آگے سبق دیکھیے بھئی!
”فَصْلٌ: وَعَلَى الرَّجُلِ أَنْ يُنْفِقَ عَلَى أَبَوَيْهِ وَأَجْدَادِهِ وَجَدَّاتِهِ إِذَا كَانُوا فُقَرَاءَ، وَإِنْ خَالَفُوهُ فِي دِينِهِ، أَمَّا الْأَبَوَانِ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾، نَزَلَتِ الْآيَةُ فِي الْأَبَوَيْنِ الْكَافِرَيْنِ، وَلَيْسَ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ يَعِيشَ فِي نِعَمِ اللَّهِ تَعَالَى وَيَتْرُكَهُمَا يَمُوتَانِ جُوعًا“۔
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ عند الاحناف جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو عدت کے دوران کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے اور رہائش بھی خاوند کے ذمے ہے۔ چاہے یہ طلاقِ رجعی ہو، چاہے یہ طلاقِ بائن ہو۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبتوتۂ غیر حاملہ یعنی وہ عورت جس کو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں اور وہ غیر حاملہ ہے تو اس کا نفقہ عدت کے دوران خاوند پر نہیں ہوگا۔ یاد رکھو، رہائش تو تمام صورتوں کے اندر وہ خاوند کے ذمے ہے۔ جب بھی جدائی آجائے میاں بیوی کے درمیان تو رہائش تو تمام احوال میں خاوند کے ذمے ہے۔ البتہ نفقے کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ اس معتدۂ مبتوتۂ غیر حاملہ کے اندر اختلاف فرماتے ہیں اور ان کی دلیل جو ہے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دیں اور میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکنیٰ بھی مقرر نہیں فرمایا اور نفقہ بھی مقرر نہیں فرمایا۔ اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب طلاقِ بائن خاوند نے دے دی ہے یا تین طلاقیں دے دی ہیں تو خاوند کی ملکیت ہی ختم ہوگئی۔ اور جب خاوند کی ملکیت ختم ہوجائے تو اس کے ذمے نفقہ نہیں ہوتا جیسے کہ متوفیٰ عنہا زوجہا کے اندر ہے۔ وہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہوجائے چونکہ وہاں پر خاوند کی ملکیت ختم ہوگئی انتقال کی وجہ سے، تو یہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہوچکا ہے یہ چار مہینے دس دن عدت گزارتی ہے اور اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہوتا، یعنی خاوند کے مال میں سے اس کو نفقہ نہیں دیا جاتا۔ اور وجہ وہی ہے کیونکہ خاوند کی ملکیت ختم ہوگئی۔ تو جیسے اس کے اندر خاوند کی ملکیت نہیں تو نفقہ نہیں، تو معتدۂ مبتوتۂ غیر حاملہ کے اندر بھی خاوند کی ملکیت نہیں تو اس کا نفقہ بھی خاوند پر نہیں آئے گا۔ البتہ اگر مبتوتہ حاملہ ہو تو پھر وہ فرماتے ہیں اس کی عدت کے دوران نفقہ خاوند پر آئے گا اور یہ نص کی وجہ سے ثابت ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ﴾ کہ یہ طلاق والیاں جو ہیں اگر یہ حمل والی ہوں یعنی حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرو۔
جبکہ ہمارے نزدیک یہ جو نفقہ ہوتا ہے یہ احتباس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جیسے نکاح کے اندر عورت اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روک کر رکھتی ہے تو چاہے عورت مالدار ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے کیونکہ یہ نفقہ احتباس کے مقابلے میں ہے اور احتباس یعنی عورت کا اپنے آپ کو روکنا تو پایا جا رہا ہے۔ اور یہاں پر یہ جو معتدہ ہے، یہ چاہے مبتوتہ ہی کیوں نہ ہو، یہاں بھی احتباس پایا جا رہا ہے کہ یہ آگے نکاح نہیں کرسکتی جب تک عدت چل رہی ہے، اور یہ نکاح جو ہے وہ خاوند کے حق کی وجہ سے نہیں کرسکتی کیونکہ خاوند کا اس پر حق ہے کہ پتہ چل جائے کہ کہیں اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد نہ ہو۔ تو جب خاوند کے حق کے طور پر اس مبتوتہ میں احتباس موجود ہے کہ یہ آگے نکاح نہیں کرسکتی تو اس کا نفقہ بھی خاوند پر آئے گا۔
باقی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کا جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ اس کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رد فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ ہم اللہ کی کتاب کو اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ اور نیز میں نے بتلایا تھا کہ علماء نے اور بھی جوابات دیے ہیں بھئی۔ صاحبِ ہدایہ یہاں مختصر ایک آدھ دلیل اور اس کا جواب ذکر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ ہمارے پاس صرف یہی دلائل ہیں بھئی۔ دوسرے ائمہ کے پاس بھی اور دلائل ہوتے ہیں، ہمارے پاس بھی اور دلائل ہیں لیکن صاحبِ ہدایہ مختصراً ایک آدھ دلیل ہی ذکر فرماتے ہیں۔ جیسے انہوں نے شروع کے اندر ذکر فرمایا کہ یہ کتاب جو تھی اسی جلدوں پر مشتمل تھی اور پھر میں نے اس کو مختصر کرکے چار جلدوں میں اس کو تحریر کیا۔ تو لہٰذا یہاں وہ مختصر بات کرتے ہیں۔ تو چنانچہ اور علماء جواب دیتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے حضرت فاطمہ بنت قیس کے لیے سکنیٰ اس لیے مقرر نہیں فرمایا کیونکہ ان کا گھر خطرے والی جگہ تھا بھئی، یعنی جنگل میں ان کا گھر تھا اس لیے حضور علیہ السلام نے ان کو منتقل ہونے کی اجازت دی۔ اور جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کی زبان بہت سخت تھی اس لیے حضور علیہ السلام نے منتقل ہونے کی اجازت دی۔ اور جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے خود کہا تھا کہ مجھے اپنے خاوند سے خطرہ ہے اگرچہ وہ مجھے تین طلاقیں دے چکا ہے لیکن پھر بھی مجھے اس سے خطرہ ہے، تو حضور علیہ السلام نے منتقل ہونے کی اجازت دی۔ تو اس لیے حضور نے ان کے لیے سکنیٰ مقرر نہیں فرمایا۔ اور باقی نفقے کے بارے میں بھی بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے خاوند نے ان کے پاس نفقہ بھیجا تھا لیکن یہ اس پر ناراض ہوئیں کہ اتنا تھوڑا نفقہ، خاوند کو تو زیادہ نفقہ دینا چاہیے تھا، چنانچہ انہوں نے ناراض ہو کر وہ نفقہ واپس لوٹا دیا۔ تو یہاں جو وہ فرما رہی ہیں کہ میرے لیے نفقہ مقرر نہیں فرمایا تو مراد یہ ہے کہ حضور نے میرے لیے زائد نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا کہ وہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہوجائے اس کا نفقہ خاوند پر نہیں یعنی اس کے مال میں سے نہیں دیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ اس عورت کے اندر جو احتباس پایا جا رہا ہے، چار مہینے دس دن تک یہ آگے نکاح نہیں کرسکتی، عدت گزارے گی، تو یہ احتباس شریعت کے حق کے طور پر ہے، خاوند کے حق کے طور پر نہیں۔ کیونکہ خاوند کے حق کے طور پر ہوتا تو پھر اس کے اندر تو یہ دیکھنا مقصود ہوتا کہ کہیں اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد نہ ہو اور اس کے لیے پھر جب حیض والی ہے تو حیضوں کو دیکھنا چاہیے تھا لیکن چاہے حیض والی عورت ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی شریعت نے یہ عدت جو ہے مہینوں کے ساتھ ہی واجب کی ہے۔ معلوم ہوا یہ جو عدت ہے یہ حقِ شرع کے طور پر ہے، حقِ خاوند کے طور پر نہیں۔ جب خاوند کے حق کے طور پر یہ احتباس نہیں ہے تو خاوند کے مال میں سے اس عورت کا نفقہ بھی نہیں ہوگا۔ اور نیز اس لیے کیونکہ نفقہ تھوڑا تھوڑا کرکے واجب ہوتا ہے، ہر ہر دن کا نفقہ اس دن کے ساتھ ساتھ واجب ہوتا چلا جاتا ہے اور انتقال کے بعد تو خاوند کی ملکیت ہی ختم ہوچکی، مال تو وارثوں کی طرف منتقل ہوچکا، وہ اس مال کے مالک بن گئے ہیں، اب اگر نفقہ واجب کیا جائے تو یہ تو گویا وارثوں پر نفقہ واجب کیا جا رہا ہے اور وارثوں پر تو اس عورت کا نفقہ واجب نہیں کیا جا سکتا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ بعض اوقات جدائی عورت کی طرف سے آتی ہے اور جب عورت کی طرف سے جدائی آئے تو وہاں پر بھی عدت کے دوران کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوگا، الّا یہ کہ وہ جدائی گناہ کی وجہ سے ہو۔ تو اگر جدائی عورت کی طرف سے آئے اور اس کا سبب کوئی معصیت ہو، گناہ ہو، تو اس صورت میں نفقہ خاوند کے ذمے نہیں آئے گا بھئی۔ کیونکہ یہ عورت اپنے آپ کو روکنے والی ہوگئی اپنے خاوند سے، اور جیسے ناشزہ وہ عورت جو گھر سے نکل جائے خاوند کی اجازت کے بغیر، تو جیسے ناشزہ نے اپنے آپ کو روکا ہے تو اس کا نفقہ نہیں ہوتا، تو اس عورت کا بھی نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہوگا۔ مثلاً یہ عورت جو ہے مرتد ہوگئی اور اس کی وجہ سے خاوند پر حرام ہوگئی، یا اس عورت نے خاوند کے دوسری بیوی کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا تو یہ خاوند پر حرام ہوگئی، تو دیکھو جدائی عورت کی طرف سے آئی اور معصیت کی وجہ سے آئی، لہٰذا اس عورت کا نفقہ عدت کے دوران خاوند پر نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ رہائش تمام صورتوں میں خاوند کے ذمہ ہوگی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر اپنے حق کی وجہ سے عورت کی جدائی آتی ہے، مثلاً خیارِ بلوغ کی وجہ سے، یا خیارِ عتق کی وجہ سے، یا عدمِ کفاءت کی وجہ سے اولیاء اس کی جدائی کروا دیں، تو ان تمام صورتوں میں یہ جو عورت نے اپنے نفس کو روکا ہے خاوند سے، یہ بطورِ حق کے روکا ہے، شریعت نے اس کو یہ حق دیا تھا، لہٰذا ان صورتوں میں نفقہ دینا پڑے گا بھئی۔
اور اگر خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور اس کے بعد یہ مرتدہ ہوئی یا اس کے بعد اس نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا، تو ان صورتوں میں یہ جو مرتدہ ہے اس کا نفقہ تو خاوند کے ذمے نہیں ہوگا، البتہ وہ عورت جس نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا ہے اس کا نفقہ ہوگا۔ تین طلاقوں کے بعد عورت مرتد ہوئی ہے یا تین طلاقوں کے بعد اس نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا ہے تو یہاں جدائی کے اندر عورت کا عمل دخل نہیں ہے، جدائی تو تین طلاقوں کی وجہ سے آگئی تھی۔ لہٰذا اس صورت میں نفقہ تو ہوگا لیکن مرتدہ کو چونکہ جیل میں ڈالا جاتا ہے اور جو عورت جیل میں ہو، قید میں ہو اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہوتا، جبکہ وہ عورت جس نے تین طلاقوں کے بعد خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا ہے اسے تو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا، لہٰذا اس کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوگا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر یہ مرتدہ کو بھی جیل میں نہیں ڈالا جاتا تو اس کا نفقہ بھی خاوند ہی کے ذمے ہوگا عدت کے دوران۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا کہ نابالغ اولاد کا جو نفقہ ہوتا ہے وہ باپ کے ذمے ہوتا ہے، اس میں کوئی اور رشتہ دار ساتھ شریک نہیں ہوتا، جیسے کہ بیوی کے نفقے میں خاوند کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا۔ اور دلیل ذکر کی تھی: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾ کہ وہ شخص جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا ہے اس پر ان عورتوں کا نفقہ ہے یعنی ان بچوں کی ماؤں کا نفقہ ہے۔ تو جب بچے کی وجہ سے ماؤں کا نفقہ واجب کیا جا رہا ہے تو بچے کا نفقہ بطریقِ اولیٰ واجب ہوگا باپ پر۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ جب بھی مشتق پر کوئی حکم لگایا جائے تو وہاں اس حکم کی علت وہ مشتق منہ ہوتا ہے۔ ”أَكْرَمْتُ الْعَالِمَ“ میں نے عالم کا اکرام کیا، تو یہاں میں نے اکرام کا حکم لگایا عالم پر، تو یہ معلوم ہوا اس کی علت اس العالم کا مشتق منہ یعنی علم ہے، یعنی علم کی وجہ سے اکرام کیا ہے۔ یا جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ تو یہاں پر بھی زانی اور زانیہ پر حکم لگایا گیا ہے اور زانی اور زانیہ یہ تو مشتق کے صیغے ہیں، معلوم ہوا یہاں اس حکم کی علت زنا ہے، یہ جو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا جا رہا ہے اس کی علت زنا ہے۔ یا اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت جو ہے ان کے ہاتھ کاٹ دو، تو یہاں پر بھی سارق اور سارقہ یہ مشتق کے صیغے ہیں اور ان پر ہاتھ کاٹنے کا حکم لگایا جا رہا ہے اور مشتق پر جب کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت مشتق منہ ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ چوری جو ہے یہ علت ہے ان کے ہاتھ کاٹنے کی۔ تو یہاں پر بھی اللہ فرما رہے ہیں: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾۔ باپ کو مولود لہٗ کے ساتھ ذکر کیا گیا، ہونا تو یوں چاہیے تھا ”وعلى الأب رزقهن“، باپ پر ان عورتوں کا رزق ہے، لیکن قرآن میں مشتق یعنی مولود کو ذکر کیا گیا: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ﴾، تو جب مشتق پر حکم لگایا جائے تو اس کی علت مشتق منہ ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ جو اولاد ہے یہ سبب ہے ان عورتوں کے یعنی ان بچوں کی ماؤں کے رزق کی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر وہ مولود لہٗ جو ہے وہ نابالغ ہے اور دودھ پیتا بچہ ہے تو ماں پر دودھ پلانا قضاءً واجب نہیں، یعنی ماں اگر دودھ پلانے سے انکار کر دے تو قاضی بھی جبراً اس پر دودھ پلانے کو واجب نہیں کرسکتا۔ اس لیے کیونکہ یہ ماں ہے، اس کی شفقت سب سے زیادہ ہے، پھر بھی یہ بچے کو دودھ نہیں پلا رہی، معلوم ہوا کوئی عذر ہے بھئی، تو لہٰذا اس پر قاضی بھی جبراً دودھ پلانے کو واجب نہیں کرسکتا۔ کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا﴾ کہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے، اور علماء نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ماں دودھ نہ پلانا چاہے اور جبراً اس پر دودھ پلانے کو واجب کر دیا جائے تو یہ اس بچے کی ماں کو تکلیف دینا ہے اور اس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو ہم نے بیان کیا یہ حکم ہے یعنی قضاءً یہ حکم ہے، البتہ دیانۃً اس عورت پر لازم ہے۔ چنانچہ اگر کوئی اور دودھ پلانے والی نہ ملی یا بچہ کسی اور عورت کا دودھ پیتا ہی نہیں ہے تو اب اس ماں کو مجبور کیا جائے گا دودھ پلانے پر تاکہ کہیں بچہ ہلاک نہ ہوجائے۔ پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جب ماں بچے کو دودھ نہ پلائے تو بچے کے لیے دودھ پلانے والی کا انتظام کرنا یہ باپ کے ذمے ہے اور اس عورت کو جو اجرت دے گا باپ یہ بچے کے نفقے کے درجے میں ہے اور یہ باپ پر لازم ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر اپنی بیوی اپنے بچے کو دودھ پلانے پر اجرت کا مطالبہ کرے یا اپنی معتدہ اجرت کا مطالبہ کرے تو ان کے لیے یہ جائز نہیں کیونکہ یہ شرعاً دودھ پلانا انہی پر واجب ہے۔ جب یہ انہی کی ذمہ داری ہے، انہی پر واجب ہے تو پھر اس کی اجرت یہ کیسے لے سکتی ہیں؟ اور پھر بتلایا تھا کہ یہ جو معتدہ ہے وہ بھی اجرت نہیں لے سکتی، تو اس میں معتدۂ رجعیہ جو ہے اس کے بارے میں تو ایک ہی روایت آئی ہے ہمارے ائمہ سے کہ معتدۂ رجعیہ اجرت نہیں لے سکتی کیونکہ نکاح پورے طور پر موجود ہے۔ اور معتدۂ بائنہ کے اندر دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق جو ہے کہ یہ اجرت لے سکتی ہے، اس کو اجرت پر باپ رکھ سکتا ہے معتدۂ بائنہ کو کیونکہ نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ اور جبکہ دوسری روایت ہے کہ معتدۂ بائنہ یہ بھی اجرت نہیں لے سکتی کیونکہ نکاح پورے طور پر ٹوٹا نہیں، ابھی بھی کچھ احکام نکاح کے باقی ہیں عدت کے دوران۔ ہاں جب عدت گزر جائے پھر اس کے بعد یہ عورت اجرت لے سکتی ہے، اس کو یہ شخص اجرت پر رکھ سکتا ہے کیونکہ یہ اب اجنبیہ بن چکی ہے بھئی۔ اور اگر خاوند کا ایک بیوی سے بچہ ہے اور دوسری بیوی کو وہ اجرت پر رکھتا ہے تو اس کو اجرت پر رکھ سکتا ہے دودھ پلانے کے لیے کیونکہ یہ اس بچے کی ماں نہیں ہے، اس پر بچے کو دودھ پلانا واجب نہیں۔ جب واجب نہیں ہے تو اس صورت میں یہ دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر خاوند اور بیوی میں جدائی آگئی اور خاوند کسی اور عورت کو اجرت پر رکھتا ہے بچے کو دودھ پلانے کے لیے جبکہ ماں بھی راضی ہے اتنی ہی اجرت میں دودھ پلانے پر یا ماں بغیر اجرت کے دودھ پلانے پر راضی ہے لیکن خاوند کہتا ہے نہیں، میں ماں کے حوالے بچے کو نہیں کروں گا دوسری عورت کو ہی رکھوں گا، تو اس صورت میں خاوند کا یہ عمل درست نہیں ہے، بچے کی ماں زیادہ حقدار ہے، اس کی بچے پر شفقت زیادہ ہے بھئی، تو بچے کو اسی کے حوالے کرنا چاہیے۔ اور ہاں اگر اس نے زیادہ اجرت کا مطالبہ کیا اس ماں نے، تو اس کو پھر خاوند پر لازم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں خاوند کو تکلیف دینا ہے، اور قرآن میں جیسے ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے اسی طرح بچے کی وجہ سے باپ کو بھی تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے اگرچہ دین مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ باپ مسلمان ہے لیکن بچہ مثلاً العیاذ باللہ وہ مرتد ہوگیا، تو نابالغ ہے اور سمجھدار ہے وہ مرتد ہوگیا، تو نابالغ کا مسلمان ہونا یا مرتد ہونا صحیح ہے اور اس کے ذریعے وہ اسلام یا ارتداد ثابت ہو جاتا ہے، تو دین مختلف ہونے کے باوجود باپ پر اس کا نفقہ واجب ہوگا بھئی۔ اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾، تو یہ آیت مطلق ہے، اس کے اندر یہ ذکر نہیں ہے کہ باپ اور بچے کا ایک ہی دین ہو تو پھر نفقہ ہوگا، دین الگ الگ ہو تو نفقہ نہیں ہوگا، یہ آیت مطلق ہے اور ”المطلق يجري على إطلاقه“، تو لہٰذا تمام صورتوں میں نابالغ کا نفقہ باپ کے ذمے ہوگا بھئی۔
اور پھر آخر میں صاحبِ ہدایہ نے ایک نہایت قیمتی ضابطہ ذکر فرمایا کہ یہ جو بیوی کا نفقہ ہوتا ہے یہ ہر حال میں خاوند کے ذمے ہے چاہے بیوی مالدار ہی کیوں نہ ہو۔ جبکہ اپنی نابالغ اولاد کا یا اپنے ماں باپ کا جو نفقہ انسان پر آتا ہے وہ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے آتا ہے کہ ماں باپ اور نابالغ محتاج ہیں۔ تو جب وہ محتاج ہوں پھر ان کا نفقہ آئے گا اس آدمی پر، اور اگر ان کا اپنا مال موجود ہے تو ان کے اپنے مال میں سے ہی نفقہ ہوگا، کسی اور پر ان کا نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”فَصْلٌ: وَعَلَى الرَّجُلِ أَنْ يُنْفِقَ عَلَى أَبَوَيْهِ وَأَجْدَادِهِ وَجَدَّاتِهِ إِذَا كَانُوا فُقَرَاءَ، وَإِنْ خَالَفُوهُ فِي دِينِهِ، أَمَّا الْأَبَوَانِ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾، نَزَلَتِ الْآيَةُ فِي الْأَبَوَيْنِ الْكَافِرَيْنِ“۔
بھئی گزشتہ سبق کے آخر میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ نابالغ اولاد کا دین چاہے باپ سے مختلف ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کا نفقہ باپ پر آئے گا۔ اب آگے بیان فرما رہے ہیں کہ یہی حکم ہے ماں باپ کا بھی اور اوپر اجداد اور جدات کا بھی بھئی۔ ایک شخص ہے اس کا دین الگ ہے اور اس کے ماں باپ یا اسی طرح اس کے دادا دادی وغیرہ اور نانا نانی وغیرہ اوپر تک، ان کا دین چاہے الگ ہی کیوں نہ ہو پھر بھی ان کا نفقہ اس شخص پر ہے۔ یاد رکھو بھئی، آگے چل کر آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ بیوی کا دین چاہے الگ ہو پھر بھی خاوند کے ذمے اس کا نفقہ ہے۔ نابالغ اولاد کا بتلا دیا کہ نابالغ اولاد کا دین الگ ہو پھر بھی نفقہ باپ کے ذمے ہے، اور یہی حکم ہے اپنے ماں باپ کا اور اوپر اپنے دادا نانا وغیرہ یا دادی نانی وغیرہ اوپر تک، مثلاً دادا ہے، پردادا ہے، اس سے اوپر ہوں، یا دادی ہے، پردادی ہے، اس سے اوپر ہو، یا ادھر نانا، نانی اوپر تک بھئی، ان سب کا نفقہ بھی چاہے ان کا دین الگ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اگر یہ تنگدست ہیں، فقیر ہیں، تو ان کا نفقہ اس شخص پر واجب ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى الرَّجُلِ أَنْ يُنْفِقَ عَلَى أَبَوَيْهِ وَأَجْدَادِهِ وَجَدَّاتِهِ إِذَا كَانُوا فُقَرَاءَ“ اور آدمی پر واجب ہے کہ وہ خرچ کرے ”عَلَى أَبَوَيْهِ“ اپنے ماں باپ پر ”وَأَجْدَادِهِ“ اور اپنے اجداد پر۔ میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ اردو میں تو باپ کے باپ کو دادا کہتے ہیں اور ماں کے باپ کو نانا کہتے ہیں لیکن عربی میں دونوں کے لیے ایک ہی لفظ ہے جد کا، اور صرف دادا یا نانا نہیں بلکہ دادا سے اوپر پردادا ہے یا لکڑدادا ہے، یا اسی طرح نانا سے اوپر پرنانا ہے یا لکڑنانا ہے، یہ سارے اجداد کہلاتے ہیں بھئی۔ اور اسی طرح جدات بھی ہیں بھئی، جتنی عورتیں ہیں اوپر کی طرف ہمارے وہ سب جدات کہلاتی ہیں۔ تو چاہے ماں باپ کا دین الگ ہو، چاہے اجداد اور جدات کا دین الگ ہو، لیکن جب وہ فقراء ہیں، محتاج ہیں، غریب ہیں، تو اس شخص پر اگر یہ مالدار ہے تو اس پر ان سب کا نفقہ آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى الرَّجُلِ أَنْ يُنْفِقَ عَلَى أَبَوَيْهِ“ اور آدمی پر واجب ہے کہ وہ خرچ کرے اپنے ماں باپ پر ”وَأَجْدَادِهِ“ اور اپنے اجداد پر یعنی اپنے دادوں نانوں پر ”وَجَدَّاتِهِ“ اور اپنی دادیوں نانیوں پر ”إِذَا كَانُوا فُقَرَاءَ“ جب یہ فقیر ہوں۔
صاحبِ ہدایہ نے ضابطہ بتلا دیا تھا کہ صرف بیوی کا نفقہ احتباس کی وجہ سے ہوتا ہے اور باقی سب کا نفقہ تو حاجت کی وجہ سے ہے۔ جب ان کو حاجت ہوگی یعنی فقراء ہوں گے پھر نفقہ آئے گا، ویسے نفقہ ان کا اس آدمی پر واجب نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”إِذَا كَانُوا فُقَرَاءَ“ جب یہ فقیر ہوں ”وَإِنْ خَالَفُوهُ فِي دِينِهِ“ اگرچہ یہ اس آدمی کے مخالف ہوں دین کے اندر۔
اب ہر ایک کی دلیل ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأَبَوَانِ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾“ تو ماں باپ جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ اور ان والدین کے ساتھ رہو دنیا میں اچھے طریقے سے۔ اور تم والدین کے ساتھ دنیا میں اچھے طریقے سے رہو۔ ”نَزَلَتِ الْآيَةُ فِي الْأَبَوَيْنِ الْكَافِرَيْنِ“ یہ آیت نازل ہوئی کافر ماں باپ کے بارے میں۔ بھئی یہ آیت نازل ہوئی حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں۔ یہ اسلام لے آئے تھے اور والدین مسلمان نہیں تھے اور وہ مخالفت کر رہے تھے ان کی، حتیٰ کہ ان کی ماں نے کھانا پینا ہی چھوڑ دیا کہ جب تک تم یہ نئے دین کو نہیں چھوڑو گے، اپنے پرانے دین پر نہیں آؤ گے، میں کچھ بھی نہیں کھاؤں گی۔ اس موقع پر پھر اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی بھئی۔ تو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی، سورۃ لقمان کے اندر: ﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي﴾ ”وَإِنْ جَاهَدَاكَ“ دیکھو تثنیہ کا صیغہ ہے، اور اگر یہ ماں باپ تم پر زور ڈالیں ﴿عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي﴾ اس بات پر کہ تم میرے ساتھ شریک بناؤ ﴿مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ اس چیز کو جس کا تمہارے پاس علم نہیں۔ اگر ماں باپ تم پر زور ڈالیں کہ تم میرا شریک بناؤ اس چیز کا جس کا تمہارے پاس علم نہیں، علم سے مراد ہے دلیل بھئی۔ یعنی ایک چیز کو تم میرا شریک بناؤ اور تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ﴿فَلَا تُطِعْهُمَا﴾ تو ان کی اطاعت نہ کرنا ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ اور ان کے ساتھ دنیا میں اچھے طریقے سے رہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہر مقام پر والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا ہے لیکن جب وہ گناہ کا حکم دے رہے ہوں، وہ شرک کا حکم دے رہے ہوں تو اللہ فرماتے ہیں ان کی اطاعت نہ کرو لیکن اطاعت نہ کرنے کا یہ معنی نہیں ہے کہ ان کو تکلیف دو۔ ان کو اگر انکار بھی کرنا ہے، ان کی بات نہیں بھی ماننی، تو اچھے طریقے سے کہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ تو ماں مجبور کر رہی تھی حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہ یہ جو تم اسلام لے کر آئے ہو اس دین کو تمہیں چھوڑنا پڑے گا ورنہ میں اپنی جان دے دوں گی، اور انہوں نے کھانا پینا ترک کر دیا کہ میں اپنی جان دے دوں گی اگر تم نے یہ دین نہ چھوڑا، لیکن اللہ نے حکم دیا کہ نہیں، جب یہ گناہ کا حکم دیں، شرک کا حکم دیں تو ان کا حکم ماننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی ان کی بات رد بھی کرو تو اچھے طریقے سے رد کرو کہ ان کو تکلیف نہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأَبَوَانِ“ تو ماں باپ جو ہیں ”فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾“ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: اور ماں باپ کے ساتھ رہو دنیا میں اچھے طریقے سے ”نَزَلَتِ الْآيَةُ فِي الْأَبَوَيْنِ الْكَافِرَيْنِ“ یہ آیت نازل ہوئی کافر ماں باپ کے بارے میں۔ تو یہ آیت کافر ماں باپ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ”وَلَيْسَ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ يَعِيشَ“ اور صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا چاہے مشرک ہی کیوں نہ ہوں، کافر ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی اللہ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور بیٹا خود مالدار ہے اور ماں باپ کو بھوکا مرنے کے لیے چھوڑ دے، یہ نیکی نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ ماں باپ کافر ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی نفقہ بیٹے کو دینا پڑے گا اگر وہ فقیر ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ مِنَ الْمَعْرُوفِ“ اور یہ بات نیکی میں سے نہیں ہے ”أَنْ يَعِيشَ فِي نِعَمِ اللَّهِ تَعَالَى“ کہ بیٹا خود تو اللہ کی نعمتوں میں زندگی گزارے ”وَيَتْرُكَهُمَا يَمُوتَانِ جُوعًا“ اور ان دونوں کو چھوڑ دے بھوک سے مرنے کے لیے۔
”وَأَمَّا الْأَجْدَادُ وَالْجَدَّاتُ“ اب باقی اجداد اور جدات بھئی۔ بھئی اوپر متن میں آیا تھا کہ ماں باپ کا نفقہ بھی بیٹے کے ذمے چاہے کافر ہی کیوں نہ ہوں جب یہ فقراء ہوں، اور اجداد اور جدات کا نفقہ بھی اولاد کے ذمے چاہے یہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، تو اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْأَجْدَادُ وَالْجَدَّاتُ“ اور باقی اجداد اور جدات جو ہیں ”فَلِأَنَّهُمْ مِنَ الْآبَاءِ وَالْأُمَّهَاتِ“ تو اس لیے کیونکہ یہ بھی آباء اور امہات میں سے ہیں۔ بھئی یاد رکھو، اوپر کی طرف جو ہمارے اجداد ہیں، دادا پردادا اوپر تک یا نانا پرنانا اوپر تک، تو یاد رکھو یہ سب ہمارے آباء ہیں، یہ ہمارے باپ کے درجے میں ہیں اگرچہ درمیان میں واسطہ آ رہا ہے۔ جو باپ ہے وہ تو بغیر واسطے کے باپ ہے لیکن یہ جو دادا پردادا ہیں یا نانا پرنانا ہیں، یہ بھی ہمارے باپ ہی ہیں، آباء میں سے ہی ہیں اگرچہ درمیان میں واسطہ آ رہا ہے۔ اور اسی طرح جو دادیاں اور نانیاں ہیں، یہ سب بھی ہماری مائیں ہیں اگرچہ درمیان میں واسطہ آ رہا ہے۔ تو جب ماں باپ کا نفقہ اولاد پر ہے تو اوپر جو اجداد اور جدات ہیں یہ بھی آباء اور امہات میں سے ہیں تو ان کا نفقہ بھی اسی شخص پر آئے گا جب یہ فقیر ہوں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْأَجْدَادُ وَالْجَدَّاتُ فَلِأَنَّهُمْ مِنَ الْآبَاءِ وَالْأُمَّهَاتِ“ اور باقی اجداد اور جدات جو ہیں تو اس لیے کیونکہ یہ بھی آباء اور امہات میں سے ہیں ”وَلِهَذَا يَقُومُ الْجَدُّ مَقَامَ الْأَبِ عِنْدَ عَدَمِهِ“ اور اسی لیے دادا جو ہے وہ باپ کا قائم مقام ہو جاتا ہے جب باپ نہ ہو۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ باپ کو صغیر اور صغیرہ پر ولایت حاصل ہے، جہاں چاہے ان کا نکاح کروا سکتا ہے اور باپ اگر نہ ہو تو یہی ولایت کس کو حاصل ہے؟ دادا کو حاصل ہے، تو دیکھو باپ کے نہ ہونے کی صورت میں دادا اس کا قائم مقام بن گیا اس ولایت میں۔ یا اسی طرح وراثت کے مسئلے میں کہ اگر باپ نہ ہو تو پھر دادا اس کے قائم مقام ہو جاتا ہے، وہی حصہ اب دادا کو ملے گا جو پہلے باپ کو مل رہا تھا بھئی۔ اور نیز اسی طرح باپ کو نابالغ اولاد کے مال میں تصرف کا حق ہوتا ہے اور رشتہ داروں کو تو نابالغ کے مال میں تصرف کا حق نہیں ہے لیکن باپ کو نابالغ اولاد کے مال میں تصرف کا حق ہے اور اگر باپ نہ ہو تو یہی تصرف کا حق پھر دادا کو مل جاتا ہے، دادا نابالغ اولاد کے مال میں تصرف کرسکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا يَقُومُ الْجَدُّ مَقَامَ الْأَبِ عِنْدَ عَدَمِهِ“ اور اسی لیے جو دادا ہے وہ باپ کے قائم مقام ہو جاتا ہے جب باپ نہ ہو ”وَلِأَنَّهُمْ سَبَّبُوا لِإِحْيَائِهِ“ سبّب یسبّب تسبیب کا معنی ہے سبب بننا، ذریعہ بننا، اور احیاء کا معنی ہے زندگی دینا، کسی کو زندہ کر دینا۔ ”وَلِأَنَّهُمْ سَبَّبُوا لِإِحْيَائِهِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ اجداد و جدات جو ہیں، یہ اجداد اور جدات جو ہیں ”سَبَّبُوا لِإِحْيَائِهِ“ یہ سبب اور ذریعہ بنے ہیں اس آدمی کو زندگی دینے کا۔ اس آدمی کو زندگی دینے کا سبب بنے ہیں اس لیے کیونکہ یہ اوپر والے اجداد اور جدات نہ ہوتیں تو اس کے ماں باپ بھی نہ ہوتے، اور اس کے ماں باپ نہ ہوتے تو یہ شخص بھی نہ ہوتا بھئی۔ معلوم ہوا اجداد اور جدات وہ اس شخص کی زندگی کا سبب بنے ہیں۔ تو جب یہ زندگی کا سبب بنے ہیں تو اب اس اولاد پر بھی واجب ہے کہ وہ ان کو زندگی دے، یعنی یہ فقیر ہیں تو ان پر خرچہ کرے، جس طرح ماں باپ جو ہیں، ماں باپ اپنی اولاد کی زندگی کا سبب بنے ہیں، ماں باپ ان کو زندگی دینے والے ہیں لہٰذا اب بچے کے ذمے بھی واجب ہے کہ ماں باپ کو زندگی دے یعنی اگر وہ فقیر ہیں تو ان پر خرچ کرے بھئی، تو اسی طرح یہی حکم کس کا ہوگا؟ اجداد اور جدات کا بھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُمْ سَبَّبُوا لِإِحْيَائِهِ“ اور اس لیے کیونکہ اجداد اور جدات یہ سبب اور ذریعہ بنے ہیں اس آدمی کو زندگی دینے کا ”فَاسْتَوْجَبُوا عَلَيْهِ الْإِحْيَاءَ بِمَنْزِلَةِ الْأَبَوَيْنِ“ استوجب یستوجب استیجاب کا معنی ہے مستحق ہونا۔ ”فَاسْتَوْجَبُوا عَلَيْهِ“ تو یہ اجداد اور جدات جو ہیں یہ مستحق ہیں ”الْإِحْيَاءَ“ زندگی دینے کے، یہ بھی مستحق ہیں کہ یہ اولاد ان کو زندگی دے بھئی ”بِمَنْزِلَةِ الْأَبَوَيْنِ“ ماں باپ کے درجے میں۔ جیسے ماں باپ کو زندگی دینا واجب ہے کیونکہ انہوں نے بھی اپنی اولاد کو زندگی دی ہے تو اسی طرح یہ اجداد اور جدات بھی ہیں بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُمْ سَبَّبُوا لِإِحْيَائِهِ“ اور اس لیے کیونکہ اجداد اور جدات یہ سبب اور ذریعہ بنے ہیں اس آدمی کو زندگی دینے کا ”فَاسْتَوْجَبُوا عَلَيْهِ الْإِحْيَاءَ بِمَنْزِلَةِ الْأَبَوَيْنِ“ تو یہ بھی مستحق ہیں اس آدمی پر زندگی دینے کے ماں باپ کے درجے میں۔
”وَشَرَطَ الْفَقْرَ“ بھئی اوپر متن میں آیا تھا کہ ان سب کا نفقہ آدمی پر واجب ہے ”إِذَا كَانُوا فُقَرَاءَ“ جب یہ فقیر ہوں، تو اس کی وجہ اب ذکر کر رہے ہیں کہ یہ فقیر ہونے کی شرط کیوں لگائی صاحبِ قدوری نے متن کے اندر بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَشَرَطَ الْفَقْرَ“ اور صاحبِ قدوری نے فقیر ہونے کی شرط لگائی ”لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ ذَا مَالٍ“ اس لیے کیونکہ باپ اگر مال والا ہے ”فَإِيجَابُ نَفَقَتِهِ فِي مَالِهِ أَوْلَى“ تو نفقے کو واجب کرنا اس کے اپنے مال میں اولیٰ یہ زیادہ لائق ہے ”مِنْ إِيجَابِهَا فِي مَالِ غَيْرِهِ“ غیر کے مال میں اس نفقے کو واجب کرنے کے مقابلے میں۔ ایک تو یہ ہے کہ باپ کا نفقہ اس کے اپنے مال میں واجب کیا جائے اور ایک یہ صورت ہے کہ باپ کا نفقہ اولاد کے مال میں واجب کیا جائے، تو جب باپ کا اپنا مال موجود ہے تو اس کے اپنے مال میں سے نفقہ واجب کرنا یہ بہتر ہے اس کے مقابلے میں کہ یہ نفقہ اولاد کے مال میں واجب کیا جائے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ ذَا مَالٍ“ اس لیے کیونکہ باپ جو ہے اگر وہ مال والا ہے ”فَإِيجَابُ نَفَقَتِهِ فِي مَالِهِ“ تو باپ کے نفقے کو اس کے اپنے مال میں سے واجب کرنا ”أَوْلَى“ یہ بہتر ہے ”مِنْ إِيجَابِهَا فِي مَالِ غَيْرِهِ“ غیر کے مال میں اس کو واجب کرنے کے مقابلے میں۔ ”وَلَا يُمْنَعُ ذَلِكَ بِاخْتِلَافِ الدِّينِ لِمَا تَلَوْنَا“ ”وَلَا يُمْنَعُ ذَلِكَ“ اور اس کو منع نہیں کیا جائے گا یعنی یہ ممنوع نہیں ہوگا ”بِاخْتِلَافِ الدِّينِ“ دین کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ یہ نفقے کا واجب ہونا یہ ممنوع نہیں ہوگا دین کے مختلف ہونے کی وجہ سے ”لِمَا تَلَوْنَا“ اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی بھئی: ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾، وہاں تو دیکھو مشرک والدین ہی کا ذکر چل رہا ہے اور ان کے بارے میں بھی اللہ فرما رہے ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُمْنَعُ ذَلِكَ بِاخْتِلَافِ الدِّينِ لِمَا تَلَوْنَا“ اور یہ ممنوع نہیں ہوگا یعنی نفقے کا واجب ہونا ممنوع نہیں ہوگا دین کے مختلف ہونے کی وجہ سے، اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَا تَجِبُ النَّفَقَةُ مَعَ اخْتِلَافِ الدِّينِ إِلَّا لِلزَّوْجَةِ وَالْأَبَوَيْنِ وَالْأَجْدَادِ وَالْجَدَّاتِ وَالْوَلَدِ وَوَلَدِ الْوَلَدِ“۔
اب وہ افراد ذکر فرما رہے ہیں جن کا نفقہ اختلافِ دین کے باوجود ایک آدمی پر واجب ہوگا۔ میں نے بتلا دیا پہلے ہی کہ اپنی اولاد کا نفقہ، یا یوں کہو مختصر لفظوں میں: اپنے اصول کا نفقہ اور اپنے فروع کا نفقہ اور اسی طرح اپنی بیوی کا نفقہ۔ بیوی، اصول اور فروع۔ اصول میں اوپر والے سب آگئے، ماں باپ آگئے، دادا دادی، پردادا پردادی آگئے، اسی طرح نانا نانی، پرنانا پرنانی یہ سب اصول آگئے۔ اور اولاد کے اندر اپنے بیٹا بیٹی وغیرہ آگئے اور نیچے اولاد آگئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا تَجِبُ النَّفَقَةُ مَعَ اخْتِلَافِ الدِّينِ“ اور دین کے اختلاف کے ساتھ نفقہ واجب نہیں ہوتا ”إِلَّا لِلزَّوْجَةِ“ مگر بیوی کے لیے ”وَالْأَبَوَيْنِ“ اور ماں باپ کے لیے ”وَالْأَجْدَادِ وَالْجَدَّاتِ“ اور اجداد اور جدات کے لیے ”وَالْوَلَدِ“ اور اولاد کے لیے ”وَوَلَدِ الْوَلَدِ“ اور اولاد کی اولاد کے لیے۔ اولاد کی اولاد کے لیے، یعنی بیوی اور اصول اور فروع۔ یہاں چاہے دین مختلف ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی نفقہ دینا پڑے گا جب یہ فقیر ہوں، محتاج ہوں، اور بیوی، بیوی تو چاہے مالدار ہی کیوں نہ ہو جب احتباس موجود ہے تو نفقہ دینا پڑے گا۔
”أَمَّا الزَّوْجَةُ فَلِمَا ذَكَرْنَا أَنَّهَا وَاجِبَةٌ لَهَا بِالْعَقْدِ“ تو بیوی جو ہے تو اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ یہ جو نفقہ ہے یہ واجب ہوتا ہے اس بیوی کے لیے عقد کی وجہ سے۔ خاوند نے اس کے ساتھ نکاح کیا ہے بھئی، تو اس نکاح کی وجہ سے خاوند پر یہ نفقہ لازم ہوگیا، خاوند نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے تو گویا اس نے اپنی مرضی سے اپنے اوپر نفقہ واجب کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الزَّوْجَةُ“ تو بیوی جو ہے ”فَلِمَا ذَكَرْنَا“ تو اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا ”أَنَّهَا وَاجِبَةٌ لَهَا بِالْعَقْدِ“ کہ اس بیوی کے لیے نفقہ واجب ہے عقدِ نکاح کی وجہ سے ”لِاحْتِبَاسِهَا لِحَقٍّ لَهُ مَقْصُودٍ“ ”لِاحْتِبَاسِهَا“ اس عورت کے احتباس کی وجہ سے، اس بیوی کے احتباس کی وجہ سے ”لِحَقٍّ“ ایک ایسے حق میں ”لَهُ مَقْصُودٍ“ جو اس آدمی کا مقصود ہے۔ عورت کیا کرتی ہے؟ اپنے آپ کو گھر میں روک کر رکھتی ہے خاوند کے لیے کہ خاوند جب چاہے اس سے صحبت کر سکے۔ تو عورت نے اپنے آپ کو روکا ہوا ہے ایک ایسے حق میں جو خاوند کا مقصود ہے، لہٰذا نفقہ بھی کس کے ذمے ہوگا؟ خاوند کے ذمے ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”لِاحْتِبَاسِهَا لِحَقٍّ لَهُ مَقْصُودٍ“ بوجہ اس عورت کے اپنے آپ کو روکنے کے ایک ایسے حق کی وجہ سے جو خاوند کا مقصود ہے ”وَهَذَا لَا يَتَعَلَّقُ بِاتِّحَادِ الْمِلَّةِ“ ملت کہتے ہیں دین کو۔ ملت کا کیا معنی؟ دین۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لَا يَتَعَلَّقُ بِاتِّحَادِ الْمِلَّةِ“ اور یہ جو عقد کی وجہ سے واجب ہوا ہے اس کا تعلق دین کے ایک ہونے سے نہیں ہے۔ یہ تو خود اس نے عقد کرکے اپنے اوپر لازم کیا ہے، ایک عورت سے نکاح کر رہا ہے، یہ مسلمان ہے اور یہودیہ، عیسائی عورت سے نکاح کر رہا ہے، معلوم ہوا وہ خود اپنے اوپر اس کے نفقے کو لازم کر رہا ہے تو پھر اس میں دین کا ایک ہونا شرط نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”وَهَذَا لَا يَتَعَلَّقُ بِاتِّحَادِ الْمِلَّةِ“ اور جو چیز عقد کی وجہ سے واجب ہو اس کا تعلق دین کے ایک ہونے سے نہیں ہوتا۔ ”وَأَمَّا غَيْرُهَا“ اور باقی بیوی کے علاوہ جو رشتہ دار ہیں، متن میں کس کا ذکر آیا تھا؟ بیوی کا بھی اور اوپر سارے اصول کا بھی، ماں باپ، دادا دادی، نانا...
نانا نانی وغیرہ کا بھی اور نیچے اولاد اور اولاد کی اولاد کا بھی ذکر آیا تھا تو اب ان کا ذکر فرما رہے ہیں۔
کہتے ہیں: ”وَأَمَّا غَيْرُهَا“ اور باقی بیوی کے علاوہ جو اور رشتہ دار ہیں یعنی جو اصول اور فروع ہیں ”فَلِأَنَّ الْجُزْئِيَّةَ ثَابِتَةٌ“ اس لیے کیونکہ جز ہونا ثابت ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کے جز ہیں۔ یہ سب کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے جز ہیں۔ کس طرح؟ بیٹا باپ کا جز ہوتا ہے۔ بیٹا باپ کا جز ہے۔ جب بیٹا باپ کا جز ہے تو باپ بیٹے کا جز ہوا، دونوں ایک دوسرے کے جز ہیں بھئی۔ تو ان سب میں کون سا رشتہ ہے؟ یہ بیٹا، باپ، دادا، پردادا وغیرہ، ان سب میں جزئیت والا رشتہ ہے، یہ سب ایک دوسرے کے جز ہیں بھئی۔
کہتے ہیں: ”وَأَمَّا غَيْرُهَا“ اور بیوی کے علاوہ جو اصول اور فروع ہیں ”فَلِأَنَّ الْجُزْئِيَّةَ ثَابِتَةٌ“ تو ان کا نفقہ اس لیے ہوگا کیونکہ جز ہونا ثابت ہے ”وَجُزْءُ الْمَرْءِ فِي مَعْنَى نَفْسِهِ“ اور آدمی کا جز جو ہوتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کے درجے میں ہوتا ہے۔ کس درجے میں ہے؟ اپنی ذات۔ اور انسان چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کا نفقہ اپنی ہی ذات پر آتا ہے۔ تو جس طرح کفر اپنے نفقے کے اندر مؤثر نہیں، چاہے آدمی کافر ہی کیوں نہ ہو، نفقہ کس پر ہے؟ اپنی ہی ذات پر ہے۔ تو اسی طرح اس کا جز کافر ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کا نفقہ اسی آدمی پر ہوگا کیونکہ وہ اسی کا جز ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَجُزْءُ الْمَرْءِ فِي مَعْنَى نَفْسِهِ“ اور آدمی کا جو جز ہوتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کے درجے میں ہوتا ہے، اپنی ذات کے معنی میں ہوتا ہے ”فَكَمَا لَا يَمْتَنِعُ نَفَقَةُ نَفْسِهِ بِكُفْرِهِ لَا يَمْتَنِعُ نَفَقَةُ جُزْئِهِ“ تو جس طرح آدمی کا اپنا نفقہ ممنوع نہیں ہوتا ”بِكُفْرِهِ“ اپنے کفر کی وجہ سے تو ”لَا يَمْتَنِعُ نَفَقَةُ جُزْئِهِ“ تو اسی طرح اس کے جز کا نفقہ بھی ممنوع نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: ”فَكَمَا لَا يَمْتَنِعُ نَفَقَةُ نَفْسِهِ بِكُفْرِهِ“ تو جس طرح اپنی ذات کا نفقہ وہ ممنوع نہیں ہوتا اپنے کفر کی وجہ سے ”لَا يَمْتَنِعُ نَفَقَةُ جُزْئِهِ“ تو اسی طرح اپنے جز کا نفقہ بھی ممتنع نہیں ہوگا کفر کی وجہ سے۔
”إِلَّا أَنَّهُمْ إِذَا كَانُوا حَرْبِيِّينَ لَا تَجِبُ نَفَقَتُهُمْ عَلَى الْمُسْلِمِ وَإِنْ كَانُوا مُسْتَأْمِنِينَ“ بھئی یہ جو مسئلہ صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ اپنی بیوی یا اپنے ماں باپ اور اجداد یا اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد اگر یہ فقیر ہیں تو ان کا نفقہ اسی آدمی پر ہوگا چاہے دین مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ یاد رکھو یہ حکم ذمیوں کے بارے میں ہے۔ آپ جانتے ہیں وہ غیر مسلم جو مملکتِ اسلامیہ کے اندر رہتے ہیں اور سالانہ جزیہ ادا کرتے ہیں، سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، ان کو ذمی کہتے ہیں۔ اور جو دار الحرب میں رہتے ہیں یعنی ایسے ملک میں جن کے ساتھ ہم حالتِ جنگ میں ہیں بھئی، ان کو حربی کہا جاتا ہے۔ اور پھر کبھی ان حربیوں میں سے کوئی شخص امان لے کر ہمارے وطن میں آتا ہے اس کو مستأمن کہتے ہیں یعنی امان لینے والا، امان طلب کرنے والا۔ یا ہم میں سے کوئی شخص امان لے کر ان کے ملک میں جاتا ہے تو وہ بھی مستأمن ہے بھئی۔ تو یاد رکھو، یہ جو حکم بیان فرمایا کہ دین مختلف ہو پھر بھی ان افراد کا نفقہ آدمی پر آئے گا، یہ ذمیوں کے بارے میں ہے۔ اگر یہ رشتہ دار حربی ہیں، آدمی کے ماں باپ دار الحرب میں رہتے ہیں اور یہ مسلمان ہو کر دار الاسلام میں آ گیا، یا اس آدمی کی اولاد اور اولاد کی اولاد دار الحرب میں رہتی ہے اور یہ مسلمان ہو کر دار الاسلام میں آ گیا اور اس کے پاس مال آ گیا اور وہ سارے فقراء ہیں، تو اب اس پر ان کا نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ وہ جو اس کے رشتہ دار دار الحرب میں رہتے ہیں، ماں باپ ہیں یا دادا دادی، نانا نانی وغیرہ ہیں، یا اس کی اولاد ہے یا اولاد کی اولاد ہے، لیکن رہتے کہاں ہیں؟ دار الحرب میں، پھر ان کا نفقہ اس آدمی پر نہیں ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ لوگ ہمارے ساتھ دین کے معاملے میں جنگ کرنے والے ہیں، اور جو لوگ ہمارے ساتھ دین کے معاملے میں جنگ کرنے والے ہوں ان کا نفقہ انسان پر واجب نہیں ہوتا۔ اور اس کے ماں باپ اور اولاد چاہے وہ جنگ کریں یا نہ کریں، لیکن ہیں تو انہی کے ساتھ بھئی، انہی کی جانب میں ہیں، گویا انہی کے مددگار ہیں، تو لہٰذا ان کا نفقہ بھی اب انسان پر واجب نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُمْ إِذَا كَانُوا حَرْبِيِّينَ“ مگر یہ کہ جب یہ والے رشتہ دار جو ہیں یہ حربی ہوں ”لَا تَجِبُ نَفَقَتُهُمْ عَلَى الْمُسْلِمِ“ تو ان کا نفقہ مسلمان پر واجب نہیں ہوگا ”وَإِنْ كَانُوا مُسْتَأْمِنِينَ“ اگرچہ یہ مستأمن ہوں یعنی امان لے کر یہاں آ جائیں۔ وہ حربی امان لے کر یہاں آ گئے پھر بھی ان کا نفقہ آدمی پر واجب نہیں کیونکہ اس نے پھر واپس جانا ہے ادھر بھئی، تو یہ گویا انہی کے معاون ہیں بھئی۔ اب دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ ان کا نفقہ کیوں نہیں ہوگا جب یہ حربی ہوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّا نُهِينَا عَنِ الْبِرِّ“ اس لیے کیونکہ ہمیں منع کیا گیا ہے، ”لِأَنَّا نُهِينَا“ ہمیں منع کیا گیا ہے ”عَنِ الْبِرِّ“ نیکی کرنے سے ”فِي حَقِّ مَنْ يُقَاتِلُنَا فِي الدِّينِ“ ان کے حق میں جو ہم سے دین کے معاملے میں لڑائی کرتے ہیں۔ ہمیں منع کیا گیا ہے ان لوگوں کے حق میں نیکی کرنے سے جو ہمارے ساتھ دین کے معاملے میں لڑائی کرتے ہیں۔ یہ میرے حاشیے میں آیت دی ہوئی ہے بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ﴾ مل گئی آیت؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ﴾ کہ اللہ تو تمہیں روکتا ہے ﴿عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ﴾ انہی لوگوں سے جنہوں نے تم سے دین میں لڑائی کی ﴿وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ﴾ اور تمہیں نکالا تمہارے گھروں سے ﴿وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ﴾ اور جنہوں نے مدد کی تمہارے نکالنے میں، جنہوں نے تمہیں نکالا اور نکالنے میں مدد کی ان سے اللہ منع کرتا ہے ﴿أَنْ تَوَلَّوْهُمْ﴾ کہ تم ان سے دوستی کرو۔ یہ مفعول آ گیا۔ بھئی آیت کے شروع میں آیا تھا ﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ﴾ اللہ تمہیں منع کرتے ہیں، بھئی کس چیز سے منع کرتے ہیں؟ ﴿أَنْ تَوَلَّوْهُمْ﴾ کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو، یہ جنہوں نے تمہیں وطن سے نکالا ہے اور دین کے معاملے میں تم سے لڑائی کی ہے بھئی۔ ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں بھئی۔ معلوم ہوا اللہ نے ان حربیوں کے ساتھ نیکی کرنے سے منع فرمایا ہے، لہٰذا یہ رشتہ دار اگر دار الحرب والے ہیں تو ان کا نفقہ آدمی پر نہیں ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّا نُهِينَا عَنِ الْبِرِّ“ اس لیے کیونکہ ہمیں نیکی سے منع کیا گیا ہے ”فِي حَقِّ مَنْ يُقَاتِلُنَا فِي الدِّينِ“ ان لوگوں کے حق میں جو ہم سے دین کے معاملے میں لڑائی کرتے ہیں۔
آگے دیکھیے: ”وَلَا تَجِبُ عَلَى النَّصْرَانِيِّ نَفَقَةُ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ وَكَذَا لَا تَجِبُ عَلَى الْمُسْلِمِ نَفَقَةُ أَخِيهِ النَّصْرَانِيِّ“ بھئی اب اسی کی مزید وضاحت کر رہے ہیں۔ ضابطہ آپ کو پیچھے بتلا دیا کہ دین مختلف ہو پھر بھی بیوی کا نفقہ، ماں باپ کا نفقہ، اجداد اور جدات کا نفقہ اور اولاد اور اولاد کی اولاد کا نفقہ آدمی پر واجب ہوتا ہے۔ تو اب ایک شخص مسلمان ہے لیکن اس کا بھئی مسلمان نہیں ہے اور وہ فقیر ہے، محتاج ہے، غریب ہے، چاہے ذمی ہی کیوں نہ ہو، اب اس کافر بھئی کا نفقہ مسلمان کے ذمے نہیں ہے۔ اور اسی طرح اس کے برعکس بھی ہے یعنی اگر مسلمان بھئی جو ہے وہ فقیر اور محتاج ہے اور اس کا ذمی بھئی جو ہے مالدار ہے، تو ذمی پر اس مسلمان بھئی کا نفقہ واجب نہیں ہوگا بھئی۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو نفقہ ہے اس کا تعلق وراثت سے ہے۔ نفقے کا تعلق وراثت سے ہے اور نص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ قرآن میں اللہ جہاں فرماتے ہیں: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾ اسی آیت کے آخر میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾ اور وارث پر بھی اسی کے مثل ہے یعنی وارث پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾ کہ باپ پر ان عورتوں کا نفقہ ہے اور اسی سے پتہ چل گیا بچے کا نفقہ بھی باپ کے ذمے ہے، اور اسی آیت میں آگے اللہ فرماتے ہیں ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾ اور وارث پر بھی اسی کے مثل ہے یعنی یہ نفقے کی ذمہ داری وارث پر بھی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب باپ نہیں ہے۔ ایک نابالغ بچہ ہے اور اس کا باپ زندہ نہیں ہے اور وہ فقیر ہیں، محتاج ہیں بھئی، ان کے پاس مال نہیں، تو اب اس بچے کے جو وارث بنیں گے اگر بچے کا مال ہوتا اور بچے کا انتقال ہو جائے تو جو جو اس کے وارث بنیں گے اب وہ نفقہ ان پر آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾ اور وارث پر بھی اسی کے برابر ہے، اسی کے مثل ہے یعنی باپ کی طرح وارثوں پر بھی نفقہ واجب ہے بھئی۔ اور یہاں پر بھی دیکھ لیجیے، حکم لگایا جا رہا ہے مشتق پر: ﴿عَلَى الْوَارِثِ﴾، وارث اسمِ فاعل ہے تو اسمِ فاعل پر حکم لگایا جا رہا ہے کہ اس کی بھی اسی طرح ذمہ داری ہے، معلوم ہوا اس کی علت مشتق منہ ہے یعنی وراثت ہے۔ تو معلوم ہوا وراثت میں جس کا جتنا حق بنتا ہے اسی کے بقدر اس شخص پر نفقہ بھی واجب ہوگا بھئی۔ اور نیز آیت کے شروع میں تھا ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾ اور یہاں پر آیا ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾، ذٰلک آپ نے پڑھا ہے اشارہ ہوتا ہے بعید کے لیے، اور وارث پر بھی اسی کے مثل ہے، بھئی کس کے مثل؟ یہ ذٰلک کے ذریعے اشارہ ہے آیت کے شروع کی طرف یعنی وہ جو دور پیچھے بات گزر گئی تھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ وارث پر بھی اسی کے مثل ہے یعنی اگر باپ نہیں ہے تو پھر وارثوں کو اپنے حصے کے بقدر بچے پر خرچ کرنا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا نفقے کا تعلق وراثت سے ہے۔ جب ایک شخص دوسرے کا وارث بن رہا ہے تو اس پر نفقہ بھی آئے گا بھئی۔ لیکن اگر ایک بھئی مسلمان ہے اور دوسرا کافر ہے تو دونوں کا دین ہی الگ الگ ہے، یہ تو دونوں ایک دوسرے کے وارث ہی نہیں بن سکتے۔ جب اختلافِ دین کی وجہ سے وارث نہیں بن سکتے تو لہٰذا اب ایک دوسرے پر نفقہ بھی واجب نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا تَجِبُ عَلَى النَّصْرَانِيِّ نَفَقَةُ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ“ نصرانی کہتے ہیں عیسائی کو بھئی، ”وَلَا تَجِبُ عَلَى النَّصْرَانِيِّ“ اور عیسائی پر واجب نہیں ہے ”نَفَقَةُ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ“ اپنے مسلمان بھئی کا نفقہ ”وَكَذَا لَا تَجِبُ عَلَى الْمُسْلِمِ نَفَقَةُ أَخِيهِ النَّصْرَانِيِّ“ اور اسی طرح مسلمان پر اپنے عیسائی بھئی کا نفقہ واجب نہیں ہے ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ مُتَعَلِّقَةٌ بِالْإِرْثِ“ اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے اس کا تعلق وراثت سے ہے ”بِالنَّصِّ“ نص کی وجہ سے، کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾ کہ وارث پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے بھئی۔
”بِخِلَافِ الْعِتْقِ عِنْدَ الْمِلْكِ“ بخلاف آزادی کے ”عِنْدَ الْمِلْكِ“ ملکیت کے وقت۔ بھئی دیکھیے، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا کہ جب قریبی رشتہ دار کا دین الگ ہو، مثلاً بھئی یا بہن کا دین الگ ہے تو ان کا نفقہ ایک دوسرے پر واجب نہیں ہوگا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص اپنے کسی قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنتا ہے تو جس لمحے میں مالک بنے گا اس سے اگلے لمحے میں ہی وہ آزاد ہو جائے گا۔ آپ پڑھ چکے ہیں حدیث کے اندر آتا ہے: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ“ کہ جو شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا ”عَتَقَ عَلَيْهِ“ تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ آزاد کرنا نہیں پڑے گا، فوراً خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ ایک شخص ہے اس کا بھئی غلام ہے، یہ بھی غلام تھا لیکن مثلاً اس کو آقا نے آزاد کر دیا تھا اور یہ پھر مالدار ہو گیا، اس کا بھئی بھی غلام ہے، یہ اپنے بھئی کو خریدتا ہے، جس لمحے کے اندر خریدے گا اگلے ہی لمحے کے اندر وہ آزاد ہو جائے گا خود بخود بھئی، کیونکہ حدیث میں کیا آتا ہے: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“ جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنتا ہے تو وہ اس پر آزاد ہو جاتا ہے، یا بعض روایات میں آتا ہے: ”فَهُوَ حُرٌّ“ تو وہ آزاد ہے بھئی۔ تو یہاں پر دو قیدیں ہیں: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ“ یعنی رشتہ دار بھی ہو ”مَحْرَمٍ مِنْهُ“ اور اس کا محرم بھی ہو بھئی۔ تو جب بھی قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو، جیسے ہی انسان اس کا مالک بنے گا وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔ تو بات یہ چل رہی تھی، صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ بھائیوں کا نفقہ ایک دوسرے پر نہیں آئے گا اگر ان کا دین الگ ہے۔ لیکن اگر دین الگ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی ایک بھئی دوسرے کو خریدے گا تو وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔ وہ فوراً آزاد ہو جائے گا، یہاں اختلافِ دین کو نہیں دیکھا جاتا۔ وہ فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ ایک مسلمان اپنے کافر غلام بھئی کو خریدتا ہے تو دین بے شک الگ ہے لیکن خریدتے ساتھ ہی وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو اب یہ دونوں میں فرق کیوں کیا گیا؟ دین الگ ہو تو نفقہ واجب نہیں ہوتا، لیکن دین چاہے الگ ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کا مالک بنتے ہی وہ آزاد ہو جائے گا، تو ان دونوں میں فرق کیوں کیا گیا؟ اب اس کی وجہ بیان فرما رہے ہیں۔ پھر دیکھیے ترجمہ، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ مُتَعَلِّقَةٌ بِالْإِرْثِ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ نفقے کا تعلق وراثت سے ہوتا ہے نص کی وجہ سے ”بِخِلَافِ الْعِتْقِ عِنْدَ الْمِلْكِ“ بخلاف آزاد ہونے کے مالک ہوتے وقت، مالک ہوتے وقت آزاد ہونے کے ”لِأَنَّهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْقَرَابَةِ وَالْمَحْرَمِيَّةِ بِالْحَدِيثِ“ اس لیے کیونکہ اس کا تعلق رشتہ داری اور محرم ہونے سے ہے حدیث کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ حدیث میں آیا ہے: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“، اس کے اندر کوئی دین کے اختلاف کو ذکر نہیں کیا گیا، بس دو چیزیں ہونی چاہئیں: کیا؟ قرابت اور محرم ہونا چاہیے، یہاں اختلافِ دین ذکر نہیں ہے۔ جبکہ نفقہ جو ہے اس کا تعلق وراثت سے ہے بھئی۔ وارث بن رہا ہے تو نفقہ بھی آئے گا، وارث نہیں بن رہا، دین مختلف ہے تو نفقہ بھی نہیں آئے گا۔
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْعِتْقِ عِنْدَ الْمِلْكِ لِأَنَّهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْقَرَابَةِ وَالْمَحْرَمِيَّةِ بِالْحَدِيثِ“ بخلاف ملکیت کے وقت آزاد ہونا اس لیے کیونکہ اس کا تعلق رشتہ داری اور محرم ہونے سے ہے حدیث کی وجہ سے ”وَلِأَنَّ الْقَرَابَةَ مُوجِبَةٌ لِلصِّلَةِ“ توجہ سے یہ جگہ سمجھنا بھئی، یہ مشکل جگہ ہے، ”وَلِأَنَّ الْقَرَابَةَ مُوجِبَةٌ لِلصِّلَةِ“ اور اس لیے کیونکہ قرابت وہ واجب کرتی ہے صلہ یعنی احسان کو۔ موجبہ کا معنی چاہے واجب کرنے کے کر لیں چاہے ثابت کرنے کے کر لیں۔ ”وَلِأَنَّ الْقَرَابَةَ مُوجِبَةٌ لِلصِّلَةِ“ اور اس لیے کیونکہ قرابت جو ہے یعنی رشتہ داری جو ہے موجبۃ للصلۃ، صلہ کہتے ہیں احسان اور نیکی کو، رشتہ داری جو ہے وہ احسان کو واجب کرتی ہے، رشتہ دار کے ساتھ احسان کرنا چاہیے، نیکی کرنی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْقَرَابَةَ مُوجِبَةٌ لِلصِّلَةِ“ اور اس لیے کیونکہ رشتہ داری جو ہے یہ احسان کو ثابت کرتی ہے ”وَمَعَ الِاتِّفَاقِ فِي الدِّينِ آكَدُ“ اور دین کے اندر اتفاق کے ساتھ یہ اور زیادہ تاکید کرتی ہے احسان کی۔ رشتہ داری کس کو ثابت کرتی ہے؟ احسان کو۔ اور جب دین بھی ایک ہو تو یہ اور زیادہ تاکید کرتی ہے احسان کی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَمَعَ الِاتِّفَاقِ فِي الدِّينِ آكَدُ“ اور دین میں اتفاق کے ساتھ یہ اور زیادہ تاکید کرتی ہے یعنی احسان کی اور زیادہ تاکید کرتی ہے۔ ”وَدَوَامُ مِلْكِ الْيَمِينِ أَعْلَى فِي الْقَطِيعَةِ مِنْ حِرْمَانِ النَّفَقَةِ“ اب دیکھیے یہاں دو چیزیں آ گئیں۔ رشتہ داری احسان کو واجب کرتی ہے، اور جب دین ایک ہو تو پھر اس میں تاکید بھی آ جاتی ہے یعنی پھر یہ علتِ مؤکدہ بن جاتی ہے۔ بھئی رشتہ دار کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ نیک سلوک۔ اور اگر دین بھی ایک ہو تو اس میں تاکید آ گئی۔ تو معلوم ہوا احسان کی علت کیا ہے؟ رشتہ داری۔ اور دین ایک ہو تو اس میں اور تاکید آ جاتی ہے، معلوم ہوا یہ علتِ مؤکدہ ہے۔ صرف رشتہ داری یہ علت ہے احسان کی، کس کی؟ احسان کی۔ زبان سے دہرائیں بھئی، مشکل جگہ ہے، رشتہ داری یہ کیا ہے؟ علت ہے، کس چیز کی علت ہے؟ احسان کی۔ اور اگر دین بھی ایک ہو تو پھر یہ علتِ مؤکدہ ہے، اس میں تاکید آ گئی ہے کس چیز کی؟ احسان کی۔ تو صرف رشتہ داری یہ احسان کی علت ہے، اور دین بھی ایک ہو تو پھر یہ علتِ مؤکدہ بن گئی احسان کے لیے، اور تاکید آ گئی اس کے اندر۔ اور اسی طرح یاد رکھو، اگر کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ دار کو نفقہ نہیں دیتا تو اس صورت کے اندر قطعِ رحمی ہے یہ، یہ تو رشتے کو توڑ رہا ہے۔ قریبی رشتہ دار بھی ہے اور وہ شخص محتاج بھی ہے اور آپ کے پاس مال بھی ہے اور آپ پھر بھی اس کی مدد نہیں کر رہے، یہ تو آپ قطعِ رحمی کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا مالدار ہونے کے باوجود فقیر رشتہ دار کی مدد نہ کرنا یہ قطعِ رحمی ہے بھئی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنتا ہے وہ فوراً اس پر آزاد ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ آزاد نہ ہو، اس پر اسی طرح اس کی ملکیت باقی رکھی جائے تو اس میں بھی قطعِ رحمی ہے۔ رشتہ دار کے ساتھ تو نیک سلوک کرنے کا حکم ہے اور آپ اس کو اپنا مملوک بنا کر، اپنا غلام اور باندی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے اور آپ اس کو مملوک بنا کے رکھنا چاہتے ہیں تو اس میں بھی قطعِ رحمی ہے۔ لیکن اس میں اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے یعنی بہت زیادہ درجے والی قطعِ رحمی ہے بھئی۔ تو نفقہ نہ دو اس میں بھی قطعِ رحمی، لیکن مملوک بنا کر رکھو اس میں اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے۔ پھر دہرائیں بھئی لفظوں کو، کتاب کے الفاظ دہرا لیں: دوامِ ملکِ یمین۔ آپ نے کیا پڑھا کہ کوئی شخص جیسے ہی اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنتا ہے وہ فوراً آزاد ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ آزاد نہ ہوتا، دیکھو ملکِ یمین میں دوام آ جاتا یعنی یوں کہو ملکیت میں دوام آ جاتا، تو دوامِ ملکیت میں بھی قطعِ رحمی ہے اور حرمانِ نفقہ میں بھی قطعِ رحمی ہے۔ حرمان کا معنی محروم رکھنا۔ حرمانِ نفقہ میں بھی قطعِ رحمی ہے لیکن دوامِ ملک کے اندر اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے، زیادہ قطعِ رحمی ہے کہ آپ اپنے قریبی محرم کو اپنا مملوک بنا کر رکھتے ہیں۔ تو دوامِ ملک میں اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے اور حرمانِ نفقہ میں ادنیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے۔ تو لہٰذا جو اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے وہاں صرف علت کا پایا جانا کافی ہے، علت آئے گی تو وہ ختم ہو جائے گی، اور علت کیا تھی؟ قرابت، رشتہ داری۔ جب کوئی کسی کا قریبی رشتہ دار ہے، یہ رشتہ داری موجبۃ للصلۃ، یہ کس کو ثابت کرتی ہے؟ احسان کو ثابت کرتی ہے۔ تو لہٰذا جب ایک ایسی چیز آ رہی ہے جو قطعِ رحمی کے اندر اعلیٰ درجے والی ہے یعنی ملکِ یمین آ رہی ہے تو وہاں نفسِ علت بھی کافی ہے، بس قریبی رشتہ داری موجود ہے تو ملکیت ختم ہو جائے گی۔ جبکہ جو چیز کم درجے کی قطعِ رحمی والی ہے تو اس کے اندر صرف علت کا ہونا کافی نہیں بلکہ علتِ مؤکدہ کا ہونا ضروری ہے یعنی رشتہ داری بھی ہو اور دین بھی ایک ہو تو پھر اس کے بعد حرمانِ نفقہ دفع ہو جائے گا اور نفقہ واجب ہو جائے گا۔ علتِ مؤکدہ جب پائی جائے گی تو اب نفقہ واجب ہوگا یعنی حرمانِ نفقہ دفع ہو جائے گا، نفقے سے محروم رکھنا دفع ہو جائے گا یعنی قریبی رشتہ دار بھی ہو اور دین بھی ایک ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں۔ پھر دہرا لیں: رشتہ داری جو ہے یہ صلہ کو واجب کرتی ہے یعنی یہ علت ہے احسان کی، قریبی رشتہ داری، قریبی رشتہ داری یہ علت ہے احسان کی۔ اور اس قریبی رشتہ داری کے ساتھ اگر دین بھی ایک ہو دونوں کا تو یہ علتِ مؤکدہ ہو گئی، اس میں تاکید آ گئی، اور زور آ گیا۔ تو ایک ہے علت اور ایک ہے علتِ مؤکدہ بھئی۔ اور اسی طرح دوامِ ملکیت اس میں بھی قطعِ رحمی ہے اور حرمانِ نفقہ اس میں بھی قطعِ رحمی ہے، لیکن دوامِ ملکیت میں اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے اور حرمانِ نفقہ میں ادنیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے۔ تو جو اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے اس کے لیے نفسِ علت ہی کافی ہے، قریبی رشتہ داری آ گئی تو وہ دوامِ ملکیت نہ رہے گی، وہ آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ حرمانِ نفقہ میں کم درجے کی قطعِ رحمی ہے تو اس کو ختم کرنے کے لیے صرف علت کافی نہیں، صرف علت کافی نہیں بلکہ وہاں علتِ مؤکدہ چاہیے۔ یا یوں کہو دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ دوامِ ملک میں زیادہ قطعِ رحمی ہے لہٰذا اس کو دفع کرنا واجب ہے، اس کو بغیر مؤکد کے ہی دفع کر دو۔ دوامِ ملک میں زیادہ قطعِ رحمی ہے تو صرف علت ہی کافی ہے، آئے گی اور اس کو دفع کر دے گی۔ اور جبکہ حرمانِ نفقہ میں کم درجے کی قطعِ رحمی ہے لہٰذا وہ صرف علت سے دور نہیں ہوگی بلکہ علتِ مؤکدہ سے دور ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْقَرَابَةَ مُوجِبَةٌ لِلصِّلَةِ“ اور اس لیے کیونکہ رشتہ داری جو ہے یہ احسان کو واجب کرتی ہے ”وَمَعَ الِاتِّفَاقِ فِي الدِّينِ آكَدُ“ اور دین میں اتفاق کے ساتھ یہ اور زیادہ تاکید کرتی ہے یعنی احسان کی ”وَدَوَامُ مِلْكِ الْيَمِينِ“ اور ملکِ یمین کا دائمی رہنا ”أَعْلَى فِي الْقَطِيعَةِ“ یہ زیادہ ہے قطعِ رحمی میں، دوامِ ملک یہ اعلیٰ ہے کس میں؟ قطعِ رحمی میں، رشتہ توڑنے میں ”مِنْ حِرْمَانِ النَّفَقَةِ“ حرمانِ نفقہ کے مقابلے میں۔ ”فَاعْتَبَرْنَا فِي الْأَعْلَى“ تو ہم نے اعتبار کیا اعلیٰ کے اندر ”أَصْلَ الْعِلَّةِ“ اصلِ علت کا۔ جو اعلیٰ درجے کی قطعِ رحمی ہے اس کو دور کرنا ضروری ہے تو نفسِ علت بھی آ جائے تو اس کو دور کر دو، دوامِ ملک ختم کر دو کہ وہ آزاد ہو جائے گا۔ ”فَاعْتَبَرْنَا فِي الْأَعْلَى أَصْلَ الْعِلَّةِ“ تو ہم نے اعتبار کیا اعلیٰ کے اندر اصلِ علت کا۔ اعلیٰ کیا چیز ہے؟ دوامِ ملک، یہ قطعِ رحمی میں اعلیٰ ہے۔ اور اصلِ علت کیا ہے؟ صرف قریبی رشتہ داری۔ تو ”فَاعْتَبَرْنَا فِي الْأَعْلَى“ تو ہم نے اعلیٰ جو ہے یعنی دوامِ ملک میں اعتبار کر لیا ”أَصْلَ الْعِلَّةِ“ اصلِ علت یعنی قریبی رشتہ داری کا ”وَفِي الْأَدْنَى“ اور ادنیٰ جو ہے یعنی جو حرمانِ نفقہ ہے، حرمانِ نفقہ جو قطعِ رحمی میں ادنیٰ ہے اس کے اندر ہم نے اعتبار کیا ”الْعِلَّةَ الْمُؤَكَّدَةَ“ علتِ مؤکدہ کا کہ قرابت بھی ہو اور دین بھی ایک ہو۔ ”فَلِهَذَا افْتَرَقَا“ تو اس لیے یہ دونوں جدا ہو گئے۔ یہ دونوں جدا ہو گئے۔ اعتراض یہ ہوتا تھا نا کہ جب دین الگ ہو تو آپ نفقہ واجب نہیں کرتے اور دین الگ الگ ہو پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ قریبی محرم رشتہ دار آزاد ہو جائے گا تو دونوں میں فرق بیان فرما دیا صاحبِ ہدایہ نے۔ یہ معنی ہے: ”فَلِهَذَا افْتَرَقَا“ تو اس لیے یہ دونوں جدا ہو گئے یعنی دونوں میں فرق آ گیا، نفقے اور آزادی میں فرق آ گیا کہ نفقے کے اندر علتِ مؤکدہ ہونا ضروری ہے پھر ہی نفقہ واجب ہوگا، اور آزادی جو ہے اس کے اندر نفسِ علت بھی کافی ہے، نفسِ علت یعنی قریبی رشتہ داری موجود ہے تو آزادی ثابت ہو جائے گی بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَا يُشَارِكُ الْوَلَدَ“ اور اولاد کے ساتھ شریک نہیں ہوگا ”فِي نَفَقَةِ أَبَوَيْهِ“ اپنے والدین کے نفقے میں ”أَحَدٌ“ کوئی ایک۔ اپنے والدین کے نفقے میں اولاد کے ساتھ اور کوئی رشتہ دار شریک نہیں ہوگا۔ ایک آدمی ہے وہ محتاج ہے، فقیر ہے اور اس کا بھئی بھی مالدار اور اس کی اولاد بھی مالدار، تو اولاد پہ نفقہ آئے گا، بھئی پر نفقہ نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُشَارِكُ الْوَلَدَ فِي نَفَقَةِ أَبَوَيْهِ أَحَدٌ“ اور اولاد کے ساتھ ماں باپ کے نفقے میں کوئی ایک بھی شریک نہیں ہوگا ”لِأَنَّ لَهُمَا تَأْوِيلًا فِي مَالِ الْوَلَدِ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ماں باپ ہیں ان کے لیے تاویل کی گئی ہے ”فِي مَالِ الْوَلَدِ“ اولاد کے مال میں ”بِالنَّصِّ“ نص کے ذریعے۔ نص کے ذریعے اولاد کے مال میں تاویل کی گئی ہے ماں باپ کے لیے۔ وہ جو حدیث کے اندر آتا ہے بھئی ایک صحابی نے شکایت فرمائی تھی اپنے بیٹے کی، تو حضور علیہ السلام نے ان کے بیٹے کو بلوایا اور کہا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال دونوں تیرے باپ کے ہیں بھئی۔ تو دیکھو معلوم ہوا حدیث کے اندر تاویل کی گئی ہے ان کے لیے۔ بھئی یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں بیٹے کا مال الگ ہوتا ہے اور باپ کا مال الگ ہوتا ہے، لیکن اس حدیث کے اندر حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ تو دیکھو حقیقت میں اگرچہ بیٹے کا مال الگ ہے لیکن باقاعدہ نص کے اندر حضور علیہ السلام نے تاویل کرتے ہوئے بیٹے کو اور اس کے مال کو باپ کا مملوک قرار دے دیا۔ توجہ ہے؟ تو حقیقت کے اندر بیٹے کا مال الگ ہے اور باپ کا مال الگ ہے لیکن نص میں بیٹے کے مال کو بھی باپ کا مال قرار دیا گیا ہے یعنی نص میں تاویل کی گئی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب اولاد کے مال میں تاویل موجود ہے کہ وہ باپ کا ہے تو لہٰذا جب اولاد کا مال موجود ہے تو گویا باپ کا مال موجود ہے کیونکہ اولاد کا مال کس کا ہے؟ باپ کا ہے، تو گویا باپ مالدار ہے۔ اور جب باپ مالدار ہے تو پھر کسی اور پر اس کا نفقہ نہیں آئے گا، اسی مال میں سے نفقہ لے گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ نفقہ کیوں آتا ہے؟ فقیر اور محتاج ہونے کی وجہ سے، اور بیٹے کے مال کو، اولاد کے مال کو باپ کا مال قرار دیا گیا ہے، تو جب اولاد کے پاس مال موجود ہے، باپ کے پاس بے شک مال نہیں ہے لیکن اولاد کے پاس تو مال موجود ہے اور اولاد کا مال بھی کس کا مال ہے؟ باپ کا مال ہے، تو گویا باپ مالدار ہے، جب باپ مالدار ہے، اس کا اپنا مال موجود ہے تو اس میں سے اپنے نفقے کا وہ بندوبست کرے گا، کسی اور رشتہ دار پر وہ نفقہ نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ لَهُمَا تَأْوِيلًا فِي مَالِ الْوَلَدِ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ والدین جو ہیں ان کے لیے تاویل کی گئی ہے اولاد کے مال میں نص کے ذریعے ”وَلَا تَأْوِيلَ لَهُمَا فِي مَالِ غَيْرِهِ“ اور والدین کے لیے کوئی تاویل نہیں ہے اولاد کے مال کے علاوہ میں۔ اولاد کے مال کے بارے میں تو تاویل کی گئی ہے اور حدیث میں کیا آیا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، لیکن کسی اور کے مال کے بارے میں یہ تاویل نہیں کی گئی بھئی۔ یہاں اشکال ہوتا ہے، اشکال ہوتا ہے کہ اگر اولاد کا مال باپ کا مال ہے تو پھر تو باپ جیسے چاہے اس کا مال خرچ کرے بھئی، لیکن آپ کہہ رہے ہیں اگر باپ محتاج ہوگا، غریب ہے تو پھر وہ نفقہ بیٹے کے مال میں سے لے سکتا ہے۔ حالانکہ یہ جو حدیث ہے ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ کہ تو اور تیرا مال دونوں تیرے باپ کے ہیں، یہ حدیث تو کیا تقاضا کر رہی ہے کہ باپ کو بیٹے کے مال کا مالک ہونا چاہیے۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں، علماء فرماتے ہیں کہ اور حدیث کے اندر آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہوئے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةٌ لَكُمْ“ کہ تمہاری اولاد تمہارے لیے ہبہ ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے تحفہ ہے اور عطا ہے، ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ اللہ جس کو چاہتے ہیں مؤنث اولاد عطا فرماتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں مذکر اولاد عطا فرماتے ہیں، ”وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ“ اور وہ جو اولاد ہیں ان کے اموال تمہارے لیے ہیں ”إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا“، ”وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ“ اور تمہاری اولاد کے مال تمہارے لیے ہیں ”إِذَا“ جب ”احْتَجْتُمْ“ جب تم محتاج ہو ”إِلَيْهَا“ اس کے۔ تو دیکھا اس حدیث میں آ گیا کہ جب تم محتاج ہو پھر تمہارے لیے ہیں مال بھئی۔ اور اسی طرح یاد رکھو قرآن کے اندر ذکر ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کا بیٹا بھی موجود ہے اور باپ بھی موجود ہے، تو پھر اس صورت میں باپ کو چھٹا حصہ ملتا ہے اور بیٹا عصبہ بنتا ہے، باقی سارا مال بیٹا لے جاتا ہے۔ اگر باپ بیٹے کے مال کا مالک تھا، حقیقت میں مالک تھا، تو پھر تو سارا مال باپ کو ملنا چاہیے تھا، بیٹے کو تو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے تھا۔ ایک آدمی کا انتقال ہوا، اس کا بیٹا بھی زندہ ہے اور اس کا باپ بھی زندہ ہے، یہ دونوں اس کے وارث ہیں، تو قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ باپ کو چھٹا حصہ ملے گا۔ تو اگر اس حدیث کو دیکھا جائے، حدیث میں تو کیا آیا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، اس حدیث کے مطابق میت کا سارا مال باپ کو ملنا چاہیے کیونکہ حدیث میں کیا آیا ہے: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، لیکن قرآن میں ذکر ہے باپ کو چھٹا حصہ ملے گا صرف۔ معلوم ہوا یہ جو حدیث میں آیا تھا ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، یہ تاویل پر مبنی ہے یعنی اسی طرح ہے یعنی اسی درجے میں ہے، حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی کہ باپ جب محتاج ہو وہ بیٹے کے مال کو لے سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ یہ کلام تاویل پر مبنی ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ لَهُمَا تَأْوِيلًا فِي مَالِ الْوَلَدِ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ یہ جو والدین ہیں ان کے لیے تاویل کی گئی ہے اولاد کے مال میں نص کے ذریعے ”وَلَا تَأْوِيلَ لَهُمَا فِي مَالِ غَيْرِهِ“ اور والدین کے لیے تاویل نہیں ہے اولاد کے علاوہ کسی اور کے مال میں۔
”وَلِأَنَّهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِمَا“ اب دوسری دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ماں باپ کا نفقہ اولاد پر ہی ہوگا، کسی اور رشتہ دار پر نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِمَا“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو اولاد ہے یہ لوگوں میں سے ماں باپ کے سب سے قریب ہیں کیونکہ یہ انہی کا جز ہیں بھئی، تو یہ سب سے قریب ہیں لوگوں میں سے ”فَكَانَ أَوْلَى بِاسْتِحْقَاقِ نَفَقَتِهِمَا عَلَيْهِ“ تو یہ اولاد زیادہ لائق ہے کہ ماں باپ اپنے نفقے کے مستحق ہوں اسی پر۔ جب لوگوں میں سب سے قریبی رشتہ دار یہی اولاد ہیں تو انہی پر ماں باپ کا نفقہ ہونا چاہیے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِمَا“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو اولاد ہے یہ لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہیں ماں باپ کے ”فَكَانَ أَوْلَى بِاسْتِحْقَاقِ نَفَقَتِهِمَا عَلَيْهِ“ تو یہ اولاد زیادہ لائق ہے کہ ماں باپ جو ہیں اپنے نفقے کے مستحق ہوں اس اولاد پر۔ یہ اولاد سب سے قریب ہیں ماں باپ کے تو انہی پر ماں باپ کا نفقہ ہونا چاہیے۔
”وَهِيَ عَلَى الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ بِالسَّوِيَّةِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ اور یہ جو نفقہ ہے مذکر اور مؤنث پر برابری کے ساتھ ہے ظاہرِ روایت میں۔ ظاہرِ روایت میں تو یہ ہے کہ ماں باپ کا نفقہ اولاد پر برابری کے ساتھ ہوگا، چاہے اولاد مذکر ہو چاہے مؤنث۔ مثلاً، مثلاً ماں باپ غریب ہیں اور ان کا ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے۔ ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی، اب اگر وراثت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بیٹے کو بیٹی سے دگنا مال ملے گا: ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ کہ مذکر کے لیے دو مؤنث کے برابر حصہ ہے بھئی، تو اگر یہ ماں باپ کا انتقال ہوتا ہے تو کل مال کے تین حصے کریں گے، دو حصے بیٹے کو ملیں گے اور ایک حصہ بیٹی کو۔ تو لہٰذا امام صاحب سے ایک روایت ہے جو امام سرخسی نے ذکر فرمائی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں نفقہ بھی اسی اعتبار سے آئے گا۔ توجہ ہے؟ صورت یہ ماں باپ غریب ہیں اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے اور ایک بیٹی بھی ہے اور دونوں مالدار ہیں، تو امام سرخسی رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت نقل فرماتے ہیں کہ بیٹے پر بیٹی سے دگنا نفقہ ہوگا۔ مثلاً ماں باپ کا ایک دن کا خرچہ مثلاً ایک ہزار روپیہ ہے تو اس ایک ہزار کے تین حصے کریں گے، دو حصے بیٹے کو ادا کرنے پڑیں گے اور ایک حصہ بیٹی کو بھئی یعنی وراثت کے بقدر، وراثت کے بقدر۔ لیکن ظاہرِ روایت یہ ہے، ظاہرِ روایت یہ ہے کہ دونوں پر یہ نفقہ برابری کے ساتھ آئے گا بھئی یعنی ہزار میں سے پانچ سو بیٹے کو دینا پڑے گا اور پانچ سو بیٹی کو دینا پڑے گا۔ یہی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَهِيَ عَلَى الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ بِالسَّوِيَّةِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ اور یہ نفقہ جو ہے مذکر اور مؤنث اولاد پر برابری کے ساتھ ہے ظاہرِ روایت میں ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ اور یہی قول صحیح ہے بھئی۔ یہ جو ظاہرِ روایت میں آیا ہے یہی صحیح ہے۔ دوسری روایت میں امام سرخسی ذکر فرماتے ہیں کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ بیٹے اور بیٹی پر یہ جو ماں باپ کا نفقہ آئے گا یہ وراثت کے بقدر آئے گا اور بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں وراثت میں دگنا حصہ ملتا ہے لہٰذا نفقے کے اندر بھی بیٹے پر بیٹی کے مقابلے میں دگنا حصہ آئے گا، لیکن صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ ظاہرِ روایت میں جو آیا ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ یہی صحیح ہے ”لِأَنَّ الْمَعْنَى يَشْمَلُهُمَا“ اس لیے کیونکہ یہ معنی یعنی یہ علت دونوں کو شامل ہے۔ یہ جو حضور علیہ السلام نے صحابی سے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، معلوم ہوا اولاد کا مال باپ کا مال ہے، یہ دونوں کو شامل ہے چاہے بیٹا ہو چاہے بیٹی ہو۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے وجہ بتلائی کہ یہ جو اولاد ہوتی ہے یہ تمام لوگوں سے بڑھ کر ماں باپ کے قریب ہوتی ہے کیونکہ یہ اس کا جز ہیں، تو یہ معنی بیٹی میں بھی ہے اور بیٹے میں بھی ہے، یہ لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہیں بھئی۔ بیٹا اور بیٹی دونوں برابر ہیں، اس لیے کیونکہ یہ علت دونوں کو شامل ہے۔ یہ جو حدیث میں تاویل کی گئی اور یہ جو لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہیں تو اس کے اندر بیٹا اور بیٹی دونوں شامل ہیں، تو یوں کہو کہ جو صاحبِ ہدایہ نے علت بیان فرمائی وہ علت دونوں کو شامل ہے، بیٹے کو بھی اور بیٹی کو بھی، لہٰذا دونوں پر نفقہ برابری کے ساتھ آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔