اگے سبق دیکھیے بھئی:
﴿بَابُ الْعَبْدِ يُعْتَقُ بَعْضُهُ﴾
﴿وَإِذَا أَعْتَقَ الْمَوْلَى بَعْضَ عَبْدِهِ عَتَقَ ذٰلِكَ الْقَدْرُ وَيَسْعَى فِي بَقِيَّةِ قِيمَتِهِ لِمَوْلَاهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: يَعْتِقُ كُلُّهُ. وَأَصْلُهُ أَنَّ الْإِعْتَاقَ يَتَجَزَّأُ عِنْدَهُ فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَا أَعْتَقَ، وَعِنْدَهُمَا لَا يَتَجَزَّأُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى﴾۔
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر طلاق کا لفظ اعتاق کے لیے استعمال کیا جائے تو ہمارے نزدیک اس سے وہ باندی آزاد نہیں ہوگی۔ مثلاً آقا اپنی باندی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یا ”أَنْتِ بَائِنٌ“ یا ”تَخَمَّرِي“ وغیرہ، یعنی طلاق کا کوئی صریح لفظ استعمال کرتا ہے یا طلاق کا کوئی کنایہ استعمال کرتا ہے اور نیت کرتا ہے آزادی کی، تو ہمارے نزدیک اس سے وہ باندی آزاد نہیں ہوگی۔
البتہ اگر اس کا برعکس ہو، یعنی اعتاق والا لفظ ذکر کیا جائے اور اس کے ذریعے طلاق کا ارادہ کیا جائے، مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ اور نیت کرتا ہے طلاق کی، تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ معلوم ہوا اعتاق کے ذریعے طلاق کا ارادہ تو صحیح، لیکن طلاق کے لفظ کے ذریعے اعتاق کا ارادہ صحیح نہیں ہے۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا لفظ بولا جائے اور اعتاق کا ارادہ کیا جائے تو یہ صحیح ہے اور وہ غلام یا باندی آزاد ہو جائے گی۔ وہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا لفظ جو ہے وہ اعتاق کا احتمال رکھتا ہے، اس لیے کیونکہ ملک یمین اور ملک نکاح دونوں ایک دوسرے جیسی ہیں، دونوں میں مناسبت موجود ہے اور طلاق اور اعتاق اسی ملکیت کو ختم کرنے کا نام ہے، اس کو ساقط کرنے کا نام ہے۔ معلوم ہوا طلاق بھی اسقاط کا نام ہے اور اعتاق بھی اسقاط کا نام ہے اور اسی وجہ سے چونکہ اعتاق بھی اسقاط کا نام ہے اس لیے اس کو شرط کے ساتھ معلق کرنا بھی جائز ہے، اس لیے کیونکہ ضابطہ ہے کہ جو اسقاط ہوتا ہے جس میں ایک چیز کو ساقط کیا جاتا ہے تو اسقاط کو تو معلق کرنا جائز ہے شرط کے ذریعے، لیکن اثبات جو ہے یعنی جس میں ملکیت کو ثابت کیا جائے اس کو شرط کے ساتھ معلق کرنا جائز نہیں، اور اے احناف! آپ کے نزدیک بھی اعتاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا جائز ہے، معلوم ہوا اعتاق اسقاط کا نام ہے۔ تو طلاق بھی اسقاط اور اعتاق بھی اسقاط، اور جب اعتاق بول کر طلاق کا ارادہ کیا جا سکتا ہے تو طلاق بول کر اعتاق کا ارادہ بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ دونوں میں مناسبت موجود ہے اور مناسبت یہ باب مفاعلہ ہے، یہ جانبین سے فعل چاہتا ہے، تو جب اعتاق کی مناسبت ہے طلاق کے ساتھ تو اسی طرح پھر طلاق کی بھی مناسبت ہے اعتاق کے ساتھ۔
جبکہ ہم کہتے ہیں کہ اعتاق جو ہے وہ قوت ثابت کرنے کا نام ہے، غلام کو پہلے تصرفات کی اجازت نہیں تھی، اس کو کسی قسم کی ولایت حاصل نہیں تھی، لیکن جب وہ آزاد ہوتا ہے تو اس میں قوت ثابت ہو جاتی ہے، تو معلوم ہوا اعتاق اثبات قوت کا نام ہے، جبکہ طلاق وہ رفع قید کا نام ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعتاق کی وجہ سے غلام تصرفات کا اہل ہو جاتا ہے لیکن یہ اس وجہ سے نہیں کہ اعتاق کی وجہ سے اس میں قوت ثابت کر دی گئی، بلکہ یہ تو وہ انسان ہے انسان ہے اور وہ مکلف ہے اور اس کے اندر صلاحیت موجود تھی، البتہ ایک مانع آگیا تھا کہ یہ غلام تھا اس لیے یہ تصرفات نہیں کر سکتا تھا، تو جب اعتاق آیا تو وہ مانع دور ہوگیا، تو یہ جو اعتاق ہے اس کے ذریعے قوت ثابت نہیں ہوئی بلکہ اسقاط ہوا ہے، وہ مانع دور ہو گیا۔
تو ہم کہتے ہیں نہیں، اعتاق جو ہے وہ اثبات قوت کا نام ہے اور طلاق جو ہے وہ رفع قید کا نام ہے۔ غلام کو جب آزاد کریں تو اس میں تصرفات کی قوت آجاتی ہے جو اس میں پہلے نہیں تھی، جبکہ اس کے برخلاف منکوحہ جب اس کو طلاق دی جائے تو اس میں تصرف کی قوت پہلے سے موجود تھی، صرف ایک نکاح کا مانع آگیا تھا، طلاق سے وہ مانع چلا گیا، تو معلوم ہوا طلاق جو ہے وہ اظہار قوت کا نام ہے جبکہ اعتاق اثبات قوت کا نام ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ اثبات قوت وہ زیادہ قوی ہے، اس میں ایک ایسی چیز ثابت کی جاتی ہے جو پہلے اس کے لیے ثابت نہیں تھی، اور مجاز کے لیے ضروری ہے کہ لفظ کو آپ جس مجازی معنی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ حقیقی معنی سے زیادہ قوی نہیں ہونا چاہیے۔ تو ہم نے بتا دیا کہ اعتاق وہ زیادہ قوی ہے طلاق کے مقابلے میں، لہٰذا آپ طلاق کے لفظ کو مجازاً اعتاق کے لیے استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ ورنہ تو مجازی معنی زیادہ قوی ہو جائے گا حقیقی معنی کے مقابلے میں۔
تو یہ پہلا جواب تو انکاری تھا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے اعتاق بھی اسقاط کا نام ہے، لیکن ہم نے کہا نہیں، اعتاق جو ہے وہ اثبات قوت کا نام ہے، قوت ثابت کرنا۔
دوسرا جواب تسلیمی دیا کہ آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے، اعتاق بھی اسقاط کا نام ہے لیکن ایک ہے ملک یمین اور ایک ہے ملک نکاح، ان کے اندر ملک یمین زیادہ قوی ہے کیونکہ ملک یمین کے ضمن میں ملک متعہ بھی حاصل ہو جاتی ہے، جبکہ اس کے برعکس کہ ملک نکاح کے ذریعے ملک یمین حاصل ہو جائے ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا ملک یمین زیادہ قوی ہے ملک نکاح کے مقابلے میں، تو جب ملک یمین زیادہ قوی ہے تو اس کا اسقاط یعنی اس کو ساقط کرنا بھی زیادہ قوی ہوگا، معلوم ہوا اعتاق زیادہ قوی ہے اور طلاق اس سے ادنیٰ ہے، قوت کے اندر اس سے ادنیٰ ہے، اور ضابطہ ہے کہ لفظ کو مجازی معنی میں اسی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب وہ مجازی معنی حقیقی معنی سے زیادہ قوی نہ ہو بھئی۔ تو اعتاق جو ہے وہ زیادہ قوی ہے طلاق کے مقابلے میں، لہٰذا اعتاق کو تو طلاق کے لیے مجازاً استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن طلاق کو مجازاً اعتاق کے لیے یعنی زیادہ قوی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ کسی شخص نے اپنے غلام سے کہا: ”أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ“، تو آزاد آدمی جیسا ہے، تو اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ مثل کا لفظ بعض صفات میں تشبیہ دینے کے لیے آتا ہے۔ بعض صفات میں تشبیہ دینے کے لیے آتا ہے، تمام صفات میں تشبیہ مقصود نہیں ہوتی بلکہ بعض صفات میں تشبیہ مقصود ہوتی ہے، تو یہاں پر اس غلام کو تشبیہ دی ہے آزاد آدمی کے ساتھ، اب معلوم نہیں کس صفت میں تشبیہ دی ہے، بہادری کے اندر تشبیہ دی ہے، سخاوت کے اندر تشبیہ دی ہے یا حریت کے اندر تشبیہ دی ہے کہ جیسے وہ آزاد ہے تو بھی آزاد ہے، تو یہاں پر حریت کے اندر شک آگیا، تو اس کا غلام ہونا تو یقینی تھا لیکن حریت میں شک آگیا، اور ضابطہ ہے: ”اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ“ کہ یقینی چیز یقینی کے ذریعے ہی ختم ہو سکتی ہے، لہٰذا یہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور اسی طرح اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”مَا أَنْتَ إِلَّا حُرٌّ“، کہ تو آزاد ہی ہے، تو اس کے اندر بھی آزادی ثابت ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ نفی سے جو استثناء ہے وہ بھی دراصل ایک چیز کا اثبات کیا جاتا ہے اس میں اور اس میں تاکید بھی ہوتی ہے۔ ایک یوں کہے کہ تو آزاد ہے، اور ایک یوں کہے کہ تو آزاد ہی ہے، تو دیکھو اس میں زور زیادہ ہے، اس میں تاکید زیادہ ہے۔
اور اسی طرح اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”رَأْسُكَ رَأْسُ حُرٍّ“، تیرا سر آزاد آدمی کے سر جیسا ہے، تو اس سے بھی غلام آزاد نہیں ہوگا کیونکہ یہ بھی دراصل تشبیہ ہی ہے، البتہ حرفِ تشبیہ یہاں محذوف ہے، اصل کلام یوں ہے: ”رَأْسُكَ كَرَأْسِ حُرٍّ“ یا ”مِثْلُ رَأْسِ حُرٍّ“، تو لہٰذا یہاں حرفِ تشبیہ جو ہے محذوف ہے، لہٰذا اس سے غلام آزاد نہیں ہوگا کیونکہ پتہ نہیں کس چیز میں تشبیہ دے رہا ہے، سخاوت وغیرہ میں تشبیہ دے رہا ہے یا آزادی میں تشبیہ دے رہا ہے۔ اور اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”رَأْسُكَ رَأْسٌ حُرٌّ“، تیرا سر جو ہے آزاد سر ہے، تو پھر غلام آزاد ہو جائے گا کیونکہ رأس کا لفظ عربی زبان میں پوری ذات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس رأس کی صفت ”حُرٌّ“ وہ لے کر آیا ہے، آزاد سر یعنی آزاد ذات، تیری ذات آزاد ذات ہے، تو اس سے غلام آزاد ہو جائے گا۔
اس کے بعد پھر اگلی فصل ہم نے شروع کی تھی اور اس کے اندر میں نے آپ کو بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ غیر اختیاری اعتاق کو ذکر کریں گے۔ مثلاً کوئی شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنتا ہے تو وہ مالک بنتے ہی اگلے ہی لمحے میں وہ رشتہ دار آزاد ہو جائے گا، تو یہ دیکھو غیر اختیاری اعتاق ہے۔
تو اس سلسلے میں متن میں آیا تھا: ﴿وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ﴾، اور جو شخص مالک ہوا ایسے رشتہ دار کا جو اس کا محرم بھی ہو تو اس پر آزاد ہو جائے گا۔ اور نیز دوسری حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ فَهُوَ حُرٌّ“، جو اپنے ایسے قریبی رشتہ دار کا مالک بنا جو اس کا محرم بھی ہو تو وہ آزاد ہے۔ تو یہ لفظ عام ہیں، یہ حدیث کے الفاظ عام ہیں، معلوم ہوا جو بھی قریبی رشتہ دار ہے اور محرم بھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گا۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ان دونوں کے درمیان یہ آقا اور مملوک کے درمیان ولادت والا رشتہ ہو پھر تو یہ مملوک آزاد ہوگا ورنہ آزاد نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مالک کی مرضی کے بغیر غلام آزاد ہوتا ہے یہ خلافِ قیاس ہے۔ یہ خلافِ قیاس ہے اور جو چیز خلافِ قیاس ہو اس پر دوسری چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، یا یہ کہ قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ شارحین فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ نے یہ جو فرمایا کہ قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا، اس سے مراد دلالۃ النص ہے۔ دلالۃ النص میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دلالۃ النص اس علت کا نام ہے جو نص سے معلوم ہو اور جس کو عربی زبان جاننے والا ہی معلوم کر لیتا ہے، وہاں کسی اجتہاد اور استنباط کی ضرورت نہیں۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ﴾، والدین کو اف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اب عربی زبان جاننے والا بھی سمجھ لیتا ہے کہ یہ اف، یہ تو وہ کلمہ ہے جب انسان تنگ آجائے تنگ آجائے تو اس وقت اف کلمہ بولتا ہے، تو یہاں اف کہنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اس سے والدین کو تکلیف ہوگی، یہاں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں، یہاں کسی استنباط کی ضرورت نہیں، ہر عربی زبان جاننے والا اس علت کو سمجھ لیتا ہے۔ اس حکم کی علت کو ہر عربی زبان جاننے والا سمجھ لیتا ہے، تو اس علت کو دلالۃ النص کہیں گے، اور یہ علت جہاں پائی جائے گی وہاں وہ حکم بھی آجائے گا۔ تو جیسے والدین کو اف کہنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے والدین کو تکلیف ہوگی، تو اسی طرح ہر وہ عمل جس سے والدین کو تکلیف ہو وہ ممنوع ہوگا، مثلاً ان کو گالی دینا یا ان کو مارنا ان کی پٹائی کرنا، اس میں تو اف کہنے سے بھی زیادہ تکلیف ہے، تو جب اف کہنا منع ہے تو گالی دینا یا ان والدین کو مارنا بطریقِ اولیٰ منع ہوگا بھئی۔
یا میں نے اس کی دوسری مثال ذکر کی تھی، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾، کہ جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف یعنی نماز کی طرف کوشش کرو، اس کی تیاری کرو اور بیع کو چھوڑ دو۔ چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں کہ جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو پھر بیع جو ہے بیع کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔ بیع کرنا مکروہِ تحریمی ہے، حرام قرار نہیں دیا اس لیے کیونکہ بیع اپنی ذات کے اعتبار سے ایک جائز عقد ہے، یہاں جو اس کے اندر ممانعت آ رہی ہے وہ اس کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ایک اور وجہ سے ہے اور وہ یہ کہ اس کی وجہ سے سعی الی الجمعہ میں خلل آئے گا، جمعہ کی تیاری کے اندر خلل اور خرابی آئے گی، تو لہٰذا اذانِ جمعہ کے وقت یا اس کے بعد جو بیع کی جائے گی وہ مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ سعی الی الجمعہ کے اندر خلل آئے گا۔ تو عام عربی زبان جاننے والا بھی اس علت کو سمجھ لیتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد سعی سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اس سے خلل آئے گا، تو یہ دلالۃ النص ہے، لہٰذا جہاں پر بھی یہ علت پائی جائے گی یعنی جس چیز کی وجہ سے بھی جمعہ کی سعی میں خلل آئے گا وہ ممنوع ہوگی۔ لیکن اگر ایسی بیع کی جائے کہ جس کی وجہ سے جمعہ کی سعی میں خلل نہ آئے تو پھر اس میں کوئی خرابی نہیں ہے، وہ بیع جائز ہے۔ مثلاً ایک شخص جمعہ کی نماز کے لیے سواری کے اندر گاڑی وغیرہ میں جا رہا ہے یا کشتی میں جا رہا ہے اور اس دوران وہ بیع کرتا ہے، تو اس بیع سے تو جمعہ کی سعی میں کوئی خلل نہیں آ رہا، لہٰذا یہ بیع جائز ہوگی بھئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی تھی، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مالک کی رضامندی کے بغیر آزادی ثابت ہوتی ہے غلام کے اندر، یہ خلافِ قیاس ہے، لہٰذا اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، اور یا یہ کہ قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا یعنی دلالۃ النص کے ذریعے بھی اور چیزوں کو اس کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ یہ جو ولادت والا رشتہ ہے یہ سب سے قوی درجے کا رشتہ ہے، جبکہ بھئی بہنوں کے ساتھ یا چچا یا ماموں کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ بھی اگرچہ قریبی رشتہ دار بھی ہیں محرم بھی ہیں، لیکن ولادت کے رشتے سے یہ رشتہ کم درجے کا ہے۔ تو لہٰذا جب یہ کم درجے کا ہے تو قیاس کے ذریعے بھی اس کو ولادت والے رشتوں کا حکم نہیں دیا جا سکتا، اور دلالۃ النص کے ذریعے بھی اس کو ولادت والے رشتوں کا حکم نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ قیاس میں بھی ایک جیسی چیز کو دوسری چیز پر قیاس کیا جاتا ہے اور دلالۃ النص کے اندر بھی اسی جیسی چیز کو وہ حکم دیا جاتا ہے، جبکہ یہاں پر یہ جو بھئی اور چچا یا ماموں وغیرہ کا رشتہ ہے، یہ رشتہ ولادت کے رشتے سے کم درجے کا ہے تو یہ اس ولادت والے رشتے جیسا نہیں۔
اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ ولادت والے اور غیر ولادت والے رشتوں میں فرق ہے، چنانچہ اسی لیے اے احناف! آپ کے نزدیک بھی مکاتب اگر اپنے باپ یا بیٹے وغیرہ کو خرید لے تو ان کے اندر ولادت والا رشتہ ہے، لہٰذا یہ باپ اور بیٹا بھی عقدِ کتابت میں داخل ہو جائیں گے اور اب مکاتب کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کو بیچ دے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر مکاتب جو ہے وہ اپنے بھئی کو خرید لے تو بھئی کے ساتھ غیر ولادت والا رشتہ ہے، لہٰذا بھئی اس پر مکاتب نہیں بنے گا اور مکاتب اس کو بیچنا چاہے تو بیچ سکتا ہے۔ معلوم ہوا ولادت کا رشتہ اور غیر ولادت کا رشتہ دونوں میں فرق ہے بھئی۔
اس کے بعد ہماری دلیل آئی تھی، ہماری دلیل ایک تو وہ حدیث ہے جو اوپر ذکر ہوگئی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“، جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ اور نیز اس لیے کیونکہ ایسی قرابت جو محرمیت کے اندر مؤثر ہے، یعنی ایسا رشتہ، ایسا قریبی رشتہ کہ جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کا محرم بن جائے، یہ مؤثر ہے اصل میں اس کے اندر، اس کی علت یہ ہے، لہٰذا اس قسم کے غلام کا جیسے ہی کوئی مالک بنے گا وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ ولادت والا رشتہ اس کا اعتبار نہیں، وہ غیر مؤثر ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ یہ قریبی محرم رشتہ داری جو ہے یہی وہ رشتہ داری ہے کہ جس کا شریعت نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جس کے توڑنے سے شریعت نے منع کیا ہے، اور اسی کی وجہ سے نفقہ بھی واجب ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے نکاح بھی حرام ہوتا ہے، معلوم ہوا یہی محرمیت والی قرابت ہی مؤثر ہے بھئی۔
اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب دیا تھا کہ مکاتب جب اپنے بھئی کو خریدتا ہے تو وہ اس پر مکاتب نہیں بنتا اس لیے کیونکہ مکاتب کو کامل ملکیت حاصل نہیں ہوتی جو اسے آزادی پر بھی قادر بنا دے۔ میں نے آپ کو بتلایا مکاتب کو مال جمع کرنے کی تو اجازت ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو آزاد کروائے لیکن مال کو ضائع کرنے کی اس کو اجازت نہیں ہے۔ وہ غلام یا باندی کو آزاد کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، یہ اجازت آپ کو نہیں ہے، آپ مال کما کر لائیں، آقا کو ادا کریں اور اپنے آپ کو آزاد کروائیں۔ تو لہٰذا مکاتب جو ہے اس کی ملکیت تام نہیں، وہ آزاد کرنے کا اہل ہی نہیں ہے، جبکہ ہمارا مسئلہ تو اس آدمی کے بارے میں چل رہا ہے جو آزاد کرنے کا اہل ہے، وہی جب قریبی رشتہ دار کا مالک بنے گا تو وہ اس پر آزاد ہوگا، اگر اس میں اہلیت ہی نہیں ہے تو پھر کیسے آزاد ہوگا بھئی؟
اور باقی وہ جو ولادت والے رشتے ہیں وہ مکاتب پر اس کے عقدِ کتابت میں داخل ہو جائیں گے، وجہ یہ کہ وہ کتابت کے مقاصد میں سے ہیں۔ کتابت کا مقصد کیا ہے؟ اپنے آپ کو آزاد کروانا تاکہ وہ غلام اپنے آپ سے عار اور شرم کو دور کر لے، اور انسان جس طرح اپنی غلامی پر عار محسوس کرتا ہے اسی طرح اپنے اصول و فروع کی غلامی پر بھی عار محسوس کرتا ہے، لہٰذا اپنے اصول و فروع جو ہیں یعنی جن کے ساتھ ولادت والا رشتہ ہے وہ بھی عقدِ کتابت میں داخل ہو جائیں گے کیونکہ کتابت کے عقد کا مقصد کیا ہے؟ اپنے آپ کو عار سے نجات دلانا، اور جس طرح خود غلام ہو تو وہ اس کے لیے عار کا باعث ہوتا ہے اسی طرح اپنے اصول و فروع کا غلام ہونا بھی عار کا باعث ہے، تو لہٰذا یہ جو ولادت والے رشتے ہیں یہ بھی خود بخود اس عقدِ کتابت میں داخل ہو جائیں گے کیونکہ یہ کتابت کے مقاصد میں سے ہیں۔
صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ہم امام شافعی رحمہ اللہ کی بات کا انکار بھی کر سکتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ نے تو ہمیں کہا تھا کہ ولادت والا رشتہ دار جو ہے وہ مکاتب اس کو خریدے گا تو وہ بھی مکاتب بن جائے گا لیکن مکاتب اگر اپنے بھئی کو خریدے گا وہ مکاتب نہیں بنے گا، تو ہم اس کا انکار بھی کر سکتے ہیں کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے، کیونکہ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ بھئی بھی مکاتب بن جائے گا، اور صاحبین کا مذہب بھی یہی ہے، لہٰذا ہم امام شافعی رحمہ اللہ کی بات کا انکار بھی کر سکتے ہیں۔
جبکہ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص اپنے چچا کی بیٹی کا مالک بنا، اب چچا کی بیٹی قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں ہے، چاہے اس کے ساتھ رضاعت کی وجہ سے ہی محرمیت والا رشتہ کیوں نہ ہو پھر بھی یہ آزاد نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ وہ جو محرمیت ہے وہ اس قریبی رشتے کی وجہ سے آنی چاہیے کسی اور سبب سے نہیں، اور چچا کی بیٹی جو ہے وہاں تو ویسے اس رشتے کی وجہ سے محرمیت نہیں ہے، وہ تو رضاعت کی وجہ سے محرمیت آ رہی ہے۔
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ بچہ اور مجنون بھی اس آزادی کے اہل ہیں کیونکہ اس میں حق العبد ہے، ایک بندے کا دوسرے بندے پر حق ہے، شریعت نے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، تو ایک قریبی رشتہ دار کا دوسرے قریبی رشتہ دار پر یہ حق ہے کہ وہ اس کا مالک بنے تو یہ آزاد ہو جائے، تو لہٰذا یہ جو آزادی ہے اس کے ساتھ حق العبد یعنی بندے کا حق متعلق ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے نفقہ۔ غلام اور مجنون جو ہیں اگر یہ مالدار ہیں اور ان کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار جو ہے وہ وہ فقیر ہے محتاج ہے، تو پھر اس صورت میں یہ بچے یا مجنون کے مال میں سے اس کا نفقہ واجب کیا جائے گا، تو یہاں پر بھی بچہ اور مجنون بھی ایسے غلام کے مالک بن جائیں جو ان کا قریبی محرم رشتہ دار ہے تو وہ بھی آزاد ہو جائیں گے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ بتلایا کہ اگر کسی شخص نے کسی غلام کو آزاد کیا اللہ کی رضا کے لیے یا اس نے شیطان کا نام ذکر کیا یا اس نے بت کا نام ساتھ ذکر کیا، تو تمام صورتوں میں غلام آزاد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ ایک عاقل، بالغ، آزاد شخص اپنی ملکیت کے اندر اعتاق والا تصرف کر رہا ہے تو وہ نافذ ہو جائے گا۔
اور اگر اسی طرح کسی شخص پر زبردستی کی گئی، کسی نے تلوار نکالی کہ تم اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں یا تمہارا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہوں، تو اس شخص نے اپنے غلام یا باندی کو آزاد کر دیا، تو یہ غلام یا باندی آزاد ہو جائے گا، کیونکہ اس شخص نے اپنے اختیار سے ان کو آزاد کیا ہے، یہ دو تکلیفوں میں مبتلا ہوا تھا، ایک طرف اس کی جان جا رہی تھی یا اس کا عضو جا رہا تھا اور دوسری طرف غلام یا باندی جا رہے ہیں، اس نے اپنے اختیار سے ہلکے نقصان کو اختیار کر لیا۔
اور نیز اگر اسی طرح کوئی مدہوش ہے نشے میں، انتہا درجے کا مدہوش ہے، اسے زمین اور آسمان کا بھی پتہ نہیں چل رہا، تو یہ بھی اگر اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرے گا تو وہ آزاد ہو جائیں گے۔ اگرچہ اس کی عقل زائل ہے اور جس شخص کی عقل زائل ہو جیسے مجنون ہوتا ہے وہ آزاد کرے غلام یا باندی کو تو وہ آزاد نہیں ہوتے، اس کی بھی عقل زائل ہے لیکن یہ بطورِ ڈانٹ کے اس کا اعتاق بھی نافذ ہوگا اور اس کی طلاق بھی، بطورِ ڈانٹ کے یعنی بطورِ سزا کے، کہ اس نے خود نشہ کیا ہے تو سزا کے طور پر شریعت جو ہے اس کے اس تصرف کو نافذ قرار دے دیتی ہے بھئی۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر آزادی کی نسبت ملکیت کی طرف کی یا شرط کی طرف کی تو اس صورت میں تعلیق صحیح ہے بھئی۔ تو اس صورت میں یہ تعلیق صحیح ہے، اس لیے کیونکہ جس طرح طلاق جو ہے وہ اسقاط کا نام ہے اور جو بھی اسقاط ہوتا ہے وہ تعلیق کو قبول کر لیتا ہے، اسی طرح یہ اعتاق بھی اسقاط کا نام ہے، لہٰذا یہ بھی تعلیق کو قبول کر لے گا۔ البتہ امام شافعی رحمہ اللہ ہمارے ساتھ ملکیت کے ساتھ تعلیق میں اختلاف کرتے ہیں، ہمارے نزدیک طلاق اور اعتاق کو ملکیت کے ساتھ بھی ملکیت کے ساتھ بھی معلق کیا جا سکتا ہے، کہ ایک شخص ایک اجنبیہ عورت سے کہتا ہے: ”إِنْ نَكَحْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا یعنی مجھے تجھ پر ملک نکاح حاصل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، تو ہمارے نزدیک یہ تعلیق صحیح ہے کیونکہ اس نے طلاق کی نسبت ملکیت کی طرف کی ہے کہ جب میں مالک بنوں گا تو تمہیں طلاق ہے، لہٰذا جب یہ نکاح کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو معلق ہوتا ہے یہ فی الحال سبب بنتا ہے یعنی تکلم کے وقت ہی، اور فی الحال تو یہ بیوی نہیں ہے تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ لغو چلا جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ جو معلق ہوتا ہے یہ جب شرط پائی جاتی ہے اس وقت سبب بنتا ہے اور اس وقت تو یہ نکاح کر رہا ہے اس عورت سے تو اس وقت تو یہ ملک نکاح اس کو حاصل ہے۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی حربی کا غلام مسلمان ہو کر دار الاسلام میں آجائے تو وہ آزاد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اہل طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ان کو گھیرے میں لیا ہوا تھا تو ان کے کچھ غلام مسلمان ہو کر مسلمانوں کی طرف آگئے تو حضور علیہ السلام نے ان کو آزاد قرار دیا اور آپ نے فرمایا: ”هُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ“، یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں یا اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ اور نیز اس لیے بھی عقل بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب کوئی حربی کا غلام مسلمان ہو کر دار الاسلام کی طرف آئے تو اس کو غلام نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ وہ مسلمان ہو چکا ہے اور اس نے اسلام کے ذریعے اپنی ذات کو محفوظ کر لیا ہے، اور ابتداءً مسلمان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، بقاءً کوئی مسلمان ہو جائے، کوئی کافر غلام تھا پھر مسلمان ہو جائے تو پھر یہ بقاءً تو یہ مسلمان غلام ہی رہے گا، لیکن ابتداءً مسلمان ہو تو اس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی حاملہ باندی کو آزاد کیا تو باندی کے ساتھ ہی اس کا حمل بھی آزاد ہو جائے گا، لیکن اگر اس کا برعکس ہوا کہ آقا نے اپنی حاملہ باندی کے صرف حمل کو آزاد کیا تو پھر باندی آزاد نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ باندی حمل کے تابع نہیں بلکہ حمل جو ہے وہ باندی کے تابع ہے بھئی۔ تو باندی کو تو آقا نے آزاد ہی نہیں کیا تو وہ مقصود ہو کر بھی آزاد نہیں ہو سکتی اور نیز حمل کے تابع ہو کر بھی اس کو آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو ایک قیمتی ضابطہ بتلایا کہ یہ جو اعتاق ہے، حمل کے اندر اعتاق تو صحیح ہے لیکن حمل کا ہبہ بھی صحیح نہیں اور حمل کی بیع بھی صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ ہبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز دوسرے کے حوالے کی جائے وہ اس پر قبضہ کرے کیونکہ پھر ہی وہ مالک بنے گا ویسے وہ مالک نہیں بنے گا، اور یہاں پر حمل کا سپرد کرنا تو ممکن ہی نہیں ہے، تو لہٰذا حمل کا ہبہ جائز نہیں۔ اور نیز حمل کی بیع بھی نہیں جائز اس لیے کیونکہ بیع کے اندر شرط ہے کہ انسان اس مبیع کے سپرد کرنے پر قادر ہو اور حمل کے سپرد کرنے پر تو کوئی شخص قادر نہیں ہے، تو لہٰذا حمل کی نہ بیع جائز اور نہ ہبہ جائز، لیکن اعتاق کے اندر ان میں سے کوئی شرط نہیں ہے، نہ سپرد کرنا شرط ہے اور نہ سپرد کرنے پر قدرت شرط ہے، لہٰذا حمل کا اعتاق صحیح ہوگا اور وہ حمل آزاد ہو جائے گا۔
اور اگر ایک شخص نے حمل کو مال کی شرط پر آزاد کیا تو حمل آزاد ہو جائے گا اور اس پر مال بھی لازم نہیں۔ عام غلام یا باندی کو اگر آقا کہتا ہے کہ میں تجھے مال کی شرط پہ آزاد کرتا ہوں تو پھر ان کا قبول کرنا ضروری ہے، اس لیے کیونکہ ان کے ذمے مال آئے گا اور بغیر قبول کیے تو کسی کے ذمے مال واجب نہیں کیا جا سکتا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مال کی شرط پر غلام یا باندی کو آزاد کیا جائے ان کا تو قبول کرنا ضروری ہے اور یہاں تو حمل قبول ہی نہیں کر رہا، پھر آپ کیسے اس کو آزاد قرار دیتے ہیں اور کیسے اس پر مال کو لازم قرار نہیں دیتے؟ تو اس کا جواب علماء یہ دیتے ہیں کہ بھئی اس شخص کو بھی پتہ ہے کہ یہ جو حمل ہے یہ قبول کرنے کے اہلیت اس میں نہیں ہے، پھر بھی اس کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ میں نے اس کو مال کی شرط پر آزاد کیا، معلوم ہوا وہ اس کو آزاد کرنا چاہتا ہے۔ اور نیز اس لیے بھی کیونکہ فقہاء کی کوشش ہوتی ہے آدمی کے کلام کو لغو ہونے سے اور بے کار ہونے سے بچایا جائے بھئی، تو لہٰذا یہاں حمل آزاد ہو جائے گا اور حمل پر بھی مال لازم نہیں ہو سکتا کیونکہ حمل نے تو قبول ہی نہیں کیا، وہ کیسے قبول کر سکتا ہے؟ اور نیز وہ جو حمل کی ماں ہے اس پر بھی مال کو لازم قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ آزادی حمل کو مل رہی ہے ماں کو تو نہیں مل رہی، اور حمل کو جب آزاد کیا جائے تو اس کو الگ ذات شمار کیا جاتا ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ بدلِ عتق کو کسی دوسرے پر لازم کرنے کی شرط لگانا یہ صحیح نہیں۔ کہ مثلاً ایک آدمی ایک غلام یا باندی کو آزاد کرتا ہے اور شرط یہ لگاتا ہے کہ فلاں آدمی اگر اتنے پیسے مجھے دے دے تمہارے آزادی کے بدلے تو تم دونوں آزاد ہو، تو بدلِ عتق کو آزادی کا جو بدل ہے جو اس کا عوض ہے اس کو معتق کے علاوہ کسی اور پر لازم کرنا یہ جائز نہیں ہے۔ لیکن طلاق یعنی خلع کے اندر بدلِ خلع کو کسی اور پر لازم کرنے کی شرط لگانا جائز ہے۔ شرط لگانا جائز۔ فقہاء اس کی وجہ ذکر فرماتے ہیں، وجہ یہ کہ خلع کے اندر اجنبی پر بھی بدلِ خلع کی شرط لگانا جائز اس لیے کیونکہ خلع کے اندر عورت کو کوئی نئی چیز حاصل نہیں ہوئی، صرف اس پر سے نکاح کی پابندیاں ختم ہوئی ہیں، کوئی نئی قوت وغیرہ اس کو حاصل نہیں ہوئی، تو وہ اجنبی
جس پر شرط لگائی گئی بدلِ خلع کی، وہ بھی اس عورت کی طرح ہے، جیسے اس عورت کو کوئی نئی چیز حاصل نہیں ہوئی، اس اجنبی کو بھی کچھ حاصل نہیں ہوا، تو وہ اجنبی اس عورت کے درجے میں ہوگیا۔ جب اس عورت کے درجے میں ہوگیا، تو جیسے عورت پر مال کی شرط لگانا ٹھیک تھا، اس اجنبی پر بھی مال کی شرط لگانا ٹھیک ہے۔ جبکہ اعتاق کے اندر بدلِ عتق کی شرط کسی دوسرے پر نہیں لگائی جاسکتی۔ وجہ یہ ہے کہ اعتاق میں غلام کو قوت حاصل ہو رہی ہے، اس کو ایسے تصرفات مل رہے ہیں، ایسی ولایتیں مل رہی ہیں جو اس سے پہلے غلام کو حاصل نہیں تھیں بھئی۔ تو لہٰذا غلام کو تو اعتاق میں نفع مل رہا ہے، ایک چیز حاصل ہو رہی ہے، جبکہ اجنبی جس کے لیے آپ مال کی شرط لگا رہے ہیں، اس کو تو کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا، تو وہ اجنبی غلام جیسا نہیں۔ جب غلام جیسا نہیں، تو پھر غلام کی طرح اس پر مال کو لازم قرار نہیں دیا جاسکتا، صرف اس معتق پر مال کو لازم قرار دیا جاسکتا ہے، غیرِ معتق پر مال کو لازم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
بات سمجھ میں آگئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جب حمل کو آزاد کیا ہے تو کیسے پتہ چلے گا کہ حمل ہے یا نہیں؟ تو بتلایا کہ اگر اس آزادی کے وقت کے چھ ماہ گزرنے سے پہلے پہلے اس عورت نے، اس باندی نے بچے کو جنم دیا تو معلوم ہوا جس وقت آزاد کیا گیا تھا حمل کو، حمل موجود تھا۔ اور اگر چھ ماہ یا اس سے زیادہ مدت گزر گئی ہے پھر یہ تو اتنی مدت ہے کہ اس میں نیا حمل بھی قرار پا سکتا ہے، لہٰذا اس صورت میں حمل آزاد نہیں ہوگا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ باندی کی جو اپنے آقا سے اولاد ہوتی ہے وہ آزاد ہوتی ہے۔ باندی نے بچے کو جنم دیا اور آقا نے کہہ دیا: یہ میری اولاد ہے، تو یہ اولاد آزاد ہوجائے گی۔ وجہ یہ کہ بچہ جو ہے، اصل اور ضابطہ یہ ہے کہ بچہ جو ہے وہ باپ کے نطفے سے پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک طرف سے باپ کا نطفہ ہے اور دوسری طرف سے باندی کا نطفہ ہے، اور باندی بھی اسی آقا کی ہے، تو یہاں کوئی مقابل چیز اور معارض نہیں ہے، دونوں نطفے یہی تقاضا کر رہے ہیں کہ یہ اسی آقا کی اولاد ہونی چاہیے۔ اور جب اس کی اولاد ہے تو یہ اس پر آزاد ہوجائے گی، اس لیے کیونکہ مملوک کے اندر بیٹا ہونے کا وصف یہ آزادی کا سبب ہے یا اس کے ساتھ آزادی لازم ہے، جیسے پیچھے امام صاحب کی دلیل میں بات گزری تھی بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر باندی نے اپنے خاوند سے بچے کو جنم دیا تو یہ بچہ جو ہے، یہ جو باندی کا آقا ہے اس کا مملوک شمار ہوگا۔ وجہ یہ کہ یہاں خاوند کا بھی نطفہ ہے اور باندی کا بھی نطفہ ہے اور یہاں پر باندی کے نطفے کو ترجیح دی گئی، اس لیے کیونکہ بچے کی پرورش کا حق ماں کو ہوتا ہے اور نیز اس لیے کیونکہ خاوند کا نطفہ منتقل ہوگیا ہے اور ماں کا نطفہ اپنی جگہ پر ہے، تو ماں کا نطفہ غالب آگیا، خاوند کا نطفہ ہلاک ہی ہوگیا یعنی ختم ہی ہوگیا، تو یوں سمجھو یہ گویا صرف اس عورت ہی کا بچہ ہے اور یہ عورت تو مملوک ہے اپنے آقا کی، لہٰذا یہ بچہ بھی مملوک ہوگا اس عورت کے آقا کا۔ اور نیز خاوند بھی اس بات پر راضی ہے، کیونکہ اس نے جب اس باندی سے نکاح کیا ہے اس کو بھی پتہ ہے کہ باندی کی جو اولاد ہوتی ہے وہ مملوک ہوتی ہے، تو لہٰذا خاوند بھی اس پر راضی ہے۔
جبکہ آزاد عورت کا جو بچہ ہے وہ ہر حال میں آزاد ہوتا ہے، اس لیے کیونکہ ہم نے بتلا دیا کہ بچے کے اندر، حمل کے اندر ماں کی جانب راجح ہے، جب ماں کی جانب راجح ہے اور یہ عورت تو آزاد ہے، لہٰذا اس کا بچہ بھی اس کے تابع ہوکر آزاد ہوگا بھئی۔ کیونکہ بچہ جو ہے وہ اپنی ماں کے تابع ہوتا ہے مملوکیت میں بھی اور مرقوقیت میں بھی۔ مملوک ہونے میں بھی ماں کا تابع اور مرقوق یعنی غلام ہونے میں بھی ماں کا تابع ہوتا ہے۔ اگر ماں کے اندر غلامی کامل ہے تو بچے میں بھی غلامی کامل ہوگی، اور اگر ماں کے اندر غلامی ناقص ہے مثلاً وہ مدبر ہے یا ام ولد ہے تو بچہ بھی جو ہے وہ اس کے اندر بھی غلامی ناقص ہوگی، وہ بھی اپنی ماں کے حکم میں ہوگا۔ اور اسی طرح ماں کے اندر اگر ملکیت کامل ہے تو بچے میں بھی آقا کی ملکیت کامل ہوگی، اور اگر ماں کے اندر ملکیت ناقص ہے جیسے مکاتبہ ہے تو پھر اس صورت میں بچے کے اندر بھی ملکیت ناقص ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
بَابُ الْعَبْدِ يُعْتَقُ بَعْضُهُ
یہ باب ہے اس غلام کے بیان میں: يُعْتَقُ بَعْضُهُ جس کے بعض کو آزاد کردیا گیا ہو۔ بھئی پہلے مسائل ذکر ہوئے جن میں آقا اپنے پورے غلام کو آزاد کرتا تھا، اب وہ صورت ذکر کر رہے ہیں کہ آقا اپنے پورے غلام کو آزاد نہیں کرتا، اس کے کچھ حصے کو آزاد کرتا ہے، مثلاً نصف کو آزاد کردیا کہ آدھا غلام آزاد ہے یا ثلث کو آزاد کردیا کہ تیسرا حصہ آزاد ہے، اب اس میں اختلاف ہے صاحبین کا اور امام صاحب کا، تو اب اس کو بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: بَابُ الْعَبْدِ يُعْتَقُ بَعْضُهُ یہ باب ہے اس غلام کا جس کے بعض کو آزاد کر دیا جائے:
وَإِذَا أَعْتَقَ الْمَوْلَى بَعْضَ عَبْدِهِ عَتَقَ ذَلِكَ الْقَدْرُ، وَيَسْعَى فِي بَقِيَّةِ قِيمَتِهِ لِمَوْلَاهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَعْتِقُ كُلُّهُ.
بھئی یاد رکھو، امام صاحب فرماتے ہیں: اگر آقا نے اپنے نصفِ غلام کو آزاد کیا تو اسی کے بقدر غلام آزاد ہوگا، باقی غلام آزاد نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر غلام کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا جائے تو وہ پورا غلام ہی آزاد ہوجائے گا۔ وجہ یہ کہ امام صاحب اور صاحبین میں اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اعتاق جو ہے یعنی آزاد کرنا، یہ جو اعتاق ہے اس کی تجزی ہوسکتی ہے یعنی تقسیم ہوسکتی ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک اعتاق کی تجزی نہیں ہوسکتی، غلام کا کچھ حصہ بھی آزاد کیا تو سارا ہی غلام آزاد ہوجائے گا، کیونکہ اعتاق میں تقسیم نہیں ہوسکتی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک اعتاق میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ لہٰذا جتنا غلام آزاد کیا اتنا ہی آزاد ہوگا، باقی کا غلام آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ البتہ پھر باقی غلام جو ہے وہ سعی کرے گا، یعنی کام وغیرہ کرے گا، پیسے کما کر لا کر دے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ یاد رکھو، غلام کا جب کچھ حصہ آزاد ہوگیا تو اس غلام کو اب آگے بیچنا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ کامل غلام نہیں ہے تو اس کو آگے نہیں بیچا جاسکتا، جب آگے نہیں بیچا جاسکتا تو آقا کا کچھ مال اس غلام کے اندر بند ہوگیا، تو لہٰذا اب غلام جائے گا، کام کاج کرے گا، پیسے کما کر لا کر دے گا اور اپنے باقی حصے کو بھی آزاد کروائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا أَعْتَقَ الْمَوْلَى بَعْضَ عَبْدِهِ اور جب آقا نے آزاد کر دیا اپنے بعضِ غلام کو یعنی غلام کے کچھ حصے کو، عَتَقَ ذَلِكَ الْقَدْرُ تو اتنی مقدار وہ آزاد ہوجائے گا، وَيَسْعَى فِي بَقِيَّةِ قِيمَتِهِ لِمَوْلَاهُ اور غلام سعی کرے گا، سعى يسعى کا معنی ہے سعی کرنا، کوشش کرنا، کام کاج کرنا، تو وَيَسْعَى فِي بَقِيَّةِ قِيمَتِهِ لِمَوْلَاهُ تو غلام جو ہے وہ سعی کرے گا، کام کاج کرے گا فی بقیۃ قیمتہ اپنی باقی قیمت کے اندر لمولاہ اپنے آقا کے لیے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: يَعْتِقُ كُلُّهُ کہ سارا غلام ہی آزاد ہوجائے گا۔ آقا نے اگر کچھ حصہ بھی آزاد کیا ہے تو سارا ہی غلام آزاد ہوجائے گا صاحبین کے نزدیک، کیونکہ ان کے نزدیک اعتاق کی تجزی نہیں ہوسکتی، اعتاق کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔
وَأَصْلُهُ: أَنَّ الْإِعْتَاقَ يَتَجَزَّأُ عِنْدَهُ، اور اس اختلاف کا ضابطہ یہ ہے: أَنَّ الْإِعْتَاقَ يَتَجَزَّأُ عِنْدَهُ کہ اعتاق جو ہے وہ تقسیم ہوسکتا ہے عندہ امام صاحب کے نزدیک۔ اعتاق تقسیم ہوسکتا ہے کہ کچھ حصہ غلام کا آزاد کر دیا جائے اور کچھ آزاد نہ کیا جائے، تو اعتاق جو ہے يَتَجَزَّأُ عِنْدَهُ وہ تقسیم ہوسکتا ہے عندہ امام صاحب کے نزدیک، فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَا أَعْتَقَ، تو یہ اعتاق بند رہے گا علٰی ما اسی مقدار پر اعتق جتنا اس نے آزاد کیا، جتنا آزاد کیا ہے اتنا ہی غلام آزاد ہوگا، سارا غلام آزاد نہیں کیونکہ اعتاق میں تقسیم ہوسکتی ہے، تو فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَا أَعْتَقَ تو اعتاق بند رہے گا اتنی ہی مقدار پر جو اس نے آزاد کیا ہے، وَعِنْدَهُمَا لَا يَتَجَزَّأُ، اور صاحبین کے نزدیک اعتاق جو ہے وہ تقسیم نہیں ہوسکتا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، فَإِضَافَتُهُ إِلَى الْبَعْضِ كَإِضَافَتِهِ إِلَى الْكُلِّ، لہٰذا اعتاق کی نسبت کرنا الی البعض بعضِ غلام کی طرف یعنی غلام کے کچھ حصے کی طرف، كَإِضَافَتِهِ إِلَى الْكُلِّ یہ اسی طرح ہے جیسے سارے غلام کی طرف ہی اعتاق کی نسبت کر دی ہے، فَلِهَذَا يَعْتِقُ كُلُّهُ تو لہٰذا سارا غلام ہی آزاد ہوجائے گا۔ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعتاق میں تجزی نہیں ہوسکتی، اعتاق کی تقسیم نہیں ہوسکتی، لہٰذا اگر غلام کے کچھ حصے کی طرف بھی اعتاق کی نسبت کر دی تو یہ اسی طرح ہے گویا سارے غلام ہی کی طرف اعتاق کی نسبت کر دی یعنی سارا غلام ہی آزاد کر دیا تو وہ سارا ہی آزاد ہوجائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔
یہاں ایک اور بات یاد رکھنا، ایک اور بات یاد رکھنا: ایک ہے اعتاق یعنی آزاد کرنا، اور ایک ہے عتق یعنی آزاد ہونا، آزاد ہونا۔ یاد رکھو! امام صاحب اور صاحبین کا اعتاق کے اندر تو اختلاف ہے، امام صاحب کے نزدیک اعتاق کی تقسیم ہوسکتی ہے، صاحبین کے نزدیک اعتاق کی تقسیم نہیں ہوسکتی، اور جب کوئی آقا اپنے غلام کا اعتاق کرتا ہے یعنی آزاد کرتا ہے تو اس کے ساتھ لازم ہے عتق بھئی، غلام آزاد ہوجاتا ہے۔ اعتاق کے ساتھ کیا لازم ہے؟ عتق۔ آزاد کرے گا تو آزاد ہوجائے گا۔ تو عتق کا کیا معنی؟ آزاد ہونا۔ تو اعتاق کے اندر تو صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے لیکن عتق کے اندر دونوں کا اتفاق ہے کہ عتق کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ عتق کی تقسیم نہیں ہوسکتی، آزادی یا تو غلام میں سارے میں ہوگی یا نہیں ہوگی بھئی۔ یہ نہیں ہوسکتا آدھے غلام میں عتق ہو اور آدھے غلام میں عتق نہ ہو بھئی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ عتق لازم ہے اعتاق کے ساتھ، تو اعتاق ہوا ملزوم اور اس کے ساتھ عتق ہوا لازم، تو جب لازم کی تقسیم نہیں ہوسکتی تو ملزوم کی بھی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ اعتاق کرے گا تو سارے ہی غلام میں عتق آجائے گا، ایسا نہیں ہوسکتا کچھ میں عتق آئے اور کچھ میں عتق نہ آئے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ عتق جو ہے اس میں تو تقسیم نہیں ہوسکتی لیکن اعتاق میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ اب اس اختلاف کی وجہ، تفصیل کیا ہے؟ دلیل کیا ہے؟ وہ آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں:
لَهُمْ: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ، صاحبین اور امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ کہ ان کے نزدیک اعتاق جو ہے وہ اثباتِ عتق کا نام ہے، آزادی کو ثابت کرنا۔ توجہ ہے؟ اعتاق کس چیز کا نام ہے صاحبین اور امام شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک؟ اثباتِ عتق، عتق کو ثابت کرنا، اور عتق میں تو تقسیم نہیں ہوسکتی، تو معلوم ہوا اعتاق جو ہے جو اسی اثباتِ عتق کا نام ہے اس میں بھی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ لَهُمْ تو صاحبین اور امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ کہ اعتاق جو ہے وہ عتق کو ثابت کرنا ہے، وَهُوَ قُوَّةٌ حُكْمِيَّةٌ، اور عتق جو ہے وہ قوتِ حکمیہ ہے۔ جب غلام آزاد ہوگا اس میں قوتِ حکمیہ آجائے گی، اس کو ہر طرح کی ولایتیں حاصل ہوجائیں گی، وہ ہر طرح کے تصرفات کر سکتا ہے، وہ اہل شہادت بن جائے گا، وہ اہل قضا بن جائے گا، وہ مالک بن سکتا ہے، وہ اپنا نکاح اپنی مرضی سے کر سکتا ہے، وہ تجارت اپنی مرضی سے کر سکتا ہے، تو عتق کس چیز کا نام ہے؟ قوتِ حکمیہ۔ جب عتق غلام میں آئے گا اس میں قوتِ حکمیہ آجائے گی۔ قوتِ حکمیہ آجائے گی۔ قوتِ حکمیہ، کوئی ظاہری طور پر غلام میں طاقت اور قوت نہیں آجائے گی بلکہ یہ حکم والی قوت اس کے اندر آجائے گی، یہ احکام اس کے لیے ثابت ہوجائیں گے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو کہتے ہیں: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ اعتاق جو ہے وہ عتق کو ثابت کرنا ہے، وَهُوَ قُوَّةٌ حُكْمِيَّةٌ اور عتق جو ہے وہ قوتِ حکمیہ ہے، وَإِثْبَاتُهَا بِإِزَالَةِ ضِدِّهَا، اور قوت کا اثبات جو ہے اس کی ضد کو ختم کرنے سے ہوتا ہے، وَإِثْبَاتُهَا یعنی اثبات القوۃ بِإِزَالَةِ ضِدِّهَا اس کی ضد کو ختم کرنے سے ہوتا ہے۔ بھئی قوت تبھی آئے گی جب اس کی ضد ختم ہوجائے، جیسے ایک سفید ہے، ایک کالا رنگ ہے، کالا رنگ تبھی آسکتا ہے جب سفید یعنی اس کی ضد جو ہے وہ ختم ہوجائے۔ تو اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ اثباتِ عتق کا، اور عتق کس چیز کا نام ہے؟ قوتِ حکمیہ کا نام ہے، اور قوتِ حکمیہ کب آئے گی؟ جب اس کی ضد ختم ہوجائے یعنی رقیت یعنی رق ختم ہوجائے، غلامی ختم ہوجائے، کیونکہ غلامی جو ہے وہ ضعفِ حکمی ہے۔ وہ ضعفِ حکمی ہے یعنی حکمی کمزوری ہے کہ اس کے لیے وہ احکام ثابت نہیں ہوں گے جو آزاد کے لیے ثابت ہوتے ہیں، تو عتق وہ قوتِ حکمیہ کا نام ہے اور رق یعنی غلامی وہ ضعفِ حکمی کا نام ہے یعنی حکم کے اعتبار سے کمزوری بھئی۔ حکم کے اعتبار سے کمزوری کہ اس کے اندر، غلام کے اندر قوت نہیں ہوتی، وہ تصرفات وغیرہ نہیں کر سکتا، تو یہ ضعفِ حکمی ہے۔ تو لہٰذا غلام کے اندر عتق تبھی آئے گا جب اس کی ضد ختم ہوجائے، اور اس کی ضد کیا ہے؟ رق، اور رق کس چیز کا نام ہے؟ ضعفِ حکمی کا، تو غلام کے اندر قوتِ حکمیہ تب آئے گی جب ضعفِ حکمی ختم ہوجائے۔ یہ نہیں ہوسکتا ضعفِ حکمی بھی ہو اور قوتِ حکمیہ بھی ہو۔ ضعف اور قوت میں سے ایک چیز ہوسکتی ہے دونوں اکٹھی نہیں، یا اس میں قوت ہوگی یا اس میں ضعف یعنی کمزوری ہوگی، تو ضعف ختم ہوگا تو پھر ہی قوت آئے گی۔ تو عتق کس چیز کا نام ہے؟ قوتِ حکمیہ کا، اور قوتِ حکمیہ غلام میں کب ثابت ہوگی؟ جب ضعفِ حکمی یعنی رقیت ختم ہوجائے، غلامی ختم ہوجائے۔ بات سمجھ میں آگئی۔
لہٰذا اب پھر سنیں ان کی دلیل بھئی: یاد رکھو! یہ جو عتق ہے اس میں بھی تقسیم نہیں ہوسکتی، میں نے آپ کو بتلا دیا امام صاحب اور صاحبین کا اتفاق ہے کہ جو عتق ہے اس میں تقسیم نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح یاد رکھو یہ جو رق ہے یعنی غلامی یعنی ضعفِ حکمی، اس کی بھی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ تو عتق اور اس کی ضد یعنی رق دونوں کے اندر تقسیم نہیں ہوسکتی، نہ قوتِ حکمیہ میں تقسیم ہوسکتی ہے نہ ضعفِ حکمی میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ قوتِ حکمیہ آئے گی تو سارے غلام میں آجائے گی اور ضعفِ حکمی ہے تو سارے غلام کے اندر ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: اعتاق نام ہے اثباتِ عتق کا، اور اثباتِ عتق تب ہوگا جب غلام میں قوتِ حکمیہ آجائے، اور قوتِ حکمیہ تب آئے گی جب ضعفِ حکمی دور ہوجائے، اور نہ قوتِ حکمیہ میں تقسیم ہوسکتی ہے نہ ضعفِ حکمی میں تقسیم ہوسکتا ہے، تو جب ضعفِ حکمی ختم ہوگا، قوتِ حکمیہ ثابت ہوجائے گی، پورے غلام میں عتق ثابت ہوجائے گا وہ آزاد ہوجائے گا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟
جی اب پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: لَهُمْ صاحبین اور امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ کہ اعتاق جو ہے وہ آزادی کو ثابت کرنا ہے، وَهُوَ قُوَّةٌ حُكْمِيَّةٌ اور عتق جو ہے وہ قوتِ حکمیہ ہے، وَإِثْبَاتُهَا بِإِزَالَةِ ضِدِّهَا اور اس قوت کا اثبات اس کی ضد کو زائل کرنے سے ہوگا، اس کو ختم کرنے سے ہوگا، وَهُوَ الرِّقُّ اور اس کی ضد جو ہے وہ رق ہے، الَّذِي هُوَ ضَعْفٌ حُكْمِيٌّ جو ضعفِ حکمی ہے، وَهُمَا لَا يَتَجَزَّآنِ اور یہ رق اور عتق جو ہیں لا يتجزآن یہ دونوں تقسیم نہیں ہوسکتے، یہ بالاتفاق ہے۔
فَصَارَ كَالطَّلَاقِ وَالْعَفْوِ عَنِ الْقِصَاصِ وَالِاسْتِيلَادِ، تو یہ اسی طرح ہوگیا جیسے طلاق ہے اور جیسے عفو عن القصاص ہے، قصاص کو معاف کر دینا، اور جیسے ام ولد بنانا ہے۔ صاحبین نے تین نظیریں ذکر کر دیں، اپنے دعوے کے اثبات کے لیے تین نظیریں ذکر کر دیں: جیسے کہتے ہیں طلاق، جیسے عتق اور رق میں تقسیم نہیں ہوسکتی اسی طرح طلاق میں بھی تقسیم نہیں ہوسکتی، ایک شخص نصف عورت کو طلاق دے گا تو ساری کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ طلاق میں تقسیم نہیں۔ اسی طرح قصاص کو معاف کرنا، ایک آدمی نے جان بوجھ کر کسی دوسرے کو آلۂ قتل سے قتل کیا تھا، اب قصاص آیا، مقتول کے ورثاء میں سے ایک بھی معاف کر دے گا تو قصاص ہی ساقط، کیونکہ قصاص میں تقسیم نہیں ہوسکتی کہ قاتل سے کچھ قصاص لے لیا جائے اور کچھ نہ لیا جائے، بھئی قصاص میں تو اس کی جان جانی ہے، اس کو قتل کرنا ہے اور اس کی ایک ہی جان ہے، وہاں تقسیم نہیں ہوسکتی، لہٰذا ایک بھی وارث معاف کرے گا تو قصاص میں چونکہ تقسیم نہیں ہوسکتی قصاص ہی ساقط ہوجائے گا بھئی۔ اور اسی طرح ام ولد بنانا، باندی سے آقا کی اولاد ہوئی اور آقا نے کہہ دیا: یہ میری اولاد ہے، تو یہ باندی اس کے ام ولد بن جائے گی، اور ام ولد ہونے کے اندر تقسیم نہیں ہوسکتی، جب باندی ام ولد بنی ہے تو ساری باندی ام ولد بنے گی، یہ نہیں کہ کچھ باندی ام ولد بن جائے اور کچھ نہ بنے۔ معلوم ہوا طلاق میں بھی تقسیم نہیں، معلوم ہوا قصاص سے معاف کیا جاتا ہے اس میں بھی تقسیم نہیں، اور معلوم ہوا ام ولد بنانے میں بھی تقسیم نہیں، تو جیسے ان چیزوں میں تقسیم نہیں ہے: کچھ عورت کو طلاق دے گا تو ساری کو ہوجائے گی، کچھ قصاص کو معاف کرے گا تو سارا ہی معاف ہوجائے گا، اور کچھ باندی کو ام ولد بنائے گا تو ساری ہی ام ولد ہوجائے گی، تو یہاں پر بھی کچھ غلام کو آزاد کرے گا تو سارا ہی غلام آزاد ہوجائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: وَهُمَا لَا يَتَجَزَّآنِ اور یہ جو عتق ہے اور رق ہے یہ تقسیم نہیں ہوتے یعنی بالاتفاق تقسیم نہیں ہوتے، فَصَارَ كَالطَّلَاقِ تو لہٰذا یہ اعتاق جو ہے یہ طلاق کی طرح ہوگیا، وَالْعَفْوِ عَنِ الْقِصَاصِ اور یہ قصاص سے معاف کرنے کی طرح ہوا، وَالِاسْتِيلَادِ اور یہ ام ولد بنانے کی طرح ہوا، جیسے ان میں تقسیم نہیں اعتاق میں بھی تقسیم نہیں ہے۔
وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ بِإِزَالَةِ الْمِلْكِ أَوْ هُوَ إِزَالَةُ الْمِلْكِ، امام صاحب کی دلیل سنیے بھئی: امام صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے کہ اعتاق اثباتِ عتق کا نام ہے، آزادی کو ثابت کرنا، لیکن یہ اثباتِ عتق آپ نے کہا کس طرح ثابت ہوگا؟ بازالۃ الرق، رق کو ختم کرو گے تو عتق ثابت ہوجائے گا۔ امام صاحب کہتے ہیں: نہیں، اثباتِ عتق ہے بازالۃ الملک، ملکیت کو زائل کرنے سے، ملکیت کو زائل کر کے عتق کو ثابت کرنا، رقیت نہیں۔ وجہ یہ، اب وہ آگے آپ کو بتائیں گے کہ جو رق ہے یعنی غلامی ہے یہ حقِ شرع ہے، شریعت کا حق ہے یا یہ حق العامہ ہے، عام لوگوں کا حق ہے، عام مسلمانوں کا حق ہے، یہ مالک کا حق ہی نہیں ہے، مالک کا حق اپنے غلام کے اندر صرف ملکیت ہوتی ہے، تو انسان جس چیز کا مالک ہو صرف اسی میں تصرف کر سکتا ہے اور چیزوں میں تصرف نہیں کر سکتا۔ آپ اپنی ملکیت والی چیزوں میں تو تصرف کر سکتے ہیں، کسی دوسرے کی چیزوں میں تصرف نہیں کر سکتے، تو انسان جس چیز کا مالک ہوتا ہے اسی میں تصرف کر سکتا ہے، اور آقا کے لیے اپنے غلام میں صرف ملکیت ثابت ہے جبکہ غلامی وہ تو اللہ کا حق ہے یا وہ عام لوگوں کا، عام مسلمانوں کا حق ہے۔ بھئی اللہ کا حق کس طرح ہے؟ کہتے ہیں: دیکھو! یہ جس کو غلام بنایا گیا، کافروں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے کچھ حربیوں کو قید کر لیا تو ان کو غلام یا باندی بنا لیا جاتا ہے، تو یہ دراصل اللہ کی طرف سے ان کو جزا ہے، یہ جو حربی تھے انہوں نے دینِ اسلام کو قبول نہیں کیا، انہوں نے اللہ کا بندہ بننا قبول نہیں کیا تو اللہ نے ان کو اپنے بندوں کا بندہ بنا دیا۔ انہوں نے اللہ کا، عبد کا کیا معنی؟ غلام، بندے کا کیا معنی؟ غلام، انہوں نے اللہ کا غلام بننا قبول نہیں کیا یعنی عبد اللہ بننا قبول نہیں کیا تو اللہ نے ان کو اپنے غلاموں کا غلام بنا دیا۔ تو یہ رق جو ہے یہ کس کا حق ہے؟ شریعت کا حق ہے یا یہ رق جو ہے عام مسلمانوں کا حق ہے۔ بھئی عام مسلمانوں کا حق کیسے ہے؟ کہتے ہیں: دیکھو جب مسلمانوں نے حربیوں پر قبضہ کیا تو یہ جو غنیمت حاصل ہوئی، اس غنیمت میں تمام مسلمانوں کا حق تھا اور انہی کے اندر یہ غلام اور باندیاں بھی تھے، تو لہٰذا بعد میں یہ تقسیم ہوئے، کوئی غلام اور باندی کسی کے حصے میں آیا، تو اصل میں تو اس میں تمام غنیمت والوں کا، تمام مسلمانوں کا حق تھا، انہوں نے ان کو پکڑا تھا اور ان کو غلام بنایا تھا، تو معلوم ہوا رق جو ہے، غلامی جو ہے وہ عام مسلمانوں کا حق ہے، لہٰذا آقا کا اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی ختم کرے۔ تو غلامی کس کا حق ہے؟ اللہ کا حق ہے یا عام مسلمانوں کا حق ہے، مالک کا حق ہی نہیں ہے۔ مالک کی اپنے غلام میں صرف ملکیت ہے، وہ ملکیت ختم کر سکتا ہے لیکن رق جو ہے یعنی غلامی کو ختم نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا حق ہی نہیں ہے، وہ اس کا محلِ تصرف ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اعتاق وہ نام ہے اثباتِ عتق کا، آزادی کو ثابت کرنا، لیکن یہ آزادی ازالۂ رق کے ذریعے نہیں ہوگی کہ غلامی کو ختم کرے کیونکہ ازالۂ رق یہ تو مالک کے اختیار میں ہی نہیں ہے، البتہ ازالۂ ملک جو ہے یہ مالک کے اختیار میں ہے، وہ اپنی ملکیت ختم کرے۔ اور ازالۂ ملک اس کے اندر تو تقسیم ہوسکتی ہے، کوئی شخص اپنی چیز کو آدھا بیچے یا ساری بیچے، ایک آدمی ہے وہ اپنے آدھے غلام کو بیچ دیتا ہے اب دو آدمیوں میں یہ غلام مشترک ہوگیا، یا ایک آدمی اپنے آدھے غلام کو کسی کو تحفے کے طور پر دے دیتا ہے تو یہ آدھا غلام اسی کا ہے اور آدھا دوسرے کا ہوگیا، تو معلوم ہوا دوسرے کو جو مالک بنانا ہے چاہے بیع کے طریقے پر مالک بنائے، چاہے ہبہ کے طریقے پر مالک بنائے اس میں تقسیم ہوسکتی ہے، اور آقا بھی کس چیز کا مالک ہے اپنے غلام میں؟ صرف ملکیت کا۔ تو یہ جو اعتاق جو ہے وہ اثباتِ عتق کا نام ہے کس چیز کے ذریعے؟ ازالۂ ملکیت کے ذریعے، تو ازالۂ ملکیت کے ذریعے گویا اعتاق آئے گا اور ازالۂ ملکیت میں تو تقسیم ہوسکتی ہے تو اعتاق کے اندر بھی تقسیم ہوسکتی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ بِإِزَالَةِ الْمِلْكِ کہ اعتاق جو ہے وہ آزادی کو ثابت کرنا ہے ملکیت کو زائل کرتے ہوئے، أَوْ هُوَ إِزَالَةُ الْمِلْكِ یا اعتاق ازالۂ ملکیت ہی کا نام ہے، اثباتِ عتق بھی نہ کہیں آپ، صرف یوں کہیں: اعتاق ازالۂ ملکیت کا نام ہے اور ملکیت میں تو تقسیم ہوسکتی ہے لہٰذا اعتاق میں بھی تقسیم، کیونکہ اعتاق اسی ملکیت کے زوال کا نام ہے اور وہ ملکیت سارے میں بھی ختم کی جاسکتی ہے اور کچھ حصے میں بھی، تو اعتاق جو اسی ازالۂ ملکیت کا نام ہے اس میں بھی تقسیم ہوسکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: أَوْ هُوَ إِزَالَةُ الْمِلْكِ یا یہ جو اعتاق ہے یہ ازالۂ ملک کا نام ہے، یہ ازالۂ رق کا نام نہیں ہے، لِأَنَّ الْمِلْكَ حَقُّهُ، اس لیے کیونکہ آزاد کرنے والے کا حق یہ ملکیت ہے، وَالرِّقَّ حَقُّ الشَّرْعِ، اور یہ جو غلامی ہے یہ تو شریعت کا حق ہے، أَوْ حَقُّ الْعَامَّةِ، یا عام مسلمانوں کا حق ہے، وَحُكْمُ التَّصَرُّفِ مَا يَدْخُلُ تَحْتَ وِلَايَةِ الْمُتَصَرِّفِ، اور تصرف کا حکم، بھئی تصرف ایک حکم کا نام ہے اور تصرف کس چیز میں کیا جاتا ہے؟ جس چیز کا آدمی کو اختیار ہوتا ہے، غیر اختیاری چیزوں میں وہ تصرف نہیں کر سکتا، یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَحُكْمُ التَّصَرُّفِ اور تصرف کا جو حکم ہے، مَا يَدْخُلُ تَحْتَ وِلَايَةِ الْمُتَصَرِّفِ وہ جو تصرف کرنے والے کی ولایت کے تحت داخل ہو وہ چیز ہے بھئی، وہ ہے جس میں وہ تصرف کر سکتا ہے بھئی، وَهُوَ إِزَالَةُ حَقِّهِ اور یہاں کس تصرف کی بات ہو رہی ہے؟ اعتاق کی، اور اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ ملکیت، اور ملکیت یہ مالک کا حق تھا، تو معلوم ہوا اعتاق ازالۂ حق کا نام ہے، مالک اپنا حق زائل کر رہا ہے، اپنی ملکیت زائل کر رہا ہے، تو کہتے ہیں: وَهُوَ إِزَالَةُ حَقِّهِ لَا حَقِّ غَيْرِهِ، اور یہ جو اعتاق ہے یہ اپنا حق زائل کرنے کا نام ہے، لَا حَقِّ غَيْرِهِ نہ کہ غیر کا حق زائل کرنا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لَا حَقِّ غَيْرِهِ اس کو مجرور پڑھنا، یہ حق کا عطف ماقبل والے حق پر ہے بھئی اور دونوں پر ازالہ کا لفظ داخل ہو رہا ہے، اس لیے کیونکہ وَهُوَ إِزَالَةُ حَقِّهِ اور یہ جو تصرف ہے یعنی اعتاق جو ہے وہ اپنے حق کو زائل کرنے کا نام ہے لَا حَقِّ غَيْرِهِ نہ کہ کسی دوسرے کے حق کو۔
وَالْأَصْلُ: اور ضابطہ یہ ہے، ضابطہ آپ کو بتلائیں گے، ضابطہ یہ ہے کہ جب انسان جب کوئی تصرف کرتا ہے تو جتنی مقدار میں تصرف کیا ہے اتنے ہی میں تصرف ہوگا زائد میں نہیں ہوگا۔ ضابطہ کیا ہے؟ کہ جتنے میں تصرف کیا ہے وہ تصرف اسی مقام پر بند رہے گا، نصفِ غلام کو آزاد کیا ہے اور اعتاق کی تقسیم ہوسکتی ہے تو یہ تصرف نصفِ غلام ہی میں بند رہے گا، باقی غلام میں یہ متعدی نہیں ہوگا اس کی طرف نہیں جائے گا۔ ہاں ایک صورت میں یہ جائے گا جب تقسیم نہ ہوسکے جیسے طلاق، اور ایک آدمی نے اپنی نصف بیوی کو طلاق دی تو نصف کے ساتھ ساری کو ہی طلاق ہوجائے گی کیونکہ یہاں پر طلاق کی تقسیم نہیں ہوسکتی، تو جب تقسیم نہ ہوسکے پھر تصرف باقی حصے کی طرف بھی چلا جاتا ہے لیکن اگر تقسیم ہوسکے پھر باقی حصے کی طرف نہیں جائے گا جتنے حصے میں تصرف کیا ہے اسی میں بند رہے گا، اور یہاں پر ملکیت کے اندر تقسیم ہوسکتی ہے لہٰذا نصف غلام آزاد کیا ہے تو نصف ہی آزاد ہوگا باقی کی طرف یہ تصرف سرایت نہیں کرے گا۔
وَالْأَصْلُ اور ضابطہ یہ ہے: أَنَّ التَّصَرُّفَ يَقْتَصِرُ عَلَى مَوْضِعِ الْإِضَافَةِ، کہ تصرف جو ہوتا ہے وہ بند ہوتا ہے علٰی موضع الاضافۃ اس مقام پر جس کی طرف نسبت کی جائے، جتنے حصے کی طرف نسبت کی ہے اتنے میں ہی تصرف ہوگا سارے میں نہیں، تو کہتے ہیں: وَالْأَصْلُ: أَنَّ التَّصَرُّفَ يَقْتَصِرُ عَلَى مَوْضِعِ الْإِضَافَةِ کہ تصرف جو ہے وہ نسبت کے محل پر بند رہتا ہے، وَالتَّعَدِّي إِلَى مَا وَرَاءَهُ ضَرُورَةُ عَدَمِ التَّجَزُّؤِ، اور متعدی ہونا الٰی ما وراءہ اس سے پیچھے یعنی اس سے آگے، مثلاً خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور نصف بیوی کو طلاق دی ہے، اگر طلاق میں تقسیم ہوسکتی تو پھر تو نصف بیوی ہی کو طلاق ہونی تھی لیکن چونکہ طلاق میں تقسیم ہو نہیں سکتی اس ضرورت کی وجہ سے یہ طلاق پھر متعدی ہوجاتی ہے باقی عورت کی طرف بھی، یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَالتَّعَدِّي إِلَى مَا وَرَاءَهُ اور اس سے آگے وہ جو تصرف متعدی ہوتا ہے، ضَرُورَةُ عَدَمِ التَّجَزُّؤِ وہ تقسیم نہ ہونے کی ضرورت کی وجہ سے ہے کہ جب تقسیم نہ ہوسکے وہ چیز۔
وَالْمِلْكُ مُتَجَزِّئٌ، اور یہاں پر جو ملکیت ہے وہ تو تقسیم ہو سکتی ہے، كَمَا فِي الْبَيْعِ وَالْهِبَةِ، جیسے کہ بیع اور ہبہ کے اندر ہے۔ ملکیت میں تقسیم ہو سکتی ہے، آپ اپنی ایک چیز ساری بیچیں یا آدھی بیچیں، یا ثلث بیچیں، یہ آپ کی مرضی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمِلْكُ مُتَجَزِّئٌ كَمَا فِي الْبَيْعِ وَالْهِبَةِ فَيَبْقَى عَلَى الْأَصْلِ، تو یہ تصرف بھی اپنی اصل پر باقی رہے گا۔ یہ اعتاق والا تصرف بھی اپنی اصل پر باقی رہے گا۔ اور اصل کیا تھا، ضابطہ کیا تھا ہم نے بتایا کہ تصرف اپنے مقام پر بند رہتا ہے، زائد کی طرف متعدی نہیں ہوتا۔ تو یہ اعتاق بھی جب تقسیم ہو سکتا ہے تو یہ بھی اپنے محل پر بند رہے گا، یعنی نصف غلام آزاد کیا ہے تو نصف ہی آزاد ہوگا، زائد آزاد نہیں ہوگا۔ تو یہ معنی ہے فَيَبْقَى عَلَى الْأَصْلِ، تو یہ تصرف یعنی اعتاق بھی اپنی اصل پر باقی رہے گا، یعنی جتنے حصے کی طرف نسبت کی ہے وہی آزاد ہوگا۔
وَتَجِبُ السِّعَايَةُ لِاحْتِبَاسِ مَالِيَّةِ الْبَعْضِ عِنْدَ الْعَبْدِ، میں نے آپ کو بتلایا کہ نصف غلام آزاد کیا تو اب اس غلام کو کوئی بیچ نہیں سکتا، لیکن نصف غلام کے اندر اس شخص کا مال بند ہو گیا۔ تو غلام سے سعی کروائی جائے گی، کام کاج کروایا جائے گا تاکہ وہ ادائیگی کرے اور اپنے پورے اعضاء کو آزاد کروا لے۔ تو کہتے ہیں وَتَجِبُ السِّعَايَةُ، اور یہ کام کاج جو ہے وہ اس پر واجب ہوگا۔ سعایہ کا معنی چاہے کام کاج کے کر لیں، چاہے کوشش کے کر لیں، وَتَجِبُ السِّعَايَةُ، اور اس غلام پر کوشش واجب ہوگی لِاحْتِبَاسِ مَالِيَّةِ الْبَعْضِ، یہ ترجمہ سمجھ لو: احتباس کا معنی ہے بند ہونا، مالیت یہ مصدر ہے، مال ہونا۔ آپ نے پڑھا ہے کسی بھی اسم کے آخر میں یاء مشدد اور گول تاء ملا کر اسے مصدر بنا لیا جاتا ہے۔ فاعل اسے مصدر بنانا ہے تو فاعلیت یعنی فاعل ہونا، اسی طرح مال، مالیت یعنی مال ہونا۔ تو کہتے ہیں: وَتَجِبُ السِّعَايَةُ لِاحْتِبَاسِ مَالِيَّةِ الْبَعْضِ، اور اس غلام پر سعی واجب ہوگی اس لیے کیونکہ بعض غلام کا مال ہونا بند ہو گیا۔ اس بعض سے کون مراد ہے؟ وہی غلام مراد ہے، اس کا بعض جو ہے وہ مال ہے، وہ بعض جو مال ہے وہ بند ہو گیا، اب اس کو آگے بیچا ہی نہیں جا سکتا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَتَجِبُ السِّعَايَةُ لِاحْتِبَاسِ مَالِيَّةِ الْبَعْضِ عِنْدَ الْعَبْدِ، اور سعی واجب ہوگی اس لیے کیونکہ بعض غلام کا مال ہونا بند ہو گیا، بھئی کس کے پاس بند ہوا؟ کہتے ہیں: عِنْدَ الْعَبْدِ، اسی غلام کے پاس، اسی غلام کے پاس اس آقا کا آدھا مال بند ہو گیا۔ اب وہ اس کو آگے بیچ نہیں سکتا، اپنا مال وصول نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَتَجِبُ السِّعَايَةُ لِاحْتِبَاسِ مَالِيَّةِ الْبَعْضِ عِنْدَ الْعَبْدِ، اور سعی واجب ہے اس لیے کیونکہ بعض غلام کا مال ہونا وہ بند ہو گیا اسی غلام کے پاس۔
وَالْمُسْتَسْعَى بِمَنْزِلَةِ الْمُكَاتَبِ عِنْدَهُ، مستسعیٰ بھئی وہ غلام جس سے کام کاج کروایا جائے، تو وہ مستسعیٰ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُسْتَسْعَى بِمَنْزِلَةِ الْمُكَاتَبِ عِنْدَهُ، اور وہ غلام جو مستسعیٰ ہے، یعنی جس سے سعی کروائی جا رہی ہے، بِمَنْزِلَةِ الْمُكَاتَبِ عِنْدَهُ، وہ مکاتب کے درجے میں ہے امام صاحب کے نزدیک۔ بھئی صاحبین کے نزدیک تو سارا ہی غلام آزاد ہو جائے گا، لیکن امام صاحب کے نزدیک نصف آزاد کیا ہے تو نصف آزاد ہوا اور باقی غلام اب جائے گا پیسے کما کر لا کر دے گا۔ تو یہ غلام مکاتب کے درجے میں ہے، جیسے مکاتب جو ہے وہ پیسے کما کر لا کر دیتا ہے اور اپنے آپ کو آزاد کرواتا ہے، تو یہ مستسعیٰ بھی مکاتب کے درجے میں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُسْتَسْعَى بِمَنْزِلَةِ الْمُكَاتَبِ عِنْدَهُ، اور یہ مستسعیٰ جو ہے یہ مکاتب کے درجے میں ہے امام صاحب کے نزدیک، لِأَنَّ الْإِضَافَةَ إِلَى الْبَعْضِ تُوجِبُ ثُبُوتَ الْمَالِكِيَّةِ فِي كُلِّهِ وَبَقَاءُ الْمِلْكِ فِي بَعْضِهِ يَمْنَعُهُ، یہ جگہ سمجھ لیں یہ ذرا مشکل جگہ ہے۔
لِأَنَّ الْإِضَافَةَ إِلَى الْبَعْضِ، اس لیے کیونکہ بعض غلام کی طرف جو نسبت کی گئی، کس چیز کی نسبت کی گئی؟ اعتاق کی، آقا نے کہا ہے میں نے تجھے نصف آزاد کیا ہے، سارے غلام کو آزاد نہیں کیا، تو یہ جو اعتاق کی نسبت بعض غلام کی طرف کی گئی، تُوجِبُ ثُبُوتَ الْمَالِكِيَّةِ فِي كُلِّهِ، یہ مالک ہونے کو ثابت کرتا ہے سارے غلام میں۔ بھئی دیکھیے: ایک ہے عتق اور ایک ہے رق، نہ عتق میں تقسیم ہو سکتی ہے نہ رق میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ تو آقا نے بعض غلام کی طرف اعتاق کی نسبت کی ہے، جب بعض غلام کی طرف اعتاق کی نسبت کی ہے تو معلوم ہوا اثباتِ عتق کیا ہے، اور عتق میں تو تقسیم نہیں ہو سکتی، یہ تقاضا کرتا ہے کہ غلام اپنی ساری ذات کا مالک بن جائے یعنی آزاد ہو جائے۔ یہ جو اعتاق کی نسبت بعض غلام کی طرف کی گئی اور اعتاق تو کس چیز کا نام ہے؟ اثباتِ عتق کا نام ہے، اور عتق جو ہے وہ تو تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ آزاد کتنا کیا؟ آدھا، لیکن آزادی تو تقسیم نہیں ہو سکتی، یہ تقاضا کرتا ہے غلام اپنی ساری ذات کا مالک بن جائے، یعنی آقا کی ملکیت اس سے بالکل ختم ہو جائے، یہ عتق یہ تقاضا کرتا ہے۔ لیکن دوسری طرف آقا کی نصف ملکیت غلام میں ابھی بھی باقی ہے، معلوم ہوا اس میں رقیت ہے اور رقیت بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتی، یہ رقیت یہ تقاضا کرتی ہے غلام کو سرے سے اپنی ذات پر کوئی اختیار ہی نہیں ہونا چاہیے۔ توجہ ہے؟ عتق کیا تقاضا کرتا ہے؟ غلام پورے طور پر آزاد ہو گیا اور آقا کی ملکیت ابھی بھی اس میں باقی ہے، معلوم ہوا وہ ابھی بھی غلام ہے، اور جب غلام ہے تو غلامی بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتی، یہ تقاضا کرتی ہے کہ سارا غلام ابھی بھی آقا کا مملوک ہے، غلام کو اپنی ذات پر کوئی اختیار ہے ہی نہیں۔ تو عتق کو دیکھیں تو غلام کو پورا آزاد ہونا چاہیے اور رق کو دیکھیں تو غلام کو بالکل سرے سے آزاد ہی نہیں ہونا چاہیے۔ تو دونوں میں تعارض آ رہا ہے، لہٰذا ہم نے یوں کیا دونوں پر عمل کیا، امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، ہم نے دونوں پر عمل کیا، حریت بھی آ جائے اور رقیت بھی باقی رہے، دونوں پر عمل ہو سکتا ہے، درمیانی صورت ممکن ہے کہ اس غلام کو مکاتب کا درجہ دے دیا جائے۔ مکاتب بھی اپنی ذات کے اعتبار سے، اپنی ذات پر قبضے کے اعتبار سے آزاد کی طرح ہے، وہ جو چاہے تصرف کر سکتا ہے، اس کو کوئی آقا کی خدمت کی ضرورت نہیں ہے، اور غلامی کے اعتبار سے مکاتب ابھی بھی پورا غلام ہے۔ تو قبضے کے اعتبار سے وہ مالک ہے اپنی ذات کا اور رقیت کے اعتبار سے وہ ابھی بھی مملوک ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا یہاں پر یہ جو غلام ہے جس کو آقا نے نصف آزاد کیا ہے، یہ مکاتب کے درجے میں ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہاں عتق بھی آ رہا ہے کیونکہ اعتاق کیا ہے اور اعتاق اثباتِ عتق کا نام ہے اور عتق تقسیم کو قبول نہیں کرتا، تو یہ تقاضا کرتا ہے سارا غلام ہی آزاد ہونا چاہیے، وہ اپنی پوری ذات کا مالک بن جائے، وہ جو چاہے کرے۔ اور دوسری طرف آدھی ملکیت تو ابھی بھی باقی ہے یعنی رق ابھی بھی باقی ہے اور رق بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتا، وہ تقاضا کرتا ہے کہ ابھی بھی اس کو یہ سارا غلام ہے، اس کو اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں۔ تو معلوم ہوا ایک طرف دیکھا جائے تو عتق آ رہا ہے، دوسری طرف دیکھیں تو رق آ رہا ہے، تو پھر ہم نے دونوں پر عمل کر لیا اور ایک متوسط صورت اختیار کر لی اور یہاں متوسط صورت ممکن بھی ہے اور وہ مکاتب کی ہے کہ وہ بعض اعتبار سے دیکھیں تو آزاد لوگوں کی طرح ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں تو وہ غلام ہے، اسے اپنی ذات پر پورا قبضہ ہے، وہ جیسے تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے اور وہ غلام بھی ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِضَافَةَ إِلَى الْبَعْضِ، اس لیے کیونکہ یہ جو اعتاق کی نسبت کی گئی بعض غلام کی طرف، تُوجِبُ، یہ واجب کرتا ہے، ثُبُوتَ الْمَالِكِيَّةِ فِي كُلِّهِ، کہ مالک ہونے کا ثبوت ہو جائے سارے غلام میں۔ مالک ہونا ثابت ہو جائے پورے غلام میں، کس کا مالک ہونا؟ غلام کا اپنی ذات کا مالک ہونا، غلام اپنی پوری ذات کا مالک ہو جائے، اس کے اندر یہ مالکیت ثابت ہو جائے یعنی حریت ثابت ہو جائے۔ کیا ثابت ہو جائے؟ حریت ثابت ہو جائے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: لِأَنَّ الْإِضَافَةَ إِلَى الْبَعْضِ تُوجِبُ ثُبُوتَ الْمَالِكِيَّةِ فِي كُلِّهِ، اس لیے کیونکہ یہ جو اعتاق کی نسبت کی گئی بعض غلام کی طرف، یہ واجب کرتا ہے کہ غلام کے اندر مالک ہونے کا ثبوت ہو جائے اس کی ساری ذات میں، وہ سارا ہی اپنی ذات کا مالک بن جائے یعنی آزاد ہو جائے۔ وَبَقَاءُ الْمِلْكِ فِي بَعْضِهِ، لیکن اسی غلام کے اندر اس کے کچھ حصے کے اندر ملکیت کا باقی رہنا، يَمْنَعُهُ، یہ اس کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات کا مالک ہو جائے۔ یہ يَمْنَعُهُ کی ہاء ضمیر لوٹائیں ثُبُوتَ الْمَالِكِيَّةِ فِي كُلِّهِ کی طرف۔ وَبَقَاءُ الْمِلْكِ فِي بَعْضِهِ يَمْنَعُهُ، اور بعض غلام کے اندر ملکیت کا باقی رہنا وہ منع کرتا ہے اس کو، کس چیز کو منع کرتا ہے؟ ثبوتِ مالکیۃ فی کلہ کو کہ وہ اپنی ساری ذات کا مالک بن جائے، یعنی رقیت، رقیت کیا تقاضا کرتی ہے کہ یہ سرے سے اپنی ذات کا مالک ہی نہ بنے بھئی، جب ملکیت ہے تو پورا غلام ہی ہے یہ اب۔ تو پہلی بات جو تھی: لِأَنَّ الْإِضَافَةَ إِلَى الْبَعْضِ تُوجِبُ ثُبُوتَ الْمَالِكِيَّةِ فِي كُلِّهِ، یہ حریت کے اعتبار سے ہے، کہ جب بعض کی طرف اعتاق کی نسبت کی، تُوجِبُ ثُبُوتَ الْمَالِكِيَّةِ فِي كُلِّهِ، یہ واجب کرتا ہے کہ غلام کے اندر مالک ہونا ثابت ہو جائے اس کی ساری ذات میں یعنی حریت، یعنی عتق یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ سارا ہی آزاد ہو جائے۔ وَبَقَاءُ الْمِلْكِ فِي بَعْضِهِ، اور یہ جو ملکیت کا باقی رہنا ہے بعض غلام کے اندر، يَمْنَعُهُ، وہ اس ثبوتِ مالکیت کو منع کرتا ہے یعنی جو رقیت ہے، ملکیت باقی ہے تو معلوم ہوا رقیت باقی ہے اور رقیت تو تقسیم کو قبول نہیں کرتی، لہٰذا یہ تقاضا کرتی ہے کہ سارے غلام پر ہی یہ آقا کا مملوک رہے بھئی، یعنی یہ غلام رہے۔
فَعَمِلْنَا بِالدَّلِيلَيْنِ، تو ہم نے دونوں دلیلوں پر عمل کیا، بِإِنْزَالِهِ مُكَاتَبًا، اس کو مکاتب کے درجے پر اتارتے ہوئے۔ إِذْ هُوَ مَالِكٌ يَدًا لَا رَقَبَةً، اس لیے کیونکہ مکاتب جو ہوتا ہے وہ مالک ہوتا ہے يَدًا قبضے کے اعتبار سے، یعنی اس کو اپنی ذات پر قبضہ ہے، جیسے مرضی تصرف کرے، آقا جبراً اس سے خدمت نہیں لے سکتا، لَا رَقَبَةً، لیکن وہ رقبہ کے اعتبار سے اپنا مالک نہیں، ابھی بھی یہ مملوک ہے، غلام ہے۔ قبضے کے اعتبار سے اپنا مالک ہے، رقبہ کے اعتبار سے مالک نہیں ہے بھئی۔ وَالسِّعَايَةُ كَبَدَلِ الْكِتَابَةِ، اور یہ جو کام کاج کرے گا، کمائی کرے گا، كَبَدَلِ الْكِتَابَةِ، یہ کس کے درجے میں ہوگی؟ بدلِ کتابت کے درجے میں ہوگی۔ فَلَهُ أَنْ يَسْتَسْعِيَهُ وَلَهُ خِيَارُ أَنْ يُعْتِقَهُ، تو یہ جو آقا ہے اس کو اختیار ہے، یہ چاہے تو باقی غلام کو بھی آزاد کر دے اور چاہے تو باقی غلام سے کہے کہ جاؤ آدھے پیسے کما کر لاؤ اپنی قیمت کے برابر اور مجھے ادا کرو تو تم سارے ہی آزاد ہو جاؤ گے۔ تو معلوم ہوا آقا اپنے باقی غلام سے سعی بھی کروا سکتا ہے اور باقی کو آزاد بھی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَلَهُ أَنْ يَسْتَسْعِيَهُ، تو آقا کے لیے جائز ہے کہ اس غلام سے سعی کروائے، وَلَهُ خِيَارُ أَنْ يُعْتِقَهُ، اور آقا کو یہ بھی اختیار ہے کہ اس باقی کو بھی آزاد کر دے، لِأَنَّ الْمُكَاتَبَ قَابِلٌ لِلْإِعْتَاقِ، اس لیے کیونکہ مکاتب بھی اعتاق کے قابل ہوتا ہے۔ ایک غلام ہے اس سے آقا نے عقدِ کتابت کر لیا، ابھی وہ پیسے نہیں لایا تھا، آقا اس کو ویسے آزاد کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے، مکاتب بھی کیا ہے؟ قابلِ اعتاق ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُكَاتَبَ قَابِلٌ لِلْإِعْتَاقِ، اس لیے کیونکہ مکاتب بھی اعتاق کے قابل ہوتا ہے۔
غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ لَا يُرَدُّ إِلَى الرِّقِّ، ہاں ایک بات ہے: مکاتب اگر کمائی سے عاجز آ جائے وہ پھر پہلے جیسا غلام بن جاتا ہے، لیکن یہ مستسعیٰ اگر کمائی سے عاجز آیا یہ پھر پہلے جیسا غلام نہیں بنے گا۔ کیوں؟ وجہ کیا؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ دونوں جگہ فرق ہے۔ یہ جو مکاتب ہے، مکاتب نے اپنے آقا سے عقد کیا تھا، اور عقد کو فسخ کیا جا سکتا ہے، یہ دو آدمیوں کا معاملہ ہے وہ اس کو فسخ کر دیتے ہیں، تو جب مکاتب عاجز آ گیا پیسے نہیں لا سکتا تو یہ عقد فسخ کر دیا جائے گا اور یہ پہلے جیسا غلام بن جائے گا۔ جبکہ مستسعیٰ کے اندر تو آقا نے اس کے نصف کو ویسے ہی آزاد کیا ہے، وہاں تو کوئی عقد ہی نہیں ہوا، عقد ہوتا تو فسخ ہو سکتا تھا، یہاں تو عقد نہیں ہے، صرف اسقاط ہے، آقا نے آدھے پر سے اپنی ملکیت ساقط کر دی ہے، تو اسقاط کو فسخ نہیں کیا جا سکتا، عقد کو فسخ کیا جا سکتا ہے لیکن اسقاط کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے مستسعیٰ اگر پیسے کمانے سے عاجز آ گیا تو وہ پھر پہلے جیسا غلام نہیں بن سکتا کیونکہ وہاں فسخ کی کوئی صورت نہیں۔ لیکن مکاتب اگر پیسے کمانے سے عاجز آ گیا تو وہ پھر پہلے جیسا غلام بن جائے گا کیونکہ وہاں وہ عقد ہوا ہے دونوں کے درمیان، آقا اور مکاتب کے درمیان، اور عقد تو فسخ کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ، علاوہ اس کے کہ جب یہ مستسعیٰ عاجز آ جائے، لَا يُرَدُّ إِلَى الرِّقِّ، تو اس کو غلامی کی طرف لوٹایا نہیں جائے گا، لِأَنَّهُ إِسْقَاطٌ لَا إِلَى أَحَدٍ، اس لیے کیونکہ یہ جو اعتاق ہے یہ اسقاط ہے لَا إِلَى أَحَدٍ۔ بھئی دیکھیے: آقا اور غلام کے درمیان عقدِ کتابت ہوا ہے، تو اس کے اندر آقا غلام پر سے اپنی ملکیت ساقط کرے گا، اور کس کے لیے ساقط کرے گا؟ اس مکاتب کے لیے ساقط کرے گا۔ تو یہاں دو افراد ہیں ان میں معاہدہ ہو رہا ہے، عقد ہو رہا ہے اور عقد کو فسخ کیا جا سکتا ہے، جبکہ اعتاق وہ تو اسقاطِ ملکیت کا نام ہے اور وہ اسقاط اس نے کسی دوسرے کے لیے ساقط کیا ہے؟ کسی دوسرے کو اس کا مالک بنایا ہے؟ یا اسقاط لا الی احد ہے بھئی؟ لا الی احد، کسی ایک کے لیے اسقاط نہیں ہے، ویسے ہی اپنی ملکیت ساقط کی ہے، نصف غلام کو ویسے ہی آزاد کیا ہے، لہٰذا وہاں وہاں فسخ کی کوئی صورت نہیں۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں: غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ لَا يُرَدُّ إِلَى الرِّقِّ لِأَنَّهُ إِسْقَاطٌ لَا إِلَى أَحَدٍ، مگر یہ کہ مستسعیٰ جب پیسے کمانے سے عاجز آ جائے تو اس کو غلامی کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا، اس لیے کیونکہ اعتاق جو ہے یہ اپنی ملکیت کو ساقط کرنا ہے، لا الی احد، نہ کہ کسی کی طرف، یعنی کسی کے لیے ساقط نہیں کیا، بس ویسے ہی ساقط کر دیا ہے۔ فَلَا يَقْبَلُ الْفَسْخَ، لہٰذا یہ فسخ کو قبول نہیں کرتا کیونکہ یہ اسقاط ہے۔
بِخِلَافِ الْكِتَابَةِ الْمَقْصُودَةِ، بخلاف کتابتِ مقصودہ کے۔ بھئی یہ جو مستسعیٰ ہے، یہ جو پیسے کما کر لائے گا، یہ بھی کس کے درجے میں ہوا؟ مکاتب کے درجے میں، تو یہاں بھی کتابت تو آگئی لیکن کیا اس کتابت کا ارادہ کیا گیا تھا؟ کیا دونوں نے آپس میں عقد کیا کوئی کتابت والا؟ بھئی یہ جو غلام ہے جس کو آقا نے آدھا آزاد کر دیا اور آدھے میں وہ سعی کرے گا، تو یہ غلام بھی کس کے درجے میں ہوا؟ مکاتب کے درجے میں ہوا، لیکن کیا یہاں قصداً عقدِ کتابت کیا گیا یا وہ خود بخود بن گیا کتابت والا عقد؟ خود بخود کتابت جیسی صورت بن گئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ کتابتِ غیر مقصودہ ہے۔ اور جب آقا اپنے غلام سے خود عقدِ کتابت کرے وہ ہے کتابتِ مقصودہ، یعنی وہ کتابت جس کا قصد کیا گیا۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْكِتَابَةِ الْمَقْصُودَةِ، بخلاف اس کتابت کے جس کا ارادہ کیا جائے، لِأَنَّهُ عَقْدٌ، کیونکہ وہ تو عقد ہے، يُقَالُ وَيُفْسَخُ، يُقَالُ وَيُفْسَخُ، یاد رکھو: يُقَالُ ہے أَقَالَ يُقِيلُ إِقَالَةً سے، أَقَالَ يُقِيلُ إِقَالَةً کا معنی ہے عقد کو فسخ کرنا۔ مثلاً ایک آدمی آپ سے کوئی چیز خرید کر لے گیا اور بعد میں پھر آیا کہ بھئی مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، آپ یہ عقد فسخ کر دیں، یہ چیز اپنی واپس لے لیں، تو آپ اس سے وہ چیز واپس لے لیتے ہیں اور اس کے پیسے اس کو دے دیتے ہیں، تو دیکھو اب وہ جبراً آپ کو وہ چیز واپس نہیں کر سکتا تھا لیکن اگر دونوں راضی ہیں تو وہ عقد کو فسخ کر سکتے ہیں، تو آپ نے وہ عقد فسخ کر دیا، اس کو کہتے ہیں اقالہ۔ اور اس کی بڑی فضیلت ہے کہ ایک مسلمان بھئی آپ کا تکلیف میں تھا، پریشانی میں تھا تو آپ نے اس سے اس کی چیز واپس خرید لی، حالانکہ جبراً وہ واپس نہیں کر سکتا تھا بھئی، وہ قاضی کے ذریعے بھی اب آپ کو واپس نہیں کر سکتا کیونکہ آپ دونوں میں بیع ہوئی ہے بھئی۔ تو یہ جو عقد کو فسخ کیا جاتا ہے اس کو اقالہ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْكِتَابَةِ الْمَقْصُودَةِ لِأَنَّهُ عَقْدٌ يُقَالُ وَيُفْسَخُ، بخلاف کتابتِ مقصودہ کے کیونکہ وہ تو عقد ہے جس کو فسخ کیا جاتا ہے۔ توجہ سے دیکھو بھئی یہ عبارت: يُقَالُ وَيُفْسَخُ، يُقَالُ کا بھی کیا معنی؟ فسخ کیا جاتا ہے، اور يُفْسَخُ کا بھی کیا معنی؟ فسخ کیا جاتا ہے، یہ عطفِ تفسیری ہے۔ یہ عطفِ تفسیری ہے، یاد رکھو یہ عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے، دو چیزوں کے درمیان جب واؤ آئے معلوم ہوا یہ دونوں آپس میں الگ الگ ہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں میرے پاس زید اور عمرو آئے، یہ جو زید اور عمرو کے درمیان 'اور' کا لفظ میں لایا، زید اور عمرو، یہ 'اور' بتلا رہا ہے زید کوئی اور ذات ہے، عمرو اور ذات ہے۔ تو لہٰذا جب دو چیزوں میں عطف کیا جائے اور حرفِ عطف درمیان میں لایا جائے تو یہ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے غیر ہیں، جدا ہیں، الگ ہیں۔ لیکن بعض اوقات اسی عطف کے ذریعے ماقبل کا معنی بیان کیا جاتا ہے، اس کی تفسیر کی جاتی ہے، اس میں معطوف علیہ اور معطوف ایک ہی چیز ہوتے ہیں کیونکہ معطوف اسی معطوف علیہ کا معنی بیان کر رہا ہے، اس کی تفسیر کر رہا ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، یہاں پر یہ وَيُفْسَخُ جو ہے یہ عطفِ تفسیری ہے، یہ يُقَالُ کا معنی بیان کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: يُقَالُ وَيُفْسَخُ، جو عقد جو ہے اس کو تو فسخ کیا جاتا ہے۔
وَلَيْسَ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَفْوِ عَنِ الْقِصَاصِ حَالَةٌ مُتَوَسِّطَةٌ، بھئی صاحبین نے کہا تھا اعتاق کی تقسیم نہیں ہو سکتی اور پھر تین نظیریں ذکر کی تھیں کہ جیسے طلاق کی تقسیم نہیں ہو سکتی اور اسی طرح قصاص سے معافی جو ہے اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی اور ام ولد ہونے کی تقسیم نہیں ہو سکتی، تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں۔ جواب دیں گے امام صاحب کی طرف سے صاحبِ ہدایہ، کہ ہم نے اعتاق کے اندر دیکھا تو ایک طرف حریت آ رہی تھی، دوسری طرف سے رق آ رہی تھی، تو ہم نے درمیانی حالت پر عمل کر لیا اور وہاں درمیانی حالت ممکن تھی۔ جبکہ طلاق اور قصاص سے معافی یہاں کوئی حالتِ متوسطہ نہیں، کوئی درمیانی حالت نہیں کہ جس پر ہم عمل کر لیں، لہٰذا یہاں پر ہم نے محرم کو ترجیح دے دی۔ آپ نے پڑھا ہے کہ جب ایک ہی چیز کے سلسلے میں ایک دلیل حرام کرنے والی ہو اور ایک دلیل اس کو مباح کرنے والی ہو تو محرم کو ترجیح ہوتی ہے۔ مثلاً ایک چیز ہے اس کے بارے میں پتہ نہیں چل رہا کہ یہ حلال ہے یا حرام ہے، ایک دلیل کو دیکھیں تو وہ دلیل بتلا رہی ہے کہ یہ حرام ہے، دوسری دلیل کی طرف دیکھیں تو وہ بتلا رہی ہے یہ حلال ہے، تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ جب محرم اور مبیح دلیلیں جمع ہو جائیں، ایک حرام کرنے والی دلیل ہے، ایک مباح قرار دینے والی دلیل ہے، تو فقہاء فرماتے ہیں محرم کو ترجیح ہوگی۔ وجہ یہ کہ یہاں دونوں قسم کی دلیلیں ہیں، اب حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ یہ چیز حقیقت میں حلال ہے یا حرام، لیکن دلیلیں تو دونوں طرف کی ہیں، تو اگر آپ نے مبیح دلیل کو ترجیح دے دی اور آپ نے اس چیز کو حلال قرار دے دیا اور ہو سکتا ہے عند اللہ یہ چیز حرام ہو، تو اس صورت میں ایک حرام چیز کا استعمال لازم آئے گا۔ اور اگر آپ اس چیز کو حرام قرار دے دیتے ہیں، محرم دلیل کو ترجیح دے دیتے ہیں، آپ نے اس چیز کو حرام قرار دے دیا اور عند اللہ ہو سکتا ہے یہ چیز حلال ہو، تو بھی کوئی خرابی لازم نہیں آئی، زیادہ سے زیادہ ایک حلال چیز کے استعمال سے آپ رک گئے اور تو کوئی نقصان نہیں ہوا، لہٰذا محرم اور مبیح دلیلیں جمع ہو جائیں تو پھر کس کو ترجیح ہوتی ہے؟ محرم کو۔ تو یہاں پر بھی طلاق دی ہے خاوند نے، نصف بیوی کو طلاق دی ہے تو یہ تقاضا کر رہا ہے کہ نصف عورت خاوند کے لیے حرام ہو اور نصف عورت خاوند کے لیے حلال ہو۔ نصف عورت خاوند کے لیے حلال ہو، لیکن محرم کو ترجیح دی گئی اور ساری عورت کو ہی خاوند کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح جب قصاص لینے والوں میں سے ایک نے قصاص معاف کر دیا تو اس کا معاف کرنا یہ قصاص کو حرام قرار دے رہا ہے اور دوسروں کا معاف نہ کرنا وہ قصاص کو حلال قرار دے رہا ہے، تو محرم کو ترجیح دیں گے، قصاص کو حرام قرار دے دیں گے یعنی اب قصاص جائز نہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: وَلَيْسَ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَفْوِ عَنِ الْقِصَاصِ حَالَةٌ مُتَوَسِّطَةٌ فَأَثْبَتْنَاهُ فِي الْكُلِّ تَرْجِيحًا لِلْمُحَرِّمِ، اور طلاق اور قصاص سے معافی کے درمیان کوئی درمیانی حالت نہیں ہے، تو ہم نے وہ معافی اور طلاق ثابت کر دی سارے میں، محرم کو ترجیح دیتے ہوئے مبیح پر۔
وَالِاسْتِيلَادُ مُتَجَزِّئٌ عِنْدَهُ، تیسری نظیر انہوں نے ذکر کی تھی صاحبین نے جیسے ام ولد بنانا، کہ ام ولد بنانے میں تقسیم نہیں ہو سکتی، تو اس کا جوابِ انکاری دے رہے ہیں کہ نہیں، آپ استیلاد کو بطورِ دلیل کے پیش نہیں کر سکتے، کیونکہ استیلاد جو ہے یعنی ام ولد بنانا، امام صاحب کے نزدیک اس کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ جیسے اعتاق کی تقسیم ہو سکتی ہے اسی طرح استیلاد یعنی ام ولد بنانے کی بھی تقسیم ہو سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالِاسْتِيلَادُ مُتَجَزِّئٌ عِنْدَهُ حَتَّى لَوِ اسْتَوْلَدَ نَصِيبَهُ مِنْ مُدَبَّرَةٍ يَقْتَصِرُ عَلَيْهِ، اور استیلاد جو ہے یعنی ام ولد بنانا وہ تقسیم ہو سکتا ہے امام صاحب کے نزدیک، یہاں تک کہ ام ولد بنایا اپنے حصے کو ایک مدبرہ میں سے، ایک آدمی نے اپنے حصے کو ام ولد بنایا ایک مدبرہ میں سے، تو یہ استیلاد اسی حصے پر بند رہے گا، صرف وہی نصف حصہ ام ولد بنے گا، باقی نصف ام ولد نہیں وہ اسی طرح مدبرہ ہے بھئی، وہ مدبرہ ہے۔
یاد رکھنا یہ جو مدبرہ ہے، اس نے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہونا ہے، تو یہ وصیت کے درجے میں ہے کیونکہ ابھی تو آزاد نہیں ہے، مرنے کے بعد آزاد ہوگی، یوں سمجھو گویا آقا نے اس کے لیے وصیت کر دی ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ آزاد ہے۔ اور وصیت کتنے میں نافذ ہوتی ہے؟ ثلثِ مال میں، لہٰذا جس شریک کے لیے یہ نصف مدبرہ ہے تو اگر یہ نصف مدبرہ اس کے ثلث میں سے پوری نکل سکی تو پھر یہ حصہ آزاد ہو جائے گا، اور اگر پوری نصف باندی اس ثلث میں سے نہ ہو سکی تو پھر کچھ حصہ باندی کا آزاد ہو جائے گا جتنا ثلث میں سے نکلا اور باقی حصہ جو اس کا ہے اس میں وہ کمائی کر کے دے گی۔ جبکہ ام ولد جو ہے، ام ولد نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے، اس کا بچہ اس کی آزادی کا سبب بن گیا ہے، لہٰذا ام ولد کے اندر ثلث کو نہیں دیکھا جائے گا۔ لہٰذا ایک کے لیے یہ باندی ام ولد ہے اس کا چاہے سارا مال صرف یہی باندی ہو پھر بھی یہ مرنے کے بعد آزاد ہوگی، اور دوسرے کے لیے یہ نصف باندی مدبرہ ہے تو اس کے مرنے کے بعد اگر ثلث میں سے یہ نصف پورا ہو سکا تو یہ باندی نصف آزاد ہو جائے گی، ورنہ ثلث میں سے جتنا حصہ بنتا ہے وہ آزاد ہوگا، بات سمجھ میں آگئی؟
وَفِي الْقِنَّةِ لَمَّا ضَمِنَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ بِالْإِفْسَادِ، اچھا بھئی ادھر دیکھیے: یہ تو وہ صورت ہم نے ذکر کی کہ ایک باندی دو آدمیوں میں مشترک تھی اور دونوں نے اس کو مدبرہ بنا دیا تھا، پھر اس کے بعد ایک نے اس کو ام ولد بنایا۔ اور اگر ایک عام باندی ہے جس کو دونوں نے مدبرہ نہیں بنایا، یہ نہیں کہا ہمارے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، بس دو آدمیوں نے مل کر ایک باندی خریدی ہے تو یہ دونوں کے درمیان مشترکہ باندی ہے۔ اس باندی کے ساتھ دونوں میں سے ہر ایک کے لیے وطی کرنا حرام ہے، لیکن کچھ عرصے بعد اس باندی نے بچے کو جنم دیا اور دونوں مالکوں میں سے ایک نے کہا یہ میری اولاد ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو، اس صورت میں یاد رکھو یہ باندی اس کی ام ولد ہو جائے گی اور دوسرے کے حصے کو اس نے خراب کر دیا، کیونکہ اب اس باندی کو بیچنا جائز نہیں اس کے لیے۔ جب بیچنا جائز نہیں ہے تو وہ شخص اس پر رجوع کرے گا کہ مجھے ضمان دو میرا حصہ تم نے خراب کیا ہے، چنانچہ وہ اس دوسرے مالک سے اپنا حصہ لے لے گا۔ جب اس سے ضمان لے لے گا تو وہ جو مالک ہے وہ پوری باندی کا مالک بن گیا، تو پوری ہی باندی ام ولد ہو جائے گی۔ تو مدبرہ کے اندر مسئلہ اور تھا، نصف مدبرہ ام ولد بنے گی اور نصف اسی طرح مدبرہ رہے گی۔ نصف اسی طرح مدبرہ رہے گی، دو آدمیوں میں باندی مشترک تھی اور دونوں نے مدبرہ بنا دیا تھا، پھر ایک نے ام ولد بنایا تو اس کا حصہ ام ولد بنے گا، دوسرے کا حصہ اسی طرح مدبرہ ہی رہے گا۔ لیکن اگر عام باندی ہے تو اس کے اندر اگر ایک اس کو ام ولد بناتا ہے تو وہ ضمان اس کو دینا پڑے گا اور وہ ساری باندی کا مالک بن جائے گا اور جب ساری باندی کا مالک بنا تو ساری ہی ام ولد بن جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: وَفِي الْقِنَّةِ، قن کہتے ہیں عام غلام کو، کہتے ہیں: وَفِي الْقِنَّةِ لَمَّا ضَمِنَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ بِالْإِفْسَادِ مَلَكَهُ بِالضَّمَانِ فَكَمُلَ الِاسْتِيلَادُ، اور عام باندی کے اندر یہ شخص جب ضامن بن گیا اپنے ساتھی کے حصے کا اس کا حصہ فاسد کرنے کی وجہ سے، تو ضمان کی وجہ سے یہ اس حصے کا بھی مالک بن جائے گا، تو استیلاد کامل ہو جائے گا یعنی پوری باندی ہی ام ولد ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ مسئلہ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔