دیکھیے بھئی کتاب پر:
"وَإِذَا قَالَ زَوْجُ الْأَمَةِ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا قَدْ كُنْتُ رَاجَعْتُهَا وَصَدَّقَهُ الْمَوْلَى وَكَذَّبَتْهُ الْأَمَةُ فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ، وَقَالَا الْقَوْلُ قَوْلُ الْمَوْلَى؛ لِأَنَّ بُضْعَهَا مَمْلُوكٌ لَهُ فَقَدْ أَقَرَّ بِمَا هُوَ خَالِصُ حَقِّهِ لِلزَّوْجِ فَشَابَهَ الْإِقْرَارَ عَلَيْهَا بِالنِّكَاحِ."
گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر خاوند جو ہے عورت کی طلاق کو معلق کر دے کسی وقت کے ساتھ یا کسی فعل کے ساتھ تو اس کا کیا حکم ہے۔ اور بتلایا تھا کہ یہ فعل کسی اجنبی کا فعل بھی ہو سکتا ہے جس کے ساتھ خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے، اور خاوند اپنے فعل کے ساتھ بھی طلاق کو معلق کر سکتا ہے اور بیوی کے فعل کے ساتھ بھی طلاق کو معلق کر سکتا ہے۔
اور پھر یہ جو فعل ہے اس میں دو صورتیں ہوں گی: یا تو ایسا فعل ہو گا کہ جس کے بغیر گزارا ہی نہیں، جس کے بغیر چارہ ہی نہیں وہ کرنا ہی پڑے گا ہر حال میں، جیسے کھانا کھانا ہے یا ظہر کی نماز پڑھنا بھئی۔ یا ایسا فعل ہو گا کہ اس کے بغیر بھی چارہ ہے، جیسے بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے بھئی۔
اور پھر یہ جو تعلیق ہے اور شرط ہے، یا تو یہ دونوں مرض الموت میں ہوں گے یا جو تعلیق ہے وہ تو صحت میں ہو گی اور شرط جو ہے وہ مرض الموت میں ہو گی۔ تو اس میں یاد رکھنا ایک بات بھئی، ایک تو یہ یاد رکھنا کہ یہ خاوند جس طلاق کو معلق کر رہا ہے وہ طلاقِ بائن ہونی چاہیے، وہ طلاقِ بائن ہونی چاہیے کیونکہ طلاقِ رجعی کے اندر تو عدت کے اندر عورت بالاتفاق وارثہ بنتی ہے بھئی۔ تو طلاقِ بائن ہونی چاہیے یا تین طلاقیں ہوں بھئی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ جو شرط ہے اس شرط نے تو ہونا ہی مرض الموت میں ہے۔ بات صرف تعلیق کی رہ جاتی ہے کہ تعلیق بھی مرض الموت میں ہے یا تعلیق مرض الموت سے پہلے تھی یعنی صحت کی حالت میں۔
تو طلاق کون سی ہو گی ان تمام مسائل کے اندر؟ طلاقِ بائن ہو گی یا تین طلاقیں ہوں گی۔ اور نیز شرط بھی ہمیشہ کب پائی جائے گی؟ مرض الموت کے اندر پائی جائے گی کیونکہ مرض الموت کے مسائل چل رہے ہیں۔ اور جبکہ تعلیق جو ہے اس میں احتمال ہے، ہو سکتا ہے تعلیق بھی مرض الموت میں کی ہو اور ہو سکتا ہے تعلیق جو ہے وہ صحت کی حالت میں کی ہو۔
تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ پہلی دو صورتیں جو ہیں یعنی جب طلاق کو وقت کے ساتھ معلق کیا ہے یا طلاق کو کسی اجنبی کے فعل کے ساتھ معلق کیا ہے، چاہے اس فعل کے بغیر چارہ ہے چاہے اس کے بغیر چارہ نہیں ہے، دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے۔ تو ان دونوں صورتوں میں یعنی جب طلاق کو وقت کے ساتھ معلق کیا یا اجنبی کے فعل کے ساتھ معلق کیا اگر تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں پائے گئے تو پھر عورت وارثہ بنے گی کیونکہ اس نے تعلیق مرض الموت میں کی ہے، معلوم ہوا یہ شخص جو ہے عورت پر ظلم کرنا چاہتا ہے، اسے وراثت سے محروم کرنا چاہتا ہے حالانکہ یہ مرض الموت میں مبتلا ہے اور عورت کا حق اس کے مال کے ساتھ وابستہ ہو چکا ہے، اس کے مال کے اندر عورت کا حق آ چکا ہے، یہ اس کے حق کو باطل کرنا چاہتا ہے ظلم کرنا چاہتا ہے، لہٰذا اس صورت میں بالاتفاق عدت کے اندر اگر خاوند کا انتقال ہوتا ہے تو یہ وارثہ بنے گی۔
اور اگر خاوند نے تعلیق صحت کی حالت میں کی ہے اور شرط مرض الموت میں پائی گئی ہے تو پھر خاوند کی طرف سے ظلم ثابت نہیں کیونکہ تعلیق تو خاوند نے صحت کی حالت میں کی ہے اور اس وقت تو عورت کا حق اس کے مال کے ساتھ وابستہ نہیں تھا، تو لہٰذا خاوند کی طرف سے ظلم متحقق نہیں ہوا، جب ظلم متحقق نہیں ہوا تو عورت وارثہ نہیں بنے گی بھئی۔
جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس صورت کے اندر بھی جب تعلیق صحت کے اندر ہو اور شرط مرض الموت میں ہو تب بھی عورت وارثہ بنے گی۔ وجہ یہ کہ ضابطہ ہے کہ معلّق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط۔ جس چیز کو شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے وہ سبب بنتی ہے جس وقت شرط پائی جائے گی۔ اور معلوم ہوا خاوند نے تعلیق تو صحت کے اندر کی تھی لیکن شرط تو مرض الموت میں پائی جا رہی ہے اور جس وقت شرط پائی جائے گی اسی وقت "أَنْتِ طَالِقٌ" بھی آئے گا، تو معلوم ہوا یہ تتلیق بھی کس میں آ گئی؟ مرض الموت میں، مرض الموت میں گویا خاوند طلاق دے رہا ہے اور مرض الموت میں خاوند طلاق دے پھر تو عورت وارثہ بنتی ہے، لہٰذا یہاں بھی عورت عدت کے اندر وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو گیا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ یہاں پر وہ جو تعلیق ہے وہ تتلیق بن رہی ہے لیکن حکماً تتلیق بن رہی ہے قصداً تتلیق نہیں بن رہی، اور ظلم تو ہمیشہ قصداً ہوتا ہے بغیر قصد کے تو ظلم نہیں ہوتا، لہٰذا یہاں جو تتلیق آئی ہے وہ حکماً آئی ہے یعنی ہم نے یہ حکم لگا دیا ہے کہ اس وقت تتلیق آئی ہے قصداً اس وقت تتلیق نہیں آئی، لہٰذا خاوند کی طرف سے کوئی ظلم نہیں پایا گیا لہٰذا عورت وارثہ نہیں بنے گی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے اپنے کسی فعل کے ساتھ تو خاوند کا جو اپنا فعل ہے وہ چاہے اس کے بغیر چارہ ہو یا چارہ نہ ہو، یا اسی طرح چاہے تعلیق صحت میں کی ہے چاہے تعلیق مرض الموت میں کی ہے، تمام صورتوں کا ایک ہی حکم ہے جب خاوند نے اپنے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے کہ عورت وارثہ بنے گی۔ شرط کب پائی جا رہی ہے؟ مرض الموت میں۔ تتلیق چاہے صحت میں ہو چاہے مرض الموت میں، اور فعل میں چاہے چارہ ہو فعل کے بغیر چاہے چارہ نہ ہو، تمام صورتوں میں عورت وارثہ بنے گی۔ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ معلوم ہوا وہ فرار چاہتا ہے وہ ظلم چاہتا ہے، اس وجہ سے کہ یا تو وہ تتلیق جو ہے وہ مرض میں کر رہا ہے یا اس وجہ سے کہ وہ شرط والا فعل جو ہے مرض میں کر رہا ہے۔ تو تتلیق یا شرط جو ہے وہ خود کر رہا ہے مرض کے اندر تو لہٰذا عورت وارثہ بنے گی بھئی۔
البتہ یہاں ایک اشکال ہوتا ہے کہ جب خاوند نے تتلیق صحت کی حالت میں کی ہو تو مرض کی حالت میں جب شرط پائی جا رہی ہے اور فعل بھی کون سا ہے کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہیں ہے وہ تو کرنا ہی کرنا پڑے گا، تو جب ایسا فعل ہے جس کے سوا چارہ نہیں اور تتلیق جو ہے وہ صحت میں کی ہے اور شرط کب پائی جا رہی ہے؟ مرض الموت میں، تو یہ تو ایسا فعل ہے کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہیں تھا یہ تو خاوند کو کرنا ہی کرنا تھا، لہٰذا اس کے اندر تو ظلم نہیں ہے۔ کوئی ایسا فعل ہوتا کہ اس کے بغیر بھی چارہ ہوتا اور خاوند مرض الموت میں وہ والا فعل کر لیتا پھر تو ہم کہتے یہ ظلم کر رہا ہے، اس فعل کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا تھا لیکن یہ بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے اس لیے اس نے یہ فعل کیا، لیکن اگر فعل ایسا ہے کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہیں وہ تو خاوند مجبور ہے اس کو کرنا ہی پڑے گا تو اس میں تو خاوند کی طرف سے کوئی ظلم نہیں۔ کہتے ہیں بھئی، اگرچہ اس وقت اس فعل کے کرنے کے سوا تو چارہ نہیں ہے لیکن تعلیق سے تو سو ہزار چارے موجود تھے، خاوند تعلیق نہ کرتا، جب اس نے خود تعلیق کی ہے تو معلوم ہوا ظلم پایا جا رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور چوتھی صورت: جب خاوند طلاق کو عورت کے فعل کے ساتھ معلق کرے تو پھر اس میں دو صورتیں ہوں گی، یا تو اس فعل کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے یا اس کے بغیر گزارا اور چارہ نہیں ہے۔ تو اگر ایسا فعل ہے جس کے بغیر گزارا ہو سکتا ہے تو پھر چاہے تعلیق صحت میں کی ہو اور فعل عورت نے مرض الموت میں کیا، یا تعلیق بھی مرض الموت میں کی اور شرط بھی مرض الموت میں پائی گئی یعنی عورت نے وہ فعل مرض الموت میں کیا، تو اس صورت میں یہ تو ایسا فعل تھا کہ اس کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا تھا لیکن عورت اس کو کر رہی ہے معلوم ہوا وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے۔ تو لہٰذا جب ایسا فعل ذکر کیا خاوند نے جس کے بغیر گزارا ہو سکتا ہے اور عورت اس فعل کو کر رہی ہے مرض الموت کے اندر تو یہ عورت اپنا حق خود باطل کر رہی ہے لہٰذا یہ وارثہ نہیں بنے گی، چاہے تعلیق خاوند نے صحت میں کی ہو چاہے تعلیق مرض الموت میں کی ہو بھئی۔
اور اگر ایسا فعل ہے کہ جس کے بغیر چارہ ہی نہیں ہے تو اس صورت میں شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ عورت دونوں صورتوں میں وارثہ بنے گی۔ عورت دونوں صورتوں میں وارثہ بنے گی، چاہے تعلیق مرض الموت میں ہو چاہے تعلیق مرض الموت سے پہلے ہو۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرض الموت سے پہلے اگر خاوند نے تعلیق کی ہے اور فعل ایسا ہے جو عورت کو کرنا ہی پڑے گا اور وہ اس نے مرض الموت میں کیا تو مرض الموت میں تو خاوند کی طرف سے کوئی عمل نہیں پایا گیا، اس نے تو تعلیق کب کی تھی؟ صحت کی حالت میں اور اس وقت تو عورت کا حق اس کے مال میں ابھی نہیں آیا تھا بھئی۔ تو امام زفر اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب تعلیق صحت میں کی ہو اور فعل ایسا ہو کہ جس کے بغیر چارہ نہیں اور وہ فعل عورت مجبور ہو گئی اس کو مرض الموت میں کرنا پڑا، تو پھر اس صورت کے اندر مرض الموت میں خاوند کی طرف سے چونکہ کوئی عمل نہیں پایا گیا لہٰذا عورت وارثہ نہیں بنے گی، قصدِ فرار نہیں پایا گیا۔ جبکہ شیخین فرماتے ہیں نہیں، اس صورت میں بھی عورت وارثہ بنے گی، وجہ یہ کہ عورت اس کام کے کرنے پر مجبور ہے، تو عورت اس کام کے کرنے پر مجبور ہے تو عورت کا فعل خاوند کی طرف منتقل ہو جائے گا گویا خاوند مرض الموت میں یہ والا فعل کر رہا ہے، اور خاوند اپنے فعل کے ساتھ جب طلاق کو معلق کرتا تھا تو ہر حال میں عورت وارثہ بنتی تھی بھئی، تو یہاں بھی عورت وارثہ بنے گی بھئی۔
یہ اسی طرح ہے جیسے اِکراہ بھئی۔ اکراہ کا معنی ہے زبردستی کرنا، تو مُکرِہ زبردستی کرنے والا، مُکرِہ اسمِ فاعل ہے، اور مُکرَہ اسمِ مفعول ہے جس کے ساتھ زبردستی کی گئی۔ ایک شخص نے تلوار نکالی اور زید سے کہا کہ یہ عمرو کا مال جلا دو ورنہ میں تمہیں تلوار سے قتل کروں گا یا تمہیں زخمی کروں گا، تو زید مجبور ہو گیا اس کو عمرو کا مال جلانا پڑا۔ تو یہاں پر یاد رکھو اس مال کا جو ضمان آئے گا وہ مُکرَہ پر نہیں یعنی زید پر نہیں آئے گا جس نے مال جلایا ہے، کیونکہ یہاں تو زید محض ایک آلے کے درجے میں ہو گیا اور اصل فعل کا کرنے والا وہ مُکرِہ شمار ہو گا، لہٰذا مُکرِہ سے ضمان وصول کیا جائے گا۔ تو جیسے اکراہ کے اندر مُکرَہ آلے کے درجے میں ہوتا ہے اور مُکرِہ جو ہے وہ اس فعل کا ذمہ دار ہوتا ہے، اسی طرح یہاں پر بھی اگر خاوند نے ایسا فعل ذکر کیا ہے کہ عورت اس کے کرنے پر مجبور ہے تو خاوند کی طرف فعل منتقل ہو جائے گا اور عورت اس کے لیے آلے کے درجے میں ہے بھئی۔ جب خاوند کی طرف فعل منتقل ہو گیا تو یہ فعل تو مرض الموت میں پایا جا رہا ہے اور خاوند کا فعل جب مرض الموت میں آئے اور اس سے طلاق واقع ہو رہی ہو تو عورت وارثہ بنتی ہے، لہٰذا یہاں بھی عورت وارثہ بنے گی اگرچہ تعلیق صحت میں ہی کیوں نہ ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا کہ مرض الموت اسے کہتے ہیں جس کے اندر کسی شخص کا انتقال ہو جائے، اس میں بیوی کا حق اس کے مال کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر ایک شخص بہت زیادہ بیمار ہوا اور لوگ سمجھنے لگے کہ یہ شاید مرض الموت میں مبتلا ہو گیا ہے اور اس دوران اس نے بیوی کو طلاق دے دی اور پھر بعد میں یہ شخص ٹھیک ہو گیا، تو معلوم ہوا وہ مرض الموت تھا ہی نہیں، جب مرض الموت نہیں تھا وہ تو صحت کی حالت تھی اور صحت کی حالت میں تو عورت کا حق اس کے مال کے ساتھ وابستہ نہیں، لہٰذا اس میں پھر عدت کے اندر بھی اس کا انتقال ہو جائے تو عورت وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ قصدِ فرار نہیں پایا گیا بھئی۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں کہ چونکہ مرض الموت والی حالت میں اس نے طلاق دی ہے لہٰذا قصدِ فرار پایا گیا ہے، لہٰذا یہ عورت وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہوا تندرست ہونے کے بعد بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دے دیتا ہے اور پھر جدائی آ گئی اور ہم نے حکم لگا دیا کہ عدت کے اندر یہ عورت وارثہ بنے گی لیکن وہ عورت مرتد ہو گئی العیاذ باللہ۔ جب مرتد ہوئی تو اس میں وراثت کی اہلیت ہی ختم ہو گئی، پھر یہ دوبارہ مسلمان ہو گئی لیکن وراثت کی اہلیت باطل ہونے کی وجہ سے اب یہ وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ ارتداد کی وجہ سے وراثت کی اہلیت ہی ختم ہو جاتی ہے، مرتد کسی کا وارث نہیں ہو سکتا۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند نے بیوی کو مرض الموت میں تین طلاقیں دے دیں اور پھر بیوی نے مطاوعت کر لی خاوند کے بیٹے کے ساتھ غلط تعلق قائم کر لیا، تو پھر اس صورت کے اندر یہ عورت وارثہ بنے گی۔ وجہ یہ کہ مطاوعت جو ہے وہ وارث ہونے کے منافی نہیں ہے وہ نکاح کے منافی ہے بھئی۔ محرم ہونا نکاح کے منافی ہے وارث ہونے کے منافی نہیں ہے بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر مرض الموت کے اندر خاوند کے طلاق دینے سے پہلے عورت نے مطاوعت کر لی تو پھر اس صورت میں جو حرمت آئی ہے وہ عورت کے فعل کی وجہ سے آئی ہے، معلوم ہوا وہ خود اپنا حق ساقط کرنے پر راضی ہے، لہٰذا عدت کے اندر بھی خاوند کا انتقال ہو جائے تو یہ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ جبکہ پچھلے مسئلے کے اندر جدائی خاوند کی طرف سے آئی تھی جبکہ اس مسئلے میں حرمت مطاوعت کی وجہ سے آئی ہے تو دونوں میں فرق ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کسی نے بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور پھر لعان کرنا پڑا، تو لعان ان افعال کے ساتھ ملحق ہے جس کے کرنے میں عورت مجبور ہے، اور جب عورت جس فعل کے کرنے پر مجبور ہو تو اس کے اندر عورت وارثہ بنتی ہے، چاہے تعلیق صحت میں ہو چاہے تعلیق مرض الموت میں ہو تو یہاں بھی وارثہ بنے گی۔
اور اگر خاوند نے بیوی سے ایلاء کیا یعنی چار مہینے تک یا اس سے زیادہ اس کے ساتھ صحبت نہ کرنے کی قسم کھائی، تو ایلاء جو ہے ملحق ہے اس تعلیق کے ساتھ جس میں طلاق کو معلق کیا گیا ہو وقت کے گزرنے کے ساتھ۔ اور وہاں پر اگر تعلیق صحت میں ہوتی تھی تو عورت وارثہ نہیں بنتی تھی اور تعلیق مرض الموت میں ہوتی تھی تو عورت وارثہ بنتی تھی، تو یہاں بھی ایلاء میں بھی اسی طرح ہو گا۔ اگر ایلاء صحت میں کیا ہے اور ایلاء کا زمانہ جو پورا ہوا وہ مرض الموت میں پورا ہوا ہے تو پھر عورت وارثہ نہیں بنے گی، اور اگر ایلاء بھی مرض الموت میں کیا ہے اور شرط بھی مرض الموت میں پوری ہوئی ہے تو پھر عورت عدت کے اندر وارثہ بنے گی بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلا دیا کہ وہ طلاقیں جن میں خاوند رجوع کر سکتا ہے یعنی طلاقِ رجعی، اس کے اندر عورت تمام صورتوں میں وارث بنے گی عدت کے اندر، اس لیے کیونکہ طلاقِ رجعی کی وجہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا حتیٰ کہ وطی بھی حلال ہوتی ہے، طلاقِ رجعی کے بعد عدت کے دوران خاوند کے لیے وطی بھی حلال ہوتی ہے اور وہ وطی کرے گا تو رجوع ہو جائے گا، وطی کر سکتا ہے لیکن جب کرے گا تو رجوع ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور نیز جتنے مسئلے ذکر ہوئے کہتے ہیں ان کے اندر ہم نے جو بتایا کہ عورت وارثہ بنے گی یہ عدت کے اندر اگر خاوند کا انتقال ہو پھر وارثہ بنے گی، عدت کے بعد انتقال ہو تو وارثہ نہیں بنے گی۔
اس کے بعد رجوع کا باب ہم نے شروع کیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ رجوع جو ہے عدت کے اندر خاوند کر سکتا ہے عورت چاہے راضی ہو یا راضی نہ ہو، اس لیے کیونکہ رجوع جو ہے وہ استدامتِ ملک کا نام ہے، اپنی ملکیت کو برقرار رکھنا۔ تو عدت کے اندر خاوند کی ملکیت ہے حتیٰ کہ خاوند صحبت بھی کر سکتا ہے بیوی کے ساتھ، اور صحبت کرے گا تو رجوع ہو جائے گا۔ تو رجوع استدامتِ ملک کا نام ہے اور ملکیت تو عدت کے اندر اندر ہوتی ہے لہٰذا عدت کے اندر اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو رجوع کا طریقہ بتلایا تھا کہ رجوع یہ ہے کہ خاوند صاف لفظوں میں یا تو بیوی کو کہہ دے: "رَاجَعْتُكِ" میں نے تجھ سے رجوع کر لیا، یا کسی اور کے سامنے کہہ دے: "رَاجَعْتُ امْرَأَتِي" میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔ اور عند الاحناف فعل کے ذریعے بھی رجوع ہو سکتا ہے لیکن وہ فعل ایسا ہونا چاہیے جو نکاح کے ساتھ خاص ہو، مثلاً اس سے صحبت کر لی، یا اس کا شہوت سے بوسہ لیا، یا شہوت سے اس کو بیوی کو ہاتھ لگایا، یا شہوت کے ساتھ عورت کے فرجِ داخل کو دیکھ لیا، تو یہ سب چیزیں نکاح کے ساتھ خاص ہیں۔ نکاح میں یہ حلال ہیں ویسے حلال نہیں، لہٰذا اس لیے ان سب سے بھی رجوع ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رجوع جو ہے ابتداءِ نکاح کے درجے میں ہے، کس درجے میں ہے؟ ابتداءِ نکاح کے درجے میں ہے، اور ابتداءِ نکاح جیسے کسی فعل وغیرہ سے ابتداءِ نکاح نہیں ہوتی وہاں زبان سے ایجاب و قبول کرنا پڑتا ہے یعنی وہاں قول ضروری ہوتا ہے، تو رجوع کے اندر بھی قول ضروری ہے فعل کے ذریعے رجوع نہیں ہو سکتا جیسے ابتداءِ نکاح کسی ایسے فعل کے ذریعے نہیں ہو سکتا بھئی۔
اور پھر یہ بھی صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہمارے نزدیک رجوع کے اندر دو گواہ بنا لے تو یہ مستحب ہے تاکہ بعد میں کوئی انکار نہ کر سکے بھئی۔ اور اگر عدت کے گزرنے کے بعد خاوند کہتا ہے میں نے رجوع کر لیا تھا اور عورت اس کی تصدیق کر دے پھر تو ٹھیک ہے رجوع ہو جائے گا، لیکن اگر عورت نے خاوند کی تکذیب کر دی تو پھر عورت کا قول معتبر ہے۔ اور امام صاحب کے نزدیک اس مسئلے کے اندر عورت پر قسم بھی نہیں ہے، لیکن یاد رکھو صاحبین کے نزدیک ان مسائل کے اندر بھی منکر پر قسم آئے گی بھئی اور فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی صاحبین کے نزدیک عورت سے قسم لی جائے گی اور پھر ہی عورت کا قول قبول کیا جائے گا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر کیا کہ خاوند اگر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں نے تجھ سے رجوع کر لیا اور عورت ساتھ ہی متصل فوراً کہتی ہے کہ میری تو عدت گزر چکی ہے، تو صاحبین کے نزدیک عورت نے بعد میں خبر دی ہے خاوند نے پہلے رجوع کیا ہے لہٰذا معلوم ہوا رجوع عدت کے اندر پایا گیا اور جب رجوع عدت کے اندر پایا گیا ہے تو رجوع صحیح ہو گیا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، رجوع نہیں ہوا اس لیے کیونکہ عورت نے جب خبر دی ہے معلوم ہوا عدت اس سے پہلے ختم ہوئی ہے اور سب سے قریبی زمانہ جو ہے اس کے وہ تو وہ زمانہ ہے جس میں خاوند قول کر رہا ہے رجوع کا بھئی، تو معلوم ہوا رجوع والا قول عین اس زمانے میں پایا گیا جس زمانے کے اندر عدت ختم ہو رہی تھی، تو رجوع نے عدت سے ملاقات نہیں کی بلکہ عدت کے ختم ہونے کے ساتھ ملاقات کی ہے عدت کے انقضاء کے ساتھ ملاقات کی ہے، لہٰذا اس صورت میں رجوع نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
"وَإِذَا قَالَ زَوْجُ الْأَمَةِ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا قَدْ كُنْتُ رَاجَعْتُهَا وَصَدَّقَهُ الْمَوْلَى وَكَذَّبَتْهُ الْأَمَةُ فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ، وَقَالَا الْقَوْلُ قَوْلُ الْمَوْلَى."
صورتِ مسئلہ یہ:
کہ آقا نے اپنی باندی کا نکاح کروایا ہے کسی شخص کے ساتھ اور اس شخص نے باندی کو طلاق دے دی اور عدت گزر گئی، عدت کے گزرنے کے بعد وہ شخص وہ خاوند کہتا ہے میں نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا اور آقا اس کی تصدیق کرتا ہے کہ ہاں اس نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا، اور باندی جھٹلاتی ہے اس کو کہ نہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے اس نے عدت میں رجوع نہیں کیا، تو اب کس کے قول کو لیں گے؟ باندی کے قول کو لیا جائے گا یا آقا کے قول کو لیا جائے گا؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں باندی کے قول کو لیا جائے گا، باندی کے قول کو لیا جائے گا لہٰذا رجوع صحیح نہیں رجوع ثابت نہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ آقا کے قول کو لیا جائے گا، آقا کے قول کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ باندی اس کی مملوکہ ہے بھئی، باندی کے منافع آقا کے مملوک ہوتے ہیں تو آقا خالص اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے۔ آقا کیا کر رہا ہے؟ خالص اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے، لہٰذا آقا کا قول معتبر ہو گا باندی کا قول معتبر نہیں کیونکہ باندی کے منافع کا مالک آقا ہے بھئی عدت کے بعد، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
"وَإِذَا قَالَ زَوْجُ الْأَمَةِ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا"
اور جب باندی کے خاوند نے کہا اس باندی کی عدت کے گزر جانے کے بعد
"قَدْ كُنْتُ رَاجَعْتُهَا"
کہ میں نے اس باندی سے عدت میں رجوع کر لیا تھا
"وَصَدَّقَهُ الْمَوْلَى"
آقا نے اس خاوند کی تصدیق کی کہ یہ سچ بول رہا ہے
"وَكَذَّبَتْهُ الْأَمَةُ"
اور باندی نے اس کو جھٹلایا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اس نے کوئی رجوع نہیں کیا
"فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ"
تو اس باندی کا قول معتبر ہے امام صاحب کے نزدیک
"وَقَالَا الْقَوْلُ قَوْلُ الْمَوْلَى"
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ آقا کا قول معتبر ہے
"لِأَنَّ بُضْعَهَا مَمْلُوكٌ لَهُ"
اس لیے کیونکہ باندی کا بضع جو ہے وہ آقا کا مملوک ہے، یعنی باندی کے منافعِ بضع کا مالک کون ہے؟ آقا ہے۔
"لِأَنَّ بُضْعَهَا مَمْلُوكٌ لَهُ فَقَدْ أَقَرَّ بِمَا هُوَ خَالِصُ حَقِّهِ لِلزَّوْجِ"
اس لیے کیونکہ باندی کے منافعِ بضع کا مملوک جو ہے وہ آقا ہے، تو آقا نے اقرار کیا ہے اس چیز کا جو خالص آقا کا حق تھا اس کا آقا نے اقرار کیا ہے خاوند کے لیے، تو آقا خالص اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے لہٰذا آقا کے اقرار کو تسلیم کیا جائے گا۔ مثلاً ایک آدمی ہے وہ دس لاکھ روپے کا مالک ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ مال میں نے زید سے لیا ہے، تو دیکھو یہ خالص اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے، یہ کیا کر رہا ہے؟ خالص اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے لہٰذا اس کا اقرار معتبر ہو گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی آقا اپنے خالص حق میں تصرف کر رہا ہے وہ معتبر ہو گا۔
"فَشَابَهَ الْإِقْرَارَ عَلَيْهَا بِالنِّكَاحِ"
تو یہ مشابہ ہو گیا آقا کا باندی کے خلاف اقرار کرنا نکاح کا۔ صورتِ مسئلہ یہ: آقا نے اقرار کر لیا کہ میں نے اس باندی کا نکاح زید سے کروایا تھا، تو جیسے آقا کے اقرار سے نکاح ثابت ہو جائے گا کیونکہ وہ خالص اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے، باندی کے منافع کا مالک کون تھا؟ آقا تھا تو لہٰذا وہ خالص اپنے حق کے اندر تصرف کر رہا ہے لہٰذا اس کا اقرار نکاح کے بارے میں معتبر، تو جیسے نکاح کے بارے میں اس کا اقرار معتبر اسی طرح خاوند کے رجوع کے بارے میں بھی آقا کا اقرار معتبر ہو گا۔ تو کہتے ہیں:
"فَشَابَهَ الْإِقْرَارَ عَلَيْهَا بِالنِّكَاحِ"
تو یہ مشابہ ہو گیا آقا کے اس اقرار جو باندی پر وہ کرے نکاح کے بارے میں۔
"وَهُوَ يَقُولُ"
اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ عدت کے بعد خاوند نے کہا میں نے رجوع کر لیا تھا عدت کے اندر، آقا کہتا ہے یہ سچ کہہ رہا ہے اور باندی کہتی ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ باندی کا قول معتبر ہے جبکہ صاحبین نے کیا فرمایا کہ آقا کا قول معتبر ہے۔ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی:
"وَهُوَ يَقُولُ: حُكْمُ الرَّجْعَةِ يَبْتَنِي عَلَى الْعِدَّةِ"
امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو رجوع کا حکم ہے اس کی بنیاد عدت پر ہے۔ رجوع کب ہو سکتا ہے؟ عدت کے اندر، تو رجوع کی بنیاد ہے عدت پر، اور عدت کے بارے میں تو باندی ہی کا قول معتبر ہے کسی اور کا قول معتبر نہیں کیونکہ عدت کب گزری ہے کب نہیں گزری یہ صرف باندی ہی بتلا سکتی ہے، اور جب عدت کے بارے میں باندی کا قول معتبر ہے تو جس چیز کی بنیاد اس عدت پر ہے اس کے بارے میں بھی عدت کے بارے میں کس کا قول معتبر؟ باندی کا، اور اسی عدت پر بنیاد ہے رجوع کی بھی، تو لہٰذا رجوع کے بارے میں بھی کس کا قول معتبر ہو گا؟ باندی کا قول معتبر ہو گا۔ تو کہتے ہیں:
"وَهُوَ يَقُولُ حُكْمُ الرَّجْعَةِ يَبْتَنِي عَلَى الْعِدَّةِ"
امام صاحب فرماتے ہیں کہ رجوع کا حکم اس کی بنیاد جو ہے عدت پر ہے
"وَالْقَوْلُ فِي الْعِدَّةِ قَوْلُهَا"
اور عدت کے بارے میں باندی کا ہی قول معتبر ہوتا ہے
"فَكَذَا فِيمَا يَبْتَنِي عَلَيْهَا"
تو اسی طرح اس چیز میں جس کی بنیاد عدت پر ہے اس کے بارے میں بھی باندی کا قول معتبر ہو گا۔
"وَلَوْ كَانَ عَلَى الْقَلْبِ"
اور اگر صورت اس کے برعکس ہوئی، مسئلہ اگر اس کے برعکس ہوا، مثلاً خاوند کیا کہہ رہا ہے عدت کے گزرنے کے بعد کہ میں نے عدت میں رجوع کر لیا تھا اور اب باندی تصدیق کر رہی ہے کہ ہاں یہ سچ کہہ رہا ہے اور آقا اس کی تکذیب کر رہا ہے کہ نہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو بالاتفاق آقا کا قول معتبر ہے۔ بالاتفاق آقا کا قول معتبر ہے، اب اس کی کیا وجہ وہ بھی ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں:
"وَلَوْ كَانَ عَلَى الْقَلْبِ فَعِنْدَهُمَا الْقَوْلُ قَوْلُ الْمَوْلَى"
اور اگر یہ مسئلہ برعکس ہوا تو صاحبین کے نزدیک آقا کا قول معتبر ہے
"وَكَذَا عِنْدَهُ فِي الصَّحِيحِ"
اور صحیح روایت کے مطابق امام صاحب کے نزدیک بھی آقا ہی کا قول معتبر ہے
"لِأَنَّهَا مُنْقَضِيَةُ الْعِدَّةِ فِي الْحَالِ"
بھئی دیکھیے، عدت گزر چکی ہے، عدت کے گزرنے کے بعد خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے عدت میں رجوع کیا تھا، لیکن اس وقت تو عدت گزر چکی ہے تو خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے رجوع کیا تھا، اور باندی اس کی تصدیق کر رہی ہے اور آقا اس کی تکذیب کر رہا ہے۔ تو عدت کے گزرنے کے بعد تو باندی کے منافع کا مالک آقا ہو جاتا ہے، باندی کے منافع کا مالک آقا ہو جاتا ہے اور باندی جو ہے خاوند کی تصدیق کر کے اپنے آقا کے حق کو ساقط کرنا چاہتی ہے، آقا اس کے منافع کا مالک ہو چکا ہے اور وہ کیا کرنا چاہتی ہے؟ آقا کے حق کو ساقط کرنا چاہتی ہے، لہٰذا اس لیے اس کا قول قبول نہیں کیا جائے گا آقا کے قول کو قبول کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں:
"لِأَنَّهَا مُنْقَضِيَةُ الْعِدَّةِ فِي الْحَالِ"
اس لیے کیونکہ وہ باندی جو ہے فی الحال منقضیۃ العدۃ ہے، یعنی اس وقت جب بات چل رہی ہے عدت گزر چکی ہے۔
"وَقَدْ ظَهَرَ مِلْكُ الْمُتْعَةِ لِلْمَوْلَى"
اور تحقیق جب عدت گزر گئی ہے تو ملکِ متعہ آقا کے لیے ظاہر ہو چکی ہے، ملکِ متعہ؟ متعہ کہتے ہیں نفع کو فائدے کو، یعنی باندی کے منافع کا مالک کون ہو چکا ہے؟ آقا ہو چکا ہے۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ فی الحال جو ہے باندی کی عدت گزر چکی ہے اور ملکِ متعہ آقا کے لیے ظاہر ہو چکی ہے کہ آقا اس کے منافع کا مالک ہو چکا ہے۔
"وَلَا تُقْبَلُ قَوْلُهَا فِي إِبْطَالِهِ"
تو اس باندی کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا آقا کے حق کو باطل کرنے کے بارے میں کہ وہ کیا کر دے اس کے ملکِ متعہ کو باطل کر دے۔ تو کہتے ہیں:
"وَلَا تُقْبَلُ قَوْلُهَا فِي إِبْطَالِهِ"
تو باندی کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا آقا کی ملکِ متعہ کو باطل کرنے میں۔
"بِخِلَافِ الْوَجْهِ الْأَوَّلِ"
بخلاف وجہِ اول کے، وہاں امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ وہاں بھی تو آقا نے تصدیق کی تھی لیکن وہاں امام صاحب کیا فرماتے تھے کہ باندی کا قول معتبر ہے بھئی، وہاں بھی تو یہ اعتراض ہوتا تھا کہ ملکِ متعہ کس کے لیے ثابت ہو چکی؟ آقا کے لیے ثابت ہو چکی ہے عدت کے بعد بات چل رہی ہے تو لہٰذا وہاں بھی آقا کا قول معتبر ہونا چاہیے تھا، لیکن آپ نے کیا کہا وہاں باندی کا قول معتبر ہے؟ تو اس کی اب وجہ بتلائیں گے:
"بِخِلَافِ الْوَجْهِ الْأَوَّلِ؛ لِأَنَّ الْمَوْلَى بِالتَّصْدِيقِ فِي الرَّجْعَةِ مُقِرٌّ بِقِيَامِ الْعِدَّةِ عِنْدَهَا"
بخلاف پہلی وجہ کے، اس لیے کیونکہ رجوع کے اندر آقا کے تصدیق کرنے سے آقا اقرار کر رہا ہے کہ عدت موجود تھی عندہا یعنی عند الرجعۃ۔ وہاں آقا کیا کہہ رہا ہے کہ خاوند نے عدت میں رجوع کر لیا تھا، خاوند نے عدت میں رجوع کر لیا تھا تو آقا عدت کی بات کر رہا ہے اور عدت کے اندر تو ملکِ متعہ آقا کے لیے ثابت نہیں تھی وہ تو خاوند کے لیے ہی ثابت تھی! اعتراض ہوتا ہے کہ امام صاحب آپ نے پہلی صورت میں باندی کے قول کو معتبر قرار دیا حالانکہ وہاں بھی تو عدت کے بعد بات چل رہی تھی اور عدت کے بعد باندی کے منافع کا مالک کون ہوتا ہے؟ آقا، لہٰذا وہاں آقا کا قول معتبر ہونا چاہیے تھا لیکن آپ نے کیا کہا وہاں باندی کا قول معتبر ہے تو اس کی وجہ بتلائیں گے، وجہ یہ کہ وہاں پر آقا اقرار کر رہا تھا کہ عدت کے اندر خاوند رجوع کر چکا ہے، اور عدت کے اندر تو ابھی باندی کے منافع کا مالک آقا نہیں بنا، وہ تو عدت کے بعد مالک بنے گا تو وہاں پر آقا باندی کے منافع کا بھی مالک ہی نہیں بنا بھئی، اس لیے وہاں پر آقا کا قول معتبر نہیں ہے بلکہ باندی کا قول معتبر ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ یہاں جبکہ یہاں آقا تکذیب کر رہا ہے اور عدت کے بعد بات چل رہی ہے تو آقا منافع کا مالک بن چکا ہے، لہٰذا عورت تصدیق کر کے اس آقا کے حق کو ساقط کرنا چاہتی ہے تو عورت کے قول کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ اس مسئلے کے اندر آقا نے خود اقرار کر لیا کہ اس نے رجوع کس وقت کر لیا تھا؟ عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا، جب عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا تو آقا کے لیے تو ملکِ متعہ ہی ثابت نہیں، جب ملکِ متعہ ثابت نہیں تو وہاں آقا کے لیے ملکیت ہی ثابت نہیں ہے تو وہاں باندی کا قول معتبر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
"بِخِلَافِ الْوَجْهِ الْأَوَّلِ لِأَنَّ الْمَوْلَى بِالتَّصْدِيقِ فِي الرَّجْعَةِ مُقِرٌّ بِقِيَامِ الْعِدَّةِ عِنْدَهَا وَلَا يَظْهَرُ مِلْكُهُ مَعَ الْعِدَّةِ"
بخلاف پہلی صورت کے اس لیے کیونکہ رجوع کے سلسلے میں آقا کی تصدیق سے آقا اقرار کرنے والا ہو گیا کہ رجوع کے وقت عدت قائم تھی عدت موجود تھی، اور عدت کے ساتھ تو آقا کی ملکیت ظاہر نہیں ہو سکتی، عدت کے اندر تو باندی کے منافع کا مالک خاوند ہی ہوتا ہے آقا نہیں ہوتا، اس لیے وہاں آقا کا قول معتبر نہیں بلکہ باندی کا قول معتبر ہو گا۔ جی مسئلہ بھی سمجھ میں آیا یا نہیں؟
آگے دیکھیے:
"وَإِنْ قَالَتْ قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِي"
اور اگر باندی کہتی ہے کہ میری عدت گزر گئی
"وَقَالَ الزَّوْجُ وَالْمَوْلَى لَمْ تَنْقَضِ عِدَّتُكِ فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا"
آقا اور خاوند کہتے ہیں کہ ابھی تیری عدت نہیں گزری تو باندی کا قول معتبر ہے
"لِأَنَّهَا أَمِينَةٌ فِي ذَلِكَ إِذْ هِيَ الْعَالِمَةُ بِهِ"
تو باندی کا قول معتبر ہے اس لیے کیونکہ عورت اس کے بارے میں امانت دار ہے، کیونکہ وہی اس بات کو جاننے والی ہے۔ عدت گزری ہے یا نہیں گزری اس کا پتہ عورت ہی سے چل سکتا ہے لہٰذا عورت ہی کا قول اس میں معتبر ہو گا قسم کے ساتھ بھئی۔
آگے دیکھیے:
"وَإِذَا انْقَطَعَ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ لِعَشَرَةِ أَيَّامٍ انْقَطَعَتِ الرَّجْعَةُ وَإِنْ لَمْ تَغْتَسِلْ، وَإِنِ انْقَطَعَ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ لَمْ يَنْقَطِعِ الرَّجْعَةُ حَتَّى تَغْتَسِلَ أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلٌ."
بھئی یاد رکھو، حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے اور حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے۔ اور عدت کا وقت ختم ہو گا جب تیسرا حیض مکمل ہو جائے، جب تیسرا حیض مکمل ہو جائے۔ اب صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ عدت کا وقت کس وقت ختم ہو گا، کیونکہ جب عدت ختم ہو گی تو رجوع ختم ہو جائے گا، جب تک عدت ہے رجوع ہو سکتا ہے اور عدت گزر گئی تو رجوع بھی ختم ہو گیا اس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا، اور عدت عورت کی کتنی ہے؟ تین حیض ہے۔ تو معلوم ہوا تیسرا حیض جب گزرے گا تو عدت کا وقت ختم ہو جائے گا۔ تو اب کیا خون رکتے ہی عدت کا وقت ختم ہو گیا اور اب رجوع نہیں ہو سکتا یا اس کے بعد بھی کچھ دیر رہے گا عدت کا وقت بھئی؟
تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے۔ کم سے کم مدت کتنی ہے حیض کی؟ تین دن، اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے بھئی۔ تو لہٰذا اگر خون دس دن کے پورے ہونے پر رکا ہے تو معلوم ہوا حیض ختم ہو گیا عدت ختم ہو گئی، کیونکہ اس سے آگے تو حیض آنے کا احتمال نہیں ہے کیونکہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت ہے ہی دس دن۔ لہٰذا اگر حیض پورے دس دنوں پر رکا ہے تو خون رکتے ہی...
ہی عدت گزر گئی اور اب رجوع نہیں ہو سکتا۔
لیکن اگر حیض کی مدت دس دن سے کم ہے تو پھر خون رکتے ہی فورا عدت کے گزرنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ حیض کا خون کبھی رک جاتا ہے اور کبھی پھر آتا ہے، پھر کبھی رک جاتا ہے اور کبھی پھر آنے لگتا ہے، تو لہٰذا جب دس دن سے کم کے اندر حیض کا خون رکا ہے تو ابھی بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے آگے پھر خون آ جائے۔ جب پھر خون آ جائے گا معلوم ہوا ابھی حیض چل رہا ہے اور جب حیض چل رہا ہے تو معلوم ہوا ابھی رجوع ہو سکتا ہے۔ تو لہٰذا اگر دس دن سے کم کے اندر خون رکا ہے تو پھر تھوڑا سا وقت گزرنا چاہیے تاکہ خون کا رکنا یقینی ہو جائے۔ کچھ وقت گزرنا چاہیے کہ خون کا بند ہونا اور خون کا رکنا یقینی ہو جائے، مضبوط ہو جائے، پکی بات ہو جائے کہ خون رک چکا ہے اب دوبارہ نہیں آئے گا۔ اور وہ کتنا وقت ہے؟ تو علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر عدت کا وقت اس وقت ختم ہو گا جب عورت غسل کر لے۔ کیا کر لے؟ غسل کر لے، یا عورت پر ایک پوری نماز کا وقت گزر جائے کہ اس کے ذمے ایک نماز آ جائے۔ اس کے ذمے ایک نماز آ جائے معلوم ہوا جب اتنا وقت گزر گیا تو اب خون کا رکنا پکا ہو گیا۔ جب خون کا رکنا پکا ہو گیا معلوم ہوا حیض ختم ہو چکا۔ حیض ختم ہو چکا معلوم ہوا اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو اور بہتر الفاظ میں ذکر فرمائیں گے۔ کہتے ہیں:
”وَإِذَا انْقَطَعَ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ لِعَشَرَةِ أَيَّامٍ“
اور جب تیسرے حیض کے اندر خون رک جائے دس دن پر،
”انْقَطَعَتِ الرَّجْعَةُ“
تو رجعت منقطع ہو جائے گی کیونکہ عدت پوری ہو گئی۔
”وَإِنْ لَمْ تَغْتَسِلْ“
اگرچہ عورت نے غسل نہ کیا ہو بھئی، کیونکہ اس سے زیادہ تو خون آ ہی نہیں سکتا، حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت ہے ہی دس دن۔
”وَإِنِ انْقَطَعَ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ“
اور اگر حیض کا خون منقطع ہو گیا دس دن سے کم میں،
”لَمْ يَنْقَطِعِ الرَّجْعَةُ“
تو رجعت ابھی بھی منقطع نہیں،
”حَتَّى تَغْتَسِلَ“
یہاں تک کہ عورت غسل کر لے تاکہ خون کا رکنا پکا ہو جائے، پتہ چل جائے اب خون نہیں آ رہا۔
”أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلٌ“
تو رجعت منقطع نہیں ہو گی یہاں تک کہ عورت غسل کر لے۔ عورت غسل کر لے،
”أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلٌ“
یاد رکھو یہ ”كَامِلٌ“ اس پر رفع پڑھنا۔ یہ صفت ہے وقت کی: ”وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلٌ“، تو وقت کا لفظ مرفوع ہے تو صفت بھی کیا ہو گی؟ مرفوع۔
کہتے ہیں: ”حَتَّى تَغْتَسِلَ“ یہاں تک کہ یہ غسل کر لے ”أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلٌ“ یا اس عورت پر نماز کا کامل وقت گزر جائے۔ یا اس عورت پر ایک نماز کا کامل وقت گزر جائے بھئی۔ کامل وقت کیا معنیٰ؟ مثلاً پورا عصر کا وقت گزر گیا بھئی، عصر کے وقت عورت کا خون رکا ہے اور پورا عصر کا وقت گزر گیا خون دوبارہ نہیں آیا تو جیسے ہی مغرب ہوئی عورت کے ذمے عصر کی نماز آ گئی۔ لہٰذا معلوم ہوا عدت ختم ہو چکی ہے، خون کا رکنا پکا ہو گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی، اس پر پاک لوگوں کا حکم آ گیا۔ تو نماز کس کے ذمے آیا کرتی ہے؟ پاک لوگوں کے، تو معلوم ہوا اس پر پاک لوگوں والا حکم آ گیا، معلوم ہوا حیض گزر چکا ہے۔ تو یا تو غسل کر لے، تو غسل کرتے ہی عورت کی عدت ختم اگر خون دس دن سے کم میں رکا ہے، یا عورت پر ایک پوری نماز کا وقت گزر جائے یعنی ایک نماز اس کے ذمے میں آ جائے۔ یا تو پورا وقت گزرے مثلاً عورت کا حیض رکا ہے گیارہ بجے اور اس کے بعد پھر پورا ظہر کا وقت گزر گیا، اس نے غسل نہیں کیا، اگر غسل کرے گی تو جیسے ہی غسل کر لے گی ساتھ ہی ہم حیض کے ختم ہونے کا حکم لگا دیں گے، لیکن مثلاً اس نے غسل نہیں کیا تو ظہر کی نماز کا وقت آیا، اس نے ابھی بھی غسل نہیں کیا اور پھر پورا ظہر کا وقت گزر گیا، اب تو یہ پاکی کی حالت میں ظہر کا وقت گزرا ہے لہٰذا عورت کے ذمے ظہر کی نماز آ گئی، عورت کو اب وہ اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا جب نماز آ گئی ہے اس کے ذمے، نماز تو حیض والی کے ذمے نہیں آتی، غیر حیض والی کے ذمے آتی ہے، پاک عورت کے ذمے آتی ہے، معلوم ہوا یہ پاک ہو چکی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور اگر ظہر کے وقت کے بیچ میں عورت کا خون رکا ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ کم از کم اس نماز کے وقت میں سے اتنا وقت باقی ہونا چاہیے جس میں عورت غسل کر کے تکبیرِ تحریمہ کہہ سکے یعنی نماز شروع کر سکے۔ یعنی اللہ اکبر کہہ سکے۔ تو ظہر کے آخری پندرہ منٹ باقی تھے اور اس وقت عورت کا خون رکا ہے، تو یہ پندرہ منٹ تو اتنے نہیں ہیں کہ جس میں عورت غسل بھی کر لے اور پھر نماز بھی شروع کر دے۔ لہٰذا ظہر کا وقت گزر گیا لیکن عورت کے ذمے ظہر کی نماز نہیں آئی ابھی بھئی۔ لیکن اگر اتنا وقت باقی تھا ظہر کا جس میں عورت غسل بھی کر سکتی تھی اور تکبیرِ تحریمہ بھی، مثلاً ظہر کے وقت میں سے آدھا گھنٹہ باقی ہے جس کے اندر عورت اطمینان سے غسل بھی کر سکتی ہے اور تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز کا آغاز بھی کر سکتی ہے، تو اس صورت کے اندر یاد رکھو جیسے ہی یہ آدھا گھنٹہ گزرے گا عورت کے ذمے ظہر کی نماز آ گئی کیونکہ اس کے پاس اتنا وقت تھا ظہر کے اندر جس میں یہ غسل کر کے تکبیرِ تحریمہ کہہ سکتی تھی، تو لہٰذا اب عورت کے ذمے نماز آ گئی۔ اور جب عورت کے ذمے نماز آ گئی معلوم ہوا یہ حیض سے نکل چکی ہے، جبھی اس کے ذمے نماز آئی ہے، اگر یہ حیض میں ہوتی تو اس کے ذمے نماز نہ آتی، تو پاک لوگوں والا پاک عورتوں والا ایک حکم اس کے اوپر آ گیا تو عدت کے گزرنے کا اور رجوع کے منقطع ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی، تو کہتے ہیں:
”وَإِنِ انْقَطَعَ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ“
اور اگر حیض کا خون جو ہے منقطع ہوا ہے دس دن سے کم میں،
”لَمْ يَنْقَطِعِ الرَّجْعَةُ حَتَّى تَغْتَسِلَ أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلٌ“
تو رجعت منقطع نہیں ہو گی یہاں تک کہ عورت غسل کر لے، غسل کر لے گی تو رجعت منقطع،
”أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلٌ“
یا عورت پر نماز کا پورا وقت گزر جائے یعنی اتنا وقت جس میں وہ کیا کر سکے؟ غسل کر کے تکبیرِ تحریمہ کہہ سکے تو اس کے ذمے نماز آ جائے گی۔
”لِأَنَّ الْحَيْضَ لَا مَزِيدَ لَهُ عَلَى الْعَشَرَةِ“
اس لیے کیونکہ حیض جو ہے وہ تو دس دن سے زائد نہیں ہوتا،
”فَبِمُجَرَّدِ الِانْقِطَاعِ خَرَجَتْ مِنَ الْحَيْضِ“
تو صرف خون کے رکنے سے ہی عورت حیض سے نکل جائے گی، دس دن پر خون رکا ہے تو خون رکنے سے ہی عورت حیض سے نکل جائے گی،
”فَانْقَضَتِ الْعِدَّةُ“
تو عدت گزر گئی،
”وَانْقَطَعَتِ الرَّجْعَةُ“
اور رجوع کرنا بھی منقطع ہو گیا اب رجوع نہیں ہو سکتا۔
”وَفِيمَا دُونَ الْعَشَرَةِ يُحْتَمَلُ عَوْدُ الدَّمِ“
اور دس دن سے کم کے اندر ”يُحْتَمَلُ عَوْدُ الدَّمِ“ احتمال ہے خون کے لوٹنے کا کہ ہو سکتا ہے خون دوبارہ شروع ہو جائے۔
”فَلَا بُدَّ أَنْ يَعْتَضِدَ الِانْقِطَاعُ بِحَقِيقَةِ الِاغْتِسَالِ“
”اِعْتَضَدَ يَعْتَضِدُ“ کے معنیٰ ہیں قوت پانا، قوت حاصل کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ أَنْ يَعْتَضِدَ الِانْقِطَاعُ“ لہٰذا ضروری ہے کہ خون کا رکنا مضبوط ہو جائے، خون کا رکنا قوت حاصل کر لے ”بِحَقِيقَةِ الِاغْتِسَالِ“ حقیقۃً غسل کے ذریعے۔ حقیقۃً غسل، جب غسل کر لیا معلوم ہوا اب خون نہیں آئے گا بھئی، خون کا رکنا پکا ہو گیا۔
”أَوْ بِلُزُومِ حُكْمٍ مِنْ أَحْكَامِ الطَّاهِرَاتِ“
یا کوئی ایسا حکم لازم ہو جائے ”مِنْ أَحْكَامِ الطَّاهِرَاتِ“ جو پاک عورتوں کا جو حکم ہوتا ہے، پاک عورتوں کے احکام میں سے کوئی حکم اس عورت پر لازم ہو جائے تو ہم کہیں گے حیض ختم ہوا بھئی۔
”أَوْ بِلُزُومِ حُكْمٍ مِنْ أَحْكَامِ الطَّاهِرَاتِ“
یا پاک عورتوں کے احکام میں سے کوئی حکم اس کے ساتھ لازم ہونے سے
”بِمُضِيِّ وَقْتِ الصَّلَاةِ“
نماز کا وقت گزرنے سے، نماز کا وقت گزرنے سے اس عورت پر پاک عورتوں کے احکام میں سے کوئی حکم لازم ہو جائے یعنی نماز اس کے ذمے آ جائے۔
”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتْ كِتَابِيَّةً“
دوسری صورت بھئی: اگر خاوند کی بیوی کتابیہ ہے یعنی یہودی یا عیسائی ہے مسلمان نہیں ہے۔ اب یہودی عیسائی عورت کے ذمے تو غسل بھی نہیں، غسل بھی اس پر واجب نہیں، اور نیز نماز بھی اس کے ذمے نہیں آ سکتی وہ تو احکامِ شریعت کی مکلف نہیں ہے، تو اس کے اندر اگر دس دن سے کم کے اندر خون رکا ہے تو پھر رجعت کے منقطع ہونے کا حکم کب لگائیں گے؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے وہاں اور کوئی نشانی نہیں ہے، وہاں جب دس دن سے کم میں جیسے ہی خون رکا ہے ہم کہیں گے عدت گزر گئی اب رجوع نہیں ہو سکتا کیونکہ وہاں اور کوئی نشانی نہیں، اس کے ذمے غسل بھی واجب نہیں اور اس پر نماز وغیرہ بھی واجب نہیں ہے، تو وہاں اور کوئی نشانی نہیں ہے بھئی۔
”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتْ كِتَابِيَّةً“
بخلاف اس صورت کے کہ جب عورت کتابیہ ہے یعنی مسلمان کی بیوی یہودی یا عیسائی عورت ہے،
”لِأَنَّهُ لَا يُتَوَقَّعُ فِي حَقِّهَا أَمَارَةٌ زَائِدَةٌ“
اس لیے کیونکہ اس عورت کے حق میں تو کسی زائد نشانی اور زائد علامت کی امید نہیں، امارت کسے کہتے ہیں؟ نشانی کو اور علامت کو،
”لِأَنَّهُ لَا يُتَوَقَّعُ فِي حَقِّهَا أَمَارَةٌ زَائِدَةٌ“
اس لیے کیونکہ اس عورت کے حق میں تو کسی زائد نشانی کی امید نہیں ہے،
”فَاكْتُفِيَ بِالِانْقِطَاعِ“
تو اکتفا کر لیا جائے گا خون کے رکنے پر ہی، اور خون رکتے ہی ہم کہہ دیں گے عدت گزر گئی اور رجعت ختم ہو گئی۔
”وَتَنْقَطِعُ إِذَا تَيَمَّمَتْ وَصَلَّتْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“
صورت یہ بھئی: عورت کا خون رک گیا دس دن سے کم میں، اور آپ نے ہمیں بتایا کہ دس دن سے کم کے اندر اگر خون رکے تو پھر یا عورت غسل کر لے گی تب ہم حکم لگائیں گے کہ عدت گزر گئی یا اتنا وقت گزر جائے کہ اس کے ذمے ایک نماز آ جائے بھئی۔ لیکن اگر مثلاً خون رکا اور اس وقت پانی ہی موجود نہیں ہے تو پھر اس صورت میں عدت کے ختم ہونے کا حکم کب لگایا جائے گا؟ کیا صرف تیمم کر لینے سے ہی حکم لگا دیا جائے گا عدت ختم ہو گئی یا تیمم کے ساتھ نماز پڑھنا بھی ضروری ہے؟ تو آپ کو بتائیں گے کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ تیمم کے ساتھ نماز بھی پڑھ لے، تیمم کر لے اور نماز پڑھ لے تو پھر ہم حکم لگائیں گے کہ اس عورت کی عدت گزر گئی۔ اگر صرف تیمم کر لیا تو پھر ابھی بھی عدت نہیں گزری۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تیمم غسل کا نائب ہے تو جب غسل کرنے سے عدت کے ختم ہونے کا حکم لگاتے تھے تو تیمم کرنے سے بھی ہم عدت کے ختم ہونے کا حکم لگا دیں گے۔ تو امام محمد صرف تیمم پر عدت کے منقطع ہونے اور رجوع کے ختم ہونے کا حکم لگاتے ہیں جبکہ شیخین صرف تیمم پر یہ حکم نہیں لگاتے بلکہ تیمم کے ساتھ نماز پڑھنا بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَتَنْقَطِعُ إِذَا تَيَمَّمَتْ وَصَلَّتْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“
اور رجوع کرنا منقطع ہو جائے گا جب عورت تیمم کر لے اور نماز پڑھ لے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک،
”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“
اور یہ استحسان ہے یعنی یہ قیاسِ خفی ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ تیمم کرتے ہی رجعت ختم ہونی چاہیے کیونکہ عدت گزر گئی، کیونکہ تیمم نائب ہے، خلیفہ ہے، کس کا؟ غسل کا، تو جو غسل کا حکم تھا وہی تیمم کا حکم بھی ہو گا، اور غسل کرتے ہی عدت ختم ہوتی تھی تو تیمم کرتے ہی عدت ختم ہونی چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ جی تو یہ استحسان ہے قیاسِ خفی ہے بھئی۔ قیاسِ خفی، آپ نے پڑھا ہے قیاسِ خفی کو بھی استحسان کب کہتے ہیں؟ جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہو، تو یہاں قیاسِ جلی موجود ہے۔ اگر اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی نہ ہوتا پھر جتنا مرضی گہرا قیاس ہو اس کو قیاس ہی کہتے ہیں استحسان نہیں کہتے۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے کہ تیمم کے بعد نماز پڑھے گی تو پھر رجعت منقطع ہو گی۔
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا تَيَمَّمَتِ انْقَطَعَتْ“
امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ عورت تیمم کر لے گی تو رجعت منقطع ہو جائے گی،
”وَهَذَا قِيَاسٌ“
اور یہ قیاس ہے،
”لِأَنَّ التَّيَمُّمَ حَالَ عَدَمِ الْمَاءِ طَهَارَةٌ مُطْلَقَةٌ“
اس لیے کیونکہ تیمم جو ہے پانی کے نہ ہونے کی حالت میں طہارتِ مطلقہ ہے،
”حَتَّى يَثْبُتُ بِهِ مِنَ الْأَحْكَامِ مَا يَثْبُتُ بِالِاغْتِسَالِ“
یہاں تک کہ تیمم کے ذریعے وہ سارے احکام ثابت ہو جاتے ہیں جو غسل سے ثابت ہوتے ہیں۔
امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں تیمم کرتے ہی رجعت ختم، اس لیے کیونکہ تیمم طہارتِ مطلقہ ہے۔ بھئی آپ اصولِ فقہ کے اندر پڑھ چکے ہیں کہ عند الاحناف تیمم طہارتِ مطلقہ ہے جبکہ عند الشوافع تیمم طہارتِ ضروریہ ہے۔ ضرورت کی وجہ سے شریعت نے اجازت دی ہے، لہٰذا ایک شخص ایک نماز کے لیے تیمم کرتا ہے تو عند الشوافع اس تیمم کے ساتھ یہ والی نماز یہ شخص پڑھے گا، اس کے ساتھ جو سنتیں پڑھنی ہیں یا جو نوافل پڑھنے ہیں وہ سارے پڑھ سکتا ہے، لیکن اسی تیمم کے ساتھ اگلی نماز یہ شخص نہیں پڑھ سکتا، اگلی نماز کے لیے نیا تیمم کرنا پڑے گا۔ اگلی نماز کے لیے نیا تیمم کرنا پڑے گا اس لیے کیونکہ تیمم جو ہے وہ طہارتِ ضروریہ ہے، انسان کو ضرورت اور حاجت تھی اس لیے شریعت نے تیمم کی اجازت دی، اور نماز جب پڑھ لی تو انسان کی ضرورت پوری ہو گئی، جب ضرورت پوری ہو گئی تو اب تیمم بھی ختم ہو گیا۔ اب جب اگلی نماز آئے گی اب پھر اس کو ضرورت پیش آ گئی پاکی حاصل کرنے کی اور پانی تو ہے نہیں تو پھر وہ تیمم کر لے اور نماز پڑھ لے، سنتیں وغیرہ نوافل جو پڑھنے ہیں وہ بھی ساتھ پڑھ سکتا ہے، لیکن جب ضرورت پوری ہو گئی اگلی نماز کے لیے پھر اس کو نیا تیمم کرنا پڑے گا کیونکہ وہ نئی ضرورت ہے بھئی۔ تو تیمم کیا ہے؟ طہارتِ ضروریہ ہے، صرف ضرورت کی وجہ سے شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، جب تک ضرورت ہے تیمم ہے، ضرورت ختم تو تیمم بھی ختم، اگلی ضرورت کے لیے پھر تیمم کرنا پڑے گا۔
جبکہ ہمارے نزدیک تیمم جو ہے وہ طہارتِ مطلقہ ہے، جیسے غسل یا وضو طہارتِ مطلقہ ہے، ایک غسل یا ایک وضو کے ذریعے آپ جتنی بھی نمازیں پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں، اسی طرح اسی طرح ایک تیمم کے ساتھ بھی آپ جتنی نمازیں پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ صبح آپ نے تیمم کیا تھا، رات تک پانی نہیں ملا اور آپ اسی تیمم سے نمازیں پڑھتے چلے جا رہے ہیں آپ پڑھ سکتے ہیں کیونکہ تیمم عندنا یعنی عند الاحناف یہ طہارتِ مطلقہ ہے، مطلقاً اس سے طہارت اور پاکی حاصل ہو چکی ہے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو تیمم ہے یہ غسل کا بدل ہے، یہ غسل کا نائب ہے، اور غسل جیسے طہارتِ مطلقہ ہے تیمم بھی کیا ہے؟ طہارتِ مطلقہ ہے۔ جیسے غسل کے ذریعے انسان نماز بھی پڑھ سکتا ہے، مسجد کے اندر بھی داخل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پاک ہو چکا ہے، قرآن کو بھی اٹھا سکتا ہے کیونکہ وہ پاک ہو چکا ہے، وہ قراءت بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ پاک ہو چکا ہے، نماز بھی پڑھ سکتا ہے کیونکہ وہ پاک ہو چکا ہے، اور سجدۂ تلاوت بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ پاک ہو چکا ہے غسل کرنے کی وجہ سے۔ تو جیسے غسل کی وجہ سے یہ سارے احکام ثابت ہو جاتے ہیں تو تیمم بھی طہارتِ مطلقہ ہے اس کی وجہ سے بھی یہ سارے احکام ثابت ہو جاتے ہیں۔ ایک شخص نے نماز کے لیے تیمم کیا ہے لیکن اسی تیمم سے وہ مسجد کے اندر بھی جا سکتا ہے کیونکہ تیمم سے پوری پاکی اس کو حاصل ہو چکی ہے، اسی تیمم کے ساتھ وہ قرآن کو اٹھاتا ہے اس کو ہاتھ لگاتا ہے یہ قرآن بھی اٹھا سکتا ہے، اسی تیمم کے ساتھ وہ سجدۂ تلاوت کرنا چاہتا ہے وہ سجدۂ تلاوت بھی کر سکتا ہے، اسی تیمم کے ساتھ وہ قراءت کرنا چاہتا ہے قرآن پڑھنا چاہتا ہے وہ بھی پڑھ سکتا ہے، حالانکہ جنابت والا تو قرآن نہیں پڑھ سکتا لیکن تیمم کیا ہے؟ طہارتِ مطلقہ ہے، اس کے ذریعے وہ سارے احکام ثابت ہو جاتے ہیں جو غسل کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں۔ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ امام محمد کی، لہٰذا جیسے دس دن سے کم میں حیض کا خون رکا اور عورت غسل کر لے تو عدت ختم اور رجوع منقطع، تو لہٰذا عورت تیمم بھی کر لے گی پانی موجود نہیں ہے وہ جیسے ہی تیمم کرے گی تو عدت ختم اور رجوع منقطع ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا تَيَمَّمَتِ انْقَطَعَتْ“
کہ جب وہ عورت تیمم کر لے گی تو رجعت منقطع ہو گئی،
”وَهَذَا قِيَاسٌ“
اور یہ قیاس ہے،
”لِأَنَّ التَّيَمُّمَ حَالَ عَدَمِ الْمَاءِ طَهَارَةٌ مُطْلَقَةٌ“
اس لیے کیونکہ تیمم جو ہے پانی نہ ہونے کی حالت میں طہارتِ مطلقہ ہے، یہ مطلق طہارت ہے،
”حَتَّى يَثْبُتُ بِهِ مِنَ الْأَحْكَامِ مَا يَثْبُتُ بِالِاغْتِسَالِ“
یہاں تک کہ اس تیمم کے ذریعے وہ احکام ثابت ہو جاتے ہیں جو غسل سے ثابت ہوتے ہیں۔
بھئی یاد رکھیے یہاں پر بھی یہ ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا کیونکہ ”حَتَّى“ کے نصب کے لیے میں نے بتلایا تھا دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ ”حَتَّى“ کا ما بعد مستقبل ہونا چاہیے ”حَتَّى“ کے ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ تھی کہ ”حَتَّى“ جو ہے وہاں سببیّت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو، یعنی ”حَتَّى“ کے ما قبل کو سبب ہونا چاہیے ما بعد کے لیے یا ”حَتَّى“ کے ما بعد کو غایت ہونا چاہیے ما قبل کے لیے، پھر ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے، تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں لہٰذا ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا یعنی اس ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر نہیں ہو گا۔
دیکھیے بھئی:
”حَتَّى يَثْبُتُ بِهِ مِنَ الْأَحْكَامِ مَا يَثْبُتُ بِالِاغْتِسَالِ“
یہاں تک کہ اس تیمم کے ذریعے وہ احکام ثابت ہو جاتے ہیں جو غسل سے ثابت ہوتے ہیں،
”فَكَانَ بِمَنْزِلَتِهِ“
تو یہ تیمم بھی غسل کے درجے میں ہو گا، اور غسل کرنے سے تو عدت ختم ہوتی تھی تو تیمم سے بھی عدت ختم ہو جائے گی۔
”وَلَهُمَا“
شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ:
”أَنَّهُ مُلَوِّثٌ غَيْرُ مُطَهِّرٍ“
کہ تیمم یہ تو انسان کو آلودہ کرتا ہے، ”لَوَّثَ يُلَوِّثُ تَلْوِيثًا“ ث کے ساتھ، یہ اس کے معنیٰ ہیں کسی چیز کو آلودہ کرنا، میلا کرنا۔ بھئی پانی جو ہے پانی کی ذات ہی مطہر ہے وہ میلی چیزوں کو صاف کرتا ہے جبکہ تیمم وہ تو مٹی سے کیا جاتا ہے اور مٹی کیا ہے؟ وہ تو ملوث ہے وہ تو چیزوں کو آلودہ کرتی ہے، میلا کرتی ہے۔ تو لیکن شریعت نے تیمم کے ذریعے نمازوں کی اجازت دی ضرورت کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے معلوم ہوا تیمم طہارتِ ضروریہ ہے۔ معلوم ہوا تیمم طہارتِ ضروریہ ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی شیخین رحمہما اللہ کی دلیل چل رہی ہے:
”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مُلَوِّثٌ غَيْرُ مُطَهِّرٍ“ کہ تیمم یہ تو انسان کو آلودہ کرنے والا ہے، ”غَيْرُ مُطَهِّرٍ“ حقیقت میں انسان کو پاک کرنے والا نہیں، شریعت نے پاکی کا حکم لگا دیا وہ ضرورت کی وجہ سے ہے ورنہ حقیقت کے اعتبار سے یہ انسان کو پاک نہیں کرتا یہ تو اس کو میلا کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ آلودہ کرنے والا ہے، ”غَيْرُ مُطَهِّرٍ“ پاک کرنے والا نہیں ہے حقیقت میں،
”وَإِنَّمَا اعْتُبِرَ طَهَارَةً ضَرُورَةَ أَنْ لَا تَتَضَاعَفَ الْوَاجِبَاتُ“
اور شرعاً اس تیمم کو طہارت اعتبار کیا گیا ”ضَرُورَةَ“ اس بات کی ضرورت کی وجہ سے ”أَنْ لَا تَتَضَاعَفَ الْوَاجِبَاتُ“ تاکہ کہیں واجبات دگنے نہ ہو جائیں۔
بھئی دیکھیے ایک شخص ہے وہ نماز پڑھنا چاہتا ہے لیکن پانی موجود نہیں ہے، وضو کہاں سے کرے؟ تو شریعت نے اجازت دی کہ تیمم کر لو اور نماز پڑھ لو۔ تیمم کر لو اور نماز پڑھ لو اس لیے کیونکہ اگر اس طرح اس کو اجازت نہیں دی جائے گی تو اس کے ذمے واجبات بڑھتے چلے جائیں گے، نمازوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور یہ شخص مشکل میں اور تکلیف میں پڑ جائے گا بھئی، ان سب نمازوں کو بعد میں ادا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا یہ تکلیف اور تنگی میں پڑ جائے گا تو شریعت نے تیمم کی اجازت دی۔ معلوم ہوا شریعت نے یہ تیمم کی اجازت کس لیے دی ہے؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے کہ کہیں اس پر واجبات کی تعداد دگنی نہ ہو جائے، نمازیں اس کے ذمے بڑھتی نہ چلی جائیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا اعْتُبِرَ طَهَارَةً“ تیمم کو طہارت اعتبار کیا گیا شریعت میں ”ضَرُورَةَ أَنْ لَا تَتَضَاعَفَ الْوَاجِبَاتُ“ اس بات کی ضرورت کی وجہ سے کہ کہیں واجبات جو ہیں وہ دگنے نہ ہو جائیں،
”وَهَذِهِ الضَّرُورَةُ تَتَحَقَّقُ حَالَ أَدَاءِ الصَّلَاةِ“
اور یہ ضرورت پائی جاتی ہے نماز کی ادائیگی کی حالت میں،
”لَا فِيمَا قَبْلَهَا مِنَ الْأَوْقَاتِ“
نماز سے ما قبل اوقات میں نہیں۔
تیمم کیا ہے؟ طہارتِ ضروریہ، اور یہ ضرورت کب پائی جائے گی؟ نماز کی ادائیگی کی حالت میں تو ضرورت ہے اور اس سے ما قبل کے اوقات میں تو ضرورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ الضَّرُورَةُ تَتَحَقَّقُ حَالَ أَدَاءِ الصَّلَاةِ“ اور یہ ضرورت جو ہے پائی جاتی ہے نماز کی ادائیگی کی حالت میں ”لَا فِيمَا قَبْلَهَا مِنَ الْأَوْقَاتِ“ اس نماز سے ما قبل کے اوقات میں نہیں، تو ضرورت صرف نماز ادا کرنے کی حالت میں پائی جائے گی۔ تیمم کیا ہے؟ طہارتِ ضروریہ ہے، اور معلوم ہوا یہ طہارت صرف کس وقت بنے گی؟ جب ضرورت ہو گی، اور ضرورت تو کس وقت ہوتی ہے؟ نماز کے لیے، لہٰذا یہ عورت صرف تیمم کر لے اور نماز نہیں پڑھتی معلوم ہوا اس کو حاجت نہیں ہے، جب حاجت نہیں ہے تو تیمم طہارت ہی نہیں ہے، جب طہارت ہی نہیں ہوئی تو ابھی بھی وہ عورت اسی حالت میں ہے، جب اسی حالت میں ہے تو حیض ابھی ختم نہیں ہوا، لہٰذا تیمم کے بعد نماز بھی پڑھ لے چاہے فرض پڑھے چاہے نفل پڑھے لیکن پڑھ لے، جب نماز پڑھے گی معلوم ہوا اس کو تیمم کی حاجت ہے، ضرورت ہے پانی موجود نہیں ہے، اور ضرورت کی وجہ سے تو تیمم کیا بن جاتا ہے؟ طہارت بن جاتا ہے، اب تیمم کرے گی تو تیمم طہارت بنے گا اور پھر نماز پڑھے گی، بات سمجھ میں آ گئی، اگر نماز نہیں پڑھتی تو تیمم تو طہارت ہی نہیں ہے۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ یہ معنیٰ ہے کہ: ”وَهَذِهِ الضَّرُورَةُ تَتَحَقَّقُ حَالَ أَدَاءِ الصَّلَاةِ“ اور یہ ضرورت پائی جائے گی نماز کی ادائیگی کی حالت میں ”لَا فِيمَا قَبْلَهَا مِنَ الْأَوْقَاتِ“ نماز کے اوقات سے پہلے نہیں۔
”وَالْأَحْكَامُ الثَّابِتَةُ أَيْضًا ضَرُورِيَّةٌ اقْتِضَائِيَّةٌ“
یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے قول کا، وہ کیا فرماتے تھے؟ وہ فرماتے تھے کہ تیمم طہارتِ مطلقہ ہے جبکہ شیخین فرماتے ہیں تیمم طہارتِ ضروریہ ہے۔ اور انہوں نے کہا تھا کہ جو احکام غسل کی وجہ سے ثابت ہوتے ہیں وہ سارے تیمم کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتے ہیں، غسل جب آپ کر لیں آپ کئی نمازیں اسی غسل سے پڑھ سکتے ہیں، تیمم کے اندر بھی آپ کئی نمازیں اسی تیمم سے پڑھ سکتے ہیں جب تک پانی نہیں ملتا یا وضو نہیں ٹوٹتا بھئی، نیز اسی طرح آپ اسی تیمم سے مسجد کے اندر بھی جا سکتے ہیں حالانکہ جنابت کی حالت میں تو مسجد میں داخل ہونا منع ہوتا ہے، نیز اسی تیمم سے آپ قرآن کو بھی ہاتھ لگا سکتے ہیں حالانکہ جنابت یا بے وضو ہونے کی حالت میں تو آپ قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتے، اور نیز آپ قراءت بھی کر سکتے ہیں قرآن بھی پڑھ سکتے ہیں اسی تیمم سے حالانکہ جنابت کی حالت میں تو قرآن نہیں پڑھ سکتے، اور اسی طرح اسی تیمم سے آپ سجدۂ تلاوت بھی کر سکتے ہیں، معلوم ہوا تیمم طہارتِ مطلقہ ہے بھئی۔ جبکہ شیخین کیا فرما رہے ہیں؟ کہ تیمم طہارتِ ضروریہ ہے، ضرورت کی وجہ سے طہارت ہے ضرورت نہیں تو طہارت بھی نہیں۔ تو وہ جواب دیتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو باقی احکام بھی جو ثابت ہوتے ہیں تیمم کے لیے یہ بھی ضرورۃً اور اقتضاءً ثابت ہوتے ہیں، یہ بھی ضرورۃً اور اقتضاءً ثابت ہوتے ہیں، اس لیے کیونکہ ضرورت کی وجہ سے جو چیز آئے گی اس کے سارے لوازمات بھی ساتھ آ جائیں گے۔ تیمم ضرورت کی وجہ سے کیا بنے گا؟ طہارت بنے گا، جب طہارت بنے گا تو طہارت اپنے تمام لوازمات کے ساتھ آ جائے گی۔ جب یہ شخص اگر اور ضرورت کس کے لیے تھی؟ نماز کے لیے، توجہ ہے؟ تو اسی کی وجہ سے مسجد میں جانا بھی جائز ہو جائے گا کیونکہ مسجد محلِ صلاۃ ہے، نماز کی جگہ ہے۔ قراءت کرنا بھی اس کے لیے جائز ہو جائے گا اس لیے کیونکہ نماز میں قراءت کی جاتی ہے۔ قرآن کو ہاتھ لگانا بھی اس کے لیے جائز ہو جائے گا کیونکہ ہو سکتا ہے آدمی کو کوئی سورت بھول جائے وہ قرآن دیکھ کر اس کو یاد کر کے پھر نماز ادا کرنا چاہتا ہے۔ نیز اس کے لیے سجدۂ تلاوت بھی جائز ہو جائے گا کیونکہ ہو سکتا ہے نماز میں آیتِ سجدہ کی تلاوت کرے اور اس کو سجدہ کرنے کی حاجت پیش آ جائے، تو یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ اس کے ساتھ لازم ہیں یعنی یہ اقتضاءً ثابت ہو رہی ہیں، تیمم کے ساتھ نماز کا جائز ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ قرآن کا پڑھنا بھی جائز ہو، سجدۂ تلاوت بھی جائز ہو، مسجد میں جانا بھی جائز ہو، قرآن کو چھونا بھی جائز ہونا چاہیے کیونکہ ان سب کی حاجت پیش آ سکتی ہے نماز کے لیے۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْأَحْكَامُ الثَّابِتَةُ أَيْضًا ضَرُورِيَّةٌ اقْتِضَائِيَّةٌ“ اور وہ احکام جو اس تیمم کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں وہ بھی ضروری اور اقتضائی ہیں یعنی ضرورت اور اقتضاءً ثابت ہوتے ہیں، تیمم کے ساتھ نماز کا جائز ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ ساری چیزیں بھی جائز ہونی چاہئیں، تو یہ احکام بھی ضرورت کی وجہ سے اقتضاءً ثابت ہیں۔
یہاں بھئی ایک اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ کہ آپ نے ہمیں اصولِ فقہ میں بتلایا تھا کہ عند الاحناف تیمم طہارتِ مطلقہ ہے، آپ ایک ہی تیمم سے جتنی مرضی نمازیں پڑھ لیں جب تک پانی نہیں ملتا جب تک وضو نہیں ٹوٹتا، اور شوافع کے نزدیک تیمم طہارتِ ضروریہ ہے اس سے صرف ایک نماز پڑھ سکتے ہیں دوسری نماز کے لیے الگ تیمم کرنا پڑے گا، اور یہاں شیخین رحمہما اللہ فرما رہے ہیں کہ تیمم طہارتِ مطلقہ نہیں ہے بلکہ طہارتِ ضروریہ ہے، یہ تو آپ کی باتوں میں تضاد ہے، ایک جگہ تیمم کو طہارتِ مطلقہ قرار دیتے ہیں اور دوسری جگہ اس کو طہارتِ ضروریہ قرار دیتے ہیں؟ تو جواب یہ کہ یاد رکھیے عند الاحناف تیمم طہارتِ مطلقہ ہے لیکن اس میں طہارتِ ضروریہ ہونے کا معنیٰ بھی اس کے اندر موجود ہے، طہارتِ ضروریہ ہونے کا معنیٰ بھی اس کے اندر موجود ہے اور ضرورت کی وجہ سے شریعت نے اجازت دی ہے کہ کہیں اس شخص کے ذمے واجبات دگنے نہ ہو جائیں، نمازیں نہ بڑھتی چلی جائیں ورنہ تو یہ شخص ان کی ادائیگی میں مشکل میں پڑ جائے گا بھئی، تو لہٰذا تیمم کے اندر دونوں جہتیں ہیں: طہارتِ مطلقہ والی جہت بھی ہے اور طہارتِ ضروریہ والی جہت بھی ہے، اور یہاں پر شیخین نے اس کے طہارتِ ضروریہ ہونے کا اعتبار کیا ہے، ویسے باقی عام مسائل میں یہ کیا ہے؟ طہارتِ مطلقہ ہے، لیکن اس مسئلے کے اندر شیخین نے اس کے طہارتِ ضروریہ ہونے کا بھی اعتبار کیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
جی آگے دیکھیے تو کہتے ہیں:
”ثُمَّ قِيلَ تَنْقَطِعُ بِنَفْسِ الشُّرُوعِ عِنْدَهُمَا“
بھئی شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ خون دس دن سے کم رک گیا، غسل کے لیے پانی نہیں، عورت تیمم کر لے اور نماز پڑھے تو پھر عدت ختم ہو گی اور رجوع منقطع ہو گا۔ تو اب نماز صرف شروع کرنا کافی ہے یا نماز کا پورا کرنا ضروری ہے؟ تیمم کر کے عورت نے نماز شروع کر دی، تو کیا عدت ختم ہو گئی؟ یا نماز کے پورا کرنے کے بعد ہم حکم لگائیں گے کہ عدت ختم ہو چکی؟ تو یاد رکھو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ صرف نماز کا شروع کرنا کافی ہے، تیمم کر لیا اور نماز شروع کر دی بس شروع کرتے ہی تیمم کا طہارتِ ضروریہ ہونا ثابت ہو گیا کہ اس کو نماز کی حاجت تھی، طہارت آ گئی اور جب طہارت آ گئی تو حیض کیا ہوا؟ منقطع، اور جب حیض منقطع ہوا تو رجوع بھی ختم ہو چکا۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، نماز کا پورا کرنا ضروری ہے، وہ عورت اس نماز کو پورا کر لے چاہے وہ فرض ہے چاہے نفل تاکہ جوازِ صلاۃ کا حکم بھی ثابت ہو سکے۔ تاکہ نماز بھی تو اس کے ذریعے جائز ہو سکے پھر ہی ہم کہیں گے کہ یہ تیمم طہارت بنا، اس کی وجہ سے ایک نماز ہو گئی، اگر نماز ہی پوری نہیں ہو سکی تو پھر تو تیمم کے طہارت ہونے کا ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ مثلاً بھئی عورت نے نماز شروع کر دی، تیمم کر لیا اور نماز شروع کر دی، وہ چار رکعت فرض پڑھ رہی ہے اور آخری رکعت پڑھ رہی ہے اچانک خاوند گھر کے اندر پانی کا مٹکا اٹھائے ہوئے داخل ہوا، پانی نہیں مل رہا تھا تلاش کرتے کرتے کہیں اس کو مل گیا، تو وہ پانی لے کر گھر میں داخل ہوا اور ابھی اس عورت نے نماز پوری کی ہے کہ ابھی نہیں کی؟ ابھی تو نماز پوری نہیں کی، لہٰذا آپ کیا حکم لگائیں گے؟ پانی آتے ہی تیمم ختم، تیمم ختم تو یہ نماز بھی جو ابھی پوری نہیں ہوئی وہ کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، تو تیمم سے دیکھو ابھی بھی جوازِ صلاۃ والا حکم نہیں آیا۔ تو بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ صرف نماز کا شروع کرنا کافی ہے جبکہ بعض فرماتے ہیں کہ نماز کا پورا کرنا ضروری ہے تاکہ جوازِ صلاۃ کا حکم پکا ہو جائے کہ تیمم کے ذریعے ایک نماز جائز ہو چکی ہے، پوری ہو چکی ہے۔ ہاں اگر عورت نے سلام پھیر دیا اور پھر خاوند پانی کا مٹکا اٹھائے ہوئے اندر داخل ہوا، اب وہ نماز ہو چکی ہے اب اس کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے، معلوم ہوا تیمم کے ذریعے جوازِ صلاۃ ہو چکا ہے، عورت کو حاجت تھی اس نے اب حاجت کی وجہ سے تیمم کیا تھا اور اس کے ذریعے اپنی حاجت پوری کی ہے تو تیمم کا طہارت ہونا پورے طور پر ثابت ہو گیا۔ اور اسی کو علماء نے صحیح قرار دیا ہے کہ صرف نماز کا شروع کرنا کافی نہیں ہے بلکہ نماز پوری کر لے گی تو پھر ہم کہیں گے ایک نماز جائز ہو گئی تیمم کے ذریعے، معلوم ہوا اس سے طہارت حاصل ہو چکی ہے، جب طہارت حاصل ہو چکی ہے معلوم ہوا حیض ختم ہو چکا، جب حیض ختم ہو چکا ہے معلوم ہوا اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”ثُمَّ قِيلَ تَنْقَطِعُ بِنَفْسِ الشُّرُوعِ عِنْدَهُمَا“
کہ نفسِ شروع کرنے سے ہی رجعت جو ہے منقطع ہو جائے گی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک،
”وَقِيلَ بَعْدَ الْفَرَاغِ“
اور کہا گیا ہے نماز سے فارغ ہونے کے بعد جو ہے وہ رجعت منقطع ہو گی
”لِيَتَقَرَّرَ حُكْمُ جَوَازِ الصَّلَاةِ“
تاکہ جوازِ صلاۃ کا حکم ثابت ہو جائے، پھر رجعت منقطع ہو گی۔
آگے دیکھیے:
”وَإِذَا اغْتَسَلَتْ وَنَسِيَتْ شَيْئًا مِنْ بَدَنِهَا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَإِنْ كَانَ عُضْوًا فَمَا فَوْقَهُ لَمْ تَنْقَطِعِ الرَّجْعَةُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ عُضْوٍ انْقَطَعَتْ“
صورتِ مسئلہ یہ: ایک عورت ہے اس کا تیسرا حیض دس دن سے کم میں رک گیا، اور اب یہ غسل کرے گی تو غسل کرتے ہی عدت ختم ہو جائے گی اور رجوع منقطع ہو جائے گا۔ اس نے غسل کر لیا لیکن غسل کے اندر بدن کا کچھ حصہ خشک رہ گیا، بدن کا کچھ حصہ خشک رہ گیا، تو اب غسل اس نے کر لیا ہے تو اس صورت میں کیا رجعت منقطع ہوئی یا رجعت منقطع نہیں ہوئی؟ تو پھر آپ کو بتلائیں گے: اگر ایک پورا عضو رہ گیا ہے، اگر ایک پورے عضو کو
یہ دھونا بھول گئی ہے، پھر تو رجعت ابھی بھی باقی ہے۔ اور اگر عضو سے کم حصہ ہے، مثلاً ہاتھ کا تھوڑا سا حصہ یا پنڈلی کا تھوڑا سا حصہ رہ گیا ہے، تو اس صورت کے اندر پھر رجعت منقطع ہو چکی۔ اگر پورا عضو ہے یا اس سے زائد ہے تو رجعت منقطع نہیں ہے، جب تک اس حصے کو دھو نہ لے۔ اور اگر عضو سے کم ہے تو پھر رجعت منقطع ہو چکی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا مسئلہ ہوا؟ کہ عورت نے غسل کر لیا اور پھر اس کو یاد آیا کہ میں نے تو یہ اپنا بایاں ہاتھ پورا دھویا ہی نہیں بھئی۔ تو اگر پورے عضو کو بھول گئی ہے تو ابھی بھی رجوع ہو سکتا ہے، ابھی بھی عدت گزری نہیں، اور اگر عضو سے کم باقی ہے تو پھر عدت گزر گئی، رجعت منقطع ہو گئی۔
اور یاد رکھو، آپ کو بتائیں گے، یہاں آپ کو بتائیں گے کہ عورت نے غسل کیا اور بھول گئی، یہاں بھولنے سے مراد ہے کہ اس کو شک آ گیا۔ عورت غسل کر چکی ہے، بعد میں اس کو شک آیا کہ شاید میں نے اپنا پورا بایاں ہاتھ دھویا ہی نہیں بھئی۔ تو یہ اگر اس کو شک آیا ہے، شک آیا ہے پھر ہے یہ مسئلہ اس طرح۔ اگر عورت کو یقین ہے کہ میں نے واقعی بایاں ہاتھ دھویا ہی نہیں تھا یا اس کا کچھ حصہ نہیں دھویا تھا، تو پھر یاد رکھو رجعت منقطع نہیں ہو گی جب تک اس حصے کو نہ دھو لے، چاہے وہ پورا عضو ہو چاہے عضو سے کم ہو۔ تو یہ جو مسئلہ بیان کریں گے یہ کس صورت میں ہے؟ جب عورت کو شک ہوا۔ تو شک اگر پورے عضو کا ہے تو رجعت منقطع نہیں، ابھی بھی رجوع ہو سکتا ہے، اور اگر شک عضو سے کم کے اندر ہے تو پھر رجعت منقطع ہو چکی۔ اور اگر یقین ہے پورا عضو نہ دھونے کا یا عضو سے کم نہ دھونے کا، تو پھر رجعت منقطع نہیں جب تک وہ عورت اس حصے کو دھو نہ لے یا اس کے ذمے ایک نماز نہ آ جائے۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا اغْتَسَلَتْ وَنَسِيَتْ شَيْئًا مِنْ بَدَنِهَا﴾ اور اگر عورت نے غسل کیا اور بھول گئی ﴿شَيْئًا مِنْ بَدَنِهَا﴾ اپنے بدن میں سے کچھ چیز یعنی کچھ حصہ، اور بھولنے سے کیا مراد ہے؟ شک آیا ہے بعد میں، یقین نہیں ہے۔ تو بھول گئی اپنے بدن میں سے کچھ حصہ کہ ﴿لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ﴾ جسے پانی نہیں پہنچا، ﴿فَإِنْ كَانَ عُضْوًا فَمَا فَوْقَهُ﴾ تو اگر وہ چیز جو ہے ایک پورا عضو ہے یا اس سے زیادہ ہے، ﴿لَمْ تَنْقَطِعِ الرَّجْعَةُ﴾ تو رجعت منقطع نہیں ہے، ﴿وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ عُضْوٍ﴾ اور اگر یہ ایک عضو سے کم ہے، ﴿انْقَطَعَتْ﴾ تو رجعت منقطع ہو گئی۔ اگر شک جو ہے وہ عضو سے کم کے اندر ہے تو رجعت منقطع ہو گئی۔
﴿قَالَ: وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ﴾ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں یہ استحسان ہے۔ یہ جو ہم نے حکم لگایا کہ عضو یا عضو سے زیادہ کے اندر رجعت منقطع نہیں اور عضو سے کم کے اندر رجعت منقطع ہو گئی ہے، یہ استحسان ہے جبکہ قیاس اس کے برعکس ہے۔ قیاس اس کے برعکس ہے۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ﴿قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ﴾ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں یہ حکم جو ہم نے لگایا یہ استحسان ہے، ﴿وَالْقِيَاسُ فِي الْعُضْوِ الْكَامِلِ أَنْ لَا تَبْقَى الرَّجْعَةُ﴾ قیاس تو پورے عضو کے اندر بھی یہی کہتا ہے کہ ﴿أَنْ لَا تَبْقَى الرَّجْعَةُ﴾ کہ رجعت باقی نہیں رہی۔ پورے عضو کے اندر بھی بے شک اس کو شک آ جائے، قیاس تقاضا کرتا ہے کہ رجعت منقطع ہو گئی۔ کیوں؟ کیونکہ ایک عضو رہا ہے، باقی تو سارا بدن دھویا ہے اور لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ بھئی، اکثر کے لیے کُل والا حکم ہوتا ہے۔ تو یوں سمجھو کل ہی، پورا بدن ہی دھو لیا اور جب پورا بدن عورت دھو لیتی تھی تو رجعت منقطع ہوتی تھی، تو یہاں بھی رجعت منقطع ہونی چاہیے۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَالْقِيَاسُ فِي الْعُضْوِ الْكَامِلِ﴾ اور پورے عضو کے اندر قیاس تو یہ ہے، ﴿أَنْ لَا تَبْقَى الرَّجْعَةُ﴾ کہ اس صورت میں بھی رجعت باقی نہیں ہونی چاہیے، ﴿لِأَنَّهَا غَسَلَتِ الْأَكْثَرَ﴾ کیونکہ عورت نے اکثر کو دھو لیا ہے۔ عورت نے اکثر کو دھو لیا ہے۔ ﴿وَالْقِيَاسُ فِيمَا دُونَ الْعُضْوِ﴾ اور عضو سے کم کے اندر قیاس یہ ہے، ﴿أَنْ تَبْقَى﴾ کہ رجعت باقی رہے، ﴿لِأَنَّ حُكْمَ الْجَنَابَةِ وَالْحَيْضِ لَا يَتَجَزَّأُ﴾ اس لیے کیونکہ جنابت اور حیض کا حکم جو ہے ﴿لَا يَتَجَزَّأُ﴾ وہ تقسیم نہیں ہو سکتا۔ جنابت اور حیض والا حکم تقسیم نہیں ہو سکتا۔ دیکھو، بدن پر حدثِ اکبر طاری ہے۔ بدن پر حدثِ اکبر طاری ہے، ایک حدثِ اصغر ہے بے وضو ہونا، ایک حدثِ اکبر ہے جنابت یا حیض کی وجہ سے جو حدث طاری ہے بدن پر۔ تو یہ جو حدث ہے اس کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی۔ آپ ایسا نہیں کہہ سکتے کہ آدھے بدن سے تو حدثِ اکبر ختم ہو گیا اور آدھے پر حدثِ اکبر باقی ہے۔ نہیں۔ باقی ہے تو سارے بدن پر باقی ہے اور جب ختم ہو گا تو سارے بدن سے ختم ہو گا۔ تو اگر بدن کا تھوڑا سا حصہ بھی رہ گیا ہے تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس حدث کے اندر تقسیم نہیں ہے، یہ پاک ہو گا تو سارے بدن سے، اور جب کچھ حصے میں بھی ابھی حدث باقی ہے تو گویا سارے بدن میں حدث باقی ہے۔ تو مادونِ عضو سے کم کے اندر بھی قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ رجعت منقطع نہیں ہونی چاہیے۔
اور یاد رکھنا، یہ ایک قیاس ہے امام ابو یوسف کا اور ایک قیاس ہے امام محمد کا۔ پہلا قیاس امام ابو یوسف کا تھا، وہ فرماتے ہیں کہ عضو سے زیادہ بھی باقی ہو پھر بھی رجعت منقطع ہو گئی کیونکہ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، کچھ حصہ رہ گیا ہے، اکثر دھو لیا تو یوں سمجھو سارا بدن ہی دھو لیا۔ اور جب امام ابو یوسف کے نزدیک پورے عضو کے اندر، پورا عضو اگر رہ جائے تو بھی قیاس کیا تقاضا کرتا ہے؟ پورے عضو میں بھی ان کے نزدیک قیاس کیا تقاضا کرتا ہے کہ رجعت منقطع ہو گئی کیونکہ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، جب اکثر بدن دھو لیا یوں سمجھو پورا بدن دھو لیا۔ تو جب عضو کے اندر قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ رجعت منقطع ہو چکی تو عضو سے کم کے اندر تو بطریقِ اولیٰ جو ہے یہ تقاضا کرتا ہے کہ رجعت منقطع ہو چکی۔ دوسرا قیاس امام محمد رحمہ اللہ کا ہے مادون العضو کے اندر یعنی عضو سے کم کے اندر، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو حدث ہے اس کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی۔ جب اس کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی لہٰذا چاہے عضو سے کم حصہ ہی رہ گیا ہے، اس کے بارے میں شک آ گیا ہے تو معلوم ہوا حدث ابھی بھی بدن سے دور نہیں ہوا بھئی، کیونکہ حدث کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ تو جب عضو سے کم کے اندر قیاس یہ تقاضا کر رہا ہے کہ رجعت منقطع نہیں، تو عضو یا اس سے زیادہ کے اندر تو بطریقِ اولیٰ یہ تقاضا کرتا ہے کہ رجعت منقطع نہیں ہو گی بھئی۔ تو ایک قیاس کس کا ہے؟ امام ابو یوسف کا۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، تو چاہے عضو بچا ہے، چاہے عضو سے کم بچا ہے، رجوع منقطع ہو چکا۔ اور دوسرا قیاس امام محمد رحمہ اللہ کا ہے، وہ فرماتے ہیں حدث کی یا طہارت کی تجزی نہیں ہو سکتی۔ حدث ہے تو سارے بدن پر ہے، طہارت ہے تو سارے بدن پر ہے۔ تو لہٰذا وہ فرماتے ہیں عضو سے کم کے اندر بھی جب شک آ گیا تو معلوم ہوا حدث ابھی بھی باقی ہے۔ جب عضو سے کم کے اندر حدث باقی ہے تو پورے عضو میں یا اس سے زیادہ میں تو بطریقِ اولیٰ حدث باقی ہو گا۔ لیکن استحساناً صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں ہم نے کہا کہ عضو یا اس عضو سے زیادہ میں شک ہے تو رجعت منقطع نہیں، اور عضو سے کم کے اندر شک ہے تو رجعت منقطع ہو گئی جیسا کہ متن میں آ گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں، پھر دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ﴿وَالْقِيَاسُ فِي الْعُضْوِ الْكَامِلِ أَنْ لَا تَبْقَى الرَّجْعَةُ﴾ اور قیاس پورے عضو کے اندر یہ ہے کہ رجعت باقی نہ رہے، ﴿لِأَنَّهَا غَسَلَتِ الْأَكْثَرَ﴾ کیونکہ عورت نے اکثر بدن کو دھو لیا، اور لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ ہے بھئی آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں۔ ﴿وَالْقِيَاسُ فِيمَا دُونَ الْعُضْوِ﴾ اور قیاس جو ہے عضو سے کم کے اندر وہ یہ ہے، ﴿أَنْ تَبْقَى﴾ کہ رجعت باقی رہے، ﴿لِأَنَّ حُكْمَ الْجَنَابَةِ وَالْحَيْضِ لَا يَتَجَزَّأُ﴾ اس لیے کیونکہ جنابت اور حیض کا جو حکم ہے اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ﴿وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ﴾ اب استحسان کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ استحسان کی وجہ، استحسان میں بتلائیں گے کہ عضو سے کم اور پورے عضو دونوں میں فرق ہے۔ عضو سے کم اور... بھئی دونوں کے قیاس، بھئی دیکھو نا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قیاس کے مطابق اگر پورے عضو میں بھی شک آ جائے، پھر بھی اکثر بدن تو وہ دھو چکی ہے، لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، لہٰذا رجعت کیا ہو چکی؟ منقطع ہو چکی۔ جب پورے عضو کے اندر رجعت منقطع ہوئی ہے تو عضو سے کم کے اندر بطریقِ اولیٰ رجعت منقطع ہو گی بھئی۔ اور امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ عضو کے کم کے اندر رجعت باقی ہونی چاہیے، کیونکہ حدث یا طہارت کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ تو عضو کے کم کے اندر بھی معلوم ہوا جب عضو سے کم کے اندر بھی شک ہے تو ابھی بھی حدث باقی ہے۔ جب حدث باقی ہے تو رجوع باقی ہے۔ جب عضو سے کم کے اندر رجوع باقی ہے تو پورے عضو یا اس سے زیادہ میں تو بطریقِ اولیٰ رجوع باقی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہاں دونوں کا قیاس، ایک کے قیاس کے مطابق عضو ہو یا عضو سے کم، دونوں صورتوں میں رجعت منقطع ہو چکی، اور ایک کے قیاس کے مطابق چاہے عضو ہو یا عضو سے کم ہو، دونوں صورتوں میں رجعت باقی ہونی چاہیے۔ تو اب جواب دیں گے استحسان میں کہ نہیں، عضو میں اور عضو سے کم میں فرق ہے۔ آپ کے قیاس کے مطابق دونوں کا حکم ایک ہے، لیکن دونوں میں فرق ہے۔ عضو کا حکم اور ہونا چاہیے اور مادون العضو کا حکم اور ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ﴾ اور استحسان کی وجہ یہ ہے، ﴿وَهُوَ الْفَرْقُ﴾ اور یہی فرق بھی ہے، یعنی عضو اور مادون العضو کے اندر فرق بھی یہی ہے، ﴿أَنَّ مَا دُونَ الْعُضْوِ يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْجَفَافُ لِقِلَّتِهِ﴾ جفاف بھئی، جَفَّ يَجِفُّ جَفَافًا کا معنی ہے خشک ہونا۔ کہتے ہیں: ﴿أَنَّ مَا دُونَ الْعُضْوِ﴾ کہ عضو سے جو کم ہوتا ہے، ﴿يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْجَفَافُ﴾ تسارع کا معنی جلدی کرنا، ﴿يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْجَفَافُ﴾ اس کی طرف خشک ہونا جلدی آتا ہے، ﴿لِقِلَّتِهِ﴾ اس کے قلیل ہونے کی وجہ سے۔ انسان غسل کر رہا ہے، عضو تو دھو تو لیا اس نے لیکن عضو سے جو کم حصہ ہے وہ جلدی خشک ہو گا۔ تو وہاں انسان کو شک آ جائے گا کہ شاید میں نے اس کو نہیں دھویا۔ تو عضو سے کم کی طرف تو خشک ہونا جلدی آتا ہے، لیکن پورا عضو ہی خشک ہو جائے، اس کی طرف خشک ہونا جلدی نہیں آتا۔ تو دونوں میں فرق ہے بھئی۔ اور نیز عادتاً بھی پورے عضو سے انسان غافل نہیں ہوتا۔ عضو کے کچھ حصے سے تو غافل ہو سکتا ہے، عادتاً پورے عضو سے وہ غافل نہیں ہوتا، بالخصوص جب وہ پاکی کا غسل کر رہا ہو۔ وہ پاکی حاصل کرنا چاہتا ہے، حدثِ اکبر کے اندر ہے مثلاً حیض کے اندر ہے، وہ عورت وہ پاکی حاصل کر رہی ہے تو وہ ویسے بھی احتیاط کرے گی۔ تو پورے عضو سے غفلت عادتاً نہیں ہوتی لیکن عضو سے کم کے اندر غفلت ہو سکتی ہے بھئی۔
کہتے ہیں: ﴿أَنَّ مَا دُونَ الْعُضْوِ يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْجَفَافُ لِقِلَّتِهِ﴾ کہ عضو سے جو کم حصہ ہوتا ہے اس کی طرف خشکی جلدی آتی ہے اس کے قلیل ہونے کی وجہ سے، ﴿فَلَا يُتَيَقَّنُ بِعَدَمِ وُصُولِ الْمَاءِ إِلَيْهِ﴾ لہٰذا پانی کا اس عضو سے کم تک نہ پہنچنا یہ یقینی نہیں ہوتا۔ یعنی اس تک پانی نہیں پہنچا، عضو سے کم ہے، وہ تو جلدی خشک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس تک پانی نہیں پہنچا یہ یقینی نہیں، ہو سکتا ہے پانی پہنچ گیا ہو اور یہ خشک ہو گیا ہو۔ عضو سے جو کم ہے وہ جلدی خشک ہوتا ہے تو اس کی طرف پانی کا نہ پہنچنا یقینی نہیں، ہو سکتا ہے پانی پہنچ گیا ہو، غسل ہو چکا ہے۔ اس لیے ہم نے کیا حکم لگایا؟ کہ عضو سے کم ہے تو رجعت منقطع ہو چکی ہے، کیونکہ پانی کا نہ پہنچنا یقینی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے ﴿فَلَا يُتَيَقَّنُ بِعَدَمِ وُصُولِ الْمَاءِ إِلَيْهِ﴾ لہٰذا پانی کا اس عضو سے کم تک نہ پہنچنا یہ یقینی نہیں ہوتا، ﴿فَقُلْنَا﴾ پس ہم نے کہا: ﴿إِنَّهُ تَنْقَطِعُ الرَّجْعَةُ﴾ کہ رجعت منقطع ہو جائے گی اگر عضو سے کم کے بارے میں شک آیا ہے، ﴿وَلَا تَحِلُّ لَهَا التَّزَوُّجُ﴾ اور نیز اس عورت کے لیے نکاح بھی حلال نہیں۔
عورت نے کیا کیا؟ غسل کر لیا۔ غسل کے بعد اس کو شک آیا، عضو سے کم کے اندر شک آیا۔ کس میں؟ عضو سے کم کے اندر شک آیا، اور عضو سے کم تو جلدی خشک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پانی نہیں پہنچا یہ بات یقینی نہیں، ہو سکتا ہے پانی پہنچ گیا ہو۔ لہٰذا ہم نے احتیاط پر عمل کیا، اور احتیاط کیا ہے؟ کیا حکم لگایا جائے؟ رجعت باقی ہے یا رجعت ختم ہو گئی؟ رجعت ختم ہو گئی۔ رجعت... اس میں احتیاط زیادہ ہے، کیونکہ اگر رجعت باقی ہے، معلوم ہوا خاوند کے لیے حلال ہے، اور رجعت ختم تو خاوند کے لیے حرام، اور حلال اور حرام جمع ہو جائیں تو احتیاط کس میں زیادہ ہے؟ حرام کے اندر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حرمت کی جانب کو لیا جائے گا، تو ہم نے رجعت کے ختم ہونے کا حکم لگایا مادون العضو میں، عضو سے کم کے اندر، بطورِ احتیاط کے۔ اور نیز ہم نے بطورِ احتیاط کے یہ حکم لگایا ہے: عورت آگے نکاح نہیں کر سکتی۔ رجعت تو ختم ہو گئی، اور رجعت ختم ہوتے ہی عورت آگے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی؟ کر سکتی ہے، عدت ختم ہو گئی، نکاح کر سکتی ہے، لیکن ہم نے کہا: نہیں، ابھی آگے نکاح نہیں کر سکتی، جاؤ جا کر پہلے اس حصے کو دھو لو، اس پر پانی لگا دو، احتیاط اسی میں ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے حقیقت میں یہاں پانی نہ پہنچا ہو، جب حقیقت میں پانی نہیں پہنچا تو غسل پورا نہیں، جب غسل پورا نہیں تو ابھی عدت پوری نہیں، جب عدت پوری نہیں تو اگلا نکاح جائز ہی نہیں ہو گا۔ لہٰذا پہلے کیا کر لو؟ اس عضو کو دھو لو یا اتنا وقت گزر جائے جس میں عورت کے ذمے ایک نماز آ جائے، اب آگے نکاح کر سکتی ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: ﴿فَقُلْنَا إِنَّهُ تَنْقَطِعُ الرَّجْعَةُ وَلَا تَحِلُّ لَهَا التَّزَوُّجُ﴾ کہ ہم نے کہا کہ رجعت منقطع ہو جائے گی اور عورت کے لیے آگے نکاح حلال نہیں ہو گا، ﴿أَخْذًا بِالِاحْتِيَاطِ فِيهِمَا﴾ ان دونوں کے اندر احتیاط کو لیتے ہوئے۔ ان دونوں میں، کن دونوں میں؟ یہ جو پیچھے ذکر ہوئیں، رجعت کا منقطع ہونا اور نئے خاوند کا حلال نہ ہونا، ان دونوں میں ہم نے کس کو لیا ہے؟ احتیاط کو لیا ہے، احتیاط پر عمل کیا ہے۔ پھر دیکھ لیجیے: ﴿فَقُلْنَا إِنَّهُ تَنْقَطِعُ الرَّجْعَةُ﴾ ہم نے کہا کہ رجعت منقطع ہو گئی، یہ پہلی بات۔ ﴿وَلَا تَحِلُّ لَهَا التَّزَوُّجُ﴾ اور اس لیے ہم نے کہا کہ عورت کے لیے اگلا نکاح حلال نہیں، یہ دوسرا حکم ہے۔ تو یہ دونوں حکم ہم نے کیوں لیے؟ ﴿أَخْذًا بِالِاحْتِيَاطِ فِيهِمَا﴾ ان میں احتیاط کو لیتے ہوئے، یعنی رجعت کے منقطع ہونے میں اور نئے خاوند کے ساتھ نکاح میں ہم نے احتیاط کو لیا ہے۔
﴿بِخِلَافِ الْعُضْوِ الْكَامِلِ﴾ بخلاف پورے عضو کے، ﴿لِأَنَّهُ لَا يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْجَفَافُ﴾ اس لیے کیونکہ پورے عضو کی طرف تو خشکی جلدی نہیں آتی، پورا عضو تو جلدی خشک نہیں ہوتا، اور نیز ﴿وَلَا يُغْفَلُ عَنْهُ عَادَةً﴾ اور نیز عادتاً بھی پورے عضو سے غافل نہیں ہوا جاتا، ﴿فَافْتَرَقَا﴾ تو دونوں جدا ہو گئے ایک دوسرے سے، دونوں میں فرق آ گیا۔ امام ابو یوسف کے قیاس کے مطابق بھی پورے عضو یا مادون العضو دونوں کا حکم ایک بنتا ہے، امام محمد رحمہ اللہ کے قیاس کے مطابق بھی پورے عضو یا مادون العضو کا حکم ایک بنتا ہے، لیکن ہم نے بتایا نہیں، دونوں کے اندر فرق ہے بھئی۔ جب دونوں کے اندر فرق ہے تو دونوں کے حکم میں بھی فرق آ گیا۔ پورا عضو اگر باقی ہے، اس میں شک آیا ہے تو رجعت باقی ہے، اور اگر کم عضو باقی ہے تو رجعت منقطع ہو چکی۔
آگے دیکھیے: ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ تَرْكَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ كَتَرْكِ عُضْوٍ كَامِلٍ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مضمضہ اور استنشاق کا ترک کرنا یہ پورے عضو کو چھوڑنے کی طرح ہے۔ بات کیا چل رہی ہے؟ عورت نے غسل کر لیا، بعد میں اس کو شک آیا ہے، شک آیا ہے۔ تو اگر شک اس کو کلی کے اندر آیا کہ میں نے شاید کلی نہیں کی، یا استنشاق یعنی ناک میں پانی ڈالنے کے اندر اس کو شک آیا ہے، یاد رکھو یہاں جو آیا نا ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ تَرْكَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ﴾، یہ واؤ بمعنی او کے ہے۔ یہ واؤ بمعنی او کے ہے، اور واؤ بمعنی او کے عام استعمال ہوتا ہے کلامِ عرب میں۔ تو عورت کو مضمضہ یا استنشاق کے اندر شک آ گیا کہ میں نے کلی نہیں کی یا اس کو یہ شک آیا کہ میں نے ناک میں پانی نہیں ڈالا، تو پھر اس صورت کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی پورے عضو کو چھوڑنے کی طرح ہے۔ کس کی طرح ہے؟ پورے عضو کی طرح۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دوسری روایت یہ ہے، اور یہی قول امام محمد کا بھی ہے، کہ یہ مادون العضو کے درجے میں ہے۔ کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا یہ پورے عضو کے درجے میں نہیں بلکہ عضو سے کم کے درجے میں شمار ہو گا۔ وجہ یہ کہ یہ احناف کے نزدیک غسل میں واجب ہیں یہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا، باقی ائمہ کے نزدیک یہ واجب نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو سب کے نزدیک پورے بدن کا دھونا تو فرض ہے لیکن بالخصوص کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کے اندر احناف اور دیگر ائمہ کا اختلاف ہے۔ عند الاحناف یہ دونوں فرض ہیں، باقیوں کے نزدیک یہ فرض نہیں ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ﴿أَنَّ تَرْكَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ كَتَرْكِ عُضْوٍ كَامِلٍ﴾ کہ مضمضہ یا استنشاق کو چھوڑنا یہ ایک پورے عضو کو چھوڑنے کی طرح ہے، یعنی اس کی وجہ سے رجعت منقطع نہیں ہو گی۔ ﴿وَعَنْهُ، وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ: بِمَنْزِلَةِ مَا دُونَ الْعُضْوِ﴾ اور امام ابو یوسف سے ہی ایک روایت ہے، اور یہی قول امام محمد کا بھی ہے، کہ یہ کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا یہ عضو سے کم کے درجے میں ہے۔ عضو سے کم کے درجے میں ہے لہٰذا اس کی وجہ سے رجعت منقطع ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ﴿لِأَنَّ فِي فَرْضِيَّتِهِ اخْتِلَافًا﴾ اس لیے کیونکہ ان کی فرضیت کے بارے میں اختلاف ہے، ﴿بِخِلَافِ غَيْرِهِمْ مِنَ الْأَعْضَاءِ﴾ بخلاف ان کے علاوہ اور اعضاء میں کہ ان میں باقی ائمہ کا اختلاف نہیں ہے، باقی تمام اعضاء کا دھونا سب کے نزدیک فرض ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ﴿وَمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَامِلٌ أَوْ وَلَدَتْ مِنْهُ وَقَالَ لَمْ أُجَامِعْهَا فَلَهُ الرَّجْعَةُ﴾ یاد رکھو، یہ جو آگے مسائل ذکر ہو رہے ہیں ان کے اندر رجوع ثابت ہو گا ضمناً اور حکماً۔ رجوع کا طریقہ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کہ زبان سے رجوع کرے یا اپنے افعال کے ذریعے رجوع کرے۔ اب وہ مسائل ذکر کر رہے ہیں جہاں ضمناً رجوع ثابت ہو جائے گا یا یوں کہو حکماً رجوع ثابت ہو جائے گا، ہم حکم لگا دیں گے کہ رجوع ہو چکا ہے۔ ہم حکم لگا دیں گے کہ رجوع ہو چکا ہے، اور اس میں یاد رکھنا اس کی بنیاد دو ضابطوں پر ہے۔ ایک تو پہلا ضابطہ یہ کہ یاد رکھو، نسب کے اثبات میں بہت زیادہ احتیاط کی جاتی ہے۔ شریعت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح بچے کا نسب ثابت ہو جائے کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے، کیونکہ اگر نسب ثابت نہیں ہو گا تو بچہ ضائع ہو جائے گا، کوئی اس کا خیال رکھنے والا نہیں ہو گا۔ لہٰذا نسب کے ثبوت میں بے انتہا احتیاط کی جاتی ہے اور پوری کوشش کی جاتی ہے کسی نہ کسی طرح بچے کا نسب ثابت ہو جائے۔ تو ایک تو یہ ضابطہ۔ دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے فعل میں دو جہتیں ہوں، ایک جہت خیر والی ہے ایک جہت شر والی ہے، ایک اعتبار سے دیکھیں تو یہ خیر ہے دوسرے اعتبار سے دیکھیں تو یہ شر ہے، تو اس مسلمان کے فعل کو خیر پر محمول کیا جائے گا۔ مسلمان کے فعل کو خیر پر محمول کیا جائے گا، شر والی صورت پر محمول نہیں کیا جائے گا، یا یوں کہو کہ اگر کسی مسلمان کے فعل میں دو جہتیں ہیں، دونوں جہتیں حرام والی ہیں لیکن ایک کم درجے کی ہے اور ایک بڑے درجے کی ہے، دونوں جہتیں حرام ہیں لیکن ایک کم درجے والی حرام ہے اور دوسری بڑے درجے والی حرام ہے، تو مسلمان کے فعل کو کم درجے والے حرام پر محمول کیا جائے گا، بڑے درجے والے حرام پر محمول نہیں کیا جائے گا۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا۔
اب دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ﴿وَمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَامِلٌ﴾ اور جس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ﴿وَهِيَ حَامِلٌ﴾ اس حال میں کہ یہ عورت حاملہ ہے، ﴿أَوْ وَلَدَتْ مِنْهُ﴾ یا اس عورت نے اس خاوند سے ایک بچے کو جنم دیا ہے یعنی طلاق سے پہلے۔ توجہ ہے؟ مشکل مسئلے ہیں، بہت توجہ سے سمجھنا ہے آپ نے ان کو۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور حال یہ ہے کہ یہ حاملہ ہے یا ایک عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے طلاق سے پہلے اور پھر خاوند نے طلاق دے دی، تو دو مسئلے ہیں۔ ایک مسئلہ کس کا ہے؟ طلاق دی ہے حاملہ کو، اور ایک مسئلہ کس کا ہے؟ کہ عورت ایک بچے کو جنم دے چکی ہے اور خاوند اس کو کیا کرتا ہے؟ طلاق دیتا ہے، اور طلاق کے بعد خاوند دونوں میں کہتا ہے: میں نے تو اس سے جماع نہیں کیا، میں نے تو اس عورت سے کبھی بھی صحبت نہیں کی۔ حالانکہ ایک عورت طلاق سے پہلے ایک بچے کو جنم دے چکی ہے اور ایک عورت حاملہ ہے، اور خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے تو ان سے جماع... طلاق کے بعد کہتا ہے میں نے ان سے جماع نہیں کیا۔ اور پھر بعد میں ان عورتوں سے رجوع کرتا ہے، طلاق کے بعد جیسے خاوند کو رجوع کا حق ہوتا ہے تو یہ خاوند بھی اپنے جماع کی تو نفی کر رہا ہے لیکن بعد میں رجوع کرتا ہے، تو کیا اس کا رجوع صحیح ہے یا نہیں؟
تو آپ کو بتلائیں گے، بھئی آپ جانتے ہیں کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ چھ ماہ کے اندر ایک عورت صحیح سلامت تندرست بچے کو جنم دے سکتی ہے، لہٰذا شادی کے بعد اگر چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہو تو وہ اسی خاوند کا شمار ہو گا۔ اور حمل اور بچہ جو ہے زیادہ سے زیادہ ماں کے پیٹ میں دو سال رہ سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دو سال رہ سکتا ہے، دو سال سے تھوڑی دیر بھی زیادہ نہیں رہ سکتا۔ تو اب بات یہ چل رہی ہے، پہلے مسئلے کو لے لیں۔ عورت حاملہ ہے اور خاوند نے اس کو طلاق دے دی ہے اور خاوند کہتا ہے میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، اور عورت نے چھ مہینے سے کم کے اندر ایک بچے کو جنم دے دیا۔ طلاق کے بعد چھ ماہ سے کم میں ایک بچے کو جنم دیا ہے، اور بھئی چھ ماہ سے کم میں تو صحیح سلامت بچہ نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا یہ حمل کب ٹھہرا تھا؟ طلاق سے پہلے۔ جب طلاق سے پہلے حمل ٹھہرا تھا تو بچے کا نسب اس باپ سے ثابت ہو جائے گا۔ بچے کا نسب اس خاوند سے ثابت ہو جائے گا کیونکہ نسب کے اثبات میں بے انتہا احتیاط کی جاتی ہے۔ اگرچہ خاوند کہہ رہا ہے میں نے تو کوئی صحبت نہیں کی لیکن ہم کہیں گے اس نے جھوٹ بولا تھا۔ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ طلاق کے بعد چھ ماہ سے کم کے اندر صحیح سلامت بچہ پیدا ہو رہا ہے، اور طلاق کے بعد اگر عورت حاملہ ہوئی ہوتی تو اتنی جلدی صحیح سلامت بچہ نہیں ہو سکتا تھا بھئی، معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا تھا۔ تو بچے کا نسب باپ سے ثابت ہو جائے گا اور معلوم ہوا خاوند نے صحبت کی تھی، اس نے جھوٹ بولا تھا۔ اور اگر خاوند نے بیچ میں رجوع کر لیا تھا تو وہ رجوع بھی صحیح ثابت ہو گیا، وہ رجوع بھی صحیح ثابت ہو گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔
دوسری صورت: خاوند نے بیوی کو طلاق دی اور کیا کہتا ہے؟ میں نے تو اس سے صحبت نہیں کی، اور حال یہ ہے کہ اس عورت نے اس طلاق سے پہلے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ اور شادی شدہ عورت جب بچے کو جنم دے وہ کس کا شمار ہوتا ہے؟ وہ خاوند کا شمار ہوتا ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ حدیث ذکر کریں گے: ”اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ“، بچہ فراش کے لیے یعنی صاحبِ فراش کا ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فراش کسے کہتے ہیں؟ فراش کا تو ویسے معنی بچھونا، لیکن یہاں فراش اصطلاحی لفظ ہے بھئی۔ فراش کہتے ہیں کسی عورت کا کسی مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے مختص ہونا۔ جیسے نکاح کوئی شخص کسی عورت سے کرتا ہے تو اب اس کا کیا معنی؟ کہ یہ صرف اسی شخص کے لیے حلال ہے اور کسی کے لیے حلال نہیں، اور اسی شخص کے گویا بچوں کو یہ عورت جنم دے گی، کسی اور کے بچوں کو جنم نہیں دے گی کیونکہ یہ باقی سب کے لیے یہ حرام ہے بھئی۔ تو بیوی کیا ہے؟ فراش۔ تو حدیث میں آتا ہے: ”اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ“ أَيْ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ، بچہ کس کا ہوتا ہے؟ صاحبِ فراش یعنی خاوند کا شمار ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک عورت ہے، اس نے طلاق سے پہلے ایک بچے کو جنم دیا تھا نکاح کے اندر، اور جب نکاح کے اندر بچے کو جنم دیا وہ بچہ کس کا شمار ہو گا؟ خاوند کا شمار ہو گا، بشرطیکہ نکاح کے بعد چھ ماہ گزر چکے ہوں کم از کم، کیونکہ صحیح سلامت بچہ کتنی مدت میں ہو سکتا ہے؟ چھ ماہ میں۔ تو نکاح کے بعد چھ ماہ کے گزر چکے ہیں، اس کے بعد اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا تھا، تو یہ بچہ کس کا شمار؟ خاوند کا شمار، اور پھر بعد میں خاوند طلاق دیتا ہے اور کہتا ہے: میں نے تو اس عورت سے کبھی صحبت نہیں کی۔ معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا ہے۔ خاوند جھوٹ بول رہا ہے، اور پھر بعد میں خاوند اس عورت سے رجوع کرتا ہے تو اس کا رجوع صحیح شمار ہو گا۔ کیونکہ جب پہلے بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہوا، معلوم ہوا خاوند نے وطی کی ہے، بغیر وطی کے تو بچہ نہیں ہو سکتا۔ تو خاوند کی وطی ثابت ہو گئی، اور جب وطی ثابت ہو گئی تو یہ دونوں جو عورتیں ہیں یہ مدخول بہا ہوئیں یا غیر مدخول بہا؟ یہ مدخول بہا ہوئیں۔ اگر غیر مدخول بہا ہوتیں، غیر مدخول بہا پر تو عدت ہی نہیں ہوتی، طلاق دیتے ہی نکاح ختم، وہ آگے جہاں مرضی چاہے نکاح کرے۔ اور خاوند بعد میں رجوع بھی کر رہا ہے ان عورتوں سے، تو اگر یہ غیر مدخول بہا تھیں پھر تو رجوع صحیح نہیں تھا، لیکن حاملہ نے چھ ماہ سے کم کے اندر بچے کو جنم دیا، معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا تھا۔ وہ تو کہہ رہا تھا میں نے وطی نہیں کی لیکن یہ تو چھ ماہ سے کم میں اس نے بچے کو جنم دیا ہے، طلاق کے بعد چھ ماہ سے کم کے اندر صحیح سلامت بچے کو وہ جنم دے رہی ہے، معلوم ہوا یہ حمل کب ٹھہرا تھا؟ طلاق سے پہلے نکاح کے بعد حمل ٹھہرا ہے، معلوم ہوا خاوند نے وطی کی تھی بھئی۔ لہٰذا یہ عورت اگر غیر مدخول بہا ہوتی پھر تو عدت ہی نہیں تھی، جب عدت نہیں تھی تو رجوع بھی نہیں ہو سکتا تھا، لیکن یہاں خاوند نے رجوع بعد میں کیا تو وہ رجوع صحیح ہو جائے گا۔ معلوم ہوا اس نے پہلے جو کہا تھا نا کہ میں نے اس سے صحبت کبھی بھی نہیں کی، وہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ جب نسب ثابت ہو رہا ہے، ثابت ہو گیا کہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔
جبکہ دوسرا مسئلہ کیا تھا؟ کہ عورت نے نکاح کے چھ مہینے بعد ایک بچے کو جنم دیا ہے طلاق سے پہلے، تو یہ بچہ کس کا ثابت؟ خاوند کا ثابت، اور خاوند طلاق کے بعد کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے تو اس عورت سے کبھی صحبت ہی نہیں کی، معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا ہے، یہ بچہ تو بغیر وطی کے نہیں ہو سکتا۔ جب بغیر وطی کے نہیں ہو سکتا معلوم ہوا یہ عورت مدخول بہا ہے۔ جب یہ عورت مدخول بہا ہے تو مدخول بہا عورت کو جب طلاق دی جائے تو اس پر عدت آتی ہے اور عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ لہٰذا خاوند نے کہا تو یہی تھا کہ میں نے صحبت نہیں کی لیکن بعد میں کیا کیا تھا اس نے؟ رجوع کیا تھا، تو معلوم ہوا وہ رجوع اس کا صحیح ہو گا۔ اگر رجوع کر لیتا ہے تو یہ رجوع صحیح ہو گا۔ تو دیکھا، یہاں حکماً رجوع صحیح ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ﴾ اور جس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی ﴿وَهِيَ حَامِلٌ﴾ اس حال میں کہ یہ عورت حاملہ تھی، یہ پہلی صورت۔ ﴿أَوْ وَلَدَتْ مِنْهُ﴾ یہ دوسری صورت، ﴿أَوْ وَلَدَتْ مِنْهُ﴾ یا اس عورت نے اسی خاوند سے ایک بچے کو جنم دیا، کب بچے کو جنم دیا؟ طلاق سے پہلے، طلاق کے بعد نہیں کیونکہ طلاق کے بعد اگر بچے کو جنم دے گی تو مطلقہ اگر حاملہ ہو اس کی عدت کیا ہوتی ہے؟ وضعِ حمل، وہ تو بچہ پیدا ہوتے ہی عدت ختم ہو گئی۔ تو یہ بچے کو جنم دیا اس نے طلاق سے پہلے۔ ﴿وَقَالَ لَمْ أُجَامِعْهَا﴾ اور خاوند کہتا ہے: میں نے تو اس عورت سے جماع نہیں کیا، ﴿فَلَهُ الرَّجْعَةُ﴾ تو خاوند کو رجوع کا حق ہے۔ تو خاوند کو رجوع کا حق ہے، یعنی یہ معنی نہیں کہ رجوع اب کرے گا، وہ پہلے مسئلے پر ذرا آؤ، حاملہ۔ حاملہ نے چھ ماہ سے کم کے اندر کیا کیا؟ بچے کو جنم دیا اور بچے کو جنم دیتے ہی عدت کیا ہو گئی؟ ختم، اس کے بعد تو رجوع نہیں ہو سکتا، اور یہ فرما رہے ہیں ﴿فَلَهُ الرَّجْعَةُ﴾ اس کو رجوع کا حق ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر اس نے عدت گزرنے سے پہلے پہلے اس نے بچے کو جنم دینے سے پہلے اس نے رجوع کیا تھا تو وہ رجوع صحیح ہو جائے گا۔ معلوم ہوا اس کو رجوع کا حق تھا بھئی۔ اگرچہ اس نے خود کہا تھا میں نے جماع نہیں کیا لیکن پھر بھی معلوم ہوا یہ جھوٹ بول رہا ہے تو اس کا رجوع صحیح ہے بھئی۔
یہ معنی ہے ﴿فَلَهُ الرَّجْعَةُ﴾ تو اس کو رجوع کا حق ہو گیا یعنی اس کا رجوع صحیح ہو جائے گا، ﴿لِأَنَّ الْحَبَلَ مَتَى ظَهَرَ فِي مُدَّةٍ يُتَصَوَّرُ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ جُعِلَ مِنْهُ﴾ اس لیے کیونکہ حمل جب وہ ظاہر ہو گیا اتنی مدت میں کہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہ اسی خاوند سے ہو گا، چھ ماہ سے کم میں بچے کو جنم دیا تو یہ تصور ہو سکتا ہے کہ یہ اسی خاوند سے ہو گا، ﴿جُعِلَ مِنْهُ﴾ تو اس بچے کو اسی خاوند کا قرار دے دیں گے۔ خاوند تو انکار کر رہا ہے لیکن بچے کے نسب میں احتیاط کی جاتی ہے، وہ ثابت کیا جائے گا۔ تو ﴿جُعِلَ مِنْهُ﴾ اس بچے کو اسی خاوند سے قرار دیا جائے گا ﴿لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ﴾ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ آپ نے فرمایا: ”اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ“ أَيْ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ کہ بچہ کس کے لیے ہوتا ہے؟ صاحبِ فراش یعنی خاوند کا ہوتا ہے۔ ﴿وَذَلِكَ دَلِيلُ الْوَطْءِ مِنْهُ﴾ اور یہ حمل جو ہے خاوند کی طرف سے وطی کی دلیل ہے۔ یہ حمل کیا ہے یا یہ بچہ جو ہے خاوند کی طرف سے وطی کی دلیل ہے، یہ پہلے مسئلے میں۔ معلوم ہوا اس نے وطی کی ہے، جھوٹ بولا تھا، اور اس نے اگر درمیان میں رجوع کیا تو وہ رجوع بھی اب صحیح قرار دیا جائے گا۔
اور دوسرا مسئلہ جس کے اندر عورت نے طلاق سے پہلے ایک بچے کو جنم دیا تھا تو اس کا نسب خاوند سے ثابت ہو گیا تھا۔ جب خاوند سے اس کا نسب ثابت ہوا ہے معلوم ہوا خاوند نے کیا کی ہے؟ وطی کی ہے۔ تو لہٰذا اس کے اندر بھی یہ عورت مدخول بہا ہے، خاوند بعد میں اگر رجوع کرتا ہے تو اس کو رجوع کا حق ہو گا۔ اگرچہ وہ تو کہہ رہا ہے میں نے جماع نہیں کیا، یہ تو غیر مدخول بہا ہے لیکن پھر بھی یہ شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے۔ وہ کہتا ہے میں نے جماع نہیں کیا لیکن شریعت کیا کہہ رہی ہے؟ ”اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ“ کہ بچہ کس کا ہوتا ہے؟ صاحبِ فراش کا ہوتا ہے۔ تو شریعت اس بچے کا نسب اسی سے ثابت کر رہی ہے، شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے۔ شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے اور اس شخص کی طرف سے تو جھوٹ کا احتمال ہو سکتا ہے، شریعت کی طرف سے تو جھوٹ کا احتمال نہیں، لہٰذا شریعت کا حکم ثابت ہو گا، اس بچے کا نسب اس خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔ اور جب نسب ثابت ہو گیا معلوم ہوا خاوند نے وطی کی ہے۔ جب وطی کی ہے تو معلوم ہوا یہ عورت اس کی مدخول بہا ہے۔ جب مدخول بہا ہے تو یہ عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے۔
وَكَذَا إِذَا ثَبَتَ نَسَبُ الْوَلَدِ مِنْهُ جُعِلَ وَاطِئًا، اور اسی طرح جب بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہو جائے جُعِلَ وَاطِئًا تو خاوند کو وطی کرنے والا قرار دیا جائے گا، وَإِذَا ثَبَتَ الْوَطْءُ اور جب وطی ثابت ہو گئی، تَأَكَّدَ الْمِلْكُ تو ملک نکاح پکی ہو گئی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو ابھی بھی ملک نکاح کچی ہے، مضبوط نہیں۔ یہ اگر اس عورت کو طلاق دے دے گا، یہ جو غیر مدخول بہا عورت ہے تو طلاق دیتے ہی یہ عورت خاوند سے جدا ہو جائے گی اور فوراً یہ کہیں اور نکاح کر سکتی ہے، اس پر کوئی عدت نہیں۔ کیونکہ خاوند نے ابھی اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، جب صحبت نہیں کی تو ملک نکاح بھی ابھی پکی نہیں۔ لیکن اگر خاوند صحبت کر لے گا تو ملک نکاح پکی ہو گئی۔ جب ملک نکاح پکی ہو گئی اب صرف طلاق دینے سے یہ عورت خاوند سے جدا نہیں بلکہ عدت کے بعد جا کر جدا ہو گی۔ اب اس پر عدت بھی آ گئی۔ اور عدت کے اندر خاوند کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا ثَبَتَ الْوَطْءُ اور جب اس خاوند کی وطی ثابت ہو گئی، تَأَكَّدَ الْمِلْكُ تو اس کی ملکیت پکی ہو گئی، وَالطَّلَاقُ فِي مِلْكٍ مُتَأَكِّدٍ اور پکی ملکیت کے اندر طلاق دینا يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ یہ اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے، تو یہ رجوع کر سکتا ہے۔ وَيَبْطُلُ زَعْمُهُ اور اس خاوند کا اپنا گمان جو ہے وہ باطل ہو گا، بِتَكْذِيبِ الشَّرْعِ شریعت کے جھٹلانے کی وجہ سے۔ خود تو یہ کہہ رہا ہے میں نے جماع نہیں کیا لیکن شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے۔ تو اس کے اپنے اپنے گمان کا، اپنے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا، یوں سمجھیں گے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَيَبْطُلُ زَعْمُهُ بِتَكْذِيبِ الشَّرْعِ اور زعم کہتے ہیں گمانِ باطل کو۔ وَيَبْطُلُ زَعْمُهُ اور اس کا اپنا گمان جو ہے وہ باطل ہو گا بِتَكْذِيبِ الشَّرْعِ شریعت کے جھٹلانے سے، أَلَا يُرَى أَنَّهُ يَثْبُتُ بِهَذَا الْوَطْءِ الْإِحْصَانُ فَلِأَنْ تَثْبُتَ بِهِ الرَّجْعَةُ أَوْلَى۔
یاد رکھو، قاضی جو مجرم کو سزائیں دیتا ہے وہ دو قسم کی ہیں۔ کچھ وہ سزائیں ہیں جو شریعت کی طرف سے مقرر ہیں ان کو حدود کہتے ہیں۔ اور کل چھ حدود ہیں۔ چھ سزائیں ہیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، جیسے چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور زانی کو غیر شادی شدہ ہو تو سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اور شادی شدہ ہو تو اس کو رجم کیا جاتا ہے، کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد جاری کی جاتی ہے، کوئی شراب پیتا ہے تو اس کو اسّی کوڑے لگائے جاتے ہیں، شراب کے علاوہ کوئی اور نشہ آور مشروب کوئی پیتا ہے اور اس سے نشہ ہو تو اس میں اس کو بھی اسّی کوڑے لگتے ہیں۔ تو یہ جو حدود ہیں، یہ جو سزائیں ہیں شریعت کی طرف سے مقرر ہیں یہ یاد رکھو یہ انتہا درجے کی سزائیں ہیں۔ انتہائی سخت سزائیں ہیں ساری۔ لہٰذا معمولی شبہے سے بھی یہ ساقط ہو جائیں گی۔ معمولی شبہے سے بھی یہ ساقط ہو جائیں گی۔ چنانچہ آپ پڑھیں گے جگہ جگہ: الْحُدُودُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ، کہ حدود جو ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں، وہ مٹ جاتی ہیں بِالشُّبُهَاتِ شبہات کی وجہ سے۔ تو ادنیٰ شبہ بھی آ جائے تو حد ساقط ہو جائے گی۔
اب یاد رکھو، ایک شخص جو ہے اگر وہ شادی شدہ ہے اور اس کا زنا ثابت ہو جائے تو اس کو رجم کرتے ہیں، سنگسار کرتے ہیں، پتھر مار مار کر اس کو قتل کیا جاتا ہے اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کو کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ تو جو شادی شدہ ہے اس کو کہتے ہیں محسن بھئی، صاد کے ساتھ ہے۔ تو شادی شدہ مرد یا عورت ہو اور ان کا زنا ثابت ہو جائے تو ان کو سنگسار کیا جاتا ہے۔ یعنی یوں کہو، محسن مرد یا عورت ہوں۔ محسن کا کیا معنیٰ؟ شادی شدہ۔ تو آپ کو صاحب ہدایہ آگے بتلا رہے ہیں کہ دیکھو، یہ جو عورت نے طلاق کے بعد بچے کو جنم دیا اور نسب کس سے ثابت؟ خاوند سے۔ اور یہ جو عورت نے طلاق سے پہلے بچے کو جنم دیا تھا اور خاوند سے نسب ثابت ہو گیا۔ ان کی وجہ سے خاوند کی وطی ثابت ہو گئی۔ جب بچے کا نسب ثابت تو خاوند کی وطی بھی ثابت، اگرچہ وہ انکار کر رہا ہے میں نے وطی نہیں کی، میں نے صحبت نہیں کی۔ لیکن یہ نسب کا ثابت ہونا بتلا رہا ہے کہ اس نے وطی کی ہے۔ اور اس وطی کی وجہ سے خاوند کا محسن ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ کیا؟ محسن ہونا۔ اور محسن جو ہے اس کا تو سزاؤں میں بھی دخل ہے۔ حتیٰ کہ محسن اگر زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تو اسے سنگسار کرتے ہیں، رجم کرتے ہیں۔ اور غیر محسن جو ہے اگر اس کا زنا ثابت ہو جائے تو اسے سو کوڑے لگتے ہیں۔ تو معلوم ہوا محسن ہونے کا دخل ہے سزاؤں میں۔
تو یہ جو وطی ہے، یہ جو بچے کے نسب کی وجہ سے خاوند کی وطی ثابت ہو رہی ہے، وہ انکار کر رہا ہے لیکن نسب ثابت ہونے کی وجہ سے وطی بھی ثابت ہو رہی ہے، اس وطی کی وجہ سے خاوند کا محسن ہونا ثابت ہو جائے گا۔ اور محسن ہونے کا تو سزاؤں میں بھی دخل ہے۔ تو جب اس وطی سے خاوند کا محسن ہونا ثابت ہوا تو اس وطی کی وجہ سے خاوند کا رجوع بھی ثابت ہو جائے گا۔ وطی کی وجہ سے خاوند کا رجوع بھی ثابت ہو جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ انہوں نے بتایا نا کہ خاوند تو کہہ رہا ہے میں نے صحبت ہی نہیں کی۔ جب صحبت نہیں کی تو عورت غیر مدخول بہا ہوئی۔ جب غیر مدخول بہا ہوئی تو خاوند کو تو رجوع کا حق ہی نہیں ہے، کیونکہ غیر مدخول بہا پر تو عدت ہی نہیں ہوتی۔ عدت کے اندر ہی تو خاوند نے رجوع کرنا ہوتا ہے۔ تو غیر مدخول بہا پر تو عدت ہی نہیں ہے۔ لیکن یہاں اس نسب کے ثابت ہونے سے خاوند کی وطی ثابت ہو گئی۔ جب خاوند کی وطی ثابت ہو گئی تو خاوند کا رجوع بھی ثابت ہو گیا، وہ عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے۔ تو جب اس وطی کے ذریعے محسن ہونا ثابت ہو رہا ہے جس کا سزاؤں میں باقاعدہ دخل ہے، تو جب وہ ثابت ہو رہا ہے تو رجعت اس سے بطریقِ اولیٰ ثابت ہو گی جس کا سزاؤں میں دخل نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حالانکہ سزائیں تو وہ ہیں جو ادنیٰ شبہے سے بھی کیا ہو جاتی ہیں؟ ساقط ہو جاتی ہیں، لیکن پھر بھی محسن ہونا ثابت ہو رہا ہے۔
أَلَا يُرَى کیا یہ معلوم نہیں ہے، أَنَّهُ يَثْبُتُ بِهَذَا الْوَطْءِ الْإِحْصَانُ کہ اس وطی کے ذریعے محسن ہونا ثابت ہو جاتا ہے، فَلِأَنْ تَثْبُتَ بِهِ الرَّجْعَةُ أَوْلَى تو یہ کہ اس وطی کے ذریعے رجعت ثابت ہو جائے أَوْلَى یہ بطریقِ اولیٰ ہو گا۔ وَتَأْوِيلُ مَسْأَلَةِ الْوِلَادَةِ اور ولادت کے مسئلے کی تاویل یہ ہے، ولادت کون سا؟ کہ عورت نے بچے کو جنم دیا تھا۔ عورت نے بچے کو جنم دیا تھا تو اعتراض ہوتا ہے کہ عورت اگر حاملہ ہو اور وہ بچے کو جنم دے تو اس کی تو عدت ختم ہو گئی۔ تو پھر اس کے بعد خاوند کا رجوع کیسے صحیح ہو گا؟ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی متن میں تو صرف اتنا ذکر ہے کہ اس عورت نے اسی خاوند سے ایک بچے کو جنم دیا ہو۔ مراد یہ ہے کہ طلاق سے پہلے اس نے ایک بچے کو جنم دیا تھا اور اس کا نسب اسی خاوند سے ثابت ہو گیا تھا۔ جب نسب خاوند سے ثابت ہے، معلوم ہوا خاوند نے وطی کی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَتَأْوِيلُ مَسْأَلَةِ الْوِلَادَةِ اور ولادت والے مسئلے کی تاویل یہ ہے، أَنْ تَلِدَ قَبْلَ الطَّلَاقِ کہ اس عورت نے طلاق سے پہلے بچے کو جنم دیا ہے، لِأَنَّهَا لَوْ وَلَدَتْ بَعْدَهُ اس لیے کیونکہ اگر عورت طلاق کے بعد بچے کو جنم دے گی، تَنْقَضِي الْعِدَّةُ بِالْوِلَادَةِ تو بچے کی ولادت سے عدت گزر جائے گی، فَلَا تُتَصَوَّرُ الرَّجْعَةُ تو پھر تو رجعت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
فَإِنْ خَلَا بِهَا وَأَغْلَقَ بَابًا أَوْ أَرْخَى سِتْرًا وَقَالَ لَمْ أُجَامِعْهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا لَمْ يَمْلِكِ الرَّجْعَةَ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی کے ساتھ خلوتِ صحیحہ کر لی۔ خلوتِ صحیحہ، یہ بات پہلے گزر چکی۔ یعنی میاں بیوی ایسی جگہ اکٹھے ہو گئے جہاں صحبت سے کوئی چیز مانع نہیں۔ مثلاً خاوند نے دروازہ بند کر دیا، یا مثلاً خیموں کے اندر ہیں تو خاوند نے پردہ لٹکا دیا اب خیمے میں کوئی نہیں آئے گا۔ تو لہٰذا اب خلوتِ صحیحہ کر لی خاوند نے۔ اگلے دن خاوند کہتا ہے میں نے بیوی سے صحبت نہیں کی۔ میں نے بیوی سے صحبت نہیں کی۔ تو کیا اس کو بھی رجوع کا حق ہو گا یا نہیں؟ کیونکہ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ خلوتِ صحیحہ بھی وطی کے قائم مقام ہے بہت سے مسئلوں میں۔ خلوتِ صحیحہ بھی وطی کے قائم مقام ہے جیسے وطی کی وجہ سے خاوند پر مہر پکا ہو جاتا ہے۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے تو مہر ابھی پکا نہیں۔ صحبت سے پہلے طلاق دے گا تو نصف مہر دینا پڑے گا اور صحبت کر لے گا تو مہر پکا، اب پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو اسی طرح آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ اگر خاوند بیوی کے ساتھ خلوتِ صحیحہ بھی کر لے تو اس کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو جیسے خلوتِ صحیحہ وطی کے قائم مقام ہے پورے مہر کے واجب ہونے کے سلسلے میں، تو کیا اس خلوتِ صحیحہ کی وجہ سے خاوند کے لیے رجوع کا حق ثابت ہو گا یا اس عورت کو غیر مدخول بہا ہی شمار کریں گے اور طلاق دیتے ہی عورت جدا ہو گئی اور اس پر کوئی عدت ہے ہی نہیں؟ توجہ ہے؟ خاوند نے کیا کی ہے؟ خلوتِ صحیحہ، اور بعد میں کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے اس عورت سے صحبت نہیں کی۔ تو کیا اب اس خلوتِ صحیحہ کو وطی کا قائم مقام قرار دیں گے؟ اگر اس کو آپ وطی کا قائم مقام قرار دیتے ہیں تو عورت پر کیا آئے گی؟ عدت، اور عدت کے اندر خاوند کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔ اور اگر آپ اس وطی کو صحبت کا قائم مقام نہیں بناتے۔ تو پھر تو خاوند نے وطی نہیں کی، جب وطی نہیں کی تو اس عورت پر تو عدت ہی نہیں ہے۔ طلاق دیتے ہی عورت جدا ہو گئی، اب خاوند رجوع نہیں کر سکتا۔ تو آپ کو صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ جب خاوند نے خود کہہ دیا ہے کہ میں نے اس سے صحبت نہیں کی تو لہٰذا خاوند کے حق میں اس قول کو قبول کیا جائے گا، اب خاوند کو رجوع کا حق نہیں ہو گا بھئی۔ رجوع کا حق نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں: فَإِنْ خَلَا بِهَا اگر خاوند نے بیوی کے ساتھ خلوت کی، وَأَغْلَقَ بَابًا اور دروازہ بند کر دیا، أَوْ أَرْخَى سِتْرًا یا پردہ لٹکا دیا، یا خیمے وغیرہ میں ہے خاوند نے پردہ لٹکا دیا تو اب تو خیمے میں کوئی نہیں آئے گا پردے کی وجہ سے، وَقَالَ اور پھر بعد میں خاوند اگلے دن کہتا ہے، لَمْ أُجَامِعْهَا میں نے تو اس عورت سے جماع نہیں کیا، ثُمَّ طَلَّقَهَا پھر خاوند اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے، لَمْ يَمْلِكِ الرَّجْعَةَ تو خاوند رجوع کا مالک نہیں۔ لِأَنَّ تَأَكُّدَ الْمِلْكِ بِالْوَطْءِ اس لیے کیونکہ ملک نکاح کا پکا ہونا وطی کے ذریعے ہوتا ہے، وَقَدْ أَقَرَّ بِعَدَمِهِ اور خاوند خود اقرار کر چکا ہے وطی کے نہ ہونے کا، فَيُصَدَّقُ فِي حَقِّ نَفْسِهِ لہٰذا خاوند کی اپنی ذات کے بارے میں تصدیق کی جائے گی، وَالرَّجْعَةُ حَقُّهُ اور رجوع کرنا تو خاوند ہی کا حق ہے، لہٰذا اس کو رجوع کا حق نہیں ہو گا، اس کے اپنے بارے میں تصدیق کی جائے گی کہ اس نے واقعی صحبت نہیں کی۔ وَلَمْ يَصِرْ مُكَذَّبًا شَرْعًا اور شرعاً یہ مکذب بھی نہیں ہوا، شریعت نے بھی اس کو نہیں جھٹلایا۔ شریعت نے بھی اس کو نہیں جھٹلایا۔ پچھلے مسئلے میں وہاں بھی خاوند نے کہا تھا میں نے صحبت نہیں کی لیکن وہاں شریعت نے جھٹلا دیا تھا، بچے کا نسب خاوند سے شریعت نے ثابت کر دیا تھا۔ جب بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہے تو معلوم ہوا خاوند نے وطی کی ہے بھئی۔ تو وہاں شریعت نے اس کو جھٹلایا تھا، لیکن یہاں کوئی شرعی دلیل نہیں ہے جو کیا کرے؟ خاوند کو جھٹلائے۔ خاوند نے خلوت کی ہے اور بعد میں کیا کہتا ہے؟ میں نے صحبت نہیں کی، تو اس کو رجوع کا حق نہیں ہو گا کیونکہ یہاں شریعت اس کو جھٹلا نہیں رہی۔ توجہ ہے؟ یہ معنیٰ ہے۔ وَلَمْ يَصِرْ مُكَذَّبًا شَرْعًا اس لیے کیونکہ یہاں پر شرعاً یہ شخص مکذب نہیں ہے یعنی جس کو جھٹلایا گیا ہو۔ شریعت نے اس کو جھٹلایا نہیں ہے۔ بِخِلَافِ الْمَهْرِ بخلاف مہر کے۔
جی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے مسئلے میں جیسے شریعت نے جھٹلایا تھا کہ نسب بچے کا ثابت کر دیا تھا اس سے، اور جب نسب ثابت ہوا تو معلوم ہوا وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ تو یہاں پر بھی شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے بھئی۔ کس طرح شریعت جھٹلا رہی ہے؟ کہتے ہیں کہ خلوتِ صحیحہ کے بعد خاوند کو پورا مہر دینا پڑتا ہے۔ کس کے بعد؟ خلوتِ صحیحہ کے بعد پورا مہر دینا پڑتا ہے لہٰذا اس خاوند نے بھی جب خلوتِ صحیحہ کی ہے تو اس کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ معلوم ہوا شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے، یہ تو کہتا ہے میں نے وطی نہیں کی لیکن شریعت کیا کہتی ہے؟ نہیں، تم نے وطی کی ہے، پورا مہر دینا پڑے گا اسی لیے۔ تو یہاں پر بھی تو شریعت اس کو جھٹلا رہی ہے لہٰذا خاوند کو رجوع کا حق ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، پورے مہر کی بنیاد وطی پر نہیں ہے بلکہ عورت کے اپنے آپ کو سپرد کرنے پر ہے۔ عورت جب اس کے ساتھ اس جگہ میں اکٹھی ہو گئی تو معلوم ہوا عورت نے تو اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا ہے۔ جب عورت نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا ہے اب وطی کرنا یا نہ کرنا یہ تو خاوند کا کام ہے بھئی۔ تو لہٰذا عورت نے جب اپنے آپ کو سپرد کر دیا ہے تو اب عورت کا بھی حق جو ہے، بدل اس کو پورا ملے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا مہر جو اس شخص پر آیا ہے وہ وطی کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ عورت کے اپنے آپ کو سپرد کرنے کی وجہ سے آیا ہے۔ لہٰذا شریعت اس کو نہیں جھٹلا رہی۔ مہر کا پورا آنا کس وجہ سے ہے؟ وطی کی وجہ سے ہے یا عورت کے سپرد کرنے کی وجہ سے؟ عورت کے سپرد کرنے کی وجہ سے۔ معلوم ہوا وطی تو نہیں پائی گئی۔ معلوم ہوا شریعت، اس نے بھی کہا میں نے وطی نہیں کی اور شریعت بھی اس کو جھٹلا نہیں رہی بھئی۔ صرف عورت کے سپرد کرنے کی وجہ سے شریعت پورا مہر واجب کر رہی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْمَهْرِ بخلاف مہر کے، لِأَنَّ تَأَكُّدَ الْمَهْرِ الْمُسَمَّى اس لیے کیونکہ مقررہ مہر کا پکا ہونا، يَبْتَنِي عَلَى تَسْلِيمِ الْمُبْدَلِ اس کی بنیاد جو ہے مبدل کے سپرد کرنے پر ہے، کہ عورت کیا کرے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دے۔ یعنی سارے موانع دور کر دے، کسی قسم کا مانع موجود نہ ہو۔ پھر ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں: لِأَنَّ تَأَكُّدَ الْمَهْرِ الْمُسَمَّى اس لیے کیونکہ مقررہ مہر کا پکا ہونا، يَبْتَنِي عَلَى تَسْلِيمِ الْمُبْدَلِ اس کی بنیاد مبدل کے سپرد کرنے پر ہے، لَا عَلَى الْقَبْضِ اس کی بنیاد قبضے پر نہیں۔ یعنی قبضے سے کیا مراد ہے؟ کہ خاوند مبدل پر قبضہ کر لے یعنی وطی کر لے۔ تو اس مہر کی بنیاد تسلیم مبدل پر ہے، قبضے یعنی وطی پر نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: لَا عَلَى الْقَبْضِ تو اس مہر مسمیٰ کا پکا ہونا جو ہے اس کی بنیاد قبضے پر یعنی وطی پر نہیں ہے، بِخِلَافِ الْفَصْلِ الْأَوَّلِ بخلاف پہلے فصل کے، بخلاف پہلی فصل کے یعنی جو پہلے دو مسئلے ذکر ہوئے تھے، وہاں پر وہاں پر وہ حمل اور وہ بچے کا نسب جو خاوند سے ثابت ہو رہا تھا وہ وطی کو ثابت کر رہا تھا۔ جبکہ یہاں پر پورے مہر کا خاوند پر واجب ہونا یہ وطی کو ثابت نہیں کرتا، یہ صرف تسلیم مبدل کی وجہ سے مہر دینا پڑے گا بھئی۔
آگے دیکھیے: فَإِنْ رَاجَعَهَا مَعْنَاهُ بَعْدَ مَا خَلَا بِهَا وَقَالَ لَمْ أُجَامِعْهَا ثُمَّ جَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَقَلَّ مِنْ سَنَتَيْنِ بِيَوْمٍ صَحَّتْ تِلْكَ الرَّجْعَةُ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: یہی پچھلا مسئلہ، خاوند نے بیوی سے خلوت تو کی ہے لیکن بعد میں کہتا ہے میں نے اس سے صحبت نہیں کی، اور پھر خاوند نے اس کو طلاق بھی دے دی۔ خاوند رجوع کا مالک نہیں، ہم نے آپ کو بتا دیا۔ خاوند رجوع نہیں کر سکتا، خاوند کے اپنے حق میں تصدیق کی جائے گی۔ یہاں شریعت اس کو نہیں جھٹلا رہی بھئی۔ لیکن اس خاوند نے پھر رجوع کر لیا۔ پہلے کہا تھا میں نے اس سے صحبت نہیں کی اور بعد میں کیا کر لیتا ہے؟ رجوع کر لیتا ہے۔ اور پھر یہ عورت جو ہے دو سال سے ایک دن قبل تک اس نے ایک بچے کو جنم دے دیا۔ دو سال سے ایک دن کم کم کے اندر۔ یعنی طلاق اور وہ جو بچے کی پیدائش ہوئی ہے، درمیان میں اس خاوند نے کیا کیا تھا؟ رجوع بھی کیا تھا۔ تو طلاق اور بچے کی پیدائش میں دو سال سے ایک دن کم ہے۔ ایک دن کم اس لیے کہا کیونکہ زیادہ سے زیادہ حمل کی مدت دو سال ہے۔ تو طلاق سے تاکہ ایک دن پہلے یوں کہیں گے خاوند نے صحبت کی تھی اور اس صحبت کی وجہ سے یہ بچہ پیدا ہوا ہے ٹھیک دو سال پر۔ دو سال سے زیادہ نہیں گزرے ابھی۔ تو جب دو سال کے اندر بچہ پیدا ہوا ہے تو اس بچے کا نسب اس خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔ کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا کہ شریعت بچے کا نسب ثابت کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتی ہے، فقہاء کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح بچے کا نسب ثابت ہو جائے۔
یہاں پر بھی اس شخص نے کہا کہ میں نے اس عورت سے صحبت نہیں کی لیکن طلاق کے بعد دو سال ابھی پورے نہیں ہوئے، ایک دن پہلے تک بھی اگر اس عورت نے ایک بچے کو جنم دے دیا تو ہم کہیں گے یہ خاوند جھوٹ بول رہا تھا۔ ہم یہی کہیں گے کہ خاوند نے طلاق سے پہلے وطی کی تھی۔ ہمیں تو کہا میں نے وطی نہیں کی لیکن حقیقت میں اس نے وطی کی تھی۔ وجہ یہ کہ یہاں دو صورتیں ہیں: عورت دو سال کے بعد بچے کو جنم دے رہی ہے۔ تو ہو سکتا ہے یہ خاوند نے طلاق کے بعد اس سے صحبت کی ہو، اور طلاق کے بعد صحبت کی ہے معلوم ہوا وہ زنا تھا۔ وہ زنا تھا۔ اور طلاق سے پہلے صحبت کی ہے معلوم ہوا وہ زنا نہیں۔ تو یہاں پر ہم اس کو طلاق سے پہلے والی صورت پر محمول کریں گے۔ کیونکہ مسلمان کے فعل میں دو جہتیں ہوں، ایک خیر والی اور ایک شر والی تو کس جہت پر محمول کریں گے؟ خیر والی جہت پر محمول کریں گے کہ اس نے طلاق سے پہلے صحبت کی تھی اور طلاق کے بعد ابھی دو سال پورے نہیں ہوئے۔ کم از کم ایک دن کم ہے۔ زیادہ کم ہو تو اور اچھی بات ہے لیکن کم از کم ایک دن ضرور کم ہونا چاہیے۔ اگر طلاق کو پورے دو سال گزر گئے ہیں اب تو کوئی صورت ہی نہیں۔ طلاق سے پہلے تو ہم اس بچے کے حمل کو ثابت نہیں کر سکتے بھئی۔ تو لہٰذا طلاق کے بعد دو سال سے کم کم عرصے کے اندر عورت نے بچے کو جنم دیا تو ایک صورت یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ یہ حمل طلاق کے بعد ٹھہرا ہے، طلاق کے بعد خاوند نے صحبت کی ہے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ طلاق سے پہلے ہم کہیں صحبت کی ہے اور وہ جو پہلے خاوند نے کہا تھا کہ میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی وہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا ایک طرف جائیں تو خاوند کو جھوٹا قرار دینا پڑتا ہے، اور دوسری طرف جائیں تو خاوند کا زنا قرار دینا پڑتا ہے۔ تو جھوٹ بھی حرام اور زنا بھی حرام، لیکن جھوٹ زنا کے مقابلے میں کم حرام ہے اور زنا بڑا حرام ہے، اور مسلمان کے کام کے اندر دونوں جہتیں اگر حرام کی ہوں تو اس کو کس صورت پر محمول کرتے ہیں؟ کم حرام والی صورت پر۔ تو جھوٹ کے اندر کم حرام والی صورت ہے لہٰذا ہم یوں کہیں گے کہ یہ جو اس شخص نے پہلے کہا تھا کہ میں نے صحبت نہیں کی وہ اس نے جھوٹ بولا تھا، اس نے صحبت کی ہے بھئی۔ اس نے صحبت کی ہے اور معلوم ہوا طلاق سے پہلے صحبت کی ہے، تو بچے کا نسب اس خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔ اور اگر ہم دوسری صورت لیتے ہیں: یہ سچ کہہ رہا تھا اور عورت تو جنم دے رہی ہے دو سال سے پہلے ایک بچے کو، تو لہٰذا کہنا پڑے گا کہ اس نے طلاق کے بعد جو ہے صحبت کی ہے بیوی سے، اور طلاق کے بعد صحبت کی ہے تو یہ تو زنا ہو گا اور بچے کا نسب بھی ثابت نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: فَإِنْ رَاجَعَهَا اور اگر خاوند نے اس بیوی سے رجوع کر لیا، یہ خاوند کیا کہتا ہے؟ خلوت تو میں نے کی ہے لیکن صحبت نہیں کی، لیکن رجوع بھی کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ رَاجَعَهَا اگر خاوند نے اس بیوی سے رجوع کر لیا، اگرچہ یہ رجوع کا مالک نہیں ہے پھر بھی یہ رجوع کر رہا ہے، مَعْنَاهُ بَعْدَ مَا خَلَا بِهَا معنیٰ یہ ہے کہ بعد اس کے کہ جب خاوند نے اس کے ساتھ خلوت کی تھی، وَقَالَ لَمْ أُجَامِعْهَا اور بعد اس کے کہ جب خاوند نے کہا تھا میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، یہ سب کرنے کے بعد اس نے پھر رجوع کیا، ثُمَّ جَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَقَلَّ مِنْ سَنَتَيْنِ بِيَوْمٍ پھر وہ عورت ایک بچے کو لے آئی یعنی اس نے ایک بچے کو جنم دیا طلاق کے بعد دو سال سے ایک دن کم میں، طلاق کے بعد دو سال سے ایک دن کم کے اندر وہ ایک بچہ لے آئی یعنی اس کو اس نے جنم دیا، صَحَّتْ تِلْكَ الرَّجْعَةُ تو وہ رجوع صحیح ہو جائے گا۔ وہ رجوع جو اس خاوند نے کیا تھا، پہلے تو کہا تھا میں نے صحبت ہی نہیں کی پھر بعد میں رجوع کیا، اب پتہ چلا رجوع صحیح ہے بھئی۔
لِأَنَّهُ ثَبَتَ النَّسَبُ مِنْهُ اس لیے کیونکہ خاوند سے بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا، إِذْ هِيَ لَمْ تُقِرَّ بِانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ اس لیے کیونکہ عورت نے تو اقرار نہیں کیا اپنی عدت کے گزرنے کا، یہ بھی ضروری ہے۔ عورت نے بھی اقرار نہ کیا ہو میری عدت گزر گئی ہے۔ اگر عورت نے کہہ دیا میری تو عدت گزر چکی ہے، پھر اس کے بعد یہ نہیں دیکھیں گے کہ دو سال کے بعد بچہ پیدا ہو رہا ہے، وہ پھر زنا سے ہی ہو گا بھئی۔ لیکن یہاں عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار کسی کے سامنے نہیں کیا۔ کہتے ہیں: إِذْ هِيَ لَمْ تُقِرَّ بِانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ اس لیے کیونکہ عورت نے اقرار نہیں کیا اپنی عدت کے گزرنے کا، وَالْوَلَدُ يَبْقَى فِي الْبَطْنِ هَذِهِ الْمُدَّةَ اور بچہ جو ہے وہ ماں کے پیٹ میں اتنی مدت تک باقی رہتا ہے، فَأُنْزِلَ وَاطِئًا قَبْلَ الطَّلَاقِ لہٰذا اس خاوند کو اتارا جائے گا وَاطِئًا وطی کے درجے میں، اس خاوند کو وطی کرنے والے کے درجے میں اتارا جائے گا قَبْلَ الطَّلَاقِ طلاق سے پہلے۔ طلاق سے پہلے اس کو وطی کرنے والے کے درجے میں اتارا جائے گا، دُونَ مَا بَعْدَهُ نہ کہ طلاق کے بعد بھئی، کیونکہ طلاق کے بعد تو زنا ہو گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: فَأُنْزِلَ وَاطِئًا قَبْلَ الطَّلَاقِ دُونَ مَا بَعْدَهُ تو خاوند کو جو ہے طلاق سے پہلے وطی کرنے والے کے درجے میں اتارا جائے گا دُونَ مَا بَعْدَهُ نہ کہ طلاق کے بعد، لِأَنَّ عَلَى اعْتِبَارِ الثَّانِي يَزُولُ الْمِلْكُ بِنَفْسِ الطَّلَاقِ اس لیے کیونکہ دوسرے اعتبار پر، دوسرے اعتبار پر يَزُولُ الْمِلْكُ بِنَفْسِ الطَّلَاقِ ملکیت زائل ہو جاتی ہے نفس طلاق سے ہی، لِعَدَمِ الْوَطْءِ قَبْلَهُ کیونکہ طلاق سے پہلے وطی نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے نا، یہاں دو اعتبار ہیں۔ ایک اعتبار کیا؟ ایک اعتبار یہ کہ یہ وطی کو طلاق سے پہلے قرار دیا جائے۔ اور ایک اعتبار یہ کہ وطی کو طلاق کے بعد قرار دیا جائے۔ اگر وطی کو طلاق کے بعد قرار دیا جائے تو خاوند کا زانی ہونا لازم آتا ہے۔ اور اگر وطی کو طلاق سے پہلے قرار دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ خاوند کو جھوٹا قرار دینا پڑے گا کہ جو اس نے کہا تھا میں نے وطی نہیں کی معلوم ہوا اس نے جھوٹ بولا تھا۔ تو یہ معنیٰ ہے کہ: وَعَلَى اعْتِبَارِ الثَّانِي اور دوسرے اعتبار پر یعنی اگر اس کو وطی قرار دیا جائے طلاق کے بعد تو اس صورت میں، يَزُولُ الْمِلْكُ بِنَفْسِ الطَّلَاقِ وہاں تو ملکیت زائل ہو گئی تھی نفس طلاق سے ہی کیونکہ وہ کہہ رہا تھا میں نے صحبت نہیں کی، لِعَدَمِ الْوَطْءِ قَبْلَهُ اس لیے کیونکہ طلاق سے پہلے وطی نہیں پائی گئی، فَيَحْرُمُ الْوَطْءُ تو پھر اس صورت میں تو وطی حرام ہو جائے گی یعنی زنا ہو جائے گا، وَالْمُسْلِمُ لَا يَفْعَلُ الْحَرَامَ اور مسلمان تو حرام فعل نہیں کرتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو دیکھو، یہ جو صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ خلوت کر لی اور پھر خلوت کے بعد کہتا ہے میں نے صحبت نہیں کی، پھر بعد میں رجوع کرتا ہے اور ادھر طلاق کے بعد دو سال سے پہلے پہلے عورت نے بچے کو جنم دے دیا۔ دیکھو، حاصل کلام سمجھ لو پھر آپ پر مسئلہ واضح ہو جائے گا۔ بھئی دیکھو، یہاں پر اگر اس شخص کے قول کو دیکھا جائے تو اس کا رجوع صحیح نہیں بنتا۔ یہ خود کہہ رہا ہے میں نے صحبت نہیں کی۔ جب صحبت نہیں کی تو عورت غیر مدخول بہا ہوئی، اور جب عورت غیر مدخول بہا ہے تو غیر مدخول بہا پر تو عدت ہی نہیں ہوتی، طلاق دیتے ہی فوراً نکاح ٹوٹ جاتا ہے وہ آگے جہاں مرضی چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ تو اس کا اپنا قول اس کے رجوع کو جھٹلا رہا ہے۔ لیکن اس عورت نے دو سال سے پہلے ایک بچے کو جنم دیا۔ طلاق کے بعد دو سال پورے ہونے سے پہلے ایک بچے کو جنم دیا، کم از کم ایک دن پہلے تو ضرور ہو دو سال کے پورا ہونے سے پہلے، اور اگر زیادہ فرق ہے تو اور اچھی بات ہے۔ تو طلاق کے بعد عورت نے کچھ مدت کے بعد، چاہے چھ مہینے کے بعد، چاہے آٹھ مہینے کے بعد، چاہے سال کے بعد، چاہے ڈیڑھ سال کے بعد عورت نے بچے کو جنم دیا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ شریعت بے انتہا احتیاط کرتی ہے نسب کے ثابت کرنے میں۔ شریعت کی پوری کوشش ہوتی ہے نسب ثابت ہو جائے تاکہ بچہ ضائع نہ ہو بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی، یہاں پر بھی دو سال سے پہلے پہلے بچہ پیدا ہوا ہے، چاہے آٹھ نو ماہ بعد بچہ پیدا ہو، چاہے سال بعد پیدا ہو، چاہے ڈیڑھ سال بعد، لیکن طلاق کے بعد دو سال ابھی پورے نہ ہوئے ہوں بھئی، سب کا ایک ہی حکم ہے۔ تو اس میں عورت نے بچے کو جنم دیا تو شریعت اب اس بچے کے نسب کے ثبوت کی کوشش کرے گی۔ چنانچہ کہا جائے گا کہ یہ اسی شخص کا بچہ ہے۔ یہ جس خاوند نے طلاق دی تھی، یہ اسی کا بچہ ہے بھئی۔ اور معلوم ہوا اس شخص نے جھوٹ بولا تھا۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر دو صورتیں ہیں: اس عورت نے بچے کو جنم دیا ہے طلاق کے بعد۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ بچے کا حمل طلاق کے بعد ٹھہرا ہو، طلاق کے بعد خاوند نے صحبت کی ہو۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ طلاق سے پہلے خاوند نے صحبت کی ہو۔ اگر طلاق کے بعد اسے قرار دیا جائے تو یہ تو زنا ہو گا، اور طلاق سے پہلے قرار دیا جائے تو اس صورت میں صرف خاوند کو جھوٹا قرار دینا پڑے گا کہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ تو لہٰذا یہاں پر خاوند کو جھوٹا قرار دے دیں گے اور اس طرح بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ اور بچے کا نسب جب ثابت ہوا تو معلوم ہوا خاوند نے صحبت کی تھی۔ جب خاوند نے صحبت کی تھی معلوم ہوا اس عورت پر عدت بھی تھی، اور عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ لہٰذا اس شخص نے معلوم ہوا جو رجوع کیا وہ رجوع بھی صحیح شمار کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
فَإِنْ قَالَ لَهَا إِذَا وَلَدْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ فَوَلَدَتْ ثُمَّ أَتَتْ بِوَلَدٍ آخَرَ فَهِيَ رَجْعَةٌ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو نے بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے۔ عورت نے بچے کو جنم دیا اسے طلاق ہو گئی۔ پھر اس کے بعد چھ ماہ یا اس سے زیادہ کا عرصہ گزرا، عورت نے ایک اور بچے کو جنم دیا۔ عورت نے اس نے نہیں کہا میں نے رجوع کیا ہے، لیکن چھ ماہ یا اس سے زیادہ میں عورت نے ایک اور بچے کو جنم دیا، تو ہم کہیں گے یہ بچہ اسی شخص کا ہے اور معلوم ہوا کہ جب عورت نے پہلے بچے کو جنم دیا تو اس کو طلاق ہو گئی اور وہ عدت کے اندر تھی اور عدت کے اندر خاوند نے کیا کر لیا ہے؟ رجوع کر لیا تھا۔ پہلا بچہ ہونے پر طلاق ہو گئی اور طلاق کے بعد کیا آتی ہے؟ عدت۔ تو عدت کس پر آئی ہے، حاملہ پر یا غیر حاملہ پر؟ غیر حاملہ پر، بچے کو تو اس نے جنم دیا ہے، بچے سے ہی تو اس پر طلاق آئی ہے بھئی۔ لہٰذا اب یہ عدت گزار رہی تھی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد اس نے بچے کو جنم دیا، معلوم ہوا خاوند نے عدت میں رجوع کر لیا تھا اور یہ اسی کے وطی سے یہ دوسرا بچہ ہوا ہے۔
تو کہتے ہیں: فَإِنْ قَالَ لَهَا اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا، إِذَا وَلَدْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ جب تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے، فَوَلَدَتْ اس نے بچے کو جنم دیا، ثُمَّ أَتَتْ بِوَلَدٍ آخَرَ پھر وہ ایک اور بچے کو لے آئی یعنی اس نے ایک اور بچے کو جنم دیا، فَهِيَ رَجْعَةٌ تو یہ رجوع ہے، یعنی یہ دوسرا بچہ رجوع کی علامت ہے۔ یہ رجوع کی علامت ہے۔ مَعْنَاهُ مِنْ بَطْنٍ آخَرَ معنیٰ اس کا یہ ہے کہ وہ بچہ دوسرے پیٹ سے ہو۔ بھئی یاد رکھو، جڑواں بچے۔ جڑواں بچے ہمارے ہاں اس کو شمار کرتے ہیں جو اکٹھے پیدا ہوں۔ لیکن شریعت میں وہ جڑواں بچے ہیں جن کے درمیان چھ ماہ سے کم کا فرق ہو۔ جن دو بچوں کے درمیان چھ ماہ سے کم کا فرق ہے وہ جڑواں شمار ہوں گے۔ کیونکہ ان میں چھ ماہ سے کم کا فرق ہے۔ اور اگر یہ دوسرے بچے کا حمل ٹھہرا ہے پہلے بچے کے بعد تو پھر تو چھ مہینے پورے ہی نہیں ہوئے، اور ایک صحیح سلامت تندرست بچہ کم از کم چھ ماہ بعد پیدا ہو سکتا ہے، چھ ماہ سے پہلے نہیں۔ اور یہاں تو مدت کم ہے۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا یہ دونوں کا حمل پہلے سے ہی تھا، ایک بچے کی پیدائش پہلے ہو گئی اور دوسرے کی کچھ مدت کے بعد پیدائش ہوئی ہے۔ یعنی جب پہلا بچہ پیدا ہوا تو عورت ابھی بھی حاملہ ہے۔ اور پھر اس نے بچے کو جنم دیا ہے تو دونوں ایک ہی بطن سے ہوئے ہیں۔ الگ الگ حمل دونوں کے نہیں ٹھہرے، ایک ہی وقت میں دونوں کے حمل ٹھہرے ہیں لہٰذا یہ جڑواں شمار ہوں گے۔ تو جن دو بچوں میں چھ ماہ سے کم کا فرق ہو تو کہتے ہیں یہ بطنِ واحد سے ہیں۔ یہ کس سے ہیں؟ بطنِ واحد سے ہیں، ایک ہی پیٹ سے ہیں یعنی ایک ہی حمل سے ہیں۔ ان کا حمل اکٹھا ہی ٹھہرا تھا، ایک کی پیدائش پہلے ہو گئی دوسرے کی پیدائش کچھ مہینے کچھ مہینے بعد ہوئی ہے بھئی۔ کیونکہ چھ ماہ سے کم وقت بیچ میں گزرا ہے اور اتنے کم وقت میں تو ایک نیا حمل ٹھہرے اور صحیح سلامت بچہ ہو جائے یہ ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔
تو یہ معنیٰ ہے کہ وہ ایک دوسرا بچہ لے آئی فَهِيَ رَجْعَةٌ تو یہ رجوع ہے۔ مَعْنَاهُ مِنْ بَطْنٍ آخَرَ معنیٰ اس کا یہ ہے کہ دوسرے پیٹ سے بچہ لائی ہے، یعنی یہ حمل بعد میں ٹھہرا ہے۔ اور بعد میں حمل ٹھہرا ہے اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ کہ دونوں بچوں میں کم از کم چھ ماہ کا فرق ہو۔ تو اس سے پتہ چل جائے گا کہ یہ حمل بعد میں ٹھہرا ہے۔ اگر چھ ماہ سے کم ہے تو اتنے میں تو پورے بچے کی پیدائش نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: مَعْنَاهُ مِنْ بَطْنٍ آخَرَ معنیٰ یہ ہے کہ دوسرے پیٹ سے ہو۔ بھئی پہلے بچے کے بعد تو طلاق ہو گئی تھی۔ معلوم ہوا یہ دوسرا بچہ دوبارہ خاوند نے وطی کی اور یہ رجوع کر لیا تھا اس نے۔ تو کہتے ہیں: مَعْنَاهُ مِنْ بَطْنٍ آخَرَ معنیٰ یہ ہے کہ وہ دوسرا بچہ دوسرے پیٹ سے ہو، وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ اور وہ یہ کہ یہ دوسرا بچہ چھ ماہ کے بعد ہو، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ اگرچہ دو سال سے زیادہ ہو۔ اگرچہ دو سال سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ بعض اوقات عورت کی عدت لمبی ہو جاتی ہے، حیض رک جاتا ہے۔ تو بچے کو جنم دے دیا تھا اور خاوند نے طلاق دی تھی، خاوند نے کہا تھا: اگر تو نے بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے۔ اس نے جیسے ہی پہلے بچے کو جنم دیا طلاق ہو گئی۔ اب اس کی عدت کتنی ہے؟ تین حیض۔ کتنی عدت؟ تین حیض ہے، اور یہ تین حیض کبھی لمبے ہو جاتے ہیں بھئی۔ عورت کو حیض ہی نہیں آتا ایک عرصے تک۔ توجہ ہے؟ لہٰذا دو سال کے بعد بھی اگر بچے کو یہ جنم دے گی تو ہم بچے کا نسب ثابت کریں گے۔ تو خاوند البتہ پھر لعان کر سکتا ہے، عدالت میں جا کر لعان کر سکتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ لیکن اگر بچے کے نسب کی نفی کرنی ہو لعان کے ذریعے تو وہ بھی ابتدائی دنوں میں جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے اور جب اس کے شروع کے دن ہوتے ہیں، اس وقت لعان کے ذریعے خاوند بچے کے نسب کی اپنے سے نفی کر سکتا ہے۔ اور پھر قاضی کے پاس جب دونوں لعان کر لیں گے میاں بیوی تو پھر اس کے بعد قاضی اس بچے کے نسب کو اس خاوند سے کاٹ کر صرف عورت کے ساتھ جوڑ دے گا۔ اب یہ صرف اس عورت کا بچہ شمار ہو گا، اس خاوند کا بچہ شمار نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں: وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ اور وہ یہ کہ وہ دوسرا بچہ جو ہے وہ چھ ماہ کے بعد ہو اگرچہ دو سال سے زیادہ میں ہو، إِذَا لَمْ تُقِرَّ بِانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ جب عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہ کیا ہو، لِأَنَّهُ وَقَعَ الطَّلَاقُ عَلَيْهَا بِالْوَلَدِ الْأَوَّلِ اس لیے کیونکہ عورت پر طلاق واقع ہو گئی پہلے بچے سے ہی، وَوَجَبَتِ الْعِدَّةُ اور اس پر عدت واجب ہو گئی، فَيَكُونُ الْوَلَدُ الثَّانِي مِنْ عُلُوقٍ حَادِثٍ مِنْهُ فِي الْعِدَّةِ تو یہ جو دوسرا بچہ ہوا ہے مِنْ عُلُوقٍ حَادِثٍ، علوق کا معنیٰ ہے حمل ٹھہرنا، تو یہ جو دوسرا بچہ ہوا ہے مِنْ عُلُوقٍ حَادِثٍ مِنْهُ فِي الْعِدَّةِ یہ ایک نیا حمل ٹھہرا ہے مِنْهُ اس خاوند سے فِي الْعِدَّةِ عدت کے اندر۔ معلوم ہوا اس نے رجوع کیا ہے۔ لِأَنَّهَا لَمْ تُقِرَّ بِانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ اس لیے کیونکہ عورت نے اپنی عدت کے گزرنے کا اقرار نہیں کیا ہے، فَيَصِيرُ مُرَاجِعًا تو وہ خاوند رجوع کرنے والا ہو جائے گا، یعنی اس کو رجوع کرنے والا شمار کریں گے بھئی۔
وَإِذَا قَالَ كُلَّمَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ طَالِقٌ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: تو جب بھی بچے کو جنم دے تجھے طلاق ہے۔ عورت نے ایک بچے کو جنم دیا، پھر کچھ عرصے کے بعد ایک اور بچے کو جنم دیا، پھر کچھ عرصے کے بعد ایک اور بچے کو جنم دیا، یعنی چھ چھ ماہ سے زیادہ کا فاصلہ۔ تو جب پہلا بچہ پیدا ہوا عورت کو ایک طلاق ہو گئی۔ جب دوسرا بچہ پیدا ہوا معلوم ہوا خاوند نے رجوع کر لیا تھا۔ پہلا بچہ ہونے پر طلاق ہو گئی اور طلاق کے بعد کیا آتی ہے؟ عدت۔ تو عدت کس پر آئی ہے، حاملہ پر یا غیر حاملہ پر؟ غیر حاملہ پر، بچے کو تو اس نے جنم دیا ہے، بچے سے ہی تو اس پر طلاق آئی ہے بھئی۔ لہٰذا اب یہ عدت گزار رہی تھی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد اس نے بچے کو جنم دیا، معلوم ہوا خاوند نے عدت میں رجوع کر لیا تھا اور یہ اسی کی وطی سے یہ دوسرا بچہ ہوا ہے۔
اس کو رجوع شمار کریں گے، اور دوسرا بچہ بھی جیسے ہی ہوگا عورت کو پھر طلاق ہو گئی کیونکہ خاوند نے کیا کہا تھا؟ تو جب بھی بچے کو جنم دے تجھے طلاق، تو دوسرے بچے پر دوسری طلاق ہو گئی۔ پھر اس کے بعد کچھ عرصے کے بعد بیوی نے تیسرے بچے کو جنم دیا، معلوم ہوا یہ خاوند نے دوبارہ رجوع کر لیا تھا تو یہ بھی اسی خاوند کا شمار ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ نسب کے ثبوت میں احتیاط کی جاتی ہے۔ خاوند نے تو رجوع ذکر نہیں کیا لیکن شرعاً یہ بچے اسی کے شمار ہوں گے۔ اور میں نے بتا دیا اگر خاوند نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو کہاں جانا پڑے گا؟ قاضی کے پاس اور بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں۔
”وَإِنْ قَالَ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”كُلَّمَا وَلَدْتِ وَلَدًا فَأَنْتِ طَالِقٌ“ کہ جب بھی تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے، ”فَوَلَدَتْ ثَلَاثَةَ أَوْلَادٍ فِي بُطُونٍ مُخْتَلِفَةٍ“ تو اس عورت نے تین بچوں کو جنم دیا مختلف بطنوں سے، یعنی ہر ایک بچے میں کم از کم چھ ماہ کا فاصلہ ہے، تو اس نے مختلف بطنوں سے تین اولادوں کو جنم دیا، ”فَالْوَلَدُ الْأَوَّلُ طَلَاقٌ“ تو اب پہلا بچہ جو ہے وہ طلاق ہے، ”وَالْوَلَدُ الثَّانِي رَجْعَةٌ“ اور دوسرا بچہ جو ہے وہ رجوع ہے، یعنی رجوع بھی ہے اور طلاق بھی ہے، ”وَكَذَا الثَّالِثُ“ اور تیسرا بھی اسی طرح ہے وہ رجوع بھی ہے اور طلاق بھی ہے، تو اب تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں۔
”لِأَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ بِالْوَلَدِ الْأَوَّلِ وَقَعَ الطَّلَاقُ“ اس لیے کیونکہ عورت جب پہلے بچے کو لائی تو طلاق واقع ہو گئی، ”وَصَارَتْ مُعْتَدَّةً“ اور یہ عورت معتدہ ہو گئی یعنی عدت گزارنے والی ہوئی، ”وَبِالثَّانِي صَارَ مُرَاجِعًا“ اور دوسرے بچے سے خاوند رجوع کرنے والا ہو گیا، اب وہ رجوع کرنے والا شمار ہوگا، ”لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ يُجْعَلُ الْعُلُوقُ بِوَطْءٍ حَادِثٍ فِي الْعِدَّةِ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ جو علوق ہے، یہ جو حمل ٹھہرا ہے، اس کو قرار دیا جائے گا ”بِوَطْءٍ حَادِثٍ فِي الْعِدَّةِ“ کہ یہ ایک نئی وطی کی وجہ سے ہوا ہے عدت میں۔ یہ جو حمل ٹھہرا ہے دوسرے بچے والا، یہ عدت کے اندر نیا حمل ٹھہرنے کی وجہ سے ہوا ہے، معلوم ہوا خاوند نے نئی وطی کی ہے۔ جب نئی وطی کی ہے تو معلوم ہوا رجوع کر لیا ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا ”أَنَّهُ يُجْعَلُ الْعُلُوقُ“ کہ یہ جو علوق ہے اس کو قرار دیا جائے گا ”بِوَطْءٍ حَادِثٍ فِي الْعِدَّةِ“ کہ یہ ایک نئی وطی کی وجہ سے ہوا ہے عدت میں۔
”وَيَقَعُ الطَّلَاقُ الثَّانِي بِوِلَادَةِ الْوَلَدِ الثَّانِي“ اور دوسری طلاق بھی واقع ہو جائے گی دوسرے بچے کی ولادت سے، ”لِأَنَّ الْيَمِينَ مَعْقُودَةٌ بِكَلِمَةِ كُلَّمَا“ اس لیے کیونکہ یہ قسم جو ہے باندھی گئی ہے کلمۂ ”كُلَّمَا“ کے ساتھ۔ یہ قسم کس لفظ کے ساتھ کھائی گئی ہے؟ ”كُلَّمَا“ کے لفظ کے ساتھ۔ اور ”كُلَّمَا“ کیا تقاضا کرتا ہے؟ کہ جب بھی شرط پائی جائے گی جزا دوبارہ پائی جائے گی، پھر شرط پائی جائے گی پھر جزا دوبارہ پائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْيَمِينَ مَعْقُودَةٌ بِكَلِمَةِ كُلَّمَا“ اس لیے کیونکہ یہ قسم جو ہے اس کا عقد کیا گیا تھا کلمۂ ”كُلَّمَا“ کے ساتھ، ”وَوَجَبَتِ الْعِدَّةُ“ اور عدت واجب ہو جائے گی، ”وَبِالْوَلَدِ الثَّالِثِ صَارَ مُرَاجِعًا لِمَا ذَكَرْنَا“ اور تیسرے بچے سے بھی خاوند رجوع کرنے والا ہو جائے گا ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ معلوم ہوا یہ نیا علوق ہوا ہے عدت کے اندر، ”وَتَقَعُ الطَّلْقَةُ الثَّالِثَةُ بِوِلَادَةِ الثَّالِثِ“ اور تیسری طلاق بھی واقع ہو جائے گی تیسرے بچے کی پیدائش سے، ”وَوَجَبَتِ الْعِدَّةُ بِالْأَقْرَاءِ“ اور اس عورت پر جو عدت واجب ہوگی ”بِالْأَقْرَاءِ“ وہ حیضوں کے ساتھ ہوگی۔ اقراء جمع ہے قرء کی، اور قرء کسے کہتے ہیں؟ حیض کو۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجَبَتِ الْعِدَّةُ بِالْأَقْرَاءِ“ اور اس عورت پر عدت جو واجب ہوگی ”بِالْأَقْرَاءِ“ وہ حیضوں کے ساتھ ہوگی، ”لِأَنَّهَا حَائِلٌ مِنْ ذَوَاتِ الْحِيَضِ“ ”حَائِلٌ“ ہے آپ کی کتاب میں یا ”حَامِلٌ“ ہے؟ ”حَامِلٌ“؟ یہ ”حَائِلٌ“ ہونا چاہیے۔ ”حَائِلٌ“، یاد رکھو ایک ہے حاملہ اور ایک ہے حائل۔ حائل کہتے ہیں غیر حاملہ کو۔ غیر حاملہ کو کیا کہتے ہیں؟ حائل۔ تو اس عورت نے جب بچے کو جنم دے دیا تو اب یہ حامل ہے یا حائل ہے؟ حائل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا حَائِلٌ مِنْ ذَوَاتِ الْحِيَضِ حِينَ وَقَعَ الطَّلَاقُ“ اس لیے کیونکہ یہ عورت غیر حاملہ ہے ”مِنْ ذَوَاتِ الْحِيَضِ“ حیض والیوں میں سے ”حِينَ وَقَعَ الطَّلَاقُ“ جس وقت طلاق واقع ہوئی۔ طلاق تو بچے کی پیدائش کے بعد واقع ہوئی ہے تو اس وقت یہ حائل ہے بھئی، تو اس کی عدت حیضوں کے ساتھ ہوگی اور اس کے دوران خاوند رجوع کر سکتا ہے بھئی۔
حاصل کلام ان دونوں مسئلوں کا یہ جو اوپر گزرے، ایک میں خاوند نے کیا کہا تھا؟ اگر تو نے بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے، اور پھر بچے کو جنم دینے پر طلاق ہو گئی اور بعد میں عورت نے ایک اور بچے کو بھی جنم دیا، اور دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند نے کیا کہا؟ جب بھی تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے۔ تو اس عورت نے اس بچے کی پیدائش کے بعد دو اور بچوں کو جنم دیا، تو اس کے اندر بھی دیکھو شریعت بچے کے نسب کو ثابت کر رہی ہے۔ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا ہے: اگر تو نے بچے کو جنم دیا تو تجھے طلاق ہے، تو عورت نے بچے کو جنم دیا اور پھر اس کے بعد چھ ماہ یا آٹھ ماہ بعد یا سال بعد یا دو سال بعد یا اس سے بھی زیادہ عرصے بعد عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے، تو شریعت کی کوشش ہوتی ہے کہ بچے کا نسب ثابت ہو جائے لہٰذا اس بچے کا نسب بھی اسی خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔ لیکن یہ شرط ہے ان تمام مسئلوں کے اندر، عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہ کیا ہو بھئی۔ اگر عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار کر لیا پھر تو معلوم ہوا یہ حمل بعد میں ٹھہرا ہے، معلوم ہوا یہ بچہ زنا سے پیدا ہوا ہے تو لہٰذا پھر تو اس کا نسب ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو ان مسئلوں کے اندر عورت نے اقرار نہیں کیا عدت کے گزرنے کا اور ایک بچے کو جنم دے رہی ہے تو ہم یوں ہی کہیں گے کہ خاوند نے رجوع کر لیا تھا، چاہے دو سال بعد بھی بچے کو عورت جنم دے ہم پھر بھی کہیں گے یہ اسی خاوند کا بیٹا ہے، وجہ یہ کہ بعض اوقات عدت لمبی ہو جاتی ہے، کئی کئی مہینے تک عورت کو حیض آتا ہی نہیں، تو جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا اور طلاق ہو گئی تو اس کے بعد عدت آئی اور عدت تو وہ لمبی بھی ہو سکتی ہے تو ہم کہیں گے کہ خاوند نے رجوع کر لیا ہوگا اس عدت کے دوران، اور یہ جو نیا بچہ پیدا ہوا ہے یہ بھی اسی خاوند کا ہے، تو دیکھو نسب ثابت کر دیا شریعت نے بھئی، تو ضمناً رجوع بھی ثابت ہو جائے گا۔ اسی طرح اگلے مسئلے کے اندر بھی اسی طرح تھا، جب خاوند نے کہا تھا: جب بھی تو بچے کو جنم دے تو تجھے طلاق ہے، تو اس کے بعد ایک بچے کو جنم دینے پر تو طلاق ہو گئی، اس کے بعد عورت نے دو اور بچوں کو بھی جنم دیا تو اس میں بھی ہم یوں کریں گے کوشش کریں گے نسب ثابت ہو جائے، وہ دونوں بچے بھی اسی خاوند کے شمار ہوں گے بھئی، اور یوں کہیں گے کہ خاوند نے کیا کر لیا ہوگا؟ درمیان میں رجوع کر لیا ہوگا، تو یہ دونوں بچوں کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ لیکن اگر تیسرا بچہ پیدا ہوا، اب اس کا نسب ثابت کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ تین طلاقیں ہو چکی ہیں بھئی، تو تین طلاقوں کے بعد تو رجوع نہیں ہو سکتا، بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے: ”وَالْمُطَلَّقَةُ الرَّجْعِيَّةُ تَتَشَوَّفُ وَتَتَزَيَّنُ“ جی، یہاں سے آپ کو بتلائیں گے کہ خاوند نے جس بیوی کو طلاقِ رجعی دی ہے تو اس کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہے عدت کے دوران اور رہائش بھی خاوند کے ذمے ہے، تو وہ بناؤ سنگھار کرے، اپنے آپ کو خوب بنا کر رکھے تاکہ خاوند رجوع کر لے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُطَلَّقَةُ الرَّجْعِيَّةُ“ اور وہ عورت جس کو طلاقِ رجعی دی گئی ہے ”تَتَشَوَّفُ“ وہ زینت اختیار کرے ”وَتَتَزَيَّنُ“۔ تشوّف اور تزیّن کا ایک معنی ہے زینت اختیار کرنا، لیکن بعض علماء نے فرق کیا ہے، وہ کہتے ہیں تشوّف وہ زینت ہے جو چہرے کے ساتھ خاص ہو، یعنی چہرے پر زینت اختیار کرتی ہے، بناؤ سنگھار کرتی ہے، یا یوں کہو میک اپ کرتی ہے تو یہ ہے تشوّف بھئی، اور جو کپڑے وغیرہ اور زینت اختیار کرتی ہے وہ تزیّن ہے وہ عام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُطَلَّقَةُ الرَّجْعِيَّةُ تَتَشَوَّفُ وَتَتَزَيَّنُ“ اور مطلقۂ رجعیہ جو ہے وہ زینت اختیار کرے گی، ”لِأَنَّهَا حَلَالٌ لِلزَّوْجِ“ اس لیے کیونکہ یہ عورت خاوند کے لیے حلال ہے، ہم پیچھے بتا چکے خاوند اس سے صحبت بھی کر سکتا ہے اور صحبت کرے گا تو رجوع ہو جائے گا، تو یہ خاوند کے لیے حلال ہے، ”إِذِ النِّكَاحُ قَائِمٌ بَيْنَهُمَا“ اس لیے کیونکہ دونوں کے درمیان نکاح قائم ہے، موجود ہے، ”ثُمَّ الرَّجْعَةُ مُسْتَحَبَّةٌ“ پھر رجوع کرنا مستحب ہے، رجوع کرنا مستحب ہے، ”وَتَزَيُّنُهَا حَامِلٌ عَلَيْهَا“ اور یہ زینت جو ہے اس رجوع پر ابھارنے والی ہے، ”فَيَكُونُ مَشْرُوعًا“ لہٰذا یہ زینت جائز ہوگی۔
”وَيُسْتَحَبُّ لِزَوْجِهَا أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَيْهَا حَتَّى يُؤْذِنَهَا أَوْ يُسْمِعَهَا خَفْقَ نَعْلَيْهِ“ یاد رکھو خاوند کے لیے مستحب یہ ہے کہ جب بھی گھر آئے تو اسی گھر کے اندر وہ مطلقۂ رجعیہ بھی رہتی ہے تو خاوند اگر رجوع نہیں کرنا چاہتا تو پھر کوئی ایسی علامت جس سے اس کو بھی پتہ لگ جائے کہ اب میرا خاوند آ رہا ہے، مثلاً آتے ہوئے زور سے کھنکھار لیا، زور سے گلا صاف کیا، بات سمجھ میں آگئی؟ یا اسی طرح جوتوں کی آواز زور سے نکالتے ہوئے خاوند آیا تاکہ عورت بھی سنبھل جائے کہ میرا خاوند آ رہا ہے بھئی۔ دیکھیے صاحبِ ہدایہ آگے بیان فرمائیں گے: ”وَيُسْتَحَبُّ لِزَوْجِهَا“ اور مستحب ہے خاوند کے لیے ”أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَيْهَا“ کہ خاوند اس پر داخل نہ ہو ”حَتَّى يُؤْذِنَهَا“ یہاں تک کہ اس کو خبر دے دے، آذَنَ يُؤْذِنُ کا کیا معنی؟ خبر دینا۔ ”حَتَّى يُؤْذِنَهَا“ یہاں تک کہ اس کو خبر دے دے ”أَوْ يُسْمِعَهَا خَفْقَ نَعْلَيْهِ“ نعل جوتے کو کہتے ہیں، اور خفق یہ جوتے کی آواز کو کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”أَوْ يُسْمِعَهَا خَفْقَ نَعْلَيْهِ“ یا خاوند جو ہے اس کو اپنے جوتوں کی آواز سنائے، ”مَعْنَاهُ“ اب معنی بیان کر رہے ہیں کہ یہ کیوں خاوند اس طرح کرے گا، اس کی علت کیا ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ“ معنی اس کا یہ ہے ”إِذَا لَمْ تَكُنْ مِنْ قَصْدِهِ الْمُرَاجَعَةُ“ جب خاوند کا رجوع کا ارادہ نہ ہو۔ جب خاوند کا رجوع کا ارادہ نہ ہو تو پھر وہ آتے ہوئے بیوی کو اطلاع دے یا اپنے جوتوں کی آواز کے ذریعے اس کو خبر دے کہ میں آ رہا ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ بعض اوقات صرف دیکھنے سے بھی رجوع ہو جاتا ہے اور وہ کس طرح؟ کہ خاوند کی نظر فرجِ داخل پر پڑ جائے شہوت کے ساتھ، تو کہیں ایسا نہ ہو عورت گھر میں ننگی ہو اور خاوند کی نظر فرجِ داخل پر پڑ جائے اور شہوت کے ساتھ، اور نہ چاہنے کے باوجود رجوع ہو جائے اس لیے خاوند اطلاع دے آنے سے پہلے۔ تو ”مَعْنَاهُ إِذَا لَمْ تَكُنْ مِنْ قَصْدِهِ الْمُرَاجَعَةُ“ کہ جب خاوند کے رجوع کا ارادہ نہ ہو، ”لِأَنَّهُ رُبَّمَا تَكُونُ مُجَرَّدَةً“ اس لیے کیونکہ بسا اوقات وہ عورت ننگی ہوگی ”فَيَقَعُ بَصَرُهُ عَلَى مَوْضِعٍ يَصِيرُ بِهِ مُرَاجِعًا“ تو خاوند کی نگاہ واقع ہو جائے گی اس مقام پر جس سے وہ رجوع کرنے والا ہو جائے گا لیکن خاوند تو رجوع نہیں کرنا چاہتا تھا، ”ثُمَّ يُطَلِّقُهَا“ خاوند دوبارہ اس کو طلاق دے گا ”فَتَطُولُ عَلَيْهَا الْعِدَّةُ“ تو عورت پر عدت لمبی ہو جائے گی۔
صاحبِ ہدایہ نے یہ وجہ ذکر کی کہ خاوند اس لیے اطلاع دے یا زور سے جوتے کی آواز نکالتا ہوا آئے کہ عورت کو اطلاع مل جائے تاکہ کہیں فرجِ داخل پہ نظر نہ پڑ جائے بھئی شہوت سے، اور اس طرح صرف شہوت سے دیکھنے سے ہی رجوع ہو جائے گا بھئی۔ جبکہ دیگر فقہاء نے اور علت ذکر کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بھئی فرجِ داخل پر نظر پڑنا یہ تو نہایت ہی نادر ہے، حتیٰ کہ وہ میاں بیوی جو سالہا سال تک اکٹھے رہتے ہیں وہاں بھی خاوند کی نظر فرجِ داخل پر نہیں پڑتی الا یہ کہ وہ قصداً دیکھے پھر ہی پڑ سکتی ہے، لہٰذا صاحبِ ہدایہ کا یہ علت ذکر کرنے کے بجائے یہ علت زیادہ مناسب ہے جو شمس الائمہ سرخسی نے ذکر فرمائی ہے۔ شمس الائمہ سرخسی ذکر فرماتے ہیں کہ خاوند اطلاع دے دے اس لیے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو عورت ایسی حالت میں ہو کہ خاوند شہوت سے ہاتھ لگا دے، عورت ایسی حالت میں ہے کہ اس کو دیکھ کر خاوند کو شہوت آگئی اور خاوند نے اس کو شہوت سے ہاتھ لگا لیا، وہ رجوع تو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن رجوع ہو گیا کیونکہ شہوت سے ہاتھ لگا لیا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ انہوں نے یہ علت ذکر کی ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسَافِرَ بِهَا“ یاد رکھو خاوند رجوع کر سکتا ہے اس بیوی سے، لیکن رجوع کیے بغیر اس کو سفر پر نہیں لے جا سکتا، کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ﴾ مطلقۂ رجعیہ کے بارے میں قرآن میں اللہ فرماتے ہیں ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور سفر پر لے کر جائے گا تو پھر تو گھر سے نکال کر لے کر جانا پڑے گا اور اس سے تو اللہ نے منع فرمایا ہے، تو اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ جو مطلقۂ رجعیہ ہیں ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو جب تک ان کی عدت پوری نہ ہو جائے بھئی۔ تو جب گھر سے نکالنے سے منع کیا ہے معلوم ہوا سفر پر بھی نہیں لے جا سکتا، یا رجوع کر لے اور پھر سفر پر لے جائے: ”وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسَافِرَ بِهَا“ اور خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کے ساتھ سفر کرے ”حَتَّى يُشْهِدَ عَلَى رَجْعَتِهَا“ یہاں تک کہ اس کے رجوع پر گواہ بنا لے، اور یہ گواہ بنانا آپ جانتے ہیں مستحب ہے کوئی لازم نہیں۔ مستحب ہے، لازم نہیں ہے، ہاں تو گواہ نہ بھی بنائے لیکن رجوع کر لے پھر لے جا سکتا ہے، بغیر رجوع کے سفر پر نہیں لے جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسَافِرَ بِهَا حَتَّى يُشْهِدَ عَلَى رَجْعَتِهَا“ اور خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس عورت کے ساتھ سفر کرے یہاں تک کہ اس کے رجوع پر گواہ بنا لے، ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَهُ ذَلِكَ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند کے لیے جائز ہے وہ اسے سفر پر لے جا سکتا ہے ”لِقِيَامِ النِّكَاحِ“ کیونکہ نکاح قائم ہے، نکاح موجود ہے، ”وَلِهَذَا لَهُ أَنْ يَغْشَاهَا عِنْدَنَا“ کہتے ہیں اسی لیے تو ہمارے نزدیک خاوند کے لیے اس سے صحبت بھی جائز ہے، غشی یغشیٰ سے کیا مراد ہے یہاں؟ صحبت کرنا، وطی کرنا۔ کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَهُ أَنْ يَغْشَاهَا عِنْدَنَا“ کہتے ہیں نکاح قائم ہے اسی لیے تو ہمارے نزدیک جائز ہے خاوند کے لیے کہ وہ اس بیوی سے صحبت بھی کر سکتا ہے تو جب نکاح موجود ہے تو سفر پر لے جا سکتا ہے رجوع کیے بغیر بھی۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل ”قَوْلُهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ﴾ کہ تم نہ نکالو ان مطلقۂ رجعیہ کو ان کے گھروں سے یہاں تک کہ یہ عدت پوری کر لیں، یہاں تک کہ عدت پوری کر لیں، الآية۔ ”وَلِأَنَّ تَرَاخِيَ عَمَلِ الْمُبْطِلِ لِحَاجَتِهِ إِلَى الْمُرَاجَعَةِ“ اور نیز اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں دیکھیے یہ طلاق جو ہے یہ مبطلِ نکاح ہے۔ طلاق کیا ہے؟ مبطلِ نکاح ہے، یہ نکاح کو باطل کر دیتی ہے، نکاح کو ختم کر دیتی ہے، لیکن شریعت نے طلاق کے عمل کو مؤخر کر دیا عدت کے گزرنے تک۔ بھئی ہونا تو یہ چاہیے جیسے ہی خاوند طلاق دے عورت کو خاوند پر حرام ہو جانا چاہیے لیکن طلاقِ رجعی کے اندر عورت حرام نہیں ہوتی اگرچہ طلاق مبطلِ نکاح ہے لیکن عورت حرام نہیں، کیوں نہیں حرام ہوئی؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ خاوند کو حاجت ہے، ہو سکتا ہے اس کو اپنے اس فعل پر ندامت ہو جائے، وہ اس فعل کی تلافی کرنا چاہتا ہے، ہو سکتا ہے اس کو بعد میں اپنے اس طلاق دینے پر ندامت ہو اور وہ اس کی تلافی کرنا چاہے تو اس کو حاجت ہوگی لہٰذا اس حاجت کی وجہ سے شریعت نے طلاق کو، وہ طلاق جو مبطلِ نکاح ہے اس کے اثر کو مؤخر کر دیا کہاں تک؟ عدت کے گزرنے تک، ورنہ ہونا تو یہی چاہیے تھا اسی وقت نکاح ختم ہو جاتا تو یہ شریعت نے کس وجہ سے اس کے اثر کو مؤخر کیا ہے؟ خاوند کی حاجت کی وجہ سے، توجہ ہے؟ لیکن اگر عدت گزر جاتی ہے اور خاوند رجوع نہیں کرتا، جب خاوند رجوع نہیں کرتا معلوم ہوا اس کو حاجت نہیں تھی، عدت گزر گئی اور خاوند نے رجوع نہیں کیا معلوم ہوا اس کو حاجت نہیں تھی، جب حاجت نہیں تھی تو کہیں گے نکاح ٹوٹ گیا لیکن ابھی نہیں ٹوٹا جب عدت گزری ہے، یوں کہیں گے جب طلاق دی تھی اسی وقت نکاح ٹوٹ گیا تھا، بھئی طلاق کیا ہے؟ مبطلِ نکاح ہے، یہ نکاح کو باطل کر دیتی ہے تو ہونا تو یہ چاہیے کہ جیسے ہی خاوند طلاق دے نکاح ختم ہو جانا چاہیے لیکن شریعت نے اس نکاح کو باقی رکھا، کب تک باقی رکھا؟ عدت تک۔ کیوں؟ کہ ہو سکتا ہے خاوند کو بعد میں افسوس ہو، پشیمانی ہو کہ یہ میں نے کیا کر دیا، تو اس کو رجوع کی حاجت ہو سکتی ہے تو اس کی اس حاجت کی وجہ سے شریعت نے اس مبطلِ نکاح کے اثر کو عدت کے آخر تک مؤخر کر دیا، اور جب عدت گزر گئی اور خاوند نے رجوع نہیں کیا معلوم ہوا خاوند کو حاجت ہی نہیں تھی تو یہ نکاح کا اثر جو مؤخر ہوا عدت تک یہ کیوں مؤخر ہوا تھا؟ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے، لیکن اس نے رجوع نہیں کیا معلوم ہوا حاجت اور ضرورت نہیں، جب حاجت اور ضرورت نہیں تو معلوم ہوا اسی وقت سے نکاح ختم ہو گیا تھا، وہ اثر کیوں مؤخر ہوا تھا؟ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے لیکن جب رجوع نہیں کیا معلوم ہوا حاجت اور ضرورت نہیں، جب حاجت اور ضرورت نہیں معلوم ہوا اسی وقت سے نکاح ٹوٹ گیا تھا لہٰذا اسی وقت نکاح ٹوٹ گیا تھا اور یہ جو اس نے تین حیض گزار لیے ہیں یہ عدت ہو گئی، یہ کیا ہو گئی؟ اگر آپ یہ کہیں عدت کے پورا ہونے کے بعد نکاح ٹوٹا ہے، اگر آپ کیا کہیں؟ عدت کے بعد نکاح ٹوٹا ہے، عدت جب پوری ہو گئی پھر نکاح ٹوٹا ہے، پھر تو بھئی نکاح کے ٹوٹنے کے بعد عدت گزارنا پڑتی ہے تو عورت کو ایک اور عدت گزارنا پڑے گی، عورت کو ایک اور عدت گزارنا پڑے گی کیونکہ عورت عدت کب گزارتی ہے؟ نکاح کے ٹوٹنے کے بعد اور نکاح تو اب آ کر ٹوٹا ہے یہ تین حیض گزارنے کے بعد، لہٰذا اب عورت کو عدت گزارنی چاہیے تھی لیکن ہم نے کیا کہا؟ کہ کیا شمار کریں گے؟ جب طلاق دی تھی نکاح اسی وقت سے ٹوٹ گیا تھا، جب نکاح ٹوٹ گیا تھا تو اس کے بعد جو حیض گزارے ہیں یہ عدت والے ہی حیض ہیں کوئی الگ حیض نہیں ہیں بھئی۔ تو اس وقت سے ہی نکاح کو ٹوٹا ہوا شمار کریں گے، جب اس وقت سے ہی نکاح کو ٹوٹا ہوا شمار کیا ہے تو نکاح تو ٹوٹا ہوا ہے لہٰذا خاوند اس کو باہر نہیں لے جا سکتا۔ عدت کے اندر بھی خاوند اس کو باہر سفر پر نہیں لے جا سکتا کیونکہ نکاح ٹوٹا ہوا ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ جیسے وہ عورت جس کو خاوند طلاقِ بائن دے چکا ہے تو طلاقِ بائن دیتے ہی نکاح ٹوٹ گیا جیسے اس کو خاوند سفر پر نہیں لے جا سکتا تو یہ بھی کیا ہے؟ اس کے ساتھ بھی نکاح ٹوٹا ہوا اسی وقت سے شمار کریں گے اسے بھی خاوند باہر نہیں لے جا سکتا، بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ تَرَاخِيَ عَمَلِ الْمُبْطِلِ“ اس لیے کہ تراخی کا معنی ہے مؤخر ہونا، ”لِأَنَّ تَرَاخِيَ عَمَلِ الْمُبْطِلِ“ اس لیے کیونکہ نکاح کو باطل کرنے والی چیز کا عمل مؤخر ہونا، نکاح کو باطل کرنے والی چیز کیا ہے؟ طلاق، تو مبطل یعنی طلاق کے عمل کا مؤخر ہونا ”لِحَاجَتِهِ إِلَى الْمُرَاجَعَةِ“ وہ خاوند کی مراجعت کی حاجت کی وجہ سے ہے، ”فَإِذَا لَمْ يُرَاجِعْهَا حَتَّى انْقَضَتِ الْمُدَّةُ“ پس اگر خاوند نے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ پوری مدت گزر گئی ”ظَهَرَ أَنَّهُ لَا حَاجَةَ لَهُ“ تو ظاہر ہو گئی یہ بات کہ خاوند کو کوئی حاجت نہیں تھی، ”فَتَبَيَّنَ أَنَّ الْمُبْطِلَ عَمِلَ عَمَلَهُ مِنْ وَقْتِ وُجُودِهِ“ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ مبطل یعنی طلاق جو ہے یعنی جو نکاح کو باطل کرنے والی ہے تو معلوم ہوا کہ مبطل جو ہے یعنی طلاق جو ہے ”عَمِلَ عَمَلَهُ“ اس نے اپنا عمل کیا ہے ”مِنْ وَقْتِ وُجُودِهِ“ جب وہ پائی گئی تھی، جس وقت طلاق پائی گئی تھی اسی وقت اس نے اپنا عمل کر دیا تھا اور نکاح ٹوٹ چکا تھا بھئی کیونکہ حاجت ہی نہیں تھی اس کو رجوع کرنے کی۔ تو شریعت نے تو حاجت کی وجہ سے اس کے عمل کو مؤخر کیا تھا تو اسی وقت سے نکاح ٹوٹا ہوا شمار ہوگا، ”وَلِهَذَا تُحْتَسَبُ الْأَقْرَاءُ مِنَ الْعِدَّةِ“ اور اسی لیے یہ حیض بھی عدت میں سے شمار ہوں گے، اسی وقت سے نکاح ٹوٹا ہے تو یہ اگلے حیض عدت میں شمار ہوں گے، اگر عدت کے بعد نکاح ٹوٹا ہو پھر تو اگلے تین حیض مزید گزارنے پڑیں گے بھئی، تو یہ حیض عدت میں سے شمار ہوں گے، ”فَلَمْ يَمْلِكِ الزَّوْجُ الْإِخْرَاجَ“ لہٰذا خاوند اس کو باہر نکالنے کا مالک نہیں، جیسے وہ عورت جس کو طلاقِ بائن دی تھی اس کو طلاقِ بائن دیتے ہی جیسے نکاح ٹوٹ گیا تھا خاوند اس کو باہر سفر پر نہیں لے جا سکتا تو یہاں پر بھی جب خاوند رجوع نہیں کر رہا اور معلوم ہوا اس کو حاجت نہیں ہے، جب حاجت نہیں ہے تو یوں سمجھیں گے نکاح ٹوٹ چکا ہے، جب نکاح ٹوٹ چکا ہے تو اس طلاقِ رجعی والی کو بھی خاوند سفر پر نہیں لے جا سکتا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَمْلِكِ الزَّوْجُ الْإِخْرَاجَ“ لہٰذا خاوند اس کو باہر سفر پر نکالنے کا مالک نہیں ہے، ”إِلَّا أَنْ يُشْهِدَ عَلَى رَجْعَتِهَا فَتَبْطُلُ الْعِدَّةُ“ مگر یہ کہ خاوند اپنے رجوع پر گواہ بنا لے پھر تو عدت باطل ہو جائے گی ”وَيَتَقَرَّرُ مِلْكُ الزَّوْجِ“ اور پھر خاوند کی ملکیت ثابت ہو جائے گی، ”وَقَوْلُهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کا جو قول آیا تھا متن میں، امام محمد نے کیا فرمایا تھا؟ ”وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسَافِرَ بِهَا حَتَّى يُشْهِدَ عَلَى رَجْعَتِهَا“ یہاں تک کہ رجوع پر گواہ بنا لے، تو اس کا بتلانے لگے ہیں کہ یہ گواہ بنانا مستحب ہے بھئی واجب نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ: حَتَّى يُشْهِدَ عَلَى رَجْعَتِهَا، مَعْنَاهُ الِاسْتِحْبَابُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول جو تھا متن میں ”حَتَّى يُشْهِدَ عَلَى رَجْعَتِهَا“ یہاں تک کہ اس کے رجوع پر گواہ بنا لے ”مَعْنَاهُ الِاسْتِحْبَابُ“ اس کا معنی استحباب ہے یعنی گواہ بنانا مستحب ہے ”عَلَى مَا قَدَّمْنَاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے مقدم ذکر کر دیا کہ ہمارے نزدیک رجوع پر گواہ بنانا مستحب ہے بھئی۔ گزشتہ سبق میں آیا تھا بھئی امام مالک رحمہ اللہ کا یہ مذہب ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول ہے کہ ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ یہ امر ہے وجوب کے لیے آیا ہے اور ہمارے نزدیک یہاں یہ استحباب کے لیے ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَالطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ لَا يُحَرِّمُ الْوَطْءَ“ اور طلاقِ رجعی وطی کو حرام نہیں کرتی، یہ بات پہلے گزر چکی ہے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک طلاقِ رجعی کے اندر بھی خاوند کے لیے صحبت جائز ہے اور جب صحبت کرے گا تو رجوع ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ لَا يُحَرِّمُ الْوَطْءَ“ اور طلاقِ رجعی جو ہے وہ وطی کو حرام نہیں کرتی، ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُحَرِّمُهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاقِ رجعی بھی وطی کو حرام کر دیتی ہے، آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ جو رجوع کیا جاتا ہے یہ ہمارے نزدیک استدامتِ ملک کا نام ہے، اپنی ملکیت کو باقی رکھنا، ملکیت موجود ہے بس اس کو باقی رکھا، جبکہ ان کے نزدیک یہ ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے۔ یعنی گویا نئی ملکیت آرہی ہے خاوند کی بیوی پر، ملکیت ختم ہو گئی تھی، یہ کس کے درجے میں ہے؟ ابتدائے نکاح، جیسے ابتدائے نکاح کے اندر ایجاب و قبول کرتے ہیں تو خاوند کی بیوی پر ملکیت آگئی اس سے پہلے ملکیت نہیں تھی، اسی طرح رجوع کے اندر بھی خاوند جب رجوع کرے گا تو خاوند کی جو ملکیت ختم ہو گئی تھی وہ دوبارہ آ جائے گی تو ان کے نزدیک یہ رجوع یہ ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے، یہ زائل شدہ ملکیت کو دوبارہ وجود دیا جا رہا ہے، ملکیت ختم ہو چکی ہے اس کو دوبارہ وجود دیا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُحَرِّمُهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ طلاقِ رجعی جو ہے یہ وطی کو حرام کر دیتی ہے ”لِأَنَّ الزَّوْجِيَّةَ زَائِلَةٌ“ اس لیے کیونکہ زوجیت زائل ہو چکی ہے ختم ہو چکی ہے ”لِوُجُودِ الْقَاطِعِ“ کیونکہ زوجیت کو قطع کرنے والی، کاٹنے والی ایک چیز آ گئی تھی ”وَهُوَ الطَّلَاقُ“ اور وہ کیا ہے؟ طلاق ہے، تو طلاق آ گئی تھی زوجیت ختم ہو چکی ہے۔
”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهَا قَائِمَةٌ“ کہ زوجیت موجود ہے ”حَتَّى يَمْلِكُ مُرَاجَعَتَهَا مِنْ غَيْرِ رِضَاهَا“ یہاں تک کہ خاوند مالک ہے ”مُرَاجَعَتَهَا“ کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے ”مِنْ غَيْرِ رِضَاهَا“ اس کی بغیر رضامندی کے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں عورت کی رضامندی ہو یا نہ ہو خاوند رجوع کر سکتا ہے، جب عورت کی رضامندی کے بغیر خاوند رجوع کر سکتا ہے معلوم ہوا یہ ابتدائے نکاح کا نام نہیں ہے، کیونکہ ابتدائے نکاح میں صرف خاوند کی مرضی سے نکاح ہوتا ہے یا عورت کی بھی مرضی ہوتی ہے؟ وہاں تو عورت کی بھی مرضی ہے، دونوں طرف سے ایجاب و قبول آتا ہے پھر نکاح ہوتا ہے جبکہ رجوع کے اندر تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ اس میں عورت کی رضامندی ضروری نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک رجوع قول سے بھی ہو سکتا ہے اور فعل سے بھی، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک رجوع صرف قول سے ہوگا لیکن ان کے نزدیک بھی عورت کی رضامندی اس میں ضروری نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ جب عورت کی رضامندی ضروری نہیں ہے معلوم ہوا یہ ابتدائے نکاح کے درجے میں نہیں، ابتدائے نکاح میں تو دونوں کی رضامندی ہوتی تھی، یہاں تو صرف خاوند کی رضامندی کی بات ہے بھئی، معلوم ہوا یہ ابتدائے نکاح کے درجے میں نہیں یہ خاوند کے اختیار میں ہے بھئی۔ جب خاوند کے اختیار میں ہے تو معلوم ہوا ملکیت باقی ہے، اگر ملکیت ختم ہو چکی ہوتی تو صرف خاوند کے کہنے سے ملکیت دوبارہ نہیں آ سکتی تھی پھر تو عورت کی رضامندی بھی ضروری ہوگی بھئی۔ یاد رکھو یہاں پر بھی یہ ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا تو ”حَتَّى يَمْلِكُ“ یہ ”يَمْلِكُ“ کو ہم مرفوع پڑھیں گے کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا کہ ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے اور اس کی دو شرطیں ہیں، ایک شرط تو یہ ہے کہ ”حَتَّى“ کا مابعد وہ مستقبل ہونا چاہیے ”حَتَّى“ کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ ”حَتَّى“ سببيت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو، یعنی مابعد وہ غایت ہو ماقبل کے لیے یا ماقبل وہ سبب ہو مابعد کے لیے، تو یہ شرطیں یہاں پوری نہیں ہیں لہٰذا یہاں ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّهَا قَائِمَةٌ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ زوجیت ابھی بھی موجود ہے ”حَتَّى يَمْلِكُ مُرَاجَعَتَهَا مِنْ غَيْرِ رِضَاهَا“ یہاں تک کہ خاوند مالک ہے اس عورت کے ساتھ رجوع کرنے کا بغیر اس کی رضامندی کے، ”لِأَنَّ حَقَّ الرَّجْعَةِ ثَبَتَ نَظَرًا لِلزَّوْجِ“ اس لیے کیونکہ رجوع کا حق ثابت ہے ”نَظَرًا لِلزَّوْجِ“ خاوند پر شفقت کرتے ہوئے، یہ خاوند پر شفقت کرتے ہوئے شریعت نے اس کو رجوع کا حق دیا ہے تاکہ کہیں بعد میں اس کو اگر ندامت ہو کہ یہ میں نے کیا کر دیا تو وہ تاکہ اس کی تلافی کر سکے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حَقَّ الرَّجْعَةِ ثَبَتَ نَظَرًا لِلزَّوْجِ“ اس لیے کیونکہ رجوع کا حق ثابت ہوا ہے خاوند کے لیے شفقت کرتے ہوئے ”لِيُمْكِنَهُ التَّدَارُكُ عِنْدَ اعْتِرَاضِ النَّدَمِ“ تاکہ خاوند کے لیے تلافی ممکن ہو ندامت کے پیش آتے وقت، اعتراض کا کیا معنی؟ پیش آتے وقت۔ تو کہتے ہیں: ”لِيُمْكِنَهُ التَّدَارُكُ عِنْدَ اعْتِرَاضِ النَّدَمِ“ تاکہ خاوند کے لیے تلافی ممکن ہو ندامت کے پیش آتے وقت، ”وَهَذَا الْمَعْنَى يُوجِبُ اسْتِبْدَادَهُ بِهِ“ ”وَهَذَا الْمَعْنَى“ معنیٰ میں نے بتلایا فقہ کی کتابوں میں معنی کا لفظ علت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے علت اور سبب، تو یہاں یہ علت کے معنی میں ہے: ”وَهَذَا الْمَعْنَى“ اور یہ والی جو علت ہے، کون سی علت؟ کہ یہ جو شریعت نے رجوع کا اختیار دیا ہے یہ خاوند پر شفقت کرتے ہوئے دیا ہے تو یہ علت بتلا رہی ہے جب خاوند پر شفقت کی گئی ہے تو یہ اختیار صرف خاوند ہی کے پاس ہوگا، جب صرف خاوند کے پاس ہے معلوم ہوا عورت کی رضامندی ضروری نہیں، جب عورت کی رضامندی ضروری نہیں معلوم ہوا ملکیت ابھی باقی ہے، اگر ملکیت ختم ہو گئی ہوتی پھر تو عورت کی رضامندی کے بغیر اس پر کسی کی ملکیت نہیں آ سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا الْمَعْنَى“ اور یہ والی جو علت ہے کہ خاوند پر شفقت کے طور پر اس کو رجعت کا حق دیا گیا ہے ”يُوجِبُ اسْتِبْدَادَهُ بِهِ“ ”يُوجِبُ“ أي ”يُثْبِتُ“، یہ والی علت ثابت کرتی ہے ”اسْتِبْدَادَهُ بِهِ“ کہ خاوند اس میں مستقل ہے، استبداد کا معنی ہے مستقل ہونا، خود مختار ہونا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا الْمَعْنَى يُوجِبُ اسْتِبْدَادَهُ بِهِ“ اور یہ والی علت خاوند کے مستقل ہونے کو ثابت کرتی ہے رجعت میں، ”وَذَلِكَ يُؤْذِنُ بِكَوْنِهِ اسْتِدَامَةً“ اور یہ خبر دیتی ہے، خاوند کا مستقل ہونا یہ خبر دیتا ہے ”بِكَوْنِهِ اسْتِدَامَةً“ کہ یہ رجعت نکاح کو برقرار رکھنے کا نام ہے، یہ ملکیت کو برقرار رکھنے کا نام ہے ”لَا إِنْشَاءً“ یہ ملکیت کو وجود دینے کا نام نہیں، کیونکہ اگر ملکیت کو وجود دینا ہوتا پھر تو عورت کی رضامندی کے بغیر اس پر کسی کی ملکیت نہیں آ سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ يُؤْذِنُ بِكَوْنِهِ اسْتِدَامَةً لَا إِنْشَاءً“ اور یہ خبر دیتا ہے کہ یہ رجعت جو ہے یہ ملکِ نکاح کو برقرار رکھنا ہے نہ کہ ملکِ نکاح کو وجود دینا، ”إِذِ الدَّلِيلُ يُنَافِيهِ“ اس لیے کیونکہ دلیلِ استبداد اس کے منافی ہے، خاوند کا مستقل ہونا اس کے منافی ہے بھئی، جب خاوند مستقل ہے معلوم ہوا انشاء نہیں ہے، نئی ملکیت کو وجود نہیں دیا جا رہا، اگر نئی ملکیت کو وجود دیا جا رہا ہوتا تو خاوند مستقل نہیں ہو سکتا تھا بھئی، معلوم ہوا یہ استدامت کا نام ہے ملکیت موجود ہے بس اس کو برقرار رکھنا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ الدَّلِيلُ يُنَافِيهِ“ اس لیے کیونکہ استبداد کی جو دلیل ہے وہ اس کے منافی ہے، ”وَالْقَاطِعُ أُخِّرَ عَمَلُهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا زوجیت ختم ہو گئی کیونکہ قاطع آگیا، زوجیت کو کاٹنے والی چیز آگئی اور وہ طلاق ہے لہٰذا زوجیت کیا ہو گئی؟ ختم۔ اس کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے کہ طلاق قاطعِ زوجیت ہے لیکن اس قاطعِ زوجیت کے عمل کو شریعت نے مؤخر کر دیا عدت تک، کہ یہ عدت کے بعد جو ہے اس کو قاطعِ زوجیت قرار دیں گے اس سے پہلے قاطعِ زوجیت قرار نہیں دیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَالْقَاطِعُ أُخِّرَ عَمَلُهُ“ اور یہ جو قاطع ہے یعنی جو طلاق ہے ”أُخِّرَ عَمَلُهُ“ اس کے عمل کو مؤخر کر دیا گیا ”إِلَى مُدَّةٍ إِجْمَاعًا“ ایک مدت تک بالاجماع، بالاجماع اس کے عمل کو کیا کر دیا گیا؟ مؤخر کر دیا گیا، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک رجوع صرف قول سے ہوگا، کس سے؟ قول سے ہوگا، اور اس میں بھی وہ فرماتے ہیں کہ عورت کی رضامندی ضروری نہیں ہے۔ معلوم ہوا ایک تو بات پتہ چل گئی کہ یہ ابتدائے نکاح کا نام نہیں ہے بلکہ یہ استدامتِ ملک کا نام ہے یا یوں کہو بقائے ملکیت کا نام ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی تو معلوم ہوا یہ بقائے ملکیت کا نام ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی عدت کے اندر خاوند کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، معلوم ہوا قاطع کا عمل کیا کر دیا ہے شریعت نے؟ طلاق کا عمل مؤخر کر دیا ہے، عدت کے بعد جا کر طلاق کا عمل ظاہر ہوگا اور نکاح ٹوٹے گا اس سے پہلے نکاح نہیں ٹوٹے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَالْقَاطِعُ أُخِّرَ عَمَلُهُ إِلَى مُدَّةٍ إِجْمَاعًا“ اور یہ جو نکاح کو کاٹنے والی چیز یعنی طلاق ہے اس کے عمل کو مؤخر کر دیا گیا ایک مدت تک بالاجماع بھئی، بالاجماع کیونکہ رجوع ان کے نزدیک بھی صحیح ہے بھئی، ”أَوْ نَظَرًا لَهُ“ یا اس لیے اس طلاق کے عمل کو مؤخر کر دیا گیا ”نَظَرًا لَهُ“ خاوند پر شفقت کرتے ہوئے ”عَلَى مَا تَقَدَّمَ“ اس وجہ سے جو مقدم گزر گئی، ہم نے بیان کر دیا کہ شریعت نے یہ رجوع کا حق خاوند کو دیا ہے اس پر شفقت کرتے ہوئے کہ کہیں اس کو بعد میں ندامت ہو تو وہ اس کی تلافی کر سکے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا یہ طلاق کا عمل مؤخر ہو گیا اور خاوند اس کے اندر مستقل ہے۔
یہ صاحبِ ہدایہ نے پیچھے وعدہ فرمایا تھا کہ ہمارے نزدیک رجوع استدامتِ ملک کا نام ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے، اور فرمایا تھا آگے چل کر ہم بیان کریں گے اس کو تو وہ یہاں بیان فرما دیا۔ حاصل کلام کیا؟ کہ ہمارے نزدیک طلاقِ رجعی سے وطی حرام نہیں وطی حلال ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وطی حرام ہے کیونکہ نکاح ختم ہو چکا ہے، ہم کہتے ہیں نہیں نکاح ختم نہیں ہوا، اگر نکاح ختم ہوتا تو صرف خاوند کی رضامندی سے رجوع نہیں ہو سکتا تھا پھر تو بیوی کی بھی رضامندی ضروری ہوتی بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.