آگے سبق دیکھیے بھئی:
”وَلَوْ قَالَ هٰذَا ابْنِيْ وَثَبَتَ عَلَى ذٰلِكَ عَتَقَ، وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ إِذَا كَانَ يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ، وَإِذَا كَانَ لَا يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ ذَكَرَهُ بَعْدَ هٰذَا، ثُمَّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْعَبْدِ نَسَبٌ مَّعْرُوْفٌ يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ لِأَنَّ وِلَايَةَ الدَّعْوَةِ بِالْمِلْكِ ثَابِتَةٌ، وَالْعَبْدُ مُحْتَاجٌ إِلَى النَّسَبِ“
بھئی کتاب العتاق ہم پڑھ رہے تھے۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو گزشتہ سبق میں بتلایا کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو ”یَا حُرُّ“ یا ”یَا عَتِیْقُ“ کہہ کر ندا دے گا تو اس سے غلام آزاد ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ حر اور عتیق، یہ الفاظ آزادی کے اندر صریح ہیں۔ تو آقا نے ایسا لفظ ندا کے اندر استعمال کر لیا جو آزادی کے اندر صریح ہے، تو اس سے آزادی ثابت ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ صریح لفظ جو ہے وہ نیت کا محتاج نہیں ہوتا، اس میں اور معنی کا احتمال ہی نہیں ہے، تو جب وہ لفظ ادا ہو گا تو وہ اپنے معنی کو ثابت کر دے گا۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ جب کسی شخص کو ندا دی جاتی ہے مثلاً اگر اس کے نام کے ساتھ ندا دی گئی ”يَا زَيْدُ“، تو یہاں دراصل اس کو اطلاع دینا ہوتا ہے اس کے علم کے ساتھ کہ میں تمہیں طلب کر رہا ہوں، میرے پاس حاضر ہو جاؤ یا میری طرف متوجہ ہو جاؤ۔ لیکن جب کسی کو وصف کے ساتھ ندا دی جائے تو وہاں مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ منادیٰ اس وصف کے ساتھ حاضر ہو جائے۔ اور یہاں پر آقا نے ”یَا حُرُّ“ یا ”یَا عَتِیْقُ“ کہہ کر ندا دی ہے یعنی وصف کو ذکر کیا ہے، معلوم ہوا وہ چاہتا ہے کہ اس کا غلام اس وصف کے ساتھ اس کے سامنے حاضر ہو جائے۔ اور یہ حریت ایسا وصف ہے جو آقا کی طرف سے ثابت بھی ہو سکتا ہے۔ تو آقا جب بھی ایسے وصف کے ساتھ اپنے غلام کو ندا دے گا کہ وہ وصف آقا کی طرف سے ثابت بھی ہو سکتا ہے یعنی وہ وصف آقا کے اختیار میں ہے، وہ جب چاہے اپنے غلام میں حریت کو ثابت کر سکتا ہے، تو جب آقا ایسے وصف کے ساتھ اپنے غلام کو ندا دے گا تو اس صورت میں اس کو خبر قرار دیا جائے گا کہ آقا اس غلام کو خبر دے رہا ہے کہ میں نے تمہارے اندر اس وصف کو ثابت کر دیا ہے، اب تم اس وصف کے ساتھ میری طرف متوجہ ہو جاؤ یا تم اس وصف کے ساتھ میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ جی۔
تو لہٰذا آقا جب بھی ایسے وصف کے ساتھ اپنے غلام کو ندا دے گا کہ وہ وصف آقا کے اختیار میں ہے تو اس ندا کو خبر قرار دیا جائے گا کہ آقا غلام کو خبر دے رہا ہے کہ میں نے یہ وصف تمہارے اندر ثابت کر دیا ہے، اب تم اس وصف کے ساتھ میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر آقا نے غلام کا نام ہی حر رکھا ہوا ہے تو اب ”یَا حُرُّ“ کہہ کر ندا دینے سے وہ غلام آزاد نہیں ہو گا، کیونکہ یہ حر اس نے غلام کا نام رکھا ہے تو گویا وہ غلام کو اس کے علم کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے بھئی۔ لیکن اگر نام تو اس نے غلام کا حر رکھا ہے اور وہ اس کو فارسی میں ندا دیتا ہے ”یا آزاد“، تو اس صورت میں غلام آزاد ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ غلام کا نام تو آزاد نہیں ہے، تو اس کو علم کے ساتھ ندا قرار نہیں دیا جا سکتا، تو اس کو وصف ہی اعتبار کیا جائے گا اور اسے خبر کہا جائے گا کہ آقا اپنے غلام کو خبر دے رہا ہے کہ میں نے تم میں یہ وصف یعنی آزادی کو ثابت کر دیا ہے، اس آزادی کے ساتھ اب میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ جس طرح آقا اپنے غلام کو ”أَنْتَ حُرٌّ“ یا ”أَنْتَ عَتِيْقٌ“ وغیرہ کا لفظ کہے تو غلام آزاد ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر آقا آزادی کی نسبت غلام یا باندی کے ایسے عضو کی طرف کرے جس کے ساتھ پوری ذات انسانی کو تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے ساتھ پورے بدن انسانی کو تعبیر کیا جاتا ہے، تو اس صورت کے اندر بھی غلام آزاد ہو جائے گا۔ مثلاً عربی زبان میں ”رَأْسٌ“ کا لفظ پورے انسان کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے یا اسی طرح ”وَجْهٌ“ کا لفظ پورے انسان کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے یا اسی طرح ”رَقَبَةٌ“ کا لفظ پورے انسان کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے، تو اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا ”وَجْهُكَ حُرٌّ“ یا ”رَأْسُكَ حُرٌّ“ یا ”رَقَبَتُكَ حُرٌّ“، تو ان تمام صورتوں میں غلام آزاد ہو جائے گا۔ یا اسی طرح باندی سے کہا ”فَرْجُكِ حُرٌّ“ تیری شرم گاہ آزاد ہے، تو فرج ایسا لفظ ہے کہ جس کے ساتھ پوری باندی کو تعبیر کیا جاتا ہے، لہٰذا ان تمام صورتوں میں وہ غلام یا باندی آزاد ہو جائیں گے۔
اور اگر آقا نے آزادی کی نسبت ایسے جز کی طرف کی جو پورے بدن کے اندر پھیلا ہوا ہے تو اس صورت میں اس جز کے اندر آزادی ثابت ہو جائے گی۔ مثلاً آقا نے اپنے غلام سے کہا تیرا نصف آزاد ہے، یا تیرا تیسرا حصہ آزاد ہے، یا تیرا پچاسواں حصہ آزاد ہے، یا تیرا سوواں حصہ آزاد ہے، تو یہ نصف جو ہے یہ تو پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے، ہر ہر جز کا نصف مراد ہے، یا ہر ہر جز کا تیسرا حصہ مراد ہے، یا ہر ہر جز کا سوواں حصہ مراد ہے، تو اس صورت میں ان اجزا کے اندر آزادی ثابت ہو جائے گی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اس کے اندر صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اعتاق میں تجزی ہو سکتی ہے کہ غلام کا کچھ جز آزاد کر دیا جائے اور کچھ مملوک ہی رہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اعتاق میں تجزی نہیں ہو سکتی، اعتاق تقسیم کو قبول نہیں کرتا، جب غلام یا باندی کے کچھ حصے کو آزاد کیا جائے گا تو پورا غلام یا باندی ہی آزاد ہو جائے گا۔ جی۔
تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام کے ایسے حصے کی طرف آزادی کی نسبت کی جو پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے تو اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک یہ اتنا حصہ آزاد ہو جائے گا جبکہ صاحبین کے نزدیک پورا غلام آزاد ہو جائے گا اور اس اختلاف کی تفصیل کہتے ہیں آگے ہم ذکر کریں گے۔ جی۔
اور پھر اگر آقا نے آزادی کی نسبت کسی ایسے جز کی طرف کی، ایسے عضو کی طرف کی جس کے ساتھ پورے بدن کو تعبیر نہیں کیا جاتا، جیسے کہ ہاتھ ہے یا پاؤں ہے، تو اس صورت میں ہمارے نزدیک غلام یا باندی آزاد نہیں ہوں گے۔ مثلاً آقا نے اپنے غلام سے کہا ”يَدُكَ حُرٌّ“ تیرا ہاتھ آزاد ہے، یا ”رِجْلُكَ حُرٌّ“ تیرا پاؤں آزاد ہے، تو ید اور رجل اس کے ساتھ تو پورے بدن کو تعبیر نہیں کیا جاتا عربی زبان میں، لہٰذا اس صورت میں آزادی واقع نہیں ہو گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس صورت میں بھی آزادی واقع ہو جائے گی۔ اور صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اس کے اندر جو اختلاف ہے، جی، یعنی ایسا عضو جس کے ساتھ پورے بدن کو تعبیر نہیں کیا جاتا، اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک آزادی واقع نہیں ہو گی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک آزادی واقع ہو جائے گی۔ تو یہ جو ہمارے درمیان اختلاف ہے یہ اسی اختلاف کی طرح ہے جو طلاق کے مسئلے میں گزرا تھا اور وہاں ہم نے خوب تفصیل بیان کی تھی کہ ان کے نزدیک اگر ایسے عضو کو خاوند طلاق دے گا تو پوری عورت پر ہی طلاق واقع ہو جائے گی، جبکہ ہمارے نزدیک اگر ایسے عضو کو طلاق دے گا تو طلاق واقع نہیں ہو گی، تو وہاں تفصیل بیان ہوئی تھی۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں بعینہٖ وہی تفصیل جو طلاق کے مسئلے میں تھی وہی تفصیل یہاں آزادی کے مسئلے میں بھی ہے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ آزادی کے جو کنایات ہیں وہ الفاظ ہیں جن کے اندر آزادی کا معنی بھی ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دوسرا معنی بھی ہوتا ہے، لہٰذا وہاں پر آقا کی نیت ضروری ہے۔ اگر آقا نیت کرے گا تو آزادی واقع ہو گی، اگر آقا نیت نہیں کرے گا تو آزادی واقع نہیں ہو گی۔ مثلاً آقا اپنے غلام سے کہتا ہے ”لَا مِلْكَ لِيْ عَلَيْكَ“ میری تمہارے اوپر کوئی ملکیت نہیں ہے، تو اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تمہیں آزاد کر دیا ہے اب میری تمہارے اوپر کوئی ملکیت نہیں، اور یہ معنی بھی ہو سکتا ہے میں نے تمہیں بیچ دیا ہے میری تمہارے اوپر کوئی ملکیت نہیں۔ تو یہاں آزادی کے علاوہ دوسرا معنی بھی موجود ہے، لہٰذا تعیین کے لیے نیت ضروری ہے۔ تو آقا آزادی کی نیت کرے گا تو ”لَا مِلْكَ لِيْ عَلَيْكَ“ اس جملے سے غلام آزاد ہو جائے گا۔ جی۔ اور اگر آقا آزادی کی نیت نہیں کرے گا تو اس سے غلام آزاد نہیں ہو گا اور یہی حکم ہے تمام کنایات کا بھی کہ ان کے اندر آقا آزادی کی نیت کرے گا تو آزادی ثابت ہو گی، اگر نیت نہیں کرے گا تو آزادی بھی ثابت نہیں ہو گی۔
پھر صاحب ہدایہ نے آزادی کے کچھ کنایات ذکر فرمائے۔ مثلاً آقا اپنے غلام سے کہتا ہے ”خَرَجْتَ مِنْ مِلْكِيْ“ تو میری ملکیت سے نکل گیا۔ اب ملکیت سے نکلنا جو ہے وہ بیچنے کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور آزادی کے ذریعے بھی۔ جی۔ تو اس میں آزادی والا معنی بھی ہے اور دوسرا معنی بھی ہے، لہٰذا یہاں پر بھی آقا کی نیت ضروری ہے۔ یا اسی طرح آقا اپنے غلام سے کہتا ہے ”لَا سَبِيْلَ لِيْ عَلَيْكَ“ میرا تم پر کوئی راستہ نہیں ہے، معنی یہ ہے میرا تم پر کوئی تصرف نہیں ہے، میں اب تم سے نفع نہیں اٹھا سکتا، تو اس کے اندر بھی یہ احتمال ہے کہ میرا تم پر کوئی تصرف نہیں ہے کیونکہ میں تمہیں بیچ چکا ہوں یا میں تمہیں مکاتب بنا چکا ہوں، یا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ میرا تم پر کوئی تصرف نہیں ہے کیونکہ میں نے تمہیں آزاد کر دیا ہے۔ تو لہٰذا یہ بھی کنایہ ہے بھئی آزادی سے، اس میں بھی نیت ضروری ہے۔
اور اسی طرح ”وَلَا رِقَّ لِيْ عَلَيْكَ“ میری تمہارے اوپر کوئی غلامی نہیں ہے۔ میں نے بتلایا رِقیّت بول کر ملکیت مراد ہے، میری تمہارے اوپر ملکیت نہیں ہے۔ ملکیت نہیں ہے تو اس میں احتمال ہے آزادی کا بھی احتمال ہے اور بیچنے کا یا مکاتب بنانے کا بھی احتمال ہے۔ اور اسی طرح آقا اپنے غلام سے کہتا ہے ”خَلَّيْتُ سَبِيْلَكَ“ میں نے تمہارا راستہ خالی چھوڑ دیا، یعنی میرا اب تمہارے اوپر کوئی راستہ اور کوئی تصرف وغیرہ نہیں ہے کیونکہ میں نے تمہیں بیچ دیا ہے یا میں نے تمہیں مکاتب بنا دیا ہے یا میں نے تمہیں آزاد کر دیا ہے۔ دیکھو اس میں کئی احتمال آ گئے تو لہٰذا آزادی کے لیے اس میں نیت کا ہونا ضروری ہے۔ جی۔
اور اسی طرح اگر باندی سے کہا آقا نے ”قَدْ أَطْلَقْتُكِ“ کہ میں نے تجھے آزاد چھوڑ دیا، تو یہ بھی ”خَلَّيْتُ سَبِيْلَكِ“ کے درجے میں ہے۔ جی۔ ”قَدْ أَطْلَقْتُكِ“ میں نے تجھے آزاد چھوڑ دیا یہ اسی درجے میں ہے جیسے آقا نے باندی سے کہا ہو ”خَلَّيْتُ سَبِيْلَكِ“ میں نے تیرا راستہ خالی چھوڑ دیا، اور ”خَلَّيْتُ سَبِيْلَكِ“ یہ تو کنایہ ہے، تو معلوم ہوا ”قَدْ أَطْلَقْتُكِ“ یہ بھی کنایہ ہے آزادی سے تو اس میں بھی نیت ہونا ضروری ہے بھئی۔
ہاں البتہ اگر آقا اپنی باندی سے کہتا ہے ”طَلَّقْتُكِ“ میں نے تجھے طلاق دے دی، اور نیت کرتا ہے آزادی کی، کہتے ہیں پھر آزادی ثابت نہیں ہو گی، نیت کرنے سے بھی آزادی ثابت نہیں ہو گی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ طلاق کا لفظ جو ہے اگرچہ اس کا معنی بھی آزاد کرنا ہے لیکن یہ لفظ طلاق دینے میں صریح ہو چکا ہے۔ جی۔ تو اب اس سے طلاق ہی ثابت ہو سکتی ہے، آزادی ثابت نہیں ہو سکتی، چاہے نیت کر لے آقا پھر بھی اس سے آزادی ثابت نہیں ہو سکتی۔
اور اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا ”لَا سُلْطَانَ لِيْ عَلَيْكَ“ میرا تمہارے اوپر کوئی قبضہ نہیں ہے، تو سلطان سے کیا مراد ہے؟ قبضہ۔ میرا تمہارے اوپر کوئی قبضہ نہیں ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں اگر آقا آزادی کی نیت کر بھی لے پھر بھی آزادی واقع نہیں ہو گی۔ وجہ یہ کہ اس کے اندر صرف قبضے کی نفی ہو رہی ہے اور غلامی میں ضروری ہوتا ہے کہ ملکیت ختم ہو غلام پر سے۔ تو قبضے کے ختم ہونے سے ملکیت کا ختم ہونا لازم نہیں آتا، اس لیے کیونکہ جب کوئی شخص اپنے غلام سے عقد کتابت کر لیتا ہے تو اب وہ جو مکاتب ہے وہ آزاد آدمی کی طرح ہو گیا، آقا کا اس پر قبضہ ختم ہو گیا، آقا اس سے خدمت نہیں لے سکتا، آقا اس کا جبری نکاح نہیں کروا سکتا اور اگر باندی ہے تو آقا اب اس سے صحبت نہیں کر سکتا، حالانکہ وہ مکاتب ہے، جی، ابھی بھی مملوک ہے، تو معلوم ہوا قبضے کے ختم ہونے سے ملکیت کا ختم ہونا لازم نہیں آتا۔ لہٰذا ”لَا سُلْطَانَ لِيْ عَلَيْكَ“ اس جملے کے اندر آقا آزادی کی نیت کر بھی لے تو بھی آزادی ثابت نہیں ہو گی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں آقا اگر اپنے غلام سے کہتا ہے ”لَا سَبِيْلَ لِيْ عَلَيْكَ“ میرا تم پر کوئی راستہ نہیں ہے یعنی میرا تم پر کوئی تصرف نہیں ہے، تو اس صورت کے اندر یہاں مطلقاً راستے کی نفی کی جا رہی ہے یعنی ہر اعتبار سے راستے کی نفی کی جا رہی ہے اور ہر اعتبار سے راستے کی نفی تب ہی ہو سکتی ہے جب آقا کی غلام پر ملکیت نہ رہے۔ جی۔ اگر ملکیت ہے چاہے مکاتب ہی کیوں نہ ہو اس پر آقا کو راہ ہوتی ہے، آقا اس سے بدل کتابت کا مطالبہ کرتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ ”لَا سَبِيْلَ لِيْ عَلَيْكِ“ اس میں تو آزادی کی نیت کی جائے تو آزادی واقع ہو جائے گی، کیونکہ اس کے اندر مطلقاً راستے کی نفی کی جا رہی ہے اور مطلقاً راستے کی نفی ملکیت کی نفی سے ہو گا بھئی۔ جی۔ ملکیت کی نفی سے ہو گا اور جب ملکیت ختم ہو گی تو غلام آزاد ہو جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَلَوْ قَالَ هٰذَا ابْنِيْ وَثَبَتَ عَلَى ذٰلِكَ عَتَقَ، وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ إِذَا كَانَ يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ، وَإِذَا كَانَ لَا يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ ذَكَرَهُ بَعْدَ هٰذَا“
صورت مسئلہ یہ، آقا نے اپنے غلام کے بارے میں کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے۔ ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے۔ توجہ ہے؟ ابن کا ہمزہ وصلی ہے تو درمیان عبارت میں گر جائے گا، ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے۔ تو آقا نے اپنے غلام سے کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، اور آقا اس پر ثابت رہا، جی، آقا اسی بات پر جما رہا یعنی آقا یہ نہیں کہتا کہ یہ جو میں نے اس کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے یہ صرف عزت کے طور پر یا محبت کے طور پر میں نے اس کو بیٹا قرار دیا ہے، یا یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے بلکہ اسی بات پر جما رہتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، جی، تو اس صورت میں غلام آزاد ہو جائے گا۔ جی۔ غلام آزاد ہو جائے گا۔ حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ آقا اگر اپنے غلام سے کہے ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، اور آقا پھر اسی پر جما رہے یعنی یہ نہیں کہتا کہ یہ میں نے عزت کے طور پر کہا ہے یا یہ میں نے غلطی سے کہہ دیا ہے بلکہ اپنی اسی بات پر جما رہتا ہے تو اس صورت میں غلام آزاد ہو جائے گا۔
اور صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جب اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا ہو سکے، جی، یعنی آقا اور غلام کی عمر میں اتنا فرق ہونا چاہیے، جی، کہ آقا باپ کی جگہ ہو اور غلام بیٹے کی جگہ ہو عمر کے اعتبار سے۔ تو اگر آقا اور غلام کی عمر میں اتنا فرق ہے کہ دونوں کے درمیان باپ بیٹے والا رشتہ ممکن ہے تو پھر اس صورت میں یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ جی۔
اور اگر، اور اگر دونوں کی عمر میں اتنا فرق نہیں ہے، مثلاً آقا بھی چالیس سال کا ہے اور وہ غلام بھی چالیس سال کا ہے یا وہ غلام آقا سے بھی بڑا ہے بھئی، تو اس جیسا غلام تو اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا بھئی، تو وہ مسئلہ صاحب ہدایہ آگے چند سطروں کے بعد ذکر فرمائیں گے، متن کے اندر وہ آئے گا اور صاحب ہدایہ پھر اس کی تفصیل بیان فرمائیں گے۔ تو یہاں کون سی صورت ذکر ہے؟ جب اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا ہو سکے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر آقا نے کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے ”وَثَبَتَ عَلَى ذٰلِكَ“ اور اسی بات پر جما رہا ”عَتَقَ“ تو غلام آزاد ہو جائے گا۔ ”وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ“ اور اس مسئلے کا معنی یہ ہے، صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اس مسئلے کا معنی یہ ہے ”إِذَا كَانَ يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ“ کہ جب اس جیسا غلام جو ہے اس کو جنم دیا جائے اس جیسے کہنے والے کے لیے، جی، یعنی اس جیسا غلام اس جیسے کہنے والے کا بیٹا ہو سکے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ“ اور اس مسئلے کا معنی یہ ہے کہ ”إِذَا كَانَ يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ“ کہ جب اس جیسے غلام کو اس جیسے آقا کے لیے جنم دیا جا سکے ”وَإِذَا كَانَ لَا يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ“ اور جب غلام ایسا ہو کہ اس جیسے غلام کو اس جیسے آقا کے لیے جنم نہیں دیا جا سکتا، یعنی اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا ان کی عمروں میں اتنا فرق نہیں ہے ”ذَكَرَهُ بَعْدَ هٰذَا“ تو اس کو صاحب قدوری نے ذکر فرمایا ہے اس کے بعد۔ جی۔
یہ جو متن میں ذکر فرمایا یہ وہ صورت ہے جب اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا ہو سکے، اور وہ صورت جس میں غلام کے اور آقا کی عمر ایسی ہے کہ اس جیسا غلام تو اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، یعنی مثلاً دونوں کی عمر برابر ہے یا فرق ہے لیکن بہت تھوڑا فرق ہے یا غلام آقا سے بھی بڑا ہے تو اس صورت میں تو یہ غلام اس آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، تو وہ مسئلہ کہتے ہیں آگے صاحب قدوری متن میں ذکر فرمائیں گے، آگے چند سطروں کے بعد ہی وہ مسئلہ آگے آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ لَا يُوْلَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ“ اور جب ایسے غلام جو ہے اس جیسے آقا کے لیے اس کو جنم نہ دیا جا سکے ”ذَكَرَهُ بَعْدَ هٰذَا“ تو اس کو صاحب قدوری نے ذکر فرمایا ہے اس کے بعد۔
”ثُمَّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْعَبْدِ نَسَبٌ مَّعْرُوْفٌ يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ“
بھئی آقا نے اپنے غلام سے کیا کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ اور اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا ہو سکتا ہے، تو یہ غلام آزاد تو ہو جائے گا۔ البتہ کیا اس غلام کو اس آقا کا بیٹا شمار کیا جائے گا؟ کہتے ہیں اس غلام کے نسب کو دیکھا جائے گا۔ جی۔ اگر اس غلام کے نسب کا سب کو پتہ ہے کہ یہ تو مثلاً فلاں آدمی کا بیٹا ہے، جی، تو پھر اس صورت میں تو اس غلام کا نسب معروف ہے سب کو پتہ ہے، تو نسب تو ثابت نہیں ہو گا، البتہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ لیکن اگر غلام ایسا ہے کہ اس کے نسب کا کسی کو پتہ نہیں، جی، اس کے نسب کا کسی کو پتہ نہیں، مثلاً آقا کی ایک باندی تھی اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور ماں جب باندی تھی تو بچہ بھی غلام، اور آقا نے اقرار نہیں کیا یہ میری اولاد ہے، تو اب اس بچے کے نسب کا کسی کو پتہ نہیں۔ جی۔ اور اب آقا کئی سالوں بعد جا کر کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے، تو اب یہ ایسا غلام ہے جس کے نسب کا لوگوں کو علم نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں اس غلام کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا۔ اب یہ اس شخص کا بیٹا شمار ہو گا اور مرنے کے بعد یہ اس کا وارث بنے گا بھئی۔ جی۔ تو یہ بیٹا شمار ہو گا، آزاد بھی ہو جائے گا اور بیٹا بھی شمار ہو گا۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْعَبْدِ نَسَبٌ مَّعْرُوْفٌ“ اور پھر اگر اس غلام کا کوئی معروف نسب نہیں ہے ”يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ“ تو اس غلام کا نسب بھی اس آقا سے ثابت ہو جائے گا ”لِأَنَّ وِلَايَةَ الدَّعْوَةِ بِالْمِلْكِ ثَابِتَةٌ“ ”لِأَنَّ وِلَايَةَ الدَّعْوَةِ بِالْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ مالک ہونے کی وجہ سے دعوے کی ولایت جو ہے ”ثَابِتَةٌ“ وہ ثابت ہے۔ جی۔ یہ آقا کا غلام ہے، آقا کا مملوک ہے، تو اپنا مملوک ہونے کی وجہ سے آقا کو ولایت حاصل ہے وہ نسب کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ جی۔ یہ نسب کا دعویٰ کر سکتا ہے، مثلاً آقا کی ایک باندی ہے اور اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا تو آقا کہہ سکتا ہے یہ میری اولاد ہے کیونکہ باندی کے ساتھ آقا کے لیے صحبت جائز ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ وِلَايَةَ الدَّعْوَةِ بِالْمِلْكِ ثَابِتَةٌ“ اس لیے کیونکہ ملکیت کی وجہ سے نسب کے دعوے کی جو ولایت ہے ”ثَابِتَةٌ“ وہ اس آقا کے لیے ثابت ہے، تو یہ ”دَعْوَة“ بھئی دال کے فتحہ کے ساتھ میں نے پڑھا، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نسب کے اندر خاص طور پر دعویٰ ہو تو اس کو ”دِعْوَةٌ“ یعنی دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، تو آپ جیسے بھی پڑھنا چاہیں دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، تو آپ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں ”لِأَنَّ وِلَايَةَ الدِّعْوَةِ بِالْمِلْكِ ثَابِتَةٌ“ اس لیے کیونکہ مملوک ہونے کی وجہ سے آقا کے لیے نسب کے دعوے کی ولایت ثابت ہے، وہ نسب کا دعویٰ کر سکتا ہے ”وَالْعَبْدُ مُحْتَاجٌ إِلَى النَّسَبِ“ اور غلام بھی محتاج ہے نسب کا، اس کے نسب کا کسی کو پتہ نہیں تو وہ نسب کا محتاج ہے، ”فَيَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ“ تو اس غلام کا نسب اس آقا سے ثابت ہو جائے گا ”وَإِذَا ثَبَتَ عَتَقَ“ اور جب نسب ثابت ہو جائے گا تو غلام آزاد ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ يَسْتَنِدُ النَّسَبُ إِلَى وَقْتِ الْعُلُوْقِ“ اس لیے کیونکہ نسب جو ہے اس کی نسبت کی جائے گی ”إِلَى وَقْتِ الْعُلُوْقِ“، علوق کہتے ہیں حمل ٹھہرنا، اس نسب کی نسبت کی جائے گی حمل ٹھہرنے کے وقت کی طرف۔ جی۔
بھئی جب آقا نے کہہ دیا یہ غلام میری اولاد ہے میرا بیٹا ہے، اور اس غلام کا نسب ثابت نہیں ہے، تو لہٰذا یہ محتاج ہوا نسب کا، تو نسب ثابت ہو جائے گا اور یہ غلام اس آقا کا بیٹا شمار ہو گا۔ اور کیا یہ بیٹا اب ہی سے شمار ہو گا یا جس وقت سے حمل ٹھہرا تھا اس وقت سے ہی بیٹا شمار ہو گا؟ اس وقت سے ہی بیٹا شمار ہو گا۔ جی۔ تو جب اس وقت سے ہی بیٹا ہے تو معلوم ہوا یہ آزاد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا ثَبَتَ عَتَقَ“ اور جب نسب ثابت ہو جائے گا تو غلام آزاد ہو گا ”لِأَنَّهُ يَسْتَنِدُ النَّسَبُ“ اس لیے کیونکہ نسب منسوب ہو گا یا یوں کہیں کہ اس نسب کی نسبت ہو گی ”إِلَى وَقْتِ الْعُلُوْقِ“ حمل کے ٹھہرنے کے وقت کی طرف۔
”وَإِنْ كَانَ لَهُ نَسَبٌ مَّعْرُوْفٌ“ اور اگر یہ غلام ایسا ہے کہ اس کا نسب معروف ہے کہ سب کو پتہ ہے یہ تو فلاں کا بیٹا ہے، مثلاً آقا نے باندی کا کسی سے نکاح کروایا تھا، جی، تو اب جو باندی کا خاوند ہے یہ اس کی اولاد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ لَهُ نَسَبٌ مَّعْرُوْفٌ“ اور اگر غلام جو ہے اس کا نسب معروف ہے یعنی سب کو علم ہے ”لَا يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ لِلتَّعَذُّرِ“ تو اب اس صورت کے اندر آقا سے اس کا نسب ثابت نہیں ہو گا ”لِلتَّعَذُّرِ“ ناممکن ہونے کی وجہ سے۔ جی۔ کیونکہ اب آقا سے نسب کا ثابت ہونا متعذر ہے ممکن نہیں ہے۔ جی۔
بھئی پھر سن لیں، مسئلہ یہ آقا نے اپنے غلام کے بارے میں کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، اور اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا ہو سکتا ہے تو اس صورت میں یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ البتہ نسب ثابت ہو گا یا نسب ثابت نہیں ہو گا، اس کے اندر اس غلام کے نسب کو دیکھیں گے۔ اگر اس غلام کے نسب کا لوگوں کو پتہ نہیں ہے تو پھر تو نسب بھی ثابت ہو جائے گا اور اگر نسب کا پتہ ہے تو پھر نسب ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک شخص دو افراد کی اولاد نہیں ہو سکتا بھئی۔ جی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ لَهُ نَسَبٌ مَّعْرُوْفٌ“ اور اگر اس غلام کا نسب معروف ہے ”لَا يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ لِلتَّعَذُّرِ“ تو پھر اب اس صورت میں اس آقا سے اس کا نسب ثابت نہیں ہو سکتا ممکن نہ ہونے کی وجہ سے ”وَيَعْتِقُ إِعْمَالًا لِلَفْظٍ فِيْ مَجَازِهِ عِنْدَ تَعَذُّرِ إِعْمَالِهِ بِحَقِيْقَتِهِ“۔
بھئی ایک صورت میں تو نسب بھی ثابت ہو جائے گا، جی، اور نسب ثابت ہو گا تو وہ غلام آزاد ہو گا۔ لیکن اگر غلام کا نسب معروف ہے اور آقا نے کیا کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، جی، بھئی اس کا تو نسب معروف ہے تو اس صورت میں بیٹا تو ہو نہیں سکتا یعنی حقیقی معنی پر تو عمل نہیں ہو سکتا، اور جب لفظ کے حقیقی معنی پر عمل نہ ہو سکے تو پھر مجازی معنی ثابت ہو جاتا ہے، اور مجازی معنی کیا ہے ”هٰذَا ابْنِيْ“ کا؟ کہ یہ آزاد ہے۔ جی۔ ”هٰذَا ابْنِيْ“ کا حقیقی معنی کیا؟ یہ میرا بیٹا ہے، اور مجازی معنی کیا؟ یہ آزاد ہے، کیونکہ جو بھی بیٹا ہو گا وہ ہمیشہ آزاد ہو گا بھئی۔ جی۔ تو جب حقیقی معنی پر عمل ممکن نہ ہو تو پھر مجازی معنی ثابت ہو جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی آقا نے غلام سے کیا کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، اور غلام کا تو نسب پہلے سے سب کو معلوم ہے تو یہ آقا کا بیٹا تو نہیں ہو سکتا یعنی حقیقی معنی یہاں ممکن نہیں، جب حقیقی معنی ممکن نہیں تو پھر مجازی معنی ثابت ہو جائے گا اور ”هٰذَا ابْنِيْ“ اس کا مجازی معنی کیا ہے؟ یہ آزاد ہے۔ ”هٰذَا ابْنِيْ“ کا حقیقی معنی یہ میرا بیٹا ہے، اور مجازی معنی یہ آزاد ہے، تو مجازی معنی ثابت ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَعْتِقُ إِعْمَالًا لِلَفْظٍ فِيْ مَجَازِهِ“ ”وَيَعْتِقُ“ اور غلام آزاد ہو جائے گا، یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے جب نسب ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ غلام کا نسب معروف ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ”وَيَعْتِقُ“ غلام آزاد ہو جائے گا ”إِعْمَالًا لِلَفْظٍ فِيْ مَجَازِهِ“ لفظ کو اپنے مجاز میں عمل دیتے ہوئے ”عِنْدَ تَعَذُّرِ إِعْمَالِهِ بِحَقِيْقَتِهِ“ جب ممکن نہ رہے لفظ کو عمل دینا اپنی حقیقت کے ساتھ۔ جی۔ جب لفظ کو اپنی حقیقت کے ساتھ عمل دینا ممکن نہ رہے تو پھر مجازی معنی ثابت ہو جاتا ہے۔ جی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ لَهُ نَسَبٌ مَّعْرُوْفٌ لَا يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ لِلتَّعَذُّرِ“ اور اگر اس غلام کا نسب معروف ہے تو پھر آقا سے اس کا نسب ثابت نہیں ہو گا، ”لِلتَّعَذُّرِ“ ممکن نہ ہونے کی وجہ سے ”وَيَعْتِقُ“ اور غلام آزاد ہو جائے گا ”إِعْمَالًا لِلَفْظٍ فِيْ مَجَازِهِ“ لفظ کو اپنے مجاز میں عمل دیتے ہوئے ”عِنْدَ تَعَذُّرِ إِعْمَالِهِ بِحَقِيْقَتِهِ“ جب لفظ کو اپنی حقیقت پر عمل دینا ممکن نہ رہے، جی، تو اس صورت میں پھر اس کو اپنے مجاز میں عمل دیا جائے گا یعنی اس کا مجازی معنی ثابت ہو جائے گا۔ ”وَوَجْهُ الْمَجَازِ نَذْكُرُهُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اور مجاز کی جو وجہ ہے ہم اس کو بعد میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔ یہ چند سطروں کے بعد مسئلہ آئے گا، یہ تو وہ مسئلہ تھا آقا نے غلام سے کیا کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ اور اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا ہو سکتا ہے۔ اور اگر اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، جی، آقا نے لفظ وہی کہے ”هٰذَا ابْنِيْ“ لیکن اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، یہ چند سطروں کے بعد یہ مسئلہ آئے گا اور وہاں صاحب ہدایہ تفصیل بیان فرمائیں گے۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْمَجَازِ“ اور مجاز کی جو وجہ ہے ”نَذْكُرُهُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ وہ ہم بعد میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
”وَلَوْ قَالَ هٰذَا مَوْلَايَ أَوْ يَا مَوْلَايَ عَتَقَ“
صورت مسئلہ یہ، آقا نے اپنے غلام سے کہا ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مولا ہے۔ جی۔ ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مولا ہے۔ یا آقا نے اپنے غلام کو ندا دی ”يَا مَوْلَايَ“، جی، اے میرے مولا! تو اس صورت میں ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ آقا نے اپنے غلام کو کیا کہا ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مولا ہے، یا ندا دی اس کو ”يَا مَوْلَايَ“ اے میرے مولا! تو اس صورت میں غلام آزاد ہو جائے گا۔
کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مولا ہے ”أَوْ يَا مَوْلَايَ“ یا آقا نے غلام سے کہا اے میرے مولا، یعنی اس کو ندا دی اے میرے مولا کے لفظ کے ساتھ ”عَتَقَ“ تو غلام آزاد ہو جائے گا۔ ”أَمَّا الْأَوَّلُ“ تو یہاں دو لفظ ذکر ہوئے بھئی، ایک ”هٰذَا مَوْلَايَ“، جی، یہ جملہ خبریہ ہے، ”هٰذَا“ ہے مبتدا اور ”مَوْلَايَ“ ہے اس کی خبر۔ تو ایک یہ جملہ خبریہ ذکر ہوا اور ایک آگے جملہ انشائیہ یعنی ندا ذکر ہوئی ”يَا مَوْلَايَ“۔ جی۔ تو اب ان میں سے پہلے جو ہے ”هٰذَا مَوْلَايَ“ اس کو صاحب ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ جی۔ ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مولا ہے، کہتے ہیں اس صورت میں غلام کیوں آزاد ہو گا؟ اب وہ وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأَوَّلُ“ تو جو پہلا لفظ ہے یعنی ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ جو لفظ ہے، اس میں غلام آزاد ہو گا ”فَلِأَنَّ اسْمَ الْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ مولا کا اسم جو ہے ”وَإِنْ كَانَ يَنْتَظِمُ النَّاصِرَ“ یہاں سے معنی بیان فرمائیں گے، صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ لفظ مولا کے کئی معانی ہیں بھئی۔ جی۔ لیکن یہاں پر یہ ”مُعْتَق“ کے معنی میں ہے یعنی وہ غلام جس کو آزاد کیا گیا ہو۔ جی۔ اس مولا کے کئی معانی ہیں بھئی لیکن یہاں پر اور کوئی معنی مناسب نہیں بنتا، یہاں مولا کا معنی معتق ہی کے کرنا پڑے گا۔ تو گویا آقا نے جب کہا ”هٰذَا مَوْلَايَ“ تو گویا آقا یہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرا معتق ہے۔ یہ میرا، میرا آزاد کیا ہوا غلام ہے، اور جب آقا خود کہہ رہا ہے یہ میرا آزاد کیا ہوا غلام ہے تو اس صورت میں غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔
تو آگے صاحب ہدایہ اس مولا کے معانی بیان فرمائیں گے۔ صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ مولا کا لفظ عربی زبان میں مددگار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، ایک شخص دوسرے شخص کی مدد کرے تو عربی میں کہتے ہیں ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مددگار ہے، اس نے میری مدد کی ہے۔ اسی طرح اگر چچا کا بیٹا ہو تو اس کو بھی مولا کہتے ہیں، ”هٰذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا چچا کا بیٹا ہے۔ اسی طرح یاد رکھو اس شخص کو بھی مولا کہتے ہیں عربی زبان میں جو عقد موالات کر لیتا تھا۔ جی۔ عقد موالات یہ کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے آ کر عقد کرتا تھا کہ میں تم سے عقد موالات کرتا ہوں، میرے مرنے کے بعد میری ساری جائیداد کے تم مستحق ہو گے، میری ساری میراث تمہیں ملے گی، لیکن بدلے میں اگر میرے سے کوئی جنایت ہو گئی، میرے سے غلطی سے کوئی مسلمان یا کوئی شخص قتل ہو گیا یا کسی کا ہاتھ یا پاؤں کٹ گیا تو تم وہ دیت ادا کرو گے۔ جی۔ اس کا ضمان تم ادا کرو گے۔ تو یہ جو دو افراد کے درمیان عقد ہوتا تھا کہ ایک فرد دوسرے کی میراث کا مستحق ہوتا تھا اور دوسرا اس کی طرف سے دیت وغیرہ کا ضامن ہو جاتا تھا، اس کو عقد موالات کہتے تھے۔ جی۔ کیا کہتے تھے؟ عقد موالات۔ اور یاد رکھو یہ عقد موالات نو مسلم کیا کرتے تھے۔ جی۔ وجہ یہ کہ وہ دوسرے شخص سے کیا عقد کر رہا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری ساری جائیداد کے مالک تم ہو گے، میری ساری میراث تمہیں ملے گی، تو یہ تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس عقد کرنے والے کے اپنے کوئی عزیز و اقارب نہ ہوں بھئی۔ شریعت کے اندر تو وارث مقرر ہیں بھئی، جب وارث موجود ہیں تو مال انہی کو ملے گا، لیکن یہ دوسرے شخص سے کیا عقد کر رہا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری ساری جائیداد، میرا سارا مال میراث تمہیں ملے گا بھئی، تو یہ عقد موالات وہ شخص کیا کرتا تھا جو کوئی نیا مسلمان ہوا ہے، اور یہ جو نو مسلم ہیں ان کے باقی رشتہ دار ہیں وہ کافر ہیں، اب وہ تو اس کے وارث نہیں بن سکتے تو یہ کسی شخص سے عقد موالات کر لیتا تھا۔ تو یہ جو عقد کرنے والا ہے اس کو بھی عربی زبان میں مولا کہتے ہیں، مولائے موالات بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ مولائے موالات۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ عقد موالات کسے کہتے ہیں کہ ایک شخص دوسرے شخص سے عقد کر لیتا کہ میرے مرنے کے بعد میری ساری جائیداد کے تم حقدار ہو گے، لیکن بدلے میں اگر زندگی میں مجھ سے کوئی جنایت ہو گئی تو ضمان تم ادا کرو گے۔ تو اس عقد کو کیا کہتے تھے؟ عقد موالات۔ اور یہ عقد کون کیا کرتے تھے؟ کوئی نو مسلم جس کے عزیز و اقارب یہاں پر موجود نہیں ہیں، مسلمان نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو عقد موالات کرنے والا ہوتا اس کو بھی مولا کہتے تھے۔
مولا کے معانی بیان فرما رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ مولا کا ایک معنی مددگار کے ہے، اسی طرح مولا چچا کے بیٹے کو بھی کہتے ہیں، اور اسی طرح یہ جو عقد موالات کرنے والا ہوتا اس کو بھی مولا کہتے تھے۔ اور اسی طرح آگے صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ وہ شخص جو کسی غلام کو آزاد کر دے تو یہ آزاد کرنے والا یعنی معتِق اس کو بھی عربی زبان میں مولا کہتے ہیں، اور جس غلام کو اس نے آزاد کیا ہے اس کو بھی مولا کہتے ہیں۔ تو معتِق کو بھی عربی زبان میں مولا کہتے ہیں اور معتَق یعنی وہ آزاد شدہ غلام اس کو بھی مولا کہتے ہیں۔ جی۔ لیکن پھر علماء ان دونوں میں فرق کرنے کے لیے معتِق کے ساتھ اعلٰی کا لفظ بڑھا دیتے ہیں اور معتَق جو ہے جس کو آزاد کیا گیا ہے اس کے ساتھ اسفل کا لفظ بڑھا دیتے ہیں۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ علماء کو مسئلہ بیان کرنا ہوتا ہے، اب معتِق کو بھی مولا کہیں، معتَق کو بھی مولا کہیں تو پتہ ہی نہیں چلے گا کون سا مولا مراد ہے، تو پھر دونوں میں فرق کرنے کے لیے معتِق کے ساتھ اعلٰی کا لفظ بڑھا دیتے ہیں اس کو مولائے اعلٰی کہتے ہیں، اور جو معتَق ہے وہ غلام جس کو اس نے آزاد کیا ہے اس کے ساتھ اسفل کا لفظ بڑھا دیتے ہیں اسے مولائے اسفل کہتے ہیں۔ تو معتِق بھی مولا ہے اور معتَق بھی مولا ہے اور دونوں میں سے اعلٰی کون ہے؟ معتِق جو ہے وہ اعلٰی ہے اور معتَق جو ہے وہ ادنیٰ ہے، تو اس لیے معتِق کو مولائے اعلٰی کہتے ہیں اور معتَق کو مولائے اسفل کہتے ہیں۔ تو مولا کا لفظ معتِق کو بھی شامل ہے اور معتَق کو بھی شامل ہے۔
تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ مولیٰ کے کئی معانی آتے ہیں۔ مولیٰ کے معنی مددگار کے بھی، مولیٰ کے معنی چچا کے بیٹے کے بھی، مولیٰ کے معنی عقدِ موالات کرنے والا جو ہے اس کو بھی مولیٰ کہتے ہیں، اور مولیٰ کا معنیٰ مُعْتِق کے بھی، اور مولیٰ کا معنیٰ مُعْتَق کے بھی۔ لیکن یہاں جو آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”هَذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مولیٰ ہے، یہاں مُعْتَق ہی کا معنیٰ مناسب بنتا ہے، اور کوئی معنیٰ یہاں مناسب نہیں بنتا۔ تو ”هَذَا مَوْلَايَ“ کا کیا معنیٰ ہوا؟ یہ میرا مولیٰ ہے یعنی یہ میرا مُعْتَق ہے، میرا آزاد کردہ غلام ہے۔ تو اس لفظ سے غلام آزاد ہو جائے گا، کیونکہ یہاں مولیٰ کا اور کوئی معنیٰ مناسب نہیں بنتا۔ تو جب آقا خود کہہ رہا ہے: یہ میرا آزاد کردہ غلام ہے، تو معلوم ہوا وہ اس کو آزاد کر چکا ہے، تو اس سے غلام آزاد ہو جائے گا، اس کی آزادی ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأَوَّلُ“ تو جو پہلا لفظ ہے، بھئی متن میں دو لفظ آئے تھے: ”هَذَا مَوْلَايَ“ اور دوسرا لفظ تھا: ”يَا مَوْلَايَ“۔ ”يَا مَوْلَايَ“ کو آگے ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ، ابھی صرف پہلا لفظ۔ پہلا لفظ کون سا؟ ”هَذَا مَوْلَايَ“، اس کی تفصیل بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأَوَّلُ“ تو پہلا لفظ جو ہے یعنی ”هَذَا مَوْلَايَ“ کا لفظ جو ہے، ”فَلِأَنَّ اسْمَ الْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ مولیٰ کا اسم جو ہے، ”وَإِنْ كَانَ يَنْتَظِمُ النَّاصِرَ“ اگرچہ یہ مددگار کو بھی شامل ہے، ”وَابْنَ الْعَمِّ“ اور چچا کے بیٹے کو بھی شامل ہے، ”وَالْمُوَالَاةَ فِي الدِّينِ“ اور یہ موالات فی الدین کو بھی شامل ہے، بھئی یاد رکھو، یہ جو عقدِ موالات کرتے تھے، اس عقد کو موالات فی الدین کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ موالات فی الدین۔ وجہ یہ کہ یہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ عقد کرتا تھا۔ جو عقد کرنے والا ہے اس کے اپنے عزیز و اقارب کا پتہ ہی نہیں یا وہ کافر ہیں بھئی، اور اب وہ کسی دوسرے مسلمان کے ساتھ یہ عقد کر رہا ہے جس کی قوم اور قبیلہ وہاں موجود ہے۔ تو یہ عقد ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے کیا کرتا، اس لیے اس کو موالات فی الدین کہتے ہیں یعنی دین کی وجہ سے یہ عقدِ موالات کیا جا رہا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: مولیٰ کا لفظ مددگار کو بھی شامل ہے، ”وَابْنَ الْعَمِّ“ اور چچا کے بیٹے کو بھی، ”وَالْمُوَالَاةَ فِي الدِّينِ“ اور دین کے اندر موالات کو بھی یہ شامل ہے، ”وَالْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ فِي الْعَتَاقَةِ“ اور وہ جو اعلیٰ ہے اور وہ جو ادنیٰ ہے فی العتاقۃ یعنی آزادی میں، یہ ان کو بھی شامل ہے۔ یہ مولیٰ کا لفظ مولیٰ اعلیٰ کو بھی شامل ہے یعنی مُعْتِق کو، اور مولیٰ اسفل کو بھی شامل ہے یعنی مُعْتَق کو بھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ فِي الْعَتَاقَةِ“ اور یہ مولیٰ کا لفظ جو ہے آزادی کے اندر جو اعلیٰ ہے یعنی مُعْتِق اس کو بھی شامل ہے، اور جو ادنیٰ ہے یعنی مُعْتَق اس کو بھی شامل ہے۔
”إِلَّا أَنَّهُ تَعَيَّنَ الْأَسْفَلُ“ مگر یہ کہ اس سے اسفل ہی متعین ہے۔ کس لفظ کی بات چل رہی ہے؟ ”هَذَا مَوْلَايَ“۔ اس کے اندر مولیٰ کا لفظ آیا، اور مولیٰ کے کئی معانی آتے ہیں، لیکن یہاں پر اسفل ہی متعین ہے۔ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ ”إِلَّا أَنَّهُ تَعَيَّنَ الْأَسْفَلُ“ کہ یہاں پر یہ جو مولیٰ کا لفظ آیا اس کا معنیٰ مولیٰ اسفل ہی متعین ہے یعنی اس سے مُعْتَق ہی مراد لے سکتے ہیں اور معانی یہاں مناسب نہیں بنتے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ تَعَيَّنَ الْأَسْفَلُ“ مگر یہ کہ یہاں پر اس سے مولیٰ اسفل ہی متعین ہے، ”فَصَارَ كَاسْمٍ خَاصٍّ لَهُ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ یہ اس کا خاص اسم ہو۔
بھئی ادھر دیکھیے، صاحبِ ہدایہ دلیل بیان فرما رہے ہیں کہ مولیٰ کے لفظ کے کئی معانی آتے ہیں، لیکن یہاں پر مولیٰ سے مُعْتَق ہی مراد لے سکتے ہیں اور معانی مناسب نہیں۔ جب اور معانی مناسب نہیں تو یوں سمجھو ”هَذَا مَوْلَايَ“ اس جملے کے اندر یہ جو مولیٰ کا لفظ آ رہا ہے، یہ لفظ خاص ہے مُعْتَق کے ساتھ۔ یہ لفظ خاص ہے مُعْتَق کے ساتھ کیونکہ اور معانی یہاں مناسب نہیں بنتے۔ جب صرف مُعْتَق معنیٰ مناسب بنتا ہے تو یوں سمجھو اس لفظ کا معنیٰ مُعْتَق ہی ہے، اور کوئی معنیٰ ہے ہی نہیں یوں سمجھو۔ اور معانی یہاں لینا مناسب نہیں تو یوں سمجھو یہ ایسا اسم ذکر کیا آقا نے جو مُعْتَق ہی کے ساتھ خاص ہے، اس کا معنیٰ مُعْتَق ہی ہے، اور کوئی معنیٰ ہے ہی نہیں، یوں سمجھو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَاسْمٍ خَاصٍّ لَهُ“ تو یہ اسفل کے لیے خاص اسم کی طرح ہو گیا۔
”وَهَذَا لِأَنَّ الْمَوْلَى“ اب وجہ ذکر فرما رہے ہیں کہ باقی معانی یہاں کیوں مناسب نہیں ہیں۔ یہاں مولیٰ کا لفظ مولیٰ اسفل ہی کے لیے کیوں متعین ہے؟ آپ نے کیوں اس کو مُعْتَق کے لیے اسمِ خاص قرار دے دیا؟ تو اب وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمَوْلَى لَا يَسْتَنْصِرُ بِمَمْلُوكِهِ عَادَةً، وَلِلْعَبْدِ نَسَبٌ مَعْرُوفٌ، فَانْتَفَى الْأَوَّلُ وَالثَّانِي“ کہتے ہیں بھئی دیکھو، یہاں مولیٰ کا پہلا معنیٰ ہے مددگار، لیکن یہاں مولیٰ کے معنیٰ مددگار کے نہیں لے سکتے۔ آقا دوسروں کو کہے: ”هَذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مددگار ہے، یہ تو عار کی بات ہے، یہ تو شرم کی بات ہے، آپ غلام کو اپنا مددگار قرار دے رہے ہیں۔ غلام آپ کی خدمت تو کر رہا ہے لیکن مشکل مسائل میں وہ آپ کا مددگار ہو، ایسا نہیں۔ انسان کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے، کوئی بڑا مسئلہ اس کے سامنے آتا ہے تو وہ اپنے بھائیوں سے، اپنی اولاد سے، اپنے عزیز و اقارب سے مدد طلب کرتا ہے۔ غلام سے مدد طلب کرنا اس کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا بھئی۔ تو معلوم ہوا یہاں مولیٰ کا معنیٰ مددگار کے نہیں کر سکتے، کیونکہ آقا عادۃً اپنے غلام سے مدد طلب نہیں کرتا مشکل مسائل میں۔ اور نیز یہاں مولیٰ کا معنیٰ چچا کا بیٹا بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ غلام اس کے چچا کا بیٹا نہیں ہے، اس غلام کا نسب معروف ہے بھئی۔
کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، ”لِأَنَّ الْمَوْلَى لَا يَسْتَنْصِرُ بِمَمْلُوكِهِ عَادَةً“ ”اِسْتَنْصَرَ“ بھئی یہ ”نَصَرَ“ سے ہے اور سین طلب کے لیے آ گیا۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے ہے، ”لِأَنَّ الْمَوْلَى لَا يَسْتَنْصِرُ“ کیونکہ آقا مدد طلب نہیں کرتا، ”بِمَمْلُوكِهِ عَادَةً“ اپنے غلام سے عادۃً۔ آقا اپنے غلام سے عادۃً مدد طلب نہیں کرتا، تو لہٰذا اس مولیٰ کا معنیٰ مددگار کے نہیں کر سکتے۔ ”وَلِلْعَبْدِ نَسَبٌ مَعْرُوفٌ“ اور نیز اس غلام کا نسب معروف ہے، سب کو اس کے نسب کا پتہ ہے یہ فلاں کا بیٹا ہے، یہ تو اس آقا کے چچا کا بیٹا نہیں ہے، لہٰذا یہاں مولیٰ کا معنیٰ چچا کے بیٹے کے بھی نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِلْعَبْدِ نَسَبٌ مَعْرُوفٌ“ اور اس غلام کا نسب معروف ہے، ”فَانْتَفَى الْأَوَّلُ وَالثَّانِي“ تو پہلا معنیٰ بھی منتفی ہو گیا اور دوسرا معنیٰ بھی منتفی ہو گیا۔ یہ دونوں معنیٰ یہاں مولیٰ کے نہیں کیے جا سکتے۔ مددگار والا معنیٰ بھی نہیں کیونکہ آقا اپنے غلام سے مدد طلب نہیں کرتا، اور نیز چچا کا بیٹا یہ معنیٰ بھی مولیٰ کے نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اس کے چچا کا بیٹا نہیں ہے، اس غلام کا نسب معروف ہے، سب کو علم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَانْتَفَى الْأَوَّلُ“ تو مولیٰ کا پہلا معنیٰ وہ بھی منتفی ہو گیا، ”وَالثَّانِي“ اور دوسرا معنیٰ کہ یعنی چچا کا بیٹا اس کا معنیٰ کیا جائے وہ بھی منتفی ہو گیا۔
”وَالثَّالِثُ نَوْعُ مَجَازٍ“ اور تیسرا معنیٰ جو ہے وہ ایک قسم کا مجاز ہے۔ تیسرا معنیٰ کیا بیان کیا تھا مولیٰ کا؟ موالات فی الدین۔ یعنی دین کے اندر عقدِ موالات کرنے والا جو ہے اس کو بھی مولیٰ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: بھئی یہ مجازی معنیٰ ہے مولیٰ کا۔ یہ مولیٰ کا مجازی معنیٰ ہے، وجہ یہ کہ مولیٰ جو ہے اس کا مادہ واؤ لام یا ہے۔ مولیٰ کا مادہ کیا ہے؟ واؤ لام یا یعنی ”وَلْيٌ“ اس کا مادہ ہے بھئی۔ یعنی یہ ”وَلْيٌ“ سے مشتق ہے بھئی، اور ولی کا معنیٰ ہے قریب ہونا۔ ولی کا کیا معنیٰ ہے؟ قریب ہونا۔ اور یہ جو جس کے ساتھ عقدِ موالات کیا جا رہا ہے، نہ تو یہ نسب کے اعتبار سے اس کے قریب کا ہے، دونوں کا نسب الگ ہے، اور نیز اس کا علاقہ اور وطن بھی کوئی اور ہے، تو وطن اور جگہ کے اعتبار سے بھی قرب نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں دین کے اعتبار سے قرب مراد ہے کہ دونوں مسلمان ہیں، اور یہ تو اس کا مجازی معنیٰ ہے، حقیقی معنیٰ نہیں۔ حقیقت میں قرب نہیں ہے بلکہ مجازاً یعنی دین کے اعتبار سے قرب یہاں موجود ہے بھئی۔
تو دین کے اندر جو قرب ہے یہ مجازی معنیٰ ہے۔ اس لیے کیونکہ حقیقی قرب تو یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کے قریب ہو نسب میں، یا کوئی انسان دوسرے انسان کے قریب ہو وطن اور جگہ کے اعتبار سے، تو یہ ہے حقیقی قرب۔ لیکن یہاں تو نہ جگہ کے اعتبار سے قرب ہے اور نہ نسب کے اعتبار سے قرب ہے، تو یہاں پر پھر اس کو دین کے اعتبار سے قریبی ماننا پڑے گا۔ تو دین کے اعتبار سے قریب ہے تو معلوم ہوا حقیقی قرب مراد نہیں ہے، معنوی قرب مراد ہے۔ جب معنوی قرب مراد ہے تو یہ تو مجازی معنیٰ ہوا بھئی۔ حقیقی معنیٰ تو کیا ہے کہ حقیقت میں قرب ہو، لیکن یہاں حقیقت میں قرب نہیں ہے بلکہ معنوی اعتبار سے یعنی دین کے اعتبار سے قرب ہے، تو یہ مجازی معنیٰ ہوا بھئی۔ اور یہاں ہم جو بات کر رہے ہیں ”هَذَا مَوْلَايَ“، یہاں مولیٰ کے حقیقی معنیٰ کی بات کر رہے ہیں۔ وجہ یہ کہ جب حقیقی معنیٰ ممکن ہو تو پھر مجازی معنیٰ مراد نہیں لیا جاتا بھئی۔ مجازی معنیٰ اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب حقیقی معنیٰ مراد نہ لیا جا سکے بھئی، وہاں کوئی مانع آ جائے، پھر مجازی معنیٰ مراد لیا جاتا ہے۔ تو یہاں تو ہم مولیٰ کے حقیقی معنیٰ کی بات کر رہے ہیں، لہٰذا یہاں پر مولیٰ سے مولیٰ موالات بھی ہم مراد نہیں لے سکتے کیونکہ یہ اس کا مجازی معنیٰ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالثَّالِثُ نَوْعُ مَجَازٍ“ اور یہ جو تیسرا معنیٰ ہے یہ ایک قسم کا مجاز ہے، ”وَالْكَلَامُ لِحَقِيقَتِهِ“ اور کلام جو ہے وہ تو اس لفظ کی حقیقت کے بارے میں ہو رہا ہے۔ یہاں پر بات جو ہو رہی ہے وہ اس لفظِ مولیٰ کے حقیقی معنیٰ کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔
”وَالْإِضَافَةُ إِلَى الْعَبْدِ تُنَافِي كَوْنَهُ مُعْتِقًا“ بھئی صاحبِ ہدایہ نے مولیٰ کے پانچ معانی بیان کیے۔ ایک معنیٰ مولیٰ کا بیان کیا مددگار کے، ایک معنیٰ بیان کیا چچا کا بیٹا، ایک معنیٰ بیان کیا وہ جو عقدِ موالات کرنے والا ہے دین کے اندر، اور ایک معنیٰ ہے مُعْتِق یعنی آزاد کرنے والا، اور ایک معنیٰ ہے مُعْتَق یعنی جس کو آزاد کیا گیا ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہاں اس کا معنیٰ مُعْتَق کے کریں گے، باقی چاروں معانی یہاں مناسب نہیں بنتے۔ یہاں مددگار کا معنیٰ بھی مناسب نہیں کیونکہ آقا عادۃً اپنے مملوک سے مدد طلب نہیں کرتا۔ نیز یہاں چچا کا بیٹا یہ معنیٰ بھی مناسب نہیں کیونکہ یہ غلام اس کے چچا کا بیٹا نہیں ہے، اس غلام کا نسب سب کو پتہ ہے، معروف ہے بھئی۔ اور نیز اس مولیٰ کا یہاں معنیٰ مولیٰ موالات کے بھی نہیں کر سکتے، وہ شخص جس نے عقدِ موالات کیا ہے، وہ معنیٰ بھی یہاں نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تو اس کا مجازی معنیٰ ہے اور یہاں بات مولیٰ کے حقیقی معنیٰ کی ہو رہی ہے۔ اور چوتھا معنیٰ ہے مولیٰ کا مُعْتِق آزاد کرنے والا یعنی مولیٰ اعلیٰ، وہ معنیٰ بھی یہاں پر نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ یہ کلام غلام سے کیا جا رہا ہے۔ یہ کسی آزاد کرنے والے سے کلام نہیں کیا جا رہا بلکہ غلام سے کلام کیا جا رہا ہے، غلام کے بارے میں آقا کہہ رہا ہے: ”هَذَا مَوْلَايَ“۔ تو غلام تو مُعْتِق نہیں ہو سکتا بھئی۔ غلام تو کسی چیز کا مالک ہی نہیں ہوتا، وہ مُعْتِق کیسے ہو سکتا ہے، آزاد کرنے والا کیسے ہو سکتا ہے؟ تو معلوم ہوا یہاں مولیٰ کا معنیٰ مولیٰ اعلیٰ کے بھی نہیں کر سکتے یعنی مُعْتِق کے بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ اس کلام کی نسبت کس کی طرف کر رہا ہے آقا؟ غلام کی طرف۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْإِضَافَةُ إِلَى الْعَبْدِ“ اور اس کلام کی جو نسبت ہو رہی ہے غلام کی طرف، ”تُنَافِي كَوْنَهُ مُعْتِقًا“ یہ اس بات کے منافی ہے کہ یہ غلام جو ہے مُعْتِق ہو، کہ یہ شخص کیا ہو؟ مُعْتِق ہو، یہ اس بات کے منافی ہے۔ ”فَتَعَيَّنَ الْمَوْلَى الْأَسْفَلُ“ تو مولیٰ اسفل متعین ہو گیا۔ اور تو کوئی معنیٰ نہیں کر سکتے تو مولیٰ اسفل یہاں متعین ہو گیا۔ تو ”هَذَا مَوْلَايَ“ اس جملے کے اندر یہ جو مولیٰ کا لفظ ہے اس کا معنیٰ مولیٰ اسفل ہی متعین ہے، کوئی اور معنیٰ یہاں نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”فَتَعَيَّنَ الْمَوْلَى الْأَسْفَلُ“ تو مولیٰ اسفل معنیٰ متعین ہو گیا، ”فَالْتَحَقَ بِالصَّرِيحِ“ تو یہ لفظ مل گیا صریح کے ساتھ۔ یعنی یہ لفظ آزادی کے اندر اب صریح ہو گیا۔ یہ مولیٰ کا لفظ آزادی میں صریح ہو گیا یہاں پر ”هَذَا مَوْلَايَ“ اس جملے کے اندر، یہاں اس کا اور کوئی معنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اور صریح بھی کسے کہتے ہیں؟ جہاں اور کسی معنیٰ کا احتمال نہ ہو۔ تو جب یہاں اور کسی معنیٰ کا احتمال نہیں تو یہ مولیٰ کا لفظ آزادی کے اندر صریح ہو گیا، اور وہ لفظ جو آزادی کے اندر صریح ہو اس کو جب آقا ادا کرے گا تو غلام ہر حال میں آزاد ہو جائے گا، وہاں آقا سے نیت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَتَعَيَّنَ الْمَوْلَى الْأَسْفَلُ“ تو اس لفظ کا معنیٰ مولیٰ اسفل کے متعین ہو گیا، ”فَالْتَحَقَ بِالصَّرِيحِ“ تو یہ لفظ صریح کے ساتھ مل گیا یعنی اب یہاں اور کسی معنیٰ کا احتمال نہیں، تو اس سے غلام آزاد ہو جائے گا۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ: هَذِهِ مَوْلَاتِي لِمَا بَيَّنَّاهُ“ ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہے حکم، ”إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ“ جب آقا نے اپنی باندی سے کہا: ”هَذِهِ مَوْلَاتِي“ یہ میری مولیٰ ہے۔ وہی مولیٰ کی مؤنث لے آئے، مَوْلَاة گول تا کے ساتھ، اور پھر یاء متکلم کی طرف اضافت کر دی: ”هَذِهِ مَوْلَاتِي“ یہ میری مولات ہے۔ تو جیسے ”یہ میرا مولیٰ ہے“ کہنے سے غلام آزاد ہوتا تھا، تو ”یہ میری مولات ہے“ جب باندی کو کہے گا تو وہ بھی آزاد ہو جائے گی کیونکہ مولیٰ کا یہاں معنیٰ مُعْتَق ہی کے کرنا پڑیں گے، اور کوئی معنیٰ مناسب نہیں بنتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ“ اور اسی طرح حکم ہے جب آقا نے اپنی باندی سے کہا: ”هَذِهِ مَوْلَاتِي لِمَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ باندی آزاد ہو جائے گی کیونکہ یہاں مولیٰ کا اور کوئی معنیٰ کرنا مناسب نہیں، تو یہاں مولات کا معنیٰ بھی آزاد شدہ باندی ہی کے کرنا پڑیں گے، اور معنیٰ یہاں مناسب نہیں بنتا۔ تو یہ معنیٰ ہے ”لِمَا بَيَّنَّاهُ“ اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ: عَنَيْتُ بِهِ الْمَوْلَى فِي الدِّينِ أَوِ الْكَذِبَ، يُصَدَّقُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَلَا يُصَدَّقُ فِي الْقَضَاءِ“ بھئی صاحبِ ہدایہ نے تو آپ کو بتلا دیا کہ آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”هَذَا مَوْلَايَ“، تو یہاں پر مولیٰ کا معنیٰ آزاد شدہ کے ہی کرنا پڑیں گے یعنی آقا کہہ رہا ہے یہ میرا آزاد شدہ غلام ہے، اور یہ صریح کے درجے میں ہے لہٰذا اس سے غلام آزاد ہو جائے گا، کیونکہ یہاں مولیٰ کا کوئی اور معنیٰ مناسب نہیں بنتا۔ لیکن آقا یہ لفظ کہنے کے بعد کہتا ہے کہ یہ تو میں نے ویسے جھوٹ موٹ کہا تھا، ”هَذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا آزاد شدہ ہے، میں نے تو اس کو کوئی آزاد نہیں کیا، یہ میں ویسے جھوٹ موٹ کہہ رہا تھا، جھوٹ بول رہا تھا بھئی۔ یا آقا کوئی اور معنیٰ بیان کرتا ہے مولیٰ کا۔ ہم نے تو کہا یہاں مولیٰ کا معنیٰ ہے مُعْتَق کے یعنی آزاد شدہ، لیکن آقا کہتا ہے نہیں، یہاں میں نے مولیٰ کے دوسرے معنیٰ کا ارادہ کیا تھا یعنی مددگار یا مولیٰ موالات یعنی وہ شخص جس کے ساتھ عقدِ موالات کیا گیا ہو، میں نے تو اس معنیٰ کا ارادہ کیا تھا، میں نے تو یہاں مولیٰ کے آزاد شدہ والے معنیٰ کا ارادہ نہیں کیا۔ تو اس صورت میں یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ دیانۃً آقا کی تصدیق کی جائے گی، یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ لیکن اگر یہ مسئلہ قاضی کے پاس چلا گیا تو قاضی اس شخص کی تصدیق نہیں کرے گا بلکہ غلام کے آزاد ہونے کا حکم جاری کرے گا۔ تو دیانۃً اس آدمی کی تصدیق کی جائے گی لیکن قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ آقا اپنے کلام کا جو معنیٰ مراد بیان کر رہا ہے وہ ظاہر کے مخالف ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ یہاں مولیٰ کا معنیٰ مُعْتَق ہی کرنا پڑیں گے اور معنیٰ یہاں مناسب نہیں ہے بھئی۔ ظاہر یہی ہے کہ اس سے غلام آزاد ہو جائے گا کیونکہ مولیٰ کا لفظ یہاں صریح کے درجے میں ہے۔ نیز اس لیے بھی قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا کیونکہ وہ اپنے کلام کا ایسا معنیٰ بیان کر رہا ہے جس میں اس کا فائدہ ہے۔ ”هَذَا مَوْلَايَ“ اگر اس مولیٰ کا معنیٰ مُعْتَق کے کریں تو غلام آزاد ہوتا ہے اور غلام اس آدمی کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے، اور اگر اس مولیٰ کا معنیٰ کچھ اور کریں یا اس کو جھوٹ قرار دیا جائے تو پھر تو اس میں اس آدمی کا فائدہ ہے کہ غلام اس کے ہاتھ سے نہیں نکلے گا بھئی۔ تو چونکہ یہاں پر یہ شخص ایسا معنیٰ بیان کر رہا ہے جس میں اس کا فائدہ ہے، تو تہمت کی وجہ سے قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ اپنے آپ کو نقصان سے بچانا چاہتا ہے اس لیے یہ معنیٰ بیان کر رہا ہے بھئی۔ لہٰذا قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر آقا نے کہا: ”عَنَيْتُ بِهِ الْمَوْلَى فِي الدِّينِ أَوِ الْكَذِبَ“ ”عَنَى يَعْنِي“ کا معنیٰ ہوتا ہے ارادہ کرنا۔ ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر آقا کہتا ہے: ”عَنَيْتُ بِهِ الْمَوْلَى فِي الدِّينِ“ کہ میں نے مولیٰ فی الدین کا ارادہ کیا، میں نے اس لفظ سے مولیٰ کے ذریعے مولیٰ فی الدین کا ارادہ کیا یعنی وہ جس نے عقدِ موالات کیا ہو دین کے اندر میں نے اس کا ارادہ کیا، ”أَوِ الْكَذِبَ“ یا میں نے جھوٹ کا ارادہ کیا تھا، میں ویسے ہی جھوٹ بول رہا تھا، ”يُصَدَّقُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى“ تو تصدیق کی جائے گی اس آقا کی اس میں وہ جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے، ”وَلَا يُصَدَّقُ فِي الْقَضَاءِ“ اور قضا کے اندر اس آقا کی تصدیق نہیں کی جائے گی، ”لِمُخَالَفَتِهِ الظَّاهِرَ“ اس وجہ سے کہ اس کا کلام ظاہر کے مخالف ہے بھئی۔ وہ ایک ایسے معنیٰ کا ارادہ کر رہا ہے جو یہاں مناسب نہیں بنتا۔
”وَأَمَّا الثَّانِي“ اب دوسرے لفظ کی بات آ گئی۔ بھئی متن میں آیا تھا آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”هَذَا مَوْلَايَ“ یہ میرا مولیٰ ہے، یا آقا نے اپنے غلام کو ندا دی: ”يَا مَوْلَايَ“ اے میرے مولیٰ۔ تو اب یہ جو دوسرا لفظ تھا ندا والا اس کی بات کریں گے۔ حاصلِ کلام سمجھ لیجیے، صاحبِ ہدایہ نے یہاں تک بیان کر دیا کہ جو مولیٰ کا لفظ ہے آقا نے جب اپنے غلام کے لیے استعمال کیا ہے تو یہاں اس کے معنیٰ مُعْتَق ہی کے کرنا پڑیں گے اور معنیٰ یہاں مناسب نہیں۔ تو یہ لفظ صریح کے درجے میں ہوا، اور آزادی کے لیے جو لفظ صریح ہو اس کو ندا میں استعمال کیا جائے تو غلام آزاد ہو جاتا ہے۔ جیسے پیچھے مثال گزری بھئی، آقا نے اپنے غلام کو کہا: ”يَا حُرُّ“ یا ”يَا عَتِيقُ“، اور یہ حُر اور عتیق یہ تو آزادی کے اندر صریح ہیں۔ تو ندا کے اندر بھی جب صریح لفظ استعمال کیا تو یہ اپنا عمل دکھائے گا اور غلام آزاد ہو جائے گا۔ یہاں پر بھی مولیٰ کا لفظ جو ہے وہ مُعْتَق کے اندر صریح کے درجے میں ہے، تو جب صریح لفظ کے ساتھ آقا نے اپنے غلام کو ندا دی: ”يَا مَوْلَايَ“ اے میرے مولیٰ، تو اس صورت میں بھی غلام آزاد ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الثَّانِي“ اور باقی جو دوسرا لفظ ہے یعنی ”يَا مَوْلَايَ“ وہ جو ندا کا لفظ ہے، ”فَلِأَنَّهُ لَمَّا تَعَيَّنَ الْأَسْفَلُ مُرَادًا“ اس لیے کیونکہ جب اس لفظ سے یعنی یہ مولیٰ کے لفظ سے اسفل متعین ہو گیا باعتبار مراد ہونے کے، ”الْتَحَقَ بِالصَّرِيحِ“ تو یہ مولیٰ کا لفظ صریح کے ساتھ مل گیا، یہ صریح کے درجے میں ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الثَّانِي“ اور باقی جو دوسرا لفظ ہے یعنی ”يَا مَوْلَايَ“، ”فَلِأَنَّهُ لَمَّا تَعَيَّنَ الْأَسْفَلُ مُرَادًا“ جب اس سے مولیٰ اسفل ہی متعین ہو گیا مراد ہونے کے اعتبار سے، مولیٰ اسفل یعنی مُعْتَق، جب اس سے مُعْتَق ہی متعین ہو گیا مراد ہونے کے اعتبار سے، ”الْتَحَقَ بِالصَّرِيحِ“ تو یہ مولیٰ کا لفظ صریح کے ساتھ مل گیا، ”وَبِالنِّدَاءِ بِاللَّفْظِ الصَّرِيحِ يَعْتِقُ“ اور لفظِ صریح کے ساتھ ندا دینے کی وجہ سے غلام آزاد ہو جاتا ہے، ”بِأَنْ قَالَ“ بایں صورت کہ آقا اپنے غلام سے کہتا ہے: ”يَا حُرُّ، يَا عَتِيقُ“ تو جیسے اس کے اندر غلام آزاد ہوتا ہے تو ”يَا مَوْلَايَ“ کے اندر بھی غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”بِأَنْ قَالَ“ بایں صورت کہ آقا کہتا ہے: ”يَا حُرُّ، يَا عَتِيقُ، فَكَذَا النِّدَاءُ بِهَذَا اللَّفْظِ“ تو اسی طرح ہے اس لفظ کے ذریعے ندا بھی، اس سے بھی غلام آزاد ہو جائے گا۔
”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَعْتِقُ فِي الثَّانِي“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دوسرے لفظ کے اندر غلام آزاد نہیں ہوگا۔ امام زفر فرماتے ہیں: ”هَذَا مَوْلَايَ“ یہ پہلا لفظ جو تھا، اس کے اندر تو غلام آزاد ہو جائے گا لیکن ”يَا مَوْلَايَ“ اے میرے مولیٰ، اس کے اندر غلام آزاد نہیں ہوگا۔ وجہ یہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ کبھی عزت اور اکرام کے طور پر بھی بولا جاتا ہے۔ عزت اور اکرام کے طور پر بھی بولا جاتا ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے غلام آزاد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَعْتِقُ فِي الثَّانِي“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دوسرے لفظ سے غلام آزاد نہیں ہوگا، ”لِأَنَّهُ يُقْصَدُ بِهِ الْإِكْرَامُ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے اکرام اور عزت کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ: يَا سَيِّدِي، يَا مَالِكِي“ یہ آقا کے اسی قول کے درجے میں ہے: ”يَا سَيِّدِي، يَا مَالِكِي“۔ ”يَا سَيِّدِي“ اے میرے سردار، ”يَا مَالِكِي“ اے میرے مالک۔ آقا نے اپنے غلام کو کیا کہا ہے؟ ”يَا مَوْلَايَ“ اے میرے مولیٰ، لیکن یہ مولیٰ کا لفظ کبھی عزت اور تکریم کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ گویا آقا اپنے غلام کو کہہ رہا ہے: ”يَا سَيِّدِي“ اے میرے آقا، اے میرے سردار، یا آقا اس کو یوں کہہ رہا ہے: ”يَا مَالِكِي“ اے میرے مالک یعنی عزت کے طور پر۔ آقا عزت کے طور پر اس کو یہ لفظ کہہ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُقْصَدُ بِهِ الْإِكْرَامُ“ اس لیے کیونکہ ”يَا مَوْلَايَ“ کے ذریعے کبھی اکرام کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ: يَا سَيِّدِي، يَا مَالِكِي“ یہ آقا کے قول ”يَا سَيِّدِي“ اور ”يَا مَالِكِي“ کے درجے میں ہے۔
”قُلْنَا: الْكَلَامُ لِحَقِيقَتِهِ“ ہم کہتے ہیں کہ کلام جو ہے اس لفظ کی حقیقت کے بارے میں ہو رہا ہے۔ یہ تو آپ مجازی معنیٰ بیان کر رہے ہیں مولیٰ کا، کہ مولیٰ کا لفظ کبھی سردار یا آقا کے معنیٰ میں بھی استعمال ہو جاتا ہے، یہ تو آپ مجازی معنیٰ بیان کر رہے ہیں، اور ہم اس لفظ کے حقیقی معنیٰ کے بارے میں بات کر رہے ہیں، اور جب حقیقی معنیٰ پر عمل ممکن ہو تو مجازی معنیٰ کی طرف نہیں جائیں گے۔ ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں: ”الْكَلَامُ لِحَقِيقَتِهِ“ کہ کلام جو ہے وہ اس لفظ کی حقیقت کے بارے میں ہے، ”وَقَدْ أَمْكَنَ الْعَمَلُ بِهِ“ اور نیز اس کی حقیقت پر عمل ممکن بھی ہے، ”بِخِلَافِ مَا ذَكَرَهُ“ بخلاف اس کے جس کو امام زفر رحمہ اللہ نے ذکر کیا، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ مَا يَخْتَصُّ بِالْعِتْقِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آزادی کے ساتھ خاص ہو۔ امام زفر کی اگر بات لی جائے اور ”يَا مَوْلَايَ“ کا کیا معنیٰ کیا جائے: ”يَا سَيِّدِي“ اور ”يَا مَالِكِي“، تو اس کے اندر تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آزادی کے ساتھ خاص ہو۔ تو اس صورت میں تو یہ صرف اکرام ہی ہوگا، اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا، لیکن یہ مجازی معنیٰ ہے بھئی، اور مجازی معنیٰ کی طرف تو تب جاتے ہیں جب حقیقی معنیٰ ممکن نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا ذَكَرَهُ“ بخلاف اس معنیٰ کے جس کو امام زفر رحمہ اللہ نے ذکر کیا، ”لِأَنَّ لَيْسَ فِيهِ مَا يَخْتَصُّ بِالْعِتْقِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آزادی کے ساتھ خاص ہو، ”فَكَانَ إِكْرَامًا مَحْضًا“ تو وہ صرف اکرام ہوگا، اس صورت میں صرف اکرام ہوگا لیکن وہ مجازی معنیٰ ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ: يَا بُنَيَّ أَوْ يَا أَخِي، لَمْ يَعْتِقْ“ اور اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”يَا بُنَيَّ“ اے میرے بیٹے، یا آقا نے کہا: ”يَا أَخِي“ اے میرے بھئی، ”لَمْ يَعْتِقْ“ تو اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا۔
بھئی دیکھیے، پیچھے مسئلہ گزرا تھا ”يَا حُرُّ“ اور ”يَا عَتِيقُ“، وہاں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ندا کی حقیقت یہ ہے کہ ندا جب وصف کے ساتھ دی جائے تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ منادیٰ وصفِ مذکور کے ساتھ حاضر ہو جائے یا منادیٰ وصفِ مذکور کے ساتھ متوجہ ہو جائے۔ اور جب وصف ایسا ہو جس کو آقا ثابت بھی کر سکتا ہے تو اس صورت میں گویا آقا خبر دے رہا ہے کہ میں نے تمہارے اندر حریت والا وصف ثابت کر دیا ہے، اب اس وصف کے ساتھ میری طرف متوجہ ہو جاؤ یا اس وصف کے ساتھ میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ توجہ ہے؟ لیکن اگر آقا اپنے غلام کو کہتا ہے: ”يَا بُنَيَّ“ اے میرے بیٹے، اب بیٹا ہونا یہ وصف تو آقا ثابت نہیں کر سکتا۔ یہ وصف آقا ثابت نہیں جب غلام کسی اور کا بیٹا ہے تو آقا کے ”يَا بُنَيَّ“ اے میرے بیٹے کہنے سے یہ غلام اس کا بیٹا نہیں بن جائے گا بھئی۔ یا آقا کہے: ”يَا أَخِي“ اے میرے بھئی، یہ کہنے سے غلام اس کا بھئی نہیں بن جائے گا۔ معلوم ہوا جب آقا اپنے غلام سے کہے ”يَا بُنَيَّ“ یا ”يَا أَخِي“ کہے تو یہ ایک ایسی صفت ذکر کر رہا ہے کہ آقا اس کے ثابت کرنے پر قادر نہیں ہے۔ آقا اس صفت کو ثابت کرنے پر قادر نہیں، جب آقا اس صفت کو ثابت کرنے پر قادر نہیں تو معلوم ہوا یہاں صرف اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے، اس کے اندر اس وصف کو ثابت کرنا مقصود نہیں کیونکہ آقا یہ وصف اس میں ثابت کر ہی نہیں سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ: يَا بُنَيَّ أَوْ يَا أَخِي، لَمْ يَعْتِقْ“ اور اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا: اے میرے بیٹے یا اے میرے بھئی، ”لَمْ يَعْتِقْ“ تو غلام آزاد نہیں ہوگا، ”لِأَنَّ النِّدَاءَ لِإِعْلَامِ الْمُنَادَى“ اس لیے کیونکہ یہ جو ندا ہوتی ہے یہ منادیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ یہ ندا کس لیے ہوتی ہے؟ منادیٰ کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ کس چیز سے آگاہ کیا جا رہا ہے؟ کہ میں تمہیں طلب کر رہا ہوں، میری طرف متوجہ ہو جاؤ یا میرے پاس حاضر ہو جاؤ، یہ اس کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النِّدَاءَ لِإِعْلَامِ الْمُنَادَى“ اس لیے کیونکہ ندا جو ہے منادیٰ کو خبر دینے کے لیے ہوتی ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا كَانَ بِوَصْفٍ يُمْكِنُ إِثْبَاتُهُ مِنْ جِهَتِهِ“ مگر یہ کہ جب ندا ایسے وصف کے ساتھ ہو کہ ”يُمْكِنُ إِثْبَاتُهُ مِنْ جِهَتِهِ“ کہ اس وصف کو آقا کی طرف سے ثابت کرنا ممکن ہو، ”كَانَ لِتَحْقِيقِ ذَلِكَ الْوَصْفِ فِي الْمُنَادَى“ تو اس صورت میں یہ ندا جو ہے اس وصف کو ثابت کرنے کے لیے ہوگی فی المنادیٰ منادیٰ میں۔
آقا نے اپنے غلام کو آواز دی: ”يَا حُرُّ“، بھئی یہ تو غلام ہے، یہ تو آزاد نہیں ہے۔ تو آقا اس کو حریت کے وصف کے ساتھ ندا دے رہا ہے اور یہ ایسا وصف ہے جو آقا اپنے غلام میں ثابت بھی کر سکتا ہے۔ معلوم ہوا آقا اس کو خبر دے رہا ہے کہ میں نے تمہارے اندر یہ حریت ثابت کر دی ہے، اب اس حریت کے وصف کے ساتھ میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ یہ معنیٰ ہے کہ ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا كَانَ بِوَصْفٍ يُمْكِنُ إِثْبَاتُهُ مِنْ جِهَتِهِ“ مگر ندا جب ایسے وصف کے ساتھ ہو کہ آقا کی طرف سے اس کا ثابت کرنا ممکن ہو، ”كَانَ لِتَحْقِيقِ ذَلِكَ الْوَصْفِ فِي الْمُنَادَى“ تو اس صورت میں یہ جو ندا ہوگی یہ اس وصف کو ثابت کرنے کے لیے ہوگی فی المنادیٰ منادیٰ میں، ”اسْتِحْضَارًا لَهُ بِالْوَصْفِ الْمَخْصُوصِ“ اس کو طلب کرنے کے لیے اس مخصوص وصف کے ساتھ، کہ اس مخصوص وصف کے ساتھ میرے سامنے حاضر ہو جاؤ، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ: يَا حُرُّ“ جیسے کہ آقا کے قول ”يَا حُرُّ“ کے اندر ہے، ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔
”وَإِذَا كَانَ النِّدَاءُ بِوَصْفٍ“ اور جب ندا ایسے وصف کے ساتھ ہو، ”لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهُ مِنْ جِهَتِهِ“ کہ وہ وصف آقا کی جانب سے ثابت نہیں ہو سکتا، ”كَانَ لِلْإِعْلَامِ الْمُجَرَّدِ“ تو یہ صرف خبر دینے کے لیے ہوگی۔ پھر سنو، یہ جو ندا ہے اس کے ذریعے منادیٰ کو خبر دی جاتی ہے کہ میری طرف متوجہ ہو جاؤ۔ تو اگر آقا ایسا وصف ذکر کرے جو اس منادیٰ میں نہیں پایا جا رہا لیکن آقا اس کو ثابت کر سکتا ہے، تو پھر کہا جائے گا آقا اس ندا کے ذریعے منادیٰ میں اس وصف کو ثابت کر رہا ہے، اس کو آزاد کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ لیکن اگر ایسا وصف نہیں ہے مثلاً ”يَا بُنَيَّ“ کہا اور آقا کے ”اے میرے بیٹے“ کہنے سے یہ غلام اس کا بیٹا نہیں ہو سکتا بھئی، تو یہ ایسا وصف ذکر کر رہا ہے آقا کہ آقا اس وصف کو غلام کے اندر ثابت کرنے پر قادر نہیں۔ اور جب ایسے وصف کے ساتھ ندا دے کہ آقا اس کے ثابت کرنے پر قادر نہ ہو تو وہاں اس کو صرف اعلام قرار دیا جائے گا کہ آقا اس کو آگاہ کر رہا ہے کہ میری طرف متوجہ ہو جاؤ۔ اس ندا کو وہ وصف ثابت کرنا قرار نہیں دیا جائے گا کیونکہ آقا یہ وصف ثابت ہی نہیں کر سکتا۔ تو یہ صرف منادیٰ کو اطلاع دی جا رہی ہے، آگاہ کیا جا رہا ہے کہ میری طرف متوجہ ہو جاؤ۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ النِّدَاءُ بِوَصْفٍ“ اور جب ندا ایسے وصف کے ساتھ ہو، ”لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهُ مِنْ جِهَتِهِ“ کہ آقا کی طرف سے اس کو ثابت کرنا ممکن نہ ہو، ”كَانَ لِلْإِعْلَامِ الْمُجَرَّدِ“ تو یہ ندا صرف اس منادیٰ کو خبر دینے کے لیے ہوگی، ”دُونَ تَحْقِيقِ الْوَصْفِ فِيهِ“ نہ کہ اس میں وصف کو ثابت کرنے کے لیے، ”لِتَعَذُّرِهِ“ اس لیے کیونکہ وصف کو تو ثابت کرنا ممکن ہی نہیں ہے آقا کے لیے۔
”وَالْبُنُوَّةُ لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهَا حَالَةَ النِّدَاءِ مِنْ جِهَتِهِ“ اور بنوت، بنوت کا معنیٰ ہے بیٹا ہونا، ”وَالْبُنُوَّةُ“ اور بیٹا ہونا، ”لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهَا“ اس کو ثابت کرنا ممکن نہیں ہے، ”حَالَةَ النِّدَاءِ“ ندا کی حالت میں، ”مِنْ جِهَتِهِ“ آقا کی طرف سے۔ ایک شخص اپنے غلام کو آواز دیتا ہے: ”يَا بُنَيَّ“ اے میرے بیٹے، تو آقا اس غلام کے اندر اپنا بیٹا ہونے کا وصف ثابت نہیں کر سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْبُنُوَّةُ لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهَا حَالَةَ النِّدَاءِ مِنْ جِهَتِهِ“ اور بیٹا ہونا یہ جو وصف ہے اس کو ثابت کرنا ممکن نہیں ہے ندا کی حالت میں آقا کی جانب سے، ”لِأَنَّهُ لَوِ انْخَلَقَ مِنْ مَاءِ غَيْرِهِ“ ”اِنْخَلَقَ يَنْخَلِقُ“ کے معنیٰ ہیں پیدا ہونا، ”لِأَنَّهُ لَوِ انْخَلَقَ مِنْ مَاءِ غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ غلام جب یہ کسی دوسرے کے پانی سے پیدا ہوا ہے یعنی کسی دوسرے کے نطفے سے پیدا ہوا ہے، ”لَا يَكُونُ ابْنًا لَهُ بِهَذَا النِّدَاءِ“ تو یہ غلام اس آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا اس ندا کی وجہ سے۔ جب یہ کسی اور کا بیٹا ہے تو آقا کے ندا دینے سے یہ اس کا بیٹا نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَوِ انْخَلَقَ مِنْ مَاءِ غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ اگر یہ غلام کسی دوسرے کے پانی سے پیدا ہوا ہے، ”لَا يَكُونُ ابْنًا لَهُ بِهَذَا النِّدَاءِ“ تو یہ غلام اس آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا اس ندا کی وجہ سے، ”فَكَانَ لِمُجَرَّدِ الْإِعْلَامِ“ تو یہ جو ندا ہے یہ صرف اس کو اطلاع دینے کے لیے ہے کہ میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔
”وَيُرْوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ شَاذًّا“ اور روایت کیا گیا ہے امام صاحب سے شاذ طریقے پر۔ یاد رکھو شاذ کہتے ہیں جو اصول اور ضابطے کے خلاف ہو اس کو بھی شاذ کہتے ہیں، اور اسی طرح شاذ کے معنیٰ نادر اور قلیل ہونے کے بھی ہیں۔ تو یہاں یہی معنیٰ کر لیں گے کہ امام صاحب سے شاذ طریقے پر نقل کیا گیا ہے یعنی کسی ایک ادھ نے یہ بات نقل کی ہے، عام علماء نے یہ بات نقل نہیں کی، تو امام صاحب سے شاذ طریقے پر نقل کیا گیا ہے: ”أَنَّهُ يَعْتِقُ فِيهِمَا“ کہ غلام جو ہے وہ آزاد ہو جائے گا ان دونوں لفظوں میں۔ یعنی اگر آقا نے اپنے غلام کو ”يَا بُنَيَّ“ کے ساتھ ندا دی تو بھی آزاد ہو جائے گا اور ”يَا أَخِي“ کے ساتھ ندا دی تو بھی غلام آزاد ہو جائے گا، یہ ایک روایت نقل کی گئی ہے امام صاحب سے شاذ طریقے پر یعنی کسی ایک ادھ نے نقل کی ہے، عام علماء اس کو نقل نہیں فرماتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُرْوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى شَاذًّا“ اور امام صاحب سے شاذ طریقے پر یہ روایت کیا گیا ہے، ”أَنَّهُ يَعْتِقُ فِيهِمَا“ کہ ان دونوں لفظوں کے اندر بھی یہ غلام آزاد ہو جائے گا، ”وَالِاعْتِمَادُ عَلَى الظَّاهِرِ“ اور اعتماد جو ہے وہ ظاہرِ روایت پر ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ علماء کا اعتماد جو ہے وہ ظاہرِ روایت پر ہے، ظاہرِ روایت وہ جو اوپر متن میں آیا کہ ”وَلَوْ قَالَ: يَا بُنَيَّ أَوْ يَا أَخِي، لَمْ يَعْتِقْ“، اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا، اس پر علماء کا اعتماد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالِاعْتِمَادُ عَلَى الظَّاهِرِ“ اور اعتماد جو ہے وہ ظاہرِ روایت پر ہے۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.