آگے سبق دیکھیے بھئی۔
"وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مُنْذُ يَوْمِ تَزَوَّجَهَا لَمْ يَثْبُتْ نَسَبُهُ لِأَنَّ الْعُلُوقَ سَابِقٌ عَلَى النِّكَاحِ فَلَا يَكُونُ مِنْهُ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ فَصَاعِدًا يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ اعْتَرَفَ بِهِ الزَّوْجُ أَوْ سَكَتَ"
بھئی گزشتہ سبق میں باب ثبوت النسب ہم نے شروع کیا تھا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شریعت کے اندر پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح بچے کا نسب ثابت کیا جائے بھئی۔ اس لیے کیونکہ اگر بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا تو بچہ ضائع ہو جائے گا اور ہلاک ہو جائے گا، اور اگر ہلاکت سے بچ بھی گیا تو بھی معاشرے میں اس کی کوئی عزت اور کوئی مقام نہیں ہوگا بھئی۔ تو لہٰذا شریعت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح نسب ثابت کیا جائے چاہے اس کی وجہ سے نادر صورت کا تصور ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ مثلاً ایک شخص نے ایک اجنبیہ عورت کے بارے میں کہا کہ اگر میں نے فلانی سے نکاح کیا تو اسے طلاق ہے۔ پھر اس نے اس کے ساتھ نکاح کیا اور جس لمحے نکاح کیا اگلے ہی لمحے طلاق ہو گئی کیونکہ اس نے طلاق کو معلق کیا تھا نکاح کے ساتھ۔ تو جب شرط پائی گئی تو مشروط بھی پایا گیا اور طلاق واقع ہو گئی۔ پھر ٹھیک چھ مہینے بعد، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ، ٹھیک چھ مہینے بعد اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا۔ تو اس صورت میں یاد رکھو نسب ثابت ہو جائے گا اور اس شخص پر پورا مہر واجب ہو گا۔
نسب اس لیے ثابت ہو گا کیونکہ یہ عورت اس کی فراش ہے، اس کی منکوحہ ہے اور منکوحہ سے جو بھی اولاد پیدا ہو وہ خود بخود خاوند کی شمار ہوتی ہے بھئی۔ اور نیز اس وقت جب نکاح سے چھ ماہ ہوئے ہیں تو معلوم ہوا طلاق سے اس سے کم ہوئے ہیں کیونکہ اگرچہ طلاق اس اگلے ہی لمحے میں ہوئی تھی لیکن بہرحال ایک لمحے کا تو فرق آ گیا۔ تو جب نکاح سے چھ ماہ ہیں تو ہم یوں کہیں گے کہ طلاق سے اس سے کم ہوئے ہیں اور جب طلاق سے چھ ماہ سے کم ہوئے ہیں، معلوم ہوا علوق طلاق سے پہلے ہو چکا۔ یعنی حمل طلاق سے پہلے ٹھہر چکا ہے بھئی، اور اس طلاق سے پہلے تو نکاح والی حالت تھی۔ اور بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ ایسا ممکن ہے بھئی۔ یعنی کس طرح؟ کہ اس شخص اور عورت نے کسی دو افراد کو اپنا وکیل بنا دیا تھا کہ فلاں رات ہمارا نکاح کروا دینا اور ان دونوں نے اس رات ان دونوں کا نکاح کروایا اور اسی رات اس شخص نے اس عورت کے ساتھ صحبت کر لی۔ تو اب پتہ نہیں نکاح پہلے ہوا ہے یا صحبت پہلے ہوئی ہے لیکن جب تقدیم و تاخیر کا پتہ نہیں چل سکتا تو ہم اس کو مقارنت پر محمول کر لیں گے کہ اکٹھا ہی ہوا ہے۔ یعنی ادھر نکاح ہوا اور ادھر انزال ہوا یعنی علوق ہوا، حمل ٹھہر گیا۔ اور جب حمل ٹھہر گیا تو لہٰذا نسب ثابت ہو جائے گا اور نیز جب نسب ثابت ہوا یعنی بچہ اسی شخص کا ہے تو وہ تو وطی کے بغیر نہیں ہو سکتا تو وطی کو بھی ماننا پڑے گا۔ اور جب وطی کو حکماً مان لیا تو اب مہر بھی پورا دینا پڑے گا۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ بھی اب آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ تو اس شخص کے اوپر ہی بلاوجہ ایک بچے کا نسب ڈال دیا۔ نہیں بھئی، خاوند کے پاس اختیار ہے وہ نسب کی نفی کر سکتا ہے، البتہ اس کو پھر لعان کرنا پڑے گا۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا یاد رکھنا اگر مطلقہ رجعیہ بچے کو جنم دے اور اس نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہ کیا ہو تو چاہے دو سال سے کم میں بچے کو جنم دے، چاہے دو سال پر بچے کو جنم دے، چاہے دو سال سے زیادہ کے اندر بچے کو جنم دے، تمام صورتوں کے اندر نسب ثابت ہو جائے گا۔ اور خاوند نفی کرنا چاہتا ہے تو لعان کر سکتا ہے تو بہرحال تمام صورتوں میں نسب ثابت ہو جائے گا۔ اگر دو سال سے کم کے اندر بچے کو جنم دیا تو ہم کہیں گے طلاق سے پہلے صحبت ہوئی تھی اور حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت تو دو سال ہے تو دو سال سے کم میں اس نے بچے کو جنم دیا ہے، اور جیسے ہی بچے کو جنم دے گی ساتھ ہی اس کی عدت بھی گزر جائے گی اور یہ بائنہ ہو جائے گی اپنے خاوند سے۔ اور اگر دو سال یا دو سال سے زیادہ کے اندر اس نے بچے کو جنم دیا ہے، طلاق کے بعد دو سال پورے ہوئے ہیں یا دو سال سے زیادہ ہوئے ہیں، تو اس صورت میں یوں سمجھا جائے گا خاوند نے طلاق کے بعد صحبت کی ہے اور مطلقہ رجعیہ کے ساتھ تو خاوند کی صحبت جائز ہوتی ہے البتہ اس کو پھر رجوع شمار کیا جاتا ہے۔ تو اس صورت میں اگر دو سال یا دو سال سے زیادہ کے اندر بچہ پیدا ہوا ہے تو اس کو خاوند کا رجوع شمار کیا جائے گا اور نسب ثابت ہو جائے گا بھئی۔
اور اگر مطلقہ مبتوتہ ہے یعنی جس کو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں، تو اس صورت کے اندر پھر یاد رکھنا کہ دو سال سے کم کے اندر اگر اس نے بچے کو جنم دیا تو اس کا نسب ثابت ہو جائے گا اور اگر خاوند نفی کرنا چاہتا ہے تو لعان کر سکتا ہے۔ اور اگر دو سال سے زیادہ میں اس نے بچے کو جنم دیا پھر نسب ثابت نہیں ہو گا الّا یہ کہ خاوند دعویٰ کر دے۔ اگر دعویٰ کر دے پھر بھی نسب ثابت ہو جائے گا چاہے دو سال سے زیادہ ہی کیوں نہ گزر جائیں اور ہم اس کو محمول کریں گے وطی بالشبہہ پر کہ خاوند نے شاید یہ سمجھا تھا کہ میری بیوی طلاق کے باوجود ابھی بھی میرے لیے حلال ہے اور اس نے عدت کے اندر اس سے صحبت کر لی، لیکن ان تمام صورتوں میں یاد رکھنا کہ عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہ کیا ہو بھئی۔
اور اگر وہ بیوی جس کو خاوند نے طلاق دی ہے اگر وہ صغیرہ ہے البتہ مراہقہ ہے، قریب البلوغ ہے۔ اگر اس قسم کے مراہقہ ہے تو اس صورت میں طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے بعد نو ماہ سے کم کے اندر اس نے بچے کو جنم دیا تو اس کا نسب ثابت ہو جائے گا اور اگر نو ماہ یا نو ماہ سے زیادہ پر بچے کو جنم دیا تو پھر نسب ثابت نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ اس کی عدت شریعت نے مہینوں کے ساتھ مقرر کی ہے تو تین مہینے عدت کے ہو گئے اور اس کے بعد اگر چھ ماہ پورے گزر گئے یعنی نو ماہ ہو گئے تو پھر تو اس مدت میں علوق بھی ہو سکتا ہے اور بچہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، لہٰذا پھر تو نسب ثابت نہیں ہو گا لیکن اگر نو ماہ سے کم ہیں تو پھر نسب ثابت ہو جائے گا۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ صغیرہ مراہقہ جو ہے یہ بھی کبیرہ کی طرح ہے۔ اگر اس کو طلاقِ بائن دی ہے تو پھر دو سال سے کم میں اگر اس نے بچے کو جنم دیا تو نسب ثابت ہو جائے گا، اور اگر اس کو طلاقِ رجعی دی ہے خاوند نے تو اس صورت میں طرفین فرماتے ہیں کہ نو ماہ سے کم میں بچے کو جنم دے گی تو نسب ثابت ہو گا ورنہ نہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں تین ماہ عدت کے اور دو سال کم سے کم مدتِ حمل، تو یہ ستائیس ماہ سے کم کے اندر اگر یہ بچے کو جنم دے گی تو نسب ثابت ہو جائے گا اور اگر ستائیس ماہ یا اس سے زیادہ میں جنم دیا بچے کو تو پھر نسب ثابت نہیں ہو گا بھئی۔
اور اگر صغیرہ نے حمل کا دعویٰ کر لیا عدت کے دوران ہی تو پھر اس صورت میں نسب ثابت ہو جائے گا اور اس پر بالغہ ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند کا انتقال ہو جائے اور اس کی معتدہ بیوی بچے کو جنم دے تو اگر وہ دو سال سے کم میں بچے کو جنم دے گی تو نسب ثابت ہو جائے گا۔ دو سال کے پورے ہونے پر یا اس کے بعد بچے کو جنم دے تو نسب ثابت نہیں ہو گا بھئی۔
پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر معتدہ اعتراف کر لے کہ میری عدت گزر گئی اور پھر چھ ماہ سے کم کے اندر وہ بچے کو جنم دے دے تو پھر بھی نسب ثابت ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ اس کا جھوٹا ہونا قطعی اور یقینی ہے کیونکہ عدت کے گزرنے کے بعد چھ ماہ سے کم کے اندر وہ ایک صحیح سلامت بچے کو جنم دے رہی ہے حالانکہ اتنی مدت میں تو صحیح سلامت بچے کی پیدائش نہیں ہو سکتی بھئی۔ ہاں البتہ اگر معتدہ نے عدت کے گزرنے کا اقرار کر لیا اور پھر چھ ماہ کے بعد یا چھ ماہ سے زیادہ کے اندر بچے کو اس نے جنم دیا تو اب نسب ثابت نہیں ہو گا کیونکہ وہ خود اقرار کر چکی ہے کہ میری عدت گزر چکی اور پھر اس عدت کے بعد اتنی مدت گزری ہے جس کے اندر ایک نیا حمل ٹھہر سکتا ہے اور اس کو جنم دے سکتی ہے یہ عورت بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ بتلایا تھا کہ اگر معتدہ بچے کو جنم دے تو کیا یہ خود بخود خاوند کا شمار ہو گا یا نہیں؟ تو بتلایا تھا کہ اگر خاوند حمل کا اقرار کر چکا ہے یا اس کا حمل ظاہر تھا، سب کو اس کی حالت سے پتہ چل رہا تھا کہ یہ عورت حاملہ ہے، اور پھر وہ بچے کو جنم دیتی ہے اور خاوند انکار کر رہا ہے کہ نہیں یہ میرا بچہ نہیں ہے بھئی، تو اس صورت میں یاد رکھو حمل پہلے سے ظاہر تھا یا خاوند نے پہلے اقرار کیا تھا لہٰذا اس صورت میں ایک عورت کی گواہی سے بھی نسب ثابت ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ نسب تو پہلے ہی ثابت تھا۔ صرف تعینِ ولد کی ضرورت تھی کہ اسی عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے اور وہ ایک عورت کی گواہی سے بھی ثابت ہو جائے گا۔ تو امام صاحب کے نزدیک اگر خاوند انکار کر رہا ہے البتہ حمل پہلے ظاہر تھا یا خاوند نے اقرار کیا تھا تو پھر اس صورت میں ایک دائی کی گواہی سے بھی نسب ثابت ہو جائے گا۔
اور اگر حمل پہلے ظاہر نہیں تھا اور خاوند نے بھی پہلے اقرار نہیں کیا اور اب یہ عورت ایک بچے کو لے کر آئی ہے تو اب صرف ایک عورت کی گواہی سے یہ نسب ثابت نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے مستقل ایک پوری حجت اور پوری گواہی چاہیے بھئی، یعنی دو مرد گواہی دیں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد کیسے پیدائش پر گواہی دے سکتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا کہ اس کی صورت ممکن ہے بھئی۔ کس طرح؟ کہ ایک عورت ہے حاملہ ہے اور وہ ایک کمرے کے اندر گئی اور وہاں مرد کھڑے ہیں اور ان کو پتہ ہے کمرے کے اندر تو کوئی بھی نہیں ہے اور پھر وہاں سے وہ بچے کو لے کر نکلی یا اندر سے بچے کے رونے کی آواز آ رہی ہے، معلوم ہوا اس عورت نے بچے کو جنم دیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مردوں کی گواہی بھی اس طرح ممکن ہے بھئی۔ جبکہ صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان تمام صورتوں کے اندر ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ اگر عورت کے خاوند کا انتقال ہو گیا، اور انہوں نے آپ کو پیچھے بتلایا تھا کہ دو سال سے پہلے پہلے یہ بچے کو جنم دے دے تو نسب ثابت ہو جائے گا، لیکن اگر ایک عورت ہے اور وہ ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور مدت کا علم نہیں ہے کہ دو سال پورے ہوئے ہیں یا کم ہیں یا زیادہ ہیں، البتہ ورثہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ اسی عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے تو پھر اس صورت کے اندر بھی نسب ثابت ہو جائے گا بھئی۔ البتہ اگر سارے ورثہ اقرار نہیں کرتے، کچھ اقرار کر رہے ہیں اور کچھ اقرار نہیں کر رہے وہ انکار کر رہے ہیں، تو پھر جو اقرار کر رہے ہیں ان کو دیکھا جائے گا کیا ان کے ذریعے گواہی کا نصاب پورا ہو رہا ہے یا نہیں؟ یعنی اقرار کرنے والے دو عادل آدمی ہیں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہیں، تو اگر یہ گواہی کا نصاب پورا ہے تو پھر باقیوں کے حق میں بھی اس کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ لہٰذا اس بچے کو وراثت میں سے پورا حصہ ملے گا اور سب کے حصوں میں اسی کے مطابق کمی ہو جائے گی۔ اور اگر گواہی کا نصاب پورا نہیں ہے یعنی صرف ایک مرد ہے یا صرف دو عورتیں ہیں یا ایک مرد اور ایک عورت ہے، انہوں نے اقرار کیا ہے کہ اسی عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے اور باقی وارث اقرار نہیں کر رہے تو پھر صرف ان کے حصے میں کمی آئے گی۔ ان کے حصے میں سے جتنا بچے کا حصہ بنتا ہے وہ دے دیا جائے گا اور باقی جو انکار کرنے والے ہیں ان کے حق میں بچے کا نسب ثابت نہیں، لہٰذا ان کے حصوں میں کمی بھی نہیں کی جائے گی بھئی۔ چنانچہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ چونکہ اس کے ذریعے شہادت کا نصاب پورا ہو رہا ہے اور منکرین کے حق کے اندر بھی اس کا نسب ثابت ہو رہا ہے، لہٰذا ان کے اقرار میں شہادت کا لفظ ضروری ہے کہ یوں کہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے۔ لیکن دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں شہادت کے لفظ کی شرط نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ اس بچے کا نسب ان کے اپنے حق میں تو اصالۃً ثابت ہے اور غیروں کے حق میں تبعاً ثابت ہے اور جب کوئی چیز تبعاً ثابت ہو تو وہاں پھر شرائط کی رعایت رکھنا ضروری نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں:
"وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مُنْذُ يَوْمِ تَزَوَّجَهَا لَمْ يَثْبُتْ نَسَبُهُ"
صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کر لیا اور اس عورت نے شادی کے بعد چھ ماہ سے پہلے پہلے ایک بچے کو جنم دے دیا۔ نکاح کے دن سے لے کر بچے کی پیدائش میں چھ ماہ سے کم کا وقت ہے۔ بھئی اتنے وقت کے اندر تو ایک عورت صحیح سلامت بچے کو جنم نہیں دے سکتی، معلوم ہوا یہ حمل نکاح سے پہلے کا ہے لہٰذا نسب ثابت نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں: "وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً" اور جب نکاح کیا کسی آدمی نے کسی عورت سے "فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ" تو وہ عورت ایک بچے کو لے آئی "لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مُنْذُ يَوْمِ تَزَوَّجَهَا" جس وقت سے اس نے نکاح کیا ہے اس سے چھ ماہ سے کم کے اندر "لَمْ يَثْبُتْ نَسَبُهُ" تو اس بچے کا نسب ثابت نہیں ہو گا "لِأَنَّ الْعُلُوقَ سَابِقٌ عَلَى النِّكَاحِ" اس لیے کیونکہ علوق جو ہے یعنی حمل کا ٹھہرنا وہ اس نکاح پر مقدم ہے "فَلَا يَكُونُ مِنْهُ" لہٰذا وہ حمل اس خاوند سے نہیں ہو سکتا۔
"وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ" اچھا بھئی دوسری صورت: نکاح کے ٹھیک چھ ماہ کے بعد عورت نے بچے کو جنم دیا یا چھ ماہ سے بھی زیادہ وقت گزر گیا۔ اب یہ تو اتنا وقت ہے جس میں حمل ٹھہر کر صحیح سلامت بچے کی پیدائش ممکن ہے، لہٰذا اس صورت میں نسب ثابت ہو جائے گا جب خاوند خود اعتراف کر رہا ہے یا وہ خاموش ہے۔ خود اعتراف کر رہا ہے یا خاموش ہے تو پھر بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ اور اگر خاوند انکار کرتا ہے تو پھر اس کو لعان کرنا پڑے گا کیونکہ دراصل وہ زنا کی تہمت لگا رہا ہے بیوی پر۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ فَصَاعِدًا" اور اگر وہ عورت بچے کو لے آئی چھ ماہ میں یا اس سے زیادہ کے اندر "يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ" تو اس خاوند سے اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا "اعْتَرَفَ بِهِ الزَّوْجُ أَوْ سَكَتَ" خاوند اس کا اعتراف کر لے کہ یہ بچہ مجھ سے ہی ہے یا خاوند خاموش رہے تب بھی نسب ثابت ہو جائے گا "لِأَنَّ الْفِرَاشَ قَائِمٌ" اس لیے کیونکہ فراش موجود ہے، فراش قائم ہے، اور حدیث میں کیا آتا ہے: "الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ" أَيْ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ، کہ بچہ صاحبِ فراش کا ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْفِرَاشَ قَائِمٌ" اس لیے کیونکہ فراش جو ہے وہ قائم ہے، یہ عورت اس مرد کا فراش ہے "وَالْمُدَّةُ تَامَّةٌ" اور یہ مدت بھی پوری ہے یعنی چھ ماہ یا اس سے زیادہ اس میں بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔
"فَإِنْ جَحَدَ الْوِلَادَةَ يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ تَشْهَدُ بِالْوِلَادَةِ"
صورتِ مسئلہ یہ: عورت نے ایک بچے کو جنم دیا اور خاوند انکار کرتا ہے کہ اس عورت نے بچے کو جنم نہیں دیا، یہ کسی اور کا بچہ اٹھا کر لے آئی ہے، اس نے بچے کو جنم نہیں دیا بھئی۔ تو ایک عورت گواہی دیتی ہے کہ نہیں اسی عورت نے بچے کو جنم دیا ہے، یعنی وہ جو بچے کی پیدائش کے وقت عورت موجود ہوتی ہے یعنی قابِلہ بھئی، قابِلہ یعنی دائی بھئی۔ تو دائی نے گواہی دی کہ اسی عورت نے بچے کو جنم دیا ہے تو پھر اس صورت میں بھی نسب ثابت ہو جائے گا کیونکہ نسب تو پہلے ہی سے ثابت تھا۔ دیکھو یہاں دو چیزیں ہیں: ایک ہے ثبوتِ نسب اور ایک ہے تعینِ ولد۔ ثبوتِ نسب تو اس لیے ہو جائے گا کیونکہ یہ اس خاوند کی منکوحہ ہے بھئی اور منکوحہ جس بچے کو بھی جنم دے وہ کس کا شمار ہوتا ہے؟ خاوند کا شمار ہوتا ہے، تو یہ عورت فراش ہے اس مرد کا تو اس کی وجہ سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ البتہ صرف یہ تعین اب چاہیے تھی کہ اس بچے کو اسی عورت نے جنم دیا ہے یا یہ بچہ کسی اور کا اٹھا کر لے آئی ہے، تو وہ ایک دائی کی گواہی سے بھی ثابت ہو جائے گا لہٰذا اس سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو دائی نے گواہی دے دی کہ اس عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے۔ خاوند نے پھر دوبارہ نفی کر دی اور کہنے لگا یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے، یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں اب خاوند کو لعان کرنا پڑے گا کیونکہ درحقیقت اس نے عورت پر زنا کی تہمت لگا دی ہے۔ خاوند کہہ رہا ہے یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے تو یہ عورت پر زنا کا الزام لگا رہا ہے لہٰذا لعان کرنا پڑے گا۔
کہتے ہیں: "فَإِنْ جَحَدَ الْوِلَادَةَ" اور اگر خاوند نے بچے کی پیدائش کا انکار کیا "يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ تَشْهَدُ بِالْوِلَادَةِ" تو یہ نسب ثابت ہو جائے گا ایک عورت کی گواہی سے بھی جو بچے کی پیدائش کی گواہی دے "حَتَّى لَوْ نَفَاهُ الزَّوْجُ" یہاں تک کہ اگر اس بچے کی خاوند نے نفی کر دی کہ یہ مجھ سے نہیں ہے "يُلَاعِنُ" تو پھر خاوند کو لعان کرنا پڑے گا۔ لعان کرنا پڑے گا "لِأَنَّ النَّسَبَ يَثْبُتُ بِالْفِرَاشِ الْقَائِمِ" اس لیے کیونکہ نسب ثابت ہو جاتا ہے اس فراش کی وجہ سے جو قائم ہے، جو موجود ہے "وَاللِّعَانُ إِنَّمَا يَجِبُ بِالْقَذْفِ" یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہاں پر لعان واجب ہوا ہے بچے کی نفی کرنے کی وجہ سے، توجہ سے سنو، لعان کیوں ثابت ہوا کہ خاوند نے بچے کی نفی کی ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، اور بچہ ثابت ہوا ہے ایک عورت کی گواہی سے، تو جب بچہ ایک عورت کی گواہی سے ثابت ہوا تو گویا لعان بھی ایک عورت کی گواہی سے ثابت ہو رہا ہے۔ کس طرح؟ لعان کیوں ثابت ہوا کہ خاوند نے بچے کی نفی کی ہے اور بچے کی پیدائش کس سے ثابت ہے؟ دائی کی گواہی سے، تو گویا یہ لعان کی بنیاد کس پر ہو گئی؟ ایک عورت کی گواہی پر ہو گئی حالانکہ آپ یاد رکھنا یاد رکھنا حدود کے مسئلے کے اندر، حدود وہ سزائیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں اور چونکہ وہ انتہا درجے کی سخت سزائیں ہیں بھئی، چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، شادی شدہ مرد یا عورت نے زنا کیا تو سنگسار کیا جاتا ہے، ڈاکو کے ہاتھ اور پاؤں الٹی طرف سے کاٹے جاتے ہیں ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں، غیر شادی شدہ مرد یا عورت ہوں تو سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اگر زنا کا ثبوت ہو جائے، تو یہ حدود جو ہیں انتہا درجے کی سزائیں ہیں بہت سخت سزائیں ہیں، لہٰذا یہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں، ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں، لہٰذا حدود کے مسئلے میں عورت کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ کیونکہ عورت کی گواہی میں شبہ ہے۔ بھئی کس طرح شبہ ہے؟ بھئی آپ نہیں دیکھتے دو عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کے برابر قرار دیا ہے، معلوم ہوا ان کی گواہی میں نقص ہے، کمی ہے بھئی، لہٰذا عورت کی گواہی سے حد نہیں ثابت ہو سکتی۔ تو حد کے اندر ہمیشہ صرف مردوں کی گواہی چاہیے۔ تو آپ نے کیا کہا کہ خاوند پر لعان آیا ہے بچے کی نفی سے اور بچہ تو ثابت ہوا ہے دائی کی گواہی سے، تو گویا دائی کی گواہی کی وجہ سے خاوند کو اب لعان کرنا پڑے گا اور لعان تو خاوند کے لیے حدِ قذف کے درجے میں ہوتا ہے اور عورت کے لیے کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ حدِ زنا کے درجے میں ہوتا ہے، تو یہ تو گویا آپ ایک عورت کی گواہی کے ذریعے حد ثابت کر رہے ہیں۔
تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ جو یہاں لعان ثابت ہوا ہے یہ جو خاوند نے زنا کی تہمت لگائی ہے اس کی وجہ سے ثابت ہوا ہے کیونکہ تہمت موجود ہے۔ جب خاوند نے کیا کہا: یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے، تو معلوم ہوا وہ عورت پر زنا کی تہمت لگا رہا ہے۔ اور نیز یہ جو تہمت ہے اس میں بچے کا ہونا ضروری نہیں ہوتا، خاوند بیوی پر ویسے زنا کی تہمت لگا دے کہ تو نے زنا کیا ہے تو اس صورت میں بھی لعان آ جاتا ہے، اور بچے کی نفی کرے تو اس کے ضمن میں بھی زنا کا الزام آ جاتا ہے۔ تو لہٰذا قذف کے ساتھ بچے کا ہونا ضروری نہیں۔ قذف بغیر بچے کے بھی ہو سکتا ہے، تو لہٰذا یہاں پر یوں سمجھیں گے یہ جو خاوند زنا کی تہمت لگا رہا ہے اس کے اندر بچے کا اعتبار ہے ہی نہیں۔ بھئی آپ نے کیا کہا تھا یہ لعان کس وجہ سے آیا کہ خاوند نے بچے کی نفی کی ہے اور بچہ تو کس سے ثابت ہوا ہے؟ عورت کی گواہی سے۔ تو ہم کہیں گے کہ یہاں یوں سمجھو خاوند نے براہِ راست تہمت لگائی ہے، بچے کا اس میں اعتبار ہے ہی نہیں کیونکہ بچے کی وجہ سے ہی قذف نہیں آتا، بچے کے بغیر بھی قذف آ جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر لعان جو آیا ہے اس میں اس بچے کا اعتبار ضروری نہیں ہے، لہٰذا خاوند پر لعان آئے گا۔
تو کہتے ہیں: "وَاللِّعَانُ إِنَّمَا يَجِبُ بِالْقَذْفِ" کہ یہ جو لعان ہے یہ تو قذف کی وجہ سے ثابت ہوا ہے "وَلَيْسَ مِنْ ضَرُورَتِهِ وُجُودُ الْوَلَدِ" اور لعان کے ساتھ تو بچے کا وجود ضروری نہیں ہے بھئی، بچہ نہ ہو پھر بھی لعان ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَلَيْسَ مِنْ ضَرُورَتِهِ" اور لعان کے ساتھ ضروری نہیں ہے "وُجُودُ الْوَلَدِ" بچے کا وجود "فَإِنَّهُ يَصِحُّ بِدُونِهِ" اس لیے کیونکہ لعان بغیر بچے کے بھی صحیح ہو جاتا ہے۔ تو لہٰذا اس لعان کے اندر یوں سمجھو اس بچے کا اعتبار ہے ہی نہیں، صرف اس نے زنا کی تہمت عورت پر لگائی ہے اس کی وجہ سے لعان ثابت ہو رہا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
"فَإِنْ وَلَدَتْ ثُمَّ اخْتَلَفَا فَقَالَ الزَّوْجُ تَزَوَّجْتُكِ مُنْذُ أَرْبَعَةٍ"
صورتِ مسئلہ یہ: عورت نے بچے کو جنم دیا۔ اب میاں بیوی میں اختلاف آ گیا۔ خاوند کہتا ہے ہمارے نکاح کو صرف چار ماہ ہوئے ہیں اور بیوی کہتی ہے نہیں ہمارے نکاح کو چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ اب خاوند اور بیوی میں اختلاف آ گیا مدتِ نکاح کے اندر بھئی، تو اس صورت میں یاد رکھو عورت کا قول معتبر ہے۔ اس صورت میں عورت کا قول معتبر ہے۔ دیکھو یاد رکھو، فقہ کا ضابطہ ہے کہ "الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ"، الحادث ثاء کے ساتھ ہے، وہ چیز جو نئی پیش آئے یعنی جو پہلے نہیں تھی پھر اس کا وجود ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ حادث۔ کہتے ہیں: "الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ" حادث کی نسبت اوقات میں سے جو سب سے قریبی وقت ہوتا ہے اس کی طرف کی جاتی ہے۔ مثلاً دو آدمی ہیں ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا ایک چیز کے بارے میں، ایک کہتا ہے یہ چیز چار ماہ پہلے ہوئی تھی ایک کہتا ہے یہ چیز چھ ماہ پہلے ہوئی تھی، تو جو زمانۂ حال کے سب سے قریب زمانہ ہے اس کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ تو خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ نکاح کو ہوئے ہیں چار مہینے، اور بیوی کیا کہہ رہی ہے؟ چھ مہینے۔ تو ضابطہ کیا ہے کہ حادث جو چیز نئی پیش آئے اس کی نسبت قریب والے زمانے کی طرف کی جاتی ہے اور زمانۂ حال کے قریب والا قول کس کا ہے؟ زمانۂ حال کے قریب والا وقت کون بیان کر رہا ہے، خاوند یا بیوی؟ خاوند، کیونکہ خاوند چار مہینے کہہ رہا ہے معلوم ہوا آج سے چار مہینے قبل کی وہ بات کر رہا ہے، اور بیوی چھ مہینے یعنی آج سے چھ مہینے پہلے کی بات کر رہی ہے، توجہ ہے؟ تو خاوند جو وقت بیان کر رہا ہے وہ حال کے سب سے قریب ہے۔ اور فقہ کا ضابطہ ہے کہ "الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ" کہ جو چیز نئی پیش آتی ہے اس کی نسبت قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے، تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہونا چاہیے، بچے کا نسب ثابت نہیں ہونا چاہیے، لیکن لیکن چونکہ نسب کے ثابت کرنے میں شریعت بے انتہا احتیاط سے کام لیتی ہے لہٰذا یہاں پر عورت کے قول کا اعتبار کیا جائے گا۔ کیونکہ عورت کے قول کو لے لیں تو بچے کا نسب ثابت ہو رہا ہے، خاوند کے قول کو لیں تو بچے کا نسب ثابت نہیں ہو رہا، لہٰذا "الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ" یہ ضابطہ یہاں چھوڑ دیا جائے گا۔ ورنہ یہ ضابطہ ہے فقہ کا لیکن اس کو یہاں اس پر عمل ترک کر دیا جائے گا نسب کو ثابت کرنے کے لیے، کیونکہ نسب کے ثابت کرنے میں بے انتہا احتیاط سے کام لیا جاتا ہے، کوشش کی جاتی ہے جس طرح بھی ہو سکے نسب ثابت ہو جائے کیونکہ ایک بچے کی زندگی کا معاملہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: "فَإِنْ وَلَدَتْ" تو اگر عورت نے بچے کو جنم دیا "ثُمَّ اخْتَلَفَا" پھر اس کے بعد میاں بیوی کا اختلاف ہوا "فَقَالَ الزَّوْجُ تَزَوَّجْتُكِ مُنْذُ أَرْبَعَةٍ" تو خاوند کہتا ہے میں نے تجھ سے چار ماہ سے نکاح کیا ہے یعنی چار ماہ گزر گئے میرے نکاح کو "وَقَالَتْ هِيَ مُنْذُ سِتَّةِ أَشْهُرٍ" اور عورت کہتی ہے کہ نکاح کو جو ہے چھ ماہ گزر چکے ہیں "فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا" تو وہ قول جو معتبر ہے وہ اس عورت کا قول ہے "وَهُوَ ابْنُهُ" اور یہ بچہ اسی خاوند کا بیٹا شمار ہو گا "لِأَنَّ الظَّاهِرَ شَاهِدٌ لَهَا" اس لیے کیونکہ ظاہر جو ہے وہ اس عورت کا گواہ ہے بھئی۔ "لِأَنَّ الظَّاهِرَ شَاهِدٌ لَهَا" اس لیے کیونکہ ظاہر جو ہے یعنی ظاہرِ حال عورت کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ سچی ہے۔ کہتے ہیں: "لِأَنَّ الظَّاهِرَ شَاهِدٌ لَهَا" اس لیے کیونکہ ظاہرِ حال جو ہے عورت کے لیے گواہی دے رہا ہے "فَإِنَّهَا تَلِدُ ظَاهِرًا مِنْ نِكَاحٍ لَا مِنْ سِفَاحٍ"، سفاح کہتے ہیں زنا کو، اس لیے کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ عورت نکاح سے بچے کو جنم دے گی "لَا مِنْ سِفَاحٍ" نہ کہ زنا سے۔ ایک مسلمان عورت ہے میں نے بتایا مسلمان کے فعل کے اندر خیر والا پہلو بھی ہو اور شر والا پہلو بھی ہو تو اس کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ خیر والے پہلو پر۔ تو اگر خاوند کا قول لیا جائے تو معلوم ہوا بچہ زنا سے ہے، عورت کے قول کو لیا جائے تو معلوم ہوا بچہ نکاح سے ہے، لہٰذا عورت کے قول کو قبول کیا جائے گا کیونکہ ظاہرِ حال اس عورت کی تائید کر رہا ہے کہ یہ مسلمان عورت ہے اور یقیناً یہ زنا سے بچے کو جنم نہیں دے سکتی، اس نے نکاح سے ہی بچے کو جنم دیا ہے۔
کہتے ہیں: "فَإِنَّهَا تَلِدُ ظَاهِرًا مِنْ نِكَاحٍ لَا مِنْ سِفَاحٍ" اس لیے کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ نکاح سے بچے کو جنم دے گی نہ کہ زنا سے "وَلَمْ يَذْكُرِ الِاسْتِحْلَافَ" اور دیکھیے متن کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے قسم کو ذکر نہیں فرمایا۔ متن میں آیا: "فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا وَهُوَ ابْنُهُ"، عورت کا قول معتبر ہے اور یہ اسی خاوند کا بیٹا شمار ہو گا لیکن قسم نہیں ذکر کہ عورت کو قسم کھانا پڑے گی یا نہیں۔ تو اب وہ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: "وَلَمْ يَذْكُرِ الِاسْتِحْلَافَ" اور امام محمد رحمہ اللہ نے استحلاف کو ذکر نہیں کیا "وَهُوَ عَلَى الِاخْتِلَافِ" اور یہ اس اختلاف پر ہے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے، چھ چیزیں ہیں کہ ان میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ جس کا قول معتبر ہو اس پر قسم نہیں ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اس پر قسم ہے۔ تو فتویٰ تو صاحبین کے قول پر ہے، البتہ ان مسائل میں اختلاف ہے۔ تو جیسے نسب ہے، نکاح ہے، رجوع وغیرہ، تو یہ کچھ مسائل ہیں جن کے اندر امام صاحب فرماتے ہیں جس کا قول معتبر ہے اس پر قسم بھی نہیں ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ان چیزوں میں بھی قسم آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَلَمْ يَذْكُرِ الِاسْتِحْلَافَ" اور امام محمد رحمہ اللہ نے قسم طلب کرنے کو ذکر نہیں فرمایا "وَهُوَ عَلَى الِاخْتِلَافِ" اور وہ قسم طلب کرنا اختلاف پر ہے۔
آگے دیکھیے:
"وَإِنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ طَالِقٌ فَشَهِدَتِ امْرَأَةٌ عَلَى الْوِلَادَةِ"
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی کی طلاق کو معلق کر دیا بچے کی پیدائش پر۔ خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو نے بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے۔ پھر اس کے بعد ایک عورت نے گواہی دی یعنی دائی نے گواہی دی کہ اس عورت نے بچے کو جنم دیا ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں نسب بھی ثابت ہو جائے گا اور نیز اس عورت کو طلاق بھی ہو جائے گی کیونکہ طلاق کا دارومدار تھا بچے کی پیدائش پر۔ جب بچے کی پیدائش ثابت ہو گئی تو جس چیز کی بنیاد اس پر تھی یعنی طلاق اس پر معلق تھی تو وہ طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، امام صاحب فرماتے ہیں کہ دائی کی گواہی سے نسب تو ثابت ہو جائے گا لیکن طلاق ثابت نہیں ہوگی بھئی۔ طلاق کے لیے الگ مستقل دلیل چاہیے، دو مرد گواہ چاہئیں یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ چاہئیں جو یہ گواہی دیں کہ اس عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے۔
توجہ ہے؟ خاوند نے کیا کیا ہے؟ طلاق کو معلق کیا بچے کی پیدائش پر۔ بعد میں ایک عورت نے گواہی دے دی کہ اس عورت نے بچے کو جنم دیا ہے، تو امام صاحب کے نزدیک نسب تو ثابت ہوگا لیکن طلاق ثابت نہیں ہوگی جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نسب بھی ثابت ہوگا اور طلاق بھی ثابت ہو جائے گی کیونکہ جب بچے کی پیدائش ثابت ہو گئی تو بچے کی پیدائش پر طلاق کی بنیاد تھی، طلاق معلق تھی بچے کی پیدائش پر تو طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ" اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا "إِذَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ طَالِقٌ" کہ جب تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے "فَشَهِدَتِ امْرَأَةٌ عَلَى الْوِلَادَةِ" تو ایک عورت نے گواہی دے دی بچے کی پیدائش پر "لَمْ تُطَلَّقْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ" امام صاحب کے نزدیک طلاق نہیں ہوگی، نسب ثابت ہو جائے گا لیکن طلاق نہیں ہوگی "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى تُطَلَّقُ" جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ طلاق ہو جائے گی۔ لیکن اس میں یاد رکھنا، خاوند نے پہلے حمل کا اقرار نہ کیا ہو، خاوند نے پہلے حمل کا اقرار نہ کیا ہو اور حمل ظاہر بھی نہ ہو، عورت کی حالت بھی ایسی ہو کہ حمل کا پتہ نہیں چل رہا۔ اگر خاوند پہلے اعتراف کر چکا ہے کہ یہ عورت حاملہ ہے یا عورت کی حالت ایسی ہے کہ اس کا حمل ظاہر ہے، سب کو نظر آ رہا ہے کہ یہ عورت حاملہ ہے، تو پھر اس صورت کے اندر وہ بچے کو لے کر آئے گی تو پھر طلاق ثابت ہو جائے گی بھئی۔ تو امام صاحب اس صورت میں اختلاف کر رہے ہیں جب خاوند نے اعتراف بھی نہیں کیا تھا حمل کا اور حمل ظاہر بھی نہیں تھا۔
تو کہتے ہیں: "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى تُطَلَّقُ" اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس عورت کو طلاق ہو جائے گی "لِأَنَّ شَهَادَتَهَا حُجَّةٌ فِي ذَلِكَ" اس لیے کیونکہ ایک عورت کی گواہی بھی اس میں حجت ہے۔ ایک عورت کی گواہی سے بھی بچے کی تعین ہو گئی کیونکہ فراش قائم ہے، یہ عورت اسی شخص کی بیوی ہے۔ تو نسب تو بچے کا ثابت ہے، البتہ صرف یہ تعین چاہیے تھی کہ یہ عورت اسی نے اس بچے کو جنم دیا ہے یا یہ کسی اور کا بچہ اٹھا کر لے آئی ہے، تو ایک عورت نے گواہی دے دی کہ اسی عورت نے جنم دیا ہے، تو نسب تو ثابت تھا اب بچے کی تعین بھی ہو گئی تو اب طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ تو یہ معنی ہے "لِأَنَّ شَهَادَتَهَا حُجَّةٌ فِي ذَلِكَ" اس لیے کیونکہ ایک عورت کی گواہی بھی اس کے اندر حجت ہے۔ "قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "شَهَادَةُ النِّسَاءِ جَائِزَةٌ فِيمَا لَا يَسْتَطِيعُ الرِّجَالُ النَّظَرَ إِلَيْهِ" کہ عورتوں کی گواہی جائز ہے ان چیزوں میں جس کی طرف مرد دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ عورتوں کی گواہی ان معاملات کے اندر جائز ہے جن کے اندر مرد دیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور بچے کی پیدائش بھی ایسا ہی معاملہ ہے، اس وقت عورت ہی موجود ہوتی ہے لہٰذا اس میں عورت کی گواہی قبول کی جائے گی۔ یہ صاحبین دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ پھر دیکھ لیجیے حدیث: "قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "شَهَادَةُ النِّسَاءِ جَائِزَةٌ" کہ عورتوں کی گواہی جائز ہے "فِيمَا" ان مسائل کے اندر "لَا يَسْتَطِيعُ الرِّجَالُ النَّظَرَ إِلَيْهِ" کہ مرد ان کی طرف دیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
"وَلِأَنَّهَا لَمَّا قُبِلَتْ فِي الْوِلَادَةِ تُقْبَلُ فِيمَا يُبْتَنَى عَلَيْهَا" اب عقلی دلیل دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی ادھر دیکھیے وہی بات جو میں نے پہلے بیان کر دی کہ عورت کی گواہی سے بچے کی پیدائش ثابت ہو گئی، صاحبین فرماتے ہیں، اور جب بچے کی پیدائش ثابت ہو گئی تو اسی پیدائش پر بنیاد تھی طلاق کی بھی، طلاق اسی پیدائش پر معلق تھی تو طلاق بھی ثابت ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّهَا لَمَّا قُبِلَتْ فِي الْوِلَادَةِ" اس لیے کیونکہ جب ایک عورت کی گواہی بچے کی پیدائش میں قبول کی جاتی ہے "تُقْبَلُ فِيمَا يُبْتَنَى عَلَيْهَا" تو اس عورت کی گواہی قبول کی جائے گی اس چیز میں بھی جس کی بنیاد اس پیدائش پر ہے "وَهُوَ الطَّلَاقُ" اور وہ طلاق ہے، اس طلاق کی بنیاد اس پیدائش پر ہے۔
"وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا ادَّعَتِ الْحِنْثَ" اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ اس عورت نے حانث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس عورت نے حانث ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ یعنی کہ شرط پوری ہو گئی ہے، مجھے طلاق ہو گئی ہے۔ تو یمین کے اندر اس نے حانث ہونے کا دعویٰ کیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تعلیق کو بھی فقہ کے اندر یمین کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" امام صاحب کی دلیل یہ ہے "أَنَّهَا ادَّعَتِ الْحِنْثَ" کہ اس عورت نے حانث ہونے کا دعویٰ کیا ہے "فَلَا يَثْبُتُ إِلَّا بِحُجَّةٍ تَامَّةٍ" لہٰذا یہ حانث ہونا ثابت نہیں ہو سکتا مگر پوری حجت سے، یعنی پوری گواہی ہونی چاہیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ "وَهَذَا لِأَنَّ شَهَادَتَهُنَّ ضَرُورِيَّةٌ فِي حَقِّ الْوِلَادَةِ" اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی عورت نے گواہی دی تو ہے کہ اس بچے کو اسی عورت نے جنم دیا ہے، کہتے ہیں بھئی عورت کی جو گواہی پیدائش پر قبول کی جاتی ہے وہ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ہے۔ کس کی وجہ سے؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے، کیونکہ پیدائش کے وقت وہ دائی ہی موجود ہوتی ہے، مرد وہاں موجود نہیں ہو سکتے لہٰذا اس لیے عورت کی گواہی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے شریعت نے حکم دیا اس کو قبول کرو، اور جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے، اور اس ایک عورت کی گواہی کے ذریعے نسب ثابت ہو گیا تو جتنی ضرورت تھی وہ ضرورت پوری ہو گئی۔ لہٰذا نسب تو اس کی گواہی سے ثابت ہو جائے گا لیکن طلاق کے ثابت کرنے کے لیے اس کی گواہی کی حاجت نہیں ہے لہٰذا اس کے لیے مستقل گواہی چاہیے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَهَذَا لِأَنَّ شَهَادَتَهُنَّ ضَرُورِيَّةٌ فِي حَقِّ الْوِلَادَةِ" اور یہ اس لیے کہ ان عورتوں کی گواہی جو ہے پیدائش کے حق میں ضرورت کی وجہ سے ہے "فَلَا تَظْهَرُ فِي حَقِّ الطَّلَاقِ" لہٰذا یہ شہادت طلاق کے حق میں ظاہر نہیں ہوگی، کیونکہ الضَّرُورِيُّ يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ۔ تو کہتے ہیں یہ طلاق کے حق میں یہ شہادت ظاہر نہیں ہوگی "لِأَنَّهُ يَنْفَكُّ عَنْهَا" اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ پیدائش سے جدا ہو جاتی ہے۔ طلاق جو ہے پیدائش سے جدا ہو جاتی ہے۔ یاد رکھو، جب دو چیزوں میں ملازمت نہیں ہے، دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم نہیں ہیں...
تو ان میں سے ایک کے اندر شہادت کو قبول کرنے سے یہ لازم نہیں آئے گا کہ دوسرے میں بھی شہادت کو قبول کیا جائے۔
یاد رکھو! جب دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، پھر تو ایک پر گواہی قبول کرنے کے ساتھ لازم ہے دوسرے پر بھی گواہی کو قبول کرنا۔ مثلاً سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے۔ تو جب سورج کے نکلنے پر گواہی آ گئی تو دن کے ہونے پر بھی اس گواہی کو قبول کیا جائے گا۔ لیکن اگر دو چیزیں ایک دوسرے سے الگ ہو جاتی ہیں تو ایک کے حق میں گواہی قبول کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے کے حق میں بھی گواہی قبول کر لی گئی۔ جیسے طلاق اور پیدائش۔ طلاق اور پیدائش یہاں پر خاوند نے پیدائش کے ساتھ طلاق کو معلق کیا، تو یہاں پر یہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ جب بچے کی پیدائش ہوگی اس عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ تو یہاں پر طلاق اور پیدائش میں ملازمت ہے خاوند کے معلق کرنے کی وجہ سے، لیکن ویسے تو طلاق اور پیدائش میں ملازمت نہیں ہے۔ خاوند بیوی کو طلاق دے تو کیا وہاں ہمیشہ پیدائش ہوتی ہے بچے کی؟ نہیں، طلاق دی ہے چاہے حاملہ بھی نہ ہو عورت پھر بھی طلاق ہو جاتی ہے۔ اور اسی طرح عورت کیا جب بھی بچے کو جنم دیتی ہے تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟ نہیں، وہ تو یہاں اس خاوند نے معلق کیا تھا اس لیے طلاق ہو رہی ہے ورنہ تو ہر پیدائش کے ساتھ طلاق نہیں ہوتی۔ تو طلاق بھی پیدائش کے بغیر پائی جا سکتی ہے اور پیدائش بھی طلاق کے بغیر پائی جا سکتی ہے، تو دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم نہیں۔ جب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم نہیں ہیں تو لہٰذا ایک کے حق میں گواہی قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے کے حق میں بھی گواہی کو قبول کر لیا گیا۔ تو پیدائش کے سلسلے میں ایک عورت کی گواہی قبول کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب حانث ہونے کے بارے میں بھی اس عورت کی گواہی کو قبول کر لیا جائے، حانث ہونے کے لیے الگ گواہی چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر خاوند نے حمل کا اقرار کیا تھا پہلے سے کہ یہ عورت حاملہ ہے، یا اس عورت کا حمل ظاہر تھا سب کو پتہ چل رہا تھا اس عورت کی حالت دیکھ کر کہ یہ حاملہ ہے، تو پھر اس صورت کے اندر یاد رکھو بچے کی پیدائش پر حانث ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔
تو یہ معنی ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا لِأَنَّ شَهَادَتَهُنَّ ضَرُورِيَّةٌ فِي حَقِّ الْوِلَادَةِ“ اس لیے کیونکہ عورتوں کی گواہی پیدائش کے حق میں ضروری ہے یعنی ضرورت کی وجہ سے ہے، ”فَلَا تَظْهَرُ فِي حَقِّ الطَّلَاقِ“ لہٰذا یہ شہادت ظاہر نہیں ہوگی طلاق کے حق میں، ”لِأَنَّهُ يَنْفَكُّ عَنْهَا“ اس لیے کیونکہ طلاق بچے کی پیدائش سے جدا ہو جاتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ كَانَ الزَّوْجُ قَدْ أَقَرَّ بِالْحَبَلِ“ اور اگر خاوند حمل کا اقرار کر چکا ہے، ”طُلِّقَتْ مِنْ غَيْرِ شَهَادَةٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بھئی خاوند حمل کا اقرار کر چکا ہے یا عورت کا حمل ظاہر تھا، اب عورت بچے کو لے آئی اور کہتی ہے: میں نے اس بچے کو جنم دیا ہے۔ خاوند بے شک انکار کرتا رہے، اب نسب بھی ثابت ہو جائے گا اور نیز طلاق بھی ہو جائے گی۔ کیونکہ خاوند خود اقرار کر چکا ہے یہ عورت حاملہ ہے، اور جب حاملہ ہونے کا اقرار کیا ہے تو حاملہ ہی آگے چل کر بچے کو جنم دے گی۔ لہٰذا بچے کی پیدائش بھی گویا خود خاوند کے اقرار سے ہی ثابت ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الزَّوْجُ قَدْ أَقَرَّ بِالْحَبَلِ“ اور اگر خاوند جو ہے وہ تحقیق اقرار کر چکا ہے حمل کا، ”طُلِّقَتْ مِنْ غَيْرِ شَهَادَةٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو اس عورت کو طلاق ہو جائے گی بغیر شہادت کے ہی امام صاحب کے نزدیک۔ امام صاحب فرماتے ہیں: اب دائی کی گواہی کی بھی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ خاوند خود اقرار کر چکا ہے یہ عورت حاملہ ہے۔ ”وَعِنْدَهُمَا تُشْتَرَطُ شَهَادَةُ الْقَابِلَةِ“ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں بھی دائی کی گواہی کی شرط ہوگی۔ کیوں دائی کی گواہی کی شرط کیوں ہوگی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ حُجَّةٍ لِدَعْوَاهَا الْحِنْثَ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ عورت حانث ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے، اور حانث ہونے کے لیے گواہی ضرور چاہیے، اور حانث ہونے کی بنیاد پیدائش پر ہے، اور پیدائش تو ایک عورت کی گواہی سے بھی ثابت ہو جائے گی، تو جب ایک عورت کی گواہی سے پیدائش ثابت ہو جائے گی تو حانث ہونا بھی ثابت ہوگا، اس کے بغیر نہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ حُجَّةٍ لِدَعْوَاهَا الْحِنْثَ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ضروری ہے حجت کا ہونا، ”لِدَعْوَاهَا الْحِنْثَ“ اس عورت کے حانث ہونے کے دعوے کے لیے۔ اس عورت کے حانث ہونے کے دعوے کے لیے حجت یعنی گواہی کا ہونا ضروری ہے۔ ”وَشَهَادَتُهَا حُجَّةٌ فِيهِ عَلَى مَا بَيَّنَّا“ اور ایک عورت کی گواہی بھی حجت ہے حانث ہونے میں اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ صاحبین فرماتے ہیں۔ ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ الْإِقْرَارَ بِالْحَبَلِ إِقْرَارٌ بِمَا يُفْضِي إِلَيْهِ“ امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ الْإِقْرَارَ بِالْحَبَلِ“ کہ خاوند نے جو حمل کا اقرار کیا تھا، ”إِقْرَارٌ“ یہ اقرار ہے، ”بِمَا يُفْضِي إِلَيْهِ“ اس چیز کی طرف جس کی طرف یہ حمل لے جانے والا ہے۔ خاوند نے جب حمل کا اقرار کیا ہے تو جس چیز تک یہ حمل لے جانے والا ہے یعنی پیدائش، تو وہ بچے کی پیدائش پر بھی اعتراف ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ الْإِقْرَارَ بِالْحَبَلِ“ کہ خاوند کا حمل کا اقرار کرنا، ”إِقْرَارٌ بِمَا يُفْضِي إِلَيْهِ“ یہ اقرار کرنا ہے اس چیز کا جس تک وہ حمل لے جانے والا ہے یعنی پیدائش کا، یعنی پیدائش کا بھی خاوند نے اقرار کر لیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِقْرَارٌ بِمَا يُفْضِي إِلَيْهِ“ یہ اقرار ہے اس چیز کا جس کی طرف یہ حمل لے جانے والا ہے، ”وَهُوَ الْوِلَادَةُ“ اور وہ ولادت ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ أَقَرَّ بِكَوْنِهَا مُؤْتَمَنَةً“ اور نیز اس لیے کیونکہ خاوند نے اقرار کر لیا اس عورت کے امانت دار ہونے کا۔ بھئی خاوند نے جب اقرار کر لیا تھا کہ یہ عورت حاملہ ہے، معلوم ہوا اس خاوند کے کہنے کا مطلب ہے: اس عورت کے پیٹ میں میرا بچہ ہے۔ یعنی یہ عورت امانت دار ہے، یہ بچہ میں نے اس کے سپرد کیا ہے، یہ امانت اس کو ادا کرنی پڑے گی، یہ میرا بچہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَقَرَّ بِكَوْنِهَا مُؤْتَمَنَةً“ اس لیے کیونکہ یہ خاوند کا یہ کہنا کہ یہ حاملہ ہے یہ دراصل اقرار ہے، ”بِكَوْنِهَا مُؤْتَمَنَةً“ اس عورت کے امانت دار ہونے کا کہ اس کے پاس خاوند نے امانت رکھوائی ہے، ”فَيُقْبَلُ قَوْلُهَا فِي رَدِّ الْأَمَانَةِ“ لہٰذا عورت کے قول کو قبول کیا جائے گا امانت کے لوٹانے میں۔ عورت بچے کو لے آئی اور کہتی ہے اس کو میں نے جنم دیا ہے، گویا وہ امانت واپس کر رہی ہے۔ کیا کر رہی ہے؟ امانت واپس کر رہی ہے۔ اور امانت کے اندر مودع کے قول کو قبول کیا جاتا ہے جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی، لہٰذا عورت کے قول کو قبول کیا جائے گا اور یہاں کسی گواہی کی ضرورت نہیں امام صاحب کے نزدیک۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَأَكْثَرُ مُدَّةِ الْحَمْلِ سَنَتَانِ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَأَكْثَرُ مُدَّةِ الْحَمْلِ سَنَتَانِ“ کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے، ”لِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کی وجہ سے۔ انہوں نے فرمایا: ”الْوَلَدُ لَا يَبْقَى فِي الْبَطْنِ أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ وَلَوْ بِظِلِّ مِغْزَلٍ“ کہ بچہ جو ہے ماں کے پیٹ میں باقی نہیں رہتا دو سال سے زیادہ اگرچہ چرخے کے سائے کے برابر ہی ہو۔ مغزل کہتے ہیں چرخہ۔ چرخہ، قدیم زمانے میں ایک آلہ تھا، پہیہ نما آلہ جس کو بیٹھ کر گھمایا جاتا تھا اور اس پر دھاگہ تیار کیا جاتا تھا اور پھر اس سے کپڑے بنے جاتے تھے، تو اس کو اردو میں چرخہ کہتے ہیں اور عربی میں مغزل کہتے ہیں۔ اور ظل، ظل ظاء کے ساتھ ہے، ظل سائے کو کہتے ہیں۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا اگرچہ چرخے کے سائے کے برابر ہی ہو۔ چرخہ جو ہے دیکھو یہ ایک پہیہ نما چیز ہے اور اس کو ہاتھ کے ذریعے گھمایا جاتا ہے، یہ پہیے کی شکل کا ہوتا ہے اور بالخصوص جیسے سائیکل کا پہیہ ہے بلکہ سائیکل کا پہیہ بھی اس کے مقابلے میں کافی بڑا بھی ہے اور یہ اس سے بھی باریک سا ہوتا تھا اور چھوٹا ہوتا تھا، تو لہٰذا ظاہر سی بات ہے جب یہ اتنا چھوٹا سا باریک سا پہیہ ہوگا تو اس کا بہت معمولی سایہ ہوگا اور پھر بالخصوص جب وہ گھوم رہا ہو چل رہا ہو تو اس وقت تو اس کا سایہ اور بھی کم ہو جاتا ہے، تو مراد اس سے معمولی مقدار ہے۔ چرخے کے سائے سے مراد معمولی مقدار ہے یعنی جیسے اس کا سایہ معمولی سا ہوتا ہے۔ تو لہٰذا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا اگرچہ چرخے کے سائے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی تھوڑی سی مقدار بھی دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا، جیسے چرخے کا سایہ تھوڑا سا ہوتا ہے تو اسی طرح بچہ دو سال سے زیادہ تھوڑی دیر بھی ماں کے پیٹ میں نہیں رہ سکتا۔ اور آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ بات تو عقل سے پتہ نہیں چل سکتی کہ بچہ ماں کے پیٹ میں زیادہ سے زیادہ کتنی دیر تک رہ سکتا ہے، ہم عقل کے ذریعے یہ فیصلہ نہیں کر سکتے، معلوم ہوا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور علیہ السلام سے سنا ہوگا جبھی فرما رہی ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا۔ یاد رکھو! صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اگر یہ کوئی بات ذکر فرمائیں اور وہ بات ایسی ہو جو عقل سے پتہ نہ چل سکے، تو یاد رکھو وہ حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہوتی ہے۔ صحابی نے تو اگرچہ حضور کا ذکر نہیں کیا ایک بات ذکر کر دی لیکن وہ بات ایسی ہے کہ عقل سے اس کا پتہ نہیں چل سکتا، تو یاد رکھو صحابی کا ایسا قول حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہوتا ہے یعنی یہ حضور علیہ السلام سے انہوں نے سنا ہوگا جبھی اس طرح فرما رہے ہیں ورنہ خود عقل سے تو یہ پتہ نہیں چل سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَكْثَرُ مُدَّةِ الْحَمْلِ سَنَتَانِ“ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے، ”لِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کی وجہ سے، ”الْوَلَدُ لَا يَبْقَى فِي الْبَطْنِ أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ وَلَوْ بِظِلِّ مِغْزَلٍ“ کہ بچہ جو ہے ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا اگرچہ چرخے کے سائے کے بقدر ہی کیوں نہ ہو۔ ”وَأَقَلُّهُ سِتَّةُ أَشْهُرٍ“ اور حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا“ کہ بچے کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہیں۔ تو یہاں پر تیس مہینے دونوں کی مدت بیان کی گئی ہے۔ ”ثُمَّ قَالَ“ پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ“ کہ بچے کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوگا۔ تو پیچھے حمل اور دودھ پلانے دونوں کی مدت تیس مہینے، معلوم ہوا یہ دونوں کی مدت ہے، اور پھر آگے کہا کہ دودھ چھڑانا دو سال میں ہوگا، تو تیس مہینوں میں سے دو سال دودھ چھڑانے کے ہو گئے تو باقی چھ مہینے رہ گئے، معلوم ہوا وہ چھ مہینے حمل کے ہیں۔ تو کم سے کم حمل کی مدت چھ مہینے ہے۔ دوبارہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَأَقَلُّهُ سِتَّةُ أَشْهُرٍ“ اور حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا“ کہ بچے کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے، یہ دونوں کی مدت بیان ہوئی، ”ثُمَّ قَالَ“ پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: ”وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ“ کہ بچے کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوگا، تو تیس ماہ میں سے دو سال نکل گئے تو باقی چھ ماہ حمل کے رہ گئے، ”فَبَقِيَ لِلْحَمْلِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ“ تو حمل کے لیے چھ ماہ باقی رہ گئے۔ ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ يُقَدِّرُ الْأَكْثَرَ بِأَرْبَعِ سِنِينَ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ اندازہ لگاتے ہیں حمل کی اکثر مدت کا چار سال کے ساتھ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال ہے، چار سال ہے، اور وہ اس کے ذریعے مختلف واقعات سے استدلال کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کے بارے میں آتا ہے تاریخ کے اندر کہ وہ چار سال تک ماں کے پیٹ میں رہے، حتیٰ کہ جب پیدا ہوئے تو ان کے دانت بھی آ چکے تھے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ ان واقعات سے استدلال کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ يُقَدِّرُ الْأَكْثَرَ بِأَرْبَعِ سِنِينَ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت کا اندازہ لگاتے ہیں چار سال کے ساتھ، ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَاهُ“ اور ان کے خلاف دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جو ہم نے روایت کر دی یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث، ”وَالظَّاهِرُ أَنَّهَا قَالَتْهُ سَمَاعًا“ اور ظاہر یہی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ فرمایا سن کر، حضور علیہ السلام سے سن کر فرمایا، ”إِذِ الْعَقْلُ لَا يَهْتَدِي إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ عقل تو اس کی طرف رہنمائی نہیں کرتی، عقل سے تو پتہ نہیں چل سکتا کہ بچہ زیادہ سے زیادہ کتنی دیر تک ماں کے پیٹ میں رہ سکتا ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَمَنْ تَزَوَّجَ أَمَةً فَطَلَّقَهَا ثُمَّ اشْتَرَاهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مُنْذُ يَوْمِ اشْتَرَاهَا لَزِمَهُ وَإِلَّا لَمْ يَلْزَمْهُ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہوا ہے، اور آپ جانتے ہیں باندی کی زیادہ سے زیادہ طلاقیں دو ہیں۔ اب اس شخص نے اس باندی کو ایک طلاق دے دی، ایک طلاق دے دی اور پھر بعد میں اس نے اس باندی کو خرید لیا۔ توجہ ہے؟ اس کے بعد کچھ عرصے کے بعد اس عورت نے اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ تو کہتے ہیں اگر خریدنے کے بعد چھ ماہ سے کم کے اندر باندی نے بچے کو جنم دیا تو معلوم ہوا یہ حمل خریدنے سے پہلے کا ہے، اور خریدنے سے پہلے تو اس کے ساتھ اس کا نکاح تھا، نکاح تھا پھر اس نے طلاق دی تھی، تو اس حمل کی نسبت اس نکاح کی طرف کی جائے گی۔ معلوم ہوا یہ جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کا حمل اس وقت ٹھہرا تھا جب یہ عورت خاوند کا فراش تھی۔ اور بیوی جب بچے کو جنم دے تو وہ خود بخود خاوند کا شمار ہوتا ہے، تو یہ بچہ بھی خود بخود اس شخص کا شمار ہوگا۔ صورت کیا؟ ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہوا ہے اور اس کو طلاق دے دی، اور پھر اس باندی کو اس نے خرید لیا۔ پھر خریدنے کے بعد چھ ماہ سے پہلے پہلے، خریدنے اور بچے کی پیدائش میں چھ ماہ سے کم کا وقفہ ہے، معلوم ہوا یہ حمل خریدنے کے بعد نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ چھ ماہ ابھی نہیں گزرے خریدے ہوئے، تو لہٰذا اس حمل کی نسبت کی جائے گی اس نکاح کی طرف، معلوم ہوا یہ حمل اس نکاح میں ٹھہرا تھا، اور نکاح کے اندر تو یہ عورت باندی فراش تھی اس آدمی کا، اور ”اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ“ یعنی لصاحب الفراش، اور بچہ جو ہوتا ہے وہ خاوند کا ہوتا ہے، لہٰذا نسب ثابت ہو جائے گا۔ نسب ثابت ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس باندی نے بچے کو جنم دیا خریدنے کے چھ ماہ بعد یا چھ ماہ سے زیادہ گزر گئے ہیں، اب تو خریدنے کے بعد اتنی مدت گزر گئی ہے جس میں حمل ٹھہر سکتا ہے اور ایک حمل کی پیدائش ہو سکتی ہے، تو اس صورت میں اس حمل کی نسبت خریدنے کے بعد کی طرف کی جائے گی یعنی خریدنے کے بعد یہ حمل ٹھہرا ہے، اور خریدنے کے بعد تو یہ اب اس کی مملوکہ ہے اور باندی ہے، اور باندی سے جو بچہ پیدا ہو وہ خود بخود آقا کا شمار نہیں ہوتا، وہاں آقا اقرار کرے گا تو ثابت ہوگا ورنہ نسب ثابت نہیں، لہٰذا اس صورت میں یہ نسب ثابت نہیں۔ اگر خریدنے کے چھ ماہ یا زیادہ کے بعد باندی نے بچے کو جنم دیا ہے تو اب نسب ثابت نہیں ہوگا۔ ہاں اگر یہ جو آقا ہے جو پہلے خاوند تھا، اگر یہ آقا اقرار کر لے گا کہ یہ میری ہی اولاد ہے پھر نسب ثابت ہوگا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ تَزَوَّجَ أَمَةً“ اور جس شخص نے کسی باندی سے نکاح کیا، ”فَطَلَّقَهَا“ پھر اس کو طلاق دے دی، ”ثُمَّ اشْتَرَاهَا“ پھر اس کو خرید لیا، ”فَإِنْ جَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مُنْذُ يَوْمِ اشْتَرَاهَا لَزِمَهُ“ اگر یہ باندی بچے کو لے آئی خریدنے کے دن سے لے کر چھ ماہ سے کم ہوئے ہیں، ”لَزِمَهُ“ تو اس صورت میں یہ نسب خاوند پر لازم ہو جائے گا یعنی نسب ثابت ہو جائے گا، کیونکہ منکوحہ ہونے کی حالت میں حمل ٹھہرا تھا اور منکوحہ کی اولاد اس کا نسب خود بخود خاوند سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ”وَإِلَّا لَمْ يَلْزَمْهُ“ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس شخص پر یہ نسب لازم نہیں۔ ”لِأَنَّهُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ“ اس لیے کیونکہ پہلی صورت میں جب خریدنے کے بعد چھ ماہ سے پہلے بچے کو لائی ہے تو اس صورت میں، ”لِأَنَّهُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ وَلَدُ الْمُعْتَدَّةِ“ کیونکہ یہ بچہ پہلی صورت میں اس معتدہ کا بچہ ہے، ”فَإِنَّ الْعُلُوقَ سَابِقٌ عَلَى الشِّرَاءِ“ اس لیے کیونکہ حمل کا ٹھہرنا وہ مقدم ہے خریدنے پر، ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي وَلَدُ الْمَمْلُوكَةِ“ اور دوسری صورت کے اندر جب چھ ماہ یا زیادہ میں بچے کو جنم دیا ہے تو یہ مملوکہ کا بچہ ہے، اور مملوکہ کا بچے کا نسب خود بخود ثابت نہیں ہوتا جب تک آقا اقرار نہ کرے، تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي وَلَدُ الْمَمْلُوكَةِ“ اور دوسری صورت میں یہ جو بچہ ہے یہ مملوکہ کا بچہ ہے، ”لِأَنَّهُ يُضَافُ الْحَادِثُ إِلَى أَقْرَبِ وَقْتِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو نئی پیش آئے اس کی نسبت کی جاتی ہے اس کے قریبی وقت کی طرف۔ توجہ ہے؟ وہی ضابطہ جو ابھی کچھ دیر پہلے میں نے بیان کیا تھا: ”اَلْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ“ کہ جو چیز نئی پیش آئے یعنی پہلے نہیں تھی اب پیش آئی، تو اس کی نسبت قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ جب اور کوئی دلیل وغیرہ موجود نہ ہو۔ تو اب خریدنے کے بعد چھ ماہ گزر چکے ہیں، تو اب احتمال یہ بھی ہے کہ خریدنے کے بعد حمل ٹھہرا ہو اور احتمال یہ بھی ہے کہ خریدنے سے پہلے ہی نکاح کی حالت میں حمل ٹھہرا ہو، لیکن نئی چیز جو پیش آئے اس کی نسبت قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے، اور قریب ترین وقت کون سا ہے؟ جب یہ مملوکہ تھی، جب یہ مملوکہ تھی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُضَافُ الْحَادِثُ إِلَى أَقْرَبِ وَقْتِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو نئی پیش آئے اس کی نسبت کی جاتی ہے اس کے سب سے قریبی وقت کی طرف، ”فَلَا بُدَّ مِنْ دَعْوَةٍ“ لہٰذا دعویٰ ضروری ہے، یہ مملوکہ کا بچہ ہے باندی کا بچہ، اور باندی کا بچہ آقا کے اقرار کے بغیر اس کا بچہ شمار نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنْ دَعْوَةٍ“ لہٰذا اس آقا کا دعویٰ ضروری ہے اقرار ضروری ہے کہ یہ میرا بچہ ہے۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ دعویٰ جب نسب کے بارے میں کیا جائے تو اس کو دِعْوَةٌ پڑھتے ہیں دال کے کسرہ کے ساتھ۔ دعویٰ تو ویسے عام ہے لیکن دِعْوَةٌ خاص طور پر نسب کا جو دعویٰ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دِعْوَةٌ، تو آپ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنْ دِعْوَةٍ“ لہٰذا نسب کا دعویٰ ضروری ہے کہ آقا اقرار کرے کہ یہ میرا بچہ ہے۔
کہتے ہیں: ”وَهٰذَا إِذَا كَانَ الطَّلَاقُ وَاحِدًا بَائِنًا أَوْ خُلْعًا أَوْ رَجْعِيًّا“ کہتے ہیں یہ اس وقت ہے جب طلاق ایک بائن ہو یا خلع ہو یا رجعی ہو۔ ایک طلاق ہونی چاہیے چاہے بائن ہو چاہے رجعی ہو چاہے خلع کیا ہو۔ دو طلاقیں نہیں، کیونکہ باندی کی زیادہ سے زیادہ طلاقیں ہیں ہی دو، تو دو سے تو حرمتِ مغلظہ آ جائے گی، توجہ ہے؟ اگر خاوند نے باندی کو دو طلاقیں دی ہیں تو حرمتِ مغلظہ آ گئی۔ اب خرید بھی لے تو خاوند کے لیے صحبت جائز ہی نہیں ہے۔ باندی کو دو طلاقیں دے دیں حرمتِ مغلظہ آ گئی، اب یہ شخص چاہتا ہے میں اس کو خرید لیتا ہوں باندی بنا لیتا ہوں پھر تو میرے لیے حلال ہو جائے گی؟ نہیں، باندی اب خرید بھی لے گا تو بھی اس کے لیے حلال نہیں، کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ“ تو دوسرے زوج کا آنا ضروری ہے درمیان میں۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا إِذَا كَانَ الطَّلَاقُ وَاحِدًا بَائِنًا أَوْ خُلْعًا أَوْ رَجْعِيًّا“ یہ اس وقت ہے جب طلاق ایک بائن ہو یا خلع ہو یا رجعی ہو، ”أَمَّا إِذَا كَانَتِ اثْنَتَيْنِ يَثْبُتُ النَّسَبُ إِلَى سَنَتَيْنِ مِنْ وَقْتِ الطَّلَاقِ“ اور اگر طلاقیں دو ہیں تو نسب ثابت ہو جائے گا دو سال تک طلاق کے وقت سے۔ بھئی یاد رکھو! اگر خاوند نے دو طلاقیں دی ہیں تو پھر اس صورت میں خریدنے کے بعد بھی یہ وطی نہیں کر سکتا، تو یہ مطلقہ مبتوتہ ہوئی اور مطلقہ مبتوتہ دو سال سے کم کے اندر بچے کو جنم دے تو نسب ثابت ہوتا ہے، ویسے نسب ثابت نہیں، لہٰذا یہاں بھی اسی طرح ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا إِذَا كَانَتِ اثْنَتَيْنِ“ اور جب طلاقیں دو ہوں، ”يَثْبُتُ النَّسَبُ إِلَى سَنَتَيْنِ مِنْ وَقْتِ الطَّلَاقِ“ تو نسب ثابت ہو جائے گا دو سال تک طلاق کے وقت سے لے کر، ”لِأَنَّهَا حَرُمَتْ عَلَيْهِ حُرْمَةً غَلِيظَةً“ اس لیے کیونکہ یہ باندی دو طلاقوں کی وجہ سے خاوند پر حرام ہو گئی حرمتِ غلیظہ کے ساتھ، ”فَلَا يُضَافُ الْعُلُوقُ إِلَّا إِلَى مَا قَبْلَهُ“ لہٰذا علوق کی نسبت نہیں کی جائے گی مگر خریدنے سے پہلے کی طرف۔ خریدنے سے پہلے کی طرف ہی علوق کی نسبت کی جائے گی، ”لِأَنَّهَا لَا تَحِلُّ بِالشِّرَاءِ“ اس لیے کیونکہ یہ حلال نہیں ہوتی خریدنے سے بھی، یہ جو حرمتِ مغلظہ والی باندی ہے یہ خریدنے سے بھی حلال نہیں ہوتی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَمَنْ قَالَ لِأَمَتِهِ: إِنْ كَانَ فِي بَطْنِكِ وَلَدٌ فَهُوَ مِنِّي، فَشَهِدَتْ عَلَى الْوِلَادَةِ امْرَأَةٌ فَهِيَ أُمُّ وَلَدِهِ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے اپنی باندی سے کہا: اگر تیرے پیٹ میں بچہ ہے تو یہ مجھ سے ہوگا۔ آقا نے کیا کہا اپنی باندی سے؟ اگر تو حاملہ ہے تو یہ حمل مجھ سے ہوگا۔ اس کے بعد ایک عورت نے آ کر گواہی دے دی کہ اس باندی نے بچے کو جنم دیا ہے، تو کہتے ہیں بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا کیونکہ آقا خود اعتراف کر چکا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِأَمَتِهِ: إِنْ كَانَ فِي بَطْنِكِ وَلَدٌ فَهُوَ مِنِّي“ اور اگر جس شخص نے اپنی باندی سے کہا کہ اگر تیرے پیٹ میں کوئی بچہ ہے تو وہ مجھ سے ہے، ”فَشَهِدَتْ عَلَى الْوِلَادَةِ امْرَأَةٌ فَهِيَ أُمُّ وَلَدِهِ“ تو گواہی دے دی پیدائش پر ایک عورت نے تو یہ عورت اس آقا کی ام ولد ہو جائے گی، ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى تَعَيُّنِ الْوَلَدِ“ اس لیے کیونکہ حاجت جو ہے وہ بچے کے تعین کی ہے، باقی تو وہ اقرار کر چکا ہے، نسب کا تو وہ اقرار کر چکا ہے صرف بچے کے تعین کی حاجت ہے، ”وَيَثْبُتُ ذٰلِكَ بِشَهَادَةِ الْقَابِلَةِ بِالْإِجْمَاعِ“ اور یہ ایک دائی کی گواہی سے بھی ثابت ہو جاتا ہے بالاجماع یعنی بالاتفاق، اس میں ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے کہ ایک دائی کی گواہی سے بھی بچے کی تعین ہو جائے گی۔
”وَمَنْ قَالَ لِغُلَامٍ: هُوَ ابْنِي، ثُمَّ مَاتَ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص ہے اس نے ایک لڑکے کے بارے میں کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے، اس نے ایک لڑکے کے بارے میں کہا یہ میرا بیٹا ہے اور کوئی تفصیل وغیرہ بیان نہیں کی، کسی نے پوچھا بھی نہیں، اور بعد میں کسی وقت اس آدمی کا انتقال ہو گیا۔ پھر اس کے انتقال کے بعد ایک عورت اس بچے کو اٹھائے ہوئے آئی جس کا یہ بچہ تھا، اور آ کر اس نے کہا کہ میں اس کی بیوی تھی، اس نے میرے ساتھ بھی نکاح کیا تھا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ عورت اس کی بیوی شمار ہوگی مرنے والے کی اور یہ بچہ اس کا بچہ شمار ہوگا، لہٰذا دونوں وارث بنیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِغُلَامٍ“ اور جس شخص نے کسی لڑکے سے کہا، غلام میں نے آپ کو بتلایا تھا غلام کو بھی کہتے ہیں اور لڑکے کو بھی، تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِغُلَامٍ: هُوَ ابْنِي“ اور جس شخص نے کسی لڑکے سے کہا یعنی اس کے بارے میں کہا کہ وہ میرا بیٹا ہے، ”ثُمَّ مَاتَ“ پھر وہ مر گیا یعنی مزید تفصیل بیان نہیں کی نہ کسی نے پوچھی، پھر وہ مر گیا، ”فَجَاءَتْ أُمُّ الْغُلَامِ وَقَالَتْ: أَنَا امْرَأَتُهُ“ تو اس لڑکے کی ماں آ گئی اور کہنے لگی کہ میں اس شخص کی بیوی ہوں، ”فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَهُوَ ابْنُهُ يَرِثَانِهِ“ تو یہ عورت اس مرنے والے کی بیوی ہوگی اور یہ اس کا بیٹا ہوگا، یہ دونوں اس سے وارث بنیں گے۔ ”وَفِي النَّوَادِرِ جَعَلَ هٰذَا جَوَابَ الِاسْتِحْسَانِ“ اور نوادر کے اندر، ”جَعَلَ هٰذَا جَوَابَ الِاسْتِحْسَانِ“ امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو جوابِ استحسان قرار دیا ہے، جعل کا معنی قرار دینا۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ امام محمد رحمہ اللہ کی بہت سی تصانیف ہیں اور ان کی چھ کتابیں ظاہرِ روایت کہلاتی ہیں اور باقی کتابیں نوادر کہلاتی ہیں۔ چھ کتابیں ظاہر الروایہ کہلاتی ہیں، کون سی چھ ہیں؟ مبسوط، زیادات، سیرِ صغیر، سیرِ کبیر، جامع صغیر اور جامع کبیر۔ یہ چھ کتابیں ظاہرِ روایت ہیں یعنی ان کی روایت ظاہر ہے یعنی اس کو روایت کرنے والے ہر ہر زمانے میں اتنے زیادہ لوگ ہیں کہ ان کا اجتماع علی الکذب محال ہے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے، تو یہ کتابیں امام محمد رحمہ اللہ سے تواتر کے طریقے پر منقول ہیں۔ لہٰذا ان کے اندر جو کچھ لکھا ہے معلوم ہوا یہ امام محمد رحمہ اللہ ہی کی باتیں ہیں، اس میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں کیا کسی نے۔ جبکہ ان کے علاوہ باقی کتابیں جو ہیں ان کو روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں تو ان کو نوادر کہتے ہیں۔ تو نوادر کے اندر کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو استحسان قرار دیا ہے کہ یہ جو عورت بچے کو لے آئی وفات کے بعد تو یہ اس کی بیوی شمار ہوگی اور یہ لڑکا اس آدمی کا بیٹا اور دونوں وارث بنیں گے، یہ استحساناً ہے بھئی، یہ مسئلہ استحساناً ہے اور قیاس اس کے مخالف ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ استحسان کے مقابلے میں ہمیشہ کیا آئے گا؟ قیاس آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي النَّوَادِرِ جَعَلَ هٰذَا جَوَابَ الِاسْتِحْسَانِ“ اور نوادر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو استحسان کا جواب قرار دیا ہے، ”وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهَا الْمِيرَاثُ“ اور قیاس یہ ہے کہ اس عورت کے لیے میراث نہیں ہونی چاہیے۔ لڑکے کے لیے تو ہو کیونکہ اس شخص نے خود کہا تھا یہ میرا بیٹا ہے، لیکن عورت کے لیے میراث نہیں ہونی چاہیے۔ کیوں نہیں ہونی چاہیے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نسب بچے کا نسب تو ثابت ہو گیا لیکن نسب تو ہمیشہ نکاحِ صحیح میں ہی نہیں ثابت ہوتا بلکہ نکاحِ فاسد کے اندر بھی نسب ثابت ہو جاتا ہے، وطی بالشبہ کے اندر بھی نسب ثابت ہو جاتا ہے، اور باندی کے اندر بھی نسب ثابت ہو جاتا ہے اگر باندی ہو۔ تو اس عورت میں تو کئی احتمالات آ گئے، ہو سکتا ہے اس عورت سے اس آدمی نے نکاحِ فاسد کیا ہو، ہو سکتا ہے اس عورت سے اس آدمی نے وطی بالشبہ کی ہو، ہو سکتا ہے یہ عورت باندی ہو اس آدمی کی، توجہ ہے؟ تو لہٰذا قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے کہ اس عورت کو وارثہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهَا الْمِيرَاثُ“ اور قیاس تو یہ ہے کہ اس عورت کے لیے میراث نہیں ہونی چاہیے، ”لِأَنَّ النَّسَبَ كَمَا يَثْبُتُ بِالنِّكَاحِ الصَّحِيحِ يَثْبُتُ بِالنِّكَاحِ الْفَاسِدِ“ اس لیے کیونکہ نسب جیسے نکاحِ صحیح سے ثابت ہوتا ہے اسی طرح نسب نکاحِ فاسد سے بھی ثابت ہو جاتا ہے، ”وَبِالْوَطْءِ عَنْ شُبْهَةٍ وَبِمِلْكِ الْيَمِينِ“ اور اسی طرح نسب وطی بالشبہ سے بھی ثابت ہو جاتا ہے اور اسی طرح نسب ملکِ یمین سے بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ عورت اس کی مملوکہ ہو، ”فَلَمْ يَكُنْ قَوْلُهُ إِقْرَارًا بِالنِّكَاحِ“ لہٰذا اس آدمی نے کہا تھا ”هُوَ ابْنِي“ یہ میرا بیٹا ہے، وہ بچے کے نسب کا تو اقرار ہے لیکن اس عورت کے ساتھ نکاح کا اقرار نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَكُنْ قَوْلُهُ إِقْرَارًا بِالنِّكَاحِ“ تو لہٰذا اس آدمی کا قول کہ ”هُوَ ابْنِي“ یہ نکاح کا اقرار نہیں ہے۔ ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان اب ذکر کر رہے ہیں کہ استحساناً کیسے یہ وارثہ بنے گی۔ کہتے ہیں: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِيمَا إِذَا كَانَتْ مَعْرُوفَةً بِالْحُرِّيَّةِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ اس صورت میں ہے کہ جب وہ عورت جو ہے ”مَعْرُوفَةً بِالْحُرِّيَّةِ“ وہ آزادی کے ساتھ معروف ہو مشہور ہو یعنی سب کو پتہ ہو کہ یہ آزاد عورت ہے، یہ سب کو پتہ ہے یہ آزاد عورت ہے، اور یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ یہی اس بچے کی ماں ہے۔ توجہ ہے؟ جب آزاد ہونے کا پتہ چل گیا تو باندی کی خود بخود نفی ہو گئی، اور نیز جب یہ پتہ چل گیا کہ یہ اسی عورت کا بچہ ہے تو پھر آزاد عورت سے جو بچہ ہوتا ہے وہ عام طور پر نکاحِ صحیح ہی کے ذریعے ہوتا ہے، تو اس لیے یہ عورت اس کی بیوی ثابت ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِيمَا إِذَا كَانَتْ مَعْرُوفَةً بِالْحُرِّيَّةِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ اس صورت میں ہے کہ جب وہ عورت جو ہے آزادی کے ساتھ معروف ہو یعنی سب کو پتہ ہو کہ یہ آزاد عورت ہے، ”وَبِكَوْنِهَا أُمَّ الْغُلَامِ“ اور اس صورت میں کہ جب یہ عورت جو ہے اس کا ام الغلام ہونا بھی معروف ہو یعنی سب کو پتہ ہو کہ یہ اس لڑکے کی ماں ہے، ”وَالنِّكَاحُ الصَّحِيحُ هُوَ الْمُتَعَيَّنُ لِذٰلِكَ وَضْعًا وَعَادَةً“ اور نکاحِ صحیح ہی متعین ہے اس کے ثبوتِ نسب کے لیے وضعاً بھی یعنی شریعت کے اعتبار سے بھی اور عادۃً اور عادتاً بھی۔ یعنی ثبوتِ نکاح کے لیے نکاحِ صحیح متعین ہے باعتبار وضع کے بھی اور باعتبار عادت کے بھی، عادتاً بھی یہی طریقہ ہے کہ نکاحِ صحیح کیا جاتا ہے اس سے اولاد ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالنِّكَاحُ الصَّحِيحُ هُوَ الْمُتَعَيَّنُ لِذٰلِكَ وَضْعًا وَعَادَةً“ اور نکاحِ صحیح ہی متعین ہے اس نسب کے ثبوت کے لیے وضع کے اعتبار سے بھی اور عادت کے اعتبار سے بھی۔ ”وَلَوْ لَمْ يُعْلَمْ بِأَنَّهَا حُرَّةٌ“ اور اگر یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ یہ آزاد ہے، یہ پتہ نہیں چل رہا کہ یہ آزاد ہے، ”فَقَالَتِ الْوَرَثَةُ: أَنْتِ أُمُّ الْوَلَدِ“ تو وارثوں نے کہا کہ تو ام ولد ہے، تو اس مرنے والے کی ام ولد ہے، باندی تھی بھئی۔ یاد رکھو یہ جو ”فَقَالَتِ الْوَرَثَةُ: أَنْتِ أُمُّ الْوَلَدِ“ یہ قیدِ اتفاقی ہے، وارث نہ بھی کہیں اگر عورت کے آزاد ہونے کا پتہ نہیں چل رہا پھر وارثہ نہیں بنے گی۔ البتہ ساتھ ذکر کر دیا کہ وارث یہ کہہ سکتے ہیں کہ تو منکوحہ نہیں ہے بلکہ ام ولد ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ لَمْ يُعْلَمْ بِأَنَّهَا حُرَّةٌ فَقَالَتِ الْوَرَثَةُ: أَنْتِ أُمُّ الْوَلَدِ فَلَا مِيرَاثَ لَهَا“ اور اگر یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ یہ عورت آزاد ہے تو ورثہ نے کہا کہ تو اس کی ام ولد ہے تو اس عورت کے لیے میراث نہیں ہوگی۔ جب آزادی کا پتہ نہ چلے تو پھر میراث نہیں ہوگی۔ ”لِأَنَّ ظُهُورَ الْحُرِّيَّةِ بِاعْتِبَارِ الدَّارِ حُجَّةٌ فِي دَفْعِ الرِّقِّ لَا فِي اسْتِحْقَاقِ الْمِيرَاثِ“ یاد رکھو بھئی ضابطہ ہے: ایک ہے حجتِ کاملہ اور ایک ہے حجتِ قاصرہ۔ حجتِ کاملہ یعنی دو گواہ دو مرد گواہ آ گئے یا ایک مرد اور دو عورتیں، دو عادل مرد گواہ ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں، یہ جو ہے حجتِ کاملہ ہے۔ حجتِ کاملہ کے ذریعے آپ کسی چیز کو دفع بھی کر سکتے ہیں اور کسی چیز کے استحقاق کو ثابت بھی کر سکتے ہیں۔ حجتِ کاملہ وہ فائدہ دیتی ہے کسی چیز کے مستحق ہونے کا بھی اور کسی چیز کے دفع کا بھی۔ مثلاً ایک آدمی کے پاس ایک گاڑی موجود ہے، دوسرا آ کر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ گاڑی میری ہے یعنی میں اس کا مستحق ہوں، تو اب وہ دو عادل گواہ پیش کر دے گا تو دیکھو اس آدمی کا مستحق ہونا ثابت ہو جائے گا یہ گاڑی اس کو مل جائے گی۔ تو حجتِ کاملہ مستحق ہونے کا بھی فائدہ دیتی ہے اور کسی چیز کے دفع کرنے کا بھی فائدہ دیتی ہے، اس کے ذریعے کوئی الزام دفع بھی کیا جا سکتا ہے، توجہ ہے؟ جبکہ حجتِ قاصرہ وہ دفع کا فائدہ تو دیتی ہے مستحق ہونے کا نہیں۔ کیا ضابطہ ہوا؟ حجتِ کاملہ مستحق ہونے کا بھی فائدہ دیتی ہے اور الزام کے دفع کرنے کا بھی فائدہ دیتی ہے، اور حجتِ قاصرہ یہ دفع کا فائدہ تو دیتی ہے لیکن مستحق ہونے کا فائدہ نہیں دیتی۔ لہٰذا یہاں پر بھی یہ عورت آئی ہے اور اس نے آ کر کہا کہ میں اس شخص کی بیوی ہوں، تو اب پتہ نہیں چل رہا کہ یہ باندی ہے یا آزاد عورت ہے، تو اس صورت میں چونکہ یہ دار الاسلام ہے اور دار الاسلام کے رہنے والے تو عموماً آزاد ہی ہوتے ہیں، وہ تو غلام کوئی قیدی ہم بنا لیں کسی دار الحرب والوں کے ساتھ ہماری جنگ ہو تو ہم ان کو قیدی بناتے ہیں، ویسے تو دار الاسلام میں لوگ آزاد ہوتے ہیں، تو دار الاسلام میں ہونے کی وجہ سے اس عورت کی آزادی ثابت ہو جائے گی۔ اور کوئی گواہ نہیں، لوگوں سے نہیں پتہ چل رہا کہ یہ عورت آزاد ہے یا آزاد نہیں، لیکن دار الاسلام کے اندر ہے ہم پھر اسی کو دلیل بنا دیں گے کہ یہ آزاد ہے۔ لیکن یہ حجتِ قاصرہ ہے، دار الاسلام میں ہونا کوئی کامل درجے کی حجت نہیں، تو اس حجتِ قاصرہ کی وجہ سے اس سے غلامی تو دفع ہو جائے گی اس کو غلام نہیں شمار کریں گے، کیا شمار کریں گے؟ آزاد شمار کریں گے، لیکن دار الاسلام میں ہونا اس کی وجہ سے یہ عورت وراثت کی بھی مستحق ہو جائے یہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ کہ یہ دار الاسلام میں ہے تو اب اس کو کیا بنا دو؟ وارثہ بھی بنا دو، نہیں بھئی۔ تو دار الاسلام میں ہونا یہ حجتِ قاصرہ ہے، اور حجتِ قاصرہ دفع کی دلیل تو بن سکتی ہے لیکن مستحق ہونے کی دلیل نہیں، لہٰذا اس عورت سے غلامی تو دفع ہو جائے گی ہم اس کو آزاد ہی شمار کریں گے، لیکن اس کے ذریعے یہ وارثہ بھی بنے میراث کی بھی مستحق ہو جائے یہ اس کے ذریعے ثابت نہیں ہوگا، اس کے لیے حجتِ کاملہ چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ حجت دو قسم پر ہے: ایک حجتِ کاملہ، ایک حجتِ قاصرہ۔ حجتِ کاملہ مستحق ہونے کا بھی فائدہ دیتی ہے اور دفع کا بھی فائدہ دیتی ہے، جبکہ حجتِ قاصرہ وہ صرف دفع کا فائدہ دیتی ہے مستحق ہونے کا فائدہ نہیں دیتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ لَمْ يُعْلَمْ بِأَنَّهَا حُرَّةٌ فَقَالَتِ الْوَرَثَةُ: أَنْتِ أُمُّ الْوَلَدِ“ اور اگر یہ بات معلوم نہیں ہو رہی کہ یہ آزاد ہے تو وارثوں نے کہا کہ تو ام ولد ہے، چاہے وہ کہیں یا نہ کہیں تو اگر آزاد ہونا معلوم نہیں ہو رہا، ”فَلَا مِيرَاثَ لَهَا“ تو اس عورت کے لیے میراث نہیں ہوگی، ”لِأَنَّ ظُهُورَ الْحُرِّيَّةِ بِاعْتِبَارِ الدَّارِ“ اس لیے کیونکہ آزادی کا ظاہر ہونا دار کے اعتبار سے یعنی دار الاسلام کے اعتبار سے، ”حُجَّةٌ فِي دَفْعِ الرِّقِّ“ یہ حجت ہے غلامی کے دفع کرنے میں، یہ غلامی کے دفع کرنے میں حجت ہے، ”لَا فِي اسْتِحْقَاقِ الْمِيرَاثِ“ لیکن میراث کا مستحق ہونے میں یہ حجت نہیں ہے، تو میراث کا مستحق ہونا ثابت نہیں ہوگا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ ظُهُورَ الْحُرِّيَّةِ بِاعْتِبَارِ الدَّارِ“ اس لیے کیونکہ دار الاسلام کے اعتبار سے حریت کا ظاہر ہونا جو ہے، ”حُجَّةٌ فِي دَفْعِ الرِّقِّ“ وہ حجت ہے غلامی کو دور کرنے میں، ”لَا فِي اسْتِحْقَاقِ الْمِيرَاثِ“ لیکن میراث کا مستحق ہونے میں یہ حجت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔