Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-064

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 61
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی سبق! فَصْلٌ فِي مَا تَحِلُّ بِهِ الْمُطَلَّقَةُ ”وَإِذَا كَانَ الطَّلَاقُ بَائِنًا دُونَ الثَّلَاثِ فَلَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فِي الْعِدَّةِ وَبَعْدَ انْقِضَائِهَا، لِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ بَاقٍ، لِأَنَّ زَوَالَهُ مُعَلَّقٌ بِالطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ فَيَنْعَدِمُ قَبْلَهُ، وَمَنْعُ الْغَيْرِ فِي الْعِدَّةِ لِاشْتِبَاهِ النَّسَبِ، وَلَا اشْتِبَاهَ فِي إِطْلَاقِهِ“. گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہے اور وہ شخص باندی کو طلاق دے دیتا ہے، اور عدت کے گزرنے کے بعد کہتا ہے کہ میں نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا، اور باندی کا جو آقا ہے وہ اس خاوند کی تصدیق کر رہا ہے اور باندی انکار کر رہی ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں: باندی کا قول معتبر ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: آقا کا قول معتبر ہے، کیونکہ اس وقت باندی کے منافع کا مالک آقا ہے کیونکہ عدت گزر چکی ہے، لہٰذا آقا خالص اپنے حق کا اقرار کر رہا ہے، تو لہٰذا آقا کے قول کو قبول کیا جائے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ رجوع کی بنیاد عدت پر ہے، عدت کے اندر رجوع صحیح ہے، عدت کے بعد رجوع صحیح نہیں، تو لہٰذا رجوع کا دار و مدار عدت پر ہوا اور عدت کے اندر تو باندی کا قول قبول کیا جاتا ہے، تو جب عدت کے اندر باندی کا قول قبول کیا جاتا ہے تو جس چیز کی عدت پر بنیاد ہو اس میں بھی باندی ہی کا قول قبول کیا جائے گا۔ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا کہ مثلاً آقا جو ہے وہ خاوند کی تکذیب کر رہا ہے اور باندی تصدیق کر رہی ہے، تو پھر اس صورت کے اندر ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک آقا کا قول معتبر ہے بھئی۔ وجہ یہ ہے کہ عدت گزر چکی ہے، لہٰذا اب باندی کے منافع کا مالک آقا بن چکا ہے، اور جب آقا اس کے منافع کا مالک بن چکا ہے اور باندی خاوند کی تصدیق کر کے آقا کے حق کو ساقط کرنا چاہتی ہے، لہٰذا اس کو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ جبکہ اس کے برخلاف پچھلے پہلے مسئلے کے اندر وہاں پر آقا نے اقرار کیا تھا کہ عدت کے اندر خاوند نے رجوع کر لیا ہے، تو جب عدت کے اندر خاوند نے رجوع کیا ہے تو عدت کے اندر تو آقا کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی، تو لہٰذا وہاں باندی کا قول قبول کیا جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عدت کا وقت کس وقت ختم ہوگا؟ بتلایا کہ جب تیسرا حیض مکمل ہو جائے گا تو اس وقت عدت کا وقت ختم ہو جائے گا، اور جب عدت ختم ہوگئی تو رجوع بھی منقطع ہوگیا، اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ اور حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت تو دس دن ہے، لہٰذا اگر دس دن کے پورا ہونے پر حیض کا خون رکا تو اس سے آگے تو حیض کے آنے کا امکان نہیں ہے، لہٰذا خون کے رکتے ہی عدت کے ختم ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ اور اگر خون جو ہے وہ دس دن سے کم میں رکا ہے، تو یہ جو حیض کا خون ہے یہ کبھی رکتا ہے، کبھی جاری ہوتا ہے، تو جب دس دن سے کم کے اندر خون رکا ہے تو ابھی بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے کہیں دوبارہ خون نہ آ جائے۔ لہٰذا خون کے رکتے ہی فوراً حیض کے ختم ہونے کا حکم نہیں لگائیں گے بلکہ کچھ دیر انتظار کیا جائے گا، یعنی یہاں تک کہ باندی غسل کر لے۔ تو جب غسل کر لے گی تو اب دیکھو حیض کا ختم ہونا یقینی ہوگیا، اب خون کا رکنا پکا ہوگیا، تو لہٰذا جب غسل کر لے گی تو اب عدت کے ختم ہونے کا حکم لگایا جائے گا، اب رجوع منقطع ہو جائے گا۔ یا ایک نماز کا وقت گزر جائے یعنی اس کے ذمے ایک نماز آ جائے، اور نماز تو پاک عورتوں پر آتی ہے، معلوم ہوا جب اس پر پاک لوگوں والا حکم آ گیا ہے تو اس کا مطلب ہے حیض ختم ہو چکا ہے بھئی۔ جبکہ اگر پانی موجود نہ ہوا اور عورت کو تیمم کرنا پڑا، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حیض کا خون دس دن سے کم میں رکا اور پھر عورت نے تیمم کر لیا، تو تیمم کرتے ہی عدت ختم ہوگئی، کیونکہ تیمم بھی غسل کی طرح طَہَارَتِ مُطْلَقَہ ہے، تو جو غسل کا حکم ہوگا وہی تیمم کا بھی حکم ہوگا، تو تیمم اس کے درجے میں ہوگیا۔ اور دس دن سے کم خون رکنے کے بعد عورت غسل کرتی تھی تو ہم عدت کے ختم ہونے کا حکم لگاتے تھے، تو یہاں بھی دس دن سے کم میں خون رکنے کے بعد عورت تیمم کر لے گی تو ہم عدت کے ختم ہونے کا حکم لگا دیں گے۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ صرف تیمم کافی نہیں ہے بلکہ تیمم بھی کرے اور نماز بھی پڑھے، وجہ یہ کہ تیمم طَہَارَتِ ضَرُورِیَّہ ہے، ضرورت کی وجہ سے شریعت نے اس کو طہارت قرار دیا ہے، ورنہ تو یہ حقیقت میں طہارت نہیں ہے، یہ تو ملوث ہے بھئی، یہ کیا کرتا ہے؟ انسان کو میلا اور آلودہ کرتا ہے، تو حقیقت میں یہ ملوث ہے لیکن شریعت نے اس کے طہارت ہونے کا اعتبار کیا ہے ضرورت کے وقت، اور ضرورت نماز کے وقت ثابت ہوگی، نماز سے پہلے ضرورت نہیں، جب ضرورت نہیں تو تیمم طہارت بھی نہیں۔ تو لہٰذا یہ عورت تیمم بھی کر لے اور پھر نماز بھی پڑھ لے بھئی، چاہے نفل پڑھے چاہے فرض پڑھے بھئی، تو اب تیمم کا طہارت ہونا ظاہر ہو جائے گا اور اب ہم عدت کے ختم ہونے کا حکم لگا دیں گے۔ اور پھر اس کے بعد بعض فقہاء پھر فرماتے ہیں کہ صرف نماز کا شروع کرنا ہی کافی ہے، نماز کے شروع کرتے ہی ہم عدت کے ختم ہونے کا حکم لگا دیں گے، جبکہ بعض کہتے ہیں نہیں کہ جب تک نماز پوری نہ کر لے تاکہ تیمم کے ذریعے نماز کا جواز ثابت ہو جائے بھئی، اور اسی کو علماء نے ترجیح دی ہے بھئی کہ نماز جب پوری کر لے گی تو پھر اس کے بعد عدت ختم ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ اور اگر عورت نے غسل کیا، دس دن سے کم میں حیض رکا ہے، عورت نے غسل کیا اور اپنے بدن میں سے کچھ حصہ بھول گئی یعنی اس کے بارے میں اس کو شک آ گیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں شک کی بات ہو رہی ہے، یقین کی نہیں۔ اگر عورت کو یقینی طور پر یاد ہے کہ میں نے پورا عضو یا عضو کا کچھ حصہ نہیں دھویا، پھر تو بالاتفاق عدت ختم نہیں ہے جب تک اس حصے کو نہ دھو لے وہ۔ تو یہاں صرف شک کی بات ہو رہی ہے، تو عورت کو شک آ گیا ایک پورے عضو میں یا عضو سے کم کے اندر، تو بتلایا کہ اگر پورا عضو یا اس سے زیادہ کے اندر شک آیا ہے تو ابھی رجعت منقطع نہیں، اور اگر عضو سے کم کے اندر شک آیا ہے تو رجعت منقطع ہو چکی ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا یہ استحسان ہے بھئی، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ استحسان اس قیاسِ خفی کو کہتے ہیں جس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہو بھئی، تو یہاں بھی اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہے بھئی۔ یہاں دو قیاس ہیں: ایک امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اور ایک امام محمد رحمہ اللہ کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر پورا عضو بھی رہ جائے تو بھی رجعت ختم ہوگئی کیونکہ ”وَلِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ“ بھئی، کیونکہ اکثر بدن کو تو عورت نے دھو لیا ہے، ”وَلِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ“ تو یوں سمجھو گویا سارے بدن کو ہی دھو لیا ہے۔ اور سارے بدن کو دھونے کی صورت میں تو عدت ختم ہوتی تھی، رجوع منقطع ہوتا تھا، تو لہٰذا یہاں پر بھی رجوع کے منقطع ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ تو جب پورے عضو کا یہ حکم ہے تو عضو سے کم کا بطریقِ اولیٰ یہ حکم ہوگا کہ اس صورت میں بھی رجعت کو منقطع قرار دیا جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر عضو سے کم بھی شک آ گیا تو بھی یہ حدث ہے، اس کی تجزی نہیں ہو سکتی۔ حدث یا طہارت کی تجزی نہیں ہو سکتی، حدث ہے تو سارے بدن پر ہے اور یا طہارت ہے تو سارے بدن پر ہے، یہ نہیں ہو سکتا کچھ بدن پر طہارت ہو اور کچھ بدن پر حدث ہو بھئی۔ لہٰذا اگر عضو سے کم کے اندر بھی شک آیا ہے تو طہارت نہیں آئی، معلوم ہوا حدث ابھی بھی موجود ہے، جب حدث موجود ہے تو ابھی رجعت منقطع نہیں۔ تو جب عضو سے کم کے اندر رجعت منقطع نہیں ہے تو پورے عضو میں بطریقِ اولیٰ رجعت منقطع نہیں ہے۔ جبکہ ان قیاسوں کے مقابلے میں استحسان یہ ہے کہ پورے عضو میں اور عضو سے کم کے اندر فرق ہے۔ امام ابو یوسف کے قیاس کے مطابق بھی پورا عضو ہو یا عضو سے کم ہو دونوں کا ایک ہی حکم تھا، امام محمد رحمہ اللہ کے قیاس کے مطابق بھی پورا عضو ہو یا عضو سے کم ہو دونوں کا ایک ہی حکم ہے، لیکن استحسان یہ ہے کہ دونوں میں فرق ہے۔ وجہ یہ کہ عضو سے جو کم ہوتا ہے وہ حصہ جلدی خشک ہو جاتا ہے، تھوڑا سا حصہ جلدی خشک ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ بات یقینی نہیں کہ اس کو پانی نہیں پہنچا، ہو سکتا ہے اس کو پانی پہنچ گیا ہو اور جلدی خشک ہو گیا ہے۔ تو لہٰذا اس تک پانی کا نہ پہنچنا یقینی نہیں، جب پانی کا نہ پہنچنا یقینی نہیں ہے، ہو سکتا ہے پانی پہنچ گیا ہو، تو ہم کیا حکم لگائیں گے؟ کہ غسل ہو چکا ہے، جب غسل ہو گیا تو رجعت منقطع ہوگئی۔ جبکہ پورا عضو جو ہے وہ تو اتنی جلدی خشک نہیں ہوتا، اور نیز عادتاً اس سے انسان غافل بھی نہیں ہوتا، بالخصوص جب وہ پاکی والا غسل کر رہا ہے تو اس کے بدن کی طرف پوری توجہ ہوتی ہے کہ کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔ تو عضو سے کم تو رہ سکتا ہے لیکن پورا عضو نہیں رہ سکتا اور نہ وہ جلدی خشک ہوتا ہے، تو معلوم ہوا دونوں میں فرق آ گیا بھئی، عضو سے کم میں اور پورے عضو میں فرق ہے، لہٰذا عضو سے کم ہو تو ہم کہیں گے رجعت منقطع ہو چکی ہے اور اگر پورا عضو ہے تو ہم کہیں گے رجعت ابھی منقطع نہیں ہوئی بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے چند مسائل ذکر فرمائے تھے جہاں پر ضمناً اور حکماً رجوع ثابت ہوتا تھا، مثلاً ایک شخص نے بیوی کو طلاق دی اور یہ حاملہ ہے، اور یہ شخص کہتا ہے میں نے اس سے صحبت نہیں کی، اور اس عورت نے طلاق کے بعد چھ ماہ سے کم کے اندر بچے کو جنم دیا، حالانکہ ایک صحیح سلامت بچے کی پیدائش چھ ماہ سے کم میں نہیں ہو سکتی بھئی، کم از کم چھ ماہ کے اندر ایک صحیح سلامت بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔ اور یہ عورت طلاق کے بعد ابھی چھ مہینے نہیں گزرے کہ اس نے بچے کو جنم دیا، تو اس بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہو جائے گا، اور جب بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہو گیا معلوم ہوا خاوند نے جھوٹ بولا تھا کہ میں نے وطی نہیں کی، کیونکہ نسب تو تب ہی ثابت ہو سکتا ہے جب خاوند نے وطی کی ہو۔ لہٰذا شریعت خاوند کو جھٹلا رہی ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے: ”اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ“ کہ بچہ جو ہوتا ہے وہ فراش کے لیے یعنی صاحبِ فراش کے لیے ہوتا ہے، یعنی بچہ خاوند کا شمار ہوتا ہے، تو بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔ اور جب نسب ثابت ہو گیا تو خاوند کی وطی ثابت ہوگئی، جب خاوند کی وطی ثابت ہوگئی تو اب اس عورت پر عدت بھی ہے اور عدت کے اندر اگر خاوند نے رجوع کیا تھا تو وہ رجوع بھی صحیح ہو جائے گا۔ اور اس کے مقابلے میں اگر ایک عورت ہے اس نے طلاق سے پہلے ایک بچے کو جنم دیا ہے، اور یہ بچہ نکاح کے چھ ماہ یا اس کے زیادہ کے بعد پیدا ہوا ہے، کیونکہ چھ ماہ سے پہلے تو صحیح سلامت بچے کی پیدائش نہیں ہو سکتی، تو نکاح کو چھ ماہ یا اس سے زیادہ گزر چکے ہیں اور عورت نے ایک بچے کو جنم دیا تھا تو وہ خود بخود اسی خاوند کا شمار ہوگا۔ اور بچے کا نسب جب خاوند سے ثابت ہو رہا ہے معلوم ہوا خاوند نے وطی کی تھی۔ اور پھر خاوند اب اس عورت کو طلاق دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تو صحبت نہیں کی، تو شریعت خاوند کو جھٹلا رہی ہے، لہٰذا اس صورت میں بھی خاوند کو رجوع کا حق ہوگا، اگرچہ اس نے کہا ہے میں نے صحبت نہیں کی لیکن شریعت اسے جھٹلا رہی ہے، اسے رجوع کا حق ہے بھئی، عدت کے اندر وہ رجوع کر سکتا ہے بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ خلوت کی بھئی، اور پھر بعد میں کہتا ہے کہ میں نے تو اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، تو یہاں پر شریعت اس کو نہیں جھٹلا رہی، لہٰذا اس خاوند کو رجوع کا حق نہیں ہوگا بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں بھی تو شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے کیونکہ خلوتِ صحیحہ کی وجہ سے بھی پورا مہر خاوند پر واجب ہو جاتا ہے اور پورا مہر تو وطی کی صورت میں ہی آیا کرتا ہے، معلوم ہوا یہاں پر شریعت کیا کہہ رہی ہے؟ خاوند وطی کر چکا ہے جبھی تو پورا مہر اس پر لازم ہوا ہے۔ تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ نہیں بھئی، یہ خلوت کی وجہ سے جو پورا مہر خاوند پر واجب ہوتا ہے اس کی وجہ وطی نہیں ہوتی بلکہ عورت کا اپنے آپ کو سپرد کرنا ہے کہ عورت نے تو اپنے آپ کو پورے طور پر خاوند کے سپرد کر دیا ہے، اب وطی کرنا یا نہ کرنا وہ تو خاوند کا کام ہے، تو جب عورت نے مبدل خاوند کے حوالے کر دیا تو بدل یعنی مہر کے اندر بھی اس کا حق آ گیا، وہ پورا مہر اب خاوند کو دینا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا خلوتِ صحیحہ کے اندر جو پورا مہر آتا ہے اس کی بنیاد صحبت پر نہیں ہے بلکہ تسلیمِ مبدل پر ہے کہ عورت نے مبدل سپرد کر دیا تھا یعنی اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا تھا بھئی۔ چنانچہ یہ شخص جس نے خلوت کی ہے اور کہتا ہے میں نے صحبت بھی نہیں کی، بعد میں رجوع بھی کر لیتا ہے، اور پھر یہ عورت جو ہے آگے چل کر دو سال سے پہلے پہلے ایک بچے کو جنم دیتی ہے، یعنی طلاق اور بچے کی پیدائش میں دو سال سے کم از کم ایک دن کم ہے۔ زیادہ ہو تو اور اچھی بات ہے، طلاق دینے کے بعد چھ مہینے کے بعد بچے کو عورت نے جنم دیا یا سات کے بعد جنم دیا یا آٹھ کے بعد جنم دیا، تو بس دو سال سے کم مدت کے اندر عورت نے بچے کو جنم دیا۔ تو دیکھو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نسب کے ثابت کرنے میں بے انتہا احتیاط سے کام لیا جاتا ہے اور پوری کوشش کی جاتی ہے کہ بچے کا نسب ثابت کیا جائے ورنہ تو بچہ ضائع ہو جائے گا، ہلاک ہو جائے گا، کوئی اس کی تربیت کرنے والا نہیں ہوگا، کوئی اس کو کھلانے پلانے والا نہیں ہوگا۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی دیکھو وہ شخص تو کہہ رہا ہے میں نے صحبت بھی نہیں کی اور طلاق دے دی ہے، اور عورت دو سال سے پہلے پہلے ایک بچے کو جنم دے رہی ہے، طلاق کے بعد دو سال پورے ہونے سے پہلے پہلے ایک عورت بچے کو جنم دے رہی ہے، تو اس بچے کے نسب کے ثابت کرنے کی صورت ہے کہ اس کو اسی شخص کا بچہ قرار دیا جائے ورنہ تو یہ بچہ ہلاک ہو جائے گا۔ تو جب دو سال سے ایک دن بھی کم ہے تو وہ ایک دن یہ طلاق سے پہلے والا ملا لیں گے، معلوم ہوا خاوند نے طلاق دینے سے پہلے اس نے صحبت کی تھی، اور یہ بچہ اسی کا ہے، تو دیکھو اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا، اور یہ جو شخص نے کہا تھا میں نے صحبت نہیں کی، معلوم ہوا یہ جھوٹ بول رہا تھا۔ لہٰذا اس نے اگر رجوع بھی بعد میں کیا تھا تو اس کے قول کے مطابق تو رجوع صحیح نہیں بنتا لیکن بچے کی پیدائش کو دیکھیں تو رجوع کو صحیح قرار دینا پڑے گا، معلوم ہوا کہ یہ شخص رجوع کر لے تو رجوع ثابت ہو جائے گا، بات سمجھ میں آگئی۔ تو دیکھو بچے کے نسب کے لیے کتنی شریعت نے احتیاط کی بھئی۔ اور اسی طرح مسئلہ ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے، ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نے بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے۔ اور پھر اس بچے کے بعد عورت نے ایک اور بچے کو جنم دیا چھ ماہ یا اس سے زیادہ کے اندر، تو بھی شریعت کوشش کرے گی بچے کا نسب ثابت ہو جائے، شریعت کہتی ہے یہ بھی اسی خاوند کا بچہ ہے، حالانکہ اس نے تو نہیں کہا، لیکن شریعت کہتی ہے یہ اسی کا بچہ ہے، معلوم ہوا جب پہلا بچہ ہوا تھا طلاق ہوگئی اور طلاق کے بعد عدت آتی ہے اور عدت کے اندر خاوند کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، معلوم ہوا خاوند نے رجوع کر لیا تھا۔ تو یہ دوسرا بچہ ہے اس کا نسب بھی کس سے شمار کیا جائے گا؟ اسی خاوند سے شمار کیا جائے گا۔ لیکن یہ دونوں مسئلوں کے اندر، یہ والا مسئلہ اور پچھلا مسئلہ، اس میں یہ ضروری ہے کہ عورت نے اپنے عدت کے گزرنے کا اقرار نہ کیا ہو بھئی درمیان میں۔ اگر اس نے درمیان میں اقرار کر لیا تھا کہ میری عدت تو گزر گئی ہے تو پھر اب تو کوئی صورت نہیں ہے، یہ بچہ خاوند کا قرار نہیں دیا جا سکتا، معلوم ہوا یہ بعد میں کہیں حمل ٹھہرا ہے زنا کی وجہ سے اور اس سے یہ بچہ پیدا ہوا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا اسی طرح ایک خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: جب بھی تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے۔ تو عورت نے بچے کو جنم دیا اور پھر اس کے بعد چھ ماہ یا آٹھ ماہ، دس ماہ بعد یا ڈیڑھ سال بعد اس نے ایک اور بچے کو جنم دیا، تو ہم کہیں گے کہ یہ خاوند نے رجوع کیا تھا، یہ دوسرا بچہ بھی اسی کا ہے، دیکھو بچے کا نسب ثابت کر دیا، اور لیکن ساتھ ہی دوسری طلاق بھی ہوگئی۔ پھر اس کے بعد عورت نے اس کے بعد پھر ایک اور بچے کو جنم دیا بھئی، تو چاہے سال بعد بچے کو جنم دے چاہے دو سال بعد بھی بچے کو جنم دے ہم کہیں گے یہ اسی خاوند کا ہے۔ آپ کہیں گے بھئی دو سال کے بعد کیسے ہو سکتا ہے؟ بھئی وجہ یہ کہ عدت کبھی لمبی ہو جاتی ہے، بعض اوقات عورت کو کئی کئی مہینے تک حیض ہی نہیں آتا، تو جب تک عورت اقرار نہ کر لے کہ میری عدت گزر گئی ہے، عورت نے اگر یہ اقرار نہیں کیا تو ہم بچے کا نسب خاوند سے ثابت کر دیں گے بھئی، کیونکہ نسب کے ثبوت میں بے انتہا احتیاط کی جاتی ہے۔ تو اب یہ جو تیسرا بچہ پیدا ہوا یہ بھی ہم یوں ہی شمار کریں گے کہ خاوند نے رجوع کر لیا تھا اور اس کی وطی سے یہ بچہ پیدا ہوا ہے، اور پھر اس تیسرے بچے پر تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی، اب تو اس کے بعد رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی، لہٰذا اس کے بعد اگر کوئی بچے کو وہ عورت جنم دیتی ہے اب یہ خاوند کا شمار نہیں ہوگا۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ معنی نہیں کہ اب یہ عورت بچوں کو جنم دے رہی ہے اور آپ خاوند کے سر ان بچوں کو ڈالتے جا رہے ہیں، نہیں نہیں، خاوند کو بھی شریعت نے اختیار دیا ہے، وہ کیا کر سکتا ہے؟ قاضی کے پاس جا کر لعان کر کے بچے کے نسب کی اپنے سے نفی کر سکتا ہے، لیکن یہ نفی ابتدائی دنوں میں ہوگی جب بچے کے ابتدائی دنوں میں اس کی ضرورت کی چیزیں وغیرہ خریدی جاتی ہیں اور لوگ تحفے وغیرہ دیتے ہیں بچے کی پیدائش پر، تو یہ ابتدائی دنوں کے اندر وہ خاوند لعان کر سکتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ مطلقہ رجعیہ جو ہے اس کے ساتھ تو خاوند کا نکاح ابھی موجود ہے اور خاوند اس کے ساتھ صحبت بھی کر سکتا ہے، اور رجوع کرنا مستحب بھی ہے، لہٰذا یہ عورت بناؤ سنگھار کر سکتی ہے اور زیب و زینت اختیار کر سکتی ہے تاکہ خاوند اس کی طرف مائل ہو جائے اور رجوع کر لے۔ ہاں البتہ خاوند اس مطلقہ رجعیہ کو سفر پر نہیں لے جا سکتا جب تک رجوع نہ کر لے، وجہ یہ کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ﴾ کہ ان مطلقاتِ رجعیہ کو ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور سفر پر لے کر جائے گا تو گھر سے نکالنا پڑے گا باہر، قرآن میں واضح منع آیا ہے لہٰذا باہر نہیں لے جا سکتا۔ اور نیز عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائی، عقلی دلیل یہ کہ طلاق جو ہے وہ مبطلِ نکاح ہے، تو اس نے جب طلاقِ رجعی دی ہے، کیا دی ہے؟ طلاقِ رجعی دی ہے تو پھر اس کے باوجود خاوند کو رجوع کا حق دیا ہے شریعت نے اس پر شفقت کرتے ہوئے، خاوند پر شفقت کرتے ہوئے اسے رجوع کا حق دیا ہے کہ کہیں خاوند کو ندامت پیش آ جائے اور وہ رجوع کرنا چاہے، اپنی غلطی کی وہ تلافی کرنا چاہے تو وہ تلافی کر سکے۔ تو خاوند کو حاجت ہے رجوع کرنے کی کیونکہ ہو سکتا ہے اس کو ندامت پیش آ جائے، طلاق تو اصل میں مبطلِ نکاح ہے، طلاق ہوتے ہی نکاح ٹوٹنا چاہیے تھا لیکن شریعت نے اس مبطلِ نکاح یعنی طلاق کے اثر کو مؤخر کر دیا عدت کے گزرنے تک۔ عدت جب گزرے گی تب یہ مبطل اپنا اثر کرے گا، اور نیز اگر خاوند بیچ میں رجوع نہیں کرتا معلوم ہوا خاوند کو حاجت نہیں، اور جب حاجت نہیں ہے تو معلوم ہوا مبطل کے اثر کو مؤخر کرنے کی ضرورت بھی نہیں، جب مبطل کا اثر مؤخر کرنے کی ضرورت نہیں ہے مثلاً عدت گزر گئی، عدت گزر گئی معلوم ہوا خاوند کو حاجت نہیں تھی اس کو رجوع کرنے کی حاجت، جب حاجت نہیں تھی تو مبطل کا اثر مؤخر کرنے کی ضرورت نہیں، جس وقت خاوند نے طلاق دی تھی اس وقت سے ہی نکاح کو باطل قرار دیا جائے گا، اور جب اس وقت سے نکاح باطل ہے معلوم ہوا اس کے بعد ہی جو عورت نے تین حیض گزارے ہیں یہ وہ عدت والے ہیں بھئی۔ ورنہ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ جس وقت عدت گزرے گی پھر نکاح ٹوٹے گا تو پھر تو اس نکاح ٹوٹنے کے بعد دوبارہ ایک نئی عدت عورت کو گزارنا پڑے گی، لیکن یہاں عورت پر نئی عدت نہیں آتی، معلوم ہوا جب خاوند کو حاجت نہیں ہے، ضرورت نہیں ہے تو مبطل کے اثر کو اسی وقت سے تسلیم کر لیا جائے گا جب خاوند نے طلاق دی تھی۔ اور جب اس وقت سے مبطل اپنا اثر کر چکا ہے، مبطل اپنا اثر کر چکا ہے تو عورت تو خاوند سے جدا ہو چکی ہے تو لہٰذا خاوند کو عدت کے اندر بھی اس کو سفر پر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ یہ جو طلاقِ رجعی ہے یہ ہمارے نزدیک تو اس کے اندر وطی حلال ہوتی ہے، البتہ وطی کرے گا خاوند تو رجوع ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاقِ رجعی کے اندر بھی وطی حرام ہو جاتی ہے کیونکہ طلاق آ چکی ہے اور طلاق قاطعِ زوجیت ہے، یہ کیا کرتی ہے؟ زوجیت کو قطع کر دیتی ہے، نکاح کو ختم کر دیتی ہے، تو وہ فرماتے ہیں کہ نکاح ٹوٹ چکا ہے اور اب خاوند اس کے ساتھ رجوع کرے گا تو یہ رجوع ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے، اور ابتدائے نکاح تو جیسے نکاح کے شروع میں ایجاب و قبول ہوتا تھا، قول ضروری ہوتا تھا، قول کے بغیر نکاح نہیں ہوتا تھا تو یہاں پر بھی یہ رجوع بھی ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے لہٰذا یہاں بھی خاوند کا زبان سے رجوع کرنا ضروری ہے، فعل کے ذریعے رجوع نہیں ہو سکتا۔ تو اس کا جواب دیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ ہمارے نزدیک جو ہے یہ رجوع جو ہے یہ استدامتِ نکاح کا نام ہے یعنی نکاح کو برقرار رکھنا، وجہ یہ کہ یہ شریعت نے جو اختیار دیا ہے خاوند کو یہ خاوند پر شفقت کرتے ہوئے دیا ہے کہ خاوند کو بعد میں اگر ندامت ہو تو یہ اپنے کیے ہوئے کی تلافی کر سکے بھئی، تو جب یہ خاوند پر شفقت کرتے ہوئے شریعت نے اختیار دیا ہے تو خاوند اس میں مستقل ہوگا بھئی۔ چنانچہ اسی لیے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی جب خاوند رجوع کرے تو عورت کی مرضی کو نہیں دیکھا جائے گا، چاہے اس کی مرضی ہو چاہے نہ ہو، رجوع ہو جائے گا۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی خاوند رجوع کے اندر مستقل ہے، ہمارے نزدیک بھی خاوند رجوع کے اندر مستقل ہے، جب خاوند رجوع کے اندر مستقل ہے معلوم ہوا ملکیت باقی ہے۔ اگر ملکیت ختم ہو چکی ہوتی اور نئی ملکیت آنی ہے تو پھر اس میں تو دونوں کی مرضی ضروری ہوتی ہے، صرف ایک کی مرضی سے تو کام نہیں چل سکتا بھئی، جیسے ابتدائے نکاح کے اندر خاوند کے ساتھ ساتھ بیوی کی رضامندی بھی ضروری ہوتی ہے، دونوں کی طرف سے ایجاب و قبول ضروری ہوتا ہے پھر ہی نکاح ہوتا ہے، ویسے نکاح نہیں ہوتا، تو یہاں پر بھی اگر یہ ابتدائے نکاح کے درجے میں ہوتا تو بیوی کی رضامندی بھی ضروری ہوتی، لیکن بیوی کی رضامندی تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ضروری نہیں ہے، معلوم ہوا یہ جو رجوع ہے یہ استدامتِ نکاح ہے، یہ انشاءِ نکاح نہیں۔ انشاء کا معنی وجود دینا، یہ نکاح کو وجود نہیں دیا جا رہا بلکہ استدامتِ نکاح ہے، نکاح کو برقرار رکھا جا رہا ہے، نکاح کو برقرار رکھا جا رہا ہے، اگر نکاح کو برقرار نہیں رکھے گا تو عدت گزرنے کے بعد عورت جدا ہو جائے گی بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ رجوع جو ہے استدامتِ نکاح کا نام ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا طلاق جو ہے وہ قاطعِ نکاح ہے تو طلاق آ گئی ہے لہٰذا نکاح ٹوٹ چکا ہے لہٰذا رجوع جو ہے وہ ابتدائے نکاح کا نام ہے، رجوع جو ہے کیونکہ قاطعِ زوجیت ایک چیز آ چکی ہے یعنی طلاق، ہم کہتے ہیں آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے، طلاق جو ہے قاطعِ زوجیت ہے لیکن شریعت نے اس کے عمل کو مؤخر کر دیا عدت کے گزرنے تک خاوند پر شفقت کرتے ہوئے، یا بالاجماع بھئی کیونکہ آپ کے نزدیک بھی خاوند کے رجوع کرنے سے رجوع ہو جائے گا، بیوی کی رضامندی ضروری نہیں، معلوم ہوا ہمارا اور آپ کا اس بات میں اتفاق ہے کہ خاوند مستقل ہوتا ہے رجوع کرنے میں، جب خاوند مستقل ہے رجوع کرنے میں تو معلوم ہوا کہ یہ ابتدائے نکاح نہیں ہے بھئی بلکہ یہ استدامتِ نکاح ہے، اگر ابتدائے نکاح ہوتا تو خاوند مستقل نہیں ہو سکتا تھا، بیوی کی مرضی بھی ضروری ہوتی بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”فَصْلٌ فِي مَا تَحِلُّ بِهِ الْمُطَلَّقَةُ“ بھئی گزشتہ سبق میں تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو رجوع کے بارے میں بتلایا تھا کہ اگر خاوند کیا کر لے؟ طلاقِ رجعی دے دے تو پھر رجوع کیسے کرنا ہے؟ اور اب صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاقِ بائن دے دی ہے یا بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، یا طلاقِ رجعی دی تھی لیکن خاوند نے رجوع نہیں کیا اور عدت گزر گئی، عورت بائنہ ہو گئی، تو ان صورتوں میں پھر دوبارہ یہ عورت خاوند کے لیے کیسے حلال ہوگی؟ اگر طلاقِ بائن ہو گئی ہے یا تین طلاقیں آ گئی ہیں تو یہ عورت دوبارہ اب خاوند کے لیے کیسے حلال ہوگی؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی پہلے بھی یہ بات کئی دفعہ ذکر ہو چکی کہ اگر خاوند بیوی کو طلاقِ بائن دے دے تو نکاح ٹوٹ گیا، اب رجوع تو نہیں کر سکتا لیکن اگر دوبارہ اسی عورت کو وہ رکھنا چاہتا ہے تو پھر نیا نکاح کرنا پڑے گا اور نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔ پھر خاوند نے دوسری طلاقِ بائن بھی دے دی کچھ عرصے کے بعد تو اب بھی اس عورت سے خاوند نکاح کر سکتا ہے۔ یہ عورت اگر کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے بعد نکاح کرے گی، لیکن اگر اسی خاوند سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتی ہے اور عدت کے بعد بھی نکاح کر سکتی ہے۔ تو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے وہ دوبارہ اسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتا ہے اور عدت کے بعد بھی نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن اگر تین طلاقیں دے دی ہیں اب نکاح کی کوئی صورت نہیں، اب حرمتِ مغلظہ آ گئی، سخت قسم کی حرمت آ گئی، اب اس عورت کو کسی اور سے ہی نکاح کرنا پڑے گا۔ پھر اگر اس شخص نے زندگی میں کبھی طلاق دے دی یا اس شخص کا انتقال ہو گیا تو پھر عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند کے لیے اس سے نکاح جائز ہو جائے گا، ویسے جائز نہیں۔ معلوم ہوا کہ جب خاوند تین طلاقیں دے دے پھر نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے الا یہ کہ درمیان میں ایک دوسرا خاوند آئے، وہ محلل ہے، وہ دوسرا خاوند وہ پہلے خاوند کے لیے اس بیوی کو حلال کرے گا، لیکن دوسرے خاوند میں صرف نکاح کافی نہیں ہے بلکہ وہاں دوسرے خاوند کی صحبت بھی ضروری ہے، وہ صحبت کرے گا تو پھر ہی پہلے خاوند کے لیے حلال ہوگی، اگر صرف نکاح کیا اور طلاق دے دی دوسرے خاوند نے تو پھر یہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھیے اب صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي مَا تَحِلُّ بِهِ الْمُطَلَّقَةُ“ یہ فصل ہے ان چیزوں کے بیان میں کہ جن کے ذریعے مطلقہ حلال ہو جاتی ہے۔ ”وَإِذَا كَانَ الطَّلَاقُ بَائِنًا دُونَ الثَّلَاثِ“ اور اگر طلاق جو ہے وہ بائن ہو دون الثلاث تین کے علاوہ یعنی تین نہ ہوں، تین سے کم ہوں، خاوند نے بیوی کو طلاقِ بائن دی ہے لیکن تین طلاقیں نہ ہوں، تین سے کم ہوں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ الطَّلَاقُ بَائِنًا دُونَ الثَّلَاثِ“ اور جب طلاق جو ہے وہ ایسی بائن ہو جو تین سے کم ہو، ”فَلَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فِي الْعِدَّةِ“ تو خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے عدت میں بھی، ”وَبَعْدَ انْقِضَائِهَا“ اور عدت کے گزرنے کے بعد بھی، ”لِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ بَاقٍ“ اس لیے کیونکہ اس محل کا حلال ہونا باقی ہے۔ بھئی یہ عورت جس کو خاوند نے ایک طلاقِ بائن دی ہے یہ ابھی بھی اس خاوند کے لیے حلال ہے، یہ دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ پھر اگر دوسری طلاقِ بائن بھی خاوند نے بعد میں دے دی، یہ عورت ابھی بھی اس کے لیے حلال ہے، خاوند اس سے نکاح کر سکتا ہے، لیکن اگر خاوند نے پھر تیسری طلاق دے دی تو اب یہ عورت خاوند کے لیے محلِ نکاح ہی نہیں ہے، خاوند اس سے نکاح کر ہی نہیں سکتا بھئی۔ تو اب محل کا حلال ہونا ختم ہوگیا، ہاں پھر درمیان میں کوئی محلل آئے، یہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ صحبت کرے اور پھر وہ چھوڑ دے تو پھر پہلے خاوند کے لیے حلال ہوگی۔ تو جب تک تین طلاقیں پوری نہیں عورت اسی خاوند کے لیے حلال ہے، وہ نکاح کر سکتا ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ بَاقٍ“ اس لیے کیونکہ اس محل کا حلال ہونا ابھی بھی باقی ہے، ”لِأَنَّ زَوَالَهُ مُعَلَّقٌ بِالطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ“ اس لیے کیونکہ اس حلت کا ختم ہونا، یہ عورت ابھی بھی خاوند کے لیے حلال ہے، اس کا حلال ہونا کب ختم ہوگا؟ تین طلاقوں کے ساتھ، اگر تین طلاقیں پوری ہو گئیں اب یہ خاوند کے لیے حلال نہ رہے گی، بات سمجھ میں آگئی، یہ معنی ہے ”لِأَنَّ زَوَالَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حلت ہے اس کا ختم ہونا ”مُعَلَّقٌ بِالطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ“ یہ معلق ہے تیسری طلاق کے ساتھ، ”فَيَنْعَدِمُ قَبْلَهُ“ لہٰذا یہ زوالِ حلت جو ہے، حلت کا ختم ہونا ”يَنْعَدِمُ“ یہ معدوم ہوگا ”قَبْلَهُ“ تیسری طلاق سے پہلے، تیسری طلاق سے پہلے تک حلت موجود ہے، اس وقت تک حلت کا ختم ہونا نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْعُ الْغَيْرِ فِي الْعِدَّةِ لِاشْتِبَاهِ النَّسَبِ“ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا متن کے اندر کہ خاوند نے بیوی کو طلاقِ بائن دی ہے، ابھی تین طلاقیں پوری نہیں ہوئیں تو خاوند عدت کے اندر بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے اور عدت کے بعد بھی، لیکن اگر کسی اور سے یہ عورت نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے بعد ہی نکاح کرنا پڑے گا، عدت سے پہلے نہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے؟ اس خاوند کے نکاح اور دوسرے کے نکاح میں کیا فرق ہے کہ آپ خاوند کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتا ہے اور دوسرے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ عدت کے اندر نکاح نہیں کر سکتا؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ جو غیر کے ساتھ نکاح سے عورت کو منع کیا گیا ہے وہ اس وجہ سے تاکہ کہیں بچے کا نسب مشتبہ نہ ہو جائے۔ اگر طلاق کے فوراً بعد عورت نکاح کر لے گی تو جو بچہ پیدا ہوگا اس کا نسب تو مشتبہ ہے، معلوم نہیں یہ پچھلے خاوند کی اولاد ہے یا اس نئے خاوند کی اولاد ہے، لیکن جب درمیان میں تین حیض گزر جائیں گے معلوم ہوا یہ عورت پہلے خاوند سے حاملہ نہیں، اس کے پیٹ میں پہلے خاوند کی کوئی اولاد نہیں ہے، تو اب جو بچہ پیدا ہوگا وہ دوسرے خاوند ہی کا شمار ہوگا۔ تو لہٰذا یہ جو دوسرے کے ساتھ نکاح سے منع کیا گیا ہے عورت کو عدت کے اندر اس کی وجہ کیا ہے؟ اشتباہِ نسب، نسب کا مشتبہ ہونا۔ اور جبکہ اگر اسی خاوند سے عورت نکاح کرے گی تو چاہے عدت کے اندر بھی نکاح کر لے اشتباہِ نسب تو نہیں ہے، کیونکہ پہلے بھی یہی خاوند تھا اب بھی وہی خاوند ہے، معلوم ہوا بچہ اسی کا شمار ہوگا، تو یہاں تو کوئی اشتباہِ نسب نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْعُ الْغَيْرِ فِي الْعِدَّةِ“ اور دوسروں کو منع کرنا عدت کے اندر کہ وہ اس سے نکاح کریں، تو دوسروں کو منع کرنا عدت کے اندر نکاح سے ”لِاشْتِبَاهِ النَّسَبِ“ یہ نسب کے مشتبہ ہونے کی وجہ سے ہے، ”وَلَا اشْتِبَاهَ فِي إِطْلَاقِهِ“ اور کوئی اشتباہ نہیں ہے ”فِي إِطْلَاقِهِ“، اطلق یطلق اطلاق کا معنی ہے آزاد کر دینا، مطلق کو بھی مطلق کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ وہ آزاد ہوتا ہے، اس میں کوئی قید نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا اشْتِبَاهَ فِي إِطْلَاقِهِ“ اور اس خاوند کے اطلاق کے اندر کوئی اشتباہ نہیں ہے، یعنی اس کو مطلق چھوڑ دیا جائے چاہے یہ عدت کے اندر نکاح کرے اور چاہے عدت کے بعد نکاح کرے، اس کے اطلاق میں کوئی اشتباہ نہیں کیونکہ جو بھی بچہ پیدا ہوگا وہ اسی خاوند کا ہوگا بھئی، وہاں کوئی اشتباہ نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا اشْتِبَاهَ فِي إِطْلَاقِهِ“ اور اس خاوند کے مطلق ہونے میں یعنی اس کے لیے نکاح جائز ہونے میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ أَوْ ثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ“ اب صورت یہ کہ خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، اور یہی حکم ہے باندی کا بھی اگر اس کو خاوند دو طلاقیں دے دے، کیونکہ آزاد عورت کی زیادہ سے زیادہ تین طلاقیں ہیں تو باندی کی دو طلاقیں ہیں، تو اگر خاوند نے آزاد عورت کو تین طلاقیں دے دیں یا اس کی عورت باندی تھی اور خاوند نے اس کو دو طلاقیں دے دیں، تو اب حرمتِ مغلظہ آ گئی، سخت قسم کی حرمت آ گئی، اب درمیان میں کوئی اور خاوند آئے گا اور وہ صحبت کرے گا تو پھر ہی یہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوگی ورنہ اب نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ أَوْ ثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ“ اور اگر طلاقیں تین ہوئیں آزاد عورت میں یا دو ہوئیں باندی میں، ”لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ“ تو یہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ یہ عورت کسی اور خاوند سے نکاح کر لے، ”نِكَاحًا صَحِيحًا“ اور نکاح بھی کیسا ہو؟ صحیح نکاح ہو۔ تو کہتے ہیں: ”لَمْ تَحِلَّ لَهُ“ یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہے ”حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا“ یہاں تک کہ یہ کسی دوسرے خاوند کے ساتھ صحیح نکاح کر لے، ”وَيَدْخُلَ بِهَا“ اور پھر وہ دوسرا خاوند اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے، ”ثُمَّ يُطَلِّقَهَا“ پھر وہ خاوند اسے طلاق دے دے ”أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا“ یا اس کو چھوڑ کر مر جائے، تو پھر اس صورت میں یہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوگی۔ ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى:“ اور اصل جو ہے یعنی دلیل اس کے اندر وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾، ”فَإِنْ طَلَّقَهَا“ اگر خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ”فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ“ تو یہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں ہے اس کے بعد۔ یاد رکھو اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں یہ جو طلاق ذکر ہو رہی ہے وہ تیسری طلاق ہے، کیونکہ تیسری طلاق کے بعد عورت خاوند کے لیے حلال نہیں رہتی، اب درمیان میں محلل کا آنا ضروری ہے، ایسا دوسرا خاوند جو کیا کر دے گا؟ پہلے خاوند کے لیے بیوی کو حلال کر دے گا تو اس کو کیا کہیں گے؟ محلل بھئی، حلال کرنے والا۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ﴾ کہ اگر خاوند بیوی کو تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد یہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہے، ﴿حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ یہاں تک کہ یہ عورت نکاح کر لے کسی دوسرے خاوند سے، یہاں تک کہ عورت نکاح کر لے کسی دوسرے خاوند سے۔ تو یہاں اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ کہ آیت کے اندر... تو صرف نکاح کا ذکر ہے۔ اور اے احناف! آپ نکاح کے ساتھ ساتھ دوسرے خاوند کی صحبت کی بھی قید لگاتے ہیں، تو اس کی کیا دلیل ہے؟ تو جواب یہ کہ آیت کے اندر ہی اس کی دلیل موجود ہے۔ کس طرح؟ کہ آیت میں کیا آیا؟ ﴿حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾۔ ”تَنكِحَ“ کا لفظ بھی آیا اور ”زَوْج“ کا لفظ بھی آیا، اور ”زَوْج“ کا لفظ نکاح پر دلالت کر رہا ہے۔ زوج اسی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ نکاح ہو۔ تو زوج کا لفظ خود نکاح پر دلالت کر رہا ہے، اور اس کے ساتھ ”تَنكِحَ“ کا لفظ بھی آ گیا، نکاح کا الگ لفظ بھی آ گیا۔ تو اگر یاد رکھو دو لفظ آئیں اور دوسرے لفظ کا آپ وہی معنی کریں جو پہلے کا تھا، پہلے لفظ سے ایک معنی کا پتہ چل گیا، آپ دوسرے کا بھی وہی معنی کریں تو اس کو کہتے ہیں تاکید۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تاکید۔ یعنی یہ اسی پہلے کے معنی کو پکا کر رہا ہے، جو پہلے کا معنی تھا وہی دوسرے کا بھی معنی ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تاکید۔ لیکن اگر پہلے لفظ کا معنی اور ہو اور دوسرے لفظ کا معنی اور ہو تو اس کو تاسیس کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تاسیس۔ یعنی نیا معنی آ رہا ہے۔ اور یاد رکھو: تاسیس اولیٰ ہے تاکید سے۔ التَّأْسِيسُ أَوْلَى مِنَ التَّأْكِيدِ۔ ایک لفظ کو اسی معنی پر محمول کرنا جو پہلے لفظ کا تھا، اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ لفظ کو نئے معنی پر محمول کیا جائے۔ یا یوں کہیں: ایک ہے اعادہ اور ایک ہے افادہ۔ اعادہ یہ ہے کہ پہلا لفظ جس معنی کا فائدہ دے رہا تھا، دوسرا بھی اسی معنی کا فائدہ دے رہا ہے۔ وہی تاکید کا نام کیا رکھ دو؟ اعادہ۔ تو یہ اعادہ ہے کہ اسی بات کو آپ نے دوبارہ لوٹا دیا۔ اور ایک ہے کہ دوسرے لفظ کا آپ نیا معنی کریں، اس کو کہیں گے افادہ، کہ یہ نیا فائدہ دے رہا ہے۔ تو اگر دوسرے لفظ کا وہی معنی ہے جو پہلے کا تھا، تو یہ تو اعادہ ہو گیا، آپ نے گویا وہی چیز دوبارہ لوٹا دی۔ اور اگر آپ اس کا نیا معنی کریں گے تو یہ افادہ ہو گیا، اس نے ایک الگ فائدہ دیا، اس لفظ نے ایک الگ فائدہ دیا جو فائدہ پچھلے لفظ نے نہیں دیا تھا۔ تو یہاں پر بھی ”تَنكِحَ“ لفظ پہلا ہے اور ”زَوْجًا“ بعد میں آ رہا ہے۔ ”تَنكِحَ“ سے نکاح کا پتہ چل گیا اور ”زَوْج“ سے بھی نکاح کا پتہ چل رہا ہے تو اس کو تاکید کہنا پڑے گا یا اس کو اعادہ کہنا پڑے گا۔ لیکن اگر ہم نکاح کا معنی وطی اور صحبت کے کر لیں— آپ نے پڑھا تھا جہاں کتاب النکاح شروع ہوئی تھی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاح کا لغوی معنی یعنی عربی زبان میں نکاح وطی کو بھی کہتے ہیں اور عقد کو بھی کہتے ہیں۔ وطی یعنی صحبت کرنا، اس کو بھی عربی زبان میں نکاح کہتے ہیں اور یہ جو عقد کیا جاتا ہے اس کو بھی نکاح کہا جاتا ہے۔ پھر بعض علماء فرماتے ہیں یہ دونوں معنی اس کے حقیقی ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ وطی حقیقی معنی ہے اور عقد اس کا مجازی معنی ہے، بعض اس کے برعکس کہتے ہیں، وہاں تفصیل میں نے بیان کی تھی۔ تو معلوم ہوا نکاح کا معنی عقد کے بھی ہیں اور نکاح کا معنی وطی کے بھی ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر ہم ”تَنكِحَ“ لفظ کا معنی وطی کے کر لیں گے۔ جب ”تَنكِحَ“ کا معنی وطی ہے تو معلوم ہوا ”زَوْج“ سے بھی نکاح کا معنی مفہوم ہو رہا ہے۔ تو ماقبل ”تَنكِحَ“ سے کیا مراد ہوا؟ وطی، اور اگلے ”زَوْج“ سے کیا مراد ہوا؟ نکاح۔ تو لہٰذا دیکھو یہ تاسیس آ گئی، اور تاسیس اولیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ تاکید کے مقابلے میں، یا یوں کہو افادہ اولیٰ ہے اعادے کے مقابلے میں۔ تو لہٰذا یہاں ”تَنكِحَ“ سے وطی معلوم ہو رہی ہے۔ معلوم ہوا دوسرے خاوند کا وطی کرنا بھی ضروری ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ ”تَنكِحَ“ کا معنی وطی کے کیسے کر سکتے ہیں؟ ”تَنكِحَ“ تو مؤنث کا صیغہ ہے، اس کی نسبت تو عورت کی طرف ہو رہی ہے، اور عورت تو وطی کرنے والی نہیں ہوتی، عورت تو موطوءہ ہوتی ہے۔ عورت تو موطوءہ ہوتی ہے، تو یہاں تو ”حَتَّىٰ تَنكِحَ“ کا کیا معنی بن جائے گا؟ ”حَتَّىٰ تَنكِحَ“ یہاں تک کہ وہ عورت وطی کر لے، بھئی وہ عورت وطی کرے گی یا خاوند وطی کرتا ہے؟ خاوند وطی کرتا ہے، تو یہاں تو عورت کی طرف نسبت ہو رہی ہے، مؤنث کا صیغہ ہے۔ تو جواب یہ کہ اس کو مجاز پر محمول کیا جائے گا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ”الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي“۔ عورت جس نے زنا کیا ہے اس کو قرآن میں زانیہ کہا گیا، حالانکہ وہ زانیہ نہیں ہے، وہ تو مزنیہ ہے، زنا کرنے والا تو مرد ہے اور عورت کیا ہے؟ مزنیہ ہے، یعنی اس نے زنا کی قدرت دی ہے اس شخص کو۔ تو وہ مزنیہ ہے، لیکن عورت کو مجازاً زانیہ یعنی زنا کرنے والی کہا گیا۔ تو یہاں پر بھی ”تَنكِحَ“ عورت کی طرف مجازاً نسبت کر دی گئی۔ وہ وطی کرنے والی ہے یعنی وطی پر قدرت دینے والی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ﴾ اگر خاوند بیوی کو تیسری طلاق دے دے تو وہ بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہے اس کے بعد، ﴿حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ یہاں تک کہ کوئی دوسرا خاوند اس کے ساتھ صحبت کر لے۔ ”وَالمُرَادُ الطَّلْقَةُ الثَّالِثَةُ“ اور اس آیت کے اندر جو طلاق کا لفظ آیا تھا اس سے مراد تیسری طلاق ہے، میں نے بتلایا اکثر مفسرین کے نزدیک تیسری طلاق ہے، کیونکہ اسی کے بعد عورت حلال نہیں رہتی۔ ”وَالثِّنْتَانِ فِي حَقِّ الأَمَةِ كَالثَّلَاثِ فِي حَقِّ الحُرَّةِ“ اور دو طلاقیں باندی کے حق میں اسی طرح ہیں جیسے تین طلاقیں ہیں آزاد عورت کے حق میں، ”لِأَنَّ الرِّقَّ مُنَصِّفٌ لِحِلِّ المَحَلِّيَّةِ عَلَى مَا عُرِفَ“ اس لیے کیونکہ غلامی جو ہے منصف وہ تنصیف کرتی ہے، وہ آدھا کر دیتی ہے لحل المحلیة محل کے حلال ہونے کو، علی ما عرف اس وجہ سے جو جان لیا گیا، علی کس لیے ہے؟ تعلیل کے لیے، علت بیان کر رہا ہے، علی ما عرف اس وجہ سے جس کو جان لیا گیا، یعنی جیسے کہ اصول کی کتابوں میں ذکر ہے کہ باندی کے حق میں سزاؤں کی بھی تنصیف ہے، سزائیں بھی آدھی ملیں گی اس کو۔ مثلاً اگر آزاد مرد یا عورت جو ہے وہ زنا کریں غیر شادی شدہ، تو ان کو سو کوڑے لگائے جاتے ہیں، لیکن اگر باندی یا غلام جو ہیں وہ زنا کریں تو ان کو پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو سزا میں بھی باندی اور غلام کا حکم نصف ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جو غلامی ہے اس کی وجہ سے نعمتوں میں بھی تنصیف ہوتی ہے اور سزاؤں میں بھی تنصیف۔ نصّف ینصّف تنصیف کا معنی ہے آدھا کرنا۔ تو غلامی کی وجہ سے نعمتوں میں بھی تنصیف، نعمتیں بھی آدھی ہو جائیں گی اور سزاؤں میں بھی تنصیف، سزائیں بھی آدھی ہو جائیں گی۔ یہ بات صاحبِ ہدایہ پیچھے کئی جگہ ذکر فرما چکے ہیں، مثلاً جہاں چار نکاحوں کی بات آئی تھی، بتلایا تھا کہ آزاد کو چار نکاحوں کی اجازت ہے تو غلام کو دو نکاحوں کی اجازت ہے، کیونکہ غلامی نعمت کی تنصیف کر دیتی ہے۔ نیز جہاں پر یہ ذکر آیا تھا کہ باندی کے اوپر تو آزاد عورت سے نکاح جائز ہے، پہلے نکاح میں باندی ہے اور پھر اب نکاح کس سے کرنا چاہتا ہے؟ آزاد عورت سے، یہ تو جائز ہے، لیکن اگر پہلے نکاح میں آزاد عورت ہے اور پھر باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اب جائز نہیں ہے۔ اور اسی طرح پیچھے ذکر آیا تھا کہ آزاد عورت کی تین طلاقیں ہیں تو باندی کی آدھی ہوں گی یعنی ڈیڑھ طلاق، لیکن ڈیڑھ تو ہو نہیں سکتی تو دوسری کو پورا کر دیا جائے گا تو دو طلاقیں ہیں باندی کی۔ تو یہ صاحبِ ہدایہ کئی جگہ یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الرِّقَّ مُنَصِّفٌ لِحِلِّ المَحَلِّيَّةِ عَلَى مَا عُرِفَ“ اس لیے کیونکہ غلامی جو ہے وہ اس محل کے حلال ہونے کی تنصیف کر دیتی ہے، اس کو آدھا کر دیتی ہے، علی ما عرف بنا بر اس کے جس کو جان لیا گیا، اس وجہ سے جسے جان لیا گیا۔ آگے دیکھیے: ”ثُمَّ الغَايَةُ نِكَاحُ الزَّوْجِ مُطْلَقًا، وَالزَّوْجِيَّةُ المُطْلَقَةُ إِنَّمَا تَثْبُتُ بِنِكَاحٍ صَحِيحٍ“۔ بھئی دیکھیے! آیت کے اندر غایت ذکر ہے: ﴿فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ﴾ اس کے بعد جب خاوند نے تیسری طلاق دے دی اب یہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں، اور ”حَتَّىٰ“ آگے ذکر ہوا اور ”حَتَّىٰ“ کے ذریعے کسی چیز کی غایت کو ذکر کیا جاتا ہے: ﴿حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ یہاں تک کہ کوئی دوسرے خاوند سے یہ عورت نکاح کر لے اور وہ پھر اس کے ساتھ صحبت کر لے۔ تو یہ کس چیز کی غایت ذکر ہو رہی ہے؟ عدمِ حلت کی، کس کی؟ عدمِ حلت کی، کہ یہ عورت اب خاوند کے لیے حلال نہیں ہے بھئی۔ تو یہ عدمِ حلت بیان ہو گئی: ﴿فَلَا تَحِلُّ لَهُ﴾ یہ عورت اب اس کے لیے حلال نہیں، تو یہ عدمِ حلت کی انتہا کب ہوگی؟ یہ عدمِ حلت کب ختم ہوگی، کب حلال ہوگی؟ جب دوسرا خاوند نکاح کر لے گا اور صحبت کر لے گا۔ تو عدمِ حلت کی انتہا کیا ہے؟ زوجِ ثانی اور اس کی صحبت۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الغَايَةُ نِكَاحُ الزَّوْجِ مُطْلَقًا“ پھر غایت جو ہے، کس چیز کی غایت؟ یہ بار بار دہرائیں، یہ آگے ذکر ہوگا، عدمِ حلت کی، کہ بیوی جو ہے اب خاوند کے لیے حلال نہیں ہے، تو اس کی انتہا کب ہوگی؟ یعنی عورت حلال کب ہوگی؟ اس کی غایت ذکر کی گئی ہے باقاعدہ آیت کے اندر۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ الغَايَةُ“ پھر اس عدمِ حلت کی جو غایت ہے آیت کے اندر ”نِكَاحُ الزَّوْجِ مُطْلَقًا“ وہ مطلق خاوند کا نکاح ہے بھئی۔ وہ مطلق خاوند کا— ﴿حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ مطلق نکاح کا ذکر ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ صحیح نکاح یا فاسد نکاح۔ نکاح بھی تو دو قسم پر ہے: ایک نکاحِ صحیح، ایک نکاحِ فاسد۔ نکاحِ فاسد کسے کہتے ہیں؟ مثلاً عدت کے اندر ایک عورت سے نکاح کر لیا تو یہ نکاح فاسد ہے بھئی، یا اسی طرح ایک وقت میں چار عورتیں نکاح میں ہیں اور ایک شخص کیا کر لیتا ہے؟ پانچویں عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو یہ نکاح بھی کیا ہوا؟ فاسد ہوا، یا اسی طرح بغیر گواہوں کے نکاح کر لیا تو یہ سب کیا ہیں؟ نکاحِ فاسد۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے، یہ کالعدم ہے، اس کو شمار ہی نہیں کرنا، اور کوئی حکم بھی اس کا نہیں ہے، الا یہ کہ خاوند صحبت کر لے۔ صحبت کر لے گا تو پھر اب نکاحِ فاسد کے احکام آئیں گے: یہ عورت بیوی نہیں بنی اس کی لیکن اس نے صحبت کر لی ہے، اب اس کو مہر دینا پڑے گا، اور نیز اب جدائی آپس میں کرنی پڑے گی، اور عورت کو عدت گزارنی پڑے گی، بغیر عدت کے اس کا آگے نکاح جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الغَايَةُ نِكَاحُ الزَّوْجِ مُطْلَقًا“ پھر اس عدمِ حلت کی جو غایت ہے وہ مطلق خاوند کا نکاح ہے، ”وَالزَّوْجِيَّةُ المُطْلَقَةُ إِنَّمَا تَثْبُتُ بِنِكَاحٍ صَحِيحٍ“ اور مطلق زوجیت وہ تو نکاحِ صحیح سے ثابت ہوگی۔ بھئی آیت میں تو صرف نکاح کا ذکر ہے، اور نکاح صحیح بھی ہو سکتا ہے اور فاسد بھی ہو سکتا ہے، لیکن نکاح مطلقاً ذکر ہے، اور ”المُطْلَقُ إِذَا يُطْلَقُ يُرَادُ بِهِ الفَرْدُ الكَامِلُ“۔ جب مطلقاً ذکر کیا جائے تو اس سے فردِ کامل مراد ہوتا ہے، یعنی جب ایک ایسا مطلق ہے جس کے افراد مختلف درجوں والے ہیں، کسی میں معنی کی کمی ہے، کسی کے اندر معنی کی زیادتی ہے، تو اس صورت میں اس کو اس معنی پر محمول کریں گے جو اس مطلق کا کامل فرد ہو بھئی، جس میں یہ والا معنی کامل طور پر پایا جائے۔ نکاحِ فاسد میں تو نکاح کا معنی کامل طور پر نہیں، نکاحِ صحیح کے اندر نکاح کا معنی کامل طور پر ہے۔ تو لہٰذا ”المُطْلَقُ إِذَا يُطْلَقُ يُرَادُ بِهِ الفَرْدُ الكَامِلُ“، لہٰذا اس نکاح سے کون سا نکاح مراد لیں گے؟ نکاحِ صحیح مراد لیں گے، فاسد نہیں۔ تو اسی لیے صحیح کی قید لگا رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالزَّوْجِيَّةُ المُطْلَقَةُ إِنَّمَا تَثْبُتُ بِنِكَاحٍ صَحِيحٍ“ اس لیے کیونکہ مطلق زوجیت جو ہے وہ ثابت ہوتی ہے نکاحِ صحیح سے۔ ”وَشَرْطُ الدُّخُولِ ثَبَتَ بِإِشَارَةِ النَّصِّ“ اچھا بھئی، متن میں تو قید لگائی تھی کہ صرف نکاح کافی نہیں ہے بلکہ صحبت بھی ہونی چاہیے، میں نے وجہ ذکر کر دی کہ آیت سے ہی ثابت ہو رہا ہے کہ خاوند کا صحبت کرنا بھی ضروری ہے، اب اسی کو ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَشَرْطُ الدُّخُولِ ثَبَتَ بِإِشَارَةِ النَّصِّ“ اور دخول کی شرط جو ہے وہ بھی اشارۃ النص سے ثابت ہے۔ کس سے؟ اشارۃ النص سے ثابت ہے، یعنی نص سے اشارہ ہو رہا ہے، صاف لفظوں میں تو قرآن میں نہیں ہے کہ دوسرے خاوند کی صحبت بھی ضروری ہے، لیکن قرآن کے الفاظ سے اشارہ ہو رہا ہے۔ کس طرح؟ کہ یہ ”تَنكِحَ“ اور ”زَوْج“ کا لفظ اس میں اس ”زَوْج“ کے لفظ کو ہم تاسیس پر محمول کر لیں یہ اولیٰ ہے، تو لہٰذا تاسیس پر جب محمول کریں گے تو معلوم ہوا وطی کی بھی قید لگانا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَشَرْطُ الدُّخُولِ ثَبَتَ بِإِشَارَةِ النَّصِّ“ اور دخول کی شرط جو ہے وہ اشارۃ النص سے ثابت ہے یعنی کتاب اللہ سے ثابت ہے، ”وَهُوَ أَنْ يُحْمَلَ النِّكَاحُ عَلَى الوَطْءِ حَمْلًا لِلْكَلَامِ عَلَى الإِفَادَةِ دُونَ الإِعَادَةِ“ اور وہ یہ کہ نکاح کا لفظ جو آیت میں آیا ہے: ﴿حَتَّىٰ تَنكِحَ﴾ یہ جو نکاح والا لفظ آیت میں آیا ہے اس کو محمول کیا جائے گا علی الوطء وطی پر، عقد پر محمول نہیں کریں گے بلکہ وطی پر محمول کریں گے، ”حَمْلًا لِلْكَلَامِ عَلَى الإِفَادَةِ دُونَ الإِعَادَةِ“ کلام کو افادے پر محمول کرتے ہوئے نہ کہ اعادے پر۔ جی ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: ”وَهُوَ أَنْ يُحْمَلَ النِّكَاحُ عَلَى الوَطْءِ حَمْلًا لِلْكَلَامِ عَلَى الإِفَادَةِ دُونَ الإِعَادَةِ“ اور وہ یہ کہ نکاح کا لفظ جو ہے اس کو محمول کیا جائے وطی پر، کلام کو افادے پر محمول کرنے کے لیے نہ کہ اعادے پر، کیونکہ افادہ اولیٰ ہے یا اسی طرح تاسیس اولیٰ ہے تاکید سے۔ ”إِذِ العَقْدُ اسْتُفِيدَ بِإِطْلَاقِ اسْمِ الزَّوْجِ“ اس لیے کیونکہ عقد یعنی نکاح جو ہے استیفد اس کا تو فائدہ حاصل ہو رہا ہے باطلاق اسم الزوج زوج کے اسم کا اطلاق کرنے سے۔ زوج کا اسم جو ذکر کیا گیا ہے آیت کے اندر، اس زوج سے ہی نکاح کا معنی سمجھ میں آ رہا ہے، زوج اسی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ نکاح کیا جائے۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ العَقْدُ اسْتُفِيدَ بِإِطْلَاقِ اسْمِ الزَّوْجِ“ اس لیے کیونکہ عقدِ نکاح جو ہے اس کا فائدہ تو اس میں زوج کے اطلاق سے حاصل ہو رہا ہے۔ ”أَوْ يُزَادُ عَلَى النَّصِّ بِالحَدِيثِ المَشْهُورِ“ ”أَوْ يُزَادُ“ اس کا عطف ہے پیچھے ”ثَبَتَ“ پر۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ ”شَرْطُ الدُّخُولِ ثَبَتَ بِإِشَارَةِ النَّصِّ“، دخول کی شرط، یہ اشارۃ النص سے ثابت ہے۔ آگے ہے: ”أَوْ يُزَادُ عَلَى النَّصِّ بِالحَدِيثِ المَشْهُورِ“، تو یہ ”ثَبَتَ بِإِشَارَةِ النَّصِّ“ کو ہٹا دیں اور اس کی جگہ ”يُزَادُ“ رکھ دیں تو کلام یوں بن گیا: ”وَشَرْطُ الدُّخُولِ يُزَادُ عَلَى النَّصِّ بِالحَدِيثِ المَشْهُورِ“ کہ دخول کی شرط بڑھائی جائے گی نص پر، کس کے ذریعے؟ حدیثِ مشہور کے ذریعے۔ دو جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ یہ جو دخول کی ہم نے شرط لگائی ہے یا تو یہ شرط اسی کتاب اللہ ہی سے اشارہ ہو رہا ہے اس کے ذریعے ثابت ہو جائے گی، یا یہ حدیثِ مشہور کے ذریعے ثابت ہے، تو دو دلیلیں ذکر کر دیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”أَوْ يُزَادُ عَلَى النَّصِّ“ یا یہ کہ دخول کی شرط جو ہے اس کو بڑھایا جائے گا اس نص یعنی کتاب اللہ پر، ”بِالحَدِيثِ المَشْهُورِ“ حدیثِ مشہور کے ذریعے، اور آپ جانتے ہیں کہ حدیثِ مشہور کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے بھئی۔ ”وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الآخَرِ“ اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الآخَرِ“۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور پھر وہ عورت دوسرے خاوند سے نکاح کر لیتی ہے، پھر وہ خاوند اس کو صحبت سے پہلے طلاق دے دیتا ہے، تو کیا یہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی؟ یعنی جب حرمتِ مغلظہ آ چکی ہے اور دوسرے خاوند نے صرف نکاح کیا ہے، صحبت نہیں کی، تو کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی؟ تو حضور جواب میں فرمانے لگے: ”لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ“ یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی، ”حَتَّى تَذُوقَ“ یہاں تک کہ یہ عورت چکھ لے ”عُسَيْلَةَ الآخَرِ“ دوسرے سے جماع کی لذت کو چکھ لے۔ یاد رکھو یہ ”عُسَيْلَةَ“ یہ تصغیر ہے ”عَسَلَةٌ“ کی، اور وہ عسل شہد کو کہتے ہیں، اور جیسے شہد کے چکھنے میں لذت ہے اسی طرح جماع کے اندر بھی لذت ہوتی ہے، تو یہ ”عُسَيْلَةَ“ کنایہ ہے جماع سے۔ عسیلہ کنایہ ہے جماع سے۔ تو حضور فرما رہے ہیں: ”لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ“ یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی، ”حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الآخَرِ“ یہاں تک کہ دوسرے سے جماع کی لذت چکھ لے، دوسرے خاوند سے جماع کی لذت اٹھا لے۔ تو اس حدیث سے معلوم ہوا دوسرے خاوند کی صحبت ضروری ہے۔ آگے دیکھیے، تو کہتے ہیں: ”رُوِيَ بِرِوَايَاتٍ“ یہ حدیث روایت کی گئی ہے کئی روایتوں کے ساتھ، یعنی مختلف الفاظ کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: ”رُوِيَ بِرِوَايَاتٍ“ اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کیا گیا، ”وَلَا خِلَافَ لِأَحَدٍ فِيهِ“ اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے، دوسرے خاوند کا صحبت کرنا ضروری ہے اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے، ”سِوَى سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ سوائے سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے۔ یہ سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت جلیل القدر تابعی گزرے ہیں، وہ صرف اس میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صرف نکاح کافی ہے بس، صحبت ضروری نہیں ہے۔ لیکن بعض علماء نے لکھا ہے بھئی کہ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بعد میں جمہور کے قول کی طرف رجوع فرما لیا تھا کہ صحبت ضروری ہے دوسرے خاوند کی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا خِلَافَ لِأَحَدٍ فِيهِ“ اور اس میں کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں ہے، ”سِوَى سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ سوائے سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، ”وَقَوْلُهُ غَيْرُ مُعْتَبَرٍ“ اور ان کا قول معتبر نہیں، صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ صرف کس نے اختلاف کیا ہے؟ سعید بن مسیب نے، لیکن ان کا قول معتبر نہیں ہے کیونکہ یہ حدیثِ مشہور کے مخالف ہے، حدیث کے اندر آ گیا کہ یہ صحبت ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ غَيْرُ مُعْتَبَرٍ“ اور ان کا قول معتبر نہیں ہے، ”حَتَّى لَوْ قَضَى بِهِ القَاضِي لَا يَنْفُذُ“ یہاں تک کہ اگر کوئی قاضی بھی اس پر فیصلہ کر دے گا ان کے قول کو لے کر تو بھی وہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ حدیثِ مشہور کے مخالف ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَشَرْطُ الإِيلَاجُ دُونَ الإِنْزَالِ؛ لِأَنَّهُ كَمَالٌ وَمُبَالَغَةٌ فِيهِ، وَالكَمَالُ قَيْدٌ زَائِدٌ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ دوسرے خاوند کی صحبت تو ضروری ہے، کیا دوسرے خاوند کا انزال بھی ضروری ہے یا صرف ادخال کافی ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، انزال کی قید نہیں۔ انزال کی قید نہیں، صرف دخول کا پایا جانا ضروری ہے، انزال کا ہونا ضروری نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَشَرْطُ الإِيلَاجُ دُونَ الإِنْزَالِ“ أولج یولج ایلاج کا معنی ہے داخل کرنا، کہتے ہیں: ”وَشَرْطُ الإِيلَاجُ دُونَ الإِنْزَالِ“ اور شرط جو ہے وہ داخل کرنا ہے دون الانزال نہ کہ انزال، ”لِأَنَّهُ كَمَالٌ وَمُبَالَغَةٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ انزال جو ہے یہ تو دخول کے اندر کمال اور مبالغے کا نام ہے، یعنی دخول کے اندر صحبت کے اندر کمال اور مبالغہ جو ہے وہ انزال ہے، یعنی کامل طور پر صحبت ہے۔ تو کامل طور پر خوب اچھی طرح صحبت کا نام انزال ہے، اور یہ ایک زائد قید ہے، اس پر کوئی دلیل موجود نہیں نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں، لہٰذا انزال کی قید نہیں ہوگی، ہاں دخول کی قید ہوگی، دخول کافی ہے بھئی، اس سے لذتِ جماع حاصل ہو گئی، اور نیز حدیث کے اندر بھی کیا آیا ہے؟ ”حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الآخَرِ“، ”عُسَيْلَةَ“ تصغیر ذکر کی گئی ہے، معلوم ہوا ادنیٰ درجے کی لذت بھی کافی ہے، اور ادنیٰ درجے کی لذت تو دخول سے ہو جائے گی۔ تو یہ معنی ہے، تو کہتے ہیں: ”وَشَرْطُ الإِيلَاجُ دُونَ الإِنْزَالِ“ اور شرط جو ہے وہ ادخال ہے نہ کہ انزال، ”لِأَنَّهُ كَمَالٌ وَمُبَالَغَةٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ انزال جو ہے وہ تو دخول کے اندر کمال ہے یعنی اس کو کامل کرنا ہے اور اس میں مبالغہ ہے، ”وَالكَمَالُ قَيْدٌ زَائِدٌ“ اور دخول کے اندر کامل ہونا یہ قیدِ زائد ہے جس پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ معلوم ہوا عند الاحناف نفسِ دخول پایا جائے تو کافی ہے۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، انزال ضروری ہے، دوسرے خاوند کا صرف ادخال کافی نہیں ہے بلکہ انزال بھی ضروری ہے، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، انزال پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَالصَّبِيُّ المُرَاهِقُ فِي التَّحْلِيلِ كَالْبَالِغِ“ صبیِ مراہق بھئی، صبیِ مراہق وہ بچہ جو بالغ ہونے کے قریب ہے، ابھی بالغ تو نہیں ہوا لیکن بالغ ہونے کے قریب ہے، تو اگر ایسا بچہ اس عورت کے ساتھ صحبت کر لے، مثلاً ولی نے اس بچے سے عورت کا نکاح کروا دیا، کیونکہ بچہ تو نکاح نہیں کر سکتا، ولی نے کروا دیا، اور اس بچے نے بلوغ سے پہلے ہی اس عورت کے ساتھ صحبت کر لی، اب بچہ طلاق نہیں دے سکتا بھئی، کیونکہ بچے کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں، نہ مجنون کی طلاق کا اعتبار ہے نہ بچے کی، تو بچہ پھر بالغ ہوا، بالغ ہونے کے بعد اس نے طلاق دی ہے، لیکن اس دوران پھر دوبارہ جماع نہیں کیا، وہی ایک جماع پایا گیا تھا، بعد میں طلاق دے دی بالغ ہونے کے بعد، تو کیا وہ جماع کافی ہے؟ اب یہ عورت پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟ تو یاد رکھو عند الاحناف یہ بچہ بھی محلل بن جائے گا، لہٰذا یہ وطی کافی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالصَّبِيُّ المُرَاهِقُ فِي التَّحْلِيلِ كَالْبَالِغِ“ اور بالغ ہونے کے قریب جو بچہ ہے، فی التحلیل وہ بھی حلال کرنے میں، کالبالغ کس کی طرح ہے؟ بالغ کی طرح ہے، ”لِوُجُودِ الدُّخُولِ فِي نِكَاحٍ صَحِيحٍ“ اس وجہ سے کہ دخول پایا گیا صحیح نکاح میں۔ ولی نے اس کا نکاح کروا دیا تو نکاحِ صحیح ہوا اور پھر اس کے اندر دخول بھی پایا گیا۔ ”وَهُوَ شَرْطٌ بِالنَّصِّ“ اور نکاحِ صحیح کے اندر دخول کا پایا جانا وہ شرط ہے بالنص کس کی وجہ سے؟ نص کی وجہ سے، حدیث میں ذکر آ گیا یا کتاب اللہ سے اشارۃ النص یہ بات معلوم ہو چکی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ شَرْطٌ بِالنَّصِّ“ اور یہ نکاحِ صحیح میں دخول جو ہے یہ نص کی وجہ سے شرط ہے، ”وَمَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِيهِ“ اور امام مالک رحمہ اللہ اس کے اندر ہماری مخالفت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں نہیں، صبیِ مراہق کی وطی اس سے عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی۔ بھئی میں نے بتایا دراصل ان کے نزدیک انزال شرط ہے بھئی، اور جو بچہ ابھی بالغ ہی نہیں وہاں تو انزال کا امکان ہی نہیں ہے، لہٰذا اس لیے ان کے نزدیک یہ صبیِ مراہق حلال نہیں کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِيهِ“ اور امام مالک رحمہ اللہ اس کے اندر ہماری مخالفت کرتے ہیں، ”وَالحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا بَيَّنَّاهُ“ اور دلیل ان کے خلاف وہ ہے جو ہم نے بیان کر دی، کہ انزال ایک قیدِ زائد ہے، کوئی دلیل اس پر موجود نہیں ہے۔ ”وَفَسَّرَهُ فِي الجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر کے اندر اس مراہق کی تفسیر کی ہے، امام محمد نے جامع صغیر میں تفسیر کی ہے، تو کہتے ہیں: ”وَفَسَّرَهُ فِي الجَامِعِ الصَّغِيرِ وَقَالَ: غُلَامٌ لَمْ يَبْلُغْ وَمِثْلُهُ يُجَامِعُ جَامَعَ امْرَأَةً وَجَبَ عَلَيْهَا الغُسْلُ وَأَحَلَّهَا عَلَى الزَّوْجِ الأَوَّلِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے اس مراہق کی تفسیر کی ہے جامع صغیر میں وقال اور فرمایا ہے: ”غُلَامٌ لَمْ يَبْلُغْ“ کہ ایسا لڑکا جو ابھی بالغ نہیں ہوا، ”وَمِثْلُهُ يُجَامِعُ“ اور اس جیسا لڑکا جماع کر سکتا ہو، ”جَامَعَ امْرَأَةً“ اس نے صحبت کی بیوی سے، ”وَجَبَ عَلَيْهَا الغُسْلُ“ تو اس عورت پر غسل واجب ہو جائے گا، ”وَأَحَلَّهَا عَلَى الزَّوْجِ الأَوَّلِ“ اور یہ لڑکا اس عورت کو حلال کر دے گا پہلے خاوند پر۔ یہاں تک سارا امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ کیا قول تھا ان کا؟ وہ فرماتے ہیں: ”غُلَامٌ لَمْ يَبْلُغْ وَمِثْلُهُ يُجَامِعُ جَامَعَ امْرَأَةً وَجَبَ عَلَيْهَا الغُسْلُ وَأَحَلَّهَا عَلَى الزَّوْجِ الأَوَّلِ“ کہ یہ صحبت کر لیتا ہے تو بیوی پر غسل واجب، خود اس لڑکے پر غسل واجب نہیں، کیونکہ یہ ابھی بالغ نہیں ہوا بھئی، یہ احکامِ شرعیہ کا مکلف نہیں ہے بھئی، تو یہ ابھی بالغ نہیں ہے، تو لہٰذا یہ عورت پر غسل واجب ہو گیا اور اس نے اس عورت کو حلال کر دیا پہلے خاوند پر۔ ”وَمَعْنَى هَذَا الكَلَامِ“ اب صاحبِ ہدایہ امام محمد رحمہ اللہ کے کلام کا معنی بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى هَذَا الكَلَامِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے اس کلام کا معنی یہ ہے ”أَنْ يَتَحَرَّكَ آلَتُهُ وَيَشْتَهِيَ“ کہ وہ لڑکا ایسا ہو ان یتحرک آلتہ کہ اس کے آلۂ تناسل میں حرکت ہو ویشتھی اور اس کو شہوت آتی ہو، یعنی ایسا لڑکا جو بالغ نہیں ہوا لیکن اس کو شہوت آتی ہے۔ وجہ یہ کہ حدیث کے اندر جو ہے، حدیث کے اندر دونوں طرف سے شہد چکھنے کا ذکر ہے، یعنی معلوم ہوا دونوں طرف سے لذت اٹھانے کا ذکر ہے، اور لذت تو تبھی ہو سکتی ہے جب لڑکے میں شہوت ہوگی، شہوت نہیں تو لذت بھی نہیں بھئی۔ تو اس لیے کہا کہ ویشتھی اور اس کو شہوت بھی آتی ہو۔ ”وَإِنَّمَا وَجَبَ الغُسْلُ عَلَيْهَا“ بھئی عورت پر کیوں غسل واجب ہے؟ اب وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا وَجَبَ الغُسْلُ عَلَيْهَا لِالْتِقَاءِ الخِتَانَيْنِ“ اور عورت پر غسل واجب ہوگا لالتقاء الختانین، ختان کہتے ہیں ختنے کا مقام، مراد شرمگاہ ہے، لالتقاء الختانین دو شرمگاہوں کے ملنے کی وجہ سے، یعنی دخول پایا گیا ہے اور دخول کی وجہ سے عورت کا ماء بھی نازل ہوتا ہے، دخول کی وجہ سے عورت کا ماء بھی اترے گا، یعنی جیسے انزال کی وجہ سے مرد کی منی خارج ہوتی ہے، اسی طرح اس دخول کی وجہ سے عورت کا ماء بھی اترتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اس عورت کا نزولِ ماء وہ تو غسل کا سبب ہے۔ جب انزال ہوگا تو کیا ہوگا؟ غسل واجب ہوگا، تو جب اس عورت میں بھی نزولِ ماء ہوگا تو غسل واجب ہوگا، اور نزولِ ماء وہ تو چھپا ہوا ہے، عورت کا نزولِ ماء تو ہمیں نظر نہیں آتا، تو اس کا جو سبب ہے یعنی وطی اسی پر دارومدار ہو جائے گا حکم کا کہ جب بھی وطی پائی جائے یعنی ادخال پایا جائے تو عورت پر غسل واجب ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا وَجَبَ الغُسْلُ عَلَيْهَا لِالْتِقَاءِ الخِتَانَيْنِ“ اور اس عورت پر غسل واجب ہے دو شرمگاہوں کے مل جانے کی وجہ سے یعنی دخول کے پائے جانے کی وجہ سے، ”وَهُوَ سَبَبٌ لِنُزُولِ مَائِهَا“ اور یہ سبب ہے اس عورت کے ماء کے اترنے کا، ”وَالحَاجَةُ إِلَى الإِيجَابِ فِي حَقِّهَا“ اور واجب کرنے کی حاجت صرف اس عورت کے حق میں ہے، صرف اس عورت پر غسل واجب ہوگا، ”وَأَمَّا لَا غُسْلَ عَلَى الصَّبِيِّ“ اور باقی جو بچہ ہے تو اس پر غسل نہیں ہے، ”وَإِنْ كَانَ يُؤْمَرُ بِهِ تَخَلُّقًا“ بچے پر غسل واجب نہیں کیونکہ بچہ احکامِ شرعیہ کا مکلف ہی نہیں ہے، تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا لَا غُسْلَ عَلَى الصَّبِيِّ“ باقی بچے پر غسل نہیں ہے، ”وَإِنْ كَانَ يُؤْمَرُ بِهِ“ اگرچہ بچے کو بھی غسل کا حکم دیا جائے گا کہ غسل کر لے، ”تَخَلُّقًا“ تخلق کا معنی ہے عادت اختیار کرنا، عادت اختیار کرنا، بابِ تفعل ہے نا، بابِ تفعل کے اندر تکلف والا معنی پایا جاتا ہے، بناوٹ والا معنی پایا جاتا ہے، تو لہٰذا ”تَخَلُّقًا“ اس عادت کو اختیار کرنے کے طور پر بچے کو حکم دیا جائے گا، اور جب ابھی ایک چیز کی عادت نہیں ہے اور آپ اس کو اختیار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تکلف سے کام لینا پڑتا ہے، بناوٹ سے کام لینا پڑتا ہے، عادت نہیں ہے لیکن آپ بار بار کرتے ہیں پھر آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے۔ عادت کے اندر تو تکلف نہیں ہوتا لیکن ابھی جب عادت بنی نہیں ہے تو کیا ہوگا؟ تکلف سے کام لینا پڑے گا۔ تو دیکھو صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں، ایک لفظ کے ذریعے وہ کتنی گہری بات کی طرف اشارہ فرما دیتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ يُؤْمَرُ بِهِ تَخَلُّقًا“ اگرچہ اس بچے کو بھی غسل کا حکم دیا جائے گا تخلقاً عادت اختیار کرنے کے لیے۔ ”قَالَ: وَوَطْءُ المَوْلَى أَمَتَهُ لَا يُحِلُّهَا؛ لِأَنَّ الغَايَةَ نِكَاحُ الزَّوْجِ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا تھا، اس شخص نے اس باندی کو دو طلاقیں دے دیں تو حرمتِ مغلظہ آ گئی، اور اب یہ باندی اس خاوند کے لیے اسی وقت حلال ہوگی جب کسی اور خاوند سے یہ عورت نکاح کرے اور وہ صحبت بھی کرے اور پھر طلاق دے۔ تو سوال پیدا ہوا کہ اگر عدت کے بعد آقا کے لیے جب باندی حلال ہو گئی، آقا صحبت کر لے تو کیا آقا بھی محلل بن جائے گا؟ کیا پہلے خاوند کے لیے پھر نکاح جائز ہو جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، قرآن کے اندر زوج کی قید ہے، آقا کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا زوجِ آخر نکاح کرے گا اور صحبت کرے گا پھر باندی حلال ہوگی، ویسے حلال نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَوَطْءُ المَوْلَى أَمَتَهُ لَا يُحِلُّهَا“ اور آقا کا اپنی باندی سے وطی کرنا یہ اس کو حلال نہیں کرے گا، ”لِأَنَّ الغَايَةَ نِكَاحُ الزَّوْجِ“ اس لیے کیونکہ غایت جو ذکر کیا گیا ہے نکاح الزوج وہ خاوند کا نکاح ہے بھئی۔ ”وَإِذَا تَزَوَّجَهَا بِشَرْطِ التَّحْلِيلِ فَالنِّكَاحُ مَكْرُوهٌ“ اچھا بھئی، صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور بعد میں اب، اس وقت غصے میں تو تین طلاقیں دے دیں لیکن بعد میں ندامت ہوئی، اب وہ دوبارہ اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے لیکن اب نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ ہاں پھر وہ یوں کرتا ہے کسی دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ تم اس کے ساتھ نکاح کر لو، عدت کے بعد نکاح کر لو، اور پھر تم اس کے ساتھ صحبت کر کے پھر اس کو طلاق دے دینا۔ تو دیکھو تحلیل کی شرط پر نکاح کروا رہا ہے، تحلیل کی شرط پر کہ تم میرے لیے اس عورت کو حلال بنا دو دوبارہ بھئی۔ تو یہ تحلیل کی شرط پر نکاح کروا رہا ہے اور یاد رکھو تحلیل کی شرط پر نکاح کروا رہا ہے تو یہ مکروہ ہے، اور مکروہ بھی کون سا ہے؟ مکروہِ تحریمی ہے بھئی، حرام کے قریب ہے۔ البتہ اگر وہ دوسرا خاوند نکاح کے بعد وطی کرتا ہے اور پھر چھوڑ دیتا ہے تو عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی۔ یہ عمل، یہ تحلیل کی شرط پر نکاح جو ہے اگرچہ یہ مکروہ تھا لیکن بہرحال عورت حلال ہو جائے گی پہلے خاوند کے لیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَهَا بِشَرْطِ التَّحْلِيلِ“ اور جب اس عورت سے نکاح کیا کسی شخص نے بشرط التحلیل حلال کر دینے کی شرط پر، ”فَالنِّكَاحُ مَكْرُوهٌ“ تو یہ نکاح مکروہ ہے، اور یاد رکھنا فقہ کی کتابوں میں مکروہ کا لفظ مطلقاً آئے تو اس سے مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے، تو یہ نکاح جو ہے مکروہِ تحریمی ہے یعنی حرام کے قریب ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَعَنَ اللهُ المُحَلِّلَ وَالمُحَلَّلَ لَهُ“ اس وجہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو محلل پر اور محلل لہ پر۔ محلل وہ جو دوسرا خاوند ہے جو حلال کرنے والا ہے، وہ دوسرا خاوند کیا کرتا ہے؟ عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دیتا ہے، تو دوسرا خاوند ہوا محلل، اور کس کے لیے حلال کیا ہے؟ پہلے خاوند کے لیے تو وہ ہوا محلل لہ، محلل لہ جس کے لیے حلال کیا گیا ہے۔ تو حدیث میں محلل پر بھی لعنت کا ذکر ہے اور محلل لہ پر بھی لعنت کا ذکر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”لَعَنَ اللهُ المُحَلِّلَ وَالمُحَلَّلَ لَهُ“ کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو حلال کرنے والے پر بھی اور جس کے لیے حلال کیا گیا اس پر بھی۔ ”وَهَذَا هُوَ مَحْمِلُهُ“ اور یہی جو ہے اس حدیث کا محمل ہے۔ اور یہی اس حدیث کا محمل ہے، اس کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ یہی اس حدیث کا محمل ہے، معنی یہ ہے کہ یہ جو تحلیل کی شرط پر کوئی نکاح کرتا ہے یہ ہے اس حدیث کا محمل۔ حدیث میں تو مطلقاً آیا ہے کہ اللہ محلل پر بھی لعنت فرمائے اور محلل لہ پر بھی، لیکن مطلقاً ہر محلل نہیں مراد بھئی بالاتفاق تمام فقہاء کے نزدیک۔ مثلاً دیکھو ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، بعد میں اس عورت نے کسی اور سے نکاح کر لیا اور پھر وہ عورت اسی کے گھر رہی، دوسرے خاوند کے گھر رہی، عرصے بعد کسی وقت اس دوسرے خاوند نے طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہو گیا، تو اب اس عورت کا نکاح پہلے خاوند سے جائز ہے۔ تو وہ دوسرا خاوند محلل بنا یا نہیں؟ وہ بھی محلل بنا، لیکن حدیث میں وہ مراد نہیں ہے بھئی، کیونکہ وہاں تو تحلیل کی شرط پر اس نے نکاح نہیں کیا تھا، اس نے تو پوری زندگی کے لیے نکاح کیا تھا بھئی۔ تو معلوم ہوا حدیث کے اندر مطلقاً ہر محلل مراد نہیں ہے بالاجماع بھئی۔ تو پھر کون سا محلل مراد ہے؟ تو بتلا رہے ہیں کہ یہ جو تحلیل کی شرط پر نکاح کرتا ہے، جو تحلیل کی شرط پر نکاح کرتا ہے کہ نکاح کرو گے، صحبت کرو گے اور پھر طلاق دے دو گے تاکہ میرے لیے حلال ہو جائے میں پھر اس سے عدت کے بعد نکاح کروں گا، تو یہ جو تحلیل کی شرط پر جو نکاح کرتا ہے یہ والا محلل اور محلل لہ یہ اس حدیث کا محمل ہیں، یعنی حدیث ان پر محمول ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا هُوَ مَحْمِلُهُ“ اور یہی اس حدیث کا محمل ہے، یعنی مطلقاً ہر محلل مراد نہیں، یہ والا محلل جو تحلیل کی شرط پر نکاح کرتا ہے۔ جبکہ بعض علماء نے کہا کہ ”وَهَذَا هُوَ مَحْمِلُهُ“ یہی اس حدیث کا محمل ہے، انہوں نے اور معنی کیا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو متن میں آیا ”فَالنِّكَاحُ مَكْرُوهٌ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَعَنَ اللهُ المُحَلِّلَ...“۔ ”وَالْمُحَلَّلَ لَهُ“، تو یہ جو متن کے اندر نکاح کو مکروہ قرار دیا گیا ہے، یہ اس حدیث کا محمل ہے۔ بھئی وجہ یہ کہ بہت سے فقہاء فرماتے ہیں یہ نکاح ہو گا ہی نہیں۔ تحلیل کی شرط پر جو نکاح کیا جائے گا، بہت سے فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ یہ نکاح ہی نہیں ہو گا، جب نکاح نہیں تو عورت پہلے خاوند کے لیے حلال بھی نہیں ہوگی بھئی۔ تو فرما رہے ہیں کہ اس حدیث کا یہی محمل ہے، یعنی اس تحلیل کی شرط پر اگر کوئی نکاح کرے گا، تو وہ نکاح فاسد نہیں ہو گا، ہو جائے گا، البتہ مکروہ ہے بھئی۔ البتہ مکروہ ہے۔ تو یہ ہے اس حدیث کا محمل کہ یہ نکاح کیا ہو گا؟ مکروہ ہو گا، فاسد نہیں ہو گا۔ یہ معنی ہے: ”وَهٰذَا هُوَ مَحْمِلُهُ“ اور یہی اس حدیث کا محمل ہے۔ جبکہ بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ حدیث کا محمل وہ ہے جو اجرت پر اس طرح کا نکاح کرتا ہے۔ اجرت لے کر تحلیل کرنا، یہ اس پر محمول ہے۔ ان کے بارے میں لعنت کا ذکر ہے۔ مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، اب نکاح کی کوئی صورت نہیں، محلل چاہیے بھئی۔ تو وہ ایک شخص سے کہتا ہے کہ آپ میری بیوی سے نکاح کر لیں، صحبت کر لیں اور پھر اسے طلاق دے دیں۔ وہ کہتا ہے میں اجرت لوں گا، مجھے پچاس ہزار روپے آپ دیں یا مجھے ایک لاکھ روپیہ دیں، تو پھر میں یہ کام آپ کا کر دوں گا بھئی۔ تو یہ جو اجرت لے کر محلل بن رہا ہے، یہ اس حدیث کا محمل ہے بھئی، اس کے بارے میں لعنت کا ذکر آیا ہے بھئی کہ یہ والا محلل اور محلل لہ، اس کے بارے میں لعنت کا ذکر ہے بھئی۔ چنانچہ اسی لیے بعض احادیث کے اندر یہ جو اجرت لے کر محلل بنتا ہے، اس کو ”تَيْسِ مُسْتَعَار“ کہا گیا ہے۔ کیا کہا گیا ہے؟ ”تَيْسِ مُسْتَعَار“۔ ”تَيْسٌ“، تا ہے دو نقطوں والی، یا اور سین، ”تَيْسٌ“ یاد رکھو یہ بکرے کو کہتے ہیں۔ تیس کسے کہتے ہیں؟ بکرے کو کہتے ہیں، مراد نر جانور ہے مطلقاً بھئی۔ بھئی دیکھتے ہیں آپ دیہات کے اندر کسی بکری یا گائے وغیرہ کو حاملہ کروانا ہو، تو نر جانور کے پاس اس کو لے کر جاتے ہیں اور جفتی کرواتے ہیں، اور اس پر بھی بعض لوگ اجرت لیتے ہیں، جن کے پاس نر جانور ہوتا ہے وہ اجرت لیتے ہیں، یاد رکھو یہ اجرت لینا حرام ہے بھئی۔ تو اسی طرح یہاں پر بھی یہ شخص کیا کر رہا ہے؟ اجرت لے کر عورت کو حلال کر رہا ہے، تو حدیث میں اس کو ”تَيْسِ مُسْتَعَار“ کہا گیا ہے۔ مستعار جیسے کسی سے کوئی چیز استعمال کے لیے مانگ لی جائے، جیسے مہمان آئے تو ہمسایوں سے برتن مانگ لیے جاتے ہیں استعمال کے لیے، تو اس کو کیا کہتے ہیں عاریت، عاریتاً کوئی چیز استعمال کے لیے لینا، تو یہاں پر بھی اس شخص کو بعض احادیث میں یہ جو اجرت لے کر محلل بنتا ہے، اس کو ”تَيْسِ مُسْتَعَار“ کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا یہ حدیث میں اس کے بارے میں لعنت کا ذکر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چنانچہ اسی لیے اس کو ”تَيْسِ مُسْتَعَار“ کہا گیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا هُوَ مَحْمِلُهُ“ تو یہ ہے اس حدیث کا محمل۔ ”فَإِنْ طَلَّقَهَا بَعْدَ وَطْئِهَا حَلَّتْ لِلْأَوَّلِ“، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ تحلیل کی شرط پر نکاح کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر کر لے گا تو عورت حلال ہو جائے گی۔ وہ اب ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”فَإِنْ طَلَّقَهَا بَعْدَ وَطْئِهَا“ تو اگر اس دوسرے خاوند نے طلاق دے دی اس عورت کے ساتھ وطی کرنے کے بعد، کون سا دوسرا خاوند؟ جس نے تحلیل کی شرط پر نکاح کیا تھا، تو اس نے طلاق دے دی عورت سے صحبت کرنے کے بعد، ”حَلَّتْ لِلْأَوَّلِ“ تو یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی، ”لِوُجُوْدِ الدُّخُوْلِ فِيْ نِكَاحٍ صَحِيْحٍ“ اس لیے کیونکہ نکاحِ صحیح کے اندر دخول پایا گیا، ”إِذِ النِّكَاحُ لَا يَبْطُلُ بِالشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے وہ شرط سے باطل نہیں ہوتا، یہ بات پہلے بھی ذکر ہو چکی۔ بیع کے اندر اگر آپ کوئی شرط لگاتے ہیں جس میں بائع یا مشتری کا فائدہ ہے تو اس صورت میں بیع ہی فاسد ہو جاتی ہے، جبکہ نکاح کے اندر اگر شرطِ فاسد لگائی جائے تو وہ شرط فاسد ہے اور نکاح صحیح ہے۔ تو یہاں پر بھی اس نے تحلیل کی شرط پر نکاح کیا ہے، تو وہ شرط باطل اور نکاح صحیح، اور جب نکاح صحیح ہو گیا اور اس کے بعد دخول بھی پایا گیا تو اب عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی۔ یہ معنی ہے: ”إِذِ النِّكَاحُ لَا يَبْطُلُ بِالشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ نکاح شرط سے باطل نہیں ہوتا۔ ”وَعَنْ أَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، بھئی اوپر متن میں آ گیا، ظاہرِ روایت کیا ہے؟ کہ تحلیل کی شرط پر بھی نکاح کرے گا کوئی شخص، تو یہ مکروہ تو ہے لیکن عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی۔ یہ کس میں ہے؟ ظاہرِ روایت، یعنی متن کے اندر آ گیا، لیکن امام محمد رحمہ اللہ سے اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اور بھی روایتیں ہیں، اب وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يَفْسُدُ النِّكَاحُ“ کہ نکاح ہی فاسد ہے، یہ نکاح ہوا ہی نہیں، یہ نکاح فاسد ہے، ”لِأَنَّهُ فِيْ مَعْنَى الْمُوَقَّتِ فِيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ موقت فیہ کے معنی میں ہے۔ ”لِأَنَّهُ فِيْ مَعْنَى الْمُوَقَّتِ فِيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ والا جو نکاح ہے جو تحلیل کی شرط پر کیا گیا ہے، ”فِيْ مَعْنَى الْمُوَقَّتِ“ یہ اس نکاح کے معنی میں ہے، ”الْمُوَقَّتِ“ کہ وقت کی قید لگائی گئی ہے ”فِيْهِ“ اس کے اندر۔ تو یہ نکاح جو ہے، یہ نکاحِ موقت کے درجے میں ہو گیا، کیونکہ اس نے کیا کہا ہے؟ صحبت کے بعد آپ اسے چھوڑ دیں گے، تو لہٰذا یہ نکاحِ موقت کے درجے میں ہو گیا، یعنی یہ متعہ ہوا، اور متعہ تو بالاتفاق جائز نہیں ہے، لہٰذا یہ بھی جائز نہیں، یہ نکاح ہی فاسد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى أَنَّهُ يَفْسُدُ النِّكَاحُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح ہی فاسد ہے، ”لِأَنَّهُ فِيْ مَعْنَى الْمُوَقَّتِ فِيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ نکاح جو ہے نکاحِ موقت کے معنی میں ہے، ”وَلَا يُحِلُّهَا عَلَى الْأَوَّلِ“ اور یہ حلال نہیں کرے گا اس عورت کو ”عَلَى الْأَوَّلِ“ پہلے خاوند پر، ”لِفَسَادِهِ“ اپنے فاسد ہونے کی وجہ سے، کہ یہ نکاح فاسد ہے تو یہ حلال نہیں کرے گا۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يَصِحُّ النِّكَاحُ“ کہ نکاح تو صحیح ہے، نکاح تو صحیح ہے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، کہ تحلیل کی شرط لگائی ہے لیکن شرط باطل اور نکاح صحیح بھئی، کیونکہ نکاح شروطِ فاسدہ سے باطل نہیں ہوتا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”أَنَّهُ يَصِحُّ النِّكَاحُ لِمَا بَيَّنَّا“ کہ یہ نکاح صحیح ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، ”وَلَا يُحِلُّهَا عَلَى الْأَوَّلِ“ لیکن یہ نکاح پہلے خاوند پر بیوی کو حلال نہیں کرے گا، ”لِأَنَّهُ اسْتَعْجَلَ مَا أَخَّرَهُ الشَّرْعُ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے جلدی طلب کیا ہے ”مَا“ اس چیز کو ”أَخَّرَهُ الشَّرْعُ“ جس کو شریعت نے مؤخر کیا تھا، ”فَيُجَازَى بِمَنْعِ مَقْصُوْدِهِ“ لہٰذا اس کو بدلہ دیا جائے گا اس کے مقصود کو روک کر، ”كَمَا فِيْ قَتْلِ الْمُوْرِثِ“ جیسے کہ قتلِ مورث میں ہے۔ بھئی دیکھیے آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ وارث اگر اپنے مورث کو قتل کر دے تو پھر اس کو میراث نہیں ملے گی۔ بیٹا اگر اپنے باپ کو قتل کر دیتا ہے تو پھر بیٹا اس کا وارث نہیں بنے گا، بیٹے کو کچھ نہیں ملے گا۔ وجہ یہ کہ دراصل دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید اس نے باپ کو اسی لیے جلدی قتل کیا ہے کہ یہ جلدی مرے اور مجھے میراث کے اندر مال ملے، تو شریعت نے اس کا کیا بدلہ دیا؟ اس کو مال سے ہی بالکل پورے طور پر محروم کر دیا۔ یہاں پر بھی خاوند نے تین طلاقیں دے دی ہیں، اور اب یہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں ہے، اب یہ عورت کسی اور خاوند سے نکاح کرے گی اور پھر زندگی میں کبھی اس خاوند کا انتقال ہوا یا اس نے طلاق دے دی تو پھر یہ پہلے خاوند کے پاس آ سکتی ہے۔ تو شریعت نے دیکھو اس پہلے خاوند کے لیے جو حلت تھی اس کو مؤخر کر دیا، پتہ نہیں کس وقت اب وہ حلال ہوتی ہے یہ عورت، پتہ نہیں وہ دوسرا خاوند طلاق دیتا بھی ہے یا نہیں، پتہ نہیں اس کی زندگی میں انتقال ہوتا بھی ہے یا نہیں، تو شریعت نے اس خاوند کے لیے اس پہلی بیوی کا حلال ہونا مؤخر کیا ہوا تھا، اور یہ اس کو جلدی طلب کرنا چاہتا ہے اور حلالہ کرواتا ہے، تحلیل کی شرط پر نکاح کروا رہا ہے، تو لہٰذا جیسے وارث میراث پانے میں جلدی کرتا تھا مورث کو قتل کر کے، تو اس کو میراث سے ہی محروم کر دیا جاتا تھا، تو یہاں پر بھی خاوند بھی اس چیز کو جلدی طلب کرنا چاہتا ہے جس کو شریعت نے مؤخر کیا تھا، لہٰذا اس کو بھی یہ بدلہ دیا جائے گا کہ اس تحلیل کی شرط پر نکاح کی وجہ سے عورت اس کے لیے حلال ہوگی ہی نہیں بھئی۔ یہ عورت اس کے لیے حلال ہی نہیں ہوگی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُحِلُّهَا عَلَى الْأَوَّلِ“ اور یہ والا جو نکاح ہے جو تحلیل کی شرط پر کیا گیا، یہ حلال نہیں کرے گا اس عورت کو ”عَلَى الْأَوَّلِ“ پہلے خاوند پر، ”لِأَنَّهُ اسْتَعْجَلَ مَا أَخَّرَهُ الشَّرْعُ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے جلدی طلب کیا ہے اس چیز کو جس کو شریعت نے مؤخر کیا تھا، ”فَيُجَازَى بِمَنْعِ مَقْصُوْدِهِ“ لہٰذا اس کو بدلہ دیا جائے گا ”بِمَنْعِ مَقْصُوْدِهِ“ کہ اس کے مقصود کو روک دیا جائے گا، ”كَمَا فِيْ قَتْلِ الْمُوْرِثِ“ جیسے کہ مورث کے قتل کرنے میں ہوتا ہے۔ تو بہرحال یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے، وہ فرماتے ہیں نکاح ہی فاسد ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نکاح تو صحیح ہے لیکن یہ شخص محلل نہیں بنے گا، یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی اس نکاح کی وجہ سے۔ لیکن بہرحال ظاہرِ روایت میں اوپر متن کے اندر آ گیا کہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا طَلَّقَ الْحُرَّةَ تَطْلِيْقَةً أَوْ تَطْلِيْقَتَيْنِ وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا وَتَزَوَّجَتْ بِزَوْجٍ آخَرَ ثُمَّ عَادَتْ إِلَى الزَّوْجِ الْأَوَّلِ عَادَتْ بِثَلَاثِ تَطْلِيْقَاتٍ“، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک آزاد عورت ہے، اس کو خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دے دیں، اور پھر اس کے بعد اس عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اور اس کے بعد پھر دوبارہ پہلے خاوند کے پاس یہ آئی، تو اب جب یہ دوبارہ پہلے خاوند کے پاس آئی ہے، تو یہ خاوند اب کتنی طلاقوں کا مالک ہو گا؟ یہ مسئلہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے بھئی، چند صفحے قبل یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا، تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو دوسرا خاوند ہے، یہ پہلی تمام طلاقوں کو گرا دیتا ہے، چاہے ایک ہو، چاہے دو ہوں، چاہے تین ہوں، اور سب کو گرا دے گا اور اب عورت نئی حلت کے ساتھ آئی ہے، تو اس میں خاوند دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہو گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلے خاوند نے تین طلاقیں دی تھیں، پھر تو یہ عورت نئی حلت کے ساتھ آئی ہے، لہٰذا اب خاوند دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہو گا، لیکن اگر پہلے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں، تو اب پہلا خاوند صرف مابقیہ طلاقوں کا مالک ہو گا۔ یعنی اگر پہلے ایک دی تھی تو اب تمام زندگی اس کے پاس دو طلاقوں کا حق ہے، اور اگر پہلے اس نے دو دی تھیں تو اب تمام زندگی صرف ایک طلاق کا حق ہے، یہ کون فرماتے ہیں؟ امام محمد اور امام زفر بھئی۔ معلوم ہوا اگر پہلے خاوند نے تین طلاقیں دی ہیں، تو پھر تو بالاتفاق جب دوسرے خاوند کے بعد دوبارہ پہلے خاوند کے پاس آئے گی تو دوبارہ یہ تین کا ہی مالک ہو گا، لیکن تین سے کم طلاقیں اگر پہلے دی تھیں تو پھر اس میں اختلاف ہے۔ شیخین کے نزدیک یہ پہلا خاوند دوبارہ تین طلاقوں کا مالک بنے گا جب نکاح کرے گا، جبکہ امام محمد اور امام زفر فرماتے ہیں کہ دوبارہ تین کا مالک نہیں بنے گا بلکہ جو باقی ہیں صرف انہی کا مالک بنے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَ الْحُرَّةَ تَطْلِيْقَةً أَوْ تَطْلِيْقَتَيْنِ“ اور جب خاوند نے ایک آزاد عورت کو ایک طلاق دے دی ”أَوْ تَطْلِيْقَتَيْنِ“ یا دو طلاقیں دے دیں، ”وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا“ اور اس عورت کی عدت گزر گئی، ”وَتَزَوَّجَتْ بِزَوْجٍ آخَرَ“ اور پھر دوسرے خاوند نے اس سے نکاح کر لیا، ”وَثُمَّ عَادَتْ إِلَى الزَّوْجِ الْأَوَّلِ“ پھر یہ عورت واپس لوٹ آئی پہلے خاوند کے پاس، ”عَادَتْ بِثَلَاثِ تَطْلِيْقَاتٍ“ تو یہ واپس لوٹے گی تین طلاقوں کے ساتھ، ”وَيَهْدِمُ الزَّوْجُ الثَّانِيْ“ اور دوسرا خاوند جو ہے وہ گرا دیتا ہے ”مَا دُوْنَ الثَّلَاثِ“ تین سے کم طلاقوں کو بھی ”كَمَا يَهْدِمُ الثَّلَاثَ“ جیسے وہ تین کو گراتا ہے۔ جیسے وہ تین طلاقوں کو گراتا ہے اسی طرح تین سے کم طلاقوں کو بھی گرا دے گا اور پہلا خاوند اب دوبارہ تین طلاقوں کا مالک بنے گا۔ ”وَهٰذَا عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَأَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى لَا يَهْدِمُ مَا دُوْنَ الثَّلَاثِ“ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو دوسرا خاوند ہے، یہ تین سے کم کو نہیں گراتا، ”لِأَنَّهُ غَايَةٌ لِلْحُرْمَةِ بِالنَّصِّ“۔ اچھا اب امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی بھئی، دلیل سنیے امام محمد کی، وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ غَايَةٌ لِلْحُرْمَةِ بِالنَّصِّ“، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو دوسرا خاوند ہے، یہ غایت ہے۔ کس چیز کی غایت؟ ”فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ“، عدمِ حلت کی بات پیچھے آئی تھی کہ یہ عورت اب پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں جب اس نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جو دوسرا خاوند ہے، یہ غایت ہے کس کے لیے؟ اس پہلے خاوند کی عدمِ حلت کے لیے، اس کی عدمِ حلت کے لیے یہ غایت ہے، جب یہ دوسرا خاوند آئے گا تو یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ غَايَةٌ لِلْحُرْمَةِ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ یہ جو دوسرا خاوند ہے یہ غایت ہے ”لِلْحُرْمَةِ“ یہاں حرمت سے مراد حرمتِ مغلظہ ہے، کیونکہ تین طلاقوں سے کون سی حرمت آتی ہے؟ حرمتِ مغلظہ، تو یہ دوسرا خاوند محلل بنے گا، یعنی محلل بنے گا، حلت ثابت کرے گا اور حرمت کو ختم کرے گا، کون سی حرمت ختم کرے گا؟ حرمتِ مغلظہ کو۔ کس کو ختم کرے گا؟ حرمتِ مغلظہ کو یہ دوسرا خاوند ختم کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ غَايَةٌ لِلْحُرْمَةِ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ یہ جو دوسرا خاوند ہے، یہ حرمتِ مغلظہ کی غایت ہے نص کی وجہ سے، ”فَيَكُوْنُ مُنْهِيًا“ تو یہ دوسرا خاوند جو ہے، انہی ینہی کا معنی ہے ختم کرنا، ”فَيَكُوْنُ مُنْهِيًا“ تو یہ خاوند جو ہے اس حرمتِ مغلظہ کو ختم کرنے والا ہو گا۔ آیت کے اندر دوسرے خاوند کو غایت بنایا گیا ہے، اور کس چیز کا غایت ہے؟ حرمتِ مغلظہ کا غایت ہے۔ دوسرا خاوند آئے گا تو حرمتِ مغلظہ ختم ہو جائے گی، تو دوسرا خاوند حرمتِ مغلظہ کو ختم کرنے والا ہے۔ اور جب پہلے خاوند نے صرف ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، پہلے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں پھر تو حرمتِ مغلظہ آئی ہی نہیں، جب حرمتِ مغلظہ آئی نہیں تو یہ دوسرا خاوند اس کو ختم کرنے والا بھی نہیں۔ دوسرا خاوند کس کو ختم کرنے والا ہے؟ حرمتِ مغلظہ کو، اور جب پہلے خاوند نے ابھی صرف ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو حرمتِ مغلظہ نہیں، جب حرمتِ مغلظہ نہیں تو یہ ان کو ختم کرنے والا بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ طلاقیں ابھی بھی ہیں اور اب خاوند صرف مابقیہ کا مالک بنے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَكُوْنُ مُنْهِيًا“ تو یہ دوسرا خاوند جو ہے اس حرمتِ مغلظہ کو ختم کرنے والا ہو گا، ”وَلَا إِنْهَاءَ لِلْحُرْمَةِ قَبْلَ الثُّبُوْتِ“ اور حرمتِ مغلظہ کا ختم کرنا نہیں ہے اس کے ثابت ہونے سے پہلے۔ پہلے حرمتِ مغلظہ ثابت تو ہو، پھر دوسرا خاوند کیا کر دے گا؟ اس کو ختم کرے گا اور پھر پہلا خاوند دوبارہ تین طلاقوں کا مالک بنے گا، لیکن یہاں تو حرمتِ مغلظہ پائی ہی نہیں گئی۔ اب حضرت شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آ گئی، کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا یہ قول ”لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ“ کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے محلل اور محلل لہ پر، اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے محلل اور محلل لہ پر، تو یہ حدیث دلیل ہے شیخین رحمہما اللہ کی بھئی۔ بھئی دیکھیے یہ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل ہے کہ حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ ”لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ“ بھئی، تو دیکھو اس حدیث کے اندر، اس حدیث کے اندر محلل اور محلل لہ پر لعنت کا ذکر ہے، اور یہ بات پہلے ذکر ہو گئی کہ بعض ائمہ کے نزدیک تو یہ نکاح جو تحلیل کی شرط پر کیا جائے، وہ ہو گا ہی نہیں بھئی، وہ نکاح ہی نہیں ہو گا، جب نکاح نہیں تو عورت بھی پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی، جبکہ عند الاحناف نکاح ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ نکاح کس چیز کا نام ہے؟ کہ آپس کی رضامندی سے ایجاب اور قبول کر لیا جائے اور گواہ بھی موجود ہوں، چاہے تحلیل کی شرط تھی لیکن باہمی رضامندی سے نکاح ہوا اور ایجاب و قبول بھی ہوا، تو نکاحِ صحیح پایا گیا بھئی، اور تحلیل کی شرط تو باطل ہو گئی کیونکہ نکاح جو ہے شروطِ باطلہ سے فاسد نہیں ہوتا، تو نکاح تو صحیح ہو گیا۔ البتہ عند الاحناف یہ شوہرِ ثانی اس کی وجہ سے عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی۔ ہاں البتہ ایسا کرنا موجبِ نفرت اور موجبِ لعنت ہے۔ تحلیل کی شرط پر نکاح کرنا موجبِ نفرت اور موجبِ لعنت ہے، یہ قبیح کام ہے، لیکن اگر ایسا کر لیں گے تو وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی بھئی۔ تو چونکہ یہ فعل غیرت اور فطرت کے خلاف ہے، اس لیے حدیث کے اندر لعنت کا ذکر کیا گیا، لیکن لعنت ایک شے کے معدوم ہونے کی علامت نہیں ہے۔ لعنت ایک شے کے معدوم ہونے کی علامت نہیں ہے، اگر وہ معدوم ہے تو پھر لعنت کس بات کی؟ اگر اس کا اعتبار ہی نہیں ہے تو پھر لعنت کس بات کی؟ اسی طرح حدیث میں آتا ہے: ”أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّٰهِ الطَّلَاقُ“ اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ جو ہے وہ طلاق ہے۔ دیکھو مبغوض ہونے کے باوجود طلاق جائز ہے، مبغوض ہونے کے باوجود طلاق جائز ہے، تو اسی طرح یہاں پر بے شک حدیث میں لعنت کا ذکر ہے، لیکن بہرحال یہ نکاح ہو جائے گا۔ اگر یہ کالعدم ہو، اس کا اعتبار ہی نہیں ہے، یہ نکاح ہی نہیں ہوا، تو پھر لعنت کس بات کی بھئی؟ تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک تحلیل کی شرط پر بھی اگر نکاح کیا جائے گا، اگرچہ یہ فعل سخت ناپسندیدہ ہے لیکن بہرحال عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی بھئی۔ اور دیگر ائمہ تو فرماتے ہیں کہ تحلیل کی شرط پر نکاح ہو گا ہی نہیں، لیکن ہمارے نزدیک تحلیل کی شرط پر بھی نکاح ہو جائے گا، اور یہ حدیث جو ہے، یہ خود یہی حدیث دلیل ہے اس نکاح کے ہونے کی، کیونکہ حدیث میں کیا آیا ہے؟ ”لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ“ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے محلل پر بھی اور محلل لہ پر بھی۔ حدیث میں یہ نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے اس زوج پر، بلکہ حدیث میں کیا آیا؟ محلل پر، معلوم ہوا وہ محلل ہے، اگرچہ وہ ناپسندیدہ کام کر رہا ہے لیکن پھر بھی اس کو حدیث میں کیا کہا گیا ہے؟ محلل کہا گیا ہے، اور وہ محلل تب ہی ہو سکتا ہے جب یہ نکاح صحیح ہو اور اس کا محلل ہونا صحیح ہو بھئی۔ تو اس کو تب ہی محلل کہا جا سکتا ہے، معلوم ہوا وہ محلل ہے بھئی، وہ حلال کر دے گا بھئی پہلے خاوند کے لیے بیوی کو بھئی۔ تو ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو حدیث میں لعنت کا ذکر ہے، یہ اس وقت ہے کہ جب باقاعدہ تحلیل کی شرط پر نکاح کیا جائے، تو پھر یہ لعنت کا سبب ہے، اور اگر کوئی شخص اظہار نہیں کرتا لیکن کوئی عورت ہے اس کو پہلے خاوند نے تین طلاقیں دی ہیں اور اس کو بھی پتہ ہے کہ پہلا خاوند اس کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے، تو یہ شخص خیر کی نیت سے اس عورت سے خود نکاح کرتا ہے اور تحلیل کی شرط وغیرہ وہاں نہیں ذکر کرتے لیکن اس شخص کے اپنے دل میں ہے کہ میں تحلیل کر دوں گا اور پھر میں اس عورت کو چھوڑ دوں گا، تو فقہاء فرماتے ہیں اس طرح کا شخص جو کوئی شرط بھی ذکر نہیں کرتا اور البتہ دل میں خیر کی نیت کے ساتھ یہ کام کرے، عورت سے نکاح کرے، صحبت کر لے اور پھر اسے چھوڑ دے تاکہ پہلا خاوند اس سے نکاح کر سکے، تو امید ہے کہ اللہ اس کو اجر اور ثواب نصیب فرمائیں گے بھئی، کیونکہ اس نے خیر کی نیت کی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال بات یہ چل رہی تھی، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس حدیث کے اندر دوسرے خاوند کو محلل کہا گیا ہے، اور محلل اسے کہیں گے جو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل جو ہے حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے ”لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ“ کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو محلل اور محلل لہ پر، ”سَمَّاهُ مُحَلِّلًا“ حضور علیہ السلام نے اس زوجِ ثانی کا نام محلل رکھا، ”وَهُوَ الْمُثْبِتُ لِلْحِلِّ“ اور محلل وہ ہوتا ہے ”الْمُثْبِتُ لِلْحِلِّ“ جو حلت کو ثابت کرتا ہے۔ محلل کسے کہتے ہیں؟ حلال کرنے والا، یعنی حلت کو ثابت کرنے والا۔ توجہ ہے؟ گہری بات صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں۔ دیکھو یہ خاوندِ ثانی محلل ہے، جب یہ محلل ہے معلوم ہوا پہلے خاوند کو دوبارہ تین طلاقوں کا حق ملے گا۔ کس طرح بھئی تین طلاقوں کا حق ملے گا؟ کہتے ہیں اس کو حدیث میں محلل کہا گیا ہے، اور محلل اسے کہتے ہیں جو حلت کو ثابت کرے، جو حلت کو ثابت کرے، تو کہنا پڑے گا یہ خاوند ایک نئی حلت ثابت کر رہا ہے، وہ پچھلی حلت نہیں ہے، یہ بلکہ نئی حلت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْمُثْبِتُ لِلْحِلِّ“ اور محلل وہ ہوتا ہے، ”الْمُثْبِتُ لِلْحِلِّ“ جو حلت کو ثابت کرتا ہے، اور جب یہ حلت کو ثابت کر رہا ہے معلوم ہوا نئی حلت آ رہی ہے، اور جب نئی حلت آ رہی ہے معلوم ہوا خاوند اب تین طلاقوں کا مالک ہو گا۔ وہ پچھلی حلت کے اندر مثلاً خاوند نے پہلے صرف ایک یا دو طلاقیں دی تھیں، جب ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو ابھی بھی حلت موجود ہے، ابھی بھی حلت موجود ہے، تو اگر آپ کہیں کہ وہی حلت ابھی تک چل رہی ہے، درمیان میں دوسرا خاوند بھی آ گیا لیکن وہی پہلی حلت ہے، پہلے ایک دی تھی تو اب کتنی باقی ہیں طلاقیں؟ دو، اور پہلے دو دی تھیں تو اب کتنی باقی ہیں؟ ایک، تو اگر آپ کہیں یہ وہی پہلی حلت چل رہی ہے، پھر تو یہ ثانی خاوند محلل نہ ہوا، محلل کا کیا معنی تھا؟ حلت ثابت کرنے والا، حلت ثابت کرنے کا کیا معنی؟ نئی حلت آ رہی ہے، وہی حلت نہیں ہے۔ اگر وہی حلت ہے پھر تو تحصیلِ حاصل لازم آئے گا، اور تحصیلِ حاصل تو باطل ہے۔ کس طرح تحصیلِ حاصل؟ دیکھو ایک چیز جب آپ کو پہلے سے حاصل ہے تو اس کی تحصیل نہیں کر سکتے۔ ایک گاڑی آپ کے پاس ہے، آپ اس کے مالک ہیں، اب آپ کہتے ہیں میں یہ گاڑی حاصل کرنا چاہتا ہوں، بھئی آپ کو تو یہ پہلے ہی حاصل ہے، یہاں تحصیل ممکن ہی نہیں ہے، تحصیل اس چیز کی کی جاتی ہے جو آپ کو حاصل نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا جو چیز حاصل ہو اس کی تحصیل نہیں ہو سکتی بھئی، تحصیل کا کیا معنی؟ جو آپ کو پہلے حاصل نہیں تھی اور پھر حاصل ہو جائے، اور جو چیز پہلے سے ہی حاصل ہو وہاں تحصیل کا کیا معنی بھئی؟ تو تحصیلِ حاصل باطل ہے۔ اور یہاں پر کیا بات کی جا رہی ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند نے اگر پہلے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں، پھر درمیان میں زوجِ ثانی آیا اور پھر پہلے خاوند کے پاس آئی تو اب یہ وہی مابقیہ طلاقوں کا مالک ہو گا۔ تو شیخین فرماتے ہیں کہ بھئی یہ دوسرے خاوند کو محلل کہا گیا ہے، محلل کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جو حلت کو ثابت کرتا ہے۔ معلوم ہوا یہ جس حلت کو ثابت کرے گا وہ نئی حلت ہو گی، وہ پرانی والی حلت نہیں ہے۔ اگر پرانی والی حلت ہے ابھی بھی، تو یہ کیا ہے؟ محلل، حلت کو ثابت کرنے والا، جب پہلے سے حلت موجود ہے تو یہ حلت کو ثابت کر سکتا ہے؟ نہیں، یہ تو تحصیلِ حاصل لازم آئے گا، حلت تو پہلے سے موجود ہے تو حلت کو ثابت کرنے کا کیا معنی؟ لہٰذا ماننا پڑے گا یہ جس حلت کو ثابت کرتا ہے یہ وہی والی نہیں ہے ورنہ تحصیلِ حاصل لازم آئے گا، بلکہ یہ نئی حلت آ رہی ہے۔ تو جب بھی دوسرا خاوند آئے گا وہ حلت کو ثابت کرے گا یعنی نئی حلت کو ثابت کرے گا پہلے خاوند کے لیے، اور جب یہ نئی حلت کے ساتھ پہلے خاوند کے پاس آئے گی تو وہ ہر صورت میں تین طلاقوں کا مالک ہو گا، پچھلی حلت ختم ہو چکی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ“، ”سَمَّاهُ مُحَلِّلًا“ حضور علیہ السلام نے خاوندِ ثانی کو محلل قرار دیا، اس کا نام محلل رکھا، ”وَهُوَ الْمُثْبِتُ لِلْحِلِّ“ اور محلل تو وہ ہوتا ہے جو حلت کو ثابت کرے، اگر وہی پرانی حلت مراد لیتے ہیں تو پھر تو یہ مثبت للحل نہ ہوا کیونکہ پھر تو تحصیلِ حاصل ہے، لہٰذا معلوم ہوا یہ نئی حلت ثابت کر رہا ہے، اور جب نئی حلت ہے تو پھر وہ پہلا خاوند دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہو گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا“ اور جب خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، ”فَقَالَتْ“ اور اب صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، کچھ عرصے کے بعد وہ عورت دوبارہ آئی اور کہنے لگی کہ تم نے جب مجھے طلاقیں دی تھیں میں نے عدت گزاری، اور عدت کے گزارنے کے بعد میں نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا تھا، اور اس نے پھر میرے ساتھ صحبت کی اور اس نے پھر مجھے طلاق دے دی، اور پھر میں نے دوبارہ اس کی بھی عدت گزاری، اب میں آپ کے پاس آئی ہوں آپ میرے ساتھ دوبارہ نکاح کر لیں، پہلے خاوند کو کہتی ہے۔ تو کہتے ہیں اگر خاوند کا یہ غالب گمان ہو کہ یہ عورت سچ بول رہی ہے، اور مدت بھی اتنی ہے کہ اس کے اندر یہ سارا کچھ ہو سکتا ہے، کہ عورت عدت گزار سکتی ہے دوسرے خاوند کی، تو پھر اس صورت میں خاوند اس کی تصدیق کر سکتا ہے اور اس کے لیے نکاح جائز ہو جائے گا، وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ جبکہ اس کا غالب گمان بھی یہ ہے یہ عورت سچ بول رہی ہے اور مدت بھی اتنی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا“ اور جب خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، ”فَقَالَتْ“ تو عورت کہتی ہے، اب بعد میں آ کر عورت کہہ رہی ہے، ”فَقَالَتْ قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِيْ“ کہ تحقیق میری عدت گزر گئی تھی ”وَتَزَوَّجْتُ“ اور پھر میں نے نکاح کر لیا تھا ”وَدَخَلَ بِيَ الزَّوْجُ“ اور پھر دوسرے خاوند نے میرے ساتھ صحبت کر لی تھی ”وَطَلَّقَنِيْ“ اور پھر اس نے مجھے طلاق دے دی ”وَانْقَضَتْ عِدَّتِيْ“ اور پھر میری عدت گزر گئی ”وَالْمُدَّةُ تَحْتَمِلُ ذٰلِكَ“ اور یہ مدت اس کا احتمال بھی رکھتی ہے، یعنی اتنا وقت گزر چکا ہے، ”جَازَ لِلزَّوْجِ أَنْ يُصَدِّقَهَا“ تو خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ اس عورت کی تصدیق کرے ”إِذَا كَانَ فِيْ غَالِبِ ظَنِّهِ أَنَّهَا صَادِقَةٌ“ جب خاوند کا یہ غالب گمان ہو کہ یہ سچی ہے، ”لِأَنَّهُ مُعَامَلَةٌ أَوْ أَمْرٌ دِيْنِيٌّ لِتَعَلُّقِ الْحِلِّ بِهِ وَقَوْلُ الْوَاحِدِ فِيْهِمَا مَقْبُوْلٌ“ وجہ یہ کہتے ہیں یہ ایسی چیز ہے جس کے اندر ایک شخص کی خبر کو بھی قبول کر لیا جاتا ہے۔ ایک قابلِ اعتماد شخص کے قول کو بھی ان میں قبول کر لیا جاتا ہے، مثلاً کوئی دینی معاملہ ہو، یاد رکھو دینی معاملے کے اندر ایک شخص کی خبر کو بھی قبول کر لیا جاتا ہے جب غالب گمان ہو کہ یہ سچ بول رہا ہے۔ مثلاً دیکھو ایک جگہ پر تھوڑا سا پانی موجود ہے اور کہیں پانی نہیں مل رہا، لیکن اس پانی کا پتہ نہیں کہ یہ پاک ہے یا ناپاک ہے، اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے آ کر آپ کو بتلایا کہ یہ پانی پاک ہے، تو یاد رکھو اب اس صورت میں آپ کے لیے تیمم جائز نہیں ہے، اور تو کہیں پانی نہیں مل رہا لیکن یہ پانی تو موجود ہے اور ایک شخص نے بھی آپ کو بتا دیا کہ یہ پانی پاک ہے تو اب آپ کو وضو کرنا پڑے گا اس سے بھئی، کیونکہ پانی کا پاک یا ناپاک ہونا یہ ایک دینی معاملہ ہے اور دینی معاملے میں ایک شخص کی خبر کو بھی قبول کیا جاتا ہے۔ یا یہ اسی طرح ہے جیسے ایک مسلمان نے کہیں سے گوشت خریدا، بعد میں ایک آدمی آیا اور اس نے آ کر کہا کہ یہ تو مجوسی کا ذبح کیا ہوا جانور تھا بھئی، تو مسلمان کے لیے اب وہ گوشت کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ گوشت کا حلال یا حرام ہونا یہ ایک دینی معاملہ ہے بھئی، اور دینی معاملے میں ایک شخص کی خبر کو بھی قبول کیا جاتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کے جو معاملات ہیں اس کے اندر بھی ایک شخص کی بات کو قبول کیا جاتا ہے، مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کے پاس آیا اور آ کر کہتا ہے کہ زید نے آپ کو وکیل بنایا ہے آپ اس کے لیے گاڑی خرید لیں، تو یہ دیکھو توکیل کسی کو وکیل بنانا یہ دو آدمیوں کے درمیان ایک معاملہ ہوتا ہے، تو اس طرح کا جو معاملہ ہو تو اس کے اندر بھی ایک آدمی کی بات قبول کی جاتی ہے، تو اس شخص کے لیے جائز ہے کہ اس کی بات کو قبول کرتے ہوئے زید کے لیے گاڑی خریدے۔ یا اسی طرح ایک شخص کا غلام ہے اور آپ جانتے ہیں غلام محجور ہوتا ہے، اس پر پابندیاں ہوتی ہیں، وہ آقا کی اجازت کے بغیر نہ نکاح کر سکتا ہے، نہ نہ تجارت وغیرہ کر سکتا ہے، اس غلام کو آ کر کسی نے بتلایا کہ بھئی تمہارے آقا نے تمہیں تجارت کی اجازت دے دی ہے، تو تجارت کی اجازت دینا یہ آقا اور غلام کے درمیان ایک معاملہ ہے بھئی، تو معاملے کے اندر بھی ایک شخص کی بات قبول کر لی جاتی ہے، تو اس غلام کے لیے جائز ہوگا کہ اب یہ تجارت شروع کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا معاملات کے اندر یا اسی طرح دینی معاملہ جس کے اندر حلال یا حرام، پاک یا ناپاک ہونے کی بات ہو، اس کے اندر ایک شخص کی بات کو بھی قبول کر لیا جاتا ہے، اور یہاں پر بھی اس عورت نے کیا کہا ہے؟ کہ میں گئی تھی اور عدت گزار کر میں نے نکاح بھی کیا اور پھر دوسرے خاوند نے مجھ سے صحبت بھی کی، پھر اس نے مجھے طلاق دے دی اور پھر میں نے دوبارہ عدت بھی گزاری، اب میں تمہارے پاس آئی ہوں میرے ساتھ نکاح کر لو۔ تو اب دیکھا جائے تو یہ ایک معاملے کی خبر دے رہی ہے کہ میں نے کسی اور سے نکاح کیا تھا اور نکاح بھی کس کا نام ہے؟ مرد اور عورت کے درمیان ایک عقد کا نام ہے، ایک معاملے کا نام ہے۔ تو یہ ایک معاملے کی خبر دے رہی ہے، لہٰذا معاملے کے اندر بھی ایک شخص کی بات کو قبول کیا جاتا ہے تو اس عورت کی بات کو بھی قبول کیا جائے گا۔ یا دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ایک دینی معاملے کی خبر دے رہی ہے، دینی معاملہ بایں اعتبار ہے کہ اس کی خبر کی وجہ سے یہ عورت خاوند کے لیے حلال ہو رہی ہے، پہلے خاوند کے لیے پہلے تو کیا تھی؟ حرام تھی اب حلال ہو رہی ہے، تو ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ جو عورت آ کر بتلا رہی ہے یہ معاملے کی خبر دے رہی ہے اور معاملے کے اندر بھی ایک شخص کی بات قبول کی جاتی ہے، اور دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ایک دینی امر ہے اور دینی امر کے اندر بھی ایک شخص کی بات کو قبول کیا جاتا ہے جبکہ اس کے سچا ہونے کا غالب گمان ہو بھئی۔ تو لہٰذا یہاں خاوند بھی اس کی بات قبول کر کے اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُعَامَلَةٌ“ کیونکہ عورت نے یہ جو دوسرے نکاح کی خبر دی ہے وہ ایک معاملہ ہے ”أَوْ أَمْرٌ دِيْنِيٌّ“ یا وہ ایک امرِ دینی ہے، دینی معاملہ ہے ”لِتَعَلُّقِ الْحِلِّ بِهِ“ کیونکہ اس کے ساتھ اس عورت کے حلال ہونے کا تعلق ہے ”وَقَوْلُ الْوَاحِدِ فِيْهِمَا مَقْبُوْلٌ“ اور ایک شخص کا قول بھی اس کے اندر قبول کیا جاتا ہے، ”وَهُوَ غَيْرُ مُسْتَنْكَرٍ إِذَا كَانَتِ الْمُدَّةُ تَحْتَمِلُهُ“ مستنکر بھئی، استنکار کا ویسے معنی ہوتا ہے ناپسند کرنا، یہاں یہ انکار کے معنی میں ہے، ”وَهُوَ غَيْرُ مُسْتَنْكَرٍ“ اور بیوی کی اس خبر کا انکار نہیں کیا جائے گا ”إِذَا كَانَتِ الْمُدَّةُ تَحْتَمِلُهُ“ جب مدت بھی اس کا احتمال رکھتی ہے، ”وَاخْتَلَفُوْا فِيْ أَدْنَى هٰذِهِ الْمُدَّةِ“ اور فقہاء نے اختلاف کیا ہے اس کی ادنیٰ مدت میں، یعنی کم سے کم کتنی مدت میں آئے عورت تو اس کا اعتبار کیا جائے گا؟ تو کہتے ہیں: ”وَاخْتَلَفُوْا فِيْ أَدْنَى هٰذِهِ الْمُدَّةِ“ اور علماء فقہاء نے اختلاف کیا ہے اس کی ادنیٰ مدت میں، ”وَسَنُبَيِّنُهَا فِيْ بَابِ الْعِدَّةِ“ اور عنقریب ہم اس کو بیان کریں گے عدت کے باب میں۔ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ عدت کے باب میں ہم بیان کریں گے کہ کم سے کم کتنی مدت کے اندر عورت آئے تو اس کا یقین کیا جا سکتا ہے، لیکن لیکن شارحین فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ کتاب العِدۃ کے اندر یہ ذکر کرنا بھول گئے بھئی، انہوں نے وہاں یہ چیز ذکر نہیں فرمائی، اور پھر شارحین ذکر فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ کم از کم دو ماہ کے بعد عورت آئے تو پھر اس کا یقین کیا جا سکتا ہے بھئی، دو ماہ کے بعد، اور صاحبین فرماتے ہیں انتالیس دن کے بعد۔ تو امام صاحب کے نزدیک کم از کم ساٹھ دن کے بعد عورت آ کر کہے تو تب اس کا یقین کیا جا سکتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک کم از کم انتالیس دن کے بعد عورت آ کر کہے تو اس کا یقین کیا جا سکتا ہے۔ کس طرح؟ ساٹھ دن کس طرح ہیں امام صاحب کے نزدیک اور انتالیس دن صاحبین کے نزدیک کس طرح ہے؟ تو دیکھو خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں، تو ان تین طلاقوں کے بعد جو عدت ہے وہ تو عورت نے اسی خاوند کے پاس گزاری ہے، کیونکہ عدت کے دوران نفقہ اور رہائش دینا کس کے ذمے ہے؟ اسی خاوند کے ذمے، تو یہاں وہ پوری عدت گزار کر چلی گئی، اور پھر اس کے بعد کچھ مدت کے بعد آئی تو وہ کتنی مدت ہونی چاہیے؟ تو یاد رکھو کہتے ہیں امام صاحب کے نزدیک کم از کم ساٹھ دن بھئی، کم از کم ساٹھ دن کے اندر ایک عورت کی عدت گزر سکتی ہے بھئی، یعنی دو مہینے کے اندر، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ کم از کم انتالیس دن کے اندر ایک عورت کی عدت گزر سکتی ہے۔ عدت کی کم سے کم مدت جو ہے امام صاحب کے نزدیک وہ ساٹھ دن ہے، یعنی دو مہینے ہے، اور صاحبین کے نزدیک کم سے کم مدت عدت کی وہ انتالیس دن ہو سکتی ہے یعنی ایک کم چالیس بھئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے، عدت کے اندر تین حیض آئیں گے، تو یہ تیس دن ان حیضوں کے ہو گئے، اور طہر کی کم سے کم مدت پندرہ دن ہے، تو تین حیضوں کے درمیان دو طہر آ گئے تو پندرہ اور پندرہ تیس، تو تیس دن طہر کے ہو گئے اور تیس دن تین حیض کے ہو گئے، تو یہ ساٹھ دن بھئی۔ تو کم از کم ساٹھ دن کے بعد یہ عورت آئے پھر خاوند اس کی تصدیق کر سکتا ہے بھئی۔ ایک عدت تو کہاں گزاری ہے؟ اسی خاوند کے پاس، اس کے بعد مزید یہ ساٹھ ساٹھ دن کم از کم گزار کر آئے، اور جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ کم سے کم مدت عدت کی وہ انتالیس دن ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے، تو تین حیض جو ہیں ان کی مدت ہو گئی نو دن، ہر حیض تین دن کا شمار کیا جائے تو تین حیض نو دن کے ہو گئے، اور طہر کی کم سے کم مدت پندرہ دن ہے، تو یہ تین حیضوں کے درمیان دو طہر آ گئے تو یہ تیس دن دو طہروں کے ہو گئے اور نو دن تین حیضوں کے ہو گئے تو یہ انتالیس دن بن گئے بھئی، تو یہ کم از کم انتالیس دن بعد یہ عورت آئے پھر ہی اس کی بات کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ تو صاحبین نے حیض کی بھی کم سے کم مدت کا اعتبار کیا اور طہر کی بھی کم سے کم مدت کا اعتبار کیا اور اس طرح یہ انتالیس دن بنتے ہیں، جبکہ امام صاحب نے طہر کی تو کم سے کم مدت کا اعتبار کیا لیکن حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت کا اعتبار کیا اور وہ دس دن ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ“۔
160 approved lectures · 64 of 160