اگے سبق دیکھیے بھئی۔
قَالَ: "وَلَوْ شَهِدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الشَّرِيكَيْنِ عَلَى صَاحِبِهِ بِالْعِتْقِ؛ سَعَى الْعَبْدُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِهِ مُوسِرَيْنِ كَانَا أَوْ مُعْسِرَيْنِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَكَذَا إِذَا كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا."
بھئی گزشتہ سبق میں مسئلہ ذکر ہو رہا تھا کہ ایک غلام ہے دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے اور ان دونوں میں سے ایک اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو اس صورت میں اس معتق کو دیکھا جائے گا کہ وہ مالدار ہے یا تنگدست ہے۔ اگر وہ مالدار ہے تو اس سے ضمان لیا جا سکتا ہے اور اگر وہ تنگدست ہے تو پھر اس پر ضمان نہیں آتا۔
تو امام صاحب کے نزدیک اگر دو شریکوں میں سے ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کر دے، تو اگر یہ معتق مالدار ہے تو دوسرے شریک کو تین اختیار ہیں۔ وہ چاہے تو اپنے حصے کے غلام کو بھی ویسے ہی آزاد کر دے اور وہ چاہے تو اس معتق موسر سے، یعنی یہ جو مالدار معتق ہے اس سے ضمان لے لے، اور چاہے تو غلام سے سعی کروا لے۔ اور اگر معتق تنگدست ہے تو پھر اس سے ضمان نہیں لیا جا سکتا، البتہ باقی دو اختیار ہوں گے اس شریک کو، وہ اپنے حصے کو چاہے تو ویسے ہی آزاد کر دے اور چاہے تو غلام سے سعی کروا لے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں شریک کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ معتق کو دیکھا جائے گا اگر وہ مالدار ہے تو پھر اس کا شریک صرف اس معتق سے ضمان لے سکتا ہے، اور اگر وہ معتق تنگدست ہے تو پھر یہ جو شریک ہے یہ صرف غلام سے سعی کروا سکتا ہے۔
اور نیز دوسرا اختلاف امام صاحب اور صاحبین کا یہ تھا کہ امام صاحب کے نزدیک اگر شریک معتق سے ضمان لے لے، تو وہ معتق غلام پر رجوع کر سکتا ہے اور اس سے سعی کروا سکتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک معتق ضمان ادا کرنے کے بعد بھی غلام پر رجوع نہیں کر سکتا، اس سے سعی نہیں کروا سکتا۔
اور تیسرا اختلاف ولاء کے بارے میں تھا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر معتق کو ضمان دینا پڑے پھر تو ساری ولاء اس معتق ہی کو ملے گی اور اگر شریکِ آخر نے اپنے حصے کو بھی آزاد کر دیا یا غلام سے سعی کروا لی، تو اس صورت میں وہ بھی معتق بن جائے گا، لہٰذا ان دونوں صورتوں میں ولاء کے اندر دونوں شریک ہوں گے بھئی۔ جی۔ دونوں آدمی ولاء کے اندر شریک ہوں گے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اعتاق کے اندر تجزی نہیں ہو سکتی، لہٰذا ساری ولاء جو ہے معتق کو ملے گی، کیونکہ جب اس نے اپنا حصہ آزاد کیا تو ولاء کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی، تو سارا ہی غلام آزاد ہو گیا، تو لہٰذا ساری ولاء صرف معتق کو ملے گی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اس مسئلے کے اندر جو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے اس کی بنیاد جو ہے دو ضابطوں پر ہے۔ ایک ضابطہ یہ کہ کیا اعتاق میں تجزی ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی؟ اس میں بھی امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اعتاق میں تجزی ہو سکتی ہے اور صاحبین کے نزدیک اعتاق میں تجزی نہیں ہو سکتی۔ اور دوسرا اختلاف اس ضابطے میں ہے کہ اگر معتق مالدار ہو تو کیا پھر غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے یا نہیں؟ تو صاحبین فرماتے ہیں جب معتق مالدار ہو تو پھر اس صورت میں غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔
اور پھر گزشتہ سبق کے اندر اس مسئلے کی علت ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ صاحبین کے مذہب پر اس مسئلے کی تخریج واضح ہے۔ میں نے بتایا تھا تخریج کا ایک معنی یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ سے کوئی قول اور کوئی مسئلہ ذکر ہو لیکن اس کی انہوں نے زیادہ تشریح نہ کی ہو، تو انہی کے اصولوں کی روشنی میں، دیکھو ہر ایک کے اپنے اپنے اصول ہیں۔ امام صاحب اور صاحبین اختلاف کرتے ہیں بعض جگہوں پر، تو ان کے ہر ایک کے اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ تو لہٰذا ائمہ سے کوئی قول منقول ہو اور انہوں نے اس کی کوئی زیادہ تشریح نہیں کی، تو انہی کے، انہی کے ضابطوں کی روشنی میں اس قول کی تشریح کرنا اور وضاحت کرنا اس کو تخریج کہتے ہیں۔ اسی طرح تخریج کا ایک معنی ہے مسئلے کی وجہ بیان کرنا، اس کی علت بیان کرنا، یعنی اس کی توجیہ کرنا۔ اور میں نے بتایا یہاں یہی معنی مراد ہے۔ صاحبِ ہدایہ یہاں پر امام صاحب اور صاحبین کا جو قول ہے اس کی علت اور وجہ بیان فرما رہے ہیں کہ ان کا یہ قول اس طرح کیوں ہے۔ تو بتلایا کہ صاحبین کے قول کی تخریج جو ہے وہ تو ظاہر ہے، اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک جب معتق مالدار ہو تو غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی، لہٰذا معتق غلام پر بھی رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ غلام پر رجوع کرے گا تو غلام سے تو سعی کروانا پڑے گی۔ لہٰذا جب معتق مالدار ہو اور وہ ضمان ادا کر دے تو وہ پھر غلام پر رجوع نہیں کر سکتا۔ اور نیز ولاء ساری کی ساری جو ہے معتق کو ملے گی، کیونکہ اعتاق میں تجزی نہیں ہو سکتی۔
جبکہ امام صاحب کے نزدیک اگر معتق مالدار ہو تو پھر شریک کو تین اختیار ہوتے ہیں: ایک خیارِ اعتاق، ایک خیارِ تضمین، اور ایک خیارِ استسعاء۔ خیارِ اعتاق اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اعتاق میں تجزی ہو سکتی ہے امام صاحب کے نزدیک، معتق نے کچھ حصہ آزاد کیا ہے تو باقی حصہ ابھی بھی دوسرے کا مملوک ہے، وہ اس کو آزاد کر سکتا ہے، تو اسے خیارِ اعتاق بھی ہوگا۔ اور نیز وہ جو معتق ہے اس نے جنایت کی ہے کہ اس نے دوسرے شریک کے حصے کو خراب کر دیا کہ وہ اب اس کو غلام بنا کر بھی نہیں رکھ سکتا اور اس کو بیچ بھی نہیں سکتا، لہٰذا معتق سے ضمان بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔ اور نیز غلام سے سعی بھی کروا سکتا ہے یہ شریک، وجہ یہ کہ اس غلام کے اندر اس کے حصے کی مالیت بند ہو گئی ہے، اگرچہ اس میں غلام کا کوئی دخل نہیں، غلام کا کوئی اختیار نہیں، غیر اختیاری طور پر اس شریک کے حصے کی مالیت غلام کے اندر بند ہو گئی ہے، لیکن پھر بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ اور نیز اگر معتق ضمان ادا کر دے تو وہ بھی غلام سے سعی کروا سکتا ہے، وجہ یہ کہ جس طرح وہ شریک غلام سے سعی کروا سکتا ہے کیونکہ اس کے حصے کی مالیت غلام کے اندر بند ہے، اسی طرح جب معتق ضمان ادا کر دے گا تو یہ اس شریک کے قائم مقام ہو گیا، اب اس معتق کی کچھ مالیت بند ہو گئی غلام کے اندر، تو جس طرح وہ شریک کو غلام سے سعی کروانے کا اختیار تھا اسی طرح اب اس معتق کو بھی اختیار ہے یہ غلام سے سعی کروا سکتا ہے بھئی۔
اور پھر میں نے یہاں آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ یہ جو مکاتب ہے، یہ جو مدبر ہے، اور یہ جو ام ولد ہے، ان کو بیچا نہیں جا سکتا کیونکہ ان کا حقِ آزادی ضائع ہوتا ہے۔ ان کو بیچا جائے گا تو وہاں تبدلِ ملک آئے گا کہ ان کا مالک بدل جائے گا، اور مالک جب بدلے گا تو پھر وہ تو ان کو آزادی نہیں دے گا تو ان کا حقِ آزادی ضائع ہوگا۔ لہٰذا یہ جو مکاتب ہے، مدبر ہے اور ام ولد، نہ ان کو بیچا جا سکتا ہے کیونکہ بیچنے میں بھی تبدلِ ملک ہے، نہ ان کو ہبہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہبہ کرنے اور تحفے کے طور پر کسی کو دینے میں بھی تبدلِ ملک ہے، ملکیت بدلے گی، اور نیز یہ کسی کو صدقہ بھی نہیں کیے جا سکتے کیونکہ صدقہ کرنے میں بھی وہ فقیر اس کا مالک بنے گا تو تبدلِ ملک آئے گا، اور نیز ان کی وصیت بھی نہیں کی جا سکتی کیونکہ وصیت کے اندر بھی موصیٰ لہ جو ہے وہ ان کا مالک بنے گا تو تبدلِ ملک لازم آئے گا۔ تو لہٰذا یہ جو مکاتب، مدبر اور ام ولد ہیں ان میں تبدلِ ملک جائز نہیں۔
تو یہاں ذکر کیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ جب معتق نے ضمان ادا کر دیا، معتق مالدار ہے اور اس نے اپنا حصہ تو آزاد کر دیا ہے تو دوسرے شریک نے اس سے ضمان لے لیا، تو جب معتق نے ضمان ادا کر دیا تو یہ اس شریک کے حصے کا مالک بن گیا، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ غلام تو مکاتب کے درجے میں ہو چکا تھا، یہاں تو تبدلِ ملک جائز ہی نہیں ہے، تو پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ معتق ضمان ادا کرنے کے بعد دوسرے شریک کے حصے کا مالک بن گیا؟ تو جواب دیا کہ وہ ضمان جو دے رہا ہے وہ جرم اس نے کیا ہے کہ دوسرے کا حصہ خراب کیا ہے، وہ جو ضمان دے رہا ہے مالک بننے کے لیے نہیں دے رہا، بلکہ کس لیے دے رہا ہے؟ کہ اس نے جرم کیا ہے اس نے دوسرے کا حصہ خراب کیا ہے۔ ہاں البتہ ضمان دینے کی وجہ سے ضمناً یہ اس کا مالک بنے گا اور ضمناً مالک یہ بن سکتا ہے۔ ہاں اگر یہ قصداً مالک بننا چاہتا تو قصداً مالک نہیں بن سکتا بھئی، لیکن ضمناً، ضمناً مالک بن سکتا ہے بھئی۔ تو یوں ہی ہو گیا گویا سارا غلام ہی اسی کا ہو گیا اس معتق کا، کچھ اس نے ویسے آزاد کر دیا ہے اور کچھ میں اس نے سعی کروا لی ہے تو ساری ولاء اسی کو ملے گی۔
اور اگر معتق تنگدست ہو تو پھر اس صورت میں شریک کو اختیار ہے، وہ چاہے تو اپنے حصے کو آزاد کر دے اور چاہے تو غلام سے سعی کروا لے، اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ غلام جب سعی کر رہا ہے اور اس نے اپنے نصف حصے کی قیمت شریک کو ادا کر دی، تو کیا اب یہ مستسعیٰ غلام معتق پر رجوع کر سکتا ہے کہ تمہاری وجہ سے مجھے یہ مال دینا پڑا؟ تو اس میں ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے کہ نہیں، غلام جو ہے وہ معتق پر رجوع نہیں کر سکتا۔ البتہ اس مسئلے کی علت میں اختلاف ہے۔ اس میں تو ہمارے ائمہ کا اتفاق کہ غلام ضمان ادا کرنے کے بعد، یعنی سعی کرنے کے بعد یہ مستسعیٰ غلام معتق پر رجوع نہیں کر سکتا۔ البتہ علت میں اختلاف ہے کہ رجوع کیوں نہیں کر سکتا؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو معتق البعض ہوتا ہے، یعنی وہ غلام جس کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا جائے، یہ معتق البعض امام صاحب کے نزدیک مکاتب کے درجے میں ہے، یعنی ہے ابھی بھی غلام ہی، ابھی بھی غلام ہے یہ مال دے کر اپنے آپ کو آزاد کروا رہا ہے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ جو معتق البعض ہوتا ہے یہ آزاد کے درجے میں ہے، یہ آزاد ہو چکا ہے، البتہ اس پر دین ہے اب اس کو وہ دین ادا کرنا پڑے گا تو یہ سعی کر کے، کوشش کر کے، کام کاج کر کے وہ دین ادا کرے گا۔
تو مسئلہ ذکر ہو رہا تھا کہ یہ جو مستسعیٰ غلام ہے اس نے ضمان ادا کر دیا شریک کو، تو کیا اب یہ معتق پر رجوع کر سکتا ہے؟ تو امام صاحب اور صاحبین کا اس میں تو اتفاق ہے کہ یہ مستسعیٰ غلام معتق پر رجوع نہیں کر سکتا، البتہ اس کی وجہ کیا ہے، یہ رجوع کیوں نہیں کر سکتا، اس علت کے اندر اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک یہ جو پیسے ادا کر رہا تھا یہ اپنی آزادی کے لیے ادا کر رہا تھا، یہ مکاتب تھا، ابھی یہ آزاد ہوا ہی نہیں تھا تو یہ اپنی گردن چھڑانے کے لیے یہ مال ادا کر رہا تھا، لہٰذا معتق پر یہ رجوع نہیں کر سکتا، یہ تو اپنے فائدے کے لیے مال ادا کر رہا تھا۔ اور صاحبین کے نزدیک بھی یہ مستسعیٰ جو ہے معتق پر رجوع نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ یہ مستسعیٰ جو ہے یہ آزاد ہے اور یہ دین ادا کر رہا ہے، لیکن یہ کوئی معتق کا دین ادا نہیں کر رہا، خود اس کی اپنی ذات کے اوپر دین ہے یہ اس کو ادا کر رہا ہے۔ اگر یہ اس معتق کا دین ادا کر رہا ہوتا پھر یہ معتق پر رجوع کر سکتا تھا، لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک مستسعیٰ غلام جو ہے وہ معتق پر رجوع نہیں کر سکتا ضمان ادا کرنے کے بعد۔
جبکہ اس کے مقابلے میں ایک مرہون غلام ہے اور اس کا راہن جو ہے وہ تنگدست ہے، اس راہن نے اپنے اس مرہون غلام کو آزاد کر دیا۔ تو یاد رکھو اس صورت میں وہ جو مرتہن ہے وہ اس مرہون غلام سے سعی کروائے گا اور اس کے ذریعے اپنا قرضہ وصول کر لے گا، تو یہ جو مرہون غلام ہے یہ بعد میں راہن پر رجوع کر سکتا ہے، وجہ یہ کہ یہ جو مرہون غلام تھا، مرہون غلام نے جو مال ادا کیا ہے وہ کوئی اپنی آزادی کے لیے ادا نہیں کیا، آزاد تو اس کو پہلے سے ہی کر دیا تھا راہن نے، تو امام صاحب کے نزدیک یہ چونکہ اپنی گردن چھڑانے کے لیے یہ مال ادا نہیں کر رہا تھا، یہ اس کو ویسے ہی راہن کی وجہ سے ادا کرنا پڑا، تو لہٰذا یہ راہن پر رجوع کر سکتا ہے۔ اور جبکہ صاحبین کے نزدیک بھی یہ مرہون غلام جو ہے راہن پر رجوع کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ اس مرہون غلام نے جو ضمان ادا کیا ہے، جو قرض ادا کیا ہے وہ قرض اس غلام پر نہیں تھا، وہ تو راہن پر تھا جو اس غلام کو ادا کرنا پڑا۔ معلوم ہوا مرہون غلام راہن پر رجوع کر سکتا ہے ضمان ادا کرنے کے بعد، اس میں بھی ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے، البتہ اس کی علت میں اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اس لیے رجوع کر سکتا ہے کہ اس کی گردن تو پہلے ہی آزاد ہو چکی تھی اور پھر بھی اس کو سعی کرنا پڑی، اور صاحبین کے نزدیک اس لیے رجوع کر سکتا ہے کیونکہ اس نے جو دین ادا کیا ہے وہ اس کے اپنے اوپر نہیں تھا بلکہ راہن کے اوپر تھا۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ذکر فرمایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب معتق مالدار ہو، جب معتق مالدار ہو تو اس صورت میں شریکِ آخر صرف معتق سے ضمان لے سکتا ہے۔ معلوم ہوا معتق کے مالدار ہونے کی صورت میں امام شافعی رحمہ اللہ کا قول بھی صاحبین رحمہما اللہ کے قول کی طرح ہے۔ لیکن اگر معتق تنگدست ہے تو پھر صاحبین تو فرماتے تھے کہ غلام سے سعی کروائی جائے گی، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہاں غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی کیونکہ غلام نے کوئی جنایت نہیں کی اور نہ وہ اس آزادی پر راضی تھا۔ اور نیز باقی کے نصف کو آزاد بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس میں دوسرے شریک کا نقصان ہے، اور نیز دوسرے شریک کو ضامن بھی نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ وہ تنگدست ہے۔ تو نہ اعتاق کی صورت ہے یہاں پر، نہ غلام سے سعی کروانے کی صورت ہے اور نہ معتق کو ضامن بنانے کی صورت ہے۔ تو لہٰذا امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں غلام کا کچھ حصہ آزاد ہی رہے گا اور کچھ حصہ غلام ہی رہے گا اور اس غلام کو بیچا بھی جا سکتا ہے اور ہبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، کہ سعی کے لیے جنایت کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ کسی کے حصے کی مالیت غلام کے اندر بند ہو جائے تو اس صورت میں بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ اور نیز آپ کے قول کو لیا جائے تو غلام کے اندر عتق اور رق دونوں جمع ہو گئے، حالانکہ عتق قوت کا نام ہے کہ انسان اپنی ذات کا مالک ہوتا ہے اور رق جو ہے، یعنی غلامی جو ہے وہ ضعف کا نام ہے کہ انسان اپنی ذات کا مالک نہیں ہوتا، اور ایک ہی شخص کے اندر قوت اور ضعف دونوں جمع ہو جائیں یہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی ذات کا مالک ہو بھی اور مالک نہ بھی ہو بھئی۔ ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے دونوں چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اب آئیے اج کے سبق پر۔
قَالَ: "وَلَوْ شَهِدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الشَّرِيكَيْنِ عَلَى صَاحِبِهِ بِالْعِتْقِ؛ سَعَى الْعَبْدُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِهِ مُوسِرَيْنِ كَانَا أَوْ مُعْسِرَيْنِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَكَذَا إِذَا كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا."
بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے بھئی۔ مثلاً ایک غلام ہے زید اور عمرو کے درمیان مشترک ہے، نصف غلام کا مالک زید ہے اور نصف غلام کا مالک عمرو ہے۔ اب ان دونوں میں سے ہر ایک اقرار کرتا ہے کہ شریکِ آخر نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے اور وہ شریکِ آخر اس کا انکار کرتا ہے۔ مثلاً عمرو کہتا ہے، عمرو یہ اقرار کرتا ہے کہ زید نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، جبکہ زید اس کا انکار کر رہا ہے کہ میں نے آزاد نہیں کیا۔ اور زید کا یہ خیال ہے، زید یہ اقرار کر رہا ہے کہ عمرو نے اپنے نصف کو آزاد کر دیا ہے اور عمرو اس کا انکار کر رہا ہے۔ تو دونوں میں سے ہر ایک اپنے شریک کے بارے میں یہ اقرار کر رہے ہیں کہ اس نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے اور دوسرا شریک وہ اس کا انکار کر رہا ہے کہ میں نے اپنے حصے کو آزاد نہیں کیا۔ تو اس صورت میں یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں کہ غلام سے سعی کروائی جائے گی۔ غلام سے سعی کروائی جائے گی، غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا، دونوں کے حصے کی قیمت ادا کر کے آزاد ہو جائے گا۔
وجہ یہ کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب دو شریکوں میں سے ایک نے اقرار کر لیا کہ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، اگرچہ دوسرا اس کا انکار کر رہا ہے لیکن اس نے ایک بات کا اقرار کیا ہے اور اقرار کے اندر انسان کا مواخذہ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی کہہ دے کہ میں نے زید کے دس لاکھ روپے ادا کرنے ہیں، اس نے خود اقرار کر لیا ہے تو زید اس کو قاضی کے پاس لے جا کر اس سے دس لاکھ وصول کر سکتا ہے کہ قاضی صاحب! اس نے خود اقرار کیا تھا۔ تو اقرار کرنے پر کسی آدمی کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔ تو دونوں شریکوں میں سے ہر ایک اقرار کر رہا ہے کہ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، اس کا مطلب ہے وہ اقرار کر رہا ہے کہ میں اب اپنے حصے کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب ایک غلام کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا جائے تو امام صاحب کے نزدیک باقی حصہ مکاتب کے درجے میں ہو جائے گا۔ کس کے درجے میں؟ مکاتب، یعنی ابھی پورا وہ آزاد تو نہیں ہوا البتہ وہ مکاتب کے درجے میں ہو گیا، جائے گا جا کر پیسے کما کر لائے گا اور دوسرے فریق کو ادا کر کے پھر یہ آزاد ہو جائے گا۔ تو امام صاحب کے نزدیک اعتاق کی تجزی ہو سکتی ہے، لہٰذا جب دو شریکوں میں سے ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے تو دوسرے شریک کا حصہ مکاتب کے درجے میں ہو جاتا ہے۔
تو جب مثلاً زید اور عمرو میں غلام مشترکہ ہے، زید کہہ رہا ہے کہ عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے، اگرچہ عمرو اس کا انکار کر رہا ہے لیکن زید نے تو اقرار کر لیا کہ عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر لیا ہے اور اقرار کی وجہ سے ایک آدمی کا مواخذہ ہو سکتا ہے، لہٰذا گویا زید کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب میں اس غلام کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا کیونکہ اس کا نصف کیا ہو چکا ہے؟ آزاد ہو چکا ہے، تو میں اس کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔
اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ جب ایک شخص اپنے حصے کے غلام کو آزاد کر دے تو دوسرے کو اختیار ہوتا ہے وہ غلام سے سعی کروا سکتا ہے یا اپنے حصے کو ویسے ہی آزاد کر سکتا ہے اور اگر معتق مالدار ہے تو یہ اس سے ضمان بھی لے سکتا ہے۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں یہاں ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا دوسرے شریک سے، صرف غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ دوسرے شریک سے ضمان اس لیے نہیں لیا جا سکتا کیونکہ وہ تو انکار کر رہا ہے۔ زید نے کہا عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے اور عمرو تو انکار کر رہا ہے کہ نہیں میں نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا، لہٰذا عمرو سے ضمان نہیں لیا جا سکتا چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ لہٰذا غلام ہی سے سعی کروائی جائے گی، تو غلام سعی کرے گا زید کے حصے کی، اور اسی طرح عمرو کا بھی یہی خیال ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے اور زید تو اس کا انکار کر رہا ہے، لہٰذا زید چاہے مالدار ہی کیوں نہ ہو عمرو اس سے ضمان نہیں لے سکتا، وہ غلام ہی سے سعی کروا سکتا ہے۔
تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب ایک غلام کے اندر دو افراد شریک ہیں اور دونوں میں سے ہر ایک اقرار کر رہا ہے کہ میرے شریک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے اور حال یہ ہے کہ دوسرا شریک اس کا انکار کر رہا ہے، تو اس صورت میں پھر ضمان نہیں لیا جا سکتا چاہے معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو، تو پھر غلام ہی سے سعی کروانا پڑے گی۔ تو غلام دونوں کے حصوں کی سعی کرے گا، دونوں کو اپنے اپنے حصے کی قیمت ادا کرے گا اور آزاد ہو جائے گا۔ اب اس غلام کو غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک اقرار کر رہا ہے کہ میں اس کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا کیونکہ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر کے میرا حصہ بھی خراب کر دیا ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک چاہے دونوں معتق مالدار ہوں، چاہے دونوں تنگدست ہوں، چاہے ایک مالدار ہو ایک تنگدست ہو، تمام صورتوں میں غلام کو سعی کرنا پڑے گی اپنی آزادی کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: "قَالَ: وَلَوْ شَهِدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الشَّرِيكَيْنِ" یہ قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: "وَلَوْ شَهِدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الشَّرِيكَيْنِ عَلَى صَاحِبِهِ بِالْعِتْقِ" اور جب گواہی دی دو شریکوں میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کے خلاف بالْعتق آزادی کی کہ اس نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے۔ گواہی سے یاد رکھنا مراد ہے اقرار، دونوں میں سے ہر ایک کیا کر رہا ہے؟ اقرار کر رہا ہے کہ میرے شریک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے۔ "سَعَى الْعَبْدُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِهِ" تو غلام سعی کرے گا ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اس کے حصے کے اندر اور اس حصے کی قیمت ادا کرے گا۔ "مُوسِرَيْنِ كَانَا أَوْ مُعْسِرَيْنِ" چاہے وہ دونوں شریک مالدار ہوں "أَوْ مُعْسِرَيْنِ" یا تنگدست ہوں، "عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" امام صاحب کے نزدیک۔ "وَكَذَا إِذَا كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا" اور اسی طرح ہے مسئلہ اگر دونوں میں سے ایک مالدار ہو اور دوسرا تنگدست ہو۔
میں نے بتایا بھئی اگر معتق مالدار ہو تو اس سے ضمان لیا جا سکتا ہے، لیکن یہاں تو وہ دوسرا شریک انکار کر رہا ہے، تو اس سے ضمان لینے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی غلام سے سعی کروانا پڑے گی۔ اور اگر معتق تنگدست ہے پھر تو ضمان لیا ہی نہیں جا سکتا پھر تو غلام سے سعی ہی کروائی جاتی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَكَذَا إِذَا كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا" اور اسی طرح اگر دونوں میں سے ایک مالدار ہے اور دوسرا تنگدست ہے۔ "لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ أَعْتَقَ نَصِيبَهُ" اس لیے کیونکہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک یہ گمان کر رہا ہے "أَنَّ صَاحِبَهُ أَعْتَقَ نَصِيبَهُ" کہ اس کے ساتھی نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے۔ "فَصَارَ مُكَاتَبًا فِي زَعْمِهِ" تو یہ غلام مکاتب ہو گیا ہے اس کے گمان میں۔ ہر شریک کے گمان میں یہ غلام کس کے درجے میں ہو چکا؟ ہر شریک کے گمان کے مطابق یہ غلام مکاتب کے درجے میں ہو چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: "فَصَارَ مُكَاتَبًا فِي زَعْمِهِ" تو ہر شریک کے گمان میں یہ غلام مکاتب ہو چکا ہے، "عِنْدَهُ" امام صاحب کے نزدیک، کیونکہ امام صاحب کے نزدیک اعتاق کی تجزی ہو سکتی ہے۔ اگر ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کرے گا تو دوسرے شریک کا حصہ مکاتب بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: "فَصَارَ مُكَاتَبًا فِي زَعْمِهِ عِنْدَهُ" تو یہ غلام جو ہے مکاتب بن گیا ہے ہر ایک کے، ہر شریک کے گمان میں عندہ امام صاحب کے نزدیک۔
"وَحَرُمَ عَلَيْهِ الِاسْتِرْقَاقُ" اور حرام ہو گیا ہے اس پر اس کو غلام بنا کر رکھنا۔ ہر ایک کا کیا گمان ہے؟ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، اب میں اس کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ تو کہتے ہیں ہر ایک کا یہ گمان ہے کہ غلام جو ہے مکاتب ہو چکا ہے "وَحَرُمَ عَلَيْهِ الِاسْتِرْقَاقُ" اور اس پر اس کو غلام بنا کر رکھنا حرام ہو چکا ہے۔ "فَيُصَدَّقُ فِي حَقِّ نَفْسِهِ" تو دونوں شریکوں میں سے ہر ایک کی تصدیق کی جائے گی اپنی ذات کے بارے میں۔ ہر ایک شریک خود اقرار کر رہا ہے کہ میرا حصہ خراب ہو چکا، اب میں اس کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا، تو ان کی اپنی ذات کے بارے میں ان کے اس گمان کی تصدیق کی جائے گی، یعنی اب ان کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ غلام کو اسی طرح غلام بنا کر رکھیں۔ تو کہتے ہیں: "فَيُصَدَّقُ فِي حَقِّ نَفْسِهِ" تو ان دونوں شریکوں میں سے ہر ایک کی تصدیق کی جائے گی اس کی ذات کے بارے میں، "فَيُمْنَعُ" تو ان کو منع کیا جائے گا "مِنِ اسْتِرْقَاقِهِ" اس غلام کو غلام بنا کر رکھنے سے، "وَيَسْتَسْعِيهِ" اور دونوں اس سے سعی کروا سکتے ہیں۔ غلام بنا کر رکھنے سے دونوں کو منع کیا جائے گا کہ تمہارا اپنا گمان ہے اب تم اس کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتے، تم کہہ رہے ہو کہ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، اگرچہ وہ انکار کر رہا ہے لیکن تم تو اقرار کر رہے ہو۔ تو کہتے ہیں: "فَيُمْنَعُ مِنِ اسْتِرْقَاقِهِ وَيَسْتَسْعِيهِ" تو اس کو منع کیا جائے گا اس غلام کو غلام بنا کر رکھنے سے اور وہ اس سے سعی کروائیں گے۔
"لِأَنَّا تَيَقَّنَّا بِحَقِّ الِاسْتِسْعَاءِ كَاذِبًا كَانَ أَوْ صَادِقًا" اِدھر دیکھیے بھئی، دونوں میں سے ہر ایک کا کیا گمان ہے کہ شریکِ آخر نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، اس نے میرا حصہ بھی خراب کر دیا ہے اب میں اس کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ اور یاد رکھو دونوں کے لیے سعی کا حق تو ثابت ہوگا۔ شریکِ آخر سے ضمان تو نہیں لے سکتا چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ انکار کر رہا ہے، لیکن دونوں کو سعی کروانے کا حق ہے، وجہ یہ کہ ہر ایک اقرار کر رہا ہے، تو یہ اپنے اقرار میں یا تو سچا ہوگا یا جھوٹا۔ زید نے اقرار کیا کہ عمرو نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے اور عمرو اقرار کر رہا ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے، تو یہ اس اقرار کے اندر یا تو یہ سچے ہیں یا جھوٹے۔ اگر سچے ہیں تو پھر اس صورت میں یہ غلام مکاتب کے درجے میں ہو گیا اور مکاتب سے سعی کروائی جاتی ہے، وہ شریکِ آخر کے لیے کمائی کرتا ہے اور پیسے لا کر دیتا ہے اور پھر پورا آزاد ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں، شریکِ آخر نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا تو معلوم ہوا اس کا حصہ ابھی بھی اس کا مملوک ہے۔ جب اس کا اپنا حصہ ابھی بھی اس کا مملوک ہے تو مملوک سے تو سعی کروائی جا سکتی ہے، کوئی بھی شخص اپنے غلام سے کام کاج کروا کے پیسے کما سکتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا یا تو یہ دونوں شریک سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہیں۔ سچ بولیں تو ان کا حصہ مکاتب ہو چکا لہٰذا انہیں سعی کروانے کا حق ہے اس غلام سے، اور اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں تو بھی ان کا حصہ ان کا مملوک ہے اور اپنے مملوک سے سعی کروانا جائز ہے۔ معلوم ہوا انہیں سعی کا حق تو ہر حال میں یقینی طور پر حاصل ہے۔ دونوں شریکوں کو سعی کروانے کا حق یقینی طور پر ثابت ہے، کیونکہ ان کا حصہ یا تو مکاتب ہے اگر یہ سچ بول رہے ہیں یا ان کا حصہ ان کا مملوک ہی ہے اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں، اور چاہے مکاتب ہو یا مملوک دونوں سے سعی کروائی جا سکتی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَيَسْتَسْعِيهِ" اور دونوں اس غلام سے سعی کروائیں گے، "لِأَنَّا تَيَقَّنَّا بِحَقِّ الِاسْتِسْعَاءِ" اس لیے کیونکہ ہم نے یقین کر لیا بحق الاستسعاء سعی کے حق کا۔ ہم نے یقین کر لیا سعی کے حق کا کہ دونوں کو سعی کا حق حاصل ہے۔ "كَاذِبًا كَانَ أَوْ صَادِقًا" چاہے وہ جھوٹا ہو چاہے وہ سچا ہو۔ "لِأَنَّهُ مُكَاتَبُهُ أَوْ مَمْلُوكُهُ" اس لیے کیونکہ یہ غلام اب اس کا مکاتب ہے یا مملوک ہے۔ "فَلِهَذَا يَسْتَسْعِيَانِهِ" تو لہٰذا یہ دونوں اس غلام سے سعی کروا سکتے ہیں۔
"وَلَا يَخْتَلِفُ ذَلِكَ بِالْيَسَارِ وَالْإِعْسَارِ" بھئی امام صاحب کے مذہب پر مسئلہ بیان فرما رہے ہیں صاحبِ کتاب بھئی، اور کہتے ہیں غلام سے سعی کروا سکتے ہیں دونوں، چاہے معتق مالدار ہو چاہے تنگدست ہو۔ زید کا خیال ہے عمرو نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے، عمرو چاہے مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی زید سعی کروا سکتا ہے۔ اور عمرو کا خیال ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے، زید چاہے مالدار ہی کیوں نہ ہو عمرو پھر بھی سعی کروا سکتا ہے، کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں امام صاحب کے نزدیک معتق کا مالدار ہونا سعی سے مانع نہیں ہے۔ صاحبین کا تو کیا مذہب تھا کہ اگر معتق مالدار ہو تو صرف ضمان لیا جا سکتا ہے اور اگر معتق تنگدست ہو تو صرف غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے، جبکہ امام صاحب کے نزدیک معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ تو لہٰذا امام صاحب کے نزدیک معتق کے مالدار اور تنگدست ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، دونوں صورتوں میں غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ ہاں معتق مالدار ہو تو پھر ضمان بھی لیا جا سکتا ہے امام صاحب کے نزدیک، لیکن یہاں تو معتق جو ہے وہ انکار کر رہا ہے۔ زید، عمرو کے بارے میں کہتا ہے اس نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے، عمرو چاہے مالدار ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ تو انکار کر رہا ہے، تو اس سے ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا۔ اور اسی طرح عمرو کا زید کے بارے میں یہ گمان ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے، زید چاہے مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس سے ضمان نہیں لیا جا سکتا کیونکہ زید تو انکار کر رہا ہے کہ میں نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا، تو معلوم ہوا معتق کے مالدار اور تنگدست ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں صورتوں میں غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَلَا يَخْتَلِفُ ذَلِكَ" اور یہ مختلف نہیں ہوتا "بِالْيَسَارِ وَالْإِعْسَارِ" مالداری اور تنگدستی سے۔ یعنی یہ جو غلام سے دونوں سعی کروا رہے ہیں اس پر معتق کی مالداری یا تنگدستی سے کوئی اثر نہیں پڑتا، مسئلہ اسی طرح رہے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: "وَلَا يَخْتَلِفُ ذَلِكَ بِالْيَسَارِ وَالْإِعْسَارِ" تو یہ معتق کی مالداری اور تنگدستی سے یہ بدلتا نہیں ہے، یعنی جو سعی کا حق ہر ایک کو حاصل ہے تو معتق کی مالداری سے یا تنگدستی سے یہ بدلتا نہیں، دونوں صورتوں میں سعی کروائی جا سکتی ہے۔
"لِأَنَّ حَقَّهُ فِي الْحَالَيْنِ فِي أَحَدِ شَيْئَيْنِ" اس لیے کیونکہ آقا کا جو حق ہے دونوں حالتوں میں، چاہے معتق مالدار ہو چاہے تنگدست ہو، دونوں حالتوں میں جو آقا کا حق ہے "فِي أَحَدِ شَيْئَيْنِ" دو چیزوں میں سے ایک کے اندر ہے۔ بھئی اِدھر دیکھیے، اگر معتق مالدار ہو تو دوسرا شریک ضمان بھی لے سکتا ہے اور غلام سے سعی بھی کروا سکتا ہے، لیکن ہوگی ایک ہی چیز اس کے لیے۔ اگر وہ سعی کرواتا ہے تو ضمان نہیں لے سکتا اور اگر ضمان لیتا ہے تو غلام سے سعی نہیں کروا سکتا۔ اور اگر معتق تنگدست ہے تو پھر وہ صرف غلام سے سعی کروا سکتا ہے ضمان نہیں لے سکتا۔ معلوم ہوا معتق چاہے مالدار ہو چاہے تنگدست، دوسرے شریک کا حق ایک ہی چیز میں بنے گا ایک وقت میں، یا سعی میں یا ضمان میں، دونوں ضمان بھی لے لے اور سعی بھی کروا لے ایسا نہیں ہو سکتا، دونوں میں سے ایک ہی کے اندر اس کا حق ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ حَقَّهُ فِي الْحَالَيْنِ فِي أَحَدِ شَيْئَيْنِ" اس لیے کیونکہ اس آقا کا حق جو ہے دونوں حالتوں میں، یعنی چاہے معتق مالدار ہو چاہے تنگدست ہو، دونوں حالتوں میں اس کا حق جو ہے "فِي أَحَدِ شَيْئَيْنِ" دو چیزوں میں سے ایک کے اندر ہے، یا ضمان لے یا غلام سے سعی کروائے۔
"لِأَنَّ يَسَارَ الْمُعْتِقِ لَا يَمْنَعُ السِّعَايَةَ عِنْدَهُ" اس لیے کیونکہ معتق کی مالداری یہ منع نہیں کرتی سعی کو عندہ امام صاحب کے نزدیک۔ صاحبین کے نزدیک معتق مالدار ہو تو صرف اس سے ضمان لیا جا سکتا ہے، غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی، لیکن امام صاحب کے نزدیک معتق، معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ لیکن دوسرے شریک کا حق ایک ہی چیز میں ہوگا۔ اگر وہ غلام سے سعی کروانا چاہتا ہے تو ضمان نہیں لے سکتا اور اگر ضمان لینا چاہتا ہے تو سعی نہیں کروا سکتا۔ تو بہرحال امام صاحب کے نزدیک معتق کا مالدار ہونا سعی سے مانع نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ يَسَارَ الْمُعْتِقِ لَا يَمْنَعُ السِّعَايَةَ عِنْدَهُ" اس لیے کیونکہ معتق کی مالداری وہ سعی کو منع نہیں کرتی عندہ امام صاحب کے نزدیک۔
"وَقَدْ تَعَذَّرَ التَّضْمِينُ لِإِنْكَارِ الشَّرِيكِ" اور ضامن بنانا تو ممکن نہ رہا "لِإِنْكَارِ الشَّرِيكِ" کیونکہ شریک انکار کر رہا ہے۔ زید نے کہا عمرو نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے لیکن عمرو تو انکار کر رہا ہے، اور عمرو کہتا ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے لیکن زید تو اس کا انکار کر رہا ہے، تو ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ ضمان نہیں لیا جا سکتا چاہے معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: "وَقَدْ تَعَذَّرَ التَّضْمِينُ لِإِنْكَارِ الشَّرِيكِ" اور ضامن بنانا تو ممکن نہ رہا "لِإِنْكَارِ الشَّرِيكِ" اس شریک کے انکار کرنے کی وجہ سے۔
"فَتَعَيَّنَ الْآخَرُ" تو دوسری چیز ہی متعین ہو گئی، "وَهُوَ السِّعَايَةُ" اور وہ سعی ہے۔ جب ضمان نہیں لیا جا سکتا تو سعی ہی کروانا پڑے گی۔ "وَالْوَلَاءُ لَهُمَا" اور ولاء دونوں کے درمیان مشترکہ ہوگی۔ ولاء میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ مالِ میراث جو معتق کو ملتا ہے۔
وہ مالِ میراث ہے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ میت کے انتقال پر سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا ہے، پھر اس کے بعد باقی مال میں سے قرضے ادا کیے جاتے ہیں، اور پھر اس کے بعد اگر اس نے کوئی وصیت کی ہے تو وہ ثلثِ مال تک وصیت نافذ کی جاتی ہے، اور باقی مال وارثوں کا حق ہے۔ لیکن وارث تین قسم پر ہیں بھئی! کچھ ذوی الفروض ہیں، کچھ عصبۂ نسبی ہیں اور کچھ عصبۂ سببی۔ سب سے پہلے ذوی الفروض کو مال دیں گے۔ جو باقی بچے گا پھر وہ عصبۂ نسبی لے جائیں گے۔ اور اگر عصبۂ نسبی کوئی نہ ہو تو پھر اس صورت میں یہ مال عصبۂ سببی یعنی معتق کو ملے گا۔ تو معتق کو مالِ میراث ملتا ہے اپنے آزاد شدہ غلام یا باندی کا لیکن تیسرے نمبر پر۔ پہلے ذوی الفروض کو دیں گے، اس کے بعد عصبۂ نسبی کو۔ اگر عصبۂ نسبی کوئی نہ ہوا پھر اس کے بعد معتق کو یہ مال ملے گا اور اس مالِ میراث کو ولاء کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”وَالْوَلَاءُ لَهُمَا“ کہ ولاء دونوں شریکوں کے لیے ہوگی۔ ولاء دونوں شریکوں کے لیے ہوگی کیونکہ دونوں نے سعی کروائی ہے غلام سے اور پھر غلام آزاد ہوا ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ چاہے غلام کو ویسے ہی آزاد کیا جائے پھر بھی ولاء اس معتق کو ملتی ہے، اور چاہے وہ عوض لے کر غلام کو آزاد کرے پھر بھی ولاء اسی کو ملے گی کیونکہ غلام تو آزادی کا تصور بھی نہیں کر سکتا، تو اس آقا کی وجہ سے اس کو آزادی ملی ہے چاہے اس نے مال لے لیا لیکن اس کی وجہ سے غلام کو آزادی جیسی نعمت تو مل گئی لہٰذا ولاء کا یہ حق دار ہوگا۔ تو معلوم ہوا چاہے اعتاق بلا عوض ہو چاہے بالعوض ہو دونوں صورتوں میں یہ آقا معتق ہے اور یہ ولاء کا حق دار ہے۔ تو یہاں پر جب دونوں آقا جو ہیں دونوں کے لیے غلام سعی کرے گا تو دونوں کیا بن گئے؟ معتق بن گئے۔ جب دونوں معتق ہیں تو ولاء دونوں کو ملے گی۔ لیکن ملے گی تیسرے ہی نمبر پر؛ ذوی الفروض سے مال بچا اور عصبۂ نسبی کوئی بھی نہیں پھر عصبۂ سببی کو مال ملے گا۔ اگر عصبۂ نسبی کوئی ہوا تو وہ سارا مال لے جاتا ہے بھئی۔ تو عصبۂ نسبی کوئی نہ ہو تو پھر عصبۂ سببی کو یعنی تیسرے نمبر پر یہ عصبۂ سببی آئے گا یعنی معتق اس کو سارا مال ملے گا تو یہ ولاء ان دونوں کو ملے گی کیونکہ یہ دونوں معتق ہیں۔ یہ کس کے نزدیک ہے؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْوَلَاءُ لَهُمَا“ اور ولاء دونوں شریکوں کے لیے ہوگی، ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک یہ کہہ رہا ہے، بھئی ادھر دیکھیے! ولاء دونوں کو ملے گی وجہ یہ کہ زید اقرار کر رہا ہے کہ عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے۔ معلوم ہوا زید اقرار کر رہا ہے کہ عمرو اپنے حصے کا معتق ہے لہٰذا ولاء کا حق دار وہ ہے۔ لہٰذا اس حصے کی ولاء کا حق دار وہ ہے۔ اور زید اپنے حصے کی غلام سے سعی کروائے گا تو اس حصے کی ولاء کا حق دار زید ہو جائے گا۔ اسی طرح عمرو کی طرف سے دیکھ لیں، عمرو اقرار کر رہا ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے اگرچہ زید انکار کر رہا ہے لیکن عمرو اقرار کر رہا ہے، گویا عمرو اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ زید معتق ہے اپنے حصے کا لہٰذا اس حصے کی ولاء کا حق دار بھی زید ہی ہے، اور میں اپنے حصے میں چونکہ سعی کرواؤں گا تو اپنے حصے کا معتق میں بن گیا تو اس کی ولاء مجھے ملے گی، تو دونوں شریکوں میں سے ہر ایک اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ نصف ولاء شریکِ آخر کی ہے اور نصف ولاء میری ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: عَتَقَ نَصِيبُ صَاحِبِي عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں شریکوں میں سے ہر ایک یہ کہہ رہا ہے کہ میرے ساتھی کا حصہ اس پر آزاد ہو گیا ہے ”بِإِعْتَاقِهِ“ اس کے آزاد کر دینے کی وجہ سے ”وَوَلَاؤُهُ لَهُ“ اور اس کے حصے کی ولاء اسی کے لیے ہے، اس نے اپنے حصے کو آزاد کیا ہے تو اس کے حصے کی ولاء اسی کے لیے ہے یہ دونوں میں سے ہر ایک اقرار کر رہا ہے، ”وَعَتَقَ نَصِيبِي بِالسِّعَايَةِ“ اور میرا حصہ سعی کی وجہ سے آزاد ہوا ہے ”وَوَلَاؤُهُ لِي“ اور میرے حصے کی ولاء میرے لیے ہے۔
یہ تھا امام صاحب کا مذہب بھئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک جب دونوں شریکوں میں سے ہر ایک اقرار کر رہا ہے کہ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے اور دوسرا شریک اس کا انکار کر رہا ہے تو پھر اس صورت میں ضمان نہیں لیا جا سکتا اور صرف غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے، چاہے دونوں مالدار ہوں، چاہے دونوں تنگدست ہوں اور چاہے دونوں میں سے ایک مالدار ہو اور ایک تنگدست ہو تمام صورتوں کا یہی حکم ہے اور ولاء جو ہے دونوں شریکوں کے درمیان تقسیم ہوگی، دونوں اس کے حق دار ہیں بھئی۔
اب صاحبین کا مذہب آیا۔ بھئی صاحبین کے نزدیک آپ جانتے ہیں کہ اگر معتق مالدار ہو تو پھر غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی صرف معتق سے ضمان لیا جا سکتا ہے، اور اگر معتق تنگدست ہے تو پھر اس سے ضمان نہیں لیا جا سکتا صرف غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ تو اب دیکھیے صاحبین کا مذہب بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ آگے، صاحبین فرماتے ہیں اگر دونوں مالدار ہیں تو اس صورت میں غلام سے سعی نہیں کروا سکتا۔ زید بھی مالدار ہے عمرو بھی مالدار ہے تو جب زید نے کہا کہ عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے تو گویا زید اقرار کر رہا ہے کہ یہ معتق مالدار ہے میں اس سے ضمان لے سکتا ہوں اور میں غلام سے سعی نہیں کروا سکتا، کیونکہ جب معتق مالدار ہو تو غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی صاحبین کے مذہب کے مطابق۔ توجہ ہے؟ تو صاحبین کے مذہب کے مطابق معتق جب مالدار ہو تو غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ تو جب زید بھی مالدار ہے عمرو بھی مالدار ہے، اب مثلاً پہلے زید کی طرف سے دیکھیں، زید اقرار کر رہا ہے عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے اور عمرو کیا ہے؟ مالدار۔ معلوم ہوا زید دعویٰ کر رہا ہے کہ مجھے عمرو سے ضمان دلایا جائے کیونکہ میں غلام سے سعی نہیں کروا سکتا، لیکن ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا کیونکہ عمرو اس کا انکار کر رہا ہے کہ میں نے تو اپنا حصہ آزاد نہیں کیا۔ تو ضمان بھی نہیں لے سکتے کیونکہ وہ شریکِ آخر انکار کر رہا ہے، اور غلام سے سعی بھی نہیں کروا سکتے کیونکہ شریکِ آخر تو مالدار ہے اور معتق مالدار ہو تو پھر غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ اور اسی طرح عمرو کی طرف سے دیکھ لیں، عمرو کہہ رہا ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے اور زید مالدار ہے، تو گویا عمرو دعویٰ کر رہا ہے کہ مجھے زید سے ضمان دلایا جائے، میں غلام سے سعی نہیں کروا سکتا کیونکہ معتق تو مالدار ہے لیکن وہ معتق تو انکار کر رہا ہے تو اس سے ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا اور غلام سے سعی بھی نہیں کروائی جا سکتی۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى: إِنْ كَانَا مُوسِرَيْنِ فَلَا سِعَايَةَ عَلَيْهِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر یہ دونوں شریک مالدار ہیں تو غلام پر سعی نہیں ہے ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَتَبَرَّأُ عَنْ سِعَايَتِهِ“ اس لیے کیونکہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ بری الذمہ ہو رہا ہے غلام کی سعی سے کہ غلام پر سعی نہیں ہے ”بِدَعْوَى الضَّمَانِ عَلَى صَاحِبِهِ“ اپنے ساتھی پر ضمان کا دعویٰ کرتے ہوئے۔ جب معتق مالدار ہے تو گویا وہ اس پر ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے اور غلام کو سعی سے بری کر رہا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَتَبَرَّأُ عَنْ سِعَايَتِهِ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں شریکوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ بری ہو رہا ہے غلام کی سعی سے، یا یوں کہو وہ براءت کا اظہار کر رہا ہے غلام کی سعی سے ”بِدَعْوَى الضَّمَانِ عَلَى صَاحِبِهِ“ اپنے ساتھی پر ضمان کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے۔ جب معتق مالدار ہے تو گویا وہ اس پر ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے اور غلام کو سعی سے بری کر رہا ہے بھئی۔ ”لِأَنَّ يَسَارَ الْمُعْتِقِ يَمْنَعُ السِّعَايَةَ عِنْدَهُمَا“ اس لیے کیونکہ معتق کی مالداری وہ سعی کو منع کرتی ہے صاحبین کے نزدیک ”إِلَّا أَنَّ الدَّعْوَى لَمْ تَثْبُتْ لِإِنْكَارِ الْآخَرِ“ مگر یہ کہ ان کا یہ دعویٰ بھی ثابت نہیں ہوا کیونکہ دوسرا تو اس اعتاق کا انکار کر رہا ہے بھئی، تو اس سے ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا، ”وَالْبَرَاءَةُ عَنِ السِّعَايَةِ قَدْ ثَبَتَتْ لِإِقْرَارِهِ عَلَى نَفْسِهِ“ البتہ غلام کی سعی سے براءت جو ہے، غلام کا سعی سے بری ہونا وہ ثابت ہو گئی خود اپنے اوپر اقرار کرنے کی وجہ سے۔ جب معتق مالدار ہے اور وہ پھر بھی کہہ رہا ہے اس نے اس غلام کو آزاد کیا ہے تو گویا وہ اقرار کر رہا ہے کہ میں غلام سے سعی نہیں کروا سکتا تو غلام بری ہو جائے گا سعی سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں غلام ویسے ہی آزاد ہو جائے گا جب دونوں مالدار ہیں بھئی۔
اور اگر یہی مسئلہ پیش آیا اور دونوں تنگدست ہیں، جب دونوں تنگدست ہوں تو پھر معتق سے تو ضمان نہیں لیا جا سکتا پھر غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے تو اس صورت میں پھر دونوں کے لیے غلام سعی کرے گا۔ اور اگر دونوں میں سے ایک مالدار ہے اور ایک تنگدست ہے تو پھر مالدار کے لیے تو غلام سعی کرے گا تنگدست کے لیے سعی نہیں کرے گا۔ کیوں؟ مالدار کے لیے کیوں سعی کرے گا؟ مثلاً زید مالدار ہے اور عمرو تنگدست ہے تو زید نے جب اقرار کر لیا کہ عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے اور عمرو تو ہے تنگدست معتق تنگدست ہے، معلوم ہوا زید کا یہ دعویٰ ہے کہ میرا حق صرف غلام سے سعی کروانا ہے، میں عمرو سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ عمرو تو تنگدست ہے، جب معتق تنگدست ہو تو اس سے ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ زید مالدار ہے اور عمرو تنگدست ہے، تو جب زید نے یہ دعویٰ کیا کہ عمرو نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے تو گویا زید یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں عمرو سے ضمان نہیں لے سکتا، میرا حق صرف غلام کی سعی میں ہے، تو غلام اس کے لیے سعی کرے گا۔ غلام اس کے لیے سعی کرے گا۔ اور جبکہ جب عمرو وہ تنگدست ہے اور زید کیا ہے؟ مالدار ہے۔ عمرو نے دعویٰ کیا کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہے، تو گویا عمرو کا یہ دعویٰ ہے کہ چونکہ معتق مالدار ہے تو میں اس سے ضمان تو لے سکتا ہوں غلام سے سعی نہیں، لہٰذا اس تنگدست کے لیے غلام سعی نہیں کرے گا کیونکہ اس نے اپنے اقرار کے ذریعے خود اس غلام کو سعی سے بری کر دیا ہے۔ تو مالدار کے لیے غلام سعی کرے گا اور تنگدست کے لیے سعی نہیں کرے گا، یہ وہ صورت ہے جب دونوں میں سے دونوں شریکوں میں سے ایک مالدار ہو اور ایک تنگدست ہو، تو غلام مالدار کے لیے سعی کرے گا اور تنگدست کے لیے سعی نہیں کرے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَا مُعْسِرَيْنِ سَعَى لَهُمَا“ اور اگر یہ دونوں شریک تنگدست ہیں تو غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَدَّعِي السِّعَايَةَ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ غلام پر سعی کا دعویٰ کر رہا ہے۔ دونوں شریک تنگدست ہیں تو تنگدست پر تو ضمان نہیں آتا بلکہ غلام سے سعی کروائی جاتی ہے، تو گویا دونوں غلام پر سعی کا دعویٰ کر رہے ہیں تو غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَدَّعِي السِّعَايَةَ عَلَيْهِ صَادِقًا كَانَ أَوْ كَاذِبًا“ اس لیے کیونکہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک غلام پر سعی کا دعویٰ کر رہا ہے چاہے وہ اپنے اقرار میں سچا ہو چاہے جھوٹا ہو بھئی، ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔
پیچھے بھئی امام صاحب کی جہاں دلیل آئی تھی وہاں ذکر کیا تھا کہ ضمان تو نہیں لیا جا سکتا کیونکہ شریکِ آخر انکار کر رہا ہے، البتہ غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ پیچھے عبارت آئی تھی: ”لِأَنَّا تَيَقَّنَّا بِحَقِّ الِاسْتِسْعَاءِ“ کہ ہم نے یقین کر لیا کہ دونوں کو سعی کا حق حاصل ہے، کیونکہ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کا حصہ مکاتب ہو چکا ہے اور مکاتب سے سعی کروائی جاتی ہے، اور اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں تو معلوم ان کا حصہ ابھی بھی ان کا مملوک ہے، غلام ہی ہے اور اپنے غلام سے بھی سعی کروائی جا سکتی ہے، تو چاہے سچ بولیں چاہے جھوٹ بولیں یہ غلام یا تو مکاتب ہے یا مملوک ہے اور مکاتب سے بھی سعی کروائی جا سکتی ہے اور مملوک سے بھی۔ تو اسی کی طرف اشارہ ہے۔
البتہ صاحبین کے نزدیک تو اعتاق کی تجزی نہیں ہو سکتی۔ اگر کچھ حصے کو آزاد کرے گا تو سارا غلام ہی آزاد ہو جائے گا، غلام ہی آزاد ہو جائے گا، اور یہ ایسا آزاد ہے جس کے اوپر دین ہے، دوسرے کے حصہ دین ہو گیا۔ صاحبین کے نزدیک ایک غلام میں دو آدمی شریک ہیں، ایک نے اپنا حصہ آزاد کیا تو سارا ہی غلام آزاد ہو گیا، البتہ اب دوسرے شریک کا حصہ جو ہے وہ غلام پر دین ہے۔ تو یہ اب غلام جو ہے یہ اب ایسا آزاد آدمی ہو چکا ہے جس کے اوپر دین ہے، اب اس کو کام کاج کر کے وہ دین اتارنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں اگر دونوں تنگدست ہیں تو پھر غلام سے سعی کروا سکتے ہیں کیونکہ انہیں سعی کا حق حاصل ہے چاہے یہ سچ بول رہے ہیں چاہے جھوٹ بول رہے ہیں۔ اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں تو یہ غلام ان کا مملوک ہے اور اپنے مملوک سے سعی کروائی جا سکتی ہے، اس سے کام کاج کروایا جا سکتا ہے، مزدوری کروائی جا سکتی ہے، اپنے غلام کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ اور اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو پھر اس صورت میں یہ غلام آزاد ہو چکا ہے، یہ اس وقت ایک آزاد آدمی ہے البتہ اس پر اس شریک کے حصے کی جو قیمت تھی وہ اب اس آزاد آدمی پر دین ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے اس آزاد آدمی کو اب سعی کرنا پڑے گی۔ تو بہرحال سعی کا حق دونوں صورتوں میں ہے چاہے دونوں سچ بول رہے ہیں چاہے جھوٹ بول رہے ہیں سعی کا حق ہے تو سعی کروائی جائے گی۔
یہ معنی ہے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ ہم نے یقین کر لیا کہ دونوں کو سعی کروانے کا حق حاصل ہے۔ امام صاحب کے مذہب کے مطابق سعی کا حق کیوں حاصل ہے؟ کیونکہ یہ حصہ یا تو مکاتب ہے یا مملوک ہے۔ اور صاحبین کے نزدیک بھی دونوں کو سعی کا حق حاصل ہے کس وجہ سے؟ کہ یہ حصہ یا تو اس کا مملوک ہے یا ایسا آزاد ہے جس کے اوپر دین ہے۔ صاحبین کے نزدیک حصہ مکاتب نہیں بنے گا، وہ امام صاحب کے نزدیک ایک حصہ مکاتب تھا۔ صاحبین کے نزدیک اگر جھوٹ بول رہا ہے تو اس کا حصہ ابھی بھی مملوک ہے، اور اگر سچ بول رہا ہے تو اس کا حصہ آزاد ہو چکا ہے اور اس کے اوپر دین ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ کوشش کرے گا۔ نہیں، توجہ سبق کی طرف۔
پھر سنو: بھئی دیکھو یہ جو پیچھے آیا نا امام صاحب کے مذہب کے مطابق اگر ایک شریک اپنا حصہ آزاد کرے تو دوسرا حصہ مکاتب کے درجے میں ہو جاتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک ایک شریک اپنا حصہ آزاد کرے تو سارا غلام ہی آزاد ہو جاتا ہے البتہ اس کے اوپر دین آ جاتا ہے۔ تو پیچھے آیا تھا کیونکہ ہم نے یقین کر لیا یہ دونوں کو سعی کا حق ہے، کیوں سعی کا حق ہے؟ کیونکہ یہ شخص اقرار کر رہا ہے کہ دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے تو یا تو یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے۔ اگر یہ سچ بول رہا ہے تو اس کا حصہ مکاتب ہو چکا، دوسرے نے واقعی آزاد کیا ہے تو اس کا حصہ مکاتب ہو گیا اور مکاتب سے سعی کروائی جاتی ہے۔ اور اگر یہ جھوٹ بول رہا ہے تو یہ ابھی بھی اس کا مملوک ہے لہٰذا پھر بھی سعی کروا سکتا ہے۔ اور صاحبین کے مذہب کے مطابق دونوں میں سے ہر ایک اقرار کر رہا ہے کہ میرے شریک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے، اگر وہ سچ بول رہا ہے تو پھر یہ غلام اب ایسا آزاد آدمی بن چکا ہے جس کے اوپر دین ہے تو یہ سعی کر کے ادا کرے گا دین کو، اور اگر اقرار کے اندر یہ جھوٹ بول رہا ہے دوسرے شریک نے تو اپنا حصہ آزاد نہیں کیا تو بھی غلام پھر اس کا مملوک ہی ہے اور مملوک سے بھی سعی کروائی جا سکتی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ إِذِ الْمُعْتِقُ مُعْسِرٌ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ ہم نے یقین کر لیا کہ دونوں کو سعی کروانے کا حق ہے کیونکہ آزاد کرنے والا تنگدست ہے، اور جب آزاد کرنے والا تنگدست ہو تو غلام سے سعی کروائی جاتی ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا سَعَى لِلْمُوسِرِ مِنْهُمَا“ اور اگر دونوں میں سے ایک مالدار ہے اور دوسرا تنگدست ہے تو غلام سعی کرے گا اس آقا کے لیے جو ان دونوں میں سے خوشحال ہے ”لِأَنَّهُ لَا يَدَّعِي الضَّمَانَ عَلَى صَاحِبِهِ“ اس لیے، بھئی ادھر پھر دیکھیے پھر وہی بات جو میں نے پہلے بیان کر دی: اگر دونوں میں سے ایک مالدار ہے ایک تنگدست ہے تو غلام مالدار کے لیے سعی کرے گا تنگدست کے لیے سعی نہیں، بھئی کیوں؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ مالدار نے جب کہا ہے کہ دوسرے نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے اور وہ تنگدست ہے تو گویا وہ اقرار کر رہا ہے کہ میں دوسرے شریک سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ وہ تو تنگدست ہے، میں صرف غلام سے سعی کروا سکتا ہوں تو لہٰذا غلام اس مالدار کے لیے سعی کرے گا۔ اور جب تنگدست نے یہ دعویٰ کیا کہ مالدار نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے تو گویا یہ تنگدست یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ معتق مالدار ہے مجھے ضمان دلایا جائے، میں تو غلام سے سعی نہیں کروا سکتا کیونکہ معتق جب مالدار ہو تو غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی، تو لہٰذا ہر ایک سے اس کے گمان کے مطابق سلوک کیا جائے گا یہاں پر۔ تو وہ شریک جو خوشحال ہے مالدار ہے اس کے لیے تو غلام سعی کرے گا اور جو تنگدست ہے اس کے لیے سعی نہیں کرے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا سَعَى لِلْمُوسِرِ مِنْهُمَا“ اور اگر دونوں شریکوں میں سے ایک مالدار ہے اور دوسرا تنگدست ہے تو ان دونوں میں سے جو مالدار ہے اس کے لیے غلام سعی کرے گا ”لِأَنَّهُ لَا يَدَّعِي الضَّمَانَ عَلَى صَاحِبِهِ لِإِعْسَارِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مالدار جو ہے اپنے ساتھی پر ضمان کا دعویٰ نہیں کر رہا اس کی تنگدستی کی وجہ سے ”وَإِنَّمَا يَدَّعِي عَلَيْهِ السِّعَايَةَ“ اور وہ تو صرف اس غلام پر سعی کا دعویٰ کر رہا ہے، مالدار غلام پر صرف سعی کا دعویٰ کر رہا ہے ”فَلَا يَتَبَرَّأُ عَنْهُ“ لہٰذا غلام جو ہے وہ اس سعی سے بری الذمہ نہیں ہوگا، غلام کو سعی کرنا پڑے گی اس مالدار کے لیے۔ ”وَلَا يَسْعَى لِلْمُعْسِرِ مِنْهُمَا“ لیکن غلام جو ہے وہ تنگدست کے لیے سعی نہیں کرے گا ”لِأَنَّهُ يَدَّعِي الضَّمَانَ عَلَى صَاحِبِهِ لِيَسَارِهِ“ اس لیے کیونکہ تنگدست جو ہے وہ اپنے ساتھی پر ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے اس کی مالداری کی وجہ سے، معتق جب مالدار ہو تو صرف ضمان لیا جا سکتا ہے صاحبین کے نزدیک، تو وہ صرف ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے اپنے ساتھی پر اس کی مالداری کی وجہ سے ”فَيَكُونُ مُبَرِّئًا لِلْعَبْدِ عَنِ السِّعَايَةِ“ تو یہ تنگدست جو ہے غلام کو بری الذمہ کر رہا ہے سعی سے کہ میرا حق سعی میں ہے ہی نہیں، میں تو صرف اس مالدار سے ضمان لے سکتا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس کے لیے غلام سعی بھی نہیں کرے گا کیونکہ اس تنگدست نے خود اس غلام کو سعی سے بری کر دیا۔
”وَالْوَلَاءُ مَوْقُوفٌ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ عِنْدَهُمَا“ بھئی امام صاحب کی بات تو اوپر گزر گئی، ان کے نزدیک اس غلام کی ولاء دونوں کے درمیان مشترک ہوگی، دونوں جو آقا ہیں دونوں جو شریک ہیں دونوں ولاء کے حق دار ہیں، نصف ولاء ایک کو ملے گی اور نصف ولاء دوسرے کو۔ لیکن صاحبین کے نزدیک یہ جو ولاء ہے یہ موقوف رہے گی، کسی کو بھی نہیں دی جائے گی یہاں تک کہ دونوں کسی ایک پر اتفاق کر لیں کہ اس نے غلام کو آزاد کیا تھا۔ زید اور عمرو دونوں کسی ایک پر متفق ہو جائیں، دونوں کہیں کہ مثلاً اس زید نے غلام کو آزاد کیا تھا یا دونوں کہیں کہ یہ عمرو نے غلام کو آزاد کیا تھا تو پھر اس کو ولاء ملے گی ورنہ ولاء کو موقوف رکھا جائے گا۔ بھئی کیا وجہ؟ وجہ یہ کہ صاحبین کے نزدیک اعتاق کی تقسیم نہیں ہو سکتی، تو جب ایک نے آزاد کیا تو پورا غلام ہی آزاد ہو گیا لہٰذا دونوں میں سے ایک ولاء کا مستحق ہے دونوں ولاء کے مستحق نہیں، اور جو ایک ولاء کا مستحق ہے اس کی یہاں تعیین ہی نہیں ہو رہی کیونکہ دونوں آپس میں اختلاف کر رہے ہیں، توجہ ہے؟ تو لہٰذا ولاء کسی ایک کو بھی نہیں ملے گی بلکہ ولاء کو موقوف رکھا جائے گا، روک کر رکھا جائے گا یہاں تک کہ دونوں کسی ایک پر متفق ہو جائیں کہ اس نے آزاد کیا ہے، اور اگر کسی ایک پر اتفاق دونوں نے نہیں کیا تو پھر اس صورت میں ولاء جو ہے وہ بیت المال میں جمع کروا دی جائے گی۔ وجہ سمجھ میں آئی؟ کیونکہ صاحبین کے نزدیک اعتاق کی تقسیم نہیں، لہٰذا جس نے بھی اپنے حصے کو آزاد کیا ہے سارا غلام اسی کی طرف سے آزاد ہو گیا۔ جب سارا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو گیا ہے تو وہی ولاء کا حق دار ہے لیکن اس کا تو پتہ نہیں چل رہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَالْوَلَاءُ مَوْقُوفٌ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ عِنْدَهُمَا“ اور ولاء موقوف رہے گی ان تمام صورتوں میں صاحبین کے نزدیک تمام صورتوں میں، چاہے دونوں شریک مالدار ہوں چاہے دونوں تنگدست ہوں چاہے ایک مالدار ہو اور ایک تنگدست ہو تمام صورتوں میں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَلَاءُ مَوْقُوفٌ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ عِنْدَهُمَا“ اور اس سب کے اندر ولاء کو موقوف رکھا جائے گا صاحبین کے نزدیک ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُحِيلُهُ عَلَى صَاحِبِهِ“ احال یحیل کا معنی حوالے کرنا، ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“ اس لیے کیونکہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک ”يُحِيلُهُ“ وہ اس ولاء کو حوالے کر رہا ہے ”عَلَى صَاحِبِهِ“ اپنے ساتھی پر۔ زید کا گمان ہے کہ عمرو نے اپنے حصے کو آزاد کیا ہے تو جب عمرو نے اپنے حصے کو آزاد کیا تو سارا غلام آزاد ہو گیا تو ولاء کا مستحق کون؟ عمرو۔ تو زید کا گمان یہ ہے کہ ساری ولاء کا مستحق عمرو ہے۔ اور عمرو کا خیال ہے کہ زید نے اپنے حصے کو آزاد کیا ہے اور اعتاق میں تو تجزی نہیں لہٰذا زید نے جب اپنے حصے کو آزاد کیا تو سارا غلام آزاد ہو گیا اور جب سارا غلام آزاد ہو گیا تو معتق تو زید ہو گیا، جب زید معتق ہے تو ساری ولاء کا مستحق زید ہے، تو عمرو اقرار کر رہا ہے ساری ولاء زید کو ملنی چاہیے اور زید اقرار کر رہا ہے کہ ساری ولاء عمرو کو ملنی چاہیے تو تعیین نہیں ہو سکتی کہ کون ولاء کا مستحق ہے لہٰذا ولاء کو روک کر رکھا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُحِيلُهُ عَلَى صَاحِبِهِ“ اس لیے کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک جو ہے ولاء حوالے کر رہا ہے اپنے ساتھی پر ”وَهُوَ يَتَبَرَّأُ عَنْهُ“ اس حال میں کہ اس کا ساتھی جو ہے وہ اس ولاء سے براءت کا اظہار کر رہا ہے۔ زید کا کیا خیال ہے؟ ولاء کس کو ملنی چاہیے؟ عمرو کو کیونکہ اس نے آزاد کیا ہے لیکن عمرو انکار کر رہا ہے، اور عمرو کا گمان ہے کہ زید نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے لہٰذا ساری ولاء زید کو ملنی چاہیے لیکن زید اس کا انکار کر رہا ہے لہٰذا فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا کہ ولاء کس کو دی جائے۔
تو یہ معنی ہے پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُحِيلُهُ عَلَى صَاحِبِهِ وَهُوَ يَتَبَرَّأُ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک جو ہے ولاء حوالے کر رہا ہے اپنے ساتھی پر اور حال یہ ہے کہ اس کا وہ ساتھی جو ہے وہ ولاء سے براءت کا اظہار کر رہا ہے ”فَيَبْقَى مَوْقُوفًا“ تو یہ ولاء موقوف ہو کر باقی رہے گی ”إِلَى أَنْ يَتَّفِقَا عَلَى إِعْتَاقِ أَحَدِهِمَا“ یہاں تک کہ دونوں شریک اتفاق کر لیں کسی ایک کے اعتاق پر، تو پھر اس کو ولاء مل جائے گی ورنہ ولاء بیت المال میں جمع کروا دی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
حاصلِ کلام پھر سمجھ لیجیے: دو شریکوں کے درمیان ایک غلام مشترکہ ہے، دونوں میں سے ہر ایک اقرار کرتا ہے کہ میرے شریک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ہے لہٰذا اب میں اپنے حصے کو بھی غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا اور حال یہ ہے کہ دوسرا شریک جو ہے وہ اس بات کا انکار کر رہا ہے، وہ کہتا ہے میں نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا۔ تو امام صاحب کے نزدیک غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا اور دونوں کے حصے کی قیمت ادا کر کے آزاد ہو جائے گا چاہے دونوں شریک مالدار ہوں، چاہے تنگدست ہوں اور چاہے ایک مالدار ہو اور ایک تنگدست ہو۔ اور یہاں پر ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا کیونکہ شریکِ آخر اس کا انکار کر رہا ہے، وہ اعتاق کا انکار کر رہا ہے لہٰذا اس سے ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا، اور ولاء دونوں کے درمیان تقسیم ہوگی یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر کہ اگر دونوں شریک مالدار ہیں تو پھر غلام پر سعی ہے ہی نہیں، غلام ویسے ہی آزاد ہو جائے گا، اور اگر دونوں شریک تنگدست ہیں تو پھر غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا اور پھر آزاد ہو جائے گا، اور اگر دونوں میں سے ایک مالدار ہے اور ایک تنگدست ہے تو مالدار کے لیے غلام سعی کرے گا اور تنگدست کے لیے غلام سعی نہیں کرے گا، اور نیز اس صورت میں ولاء کو موقوف رکھا جائے گا جب تک دونوں کسی ایک پر اتفاق نہ کر لیں، اور اگر دونوں نے کسی ایک پر بھی اتفاق نہ کیا تو پھر ولاء بیت المال میں جمع کروا دی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آگے دیکھیے:
”وَلَوْ قَالَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ: إِنْ لَمْ يَدْخُلْ فُلَانٌ هَذِهِ الدَّارَ غَدًا فَهُوَ حُرٌّ، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ دَخَلَ فَهُوَ حُرٌّ، فَمَضَى الْغَدُ وَلَا يُدْرَى دَخَلَ أَمْ لَا، عَتَقَ النِّصْفُ وَسَعَى لَهُمَا فِي النِّصْفِ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: يَسْعَى فِي جَمِيعِ قِيمَتِهِ.“
صورتِ مسئلہ یہ: ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے بھئی اور ان دونوں میں سے ایک نے غلام کی آزادی کو ایک شرط کے ساتھ معلق کیا، ایک چیز کے ہونے کے ساتھ معلق کیا اور دوسرے نے اپنے حصے کی آزادی کو اسی شرط کے نہ ہونے کے ساتھ معلق کر دیا، اور پھر بعد میں اب معلوم نہیں کہ وہ شرط پائی گئی ہے یا شرط نہیں پائی گئی۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں غلام اپنی نصف قیمت کے اندر سعی کرے گا، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام اپنی ساری قیمت کے اندر سعی کرے گا۔ مثلاً زید اور عمرو کے درمیان ایک غلام مشترکہ ہے۔ زید نے کہا کہ اگر خالد کل اس گھر کے اندر گیا تو میرے حصے کا غلام آزاد ہے۔ ایک غلام ہے زید اور عمرو میں مشترکہ ہے۔ زید نے اپنے حصے کی آزادی کو معلق کر دیا خالد کے ایک خاص گھر کے اندر جانے کے ساتھ، کہ اگر کل کے دن میں خالد اس گھر کے اندر گیا تو میرے حصے کا غلام آزاد ہے۔ جبکہ عمرو جو دوسرا شریک ہے اس نے اسی شرط کے نہ ہونے پر اپنے حصے کو معلق کر دیا، عمرو کہتا ہے کہ اگر خالد کل اس گھر کے اندر نہ گیا تو میرا حصہ آزاد ہے۔ اب کل کا دن گزر گیا لیکن یہ پتہ نہ چل سکا کہ خالد اس گھر میں گیا تھا یا نہیں گیا تھا۔ اگر یہ پتہ چل جائے کہ خالد کل اس گھر میں گیا تھا پھر تو زید کا حصہ آزاد ہو جائے گا کیونکہ زید کی شرط پوری ہو گئی، اور اگر یہ پتہ چل جائے کہ خالد کل اس گھر کے اندر نہیں گیا تھا پھر تو عمرو کی شرط پوری ہو گئی تو عمرو کا حصہ آزاد ہو جائے گا، لیکن یہاں یہ پتہ ہی نہیں چل سکتا کہ زید کی شرط پوری ہوئی ہے یا عمرو کی شرط پوری ہوئی ہے۔ تو اس صورت میں شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ غلام نصف قیمت میں سعی کرے گا کیونکہ نصف غلام کا آزاد ہونا تو یقینی ہے۔ ظاہر سی بات ہے گزشتہ کل کے اندر دو چیزوں میں سے ایک تو ضرور ہوئی ہے، یا خالد اس گھر میں گیا ہے یا نہیں گیا تیسری تو کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو نصف غلام تو یقینی طور پر آزاد ہے لہٰذا غلام کا نصف تو آزاد ہو گیا اور نصف کے اندر غلام سعی کرے گا، وہ پیسے کما کر لائے گا اور پھر پورا آزاد ہو جائے گا، یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اپنی پوری قیمت میں سعی کرے گا، ساری قیمت لا کر دے گا اور پھر غلام آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
بھئی دیکھیے! اگر تو شرط کا پتہ چل جاتا ہے تو پھر جس کی شرط پوری ہو گئی اس کے حصے کا غلام آزاد ہو گیا، اس کے حصے کا غلام آزاد ہو جائے گا اور وہ معتق بن جائے گا اور دوسرے شریک کو پھر اختیار ہوگا کہ وہ اپنے حصے کو چاہے تو ویسے ہی آزاد کر دے اور چاہے تو غلام سے سعی کروا لے اور اگر یہ معتق مالدار ہے تو چاہے اس سے ضمان لے لے، تو اگر شرط کا پتہ چل سکے کہ کس کی شرط پوری ہوئی ہے پھر تو مسئلہ آسان ہے، لیکن یہاں صورت یہ ہے کہ شرط کا پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کس کی شرط پوری ہوئی ہے۔ البتہ دونوں میں سے ایک کی شرط پوری ہونا تو یقینی ہے، کسی ایک کی شرط یقیناً پوری ہوئی ہے کیونکہ دونوں نے ایک ہی چیز کے ہونے اور نہ ہونے کی شرط لگائی تھی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ: إِنْ لَمْ يَدْخُلْ فُلَانٌ هَذِهِ الدَّارَ غَدًا فَهُوَ حُرٌّ“ اور اگر دو شریکوں میں سے ایک نے کہا کہ اگر فلاں اس گھر کے اندر کل داخل نہ ہوا تو وہ آزاد ہے یعنی اس کے حصے کا غلام آزاد ہے، ”وَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ دَخَلَ فَهُوَ حُرٌّ“ اور دوسرے نے کہا: اگر فلاں کل اس گھر میں داخل ہوا تو پھر یہ غلام آزاد ہے بھئی، ”فَمَضَى الْغَدُ وَلَا يُدْرَى دَخَلَ أَمْ لَا“ تو کل کا دن گزر گیا اور یہ بات معلوم نہیں ہے کہ فلاں اس گھر میں داخل ہوا تھا یا داخل نہیں ہوا، تو کہتے ہیں: ”عَتَقَ النِّصْفُ“ تو نصف غلام آزاد ہو جائے گا ”وَسَعَى لَهُمَا فِي النِّصْفِ“ اور غلام سعی کرے گا دونوں کے لیے اپنے نصف میں، ”وَسَعَى لَهُمَا فِي النِّصْفِ“ غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا یعنی نصف قیمت کما کر لائے گا اور اس نصف کو دونوں میں تقسیم کر کے دے گا، غلام اپنی نصف قیمت کمائے گا اور اس نصف کا نصف ایک کو دے گا اور نصف دوسرے کو دے گا۔ یہ معنی ہے ”وَسَعَى لَهُمَا فِي النِّصْفِ“ اور غلام دونوں کے لیے سعی کرے گا اپنی نصف قیمت میں۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ“ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَسْعَى فِي جَمِيعِ قِيمَتِهِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اپنی ساری قیمت میں سعی کرے گا۔
امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام اپنی ساری قیمت میں سعی کرے گا، ساری قیمت کما کر لائے گا اور نصف ایک کو دے دے گا اور نصف دوسرے کو دے دے گا اور غلام آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اپنی ساری قیمت میں سعی کرے گا اور ساری قیمت کما کر لائے گا اور نصف ایک شریک کو دے گا اور نصف دوسرے شریک کو دے گا بھئی۔ اب اس کی وجہ کیا ہے؟ تو آگے امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔
بھئی دیکھیے! پہلے دو تین چیزیں سمجھ لیجیے۔
مقضیٌ: مقضیٌ قضی یقضی سے اسم مفعول ہے، مقضیٌ جس کا فیصلہ کیا جائے۔ فیصلہ کرنے والا قاضی: قَضَى يَقْضِي قَضَاءً فَهُوَ قَاضٍ، وَقُضِيَ يُقْضَى قَضَاءً فَذَاكَ مَقْضِيٌّ، تو مقضیٌ اسم مفعول ہے جس کا فیصلہ کیا جائے۔ اب یاد رکھو جب قاضی فیصلہ کرتا ہے تو جو فیصلہ کیا وہ ہے ”مقضی بہ“، جو قاضی نے فیصلہ کیا وہ کیا ہے؟ مقضی بہ، جس چیز کے ساتھ فیصلہ کیا گیا یعنی جو فیصلہ کیا گیا۔ اور جس کے خلاف قاضی فیصلہ کرے اس کو کہتے ہیں ”مقضی علیہ“، دیکھو علیٰ ضرر اور نقصان کے لیے آتا ہے، مقضی علیہ جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا۔ اور ایک ہے ”مقضی لہ“، لام نفع کے لیے آتا ہے، مقضی لہ جس کے لیے فیصلہ کیا گیا، جس کے حق میں فیصلہ کیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مقضی علیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے۔ مقضی لہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے حق میں فیصلہ کیا گیا۔ اور مقضی بہ کسے کہتے ہیں؟ جو فیصلہ کیا گیا۔
تو یہاں پر امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر غلام کی آزادی کو دونوں نے معلق کیا تھا لیکن ایک نے اسی شرط کے ہونے پر اور ایک نے اس شرط کے نہ ہونے پر، اور دونوں میں سے ایک چیز ضرور پائی گئی ہے، کل خالد اس گھر میں گیا تھا یا نہیں گیا تھا دونوں میں سے ایک چیز تو ہو چکی ہے، تو ایک کا حصہ آزاد ہو چکا ہے اور جس کا حصہ آزاد ہو چکا ہے وہ غلام سے سعی نہیں کروا سکتا، وہ غلام سے سعی نہیں کروا سکتا کیونکہ اس کے حصے کی سعی ساقط ہو گئی ہے، لیکن یہاں...
یہاں پر کس کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے، اس کا پتہ ہی نہیں چل سکتا۔ تو قاضی کس کے خلاف فیصلہ کرے؟ قاضی، توجہ ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں نے اپنے حصے کے غلام کی آزادی کو معلق کیا تھا ایک ہی شرط کے ساتھ، ایک ہی چیز کے ساتھ۔ البتہ ایک نے اس کے ہونے پر آزادی کو معلق کیا تھا اور دوسرے نے اس کے نہ ہونے پر۔ تو لہٰذا دونوں میں سے ایک چیز تو ضرور پائی گئی۔ معلوم ہوا ایک کا حصہ آزاد ہو چکا ہے اور دوسرے کے لیے وہ سعی کرے گا غلام، لیکن کس کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے یہ یہاں پتہ ہی نہیں چل سکتا۔ تو معلوم ہوا جس کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے وہ یہاں مجہول ہے۔ یعنی یوں کہو، مقضی علیہ جس کے خلاف فیصلہ ہوگا، مقضی علیہ، کس چیز کا فیصلہ ہوگا؟ کہ اس کے حصے کی سعی ساقط ہو چکی ہے۔ تو وہ مقضی علیہ جس کے حصے کی سعی ساقط ہو چکی ہے وہ یہاں مجہول ہے۔ وہ یہاں مجہول ہے۔ لہٰذا ایک کے خلاف بھی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے۔ جب ایک کے خلاف بھی سعی کے ساقط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تو غلام کو پوری قیمت کے اندر سعی کرنا پڑے گی۔
توجہ ہے؟ پھر سمجھیں، پھر سمجھیں۔ دونوں میں سے ایک کا حصہ آزاد ہو چکا، جس کا حصہ آزاد ہو چکا وہ غلام سے سعی نہیں کروا سکتا، لیکن وہ کون ہے کہ جس کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے وہ مجہول ہے۔ تو وہ شخص جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا اس کے حصے کی سعی ساقط ہونے کا، وہ مجہول ہو گیا۔ پتہ نہیں زید کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے یا عمرو کے؟ تو وہ مقضی علیہ، وہ شخص جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کے حصے کی سعی ساقط ہو چکی ہے وہ یہاں مجہول ہو گیا۔ پتہ نہیں چل رہا وہ زید ہے وہ مقضی علیہ جس کی سعی ساقط ہوئی ہے یا وہ عمرو ہے جس کی سعی ساقط ہوئی ہے، تو مقضی علیہ بسقوط السعایۃ وہ مجہول ہے۔ کون؟ ”مَقْضِيٌّ عَلَيْهِ بِسُقُوطِ السِّعَايَةِ“ وہ جس کے خلاف سعی کے ساقط ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا وہ مجہول ہو گیا۔ جب مجہول ہو گیا تو ایک کے خلاف بھی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب ایک کے خلاف بھی سعی کے ساقط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر اس کو دونوں کے لیے سعی کرنا پڑے گی۔ کیونکہ ایک کے حصے کی بھی سعی ساقط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ مجہول ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَقْضِيَّ عَلَيْهِ بِسُقُوطِ السِّعَايَةِ مَجْهُولٌ“ اس لیے کیونکہ وہ شخص کہ جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا سعی کے ساقط ہونے کا، مجهول وہ مجہول ہے۔ ”وَلَا يُمْكِنُ الْقَضَاءُ عَلَى الْمَجْهُولِ“ اور مجہول شخص کے خلاف تو فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ لِغَيْرِهِ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کسی نے دوسرے سے کہا۔ بھئی، دو آدمیوں نے زید سے کہا، دو آدمی کھڑے ہیں، انہوں نے زید سے کہا کہ اے زید! تمہارا ایک ہزار درہم مجھ پر ہے یا اس ساتھ والے آدمی پر ہے۔ دو آدمیوں نے کیا کہا زید سے؟ کہ تمہارا ایک ہزار درہم یا میرے ذمے ہے یا اس کے ذمے ہے۔ تو اس صورت کے اندر بھی قاضی کسی ایک پر بھی ہزار درہم واجب نہیں کر سکتا، کیونکہ یہاں بھی مقضی علیہ مجہول ہے، جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا، جس پر ہزار درہم لازم کیے جائیں گے وہ مجہول ہو گیا، اور جب مقضی علیہ مجہول ہو تو قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ لِغَيْرِهِ“ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہو گیا جب کسی نے دوسرے سے کہا: ”لَكَ عَلَى أَحَدِنَا أَلْفُ دِرْهَمٍ“ کہ آپ کا ہم دونوں میں سے ایک پر ایک ہزار درہم ہے، ”فَإِنَّهُ لَا يُقْضَى بِشَيْءٍ“ تو یہاں پر کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، ”لِلْجَهَالَةِ“ جہالت کی وجہ سے، کہ مقضی علیہ مجہول ہے۔ تو کہتے ہیں: ”كَذَا هٰذَا“ اسی طرح یہاں پر بھی ہے۔ جیسے وہاں ان دونوں میں سے کسی ایک کے خلاف بھی قاضی ہزار درہم کے واجب ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ مقضی علیہ مجہول ہے، یہاں پر بھی کس کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے تو یہاں پر بھی مقضی علیہ مجہول ہے، کسی ایک کے خلاف بھی قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس کے حصے کی سعی ساقط ہو گئی ہے، اور جب، جب کسی ایک کے حصے کی بھی سعی کے ساقط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر ظاہر سی بات ہے دونوں کے حصے کے اندر اس کو سعی کرنا پڑے گی، غلام کو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ: ”أَنَّا تَيَقَّنَّا بِسُقُوطِ نِصْفِ السِّعَايَةِ“ کہ ہم نے یقین کر لیا نصف سعی کے ساقط ہونے کا۔ بھئی، امام محمد رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ سقوطِ سعی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا دونوں کے لیے غلام کو سعی کرنا پڑے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: نہیں، غلام نصف قیمت میں سعی کرے گا۔ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ دونوں میں سے ایک شرط کا پایا جانا تو یقینی طور پر ہے۔ یا تو خالد کل اس گھر میں گیا ہوگا یا نہیں گیا ہوگا۔ دونوں میں سے ایک چیز تو یقینی ہے۔ جب دونوں میں سے ایک یقینی ہے تو معلوم ہوا غلام کا نصف آزاد ہو چکا ہے۔ غلام کا نصف؟ جب غلام کا نصف آزاد ہو چکا ہے تو پھر غلام پر کیسے اس کی پوری قیمت واجب کی جا سکتی ہے؟ غلام پر تو نصف قیمت ہی واجب کی جا سکتی ہے، نصف قیمت میں وہ سعی کرے گا، پوری قیمت اس پر واجب نہیں کی جا سکتی، اس میں تو غلام بیچارے کا حق باطل ہو رہا ہے بھئی۔ اس کو پوری قیمت کما کر لانا پڑے گی، یہ تو آپ نے اس بیچارے کو بلا وجہ تکلیف میں ڈال دیا، حالانکہ نصف غلام کا آزاد ہونا تو یقینی ہے، کیونکہ دونوں میں سے ایک شرط تو ضرور پوری ہو چکی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا: أَنَّا تَيَقَّنَّا بِسُقُوطِ نِصْفِ السِّعَايَةِ“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ہم نے یقین کر لیا نصف سعی کے ساقط ہونے کا، ”لِأَنَّ أَحَدَهُمَا حَانِثٌ بِيَقِينٍ“ کیونکہ دونوں شریکوں میں سے ایک تو یقینی طور پر حانث ہے، یعنی اس کی شرط پوری ہو چکی ہے، ”وَمَعَ التَّيَقُّنِ بِسُقُوطِ النِّصْفِ“ اور نصف قیمت کے ساقط ہونے کا یقین ہونے کے باوجود، یقین ہونے کے؟ کہتے ہیں: ”وَمَعَ التَّيَقُّنِ بِسُقُوطِ النِّصْفِ كَيْفَ يُقْضَى بِوُجُوبِ الْكُلِّ؟“ اور نصف قیمت کے ساقط ہونے کے یقین ہونے کے باوجود کیسے فیصلہ کیا جا سکتا ہے کل قیمت کے واجب ہونے کا؟ کہ غلام ساری قیمت میں سعی کرے گا۔ نصف کا آزاد ہونا تو یقینی ہے تو پھر غلام کے خلاف کیسے فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ اسے ساری قیمت کما کر لانا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَمَعَ التَّيَقُّنِ بِسُقُوطِ النِّصْفِ كَيْفَ يُقْضَى بِوُجُوبِ الْكُلِّ؟“ اور غلام کی نصف قیمت کے ساقط ہونے کا جب یقین ہے تو پھر غلام کے خلاف پوری قیمت کے واجب ہونے کا فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اور نیز اس کے اندر غلام بیچارے کا حق بھی باطل ہوگا۔ نصف تو اس کا آزاد ہو چکا ہے لیکن آپ پھر بھی فیصلہ کر رہے ہیں کہ اس نصف میں بھی اس کو سعی کرنا پڑے گی بھئی۔
”وَالْجَهَالَةُ تَرْتَفِعُ بِالشُّيُوعِ وَالتَّوْزِيعِ“ اور یہ جہالت جو ہے یہ تو اٹھ جائے گی، ختم ہو جائے گی بالشیوع والتوزیع۔ یاد رکھو شیوع کا معنی ہے، شیوع، شاع يشيع شيوعا، شائع ہونا، پھیلا ہوا ہونا، یعنی مشترکہ ہونا۔ مشترکہ، تو شیوع کا کیا معنی ہے؟ مشترکہ ہونا، یعنی غیر منقسم ہونا۔ والتوزیع، توزیع کا معنی بھی سمجھ لیں: وزع يوزع توزيعا، زا کے ساتھ ہے بھئی، توزیع کا معنی ہے تقسیم کرنا۔ تو شیوع کا معنی مشترکہ ہونا، یعنی جس میں تقسیم نہ ہو، اور توزیع کا معنی تقسیم کرنا۔ تو لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ کو جواب ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، شیخین رحمہما اللہ کی طرف سے۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ یہاں ایک کے حصے کی سعی ساقط ہو گئی ہے لیکن کس کے حصے کی سعی ساقط ہوئی ہے وہ مجہول ہے، کس کے خلاف فیصلہ کیا جائے؟ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا مقضی علیہ وہ مجہول ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر اس جہالت کو دور کیا جا سکتا ہے، وہ اس طرح کہ غلام کا نصف تو یقینی طور پر آزاد ہوا ہے، وہ نصف دونوں کے درمیان اس کو مشترکہ قرار دے دیا جائے۔
بھئی نصف غلام ہے زید کا، نصف غلام ہے عمرو کا، تو اس غلام کا نصف تو آزاد ہو چکا ہے۔ اور کس کا نصف آزاد ہوا ہے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ پتہ نہیں چل سکتا، تو ہم اس جہالت کو یوں دور کریں گے کہ جو نصف غلام آزاد ہوا ہے وہ زید اور عمرو میں مشترکہ قرار دے دیتے ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے زید کا حصہ آزاد ہوا ہے، ہم یہ بھی نہیں کہتے عمرو کا حصہ آزاد ہوا ہے، بلکہ جو حصہ آزاد ہوا ہے وہ دونوں میں مشترکہ اس کو قرار دے دیا جائے۔ معلوم ہوا زید جس نصف کا مالک تھا اس نصف میں سے نصف آزاد ہو گیا ہے، اور عمرو جس نصف کا مالک تھا اس میں سے بھی نصف آزاد ہو گیا ہے۔ تو غلام کا وہ حصہ جو آزاد ہوا ہے وہ دونوں کے درمیان مشترکہ قرار دے دیا جائے تو اب دیکھو مقضی علیہ معلوم ہو گیا۔ مقضی علیہ معلوم ہو گیا، وہ اکیلا زید بھی نہیں اور اکیلا عمرو بھی نہیں بلکہ دونوں ہیں بھئی۔
توجہ ہے؟ جب دونوں کا حصہ تھوڑا تھوڑا آزاد ہوا ہے تو مقضی علیہ معلوم ہو گیا۔ دونوں مقضی علیہ ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا نصف غلام آزاد ہوا، اور یہ جو نصف آزاد ہوا ہے یہ نہ زید کا حصہ ہے نہ عمرو کا، یہ دونوں کے درمیان مشترک ہے۔ اور نصف حصے میں غلام کو سعی کرنا پڑے گی، اور یہ بھی دونوں کا مشترکہ ہوگا، تو جو نصف قیمت لے کر آئے گا وہ، وہ آدھی کس کو دے گا؟ زید کو، اور آدھی کس کو دے گا؟ عمرو۔ تو معلوم ہوا اعتاق میں بھی ہم نے تقسیم کر دی۔ توزیع کا کیا معنی؟ تقسیم۔ یہ یوں کہو، اعتاق میں بھی شرکت تھی، اعتاق، وہ جو آدھا حصہ آزاد ہوا اس میں دونوں شریک ہیں اور پھر ہم نے اس میں تقسیم کر دی، وہ جو آدھا حصہ ہے اس کا نصف زید کی طرف سے آزاد اور نصف عمرو، اور سعی کے اندر بھی ہم نے، سعی بھی جو ہے اس کو بھی ہم نے مشترکہ قرار دے دیا اور پھر اس کی تقسیم کر دی، وہ جو نصف حصے میں سعی کرے گا وہ دونوں کی مشترکہ ہے اور پھر ہم نے اس میں تقسیم کر دی کہ وہ جو نصف قیمت لائے گا اپنی، وہ آدھی زید کو دے گا اور آدھی عمرو کو۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْجَهَالَةُ تَرْتَفِعُ بِالشُّيُوعِ“ اور جہالت جو ہے وہ اٹھ جائے گی بالشیوع، شیوع کے ذریعے کہ اس کو مشترکہ قرار دیا جائے دونوں میں، ”وَالتَّوْزِيعِ“ اور تقسیم کے ذریعے، پھر اس کو تقسیم کیا جائے۔ جو غلام کا نصف حصہ آزاد ہوا وہ دونوں کی طرف سے آزاد ہوا، یہ مشترکہ ہے، اور پھر اس کو کیا کر دیا جائے دونوں میں؟ تقسیم کر دیا جائے، یہ جو آدھا حصہ آزاد ہوا ہے یہ آدھا کس کی طرف سے؟ زید، یعنی ربع غلام زید کی طرف سے آزاد ہوا ہے اور ربع غلام عمرو کی طرف سے آزاد ہوا ہے، اور پھر اپنے نصف حصے کے پیسے وہ کما کر لائے گا۔ تو وہ نصف بھی دونوں میں تقسیم ہوگا، یعنی غلام اپنی ربع قیمت زید کو ادا کرے گا اور اپنی ربع قیمت عمرو کو ادا کرے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالْجَهَالَةُ تَرْتَفِعُ بِالشُّيُوعِ وَالتَّوْزِيعِ“ اور یہ جہالت اٹھ جائے گی شیوع کے ذریعے، یعنی مشترکہ قرار دیتے ہوئے، والتوزیع، اور تقسیم کے ذریعے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جہالت اٹھ گئی۔
اب مقضی علیہ معلوم ہو گئے، کہ سقوطِ سعایت ایک سے سقوطِ سعایت ہے یا دونوں کے حصوں میں سقوطِ سعایت ہے؟ دیکھو نصف غلام زید کا ہے، نصف عمرو کا ہے۔ اور نصف آزاد ہوا ہے، اب اس کا پتہ نہیں چل سکتا یہ زید والا آزاد ہوا ہے یا عمرو والا، تو وہ جو نصف غلام آزاد ہوا ہے یہ مشترکہ ہے دونوں کی طرف سے، اور جب مشترکہ ہے اس کو تقسیم کر دیں گے تو نصف غلام جو آزاد ہوا ہے اس نصف کا نصف زید کی طرف سے آزاد ہوا ہے اور نصف کا نصف عمرو کی طرف سے آزاد ہوا ہے، تو ہم نے تقسیم کر دی۔ جب دونوں کی طرف سے نصف نصف آزاد ہوا ہے تو ان دونوں سے نصف نصف سعی ساقط ہو گئی، تو مقضی علیہ معلوم ہو گئے۔ جہالت اٹھ گئی۔ سعی ساقط ہوئی ہے غلام پر سے نصف کے اندر، لیکن اس نصف کے اندر جہالت آ رہی تھی کس کے خلاف فیصلہ کیا جائے۔ اب وہ فیصلہ ممکن ہو گیا کہ یہ جو نصف سعی غلام سے ساقط ہوئی ہے یہ نصف عمرو کی طرف سے ہے اور نصف زید کی طرف سے سعی ساقط ہوئی ہے، اور جس نصف میں وہ کوشش کرے گا سعی کرے گا وہ بھی نصف نصف ہوگا دونوں کے درمیان۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جہالت کیا ہوئی؟ سقوطِ سعایت کے اندر جو مقضی علیہ مجہول تھا وہ جہالت، وہ جہالت ختم ہو گئی بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَالْجَهَالَةُ تَرْتَفِعُ بِالشُّيُوعِ وَالتَّوْزِيعِ“ اور جہالت جو ہے وہ اٹھ جائے گی بالشیوع، شیوع کے ذریعے مشترکہ قرار دینے سے، والتوزیع، اور تقسیم کرنے سے۔
”كَمَا إِذَا أَعْتَقَ أَحَدَ عَبْدَيْهِ لَا بِعَيْنِهِ أَوْ بِعَيْنِهِ وَنَسِيَهُ وَمَاتَ قَبْلَ التَّذَكُّرِ أَوِ الْبَيَانِ“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ اسی طرح ہے جیسے ایک آدمی اپنے دو غلاموں میں سے غیر معین کو آزاد کرے کہ تم دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ تعین نہیں کی، ایک شخص کے دو غلام ہیں اور اس نے کہا: تم دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ اب ہمیں بیان چاہیے بھئی، اس سے پوچھا جائے گا کہ بتاؤ دونوں میں سے کس کا ارادہ کیا ہے تم نے؟ لیکن وہ بتانے سے پہلے، بیان سے پہلے ہی وہ آدمی مر گیا۔ تو پھر اس صورت میں وہ جو پورا غلام آزاد ہو رہا تھا، یہ دونوں غلاموں میں اس کو تقسیم کر دیں گے، یعنی نصف ایک غلام آزاد شمار کریں گے اور نصف دوسرا آزاد شمار کریں گے، اور دونوں غلام اپنی نصف نصف قیمت میں سعی کریں گے اور کما کر لا کر ادا کریں گے وارثوں کو۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں جیسے یہاں پر ایک آدمی نے کہا اپنے دو غلاموں سے کہ تم دونوں میں سے ایک آزاد ہے، اس کے لیے بیان چاہیے تھا لیکن بیان سے پہلے ہی وہ آدمی مر گیا، تو جیسے اس عتق کو دونوں کے درمیان مشترک قرار دیا گیا اور پھر دونوں میں کیا کر دیا گیا؟ تقسیم کر دیا گیا اور آدھا آدھا حصہ دونوں کا آزاد ہوا، یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔
یا دوسری صورت ہے: ایک آدمی نے اپنے دو غلاموں میں سے ایک معین کو آزاد کر دیا، لیکن بعد میں وہ بھول گیا کہ میں نے ان دونوں میں سے کس کو آزاد کیا تھا، اور یاد آنے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، یاد آنے سے پہلے ہی انتقال ہو گیا۔ اب دونوں میں سے اس نے ایک کو آزاد کیا تھا اور وہ ایک کون سا آزاد ہے پتہ نہیں چل رہا، تو دونوں کے درمیان اس آزادی کو مشترکہ قرار دے دیا جائے گا اور پھر دونوں میں اس کو تقسیم کر دیا جائے گا، تو نصف ایک غلام کا آزاد ہو جائے گا اور نصف دوسرے غلام کا، اور باقی نصف کے اندر دونوں سعی کریں گے اور وارثوں کو لا کر دیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا أَعْتَقَ أَحَدَ عَبْدَيْهِ لَا بِعَيْنِهِ“ یہ اسی طرح ہے جب کسی نے اپنے دو غلاموں میں سے کسی ایک غیر معین کو آزاد کیا، ”أَوْ بِعَيْنِهِ“ یا دو غلاموں میں سے ایک معین کو آزاد کرے، ”وَنَسِيَهُ“ اور بھول جائے، ”وَمَاتَ قَبْلَ التَّذَكُّرِ“ اور وہ مر گیا یاد آنے سے پہلے، ”أَوِ الْبَيَانِ“ یا بیان سے پہلے۔ یاد آنے سے پہلے وہ مر جائے، اس کا تعلق یہ دوسری صورت سے ہے۔ ایک آدمی نے اپنے دو غلاموں میں سے ایک معین کو آزاد کیا لیکن پھر بھول گیا، تو یاد آنے سے پہلے وہ مر گیا، مات قبل التذکر، یاد آنے سے پہلے وہ مر گیا۔ اور آگے ہے: ”أَوِ الْبَيَانِ“، اس بیان کا تعلق وہ پچھلی صورت سے ہے، وہ غیر معین کو آزاد کرنے والی صورت۔ ایک آدمی نے اپنے دو غلاموں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا کہ تم دونوں میں سے ایک آزاد ہے، اب اس کے لیے کیا چاہیے؟ بیان، لیکن بیان سے پہلے ہی وہ مر گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَاتَ قَبْلَ التَّذَكُّرِ أَوِ الْبَيَانِ“ اور وہ یاد آنے سے پہلے یا بیان کرنے سے پہلے وہ مر گیا، تو دونوں غلام ان کا نصف نصف آزاد ہوگا اور نصف کے اندر دونوں سعی کریں گے۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَيَتَأَتَّى التَّفْرِيعُ فِيهِ عَلَى أَنَّ الْيَسَارَ هَلْ يَمْنَعُ السِّعَايَةَ أَوْ لَا يَمْنَعُهَا عَلَى الِاخْتِلَافِ الَّذِي سَبَقَ“ ”وَيَتَأَتَّى التَّفْرِيعُ فِيهِ“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہاں پر تو ہم نے مختصر مسئلہ ذکر کر دیا۔ پھر سنو، مسئلہ کیا ذکر ہوا؟ ایک غلام دو آدمیوں میں مشترکہ ہے، دونوں نے ایک ہی چیز کے ساتھ دونوں نے ان کی آزادی کو معلق کیا، لیکن ایک شخص نے اس چیز کے ہونے پر آزادی کو معلق کیا اور دوسرے نے اس چیز کے نہ ہونے پر آزادی کو معلق کیا، اور پھر بعد میں پتہ نہیں چل رہا کہ کس کی شرط پوری ہوئی ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: نصف غلام ویسے ہی آزاد اور نصف میں وہ سعی کرے گا، اور وہ دونوں کو لا کر ادا کرے گا وہ نصف، اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی پوری قیمت میں سعی کرے گا۔
تو یاد رکھو، آپ نے پڑھا ہے امام صاحب کے نزدیک معتق مالدار ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ شریکِ آخر کیا کر سکتا ہے؟ غلام سے سعی بھی کروا سکتا ہے اور معتق مالدار ہے تو اس سے ضمان بھی لے سکتا ہے۔ اگر معتق تنگدست ہے پھر تو سعی ہی کروائی جائے گی پھر تو ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن اگر معتق مالدار ہے تو ضمان بھی لیا جا سکتا ہے اور غلام سے سعی بھی کروائی جا سکتی ہے۔ جبکہ صاحبین کا مذہب کیا ہے؟ کہ اگر معتق مالدار ہے تو پھر غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی، پھر معتق سے ضمان ہی لیا جائے گا۔ اور اگر معتق تنگدست ہے تو پھر صرف غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔
تو یہاں تو انہوں نے یہ تفصیل بیان نہیں کی، متن میں اور آگے صاحبِ ہدایہ نے تفصیل بیان نہیں فرمائی، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اسی پر اور تفریع بھی ہوتی ہے، یعنی اور صورتیں بھی نکلیں گی، کہ ان دونوں شریکوں کو دیکھا جائے گا کہ دونوں مالدار ہیں یا دونوں تنگدست ہیں یا ایک مالدار ہے اور ایک تنگدست ہے، تو اس کے مطابق جیسے اس ضابطے اور قانون میں اختلاف ہے اسی کے مطابق مسئلے کی صورت بنا لی جائے گی۔ اگر دونوں مالدار ہیں، اگر دونوں مالدار ہیں پھر تو غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ توجہ ہے؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تو مسئلہ پھر بھی اسی طرح رہے گا۔ شیخین ایک طرف تھے نا؟ لیکن اگر دونوں مالدار ہیں پھر شیخین میں بھی آپس میں اختلاف آ جائے گا۔ دونوں شریک مالدار ہیں تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ پھر بھی اسی طرح ہے، کیونکہ معتق مالدار ہو پھر بھی غلام سے سعی کروائی جا سکتی ہے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تو معتق جب مالدار ہو تو غلام سے سعی نہیں کروائی جا سکتی تو پھر ان کے نزدیک غلام سے سعی نہیں کروائی جائے گی، غلام ویسے ہی آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اگر معتق مالدار ہوں تو غلام سے سعی نہیں اور اگر معتق تنگدست ہو تو غلام سے سعی، تو لہٰذا جس طرح اس ضابطے کے اندر اختلاف ہے اس پر اور تفریع بھی اسی مسئلے میں حاصل ہوگی ان ضابطوں کے مطابق بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَتَأَتَّى التَّفْرِيعُ فِيهِ“ اور اس مسئلے کے اندر تفریع حاصل ہوتی ہے، ”عَلَى أَنَّ الْيَسَارَ هَلْ يَمْنَعُ السِّعَايَةَ أَوْ لَا يَمْنَعُهَا“ اس بات پر کہ مالداری جو ہے وہ سعایت کو منع کرتی ہے یا منع نہیں کرتی، ”عَلَى الِاخْتِلَافِ الَّذِي سَبَقَ“ اسی اختلاف پر جو ماقبل میں گزر گیا۔ وہی صورتیں پھر یہاں مزید بن جائیں گی، بات سمجھ میں آ گئی۔
”وَلَوْ حَلَفَا عَلَى عَبْدَيْنِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِأَحَدِهِمَا لَمْ يَعْتِقْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا“ بھئی گزشتہ مسئلے کے اندر دو آدمیوں میں ایک مشترکہ غلام تھا، اور دونوں نے اپنے اپنے حصے کے غلام کی آزادی کو معلق کیا تھا ایک ہی چیز کے ساتھ۔ البتہ ایک نے اس چیز کے ہونے کے ساتھ آزادی کو معلق کیا تھا اور دوسرے نے اس چیز کے نہ ہونے کے ساتھ آزادی کو معلق کیا تھا، اور بعد میں شرط کا پتہ نہیں چل رہا۔ لیکن اب صورت یہ ہے دو آدمی ہیں، دونوں کا اپنا اپنا الگ غلام ہے۔ زید کا اپنا غلام ہے، عمرو کا اپنا غلام ہے۔ زید کہتا ہے کہ اگر خالد کل اس گھر میں گیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ زید نے اپنے غلام کی بات کی ہے، یہ زید کا اپنا غلام ہے یہاں اشتراک نہیں ہے۔ اور عمرو نے اپنے غلام کے بارے میں کہا کہ اگر کل خالد اس گھر میں نہ گیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ اور پھر اگلا دن گزر گیا اور پتہ نہیں چل رہا کہ وہ شرط پائی گئی ہے یا نہیں پائی گئی، تو اس صورت میں دونوں غلاموں میں سے ایک بھی آزاد نہیں ہوگا۔
ایک کی بھی آزادی کا قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا، حالانکہ دونوں چیزوں میں سے ایک کا ہونا یقینی ہے۔ یا تو خالد اس گھر میں گیا ہے یا نہیں گیا، اگر گیا ہے تو زید کی شرط پوری لہٰذا زید کا غلام آزاد ہونا چاہیے، اور اگر نہیں گیا تو عمرو کی شرط پوری لہٰذا عمرو کا غلام آزاد ہونا چاہیے، لیکن کہتے ہیں نہیں، یہاں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر مقضی علیہ بھی مجہول ہے اور مقضی لہ بھی مجہول ہے۔ مقضی علیہ بھی مجہول ہے، مقضی لہ بھی مجہول ہے۔ تو یہاں پر مقضی لہ بھی مجہول ہے اور مقضی علیہ بھی، کس طرح؟ دیکھو بھئی، اگر ہم زید کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کریں کہ زید کا غلام آزاد ہو گیا تو مقضی لہ کون ہوا؟ یہ غلام جس کے حق میں فیصلہ ہوا ہے، زید کا جو غلام ہے۔ اور زید کون ہوا؟ مقضی علیہ۔ توجہ ہے؟ اور اگر ہم عمرو کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کریں تو مقضی لہ عمرو کا غلام ہوا، اور کس کے خلاف فیصلہ ہو گیا؟ عمرو کے خلاف، تو مقضی علیہ کون ہوا؟ عمرو ہوا۔ آقا کے خلاف فیصلہ ہوگا غلام کی آزادی کا، توجہ ہے؟ تو جس غلام کی آزادی کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ہوگا مقضی لہ، اور جس آقا کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ آقا کیا ہوا؟ مقضی علیہ۔
تو یہاں مقضی علیہ بھی مجہول ہے، کس کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کریں، زید کے یا عمرو کے؟ مجہول ہے۔ اور کس غلام کی آزادی کا فیصلہ کریں یعنی کون سا مقضی لہ ہے، وہ بھی مجہول ہے۔ تو مقضی علیہ بھی مجہول اور مقضی لہ بھی مجہول، تو لہٰذا جہالت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ جہالت بہت زیادہ بڑھ گئی لہٰذا یہاں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ پچھلے مسئلے میں، پچھلے مسئلے میں جب دونوں کا مشترکہ غلام تھا، جب دونوں کا مشترکہ غلام تھا وہاں نصف غلام کی آزادی کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ نصف غلام آزاد ہے اور نصف میں کیا کرے گا؟ سعی۔ تو نصف غلام کی آزادی کا فیصلہ کیا گیا تو یہ غلام کیا ہے؟ مقضی لہ ہے، تو وہاں دیکھو مقضی لہ معلوم تھا۔ ایک ہی غلام تھا اسی کے نصف کی آزادی کا فیصلہ کرنا تھا، تو وہ مقضی لہ ہے وہ غلام، اس کے حق میں فیصلہ کیا جا رہا ہے، تو وہاں مقضی لہ معلوم تھا۔ اور مقضی علیہ مجہول تھا لیکن ہم نے وہاں شیوع پر عمل کیا، کس کا حصہ آزاد ہے یہ پتہ نہیں چل رہا تھا تو وہ جو آزاد حصہ ہے وہ ہم نے مشترکہ قرار دے دیا، تو مقضی علیہ بھی کیا ہو گیا؟ معلوم ہو گیا۔ زید اور عمرو دونوں کے خلاف فیصلہ ہے، کسی ایک کے خلاف فیصلہ نہیں۔ تو وہاں مقضی لہ پہلے سے ہی معلوم تھا، ایک ہی غلام تھا اسی کے نصف نے آزاد ہونا تھا۔ البتہ مقضی علیہ مجہول تھا لیکن وہاں ہم نے شیوع اور توزیع پر عمل کیا تو مقضی علیہ بھی معلوم ہو گیا۔
لیکن یہاں پر اس مسئلے کے اندر زید کا اپنا غلام ہے، عمرو کا اپنا غلام ہے۔ اگر ہم زید کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کریں تو یہ زید کا جو غلام ہے یہ مقضی لہ بنے گا اور زید کیا بنے گا؟ مقضی علیہ۔ اور اگر ہم عمرو کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کریں تو عمرو کا غلام مقضی لہ بنے گا اور عمرو کیا بنے گا؟ مقضی علیہ۔ لیکن یہاں پر کس کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کریں یہ طے ہی نہیں ہو سکتا، تو مقضی علیہ بھی مجہول اور مقضی لہ بھی مجہول ہو گیا، تو جہالت زیادہ ہو گئی۔ پچھلے مسئلے میں صرف مقضی علیہ مجہول تھا، مقضی لہ مجہول نہیں تھا، اور یہاں دونوں مجہول ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ حَلَفَا عَلَى عَبْدَيْنِ“ اور جب دونوں نے قسم اٹھائی ”عَلَى عَبْدَيْنِ“ دو ایسے غلاموں پر، یاد رکھیے یہ ”عَبْدَيْنِ“ نکرہ ہے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ یا جملہ فعلیہ آئے تو وہ اس کے لیے صفت بنتا ہے، اور یہاں ”عَبْدَيْنِ“ نکرہ ہے اور اس کے بعد ”كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“ یہ ہے مبتدا اور ”لِأَحَدِهِمَا“ یہ ہے اس کی خبر، تو یہ پورا جملہ اسمیہ آ رہا ہے نکرہ کے بعد تو یہ صفت بنے گا، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں، اب ترجمہ سنیے: کہتے ہیں ”وَلَوْ حَلَفَا“ اور اگر دونوں نے قسم اٹھا لی، یعنی تعلیق کر دی، تعلیق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ یمین اور حلف کہتے ہیں، قسم کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ حَلَفَا“ اور اگر دو آدمیوں نے قسم اٹھا لی ”عَلَى عَبْدَيْنِ“ دو ایسے غلاموں پر کہ ”كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِأَحَدِهِمَا“ کہ دونوں غلاموں میں سے ہر ایک جو ہے ان دونوں میں سے ایک کا ہے، دونوں غلاموں میں سے ایک غلام ایک کا ہے، ”لَمْ يَعْتِقْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا“ تو اس صورت میں ایک بھی غلام آزاد نہیں ہوگا، ”لِأَنَّ الْمَقْضِيَّ عَلَيْهِ بِالْعِتْقِ مَجْهُولٌ“ اس لیے کیونکہ وہ جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا آزادی کا وہ مجہول ہے، جس آقا کے خلاف آزادی کا فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کا غلام آزاد ہو گیا ہے تو وہ مقضی علیہ بالعتق جو ہے وہ یہاں مجہول ہے، ”وَكَذَلِكَ الْمَقْضِيُّ لَهُ“ اور اسی طرح مقضی لہ جو ہے وہ بھی مجہول ہے، کس غلام کی آزادی کا فیصلہ کیا جائے، ”فَتَفَاحَشَتِ الْجَهَالَةُ“ تو جہالت کثیر ہو گئی، جہالت بہت زیادہ ہو گئی، ”فَامْتَنَعَ الْقَضَاءُ“ تو قضا ممتنع ہو گئی، فیصلہ کرنا ممکن نہ رہا۔
”وَفِي الْعَبْدِ الْوَاحِدِ“ اور ایک ہی غلام کے اندر، یعنی پچھلے مسئلے میں، ”وَفِي الْعَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَقْضِيُّ بِهِ مَعْلُومٌ“ اور ایک ہی غلام کے اندر مقضی بہ معلوم تھا، ”فَغَلَبَ الْمَعْلُومُ الْمَجْهُولَ“ تو معلوم جو ہے وہ غالب آ گیا مجہول پر۔ اب لفظ آ گیا: ”الْمَقْضِيُّ بِهِ“، مقضی بہ کسے کہتے ہیں؟ وہ جو قاضی نے فیصلہ کیا۔ تو یہاں تین چیزیں ہیں: ایک مقضی علیہ، ایک مقضی لہ اور ایک مقضی بہ بھئی۔ پھر سنو، مقضی علیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے۔ مقضی لہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے حق میں فیصلہ کیا جائے۔ اور مقضی بہ کسے کہتے ہیں؟ جس کا فیصلہ کیا جائے، وہ جو قاضی نے فیصلہ کیا۔
تو پچھلے مسئلے میں ایک ہی غلام تھا اور شیخین رحمہما اللہ نے کیا فرمایا تھا؟ اس غلام کا نصف آزاد ہے اور نصف میں کیا کرے گا؟ سعی۔ تو نصف غلام کا آزاد ہونا یہ ہے مقضی بہ، اور یہ معلوم ہے۔ مشترکہ غلام ہے تو نصف آزاد ہو جائے گا اور نصف میں کیا کرے گا؟ سعی۔ تو نصف غلام کی آزادی وہ تھا مقضی بہ، اور مقضی لہ بھی معلوم تھا کیونکہ ایک ہی غلام تھا اسی کے نصف نے آزاد ہونا تھا، مقضی بہ بھی معلوم اور مقضی لہ بھی معلوم، اور تیسری چیز جو تھی مقضی علیہ یعنی جس کے خلاف فیصلہ ہونا تھا وہ مجہول تھا بھئی۔ تو کل تین چیزیں تھیں وہاں پر بھئی: ایک مقضی علیہ، ایک مقضی لہ، ایک مقضی بہ۔ ان تین میں سے مقضی علیہ مجہول تھا، کس کے خلاف فیصلہ کیا جائے؟ البتہ مقضی لہ کس کے حق میں فیصلہ کیا جا رہا ہے وہ بھی معلوم ہے کہ ایک ہی غلام ہے اسی کے حق میں فیصلہ ہو رہا ہے، اور مقضی بہ کس چیز کا فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ اس کا نصف آزاد ہو چکا ہے تو وہ مقضی بہ بھی معلوم ہے۔ تو تین چیزوں میں سے ایک چیز مجہول ہے مقضی علیہ، اور دو چیزیں معلوم ہیں، تو معلوم چیزیں زیادہ ہوئیں یعنی ایک مقضی لہ اور ایک مقضی بہ، وہ زیادہ ہوئیں تو وہ جو زیادہ تھیں وہ جو معلوم تھیں وہ مجہول پر غالب آ گئیں، اور ایک مقضی علیہ معلوم نہیں تھا وہ مقضی علیہ وہاں پر بھی ہم نے شیوع اور توزیع پر عمل کر دیا کہ یہ جو نصف غلام آزاد ہوا ہے یہ زید اور عمرو دونوں کی طرف سے مشترکہ طور پر آزاد ہوا ہے، اور اسی طرح جو سعی کرے گا وہ بھی دونوں کے حصے میں مشترکہ ہوگی بھئی۔ تو وہاں ہم نے شیوع اور توزیع پر عمل کر لیا تو وہ مجہول بھی کیا بن گیا؟ معلوم ہو گیا۔ تو دو چیزیں پہلے ہی معلوم تھیں، ایک چیز مجہول تھی، تو یہ معلوم چیزیں زیادہ تھیں یہ مجہول چیز پر غالب آ گئیں لہٰذا فیصلہ کرنا ممکن ہو گیا۔ دو چیزیں معلوم تھیں اور ایک چیز کیا تھی؟ مجہول، تو زیادہ چیزیں معلوم ہیں وہ اس ایک مجہول پر یہ غالب آ گئیں اور وہاں پر فیصلہ کرنا ممکن ہو گیا۔
لیکن یہاں پر اس مسئلے کے اندر مقضی علیہ جو ہے وہ بھی مجہول ہے، مقضی لہ وہ بھی مجہول ہے، ہاں مقضی بہ معلوم ہے۔ مقضی بہ؟ بھئی دیکھیے، زید کا اپنا غلام ہے، عمرو کا اپنا غلام ہے۔ اگر زید کے غلام کی آزادی کا فیصلہ کیا جائے تو زید بن جائے گا مقضی علیہ اور زید کا غلام وہ مقضی لہ، اور اگر عمرو کے خلاف فیصلہ کیا جائے اور اس کے غلام کی آزادی کا حکم دیا جائے تو عمرو کیا بن جائے گا؟ مقضی علیہ، اور عمرو کا غلام کیا بن جائے گا؟ مقضی لہ۔ تو لہٰذا یہاں مقضی علیہ زید ہے یا عمرو ہے؟ پتہ ہی نہیں چل رہا۔ اور نیز مقضی لہ جو ہے وہ زید کا غلام ہے یا عمرو کا غلام ہے؟ پتہ ہی نہیں چل رہا۔ تو مقضی علیہ بھی مجہول، مقضی لہ بھی مجہول، ہاں مقضی بہ معلوم ہے، فیصلہ کیا کرنا ہے؟ ایک غلام کی آزادی کا۔ فیصلہ کیا کرنا ہے؟ ایک غلام کی آزادی کا فیصلہ کرنا ہے، تو مقضی بہ ایک چیز تو معلوم ہے لیکن دو چیزیں مقضی علیہ اور مقضی لہ معلوم نہیں، وہ مجہول ہیں۔ تو یہاں پر جو ہے معلوم مجہول پر غالب نہیں آ سکتا کیونکہ معلوم کم ہیں اور مجہول چیزیں زیادہ ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جی، پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَقْضِيَّ عَلَيْهِ بِالْعِتْقِ مَجْهُولٌ“ اس لیے کیونکہ وہ جس کے خلاف آزادی کا فیصلہ کیا جائے گا وہ مجہول ہے، ”وَكَذَلِكَ الْمَقْضِيُّ لَهُ“ اور اسی طرح مقضی لہ جو ہے یعنی جس غلام کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا وہ بھی مجہول ہے، ”فَتَفَاحَشَتِ الْجَهَالَةُ“ تو جہالت جو ہے وہ کثیر ہو گئی، ”فَامْتَنَعَ الْقَضَاءُ“ تو فیصلہ کرنا ممکن نہ رہا، ”وَفِي الْعَبْدِ الْوَاحِدِ“ اور ایک ہی غلام کے اندر، یعنی جو پچھلے مسئلے میں مشترکہ غلام تھا، کہتے ہیں: ”وَفِي الْعَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَقْضِيُّ بِهِ مَعْلُومٌ“ اور ایک غلام کے اندر مقضی بہ معلوم تھا، ”فَغَلَبَ الْمَعْلُومُ الْمَجْهُولَ“ تو معلوم مجہول پر غالب آ گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں پر تین چیزوں میں سے دو معلوم تھیں اور ایک مجہول، لہٰذا وہاں فیصلہ ممکن تھا۔ اور یہاں تین چیزوں میں سے ایک معلوم ہے اور دو مجہول، لہٰذا یہاں فیصلہ ممکن نہیں تو یہ غلام اسی طرح غلام رہیں گے۔ دونوں میں سے ایک کی بھی آزادی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
چلیے بس کریں، بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔