آگے سبق دیکھیے بھئی!
”وَإِذَا اشْتَرَى الرَّجُلَانِ ابْنَ أَحَدِهِمَا عَتَقَ نَصِيبُ الْأَبِ، لِأَنَّهُ مَلَكَ شِقْصَ قَرِيبِهِ، وَشِرَاؤُهُ إِعْتَاقٌ عَلَى مَا مَرَّ، وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ، عَلِمَ الْآخَرُ أَنَّهُ ابْنُ شَرِيكِهِ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ، وَكَذَلِكَ إِذَا وَرِثَاهُ. وَالشَّرِيكُ بِالْخِيَارِ: إِنْ شَاءَ أَعْتَقَ نَصِيبَهُ، وَإِنْ شَاءَ اسْتَسْعَى الْعَبْدَ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ.“
بھئی، گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر ایک غلام کے اندر دو آدمی شریک ہیں، اور دونوں میں سے ہر ایک گواہی دیتا ہے کہ میرے ساتھی نے، میرے شریک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے، اور وہ جو شریک ہے وہ اس بات کا انکار کر رہا ہے۔ تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ غلام جو ہے دونوں کے لیے سعی کرے گا، دونوں کو ان کے حصے کی قیمت لا کر دے گا اور آزاد ہو جائے گا۔ چاہے اس کے جو شریک ہیں وہ مالدار ہیں، چاہے تنگدست ہیں، چاہے ان میں سے ایک مالدار ہے اور ایک تنگدست ہے بھئی۔ اور اب اس کو غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا؛ کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہے کہ میرے شریک نے اپنے حصے کو آزاد کر کے میرا حصہ خراب کر دیا ہے، اور میں اب اپنے حصے کو بھی غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔
تو لہٰذا ان کی اپنی ذات کے بارے میں ان کی تصدیق کی جائے گی، اور غلام جو ہے اس سے یہ سعی کروائیں گے کیونکہ ان کو سعی کا حق یقینی طور پر حاصل ہے، چاہے وہ سچ بول رہے ہیں یا چاہے جھوٹ بول رہے ہیں۔ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کا حصہ مکاتب کے درجے میں ہو چکا ہے اور مکاتب سے سعی کروائی جاتی ہے۔ اور اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں تو ان کا حصہ ان کا ابھی بھی مملوک ہے، اور اپنے مملوک اور غلام سے بھی سعی کروائی جا سکتی ہے، کمائی کروائی جا سکتی ہے۔
اور اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا مالداری اور تنگدستی سے، اس لیے کیونکہ امام صاحب کا ضابطہ ہے کہ معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے بھئی۔ البتہ یہاں ضمان نہیں لیا جا سکتا اس لیے کیونکہ وہ شریکِ آخر جو ہے وہ اس اعتاق کا انکار کر رہا ہے بھئی۔
اور ولاء جو ہے وہ دونوں کے اندر، دونوں کے اندر تقسیم ہوگی، اس لیے کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہے کہ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، یعنی وہ اقرار کر رہا ہے کہ وہ اپنے حصے کی ولاء کا مستحق ہے۔ اور یہ غلام سے سعی کروائیں گے تو یہ بھی معتق بن جائیں گے تو یہ اپنے حصے کی ولاء کے مستحق ہو جائیں گے، تو دونوں اپنے اپنے حصوں کی ولاء کے مستحق ہوں گے۔ یہ مذہب ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔
جبکہ صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ دونوں شریک جو ہیں یہ اگر مالدار ہیں پھر تو غلام پر کوئی سعی نہیں، کیونکہ جب مالدار ہو معتق تو صرف اس سے ضمان لیا جا سکتا ہے، غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ تو یہاں غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی اور ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا کیونکہ معتق اگرچہ مالدار ہے لیکن وہ اعتاق کا انکار کر رہا ہے۔ اور اگر دونوں شریک تنگدست ہیں تو پھر غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا۔ اور اگر دونوں میں سے ایک مالدار ہے اور ایک تنگدست ہے تو مالدار کے لیے غلام سعی کرے گا اور تنگدست کے لیے سعی نہیں کرے گا۔
مالدار کے لیے سعی اس لیے کرے گا کیونکہ مالدار کا یہ دعویٰ ہے کہ میرا شریک جو تنگدست ہے اس نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، اور معتق جب تنگدست ہو تو اس سے ضمان نہیں لیا جا سکتا، صرف غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ تو گویا مالدار یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میرا غلام کے اندر سعی کا حق ہے، لہٰذا غلام سے سعی کروا سکتا ہے۔ جبکہ تنگدست نے جب یہ دعویٰ کیا کہ میرے شریک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، تو اس کا شریک تو مالدار ہے، تو گویا یہ تنگدست جو ہے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ مجھے اپنے مالدار شریک سے ضمان دلوایا جائے، کیونکہ جب معتق مالدار ہو تو صرف ضمان لیا جا سکتا ہے، غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ تو معلوم ہوا یہ جو تنگدست شریک ہے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ مجھے اپنے مالدار شریک سے ضمان دلوایا جائے اور غلام سے سعی کروانے کا میرا حق نہیں بنتا۔ تو لہٰذا غلام سے وہ سعی بھی نہیں کروا سکتا اور ضمان بھی نہیں لے سکتا کیونکہ وہ مالدار شریک تو اعتاق کا انکار کر رہا ہے بھئی۔
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ان تمام صورتوں میں، یعنی چاہے دونوں شریک مالدار ہوں، چاہے دونوں تنگدست ہوں، چاہے ایک مالدار ہو یا ایک تنگدست ہو، تمام صورتوں کے اندر ولاء کو موقوف رکھا جائے گا، کسی ایک کے بھی حوالے نہیں کیا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ صاحبین کے نزدیک اعتاق کی تقسیم نہیں ہو سکتی، لہٰذا جس نے بھی آزاد کیا تو اس کی طرف سے سارا غلام آزاد ہو جائے گا اور وہی اکیلا ولاء کا مستحق ہوگا۔ اور اس کی تو یہاں تعیین نہیں ہو رہی، وہ تو مجہول ہے۔ لہٰذا جب تک دونوں کسی ایک کے بارے میں اتفاق نہ کر لیں کہ اس نے غلام کو آزاد کیا تھا، اس وقت تک ولاء کو روک کر رکھا جائے گا۔ اور اگر ولاء کا فیصلہ نہ ہو سکا، دونوں کسی ایک پر متفق نہ ہو سکے تو پھر اس ولاء کو بیت المال میں جمع کروا دیا جائے گا بھئی۔
اور اس کے بعد دوسرا مسئلہ آپ نے پڑھا تھا کہ ایک غلام کے اندر دو آدمی شریک ہیں، اور ان دونوں میں سے ایک شریک کہتا ہے کہ مثلاً اگر کل فلاں چیز پائی گئی تو میرا غلام، میرا حصہ آزاد ہے۔ اور دوسرا شریک کہتا ہے: اگر کل فلاں چیز نہ پائی گئی تو میرا حصہ آزاد ہے۔ یعنی دونوں نے اپنے حصے کی آزادی کو معلق کر دیا ایک ہی چیز کے ساتھ۔ البتہ ایک نے اس چیز کے ہونے پر معلق کیا اور دوسرے نے اس چیز کے نہ ہونے پر۔ اور ان دو میں سے ایک چیز تو کل ضرور پائی جائے گی، یا وہ پائی جائے گی یا نہیں پائی جائے گی تو دونوں میں سے ایک کی شرط تو ضرور پوری ہوگی۔ لیکن کل کا دن گزر گیا اور پتہ ہی نہ چل سکا کہ کس کی شرط پوری ہوئی ہے، کس کے حصے کو آزاد قرار دیا جائے۔
اگر شرط کا پتہ چل سکتا ہو کہ فلاں کی شرط پوری ہوئی ہے اور فلاں کا حصہ آزاد ہوا ہے، پھر تو مسئلہ بڑا آسان ہے، جس کا حصہ آزاد ہوا وہ معتق بن گیا، اور دوسرے کو امام صاحب کے نزدیک اختیار ہے، وہ چاہے تو اپنے حصے کو ویسے ہی آزاد کر دے، وہ چاہے تو اپنے حصے سے سعی کروا لے، اور اگر معتق مالدار ہے تو چاہے اس سے ضمان لے لے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک اگر شرط کا پتہ چل گیا اور ایک کا حصہ آزاد ہو گیا، تو پھر اگر اس کا معتق مالدار ہے تو پھر صرف ضمان ہی وصول کیا جا سکتا ہے، اور اگر معتق تنگدست ہے تو صرف غلام سے سعی ہی کروائی جا سکتی ہے۔
لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ شرط کا پتہ ہی نہیں چل رہا کہ وہ چیز پائی گئی ہے یا چیز نہیں پائی گئی، اور کس کی شرط پوری ہوئی ہے۔ مثلاً زید اور عمرو کے درمیان ایک غلام مشترک ہے، زید نے شرط لگائی کہ اگر خالد کل اس گھر کے اندر گیا تو میرے حصے کا غلام آزاد ہے، اور عمرو نے شرط لگائی کہ اگر کل خالد اس گھر کے اندر نہ گیا تو میرے حصے کا غلام آزاد ہے۔ اب اگلا دن گزر گیا لیکن پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کس کی شرط پوری ہوئی ہے۔
تو اس صورت میں شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کا نصف حصہ تو یقینی طور پر آزاد ہو چکا ہے؛ کیونکہ اس چیز کے ہونے یا نہ ہونے میں سے ایک چیز تو ضرور ہوئی ہے۔ تو لہٰذا غلام کا نصف حصہ یقینی طور پر آزاد ہے، اور غلام جو ہے اپنی نصف قیمت کے اندر سعی کرے گا اور ان دونوں کو لا کر وہ نصف قیمت ادا کرے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اپنی پوری قیمت کے اندر سعی کرے گا، اور پوری قیمت کما کر لائے گا اور نصف ایک شریک کو دے دے گا اور نصف دوسرے شریک کو۔
امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ نصف غلام آزاد تو ہو چکا ہے، لیکن کس کا حصہ آزاد ہوا ہے، وہ مقضی علیہ یہاں پر مجہول ہے۔ اور جس کا حصہ آزاد ہوا ہے یقیناً اب وہ غلام سے سعی نہیں کروا سکتا، دوسرا شریک تو سعی کروا سکتا ہے، لیکن جس کا حصہ آزاد ہوا ہے وہ تو غلام سے سعی نہیں کروا سکتا۔ تو لہٰذا یہاں پر کس کے خلاف فیصلہ کیا جائے کہ اس کی سعی ساقط ہو چکی ہے؟ تو کسی کے خلاف بھی سعی کے ساقط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مقضی علیہ مجہول ہے۔ معلوم نہیں شرط پوری ہوئی ہے یا نہیں، اگر پوری ہوئی ہے تو زید کا حصہ آزاد ہو چکا، اگر نہیں ہوئی تو عمرو کا حصہ آزاد ہو چکا۔ لیکن یہاں کس کی شرط پوری ہوئی ہے، وہ مقضی علیہ مجہول ہے۔ اور جب مقضی علیہ مجہول ہے تو کسی ایک کے حصے کی سعی کے بھی ساقط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور جب سعی کے ساقط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر یقیناً غلام کو اپنی ساری قیمت کے اندر سعی کرنا پڑے گی۔
جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کا نصف حصہ تو یقینی طور پر آزاد ہو چکا ہے، لہٰذا جب غلام کا نصف حصہ یقینی طور پر آزاد ہو چکا ہے تو غلام سے اس کی پوری قیمت کی سعی کیسے کروائی جا سکتی ہے؟ اس میں تو غلام بیچارے پر ظلم ہے، اس کا حق باطل کیا جا رہا ہے، وہ تو نصف ویسے ہی آزاد ہونا چاہیے اور نصف میں اس کو سعی کرنی چاہیے۔ لہٰذا غلام کی پوری قیمت کی سعی کا حکم نہیں دیا جا سکتا یہاں پر۔ البتہ یہاں پر صرف مقضی علیہ مجہول ہے، لیکن یہ جہالت اٹھ سکتی ہے اس طرح کہ یہاں پر شیوع اور توزیع پر عمل کیا جائے۔ دیکھو، غلام کا نصف حصہ آزاد ہونا یقینی ہے، لیکن کس کا حصہ آزاد ہوا ہے وہ مقضی علیہ مجہول تھا۔ ہم یوں کرتے ہیں کہ شیوع پر عمل کر لیتے ہیں کہ یہ جو نصف غلام آزاد ہوا ہے یہ مشترکہ ہے، یعنی اس میں کچھ حصہ زید کا ہے اور کچھ حصہ عمرو کا، تو کچھ حصہ زید کا آزاد ہوا تو وہ مقضی علیہ ہوا، کچھ حصہ عمرو کا آزاد ہوا تو وہ بھی مقضی علیہ ہوا، تو مقضی علیہ معلوم ہو گیا۔ تو لہٰذا وہ جو حصہ آزاد ہوا ہے اس کو مشترکہ قرار دیا جائے اور پھر اس کو دونوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اسی طرح سعی کے اندر بھی، جو غلام نصف قیمت میں سعی کرے گا اس کو بھی مشترکہ قرار دیا جائے کہ یہ دونوں کے حصے کی ہے، اور پھر اس کو دونوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جب شیوع اور توزیع پر عمل کیا جائے گا تو مقضی علیہ کے اندر جو جہالت تھی وہ ختم ہو گئی، مقضی علیہ بھی معلوم ہو گیا۔
اور یہ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنے دو غلاموں میں سے غیر معین کو آزاد کرے۔ مثلاً ایک شخص کے دو غلام ہیں اور وہ کہتا ہے: تم دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ تو اس نے ایک غیر معین کو آزاد کیا ہے، تو اب اس صورت میں آقا کا بیان چاہیے کہ وہ بیان کرے کہ اس نے ان دونوں میں سے کس کی نیت کی تھی، کس کا ارادہ کیا تھا۔ اور اگر آقا بیان سے پہلے ہی مر گیا، تو پھر اس صورت میں یہاں پر بھی شیوع اور توزیع پر عمل کیا جائے گا کہ ایک رقبہ نے آزاد ہونا ہے، اس رقبہ کو دونوں غلاموں کے درمیان مشترکہ قرار دیا جائے اور پھر اس کو دونوں میں تقسیم کر دیا جائے، تو نصف حصہ ایک غلام کا آزاد ہوا اور نصف حصہ دوسرے غلام کا آزاد ہوا، اور نصف نصف قیمت میں دونوں سعی کریں گے اور آزاد ہو جائیں گے۔ یا یہ اسی طرح ہے کہ جیسے ایک شخص نے اپنے دو غلاموں میں سے ایک معین کو آزاد کیا لیکن بعد میں وہ بھول گیا کہ میں نے کس غلام کو آزاد کیا تھا، اور یاد آنے سے پہلے ہی وہ مر گیا، تو یہاں پر بھی شیوع اور توزیع پر عمل کیا جائے گا۔ وہ جو ایک رقبہ آزاد ہوئی ہے جس کو وہ بھول گیا ہے، اس کو مشترکہ قرار دیا جائے گا دونوں غلاموں کے درمیان، اور پھر توزیع کر دی جائے گی، اس کو دونوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ تو نصف حصہ ایک غلام کا آزاد ہو جائے گا اور نصف حصہ دوسرے غلام کا، اور اپنی نصف نصف قیمت میں دونوں سعی کریں گے اور لا کر وارثوں کے حوالے کریں گے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہم نے تو یہاں مختصر صورت بیان کر دی کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک غلام اپنی نصف قیمت کے اندر سعی کرے گا، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام اپنی پوری قیمت کے اندر سعی کرے گا، لیکن اسی مسئلے کے اندر تفریع حاصل ہوتی ہے اگر یہ دونوں شریک مالدار ہوں یا دونوں تنگدست ہوں یا دونوں میں سے ایک مالدار ہو اور ایک تنگدست ہو، کیونکہ صاحبین کے نزدیک اگر معتق مالدار ہو تو پھر غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ تو امام صاحب کے نزدیک تو مسئلہ اسی طرح رہے گا، چاہے دونوں مالدار ہیں، چاہے دونوں تنگدست ہیں، چاہے ایک مالدار ہے اور ایک تنگدست ہے، لیکن صاحبین کے نزدیک مسئلہ بدلے گا، اگر معتق مالدار ہوا تو غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر دو افراد ہیں اور دونوں کا اپنا الگ الگ غلام ہے، زید کا غلام الگ ہے، عمرو کا غلام الگ ہے، یہاں کوئی اشتراک نہیں ہے، لیکن دونوں نے اسی طرح کیا۔ زید نے کہا کہ اگر کل خالد اس گھر کے اندر گیا تو میرا غلام آزاد ہے، اور عمرو نے کہا کہ اگر کل خالد اس گھر کے اندر نہ گیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب کل کا دن گزر گیا اور پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کس کی شرط پوری ہوئی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر کہتے ہیں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا دونوں کے غلام اسی طرح غلام رہیں گے۔ وجہ یہ کہ یہاں پر جہالت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ پچھلے مسئلے میں صرف مقضی علیہ مجہول تھا، لیکن یہاں مقضی علیہ بھی مجہول ہے اور مقضی لہ بھی مجہول ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے مقضی علیہ جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے، ایک ہے مقضی لہ جس کے حق میں فیصلہ کیا جائے، اور ایک ہے مقضی بہ جس چیز کا فیصلہ کیا جائے، یعنی قاضی نے فیصلہ کیا وہ کیا ہے؟ مقضی بہ ہے۔ تو یہاں پر مقضی بہ تو معلوم ہے، قاضی نے کیا فیصلہ کرنا ہے؟ ایک رقبہ کے آزاد ہونے کا۔ مقضی بہ تو معلوم ہے، لیکن مقضی علیہ اور مقضی لہ دونوں مجہول ہیں۔ مثلاً زید کے غلام کی آزادی کا اگر قاضی فیصلہ کرے گا تو زید ہوا مقضی علیہ، زید کے خلاف ہے یہ فیصلہ، اور زید کا غلام جو ہے وہ مقضی لہ ہے۔ اور اگر قاضی عمرو کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کرے تو عمرو ہوا مقضی علیہ اور عمرو کا غلام ہوا مقضی لہ، لیکن یہاں پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کس کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کیا جائے، تو لہٰذا مقضی علیہ بھی مجہول ہو گیا کہ وہ زید ہے یا عمرو، اور مقضی لہ بھی مجہول ہو گیا کہ وہ زید کا غلام ہے یا عمرو کا غلام ہے۔ البتہ صرف مقضی بہ معلوم ہے، تو دو چیزیں مجہول ہیں اور ایک چیز معلوم ہے، لہٰذا یہ معلوم مجہول پر غالب نہیں آ سکتا، کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
جبکہ گزشتہ مسئلے کے اندر غلام مشترکہ تھا دونوں شریکوں کے درمیان، تو اسی غلام کے نصف کے آزادی کا فیصلہ کرنا تھا، تو وہاں مقضی بہ بھی معلوم تھا کہ نصف غلام نے آزاد ہونا ہے، اور مقضی لہ بھی معلوم تھا کہ یہی ایک غلام ہے اسی کے نصف نے آزاد ہونا ہے، البتہ مقضی علیہ معلوم نہیں تھا، تو وہاں دو چیزیں معلوم تھیں اور ایک چیز مجہول تھی، اور پھر اس ایک مجہول کے اندر بھی ہم نے شیوع اور توزیع پر عمل کیا تو وہ بھی معلوم ہو گئی، تو وہاں پر جو دو معلوم تھے وہ مجہول پر غالب آ گئے۔ لہٰذا وہاں پر تو فیصلہ ممکن تھا لیکن یہاں پر کوئی فیصلہ ممکن نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَإِذَا اشْتَرَى الرَّجُلَانِ ابْنَ أَحَدِهِمَا عَتَقَ نَصِيبُ الْأَبِ، لِأَنَّهُ مَلَكَ شِقْصَ قَرِيبِهِ، وَشِرَاؤُهُ إِعْتَاقٌ عَلَى مَا مَرَّ، وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ، عَلِمَ الْآخَرُ أَنَّهُ ابْنُ شَرِيكِهِ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ، وَكَذَلِكَ إِذَا وَرِثَاهُ.“
بھئی، صورتِ مسئلہ یہ ہے: دو آدمیوں نے مل کر ایک غلام خریدا، لیکن ان خریدنے والوں میں سے ایک کا بیٹا ہے وہ غلام۔ یعنی خریدار جو ہیں، ایک اجنبی ہے اور ایک اس غلام کا باپ ہے۔ ان دونوں نے مل کر اس غلام کو خریدا جو ان خریداروں میں سے ایک کا بیٹا ہے۔ تو یاد رکھو اس صورت میں خریدتے ہی باپ جو ہے اپنے بیٹے کا مالک بنا، اور اگلے ہی لمحے باپ کا حصہ آزاد ہو جائے گا، کیونکہ آپ نے پڑھا تھا، حدیث میں آیا تھا: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“، جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ تو یہ بیٹا کیا ہے باپ کا؟ قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے، تو یہ فوراً آزاد ہو گیا۔
اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس صورت میں شریکِ آخر جو ہے وہ اس باپ سے ضمان نہیں لے سکتا۔ وہ اس باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، وجہ یہ، وجہ یہ کہ وہ شریکِ آخر باپ کے ساتھ اس خریدنے کے اندر شریک ہے، یعنی وہ جو مالک بننے کی علت تھی اس علت کے اندر وہ شریک ہے۔ یہ باپ پر بیٹا کیوں آزاد ہوا؟ کیونکہ باپ نے اس کو خریدا ہے۔ تو یہ اعتاق کی علت کیا ہوئی؟ خریدنا اور خرید کے ذریعے مالک بننا، اور اس علت کے اندر وہ شریک بھی باپ کے ساتھ تھا، اس نے مل کر باپ کے ساتھ خریدا ہے۔ تو چاہے اس شریک کو پتہ ہو یا پتہ نہ ہو کہ یہ غلام اس آدمی کا بیٹا ہے، دونوں صورتوں میں وہ باپ سے ضمان نہیں لے سکتا اگر وہ مالدار ہو۔
اگر وہ غلام کا باپ چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو، دوسرا شریک اس سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ وہ اس کے ساتھ اس خریدنے کی علت کے اندر شریک تھا، یوں کہو اس اعتاق کی جو علت تھی اس کے اندر وہ اس کے ساتھ شریک تھا، گویا وہ راضی تھا اس بات پر کہ میرے شریک کا حصہ آزاد ہو جائے، وہ راضی تھا۔ اور جب وہ راضی تھا تو اب وہ ضمان نہیں لے سکتا۔ یہ اسی طرح ہے، یہ اسی طرح ہے: دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترک ہے، دو شریک ہیں اس غلام میں۔ ایک شریک دوسرے سے کہتا ہے: تم اپنے حصے کو آزاد کرنا چاہتے ہو تو آزاد کر دو۔ تو اس دوسرے نے فوراً اپنے حصے کو آزاد کر دیا۔ اب اس صورت میں یاد رکھو، یہ جو شریک ہے اس کی اجازت سے اس نے غلام کو آزاد کیا ہے، لہٰذا یہ شریک اس معتق سے ضمان نہیں لے سکتا چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو۔ یہ شریک اس معتق سے ضمان نہیں لے سکتا چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس کی رضامندی سے اس نے اپنے حصے کو آزاد کیا ہے، لہٰذا یہ اس سے ضمان نہیں لے سکتا۔ ہاں، پھر اپنے حصے کو یہ چاہے تو آزاد کر دے، اور چاہے تو باقی قیمت کے اندر غلام سے سعی کروا لے۔ تو جیسے زبان کے ذریعے رضامندی کا اظہار کر دیا جائے تو پھر اس معتق سے ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ توجہ ہے؟ یہاں ایک ساتھی نے دوسرے ساتھی سے کیا کہا: اپنے حصے کو آزاد کرنا چاہتے ہو تو آزاد کر دو، اب گویا اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا۔ جب اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا تو اب معتق سے یہ ضمان نہیں لے سکتا۔
اسی طرح یہاں پر بھی جب باپ اور اس آدمی نے مل کر ایک غلام کو خریدا ہے، اس کے بیٹے کو خریدا ہے، تو گویا وہ جو باپ کے ساتھ جو شریک ہے جو خریدنے والا ہے، اس کا باپ کے ساتھ اس خریداری میں شریک ہونا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ باپ کے اعتاق پر راضی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو کیا کر دے؟ آزاد کر دے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور باپ کو آزاد نہیں کرنا پڑے گا، جیسے ہی باپ خریدے گا، اگلے ہی لمحے بیٹا خود بخود آزاد ہو جائے گا، لیکن چونکہ شریک تو خریداری میں باپ کے ساتھ تھا، تو گویا دلالۃً اس کی رضا تھی باپ کے اس اعتاق پر۔ تو جیسے زبان کے ذریعے رضامندی ہو تو پھر ضمان نہیں لیا جا سکتا، اسی طرح دلالۃً بھی رضامندی ہو تو ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
ہاں، اب اس شریک کو اختیار ہے۔ باپ کا حصہ تو آزاد ہو گیا، البتہ دوسرے شریک کو اختیار ہے، وہ چاہے اپنے حصے کو ویسے ہی آزاد کر دے اور چاہے اس بیٹے سے سعی کروا لے کہ میرے حصے کی مالیت تم میں بند ہو گئی ہے، اب جا کر کما کر لاؤ اور آزاد ہو جاؤ۔ یہ مذہب ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔
پھر سنو مسئلہ، دوبارہ سنو بھئی: دو افراد نے مل کر ایک غلام خریدا، اور غلام ان دو افراد میں سے ایک کا بیٹا ہے۔ اور جیسے ہی یہ خریدیں گے تو باپ کا جو نصف حصہ ہے وہ خریدتے ہی فوراً خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ اب دوسرے شریک کو چاہے یہ علم ہو کہ یہ اس کا بیٹا ہے، چاہے علم نہ ہو، دونوں صورتوں میں وہ باپ اگر مالدار ہی کیوں نہ ہو اس سے یہ ضمان نہیں لے سکتا، اور ہاں البتہ غلام سے سعی کروا سکتا ہے یا اپنے حصے کو ویسے ہی آزاد کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ اس کے مقابلے میں صاحبین فرماتے ہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر باپ مالدار ہے تو شریکِ آخر باپ سے ضمان لے سکتا ہے، اور اگر باپ تنگدست ہے تو پھر وہ غلام سے سعی کروا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے بھئی کتاب پر:
”وَإِذَا اشْتَرَى الرَّجُلَانِ ابْنَ أَحَدِهِمَا“ اور جب دو آدمیوں نے خریدا ”ابْنَ أَحَدِهِمَا“ دونوں میں سے ایک کے بیٹے کو ”عَتَقَ نَصِيبُ الْأَبِ“ تو باپ کا حصہ آزاد ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ مَلَكَ شِقْصَ قَرِيبِهِ“ اس لیے کیونکہ باپ اپنے قریبی کے حصے کا مالک ہو گیا۔ شقص بھئی، قاف دو نقطوں والا ہے اور ص ہے، شقص کہتے ہیں کسی چیز کا ٹکڑا، کسی چیز کا حصہ۔ تو کہتے ہیں باپ کا حصہ آزاد ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ مَلَكَ شِقْصَ قَرِيبِهِ“ اس لیے کیونکہ باپ اپنے قریبی رشتہ دار کے حصے کا مالک بن گیا ”وَشِرَاؤُهُ إِعْتَاقٌ عَلَى مَا مَرَّ“ اور اپنے قریبی رشتہ دار کو خریدنا ”إِعْتَاقٌ“ یہ اعتاق ہے ”عَلَى مَا مَرَّ“ اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ حدیث میں آیا ہے: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“. ”وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ“ اور باپ پر کوئی ضمان بھی نہیں ہے ”عَلِمَ الْآخَرُ أَنَّهُ ابْنُ شَرِيكِهِ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ“ چاہے دوسرا شریک جو ہے اس کو یہ علم ہو کہ یہ اس کے شریک کا بیٹا ہے یا علم نہ ہو۔ چاہے اس کو علم ہو یا علم نہ ہو، کسی صورت میں باپ سے ضمان نہیں لے سکتا۔
”وَكَذَلِكَ إِذَا وَرِثَاهُ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب یہ دونوں اس کے وارث بنے۔ بھئی دیکھو، جب کوئی آدمی کسی چیز کو خریدتا ہے تو وہ اپنے اختیار سے اس کا مالک بنتا ہے، لیکن یاد رکھو جب وراثت کے اندر ایک شخص کو ایک چیز ملتی ہے تو وہ غیر اختیاری طور پر اس کا مالک بنتا ہے، وہ چاہے یا نہ چاہے وہ مالک بن گیا اس چیز کا۔ اس چیز کا مالک بن گیا، تو لہٰذا، لہٰذا امام صاحب فرماتے ہیں کہ جیسے باپ کسی آدمی کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کو خریدے تو پھر وہ شریک باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، اگرچہ باپ اپنے اختیار سے یہ خریدنے والا فعل اس کے ساتھ کر رہا ہے، یعنی اختیاری طور پر مالک بن رہا ہے، پھر بھی شریکِ آخر جو ہے وہ اس سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ وہ خود خریداری میں اس کے ساتھ شریک تھا، اور اس خریداری میں باپ کے ساتھ شریک ہونا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ باپ کے حصے کے اعتاق پر راضی ہے بھئی۔ جبکہ وراثت کے اندر تو انسان غیر اختیاری طور پر ایک چیز کا مالک بنتا ہے، لہٰذا اگر ایک باپ جو ہے ایک اور آدمی کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کا وارث بن گیا تو وارث بنتے ہی غیر اختیاری طور پر باپ بیٹے کا مالک ہوا، اور مالک ہوتے ہی باپ کا حصہ خود بخود آزاد ہو گیا۔ تو اس صورت میں تو باپ کا کوئی دخل نہیں ہے، بیٹے کے کچھ حصے کی آزادی میں باپ کا کوئی دخل نہیں ہے کیونکہ وہ غیر اختیاری طور پر مالک بنا ہے، تو لہٰذا یہاں بالاتفاق جو ہے یہ شریکِ آخر باپ سے ضمان نہیں لے سکتا۔
آپ حیران ہوں گے کہ باپ اپنے بیٹے کا وارث کیسے بن سکتا ہے؟ بھئی اس کی صورت یہ ہے: ایک عورت ہے، اس کا ایک غلام ہے۔ وہ عورت اس غلام کے باپ کے ساتھ نکاح کر لیتی ہے۔ باپ آزاد ہے اور اس کا بیٹا اس عورت کا مملوک ہے۔ باپ نے اسی عورت سے نکاح کر لیا، تو یہ غلام ابھی بھی عورت کا مملوک ہے، کیونکہ باپ تو اس کا مالک نہیں بنا، باپ مالک بنتا تو یہ آزاد ہوتا، لیکن باپ تو اس کا مالک نہیں، یہ تو اس کی بیوی کا مملوک ہے۔ پھر بعد میں اس عورت کا انتقال ہو گیا اور اس نے اپنے پیچھے صرف اپنے اس خاوند کو چھوڑا ہے جو اس غلام کا باپ ہے، اور اپنے بھئی کو چھوڑا ہے۔ تو یہ غلام کے وارث یہ دونوں بنیں گے، یہ باپ بھی اور وہ بیوی کا بھئی بھی، یہ دونوں وارث بنیں گے۔ تو باپ غیر اختیاری طور پر اپنے بیٹے کے کچھ حصے کا مالک بنا اور مالک بنتے ہی بیٹے کا وہ حصہ آزاد ہو گیا۔ تو لہٰذا یہاں پر بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ جو بیوی کا بھئی ہے یہ باپ سے ضمان وصول نہیں کر سکتا چاہے باپ مالدار ہی کیوں نہ ہو۔ وجہ یہ کہ یہاں بیٹے کا مالک بننے میں باپ کا کوئی دخل نہیں، وہ غیر اختیاری طور میں بطورِ وراثت کے اپنے بیٹے کا مالک بنا ہے۔
جبکہ پچھلے مسئلے کے اندر باپ نے ایک آدمی کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کو خریدا تھا، وہاں اختیاری طور پر مالک بنا تھا، اپنے اختیار سے خریدا تھا اس نے۔ تو حاصلِ کلام یہ، حاصلِ کلام یہ: امام صاحب کا مذہب یہ ہے کہ باپ کسی اور آدمی کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کا چاہے اختیاری طور پر مالک بنے، چاہے غیر اختیاری طور پر، دونوں صورتوں میں باپ سے ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ باپ اگر کسی آدمی کے ساتھ مل کر بیٹے کا مالک غیر اختیاری طور پر بنے، پھر تو باپ کا کوئی دخل نہیں، بیٹے کی آزادی میں باپ کا کوئی عمل دخل نہیں، لہٰذا اس صورت میں تو باپ سے ضمان نہیں لیا جا سکتا، لیکن اگر باپ کسی دوسرے شریک کے ساتھ مل کر بیٹے کو خریدے گا تو اس صورت میں باپ کا عمل دخل ہے، لہٰذا اگر باپ مالدار ہے تو شریکِ آخر اس سے ضمان لے سکتا ہے جب باپ اپنے اختیار سے بیٹے کا مالک بنا ہے۔ تو شریکِ آخر باپ سے ضمان لے سکتا ہے اگر باپ مالدار ہے، اور اگر باپ مالدار نہیں ہے تو پھر صاحبین کے نزدیک غلام صرف سعی کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں ”وَكَذَلِكَ إِذَا وَرِثَاهُ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب یہ دونوں اس کے وارث ہوئے یعنی باپ اور ایک شریک اس بیٹے کے وارث ہوئے بھئی۔
”وَالشَّرِيكُ بِالْخِيَارِ“ اچھا بھئی! شریک جو ہے وہ باپ سے ضمان تو نہیں لے سکتا امام صاحب کے نزدیک، چاہے دونوں مل کر اس غلام کو خریدیں، چاہے دونوں اس کے وارث بنیں، ضمان تو نہیں لے سکتا باپ سے۔ تو باقی دو صورتیں رہ گئیں امام صاحب کے نزدیک، یہ شریکِ آخر چاہے تو اپنے حصے کو بھی آزاد کر دے اور چاہے تو غلام سے سعی کروا لے۔
تو کہتے ہیں ”وَالشَّرِيكُ بِالْخِيَارِ“ اور شریک کو اختیار ہے ”إِنْ شَاءَ أَعْتَقَ نَصِيبَهُ“ اگر چاہے تو اپنے حصے کو آزاد کر دے ”وَإِنْ شَاءَ اسْتَسْعَى الْعَبْدَ“ اور چاہے تو اس غلام سے سعی کروا لے ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔
”وَقَالَا فِي الشِّرَاءِ: يَضْمَنُ الْأَبُ نِصْفَ قِيمَتِهِ إِنْ كَانَ مُوسِرًا“ اور صاحبین جو ہے شراء کے مسئلے میں فرماتے ہیں ”يَضْمَنُ الْأَبُ نِصْفَ قِيمَتِهِ إِنْ كَانَ مُوسِرًا“ کہ باپ جو ہے اس غلام کی نصف قیمت کا ضامن ہوگا اگر باپ مالدار ہے ”وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا سَعَى الِابْنُ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ لِشَرِيكِ أَبِيهِ“ اور اگر باپ تنگدست ہے ”سَعَى الِابْنُ“ تو بیٹا سعی کرے گا ”فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ“ اپنے نصف قیمت کے اندر ”لِشَرِيكِ أَبِيهِ“ اپنے باپ کے شریک کے لیے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا وراثت کے مسئلے میں ہمارے تینوں ائمہ متفق ہیں کہ باپ سے ضمان نہیں لیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر اختیاری طور پر مالک بنا ہے۔ لیکن اگر اختیاری طور پر باپ مالک بنا ہے تو پھر امام صاحب کے نزدیک شریکِ آخر ضمان باپ سے نہیں لے سکتا، اور صاحبین کے نزدیک اگر باپ مالدار ہے تو شریکِ آخر باپ سے ضمان لے سکتا ہے۔
کہتے ہیں ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا مَلَكَاهُ بِهِبَةٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ وَصِيَّةٍ“ اور اسی اختلاف پر ہے جب یہ دونوں مالک ہوئے اس کے ”بِهِبَةٍ“ ہبہ کے ذریعے ”أَوْ صَدَقَةٍ“ یا صدقے کے ذریعے ”أَوْ وَصِيَّةٍ“ یا وصیت کے ذریعے۔ بھئی دیکھیے! ہبہ کہتے ہیں کسی کو تحفہ دینا۔ ہبہ کے اندر بھی انسان اپنے اختیار سے کسی چیز کا مالک بنتا ہے۔ آپ کسی کو کوئی چیز تحفے کے طور پر دیتے ہیں تو وہ جب تک اس چیز پر قبضہ نہیں کرے گا تب تک وہ اس چیز کا مالک نہیں، تو جب وہ قبضہ کر رہا ہے معلوم ہوا وہ اپنے اختیار سے اس چیز کا مالک بن رہا ہے۔ اسی طرح جب کسی کو صدقہ کیا جائے کسی پر، تو صرف کہنے سے صدقہ نہیں ہو جاتا بلکہ جب تک وہ فقیر جو ہے اس چیز پر قبضہ نہ کر لے تب تک وہ اس چیز کا مالک نہیں۔ معلوم ہوا صدقے کے اندر بھی انسان اپنے اختیار سے ایک چیز کا مالک بنتا ہے جب اس پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اسی طرح وصیت بھی جو ہے اس کے اندر وصیت بھی ہبہ ہی ہے موت کے بعد بھئی۔ وصیت بھی کیا ہے؟ موت کے بعد ہبہ ہی کے درجے میں ہے۔ لہٰذا وصیت کے اندر بھی جب تک موصى لہ یعنی جس کے لیے وصیت کی تھی وہ جب تک اس چیز پر قبضہ نہیں کرے گا وہ تب تک مالک نہیں بنے گا۔ معلوم ہوا ہبہ میں بھی قبضہ ضروری، صدقہ میں بھی قبضہ ضروری اور وصیت میں بھی قبضہ ضروری، پھر ہی وہ دوسرا آدمی مالک بنے گا۔ معلوم ہوا یہاں بھی مالک بننا اپنے اختیار سے ہے۔ اپنے اختیار سے قبضہ کرے گا تو مالک بن جائے گا بھئی۔ لہٰذا ان تینوں میں بھی صاحبین اور امام صاحب کا اسی طرح اختلاف ہے۔ جیسے خریدنے کے اندر اپنے اختیار سے انسان مالک بنتا ہے، اس میں اختلاف تھا، امام صاحب فرماتے ہیں خریدنے کی صورت میں باپ سے ضمان نہیں لیا جا سکتا، اور صاحبین فرماتے ہیں اگر باپ مالدار ہے تو اس سے ضمان لیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے اختیار سے مالک بنا ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے ہبہ کیا، یا صدقہ کیا، اور یا وصیت کی باپ کے لیے اور کسی اور آدمی کے لیے، تو وہ جب قبضہ کریں گے تو مالک بنیں گے، اور جب قبضہ کیا تو اپنے اختیار سے مالک بنے ہیں۔ لہٰذا امام صاحب کے نزدیک یہ باپ سے ضمان نہیں لیا جا سکتا، اور صاحبین کے نزدیک باپ سے ضمان لیا جا سکتا ہے اگر وہ مالدار ہے۔
تو کہتے ہیں ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ اور اسی اختلاف پر ہے ”إِذَا مَلَكَاهُ“ جب یہ دونوں مالک بن جائیں اس غلام کے ”بِهِبَةٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ وَصِيَّةٍ“ ہبہ کے ذریعے یا صدقے کے ذریعے یا وصیت کے ذریعے۔
”وَعَلَى هَذَا إِذَا اشْتَرَاهُ رَجُلَانِ وَأَحَدُهُمَا قَدْ حَلَفَ بِعِتْقِهِ إِنِ اشْتَرَى نِصْفَهُ“ اور اسی اختلاف پر ہے بھئی، ادھر دیکھیے! صورت یہ کہ دو آدمیوں نے مل کر ایک غلام خریدا، مل کر غلام خریدا، اور ان دونوں خریداروں میں سے کوئی غلام کا باپ نہیں ہے، یعنی دونوں اجنبی ہیں۔ البتہ ان دونوں میں سے ایک نے قسم اٹھائی تھی، یوں کہیں تعلیق کی تھی کہ اگر میں اس غلام کے نصف کا مالک بنا تو وہ میری طرف سے آزاد ہے۔ اگر میں اس غلام کے نصف کا مالک بنا تو یہ غلام آزاد ہے۔ تو اب جب دونوں نے مل کر اس غلام کو خریدا تو وہ تعلیق کرنے والا نصف غلام کا مالک بن گیا، اور مالک بنتے ہی اگلے لمحے غلام خود بخود آزاد ہو جائے گا، خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی امام صاحب اور صاحبین کا وہی اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ شریکِ آخر اس تعلیق کرنے والے سے ضمان نہیں لے سکتا، کیونکہ یہ اس کے ساتھ خریدنے میں خود شریک ہے، خریدنے میں خود شریک ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ اپنے ساتھی کے اعتاق پر راضی ہے بھئی۔ اور جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ اس معتق سے ضمان لے سکتا ہے اگر وہ مالدار ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَعَلَى هَذَا“ اور اسی اختلاف پر ہے ”إِذَا اشْتَرَاهُ رَجُلَانِ“ جب اس غلام کو دو آدمیوں نے خریدا ”وَأَحَدُهُمَا قَدْ حَلَفَ بِعِتْقِهِ إِنِ اشْتَرَى نِصْفَهُ“ اس حال میں کہ ان دونوں میں سے ایک نے قسم اٹھائی تھی یعنی تعلیق کی تھی ”بِعِتْقِهِ“ اس غلام کی آزادی کی ”إِنِ اشْتَرَى نِصْفَهُ“ اگر اس نے اس غلام کے نصف کو خریدا۔ دونوں میں سے ایک نے تعلیق کی تھی کہ اگر میں اس غلام کے نصف کا مالک ہوا تو وہ آزاد ہے، یا میں نے نصف کو خریدا تو وہ آزاد ہے۔ اور نصف کی قید لگائی
صاحبِ ہدایت نے، اگر اس نے پورے غلام کا ذکر کیا ہوتا کہ اگر میں اس غلام کا مالک ہوا تو یہ غلام آزاد ہے۔ تو پھر اس صورت میں یاد رکھو اس نے پورے غلام کے مالک ہونے کی بات کی ہے اور جب یہ دونوں نے مل کر خریدا ہے تو یہ تو پورے غلام کا مالک نہیں بنا، یہ تو نصف کا مالک بنا ہے لہٰذا شرط نہیں پائی گئی۔ جب شرط نہیں پائی گئی تو یہ حصہ بھی آزاد نہیں کیونکہ اس نے کیا شرط لگائی تھی؟ اگر میں نے تمہیں پورا خرید دیا اور جب نصف خریدا ہے تو اس میں تو پورا خریدنا نہیں۔ لہٰذا غلام بھی آزاد نہیں ہوگا۔
تو یہ معنی ہے ﴿وَأَحَدُهُمَا قَدْ حَلَفَ﴾ اور حال یہ ہے کہ تحقیق دونوں میں سے ایک نے قسم اٹھائی ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ تعلیق کو بھی فقہ میں یمین کہتے ہیں یعنی حلف کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿وَأَحَدُهُمَا قَدْ حَلَفَ﴾ اور حال یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک نے حلف اٹھایا ہے ﴿بِعِتْقِهِ إِنِ اشْتَرَى نِصْفَهُ﴾ اس غلام کی آزادی کا اگر اس نے اس غلام کے نصف کو خریدا۔ ﴿لَهُمَا﴾ اب صاحبین کی دلیل آ گئی۔ ﴿لَهُمَا﴾ صاحبین کی دلیل یہ ہے۔ اوپر کیا مسئلہ ذکر ہوا تھا؟ باپ نے ایک شریک کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کو خریدا ہے تو صاحبین فرماتے ہیں اگر باپ مالدار ہے تو وہ اس کو ضمان دینا پڑے گا کیوں؟ کیونکہ باپ نے شریک کے حصے کو خراب کر دیا۔ کیونکہ اپنے قریبی عزیز کو خریدنا بھی اعتاق ہی ہے حتیٰ کہ اس کے اندر اگر کوئی کفارے کی نیت کرے گا تو کفارہ بھی ادا ہو جائے گا۔ مثلاً ایک آدمی ہے اس نے قسم کا کفارہ دینا ہے یا ظہار کا کفارہ دینا ہے یا اس نے کوئی قتل غلطی سے کیا تھا اس کا کفارہ دینا ہے اور ان کے اندر آپ سب آپ جانتے ہیں کہ ایک رقبہ کو آزاد کرنا پڑتا ہے تو اگر کوئی شخص اپنے قریبی عزیز کو خریدتا ہے اس کفارے کی نیت سے تو وہ کفارہ بھی ادا ہو جائے گا۔ جیسے ہی یہ خریدے گا اگلے ہی لمحے وہ قریبی عزیز خود بخود آزاد ہوا اور کفارہ بھی ادا ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا اپنے قریبی عزیز کو خریدنا یہ اعتاق ہے۔ یہ کیا ہے؟ اعتاق، کیونکہ یہ اپنے اختیار سے مالک بن رہا ہے جبکہ یاد رکھنا وراثت میں ایسا نہیں ہے۔
وراثت میں انسان غیر اختیاری طور پر مالک بنتا ہے لہٰذا باپ کو وراثت میں اپنا بیٹا ملا اور بیٹا جیسے ہی ملا اگلے لمحے ہی بیٹا آزاد ہو گیا اور باپ نے کفارے کی نیت کی ہوئی تھی کہ مثلاً میری بیوی یہ فوت ہو گئی اور میں اپنے بیٹے کا مالک بنا تو یہ میری طرف سے کفارے کے طور پر آزاد ہے تو کہتے ہیں نہیں کفارہ ادا نہیں ہوگا کیونکہ یہ غیر اختیاری طور پر مالک بنا ہے باپ بھئی کیونکہ وراثت میں انسان غیر اختیاری طور پر مالک بنتا ہے اور اعتاق میں تو اختیار ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اپنے قریبی عزیز کو خریدنا یہ تو اعتاق ہے لیکن اپنے قریبی عزیز کا وارث بننا یہ اعتاق نہیں یہ ویسے ہی آزاد ہو جائے گا بھئی۔
تو صاحبین فرماتے ہیں کہ جب باپ نے دوسرے آدمی کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کو خریدا ہے تو باپ کا حصہ آزاد ہوا یہ اعتاق ہے، یہ کیا ہے؟ اعتاق اور یہ اعتاق کے ذریعے اس نے اپنے ساتھی کے حصے کو خراب کر دیا اب وہ اس کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا لہٰذا باپ اگر مالدار ہے تو یہ باپ کو ضمان دینا پڑے گا اس شریکِ آخر کو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترک ہے تو دونوں میں سے ایک اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے تو شریکِ آخر کے حصے کو بھی اس نے کیا کر دیا؟ خراب، لہٰذا وہ شریکِ آخر اس معتق سے ضمان لے سکتا ہے تو باپ نے بھی جب ایک آدمی کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کو خریدا ہے تو باپ کا خریدنا یہ اعتاق ہے، یہ یہ مالک بننا اعتاق ہے۔
تو ﴿لَهُمَا أَنَّهُ أَبْطَلَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ بِالْإِعْتَاقِ﴾ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ باپ نے جو ہے اپنے ساتھی کے حصے کو باطل کر دیا اعتاق کے ذریعے ﴿لِأَنَّ شِرَاءَ الْقَرِيبِ إِعْتَاقٌ﴾ اس لیے کیونکہ اپنے قریبی عزیز کو خریدنا یہ اعتاق ہے، اپنے قریبی عزیز کو خریدنا یہ اعتاق ہے اپنے قریبی عزیز کا وارث ہونا یہ اعتاق نہیں ہے تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ شِرَاءَ الْقَرِيبِ إِعْتَاقٌ وَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ أَجْنَبِيَّيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ﴾ اس لیے کیونکہ اپنے قریبی عزیز کو خریدنا اعتاق ہے اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ ایک غلام دو اجنبیوں کے درمیان مشترکہ ہو تو دونوں میں سے ایک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا تو دوسرا اس سے ضمان لے سکتا ہے اگر یہ مالدار ہے بھئی، تو یہاں پر بھی باپ کے مسئلے میں بھی اسی طرح ہے اس نے اپنے بیٹے کو خرید کر گویا اعتاق کیا ہے اور اعتاق کی صورت میں شریکِ آخر اس سے ضمان لے سکتا ہے اگر یہ مالدار ہے۔
﴿وَلَهُ﴾ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب کی کیا دلیل تھی؟ کہ وہ شریکِ آخر باپ کے ساتھ علت کے اندر شریک ہے، یہ جو اعتاق کی علت تھی یعنی خریدنا اور مالک بننا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب مالک بننے کے اندر وہ باپ کے ساتھ شریک ہے گویا وہ باپ کے اعتاق پر راضی ہے اور جب وہ راضی ہے تو پھر ضمان نہیں لے سکتا بھئی۔ ﴿وَلَهُ أَنَّهُ رَضِيَ بِإِفْسَادِ نَصِيبِهِ فَلَا يُضَمِّنُهُ﴾ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ شریکِ آخر جو ہے وہ اپنے حصے کے فاسد کرنے پر راضی ہے لہٰذا وہ باپ کو ضامن نہیں بنا سکتا، جب وہ خود راضی ہے تو پھر ضمان نہیں لے سکتا بھئی اس باپ کو ضامن نہیں بنا سکتا۔ ﴿كَمَا إِذَا أَذِنَ لَهُ بِإِعْتَاقِ نَصِيبِهِ صَرِيحًا﴾ جیسے کہ ایک شریک جو ہے اجازت دے دے دوسرے شریک کو اپنے حصے کے آزاد کرنے کی صریحاً صراحۃً یعنی صاف لفظوں میں، جیسے بھئی غلام دو آدمیوں میں شریک ہے ایک آدمی نے صاف لفظوں میں دوسرے سے کہا اگر اپنے حصے کو آزاد کرنا چاہتے ہو تو آزاد کر دو، دوسرے نے آزاد کر دیا تو اب یہ شریک جس نے اجازت دی تھی جو راضی تھا آزاد کرنے پر اب اپنے ساتھی سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ اس کے اعتاق پر راضی تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿كَمَا إِذَا أَذِنَ لَهُ بِإِعْتَاقِ نَصِيبِهِ صَرِيحًا﴾ جیسے کہ ایک شریک جو ہے اجازت دے دے دوسرے شریک کو اپنے حصے کے آزاد کرنے کی صریحاً صراحۃً یعنی صاف لفظوں میں۔
﴿وَدَلَالَةُ ذٰلِكَ﴾ اچھا یہ تو ایک صورت تھی صراحۃً کی اور یہاں پر باپ ایک آدمی کے ساتھ مل کر بیٹے کو خریدتا ہے تو یہ جو خریدنے کا فعل ہے یعنی مالک بننے کا جو فعل ہے وہ دوسرا آدمی اس کے باپ کے ساتھ شریک ہے، معلوم ہوا وہ باپ کے اعتاق پر راضی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَدَلَالَةُ ذٰلِكَ أَنَّهُ شَارَكَهُ فِيمَا هُوَ عِلَّةُ الْعِتْقِ وَهُوَ الشِّرَاءُ﴾ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو شریکِ آخر ہے یہ باپ کے ساتھ شریک ہے اس چیز میں جو آزادی کی علت ہے اور وہ خریدنا ہے ﴿لِأَنَّ شِرَاءَ الْقَرِيبِ إِعْتَاقٌ حَتَّى يَخْرُجُ بِهِ عَنْ عُهْدَةِ الْكَفَّارَةِ عِنْدَنَا﴾ اس لیے کیونکہ قریبی عزیز کو خریدنا تو اعتاق ہے حتیٰ کہ اس قریبی عزیز کو خریدنے کے ذریعے کفارے کی ذمہ داری سے بھی انسان نکل جاتا ہے ہمارے نزدیک، یاد رکھو یہاں پر بھی حتیٰ نَصب نہیں دے گا بھئی کیونکہ حتیٰ کے نَصب دینے کی شرائط یہاں پوری نہیں ہیں بھئی تو یَخرُجُ کو ہم مرفوع پڑھیں گے تو کہتے ہیں: ﴿حَتَّى يَخْرُجُ بِهِ عَنْ عُهْدَةِ الْكَفَّارَةِ عِنْدَنَا﴾ یہاں تک کہ اس کے ذریعے کفارے کی ذمہ داری سے بھی انسان نکل جاتا ہے ہمارے نزدیک۔ کوئی اپنے قریبی عزیز کو خریدتا ہے اور کفارے کی نیت کرتا ہے تو خریدتے ہی اگلے ہی لمحے فوراً وہ عزیز آزاد ہو جائے گا اور کفارہ بھی ادا ہو جائے گا کیونکہ قریبی عزیز کو خریدنا کیا ہے؟ اعتاق، لہٰذا اس میں کفارے کی نیت بھی صحیح ہے بھئی تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ شِرَاءَ الْقَرِيبِ إِعْتَاقٌ حَتَّى يَخْرُجُ بِهِ عَنْ عُهْدَةِ الْكَفَّارَةِ عِنْدَنَا﴾ اس لیے کیونکہ قریبی عزیز کو خریدنا جو ہے یہ اعتاق ہے یہاں تک کہ اس قریبی عزیز کو خریدنے کے ذریعے کفارے کی ذمہ داری سے بھی نکل جاتا ہے ہمارے نزدیک۔
﴿وَهٰذَا ضَمَانُ فَسَادٍ فِي ظَاهِرِ قَوْلِهِمَا﴾ بھئی میری کتاب میں ہے ﴿وَهٰذَا ضَمَانُ فَسَادٍ﴾ اور باقی ہدایہ کے بعض نسخوں میں ہے ﴿وَهٰذَا ضَمَانُ إِفْسَادٍ﴾ بابِ افعال ہے اور وہ نسخہ زیادہ صحیح ہے اگرچہ بات دونوں صورتوں میں درست رہتی ہے لیکن ضمانِ افساد کا لفظ زیادہ مناسب ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھو یہ قیمتی بات آ گئی اس کو یاد رکھنا، ایک ہے ضمانِ افساد یعنی فاسد کرنے کا ضمان، ایک شخص دوسرے کے حصے کو کیا کر دے؟ فاسد کر دے، یہ ہے ضمانِ افساد اور ایک ہے ضمانِ تملک بھئی، تملک کا معنی ہے مالک بننا یعنی ایک دوسری چیز کا مالک بنتا ہے تو ضمان دینا پڑتا ہے۔ مثلاً دیکھو آپ ایک شخص سے کوئی چیز خریدتے ہیں تو جیسے ہی ایجاب و قبول کریں گے آپ مبیع کے مالک بن گئے تو یہ کیا ہے؟ تملک ہے، مالک بننا اور جب مالک بنے ہیں تو اب آپ کو اس چیز کی قیمت ادا کرنا پڑے گی اس کے ثمن جو ہیں طے ہوئے ہیں وہ اب آپ کو ادا کرنے پڑیں گے۔ تو ایک ہے ضمانِ افساد کہ کسی کا حصہ کسی نے فاسد کر دیا تو اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ اس کو ضمانِ افساد بھی کہتے ہیں، افساد کا معنیٰ فاسد کرنا اور اس کو ضمانِ اتلاف بھی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی چیز تلف کر دی ہے، ہلاک کر دی ہے اور اسی طرح اس کو ضمانِ جنایت بھی کہتے ہیں، جنایت کا معنیٰ جرم کہ ایک شخص نے جرم کیا ہے دوسرے کے حصے کو ضائع کر دیا ہے تو ضمانِ افساد، ضمانِ اتلاف اور ضمانِ جنایت تینوں اس کے نام ہیں بھئی۔
اور دوسرا ضمانِ تملک ہے جس میں انسان ایک چیز کا مالک بنتا ہے تو اس کو ضمان دینا پڑتا ہے، اس کو ضمان دینا پڑتا ہے اس کو ضمانِ تملک بھی کہتے ہیں اور اس کو ضمانِ معاوضہ بھی کہتے ہیں یعنی بطورِ عوض کے ضمان دینا پڑتا ہے، بطورِ عوض کے ضمان دینا پڑتا ہے جیسے دیکھو میں نے بیع کی مثال دے دی آپ بیع کرتے ہیں، آپ کوئی کتاب خریدتے ہیں تو بیع کرتے ہی آپ کتاب کے مالک بن گئے تو یہاں تملک پایا گیا آپ مالک بنے ہیں لہٰذا اب آپ کو کتاب کے ثمن دینے پڑیں گے۔ تو ایک ہے ضمانِ افساد اور ایک ہے ضمانِ تملک، تملک کے اندر انسان مالک بنتا ہے اور اسی کو ضمانِ معاوضہ بھی کہتے ہیں کہ ایک چیز کا مالک بنا ہے تو بطورِ عوض کے اب ضمان دینا پڑے گا۔ مثلاً دیکھو، مثلاً دیکھو ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جب باندی دو یا زیادہ آدمیوں میں مشترکہ ہو تو کسی ایک کے لیے بھی اس کے ساتھ صحبت جائز نہیں ہوتی لیکن کچھ عرصے کے بعد اس باندی نے بچے کو جنم دیا اور دونوں شریکوں میں سے ایک نے کہا یہ میرا بچہ ہے۔ تو اب اس شخص پر حد تو جاری نہیں ہوگی اس لیے کیونکہ بہرحال باندی کے کچھ حصے کا مالک تو تھا بھئی، تو لہٰذا حد تو جاری نہیں ہوگی اگرچہ اس نے حرام فعل کیا لیکن بہرحال یہ جو بچہ پیدا ہوا اس کا نسب اس آدمی سے ثابت ہو جائے گا اور یہ اس کی ام ولد ہو گئی اور یہ شخص پھر پوری باندی کا مالک بن جائے گا، پوری باندی ہی اس کی ام ولد بن گئی اور پھر چونکہ دوسرے کے حصے کا بھی یہی آدمی مالک بن گیا تو لہٰذا اس کو ضمان دینا پڑے گا باندی کی نصف قیمت بھئی۔
تو یہ ضمان کون سا ہے؟ ضمانِ تملک ہے، ضمانِ معاوضہ ہے، یہ دوسرے کو ضمان کیوں دے رہا ہے؟ کیونکہ دوسرے کے حصے کا بھی یہ مالک بن گیا ہے، پوری باندی ہی اس کی ام ولد بن گئی۔ توجہ ہے؟ تو یہ کون سا ضمان ہے؟ ضمانِ تملک ہے یا یوں کہیں ضمانِ معاوضہ ہے عوض دے رہا ہے کہ جو شریکِ آخر کا حصہ تھا یہ اس کا بھی مالک بن گیا اب اس کا عوض دے رہا ہے ضمان کے طور پر۔ تو دو قسم کے ضمان ہو گئے: ایک ضمانِ افساد اور ایک ضمانِ تملک یا ضمانِ معاوضہ اور یاد رکھو ضمانِ افساد جو ہے وہ یسار اور اعسار سے بدلتا ہے جبکہ ضمانِ تملک وہ یسار اور اعسار سے نہیں بدلتا۔ مثلاً میں نے مثال ذکر کر دی، دو افراد کے اندر ایک باندی تھی ایک نے اس کو اپنی ام ولد بنا دیا تو دوسرے کے حصے کا بھی پھر یہ مالک بن گیا تو اب اس آدمی کو یہ جو مستولد ہے جس نے باندی کو ام ولد بنایا ہے اس کو اب ضمان ادا کرنا پڑے گا اپنے دوسرے شریک کو اور یہ کون سا ضمان ہے؟ ضمانِ تملک، کیونکہ اس کے حصے کی باندی کا بھی مالک بن گیا اور اس کے اندر مالداری اور غربت کو نہیں دیکھا جاتا۔ جب یہ مستولد دوسرے کے حصے کا بھی مالک بن گیا ہے تو ضمان دینا پڑے گا چاہے یہ مالدار ہے چاہے غریب ہے بھئی، جیسے کوئی آدمی بیع کرتا ہے تو اسے بیع کے پیسے دینے پڑتے ہیں عوض دینا پڑتا ہے چاہے وہ غریب ہو چاہے مالدار ہو بھئی۔ معلوم ہوا ضمانِ تملک میں ایک آدمی ایک چیز کا مالک بن رہا ہے تو اسے ضمان دینا پڑے گا چاہے یہ مالدار ہے چاہے غریب ہے، مالدار اور غریب ہونے سے یہاں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جبکہ ضمانِ افساد میں جو ضمان آتا ہے وہ دوسرے کا حصہ فاسد کیا ہے اس لیے ضمان آتا ہے وہاں وہ مالک نہیں بنا دوسرے کے حصے کا اور وہ ضمانِ افساد جو ہے غلام اور باندی میں ہوتا ہے جب ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو دوسرے کا حصہ بھی خراب ہو گیا اب اس کو غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا، توجہ ہے؟ تو پھر اس صورت میں اگر یہ معتق مالدار ہو تو اس سے ضمان لیا جاتا ہے تو یہ جو ضمان ادا کر رہا ہے یہ ضمانِ تملک نہیں ہے، یہ ضمان ادا کرنے سے باقی غلام کا مالک نہیں بن جائے گا بھئی بلکہ یہ ضمانِ افساد ہے اس نے دوسرے کے حصے کو کیا کر دیا؟ فاسد کر دیا، تلف کر دیا، اس نے جنایت کی ہے تو یہ ضمانِ جنایت ہے بھئی۔ معلوم ہوا جب دو شریکوں میں سے ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو اس یہ شریک اگر مالدار ہو اور اس سے ضمان لیا جائے تو یہ ضمانِ افساد ہے اور یہ مالداری اور تنگدستی سے بدلتا ہے، اگر یہ معتق مالدار ہو تو ضمانِ افساد دینا پڑے گا اور اگر یہ معتق تنگدست ہے تو پھر ضمانِ افساد اس سے نہیں لے سکتے۔
فرق سمجھ میں آ گیا؟ ضمان کتنی قسم کے؟ دو، ایک ضمانِ افساد ہے اور اسی کا نام ضمانِ اتلاف بھی ہے اور اسی کا نام ضمانِ جنایت بھی ہے اور دوسرا ضمانِ تملک ہے جس میں مالک بنتا ہے انسان تو اس میں ضمان دینا پڑے گا اور اس کو ضمانِ معاوضہ بھی کہتے ہیں کہ دونوں جانب سے عوض آ رہا ہے ایک دوسرے کے حصے کا مالک بن رہا ہے تو بدلے میں اس کو عوض دے رہا ہے تو یہ دونوں قسم کے ضمان ہیں اور دونوں میں فرق کیا ہے؟ کہ ضمانِ افساد وہ مالداری اور تنگدستی سے بدلتا ہے، مالدار ہے تو دینا پڑے گا تنگدست ہے تو نہیں دینا پڑے گا اور جبکہ ضمانِ تملک اور ضمانِ معاوضہ ہر حال میں دینا پڑے گا وہ شخص چاہے تنگدست ہو چاہے مالدار ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ﴿وَهٰذَا ضَمَانُ فَسَادٍ فِي ظَاهِرِ قَوْلِهِمَا﴾ اور یہ ضمانِ فساد ہے صاحبین کے ظاہرِ قول کے مطابق۔ تو یاد رکھو یہ جو ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کر دے اور دوسرا شریک اس سے ضمان لے جب یہ مالدار ہے تو یہ امام صاحب کے نزدیک بھی ضمانِ افساد اور صاحبین کا ظاہرِ قول بھی یہی ہے کہ یہ ضمانِ افساد ہی ہے اور ظاہرِ قول کہا صاحبِ ہدایت نے، کیا کہا؟ ﴿وَهٰذَا ضَمَانُ فَسَادٍ فِي ظَاهِرِ قَوْلِهِمَا﴾ کہ صاحبین کے ظاہرِ قول میں یہ ضمانِ فساد ہی ہے، ضمانِ فساد ہی ہے۔ میں نے بتایا چاہے اس کو فساد پڑھیں چاہے افساد پڑھیں، فساد کا معنیٰ فاسد ہونا اور افساد کا معنیٰ فاسد کرنا تو دوسرے نے اس کے حصے کو فاسد کر دیا تو اس کا حصہ فاسد ہو گیا تو دونوں اعتبار سے معنیٰ تو ٹھیک بنتا ہے لیکن زیادہ بہتر ہے اس کو ضمانِ افساد ہی پڑھا جائے کیونکہ ہدایہ کے دیگر نسخوں میں ضمانِ افساد کا لفظ موجود ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں صاحبین کا ظاہرِ قول یہ ہے کہ یہ ضمانِ افساد ہے وجہ یہ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت آتی ہے کہ یہ ضمانِ تملک ہے بھئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت کیا آتی ہے؟ کہ یہ جو ایک شریک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اور یہ معتق مالدار ہے اور دوسرا شریک اس سے جو ضمان لیتا ہے یہ ضمانِ تملک ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ آتی ہے اور جب یہ ضمانِ تملک ہے تو یہ تنگدستی اور مالداری سے بدلتا نہیں ہر حال میں ادا کرنا پڑے گا لیکن ظاہرِ قول یہی ہے صاحبین کا کہ یہ ضمانِ افساد ہے اور ضمانِ افساد تو معتق کی مالداری اور تنگدستی سے بدلتا ہے، معتق مالدار ہو تو ادا کرنا پڑے گا اور تنگدست ہو تو ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے غور سے بھئی عبارت دیکھیے کہتے ہیں: ﴿وَهٰذَا ضَمَانُ فَسَادٍ فِي ظَاهِرِ قَوْلِهِمَا﴾ امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ کہ جب باپ کے ساتھ دوسرا آدمی خریدنے میں شریک ہے یعنی اعتاق کی علت میں شریک ہے تو معلوم ہوا وہ باپ کے اعتاق پر راضی ہے، وہ باپ کے اعتاق پر راضی، جب باپ کے اعتاق پر راضی ہے تو وہ باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رضامندی کی وجہ سے ضمانِ افساد تو ساقط ہوتا ہے ضمانِ تملک تو ساقط نہیں۔ یاد رکھو رضامندی سے ضمانِ افساد ساقط ہو جاتا ہے جیسے امام صاحب فرما رہے ہیں کہ دوسرا شریک جب خریدنے میں خود باپ کے ساتھ شریک ہے تو گویا وہ باپ کے اعتاق پر راضی ہے جب راضی ہے تو وہ ضمان نہیں لے سکتا باپ سے۔ تو یاد رکھو یہ جو ضمانِ افساد ہے یہ رضامندی کی صورت میں ساقط ہو جاتا ہے اور ضمانِ تملک جو ہے وہ رضامندی سے بھی ساقط نہیں ہوتا، ضمانِ تملک رضامندی سے بھی ساقط نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک باندی دو آدمیوں میں مشترکہ تھی تو دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ بھئی تم اس کو ام ولد بنانا چاہتے ہو تو بنا لو اور اس دوسرے نے اس کو ام ولد بنا دیا تو یہ جو مستولد ہے جس نے باندی کو ام ولد بنایا ہے یہ پوری باندی کا مالک بن گیا، یہ ساری باندی اس کی ام ولد ہو گئی، وہ جو شریک کا حصہ تھا یہ اس کا بھی مالک بن گیا اور شریک اس کے ام ولد بنانے پر راضی تھا لیکن پھر بھی شریک اس سے ضمان لے گا بھئی، شریک اس سے کیونکہ یہ ضمان کون سا ہے؟ ضمانِ تملک ہے وہ دوسرے کے حصے کی باندی کا مالک بن گیا ہے اور ضمانِ تملک رضامندی سے بھی ساقط نہیں ہوتا، یہ ایسے ہی ہے جیسے بیع، بیع کے اندر آپ دوسرے کی رضامندی سے اس کی چیز خریدتے ہیں تو کیا خریدنے سے قیمت ساقط ہو جاتی ہے؟ نہیں، آپ کتاب کے مالک بنے ہیں تو آپ کو کتاب کی قیمت اور ثمن دینے پڑیں گے بھئی۔ تو معلوم ہوا ضمانِ افساد جو ہے وہ رضامندی سے ساقط ہو جاتا ہے لیکن ضمانِ تملک رضامندی کے باوجود ساقط نہیں ہوتا وہ دینا پڑے گا کیونکہ وہ مالک بن رہا ہے دوسرے کی چیز کا۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اے امام صاحب! آپ کے نزدیک شریکِ آخر راضی ہے جب وہ راضی ہے تو یہ اس ضمان نہیں لے سکتا ضمان ساقط ہو گیا لیکن یہ تو اس وقت ہوگا اگر یہ ضمانِ افساد ہو، اگر یہ ضمانِ افساد ہو تو پھر رضامندی کی وجہ سے یہ ضمان ساقط ہوگا لیکن اگر یہ ضمانِ تملک ہے پھر تو یہ رضامندی سے بھی ساقط نہیں ہوگا تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایت کہ امام صاحب کے نزدیک بھی یہ ضمانِ افساد ہی ہے اور صاحبین کے ظاہرِ قول سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ ضمانِ افساد ہے اور ضمانِ افساد ہے تو رضامندی سے یہ ساقط ہو جائے گا اور ہم بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ یہاں رضامندی آ گئی ہے لہٰذا یہ ضمانِ افساد اب ساقط ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَهٰذَا ضَمَانُ فَسَادٍ فِي ظَاهِرِ قَوْلِهِمَا حَتَّى يَخْتَلِفُ بِالْيَسَارِ وَالْإِعْسَارِ فَيَسْقُطُ بِالرِّضَا﴾ اور یہ جو ضمان ہے یہ ضمانِ فساد ہے صاحبین کے ظاہرِ قول میں یہاں تک کہ یہ بدلتا ہے مالداری سے اور تنگدستی سے لہٰذا یہ ضمانِ افساد بھی رضامندی کی وجہ سے ساقط ہو جائے گا۔ ﴿وَلَا يَخْتَلِفُ الْجَوَابُ بَيْنَ الْعِلْمِ وَعَدَمِهِ﴾ بھئی اوپر متن میں آیا تھا کہ باپ نے ایک دوسرے آدمی کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کو خریدا تو باپ کا حصہ آزاد ہو جائے گا اور شریکِ آخر باپ سے ضمان نہیں لے سکتا چاہے شریکِ آخر کو اس کے باپ ہونے کا علم تھا یا علم نہیں تھا، کسی صورت وہ ضمان نہیں لے سکتا اب وہی بیان کر رہے ہیں کہ علمی اور لاعلمی یہاں دونوں برابر ہیں اس لیے کیونکہ دونوں علت میں شریک ہیں، جب علت میں شریک ہیں تو دلالۃً رضامندی آ گئی چاہے علم ہو یا علم نہ ہو۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہتا ہے کھانا پڑا ہوا ہے اور ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے کہ اگر یہ کھانا کھانا چاہتے ہو تو آپ کھا لو، دوسرے آدمی نے وہ کھانا کھا لیا، بعد میں حکم دینے والے کو پتہ چلا کہ یہ کھانا تو میرا مملوک تھا، یہ کھانا تو میرا تھا میں اس کا مالک تھا، خود اس کو بھی نہیں تھا پتہ کہ یہ میرا کھانا ہے تو پھر بھی یہ جو حکم دینے والا ہے اس دوسرے سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے اس کے رضامندی سے یہ کھانا کھایا ہے بھئی، اس نے اس کی رضامندی سے کھانا کھایا ہے تو جب اس کی رضامندی سے اس نے ایک فعل کیا ہے تو اس میں علم ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ جب یہ اس کے کھانا کھانے پر راضی ہے تو اب یہ اس سے ضمان وصول نہیں کر سکتا اگرچہ اس کو علم نہیں تھا کہ یہ میری چیز ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يَخْتَلِفُ الْجَوَابُ بَيْنَ الْعِلْمِ وَعَدَمِهِ وَهُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنْهُ﴾ اور جواب جو ہے وہ مختلف نہیں ہے جاننے اور نہ جاننے میں یعنی دونوں صورتوں میں مسئلہ ایک جیسا ہی رہتا ہے اور یہی ظاہرِ روایت ہے امام صاحب سے، یہی ظاہرِ روایت ہے امام صاحب سے۔ جبکہ امام صاحب کی ایک اور روایت میں ہے کہ اگر شریکِ آخر کو علم ہو خریدنے سے پہلے ہی کہ یہ آدمی اس غلام کا باپ ہے پھر تو ضمان نہیں لے سکتا لیکن اگر علم ہی نہیں ہے پھر ضمان لے سکتا ہے تو یہ امام صاحب سے ایک روایت آئی ہے لیکن ظاہرِ روایت یہی ہے امام صاحب کے نزدیک علم اور لاعلمی دونوں یہاں برابر ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنْهُ لِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى السَّبَبِ﴾ اور یہی ظاہرِ روایت ہے امام صاحب سے اس لیے کیونکہ حکم کا مدار جو ہے وہ سبب پر ہوتا ہے اور سبب کے اندر تو باپ کے ساتھ وہ دوسرا آدمی بھی شریک تھا، جب شریک تھا تو راضی تھا، جب راضی تھا تو ضمانِ افساد وصول نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى السَّبَبِ كَمَا إِذَا قَالَ لِغَيْرِهِ: كُلْ هٰذَا الطَّعَامَ، وَهُوَ مَمْلُوكٌ لِلْآمِرِ وَلَا يَعْلَمُ الْآمِرُ بِمِلْكِهِ﴾ اس لیے کیونکہ حکم کا مدار سبب پر ہوتا ہے جیسے کہ ایک شخص نے دوسرے آدمی سے کہا: یہ کھانا کھا لو اور حال یہ ہے کہ یہ کھانا جو ہے حکم دینے والے کا مملوک ہے اور آمر کو اپنی ملکیت کا علم نہیں کہ یہ کھانا میرا مملوک ہے پھر بھی بعد میں علم ہوا تو یہ ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ یہ اس کے کھانے پر راضی تھا خود اس کے کہنے پر اس نے کھانا کھایا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ﴿وَإِنْ بَدَأَ الْأَجْنَبِيُّ فَاشْتَرَى نِصْفَهُ ثُمَّ اشْتَرَى الْأَبُ نِصْفَهُ الْآخَرَ وَهُوَ مُوسِرٌ فَالْأَجْنَبِيُّ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ ضَمَّنَ الْأَبَ﴾ بھئی پہلی صورت یہ تھی کہ اجنبی نے باپ کے ساتھ مل کر اس کے بیٹے کو خریدا، اب دوسری صورت ہے کہ اجنبی نے بیٹے کا کچھ حصہ خرید لیا اور پھر باپ نے بیٹے کے کچھ حصے کو خرید لیا تو پھر اس صورت میں اب تو اجنبی اس کے ساتھ خریدنے میں شریک نہیں، اجنبی نے اپنا حصہ الگ خریدا باپ نے اپنا حصہ الگ خریدا ہے لہٰذا اس صورت میں اجنبی باپ سے ضمان لے سکتا ہے اگر باپ مالدار ہے اور چاہے تو غلام سے سعی بھی کروا سکتا ہے کیونکہ معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی امام صاحب کے نزدیک غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ بَدَأَ الْأَجْنَبِيُّ فَاشْتَرَى نِصْفَهُ ثُمَّ اشْتَرَى الْأَبُ نِصْفَهُ الْآخَرَ وَهُوَ مُوسِرٌ فَالْأَجْنَبِيُّ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ ضَمَّنَ الْأَبَ﴾ اور اگر ابتدا اجنبی نے کی تو اس نے اس غلام کے نصف کو خرید لیا پھر باپ نے اس کے دوسرے نصف کو خرید لیا اس حال میں کہ باپ مالدار ہے تو اس اجنبی کو اختیار ہے اگر وہ چاہے تو باپ کو ضامن بنا دے ﴿لِأَنَّهُ مَا رَضِيَ بِإِفْسَادِ نَصِيبِهِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ اجنبی اپنے حصے کے فاسد کرنے پر راضی نہیں، کیونکہ وہ باپ کے ساتھ علت میں شریک نہیں، علت میں شریک ہوتا یعنی خریدنے میں شریک ہوتا، اکٹھے خریدتے تو پھر تو گویا وہ افساد پر راضی ہے لیکن یہاں الگ الگ خریدا ہے تو وہ افساد پر راضی نہیں وہ ضمان لے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ مَا رَضِيَ بِإِفْسَادِ نَصِيبِهِ وَإِنْ شَاءَ اسْتَسْعَى الِابْنَ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ لِاحْتِبَاسِ مَالِيَّتِهِ عِنْدَهُ﴾ اور اگر وہ اجنبی چاہے تو وہ اس بیٹے سے سعی کروا سکتا ہے اس کی نصف قیمت میں اس لیے کیونکہ اس اجنبی کے حصے کی مالیت بند ہو گئی ہے اس آدمی کے بیٹے میں۔ ﴿وَهٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ لِأَنَّ يَسَارَ الْمُعْتِقِ لَا يَمْنَعُ السِّعَايَةَ عِنْدَهُ﴾ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے اس لیے کیونکہ معتق کی مالداری وہ سعی کو منع نہیں کرتی امام صاحب کے نزدیک۔ ﴿وَقَالَا: لَا خِيَارَ لَهُ وَيُضَمِّنُ الْأَبَ نِصْفَ قِيمَتِهِ لِأَنَّ يَسَارَ الْمُعْتِقِ يَمْنَعُ السِّعَايَةَ عِنْدَهُمَا﴾ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس اجنبی کو کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ ضامن بنا سکتا ہے باپ کو اس بیٹے کی نصف قیمت کا اس لیے کیونکہ معتق کی مالداری وہ سعی کو منع کرتی ہے عندہما صاحبین کے نزدیک۔ امام صاحب کے نزدیک باپ مالدار ہے تو سعی بھی کروا سکتا ہے اور ضمان بھی لے سکتا ہے اختیار ہے اور جبکہ صاحبین کے نزدیک باپ مالدار ہے تو کوئی اختیار نہیں ضمان ہی لے سکتا ہے، غلام سے سعی نہیں کروا سکتا۔
آگے دیکھیے: ﴿وَمَنِ اشْتَرَى نِصْفَ ابْنِهِ وَهُوَ مُوسِرٌ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾ صورتِ مسئلہ یہ کہ بیٹا جو ہے ایک آدمی کا غلام ہے، باپ نے اس آدمی سے اپنے نصف بیٹے کو خرید لیا، باپ نے نصف بیٹے کو خرید لیا تو اس صورت میں خریدتے ہی یہ حصہ آزاد ہو گیا تو وہ جو پہلا مالک ہے اس کا باقی جو نصف حصہ تھا وہ بھی خراب ہو گیا تو کیا وہ باپ سے ضمان لے سکتا ہے یا نہیں؟ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، وہ باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، کیوں نہیں لے سکتا؟ وجہ یہ کہ اسی نے تو باپ کو بیچا ہے تو وہ بیچنے والا باپ خریدنے والا، تو خریدنے اور بیچنے کے عمل میں یہ باپ اور بائع ہی تو شریک ہوئے ہیں تو بائع خود اس اعتاق کی علت میں شریک ہے اور اعتاق کی علت میں شریک ہونا رضامندی کی دلیل ہے معلوم ہوا وہ باپ کے اعتاق پر راضی ہے جب باپ کے اعتاق پر راضی ہے تو وہ اب باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، ہاں بیٹے سے سعی کروانا چاہے تو سعی کروا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَمَنِ اشْتَرَى نِصْفَ ابْنِهِ وَهُوَ مُوسِرٌ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَقَالَا: يَضْمَنُ إِذَا كَانَ مُوسِرًا﴾ اور جس شخص نے اپنے نصف بیٹے کو خریدا اس حال میں کہ یہ خریدنے والا مالدار ہے تو اس خریدار پر کوئی ضمان نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ شخص ضامن ہوگا اگر یہ مالدار ہے کیونکہ اس نے دوسرے کے حصے کو خراب کیا ہے۔
﴿وَمَعْنَاهُ﴾ یہاں سے صاحبِ ہدایت وضاحت فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں مسئلے کا معنیٰ یہ ہے کہ پورا غلام ایک ہی آدمی کا مملوک تھا اور اس سے کچھ حصہ باپ نے خرید لیا، اس سے کچھ حصہ باپ نے خرید لیا تو اس صورت میں اختلاف ہے، امام صاحب فرماتے ہیں وہ بائع باپ سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ وہ بیچنے میں خود شریک ہے اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ باپ سے ضمان لے سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر غلام میں دو آدمی شریک ہیں اور باپ نے ایک شریک سے حصہ خریدا ہے تو دوسرا شریک بالاتفاق پھر ضمان لے سکتا ہے اگر غلام میں دو آدمی شریک ہیں تو باپ نے ایک آدمی سے حصہ خریدا تو دوسرے شریک کا حصہ خراب ہوا وہ تو اپنے حصے کے خراب کرنے پر راضی نہیں ہے کیونکہ باپ کے ساتھ بیع کا معاملہ اس نے تو نہیں کیا، وہ تو دوسرے شریک نے کیا تھا لہٰذا یہ والا جس کا حصہ خراب ہوا ہے یہ باپ سے ضمان لے سکتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی اگر باپ مالدار ہو بھئی۔ اگر پورا بیٹا ایک ہی آدمی کا مملوک تھا باپ نے اس کے نصف کو خریدا ہے تو امام صاحب کے نزدیک ضمان نہیں لے سکتا باپ سے وہ اور صاحبین کے نزدیک ضمان لے سکتا ہے یہی بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایت۔ کہتے ہیں: ﴿وَمَعْنَاهُ إِذَا اشْتَرَى نِصْفَهُ مِمَّنْ يَمْلِكُ كُلَّهُ فَلَا يَضْمَنُ لِبَائِعِهِ شَيْئًا عِنْدَهُ وَالْوَجْهُ قَدْ ذَكَرْنَاهُ﴾ اور اس قول کا معنیٰ یہ ہے کہ جب باپ نے اس نصف حصے کو خریدا اس آدمی سے جو اس سارے بیٹے کا مالک تھا تو باپ جو ہے وہ اس بیچنے والے کے لیے کسی چیز کا ضامن نہیں ہوگا امام صاحب کے نزدیک اور وجہ اس کی تحقیق ہم نے ذکر کر دی کیونکہ وہ خود بیچنے کی علت میں شریک ہے تو یہ اس کی رضامندی کی علامت ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ﴿وَإِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ فَدَبَّرَهُ أَحَدُهُمْ وَهُوَ مُوسِرٌ ثُمَّ أَعْتَقَهُ الْآخَرُ وَهُوَ مُوسِرٌ فَأَرَادُوا الضَّمَانَ فَلِلسَّاكِتِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ ثُلُثَ قِيمَتِهِ قِنًّا وَلَا يُضَمِّنَ الْمُعْتِقَ﴾ بھئی یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ، ایک غلام ہے اس کے اندر تین آدمی شریک ہیں اور پھر ان میں سے ایک شریک نے اپنے حصے کے غلام کو مدبر بنا دیا اور یہ مالدار ہے، یہ مدبر بنانے والا مالدار ہے اور پھر دوسرا شریک جو ہے اس نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا اور وہ بھی مالدار ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو تیسرا آدمی ہے جو ساکت ہے جو سکوت کرنے والا یعنی خاموش ہے، یہ خاموش آدمی جو ہے یہ صرف مدبر سے ضمان لے سکتا ہے، صرف مدبر سے ضمان لے سکتا ہے معتق سے ضمان نہیں لے سکتا، توجہ ہے؟ ایک غلام میں تین آدمی شریک ہیں ان میں سے ایک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا، دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کیا تو تیسرا جو ساکت ہے وہ مدبر سے ضمان وصول کر سکتا ہے لیکن معتق سے ضمان وصول نہیں کر سکتا اور یہ جو مدبر ہے یہ جو ہے معتق سے ضمان وصول کر سکتا ہے کیونکہ اس نے تو غلام کو مدبر بنایا تھا اور مدبر کو تو غلام بنا کر رکھا جا سکتا ہے موت تک بھئی، لیکن معتق نے اب اس کے حصے کو کیا کر دیا؟ خراب کر دیا اب اس کو غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا تو لہٰذا یہ اب اس معتق سے ضمان لے گا لیکن معتق سے کتنا ضمان لے گا؟ صحیح غلام والا ضمان نہیں لے گا بلکہ مدبر والا ضمان لے گا، کس کا ضمان لے گا؟ کیونکہ معتق نے مدبر کو خراب کیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی صاحبِ ہدایت اس کو اور وضاحت سے ذکر فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ﴾ اور جب ایک غلام تین آدمیوں کے درمیان مشترک تھا، نفر بھئی یاد رکھو نفر تین سے لے کر دس تک آدمیوں کی جماعت کو کہتے ہیں لیکن جب اس پر عدد داخل ہو جائے تو پھر یہ فرد کے معنیٰ میں ہے۔ تو ﴿ثَلَاثَةِ نَفَرٍ﴾، ثلاثۃ افراد کے معنیٰ میں ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ فَدَبَّرَهُ أَحَدُهُمْ وَهُوَ مُوسِرٌ ثُمَّ أَعْتَقَهُ الْآخَرُ وَهُوَ مُوسِرٌ فَأَرَادُوا الضَّمَانَ﴾ جب ایک غلام تین آدمیوں کے درمیان مشترک تھا تو ایک نے اپنے حصے کو مدبر بنا دیا اس حال میں کہ وہ مالدار ہے پھر دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا اس حال میں کہ وہ بھی مالدار ہے پس انہوں نے ضمان کا ارادہ کیا۔ ارادوا جمع کا صیغہ ہے اور جمع کا اطلاق کم از کم تین افراد پر ہوتا ہے لیکن یہاں پر یہاں پر جو ساکت ہے وہ مدبر سے ضمان لے گا اور مدبر ضمان لے گا معتق سے جبکہ معتق کسی سے ضمان نہیں لے سکتا۔ توجہ ہے؟ ساکت کس سے ضمان لے گا؟ ساکت جو ہے وہ مدبر سے ضمان لے گا اور مدبر جو ہے وہ معتق سے ضمان لے گا اور معتق کسی سے ضمان نہیں لے سکتا۔
مُعْتِق جو ہے وہ کسی سے ضمان نہیں لے سکتا۔ مُعْتِق کسی سے ضمان نہیں لے سکتا، تو معلوم ہوا ضمان کا ارادہ دو افراد کر سکتے ہیں، تیسرا فرد یہاں نہیں کر سکتا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ تو جمع کا صیغہ استعمال فرما رہے ہیں: ﴿فَأَرَادُوا﴾ تو ان سب نے ارادہ کیا ﴿الضَّمَانَ﴾ ضمان کا۔ تو یاد رکھو، یہاں صیغہ جمع کا ہے اور مراد دو افراد ہیں اور ایسا کبھی ہوتا ہے کہ جمع کا صیغہ بول کر دو کا ارادہ کر لیا جاتا ہے، تو یہاں دو افراد مراد ہیں۔ یا یوں کہو کہ یہاں تغلیب ہے۔ یہاں تغلیب، تغلیب اسے کہتے ہیں کہ ایک فرد کو دوسرے پر غلبہ دے دیا جائے، جیسے والدین۔ والدین کا کیا معنی؟ دو والد، حالانکہ والد تو ایک والد ہے اور دوسری والدہ ہے، لیکن والدہ کو بھی کیا کہہ دیا؟ والد ہی، تو یہ والدین ہیں، یعنی والد اور والدہ۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قمرین بھئی، شمس اور قمر۔ ایک قمر ہے دوسرا تو شمس ہے، لیکن اس کو بھی قمر قرار دے کر قمرین کہہ دیا دونوں کو۔ تو قمرین سے کیا مراد ہوتا ہے؟ چاند اور سورج، اور والدین سے کون مراد ہوتے ہیں؟ والد اور والدہ۔ تو یہاں جیسے ایک فرد کو دوسرے پر غلبہ دے کر اس کو بھی وہی قرار دے دیا جاتا ہے، یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔
کہ دو ارادہ کرنے والے ہیں اور ایک ارادہ کرنے والا نہیں ہے، لیکن ان دو کو غلبہ دے دیا اس تیسرے پر بھی اور اس کو بھی ارادہ کرنے والا ہی قرار دے دیا، تو تینوں کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کر لیا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَأَرَادُوا الضَّمَانَ﴾ تو پھر انہوں نے ضمان کا ارادہ کیا ﴿فَلِلسَّاكِتِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ﴾ تو ساکت کے لیے جائز ہے کہ وہ ضامن بنا دے مدبِّر کو۔ بھئی ایک ہے مدبَّر، اسمِ مفعول کا صیغہ ہے، وہ غلام جس کو مدبر بنایا گیا ہے، اور اس غلام کو مدبر بنانے والا جو ہے جو اس کا آقا ہے، وہ ہے مدبِّر بھئی اسمِ فاعل۔ وہ کیا ہے؟ اسمِ فاعل۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَلِلسَّاكِتِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ﴾ تو ساکت جو ہے یعنی جو تیسرا شریک ہے اس کو اختیار ہے اگر وہ چاہے تو اس مدبر کو ضامن بنا دے ﴿ثُلُثَ قِيمَتِهِ﴾ اس غلام کی تہائی قیمت کا، یعنی تیسرے حصے کا ﴿قِنًّا﴾ اس حال میں کہ وہ عام غلام ہو۔ قِنٌّ، قِن عام غلام کو کہتے ہیں بھئی۔ یاد رکھو آگے صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے آپ کو، ایک ہے عام غلام اور ایک ہے مدبر۔
مدبر جو ہے اس کی قیمت دو تہائی رہ جاتی ہے۔ ایک غلام کی قیمت اگر تین سو درہم تھی، جب اس کو مدبر بنا دیا گیا چونکہ مدبر کو آگے بیچا نہیں جا سکتا، اس کا ایک نفع ختم ہو گیا۔ جب نفع ختم ہوا تو اس کی قیمت میں بھی کمی آ گئی۔ اب اس کی قیمت صرف دو تہائی رہ گئی، تین میں سے ایک حصے کم ہو گئی، تو یہ اب دو سو درہم کا رہ گیا۔ وہی غلام اگر عام غلام ہو تو کتنی قیمت؟ تین سو درہم، اور اسی کو جب مدبر بنا دیا اب اس کی کتنی قیمت ہے؟ دو سو درہم، یعنی تین میں سے ایک حصہ قیمت ساقط ہو گئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿فَلِلسَّاكِتِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ ثُلُثَ قِيمَتِهِ قِنًّا﴾ تو ساکت کے لیے جائز ہے کہ وہ مدبر کو ضامن بنا دے اس غلام کی تہائی قیمت کا، تیسرے حصے کا ﴿قِنًّا﴾ باعتبار عام غلام ہونے کے۔ یعنی عام غلام کے اعتبار سے جو قیمت بنتی تھی اس کے تیسرے حصے کا ضامن بنا دے، اور یہ غلام مثلاً کتنے کا تھا؟ تین سو درہم، تو کتنا ضمان لے لے اس سے؟ تیسرا حصہ، سو درہم لے سکتا ہے بھئی۔ تو یہ ساکت مدبِّر سے ضمان لے سکتا ہے تیسرا حصہ غلام کی قیمت کا۔ ﴿وَلَا يُضَمِّنَ الْمُعْتِقَ﴾ لیکن معتِق کو ضامن نہیں بنا سکتا۔ یہ جو ساکت ہے یہ معتِق کو ضامن نہیں بنا سکتا، اس سے ضمان نہیں لے سکتا۔ ﴿وَلِلْمُدَبِّرِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُعْتِقَ﴾ اور مدبِّر جو ہے اس کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ معتِق کو ضامن بنا دے ﴿ثُلُثَ قِيمَتِهِ مُدَبَّرًا﴾ اس غلام کے مدبر ہونے کی ثلثِ قیمت کا، مدبر ہونے کے اعتبار سے اس کی تہائی قیمت کا۔ عام غلام کتنے کا تھا؟ تین سو کا، اور مدبر بنایا تو کتنے کا رہ گیا؟ دو سو درہم کا، ایک حصہ ساقط ہو گیا۔ تو اس دو سو درہم کا تیسرا حصہ، یعنی تقریباً چھیاسٹھ درہم کے لگ بھگ بھئی، چھیاسٹھ سڑسٹھ درہم کے لگ بھگ جو ہے یہ مدبِّر اس معتِق سے ضمان وصول کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا، ساکت وہ مدبِّر سے ضمان لے سکتا ہے سو درہم، یعنی غلام کے تیسرے حصے کی قیمت، اور مدبِّر جو ہے وہ معتِق سے مدبر کے تیسرے حصے کی قیمت بطورِ ضمان کے لے سکتا ہے، یعنی چھیاسٹھ درہم بھئی۔ یہ معنی ہے ﴿وَلِلْمُدَبِّرِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُعْتِقَ ثُلُثَ قِيمَتِهِ مُدَبَّرًا﴾ اور مدبِّر کے لیے جائز ہے کہ وہ معتِق کو ضامن بنا دے اس غلام کے مدبر ہونے کی ثلثِ قیمت کا، مدبر ہونے کی حالت میں ثلثِ قیمت کا۔ ﴿وَلَا يُضَمِّنُهُ الثُّلُثَ الَّذِي ضَمِنَ﴾
اچھا بھئی ادھر دیکھیے، مدبِّر نے سو درہم کس کو ادا کیے ہیں؟ یعنی یوں کہو ایک حصہ، مدبِّر نے ایک حصے کی قیمت کس کو ادا کی ہے؟ ساکت کو۔ تو مدبِّر گویا دو حصوں کا مالک بن گیا۔ ایک حصہ مدبِّر کا اپنا تھا اور ایک حصے کا ضمان دے دیا تو اس حصے کا بھی یہ مدبِّر مالک بن گیا۔ لیکن معتِق سے صرف یہ ایک حصے کا ضمان لے سکتا ہے، دوسرے حصے کا جس کا یہ ضمان دے کر مالک بنا ہے، اس حصے کا ضمان یہ معتِق سے نہیں لے سکتا۔ توجہ ہے، پھر سنو۔ ساکت نے مدبِّر سے ضمان لے لیا، تو مدبِّر ساکت کے حصے کا بھی مالک بن گیا، تو مدبِّر کے دو حصے ہو گئے اور ایک حصہ معتِق کا تھا، وہ آزاد ہو گیا۔ تو مدبِّر معتِق سے اپنے حصے کا تو ضمان لے سکتا ہے، لیکن دوسرے حصے کا جس کا یہ ضمان دینے سے مالک بن گیا تھا، اس حصے کا یہ ضمان معتِق سے نہیں لے سکتا۔ یہی بیان کر رہے ہیں: ﴿وَلَا يُضَمِّنُهُ الثُّلُثَ الَّذِي ضَمِنَ﴾ اور مدبِّر ضامن نہیں بنا سکتا معتِق کو اس ثلث کا جس کا یہ ضامن ہوا ہے ساکت کے لیے۔ ﴿وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، ﴿وَقَالَا﴾ اور صاحبین فرماتے ہیں— یہ امام صاحب کے نزدیک تفصیل تھی بھئی۔ پھر سنیں۔ ایک غلام تین آدمیوں میں مشترکہ ہے، ان دونوں میں سے ایک آدمی جو ہے وہ مالدار ہے اس نے اپنے حصے کو مدبر بنا دیا، دوسرا آدمی بھی مالدار ہے اس نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، تو تیسرا جو ساکت ہے وہ اس مدبِّر سے غلام کے تیسرے حصے کے ضمان وصول کر سکتا ہے، اور مدبِّر جو ہے پھر معتِق سے مدبر کے تیسرے حصے کا ضمان وصول کر سکتا ہے، لیکن جس حصے کا ضمان مدبِّر نے ادا کیا تھا ساکت کو، اس حصے کا ضمان وہ معتِق سے وصول نہیں کر سکتا امام صاحب کے نزدیک بھئی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ جیسے اعتاق میں تقسیم نہیں ہو سکتی، غلام کے کچھ حصے کو آزاد کریں تو سارا غلام آزاد ہو جاتا ہے، اسی طرح تدبیر کے اندر بھی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ کوئی آدمی اپنے حصے کے غلام کو مدبر بنائے گا تو سارا ہی غلام مدبر بن جائے گا۔ تو یہاں پر بھی جب پہلے آدمی نے اپنے حصے کو مدبر بنایا تو سارا غلام ہی مدبر بن گیا، اور پھر یہ سارے غلام کا مالک بن گیا، اور اب اس کو دونوں شریکوں کو ضمان ادا کرنا پڑے گا۔ یہ مدبِّر کو دونوں شریکوں کو ضمان ادا کرنا پڑے گا، اور یہ کونسا ضمان ہے؟ ضمانِ تملک ہے، ضمانِ معاوضہ ہے کہ یہ ان کے حصے کا مالک بن رہا ہے، تو یہ ہر حال میں دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَا: الْعَبْدُ كُلُّهُ لِلَّذِي دَبَّرَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ غلام سارا کا سارا اس آدمی کے لیے ہوگا جس نے اس کو پہلی مرتبہ مدبر بنایا، ﴿وَيَضْمَنُ ثُلُثَيْ قِيمَتِهِ﴾ اور یہ آدمی، یہ جو مدبِّر ہے یہ ضامن ہوگا اس غلام کی دو تہائی قیمت کا۔ ایک حصے کا تو یہ مالک ہے، تو باقی دونوں کے ایک ایک حصے کا ضامن بنے گا تو دو حصوں کا ضمان دینا پڑے گا، تین میں سے دو حصوں کا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَضْمَنُ ثُلُثَيْ قِيمَتِهِ لِشَرِيكَيْهِ﴾ اور یہ اس غلام کے دو ثلث کی قیمت کا ضامن ہوگا اپنے دونوں شریکوں کے لیے، ﴿مُوسِرًا كَانَ أَوْ مُعْسِرًا﴾ چاہے یہ مدبِّر مالدار ہو چاہے تنگدست ہو۔ دونوں صورتوں میں یہ ضامن بنے گا کیونکہ یہ ضمانِ تملک ہے، ضمانِ معاوضہ ہے۔
آگے دیکھیے: ﴿وَأَصْلُ هَذَا﴾ اور اصل اس کی، یعنی ضابطہ اس کا یہ ہے ﴿أَنَّ التَّدْبِيرَ يَتَجَزَّأُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافًا لَهُمَا﴾ کہ مدبر بنانا جو ہے یہ اس میں تقسیم ہو سکتی ہے امام صاحب کے نزدیک، بخلاف صاحبین کے۔ ان کے نزدیک تدبیر میں، یعنی مدبر بنانے میں تجزی نہیں ہو سکتی۔ ﴿كَالْإِعْتَاقِ﴾ جیسے اعتاق ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اعتاق میں تقسیم ہو سکتی ہے اور صاحبین کے نزدیک اعتاق میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ کہتے ہیں: ﴿كَالْإِعْتَاقِ لِأَنَّهُ شُعْبَةٌ مِنْ شُعَبِهِ﴾ جیسے کہ اعتاق ہے، اس لیے کیونکہ تدبیر بھی اعتاق کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔ جیسے اعتاق سے غلام آزاد ہوتا ہے، تدبیر سے بھی بالآخر غلام آزاد ہوگا، تو یہ تدبیر جو ہے یعنی مدبر بنانا یہ اعتاق کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے، تو اس کا وہی حکم ہوگا جو اعتاق کا تھا، اور اعتاق کی تقسیم تو امام صاحب کے نزدیک ہو سکتی ہے لہٰذا تدبیر کی تقسیم بھی ہو سکتی ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک اعتاق کی تقسیم نہیں ہو سکتی تو لہٰذا تدبیر کی تقسیم بھی نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ﴿كَالْإِعْتَاقِ لِأَنَّهُ شُعْبَةٌ مِنْ شُعَبِهِ فَيَكُونُ مُعْتَبَرًا بِهِ﴾ جیسے اعتاق ہے اس لیے کیونکہ تدبیر جو ہے اعتاق کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے، تو اس تدبیر کو اس اعتاق پر ہی قیاس کیا جائے گا۔ ﴿وَلَمَّا كَانَ مُتَجَزِّئًا عِنْدَهُ اقْتَصَرَ عَلَى نَصِيبِهِ﴾ اور جب یہ تدبیر جو ہے یہ تقسیم ہو سکتی ہے امام صاحب کے نزدیک، تو یہ تدبیر اسی کے حصے پر بند رہے گی۔ تین میں سے ایک نے مدبر بنایا ہے تو صرف اسی کا حصہ مدبر ہوا، باقی دونوں کا حصہ ابھی مدبر نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَمَّا كَانَ مُتَجَزِّئًا عِنْدَهُ اقْتَصَرَ عَلَى نَصِيبِهِ﴾ اور جب یہ تدبیر جو ہے تقسیم ہو سکتی ہے امام صاحب کے نزدیک، تو یہ بند رہے گی اس مدبر کے حصے پر ہی۔ ﴿وَقَدْ أَفْسَدَ بِالتَّدْبِيرِ نَصِيبَ الْآخَرَيْنِ﴾ اور تحقیق اس نے تدبیر کے ذریعے باقی دونوں کے حصے کو فاسد کر دیا، باقی دونوں کے حصوں کو فاسد کر دیا کیونکہ اب وہ اس کو بیچ نہیں سکتے، مدبر جو ہے انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَدْ أَفْسَدَ بِالتَّدْبِيرِ نَصِيبَ الْآخَرَيْنِ﴾ اور اس مدبِّر نے تدبیر کے ذریعے باقی دو شریکوں کے حصے کو فاسد کر دیا۔ ﴿فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنْ يُدَبِّرَ نَصِيبَهُ أَوْ يُعْتِقَ أَوْ يُكَاتِبَ أَوْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ أَوْ يَسْتَسْعِيَ الْعَبْدَ أَوْ يَتْرُكَهُ عَلَى حَالِهِ﴾
بھئی ادھر دیکھیے، مدبر جو ہے وہ انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا، وہ تبدلِ ملک کو قبول نہیں کرتا، ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس مدبِّر نے دونوں کے حصے کو خراب کر دیا۔ اب وہ اس کو بیچ نہیں سکتے، ہبہ نہیں کر سکتے، ہاں خدمت لے سکتے ہیں، مزدوری کروا سکتے ہیں، لیکن بیچ نہیں سکتے، ہبہ نہیں کر سکتے۔ تو لہٰذا امام صاحب کے نزدیک جب ایک شخص نے اپنے حصے کو مدبر بنا دیا تو باقی دونوں جو شریک ہیں، ان کو چھ چیزوں کا اختیار ہو گیا۔ وہ دونوں چاہیں تو اپنے حصے کو آزاد کر دیں، وہ دونوں چاہیں تو اپنے حصے میں غلام سے سعی کروا لیں، وہ دونوں چاہیں تو اپنے حصے کو بھی مدبر بنا دیں، کچھ حصہ اس کا مدبر ہے ان کا بھی کیا بن جائے گا؟ مدبر۔ اور وہ دونوں چاہیں تو اپنے حصے کو مکاتب بنا دیں اور کمائی کروا لیں، اور وہ دونوں چاہیں تو مسئلے کو اپنے حال پر اسی طرح چلنے دیں، اور وہ دونوں چاہیں تو اس مدبِّر سے ضمان لے لیں کہ اس نے ان کا حصہ فاسد کر دیا ہے، لہٰذا اپنے اپنے حصے کا ضمان دے لیں گے اور سارا ہی وہ مدبر اس مدبِّر کا ہو جائے گا۔ تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو کتنے اختیار ہیں؟ چھ اختیار ہیں۔ چاہے تو کیا کرے؟ اپنے حصے کو آزاد کر دے، چاہے تو اس حصے سے سعی کروا لے، اور چاہے تو اپنے حصے کو بھی مدبر بنا دے، چاہے اپنے حصے کو بھی مکاتب بنا دے، اور چاہے تو مدبِّر سے ضمان لے لے جس نے ان کا حصہ خراب کیا ہے، اور چاہے تو مسئلے کو اسی طرح چلنے دے، اسی طرح اپنی حالت پر اسی طرح رہنے دے۔
تو کہتے ہیں: ﴿فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا﴾ تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے جائز ہے ﴿أَنْ يُدَبِّرَ نَصِيبَهُ﴾ کہ وہ اپنے حصے کو بھی مدبر بنا دے، ﴿أَوْ يُعْتِقَ﴾ یا اپنے حصے کو آزاد کر دے، ﴿أَوْ يُكَاتِبَ﴾ یا اپنے حصے کو مکاتب بنا دے، ﴿أَوْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ﴾ یا مدبِّر کو ضامن بنا دے، ﴿أَوْ يَسْتَسْعِيَ الْعَبْدَ﴾ یا غلام سے سعی کروا لے، ﴿أَوْ يَتْرُكَهُ عَلَى حَالِهِ﴾ یا اس غلام کو اپنے اسی حال پر چھوڑ دے، یعنی اسی طرح چلنے دے معاملے کو۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو چھ چیزوں کا اختیار ہے۔ آپ کے ذہن میں آئے گا کہ جب ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کرتا تھا تو امام صاحب کے نزدیک دوسرے کو تین اختیار ملتے تھے اگر معتِق مالدار ہو۔ اگر معتِق مالدار ہو تو دوسرے شریک کو تین اختیار ہوتے تھے: یا تو وہ اپنے حصے کو ویسے ہی آزاد کر دے، یا ضمان لے لے، یا غلام سے سعی کروا لے، اور یہاں آپ کہہ رہے ہیں کہ دونوں کو چھ چھ اختیار ہیں بھئی۔ تو وجہ یہ ہے کہ جب غلام کے نصف حصے کو آزاد کر دیا گیا تو دوسرے حصے کو اب مدبر نہیں بنا سکتے کیونکہ اس نے اب آزاد ہونا ہے، جبکہ یہاں مدبر بھی بنا سکتے ہیں۔ نیز وہاں آپ غلام کے دوسرے حصے کو مکاتب نہیں بنا سکتے، وہ خود ہی مکاتب کے حکم میں ہو گیا، اور نیز وہاں پر آپ اس معاملے کو اسی طرح چلنے دیں یہ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ غلام نے آزاد ہونا ہے، اس کے نصف کو غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں کتنے اختیار تھے؟ صرف تین، اور یہاں کتنے ہیں؟ چھ، کیونکہ یہاں ایک شریک نے مدبر بنایا ہے اور مدبر تو موت تک غلام رہ سکتا ہے بھئی، تو لہٰذا باقی دونوں کو اختیار ہے۔ وہ تین اختیار بھی ہوں گے، کون سے؟ چاہے تو اپنے حصے کو آزاد کر دے، چاہے تو ضمان لے لے، اور چاہے تو غلام سے سعی کروا لے۔ اور اس کے علاوہ تین اور اختیار بھی یہاں آ گئے: چاہے تو اپنے حصے کو مدبر بنا دے، چاہے تو اپنے حصے کو مکاتب بنا دے، اور چاہے تو مسئلے کو اسی طرح چلنے دے کیونکہ موت تک تو یہ غلام اسی طرح چل سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر دیکھ لیجیے ترجمہ۔ کہتے ہیں: ﴿فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنْ يُدَبِّرَ نَصِيبَهُ أَوْ يُعْتِقَ أَوْ يُكَاتِبَ أَوْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ أَوْ يَسْتَسْعِيَ الْعَبْدَ أَوْ يَتْرُكَهُ عَلَى حَالِهِ﴾ تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے حصے کو مدبر بنا دے یا اپنے حصے کو آزاد کر دے یا اپنے حصے کو مکاتب بنا دے یا مدبِّر کو ضامن بنا دے یا غلام سے سعی کروا لے یا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دے، یعنی جس طرح یہ ہے اسی طرح چلنے دے۔ ﴿لِأَنَّ نَصِيبَهُ بَاقٍ عَلَى مِلْكِهِ فَاسِدًا﴾ کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا حصہ باقی ہے اس کی ملکیت پر فاسد ہو کر۔ دونوں کی ملکیت اسی طرح باقی ہے، البتہ فاسد ہو کر باقی ہے ﴿بِإِفْسَادِ شَرِيكِهِ﴾ اس کے شریک کے فاسد کر دینے کی وجہ سے، ﴿حَيْثُ سَدَّ عَلَيْهِ طُرُقَ الِانْتِفَاعِ بِهِ﴾ کیونکہ اس مدبِّر نے ان پر بند کر دیا ہے اس غلام سے نفع اٹھانے کو ﴿بَيْعًا وَهِبَةً﴾ بیچنے اور ہبہ کرنے کے اعتبار سے، ﴿عَلَى مَا مَرَّ﴾ اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ مدبر جو ہے اس کو بیچا نہیں جا سکتا، اس کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو لہٰذا اس مدبِّر نے دوسرے دونوں شریکوں کے حصے کو فاسد کر دیا بایں اعتبار کہ یہ بیچ کر یا ہبہ کر کے اپنے اس غلام سے اب فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ خدمت وغیرہ لے سکتے ہیں، سعی کروا سکتے ہیں، لیکن بیچ نہیں سکتے، ہبہ نہیں کر سکتے، تو کچھ نفعے کو اس نے خراب کر دیا، کچھ نفعوں کا راستہ اس نے بند کر دیا۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں ﴿لِأَنَّ نَصِيبَهُ بَاقٍ عَلَى مِلْكِهِ فَاسِدًا بِإِفْسَادِ شَرِيكِهِ حَيْثُ سَدَّ عَلَيْهِ طُرُقَ الِانْتِفَاعِ بِهِ بَيْعًا وَهِبَةً عَلَى مَا مَرَّ﴾ اس لیے کیونکہ باقی دو شریکوں میں سے ہر ایک کا حصہ اس کی ملکیت پر فاسد ہو کر باقی ہے اس کے شریک کے فاسد کر دینے کی وجہ سے، کیونکہ اس مدبِّر نے بند کر دیا ہے ان میں سے ہر ایک پر نفع اٹھانے کے طریقے کو باعتبار بیع کے اور ہبہ کے، اس وجہ سے جو بات گزر گئی۔
﴿فَإِذَا اخْتَارَ أَحَدُهُمَا الْعِتْقَ تَعَيَّنَ حَقُّهُ فِيهِ وَسَقَطَ اخْتِيَارُهُ غَيْرَهُ﴾ بھئی دیکھیے، ایک شریک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا ہے تو باقی دونوں کو چھ اختیار ہیں، لیکن دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، ان چھ میں سے ایک اختیار کو استعمال کر لیا۔ جب ایک اختیار استعمال کر لیا اس نے اب باقی چیزوں کا اس کو اختیار نہیں، لہٰذا وہ ضمان نہیں لے سکتا۔ انہی چھ چیزوں میں سے کیا تھا؟ کہ مدبِّر سے کیا لے لیتا؟ ضمان لے لیتا، لیکن اس نے کس کو اختیار کیا ہے دوسرے نے؟ آزادی کو، اس نے اعتاق کو اختیار کیا ہے، اس نے اپنے حصے کو بھی آزاد کر دیا۔ جب ایک چیز کو اس نے اختیار کر لیا معلوم ہوا اب باقی چیزوں میں سے کسی اور کو اب وہ اختیار نہیں کر سکتا، لہٰذا اب مدبِّر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِذَا اخْتَارَ أَحَدُهُمَا الْعِتْقَ تَعَيَّنَ حَقُّهُ فِيهِ وَسَقَطَ اخْتِيَارُهُ غَيْرَهُ﴾ تو جب ان دونوں میں سے ایک نے آزادی کو اختیار کر لیا تو اس کا حق اس آزادی میں متعین ہو گیا، اور اس کا کسی دوسری چیز کو اختیار کرنا ساقط ہو گیا۔ اس کو اور چیزوں کو اختیار کرنا ساقط ہو گیا، اب یہ مدبِّر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا۔
﴿فَتَوَجَّهَ لِلسَّاكِتِ سَبَبَا ضَمَانٍ﴾ تو متوجہ ہو گئے ساکت کی طرف سببا ضمانٍ، اصل میں تھا سببانِ، دو سبب۔ تو سببانِ کی اضافت کی ضمان کی طرف تو نون اضافت سے گر گیا بھئی۔ ﴿فَتَوَجَّهَ لِلسَّاكِتِ سَبَبَا ضَمَانٍ﴾ تو متوجہ ہو گئے اس ساکت کی طرف ضمان کے دو سبب۔ دو سبب آ گئے: مدبِّر نے بھی اس کا حصہ خراب کیا اس سے بھی ضمان لے سکتا ہے، اور معتِق نے بھی اس کا حصہ خراب کیا اس سے بھی ضمان لے سکتا ہے۔ دو سببِ ضمان آ گئے، لیکن فقہاء فرماتے ہیں یہاں ضمان کے سبب تو دو ہیں لیکن ساکت جو ہے وہ صرف مدبِّر سے ضمان لے سکتا ہے معتِق سے ضمان نہیں لے سکتا۔ بھئی مدبِّر نے بھی اس کا حصہ خراب کیا لیکن بہرحال یہ موت تک تو چلے گا، اور معتِق نے تو بالکل ہی خراب کر دیا اب اس کو تو غلام بنا کر رکھا ہی نہیں جا سکتا۔ تو لہٰذا دو سببِ ضمان آ گئے: ایک مدبِّر کی تدبیر اور ایک معتِق کا اعتاق بھئی۔ لیکن فقہاء فرماتے ہیں یہاں پر اب صرف وہ مدبِّر سے ضمان لے سکتا ہے، معتِق سے ضمان نہیں لے سکتا، اگرچہ معتِق نے بھی حصہ خراب کیا ہے، اگرچہ وہاں بھی سببِ ضمان موجود ہے۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ آپ نے پڑھا ضمان کی دو قسمیں ہیں: ایک ضمانِ افساد ہے اور ایک ضمانِ تملک ہے، اور اسی ضمانِ تملک کو ضمانِ معاوضہ بھی کہتے ہیں۔ اور یاد رکھنا فقہاء فرماتے ہیں کہ ضمانِ معاوضہ اصل ہے اور ضمانِ افساد خلافُ الاصل ہے۔ ضمانِ معاوضہ اصل ہے اور ضمانِ افساد خلافُ الاصل ہے، لہٰذا جب تک ضمانِ معاوضہ پر عمل ہو سکے اسی پر عمل کیا جائے گا، ہم ضمانِ افساد کی طرف نہیں جائیں گے۔ ہاں، جب ضمانِ معاوضہ پر عمل نہ ہو سکے پھر ہم ضمانِ افساد کی طرف چلے جائیں گے۔
تو ضمانِ افساد اور ضمانِ معاوضہ میں سے اصل کیا ہے؟ ضمانِ معاوضہ، کیونکہ اس میں ایک شخص دوسرے کی چیز کا مالک بنتا ہے تو اس کو ضمان دینا پڑتا ہے۔ تو اصل کیا ہے؟ ضمانِ معاوضہ، اور جب تک ضمانِ معاوضہ ممکن ہے ضمانِ افساد کی طرف ہم نہیں جائیں گے، اور جب ضمانِ معاوضہ ممکن نہ رہے گا پھر مجبورا ہمیں ضمانِ افساد کی طرف جانا پڑے گا۔ یہاں پر، یہاں پر آپ پڑھ چکے کہ معتِق سے جو ضمان لیا جاتا ہے وہ کون سا ضمان ہوتا ہے؟ وہ ضمانِ افساد ہوتا ہے، اور مدبِّر سے جو ضمان لیا جاتا ہے وہ ضمانِ تملک ہوتا ہے کہ مدبِّر اس کے حصے کا بھی مالک بن گیا ہے، تو وہ ضمانِ معاوضہ ہے۔ تو مدبِّر سے اگر ضمان لے تو وہ ہوگا ضمانِ معاوضہ، اور معتِق سے ضمان لے تو وہ ہوگا ضمانِ افساد۔ تو لہٰذا جب تک اصل پر عمل ممکن ہے اصل پر ہی عمل کریں گے، یعنی ضمانِ معاوضہ پر، اور ضمانِ معاوضہ تو صرف مدبِّر کا ضمان ہے لہٰذا صرف اسی سے ضمان لے سکتا ہے، معتِق سے یہ ضمان نہیں لے سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿فَتَوَجَّهَ لِلسَّاكِتِ سَبَبَا ضَمَانٍ: تَدْبِيرُ الْمُدَبِّرِ وَإِعْتَاقُ هَذَا الْمُعْتِقِ﴾ تو متوجہ ہو گئے ساکت کے لیے ضمان کے دو سبب: تدبیر المدبِّر، ایک تو مدبِّر کا مدبر بنانا، وإعتاق هذا المعتق، اور دوسرا اس معتِق کا آزاد کرنا۔ ﴿غَيْرَ أَنَّ لَهُ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ﴾ علاوہ اس کے کہ اس ساکت کے لیے صرف یہ جائز ہے کہ وہ مدبِّر سے ضمان لے، صرف مدبِّر سے ضمان لے سکتا ہے، معتِق سے ضمان نہیں لے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿غَيْرَ أَنَّ لَهُ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُدَبِّرَ لِيَكُونَ الضَّمَانُ ضَمَانَ مُعَاوَضَةٍ إِذْ هُوَ الْأَصْلُ﴾ علاوہ اس کے کہ یہ ساکت کے لیے مدبِّر سے ضمان لینا جائز ہے تاکہ یہ ضمان جو ہے ضمانِ معاوضہ ہو جائے، کیونکہ ضمانِ معاوضہ ہی اصل ہے، ﴿حَتَّى جُعِلَ الْغَصْبُ ضَمَانَ مُعَاوَضَةٍ عَلَى أَصْلِنَا﴾ یہاں تک کہ غصب جو ہے اس کو بھی ضمانِ معاوضہ قرار دیا گیا ہے علی اصلنا ہمارے ضابطے پر۔ بھئی دیکھو غصب، غصب یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی چیز چھین کر لے جائے تو اس کو وہی چیز واپس دینا پڑے گی، لیکن اگر غاصب نے اس دوسرے شخص سے کہا کہ بھئی میں وہ چیز تو تمہیں نہیں دوں گا، تم اگر اس کے پیسے لینا چاہتے ہو تو میں تمہیں پیسے دے دوں گا۔ تو غاصب نے اس چیز کا ضمان دے دیا، غاصب نے اس چیز کا ضمان دے دیا تو غاصب اب اس چیز کا مالک بن جائے گا۔ تو معلوم ہوا یہ جو غاصب ضمان دیتا ہے یہ کون سا ضمان ہے؟ ضمانِ معاوضہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا دوسری صورت، غاصب ایک چیز چھین کر لے گیا تھا اور وہ اس کے پاس ہلاک ہو گئی، اب غاصب کو ضمان دینا پڑے گا اور یہ کون سا ضمان ہے؟ یہ ضمانِ معاوضہ ہے، ہم یوں کہیں گے کہ غاصب اس چیز کا مالک بن گیا تھا اور یہ اب ضمان دے رہا ہے۔ تو معلوم ہوا غصب، غصب میں کیا کیا جاتا ہے؟ ایک آدمی کی چیز زبردستی چھین لی جاتی ہے، تو یہ شرعاً حرام ہے۔ تو جب غصب جو کہ شرعاً حرام ہے اور ممنوع ہے، اس کے اندر جو ضمان آتا ہے جب اس کو ضمانِ معاوضہ قرار دیا گیا ہے، تو تدبیر جو شرعاً جائز ہے، کوئی آدمی کیا کرے؟ اپنے غلام کو مدبر بنائے، یہ تو شرعاً جائز ہے۔ تو تدبیر جو شرعاً جائز ہے اس میں جو ضمان آئے گا وہ بطریقِ اولیٰ ضمانِ معاوضہ ہو گا۔ غصب جو شرعاً ممنوع ہے جب اس کے اندر ضمان کو ضمانِ معاوضہ قرار دیا گیا ہے، تو تدبیر جو شرعاً جائز ہے اس کے اندر جو ضمان آئے گا وہ بطریقِ اولیٰ ضمانِ معاوضہ ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿حَتَّى جُعِلَ الْغَصْبُ ضَمَانَ مُعَاوَضَةٍ عَلَى أَصْلِنَا﴾ یہاں تک کہ غصب کو ضمانِ معاوضہ قرار دیا گیا ہے علی اصلنا ہمارے ضابطے پر، اگرچہ غصب شرعاً ممنوع ہے پھر بھی اس کو ضمانِ معاوضہ قرار دیا گیا ہے۔ ﴿وَأَمْكَنَ ذَلِكَ فِي التَّدْبِيرِ﴾ اور یہ ضمانِ معاوضہ ممکن بھی ہے تدبیر میں، یعنی مدبر بنانے میں ضمانِ معاوضہ ممکن بھی ہے۔ توجہ سے سمجھنا بھئی، یہ مشکل مقام ہے اور یہاں صاحبِ ہدایہ پر اعتراض بھی ہوتا ہے بھئی، تو توجہ سے سنیے۔ کہتے ہیں: ﴿وَأَمْكَنَ ذَلِكَ فِي التَّدْبِيرِ﴾ اور مدبر کے اندر ضمانِ معاوضہ ممکن بھی ہے، کیونکہ مدبر تو آزاد نہیں ہوتا۔ مدبر نے تو مرنے کے بعد آزاد ہونا ہے، تو زندگی کے اندر تو اس سے خدمت بھی لی جا سکتی ہے، اس سے کام کاج بھی کروایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ایک شریک نے جب اپنے حصے کو مدبر بنایا ہے، ایک شریک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا ہے تو دوسرا شریک، تو دوسرا شریک اس غلام سے خدمت لے سکتا ہے اپنے حصے کے بقدر اور اپنے حصے کے بقدر اس سے مزدوری بھی کروا سکتا ہے، ہاں صرف ایک بات ہے جب وہ شریک، وہ جو مدبِّر مرے گا تو یہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، لیکن جب تک تو اس سے خدمت بھی لی جا سکتی ہے اور اس سے کمائی وغیرہ بھی کروائی جا سکتی ہے، ہاں صرف اس کو بیچا نہیں جا سکتا، ہبہ نہیں کیا جا سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَأَمْكَنَ ذَلِكَ فِي التَّدْبِيرِ لِكَوْنِهِ قَابِلًا لِلنَّقْلِ مِنْ مِلْكٍ إِلَى مِلْكٍ وَقْتَ التَّدْبِيرِ﴾ اور یہ ضمانِ معاوضہ مدبر میں ممکن بھی ہے، ﴿لِكَوْنِهِ قَابِلًا لِلنَّقْلِ مِنْ مِلْكٍ إِلَى مِلْكٍ﴾ اس لیے کیونکہ یہ جو مدبر ہے یہ اس قابل ہے للنقل کہ اس کو منتقل کیا جائے من ملکٍ الی ملکٍ ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف، ﴿وَقْتَ التَّدْبِيرِ﴾ مدبر بناتے وقت۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا کہ مدبر انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا کہ ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف منتقل ہو جائے، لیکن یاد رکھو مدبر جو ہے کسی اور کی طرف انتقالِ ملک کو تو قبول نہیں کرتا، لیکن مدبِّر کی طرف انتقالِ ملک کو یہ قبول کر لیتا ہے کہ مدبِّر باقی حصے کا بھی مالک بن جائے، اس انتقالِ ملک کو یہ قبول کر لیتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مدبر وہ انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا، صرف کس کی طرف انتقالِ ملک کو قبول کرتا ہے؟ مدبِّر کی طرف جس نے اس کو مدبر بنایا تھا۔ مثلاً دو آدمیوں میں ایک غلام مشترکہ ہے اور ایک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا تو دوسرے کو وہ ضمان دے کر اس کے حصے کا بھی مالک بن جائے گا۔ تو مدبر میں انتقالِ ملک آیا اور کس کی طرف آیا؟ مدبِّر کی طرف۔ تو مدبر انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے مدبِّر کی طرف، کسی اور کی طرف انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا۔ اور اس کے اندر بھی یاد رکھنا، اس کے اندر بھی یاد رکھنا کہ یہ جو انتقالِ ملک ہے اس کی نسبت کی جاتی ہے وقتِ تدبیر کی طرف، اس انتقالِ ملک کی نسبت کی جاتی ہے وقتِ تدبیر کی طرف۔ یعنی دو شریکوں میں سے ایک جو ہے جس وقت اپنے حصے کو مدبر بنا رہا تھا، عین اس سے پہلے کی طرف نسبت ہوگی کہ مدبر بناتے وقت، یعنی مدبر کا حکم ثابت ہونے سے پہلے پہلے انتقالِ ملک پایا گیا۔
پھر سنو، پھر سنو۔ ایک غلام ہے اس میں دو آدمی شریک ہیں، ایک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا دوسرا اس سے ضمان لے لیتا ہے، تو ضمان دینے سے یہ اس کے حصے کا بھی مالک بن گیا۔ تو آپ کے ذہن میں آئے گا کہ مدبر تو انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا، یہ کیسے انتقالِ ملک کو قبول کر رہا ہے؟ تو جواب یہ کہ یہ مدبر یہ انتقالِ ملک کو قبول کر رہا ہے مدبِّر کی طرف، مدبِّر اس کا مالک بن رہا ہے، اور نیز یہ جس وقت ضمان دے رہا ہے مدبِّر نے کیا کیا؟ دوسرے شریک کو ضمان دیا، تو ہم یوں نہیں کہیں گے کہ جس وقت ضمان دیا اس وقت مدبِّر اس کا مالک بنا۔ ضمان آج دے رہا ہے لیکن مالک بننے کی نسبت کی جائے گی تدبیر کے وقت کی طرف کہ مدبر بنانے سے پہلے یہ مالک ہو گیا، یعنی تدبیر کے وقت یہ اس کا مالک ہو گیا تھا دوسرے حصے کا بھی۔ ایک آدمی نے اپنے حصے کو مدبر بنایا تو دوسرے کا حصہ خراب ہو گیا، وہ اس سے ضمان لیتا ہے تو ضمان تو یہ آج دے رہا ہے اور ضمان دے گا تو پورے مدبر کا مالک بن جائے گا، لیکن ہم یہ نہیں کہیں گے پورے مدبر کا مالک یہ آج بنا ہے بلکہ کیا کہیں گے؟ باقی حصے کا مالک کب بنا؟ تدبیر کے وقت، جب یہ مدبر بنا رہا تھا، جب ابھی وہ مدبر بنا نہیں تھا، یعنی جس وقت وہ ایک عام غلام تھا اور عام غلام تو تبدلِ ملک کو قبول کر لیتا ہے، تو اس وقت گویا یہ تبدلِ ملک ہوا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ معنی ہے ﴿لِكَوْنِهِ قَابِلًا لِلنَّقْلِ مِنْ مِلْكٍ إِلَى مِلْكٍ وَقْتَ التَّدْبِيرِ﴾ اس لیے، لکونہ قابلا للنقل، اس لیے کیونکہ یہ مدبر قبول کرتا ہے نقل کرنے کو من ملکٍ الی ملکٍ ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف، وقت التدبیر کس وقت؟ تدبیر کے وقت۔ تو مدبر انتقالِ ملک کو قبول کرتا ہے مدبِّر کی طرف، لیکن اس انتقالِ ملک کی نسبت بھی کس وقت کی طرف کی جائے گی؟ تدبیر کے وقت کی طرف، جب مدبر بنا رہا تھا اس وقت، یعنی مدبر بنانے سے پہلے پہلے، اور مدبر بنانے سے پہلے تو یہ عام غلام تھا اور عام غلام تو انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے، تو گویا یہ اسی وقت اس کا مالک بن گیا تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یا یوں کہیں، یا یوں کہیں کہ امام صاحب کے نزدیک تدبیر کی تجزی ہو سکتی ہے، تو جب دو شریکوں میں سے ایک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا ہے تو دوسرے کا حصہ تو مدبر نہیں ہے وہ تو عام غلام ہے، لہٰذا وہ کیا کر لیتا ہے؟ انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے۔ مدبِّر ضمان دے کر اس حصے کا بھی مالک بن جائے گا اور وہ حصہ تو عام غلام ہے لہٰذا وہ انتقالِ ملک کو قبول کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِكَوْنِهِ قَابِلًا لِلنَّقْلِ مِنْ مِلْكٍ إِلَى مِلْكٍ وَقْتَ التَّدْبِيرِ﴾ اس وجہ سے کہ مدبر جو ہے وہ نقل کو قبول کرتا ہے ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف تدبیر کے وقت، ﴿وَلَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي الْإِعْتَاقِ﴾ اور اعتاق میں یہ ممکن نہیں ہے، یعنی ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف نقل بھئی، کہ غلام ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف منتقل ہو جائے، اعتاق میں یہ نہیں ہو سکتا۔ دو آدمی ہیں ایک غلام میں شریک ہیں، ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اور معتِق مالدار ہے تو دوسرا شریک اس معتِق سے ضمان لے سکتا ہے، لیکن یہ ضمان کون سا ہم نے بتلایا؟ ضمانِ افساد ہے، ضمانِ تملک نہیں، یہ ضمان ادا کرنے کی وجہ سے دوسرے کے حصے کا مالک نہیں بن سکتا۔ دوسرے کے حصے کا مالک نہیں بن سکتا بھئی، کیونکہ اعتاق کے اندر نقلِ ملک الی ملک جائز نہیں کہ غلام ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف منتقل ہو جائے۔ تو تدبیر کے اندر تو انتقالِ ملک جائز ہے، لیکن اعتاق میں انتقالِ ملک جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي الْإِعْتَاقِ﴾ اور یہ ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف منتقل ہونا یہ اعتاق میں ممکن نہیں ہے، ﴿لِأَنَّهُ عِنْدَ ذَلِكَ مُكَاتَبٌ أَوْ حُرٌّ عَلَى اخْتِلَافِ الْأَصْلَيْنِ﴾ اس لیے کیونکہ اس وقت وہ مکاتب ہے یا آزاد ہے علی اختلاف الاصلین دو ضابطوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ بھئی، امام صاحب کا ضابطہ الگ، صاحبین کا ضابطہ الگ۔ امام صاحب کے نزدیک اعتاق تقسیم کو قبول کر لیتا ہے، لہٰذا اگر دو شریکوں میں سے ایک شریک اپنے حصے کے غلام کو آزاد کر دے، اپنے حصے کو آزاد کر دے تو صرف اس کا حصہ آزاد ہوا ہے دوسرے کا حصہ آزاد نہیں، وہ دوسرے کا حصہ مکاتب کے درجے میں ہو گیا۔ دوسرے کا حصہ مکاتب کے درجے میں ہو گیا ہے اور مکاتب بدلِ کتابت ادا کر کے آزاد ہوتا ہے، تو اس سے بھی سعی کروائی جائے گی یہ اپنے حصے کی سعی ادا کرے گا۔ تو جب یہ مکاتب ہے اور مکاتب تو آزاد ہونے کی تیاری میں ہے، تو اس کا انتقالِ ملک جائز نہیں، یہ کسی کی ملکیت میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ اور صاحبین کے نزدیک تو سارا ہی آزاد ہو جاتا ہے، تو جب سارا ہی آزاد ہو گیا تو وہ تو حر ہو گیا اور حر بھی انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا۔ تو معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک اعتاق کے اندر وہ غلام مکاتب بن جاتا ہے اور صاحبین کے نزدیک وہ حر بن جاتا ہے، اور مکاتب ہو یا حر ہو دونوں ہی انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتے۔ لہٰذا اعتاق کے اندر تو انتقالِ ملک نہیں ہو سکتا اور تدبیر کے اندر انتقالِ ملک ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي الْإِعْتَاقِ لِأَنَّهُ عِنْدَ ذَلِكَ مُكَاتَبٌ أَوْ حُرٌّ عَلَى اخْتِلَافِ الْأَصْلَيْنِ﴾ اور ممکن نہیں ہے یہ یعنی انتقالِ ملک اعتاق کے اندر، اس لیے کیونکہ اس وقت یعنی اعتاق کے وقت وہ مکاتب ہے امام صاحب کے نزدیک، یا آزاد ہے صاحبین کے نزدیک، علی اختلاف الاصلین دونوں ضابطوں کے مختلف ہونے کی بنیاد پر۔ ﴿فَتَعَذَّرَ فِيهِ تَحْقِيقُ ضَمَانِ الْمُعَاوَضَةِ فَتَعَيَّنَ ضَمَانُ الْإِفْسَادِ﴾ پس دشوار ہو گیا اس اعتاق کے اندر ضمانِ معاوضہ کا ثابت کرنا، پس متعین ہو گیا ضمانِ افساد۔ لہٰذا معتِق سے جو ضمان لیا جاتا ہے وہ تو ضمانِ افساد ہوتا ہے اور مدبِّر سے جو ضمان لیا جاتا ہے وہ ضمانِ معاوضہ ہوتا ہے، اور ضمانِ معاوضہ اصل ہے، تو جب تک اصل پر عمل ممکن ہے اصل پر ہی عمل کریں گے، لہٰذا ساکت صرف کس سے ضمان لے سکتا ہے؟ مدبِّر سے، معتِق سے ضمان نہیں لے سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
کہتے ہیں: ﴿فَتَعَذَّرَ فِيهِ تَحْقِيقُ ضَمَانِ الْمُعَاوَضَةِ فَتَعَيَّنَ ضَمَانُ الْإِفْسَادِ﴾ پس دشوار ہو گیا اس اعتاق کے اندر ضمانِ معاوضہ کا ثابت کرنا، فتعین ضمان الافساد، پس متعین ہو گیا ضمانِ افساد۔ ﴿وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا سَبِيلَ إِلَى التَّضْمِينَيْنِ جَمِيعًا لِاسْتِلْزَامِهِ الْفَضْلَ الْخَالِيَ عَنِ الْعِوَضِ﴾ اور یہ اس لیے، یعنی ساکت کے لیے دونوں میں سے ایک سے ضمان لینا اس لیے ہے کیونکہ دونوں سے ضمان لینے کی کوئی سبیل نہیں ہے، دونوں ضامنوں کو جمع کرنے کی کوئی سبیل نہیں ہے، لاستلزامہ کیونکہ یہ لازم پکڑے گا الفضل الخالی عن العوض ایسے فائدے کو جو بدلے سے خالی ہو، یعنی سود کو۔ اور سود شریعت میں حرام ہے۔ بھئی، اگر ساکت دونوں سے ضمان لے لے، مدبِّر سے بھی سو درہم لے لے اور معتِق سے بھی سو درہم لے لے تو اس کے تو دو سو درہم ہو گئے، اور اس کا حصہ تو صرف سو درہم کا تھا، تو سو درہم تو اس کے حصے کا بدل ہو گئے اور باقی سو درہم بلا عوض نفع ہو گیا، اور بلا عوض نفع تو سود ہوتا ہے، اور سود شریعت میں حرام ہے۔ لہٰذا دونوں سے تو ضمان نہیں لے سکتا، کسی ایک سے لے گا اور ایک سے جب لے گا تو وہ کس سے لے گا؟ مدبِّر سے لے گا کیونکہ وہ ضمانِ معاوضہ ہے اور ضمانِ معاوضہ اصل ہے۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا سَبِيلَ إِلَى التَّضْمِينَيْنِ جَمِيعًا لِاسْتِلْزَامِهِ الْفَضْلَ الْخَالِيَ عَنِ الْعِوَضِ﴾ اور یہ یعنی کسی ایک سے ضمان لینا اس لیے ہے کیونکہ دونوں سے بیک وقت ضمان لینے کی کوئی سبیل نہیں ہے، اس لیے کیونکہ یہ لازم پکڑے گا ایسے فائدے کو جو کہ بدلے سے خالی ہو، یعنی سود کو۔ ﴿فَوَجَبَ الْمَصِيرُ إِلَى مَا هُوَ الْأَصْلُ﴾ پس ضروری ہوا لوٹنا اس کی طرف جو کہ اصل ہے، یعنی ضمانِ معاوضہ کی طرف لوٹنا ضروری ہوا اور وہ مدبِّر کا ضمان ہے۔ ﴿وَهُوَ ضَمَانُ الْمُدَبِّرِ﴾ اور وہ مدبِّر کا ضمان ہے، تو لہٰذا ساکت مدبِّر سے ہی ضمان لے گا۔ ﴿ثُمَّ يَرْجِعُ الْمُدَبِّرُ عَلَى الْمُعْتِقِ بِثُلُثِ قِيمَتِهِ مُدَبَّرًا﴾ پھر یہ مدبِّر رجوع کرے گا اس معتِق پر اس غلام کے مدبر ہونے کی ثلثِ قیمت کے ساتھ، یعنی چھیاسٹھ درہم کے ساتھ۔ ﴿لِأَنَّهُ أَفْسَدَ عَلَيْهِ مِلْكَهُ فِي هَذَا الْقَدْرِ بِإِعْتَاقِهِ﴾ اس لیے کیونکہ اس معتِق نے اس مدبِّر پر فاسد کر دیا ہے اس مدبِّر کی ملکیت کو فی ھذا القدر اس مقدار میں، یعنی تہائی مقدار میں، باعتاقہ اپنے آزاد کرنے کے ذریعے۔ تو چونکہ معتِق نے اس کا حصہ خراب کیا ہے لہٰذا یہ معتِق سے ضمان لے لے گا۔ ﴿وَلَا يَرْجِعُ بِمَا ضَمِنَ لِلشَّرِيكِ السَّاكِتِ﴾ اور یہ مدبِّر رجوع نہیں کرے گا اس ضمان کے ساتھ جس کا یہ ضامن بنا ہے تیسرے شریکِ ساکت کے لیے۔ یعنی وہ جو سو درہم اس نے ساکت کو دیے تھے اس کے ساتھ یہ معتِق پر رجوع نہیں کرے گا، صرف اپنے تہائی حصے کے بقدر رجوع کرے گا۔ ﴿لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْهُ إِلَّا بَعْدَ الْإِعْتَاقِ فَلَمْ يَكُنْ مَحَلًّا لِلْإِفْسَادِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ مدبِّر مالک بنا ہے اس دوسرے ساکت کے حصے کا الا بعد الاعتاق مگر اعتاق کے بعد، پس یہ حصہ محل نہیں رہا تھا اعتاق کے لیے۔
توجہ سے سمجھنا بھئی، توجہ سے سمجھنا، یہ بہت ہی مشکل مقام ہے اور یہاں صاحبِ ہدایہ پر ایک بڑا اشکال وارد ہوتا ہے۔ اب جو عبارت آ رہی ہے اس میں صاحبِ ہدایہ پر ایک بڑا اعتراض وارد ہوتا ہے اور صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دیتے ہیں۔ تو اس لیے اس عبارت کو سمجھنے کے لیے آپ کو وہ اعتراض پہلے سمجھنا پڑے گا۔ اعتراض کیا ہے؟ توجہ سے سننا، اعتراض یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ! ابھی ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے فرمایا تھا: ﴿وَأَمْكَنَ ذَلِكَ فِي التَّدْبِيرِ لِكَوْنِهِ قَابِلًا لِلنَّقْلِ مِنْ مِلْكٍ إِلَى مِلْكٍ وَقْتَ التَّدْبِيرِ﴾ کہ مدبر جو ہے یہ انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے وقتِ تدبیر، یعنی تدبیر کے وقت انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے، اور تدبیر کے وقت یہ مالک بن گیا تھا۔ اور اب آپ یہاں فرما رہے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْهُ إِلَّا بَعْدَ الْإِعْتَاقِ﴾ کہ مدبِّر دوسرے حصے کا مالک بنا ہے اعتاق کے بعد۔ تو بھئی وہاں تو آپ نے فرمایا تھا تدبیر کے وقت مالک بن گیا ہے، اور یہاں آپ فرما رہے ہیں کہ اعتاق کے بعد مالک بنا ہے۔ اور تدبیر پہلے ہوئی ہے اعتاق بعد میں ہوا ہے۔ جب ایک شریک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا اس کے بعد دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کیا تھا، تو تدبیر پہلے ہوئی ہے اعتاق بعد میں ہوا ہے، تو وہاں آپ فرما رہے ہیں کہ تدبیر کے وقت مالک بنا اور یہاں آپ فرما رہے ہیں اعتاق کے بعد مالک بنا، تو یہ تو دو متضاد باتیں ہو گئیں۔ تدبیر کے وقت مالک بنا تو اس کا مطلب ہے اعتاق سے پہلے مالک بن گیا تھا، اور یہاں آپ فرما رہے ہیں اعتاق کے بعد مالک بنا ہے تو یہ تو دونوں باتوں میں تعارض ہو گیا۔
تو اس کا جواب دیا، صاحبِ ہدایہ نے اس کا جواب دیا۔ کہتے ہیں بھئی، بات یہ ہے کہ مدبِّر ساکت کے حصے کا مالک تو تدبیر کے وقت ہی بن گیا تھا، لیکن یہ ملکیت غیر مستقر تھی، کمزور تھی، مستحکم نہیں تھی۔ کیونکہ ساکت نے ابھی اپنے چھ اختیارات میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ جب ساکت نے ضمان کا انتخاب کر لیا تو اب یہ ملکیت مستقر ہو گئی، یعنی پکی ہو گئی، اور یہ ضمان کا انتخاب اس نے کب کیا ہے؟ اعتاق کے بعد کیا ہے۔ تو اعتاق کے بعد مالک بننے کا مطلب یہ ہے کہ ملکیتِ مستقرہ اعتاق کے بعد حاصل ہوئی ہے، اور تدبیر کے وقت مالک بننے کا مطلب یہ ہے کہ اصل ملکیت تدبیر کے وقت ثابت ہو گئی تھی۔ لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْهُ إِلَّا بَعْدَ الْإِعْتَاقِ﴾ اس لیے کیونکہ مدبِّر مالک نہیں بنا اس ساکت کے حصے کا مگر اعتاق کے بعد، یعنی ملکیتِ مستقرہ اس کو اعتاق کے بعد حاصل ہوئی، ﴿فَلَمْ يَكُنْ مَحَلًّا لِلْإِفْسَادِ﴾ پس یہ حصہ معتِق کے لیے افساد کا محل نہیں رہا، کیونکہ معتِق کے آزاد کرنے کے وقت یہ حصہ اس مدبِّر کی ملکیت میں پختہ طور پر نہیں آیا تھا، لہٰذا معتِق پر اس کے ضمان کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ﴾۔
نصف قیمت ادا کرے گا غلام اور پھر آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اعتاق میں تجزی نہیں ہو سکتی، لہٰذا دو شریکوں میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو سارا ہی غلام آزاد ہو گیا، لیکن اب اس غلام کو نصف قیمت ادا کرنی پڑے گی دوسرے شریک کو کیونکہ اس کا بھی اس کے اندر حصہ تھا۔ تو یہ جو پہلے غلام تھا، اب یہ آزاد ہو چکا ہے اور اس کے اوپر دَین ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک غلام کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا جائے تو باقی حصہ مکاتب ہوتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک وہ پورا ہی آزاد ہوتا ہے البتہ اس کے ذمے دَین ہوتا ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عِنْدَ ذٰلِكَ مُكَاتَبٌ أَوْ حُرٌّ“ اس لیے کیونکہ وہ جو غلام ہے اعتاق کے وقت وہ مکاتب ہوتا ہے یا آزاد ہوتا ہے ”عَلَى اخْتِلَافِ الْأَصْلَيْنِ“ دونوں ضابطوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ امام صاحب کا ضابطہ اور ہے، صاحبین کا ضابطہ اور۔ امام صاحب کے نزدیک وہ مکاتب ہے اور صاحبین کے نزدیک آزاد ہے بھئی۔
”وَلَا بُدَّ مِنْ رِضَاءِ الْمُكَاتَبِ بِفَسْخِهِ“ تو صاحبین کے نزدیک تو وہ آزاد ہو گیا ہے، اور آزاد وہ تو مملوک ہی نہیں ہے سرے سے، وہاں انتقالِ مِلک کیسے ہو سکتا ہے؟ بات کیا چل رہی تھی کہ مدبر کے اندر انتقالِ ملکیت ہو سکتا ہے لیکن اعتاق میں یہ ممکن نہیں۔ ”وَلَا يُمْكِنُ ذٰلِكَ فِي الْإِعْتَاقِ“ اعتاق میں انتقالِ مِلک ممکن نہیں ہے اس لیے کیونکہ اعتاق کے بعد یہ غلام یا تو مکاتب ہے یا آزاد ہے۔ جب آزاد ہے تو آزاد میں تبدلِ مِلک کہاں سے ہو سکتا ہے؟ وہ تو کسی کا مملوک ہی نہیں ہے۔ اور اگر یہ مکاتب ہے تو مکاتب بھی انتقالِ مِلک کو قبول نہیں کرتا، وہاں عقدِ کتابت کو فسخ کرنا پڑتا ہے۔ جب عقدِ کتابت فسخ ہو جائے گا پھر وہ عام غلام بن جائے گا، اور جب عام غلام بن جائے گا تو پھر وہ انتقالِ مِلک کو قبول کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا بُدَّ مِنْ رِضَاءِ الْمُكَاتَبِ بِفَسْخِهِ“ اور مکاتب کی رضامندی بھی ضروری ہے کتابت کے فسخ کے لیے، کیونکہ عقدِ کتابت غلام اور آقا کے درمیان ایک عقد کا نام ہے، ایک معاہدے کا نام ہے، اور جب معاہدہ دو آدمیوں کے بیچ ہو تو دونوں کی رضامندی سے ہی وہ فسخ ہو سکتا ہے ویسے نہیں۔ تو لہٰذا عقدِ کتابت کے فسخ میں مکاتب کی رضامندی ضروری ہے بھئی۔ پھر عقدِ کتابت فسخ ہو جائے گا اور پھر فسخ ہونے کے بعد اب وہ عام غلام بن گیا اس کو بیچا جا سکتا ہے، وہ انتقالِ مِلک کو اب قبول کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا بُدَّ مِنْ رِضَاءِ الْمُكَاتَبِ بِفَسْخِهِ حَتَّى يَقْبَلَ الِانْتِقَالَ“ اور مکاتب کی رضامندی بھی ضروری ہے کتابت کو فسخ کرنے کے لیے تاکہ یہ انتقال کو قبول کر سکے، اور یہاں پر اعتاق کے بعد باقی کا نصف غلام مکاتب بن گیا، یہ مکاتب کے درجے میں ہے لیکن یہاں کوئی عقدِ کتابت تو نہیں ہوا، یہ تو خود بخود مکاتب جیسی صورت بن گئی ہے، تو یہاں فسخ کی بھی کوئی صورت نہیں۔ اگر اصل عقدِ کتابت ہو وہاں تو فسخ کی صورت ہوتی ہے آقا اور مکاتب باہمی رضامندی سے اس کتابت کو فسخ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، پھر اس کے بعد غلام انتقالِ مِلک کو قبول کرے گا، لیکن یہاں تو اس کی بھی صورت نہیں کیونکہ یہاں عقدِ کتابت نہیں ہوا ویسے کتابت کی صورت بن گئی ہے۔ یہ معنی ہے کہ مکاتب کی رضامندی بھی ضروری ہے کتابت کے فسخ کے لیے تاکہ وہ انتقال کو قبول کر سکے، باقی کچھ حصہ کلام کا محذوف ہے، اور یہاں اس کی بھی گنجائش نہیں، کتابت کے فسخ کی بھی گنجائش نہیں کیونکہ یہاں کتابت کی صورت بنی ہے عقدِ کتابت نہیں ہوا۔
”فَلِهٰذَا يُضَمِّنُ الْمُدَبِّرَ“ تو اسی لیے یہ جو ساکت ہے یہ مدبر کو ضامن بنا سکتا ہے، معتق کو ضامن نہیں، کیونکہ تدبیر کے اندر جو ضمان ہے وہ ضمانِ معاوضہ ہے، اور اعتاق کے اندر جو ضمان لے گا اس کو ضمانِ معاوضہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اعتاق کے اندر تو وہ مکاتب یا حر ہو چکا ہے، وہاں مکاتب بھی مانیں تو انتقالِ مِلک کا احتمال نہیں ہے۔ پھر سنو تقریر بھئی! اب اشکال ذکر کروں گا میں کہ بعض شارحین نے یہاں اعتراض کیا ہے۔ بات یہ چل رہی تھی کہ یہاں پر ضمان کے دو سبب جمع ہو گئے۔ مدبر نے بھی ساکت کے حصے کو فاسد کیا اور پھر معتق نے بھی ساکت کے حصے کو فاسد کیا، لیکن وہ ضمان صرف مدبر سے لے سکتا ہے معتق سے ضمان نہیں، کیونکہ مدبر سے جو ضمان لے گا وہ ضمانِ معاوضہ ہے، اور ضمانِ معاوضہ اصل ہے جب تک اس پر عمل ہو سکے ضمانِ افساد کی طرف ہم نہیں جائیں گے۔ اور تدبیر کے اندر اس ضمان کو ضمانِ معاوضہ قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ مدبر جو ہے وہ انتقالِ مِلک کو قبول کر لیتا ہے، لیکن کس کی طرف انتقالِ مِلک کو قبول کرے گا؟ صرف مدبر کی طرف، اور اس انتقال کی نسبت کس وقت کی طرف کی جائے گی؟ تدبیر کے وقت کی طرف۔ اس انتقالِ مِلک کی نسبت، ضمان تو ابھی ادا کر رہا ہے لیکن یوں کہیں گے مالک اس وقت بنا تھا جب مدبر بنا رہا تھا، ابھی بنایا نہیں تھا ابھی مدبر بنا رہا تھا اسی وقت یہ دوسرے ساتھی کے حصے کا بھی مالک بن گیا تھا۔ تو معلوم ہوا مدبر جو ہے وہ انتقالِ مِلک کو قبول کر لیتا ہے، تو وہاں ضمان جو آئے گا اس کو ضمانِ معاوضہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
لیکن اعتاق کے اندر یہ ممکن نہیں ہے۔ اعتاق کے اندر یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اعتاق کے بعد تو غلام یا مکاتب ہوگا امام صاحب کے نزدیک یا آزاد ہوگا صاحبین کے نزدیک۔ آزاد ہو، آزاد کے اندر تو کسی کی ملکیت ہی نہیں ہے تو وہاں انتقالِ ملکیت کیسے ہو سکتا ہے؟ اور مکاتب بھی انتقالِ ملکیت کو قبول نہیں کرتا، اس کے لیے عقدِ کتابت کا فسخ ضروری ہے اور وہ یہاں ممکن نہیں کیونکہ یہاں کوئی عقدِ کتابت نہیں ہوا کتابت کی صورت بنی ہے بھئی۔ لہٰذا معلوم ہوا اعتاق کے اندر انتقالِ مِلک نہیں ہو سکتا۔ جب انتقالِ مِلک نہیں ہو سکتا تو یہ عقدِ معاوضہ بھی نہیں ہو سکتا، یہ ضمانِ افساد ہی ہے۔ تو تدبیر کے اندر جو ضمان دے گا وہ ضمانِ معاوضہ، اور اعتاق کے اندر جو ضمان لے گا وہ ضمانِ افساد، اور ضمانِ معاوضہ اصل ہے جب تک اس پر عمل ممکن ہو ضمانِ افساد کی طرف ہم نہیں جائیں گے، لہٰذا یہ معتق سے ضمان نہیں لے سکتا بلکہ صرف مدبر سے ضمان لے سکتا ہے۔ تقریر سمجھ میں آ گئی۔
اب یہاں پر بعض شارحین اعتراض کرتے ہیں۔ اعتراض یہ کرتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ کی یہ تقریر یہاں صحیح نہیں، کیونکہ مدبر کے بارے میں صاحبِ ہدایہ کیا فرماتے ہیں کہ مدبر انتقالِ مِلک کو قبول کر لیتا ہے لیکن اس انتقالِ مِلک کی نسبت تدبیر کے وقت کی طرف کی جاتی ہے یعنی مدبر بنانے سے پہلے کی طرف کی جاتی ہے، اور مدبر بنانے سے پہلے تو وہ عام غلام تھا، جب وہ عام غلام تھا وہ تو انتقالِ مِلک کو قبول کرتا ہے، جب انتقالِ مِلک کو قبول کرتا ہے معلوم ہوا وہاں انتقالِ مِلک ہو سکتا ہے، وہاں اس ضمان کو ضمانِ معاوضہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تو وہاں تدبیر سے پہلے کی بات کی، تدبیر سے پہلے انتقالِ مِلک ہو سکتا ہے۔ اور جب اعتاق کی بات آئی تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اعتاق کے وقت تو غلام مکاتب ہوگا یا حر ہوگا، مکاتب ہوگا امام صاحب کے نزدیک اور حر یعنی آزاد ہوگا صاحبین کے نزدیک۔ تو یہاں تو اعتاق کے بعد کی بات کی، جب تدبیر کی بات کی کہ وہاں انتقالِ مِلک ہو سکتا ہے تو وہاں کہا کہ تدبیر کے وقت یعنی مدبر بنانے سے پہلے کی بات کی، تو یہاں بھی اعتاق سے پہلے کی بات ہونی چاہیے۔ توجہ ہے؟ مدبر کے اندر انتقالِ مِلک کس وقت قرار دی جا رہی ہے؟ تدبیر سے پہلے۔ تو اعتاق کے اندر بھی انتقالِ مِلک کو کب قرار دینا چاہیے؟ اعتاق سے پہلے۔ تو اعتاق کے اندر بھی انتقالِ مِلک کی نسبت کس کی طرف کرنی چاہیے؟ اعتاق سے پہلے کی طرف نسبت کرنی چاہیے، اور یہ والا غلام پہلے شریک نے کیا کیا تھا؟ مدبر بنایا تھا، اور دوسرے نے کیا کیا ہے؟ اعتاق کیا ہے۔ توجہ ہے اس مسئلے کے اندر، پہلے شریک نے کیا کیا تھا؟ مدبر بنایا تھا، اور مدبر سے جب ضمان لیا جائے گا تو وہاں اس کو ضمانِ معاوضہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن جب دوسرا شریک اعتاق کر رہا ہے تو اعتاق کے بعد تو غلام کیا ہے؟ یا مکاتب ہے یا آزاد ہے۔ لیکن یہاں اعتاق سے پہلے کی بات کرنی چاہیے تھی صاحبِ ہدایہ کو، اور اعتاق سے پہلے بھی کہتے ہیں یہاں پر انتقالِ مِلک نہیں ہو سکتا کیونکہ اعتاق سے پہلے غلام مدبر ہے۔ بھئی پہلے شریک نے کیا بنایا غلام کو؟ مدبر، اور دوسرے نے کیا کیا؟ اعتاق۔ تو مدبر بنانے سے پہلے تو وہ عام غلام تھا، لیکن اعتاق جس وقت کیا اعتاق سے پہلے تو وہ عام غلام نہیں تھا وہ تو پہلے کا مدبر ہو چکا ہے، تو صاحبِ ہدایہ کو اعتاق سے پہلے کی بات کرنی چاہیے تھی، جیسے تدبیر سے پہلے کی بات کی کہ تدبیر سے پہلے وہاں انتقالِ مِلک ہو رہا ہے، تو یہاں پر بھی اعتاق سے پہلے کیا ہونا چاہیے؟ انتقالِ مِلک۔ یہاں اعتاق سے پہلے انتقالِ مِلک ہونا چاہیے لیکن اعتاق سے پہلے بھی یہاں انتقالِ مِلک نہیں ہو سکتا کیونکہ اعتاق سے پہلے وہ مدبر ہے بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟
تو بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں صاحبِ ہدایہ سے تسامح ہوا ہے غلطی ہوئی ہے، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَلَا يُمْكِنُ ذٰلِكَ فِي الْإِعْتَاقِ“ اور اعتاق کے اندر یہ انتقالِ مِلک ممکن نہیں ہے ”لِأَنَّهُ عِنْدَ ذٰلِكَ مُكَاتَبٌ أَوْ حُرٌّ“ کیونکہ اعتاق کے وقت وہ مکاتب ہے یا حر۔ بھئی مکاتب یا حر تو اعتاق کے بعد ہے، آپ اعتاق سے پہلے کی بات کریں جیسے تدبیر سے پہلے کی بات کی تھی، اور اعتاق سے پہلے یہ کیا ہے؟ مدبر ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ کو یوں کہنا چاہیے تھا: ”لِأَنَّهُ عِنْدَ ذٰلِكَ مُدَبَّرٌ“ کیونکہ اعتاق کے وقت یہ غلام پہلے سے ہی کیا ہو چکا ہے؟ مدبر ہو چکا ہے، تو یہاں اعتاق سے پہلے بھی انتقالِ مِلک کی گنجائش نہیں ہے۔ تدبیر سے پہلے انتقالِ مِلک کی گنجائش ہے کیونکہ تدبیر سے پہلے وہ عام غلام تھا، لیکن اعتاق سے پہلے انتقالِ مِلک کی گنجائش نہیں کیونکہ اعتاق سے پہلے تو وہ مدبر بن چکا ہے پہلے سے ہی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض شارحین نے صاحبِ ہدایہ پر اعتراض کیا کہ یہاں ان سے تسامح ہوا ہے غلطی ہوئی ہے، صاحبِ ہدایہ نے تو کہا ہے: ”لِأَنَّهُ عِنْدَ ذٰلِكَ مُكَاتَبٌ أَوْ حُرٌّ“ کہ اعتاق کے وقت وہ غلام مکاتب یا حر ہوگا، حالانکہ صاحبِ ہدایہ کو یوں کہنا چاہیے تھا: ”لِأَنَّهُ عِنْدَ ذٰلِكَ مُدَبَّرٌ“ کیونکہ اعتاق کے وقت وہ غلام پہلے سے ہی کیا ہے؟ مدبر ہے، تو اعتاق سے پہلے کی بات کرنی چاہیے تھی۔ یہ بعض شارحین نے ذکر کیا۔
لیکن یہ بات درست نہیں ہے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ جو اتنی عظیم کتاب لکھنے والے ہیں اور اتنی گہری باتیں کرتے ہیں اور اتنی فصیح و بلیغ عبارت کے ساتھ اس کو ذکر کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، ان سے یہ غلطی کیسے ہو سکتی ہے کہ تدبیر کی بات کریں تو تدبیر سے پہلے کے انتقالِ مِلک کو ذکر کریں اور اعتاق کی بات کریں تو اعتاق کے بعد انتقالِ مِلک کو ذکر کریں، یہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی؟ کوئی گہری بات ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ شاید صاحبِ ہدایہ کی توجہ نہیں رہی ہوگی، لیکن یہ تو بالکل ظاہر سی بات ہے، تدبیر سے پہلے کی بات کی ہے تو اعتاق سے بھی پہلے ہی کی بات کرنی چاہیے تھی بھئی۔ لیکن بعض شارحین کا یہ اعتراض صحیح نہیں ہے۔ یہاں صاحبِ ہدایہ اس اعتاق کو نہیں ذکر کر رہے یہ جو تدبیر کے بعد ہوا ہے، مطلقاً اعتاق کو ذکر کر رہے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ صرف یہاں یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ تدبیر کے اندر جو ضمان ہوتا ہے وہ ضمانِ معاوضہ بنانا اس کو ممکن ہے، اور اعتاق کے اندر جو ضمان لیا جاتا ہے اس کو ضمانِ معاوضہ بنانا ممکن ہی نہیں ہے، چاہے یہ والا اعتاق ہو جو یہاں ذکر ہو رہا ہے چاہے کوئی اور اعتاق ہو۔ دو آدمی شریک تھے ایک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، اب یہاں تو کوئی تدبیر نہیں ہے، لیکن اس صورت میں بھی اگر دوسرا آدمی معتق سے ضمان لے گا تو یہ ضمانِ افساد ہو سکتا ہے ضمانِ معاوضہ نہیں ہو سکتا۔ تو صاحبِ ہدایہ یہاں صرف یہ بیان فرمانا چاہتے ہیں کہ تدبیر میں جو ضمان لیا جاتا ہے وہ ضمانِ معاوضہ ہے، لیکن اعتاق میں جو ضمان لیا جاتا ہے وہ کسی بھی صورت میں ضمانِ معاوضہ نہیں ہو سکتا، کس طرح؟ اب اس کو سمجھو بھئی! دیکھو:
مدبر جو ہے وہ عام غلام ہے۔ وہ عام غلام کی طرح ہے صرف آقا کے مرنے کے بعد اس نے آزاد ہونا ہے، اور صرف اس کو بیچا نہیں جا سکتا، لیکن میں نے بتایا کہ مدبر انتقالِ مِلک کو قبول نہیں کرتا کسی اور کی طرف، لیکن مدبر کی طرف وہ انتقالِ مِلک کو قبول کر لیتا ہے۔ اور مدبر کی طرف بھی انتقالِ مِلک کی نسبت کس وقت کی طرف کی جائے گی؟ وقتِ تدبیر، کہ مدبر بنانے سے پہلے ہی گویا یہ مالک بن رہا ہے۔ ضمان آج ادا کر رہا ہے لیکن مالک اسی وقت بن گیا تھا جب یہ غلام کو مدبر بنا رہا تھا۔ وجہ یہ کہ مدبر مملوک ہوتا ہے پورے طور پر، وہ مملوک ہے، اس سے خدمت لی جاتی ہے، اس سے کام کاج کروائے جاتے ہیں، صرف آقا کے مرنے کے بعد اس نے آزاد ہونا ہے۔ تو جب وہ مملوک ہے تو وہاں انتقالِ مِلک ہو سکتا ہے بھئی، اور اس انتقالِ مِلک کی نسبت تدبیر کے وقت کی طرف کر دیں گے۔
لیکن اعتاق، جب ایک آدمی اپنے غلام کو کیا کر رہا ہے؟ آزاد کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ جب ایک آدمی اپنے حصے کو آزاد کرتا ہے تو یہاں انتقالِ مِلک کی کوئی صورت نہیں۔ کس طرح؟ کیونکہ جب یہ آزاد کر دے گا تو صاحبین کے نزدیک یہ غلام کیا بن گیا؟ آزاد۔ تو جب یہ آزاد ہے اس کے اندر تو کسی کی ملکیت ہی نہیں ہے، تو یہاں انتقالِ مِلک کی نسبت اعتاق سے پہلے کی طرف بھی نہیں کر سکتے کیونکہ آزاد ہے، مملوک ہے ہی نہیں اب یہ، تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں یہ جو آزاد آدمی ہے اس میں انتقالِ مِلک ہوا تھا اعتاق سے پہلے؟ بھئی یہ تو اس وقت بالکل آزاد ہو چکا ہے، یہ کسی بھی درجے میں مملوک نہیں ہے، جب مملوک نہیں ہے تو انتقالِ مِلک زمانۂ ماضی کی طرف نسبت کر کے بھی اس کے اندر ہم انتقالِ مِلک کو ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ آزاد میں ملکیت ہوتی ہی نہیں کسی کی بھئی۔ مدبر تو اسی طرح غلام تھا، مدبر بنانے کے بعد بھی کیا تھا؟ غلام تھا، وہاں ماضی کی طرف نسبت کر دی۔ لیکن یہ تو کیا ہو چکا؟ آزاد۔ جب یہ آزاد ہے تو ماضی کے اندر بھی آپ اس کے اندر انتقالِ مِلک کو نہیں کر سکتے کیونکہ یہ تو بالکل آزاد ہو چکا ہے، اس میں کسی کی ملکیت ہے ہی نہیں کسی بھی لحاظ سے۔
اور جبکہ امام صاحب کے مذہب کے مطابق جب ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو دوسرے کا حصہ مکاتب کے درجے میں ہو جاتا ہے، اور یہ کتابت بھی ایسی ہے جو فسخ کو قبول نہیں کر سکتی بھئی۔ عام غلام کے ساتھ جب عقدِ کتابت کیا جائے وہ تو فسخ کو قبول کر لیتا ہے، آقا اور مکاتب مل کر اس عقد کو فسخ کر دیں تو وہ مکاتب پھر پہلے جیسا غلام بن جائے گا، لیکن یہ والا جو مکاتب ہے جس کا نصف آزاد ہو چکا ہے یہاں تو عقدِ کتابت کو فسخ کرنے کی صورت ہی کوئی نہیں ہے، اور نیز یہ جو کتابت کی صورت بنی ہے یہ بھی انتقالِ مِلک کو قبول نہیں کرتا اعتاق سے پہلے کی طرف بھی نسبت کریں تو یہ انتقالِ مِلک کو قبول نہیں کرتا۔ کیوں نہیں کرتا؟ کیونکہ اس کو غلام بنا کر رکھ ہی نہیں سکتے اب اس نے آزاد ہونا ہے ہر حال میں۔ مکاتب نے تو غلام ہی رہنا تھا وہاں انتقالِ مِلک کی گنجائش تھی، اور اس کا حصہ تو بالکل فاسد ہو گیا اب اس سے نہ خدمت لی جا سکتی ہے نہ کچھ، یہ تو قبضہ کے اعتبار سے بالکل آزاد ہو چکا ہے، رقبہ کے اعتبار سے غلام ہے لیکن قبضہ کے اعتبار سے آزاد ہو چکا ہے یہ اپنی ذات کا مالک ہو چکا ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی ماضی کی طرف نسبت کر کے بھی، اعتاق سے پہلے کی طرف نسبت کر کے بھی انتقالِ مِلک نہیں ہو سکتا۔ انتقالِ مِلک تو تب ہوتا اگر یہ مملوک ہو کر ہی رہتا، اس نے تو مملوک رہنا ہی نہیں ہے اس نے تو آزاد ہونا ہے ہر حال میں، تو یہاں اعتاق سے پہلے کی طرف نسبت کر کے بھی انتقالِ مِلک نہیں ہو سکتا کیونکہ یہاں انتقالِ مِلک کی گنجائش ہی نہیں ہے اس نے آزاد ہونا ہے، انتقالِ مِلک کیسے آپ ثابت کر رہے ہو بھئی؟ جبکہ مدبر نے تو غلام ہی رہنا تھا وہاں انتقالِ مِلک کی گنجائش تھی۔
تو صاحبِ ہدایہ یہاں اس اعتاق کو بیان نہیں کر رہے کہ اس اعتاق کے اندر جو ضمان آئے گا ہم اس کو ضمانِ معاوضہ نہیں بنا سکتے، یہ بات نہیں کر رہے، مطلقاً بات کر رہے ہیں کہ تدبیر کے اندر غلام نے غلام ہی رہنا ہے چونکہ آقا کی موت تک، تو وہاں تو انتقالِ مِلک کی گنجائش تھی۔ لیکن یہاں اعتاق کے اندر صاحبین کے نزدیک تو غلام آزاد ہو چکا ہے، جب آزاد ہو چکا ہے اس کے اندر کسی کی ملکیت ہی نہیں ہے تو ماضی کی طرف نسبت کر کے بھی انتقالِ ملکیت نہیں ہو سکتا۔ اور امام صاحب کے نزدیک باقی کا حصہ مکاتب بن چکا ہے تو ماضی کی طرف نسبت کر کے بھی انتقالِ مِلک یہاں آپ نہیں کر سکتے کہ اعتاق سے پہلے انتقالِ مِلک کر لیں، نہیں بھئی، یہ انتقالِ مِلک قبول کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اب یہ آزاد ہو رہا ہے، کوئی بھی اس کو اب مملوک بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ سے یہاں کوئی تسامح اور غلطی نہیں ہوئی، وہ صرف اتنا بتانا چاہ رہے تھے کہ جب تک ضمانِ معاوضہ پر عمل ممکن ہو ضمانِ افساد کی طرف ہم نہیں جائیں گے، اور تدبیر کے اندر جو ضمان آئے گا اس کو ضمانِ معاوضہ قرار دینا ممکن ہے لیکن اعتاق کے اندر جو ضمان آئے اس کو ضمانِ معاوضہ قرار دینا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہاں انتقالِ مِلک نہیں ہو سکتا، جب انتقالِ مِلک نہیں ہے تو ضمان، ضمانِ افساد ہی ہو سکتا ہے ضمانِ معاوضہ اور ضمانِ تملک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب انتقالِ مِلک نہیں تو تملک نہیں، جب تملک نہیں تو ضمانِ تملک بھی نہیں، تو اعتاق میں ضمانِ افساد ہی ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلَا يُمْكِنُ ذٰلِكَ فِي الْإِعْتَاقِ“ اور اعتاق کے اندر یہ ممکن نہیں ہے کہ انتقالِ مِلک پایا جائے۔ اعتاق کے اندر ضمانِ مِلک کا پایا جانا ممکن نہیں، یا یوں کہیں کہ اعتاق کے اندر اس ضمان کا ضمانِ معاوضہ ہونا ممکن نہیں کیونکہ انتقالِ مِلک نہیں ہے، جب انتقالِ مِلک نہیں ہے تو ضمانِ معاوضہ کہاں سے؟ ضمانِ معاوضہ میں تو انتقالِ مِلک اور تملک ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُمْكِنُ ذٰلِكَ فِي الْإِعْتَاقِ“ اور اس ضمان کا ضمانِ معاوضہ ہونا اعتاق میں ممکن نہیں ہے ”لِأَنَّهُ عِنْدَ ذٰلِكَ مُكَاتَبٌ أَوْ حُرٌّ“ اس لیے کیونکہ اعتاق کے وقت وہ غلام مکاتب ہوگا یا حر ہوگا ”عَلَى اخْتِلَافِ الْأَصْلَيْنِ“ ان دونوں ضابطوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ”وَلَا بُدَّ مِنْ رِضَاءِ الْمُكَاتَبِ بِفَسْخِهِ“ اور مکاتب کی رضامندی ضروری ہوتی ہے کتابت کے فسخ کے لیے ”حَتَّى يَقْبَلَ الِانْتِقَالَ“ یہاں تک کہ وہ انتقال کو قبول کر سکے، آگے عبارت محذوف ہے، اور وہ بھی یہاں پر ممکن نہیں کیونکہ یہاں کتابت کی صورت بنی ہے عقدِ کتابت نہیں ہوا ہے۔ ”فَلِهٰذَا يُضَمِّنُ الْمُدَبِّرَ“ اسی لیے یہ جو ساکت ہے صرف مدبر کو ضامن بنا سکتا ہے معتق کو ضامن نہیں بنا سکتا۔
”ثُمَّ لِلْمُدَبِّرِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُعْتِقَ ثُلُثَ قِيمَتِهِ مُدَبَّرًا“ اچھا بھئی! ایک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا، دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کیا، تو یہ جو مدبر ہے معتق سے ضمان لے سکتا ہے، اور کتنا ضمان لے گا؟ کہتے ہیں مدبر کے ثلث ضمان لے گا، عام غلام کا ثلث نہیں لے گا ضمان کے طور پر کیونکہ عام غلام کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور مدبر کی قیمت کم ہوتی ہے دو تہائی ہوتی ہے، تین میں سے دو حصے، تو یہ مدبر کی قیمت کا ضمان لے گا۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ لِلْمُدَبِّرِ أَنْ يُضَمِّنَ الْمُعْتِقَ ثُلُثَ قِيمَتِهِ مُدَبَّرًا“ پھر مدبر کے لیے جائز ہے کہ وہ معتق کو ضامن بنا دے اس غلام کی تہائی قیمت کا مدبراً مدبر ہونے کی حالت میں، اس غلام کی جو تہائی قیمت ہے مدبر ہونے کی حالت میں اس کا ضامن بنا دے معتق کو ”لِأَنَّهُ أَفْسَدَ عَلَيْهِ نَصِيبَهُ مُدَبَّرًا“ اس لیے کیونکہ معتق نے اس مدبر پر اس کے حصے کو فاسد کر دیا ہے مدبراً اس حال میں کہ اس کا حصہ مدبر تھا مدبر ہونے کی حالت میں ”وَالضَّمَانُ يَتَقَدَّرُ بِقِيمَةِ الْمُتْلَفِ“ اور ضمان جو ہے وہ متلف کی قیمت کے بقدر ہوتا ہے۔ اَتْلَفَ يُتْلِفُ اِتْلَاف کا معنی تلف کرنا، ہلاک کرنا، تو متلف جس کو ہلاک کیا گیا، تو معتق نے مدبر کے کس حصے کو خراب کیا ہے؟ تیسرے حصے کو، اور مدبر ہونے کی حالت تھی غلام کی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالضَّمَانُ يَتَقَدَّرُ بِقِيمَةِ الْمُتْلَفِ“ اور ضمان جو ہے تلف شدہ چیز کی قیمت کے بقدر ہوتا ہے ”وَقِيمَةُ الْمُدَبَّرِ ثُلُثَا قِيمَتِهِ قِنًّا عَلَى مَا قَالُوا“ اور مدبر کی جو قیمت ہوتی ہے وہ عام غلام ہونے کے اعتبار سے اس کی قیمت کا دو تہائی ہوتی ہے، اصل میں تھا ثُلُثَانِ، دو ثلث، نون اضافت سے گر گیا، تو کہتے ہیں: اور مدبر کی جو قیمت ہوتی ہے وہ غلام کی قیمت کا دو تہائی ہوتی ہے قناً عام غلام ہونے کے اعتبار سے ”عَلَى مَا قَالُوا“ اس وجہ سے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ یاد رکھو شارحین فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ ”عَلَى مَا قَالُوا“ اس وجہ سے جو فقہاء نے فرمایا، اس کے ذریعے فقہاء پر بات ڈال دیتے ہیں اور اختلاف کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں، یہ صاحبِ ہدایہ کا طریقہ ہے وہ ”عَلَى مَا قَالُوا“ کے ذریعے اختلاف کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ تو مدبر کی کتنی قیمت ہوتی ہے؟ فقہاء کا اس میں اختلاف ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ مدبر کی قیمت عام غلام کی قیمت کا نصف ہے، اور بعض کہتے ہیں مدبر کی قیمت عام غلام کی قیمت کا دو تہائی ہے، اور یہی زیادہ صحیح قول ہے اسی کو صاحبِ ہدایہ نے بھی ذکر کیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”عَلَى مَا قَالُوا“ اس وجہ سے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔
”وَلَا يُضَمِّنُهُ قِيمَةَ مَا مَلَكَهُ بِالضَّمَانِ مِنْ جِهَةِ السَّاكِتِ“ یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ یہاں سوال یہ ہوتا ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کہا کہ مدبر جو ہے وہ معتق سے صرف ایک حصے کا ضمان لے سکتا ہے، حالانکہ مدبر نے جب ساکت کو ضمان ادا کر دیا تو مدبر جو ہے وہ ساکت کے حصے کا بھی مالک بن گیا، اور نیز یہ جو مدبر کو ساکت کے حصے کی ملکیت حاصل ہو گئی ضمان دینے کی وجہ سے اس ملکیت کی نسبت تدبیر کے وقت کی طرف کی جائے گی، یعنی جس وقت یہ اس غلام کو مدبر بنا رہا تھا تو اسی وقت یہ دوسرے ساکت کے حصے کا بھی مالک بن گیا تھا اور تدبیر کے بعد پھر اعتاق ہوا ہے، تو معلوم ہوا اعتاق کے وقت مدبر دو حصوں کا مالک ہو چکا ہے، تو معتق نے مدبر کا ایک حصہ نہیں فاسد کیا دو حصے فاسد کر دیے ہیں۔ لہٰذا مدبر کو معتق سے دو حصوں کا ضمان لینا چاہیے لیکن فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ مدبر صرف ایک حصے کا ضمان معتق سے لے سکتا ہے بھئی۔ تو اس کا جواب یاد رکھیں کہ بھئی اعتاق کے وقت اگر بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو مدبر ایک ثلث کا مالک ہے، اور بایں اعتبار دیکھا جائے کہ اس نے ساکت کے حصے کا ضمان ادا کر دیا تھا اور اس کے حصے کا بھی مالک بن گیا تھا تو بایں اعتبار یہ مدبر دو حصوں کا مالک ہے، لیکن یاد رکھو یہ جو ساکت کے حصے کی ملکیت حاصل ہو رہی ہے مدبر کو یہ بعض اعتبار سے ضمان سے پہلے ہے اور بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو ضمان سے پہلے یہ ملکیت نہیں ہے۔
پھر سنو مسئلہ: مدبر نے کیا کیا؟ اپنے حصے کو مدبر بنا دیا، پھر معتق نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، پھر اس کے بعد وہ جو ساکت تھا اس نے مدبر سے ضمان لے لیا، تو مدبر اس ساکت کے حصے کا بھی مالک بن گیا، لیکن اس ملکیت کی نسبت تدبیر کے وقت کی طرف کی جائے گی کہ جس وقت مدبر اپنے غلام کو مدبر بنا رہا تھا اسی وقت یہ ساکت کے حصے کا بھی مالک بن گیا تھا، تو اس کا بھی ضمان لینا چاہیے مدبر کو معتق سے۔ تو جواب یہ کہ یہ جو ملکیت ہے ساکت کے حصے میں یہ مدبر کے لیے اعتاق کے وقت بعض اعتبار سے ثابت ہے اور بعض اعتبار سے ثابت نہیں۔ اگر یہ ہر اعتبار سے مدبر کے لیے ثابت ہوتی تو مدبر دو ثلث کا مالک ہوتا پھر ہر اعتبار سے وہ معتق سے دو حصوں کا ضمان لے سکتا تھا، لیکن یہاں پر بعض اعتبار سے دیکھیں تو اعتاق کے وقت مدبر ساکت کے حصے کا مالک ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو مدبر جو ہے ساکت کے حصے کا مالک نہیں ہے بھئی۔ کس طرح؟ دیکھو جس وقت مدبر ضمان ادا کرے گا پھر اس حصے کا مالک بنے گا، معلوم ہوا جب ضمان کے دینے سے مالک بن رہا ہے تو معلوم ہوا ضمان سے پہلے مدبر اس ساکت کے حصے کا مالک ہی نہیں، معلوم ہوا اعتاق کے وقت مدبر صرف ایک ثلث کا مالک ہے دوسرے کا ابھی مالک ہی نہیں وہ تو ضمان دینے کے بعد مالک بنے گا۔ اور دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو ضمان دینے کے بعد جو ملکیت حاصل ہو رہی ہے اس کی نسبت تدبیر کے وقت کی طرف کی جا رہی ہے، تو بایں اعتبار تدبیر کے وقت سے ہی مدبر دو حصوں کا مالک ہے، تو بایں اعتبار اعتاق کے وقت مدبر کے دو حصے خراب ہو رہے ہیں تو اس کو دونوں حصوں کا ضمان معتق سے لینا چاہیے۔ تو بعض اعتبار سے دیکھیں تو ضمان ادا کرنے سے پہلے مدبر اس ساکت کے حصے کا مالک نہیں ہے، اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو مدبر اس حصے کا مالک ہے کیونکہ ملکیت کی نسبت تدبیر کے وقت کی طرف ہو رہی ہے، تو معلوم ہوا اعتاق کے وقت مدبر بعض اعتبار سے ساکت کے حصے کا مالک ہے اور بعض اعتبار سے ساکت کے حصے کا مالک نہیں، لہٰذا یہ معتق سے ضمان نہیں لے سکتا۔ اگر یہ پورے طور پر ہر اعتبار سے اعتاق کے وقت ساکت کے حصے کا مالک ہوتا تو پھر ضمان لے سکتا تھا، لیکن یہ تو ہر اعتبار سے اعتاق کے وقت ساکت کے حصے کا مالک نہیں، بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو اعتاق کے وقت یہ ساکت کے حصے کا مالک ہے اور بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو اعتاق کے وقت ساکت کے حصے کا مالک نہیں ہے، تو جب یہ ملکیت بعض اعتبار سے اعتاق کے وقت ثابت ہے اور بعض اعتبار سے اعتاق کے وقت ثابت نہیں تو اس کا ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ معنی ہے: ”وَلَا يُضَمِّنُهُ قِيمَةَ مَا مَلَكَهُ بِالضَّمَانِ مِنْ جِهَةِ السَّاكِتِ“ اور یہ جو مدبر ہے یہ ضامن نہیں بنا سکتا معتق کو اس حصے کی قیمت کا جس کا یہ مالک بن گیا ہے ضمان ادا کرنے کی وجہ سے ساکت کی طرف سے، جس کا یہ مالک بن گیا ہے ساکت کی جانب سے ضمان ادا کرنے کی وجہ سے۔ ”لِأَنَّ مِلْكَهُ ثَبَتَ مُسْتَنِدًا“ اس لیے کیونکہ ساکت کے حصے کی جو یہ ملکیت ہے مدبر کے لیے، یہ منسوب ہو کر ثابت ہوئی ہے یعنی اس کی نسبت کی جائے گی تدبیر کے وقت کی طرف کہ اس وقت ہی یہ اس حصے کا مالک بن گیا تھا ”وَهٰذَا ثَابِتٌ مِنْ وَجْهٍ دُونَ وَجْهٍ“ اور یہ منسوب ملکیت بعض اعتبار سے ثابت ہے اور بعض اعتبار سے نہیں، یعنی اعتاق کے وقت جب معتق اعتاق کر رہا تھا اس وقت یہ ساکت کے حصے کی ملکیت مدبر کے لیے بعض اعتبار سے ثابت ہے اور بعض اعتبار سے ثابت نہیں، لہٰذا یہ اس کا ضمان نہیں لے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا ثَابِتٌ مِنْ وَجْهٍ دُونَ وَجْهٍ“ اور یہ ملکیت جو ہے یہ ثابت ہے بعض اعتبار سے نہ کہ بعض اعتبار سے ”فَلَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ التَّضْمِينِ“ لہٰذا یہ ملکیت ظاہر نہیں ہوگی ضامن بنانے کے حق میں، اس کی وجہ سے وہ معتق کو ضامن نہیں بنا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ بعض علماء نے اس کا ایک اور بڑا پیارا جواب دیا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ساکت ہے یہ مدبر سے تو ضمان لے سکتا ہے لیکن معتق سے ضمان نہیں لے سکتا، آپ نے ابھی پڑھ لیا کہ ساکت مدبر سے ضمان لے سکتا ہے کیونکہ مدبر سے جو ضمان لے گا وہ ہے ضمانِ معاوضہ، اور معتق سے جو ضمان لے گا وہ ہے ضمانِ افساد، تو ساکت جو ہے مدبر سے تو ضمان لے سکتا ہے معتق سے ضمان نہیں لے سکتا، تو جب ساکت نے ضمان وصول کر لیا مدبر سے تو مدبر جو ہے وہ ساکت کے قائم مقام ہو گیا، تو جس طرح ساکت اپنے حصے کا ضمان معتق سے نہیں لے سکتا تھا تو مدبر جب اس حصے کا مالک بنا تو وہ ساکت کا قائم مقام ہو گیا تو یہ مدبر بھی اس حصے کا ضمان معتق سے نہیں لے سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
”وَالْوَلَاءُ بَيْنَ الْمُعْتِقِ وَالْمُدَبِّرِ أَثْلَاثًا“ اچھا بھئی! یہ جو غلام ہے اس کی ولاء، کہتے ہیں اس کی ولاء کے تین حصے کیے جائیں گے، دو حصوں کا مستحق جو ہے مدبر ہے اور ایک حصے کا مستحق معتق ہے۔ معتق نے تو اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کے حصے کی ولاء تو اسی کو ملے گی، اور مدبر نے جب ساکت کا ضمان بھی ادا کر دیا تو اس کے حصے کا بھی یہ مالک بن گیا، لہٰذا ان دو حصوں کی ولاء کا مستحق مدبر ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَلَاءُ بَيْنَ الْمُعْتِقِ وَالْمُدَبِّرِ أَثْلَاثًا“ اور ولاء جو ہے معتق اور مدبر کے درمیان تین حصے ہو کر ہوگی ”ثُلُثَاهُ لِلْمُدَبِّرِ وَالثُّلُثُ لِلْمُعْتِقِ“ دو ثلث جو ہیں مدبر کے لیے ہوں گے اور ایک ثلث معتق کے لیے ہوگا ”لِأَنَّ الْعَبْدَ عَتَقَ عَلَى مِلْكِهِمَا عَلَى هٰذَا الْمِقْدَارِ“ اس لیے کیونکہ یہ غلام آزاد ہوا ہے ان دونوں کی ملکیت پر اسی مقدار پر۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا لَمْ يَكُنِ التَّدْبِيرُ مُتَجَزِّئًا عِنْدَهُمَا صَارَ كُلُّهُ مُدَبَّرًا لِلْمُدَبِّرِ“ بھئی اب صاحبین کا مذہب آیا، یہ ساری تفصیل امام صاحب کے مذہب پر تھی، صاحبین کا مذہب آسان ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ تدبیر کے اندر تجزی نہیں ہو سکتی تو جب ایک شریک نے اپنے حصے کو مدبر بنایا تو سارا غلام ہی مدبر بن گیا، اور یہ باقی دونوں کے حصے کا بھی مالک بن گیا اور یہ مالدار ہے تو لہٰذا اب اس کو دونوں شریکوں کو ضمان ادا کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا لَمْ يَكُنِ التَّدْبِيرُ مُتَجَزِّئًا عِنْدَهُمَا“ اور جب مدبر بنانا یہ تقسیم نہیں ہوتا صاحبین کے نزدیک ”صَارَ كُلُّهُ مُدَبَّرًا لِلْمُدَبِّرِ“ تو یہ سارا غلام مدبر بن گیا مدبر کے لیے ”وَقَدْ أَفْسَدَ نَصِيبَ شَرِيكَيْهِ لِمَا بَيَّنَّا“ اور تحقیق اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کے حصے کو فاسد کر دیا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ سارے کا مالک بن گیا تدبیر کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی ”فَيَضْمَنُهُ“ تو لہٰذا یہ مدبر ضامن ہوگا ان میں سے ہر ایک کے لیے ”وَلَا يَخْتَلِفُ بِالْيَسَارِ وَالْإِعْسَارِ“ اور یہ ضمان مالداری اور تنگدستی سے بدلتا نہیں ہے ”لِأَنَّهُ ضَمَانُ تَمَلُّكٍ“ کیونکہ یہ ضمانِ تملک ہے، مدبر باقی دونوں کے حصے کا بھی مالک بن گیا ہے، جب مالک بن گیا ہے تو تملک آ گیا تو اس کا ضمان دینا پڑے گا چاہے مالدار ہے چاہے تنگدست۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَخْتَلِفُ بِالْيَسَارِ وَالْإِعْسَارِ لِأَنَّهُ ضَمَانُ تَمَلُّكٍ“ اور یہ ضمان بدلتا نہیں ہے مالداری اور تنگدستی سے کیونکہ یہ ضمانِ تملک ہے یعنی ضمانِ معاوضہ ہے ”فَأَشْبَهَ الِاسْتِيلَادَ“ تو یہ استیلاد یعنی امِ ولد بنانے کے مشابہ ہو گیا۔ امِ ولد، دو آدمیوں کے درمیان ایک باندی ہے مشترکہ، ایک نے اس کو امِ ولد بنا دیا تو دوسرے کے حصے کا بھی یہ مالک بن گیا تو اس کو ضمان دینا پڑے گا، اور یہ کون سا ضمان ہے؟ ضمانِ تملک ہے، ضمانِ معاوضہ ہے کیونکہ یہ دوسرے کے حصے کا مالک بن گیا ہے تو ہر حال میں ضمان دینا پڑے گا چاہے مالدار ہے چاہے تنگدست ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَشْبَهَ الِاسْتِيلَادَ“ تو یہ تدبیر جو ہے استیلاد کے مشابہ ہے ”بِخِلَافِ الْإِعْتَاقِ“ بخلاف اعتاق کے ”لِأَنَّهُ ضَمَانُ جِنَايَةٍ“ کیونکہ اس کے اندر جو ضمان آتا ہے وہ ضمانِ جنایت ہے ”وَالْوَلَاءُ كُلُّهُ لِلْمُدَبِّرِ“ اور صاحبین کے نزدیک اس غلام کی ساری ولاء مدبر کے لیے ہوگی ”وَهٰذَا ظَاهِرٌ“ اور یہ بات ظاہر ہے، ساری ولاء مدبر کے لیے کیونکہ وہ دونوں کے حصوں کا بھی مالک بن گیا، تو اب سارا غلام مدبر بن گیا اور مدبر کو ہی ساری ولاء ملے گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔