دیکھیے بھئی آگے سبق:
وَإِنْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهِ يُكْرَهُ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا عِوَضًا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ} إِلَى أَنْ قَالَ: {فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا}، وَلِأَنَّهُ أَوْحَشَهَا بِالِاسْتِبْدَالِ فَلَا يَزِيدُ فِي وَحْشَتِهَا بِأَخْذِ الْمَالِ.
گزشتہ سبق میں ہم نے ایلاء کے بارے میں پڑھا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایلاء جو ہے عربی زبان میں اس کا معنیٰ ہے قسم کھانا: آلَى يُؤْلِي إِيلَاءً فَهُوَ مُؤْلٍ۔ اور شریعت کے اندر ایلاء جو ہے وہ بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھانا چار ماہ کے لیے یا اس سے زیادہ کے لیے، اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ ایلاء جو ہے زمانہ جاہلیت میں تو فوری طلاق شمار ہوتی تھی لیکن شریعت نے اس کے حکم کو مؤخر کر دیا، یہ اب بھی طلاق ہی ہے لیکن اس کے حکم کو مؤخر کر دیا اور شریعت نے اس کی مدت بیان کر دی جو کہ چار ماہ ہے بھئی۔
قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ}، وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ایلاء کر لیتے ہیں، {تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ}، ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے، {فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}، اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ تو عند الاحناف چار ماہ جب گزریں گے اور اس کے اندر اگر خاوند نے رجوع نہیں کیا تو خود بخود بیوی طلاق بائنہ کے ساتھ جدا ہو جائے گی، اور اگر خاوند نے بیچ میں رجوع کر لیا یعنی صحبت کر لی تو پھر اس کو قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔
اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہاں صرف قسم کھانا ضروری نہیں بلکہ تعلیق بھی کی جا سکتی ہے، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے کہ اگر میں نے تیرے ساتھ صحبت کی تو مجھ پر حج لازم ہے، تو یہ بھی ایلاء ہی ہے کیونکہ یہاں یہ جزا مانع بنے گی، اس نے کیا جزا ذکر کی ہے کہ اگر میں صحبت کروں تو مجھ پر حج لازم ہے، تو اس جزا کے واقع ہونے کے خوف سے وہ صحبت نہیں کرے گا، یا کہتا ہے اگر میں نے تم سے صحبت کی تو مجھ پر روزے لازم ہیں کوئی مقدار ذکر کر دی اتنے روزے، چاہے تھوڑی مقدار ہو یا زیادہ، یا اسی طرح صدقہ ذکر کر دیا کہ اگر میں نے تجھ سے صحبت کی تو مجھ پر اتنا صدقہ لازم ہے، تو یہ جو تعلیق ہے آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس کو بھی فقہ کے اندر یمین کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ جس طرح یمین کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے ہوتی ہے، اور نیز جیسے قسم کھانے کے بعد لازم ہو جاتی ہے اب اس سے رجوع نہیں ہو سکتا، اسی طرح تعلیق بھی لازم ہو جاتی ہے انسان پر اور اس سے رجوع نہیں ہو سکتا۔
تو علماء فرماتے ہیں کہ ایلاء کرنے والے شخص پر دو ناپسندیدہ چیزوں میں سے ایک بات ضرور آئے گی، تو اگر تو وہ صحبت نہیں کرتا تو چار مہینے بعد بیوی ہاتھ سے نکل جائے گی اور اگر وہ صحبت کرتا ہے تو اس کو وہ قسم کا کفارہ دینا پڑے گا یا وہ جو جزا اس نے ذکر کی تھی وہ اس پر لازم ہو جائے گی بھئی۔ تو ہمارے نزدیک چار ماہ گزرتے ہی خود بخود طلاق بائن ہو جائے گی جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، چار ماہ کے گزرنے کے بعد بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، پھر اس کے بعد دیکھا جائے گا خاوند رجوع کرتا ہے یا طلاق دیتا ہے، اگر خاوند نہ رجوع کرتا ہے نہ طلاق دیتا ہے پھر قاضی کے پاس جانا پڑے گا، اور پھر قاضی جو ہے خاوند کا نائب ہو کر تسریح باحسان پر عمل کر دے گا، اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}، کہ رجعی طلاقیں دو ہیں، اس کے بعد خاوند یا تو بیوی کو اچھے طریقے سے روک لے یا اس کو اچھے طریقے کے ساتھ احسان کے ساتھ رخصت کر دے بھئی، تو یہ شخص جب اس کو اچھے طریقے سے نہیں روک رہا تو دوسری صورت یہی ہے کہ تسریح باحسان پر عمل کیا جائے تو قاضی اس کا نائب ہو کر تسریح باحسان پر عمل کر دے گا بھئی۔
اور یہ جو ہمارا مذہب ہے کہ مدت گزرتے ہی طلاق بائن واقع ہو جائے گی، یہ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ حضرت عثمان غنی، حضرت علی اور عبادلہ ثلاثہ یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ان سے بھی یہی مروی ہے اور اسی طرح حضرت زید بن ثابت سے بھی یہی مروی ہے، تو ہم نے بھی انہی کی پیروی کی ہے کہ چار ماہ کے گزرنے پر خود بخود طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر ایک شخص نے چار ماہ کی قسم اٹھائی ہے اور چار ماہ اس نے صحبت نہیں کی تو بیوی طلاق بائن سے جدا ہو جائے گی اور قسم بھی کھل جائے گی کیونکہ مدت گزر گئی اس نے بھی چار ماہ کی قسم اٹھائی تھی، لیکن اگر ایک شخص مؤبد قسم اٹھا لیتا ہے مثلاً قسم کے ساتھ مدت ذکر نہیں کرتا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قسم کے ساتھ مدت ذکر نہ کی جائے تو اس کو مؤبد شمار کرتے ہیں، ایک شخص کہتا ہے واللہ میں زید کے گھر نہیں جاؤں گا دیکھو مدت نہیں ذکر کی تو اس کو مؤبد شمار کریں گے، دس سال بعد بھی یہ جائے گا تو اس کو کفارہ دینا پڑے گا بھئی۔ تو ایک شخص نے مؤبد قسم کھا لی بیوی سے صحبت نہ کرنے کی، چار ماہ گزر گئے اور چار ماہ کے بعد بیوی کو طلاق بائن ہو جائے گی، بیوی جدا ہو گئی، لیکن ایلاء بھی ابھی نہیں ختم ہوا کیونکہ وہ مؤبد قسم ہے بھئی، اور نیز یہ ملکیت بھی ابھی موجود ہے، پہلی ملکیت میں خاوند کتنی طلاقوں کا مالک تھا؟ تین طلاقوں کا مالک تھا اور ابھی صرف ایک واقع ہوئی ہے تو ایلاء موجود ہے بھئی۔ یہ بیوی ابھی بھی خاوند کے لیے حلال ہے، کیا معنی حلال ہے؟ مطلب یہ ہے خاوند اس سے بغیر حلالہ کے نکاح کر سکتا ہے، درمیان میں کسی خاوند ثانی کے آنے کی ضرورت نہیں، تو لہٰذا یہ اس سے نکاح کر سکتا ہے، چنانچہ طلاق ہو گئی اور قسم ابھی تک باقی ہے، ایلاء ابھی بھی باقی ہے، اس خاوند نے دوبارہ اسی عورت سے نکاح کر لیا، تو پھر ایلاء آ گیا بھئی، اور اب پھر چار مہینے تک اگر خاوند نے صحبت نہ کی تو دوسری طلاق بھی واقع ہو جائے گی اور نکاح کرتے ہی اس کی مدت شروع ہو جائے گی بھئی، تو لہٰذا یہ یمین ابھی تک موجود ہے۔
پھر اس کے بعد دوسری طلاق ہو گئی، پھر بعد میں خاوند نے تیسری دفعہ اس عورت سے نکاح کر لیا تو اب بھی ایلاء موجود ہے، اب بھی خاوند نے صحبت نہ کی چار مہینے تک تو پھر بیوی جدا ہو جائے گی طلاق بائن کے ساتھ اور اب ملکیت پورے طور پر ختم ہو گئی، اب تو عورت یہ خاوند کے لیے حلال ہی نہیں ہے تو اب ایلاء ختم ہو گیا، ایلاء کیا ہوا؟ ختم، کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب طلاق کو معلق کیا جائے تو وہ اسی ملکیت کے ساتھ تعلیق کا تعلق ہوتا ہے جس ملکیت میں قسم کھائی ہے، جس ملکیت میں تعلیق کی ہے بھئی، اور اگر درمیان میں خاوند ثانی آئے گا تو خاوند ثانی کے بعد تو نئی ملکیت آتی ہے، توجہ ہے؟ لہٰذا وہاں پھر یہ ایلاء نہیں ہوگا، لہٰذا اب تین طلاقیں ہو گئیں لیکن ابھی بھی قسم نہیں کھلی، قسم اسی طرح موجود ہے، اس نے کیا قسم کھائی تھی؟ واللہ میں تم سے صحبت نہیں کروں گا، تو ایلاء تو ختم ہوا کیونکہ پہلے ملکیت ختم ہو گئی لیکن قسم موجود ہے۔ پھر یہ اس عورت نے کسی اور شخص سے نکاح کیا اور اس نے کچھ مدت کے بعد طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہوا، اب پھر پہلا خاوند اس کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اور اب نکاح کرے گا تو ایلاء موجود نہیں، اب چار مہینے بغیر صحبت کے گزریں گے تو طلاق واقع نہیں ہوگی، ہاں البتہ یمین موجود ہے، قسم تو اس نے ہمیشہ کی کھائی تھی تو اگر یہ صحبت کرے گا تو حانث ہوگا اس کو کفارہ دینا پڑے گا بھئی۔
اور پھر یہ بھی آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ کم از کم چار ماہ کی قسم کھانا ضروری ہے ایلاء کے اندر، ایلاء کے اندر کم از کم چار ماہ کی قسم کھانا، چار ماہ کی تعلیق ضروری ہے، وجہ یہ کہ ایلاء کے اندر ہمیشہ کوئی نہ کوئی مانع ہونا چاہیے صحبت سے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مانع ہونے کا کیا معنی؟ یعنی اگر خاوند صحبت کرے گا تو اس پر کفارہ لازم آ جائے گا تو یہ کفارہ مانع بنے گا، یہ اس کو قسم توڑنے سے روکے گا بھئی، یا وہ جو اس نے تعلیق کی ہے، جزا کو معلق کیا ہے تو وہ جزا کے خوف سے خاوند یہ بیوی سے صحبت نہیں کرے گا مثلاً خاوند نے کہا تھا کہ اگر میں نے تیرے ساتھ صحبت کی تو مجھ پر حج لازم ہے، تو اب اس جزا کے خوف سے خاوند جو ہے وہ صحبت نہیں کرے گا، تو ایلاء کے اندر یاد رکھنا یہ ساری مدت کے دوران مانع کا پایا جانا ضروری ہے، اگر ساری مدت کے اندر مانع نہ ہوا، کچھ مدت کے اندر مانع ہے اور کچھ مدت میں مانع نہیں تو پھر یہ ایلاء نہیں ہے بھئی۔ حتیٰ کہ اگر ایک شخص یہ قسم کھا لیتا ہے کہ میں ایک دن کم چار مہینے تک بیوی سے صحبت نہیں کروں گا تو یہ بھی ایلاء نہیں ہے کیونکہ ایک دن کم ہے، ایک دن جو آئے گا اس میں تو کوئی مانع نہیں ہے جبکہ ایلاء کے اندر مانع کا پایا جانا ضروری ہے۔
اور پھر اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ایلاء کے اندر اکٹھے چار مہینے ذکر کرنا بھی ضروری نہیں ہے، بس چار مہینے مسلسل مانع بن رہے ہوں، مانع کے ساتھ پائے جائیں تو پھر ایلاء پایا جائے گا۔ لہٰذا ایک شخص بیوی سے کہتا ہے کہ واللہ میں تجھ سے صحبت نہیں کروں گا دو مہینے اور دو مہینے، تو یہ کل کتنے ہو گئے؟ چار مہینے، لہٰذا ایلاء ہو گیا۔ یا خاوند یوں کہتا ہے کہ میں تجھ سے صحبت نہیں کروں گا ایک مہینہ اور ایک مہینہ اور ایک مہینہ اور ایک مہینہ، یہ بھی کتنے ہو گئے؟ چار مہینے، تو یہ ایلاء ہو گیا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند نے بیوی سے کہا: واللہ میں تیرے ساتھ صحبت نہیں کروں گا دو مہینے تک، پھر اس کے بعد ایک دن گزر گیا اگلے دن پھر کہتا ہے کہ واللہ میں تیرے ساتھ صحبت نہیں کروں گا ان دو مہینوں کے بعد مزید دو مہینے، تو اب فقہاء فرماتے ہیں ایلاء نہیں کیونکہ ایلاء کے اندر چار مسلسل مہینوں کا ہونا ضروری ہے، اور یہاں جب اس نے پہلے دن قسم کھائی تو دو مہینے آ گئے لیکن اب ایک دن گزر گیا تو دو مہینوں سے ایک دن کم ہو گیا، اب مزید دو مہینے ساتھ آ گئے تو دیکھو چار مہینوں سے ایک دن کم ہے، لہٰذا یہاں ایلاء نہیں ہوگا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر ایک خاوند بیوی سے کہتا ہے کہ واللہ میں تجھ سے صحبت نہیں کروں گا پورا ایک سال سوائے ایک دن کے، یعنی ایک دن کا استثناء کر لیا خاوند نے، ایک دن کا استثناء کر لیا تو پھر اس صورت کے اندر ہمارے نزدیک یہ ایلاء کرنے والا نہیں ہے، یہ ایلاء نہیں ہے۔ بھئی کیوں؟ ایلاء کیوں نہیں ہے؟ اس نے پورے سال کی قسم کھائی ہے؟ تو جواب یہ کہ ایلاء اسے کہتے ہیں کہ جب بھی خاوند صحبت کرے اس مدت کے دوران تو وہ حانث ہو لیکن یہاں اس نے ایک دن کا استثناء کیا ہوا ہے وہ جس دن بھی صحبت کرے گا حانث تو نہیں ہوگا لہٰذا یہ ایلاء نہیں ہے۔ ہاں اگر سال کے دوران اس شخص نے کسی وقت صحبت کر لی کسی دن تو وہ استثناء والا دن گزر گیا، اس دن تو اس پر کفارہ نہیں لیکن اس کے بعد مدت دیکھیں گے اب اگر چار مہینے یا اس سے زیادہ باقی ہیں اب تو اس کے پاس صحبت کی گنجائش نہیں ہے تو اب ایلاء بن جائے گا، اب ایلاء بن جائے گا اور اس کے اندر اگر یہ صحبت کرے گا تو کفارہ دینا پڑے گا اور اگر نہیں کرے گا تو بیوی ہاتھ سے نکل جائے گی بھئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ مطلقہ رجعیہ سے بھی ایلاء کیا جا سکتا ہے لیکن مطلقہ بائنہ سے ایلاء نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ مطلقہ رجعیہ کے ساتھ تو نکاح پورے طور پر موجود ہے حتیٰ کہ خاوند کے لیے اس سے صحبت بھی جائز ہے، ہاں جب صحبت کرے گا تو رجوع ہو جائے گا، تو خاوند کے لیے صحبت بھی جائز ہے لہٰذا اس سے ایلاء کیا جا سکتا ہے، اور ایلاء کا محل بھی ہماری بیویاں ہیں بھئی، کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ}، وہ لوگ جو ایلاء کر لیتے ہیں {مِنْ نِسَائِهِمْ} اپنی بیویوں سے، معلوم ہوا ایلاء کس سے ہوگا؟ اپنی بیوی سے ہوگا، اور مطلقہ رجعیہ ابھی بھی بیوی ہے جبکہ مطلقہ بائنہ وہ تو اس سے تو نکاح ٹوٹ چکا ہے وہ تو اب اس خاوند کی بیوی نہیں ہے لہٰذا اس سے ایلاء نہیں ہو سکتا بھئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر ایک شخص کسی اجنبیہ سے کہتا ہے: ”وَاللَّهِ لَا أَقْرَبُكِ“ کہ واللہ میں تجھ سے صحبت نہیں کروں گا، یا اجنبیہ سے کہتا ہے: ”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي“، ظہار والا لفظ کہہ دیتا ہے، تو یہ کلام باطل ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ یہ ایلاء کر رہا ہے اور ایلاء تو اپنی بیوی سے ہوتا ہے، یا یہ ظہار کر رہا ہے ظہار تو اپنی بیوی سے ہوتا ہے، لہٰذا اس کا کلام باطل ہوا۔ بعد میں اس شخص نے اسی عورت سے نکاح کر لیا تو کیا اب وہ ایلاء بن جائے گا؟ کیا اب وہ ظہار بن جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، وہ کلام ایک دفعہ باطل ہو چکا اب دوبارہ اس کو صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا ایلاء بھی نہیں اور ظہار بھی نہیں۔ ہاں البتہ اس نے قسم اگر کھائی تھی: ”وَاللَّهِ لَا أَقْرَبُكِ“، تو پھر اس صورت میں اگر یہ صحبت کرے گا تو وہ قسم کا کفارہ دینا پڑے گا، اور اگر ظہار والا جملہ کہا تھا پھر تو کوئی کفارہ وغیرہ بھی اس پر نہیں ہے وہ کلام باطل ہو گیا تھا۔
اور جبکہ باندی کی مدتِ ایلاء جو ہے وہ دو مہینے ہے کیونکہ غلامی کی وجہ سے احکام میں تنصیف ہو جاتی ہے، احکام آدھے ہو جاتے ہیں بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر خاوند یا بیوی میں سے کوئی مریض ہے، اتنا بیمار ہے کہ اس میں صحبت نہیں ہو سکتی، یا بیوی جو ہے صغیرہ ہے اتنی صغیرہ ہے کہ اس جیسی سے صحبت نہیں ہو سکتی، یا بیوی جو ہے رتقاء ہے، رتقاء میں نے بتلایا کہ رتقاء اسے کہتے ہیں کہ مثلاً عورت کا صحبت کا مقام ہی بند ہے، پیشاب وغیرہ کی جگہ تو ہے لیکن صحبت کا مقام ہی نہیں، تو اگر عورت رتقاء ہے اور اس جیسی عورت سے خاوند نے ایلاء کر لیا، بیوی رتقاء ہے یا صغیرہ ہے یا دونوں میں سے کوئی بیمار ہے یا دونوں ایک دوسرے سے اتنی دور ہیں کہ چار ماہ میں پہنچ بھی نہیں سکتے اور خاوند نے ایلاء کر لیا، اب کیا کریں بھئی؟ ایلاء سے رجوع تو صحبت کے ذریعے ہوتا ہے اور یہاں تو صحبت کی بھی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو اس کا جواب دیا کہ بھئی یہاں زبان سے رجوع کر لے کہ ”فِئْتُ إِلَى امْرَأَتِي“، میں نے رجوع کر لیا اپنی بیوی کی طرف، تو اس صورت میں رجوع ہو جائے گا جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور اسی طرح احناف میں سے امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زبان سے فیء نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ فیء کے ساتھ حانث ہونا لازم ہوتا ہے، جب بھی ایلاء کے اندر رجوع کیا جائے گا حانث ہونا ضرور ہوگا، یا وہاں وہ قسم ٹوٹے گی کفارہ دینا پڑے گا یا وہ جزا آ جائے گی، لیکن یہاں پر زبان سے جب رجوع کرے گا تو صرف فیء پایا گیا اور حانث ہونا تو نہیں ہے جبکہ فیء تو حانث ہونے سے جدا نہیں ہو سکتا، جبکہ ہمارے نزدیک یہاں جب خاوند صحبت پر قادر ہی نہیں ہے اور پھر وہ قسم کھا رہا ہے کہ واللہ میں تیرے ساتھ صحبت نہیں کروں گا تو معلوم ہوا وہ یہاں عورت کے حقِ جماع کو نہیں روک رہا کیونکہ جماع پر تو وہ قادر ہی نہیں ہے، وہ صرف زبان سے بیوی کو تکلیف دے رہا ہے، تو جب صرف زبان کے ذریعے تکلیف دی ہے تو زبان کے ذریعے رجوع بھی کافی ہو جائے گا بھئی، لہٰذا یہاں پر پھر زبان سے رجوع کافی ہو جائے گا، البتہ ایک شرط ہے کہ اس پوری مدتِ ایلاء کے اندر خاوند صحبت سے عاجز ہی رہے، اگر صحبت پر قادر ہو گیا تو پھر زبان سے فیء کافی نہیں ہوگا بلکہ پھر جماع ہی کرنا پڑے گا۔
اور پھر آخر میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“، تو مجھ پر حرام ہے۔ میں نے بتایا تھا یہاں دو جملے ہیں، ایک صرف یوں کہے: ”أَنْتِ حَرَامٌ“، اور ایک ہے ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“، تو مجھ پر حرام ہے، دونوں میں فرق ہے بھئی۔ اگر صرف کہے: ”أَنْتِ حَرَامٌ“، تو حرام ہے، تو یہ کنایہ ہے طلاق سے، یہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کنایات کے اندر کیونکہ اس میں طلاق والا بھی معنیٰ ہے اور غیرِ طلاق والا بھی معنیٰ ہے کیونکہ ”أَنْتِ حَرَامٌ“ کا یہ معنیٰ بھی ہو سکتا ہے تو مجھ پر حرام ہے کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے اور اس کا یہ معنیٰ بھی ہو سکتا ہے تو اور مردوں پر حرام ہے کیونکہ تو میری منکوحہ ہے بھئی، تو یہاں دونوں معنیٰ ہے، طلاق والا بھی اور غیرِ طلاق والا بھی، لیکن یہاں جو جملہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ وہ ہے: ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“، تو مجھ پر حرام ہے، تو اس میں پھر خاوند سے اس کی نیت پوچھی جائے گی کہ آپ کی کیا نیت تھی؟ تو اگر خاوند کہتا ہے کہ میں نے تو ویسے ہی جھوٹ موٹ ایک بات کہی تھی تو کہتے ہیں اس کی تصدیق کی جائے گی اس لیے کیونکہ اس نے واقعی جھوٹ ہی بولا ہے، حقیقت میں تو بیوی اس پر حلال ہے بھئی اور وہ کیا کہہ رہا ہے؟ تو مجھ پر حرام ہے، تو یہ جھوٹ ہی بول رہا ہے، اور اگر کہا اگر اس نے کہا میں نے طلاق کا ارادہ کیا تھا تو پھر ایک طلاقِ بائن ہو جائے گی کیونکہ یہ کنایہ ہے اور کنایہ سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاقِ بائن، اور اگر اس نے تین کی نیت کی تو تین بھی واقع ہو جائیں گی کیونکہ کنایات کے اندر تین کی نیت بھی صحیح ہے بھئی، صرف تین کنایات ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے اور باقیوں کے اندر طلاقِ بائن، وہ تین کنایات کون سے ہیں؟ ”اعْتَدِّي“، اور ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“، اور ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“، ان کے اندر صرف طلاقِ رجعی ہوتی ہے باقی جتنے مشہور کنایات ہیں سب سے طلاقِ بائن ہوتی ہے اور کنایہ کے اندر اگر تین کی نیت بھی خاوند کر لے تو تین طلاقیں بھی واقع ہو جاتی ہیں۔ اور اگر خاوند سے پوچھا گیا کہ آپ کا کیا ارادہ تھا ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“ سے؟ اور وہ کہتا ہے میرا ارادہ ظہار کا تھا تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ظہار ہو جائے گا جبکہ امام محمد فرماتے ہیں ظہار نہیں ہوگا کیونکہ ظہار کے اندر تشبیہ رکن ہے، کسی محرم کے ساتھ کیا کرے؟ تشبیہ دے: ”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي“، تو ماں، بہن، بیٹی، خالہ، پھوپھی کسی بھی محرم کے ساتھ تشبیہ دے گا تو ظہار ہوگا اور تشبیہ تو یہاں ہے نہیں، یہاں تو اس نے صرف کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“، جب تشبیہ نہیں ہے تو ظہار بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ شیخین فرماتے ہیں نہیں، ظہار کے اندر بھی ایک قسم کی حرمت آ جاتی ہے اور یہ شخص بھی حرمت کو ذکر کر رہا ہے اور مطلق جو ہوتا ہے وہ مقید کا احتمال رکھتا ہے بھئی۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ ایک شخص کیا کہتا ہے: ”وَاللَّهِ لَا آكُلُ طَعَامًا“، واللہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا، اب طعام یہ تو نکرہ ہے بھئی، تو کوئی بھی کھانا یہ کھائے گا یہ حانث ہو جائے گا لیکن اگر یہ کہتا ہے کہ بھئی میں نے تو فلاں کھانے کی نیت کی تھی تو فقہاء فرماتے ہیں اس کی نیت صحیح ہے کیونکہ اس نے لفظ ذکر کیا ہے مطلق کھانے کا اور نیت کی ہے خاص کھانے کی، تو مطلق جو ہوتا ہے اس کے ضمن میں مقید کی نیت صحیح ہے کیونکہ وہ مقید کا احتمال رکھتا ہے، کیونکہ وہ خاص کھانا بھی تو طعام ہے نا، وہ بھی طعام ہے، تو لفظ جس چیز کا احتمال رکھتا ہو اس کی نیت صحیح ہے لیکن اگر لفظ ایک چیز کے احتمال ہی نہیں رکھتا اس کی نیت صحیح نہیں ہے، مثلاً آپ لفظ ذکر کرتے ہیں بکری اور ارادہ کرتے ہیں آپ ہاتھی کا، نہیں بھئی، بکری کے اندر ہاتھی کے معنیٰ کا احتمال ہی نہیں ہے تو آپ کی یہ نیت لغو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں، جب ایک لفظ میں ایک معنیٰ کا احتمال ہو پھر آپ اس کی نیت کر سکتے ہیں ورنہ آپ اس کی نیت نہیں کر سکتے بھئی۔ اور اگر اس شخص سے پوچھا گیا آپ کی کیا نیت تھی؟ اس نے کہا میرا ارادہ حرام کرنے کا تھا یعنی اس بیوی کی صحبت وغیرہ کو میں اپنے اوپر حرام کرنا چاہتا تھا تو یہ ایلاء ہے، تو یہ ایلاء ہے، اور اگر وہ کہتا ہے میری کوئی نیت نہیں تھی تو بھی یہ ایلاء ہی شمار ہوگا۔ کیونکہ حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا یہ عند الاحناف یمین ہے، حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینا یہ عند الاحناف یمین شمار ہوتی ہے تو یہاں پر بھی بیوی تو اس کے لیے حلال تھی وہ اس کو اپنے اوپر حرام کر رہا ہے تو یہ یمین ہو گئی اور یمین جب ہوئی تو یہ ایلاء ہو گیا بھئی، یہ ایلاء ہو گیا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آخر میں بتلایا تھا کہ بعض فقہاء جو ہیں اس لفظِ تحریم جو ہے اس کو طلاق کی طرف پھیرتے ہیں کہ جب بغیر نیت کے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“ تو یہ طلاق شمار ہوتی ہے، یہ طلاق شمار ہوتی ہے اور یہ عرف اس طرح ہے یعنی عام لوگوں کی عادت اس طرح ہے وہ اس کو طلاق شمار کرتے ہیں اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ برصغیر جو ہے پاکستان، ہندوستان وغیرہ یہاں پر بھی یہی عرف ہے، خاوند اگر بیوی سے کہہ دے: تو مجھ پر حرام ہے، تو اس کو طلاق شمار کرتے ہیں، لہٰذا یہاں صاحبِ ہدایہ نے تو ذکر فرمایا اس سے اس کی نیت پوچھی جائے گی، اس سے اس کی نیت پوچھی جائے گی لیکن ہمارا عرف یہ ہے کہ خاوند بیوی سے اگر ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“ کہہ دے یا کہہ دے تو مجھ پر حرام ہے تو یہ صریح کے درجے میں ہے، کس کے؟ یہ صریح اور صریح لفظ کے اندر نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، خاوند بیوی سے کہہ دے ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تو یہ صریح ہے اس میں نیت پوچھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں اور کوئی معنیٰ ہے ہی نہیں طلاق کے علاوہ، تو وہاں طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح ہمارے عرف میں ”أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ“ یا تو مجھ پر حرام ہے یہ صریح ہو چکا ہے طلاق کے اندر، اس کو صریح کی طرح سمجھا جاتا ہے لہٰذا یہاں نیت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں، فوراً حکم لگایا جائے گا کہ طلاقِ بائن ہو گئی، طلاقِ بائن ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اس کے بعد پھر ہم نے کتاب الخلع شروع کی تھی، میں نے بتلایا تھا خلع اسے کہتے ہیں کہ بیوی کچھ مال دے کر اپنے آپ کو خاوند سے چھڑا لے، خاوند سے چھڑا لے، اور قرآن اور حدیث میں خلع کا ذکر ہے معلوم ہوا یہ جائز ہے بھئی، اور خلع طلاقِ بائن کے حکم میں ہے اور طلاقِ بائن کے بعد عورت عدت گزارتی ہے تو یہاں بھی عدت گزارے گی اور عدت کے اندر خاوند مزید طلاقیں بھی دے سکتا ہے تو یہاں بھی خاوند مزید طلاقیں دے گا وہ بھی واقع ہو جائیں گی عدت کے اندر اندر بھئی۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ یہاں ایک ہے خلع اور ایک ہے طلاق علیٰ عوض، آپ نے ہمیشہ خیال رکھنا ہے، عموماً طلبہ کو پتہ نہیں چلتا وہ دونوں کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، نہیں، خلع کے اندر طلاق کا لفظ نہیں ذکر ہوگا، خلع کے اندر طلاق کا لفظ ذکر نہیں ہوگا، بیوی آ کر کہے گی کہ میں تم سے خلع کرتی ہوں اتنے مال کے بدلے میں اور یا خاوند کہتا ہے کہ میں تم سے خلع کرتا ہوں اتنے مال کے بدلے میں، تو جیسے ہی دوسرا شخص اس کو قبول کرے گا ساتھ ہی طلاقِ بائن ہو جائے گی اور بیوی پر اب وہ مال لازم ہو جائے گا، جبکہ طلاق علیٰ عوض یہ ہے کہ خاوند بیوی سے کہتا ہے کہ مجھے دس لاکھ روپے دے دو تو تمہیں طلاق ہے، تو یہاں دیکھو باقاعدہ طلاق کا لفظ ذکر کر رہا ہے تو یہ طلاق علیٰ عوض ہے، اور حکم اس کا بھی یہی ہے کہ بیوی اگر کہہ دے مجھے منظور ہے تو ساتھ ہی طلاقِ بائن ہو گئی اور وہ مال اب عورت کے ذمے لازم ہو گیا اب وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، تو خلع کا حکم بھی طلاقِ بائن ہے، خلع سے بھی طلاقِ بائن ہوتی ہے اور طلاق علیٰ عوض کے اندر بھی طلاقِ بائن ہوتی ہے، حکم دونوں کا ایک ہی ہے لیکن یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں اور بعض احکام میں دونوں ایک دوسرے سے مختلف بھی ہیں جیسے آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
وَإِنْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهِ يُكْرَهُ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا عِوَضًا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ} إِلَى أَنْ قَالَ: {فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا}
وَإِنْ كَانَ النُّشُوزُ، نشوز یاد رکھو خاوند اور بیوی کا ایک دوسرے سے نفرت کرنا یہ نشوز کہلاتا ہے، یا اسی طرح بیوی خاوند کی نافرمانی کرے تو اس کو بھی نشوز کہتے ہیں، تو بہرحال یہاں یہ نفرت کے معنیٰ میں ہے۔ بھئی دیکھو، خلع کی بات چل رہی ہے، بیوی خلع کرتی ہے خاوند سے تو ظاہر سی بات ہے معلوم ہوتا ہے کہ اب خوشگوار زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے ان میاں بیوی کے درمیان بھئی، تو اب بیوی خلع کر رہی ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ نفرت یا تو بیوی کی طرف سے ہوگی یا خاوند کی طرف سے، تو اگر نفرت خاوند کی طرف سے ہے تو پھر اس کے لیے عوض لینا مکروہ ہے۔ ایک تو وہ خود نفرت کرتا ہے، بیوی کو تکلیف میں ڈالا ہوا ہے، اس کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بھی نہیں گزار رہا، اور اب اس کی جان چھوڑنے پر عوض بھی لے رہا ہے تو یہ انتہائی ناپسندیدہ ہے، یہ مکروہ ہے بھئی، ہاں البتہ لے سکتا ہے، لے سکتا ہے لیکن ہے ناپسندیدہ۔ اور اگر نافرمانی اور نفرت جو ہے وہ بیوی کی طرف سے ہے، خاوند اگر مال لیتا ہے تو وہ جو خاوند نے مہر دیا تھا اس سے زیادہ نہ لے، اگر اس سے زیادہ لیتا ہے تو یہ مکروہ ہے بھئی، یہ مکروہ ہے۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں:
وَإِنْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهِ، اور اگر نفرت جو ہے خاوند کی طرف سے ہے، يُكْرَهُ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا عِوَضًا، تو مکروہ ہے اس کے لیے کہ وہ عوض لے اس عورت سے، لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ}، اور اگر تم بدلنا چاہتے ہو ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کو، یعنی تم ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہتے ہو، اور پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا}، اور ان میں سے ایک کو تم نے کثیر مال دیا ہو، قنطار کہتے ہیں مالِ کثیر کو، تو اگر تم ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور اس ایک کو تم نے بہت سا مال بھی دیا ہے، {فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا}، تو تم نہ لو اس سے کچھ بھی۔ تو دیکھو یہاں قرآن کے اندر واضح لفظوں میں منع کیا گیا ہے کہ اس سے کچھ بھی نہ لو بھئی، تو معلوم ہوا خاوند کا عوض لینا مکروہ ہے۔ تو دیکھو اگر تم ایک بیوی کی جگہ بدلنا چاہتے ہو دوسری بیوی کو یعنی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتے ہو اور اس کو تم نے بہت سا مال دیا ہے تو اس سے کچھ بھی نہ لو، تو لہٰذا دیکھو یہاں خاوند بدلنا چاہتا ہے بیوی کو معلوم ہوا نفرت کس کی طرف سے ہے؟ خاوند کی طرف سے ہے، تو لہٰذا یہ آیت نص ہے اس بات پر کہ خاوند کا عوض لینا مکروہ ہے بھئی۔
لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ}، اور اگر تم نے ارادہ کیا ہے بدلنے کا ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کو، میں نے بتلایا تھا کہ زوج کا لفظ عربی زبان میں خاوند پر بھی بولا جاتا ہے اور بیوی پر بھی، یہاں بیوی مراد ہے، اور اگر تم نے ارادہ کیا ہے ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کو بدلنے کا، إِلَى أَنْ قَالَ، یہاں حتی کہ آگے اللہ فرماتے ہیں: {فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا}، لہٰذا اس سے کچھ بھی نہ لو، کچھ بھی نہ لو۔ بھئی دیکھو گزشتہ سبق میں آیا تھا: {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ}، کہ ان میاں بیوی پر کوئی حرج نہیں ہے، کوئی گناہ نہیں ہے فیما افتدت بہ بیوی کے مال دے کر جان چھڑانے میں، اس سے پتہ چل رہا ہے بیوی مال دے تو خاوند کے لیے لینے میں کوئی گناہ نہیں، اور یہاں آیا: {فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا}، اس سے خاوند کچھ بھی نہ لے، تو چونکہ دونوں نصوص میں تعارض آ رہا ہے اس لیے اس کو حرمت پر محمول نہیں کیا گیا بلکہ کس پر محمول کیا گیا؟ کراہت پر محمول کیا گیا بھئی۔
آگے دیکھیے:
وَلِأَنَّهُ أَوْحَشَهَا بِالِاسْتِبْدَالِ فَلَا يَزِيدُ فِي وَحْشَتِهَا بِأَخْذِ الْمَالِ
اب یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ ایک تو قرآن میں منع آیا ہے اور نیز اس لیے کیونکہ نفرت کرنے والا خاوند ہے تو خاوند نے بیوی کو وحشت میں ڈالا ہوا ہے اور اب اس سے مال لے کر اس کو مزید وحشت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو لہٰذا یہ مکروہ ہوگا بھئی یعنی مکروہِ تحریمی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ أَوْحَشَهَا بِالِاسْتِبْدَالِ، اور اس لیے کیونکہ خاوند نے اس کو وحشت میں ڈالا ہے بالاستبدال استبدال کے ذریعے کہ وہ ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہتا ہے تو بیوی کو پہلے ہی اس نے وحشت میں ڈال دیا ہے تو اب مال لے کر اس کو مزید وحشت میں نہ ڈالے، وحشت میں ڈالا ہے یعنی وحشت میں مبتلا کیا ہے، خوف اور گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا کیا ہے، وَلِأَنَّهُ أَوْحَشَهَا بِالِاسْتِبْدَالِ، اور اس لیے کیونکہ خاوند نے بیوی کو وحشت زدہ کر دیا ہے بالاستبدال استبدال کے ذریعے کہ وہ اس کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہتا ہے، فَلَا يَزِيدُ فِي وَحْشَتِهَا بِأَخْذِ الْمَالِ، لہٰذا خاوند اس کی وحشت میں زیادتی نہ کرے بأخذ المال مال لے کر۔
وَإِنْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْهَا كَرِهْنَا لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا۔
"اور اگر نفرت بیوی کی طرف سے ہے، تو ہم نے ناپسند کیا ہے کہ خاوند اس عورت سے لے اس سے زیادہ جو خاوند نے اس کو دیا تھا۔"
اگر نافرمانی بیوی کی طرف سے بھی ہے تو اس صورت میں بھی خاوند کے لیے صرف اتنا ہی مال لینا ٹھیک ہے جتنا مال یعنی مہر اس نے دیا تھا، اس سے زائد لینا مکروہ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْهَا" اور اگر نفرت بیوی کی طرف سے ہے، "كَرِهْنَا لَهُ" تو ہم نے ناپسند کیا ہے، یعنی ہم نے مکروہ قرار دیا ہے، "أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا" کہ خاوند لے اس عورت سے اس سے زیادہ جو اس نے اسے دیا تھا۔
وَفِي رِوَايَةِ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: طَابَ الْفَضْلُ أَيْضًا۔
بھئی، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ متن قدوری اور جامع صغیر کی عبارت پر مشتمل ہے۔ جہاں بھی متن آ رہا ہے یہ کس کی عبارت ہے؟ یا قدوری کی ہوگی یا جامع صغیر کی۔ لیکن کہیں کہیں صاحبِ ہدایہ مبسوط سے بھی عبارت لے لیتے ہیں، جیسے یہ جو عبارت انہوں نے لی: "وَإِنْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْهَا كَرِهْنَا لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا" یہ کس کی عبارت ہے؟ مبسوط کی ہے، اور آگے صاحبِ ہدایہ اب جامع صغیر کی عبارت بھی ذکر فرما رہے ہیں، تو فرماتے ہیں: "وَفِي رِوَايَةِ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ" اور جامع صغیر کی روایت میں ہے: "طَابَ الْفَضْلُ أَيْضًا"۔
طَابَ يَطِيبُ کا کیا معنی ہے؟ اچھا ہونا۔ "طَابَ الْفَضْلُ أَيْضًا" کہ زائد بھی اچھا ہے، یعنی مہر جتنا خاوند نے دیا تھا اس سے زائد بھی عورت سے عوض لے سکتا ہے خلع کے اندر۔ تو کہتے ہیں جامع صغیر میں ہے: "طَابَ الْفَضْلُ أَيْضًا" کہ زائد بھی اچھا ہے۔
لِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا بَدْءًا۔
بَدَأَ يَبْدَأُ بَدْءًا کا معنی ہے شروع کرنا، آغاز کرنا۔ تو "لِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا بَدْءًا" وہ آیت جو ہم نے شروع میں تلاوت کی اس کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ جامع صغیر کے اندر آیا ہے کہ زائد لینا بھی اچھا ہے، کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں وہ جو پہلے ہم نے آیت ذکر کی تھی وہ مطلق تھی، کون سی آیت؟ ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ کہ خاوند اور بیوی پر کوئی حرج نہیں ہے بیوی کے مال دے کر جان چھڑانے میں۔ تو اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ اتنا ہی مال لینا ہے جتنا خاوند نے دیا تھا یا اس سے زائد بھی لے سکتے ہیں، تو یہ مطلق ہے، اور المطلق يجري على إطلاقه لہٰذا زائد بھی لے سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: "طَابَ الْفَضْلُ أَيْضًا" کہ زائد بھی اچھا ہے، "لِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا بَدْءًا" اس آیت کے مطلق ہونے کی وجہ سے جو ہم نے شروع میں تلاوت کی۔
وَوَجْهُ الْأُخْرَى: قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي امْرَأَةِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ: ”أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا“ وَقَدْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْهَا۔
اور دوسری روایت کی وجہ یہ ہے، وہ جو متن کے اندر آیا کہ مکروہ ہے، "كَرِهْنَا لَهُ" ہم نے ناپسند کیا ہے، تو اس کی وجہ جو ہے: "قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي امْرَأَةِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ: ”أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا“ وَقَدْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْهَا"۔
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ بھئی، ان کی بیوی حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! میرا خاوند نیک ہے، ہر اعتبار سے اچھا ہے، لیکن بس مجھے وہ ناپسند ہے، تو مجھے خوف ہے کہ میں کہیں اللہ کی حدود کا خیال نہ رکھ سکوں گی، تو میں اس سے جدائی چاہتی ہوں۔ اور حضرت ثابت بن قیس نے اس بیوی سے نکاح کے موقع پر ان کو اپنا باغ دیا تھا بطور مہر کے، تو حضور نے فرمایا: کیا تم ان کو وہ باغ واپس کر دو گی جو انہوں نے تمہیں دیا تھا؟ تو وہ کہنے لگیں: ہاں، وہ باغ بھی دے دوں گی اور اور زیادہ بھی دے دوں گی، یعنی اتنی نفرت تھی، جان چھڑانا چاہتی تھیں۔ تو حضور علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا“ تو زائد جو ہے وہ تو نہیں۔ وہی صرف باغ دے دینا، زائد نہیں۔ تو چنانچہ پھر وہی باغ ان کو لوٹا دیا اور اس طرح انہوں نے خلع کر لیا، جدائی آ گئی ان کے درمیان۔ تو دیکھو، یہاں پر حدیث میں کیا آیا: ”أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا“، جو زیادتی ہے وہ نہیں، معلوم ہوا زیادتی کو حضور نے پسند نہیں فرمایا، تو معلوم ہوا زائد لینا مکروہ ہے بھئی۔
کہتے ہیں: "وَوَجْهُ الْأُخْرَى" اور دوسری روایت کی وجہ جو ہے، "قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي امْرَأَةِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ" وہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی سے جو حضور نے فرمایا: ”أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا“ تو زیادہ جو ہے وہ نہیں، "وَقَدْ كَانَ النُّشُوزُ مِنْهَا" اور تحقیق نفرت ان کی طرف سے تھی، بیوی کی طرف سے تھی، تو دیکھو پھر بھی حضور نے مہر سے زائد دینے کو ناپسند کیا۔
وَلَوْ أَخَذَ الزِّيَادَةَ جَازَ فِي الْقَضَاءِ۔
"اور اگر خاوند نے زائد لے لیا، تو یہ قضا میں جائز ہے۔" اگرچہ مکروہ ہے لیکن قضا میں بھی جائز ہے، یعنی اگر قاضی کے پاس بھی مسئلہ چلا گیا تو قاضی بھی اس کو جائز ہی رکھے گا۔
تو کہتے ہیں: "وَلَوْ أَخَذَ الزِّيَادَةَ جَازَ فِي الْقَضَاءِ" اور اگر مہر سے زیادہ لے لیا تو بھی یہ قضا میں جائز ہے۔
وَكَذَلِكَ إِذَا أَخَذَ وَالنُّشُوزُ مِنْهُ۔
"اور اسی طرح ہے مسئلہ جب خاوند مال لے اور نفرت بھی خاوند کی طرف سے ہو۔"
اگر نفرت خاوند کی طرف سے ہے تو اس کے لیے مال لینا مکروہ ہے، لیکن اگر لے لیتا ہے تو قضاءً بھی جائز ہے، قاضی بھی اس کو رد نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ پہلی آیت مطلق تھی: ﴿فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾۔
تو کہتے ہیں: "وَكَذَلِكَ إِذَا أَخَذَ وَالنُّشُوزُ مِنْهُ" اور اسی طرح ہے مسئلہ جب خاوند لے اور نفرت بھی اس کی طرف سے ہو۔
لِأَنَّ مُقْتَضَى مَا تَلَوْنَاهُ شَيْئَانِ: الْجَوَازُ حُكْمًا وَالْإِبَاحَةُ۔
اس لیے کیونکہ مقتضا اس آیت کا جس کو ہم نے تلاوت کیا اس کا مقتضا دو چیزیں ہیں، وہ جو آیت ہم نے تلاوت کی تھی: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ اس آیت کا مقتضا دو چیزیں ہیں: "الْجَوَازُ حُكْمًا وَالْإِبَاحَةُ"، ایک تو حکم کے اعتبار سے یہ جائز ہے، اور دوسرا مباح ہونا۔
ایک حکم کے اعتبار سے جائز ہے یعنی شرعاً یہ جائز ہے، شرعاً جائز ہے یعنی یعنی اس پر اس کے احکام مرتب ہو جائیں گے۔ بھئی اگر ایک چیز شرعاً جائز ہی نہ ہو تو پھر وہاں اس کے احکام بھی اس پر مرتب نہیں ہوتے۔ جیسے گزشتہ سبق کے اندر ذکر آیا تھا کہ اگر تحلیل کی شرط پر کوئی شخص نکاح کرتا ہے تو بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ یہ شرعاً جائز ہی نہیں ہے کیونکہ حدیث میں لعنت کا ذکر ہے، جب یہ جائز ہی نہیں ہے تو یہ نکاح بھی نہیں ہوا، جب یہ نکاح نہیں ہوا تو یہ تحلیل بھی نہیں ہوئی اور بیوی پہلے خاوند کے لیے حلال بھی نہیں ہے بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک وہ نکاح جائز تھا اور اس پر احکام بھی مرتب ہوئے اور بیوی پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی بھئی۔
تو اس آیت کا مقتضا دو چیزیں ہیں: "الْجَوَازُ حُكْمًا وَالْإِبَاحَةُ"، ایک تو جائز ہونا حکم کے اعتبار سے، یعنی یہ شرعاً جائز ہے، زائد مال لے سکتا ہے خاوند، "وَالْإِبَاحَةُ" اور دوسرا مباح ہونا یعنی وہ مال اس کے لیے حلال ہے، وہ مال کیا ہے اس کے لیے؟ حلال ہے، وہ اس کو استعمال کر سکتا ہے۔ تو دو چیزیں معلوم ہو رہی تھیں اس آیت سے: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ میاں بیوی پر کوئی حرج نہیں، کوئی گناہ نہیں ہے بیوی کے مال دے کر جان چھڑانے میں، معلوم ہوا خاوند زائد بھی لے سکتا ہے اور اس کے لیے حلال بھی ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں اس کے استعمال میں۔ تو دو چیزیں معلوم ہوئیں اس آیت سے، ایک "الْجَوَازُ حُكْمًا وَالْإِبَاحَةُ"، ایک حکم کے اعتبار سے جائز ہونا اور دوسرا مباح ہونا یعنی حلال ہونا۔
وَقَدْ تُرِكَ الْعَمَلُ فِي حَقِّ الْإِبَاحَةِ لِمُعَارِضٍ۔
"اور تحقیق عمل کو ترک کر دیا گیا اباحت کے حق میں ایک معارض کی وجہ سے۔"
بھئی توجہ سے سنو، مشکل جگہ ہے۔ آیت سے دو چیزیں معلوم ہوئیں، ایک تو یہ کہ یہ شرعاً جائز ہے، زائد لینا خاوند کے لیے شرعاً جائز، اور دوسرا یہ جو زائد مال ہے یہ بھی خاوند کے لیے حلال ہے، وہ اس کو استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن اس آیت کے مقابل حدیث آ گئی: ”أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا“ کہ جو زائد ہے وہ نہیں۔ تو اس سے معلوم ہوا زائد لینے کو حضور نے ناپسند فرمایا بھئی، تو لہٰذا اس آیت سے دو چیزیں ثابت ہو رہی تھیں: جواز اور اباحت، لیکن اباحت کے مقابلے میں تو وہ حدیث آ گئی تو یہ اباحت والا حکم تو ختم ہو جائے گا، یعنی زائد جو ہے وہ مکروہ ہوگا۔ البتہ جواز کے حکم میں یہ آیت اسی طرح باقی ہے۔ دو چیزیں معلوم ہوئی تھیں نا، ایک جواز اور ایک اباحت۔ اباحت کے مقابلے میں تو حدیث آ گئی تو اباحت تو نہیں ہے، البتہ جواز ہے، خاوند زائد لے سکتا ہے، یہ جائز ہے، قاضی بھی اس کو رد نہیں کر سکتا۔
تو کہتے ہیں: "وَقَدْ تُرِكَ الْعَمَلُ فِي حَقِّ الْإِبَاحَةِ لِمُعَارِضٍ" اور اباحت کے حق میں عمل کو ترک کر دیا گیا ایک معارض نص کے آنے کی وجہ سے، اور وہ حضور کا قول کیا ہے: ”أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا“۔
فَبَقِيَ مَعْمُولًا فِي الْبَاقِي۔
تو یہ نص جو ہے، یہ جو آیت تھی، کون سی آیت؟ ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾، یہ جو آیت ہے، "فَبَقِيَ مَعْمُولًا" تو یہ آیت معمول ہو کر باقی رہے گی، "فِي الْبَاقِي" باقی کے اندر۔ اباحت کے اندر تو عمل کو ترک کر دیا جائے گا لیکن باقی جو جواز معلوم ہو رہا تھا اس کے اندر یہ آیت معمول بہ ہی رہے گی، اس پر عمل کیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: "فَبَقِيَ مَعْمُولًا فِي الْبَاقِي"۔ "فَبَقِيَ" کے اندر ضمیر لوٹائیں نص کو، یہ جو پیچھے نص آئی تھی، یہ جو آیت تھی، "فَبَقِيَ" تو یہ نص باقی رہے گی "مَعْمُولًا فِي الْبَاقِي" باقی کے اندر معمول بہ ہو کر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہاں اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ آپ آیت کے مقابلے میں حدیث پیش کر رہے ہیں اور یہ حدیث بھی خبر واحد ہے، خبر مشہور نہیں ہے، اور خبر واحد جو ہے وہ تو آیت کے معارض اور مقابل نہیں بن سکتی بھئی۔
تو اس کا جواب دیتے ہیں علماء کہ بھئی، جب آیت کے اندر تخصیص آ جائے یا آیت کے مقابل کوئی اور آیت آ جائے تو پھر اس صورت میں وہ آیت قطعی نہیں رہتی۔ جب آیت سے کیا ہو جائے؟ تخصیص آ جائے تو وہ آیت قطعی نہیں رہتی، وہ ظنی بن جاتی ہے۔ اور اسی طرح اگر آیت کے مقابل ایک اور آیت آ جائے تو بھی اس کی قطعیت باقی نہیں رہتی بھئی۔ اور یہاں پر بھی اس آیت کے مقابل دوسری آیت موجود ہے: ﴿فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا﴾، ﴿فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا﴾ یہ آیت اس آیت کے مقابل موجود ہے، تو لہٰذا وہ آیت قطعی نہ رہی، تو جب وہ قطعی نہ رہی تو یہ حدیث اس کے معارض ہو سکتی ہے۔
یا یوں کہیں دوسرے لفظوں میں کہ یہاں حدیث آیت کے معارض نہیں ہے، بلکہ آیت آیت کے معارض ہے اور حدیث تائید کر رہی ہے ایک آیت کی۔ تو یہاں آیت کا معارض آیت ہی ہے، حدیث نہیں ہے، حدیث ان میں سے ایک کی تائید کر رہی ہے بھئی۔
پھر یہاں دوسرا اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ آپ نے ہمیں کہا کہ آیت سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں: ایک جواز اور ایک اباحت، جائز بھی ہے اور مباح بھی ہے۔ بھئی یہ دونوں تو ایک ہی چیز ہیں! یہ دونوں تو ایک ہی چیز ہیں، جو جائز ہوگی وہ مباح ہوگی، جو جائز نہیں ہے وہ مباح نہیں ہے، آپ کیسے دونوں کے اندر فرق کر رہے ہیں؟
تو جواب یہ کہ نہیں، دونوں میں فرق ہے بھئی۔ ایک چیز جائز ہو اور مباح نہ ہو ایسا ہو سکتا ہے۔ جائز ہو یعنی اس پر اس کے احکام تو مرتب ہوں لیکن وہ مباح نہ ہو بلکہ مکروہ ہو، جیسے ابھی میں نے نکاح کی مثال ذکر کر دی کہ حلال کرنے کی شرط پر نکاح کرے گا تو یہ جائز ہے، نکاح ہو جائے گا، البتہ یہ مکروہ ہے۔ توجہ ہے؟ تو یاد رکھو، دو چیزیں ذکر کیں: ایک جواز اور ایک اباحت۔ جواز کے مقابلے میں ہے حرمت، جواز کے مقابلے میں حرمت ہے، یعنی خاوند کا زائد لینا شرعاً حرام نہیں ہے، جائز ہے۔ اور اباحت کے مقابلے میں ہے کراہت، تو وہ اباحت ختم ہوئی، اس کی جگہ کیا آ گئی؟ کراہت آ گئی۔ تو ایک چیز جائز بھی ہو اور مکروہ بھی ہو، جیسے وہ تحلیل کی شرط پر نکاح کیا تھا، وہ نکاح جائز ہے یعنی ہو گیا، اس پر اس کے احکام مرتب ہوں گے، اور مکروہ ہے یعنی سخت ناپسندیدہ ہے شرعاً بھئی۔ تو جواز اور اباحت ایک دوسرے کے ساتھ لازم نہیں ہیں، جہاں بھی جواز ہو وہاں اباحت ہو ضروری نہیں، بلکہ جواز کے ساتھ کراہت بھی آ سکتی ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
وَإِنْ طَلَّقَهَا عَلَى مَالٍ فَقَبِلَتْ وَقَعَ الطَّلَاقُ وَلَزِمَهَا الْمَالُ؛ لِأَنَّ الزَّوْجَ يَسْتَبِدُّ بِالطَّلَاقِ تَنْجِيزًا أَوْ تَعْلِيقًا۔
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اتنے مال کی شرط پر، کوئی مال ذکر کر دیا۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اتنے مال کی شرط پر، بیوی کہتی ہے: مجھے قبول ہے۔ یاد رکھو، جیسے ہی قبول کرے گی طلاق واقع ہو گئی اور عورت کے ذمے مال لازم ہو گیا۔
تو خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا بیوی کے قبول کرنے پر۔ بیوی کے قبول کرنے پر معلق کیا تھا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اتنے مال کی شرط پر، یعنی اگر تم قبول کرتی ہو تو تمہیں اتنے مال پر طلاق ہے۔ تو اس صورت کے اندر جیسے ہی بیوی قبول کرے گی تو شرط پائی گئی، اور جب شرط پائی جائے تو جزا ضرور آتی ہے، جیسے خاوند بیوی سے کہتا ہے: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو جیسے ہی اس گھر میں جائے گی اسے کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ تو یہاں پر بھی خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے بیوی کے قبول کرنے پر۔ بیوی کے قبول کرنے پر، بھئی اس لیے کیونکہ بیوی پر مال لازم ہونا ہے اور بغیر کسی کی رضامندی کے تو اس پر مال لازم نہیں ہو سکتا، تو بیوی قبول کرے گی تو اس پر مال لازم ہو جائے گا۔ تو خاوند نے بھی کیا کہا ہے: میں تمہیں اتنے مال کی شرط پر طلاق دیتا ہوں، گویا خاوند یہ طلاق معلق کر رہا ہے بیوی کے قبول کرنے پر، اور بیوی جیسے قبول کرے گی شرط پائی گئی اور شرط پائی گئی تو مشروط یعنی طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنْ طَلَّقَهَا عَلَى مَالٍ" اور اگر خاوند نے بیوی کو طلاق دی مال پر، "فَقَبِلَتْ" تو عورت نے قبول کر لیا، "وَقَعَ الطَّلَاقُ" تو طلاق اسی وقت واقع ہو جائے گی، "وَلَزِمَهَا الْمَالُ" اور عورت پر وہ مال لازم ہو جائے گا، "لِأَنَّ الزَّوْجَ يَسْتَبِدُّ بِالطَّلَاقِ تَنْجِيزًا أَوْ تَعْلِيقًا"۔ اِسْتَبَدَّ يَسْتَبِدُّ استبداد کا معنی ہے مستقل ہونا، خودمختار ہونا۔ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے طلاق کے اندر خودمختار ہے، چاہے وہ تنجیز کے طریقے پر طلاق دے یا تعلیق کے طریقے پر۔ تنجیز کا کیا معنی؟ پورا کرنا، اسی وقت طلاق دے دینا، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ، تو یہ تنجیز ہے، اسی وقت طلاق ہو گئی۔ اور تنجیز کے مقابلے میں تعلیق ہے، تعلیق کیا؟ کہ مثلاً اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اب اس گھر میں جائے گی تو طلاق ہوگی۔ تو خاوند مستقل ہے، یہ اس کا اپنا اختیار ہے، وہ بیوی کو تنجیزاً بھی طلاق دے سکتا ہے اور تعلیقاً بھی دے سکتا ہے، اور یہاں اس نے طلاق کو بیوی کے قبول پر معلق کر دیا ہے کہ میں تجھے اتنے مال کی شرط پر طلاق دیتا ہوں، تو بیوی کے قبول پر اس نے طلاق کو معلق کر دیا ہے لہٰذا یہ تعلیق صحیح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الزَّوْجَ يَسْتَبِدُّ بِالطَّلَاقِ تَنْجِيزًا أَوْ تَعْلِيقًا" اور خاوند جو ہے وہ مستقل ہے طلاق کے اندر تنجیز یا تعلیق کے طریقے پر، "وَقَدْ عَلَّقَهُ بِقَبُولِهَا" اور یہاں خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے یعنی طلاق کی تعلیق کی ہے عورت کے قبول کرنے کے ساتھ۔
وَالْمَرْأَةُ تَمْلِكُ الْتِزَامَ الْمَالِ لِوِلَايَتِهَا عَلَى نَفْسِهَا۔
"اور عورت مالک ہے کہ وہ اپنے اوپر مال کو لازم کرے۔" عاقل بالغ جو ہے وہ اپنے اوپر مال کو لازم کر سکتا ہے، ایک آدمی مجلس میں بیٹھا ہے اور سب کے سامنے کہتا ہے: میں نے زید کا دس لاکھ روپیہ دینا ہے، تو گویا وہ اپنے اوپر دس لاکھ روپے لازم کر رہا ہے، تو عاقل بالغ اپنے اوپر مال کو لازم کر سکتا ہے۔ تو یہاں عورت بھی جب قبول کر رہی ہے وہ اپنے اوپر اس مال کو لازم کر رہی ہے اور اس کو اختیار ہے، وہ اپنے اوپر مال کو لازم کر سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَالْمَرْأَةُ تَمْلِكُ الْتِزَامَ الْمَالِ" اور عورت مالک ہے مال کا التزام کرنے کی کہ اپنے اوپر مال کو لازم کرے، "لِوِلَايَتِهَا عَلَى نَفْسِهَا" کیونکہ عورت کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے، وہ اپنے اوپر مال کو لازم کر سکتی ہے۔
وَمِلْكُ النِّكَاحِ مِمَّا يَجُوزُ الِاعْتِيَاضُ عَنْهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالًا كَالْقِصَاصِ۔
"اور مِلکِ نکاح ان چیزوں میں سے ہے کہ يَجُوزُ الِاعْتِيَاضُ عَنْهُ"، اعتیاض بھئی ضاد کے ساتھ، یہ عوض سے ہے۔ مِلکِ نکاح جو ہے ان چیزوں میں سے ہے: "يَجُوزُ الِاعْتِيَاضُ عَنْهُ" کہ اس سے عوض لینا جائز ہے، "وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالًا" اگرچہ یہ مال نہیں ہے، "كَالْقِصَاصِ" جیسے کہ قصاص۔
بھئی دیکھو، ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو جان بوجھ کر آلۂ قتل کے ذریعے قتل کر دیا تو وہاں قصاص آتا ہے، اور آپ جانتے ہیں مقتول کے اولیاء جو ہیں وہ صلح بھی کر سکتے ہیں، قصاص لینے کے بجائے وہ مال لے لیتے ہیں قاتل سے، تو دیکھو اب وہ قصاص کا عوض مال لے رہے ہیں حالانکہ قصاص تو مال نہیں، قصاص تو مال نہیں، تو جیسے قصاص مال نہیں لیکن اس کا عوض لینا جائز ہے بھئی، وہ جتنے میں بھی صلح کرتے ہیں جتنا مال بھی وہ مانگتے ہیں قاتل اگر دیتا ہے تو وہ صلح ہو جائے گی بھئی۔ تو جیسے قصاص مال نہیں لیکن اس کا عوض لینا جائز ہے، اسی طرح مِلکِ نکاح اگرچہ مال نہیں ہے، مِلکِ نکاح جو ہے وہ مال نہیں لیکن اس کا عوض لینا جائز ہے، لہٰذا خاوند اس کا عوض لے سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَمِلْكُ النِّكَاحِ مِمَّا يَجُوزُ الِاعْتِيَاضُ عَنْهُ" اور مِلکِ نکاح ان چیزوں میں سے ہے کہ جائز ہے اس سے عوض لینا، "وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالًا" اگرچہ وہ مال نہیں ہے، "كَالْقِصَاصِ" جیسے کہ قصاص ہے۔
وَكَانَ الطَّلَاقُ بَائِنًا۔
"اور طلاق بائن ہوگی۔" خاوند نے کیا کہا: میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اتنے مال کی شرط پر، بیوی نے قبول کر لیا، تو طلاق بائن ہوگی۔
تو کہتے ہیں: "وَكَانَ الطَّلَاقُ بَائِنًا" اور طلاق بائن ہوگی، "لِمَا بَيَّنَّا" اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی، کیونکہ عورت عوض دے رہی ہے، عورت تبھی عوض دینے پر راضی ہوگی جب اس کی جان خاوند سے چھوٹے گی، اور جب جان نہیں چھوٹ رہی تو پھر وہ عوض دینے پر بھی راضی نہیں۔ اور طلاقِ بائن کے اندر جان چھوٹتی ہے، طلاقِ رجعی کے اندر تو عورت کی جان نہیں چھوٹتی وہاں تو خاوند رجوع کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں طلاق بائن ہوگی: "لِمَا بَيَّنَّا" اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔
وَلِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِالنَّفْسِ۔
اور اس لیے کیونکہ یہ مال کا معاوضہ ہے نفس کے ساتھ۔ اگر ایک طرف سے عورت مال دے رہی ہے تو دوسری طرف اس کی جان چھوٹ رہی ہے، تو جب خاوند مال کا مالک بنے گا تو عورت اپنی جان کی مالک بن جائے گی، پھر ہی مساوات ہوگی کہ خاوند جب مال کا مالک بن رہا ہے تو عورت اپنی جان کی مالک بن جائے گی، یعنی پہلے اس کی جان کے اندر خاوند کا بھی حق تھا، خاوند بھی جب چاہے اس سے صحبت کر سکتا تھا، لیکن اب عورت کی ذات خالص اس کے اپنے لیے ہو گئی۔ تو جب خاوند عوض کا، مال کا مالک بنا ہے تو بیوی کی جان خالص اسی کی ہونی چاہیے تو تبھی مساوات ہوگی بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِالنَّفْسِ" اور اس لیے کیونکہ یہ مال کا معاوضہ ہے نفس کے ساتھ، "وَقَدْ مَلَكَ الزَّوْجُ أَحَدَ الْبَدَلَيْنِ" اور تحقیق خاوند مالک بن گیا ہے دو بدلوں میں سے ایک کا یعنی مال کا، "فَتَمْلِكُ هِيَ الْآخَرَ" تو عورت مالک بنے گی دوسرے بدل کی، "وَهُوَ النَّفْسُ" اور وہ اس کی ذات ہے، "تَحْقِيقًا لِلْمُسَاوَاةِ" مساوات ثابت کرنے کے لیے۔
قَالَ: وَإِنْ بَطَلَ الْعِوَضُ فِي الْخُلْعِ مِثْلُ أَنْ يُخَالِعَ الْمُسْلِمُ عَلَى خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ أَوْ مَيْتَةٍ فَلَا شَيْءَ لِلزَّوْجِ وَالْفُرْقَةُ بَائِنَةٌ، وَإِنْ بَطَلَ الْعِوَضُ فِي الطَّلَاقِ كَانَ رَجْعِيًّا۔
صورتِ مسئلہ یہ کہ عورت نے خاوند سے خلع کیا لیکن وہ عوض باطل ہے جو عوض ذکر کیا تھا، مثلاً شراب ذکر کی تھی یا خنزیر ذکر کیے تھے یا مردار ذکر کیا تھا، اب شراب اور خنزیر یہ تو غیر مسلموں کے نزدیک مال ہے لیکن مسلمانوں کے نزدیک تو یہ مالِ متقوم نہیں۔ مسلمان کے لیے خمر اور خنزیر کا نہ تملک جائز ہے نہ تملیک جائز ہے۔ تملک یعنی خود بھی مالک نہیں بن سکتا، اور تملیک یعنی دوسرے کو بھی مالک نہیں بنا سکتا بھئی۔ تو خمر اور خنزیر غیر مسلموں کے نزدیک مال ہے مسلمانوں کے نزدیک مال نہیں، جبکہ مردار یہ تو کسی کے نزدیک بھی مال نہیں ہے بھئی۔ تو اگر عورت نے خلع کے اندر عوض جو ذکر کیا وہ عوض باطل ہو یعنی شراب یا خنزیر یا مردار ہو، وہ عوض نہیں ہو سکتا، تو پھر خاوند کے لیے کہتے ہیں کچھ بھی نہیں ہوگا اور طلاقِ بائن ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: "قَالَ: وَإِنْ بَطَلَ الْعِوَضُ فِي الْخُلْعِ" اور اگر عوض باطل ہو جائے خلع کے اندر، "مِثْلُ أَنْ يُخَالِعَ الْمُسْلِمُ عَلَى خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ أَوْ مَيْتَةٍ" جیسے کہ ایک مسلمان جو ہے وہ خلع کر لے شراب پر یا خنزیر پر یا مردار پر، "فَلَا شَيْءَ لِلزَّوْجِ" تو خاوند کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا، "وَالْفُرْقَةُ بَائِنَةٌ" اور جدائی جو ہوگی وہ بائن ہوگی یعنی طلاقِ بائن واقع ہوگی۔
"وَإِنْ بَطَلَ الْعِوَضُ فِي الطَّلَاقِ كَانَ رَجْعِيًّا" اور اگر عوض باطل ہوا طلاق کے اندر تو وہ طلاق رجعی ہوگی۔
دیکھو فرق آ گیا خلع اور طلاق علی العوض میں۔ خلع کے اندر اگر عوض باطل ہوگا تو طلاقِ بائن ہوگی، فرقت بائنہ ہوگی اور بیوی پر کچھ مال بھی لازم نہیں ہوگا بھئی کیونکہ عوض تو باطل ہو گیا۔ جبکہ طلاق علی العوض کے اندر اگر عوض باطل ہو گیا، یعنی شراب یا خنزیر یا مردار کے عوض کے اندر طلاق دیتا ہے خاوند اور تو یہ عوض تو باطل ہے بھئی، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو کہ طلاقِ رجعی ہوگی، کیا ہوگی؟ طلاقِ رجعی۔ اب اس کی وجہ صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنْ بَطَلَ الْعِوَضُ فِي الطَّلَاقِ كَانَ رَجْعِيًّا" اور اگر عوض باطل ہوا طلاق کے اندر تو طلاق رجعی ہوگی۔
فَوُقُوعُ الطَّلَاقِ فِي الْوَجْهَيْنِ لِلتَّعْلِيقِ بِالْقَبُولِ۔
جی تو اب صاحبِ ہدایہ وجہ ذکر فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: "فَوُقُوعُ الطَّلَاقِ فِي الْوَجْهَيْنِ" تو طلاق کا واقع ہونا دونوں صورتوں میں، یعنی خلع کے اندر بھی اور طلاق علی العوض کے، دونوں کے اندر طلاق کا واقع ہونا، "لِلتَّعْلِيقِ بِالْقَبُولِ" قبول کے ساتھ تعلیق کرنے کی وجہ سے کہ خاوند نے معلق کیا تھا جدائی کو کس کے ساتھ؟ بیوی کے قبول کرنے پر۔ خلع میں بھی کیا کہتا ہے کہ میں تم سے خلع کرتا ہوں شراب کے عوض یا خنزیر کے عوض، تو دیکھو یہاں پر بھی تعلیق کر رہا ہے عورت کے قبول کرنے پر۔ عورت قبول کرے تو اس کے ذمے مال آ سکتا ہے، عورت قبول نہ کرے تو اس کے ذمے مال نہیں آ سکتا، تو گویا یہاں پر بھی خلع کو معلق کر رہا ہے بیوی کے قبول کرنے پر۔ اور طلاق علی العوض میں بھی اسی طرح ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اتنے مال کے بدلے میں، اور بیوی کیا کہتی ہے: مجھے قبول ہے۔ توجہ ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بیوی کا قبول کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ اس کے اوپر مال ویسے لازم نہیں ہو سکتا، آپ کسی پر مال بغیر اس کے قبول کیے لازم نہیں کر سکتے بھئی۔ کوئی شخص اپنے اوپر خود مال لازم کرے تو لازم ہوگا، ویسے اس کے اوپر مال لازم نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس لیے عورت کا قبول کرنا ضروری ہے۔ تو گویا وہ خلع یا طلاق کو معلق کر رہا ہے بیوی کے قبول کرنے پر، اور بیوی نے تو قبول کر لیا، جب بیوی نے قبول کر لیا تو خلع بھی آیا اور طلاق بھی آئی، البتہ وہ مال نہیں آئے گا کیونکہ وہ مال باطل ہے بھئی۔ تو خلع کے اندر البتہ طلاقِ بائن آئے گی اور طلاق علی العوض کے اندر طلاقِ رجعی آئے گی بھئی۔ تو وہ اب ساری تفصیل صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ طلاق دونوں صورتوں میں آئے گی، طلاق دونوں صورتوں میں آئے گی اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: "فَوُقُوعُ الطَّلَاقِ فِي الْوَجْهَيْنِ" کہ طلاق کا واقع ہونا دونوں صورتوں میں یعنی خلع اور طلاق علی العوض کے اندر، "لِلتَّعْلِيقِ بِالْقَبُولِ" قبول کے ساتھ تعلیق کی وجہ سے کہ خاوند نے خلع یا طلاق کو بیوی کے قبول کے ساتھ معلق کیا ہے۔
وَافْتِرَاقُهُمَا فِي الْحُكْمِ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا بَطَلَ الْعِوَضُ كَانَ الْعَامِلُ فِي الْأَوَّلِ لَفْظَ الْخُلْعِ وَهُوَ كِنَايَةٌ، وَفِي الثَّانِي الصَّرِيحُ وَهُوَ يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ۔
"وَافْتِرَاقُهُمَا فِي الْحُكْمِ" اور ان دونوں کا حکم میں مختلف ہونا، جدا ہونا، کہ خلع کے اندر طلاقِ بائن آ رہی ہے اور طلاق علی العوض کے اندر طلاقِ رجعی آ رہی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: "وَافْتِرَاقُهُمَا فِي الْحُكْمِ" اور حکم کے اندر ان دونوں کا مختلف ہونا، "لِأَنَّهُ لَمَّا بَطَلَ الْعِوَضُ" اس لیے کیونکہ جب عوض باطل ہو گیا، "كَانَ الْعَامِلُ فِي الْأَوَّلِ لَفْظَ الْخُلْعِ" تو وہ جو عمل کرنے والا ہے پہلی صورت میں وہ خلع کا لفظ ہے، "وَهُوَ كِنَايَةٌ" اور خلع کیا ہے؟ کنایہ ہے، اور کنایات کے ذریعے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ بائن، تو اس لیے بائن ہوئی۔ "وَفِي الثَّانِي الصَّرِيحُ" اور دوسری صورت کے اندر طلاق علی العوض کے اندر وہ لفظ کیا ہے؟ صریح ہے، "وَهُوَ يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ" اور لفظِ صریح اپنے پیچھے رجوع کو لاتا ہے۔
وَإِنَّمَا لَمْ يَجِبْ لِلزَّوْجِ شَيْءٌ عَلَيْهَا؛ لِأَنَّهَا مَا سَمَّتْ مَالًا مُتَقَوَّمًا حَتَّى تَصِيرَ غَارَّةً لَهُ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں صورتوں میں بیوی پر مال لازم نہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ اب وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا لَمْ يَجِبْ لِلزَّوْجِ شَيْءٌ عَلَيْهَا" اور خاوند کے لیے بیوی پر کوئی بھی چیز واجب نہیں ہوئی، "لِأَنَّهَا مَا سَمَّتْ مَالًا مُتَقَوَّمًا" اس لیے کیونکہ بیوی نے کوئی مالِ متقوم ذکر نہیں کیا۔ مالِ متقوم اسے کہتے ہیں وہ مال جس کی قیمت ہو۔ متقوم: قیمت والا۔ تو شراب اور خنزیر اور مردار یہ مالِ متقوم نہیں۔ مردار تو کسی کے نزدیک بھی مالِ متقوم نہیں، اور شراب اور خنزیر مسلمان کے نزدیک مالِ متقوم نہیں اور غیر مسلموں کے نزدیک مالِ متقوم ہے۔ تو یہاں عورت نے ایسی چیز ذکر کی ہے جو مالِ متقوم نہیں ہے۔ مالِ متقوم نہیں ہے لہٰذا اگر عورت نے مالِ متقوم ذکر کیا ہوتا تو پھر ہم کہتے کہ عورت کو عوض دینا پڑے گا اس نے دھوکہ دیا ہے، عورت نے دھوکہ دیا ہے لیکن اس نے تو مالِ متقوم ذکر ہی نہیں کیا اس نے تو شراب، خنزیر یا مردار ذکر کیے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّهَا مَا سَمَّتْ مَالًا مُتَقَوَّمًا" اس لیے کیونکہ اس عورت نے مالِ متقوم ذکر نہیں کیا، "حَتَّى تَصِيرَ غَارَّةً لَهُ" یہاں تک کہ عورت اس کو دھوکہ دینے والی ہو جاتی۔
غَرَّ يَغُرُّ غَرًّا وَغُرُورًا کا کیا معنی ہے؟ دھوکہ دینا۔ غَرَّ يَغُرُّ غَرًّا وَغُرُورًا، اور دھوکہ دینے والا: فَهُوَ غَارٌّ، اور جس کو دھوکہ دیا جائے وہ مغرور ہے۔ فَذَاكَ مَغْرُورٌ بھئی۔
تو کہتے ہیں: "لِأَنَّهَا مَا سَمَّتْ مَالًا مُتَقَوَّمًا" اس لیے کیونکہ عورت نے کوئی مالِ متقوم ذکر نہیں کیا، "حَتَّى تَصِيرَ غَارَّةً لَهُ" یہاں تک کہ وہ اس کو دھوکہ دینے والی ہو جاتی۔
وَلِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى إِيجَابِ الْمُسَمَّى لِلْإِسْلَامِ، وَلَا إِلَى إِيجَابِ غَيْرِهِ لِعَدَمِ الِالْتِزَامِ۔
"وَلِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى إِيجَابِ الْمُسَمَّى لِلْإِسْلَامِ" اور اس لیے کیونکہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ مسمیٰ کو واجب کیا جائے، وہ مسمیٰ یعنی جس کو اس نے ذکر کیا ہے اس کے واجب کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے، "لِلْإِسْلَامِ" اسلام کی وجہ سے، کیونکہ مسلمان کے لیے خمر اور خنزیر کا نہ تملک جائز نہ تملیک جائز۔ "وَلَا إِلَى إِيجَابِ غَيْرِهِ" اور ان کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہم واجب نہیں کر سکتے، "لِعَدَمِ الِالْتِزَامِ" کیونکہ باقی چیزوں کا تو عورت نے اپنے اوپر التزام نہیں کیا۔ اس نے تو صرف کس کا التزام کیا تھا؟ شراب، یا خنزیر، یا مردار کا، تو ہم کوئی اور چیز اس پر لازم کر دیں؟ نہیں بھئی، اس نے صرف کس کا التزام کیا تھا؟ شراب، خنزیر یا مردار کا، اور وہ تو باطل ہے اسلام کی وجہ سے، تو اور کوئی چیز ہم لازم نہیں کر سکتے کیونکہ باقی چیزوں کا اس نے التزام نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا إِلَى إِيجَابِ غَيْرِهِ" اور اس مسمیٰ کے علاوہ کسی اور کے واجب کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے، "لِعَدَمِ الِالْتِزَامِ" کیونکہ عورت نے اس کا التزام نہیں کیا۔
بِخِلَافِ مَا إِذَا خَالَعَ عَلَى خَلٍّ بِعَيْنِهِ فَظَهَرَ أَنَّهُ خَمْرٌ۔
ہاں، اس کے برعکس دوسری صورت ہے: بیوی نے خاوند سے کہا کہ یہ جو سرکے کا مٹکا بھرا ہوا ہے، اس کے عوض مجھ سے خلع کر لو، اس پر...
مجھ سے خلع کر لو، خاوند راضی ہو گیا۔ خاوند نے کہا: مجھے منظور ہے۔ جیسے ہی خاوند نے منظور ہے کہا، ساتھ ہی طلاق بائن آ گئی۔ طلاق بائن آ گئی، لیکن جب اس سرکے کو دیکھا گیا تو وہ سرکہ نہیں تھا، وہ تو شراب تھی بھئی۔ تو اب اس صورت میں کہتے ہیں عورت نے سرکہ ذکر کیا تھا، اور سرکہ ہے مال متقوم۔ تو لہٰذا عورت دھوکہ دینے والی ہو گئی۔ تو یہاں اس کو عوض دینا پڑے گا۔ یہاں اس کو عوض دینا پڑے گا، اور کتنا عوض دے گی؟ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کو اپنا مہر دینا پڑے گا واپس۔ جو خاوند سے اس نے مہر لیا تھا وہی واپس کر دے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اسی شراب کے برابر سرکہ دینا پڑے گا متوسط درجے کا۔ یعنی یہی مٹکا بھر کر سرکہ دینا پڑے گا متوسط درجے کا۔
”بِخِلَافِ مَا إِذَا خَالَعَ عَلَى خَلٍّ بِعَيْنِهِ“ بخلاف اس کے کہ جب خاوند نے خلع کر لیا کسی معین سرکے پر، ”فَظَهَرَ أَنَّهُ خَمْرٌ“ تو یہ بات ظاہر ہوئی کہ وہ شراب ہے، ”لِأَنَّهَا سَمَّتْ مَالًا“ اس لیے کیونکہ عورت نے مال ذکر کیا ہے، ”فَصَارَ مَغْرُورًا“ تو خاوند مغرور ہو گیا، یعنی دھوکہ دیا ہوا ہو گیا۔ مغرور اسم مفعول ہے جس کو دھوکہ دیا گیا ہو۔ ”فَصَارَ مَغْرُورًا“ تو خاوند دھوکہ دیا ہوا ہو گیا، ”وَبِخِلَافِ مَا إِذَا كَاتَبَ أَوْ أَعْتَقَ عَلَى خَمْرٍ“ اور بخلاف اس صورت کے کہ جب آقا نے مکاتب بنایا ”أَوْ أَعْتَقَ عَلَى خَمْرٍ“ یا آزاد کیا شراب کی شرط پر۔ بھئی دوسری صورت، آقا نے غلام کے ساتھ عقد کتابت کیا، عقد کتابت میں کیا ہوتا ہے؟ کہ اتنے عرصے میں اگر تم اتنا مال لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ تو آقا نے شراب ذکر کر دی یہاں پر، یا آقا نے غلام کو مکاتب نہیں بنایا آزاد کیا ہے شراب کی شرط پر، کہ اتنی شراب کے بدلے میں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔ تو اس صورت کے اندر یاد رکھو مکاتب اپنی قیمت کے برابر مال لا کر دے گا۔ کیونکہ شراب میں تو مسلمان کے لیے نہ تملک جائز ہے نہ تملیک، تو شراب تو نہیں دے سکتا لیکن عوض ضرور دینا پڑے گا۔ اور وہ پھر اپنی قیمت دے گا۔ تو قیمت کما کر لا کر دے دے جتنی قیمت ہے اس کی تو یہ آزاد ہو جائے گا۔ اور اگر غلام کو آزاد کیا کہ شراب کی شرط پر میں تمہیں آزاد کرتا ہوں اتنی شراب لے آؤ، تو یہاں بھی غلام کو اپنی قیمت دینا پڑے گی، بغیر قیمت کے آزاد نہیں۔
دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ مَا إِذَا كَاتَبَ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب آقا نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا ”أَوْ أَعْتَقَ عَلَى خَمْرٍ“ یا اس کو آزاد کیا شراب کی شرط پر، ”حَيْثُ تَجِبُ قِيمَةُ الْعَبْدِ“ کیونکہ غلام کی قیمت واجب ہو گی، یعنی یہ مسئلہ پہلے مسئلے کے برعکس ہے۔ اوپر والے مسئلے میں خلع اور طلاق علی العوض کے اندر جب عوض باطل ہو گیا تھا تو عورت پر اس کے بدلے میں کوئی اور چیز ہم نے لازم نہیں کی، اور یہاں پر مکاتب اور اعتاق کے اندر اگر عوض باطل ہو جائے تو یہاں اس کے بدلے میں کوئی نہ کوئی چیز آئے گی بھئی۔ بغیر عوض کے کتابت بھی نہیں ہو گی اور بغیر عوض کے اعتاق بھی نہیں۔ تو دونوں میں فرق کی وجہ کیا ہے؟ خلع اور طلاق علی العوض، وہاں آپ کہتے ہیں عوض باطل ہو جائے تو کوئی اور چیز عوض میں نہیں آئے گی، اور اعتاق یا کتابت کے اندر اگر عوض باطل ہو جائے تو وہاں آپ کہتے ہیں اس غلام کی پھر قیمت آئے گی، عوض سے وہ خالی نہیں ہو گا۔ تو جواب یہ کہ دراصل وہ جو خلع کے اندر خاوند کی ملکیت ختم ہو رہی تھی، خلع کے اندر خاوند کی ملکیت ختم ہو رہی تھی، اور ملک نکاح جو ہے وہ مال متقوم نہیں ہے۔ تو جو چیز ختم ہو رہی ہے وہ مال متقوم ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کے بدلے میں عوض کا آنا ضروری نہیں ہے، عوض باطل ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، یہ مال متقوم بھی نہیں تھا بھئی۔ یہ ملک نکاح کوئی مال متقوم نہیں، لہٰذا یہاں عوض نہیں آئے گا۔ جبکہ دوسری طرف وہاں پر جو غلام کو مکاتب بنا رہا ہے یا اس کو آزاد کر رہا ہے اور عوض باطل ہو رہا ہے، وہاں جو چیز آقا کے ہاتھ سے نکل رہی ہے وہ مال متقوم ہے، وہ غلام آقا کے ہاتھ سے نکل رہا ہے، تو مال متقوم اس کے اندر تو آقا مفت میں ہاتھ سے نکلنے پر راضی نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ ملک نکاح وہ تو مال متقوم نہیں ہے، اگر وہ بغیر عوض کے بھی نکلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ دیکھیے صاحب ہدایہ اور بہتر الفاظ میں خوب وضاحت کے ساتھ ذکر فرمائیں گے۔
کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مِلْكَ الْمَوْلَى فِيهِ مُتَقَوَّمٌ“ اس لیے کیونکہ آقا کی ملکیت جو اس غلام کے اندر تھی ”مُتَقَوَّمٌ“ وہ قیمت والی ہے، غلام کیا ہے؟ مال متقوم ہے، ”وَمَا رَضِيَ بِزَوَالِهِ مَجَّانًا“ اور آقا راضی نہیں ہے اس کے زائل ہونے پر ”مَجَّانًا“ مفت میں۔ آقا اس ملک متقوم کے مفت زائل ہونے پر راضی نہیں ہے، جبکہ وہاں پر وہ ملک نکاح وہ ملک متقوم نہیں ہے بھئی، تو اگر عوض نہ بھی آیا کوئی حرج نہیں، وہ تو قیمت والی چیز ہی نہیں ہے۔
آگے دیکھیے: ”أَمَّا مِلْكُ الْبُضْعِ فِي حَالَةِ الْخُرُوجِ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ، وَبِخِلَافِ النِّكَاحِ لِأَنَّ الْبُضْعَ فِي حَالَةِ الدُّخُولِ مُتَقَوَّمٌ“ ”أَمَّا مِلْكُ الْبُضْعِ“ میں نے آپ کو بتلایا تھا بضع یہ عورت کی شرمگاہ کو کہتے ہیں، تو کہتے ہیں ”أَمَّا مِلْكُ الْبُضْعِ“ باقی بضع کا مالک ہونا، بضع کا یعنی اس کے منافع کا مالک ہونا کہ وہ خاوند کے لیے حلال ہو جائے، تو کہتے ہیں ”أَمَّا مِلْكُ الْبُضْعِ“ باقی ملک بضع ”فِي حَالَةِ الْخُرُوجِ“ خروج کی حالت میں ”غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ“ وہ قیمت والی نہیں ہے ”عَلَى مَا نَذْكُرُهُ“ اس وجہ سے جو ہم ذکر کریں گے، آگے چند لفظوں کے بعد ہی صاحب ہدایہ ذکر فرمائیں گے، اسی سطر میں اگلی سطر میں۔ کہتے ہیں ”أَمَّا مِلْكُ الْبُضْعِ فِي حَالَةِ الْخُرُوجِ“ دیکھو کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کو ملک بضع حاصل ہوتی ہے، یعنی وہ اس عورت سے نفع اٹھا سکتا ہے، جب چاہے اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے۔ تو یہ جو ملک بضع ہے یہ جب ملکیت میں داخل ہو گی تو اس وقت یہ متقوم ہے۔ جب ملک بضع ملکیت میں آئے گی تو یہ متقوم ہے، کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ﴾ محرمات کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں ﴿أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ﴾ ان کو تم اپنے مالوں کے ذریعے تلاش کرو۔ معلوم ہوا نکاح کے اندر مال ضرور آئے گا، معلوم ہوا ملک بضع دخول کے وقت، یعنی اپنی ملکیت میں داخل ہوتے وقت یہ متقوم ہے، اور ملک بضع خروج کے وقت متقوم نہیں۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو کیا بیوی کو مال دینا پڑتا ہے ہمیشہ؟ نہیں، بیوی کو مال نہیں دینا پڑتا بھئی۔ تو اب وہ دیکھو ملک بضع کیا ہے؟ ملکیت سے نکل رہا ہے۔ تو ملک بضع ملکیت میں داخل ہو تو وہ متقوم ہے، وہاں مہر دینا پڑے گا، مال خرچ کرنا پڑے گا، بغیر مہر کے نکاح نہیں ہو سکتا بھئی۔ اور ملک بضع خروج کے وقت جو ہے وہ متقوم نہیں ہے، جب وہ ملکیت سے نکل رہا ہو تو اس کی کوئی قیمت نہیں ہے، وہاں مال نہیں دیا جاتا عام طور پر، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا مِلْكُ الْبُضْعِ فِي حَالَةِ الْخُرُوجِ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ“ اور باقی ملک بضع جو ہے وہ خروج کی حالت میں قیمت والی چیز نہیں ہے، ”عَلَى مَا نَذْكُرُهُ“ اس وجہ سے جو ہم ذکر کریں گے۔ میں نے بتایا آپ کو کہ یہ ”عَلَى“ علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، تو ”عَلَى مَا نَذْكُرُهُ“ اس وجہ سے جو ہم ذکر کریں گے۔ ”وَبِخِلَافِ النِّكَاحِ“ اور بخلاف نکاح کے ”لِأَنَّ الْبُضْعَ فِي حَالَةِ الدُّخُولِ مُتَقَوَّمٌ“ اس لیے کیونکہ بضع جو ہے وہ ملکیت کے اندر داخل ہونے کی حالت میں ”مُتَقَوَّمٌ“ قیمت والا ہے۔
”وَالْفِقْهُ أَنَّهُ شَرِيفٌ فَلَمْ يُشْرَعْ تَمَلُّكُهُ إِلَّا بِعِوَضٍ إِظْهَارًا لِشَرَفِهِ“ جی، اب وہ وجہ ذکر کرنے لگے ہیں صاحب ہدایہ کہ بضع دخول کے وقت یعنی ملکیت میں داخل ہوتے وقت متقوم کیوں ہوتا ہے اور بضع ملکیت سے نکلتے وقت متقوم کیوں نہیں ہوتا، تو اب وہ وجہ بیان کرنے لگے ہیں۔ ”وَالْفِقْهُ“ فقہ کہتے ہیں فہم و فراست کو، یعنی اس میں فہم و فراست والی گہری بات یہ ہے، اب آگے بیان کریں گے: ”وَالْفِقْهُ أَنَّهُ شَرِيفٌ“ اور اس میں فہم و فراست والی گہری بات یہ ہے ”أَنَّهُ شَرِيفٌ“ کہ بضع ایک معزز چیز ہے۔ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات قرار دیا ہے، انسان معزز ہے بھئی، اللہ نے اس کو معزز بنایا ہے، جب انسان معزز ہے تو ہر انسانی عضو معزز ہوا، اور بضع بھی ایک انسانی عضو ہے لہٰذا وہ بھی معزز ہے، اور معزز چیز کا مالک بغیر عوض کے کوئی نہیں ہو سکتا۔ شریعت نے بتلا دیا ﴿أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ﴾ کہ تمہیں مال خرچ کرنا پڑے گا، تم اس کے منافع کے مالک بننا چاہتے ہو؟ نہیں بھئی، تم مفت میں اس کے مالک نہیں بن سکتے، یہ معزز چیز ہے، تمہیں مال خرچ کرنا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا بضع ملکیت میں جب داخل ہو تو وہ متقوم ہے، وہ متقوم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْفِقْهُ أَنَّهُ شَرِيفٌ“ اور اس میں فہم و فراست والی بات یہ ہے کہ یہ بضع جو ہے یہ معزز ہے، ”فَلَمْ يُشْرَعْ تَمَلُّكُهُ إِلَّا بِعِوَضٍ“ لہٰذا مشروع نہیں ہو گا یعنی جائز نہیں ہو گا ”تَمَلُّكُهُ“ اس کا مالک بننا ”إِلَّا بِعِوَضٍ“ مگر عوض کے ساتھ، ”إِظْهَارًا لِشَرَفِهِ“ اس کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے۔ کہ یہ معزز چیز ہے تم ویسے اس کے مالک نہیں بن سکتے، یعنی ویسے یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے، تمہیں مال خرچ کرنا پڑے گا، تو ”إِظْهَارًا لِشَرَفِهِ“ اس کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے۔
”فَأَمَّا الْإِسْقَاطُ فَنَفْسُهُ شَرِيفٌ“ اور باقی ملکیت کا ساقط کرنا ”فَنَفْسُهُ شَرِيفٌ“ تو خود اس کی ذات ہی معزز ہے۔ بھئی جب بضع ملکیت سے نکل رہا ہے تو اس وقت وہ متقوم نہیں، بھئی کیوں نہیں متقوم؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اپنی ملکیت کا ختم کرنا یہ خود ہی ایک معزز فعل ہے۔ اپنی ملکیت کو کسی چیز سے ختم کرنا یہ خود ہی ایک معزز فعل ہے، اس فعل کی وجہ سے بضع پر ملکیت ختم ہو جائے گی، بضع کا شرف پھر ظاہر ہو جائے گا، بضع کا شرف ظاہر ہو گا کہ اس کا کوئی مالک نہیں ہے، تو لہٰذا یہاں اسقاطِ ملکیت ہے اور اسقاطِ ملکیت خود ہی معزز فعل ہے، جب یہ خود معزز فعل ہے تو یہاں کوئی عوض لانے کی ضرورت نہیں کہ جس سے پتہ چلے یہ معزز فعل ہے، یہ تو خود ہی معزز ہے تو عوض لا کر اس کے اعزاز کو ظاہر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ اس کی وجہ سے بضع جو ہے وہ مملوکیت سے چھٹکارا پا لے گا۔ وہ بضع جب ملکیت سے نکلے گا اب وہ خاوند کا مملوک نہیں، تو دیکھو یہ خود ایک معزز عمل ہے، ملکیت کو ختم کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَمَّا الْإِسْقَاطُ فَنَفْسُهُ شَرِيفٌ“ اور باقی ملکیت کا ساقط کرنا تو وہ خود اپنی ذات کے اعتبار سے معزز عمل ہے، ”فَلَا حَاجَةَ إِلَى إِيجَابِ الْمَالِ“ تو لہٰذا کوئی حاجت نہیں ہے مال کو واجب کرنے کی۔
”قَالَ: وَمَا جَازَ أَنْ يَكُونَ مَهْرًا جَازَ أَنْ يَكُونَ بَدَلًا فِي الْخُلْعِ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا جَازَ أَنْ يَكُونَ مَهْرًا“ اور جس چیز کا مہر ہونا جائز ہے ”جَازَ أَنْ يَكُونَ بَدَلًا فِي الْخُلْعِ“ تو اس کا خلع میں بدل ہونا بھی جائز ہے۔ جو بھی چیز ہمارے نزدیک مہر بن سکتی ہے وہ خلع کے اندر بدل بھی بن سکتی ہے، لیکن اس کا برعکس نہیں ہے کہ جو بھی چیز خلع کے اندر بدل بنے وہ مہر بنے ایسا نہیں ہے۔ مثلاً خلع پانچ درہم پر بھی ہو سکتا ہے لیکن مہر تو دس درہم سے کم نہیں ہو سکتا۔ تو جو مہر بنے وہ خلع میں بدل بن سکتا ہے لیکن جو خلع میں بدل بنے اس کا مہر بننا ضروری نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا يَصْلُحُ عِوَضًا لِلْمُتَقَوَّمِ أَوْلَى أَنْ يَصْلُحَ لِغَيْرِ الْمُتَقَوَّمِ“ جی، صاحب ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں، انسان حیران رہتا ہے بھئی، کتنے مختصر لفظوں میں کتنی گہری باتیں وہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ بھئی دیکھو، مہر کے وقت بضع ملکیت میں داخل ہو گا اور خلع کے وقت بضع ملکیت سے نکلے گا۔ اور بضع جب ملکیت میں داخل ہو تو وہ متقوم ہوتا ہے، وہ متقوم ہوتا ہے، معلوم ہوا مہر عوض بن رہا ہے، کس چیز کا؟ متقوم چیز کا عوض بن رہا ہے۔ مہر کس کا عوض بن رہا ہے؟ متقوم چیز کا عوض بن رہا ہے، اور خلع کے اندر بضع ملکیت سے نکل رہا ہے اور بضع کا ملکیت سے نکلنا تو متقوم نہیں ہے، تو وہ جو مہر جو عوض بنا تھا متقوم کا، وہ خلع کے اندر غیر متقوم کا عوض بطریق اولیٰ بنے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا يَصْلُحُ عِوَضًا لِلْمُتَقَوَّمِ“ اس لیے کیونکہ وہ مال جو صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ متقوم کا عوض بن جائے ”أَوْلَى أَنْ يَصْلُحَ لِغَيْرِ الْمُتَقَوَّمِ“ وہ زیادہ لائق ہے کہ وہ صلاحیت رکھے کہ عوض بن جائے غیر متقوم کے لیے۔
”فَإِنْ قَالَتْ لَهُ خَالِعْنِي“ صورت مسئلہ یہ ہے: بیوی نے یوں اپنی بند مٹھی آگے کی اور خاوند سے کہا کہ جو کچھ میرے ہاتھ میں ہے اس پر مجھ سے خلع کر لو، خاوند کہتا ہے میں راضی ہوں، ساتھ ہی طلاق بائن ہو گئی۔ اب عورت نے مٹھی کھولی تو مٹھی میں کچھ بھی نہیں تھا، مٹھی میں کچھ بھی نہیں تھا، تو کہتے ہیں اس صورت میں یاد رکھو عورت کو طلاق بائن ہو گئی، وہ جدا ہو گئی، اور نیز عورت پر کوئی مال بھی لازم نہیں۔ بھئی مال کیسے نہیں لازم؟ عورت نے مٹھی آگے کی تھی تو اس پر مال ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں نہیں، عورت نے کوئی مال کا لفظ ذکر کیا؟ اس نے تو کہا تھا جو مٹھی میں ہے اس کے عوض۔ عورت نے اگر مال ذکر کیا ہوتا پھر دھوکہ تھا، جب مال ذکر نہیں کیا تو دھوکہ نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ بچہ بھی جانتا ہے کہ ہو سکتا ہے مٹھی میں کوئی چیز ہو، ہو سکتا ہے کوئی چیز نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ قَالَتْ لَهُ“ اگر بیوی نے خاوند سے کہا ”خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي“ کہ تو مجھ سے خلع کر لے اس چیز پر جو میرے ہاتھ میں ہے، ”فَخَالَعَهَا“ تو خاوند نے اس سے خلع کر لیا، ”وَلَمْ يَكُنْ فِي يَدِهَا شَيْءٌ“ اور اس عورت کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا، ”فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا“ تو کوئی چیز اس عورت پر لازم نہیں اور طلاق بھی واقع ہو جائے گی، ”لِأَنَّهَا لَمْ تَغُرَّهُ بِتَسْمِيَةِ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ عورت نے خاوند کو دھوکہ نہیں دیا ”بِتَسْمِيَةِ الْمَالِ“ مال ذکر کر کے۔
”وَإِنْ قَالَتْ“ اور اگر بیوی نے کہا ”خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي مِنْ مَالٍ“ اب دوسری صورت، عورت نے بند مٹھی آگے کی اور کہا کہ میرے ہاتھ میں جو مال ہے اس کے عوض مجھ سے خلع کر لو، اب دیکھو اس نے باقاعدہ مال کا لفظ ذکر کیا ہے، تو ہاں اس صورت میں اس نے مال کا لفظ ذکر کیا ہے اور مٹھی میں تو کچھ بھی نہیں ہے، معلوم ہوا اس نے دھوکہ دیا ہے تو اب اس صورت میں مال آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَتْ“ اور اگر بیوی نے کہا ”خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي مِنْ مَالٍ“ کہ تو مجھ سے خلع کر لے اس مال پر جو میرے ہاتھ میں ہے، ”فَخَالَعَهَا“ خاوند نے اس سے خلع کر لیا، ”فَلَمْ يَكُنْ فِي يَدِهَا شَيْءٌ“ تو اس عورت کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں تھی، ”رَدَّتْ عَلَيْهِ مَهْرَهَا“ تو عورت اپنا مہر اب اس کو واپس کرے گی۔ عورت پر عوض تو ضرور آئے گا، اب کیا عوض آئے گا؟ کہتے ہیں یہاں اور کوئی چیز لازم نہیں کی جا سکتی، پس یہی کہیں گے پھر کہ جو خاوند نے مال اس کو دیا تھا وہی مال کیا کر دے؟ واپس کر دے۔ تو کہتے ہیں: ”رَدَّتْ عَلَيْهِ مَهْرَهَا“ تو عورت لوٹا دے گی خاوند پر اپنے مہر کو، ”لِأَنَّهَا لَمَّا سَمَّتْ مَالًا لَمْ يَكُنِ الزَّوْجُ رَاضِيًا بِالزَّوَالِ إِلَّا بِعِوَضٍ“ ”لِأَنَّهَا لَمَّا سَمَّتْ مَالًا“ اس لیے کیونکہ عورت نے جب مال ذکر کر دیا ”لَمْ يَكُنِ الزَّوْجُ رَاضِيًا بِالزَّوَالِ إِلَّا بِعِوَضٍ“ تو خاوند راضی نہیں ہے زوال پر مگر عوض کے ساتھ، ”لَمْ يَكُنِ الزَّوْجُ رَاضِيًا بِالزَّوَالِ إِلَّا بِعِوَضٍ“ تو خاوند جو ہے اس ملکیت کے زوال پر راضی نہیں ہے مگر عوض کے ساتھ، ”وَلَا وَجْهَ إِلَى إِيجَابِ الْمُسَمَّى وَقِيمَتِهِ لِلْجَهَالَةِ“ اور کوئی صورت نہیں ہے مسمیٰ کے واجب کرنے کی یا اس کے قیمت کے واجب کرنے کی ”لِلْجَهَالَةِ“ مجہول ہونے کی وجہ سے۔ وہ چیز جو اس نے ذکر کی ہے اس کے واجب کرنے کی صورت نہیں ہے، کیونکہ اس نے تو مال کہا تھا، میرے ہاتھ میں جو مال ہے، اور وہ مال تو مجہول ہے بھئی، اور جب مال مجہول ہے تو اس کی قیمت بھی کیا ہو گئی؟ مجہول ہو گئی، لہٰذا وہ تو ہم واجب کر نہیں سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا وَجْهَ إِلَى إِيجَابِ الْمُسَمَّى وَقِيمَتِهِ لِلْجَهَالَةِ“ اور کوئی صورت نہیں ہے اس مسمیٰ یعنی وہ جس چیز کو ذکر کیا تھا اور اس کی قیمت کے واجب کرنے کی ”لِلْجَهَالَةِ“ مجہول ہونے کی وجہ سے، ”وَلَا إِلَى قِيمَةِ الْبُضْعِ أَعْنِي مَهْرَ الْمِثْلِ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ حَالَةَ الْخُرُوجِ“ دیکھیے بھئی، صاحب ہدایہ کی عبارات انسان حیران رہتا ہے بھئی، کہتے ہیں وہ جو عورت نے ذکر کیا ہے وہ بھی ہم واجب نہیں کر سکتے، اور بضع کی جو قیمت ہے، بضع کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ مہر مثل، اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے، تو مہر مثل کو بھی ہم واجب نہیں کر سکتے۔ بھئی کیوں نہیں واجب کر سکتے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس وقت بضع ملکیت سے نکل رہا ہے اور ملکیت سے نکلتے وقت بضع کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، ملکیت میں داخل ہوتے وقت تو قیمت ہوتی ہے خارج ہوتے وقت قیمت نہیں۔ لہٰذا ہم وہ بضع کی قیمت یعنی مہر مثل بھی واجب نہیں کر سکتے۔ تو جب اس کی بھی کوئی صورت نہیں ہے تو پھر مجبورا وہی مال واجب کریں گے جو خاوند نے اس کو دیا تھا، یعنی وہی مال واپس کر دو خاوند کو۔ یعنی جتنے میں خاوند کو پڑی تھی وہی عورت پر واجب کر دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا إِلَى قِيمَةِ الْبُضْعِ“ اور بضع کی قیمت واجب کرنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے ”أَعْنِي مَهْرَ الْمِثْلِ“ یعنی مہر مثل کو ”لِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ حَالَةَ الْخُرُوجِ“ اس لیے کیونکہ بضع قیمت والا نہیں ہوتا خروج کی حالت میں، ”فَتَعَيَّنَ إِيجَابُ مَا قَامَ بِهِ عَلَى الزَّوْجِ“ تو متعین ہو گیا واجب کرنا ”مَا قَامَ بِهِ عَلَى الزَّوْجِ“ جتنے میں یہ خاوند کو پڑی تھی، جتنے مال کے اندر یہ خاوند کو پڑی تھی، یعنی جو خاوند نے مہر دیا تھا، ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهُ“ خاوند سے نقصان کو دور کرنے کے لیے تاکہ اس کا نقصان ختم ہو جائے، کیونکہ وہ بغیر عوض کے ملکیت ختم کرنے پر راضی نہیں ہے بھئی۔
”وَلَوْ قَالَتْ خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي مِنْ دَرَاهِمَ أَوْ مِنَ الدَّرَاهِمِ“ صورت مسئلہ یہ ہے: اب عورت نے اسی طرح بند مٹھی آگے کی اور خاوند سے کہا کہ ”خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي مِنْ دَرَاهِمَ“ کہ تو مجھ سے خلع کر لے وہ جو میرے ہاتھ میں ہے ”مِنْ دَرَاهِمَ“ یعنی کہ درہم، ”مِنْ دَرَاهِمَ“ چاہے بغیر الف لام کے ساتھ ذکر کرے یا الف لام کے ساتھ ذکر کرے ”مِنَ الدَّرَاهِمِ“ دونوں کا ایک ہی حکم ہے، کہ تو مجھ سے خلع کر لے وہ جو میرے ہاتھ میں ہے ”مِنْ دَرَاهِمَ“ یعنی کہ درہم، جو درہم میرے ہاتھ میں ہیں، بس یوں آسان لفظوں میں یوں کہو: جو درہم میرے ہاتھ میں ہیں ان پر مجھ سے خلع کر لو، دراہم ذکر کر دیے چاہے الف لام کے ساتھ ذکر کرے چاہے بغیر الف لام کے۔ اور پھر جب اس نے مٹھی کھولی تو ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا تو کہتے ہیں پھر اس صورت میں اس نے دراہم ذکر کیے ہیں اور دراہم جمع کا صیغہ ہے اور جمع کا اطلاق کم از کم تین افراد پر ہوتا ہے، تو لہٰذا تین درہم واجب ہو جائیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَتْ خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي مِنْ دَرَاهِمَ“ اور اگر عورت نے کہا کہ مجھ سے خلع کر لو ”عَلَى مَا فِي يَدِي“ اس چیز پر جو میرے ہاتھ میں ہے ”مِنْ دَرَاهِمَ“ یعنی کہ درہم، یہ دیکھو بغیر الف لام کے کہا، ”أَوْ مِنَ الدَّرَاهِمِ“ یہ الف لام کے ساتھ کہا، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، ”فَفَعَلَ“ خاوند نے کر دیا، یعنی اس نے کہا مجھے منظور ہے، ”فَلَمْ يَكُنْ فِي يَدِهَا شَيْءٌ“ تو لہٰذا ”فَلَمْ يَكُنْ فِي يَدِهَا شَيْءٌ“ تو عورت کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا، ”فَعَلَيْهَا ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ“ تو اس عورت پر تین درہم لازم ہوں گے، ”لِأَنَّهَا سَمَّتِ الْجَمْعَ“ اس لیے کیونکہ عورت نے جمع کو ذکر کیا، دراہم کیا ہے؟ جمع کا لفظ ہے، تو عورت نے جمع کو ذکر کیا ”وَأَقَلُّهُ ثَلَاثَةٌ“ اور جمع کی کم سے کم مقدار جو ہے وہ تین ہے، ”وَكَلِمَةُ مِنْ هَهُنَا لِلصِّلَةِ دُونَ التَّبْعِيضِ“ بھئی یاد رکھو، یہاں جو ”مِنْ“ آیا ”خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي مِنْ دَرَاهِمَ“ یہ جو ”مِنْ“ ہے، یہ بات پہلے بھی گزر چکی کہ یہ ”مِنْ“ تبعیض کے لیے آتا ہے اور اسی طرح یہ ”مِنْ“ کبھی بیان کے لیے آتا ہے۔ اور دونوں میں فرق یہ بیان فرماتے ہیں کہ ”مِنْ“ کو بیان کے لیے بنائیں گے اگر اس ”مِنْ“ کو ہٹانے سے کلام خراب ہو جائے، اگر ”مِنْ“ کو عبارت سے نکال دیں اور کلام خراب ہو جائے تو سمجھ جائیں یہ ”مِنْ“ بیان والا ہے۔ اور اگر ”مِنْ“ کو ہٹانے کے باوجود کلام درست رہے تو معلوم ہوا یہ ”مِنْ“ تبعیض والا ہے۔ جیسے دیکھو: ”أَخَذْتُ مِنَ الدَّرَاهِمِ“ میں نے درہموں میں سے کچھ لے لیے، میں نے درہموں میں سے کچھ لے لیے ”أَخَذْتُ مِنَ الدَّرَاهِمِ“، ذرا ”مِنْ“ کو ہٹا دو: ”أَخَذْتُ الدَّرَاهِمَ“ اب بھی کلام ٹھیک ہے، میں نے وہ درہم لے لیے۔ تو معلوم ہوا جب ”مِنْ“ کا ہٹانا صحیح ہو تو معلوم ہوا وہ ”مِنْ“ تبعیض والا ہے، اور یاد رکھو علمائے نحو فرماتے ہیں کہ وہ ”مِنْ“ جو تبعیض کے لیے آتا ہے وہ اسم ہوتا ہے، وہ اسم ہوتا ہے، اور ”مِنْ“ تو جر دیتا ہے لیکن یہ تو اسم ہے تو یہ مضاف بنے گا اور اگلا لفظ کیا بنے گا؟ مضاف الیہ بھئی۔ تو جب یہ اسم ہے تو یہ مبتدا بھی بن سکتا ہے بھئی۔ تو اگر ”مِنْ“ کو ہٹایا جائے اور عبارت میں کوئی خلل واقع نہ ہو تو معلوم ہوا یہ من تبعیضیہ ہے، اور اگر ”مِنْ“ کے ہٹانے سے عبارت خراب ہو تو معلوم ہوا یہ ”مِنْ“ بیان کے لیے ہے۔ اور یہاں پر بھی ایسا ہے: ”خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي مِنْ دَرَاهِمَ“ ذرا ”مِنْ“ کو ہٹا دیں: ”خَالِعْنِي عَلَى مَا فِي يَدِي دَرَاهِمَ“ کلام ہی خراب ہو گیا سارا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَلِمَةُ مِنْ هَهُنَا لِلصِّلَةِ دُونَ التَّبْعِيضِ“ صلہ ص کے ساتھ، یہاں صلہ سے مراد ہے بیان بھئی۔ جس کو علمائے نحو کیا فرماتے ہیں؟ بیان کہتے ہیں کہ ”مِنْ“ بیان کے لیے آتا ہے، اسی کو صاحب ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ صلہ فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَكَلِمَةُ مِنْ هَهُنَا لِلصِّلَةِ دُونَ التَّبْعِيضِ“ اور کلمۂ ”مِنْ“ یہاں پر بیان کے لیے ہے نہ کہ تبعیض کے لیے، ”لِأَنَّ الْكَلَامَ يَخْتَلُّ بِدُونِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے بغیر کلام جو ہے وہ مختل ہو جاتا ہے، اس کلام کے اندر خلل آ جاتا ہے، کلام خراب ہو جاتا ہے اگر اس ”مِنْ“ کو آپ ہٹا دیں۔
”وَإِنِ اخْتَلَعَتْ عَلَى عَبْدٍ لَهَا آبِقٍ عَلَى أَنَّهَا بَرِيئَةٌ مِنْ ضَمَانِهِ“ صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک عورت ہے اس کا غلام بھاگ گیا ہے، وہ اب اپنے خاوند سے خلع کرتی ہے اور کہتی ہے کہ خلع کے اندر میں تمہیں وہ والا غلام دوں گی، اگر وہ غلام مجھے مل گیا تو وہ تمہارا ہو گا اور اگر وہ نہ ملا مجھے تو پھر میں ضمان سے بری ہوں، میرے اوپر ضمان نہیں آئے گا، خاوند کہتا ہے مجھے منظور ہے۔ تو کہتے ہیں یاد رکھو اس صورت میں خلع ہو گیا لیکن عورت ضمان سے بری نہیں ہو گی، اگر غلام مل گیا تو وہی غلام دینا پڑے گا اور اگر غلام نہیں ملتا تو پھر اس کی قیمت دینا پڑے گی بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ عقد معاوضہ ہے، یہ خلع کیا ہے؟ عقد معاوضہ ہے اور عقد معاوضہ کے اندر ضمان سے بری ہونے کی شرط نہیں لگائی جا سکتی۔ تو یہ خلع یہ عقد معاوضہ ہے بھئی اور عقد معاوضہ کے اندر ضمان سے بری ہونے کی شرط لگانا صحیح نہیں، یہ شرط باطل ہے بھئی، ضمان آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اخْتَلَعَتْ عَلَى عَبْدٍ لَهَا آبِقٍ“ اور اگر خلع کیا عورت نے ”عَلَى عَبْدٍ“ ایسے غلام پر ”لَهَا“ جو اس عورت کا ہے ”آبِقٍ“ بھاگا ہوا ہے۔ عبد موصوف ہے، ”لَهَا“ صفت اول ہے، یاد رکھو نکرہ کے بعد جار مجرور آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے، اور براہ راست صفت نہیں بنے گا بلکہ متعلق پہلے نکالیں گے: ”عَبْدٍ ثَابِتٍ لَهَا“ ایسا غلام جو اس عورت کے لیے ثابت ہے یعنی جو اس عورت کا ہے، ”آبِقٍ“ جو بھاگا ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اخْتَلَعَتْ عَلَى عَبْدٍ لَهَا آبِقٍ“ اور اگر عورت نے خلع کر لیا اپنے ایسے غلام پر جو بھاگا ہوا ہے ”عَلَى أَنَّهَا بَرِيئَةٌ مِنْ ضَمَانِهِ“ اس شرط پر کہ یہ عورت اس کے ضمان سے بری ہے، ”لَمْ تَبْرَأْ“ تو یہ بری نہیں ہو گی، ”وَعَلَيْهَا تَسْلِيمُ عَيْنِهِ إِنْ قَدَرَتْ“ اور اس عورت پر عین اسی غلام کو سپرد کرنا ہو گا ”إِنْ قَدَرَتْ“ اگر وہ اس پر قادر ہوئی، ”وَتَسْلِيمُ قِيمَتِهِ إِنْ عَجَزَتْ“ اور اس کی قیمت کا سپرد کرنا ہو گا ”إِنْ عَجَزَتْ“ اگر غلام دینے سے یہ عاجز آ گئی، ”لِأَنَّهُ عَقْدُ الْمُعَاوَضَةِ“ اس لیے کیونکہ خلع جو ہے وہ عقد معاوضہ ہے ”فَيَقْتَضِي سَلَامَةَ الْعِوَضِ“ تو یہ تقاضا کرتا ہے عوض کی سلامتی کا کہ عوض سلامت رہے، دوسرے کو پورا عوض دیا جائے، ”وَاشْتِرَاطُ الْبَرَاءَةِ عَنْهُ شَرْطٌ فَاسِدٌ“ اور عوض سے بری ہونے کی شرط جو ہے یہ شرط فاسد ہے ”فَيَبْطُلُ“ تو یہ شرط باطل ہو گی، ”إِلَّا أَنَّ الْخُلْعَ لَا يَبْطُلُ بِالشُّرُوطِ الْفَاسِدَةِ“ مگر یہ کہ خلع جو ہے وہ شروط فاسدہ سے باطل نہیں ہوتا، ”وَعَلَى هَذَا النِّكَاحُ“ اور اسی پر نکاح بھی ہے یعنی وہ بھی شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا، بیع اور اجارہ وغیرہ شروط فاسدہ سے فاسد ہو جاتے ہیں لیکن خلع اور نکاح شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتے۔
آگے دیکھیے: ”وَإِذَا قَالَتْ: طَلِّقْنِي ثَلَاثًا بِأَلْفٍ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً فَعَلَيْهَا ثُلُثُ الْأَلْفِ“ بھئی صورت مسئلہ یہ کہ بیوی نے خاوند سے کہا: ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“ کہ تو مجھے تین طلاقیں دے دے ”بِأَلْفٍ“ ہزار کے بدلے۔ ہزار کے بدلے، یاد رکھو یہ جو ”بَا“ ہے یہ عوض پر داخل ہوتی ہے، عوض پر۔ بیع بھی آپ کرتے ہیں: ”اشْتَرَيْتُ الْكِتَابَ بِمِائَةِ رُوبِيَّةٍ“ میں نے وہ کتاب خریدی سو روپے کے بدلے میں، تو دیکھو یہ با کس پر داخل ہوتی ہے؟ ثمن پر، تو یہ عوض پر داخل ہوتی ہے بھئی۔ تو بیوی نے با کا لفظ استعمال کیا: ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“ کہ تو مجھے تین طلاقیں دے دے ایک ہزار کے بدلے، خاوند نے ایک طلاق دی صرف۔ بیوی نے مطالبہ کتنا کیا؟ تین کا ہزار کے بدلے، خاوند نے ایک طلاق دے دی، تو کہتے ہیں اس صورت میں تین طلاقوں کے بدلے ہزار تھا تو ایک طلاق کے بدلے ہزار کا تیسرا حصہ آئے گا۔ تو بیوی پر تیسرا حصہ مال لازم ہو جائے گا اور ایک طلاق ہو جائے گی اور طلاق بھی بائن ہو گی۔ بھئی بائن کیوں ہو گی؟ بھئی یہ بات پہلے گزر چکی کہ عورت عوض دے رہی ہے اور عورت تب ہی عوض دینے پر راضی ہو گی جب اس کی جان چھوٹ رہی ہو، اگر جان نہیں چھوٹ رہی تو پھر تو وہ عوض دینے پر بھی راضی نہیں ہو گی، لہٰذا یہاں ایک ہی طلاق کے اندر عورت جدا ہو گئی اور اس کے ذمے ہزار کا تیسرا حصہ آیا، پورا ہزار اب دینے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ عورت جب ہزار درہم میں جان چھڑانے پر راضی ہے تو اس ہزار کے تیسرے حصے میں بطریق اولیٰ وہ راضی ہو گی بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَتْ“ اور جب بیوی نے کہا ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“ کہ تو مجھے تین طلاقیں دے دے ہزار کے بدلے، ”فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً“ تو خاوند نے اس کو ایک طلاق دے دی، ”فَعَلَيْهَا ثُلُثُ الْأَلْفِ“ تو اس عورت پر ہزار کا تیسرا حصہ ہے، ”لِأَنَّهَا لَمَّا طَلَبَتِ الثَّلَاثَ بِأَلْفٍ“ اس لیے کیونکہ جب عورت نے ہزار کے بدلے تین طلاقیں طلب کی ہیں ”فَقَدْ طَلَبَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ بِثُلُثِ الْأَلْفِ“ تو تحقیق اس نے ہر ایک طلاق کو ہزار کے تیسرے حصے کے بدلے طلب کیا ہے۔
جب تین کو ہزار کے بدلے طلب کر رہی ہے، معلوم ہوا ہر طلاق کو وہ ہزار کے تیسرے حصے کے عوض طلب کر رہی ہے۔ ”وَهٰذَا لِأَنَّ حَرْفَ الْبَاءِ تَصْحَبُ الْأَعْوَاضَ“ اور یہ اس لیے کیونکہ حرفِ با جو ہے ”تَصْحَبُ الْأَعْوَاضَ“ یہ ساتھ ہوتا ہے عوضوں کے، یہ عوضوں پر داخل ہوتا ہے، اس لیے کیونکہ حرفِ با جو ہے عوض کے ساتھ آتا ہے۔ ”وَالْعِوَضُ يَنْقَسِمُ عَلَى الْمُعَوَّضِ“ اور عوض جو ہے وہ تقسیم ہوتا ہے معوض پر۔ یاد رکھو معوض تقسیم ہوگا تو عوض بھی تقسیم ہوگا، لیکن اگر شرط میں تقسیم آئے تو مشروط تقسیم نہیں ہوگا۔ معوض میں تقسیم آئے گی تو عوض میں بھی تقسیم آئے گی۔ مثلاً آپ کو میں نے کہا یہ پانچ کتابیں دس ہزار روپے کی ہیں، جب پانچ کتابیں دس ہزار کی ہیں معلوم ہوا اگر ایک کتاب لیں گے تو وہ دو ہزار کی ہوگی۔ تو دیکھو معوض میں تقسیم آ رہی ہے تو عوض میں بھی تقسیم آئے گی، لیکن شرط میں تقسیم آئے تو مشروط میں تقسیم نہیں آئے گی۔ آپ نے اپنے ساتھی سے کہا: اگر آپ نے یہ بیس روٹیاں کھا لیں تو میں آپ کو بیس ہزار روپے دوں گا۔ وہ اٹھا اور اس نے دو روٹیاں کھا لیں اور کہتا ہے بھئی بیس کے بدلے بیس ہزار تھے تو دو کے بدلے دو ہزار ہوئے، لاؤ بھئی دو ہزار دے دو۔ آپ کہیں گے: نہیں بھئی، بیس پوری کھاؤ گے تو پھر ہی پورے پیسے ملیں گے۔ شرط میں تقسیم کی وجہ سے مشروط میں تقسیم نہیں آتی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْعِوَضُ يَنْقَسِمُ عَلَى الْمُعَوَّضِ“ اور عوض جو ہے وہ تقسیم ہوتا ہے معوض پر، ”وَالطَّلَاقُ بَائِنٌ لِوُجُوبِ الْمَالِ“ اور یہ جو طلاق واقع ہوئی ہے یہ طلاقِ بائن ہوگی ”لِوُجُوبِ الْمَالِ“ کیونکہ عورت پر مال واجب ہوا ہے اور مال وہ عورت طلاقِ بائن کے عوض میں دیتی ہے، طلاقِ رجعی کے عوض میں نہیں۔
”وَإِنْ قَالَتْ طَلِّقْنِي ثَلَاثًا عَلَى أَلْفٍ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً“ اب وہی الفاظ ہیں، وہی صورت ہے، صرف با کی جگہ عورت نے ”عَلَى“ کا لفظ ذکر کر دیا۔ پہلے کہا تھا ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“، اب کہتی ہے ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا عَلَى أَلْفٍ“۔ تو اس صورت کے اندر بیوی نے ”عَلَى“ کے ساتھ تین طلاقوں کا مطالبہ کیا اور خاوند نے ایک طلاق دے دی، تو صاحبین فرماتے ہیں یہاں بھی اسی طرح ہوگا، عورت بائنہ ہو گئی اور ثلثِ الف اس کو دینا پڑے گا۔ وہ فرماتے ہیں یہ ”عَلَى“ بھی با کے معنی میں ہی ہے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، ”عَلَى“ شرط کے لیے آتا ہے۔ لہٰذا اور شرط میں تقسیم آئے تو مشروط میں تقسیم نہیں آتی، لہٰذا یہاں ایک طلاق خاوند دے گا تو اس صورت میں طلاق رجعی ہوگی اور بیوی پر کوئی مال نہیں آئے گا۔ طلاق رجعی ہوگی اور بیوی پر کچھ بھی نہیں آئے گا۔ طلاق رجعی کیوں؟ کیونکہ عوض نہیں آ رہا اور صریح لفظ ذکر کیا تھا، کیونکہ خاوند نے صریح لفظ سے طلاق دی ہے، ایک طلاق دی ہے اور صریح سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، اور عوض نہیں آیا مقابلے میں، عوض آتا تو پھر ہم اس کو طلاقِ بائن قرار دیتے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَتْ“ اور اگر عورت نے کہا ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا عَلَى أَلْفٍ“ کہ آپ مجھے تین طلاقیں دے دیں ایک ہزار کی شرط پر ”فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً“ تو خاوند نے اس کو ایک طلاق دے دی ”فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو اس عورت پر کچھ بھی نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک، ایک طلاق ہو جائے گی لیکن وہ بھی رجعی ہوگی اور عورت پر کوئی مال لازم نہیں ”وَيَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ اور خاوند جو ہے رجوع کا مالک ہے، ”وَقَالَا: هِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ بِثُلُثِ الْأَلْفِ“ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ بھی ایک بائنہ طلاق ہوگی اور ہزار کے تیسرے حصے کے بدلے ہوگی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَا“ صاحبین فرماتے ہیں ”هِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ“ یہ ایک ہی بائنہ طلاق ہوگی ”بِثُلُثِ الْأَلْفِ“ ہزار کے تیسرے حصے کے بدلے میں ”لِأَنَّ كَلِمَةَ عَلَى بِمَنْزِلَةِ الْبَاءِ فِي الْمُعَاوَضَاتِ“ صاحبین فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ کلمۂ ”عَلَى“ جو ہے جب معاوضات میں ذکر کیا جائے تو یہ با کے درجے میں ہوتا ہے ”حَتَّى إِنَّ قَوْلَهُمْ: اِحْمِلْ هٰذَا الطَّعَامَ بِدِرْهَمٍ أَوْ عَلَى دِرْهَمٍ سَوَاءٌ“ صاحبین عربوں کا قول ذکر فرما رہے ہیں کہ عرب کہتے ہیں، کسی سے کہتے ہیں: ”اِحْمِلْ هٰذَا الطَّعَامَ“، طعام یاد رکھو طعام غلے کو کہتے ہیں، کسی شخص سے کوئی دوسرا شخص کہتا ہے: ”اِحْمِلْ هٰذَا الطَّعَامَ“ یہ غلہ اٹھاؤ ”بِدِرْهَمٍ“ کتنے کے بدلے میں؟ ایک درہم کے بدلے میں، معلوم ہوا وہ اس سے عقدِ اجارہ کر رہا ہے کہ یہ غلہ یہاں سے اٹھا کر وہاں تک لے جاؤ، کتنے کے بدلے میں؟ ایک درہم کے بدلے میں، تو صاحبین فرماتے ہیں اگر ”بِدِرْهَمٍ“ کے بجائے ”عَلَى دِرْهَمٍ“ کہے گا تو بھی یہاں ”عَلَى“ با کے معنی میں ہے۔ معلوم ہوا معاوضات کے اندر جب ”عَلَى“ ذکر ہو تو وہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ با کے معنی میں ہوتا ہے، وہ شرط کے لیے نہیں ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”حَتَّى إِنَّ قَوْلَهُمْ“ یہاں تک کہ عربوں کا قول جو ہے ”اِحْمِلْ هٰذَا الطَّعَامَ بِدِرْهَمٍ أَوْ عَلَى دِرْهَمٍ“ یعنی یوں کہے ”اِحْمِلْ هٰذَا الطَّعَامَ عَلَى دِرْهَمٍ“، یہ دونوں جو ہیں ”سَوَاءٌ“ برابر ہیں۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ كَلِمَةَ عَلَى لِلشَّرْطِ“ کہ کلمۂ ”عَلَى“ شرط کے لیے ہوتا ہے، ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى“ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْئًا“ یہ عورتیں آپ کی بیعت کرتی ہیں، اے پیغمبر! یہ مسلمان عورتیں آپ کی بیعت کرتی ہیں ”عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْئًا“ اس شرط پر کہ یہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ تو دیکھو یہاں ”عَلَى“ کس لیے آیا؟ شرط کے لیے، تو قرآن سے امام صاحب دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ ”عَلَى“ شرط کے لیے آتا ہے، جیسے اس آیت میں یہ ”عَلَى“ کس لیے ہے؟ شرط کے لیے ہے کہ ”يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْئًا“ کہ یہ عورتیں آپ کی بیعت کرتی ہیں اس شرط پر کہ یہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اب کلامِ عرب سے بھی دلیل پیش فرما رہے ہیں امام صاحب، کہتے ہیں ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَنْ تَدْخُلِي الدَّارَ كَانَ شَرْطًا“، اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے ”عَلَى“ اس شرط پر ”أَنْ تَدْخُلِي“ کہ تو داخل ہو جائے ”الدَّارَ“ اس گھر میں، تو عربوں کے ہاں اگر اس طرح کا کوئی کلام کرے تو اس کو سب لوگ شرط پر محمول کرتے ہیں اور طلاق ویسے نہیں ہوگی، جب اس گھر میں عورت جائے گی تبھی طلاق ہوگی۔ خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَنْ تَدْخُلِي الدَّارَ“۔ دیکھو ”تَدْخُلِي“ یہ اس پر ”أَنْ“ داخل ہوا، اصل میں تھا ”تَدْخُلِينَ“۔ یَدْخُلُ یَدْخُلَانِ یَدْخُلُونَ، تَدْخُلُ تَدْخُلَانِ یَدْخُلْنَ، تَدْخُلُ تَدْخُلَانِ تَدْخُلُونَ، تَدْخُلِینَ، تو یہ ”تَدْخُلِینَ“ صیغہ ہے، ”أَنْ“ داخل ہوا اور نون گر گیا آخر سے، نونِ اعرابی بھئی۔ یہ نونِ اعرابی نصب کی حالت میں بھی گر جاتا ہے اور جزم کی حالت میں بھی گر جاتا ہے۔ تو خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَنْ تَدْخُلِي الدَّارَ“ کہ تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ تو اس گھر میں داخل ہو، ”كَانَ شَرْطًا“ تو یہ شرط ہوگی۔
”وَهٰذَا لِأَنَّهُ لِلُّزُومِ حَقِيقَةً“ اور یہ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”عَلَى“ جو ہے ”لِلُّزُومِ“ یہ لزوم کے لیے ہوتا ہے ”حَقِيقَةً“ باعتبار حقیقت کے۔ کلمۂ ”عَلَى“ کس لیے آتا ہے؟ لزوم کے لیے، یہ اس کا حقیقی معنی ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص کہے: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ“ تو دیکھو اس پر وہ ہزار درہم لازم ہو جاتے ہیں کیونکہ ”عَلَى“ کس لیے آتا ہے؟ لزوم کے لیے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں ”وَهٰذَا لِأَنَّهُ لِلُّزُومِ حَقِيقَةً“ کیونکہ حرفِ ”عَلَى“ جو ہے یہ لزوم کے لیے ہوتا ہے حقیقت کے اعتبار سے ”وَاسْتُعِيرَ لِلشَّرْطِ“ اور اس کو عاریتاً لے لیا گیا شرط کے لیے، یعنی مجازاً اس کو شرط کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ”لِأَنَّهُ يُلَازِمُ الْجَزَاءَ“ کیونکہ شرط جو ہے جزا کے ساتھ لازم ہوتی ہے، شرط جزا کے ساتھ لازم ہوتی ہے۔ ”وَإِذَا كَانَ لِلشَّرْطِ“ اور جب یہ ”عَلَى“ شرط کے لیے ہے، اور عورت نے کیا کہا ہے؟ ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا عَلَى أَلْفٍ“، تو یہ ”عَلَى“ شرط کے لیے ہوا۔ ”وَإِذَا كَانَ لِلشَّرْطِ“ اور جب یہ ”عَلَى“ شرط کے لیے ہے ”فَالْمَشْرُوطُ لَا يُتَوَزَّعُ عَلَى أَجْزَاءِ الشَّرْطِ“ تو جو مشروط ہوتا ہے ”لَا يُتَوَزَّعُ“ اس کو تقسیم نہیں کیا جاتا ”عَلَى أَجْزَاءِ الشَّرْطِ“ شرط کے اجزا پر۔ مشروط جو ہے اس کو شرط کے اجزا پر تقسیم نہیں کیا جاتا۔ معوض میں تقسیم آئے تو عوض کو تقسیم کرتے ہیں لیکن شرط میں تقسیم آئے تو مشروط کو تقسیم نہیں کرتے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ ”فَالْمَشْرُوطُ لَا يُتَوَزَّعُ عَلَى أَجْزَاءِ الشَّرْطِ“ تو مشروط جو ہے وہ تقسیم نہیں ہوتا شرط کے اجزا پر ”بِخِلَافِ الْبَاءِ“ بخلاف با کے ”لِأَنَّهُ لِلْعِوَضِ عَلَى مَا مَرَّ“ اس لیے کیونکہ با عوض کے لیے ہوتی ہے اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ با جو ہے عوض پر داخل ہوتی ہے، پیچھے آیا تھا ”لِأَنَّ حَرْفَ الْبَاءِ تَصْحَبُ الْأَعْوَاضَ“۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ لِلْعِوَضِ عَلَى مَا مَرَّ“ اس لیے کیونکہ با جو ہے عوض کے لیے ہوتی ہے اس وجہ سے جو گزر گئی۔ ”وَإِذَا لَمْ يَجِبِ الْمَالُ“ اور جب خاوند پر مال واجب نہیں ہے اس صورت میں، ایک طلاق دی ہے ”كَانَ مُبْتَدِئًا“ تو خاوند جو ہے وہ مبتدی ہوا یعنی ایک نئی بات کرنے والا ہے۔ بیوی نے تو کیا کہا؟ ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا عَلَى أَلْفٍ“، اور خاوند جواب میں کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“، صرف ایک طلاق دیتا ہے، تو یوں کہیں گے خاوند بیوی کا جواب دے ہی نہیں رہا، بیوی نے تو تین طلاقوں کا مطالبہ کیا ہے، ایک کا مطالبہ نہیں کیا لیکن خاوند ایک دے رہا ہے اور خاوند پر مال بھی نہیں آ رہا، معلوم ہوا خاوند ایک نئی بات کر رہا ہے، الگ بات، یہ بیوی کا جواب نہیں دے رہا، اور الگ خاوند بیوی سے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہے تو وہاں طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا لَمْ يَجِبِ الْمَالُ كَانَ مُبْتَدِئًا“ اور جب خاوند پر مال واجب نہیں تو خاوند جو ہے مبتدی ہے یعنی نئی بات کرنے والا ہے، تو خاوند ایک چیز کی ابتدا کرنے والا ہے یعنی ایک نئی بات کرنے والا ہے ”فَوَقَعَ الطَّلَاقُ“ تو طلاق واقع ہو جائے گی ”وَيَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ اور خاوند رجوع کا مالک ہوگا۔
تو امام صاحب کے نزدیک دیکھو یہ جو ”عَلَى“ ہے یہ شرط کے لیے آتا ہے، اور جو صاحبین نے مثال ذکر کی تھی ”اِحْمِلْ هٰذَا الطَّعَامَ بِدِرْهَمٍ“ کہ یہ کہہ لے یا ”عَلَى دِرْهَمٍ“ کہہ لے، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، تو اس کا بھی جواب دیتے ہیں علماء کہ وہاں پر عقدِ اجارہ ذکر ہو رہا ہے، عقدِ اجارہ، اور عقدِ بیع اور عقدِ اجارہ یہ تو تعلیق کا احتمال نہیں رکھتے۔ طلاق تو معلق کی جا سکتی ہے لیکن اجارے یا بیع کو معلق نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس وجہ سے وہاں پر کہا ”اِحْمِلْ هٰذَا الطَّعَامَ عَلَى دِرْهَمٍ“، آیا تو ”عَلَى“ ہے، ”عَلَى“ تو شرط کے لیے ہوتا ہے لیکن یہ تو اجارہ ہے اور اجارے میں تو تعلیق نہیں ہو سکتی تو مجبوراً پھر اس کو با کے معنی پر محمول کرنا پڑا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی، ورنہ ”عَلَى“ کس لیے آتا ہے؟ شرط ہی کے لیے آتا ہے، لیکن یہاں ایک مانع آ گیا، ہم اس کو شرط پر محمول نہیں کر سکتے کیونکہ اجارے کی بات چل رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
”وَلَوْ قَالَ الزَّوْجُ: طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا بِأَلْفٍ أَوْ عَلَى أَلْفٍ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا بِأَلْفٍ أَوْ عَلَى أَلْفٍ“، خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ہزار کے بدلے میں۔ یہاں چاہے خاوند با لے کر آئے چاہے ”عَلَى“، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ چاہے خاوند یوں کہے ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا عَلَى أَلْفٍ“ کہ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ہزار کے بدلے، تو چاہے خاوند با لے کر آئے چاہے ”عَلَى“، اس صورت کے اندر اگر عورت اپنے آپ کو ایک طلاق دے گی تو کچھ بھی واقع نہیں ہوگا، ایک طلاق بھی نہیں ہوگی، ایک طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ بھئی کیوں؟ یہاں جب با ذکر کر رہا ہے، با تو عوض پر داخل ہوتی ہے اور معوض میں تقسیم ہو تو عوض میں بھی تقسیم ہوتی ہے، تو یہاں بھی تقسیم ہونی چاہیے، ایک طلاق کی وجہ سے بیوی پر ثلثِ الف آنا چاہیے اور طلاقِ بائن ہونی چاہیے، لیکن آپ کہتے ہیں ایک بھی نہیں ہوگی! کہتے ہیں وجہ یہ کہ فرق ہے، پچھلے مسئلے میں عورت نے مطالبہ کیا تھا، اور یاد رکھو اس مسئلے میں عورت مشتری کے درجے میں ہے اور خاوند بائع کے درجے میں ہے جو ایک چیز بیچ رہا ہے اور عورت ایک چیز خرید رہی ہے، تو عورت اپنی ذات کو خاوند سے خرید رہی ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا جب بائع کوئی چیز بیچتا ہے اور اس کا ثمن ذکر کر دیتا ہے: یہ پانچ کتابیں میں نے آپ کو بیس ہزار میں بیچ دیں، تو بائع ثمن سے کم پر راضی نہیں ہوگا، بائع کیا کہے گا؟ پورا ثمن دو، پوری چیز لے لو بھئی۔ مثلاً ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے: یہ پانچ کتابیں بیس ہزار کی ہیں، وہ کہتا ہے اچھا پانچ بیس کی ہیں تو چلو مجھے ایک کتاب دے دو اور یہ لو چار ہزار روپے۔ کیا وہ کہے گا؟ نہیں، میں نے تو پانچ کا ایجاب کیا ہے تو قبول بھی کس کو کرنا پڑے گا؟ پانچ کو کرنا پڑے گا، وہ ایک کے لیے الگ ایجاب و قبول چاہیے۔ تو جو چیز بیچنے والا ہوتا ہے یعنی یوں کہو جو پیسوں کو وصول کرنے والا ہوتا ہے وہ پورا ثمن ہی چاہتا ہے، جبکہ جو پیسے ادا کرنے والا ہے وہ پورے پیسے نہیں دینا چاہتا، وہ پورے پیسے دے گا پوری چیز لے لے گا لیکن اگر کم پیسوں میں بھی وہ چیز ملے گی وہ اس کو لے لے گا۔ جیسے پچھلے مسئلے میں عورت نے کہا تھا کہ مجھے تین طلاقیں دے دو ہزار کے بدلے، تو جب وہ ہزار کے اندر اپنی جان چھڑانے پر راضی ہے تو ایک طلاق کے اندر بھی اس کی جان چھوٹ گئی اور کتنے پیسے آئے؟ ہزار کا تیسرا حصہ، تو جب وہ ہزار میں جان چھوٹنے پر راضی تھی تو ہزار کے تیسرے حصے میں جان چھوٹنے پر بطریقِ اولیٰ راضی ہوگی۔ لیکن خاوند اگر یوں کہے گا تو پھر مسئلہ اس طرح نہیں ہے، پھر پورا ہی عوض دینا پڑے گا، وہاں عوض پر معوض کی تقسیم نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ الزَّوْجُ: طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“ اور اگر خاوند نے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“ کہ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ”بِأَلْفٍ“ ہزار کے بدلے میں ”أَوْ عَلَى أَلْفٍ“ یا ہزار کی شرط پر، چاہے با کو ذکر کیا خاوند نے چاہے ”عَلَى“ کو، ”فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا وَاحِدَةً“ تو عورت نے اپنے آپ کو ایک طلاق دے دی ”لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ تو کچھ بھی واقع نہیں ہوگا، ایک طلاق بھی واقع نہیں ہوگی، ”لِأَنَّ الزَّوْجَ مَا رَضِيَ بِالْبَيْنُونَةِ إِلَّا لِيَسْلَمَ الْأَلْفُ كُلُّهَا“ اس لیے کیونکہ خاوند راضی نہیں ہے ”بِالْبَيْنُونَةِ“ جدائی پر ”إِلَّا لِيَسْلَمَ الْأَلْفُ كُلُّهَا“ مگر یہ کہ پورا ہزار اس کے لیے سلامت رہے، پورا ہزار اس کو مل جائے پھر ہی وہ جدائی پر راضی ہے ویسے وہ راضی نہیں، ”بِخِلَافِ قَوْلِهَا: طَلِّقْنِي ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“ بخلاف عورت کے قول کے جو پچھلے مسئلے میں آیا تھا کہ تو مجھے تین طلاقیں دے دے ہزار کے بدلے میں ”لِأَنَّهَا لَمَّا رَضِيَتْ بِالْبَيْنُونَةِ بِأَلْفٍ“ اس لیے کیونکہ جب عورت ہزار کے بدلے جدائی پر راضی ہے ”كَانَتْ بِبَعْضِهَا أَرْضَى“ تو وہ ہزار کے بعض پر زیادہ راضی ہوگی۔
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ فَقَبِلَتْ طُلِّقَتْ وَعَلَيْهَا الْأَلْفُ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ بِأَلْفٍ“ پچھلے مسئلے میں تھا خاوند نے بیوی کو اختیار دیا ہے: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا“ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے۔ اب دوسری صورت ہے، طلاق علی العوض کو خاوند ذکر کر رہا ہے اور یوں کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ“ تجھے طلاق ہے ایک ہزار کی شرط پر، تو دیکھو یہ طلاق علی العوض ہے بھئی، اور عورت یہاں قبول کرے گی تو طلاق ہو جائے گی اور اس پر ایک ہزار لازم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے ایک ہزار کی شرط پر طلاق ہے ”فَقَبِلَتْ“ تو عورت نے قبول کر لیا ”طُلِّقَتْ وَعَلَيْهَا الْأَلْفُ“ تو اس عورت کو طلاق ہو جائے گی اور اس پر ایک ہزار لازم ہو جائیں گے ”وَهُوَ كَقَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ بِأَلْفٍ“ اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہ خاوند نے بیوی سے کہا ہو ”أَنْتِ طَالِقٌ بِأَلْفٍ“۔ تو خاوند جب بیوی کو طلاق دے رہا ہے چاہے با ذکر کرے چاہے ”عَلَى“ ذکر کرے، دونوں صورتوں کے اندر ایک ہی حکم ہے، عورت قبول کرے گی تو تب طلاق واقع ہوگی، کیونکہ خاوند نے ویسے طلاق ذکر کی ہے یا عوض بھی ذکر کیا ہے؟ عوض، اور عوض عورت پر اس کی مرضی کے بغیر لازم نہیں ہو سکتا، تو عورت قبول کرے گی تو عوض بھی لازم ہوگا اور طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَهُوَ كَقَوْلِهِ“ یہ خاوند کے اسی قول کی طرح ہے جیسے وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ بِأَلْفٍ“ کہے، ”وَلَا بُدَّ مِنَ الْقَبُولِ فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور ضروری ہے قبول کا کرنا دونوں صورتوں میں، چاہے خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ“ کہے چاہے ”أَنْتِ طَالِقٌ بِأَلْفٍ“ کہے، دونوں میں قبول ضروری ہے ”لِأَنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ بِأَلْفٍ: بِعِوَضِ أَلْفٍ يَجِبُ لِي عَلَيْكِ“ اس لیے کیونکہ خاوند کے قول ”بِأَلْفٍ“ کا معنی یہ ہے ”بِعِوَضِ أَلْفٍ يَجِبُ لِي عَلَيْكِ“۔ دیکھو ترجمہ اچھی طرح سمجھ لو، طلاق کو بھی ساتھ ملاؤ: ”أَنْتِ طَالِقٌ بِعِوَضِ أَلْفٍ يَجِبُ لِي عَلَيْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے ایسے ہزار کے عوض میں ”يَجِبُ لِي عَلَيْكِ“ جو میرے لیے تم پر واجب ہوں گے، اور عورت جب قبول کر رہی ہے تو اس نے خود اپنے اوپر مال کو لازم کر لیا۔ ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ عَلَى أَلْفٍ: عَلَى شَرْطِ أَلْفٍ يَكُونُ لِي عَلَيْكِ“ اور خاوند کے قول ”عَلَى أَلْفٍ“ کا معنی یہ ہے ”عَلَى شَرْطِ أَلْفٍ يَكُونُ لِي عَلَيْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے ”عَلَى شَرْطِ أَلْفٍ“ ایسے ہزار کی شرط پر ”يَكُونُ لِي عَلَيْكِ“ جو میرے تم پر لازم ہوں گے۔ ”وَالْعِوَضُ لَا يَجِبُ بِدُونِ قَبُولِهِ“ اور عوض تو واجب نہیں ہو سکتا اس عوض کے قبول کے بغیر ”وَالْمُعَلَّقُ بِالشَّرْطِ لَا يَنْزِلُ قَبْلَ وُجُودِهِ“ اور وہ چیز جو معلق ہو شرط کے ساتھ وہ نہیں نازل ہوتی ”قَبْلَ وُجُودِهِ“ شرط کے پائے جانے سے پہلے۔ بھئی ادھر دیکھیے، یہاں پر خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ بِأَلْفٍ“ تو یہ با عوض کے لیے، اور ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ“ تو یہ ”عَلَى“ کس لیے ہے؟ شرط کے لیے ہے۔ اور عوض بھی بغیر قبول کیے کسی پر نہیں آتا، تو عورت کا قبول کرنا ضروری ہے، اور شرط جب خاوند نے ”عَلَى“ ذکر کیا کہ تجھے طلاق ہے ”عَلَى أَلْفٍ“ ایک ہزار کی شرط پر کہ یعنی ایک ہزار تجھ پر لازم ہوں، تو یہ جزا کب آئے گی؟ جب عورت قبول کرے گی، کیا کرے گی؟ جب عورت قبول کرے گی، خاوند نے شرط کیا ذکر کی ہے؟ عورت کے ذمے ایک ہزار کا لازم ہونا، اور اس کو عورت قبول کرے گی تو شرط پوری ہو گئی، شرط پوری ہو گئی تو طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ شرط کیا ذکر کی تھی؟ تجھے طلاق ہے ”عَلَى أَلْفٍ“ ایک ہزار کی شرط پر جو میرے لیے تیرے اوپر لازم ہوں گے، عورت نے کیا کہا؟ مجھے قبول ہے، تو ہزار کیا ہو گئے؟ لازم، تو شرط پائی گئی، جب شرط پائی گئی تو مشروط بھی پایا جائے گا، طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَالْعِوَضُ لَا يَجِبُ بِدُونِ قَبُولِهِ“ اور عوض واجب نہیں ہوتا بغیر اس کے قبول کیے ”وَالْمُعَلَّقُ بِالشَّرْطِ لَا يَنْزِلُ قَبْلَ وُجُودِهِ“ اور وہ جو معلق ہوتا ہے شرط کے ساتھ ”لَا يَنْزِلُ“ وہ نازل نہیں ہوتا یعنی وہ آتا نہیں ہے یعنی وہ جزا واقع نہیں ہوتی ”قَبْلَ وُجُودِهِ“ شرط کے پائے جانے سے پہلے ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، ”وَالطَّلَاقُ بَائِنٌ“ اور یہ طلاق جو واقع ہوئی ہے یہ بائن ہوگی ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا کہ عورت عوض دے رہی ہے اور عوض کے اندر کون سی طلاق آتی ہے؟ طلاقِ بائن آتی ہے۔
”وَلَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ وَعَلَيْكِ أَلْفٌ فَقَبِلَتْ، أَوْ قَالَ لِعَبْدِهِ: أَنْتَ حُرٌّ وَعَلَيْكَ أَلْفٌ فَقَبِلَ عَتَقَ الْعَبْدُ وَطُلِّقَتِ الْمَرْأَةُ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِمَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“، دو جملے الگ الگ ذکر کیے اور درمیان میں حرفِ عطف واؤ کو ذکر کیا۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ اور تیرے اوپر ایک ہزار درہم ہیں، ایک ہزار درہم لازم ہیں۔ یا غلام سے کہتا ہے: ”أَنْتَ حُرٌّ“ تو آزاد ہے ”وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“ اور تیرے اوپر ایک ہزار درہم لازم ہیں۔ تو یاد رکھو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ یا ”وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“ آگے آ رہا ہے یہ ماقبل سے حال بن جائے گا، یہ کیا بن جائے گا؟ یہ ماقبل سے حال بن جائے گا اور حال میں شرط والا معنی ہوتا ہے، گویا خاوند طلاق کو معلق کر رہا ہے اس عورت کے ایک ہزار قبول کرنے پر، یا غلام کی آزادی کو آقا معلق کر رہا ہے اس کے ایک ہزار کے قبول کرنے پر۔ تو لہٰذا جب عورت قبول کر لے گی تو طلاق بھی واقع ہو جائے گی اور ایک ہزار بھی اس کو دینا پڑے گا۔ اسی طرح اگر غلام قبول کر لیتا ہے تو وہ آزاد بھی ہو جائے گا اور اب ایک ہزار درہم کی اس کو ادائیگی کرنا پڑے گی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ خاوند نے بیوی سے اگر کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“، یا غلام سے کہا ”أَنْتَ حُرٌّ وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“، تو اس صورت میں یہ قبول کریں گے تو طلاق یا آزادی بھی واقع ہوگی اور ہزار درہم بھی لازم ہوں گے، اور اگر یہ قبول نہیں کریں گے تو طلاق یا آزادی بھی واقع نہیں ہوگی اور ان پر مال بھی لازم نہیں ہوگا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ غلام یا عورت قبول کرے یا نہ کرے، ہر حال میں طلاق اور آزادی ہو گئی، طلاق اور آزادی ہو گئی اور ان پر مال بھی لازم نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ خاوند نے دو جملے کہے ہیں ”أَنْتِ طَالِقٌ وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ یا ”أَنْتَ حُرٌّ وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“، تو یہ دو الگ الگ جملے ہیں، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق ہو گئی عورت قبول کرے یا نہ کرے، اور ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ یہ گویا خاوند اس پر ایک ہزار لازم کر رہا ہے اور کسی دوسرے کے لازم کرنے سے کسی پر مال لازم نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ عورت اگر قبول بھی کر لے گی تو وہ بھی صرف ایک وعدہ کر رہی ہے اور وعدے کی وجہ سے کوئی چیز اس پر شرعاً لازم نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح اگر غلام بھی چاہے قبول کرے یا نہ کرے وہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ کہتے ہی آزاد ہو گیا اور آگے ”وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“ کہا تو وہ آقا اس پر ہزار لازم کر رہا ہے اور کسی کے لازم کرنے سے دوسرے پر مال لازم نہیں ہوتا، اور اگر غلام قبول کر بھی لے تو بھی قبول کرنے سے صرف ایک وعدہ گویا غلام کر رہا ہے اور وعدے کی وجہ سے کوئی چیز کسی پر لازم نہیں ہوتی۔ تو امام صاحب کے نزدیک غلام یا عورت قبول کریں یا نہ کریں طلاق اور آزادی ہر حال میں واقع ہو گئی اور ان پر کوئی چیز بھی لازم نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ کہ تجھے طلاق ہے ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ اور تجھ پر ایک ہزار لازم ہے ”فَقَبِلَتْ“ تو عورت نے قبول کر لیا ”أَوْ قَالَ لِعَبْدِهِ“ یا آقا نے اپنے غلام سے کہا ”أَنْتَ حُرٌّ وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“ کہ تو آزاد ہے اور تجھ پر ایک ہزار لازم ہیں ”فَقَبِلَ“ غلام نے قبول کر لیا ”عَتَقَ الْعَبْدُ“ تو غلام آزاد ہو جائے گا ”وَطُلِّقَتِ الْمَرْأَةُ“ اور عورت کو طلاق ہو جائے گی ”وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِمَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور کوئی چیز نہیں ہوگی ان دونوں پر امام صاحب کے نزدیک، ”وَكَذَا إِذَا لَمْ يَقْبَلَا“ اور اسی طرح ہے حکم جب دونوں قبول نہ کریں، قبول نہ کریں پھر بھی طلاق اور آزادی ہو جائے گی اور ان کے ذمے کوئی چیز نہیں ہوگی۔ ”وَقَالَا: عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْأَلْفُ إِذَا قَبِلَ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک پر ایک ہزار لازم ہیں ”إِذَا قَبِلَ“ جب وہ قبول کر لے ”وَإِذَا لَمْ يَقْبَلْ لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ وَالْعَتَاقُ“ اور جب وہ قبول نہ کرے تو پھر نہ طلاق واقع ہوگی نہ عتاق واقع ہوگا، عتاق عین کے فتحہ کے ساتھ ہے بھئی آزادی کو کہتے ہیں۔ ”لَهُمَا: أَنَّ هٰذَا الْكَلَامَ يُسْتَعْمَلُ لِلْمُعَاوَضَةِ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ اس طرح کا کلام جو ہے وہ معاوضے میں استعمال کیا جاتا ہے ”فَإِنَّ قَوْلَهُمْ: اِحْمِلْ هٰذَا الْمَتَاعَ وَلَكَ دِرْهَمٌ“ اس لیے کیونکہ عربوں کا یہ جو قول ہے ”اِحْمِلْ هٰذَا الْمَتَاعَ وَلَكَ دِرْهَمٌ“ تو یہ سامان اٹھا لے ”وَلَكَ دِرْهَمٌ“ اس حال میں کہ تیرے لیے ایک درہم ہوگا، یوں کہہ دے کوئی شخص یا یوں کہے ”اِحْمِلْ هٰذَا الْمَتَاعَ بِدِرْهَمٍ“۔ چاہے با ذکر کرے چاہے الگ جملے کی صورت میں ذکر کرے، دونوں صورتوں کے اندر یہ عوض ہوتا ہے، یہ عوض ذکر ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ”فَإِنَّ قَوْلَهُمْ: اِحْمِلْ هٰذَا الْمَتَاعَ وَلَكَ دِرْهَمٌ بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِمْ بِدِرْهَمٍ“ اس لیے کیونکہ عربوں کا یہ جو قول ہے ”اِحْمِلْ هٰذَا الْمَتَاعَ وَلَكَ دِرْهَمٌ“ یہ عربوں کے قول ”بِدِرْهَمٍ“ کے درجے میں ہی ہے، گویا یوں کہا ہے ”اِحْمِلْ هٰذَا الْمَتَاعَ بِدِرْهَمٍ“ کہ تو یہ سامان اٹھا لے ایک درہم کے بدلے۔ تو صاحبین کی دلیل کیا ہوئی؟ کہ اس طرح کا کلام معاوضات میں استعمال ہوتا ہے اور یہ جو اگلا جملہ ذکر ہوتا ہے یہ حال ہوتا ہے اور حال بھی شرط کے درجے میں ہے۔
”وَلَهُ: أَنَّهُ جُمْلَةٌ تَامَّةٌ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ پورا جملہ ہے، یہ جو ”وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“ یا ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ ہے یہ پورا جملہ ہے۔ کہتے ہیں ”أَنَّهُ جُمْلَةٌ تَامَّةٌ“ یہ پورا جملہ ہے ”فَلَا تَرْتَبِطُ بِمَا قَبْلَهُ إِلَّا بِدَلَالَةٍ“ تو یہ نہیں جڑے گا ماقبل سے مگر کسی دلیل سے۔ کوئی دلیل پائی جائے پھر ہی یہ ماقبل سے جڑے گا، ویسے یہ نہیں جڑے گا ”إِذِ الْأَصْلُ فِيهَا الِاسْتِقْلَالُ“ اس لیے کیونکہ جملے کے اندر اصل جو ہے استقلال ہے، جملہ میں اصل کیا ہے؟ وہ مستقل ہوتا ہے، اس میں بات پوری ہوتی ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، جب آپ اس کو جوڑتے ہیں تو وہاں کوئی دلیل چاہیے۔ تو کہتے ہیں ”إِذِ الْأَصْلُ فِيهَا الِاسْتِقْلَالُ“ اس لیے کیونکہ جملے کے اندر اصل جو ہے مستقل ہونا ہے ”وَلَا دَلَالَةَ“ اور یہاں کوئی دلیل نہیں ہے۔ آپ ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ کو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے جوڑنا چاہتے ہیں، یہاں کوئی دلیل نہیں۔ کوئی دلیل کس طرح نہیں ہے؟ کہتے ہیں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے طلاق دی جاتی ہے اور طلاق میں کیا ہوتا ہے؟ بضعہ ملکیت سے نکلتا ہے اور بضعہ جب ملکیت سے نکلے وہ متقوم نہیں ہوتا، جبکہ ”اِحْمِلْ هٰذَا الْمَتَاعَ وَلَكَ دِرْهَمٌ“ یہ اجارہ ہے، اور اجارہ اور بیع تو عوض کے بغیر نہیں ہوتے، تو یہاں پر ایک دلیل موجود ہے کہ یہ معلوم ہوا ”وَلَكَ دِرْهَمٌ“ کو ماقبل سے ربط دے رہی ہے اور وہ کیا؟ کہ یہ اجارہ ہے اور اجارے میں عوض آتا ہے، تو اس دلیل کی وجہ سے ربط آ گیا بعد والے جملے کا پہلے جملے سے، لیکن طلاق والے مسئلے کے اندر تو بضعہ ملک سے نکل رہا ہے اور بضعہ کا ملک سے نکلنا متقوم نہیں ہوتا، لہٰذا وہاں کوئی دلیل نہیں ہے ارتباط کی، دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ وَالْعَتَاقَ يَنْفَكَّانِ عَنِ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ طلاق اور آزادی جو ہیں وہ جدا ہو جاتے ہیں ”عَنِ الْمَالِ“ مال سے، ان کے ساتھ مال کا ہونا ضروری نہیں ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ وَالْإِجَارَةِ“ بخلاف بیع اور اجارہ کے ”لِأَنَّهُمَا لَا يُوجَدَانِ دُونَهٗ“ اس لیے کیونکہ یہ بیع اور اجارہ ”لَا يُوجَدَانِ“ یہ نہیں پائے جاتے ”دُونَهٗ“ بغیر مال کے، ان کے اندر مال کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔