Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-077

Version 2 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 80
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: بَابُ حَضَانَةِ الْوَلَدِ وَمَنْ أَحَقُّ بِهِ. وَإِذَا وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فَالْأُمُّ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ، لِمَا رُوِيَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَتَزَوَّجِي“. گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر نکاح کے بعد ایک عورت نے چھ ماہ سے پہلے بچے کو جنم دیا تو اس صورت میں اس بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا بھئی۔ اس لیے کیونکہ اتنی مدت میں حمل بھی ٹھہر جائے اور ایک صحیح سلامت بچے کی پیدائش بھی ہو جائے، یہ ممکن نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ علوق نکاح سے مقدم ہوا ہے بھئی۔ اور اگر عورت بچے کو لے آئی نکاح کے چھ ماہ یا اس سے زیادہ کے بعد تو پھر اس صورت میں نسب ثابت ہو جائے گا بھئی۔ پھر اگر عورت بچے کو لے آئی اور خاوند اس کی پیدائش کا انکار کرتا ہے کہ یہ اس عورت کا بچہ نہیں ہے، یہ کسی اور کا بچہ لے آئی ہے، تو اس صورت میں ایک عورت کی گواہی سے بھی ولادت ثابت ہو جائے گی بھئی۔ اور حتیٰ کہ اگر خاوند نے اس بچے کی نفی کی اس کے بعد بھی کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے تو اس صورت میں لعان ثابت ہو جائے گا بھئی۔ اور اگر بچے کی پیدائش کے بعد میاں بیوی میں اختلاف ہوا، خاوند کہتا ہے کہ ہمارے نکاح کو، ہماری شادی کو صرف چار ماہ ہوئے ہیں اور بیوی کہتی ہے نہیں کہ ہماری شادی کو چھ ماہ ہو چکے ہیں، تو اس صورت میں عورت کا قول معتبر ہے۔ حالانکہ فقہ کا ضابطہ ہے کہ الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ، جو چیز نئی پیش آئے اس کی نسبت قریبی وقت کی طرف کی جاتی ہے اور قریبی وقت تو خاوند بیان کر رہا ہے کہ وہ صرف چار مہینے کی بات کر رہا ہے اور عورت چھ مہینے قبل کی بات کر رہی ہے، تو لہٰذا خاوند کے قول کو معتبر ہونا چاہیے لیکن میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شریعت میں پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح بچے کا نسب ثابت ہو جائے، لہٰذا الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ اس ضابطے کو ترک کر دیا یہاں پر۔ اس لیے کیونکہ عورت کے قول کو لیا جائے تو نسب ثابت ہوتا ہے اور مرد کے قول کو لیا جائے تو نسب ثابت نہیں ہوتا، تو اس لیے یہاں عورت کا قول معتبر ہے بھئی۔ اور نیز اس کے اندر عورت پر قسم بھی نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک بھئی۔ اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے۔ اور اس سے ماقبل میں خاوند نے اس حمل کا اقرار بھی نہیں کیا اور عورت کا حمل بھی ظاہر نہیں ہے، پھر اس کے بعد ایک عورت نے آ کر گواہی دی کہ اس عورت نے بچے کو جنم دیا ہے تو اس صورت میں اس کا نسب تو ثابت ہو جائے گا لیکن طلاق ثابت نہیں ہوگی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ طلاق بھی ثابت ہو جائے گی کیونکہ جب بچے کی پیدائش ایک عورت کی گواہی سے ثابت ہو گئی تو اسی پیدائش پر دار و مدار تھا طلاق کا بھی، کیونکہ طلاق بھی اسی پیدائش پر معلق تھی۔ تو جب پیدائش ایک عورت کی گواہی سے ثابت ہو گئی تو جس چیز کی بنیاد اس پیدائش پر ہے یعنی طلاق، وہ بھی ثابت ہو جائے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، عورت کی گواہی کو شریعت نے جو یہاں معتبر قرار دیا ہے وہ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ہے، اس لیے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ عورتوں کی گواہی جائز ہے ان چیزوں میں جن کی طرف مرد دیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں عورت کی گواہی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے قبول کی جائے گی، اور اس گواہی کے ذریعے پیدائش ثابت ہو گئی تو ضرورت اور حاجت پوری ہو گئی۔ لہٰذا طلاق اس کے ذریعے ثابت نہیں ہوگی، طلاق کے لیے ایک الگ مستقل حجت چاہیے یعنی دو مرد گواہ چاہیے یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ چاہییں بھئی۔ اور اگر خاوند نے پہلے حمل کا اقرار کیا تھا کہ یہ عورت حاملہ ہے، یا اس کا حمل ظاہر تھا، سب کو پتہ تھا کہ یہ عورت حاملہ ہے، تو پھر اس صورت میں عورت جب بچے کو لے آئے تو وہاں پھر کسی دوسری عورت یعنی دائی وغیرہ کی گواہی کی بھی ضرورت نہیں ہے، امام صاحب فرماتے ہیں۔ اس لیے کیونکہ جب خاوند نے حمل کا اقرار کر لیا تو وہ حمل جس چیز تک پہنچانے والا ہے یعنی ولادت، اس کا بھی اس نے اقرار کر لیا، تو لہٰذا یہاں کسی عورت کی گواہی کی بھی ضرورت نہیں بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں بھی ایک عورت کی گواہی ضروری ہوگی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے، اس لیے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ذکر فرماتی ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا: وَلَوْ بِظِلِّ مِغْزَلٍ، اگرچہ چرخے کے سائے کے بقدر ہی کیوں نہ ہو۔ چرخے کا سایہ بڑا معمولی سا ہوتا ہے۔ یہ چرخہ جو ہے یہ پہیے کی شکل کا ہوتا ہے اور بالخصوص جیسے سائیکل کا پہیہ ہے بلکہ سائیکل کا پہیہ بھی اس کے مقابلے میں کافی بڑا بھی ہے اور یہ اس سے بھی باریک سا ہوتا تھا اور چھوٹا ہوتا تھا، تو لہٰذا ظاہر سی بات ہے جب یہ اتنا چھوٹا سا باریک سا پہیہ ہوگا تو اس کا بہت معمولی سایہ ہوگا۔ اور پھر بالخصوص جب وہ گھوم رہا ہو، چل رہا ہو تو اس وقت تو اس کا سایہ اور بھی کم ہو جاتا ہے۔ تو مراد اس سے معمولی مقدار ہے بھئی۔ چرخے کے سائے سے مراد معمولی مقدار ہے، یعنی جیسے اس کا سایہ معمولی سا ہوتا ہے۔ تو حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے معمولی مقدار بھی زیادہ نہیں رہ سکتا۔ اور یہ تو ایسی بات ہے جس کا پتہ عقل سے نہیں چل سکتا، تو لہٰذا یہ حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہے۔ میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ صحابی کا قول کسی مسئلے میں آ جائے اور وہ ایسی چیز ہے کہ اس کا پتہ عقل سے نہیں چل سکتا لیکن صحابی بتلا رہے ہیں کہ ایسا ہے، معلوم ہوا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا۔ اور پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے، اس لیے کیونکہ قرآن میں حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے بیان کی گئی ہے: حَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا، تو یہ حمل اور دودھ چھڑانے دونوں کی مدت تیس مہینے ہے۔ اور پھر اس کے بعد دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ، کہ بچے کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوگا۔ تو اس کے ذریعے دودھ چھڑانے کی مدت کا پتہ چل گیا تو باقی جو رہ گئی وہ حمل کی مدت ہے اور وہ چھ ماہ ہے، معلوم ہوا چھ ماہ حمل کی کم سے کم مدت ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہے اور پھر اس شخص نے اس باندی کو ایک طلاق دے دی ہے، چاہے طلاقِ رجعی دے چاہے طلاقِ بائن دے بھئی، پھر اس کے بعد اس نے اس باندی کو خرید لیا اور پھر اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا، تو اگر خریدنے کے بعد چھ ماہ سے پہلے بچے کو جنم دیا ہے تو معلوم ہوا خریدنے کے بعد یہ حمل نہیں ٹھہرا کیونکہ اتنی کم مدت میں بچے کی پیدائش نہیں ہو سکتی، تو پھر اس حمل کی نسبت خریدنے سے ماقبل کی طرف کرنا پڑے گی۔ معلوم ہوا یہ حمل نکاح کی حالت میں ٹھہرا تھا اور نکاح کی حالت میں جو حمل ٹھہرے اس وقت تو وہ منکوحہ اس کی فراش ہوتی ہے تو وہاں نسب ثابت ہو جائے گا۔ اور اگر خریدنے کے چھ ماہ یا اس کے زیادہ کے بعد بچے کو اس باندی نے جنم دیا ہے تو پھر اس صورت میں یہ مملوکہ کا بچہ شمار ہوگا، کیونکہ یہ اتنی مدت ہے جس کے اندر ایک حمل ٹھہر سکتا ہے اور عورت صحیح سلامت بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ تو اس صورت کے اندر یہ مملوکہ کا بچہ شمار ہوگا یعنی باندی کا، اور باندی کا جو بچہ ہوتا ہے جب تک آقا اقرار نہ کرے اس کا نسب ثابت نہیں ہوتا۔ تو یہ باندی کا بچہ شمار ہوگا۔ اس لیے کیونکہ فقہ کا ضابطہ ہے: الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ، وہ چیز جو نئی پیش آئے یعنی جو ہمیشہ سے نہیں تھی بلکہ نئی پیش آئی ہے، اس کی نسبت قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر بیوی باندی ہے اور خاوند نے تین طلاقیں دے دی ہیں اور پھر اس کے بعد اس خاوند نے اس باندی کو خرید لیا، تو بھی خریدنے کے باوجود یہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، تو دوسرے زوج کی قید لگائی گئی ہے قرآن کے اندر۔ تو لہٰذا یہاں پر دوسرے زوج کے بغیر اب یہ باندی اس آقا کے لیے جو پہلے خاوند تھا، جس کو اس نے دو طلاقیں دے دی ہیں، تو اب بھی خریدنے سے بھی اب یہ اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ تو اب عورت نے بچے کو جنم دیا تو طلاق کے بعد دو سال سے پہلے پہلے یہ بچے کو جنم دے دے گی تو نسب ثابت ہو جائے گا اور اگر دو سال یا زیادہ میں اس نے بچے کو جنم دیا تو پھر نسب ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ عورت جس کو خاوند طلاقِ بائن دے یا تین طلاقیں دے دے تو وہ دو سال سے کم کے اندر بچے کو جنم دے تب نسب ثابت ہوتا ہے، دو سال یا اس سے زیادہ کے اندر بچے کو جنم دے تو پھر نسب ثابت نہیں ہوتا، الا یہ کہ خاوند خود اس کا دعویٰ کر دے۔ تو پھر نسب ثابت ہو جائے گا اور اس کو پھر ہم وطی بالشبہہ پر محمول کر لیتے ہیں کہ خاوند نے طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دینے کے بعد عدت کے اندر وطی بالشبہہ کر لی ہوگی، اس کا خیال ہوگا کہ عدت کے دوران ابھی بھی میرے لیے بیوی حلال ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی کسی شخص نے کسی لڑکے کے بارے میں کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے، اور پھر اور کوئی تفصیل بیان نہیں کی اور اس آدمی کا انتقال ہو گیا۔ اور اس شخص کے انتقال کے بعد اس لڑکے کی ماں لے آئی اور کہنے لگی کہ میں اس شخص کی بیوی ہوں۔ تو اس صورت میں دونوں یہ لڑکا اور لڑکے کا نسب تو پہلے ہی ثابت ہے، اس آدمی نے اقرار کیا تھا اور یہ عورت اس کی ماں ہے یہ خود کہہ رہی ہے میں اس کی بیوی تھی، تو استحساناً دونوں وارث بنیں گے، وہ بیٹا بھی اور یہ عورت بھی۔ جبکہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کو وارثہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ نسب کے ثبوت ہمیشہ نکاحِ صحیح سے ہی نہیں ہوتا بلکہ نکاحِ فاسد یا وطی بالشبہہ یا باندی ہونے کی صورت میں بھی نسب کا ثبوت ہو جاتا ہے، لہٰذا اس بچے کا اقرار کرنے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ یہ عورت اس شخص کی بیوی ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے اس سے نکاحِ فاسد کیا ہو، یا ہو سکتا ہے اس نے اس سے وطی بالشبہہ کی ہو، یا ہو سکتا ہے یہ اس کی باندی تھی بھئی، تو کئی احتمال ہیں۔ لیکن استحساناً جو ہے اس کو بیوی شمار کیا جائے گا، یہ اس صورت میں ہے جب یہ عورت کی حریت کا سب کو پتہ ہے یہ آزاد عورت ہے، اور نیز سب کو یہ بھی پتہ ہے کہ یہ اس بچے کی ماں ہے۔ تو اس صورت میں اس کو نکاحِ صحیح پر محمول کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ ثبوتِ نسب جو ہے وہ نکاحِ صحیح سے ہوتا ہے باعتبار وضع کے بھی اور باعتبار عادت کے بھی۔ وضع کے اعتبار سے بھی اسی طرح ہے یعنی شریعت نے بھی ثبوتِ نسب کے لیے نکاحِ صحیح ہی کو مقرر کیا ہے بھئی، اور عادت کے اعتبار سے بھی یعنی عام لوگوں کی بھی یہی عادت ہے بھئی۔ اور اگر یہ بات پتہ نہیں چل سکتی کہ یہ عورت آزاد ہے یا آزاد نہیں تو اس صورت میں دار الاسلام کے اندر ہونے کی وجہ سے اس کی آزادی تو ثابت ہو جائے گی لیکن یہ دار الاسلام میں ہونا یہ حجتِ قاصرہ ہے، اس کی وجہ سے اس عورت کا مستحقِ میراث ہونا ثابت نہیں ہوگا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے حجتِ کاملہ اور ایک ہے حجتِ قاصرہ۔ حجتِ کاملہ وہ دفع کا بھی فائدہ دیتی ہے اور مستحق ہونے کا بھی، اس کے ذریعے آپ کسی چیز کو دفع بھی کر سکتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے استحقاق کو ثابت بھی کر سکتے ہیں۔ جبکہ حجتِ قاصرہ جو ہے یا یوں کہیں حجتِ ناقصہ جو ہے وہ وہ دفع کا فائدہ تو دیتی ہے لیکن مستحق ہونے کا فائدہ نہیں دیتی، لہٰذا دار الاسلام میں ہونے کی وجہ سے اس عورت جس کی آزادی کا پتہ نہیں چل رہا اس کو آزاد تو شمار کیا جائے گا البتہ دار الاسلام میں ہونے کی وجہ سے یہ وارثہ بھی بن جائے، یہ ثابت نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: بَابُ حَضَانَةِ الْوَلَدِ وَمَنْ أَحَقُّ بِهِ. وَإِذَا وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فَالْأُمُّ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ. بَابُ حَضَانَةِ الْوَلَدِ: حضانت کہتے ہیں پرورش کو بھئی۔ بچے کی پرورش کرنا، اس کو حضانت کہتے ہیں، ضاد ہے بھئی ضاد، حضانت بھئی۔ بَابُ حَضَانَةِ الْوَلَدِ: یہ باب ہے بچے کی پرورش کے بیان میں، وَمَنْ أَحَقُّ بِهِ: اور جو اس کے زیادہ لائق ہے۔ بھئی میاں بیوی میں اگر جدائی واقع ہو جائے اور ان کی اولاد ہے، چھوٹے بچے ہیں تو ان کی پرورش کا حق کس کو ہوگا؟ صاحبِ ہدایہ اب اس کو بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: بَابُ حَضَانَةِ الْوَلَدِ وَمَنْ أَحَقُّ بِهِ: یہ باب ہے بچے کی پرورش اور جو اس کے زیادہ لائق ہے اس کے بیان میں۔ وَإِذَا وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فَالْأُمُّ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ: اور جب جدائی واقع ہو جائے میاں بیوی کے درمیان، تو ماں جو ہے وہ زیادہ حقدار ہے بچے کی۔ ماں اپنے پاس بچے کو رکھے گی۔ لِمَا رُوِيَ: بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ: کہ ایک عورت نے کہا اے اللہ کے پیغمبر! إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً: کہ اے اللہ کے پیغمبر! میرا یہ بیٹا جو ہے كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وعاء کہتے ہیں برتن کو اور ظرف کو، میرا پیٹ اس بچے کے لیے ظرف تھا یعنی میں نے اس کا حمل اٹھایا، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً: حواء کہتے ہیں وہ چیز جس میں کسی چیز کو سمیٹا جائے اور حجر کہتے ہیں گود کو، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً: اور میری گود جو ہے اس بچے کے لیے حواءً سمیٹنے والی چیز تھی یعنی وہ اس بچے کو سمیٹنے والی تھی، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً: سقاء کہتے ہیں پانی کا مشکیزہ یا اسی طرح دودھ کا مشکیزہ، کہتے ہیں: وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً: اور میری چھاتی جو ہے اس بچے کے لیے دودھ کا مشکیزہ تھی یعنی اس سے وہ دودھ پیتا تھا، وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي: اور اس بچے کے باپ کا گمان ہے کہ وہ اس بچے کو مجھ سے چھین لے گا۔ تو باپ بچے کو اس عورت سے لینا چاہتا تھا بھئی، تو یہ عورت فریاد لے کر حضور علیہ السلام کے پاس آئی۔ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ: کہ تو بچے کی زیادہ حقدار ہے، مَا لَمْ تَتَزَوَّجِي: جب تک تو نکاح نہ کر لے، جب تک تو آگے شادی نہ کر لے- یاد رکھو بچے کی پرورش کی سب سے زیادہ حقدار ماں ہے لیکن اس وقت تک جب تک ماں آگے دوبارہ شادی نہ کر لے، اگر آگے وہ شادی کر لیتی ہے اور وہ کسی اجنبی سے شادی کی ہے تو پھر اس صورت میں پھر ماں کا حق ختم ہو گیا، اس لیے کیونکہ اس کا جو نیا خاوند ہے وہ بچے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا، تو لہٰذا اس لیے اب ماں کا حق ختم ہوا۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَتَزَوَّجِي: کہ تو اس بچے کی زیادہ حقدار ہے جب تک تو شادی نہ کر لے۔ وَلِأَنَّ الْأُمَّ أَشْفَقُ: اب عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں، حدیث تو ذکر فرما دی صاحبِ ہدایہ نے، اب عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْأُمَّ أَشْفَقُ وَأَقْدَرُ عَلَى الْحَضَانَةِ: اور اس لیے کیونکہ ماں جو ہے وہ زیادہ شفقت والی ہے اور وہ زیادہ قدرت رکھتی ہے پرورش پر، فَكَانَ الدَّفْعُ إِلَيْهَا أَنْظَرَ: تو لہٰذا ماں کے حوالے کرنا بچے کو اس میں بچے کے لیے زیادہ شفقت ہے۔ بچے کے لیے زیادہ شفقت ہے۔ وَإِلَيْهِ أَشَارَ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِقَوْلِهِ: اور اسی کی طرف اشارہ فرمایا حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس قول کے ذریعے: رِيقُهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ شَهْدٍ وَعَسَلٍ عِنْدَكَ يَا عُمَرُ، قَالَ حِينَ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ وَالصَّحَابَةُ حَاضِرُونَ مُتَوَافِرُونَ. اور کہتے ہیں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس قول کے ذریعے بھی کہ: رِيقُهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ شَهْدٍ وَعَسَلٍ، ریق کہتے ہیں لعاب کو، را، یا اور قاف ہے دو نقطوں والا: رِيقٌ۔ اور شَہْدٌ اور شُہْدٌ، یہ لفظ شین کے فتحہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ صحیح ہے: شَهْدٌ یا شُهْدٌ بھئی۔ تو یہ اس شہد کو کہتے ہیں، وہ شہد جس کو موم سے ابھی نچوڑا نہ گیا ہو یعنی جس کو ابھی چھتے سے نکالا نہیں گیا، صاف نہیں کیا گیا، اور عسل کہتے ہیں وہ شہد جس کو چھتے سے نچوڑ لیا گیا ہے یعنی صاف کر لیا گیا ہے۔ تو یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان جدائی آ گئی اور ان کا ایک بیٹا تھا اس بیوی سے، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے اس بچے کو اپنے پاس رکھنے اور اپنے پاس روکنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ: رِيقُهَا خَيْرٌ لَهُ: کہ اس عورت کا لعاب یعنی اس بچے کی ماں کا جو لعاب ہے، خَيْرٌ لَهُ: وہ اس بچے کے لیے بہتر ہے، مِنْ شَهْدٍ وَعَسَلٍ عِنْدَكَ يَا عُمَرُ: تمہارے پاس جو شہد ہو، چاہے چھتے سے نچوڑا گیا ہو یا نچوڑا نہ گیا ہو اس کے مقابلے میں اے عمر! اے عمر! تمہارے پاس ایسا شہد ہو جو چھتے سے نچوڑا گیا ہو یا چھتے سے نہ نچوڑا گیا ہو، ان دونوں کے مقابلے میں اس بچے کے لیے اس کی ماں کا لعاب زیادہ بہتر ہے بھئی۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ بات سن کر خاموش ہو گئے اور یعنی اس کو قبول فرما لیا۔ اور وہاں اور بھی کثیر صحابہ موجود تھے، کسی نے بھی اس بات کو رد نہیں کیا، معلوم ہوا اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا کہ بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار کون ہے؟ ماں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِلَيْهِ أَشَارَ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، بھئی پیچھے بتلایا نا کہ ماں بچے پر زیادہ شفقت کرنے والی ہے اور بچے کی پرورش کی زیادہ قدرت رکھنے والی ہے، لہٰذا بچے کو اس کے حوالے کیا جائے تو اس میں بچے پر زیادہ شفقت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِلَيْهِ أَشَارَ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِقَوْلِهِ: اور اسی کی طرف اشارہ کیا حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس قول کے ذریعے: رِيقُهَا خَيْرٌ لَهُ: کہ اس بچے کی ماں جو ہے اس کا لعاب اس بچے کے لیے بہتر ہے، مِنْ شَهْدٍ وَعَسَلٍ عِنْدَكَ يَا عُمَرُ: اے عمر! تمہارے پاس چھتے سے نکالے ہوئے یا غیر نکالے ہوئے شہد کے مقابلے میں، قَالَ حِينَ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ: حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا جس وقت جدائی واقع ہو گئی تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان اور ان کی بیوی کے درمیان، وَالصَّحَابَةُ حَاضِرُونَ: اور صحابہ حاضر تھے، مُتَوَافِرُونَ: کثیر تھے، بہت سے صحابہ وہاں حاضر تھے۔ وَالنَّفَقَةُ عَلَى الْأَبِ: اور بچے کا نفقہ، جو خرچہ وغیرہ ہے، عَلَى الْأَبِ: باپ پر ہوگا، عَلَى مَا نَذْكُرُ: اس وجہ سے جو ہم ذکر کریں گے۔ میں نے بتلایا تھا کہ علیٰ کبھی علت بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے، تو بچے کا خرچہ جو ہے باپ پر ہوگا: عَلَى مَا نَذْكُرُ: اس وجہ سے جو ہم ذکر کریں گے، آگے باب النفقات میں وہ ذکر فرمائیں گے۔ وَلَا تُجْبَرُ الْأُمُّ عَلَيْهِ: اور ماں کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی ماں اگر بچے کی پرورش نہیں کرنا چاہتی، جدائی آ چکی ہے، طلاق واقع ہو چکی ہے تو ماں کو بچے کی پرورش پر زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ بچے کی پرورش سے عاجز آ جائے، نہ کر سکے بچے کی پرورش بھئی، تو لہٰذا اس لیے اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا تُجْبَرُ الْأُمُّ عَلَيْهِ: اور ماں کو بچے کی پرورش پر مجبور نہیں کیا جائے گا، لِأَنَّهَا عَسَى تَعْجِزُ عَنِ الْحَضَانَةِ: اس لیے کیونکہ شاید یہ عاجز آ جائے بچے کی پرورش سے۔ یہ بچے کی پرورش سے عاجز آ جائے، تو اس کے عاجز آنے کا احتمال ہے لہٰذا اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أُمٌّ فَأُمُّ الْأُمِّ أَوْلَى مِنْ أُمِّ الْأَبِ. بھئی یاد رکھو، یہ جو بچے کی پرورش کی بات ہو رہی ہے آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جب لڑکا سات سال کا ہو جائے تو اب باپ اس کی پرورش کا زیادہ حقدار ہے۔ تو سات سال کی عمر کا جب لڑکا ہو جائے تو باپ اس کو زبردستی لے سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ اب اس بچے کو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے اور باپ اس کی زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ اس سے پہلے، سات سال سے پہلے، ماں زیادہ قدرت رکھتی تھی بچے کی پرورش کی، لیکن اب تعلیم و تربیت کی ضرورت پیش آ گئی اور باپ اس پر زیادہ قادر ہے۔ اسی طرح لڑکی جو ہے وہ جب نو سال کی ہو جائے تو پھر اب باپ جو ہے اس کو زبردستی لے سکتا ہے، اس لیے کیونکہ اب اس کی حفاظت کی ضرورت پیش آ گئی اور اس کی شادی کروانے کی ضرورت پیش آ گئی اور باپ اس کی زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں جو یہ بیان ہو رہا ہے کہ ماں زیادہ حقدار ہے، آگے بتائیں گے اس کے بعد درجہ نانی کا ہے، اگر ماں شادی کر لیتی ہے تو ماں کا حق ختم، اب نانی کا حق آ گیا وہ بچے کی پرورش کرے گی۔ اگر نانی بھی پرورش نہیں کر سکتی یا نانی زندہ نہیں ہے تو پھر بچے کی دادی کا حق ہے۔ اور بچے کی دادی بھی زندہ اگر نہیں ہے تو پھر اس کے بعد اگر اس بچے کی کوئی بہنیں ہیں تو ان کا حق ہے، اگر بہنیں بھی نہیں ہیں تو پھر اس کے بعد اگر خالہ ہے کوئی تو خالہ کا زیادہ حق ہے، اگر خالہ بھی نہیں ہے تو پھر پھوپھی کا حق ہے یعنی باپ کی بہن کا، اگر پھوپھی بھی نہیں ہے تو پھر اس کے بعد باپ کا حق ہے۔ تو پھر اس کے بعد باپ کا حق ہے۔ تو یہ ساری جو تفصیل بیان ہو رہی ہے یہ بچے کے سات سال سے پہلے کی بات ہو رہی ہے، لڑکا ہو تو سات سال سے پہلے کی بات ہو رہی ہے اور لڑکی ہے تو نو سال سے پہلے کی بات ہو رہی ہے۔ ہاں جب لڑکا سات سال کا ہو گیا اب باپ زیادہ حقدار ہے، وہ زبردستی لے سکتا ہے بچے کو، اور لڑکی جب نو سال کی ہو گئی تو اب باپ زیادہ حقدار ہے، وہ لڑکی کو زبردستی لے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أُمٌّ: اور اگر بچے کی ماں نہ ہو یعنی وہ وفات پا چکی ہے یا اس نے کسی اجنبی سے نکاح کر لیا ہے تو اس کا حق ختم ہو گیا، فَأُمُّ الْأُمِّ أَوْلَى: تو پھر ماں کی ماں جو ہے یعنی نانی، أَوْلَى: وہ زیادہ لائق ہے، مِنْ أُمِّ الْأَبِ: باپ کی ماں کے مقابلے میں یعنی دادی کے مقابلے میں۔ نانی زیادہ حقدار ہے دادی کے مقابلے میں، وَإِنْ بَعُدَتْ: اگرچہ دور کی ہی کیوں نہ ہو۔ نانی ہے، پرنانی ہے، اس سے اوپر مثلاً لکڑنانی ہے تو وہ زیادہ حقدار ہیں کس کے مقابلے میں؟ دادی کے مقابلے میں۔ تو یہ معنی ہے: فَأُمُّ الْأُمِّ أَوْلَى مِنْ أُمِّ الْأَبِ: تو نانی جو ہے وہ زیادہ لائق ہے دادی کے مقابلے میں، وَإِنْ بَعُدَتْ: اگرچہ دور کی ہو۔ لِأَنَّ هَذِهِ الْوِلَايَةَ تُسْتَفَادُ مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ: اس لیے کیونکہ یہ جو ولایت ہے، یہ جو بچے کی پرورش کی ولایت ہے، تُسْتَفَادُ: یہ حاصل کی جاتی ہے، مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ: ماؤں کی طرف سے۔ یہ جو ولایتِ پرورش ہے یہ ماؤں کی جانب سے حاصل کی جاتی ہے یعنی کہنا یہ چاہتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ایک طرف ایک عورت ہے اس کے ساتھ رشتہ باپ کے واسطے سے ہے اور ایک طرف ایک عورت ہے اس کا رشتہ ماں کے واسطے سے ہے تو قرابتِ اُم کو ترجیح ہوگی۔ قرابت کا معنیٰ رشتہ، رشتہ۔ ماں کا جو رشتہ ہے جس جانب سے اس عورت کو ترجیح ہوگی قرابتِ اب کے مقابلے میں۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ هَذِهِ الْوِلَايَةَ تُسْتَفَادُ مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ: اس لیے کیونکہ یہ ولایت حاصل ہوتی ہے ماؤں کی جانب سے، لہٰذا ماں کے رشتہ دار کو ترجیح ہوگی باپ کے رشتہ دار پر۔ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ أُمُّ الْأُمِّ فَأُمُّ الْأَبِ أَوْلَى مِنَ الْأَخَوَاتِ: اگر اس بچے کی نانی نہیں ہے فَأُمُّ الْأَبِ أَوْلَى: تو پھر دادی زیادہ لائق ہے، مِنَ الْأَخَوَاتِ: بہنوں کے مقابلے میں، لِأَنَّهَا مِنَ الْأُمَّهَاتِ: اس لیے کیونکہ دادی جو ہے وہ ماؤں میں سے ہے۔ یاد رکھو ہمارے اوپر ماں باپ سے اوپر جتنی عورتیں ہیں وہ سب ہماری نانیاں اور دادیاں ہیں بھئی۔ کوئی قریب والی نانی ہے، کوئی دور والی نانی ہے۔ اسی طرح کوئی قریب والی دادی ہے اور کوئی دور والی دادی ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ سب مائیں ہیں۔ جب یہ سب مائیں ہیں تو ان کا درجہ بہنوں پر مقدم ہوگا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهَا مِنَ الْأُمَّهَاتِ: اس لیے کیونکہ یہ جو دادیاں ہیں یہ ماؤں میں سے ہیں، وَلِهَذَا تُحْرِزُ مِيرَاثَهُنَّ السُّدُسَ: اور اسی لیے یہ سمیٹ لیتی ہیں اپنی میراث سدس کو۔ یاد رکھو علمِ میراث کے اندر آپ پڑھیں گے کہ ماں کو کتنا حصہ ملے گا، تو بعض صورتوں میں ماں کو سدس ملتا ہے چھٹا حصہ، بعض صورتوں میں ثلث وغیرہ ملتا ہے اور بعض میں سدس ملتا ہے، اور یہ جو دادی ہے اس کو بھی سدس یعنی چھٹا حصہ ملتا ہے۔ تو یہ اسی وجہ سے اس کو چھٹا حصہ ملتا ہے کہ یہ بھی ماؤں میں سے ہے، جیسے ماں کو چھٹا حصہ ملتا ہے اسی طرح دادی کو بھی چھٹا حصہ ملتا ہے۔ یہ معنی ہے کہ: لِأَنَّهَا مِنَ الْأُمَّهَاتِ: یہ دادی جو ہے یہ بھی ماؤں میں سے ہے، وَلِهَذَا تُحْرِزُ مِيرَاثَهُنَّ السُّدُسَ: اور اسی لیے یہ سمیٹ لیتی ہے اپنی میراث سدس کو۔ وَلِأَنَّهَا أَوْفَرُ شَفَقَةً لِلْوِلَادِ: شفقت بھئی، شَفَقَةٌ۔ میں نے بتلایا تھا کہ اردو میں تو لفظ ہے شفقت بھئی، فا ساکن ہے، لیکن عربی میں فا پر فتحہ ہے: وَلِأَنَّهَا أَوْفَرُ شَفَقَةً لِلْوِلَادِ: اور اس لیے کیونکہ یہ جو دادیاں ہیں یہ زیادہ شفقت کرنے والی ہیں لِلْوِلَادِ پیدائش کی وجہ سے۔ ولاد اور ولادت کا ایک معنیٰ، بچے کی پیدائش۔ یہ بچے کی پیدائش کی وجہ سے زیادہ شفقت کرنے والی ہیں کیونکہ یہ وہ عورتیں ہیں جو اس بچے کو جنم دینے والی ہیں یعنی واسطے کے ذریعے، باپ کی جو اولاد ہے وہ بھی اس دادی ہی کی اولاد ہے، البتہ بچے اور دادی کے درمیان باپ کا واسطہ ہے بھئی۔ تو لہٰذا ان کی شفقت بچوں پر زیادہ ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهَا أَوْفَرُ شَفَقَةً لِلْوِلَادِ: اور اس لیے کیونکہ یہ جو دادیاں ہیں یہ زیادہ شفقت والی ہوتی ہیں لِلْوِلَادِ پیدائش کی وجہ سے کہ یہ انہی کی اولاد ہے۔ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ جَدَّةٌ: اور اگر اس بچے کی کوئی جدہ نہ ہو، جدہ کا لفظ دادی اور نانی دونوں کو شامل ہے عربی زبان میں۔ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ جَدَّةٌ: اگر اس بچے کی کوئی جدہ نہ ہو یعنی کوئی دادی نانی نہ ہو، فَالْأَخَوَاتُ أَوْلَى مِنَ الْعَمَّاتِ وَالْخَالَاتِ: تو بہنیں وہ زیادہ لائق ہیں پھوپھیوں اور خالاؤں کے مقابلے میں۔ پہلا درجہ کس کا تھا؟ ماں کا۔ اس کے بعد نانی، چاہے اوپر تک ہو۔ اس کے بعد دادی، چاہے اوپر تک ہو۔ اس کے بعد اب بہنیں آ گئیں اور بہنوں کے بعد خالہ کا درجہ بیان فرمائیں گے اور خالہ کے بعد پھوپھی کا۔ تو کہتے ہیں: اگر اس بچے کی کوئی دادیاں نانیاں نہیں ہیں: فَالْأَخَوَاتُ أَوْلَى مِنَ الْعَمَّاتِ وَالْخَالَاتِ: تو اس کی بہنیں جو ہیں وہ زیادہ لائق ہیں اس بچے کی پھوپھیوں اور خالاؤں کے مقابلے میں، لِأَنَّهُنَّ بَنَاتُ الْأَبَوَيْنِ: اس لیے کیونکہ یہ ماں باپ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ ماں باپ کی بیٹیاں ہیں۔ بھئی دیکھو پھوپھی کس کو کہتے ہیں؟ دادا کی بیٹی کو۔ اور خالہ کس کو کہتے ہیں؟ نانا کی بیٹی کو، ماں کی بہن نانا کی بیٹی، اور پھوپھی باپ کی بہن یعنی دادا کی بیٹی۔ تو وہ دور کا رشتہ ہے ان کے ساتھ، اور جبکہ یہ اس بچے کی جو بہنیں ہیں چاہے حقیقی بہن ہو چاہے علاتی بہن ہو چاہے اخیافی بہن ہو یہ قریبی ہے کیونکہ وہ یا تو انہی کے ماں باپ کی بیٹیاں ہوں گی یا صرف اسی کے باپ کی بیٹی ہوگی یا اسی کے ماں کی بیٹی ہوگی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بہنیں تین قسم کی ہو سکتی ہیں: اگر ایک بچہ اور اس کی بہن جو ہے دونوں کے ماں باپ ایک ہی ہیں یعنی باپ بھی دونوں کا ایک ماں بھی ایک، تو ان کو کہیں گے حقیقی بھئی بہن۔ اور اگر دونوں کا باپ تو ایک ہے لیکن مائیں الگ ہیں یعنی ایک ہی شخص نے دو شادیاں کی ہیں ایک بیوی سے لڑکا ہے اور دوسری بیوی سے لڑکی ہے تو یہ لڑکا اور لڑکی آپس میں بھئی بہن ہیں لیکن یہ علاتی بھئی بہن کہلائیں گے کیونکہ ان کا باپ ایک ہے البتہ مائیں الگ الگ ہیں، تو باپ ایک ہو اور مائیں الگ الگ ہوں تو اس کو علاتی بھئی بہن کہتے ہیں۔ اور اگر ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہیں، مثلاً ایک عورت نے زید سے نکاح کیا تھا اس سے بیٹا ہوا پھر زید کا انتقال ہو گیا پھر اس عورت نے کسی اور سے نکاح کر لیا اور اس سے بیٹی ہوئی، تو یہ آپس میں یہ بھئی بہن ان کی ماں تو ایک ہی ہے لیکن باپ الگ الگ ہیں تو ان کو اخیافی بھئی بہن کہیں گے۔ تو بہنیں کتنی قسم کی ہو سکتی ہیں؟ تین: یا حقیقی بہن ہوگی، یا علاتی بہن ہوگی، یا اخیافی۔ حقیقی بہن کا کیا معنیٰ؟ ماں باپ شریک۔ اور علاتی بہن کا کیا معنیٰ؟ باپ شریک۔ اور اخیافی بہن؟ ماں شریک، ماں شریک۔ تو یہ جو بہنیں ہیں یہ ماں باپ کی اولاد ہیں، یہ بچے کے قریبی رشتہ دار ہیں، اور خالہ اور پھوپھی دور کی ہیں ان کے مقابلے میں لہٰذا بہنیں مقدم ہوں گی بھئی۔ اور پھر بہنوں کے اندر، پھر بہنوں کے اندر جو حقیقی بہن ہے وہ علاتی اور اخیافی پر مقدم ہوگی کیونکہ حقیقی بہن کے ساتھ رشتہ دو طرف سے ہے: ماں کی طرف سے بھی ہے اور باپ کی طرف سے بھی ہے، دونوں کے ماں باپ ایک ہیں۔ تو دو جانب سے رشتہ ہو گیا بھئی کا بہن کے ساتھ، ماں کی طرف سے بھی اور باپ کی طرف سے بھی۔ اور اس کے بعد پھر آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ حقیقی بہن کے بعد دوسرا درجہ اخیافی بہن کا ہے۔ اخیافی بہن وہ جو ماں شریک بہن ہے۔ وجہ یہ کیونکہ یہ ولایت کس کی طرف سے حاصل ہوتی ہے؟ ماؤں کی طرف سے، ماؤں میں شفقت زیادہ ہے، اور اخیافی بہن کے ساتھ بھی رشتہ کس کے واسطے سے ہے؟ ماں کے واسطے سے ہے، لہٰذا وہ مقدم ہوگی کس کے مقابلے میں؟ علاتی بہن کے مقابلے میں، جیسے نانی مقدم تھی دادی پر، کیونکہ نانی کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے تھا اور دادی کے ساتھ رشتہ باپ کے واسطے سے ہے۔ تو کہتے ہیں: فَالْأَخَوَاتُ أَوْلَى مِنَ الْعَمَّاتِ وَالْخَالَاتِ: تو بہنیں وہ زیادہ لائق ہیں پھوپھیوں اور خالاؤں کے مقابلے میں، لِأَنَّهُنَّ بَنَاتُ الْأَبَوَيْنِ: اس لیے کیونکہ یہ جو بہنیں ہیں یہ اسی صغیر کے ماں باپ کی بیٹیاں ہیں، وَلِهَذَا قُدِّمْنَ فِي الْمِيرَاثِ: اور اسی لیے یہ جو بہنیں ہیں ان کو مقدم کیا جاتا ہے میراث میں، بہنیں میراث میں مقدم ہوتی ہیں پھوپھیوں پر اور خالاؤں پر بھئی۔ وَفِي رِوَايَةٍ: اور ایک روایت میں ہے، الْخَالَةُ أَوْلَى مِنَ الْأُخْتِ لِأَبٍ: کہ خالہ جو ہے وہ زیادہ لائق ہے مِنَ الْأُخْتِ لِأَبٍ علاتی بہن کے مقابلے میں۔ أُخْتٌ لِأَبٍ: باپ شریک بہن یعنی علاتی بہن۔ تو کہتے ہیں: وَفِي رِوَايَةٍ: اور ایک روایت میں ہے، الْخَالَةُ أَوْلَى مِنَ الْأُخْتِ: یہ روایت کتاب الطلاق کی ہے بھئی، مبسوط کی کتاب الطلاق کی ایک روایت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي رِوَايَةٍ الْخَالَةُ أَوْلَى مِنَ الْأُخْتِ لِأَبٍ: کہ خالہ جو ہے وہ زیادہ لائق ہے علاتی بہن کے مقابلے میں، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قولِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”الْخَالَةُ وَالِدَةٌ“: کہ خالہ جو ہے وہ والدہ ہے یعنی والدہ کے درجے میں ہے، خالہ جو ہے وہ والدہ یعنی ماں کے درجے میں ہے۔ وَقِيلَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: ﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ﴾: وَرَفَعَ: اور حضرت یوسف علیہ السلام نے بلند کیا، أَبَوَيْهِ: اپنے ماں باپ کو، عَلَى الْعَرْشِ: تخت پر۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس جب ان کے ماں باپ تشریف لائے تو آپ نے ان کو تخت پر بٹھایا، ان کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا، تو کہتے ہیں: ﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ﴾: اور حضرت یوسف علیہ السلام نے بلند کیا اپنے ماں باپ کو تخت پر، تو اس کے بارے میں کہا گیا ہے: إِنَّهَا كَانَتْ خَالَتَهُ: کہ یہ جو تھیں یہ ان کی خالہ تھیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی حقیقی والدہ انتقال فرما چکی تھیں اور یہ ان کی خالہ تھیں جن کے ساتھ بعد میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے نکاح کر لیا تھا۔ بیوی فوت ہو گئیں جن سے حضرت یوسف علیہ السلام تھے تو پھر انہی بیوی کی بہن یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی خالہ سے ہی انہوں نے نکاح فرما لیا تھا بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو ﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ﴾ خالہ پر بھی ماں کا اطلاق کیا گیا، ابوین سے کون مراد ہیں؟ ماں باپ، تو خالہ کو بھی ماں کہا گیا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَتُقَدَّمُ الْأُخْتُ لِأَبٍ وَأُمٍّ: اور مقدم کیا جائے گا الْأُخْتُ لِأَبٍ وَأُمٍّ وہ بہن جو ماں باپ شریک ہے یعنی حقیقی بہن کو مقدم کیا جائے گا۔ اب بہنوں کی ترتیب بتا رہے ہیں۔ بہنوں میں کیا ترتیب سب سے پہلے؟ بھئی بتلایا نا بہنیں جو ہیں وہ پھوپھیوں پر بھی مقدم، خالاؤں پر بھی مقدم۔ خود بہنیں بھی تو تین قسم کی ہو سکتی ہیں یا حقیقی ہوگی یا علاتی ہوگی یا اخیافی ہوگی، اب وہ بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَتُقَدَّمُ الْأُخْتُ لِأَبٍ وَأُمٍّ: اور مقدم کیا جائے گا حقیقی بہن کو، لِأَنَّهَا أَشْفَقُ: کیونکہ وہ زیادہ شفقت کرنے والی ہے، ثُمَّ الْأُخْتُ مِنَ الْأُمِّ: پھر اس کے بعد جو ماں شریک بہن ہے یعنی جو اخیافی بہن ہے وہ مقدم ہے، ثُمَّ الْأُخْتُ مِنَ الْأَبِ: پھر اس کے بعد جو باپ شریک بہن ہے یعنی علاتی بہن ہے، لِأَنَّ الْحَقَّ لَهُنَّ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ: اس لیے کیونکہ ان بہنوں کا جو پرورش کا حق ہے مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ وہ ماں کی طرف سے ہے، تو جس کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے یعنی اخیافی بہن وہ مقدم ہوگی اس بہن سے جس کے ساتھ رشتہ باپ کے واسطے سے ہے یعنی علاتی بہن۔ ثُمَّ الْخَالَاتُ أَوْلَى مِنَ الْعَمَّاتِ: پھر خالائیں زیادہ لائق ہیں پھوپھیوں کے مقابلے میں۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ہم نے بتا دیا کہ یہ ولایت کس سے حاصل ہوتی ہے؟ ماں کی قرابت سے، اور خالہ ماں کی بہن اور پھوپھی باپ کی بہن، تو کس کو ترجیح ہوگی؟ ماں کی بہن کو، کیونکہ یہ ولایت کس سے حاصل ہوتی ہے؟ ماں کی قرابت سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ الْخَالَاتُ أَوْلَى مِنَ الْعَمَّاتِ: پھر خالائیں وہ زیادہ لائق ہیں پھوپھیوں کے مقابلے میں، تَرْجِيحًا لِقَرَابَةِ الْأُمِّ: ماں کی رشتہ داری کو ترجیح دیتے ہوئے، وَيُنَزَّلْنَ كَمَا نَزَّلْنَا الْأَخَوَاتِ: اور یہ خالائیں بھی اسی طرح، يُنَزَّلْنَ: ان کو بھی درجہ بہ درجہ اتارا جائے گا یعنی سب سے پہلے حقیقی خالہ کا درجہ ہوگا، پھر اس کے بعد اخیافی خالہ کا درجہ ہوگا، پھر اس کے بعد علاتی خالہ کا درجہ ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَيُنَزَّلْنَ كَمَا نَزَّلْنَا الْأَخَوَاتِ: اور ان خالاؤں کو بھی درجہ بہ درجہ اتارا جائے گا جیسے کہ ہم نے بہنوں کو درجہ بہ درجہ اتارا۔ مَعْنَاهُ: معنیٰ اس کا یہ ہے، تَرْجِيحُ ذَاتِ قَرَابَتَيْنِ: کہ دو رشتوں والی کو ترجیح ہوگی۔ تَرْجِيحُ ذَاتِ قَرَابَتَيْنِ: دو رشتوں والی کو ترجیح، یعنی حقیقی خالہ جو ہے اس کو ترجیح ہوگی کیونکہ اس کے ساتھ رشتہ نانا کے واسطے سے بھی ہے اور نانی کے واسطے سے بھی ہے۔ تو کہتے ہیں: مَعْنَاهُ: معنیٰ اس کا جو ہے تَرْجِيحُ ذَاتِ قَرَابَتَيْنِ کہ دو رشتوں والی کو ترجیح ہوگی، ثُمَّ قَرَابَةِ الْأُمِّ: پھر اس کے بعد ماں کی جو قرابت ہے اس کو ترجیح ہوگی یعنی اخیافی خالہ کو، اور سب سے آخر میں علاتی خالہ۔ ثُمَّ الْعَمَّاتُ يُنَزَّلْنَ كَذَلِكَ: پھر پھوپھیوں کو بھی درجہ بہ درجہ اسی طرح اتارا جائے گا۔ یعنی حقیقی پھوپھی مقدم ہوگی اخیافی پھوپھی پر، اور اخیافی پھوپھی مقدم ہوگی علاتی پھوپھی پر۔ وَكُلُّ مَنْ تَزَوَّجَتْ مِنْ هَؤُلَاءِ يَسْقُطُ حَقُّهَا لِمَا رَوَيْنَا: تو کیا ترتیب ہوئی؟ سب سے پہلا درجہ ماں کا، اس کے بعد نانی، پھر دادی، پھر بہن، پھر خالہ اور اس کے بعد پھوپھی کا درجہ ہے۔ اور البتہ ان عورتوں میں سے جس عورت نے بھی کسی اجنبی سے شادی کر لی تو پھر اس کا حق ختم ہو جائے گا، اس کا حق ساقط ہو جائے گا اور اس کے بعد والی کا حق آ جائے گا۔ تو ماں نے اگر شادی کر لی کسی اجنبی سے تو اس کا حق ختم، اب نانی کا حق آ گیا۔ نانی نے بھی کسی سے نکاح کر لیا تو اس کا حق بھی ختم، دادی نے اس کے بعد، تو ترتیب سے اسی طرح۔ تو کہتے ہیں: وَكُلُّ مَنْ تَزَوَّجَتْ مِنْ هَؤُلَاءِ يَسْقُطُ حَقُّهَا: اور ان سب عورتوں میں سے جس نے بھی نکاح کر لیا تو اس کا حق ساقط ہو جائے گا، لِمَا رَوَيْنَا: اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی۔ حدیث میں کیا آیا تھا؟ حضور علیہ السلام نے ماں سے کیا فرمایا؟ ”أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَتَزَوَّجِي“: کہ تو بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے جب تک تو شادی نہ کر لے، تو اس حدیث کی وجہ سے۔ وَلِأَنَّ زَوْجَ الْأُمِّ إِذَا كَانَ أَجْنَبِيًّا: اور اس لیے کیونکہ ماں کا جو خاوند ہے، ماں نے دوسری جگہ نکاح کر لیا، ماں کا جو خاوند ہے إِذَا كَانَ أَجْنَبِيًّا جب وہ اس بچے کے لیے اجنبی ہے یعنی اس کا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہے۔ ”فَيُعْطِيهِ نَزْرًا وَيَنْظُرُ إِلَيْهِ شَزْرًا فَلَا نَظَرَ“ ”يُعْطِيهِ نَزْرًا“ نَزَرَ يَنْزُرُ نَزْرًا کا معنی ہے کسی کو تھوڑی سی چیز دینا۔ تھوڑی سی چیز دینا۔ ”وَيَنْظُرُ إِلَيْهِ شَزْرًا“ شَزَرَ يَشْزِرُ شَزْرًا کا معنی ہے کسی کی طرف نفرت کی نگاہ سے دیکھنا، یا حقارت کی نگاہ سے دیکھنا۔ تو صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں ایک تو حدیث ذکر فرما دی اور دوسری عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ ماں جب کسی اجنبی کے ساتھ نکاح کرے گی تو وہ اس بچے کو تھوڑا دے گا، وہ اس بچے پر شفقت نہیں کرے گا، وہ اس کو تھوڑی چیز دے گا اور نیز اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا۔ تو یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ زَوْجَ الْأُمِّ إِذَا كَانَ أَجْنَبِيًّا“ اور اس لیے کیونکہ ماں کا خاوند جب وہ اجنبی ہو ”يُعْطِيهِ نَزْرًا“ تو وہ اس بچے کو تھوڑی سی چیز دے گا ”وَيَنْظُرُ إِلَيْهِ شَزْرًا“ اور دیکھے گا اس بچے کی طرف نفرت کی نظر سے ”فَلَا نَظَرَ“ تو اس میں اب شفقت نہیں ہے، لہٰذا اب ماں کا حق ساقط ہو گیا۔ ”قَالَ: إِلَّا الْجَدَّةَ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا الْجَدَّ“ ہاں، ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”إِلَّا الْجَدَّةَ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا الْجَدَّ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ بچے کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے اور اب پرورش کا حق نانی کے پاس آیا اور اس نانی نے اب شادی کر لی اور شادی کس سے کی؟ بچے کے دادا سے شادی کر لی۔ بچے کے دادا سے شادی کر لی، تو دادا تو پہلے ہی بچے کا محرم رشتہ دار ہے۔ لہٰذا اس کی وجہ سے اس نانی کا حق ساقط نہیں ہوگا۔ یا بچے کی ماں کا بھی انتقال ہو چکا ہے، نانی کا بھی انتقال ہو چکا ہے، دادی زندہ ہے اور پھر اس دادی نے بچے کے نانا سے نکاح کر لیا۔ تو نانا تو وہ تو پہلے ہی بچے کا محرم ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے دادی کا حق ساقط نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”إِلَّا الْجَدَّةَ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا الْجَدَّ“ جدہ، میں نے بتایا دادی اور نانی دونوں کو شامل ہے۔ مگر بچے کی جدہ جو ہے ”إِذَا كَانَ زَوْجُهَا الْجَدَّ“ جب اس کا خاوند بچے کا جد ہو، دادا یا نانا ہو ”لِأَنَّهُ قَامَ مَقَامَ أَبِيهِ“ اس لیے کیونکہ یہ بچے کے باپ کے قائم مقام ہے ”فَيَنْظُرُ لَهُ“ تو وہ اس بچے پر شفقت کرے گا۔ ”وَكَذَلِكَ كُلُّ زَوْجٍ هُوَ ذُو رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ“ اور اسی طرح ہر ایسا خاوند ہے جو بچے کا قریبی محرم رشتہ دار ہو۔ مثلاً ماں نے بچے کے چچا سے نکاح کر لیا، تو اس سے ماں کا حق ساقط نہیں ہوگا۔ اس لیے کیونکہ چچا بچے کا قریبی محرم رشتہ دار ہے۔ قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے۔ محرم کیسے؟ بھئی دیکھو، اگر دونوں مذکر ہیں چچا اور بچہ، تو دونوں میں سے باری باری ہر ایک کو مونث فرض کرو۔ بچے کو اگر مونث فرض کریں تو یہ بھئی کی بیٹی ہوئی، یعنی بھتیجی ہوئی اور بھتیجی انسان پر حرام ہوتی ہے، تو ایک طرف سے دیکھو حرمت ہے۔ اس کا برعکس کر لیں کہ بچے کو مذکر ہی رہنے دیں اور چچا کو مونث فرض کر لیں، تو اب بچے میں اور اس کے درمیان پھوپھی والا رشتہ آ گیا، پھوپھی اور بھتیجے والا، اور بھتیجے پر پھوپھی بھی حرام ہوتی ہے۔ تو دیکھو دونوں طرف سے قریبی رشتہ بھی موجود ہے اور محرم بھی بن رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَلِكَ كُلُّ زَوْجٍ هُوَ ذُو رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ“ اور اسی طرح ہر ایسا خاوند ہے جو اس بچے کا قریبی رشتہ دار ہو، ”مَحْرَمٍ مِنْهُ“ اور اس کا محرم ہو ”لِقِيَامِ الشَّفَقَةِ“ اس لیے کیونکہ شفقت موجود ہے ”نَظَرًا إِلَى الْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ“ قریبی رشتہ داری کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ ”وَمَنْ سَقَطَ حَقُّهَا بِالتَّزَوُّجِ“ اچھا بھئی، ان عورتوں میں سے کسی کا حق ساقط ہو گیا نکاح کی وجہ سے، تو حق ساقط ہو گیا، لیکن پھر اس خاوند نے اس عورت کو طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہو گیا۔ تو مانع چلا گیا، جس شخص نے بچے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنا تھا اس سے عورت کی جدائی آ گئی یا اس کا انتقال ہو گیا، تو اب مانع چلا گیا تو اس عورت کا حق پھر لوٹ آئے گا پرورش کا بھئی۔ کہتے ہیں ”وَمَنْ سَقَطَ حَقُّهَا بِالتَّزَوُّجِ“ اور جس کا حق ساقط ہو گیا شادی کرنے کی وجہ سے ”يَعُودُ“ تو وہ حق پھر لوٹ آئے گا ”إِذَا ارْتَفَعَتِ الزَّوْجِيَّةُ“ جب وہ زوجیت یعنی وہ جو رشتہ ہے وہ اٹھ جائے، ختم ہو جائے ”لِأَنَّ الْمَانِعَ قَدْ زَالَ“ اس لیے کیونکہ مانع زائل ہو گیا، ختم ہو گیا۔ ”فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِلصَّبِيِّ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَاخْتَصَمَ فِيهِ الرِّجَالُ“ اچھا بھئی، بچے کے رشتہ داروں میں کوئی عورت نہیں ہے؛ بچے کی ماں، نانی، دادی، بہن، خالہ، پھوپھی، ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، اب مردوں کے اندر جھگڑا ہے پرورش کا، تو پھر مردوں میں وہی ترتیب ہے جو عصبات کے اندر ہے۔ عصبات وہ قریبی مرد رشتہ دار ہیں کہ ان کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آتا ہو بھئی، جیسے بیٹا ہے، پوتا ہے، پڑپوتا ہے یا اوپر کی طرف چلے جائیں باپ ہے، دادا ہے، پردادا ہے، یا باپ کی اولاد ہے یعنی بھئی ہیں، یا بھائیوں کی جو اولاد ہے یعنی بھتیجے ہیں اور ان کی اولاد جو ہے، یا اسی طرح پھر دادا کی جو اولاد ہے یعنی باپ کا بھئی چچا، یا چچا کی آگے مذکر اولاد ہے، یہ سب عصبات ہیں۔ تو عصبات میں سب سے پہلا درجہ اولاد کا ہوتا ہے، لیکن یہاں تو صغیر کی بات چل رہی ہے، اس کی تو اولاد ہے نہیں، اس کی پرورش کا مسئلہ چل رہا ہے، تو پھر دوسرا درجہ کس کا ہے؟ باپ کا، اس کے بعد دادا کا، اگر وہ بھی نہیں ہے تو پردادا کا۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہیں ہیں، پھر اس بچے کے بھئی کا درجہ ہے۔ اگر بھئی نہیں ہے، تو اگر بھائیوں کی مذکر اولاد ہے تو ان کا درجہ ہے۔ اگر ان میں سے بھی کوئی نہیں ہے، اپنا بھئی نہیں ہے، تو پھر باپ کا جو بھئی ہے یعنی چچا، چچا وہ حقدار ہوگا۔ اگر چچا نہیں ہے تو پھر چچا کی اگر مذکر اولاد زندہ ہے تو وہ حقدار ہے۔ ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِلصَّبِيِّ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ“ اور اگر بچے کے لیے کوئی عورت نہ ہو اس کے گھر والوں میں سے ”فَاخْتَصَمَ فِيهِ الرِّجَالُ“ تو اس کے اندر مردوں نے جھگڑا کیا ”فَأَوْلَاهُمْ أَقْرَبُهُمْ تَعْصِيبًا“ تو زیادہ لائق ان میں سے وہ ہے جو زیادہ قریب ہے بچے کے تعصیباً، عصبہ ہونے کے اعتبار سے ”لِأَنَّ الْوِلَايَةَ لِلْأَقْرَبِ“ اس لیے کیونکہ ولایت جو ہے وہ زیادہ قریب والے کے لیے ہوتی ہے، تو ان میں جو سب سے قریبی ہوگا اس کو ولایت ہوگی ”وَقَدْ عُرِفَتِ التَّرْتِيبُ فِي مَوْضِعِهِ“ اور تحقیق اس ترتیب کو جانا گیا ہے اپنے مقام میں، یعنی باب المیراث کے اندر بھی اس کو ذکر کیا گیا ہے اور نیز ولایتِ نکاح کے اندر بھی اس کو ذکر کیا گیا ہے۔ تو پہلا درجہ کس کا ہوگا؟ باپ کا، پھر دادا، پھر پردادا، اگر ان میں سے کوئی نہیں تو پھر باپ کی اولاد یعنی بھئی، اس صغیر کے بھئی اگر زندہ ہیں اور وہ بالغ ہیں اور بڑے ہیں، یا بھائیوں کی اگر اولاد ہے، اور اگر بھئی یا ان کی اولاد نہیں ہے تو پھر باپ کے جو بھئی ہیں یعنی چچا وغیرہ اور اگر وہ نہیں ہے تو ان کی اولاد بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَدْ عُرِفَتِ التَّرْتِيبُ فِي مَوْضِعِهِ“ اور تحقیق اس ترتیب کو جانا گیا ہے اپنے مقام میں ”غَيْرَ أَنَّ الصَّغِيرَةَ لَا تُدْفَعُ إِلَى عَصَبَةٍ غَيْرِ مَحْرَمٍ كَمَوْلَى الْعَتَاقَةِ وَابْنِ الْعَمِّ تَحَرُّزًا عَنِ الْفِتْنَةِ“ کہتے ہیں ہاں، البتہ ایک بات ہے، اگر یہ بچہ جو ہے یہ صغیرہ ہے، لڑکی ہے نابالغہ جس کی پرورش میں جھگڑا ہے، تو پھر اس صورت میں غیرِ محرم عصبہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا اس کو۔ غیرِ محرم عصبہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ بھئی آپ علمِ میراث میں پڑھ چکے ہیں، کچھ قریبی رشتہ دار ہیں ان کو ذوی الفروض کہتے ہیں، یعنی حصوں والے جن کے حصے باقاعدہ باقاعدہ شریعت میں مقرر ہیں، کسی کو نصف ملنا ہے، کسی کو ثلث ملنا ہے، کسی کو ربع ملنا ہے، کسی کو سدس ملنا ہے، مختلف حصے مقرر ہیں، یہ ذوی الفروض ہیں۔ اور اس کے علاوہ باقی کچھ رشتہ دار ہیں وہ عصبات کہلاتے ہیں، جیسے بیٹا ہے، پوتا ہے، پڑپوتا ہے یا اوپر کی طرف باپ ہے، دادا ہے، پردادا ہے، یا اطراف کے اندر جیسے بھئی ہیں یا بھائیوں کی مذکر اولاد، یا اسی طرح باپ کے بھئی ہیں یعنی چچا اور چچاؤں کی مذکر اولاد، یہ سارے عصبات ہیں بھئی۔ تو ذوی الفروض سے جب مال بچ جائے تو اس کو عصبات لے جاتے ہیں۔ اگر یہ نسبی عصبات کوئی نہیں، تو پھر سببی عصبات کو دیکھیں گے اور سببی عصبہ مولی العتاقہ کو کہتے ہیں، یعنی وہ شخص جس نے اس میت کو آزاد کیا تھا۔ کسی زمانے میں یہ مرنے والا غلام تھا بھئی اور اس کو ایک شخص نے خرید کر آزاد کیا تھا، تو وہ جو آقا ہے وہ بھی عصبہ ہے، وہ بھی کیا ہے؟ عصبات، لیکن وہ عصبۂ سببی ہے بھئی، سبب کے اعتبار سے عصبہ ہے، نسب کے اعتبار سے عصبہ نہیں۔ تو لہٰذا وارثوں میں سب سے پہلا درجہ کس کا؟ ذوی الفروض کا، اس کے بعد باقی جو مال بچے وہ سارا کس کو؟ نسبی عصبات کو ملے گا، اگر نسبی عصبہ کوئی نہیں تو پھر سببی عصبہ یعنی یہ آزاد کرنے والا جو ہے اس کو باقی کا مال مل جائے گا اور یہ جو مال اس کو ملے گا اس کو ولاء کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولاء، یہ وہی مالِ میراث ہے جو معتق کو مل رہا ہے، میت کو آزاد کرنے والے کو مل رہا ہے۔ تو لہٰذا مسئلہ یہ چل رہا ہے کہ بچے کی پرورش کے اندر مردوں کے اندر جھگڑا ہے تو اگر یہ صغیرہ ہے، لڑکی ہے، تو پھر غیرِ محرم عصبہ کے حوالے نہیں کریں گے۔ غیرِ محرم عصبہ، مثلاً مولی العتاقہ ہے، آزاد کرنے والا یعنی معتق جو ہے، تو یہ اس کا غیرِ محرم ہے لہٰذا اس کے حوالے نہیں کریں گے۔ یا اسی طرح چچا کا بیٹا، اب چچا کے بیٹے کے لیے تو اس سے نکاح جائز ہے بھئی، لہٰذا وہ اس کا غیرِ محرم ہے تو اس کے حوالے بھی اس صغیرہ کو نہیں کریں گے فتنے سے بچنے کے لیے۔ کیونکہ اگر ان کے حوالے صغیرہ کو کر دیا جائے پھر تو فتنے کا خطرہ ہے۔ تو کہتے ہیں ”غَيْرَ أَنَّ الصَّغِيرَةَ لَا تُدْفَعُ إِلَى عَصَبَةٍ غَيْرِ مَحْرَمٍ“ مگر یہ کہ صغیرہ جو ہے اس کو حوالے نہیں کیا جائے گا ایسے عصبہ کے جو محرم نہ ہو ”كَمَوْلَى الْعَتَاقَةِ“ جیسے مولی العتاقہ ہے یعنی آزاد کرنے والا ”وَابْنِ الْعَمِّ“ اور جیسے چچا کا بیٹا ہے، ان کے حوالے صغیرہ کو نہیں کیا جائے گا ”تَحَرُّزًا عَنِ الْفِتْنَةِ“ فتنے سے بچنے کے لیے، کیونکہ اگر صغیرہ کو ان کے حوالے کریں گے تو اس میں فتنے کا خطرہ ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْغُلَامِ حَتَّى يَأْكُلَ وَحْدَهُ وَيَشْرَبَ وَحْدَهُ وَيَلْبَسَ وَحْدَهُ وَيَسْتَنْجِيَ وَحْدَهُ“ ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ“ اور ماں اور دادی نانی جو ہیں ”أَحَقُّ بِالْغُلَامِ“ وہ لڑکے کی زیادہ حقدار ہیں ”حَتَّى يَأْكُلَ وَحْدَهُ“ یہاں تک کہ وہ اکیلا کھانا کھانے لگے ”وَيَشْرَبَ وَحْدَهُ“ اور اکیلا پینے لگے ”وَيَلْبَسَ وَحْدَهُ“ اور اکیلا کپڑے پہننے لگے ”وَيَسْتَنْجِيَ وَحْدَهُ“ اور اکیلا استنجا کرنے لگے۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور جامع صغیر میں ہے، آگے صاحبِ ہدایہ جامع صغیر کی بھی عبارت ذکر فرما رہے ہیں۔ پیچھے قدوری کی عبارت تھی، قدوری کی عبارت کے اندر استنجا کا ذکر ہے لیکن جامع صغیر کے اندر استنجا کا ذکر نہیں ہے۔ تو عبارتوں میں چونکہ تھوڑا سا فرق تھا اس لیے اب اس کو بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے ”حَتَّى يَسْتَغْنِيَ“ یہاں تک کہ بچہ بے نیاز ہو جائے، ماں کے بغیر اب وہ زندگی گزار سکے بھئی۔ تو جامع صغیر میں ہے ”حَتَّى يَسْتَغْنِيَ“ کہ یہاں تک کہ بچہ بے نیاز ہو جائے ”فَيَأْكُلَ وَحْدَهُ“ پس اکیلا وہ کھا سکے ”وَيَشْرَبَ وَحْدَهُ“ اور اکیلا پی سکے ”وَيَلْبَسَ وَحْدَهُ“ اور اکیلا کپڑے پہن سکے۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ“ اور معنی ایک ہی ہے۔ یعنی قدوری کی عبارت میں استنجا کا ذکر ہے اور جامع صغیر کی عبارت میں ہے کہ یہاں تک کہ وہ بے نیاز ہو جائے، تو دونوں کا معنی ایک ہی ہے اس لیے کیونکہ بے نیازی تبھی حاصل ہوگی بچے کو جب وہ استنجا کر سکے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ“ اور دونوں عبارتوں کا معنی ایک ہی ہے ”لِأَنَّ تَمَامَ الِاسْتِغْنَاءِ بِالْقُدْرَةِ عَلَى الِاسْتِنْجَاءِ“ اس لیے کیونکہ بے نیازی کا پورا ہونا استنجا پر قدرت سے ہی ہوگا ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ جب بچہ ماں اور دادی نانی سے بے نیاز ہو جائے، تو اس کے بعد پھر باپ زیادہ حقدار ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے ”أَنَّهُ إِذَا اسْتَغْنَى“ اس لیے کیونکہ جب بچہ بے نیاز ہو گیا یعنی اب یہ سب کام وہ خود کر سکتا ہے، تو اب ”يَحْتَاجُ إِلَى التَّأَدُّبِ وَالتَّخَلُّقِ بِآدَابِ الرِّجَالِ وَأَخْلَاقِهِمْ“ تأدب کا معنی ہے ادب سیکھنا، تخلق کا معنی ہے اخلاق سیکھنا۔ ”بِآدَابِ الرِّجَالِ“ آداب الرجال کو جوڑیں تأدب کے ساتھ، اور آگے آ رہا ہے ”وَأَخْلَاقِهِمْ“ یعنی اخلاق الرجال، اس کو جوڑیں تخلق کے ساتھ۔ تو گویا عبارت یوں ہے کہ ”أَنَّهُ إِذَا اسْتَغْنَى“ جب بچہ بے نیاز ہو گیا ”يَحْتَاجُ إِلَى التَّأَدُّبِ بِآدَابِ الرِّجَالِ“ اب وہ مردوں کے آداب سیکھنے کا محتاج ہوا ”وَالتَّخَلُّقِ بِأَخْلَاقِهِمْ“ اور وہ مردوں کے اخلاق سیکھنے کا محتاج ہو گیا۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُهُ أَنَّهُ إِذَا اسْتَغْنَى يَحْتَاجُ إِلَى التَّأَدُّبِ وَالتَّخَلُّقِ بِآدَابِ الرِّجَالِ وَأَخْلَاقِهِمْ“ تو وہ محتاج ہو گیا کہ وہ مردوں کے آداب سیکھے اور مردوں کے اخلاق سیکھے ”وَالْأَبُ أَقْدَرُ عَلَى التَّأْدِيبِ وَالتَّثْقِيفِ“ اور باپ جو ہے وہ زیادہ قادر ہے ”عَلَى التَّأْدِيبِ“ ادب سکھانے پر ”وَالتَّثْقِيفِ“ تثقیف بھئی ثاء کے ساتھ، اس کا معنی ہے مہذب بنانا، ثَقَّفَ يُثَقِّفُ تَثْقِيفًا کا معنی ہے مہذب بنانا، تعلیم یافتہ بنانا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْأَبُ أَقْدَرُ عَلَى التَّأْدِيبِ وَالتَّثْقِيفِ“ اور باپ جو ہے وہ زیادہ قادر ہے ادب سکھانے پر اور مہذب بنانے پر ”وَالْخَصَّافُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ بِسَبْعِ سِنِينَ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ“ اور امام خصاف جو ہیں انہوں نے ”قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ“ انہوں نے بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے ”بِسَبْعِ سِنِينَ“ سات سالوں کے ساتھ۔ تو امام خصاف رحمہ اللہ جو ہیں انہوں نے اندازہ لگایا ہے اس کا، اس بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے سات سال کے ساتھ کہ جب لڑکا سات سال کا ہو جاتا ہے تو اب وہ بے نیاز ہو جاتا ہے، وہ اکیلا کھا پی سکتا ہے، وہ اکیلا کپڑے بدل سکتا ہے، وہ اکیلا استنجا کر سکتا ہے، عام طور پر اسی طرح ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْخَصَّافُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام خصاف رحمہ اللہ ”قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ“ انہوں نے بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے ”بِسَبْعِ سِنِينَ“ سات سالوں کے ساتھ ”اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ“ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے کہ عام طور پر اسی طرح ہوتا ہے۔ بھئی یہاں امام خصاف کا ذکر آیا، یاد رکھو امام خصاف رحمہ اللہ تعالیٰ احناف کے بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی، بہت بڑے فقیہ ہیں اور بہت بڑے محدث ہیں بھئی اور یہ خصاف بھئی، خصاف عربی زبان میں موچی کو کہتے ہیں، یہ چونکہ موچیوں کا کام کرتے تھے اور خود اپنے ہاتھ سے کماتے تھے اپنے لیے، تو یہ کس نام سے مشہور ہو گئے؟ امام خصاف کے نام سے، اور یاد رکھو ان کی تاریخِ وفات ہے 261 ہجری، 261 ہجری یعنی یہ متقدمین فقہاء میں سے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْخَصَّافُ قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ بِسَبْعِ سِنِينَ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ“ اور امام خصاف رحمہ اللہ نے لڑکے کی بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے سات سال کے ساتھ، غالب کا اعتبار کرتے ہوئے۔ ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَحِيضَ“ تو یہاں تک آپ کو پتہ چل گیا کہ ماں، نانی، دادی، بہنیں، خالہ اور پھوپھیاں بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہیں سات سال کی عمر تک۔ سات سال کی عمر کے بعد باپ زبردستی ان سے لے سکتا ہے، کیونکہ اب بچہ تعلیم و تربیت کا محتاج ہے بھئی۔ اب لڑکی کی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَحِيضَ“ بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں، یاد رکھیں اگر وہ صغیرہ ہے یعنی لڑکی ہے تو ماں اور دادی نانی وہ اس صغیرہ کی پرورش کی حقدار ہیں اس کے بالغہ ہونے تک۔ اس کے بالغہ، متن میں آپ کو یہ بتائیں گے کہ ماں اور دادی نانی یہ اس لڑکی کی پرورش کی زیادہ حقدار ہیں اس کے بالغہ ہونے تک، لیکن یاد رکھو فتویٰ اس پر ہے، وہ بھی آگے صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے، فتویٰ اس پر ہے کہ جب لڑکی قابلِ شہوت ہو جائے یعنی نو سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اب باپ اس کو زبردستی لے سکتا ہے، کیونکہ اب اس کو حفاظت کی اور شادی کی حاجت پیش آنے والی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَحِيضَ“ اور ماں اور دادی نانی جو ہیں وہ لڑکی کی زیادہ حقدار ہیں ”حَتَّى تَحِيضَ“ یہاں تک کہ اس کو حیض آنے لگے یعنی بالغہ ہو جائے ”لِأَنَّ بَعْدَ الِاسْتِغْنَاءِ“ اس لیے کیونکہ بے نیاز ہونے کے بعد، بھئی سات سال میں تو یہ بے نیاز ہو جائے گی، سارے کام خود کر سکے گی، لیکن پھر بھی اس کو عورتوں کے آداب سیکھنے کی حاجت ہے۔ اس لڑکی کو عورتوں کے آداب اور طور طریقے سیکھنے کی حاجت ہے اور اس پر عورت زیادہ قادر ہوتی ہے، لہٰذا یہ ماں یا دادی نانی کے پاس ہی رہے گی۔ تو یہ تو متن میں ہے، البتہ آگے بتائیں گے کہ نو سال کی عمر میں باپ لے سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ بَعْدَ الِاسْتِغْنَاءِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو لڑکی ہے بے نیاز ہونے کے بعد ”تَحْتَاجُ إِلَى مَعْرِفَةِ آدَابِ النِّسَاءِ“ یہ محتاج ہوگی عورتوں کے آداب جاننے کی ”وَالْمَرْأَةُ عَلَى ذَلِكَ أَقْدَرُ“ اور عورت اس پر زیادہ قادر ہے ”وَبَعْدَ الْبُلُوغِ“ اور پھر بالغہ ہونے کے بعد ”تَحْتَاجُ إِلَى التَّحْصِينِ وَالْحِفْظِ“ پھر یہ محتاج ہوگی الی التحصین، تحصین بھئی حَصَّنَ يُحَصِّنُ تَحْصِينًا صاد کے ساتھ، اس کا معنی حفاظت کرنا بھی اور اسی طرح تحصین کا ایک معنی ہے عورت کی شادی کروانا، اسی طرح تحصین کا ایک معنی کیا ہے؟ شادی کروانا بھی، تو یہاں یہی معنی کر لیں گے۔ کہتے ہیں ”وَبَعْدَ الْبُلُوغِ تَحْتَاجُ إِلَى التَّحْصِينِ وَالْحِفْظِ“ اور بالغہ ہونے کے بعد یہ محتاج ہے شادی کی اور حفاظت کی، تو بالغہ ہونے کے بعد یہ شادی اور حفاظت کی محتاج ہے اور اس پر باپ زیادہ قادر ہوتا ہے، لہٰذا بالغ ہونے کے بعد باپ کے حوالے کیا جائے گا۔ تو تحصین کا کیا معنی ہم نے کیا؟ شادی کے، اور شادی کے ذریعے بھی لڑکی محفوظ ہو جاتی ہے تو اس میں بھی حفاظت والا معنی ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَبَعْدَ الْبُلُوغِ تَحْتَاجُ إِلَى التَّحْصِينِ وَالْحِفْظِ“ اور بالغہ ہونے کے بعد یہ لڑکی اب محتاج ہوگی تحصین یعنی شادی کی اور حفظ یعنی حفاظت کی ”وَالْأَبُ فِيهِ أَقْوَى وَأَهْدَى“ اور باپ اس کے اندر زیادہ قوی ہے اور زیادہ سمجھدار ہے حفاظت اور شادی کے معاملے میں۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهَا تُدْفَعُ إِلَى الْأَبِ“ کہ لڑکی جو ہے وہ باپ کے حوالے کر دی جائے گی ”إِذَا بَلَغَتْ حَدَّ الشَّهْوَةِ“ جب وہ شہوت کی حد تک پہنچ جائے یعنی قابلِ شہوت ہو جائے اور وہ نو سال کی عمر ہے، تو پھر باپ کے حوالے کر دی جائے گی ”لِتَحَقُّقِ الْحَاجَةِ إِلَى الصِّيَانَةِ“ اس لیے کیونکہ حاجت پیش آ گئی ہے صیانت یعنی حفاظت کی کہ اب اس کی حفاظت کی جائے کیونکہ یہ قابلِ شہوت ہو چکی ہے بھئی، اور اسی پر یاد رکھو فتویٰ ہے بھئی۔ متن میں تو آیا کہ بالغہ ہونے کے بعد باپ کے حوالے کی جائے گی لیکن امام محمد رحمہ اللہ کی ایک روایت میں کیا آیا کہ جب قابلِ شہوت ہو جائے تو اب یہ باپ کے حوالے کی جائے گی کیونکہ اب اسے حفاظت کی ضرورت ہے اور اس پر باپ زیادہ قادر ہے اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ ”وَمَنْ سِوَى الْأُمِّ وَالْجَدَّةِ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَبْلُغَ حَدًّا تُشْتَهَى“ اچھا بھئی، یہ تو تھا ماں اور دادی نانی کے بارے میں، لیکن اگر صغیرہ ماں اور نانی دادی کے علاوہ کسی اور کے پاس ہے، مثلاً بہنوں کے پاس ہے، ان کی پرورش میں ہے یا خالہ کی پرورش میں ہے یا پھوپھی کی پرورش میں ہے، تو پھر اس صورت میں اس کو کب باپ کے حوالے کیا جائے گا؟ اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَمَنْ سِوَى الْأُمِّ وَالْجَدَّةِ“ اور ماں اور دادی نانی کے علاوہ جو ہیں ”أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ“ وہ لڑکی کے زیادہ حقدار ہیں ”حَتَّى تَبْلُغَ حَدًّا تُشْتَهَى“ یہاں تک کہ لڑکی پہنچ جائے حَدًّا ایسی حد تک ”تُشْتَهَى“ کہ جو شہوت والی ہو کہ وہ شہوت کی حد کو پہنچ جائے ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے ”حَتَّى تَسْتَغْنِيَ“ یہاں تک کہ وہ لڑکی بے نیاز ہو جائے، وہ لڑکی بے نیاز ہو جائے ”لِأَنَّهَا لَا تَقْدِرُ عَلَى اسْتِخْدَامِهَا وَلِهَذَا لَا تُؤَاجِرُهَا لِلْخِدْمَةِ“ مسئلہ انہوں نے بتلایا آپ کو کہ ماں اور دادی نانی کے علاوہ کسی اور عورت کی پرورش میں اگر صغیرہ ہے تو پھر جب وہ شہوت کی حد تک پہنچ جائے تو اب باپ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اب اس کو عورتوں کے آداب سیکھنے کی ضرورت ہے، یعنی گھر کے کام کاج اس کو سکھانے کی حاجت ہے کہ کس طرح کھانا پکایا جاتا ہے، کس طرح صفائی کی جاتی ہے، کس طرح کپڑے وغیرہ دھوئے جاتے ہیں، یہ ساری چیزیں جو عورتوں کے آداب ہیں ان کو سیکھنے کی اب اس کو حاجت ہے بھئی، اور یہ کام تو بغیر خدمت لیے نہیں ہو سکتا۔ ان میں تو کیا کرنا پڑے گا؟ خدمت لینا پڑے گی، اور یہ جو عورتیں ہیں ان کو صغیرہ سے خدمت لینے کی شرعاً اجازت نہیں۔ ماں اور دادی نانی کو تو اجازت ہے، وہ تو صغیرہ سے خدمت لے سکتی ہیں، لیکن یہ جو بہنیں ہیں، خالہ یا پھوپھی جو ہیں ان کے لیے لڑکی سے خدمت لینا جائز نہیں۔ تو جب یہ خدمت اس سے نہیں لے سکتیں تو لہٰذا وہ عورتوں کے آداب کیسے سیکھے گی بھئی؟ لہٰذا اس وجہ سے اب باپ زیادہ حقدار ہوگا ان کے مقابلے میں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا لَا تَقْدِرُ عَلَى اسْتِخْدَامِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ عورتیں قادر نہیں ہیں اس صغیرہ سے خدمت لینے پر ”وَلِهَذَا لَا تُؤَاجِرُهَا لِلْخِدْمَةِ“ اور اسی لیے یہ عورتیں جو ہیں اس کو اجرت پر نہیں دے سکتیں خدمت کے لیے، تو یہ اجرت پر نہیں دے سکتیں خدمت کے لیے ”فَلَا يَحْصُلُ الْمَقْصُودُ“ لہٰذا وہ مقصود یعنی عورتوں کے آداب کی تعلیم وہ حاصل نہیں ہوگا ”بِخِلَافِ الْأُمِّ وَالْجَدَّةِ“ بخلاف ماں اور دادی نانی کے ”لِقُدْرَتِهِمَا عَلَيْهِ شَرْعًا“ اس لیے کیونکہ ان کو استخدام پر قدرت ہے، وہ شرعاً خدمت لے سکتی ہیں اس صغیرہ سے بھئی اور اجرت پر بطورِ خدمت کے دے سکتی ہیں بھئی۔ ”قَالَ: وَالْأَمَةُ إِذَا أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَالْأَمَةُ إِذَا أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“ کہ باندی جب اس کو اس کا آقا آزاد کر دے ”وَأُمُّ الْوَلَدِ إِذَا أُعْتِقَتْ“ اور ام ولد جب اس کو آزاد کر دیا جائے ”كَالْحُرَّةِ فِي حَقِّ الْوَلَدِ“ یہ بھی آزاد عورت کی طرح ہوگی اپنے بچوں کے حق میں۔ باندی کو آقا نے آزاد کر دیا یا ام ولد کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا تو یہ اپنے بچوں کے معاملے میں آزاد عورتوں کی طرح ہیں۔ باندی کی جو اولاد ہوتی ہے وہ آقا کی مملوکہ ہوتی ہے، آقا کے وہ غلام اور باندیاں ہوتے ہیں، لیکن اگر آقا نے باندی کو آزاد کر دیا یا ام ولد کو آزاد کر دیا تو اب یہ اپنے بچوں کے معاملے میں آقا سے زیادہ حقدار ہیں، یہ اپنے بچوں کے معاملے میں آقا سے زیادہ حقدار ہیں، یہ پرورش کریں گی اس کی، کہتے ہیں ”لِأَنَّهُمَا حُرَّتَانِ أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں آزاد ہیں ”أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“ اوان وقت کو کہتے ہیں، ”أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“ حق ثابت ہونے کے وقت، اس لیے کیونکہ یہ آزاد ہیں اور ان کا حق ثابت ہو گیا ہے، ”لِأَنَّهُمَا حُرَّتَانِ أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ یہ حق ثابت ہونے کے وقت آزاد ہیں ”وَلَيْسَ لَهُمَا قَبْلَ الْعِتْقِ حَقٌّ فِي الْوَلَدِ“ اور نہیں ہے ان دونوں کا حق بچے میں آزادی سے پہلے، ”وَلَيْسَ لَهُمَا قَبْلَ الْعِتْقِ حَقٌّ فِي الْوَلَدِ“ اور یہ جو باندی ہے یا یہ جو ام ولد ہے ان کا حق نہیں ہے بچے میں آزادی سے پہلے ”لِعَجْزِهِمَا عَنِ الْحَضَانَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں پرورش سے عاجز ہیں ”بِالِاشْتِغَالِ بِخِدْمَةِ الْمَوْلَى“ آقا کی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے۔ ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ ایک ذمیہ ہے، ذمیہ ہے مثلاً ایک مسلمان ہے اس نے ایک ذمیہ عورت کے ساتھ یعنی عیسائی یا یہودی عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا اور پھر ان سے اس سے اس کی اولاد ہوئی اور بعد میں میاں بیوی کے درمیان جدائی آ گئی، تو اس صورت کے اندر اب یہ بچہ جو ہے یہ مسلمان شمار ہوگا، کیونکہ بچہ جو ہے ماں باپ میں سے جس کا دین اعلیٰ ہو اس دین پر شمار ہوتا ہے، اور یاد رکھو کہ جو بچہ ہے آزادی اور غلامی میں تو ماں کے تابع ہوتا ہے، اگر ماں آزاد ہے تو بچہ بھی آزاد شمار ہوگا اور اگر ماں باندی ہے تو بچہ بھی مملوک شمار ہوگا اسی آقا کا جس کی یہ ماں باندی ہے بھئی، تو بچہ بھی اسی کا مملوک ہوگا، جبکہ دین کے اندر جو ہے ماں باپ میں سے جس کا دین بہتر ہو بچہ اس دین پر شمار کیا جاتا ہے، تو ماں ذمیہ ہے اور باپ مسلمان ہے تو یہ بچہ بھی مسلمان شمار ہوگا۔ تو اب یہ ذمیہ، یہ جو کافرہ ہے کیا یہ بھی اپنے اس مسلمان بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہاں، یہ ذمیہ یہ بھی اس بچے کی ماں ہے لہٰذا یہ بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے، لیکن اس وقت تک جب تک بچہ دین کو نہ سمجھنے لگے۔ جب بچہ دین کی باتیں سمجھنے لگے تو اب اب باپ اس کو لے سکتا ہے، کیونکہ اب خوف ہے کہ کہیں کہ کفر کی باتیں بچے کے ذہن پر نقش نہ ہو جائیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ“ اور ذمیہ زیادہ حقدار ہے اپنے مسلمان بچے کی ”مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ جب تک وہ دینوں کو سمجھنے نہ لگے، ادیان جمع ہے دین کی، یعنی جب وہ دین کی باتوں کو جب تک نہیں سمجھتا اس وقت تک ماں زیادہ حقدار ہے، ”أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ أَلِفَ يَأْلَفُ کے معنی محبت کرنا، ”أَوْ يُخَافَ“ یہ يُخَافَ اس کو منصوب پڑھیں بھئی، ”أَوْ يُخَافَ“ یا یہ خوف ہو ”أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ کہ بچہ جو ہے کفر سے محبت کرنے لگے گا، کفر کی باتوں سے محبت کرنے لگے گا تو پھر باپ زبردستی لے سکتا ہے۔ جب تک بچہ چھوٹا ہے ان باتوں کو نہیں سمجھتا تب تک تو یہ ذمیہ ماں اس کے پرورش کی زیادہ حقدار ہے، لیکن جب یہ خوف ہو کہ اب بچہ کہیں کفر کی باتوں کو پسند نہ کرنے لگے تو پھر اس وقت خاوند اس بچے کو اس عورت سے لے سکتا ہے بھئی۔ بھئی یہاں یہ عبارت آئی بھئی، دیکھیے عبارت: ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ یہاں ”أَوْ يُخَافَ“ یہ عبارت بظاہر جڑتی نہیں ہے بھئی، اس لیے کیونکہ یہ يُخَافُ کا عطف ہے يَعْقِلْ پر اور يَعْقِلْ پر لَمْ داخل ہو رہا ہے جزم دے رہا ہے، لہٰذا یہاں پر بھی يُخَافُ نہیں ہونا چاہیے، يُخَفْ ہونا چاہیے، کیونکہ جزم کی حالت میں یہ الف گر جائے گا۔ چنانچہ اسی لیے صاحبِ وقایہ جو ہیں یعنی علامہ صدر الشریعہ، شارحِ وقایہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس لفظ کو يُخَفْ ہونا چاہیے بھئی۔ یہ کیا ہونا چاہیے؟ اس کو يُخَفْ ہونا واجب ہے کیونکہ اس کا عطف يَعْقِلْ پر ہے اور وہ مجزوم ہے تو یہ بھی مجزوم ہوگا کیونکہ اس پر لَمْ داخل ہو رہا ہے بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں عبارت یوں ہونی چاہیے: ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَفْ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ جب تک وہ دین کو نہ سمجھنے لگے اور جب تک یہ خوف نہ ہو کہ وہ کفر سے محبت کرنے لگے گا۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ يَخَفْ ہونا چاہیے تو معلوم ہوا یہ کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن دیگر شارحین فرماتے ہیں کہ اس أَوْ کو إِلَى أَنْ کے معنی میں کر لیں۔ آپ نے نحو کے اندر پڑھا ہے کہ کبھی کبھی أَوْ جو ہے إِلَى أَنْ کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے کہتے ہیں: ”لَأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“ ”لَأَلْزَمَنَّكَ“ میں تمہارے ساتھ لازم رہوں گا ”أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“ أَيْ إِلَى أَنْ تُعْطِيَنِي حَقِّي یہاں تک کہ تم مجھے میرا حق دے دو۔ میں تمہارے پیچھے پیچھے آؤں گا یہاں تک کہ تم میرا حق مجھے دے دو، تو یہاں معلوم ہوا أَوْ جو ہے یہ إِلَى أَنْ کے معنی میں ہے۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ یہ أَوْ بھی کس معنی میں کر لیں؟ إِلَى أَنْ کے معنی میں کر لیں، تو گویا گویا عبارت یوں ہو گئی: ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ کہ وہ ماں اس مسلمان بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے ”مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ جب تک وہ دین کی باتوں کو نہ سمجھنے لگے ”أَوْ“ أَوْ کی جگہ إِلَى أَنْ لے آئیں، ”إِلَى أَنْ يُخَافَ“ یہاں تک کہ یہ خوف ہونے لگے ”أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ کہ وہ کفر سے محبت کرے گا۔ تو دیگر شارحین نے یہ کہا کہ یہ أَوْ بمعنی إِلَى أَنْ کے ہے۔ لیکن بہرحال زیادہ ظاہر بات وہی ہے وہ جو شارحِ وقایہ نے فرمائی بھئی کہ یہ يُخَفْ ہونا چاہیے، یہ يُخَفْ ہونا چاہیے۔ تو بہرحال یہ دو الگ چیزیں ہیں: دین کا سمجھنا اور کفر سے محبت کرنا، یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ دین کا سمجھنا، ذرا زیادہ سمجھدار ہوگا بچہ تب وہ دین کی باتوں کو سمجھے گا، اور کفر سے محبت کرنا یہ تو دین کی باتوں کو سمجھنے سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ بچہ ماں کو دیکھ رہا ہے ایک کام کرتی ہے بار بار تو وہ بات اس کے دل میں نقش ہو جاتی ہے، وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ اور ذمیہ اپنے مسلمان بچے کی زیادہ حقدار ہے ”مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ جب تک وہ دین کی باتوں کو نہ سمجھنے لگے ”أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ یا جب تک یہ خوف ہو کہ کفر سے وہ محبت کرے گا ”لِلنَّظَرِ قَبْلَ ذَلِكَ وَاحْتِمَالِ الضَّرَرِ بَعْدَهُ“ ”لِلنَّظَرِ قَبْلَ ذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ اس سے پہلے اس میں شفقت ہے، دین کی باتوں کو سمجھنے سے پہلے اور کفر کے خوف سے پہلے اس شفقت اس میں ہے کہ بچہ کس کے پاس رہے؟ ماں کے پاس رہے، اور ان چیزوں کے بعد اب اس میں بچے کا نقصان ہے لہٰذا اب باپ زیادہ حقدار ہوگا۔ یہ معنی ہے ”لِلنَّظَرِ قَبْلَ ذَلِكَ“ اس سے پہلے شفقت ہونے کی وجہ سے ”وَاحْتِمَالِ الضَّرَرِ بَعْدَهُ“ اور اس کے بعد جو ہے نقصان کا احتمال ہونے کی وجہ سے۔ اس سے پہلے تو شفقت یہ تھی کہ بچہ ماں کے پاس رہے لیکن جب یہ چیزیں پیش آ گئیں اب وہ دین سمجھنے لگا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کفر کی باتیں اس کے ذہن میں نقش ہونا شروع ہو جائیں تو اب یہ کفر کی باتیں سمجھ رہا ہے یا کہیں کفر کی باتیں کو یہ پسند نہ کرنے لگے تو اب اس کے اندر بچے کا نقصان ہے، لہٰذا اب اس کو باپ کے حوالے کیا جائے گا۔ ”وَلَا خِيَارَ لِلْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ“ اور لڑکے اور لڑکی کے لیے کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ بھئی دیکھیے، آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ لڑکے کی سات سال کی عمر تک ماں اس کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے اور لڑکی کی نو سال کی عمر تک ماں اس کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے، تو اس کے بعد اب لڑکے اور لڑکی کو باپ کے حوالے کیا جائے گا، اس کے بعد ان کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب بھی لڑکے یا لڑکی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے۔ لڑکا سات سال کا ہو چکا ہے اور لڑکی نو سال کی ہو چکی ہے، اب ان کو اختیار دیا جائے گا وہ کس کے پاس رہنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ماں کے پاس رہنا چاہتے ہیں تو ماں کے پاس ہی رہیں گے اور اگر وہ باپ کے پاس رہنا چاہتے ہیں تو باپ کے پاس رہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن ہمارے نزدیک نہیں بھئی۔ کہتے ہیں ”وَلَا خِيَارَ لِلْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ“ اور کوئی اختیار نہیں ہوگا لڑکے اور لڑکی کے لیے ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَهُمَا الْخِيَارُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کو اختیار ہوگا ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَيَّرَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اختیار دیا تھا۔ اچھا بھئی، یہ حدیث کے اندر آتا ہے کہ ایک شخص مسلمان ہو گئے اور ان کی جو بیوی تھی وہ مسلمان نہیں ہو رہی تھیں، تو پھر وہ اپنے بیٹے کو حضور علیہ السلام کے پاس لے کر آئے، ان کا بیٹا تھا چھوٹا، تو حضور علیہ السلام نے ایک طرف باپ کو بٹھایا اور ایک طرف ماں کو بٹھایا اور پھر بچے کو اختیار دیا کہ وہ جس طرف جانا چاہتا ہے، تو وہ بچہ وہ پہلے کہتے ہیں ماں کی طرف چل پڑا اور ماں تو کافرہ تھی بھئی، تو پھر حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی: ”اللَّهُمَّ اهْدِهِ“ اے اللہ! اس کی رہنمائی فرما، تو چنانچہ پھر بچہ مڑ کر باپ کی طرف چلا گیا بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو حضور علیہ السلام نے بچے کو اختیار دیا تھا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَيَّرَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اختیار دیا تھا ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ لِقُصُورِ عَقْلِهِ“ کہ یہ جو صغیر ہے یہ اپنی عقل کی کمی کی وجہ سے ”يَخْتَارُ مَنْ عِنْدَهُ الدَّعَةُ“ یہ اختیار کرے گا اس کو جس کے پاس اس کے راحت ہوگی۔ یہ ماں باپ میں سے اس کو اختیار کرے گا جس کے پاس اس کے لیے آسانی اور راحت ہوگی، جو اس کو زیادہ کھیلنے دیتا ہے، ٹوکتا وغیرہ نہیں، تو یہ تو اسی کی طرف جائے گا بھئی کیونکہ اس کی عقل تو ناقص ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا أَنَّهُ لِقُصُورِ عَقْلِهِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ صغیر جو ہے یہ اپنے عقل کے ناقص ہونے کی وجہ سے ”يَخْتَارُ مَنْ عِنْدَهُ الدَّعَةُ“ یہ اختیار کرے گا اس کو جس کے پاس اس کے لیے راحت ہوگی، دَعَہ بھئی دَعَہ، دَعَةٌ، وَدَعَ يَدَعُ دَعَةً کا معنی ہے راحت ہونا، آسانی ہونا، تو کہتے ہیں ”يَخْتَارُ مَنْ عِنْدَهُ الدَّعَةُ“ یہ اختیار کرے گا اس کو جس کے پاس اس کے لیے راحت ہوگی ”لِتَخْلِيَتِهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّعِبِ“ اس لیے کیونکہ وہ جو ہے اس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے کھیلنے کے لیے، وہ بچے کو کھیلنے کے لیے آزاد چھوڑ، تو جو بچے کو زیادہ کھیلنے کے لیے آزاد چھوڑتا ہوگا بچہ تو اس کی طرف چلا جائے گا، حالانکہ اس میں تو بچے کا کوئی فائدہ نہیں، اس کا نقصان ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِتَخْلِيَتِهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّعِبِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس بچے کو کھیلنے کے لیے آزاد چھوڑ دیتا ہے ”فَلَا يَتَحَقَّقُ النَّظَرُ“ تو اس کے اندر شفقت ثابت نہیں ہوگی ”وَقَدْ صَحَّ“ اور تحقیق یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے ”أَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ لَمْ يُخَيِّرُوا“ کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ”لَمْ يُخَيِّرُوا“ انہوں نے بچوں کو اختیار نہیں دیا ”وَأَمَّا الْحَدِيثُ“ اور باقی جو حدیث ہے ”فَقُلْنَا“ تو ہم کہتے ہیں اس کے جواب میں ”قَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: اللَّهُمَّ اهْدِهِ“ کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا، انہوں نے دعا کی تھی: ”اللَّهُمَّ اهْدِهِ“ کہ اے اللہ! اس کی رہنمائی فرما ”فَوُفِّقَ لِاخْتِيَارِهِ الْأَنْظَرَ بِدُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ ”فَوُفِّقَ“ تو اس بچے کو توفیق دے دی گئی ”لِاخْتِيَارِهِ“ کہ وہ اختیار کر لے ”الْأَنْظَرَ“ جس میں زیادہ شفقت ہے ”بِدُعَائِهِ“ حضور علیہ السلام کی دعا سے۔ تو کہتے ہیں ”فَوُفِّقَ لِاخْتِيَارِهِ الْأَنْظَرَ بِدُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ پس بچے کو جو زیادہ شفقت والا تھا اس کے اختیار کرنے کی توفیق دے دی گئی حضور علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے، تو ہم یہ حدیث کا جواب دیتے ہیں کہ وہاں چونکہ حضور علیہ السلام نے دعا فرما دی تھی اس لیے بچے کو توفیق دے دی گئی ”أَوْ يُحْمَلُ عَلَى مَا إِذَا كَانَ بَالِغًا“ یا اس کو محمول کیا جائے گا اس صورت پر جبکہ بچہ بالغ ہو، بچہ بالغ ہے تو اب اس کو اختیار ہوگا، اب یاد رکھو ہمارے نزدیک بھی جب بچہ بالغ ہو تو اس کو اختیار ہے وہ ماں یا باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے رہ سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ جب بچہ ماں اور دادی نانی سے بے نیاز ہو جائے تو اس کے بعد پھر باپ زیادہ حقدار ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے ”أَنَّهُ إِذَا اسْتَغْنَى“ اس لیے کیونکہ جب بچہ بے نیاز ہو گیا یعنی اب یہ سب کام وہ خود کر سکتا ہے ”يَحْتَاجُ إِلَى التَّأَدُّبِ وَالتَّخَلُّقِ بِآدَابِ الرِّجَالِ وَأَخْلَاقِهِمْ“، تأدب کا معنی ہے ادب سیکھنا، تخلق کا معنی ہے اخلاق سیکھنا۔ ”بِآدَابِ الرِّجَالِ“ آداب الرجال کو جوڑیں تأدب کے ساتھ، اور آگے آ رہا ہے ”وَأَخْلَاقِهِمْ“ ای اخلاق الرجال، اس کو جوڑیں تخلق کے ساتھ۔ تو گویا عبارت یوں ہے کہ ”أَنَّهُ إِذَا اسْتَغْنَى“ جب بچہ بے نیاز ہو گیا ”يَحْتَاجُ إِلَى التَّأَدُّبِ بِآدَابِ الرِّجَالِ“ اب وہ مردوں کے آداب سیکھنے کا محتاج ہوا، ”وَالتَّخَلُّقِ بِأَخْلَاقِهِمْ“ اور وہ مردوں کے اخلاق سیکھنے کا محتاج ہو گیا۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُهُ أَنَّهُ إِذَا اسْتَغْنَى يَحْتَاجُ إِلَى التَّأَدُّبِ وَالتَّخَلُّقِ بِآدَابِ الرِّجَالِ وَأَخْلَاقِهِمْ“ تو وہ محتاج ہو گیا کہ وہ مردوں کے آداب سیکھے اور مردوں کے اخلاق سیکھے ”وَالْأَبُ أَقْدَرُ عَلَى التَّأْدِيبِ وَالتَّثْقِيفِ“ اور باپ جو ہے وہ زیادہ قادر ہے ادب سکھانے پر اور تثقیف، تثقیف ثا کے ساتھ، اس کا معنی ہے مہذب بنانا۔ ثقف یثقف تثقیفاً کا معنی ہے مہذب بنانا، تعلیم یافتہ بنانا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْأَبُ أَقْدَرُ عَلَى التَّأْدِيبِ وَالتَّثْقِيفِ“ اور باپ جو ہے وہ زیادہ قادر ہے ادب سکھانے پر اور مہذب بنانے پر۔ ”وَالْخَصَّافُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ بِسَبْعِ سِنِينَ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ“ اور امام خصاف جو ہیں انہوں نے ”قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ“ انہوں نے بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے ”بِسَبْعِ سِنِينَ“ سات سالوں کے ساتھ۔ تو امام خصاف رحمہ اللہ جو ہیں انہوں نے اندازہ لگایا ہے اس کا، اس بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے سات سال کے ساتھ کہ جب لڑکا سات سال کا ہو جاتا ہے تو اب وہ بے نیاز ہو جاتا ہے، وہ اکیلا کھا پی سکتا ہے، وہ اکیلا کپڑے بدل سکتا ہے، وہ اکیلا استنجا کر سکتا ہے۔ عام طور پر اسی طرح ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْخَصَّافُ رَحِمَهُ اللَّهُ قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ بِسَبْعِ سِنِينَ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ“ اور امام خصاف رحمہ اللہ نے بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے سات سالوں کے ساتھ، غالب کا اعتبار کرتے ہوئے کہ عام طور پر اسی طرح ہوتا ہے۔ بھئی یہاں امام خصاف کا ذکر آیا۔ یاد رکھو امام خصاف رحمہ اللہ تعالی احناف کے بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی۔ بہت بڑے فقیہ ہیں اور بہت بڑے محدث ہیں بھئی۔ اور یہ خصاف بھئی، خصاف عربی زبان میں موچی کو کہتے ہیں۔ یہ چونکہ موچیوں کا کام کرتے تھے اور خود اپنے ہاتھ سے کماتے تھے اپنے لیے، تو یہ کس نام سے مشہور ہو گئے؟ امام خصاف کے نام سے۔ اور یاد رکھو ان کی تاریخ وفات ہے 261 ہجری، 261 ہجری۔ یعنی یہ متقدمین فقہاء میں سے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْخَصَّافُ قَدَّرَ الِاسْتِغْنَاءَ بِسَبْعِ سِنِينَ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ“ اور امام خصاف رحمہ اللہ نے لڑکے کی بے نیازی کا اندازہ لگایا ہے سات سال کے ساتھ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے۔ ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَحِيضَ“ تو یہاں تک آپ کو پتہ چل گیا کہ ماں، نانی، دادی، بہنیں، خالہ اور پھوپھیاں بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہیں سات سال کی عمر تک۔ سات سال کی عمر کے بعد باپ زبردستی ان سے لے سکتا ہے کیونکہ اب بچہ تعلیم و تربیت کا محتاج ہے بھئی۔ اب لڑکی کی بات کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَحِيضَ“ بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں، یاد رکھیں اگر وہ صغیرہ ہے یعنی لڑکی ہے تو ماں اور دادی نانی وہ اس صغیرہ کی پرورش کی حقدار ہیں اس کے بالغہ ہونے تک۔ اس کے بالغہ، متن میں آپ کو یہ بتائیں گے کہ ماں اور دادی نانی یہ اس لڑکی کی پرورش کی زیادہ حقدار ہیں اس کے بالغہ ہونے تک۔ لیکن یاد رکھو فتویٰ اس پر ہے وہ بھی آگے صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے، فتویٰ اس پر ہے کہ جب لڑکی قابلِ شہوت ہو جائے یعنی نو سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اب باپ اس کو زبردستی لے سکتا ہے کیونکہ اب اس کو حفاظت کی اور شادی کی حاجت پیش آنے والی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَحِيضَ“ اور ماں اور دادی نانی جو ہیں وہ لڑکی کی زیادہ حقدار ہیں ”حَتَّى تَحِيضَ“ یہاں تک کہ اس کو حیض آنے لگے یعنی بالغہ ہو جائے۔ ”لِأَنَّ بَعْدَ الِاسْتِغْنَاءِ“ اس لیے کیونکہ بے نیاز ہونے کے بعد، بھئی سات سال میں تو یہ بے نیاز ہو جائے گی، سارے کام خود کر سکے گی لیکن پھر بھی اس کو عورتوں کے آداب سیکھنے کی حاجت ہے۔ اس لڑکی کو عورتوں کے آداب اور طور طریقے سیکھنے کی حاجت ہے اور اس پر عورت زیادہ قادر ہوتی ہے، لہٰذا یہ ماں یا دادی نانی کے پاس ہی رہے گی۔ تو یہ تو متن میں ہے، البتہ آگے بتائیں گے کہ نو سال کی عمر میں باپ لے سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ بَعْدَ الِاسْتِغْنَاءِ تَحْتَاجُ إِلَى مَعْرِفَةِ آدَابِ النِّسَاءِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو لڑکی ہے بے نیاز ہونے کے بعد محتاج ہو گی عورتوں کے آداب جاننے کی ”وَالْمَرْأَةُ عَلَى ذَلِكَ أَقْدَرُ“ اور عورت اس پر زیادہ قادر ہے ”وَبَعْدَ الْبُلُوغِ تَحْتَاجُ إِلَى التَّحْصِينِ وَالْحِفْظِ“ اور پھر بالغہ ہونے کے بعد یہ محتاج ہو گی ”إِلَى التَّحْصِينِ“، تحصین بھئی حصن یحصن تحصیناً صاد کے ساتھ، اس کا معنی حفاظت کرنا بھی اور اسی طرح تحصین کا ایک معنی ہے عورت کی شادی کروانا۔ اسی طرح تحصین کا ایک معنی کیا ہے؟ شادی کروانا بھی، تو یہاں یہی معنی کر لیں گے۔ کہتے ہیں ”وَبَعْدَ الْبُلُوغِ تَحْتَاجُ إِلَى التَّحْصِينِ وَالْحِفْظِ“ اور بالغہ ہونے کے بعد یہ محتاج ہے شادی کی اور حفاظت کی، تو بالغہ ہونے کے بعد یہ شادی اور حفاظت کی محتاج ہے اور اس پر باپ زیادہ قادر ہوتا ہے لہٰذا بالغ ہونے کے بعد باپ کے حوالے کیا جائے گا۔ تو تحصین کا کیا معنی ہم نے کیا؟ شادی کے، اور شادی کے ذریعے بھی لڑکی محفوظ ہو جاتی ہے تو اس میں بھی حفاظت والا معنی ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَبَعْدَ الْبُلُوغِ تَحْتَاجُ إِلَى التَّحْصِينِ وَالْحِفْظِ“ اور بالغہ ہونے کے بعد یہ لڑکی اب محتاج ہو گی تحصین شادی کی اور حفاظت کی ”وَالْأَبُ فِيهِ أَقْوَى وَأَهْدَى“ اور باپ اس کے اندر زیادہ قوی ہے اور زیادہ سمجھدار ہے حفاظت اور شادی کے معاملے میں۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا تُدْفَعُ إِلَى الْأَبِ إِذَا بَلَغَتْ حَدَّ الشَّهْوَةِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لڑکی جو ہے وہ باپ کے حوالے کر دی جائے گی جب وہ شہوت کی حد تک پہنچ جائے یعنی قابلِ شہوت ہو جائے اور وہ نو سال کی عمر ہے، تو پھر باپ کے حوالے کر دی جائے گی ”لِتَحَقُّقِ الْحَاجَةِ إِلَى الصِّيَانَةِ“ اس لیے کیونکہ حاجت پیش آ گئی ہے حفاظت کی کہ اب اس کی حفاظت کی جائے کیونکہ یہ قابلِ شہوت ہو چکی ہے بھئی۔ اور اسی پر یاد رکھو فتویٰ ہے بھئی۔ متن میں تو آیا کہ بالغہ ہونے کے بعد باپ کے حوالے کی جائے گی لیکن امام محمد رحمہ اللہ کی ایک روایت میں کیا آیا کہ جب قابلِ شہوت ہو جائے تو اب یہ باپ کے حوالے کی جائے گی کیونکہ اب اسے حفاظت کی ضرورت ہے اور اس پر باپ زیادہ قادر ہے اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ ”وَمَنْ سِوَى الْأُمِّ وَالْجَدَّةِ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَبْلُغَ حَدًّا تُشْتَهَى“ اچھا بھئی یہ تو تھا ماں اور دادی نانی کے بارے میں، لیکن اگر صغیرہ ماں اور نانی دادی کے علاوہ کسی اور کے پاس ہے مثلاً بہنوں کے پاس ہے، ان کی پرورش میں ہے یا خالہ کی پرورش میں ہے یا پھوپھی کی پرورش میں ہے تو پھر اس صورت میں اس کو کب باپ کے حوالے کیا جائے گا؟ اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَمَنْ سِوَى الْأُمِّ وَالْجَدَّةِ“ اور ماں اور دادی نانی کے علاوہ جو ہیں ”أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَبْلُغَ حَدًّا تُشْتَهَى“ وہ لڑکی کے زیادہ حقدار ہیں یہاں تک کہ لڑکی پہنچ جائے ایسی حد تک کہ جو شہوت والی ہو کہ وہ شہوت کی حد کو پہنچ جائے۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے یہاں تک کہ وہ لڑکی بے نیاز ہو جائے، وہ لڑکی بے نیاز ہو جائے ”لِأَنَّهَا لَا تَقْدِرُ عَلَى اسْتِخْدَامِهَا وَلِهَذَا لَا تُؤَاجِرُهَا لِلْخِدْمَةِ“ مسئلہ انہوں نے بتلایا آپ کو کہ ماں اور دادی نانی کے علاوہ کسی اور عورت کی پرورش میں اگر صغیرہ ہے تو پھر جب وہ شہوت کی حد تک پہنچ جائے تو اب باپ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اب اس کو عورتوں کے آداب سیکھنے کی ضرورت ہے یعنی گھر کے کام کاج اس کو سکھانے کی حاجت ہے کہ کس طرح کھانا پکایا جاتا ہے، کس طرح صفائی کی جاتی ہے، کس طرح کپڑے وغیرہ دھوئے جاتے ہیں، یہ ساری چیزیں جو عورتوں کے آداب ہیں ان کو سیکھنے کی اب اس کو حاجت ہے بھئی۔ اور یہ کام تو بغیر خدمت لیے نہیں ہو سکتا۔ ان میں تو کیا کرنا پڑے گا؟ خدمت لینا پڑے گی اور یہ جو عورتیں ہیں ان کو صغیرہ سے خدمت لینے کی شرعاً اجازت نہیں۔ ماں اور دادی نانی کو تو اجازت ہے، وہ تو صغیرہ سے خدمت لے سکتی ہیں لیکن یہ جو بہنیں ہیں خالہ یا پھوپھی جو ہیں ان کے لیے لڑکی سے خدمت لینا جائز نہیں۔ تو جب یہ خدمت اس سے نہیں لے سکتیں تو لہٰذا وہ عورتوں کے آداب کیسے سیکھے گی بھئی؟ لہٰذا اس وجہ سے اب باپ زیادہ حقدار ہو گا ان کے مقابلے میں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا لَا تَقْدِرُ عَلَى اسْتِخْدَامِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ عورتیں قادر نہیں ہیں اس صغیرہ سے خدمت لینے پر ”وَلِهَذَا لَا تُؤَاجِرُهَا لِلْخِدْمَةِ“ اور اسی لیے یہ عورتیں جو ہیں اس کو اجرت پر نہیں دے سکتیں خدمت کے لیے، تو یہ اجرت پر نہیں دے سکتیں خدمت کے لیے ”فَلَا يَحْصُلُ الْمَقْصُودُ“ لہٰذا وہ مقصود یعنی عورتوں کے آداب کی تعلیم وہ حاصل نہیں ہو گا ”بِخِلَافِ الْأُمِّ وَالْجَدَّةِ لِقُدْرَتِهِمَا عَلَيْهِ شَرْعًا“ بخلاف ماں اور دادی نانی کے، اس لیے کیونکہ ان کو استخدام پر قدرت ہے، وہ شرعاً خدمت لے سکتی ہیں اس صغیرہ سے بھئی، اور اجرت پر بطور خدمت کے دے سکتی ہیں بھئی۔ ”قَالَ: وَالْأَمَةُ إِذَا أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“ قال صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَالْأَمَةُ إِذَا أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“ کہ باندی جب اس کو اس کا آقا آزاد کر دے ”وَأُمُّ الْوَلَدِ إِذَا أُعْتِقَتْ كَالْحُرَّةِ فِي حَقِّ الْوَلَدِ“ اور ام ولد جب اس کو آزاد کر دیا جائے تو یہ بھی آزاد عورت کی طرح ہو گی اپنے بچوں کے حق میں۔ باندی کو آقا نے آزاد کر دیا یا ام ولد کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا تو یہ اپنے بچوں کے معاملے میں آزاد عورتوں کی طرح ہیں۔ باندی کی جو اولاد ہوتی ہے وہ آقا کے مملوکہ ہوتی ہے، آقا کے وہ غلام اور باندیاں ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آقا نے باندی کو آزاد کر دیا یا ام ولد کو آزاد کر دیا تو اب یہ اپنے بچوں کے معاملے میں آقا سے زیادہ حقدار ہیں۔ یہ اپنے بچوں کے معاملے میں آقا سے زیادہ حقدار ہیں، یہ پرورش کریں گی اس کی۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُمَا حُرَّتَانِ أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں آزاد ہیں ”أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“، اوان وقت کو کہتے ہیں، ”أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“ حق ثابت ہونے کے وقت۔ اس لیے کیونکہ یہ آزاد ہیں اور ان کا حق ثابت ہو گیا ہے۔ ”لِأَنَّهُمَا حُرَّتَانِ أَوَانَ ثُبُوتِ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ یہ حق ثابت ہونے کے وقت آزاد ہیں ”وَلَيْسَ لَهُمَا قَبْلَ الْعِتْقِ حَقٌّ فِي الْوَلَدِ“ اور نہیں ہے ان دونوں کا حق بچے میں آزادی سے پہلے، ”وَلَيْسَ لَهُمَا قَبْلَ الْعِتْقِ حَقٌّ فِي الْوَلَدِ“ اور یہ جو باندی ہے یا یہ جو ام ولد ہے ان کا حق نہیں ہے بچے میں آزادی سے پہلے ”لِعَجْزِهِمَا عَنِ الْحَضَانَةِ بِالِاشْتِغَالِ بِخِدْمَةِ الْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں پرورش سے عاجز ہیں آقا کی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے۔ ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“، ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ ایک ذمیہ ہے، ذمیہ ہے مثلاً ایک مسلمان ہے اس نے ایک ذمیہ عورت کے ساتھ یعنی عیسائی یا یہودی عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا اور پھر ان سے اس سے اس کی اولاد ہوئی اور بعد میں میاں بیوی کے درمیان جدائی آ گئی تو اس صورت کے اندر اب یہ بچہ جو ہے یہ مسلمان شمار ہو گا کیونکہ بچہ جو ہے ماں باپ میں سے جس کا دین اعلیٰ ہو اس دین پر شمار ہوتا ہے۔ اور یاد رکھو کہ جو بچہ ہے آزادی اور غلامی میں تو ماں کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ماں آزاد ہے تو بچہ بھی آزاد شمار ہو گا اور اگر ماں باندی ہے تو بچہ بھی مملوک شمار ہو گا اسی آقا کا جس کی یہ ماں باندی ہے بھئی، تو بچہ بھی اسی کا مملوک ہو گا۔ جبکہ دین کے اندر جو ہے ماں باپ میں سے جس کا دین بہتر ہو بچہ اس دین پر شمار کیا جاتا ہے۔ تو ماں ذمیہ ہے اور باپ مسلمان ہے تو یہ بچہ بھی مسلمان شمار ہو گا۔ تو اب یہ ذمیہ، یہ جو کافرہ ہے کیا یہ بھی اپنے اس مسلمان بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہاں یہ ذمیہ یہ بھی اس بچے کی ماں ہے لہٰذا یہ بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے۔ لیکن اس وقت تک جب تک بچہ دین کو نہ سمجھنے لگے۔ جب بچہ دین کی باتیں سمجھنے لگے تو اب باپ اس کو لے سکتا ہے کیونکہ اب خوف ہے کہ کہیں کفر کی باتیں بچے کے ذہن پر نقش نہ ہو جائیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ“ اور ذمیہ زیادہ حقدار ہے اپنے مسلمان بچے کی ”مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ جب تک وہ دینوں کو سمجھنے نہ لگے، ادیان جمع ہے دین کی، یعنی جب وہ دین کی باتوں کو جب تک نہیں سمجھتا اس وقت تک ماں زیادہ حقدار ہے۔ ”أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“، الف یألف کے معنی ہیں محبت کرنا۔ ”أَوْ يُخَافَ“ یہ یخاف اس کو منصوب پڑھیں بھئی۔ ”أَوْ يُخَافَ“ یا یہ خوف ہو کہ ”أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ کہ بچہ جو ہے کفر سے محبت کرنے لگے گا، کفر کی باتوں سے محبت کرنے لگے گا تو پھر باپ زبردستی لے سکتا ہے۔ جب تک بچہ چھوٹا ہے ان باتوں کو نہیں سمجھتا تب تک تو یہ ذمیہ ماں اس کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے، لیکن جب یہ خوف ہو کہ اب بچہ کہیں کفر کی باتوں کو پسند نہ کرنے لگے تو پھر اس وقت خاوند اس بچے کو اس عورت سے لے سکتا ہے بھئی۔ بھئی یہاں یہ عبارت آئی بھئی دیکھئے عبارت: ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“، یہاں ”أَوْ يُخَافَ“ یہ عبارت بظاہر جڑتی نہیں ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ یہ یخاف کا عطف ہے یعقل پر، اور یعقل پر لم داخل ہو رہا ہے جزم دے رہا ہے۔ لہٰذا یہاں پر بھی یخاف نہیں ہونا چاہئے، یخف ہونا چاہئے کیونکہ جزم کی حالت میں یہ الف گر جائے گا۔ چنانچہ اسی لیے صاحبِ وقایہ جو ہیں یعنی علامہ صدر الشریعہ، شارحِ وقایہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس لفظ کو یخف ہونا چاہئے بھئی۔ یہ کیا ہونا چاہئے؟ اس کا یخف ہونا واجب ہے کیونکہ اس کا عطف یعقل پر ہے اور وہ مجزوم ہے تو یہ بھی مجزوم ہو گا کیونکہ اس پر لم داخل ہو رہا ہے بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں عبارت یوں ہونی چاہئے: ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَفْ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ جب تک وہ دین کو نہ سمجھنے لگے اور جب تک یہ خوف نہ ہو کہ وہ کفر سے محبت کرنے لگے گا۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ یخف ہونا چاہئے تو معلوم ہوا یہ کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن دیگر شارحین فرماتے ہیں کہ اس او کو الیٰ ان کے معنی میں کر لیں۔ آپ نے نحو کے اندر پڑھا ہے کہ کبھی کبھی او جو ہے الیٰ ان کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے کہتے ہیں: ”لَأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“، ”لَأَلْزَمَنَّكَ“ میں تمہارے ساتھ لازم رہوں گا ”أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“ ای الی ان تعطینی حقی یہاں تک کہ تم مجھے میرا حق دے دو۔ میں تمہارے پیچھے پیچھے آؤں گا یہاں تک کہ تم میرا حق مجھے دے دو۔ تو یہاں معلوم ہوا او جو ہے یہ الیٰ ان کے معنی میں ہے۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ یہ او بھی کس معنی میں کر لیں؟ الیٰ ان کے معنی میں کر لیں۔ تو گویا عبارت یوں ہو گئی: ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ کہ وہ ماں اس مسلمان بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے ”مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ جب تک وہ دین کی باتوں کو نہ سمجھنے لگے، او، او کی جگہ الیٰ ان لے آئیں، ”إِلَى أَنْ يُخَافَ“ یہاں تک کہ یہ خوف ہونے لگے ”أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ کہ وہ کفر سے محبت کرے گا۔ تو دیگر شارحین نے یہ کہا کہ یہ او بمعنی الیٰ ان کے ہے۔ لیکن بہرحال زیادہ ظاہر بات وہی ہے وہ جو شارحِ وقایہ نے فرمائی بھئی کہ یہ یخف ہونا چاہئے، یہ یخف ہونا چاہئے۔ تو بہرحال یہ دو الگ چیزیں ہیں، دین کا سمجھنا اور کفر سے محبت کرنا، یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ دین کا سمجھنا ذرا زیادہ سمجھدار ہو گا بچہ تب وہ دین کی باتوں کو سمجھے گا۔ اور کفر سے محبت کرنا یہ تو دین کی باتوں کو سمجھنے سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ بچہ ماں کو دیکھ رہا ہے ایک کام کرتی ہے بار بار تو وہ بات اس کے دل میں نقش ہو جاتی ہے، وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالذِّمِّيَّةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ اور ذمیہ اپنے مسلمان بچے کی زیادہ حقدار ہے ”مَا لَمْ يَعْقِلِ الْأَدْيَانَ“ جب تک وہ دین کی باتوں کو نہ سمجھنے لگے ”أَوْ يُخَافَ أَنْ يَأْلَفَ الْكُفْرَ“ یا جب تک یہ خوف ہو کہ کفر سے وہ محبت کرے گا ”لِلنَّظَرِ قَبْلَ ذَلِكَ وَاحْتِمَالِ الضَّرَرِ بَعْدَهُ“، ”لِلنَّظَرِ قَبْلَ ذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ اس سے پہلے اس میں شفقت ہے۔ دین کی باتوں کو سمجھنے سے پہلے اور کفر کے خوف سے پہلے شفقت اس میں ہے کہ بچہ کس کے پاس رہے؟ ماں کے پاس رہے۔ اور ان چیزوں کے بعد اب اس میں بچے کا نقصان ہے لہٰذا اب باپ زیادہ حقدار ہو گا۔ یہ معنی ہے ”لِلنَّظَرِ قَبْلَ ذَلِكَ“ اس سے پہلے شفقت ہونے کی وجہ سے ”وَاحْتِمَالِ الضَّرَرِ بَعْدَهُ“ اور اس کے بعد جو ہے نقصان کا احتمال ہونے کی وجہ سے۔ اس سے پہلے تو شفقت یہ تھی کہ بچہ ماں کے پاس رہے لیکن جب یہ چیزیں پیش آ گئیں اب وہ دین سمجھنے لگا ہے کہیں ایسا نہ ہو کفر کی باتیں اس کے ذہن میں نقش ہونا شروع ہو جائیں تو اب یہ کفر کی باتیں سمجھ رہا ہے یا کہیں کفر کی باتیں اس کو یہ پسند نہ کرنے لگے تو اب اس کے اندر بچے کا نقصان ہے لہٰذا اب اس کو باپ کے حوالے کیا جائے گا۔ ”وَلَا خِيَارَ لِلْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ“ اور لڑکے اور لڑکی کے لیے کوئی اختیار نہیں ہو گا۔ بھئی دیکھئے آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ لڑکے کی سات سال کی عمر تک ماں اس کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے اور لڑکی کی نو سال کی عمر تک ماں اس کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے۔ تو اس کے بعد اب لڑکے اور لڑکی کو باپ کے حوالے کیا جائے گا، اس کے بعد ان کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب بھی لڑکے لڑکی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے۔ لڑکا سات سال کا ہو چکا ہے اور لڑکی نو سال کی ہو چکی ہے، اب ان کو اختیار دیا جائے گا وہ کس کے پاس رہنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ماں کے پاس رہنا چاہتے ہیں تو ماں کے پاس ہی رہیں گے اور اگر وہ باپ کے پاس رہنا چاہتے ہیں تو باپ کے پاس رہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ لیکن ہمارے نزدیک نہیں بھئی۔ کہتے ہیں ”وَلَا خِيَارَ لِلْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ“ اور کوئی اختیار نہیں ہو گا لڑکے اور لڑکی کے لیے ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَهُمَا الْخِيَارُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کو اختیار ہو گا ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَيَّرَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اختیار دیا تھا۔ اچھا بھئی یہ حدیث کے اندر آتا ہے کہ ایک شخص مسلمان ہو گئے اور ان کی جو بیوی تھی وہ مسلمان نہیں ہو رہی تھیں، تو پھر وہ اپنے بیٹے کو حضور علیہ السلام کے پاس لے کر آئے، ان کا بیٹا تھا چھوٹا، تو حضور علیہ السلام نے ایک طرف باپ کو بٹھایا اور ایک طرف ماں کو بٹھایا اور پھر بچے کو اختیار دیا کہ وہ جس طرف جانا چاہتا ہے تو وہ بچہ وہ پہلے کہتے ہیں ماں کی طرف چل پڑا اور ماں تو کافرہ تھی بھئی، تو پھر حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی: ”اللَّهُمَّ اهْدِهِ“ اے اللہ اس کی رہنمائی فرما۔ تو چنانچہ پھر بچہ مڑ کر باپ کی طرف چلا گیا بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو حضور علیہ السلام نے بچے کو اختیار دیا تھا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَيَّرَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اختیار دیا تھا ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ لِقُصُورِ عَقْلِهِ“ کہ یہ صغیر جو ہے یہ اپنی عقل کی کمی کی وجہ سے ”يَخْتَارُ مَنْ عِنْدَهُ الدَّعَةُ“ یہ اختیار کرے گا اس کو جس کے پاس اس کے راحت ہو گی۔ یہ ماں باپ میں سے اس کو اختیار کرے گا جس کے پاس اس کے لیے آسانی اور راحت ہو گی، جو اس کو زیادہ کھیلنے دیتا ہے، ٹوکتا وغیرہ نہیں تو یہ تو اسی کی طرف جائے گا بھئی، کیونکہ اس کی عقل تو ناقص ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا أَنَّهُ لِقُصُورِ عَقْلِهِ يَخْتَارُ مَنْ عِنْدَهُ الدَّعَةُ“ کہ یہ صغیر جو ہے یہ اپنے عقل کے ناقص ہونے کی وجہ سے اختیار کرے گا اس کو جس کے پاس اس کے لیے راحت ہو گی، دعہ بھئی دعہ، دَعَةٌ، وَدَعَ يَدَعُ دَعَةً کا معنی ہے راحت ہونا، آسانی ہونا۔ تو کہتے ہیں ”يَخْتَارُ مَنْ عِنْدَهُ الدَّعَةُ“ یہ اختیار کرے گا اس کو جس کے پاس اس کے لیے راحت ہو گی ”لِتَخْلِيَتِهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّعِبِ“ اس لیے کیونکہ وہ جو ہے اس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے کھیلنے کے لیے۔ وہ بچے کو کھیلنے کے لیے آزاد، تو جو بچے کو زیادہ کھیلنے کے لیے آزاد چھوڑتا ہو گا بچہ تو اس کی طرف چلا جائے گا حالانکہ اس میں تو بچے کا کوئی فائدہ نہیں اس کا نقصان ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِتَخْلِيَتِهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّعِبِ فَلَا يَتَحَقَّقُ النَّظَرُ“ اس لیے کیونکہ وہ اس بچے کو کھیلنے کے لیے آزاد چھوڑ دیتا ہے تو اس کے اندر شفقت ثابت نہیں ہو گی۔ ”وَقَدْ صَحَّ أَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ لَمْ يُخَيِّرُوا“ اور تحقیق یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے بچوں کو اختیار نہیں دیا۔ ”وَأَمَّا الْحَدِيثُ فَقُلْنَا“ اور باقی جو حدیث ہے تو ہم کہتے ہیں اس کے جواب میں ”قَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: اللَّهُمَّ اهْدِهِ“ کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا انہوں نے دعا کی تھی ”اللَّهُمَّ اهْدِهِ“ کہ اے اللہ اس کی رہنمائی فرما ”فَوُفِّقَ لِاخْتِيَارِهِ الْأَنْظَرَ بِدُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، ”فَوُفِّقَ“ تو اس بچے کو توفیق دے دی گئی ”لِاخْتِيَارِهِ الْأَنْظَرَ“ کہ وہ اختیار کر لے جس میں زیادہ شفقت ہے ”بِدُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کی دعا سے۔ تو کہتے ہیں ”فَوُفِّقَ لِاخْتِيَارِهِ الْأَنْظَرَ بِدُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ پس بچے کو جو زیادہ شفقت والا تھا اس کے اختیار کرنے کی توفیق دے دی گئی حضور علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے۔ تو ہم یہ حدیث کا جواب دیتے ہیں کہ وہاں چونکہ حضور علیہ السلام نے دعا فرما دی تھی اس لیے بچے کو توفیق دے دی گئی۔ ”أَوْ يُحْمَلُ عَلَى مَا إِذَا كَانَ بَالِغًا“ یا اس کو محمول کیا جائے گا اس صورت پر جبکہ بچہ بالغ ہو، بچہ بالغ ہے تو اب اس کو اختیار ہو گا۔ اب یاد رکھو ہمارے نزدیک بھی جب بچہ بالغ ہو تو اس کو اختیار ہے وہ ماں یا باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے رہ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 77 of 160