آگے سبق دیکھیے بھئی۔
"وَإِذَا كَانَ السَّارِقُ أَشَلَّ الْيَدِ الْيُسْرَى أَوْ أَقْطَعَ أَوْ مَقْطُوعَ الرِّجْلِ الْيُمْنَى لَمْ يُقْطَعْ؛ لِأَنَّ فِيهِ تَفْوِيتَ جِنْسِ الْمَنْفَعَةِ بَطْشًا أَوْ مَشْيًا، وَكَذَا إِذَا كَانَتْ رِجْلُهُ الْيُمْنَى شَلَّاءَ لِمَا قُلْنَا"۔
بھئی! گزشتہ سبق میں قطع سے متعلقہ کچھ قوانین اور ضابطے ہم نے پڑھے تھے بھئی۔
ایک ضابطہ ہم نے یہ پڑھا تھا کہ اگر کسی شخص کو حرز کے اندر آنے جانے کی اجازت ہو تو اس کے حق میں وہ حرز باقی نہ رہا، لہٰذا وہ شخص اگر وہاں سے چوری کر لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جیسے والدین ہیں یا ان کی اولاد ہے یا ان کا قریبی محرم رشتہ دار ہے یا میاں بیوی ہیں یا کسی کا غلام ہے، تو ان سب کو حرز کے اندر آنے جانے کی اجازت ہوتی ہے اور یہ بے تکلفی سے حرز کے اندر آتے جاتے ہیں، تو ان کے حق میں حرز باقی نہ رہا، لہٰذا اگر یہ اس حرز سے چوری کر لیں تو ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اور دوسرا ضابطہ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حرز دو قسم پر ہے: ایک حرز بالمکان ہے اور ایک حرز بالحافظ ہے بھئی۔ اور چاہے کوئی حرز بالمکان سے چوری کرے یا حرز بالحافظ سے چوری کرے، دونوں صورتوں میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اس کے بعد ایک تیسرا ضابطہ ہم نے پڑھا تھا کہ حرز بالمکان اصل ہے اور حرز بالحافظ فرع ہے، اور جب اصل موجود ہو تو فرع کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا حرز بالمکان کے ہوتے ہوئے حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔
اور چوتھا ضابطہ ہم نے یہ پڑھا تھا کہ حرز بالمکان کے اندر جب چور اس سامان کو مکان سے باہر لے جائے گا تو اس وقت ہم کہیں گے کہ یہ اس نے حرز کو توڑ دیا ہے اور پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ حرز بالحافظ کے اندر چور جیسے ہی اس چیز کو اٹھائے گا تو حرز ٹوٹ گیا اور اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔
اور اس کے بعد ہم نے پانچواں ضابطہ پڑھا تھا کہ ہاتھ کاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ چور کی طرف سے پوری چوری پائی جائے، چاہے حقیقۃً پوری چوری ہو چاہے حکماً۔ لہٰذا اگر دو چور آئے اور انہوں نے ایک مکان کے اندر نقب لگائی اور ایک چور اندر چلا گیا اور اس نے اندر سے سامان دوسرے چور کو باہر پکڑایا، تو کسی ایک چور نے بھی حرز کو کامل طور پر نہیں توڑا، کسی ایک نے بھی چوری کا فعل پورے طور پر نہیں کیا۔ اندر والا اس لیے کیونکہ وہ سامان لے کر باہر نہیں نکلا تو اس نے حرز کو نہیں توڑا، اور باہر والے نے بھی حرز کو نہیں توڑا کیونکہ وہ تو اندر گیا ہی نہیں، تو ان دونوں میں سے کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک ہی چور آیا اور اس نے مکان کے اندر، دیوار کے اندر نقب لگائی اور اندر چلا گیا اور پھر اس نے وہ سامان جو ہے وہ اس سوراخ کے ذریعے باہر گلی میں گرا دیا اور پھر بعد میں خود نکلا، سامان اٹھایا اور چلا گیا، تو پھر اس صورت میں اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ یہاں سارا فعل اسی نے کیا ہے اور اسی نے حرز سے سامان کو باہر بھی نکالا ہے اور اٹھا کر لے گیا ہے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، کوئی گلی میں باہر سامان ڈال دے تو اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، اور کوئی گلی سے اٹھا کر لے جائے اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو ہم جواب میں کہتے ہیں کہ صرف گلی میں ڈالنا وہ الگ فعل ہے، صرف گلی سے اٹھا کر لے جانا وہ الگ فعل ہے، لیکن یہاں یہ سارا فعل ایک ہی آدمی کر رہا ہے، تو اس ایک ہی آدمی کا فعل شمار کیا جائے گا اور چوروں کی عادت اور طریقہ ہی یہ ہے کہ وہ سامان اٹھا کر نکالنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے تو وہ اس کو گلی میں ڈال دیتے ہیں اور پھر باہر نکل کر اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ لہٰذا جب یہ سارا فعل ایک ہی آدمی کی طرف سے پایا گیا تو اس آدمی کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے چوری کی ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر چوروں کی ایک جماعت ہے اور وہ ساری جماعت ایک گھر کے اندر داخل ہوئی اور پھر وہ چوری کر کے وہاں سے نکلے، ان میں سے صرف ایک دو نے سامان کو اٹھایا ہوا تھا، تو اس کے باوجود ساروں کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ ان سب نے حرز کو توڑا ہے، اور سامان اگرچہ سب نے نہیں اٹھایا لیکن چوروں کا طریقہ ہی یہ ہے کہ کچھ چور ان میں سے سامان اٹھاتے ہیں اور باقی حفاظت اور مدد کے لیے ان کے ساتھ ہوتے ہیں، تو سب کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ لیکن میں نے بتلایا یہ اس صورت میں ہے جب تمام چور اس گھر کے اندر گئے ہوں۔ اگر کوئی چور گھر کے اندر نہیں گیا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور نیز یہ بھی ضروری ہے کہ ان چوروں کے اندر کوئی بچہ یا مجنون یا وہ جو جہاں چوری کرنے گئے ہیں اس آدمی کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ اس لیے کیونکہ قریبی محرم رشتہ دار کے حق میں وہ حرز نہیں، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، اور اسی طرح بچہ اور مجنون جو ہیں وہ بھی مرفوع القلم ہیں بھئی، ان کو بھی سزا نہیں دی جا سکتی۔ تو جب بچہ ہو، مجنون ہو یا قریبی محرم رشتہ دار ہو تو ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور جب ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا تو پھر باقی بھی کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، کیونکہ ایک ہی چوری کا فعل ہوا ہے، اس کے اندر کچھ کا ہاتھ کاٹا جائے اور کچھ کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ یا تو سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
اور پھر اگلا ضابطہ بھی ہم نے پڑھا تھا کہ ہاتھ اس وقت کاٹا جائے گا جب کامل طور پر کوئی حرز کو توڑ دے اور نیز چوروں کی عادت بھی اسی طریقے پر جاری ہو۔ تو لہٰذا اگر کوئی شخص صرف دیوار میں نقب لگاتا ہے اور خود اندر نہیں جاتا، باہر سے ہی ہاتھ بڑھا کر اندر سے کچھ چیزیں اٹھاتا ہے اور پھر باہر سے ہی چلا جاتا ہے، تو اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔ اس لیے کیونکہ اگرچہ اس نے حرز کو توڑا ہے، سامان نکالا ہے لیکن کامل طور پر حرز کو نہیں توڑا۔ کامل طور پر حرز کو توڑنا اس وقت ہوتا جب یہ چور اندر جاتا اور پھر سامان لے کر باہر نکلتا، اور نیز چوروں کے اندر عادت بھی اسی طریقے پر ہے، جب وہ کسی مکان وغیرہ سے چوری کرتے ہیں تو اندر جاتے ہیں اور اندر جا کر سامان باہر نکالتے ہیں۔ تو یہاں اگرچہ اس نے حرز توڑا ہے لیکن کامل طور پر حرز کا توڑنا نہیں پایا گیا، لہٰذا اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور میں نے بتلایا تھا ایسے چور کو "سارقِ ظریف" کہتے ہیں، چالاک چور بھئی۔ چنانچہ اس کے بارے میں روایات میں آتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سارقِ ظریف کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، یعنی چالاک چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح کی روایت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ہے۔ تو یہ دیکھو، یہ چور چالاک ہے، اس نے چوری بھی کر لی اور اپنے ہاتھ کو بھی بچا لیا، تو اب اس کو اور کوئی سزا تو دی جا سکتی ہے لیکن اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا بھئی۔
اور پھر اس کے بعد ہم نے جیب قطرے کا مسئلہ پڑھا تھا کہ جیب قطرا اگر کسی کی جیب کاٹتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ قدیم زمانے میں یہ آستین جو ہے قمیص کی یہ بڑی ہوتی تھی اور اسی کے اندر جیب وغیرہ ہوتی تھی اور اسی کے اندر سامان وغیرہ رکھا جاتا تھا۔ تو لہٰذا یہاں پر بعض اوقات جیب باہر کی طرف ہوتی اور اس کی ڈوری اندر کی طرف ہوتی تھی، یا اس کا برعکس ہوتا کہ جیب اندر کی طرف ہوتی اور ڈوری آستین سے باہر کی طرف ہوتی تھی۔ تو یہاں پھر چار صورتیں بنتی ہیں کہ جیب یا باہر کی طرف ہوگی یا اندر کی طرف ہوگی، اور پھر وہ چور جو ہے اس جیب کو کاٹ کر درہم لے کر جائے گا یا ڈوری کو کھول کر درہم کو لے کر جائے گا۔
تو وہ صورتیں جن کے اندر آستین کے اندر سے وہ درہم نکالے، ان صورتوں میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہاں پر کامل طور پر حرز کو توڑنا پایا گیا۔ حرز کیا تھا؟ آستین۔ اور اس نے بھی آستین کے اندر ہاتھ ڈال کر درہم نکالے ہیں اور لے گیا ہے۔ اور وہ صورت جس کے اندر آستین کے اندر ہاتھ نہیں ڈالنے پڑتے بلکہ باہر کی طرف سے ہی چور درہم پکڑ لیتا ہے اور لے جاتا ہے، تو اس صورت میں بھی اس نے حرز تو توڑا ہے لیکن کامل طور پر حرز کو نہیں توڑا، اس نے آستین کے اندر سے چیز نہیں نکالی، لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
مثلاً صورت یہ ہے کہ جیب باہر کی طرف ہے اور چور جو ہے باہر کی طرف سے ہی جیب کاٹ کر درہم لے گیا، تو اس نے آستین کے اندر سے درہم نہیں نکالے بلکہ باہر کی طرف سے ہی نکالے ہیں، لہٰذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ دوسری صورت کہ تھیلی جو ہے وہ آستین کے اندر ہے اور چور نے وہ تھیلی کاٹ کر آستین کے اندر سے درہم نکال لیے، تو اس صورت میں اس نے حرز کو کامل طور پر توڑا ہے، لہٰذا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ ڈوری کھول کر جب وہ درہم لے جائے تو معاملہ برعکس ہوگا بھئی۔ مثلاً ڈوری باہر کی طرف ہے اور درہم اندر کی طرف ہیں، تو باہر کی طرف سے یہ ڈوری کھولے گا تو باہر کی طرف سے ہی اس نے درہم نکال لیے اور لے گیا، تو آستین کے اندر ہاتھ نہیں ڈالا، لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور اگر جیب ہے باہر کی طرف اور ڈوری ہے اندر کی طرف، تو اس صورت میں جب وہ اندر کی طرف سے ڈوری کھولے گا تو وہ درہم آستین کے اندر ہی گریں گے، باہر نہیں گریں گے، تو وہ اندر سے درہم لے کر جائے گا، لہٰذا اس صورت میں بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام یہ کہ جیب باہر کی طرف تھی اور جیب کاٹ کر لے گیا ہے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور جیب اندر کی طرف تھی اور جیب کاٹ کر لے گیا ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور اگر اس نے ڈوری کھول کر درہم نکالے ہیں، تو اگر ڈوری اندر کی طرف تھی تو پھر آستین کے اندر سے وہ درہم لے کر گیا ہے، لہٰذا ہاتھ کاٹیں گے، اور اگر ڈوری باہر کی طرف سے تھی تو ڈوری کھولے گا تو درہم باہر کی طرف ہی گریں گے، تو باہر کی طرف سے ہی یہ درہم لے گیا ہے، لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
اور پھر اس کے اندر ہم نے ساتواں قانون بھی پڑھا تھا کہ حرز جو ہے وہ مقصودی ہونا چاہیے، پھر ہی وہاں سے چوری کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر حرز مقصودی نہیں ہے بلکہ تابع ہے تو پھر اس چوری کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جیسے صاحبِ ہدایہ نے صورت ذکر فرمائی کہ ایک شخص اونٹوں کی قطار لے کر جا رہا ہے یا ایک جانوروں کا ریوڑ ہے اور ایک آدمی اس کو لے کر جا رہا ہے، تو اس اونٹوں کی قطار میں سے کوئی آدمی اونٹ چوری کر لیتا ہے یا ان جانوروں کے ریوڑ میں سے کوئی جانور کوئی آدمی چوری کر لیتا ہے، تو پھر اس چوری کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ اگرچہ حفاظت موجود ہے لیکن یہاں حفاظت طبعاً ہے، قصداً نہیں۔ اصل میں تو ان جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور لے جانا مقصود ہے، یہاں پر حفاظت بالقصد نہیں ہے۔ حفاظت موجود تو ہے لیکن ارادے کے ساتھ حفاظت ہی مقصود ہو ایسا یہاں نہیں ہے۔ اور اسی طرح اگر ان اونٹوں پر کوئی سامان لدا ہوا ہے بوریوں کے اندر، تو اگر کوئی اس بوری کو چوری کر کے لے جائے تو اس صورت میں بھی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں حرز قصداً نہیں ہے بلکہ طبعاً ہے بھئی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ بعض فقہاء فرماتے ہیں اگر حفاظت کے لیے باقاعدہ آدمی موجود ہیں یہاں پر جن کا ارادہ ہی حفاظت کا ہے، تو پھر اس صورت میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر اس بوری کو کاٹ کر اس کے اندر سے کوئی سامان لے جائے تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اونٹوں کی قطار ہے اور اونٹوں پر بوریاں لدی ہوئی ہیں، اگر اس بوری کو کوئی لے جائے تو ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ حرزِ قصدی یہاں نہیں ہے، اور اگر بوری کو پھاڑ کر یا کاٹ کر یا کھول کر اس کے اندر سے سامان لے جائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ بوری حرز ہے اور وہ حرز کے اندر سے سامان لے گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر اس کے بعد ہم نے اگلی فصل شروع کی تھی: "فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْقَطْعِ وَإِثْبَاتِهِ"۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ ہاتھ کاٹنے کا طریقہ ذکر فرمائیں گے اور نیز یہ بتلائیں گے کہ ہاتھ کا کاٹنا کب ثابت ہوگا۔ یعنی کس صورت میں ہاتھ کاٹیں گے اور کس صورت میں ہاتھ کا کاٹنا ثابت نہیں ہوگا تو ہم ہاتھ نہیں کاٹ سکتے۔ میں نے بتلایا تھا کہ ہاتھ کے کاٹنے کے لیے خصومت ضروری ہے کہ جس سے چوری کی گئی ہے وہ کیا کرے؟ خصومت کرے، دعویٰ کرے قاضی کے پاس، پھر ہی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ویسے نہیں۔ نیز اسی طرح اگر چور کا بایاں ہاتھ پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے تو اب چوری کے اندر دایاں ہاتھ نہیں کاٹیں گے ورنہ تو اس کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا، یہ چیزوں کو پکڑ ہی نہیں سکے گا۔ اور نیز اسی طرح اگر چور نے دعویٰ کر دیا ہاتھ کٹنے سے پہلے کہ یہ مال جو میں نے چرایا تھا یہ تو میرا اپنا مال ہے، تو اس صورت کے اندر بھی قصاص جو ہے وہ ساقط ہو جائے گا۔
تو اس فصل میں سب سے پہلے صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ چوری کے اندر چور کا دایاں ہاتھ جو ہے وہ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، جو ہتھیلی اور کلائی کے درمیان جوڑ ہے وہاں سے کاٹا جائے گا اور پھر اس کو داغ دیا جائے گا۔ تو ہاتھ کاٹنے کی دلیل وہ تو قرآن کے اندر اللہ فرماتے ہیں: "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا"۔ اور باقی دایاں ہاتھ کیوں کاٹیں گے؟ تو بتلایا تھا کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت کی وجہ سے، کیونکہ قرآن کے اندر تو ہے "فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا" لیکن حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت میں ہے "فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا"، تو وہاں دائیں ہاتھ کا ذکر ہے اور وہ قرأت جو ہے خبرِ مشہور کے درجے میں ہے، اور خبرِ مشہور کے ذریعے تو کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے، لہٰذا چور کے دائیں ہاتھ کو کاٹا جائے گا۔ اور پھر داغ دیں گے، وجہ یہ کہ میں نے آپ کو بتلایا کہ ہاتھ کاٹنے کی صورت میں بہت تیزی سے خون نکلے گا اور اگر فوری طور پر اس خون کو نہ روکا گیا تو پھر تو وہ چور ہی ہلاک ہو جائے گا، حالانکہ اس حد کا مقصد چور کو دھمکانا ہے، اس کو ہلاک کرنا مقصد نہیں ہے، لہٰذا اس کے ہاتھ کو گرم لوہے کے ساتھ داغ دیا جائے گا تاکہ خون رک جائے بھئی، تاکہ خون رک جائے بھئی۔
اور اگر پھر چور دوسری چوری کرتا ہے تو پھر اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا۔ اور پھر اس کے بعد اگر وہ تیسری چوری کرتا ہے تو پھر عند الاحناف بایاں ہاتھ نہیں کاٹیں گے بلکہ اس چور کو سزا دیں گے، کوڑے لگائیں گے اور پھر اس کو ہمیشہ کے لیے جیل میں ڈال دیں گے یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے یا جیل کے اندر ہی مر جائے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، تیسری صورت کے اندر چور کا بایاں ہاتھ کاٹا جائے گا اور پھر اس کے بعد چوتھی چوری اگر وہ کر لیتا ہے اور پکڑا جاتا ہے اور چوری ثابت ہو جاتی ہے تو پھر اس کا دایاں پاؤں بھی کاٹا جائے گا۔ اور وہ اس سلسلے میں حدیث ذکر کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جو چوری کرے اس کو کاٹ دو، یعنی اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اگر دوبارہ چوری کرے پھر کاٹ دو، پھر اگر چوری کرے تو پھر کاٹ دو۔ جبکہ ہماری دلیل جو ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے، ان کے سامنے ایک چور کو لایا گیا جس نے تیسری مرتبہ چوری کی تھی، اس چور کا دایاں ہاتھ بھی کٹ چکا تھا، اس کا بایاں پاؤں بھی کٹ چکا تھا، اور پھر تیسری چوری کے اندر وہ دوبارہ پھر پکڑا گیا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ سے مشورہ کیا، صحابہ نے فرمایا کہ اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیں، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس کا کوئی ایک ہاتھ بھی باقی نہ رہنے دوں جس کے ذریعے یہ کچھ کھا سکے یا استنجا وغیرہ کر سکے، اور نیز مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس کا کوئی ایک پاؤں بھی باقی نہ رہنے دوں جس کے ذریعے وہ چل سکے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس دلیل پر صحابہ مطمئن ہو گئے، یعنی معلوم ہوا اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا کہ تیسری مرتبہ کے اندر چور کا بایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور باقی وہ جو حدیث ہے، اس حدیث کا ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث جو ہے اس پر بعض بڑے محدثین نے اعتراضات کیے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے جیسے امام طحاوی رحمہ اللہ ہیں، یا دوسرا جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث سیاست پر محمول ہے، یعنی اگر حاکمِ وقت مناسب سمجھتا ہے تو وہ تیسری مرتبہ کے اندر بایاں ہاتھ بھی کاٹ سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں:
"وَإِذَا كَانَ السَّارِقُ أَشَلَّ الْيَدِ الْيُسْرَى أَوْ أَقْطَعَ أَوْ مَقْطُوعَ الرِّجْلِ الْيُمْنَى لَمْ يُقْطَعْ" بھئی۔
بھئی! یاد رکھیے، یہاں پر بھی علماء بین السطور قطع کی شرائط ذکر فرماتے ہیں۔ جیسے پچھلی فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ نے ایسے مسائل ذکر فرمائے تھے کہ جن کی بنیاد کئی اصولوں اور ضابطوں پر تھی۔ صاحبِ ہدایہ نے اصول اور ضابطے تو ذکر نہیں فرمائے تھے لیکن وہ مسائل ذکر فرمائے تھے جن سے وہ اصول اور ضابطے مفہوم ہوتے تھے یا ان کی طرف اشارہ ہوتا تھا، تو اس فصل کے اندر بھی صاحبِ ہدایہ ایسے مسائل ذکر فرمائیں گے کہ جن سے قطع کی بہت سی شرائط مفہوم ہوتی ہیں، تو علماء ان شرائط کو بین السطور ذکر کرتے ہیں۔ یہاں پر بھی علماء بین السطور ہاتھ کاٹنے کی شرائط ذکر فرمائیں گے، صاحبِ ہدایہ نے اگرچہ ان شرائط کو صراحۃً ذکر نہیں فرمایا، البتہ جو جو مسائل صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائے اور جو جو صورتیں صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائی ہیں، ان سے وہ ساری شرطیں واضح طور پر مفہوم ہوتی ہیں، وہ شرطیں واضح طور پر مفہوم ہوتی ہیں جنہیں پھر علماء نے یہاں درج فرما دیا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہاں پر پہلی شرط یہاں یہ ذکر ہو رہی ہے کہ ہاتھ کے کاٹنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ اس ہاتھ کے کاٹنے کی وجہ سے چور کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے، یعنی کوئی چیز وہ پکڑ ہی نہ سکے۔ مثلاً اس چور کا بایاں ہاتھ پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے یا اس کا بایاں ہاتھ شل ہے، یعنی کٹا تو نہیں لیکن شل ہے، وہ اس کو حرکت نہیں دے سکتا، اس کے ذریعے چیزوں کو نہیں پکڑ سکتا، تو اب اگر اس کا دایاں ہاتھ بھی ہم کاٹ دیں گے تو چور کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا، وہ چیزوں کو پکڑ ہی نہیں سکتا، دونوں ہاتھ اس کے ختم ہو گئے بھئی۔ لہٰذا پہلی شرط یہ ہے قطع کی کہ اس ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے چور کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے، یعنی چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا، یا چلنے کا۔ تو اگر بایاں ہاتھ پہلے سے کٹا ہوا ہے یا وہ شل ہے اور آپ دایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں تو اب وہ چیزوں کو پکڑ ہی نہیں سکتا۔ اور نیز اسی طرح ہے اگر اس کا دایاں پاؤں جو ہے وہ کٹا ہوا ہے، آپ نے کون سا ہاتھ کاٹنا ہے؟ دایاں ہاتھ، اور چور کا دایاں پاؤں ہی پہلے سے کٹا ہوا ہے یا وہ شل ہے، تو اس صورت میں اگر آپ دایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں گے اور دایاں پاؤں پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے یا شل ہے، تو اب چور کا چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو گیا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت کے کٹے ہوئے ہوں تو پھر چور چل سکتا ہے، یعنی جس طرف کا پاؤں کٹا ہوا ہے اس طرف وہ لاٹھی وغیرہ پکڑ لے گا اور اس کے سہارے چل لے گا، لیکن اگر دایاں پاؤں پہلے سے ہی کٹا ہے اور آپ دایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں تو اب اس طرف لاٹھی پکڑ کر بھی وہ نہیں چل سکتا، تو گویا چور کے چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو گیا۔ تو پہلی شرط یہ ہے قطع کی کہ اس قطع کی وجہ سے چور کا چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اور پکڑنے کا جنسِ نفع کب ختم ہوگا؟ اگر بایاں ہاتھ پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے یا شل ہے، اور چلنے کا جنسِ نفع کب ختم ہوگا؟ جب دایاں پاؤں پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے یا شل ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِذَا كَانَ السَّارِقُ أَشَلَّ الْيَدِ الْيُسْرَى" اور جب چور جو ہے اس کا بایاں ہاتھ شل ہو "أَوْ أَقْطَعَ" یا اس کا بایاں ہاتھ کٹا ہوا ہو "أَوْ مَقْطُوعَ الرِّجْلِ الْيُمْنَى" یا اس کا دایاں پاؤں کٹا ہوا ہو "لَمْ يُقْطَعْ" تو پھر اس کا دایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
بھئی دیکھیے، یہاں متن میں آیا "أَشَلَّ الْيَدِ الْيُسْرَى"، "أَشَلَّ" آیا، اسی طرح "أَقْطَعَ" آیا بھئی، تو یاد رکھنا یہ اسمِ تفضیل نہیں ہے بھئی، یہ افعلِ صفتی ہے۔ افعلِ صفتی۔ یاد رکھنا، یہ جو "أَفْعَلُ" وزن ہے یہ اسمِ تفضیل کے اندر بھی آتا ہے اور صفتِ مشبہ کے اندر بھی آتا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے اسمِ تفضیل والا جو "أَفْعَلُ" ہے اس میں کسی دوسرے پر زیادتی بتلانا مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ أَضْرَبُ مِنْ عَمْرٍو"، زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے عمرو کے مقابلے میں، تو یہاں دیکھو "أَضْرَبُ" کا معنی ہے زیادہ پٹائی کرنے والا۔ لیکن اگر یہاں افعلِ صفتی ہو تو پھر اس میں زیادہ والا معنی نہیں کریں گے جیسے مثلاً "أَبْيَضُ"، ابیض یاد رکھو یہ افعل وزن ہے لیکن یہ اسمِ تفضیل نہیں ہے، ابیض کا معنی زیادہ سفید نہیں ہے بلکہ ابیض کا معنی ہے سفید بھئی، یہ افعلِ صفتی ہے، یعنی صفتِ مشبہ والا افعل ہے بھئی۔ تو یہاں پر جو "أَشَلَّ" آیا تو اس کا یہ معنی نہ کرنا زیادہ شل ہو، اور "أَقْطَعَ" کا معنی آپ کر لیں زیادہ کٹا ہوا ہو، نہیں نہیں، یہ کیا ہے؟ افعلِ صفتی ہے، وہ اشل الید الیسریٰ ہو یعنی اس کا بایاں ہاتھ شل ہو، او اقطع یا اس کا بایاں ہاتھ کٹا ہوا ہو بھئی۔
آگے دیکھیے، تو کہتے ہیں ان صورتوں میں چور کا دایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا:
"لِأَنَّ فِيهِ تَفْوِيتَ جِنْسِ الْمَنْفَعَةِ بَطْشًا أَوْ مَشْيًا"
"لِأَنَّ فِيهِ تَفْوِيتَ جِنْسِ الْمَنْفَعَةِ" اس لیے کیونکہ اس کے اندر چور کا وہ جنسِ نفع ہی فوت کر دینا ہے، یعنی اس کا جنسِ نفع ہی فوت کر دیا جائے گا اس صورت میں تو، "بَطْشًا" پکڑنے کے اعتبار سے "أَوْ مَشْيًا" یا چلنے کے اعتبار سے۔ یعنی چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا۔
"وَكَذَا إِذَا كَانَتْ رِجْلُهُ الْيُمْنَى شَلَّاءَ"
بھئی متن میں تو صرف اتنا ذکر تھا، چور کا اگر بایاں ہاتھ شل ہے یا بایاں ہاتھ کٹا ہوا ہے تو دایاں ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ اسی طرح متن میں یہ آیا اگر چور کی دائیں ٹانگ جو ہے وہ کٹی ہوئی ہے، لیکن دائیں ٹانگ شل ہو اس کو بیان نہیں کیا، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں:
"وَكَذَا إِذَا كَانَتْ رِجْلُهُ الْيُمْنَى شَلَّاءَ لِمَا قُلْنَا" اور اسی طرح ہے حکم جب اس چور کی دائیں ٹانگ جو ہے شلاء وہ شل ہو۔ دائیں ٹانگ اگر شل ہو تب بھی یہی حکم ہے، "لِمَا قُلْنَا" اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ اس صورت میں چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا بھئی۔
آگے دیکھیے:
"وَكَذَا إِنْ كَانَ إِبْهَامُهُ الْيُسْرَى مَقْطُوعَةً أَوْ شَلَّاءَ"
بھئی یاد رکھو، یہ جو ہم چیزوں کو پکڑتے ہیں ہاتھ کے ذریعے، تو ایک طرف انگلیاں ہو جاتی ہیں اور دوسری طرف انگوٹھا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کا انگوٹھا یاد رکھو کٹ جائے تو وہ چیزوں کو پکڑ نہیں سکتا۔ انگوٹھے کی مدد سے ہی ہم چیزوں کو پکڑتے ہیں کہ ایک طرف انگلیاں ہو جاتی ہیں اور دوسری طرف انگوٹھا ہو جاتا ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ ہم نے چور کا دایاں ہاتھ کاٹنا ہے لیکن اس کے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا ہے، تو اس صورت میں بھی چور کا دایاں ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ جب اس کے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا نہیں ہے تو وہ چیزوں کو پکڑ نہیں سکتا، تو اگر ہم دایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں گے تو چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا۔
اور نیز یہی حکم ہے اس صورت میں بھی اگر چور کے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں کٹی ہوئی ہوں۔ انگوٹھا تو موجود ہے لیکن چار میں سے دو انگلیاں کٹی ہوئی ہیں، تو اس کی وجہ سے بھی چور کے چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ بعض چیزوں کو پکڑ سکتا ہے لیکن وہ پکڑنے کی وہ صحیح طاقت اس کے اندر نہیں ہوتی بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَكَذَا إِنْ كَانَ إِبْهَامُهُ الْيُسْرَى مَقْطُوعَةً أَوْ شَلَّاءَ" اور اسی طرح ہے حکم، یعنی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اگر چور کا بایاں انگوٹھا جو ہے، یعنی بائیں ہاتھ کا جو انگوٹھا ہے، مقطوعة وہ کٹا ہوا ہو او شلاء یا شل ہو، "أَوِ الْأُصْبُعَانِ مِنْهَا سِوَى الْإِبْهَامِ"۔ أُصْبُع بھئی، اُصْبُع، اسی طرح أُسْبُع، اور اسی طرح إِصْبَع وغیرہ، اس لفظ کے اندر آٹھ نو لغتیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "أَوِ الْأُصْبُعَانِ مِنْهَا" یا اس چور کی دو انگلیاں جو ہیں اس بائیں ہاتھ میں سے کٹی ہوئی ہوں "سِوَى الْإِبْهَامِ" انگوٹھے کے علاوہ۔ انگوٹھا تو موجود ہے لیکن دو انگلیاں کٹی ہوئی ہیں، تو یہ دو انگلیاں بھی انگوٹھے کے ہی درجے میں ہیں، تو اس صورت میں بھی چور کا دایاں ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ تو کہتے ہیں: "أَوِ الْأُصْبُعَانِ مِنْهَا" یا اس کے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں کٹی ہوئی ہوں یا شل ہوں "سِوَى الْإِبْهَامِ" انگوٹھے کے علاوہ، "لِأَنَّ قِوَامَ الْبَطْشِ بِالْإِبْهَامِ"۔ بَطْش، بطش کا معنی ہے پکڑنا، قِوام کہتے ہیں کسی چیز کے اجزائے ترکیبی جس سے وہ چیز بنے۔ قوام البطش یعنی پکڑنے کی جو طاقت ہے، پکڑنے کی جو بنیاد ہے۔ کہتے ہیں: "لِأَنَّ قِوَامَ الْبَطْشِ بِالْإِبْهَامِ" اس لیے کیونکہ پکڑنے کی جو طاقت ہے، پکڑنے کی جو بنیاد ہوتی ہے "بِالْإِبْهَامِ" وہ انگوٹھے کے ذریعے ہوتی ہے، تو اگر بائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہو تو دایاں ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔
"فَإِنْ كَانَتْ أُصْبُعٌ وَاحِدَةٌ سِوَى الْإِبْهَامِ"
"فَإِنْ كَانَتْ أُصْبُعٌ وَاحِدَةٌ" دیکھو اصبع موصوف ہے اور واحدة اس کی صفت ہے۔ اور دیکھو صفت واحدة مؤنث لے کر آئے۔ یاد رکھنا، ہمارے جسم کے وہ اعضاء جو دو دو ہیں، جو وہ اعضاء جو دو دو ہیں یعنی جن کے جوڑے بن جاتے ہیں وہ عربی میں مؤنث استعمال ہوتے ہیں، جیسے آنکھیں دو ہیں تو عین جو ہے یہ مؤنث استعمال ہوتا ہے، اسی طرح ہاتھ دو ہیں تو یہ بھی مؤنث استعمال ہوتے ہیں، پاؤں دو ہیں تو یہ بھی مؤنث استعمال ہوتے ہیں، تو اسی لیے اصبع کی صفت مؤنث واحدة لائی گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: "فَإِنْ كَانَتْ أُصْبُعٌ وَاحِدَةٌ سِوَى الْإِبْهَامِ مَقْطُوعَةً أَوْ شَلَّاءَ" اور اگر انگوٹھے کے علاوہ ایک ہی انگلی جو ہے وہ کٹی ہوئی ہے یا وہ شل ہے "قُطِعَ" پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چور کا دایاں ہاتھ ہم نے کاٹنا ہے، بائیں ہاتھ کی ایک انگلی اس کی کٹی ہوئی ہے یا شل ہے، تو اس سے پکڑنے کی قوت ختم نہیں ہوتی، لہٰذا اس صورت میں دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ معنی ہے: "فَإِنْ كَانَتْ أُصْبُعٌ وَاحِدَةٌ سِوَى الْإِبْهَامِ مَقْطُوعَةً أَوْ شَلَّاءَ" اور اگر انگوٹھے کے علاوہ کوئی ایک انگلی جو ہے وہ کٹی ہوئی ہے یا شل ہے "قُطِعَ" پھر دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا، "لِأَنَّ فَوْتَ الْوَاحِدَةِ لَا يُوجِبُ خَلَلًا ظَاهِرًا" اس لیے کیونکہ ایک انگلی کا فوت ہونا کوئی ظاہر خلل پیدا نہیں کرتا، یعنی ظاہر خلل پیدا کرنے کا موجب نہیں بنتا، تو اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
ظَاهِرًا فِي الْبَطْشِ، لِأَنَّ فَوْتَ الْوَاحِدَةِ، اس لیے کیونکہ ایک انگلی کا فوت ہو جانا، لَا يُوجِبُ خَلَلًا ظَاهِرًا فِي الْبَطْشِ، یہ کوئی ظاہری خرابی ثابت نہیں کرتا فِي الْبَطْشِ چیزوں کو پکڑنے میں۔ بِخِلَافِ فَوْتِ الْأُصْبُعَيْنِ، بخلاف دو انگلیوں کا فوت ہو جانا، لِأَنَّهُمَا يَتَنَزَّلَانِ مَنْزِلَةَ الْإِبْهَامِ، اس لیے کیونکہ دو انگلیاں جو ہیں وہ انگوٹھے کے درجے میں اتر آتی ہیں، فِي نُقْصَانِ الْبَطْشِ، پکڑنے کی کمی میں۔ جس طرح انگوٹھا کٹا ہو تو پکڑنے میں کمی آ گئی، اب انسان کوئی چیز صحیح طرح نہیں پکڑ سکتا، اسی طرح دو انگلیاں جو ہیں وہ بھی انگوٹھے کے درجے میں آ گئیں، دو انگلیاں کٹی ہوں تو انسان کوئی چیز صحیح طرح نہیں پکڑ سکتا، تو یہ معنی ہے: لِأَنَّهُمَا يَتَنَزَّلَانِ مَنْزِلَةَ الْإِبْهَامِ، اس لیے کیونکہ دو انگلیاں جو ہیں وہ انگوٹھے کے درجے میں ہو جاتی ہیں، فِي نُقْصَانِ الْبَطْشِ، پکڑنے میں کمی کے اندر۔
قَالَ: وَإِذَا قَالَ الْحَاكِمُ لِلْحَدَّادِ: اقْطَعْ يَمِينَ هَذَا فِي سَرِقَةٍ سَرَقَهَا، فَقَطَعَ يَسَارَهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً، فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ. صورت مسئلہ یہ کہ قاضی یا حاکم نے حداد سے کہا کہ اس چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دو۔ جی۔ حداد، بھئی جیسے جلاد تھا، جلاد جلد سے ہے، جلد کا معنی ہے کوڑے لگانا، تو جو کوڑے لگانے والا ہے اس کو کہیں گے جلاد، اور جو حد لگانے والا ہے، یعنی ہاتھ وغیرہ کاٹنے والا ہے، اس کو کہیں گے حداد بھئی۔ تو قاضی نے یا حاکم نے حداد سے کہا: چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دو، اور حداد نے چور کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا، کاٹنا کون سا ہاتھ تھا؟ دایاں، اور کاٹ دیا اس نے بایاں ہاتھ بھئی، تو اس صورت میں کیا اس پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حداد کو کچھ نہ کچھ قاضی سزا تو دے گا، لیکن اس حداد پر ضمان نہیں آئے گا۔ جی۔ چاہے اس نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے۔ جی۔ امام صاحب کے نزدیک حداد پر کوئی ضمان نہیں ہے، کچھ نہ کچھ قاضی سزا دے تھوڑی بہت، لیکن اس پر ضمان نہیں ہے۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر اس نے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے، جی، پھر تو اس پر ضمان نہیں، لیکن اگر اس نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، اس کو قاضی نے کیا کہا؟ دایاں کاٹو، اور اس نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹ دیا، تو اس صورت میں اس پر ضمان آئے گا۔ جی۔ کیا آئے گا؟ اس پر ضمان آئے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: قَالَ: وَإِذَا قَالَ الْحَاكِمُ لِلْحَدَّادِ، اور جس وقت حاکم نے حداد سے کہا: اقْطَعْ يَمِينَ هَذَا فِي سَرِقَةٍ سَرَقَهَا، کہ اس چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دو فِي سَرِقَةٍ سَرَقَهَا ایسی چوری میں جو اس نے کی ہے، جی، کہ چوری کی وجہ سے اس چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دو، فَقَطَعَ يَسَارَهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً، تو اس حداد نے چور کا بایاں ہاتھ جان بوجھ کر کاٹ دیا أَوْ خَطَأً یا غلطی سے کاٹ دیا، فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو اس پر کوئی بھی چیز نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک، یعنی اس حداد پر ضمان نہیں آئے گا۔ جی۔ اس پر ضمان نہیں آئے گا، البتہ اس کو کچھ تعزیر کی جائے گی کہ اس نے جان بوجھ کر اس طرح کیوں کیا۔ جی۔
وَقَالَا: اور صاحبین فرماتے ہیں: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِي الْخَطَإِ، کہ اس حداد پر کچھ بھی نہیں ہے فِي الْخَطَإِ غلطی کی صورت میں، وَيَضْمَنُ فِي الْعَمْدِ، اور وہ ضامن ہوگا فِي الْعَمْدِ جان بوجھ کر کرنے کی صورت میں، جان بوجھ کر اگر اس نے بایاں ہاتھ کاٹا ہے پھر وہ ضامن ہوگا اور ایک ہاتھ کی دیت اس کو ادا کرنا پڑے گی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: وَيَضْمَنُ فِي الْعَمْدِ، اور وہ حداد جو ہے وہ ضامن ہوگا جان بوجھ کر کاٹنے میں۔
وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، بھئی امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے، چاہے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، دونوں صورتوں میں ضمان دینا پڑے گا۔ جی۔ امام صاحب فرماتے ہیں: دونوں صورتوں میں ضمان نہیں آئے گا، چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے، چاہے جان بوجھ کر، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں ضمان آئے گا، چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے، چاہے جان بوجھ کر، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اگر غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے پھر ضمان نہیں، اور اگر جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے پھر ضمان آئے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَضْمَنُ فِي الْخَطَإِ أَيْضًا، کہ غلطی کی صورت میں بھی وہ حداد ضامن ہوگا، وَهُوَ الْقِيَاسُ، اور یہی قیاس بھی ہے، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہر صورت میں ضمان آنا چاہیے، وَالْمُرَادُ بِالْخَطَإِ هُوَ الْخَطَأُ فِي الِاجْتِهَادِ، بھئی آگے صاحبِ ہدایت دلائل ذکر فرمائیں گے، لیکن پہلے مسئلے کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ جو متن میں آیا کہ اگر حداد سے غلطی ہو جائے، اس غلطی سے کیا مراد ہے؟ تو صاحبِ ہدایت بتلائیں گے کہ یہاں غلطی سے مراد اجتہاد میں غلطی ہے۔ جی۔ تو حداد سے اجتہاد میں غلطی ہو گئی کیونکہ قرآن کے اندر تو دائیں ہاتھ کا ذکر نہیں ہے، قرآن میں تو اللہ کیا فرماتے ہیں: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا} کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ کاٹ دو، یہاں تو دائیں ہاتھ کا ذکر نہیں، تو حداد نے بھی سوچا کہ قرآن کے اندر تو مطلقاً ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے، جو ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے۔ جی۔
تو اس خطا سے، یہ جو متن میں آیا کہ حداد نے جان بوجھ کر کاٹا یا غلطی سے، اس غلطی سے کون سی غلطی مراد ہے؟ اجتہادی غلطی مراد ہے، یہ غلطی نہیں مراد کہ اس کو پتہ ہی نہیں چلا دایاں ہاتھ کون سا ہے اور بایاں ہاتھ کون سا ہے، یہ تو بچہ بھی جانتا ہے کہ دایاں ہاتھ کون سا ہے اور بایاں ہاتھ کون سا ہے، چنانچہ بعض فقہاء فرماتے ہیں اگر اس کو دائیں بائیں کی پہچان میں غلطی لگی ہے پھر اس صورت میں اس پر ضمان آئے گا۔ جی۔ پھر اس صورت میں ضمان آئے گا، جبکہ بعض کہتے ہیں نہیں، اگر دائیں بائیں کی پہچان میں غلطی ہو گئی پھر بھی اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالْخَطَإِ هُوَ الْخَطَأُ فِي الِاجْتِهَادِ، اور غلطی سے مراد جو ہے وہ اجتہاد کے اندر غلطی ہے، أَمَّا الْخَطَأُ فِي مَعْرِفَةِ الْيَمِينِ وَالْيَسَارِ لَا يُجْعَلُ عَفْوًا، اور باقی وہ جو دائیں اور بائیں ہاتھ کو پہچاننے کے اندر جو غلطی ہے لَا يُجْعَلُ عَفْوًا اس کو معاف قرار نہیں دیا جائے گا، جی، اس صورت میں ضمان آئے گا بھئی، وَقِيلَ: اور کہا گیا ہے: يُجْعَلُ عُذْرًا أَيْضًا، کہ اس کو بھی عذر قرار دیا جائے گا، دائیں یا بائیں ہاتھ میں غلطی لگ گئی تو پھر بھی، پھر بھی اس کو عذر قرار دیا جائے گا بھئی۔
آگے دیکھیے: لَهُ، یہ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل ہے، لَهُ، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ قَطَعَ يَدًا مَعْصُومَةً، کہ اس حداد نے ایک معصوم ہاتھ کو کاٹ دیا۔ جی۔ بھئی یاد رکھو جب چور نے چوری کی ہے تو اب اس کا دایاں ہاتھ جو ہے وہ محفوظ نہ رہا، اس دائیں ہاتھ کو کاٹا جائے گا، لیکن بایاں ہاتھ تو معصوم اور محفوظ ہے بھئی، اس کو نہیں کاٹا جا سکتا، تو حداد نے کیا کیا؟ ایک معصوم یعنی ایک محفوظ ہاتھ کو کاٹ دیا۔ جی۔ تو لہٰذا اس پر ضمان آئے گا بھئی، تو لَهُ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ قَطَعَ يَدًا مَعْصُومَةً کہ حداد نے جو ہے ایک معصوم یعنی محفوظ ہاتھ کو کاٹ دیا ہے، تو چور نے جب چوری کی تو اس کا دایاں ہاتھ غیر معصوم ہو گیا یعنی اس کو کاٹا جائے گا، لیکن بایاں ہاتھ تو معصوم یعنی محفوظ ہی ہے۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ قَطَعَ يَدًا مَعْصُومَةً کہ حداد نے ایک معصوم ہاتھ کو یعنی محفوظ ہاتھ کو کاٹ دیا ہے، وَالْخَطَأُ فِي حَقِّ الْعِبَادِ غَيْرُ مَوْضُوعٍ، اور وہ غلطی جو حق العباد کے اندر ہوتی ہے غَيْرُ مَوْضُوعٍ وہ معاف نہیں ہے۔ بھئی ایک آدمی ہے اس نے غلطی سے دوسرے آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا، تو اب ہم یہ نہیں کہیں گے کہ غلطی سے کاٹا ہے معاف ہوگا، بلکہ اس کو ہاتھ کی دیت دینا پڑے گی، یا ایک آدمی نے غلطی سے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو اب ہم یہ نہیں کہیں گے بھئی غلطی ہو گئی معاف کر دو، نہیں نہیں، اس کے اندر اس نے ایک جان ضائع کی ہے تو وہاں پوری دیت دینا پڑتی ہے، معلوم ہوا حقوق العباد کے اندر غلطی بھی ہو جائے وہ معاف نہیں ہے، تو کہتے ہیں: وَالْخَطَأُ فِي حَقِّ الْعِبَادِ غَيْرُ مَوْضُوعٍ، اور وہ غلطی جو بندوں کے حق میں ہوتی ہے غَيْرُ مَوْضُوعٍ وہ معاف نہیں ہے، فَيَضْمَنُهَا، تو یہ اس ہاتھ کا ضامن ہوگا۔
قُلْنَا: ہم کہتے ہیں، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بندوں کے حق میں غلطی بھی ہو جائے تو معاف نہیں، اب ہم اس کا جواب دیتے ہیں: قُلْنَا: ہم کہتے ہیں: إِنَّهُ أَخْطَأَ فِي اجْتِهَادِهِ، کہ اس حداد نے غلطی کی ہے اپنے اجتہاد میں، إِذْ لَيْسَ فِي النَّصِّ تَعْيِينُ الْيَمِينِ، اس لیے کیونکہ نص کے اندر یعنی آیت کے اندر نہیں ہے تَعْيِينُ الْيَمِينِ دائیں ہاتھ کی تعیین، جی، قرآن کی آیت کے اندر تو دائیں ہاتھ کی تعیین نہیں ہے تو اس لیے اجتہاد میں غلطی ہوئی ہے اور اجتہاد کے اندر غلطی معاف ہے۔ جی۔ آپ جانتے ہیں مجتہد سے اجتہاد میں غلطی ہو تو وہ معاف ہے، کہتے ہیں: إِذْ لَيْسَ فِي النَّصِّ تَعْيِينُ الْيَمِينِ، اس لیے کیونکہ نص یعنی آیت کے اندر تو دائیں ہاتھ کی تعیین نہیں ہے، وَالْخَطَأُ فِي الِاجْتِهَادِ مَوْضُوعٌ، اور وہ غلطی جو اجتہاد میں ہوتی ہے مَوْضُوعٌ وہ معاف ہے۔
وَلَهُمَا، اب صاحبین کی دلیل آ گئی۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے غلطی کے اندر بھی ضمان آئے گا، جبکہ ہم نے جواب دے دیا کہ نہیں، یہ اجتہاد میں غلطی ہے اور اجتہاد میں غلطی معاف ہوتی ہے۔ جبکہ صاحبین کا مذہب یہ تھا کہ غلطی کے اندر تو ضمان نہیں آئے گا، لیکن اگر جان بوجھ کر اس نے بایاں ہاتھ کاٹا ہے تو پھر ضمان آئے گا، تو اب وہ صاحبین کی دلیل ذکر کر رہے ہیں: وَلَهُمَا، اور صاحبین کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ قَطَعَ طَرَفًا مَعْصُومًا بِغَيْرِ حَقٍّ، طرف بھئی، طرف عضو کو کہتے ہیں، یہ ہاتھ اور پاؤں کیا ہیں؟ یہ اعضاء ہیں، اطراف ہیں۔ وَلَهُمَا صاحبین کی دلیل یہ ہے، بھئی صاحبین کی دلیل کس چیز پر؟ وہ فرماتے ہیں اگر جان بوجھ کر کاٹے گا جی، تو پھر ضمان آئے گا، اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں: لَهُمَا صاحبین کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ قَطَعَ طَرَفًا مَعْصُومًا بِغَيْرِ حَقٍّ، کہ اس شخص نے ایک معصوم عضو کو کاٹ دیا بِغَيْرِ حَقٍّ ناحق طور پر۔ جی۔ اس حداد نے کیا کیا ہے؟ ناحق ایک معصوم یعنی محفوظ ہاتھ کو کاٹ دیا، اور کاٹا بھی ہے جان بوجھ کر۔ جی۔ جان بوجھ کر، یہاں کوئی تاویل بھی نہیں کی جا سکتی کہ اس سے اجتہاد میں غلطی ہوئی، بلکہ اس نے تو جان بوجھ کر کاٹا ہے۔ تو کہتے ہیں: أَنَّهُ قَطَعَ طَرَفًا مَعْصُومًا بِغَيْرِ حَقٍّ، کہ حداد نے ایک معصوم عضو کو کاٹ دیا ہے ناحق طور پر، وَلَا تَأْوِيلَ، اور اس کے لیے کوئی تاویل بھی نہیں ہے، وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا مجھ سے اجتہاد میں غلطی ہوئی ہے کیونکہ اس نے جان بوجھ کر کاٹا ہے۔ توجہ ہے؟ غلطی والی صورت بیان نہیں کر رہے، بلکہ جان بوجھ کر کاٹنے والی صورت بیان کر رہے ہیں، تو کہتے ہیں: وَلَا تَأْوِيلَ، اور اس شخص کے لیے کوئی تاویل بھی نہیں ہے یعنی وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ اس نے تو جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، تو کہتے ہیں: وَلَا تَأْوِيلَ، اور اس کے لیے تاویل بھی نہیں ہے، لِأَنَّهُ تَعَمَّدَ الظُّلْمَ، اس لیے کیونکہ اس نے ظلم کا ارادہ کیا، اس نے تَعَمَّدَ الظُّلْمَ اس نے ظلم کا ارادہ کیا یعنی جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، فَلَا يُعْفَى، لہٰذا اس کو معاف نہیں کیا جائے گا، وَإِنْ كَانَ فِي الْمُجْتَهَدَاتِ، اگرچہ یہ مسئلہ مجتہدات میں سے ہے۔ جی۔ اگرچہ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے کیونکہ قرآن کے اندر تو دائیں ہاتھ کا ذکر نہیں ہے بلکہ مطلق ہاتھ کا ذکر ہے، تو اگرچہ مسئلے کے اندر اجتہاد کی گنجائش ہے لیکن وہ صورت ہم بیان کر رہے ہیں جس میں اس سے اجتہادی غلطی نہیں ہوئی، اس کو علم تھا مسئلے کا اور پھر بھی اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا، جی، تو اگرچہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے لیکن یہ جو غلطی ہوئی یہ اجتہاد کی وجہ سے نہیں ہوئی، جان بوجھ کر ہوئی ہے۔ تو یہ معنی ہے: فَلَا يُعْفَى، لہٰذا اس کو معاف نہیں کیا جائے گا، وَإِنْ كَانَ فِي الْمُجْتَهَدَاتِ، اگرچہ یہ مسئلہ اجتہادی مسائل میں سے ہے، وَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَجِبَ الْقِصَاصُ، اور مناسب تو یہ تھا کہ قصاص واجب ہونا چاہیے تھا۔ یاد رکھو، جان بوجھ کر اگر کوئی کسی کا ہاتھ یا پاؤں کاٹتا ہے تو قصاص کے اندر اس کا بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹا جائے گا، جی، ایک آدمی نے غلطی سے دوسرے کا ہاتھ کاٹ دیا تو پھر اس صورت کے اندر ہاتھ کی دیت دینا پڑے گی یعنی پچاس اونٹ دینے پڑیں گے، لیکن اگر جان بوجھ کر کاٹا ہے تو پھر وہاں دیت نہیں آتی بلکہ مجرم سے قصاص لیا جاتا ہے، تو یہاں پر بھی اس نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، اصل میں تو یہ قصاص کا تقاضا کر رہا ہے کہ اس حداد کا بھی بایاں ہاتھ کاٹنا چاہیے، تو کہتے ہیں: وَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَجِبَ الْقِصَاصُ، اور مناسب تو یہ تھا کہ قصاص واجب ہوتا، إِلَّا أَنَّهُ امْتَنَعَ لِلشُّبْهَةِ، مگر یہ کہ قصاص ممتنع ہو گیا شبہے کی وجہ سے۔ جی۔ آنا تو قصاص چاہیے تھا لیکن شبہے کی وجہ سے قصاص ساقط ہو گیا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدود اور قصاص دونوں جو ہیں یہ انتہا درجے کی سزائیں ہیں، لہٰذا یہاں ادنیٰ شبہ بھی آ جائے تو حد بھی ساقط ہو جائے گی اور قصاص بھی ساقط، تو یہاں پر بھی آنا تو قصاص چاہیے تھا کہ حداد نے جان بوجھ کر چور کا بایاں ہاتھ کاٹا ہے لیکن شبہے کی وجہ سے قصاص ساقط ہوا، اور شبہ کیا؟ کہ نص کے اندر مطلق آیا ہے {فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}، وہاں دائیں کا ذکر نہیں، تو اس نص کی وجہ سے شبہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس شبہے کی وجہ سے اب قصاص ساقط ہو جائے گا، البتہ ضمان نہیں ساقط ہوگا، ضمان دینا پڑے گا، ایک ہاتھ کی جو دیت ہے یعنی پچاس اونٹ دینے پڑیں گے۔ جی۔ تو کہتے ہیں: وَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَجِبَ الْقِصَاصُ، اور مناسب تو یہ تھا کہ قصاص واجب ہوتا، إِلَّا أَنَّهُ امْتَنَعَ لِلشُّبْهَةِ، مگر قصاص ممتنع ہو گیا شبہے کی وجہ سے۔
وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں چاہے اس نے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے، چاہے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، کسی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، اس حداد کو تھوڑی بہت تنبیہ کی جائے گی، تھوڑی بہت سزا دے دے گا حاکم لیکن ضمان اس پر نہیں آئے گا، تو اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ أَتْلَفَ وَأَخْلَفَ مِنْ جِنْسِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، بھئی یاد رکھو، ضابطہ یہ ہے کہ اگر ایک شخص کسی دوسرے شخص کی کوئی چیز تلف کر دے، جی، لیکن اس شخص کو عوض اس کا مل گیا یا اس سے بہتر چیز اس کے پاس باقی رہ گئی تو پھر اس صورت میں ضمان نہیں آتا۔ جی۔ اگر ایک شخص دوسرے کی کوئی چیز تلف کر دے، ضائع کر دے، لیکن مالک کو اس چیز کا عوض مل گیا یا اس سے بہتر چیز اس کے پاس باقی بچ گئی تو اس صورت میں ضمان نہیں آتا۔ مثلاً ایک آدمی کے خلاف دو گواہوں نے گواہی دے دی قاضی کے پاس آ کر کہ قاضی صاحب! ہمارے سامنے اس آدمی نے اپنی یہ گاڑی زید کو دس لاکھ روپے میں فروخت کی تھی، جی، اور قاضی نے پھر زید کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ تو زید کو گاڑی مل گئی اور گاڑی کے مالک کو دس لاکھ روپے مل گئے، اور وہ گاڑی کی قیمت بھی دس لاکھ روپے ہی تھی، اور بعد میں پھر وہ گواہ رجوع کر لیتے ہیں کہ قاضی صاحب! ہم سے غلطی ہو گئی، ہم نے جھوٹی گواہی دی تھی، تو یاد رکھو ان گواہوں پر کوئی ضمان نہیں آئے گا، وجہ یہ کہ انہوں نے گاڑی کے مالک کا کوئی نقصان نہیں کیا، اگرچہ اس کے ہاتھ سے گاڑی نکل گئی لیکن گاڑی کی پوری قیمت اس کو مل گئی بھئی۔ جی۔ تو جب ایک شخص دوسرے کی کوئی چیز تلف کر دے، ضائع کر دے، لیکن اس شخص کو اس چیز کا عوض مل جائے تو پھر اس صورت میں نقصان پہنچانے والے پر کوئی ضمان نہیں آتا، یا اس سے بہتر چیز اس کے لیے باقی رہ جائے تو اس صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا۔ جیسے اس مسئلے کے اندر حداد نے جان بوجھ کر یا غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹ دیا ہے، جی، کاٹنا کون سا تھا؟ دایاں، لیکن کاٹا کون سا؟ بایاں، تو جب بایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس آدمی کے لیے، اس چور کے لیے دایاں ہاتھ سلامت رہا اور دایاں ہاتھ تو بائیں ہاتھ سے بہتر ہے، معلوم ہوا چور کے لیے وہ ہاتھ جو سلامت رہا وہ بہتر ہے اس ہاتھ سے جو کٹ گیا۔ جی۔ اگر دایاں ہاتھ کاٹتا تو چور کا زیادہ نقصان تھا، جی، توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا اس حداد کی وجہ سے اگرچہ چور کا نقصان ہوا ہے لیکن اس کے مقابلے میں بہتر چیز چور کے پاس باقی رہ گئی، تو اس صورت میں ضمان نہیں آئے گا، جیسے وہ گاڑی کے مسئلے میں مالک کو جب گاڑی کا عوض مل گیا تو گویا اس کا کوئی نقصان ہی نہیں ہوا، یہاں پر بھی اگرچہ بایاں ہاتھ کٹ گیا لیکن اس سے بہتر ہاتھ باقی رہ گیا تو گویا چور کا کوئی نقصان نہیں ہوا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ أَتْلَفَ، کہ اس حداد نے تلف کر دیا ہے یعنی ہلاک کر دیا ہے، وَأَخْلَفَ، اور باقی چھوڑ دیا ہے، مِنْ جِنْسِهِ، اسی کی جنس میں سے، مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وہ ہاتھ جو اس سے بہتر ہے۔ حداد نے اگرچہ بایاں ہاتھ تلف کر دیا لیکن اس سے بہتر یعنی دائیں ہاتھ کو چھوڑ دیا چور کے لیے، تو کہتے ہیں امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ أَتْلَفَ وَأَخْلَفَ مِنْ جِنْسِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، کہ حداد نے اس کا ایک ہاتھ تلف کر دیا لیکن اسی کی جنس میں سے اس چیز کو باقی چھوڑ دیا جو اس سے بہتر ہے، جو اس تلف کیے ہوئے ہاتھ سے بہتر ہے، فَلَا يُعَدُّ إِتْلَافًا، لہٰذا اس کو تلف کرنا شمار نہیں کریں گے، یوں سمجھیں گے اس نے اس کی کوئی چیز تلف ہی نہیں کی، اس نے اس کی کوئی چیز ہلاک ہی نہیں کی، تو کہتے ہیں: فَلَا يُعَدُّ إِتْلَافًا، تو اس کو ہلاک کرنا شمار نہیں کریں گے، كَمَنْ شَهِدَ عَلَى غَيْرِهِ، جیسے کہ کوئی شخص گواہی دے کسی دوسرے کے خلاف، بِبَيْعِ مَالِهِ، اس کے مال کے بیچنے کی، بِمِثْلِ قِيمَتِهِ، مثلِ قیمت کے بدلے میں، جی، کہتے ہیں: كَمَنْ شَهِدَ عَلَى غَيْرِهِ بِبَيْعِ مَالِهِ بِمِثْلِ قِيمَتِهِ، جیسے کہ وہ شخص جو کسی دوسرے کے خلاف گواہی دے دے اس کے مال کے بیچنے کی اس کی مثلِ قیمت کے عوض، ثُمَّ رَجَعَ، پھر بعد میں وہ گواہ رجوع کر لے، تو اس گواہ پر کوئی ضمان نہیں کیونکہ مالک کو اس کا مثل یعنی قیمت مل چکی ہے۔
وَعَلَى هَذَا، اور اسی بنا پر، لَوْ قَطَعَهُ غَيْرُ الْحَدَّادِ لَا يَضْمَنُ أَيْضًا، اگر اس چور کا ہاتھ غیرِ حداد نے کاٹ دیا تو وہ بھی ضامن نہیں ہوگا، هُوَ الصَّحِيحُ، یہی قول صحیح ہے، یہی قول صحیح ہے۔ اور اسی وجہ سے اگر غیرِ حداد اس کے بائیں ہاتھ کو کاٹ دے تو اس پر بھی ضمان نہیں آئے گا۔ مثلاً قاضی نے حکم دے دیا کہ اس چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے، اب مثلاً اس چور کا ہاتھ ایک دو دن کے بعد کاٹا جائے گا، لیکن اسی مدت کے دوران ایک آدمی نے اس چور کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا، جی، یا دایاں ہاتھ کاٹ دیا، تو یاد رکھو اس صورت میں اس ہاتھ کاٹنے والے پر ضمان نہیں آئے گا۔ جی۔ اس ہاتھ کاٹنے والے پر ضمان نہیں آئے گا، کیوں نہیں ضمان آئے گا؟ کیونکہ اگر اس نے دایاں ہاتھ کاٹا ہے تو دایاں تو کاٹنے کا مستحق ہو چکا تھا، وہ ہاتھ معصوم اور محفوظ ہی نہ تھا بھئی، اور اگر اس کاٹنے والے نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا تو بھی اس پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ اب جب دایاں ہاتھ کٹ گیا تو چور کا اب دایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ورنہ تو اس کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا، جی، تو اس ہاتھ کاٹنے والے کی وجہ سے چور کا وہ والا ہاتھ بچ گیا جو زیادہ بہتر تھا بھئی۔ معلوم ہوا جب قاضی نے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کر دیا اس کے بعد امام صاحب کے نزدیک چاہے حداد غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹے اور چاہے کوئی اور اس کا بایاں ہاتھ غلطی سے کاٹ لے، کسی پر بھی ضمان نہیں آئے گا۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَعَلَى هَذَا، اور اسی وجہ سے، لَوْ قَطَعَهُ غَيْرُ الْحَدَّادِ، اگر حداد کے علاوہ کوئی اور اس چور کا ہاتھ کاٹ دے، لَا يَضْمَنُ أَيْضًا، تو وہ بھی ضامن نہیں ہوگا، هُوَ الصَّحِيحُ، یہی قول صحیح ہے، یہی قول صحیح ہے۔ اس کے ذریعے کہتے ہیں احتراز کیا دوسرے قول سے کہ ایک اور قول یہ ہے کہ اگر حداد کے علاوہ کوئی اور شخص اس کا ہاتھ کاٹے گا تو اس پر ضمان آئے گا، اس پر ضمان آئے گا، لیکن صاحبِ ہدایت نے بتلایا کہ نہیں، چاہے حداد اس کا بایاں ہاتھ کاٹے، چاہے کوئی اور ہاتھ کاٹے، اس شخص پر ضمان نہیں آئے گا، هُوَ الصَّحِيحُ، اور یہی قول صحیح ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: وَلَوْ أَخْرَجَ السَّارِقُ يَسَارَهُ وَقَالَ هَذَا يَمِينِي، بھئی قاضی نے حداد کو حکم دیا: اس چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دو، جی، اور حداد ہاتھ کاٹنے لگا تو چور نے بایاں ہاتھ نکال دیا اور کہا: یہ میرا دایاں ہاتھ ہے، اور حداد نے بھی بغیر سوچے جلدی سے اس کا وہ ہاتھ کاٹ دیا۔ جی۔ تو اب اس صورت میں بھی حداد پر ضمان نہیں آئے گا، وجہ یہ کہ حداد نے چور کے کہنے پر اس کا یہ ہاتھ کاٹا ہے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: وَلَوْ أَخْرَجَ السَّارِقُ يَسَارَهُ، اور اگر چور نے اپنا بایاں ہاتھ نکالا، وَقَالَ، اور اس نے کہا: هَذَا يَمِينِي، یہ میرا دایاں ہاتھ ہے، لَا يَضْمَنُ بِالِاتِّفَاقِ، تو اس صورت میں بھی حداد ضامن نہیں ہوگا بالاتفاق، کیونکہ حداد نے اس کے کہنے پر اس کا بایاں ہاتھ کاٹا ہے، لِأَنَّهُ قَطَعَهُ بِأَمْرِهِ، اس لیے کیونکہ حداد نے چور کا بایاں ہاتھ اس کے کہنے پر کاٹا ہے۔
ثُمَّ فِي الْعَمْدِ عِنْدَهُ عَلَيْهِ أَيِ السَّارِقِ ضَمَانُ الْمَالِ، بھئی یاد رکھنا، یہ بات میں نے پہلے بھی ذکر کی تھی اور آگے صاحبِ ہدایت بھی بیان فرمائیں گے، ہمارے نزدیک ضمان اور ہاتھ کا کاٹنا جمع نہیں ہو سکتے۔ جی۔ جب حد کے اندر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو پھر اس پر مال کا ضمان نہیں آتا، چاہے وہ مال اس کے پاس ہلاک ہوا ہے، چاہے استہلاک ہوا ہے یعنی اس نے خود خرچ کیا یا ضائع کر دیا وہ سارا مال، تو کسی بھی صورت میں چور پر ضمان نہیں آئے گا، ہاں البتہ اگر وہ چیز موجود ہے پھر مالک کو واپس کر دی جائے گی، جی، لیکن ہلاک اور استہلاک کی صورت میں چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ اب یہی صورت ہے بھئی، حاکم نے حداد سے کہا کہ اس چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دو، جی، اور حداد نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹ دیا، یا اس کو پتہ نہیں چلا دائیں اور بائیں ہاتھ کا اور اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا، جی، تو یاد رکھو اس صورت کے اندر یہ جو اس نے ہاتھ کاٹا ہے یہ حد ہو کر واقع نہیں ہوا۔ جی۔ حد تو کیا تھی؟ کون سا ہاتھ کاٹا جاتا؟ دایاں ہاتھ، اور حداد نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے، معلوم ہوا یہ جو ہاتھ کٹا ہے اس کو حد نہیں کہیں گے۔ جی۔ اس کو حد نہیں کہیں گے، اور جب یہ حد نہیں ہے تو لہٰذا چور پر مال کا ضمان بھی آئے گا، اگر مال اس کے پاس ہلاک ہو گیا ہے یا اس نے خود مال ہلاک کیا ہے تو اس کو اس مال کا ضمان دینا پڑے گا۔ اگر یہ ہاتھ کا کاٹنا حد ہوتا، جی، تو حد کے اندر ضمان نہیں آتا، لیکن یہ جو اس نے ہاتھ کاٹا ہے یہ تو حد ہی نہیں، یہ تو اس نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے اور حد تو کیا تھی؟ دایاں ہاتھ کاٹا جاتا، تو اگر دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا تو حد واقع ہو گئی، اور جب حد واقع ہو گئی تو ضمان نہیں آئے گا، جی، لیکن اگر بایاں ہاتھ کاٹا ہے اور جان بوجھ کر کاٹا ہے تو یہ تو حد نہیں، جب حد نہیں تو ضمان ساقط نہیں ہوگا، اگر وہ مال اس نے ختم کیا ہے یا اس کے پاس ہلاک ہوا ہے اس کو ضمان دینا پڑے گا۔
کہتے ہیں: ثُمَّ فِي الْعَمْدِ، اور پھر عمد کی صورت میں، عِنْدَهُ، امام صاحب کے نزدیک، عَلَيْهِ أَيِ السَّارِقِ، اس پر یعنی چور پر، ضَمَانُ الْمَالِ، مال کا ضمان بھی ہوگا۔ جی۔ چور نے جو مال چوری کیا ہے، چور پر اس کا ضمان بھی ہوگا، لِأَنَّهُ لَمْ يَقَعْ حَدًّا، اس لیے کیونکہ یہ قطع جو ہے یہ حد ہو کر واقع نہیں ہوئی۔ جی۔ یہ قطع جو ہے حد ہو کر واقع نہیں ہوئی۔ وَفِي الْخَطَإِ كَذَلِكَ عَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ، اور خطا کے اندر بھی اسی طرح ہوگا اسی طریقے پر، یعنی ضامن ہوگا۔ خطا سے کیا مراد ہے؟ خطا اجتہادی نہیں مراد، جی، بلکہ اس کو غلطی لگ گئی دائیں اور بائیں کے پہچاننے میں، جی، جب دائیں بائیں کے پہچاننے میں غلطی لگی ہے اور اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا تو یہ ہاتھ کا کاٹنا حد نہیں۔ جب حد نہیں تو ضمان ساقط نہیں ہوگا، لیکن اگر اس سے اجتہاد میں غلطی ہو گئی حداد سے، اس نے کہا قرآن کے اندر تو مطلق آیا ہے جو مرضی ہاتھ کاٹ دو اور یہ سوچ کر اس نے بایاں ہاتھ کاٹا تو یہ حد ہو گئی، جی، یہ کیا واقع ہوا ہاتھ کا کاٹنا؟ یہ حد ہے کیونکہ اس نے اجتہاد کر کے اس ہاتھ کو کاٹا ہے، تو یہ حد بن گیا اور اس صورت میں ضمان ساقط ہو جائے گا۔ جی۔
توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا اگر بایاں ہاتھ جان بوجھ کر اس حداد نے کاٹا ہے یا اس کو دائیں بائیں کے پہچاننے میں غلطی ہوئی اور اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا تو یہ والا جو قطع ہے یہ حد نہیں۔ جب حد نہیں ہے تو ضمان بھی دینا پڑے گا اس مال کا، اس مال کا ضمان بھی دینا پڑے گا اگر اس کے پاس وہ مال ہلاک ہوا ہے یا اس نے خود اس کو ہلاک کیا ہے، اور اگر اجتہاد کے اندر حداد سے غلطی ہو گئی کہ قرآن کے اندر تو مطلق ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے یہ سوچ کر اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا تو اب یہ ہاتھ کا کاٹنا حد ہے، یہ حد ہے، اس نے اس کو حد سمجھتے ہوئے ہی کاٹا ہے، تو حد واقع ہو گئی لہٰذا اب چور پر مال کا ضمان نہیں آئے گا۔
تو کہتے ہیں: وَفِي الْخَطَإِ كَذَلِكَ عَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ، اور خطا کے اندر بھی اسی طرح ہوگا یعنی چور پر ضمان آئے گا عَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ اسی طریقے پر کہ یہ حد نہیں ہوئی بھئی، وَعَلَى طَرِيقَةِ الِاجْتِهَادِ لَا يَضْمَنُ، اور اجتہاد کے طریقے پر وہ ضامن نہیں ہوگا، اور اجتہاد کے طریقے پر وہ ضامن نہیں ہوگا کیونکہ اجتہاد کے اندر جو اس نے ہاتھ کاٹا ہے وہ حد سمجھتے ہوئے کاٹا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: وَلَا يُقْطَعُ السَّارِقُ إِلَّا أَنْ يَحْضُرَ الْمَسْرُوقُ مِنْهُ فَيُطَالِبَ بِالسَّرِقَةِ، بھئی چوری کرنے والا ہے سارق اور وہ مال جو اس نے چوری کیا وہ ہے مسروق،
وق، بھئی۔ اور جس آدمی سے چوری کی ہے وہ ہے مسروق منہ۔
مثلاً ایک چور آیا اور اس نے زید کے پاس سے مال چوری کر لیا، تو زید ہے مسروق منہ۔ اس سے چوری کی گئی ہے۔
توجہ ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ چوری کے اندر ہاتھ تب ہی کاٹا جائے گا جب خصومت کی جائے، قاضی کے پاس خصومت کی جائے مقدمہ کیا جائے پھر ہی چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے، اگر خصومت نہیں تو چور کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا۔ اب وہی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْطَعُ السَّارِقُ“ اور چوری کرنے والے کو نہیں کاٹا جائے گا یعنی اس کے ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا، ”إِلَّا أَنْ يَحْضُرَ الْمَسْرُوقُ مِنْهُ“ مگر یہ کہ وہ شخص حاضر ہو جائے جس سے چوری کی گئی ہے، ”فَيُطَالِبَ بِالسَّرِقَةِ“ تو پھر اس کے بعد وہ اس مال کا مطالبہ کرے، وہ مال جو چور نے چوری کیا تھا اس کا وہ مطالبہ کرے۔ تو یہ دوسری شرط ذکر ہو گئی قطع کی۔
میں نے آپ کو بتلایا کہ قطع کے اثبات کے لیے کئی شرائط ہیں جو بین السطور یہاں ذکر ہوں گی بھئی۔ صاحبِ ہدایہ مسائل ذکر فرمائیں گے اور ان سے وہ تمام شرطیں مفہوم ہوتی ہیں جن کو علماء نے بین السطور درج کر دیا ہے۔ پہلی شرط کیا تھی؟ کہ قطع کی وجہ سے چور کا چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے، پھر ہی قطع ثابت ہو گا ویسے ثابت نہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ خصومت ضروری ہے قطع کے اندر، یعنی کوئی مطالبہ کرنے والا ہونا چاہیے چاہے مالک ہو چاہے اس کا نائب ہو۔ چاہے مطالبہ کرنے والا مالک ہو چاہے اس کا نائب ہو۔ مالک کی صورت تو جیسے مثلاً ایک آدمی نے زید کے پاس سے چوری کی اور زید ہی کا مال تھا، تو زید اب خصومت کرے گا۔ اور یا مالک کے علاوہ سے چوری کر لے، مثلاً زید نے اپنا مال کسی کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا تھا، اور وہ جو امین تھا وہ جو امانت دار تھا اس کے پاس سے چور چوری کر کے لے گیا، چور چوری کر کے لے گیا تو یہ جو مُودَع ہے جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی یہ ہے مسروق منہ۔ یہ مالک تو نہیں ہے، یہ تو امانت دار ہے، اس کے پاس تو وہ چیز بطورِ امانت کے تھی، تو یہ ہے مُودَع بھئی۔ تو معلوم ہوا چور کا ہاتھ تب کاٹا جائے گا جب خصومت کی جائے یعنی جب مطالبہ کرنے والا موجود ہو، اور مطالبہ کرنے والا یا وہ مالک ہوتا ہے یا جو مالک کا قائم مقام ہے اس کا نائب ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْطَعُ السَّارِقُ“ اور چور کو یعنی اس کے ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا، ”إِلَّا أَنْ يَحْضُرَ الْمَسْرُوقُ مِنْهُ“ مگر یہ کہ حاضر ہو جائے وہ آدمی کہ جس سے چوری کی گئی ہے، ”فَيُطَالِبَ بِالسَّرِقَةِ“ پھر وہ اس مال کا مطالبہ کرے، ”لِأَنَّ الْخُصُومَةَ شَرْطٌ لِظُهُورِهَا“ اس لیے کیونکہ خصومت شرط ہے لظہورہا چوری کے ظاہر ہونے کے لیے۔
توجہ سے سنو، چوری کی وجہ سے چور مستحق ہو گیا اس بات کا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے، لیکن اس چوری کا ظہور بھی ضروری ہے کہ قاضی کے پاس بھی یہ چوری ظاہر ہو جائے، اور قاضی کے پاس چوری تب ہی ظاہر ہو گی جب کوئی خصومت ہو بھئی۔ اگر کوئی خصومت کرنے والا ہی نہیں تو پھر قاضی کے پاس بھی چوری ظاہر نہیں ہو سکتی اور ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْخُصُومَةَ شَرْطٌ لِظُهُورِهَا“ اس لیے کیونکہ خصومت کرنا یعنی مقدمہ کرنا شرط ہے لظہورہا اس چوری کے ظاہر ہونے کے لیے۔
”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الشَّهَادَةِ وَالْإِقْرَارِ عِنْدَنَا“ اور کوئی فرق نہیں ہے گواہی اور اقرار کے درمیان عندنا ہمارے نزدیک۔ بھئی یاد رکھو، چاہے یہ چوری گواہی کے ذریعے ثابت ہو، چاہے یہ چوری چور کے اقرار کے ذریعے ثابت ہو، دونوں صورتوں میں خصومت ضروری ہے۔ وہ آدمی جس سے چوری کی گئی ہے یا مالک جو ہے وہ آ کر قاضی کے پاس مطالبہ کرے، توجہ ہے؟ وہ مطالبہ کرے تو پھر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا ویسے نہیں۔ وہ آ کر مطالبہ کرتے ہیں کہ قاضی صاحب اس آدمی نے ہماری چوری کی ہے، ہمارا مال اس سے دلایا جائے، تو وہ قطع کا مطالبہ نہیں ضروری کہ وہ آ کر کہیں قاضی صاحب اس نے چوری کی ہے اس کا ہاتھ کاٹو، وہ تو اپنے مال کا مطالبہ کریں گے، اور جب مال کا مطالبہ کریں گے تو اس کے ساتھ ہی پھر قطع بھی ثابت ہو جائے گی جب چوری ثابت ہو جائے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک چاہے چوری گواہوں کے ذریعے ظاہر ہو قاضی کے پاس، چاہے چور کے اقرار کے ذریعے ظاہر ہو، لیکن دونوں صورتوں میں خصومت ضروری ہے۔ جس شخص سے چوری کی گئی ہے وہ کیا کرے؟ قاضی کے پاس آ کر مطالبہ کرے، مقدمہ کرے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الشَّهَادَةِ وَالْإِقْرَارِ عِنْدَنَا“ اور کوئی فرق نہیں ہے گواہی اور اقرار کے درمیان عندنا ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْإِقْرَارِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اقرار کے اندر۔ امام شافعی رحمہ اللہ اقرار کے اندر اختلاف فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں جب چوری کے اندر چور خود اقرار کر لے تو وہاں خصومت ضروری نہیں ہے، وہاں مسروق منہ کا قاضی کے پاس جا کر مال کا مطالبہ کرنا ضروری نہیں جب چور خود اقرار کر رہا ہے۔ ہاں جب چور اقرار نہیں کر رہا، گواہی کے ذریعے چوری ثابت ہو رہی ہے، تو پھر وہاں پر خصومت ضروری ہے۔ تو ہمارے نزدیک چاہے اقرار کے ذریعے چوری ثابت ہو چاہے گواہوں کے ذریعے، دونوں میں خصومت ضروری، اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اقرار کے اندر خصومت اور مقدمہ ضروری نہیں، وہاں صرف چور کا اقرار ہی کافی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْإِقْرَارِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اقرار کے اندر۔ بھئی صاحبِ ہدایہ نے تو یہ لکھا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اقرار کے معاملے میں ہم سے اختلاف کرتے ہیں، ان کے نزدیک اقرار کی صورت میں خصومت ضروری نہیں، ہمارے نزدیک تو خصومت ضروری ہے، چاہے اقرار ہو چاہے گواہی ہو۔ جس طرح بھی چوری ظاہر ہو قاضی کے پاس، چاہے اقرار کے ذریعے ظاہر ہو چاہے گواہی کے ذریعے ظاہر ہو، دونوں صورتوں میں خصومت ضروری ہے، کوئی مطالبہ کرنے والا ہو اس مال کا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اقرار کے اندر خصومت ضروری نہیں، تو یہ صاحبِ ہدایہ نے لکھا، جبکہ محشی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ امام شافعی رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے اقرار کے اندر خصومت ضروری نہیں، لیکن کہتے ہیں صحیح قول یہی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بھی ہماری طرح ہی ہے، وہ بھی فرماتے ہیں چاہے شہادت ہو چاہے اقرار، دونوں کے اندر خصومت ضروری ہے بھئی۔
تو یہ معنی ہے ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْإِقْرَارِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اقرار کے اندر۔
”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ عَلَى مَالِ الْغَيْرِ لَا تَظْهَرُ إِلَّا بِخُصُومَتِهِ“ یہاں سے ہماری دلیل ذکر ہو رہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا صرف اختلاف بیچ میں ذکر کیا کہ وہ اقرار کی صورت میں اختلاف کرتے ہیں، اب ہماری دلیل ہے۔ ہمارے نزدیک چاہے گواہی ہو چاہے اقرار ہو، دونوں صورتوں میں خصومت ضروری ہے بھئی۔ کہتے ہیں وجہ یہ ہے: چور نے جنایت کی ہے غیر کے مال پر، چور نے جنایت کی ہے غیر کے مال پر، اور غیر کے مال پر جنایت کے لیے خصومت ضروری ہے، اس کے بغیر وہ ظاہر نہیں ہو سکتا۔ بھئی یاد رکھو، لوگوں کے درمیان مال وغیرہ کے سلسلے میں جھگڑا ہو، اس کے اندر خصومت ضروری ہوتی ہے، خصومت کے بغیر جرم نہیں ثابت ہو سکتا۔ ایک آدمی نے دوسرے کا مال چھین لیا ہے یا اس پر قبضہ کر لیا ہے تو اس آدمی نے جرم کیا ہے، لیکن یہ جرم تب تک ظاہر نہیں ہو گا جب یہ آدمی قاضی کے پاس جا کر خصومت نہ کر دے، مقدمہ نہ کرے۔ معلوم ہوا، دوسروں کے مال پر جو بھی جنایت کی جائے، جو بھی جرم کیا جائے، وہ تب ہی ظاہر ہو گا جب وہ مال والا خصومت کرے۔ تو یہاں پر بھی چور نے غیر کا مال چوری کیا ہے، اور غیر کے مال پر جو جرم ہوتا ہے اس کے لیے خصومت ضروری ہوتی ہے، لہٰذا یہاں پر بھی خصومت ضروری ہو گی چاہے چور اس جرم کا اقرار کر رہا ہو چاہے گواہی کے ذریعے یہ جرم ثابت ہو بھئی۔
تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ عَلَى مَالِ الْغَيْرِ“ اس لیے کیونکہ وہ جرم جو غیر کے مال پر کیا جائے، ”لَا تَظْهَرُ“ وہ جرم ظاہر نہیں ہوتا، ”إِلَّا بِخُصُومَتِهِ“ مگر اس آدمی کی خصومت کی وجہ سے کہ وہ مقدمہ کرے اور مطالبہ کرے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو چاہے گواہی ہو چاہے چور کا اقرار ہو، خصومت کرنا ضروری ہو گا بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَكَذَا إِذَا غَابَ عِنْدَ الْقَطْعِ عِنْدَنَا“ اور اسی طرح ہو گا یعنی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، پیچھے متن میں آیا تھا نا ”وَلَا يُقْطَعُ السَّارِقُ إِلَّا أَنْ يَحْضُرَ الْمَسْرُوقُ مِنْهُ“ جب تک مسروق منہ حاضر نہ ہو اور مال کا مطالبہ نہ کرے تب تک چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَكَذَا“ اور اسی طرح چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”إِذَا غَابَ عِنْدَ الْقَطْعِ“ جب مسروق منہ جو ہے وہ غائب ہو جائے ہاتھ کاٹتے وقت، ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک۔ تو ہمارے نزدیک چوری کے اندر مسروق منہ کی خصومت بھی ضروری ہے اور نیز جس وقت چور کا ہاتھ کاٹا جا رہا ہے اس وقت بھی مسروق منہ کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ اس وقت موجود نہ ہوا، مثلاً قاضی نے آج فیصلہ کر دیا دو دن بعد چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور پھر وہ وقت آیا لیکن وہ مسروق منہ نہیں آ رہا، تو اس صورت میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہے حکم یعنی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”إِذَا غَابَ“ جب وہ مسروق منہ غائب ہو جائے، ”عِنْدَ الْقَطْعِ عِنْدَنَا“ ہاتھ کے کاٹتے وقت ہمارے نزدیک۔ ”لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ فِي بَابِ الْحُدُودِ“ وجہ یہ، ”لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ“ اس لیے کیونکہ اس کو وصول کرنا، ”مِنَ الْقَضَاءِ“ یہ بھی قضاء کا حصہ ہے، ”فِي بَابِ الْحُدُودِ“ حدود کے باب میں۔ بھئی یہ بات پہلے ذکر ہو چکی کہ امضاء جو ہے، یعنی حد کو نافذ کرنا، یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے۔ امضاء یعنی حد کو نافذ کرنا، یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے بھئی۔
بھئی عام مقدمات کے اندر یاد رکھو قاضی جب فیصلہ کر دے تو قاضی کی ذمہ داری پوری ہو گئی، قاضی کا فیصلہ مکمل ہو گیا۔ دو آدمیوں کے درمیان مال کے سلسلے میں جھگڑا ہوا تھا، قاضی کے پاس چلے گئے، قاضی نے فیصلہ کر دیا۔ قاضی نے جیسے ہی فیصلہ کیا قاضی کی ذمہ داری پوری ہو گئی، قاضی نے بتلا دیا کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق ہے، تو قاضی کی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ لیکن حدود کے مسئلے کے اندر یاد رکھنا صرف فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ حد کو نافذ کرنا بھی قاضی کی ذمہ داری ہے۔ تو معلوم ہوا حد کا نافذ کرنا یہ قضائے قاضی کا حصہ ہے بھئی۔ تو جس طرح مقدمے کے اندر مسروق منہ کا ہونا ضروری ہے کہ وہ آ کر مقدمہ کرے اور مطالبہ کرے، اسی طرح جس وقت قاضی سزا نافذ کر رہا ہے اس وقت بھی مسروق منہ کا ہونا ضروری ہے، اس لیے کیونکہ امضاء جو ہے یعنی سزا کو نافذ کرنا، یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے حدود کے باب میں۔
عام مسائل کے اندر جب قاضی صرف فیصلہ کر دے تو قاضی کی ذمہ داری پوری ہو گئی، لیکن حدود کے مسئلے میں صرف فیصلہ کرنے سے قاضی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوئی، بلکہ قاضی ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اب اس حد کو اور اس سزا کو نافذ بھی کرے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا غَابَ عِنْدَ الْقَطْعِ عِنْدَنَا“ اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”إِذَا غَابَ“ جب مسروق منہ غائب ہو جائے، ”عِنْدَ الْقَطْعِ عِنْدَنَا“ ہاتھ کاٹتے وقت ہمارے نزدیک، ”لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ“ اس لیے کیونکہ وصول کرنا، بھئی ایک ہے حد کا فیصلہ کرنا اور ایک ہے پھر اس حد کو وصول کرنا، یعنی سزا کو نافذ کرنا، کہتے ہیں ”لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ“ اس لیے کیونکہ حد کو وصول کرنا، ”مِنَ الْقَضَاءِ“ یہ بھی قضاء کا حصہ ہے، ”فِي بَابِ الْحُدُودِ“ حدود کے باب میں۔ حد کو نافذ کرنا بھی یہ حدود کے باب میں قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے بھئی۔
تو یہاں بین السطور تیسری شرط ذکر ہو گئی۔ ہاتھ کاٹنے کے لیے تیسری شرط ذکر ہو گئی، اور وہ تیسری شرط جو ہے وہ یہ کہ ہاتھ کاٹتے وقت مسروق منہ کا موجود ہونا ضروری ہے۔ پہلی شرط کیا تھی ہاتھ کاٹنے کے لیے؟ کہ ہاتھ کاٹنے کی صورت میں چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع فوت نہیں ہونا چاہیے، پھر ہی قطع ہو سکے گا ورنہ قطع نہیں۔ دوسری شرط یہ ذکر ہوئی تھی کہ یہاں پر قطع کے اندر مالک کا یا اس کے نائب کا مطالبہ ضروری ہے یعنی خصومت ضروری ہے۔ اور تیسری شرط اب یہ ذکر ہو گئی کہ جس وقت حد نافذ کی جا رہی ہے، جس وقت چور کا ہاتھ کاٹا جا رہا ہے، اس وقت بھی مسروق منہ کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر مسروق منہ اس وقت موجود نہ ہوا تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَلِلْمُسْتَوْدَعِ وَالْغَاصِبِ وَصَاحِبِ الرِّبَا أَنْ يَقْطَعُوا السَّارِقَ مِنْهُمْ وَلِرَبِّ الْوَدِيعَةِ أَنْ يَقْطَعَهُ أَيْضًا وَكَذَا الْمَغْصُوبُ مِنْهُ“ بھئی اوپر ضابطہ ذکر ہو گیا کہ خصومت ضروری ہے، مالک خصومت کرے یا مالک کا کوئی نائب خصومت کرے۔ تو متن کے اندر آ گیا کہ چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب تک مسروق منہ حاضر ہو کر اس کا مطالبہ نہ کرے۔ مسروق منہ جس سے چوری کی گئی ہے، چاہے وہ مالک ہے، چاہے مالک کا کوئی نائب ہے، جب تک وہ حاضر نہیں ہوتا تب تک خصومت نہیں ہو گی اور جب تک خصومت نہیں ہو گی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو اب آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بتلانے لگے ہیں کہ کون کون شخص مطالبہ کر سکتا ہے، کون کون سا شخص چوری کے معاملے میں مطالبہ کر سکتا ہے مال کا یا ہاتھ کے کاٹنے کا۔ توجہ ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ تین قسم کے افراد چوری کے اندر ہاتھ کاٹنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں: یا تو مطالبہ کرنے والا مالک ہونا چاہیے، یا وہ شخص جو امین ہے کہ اس کے پاس مالک کی چیز بطورِ امانت کے ہے اور اس سے کسی نے چوری کر لی، تو یہ آدمی جو امین ہے یہ بھی مطالبہ کر سکتا ہے، خصومت کر سکتا ہے چوری کے معاملے میں۔ اور تیسرا شخص وہ ہے کہ جو ضامن ہے، جو ضامن ہے مثلاً جیسے غاصب ہے، غاصب جو ہے وہ کسی کی چیز زبردستی چھین کر لے گیا، تو آپ پڑھ چکے ہیں جب تک وہ چیز موجود ہے غاصب کو وہی چیز واپس کرنا پڑے گی، اور اگر غاصب کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی تو پھر غاصب کو ضمان دینا پڑے گا۔ معلوم ہوا غاصب جو ہے وہ چیز کا مالک بھی نہیں، اس کے پاس چیز بطورِ امانت کے بھی نہیں ہے، بلکہ وہ ضامن ہے، یعنی اس کے پاس چیز بطورِ ضمان کے ہے۔ اگر وہ وہی چیز واپس کر دیتا ہے تو ٹھیک ہے، اگر واپس نہیں کرے گا تو اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ تو تین قسم کے افراد جو ہیں وہ چوری کے معاملے میں خصومت کر سکتے ہیں: یا تو وہ شخص مالک ہو وہ بھی خصومت کر سکتا ہے چوری کے اندر ہاتھ کٹوانے کے لیے، یا وہ مالک تو نہیں ہے لیکن وہ امین تھا، مالک نے وہ چیز اس کے پاس بطورِ امانت کے رکھوائی تھی اور اس سے پھر چوری ہو گئی، تو یہ شخص بھی چوری کے اندر ہاتھ کاٹنے کا مطالبہ کر سکتا ہے، یا وہ شخص ہے کہ وہ مالک بھی نہیں ہے اور چیز اس کے پاس بطورِ امانت کے بھی نہیں ہے، البتہ وہ اس چیز کا ضامن ہے، اگر وہ چیز اس نے واپس نہ کی تو اس کو ضمان دینا پڑے گا، تو اس قسم کے افراد سے جب چور چوری کر لے تو یہ افراد چوری کے اندر خصومت کر سکتے ہیں بھئی۔ یہ افراد چوری کے اندر خصومت کر سکتے ہیں۔ تو اب اس کی تفصیل بیان فرما رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِلْمُسْتَوْدَعِ وَالْغَاصِبِ وَصَاحِبِ الرِّبَا“ مُسْتَوْدَع بھئی، اسْتَوْدَعَ يَسْتَوْدِعُ اسْتِيدَاع کا معنی ہے کسی کے پاس امانت رکھوانا، مُسْتَوْدِع بھئی اسمِ فاعل ہے، اس کا معنی ہے امانت رکھوانے والا، اور جس کے پاس امانت رکھوائی جائے اس کو کہتے ہیں مُسْتَوْدَع بھئی، اسمِ مفعول ہے بھئی۔ تو اب مُسْتَوْدَع جو ہے اس سے کوئی مال چوری کر کے لے گیا، زید نے اپنا مال عمرو کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا اور عمرو سے چور یہ مال چوری کر کے لے گیا، تو یاد رکھو زید یعنی جو مالک ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے قاضی کے پاس کیونکہ وہ مال کا مالک ہے، اور جو عمرو جو ہے وہ مُسْتَوْدَع ہے، اس کے پاس مال بطورِ امانت کے رکھا گیا تھا تو وہ مالک کا نائب ہے اس کا قائم مقام ہے، تو وہ بھی خصومت کر سکتا ہے بھئی۔ تو چاہے مالک خصومت کرے، چاہے امین جو ہے امانت دار ہے چاہے وہ خصومت کرے، چاہے جو ضمين ہے یعنی جو ضامن ہے وہ خصومت کرے، تینوں کے مطالبے پر چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِلْمُسْتَوْدَعِ“ اور اسی طرح وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے، ”وَالْغَاصِبِ“ اور غاصب وہ شخص جس نے دوسرے کا مال زبردستی چھین لیا ہے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب غاصب جو ہے اس کا قبضہ امانت والا نہیں ہے، اس کا قبضہ ضمان والا ہے، اس کو یہ چیز واپس کرنا پڑے گی، اگر اس نے واپس نہ کی اور اس کے پاس یہ چیز ہلاک ہو گئی تو اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ تو غاصب جو ہے اس کا قبضہ ضمان والا ہے، امانت والا نہیں بلکہ ضمان والا ہے، لہٰذا یہ بھی خصومت کر سکتا ہے۔ غاصب نے کسی کی کوئی چیز چھین لی اور پھر غاصب سے کسی نے وہ چیز چوری کر لی، تو اس چیز کا اصل مالک جو ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے اس چوری کے معاملے میں، اور جو غاصب ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے بھئی۔
اسی طرح ”وَصَاحِبِ الرِّبَا“ صاحبِ ربا یعنی سود والا، یعنی سود خور بھئی، سود خور۔ سود خور آپ جانتے ہیں سود کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً ایک آدمی دوسرے کو قرض دیتا ہے کہ میں تمہیں ایک لاکھ روپیہ قرض دے رہا ہوں، چھ مہینے کے بعد آپ نے مجھے ایک لاکھ بیس ہزار روپے واپس کرنے ہیں، تو یہ یاد رکھو یہ ایک لاکھ تو ایک لاکھ کا عوض ہو گیا اور یہ جو بیس ہزار وہ زائد وصول کر رہا ہے یہ سود ہے اور یہ حرام ہے بھئی۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ بیع کرتا ہے، تو آپ نے پڑھا ہے اگر دونوں طرف ایک ہی جنس ہو تو پھر برابری ضروری ہے، اگر برابری نہیں ہو گی تو یہ بھی سود بن جائے گا۔ مثلاً دو آدمی آپس میں درہموں کی بیع کرتے ہیں، ایک آدمی کے پاس اعلیٰ درہم ہیں دوسرے کے پاس ذرا ادنیٰ درہم ہیں، وہ جو ادنیٰ درہم والا ہے وہ کہتا ہے مجھ سے بیس درہم لے لو اور اپنے اعلیٰ دس درہم مجھے دے دو، تو یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے یہ حرام ہے، اس لیے کیونکہ دونوں طرف ایک ہی جنس ہے، ایک طرف بھی درہم ہیں دوسری طرف بھی درہم ہیں، لہٰذا برابری ہونی چاہیے۔ اگر ایک دس درہم دے رہا ہے تو دوسرے کو بھی دس درہم دینے چاہیئیں، لیکن یہاں پر ایک تو دس درہم دے رہا ہے وہ ذرا اعلیٰ درہم ہیں اور دوسرا بیس درہم دے رہا ہے اور وہ ذرا ادنیٰ درہم ہیں، تو یہ جو دس درہم اس نے زائد دیے یہ سود ہے، یہ کیا ہے؟ سود ہے۔ اب یہ جو بیس درہم والا ہے اس سے کوئی وہ درہم چوری کر کے لے گیا، اس کے پاس وہ جو مال تھا جس کے اندر وہ دس درہم سود والے بھی تھے، تو وہ کوئی چوری کر کے لے گیا، تو کیا یہ سود خور خصومت کر سکتا ہے چور پر؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، یہ سود خور خصومت کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ اس نے جو دس درہم زائد لیے ہیں وہ اس کا حق نہیں بنتا تھا، تو اس کو وہ واپس کرنے چاہیئیں، شرعاً اس پر لازم ہے کہ وہ زائد درہم واپس کرے، اور اگر اس کے پاس یہ درہم ضائع ہو جاتے ہیں تو اس پر ضمان آ جائے گا۔ معلوم ہوا سود خور کا بھی جو درہموں پر یہ قبضہ ہے یہ ضمان والا قبضہ ہے، توجہ ہے؟ لہٰذا یہ بھی چوری کے اندر خصومت کر سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِلْمُسْتَوْدَعِ وَالْغَاصِبِ وَصَاحِبِ الرِّبَا“ اور اسی طرح وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اور جو غاصب ہے اور اسی طرح جو سود خور ہے، ان سب کے لیے جائز ہے ”أَنْ يَقْطَعُوا السَّارِقَ مِنْهُمْ“ کہ وہ قطع کر دیں ”السَّارِقَ مِنْهُمْ“ اس آدمی کو جس نے ان سے چوری کی ہے، ان کے لیے جائز ہے کہ وہ قطع کروائیں یعنی ہاتھ کٹوا دیں اس شخص کا جس نے ان سے چوری کی ہے بھئی۔ ”وَلِرَبِّ الْوَدِيعَةِ أَنْ يَقْطَعَهُ أَيْضًا“ اور ودیعت کے مالک کے لیے بھی جائز ہے وہ بھی قطع کروا سکتا ہے، رب الودیعت ودیعت کہتے ہیں امانت کو، میں نے آپ کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی تو آپ ہوئے مُودَع بھی، مُودَع جس کے پاس امانت رکھوائی جائے یا اسی کو مُسْتَوْدَع بھی کہتے ہیں جس کے پاس امانت رکھوائی جائے، اور امانت رکھوانے والا وہ مُودِع بھی کہلاتا ہے وہ مُسْتَوْدِع بھی کہلاتا ہے اور اسی طرح رب الودیعت بھی۔ رب الودیعت کا کیا معنی؟ امانت کا مالک بھئی، امانت والا یعنی امانت کا جو مالک ہے۔ تو مُسْتَوْدَع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی، میں نے اپنے درہم کس کے پاس رکھوائے ہیں؟ زید کے پاس، اور زید سے وہ درہم چوری ہو گئے، تو زید بھی خصومت کر سکتا ہے جا کر قطع کا مطالبہ کر سکتا ہے، اور جو رب الودیعت یعنی جس نے درہم رکھوائے تھے وہ جو اصل مالک تھا درہموں کا وہ بھی خصومت کر سکتا ہے بھئی۔
اسی طرح غصب کے معاملے میں بھی آپ کو بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ غاصب بھی خصومت کر سکتا ہے اور مغصوب منہ بھی خصومت کر سکتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی زید سے درہم چھین کر لے گیا تو وہ آدمی ہوا غاصب، اور زید ہے مغصوب منہ یعنی وہ آدمی جس سے مال کو غصب کیا گیا ہے، تو وہ جو غاصب ہے اس سے کسی نے وہ درہم پھر چوری کر لیے، تو غاصب بھی خصومت کر سکتا ہے اس مال کے لیے، اور یہ جو مغصوب منہ ہے جو درہموں کا اصل مالک ہے یہ بھی خصومت کر سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
ترجمہ پھر دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلِلْمُسْتَوْدَعِ وَالْغَاصِبِ وَصَاحِبِ الرِّبَا“ اور وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اور وہ شخص جس نے مال کو غصب کیا ہے، ”وَصَاحِبِ الرِّبَا“ اور وہ شخص جو سود خور ہے، ان سب کے لیے جائز ہے ”أَنْ يَقْطَعُوا السَّارِقَ مِنْهُمْ“ کہ یہ قطع کر دیں ”السَّارِقَ مِنْهُمْ“ اس آدمی کو جس نے ان سے چوری کی ہے، ان کے لیے جائز ہے کہ یہ اس آدمی کو قطع کروا دیں یعنی اس کے ہاتھ کو قطع کروا دیں اس کے ہاتھ کو کٹوا دیں۔ ”وَلِرَبِّ الْوَدِيعَةِ أَنْ يَقْطَعَهُ أَيْضًا“ اور وہ جو امانت کا مالک ہے اس کے لیے بھی جائز ہے وہ بھی قطع کروا سکتا ہے یعنی وہ بھی خصومت کر سکتا ہے، ”وَكَذَا الْمَغْصُوبُ مِنْهُ“ اور اسی طرح مغصوب منہ بھی ہے، مغصوب منہ وہ شخص جس سے کوئی چیز غصب کر لی گئی، تو غاصب سے چوری ہو گئی غاصب بھی خصومت کر سکتا ہے اور مغصوب منہ یعنی وہ جو اس چیز کا مالک ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے، یہ معنی ہے ”وَكَذَا الْمَغْصُوبُ مِنْهُ“ اور اسی طرح وہ شخص بھی جس سے اس چیز کو غصب کیا گیا تھا۔
”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْغَاصِبِ وَالْمُسْتَوْدَعِ“ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ ہم سے اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ مُسْتَوْدَع اور غاصب یہ خصومت نہیں کر سکتے چوری کے معاملے میں۔ مُسْتَوْدَع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی اور غاصب جو دوسرے کی چیز زبردستی چھین کر لے گیا، تو ان سے اگر کسی نے مال چوری کر لیا تو یہ چوری کے معاملے میں خصومت نہیں کر سکتے، ان کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ”لَا يُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْغَاصِبِ وَالْمُسْتَوْدَعِ“ کہ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا غاصب اور مُسْتَوْدَع کی خصومت کی وجہ سے۔
”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ اور اسی اختلاف پر ہے ”الْمُسْتَعِيرُ وَالْمُسْتَأْجِرُ وَالْمُضَارِبُ وَالْمُسْتَبْضِعُ وَالْقَابِضُ عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ وَالْمُرْتَهِنُ وَكُلُّ مَنْ لَهُ يَدٌ حَافِظَةٌ سِوَى الْمَالِكِ“ بھئی اب کچھ اور افراد ذکر کر دیے صاحبِ ہدایہ نے کہ جن سے اگر کوئی مال چوری کر لے تو یہ سارے بھی خصومت کر سکتے ہیں۔ مالک جو ہے وہ تو ہر حال میں خصومت کر سکتا ہے، لیکن یہ باقی افراد مثلاً یہاں جو لفظ ذکر ہوئے ان میں سے ایک ایک کو ذرا پہلے سمجھ لیں، کہتے ہیں ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْمُسْتَعِيرُ“ مُسْتَعِير بھئی، مُسْتَعِير وہ ہے جو عاریۃً کسی سے کوئی چیز مانگتا ہے۔ عاریۃً کسی سے کوئی چیز مانگتا ہے، مثلاً آپ کا ساتھی آپ سے آپ کی گاڑی مانگ کر لے گیا کہ مجھے ضرورت ہے مجھے ایک دن کے لیے گاڑی دے دیجیے، آپ نے گاڑی اس کو دے دی تو وہ ہوا مُسْتَعِير بھئی، عاریۃً چیز کو مانگنے والا۔ تو مُسْتَعِير، اب یہ جو مُسْتَعِير کے پاس گاڑی تھی اور اس سے کوئی گاڑی چوری کر کے لے گیا، تو گاڑی کا اصل مالک جو ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے اس معاملے میں چور کے ساتھ، اور جو مُسْتَعِير ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے ہمارے نزدیک، جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ ان میں بھی اختلاف کرتے ہیں، یہ جتنے آگے ذکر ہو رہے ہیں امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ ان سب میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں یہ خصومت نہیں کر سکتے چوری کے معاملے میں، یعنی ان کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
تو ایک لفظ آ گیا مُسْتَعِير بھئی جو عاریۃً چیز مانگتا ہے، ”وَالْمُسْتَأْجِرُ“ بھئی مُسْتَأْجِر کہتے ہیں کرائے پر چیز لینے والا، ایک آدمی آپ سے کوئی چیز کرائے پر لے گیا اور پھر وہ اس آدمی کے پاس وہ چیز چوری ہو گئی، تو مُسْتَأْجِر جو ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے اس چوری کے معاملے میں۔
اگلا لفظ ہے ”مُضَارِبُ“ بھئی، آپ جانتے ہیں بھئی مضاربت اسے کہتے ہیں کہ مال ایک آدمی کا ہو محنت دوسرے آدمی کی ہو اور نفع آپس میں بر تقصیم کر لیں، مثلاً آپ کے پاس مال ہے لیکن آپ کو تجارت نہیں آتی یا آپ اپنے پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہیں، اور زید جو ہے اس کو تجارت آتی ہے لیکن اس کے پاس مال نہیں ہے، تو آپ زید کو اپنا مال دے دیتے ہیں کہ آپ اس مال کے ذریعے کاروبار کیجیے اور جو نفع حاصل ہو گا ہم اس کو آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیں گے، تو یہ جو عقد آپ دونوں کے درمیان ہوا اس کو عقدِ مضاربت کہتے ہیں، اور جس آدمی کا مال ہو اس کو کہتے ہیں رب المال، مال والا یعنی مال کا مالک ہے، اور وہ آدمی جس کو مال دیا ہے تجارت کے لیے اس کو کہتے ہیں مضارب بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مضارب جس نے عقدِ مضاربت کیا ہے مال والے کے ساتھ۔ تو یہ جو مضارب ہے اس کے پاس جو مال
مال ہے، یاد رکھو یہ بھی امانت کے حکم میں ہے۔ اس کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے، اور اگر اس کے پاس مال ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو لہٰذا مضارب سے کسی نے وہ مال چوری کر لیا، تو مضارب بھی خصومت کر سکتا ہے اور مال کا مالک بھی خصومت کر سکتا ہے۔
اگلا لفظ ہے مُسْتَبْضِعْ بھئی۔ مُسْتَبْضِعْ ضاد کے ساتھ ہے، یعنی وہ شخص جس نے مال کو سامانِ تجارت بنا لیا۔ یاد رکھو مُسْتَبْضِعْ بضاعت سے ہے۔ بضاعت کہتے ہیں کسی کو اپنا مال دینا بطورِ سرمائے کے۔ مثلاً آپ پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہیں، آپ کے پاس کاروبار کے لیے وقت نہیں ہے، اور زید جو ہے وہ ایک کاروباری آدمی ہے، اس کا کاروبار چل رہا ہے۔ تو آپ زید سے کہتے ہیں کہ بھئی، آپ کا کاروبار تو چل ہی رہا ہے، آپ میرا مال بھی اپنے مال کے ساتھ ملا لیں اور اس کو بھی کاروبار میں لگائیں اور پھر جو نفع ہوا کرے وہ آپ مجھے حساب کر کے دے دیا کریں۔ تو اس کو کہتے ہیں بضاعت۔ کیا کہتے ہیں؟ بضاعت، اپنا مال کسی کو بطورِ سرمائے کے دینا، کہ اس کو اپنے کاروبار میں لگا لے بطورِ سرمائے کے۔ اور وہ ہر مہینے وہ حساب کرتا ہے اور آپ کے مال کا جو نفع بنتا ہے وہ آپ کے حوالے کر دیتا ہے۔ تو یہ جو بطورِ سرمائے کے کسی کو مال دیا جائے اس کو کہتے ہیں بضاعت بھئی۔ اور وہ شخص جس نے آپ کے مال کو سرمایہ بنا دیا اپنے کاروبار میں، اس کو کہتے ہیں مُسْتَبْضِعْ۔ تو زید کیا ہے؟ مُسْتَبْضِعْ۔ اور کوئی چور آیا اور وہ زید سے آپ کا مال چورا کر لے گیا، تو اب دیکھو زید مالک تو نہیں ہے لیکن زید خصومت کر سکتا ہے ہمارے نزدیک، جبکہ امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک مُسْتَبْضِعْ جو ہے وہ مالک نہیں ہے، و لہٰذا وہ خصومت نہیں کر سکتا۔
اسی طرح اگلا لفظ آ رہا ہے: ﴿وَالْقَابِضُ عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ﴾۔ وَالْقَابِضُ: اور وہ شخص جس نے قبضہ کیا ہے، عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ: خریدنے کے بھاؤ تاؤ پر۔ سوم کہتے ہیں بھاؤ تاؤ کرنا۔ مثلاً بیع و شراء کے اندر بائع اور مشتری کے درمیان آپس میں بھاؤ تاؤ ہوتا ہے۔ مشتری کہتا ہے: یہ چیز مجھے اتنے کی دے دو، اور بائع کہتا ہے: نہیں، میں تو یہ چیز اتنے کی دوں گا۔ تو یہ جو دونوں کے درمیان ایک چیز خریدنے کے لیے قیمت کے اندر بحث مباحثہ ہو رہا ہے، اس کو کہتے ہیں بھاؤ تاؤ کرنا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ بھاؤ تاؤ کرنا۔ اب صورت یہ ہے کہ زید آیا، وہ آپ سے آپ کی گاڑی خریدنا چاہتا ہے اور آپ بھی گاڑی بیچنا چاہتے ہیں۔ تو آپ دونوں کے درمیان اس خرید و فروخت کے معاملے پر بحث ہو رہی ہے۔ آپ کہتے ہیں مثلاً: میں یہ گاڑی بیس لاکھ روپے میں آپ کو فروخت کروں گا، زید کہتا ہے: نہیں، مجھے اٹھارہ لاکھ میں مجھے آپ یہ گاڑی فروخت کر دیجیے۔ آپ دونوں کے درمیان بحث چل رہی ہے۔ ابھی بات پوری نہیں ہوئی۔ بیع ابھی آپ دونوں کے درمیان نہیں ہوئی۔ تو زید نے کہا: بھئی، اس وقت تو میں جا رہا ہوں، آپ یوں کریں یہ گاڑی مجھے فی الحال دے دیں، باقی باتیں ہم کل بیٹھ کر کر لیں گے۔ تو آپ نے اپنی گاڑی زید کے حوالے کر دی۔ تو اب دیکھو، زید نے آپ کی گاڑی پر قبضہ کیا ہے حالانکہ ابھی بیع مکمل نہیں ہوئی۔ تو اس کو کہتے ہیں قَابِضٌ عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قَابِضٌ عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ، کہ اس نے خریدنے کے بھاؤ تاؤ پر اس چیز پر قبضہ کیا ہے، وہ خریدنا چاہتا ہے اس چیز کو۔ اور پھر زید کے پاس سے یہ گاڑی چوری ہو گئی، تو یاد رکھو ہمارے نزدیک زید جو ہے وہ قَابِضٌ عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ ہے، وہ یہاں پر چوری کے معاملے میں خصومت کر کے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے بھئی۔
اسی طرح آگے مرتہن کا ذکر آ رہا ہے۔ مرتہن وہ ہے جس کے پاس رہن رکھوایا جائے۔ ایک آدمی کو دس لاکھ روپے قرض کی ضرورت تھی، وہ زید کے پاس چلا گیا کہ مجھے دس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ زید نے کہا: میرے پاس اپنی کوئی چیز بطورِ ضمانت کے رکھوا دو۔ تو اس آدمی نے اپنی گاڑی زید کے پاس بطورِ رہن کے رکھوا دی۔ تو وہ آدمی جس کی گاڑی ہے وہ ہے راہن، یعنی رہن رکھوانے والا، اور زید ہوا مرتہن، یعنی وہ جو رہن کو رکھنے والا ہے۔ اب زید سے وہ گاڑی چوری ہو گئی۔ وہ رہن گاڑی جو تھی وہ زید سے چوری ہو گئی۔ تو ہمارے نزدیک زید مرتہن ہے، وہ خصومت کر سکتا ہے اس چوری کے معاملے میں، جبکہ امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک وہ خصومت نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اسی طرح صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جس شخص کا بھی حفاظت والا قبضہ ہو، ان سب میں یہی اختلاف ہے۔ ان سب کا قبضہ کون سا تھا؟ حفاظت والا۔ دیکھو، آپ سے کوئی چیز عاریتاً مانگ کر لے کر گیا ہے تو اس چیز کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے۔ ایک آدمی آپ سے کوئی چیز کرائے پر لے گیا ہے تو اس چیز کی حفاظت اس آدمی کی ذمہ داری ہے بھئی۔ یا اسی طرح آپ نے اپنا مال دوسرے کو مضاربت کے طور پر دیا ہے تو اس مال کی حفاظت مضارب کی ذمہ داری ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، اسی طرح ہر وہ شخص جس کا قبضہ حفاظت والا ہو اور اس سے مال چوری ہو جائے تو وہ خصومت کر سکتا ہے۔ جبکہ امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، وہ خصومت نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: ﴿وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْمُسْتَعِيرُ وَالْمُسْتَأْجِرُ وَالْمُضَارِبُ﴾، اور اسی اختلاف پر ہے مستعیر بھی، یعنی عاریتاً چیز لینے والا، وَالْمُسْتَأْجِرُ: اور کرائے پر چیز لینے والا، وَالْمُضَارِبُ: اور مال کو بطورِ مضاربت کے لینے والا، ﴿وَالْمُسْتَبْضِعُ﴾: اور وہ شخص جس نے مال کو سامانِ تجارت بنایا ہے، ﴿وَالْقَابِضُ عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ﴾: اور اسی اختلاف پر ہے وہ شخص جس نے خریدنے کے بھاؤ پر چیز پر قبضہ کیا ہے، ﴿وَالْمُرْتَهِنُ﴾: اور اسی اختلاف پر مرتہن بھی ہے، ﴿وَكُلُّ مَنْ لَهُ يَدٌ حَافِظَةٌ سِوَى الْمَالِكِ﴾: اور اسی طرح ہر وہ آدمی جس کا حفاظت والا قبضہ ہے سوائے مالک کے۔ ان سب کے اندر یہی اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سب چوری کے معاملے میں خصومت کر سکتے ہیں، اور امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک یہ چوری کے معاملے میں خصومت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ چیز کے مالک نہیں ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَكُلُّ مَنْ لَهُ يَدٌ حَافِظَةٌ سِوَى الْمَالِكِ﴾، اور اسی طرح، اسی اختلاف پر ہے ہر وہ شخص جس کا حفاظت والا قبضہ ہو مالک کے علاوہ، جیسے بھئی اس کی بین السطور مثال دی ہے: كَمُتَوَلِّي الْوَقْفِ وَالْأَبِ وَالْوَصِيِّ۔ بھئی، جس آدمی کا بھی حفاظت والا قبضہ ہو ان سب کا یہی حکم ہے۔ ہمارے نزدیک ان حفاظت والے سے اگر چوری ہو جائے یہ خصومت کر سکتا ہے۔ امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک یہ حفاظت والے خصومت نہیں کر سکتے اگر ان سے مال چوری ہو جائے۔ جیسے متولیِ وقف ہے۔ وقف، مثلاً کسی نے کوئی جائیداد وغیرہ وقف کر دی اللہ کے راستے میں، کہ اس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ تو وہ جو وقف کا ذمہ دار ہے، وہ جو متولی ہے، تو اگر وقف سے کوئی چیز چوری ہو جائے تو متولیِ وقف جو ہے وہ خصومت کر سکتا ہے، کیونکہ ان چیزوں کی حفاظت کا ذمہ دار متولی ہے، تو متولی کا قبضہ حفاظت والا ہے۔ اور حفاظت والے شخص سے جب کوئی مال چوری ہو جائے تو وہ خصومت کر سکتا ہے ہمارے نزدیک۔ یا اسی طرح باپ ہے بھئی، آپ جانتے ہیں کہ نابالغ اولاد کے مال کی حفاظت کا ذمہ دار باپ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے اس کی نابالغ اولاد ہے اور اس نابالغ اولاد کو کسی نے مال دے دیا۔ اب یہ تو ناسمجھ ہیں، نابالغ ہیں، تو باپ اس مال پر قبضہ کر لے گا اور یہ باپ کا قبضہ حفاظت والا ہے۔ تو اگر باپ سے کوئی شخص یہ مال چرا کر لے جائے، یہ جو نابالغ کا مال تھا، تو باپ خصومت کر سکتا ہے یہاں چوری کے معاملے میں۔ اسی طرح وصی ہے، وصی اسے کہتے ہیں کہ جسے کسی مرنے والے نے اپنے مال کا ذمہ دار بنا دیا۔ زید مرنے لگا تو اس نے عمرو کو نگران بنا دیا اپنے مال کا کہ میرے مرنے کے بعد میرا یہ مال ٹھیک طریقے سے میرے وارثوں میں تقسیم کر دینا۔ تو یہ شخص جس کو مرنے والے نے اپنے مال کا نگران مقرر کیا ہے اس کو وصی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وصی کہتے ہیں۔ تو یہ جو وصی کا مال پر قبضہ ہوتا ہے یہ بھی حفاظت والا قبضہ ہے۔ لہٰذا اب اس مال کو کوئی چوری کر کے لے جائے تو وصی ہمارے نزدیک خصومت کر سکتا ہے، جبکہ امامِ شافعی اور امامِ زفر رحمہما اللہ کے نزدیک وصی کا قبضہ حفاظت والا ہے، خصومت والا نہیں، لہٰذا ان کے نزدیک یہ وصی خصومت نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے ﴿وَكُلُّ مَنْ لَهُ يَدٌ حَافِظَةٌ سِوَى الْمَالِكِ﴾: اور اسی طرح ہر وہ شخص جس کا حفاظت والا قبضہ ہو مالک کے علاوہ۔
﴿وَيُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْمَالِكِ فِي السَّرِقَةِ مِنْ هَؤُلَاءِ﴾۔ بھئی، ان سب کا قبضہ تو حفاظت والا ہے، یہ سارے تو خصومت کر سکتے ہیں، تو کیا مال کا اصل مالک جو ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے یا نہیں؟ میں نے اپنا مال زید کے پاس رکھوایا تھا بطورِ امانت کے، زید سے وہ مال کوئی شخص چوری کر کے لے گیا، تو زید تو خصومت کر سکتا ہے، لیکن جو مال کا اصل مالک ہے کیا وہ بھی خصومت کر سکتا ہے اسی معاملے کے اندر؟ کہتے ہیں: ہاں، وہ تو مال کا اصل مالک ہے، وہ بھی خصومت کر سکتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ﴿وَيُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْمَالِكِ﴾، اور مالک کی خصومت کی وجہ سے بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ﴿فِي السَّرِقَةِ مِنْ هَؤُلَاءِ﴾: ان مذکورہ لوگوں سے چوری میں۔ ان مذکورہ لوگوں سے، یعنی یہ جو مستودع ہے یا مستعیر ہے یا مستأجر، مضارب وغیرہ یہ جتنے پیچھے ذکر ہوئے، ان سے اگر کوئی شخص چوری کر لیتا ہے تو جیسے یہ لوگ خصومت کر سکتے ہیں مال کا اصل مالک بھی خصومت کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: ﴿وَيُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْمَالِكِ﴾، اور مالک کی خصومت اور مقدمے کی وجہ سے بھی ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے، ﴿فِي السَّرِقَةِ مِنْ هَؤُلَاءِ﴾: ان مذکورہ لوگوں سے چوری کے اندر۔
﴿إِلَّا أَنَّ الرَّاهِنَ إِنَّمَا يُقْطَعُ بِخُصُومَتِهِ حَالَ قِيَامِ الرَّهْنِ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ﴾، ہاں، راہن جو ہے راہن، راہن وہ جس نے دوسرے کے پاس رہن رکھوایا تھا۔ آپ نے یہ تو پڑھ لیا مرتہن خصومت کر سکتا ہے، مرتہن سے وہ رہن چوری ہو گیا تو مرتہن خصومت کر سکتا ہے۔ کیا راہن بھی خصومت کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو کہتے ہیں: راہن کی خصومت کے لیے دو شرطیں ہیں بھئی۔ راہن وہ جو مال کا اصل مالک ہے جس نے رہن رکھوایا ہے، وہ راہن خصومت کر سکتا ہے لیکن دو شرطیں ہیں۔ ایک شرط یہ ہے کہ وہ رہن موجود ہونا چاہیے، یعنی چور کے پاس وہ ہلاک وغیرہ نہ ہوا ہو۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کے پاس گاڑی رہن کے طور پر رکھوا دی اور اس سے دس لاکھ روپیہ قرضہ لے لیا۔ اب مرتہن کے پاس سے چور وہ گاڑی چرا کر لے گئے۔ تو مرتہن تو خصومت کر سکتا ہے آپ نے پڑھ لیا۔ لیکن کیا راہن بھی خصومت کر سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں: راہن کی خصومت کی دو شرطیں ہیں۔ ایک شرط یہ ہے کہ وہ مرہونہ چیز موجود ہونی چاہیے، وہ گاڑی ابھی بھی چور کے پاس موجود ہو، یعنی ابھی وہ ہلاک نہ ہوئی ہو۔ ہلاک نہ ہوئی ہو۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ راہن نے قرضہ بھی ادا کر دیا ہو۔ بھئی، راہن نے یہ گاڑی کس کے پاس رکھوائی تھی؟ مرتہن کے پاس، اور اس نے قرضہ لیا تھا۔ تو راہن یہ گاڑی واپس لے ہی نہیں سکتا جب تک کہ اپنا قرضہ ادا نہ کر دے۔ توجہ ہے؟ تو جب راہن مرتہن سے گاڑی نہیں چھڑا سکتا بغیر قرضہ ادا کیے، تو راہن بغیر قرضہ ادا کیے چور کے ساتھ بھی خصومت نہیں کر سکتا۔ تو راہن جس نے رہن رکھوایا تھا وہ چور کے ساتھ اسی وقت خصومت کر سکتا ہے جب چور کے پاس وہ مرہونہ چیز موجود ہو، ابھی ہلاک نہ ہوئی ہو، اور نیز راہن نے وہ قرضہ بھی مرتہن کو ادا کر دیا ہو۔ پھر یہ اب گاڑی کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے اور چور کے ساتھ خصومت کر سکتا ہے۔ اور جب تک اس نے قبضہ ادا نہیں کیا، یہ اس گاڑی کو واپس لینے کے لیے خصومت نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿إِلَّا أَنَّ الرَّاهِنَ﴾، مگر یہ کہ راہن جو ہے، ﴿إِنَّمَا يُقْطَعُ بِخُصُومَتِهِ﴾، اس راہن کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ﴿حَالَ قِيَامِ الرَّهْنِ﴾: رہن کی موجودگی کی حالت میں، یعنی جس وقت رہن موجود ہے، ابھی ہلاک نہیں ہوا، ﴿بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ﴾: دین کی ادائیگی کے بعد۔ تو دو شرطیں ہیں: وہ مرہونہ چیز بھی موجود ہونی چاہیے، ہلاک ابھی نہ ہوئی ہو، اور نیز راہن نے دین بھی ادا کر دیا ہو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا راہن چوری کے معاملے میں کب خصومت کر سکتا ہے؟ جب وہ مرہونہ چیز بھی موجود ہو اور جب راہن نے وہ قرضہ ادا کر دیا ہو۔ معلوم ہوا راہن نے اگر ابھی قبضہ ادا نہیں کیا تو وہ چوری کے معاملے میں خصومت بھی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب ذرا اس عبارت پہ نظر رکھیں۔ شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں ہدایہ کے بعض نسخوں میں عبارت اور طرح ہے۔ ہدایہ کے بعض نسخوں میں عبارت اور طرح ہے۔ یہاں تو آپ نے پڑھ لیا کہ راہن دین کی ادائیگی کے بعد خصومت کر سکتا ہے، لیکن ہدایہ کے بعض نسخوں میں ہے کہ راہن دین کی ادائیگی سے پہلے بھی خصومت کر سکتا ہے اور دین کی ادائیگی کے بعد بھی خصومت کر سکتا ہے، اور یہ نسخے درست نہیں ہیں بھئی۔ توجہ ہے؟ ہم نے کیا پڑھا؟ کہ راہن دین کی ادائیگی کے بعد خصومت کر سکتا ہے۔ لیکن ہدایہ کے بعض نسخوں میں کیا ہے؟ کہ راہن دین کی ادائیگی سے پہلے بھی خصومت کر سکتا ہے اور دین کی ادائیگی کے بعد بھی خصومت کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں ہدایہ کے وہ نسخے صحیح نہیں ہیں، صحیح عبارت یہی ہے جو آپ نے یہاں پڑھ لی کہ راہن دین کی ادائیگی کے بعد خصومت کر سکتا ہے، ادائیگی سے پہلے خصومت نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جی، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ﴿إِلَّا أَنَّ الرَّاهِنَ﴾، مگر یہ کہ وہ جو راہن ہے، ﴿إِنَّمَا يُقْطَعُ بِخُصُومَتِهِ﴾، اس راہن کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ﴿حَالَ قِيَامِ الرَّهْنِ﴾: اس مرہونہ چیز کی موجودگی کی حالت میں، ﴿بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ﴾: دین کی ادائیگی کے بعد، ﴿لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لَهُ فِي الْمُطَالَبَةِ بِالْعَيْنِ بِدُونِهِ﴾، لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لَهُ: اس لیے کیونکہ راہن کا کوئی حق نہیں ہے، فِي الْمُطَالَبَةِ بِالْعَيْنِ: کہ وہ اس چیز کا مطالبہ کرے، بِدُونِهِ: بغیر ادائے دین کے۔ بِدُونِهِ کی ہا ضمیر کس کو لوٹائیں؟ قضاءِ دین کو۔ پیچھے آیا نا: ﴿بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ﴾، دین کی ادائیگی کے بعد راہن جو ہے وہ خصومت کر سکتا ہے۔ اِدھر دیکھیے، ایک آدمی نے دوسرے کے پاس گاڑی رکھوائی ہے اور اس سے دس لاکھ روپے قرضہ لیا ہے، مجھے بتائیے کیا راہن قرضہ ادا کیے بغیر مرتہن سے گاڑی واپس لے سکتا ہے؟ راہن مرتہن سے گاڑی واپس نہیں لے سکتا جب تک قرضہ نہیں ادا کرتا۔ توجہ ہے؟ تو جب راہن مرتہن سے اس رہن کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا بغیر دین ادا کیے تو چور سے کیسے وہ اس چیز کا مطالبہ کر سکتا ہے بغیر قرض ادا کیے بھئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لَهُ فِي الْمُطَالَبَةِ بِالْعَيْنِ بِدُونِهِ﴾، اس لیے کیونکہ راہن کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس چیز کا مطالبہ کرے بِدُونِهِ قرضے کی ادائیگی کے بغیر۔
﴿وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بَنَاهُ عَلَى أَصْلِهِ﴾، اب وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ یہاں تک تو صرف اتنا ذکر تھا کہ کون کون ہمارے نزدیک چور کے ساتھ خصومت کر سکتا ہے اور کون خصومت نہیں کر سکتا۔ یہ جتنے افراد پیچھے ذکر ہوئے ہمارے نزدیک خصومت کر سکتے ہیں، جبکہ امامِ شافعی اور امامِ زفر رحمہما اللہ کے نزدیک چوری کے معاملے میں یہ خصومت نہیں کر سکتے، اب ان کی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾، اور امامِ شافعی رحمہ اللہ جو ہیں، بَنَاهُ عَلَى أَصْلِهِ: انہوں نے اس کی بنیاد رکھی ہے اپنے ضابطے پر۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سب کا قبضہ حفاظت والا قبضہ ہے، خصومت والا قبضہ نہیں ہے، یہ مالک نہیں ہیں، تو ان کا خصومت والا قبضہ نہیں تو یہ خصومت بھی نہیں کر سکتے۔ کوئی اگر ان سے چیز چرا کر لے گیا تو مالک خصومت کر سکتا ہے، یہ لوگ خصومت نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بَنَاهُ عَلَى أَصْلِهِ﴾، امامِ شافعی رحمہ اللہ نے اس کی بنیاد رکھی ہے اپنے ضابطے پر، ﴿إِذْ لَا خُصُومَةَ لِهَؤُلَاءِ﴾، اس لیے کیونکہ مذکورہ لوگوں کو خصومت کا حق نہیں ہے، ﴿فِي الِاسْتِرْدَادِ﴾، استرداد کا معنی ہے واپسی کا مطالبہ کرنا، کوئی چیز واپس لینا۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو ہیں ان کا قبضہ صرف حفاظت والا ہے خصومت والا نہیں، تو یہ اس چیز کو واپس لینے کے اندر خصومت نہیں کر سکتے۔ چور چوری کر کے لے گیا ہے، تو ان کا قبضہ کون سا تھا؟ حفاظت والا قبضہ تھا، یہ خصومت والا قبضہ نہیں تھا، تو یہ خصومت کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتے، یہ قاضی کے پاس چلے جائیں اور مطالبہ کریں کہ قاضی صاحب، اس آدمی نے ہماری چیز چوری کی ہے، ہماری چیز ہمیں دلائی جائے، کہتے ہیں نہیں، یہ واپسی کا مطالبہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ اس چیز کے مالک نہیں ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ﴿إِذْ لَا خُصُومَةَ لِهَؤُلَاءِ﴾، اس لیے کیونکہ یہ جو مذکورہ لوگ ہیں ان کا خصومت کا حق نہیں ہے، ﴿فِي الِاسْتِرْدَادِ﴾: اس چیز کو واپس لینے میں، عِنْدَهُ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔
﴿وَزُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: وِلَايَةُ الْخُصُومَةِ فِي حَقِّ الِاسْتِرْدَادِ لِضَرُورَةِ الْحِفْظِ﴾، اور امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مذکورہ لوگ ہیں ان کے ذمے اس چیز کی حفاظت تھی۔ ان کے ذمے اس چیز کی حفاظت تھی، لہٰذا ان کو خصومت کی ولایت تو ہے۔ بھئی، ایک آدمی کے پاس میں نے امانت رکھوائی ہے تو مودَع کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس چیز کی حفاظت کرے۔ جب اس کی ذمہ داری ہے چیز کی حفاظت کرنا تو امامِ زفر فرماتے ہیں یہ خصومت بھی کر سکتا ہے لیکن یہ خصومت ہوگی ضرورت کی وجہ سے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ان کو خصومت کا حق ہی نہیں ہے، امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کو خصومت کا حق ہے لیکن خصومت کا حق کس لیے ہے؟ اس چیز کی حفاظت کی وجہ سے، کیونکہ ان لوگوں کی ذمہ داری تھی اس چیز کی حفاظت کریں۔ تو حفاظت کی ضرورت کی وجہ سے ان کو خصومت کی ولایت مل گئی۔ توجہ سے سنو، ذرا مشکل بات ہے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو تو سرے سے خصومت کا حق ہی نہیں ہے، امامِ زفر فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ یہ چیز کی حفاظت کریں، تو حفاظت کی ضرورت کی وجہ سے ان کو خصومت کا حق ملے گا، یہ خصومت کر سکتے ہیں، لیکن یہ خصومت کی ولایت ان کو کیوں ملی؟ حفاظت کی ضرورت کی وجہ سے، کیونکہ یہ لوگ محتاج ہیں کہ اس چیز کی حفاظت کریں تاکہ مالک کو واپس پہنچائیں۔ تو حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو خصومت کی ولایت ملنی چاہیے، تو ان کو یہ جو خصومت کی ولایت ملی ہے یہ ضرورت کی وجہ سے ملی ہے، اور الضَّرُورِيُّ يُتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ، اور جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے، تو لہٰذا اس مال کو واپس لینے کے اندر تو ان کو خصومت کی ولایت ہے، یہ مقدمہ کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ محتاج ہیں اس کی حفاظت کے، لیکن اس خصومت کی وجہ سے یہ چور کا ہاتھ نہیں کٹوا سکتے۔
﴿وَزُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ﴾، اور امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وِلَايَةُ الْخُصُومَةِ فِي حَقِّ الِاسْتِرْدَادِ﴾، کہ اس چیز کو واپس لینے کے حق میں جو خصومت کی ولایت ہے، ﴿لِضَرُورَةِ الْحِفْظِ﴾: وہ حفاظت کی ضرورت کی وجہ سے ہے، وہ حفاظت کی ضرورت کی وجہ سے ہے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے تھے ان لوگوں کو سرے سے خصومت کا حق ہی نہیں ہے، البتہ امامِ زفر رحمہ اللہ فرق کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو خصومت کا حق تو ہے لیکن ان کو خصومت کا حق شریعت نے ان کی حاجت اور ضرورت کی وجہ سے دیا ہے کیونکہ یہ لوگ ان چیزوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ یہ لوگ اس چیز کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، آپ نے کسی کے پاس امانت رکھوائی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے وہ اس کی حفاظت کرے، آپ سے کوئی چیز چھین کر لے گیا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے اس چیز کی حفاظت کرے، آپ سے کوئی چیز استعمال کے لیے مانگ کر لے گیا ہے تو اس آدمی کی ذمہ داری ہے کہ اس چیز کی حفاظت کرے، آپ نے اگر کوئی چیز کسی کے پاس بطورِ رہن کے رکھوائی ہے تو مرتہن کی ذمہ داری ہے کہ ان چیزوں کی حفاظت کرے۔ تو امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں کو خصومت کا حق ہے، یہ چور کے ساتھ خصومت کر کے یہ مال واپس لے سکتے ہیں، شریعت نے ان کو خصومت کا حق دیا ہے لیکن خصومت کا یہ حق شریعت نے ان کی حاجت اور ضرورت کی وجہ سے دیا ہے، ضرورت اور حاجت۔ اور وہ ضرورت اور حاجت کیا ہے؟ تاکہ یہ اس چیز کی حفاظت کر سکیں، تاکہ چور سے یہ خصومت کریں، جھگڑا کریں اور پھر چور سے وہ چیز واپس ان کو مل جائے اور پھر یہ اس کو اپنے پاس دوبارہ اسی طرح محفوظ رکھ لیں۔ تو ان کو شریعت نے خصومت کی ولایت دی ہے، یہ چور سے خصومت کر سکتے ہیں لیکن یہ خصومت ان کی ضرورت کی وجہ سے ہے کہ اس چیز کی حفاظت کے یہ محتاج ہیں، اس چیز کی حفاظت کی ان کو ضرورت ہے۔ اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ وہ چیز جو ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے۔ تو یہ لوگ جو ہیں، یہ جو اوپر ذکر ہوئے یہ تو اس چیز کے مالک نہیں تھے لیکن حفاظت ان کی ذمہ داری تھی، تو حفاظت کی وجہ سے ان کو شریعت نے مقدمہ کرنے کی ولایت بھی دے دی، لیکن یہ جو مقدمہ کرنے کی ولایت شریعت نے دی ہے یہ ان کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے دی ہے، اور آپ نے پڑھا ہے: الضَّرُورِيُّ يُتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ، کہ جو چیز ضرورتاً ثابت ہو وہ ضرورت کے بقدر ہی ثابت ہوگی۔ لہٰذا مال کو واپس لینے کے لیے ضرورت کی وجہ سے ان کو خصومت کی ولایت دے دی گئی کہ یہ مقدمہ کر سکتے ہیں، اور ان کو مال واپس ملے گا تو ان کی ضرورت پوری ہو جائے گی، لہٰذا قطع کے لیے ان کو خصومت کی ولایت نہیں ہوگی۔ ہاتھ کٹوانے کے لیے ان کو خصومت کی اجازت اور ولایت نہیں ہوگی۔ ان کو شریعت نے خصومت کی اجازت دی ہے، خصومت کیا معنی؟ یہ مقدمہ کر سکتے ہیں چور پر کہ اس نے یہ چیز ہم سے چرا لی ہے، اور شریعت نے یہ ان کو مقدمہ کرنے کی ولایت کیوں دی؟ کیونکہ یہ محتاج تھے، ان کو ضرورت تھی، اس چیز کی حفاظت ان کی ذمہ داری تھی۔ تو معلوم ہوا ان کو جو مقدمے کی ولایت شریعت نے دی ہے وہ ضرورت کی وجہ سے دی ہے، اور جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے۔ تو مال کے اندر خصومت سے ان کی ضرورت پوری ہو گئی، ان کو مال واپس مل جائے گا، لیکن اس خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ اس خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے یہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ خصومت ضرورت کی وجہ سے شریعت نے ان کو دی ہے اور ضرورت مال کو واپس لینے سے پوری ہو گئی، تو ہاتھ کے کاٹنے میں ان کی خصومت مؤثر نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: ﴿وَزُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ﴾، اور امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وِلَايَةُ الْخُصُومَةِ فِي حَقِّ الِاسْتِرْدَادِ﴾، کہ اس چیز کو واپس لینے کے حق میں خصومت کی جو ولایت ہے، ﴿لِضَرُورَةِ الْحِفْظِ﴾: وہ اس چیز کی حفاظت کرنے کی ضرورت کی وجہ سے ہے، ﴿فَلَا تَظْهَرُ فِي حَقِّ الْقَطْعِ﴾: لہٰذا یہ ولایت ہاتھ کاٹنے کے حق میں ظاہر نہیں ہوگی، ان کو ہاتھ کٹوانے کی ولایت نہیں ہوگی، ﴿لِأَنَّ فِيهِ تَفْوِيتَ الصِّيَانَةِ﴾: اس لیے کیونکہ اس ہاتھ کٹوانے کے اندر تو حفاظت کو فوت کرنا ہے۔ ہاتھ کٹوانے میں تو حفاظت کا فوت کرنا ہے۔ بھئی دیکھیے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ چور کا جب ہاتھ کاٹ دیا جائے تو پھر چور پر سے ضمان ساقط ہو جاتا ہے، وہ مال اگر اس نے ہلاک کیا ہے تو اس مال کا ضمان چور پر نہیں آئے گا۔ چور کا جب ہاتھ کاٹ دیا جائے اور وہ چوری والا مال اس کے پاس ہلاک ہو چکا ہے یا اس نے خود ہلاک کیا ہے، اس کو ضائع کر دیا ہے، تو ہاتھ کاٹنے کے بعد اس چور پر اس مال کا ضمان نہیں آتا۔ توجہ ہے؟ تو امامِ زفر رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو شریعت نے جو ولایت دی ہے یہ مال واپس لینے کے لیے دی ہے تاکہ یہ اس کی حفاظت کر سکیں، اور اگر ان کو ہاتھ کٹوانے کی خصومت کا اختیار بھی مل جائے کہ ان کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے، تو جب چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا تو چور پر سے تو مال کا ضمان ساقط ہو جائے گا، تو اب مال محفوظ رہا یا مال ضائع ہو گیا، چلا گیا، ختم ہو گیا؟ ضائع ہو گیا مال تو۔ تو لہٰذا ان کو شریعت نے جو خصومت کی ولایت دی ہے وہ حفاظت کی وجہ سے دی ہے، اور اگر ان کو ہاتھ کاٹنے کے اندر بھی ولایت دے دی جائے پھر تو ان کے ہاتھ کٹوانے کی وجہ سے وہ مال محفوظ نہ رہے گا، اس کا ضمان ساقط ہو جائے گا، تو جب مال کا ضمان ساقط ہو گیا تو حفاظت بھی ساقط ہو گئی۔ حفاظت تو تب ضروری ہے جب مالِ محفوظ ہو، مالِ معصوم ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: لہٰذا ان کو جو شریعت نے خصومت کی ولایت دی ہے وہ حفاظت کی ضرورت کی وجہ سے ہے، ﴿فَلَا تَظْهَرُ فِي حَقِّ الْقَطْعِ﴾: لہٰذا یہ خصومت کی ولایت ہاتھ کاٹنے کے حق میں ظاہر نہیں ہوگی، یعنی ان کو ہاتھ کٹوانے کی ولایت نہیں ہوگی، ﴿لِأَنَّ فِيهِ تَفْوِيتَ الصِّيَانَةِ﴾: اس لیے کیونکہ ہاتھ کے کٹوانے میں تو اس مال کی حفاظت کو فوت کر دینا ہے۔ ہاتھ کٹوانے کی صورت میں تو مال غیر مضمون ہو جائے گا، یعنی اس کی حفاظت ساقط ہو جائے گی۔ تو شریعت نے ان کو خصومت کی ولایت دی کس لیے؟ حفاظت کے لیے، اور جب ہاتھ کٹ گیا تو مالِ معصوم نہ رہا، وہ مالِ محفوظ نہ رہا، تو حفاظت ہی ساقط ہو گئی۔ تو مقصود تھا حفاظت اور ہاتھ کاٹا جائے تو حفاظت ہی ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا ان لوگوں کو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں خصومت کی ولایت نہیں ہوگی، ان لوگوں کو ہاتھ کاٹنے کے لیے خصومت کی ولایت نہیں ہوگی۔
بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے آج اتنا ہی کافی ہے۔ ابھی مسئلہ پورا نہیں ہوا، ہماری دلیل آگے آ رہی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ وہ حصہ پھر کل کے سبق میں پڑھ لیں گے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔