Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-108

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْقَتْلِ وَالضَّرْبِ وَغَيْرِهِ۔ وَمَنْ قَالَ: إِنْ ضَرَبْتُكَ فَعَبْدِي حُرٌّ فَهُوَ عَلَى الْحَيَاةِ، لِأَنَّ الضَّرْبَ اسْمٌ لِفِعْلٍ مُؤْلِمٍ يَتَّصِلُ بِالْبَدَنِ، وَالْإِيلَامُ لَا يَتَحَقَّقُ فِي الْمَيِّتِ، وَمَنْ يُعَذَّبُ فِي الْقَبْرِ يُوضَعُ فِيهِ الْحَيَاةُ فِي قَوْلِ الْعَامَّةِ۔ بھئی گزشتہ سبق میں کتاب الایمان میں سے بَابُ الْيَمِينِ فِي الْحَجِّ وَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ ہم نے پڑھا بھئی۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کوئی شخص یہ منت مانتا ہے کہ میرے اوپر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا لازم ہے، تو اس صورت میں اس پر حج یا عمرہ پیدل کرنا لازم ہو جائے گا۔ تو اسے حج یا عمرہ کرنا پڑے گا اور پیدل کرنا پڑے گا، لیکن اگر وہ سوار ہونا چاہتا ہے تو سوار بھی ہو سکتا ہے اور اس صورت میں بطور جرمانے کے اس کو ایک قربانی کرنا پڑے گی، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس میں دو چیزوں کا ذکر ضروری ہے: ایک تو مَشْيٌ کو ذکر کرے یعنی پیدل چلنے کو، اور دوسرا بیت اللہ یا خانہ کعبہ کو ذکر کرے۔ اگر ان دونوں میں سے کسی ایک چیز کو ذکر نہیں کیا تو پھر اس صورت میں یہ منت منعقد نہیں ہو گی، کیونکہ یہ بظاہر الفاظ کو دیکھیں تو اس میں کوئی حج یا عمرے کو اپنے اوپر لازم نہیں کر رہا، لیکن متعارف یہ تھا کہ ان الفاظ کے ذریعے کوئی شخص اپنے اوپر حج یا عمرے کو لازم کیا کرتا تھا، تو پیدل چلنے کو بھی ذکر ہونا چاہیے اور بیت اللہ کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔ لہٰذا اگر کوئی بیت اللہ کو تو ذکر کرتا ہے لیکن پیدل چلنے کو ذکر نہیں کرتا اور یوں کہتا ہے کہ میرے لیے بیت اللہ کی طرف نکلنا لازم ہے، یا میرے اوپر بیت اللہ کی طرف جانا لازم ہے، تو پھر اس صورت میں اس پر حج یا عمرہ لازم نہیں ہو گا کیونکہ اس نے پیدل چلنے کو ذکر نہیں کیا۔ یا پیدل چلنے کو تو ذکر کرتا ہے لیکن بیت اللہ کو ذکر نہیں کرتا بلکہ یوں کہتا ہے میرے اوپر لازم ہے پیدل چلنا حرم کی طرف، یا مسجد حرام کی طرف، یا صفا و مروہ کی طرف، تو پھر اس صورت میں چونکہ اس نے بیت اللہ کو ذکر نہیں کیا تو امام صاحب فرماتے ہیں اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے، جبکہ صاحبین حرم اور مسجد حرام کے معاملے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ حرم جو ہے وہ بیت اللہ کے ارد گرد کا سارا علاقہ یہ حرم کہلاتا ہے، تو حرم کا ذکر بیت اللہ کا بھی ذکر ہے کیونکہ بیت اللہ حرم کے اندر ہے، اسی طرح بیت اللہ جو ہے مسجد حرام کے اندر ہے تو مسجد حرام کا ذکر بھی ایسے ہی ہے جیسے بیت اللہ کو ذکر کر دیا جائے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میرے اوپر حرم کی طرف یا مسجد حرام کی طرف پیدل چلنا لازم ہے تو اس پر بھی حج یا عمرہ لازم ہو گا، یہ صاحبین فرماتے ہیں۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہاں متعارف کو دیکھا جائے گا، لوگوں میں رائج کیا ہے؟ اور لوگوں میں رائج تو وہی دو لفظ ہیں بھئی کہ بیت اللہ کو بھی ذکر کرے اور اس کی طرف پیدل چلنے کو بھی ذکر کرے، خود ان الفاظ کو دیکھیں تو ان کے حقیقی معنی کے اعتبار سے بھی حج یا عمرہ لازم نہیں ہوتا۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ منت کے اندر ضروری ہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز کی منت مانے تو وہ عبادت ہونی چاہیے بھئی، وہ عبادت کے قبیل سے ہونی چاہیے اور وہ عبادت بھی ایسی ہو کہ جو زندگی میں کبھی فرض یا واجب بھی ہو، اگر فرض یا واجب نہیں ہے زندگی میں کسی بھی مقام پر تو پھر اس قسم کی عبادت کو بھی اگر وہ ذکر کرے گا تو اس سے بھی منت منعقد نہیں ہو گی، چہ جائیکہ کہ کوئی شخص کسی گناہ کی منت مانے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو جب ایسی عبادت کی منت درست نہیں ہے جو کبھی فرض یا واجب نہیں ہوتی تو پھر گناہ کی منت تو بطریق اولیٰ درست نہیں ہے بھئی، گناہ کی منت۔ اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا: ایک شخص نے کہا کہ اگر میں نے اس سال بیت اللہ کا حج نہ کیا تو میرا غلام آزاد ہے، اور پھر بعد میں کہتا ہے میں نے حج اس سال کر لیا ہے، اور دو گواہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے اس کو اسی سال عید الاضحیٰ کے دن کوفہ میں قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو اس صورت کے اندر شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ نفی پر گواہی ہے، یعنی وہ گواہ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ اس نے حج نہیں کیا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نفی پر گواہی نہیں ہے بلکہ یہ قربانی کے کرنے پر گواہی ہے، اور قربانی کا کرنا یہ تو اثبات ہے اور گواہی ہوتی ہی اثبات پر ہے، ہاں البتہ اس کے ساتھ ضمناً حج کی بھی نفی ہو رہی ہے کہ جب کوفہ میں قربانی کی ہے معلوم ہوا حج کے دنوں میں وہ مکہ میں تھا ہی نہیں تو اس نے حج کیا ہی نہیں۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ نفی پر جو گواہی ہے وہ دو قسم کی ہوتی ہے: ایک گواہی دینا ایسی نفی پر کہ گواہ کے علم نے اس نفی کا احاطہ کیا ہوا ہے، گواہ کو قطعی اور یقینی طور پر اس نفی کا علم ہے، جیسے یہ شخص قربانی کے دن کوفہ میں تھا تو گواہوں کو قطعی اور یقینی طور پر علم ہے کہ اس نے حج نہیں کیا کیونکہ انہی دنوں میں تو حج کے افعال سرانجام دیے جاتے ہیں بھئی، تو یہاں پر ان کو قطعی اور یقینی علم ہے، تو یہ ایسی نفی پر گواہی ہے جس کا گواہوں کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے، اس نفی کا گواہوں کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے۔ اور ایک وہ نفی پر گواہی ہوتی ہے، مثلاً زید کے پاس ایک گاڑی ہے، عمرو نے آ کر دعویٰ کر دیا کہ یہ گاڑی میری ہے، اب عمرو کے پاس تو گواہ نہیں حالانکہ وہ مدعی ہے اور مدعی کے پاس گواہ ہونے چاہئیں، عمرو کے پاس گواہ نہیں ہیں تو اس صورت میں منکر جو ہے اس پر قسم آتی ہے، زید منکر ہے وہ انکار کر رہا ہے کہ یہ گاڑی عمرو کی نہیں ہے بھئی، تو منکر پر قسم آتی ہے لیکن منکر دو گواہ لے آیا کہ میرے پاس یہ دو گواہ موجود ہیں جو گواہی دیں گے کہ یہ گاڑی عمرو کی نہیں ہے، دیکھو نفی پر گواہی دے رہے ہیں، تو اس صورت میں یاد رکھو یہ ایسی نفی پر گواہی ہے جس کا احاطہ گواہوں کا علم نہیں کر سکتا، گواہوں کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ یہ گاڑی عمرو کی نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ ان کو یہ پتہ ہے کہ زید نے یہ گاڑی خریدی ہے یا زید کو یہ گاڑی کسی نے تحفے میں دی ہے، تو وہ آ کر گواہی دیتے ہیں کہ یہ گاڑی عمرو کی نہیں ہے، لیکن یہ تو کوئی قطعی اور یقینی بات نہیں، ہو سکتا ہے جس نے زید کو بیچی ہے یا جس نے زید کو تحفے میں گاڑی دی ہے اس نے عمرو سے یہ گاڑی چھین لی ہو، اس نے عمرو سے یہ گاڑی چھین لی ہو یا اس سے چوری کر لی ہو، تو لہٰذا یہاں پر یہ جو نفی پر گواہی دے رہے ہیں گواہ اس نفی کا احاطہ ان کا علم نہیں کر سکتا۔ تو معلوم ہوا وہ نفی جس پر گواہی دی جاتی ہے وہ دو قسم کی ہو سکتی ہے: ایک وہ نفی ہے جس کا احاطہ گواہوں کا علم کر لے یعنی گواہوں کو یقینی طور پر اس نفی کا پتہ ہو، اور ایک وہ نفی ہے کہ گواہوں کا علم اس کا احاطہ نہیں کر سکتا یعنی گواہوں کو قطعی اور یقینی طور پر اس نفی کا پتہ نہیں چل سکتا، تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ اگر ایسی نفی پر گواہی دی کہ گواہوں کا علم اس کا احاطہ کر سکتا ہے تو اس کو قبول کیا جائے گا، جیسے اس مسئلے کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان گواہوں کی گواہی کو قبول کیا جائے گا۔ لیکن شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک کسی بھی قسم کی نفی ہو اس پر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا لوگوں کی آسانی کے لیے، کیونکہ اگر لوگوں کو یہ کہا جائے کہ بعض نفی ایسی ہوتی ہے جس میں گواہی کو قبول کیا جائے گا اور بعض میں گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا تو لوگ تو مشکل میں پڑ جائیں گے کہ کس مقام پر کون سی نفی ہے جس پر گواہی دی جا سکتی ہے اور کون سی نفی ہے جس پر گواہی نہیں دی جا سکتی۔ اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ روزہ نہیں رکھے گا تو پھر صبح صادق کے وقت جیسے ہی وہ روزہ شروع کرتا ہے تو وہ فوراً حانث ہو جائے گا، کیونکہ چند لمحوں کا تو روزہ پایا گیا، روزہ کسے کہتے ہیں؟ کھانے پینے اور بیوی کے ساتھ صحبت سے اپنے آپ کو روکنا باقاعدہ نیت کے ساتھ، تو باقاعدہ نیت کے ساتھ یہ امساک تھوڑی دیر بھی پایا گیا تو وہ شخص فوراً حانث ہو جائے گا۔ لیکن اس کے بجائے اگر وہ یہ کہتا ہے: لَا أَصُومُ صَوْمًا، یہ صَوْمًا مفعول بھی ساتھ ذکر کر دیتا ہے، تو صوم تو شریعت کے اندر پورے روزے کو کہتے ہیں، تو پھر اس صورت میں جب یہ روزہ پورا کر دے گا شام تک پھر اس کے بعد یہ حانث ہو گا اس سے پہلے حانث نہیں، یا یہ یوم کا لفظ ذکر کر دیتا ہے کہ لَا أَصُومُ يَوْمًا، تو اس صورت میں بھی اس نے دن کو ذکر کیا ہے تو پورے دن کا روزہ جب ہو جائے گا تب یہ حانث ہو گا اس سے پہلے یہ حانث نہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص یہ منت مانتا ہے کہ واللہ میں نماز نہیں پڑھوں گا تو پھر اس صورت میں نماز شروع کرنے سے وہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ نماز کی ہر رکعت کئی افعال کا مجموعہ ہے، تو ایک رکعت جب وہ پوری کر لے گا یعنی سجدہ کر لے گا، وہ شروع میں تکبیر بھی کہے نماز شروع کرنے کی، اس کے بعد قیام بھی کرے، پھر اس کے بعد قراءت بھی کرے، رکوع بھی کرے اور جب سجدہ کر لے گا اب یہ حانث ہو گیا، اس نے تو کہا تھا میں نماز نہیں پڑھوں گا اور نماز تو پائی گئی یعنی اس کے تمام افعال پائے گئے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر وہ صلوٰۃ کا لفظ ساتھ ذکر کرتا ہے، مفعول ذکر کرتا ہے ساتھ: وَاللَّهِ لَا أُصَلِّي صَلَاةً، تو صلوٰۃ تو کم از کم دو رکعتوں کو کہتے ہیں، کم سے کم نماز کی مقدار کتنی ہے؟ دو رکعت ہے، تو جب یہ دو رکعت قعدے کے ساتھ پڑھ لے گا تو پھر حانث ہو گا ویسے حانث نہیں ہو گا۔ اس کے بعد اگلا باب آیا تھا: بَابُ الْيَمِينِ فِي لُبْسِ الثِّيَابِ وَالْحُلِيِّ وَغَيْرِ ذَلِكَ، یعنی وہ باب جس میں یمین کے اندر کپڑے پہننے یا زیور پہننے وغیرہ کو ذکر کیا جائے۔ تو صاحب ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا تھا کہ خاوند جو ہے وہ منت مانتا ہے اپنی بیوی سے کہتا ہے: إِنْ لَبِسْتُ مِنْ غَزْلِكِ فَهُوَ هَدْيٌ، اگر میں نے تیرے کاتے ہوئے سوت میں سے، تیرے کاتے ہوئے دھاگے میں سے میں نے اگر لباس پہنا تو وہ مکہ کے فقراء پر صدقہ ہے، وہ مکہ کے فقراء پر صدقہ ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جس کو قربانی کے لیے مکہ بھیجا جاتا ہے، تو یہاں مراد مطلق صدقہ ہے جو مکہ کے فقراء پر کیا جائے۔ تو اس نے اپنی بیوی سے کہا اگر میں نے تیرے کاتے ہوئے سوت میں سے کپڑے پہنے تو پھر وہ مکہ کے فقراء پر صدقہ ہے، تو اس صورت میں صاحبین فرماتے ہیں کہ جو روئی اس شخص کی ملکیت میں قسم کے وقت موجود تھی اس سے اگر یہ عورت جو ہے دھاگہ بناتی ہے اور پھر اس سے کپڑا بنتی ہے اور پھر اس کپڑے کو یہ آدمی پہنتا ہے تو یہ کپڑا، یہ روئی یہ منت کے اندر داخل ہیں، یہ جب یہ پہنے گا تو اب اس کو مکہ کے فقراء پر صدقہ کرنا پڑے گا۔ اور اگر اس منت کے بعد یہ شخص جو ہے یہ کوئی روئی وغیرہ خریدتا ہے اور اس سے عورت جو ہے دھاگہ بناتی ہے اور کپڑا بن لیتی ہے اور پھر یہ آدمی اس کو پہن لیتا ہے تو وہ اس منت اور اس یمین کے اندر داخل نہیں ہے، لہٰذا اس کا صدقہ کرنا اس شخص پر واجب نہیں۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ عورت جس دھاگے سے بھی کپڑا بنائے گی اور اس کو یہ شخص پہنے گا تو وہ حانث ہو جائے گا اور لہٰذا اس کو وہ کپڑا جو ہے وہ مکہ کے فقراء پر صدقہ کرنا پڑے گا، مکہ کے فقراء پر صدقہ کرنا پڑے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ منت جو ہے اسی چیز میں درست ہوتی ہے جس کا منت کے وقت انسان مالک ہوتا ہے، یا اس کی طرف ملکیت کی نسبت کرتا ہے کہ اگر میں اس چیز کا مالک بنا، یا اس کی طرف سببِ ملکیت کی نسبت کرتا ہے کہ اگر اس کو میں نے خریدا، تو پھر اس صورت میں ان چیزوں پر منت منعقد ہوتی ہے ورنہ صرف مملوکہ چیزوں پر منت منعقد ہوتی ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ عورت عام طور پر جو دھاگہ بناتی ہے وہ اسی روئی سے دھاگہ بناتی ہے جو اس کے خاوند کی مملوک ہوتی ہے، جب خاوند کی مملوک روئی سے دھاگہ بنائے گی تو ظاہر سی بات ہے وہ دھاگہ بھی خاوند کا مملوک ہے کیونکہ یہ اسی کی روئی سے بنایا گیا ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں یہاں سوت کاتنے کو یعنی دھاگہ بنانے کو ذکر کیا گیا اور مراد ہے ایسا دھاگہ جو خاوند کی ملکیت ہو، تو چاہے یہ روئی اس وقت ہی خاوند کی مملوک ہے یا چاہے بعد میں خاوند روئی خرید کر لائے دونوں صورتوں میں یہ دھاگہ جو ہے یہ مملوک ہو گا خاوند کا، تو ان سب کے اندر منت منعقد ہو گئی ہے، تو خاوند کی جو بھی روئی ہے چاہے اس وقت ہے چاہے بعد میں وہ خریدے اور عورت اس سے دھاگہ بنا لے اور پھر اس سے کپڑا بن لے تو خاوند جب بھی اس کو پہنے گا تو وہ مکہ کے فقراء پر اسے صدقہ کرنا پڑے گا۔ اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زیور نہیں پہنوں گا، تو اس صورت میں اگر وہ مہر کی نیت سے چاندی کی انگوٹھی پہنے گا تو یہ حانث نہیں ہو گا بھئی، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر چاندی کی انگوٹھی پر نگینہ لگا ہوا تو پھر اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ یہ زیب و زینت کے لیے ہے، یہ مہر لگانے کے لیے نہیں ہے تو یہ زیور کے اندر داخل ہو گئی، اور اگر سونے کی انگوٹھی ہوئی تو پھر اس صورت میں یہ شخص حانث ہو جائے گا جس نے قسم کھائی تھی کہ میں زیور نہیں پہنوں گا۔ اور اگر صرف موتیوں کا ہار اس نے پہنا تو امام صاحب فرماتے ہیں وہ حانث نہیں، یہ موتیوں کا ہار زیور نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں موتیوں کا ہار بھی زیور ہے اس سے بھی حانث ہو جائے گا، اور صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ بعض فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ یہ صرف زمانے کا اختلاف تھا، امام صاحب کے زمانے میں صرف موتیوں کے ہار کو زیور نہیں کہا جاتا تھا اور صاحبین کے زمانے میں صرف موتیوں کے ہار کو بھی زیور کہا جاتا تھا اور اس کو استعمال کیا جاتا تھا زیب و زینت کے لیے۔ اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے بتلایا: اگر ایک شخص نے ایک بچھونے کی قسم اٹھائی کہ واللہ اس بچھونے کے اوپر میں نہیں سوؤں گا اور پھر اس بچھونے کے اوپر چادر بچھائی اور پھر سو گیا تو یہ حانث ہو جائے گا، لیکن اگر اس بچھونے پر ایک اور بچھونا بچھایا اور پھر اس کے اوپر سویا تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ دوسرا بچھونا پہلے بچھونے کے مثل ہے اور کسی چیز کا مثل جو ہے وہ اس کے تابع نہیں ہوتا، ادنیٰ تو اعلیٰ کے تابع ہو جاتا ہے لیکن اس کا مثل جو ہے اس کے تابع نہیں ہوتا بھئی۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں زمین پر نہیں بیٹھوں گا تو اگر یہ چٹائی پر یا دری وغیرہ پر بیٹھا تو یہ حانث نہیں ہو گا بھئی، اور اسی طرح اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس چارپائی پر یا اس تخت پر نہیں بیٹھوں گا اور پھر اس تخت یا چارپائی پر کوئی چٹائی یا دری وغیرہ یا کپڑا بچھا دیا گیا اور یہ اس کے اوپر بیٹھا تو پھر بھی حانث ہو جائے گا کیونکہ تخت اور چارپائی پر عموماً اسی طرح بیٹھا جاتا ہے کہ اس پر کوئی چیز بچھا لی جاتی ہے، لیکن اگر اس چارپائی یا تخت کے اوپر ایک اور چارپائی اس نے رکھی تو پھر اس صورت میں اس کے اوپر لیٹنے سے یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ کسی چیز کا مثل اس کے تابع نہیں ہوتا، لہٰذا یوں نہیں کہیں گے کہ یہ اسی چارپائی پر سویا ہے بلکہ یوں کہیں گے یہ اوپر والی چارپائی پر سویا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْقَتْلِ وَالضَّرْبِ وَغَيْرِهِ، یہ باب ہے اس یمین کے بارے میں جو قتل کرنے اور پٹائی کرنے وغیرہ کے بارے میں ہو۔ اگر یمین کے اندر کوئی شخص قتل یا پٹائی وغیرہ کو ذکر کرے تو اس کا کیا حکم ہے اب وہ بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ: إِنْ ضَرَبْتُكَ فَعَبْدِي حُرٌّ فَهُوَ عَلَى الْحَيَاةِ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم کھائی اگر میں نے آپ کی پٹائی کی تو میرا غلام آزاد ہے، تو یاد رکھو یہ قسم اس مخاطب کی زندگی پر محمول ہے، مخاطب کی زندگی میں اس کی پٹائی کرے گا تو یہ قسم کھانے والا حانث ہو جائے گا اس کا غلام آزاد ہو جائے گا، اور اگر مخاطب مر گیا ہے اور پھر اس کے بعد اس نے اس کے مردہ جسم کی پٹائی کی ہے تو پھر یہ قسم کھانے والا حانث نہیں، اس لیے کیونکہ ضرب جو ہے، ضرب، پٹائی کرنا وہ ایسے فعل کو کہتے ہیں جس سے دوسرے کو تکلیف ہو، تو میت کی جو پٹائی کرے گا اس کے اندر تو تکلیف دینا نہیں ہے لہٰذا یہ قسم زندگی پر محمول ہو گی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ إِنْ ضَرَبْتُكَ فَعَبْدِي حُرٌّ اور جس شخص نے کہا کہ اگر میں نے تیری پٹائی کی تو میرا غلام آزاد ہے، کسی مخاطب سے ایک آدمی کہتا ہے اگر میں نے آپ کی پٹائی کی تو میرا غلام آزاد ہے، فَهُوَ عَلَى الْحَيَاةِ تو یہ قسم اس مخاطب کی زندگی پر محمول ہے لِأَنَّ الضَّرْبَ اسْمٌ لِفِعْلٍ مُؤْلِمٍ يَتَّصِلُ بِالْبَدَنِ، لِأَنَّ الضَّرْبَ اس لیے کیونکہ پٹائی کرنا اِسْمٌ یہ نام ہے لِفِعْلٍ مُؤْلِمٍ ایسے فعل کا جو تکلیف دینے والا ہے يَتَّصِلُ بِالْبَدَنِ اور بدن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بھئی تکلیف دینا تو اور بھی صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن پٹائی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں بدن کو تکلیف دی جاتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ کوئی ذہنی تکلیف مراد نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الضَّرْبَ اسْمٌ لِفِعْلٍ مُؤْلِمٍ يَتَّصِلُ بِالْبَدَنِ اس لیے کیونکہ پٹائی کرنا وہ نام ہے اس فعل کا جو تکلیف دینے والا ہو اور بدن کے ساتھ جڑا ہوا ہو، وَالْإِيلَامُ لَا يَتَحَقَّقُ فِي الْمَيِّتِ اور تکلیف دینا یہ تو ثابت نہیں ہو سکتا مردے کے اندر، کوئی شخص مر چکا ہے تو وہاں ایلام نہیں ہو سکتا۔ تو ضابطہ یاد رکھنا: اگر قسم کے اندر وہ ایسا فعل ذکر کرتا ہے جو صرف زندگی کے ساتھ خاص ہے تو پھر وہاں زندگی معتبر ہو گی، اور اگر ایسا فعل ذکر کرتا ہے جس میں زندہ اور مردہ برابر ہیں جیسے آگے ذکر کریں گے غسل دینا، غسل زندہ کو بھی دیا جاتا ہے اور غسل مردہ کو بھی دیا جاتا ہے، تو وہاں پر اس نے کہا میں تجھے غسل نہیں دوں گا تو مرنے کے بعد بھی غسل دے دے گا تو حانث ہو جائے گا۔ تو بعض افعال ایسے ہیں جو زندگی کے ساتھ خاص ہیں مثلاً لذت، خوشی، غم، تکلیف، یہ سب کیا ہیں؟ زندگی کے ساتھ خاص ہیں، لذت بھی زندگی میں ہے، خوشی اور غم بھی زندگی میں ہے، تکلیف بھی تکلیف بھی زندگی میں ہے، تو اس صورت میں زندگی کا اعتبار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَالْإِيلَامُ لَا يَتَحَقَّقُ فِي الْمَيِّتِ اور تکلیف دینا یہ تو ثابت نہیں ہو سکتا میت میں، وَمَنْ يُعَذَّبُ فِي الْقَبْرِ يُوضَعُ فِيهِ الْحَيَاةُ فِي قَوْلِ الْعَامَّةِ، یہاں سے صاحب ہدایہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں کہا کہ بدنی تکلیف مردہ کو نہیں ہو سکتی تو پھر مردہ کو عذابِ قبر کیسے ہو گا؟ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ کہ جن کو عذابِ قبر دیا جاتا ہے ان کے اندر اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ ان کے اندر زندگی رکھ دی جاتی ہے یعنی اس بدن کے ساتھ وہ جو قبر کے اندر مردہ پڑا ہے اس کے ساتھ زندگی کا کچھ خاص تعلق ہوتا ہے جو ہمیں تو دکھائی نہیں دیتا لیکن اس کے ساتھ زندگی کا کچھ خاص تعلق ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے وہ تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں مردے کے اندر جو زندگی رکھی جاتی ہے وہ مخصوص حیات ہے، یہ دنیاوی زندگی کے مثل زندگی مراد نہیں ہے بلکہ برزخی حیات مراد ہے، تو لہٰذا اس مرنے والے کے جسم کے ساتھ اس کی روح کا کوئی خاص تعلق ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے اس کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے جب اسے عذاب دیا جاتا ہے بھئی۔ اور یاد رکھنا عذابِ قبر برحق ہے بھئی، حتیٰ کہ علماء نے لکھا ہے کہ عذابِ قبر کا انکار کرنا کفر ہے بھئی، عذابِ قبر کا انکار کرنا کفر ہے بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ عذابِ قبر سے یہ نہیں مراد کہ قبر کے اندر ہی عذاب ہو گا، بھئی اس کا تو مطلب ہے بعض لوگ وہ ہیں جو سمندر میں ڈوب گئے ان کو مچھلیاں کھا گئیں، یا بعض لوگ وہ ہیں جو جل گئے ان کا سارا بدن ہی راکھ ہو گیا، ان کو تو قبر ہی نہیں ملی، تو جواب یاد رکھنا کہ عذابِ قبر کی نسبت ویسے قبر کی طرف کر دی جاتی ہے ورنہ موت کے بعد کا عذاب مراد ہے بھئی۔ ویسے قبر کی طرف نسبت اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ مرنے والے کو عموماً قبر میں ہی دفنایا جاتا ہے، تو یہ ضروری نہیں کہ اسے قبر میں دفنایا جائے تو پھر ہی اسے عذاب ہو گا بلکہ مرنے کے بعد وہ جس صورت میں بھی ہوا اگر وہ عذابِ قبر کا مستحق ہوا تو اس کے بدن کے جو اجزاء ہوں گے ان کے ساتھ عذاب کا تعلق ہو گا بھئی، ان کو اسی صورت میں عذاب دیا جائے گا بھئی۔ تو یہ اخروی معاملات ہیں ان کی پوری حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں لیکن قرآن و حدیث سے عذابِ قبر کے برحق ہونے کا پتہ چلتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ يُعَذَّبُ فِي الْقَبْرِ يُوضَعُ فِيهِ الْحَيَاةُ فِي قَوْلِ الْعَامَّةِ، عامہ سے مراد ہے اکثر، اکثر۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ يُعَذَّبُ فِي الْقَبْرِ اور وہ شخص جس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے يُوضَعُ فِيهِ الْحَيَاةُ اس کے اندر زندگی رکھ دی جاتی ہے یعنی زندگی کا کوئی خاص تعلق ہوتا ہے، کوئی مخصوص زندگی ہے یہ دنیاوی حیات کے مثل زندگی مراد نہیں ہے برزخی زندگی مراد ہے، تو کہتے ہیں: يُوضَعُ فِيهِ الْحَيَاةُ اس کے اندر زندگی رکھ دی جاتی ہے فِي قَوْلِ الْعَامَّةِ اکثر علماء کے قول کے مطابق۔ وَكَذَلِكَ الْكِسْوَةُ، کِسْوَةٌ اور کُسْوَةٌ یہ کاف کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ ہے اور یہ لباس کو کہتے ہیں، بدن ڈھانپنے کا جو کپڑا ہے اس کو کسوہ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ الْكِسْوَةُ اور اسی طرح لباس ہے، ایک شخص قسم کھاتا ہے: إِنْ كَسَوْتُكَ فَعَبْدِي حُرٌّ، اگر میں نے تجھے لباس پہنایا تو میرا غلام آزاد ہے۔ تو یہاں پر لباس پہنانے سے مراد جو ہے مالک بنانا ہے اور مالک تو صرف زندہ کو بنایا جا سکتا ہے مردہ کو تو مالک نہیں بنایا جا سکتا، لہٰذا زندہ کو یہ کپڑے پہنائے گا تو اس صورت میں حانث ہو گا اور اگر مرنے کے بعد اس کو کفن پہنائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ الْكِسْوَةُ اور اسی طرح لباس بھی ہے لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ التَّمْلِيكُ عِنْدَ الْإِطْلَاقِ اس لیے کیونکہ کسوہ سے مراد مالک بنانا ہوتا ہے عند الاطلاق جب اس کا اطلاق کیا جائے، جب اس کو بولا جائے بھئی، تو کسوہ سے مراد مالک بنانا ہوتا ہے، وَمِنْهُ الْكِسْوَةُ فِي الْكَفَّارَةِ اور اسی سے وہ لباس ہے جو کفارے میں ہے، وہ لباس جو کس میں ذکر ہے؟ کفارے میں یعنی اس میں بھی مالک بنانا ضروری ہے بھئی۔ وَهُوَ مِنَ الْمَيِّتِ لَا يَتَحَقَّقُ اور یہ مالک بننا یہ تو مرنے والے کی طرف سے ثابت نہیں ہو سکتا إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ بِهِ السَّتْرَ مگر یہ کہ یہ شخص اس کے ذریعے ڈھانپنے کی نیت کر لے، اس کے ذریعے ڈھانپنے کی نیت کر لے۔ سَتْرٌ کا معنی ہے چھپانا اور ڈھانپنا، تو اگر یہ شخص ذکر تو لباس کو کرتا ہے کسوہ کو ذکر کرتا ہے لیکن مراد یہ ہے کہ میں اس کو ایسا کپڑا نہیں دوں گا جس سے بدن ڈھانپ لے تو پھر یہ موت اور حیات دونوں کو شامل ہو گا، کیونکہ جس طرح زندگی میں ڈھانپنا ہے بدن کو اسی طرح موت میں بھی بدن کو ڈھانپنا ہے، تو وہ ڈھانپنے کے اور ستر کے معنی کا ارادہ کر لیتا ہے تو پھر اس صورت میں اس شخص کے مرنے کے بعد بھی اس کو کفن دے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ بِهِ السَّتْرَ مگر یہ کہ اس کے ذریعے یہ بدن ڈھانپنے کا ارادہ کر لے، وَقِيلَ بِالْفَارِسِيَّةِ يَنْصَرِفُ إِلَى اللُّبْسِ اور کہا گیا ہے کہ فارسی زبان میں یہ قسم پلٹ جائے گی لباس پہنانے کی طرف۔ یعنی فارسی زبان میں اگر کوئی کسی شخص کو کہتا ہے کہ اگر میں نے تجھے لباس پہنایا تو میرا غلام آزاد ہے تو اس صورت میں مالک بنانا مراد نہیں ہو گا صرف لباس پہنانا مراد ہو گا، اس میں صرف لباس پہنانا مراد ہو گا تو جب لباس پہنانا مراد ہے تو پھر میت کے اندر بھی یہ حانث ہو جائے گا، میت کا لباس کیا ہے؟ وہ کفن ہے بھئی، تو یہاں مالک بنانے کا معنی نہیں ہے، مالک بنانے کا معنی وہ تو عربی اعتبار سے تھا، کسی کو لباس پہنانے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اس کو مالک بنانا، وہاں لباس پہنانا معنی مراد نہیں ہوتا بلکہ معنی ہوتا ہے مالک بنانا، جبکہ فارسی زبان میں بعض کبار فقہاء فرماتے ہیں فارسی زبان میں لباس پہنانے کا معنی لباس پہنانا ہی ہے بھئی، مالک بنانا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ بِالْفَارِسِيَّةِ يَنْصَرِفُ إِلَى اللُّبْسِ اور کہا گیا ہے کہ فارسی زبان میں یہ قسم پلٹ جائے گی لباس پہننے کی طرف، وَكَذَا الْكَلَامُ وَالدُّخُولُ اور اسی طرح کلام اور دخول بھی ہیں، ایک آدمی کہتا ہے کہ واللہ میں زید سے کلام نہیں کروں گا تو یہ قسم زید کی زندگی پر محمول ہے، اگر یہ زید کے زندہ ہوتے ہوئے بات کرے گا تو حانث ہو گا، زید کے مرنے کے بعد بات کرے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ اسی طرح دخول کی کوئی قسم کھاتا ہے ایک آدمی کہتا ہے کہ واللہ میں زید پر داخل نہیں ہوں گا یعنی اس کے پاس جاؤں گا نہیں، اس کے پاس جاؤں گا نہیں اس سے ملاقات نہیں کروں گا، تو اس صورت میں بھی یہ قسم زندگی پر محمول ہے کیونکہ کسی پر داخل ہونے سے مراد اس کی زیارت ہوتی ہے اور مرنے کے بعد تو اس آدمی کی زیارت نہیں کی جاتی بلکہ وہاں تو اس کی قبر کی زیارت کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا الْكَلَامُ وَالدُّخُولُ اور اسی طرح کلام اور دخول بھی ہے لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ الْكَلَامِ الْإِفْهَامُ اس لیے کہ کلام کے ذریعے مقصود جو ہے الافہام بات سمجھانا ہے، وَالْمَوْتُ يُنَافِيهِ اور موت اس کے منافی ہے، مردے کو تو نہیں سمجھایا جا سکتا، وَالْمُرَادُ مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْهِ زِيَارَتُهُ اور اس پر داخل ہونے سے مراد اس کی زیارت ہے، وَبَعْدَ الْمَوْتِ يُزَارُ قَبْرُهُ لَا هُوَ اور مرنے کے بعد تو اس کی قبر کی زیارت کی جاتی ہے نہ کہ اس شخص کی۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: إِنْ غَسَّلْتُكَ فَعَبْدِي حُرٌّ۔ صورت یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ اگر میں نے تجھے غسل دیا تو میرا غلام آزاد ہے، اور پھر مرنے کے بعد اس کو غسل دیتا ہے تو بھی حانث ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ إِنْ غَسَّلْتُكَ فَعَبْدِي حُرٌّ فَرَغَسَلَهُ بَعْدَ مَا مَاتَ يَحْنَثُ، اور اگر کسی شخص نے کہا اگر میں نے تجھے غسل دیا تو میرا غلام آزاد ہے فغسلہ بعد ما مات تو اس نے اس کو غسل دیا اس کے مر جانے کے بعد یحنث تو یہ حانث ہو جائے گا۔ یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو غسل مادہ ہے غین، سین، لام، اس کو کہاں غَسل پڑھنا ہے اور کہاں غُسل پڑھنا ہے؟ تو اگر اس مادے کی اضافت جو ہے وہ مغسول کی طرف ہو تو غین پر فتحہ پڑھیں گے، مغسول یعنی جس کو دھویا جا رہا ہے جس کو غسل دیا جا رہا ہے، تو اگر اس غسل مادے کی اضافت ہو جائے مغسول کی طرف تو پھر غین پر فتحہ پڑھیں گے جیسے غَسلِ میت بھئی، غَسلِ میت، میت مغسول ہے اس کی طرف اس غین سین لام مادے کی اضافت ہوئی تو اس غین پر فتحہ پڑھیں گے کیونکہ میت مغسول ہے تو کیا کہیں گے؟ غَسلِ میت، اور اگر غسل کی اضافت ہو رہی ہو غیرِ مغسول کی طرف تو پھر اس غین پر ضمہ پڑھیں گے جیسے غُسلِ جمعہ بھئی، غُسلِ جمعہ، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ إِنْ غَسَّلْتُكَ فَعَبْدِي حُرٌّ فَرَغَسَلَهُ بَعْدَ مَا مَاتَ يَحْنَثُ، اس نے اس کو غسل دیا اس کے مر جانے کے بعد تو وہ حانث ہو جائے گا لِأَنَّ الْغُسْلَ هُوَ الْإِسَالَةُ، أَسَالَ يُسِيلُ إِسَالَةً کا معنی ہے بہا دینا، پانی وغیرہ کو بہانا، لِأَنَّ الْغُسْلَ هُوَ الْإِسَالَةُ اس لیے کیونکہ غسل جو ہے وہ پانی کا بہا دینا ہے، پانی بہا دینے کو غسل کہا جاتا ہے، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْغُسْلَ هُوَ الْإِسَالَةُ اس لیے کیونکہ غسل جو ہے وہ پانی کا بہا دینا ہے وَمَعْنَاهُ التَّطْهِيرُ اور مراد اس سے جو ہے التطهیر پاک کرنا ہے۔ غسل کا معنی ہے پانی کا بہا دینا اور اس کے ذریعے مقصود جو ہے وہ تطہیر ہوتی ہے پاک کرنا ہوتا ہے، تو کہتے ہیں: وَمَعْنَاهُ التَّطْهِيرُ اور اس کے ذریعے مقصود جو ہے وہ پاک کرنا ہوتا ہے، وَيَتَحَقَّقُ ذَلِكَ فِي الْمَيِّتِ اور یہ تو مردہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ وَمَنْ حَلَفَ لَا يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ فَمَدَّ شَعْرَهَا أَوْ خَنَقَهَا أَوْ عَضَّهَا حَنِثَ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ وہ اپنی بیوی کی پٹائی نہیں کرے گا، پھر اس نے اس کے بال کھینچے یا اس نے اس کا گلا دبایا، أَوْ عَضَّهَا، عَضَّ يَعَضُّ کے معنی ہیں دانتوں سے کاٹنا، تو عَضَّ يَعَضُّ کے معنی ہیں دانتوں سے کاٹنا یعنی چک لگانا، تو اس شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں بیوی کی پٹائی نہیں کروں گا پھر اس نے اس کے بال کھینچے یا اس نے اس کا گلا دبایا یا اس نے اس کو دانتوں سے کاٹا اور پھر بعد میں کہتا ہے میں تو حانث نہیں ہوا میں نے تو پٹائی نہیں کی، کہتے ہیں نہیں ان صورتوں میں بھی یہ حانث ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ پٹائی کرنے سے مراد جو تھا وہ بدن کو تکلیف دینا تھا اور ان تمام صورتوں میں بدن کو تکلیف دینا پایا گیا۔ تو چاہے یہ اس نے غصے کے اندر یہ عمل کیا ہو چاہے ہنسی مذاق میں کیا لیکن بال کھینچے تکلیف ہوئی یا دانتوں سے کاٹا اور تکلیف ہوئی اور یا گلا دبایا اور تکلیف ہوئی تو ان تمام صورتوں میں حانث ہو جائے گا۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اگر غصے میں یہ عمل کرے گا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ یہ تکلیف دے رہا ہے، لیکن اگر ہنسی مذاق میں وہ ایسا کرتا ہے تو اس کو ہنسی مذاق کہتے ہیں ضرب نہیں کہتے لہٰذا اس صورت میں حانث نہیں ہو گا، اور علماء نے اس قول کو ترجیح دی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنی بیوی کی پٹائی نہیں کرے گا فَمَدَّ شَعْرَهَا تو پھر اس نے اس کے بال کھینچے أَوْ خَنَقَهَا یا اس کا گلا دبایا أَوْ عَضَّهَا یا اسے دانتوں سے کاٹا حَنِثَ تو یہ حانث ہو جائے گا لِأَنَّهُ اسْمٌ لِفِعْلٍ مُؤْلِمٍ اس لیے کیونکہ ضرب اس فعل کا نام ہے جو تکلیف دیتا ہے یعنی بدن کو، اس فعل کا نام ہے جو بدن کو تکلیف دیتا ہے، وَقَدْ تَحَقَّقَ الْإِيلَامُ اور تحقیق ان افعال کے اندر تو تکلیف دینا پایا گیا، بدن کو تکلیف دینا پایا گیا۔ وَقِيلَ لَا يَحْنَثُ فِي حَالِ الْمُلَاعَبَةِ، ملاعبت کہتے ہیں کسی کے ساتھ کھیلنا بھئی، وَقِيلَ اور کہا گیا ہے لَا يَحْنَثُ فِي حَالِ الْمُلَاعَبَةِ کہ ملاعبت کی حالت میں حانث نہیں ہو گا یعنی ہنسی مذاق اور کھیلتے ہوئے ایسا کرے تو حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ يُسَمَّى مُمَازَحَةً لَا ضَرْبًا اس لیے کیونکہ اس کو ہنسی مذاق کہتے ہیں لا ضرباً ضرب نہیں کہتے۔ مُمَازَحَةٌ، مَازَحَ يُمَازِحُ مُمَازَحَةً کا معنی بھی ہے ہنسی مذاق کرنا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَقِيلَ لَا يَحْنَثُ فِي حَالِ الْمُلَاعَبَةِ اور کہا گیا ہے کہ کھیلنے کی حالت میں حانث نہیں ہو گا یعنی ہنسی مذاق کرنے کی حالت میں حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ يُسَمَّى مُمَازَحَةً لَا ضَرْبًا اس لیے کیونکہ اس کو ہنسی مذاق کرنا کہتے ہیں ضرب نہیں کہتے۔ وَمَنْ قَالَ: إِنْ لَمْ أَقْتُلْ فُلَانًا فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ وَفُلَانٌ مَيِّتٌ وَهُوَ عَالِمٌ بِهِ حَنِثَ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے کہا اگر میں فلاں کو قتل نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے اور حال یہ ہے کہ وہ فلاں تو مر چکا ہے، اور یہ قسم کھانے والے کو بھی پتہ ہے کہ وہ مر چکا ہے، پھر بھی وہ یہ قسم کھا رہا ہے کہ اگر میں فلاں کو قتل نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں حانث ہو جائے گا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں ضابطہ بتلایا تھا کہ قسم کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو پورا کرنا ممکن ہو اور یہاں تو اس کو قتل کرنا ممکن ہی نہیں ہے وہ تو پہلے ہی مر چکا ہے، تو یہ قسم تو منعقد ہی نہیں ہونی چاہیے؟ کہتے ہیں نہیں اس قسم کا پورا کرنا بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوبارہ زندہ فرما دیں، امکان ہے اللہ اس شخص کو دوبارہ زندہ فرما دیں، دوبارہ زندگی دے دیں تو لہٰذا وہ زندہ ہو جائے اور پھر اس کا قتل ممکن ہو جائے گا، تو معلوم ہوا فی ذاتہ یہ عمل ممکن ہے۔ جب یہ عمل ممکن ہے تو لہٰذا اس کی قسم منعقد ہو گئی اور منعقد ہوتے ہی فوراً یہ حانث ہو گیا کیونکہ عادتاً تو یہ اس سے عاجز ہے۔ فی ذاتہ اس کا امکان ہے لیکن عادتاً یہ ایسا ہوتا نہیں لہٰذا فوراً حانث بھی ہو جائے گا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے پیچھے قسم گزری تھی کہ قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ میں آسمان پر ضرور چڑھوں گا یا واللہ میں اس پتھر کو ضرور سونے سے بدل دوں گا، تو دیکھو وہاں پر بھی وہاں پر بھی بطور کرامت کے اللہ اس کو آسمان پر لے جائیں یا اس پتھر کو سونے سے بدل دیں یہ امکان تو ہے لیکن عادتاً یہ ہوتا نہیں، عادتاً یہ ممکن نہیں ہے تو لہٰذا اس کی قسم تو منعقد ہو جائے گی لیکن عادتاً چونکہ وہ اس سے عاجز ہے لہٰذا فوراً حانث ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی ممکن ہے اللہ اس شخص کو زندہ فرما دیں تو اس قسم کا پورا کرنا ممکن تو ہے لیکن عادتاً یہ اس سے عاجز ہے تو قسم منعقد ہو گی اور پھر فوراً ہی عجزِ عادی کی وجہ سے یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ اور جس شخص نے کہا إِنْ لَمْ أَقْتُلْ فُلَانًا کہ اگر میں فلاں کو قتل نہ کروں فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ تو اس کی بیوی کو طلاق ہے وَفُلَانٌ مَيِّتٌ اور حال یہ ہے کہ وہ فلاں مردہ ہے وَهُوَ عَالِمٌ بِهِ اور حال یہ ہے کہ قسم کھانے والا بھی اس کو جانتا ہے حَنِثَ تو یہ قسم کھانے سے حانث ہو جائے گا یعنی طلاق واقع ہو جائے گی، لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ عَلَى حَيَاةٍ يُحْدِثُهَا اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ، لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ اس لیے کیونکہ اس نے اپنی قسم باندھی ہے یعنی اس نے اپنی قسم کھائی ہے عَلَى حَيَاةٍ ایسی زندگی پر يُحْدِثُهَا اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ جو اللہ اس کے اندر پیدا فرما دیں، اللہ اس کے اندر ایک نئی زندگی پیدا فرما دیں یہ ممکن ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ عَلَى حَيَاةٍ يُحْدِثُهَا اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ اس لیے کیونکہ اس نے اپنی قسم کھائی ہے ایسی زندگی پر جو اللہ اس مردے کے اندر پیدا فرما دیں، وَهُوَ مُتَصَوَّرٌ اور اس طرح کی زندگی کا تصور کیا جا سکتا ہے، فَيَنْعَقِدُ لہٰذا اس کی قسم منعقد ہو گئی، ثُمَّ يَحْنَثُ لِلْعَجْزِ الْعَادِيِّ پھر یہ حانث ہو گیا عجزِ عادی کی وجہ سے کہ عادتاً یہ ایسا کرنے سے عاجز ہے، عادتاً ایسا ہوتا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ يَحْنَثُ لِلْعَجْزِ الْعَادِيِّ تو پھر یہ عجزِ عادی کی وجہ سے حانث ہو جائے گا، وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ لَا يَحْنَثُ اور اگر اس کو معلوم نہیں ہے تو حانث نہیں، اس شخص نے قسم اٹھائی واللہ اگر میں فلاں کو قتل نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے اور حال یہ ہے کہ وہ مر چکا ہے لیکن اس کو نہیں پتہ کہ وہ مر چکا ہے، اس کو نہیں پتہ کہ وہ مر چکا ہے تو اس صورت میں حانث نہیں، بھئی کیوں نہیں حانث؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تو کہتے ہیں کہ اس صورت میں وہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ اس کی یہ قسم یمینِ لغو کے مشابہ ہو گئی اور یمینِ لغو کے اندر حانث نہیں ہوتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ طرفین کے نزدیک اس کی قسم منعقد ہی نہیں ہوئی۔ اس کی قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، کیوں نہیں منعقد ہوئی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قسم کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا پورا کرنا ممکن ہو۔ اور اس قسم کا پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ بھئی کیسے ممکن نہیں؟ ابھی آپ نے ہمیں بتایا اللہ اس آدمی کو دوبارہ زندہ فرما دیں۔ تو جواب یہ کہ بھئی یہ وہ صورت ہے جب اس کو علم نہیں ہے۔ پہلی صورت میں اس کو علم تھا۔ معلوم ہوا وہ جس قتل کی بات کر رہا تھا وہ اس زندگی کے قتل کی بات نہیں کر رہا کیونکہ یہ زندگی تو اس کی ختم ہو چکی ہے وہ مر چکا ہے، اللہ اس میں دوبارہ زندگی پیدا کر دیں اور یہ پھر کیا کر دے اس کو؟ قتل کر دے، یہ ممکن ہے۔ لیکن اب جب اس کو علم نہیں ہے معلوم ہوا وہ اسی زندگی کی بات کر رہا ہے جو پہلے تھی بھئی، کہ میں اس کو ختم کر کے اس زندگی کا خاتمہ کر دوں گا، اور وہ زندگی تو ختم ہو چکی ہے، اب اگر اللہ اس کو دوبارہ زندہ بھی فرما دیں وہ تو نئی زندگی ہو گی وہی والی زندگی نہیں، وہ زندگی تو گزر چکی ہے، تو اس زندگی کا ختم قتل کے ذریعے اب ممکن ہی نہ رہا بھئی۔ اگر اللہ زندہ بھی فرما دیں یہ وہی زندگی تو نہیں ہو گی یہ تو دوسری زندگی ہو گی، یہ تو اس پہلی زندگی کی بات کر رہا تھا جس کا اس کو علم تھا کہ فلاں شخص زندہ ہے بھئی۔ تو لہذا یہاں پر اس قسم کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں لہذا یہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، جب منعقد ہی نہیں ہوئی تو یہ حانث بھی نہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حانث ہو گیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک قسم کے منعقد ہونے کے لیے اس کا پورا کرنا ممکن ہو یہ ضروری نہیں ہے، پورا کرنا بے شک ممکن نہ ہو لیکن پھر بھی اس کی جگہ کفارہ آ جائے گا اس پورا کرنے کا نائب آ جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ لَا يَحْنَثُ، اور اگر قسم کھانے والے کو اس ادمی کی موت کا علم نہیں ہے لَا يَحْنَثُ تو یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ یمین ہی منعقد نہیں ہوئی، تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ عَلَى حَيَاةٍ كَانَتْ فِيهِ، حَيَاةٍ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد كَانَتْ فِيهِ جملہ آ رہا ہے یہ اس کی صفت بنے گا، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ عَلَى حَيَاةٍ كَانَتْ فِيهِ اس لیے کیونکہ اس نے اپنی قسم باندھی ہے ایسی زندگی پر جو اس ادمی کے اندر تھی، اس زندگی پر جو اس آدمی میں پہلے تھی اس پر اس نے اپنی قسم منعقد کی ہے، وَلَا يُتَصَوَّرُ اور اس زندگی کا تو تصور نہیں کیا جا سکتا، یا یوں کہیں: وَلَا يُتَصَوَّرُ اس قسم کو تو پورا کرنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا، تو جب پورا کرنے کا تصور نہیں ہو سکتا تو حانث ہونے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یمین منعقد ہی نہیں ہوئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عَقَدَ يَمِينَهُ عَلَى حَيَاةٍ كَانَتْ فِيهِ وَلَا يُتَصَوَّرُ، اس لیے کیونکہ اس نے اپنی قسم کھائی ہے ایسی زندگی پر جو اس آدمی کے اندر پہلے موجود تھی اور حال یہ ہے کہ اس قسم کے پورا ہونے کا تو تصور نہیں کیا جا سکتا فَيَصِيرُ قِيَاسَ مَسْأَلَةِ الْكُوزِ عَلَى الِاخْتِلَافِ، تو اس مسئلے کا جو حکم ہے وہ ہو گیا کوزے کے مسئلے کے قیاس پر اسی اختلاف پر، جیسے وہ کوزے کا مسئلہ گزرا تھا۔ ایک خالی برتن پڑا ہے اور ایک آدمی کہتا ہے کہ واللہ اگر اس کوزے کے اندر جو پانی موجود ہے وہ میں نے نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے۔ اب اس کوزے میں پانی موجود ہی نہیں ہے تو اس کو پینا بھی ممکن نہیں ہے، جب پینا ممکن نہیں ہے تو طرفین کے نزدیک یہ قسم ہی منعقد نہیں ہوئی جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قسم منعقد ہو گئی بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ مسئلہ بھی اس کوزے کے مسئلے کی طرح ہے اور اسی اختلاف پر ہے جو اختلاف وہاں پر طرفین اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ کے درمیان تھا بھئی۔ کہتے ہیں: فَيَصِيرُ قِيَاسَ مَسْأَلَةِ الْكُوزِ عَلَى الِاخْتِلَافِ تو اس مسئلے کا حکم بھی کوزے کے مسئلے کے قیاس پر ہے یعنی اسی طریقے پر ہے اسی اختلاف پر جو طرفین اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ کے درمیان تھا، وَلَيْسَ فِي تِلْكَ الْمَسْأَلَةِ تَفْصِيلُ الْعِلْمِ هُوَ الصَّحِيحُ اور اس مسئلے کے اندر علم کی تفصیل نہیں تھی یہی قول صحیح ہے۔ یعنی اس مسئلے میں تو علم کے اندر تفصیل ہے، اگر اس شخص کو اس آدمی کے مرنے کا پتہ ہے اور پھر کہتا ہے کہ اگر میں نے فلاں کو قتل نہیں کیا تو میری بیوی کو طلاق، تو پھر اس صورت میں قسم بھی منعقد ہو گئی اور یہ حانث بھی ہو گیا۔ اور اگر اس کو علم نہیں ہے تو پھر یہ قسم بھی منعقد نہیں اور حانث بھی نہیں، تو یہاں پر تو طرفین نے جاننے اور نہ جاننے کے اندر فرق کیا ہے لیکن وہاں پر وہ جو کوزے کا مسئلہ ہے اس کے اندر طرفین نے جاننے اور نہ جاننے میں کوئی فرق نہیں کیا۔ چاہے اس آدمی کو پتہ ہے کوزہ خالی ہے چاہے اس کو پتہ نہیں ہے، دونوں صورتوں میں جب کوزہ خالی پڑا ہے اور یہ قسم کھائے گا تو قسم منعقد ہی نہیں ہوئی طرفین کے نزدیک، چاہے جانتا ہو چاہے نہ جانتا ہو۔ تو یہاں پر علم کے اندر تفصیل ہے جاننے میں اور حکم ہے اور نہ جاننے میں اور حکم ہے، اور کوزے کے مسئلے میں کوئی تفصیل نہیں ہے بھئی، وہاں دونوں کا ایک ہی حکم ہے چاہے کوزے میں پانی ہونے کا علم ہو چاہے علم نہ ہو، کس کے نزدیک؟ طرفین کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: وَلَيْسَ فِي تِلْكَ الْمَسْأَلَةِ تَفْصِيلُ الْعِلْمِ هُوَ الصَّحِيحُ، اور اس کوزے کے مسئلے میں علم کی تفصیل نہیں ہے یعنی جاننے یا نہ جاننے کی تفصیل نہیں ہے، یہی قول صحیح ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: بَابُ الْيَمِينِ فِي تَقَاضِي الدَّرَاهِمِ۔ تَقَاضِي بھئی، تَقَاضَى يَتَقَاضَى تَقَاضِيًا کا معنی ہے کسی سے اپنے دیے ہوئے قرض کا تقاضا کرنا۔ آپ نے ایک آدمی کو قرض دیا ہوا ہے اور آپ اس سے اب اپنا دیا ہوا قرض واپس مانگتے ہیں اس کو کہتے ہیں تقاضی، بابِ تفاعل ہے۔ تو اپنے دیے ہوئے قرض کا مطالبہ کرنا اس کو تقاضی کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: بَابُ الْيَمِينِ فِي تَقَاضِي الدَّرَاهِمِ یہ باب ہے درہموں کے تقاضے کے بیان میں۔ اس باب میں وہ قسمیں ذکر فرمائیں گے جس میں قرض وصول کرنے یا قرض ادا کرنے وغیرہ کا ذکر ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَيَقْضِيَنَّ دَيْنَهُ إِلَى قَرِيبٍ، اور جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ ضرور بالضرور اپنا قرضہ ادا کرے گا إِلَى قَرِيبٍ قریبی مدت میں۔ ایک آدمی نے دوسرے کو قرض دیا ہوا ہے اور وہ قرض ادا نہیں کر رہا اور یہ اس کے پاس گیا قرض کا مطالبہ کر رہا ہے تو وہ آدمی اس کو جواب دیتا ہے، وہ مقروض اس قرض خواہ کو جواب دیتا ہے کہ واللہ میں قریب ہی یعنی بہت جلدی میں آپ کا قرضہ ادا کر دوں گا۔ اب اس قریب کے زمانے سے کتنا زمانہ مراد لیں گے جس میں وہ ادا کرے گا تو حانث نہیں ہو گا اور اس کے بعد ادا کرے گا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ اس نے قسم کھا لی ہے؟ تو کہتے ہیں اس سے مراد مہینے سے کم ہے، قریبی زمانے سے مراد مہینے سے کم ہے، اور اگر دور کے زمانے کی بات کی تو پھر یہ مہینے سے زیادہ پر یہ قسم محمول ہو گی۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کو قرض دیا ہوا ہے اور کسی بات پر وہ دوسرا آدمی غصے میں آ کر کہتا ہے کہ واللہ میں تمہارا قرض دیر سے ادا کروں گا، تو اب دیر سے ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ مہینے سے زیادہ، اگر مہینے سے پہلے اب ادا کرے گا تو اب یہ قسم کھا چکا ہے یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَيَقْضِيَنَّ دَيْنَهُ إِلَى قَرِيبٍ کہ جس شخص نے قسم کھا لی کہ وہ ضرور بالضرور اپنا دین ادا کر دے گا إِلَى قَرِيبٍ قریب کے زمانے میں ہی، فَهُوَ مَا دُونَ الشَّهْرِ تو یہ قسم محمول ہو گی مہینے سے کم پر، مہینے سے کم میں ادائیگی کرنا پڑے گی ورنہ حانث ہو جائے گا، وَإِنْ قَالَ إِلَى بَعِيدٍ اور اگر اس نے کہا کہ دور تک یعنی دور کے زمانے میں میں ادا کروں گا تو کہتے ہیں: فَهُوَ أَكْثَرُ مِنَ الشَّهْرِ تو یہ قسم محمول ہے مہینے سے زیادہ پر، مہینے سے کم میں اگر ادا کرے گا تو حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ مَا دُونَهُ يُعَدُّ قَرِيبًا اس لیے کیونکہ مہینے سے جو کم ہے اس کو قریب شمار کیا جاتا ہے، وَالشَّهْرُ وَمَا زَادَ عَلَيْهِ يُعَدُّ بَعِيدًا اور مہینہ اور اس سے جو زیادہ ہو اس کو بعید شمار کیا جاتا ہے، وَلِهَذَا يُقَالُ عِنْدَ بُعْدِ الْعَهْدِ، عَہْدٌ کہتے ہیں زمانے کو، وَلِهَذَا يُقَالُ عِنْدَ بُعْدِ الْعَهْدِ اور اسی لیے زمانے کے بعید ہونے کے وقت کہا جاتا ہے جب لمبا زمانہ گزرے تو کہا جاتا ہے: مَا لَقِيتُكَ مُنْذُ شَهْرٍ کہ ایک ماہ سے میری تم سے ملاقات نہیں ہوئی، معلوم ہوا مہینے کو لمبا زمانہ شمار کیا جاتا ہے۔ وَمَنْ حَلَفَ لَيَقْضِيَنَّ فُلَانًا دَيْنَهُ الْيَوْمَ۔ بھئی صورتِ مسئلہ سے پہلے دو تین لفظ سمجھ لیں بھئی، یہاں آگے متن میں آ رہا ہے زُيُوفٌ بھئی، زُيُوفٌ جمع ہے زَيْفٌ کی اور زَيْفٌ کہتے ہیں کھوٹے درہم کو، کھوٹا درہم۔ یاد رکھو درہم جو ہے چاندی سے بنایا جاتا ہے اور دینار جو ہے وہ سونے سے بنایا جاتا ہے، اور درہم کا وزن ہوتا ہے تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ، اور دینار جو ہے وہ ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے یعنی دینار درہم کے مقابلے میں زیادہ وزن کا نام ہے۔ تو یاد رکھو یہ درہم چاندی کے بنائے جاتے ہیں اور دینار سونے سے، لیکن یہ خالص چاندی یا خالص سونا نہیں ہوتا، اس لیے کیونکہ خالص چاندی یا خالص سونا نرم ہوتا ہے تو اس کے ساتھ پھر کچھ کھوٹ ملایا جاتا ہے، اس کے ساتھ کچھ کھوٹ ملایا جاتا ہے مضبوطی کے لیے، تو درہم کے اندر بھی تھوڑا بہت کھوٹ ہو گا مضبوطی کے لیے اور دینار میں بھی تھوڑا بہت کھوٹ ہو گا مضبوطی کے لیے، لیکن بعض اوقات یہ کھوٹ زیادہ ہو جاتا ہے تو اس طرح کے درہم یا دینار کو زَيْفٌ کہتے ہیں اور جمع ہے زُيُوفٌ۔ تو زیوف کسے کہتے ہیں؟ وہ درہم و دینار جس میں معمول سے زیادہ کھوٹ ہو۔ اور اسی طرح آگے لفظ ذکر ہو گا نَبَهْرَجَةٌ، یاد رکھو نَبَهْرَجَةٌ یہ بھی وہ درہم اور دینار ہیں جن کے اندر کھوٹ ہوتا ہے لیکن ان کے اندر زیوف سے بھی بڑھ کر کھوٹ ہوتا ہے، زیوف میں معمول سے کچھ زیادہ کھوٹ ہے اور نبہرجہ میں اور بھی زیادہ کھوٹ ہے، تو یہ اس زمانے میں کوئی رائج ہوں گے لوگ پہچانتے ہوں گے بھئی کہ کس میں کتنا کھوٹ ہے بھئی، کوئی اس کی شکل و صورت سے پتہ چل جاتا ہو گا۔ تو علماء لکھتے ہیں کہ یہ جو زیوف درہم تھے جن میں کھوٹ ذرا زیادہ ہوتا تھا اس کو بیت المال قبول نہیں کرتا تھا، اگر کسی نے زکوٰۃ وغیرہ ادا کرنی ہے بیت المال والے لینے آ گئے ہیں زکوٰۃ تو اس کے اندر اعلیٰ درہم اور دینار لیے جاتے تھے، یہ زیادہ کھوٹ والے درہم اور دینار نہیں لیے جاتے تھے۔ تو زیوف کے اندر معمول سے کچھ زیادہ کھوٹ تھا تو اس کو بیت المال والے نہیں لیتے تھے، البتہ تاجروں کے اندر یہ عام چلتے تھے، بازار میں اور تاجروں میں یہ عام چلتے تھے۔ جبکہ نبہرجہ، نبہرجہ میں تو زیوف سے بھی زیادہ کھوٹ ہے تو اس کو بڑے تاجر بھی نہیں لیتے تھے، عام چھوٹے موٹے تاجر تو لے لیتے تھے لیکن بڑے تاجر بھی اس کو نہیں لیتے تھے بھئی۔ اب صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے کسی دوسرے سے قرض لیا ہوا ہے، وہ قسم کھاتا ہے کہ واللہ آج میں فلاں کو اپنا دین ضرور ادا کر دوں گا، پھر اس نے لے جا کر اس کو دین ادا کیا وہ درہم یا دینار ادا کر دیے، لیکن وہ درہم اور دینار زیوف نکلے جن میں کھوٹ زیادہ تھا، یا وہ نبہرجہ نکلے یعنی ان زیوف سے بھی بڑھ کر ان کے اندر کھوٹ تھا، یا وہ درہم کسی اور کے نکلے۔ اس نے ادا کیے، بعد میں اس نے دیکھا تو یہ تو کھوٹے درہم ہیں، یا اس نے ادا کر دیے اس نے لیے، بعد میں اس نے دیکھا تو یہ تو نبہرجہ تھے، یا اس نے درہم اور دینار دے دیے بعد میں پتہ چلا یہ تو کسی اور کے درہم اٹھا کر لے آیا ہے، تو کہتے ہیں تمام صورتوں کے اندر اس کی قسم پوری ہو گئی یہ حانث نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اس نے بھی کیا کہا تھا؟ میں آج کے دن قرض ادا کروں گا اور اس نے ادائیگی کر دی، کیونکہ چاہے زیوف ہوں لیکن کہتے ان کو درہم ہی ہیں، چاہے وہ نبہرجہ ہوں لیکن کہتے درہم ہی ہیں، اور چاہے کسی اور کے درہم ہوں لیکن ہیں تو درہم ہی بھئی، تو اس نے بھی درہم ادا کر دیے ہیں لہذا قسم پوری ہو گئی۔ اب وہ شخص بعد میں واپس لے آیا اس کے پاس کہ یہ کھوٹے میں نہیں لوں گا، تو کہتے ہیں بے شک وہ واپس کر دے پھر بھی ایک دفعہ قسم پوری ہو چکی ہے اب دوبارہ قسم ٹوٹ جائے ایسا نہیں ہو گا۔ پھر یا وہ واپس لے آیا کہ یہ تو کسی اور کے درہم تم اٹھا کر لے آئے ہو، تو اس صورت کے اندر بھی قسم ایک دفعہ پوری ہو چکی ہے لہذا اب واپس کرنے سے بھی وہ ادائیگی ختم نہیں ہو گی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ یہ بے شک زیوف ہیں یا نبہرجہ ہیں یا کسی اور کے ہیں لیکن ہیں تو درہم، ان کو کہتے تو درہم ہیں، تو جب اس نے دے دیے ادائیگی تو پائی گئی اور اس نے بھی ادائیگی ہی کو ذکر کیا تھا تو اس کی قسم پوری ہو چکی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَيَقْضِيَنَّ فُلَانًا دَيْنَهُ الْيَوْمَ، اور جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ ضرور بالضرور فلاں کو اس کا دین ادا کرے گا آج کے دن، فَقَضَاهُ تو اس نے اس کو ادا کر دیا، ثُمَّ وَجَدَ فُلَانٌ بَعْضَهَا زُيُوفًا پھر اس فلاں نے ان میں سے بعض درہموں کو زیوف پایا کہ وہ کھوٹے ہیں، أَوْ نَبَهْرَجَةً یا فلاں نے ان میں سے بعض کو نبہرجہ پایا، أَوْ مُسْتَحَقَّةً یا فلاں نے ان کو کسی اور کا مستحق پایا کہ کسی اور کے یہ درہم ہیں، لَمْ يَحْنَثِ الْحَالِفُ تو قسم کھانے والا حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّ الزِّيَافَةَ عَيْبٌ، زيافۃ اور زيافۃ زا کے فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ الزَّيَافَةَ عَيْبٌ اس لیے کیونکہ کھوٹ کا ہونا عیب ہے، وَالْعَيْبُ لَا يُعْدِمُ الْجِنْسَ اور عیب اس جنس کو معدوم نہیں کرتا۔ کھوٹا ہونا عیب ہے لیکن عیب آنے سے کوئی درہم کی جنس نہیں ختم ہوئی کہتے اس کو درہم ہی ہیں بھئی، تو جنس معدوم نہیں ہوئی، تو اس پر بھی دین درہم تھا اور اس نے بھی درہم ادا کیے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْعَيْبُ لَا يُعْدِمُ الْجِنْسَ اور عیب جو ہے یہ اس جنس کو یعنی درہموں کی جنس کو معدوم نہیں کرتا، وَلِهَذَا لَوْ تَجَوَّزَ بِهِ، تجوز کا معنی ہے چشم پوشی کرنا، کسی معاملے میں نرمی سے کام لینا، چشم پوشی کرنا، چنانچہ اگر یہ اس کے پاس زیوف لے گیا اور اس نے زیوف لے لیے اور اس کو پتہ بھی چل گیا یہ زیوف ہیں پھر بھی اس نے کہا چلو ٹھیک ہے وصول تو ہو گئے، تو یاد رکھو اس صورت میں ادائیگی ہو جائے گی، یا یہ نبہرجہ لے گیا اس کو پتہ چل گیا کہ یہ نبہرجہ ہیں لیکن پھر بھی اس نے اپنے پاس رکھ لیے تو ان صورتوں میں ادائیگی ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی، معلوم ہوا یہ درہم ہی ہیں اگر یہ درہم نہ ہوتے تو ادائیگی ہی نہ ہوتی۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا لَوْ تَجَوَّزَ بِهِ اور اسی لیے اگر اس قرض خواہ نے اس میں چشم پوشی کر لی، صَارَ مُسْتَوْفِيًا تو وہ وصول کرنے والا ہو گیا، مستوفی وصول کرنے والا، تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا لَوْ تَجَوَّزَ بِهِ صَارَ مُسْتَوْفِيًا اور اگر اس قرض خواہ نے ان درہموں کے اندر چشم پوشی کر لی یعنی ایسے ہی بس لے لیے تو یہ وصول کرنے والا ہو گیا یعنی اس نے چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے انہی درہموں کو قبول کر لیا ان کو لے لیا تو وہ اپنے حق کو وصول کرنے والا ہو گیا، فَوُجِدَ شَرْطُ الْبِرِّ تو قسم پورا کرنے کی شرط پائی گئی چاہے زیوف ہیں یا نبہرجہ ہیں یا مستحقہ ہیں، تمام صورتوں میں ادائیگی تو پائی گئی اور ادائیگی ہی کی تو اس نے قسم کھائی تھی کہ واللہ میں آج اپنا دین ضرور ادا کروں گا، تو جس صورت میں بھی یہ ادائیگی کر دے چاہے زیوف ہوں چاہے نبہرجہ ہوں چاہے مستحقہ ہوں ادائیگی ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فَوُجِدَ شَرْطُ الْبِرِّ تو قسم پورا کرنے کی شرط پائی گئی، وَقَبْضُ الْمُسْتَحَقَّةِ صَحِيحٌ اور مستحق دراہم کا قبضہ بھی صحیح ہے یعنی کسی اور کے درہم ہیں ان پر قبضہ بھی صحیح ہے، وَلَا يَرْتَفِعُ بِرَدِّهِ الْبِرُّ الْمُتَحَقِّقُ اور اٹھے گا نہیں یعنی ختم نہیں ہو گا بِرَدِّهِ اس قرض خواہ کے واپس کر دینے سے الْبِرُّ الْمُتَحَقِّقُ وہ قسم کا پورا کرنا جو ہو چکا ہے۔ قسم کا پورا کرنا تو ہو چکا ہے اب وہ واپس بھی لوٹا دے گا بعد میں وہ درہم تو بھی اب وہ پورا کرنا جو ثابت ہو چکا ہے اس کے واپس لوٹانے سے وہ فسخ نہیں ہو گا، وہ ادائیگی ایک دفعہ ہو چکی ہے۔ یہ معنی ہے: وَلَا يَرْتَفِعُ بِرَدِّهِ الْبِرُّ الْمُتَحَقِّقُ اور اس قرض خواہ کے واپس کر دینے کی وجہ سے وہ قسم کا پورا کرنا جو ہو چکا ہے وہ اٹھے گا نہیں یعنی وہ ختم نہیں ہو گا۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ وَجَدَهَا رَصَاصًا أَوْ سَتُّوقَةً حَنِثَ۔ بھئی رَصَاصٌ بھئی، رَصَاصٌ صاد ہے دونوں جگہ، رَصَاصٌ بھی کہتے ہیں اور رِصَاصٌ بھی کہتے ہیں، لغت میں اس کا معنی لکھا ہے رانگ بھئی، را الف نون گاف: رانگ۔ رانگ یہ کوئی دھات ہے جس سے برتن بنائے جاتے ہیں اور غالباً میرا خیال ہے یہ وہ دھات ہے جس کو ہمارے ہاں سلور کہتے ہیں، سلور کے برتن ہوتے ہیں سفید چمکدار چاندی کی طرح کے اور بالکل ہلکے پھلکے ہوتے ہیں، تو یہ ہے رانگ بھئی۔ ایک تو سٹیل کے برتن ہیں وہ تو بڑے وزنی ہوتے ہیں اور یہ رانگ کے برتن ہلکے پھلکے ہوتے ہیں، تو اس کو رَصَاصٌ کہتے ہیں، تو یہ بھی دیکھو چاندی کی طرح سفید ہے۔ تو اگر کوئی شخص رانگ کے بنے ہوئے درہم ادا کرتا ہے یا اسی طرح آگے آ رہا ہے سَتُّوقَةً، ستوقہ کے اندر یاد رکھو یہ تا مشدد ہے، میری کتاب میں تو شد نہیں ڈلا ہوا تا پر لیکن یہ مشدد ہونا چاہیے۔ سَتُّوقَةً، ستوقہ بھی کہتے ہیں سین کے فتحہ کے ساتھ بھی اور سین کے ضمہ کے ساتھ بھی: سُتُّوقَةً بھی کہتے ہیں۔ تو ستوقہ یاد رکھو وہ درہم ہے جو چاندی کا ہوتا ہی نہیں، وہ پیتل یا تانبے کا ہوتا ہے اور اوپر اس کے باریک سی تہہ چاندی کی چڑھا دی جاتی ہے اوپر اور نیچے کی طرف بھئی۔ تو معلوم ہوا اگر وہ رصاص کے درہم ادا کرتا ہے یا وہ ستوقہ درہم لا کے ادا کرتا ہے کہتے ہیں پھر ادائیگی نہیں ہوئی کیونکہ ان کو تو درہم کہتے ہی نہیں ہیں، ان کی شکل بے شک درہم جیسی ہے لیکن ان کو کوئی بھی درہم نہیں کہتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ستوقہ وہ درہم جو تین تہوں والا ہے، درمیان میں پیتل یا تانبا ہے اور اوپر نیچے چاندی کی باریک تہہ اس پر لگی ہوئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَجَدَهَا رَصَاصًا أَوْ سَتُّوقَةً اور اگر قرض خواہ نے ان درہموں کو رصاص پایا یعنی وہ رانگ دھات ہے وہ پایا، أَوْ سَتُّوقَةً یا تین تہہ والے درہم پائے یعنی جو پیتل یا تانبے کے ہیں اور اوپر چاندی چڑھی ہوئی ہے، حَنِثَ تو اب یہ شخص حانث ہو جائے گا کیونکہ ادائیگی نہیں ہوئی، ادائیگی نہیں ہوئی ان کو درہم نہیں کہا جاتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: حَنِثَ یہ حانث ہو جائے گا لِأَنَّهُمَا لَيْسَا مِنْ جِنْسِ الدَّرَاهِمِ اس لیے کیونکہ یہ دونوں درہموں کی جنس میں سے نہیں ہیں، حَتَّى لَا يَجُوزُ التَّجَوُّزُ بِهِمَا فِي الصَّرْفِ وَالسَّلَمِ، حَتَّى لَا يَجُوزُ یہاں پر بھی حَتَّى نَصَبَ نہیں دے گا بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حَتَّى کے نَصَبَ دینے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک شرط تو یہ ہے کہ حَتَّى کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہونا چاہیے اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہاں حَتَّى سببيت یا غایت کا فائدہ دے، یعنی حَتَّى کا ماقبل سبب بن رہا ہو حَتَّى کے مابعد کے لیے یا حَتَّى کا مابعد غایت بن رہا ہو ماقبل کے لیے۔ تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں لہذا حَتَّى نَصَبَ نہیں دے گا اور لَا يَجُوزُ پر ہم رفع پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى لَا يَجُوزُ التَّجَوُّزُ بِهِمَا فِي الصَّرْفِ وَالسَّلَمِ یہاں تک کہ ان کے ساتھ چشم پوشی بھی جائز نہیں ہے بیعِ صرف میں اور بیعِ سلم میں۔ بھئی بیعِ صرف آپ جانتے ہیں بیعِ صرف بھئی، وہ بیع ہے جس میں دونوں طرف عوضین جو ہیں وہ ثمن کی جنس میں سے ہوں، وہ ثمن کی جنس میں سے ہوں اور ثمن آپ جانتے ہیں سونا، چاندی، درہم اور دینار اور اسی طرح آج کل جو کرنسی ہے۔ تو یہ جو کرنسی آپ بدلوانے جاتے ہیں تو دیکھو ایک طرف مثلاً ریال ہیں تو دوسری طرف پاکستانی روپے ہیں بھئی، تو یہ دونوں طرف ثمن کی جنس سے ہو تو اس کو بیعِ صرف کہتے ہیں، اور یاد رکھنا بیعِ صرف کے اندر اسی مجلس کے اندر عوضین پر قبضہ شرط ہے۔ جس مجلس کے اندر بیع کریں اسی مجلس میں دونوں کا عوضین پر قبضہ ضروری ہے، اگر قبضہ نہ پایا گیا تو بیعِ صرف باطل ہو گئی، بیعِ صرف باطل ہو گئی۔ لہذا صورت یہ ہے کہ دو آدمیوں نے آپس میں بیعِ صرف کر لی اور پھر بیعِ صرف کے اندر جب ایک دوسرے کو ادائیگی کر رہے ہیں تو ایک نے کہا بھئی یہ ایک درہم کی جگہ تم یوں کرو یہ رصاص یا ستوقہ لے لو کچھ، درہم تو ایک کم ہے میرے پاس تم یوں کرو اس کی جگہ کیا لے لو؟ رصاص یا ستوقہ میں کچھ زیادہ دے دیتا ہوں یہ لے لو، کہتے ہیں نہیں یہ جائز نہیں ہے، یہ جائز نہیں، کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ عوضین پر مجلس میں قبضہ شرط ہے، تو جب یہ وہ عوض دینے کے بجائے رصاص یا ستوقہ دے گا تو اس نے تو اس کو بدل دیا ادائیگی سے پہلے ہی، جب ادائیگی سے پہلے بدل دیا تو جو چیز دینی تھی وہ تو اس نے ادا نہیں کی اسی مجلس کے اندر دوسرے نے اس پر قبضہ نہیں کیا بھئی۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھو: بیعِ صرف کے اندر دونوں عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ شرط ہے بھئی، اگر آپس میں عقد کر لیا اور پھر ایک اٹھ کر گیا کہ میں ساتھ والے کمرے سے ذرا اپنے وہ درہم اور دینار لے آؤں جو میں نے آپ کو ادا کرنے ہیں، کہتے ہیں نہیں جیسے ہی یہ اٹھے گا ساتھ ہی عقدِ صرف باطل ہو گیا کیونکہ مجلس بدل گئی۔ تو لہذا اسی مجلس میں عوضین پر قبضہ شرط ہے، تو لہذا جب ایک نے کہا کہ کچھ درہموں کے بدلے میں رصاص یا ستوقہ لے لو، تو یہ تو رصاص اور ستوقہ اس کو دے گا، اصل درہموں پر تو دوسرے کا قبضہ نہ ہوا حالانکہ اسی مجلس میں اصل پر قبضہ شرط تھا بھئی، تو لہذا صرف کے اندر عوضین پر قبضے سے پہلے ان کو بدلا بھی نہیں جا سکتا۔ اور اسی طرح آگے بیعِ سلم کا ذکر آ رہا ہے، بیعِ سلم اسے کہتے ہیں جس میں آپ کسی کے ساتھ عقد کرتے ہیں اس کو اسی مجلس میں ثمن دیتے ہیں کہ یہ لو پچاس ہزار روپے، مجھے فلاں قسم کی گندم ایک مہینے بعد چاہیے۔ تو وہ ایک مہینے بعد آپ کو گندم لا کر دے گا تو یہ بیعِ سلم ہے بھئی، جس میں ثمن پر قبضہ اسی مجلس میں شرط ہے اور مبیع ایک مدت کے بعد ملے گا یعنی ایک مہینے کے بعد یا زیادہ کے بعد۔ تو بیعِ سلم کے اندر بھی یاد رکھو کہ ثمن کے اندر قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ بھئی یاد رکھو بیع کا ضابطہ: عام بیع کے اندر، عام بیع کے اندر مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں لیکن ثمن کے اندر قبل القبض بھی تصرف جائز ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا یہ جو آپ کی جیب پر قلم لگا ہوا ہے یہ میں نے آپ سے ایک ہزار روپے میں خرید لیا، آپ نے کہا مجھے قبول ہے، جیسے ہی ایجاب اور قبول ہوا میرے اور آپ کے درمیان بیع منعقد ہو گئی، اب آپ کی جیب پر جو قلم لگا ہے میں اس کا مالک بن چکا ہوں کیونکہ بیع ہو چکی ہے اور میرے ذمے آپ کے لیے ایک ہزار روپے ہیں۔ ابھی مبیع پر میں نے قبضہ نہیں کیا میں آپ سے کہتا ہوں یوں کریں یہ قلم رہنے دیں اور اس کی جگہ مجھے یہ والی کتاب دے دیں، تو یہ میں مبیع میں تصرف کر رہا ہوں قبل القبض، یہ جائز نہیں۔ مبیع میں تصرف قبل القبض جائز نہیں، لیکن ثمن کے اندر قبل القبض تصرف جائز ہے، چنانچہ آپ مجھے کہتے ہیں کہ آپ نے مجھ سے قلم خرید لیا ہے آپ نے میرے ایک ہزار روپے ادا کرنے ہیں اب یوں کریں ہزار روپے کے بجائے مجھے یہ کتاب دے دیں، اب آپ ثمن کے اندر تصرف کر رہے ہیں قبل القبض، یاد رکھو یہ جائز ہے۔ تو مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں اور ثمن کے اندر قبل القبض تصرف جائز ہے بھئی، لیکن یاد رکھو بیعِ صرف اور بیعِ سلم کے اندر ثمن کے اندر بھی قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ بیعِ صرف میں تو بتا دیا دونوں عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ شرط ہے لہذا ان کو بدل نہیں سکتے کیونکہ اگر بدلو گے تو پھر تو اسی مجلس میں قبضہ نہیں پایا گیا بھئی، اور بیعِ سلم میں بھی اسی طرح ہے، بیعِ سلم کے اندر اسی مجلس میں ثمن دیے جاتے ہیں اور مبیع ملے گا ایک مہینے بعد، تو یہ ثمن پر اسی مجلس میں قبضہ شرط ہے۔ اگر اسی مجلس میں میں آپ کو ثمن نہیں دوں گا تو یہ عقدِ سلم درست نہیں بھئی۔ لہذا میں نے آپ سے عقدِ سلم کر لیا کہ میں آپ کو پچاس ہزار روپے دوں گا مجھے فلاں قسم کی گندم منگوا دیں، ایک مہینے بعد آپ ادائیگی کریں گے۔ اب میں آپ کو پچاس ہزار روپے دینے لگا تو آپ نے کہا بھئی اس پچاس ہزار کی جگہ مجھے دوسری چیز دے دو، یہ تو آپ بیعِ سلم کے ثمن میں تصرف کر رہے ہیں قبل القبض، یہ جائز نہیں۔ تو لہذا دو آدمیوں کے درمیان بیعِ سلم ہوئی اور پھر اسی مجلس کے اندر وہ ثمن ادا کرنے لگا اور ثمن ادا کرتے ہوئے کہتا ہے بھئی یہ ایک دو درہم ذرا کم ہیں یوں کرو اس کی جگہ یہ رصاص یا ستوقہ لے لو، تو یہ تو بیعِ سلم کے ثمن کے اندر تصرف ہو رہا ہے قبل القبض، یہ جائز نہیں ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّهُمَا لَيْسَا مِنْ جِنْسِ الدَّرَاهِمِ حَتَّى لَا يَجُوزُ التَّجَوُّزُ بِهِمَا فِي الصَّرْفِ وَالسَّلَمِ، اس لیے کیونکہ یہ رصاص اور ستوقہ یہ تو درہموں کی جنس سے ہی نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے ساتھ چشم پوشی بھی جائز نہیں ہے بیعِ صرف اور بیعِ سلم میں۔ بیعِ صرف کی ہے یا بیعِ سلم کی ہے اور چشم پوشی کرتے ہوئے وہ رصاص یا ستوقہ پر قبضہ کرتا ہے؟ نہیں، یہ درست نہیں ہے بھئی، کیونکہ یہ درہم یہ درہموں کی جنس سے ہی نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ بَاعَهُ بِهَا عَبْدًا وَقَبَضَهُ بَرَّ فِي يَمِينِهِ۔ بھئی اب اس شخص نے قسم کھائی ہے کہ واللہ میں آج دین کی ادائیگی ضرور کروں گا، اس نے دین کی ادائیگی میں اس کو غلام بیچ دیا کہ یہ غلام میں آپ کو ہزار درہم میں بیچتا ہوں۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں اگر غلام کی بیع کر لی اور وہ جو قرض خواہ تھا وہ اس غلام پر یعنی مبیع پر قبضہ بھی کر لے تو بھی اس نے اپنی قسم پوری کر لی۔ تو بھی اس نے اپنی قسم پوری کر لی، اس نے قسم کیا کھائی تھی کہ واللہ آج میں ادائیگی ضرور کروں گا، اور پھر اس نے غلام اس کو بیچ دیا تو اس کے ذریعے بھی ادائیگی ہو جائے گی۔ کس طرح ادائیگی ہو گی؟ کہتے ہیں مقاصہ ہو گا۔ یہ بات میں نے پہلے بھی ذکر کی تھی: قَاصَّ يُقَاصُّ مُقَاصَّةً، مقاصہ اسے کہتے ہیں کہ ایک دین کو دوسرے دین کا بدل قرار دے کر حساب چکا دینا، حساب پورا کر دینا۔ مثلاً آپ نے میرے بیس ہزار روپے ادا کرنے ہیں پھر آپ مجھے کچھ کتابیں فروخت کرتے ہیں وہ کتابیں بھی بیس ہزار کی ہیں، تو اب میرے اوپر بھی بیس ہزار روپے آپ کا قرضہ ہو گیا، آپ نے بھی میرے بیس ہزار دینے ہیں اور میں نے آپ سے کتابیں خرید لیں اب میں نے اس کے ثمن ادا کرنے ہیں بیس ہزار، تو اب ہم کہتے ہیں بھئی یہ پیسے ان پیسوں کے بدلے ہو گئے، تو آپ کا میرا حساب پورا ہوا، اس کو کہتے ہیں مقاصہ۔ آپ کے ذمے بھی دین تھا اور میرے اوپر بھی دین آ گیا تو ایک دین کو دوسرے دین کا بدل قرار دے کر حساب چکا دینا، حساب پورا کر دینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقاصہ۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہو گا: ایک شخص نے دین ادا کرنا ہے اور اس نے قسم کھائی ہے واللہ آج میں دین ضرور ادا کروں گا اور پھر اس کے بجائے یہ غلام اس کو بیچ دیتا ہے، مثلاً اس نے ایک ہزار درہم ادا کرنے ہیں اور غلام جو اس نے بیچا وہ بھی ایک ہزار درہم کا ہے، تو اب اس دوسرے آدمی پر بھی ایک ہزار درہم آ گئے اور اس کے اوپر بھی ایک ہزار درہم ہیں، تو دونوں دین ایک دوسرے کا بدل ہو جائیں گے اور اس طرح ادائیگی ہو گئی۔ اس طرح ادائیگی ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ بَاعَهُ بِهَا عَبْدًا اور اگر اس نے اس قرض خواہ کے ہاتھ ان درہموں کے بدلے بیچ دیا عبداً غلام کو، اگر اس قسم کھانے والے نے اس قرض خواہ کے ہاتھ ان درہموں کے بدلے میں غلام بیچ دیا، وَقَبَضَهُ اور اس نے اس غلام پر قبضہ بھی کر لیا اس قرض خواہ نے، بَرَّ فِي يَمِينِهِ تو یہ اپنی قسم میں سچا ہو گیا یعنی اس نے اپنی قسم پوری کر دی۔ اس نے اپنی قسم پوری کر دی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر ذرا متن دیکھو: وَإِنْ بَاعَهُ بِهَا عَبْدًا اور اگر اس قسم کھانے والے نے اس قرض خواہ کے ہاتھ غلام بیچ دیا بِهَا ان درہموں کے بدلے میں، اس قسم کھانے والے نے اس قرض خواہ کے ہاتھ درہموں کے بدلے میں غلام بیچ دیا، وَقَبَضَهُ اور اس نے پھر اس غلام پر قبضہ بھی کر لیا، بَرَّ فِي يَمِينِهِ تو یہ اپنی قسم میں سچا ہو گیا یعنی اس نے اپنی قسم پوری کر دی۔ تو یہاں متن کے اندر قبضے کی بھی شرط ہے، صاحب ہدایہ اس کو بھی ذکر فرمائیں گے کہ بھئی جب بیع ہو گئی تو بیع کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے اور مشتری کے ذمے دین آ جاتا ہے، تو لیکن امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر کے اندر قبضے کو بھی ذکر فرمایا ہے، معلوم ہوا ان کے نزدیک قبضہ بھی شرط ہے۔ غلام کا صرف بیچنا کافی نہیں بلکہ قبضہ بھی شرط ہے پھر ہم کہیں گے اس نے ادائیگی کر دی ہے، اگر قبضہ نہیں کیا تو پھر ابھی بھی ادائیگی نہیں۔ بھئی کیوں یہ قبضے کی شرط وہ کیوں لگاتے ہیں؟ کہتے ہیں وجہ یہ کیونکہ اس نے ہزار درہم دینے ہیں یہ پہلے سے پکے ہیں، اب یہ اس کو اپنا غلام بیچے گا تو اب وہ بھی کتنے دے گا؟ ایک ہزار، لیکن وہ ایک ہزار پکے ہونے چاہئیں، اور وہ پکے تبھی ہوں گے جب یہ غلام اس کے حوالے کر دے گا۔ جب تک غلام اس کے حوالے نہیں کیا وہ دوسرے پر ایک ہزار ابھی پکے نہیں ہوئے، وہ ختم ہو سکتے ہیں، کیسے ختم ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ ابھی اس نے غلام حوالے نہیں کیا، غلام حوالے کرنے سے پہلے ہی اگر غلام مر گیا تو اس پر تو ایک ہزار دین نہیں آئے گا بھئی، تو اس صورت میں تو ادائیگی نہیں ہوئی، تو لہذا اس مقروض پر تو ایک ہزار درہم تھے، دوسرے کے ذمے بھی ایک ہزار درہم پکے ہونے چاہئیں اور وہ تبھی ہوں گے جب یہ غلام اس کے حوالے کر دے گا کیونکہ اس سے پہلے تو وہ ساقط ہونے کا احتمال رکھتے ہیں کہ یہ مبیع حوالے کرنے سے پہلے ہی ہلاک ہو جائے تو اس پر تو پھر ہزار درہم دین نہ آیا بھئی، تو پھر مقاصہ بھی نہیں ہو سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ بَاعَهُ بِهَا عَبْدًا وَقَبَضَهُ بَرَّ فِي يَمِينِهِ اور اگر اس قسم کھانے والے نے اس قرض خواہ کو درہموں کے بدلے کوئی غلام بیچا اور اس قرض خواہ نے اس غلام پر قبضہ کر لیا تو یہ قسم کھانے والا اپنی قسم میں سچا ہو گیا، لِأَنَّ قَضَاءَ الدَّيْنِ طَرِيقُهُ الْمُقَاصَّةُ اس لیے کیونکہ دین کی ادائیگی کا ایک طریقہ جو ہے وہ مقاصہ ہے کہ ایک دین کو دوسرے دین کا بدل قرار دے کر حساب چکا دینا، وَقَدْ تَحَقَّقَتْ بِمُجَرَّدِ الْبَيْعِ اور یہ مقاصہ تو پایا گیا صرف بیع سے ہی، صرف بیع کی وجہ سے ہی مقاصہ پایا گیا لیکن امام محمد رحمہ اللہ نے قبضے کی بھی شرط لگائی تاکہ وہ ثمن بھی اس پر پکے ہو جائیں، تو کہتے ہیں: وَقَدْ تَحَقَّقَتْ بِمُجَرَّدِ الْبَيْعِ اور تحقیق مقاصہ تو پایا گیا صرف بیع سے ہی، فَكَأَنَّهُ شَرَطَ الْقَبْضَ تو گویا کہ امام محمد رحمہ اللہ نے قبضے کی شرط لگائی ہے۔ بھئی متن میں امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر کیا: وَإِنْ بَاعَهُ بِهَا عَبْدًا وَقَبَضَهُ، امام محمد رحمہ اللہ نے تو ذکر نہیں کیا کہ یہ شرط ہے قبضہ بھی شرط ہے۔ لیکن تو اسی لیے کہا: فَكَأَنَّهُ گویا کہ انہوں نے قبضے کی شرط لگائی ہے، قبضے کو انہوں نے متن میں ذکر کیا ہے تو گویا کہ انہوں نے قبضے کی شرط لگائی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ نے تو اپنے لفظوں میں یہ ذکر نہیں کیا کہ قبضہ شرط ہے تو اس لیے صاحب ہدایہ فَكَأَنَّهُ کے ساتھ اس کو ذکر کر رہے ہیں کہ گویا معاملہ ایسا ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَكَأَنَّهُ شَرَطَ الْقَبْضَ لِيَتَقَرَّرَ بِهِ تو گویا کہ امام محمد رحمہ اللہ نے قبضے کی شرط لگائی ہے تاکہ وہ ثمن پکے ہو جائیں اس قبضے کی وجہ سے، تاکہ اس غلام کے ثمن پکے ہو جائیں قبضے کی وجہ سے ورنہ اس سے پہلے تو وہ ثمن پکے نہیں ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ وَهَبَهَا لَهُ يَعْنِي الدَّيْنَ، اور اگر اس نے وہ درہم ہبہ کر دیے لَهُ اس مقروض کو، یہی صورت بھئی: اس آدمی نے قسم کھائی ہے کہ واللہ میں آج اپنا دین ضرور ادا کروں گا اور آج ہی کے دن اس قرض خواہ نے اس کو کہا میں نے اپنا دین تمہیں معاف کر دیا، وہ دین میں نے تمہیں ہبہ کر دیا، ہبہ کر دیا، تو کیا اس صورت میں قسم پوری ہوئی یا نہیں؟ کہتے ہیں اس صورت میں قسم پوری نہیں ہوئی۔ اس صورت میں قسم پوری نہیں ہوئی لیکن یہ حانث بھی نہیں ہوا، قسم بھی پوری نہیں اور حانث بھی نہیں۔ توجہ ہے؟ اگر اس نے کہا وہ جو قرضہ تھا میں نے تمہیں ہبہ کر دیا، تو اس صورت میں قسم پوری نہیں ہوئی کیونکہ اس نے ادائیگی کرنی تھی، ادائیگی تو ہوئی نہیں لہذا قسم پوری نہیں، لیکن یہ حانث بھی نہیں ہوا کیونکہ اب ادائیگی کی صورت ہی نہ رہی، جب قرض ہی نہیں ہے تو ادائیگی کہاں سے ہو گی؟ یہ دے گا بھی تو یہ تو ادائیگی تو نہیں ہے یہ تو ویسے دے رہا ہے وہ تو معاف کر چکا ہے۔ تو ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے قسم بھی پوری نہیں اور اب قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت بھی نہیں رہی کیونکہ قرض تو معاف ہو چکا ہے، تو قسم پوری بھی نہیں ہوئی اور وہ حانث بھی نہیں ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَهَبَهَا لَهُ، دیکھو توجہ سے سنو: وَإِنْ وَهَبَهَا لَهُ، وَهَبَهَا یہ ہا ضمیر جو مؤنث کی ہے یہ اس دین کو راجع ہے، صاحب ہدایہ خود بھی آگے بیان فرما رہے ہیں: يَعْنِي الدَّيْنَ کہ اس نے اس کو ہبہ کر دیا یعنی دین ہبہ کر دیا، اور لَهُ، لَهُ کی ہا ضمیر وہ قسم کھانے والے کو راجع ہے، اس قرض خواہ نے قسم کھانے والے کو وہ دین ہبہ کر دیا۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ وَهَبَهَا کی ہا ضمیر تو مؤنث ہے اور یہ آپ نے لوٹائی دین کو اور دین تو مذکر ہے، تو مذکر کی طرف تو مؤنث کی ضمیر آپ نہیں لوٹا سکتے؟ تو جواب یہ کہ دین سے مراد وہ دراہم ہیں اور دراہم تو جمع ہے اور جمع بتاویل جماعت واحد مؤنث کے حکم میں ہے۔ تو یہ ہا ضمیر دین کو راجع ہے دراہم دین کی تاویل میں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَهَبَهَا لَهُ اور اگر اس قرض خواہ نے اس قرضے کو ہبہ کر دیا اس قسم کھانے والے کو، يَعْنِي الدَّيْنَ، کیا ہبہ کیا؟ یعنی دین ہبہ کر دیا، لَمْ يَبَرَّ تو اس نے قسم پوری نہیں کی لِعَدَمِ الْمُقَاصَّةِ کیونکہ مقاصہ نہیں پایا گیا، اس نے تو دین ہبہ کر دیا ہے۔ لِأَنَّ الْقَضَاءَ فِعْلُهُ، اس لیے کیونکہ ادائیگی جو ہے وہ تو اس قسم کھانے والے کا فعل ہے، اس نے کیا قسم کھائی تھی؟ واللہ میں اج ادائیگی ضرور کروں گا، تو ادائیگی کرنا تو اس قسم کھانے والے کا کام تھا اور ادائیگی تو ہوئی نہیں، جب ادائیگی نہیں ہوئی تو قسم بھی پوری نہیں۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْقَضَاءَ فِعْلُهُ اس لیے کیونکہ اس دین کی ادائیگی جو ہے وہ تو اس قسم کھانے والے کا فعل ہے اور وہ تو نہیں پایا گیا، وَالْهِبَةُ إِسْقَاطٌ مِنْ صَاحِبِ الدَّيْنِ اور ہبہ جو ہے وہ تو صاحبِ دین سے ساقط کرنے کا نام ہے، وہ تو قرض خواہ کا فعل ہے اس مقروض کا فعل، ہبہ کیا ہے؟ ہبہ کا کیا معنی ہے؟ قرضہ معاف کر دیا، تو یہ قرضہ معاف کرنا کس کا فعل ہے؟ یہ تو قرض خواہ کا فعل ہے، یہ تو اس مقروض کا فعل نہیں، اور اس نے تو اپنے فعل کی قسم کھائی تھی کہ میں قرضہ ادا کروں گا اور ادا کرنا تو اس کا فعل تھا بھئی، اور ادائیگی تو ہوئی نہیں۔ جب ادائیگی نہیں ہوئی تو قسم بھی پوری نہیں۔ تو یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْقَضَاءَ فِعْلُهُ وَالْهِبَةُ إِسْقَاطٌ مِنْ صَاحِبِ الدَّيْنِ، اس لیے کیونکہ قرضے کی ادائیگی جو ہے وہ اس قسم کھانے والے کا فعل ہے اور وہ تو نہیں پایا گیا، اور ہبہ جو ہے وہ تو دین والے سے یعنی مقروض سے قرضے کو ساقط کرنے کا نام ہے اور وہ اس قسم کھانے والے کا فعل نہیں ہے، تو معلوم ہوا قسم بھی پوری نہیں اور یہ حانث بھی نہیں، کیونکہ اب اس قسم کے پورا کرنے کی صورت ہی نہیں ہے، کیونکہ جب قرضہ ساقط ہو گیا اب ادائیگی نہیں ہو سکتی، ادائیگی کرے گا بھی یہ تو قرضے کی ادائیگی نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ بھی اس کوزے کے مسئلے کے مثل ہو گیا، کوزے والے مسئلے کے اندر ایک شخص نے ایک کوزے کے اندر پانی موجود تھا اور اس نے قسم کھا لی کہ واللہ میں اج اس کوزے کا پانی ضرور پیوں گا، اور پھر وہ شام ہونے سے پہلے پہلے وہ کوزے کا پانی گرا دیا گیا تو آپ نے پڑھا ہے کہ جب قسم کے ساتھ وقت ذکر کیا جائے تو اس فعل کا کرنا آخرِ وقت میں واجب ہوتا ہے، اور دن کے آخرِ وقت میں تو کوزے کے اندر پانی ہی موجود نہیں ہے تو اب قسم کا پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، لہذا اس لیے اس صورت میں یہ شخص حانث نہیں ہو گا، کیونکہ اس فعل نے واجب ہونا تھا آخرِ وقت میں اور آخرِ وقت میں اب قسم کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، تو لہذا یہ قسم باطل ہو جائے گی۔ یہاں پر بھی اس شخص نے کیا کہا ہے کہ میں اج اپنا قرضہ ادا کروں گا، معلوم ہوا اج کے دن کے آخری حصے میں ادائیگی اس پر واجب ہو جائے گی، اور آخری حصے کے آنے سے پہلے ہی دوسرے نے قرضہ معاف کر دیا، جب اس نے قرضہ معاف کر دیا تو اب قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت ہی نہ رہی، تو جیسے کوزے والے مسئلے کے اندر وہاں یمین باطل ہو جاتی تھی تو یہاں پر بھی یہ یمین باطل ہو گئی، تو لہذا یہ قسم پورا کرنے والا بھی نہیں اور نیز حانث بھی نہیں کیونکہ قسم ہی باطل ہو گئی، قسم ہی ختم ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَقْبِضُ دَيْنَهُ دِرْهَمًا دُونَ دِرْهَمٍ فَقَبَضَ بَعْضَهُ لَمْ يَحْنَثْ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک ادمی کا دوسرے ادمی پر دین ہے، اب وہ دوسرا ادمی اس کو تھوڑے تھوڑے درہم ادا کرنا چاہتا ہے، کہتا ہے نہیں میں متفرق طور پر اپنے دین پر قبضہ نہیں کروں گا، قسم کھا لی اس نے: واللہ میں اپنے دین پر متفرق طور پر قبضہ نہیں کروں گا۔ پھر اس کے بعد اس مقروض نے اس کو کچھ درہم ادا کیے اور اس نے لے لیے، تو کیا یہ حانث ہو گیا؟ کہتے ہیں نہیں، جب یہ سارے دین پر اسی طرح متفرق طور پر قبضہ کر لے گا اس کے بعد حانث ہو گا ابھی حانث نہیں، بھئی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ اس نے کیا کہا تھا کہ واللہ میں متفرق طور پر اپنے دین پر قبضہ نہیں کروں گا، اور جب اس نے تھوڑے سے ادا کر دیے تو اس کا دین صرف یہی ہے یا اور بھی ہے؟ اور بھی ہے، تو اس نے ابھی تک اپنے دین پر قبضہ نہیں کیا، تو جب متفرق طور پر اپنے دین پر یعنی سارے دین پر قبضہ کر لے گا تو پھر حانث ہو گا کیونکہ اپنے دین سے مراد کیا ہے؟ اس کا سارا دین۔ تو اس میں دو شرطیں ہیں بھئی: ایک تو متفرق طور پر وصول کرے اور پھر پورا وصول کر لے تب حانث ہو گا اس سے پہلے حانث نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَقْبِضُ دَيْنَهُ دِرْهَمًا دُونَ دِرْهَمٍ اور جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے دین پر قبضہ نہیں کرے گا دِرْهَمًا دُونَ دِرْهَمٍ ایک درہم نہ کہ دوسرا درہم، دِرْهَمًا دُونَ دِرْهَمٍ ایک درہم نہ کہ دوسرا درہم، یہ تو لفظی ترجمہ ہے، مراد یہ ہے کہ میں متفرق طور پر اپنے دین پر قبضہ نہیں کروں گا، ایک ایک درہم کر کے میں قبضہ نہیں کروں گا یعنی متفرق طور پر میں قبضہ نہیں کروں گا، مجھے اکٹھی ادائیگی کرو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَقْبِضُ دَيْنَهُ دِرْهَمًا دُونَ دِرْهَمٍ فَقَبَضَ بَعْضَهُ لَمْ يَحْنَثْ، اور جس شخص نے قسم کھا لی کہ وہ اپنے دین پر قبضہ نہیں کرے گا دِرْهَمًا دُونَ دِرْهَمٍ متفرق طور پر، فَقَبَضَ بَعْضَهُ تو اس نے بعض پر قبضہ کر لیا لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا حَتَّى يَقْبِضَ جَمِيعَهُ مُتَفَرِّقًا یہاں تک کہ یہ اس سارے دین پر متفرق طور پر قبضہ کر لے، لِأَنَّ الشَّرْطَ قَبْضُ الْكُلِّ اس لیے کیونکہ شرط جو ہے وہ کل دین پر قبضہ ہے لَكِنَّهُ بِوَصْفِ التَّفَرُّقِ لیکن وہ جو تفرق کے وصف کے ساتھ ہو یعنی جدا جدا کر کے تھوڑا تھوڑا کر کے، أَلَا يُرَى أَنَّهُ أَضَافَ الْقَبْضَ إِلَى دَيْنٍ مُعَرَّفٍ مُضَافٍ إِلَيْهِ، بھئی اس نے کیا لفظ ذکر کیا تھا کہ واللہ میں اپنے دین پر قبضہ نہیں کروں گا متفرق طور پر، تو اپنا دین ذکر کیا اور اپنے دین سے مراد سارا دین ہے۔ أَلَا يُرَى کیا یہ بات معلوم نہیں ہے أَنَّهُ أَضَافَ الْقَبْضَ کہ اس نے نسبت کی ہے قبضہ کرنے کی إِلَى دَيْنٍ مُعَرَّفٍ ایسے دین کی طرف جو معرفہ ہے مُضَافٍ إِلَيْهِ اور جس کی اس کی طرف نسبت ہو رہی ہے، اس نے کیا کہا ہے: واللہ لا اقبض دینی، دیکھو دینی، دین کی اضافت یا ضمیر کی طرف ہو رہی ہے، میرا دین، تو یہ دین کیا ہوا؟ معرفہ ہو گیا، اور اس کی اضافت اس کی اپنی ذات کی طرف ہے، میرا جو دین ہے اور اس کا دین تھوڑا ہے یا سارا ہے؟ سارا ہے، تو کل کا ہونا ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: أَلَا يُرَى أَنَّهُ أَضَافَ الْقَبْضَ إِلَى دَيْنٍ مُعَرَّفٍ مُضَافٍ إِلَيْهِ فَيَنْصَرِفُ إِلَى كُلِّهِ فَلَا يَحْنَثُ إِلَّا بِهِ، کیا یہ بات معلوم نہیں کہ اس نے قبضے کی نسبت کی ہے ایسے دین کی طرف جو معرفہ ہے اور جس کی اس کی طرف نسبت کی گئی ہے تو یہ پھر جائے گا سارے دین کی طرف تو یہ حانث نہیں ہو گا مگر سارے دین پر قبضہ کرنے سے۔ فَإِنْ قَبَضَ دَيْنَهُ فِي وَزْنَيْنِ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک ادمی نے یہی قسم کھائی کہ واللہ میں اپنا دین متفرق طور پر وصول نہیں کروں گا، پھر وہ دوسرا شخص سارا دین اٹھا کر لے آیا، قدیم زمانے میں تو درہم اور دینار جو تھے ان کا وزن کیا جاتا تھا تو ان کو درہم اور دینار کے وزن کرنے کی ضرورت پیش آ گئی، تو اب اس نے ایک مرتبہ میں درہموں کا وزن کیا اور اس کو دے دیے پھر اور اٹھا کر پھر ان کا وزن کیا اور اس کو دے دیے، پھر اور اٹھائے وزن کیا اور اس کو دے دیے، تو اب دیکھو وزن تو ساروں کا اکٹھا کرنا ممکن نہ تھا تو تھوڑا تھوڑا وزن کر کے وہ دیتا جا رہا ہے، تو کیا اس کو بھی متفرق طور پر شمار کریں گے؟ کہتے ہیں نہیں، اس کو عادتاً متفرق شمار نہیں کیا جاتا اور نیز اس لیے کیونکہ بعض اوقات سارے کا اکٹھا وزن کرنا متعذر ہو جاتا ہے، لہذا اتنا سا تفرق جو ہے اس کا استثناء ہو گا قسم سے، اس تھوڑے سے تفرق کا استثناء ہو گا قسم سے، لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ وزن جب کر رہے ہیں وزن کے ساتھ ساتھ ادائیگی ہو رہی ہے اس میں درمیان میں کسی اور کام میں مشغول نہ ہوں، اگر درمیان میں وہ تھوڑی دیر کے لیے بھی کسی اور کام میں مشغول ہو گیا تو اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اس کے دین کی ادائیگی متفرق ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ قَبَضَ دَيْنَهُ فِي وَزْنَيْنِ وَلَمْ يَتَشَاغَلْ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِعَمَلِ الْوَزْنِ لَمْ يَحْنَثْ، اور اگر اس شخص نے اپنے دین پر قبضہ کیا دو وزنوں میں یعنی دو مرتبہ تول کر، اور وہ مشغول نہیں ہوا ان دونوں کے درمیان مگر صرف وزن کے عمل میں ہی یعنی صرف وزن کرنے کے عمل میں ہی مشغول رہا اور کوئی کام نہیں کیا لَمْ يَحْنَثْ پھر حانث نہیں ہو گا، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِتَفْرِيقٍ اور یہ تفریق یعنی جدائی نہیں ہے لِأَنَّهُ قَدْ يَتَعَذَّرُ قَبْضُ الْكُلِّ دَفْعَةً وَاحِدَةً عَادَةً اس لیے کیونکہ کبھی کبھار جو ہے سارے پر جو قبضہ ہے وہ متعذر ہو جاتا ہے دَفْعَةً وَاحِدَةً عَادَةً عادتاً ایک ہی مرتبہ میں، کبھی کبھار سارے پر قبضہ ایک ہی مرتبہ میں یہ عادتاً متعذر ہو جاتا ہے کیونکہ وزن کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے اور ساروں کا اکٹھا وزن نہیں ہو سکتا بعض اوقات، فَيَصِيرُ هَذَا الْقَدْرُ مُسْتَثْنًى عَنْهُ تو اتنی مقدار جو ہے اس قسم سے مستثنیٰ ہو گی، اتنی تفریق جو ہے قسم سے مستثنیٰ ہو گی، اور نیز میں نے بتایا کہ اس کو عادتاً بھی تفریق نہیں کہا جاتا اور قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے تو عرف میں اس کو تفریق شمار نہیں کرتے۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ: إِنْ كَانَ لِي إِلَّا مِائَةُ دِرْهَمٍ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ۔ صورت یہ: ایک ادمی نے کہا کہ اگر میرے پاس سو درہموں کے علاوہ کچھ ہوا تو میری بیوی کو طلاق ہے۔ اگر میرے پاس سو درہموں کے علاوہ کچھ اور مال ہوا تو میری بیوی کو طلاق ہے، تو جب دیکھا گیا تو اس کے پاس صرف پچاس درہم تھے۔ تو اب لفظوں کو دیکھیں تو لفظ تقاضا کرتے ہیں کہ بیوی کو طلاق ہونی چاہیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا اگر میرے پاس سو درہموں کے علاوہ کچھ ہوا، معلوم ہوا سو درہم تو ہونے چاہئیں، گویا یہ قسم کھا رہا ہے کہ میرے پاس صرف سو درہم ہیں اس سے زائد نہیں، تو اس کے پاس تو سو نہیں نکلے تو یہ الفاظ تقاضا کر رہے ہیں بیوی کو طلاق ہونی چاہیے، لیکن کہتے ہیں اس صورت میں یہ حانث نہیں ہے اور اس کی بیوی کو طلاق نہیں ہے بھئی، کیونکہ اس کلام کا لفظوں کے اعتبار سے یہ معنی ہے لیکن عرف میں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میرا مال سو درہم سے زیادہ نہیں ہے، کم ہو سکتا ہے لیکن زیادہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ إِنْ كَانَ لِي إِلَّا مِائَةُ دِرْهَمٍ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ فَلَمْ يَمْلِكْ إِلَّا خَمْسِينَ دِرْهَمًا لَمْ يَحْنَثْ، اور جس شخص نے کہا کہ اگر میرے لیے سوائے سو درہم کے کچھ ہوا تو اس کی بیوی کو طلاق ہے تو یہ مالک نہیں ہے مگر پچاس درہم کا ہی لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْهُ عُرْفًا نَفْيُ مَا زَادَ عَلَى الْمِائَةِ اس لیے کیونکہ عرف کے اندر اس سے مقصود جو ہوتا ہے نَفْيُ مَا زَادَ عَلَى الْمِائَةِ وہ سو سے زیادہ کی نفی ہوتی ہے، سو سے زیادہ کی نفی مقصود ہوتی ہے عرف کے اندر بھئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْهُ عُرْفًا نَفْيُ مَا زَادَ عَلَى الْمِائَةِ، وَلِأَنَّ اسْتِثْنَاءَ الْمِائَةِ اسْتِثْنَاؤُهَا بِجَمِيعِ أَجْزَائِهَا اور نیز اس لیے کیونکہ سو کا استثناء جو ہے یہ سو کا استثناء ہے اس کے سارے اجزاء کے ساتھ، اس نے کہا میرے پاس اگر کچھ ہوا سوائے سو درہم کے، معلوم ہوا سو درہم کا استثناء کر رہا ہے اور جب سو درہم کا استثناء ہوا تو اس کے سارے اجزاء کے ساتھ استثناء ہوا اور پچاس بھی کیا ہے؟ سو کا جز ہے، تو جب سو کا استثناء ہوا تو سو کے اجزاء یعنی سو سے کم سب کا استثناء ہو گیا۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ اسْتِثْنَاءَ الْمِائَةِ اسْتِثْنَاؤُهَا بِجَمِيعِ أَجْزَائِهَا اس لیے کیونکہ سو کا جو استثناء ہے یہ استثناء ہے اس سو کے سارے اجزاء کے ساتھ، وَكَذَلِكَ لَوْ قَالَ: غَيْرُ مِائَةٍ أَوْ سِوَى مِائَةٍ اور اسی طرح ہے مسئلہ اگر اس نے غَيْرُ مِائَةٍ یا سِوَى مِائَةٍ کہا، بھئی یہ عربی الفاظ، وہاں اس نے کیا ذکر کیا تھا؟ إِنْ كَانَ لِي إِلَّا مِائَةُ دِرْهَمٍ، اگر الا کے بجائے وہ غَيْرٌ یا سِوٰی استعمال کر لیتا ہے تب بھی یہی حکم ہے کیونکہ یہ سب بھی استثناء کا فائدہ دیتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ لَوْ قَالَ غَيْرُ مِائَةٍ أَوْ سِوَى مِائَةٍ لِأَنَّ كُلَّ ذَلِكَ أَدَاةُ الِاسْتِثْنَاءِ اور اسی طرح ہے حکم اگر اس نے کہا غیر مائۃ یا سوی مائۃ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ کلمہ استثناء ہے، أَدَاةٌ کا معنی ہے آلہ، آلہ جس کے ذریعے کوئی کام سرانجام دیا جائے لیکن یہاں اداۃ سے مراد ہے کلمہ، اداۃ الاستثناء یعنی کلمہ استثناء بھئی، تو جیسے الا کلمہ استثناء ہے یہ استثناء کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی طرح غیر اور سویٰ بھی استثناء کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مَسَائِلُ مُتَفَرِّقَةٌ، جی اب کچھ متفرق مسائل صاحب ہدایہ ذکر کریں گے، یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے کہ باب کے اخر میں کچھ متفرق مسائل وہ ذکر فرماتے ہیں جن کا کسی خاص باب سے تعلق نہیں ہوتا تو ان سب کو اکٹھا ایک ہی باب یا فصل وغیرہ میں ذکر کر دیا جاتا ہے، تو کہتے ہیں: مَسَائِلُ مُتَفَرِّقَةٌ کچھ متفرق مسائل، تو یہاں بھی کچھ متفرق مسائل ہیں جو یمین سے متعلق ہیں بھئی۔ وَإِذَا حَلَفَ لَا يَفْعَلُ كَذَا تَرَكَهُ أَبَدًا، اچھا بھئی یہاں سے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ اگر کوئی شخص کسی فعل کے نہ کرنے کی قسم کھاتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اور اگر کوئی شخص کسی فعل کے کرنے کی قسم کھاتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ ایک ہے فعل کے نہ کرنے کی قسم کھانا اور ایک ہے فعل کے کرنے کی قسم کھانا۔ تو کہتے ہیں اگر فعل کے نہ کرنے کی قسم کھائی ہے تو اب وہ قسم ہمیشہ کے لیے ہو گئی، وہ جب بھی اس فعل کو کرے گا حانث ہو جائے گا۔ ایک ادمی کہتا ہے واللہ میں زید سے بات نہیں کروں گا، اب یہ جب بھی زید سے بات کرے گا حانث ہو جائے گا۔ اور اگر فعل کے کرنے کی قسم کھاتا ہے کہ واللہ میں زید کے گھر ضرور جاؤں گا تو ایک ہی دفعہ چلا جائے گا تو قسم پوری ہو گئی، بار بار جانے کی حاجت نہیں ہے، تو معلوم ہوا نفی پر قسم جو ہے وہ مؤبد ہوتی ہے اور اثبات پر قسم ایک ہی دفعہ میں پوری ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا حَلَفَ لَا يَفْعَلُ كَذَا تَرَكَهُ أَبَدًا اور جب کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہیں کرے گا تَرَكَهُ أَبَدًا تو اس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے، اس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے ورنہ حانث ہو جائے گا، لِأَنَّهُ نَفَى الْفِعْلَ مُطْلَقًا اس لیے کیونکہ اس نے مطلقاً فعل کی نفی کی ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا، فَعَمَّ الِامْتِنَاعُ ضَرُورَةَ عُمُومِ النَّفْيِ تو نفی کے عموم کے ساتھ ضروری ہے امتناع کا عام ہونا۔ بھئی ادھر دیکھیے اس نے کیا کہا ہے؟ میں ایسا نہیں کروں گا، تو نفی عام ہے، جب نفی عام ہے تو رکنا بھی عام ہو گیا یعنی ہمیشہ رکنا ہو گا، اس نے کہا نا میں یہ فعل نہیں کروں گا تو کس قسم کی نفی ہے؟ مطلقاً اس فعل کی نفی کر رہا ہے یعنی عام نفی کر رہا ہے، جب نفی عام ہے تو رکنا بھی عام ہونا چاہیے اس فعل سے ہمیشہ رکنا ہونا چاہیے بھئی۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ نَفَى الْفِعْلَ مُطْلَقًا فَعَمَّ الِامْتِنَاعُ ضَرُورَةَ عُمُومِ النَّفْيِ اس لیے کیونکہ اس نے مطلقاً فعل کی نفی کی ہے تو اس فعل سے رکنا بھی عام ہو گا نفی کے عموم کی ضرورت کی وجہ سے، نفی کے عموم کے ساتھ ضروری ہے کہ رکنا بھی عام ہو بھئی۔ وَإِنْ حَلَفَ لَيَفْعَلَنَّ كَذَا فَفَعَلَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً بَرَّ فِي يَمِينِهِ، اور اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا ضرور کرے گا یعنی کسی فعل کے کرنے کی قسم کھائی، فَفَعَلَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً تو اس نے وہ کام ایک دفعہ کر لیا، بَرَّ فِي يَمِينِهِ تو وہ سچا ہو گیا اپنی قسم میں یعنی اس نے اپنی قسم پوری کر دی، لِأَنَّ الْمُلْتَزَمَ فِعْلٌ وَاحِدٌ غَيْرُ عَيْنٍ اس لیے کیونکہ وہ فعل جس کا اس نے اپنے اوپر التزام کیا ہے وہ ایک غیرِ معین فعل ہے۔ مثلاً ایک ادمی نے کہا کہ واللہ میں زید کے گھر ضرور جاؤں گا، تو زید کے گھر جانا اج بھی ہو سکتا ہے، کل بھی، پرسوں، ترسوں، یہ سب کیا ہیں؟ یہ زید کے گھر جانے والے فعل ہیں، تو ان میں سے کوئی ایک فعل کر لے گا، اج کر لے کل کر لے پرسوں کر لے تو اس کی قسم پوری ہو جائے گی، اس نے بھی غیر معین جانے کی قسم کھائی تھی تو یہ بھی غیر معین جس وقت بھی چلا جائے گا تو وہ قسم پوری ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُلْتَزَمَ فِعْلٌ وَاحِدٌ غَيْرُ عَيْنٍ اس لیے کیونکہ وہ فعل جس کا جس کو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے وہ ایسا ایک فعل ہے غیرِ معین جو معین نہیں ہے، إِذِ الْمَقَامُ مَقَامُ الْإِثْبَاتِ اس لیے کیونکہ یہ اثبات والا مقام ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکرہ سیاقِ نفی کے اندر ہو تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے اور نکرہ سیاقِ اثبات میں ہو تو وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے: مَا جَاءَنِي طَالِبٌ، میرے پاس کوئی طالب علم نہیں آیا، تو ما دیکھو حرفِ نفی ہے اور اس کے تحت نکرہ طالبٌ آیا، تو مَا جَاءَنِي طَالِبٌ تو نکرہ سیاقِ نفی میں آیا یا یوں کہو نکرہ تحت النفی آیا، یہ عموم کا فائدہ دے گا معلوم ہوا کوئی بھی طالب علم نہیں آیا، اور نکرہ سیاقِ اثبات میں ہو تو پھر وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے: جَاءَنِي طَالِبٌ، یہاں حرفِ نفی نہیں ہے یہ نکرہ طالبٌ جو ہے یہ سیاقِ اثبات میں ہے تو یہ خصوص کا فائدہ دے گا، اس کا معنی یہ ہے جَاءَنِي طَالِبٌ میرے پاس ایک طالب علم آیا۔ تو یہاں پر بھی جب اس نے کہا کہ واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا تو یہ مقامِ اثبات ہے اور اس نے فعلِ غیر معین کو ذکر کیا ہے تو نکرہ کس میں آ گیا؟ سیاقِ اثبات میں، تو یہ خصوص کا فائدہ دے گا، ایک دفعہ بھی کر لے گا تو قسم پوری ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: إِذِ الْمَقَامُ مَقَامُ الْإِثْبَاتِ فَيَبَرُّ بِأَيِّ فِعْلٍ فَعَلَهُ اس لیے کیونکہ یہ مقام جو ہے وہ اثبات والا مقام ہے تو یہ قسم میں سچا ہو جائے گا جو فعل بھی یہ کر لے، جو فعل بھی یہ کر لے۔ اس نے کیا کہا تھا؟ واللہ میں زید کے گھر ضرور جاؤں گا، تو چاہے اج چلا جائے کل چلا جائے پرسوں چلا جائے ترسوں چلا جائے جس دن بھی یہ چلا جائے، کوئی ایک جانے والا فعل کر لے زید کے گھر جانے والا فعل تو یہ قسم پوری ہو جائے گی، یا یوں کہو یہ کوئی بھی فعل کر لے چاہے اپنی مرضی سے کرے چاہے کوئی زبردستی کروائے، چاہے جان بوجھ کر کرے چاہے بھولے سے کرے، جس طرح بھی یہ فعل کر لے گا یہ قسم پوری ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فَيَبَرُّ بِأَيِّ فِعْلٍ فَعَلَهُ تو یہ قسم میں سچا ہو جائے گا یا یوں کہیں یہ اپنی قسم پوری کر دے گا بِأَيِّ فِعْلٍ فَعَلَهُ جو فعل بھی یہ کر لے۔ وَإِنَّمَا يَحْنَثُ لِوُقُوعِ الْيَأْسِ عَنْهُ، اچھا بھئی یہ پھر حانث کب ہو گا؟ ایک ادمی نے کہا واللہ یہ کام میں ضرور کروں گا، تو حانث کب ہو گا؟ کہتے ہیں جب اس کام کے کرنے سے مایوسی ہو جائے کہ اب تو یہ کام یہ کر ہی نہیں سکتا اور وہ موت کے وقت ہے، وہ موت کے وقت، جب موت آ گئی اب معلوم ہوا یہ شخص حانث ہو گیا۔ لہذا میں نے پہلے بھی بتایا تھا اگر اس قسم کی قسم کوئی کھائے تو پھر وصیت کر جائے کہ میں نے یہ قسم کھائی ہے اگر میں پوری نہ کر سکا تو اس کا کفارہ ادا کر دینا، کیونکہ حانث ہونے سے پہلے تو کفارہ بھی ادا نہیں ہو سکتا تو وہ موت کے بعد ہی اب کفارہ ادا ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَحْنَثُ لِوُقُوعِ الْيَأْسِ عَنْهُ، یأس ناامیدی کو کہتے ہیں، وَإِنَّمَا يَحْنَثُ لِوُقُوعِ الْيَأْسِ عَنْهُ اور یہ شخص حانث ہو گا جب اس فعل سے ناامیدی ہو جائے، وَذَلِكَ بِمَوْتِهِ أَوْ بِفَوْتِ مَحَلِّ الْفِعْلِ اور یہ ناامیدی جو ہے اس شخص کی موت سے ہو گی یا اس فعل کے محل کے فوت ہو جانے سے، یا تو وہ ادمی مر جائے جس نے قسم کھائی ہے اب وہ فعل نہیں کر سکتا یا وہ محل فوت ہو جائے جس کی اس نے قسم کھائی تھی، جیسے پیچھے مسئلہ گزرا کوزے میں پانی موجود ہے اور ایک ادمی قسم کھاتا ہے کہ واللہ یہ پانی میں ضرور پیوں گا اور پھر کسی نے وہ پانی گرا دیا تو اب وہ قسم پوری کرنے کا محل ہی نہ رہا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَحْنَثُ لِوُقُوعِ الْيَأْسِ عَنْهُ وَذَلِكَ بِمَوْتِهِ أَوْ بِفَوْتِ مَحَلِّ الْفِعْلِ اور یہ شخص حانث ہو گا اس فعل سے ناامیدی کے واقع ہونے کے وقت اور یہ ناامیدی جو ہے اس قسم کھانے والے کی موت سے ہو گی یا اس فعل کے محل کے فوت ہو جانے سے۔ وَإِذَا اسْتَحْلَفَ الْوَالِي رَجُلًا لَيُعْلِمَنَّهُ بِكُلِّ دَاعِرٍ دَخَلَ الْبَلَدَ، دَاعِرٌ بھئی، داعر لفظ آگے آ رہا ہے متن میں، داعر کہتے ہیں مفسد کو، مفسد جو فساد پھیلانے والا ہے۔ اب ایک حاکم ہے ایک شہر کا، اس نے کچھ لوگ جاسوس مقرر کیے اور ان کو بلا کر سب سے قسم کھلوائی کہ تم قسم کھا کر کہو کہ جب بھی تمہیں کسی مفسد کا، فساد پھیلانے والے کا پتہ چلے گا تم مجھے ا کر اطلاع دو گے، تو اس نے سب کو قسم کھلوا دی۔ تو اس صورت میں یہ قسم کس حالت پر محمول ہو گی؟ کہتے ہیں جب تک یہ حاکم کی حاکمیت ہے اس وقت تک یہ قسم ہے، لہذا اگر یہ حاکم مر گیا اور پھر ان کو کسی مفسد کا پتہ چلا اور انہوں نے اطلاع نہ دی تو یہ حانث نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ قسم کب تک کے لیے تھی؟ جب تک اس حاکم کی حاکمیت ہے، کیونکہ اس قسم کے کھلانے کا مقصد کیا تھا کہ وہ اس فساد کو تاکہ ختم کر سکے، تو جب یہ شخص مر گیا یا جب اس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، معزول کر دیا گیا تو اب اطلاع دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لہذا اب وہ اطلاع نہ بھی دیں تو حانث نہیں ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا اسْتَحْلَفَ الْوَالِي رَجُلًا، والی کہتے ہیں حاکم بھئی، کسی شہر کا ذمہ دار نگران۔ وَإِذَا اسْتَحْلَفَ الْوَالِي رَجُلًا لَيُعْلِمَنَّهُ بِكُلِّ دَاعِرٍ دَخَلَ الْبَلَدَ اور جب کسی شہر کے حاکم نے کسی آدمی کو قسم کھلائی کہ وہ ضرور بضرور اطلاع دے گا اس کو ہر ایسے مفسد کی جو اس شہر میں داخل ہو جائے، فَهَذَا عَلَى حَالِ وِلَايَتِهِ خَاصَّةً تو یہ قسم محمول ہو گی اس حاکم کی ولایت پر خاص طور پر، اس حاکم کی ولایت کی حالت پر یہ قسم محمول ہو گی، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْهُ دَفْعُ شَرِّهِ أَوْ شَرِّ غَيْرِهِ بِزَجْرِهِ اس لیے کیونکہ اس قسم کے ذریعے مقصود جو ہے اس مفسد کے فساد کو دور کرنا ہے یا دوسروں کے شر کو دور کرنا ہے اس کی ڈانٹ کے ذریعے، بھئی دیکھو مفسد شہر میں ائے گا تو بادشاہ کو یا حاکم کو اطلاع ملے گی تو وہ اس مفسد کو سزا دے گا، تو اس مفسد کا شر ختم ہو گیا اور اس کو سزا دینے کی وجہ سے اور مفسدوں کا شر بھی دفع ہو گیا اور بھی اب سزا کے خوف سے کوئی فساد نہیں پھیلائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْهُ دَفْعُ شَرِّهِ أَوْ شَرِّ غَيْرِهِ بِزَجْرِهِ اس لیے کیونکہ اس قسم کے ذریعے مقصود جو ہے اس فساد والے کے شر کو دور کرنا ہے یا اس کی ڈانٹ کے ذریعے دوسروں کے شر کو دور کرنا ہے، فَلَا يُفِيدُ فَائِدَتَهُ بَعْدَ زَوَالِ سَلْطَنَتِهِ تو یہ ڈانٹ جو ہے یہ فائدہ نہیں دے گی اس حاکم کی حکومت کے ختم ہو جانے کے بعد، وَالزَّوَالُ بِالْمَوْتِ وَكَذَا بِالْعَزْلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ اور اس کی حکومت کا زوال اس کی موت سے ہو گا اور اسی طرح معزول کر دینے سے بھی کہ اس کو عہدے سے معزول کر دیا جائے۔ تو کہتے ہیں: وَالزَّوَالُ بِالْمَوْتِ وَكَذَا بِالْعَزْلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ اور اس کی حکومت کا زوال اس کی موت سے ہو گا اور اسی طرح اس کو معزول کر دینے سے بھی ظاہرِ روایت میں۔ وَمَنْ حَلَفَ أَنْ يَهَبَ عَبْدَهُ لِفُلَانٍ فَوَهَبَهُ وَلَمْ يَقْبَلْ فَقَدْ بَرَّ فِي يَمِينِهِ۔ ایک صورت یہ: ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں اپنا غلام فلاں کو ہبہ کروں گا، پھر اس نے اپنا غلام فلاں کو ہبہ کر دیا لیکن اس نے قبول نہیں کیا۔ تو ہبہ تو تام ہی تب ہوتا ہے جب دوسرا ادمی اس ہبہ پر قبضہ کر لے، تو کیا یہ شخص حانث ہو گیا؟ کہتے ہیں نہیں یہ حانث نہیں ہوا اس نے تو اپنی قسم پوری کر دی، اس نے بھی کیا کہا تھا میں اپنا غلام فلاں کو ہبہ کروں گا، اس نے ہبہ تو کر دیا وہ الگ بات ہے اس نے قبول نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ أَنْ يَهَبَ عَبْدَهُ لِفُلَانٍ فَوَهَبَهُ وَلَمْ يَقْبَلْ فَقَدْ بَرَّ فِي يَمِينِهِ اور جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اپنے غلام کو ہبہ کرے گا فلاں کو تو اس نے اپنا غلام اسے ہبہ کیا اور اس نے قبول نہیں کیا تو تحقیق یہ سچا ہو گیا اپنی قسم میں، خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام زفر کے، امام زفر فرماتے ہیں نہیں یہ حانث ہو گیا، جب اس نے قبول نہیں کیا تو یہ حانث ہو گیا۔ وہ دراصل اس ہبہ کو قیاس کرتے ہیں بیع پر، بیع، کیونکہ بیع میں بھی دوسرے کو مالک بنایا جاتا ہے اور ہبہ کے اندر بھی دوسرے کو مالک بنایا جاتا ہے، تو وہ اس ہبہ کو قیاس کرتے ہیں بیع پر، جیسے بیع میں دوسرے کا قبول کرنا ضروری ہے اس کے بغیر بیع تام نہیں اسی طرح ہبہ میں بھی دوسرے کا قبول کرنا ضروری ہے اس کے بغیر ہبہ تام نہیں، اس کے بغیر ہبہ نہیں پایا گیا لہذا یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَإِنَّهُ يَعْتَبِرُهُ بِالْبَيْعِ لِأَنَّهُ تَمْلِيكٌ مِثْلُهُ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے اس لیے کیونکہ وہ اس ہبہ کو قیاس کرتے ہیں بیع پر اس لیے کیونکہ ہبہ بھی بیع کی طرح تملیک ہے یعنی دوسرے کو مالک بنانا ہے۔ وَلَنَا أَنَّهُ عَقْدُ تَبَرُّعٍ، میں نے آپ کو بتلایا تھا تبرع کا معنی ہے اپنی طرف سے کوئی چیز ادا کرنا جو کسی پر لازم نہیں۔ اور ہبہ بھی کیا ہے؟ تبرع ہے۔ وَلَنَا أَنَّهُ عَقْدُ تَبَرُّعٍ فَيَتِمُّ بِالْمُتَبَرِّعِ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہبہ جو ہے عقدِ تبرع ہے تو یہ متبرع پر ہی پورا ہو جائے گا یعنی ہبہ کرنے والے پر ہی پورا ہو جائے گا، وَلِهَذَا يُقَالُ وَهَبَ وَلَمْ يَقْبَلْ اور اسی لیے عربی میں کہا جاتا ہے کہ ایک نے ہبہ کیا اور اس دوسرے نے قبول نہیں کیا، اس کو پھر بھی ہبہ کہتے ہیں۔ وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ إِظْهَارُ السَّمَاحَةِ، سماحت کہتے ہیں سخاوت اور فیاضی کو، وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ إِظْهَارُ السَّمَاحَةِ وَذَلِكَ يَتِمُّ بِهِ اور نیز اس لیے کیونکہ ہبہ کے ذریعے مقصود جو ہے اپنی سخاوت کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اس کے فعل سے پورا ہو جاتا ہے۔ جب اس نے اپنی طرف سے ایک چیز دے دی تو اظہارِ سخاوت تو ہو گیا، دوسرا قبول کرے یا نہ کرے تو ہبہ ہو گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ إِظْهَارُ السَّمَاحَةِ وَذَلِكَ يَتِمُّ بِهِ اور اس لیے کیونکہ ہبہ کے ذریعے مقصود جو ہے اپنی سخاوت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ سخاوت کا اظہار جو ہے وہ صرف ہبہ کرنے والے سے ہی پورا ہو جاتا ہے، وَأَمَّا الْبَيْعُ فَمُعَاوَضَةٌ فَاقْتَضَى الْفِعْلَ مِنَ الْجَانِبَيْنِ اور باقی بیع جو ہے وہ تو عقدِ معاوضہ ہے تو وہ دونوں طرف سے فعل کا تقاضا کرتا ہے، وہ دونوں طرف سے فعل کا تقاضا کرتا ہے یعنی دوسرے کی طرف سے وہاں قبول بھی ضروری ہوتا ہے جبکہ ہبہ یہ تو عقدِ معاوضہ نہیں ہے یہ عقدِ تبرع ہے لہذا یہاں صرف یہ متبرع پر ہی تام ہو جاتا ہے اور اس کو ہبہ کہتے ہیں بھئی۔ تو لہذا آپ ہبہ کو بیع پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ ہبہ عقدِ تبرع ہے اور بیع عقدِ معاوضہ ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَشَمُّ رَيْحَانًا فَشَمَّ وَرْدًا أَوْ يَاسَمِينًا لَا يَحْنَثُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں ریحان نہیں سونگھوں گا۔ ریحان؟ ریحان کوئی پودا ہے بھئی خوشبودار، ہمارے ہاں تو یہ نیاز بو کو کہتے ہیں، یہ خوشبودار پودا جس کے پتیوں سے بھی خوشبو اتی ہے۔ تو پشتو میں غالباً اس کو کشمالو کہتے ہیں بھئی۔ تو ایک ادمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ ریحان کو نہیں سونگھے گا، ریحان پودے کو، اور پھر اس نے گلاب کے پھول کو سونگھا یا اس نے چنبیلی کے پھول کو سونگھا تو کیا حانث ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَشَمُّ رَيْحَانًا فَشَمَّ وَرْدًا أَوْ يَاسَمِينًا لَا يَحْنَثُ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ ریحان کو نہیں سونگھے گا تو اس نے گلاب کو سونگھا یا چنبیلی کو سونگھا لَا يَحْنَثُ تو یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّهُ اسْمٌ لِمَا لَا سَاقَ لَهُ وَلَهُمَا سَاقٌ، اچھا بھئی اب یہاں ریحان سے کوئی خاص پودا مراد ہو گا معلوم نہیں، لیکن صاحب ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ اس نے قسم کھائی ہے ریحان نہ سونگھنے کی اور ریحان وہ پودا ہے جو زمین پر پھیلا ہوتا ہے اس کی کوئی ڈنڈی وغیرہ نہیں ہوتی، بھئی بیل زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور عام پودے اونچے زمین پر کھڑے ہوتے ہیں ان کی ڈنڈی ہوتی ہے مضبوط وہ کھڑے ہوتے ہیں، تو لہذا یہ جو گلاب اور چنبیلی ہے ان کی ڈنڈی ہوتی ہے یہ زمین پر یہ پودے کھڑے ہوتے ہیں اور جبکہ ریحان اس پودے کو کہتے ہیں جو زمین پر بیل کی صورت میں پھیلا ہوا ہوتا ہے، تو لہذا یہ ورد اور یاسمین یہ ریحان نہیں ہیں بھئی، تو یہ بہرحال کوئی خاص پودا ہو گا معلوم نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ اسْمٌ لِمَا لَا سَاقَ لَهُ، ساق کہتے ہیں پنڈلی کو پنڈلی، لیکن مراد وہ پودے کی ڈنڈی ہے بھئی، بڑا درخت ہو تو اس کو ہم تنا کہتے ہیں اور چھوٹا پودا ہے تو وہ چھوٹی سی اس کی ڈنڈی جو ہے۔ لِأَنَّهُ اسْمٌ لِمَا لَا سَاقَ لَهُ اس لیے کیونکہ ریحان نام ہے اس پودے کا لَا سَاقَ لَهُ جس کی ڈنڈی نہیں ہوتی وَلَهُمَا سَاقٌ اور یہ جو گلاب اور چنبیلی ہیں ان کی تو ڈنڈی ہوتی ہے۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يَشْتَرِي بَنَفْسَجًا، ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں بنفشہ نہیں خریدوں گا۔ اب بنفشہ یہ ایک پھول کا نام ہے تو اس سے کیا مراد لیں گے؟ تو یہ آپ کو بتلائیں گے کہ عرف کے اندر بنفشہ سے مراد بنفشہ کا تیل ہوتا ہے، اس پودے سے اس پھول سے جو تیل نکالا جاتا ہے وہ مراد ہوتا ہے لہذا یہ قسم تیل پر محمول ہو گی بھئی۔ تو بہرحال اس میں عرف کو دیکھا جائے گا، ہمارے عرف میں الگ غور کرنا پڑے گا کہ ہمارے عرف میں بنفشہ پھول کو کہتے ہیں یا تیل کو، تو عرف کے مطابق پھر اس کے مطابق مسئلہ ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَشْتَرِي بَنَفْسَجًا وَلَا نِيَّةَ لَهُ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ بنفشہ نہیں خریدے گا اور اس کی کوئی نیت نہیں ہے، اگر نیت ہے کہ پھول مراد لیتا ہے پھر تو پھول ہی مراد ہے قسم میں، پھر تو وہ قسم پھول پر ہی محمول ہو گی اور اگر وہ بنفشہ کے تیل کی نیت کرتا ہے پھر تو یہ قسم بھی بنفشہ کے تیل پر محمول ہو گی، لیکن یہ وہ صورت ہے جب اس نے کوئی نیت نہیں کی، اب اس سے کیا مراد لیں؟ تو کہتے ہیں کہ جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ بنفشہ نہیں خریدے گا اور حال یہ ہے کہ اس کی کوئی نیت نہیں ہے فَهُوَ عَلَى دُهْنِهِ تو یہ قسم محمول ہو گی بنفشہ کے تیل پر، دُهْنٌ تیل کو کہتے ہیں، فَهُوَ عَلَى دُهْنِهِ تو یہ قسم محمول ہو گی بنفشہ کے تیل پر اعْتِبَارًا لِلْعُرْفِ عرف کا اعتبار کرتے ہوئے، وَلِهَذَا يُسَمَّى بَائِعُهُ بَائِعَ الْبَنَفْسَجِ اور اسی لیے اس بنفشہ کے تیل کو بیچنے والے کو بنفشہ بیچنے والا کہتے ہیں، بنفشہ کا جو تیل بیچتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بنفشہ بیچنے والا۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا يُسَمَّى بَائِعُهُ بَائِعَ الْبَنَفْسَجِ اور اسی لیے بنفشہ کے تیل بیچنے والے کو بنفشہ بیچنے والا کہتے ہیں، وَالشِّرَاءُ يَبْتَنِي عَلَيْهِ اور خریدنے کی بنیاد بیچنے پر ہی ہے، جب بنفشہ کا تیل بیچنے والا وہ بنفشہ بیچنے والا ہے تو اس تیل کو خریدنے والا بھی بنفشہ خریدنے والا ہے بھئی، تو خریدنے کی بنیاد بیچنے پر ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالشِّرَاءُ يَبْتَنِي عَلَيْهِ اور خریدنے کی بنیاد بیچنے پر ہوتی ہے، وَقِيلَ فِي عُرْفِنَا تَقَعُ عَلَى الْوَرَقِ اور کہا گیا ہے کہ ہمارے عرف میں یہ قسم واقع ہو گی پتیوں پر، ورق پتے کو کہتے ہیں مراد اس پھول کی پتیاں ہیں، ہمارے عرف میں یہ قسم بنفشہ کی پتیوں پر محمول ہو گی۔ بھئی یہ عرف کی بات ہے، اگر ہمارے عرف میں بنفشہ کے تیل کو بنفشہ نہیں کہتے تو پھر ہمارے ہاں بھی پھول کی پتیاں ہی مراد ہوں گی۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ فِي عُرْفِنَا تَقَعُ عَلَى الْوَرَقِ اور کہا گیا ہے کہ ہمارے عرف میں یہ قسم واقع ہو گی بنفشہ کے پتوں پر۔ وَإِنْ حَلَفَ عَلَى الْوَرْدِ، صورت یہ: ایک ادمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں گلاب نہیں خریدوں گا، اب ایک ہے گلاب کی پتیاں اور ایک ہے اس گلاب سے گلاب کا عرق نکالا جاتا ہے یا گلاب سے خوشبو بنائی جاتی ہے تو کیا مراد لیں گے؟ کہتے ہیں بھئی گلاب سے عرف میں گلاب کا پھول اور اس کی پتیاں مراد لیتے ہیں اس کا عرق وغیرہ مراد نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ عَلَى الْوَرْدِ فَالْيَمِينُ عَلَى الْوَرَقِ اور اگر اس شخص نے گلاب پر قسم کھائی کہ گلاب نہیں خریدے گا فَالْيَمِينُ عَلَى الْوَرَقِ تو یہ قسم جو ہے اس گلاب کی پتیوں پر ہے، ورق پتہ بھئی میں نے بتایا پتہ، تو مراد وہ پھول کی پتیاں ہیں، تو کہتے ہیں فَالْيَمِينُ عَلَى الْوَرَقِ تو یہ قسم جو ہے اس گلاب کی پتیوں پر ہے لِأَنَّهُ حَقِيقَةٌ فِيهِ اس لیے کیونکہ ورد کا لفظ ان پتیوں میں حقیقت ہے، یہ جو پھول کی پتیاں ہیں یہ ہیں حقیقت میں گلاب، وَالْعُرْفُ مُقَرِّرٌ لَهُ اور عرف اسی کو ثابت کرتا ہے، عرف میں بھی گلاب کو بول کر یہی پتیاں مراد ہوتی ہیں کوئی اور چیز مراد نہیں، تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ حَقِيقَةٌ فِيهِ اس لیے کیونکہ گلاب کا لفظ جو ہے وہ ان پتیوں کے اندر حقیقت ہے وَالْعُرْفُ مُقَرِّرٌ لَهُ اور عرف بھی اسی معنی کو پکا کرتا ہے یعنی عرف میں بھی یہی معنی مراد ہوتا ہے، وَفِي الْبَنَفْسَجِ قَاضٍ عَلَيْهِ اور بنفشہ کے اندر عرف جو ہے وہ اس حقیقت پر غالب ہے۔ قَضَى عَلَيْهِ، قضیٰ علی کا معنی ہوتا ہے کسی چیز پر غالب آنا، جیسے آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک حقیقتِ مستعملہ وہ غالب ہے مجازِ متعارف پر بھئی، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ایک ہے بنفشہ کا حقیقی معنی اور وہ اس پھول کی پتیاں ہیں، اور ایک ہے بنفشہ کا مجازی معنی اور وہ اس کا تیل ہے، تو یہاں پر عرف غالب ہے بنفشہ بول کر بنفشہ بول کر بنفشہ کا تیل مراد لیتے ہیں بنفشہ مراد نہیں لیتے، تو کہتے ہیں: وَفِي الْبَنَفْسَجِ قَاضٍ عَلَيْهِ اور بنفشہ کے اندر عرف جو ہے وہ غالب ہے اس حقیقت پر اس کے حقیقی معنی پر لہذا وہاں بنفشہ کا تیل مراد لیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 108 of 160