ ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آتا تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ استہلاک کی صورت میں بھی ضمان نہیں آنا چاہیے۔ بھئی کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھیے! اگر آپ ہلاک کی صورت میں ضمان واجب نہیں کرتے اور استہلاک کی صورت میں ضمان واجب کرتے ہیں، معلوم ہوا وہ مال جو چور نے چوری کیا تھا وہ ہلاک کی صورت میں مالِ معصوم نہیں کیونکہ ضمان نہیں آئے گا اور استہلاک کی صورت میں وہ مالِ معصوم ہے کیونکہ ضمان آ رہا ہے اگر آپ ضمان مانتے ہیں۔ تو معلوم ہوا وہ مال جو چور نے چوری کیا وہ بعض اعتبار سے معصوم ہے، بعض اعتبار سے معصوم نہیں۔ بھئی دیکھیے! چور نے جو مال چوری کیا، اگر آپ یہ کہتے ہیں ہلاک کے اندر تو ضمان نہیں آئے گا لیکن استہلاک کے اندر ضمان آئے گا، تو معلوم ہوا یہ مال جس کو چور چوری کر رہا ہے، بعض اعتبار سے یہ معصوم ہے بعض اعتبار سے معصوم نہیں۔ اگر چور کے پاس یہ مال ہلاک ہو گیا تو چور پر ضمان نہیں آئے گا، معلوم ہوا یہ مال معصوم نہیں۔ اور اگر چور نے خود ہلاک کیا تو آپ کہتے ہیں چور پر ضمان آئے گا، معلوم ہوا اس صورت میں یہ مال معصوم ہے۔ ہلاک کی صورت میں یہ مال معصوم نہیں کیونکہ ضمان نہیں آ رہا اور استہلاک کی صورت میں یہ مال معصوم ہے کیونکہ ضمان آ رہا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ مالِ مسروق جو ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ مالِ معصوم ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ مالِ معصوم نہیں ہے۔ اب آئیے ذرا اس ضمان کی طرف آ جائیے۔ جب استہلاک کی صورت میں چور ضمان دے گا، جب استہلاک کی صورت میں چور ضمان دے گا، یہ کس چیز کا ضمان دے رہا ہے؟ وہ جو مال اس نے چوری کیا تھا، اور اس مال کی کیا صفت تھی؟ وہ بعض اعتبار سے معصوم تھا اور بعض اعتبار سے معصوم نہیں تھا، اور یہ جو ضمان دے رہا ہے یہ ہر اعتبار سے معصوم ہے۔ بھئی جو مال چرایا جائے اس کی عصمت ختم ہوتی ہے، باقی تو ہر آدمی کا مال معصوم ہے، محفوظ ہے، کسی دوسرے کو اٹھانے کی اجازت نہیں، تو چور جو ضمان دے رہا ہے یہ کس قسم کا مال ہے؟ یہ مالِ معصوم ہے۔ تو جو ضمان دے رہا ہے یہ ہے مالِ معصوم اور جو مال اس نے چوری کیا تھا وہ بعض اعتبار سے تو معصوم ہے بعض اعتبار سے معصوم نہیں، تو لہٰذا اس ضمان کی اس مال کے ساتھ مماثلت ہی نہیں ہے، حالانکہ ضمان تو اس مال کے مماثل ہونا چاہیے جس کا ضمان دیا جا رہا ہے۔ یاد رکھو! جس چیز کا ضمان دیا جا رہا ہے، یہ ضمان اس چیز کے مماثل ہونا چاہیے، یہ بات نص سے ثابت ہے، قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ“ جو کوئی تم پر زیادتی کرے، ”فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ“ جو شخص تم پر زیادتی کرے ”فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ“ تو تم بھی اس پر زیادتی کرو ”بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ“ اسی کے مثل جو زیادتی اس نے کی تھی۔ اگر کوئی تمہارے ساتھ زیادتی کرے تو تم بھی اسی زیادتی کے برابر اس پر زیادتی کر سکتے ہو، اس سے زائد کی اجازت نہیں، اور دیکھو قرآن کے اندر ایک شخص نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے تو دوسرا شخص تو دوسرا شخص جو ہے وہ اس زیادتی کا بدلہ دیتا ہے لیکن اس بدلے کو بھی زیادتی کے لفظ سے تعبیر کر دیا گیا۔ کیونکہ پہلے شخص نے جو کیا ہے وہ تو ہے زیادتی اور دوسرا شخص تو اس کا بدلہ لے رہا ہے، بدلے کو تو زیادتی نہیں کہا جاتا لیکن چونکہ قرآن میں ساتھ ہی زیادتی کا لفظ ذکر تھا تو اس دوسرے کو بھی زیادتی کے لفظ سے تعبیر کر دیا گیا، حالانکہ یہ جو دوسرا شخص کر رہا ہے یہ زیادتی نہیں ہے، یہ اس زیادتی کا بدلہ لے رہا ہے۔ تو بہرحال اس نص سے اتنی بات ثابت ہو گئی کہ اگر تو آپ کے ساتھ کوئی شخص زیادتی کرے تو آپ اس کے برابر بدلہ لے سکتے ہیں، اس سے زیادہ بدلہ نہیں لے سکتے۔ معلوم ہوا ضمان کے اندر مماثلت شرط ہے، یہ بات نص سے ثابت ہو گئی۔ ضمان اس چیز کے مثل ہونا چاہیے ہر اعتبار سے۔ لیکن یہاں پر اگر آپ چور پر ضمان واجب کرتے ہیں استہلاک کی صورت میں، تو چور جو یہ جو مال ادا کر رہا ہے یہ ہر اعتبار سے مالِ معصوم ہے اور وہ مال جو چور نے چوری کیا تھا وہ بعض اعتبار سے معصوم ہے بعض اعتبار سے معصوم نہیں۔ استہلاک کی صورت میں آپ نے اس کو معصوم قرار دیا ہے اور ہلاک کی صورت میں آپ نے اسے غیرِ معصوم قرار دیا ہے، تو معلوم ہوا ضمان کی اس مال کے ساتھ مماثلت نہیں، جب ضمان کی اس کے ساتھ مماثلت نہیں ہے تو پھر تو ضمان ہو ہی نہیں سکتا، ضمان کے اندر تو مماثلت ضروری ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ مِنْ ضَرُورَاتِ سُقُوطِهَا فِي حَقِّ الْهَلَاكِ“ ”لِأَنَّهُ“ میں نے بتلایا یہ ”لِأَنَّهُ“ کی ہا ضمیر کس کو راجع کریں؟ استہلاک کی وجہ سے عصمت کا ساقط ہونا۔ ”لِأَنَّهُ“ اس لیے کیونکہ استہلاک کی وجہ سے عصمت کا ساقط ہونا ”مِنْ ضَرُورَاتِ سُقُوطِهَا فِي حَقِّ الْهَلَاكِ“ یہ ہلاک کے حق میں عصمت کے ساقط ہونے کی ضرورت میں سے ہے۔ ہلاک کے اندر اگر آپ عصمت کو ساقط قرار دیتے ہیں تو استہلاک کے اندر بھی آپ کو عصمت کو ساقط قرار دینا پڑے گا، کیونکہ اگر آپ ضمان واجب کریں گے تو ضمان کی اس مال کے ساتھ مماثلت نہ رہے گی، حالانکہ نص سے معلوم ہوا ہے کہ ضمان کے اندر مماثلت شرط ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ“ اس لیے کیونکہ استہلاک کے حق میں عصمت کا ساقط ہونا ”مِنْ ضَرُورَاتِ سُقُوطِهَا فِي حَقِّ الْهَلَاكِ“ یہ ہلاک کے حق میں عصمت کے ساقط ہونے کے ساتھ ضروری ہے ”لِانْتِفَاءِ الْمُمَاثَلَةِ“ مماثلت نہ ہونے کی وجہ سے۔ اگر آپ ہلاک میں ضمان واجب نہیں کرتے اور استہلاک میں آپ ضمان واجب کرتے ہیں، تو معلوم ہوا مالِ مسروق من وجہ معصوم ہے اور من وجہ معصوم نہیں اور جب آپ استہلاک کے اندر ضمان دیں گے تو اس ضمان کی تو اس مالِ مسروق سے مماثلت نہیں ہے، حالانکہ مماثلت شرط تھی۔ یہ ضمان یہ تو ہر اعتبار سے معصوم اور محفوظ ہے اور وہ جو مال تھا وہ تو من وجہ معصوم ہے اور من وجہ معصوم نہیں، تو مماثلت نہیں۔ جب مماثلت نہیں تو ضمان نہیں دیا جا سکتا یہاں پر۔ ضمان کے اندر تو مماثلت ضروری ہے، لہٰذا جب ہلاک کی صورت میں آپ کہتے ہیں مال کی عصمت ساقط ہو گئی تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ آپ کو یہ بھی کہنا پڑے گا کہ استہلاک کی صورت میں بھی مال کی عصمت ساقط ہو گئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور نیز، نیز ہم امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دیتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا کہ قطع اور ضمان جمع ہو سکتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ دونوں الگ الگ حق ہیں اور دونوں کا سبب الگ الگ ہے۔ قطع اس لیے چور پر واجب ہوگی اس لیے کیونکہ اس نے جرم کیا ہے، شریعت نے اس کو چوری سے منع کیا تھا اور اس نے چوری والا فعل کیا ہے، اور اس پر مال کا ضمان بھی آئے گا اس لیے کیونکہ وہ ضمان جو ہے وہ بندے کا حق ہے اور اس نے ایک بندے کا سامان اٹھایا تھا، لہٰذا اب اس پر ضمان بھی واجب ہوگا۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، قطع اور ضمان اکٹھے نہیں ہو سکتے اور یہاں پر دو حق نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حق ہے۔ یہاں دو حق نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حق ہے، کیونکہ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ عین چوری کے وقت مال کی عصمت بندے سے منتقل ہو جاتی ہے اللہ کی طرف۔ تو گویا یہ جو مال اٹھا رہا ہے یہ بندے کا مال نہیں اٹھا رہا بلکہ اللہ کا مال اٹھا رہا ہے۔ تو یہاں پر صرف اللہ کا حق ہے، بندے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔ تو لہٰذا اس کے اندر قطع جب آ جائے تو ضمان نہیں آ سکتا اور اگر ضمان آئے گا تو پھر قطع نہیں آ سکتی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حرم کے اندر کسی کے مملوکہ شکار کو قتل کرنا یا ذمی کی مملوکہ شراب کو پینا وہاں دو دو حق ہیں، بندے کا حق الگ ہے اور شریعت کا حق الگ ہے لیکن یہ چوری کے مسئلے میں صرف ایک ہی حق ہے اور وہ حقِ شریعت ہے۔ لہٰذا یہاں پر جب قطع ہو جائے تو ضمان نہیں آ سکتا، بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَاتٍ فَقُطِعَ فِي إِحْدَاهَا فَهُوَ لِجَمِيعِهَا وَلَا يَضْمَنُ شَيْئًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَا: يَضْمَنُ كُلَّهَا إِلَّا الَّتِي قُطِعَ لَهَا“ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر ایک شخص نے کئی چوریاں کی ہیں اور پھر کسی ایک چوری کے اندر اس کا ہاتھ کاٹا گیا تو یہ ان تمام چوریوں کی جزا ہو جائے گی، اور نیز آپ جانتے ہیں جب چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اس پر ضمان نہیں آتا۔ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس چور پر بھی اب کوئی ضمان نہیں ہے، جتنی بھی اس نے چوریاں کیں سب کی جزا یہ ہاتھ کا کاٹنا ہو گیا۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَاتٍ“ اور جس شخص نے کئی چوریاں کیں ”فَقُطِعَ فِي إِحْدَاهَا“ پھر ایک چوری کے اندر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ”فَهُوَ لِجَمِيعِهَا“ تو یہ ہاتھ کا کاٹنا ان سب چوریوں کے لیے ہو جائے گا ”وَلَا يَضْمَنُ شَيْئًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور وہ شخص کسی چیز کا ضامن نہیں ہوگا امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”يَضْمَنُ كُلَّهَا“ کہ وہ ان تمام چوریوں کا ضامن ہوگا ”إِلَّا الَّتِي قُطِعَ لَهَا“ سوائے اس چوری کے جس کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں جس چوری کے اندر اس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے اس چوری کا ضمان اس پر نہیں آئے گا، باقی تمام چوریوں کا ضمان اس آدمی کو دینا ہوگا۔
”وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ متن کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ بھئی یہ جو صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے، امام صاحب فرماتے ہیں اس چور پر کوئی ضمان نہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ جس چوری کے اندر ہاتھ کاٹا گیا ہے اس کے علاوہ باقی تمام چوریوں کا ضمان آئے گا، تو یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب خصومت کے وقت صرف ایک مسروق منہ حاضر تھا۔ صرف ایک مسروق منہ حاضر ہے تو اس صورت میں یہ اختلاف ہے۔ کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ“ اور اس مسئلے کا معنی یہ ہے کہ ”إِذَا حَضَرَ أَحَدُهُمْ“ جب ان چوریوں والوں میں سے ایک آدمی حاضر ہوا ہے، ”فَإِنْ حَضَرُوا جَمِيعًا“ اگر وہ سارے حاضر ہوئے ہیں ”وَقُطِعَتْ يَدُهُ لِخُصُومَتِهِمْ“ اور ان سب کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹا گیا ہے ”فَلَا يَضْمَنُ شَيْئًا بِالِاتِّفَاقِ فِي السَّرِقَاتِ كُلِّهَا“ تو پھر یہ چور ”لَا يَضْمَنُ شَيْئًا بِالِاتِّفَاقِ“ تو اس صورت میں بالاتفاق چور کسی بھی چیز کا ضامن نہیں ہوگا ”فِي السَّرِقَاتِ كُلِّهَا“ تمام چوریوں میں۔ اگر وہ سارے خصومت کے لیے آئے تھے تو پھر اس صورت کے اندر چور پر کسی چوری کا ضمان نہیں آئے گا، لیکن اگر چند ایک حاضر ہوئے ہیں تو صرف ان کے لیے ضمان نہیں ہوگا اور باقیوں کے لیے ضمان ہوگا بھئی۔
”لَهُمَا“ اب صاحبین کی دلیل آگئی۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ باقیوں کے مال کا ضمان آئے گا چور پر۔ ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْحَاضِرَ لَيْسَ بِنَائِبٍ عَنِ الْغَائِبِ“ کہ یہ جو حاضر شخص ہے جو خصومت کر رہا ہے ”لَيْسَ بِنَائِبٍ عَنِ الْغَائِبِ“ یہ غائب سے نائب نہیں ہے۔ جو خصومت کرنے کے لیے نہیں آئے یہ ان کی طرف سے نائب نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْحَاضِرَ لَيْسَ بِنَائِبٍ عَنِ الْغَائِبِ“ کہ یہ جو حاضر آدمی ہے جو خصومت کر رہا ہے یہ غائب آدمیوں کی طرف سے نائب نہیں ہے ”وَلَا بُدَّ مِنَ الْخُصُومَةِ“ اور چوری کے اندر تو خصومت کا ہونا ضروری ہے ”لِتَظْهَرَ السَّرِقَةُ“ تاکہ چوری ظاہر ہو جائے، تو جب یہ آدمی ان کی طرف سے نائب نہیں ہے تو باقی چوریاں ظاہر بھی نہیں ہوئیں۔ تو معلوم ہوا یہ قطع صرف اسی چوری میں ہوئی ہے باقی چوریوں میں قطع نہیں۔ جب باقی چوریوں میں قطع نہیں تو لہٰذا وہاں پر ضمان بھی ساقط نہیں۔ ضمان تو تب ساقط ہوتا تھا جب چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تھا اس چوری کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا بُدَّ مِنَ الْخُصُومَةِ لِتَظْهَرَ السَّرِقَةُ“ اور خصومت کا ہونا ضروری ہے تاکہ چوری ظاہر ہو جائے ”فَلَمْ تَظْهَرِ السَّرِقَةُ مِنَ الْغَائِبِينَ“ تو غائب لوگوں کی طرف سے چوری ظاہر نہیں ہوئی ”فَلَمْ يَقَعِ الْقَطْعُ لَهَا“ تو لہٰذا یہ ہاتھ کا کاٹنا ان چوریوں کے لیے نہ ہوا ”فَبَقِيَتْ أَمْوَالُهُمْ مَعْصُومَةً“ تو ان کے مال معصوم ہو کر باقی رہے، ان کے اموال معصوم ہو کر باقی رہے کیونکہ ان کے لیے تو قطع نہیں ہوئی بھئی۔
”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْوَاجِبَ بِالْكُلِّ قَطْعٌ وَاحِدٌ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَىٰ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ”أَنَّ الْوَاجِبَ بِالْكُلِّ“ کہ ان تمام چوریوں کے ذریعے جو چیز واجب ہوئی ہے ”قَطْعٌ وَاحِدٌ“ وہ ایک مرتبہ کا قطع ہے ”حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَىٰ“ بطورِ اللہ کے حق کے۔ جتنی بھی چوریاں کی ہیں تو یہ جو قطع واجب ہوئی ہے یہ ان سب کے لیے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْوَاجِبَ بِالْكُلِّ“ کہ ان تمام چوریوں کے ذریعے جو چیز واجب ہوئی ہے ”قَطْعٌ وَاحِدٌ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَىٰ“ وہ ایک ہی قطع ہے بطورِ اللہ کے حق کے ”لِأَنَّ مَبْنَى الْحُدُودِ عَلَى التَّدَاخُلِ“ اس لیے کیونکہ حدود کی بنیاد تداخل پر ہے۔ ایک ہی شخص کئی دفعہ ایک جرم کرے تو ایک ہی حد اس پر جاری کی جائے گی کیونکہ حدود کی بنیاد تداخل پر ہے۔ تو یہاں پر بھی جب ایک دفعہ ہاتھ کاٹ دیا گیا تو یہ گزشتہ تمام چوریوں کی طرف سے ہاتھ کا کاٹنا ہو گیا، تو یہ تمام چوریوں کی طرف سے یہ ہاتھ کا کاٹنا واقع ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَبْنَى الْحُدُودِ عَلَى التَّدَاخُلِ“ اس لیے کیونکہ حدود کی بنیاد تداخل پر ہے ”وَالْخُصُومَةُ شَرْطُ الظُّهُورِ عِنْدَ الْقَاضِي“ اور جو خصومت ہے، صاحبین کیا فرماتے تھے کہ خصومت ایک نے کی ہے تو صرف اسی کے مال کی عصمت ساقط ہوئی ہے، باقیوں کے مال کی عصمت ساقط نہیں لہٰذا ان کا ضمان دینا پڑے گا۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ جو خصومت کی جاتی ہے چوری کے مسئلے میں وہ چوری کے ظہور کے لیے کی جاتی ہے، اس کی وجہ سے کوئی قطع واجب نہیں ہوتا، قطع جو واجب ہوا ہے وہ تو چوری کے فعل کی وجہ سے واجب ہو چکا ہے، خصومت کی وجہ سے صرف چوری قاضی کے پاس ظاہر ہوتی ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالْخُصُومَةُ شَرْطُ الظُّهُورِ عِنْدَ الْقَاضِي“ اور خصومت جو ہے وہ قاضی کے پاس چوری کے ظہور کی شرط ہے ”أَمَّا الْوُجُوبُ بِالْجِنَايَةِ“ باقی جو قطع کا وجوب ہے ”بِالْجِنَايَةِ“ وہ تو جنایت کی وجہ سے ہے کہ اس نے جو چوری کی تھی، ”فَإِذَا اسْتُوفِيَ“ تو جب اس قطع کو وصول کر لیا گیا ”فَالْمُسْتَوْفَىٰ كُلُّ الْوَاجِبِ“ تو وہ جس کو وصول کیا گیا ہے وہ سارا کا سارا واجب ہے، یعنی یہی چیز واجب تھی، زائد واجب ہی نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”فَإِذَا اسْتُوفِيَ“ جب اس قطع کو وصول کر لیا گیا ”فَالْمُسْتَوْفَىٰ كُلُّ الْوَاجِبِ“ تو وہ جس کو وصول کیا گیا وہی سارا واجب تھا، یعنی اس سے زائد کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ ”أَلَا تَرَىٰ“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ يَرْجِعُ نَفْعُهُ إِلَى الْكُلِّ“ کہ اس ایک مرتبہ ہاتھ کے کاٹنے کا نفع تمام چوریوں کی طرف لوٹتا ہے، اس ایک مرتبہ ہاتھ کا کاٹنا اس کا نفع تمام چوریوں کی طرف لوٹتا ہے، اب چور آئندہ کبھی چوری نہیں کرے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”أَلَا تَرَىٰ“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ يَرْجِعُ نَفْعُهُ إِلَى الْكُلِّ“ کہ یہ ایک مرتبہ ہاتھ کا جو کاٹنا ہے اس کا فائدہ لوٹ رہا ہے ان تمام چوریوں کی طرف کہ یہ شخص اب آئندہ چوری نہیں کرے گا ”فَيَقَعُ عَنِ الْكُلِّ“ تو یہ ایک ہی قطع تمام چوریوں کی طرف سے ہو گئی ”وَعَلَىٰ هَٰذَا الْخِلَافِ“ اور اسی اختلاف پر ہے ”إِذَا كَانَتِ النُّصُبُ كُلُّهَا لِوَاحِدٍ“ کہ جب سارے نصاب ایک ہی آدمی کے ہوں ”فَخَاصَمَ فِي الْبَعْضِ“ تو اس نے خصومت کی بعض کے اندر۔
صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ جیسے اوپر والے مسئلے میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف تھا، ایک چور نے کئی آدمیوں سے چوریاں کی ہیں اور ایک آدمی نے خصومت کر کے ہاتھ کٹوا دیا، تو امام صاحب کے نزدیک یہ سب کی جزا ہو گئی لہٰذا اس چور پر کسی چوری کا بھی اب ضمان نہیں آئے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ جس چوری کے اندر خصومت کی گئی ہے یہ قطع صرف اس کے لیے ہے تو صرف اس مال کی عصمت ساقط ہوئی ہے، اس کا ضمان چور پر نہیں آئے گا، جبکہ باقی مالوں کی عصمت تو ساقط نہیں ہوئی، باقیوں کا ضمان چور کو دینا پڑے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں جس طرح اس مسئلے میں اختلاف ہے اسی طرح اگر ایک چور نے ایک ہی آدمی سے کئی مرتبہ نصاب کے بقدر مال چوری کیا ہو، مثلاً چور نے زید سے دس مرتبہ چوری کی ہے اور زید نے صرف ایک چوری کے اندر اس کا ہاتھ کٹوایا ہے، تو صاحبین فرماتے ہیں باقی چوریوں کا ضمان اس چور کو دینا پڑے گا، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ قطع سب کی طرف سے ہو گئی لہٰذا کوئی ضمان چور پر نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَىٰ هَٰذَا الْخِلَافِ“ اور اسی اختلاف پر ہے ”إِذَا كَانَتِ النُّصُبُ كُلُّهَا لِوَاحِدٍ“ جب وہ چوری کے نصاب جو ہے سارے کے سارے ”لِوَاحِدٍ“ ایک ہی آدمی کے تھے، یعنی ایک ہی آدمی سے اس نے بار بار نصاب کے بقدر مال چوری کیا تھا ”فَخَاصَمَ فِي الْبَعْضِ“ تو اس آدمی نے بعض کے اندر خصومت کر لی، تو اس مسئلے میں بھی صاحبین اور امام صاحب کا اسی طرح اختلاف ہے۔ بات سمجھ میں آگئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.