Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-125

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 69
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ وَلَنَا أَنَّ السَّرِقَةَ مُوجِبَةٌ لِلْقَطْعِ فِي نَفْسِهَا، وَقَدْ ظَهَرَتْ عِنْدَ الْقَاضِي بِحُجَّةٍ شَرْعِيَّةٍ، وَهِيَ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ عَقِيبَ خُصُومَةٍ مُعْتَبَرَةٍ مُطْلَقًا، إِذِ الِاعْتِبَارُ لِحَاجَتِهِمْ إِلَى الِاسْتِرْدَادِ، فَيُسْتَوْفَى الْقَطْعُ، وَالْمَقْصُودُ مِنَ الْخُصُومَةِ إِحْيَاءُ حَقِّهِ، وَسُقُوطُ الْعِصْمَةِ ضَرُورَةُ الِاسْتِيفَاءِ فَلَمْ يُعْتَبَرْ۔ بھئی گزشتہ سبق کے اندر ہم فصل پڑھ رہے تھے: فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْقَطْعِ وَإِثْبَاتِهِ۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ قطع کا طریقہ بتلائیں گے اور نیز وہ چیزیں بیان کریں گے کہ جو قطع کے اثبات کے لیے ضروری ہیں یعنی قطع کی شرائط کیا ہیں۔ تو وہ شرائط اگرچہ صاحبِ ہدایہ صراحتاً ذکر تو نہیں فرماتے، لیکن جو جو مسئلے صاحبِ ہدایہ ذکر فرماتے ہیں ان سے وہ شرائط واضح طور پر مفہوم ہوتی ہیں اور انہیں پھر علماء نے بین السطور درج فرما دیا ہے۔ تو پہلی شرط ہم نے یہ پڑھی تھی کہ ہاتھ کاٹنے کی صورت میں اس چور کے پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع فوت نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اگر چور کا بایاں ہاتھ پہلے سے کٹا ہوا ہے تو پھر دایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ورنہ تو چور کا چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا۔ اور نیز اسی طرح دایاں ہاتھ کاٹنا ہے تو چور کا دایاں پاؤں پہلے سے کٹا ہوا نہ ہو۔ اس لیے کیونکہ دایاں پاؤں بھی کٹا ہوا ہے اور آپ دایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں گے تو ایک ہی جانب پہ ہاتھ اور پاؤں کٹ گئے تو اب چور کا چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر ایک طرف کا پاؤں کٹا ہو اور ایک طرف کا ہاتھ کٹا ہو تو پھر بھی انسان چل لیتا ہے، جس طرف کا پاؤں کٹا ہے اس طرف وہ لاٹھی پکڑ لے گا۔ لیکن اگر اسی طرف کا ہاتھ بھی کٹا ہوا ہے تو اب لاٹھی پکڑنے کی بھی کوئی صورت نہ رہی تو لہٰذا انسان پھر چل ہی نہیں سکتا۔ تو یہ پہلی شرط تھی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر بائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا ہو یا بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں کٹی ہوئی ہوں، تو اس صورت کے اندر بھی دایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ انگوٹھا کٹا ہو یا دو انگلیاں کٹی ہوئی ہوں تو پھر پکڑنے کی قوت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر بائیں ہاتھ کی ایک انگلی کٹی ہوئی ہو تو اس کی وجہ سے پکڑنے کی قوت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا، لہٰذا اس صورت میں پھر دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر حاکم نے حداد سے کہا کہ چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس حداد نے چور کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا، چاہے غلطی سے کاٹا ہو چاہے جان بوجھ کر کاٹا ہو، امام صاحب کے نزدیک دونوں صورتوں میں حداد پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ البتہ اس کو کچھ نہ کچھ تنبیہ کی جائے گی، تھوڑی بہت سزا حاکم اسے دے گا تاکہ وہ آئندہ اس طرح نہ کرے۔ تو یہ تو امام صاحب کے نزدیک ہے کہ حداد پر ضمان نہیں آئے گا، چاہے حداد جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹے چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے پھر تو حداد پر ضمان نہیں، لیکن اگر جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے پھر حداد پر ضمان آئے گا اور اس کو ہاتھ کی دیت ادا کرنا پڑے گی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حداد چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹے چاہے جان بوجھ کر کاٹے، دونوں صورتوں کے اندر اس پر ضمان آئے گا کیونکہ یہ حقوق العباد کا مسئلہ ہے اور حقوق العباد کے اندر جو غلطی ہے وہ معاف نہیں ہوتی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہاں پر غلطی سے مراد جو ہے وہ اجتہادی غلطی مراد ہے، یعنی حداد نے آیت کو دیکھا تو آیت کے اندر تو ہے: ﴿فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ وہاں تو دائیں ہاتھ کی تصریح نہیں ہے، وہاں تو دائیں ہاتھ کا ذکر نہیں ہے، تو اس نے سوچا کہ چور کا کوئی سا بھی ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے حد کے اندر، چنانچہ یہاں اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا تو اجتہاد کے اندر اس سے غلطی ہوئی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حقوق العباد کے اندر غلطی بھی ہو جائے تو وہ معاف نہیں ہے بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ حداد سے اجتہاد کے اندر غلطی ہوئی ہے کیونکہ آیت کے اندر تو دائیں ہاتھ کی تصریح نہیں ہے، آیت کے اندر تو ہے: ﴿فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ کاٹ دو، تو اجتہاد کے اندر اس سے غلطی ہوئی ہے اور اجتہاد کے اندر جو غلطی ہوتی ہے وہ معاف ہوتی ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر اس نے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے تو پھر ضمان آئے گا۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اگرچہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے یہاں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے، لیکن حداد نے اجتہاد کی وجہ سے یہاں غلطی نہیں کی بایاں ہاتھ کاٹنے کی، بلکہ اس نے جان بوجھ کر ظلم کرتے ہوئے بایاں ہاتھ کاٹا ہے۔ اس کو بھی مسئلے کا پتہ تھا کہ دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن اس نے جان بوجھ کر ظلم کرتے ہوئے بایاں ہاتھ کاٹا ہے لہٰذا یہ معاف نہیں ہوگا، بلکہ مناسب تو یہ تھا کہ یہاں قصاص آنا چاہیے۔ کوئی شخص کسی کا ہاتھ جان بوجھ کر کاٹ دے تو قصاص میں اس مجرم کا بھی ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ تو لہٰذا مناسب تو یہ تھا کہ اس حداد کا بھی بایاں ہاتھ کاٹا جائے بطورِ قصاص کے، لیکن شبہے کی وجہ سے قصاص ساقط ہو گیا اور وہ شبہ یہ ہے کہ نص کے اندر مطلق ہاتھ کا ذکر ہے وہاں داہنے ہاتھ کا ذکر نہیں ہے تو اس کی وجہ سے شبہ آ گیا، اور شبہے کی وجہ سے جیسے حد ساقط ہو جاتی ہے اسی طرح قصاص بھی ساقط ہو جاتا ہے۔ تو قصاص تو ساقط ہو گیا شبہے کی وجہ سے لیکن اس کو ضمان دینا پڑے گا اس بائیں ہاتھ کے کاٹنے کا، کیونکہ اس نے ظلم کیا ہے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے بھئی۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حداد نے چاہے جان بوجھ کر بایاں ہاتھ کاٹا ہے چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے، لیکن دونوں صورتوں کے اندر جو ہاتھ بچ گیا ہے وہ بہتر ہے اس ہاتھ کے مقابلے میں جس کو کاٹ دیا گیا۔ اور ضابطہ ہے کہ اگر ایک آدمی دوسرے کی کوئی چیز تلف کر دے لیکن اس مالک کو اس چیز کا عوض مل جائے یا مالک کے پاس اس سے بہتر چیز باقی بچ جائے اس کی وجہ سے، تو اس صورت کے اندر یہ اتلاف بھی لا اتلاف کی طرح ہے، یوں سمجھیں گے اس شخص نے دوسرے کا کوئی نقصان کیا ہی نہیں۔ جب نقصان ہی نہیں کیا تو اس پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔ تو یہاں پر بھی حداد نے اگرچہ بایاں ہاتھ کاٹا ہے لیکن بایاں ہاتھ کٹنے کی وجہ سے چور کا دایاں ہاتھ باقی بچ گیا اور وہ دایاں ہاتھ تو بہتر ہے اس ہاتھ کے مقابلے میں جس کو کاٹ دیا گیا، تو لہٰذا یہاں اتلاف بھی لا اتلاف کی طرح ہے لہٰذا حداد پر کوئی ضمان نہیں آئے گا، چاہے اس نے جان بوجھ کر یہ بایاں ہاتھ کاٹا ہے چاہے غلطی سے بایاں ہاتھ کاٹا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ایک آدمی کے خلاف دو گواہ گواہی دیں کہ اس نے اپنی چیز جو ہے اتنے مال کے اندر فلاں کو بیچ دی ہے، یعنی اسی چیز کی قیمت کے بقدر کم از کم وہ مال کو ذکر کریں، اور پھر وہ چیز اس مالک کے ہاتھ سے نکل گئی البتہ اس کو اس کا عوض مل گیا، بعد میں ان گواہوں میں سے کوئی ایک یا دونوں گواہ رجوع کر لیتے ہیں تو اس صورت میں ان پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ انہوں نے مالک کا کوئی نقصان نہیں کیا، مالک کی چیز تو اس کے ہاتھ سے نکل گئی لیکن اس کا عوض یعنی اس کی قیمت اسے مل چکی ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ قاضی جب چور کا دایاں ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دے تو اس کے بعد اگر غیرِ حداد یعنی کوئی اور آدمی بھی چور کا بایاں ہاتھ کاٹ دے تو اس پر بھی ضمان نہیں آئے گا۔ کیونکہ جب اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا تو اب چور کا دایاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ورنہ تو چور کے چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا۔ تو لہٰذا اس آدمی نے اگرچہ غلط کیا لیکن بہرحال دوسری طرف چور کے لیے دایاں ہاتھ بچ گیا جو بائیں ہاتھ سے بہتر ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ حداد جب چور کا ہاتھ کاٹنے لگا تو چور نے اپنا بایاں ہاتھ آگے کر دیا کہ یہ ہے میرا دایاں ہاتھ، اور حداد نے بھی جلدی سے کاٹ دیا تو اس صورت کے اندر بھی حداد پر، حداد پر کوئی ضمان نہیں آئے گا اس لیے کیونکہ اس نے چور کے کہنے پر اس کا ہاتھ کاٹا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر حداد سے اجتہادی غلطی ہوئی اور اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا تو اس نے یہ جو ہاتھ کاٹا ہے یہ بطورِ حد ہی کے کاٹا ہے، لہٰذا اس صورت میں مال کا ضمان ساقط ہو جائے گا کیونکہ قطع اور ضمان ہمارے نزدیک جمع نہیں ہو سکتے۔ لیکن اگر اس کے بجائے حداد سے غلطی ہو گئی، اس کو دائیں بائیں کی پہچان میں غلطی ہو گئی اور اس نے بایاں ہاتھ کاٹ دیا، تو یہ بایاں ہاتھ کاٹنا یہ تو حد نہیں ہے، لہٰذا اس صورت کے اندر یہ ہاتھ کا کٹنا حد ہو کر واقع نہیں ہوا لہٰذا ضمان ساقط نہیں ہوگا، چور کو اس مال کا ضمان بھی دینا پڑے گا اگر وہ مال اس کے پاس ہلاک ہو چکا ہے بھئی۔ یا اسی طرح اگر حداد کو مسئلے کا پتہ تھا کہ دایاں ہاتھ کاٹنا ہے پھر بھی اس نے جان بوجھ کر ظلم کرتے ہوئے بایاں ہاتھ کاٹ دیا، تو اس صورت کے اندر بھی یہ جو ہاتھ کا کاٹنا ہے یہ حد نہیں۔ جب یہ حد نہیں ہے تو اب ضمان بھی ساقط نہیں ہوگا، چور کو مال کا ضمان دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ چور کا ہاتھ اسی صورت میں کاٹا جائے گا جب مسروق منہ خصومت کرے یعنی جس سے چور نے مال چوری کیا تھا وہ خصومت کرے، تو معلوم ہوا خصومت کا کرنا شرط ہے قطع کے لیے۔ اگر خصومت ہے تو پھر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر خصومت نہیں تو چور کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ تو معلوم ہوا یہ قطع کی دوسری شرط ہے بھئی۔ قطع کی پہلی شرط کیا تھی؟ کہ ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے چور کے چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ چور کا ہاتھ تب کاٹا جائے گا جب خصومت ہو، چاہے مالک خصومت کرے چاہے اس کا کوئی نائب خصومت کرے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ جس وقت چور کا ہاتھ کاٹا جا رہا ہو اس وقت بھی مسروق منہ کا حاضر ہونا ضروری ہے۔ اگر اس وقت بھی مسروق منہ حاضر نہ ہوا تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ آپ پڑھ چکے ہیں حدود کے اندر امضاء یعنی حد کو نافذ کرنا یہ بھی باقاعدہ قضائے قاضی کا حصہ ہے، یہ قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ تو جیسے قاضی کے فیصلے کے لیے خصومت ضروری تھی اسی طرح یہاں پر امضاء کے لیے بھی خصومت ضروری ہے کہ مسروق منہ وہاں پر حاضر ہو بھئی۔ تو گویا یہ تیسری شرط ہو گئی قطع کے لیے کہ قطع کے وقت مسروق منہ کا حاضر ہونا شرط ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بیان فرمایا تھا کہ کون کون لوگ خصومت کر سکتے ہیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو اس مال کا مالک ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ شخص جس کے پاس مال بطورِ امانت کے ہے یعنی وہ امین ہے اس مال کے سلسلے میں تو وہ بھی خصومت کر سکتا ہے اگر مال چور نے اس سے چرایا ہے۔ اور تیسرا شخص جو ہے وہ ضامن ہے، وہ شخص کہ اگر وہ مال واپس نہیں کرے گا تو اس کو ضمان دینا پڑے گا تو یہ ضامن جو ہے یہ بھی مالک کا نائب ہے یہ بھی خصومت کر سکتا ہے۔ تو جو امین ہے وہ بھی مالک کا نائب، جو ضامن ہے وہ بھی مالک کا نائب، معلوم ہوا خصومت یا مالک کر سکتا ہے یا مالک کا نائب چاہے وہ امین ہو چاہے ضامن ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص نہ اس مال کا مالک ہے، نہ امین ہے، نہ ضامن ہے، تو پھر اس قسم کا شخص خصومت نہیں کر سکتا بھئی۔ تو چنانچہ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی یعنی وہ مستودَع ہے، یا یوں کہو مودَع ہے، مودَع جس کے پاس امانت رکھوائی جائے، مستودَع بھی وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی جائے، تو اگر مستودَع سے کسی نے مال چوری کر لیا تو مستودَع خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح غاصب ہے جو کسی کا مال چھین کر لے گیا، اس سے کسی نے مال چوری کر لیا تو غاصب بھی خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح صاحبِ ربا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو دس اعلیٰ درہم دیے اور اس سے بیس ادنیٰ درہم لے لیے تو یہ صاحبِ ربا ہے، یہ سود خور ہے، اس سے وہ درہم کسی نے چوری کر لیے تو یہ صاحبِ ربا بھی خصومت کر سکتا ہے بھئی۔ اور اسی طرح مستعیر جو ہے جو کسی سے عاریۃً چیز مانگ کر لے گیا ہے استعمال کے لیے، اس سے اگر کسی نے وہ چیز چوری کر لی تو مستعیر بھی خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح مستاجر جو ہے کرائے پر چیز لینے والا، اس سے اگر چیز کسی نے چوری کر لی تو وہ بھی خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح جو مضارب ہے جس کے ساتھ کسی نے عقدِ مضاربت کیا ہے اور مال دوسرے کا ہے اور یہ تجارت کر رہا ہے تو یہ مضارب جو ہے اس سے اگر کسی نے وہ مال چوری کر لیا تو یہ مضارب بھی خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح مستبضع جو ہے، مستبضع وہ ہے جس کو کسی نے مال بطورِ سرمائے کے دیا ہے کہ میرے مال کو بھی اپنے مال کے ساتھ تجارت میں لگائیں اور میرے حصے کا جو نفع ہے وہ مجھے دے دیا کریں۔ تو یہ جو مستبضع ہے یعنی جس نے مال کو تجارت کے اندر سرمایہ بنایا ہے اس سے بھی اگر وہ مال کوئی چوری کر لیتا ہے تو یہ خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح قابض علی سوم الشراء یعنی خریدنے کے بھاؤ تاؤ پر جو چیز پر قبضہ کر لیتا ہے، مثلاً آپ گاڑی بیچنا چاہتے ہیں اور زید گاڑی خریدنا چاہتا ہے، آپ دونوں کے درمیان اس گاڑی کی خرید و فروخت کے بارے میں بات چیت چل رہی ہے، ابھی بات پوری نہیں ہوئی، بیع تام نہیں ہوئی کہ زید نے کہا کہ باقی باتیں ہم کل کر لیں گے، میں اس وقت جا رہا ہوں مجھے کوئی کام ہے، آپ یوں کریں یہ گاڑی فی الحال مجھے دے دیں، کل ہم باقی باتیں کر لیں گے اور بیع پوری کر لیں گے۔ تو یہ جو زید گاڑی لے گیا یہ جو اس نے مبیع پر قبضہ کر لیا بھاؤ تاؤ کی شرط پر، بھاؤ تاؤ کی شرط پر اس نے قبضہ کیا ہے کہ وہ خریدنا چاہتا ہے اس کو، تو یہ جو قابض علی سوم الشراء ہے اس کے پاس اگر یہ مبیع ضائع ہو گیا تو اس آدمی کو ضمان دینا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا یہ قابض علی سوم الشراء جو ہے یہ ضامن ہوتا ہے۔ تو اس سے اگر کوئی شخص گاڑی چوری کر لے تو یہ بھی خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح مرتہن جو ہے جس کے پاس کوئی شخص اپنی چیز رہن رکھواتا ہے قرض کے بدلے میں تو مرتہن سے اگر کوئی وہ رہن چوری کر لے تو مرتہن جو ہے وہ بھی خصومت کر سکتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی شخص کا حفاظت والا قبضہ ہو اس چیز پر وہ تمام لوگ خصومت کر سکتے ہیں بھئی۔ اور ان تمام صورتوں کے اندر مالک بھی خصومت کر سکتا ہے۔ چیز تو چوری ہوئی ہے اس امین سے یا اس ضامن سے یہ جو اوپر ذکر ہو گئے، لیکن مالک بھی خصومت کر سکتا ہے۔ صرف رہن کے مسئلے میں راہن کی خصومت کے لیے دو شرطیں ہیں، وہ تمام صورتوں میں خصومت نہیں کر سکتا۔ وہ جو راہن ہے، وہ جو رہن کا مالک ہے اس کی خصومت کے لیے دو شرطیں ہیں۔ ایک شرط تو یہ ہے کہ وہ رہن ابھی بھی موجود ہو یعنی وہ ہلاک نہ ہوا ہو، چور نے چوری تو کر لیا ہے لیکن اس نے اس کو ضائع یا ہلاک نہیں کیا۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ راہن وہ قرضہ ادا کر دے مرتہن کو، تو اب راہن خصومت کر سکتا ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ علماء فرماتے ہیں کہ یہاں پر ہدایہ کے نسخے مختلف ہیں۔ بعض نسخوں کے اندر ہے کہ راہن جو ہے قرض کی ادائیگی سے پہلے بھی خصومت کر سکتا ہے اور قرض کی ادائیگی کے بعد بھی خصومت کر سکتا ہے، لیکن صحیح نسخہ یہی ہے جو یہاں پر درج کیا گیا کہ راہن قرض کی ادائیگی کے بعد خصومت کر سکتا ہے، قرض کی ادائیگی سے پہلے خصومت نہیں کر سکتا۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ جتنے لوگ ہم نے ذکر کر دیے ان میں سے کچھ امین ہیں اور کچھ ضامن ہیں، یہ سب خصومت کر سکتے ہیں۔ لیکن امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو ہیں، یہ جو امین ہیں یا ضامن ہیں یہ قطع کے لیے خصومت نہیں کر سکتے، یہ چوری کے معاملے میں خصومت نہیں کر سکتے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو اپنے ضابطے پر چلے ہیں، ان کا ضابطہ ہے کہ یہ جو امین اور ضامن ذکر ہوئے ان کو چیز واپس لینے کے لیے خصومت کا حق ہے ہی نہیں۔ ان لوگوں کو سرے سے خصومت کا حق ہی نہیں ہے، مالک تو خصومت کر سکتا ہے لیکن یہ تو چیز کے مالک نہیں، لہٰذا ان کو خصومت کا حق ہی نہیں ہے۔ جب ان کو خصومت کا حق نہیں ہے تو چور کا ہاتھ کٹوانے کے لیے تو خصومت ضروری ہوتی ہے، تو یہ لوگ خصومت ہی نہیں کر سکتے بھئی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو ذکر ہوئے یہ خصومت تو کر سکتے ہیں، ان کو شریعت نے خصومت کا حق تو دیا ہے لیکن وہ حق شریعت نے ان کو دیا ان کی حاجت اور ضرورت کی وجہ سے، کہ یہ چیز کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ یہ جتنے لوگ ذکر ہوئے یہ سب اس چیز کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، تو اس چیز کی حفاظت کے لیے شریعت نے ان کو خصومت کا حق دے دیا۔ تو معلوم ہوا ان کو جو خصومت کا حق ملا ہے وہ ضرورت کی وجہ سے ملا ہے، اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: اَلضَّرُورِيُّ يُتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ، کہ وہ چیز جو ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے۔ تو ان کو اس چیز کی حفاظت کے لیے خصومت کی ضرورت تھی تو شریعت نے خصومت کی اجازت دے دی، تو حفاظت کے لیے خصومت کی اجازت مل گئی لہٰذا یہ خصومت قطع کے معاملے میں یعنی ہاتھ کٹوانے کے معاملے میں ظاہر نہیں ہوگی، ہاتھ کٹوانے کے لیے یہ خصومت مؤثر نہیں ہوگی، اس خصومت کی وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ اور نیز اس لیے بھی، نیز اس لیے بھی کیونکہ اگر یہ چوری کے اندر بھی ان کو خصومت کا اختیار مل جائے تو پھر تو چوری کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جب چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا پھر تو اس مال کی عصمت ساقط ہو جائے گی، وہ مالِ محفوظ نہ رہا، وہ مالِ محترم نہ رہا۔ تو شریعت نے اجازت دی تھی حفاظت کے لیے، اور ہاتھ کاٹ دیں گے پھر تو چیز محفوظ ہی نہ رہی وہ تو حفاظت ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ اس کی عصمت ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: وَلَنَا أَنَّ السَّرِقَةَ مُوجِبَةٌ لِلْقَطْعِ فِي نَفْسِهَا، وَقَدْ ظَهَرَتْ عِنْدَ الْقَاضِي بِحُجَّةٍ شَرْعِيَّةٍ، وَهِيَ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ عَقِيبَ خُصُومَةٍ مُعْتَبَرَةٍ مُطْلَقًا۔ اب ہم جواب دے رہے ہیں۔ یاد رکھو اسی جواب کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کو بھی جواب ہو جائے گا اور امام زفر رحمہ اللہ کو بھی جواب ہو جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ ان لوگوں کو خصومت کا حق ہی نہیں ہے، یہ چیز کو واپس لینے کا حق ہی نہیں رکھتے کیونکہ یہ اس چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اور جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ خصومت کر تو سکتے ہیں لیکن اس چیز کو واپس لینے کے لیے خصومت کر سکتے ہیں، ان کی اس خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ جو چور نے چوری والا فعل کیا ہے، چوری کا فعل اپنی ذات کے اعتبار سے ہی تقاضا کرتا ہے کہ اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے کہ اس نے خفیہ طور پر مالِ محفوظ کو حرز سے چوری کیا ہے، لہٰذا اس کا یہ فعل ہی تقاضا کرتا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے لیکن چور کا ہاتھ اس وقت تک نہیں کاٹیں گے جب تک قاضی کے پاس یہ چوری ظاہر نہ ہو جائے، ورنہ خود یہ فعل ہی تقاضا کر رہا ہے اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ باقی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو خصومت کا حق ہی نہیں ہے، یا امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کو خصومت کا حق تو ہے لیکن یہ حق ان کو شریعت نے ضرورت کی وجہ سے دیا ہے لہٰذا قطع کے سلسلے میں ان کی یہ خصومت ظاہر نہیں ہوگی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ لوگ جو ہیں ان لوگوں کا حق بنتا ہے کہ یہ اس چیز کو چور سے واپس لے لیں خصومت کر کے تاکہ مالک کو اس کا حق لوٹا سکیں۔ ہمارے نزدیک ان لوگوں کو حق ہے۔ یہ جو پیچھے لوگ ذکر ہوئے مستعیر، مضارب وغیرہ جتنے بھی تھے، ان لوگوں کا یہ حق بنتا ہے کہ یہ اس چیز کو واپس لے لیں تاکہ مالک کا حق ادا کر سکیں، اگر اس نے امانت دی تھی تو امانت اس کو واپس لوٹا سکیں، اور اگر یہ چیز ان کے پاس بطورِ ضمانت کے تھی تو یہ مالک کو واپس کر کے اپنے اوپر سے ضمان کو ساقط کر دیں۔ تو اس چیز کو واپس لینا ان کا حق ہے اور جب ایک چیز کسی کا حق ہو تو شریعت اس کو خصومت کا اختیار دیتی ہے، تو لہٰذا یہ لوگ خصومت کر سکتے ہیں کیونکہ اس چیز کو واپس لینا ان کا حق بنتا ہے بھئی۔ اس چیز کو واپس لینا ان کا حق ہے اور حق کے لیے ہی تو خصومت کی جاتی ہے، تو ان لوگوں کو خصومت کا حق ہوگا۔ تو دیکھو اس سے امام شافعی رحمہ اللہ کا رد ہو گیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ ان لوگوں کو خصومت کا حق ہی نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ اس چیز کو واپس لینے کے محتاج ہیں تاکہ امانت ادا کر سکیں یا اپنے اوپر سے ضمان کو ساقط کر سکیں۔ بھئی امانت دار کے پاس امانت ہلاک ہو جائے اس پر تو ضمان نہیں آتا اگر اس نے کوئی کوتاہی نہیں کی، لیکن جس شخص کے پاس مال بطورِ ضمانت کے ہے اگر اس کے پاس وہ مال ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان آتا ہے، تو چاہے امین ہے چاہے ضامن ہے دونوں محتاج ہیں اس بات کے کہ اس مال کو واپس لیں تاکہ مالک کا حق ادا کر سکیں اس کو وہ چیز واپس کر کے۔ معلوم ہوا اس چیز کو واپس لینا ان لوگوں کا حق ہے اور خصومت اپنے حق ہی کے لیے تو کی جاتی ہے، معلوم ہوا ان لوگوں کو خصومت کا بھی حق ہے، اور یہ خصومت مطلقاً معتبر ہے، یعنی یہ جو ان کی خصومت ہے یہ ضرورت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کے اپنے حق کی وجہ سے ہے۔ جب ان کے اپنے حق کی وجہ سے خصومت ہے تو یہ ہر اعتبار سے معتبر ہے بھئی۔ جب یہ خصومت ہر اعتبار سے معتبر ہے تو انہوں نے خصومت کر دی قاضی کے پاس چلے گئے اور انہوں نے دو گواہ پیش کر دیے، توجہ ہے؟ اور یہ خصومت جو ہر اعتبار سے معتبر ہے، جب انہوں نے مال کے لیے خصومت کی اور دو گواہ پیش کر دیے تو وہ چوری کا فعل بھی ظاہر ہو گیا۔ وہ چوری والا فعل بھی ظاہر ہو گیا، اور وہ چوری کا فعل تو خود اپنی ذات کے اعتبار سے ہی تقاضا کر رہا تھا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے، تو لہٰذا جب قاضی کے پاس چوری کا فعل ظاہر ہو گیا دو گواہوں کی وجہ سے تو لہٰذا اب قاضی بطورِ اللہ کے حق کے حکم دے گا کہ اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ توجہ ہے؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ ان لوگوں کو خصومت کا حق ہی نہیں۔ ہم نے کہا نہیں، ان کو حق ہے کہ اس چیز کو واپس لیں تاکہ مالک کو اس کا حق ادا کر سکیں، اور نیز امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ان کو جو شریعت نے خصومت کا حق دیا ہے وہ ضرورت کی وجہ سے دیا ہے اور جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے، لہٰذا قطع کے حق میں یہ خصومت ظاہر نہیں ہوگی، اس خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ نہیں کٹوایا جا سکتا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ جو انہوں نے خصومت کی ہے یہ اس لیے کی ہے تاکہ اس مال کو واپس لے کر مالک کا حق ادا کر سکیں، تو یہ جو خصومت کر رہے ہیں اپنے حق کی وجہ سے کر رہے ہیں اور خصومت اپنے حق کے لیے ہی تو کی جاتی ہے، اور جب اپنے حق کے لیے خصومت کی جائے تو وہ ہر اعتبار سے معتبر ہوتی ہے۔ جب یہ خصومت ہر اعتبار سے معتبر ہے تو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں بھی معتبر ہوگی۔ اس خصومت کی وجہ سے جب یہ دو گواہ پیش کریں گے تو قاضی کے پاس وہ چوری بھی ظاہر ہو گئی۔ جب چوری ظاہر ہو گئی تو چوری کے اندر پھر اللہ کا حق ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے، تو لہٰذا قاضی چور کا ہاتھ کاٹنے کا بھی حکم دے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور باقی امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ان کو شریعت نے جو اجازت دی ہے خصومت کی وہ ضرورت کی وجہ سے دی ہے، لہٰذا یہ خصومت ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں ظاہر نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ اگر ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں یہ خصومت ظاہر ہو گئی پھر تو چور کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا اور جب چور کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا تو اس مال کی تو عصمت ساقط ہو جائے گی یہ مالِ محفوظ نہ رہے گا۔ اور شریعت نے تو ولایت ہی کس لیے دی تھی؟ حفاظت کے لیے، اور ہاتھ کاٹ دیں گے تو حفاظت ہی ختم، مالِ محفوظ ہی نہ رہے گا۔ تو اس کا بھی صاحبِ ہدایہ آگے جواب دیں گے بھئی۔ پہلے ذرا یہ دیکھ لیجیے، ترجمہ دیکھیے بھئی: وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّ السَّرِقَةَ مُوجِبَةٌ لِلْقَطْعِ فِي نَفْسِهَا کہ چوری جو ہے وہ ہاتھ کاٹنے کو واجب کرتی ہے فِي نَفْسِهَا اپنی ذات کے اعتبار سے۔ چوری کا فعل اپنی ذات کے اعتبار سے ہی ہاتھ کاٹنے کو ثابت کرتا ہے کہ اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّ السَّرِقَةَ مُوجِبَةٌ لِلْقَطْعِ فِي نَفْسِهَا کہ چوری جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی قطع کو واجب کرنے والی ہے، وَقَدْ ظَهَرَتْ عِنْدَ الْقَاضِي بِحُجَّةٍ شَرْعِيَّةٍ اور تحقیق یہ چوری قاضی کے پاس ظاہر بھی ہو گئی ہے بِحُجَّةٍ شَرْعِيَّةٍ ایک حجتِ شرعیہ کی وجہ سے، وَهِيَ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ اور یہ دو آدمیوں کی گواہی ہے، عَقِيبَ خُصُومَةٍ مُعْتَبَرَةٍ مُطْلَقًا ایک ایسی خصومت کے بعد جو مطلقاً معتبر ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ ان کو خصومت کا حق نہیں۔ ہم نے کہا نہیں ان کو خصومت کا حق ہے تاکہ یہ مال کو واپس لیں تاکہ مالک کو واپس لوٹا سکیں بھئی۔ تو مالک کے حق کو زندہ رکھنے کے لیے یہ محتاج ہیں کہ مال کو واپس لے لیں اور پھر مالک کو دے دیں، تو لہٰذا ان کو شریعت نے خصومت کا حق دیا ہے اور یہ جو ان کو خصومت کا اختیار دیا ہے شریعت نے یہ ان کے اپنے حق کی وجہ سے ہے۔ خصومت اپنے حق ہی کے لیے تو کی جاتی ہے تو مال کو واپس لینا ان لوگوں کا حق ہے۔ جب اپنے حق کی وجہ سے ان کو خصومت کا اختیار ملا ہے تو یہ خصومت ہر اعتبار سے کامل ہے اور مطلق ہے، لہٰذا قطع کے سلسلے میں بھی یہ خصومت ظاہر ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ ظَهَرَتْ عِنْدَ الْقَاضِي بِحُجَّةٍ شَرْعِيَّةٍ اور تحقیق یہ چوری قاضی کے پاس بھی ظاہر ہو گئی ہے ایک حجتِ شرعیہ کے ذریعے، وَهِيَ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ عَقِيبَ خُصُومَةٍ مُعْتَبَرَةٍ مُطْلَقًا اور یہ دو آدمیوں کی گواہی ہے ایک ایسی خصومت کے بعد جو مطلقاً معتبر ہے، یعنی ضرورت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ہر اعتبار سے یہ خصومت معتبر ہے۔ انہوں نے خصومت اس مال کو لینے کے لیے کی ہے لیکن قطع بھی اس سے ظاہر ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: یہ خصومت ہر اعتبار سے معتبر ہے، إِذِ الِاعْتِبَارُ لِحَاجَتِهِمْ إِلَى الِاسْتِرْدَادِ بھئی یہ خصومت ہر اعتبار سے معتبر ہے، کیوں معتبر ہے؟ کیونکہ یہ اس مال کو واپس لینے کے محتاج ہیں۔ یہ اس مال کو واپس لینے کے محتاج ہیں۔ واپس لینے کے محتاج ہیں، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿إِذِ الِاعْتِبَارُ﴾ اس لیے کیونکہ اس کا معتبر ہونا یعنی اس خصومت کا ہر اعتبار سے معتبر ہونا ﴿لِحَاجَتِهِمْ﴾ وہ ان لوگوں کی حاجت کی وجہ سے ہے ﴿إِلَى الِاسْتِرْدَادِ﴾ اس چیز کو واپس لینے کے لیے۔ یہ لوگ محتاج ہیں اس چیز کو واپس لینے کے لیے، تو ان کی خصومت معتبر ہے۔ یعنی یہ اپنے حق کے لیے خصومت کر رہے ہیں، اور جب اپنے حق کے لیے خصومت کر رہے ہیں تو وہ ہر اعتبار سے خصومت ہے بھئی۔ یہ ضرورت کی وجہ سے نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿إِذِ الِاعْتِبَارُ لِحَاجَتِهِمْ إِلَى الِاسْتِرْدَادِ﴾ اس لیے کیونکہ اس خصومت کا معتبر ہونا وہ ان لوگوں کی حاجت کی وجہ سے ہے اس چیز کو واپس لینے کے لیے۔ یعنی اس چیز کو واپس لینے کے لیے جو ان کی حاجت ہے اس کی وجہ سے یہ خصومت ہر اعتبار سے معتبر ہے۔ ﴿فَيُسْتَوْفَى الْقَطْعُ﴾ تو قطع بھی وصول کیا جائے گا۔ جب انہوں نے دو گواہ پیش کر دیے خصومت کے اندر، تو یہ خصومت ہر اعتبار سے جب معتبر ہے تو قطع کے سلسلے میں بھی معتبر ہے۔ تو چوری کا فعل ظاہر ہو گیا اور چوری کا فعل ہی تقاضا کر رہا تھا چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، تو جب قاضی کے پاس بھی وہ فعل ظاہر ہو گیا اس گواہی کی وجہ سے تو اب کیا کیا جائے گا؟ ﴿فَيُسْتَوْفَى الْقَطْعُ﴾ اس قطع کو وصول کیا جائے گا یعنی چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ ﴿وَالْمَقْصُودُ مِنَ الْخُصُومَةِ إِحْيَاءُ حَقِّهِ﴾ اور یہ جو خصومت تھی اس کے ذریعے مقصود جو تھا ﴿إِحْيَاءُ حَقِّهِ﴾ وہ مالک کے حق کو زندہ کرنا تھا۔ بھئی یہ لوگ یہ جتنے پیچھے لوگ ذکر ہوئے ان میں سے کوئی امین ہے، کوئی ضامن ہے، لیکن یہ خصومت کر سکتے ہیں۔ کس لیے کر سکتے ہیں؟ مقصد کیا ہے؟ تاکہ مالک کے حق کو زندہ رکھ سکیں، اس چیز کو واپس لیں اور پھر مالک کو لوٹا دیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْمَقْصُودُ مِنَ الْخُصُومَةِ إِحْيَاءُ حَقِّهِ﴾ اور اس خصومت کے ذریعے مقصود جو ہے وہ مالک کے حق کو زندہ رکھنا ہے۔ ﴿وَسُقُوطُ الْعِصْمَةِ ضَرُورَةُ الِاسْتِيفَاءِ فَلَمْ يُعْتَبَرْ﴾ یہاں سے وہ امام زفر رحمہ اللہ کا جواب دے رہے ہیں۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو خصومت کا حق تو ہے لیکن چوری کے معاملے میں یہ خصومت معتبر نہیں۔ چوری کے معاملے میں یہ خصومت معتبر نہیں، اس لیے کیونکہ اگر یہ خصومت چوری کے معاملے میں بھی معتبر ہو جائے گی تو اس کی وجہ سے تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور جب چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا تو مال کی عصمت ساقط ہو جائے گی، وہ مالِ محفوظ نہ رہے گا۔ حفاظت کے لیے ہی شریعت نے ان کو خصومت کی ولایت دی تھی اور قطع ہو جائے گا تو حفاظت ہی ختم ہو جائے گی، وہ مال محفوظ ہی نہ رہے گا، اس کا ضمان ہی چور پر نہیں آئے گا۔ تو لہٰذا یہ خصومت حفاظت کے لیے تو معتبر ہے لیکن ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں معتبر نہیں۔ اب اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کو بتا دیا کہ ان کو خصومت کا حق مطلقاً ہے اور اس خصومت سے چوری بھی ظاہر ہو گئی اور چوری کی وجہ سے پھر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی اور چور کا جب ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے تو پھر مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے۔ اور یہ جو مال کی عصمت ساقط ہوئی یہ ہاتھ کاٹنے کے ساتھ ضروری ہے۔ جب بھی چور کا ہاتھ کٹے گا اس کے ساتھ ضروری ہے کہ مال کی عصمت ساقط ہو جائے۔ یعنی یوں کہو یہ جو مال کی عصمت یا مال کی حفاظت ساقط ہو رہی ہے یہ ضمناً ہے۔ جب بھی ہاتھ کاٹا جائے گا تو ضمناً تو ضمناً مال کی عصمت بھی ساقط ہو جائے گی، مال کی حفاظت بھی ساقط ہو جائے گی اور وہ چیز جو ضمناً ثابت ہو اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا، اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ لہٰذا یہاں پر بھی جب چوری ظاہر ہو گئی تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور جب چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا تو ہاتھ کٹنے کے ساتھ ضروری ہے کہ مال کی عصمت بھی ساقط ہو جائے لیکن مال کی عصمت ضمناً ساقط ہو رہی ہے۔ اصل مقصود یہاں یہ نہیں تھا کہ مال کی عصمت ساقط کی جائے، اصل مقصود تو تھا اللہ کے حق کو وصول کرنا۔ جب اللہ کے حق کو ہم نے وصول کیا اور چور کا ہاتھ کاٹ دیا تو ضمناً مال کی عصمت بھی ساقط ہو گئی لیکن جو چیز ضمناً ثابت ہو اس کی طرف نظر نہیں کی جاتی، اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اگر یہ خصومت جو ہے یہ ہاتھ کاٹنے کے لیے بھی ظاہر ہو جائے پھر تو مال کی عصمت ہی ساقط ہو جائے گی، تو ہم کہتے ہیں کہ بے شک مال کی عصمت ساقط ہو جائے لیکن اس کی طرف نظر نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ جو مال کی عصمت ساقط ہو رہی ہے یہ ضمناً ہے۔ یہ ضمناً ہے، یہاں اصل مقصد مال کی عصمت ساقط کرنا نہیں ہے بلکہ اصل مقصد تو اللہ کے حق کو وصول کرنا ہے، تو ضمناً اگر مال کی عصمت ساقط بھی ہو جائے اس کی طرف نظر نہیں کی جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَسُقُوطُ الْعِصْمَةِ ضَرُورَةُ الِاسْتِيفَاءِ﴾ اور اس مال کی عصمت کا ساقط ہونا ﴿ضَرُورَةُ الِاسْتِيفَاءِ﴾، استیفاء کا معنی ہے وصول کرنا، مراد ہے قطع کو وصول کرنا یعنی حد کو وصول کرنا یعنی حد کو نافذ کرنا۔ کہتے ہیں: ﴿وَسُقُوطُ الْعِصْمَةِ ضَرُورَةُ الِاسْتِيفَاءِ﴾ اور مال کی عصمت کا ساقط ہونا وہ حد کے نافذ ہونے کی ضرورت ہے، وہ حد کے نافذ ہونے کے ساتھ ضروری ہے۔ جب بھی حد نافذ کریں گے چوری کی تو مال کی عصمت ساقط ہو جائے گی۔ تو حد کے نافذ ہونے کے ساتھ مال کی عصمت کا ساقط ہونا ضروری ہے یعنی جب بھی حد نافذ کی جائے گی تو ضمناً مال کی عصمت بھی ساقط ہو جائے گی اور ضمنی چیز کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَسُقُوطُ الْعِصْمَةِ ضَرُورَةُ الِاسْتِيفَاءِ فَلَمْ يُعْتَبَرْ﴾ اور مال کی عصمت کا ساقط ہونا وہ اس قطع کے وصول کرنے کے لیے ضروری ہے ﴿فَلَمْ يُعْتَبَرْ﴾ لہٰذا اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، اس عصمت کے ساقط ہونے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ اصل مقصود نہیں ہے یہاں پر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ ﴿وَلَا مُعْتَبَرَ بِشُبْهَةٍ مَوْهُومَةِ الِاعْتِرَاضِ﴾ یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے ہمیں مسئلہ بتایا کہ یہ جتنے لوگ پیچھے ذکر ہوئے چاہے یہ امین ہیں، چاہے یہ ضامن ہیں ان کی خصومت سے بھی چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ تو اگر یہ خصومت کرتے ہیں اور مالک موجود نہیں تو پھر تو ان کی خصومت کی وجہ سے چور کا ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے کیونکہ یہاں شبہ آتا ہے کہ ہو سکتا ہے اگر مالک موجود ہوتا تو ہو سکتا ہے وہ یہ مال چور کو ہبہ کر دیتا اور چور اس مال کا مالک بن جاتا، اور آگے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ اگر ہاتھ کٹنے سے پہلے چور اس مال کا مالک بن جائے تو قطع ساقط ہو جاتی ہے، پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ توجہ ہے؟ ایک چور کی چوری قاضی کے پاس ثابت ہو گئی، قاضی نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ ابھی ہاتھ نہیں کٹا تھا کہ مالک نے وہ چیز چور کو ہبہ کر دی اور اس کے حوالے کر دی۔ آپ نے پڑھا ہے کہ ہبہ کے اندر چیز دوسرے کے حوالے کی جائے تو پھر وہ مالک بنتا ہے، صرف زبان سے کہنے سے مالک نہیں بنتا۔ تو چور کا ابھی ہاتھ نہیں کٹا تھا کہ مالک نے وہ چیز چور کو ہبہ کر دی اور چور کے سپرد بھی کر دی، اس کے قبضے میں بھی دے دی یا مالک نے وہ چیز چور کو فروخت کر دی اور چور نے خرید لی، تو دیکھو قطع سے پہلے ہی چور اس چیز کا مالک بن گیا اور اس صورت میں یاد رکھو قطع ساقط ہو جاتی ہے، پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! یہ جتنے لوگ جن کو آپ نے ذکر کیا یہ خصومت کر سکتے ہیں، مالک موجود نہیں ہے انہوں نے خصومت کر دی اور قاضی نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا تو پھر بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ یہاں شبہ موجود ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ کیا شبہ موجود ہے؟ کہ اگر مالک ہوتا تو شاید وہ اس چور کو اس مال کا مالک بنا دیتا۔ اس مال کا مالک بنا دیتا تو پھر اس صورت میں حد ساقط ہو جانی تھی، تو معلوم ہوا یہاں شبہے کا احتمال موجود ہے اور جب بھی شبہ آ جائے تو حد ساقط ہو جایا کرتی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو جواب دیں گے کہ یہ شبہ نہیں ہے بلکہ شبہُ الشبہہ ہے، شبہے کا شبہ ہے۔ یہ شبہے کا شبہ ہے۔ بھئی دیکھو اگر مالک موجود ہوتا اور پھر وہ اس چور کو مالک بنا دیتا پھر شبہ آ جاتا اور حد ساقط ہو جاتی، لیکن اس وقت تو مالک بھی موجود نہیں اور چور کو اس چیز کا اس نے مالک بھی نہیں بنایا، تو اس وقت تو شبہ نہیں ہے ہاں شبہے کا صرف احتمال ہے، اگر مالک ہوتا تو شبہ آ جاتا لیکن اس وقت تو شبہ نہیں، تو شبہ ہو وہ معتبر ہوتا ہے شبہے کا صرف احتمال جو ہے وہ معتبر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شبہے کا احتمال معتبر نہیں ہے اور اسی کو شبہُ الشبہہ کہتے ہیں یعنی شبہ ہونے کا شبہ ہونا۔ شبہ ہونے کا شبہ ہوتا ہے، اگر مالک ہوتا تو شاید شبہ ہو جاتا لیکن جب مالک نہیں ہے تو شبہ بھی نہیں ہے، صرف شبہ ہونے کا احتمال ہے یا یوں کہو صرف شبہ ہونے کا شبہ ہے اور شبہۃ الشبہہ تو معتبر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا مُعْتَبَرَ بِشُبْهَةٍ مَوْهُومَةِ الِاعْتِرَاضِ﴾ اور کوئی اعتبار نہیں ہے ایسے شبہے کا ﴿مَوْهُومَةِ الِاعْتِرَاضِ﴾ جس کے پیش آنے کا وہم ہو۔ اعتراض کا کیا معنی؟ پیش آنا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا مُعْتَبَرَ بِشُبْهَةٍ﴾ اور کوئی اعتبار نہیں ہے ایسے شبہے کا ﴿مَوْهُومَةِ الِاعْتِرَاضِ﴾ کہ جس کے پیش آنے کا وہم ہو۔ بھئی یہ جو مستعیر یا مضارب وغیرہ پیچھے گزرے، انہوں نے خصومت کر دی۔ قاضی نے چور کے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کر دیا، خود مال کا اصل مالک موجود نہیں۔ اگر اصل مالک ہوتا اور وہ چور کو مالک بنا دیتا پھر شبہ آ جاتا لیکن اس وقت تو مالک موجود نہیں ہے تو شبہ ہونے کا وہم ہوتا ہے، شبہ ہونے کا احتمال ہوتا ہے اور شبہ ہونے کا احتمال یا شبہ ہونے کا وہم اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ﴿وَلَا مُعْتَبَرَ بِشُبْهَةٍ مَوْهُومَةِ الِاعْتِرَاضِ﴾ اور کوئی اعتبار نہیں ہے ایسے شبہے کا جس کے پیش آنے کا وہم ہو۔ شبہ پیش نہیں آیا ہاں پیش آنے کا وہم ہے۔ ﴿كَمَا إِذَا حَضَرَ الْمَالِكُ وَغَابَ الْمُؤْتَمَنُ﴾ جیسے کہ مالک حاضر ہو اور امین جو ہے وہ غائب ہو۔ مؤتَمَن بھئی یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے بھئی۔ اِئْتَمَنَ یَأْتَمِنُ اِئْتِمَان کا معنی ہے کسی کو امین بنانا یعنی کسی کے حوالے امانت کرنا۔ تو امانت دینے والا وہ ہے مؤتَمِن اور جس کو امانت دی ہے وہ ہے مؤتَمَن۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ان تمام صورتوں میں ہم نے آپ کو بتایا کہ یہ امین اور ضامن جو ہیں یہ خصومت کر سکتے ہیں، اور یہ جب خصومت کر لیں پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ مالک موجود نہ ہو، یا اس کا برعکس کر لیں۔ یہ لوگ جن سے چوری ہوئی یہ تو موجود نہیں لیکن مال کا اصل مالک آ گیا اس نے خصومت کر دی۔ جب اصل مالک نے خصومت کر دی پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ یہاں پر بھی یہ وہم موجود ہے، وہ جو مسروق منہ ہے وہ آدمی جس سے چوری ہوئی تھی وہ جو امین یا ضامن تھا اگر وہ ہوتا ہو سکتا ہے وہ کہہ دیتا کہ اس چور کو تو میں نے خود اپنے گھر آنے کی اجازت دی تھی یا یہ چور تو میرے گھر مہمان آیا تھا، جب مہمان آیا تھا تو حرز نہ رہا، جب حرز نہ رہا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو جیسے توجہ سے سنو، جیسے یہ جو امین اور ضامن ہیں یہ جب خصومت کریں اور مالک موجود نہیں ہے تو اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ شبہے کا احتمال یا وہم ہوتا ہے لیکن شبہے کا احتمال یا وہم کافی نہیں بلکہ باقاعدہ شبہ ہونا چاہیے۔ جب یہ امین یا ضامن خصومت کریں اور مالک موجود نہیں ہے تو شبہے کا احتمال تو ہے، شبہے کا وہم تو ہے لیکن شبہے کا وہم یا احتمال کافی نہیں، باقاعدہ شبہ ہو تو پھر حد ساقط ہوتی ہے۔ یا اس کا برعکس کر لیں، مالک خصومت کر رہا ہے اور وہ امین اور ضامن جس سے چوری ہوئی تھی وہ موجود نہیں، تو اس صورت میں بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ اگرچہ شبہے کا احتمال یا شبہے کا وہم یہاں بھی موجود ہے کہ وہ امین یا ضامن آ جاتا اور وہ کہتا اس کو تو میں نے خود گھر کے اندر آنے کی اجازت دی تھی، توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا چاہے خصومت مالک کرے پھر بھی شبہے کا احتمال ہے، چاہے چاہے وہ امین یا ضامن خصومت کرے پھر بھی شبہے کا احتمال ہے، لیکن شبہے کے احتمال کو نہیں دیکھا جائے گا شبہے کو دیکھا جائے گا۔ شبہ تو نہیں ہے یہاں پر لہٰذا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿كَمَا إِذَا حَضَرَ الْمَالِكُ وَغَابَ الْمُؤْتَمَنُ﴾ جیسے کہ مالک حاضر ہو جائے اور غائب ہو جائے وہ شخص جس کو امین بنایا گیا تھا ﴿فَإِنَّهُ يُقْطَعُ بِخُصُومَتِهِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ﴾ اس لیے کیونکہ مالک کی خصومت کی وجہ سے بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ظاہر روایت میں ﴿وَإِنْ كَانَتْ شُبْهَةُ الْإِذْنِ فِي دُخُولِ الْحِرْزِ ثَابِتَةً﴾ اگرچہ اجازت کا شبہ حرز کے اندر داخل ہونے میں، حرز کے اندر داخل ہونے میں اجازت کا شبہ کہ اس نے حرز کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ ﴿وَإِنْ كَانَتْ شُبْهَةُ الْإِذْنِ فِي دُخُولِ الْحِرْزِ ثَابِتَةً﴾ اگرچہ حرز کے اندر داخل ہونے کی اجازت کا جو شبہ ہے وہ ثابت ہے۔ توجہ ہے؟ صاحبِ ہدایہ پر اعتراض ہوتا تھا کہ یہ امین اور ضامن جو ہیں اگر یہ خصومت کریں تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے کیونکہ مالک موجود نہیں، اور مالک اگر ہوتا تو شاید شبہ آ جاتا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا جیسے یہ امین اور ضامن کی خصومت سے ہاتھ کاٹا جائے گا، اسی طرح اگر صرف مالک خصومت کرتا اور امین اور ضامن موجود نہ ہوتے پھر بھی ظاہر روایت کے مطابق ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ وہاں پر بھی شبہے کا احتمال اور شبہے کا وہم موجود ہے، لیکن شبہے کے احتمال اور وہم کی طرف نظر نہیں کی جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ترجمہ ایک دفعہ پھر دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَا مُعْتَبَرَ بِشُبْهَةٍ مَوْهُومَةِ الِاعْتِرَاضِ﴾ اور کوئی اعتبار نہیں ہے اس شبہے کا جس کے پیش آنے کا وہم ہے ﴿كَمَا إِذَا حَضَرَ الْمَالِكُ وَغَابَ الْمُؤْتَمَنُ﴾ جیسے کہ مالک حاضر ہو جائے، دیکھو یہ برعکس کر رہے ہیں۔ پچھلے مسئلے میں خصومت کرنے والے کون تھے؟ امین یا ضامن اور مالک موجود نہیں ہے، تو انہوں نے کہا وہاں شبہے کا احتمال ہے۔ یا اس کا برعکس کر لیں، مالک خصومت کر رہا ہے اور امین اور ضامن غائب ہیں، تو یہاں بھی شبہے کا احتمال ہے لیکن اس میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿كَمَا إِذَا حَضَرَ الْمَالِكُ وَغَابَ الْمُؤْتَمَنُ﴾ جیسے کہ مالک حاضر ہو جائے اور وہ جس کو امین بنایا گیا تھا وہ غائب ہو جائے ﴿فَإِنَّهُ يُقْطَعُ بِخُصُومَتِهِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ﴾ تو مالک کی خصومت کی وجہ سے بھی اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ظاہر روایت کے مطابق ﴿وَإِنْ كَانَتْ شُبْهَةُ الْإِذْنِ فِي دُخُولِ الْحِرْزِ ثَابِتَةً﴾ اگرچہ حرز کے اندر داخل ہونے کی اجازت کا شبہ اس میں بھی ثابت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِنْ قُطِعَ السَّارِقُ بِسَرِقَةٍ فَسُرِقَتْ مِنْهُ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَا لِرَبِّ السَّرِقَةِ أَنْ يَقْطَعَ السَّارِقَ الثَّانِيَ﴾ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: ایک شخص نے چوری کی اور چوری کے اندر اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور وہ مال جو چوری کیا تھا وہ ابھی چور کے پاس ہی موجود ہے اس نے مالک کو واپس نہیں کیا، کہ ایک اور چور آیا اور اس دوسرے چور نے پہلے چور سے وہ مال چوری کر لیا۔ تو کیا یہ دوسرے چور کا اب ہاتھ کٹوایا جا سکتا ہے اس مال کے اندر یا نہیں؟ اس مال کے اندر پہلے چور کا ہاتھ کاٹا جا چکا ہے اور پھر دوسرا چور آیا اور اس نے پہلے چور سے یہ مال چوری کر لیا، تو کیا اب دوسرے چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے؟ کیا یہ پہلا چور خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے یا یہ جو مال کا اصل مالک تھا کیا وہ اس دوسرے چور پر خصومت کر کے اس کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے: نہیں۔ نہ یہ پہلا چور خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے اور نہ مال کا مالک خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ کیوں ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ پہلے چور نے جب چوری کی تھی وہ مالِ محفوظ تھا، اور مالِ محفوظ کا چوری کرنا یہ خود ہی تقاضا کرتا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، اور دوسرے چور نے جب چوری کی ہے تو اب وہ مالِ محفوظ نہیں ہے۔ کیوں نہیں مالِ محفوظ؟ کیونکہ پہلے چور کا ہاتھ کاٹا جا چکا ہے، اور آپ نے پڑھا ہے کہ جب چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اس مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے وہ مالِ محفوظ نہ رہا۔ تو دوسرا چور جس مال کو لے کر گیا وہ مالِ محفوظ نہیں تھا۔ جب وہ مالِ محفوظ نہیں تھا تو یہ دوسرے چور کی چوری یہ ہاتھ کاٹنے کا سبب ہی نہیں ہے۔ اس کا یہ والا فعل یہ جو دوسرے چور نے جو چوری کی ہے اس کا یہ فعل ہاتھ کاٹنے کا سبب ہی نہیں۔ یہ والی چوری ہاتھ کاٹنے کا تقاضا ہی نہیں کر رہی کیونکہ مال محفوظ ہی نہیں، پہلی چوری ہاتھ کاٹنے کا تقاضا کر رہی تھی کیونکہ وہ مالِ محفوظ تھا لیکن یہ دوسری چوری میں جو مال اس نے چرایا ہے یہ تو مالِ محفوظ نہیں، تو یہ فعل ہی ہاتھ کاٹنے کا تقاضا نہیں کر رہا۔ اس مال کی عصمت ساقط ہو گئی، یہ مال محفوظ نہ رہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مال اب غیر متقوم بن گیا ہے، اس مال کی اب کوئی قیمت ہی نہیں، اور جب اس مال کی کوئی قیمت ہی نہیں تو اس دوسری چوری پر ہاتھ کیسے کاٹا جا سکتا ہے؟ دوسرے چور نے جو چوری کی ہے تو اس مال کی تو کوئی قیمت ہی نہیں، یہ تو غیر متقوم بن چکا ہے تو اس کے اندر دوسرے چور کا ہاتھ کیسے کاٹا جا سکتا ہے بھئی؟ ہاتھ تو دس درہم کی چوری میں کاٹا جاتا ہے اور یہ مال تو غیر متقوم ہے اس کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو بات سمجھ میں آ گئی کہ مال کی عصمت اور حفاظت ساقط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ مال مالِ متقوم نہیں رہا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ قُطِعَ السَّارِقُ بِسَرِقَةٍ﴾ اور اگر کسی چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا کسی چوری کی وجہ سے ﴿فَسُرِقَتْ مِنْهُ﴾ پھر اس پہلے چور سے بھی وہ مال چرا لیا گیا ﴿فَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَا لِرَبِّ السَّرِقَةِ﴾ تو جائز نہیں ہے اس پہلے چور کے لیے اور نہ اس مسروقہ مال کے مالک کے لیے ﴿أَنْ يَقْطَعَ السَّارِقَ الثَّانِيَ﴾ کہ وہ دوسرے چور کا ہاتھ کاٹ دیں، ان کو یہ حق نہیں ہے۔ ﴿لِأَنَّ الْمَالَ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ فِي حَقِّ السَّارِقِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ جو مال ہے غیر متقوم ہو چکا ہے، اس مال کی کوئی قیمت نہیں ہے پہلے چور کے حق میں۔ پہلے چور کے حق میں یہ یہ مال غیر متقوم ہو چکا ہے کیونکہ قطع اور ضمان جمع نہیں ہو سکتے، اور نیز یہ بھی یاد رکھنا پہلے چور کے حق میں بھی یہ مال غیر متقوم ہو گیا اس کی کوئی قیمت نہیں، اور مالک کے حق میں بھی یہ مال غیر متقوم ہو گیا مالک اب اس کا ضمان وصول نہیں کر سکتا۔ جب ہاتھ کٹ جائے تو پھر مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے، مالک بھی اس کا ضمان وصول نہیں کر سکتا اگر وہ مال چور کے پاس ہلاک ہو چکا ہے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْمَالَ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ فِي حَقِّ السَّارِقِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ مال جو ہے غیر متقوم ہو چکا ہے یعنی اس کی قیمت ختم ہو چکی ہے پہلے چور کے حق میں ﴿حَتَّى لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الضَّمَانُ بِالْهَلَاكِ﴾ یہاں تک کہ اس پہلے چور پر اس مال کا ضمان بھی واجب نہیں ہو سکتا اس مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے۔ جب اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہے تو اب پہلے چور پر ضمان بھی واجب نہیں ہو سکتا۔ یہاں بھی یاد رکھنا ﴿حَتَّى لَا يَجِبُ﴾ یہ حتٰی نصب نہیں دے گا کیونکہ حتٰی کے نصب کے لیے میں نے بتلایا تھا دو شرطیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ حتٰی کا ما بعد مستقبل ہونا چاہیے حتٰی کے ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور نیز وہ حتٰی غایہ یا سببیّت کا فائدہ دے تو یہاں شرطیں پوری نہیں لہٰذا حتٰی کے بعد نصب نہیں آئے گا یہاں پر۔ کہتے ہیں: ﴿حَتَّى لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الضَّمَانُ بِالْهَلَاكِ﴾ یہاں تک کہ پہلے چور پر ضمان بھی واجب نہیں ہوتا اس مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے ﴿فَلَمْ تَنْعَقِدْ مُوجِبَةً فِي نَفْسِهَا﴾ لہٰذا یہ جو چوری ہے یہ منعقد نہیں ہوئی ﴿مُوجِبَةً﴾ کہ وہ واجب کرنے والی ہو یعنی قطع کو، ہاتھ کاٹنے کو واجب کرنے والی ہو ﴿فَلَمْ تَنْعَقِدْ مُوجِبَةً﴾ لہٰذا یہ چوری جو ہے قطع کو واجب کرنے والی ہو کر منعقد نہیں ہوئی ﴿فِي نَفْسِهَا﴾ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ یہ جو دوسری چوری ہے یہ ہاتھ کے قطع کو واجب کرتے ہوئے منعقد نہیں، چوری تو منعقد ہو گئی، چوری تو ہو گئی لیکن ہاتھ کا قطع اس کی وجہ سے واجب نہیں کیونکہ یہ اس نے مالِ محفوظ چوری نہیں کیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَلَمْ تَنْعَقِدْ مُوجِبَةً فِي نَفْسِهَا﴾ لہٰذا یہ جو دوسری چوری ہے یہ قطع کا موجب ہو کر منعقد نہیں ہوئی۔ ﴿وَلِلْأَوَّلِ وِلَايَةُ الْخُصُومَةِ فِي الِاسْتِرْدَادِ فِي رِوَايَةٍ لِحَاجَتِهِ إِذِ الرَّدُّ وَاجِبٌ عَلَيْهِ﴾ اچھا بھئی! نہ تو مالک اس دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے اور نہ پہلا چور جو ہے وہ دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے، تو کیا مال واپس لینے کے لیے خصومت کر سکتے ہیں؟ کہتے ہیں: ہاں، مالک جو ہے وہ تو خصومت کر سکتا ہے، بات ظاہر سی ہے کیونکہ مال اس کا ہے، وہ تو خصومت کر سکتا ہے۔ کیا یہ پہلا چور بھی خصومت کر سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں: ہاں، ایک روایت کے مطابق پہلا چور بھی خصومت کر سکتا ہے تاکہ مال کو اس دوسرے چور سے واپس لے لے اور پھر مالک کو دے دے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِلْأَوَّلِ وِلَايَةُ الْخُصُومَةِ فِي الِاسْتِرْدَادِ﴾ اور پہلے چور کو جو ہے خصومت کی ولایت ہے اس مال کو واپس لینے کے اندر یعنی اس مال کو واپس لینے کے لیے وہ خصومت کر سکتا ہے ﴿فِي رِوَايَةٍ﴾ ایک روایت کے مطابق ﴿لِحَاجَتِهِ﴾ اپنی حاجت کی وجہ سے کہ یہ پہلا چور محتاج ہے اس کو واپس لینے کے لیے ﴿إِذِ الرَّدُّ وَاجِبٌ عَلَيْهِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ مال مالک کو واپس لوٹانا اس پہلے چور پر واجب ہے، تو یہ خصومت کر سکتا ہے ایک روایت کے مطابق، اور ایک روایت کے مطابق یہ خصومت نہیں کر سکتا بھئی۔ تو دیکھو وہ جو ضابطہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ خصومت یا مالک کر سکتا ہے یا مالک کا نائب کر سکتا ہے، اور مالک کا نائب کون ہوتا ہے؟ یا امین ہے یا ضامن ہے۔ تو خصومت صرف تین افراد کر سکتے ہیں: مالک یا امین یا ضامن، اور یہ جو پہلا چور ہے نہ یہ مالک ہے، نہ یہ امین ہے، نہ یہ ضامن ہے، اس پر ضمان بھی نہیں آتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ خصومت نہیں کر سکتا۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَوْ سَرَقَ الثَّانِي قَبْلَ أَنْ يُقْطَعَ الْأَوَّلُ أَوْ بَعْدَ مَا دُرِئَ الْحَدُّ بِشُبْهَةٍ يُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْأَوَّلِ﴾ بھئی وہی مسئلہ چل رہا ہے بھئی۔ پہلے کیا صورت تھی کہ پہلے چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس کے بعد دوسرے چور نے اس سے مال چرا لیا، اب صورت یہ ہے کہ پہلے چور کا ابھی ہاتھ نہیں کٹا یا اس سے حد ہی ساقط ہو گئی کسی شبہے کی وجہ سے اور دوسرا چور وہ مال چرا کر اس سے لے گیا، تو اس صورت میں یاد رکھو پہلا چور بھی خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے۔ کیونکہ پہلے چور کا ابھی ہاتھ نہیں کٹا، جب ہاتھ نہیں کٹا تو مال کی عصمت ابھی تک ساقط نہیں ہوئی، تو دوسرے چور نے جو مال چوری کیا وہ مالِ محفوظ چوری کیا، مالِ معصوم چوری کیا اور مالِ معصوم کی چوری کے اندر تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ پہلا چور بھی خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے کیونکہ ابھی تک مال کی عصمت ساقط نہیں ہوئی۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ سَرَقَ الثَّانِي﴾ اور اگر دوسرے چور نے چوری کر لی ﴿قَبْلَ أَنْ يُقْطَعَ الْأَوَّلُ﴾ پہلے چور کے قطع سے پہلے ہی یعنی پہلے چور کا ابھی ہاتھ نہیں کاٹا گیا تھا کہ دوسرے چور نے چوری کر لی ﴿أَوْ بَعْدَ مَا دُرِئَ الْحَدُّ بِشُبْهَةٍ﴾ یا دوسرے چور نے چوری کر لی بعد اس کے کہ جب حد ساقط ہو گئی تھی کسی شبہے کی وجہ سے، پہلے چور سے حد ساقط ہو گئی تھی کسی شبہے کی وجہ سے اور دوسرے چور نے وہ مال اس سے چوری کر لیا ﴿يُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْأَوَّلِ﴾ تو اس صورت کے اندر پہلے چور کی خصومت کی وجہ سے بھی دوسرے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ وہ ابھی بھی ضامن ہے بھئی، وہ ابھی بھی پہلا چور ضامن ہے مالِ مضمون ہے بھئی، اور اس کی چوری میں تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿يُقْطَعُ بِخُصُومَةِ الْأَوَّلِ﴾ تو پہلے چور کی خصومت سے بھی دوسرے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ﴿لِأَنَّ سُقُوطَ التَّقَوُّمِ ضَرُورَةُ الْقَطْعِ﴾ اس لیے کیونکہ تقوّم کا ساقط ہونا، تقوّم کا معنی؟ قیمت والا ہونا، تقوّم کا ساقط ہونا یعنی مال کی قیمت کا ساقط ہونا ﴿ضَرُورَةُ الْقَطْعِ﴾ یہ قطع کی ضرورت ہے، ہاتھ کاٹنے کے ساتھ ضروری ہے کہ مال کی قیمت ساقط ہو جاتی ہے یعنی وہ غیر متقوم بن جاتا ہے، اور ابھی تک تو پہلے چور کا ہاتھ کٹا نہیں لہٰذا مال ابھی بھی متقوم ہی ہے۔ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ سُقُوطَ التَّقَوُّمِ ضَرُورَةُ الْقَطْعِ﴾ اس لیے کیونکہ مال کی قیمت کا ساقط ہونا یہ قطع کے ساتھ ضروری ہے ﴿وَلَمْ يُوجَدْ﴾ اور حال یہ ہے کہ قطع تو نہیں پائی گئی ﴿فَصَارَ كَالْغَاصِبِ﴾ تو یہ پہلا چور غاصب کی طرح ہوا۔ یاد رکھو جب تک چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا چور کو اس مال کا ضمان دینا پڑے گا اگر وہ مال اس کے پاس ہلاک ہو گیا۔ توجہ ہے؟ اگر ایک چور مال چوری کر کے لے جائے تو اس چور پر اس مال کا ضمان ہے چاہے یہ مال یہ خود ہلاک کرے چاہے اس کے پاس خود ہی ہلاک ہو جائے مال، دونوں صورتوں میں اس چور کو ضمان دینا پڑے گا، یہ غاصب کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں؟ غاصب کے درجے میں ہے۔ ہاں، جب اس کا ہاتھ کٹ جائے گا پھر ضمان ساقط ہو جائے گا تو ہاتھ کٹنے سے پہلے ضمان ساقط نہیں، اور یوں کہو ہاتھ کٹنے سے پہلے یہ چور کس کے درجے میں ہے؟ غاصب کے درجے میں ہے اور غاصب کے پاس مال ہلاک ہو جائے تو اس کو ضمان دینا پڑتا ہے لہٰذا اس کو بھی ضمان دینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: ﴿لِأَنَّ سُقُوطَ التَّقَوُّمِ ضَرُورَةُ الْقَطْعِ﴾۔ اس لیے کیونکہ مال کی قیمت کا ساقط ہونا یہ قطع کی ضرورت کی وجہ سے ہے، ”وَلَمْ يُوجَدْ“ اور حال یہ ہے کہ قطع تو یہاں نہیں پائی گئی، ”فَصَارَ كَالْغَاصِبِ“ تو یہ پہلا چور غاصب کی طرح ہوا، اور آپ پڑھ چکے ہیں غاصب جو ہے وہ خصومت کر کے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے، تو یہ پہلا چور بھی خصومت کر کے دوسرے چور کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً فَرَدَّهَا عَلَى الْمَالِكِ قَبْلَ الِارْتِفَاعِ إِلَى الْحَاكِمِ لَمْ يُقْطَعْ“۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے دوسرے کی چوری کر لی اور قاضی کے پاس مسئلہ جانے سے پہلے ہی چور نے وہ مال مالک کو واپس کر دیا، کہتے ہیں اب اس صورت میں قطع ساقط ہو گئی۔ جب چور نے خصومت سے پہلے ہی مال واپس کر دیا تو اب خصومت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ جھگڑا تو ختم ہو گیا۔ خصومت کا کیا معنی ہے؟ مقدمہ کرنا یعنی جھگڑا ہے، اور جب اس نے مال واپس کر دیا تو خصومت تو ختم ہو گئی اور جب خصومت ختم ہو گئی تو پھر اب چوری میں ہاتھ بھی نہیں کٹوایا جا سکتا، کیونکہ ہاتھ کٹوانے کے لیے خصومت کا ہونا ضروری ہے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ خصومت شرط ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً“، یہاں بھی سرقہ سے مراد ہے وہ مالِ مسروق بھئی جس کو چوری کیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً“ اور جس نے کوئی مال چوری کر لیا ”فَرَدَّهَا عَلَى الْمَالِكِ“ پھر اس نے وہ مال مالک کو واپس کر دیا ”قَبْلَ الِارْتِفَاعِ إِلَى الْحَاكِمِ“ حاکم تک معاملہ اٹھانے سے پہلے، حاکم تک معاملہ پہنچانے سے پہلے اس نے وہ مال مالک کو واپس کر دیا ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”أَنَّهُ يُقْطَعُ“ کہ اس چور کا ہاتھ بھی کاٹا جا سکتا ہے، اگرچہ اس نے مال واپس کر دیا ہے پھر بھی مالک حاکم کے پاس جا کر اس کا ہاتھ کٹوا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يُقْطَعُ“ کہ اس کا ہاتھ کٹوایا جا سکتا ہے ”اعْتِبَارًا بِمَا إِذَا رَدَّهُ بَعْدَ الْمُرَافَعَةِ“، ”اعْتِبَارًا“ قیاس کرتے ہوئے ”بِمَا إِذَا رَدَّهُ“ اس صورت پر جب وہ مال کو واپس کرے ”بَعْدَ الْمُرَافَعَةِ“ مرافعہ کے بعد۔ مرافعہ کا معنی ہے معاملہ قاضی تک پہنچانا۔ مرافعہ کا کیا معنی؟ معاملہ قاضی تک پہنچانا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب قاضی کے پاس ایک دفعہ مسئلہ پہنچ جائے پھر چاہے چور مال واپس بھی کر دے پھر بھی اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جیسے قاضی کے پاس ایک دفعہ معاملہ پہنچ جائے پھر چاہے مال واپس کر دے پھر بھی ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے تو اگر قاضی کے پاس پہنچنے سے پہلے یہ مال واپس کر دے پھر بھی اس کا ہاتھ کٹوایا جا سکتا ہے۔ تو وہ مرافعہ سے پہلے مال لوٹانے کو قیاس کرتے ہیں مرافعہ کے بعد مال لوٹانے پر، اور مرافعہ کے بعد مال لوٹایا جائے تو بالاتفاق چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ تو مرافعہ سے پہلے بھی مال واپس کر دے پھر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ اس نے بہرحال چوری کا فعل تو کیا تھا، تو بطور اللہ کے حق کے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُقْطَعُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا بھی ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے ”اعْتِبَارًا بِمَا إِذَا رَدَّهُ بَعْدَ الْمُرَافَعَةِ“ قیاس کرتے ہوئے اس صورت پر کہ جب وہ چور اس مال کو واپس لوٹا دے مرافعہ کے بعد۔ ”وَجْهُ الظَّاهِرِ“ ظاہرِ روایت کی وجہ، بھئی اوپر متن میں آیا کہ مرافعہ سے پہلے اگر مال واپس کر دے گا تو ہاتھ نہیں کٹوایا جا سکتا، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَجْهُ الظَّاهِرِ“ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْخُصُومَةَ شَرْطٌ لِظُهُورِ السَّرِقَةِ“ کہ خصومت شرط ہے سرقہ کے ظاہر ہونے کے لیے۔ خصومت کریں گے، گواہ پیش کریں گے تو پھر ہی چوری ظاہر ہو گی، اور جب اس نے مال ہی واپس کر دیا تو خصومت ہی نہیں ہو سکتی، جب خصومت نہیں ہو سکتی تو چوری بھی ظاہر نہیں ہو سکتی، جب چوری نہیں ظاہر ہو سکتی تو چور کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَجْهُ الظَّاهِرِ“ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْخُصُومَةَ شَرْطٌ لِظُهُورِ السَّرِقَةِ“ کہ خصومت شرط ہے چوری کے ظاہر ہونے کے لیے ”لِأَنَّ الْبَيِّنَةَ إِنَّمَا جُعِلَتْ حُجَّةً ضَرُورَةَ قَطْعِ الْمُنَازَعَةِ“، ”لِأَنَّ الْبَيِّنَةَ“ اس لیے کیونکہ بینہ جو ہے یعنی گواہی جو ہے ”إِنَّمَا جُعِلَتْ حُجَّةً“ اس کو حجت قرار دیا گیا ہے ”ضَرُورَةَ قَطْعِ الْمُنَازَعَةِ“ جھگڑے کو ختم کرنے کی ضرورت کی وجہ سے۔ بھئی ادھر دیکھیے، دو آدمیوں کے درمیان اگر کسی مسئلے میں جھگڑا ہوتا ہے تو اس سلسلے میں گواہی کو حجت قرار دیا ہے شریعت نے۔ جھگڑنے والوں میں سے اگر آدمی اپنے مسئلے پر دو گواہ پیش کر دے گا تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ معلوم ہوا یہ گواہ کس لیے پیش کیے جاتے ہیں؟ جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے۔ بھئی جہاں خصومت ہو، جھگڑا ہو پھر ہی بینہ بھی پیش کی جائے گی، اور جب چور نے مال واپس کر دیا تو جھگڑا نہیں، جب جھگڑا نہیں تو پھر بینہ کہاں سے پیش کی جائے گی بھئی؟ تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْبَيِّنَةَ إِنَّمَا جُعِلَتْ حُجَّةً ضَرُورَةَ قَطْعِ الْمُنَازَعَةِ“ اس لیے کیونکہ گواہی جو ہے اس کو حجت قرار دیا گیا ہے ”ضَرُورَةَ قَطْعِ الْمُنَازَعَةِ“ جھگڑے کو ختم کرنے کی ضرورت کی وجہ سے۔ جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بینہ پیش کیا جائے۔ ”وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْخُصُومَةُ“ اور تحقیق خصومت تو ختم ہو گئی۔ جب اس نے مال واپس کر دیا تو خصومت تو ختم ہو گئی، جب خصومت نہیں تو بینہ پیش نہیں کریں گے اب، جب بینہ پیش نہیں تو چوری بھی ظاہر نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْخُصُومَةُ“ اور تحقیق خصومت جو ہے وہ تو ختم ہو گئی ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْمُرَافَعَةِ“ بخلاف مرافعہ کے بعد۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یہ جو چور نے مرافعہ سے پہلے مال واپس کر دیا اس کو انہوں نے قیاس کیا تھا مرافعہ کے بعد جب چور مال واپس کر دے۔ مرافعہ کے بعد جب چور مال واپس کرے پھر تو ہر حال میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا بالاتفاق بھئی۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ مرافعہ سے پہلے والی حالت کو مرافعہ کے بعد والی حالت پر قیاس نہیں کر سکتے، وجہ یہ کہ جب مرافعہ ہو گیا قاضی تک مسئلہ چلا گیا تو معلوم ہوا خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور جب کوئی چیز اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو پھر وہ باطل نہیں ہو سکتی، پھر وہ باطل نہیں ہو سکتی۔ جیسے دیکھو پیچھے نکاح کے باب میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر ایک شخص ایک عورت سے نکاح کر لے اور مہر بھی باقاعدہ مقرر کیا ہے اور صحبت سے پہلے خاوند اگر طلاق دے گا تو پھر نصفِ مہر دینا پڑے گا۔ اگر صحبت سے پہلے خاوند بیوی کو طلاق دے دے گا تو پھر نصفِ مہر دینا پڑے گا لیکن اگر صحبت سے پہلے میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو پھر پورا مہر دینا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ جب میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہوا تو نکاح اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ نکاح اپنی یعنی یوں سمجھو یہ نکاح ہوا ہی اتنی مدت کے لیے تھا اور جب ایک چیز اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو اب اس کو باطل نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ وہ اپنی انتہا کو پہنچ کر ختم ہو گئی، باطل تو آپ تب کرتے نکاح کو تو آپ تب توڑ سکتے تھے جب تک ابھی نکاح اپنی انتہا کو نہیں پہنچا۔ تو جب چیز اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو پھر اس کو توڑا نہیں جا سکتا، باطل نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں پر بھی، یہاں پر بھی جب خصومت قاضی تک پہنچ گئی تو خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی بھئی۔ خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی، جب خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی مثلاً چور نے وہ مال اب مالک کو واپس کر دیا لیکن مرافعہ تو ہو چکا ہے، قاضی کے پاس گواہ تو پیش ہو چکے ہیں۔ توجہ ہے؟ جب قاضی کے پاس گواہ پیش ہو چکے ہیں، چوری ثابت ہو گئی اور چور نے وہ مال مالک کو واپس کر دیا تو اب آپ یہ نہ کہیں کہ چور نے مال واپس کر دیا، مالک کو اس کا حق مل گیا لہٰذا خصومت ختم ہو گئی اور جب خصومت ختم ہو گئی تو اب چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، کیونکہ ہاتھ کاٹنے کے لیے تو خصومت شرط تھی اور وہ تو ختم ہو چکی، ہم کہتے ہیں نہیں خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور جب کوئی چیز اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو آپ اس کو اب باطل نہیں کر سکتے، تو چور بے شک خصومت کے بعد مال واپس بھی کر دے پھر بھی تقدیراً گویا ابھی بھی خصومت موجود ہے۔ تقدیراً ابھی بھی گویا خصومت موجود ہے اور جب خصومت موجود ہے تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو مرافعہ کے بعد خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے، جب خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی اب چور بے شک مال واپس بھی کر دے پھر بھی خصومت کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا، خصومت تقدیراً ابھی بھی باقی ہے۔ جب یہ تقدیراً ابھی بھی باقی ہے تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْمُرَافَعَةِ“ بخلاف جو ہے مرافعہ کے بعد ”لِانْتِهَاءِ الْخُصُومَةِ“ اس وجہ سے کہ خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ”لِحُصُولِ مَقْصُودِهَا“ اپنے مقصد کے حاصل کرنے کے لیے۔ خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ بھئی دیکھیے ایک آدمی سے دوسرا آدمی مال چوری کر کے لے گیا ہے تو اب یہ آدمی جو ہے اپنا مال واپس لینا چاہتا ہے، تو جب بات قاضی تک چلی گئی تو معلوم ہوا کہ مال کو واپس لینے کے لیے اس نے خصومت کو انتہا تک پہنچا دیا۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں ”لِانْتِهَاءِ الْخُصُومَةِ“ خصومت کے اپنی انتہا کو پہنچ جانے کی وجہ سے ”لِحُصُولِ مَقْصُودِهَا“ اس خصومت کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے۔ خصومت کا مقصد کیا تھا؟ کہ مال واپس لیا جائے، تو خصومت کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خصومت اپنی انتہا کو پہنچ گئی یعنی قاضی تک مسئلہ چلا گیا یعنی خصومت اپنی آخری حد تک پہنچ گئی بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِانْتِهَاءِ الْخُصُومَةِ لِحُصُولِ مَقْصُودِهَا“ اس وجہ سے کہ خصومت جو ہے اپنی آخری حد کو پہنچ گئی اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ”فَتَبْقَى تَقْدِيرًا“ تو لہٰذا یہ خصومت تقدیراً باقی رہے گی۔ مال بے شک مالک کو مل جائے پھر بھی یہ خصومت اب ختم نہیں کیونکہ کوئی چیز جب اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو پھر وہ باطل نہیں ہوتی بھئی۔ جیسے بھئی نکاح کے اندر آپ نے پڑھا ہے، آپ نے نکاح کے اندر پڑھا تھا کہ خاوند اگر بیوی کو صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو نصفِ مہر دینا پڑتا ہے، اور اگر بیوی مرتد ہو جائے یا جدائی کا سبب بیوی بن جائے صحبت سے پہلے تو وہ نصفِ مہر بھی ساقط ہو جاتا ہے، لیکن یاد رکھو اگر ایک شخص کا ایک عورت سے نکاح ہوا ہے مہر مقرر کیا ہے لیکن صحبت سے پہلے ہی میاں یا بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو کہ پورا مہر دینا پڑے گا۔ اس صورت میں پورا مہر دینا پڑے گا چاہے خاوند کا انتقال ہوا ہے چاہے بیوی کا انتقال ہوا ہے۔ وجہ یہ کہ جب خاوند یا بیوی کا انتقال ہو گیا تو معلوم ہوا یہ نکاح اپنی انتہا کو پہنچ گیا یعنی یوں سمجھو گویا یہ نکاح ہوا ہی اتنی دیر کے لیے تھا، جب یہ اتنی دیر کے لیے ہوا تو یہ تو اپنی انتہا کو پہنچ گیا یعنی اپنی آخری حد کو نکاح پہنچ گیا، اور جب اپنی آخری حد کو پہنچ گیا تو اب نکاح کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا تو لہٰذا اب پورا مہر دینا پڑے گا۔ جب عورت نے ایک آدمی سے نکاح کیا ہے اور صحبت سے پہلے ہی کسی ایک کا انتقال ہو گیا تو گویا نکاح اپنی انتہا کو پہنچ گیا، اتنی ہی مدت کے لیے نکاح ہوا تھا اور جب نکاح اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے تو اب اس کے اندر جو عوض طے ہوا تھا یعنی مہر وہ ہر حال میں دینا پڑے گا۔ پورا پورا مہر دینا پڑے گا تو صحبت سے پہلے اگر خاوند طلاق دے تو پھر نصفِ مہر دینا پڑتا ہے اور اگر دونوں میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو پھر پورا مہر خاوند کے ذمے ہوتا ہے یعنی اب نکاح کے باطل کرنے کی، توڑنے کی کوئی صورت نہیں ہے، تو یہ نکاح اپنی انتہا کو پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اپنی انتہا کو پہنچ کر ختم ہو گیا، تو یہاں پر بھی خصومت جو ہے اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے لہٰذا اب اس کو باطل نہیں کیا جا سکتا، چور بے شک مال دے دے پھر بھی یہ خصومت تقدیراً باقی رہے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور دیکھیے یہاں پر یہ جو مسئلہ ہم نے پڑھا یہاں بین السطور چوتھی شرط بھی ذکر ہے۔ چوتھی شرط قطع کے لیے، ہاتھ کاٹنے کے لیے چوتھی شرط یہ ہے کہ خصومت ہونی چاہیے ظاہراً یا تقدیراً۔ ہاتھ کاٹنے کے لیے خصومت ضروری ہے ظاہراً یا تقدیراً بھئی، اگر خصومت نہ رہی تو قطع بھی نہیں ہو گا جیسے چور مرافعہ سے پہلے ہی مال واپس کر دے تو خصومت نہ رہی بھئی۔ تو اب تک ہم قطع کی چار شرطیں پڑھ چکے ہیں ذرا پھر ان کو دہرا لیجیے: پہلی شرط یہ تھی قطع کی کہ اس قطع کی وجہ سے چور کا چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے، دوسری شرط قطع کی یہ تھی کہ اس میں خصومت ضروری ہے یعنی مطالبہ ضروری ہے مالک کا یا مالک کے نائب کا، تیسری شرط یہ تھی کہ جس وقت چور کا ہاتھ کاٹا جائے اس وقت بھی مسروق منہ کا حاضر ہونا ضروری ہے بھئی، اور چوتھی شرط ابھی ہم نے پڑھی کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے ہاتھ کاٹنے کے وقت بھی ظاہراً یا تقدیراً خصومت کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا قُضِيَ عَلَى رَجُلٍ بِالْقَطْعِ فِي سَرِقَةٍ فَوُهِبَتْ لَهُ لَمْ يُقْطَعْ“ بھئی میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص چوری کر لے اور قاضی اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دے لیکن ہاتھ کاٹنے سے پہلے مالک نے وہ سامان جو ہے چور کو ہبہ کر دیا اور اس کے قبضے میں دے دیا تو اس صورت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اب وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَإِذَا قُضِيَ عَلَى رَجُلٍ بِالْقَطْعِ فِي سَرِقَةٍ“ اور جب کسی آدمی کے خلاف ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کر دیا گیا فی سرقۃ کسی چوری میں ”فَوُهِبَتْ لَهُ“ تو پھر اس کو وہ مال ہبہ کر دیا گیا ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”مَعْنَاهُ إِذَا سُلِّمَتْ إِلَيْهِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ اس متن کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ متن میں تو صرف کیا آیا کہ مالک نے وہ مال چور کو ہبہ کر دیا، تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ معنی اس قول کا یہ ہے کہ اس کے حوالے کر دیا، مالک نے وہ مال چور کے حوالے کر دیا، اس کے قبضے میں دے دیا، اس لیے کیونکہ ہبہ صرف کہنے سے تام نہیں ہوتا اس کے اندر قبضہ بھی ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”مَعْنَاهُ“ اس قول کا معنی یہ ہے ”إِذَا سُلِّمَتْ إِلَيْهِ“ کہ جب وہ مال جو ہے چور کے حوالے کر دیا گیا۔ ”وَكَذَلِكَ إِذَا بَاعَهَا الْمَالِكُ إِيَّاهُ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”إِذَا بَاعَهَا الْمَالِكُ إِيَّاهُ“ جب مالک نے وہ سامان بیچ دیا ایاہ اس چور کے ہاتھ۔ اگر چور کا ہاتھ کٹنے سے پہلے ہی مالک نے وہ سامان چور کے ہاتھ فروخت کر دیا تو بیع ہوتے ہی چور اس مبیع کا مالک بن گیا اور اس صورت میں حد ساقط ہو جائے گی، چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں بین السطور ضابطہ ذکر کیا گیا ہے کہ: ”الْأَصْلُ أَنَّ مَا يَمْنَعُ الْقَضَاءَ يَمْنَعُ الْإِمْضَاءَ“ بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے۔ باقی معاملات کے اندر تو قاضی فیصلہ کر دے تو قاضی کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے لیکن حدود کے مسئلے میں صرف فیصلہ کرنا قاضی کا کام نہیں بلکہ اس فیصلے کو نافذ کرنا بھی قاضی کی ذمہ داری ہے۔ معلوم ہوا حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا یہ قضائے قاضی کا حصہ ہے، تو یاد رکھو جو چیز قضائے قاضی سے مانع ہو گی وہ اس حد کے نافذ کرنے سے بھی مانع ہو گی کیونکہ حد کا نافذ کرنا بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے۔ اور نیز آگے چل کر آپ کو یہ بھی بتلائیں گے کہ جو جو شرطیں قضائے قاضی کے لیے ہیں وہی شرطیں قطع کے لیے بھی ہیں۔ جو شرطیں قضائے قاضی کے لیے ہیں یعنی جس جس شرط کا ہونا ضروری ہے قاضی کے فیصلے کے لیے قطع کے وقت بھی ان تمام چیزوں کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَلِكَ إِذَا بَاعَهَا الْمَالِكُ إِيَّاهُ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب مالک نے وہ مال چور کے ہاتھ بیچ دیا ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يُقْطَعُ“ جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، چاہے چور اس مال کا مالک ہی کیوں نہ بن جائے ہبہ یا بیع کے ذریعے پھر بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی ”لِأَنَّ السَّرِقَةَ قَدْ تَمَّتْ انْعِقَادًا وَظُهُورًا“، ”لِأَنَّ السَّرِقَةَ“ اس لیے کیونکہ یہ جو چوری ہے ”قَدْ تَمَّتْ“ یہ پوری ہو چکی ہے ”انْعِقَادًا“ منعقد ہونے کے اعتبار سے بھی ”وَظُهُورًا“ اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے بھی۔ یہ چوری پوری ہو چکی ہے منعقد ہونے کے اعتبار سے بھی، بھئی چور خفیہ طور پر گیا اور حرز سے مالِ محفوظ نکال کر لے آیا تو چوری منعقد ہو گئی، چوری کا فعل پایا گیا اور پھر قاضی کے پاس دو گواہ بھی پیش ہو گئے اور قاضی نے ہاتھ کاٹنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ بھئی قاضی نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے اس کے بعد چور مال کا مالک بن رہا ہے، تو قاضی کے پاس بھی معلوم ہوا چوری ظاہر ہو چکی ہے اسی لیے تو اس نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو دلیل چل رہی ہے امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی، وہ فرماتے ہیں کہ اس چوری کا انعقاد بھی ہو چکا ہے چور نے یہ فعل کیا ہے اور قاضی کے پاس بھی یہ چوری ظاہر ہو چکی ہے لہٰذا اب اس کے بعد اگر کوئی عارض پیش آ جائے کہ چور اس مال کا مالک بن جائے تو اس سے کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں ہوتا۔ حد تو تب ساقط ہوتی ہے نا جب شبہ آ جائے، جب شبہ آ جائے، تو چوری پوری ہو چکی ہے، چور نے جس وقت مال چرایا تھا اس وقت بھی یہ مالک نہیں تھا، قاضی نے جب ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کیا اس وقت بھی چور مالک نہیں تھا، اب بعد میں مالک بن بھی جائے تو اس کی وجہ سے کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا، چوری کا فعل بھی موجود اور چوری کا ظہور بھی ہو چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ السَّرِقَةَ قَدْ تَمَّتْ انْعِقَادًا وَظُهُورًا“ اس لیے کیونکہ یہ چوری جو ہے وہ تحقیق پوری ہو چکی ہے منعقد ہونے اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے ”وَبِهَذَا الْعَارِضِ لَمْ يَتَبَيَّنْ قِيَامُ الْمِلْكِ وَقْتَ السَّرِقَةِ“، ”وَبِهَذَا الْعَارِضِ“ اور یہ جو عارض پیش آیا ہے کہ چور مال کا مالک بن گیا ہبہ کی وجہ سے یا بیع کی وجہ سے، تو کہتے ہیں ”وَبِهَذَا الْعَارِضِ“ اور اس عارض کی وجہ سے ”لَمْ يَتَبَيَّنْ قِيَامُ الْمِلْكِ“ ظاہر نہیں ہوا چور کی ملکیت کا ہونا ”وَقْتَ السَّرِقَةِ“ چوری کے وقت۔ بھئی چوری کا فعل بھی گزر چکا ہے، قاضی کے پاس چوری ظاہر بھی ہو گئی ہے، اس کے بعد اگر چور اس مال کا مالک بھی بن جائے تو مالک تو ابھی بنا ہے، جب چوری کر رہا تھا اس وقت تو مالک نہیں تھا، جب اس وقت مالک نہیں تھا تو کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں آیا۔ یہ معنی ہے ”وَبِهَذَا الْعَارِضِ لَمْ يَتَبَيَّنْ قِيَامُ الْمِلْكِ وَقْتَ السَّرِقَةِ“ اور یہ جو ہبہ یا بیع کا جو عارض پیش آیا ہے اس کی وجہ سے چور کی ملکیت ظاہر نہیں ہوتی چوری کے وقت ”فَلَا شُبْهَةَ“ تو کسی قسم کا کوئی شبہ یہاں نہیں تو لہٰذا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ“ کہ امضاء جو ہے یعنی حد کو نافذ کرنا ”مِنَ الْقَضَاءِ“ یہ بھی قضا کا حصہ ہے۔ ہمارے نزدیک حدود کے باب میں حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ فِي هَذَا الْبَابِ“ کہ حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضا کا حصہ ہے فی ھذا الباب اس باب کے اندر ”لِوُقُوعِ الِاسْتِغْنَاءِ عَنْهُ بِالِاسْتِيفَاءِ“، ”لِوُقُوعِ الِاسْتِغْنَاءِ عَنْهُ“ أي عن القضاء، ”عَنْهُ“ کے ساتھ جو ہا ضمیر ہے یہ کس کو لوٹائیں؟ قضا کو، اور استیفاء وصول کرنا، کیا مراد ہے؟ حد کو وصول کرنا یعنی اس کو نافذ کرنا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ حدود کے مسئلے میں قاضی صرف فیصلہ کر دے تو کافی نہیں۔ قاضی صرف فیصلہ کر دے تو کافی نہیں، باقی مسائل کے اندر میں نے بتایا کہ قاضی صرف فیصلہ کر دے تو قاضی کی ذمہ داری پوری ہو گئی مثلاً زید اور عمرو میں جھگڑا آیا تھا زمین کے مسئلے میں، زید کہتا ہے یہ میری زمین ہے اور عمرو کہتا ہے یہ میری زمین ہے، قاضی کے پاس مسئلہ پیش ہوا اور زید نے دو گواہ بھی پیش کر دیے تو قاضی نے زید کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ قاضی نے زید کے حق میں فیصلہ کر دیا تو بس قاضی کی ذمہ داری پوری ہو گئی، قاضی نے بتلا دیا کہ یہ زمین جو ہے یہ زید کا حق ہے۔ اب قاضی جائے اور جا کر وہ زمین عمرو سے چھڑائے اور زید کے حوالے کرے یہ قاضی کی ذمہ داری نہیں۔ قاضی نے فیصلہ کر دیا ہے اگر قاضی کے فیصلے کے بعد بھی عمرو وہ زمین حوالے نہیں کرتا تو زید دوبارہ قاضی کے پاس آ سکتا ہے کہ آپ نے فیصلہ کر دیا تھا یہ پھر بھی زمین میرے حوالے نہیں کر رہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر اس صورت میں قاضی اس کو زمین دلا دے گا، تو عام معاملات کے اندر قاضی جب ایک معاملے کا فیصلہ کر دے تو قاضی کی ذمہ داری پوری ہو گئی، اس کو نافذ کرنا قاضی کے ذمے نہیں ہے، جبکہ حدود کے مسئلے کے اندر صرف فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ حد کو نافذ کرنا بھی قاضی کی ذمہ داری ہے، اس لیے کیونکہ اگر قاضی فیصلہ کر دے گا اور نافذ نہیں کرواتا تو اس کا تو فائدہ ہی کوئی نہ ہوا۔ حد کو تو قاضی اور حاکم کے علاوہ کوئی اور وصول کر ہی نہیں سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”لِوُقُوعِ الِاسْتِغْنَاءِ عَنْهُ بِالِاسْتِيفَاءِ“ اس لیے کیونکہ قاضی کے فیصلے سے بے نیازی واقع ہو گی بالاستیفاء اس حد کو وصول کرنے سے، حد کو وصول کرنے سے قاضی کے فیصلے سے بے نیازی حاصل ہو گی اس سے پہلے بے نیازی حاصل نہیں۔ ”إِذِ الْقَضَاءُ لِلْإِظْهَارِ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا جو فیصلہ ہے ”لِلْإِظْهَارِ“ وہ حق کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ قاضی کا فیصلہ صرف کس لیے ہوتا ہے؟ کہ حق کا وہ اظہار کر دے، اور جب قاضی کسی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے تو حق ظاہر ہو جاتا ہے لیکن یہاں پر اظہار کافی نہیں اس لیے کیونکہ یہاں چوری کے اندر چور کا ہاتھ کاٹنا یہ اللہ کا حق ہے اور قاضی فیصلہ کر دے گا تو فیصلے سے تو حق ظاہر ہو گیا لیکن اللہ تو ہر چیز کو جانتے ہیں، کوئی فائدہ ہوا؟ نہیں، یہاں تو اظہار کا بھی فائدہ نہیں ہے، صاحبِ حق بھی جانتا ہے کہ یہ حق ہے میرا۔ تو عام معاملات کے اندر تو قاضی حق کو ظاہر کر دے وہی کافی ہے لیکن یہاں تو صاحبِ حق اللہ تعالیٰ ہیں اور اللہ کے نزدیک تو حق پہلے ہی ظاہر ہے تو یہاں پر صرف اظہار کافی نہیں بلکہ سزا کو نافذ بھی کرے قاضی۔ اگر صرف قاضی فیصلہ کرے گا تو پھر اس کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں ہے کیونکہ حق تو اللہ کے نزدیک پہلے ہی ظاہر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”إِذِ الْقَضَاءُ لِلْإِظْهَارِ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا فیصلہ حق کے اظہار کے لیے ہوتا ہے ”وَالْقَطْعُ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى“ اور ہاتھ کا کاٹنا یہ تو اللہ کا حق ہے ”وَهُوَ ظَاهِرٌ عِنْدَهُ“ اور اللہ کا یہ حق تو اللہ کے نزدیک ظاہر ہے، تو یہاں اظہار کا کوئی فائدہ ہی نہیں وہ تو اللہ کے نزدیک پہلے ہی ظاہر ہے۔ ”وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ“ اور جب معاملہ ایسا ہی ہے، جب معاملہ ایسا ہی ہے یعنی امضاء بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے ”يُشْتَرَطُ قِيَامُ الْخُصُومَةِ عِنْدَ الِاسْتِيفَاءِ“ تو حد کی وصولی کے وقت بھی خصومت کا ہونا شرط ہو گا۔ توجہ ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا کہ حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے، تو جو شرطیں قضائے قاضی کے لیے ضروری ہیں وہی شرطیں حد کو نافذ کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں، اور قضائے قاضی کے لیے کیا ضروری تھا؟ کہ وہاں خصومت پائی جائے، جھگڑا پایا جائے۔ تو جس طرح یہ خصومت قضائے قاضی کے وقت ضروری ہے اسی طرح امضاء کے وقت بھی اس خصومت کا ہونا ضروری، لیکن امضاء سے پہلے تو چور اس مال کا مالک بن گیا۔ تو جب چور مال کا مالک بن جائے تو جیسے اس وقت قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا اسی طرح جب چور مال کا مالک بن جائے تو قاضی حد کو نافذ بھی نہیں کر سکتا بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ“ اور جب معاملہ ایسا ہی ہے یعنی امضاء بھی قضا کا حصہ ہے ”يُشْتَرَطُ قِيَامُ الْخُصُومَةِ عِنْدَ الِاسْتِيفَاءِ“ تو خصومت کا ہونا شرط ہو گا ”عِنْدَ الِاسْتِيفَاءِ“ اس حد کو وصول کرتے وقت یعنی اس قطع کو وصول کرتے وقت ”وَصَارَ كَمَا إِذَا مَلَّكَهَا مِنْهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ“ بھئی دیکھو چور اس مال کا مالک بن گیا قضائے قاضی کے بعد البتہ ہاتھ کاٹنے سے پہلے، لیکن ہاتھ کاٹنے سے پہلے جب وہ مالک بن گیا تو یوں ہی سمجھو قضائے قاضی سے پہلے ہی وہ مالک بن گیا، اور جب قضائے قاضی سے پہلے ہی وہ مالک بن گیا پھر تو قاضی فیصلہ ہی نہیں کر سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَصَارَ“ اور یہ ایسے ہی ہو گیا ”كَمَا إِذَا مَلَّكَهَا“ جیسے کہ اس شخص نے اس مال کا مالک بنا دیا ”مِنْهُ“ اس چور کو ”قَبْلَ الْقَضَاءِ“ قضا سے پہلے ہی۔ یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس مال والے نے چور کو اس مال کا مالک بنا دیا قضائے قاضی سے پہلے ہی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَصَارَ كَمَا إِذَا مَلَّكَهَا مِنْهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا کہ جیسے اس مال والے نے اس چور کو اس مال کا مالک بنا دیا قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ اگر ہاتھ کٹنے سے پہلے چور اس مال کا مالک بن جائے چاہے بیع کے ذریعے مالک بنے چاہے ہبہ کے ذریعے مالک بنے تو حد ساقط ہو جائے گی، جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں حد ساقط نہیں ہو گی، اس لیے کیونکہ جس وقت چوری کی تھی اس وقت بھی چور مال کا مالک نہیں تھا، جس وقت قاضی نے فیصلہ کیا اس وقت بھی چور مال کا مالک نہیں تھا، بعد میں اگر چور مال کا مالک بن بھی جائے تو اس کی وجہ سے اس چوری کے اندر کسی قسم کا شبہ نہیں آتا لہٰذا چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ حدود کے مسئلے میں حد کا نافذ کرنا یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے۔۔۔ قاضی کا حصہ ہے بھئی۔ اور یہ جو قاضی فیصلہ کرتا ہے یہ حق کے اظہار کے لیے کرتا ہے تاکہ وہ حق کو ظاہر کر دے اور یہاں پر اللہ کا حق ہے اور اللہ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں، اللہ تو اپنے حق سے خوب باخبر ہیں۔ تو یہاں پر اگر قاضی صرف فیصلہ کر دے تو پھر تو یہاں قاضی کے فیصلے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوا کیونکہ حق تو پہلے ہی اللہ کے نزدیک ظاہر ہے۔ تو لہٰذا حدود کے مسئلے میں صرف اظہار کافی نہیں ہے بلکہ حد کو نافذ کرنا بھی قاضی کی ذمہ داری ہے اور حد کا نافذ کرنا یہ قضائے قاضی کا حصہ ہے۔ جب یہ قضائے قاضی کا حصہ ہے تو قضائے قاضی کے وقت جس قدر شرطیں تھیں وہی شرطیں اس حد کو نافذ کرتے وقت بھی ضروری ہوں گی۔ تو لہٰذا جس طرح قضائے قاضی کے وقت خصومت ضروری تھی، اسی طرح قطع کے وقت بھی خصومت ضروری ہے۔ لیکن جب چور اس مال کا مالک بن گیا تو قطع کے وقت تو خصومت ہی باقی نہ رہی، لہٰذا قطع ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی: قَالَ: ”وَكَذَلِكَ إِذَا نَقَصَتْ قِيمَتُهَا مِنَ النِّصَابِ“ اور اسی طرح ہوگا مسئلہ جب اس مال کی قیمت کم ہو جائے نصاب سے۔ بھئی گزشتہ مسئلے میں آپ کو بتلایا کہ اگر چور جو ہے اس مال کا مالک بن جائے ہاتھ کے کٹنے سے پہلے تو حد ساقط ہو جائے گی۔ اسی طرح یاد رکھو اگر ہاتھ کے کٹنے سے پہلے وہ مال جو چور نے چوری کیا تھا اس کی قیمت نصاب سے کم ہو جائے تو اس صورت میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مثلاً چور نے ایک چیز چرائی تھی اس کی قیمت بارہ درہم ہے اور قاضی نے اس کے ہاتھ کے کاٹنے کا فیصلہ کر دیا اور مثلاً چند دن کے بعد چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن اس ہاتھ کے کٹنے سے پہلے پہلے اس چیز کی قیمت دس درہم سے کم ہو گئی تو اب اس صورت میں حد ساقط ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ حد کا نافذ کرنا یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے بھئی اور جس طرح قضائے قاضی کے وقت جو ہے وہ اس مال کا دس درہم کے بقدر ہونا ضروری تھا اسی طرح ہاتھ کے کاٹتے وقت بھی اس مال کا دس درہم کے بقدر ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَكَذَلِكَ إِذَا نَقَصَتْ قِيمَتُهَا مِنَ النِّصَابِ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب اس مال کی قیمت کم ہو جائے ”مِنَ النِّصَابِ“ نصاب سے۔ چوری کا نصاب کتنا ہے؟ دس درہم۔ دس درہم کی اگر کوئی چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے بھئی۔ تو اگر اس مال کی قیمت کم ہو گئی ”مِنَ النِّصَابِ“ نصاب سے پہلے تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”يَعْنِي قَبْلَ الِاسْتِيفَاءِ بَعْدَ الْقَضَاءِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ متن کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ متن میں تو آیا کہ اسی طرح ہے مسئلہ یعنی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب اس مال کی قیمت نصاب سے کم ہو جائے۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ قاضی کے فیصلے کے بعد البتہ ہاتھ کے کاٹنے سے پہلے اگر قیمت کم ہو جائے تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”يَعْنِي قَبْلَ الِاسْتِيفَاءِ بَعْدَ الْقَضَاءِ“ یعنی قطع کو وصول کرنے سے پہلے اور قاضی کے فیصلے کے بعد مال کی قیمت کم ہو جائے۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يُقْطَعُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ہاتھ کاٹنے سے پہلے بے شک مال کی قیمت نصاب سے کم ہو گئی لیکن اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا بھی۔ ”اعْتِبَارًا بِالنُّقْصَانِ فِي الْعَيْنِ“ ”اعْتِبَارًا“ قیاس کرتے ہوئے ”بِالنُّقْصَانِ فِي الْعَيْنِ“ عین کے اندر نقصان پر۔ بھئی امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ کے کٹنے سے پہلے بے شک مال کی قیمت کم ہو جائے پھر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں عین کے اندر کمی پر، یعنی وہ جو مال جو چور نے چوری کیا تھا، وہ مال جو چور نے چوری کیا تھا مثلاً چور نے بیس درہم چوری کیے تھے اور پھر ان بیس درہموں میں سے پندرہ درہم چور نے خرچ کر دیے ہیں یا پندرہ درہم چور سے ضائع ہو گئے ہیں تو دیکھو عین کے اندر کمی آ گئی، وہ مال جو چور نے چوری کیا تھا خود اس مال کی ذات میں ہی کمی آ گئی تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے اس مال کی ذات میں کمی آ جائے پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اگر اس مال کی قیمت میں کمی آ جائے پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”اعْتِبَارًا بِالنُّقْصَانِ فِي الْعَيْنِ“ قیاس کرتے ہوئے عین کے اندر کمی پر۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل جو ہے: ”أَنَّ كَمَالَ النِّصَابِ لَمَّا كَانَ شَرْطًا يُشْتَرَطُ قِيَامُهُ عِنْدَ الْإِمْضَاءِ لِمَا ذَكَرْنَا“ ہم کہتے ہیں کہ نصاب کا کامل ہونا جس طرح ابتدا کے اندر شرط تھا اسی طرح قطع کے وقت بھی شرط ہو گا۔ ابتدا کے اندر بھئی نصاب کے بقدر چوری کرے گا تو پھر ہی قاضی ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرے گا اور جس وقت ہاتھ کاٹا جائے اس وقت بھی نصاب کے بقدر مال کی قیمت ہونا ضروری ہے اس لیے کیونکہ حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے۔ تو جس وقت قاضی ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کر رہا ہے اس وقت بھی اس مال کی قیمت نصاب کے بقدر ہونا ضروری، تو جس وقت چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس وقت بھی اس مال کی قیمت نصاب کے بقدر ہونا ضروری ہے بھئی۔ ”وَلَنَا أَنَّ كَمَالَ النِّصَابِ لَمَّا كَانَ شَرْطًا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نصاب کا کامل ہونا جب وہ شرط تھا: ”يُشْتَرَطُ قِيَامُهُ عِنْدَ الْإِمْضَاءِ لِمَا ذَكَرْنَا“ تو حد کو نافذ کرتے وقت بھی اس نصاب کا کامل ہونا شرط ہو گا ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے بھئی۔ ”بِخِلَافِ النُّقْصَانِ فِي الْعَيْنِ“ بھئی امام محمد رحمہ اللہ نے قیمت کے اندر جو کمی آئی تھی اس کو قیاس کیا تھا اس مال کی عین میں کمی پر۔ اس مال کی عین، اس مال کی ذات کم ہو جائے چاہے سارا مال ہی چور ختم کر دے پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اگر قیمت کم ہو جائے پھر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ نہیں، آپ اس قیمت کو عین پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ عین تو مضمون ہوتی ہے اور قیمت مضمون نہیں ہے، دونوں مختلف چیزیں ہیں۔ بھئی کس طرح؟ بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا ہے جب چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اس کے بعد چور پر ضمان نہیں آتا، لیکن اس سے پہلے وہ چور غاصب کے درجے میں ہے۔ جب تک چور کا ہاتھ نہیں کٹا چور غاصب کے درجے میں ہے اور غاصب کے پاس اگر وہ مال ہلاک ہو جائے تو غاصب پر ضمان آیا کرتا ہے۔ تو لہٰذا ہم کہتے ہیں چور کا جب تک ہاتھ نہیں کٹا، چور پر مال کا ضمان آئے گا۔ وہ جتنا مال خرچ کرتا جائے گا چور پر ضمان آتا جائے گا۔ تو مثلاً بیس درہم اس نے چوری کیے تھے، پندرہ درہم اس نے خرچ کر دیے یا اس کے پاس ہلاک ہو گئے اور پانچ درہم اس کے پاس باقی ہیں، تو ابھی بھی پانچ درہم وہ تو عین ہے اور پندرہ درہم جو ہے وہ چور پر ضمان آ گیا، تو پندرہ اور پانچ یہ پھر بھی بیس بن رہے ہیں، تو چور کے ذمے ہے سارا مال ادا کرنا اور اس میں سے کچھ مال عین ہے اور کچھ چور کے ذمے دین ہے بھئی۔ تو لہٰذا عین کے اندر اگر مال کے اندر کمی بھی آ جائے، مال خرچ بھی کر دے چور پھر بھی چور پر اس کا ضمان آتا ہے اور کچھ مال بچا ہوا ہے تو عین اور دین ملا کر نصاب پورا ہو جاتا ہے۔ بیس میں سے پندرہ درہم اس نے خرچ کیے ہیں اور پانچ درہم باقی ہیں تو پانچ درہم تو عین ہو گئے اور پندرہ درہم اس کے ذمے دین بن گیا تو پندرہ اور پانچ پھر بیس، گویا ابھی بھی بیس درہم ہی مال ہے، کچھ عین ہے چور کے ذمے اور کچھ دین ہے بھئی۔ جبکہ چیز کی جو قیمت کم ہوتی ہے اس کا تو چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ چور نے ایک چیز چوری کی ہے اور اس کی قیمت کم ہو گئی اور پھر چور وہ مال واپس کرتا ہے تو چور پر قیمت کے کم ہونے کا تو کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ تو کسی چیز کی جو قیمت کم ہوتی ہے اس میں ضمان نہیں آتا لیکن کسی کی چیز میں کوئی کمی کرے گا تو اس کو ضمان دینا پڑے گا تو دونوں میں فرق ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ النُّقْصَانِ فِي الْعَيْنِ“ بخلاف وہ جو کمی آئی ہے عین کے اندر: ”لِأَنَّهُ مَضْمُونٌ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ وہ چور پر مضمون ہے، چور پر اس کا ضمان آئے گا کیونکہ جب تک ہاتھ نہیں کٹا چور غاصب کے درجے میں ہے۔ تو وہ چور کے اوپر مضمون ہے یعنی چور پر اس کا ضمان آئے گا۔ ”فَكَمُلَ النِّصَابُ عَيْنًا وَدَيْنًا“ تو نصاب پورا ہو گا عین اور دین ہونے کے اعتبار سے۔ عین میں کمی آ گئی ہے تو جو کمی آئی ہے وہ دین بن گیا، تو عین اور دین کو ملا کر نصاب پھر بھی پورا ہوتا ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”فَكَمُلَ النِّصَابُ عَيْنًا وَدَيْنًا“ تو نصاب کامل ہے عین اور دین ہونے کے اعتبار سے کہ کچھ مال عین ہے اور کچھ چور کے ذمے دین ہے۔ ”كَمَا إِذَا اسْتَهْلَكَ كُلَّهُ“ جیسے کہ چور اس سارے مال کو ہلاک کر دے۔ بھئی چور نے بیس درہم چوری کیے تھے، اس نے وہ سارے درہم خرچ کر دیے، اب دیکھو وہ سارا مال اس نے خرچ کر دیا ہے پھر بھی اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے کیونکہ یہ سارا مال اس کے ذمے دین ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا اسْتَهْلَكَ كُلَّهُ“ جیسے کہ چور اس سارے مال کو ہلاک کر دے۔ ”أَمَّا نُقْصَانُ السِّعْرِ“ سعر کہتے ہیں نرخ بھئی، کسی چیز کے نرخ اور قیمت ہے جو۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا نُقْصَانُ السِّعْرِ“ باقی قیمت کا جو نقصان ہے: ”غَيْرُ مَضْمُونٍ“ وہ غیر مضمون ہے۔ کسی چیز کی قیمت کم ہو تو اس کا ضمان دوسرے پر نہیں آتا۔ ایک شخص نے دوسرے کی کوئی چیز زبردستی غصب کر لی اور اس وقت مارکیٹ میں اس کی قیمت ایک لاکھ روپیہ تھی اور پھر دس دن کے بعد وہ چیز واپس کی اور اب مارکیٹ کے اندر وہ چیز پچاس ہزار کی ہو چکی ہے لیکن پھر بھی اس غصب کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”أَمَّا نُقْصَانُ السِّعْرِ غَيْرُ مَضْمُونٍ“ باقی نرخ کا جو نقصان ہے، قیمت کے اندر جو کمی آتی ہے غیر مضمون وہ غیر مضمون ہوتی ہے اس میں ضمان نہیں آتا۔ ”فَافْتَرَقَا“ تو دونوں جدا ہو گئے۔ دونوں جدا ہو گئے۔ کیا دونوں چیزیں جدا ہو گئیں؟ ایک ہے قیمت کے اندر کمی اور ایک ہے عین کے اندر کمی، تو دونوں جدا ہو گئے۔ عین کے اندر جو کمی آئے گی وہ مضمون ہے، قیمت میں جو کمی آئے گی وہ غیر مضمون ہے تو آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ تو لہٰذا اگر قیمت میں کمی آ جائے اور اس مال کی قیمت نصاب سے کم ہو جائے ہاتھ کاٹنے سے پہلے تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور یاد رکھو یہاں پر جو اوپر ہم نے مسئلہ پڑھا: ”وَكَذَلِكَ إِذَا نَقَصَتْ قِيمَتُهَا مِنَ النِّصَابِ“ یہاں بین السطور پانچویں شرط ذکر کی ہے قطع کے لیے اور پانچویں شرط یہ ہے کہ جس طرح قضا کے وقت نصاب کا کامل ہونا شرط ہے اسی طرح قطع کے وقت بھی نصاب کا کامل ہونا شرط ہے۔ یعنی قضا کے وقت جن چیزوں کا ہونا شرط ہے اسی طرح حد کو نافذ کرتے وقت بھی ان چیزوں کا ہونا شرط ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا ادَّعَى السَّارِقُ أَنَّ الْعَيْنَ الْمَسْرُوقَةَ مِلْكُهُ سَقَطَ الْقَطْعُ عَنْهُ وَإِنْ لَمْ يُقِمْ بَيِّنَةً“ صورتِ مسئلہ یہ کہ قاضی نے چور کے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کر دیا، ابھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا تھا کہ چور نے دعویٰ کر دیا کہ یہ مال جو میں نے چوری کیا تھا یہ تو میرا اپنا مال ہے۔ کہتے ہیں فوراً حد ساقط ہو جائے گی اس لیے کیونکہ شبہ آ گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہو اور حد جو ہے شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا ادَّعَى السَّارِقُ أَنَّ الْعَيْنَ الْمَسْرُوقَةَ مِلْكُهُ“ اور جب چور نے یہ دعویٰ کر دیا کہ وہ چیز جس کو اس نے چرایا ہے وہ اس کی ملکیت ہے: ”سَقَطَ الْقَطْعُ عَنْهُ وَإِنْ لَمْ يُقِمْ بَيِّنَةً“ تو اس چور سے قطع ساقط ہو جائے گی اگرچہ وہ بینہ قائم نہ کرے۔ اگرچہ وہ بینہ قائم نہ کرے پھر بھی۔ بھئی چور نے صرف اتنا کہا کہ یہ مال جو میں نے چوری کیا تھا یہ میرا اپنا مال تھا، چور کے پاس کوئی بینہ نہیں، کوئی گواہ وغیرہ موجود نہیں لیکن پھر بھی شبہ تو آ گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہو اور حد شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ يُقِمْ بَيِّنَةً“ اگرچہ چور جو ہے وہ گواہی قائم نہ کرے۔ ”مَعْنَاهُ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ اس متن کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ ”مَعْنَاهُ“ کہ صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے: ”بَعْدَ مَا شَهِدَ الشَّاهِدَانِ بِالسَّرِقَةِ“ کہ بعد اس کے کہ جب دو گواہ چوری کی گواہی دے دیں۔ یہ جو متن میں ذکر ہوا ہے کہ چور اگر یہ کہہ دے کہ یہ مال تو میرا اپنا تھا تو وہ حد ساقط ہو جائے گی جب کہ دو گواہ گواہی دے چکے ہیں اس کے بعد۔ بھئی یاد رکھو اگر چوری چور کے اپنے اقرار سے ثابت ہوئی ہے اور چور کے اپنے اقرار کی وجہ سے قاضی نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا اور پھر اس کے بعد چور کہتا ہے کہ وہ مال جو میں نے چوری کیا تھا وہ تو میرا اپنا مال تھا تو بالاتفاق سب کے نزدیک اس چور پر سے حد ساقط ہو جائے گی۔ لیکن اگر اس کی چوری گواہوں کے ذریعے ثابت ہوئی ہے اور اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ یہ مال تو میرا اپنا تھا تو ہمارے نزدیک حد ساقط ہو گی جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اب حد ساقط نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ بَعْدَ مَا شَهِدَ الشَّاهِدَانِ بِالسَّرِقَةِ“ کہ صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے کہ بعد اس کے کہ جب دو گواہوں نے اس چوری کی گواہی دے دی تھی اس کے بعد چور کہتا ہے یہ مال تو میرا اپنا تھا پھر بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَسْقُطُ بِمُجَرَّدِ الدَّعْوَى“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حد ساقط نہیں ہو گی صرف چور کا دعویٰ کرنے سے۔ صرف چور کے دعویٰ کرنے سے کہ یہ مال میرا اپنا تھا، صرف یہ دعویٰ کرنے سے حد ساقط نہیں ہو گی الا یہ کہ وہ گواہ پیش کر دے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَسْقُطُ بِمُجَرَّدِ الدَّعْوَى لِأَنَّهُ لَا يَعْجِزُ عَنْهُ سَارِقٌ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قطع ساقط نہیں ہو گی صرف اس چور کے دعویٰ کرنے کی وجہ سے، اس لیے کیونکہ اس سے تو کوئی بھی چور عاجز نہیں ہے۔ یہ کام تو پھر ہر چور کر سکتا ہے، جس چور کے بھی ہاتھ کاٹنے کا قاضی حکم دے گا چور کہہ دے گا یہ مال تو میرا اپنا تھا تو حد ہی ساقط ہو جائے گی، گویا حد کا دروازہ ہی بند ہو جائے گا، کسی چور کو بھی حد نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ یہ بات تو ہر چور کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يَعْجِزُ عَنْهُ سَارِقٌ فَيُؤَدِّي إِلَى سَدِّ بَابِ الْحَدِّ“ اس لیے کیونکہ اس بات سے تو کوئی بھی چور عاجز نہیں ہے تو یہ بات پہنچا دے گی حد کے دروازے کے بند کرنے کی طرف کہ حد کا دروازہ ہی بند ہو جائے گا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الشُّبْهَةَ دَارِئَةٌ“ کہ شبہ جو ہے وہ ساقط کرنے والا ہے۔ درأ یدرأ کا معنی ساقط کرنا۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الشُّبْهَةَ دَارِئَةٌ“ کہ شبہ ساقط کرنے والا ہے یعنی شبہ حد کو ساقط کر دیتا ہے اور یہاں بھی جب اس چور نے کہا یہ مال میرا ہے تو اس کے مالک ہونے کا شبہ آ گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہو، یہی اس مال کا مالک ہو بھئی اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَلَنَا أَنَّ الشُّبْهَةَ دَارِئَةٌ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ شبہ جو ہے وہ حد کو ساقط کر دیتا ہے۔ ”وَيَتَحَقَّقُ بِمُجَرَّدِ الدَّعْوَى لِلِاحْتِمَالِ“ اور یہ شبہ پایا جاتا ہے صرف دعویٰ کرنے سے ہی ”لِلِاحْتِمَالِ“ احتمال کی وجہ سے، کیونکہ احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہو تو صرف یہ دعویٰ کرنے کی وجہ سے ہی شبہ پیدا ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَتَحَقَّقُ بِمُجَرَّدِ الدَّعْوَى لِلِاحْتِمَالِ“ اور صرف اس دعوے کی وجہ سے ہی یہ شبہ ثابت ہو جائے گا ”لِلِاحْتِمَالِ“ اس احتمال کی وجہ سے کہ شاید وہ سچ بول رہا ہو۔ ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِمَا قَالَ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ چور کا صرف دعویٰ کافی نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہ دعویٰ تو ہر چور کر سکتا ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ اور کہتے ہیں: ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِمَا قَالَ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جو فرمایا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے: ”بِدَلِيلِ صِحَّةِ الرُّجُوعِ بَعْدَ الْإِقْرَارِ“ اس دلیل سے کہ رجوع کرنا صحیح ہوتا ہے بعد الاقرار اقرار کے بعد۔ ہم کہتے ہیں کہ اقرار کی وجہ سے بھی چوری ثابت ہوتی ہے اور چور جب اقرار کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے حالانکہ ہر اقرار کرنے والے میں یہ احتمال ہے کہ شاید وہ رجوع کر لے۔ ہر اقرار کرنے والا رجوع کر سکتا ہے پھر بھی اقرار کرنے والا جب رجوع کر لے تو وہ رجوع معتبر ہوتا ہے۔ ہر مقر رجوع کر سکتا ہے پھر بھی جب وہ رجوع کر لے تو وہ رجوع معتبر ہوتا ہے تو یہاں بھی اسی طرح ہر چور یہ دعویٰ کر سکتا ہے پھر بھی چور یہ دعویٰ کر لے گا تو یہ معتبر ہو گا۔ جیسے ہر مقر رجوع کر سکتا ہے پھر بھی رجوع معتبر ہوتا ہے اسی طرح ہر چور یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ میرا مال ہے پھر بھی یہ دعویٰ معتبر ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِمَا قَالَ بِدَلِيلِ صِحَّةِ الرُّجُوعِ بَعْدَ الْإِقْرَارِ“ اور جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس دلیل کی وجہ سے کہ اقرار کے بعد رجوع کرنا صحیح ہوتا ہے، اگرچہ ہر مقر رجوع کر سکتا ہے پھر بھی اس کا رجوع معتبر ہوتا ہے تو ہر چور بھی اگرچہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ میرا مال ہے پھر بھی اس کا یہ قول معتبر ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اس وجہ سے بھی کہ اس مسئلے کا تو کسی چور کو پتہ نہیں ہو گا کہ اگر میں یوں کہہ دوں کہ یہ مال میرا ہے تو پھر میرا ہاتھ نہیں کٹے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ کہنا کہ اس کی وجہ سے حد کا دروازہ ہی بند ہو جائے گا یہ ہمیں قبول نہیں ہے کیونکہ چور کو تو ان مسائل کا علم ہی نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور یہاں پر دیکھو بین السطور چھٹی شرط ذکر کی گئی ہے کہ قطع کی چھٹی شرط یہ ہے کہ چور جو ہے مالِ مسروقہ کی ملکیت کا دعویٰ نہ کرے، کہ تب قطع ہو گا جب چور مالِ مسروقہ کی ملکیت کا دعویٰ نہ کرے۔ اگر چور نے قطع سے پہلے اس مال کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں تک تقریباً چھ شرطیں ہم پڑھ چکے ہیں قطع کی۔ قطع کی پہلی شرط کیا ہے؟ کہ اگر قطع کی وجہ سے چور کا جنسِ نفع ختم ہو رہا ہو چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ دوسری شرط یہ تھی کہ قطع کے اندر خصومت شرط ہے کہ کوئی مطالبہ کرے، مالک ہو چاہے مالک کا کوئی نائب ہو۔ تیسری شرط یہ ہم نے پڑھی کہ قطع کے وقت مسروق منہ کا حاضر ہونا شرط ہے۔ اور چوتھی شرط ہم نے یہ پڑھی کہ قطع کے وقت بھی خصومت ہونی چاہیے، ظاہراً یا یا تقدیراً، قطع کے وقت بھی خصومت ہونی چاہیے ظاہراً خصومت ہو یا تقدیراً خصومت ہو۔ اور پانچویں شرط ہم نے یہ پڑھی کہ جس طرح قاضی کے فیصلے کے وقت نصاب کا کامل ہونا شرط ہے اسی طرح قطع کے وقت بھی نصاب کا کامل ہونا شرط ہے۔ اور چھٹی شرط ہم نے ابھی پڑھی کہ چور اس مالِ مسروقہ کی ملکیت کا دعویٰ نہ کرے پھر ہی قطع ہو گا، اگر چور نے اس مالِ مسروقہ کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا پھر اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا أَقَرَّ رَجُلَانِ بِسَرِقَةٍ ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا: هُوَ مَالِي، لَمْ يُقْطَعَا“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ دو آدمیوں نے اقرار کر لیا کہ ہم نے یہ مال چوری کیا تھا اور پھر ان دونوں میں سے ایک کہہ دیتا ہے کہ یہ جو مال ہم نے چرایا یہ تو میرا مال تھا تو آپ پڑھ چکے ہیں اس صورت میں حد ساقط ہو جاتی ہے تو یہاں پر بھی دونوں سے حد ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ایک سے تو حد اس لیے ساقط ہو گئی کہ اس نے گویا چوری سے ہی رجوع کر لیا، جب اس نے کیا کہا: یہ مال میرا اپنا تھا تو اس نے چوری سے رجوع کر لیا، اور دوسرے کے حق میں شبہ پیدا ہو گیا اس لیے کیونکہ ایک ہی چوری کے فعل کی یہ دونوں بات کر رہے ہیں بھئی۔ تو ایک نے رجوع کر لیا اور دوسرے کے حق میں اس رجوع کی وجہ سے شبہ پیدا ہو گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا أَقَرَّ رَجُلَانِ بِسَرِقَةٍ ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا: هُوَ مَالِي، لَمْ يُقْطَعَا“ اور جب اقرار کیا دو آدمیوں نے کسی چوری کا پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا: ”هُوَ مَالِي“ کہ وہ میرا مال ہے یعنی وہ مال جو ہم نے چوری کیا وہ میرا مال ہے، ”لَمْ يُقْطَعَا“ تو ان دونوں کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ ”لِأَنَّ الرُّجُوعَ عَامِلٌ فِي حَقِّ الرَّاجِعِ“ اس لیے کیونکہ رجوع کرنا ”عَامِلٌ“ یہ عمل کرتا ہے ”فِي حَقِّ الرَّاجِعِ“ رجوع کرنے والے کے حق میں۔ رجوع کرنا رجوع کرنے والے کے حق میں عمل کرتا ہے یعنی اس کا رجوع معتبر ہے، وہ فائدہ دیتا ہے، اس کے رجوع کی وجہ سے حد اس سے ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الرُّجُوعَ عَامِلٌ فِي حَقِّ الرَّاجِعِ“ اس لیے کیونکہ رجوع جو ہے رجوع کرنے والے کے حق میں عمل کرتا ہے یعنی اس کو فائدہ دیتا ہے: ”وَمُورِثٌ لِلشُّبْهَةِ فِي حَقِّ الْآخَرِ“ اور یہ شبہ پیدا کر دیتا ہے دوسرے چور کے حق میں: ”لِأَنَّ السَّرِقَةَ تَثْبُتُ بِإِقْرَارِهِمَا عَلَى الشِّرْكَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ چوری ثابت ہوئی ہے ان دونوں کے اقرار کی وجہ سے ”عَلَى الشِّرْكَةِ“ شرکت کے طریقے پر کہ ہم نے مل کر چوری کی تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دونوں نے مل کر چوری کی تھی، جب اس چوری میں ایک کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا تو دوسرے کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ سَرَقَا ثُمَّ غَابَ أَحَدُهُمَا“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ دو آدمیوں نے مل کر کوئی سامان چرایا ہے اور پھر ان میں سے ایک چور پکڑا گیا اور دوسرا غائب ہے اور اس ایک چور کے خلاف گواہوں نے گواہی دے دی تو کیا صرف اس ایک چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو کہتے ہیں ہاں، اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے اس سلسلے میں امام صاحب کے دو قول ہیں بھئی۔ ان کے پہلے قول کے مطابق جب ایک چور غائب ہے تو دوسرے کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ چور جو غائب ہے وہ حاضر ہوتا تو وہ کہہ دیتا کہ یہ تو میرا مال ہے تو اس کی وجہ سے کیا آتا؟ شبہ آ جاتا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی۔ لیکن امام صاحب کا آخری قول یہ ہے کہ بے شک ایک چور غائب ہو دوسرے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ سَرَقَا ثُمَّ غَابَ أَحَدُهُمَا وَشَهِدَ الشَّاهِدَانِ عَلَى سَرِقَتِهِمَا قُطِعَ الْآخَرُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْآخِرِ“ اگر دو آدمیوں نے چوری کی پھر ان دونوں میں سے ایک غائب ہو گیا اور دو گواہوں نے ان دونوں کی چوری پر گواہی دے دی ”قُطِعَ الْآخَرُ“ تو وہ جو دوسرا چور ہے یعنی جو حاضر ہے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ”فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ الْآخِرِ“ امام صاحب کے آخری قول میں۔ امام صاحب کے آخری قول میں: ”وَهُوَ قَوْلُهُمَا“ اور یہی صاحبین کا بھی قول ہے، یہی صاحبین کا بھی قول ہے۔ ”وَكَانَ يَقُولُ أَوَّلًا: لَا يُقْطَعُ“ اور امام صاحب پہلے فرماتے تھے کہ اس حاضر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا: ”لِأَنَّهُ لَوْ حَضَرَ رُبَّمَا يَدَّعِي الشُّبْهَةَ“ اس لیے کیونکہ اگر وہ غائب چور بھی حاضر ہو جاتا تو بسا اوقات وہ شبہے کا دعویٰ کر دیتا، یعنی ہو سکتا ہے وہ شبہے کا دعویٰ کر دیتا کہ یہ مال تو میرا ہے بھئی اور شبہے کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جاتی ہے لہٰذا اس حاضر کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَجْهُ قَوْلِهِ الْآخِرِ“ امام صاحب کے آخری قول کی وجہ یہ ہے۔ امام صاحب کا آخری قول کیا تھا؟ کہ حاضر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ قَوْلِهِ الْآخِرِ“ امام صاحب کے آخری قول کی وجہ یہ ہے: ”أَنَّ الْغَيْبَةَ تَمْنَعُ ثُبُوتَ السَّرِقَةِ عَلَى الْغَائِبِ“ ”أَنَّ الْغَيْبَةَ“ کہ ایک چور کا غائب ہونا ”تَمْنَعُ“ یہ منع کر دیتا ہے ”ثُبُوتَ السَّرِقَةِ“ چوری کے ثابت ہونے کو ”عَلَى الْغَائِبِ“ اس غائب کے خلاف۔ بھئی آپ کو میں نے پہلے بھی بتلایا تھا کہ غائب کے خلاف قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ قضاء علی الغائب جائز نہیں۔ جس کے خلاف بھی قاضی نے فیصلہ کرنا ہے اس کا وہاں پر موجود ہونا ضروری ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر ایک چور غائب ہے تو جو قاضی نے فیصلہ کیا ہے وہ صرف اس حاضر چور کے خلاف ہے، غائب کے خلاف فیصلہ ہی نہیں۔ یوں سمجھو اس اکیلے چور نے ہی چوری کی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ قَوْلِهِ الْآخِرِ“ اور امام صاحب کے آخری قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْغَيْبَةَ تَمْنَعُ ثُبُوتَ السَّرِقَةِ عَلَى الْغَائِبِ“ کہ ایک چور کا غائب ہونا یہ اس غائب کے خلاف چوری کے ثبوت سے مانع ہے، اس غائب کی چوری ثابت نہیں ہوئی بھئی۔ ”فَيَبْقَى مَعْدُومًا“ تو لہٰذا اس کا فعل معدوم رہا، یوں سمجھیں گے گویا اس نے چوری کی ہی نہیں بھئی۔ ”وَالْمَعْدُومُ لَا يُورِثُ الشُّبْهَةَ“ اور وہ چیز جو معدوم ہو وہ شبہ پیدا نہیں کرتی۔ ”وَلَا يُعْتَبَرُ تَوَهُّمُ حُدُوثِ شُبْهَةٍ عَلَى مَا مَرَّ“ یہاں سے امام صاحب کے پہلے قول کا جواب دے رہے ہیں۔ امام صاحب کا پہلا قول کیا تھا کہ اگر ایک چور غائب ہے تو دوسرے کا ہاتھ بھی نہیں کاٹیں گے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ حاضر ہوتا اور کہہ دیتا کہ یہ میرا مال ہے تو اس کی وجہ سے شبہ آ جاتا۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ اگر وہ موجود ہوتا اور یہ کہہ دیتا پھر شبہے نے آنا تھا لیکن اس وقت جب وہ موجود ہی نہیں ہے تو شبہ بھی نہیں ہے، شبہے کا صرف ایک احتمال ہے، شبہے کا صرف وہم ہوتا ہے۔ تو شبہ تو معتبر ہے، شبہے کا احتمال یا شبہے کا وہم تو معتبر نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا يُعْتَبَرُ تَوَهُّمُ حُدُوثِ شُبْهَةٍ عَلَى مَا مَرَّ“ اور معتبر نہیں ہے شبہ پیدا ہونے کا وہم ”عَلَى مَا مَرَّ“ اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ شبہ معتبر ہے شبہۃ الشبہہ معتبر نہیں ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَلَا يُعْتَبَرُ تَوَهُّمُ حُدُوثِ شُبْهَةٍ“ اور شبہے کے پیدا ہونے کا وہم جو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ”عَلَى مَا مَرَّ“ اس وجہ سے جو بات گزر گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
160 approved lectures · 125 of 160