آگے سبق دیکھیے بھئی۔
بَابُ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ
”وَإِذَا أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى النِّكَاحِ وَقَعَ عَقِيبَ النِّكَاحِ، مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَةٍ: إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ، أَوْ كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا يَقَعُ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ"“.
گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر خاوند بیوی کو طلاق کا اختیار دے تو وہی طلاق واقع ہوگی جو خاوند نے بیوی کے سپرد کی ہے۔ اگر خاوند نے طلاقِ رجعی سپرد کی ہے تو بیوی بے شک بائن واقع کرتی رہے، بائن واقع نہیں ہوگی، رجعی ہی واقع ہوگی۔ اور اگر خاوند نے بائن سپرد کی ہے تو بیوی بے شک رجعی کہتی رہے لیکن وہ طلاق واقع کرے گی تو بائن ہی ہوگی بھئی۔
اور پھر یہ مسئلہ بھی ذکر کیا تھا کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے، ”إِنْ شِئْتِ“ اگر تو چاہتی ہے، تو اس صورت میں تین واقع کرے گی تو پھر ہی تین واقع ہوں گی، اگر وہ ایک یا دو واقع کرتی ہے تو وہ واقع نہیں ہوں گی، کیونکہ خاوند نے ساتھ شرط ذکر کر دی ”إِنْ شِئْتِ“ اور اس کا مفعول محذوف ہے، أَيْ: ”إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ“، ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ“. تو لہٰذا اگر ایک یا دو واقع کیں تو معلوم ہوا اس نے تین کو نہیں چاہا، اور جب تین کو نہیں چاہا تو شرط نہ پائی گئی، اور جب شرط نہ پائی گئی تو مشروط بھی نہیں ہوگا، طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، تین کو جب اس نے چاہا تو تین کے ضمن میں ایک اور دو بھی آ گئیں، لہٰذا وہ جو واقع کرے گی واقع ہو جائیں گی بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے اگر تو چاہتی ہے، جواب میں بیوی کہتی ہے: ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ کہ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، اور خاوند نے پھر جواب میں کہا: ”شِئْتُ“ میں چاہتا ہوں اور نیت بھی کر رہا ہے وہ طلاق کی، تو بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ خاوند نے مطلق مشیت کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“ اگر تو چاہتی ہے، مطلق مشیت ذکر کر رہا ہے خاوند، اور بیوی جو جواب میں ذکر کر رہی ہے وہ معلق مشیت ہے کہ ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، تو عورت نے اپنی مشیت کو معلق کر دیا خاوند کی مشیت کے ساتھ۔ تو خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا مطلق مشیت سے، اور عورت کی تو مطلق مشیت اس وقت ہے ہی نہیں، وہ تو معلق مشیت ذکر کر رہی ہے، اور پھر خاوند جواب میں بے شک ”شِئْتُ“ کہہ دے اور طلاق کی نیت بھی کر دے، پھر بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ جو خاوند نے ”شِئْتُ“ کہا ہے وہ عورت کے جواب میں کہا ہے، اور عورت نے بھی طلاق کا لفظ ذکر نہیں کیا اور خاوند نے بھی طلاق کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ایک چیز جب سوال میں نہیں ہے تو جواب میں بھی ضمناً وہ نہیں آ سکتی۔ ہاں! اگر عورت نے طلاق کا لفظ ذکر کیا ہوتا: ”شِئْتُ طَلَاقِي إِنْ شِئْتَ“، پھر اس کے جواب میں اگر خاوند ”شِئْتُ“ کہتا تو پھر طلاق واقع ہو جاتی۔ تو عورت کے الفاظ میں بھی طلاق کا لفظ نہیں ہے اور خاوند کے الفاظ میں بھی طلاق کا لفظ نہیں۔ ہاں! اگر خاوند یوں کہہ دیتا: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ یا ”شِئْتُ الطَّلَاقَ“ تو پھر طلاق واقع ہو جاتی اگر خاوند نیت کرتا، اور وہ اس وجہ سے واقع نہ ہوتی کہ یہ عورت کا جواب ہے بلکہ یہ ایک الگ کلام شمار ہوتا، ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ یہ ایک الگ کلام شمار ہوتا اور اس طرح کا کلام اگر خاوند الگ بھی کہے گا تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ خاوند بیوی کو ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ کہہ دے اور نیت بھی طلاق کی ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی، وجہ یہ کہ مشیت کا لفظ ”شَيْءٌ“ سے ہے ماخوذ ہے، اور ”شَيْءٌ“ وجود پر دلالت کرتا ہے تو مشیت بھی وجود پر دلالت کرتی ہے، تو جب خاوند نے کہا ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ گویا وہ طلاق کو وجود دے رہا ہے۔ اور طلاق کا وجود تو ایقاع سے ہی ہوگا، لہٰذا طلاق واقع ہو جائے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند نے کہا: ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ اور نیت کی طلاق کی، تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ وجہ یہ کہ ارادہ طلب پر دلالت کرتا ہے، ارادہ طلب کے لیے آتا ہے اور طلب کے ساتھ وجود کا ہونا ضروری نہیں، لہٰذا اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔
اور اسی طرح اگر خاوند نے کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ إِنْ شِئْتِ“، جواب میں عورت کہتی ہے: ”شِئْتُ إِنْ كَانَ كَذَا“ اگر اس طرح ہو جائے، عورت نے پھر معلق مشیت ذکر کر دی، یعنی ایک ایسے کام کو ذکر کیا جو ابھی ہوا نہیں، تو اس صورت میں بھی یہ طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی، اور ان تمام صورتوں میں اختیار بھی عورت کے ہاتھ سے نکل جائے گا کیونکہ وہ ایک لایعنی کام میں مصروف ہو گئی، ایک بے کار کام میں مصروف ہو گئی۔ خاوند اسے طلاق کا اختیار دے رہا ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ میں چاہتی ہوں اگر تم چاہتے ہو، یا میں چاہتی ہوں اگر فلاں کام ہو جائے، تو یہ ایک لایعنی اور بے کار کام میں مشغول ہو گئی گویا وہ اعراض کر رہی ہے، اگر اسے ضرورت ہوتی، حاجت ہوتی وہ فوراً طلاق واقع کر دیتی، لیکن اس کا یہ کلام بتلا رہا ہے کہ وہ اعراض کر رہی ہے، اور اعراض سے تو اختیار باطل ہو جاتا ہے تو اس کا اختیار بھی باطل ہو جائے گا اور طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ لیکن اس کے بجائے اگر عورت نے کوئی ایسی شرط ذکر کر دی جو ہو چکی ہے، جو ثابت شدہ ہے تو پھر اس صورت میں طلاق ہو جائے گی بھئی۔
اور اسی طرح اگر خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى شِئْتِ“ یا ”مَتَى مَا شِئْتِ“، تو زندگی بھر جس وقت بھی عورت چاہے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ عورت رد کر دے پھر بھی اس کا اختیار ختم نہیں، کیونکہ خاوند نے تو کیا کہا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى شِئْتِ“ جب تو چاہے، اور عورت رد کر رہی ہے معلوم ہوا ابھی اس نے چاہا ہی نہیں، جب چاہا ہی نہیں تو اس کو اختیار بھی نہیں، جب اختیار نہیں تو اس کو رد کرنے کا کیا معنی بھئی؟ اختیار ملے گا تو رد کرے گی اس کو۔ اور ”إِذَا“ کے بارے میں بتلایا تھا کہ صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے، اور صاحبین کے نزدیک کہ ”إِذَا“ یا ”إِذَا مَا“ کہہ دے تب بھی اسی طرح زندگی بھر عورت کو اختیار مل جائے گا طلاق کا، ہاں البتہ ایک ہی طلاق واقع کر سکتی ہے ایک سے زیادہ نہیں۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں ”إِذَا“ شرط کے لیے بھی آتا ہے اور وقت کے لیے بھی آتا ہے، تو خاوند نے جب کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، تو اگر اس کو شرط کے لیے بنائیں تو مجلس کے بعد اختیار ختم ہونا چاہیے اور اگر اس کو وقت کے لیے بنائیں تو پھر ہمیشہ اختیار ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا عورت کو اختیار ملنا تو یقینی ہے، اور ”اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ“، یقین جو ہے وہ یقین سے ہی زائل ہو سکتا ہے، تو جب خاوند نے اختیار دیا تو عورت کو اختیار تو یقینی طور پر مل گیا، البتہ مجلس کے گزرنے کے بعد اب شک آ گیا کہ پتہ نہیں اختیار ختم ہوا ہے یا اختیار ختم نہیں ہوا، تو اس شک کی وجہ سے اختیار کو باطل قرار نہیں دیا جائے گا، زندگی بھر اس کو اختیار رہے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ”كُلَّمَا“ کا لفظ ذکر کیا خاوند نے تو پھر اس صورت میں عورت جتنی طلاقیں واقع کرنا چاہے کر سکتی ہے، البتہ اکٹھی نہیں، الگ الگ طلاقیں وہ واقع کر سکتی ہے کیونکہ ”كُلَّمَا“ جو ہے یہ تکرارِ افعال کو ثابت کرتا ہے، تو ایک طلاق دے دے پھر دوبارہ چاہتی ہے دوسری بھی دے دے، پھر چاہتی ہے تو تیسری بھی اپنے آپ کو عورت طلاق دے سکتی ہے بھئی۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے جیسے تو چاہتی ہے، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں یہ لفظ کہتے ہی فوراً ایک طلاق ہو گئی، کیونکہ خاوند نے صرف صفت عورت کے حوالے کی ہے اور صفت طلاق کی تبھی ہو سکتی ہے جب اصلِ طلاق تو پائی جائے، اور اصلِ طلاق تو ایقاع سے ہوتی ہے لہٰذا یہ لفظ کہتے ہی اصلِ طلاق پائی گئی، اس کا وجود آ گیا، اب صفت عورت کے حوالے ہے۔ پھر اس کے اندر جو عورت نیت کرے گی تو اگر اس کی نیت خاوند کے مطابق ہوئی مثلاً خاوند نے بھی بائنہ کی نیت کی عورت نے بھی طلاقِ بائن واقع کی، یا خاوند نے بھی تین کی نیت کی عورت نے بھی تین طلاقوں کی نیت کی، یا خاوند نے رجعی کی نیت کی عورت نے بھی رجعی کی نیت کی ہے تو پھر تو موافقت پائی گئی بیوی کی مشیت اور خاوند کے ارادے کے درمیان، لہٰذا اس صورت میں یہی طلاق واقع ہو جائے گی جس کا ارادہ عورت نے کیا ہے۔ اور اگر خاوند کا ارادہ اور ہے اور بیوی کی مشیت اور ہے تو پھر اس صورت میں ”إِذَا تَعَارَضَا تَسَاقَطَا“، دونوں میں تعارض آیا تو دونوں کی مشیت جو ہے وہ ساقط ہو جائے گی، دونوں کی مشیت ساقط ہو جائے گی اور اصلِ طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ خاوند نے کیا کہا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“، تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو موجود ہے تو اس سے طلاق ہو جائے گی اور اس سے تو طلاقِ رجعی ہوتی ہے لہٰذا رجعی طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر خاوند کی کوئی نیت ہی نہیں ہے تو اس صورت میں متقدمین سے تو کوئی روایت نہیں ہے البتہ متاخرین کے نزدیک اس صورت میں عورت کی مشیت کے مطابق طلاق ہونی چاہیے بھئی، تو عورت کی مشیت معتبر ہو گی بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں صرف صفت عورت کے حوالے نہیں کی خاوند نے بلکہ اصلِ طلاق بھی عورت کے حوالے کی ہے، لہٰذا ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک عورت نہ چاہے، جبکہ امام صاحب تو فرماتے تھے یہ لفظ کہتے ہی طلاق واقع ہو گئی ہے اور اب صرف صفت کی تعیین باقی رہ گئی تھی بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“ کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے تین میں سے جتنی تو چاہے، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ ”مَا“ تعمیم کے لیے آتا ہے اور ”مِنْ“ جو ہے تبعیض کے لیے آتا ہے، لیکن ”مَا“ کی تعمیم پکی ہے اور ”مِنْ“ کے اندر تبعیض کا احتمال ہے کوئی پکی نہیں، ”مِنْ“ کے اور بھی معانی آتے ہیں، تو لہٰذا یہ جو ”مِنْ“ جو محتمل ہے اس کو بھی محکم پر محمول کر لیں گے اور اس کو اسی کے لیے بیان بنا دیں گے۔ لہٰذا بیوی اپنے آپ کو ایک طلاق بھی دے سکتی ہے، دو بھی دے سکتی ہے اور تینوں یعنی ساری طلاقیں بھی دے سکتی ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، اس صورت میں عورت تین طلاقیں نہیں دے سکتی بلکہ اس میں سے بعض دے سکتی ہے کیونکہ یہاں ”مِنْ“ آ گیا ہے۔ کلمۂ ”مَا“ تعمیم کے لیے ہے کہ جتنی طلاقیں دینا چاہتی ہے دے سکتی ہے، ”مِنْ ثَلَاثٍ“ کتنے میں سے؟ تین، یعنی بعض، تین میں سے بعض دے سکتی ہے، تو ایک بھی دے سکتی ہے، دو بھی دے سکتی ہے، دیکھو ”مَا“ کی تعمیم پر بھی عمل ہو رہا ہے۔ ایک بھی دینا چاہے ایک طلاق بھی واقع کر سکتی ہے اور دو بھی واقع کر سکتی ہے لیکن تینوں کا مجموعہ وہ واقع نہیں کر سکتی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
بَابُ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ
”وَإِذَا أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى النِّكَاحِ وَقَعَ عَقِيبَ النِّكَاحِ، مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَةٍ: إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ، أَوْ كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا يَقَعُ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ"“.
”بَابُ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ“
ایمان بھئی! یاد رکھو یہ جمع ہے یمین کی۔ ایمان جمع ہے یمین کی، اَیمان، ہمزہ پر فتحہ پڑھنا ہے۔ یاد رکھو ایک وزن ہے افعال اور ایک وزن ہے افعال، اِفعال یہ مصدر ہے بابِ افعال کا، اور اَفعال یہ جمع کا وزن ہے تو اس کا آپ نے ہمیشہ خیال رکھنا ہے۔ جیسے قلم کی جمع اقلام، فعل کی جمع افعال، تو اسی طرح یمین کی جمع اَیمان، تو یہ افعال جمع کا وزن ہے بھئی۔ اور یاد رکھو یہاں یمین ذکر ہے لیکن مراد تعلیق ہے۔ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں۔ تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جس طرح یمین جو ہے کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا روکنے کے لیے لائی جاتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا روکنے کے لیے لائی جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص ایک کام سے اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہے تو قسم کھاتا ہے: واللہ یہ کام میں آئندہ نہیں کروں گا، تو دیکھو یہ قسم اس نے کھائی ہے اپنے آپ کو روکنے کے لیے، اور کبھی کسی کام کے کرنے پر انسان قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کا نفس اس کے کرنے پر مجبور ہو جائے، کہتا ہے: واللہ یہ کام میں ضرور کروں گا، تو یہ قسم کس لیے اٹھائی؟ اپنے آپ کو ابھارنے کے لیے کہ یہ کام اب مجھے کرنا ہی پڑے گا کیونکہ میں نے قسم کھا لی ہے۔ تو جیسے یمین کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں نہ گئی تو تجھے طلاق ہے، معلوم ہوا خاوند اس کو ابھار رہا ہے کہ اسے اس گھر میں جانا پڑے گا بھئی، تو یہاں دیکھو کام کے کرنے پر ابھارا جا رہا ہے، اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر ابھارا جا رہا ہوگا، خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تاکہ بیوی اس گھر میں نہ جائے طلاق کے خوف سے۔ تو معلوم ہوا تعلیق بھی یمین کی طرح ہے، یمین جیسے کسی کام سے روکنے کے لیے اور کسی کام پر ابھارنے کے لیے کھائی جاتی ہے اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اور نیز جیسے یمین لازم ہو جاتی ہے، ایک شخص نے قسم کھا لی اب وہ لازم ہو گئی اب رجوع نہیں ہو سکتا، ایک شخص کہتا ہے: واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، تو اب قسم منعقد ہو گئی۔ اب یہ کام کرے گا تو حانث ہو جائے گا، کفارہ دینا پڑے گا۔ تو جیسے قسم کھانے کے بعد وہ لازم ہو جاتی ہے وہاں رجوع کی صورت نہیں، اسی طرح جب ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ معلق کیا جائے، تعلیق کی جائے تو وہ بھی لازم ہو جاتی ہے، اس سے اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ خاوند نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو یاد رکھو اب معاملہ خاوند کے ہاتھ سے نکل گیا، اب زندگی بھر جب بھی یہ عورت اس گھر میں جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو جیسے یمین لازم ہو جاتی ہے اس میں رجوع نہیں ہو سکتا، اسی طرح تعلیق بھی لازم ہو جاتی ہے اس میں رجوع نہیں ہو سکتا، اس لیے تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے جیسی ہیں بھئی۔ تو یہاں ایمان کا ذکر ہے، ایمان جمع ہے یمین کی لیکن مراد تعلیق ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”بَابُ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ“ یہ باب ہے طلاق کے بارے میں تعلیقات کے بیان میں۔
”وَإِذَا أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى النِّكَاحِ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے طلاق کی نسبت نکاح کی طرف کر دی۔ مثلاً ایک عورت ہے اس کی بیوی نہیں ہے لیکن وہ اس سے کہتا ہے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے۔ تو یاد رکھو عند الاحناف یہ یمین منعقد ہو گئی یعنی تعلیق ہو گئی۔ یہ شخص جیسے ہی اس عورت سے نکاح کرے گا، جس لمحے کے اندر ایجاب و قبول ہوگا اسی لمحے کے اندر فوراً طلاق بھی آ جائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا، اور نیز یہ تو غیر مدخول بہا ہے لہٰذا بائنہ ہو گئی۔ لہٰذا بائنہ ہو گئی۔ ہاں! اب دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے دوبارہ کر سکتا ہے لیکن اب زندگی بھر اس کو دو طلاقوں کا حق ہوگا کیونکہ ایک طلاق یہ دے چکا ہے۔ اور یہ تو خاص تعلیق تھی، کسی خاص عورت سے کہا: اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے۔ اور اگر وہ تعلیق کرتا ہے عموم کے طریقے پر کہ جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اسے طلاق ہے، کس طریقے پر؟ عموم کے طریقے پر تعلیق کر رہا ہے: جس عورت سے بھی میں نکاح کروں تو اسے طلاق ہے، تو یاد رکھو اب زندگی بھر جس عورت سے بھی نکاح کرے گا فوراً طلاق آئے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا۔ تو یہ اس نے نہایت خطرناک الفاظ بول دیے، اب زندگی بھر اس کے نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ جب بھی کسی عورت سے نکاح کرے گا فوراً طلاق واقع ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ اس نے بھی کیا کہا تھا: میں جس عورت سے بھی نکاح کروں اس کو فوراً طلاق ہے بھئی۔ تو البتہ پھر علماء اس کا حیلہ بتلاتے ہیں کہ پھر نکاح کی یہ صورت ہے کہ کوئی فضولی اس کا نکاح کروا دے، کوئی فضولی اس کا نکاح کروا دے اور یہ زبان سے قبول نہ کرے، زبان سے قبول کرے گا تو فوراً طلاق ہو جائے گی بلکہ اپنے کسی فعل کے ذریعے اپنے قبول کا اظہار کرے۔ مثلاً کسی فضولی نے نکاح کروا دیا اور اس نے پھر عورت کو مہر بھجوا دیا، معلوم ہوا یہ نکاح کو قبول کر رہا ہے، زبان سے کچھ نہیں کہا لیکن مہر بھجوا دیا۔ اور نیز یہ بھی کوئی آسان کام نہیں ہے کہ فضولی نکاح کروا دے بھئی، فضولی آپ جانتے ہیں وہ شخص جو نہ اصیل ہے اور نہ وکیل ہے۔ اگر یہ خود بھی کسی کو کہے گا بھئی میرا فضولی بن کے نکاح کروا دو، نہیں بھئی یہ فضولی کہاں رہا، آپ نے جب کہہ دیا یہ تو وکیل بن گیا۔ یہ تو وکیل بن گیا، تو لہٰذا اس صورت میں پھر نکاح بڑا ہی مشکل ہو گیا بھئی، علماء نے حیلہ تو بتلا دیا لیکن یہ حیلہ بھی کوئی آسان نہیں ہے بھئی۔ اور پھر بالخصوص بھئی لڑکی والے بھی کبھی اس طرح لڑکی نہیں دیں گے کہ اس لڑکے سے ملے بغیر، دیکھے بغیر اور اس کی مرضی پوچھے بغیر ہی نکاح کروا دیں اور یہ مرضی ذکر کرے گا پھر تو نکاح ہی نہیں ہوگا بھئی۔ تو لہٰذا اس صورت میں پھر نکاح بڑا مشکل ہو جائے گا۔ تو یہ تعلیقات کے مسئلے میں زندگی بھر یاد رکھنا بھئی کبھی تعلیق نہ کرنا بھئی۔ تعلیق جب ایک دفعہ کر دی معاملہ ہاتھ سے نکل گیا بھئی، انسان غصے میں ہے طلاق کی تعلیق کر دی، بس اب معاملہ ہاتھ سے نکل گیا بھئی، اب وہاں واپسی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ لہٰذا ایک تو طلاق کا لفظ کبھی زبان پر نہیں لانا چاہیے، کیونکہ بار بار جھگڑے کے اندر اگر طلاق ذکر کرتا رہے گا تو ایک دن آئے گا جب زیادہ غصے کی وجہ سے طلاق دے بھی دے گا اور پھر افسوس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، وجہ یہ کہ عورت کے پاس تو پہلے بھی اختیار نہیں ہے، طلاق کا اختیار تو مرد کو ہوتا ہے تو وہ غصے میں آ کر طلاق دے گا تو اب مرد کا اختیار بھی ختم ہو گیا، اب دونوں بے اختیار ہو گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر ایک یا دو طلاقیں دی ہوں پھر تو رجوع یا نکاح کی گنجائش رہے گی لیکن اگر تین طلاقیں دے دیں پھر تو دوبارہ نکاح کی بھی صورت نہیں ہے، الّا یہ کہ وہ عورت کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ صحبت بھی کرے اور پھر اگر اس نے زندگی میں کبھی طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہو گیا تو پھر پہلا خاوند اس سے نکاح کر سکتا ہے۔
دیکھیے بھئی کہتے ہیں:
”وَإِذَا أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى النِّكَاحِ“ اور جب خاوند نے نسبت کر دی طلاق کی نکاح کی طرف، یعنی نکاح کے ساتھ اسے معلق کر دیا، ”وَقَعَ عَقِيبَ النِّكَاحِ“ تو نکاح کے بعد طلاق واقع ہو جائے گی، ”مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَةٍ“ مثال کے طور پر کوئی شخص کسی عورت سے کہتا ہے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو تعلیق ہے لیکن خصوص کے طریقے پر ہے، خاص عورت کو ذکر کر رہا ہے، ”أَوْ كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ“ اور ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں ”فَهِيَ طَالِقٌ“ تو اس کو طلاق ہے، تو یہ دیکھو یہ تعلیق ہے عموم کے طریقے پر۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا يَقَعُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں یہ طلاق واقع نہیں ہوگی، یہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔ آپ کو میں نے ضابطہ بتلایا تھا ہمارے نزدیک معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند الشرط، عند وجودِ الشرط۔ جب ایک چیز کو آپ دوسری چیز کے ساتھ معلق کر دیں تو یہ جو معلق جس کو معلق کیا ہے یہ سبب بنے گا عند وجودِ الشرط جب شرط پائی جائے گی۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی، اب دیکھو یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ طلاق کا سبب بنتا ہے، اس کی وجہ سے طلاق آیا کرتی ہے تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے علت اور طلاق ہے اس کا معلول، اور ہمارے نزدیک علت معلول سے جدا نہیں ہو سکتی بھئی۔ جب معلول پایا جائے علت ضرور پائی جائے گی، ایسا نہیں ہو سکتا علت تو پائی جائے اور معلول نہ پایا جائے۔ لہٰذا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ یہاں تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے اور طلاق نہیں آ رہی کیونکہ طلاق تو معلق ہو گئی ہے دخولِ دار کے ساتھ، تو لہٰذا احناف کے نزدیک یہ والا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ طلاق کا سبب ہی نہیں ہے، کیونکہ اگر اس کو طلاق کا سبب قرار دیں تو فوراً طلاق کا آنا ضروری ہے کیونکہ علت پائی جائے تو معلول کا آنا ضروری ہوتا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ علت ہو اور معلول نہ ہو۔ تو عند الاحناف یہ جو طلاق ہے یہ معلق ہو گئی، یہ والا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب ہی نہیں ہے کیونکہ اگر یہ سبب ہے تو پھر تو یہ علت ہے اور علت ہو اور معلول نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جب بھی آئے گا وقوعِ طلاق ضروری ہے۔ دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ ہے ایقاعِ طلاق، طلاق کا واقع کرنا، طلاق کا دینا، خاوند طلاق دیتا ہے تو بیوی پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ تو ایقاعِ طلاق یہ ہے علت اور وقوعِ طلاق یہ ہے معلول یعنی اس کا اثر بھئی، تو ایقاع یہ ہے علت اور وقوع یہ ہے معلول بھئی، تو ہمارے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ معلق ہے بھئی دخولِ دار کے ساتھ، اور معلق عند الاحناف یہ سبب بنتا ہے وجودِ شرط کے وقت، یعنی جس وقت شرط پائی جائے گی جب عورت اس گھر میں داخل ہوگی اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا، اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو کیا ہے؟ ایقاعِ طلاق، خاوند کیا کر رہا ہے طلاق کو واقع کر رہا ہے، اور جیسے ہی ایقاع آئے گا تو یہ تو علت ہے، علت کے آتے ہی معلول ضرور آتا ہے تو اب معلول یعنی طلاق بھی آ جائے گی، عورت مطلقہ ہو جائے گی۔ ضابطہ کیا ہوا؟ عند الاحناف معلق وہ سبب بنتا ہے عند وجودِ الشرط۔ تو اس وقت گویا یوں سمجھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے ہی نہیں، جب گھر میں جائے گی تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بھی آئے گا اور طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم، وہ سبب بنتا ہے عند التکلم، یعنی جس وقت خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو اسی وقت یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بن رہا ہے، یعنی اس کی وجہ سے ایقاعِ طلاق ہو رہا ہے، طلاق واقع ہو رہی ہے لیکن آگے چونکہ شرط آ گئی، کیا آ گئی؟ شرط آ گئی، تو لہٰذا اس وجہ سے اب وقوعِ طلاق نہیں پایا گیا۔ وقوعِ طلاق جب شرط پائی جائے گی تب وقوع ہوگا۔ گویا ان کے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو فی الحال ہے لیکن طلاق نہیں ہے، اور طلاق جب وہ عورت گھر میں جائے گی تو اس وقت طلاق آ جائے گی۔ تو اس وقت ان کے نزدیک صرف ایقاعِ طلاق ہے وقوعِ طلاق نہیں کیونکہ شرط موجود ہے، شرط وقوع کو نہیں آنے دے رہی۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو چاہتا ہے فوراً طلاق واقع ہو جائے لیکن ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ یہ شرط جو ہے یہ وقوعِ طلاق کو روک لیتی ہے، اور عورت جب گھر میں جائے گی تو وقوعِ طلاق پایا جائے گا۔ تو معلوم ہوا ان کے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ یہ ایقاعِ طلاق ہے اور عورت جب گھر میں جائے گی تو وہ وقوعِ طلاق ہوگا۔ تو ان کے نزدیک وقوع ایقاع سے جدا ہو سکتا ہے، وقوعِ طلاق کیا ہے؟ ایقاع سے جدا ہو سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو ہمارے نزدیک نہ اس وقت ایقاع ہے اور نہ وقوع ہے، جب عورت گھر میں جائے گی تو پھر ایقاع بھی ہوگا اور پھر وقوع بھی ہوگا۔ جبکہ ان کے نزدیک اس وقت ایقاع ہے کیونکہ ان کے نزدیک معلق سبب بنتا ہے عند التکلم، جب معلق پر کوئی شخص تکلم کرتا ہے وہ اسی وقت سبب بن جاتا ہے، یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اسی وقت سبب بن گیا طلاق کا، لیکن طلاق نہیں آ رہی اس کا حکم اور اثر نہیں آ رہا کیونکہ یہ معلق ہے شرط کے ساتھ۔ تو ہمارے نزدیک معلق سبب بنتا ہے عند وجودِ الشرط، اور ان کے نزدیک معلق سبب بنتا ہے عند التکلم جس وقت متکلم اس پر تکلم کرتا ہے۔ تو ان کے نزدیک وقوع جدا ہو سکتا ہے ایقاع سے، لیکن ہمارے نزدیک وقوع ایقاع سے جدا نہیں ہو سکتا بھئی، جب ایقاع ہو وقوع ضرور ہونا چاہیے، اسی لیے ہم نے کہا کہ جب شرط پائی جائے گی تبھی ایقاع ہوگا اور ایقاع کے ساتھ وقوع ضرور ہوتا ہے تو وہاں وقوع بھی پھر آ جائے گا۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس شخص نے کسی عورت سے کہا ہے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے، تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اس وقت آ رہا ہے اور یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کس کا سبب بنے گا؟ طلاق کا، اسی وقت طلاق کا سبب بنے گا، لیکن اس وقت تو یہ اس کی بیوی نہیں ہے۔ اس نے تو اسی وقت ایقاع کا سبب بننا تھا لیکن اس وقت تو یہ اس کی بیوی نہیں تو یہ کلام لغو چلا گیا، بے کار چلا گیا، کسی غیر عورت کو کوئی کیسے کہہ سکتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بھئی؟ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ معلق جو ہے یہ تکلم کے وقت ہی اس نے سبب بننا ہے لیکن تکلم کے وقت تو وہ عورت اس کی بیوی ہی نہیں ہے، تو اس کا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہنا ہی لغو ہے، بے کار ہے، لہٰذا لہٰذا ان کے نزدیک یہ اس عورت سے بعد میں نکاح کرے گا بھی تو بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ وہ کلام جو اس نے پہلے کیا تھا وہ لغو تھا اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں تھا۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص کہتا ہے: ”كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ“ کہ جس عورت سے بھی میں نکاح کروں تو اسے طلاق ہے، تو یہاں پر بھی ابھی نکاح ہی نہیں ہے تو ”فَهِيَ طَالِقٌ“ لغو ہے، لہٰذا جب یہ لغو ہے تو نکاح کرے گا بھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔
تو یہ تو تھی عقلی دلیل امام شافعی رحمہ اللہ کی، اور نیز وہ نقلی دلیل بھی ذکر کرتے ہیں، حدیث ذکر کرتے ہیں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ“ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے، تو یہ تو دونوں جو صورتیں ذکر کیں ایک شخص نے عورت سے کہا ہے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ نکاح ہے نہیں اور وہ طلاق دینا چاہ رہا ہے تو حدیث میں تو آ گیا کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا يَقَعُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوگی، یہ جو خاوند نے طلاق کو نکاح سے معلق کیا تھا یہ طلاق واقع نہیں ہوگی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ”لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ“ کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے۔
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ هَذَا تَصَرُّفُ يَمِينٍ لِوُجُودِ الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ“ کہ یہ تصرفِ یمین ہے ”لِوُجُودِ الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ“ شرط اور جزا پائے جانے کی وجہ سے۔ اس شخص نے کیا کہا ہے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے، تو یہ تصرفِ یمین ہے، اور یاد رکھو یاد رکھو یہ جو انسان کوئی قسم کھاتا ہے تو یہ قسم اس کے ذمہ میں ہوتی ہے بھئی۔ مثلاً ایک شخص نے کہہ دیا: واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، تو اب یہ قسم اس شخص کے ذمہ میں ہوگی اور جب بھی یہ شخص اس کام کو کرے گا تو حانث ہو جائے گا اور اس کو کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ تو یمین جو ہے وہ قسم کھانے والے کے ذمہ میں ہوتی ہے لہٰذا وہ قسم کھانے والے میں اہلیت ہونی چاہیے بھئی کہ کوئی چیز اس کے ذمہ میں باقی رہ سکے، یعنی اس کو عاقل اور بالغ ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ عاقل اور بالغ ہونا چاہیے، تو عاقل بالغ جب قسم کھائے گا وہ قسم اس کے ذمہ میں آ گئی اب اس کو اس کی پابندی کرنا پڑے گی، اگر وہ اس کے خلاف کرے گا تو حانث ہو جائے گا اور اس پر کفارہ واجب ہو جائے گا۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ قسم قسم کھانے والے کے ذمہ میں رہتی ہے لہٰذا اس میں اہلیت ضروری ہے، اس کا عاقل بالغ ہونا ضروری ہے بھئی۔
اسی طرح یاد رکھو جب کوئی شخص تعلیق کرتا ہے تو تعلیق بھی تو یمین ہے بھئی، تعلیق بھی تو کیا ہے؟ یمین، لہٰذا یہ تعلیق بھی اس شخص کے ذمہ میں باقی رہتی ہے لہٰذا اس میں اہلیت ہونی چاہیے یعنی عاقل بالغ ہونا چاہیے۔ اور یہاں پر بھی اس شخص نے کیا کہا ہے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ یا ”كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ“، تو یہاں پر بھی یہ کلام کرنے والا شخص عاقل بالغ ہے، اس میں اہلیت ہے، یہ تعلیق کر سکتا ہے، یہ قسم کھا سکتا ہے بھئی، یہ یمین منعقد کر سکتا ہے بھئی۔ اور تعلیق کے لیے شرط اور جزا چاہیے تو شرط اور جزا یہاں موجود ہے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ یا ”كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ“، تو یہاں شرط بھی موجود ہے اور جزا بھی موجود ہے اور کہنے والے میں اہلیت بھی ہے، وہ کوئی چیز اس کے ذمہ میں باقی رہ سکتی ہے لہٰذا یہاں پر یہ یمین منعقد ہو جائے گی۔ ہمارے نزدیک یمین میں مالک ہونا ضروری نہیں۔ آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہمارے نزدیک جو مالک ہو وہ بھی تعلیق کر سکتا ہے، یمین کر سکتا ہے، اور اگر وہ مالک نہیں ہے اور ملکیت کی طرف نسبت کر دے تب بھی اس کی تعلیق صحیح ہے۔ تعلیق کے لیے آگے صاحبِ ہدایہ باقاعدہ آپ کو ضابطہ بتلائیں گے کہ تعلیق کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالک ہونا چاہیے۔ اگر ایک شخص مالک ہی نہیں ہے تو پھر تعلیق بھی صحیح نہیں، مثلاً ایک شخص ایک اجنبیہ عورت سے کہتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، بھئی یہ تو اجنبیہ ہے یہاں تو آپ طلاقوں کے مالک ہی نہیں ہیں لہٰذا یہ آپ کی تعلیق لغو چلی گئی، بے کار چلی گئی، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو مالک ہونا ضروری ہے، اور اگر مالک نہ ہو تو پھر اس صورت میں ملکیت کی طرف نسبت ضروری ہے، مثلاً جیسے یہاں کہا: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے، اور نکاح سے یہ طلاقوں کا مالک بن جائے گا تو کس کی طرف نسبت کی؟ ملکیت کی طرف یا سببِ ملکیت کی طرف یہاں نسبت کر دی، تو لہٰذا اس صورت میں یہ تعلیق صحیح ہے۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ عند الاحناف تعلیق کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ تعلیق کرنے والا یا تو وہ مالک ہو یا ملکیت کی طرف نسبت کرے، یعنی معلوم ہوا فی الحال مالک نہ بھی ہو لیکن ملکیت کی طرف نسبت کرے تو تعلیق صحیح ہو جائے گی بھئی۔ تو معلوم ہوا تعلیق کے لیے ملکیت ضروری نہیں۔ البتہ اس شخص میں اہلیت ہونی چاہیے، یہ یمین اس کے ذمہ میں باقی رہے گی لہٰذا وہ عاقل بالغ ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی یہ تعلیق کرنے والا شخص عاقل بالغ ہے اور اس نے شرط کو بھی ذکر کیا ہے اور جزا کو بھی ذکر کیا ہے لہٰذا یہ یمین منعقد ہو گئی، یہ یمین منعقد ہو گئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ هَذَا تَصَرُّفُ يَمِينٍ“ کہ یہ تصرفِ یمین ہے، یہ کیا ہے؟ تصرفِ یمین ہے، ”لِوُجُودِ الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ“ شرط اور جزا کے پائے جانے کی وجہ سے، کہ کہنے والے میں اہلیت بھی ہے وہ تعلیق کر سکتا ہے اور نیز شرط بھی پائی جا رہی ہے اور جزا بھی، لہٰذا یہ یمین منعقد ہو گئی اور اب یہ اس شخص کے ذمہ میں باقی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ هَذَا تَصَرُّفُ يَمِينٍ“ کہ یہ تصرفِ یمین ہے ”لِوُجُودِ الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ“ بوجہ شرط اور جزا کے پائے جانے کے، ”فَلَا يُشْتَرَطُ لِصِحَّتِهِ قِيَامُ الْمِلْكِ فِي الْحَالِ“ لہٰذا شرط نہیں ہوگا اس تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے کہ فی الحال ملکیت قائم ہو، فی الحال ملکیت موجود ہو۔ فی الحال مالک ہونا ضروری نہیں ہے بھئی، ”لِأَنَّ الْوُقُوعَ عِنْدَ الشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ جزا کا واقع ہونا یعنی طلاق کا واقع ہونا ”عِنْدَ الشَّرْطِ“ وہ تو شرط کے وقت ہوگا، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو کس وقت پایا جائے گا؟ جب شرط پائی جائے گی، اور شرط کیا تھی؟ جب میں تجھ سے نکاح کر لوں گا، اور جب نکاح کرے گا تو یہ تو طلاقوں کا مالک بن گیا لہٰذا اس وقت تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ فی الحال مالک ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ شرط کے وقت مالک ہونا ضروری ہے اور شرط کے وقت ملکیت قائم ہو چکی ہوگی۔ اور ”لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ“ سے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے استدلال کیا تھا، ہمارے جواب سے اس کا بھی حل ہو گیا۔ کہ ہاں! نکاح سے پہلے طلاق نہیں واقع ہوگی، اور ہم نے کب کہا ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی؟ ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ فی الحال طلاق واقع نہیں ہوگی، نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ طلاق تو کب واقع ہوگی؟ نکاح کے بعد واقع ہوگی۔ جب وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے گا تو عقب النکاح نکاح کے بعد طلاق واقع ہوگی، نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تو لہٰذا ”لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ“ یہ تو ہمارے موافق ہے، ہمارے خلاف ہے ہی نہیں۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ایک مسئلہ ذکر فرمایا ہے، وہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے یوں کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ إِنْ تَزَوَّجْتُكِ“ یا یوں کہا: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، یعنی دو شرطیں ذکر کر دیں۔ پہلی صورت میں دخولِ دار کی شرط کو پہلے ذکر کیا اور تزوج کی شرط کو بعد میں ذکر کیا، اور دوسری صورت میں تزوج کی شرط کو پہلے ذکر کیا اور دخولِ دار کی شرط کو بعد میں ذکر کیا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے، دونوں صورتوں میں اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے گا اور پھر وہ عورت اس گھر میں داخل ہوگی تو طلاق واقع ہو جائے گی، البتہ شرط یہ ہے کہ دخولِ دار نکاح کے بعد ہو، اگر دخولِ دار نکاح سے پہلے ہوا تو پھر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو چونکہ یہ بڑا تفصیلی مسئلہ ہے اور اہم مسئلہ ہے تو اس مسئلے کو انشاء اللہ پھر اگلے سبق میں لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کتاب کا فہمِ کامل، عقلِ سلیم اور شرحِ صدر نصیب فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔
کہ جب شرط پائی جائے اس وقت مالک ہونا ضروری ہے بھئی، اور اس وقت تو یہ مالک ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَلَا يُشْتَرَطُ لِصِحَّتِهِ قِيَامُ الْمِلْكِ فِي الْحَالِ﴾، لہٰذا اس تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط نہیں ہو گی کہ فی الحال ملکیت قائم ہو یعنی موجود ہو، ﴿لِأَنَّ الْوُقُوعَ عِنْدَ الشَّرْطِ﴾ اس لیے کیونکہ اس طلاق کا واقع ہونا عند الشرط، شرط کے وقت ہو گا یعنی جس وقت شرط پائی جائے گی، ﴿وَالْمِلْكُ مُتَيَقَّنٌ بِهِ عِنْدَهُ﴾ اور ملکیت تو یقینی ہے عندہٗ جس وقت شرط پائی جائے گی۔ جب شرط پائی جائے گی، شرط کیا تھی؟ ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا، اور جب نکاح کرے گا اس وقت تو ملکیت کا پایا جانا یقینی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَالْمِلْكُ مُتَيَقَّنٌ بِهِ عِنْدَهُ﴾ اور ملکیت کا پایا جانا تو یقینی ہے عندہٗ، أَيْ عِنْدَ الشَّرْطِ جس وقت شرط پائی جائے، ﴿وَقَبْلَ ذٰلِكَ أَثَرُهُ الْمَنْعُ﴾ اور اس سے پہلے تو اس تعلیق کا جو اثر ہے المنع یعنی منع کرنا وہ موجود ہے۔ بھئی دیکھو، میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ قسم انسان کس لیے کھاتا ہے؟ کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے۔ اسی طرح تعلیق بھی کس لیے کی جاتی ہے؟ کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے۔
لہٰذا لہٰذا اگر ایک شخص ایک اجنبیہ عورت کو کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ تو یہاں تو نکاح ہی نہیں ہے، یہاں تو یہ شخص طلاق کا مالک ہی نہیں ہے۔ لہٰذا مجھے بتائیے، کیا یہ تعلیق اس عورت کو اس گھر میں جانے سے روکنے کا سبب بنے گی؟ نہیں، وہ بے فکر ہو کر اس گھر میں جائے گی کیونکہ اس کو پتہ ہے یہ شخص میری طلاق کا مالک ہی نہیں ہے، یہ تو ایک اجنبی آدمی ہے۔ تو تعلیق کس لیے کی جاتی ہے؟ کسی کام پر ابھارنے کے لیے اور یا کسی کام سے روکنے کے لیے۔ اور یہ اثر اس وقت بھی یہاں موجود ہے۔ اجنبیہ سے کہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ وہاں تو منع موجود نہیں، لیکن یہاں پر تو یہ منع موجود ہے۔ اس شخص نے کیا کہا ہے؟ ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“۔ تو یہاں وہ منع موجود ہے۔ اس نے یہ تعلیق کی ہے اپنے آپ کو اس کام سے روکنے کے لیے۔ اور منع موجود ہے، یہ شخص بھی اس عورت سے نکاح سے اجتناب کرے گا اب، اس لیے کیونکہ اس کو پتہ ہے میں نکاح کروں گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
تو دیکھو یہ منع تو موجود ہے، اور یہ منع کس کے ساتھ قائم ہے؟ یہ قسم کھانے والے کے ساتھ۔ یہ قسم یہ تعلیق جو اس نے کی ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، یہ قسم اس شخص کو روک رہی ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح نہ کرے۔ تو جزا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کب واقع ہو گا؟ جب نکاح کرے گا۔ تو لہٰذا جزا تو شرط کے وقت پائی جائے گی، لیکن فی الحال اس تعلیق کا اثر کیا ہے؟ یہ اس شخص کو روکے گی، منع کرے گی اس عورت سے نکاح سے بھئی کہ اگر نکاح کر بھی لو گے تو فوراً طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں فی الحال اثر چاہیے تھا کہ تعلیق منع کا یا ابھارنے کا باعث بنے اور یہاں یہ منع کا باعث بن رہی ہے۔ یہ شخص اس عورت کے ساتھ نکاح کرنے سے اپنے آپ کو بچائے گا اور اس سے اجتناب کرے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَقَبْلَ ذٰلِكَ أَثَرُهُ الْمَنْعُ﴾ اور اس سے پہلے تو اس تعلیق کا جو اثر ہے وہ موجود ہے اور وہ کیا ہے؟ المنع، منع کرنا یعنی روکنا۔ تو فی الحال تو روکنا موجود ہے اور جزا وہ تو جس وقت شرط پائی جائے گی اس وقت جزا واقع ہو گی یعنی طلاق واقع ہو گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَقَبْلَ ذٰلِكَ أَثَرُهُ الْمَنْعُ وَهُوَ قَائِمٌ بِالْمُتَصَرِّفِ﴾ اور اس سے پہلے تو اس تعلیق کا جو اثر یعنی کہ منع کرنا جو ہے وہ پایا جا رہا ہے اور یہ اثر جو ہے قائم ہے بالمتصرف، یہ جو تصرف کرنے والا ہے، یہ شخص جس نے تصرفِ یمین کیا ہے، جس نے قسم کھائی ہے، جس نے تعلیق کی ہے، اس کے ساتھ یہ اثر قائم ہے، یہ اس عورت کے ساتھ نکاح نہیں کرے گا، یہ اس سے منع ہو گا، رکے گا بھئی۔
﴿وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى نَفْيِ التَّنْجِيزِ﴾ اب امام شافعی رحمہ اللہ نے حدیث ذکر فرمائی تھی کہ: ”لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ“ نکاح سے پہلے طلاق ہی نہیں ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى نَفْيِ التَّنْجِيزِ﴾ کہ یہ حدیث جو ہے نفیِ تنجیز پر محمول ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا ایک ہے تنجیز اور ایک ہے تعلیق۔ تنجیز کا معنی ہے ایک چیز کو پورا کر دینا یعنی اسی وقت طلاق دے دینا۔ اسی وقت طلاق دے دینا، جیسے خاوند اپنی بیوی سے کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تو دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتے ہی فوراً طلاق ہو گئی۔ یہ ہے تنجیز۔ اور اگر خاوند یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی، تو اب یہ تعلیق ہے، فی الحال طلاق واقع نہیں بلکہ معلق ہے، جب اس گھر میں وہ عورت جائے گی تو اس کو طلاق ہو جائے گی۔ تو تنجیز کا کیا معنی ہے؟ فوری طور پر طلاق دینا۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ: ﴿وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى نَفْيِ التَّنْجِيزِ﴾ کہ یہ حدیث محمول ہے تنجیز کی نفی پر۔ کس پر؟ تنجیز کی نفی پر۔ یعنی جو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ“ کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے یعنی نکاح سے پہلے کوئی تنجیز نہیں کر سکتا، طلاق کو واقع نہیں کر سکتا۔ ایک اجنبیہ عورت ہے اس سے ایک شخص کا نکاح نہیں ہوا اور اس کو کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے، تو یہ تو نکاح سے پہلے کیا کر رہا ہے؟ تنجیز کر رہا ہے، طلاق واقع کر رہا ہے۔ لہٰذا اس صورت کے اندر یہ طلاق لغو چلی جائے گی کیونکہ حدیث میں کیا آ گیا: ”لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ“ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہو سکتی۔ یا کسی غیر کی بیوی سے ایک آدمی کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے بھئی۔ بھئی آپ کا اس سے نکاح ہی نہیں ہے، یہ تو غیر کی منکوحہ ہے تو آپ طلاق کیسے دیتے ہو؟ تو لہٰذا اس حدیث سے مراد تنجیز کی نفی ہے کہ نکاح سے پہلے تنجیزِ طلاق نہیں ہو سکتی یعنی اسی وقت طلاق کا واقع کرنا نہیں ہو سکتا۔ باقی تعلیقِ طلاق، طلاق کو معلق کرنا تو اس کا تو اس حدیث میں ذکر ہی نہیں ہے بھئی، اس کا تو اس حدیث میں ذکر نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى نَفْيِ التَّنْجِيزِ﴾ اور یہ حدیث جو ہے یہ محمول ہے تنجیز کی نفی پر یعنی اس سے تنجیز کی نفی مراد ہے، ﴿وَالْحَمْلُ مَأْثُورٌ عَنِ السَّلَفِ﴾ پھر آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اور یہ جو ہم نے حدیث کو نفیِ تنجیز پر محمول کیا ہے، یہ کوئی ہماری اپنی رائے نہیں ہے، اسلاف سے یعنی کبار فقہاء اور محدثین سے بھی یہی منقول ہے، ہمارے اسلاف سے بھی یہی منقول ہے۔ کہتے ہیں: ﴿وَالْحَمْلُ مَأْثُورٌ عَنِ السَّلَفِ﴾ مأثور ثاء کے ساتھ، اس کا مأثور یعنی منقول۔ ﴿وَالْحَمْلُ مَأْثُورٌ عَنِ السَّلَفِ﴾ اور یہ حمل کرنا یعنی اس حدیث کو نفیِ تنجیز پر محمول کرنا مأثور عن السلف، یہ منقول ہے اسلاف سے۔ سلف کہتے ہیں گزرے ہوئے لوگ، گزرے ہوئے لوگ یا اسی طرح علم و فضل میں جو بڑھے ہوئے لوگ ہیں وہ مراد ہیں۔ تو یہ اسلاف سے، وہ اسلاف جو علم و فضل میں بڑھے ہوئے تھے، خوب علم و فضل والے تھے، ان سے بھی یہی حمل نقل کیا گیا ہے۔ ﴿كَالشَّعْبِيِّ وَالزُّهْرِيِّ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى وَغَيْرِهِمَا﴾ جیسے کہ امام شعبی ہیں، شعبی شین کے فتحہ کے ساتھ ہے اور زہری زا کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ یاد رکھو امام شعبی اور امام زہری بھئی یہ جلیل القدر تابعین گزرے ہیں اور دونوں فقہاء ہیں بھئی، عظیم فقہاء ہیں اور عظیم محدثین میں سے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں کہ یہ منقول ہے: ﴿كَالشَّعْبِيِّ وَالزُّهْرِيِّ﴾ جیسے کہ امام شعبی اور امام زہری ہیں، ان سے بھی یہی حمل منقول ہے، وہ بھی اس حدیث کو نفیِ تنجیز پر ہی محمول کرتے ہیں۔ اور یاد رکھو یہ امام شعبی رحمہ اللہ ان کی پیدائش ہوئی ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں اور ان کا انتقال ہوا ہے 104 ہجری میں، 104 ہجری میں اور یہ تابعین میں سے ہیں بھئی۔ اور زہری، اور امام زہری جو ہیں ان کا انتقال ہوا ہے 123 ہجری میں، 123 ہجری میں انتقال ہوا ہے اور یہ بھی تابعین میں سے ہیں بھئی۔ تو یہ دونوں جلیل القدر تابعین ہیں، فقہاء میں سے ہیں اور محدثین میں سے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَالْحَمْلُ مَأْثُورٌ عَنِ السَّلَفِ كَالشَّعْبِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمَا﴾ اور یہ حمل منقول ہے اسلاف سے بھی جیسے امام شعبی ہیں اور امام زہری ہیں وغیرھما اور ان کے علاوہ جو ہیں۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِذَا أَضَافَهُ إِلَى شَرْطٍ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ﴾، ﴿وَإِذَا أَضَافَهُ إِلَى شَرْطٍ﴾ اور جب خاوند طلاق کی نسبت کرے إلی شرطٍ، شرط کی طرف، ﴿وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ﴾ تو وہ طلاق واقع ہو جائے گی عقیب الشرط، شرط کے بعد۔
بھئی اوپر بھی یہی مسئلہ ذکر تھا کہ جب طلاق کی نسبت کریں نکاح کی طرف تو وہ نکاح کے بعد واقع ہو گی، تو اوپر بھی شرط ذکر تھی یہاں بھی، لیکن وہاں بالخصوص نکاح کے بارے میں ذکر تھا، شرط کیا تھی؟ نکاح، اگر میں تجھ سے نکاح کروں اور اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف تھا جبکہ یہ صورت اتفاقی ہے بھئی۔ وہاں امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف فرماتے تھے کہ وہاں وہ شخص طلاق کا مالک ہی نہیں ہے، جب طلاق کا مالک ہی نہیں ہے تو ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ نے فی الحال واقع ہونا ہے۔ ایقاع فی الحال پایا جائے گا اور وقوع شرط کے وقت، لیکن فی الحال ایقاع ہو ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ عورت اس کی بیوی ہی نہیں ہے۔ جبکہ یہاں پر تو خاوند اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے تو یہاں فی الحال خاوند مالک ہے، لہٰذا لہٰذا تعلیق صحیح ہے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو جس وقت شرط پائی جائے گی وہ گھر کے اندر جائے گی تو فوراً طلاق ہو جائے گی۔
تو فرق سمجھ میں آیا؟ پہلا مسئلہ اس میں نکاح کے ساتھ تعلیق تھی اور نکاح کے ساتھ تعلیق تھی، وہاں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف تھا اور یہاں نکاح کے علاوہ باقی شرطیں مراد ہیں اور اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا أَضَافَهُ إِلَى شَرْطٍ﴾ اور جب خاوند نے طلاق کی نسبت کر دی شرط کی طرف یعنی نکاح کے علاوہ کسی اور شرط کی طرف، ﴿وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ﴾ تو یہ طلاق واقع ہو جائے گی شرط کے بعد، ﴿مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ﴾ مثال کے طور پر خاوند اپنی بیوی سے یوں کہتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، ﴿وَهٰذَا بِالِاتِّفَاقِ﴾ اور یہ بالاتفاق ہے یعنی اس صورت میں طلاق کا واقع ہونا بالاتفاق ہے، اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے۔ کہتے ہیں: ﴿وَهٰذَا بِالِاتِّفَاقِ﴾ اور یہ بالاتفاق ہے، ﴿لِأَنَّ الْمِلْكَ قَائِمٌ فِي الْحَالِ﴾ اس لیے کیونکہ فی الحال ملکیت قائم ہے، فی الحال خاوند ہے، یہ طلاقوں کا مالک ہے تو فی الحال ملکیت قائم ہے، ﴿وَالظَّاهِرُ بَقَاؤُهُ إِلَى وَقْتِ وُجُودِ الشَّرْطِ﴾ اور ظاہر بھی یہی ہے کہ یہ ملکیت باقی رہے گی إلی وقت وجود الشرط، شرط کے پائے جانے کے وقت تک۔ یہ ملکیت باقی رہے گی شرط کے پائے جانے کے وقت تک۔
بھئی دیکھو، بھئی دیکھو، یہاں دراصل ایک شبہ آتا ہے۔ شبہ یہ کہ فی الحال تو بے شک مالک ہے لیکن ہو سکتا ہے بعد میں یہ نکاح ختم ہو جائے، خاوند پہلے سے ہی طلاق دے دے، تو جس وقت شرط پائی جائے گی عورت اس گھر میں داخل ہو گی اس وقت تو وہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے، پہلے ہی خاوند طلاق دے چکا ہے۔ تو احتمال ہے ہو سکتا ہے جس وقت شرط پائی جائے اس وقت عورت اس کی بیوی ہی نہ ہو۔ تو جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ نہیں بھئی، یہ ایک احتمال ہے اور اس کی کوئی دلیل کوئی بھی نہیں ہے، بغیر دلیل کے ایک احتمال ہے ویسے، لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ کوئی ایسی بات ہو جس کی کوئی دلیل موجود ہو اس کا تو اعتبار کیا جاتا ہے اور ویسے ہی ایک احتمال ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو احتمال تو ہے، ہو سکتا ہے یہ اس وقت بیوی نہ ہو لیکن اس احتمال کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی۔ فی الحال نکاح ہے تو ظاہر یہی ہے کہ جس وقت شرط پائی جائے گی اس وقت بھی نکاح ہو گا، وہ خاوند طلاقوں کا مالک ہو گا بھئی۔ ظاہر یہی ہے بھئی، اور بالخصوص یہ تو نکاح کا معاملہ ہے، نکاح تو چند دن کے لیے نہیں کیا جاتا کہ آپ کہیں اس وقت نکاح نہیں ہو گا، نکاح تو ساری عمر کے لیے کیا جاتا ہے، لہٰذا غالب گمان یہی ہے کہ اس وقت نکاح موجود ہو گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْمِلْكَ قَائِمٌ فِي الْحَالِ﴾ اس لیے کیونکہ خاوند کی ملکِ نکاح فی الحال بھی موجود ہے، ﴿وَالظَّاهِرُ بَقَاؤُهُ إِلَى وَقْتِ وُجُودِ الشَّرْطِ﴾ اور ظاہر یہی ہے کہ یہ ملکیت باقی رہے گی إلی وقت وجود الشرط، جس وقت شرط پائی جائے گی، ﴿فَيَصِحُّ يَمِينًا أَوْ إِيقَاعًا﴾ تو لہٰذا یہ تعلیق صحیح ہے یمیناً، یمین ہونے کے اعتبار سے، ﴿أَوْ إِيقَاعًا﴾ یا ایقاع ہونے کے اعتبار سے۔ ”يَمِينًا“ یہ احناف کے اعتبار سے کہا۔ لہٰذا یہ تعلیق صحیح ہے یمین ہونے کے اعتبار سے یعنی ہمارے نزدیک بھی یہ یمین ہے، یہ تعلیق صحیح ہے۔ کس طرح؟ کیوں یمین ہے؟ کیونکہ ہمارے نزدیک تو مالک ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ مالک ہونا بھی ضروری نہیں ہے، ہاں اگر مالک نہیں ہے پھر ملکیت کی طرف نسبت کرنا پڑے گی۔ لیکن یہاں پر تو خیر مالک ہے، جب مالک ہے تو ملکیت کی طرف نسبت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ بس مطلقاً خاوند نے کہا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ لہٰذا خاوند اس میں اہلیت ہے، وہ عاقل بالغ ہے اور تعلیق یا قسم اس کے ذمہ میں رہ سکتی ہے، تو خاوند نے تعلیق کی ہے اور تعلیق اس کے ذمے میں رہ سکتی ہے کیونکہ اس میں اہلیت ہے، وہ عاقل بالغ ہے اور نیز اس نے شرط کو بھی ذکر کیا ہے اور جزا کو بھی ذکر کیا ہے، اور شرط اور جزا کو کوئی ایسا شخص ذکر کرے جس میں اہلیت ہے تو یہ تعلیق صحیح ہو جاتی ہے، تو ہمارے نزدیک یہ تعلیق صحیح ہو گئی۔ ہمارے نزدیک یہ تعلیق صحیح ہو گئی، یمین صحیح ہو گئی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو جس وقت تعلیق کرے اسی وقت مالک ہونا شرط ہے، اس لیے کیونکہ خاوند کہہ رہا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ معلق ہے، یہ سبب بنے گا کس وقت؟ جس وقت شرط پائی جائے گی، اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ تو یہ جو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے یہ ہمارے نزدیک اس وقت طلاق کا سبب ہی نہیں بن رہا، یہ طلاق کا سبب ہی شرط جب پائی جائے گی اس وقت بنے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فی الحال سبب بنتا ہے یعنی اس وقت یہ طلاق کا سبب بن رہا ہے، اس سے ایقاعِ طلاق ہو رہا ہے لیکن آگے شرط جو ہے وہ وقوع کو نہیں آنے دے رہی۔ تو ایقاع پایا جا رہا ہے اور وقوع کب ہو گا؟ جب عورت گھر کے اندر جائے گی۔ تو معلوم ہوا فی الحال جب ایقاع ہو رہا ہے تو فی الحال خاوند کا مالک ہونا ضروری ہے طلاقوں کا، اور فی الحال تو خاوند مالک ہے، یہ اپنی بیوی سے کلام کر رہا ہے، کسی اجنبیہ کو نہیں کہہ رہا بھئی۔ تو جب فی الحال مالک ہے تو ایقاع کے اعتبار سے بھی یہ تعلیق صحیح ہے۔ تو لہٰذا ان کے نزدیک بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی تعلیق صحیح ہو گئی۔ یہ معنی ہے: ﴿فَيَصِحُّ﴾ تو یہ تعلیق صحیح ہے، ﴿يَمِينًا﴾ باعتبار یمین ہونے کے بھی ہمارے نزدیک، ﴿أَوْ إِيقَاعًا﴾ یا واقع کرنے کے اعتبار سے بھی صحیح ہے یعنی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، دونوں کے نزدیک یہ تعلیق صحیح ہو جائے گی اور وہ عورت جب اس گھر میں جائے گی تو اس کو طلاق واقع ہو جائے گی۔
﴿وَلَا تَصِحُّ إِضَافَةُ الطَّلَاقِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَالِفُ مَالِكًا أَوْ يُضِيفَهُ إِلَى مِلْكٍ﴾ میں نے آپ کو بتلایا بھئی عند الاحناف تعلیق کے لیے کیا ضروری؟ کہ ایک تو اس شخص میں اہلیت ہو اور یا وہ مالک ہونا چاہیے یا ملکیت کی طرف نسبت کرے بھئی۔ وہی بیان کر رہے ہیں: ﴿وَلَا تَصِحُّ إِضَافَةُ الطَّلَاقِ﴾ اور طلاق کی نسبت کرنا شرط کی طرف صحیح نہیں ہے، ﴿إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَالِفُ مَالِكًا﴾ مگر یہ کہ وہ حالف جو ہے، وہ جو قسم کھانے والا ہے یعنی تعلیق کرنے والا جو ہے مالكًا وہ اس چیز کا مالک ہو۔ وہ جو جزا میں ذکر کر رہا ہے ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ اس کا طلاقوں کا فی الحال مالک ہونا چاہیے یا ملکیت کی طرف اس کی نسبت کر رہا ہو: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا تَصِحُّ إِضَافَةُ الطَّلَاقِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَالِفُ مَالِكًا أَوْ يُضِيفَهُ إِلَى مِلْكٍ﴾ اور طلاق کی نسبت صحیح نہیں ہے شرط کی طرف مگر یہ کہ قسم کھانے والا مالک ہو یا وہ اس کی نسبت کرے اپنی ملکیت کی طرف، ﴿لِأَنَّ الْجَزَاءَ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ ظَاهِرًا لِيَكُونَ مُخِيفًا فَيَتَحَقَّقَ مَعْنَى الْيَمِينِ وَهُوَ الْقُوَّةُ﴾ اس جگہ کو اچھی طرح سمجھ لیں، بھئی یہ ذرا مشکل جگہ ہے بھئی۔ ﴿لِأَنَّ الْجَزَاءَ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ ظَاهِرًا﴾ اس لیے کیونکہ جزا جو ہے لابد ضروری ہے أن یکون ظاهرًا کہ وہ ظاہر ہو۔ جزا ظاہر ہو، کیا معنی؟ یعنی اس کے ہونے کا یقین ہو۔ کیا ہو؟ جزا ظاہر ہے یعنی اس کے ہونے کا یقین ہے، غالب الوجود ہے کہ غالب یہی ہے کہ یہ پائی جائے گی۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ دیکھو یہاں تو عورت جیسے ہی گھر میں جائے گی فوراً طلاق ہو جائے گی۔ لیکن بعض اوقات جزا آئے یا نہ آئے لیکن اس کے ہونے کا صرف یقین ہو تو بھی وہ کافی ہے۔ مثلاً باپ اپنے بیٹے سے کہتا ہے: اگر یہ کام تم نے کیا تو میں تمہاری سخت پٹائی کروں گا۔ اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہاری سخت پٹائی کروں گا۔ تو اب بیٹا اس کام سے رکے گا، اب وہ کام نہیں کرے گا کیونکہ یہ یہ تعلیق اس کو ڈرا رہی ہے، اس کو خوف ہے اگر میں نے ایسا کیا تو میرے ابا جان میری سخت پٹائی کریں گے، اگرچہ یہ بات یقینی نہیں ہے، ہو سکتا ہے باپ پٹائی کرے، ہو سکتا ہے وہ پٹائی نہ بھی کرے، معاف بھی کر دے، لیکن یہ بچہ اس کام کے کرنے سے رکے گا کیونکہ اس کو یقین ہے کہ ایسا ہو گا، اگر میں نے کیا تو میری پٹائی ہو جائے گی۔ تو دیکھو جب شرط پائی جائے جزا کا ہونا ضروری نہیں ہوتا، بعض صورتوں میں تو ضروری ہوتا ہے جیسے کہ خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“۔ تو لہٰذا جزا ایسی ہونی چاہیے جو ظاہر ہو، کیا معنی ظاہر ہو؟ ہاں یہ لفظ دہرائیں زبان سے، اس کے ہونے کا یقین ہو یعنی وہ غالب الوجود ہو کہ ایسا ہو جائے گا۔ جب اس کے ہونے کا یقین ہو گا تو اب جو ہے وہ جزا اس کو ڈرا رہی ہے، وہ شخص اس کام کے کرنے سے رکے گا۔ بیوی اس گھر میں جانے سے رکے گی کہ میں جاؤں گی تو مجھے طلاق ہو جائے گی، تو دیکھو یہ جزا نے اس کو ڈرا دیا ہے، خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو جزا ایسی ہونی چاہیے کہ جس کے ہونے کا یقین ہو تاکہ وہ دوسرے اس شخص کو خوف میں مبتلا کرے اور اس خوف کی وجہ سے وہ اس کام کے کرنے سے اگر روکا گیا ہے تو وہ اس سے اپنے آپ کو بچائے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْجَزَاءَ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ ظَاهِرًا﴾ اس لیے کیونکہ جزا جو ہے ضروری ہے کہ وہ ظاہر ہو، ظاہر ہو کیا معنی؟ کہ اس کے ہونے کا یقین ہو یا یوں کہو کہ جزا ظاہر ہو، اس شخص کو خوف ہو کہ ایسا ہو سکتا ہے، ایسا ہو سکتا ہے، ﴿لِيَكُونَ مُخِيفًا﴾ تاکہ جزا اس کو ڈرانے والی ہو، اس شرط کے کرنے سے ڈرانے والی ہو، ﴿فَيَتَحَقَّقَ مَعْنَى الْيَمِينِ وَهُوَ الْقُوَّةُ﴾ تو یمین کا معنی پایا جائے گا اور وہ قوت ہے۔ یاد رکھو عربی زبان میں یمین کا معنی ہے طاقت اور قوت کے۔ یمین کا معنی ہے طاقت اور قوت کے۔ تو جب جزا کا خوف ہو گا دوسرے کے دل میں تو پھر ہی وہ شرط کے کرنے سے رکے گا۔ اگر اس کے دل میں جزا کا خوف نہیں ہے تو وہ تو شرط کے کرنے سے نہیں رکے گا، جیسے ایک اجنبیہ سے ایک آدمی کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، وہ اجنبیہ اسی وقت چلی جائے گی کہ بھئی تم کون ہوتے ہو مجھے طلاق دینے والے، میرا تمہارا تو نکاح ہی نہیں ہے۔ تو دیکھو اس جزا نے اس کو کسی خوف میں مبتلا نہیں کیا تو یہ یمین نہیں ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یمین تو وہ ہو گی جو دوسرے کو خوف زدہ کرے یعنی اس میں قوت ہو، یمین کا عربی زبان میں کیا معنی ہے؟ قوت اور طاقت کے، تو لہٰذا یمین میں قوت اور طاقت ہونی چاہیے جو دوسرے کو ایک فعل سے روک دے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔
تو یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿لِأَنَّ الْجَزَاءَ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ ظَاهِرًا﴾ اس لیے کیونکہ جزا جو ہے وہ ضروری ہے کہ وہ ظاہر ہونی چاہیے کہ اس کے ہونے کا یقین ہو یعنی وہ غالب الوجود ہو، ﴿لِيَكُونَ مُخِيفًا﴾ تاکہ وہ جزا اس شخص کو ڈرا دے، أخاف یخاف کا کیا معنی؟ ڈرانا بھئی، کسی دوسرے کو ڈرانا۔ ﴿لِيَكُونَ مُخِيفًا﴾ تاکہ یہ جزا اس کو ڈرانے والی ہو جائے، ﴿فَيَتَحَقَّقَ مَعْنَى الْيَمِينِ وَهُوَ الْقُوَّةُ﴾ تو یمین کا معنی پایا جائے گا اور وہ قوت ہے، ﴿وَالظُّهُورُ بِأَحَدِ هٰذَيْنِ﴾ اور جزا کا ظہور جو ہے وہ تو بأحد ھذین، ان دو چیزوں میں سے کسی ایک کے ذریعے ہو گا کہ یا وہ مالک ہو یا ملکیت کی طرف نسبت کرے۔ جزا ظاہر ہو، کیا معنی جزا ظاہر ہو؟ اس کے ہونے کا یقین ہو کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ تو یہ اسی وقت ہو گا جب وہ شخص مالک ہو۔ اگر خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اب یہ خاوند طلاق کا مالک ہے تو اب یہ جزا ظاہر ہے یعنی اس کے ہونے کا یقین ہے، جب وہ جائے گی جزا واقع ہو جائے گی تو وہ اپنے آپ کو بچائے گی اس گھر میں جانے سے۔ یا ملکیت کی طرف نسبت کرے کوئی شخص: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے۔ تو لہٰذا اس صورت کے اندر بھی اگرچہ یہ شخص اس عورت کی طلاقوں کا مالک نہیں لیکن ملکیت کے سبب کی طرف نسبت کر دی۔ یاد رکھو آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ چاہے ملکیت کی طرف نسبت کریں، چاہے ملکیت کے سبب کی طرف نسبت کریں، ایک ہی بات ہے۔ ایک ہے ملکیت، ایک ہے سببِ ملکیت۔ سببِ ملکیت جیسے آپ کوئی چیز خریدتے ہیں تو آپ اس کے مالک بن جاتے ہیں یا کوئی چیز آپ کو کوئی تحفے میں دیتا ہے تو آپ اس کے مالک بن جاتے ہیں، توجہ ہے؟ اور اسی طرح جب آپ عورت سے نکاح کرتے ہیں تو آپ اس کی طلاقوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ تو نکاح سبب ہے ملکیت کا، نکاح سبب ہے ملکیت کا، اس کی وجہ سے خاوند طلاقوں کا مالک بن جاتا ہے۔ اور اسی طرح خریدنا یہ سبب ہے ملکیت کا، کوئی باندی خریدے گا تو وہ اس کا مالک بن جائے گا۔ تو اگر کوئی شخص یوں کہتا ہے، باقاعدہ ملکیت کی طرف نسبت کرے، باندی سے کہتا ہے: ”إِنْ مَلَكْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ“، ”إِنْ مَلَكْتُكِ“ اگر میں تیرا مالک ہوا، اگر میں تیرا مالک بنا ”فَأَنْتِ حُرَّةٌ“ تو تو آزاد ہے۔ دیکھو ملکیت کی طرف نسبت کر رہا ہے۔ اور کبھی ملکیت کی طرف نسبت نہیں کرتا، سببِ ملکیت کی طرف نسبت کرتا ہے۔ مثلاً کہتا ہے: ”إِنِ اشْتَرَيْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ“ اگر میں نے تجھے خریدا تو تو آزاد ہے۔ اب خریدنا یہ تو ملکیت نہیں ہے، ہاں یہ ملکیت کا سبب ہے بھئی۔ تو ملکیت کو ذکر کریں یا سببِ ملکیت کو، ایک ہی بات ہے یعنی سببِ ملکیت بھی ملکیت ہی کے درجے میں ہے کیونکہ اس سے ملکیت آ جاتی ہے بھئی۔
بات چل رہی ہے: ﴿وَالظُّهُورُ بِأَحَدِ هٰذَيْنِ﴾ اور یہ جزا کا ظاہر ہونا ان دو چیزوں میں سے کسی ایک کے ذریعے ہو گا، جزا کے ہونے کا یقین ہو یہ ان دو چیزوں میں سے کسی ایک میں ہو گا، یا تو خاوند کیا ہو طلاق کا مالک ہو یا ملکیت کی طرف نسبت کر دے: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو یہاں وہ سببِ ملک کی طرف طلاق کی نسبت کر رہا ہے اور جب نکاح کرے گا پھر تو یہ مالک بن جائے گا اور اس وقت تو طلاق کا واقع ہونا یقینی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالظُّهُورُ بِأَحَدِ هٰذَيْنِ﴾ اور جزا کا ظاہر ہونا ان دو چیزوں میں سے کسی ایک کے ذریعے ہو گا کہ مالک ہو یا ملکیت کی طرف نسبت کرے، کہتے ہیں: ﴿وَالْإِضَافَةُ إِلَى سَبَبِ الْمِلْكِ بِمَنْزِلَةِ الْإِضَافَةِ إِلَيْهِ لِأَنَّهُ ظَاهِرٌ عِنْدَ سَبَبِهِ﴾ اور سببِ ملکیت کی طرف نسبت کرنا یہ اسی درجے میں ہے کہ ملکیت کی طرف نسبت کی ہے، ﴿لِأَنَّهُ ظَاهِرٌ عِنْدَ سَبَبِهِ﴾ اس لیے کیونکہ جزا جو ہے وہ ظاہر ہو گی، جزا، ﴿لِأَنَّهُ﴾ ہا ضمیر جزا کو لوٹائیں، ﴿لِأَنَّهُ﴾ اس لیے کیونکہ جزا جو ہے وہ ظاہر ہو گی عند سببہِ أَيْ سَبَبِ الْمِلْكِ، جب سببِ ملک پایا جائے گا تو جزا ظاہر ہو گی۔ جب سببِ ملک پایا جائے گا یعنی نکاح کرے گا تو اس وقت بھی طلاق کے واقع ہونے کا یقین ہے تو اس وقت جزا ظاہر ہو گی یعنی اس کے ہونے کا یقین ہو گا۔ یہ معنی ہے: ﴿لِأَنَّهُ ظَاهِرٌ عِنْدَ سَبَبِهِ﴾ اس لیے کیونکہ جزا جو ہے وہ ظاہر ہو گی یعنی اس کے ہونے کا یقین ہو گا عند سببہٖ جب ملکیت کا سبب پایا جائے۔
آگے دیکھیے: ﴿فَإِنْ قَالَ لِأَجْنَبِيَّةٍ: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَدَخَلَتِ الدَّارَ لَمْ تُطَلَّقْ﴾، اگر کسی شخص نے اجنبیہ عورت سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ کہ اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، ﴿ثُمَّ تَزَوَّجَهَا﴾ پھر اس شخص نے اس سے نکاح کر لیا، ﴿فَدَخَلَتِ الدَّارَ لَمْ تُطَلَّقْ﴾ تو وہ عورت اس گھر میں چلی گئی تو طلاق نہیں ہو گی۔ اجنبیہ سے ایک آدمی نے کہا تھا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، نہ تو یہ اس وقت طلاقوں کا مالک ہے یہ آدمی، اجنبیہ سے کہہ رہا ہے اور نہ ہی اس نے اپنی ملکیت کی طرف نسبت کی ہے، لہٰذا یہ تعلیق صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ تَزَوَّجَهَا﴾ پھر اس شخص نے اس سے نکاح کر لیا، ﴿فَدَخَلَتِ الدَّارَ﴾ اب نکاح کے بعد وہ عورت اس گھر میں گئی ہے، ﴿لَمْ تُطَلَّقْ﴾ طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ وہ تعلیق صحیح نہیں تھی، تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ وہ شخص اسی وقت طلاقوں کا مالک ہو یا اپنی ملکیت کی طرف نسبت کرے اور وہاں ایسا نہیں تھا۔
تو کہتے ہیں: ﴿لَمْ تُطَلَّقْ﴾ عورت کو طلاق نہیں ہو گی، ﴿لِأَنَّ الْحَالِفَ لَيْسَ بِمَالِكٍ﴾ اس لیے کیونکہ قسم اٹھانے والا نہ تو مالک ہے، ﴿وَمَا أَضَافَهُ إِلَى الْمِلْكِ أَوْ سَبَبِهِ﴾ اور نہ ہی اس نے طلاق کی نسبت کی ہے ملکیت کی طرف أو سببہِ یا سببِ ملکیت کی طرف، ﴿وَلَا بُدَّ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا﴾ اور ان دونوں میں سے تو ایک کا ہونا ضروری ہے، ملکیت یا نسبت الی الملکیت بھئی۔
﴿وَأَلْفَاظُ الشَّرْطِ: إِنْ، وَإِذَا، وَإِذَا مَا، وَكُلٌّ، وَكُلَّمَا، وَمَتَى، وَمَتَى مَا﴾ اور شرط کے جو الفاظ ہیں: إن، وإذا، وإذا ما، وكلٌّ، وكلّما، ومتى، ومتى ما، یہ الفاظ ہیں شرط کے: إن، إذا، إذا ما، كل، كلّما، متى، اور متى ما۔ یہ کیا ہیں؟ شرط کے الفاظ ہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَأَلْفَاظُ الشَّرْطِ: إِنْ، وَإِذَا، وَإِذَا مَا، وَكُلٌّ، وَكُلَّمَا، وَمَتَى، وَمَتَى مَا لِأَنَّ الشَّرْطَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْعَلَامَةِ﴾، اس لیے کیونکہ شرط کا لفظ جو ہے ﴿مُشْتَقٌّ مِنَ الْعَلَامَةِ﴾ یہ مشتق ہے علامت سے۔ شرط کا لفظ کس سے مشتق ہے؟ علامت سے۔ بھئی شرط کا لفظ علامت سے کیسے مشتق ہے؟ شرط کا مادہ تو ہے ش، ر، ط، اور علامت کا مادہ کیا ہے؟ ع، ل، م یعنی علم اس کا مادہ ہے، تو دونوں کا مادہ ہی الگ ہے، تو دونوں کا مادہ ہی بالکل الگ الگ ہے تو یہ شرط علامت سے کیسے مشتق ہے؟ تو یاد رکھو، یاد رکھو علامت سے لفظِ علامت مراد نہیں ہے بلکہ علامت سے مراد لفظِ شَرَط ہے۔ کیا مراد ہے؟ شَرَط بھئی، شَرَط۔ شَرَط را کے فتحہ کے ساتھ۔ یاد رکھو ایک ہے شَرْط را کے سکون کے ساتھ، یہ جو شرط اور جزا ہے اس شرط کو یہ شَرْط ہے، اور ایک ہے شَرَط را کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا معنی ہے علامت۔ شَرَط کا کیا معنی؟ علامت۔ چنانچہ آپ عربی کتابوں کے اندر آپ دیکھیں گے علماء قیامت کی علامتیں ذکر فرماتے ہیں تو وہاں وہ لکھتے ہیں: اشراطِ ساعت، أَشْرَاطُ السَّاعَةِ قیامت کی علامتیں جو احادیث میں قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ذکر ہوئی ہیں بھئی تو وہ ذکر فرماتے ہیں تو وہاں اشراط کا لفظ ذکر کرتے ہیں اور یہ اشراط جمع ہے شَرَط کی اور شَرَط کا معنی ہے علامت۔ اور یہ جو لفظ ہے یہ شَرْط را کے سکون کے ساتھ، اس کی جمع تو شروط آتی ہے بھئی۔ اس کی جمع شروط آتی ہے اشراط نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ شَرْط کا لفظ شَرَط سے مشتق ہے، شَرْط کا لفظ شَرَط سے مشتق ہے، اب دیکھو بات واضح ہو گئی۔ شَرْط کا مادہ بھی ش، ر، ط اور شَرَط کا مادہ بھی ش، ر، ط ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الشَّرْطَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْعَلَامَةِ﴾ اس لیے کیونکہ شرط کا لفظ یہ مشتق ہے علامت سے یعنی شَرَط کے لفظ سے، ﴿وَهٰذِهِ الْأَلْفَاظُ مِمَّا يَلِيهَا أَفْعَالٌ﴾ اور یہ جو الفاظ ہیں ان، اذا، اذا ما اور وغیرہ، یہ جو الفاظ ہیں ﴿مِمَّا يَلِيهَا أَفْعَالٌ﴾ یہ ان الفاظ میں سے ہیں یلیھا افعالٌ کہ ان کے ساتھ افعال ملے ہوتے ہیں۔ ولی یلی کا کیا معنی؟ ساتھ ملنا۔ یلیھا افعالٌ ان کے ساتھ افعال ملے ہوتے ہیں۔ یاد رکھو، یاد رکھو شرط ہمیشہ فعل ہو گا۔ شرط ہمیشہ فعل ہو گا، وجہ یہ کہ آپ ایک چیز کو دوسری چیز سے معلق کرنا چاہتے ہیں، ایک چیز کو دوسری چیز سے معلق کرنا چاہتے ہیں تو جو معلق کیا جاتا ہے وہ کسی ذات کے ساتھ معلق نہیں کیا جاتا بلکہ فعل کے ساتھ معلق کیا جاتا ہے کہ اگر تو نے ایسا کیا تو تجھے طلاق ہے، دیکھو فعل کے ساتھ معلق کر رہے ہیں۔ تو یہ جو الفاظ ہیں ان کے ساتھ بھی ہمیشہ کیا آتے ہیں؟ افعال آتے ہیں، تو شرط کا فعل ہونا ضروری ہے بھئی۔ کسی چیز کو معلق کس سے کیا جاتا ہے؟ ذات سے نہیں بلکہ فعل سے معلق کیا جاتا ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ تعلیق زمانے میں ہوتی ہے، تعلیق یعنی مستقبل کے اعتبار سے اگر تو ایسا کرے گا تو ایسا ہو جائے گا، تو تعلیق کس میں ہوتی ہے؟ زمانے میں، اور زمانہ فعل کے اندر ہوتا ہے۔ فعل کا مفہوم مرکب ہے معنیِ مصدری سے اور زمانہ اور نسبت الی الفاعل، تو فعل کے اندر زمانہ ہوتا ہے اور تعلیق بھی زمانے میں ہوتی ہے اس لیے تعلیق ہمیشہ فعل کے ساتھ ہو گی کیونکہ فعل کے اندر زمانہ ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَهٰذِهِ الْأَلْفَاظُ مِمَّا يَلِيهَا أَفْعَالٌ فَتَكُونُ عَلَامَاتٍ عَلَى الْحِنْثِ﴾، اور یہ الفاظ ان الفاظ میں سے ہیں جن کے ساتھ افعال ملے ہوئے ہوتے ہیں ﴿فَتَكُونُ عَلَامَاتٍ عَلَى الْحِنْثِ﴾ تو یہ افعال جو ہیں علامات ہوتے ہیں علی الحنث حانث ہونے پر۔ تو فتکون کے اندر ھِیَ ضمیر ہے، فتکون کے اندر ھِیَ ضمیر ہے، یا تو یہ ھِیَ ضمیر راجع ہے ماقبل میں افعال کا ذکر آیا، فتکون علاماتٍ یہ افعال علامت ہوتے ہیں علی الحنث حانث ہونے پر۔ یہ افعال علامت ہوتے ہیں کس پر؟ حانث ہونے پر کہ یہ فعل پایا گیا تو حانث ہو جاؤ گے، جزا واقع ہو جائے گی۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو طلاق کو معلق کیا کس سے؟ دخولِ دار کے فعل کے ساتھ۔ تو یہ فعل علامت ہے حانث ہونے کی یعنی یہ فعل جب بھی پایا گیا دخولِ دار والا، یہ عورت جب بھی اس گھر میں گئی تو حانث ہو جائے گی، یہ جزا واقع ہو جائے گی بھئی۔ تو یہ افعال کس چیز کی علامتیں ہیں؟ حانث ہونے کی یعنی ان افعال کا وجود جو ہے حانث ہونے کی علامت ہے، یہ افعال جب پائے جائیں گے تو یہ حانث ہو جائے گی، یہ جو فعل شرط میں ذکر کیا گیا ہے یہ جب پایا جائے گا تو یہ علامت ہے حانث ہونے کی کہ یہ شخص حانث ہو گیا، اس پر جزا واقع ہو گئی۔ تو تکون کی ضمیر کس کو لوٹائی؟ افعال کو، کہ ان افعال کا وجود جو ہے وہ علامت ہوتی ہے حانث ہونے کی۔
جب کہ بعض علماء نے ”تَكُونُ“ کی ضمیر ان الفاظ کی طرف لوٹائی۔ ”هِيَ“ ضمیر کس کو لوٹائی؟ یہ جو الفاظ ہیں۔ یہ الفاظ علامت ہیں حانث ہونے کے۔ یہ الفاظ حانث ہونے کی علامت ہیں یعنی یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں اس بات پر کہ یہ جو ہمارے بعد فعل آ رہا ہے اگر یہ پایا گیا تو تم حانث ہو جاؤ گے۔ یہ الفاظ کس چیز پر دلالت کرتے ہیں؟ ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ یہ ”إِنْ“ دلالت کر رہا ہے کہ اگر یہ دخول والا فعل پایا گیا تو تم کیا ہو جاؤ گے؟ حانث ہو جاؤ گے۔ تو یہ والے الفاظ جو ہیں، یہ جو شرط والے الفاظ ہیں، یہ علامتیں ہیں کس چیز کی؟ حانث ہونے کی، جس وقت یہ افعال پائے جائیں گے۔ تو آپ جس طرف بھی ضمیر راجع کر لیں بات ایک ہی ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَتَكُونُ عَلَامَاتٍ عَلَى الْحِنْثِ“ تو ان افعال کا وجود جو ہے یہ علامت ہے علی الحنث، حانث ہونے پر۔ ”ثُمَّ كَلِمَةُ إِنْ“ اب ان میں سے ہر ایک کی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ كَلِمَةُ إِنْ صِرْفٌ لِلشَّرْطِ“ کہ کلمۂ ”إِنْ“ وہ صرف شرط کے لیے ہے۔ کلمۂ ”إِنْ“ صرف شرط کے لیے ہے اس میں وقت والا معنی نہیں۔ جب کہ ”إِذَا“ یا ”إِذَا مَا“، ”مَتَى“ یا ”مَتَى مَا“ ان میں کیا ہے؟ ان میں وقت والا معنی بھی ہے۔ ”مَتَى تَقُمْ أَقُمْ“ جس وقت تو اٹھے گا میں بھی اٹھوں گا۔ تو ”مَتَى“ دیکھو اس میں وقت والا معنی ہے۔ ”إِذَا تَضْرِبْ أَضْرِبْ“ جب بھی تم پٹائی کرو گے میں بھی پٹائی کروں گا۔ جب بھی، جس وقت بھی، دیکھو اس میں بھی وقت والا معنی ہے۔ لیکن ”إِنْ“ جو ہے اس میں وقت والا معنی نہیں ہے، وہ محض شرط کے لیے ہے۔ جب کہ ”مَتَى“ اور ”إِذَا“ ان میں وقت والا معنی بھی ہو گا اور شرط والا معنی بھی ہو گا۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ كَلِمَةُ إِنْ صِرْفٌ لِلشَّرْطِ“ پھر کلمۂ ”إِنْ“ صرف شرط کے لیے ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيهَا مَعْنَى الْوَقْتِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر وقت والا معنی نہیں، تو لہٰذا یہ جو ”إِنْ“ ہے یہ ام الباب ہے، یہ اس باب کی اصل ہے۔ حروفِ شرط میں سے، ادواتِ شرط میں سے اصل کیا ہے؟ ”إِنْ“۔ کیونکہ یہ صرف اور صرف شرط کے لیے ہے اس میں اور کوئی معنی نہیں، جب کہ باقیوں کے اندر اور معانی بھی ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں یہ صرف شرط کے لیے ہے کیونکہ اس کے اندر وقت والا معنی نہیں ہے ”وَمَا وَرَاءَهَا مُلْحَقٌ بِهَا“ اور اس کے علاوہ جو الفاظ ہیں یعنی ”إِنْ“ کے علاوہ جو الفاظ ہیں باقی جو ہم نے ذکر کر دیے وہ الفاظ ”مُلْحَقٌ بِهَا“ ان کو ”إِنْ“ کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ ان کا بھی یہی حکم ہے، وہ بھی شرط کا فائدہ دیں گے لیکن اصل کیا ہے؟ ”إِنْ“ ہے اور باقی ”مُلْحَقٌ بِهَا“ ہیں، اس کے ساتھ ملائے گئے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَا وَرَاءَهَا مُلْحَقٌ بِهَا وَكَلِمَةُ كُلٍّ لَيْسَ شَرْطاً حَقِيقَةً“ اب ”كُلٍّ“ کے بارے میں بتلا رہے ہیں کہ ”كُلٌّ“ کا جو لفظ ہے یہ حقیقت میں شرط کے لیے نہیں ہے۔ ”كُلٌّ“ حقیقت میں یہ شرط کے لیے نہیں ہے۔ شرط والے الفاظ تو ہمیشہ فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ ”إِذَا“ کے بعد فعل آنا ضروری، ”إِذَا مَا“، ”مَتَى“، ”مَتَى مَا“ اور ”إِنْ“ سب کے بعد فعل آتا ہے۔ لیکن ”كُلٌّ“، ”كُلٌّ“ کا معنی تو ہے سارا۔ تو اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے بھئی، کیا چیز ساری مراد ہے؟ کل کتابیں مراد ہیں، یا کل طلبہ مراد ہیں، یا کل انسان مراد ہیں؟ تو اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے بھئی، ”كُلُّ إِنْسَانٍ“ یا ”كُلُّ كِتَابٍ“۔ تو ”كُلٌّ“ کے بعد تو مضاف الیہ آتا ہے، اسم آتا ہے، فعل نہیں آتا حالانکہ حالانکہ الفاظِ شرط کے بعد تو فعل آیا کرتا ہے۔ تو سوال پیدا ہوا کہ آپ نے ”كُلٌّ“ کو کیسے الفاظِ شرط میں شمار کر لیا، اس کے بعد تو اسم آتا ہے فعل نہیں آتا بھئی؟
تو اس کا بھی جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے۔ ”كُلٌّ“ جو ہے وہ الفاظِ شرط میں سے نہیں ہے۔ حقیقت میں، حقیقت کے اعتبار سے یہ الفاظِ شرط میں سے نہیں ہے کیونکہ یہ اسم پر داخل ہوتا ہے، فعل پر داخل نہیں ہوتا۔ لیکن جس اسم پر ”كُلٌّ“ داخل ہوتا ہے اس کے بعد فعل کا آنا ضروری ہے۔ ”كُلٌّ“ خود تو اسم پر داخل ہے لیکن وہ اسم آگے پھر کس پر داخل ہو گا؟ فعل پر داخل ہو گا تو دیکھو فعل آ گیا۔ تو اس اعتبار سے ”كُلٌّ“ کو بھی کس کے ساتھ ملا دیا گیا؟ الفاظِ شرط کے ساتھ کہ وہاں بھی فعل آیا، اگرچہ ”كُلٌّ“ کے فوراً بعد فعل نہیں آیا بلکہ اس کے مضاف الیہ کے بعد فعل آیا ہے لیکن فعل تو آ گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَلِمَةُ كُلٍّ لَيْسَ شَرْطاً حَقِيقَةً“ اور ”كُلٍّ“ کا جو کلمہ ہے یہ حقیقت میں شرط نہیں ہے ”لِأَنَّ مَا يَلِيهَا اسْمٌ“ اس لیے کیونکہ وہ لفظ جو اس کے ساتھ ملا ہوتا ہے ”اسْمٌ“ وہ تو اسم ہوتا ہے ”وَالشَّرْطُ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ الْجَزَاءُ“ اور شرط وہ ہوتی ہے کہ جس کے ساتھ جزا متعلق ہوتی ہے، جس کے ساتھ جزا معلق ہوتی ہے ”وَالأَجْزِيَةُ تَتَعَلَّقُ بِالأَفْعَالِ“ اور جزائیں جو ہیں وہ تو معلق ہوتی ہیں ”بِالأَفْعَالِ“ کس کے ساتھ؟ افعال کے ساتھ معلق ہوتی ہیں ”إِلَّا أَنَّهُ أُلْحِقَتْ بِالشَّرْطِ“ مگر یہ کہ اس ”كُلٍّ“ کو بھی شرط کے ساتھ ملا دیا گیا ”لِتَعَلُّقِ الْفِعْلِ بِالِاسْمِ الَّذِي يَلِيهَا“ اس لیے کیونکہ فعل کا تعلق ہوتا ہے ”بِالِاسْمِ الَّذِي يَلِيهَا“ اس اسم کے ساتھ جو اس ”كُلٍّ“ کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔ فعل کا تعلق ہوتا ہے اس اسم کے ساتھ جو ”كُلٍّ“ کے ساتھ ملا ہوا ہے یعنی اس اسم کے بعد فعل آتا ہے۔ یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنَّهُ أُلْحِقَتْ بِالشَّرْطِ“ مگر یہ کہ ”كُلٍّ“ کو بھی شرط کے ساتھ ملایا گیا ہے ”لِتَعَلُّقِ الْفِعْلِ“ اس وجہ سے کہ فعل کا تعلق ہوتا ہے ”بِالِاسْمِ الَّذِي يَلِيهَا“ اس اسم کے ساتھ جو اس ”كُلٍّ“ کے ساتھ ملا ہوتا ہے ”مِثْلُ قَوْلِكَ“ جیسے کہ آپ کا یہ قول ”كُلُّ عَبْدٍ اشْتَرَيْتُهُ فَهُوَ حُرٌّ“۔ ”كُلُّ عَبْدٍ“ ہر ایسا غلام ”اشْتَرَيْتُهُ“ جس کو میں خرید لوں ”فَهُوَ حُرٌّ“ تو وہ آزاد ہے۔ اب دیکھو ”كُلُّ“ کے بعد ”عَبْدٍ“ کا لفظ مضاف الیہ ہے یعنی اسم ہے اور آگے ”اشْتَرَيْتُهُ“ دیکھو فعل آ رہا ہے۔ تو دیکھو یہاں بھی تعلیق آگئی، ”كُلُّ عَبْدٍ اشْتَرَيْتُهُ فَهُوَ حُرٌّ“ ہر وہ غلام جس کو میں خریدوں تو وہ آزاد ہے۔ تو دیکھو تعلیق آگئی، شرط اور جزا پائے گئے۔
آگے دیکھیے، ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَفِي هَذِهِ الْأَلْفَاظِ إِذَا وُجِدَ الشَّرْطُ انْحَلَّتْ وَانْتَهَتِ الْيَمِينُ“۔ ”اِنْحَلَّ يَنْحَلُّ“ کا معنی ہے کھل جانا اور انتہا کا معنی ہے انتہا تک پہنچنا، اختتام تک پہنچنا۔ تو کہتے ہیں: ”فَفِي هَذِهِ الْأَلْفَاظِ إِذَا وُجِدَ الشَّرْطُ“ تو ان الفاظ کے اندر جب شرط پائی جائے گی ”انْحَلَّتْ وَانْتَهَتِ الْيَمِينُ“ تو یمین کھل جائے گی اور اس کی انتہا ہو جائے گی، وہ ختم ہو جائے گی ”لِأَنَّهَا غَيْرُ مُقْتَضِيَةٍ لِلْعُمُومِ وَالتَّكْرَارِ لُغَةً“ اس لیے کیونکہ یہ جو یمین ہوتی ہے یہ تقاضا نہیں کرتی عموم اور تکرار کا ”لُغَةً“ عربی زبان کے اعتبار سے۔
یہ یمین جس میں ”إِذَا“ اور ”إِذَا مَا“ وغیرہ آتے ہیں یہ یمین تکرار کا تقاضا نہیں کرتی۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو ایک دفعہ جب عورت اس گھر میں جائے گی تو شرط پائی گئی، اور جب شرط پائی گئی ساتھ ہی جزا بھی واقع ہو گئی، جزا بھی پائی گئی، تو یمین کھل گئی، ختم ہو گئی۔ اب اس کے بعد جب دوبارہ عورت اس گھر میں جائے گی تو پھر طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ یہ الفاظ یا یوں کہیں یہ یمین جو ہے یہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتی کہ بار بار واقع ہو، بس ایک مرتبہ واقع ہو گئی تو کھل گئی اور ختم ہو گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا غَيْرُ مُقْتَضِيَةٍ لِلْعُمُومِ وَالتَّكْرَارِ لُغَةً“ اس لیے کیونکہ یہ یمین جو ہے یہ عموم اور تکرار کا تقاضا نہیں کرتی ”لُغَةً“ عربی زبان کے اعتبار سے ”فَبِوُجُودِ الْفِعْلِ مَرَّةً“ تو ایک مرتبہ اس فعل کے پائے جانے سے ”يَتِمُّ الشَّرْطُ“ شرط پوری ہو گئی۔ جب دخولِ دار پایا گیا، ایک دفعہ یہ دخولِ دار والا فعل پایا گیا تو شرط پوری ہو گئی۔ شرط کیا ہو گئی؟ پوری ہو گئی۔ اور یمین تو کس چیز کا نام تھا؟ شرط اور جزا دونوں کا نام تھا۔ تو جب شرط پوری ہو گئی تو یمین کھل گئی، ختم ہو گئی۔ توجہ ہے؟
جزا طلاق کا واقع ہونا یا نہ ہونا اس کی بات ابھی نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر وہ عورت ابھی بھی منکوحہ ہے اسی آدمی کی پھر تو طلاق ہو گی، اور اگر یہ طلاق دے چکا ہے، جدائی ہو چکی ہے تو پھر تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔ اس کی بات ابھی نہیں کر رہے، اس کی بھی بات آگے چل کے کریں گے۔ ابھی صرف کیا کہہ رہے ہیں کہ یمین کس چیز کا نام ہے؟ شرط اور جزا۔ دونوں میں سے ایک بھی ختم ہو جائے گی تو یمین ختم۔ تو لہٰذا جب دخولِ دار پایا گیا تو فعل پایا گیا، شرط پوری ہو گئی، شرط کھل گئی، شرط ختم ہو گئی، اور جب شرط ختم تو یمین بھی ختم کیونکہ یمین تو کس چیز کا نام تھا؟ شرط اور جزا کا نام تھا، دونوں ہوں گی تو یمین ہے۔ ان دونوں میں سے ایک بھی ختم ہو جائے گی تو یمین بھی ختم ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ایک مرتبہ عورت اس گھر میں گئی تو شرط پوری ہو گئی۔ شرط پوری ہو گئی، جب شرط پوری ہو گئی تو یمین بھی کھل گئی، ختم ہو گئی۔
تو یہ معنی ہے ”فَبِوُجُودِ الْفِعْلِ مَرَّةً“ تو ایک مرتبہ اس فعل کے پائے جانے سے ”يَتِمُّ الشَّرْطُ“ شرط پوری ہو جائے گی ”وَلَا بَقَاءَ لِلْيَمِينِ بِدُونِهِ“ اور یمین کی بقا نہیں ہے ”بِدُونِهِ“ اَی بدونِ شرط، شرط کے بغیر۔ شرط کے بغیر تو یمین باقی نہیں رہ سکتی کیونکہ یمین تو نام ہی شرط اور جزا کا ہے، دونوں ہونی چاہییں بھئی۔ صرف شرط ہے یا صرف جزا ہے اس کو یمین نہیں کہتے، یمین میں دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ اور شرط تو پائی گئی، پوری ہو گئی، لہٰذا یمین بھی کھل گئی، ختم ہو گئی۔
یہ معنی ہے ”وَلَا بَقَاءَ لِلْيَمِينِ بِدُونِهِ“ اور یمین کے لیے بقا نہیں ہے بغیر شرط کے ”إِلَّا فِي كَلِمَةِ كُلَّمَا“ ہاں ”كُلَّمَا“ کے کلمے میں، ”كُلَّمَا“ کے کلمے میں جب بھی وہ عورت جائے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ باقی الفاظ تو تکرار کا تقاضا نہیں کرتے لیکن ”كُلَّمَا“ جو ہے وہ تکرارِ افعال کا تقاضا کرتا ہے۔ جب بھی وہ فعل پایا جائے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ ”كُلَّمَا“ کا معنی بھی کیا ہے؟ جب بھی۔ ”كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو جب بھی اس گھر میں گئی ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو تجھے طلاق ہے۔ تو ایک دفعہ جائے گی تو ایک طلاق ہو جائے گی۔ ابھی بھی یمین موجود ہے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا؟ جب بھی تو اس گھر میں گئی۔ ”كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ دوبارہ جائے گی تو پھر طلاق دوسری بھی ہو جائے گی، پھر گئی تو پھر تیسری بھی ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا فِي كَلِمَةِ كُلَّمَا“ مگر کلمۂ ”كُلَّمَا“ کے اندر ”فَإِنَّهَا تَقْتَضِي تَعْمِيمَ الْأَفْعَالِ“ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”كُلَّمَا“ جو ہے وہ تعمیمِ افعال کا تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی وہ فعل کرے جزا پائی جائے۔ تو کلمۂ ”كُلَّمَا“ افعال کی تعمیم کا تقاضا کرتا ہے۔ ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ“ آگے ہے ”بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوداً غَيْرَهَا“۔ ”كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ“ جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ”بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوداً غَيْرَهَا“ تو ہم ان کو اور کھالوں سے بدل دیں گے یعنی نئی کھالیں ان کو دے دیں گے بھئی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ یہ جہنمیوں کی بات اللہ ذکر فرما رہے ہیں کہ جہنم کی آگ میں جب بھی ان کی کھال جل جائے گی تو ہم ان کو نئی کھال ان کو دے دیں گے بھئی۔
اور آج سائنس نے آ کر دریافت کیا ہے بھئی کہ انسان کو جو بدن پر تکلیف ہوتی ہے اس کا زیادہ تعلق اس کھال کے ساتھ ہے۔ اس کھال کے اندر اللہ نے ایسا نظام بنایا ہوا ہے کہ جسم کے جس حصے پر معمولی سی بھی تکلیف ہوتی ہے فوراً دماغ کو خبر پہنچ جاتی ہے۔ دیکھو آپ کی توجہ نہیں ہے، آپ کے پاؤں پر ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو آپ کا دماغ فوراً آپ کو خبر دیتا ہے کہ پاؤں میں ایک تکلیف ہے، کوئی چیز آپ کو کاٹ رہی ہے۔ تو یہ جو زیادہ تر یہ جو تکلیف کا احساس ہے اس کا تعلق اس کھال سے ہے۔ اور جب یہ کھال جل جائے تو اب اس کے بعد اس میں تکلیف کا احساس زیادہ نہیں ہو گا، زیادہ نہیں کیونکہ وہ جو تکلیف کا پیغام پہنچانے والی چیزیں تھیں دماغ تک وہ جل گئیں۔ وہ کہاں پر تھیں؟ زیادہ تر کھال کے اندر تھیں۔ تو لہٰذا جب کھال جل جاتی ہے تو تکلیف کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ یہ آج سائنس نے بتلایا اور قرآن نے 1400 سال پہلے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم ان کو نئی کھالوں سے بدل دیں گے۔ اشارہ کر دیا کہ اصل تکلیف کا تعلق کس سے ہے؟ کھال سے ہے اور کھال جلے گی تو ان کی تکلیف کم ہو جائے گی لیکن ہم ان کی تکلیف کم نہیں کریں گے، پھر ہم ان کو نئی کھال دے دیں گے پھر نئے سرے سے تکلیف ہو گی ان کو بھئی۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی جہنم سے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ“ جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی، دیکھا یہاں ”كُلَّمَا“ آیا تو وہ بار بار ان کی کھالیں بدلی جائیں گی بھئی۔ ”وَمِنْ ضَرُورَةِ التَّعْمِيمِ التَّكْرَارُ“ اور تعمیم کی ضرورت میں سے تکرار ہے۔ کلمۂ ”كُلَّمَا“ کس لیے آتا ہے؟ تعمیم کے لیے، اور تعمیم کے لیے ضروری ہے فعل کا تکرار۔ فعل کا تکرار بھئی، ہر تکرار میں جزا آئے تبھی ہم کہیں گے تعمیم ہے نا، ویسے تو تعمیم نہیں ہے۔ ایک عورت ایک دفعہ گھر میں گئی اور طلاق ہو گئی، دوبارہ جائے اور طلاق نہ ہو یہ تو تعمیم نہیں ہے۔ تعمیم تو یہ ہے جب بھی جائے گی فوراً کیا ہونی چاہیے؟ طلاق واقع ہونی چاہیے۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کیا کہا ہے؟ ”كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو یہ تعمیم کا تقاضا کر رہا ہے اور تعمیم کے ساتھ ضروری ہے کہ اس میں افعال کا تکرار ہو، افعال کے تکرار کے بغیر کیسے تعمیم ہو سکتی ہے؟ افعال کے تکرار کے بغیر تعمیم کیسے ہو سکتی ہے؟ تعمیم تو ہے ہی یہ جب بھی یہ فعل پایا جائے گا یہ جزا واقع ہو گی بھئی۔ تو تعمیم کے لیے ضروری ہے تکرار کا ہونا یعنی فعل کا تکرار بھئی۔ تو جب بھی فعل کا تکرار ہو گا تو وہ طلاق واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ ضَرُورَةِ التَّعْمِيمِ التَّكْرَارُ“ اور تعمیمِ افعال کے ساتھ ضروری ہے تکرار کا ہونا۔
آگے دیکھیے، ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ“ اَی بعد زوجٍ آخر۔ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو جب بھی اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ بیوی ایک دفعہ گئی، طلاق ہو گئی۔ پھر کچھ دنوں بعد دوبارہ بیوی وہاں چلی گئی، پھر طلاق ہو گئی۔ پھر چند دنوں کے بعد عورت تیسری دفعہ چلی گئی اب تیسری طلاق بھی ہو گئی۔ اب یہ عورت اس خاوند کے لیے تو حرام ہو گئی۔ اس نے عدت کے بعد کسی اور جگہ نکاح کر لیا اور پھر کچھ عرصے کے بعد وہ دوسرے خاوند کا انتقال ہوا یا اس نے اس کو طلاق دے دی۔ اب یہ خاوند پھر اسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو اب پھر وہ اسی گھر میں جاتی ہے تو کیا پھر طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ کیونکہ خاوند نے تو کہا تھا: ”كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو جب بھی اس گھر میں گئی تجھے طلاق ہے۔ تو کیا اب جب درمیان میں ایک خاوند بھی آ گیا، پھر نکاح کر لیا، اب خاوند پھر تین طلاقوں کا مالک بن گیا تو کیا عورت اب اس گھر میں جائے گی تو پھر طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟
تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ نہیں اب طلاق واقع نہیں ہو گی۔ اب طلاق واقع نہیں ہو گی۔ بھئی کیسے واقع نہیں ہو گی؟ اس نے تو ”كُلَّمَا“ کہا تھا جب بھی تو اس گھر میں جائے تو تجھے طلاق ہے۔ تو جواب یہ کہ اس وقت خاوند تین طلاقوں ہی کا مالک تھا۔ کتنی طلاقوں کا؟ تین طلاقوں کا مالک تھا اور وہ ساری ختم ہو گئیں۔ لہٰذا اب یہ نئی طلاقیں آئی ہیں، نئی ملکیت آئی ہے، اس تعلیق کا ان طلاقوں کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ“ اگر خاوند نے اس کے بعد پھر اس عورت سے نکاح کر لیا ”أَيْ بَعْدَ زَوْجٍ آخَرَ“ یعنی ایک اور خاوند کے بعد ”وَتَكَرَّرَ الشَّرْطُ“ اور اب پھر وہ شرط پائی گئی ”لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ تو اب کچھ بھی واقع نہیں ہو گا، اب طلاق واقع نہیں ”لِأَنَّ بِاسْتِيفَاءِ الطَّلْقَاتِ الثَّلَاثِ الْمَمْلُوكَاتِ فِي هَذَا النِّكَاحِ لَمْ يَبْقَ الْجَزَاءُ“۔ استیفاء کا معنی ہے وصول کرنا۔ طلقات جمع ہے ”طَلْقَةٌ“ کی لام ساکن ہے۔ ”طَلْقَةٌ“ ایک طلاق کو کہتے ہیں۔ ”طَلْقَةٌ“ ایک طلاق کو کہتے ہیں یہ تا وحدت کی ہے اور اس کی جمع ہے ”طَلَقَاتٌ“۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں اب جب نئی ملکیت آ گئی ہے تو اب طلاق واقع نہیں ہو گی۔ اس لیے کہ اس نکاح کے اندر جس میں خاوند نے تعلیق کی تھی اس میں خاوند تین ہی طلاقوں کا مالک تھا، اور عورت نے تینوں طلاقیں وصول کر لیں، تینوں طلاقیں اس کو مل گئیں تو لہٰذا اب جزا ہی ختم ہو گئی۔ خاوند نے کیا کہا تھا؟ ”كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو تجھے طلاق ہے۔ اور یہ طلاق کب واقع ہوتی ہے؟ جب خاوند مالک تو ہو طلاقوں کا۔ تو جب تین طلاقیں واقع ہو گئیں تو اب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بے کار چلا گیا، اس سے آگے تو ہو ہی نہیں سکتی طلاقیں۔ اس سے آگے تو طلاقیں ہو ہی نہیں سکتیں تو جزا ختم ہو گئی۔ جب جزا ختم ہو گئی تو یمین تو کس چیز کا نام تھا؟ شرط اور جزا دونوں کا نام تھا تو جزا ختم ہو گئی تو یمین بھی ختم ہو گئی۔ جیسے پچھلے مسئلے میں بتلایا کہ جب ایک مرتبہ شرط پر عمل کر لیا تو شرط ختم ہو گئی تو یمین بھی ختم، اور یہاں جزا ختم ہو گئی، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ختم ہو گیا کیونکہ خاوند تین ہی طلاقوں کا مالک تھا، اس سے زیادہ کا تو مالک ہی نہیں اور وہ ساری عورت پر واقع ہو گئیں تو جزا ختم ہو گئی، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ختم ہو گیا۔ جب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جزا ختم ہوئی تو یمین بھی ختم کیونکہ یمین شرط اور جزا کا نام ہے۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ بِاسْتِيفَاءِ الطَّلْقَاتِ الثَّلَاثِ“ اس لیے کیونکہ وہ تین طلاقیں وصول کر لینے سے ”الْمَمْلُوكَاتِ فِي هَذَا النِّكَاحِ“ جو مملوک تھیں اس نکاح میں، جن کا خاوند مالک تھا اس نکاح میں، جب وہ طلاقیں عورت نے تین وصول کر لیں ”لَمْ يَبْقَ الْجَزَاءُ“ تو جزا باقی نہ رہی ”وَبَقَاءُ الْيَمِينِ بِهِ وَبِالشَّرْطِ“ اور یمین کی بقا تو جزا اور شرط کے ذریعے ہوتی ہے، تو جب جزا نہ رہی تو یمین بھی نہ رہی، ختم ہو گئی۔ ”وَفِيهِ خِلَافُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اس میں امام زفر رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔
امام زفر اختلاف فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں نہیں، اس نے ”كُلَّمَا“ کہا ہے لہٰذا دوسرے خاوند کے بعد پھر پہلے خاوند نے نکاح کر لیا اب بھی اگر عورت اس گھر میں جائے گی اس کو پھر طلاق واقع ہو جائے گی۔ وہ فرماتے ہیں کہ خاوند نے کیا کہا تھا؟ ”كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو اس کے اندر خاوند نے کوئی قید نہیں لگائی کہ اس نکاح والی طلاقیں مراد ہیں۔ کوئی قید نہیں لگائی، وہ مطلقِ ملکیت اس نے ذکر کی ہے ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ کہ تجھے طلاق ہے جس کا میں مالک ہوں، تو چاہے وہ اس نکاح میں ہو چاہے اگلے نکاح میں ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مطلقِ ملکیت ذکر ہوئی ہے، اس نکاح کی ملکیت ذکر نہیں ہوئی کہ اس نکاح کے اندر میں جتنی طلاقوں کا مالک ہوں وہ واقع ہوں گی، نہیں ایسا نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِيهِ خِلَافُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَسَنُقَرِّرُهُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور ہم عنقریب اس کو ثابت کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ، صاحبِ ہدایہ آگے اس کو ذکر فرمائیں گے۔
”وَلَوْ دَخَلَتْ عَلَى نَفْسِ التَّزَوُّجِ بِأَنْ قَالَ كُلَّمَا تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَهِيَ طَالِقٌ“ جی، ”وَلَوْ دَخَلَتْ عَلَى نَفْسِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے، ایک شخص نے کہا: ”كُلَّمَا تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَهِيَ طَالِقٌ“ میں جب بھی کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے۔ میں جب بھی کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے تو یاد رکھو یہ اس نے بڑے ہی خطرناک الفاظ کہہ دیے۔ اب جب بھی کسی عورت سے نکاح کرے گا ساتھ ہی طلاق واقع ہو جائے گی، اور یہ تو غیر مدخول بہا ہے ابھی تو نکاح کر رہا ہے، اور نکاح کرتے ہی فوراً طلاق آئے گی اور طلاق سے فوراً وہ بائنہ ہو جائے گی پھر وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے وہ عورت، اس پر عدت بھی نہیں ہے کیونکہ یہ غیر مدخول بہا ہے۔ تو لہٰذا اب زندگی بھر نکاح کی کوئی صورت نہیں بھئی۔ جس عورت سے بھی نکاح کرے گا فوراً طلاق واقع ہو جائے گی۔
اور میں نے بتلایا کہ اس میں پھر علماء حیلہ ذکر کرتے ہیں کہ کوئی فضولی اس کا نکاح کروا دے، یہ اپنی زبان سے نکاح کی اجازت نہ دے ورنہ نکاح ہوتے ہی فوراً طلاق ہو جائے گی۔ فضولی اس کا نکاح کروا دے یعنی جس کو اس نے وکیل نہ بنایا ہو بھئی۔ اگر اس نے کسی کو کہا ہے وہ تو وکیل ہو گیا، وہ بھی نکاح کروائے گا تو فوراً طلاق ہو جائے گی۔ لہٰذا کوئی فضولی کروا دے اور یہ زبان سے اس کی نکاح کی اجازت نہ دے بلکہ اپنے کسی فعل کے ذریعے نکاح کی اجازت دے دے، یعنی عورت کو مہر بھجوا دیا تو یہ رضامندی اور اجازت کی علامت ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ دَخَلَتْ عَلَى نَفْسِ التَّزَوُّجِ“ اور اگر کلمۂ ”كُلَّمَا“ داخل ہو گیا نفسِ تزوج پر یعنی نفسِ تزوج کے لفظ پر ”بِأَنْ قَالَ“ بایں صورت کہ خاوند نے یوں کہا ”كُلَّمَا تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَهِيَ طَالِقٌ“ کہ جب بھی میں کسی عورت سے نکاح کروں ”فَهِيَ طَالِقٌ“ تو اسے طلاق ہے ”يَحْنَثُ بِكُلِّ مَرَّةٍ“ تو ہر مرتبہ میں یہ خاوند حانث ہو جائے گا یعنی جیسے ہی نکاح کرے گا طلاق ہو جائے گی ”وَإِنْ كَانَ بَعْدَ زَوْجٍ آخَرَ“ اگرچہ دوسرے خاوند کے بعد ہی کیوں نہ ہو، اسی ایک عورت سے نکاح کیا فوراً طلاق ہو گئی، پھر دوبارہ نکاح کیا پھر طلاق ہو گئی، پھر نکاح کیا فوراً طلاق ہو گئی، اب تو نکاح کر ہی نہیں سکتا۔ اب اس عورت نے کسی اور سے نکاح کر لیا، اس نے پھر بعد میں طلاق دے دی پھر یہ پہلا خاوند دوبارہ نکاح کرتا ہے تو اس صورت میں بھی جیسے ہی نکاح کرے گا طلاق واقع ہو جائے گی اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا؟ جب بھی میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے۔ تو جب بھی نکاح کرے گا ساتھ ہی طلاقوں کا مالک بنے گا خاوند اور ساتھ ہی وہ طلاق واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”يَحْنَثُ بِكُلِّ مَرَّةٍ وَإِنْ كَانَ بَعْدَ زَوْجٍ آخَرَ“ کہ ہر مرتبہ میں خاوند حانث ہو جائے گا یعنی جزا واقع ہو جائے گی ”وَإِنْ كَانَ بَعْدَ زَوْجٍ آخَرَ“ یعنی اگرچہ کسی دوسرے خاوند کے بعد یہ نکاح ہو ”لِأَنَّ انْعِقَادَهَا بِاعْتِبَارِ مَا يَمْلِكُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلَاقِ بِالتَّزَوُّجِ“ ”لِأَنَّ انْعِقَادَهَا“ اس لیے کیونکہ اس یمین کا منعقد ہونا ”بِاعْتِبَارِ“ وہ اس اعتبار سے ہے کہ ”مَا يَمْلِكُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلَاقِ“ کہ جس کا وہ خاوند اس عورت پر مالک بنتا ہے ”مِنَ الطَّلَاقِ“ یعنی کہ طلاق کا ”بِالتَّزَوُّجِ“ نکاح کے ذریعے۔ بھئی یہ عبارت سمجھ لیں۔ ”مَا يَمْلِكُ عَلَيْهَا“ جس کا خاوند مالک بنتا ہے علیہا اس عورت پر، ”مِنَ الطَّلَاقِ“ یہ بیان ہے ”مَا يَمْلِكُ“ کا۔ کس چیز کا مالک بنتا ہے خاوند؟ ”مِنَ الطَّلَاقِ“ یعنی کہ طلاق۔ لہٰذا اس ”مَا“ کو ہٹا دیں اور اس کی جگہ یہ طلاق کا لفظ لے آئیں: ”بِاعْتِبَارِ مَا يَمْلِكُ عَلَيْهَا“ اَی ”بِاعْتِبَارِ الطَّلَاقِ يَمْلِكُ عَلَيْهَا“۔ اب ترجمہ سنیے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ انْعِقَادَهَا بِاعْتِبَارِ مَا يَمْلِكُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلَاقِ بِالتَّزَوُّجِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو قسم منعقد ہوئی ہے اس کا منعقد ہونا اس اعتبار سے ہے کہ خاوند اس عورت پر طلاق کا مالک ہو گیا ہے ”بِالتَّزَوُّجِ“ نکاح کرنے کی وجہ سے ”وَذَلِكَ غَيْرُ مَحْصُورٍ“ اور یہ طلاقیں جن کا وہ مالک بنتا ہے غیر محصور ہیں، ان کی تو کوئی حد نہیں ہے، ان کی تو کوئی انتہا نہیں ہے، جب بھی نکاح کرے گا یہ طلاق کا مالک بنے گا اور مالک بنتے ہی وہ طلاق واقع ہو جائے گی۔
آگے دیکھیے، ”قَالَ: وَزَوَالُ الْمِلْكِ بَعْدَ الْيَمِينِ لَا يُبْطِلُهَا“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ عورت ابھی اس گھر میں نہیں گئی کہ خاوند نے پہلے ہی طلاقِ بائن دے دی۔ وہ طلاق ابھی بھی معلق ہے لیکن خاوند نے ایک اور طلاقِ بائن دے دی تو عورت سے نکاح ختم ہو گیا، ٹوٹ گیا۔ توجہ ہے؟ بعد میں کسی وقت زندگی میں خاوند پھر اسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے۔ جب خاوند پھر اسی عورت سے نکاح کرے گا تو تعلیق ابھی بھی موجود ہے کیونکہ وہ عورت ابھی تک اس گھر میں نہیں گئی، لہٰذا اب بھی عورت اس گھر میں جائے گی تو اس کو طلاق ہو جائے گی، طلاق ہو جائے گی۔ اور ایک طلاق تو خاوند نے پہلے بھی دی تھی، طلاقِ بائن پہلے بھی دی تھی اور ایک یہ بھی واقع ہو گئی، اب زندگی بھر اس شخص کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہ گیا۔ صرف ایک طلاق کا حق باقی رہ گیا۔ اور اگر پہلے یہ دو دے چکا تھا تو اب جیسے ہی جائے گی تیسری بھی واقع ہو گئی اور حرمتِ مغلظہ آ جائے گی، اب خاوند کا اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں الّا یہ کہ درمیان میں کوئی اور خاوند آئے بھئی۔
اور اگر خاوند نے طلاق معلق کی کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اور پھر خاوند نے طلاقِ بائن دے دی اس کو، وہ طلاق معلق ہے خاوند نے طلاقِ بائن دے دی اور عورت بائنہ ہو گئی، جدا ہو گئی۔ بعد میں کسی وقت وہ عورت اس گھر میں گئی تو اب تو نکاح بالکل ٹوٹ چکا ہے، ختم ہو چکا ہے۔ نکاح ختم ہو چکا ہے، لہٰذا وہ شرط پوری ہو گئی، وہ عورت گھر میں چلی گئی، شرط پوری ہو گئی، اور طلاق آ گئی لیکن یہ عورت تو طلاق کا محل ہی نہیں ہے، خاوند سے تو اس کا نکاح ٹوٹ چکا ہے، لہٰذا طلاق لغو چلی جائے گی اور وہ یمین بھی کھل گئی اور ختم ہو گئی۔ یمین کی بقا تو کس کے ذریعے تھی؟ شرط اور جزا کے ذریعے اور وہ شرط اور جزا تو ختم ہو گئے، کھل گئے۔ لہٰذا اب خاوند نے اس سے نکاح کر لیا، اب یمین کھل چکی ہے، اب یہ عورت اس گھر میں جائے گی تو اس سے طلاق نہیں ہو گی کیونکہ یمین کھل چکی ہے، ختم ہو چکی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَزَوَالُ الْمِلْكِ بَعْدَ الْيَمِينِ لَا يُبْطِلُهَا“ اور ملکیت کا زائل ہو جانا یمین کے بعد ”لَا يُبْطِلُهَا“ یہ یمین کو باطل نہیں کرتا۔ یمین یعنی تعلیق کر دی پھر طلاقِ بائن دے دی تو خاوند کی ملکیت تو ختم ہو گئی عورت پر سے پھر بھی تعلیق اپنی جگہ ہے، تعلیق ختم نہیں۔
جیسے پہلی مثال تھی، ایک شخص نے ایک اجنبیہ عورت سے کہا: ”إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے۔ تو یہ یمین ہے، تعلیق ہے، اور اس وقت یہ شخص طلاقوں کا مالک ہے؟ مالک نہیں لیکن پھر بھی تعلیق صحیح ہے کیونکہ اس نے ملکیت کی طرف نسبت کی ہے۔ تو جب ہمارے نزدیک ابتداءِ تعلیق میں ملکیت ضروری نہیں، ہمارے نزدیک ابتداءِ تعلیق کے اندر جب ملکیت ضروری نہیں تو بقائے تعلیق کے لیے بطریقِ اولیٰ ملکیت ضروری نہیں۔ ملکیت کے بغیر بھی تعلیق باقی رہے گی۔ جب تعلیق کی ابتدا بغیر ملکیت کے ہو سکتی ہے تو تعلیق کی بقا بھی بغیر ملکیت کے ہو سکتی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَزَوَالُ الْمِلْكِ بَعْدَ الْيَمِينِ لَا يُبْطِلُهَا“ اور ملکیت کا زائل ہو جانا یمین کے بعد ”لَا يُبْطِلُهَا“ وہ اس یمین کو باطل نہیں کرتا ”لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الشَّرْطُ فَبَقِيَ“ اس لیے کیونکہ شرط نہیں پائی گئی، ابھی شرط والا فعل ابھی تک نہیں ہوا ”فَبَقِيَ“ تو شرط باقی ہے ”وَالْجَزَاءُ بَاقٍ لِبَقَاءِ مَحَلِّهِ“ اور جزا بھی باقی ہے کیونکہ جزا کا محل باقی ہے یعنی وہ عورت جس کو خاوند نے ابھی صرف ایک طلاق دی ہے۔ خاوند نے اس کو صرف ایک طلاق دی ہے تو احتمال ہے خاوند اس سے ہو سکتا ہے دوبارہ نکاح کر لے تو محل یعنی جس پر جزا نے واقع ہونا ہے، جزا نے کس پر واقع ہونا تھا؟ اس عورت پر۔ تو شرط بھی باقی ہے کیونکہ شرط والا فعل ابھی نہیں پایا گیا، اور جزا بھی باقی ہے کیونکہ جزا کا محل یعنی وہ عورت ابھی باقی ہے، اس کو خاوند نے تینوں طلاقیں نہیں دیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الشَّرْطُ فَبَقِيَ“ اس لیے کیونکہ شرط نہیں پائی گئی تو شرط باقی ہے ”وَالْجَزَاءُ بَاقٍ لِبَقَاءِ مَحَلِّهِ“ اور جزا بھی باقی ہے کیونکہ جزا کا محل یعنی وہ عورت باقی ہے ”فَبَقِيَ الْيَمِينُ“ تو یمین بھی باقی رہے گی کیونکہ یمین تو کس چیز کا نام ہے؟ شرط اور جزا کا۔ ”ثُمَّ إِنْ وُجِدَ الشَّرْطُ فِي مِلْكِهِ انْحَلَّتِ الْيَمِينُ وَوَقَعَ الطَّلَاقُ“ ”ثُمَّ إِنْ وُجِدَ الشَّرْطُ فِي مِلْكِهِ“ پھر اگر یہ شرط پائی گئی ”فِي مِلْكِهِ“ اسی خاوند کی ملکیت میں یعنی اس نے دوبارہ نکاح کر لیا تھا تو اب ”انْحَلَّتِ الْيَمِينُ“ تو اب یمین کھل جائے گی ”وَوَقَعَ الطَّلَاقُ“ اور طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ خاوند اس وقت پھر مالک ہے اس عورت کا۔ تو کہتے ہیں طلاق واقع ہو جائے گی ”لِأَنَّهُ وُجِدَ الشَّرْطُ“ کیونکہ شرط پائی گئی ہے ”وَالْمَحَلُّ قَابِلٌ لِلْجَزَاءِ“ اور محل یعنی وہ عورت جو ہے وہ بھی قابل للجزاء، جزا کے قابل ہے، وہ جزا کو قبول کر رہی ہے۔ قابل قبول سے ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَحَلُّ قَابِلٌ لِلْجَزَاءِ“ اور یہ محل بھی جزا کو قبول کرنے والا ہے، قبول کر رہا ہے کیونکہ اس وقت اس کی بیوی ہے ”فَيَنْزِلُ الْجَزَاءُ“ تو جزا نازل ہو جائے گی یعنی طلاق ہو جائے گی ”وَلَا يَبْقَى الْيَمِينُ“ اور اب یمین باقی نہیں رہے گی کیونکہ شرط بھی پوری ہو گئی، جزا بھی واقع ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَبْقَى الْيَمِينُ“ یمین باقی نہیں رہے گی ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا۔ وہ جو ہم نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو یمین ہے یہ عموم اور تکرار کا تقاضا نہیں کرتی بھئی، یا وہ جو ہم نے کہا تھا کہ یمین شرط اور جزا کا نام ہے تو جب شرط اور جزا دونوں پورے ہو گئے ہیں تو یمین بھی کھل گئی اب اس کا وجود بھی باقی نہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَلَا يَبْقَى الْيَمِينُ لِمَا قُلْنَا“ اور یمین باقی نہیں رہے گی ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا۔
”وَإِنْ وُجِدَ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ انْحَلَّتِ الْيَمِينُ لِوُجُودِ الشَّرْطِ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تعلیق ہو گئی اب یہ طلاق معلق ہے۔ لیکن اس گھر میں جانے سے پہلے ہی خاوند نے اس عورت کو ایک اور طلاقِ بائن دے دی، یہ اس خاوند سے جدا ہو گئی۔ اور پھر عدت کے بعد یہ عورت کسی وقت اس گھر میں چلی گئی تو اب شرط پوری ہو گئی، شرط والا فعل پایا گیا۔ شرط والا فعل پایا گیا تو لہٰذا شرط پوری ہو گئی وہ ختم ہو گئی اور جزا یعنی طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ عورت اس وقت طلاق کا محل ہی نہیں ہے۔ اور میں نے قید لگائی کہ عورت عدت کے بعد اس گھر میں گئی تو طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ اس لیے کیونکہ اگر عورت عدت کے اندر اس گھر کے اندر چلی گئی تو پھر وہ معلق طلاق بھی واقع ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ عدت کے اندر خاوند طلاق دے تو وہ پہلی طلاق کے ساتھ مل جاتی ہے۔ جہاں کتاب الطلاق ہم نے شروع کی تھی وہاں میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا: ”اَلصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ“ کہ ایک خاوند ایک طلاق دے دے اور پھر عدت کے اندر دوسری طلاق دے تو کیا دوسری طلاق پہلی طلاق سے ملے گی یا نہیں ملے گی؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا ”اَلصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَالْبَائِنَ“ کہ صریح جو ہے صریح سے بھی مل جائے گی اور بائن سے بھی۔ یعنی اگر دوسری طلاق صریح ہے، صاف لفظوں میں طلاق ہے تو وہ پہلی طلاق کے ساتھ مل جائے گی چاہے پہلی چاہے پہلی طلاق صریح ہو چاہے بائن ہو۔ ”وَالْبَائِنُ لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ“ اور بائن جو ہے طلاق وہ بائن کے ساتھ نہیں ملے گی یعنی بائن کنایہ جو ہے وہ پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گی۔ بائن اگر دوسری طلاق کنایہ بائن ہے تو وہ پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گی چاہے پہلی صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو لہٰذا یہ عورت خاوند نے اس کو طلاق دے دی اور یہ عدت کے بعد اس گھر میں گئی ہے تو اب طلاق واقع نہیں ہو گی لیکن اگر یہ عورت عدت کے اندر اس گھر میں گئی تو یہ دوسری طلاق جو معلق تھی یہ بھی واقع ہو جائے گی بھئی۔ یہ بھی واقع ہو جائے گی۔ تو خاوند نے ایک طلاق معلق کر دی کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو یہ طلاق معلق ہے اور خاوند نے طلاقِ بائن دے دی تو یہ عورت خاوند سے جدا ہو گئی اور پھر اس نے عدت بھی پوری کر لی۔ عدت پوری کرنے کے بعد اب نکاح پوری طرح ٹوٹ چکا ہے۔
اب اس کے بعد عورت اس گھر کے اندر جاتی ہے تو شرط پوری ہو گئی۔ جب شرط پوری ہوئی تو یمین کھل گئی۔ البتہ طلاق واقع نہیں ہوگی اس لیے کیونکہ اس وقت یہ عورت طلاق کا محل ہی نہیں ہے، اس کا تو نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ اور پھر اس کے بعد اسی شخص سے اس عورت نے دوبارہ نکاح کر لیا تو اب اس گھر کے اندر جائے گی تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ یمین کھل چکی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنْ وُجِدَ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ"، اور اگر وہ فعل غیر ملکیت میں پایا گیا، "انْحَلَّتِ الْيَمِينُ"، تو یمین کھل جائے گی، "لِوُجُودِ الشَّرْطِ"، شرط پائے جانے کی وجہ سے، "وَلَمْ يَقَعْ شَيْءٌ"، اور کچھ بھی واقع نہیں ہوگا، یعنی طلاق واقع نہیں ہوگی، "لِانْعِدَامِ الْمَحَلِّيَّةِ"، محل کے نہ ہونے کی وجہ سے، کہ وہ عورت اب طلاق کا محل ہی نہیں، جدائی آ چکی ہے پہلے سے ہی۔
"وَإِنِ اخْتَلَفَا فِي الشَّرْطِ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ"، صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا شرط کے ساتھ۔ خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا شرط کے ساتھ اور پھر بعد میں میاں بیوی کا اختلاف ہو گیا۔ بیوی کہتی ہے شرط پوری ہو چکی ہے اور خاوند کہتا ہے شرط پوری نہیں ہوئی۔ مثلاً یہ تو ایک سیدھی سی مثال ہے خاوند کیا کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ اس میں تو ظاہر سی بات ہے اختلاف نہیں ہوگا۔ اگر اختلاف کرے گا بھی تو بیوی اسی وقت چلی جائے گی کہ یہ لو اب میں پھر چلی گئی۔ تو تعلیق تو تھی طلاق تو واقع ہو جائے گی، لیکن کوئی اور شرط ہے، مثلاً خاوند نے ذکر کی تھی اور بیوی بعد میں کہتی ہے یہ شرط پائی گئی، شرط پوری ہو گئی، جب شرط پوری ہو گئی مجھے طلاق بھی ہو گئی، اور خاوند کہتا ہے نہیں یہ شرط پوری نہیں ہوئی، ابھی تک یہ شرط والا فعل نہیں ہوا بھئی، دونوں میں اختلاف آ گیا۔ تو اب کہتے ہیں کہ عورت چونکہ طلاق کی مدعیہ ہے، اور شرط پائی جائے گی تو طلاق ہو جائے گی، تو لہٰذا عورت مدعیہ ہوئی یعنی طلاق کی اور خاوند منکر ہوا۔ اور آپ نے پڑھا ہے: "الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ"، کہ مدعی کے ذمے بینہ ہوتی ہے، لہٰذا اگر عورت دو گواہ لے آئی تو عورت کے حق میں قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے گا۔ اور اگر عورت گواہ نہ لا سکی تو پھر خاوند کے قول کا اعتبار ہے کیونکہ منکر کا قول معتبر ہوتا ہے قسم کے ساتھ۔ تو خاوند اگر قسم کھا لے گا کہ واللہ قاضی صاحب یہ شرط نہیں پائی گئی تو پھر قاضی بقائے نکاح کا حکم لگا دے گا کہ جدائی نہیں ہوئی، نکاح اسی طرح باقی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنِ اخْتَلَفَا فِي الشَّرْطِ"، اور اگر میاں بیوی دونوں نے اختلاف کر لیا شرط میں، "فَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ"، تو وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ، أَيِ: فَالْقَوْلُ الْمُعْتَبَرُ قَوْلُ الزَّوْجِ، وہ قول جو معتبر ہے وہ کس کا قول ہے؟ خاوند کا، "إِلَّا أَنْ تُقِيمَ الْمَرْأَةُ الْبَيِّنَةَ"، مگر یہ کہ عورت بینہ قائم کر دے، گواہ پیش کر دے، "لِأَنَّهُ مُتَمَسِّكٌ بِالْأَصْلِ وَهُوَ عَدَمُ الشَّرْطِ"، اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ دلیل پکڑنے والا ہے اصل سے، وَهُوَ عَدَمُ الشَّرْطِ، اور وہ عدمِ شرط ہے۔ بھئی یاد رکھو، قول اس شخص کا معتبر ہوتا ہے جو اصل کے ساتھ دلیل پکڑے، جو اصل کو دلیل بنائے۔ خاوند نے کہا بیوی سے، فرض کرو اسی میں اختلاف ہے، عورت کہتی ہے میں اس گھر میں گئی تھی، خاوند کہتا ہے تم اس گھر میں نہیں گئی۔ جس وقت خاوند نے تعلیق کی ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو اس وقت عدمِ فعل ہے۔ اس وقت دخولِ دار پایا جا رہا ہے یا نہیں پایا جا رہا؟ جس وقت خاوند تعلیق کر رہا ہے، اس وقت تو دخولِ دار نہیں پایا جا رہا، تو اصل جو ہے وہ عدمِ شرط ہے، شرط کا نہ پایا جانا۔ اور شرط کا پایا جانا یہ خلافِ اصل ہے۔ یہ کیا ہے؟ خلافِ اصل ہے، اور قول اسی کا معتبر ہوتا ہے جو اصل سے استدلال کرے، جو اصل کو دلیل بنائے۔ اور اصل بھی کیا تھا؟ شرط کا نہ ہونا اصل تھا اور ہونا خلافِ اصل تھا، تو خاوند اصل کو دلیل بنا رہا ہے لہٰذا خاوند کا قول معتبر ہے۔ ایک وجہ یہ، اور نیز اس لیے خاوند کا قول معتبر کیونکہ خاوند منکر ہے بھئی، اور قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ منکر کا۔
تو کہتے ہیں خاوند کا قول معتبر ہے، "لِأَنَّهُ مُتَمَسِّكٌ بِالْأَصْلِ"، کیونکہ خاوند جو ہے اصل کے ساتھ استدلال کرنے والا ہے، "وَهُوَ عَدَمُ الشَّرْطِ"، اور اصل کیا ہے؟ عدمِ شرط، شرط کا وجود نہ ہونا، "وَلِأَنَّهُ مُنْكِرٌ وُقُوعَ الطَّلَاقِ وَزَوَالَ الْمِلْكِ"، اور اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ وقوعِ طلاق اور زوالِ ملک کا منکر ہے، خاوند وقوعِ طلاق کا انکار کر رہا ہے اور زوالِ ملک کا انکار کر رہا ہے کہ میری ملکیت اس عورت سے ختم نہیں ہے، تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّهُ مُنْكِرٌ وُقُوعَ الطَّلَاقِ وَزَوَالَ الْمِلْكِ"، اور اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وقوعِ طلاق اور زوالِ ملکیت کا منکر ہے، "وَالْمَرْأَةُ تَدَّعِيهِ"، اور عورت جو ہے وہ اس کا دعویٰ کر رہی ہے، یعنی وقوعِ طلاق اور زوالِ ملک کا عورت دعویٰ کر رہی ہے، تو خاوند کا قول معتبر ہے کیونکہ وہ منکر ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: "فَإِنْ كَانَ الشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ إِلَّا مِنْ جِهَتِهَا"، بھئی یاد رکھو، اگر خاوند نے ایسی شرط ذکر کی ہے جس کا پتہ عورت ہی دے سکتی ہے، عورت سے ہی اس کا پتہ چل سکتا ہے، کسی اور سے نہیں، تو پھر اس صورت میں اگر عورت شرط کے پائے جانے کی خبر دے گی تو پھر اس صورت میں اس کے اپنے حق میں اس کو قبول کر لیا جائے گا، کسی دوسرے کے حق میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: "إِنْ حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، إِنْ حِضْتِ، اگر تجھے حیض آیا، فَأَنْتِ طَالِقٌ، تجھے طلاق ہے۔ اب یہ حیض کا آنا اس کا تو عورت ہی ہمیں بتلا سکتی ہے کہ اس کو حیض آیا ہے یا حیض نہیں آیا۔ تو اس صورت میں اگر عورت کہتی ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے تو عورت کا قول معتبر ہے قسم کے ساتھ، کیونکہ عورت اس معاملے میں امین ہے، امانت دار ہے۔ کیا ہے؟ امانت دار ہے بھئی۔ یہاں تو اس کی اپنی ذات کا معاملہ ہے، کسی اور کا معاملہ نہیں، اور اپنی ذات کے بارے میں انسان امین ہوتا ہے، تو عورت امین ہے، اس کی بات قسم کے ساتھ قبول کر لی جائے گی، اور تو کوئی دلیل یہاں موجود نہیں ہے۔ لیکن عورت کے اپنے حق میں قبول کی جائے گی، کسی اور کے حق میں قبول نہیں کی جائے گی۔ مثلاً خاوند نے کہا تھا بیوی سے: "إِنْ حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَضَرَّتُكِ"، تجھے بھی طلاق ہے اور تیری سوکن کو بھی طلاق ہے۔ تو اب عورت کہتی ہے مجھے حیض آ گیا، تو عورت کو تو طلاق ہو جائے گی، لیکن اگر خاوند انکار کرتا ہے کہ نہیں تجھے حیض نہیں آیا تو پھر سوکن کو طلاق نہیں ہوگی۔ لیکن اگر خاوند تصدیق کر دے کہ ہاں تجھے حیض آ گیا ہے تو پھر تو سوکن کے بارے میں بھی بات قبول کر لی جائے گی، اس کو طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن اگر خاوند عورت کی تکذیب کرتا ہے، اس کو جھٹلاتا ہے کہ نہیں تجھے حیض نہیں آیا، تو اس صورت میں عورت کے اپنے حق میں تو یہ بات قبول کی جائے گی، عورت کو طلاق ہو جائے گی بھئی خاوند بے شک انکار کرتا رہے، لیکن سوکن کے بارے میں عورت کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
تو کہتے ہیں: "فَإِنْ كَانَ الشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ إِلَّا مِنْ جِهَتِهَا"، تو اگر شرط جو ہے وہ معلوم نہیں ہو سکتی، إِلَّا مِنْ جِهَتِهَا، مگر عورت کی جانب سے ہی، "فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا فِي حَقِّ نَفْسِهَا"، تو اس عورت ہی کا قول معتبر ہوگا فِي حَقِّ نَفْسِهَا اپنی ذات کے بارے میں، "مِثْلُ أَنْ يَقُولَ"، مثال کے طور پر خاوند یوں کہتا ہے: "إِنْ حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَفُلَانَةُ"، کہ اگر تجھے حیض آیا تو تجھے بھی طلاق ہے وَفُلَانَةُ اور فلانی میری جو بیوی ہے اس کو بھی طلاق ہے۔ بھئی یہ بات میں پہلے بیان کر چکا کہ یہ فُلَانَةُ یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ یہ کنایہ ہے علم سے، اس کے ذریعے کسی معین ذات کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو یہ علم سے کنایہ ہے اور تو یہ علم کے درجے میں ہے، اور نیز اس کے ساتھ گول تا بھی جڑی ہوئی ہے جو تانیث کی علامت ہے، تو ایک علمیت آ گئی ایک تانیث آ گئی، اس لیے یہ غیر منصرف ہے۔ عموماً طلبہ اس کو منصرف پڑھتے ہیں، یہ درست نہیں ہے بھئی۔ اور میں نے حوالہ بھی ذکر کیا تھا کہ علامہ رضی نے قافیہ کی جو شرح لکھی ہے اور نہایت عظیم شرح ہے، اس شرح کے اندر جہاں پر معرفہ کی بحث کرتے ہیں صاحبِ قافیہ، معرفہ کی تعریف کرتے ہیں، تو وہیں پر اس مقام پر جو علامہ رضی شرح کرتے ہیں تو وہاں وہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ فُلَانَةُ یہ لفظ کیا ہے؟ غیر منصرف ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں خاوند نے بیوی سے کہا: "إِنْ حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَفُلَانَةُ"، کہ اگر تجھے حیض آیا تو تجھے بھی طلاق ہے اور فلانی میری بیوی کو بھی، "فَقَالَتْ قَدْ حِضْتُ"، عورت نے کہا کہ تحقیق مجھے حیض آ گیا، "طُلِّقَتْ هِيَ وَلَمْ تُطَلَّقْ فُلَانَةُ"، عورت نے کیا کہا مجھے حیض آ گیا، طُلِّقَتْ هِيَ، تو عورت کو تو طلاق ہو جائے گی، وَلَمْ تُطَلَّقْ فُلَانَةُ، لیکن اس فلانی کو طلاق نہیں ہوگی۔ میں نے بتایا یہ اس وقت ہے جب خاوند عورت کو جھٹلاتا ہے۔ اگر خاوند عورت کو نہیں جھٹلاتا، اس کی تصدیق کرتا ہے کہ ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، پھر فلانی کو بھی طلاق ہو جائے گی، اس عورت کو بھی اور فلانی کو بھی۔ لیکن اگر خاوند جھٹلائے گا تو اس عورت کے حق میں بات قبول کریں گے کیونکہ اپنے بارے میں یہ امین ہے۔
تو کہتے ہیں: "طُلِّقَتْ هِيَ"، اس کو تو طلاق ہو جائے گی، "وَلَمْ تُطَلَّقْ فُلَانَةُ"، اور فلانی کو طلاق نہیں ہوگی، یعنی جب خاوند اس کو جھٹلائے۔ "وَوُقُوعُ الطَّلَاقِ اسْتِحْسَانٌ"، اور طلاق کا واقع ہونا استحسان ہے، طلاق کا واقع ہونا یہاں یعنی ہم نے کہا اس عورت کو طلاق ہو جائے گی، تو اس کو بھی طلاق کا ہونا یہ استحسان ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس میں عورت کی تصدیق نہیں ہونی چاہیے۔ بھئی کس طرح قیاس یہ تقاضا کرتا ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی دیکھیے، ابھی تو ہم نے آپ کو بتایا کہ اگر شرط کے بارے میں خاوند اور بیوی میں اختلاف آ جائے تو کس کا قول معتبر ہے؟ خاوند کا قول معتبر ہے، عورت کا قول معتبر نہیں۔ تو یہاں بھی جب خاوند عورت کو جھٹلا رہا ہے تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس شرط کے اندر بھی عورت کی تصدیق نہیں ہونی چاہیے بھئی، خاوند کا قول معتبر ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: "وَوُقُوعُ الطَّلَاقِ اسْتِحْسَانٌ"، اور طلاق کا واقع ہونا استحسان ہے، "وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يَقَعَ"، اور قیاس تو یہ ہے کہ طلاق واقع نہ ہو، "لِأَنَّهُ شَرْطٌ"، کیونکہ حیض کا آنا تو شرط ہے، "فَلَا تُصَدَّقُ كَمَا فِي الدُّخُولِ"، تو لہٰذا عورت کی تصدیق نہیں کی جائے گی كَمَا فِي الدُّخُولِ جیسے اس گھر کے اندر داخل ہونے میں عورت کی تصدیق نہیں کی جاتی تھی تو یہاں بھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
"وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ"، استحسان کی وجہ یہ ہے، دیکھو قیاسِ خفی ذکر کریں گے اور قیاسِ خفی کو بھی استحسان تب کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں کیا آئے؟ قیاسِ جلی، اور یہاں قیاسِ جلی موجود ہے کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے طلاق نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اختلاف کس میں آیا ہے؟ شرط میں، اور شرط میں جب اختلاف آئے تو عورت کی بات قبول نہیں کی جاتی بلکہ خاوند کی بات قبول کی جاتی ہے۔ لیکن استحساناً قبول کیا جائے گا، طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: "وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّهَا أَمِينَةٌ فِي حَقِّ نَفْسِهَا"، استحسان کی وجہ یہ ہے کہ یہ عورت اپنے حق میں امین ہے، اپنے حق میں امین ہے، امانت دار ہے، "إِذْ لَا يُعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا مِنْ جِهَتِهَا"، اس لیے کیونکہ شرط کا علم نہیں ہو سکتا إِلَّا مِنْ جِهَتِهَا مگر عورت کی جانب سے ہی، "فَيُقْبَلُ قَوْلُهَا"، لہٰذا عورت کے قول کو قبول کیا جائے گا، "كَمَا قُبِلَ فِي حَقِّ الْعِدَّةِ وَالْغَشَيَانِ"، جیسے کہ عورت کا قول قبول کیا جاتا ہے عدت کے حق میں بھی وَالْغَشَيَانِ اور غشیان یعنی صحبت بھئی، وطی۔ غشیان کنایہ ہے کس سے؟ صحبت اور وطی سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "كَمَا قُبِلَ فِي حَقِّ الْعِدَّةِ وَالْغَشَيَانِ"، جیسے عورت کا قول قبول کیا جاتا ہے عدت کے حق میں بھی اور صحبت کے حق میں بھی۔ بھئی جیسے خاوند نے عورت کو طلاق دے دی تو اب عورت کا قول قبول کیا جائے گا عدت کے بارے میں، اگر وہ کہتی ہے میری عدت گزر گئی ہے تو عدت گزر چکی، اور اگر وہ کہتی ہے میری عدت نہیں گزری تو پھر ابھی عدت نہیں گزری۔ یا اسی طرح صحبت کے بارے میں بھی، مثلاً خاوند بیوی سے صحبت کرتا ہے تو بیوی اگر کہتی ہے میں حیض کی حالت میں ہوں یعنی میں پاک نہیں ہوں تو خاوند اس کی بات قبول کرے گا، اس سے صحبت نہیں کرے گا۔ اور اگر بیوی کہے گی میں پاک ہوں تو خاوند اس کی بات قبول کرے گا اور اس کے ساتھ پھر وہ صحبت کر سکتا ہے۔ تو جیسے وطی کے بارے میں خاوند اس کے قول کو قبول کرتا ہے اسی طرح جیسے عدت کے بارے میں عورت کے قول کو قبول کیا جاتا ہے، تو یہاں بھی عورت کے قول کو قبول کیا جائے گا کیونکہ حیض ایسی چیز ہے جس کا پتہ عورت سے ہی چل سکتا ہے بھئی۔ یہ تو ایک صورت غشیان کی میں نے ذکر کی کہ صحبت کے بارے میں بھی خاوند عورت کا قول قبول کرے گا، اگر عورت کہے گی میں پاک ہوں تو خاوند کے لیے صحبت جائز ہوگی، اور اگر بیوی کہے گی میں پاک نہیں ہوں، حیض کی حالت میں ہوں، تو خاوند کے لیے بھی صحبت جائز نہیں ہوگی۔
یا دوسری صورت صحبت کی لے لیں، ایک شخص نے ایک عورت کو طلاق دے دی ہے، کچھ مدت کے بعد وہی عورت دوبارہ اس کے پاس آئی کہ میرے ساتھ نکاح کر لو، میرے ساتھ نکاح کر لو، میں نے فلاں آدمی سے نکاح کیا تھا اس دوران، عدت کے بعد میں نے فلاں آدمی سے نکاح کیا تھا اور اس نے میرے ساتھ صحبت بھی کر لی تھی اور پھر اس نے مجھے طلاق دی ہے، اب میں دوبارہ آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے پڑھا ہے کہ خاوند جب بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو ضروری ہے کہ وہ عورت اب کسی اور سے نکاح کرے اور صرف نکاح کافی نہیں، اس کا صحبت کرنا بھی ضروری ہے، پھر اس کے بعد اگر وہ طلاق دیتا ہے یا اس کا انتقال ہو جاتا ہے تو اب عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی۔ تو یہاں پر بھی عورت اگر آ کر یہ کہتی ہے کہ میں نے نکاح کیا تھا اور دوسرا شخص میرے ساتھ صحبت کر چکا ہے تو اس صحبت میں عورت کی بات قبول کی جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی، تو پہلے خاوند کے لیے اس کے ساتھ نکاح جائز ہو جائے گا، وہ اس کے ساتھ اب نکاح کر سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: "فَيُقْبَلُ قَوْلُهَا كَمَا قُبِلَ فِي حَقِّ الْعِدَّةِ وَالْغَشَيَانِ"، تو اس مسئلے کے اندر بھی شرط کے بارے میں عورت کے قول کو قبول کیا جائے گا جیسے عورت کا قول قبول کیا جاتا ہے عدت اور صحبت کے بارے میں، "وَلَكِنَّهَا شَاهِدَةٌ فِي حَقِّ ضَرَّتِهَا"، لیکن یہ عورت تو گواہ ہے فِي حَقِّ ضَرَّتِهَا اپنی سوکن کے حق میں، "بَلْ هِيَ مُتَّهَمَةٌ"، بلکہ یہ تو متہمہ ہے، "فَلَا يُقْبَلُ قَوْلُهَا فِي حَقِّهَا"، لہٰذا اس کے حق میں اس کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپنے بارے میں قول قبول کر لیں گے، اس عورت کو طلاق ہو جائے گی، خاوند بے شک رد کر رہا ہے پھر بھی اس کو طلاق ہو جائے گی، لیکن سوکن کے حق میں اس کے قول کو قبول نہیں کریں گے کہ سوکن کو طلاق ہو گئی ہے۔ وجہ یہ کہ یہ سوکن کے خلاف گواہی دے رہی ہے۔ خاوند نے کیا کہا تھا؟ اگر تجھے حیض آیا تو تجھے بھی طلاق ہے اور میری فلانی بیوی کو بھی طلاق ہے۔ تو اس عورت کے بارے میں تو اس قول کو قبول کر لیا جائے گا قسم کے ساتھ، لیکن سوکن کے بارے میں قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ گویا یہ سوکن کے خلاف گواہی دے رہی ہے۔ کیا کر رہی ہے؟ سوکن کے خلاف گواہی دے رہی ہے، اور گواہی تو صرف اکیلی عورت کی قابلِ قبول نہیں، دو مرد ہونے چاہییں یا ایک مرد اور دو عورتیں، اس سے کسی چیز کا اثبات ہو سکتا ہے۔ تو لہٰذا چونکہ یہ اکیلی ہے اس لیے اس کی گواہی قبول نہیں۔ یا نیز اس لیے بھی کہ وہ دوسری عورت تو اس کی سوکن ہے اور دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ اس کی طلاق کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے۔ تو یہ معنی ہے: "وَلَكِنَّهَا شَاهِدَةٌ فِي حَقِّ ضَرَّتِهَا"، لیکن یہ عورت تو گواہ ہے اپنی سوکن کے حق میں یعنی طلاق کے سلسلے میں کہ اس پر طلاق واقع ہو جائے، "بَلْ هِيَ مُتَّهَمَةٌ"، بلکہ یہ تو متہمہ ہے، یعنی اس کے بارے میں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ اس کو نقصان پہنچانے کے لیے یوں کہہ رہی ہے تاکہ اس کو بھی طلاق ہو جائے بھئی۔ تو تہمت کسے کہتے ہیں؟ بدگمانی کو۔ یہ متہم ہے یعنی اس کے بارے میں دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ "فَلَا يُقْبَلُ قَوْلُهَا فِي حَقِّهَا"، لہٰذا اس عورت کا قول اس کی سوکن کے حق میں قبول نہیں کیا جائے گا۔
آگے دیکھیے: "وَكَذَلِكَ لَوْ قَالَ إِنْ كُنْتِ تُحِبِّينَ أَنْ يُعَذِّبَكِ اللَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَعَبْدِي حُرٌّ فَقَالَتْ أُحِبُّهُ، أَوْ قَالَ إِنْ كُنْتِ تُحِبِّينِي فَأَنْتِ طَالِقٌ وَهَذِهِ مَعَكِ فَقَالَتْ أُحِبُّكَ طُلِّقَتْ هِيَ وَلَمْ يَعْتِقِ الْعَبْدُ وَلَا تُطَلَّقُ صَاحِبَتُهَا"، اچھا صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تجھے یہ پسند ہے کہ اللہ تجھے جہنم کا عذاب دے تو تجھے طلاق ہے۔ اگر تجھے یہ پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے جہنم کی آگ میں عذاب دے تو تجھے طلاق ہے۔ عورت کہتی ہے مجھے پسند ہے، تو ساتھ ہی طلاق ہو گئی۔ ساتھ ہی طلاق ہو گئی کیونکہ خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا کس چیز کے ساتھ؟ عورت کے جہنم کے عذاب کے پسند کرنے کے ساتھ، اور عورت نے خبر دے دی، اپنی ذات کے بارے میں خبر دے دی کہ مجھے پسند ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی جہنم کا عذاب کون پسند کر سکتا ہے؟ لہٰذا یہاں تو یقینی طور پر عورت جھوٹ بول رہی ہے۔ یقینی طور پر جھوٹ بول رہی ہے، جب یہ جھوٹ بول رہی ہے تو خاوند نے تو طلاق کو معلق کیا تھا کس کے ساتھ؟ جہنم کے عذاب کے پسند کرنے کے ساتھ، اور یہ جھوٹ بول رہی ہے کیونکہ جہنم کا عذاب کسی کو پسند نہیں ہو سکتا بھئی، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے، تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے، صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ نہیں اس کا جھوٹا ہونا ابھی بھی یقینی نہیں۔ ہو سکتا ہے یہ اس شخص سے اتنی نفرت کرتی ہو کہ عذاب کے بدلے میں بھی اس سے جان چھڑانے پر تیار ہو جائے۔ تو لہٰذا اس کا جھوٹا ہونا بھی یقینی نہیں ہے، تو لہٰذا اس نے جب خبر دے دی ہے اپنے بارے میں، پسند کرنے کا تو پتہ اسی عورت سے چل سکتا ہے کہ یہ ایک چیز کو پسند کرتی ہے یا پسند نہیں کرتی، جب اس نے ایک چیز کی خبر دے دی ہے تو اس کے کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی جب اس نے کہہ دیا کہ مجھے پسند ہے۔
تو کہتے ہیں: "وَكَذَلِكَ لَوْ قَالَ"، اور اسی طرح اگر خاوند نے بیوی سے کہا: "إِنْ كُنْتِ تُحِبِّينَ"، اگر تجھے یہ بات پسند ہے، "أَنْ يُعَذِّبَكِ اللَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ"، کہ اللہ تعالیٰ تجھے عذاب دیں جہنم کی آگ میں، "فَأَنْتِ طَالِقٌ"، تو تجھے طلاق ہے، "وَعَبْدِي حُرٌّ"، اور میرا غلام آزاد ہے۔ ہاں ایک اور چیز بھی خاوند نے ذکر کی تھی: تجھے طلاق ہے اور میرا غلام آزاد ہے۔ تو اس کی اپنی ذات، عورت کے ذات کے بارے میں تو اس کی بات قبول کی جائے گی، اس کو طلاق ہو جائے گی لیکن غلام آزاد نہیں ہوگا۔ "فَأَنْتِ طَالِقٌ وَعَبْدِي حُرٌّ"، تو تجھے طلاق ہے اور میرا غلام آزاد ہے، "فَقَالَتْ أُحِبُّهُ"، وہ عورت کہتی ہے مجھے پسند ہے۔ اور یاد رکھو یہ اسی مجلس میں کہتی ہے، کس میں؟ مجلس میں۔ معلوم ہوا خاوند اس کو طلاق کا اختیار دے رہا ہے، طلاق کا مالک بنا رہا ہے: اگر تجھے جہنم کا عذاب پسند ہے تو تجھے طلاق ہے۔ گویا طلاق کا مالک بنا رہا ہے، اسے طلاق کا اختیار دے رہا ہے، تو اسی مجلس میں عورت کی طرف سے جواب ضروری ہے بھئی، کہ اسی مجلس میں کہے مجھے جہنم کا عذاب پسند ہے تو پھر اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: "فَقَالَتْ أُحِبُّهُ"، تو اس عورت نے اسی مجلس میں کہہ دیا کہ مجھے پسند ہے، "أَوْ قَالَ"، یا خاوند نے اس سے کہا: "إِنْ كُنْتِ تُحِبِّينِي فَأَنْتِ طَالِقٌ وَهَذِهِ مَعَكِ"، اگر تو مجھ سے محبت کرتی ہے تو تجھے بھی طلاق ہے اور تیرے ساتھ میری اس بیوی کو بھی طلاق ہے۔ اگر تو مجھ سے محبت کرتی ہے۔ یا نفرت کو ذکر کرتا ہے: إِنْ تُبْغِضِينِي، اگر تو مجھ سے نفرت کرتی ہے تو تجھے بھی طلاق ہے اور میری اس بیوی کو بھی طلاق ہے۔ خاوند نے یوں کہا، "فَقَالَتْ أُحِبُّكَ"، تو عورت جواب میں کہتی ہے ہاں میں تجھ سے محبت کرتی ہوں، "طُلِّقَتْ هِيَ"، تو اس عورت کو طلاق ہو جائے گی، عورت کو طلاق، لیکن دوسری عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ دوسری عورت کو طلاق نہیں ہوگی، اب وہ ذکر کریں گے۔
تو کہتے ہیں: "طُلِّقَتْ هِيَ"، ان دونوں صورتوں کے اندر عورت کو طلاق ہو جائے گی، "وَلَمْ يَعْتِقِ الْعَبْدُ وَلَا تُطَلَّقُ صَاحِبَتُهَا"، لیکن وہ غلام آزاد نہیں ہوگا اور نہ اس کی عورت کی ساتھی دوسری عورت جو ہے اس کو طلاق ہوگی، "لِمَا بَيَّنَّا"، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ اپنی ذات کے بارے میں یہ امینہ ہے، اپنی ذات کے بارے میں خبر دے گی تو ہم قبول کریں گے، تو اس سے اس کی اپنی طلاق تو واقع ہو جائے گی ہم نے قبول کر لیا، لیکن غیر کے بارے میں اس کی بات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: "لِمَا بَيَّنَّا"، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ اپنے بارے میں اس کی بات قبول کی جائے گی کیونکہ اپنی ذات کے بارے میں یہ امینہ ہے، "وَلَا يُتَيَقَّنُ بِكَذِبِهَا"، یہ وہی اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ ہے کہ عورت نے کہا مجھے جہنم کا عذاب پسند ہے، تو اس میں تو اس کا جھوٹا ہونا یقینی ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ نہیں، اس کا جھوٹا ہونا اب بھی یقینی نہیں، ہو سکتا ہے یہ خاوند سے اتنی زیادہ نفرت کرتی ہو کہ جہنم کے عذاب کے بدلے میں بھی اس سے چھٹکارے کو پسند کرے۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا يُتَيَقَّنُ بِكَذِبِهَا"، اور اس عورت کے جھوٹا ہونا یقینی نہیں، "لِأَنَّهَا لِشِدَّةِ بُغْضِهَا إِيَّاهُ"، اس لیے کیونکہ عورت جو ہے اپنے اس خاوند سے شدید بغض کی وجہ سے، "قَدْ تُحِبُّ التَّخْلِيصَ مِنْهُ بِالْعَذَابِ"، وہ پسند کرے گی اس سے چھٹکارے کو عذاب کے بدلے میں۔
آگے دیکھیے: "وَفِي حَقِّهَا أَنْ تَعَلَّقَ الْحُكْمُ بِإِخْبَارِهَا"، اور خود اس عورت کے حق میں یہ حکم متعلق ہو جائے گا اس کی خبر سے، یہ جو طلاق والا حکم جو ہے یہ متعلق ہوگا اس کی خبر سے، جب اس نے خبر دے دی میں پسند کرتی ہوں یا میں محبت کرتی ہوں، تو بس اس کے بارے میں قبول کریں گے اور خود اس کو طلاق ہو جائے گی، لیکن غیر کے حق میں قبول نہیں کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "وَفِي حَقِّهَا أَنْ تَعَلَّقَ الْحُكْمُ بِإِخْبَارِهَا"، خود اس عورت کے اپنے حق میں اس حکم کا تعلق جو ہے اس کی خبر دینے کے ساتھ ہوگا، "وَإِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً"، اگرچہ یہ عورت جھوٹی ہو۔ بے شک یہ جھوٹ بول رہی ہے لیکن دارومدار اس کے خبر دینے پر ہے، خبر تو اس نے دی ہے کہ ایسا ہے، تو دارومدار کس پر ہے؟ خبر دینے پر ہے، باقی دل کی حالت وہ تو اللہ جانتے ہیں۔ اس نے تو کہہ دیا کہ ایسا ہے، تو چاہے جھوٹی خبر دے پھر بھی وہ جزا واقع ہو جائے گی۔
جبکہ: "فَفِي حَقِّ غَيْرِهَا بَقِيَ الْحُكْمُ عَلَى الْأَصْلِ"، جبکہ اس کے علاوہ کے حق میں حکم اپنی اصل پر ہی باقی رہے گا، "وَهِيَ الْمَحَبَّةُ"، اور وہ محبت ہے یعنی پسند کرنا، وہ پسند کرنا۔ یاد رکھو، ضابطہ یہ ہے، ضابطہ یہ ہے کہ عورت کے اپنے حق میں تو اس کی خبر کا اعتبار کیا جائے گا، عورت کے اپنے حق میں تو اس کی خبر کا اعتبار کیا جائے گا لیکن غیروں کے حق میں اس کی خبر کا اعتبار نہیں کریں گے بلکہ حقیقتِ شے کو دیکھیں گے۔ حقیقتاً اگر یہ جہنم کے عذاب کو پسند کرتی ہے تو پھر غلام بھی آزاد ہو جائے گا۔ خاوند نے کیا کہا تھا: "فَأَنْتِ طَالِقٌ وَعَبْدِي حُرٌّ"، اگر تو جہنم کے عذاب کو پسند کرتی ہے تو تجھے طلاق ہے اور میرا غلام آزاد ہے۔ عورت نے کہا میں جہنم کے عذاب کو پسند کرتی ہوں، تو اپنے بارے میں تو عورت کی یہ خبر قبول کر لی جائے گی لیکن غیر کے حق میں حقیقت کو دیکھا جائے گا کہ حقیقتاً جب یہ جہنم کے عذاب کو پسند کرے گی تب غلام آزاد ہوگا، اور حقیقت کا تو یہاں پتہ چل ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ عورت کے دل کی بات ہے۔ تو لہٰذا یہاں غلام آزاد نہیں ہوگا۔ اسی طرح خاوند نے بیوی سے کہا اگر تو مجھ سے محبت کرتی ہے تو تجھے بھی طلاق ہے اور میری اس بیوی کو بھی طلاق ہے۔ عورت نے کیا کہا: مجھے تجھ سے محبت ہے۔ تو اس کی اپنے حق میں تو اس کی خبر معتبر ہے، خود اس عورت کو تو طلاق ہو جائے گی، لیکن اس کے دوسرے کے بارے میں اس کی خبر کا اعتبار نہیں بلکہ حقیقتِ حال کو دیکھا جائے گا۔ اگر یہ عورت حقیقت میں خاوند سے محبت کرتی ہے پھر تو اس دوسری کو بھی طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔ اور حقیقتِ محبت کا تو پتہ چل ہی نہیں سکتا، وہ تو عورت کے دل کی بات ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی، یہ معنی ہے دوبارہ دیکھ لیجیے ترجمہ، کہتے ہیں: "وَفِي حَقِّهَا أَنْ تَعَلَّقَ الْحُكْمُ بِإِخْبَارِهَا"، اور خود اس عورت کے بارے میں یہ جو حکم کا تعلق اس کی خبر کے ساتھ ہوگا، "وَإِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً"، اگرچہ یہ عورت جھوٹی ہو، "فَفِي حَقِّ غَيْرِهَا بَقِيَ الْحُكْمُ عَلَى الْأَصْلِ"، تو اس کے علاوہ باقیوں کے حق میں حکم اپنی اصل پر باقی رہے گا، "وَهِيَ الْمَحَبَّةُ"، اور اصل تو کیا ہے وہ محبت ہے یعنی حقیقتاً جب محبت پائی جائے گی پھر ہی دوسرے کے حق میں بھی وہ طلاق یا آزادی واقع ہوگی لیکن حقیقت کا تو یہاں پتہ نہیں چل سکتا۔
تو جب شرط کا علم نہ ہو سکے، یاد رکھو جب شرط کا علم نہ ہو سکے تو جزا نہیں آتی۔ جب شرط کا علم نہ ہو سکے تو جزا نہیں آتی۔ جیسے دیکھو آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے، ایک شخص بیوی کو طلاق دیتے ہوئے ساتھ انشاء اللہ کی قید لگا دیتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى"، تجھے طلاق ہے اگر اللہ چاہتے ہیں۔ تو اس نے طلاق کو معلق کر دیا اللہ کی مشیت کے ساتھ، اور اللہ کی مشیت کا تو ہمیں علم نہیں ہو سکتا، اور جب شرط کا علم نہ ہو تو جزا بھی واقع نہیں، لہٰذا وہ جزا یعنی وہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔
آگے دیکھیے: "وَإِذَا قَالَ لَهَا إِذَا حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، اور جب خاوند نے بیوی سے کہا: "إِذَا حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، کہ جب تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق ہے۔ اس کے بعد عورت نے خون دیکھا، تو خون دیکھتے ہی فوراً ہم یہ نہیں کہیں گے یہ حیض آ گیا لہٰذا عورت کو طلاق ہو گئی۔ خاوند نے بھی کیا کہا تھا: تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق ہے، لیکن خون دیکھتے ہی فوراً حیض کا حکم نہیں لگائیں گے بلکہ تین دن انتظار کریں گے۔ اگر وہ خون تین دن تک مسلسل رہا اب پتہ چل جائے گا یہ حیض ہے کیونکہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے۔ اگر اس سے پہلے ہی خون رک گیا معلوم ہوا یہ استحاضہ ہے، یہ حیض نہیں ہے۔ تو لہٰذا تین دن انتظار کریں گے۔ تین دن جب پورے ہو جائیں گے اب پتہ چلا یہ حیض تھا، لہٰذا طلاق واقع ہو گئی۔ لیکن اس وقت واقع نہیں ہوئی، جس وقت اس نے خون دیکھا تھا، جس وقت حیض شروع ہوا تھا اسی وقت سے گویا طلاق واقع ہو چکی ہے۔ اسی وقت سے طلاق واقع ہو چکی ہے۔ دیکھو مثلاً، مثلاً ایک شخص ہے اس نے نیا نکاح کیا ہے اور عورت کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی، خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی اور خاوند اس کو کیا کہتا ہے: "إِنْ حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، کسی بات پر خاوند ناراض ہوا اس نے کہا: إِنْ حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ، اگر تجھے حیض آیا تو تجھے طلاق ہے۔ حیض آیا تو تجھے طلاق ہے۔ اور عورت کو جیسے ہی حیض شروع ہوا تو ساتھ ہی طلاق بھی ہو گئی اور عورت غیر مدخول بہا ہے اس پر عدت بھی نہیں، فوراً ہی بائنہ بھی ہو گئی، اور اس نے فوراً اسی دن جو ہے ایک دوسری جگہ نکاح بھی کر لیا۔ دوسری جگہ نکاح بھی کر لیا۔ بھئی ابھی تو پتہ ہی نہیں یہ حیض ہے بھی یا نہیں، کہیں استحاضہ نہ ہو۔ تو تین دن انتظار کریں گے، تین دن تک اگر یہ خون مسلسل رہا معلوم ہوا عورت کے خون شروع ہوتے ہی طلاق ہو گئی تھی لہٰذا اس کا دوسرا نکاح صحیح ہو گیا۔ اور اگر درمیان میں خون رک گیا معلوم ہوا یہ استحاضہ تھا، معلوم ہوا اس عورت کا وہ نکاح صحیح نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِذَا قَالَ لَهَا"، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: "إِذَا حِضْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، کہ جب تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق ہے، "فَرَأَتِ الدَّمَ"، تو عورت نے خون دیکھا، "لَمْ يَقَعِ الطَّلَاقُ حَتَّى يَسْتَمِرَّ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، تو طلاق واقع نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ خون مسلسل تین دن رہے، "لِأَنَّ مَا يَنْقَطِعُ دُونَهُ لَا يَكُونُ حَيْضًا"، اس لیے کیونکہ وہ خون جو منقطع ہو جائے اس سے کم میں وہ حیض نہیں ہوگا، "فَإِذَا تَمَّتْ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ حَكَمْنَا بِالطَّلَاقِ مِنْ حِينَ حَاضَتْ"، جب تین دن پورے ہو جائیں حَكَمْنَا بِالطَّلَاقِ تو ہم طلاق کا حکم لگائیں گے مِنْ حِينَ حَاضَتْ جس وقت عورت حائضہ ہوئی تھی۔ حین وقت کے معنی میں ہے اور آپ یہاں یوں بھی پڑھ سکتے ہیں: "مِنْ حِينِ حَاضَتْ"، نون کے نیچے زیر بھی، اور زبر بھی پڑھ سکتے ہیں: "مِنْ حِينَ حَاضَتْ"۔ وجہ یہ کہ ظرف کی اضافت جب جملے کی طرف ہو جائے تو اس پر فتحہ پڑھنا بھی جائز ہے، مبنی علی الفتح پڑھنا بھی جائز ہے، تو مِنْ حِينَ حَاضَتْ۔ اور اگر آپ مبنی نہیں پڑھتے اس کو تو پھر من کی وجہ سے جر بھی پڑھ سکتے ہیں: مِنْ حِينِ حَاضَتْ۔ تو کہتے ہیں: "حَكَمْنَا بِالطَّلَاقِ مِنْ حِينَ حَاضَتْ"، تو ہم طلاق کا حکم لگائیں گے جس وقت سے وہ عورت حائضہ ہوئی تھی، "لِأَنَّهُ بِالِامْتِدَادِ عُرِفَ أَنَّهُ مِنَ الرَّحِمِ"، اس لیے کیونکہ خون کے لمبا ہونے سے یہ جان لیا گیا کہ یہ خون رحم سے تھا، "فَكَانَ حَيْضًا مِنَ الِابْتِدَاءِ"، تو یہ ابتدا سے ہی حیض تھا، لہٰذا اس وقت سے ہی طلاق واقع ہو گئی۔
"وَلَوْ قَالَ لَهَا إِذَا حِضْتِ حَيْضَةً فَأَنْتِ طَالِقٌ"، دوسری مثال، اب خاوند "حَيْضَةً" مصدر بھی لے آتا ہے اور کہتا ہے: "إِذَا حِضْتِ حَيْضَةً فَأَنْتِ طَالِقٌ"، تو یاد رکھو حَيْضَةً یہ پورے حیض کو کہتے ہیں۔ حَيْضَةً، یہ تا کس لیے ہے؟ وحدت کی ہے، ایک حیض۔ تو لہٰذا پورا حیض جب ہوگا تب عورت کو طلاق ہوگی، اس سے پہلے نہیں بھئی۔ تو پچھلے مسئلے میں تو خون جاری ہوتے ہی اس کو طلاق ہو گئی تھی لیکن پتہ تین دن بعد چلا تھا کہ یہ حیض ہی ہے، جبکہ یہاں پر خاوند نے کہا جب تجھے پورا ایک حیض آ جائے تو تجھے طلاق ہے، تو جب حیض ختم ہوگا پھر طلاق واقع ہوگی۔
تو کہتے ہیں: "وَلَوْ قَالَ لَهَا"، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: "إِذَا حِضْتِ حَيْضَةً فَأَنْتِ طَالِقٌ"، کہ جب تجھے ایک حیض آ جائے تو تجھے طلاق ہے، "لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا"، تو عورت کو طلاق نہیں ہوگی یہاں تک کہ یہ اپنے حیض سے پاک ہو جائے، حیض کے ختم ہونے کا پتہ پاکی سے ہی چلے گا نا، پاک ہو گئی تو معلوم ہوا حیض گزر گیا، ایک پورا حیض آ گیا ہے لہٰذا طلاق ہو جائے گی۔ "لِأَنَّ الْحَيْضَةَ بِالْهَاءِ هِيَ الْكَامِلَةُ مِنْهَا"، لِأَنَّ الْحَيْضَةَ اس لیے کیونکہ یہ حیض کا جو لفظ ہے بِالْهَاءِ ہا کے ساتھ، ہا سے مراد ہے گول تا، جو وقف کی حالت میں ہا بن جاتی ہے، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْحَيْضَةَ بِالْهَاءِ اس لیے کیونکہ یہ جو حَيْضَةٌ کا لفظ ہے ہا کے ساتھ، هِيَ الْكَامِلَةُ مِنْهَا یہ وہ ہے جو حیض میں سے پورا ہو، "وَلِهَذَا حُمِلَ عَلَيْهِ فِي حَدِيثِ الِاسْتِبْرَاءِ"، اور اسی لیے ایک پورے حیض پر محمول کیا گیا ہے اس لفظ کو فِي حَدِيثِ الِاسْتِبْرَاءِ حدیثِ استبراء میں۔ حدیثِ استبراء میں جو حَيْضَةٌ کا لفظ آیا ہے اس کو بھی ایک پورے حیض پر ہی محمول کیا گیا ہے۔ استبراء کا معنی ہے رحم کی صفائی، رحم کی صفائی۔ یہ حدیث میرے حاشیے میں دی ہوئی ہے: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا: "لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً"۔ بھئی قدیم زمانے کے اندر جو قیدی بنائے جاتے تھے وہ غلام اور باندیاں بنا لی جاتیں بھئی، تو وہ مجاہدین میں پھر تقسیم ہوتی تھیں بھئی۔ تو حضور علیہ السلام نے اوطاس کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: "لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ"، کہ حاملہ سے صحبت نہ کی جائے، حَتَّى تَضَعَ یہاں تک کہ وہ وضعِ حمل کر دے۔ یہ مسئلہ پیچھے ذکر ہو چکا ہے، بات سمجھ میں آ گئی کہ اگر قیدی عورت حاملہ ہے تو اس صورت میں وضعِ حمل تک اس کے ساتھ صحبت نہیں کی جائے گی، وہی حضور ذکر فرما رہے ہیں: لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، کہ حاملہ سے وطی نہ کی جائے یہاں تک کہ وہ وضعِ حمل کر دے، "وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً"، اور جو حمل والی نہیں ہے اس کے ساتھ بھی وطی نہ کی جائے حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً یہاں تک کہ اس کو ایک پورا حیض آ جائے۔ پورا حیض آ جائے گا تو معلوم ہوا یہ عورت حاملہ نہیں، استبراء پایا گیا، رحم کی صفائی ہو گئی، اس کے بعد وطی حلال ہو جائے گی مالک کے لیے۔ تو یہاں حدیث کے اندر بھی حَيْضَةً کے لفظ سے کیا مراد ہے؟ پورا حیض مراد ہے۔ تو یہ معنی ہے: "وَلِهَذَا حُمِلَ عَلَيْهِ فِي حَدِيثِ الِاسْتِبْرَاءِ"، اور اسی لیے ایک پورے حیض پر محمول ہے یہ حَيْضَةٌ کا لفظ جو حدیثِ استبراء میں آیا ہے، "وَكَمَالُهَا بِالطُّهْرِ"، اور اس کا کمال طہر کے ساتھ ہوگا۔
بِانْتِهَائِهَا اور حیض کا پورا ہونا بِانْتِهَائِهَا اس کے ختم ہو جانے سے ہوتا ہے، وَذٰلِكَ بِالطُّهْرِ اور یہ طہر کے ذریعے ہوگا، جب طہر آ گیا معلوم ہوا حیض پورا ہو گیا ہے۔
”وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا صُمْتِ يَوْمًا“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِذَا صُمْتِ يَوْمًا فَأَنْتِ طَالِقٌ“ جب تو ایک دن کا روزہ رکھے تو تجھے طلاق ہے۔ تو عورت جب روزہ رکھے گی تو شام کو جا کر روزہ پورا ہوگا۔ خاوند نے بھی کیا کہا ہے؟ جب تو روزہ رکھے ”يَوْمًا“ ایک دن، تو یہاں ”يَوْم“ آیا۔ اور آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ”يَوْم“ کا معنیٰ نہار بھی ہے یعنی صبح سے شام تک کا جو وقت ہے، اور ”يَوْم“ مطلقِ وقت کے معنیٰ میں بھی آتا ہے۔ تو وہ ”يَوْم“ جس فعل کے لیے ظرف بن رہا ہے اس کو دیکھیں گے، اگر وہ فعلِ ممتد ہے تو پھر ”يَوْم“ سے مراد نہار ہوگا یعنی صبح سے شام تک، اور اگر وہ فعلِ غیر ممتد ہے اس میں طول نہیں ہے تو پھر اس صورت کے اندر ”يَوْم“ مطلقِ وقت کے معنیٰ میں ہوگا۔ اور یہاں پر ”يَوْم“ کے ساتھ صوم کا ذکر ہے، ”إِذَا صُمْتِ يَوْمًا“ جب تو ایک روزہ رکھے، اور روزہ وہ تو صبح سے شام تک ہوتا ہے، اس میں تو امتداد ہوتا ہے، وہ لمبا ہوتا ہے، تو معلوم ہوا یہاں ”يَوْم“ سے مراد نہار ہے۔ تو جب روزہ رکھے گی تو اس دن جب سورج غروب ہوگا تو اب اس عورت کو طلاق ہو جائے گی۔
اور اگر اس کے بجائے خاوند نے صرف اتنا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا صُمْتِ“، ”إِذَا صُمْتِ“ جب تو روزہ رکھے تو تجھے طلاق ہے، تو یہاں ”يَوْم“ کی قید نہیں ہے۔ جب ”يَوْم“ کی قید نہیں ہے تو تھوڑی دیر کا بھی روزہ پایا گیا تو طلاق ہو جائے گی۔ خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا صُمْتِ“ تجھے طلاق ہے جب تو روزہ رکھے، تو عورت جیسے ہی صبح روزہ رکھے گی ساتھ ہی طلاق ہو جائے گی، کیونکہ ایک لمحے کا روزہ تو پایا گیا یا نہیں؟ روزہ شروع ہو گیا، جب روزہ شروع ہوا تو روزہ پایا گیا، اور خاوند نے بھی کیا کہا تھا؟ جب تو روزہ رکھے، تو جیسے ہی روزہ پایا گیا ساتھ ہی طلاق ہو گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا صُمْتِ يَوْمًا“ اور جب خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے جب تو ایک دن روزہ رکھے، ”طُلِّقَتْ حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ“ تو اس عورت کو طلاق ہو جائے گی ”حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ“ جس وقت سورج غائب ہو جائے یعنی سورج غروب ہو جائے، ”فِي الْيَوْمِ الَّذِي تَصُومُ“ اس دن میں جس دن اس نے روزہ رکھا ہے، ”لِأَنَّ الْيَوْمَ إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ مُمْتَدٍّ“ اس لیے کیونکہ یوم کا لفظ جب اس کو ملایا جائے فعلِ ممتد کے ساتھ یعنی ایسا فعل جس میں امتداد ہے، طول ہے، لمبائی ہے، ”يُرَادُ بِهِ بَيَاضُ النَّهَارِ“ تو پھر اس صورت میں یوم سے مراد ”بَيَاضُ النَّهَارِ“ دن کی روشنی ہوتی ہے، دن کا اجالا ہوتا ہے یعنی نہار مراد ہے صبح سے شام تک، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ لَهَا: إِذَا صُمْتِ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے ”إِذَا صُمْتِ“ جب تو روزہ رکھے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يُقَدِّرْهُ بِمِعْيَارٍ“ کیونکہ خاوند نے اس روزے کو مقرر نہیں کیا ”بِمِعْيَارٍ“ کسی پیمانے کے ساتھ یعنی اس کے ساتھ وقت ذکر نہیں کیا۔ پہلے تو تھا ایک دن روزہ رکھے تو پورا دن جب روزہ رکھ لے گی تو سورج غروب ہوتے ہی اس کو طلاق ہو جائے گی، اب تو اس نے کوئی یوم ذکر نہیں کیا، کوئی وقت کا پیمانہ ذکر نہیں کیا، لہٰذا روزہ رکھتے ہی فوراً اسی وقت طلاق ہو جائے گی صبح سویرے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمْ يُقَدِّرْهُ بِمِعْيَارٍ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس روزے کو مقرر نہیں کیا کسی پیمانے کے ساتھ، ”وَقَدْ وُجِدَ الصَّوْمُ بِرُكْنِهِ وَشَرْطِهِ“ اور تحقیق روزہ پایا گیا ہے اپنے رکن اور شرط کے ساتھ۔ روزے کا رکن کیا ہے؟ کھانے پینے اور صحبت سے انسان رکا رہے۔ تو لہٰذا یہ روزے کے ارکان صبح جیسے ہی روزہ اس نے شروع کیا، روزے کے ارکان پائے گئے، کیا؟ کھانے سے بھی بچی ہوئی ہے، پینے سے بھی، اور صحبت بھی نہیں ہے اس وقت، تو ایک لمحے کے لیے روزہ پایا گیا۔ اور روزے کی شرط بھی پوری ہے، روزے کی کیا شرط ہے؟ کہ عورت حیض اور نفاس کی حالت میں نہ ہو بھئی۔ تو روزے کی شرط بھی پوری تھی اور روزے کا رکن بھی پایا گیا، تو جیسے ہی روزہ شروع ہوا ساتھ ہی طلاق ہو گئی کیونکہ ایک لمحے کا تو روزہ پایا گیا، اور خاوند نے بھی کہا تھا جب تو روزہ رکھے۔ تو یہ معنیٰ ہے: ”وَقَدْ وُجِدَ الصَّوْمُ بِرُكْنِهِ“ اور تحقیق روزہ پایا گیا ہے اپنے رکن کے ساتھ یعنی کھانے پینے اور صحبت سے رکنے کے ساتھ، ”وَشَرْطِهِ“ اور اپنی شرط کے ساتھ کہ عورت حیض اور نفاس میں نہ ہو۔
”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا وَلَدْتِ غُلَامًا فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ صورتِ مسئلہ یہ: بیوی حاملہ ہے، خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو نے لڑکے کو جنم دیا تو تجھے ایک طلاق ہے، اور اگر تو نے لڑکی کو جنم دیا تو تجھے دو طلاقیں ہیں۔ عورت نے لڑکے اور لڑکی دونوں کو جنم دے دیا، اور پھر اگر لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے تو عورت کو ایک طلاق ہو جائے گی، اور اگر لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے تو عورت کو دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ توجہ ہے؟ کیونکہ جیسے ہی لڑکا پیدا ہوگا عورت کو ایک طلاق ہو گئی۔ بھئی دیکھو! خاوند نے کیا کہا؟ اگر لڑکا پیدا ہوا تو تجھے ایک طلاق، اگر لڑکی پیدا ہوئی تو تجھے دو طلاقیں۔ تو اگر پہلے لڑکا ہوا تو عورت کو ایک طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد اب لڑکی جب پیدا ہوگی اب دو بھی ہونی چاہییں لیکن دو نہیں ہوں گی، دو کیوں نہیں ہوں گی؟ کیونکہ جیسے ہی لڑکا پیدا ہوا اس کو طلاق ہو گئی اور طلاق کے بعد ابھی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اور یہ عورت حاملہ ہے اور حاملہ کی عدت کیا ہے؟ وضعِ حمل۔ تو لہٰذا لڑکے کے پیدا ہوتے ایک طلاق تو واقع ہو گئی، اب لڑکی کے پیدا ہونے پر دو طلاقوں نے واقع ہونا ہے، لیکن ادھر لڑکی کی پیدائش ہو رہی ہے ادھر اس کے ساتھ عدت پوری ہو رہی ہے۔ حاملہ کی جب لڑکا پیدا ہو گیا، لڑکی تو ابھی پیدا نہیں ہوئی تو عورت تو حاملہ ہے اور حاملہ پر طلاق آ گئی، اور حاملہ کی عدت کیا ہوتی ہے؟ وضعِ حمل۔ کیا عدت ہوتی ہے؟ وضعِ حمل عدت ہوتی ہے، لہٰذا جب یہ لڑکی پیدا ہوگی اس کے ساتھ ہی اس عورت کی عدت پوری ہو رہی ہے۔ تو جس لمحے میں عدت پوری ہو رہی ہے اسی لمحے میں دو طلاقیں بھی آ رہی ہیں لیکن اب وہ دو واقع نہیں ہوں گی کیونکہ یہ تو عدت پوری ہو گئی، عدت کے پورے ہوتے ہوئے تو طلاقیں واقع نہیں ہو سکتیں، تو صرف ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور عدت بھی پوری ہو گئی۔
اور اگر اس کے برعکس ہوا، پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور پھر لڑکا پیدا ہوا، تو لڑکی پیدا ہوتے ہی عورت کو دو طلاقیں ہو گئیں، لیکن ابھی لڑکا پیدا نہیں ہوا تو عورت حاملہ ہے، جب حاملہ ہے تو حاملہ کو دو طلاقیں ہو گئی ہیں، اور حاملہ کی عدت کیا ہے؟ وضعِ حمل۔ لہٰذا ادھر جیسے ہی لڑکی کی پیدائش ہوگی ساتھ ہی عدت پوری ہو رہی ہے، لہٰذا وہ جو لڑکے کی پیدائش کے ساتھ طلاق معلق تھی وہ واقع نہیں ہوگی، تو عورت دو طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہو گئی، عدت پوری ہو گئی۔ اب یہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے اور اگر اسی خاوند سے نکاح کرے گی اب وہ ساری زندگی ایک طلاق کا مالک ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ پتا ہی نہیں ہے پہلے لڑکا پیدا ہوا ہے یا لڑکی پیدا ہوئی ہے، تو اب کیا کریں گے؟ تو اب وہ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”إِذَا وَلَدْتِ غُلَامًا“ کہ جب تو لڑکے کو جنم دے، غلام، غلام کا لفظ لڑکے کے لیے بھی بولتے ہیں اور غلام کے لیے بھی، تو خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”إِذَا وَلَدْتِ غُلَامًا“ جب تو لڑکے کو جنم دے، ”فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ تو تجھے ایک طلاق ہے، ”وَإِذَا وَلَدْتِ جَارِيَةً“ اور جب تو لڑکی کو جنم دے، ”فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ تو تجھے دو طلاقیں ہیں، ”فَوَلَدَتْ غُلَامًا وَجَارِيَةً“ تو اس نے جنم دیا ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو، ”وَلَا يُدْرَى أَيُّهُمَا أَوَّلُ“ اور یہ معلوم نہیں ہے کہ ان میں سے پہلا کون سا ہے، ”لَزِمَهُ فِي الْقَضَاءِ تَطْلِيقَةٌ“ تو اس عورت پر لازم ہوگی قضا میں ایک طلاق۔ قاضی کے پاس مسئلہ گیا تو قاضی ایک طلاق کا فیصلہ کرے گا۔ وجہ یہ کہ پتا ہی نہیں ہے، اگر لڑکا پہلے ہوا ہے تو ایک طلاق ہے اور لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے تو دو طلاقیں، تو اس دو میں بھی ایک طلاق تو آ گئی، تو لہٰذا ایک طلاق کا واقع ہونا تو یقینی ہے ہر حال میں لیکن دوسری کے واقع ہونے میں شک آ گیا اور شک کی وجہ سے طلاق واقع قرار نہیں دی جا سکتی، لہٰذا قاضی ایک ہی کا فیصلہ کرے گا۔ یہ معنیٰ ہے ”لَزِمَهُ فِي الْقَضَاءِ تَطْلِيقَةٌ“ کہ لازم ہوگی قضا میں اس پر ایک طلاق۔
”وَفِي التَّنَزُّهِ“ تنزہ کا معنیٰ ہے بچنا، بچنا۔ ”وَفِي التَّنَزُّهِ تَطْلِيقَتَانِ“ یعنی حرام سے بچنے میں ”تَطْلِيقَتَانِ“ دو طلاقیں لازم ہوں گی۔ حرام سے بچنے میں دو طلاقیں لازم ہوں گی یعنی یوں کہو: تنزہ کا معنیٰ کر لیں احتیاط کے۔ تنزہ کا کیا معنیٰ؟ احتیاط۔ ویسے تنزہ کا معنیٰ ہے بچنا، تو حرام سے بچنے کے لیے ویسے دو طلاقیں شمار کی جائیں۔ یعنی بعد میں اگر خاوند اسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو اب یہ نہ سمجھے کہ میرے پاس دو طلاقیں ہیں، قاضی تو ایک کا فیصلہ کرے گا کہ ایک طلاق ہوئی ہے دو ابھی بھی باقی ہیں، لیکن بطورِ احتیاط کے خاوند یہی سمجھے میرے پاس ایک ہی طلاق باقی ہے، ایک بھی دے دوں گا تو یہ مجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی، یہ معنیٰ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي التَّنَزُّهِ تَطْلِيقَتَانِ“ اور تنزہ یعنی بطورِ احتیاط کے دو طلاقیں ہو جائیں گی، اس خاوند پر دو طلاقیں لازم ہو گئیں یعنی اس کی طرف سے واقع ہو گئیں۔ یعنی یوں کہو: قضاءً ایک طلاق ہوگی اور دیانۃً کیا سمجھے؟ دو طلاقیں سمجھے بھئی، یعنی اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لَزِمَهُ فِي الْقَضَاءِ تَطْلِيقَةٌ“ لازم ہوں گی اس خاوند پر قضا کے اندر ایک طلاق، ”وَفِي التَّنَزُّهِ تَطْلِيقَتَانِ“ اور حرام سے بچنے کے اندر دو طلاقیں یعنی بطورِ احتیاط کے دو طلاقیں، ”وَانْقَضَتِ الْعِدَّةُ“ اور نیز اس عورت کی عدت بھی گزر گئی۔ اب خاوند اس کو رکھنا چاہتا ہے تو نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا اور نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَانْقَضَتِ الْعِدَّةُ“ اور عدت بھی پوری ہو گئی جب دوسرا بچہ پیدا ہوا، ”لِأَنَّهَا لَوْ وَلَدَتِ الْغُلَامَ أَوَّلًا“ اس لیے کیونکہ اس عورت نے اگر پہلے لڑکے کو جنم دیا ہے، ”وَقَعَتْ وَاحِدَةٌ“ تو ایک واقع ہو گئی، ”وَتَنْقَضِي عِدَّتُهَا بِوَضْعِ الْجَارِيَةِ“ اور اس عورت کی عدت گزر جائے گی لڑکی کو جنم دینے سے، ”ثُمَّ لَا تَقَعُ أُخْرَى بِهِ“ پھر دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی ”بِهِ“ اس کی وجہ سے یعنی وضعِ جاریہ، لڑکی کو جنم دینے کی وجہ سے اب دوبارہ دو طلاقیں واقع نہیں ہوں گی، ”لِأَنَّهُ حَالُ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ کیونکہ یہ تو عدت کے پورا ہونے کی حالت ہے، ادھر لڑکی پیدا ہو رہی ہے ادھر ساتھ ہی عدت بھی پوری ہو رہی ہے۔ ”وَلَوْ وَلَدَتِ الْجَارِيَةَ أَوَّلًا“ اور اگر عورت نے پہلے لڑکی کو جنم دیا، ”وَقَعَتْ تَطْلِيقَتَانِ“ تو دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی، ”وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا بِوَضْعِ الْغُلَامِ“ اور اس عورت کی عدت پوری ہو جائے گی لڑکے کو جنم دینے سے، ”ثُمَّ لَا يَقَعُ شَيْءٌ آخَرُ بِهِ“ پھر اس لڑکے کے جنم دینے سے کوئی اور چیز واقع نہیں ہوگی، ”لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّهُ حَالُ الِانْقِضَاءِ“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ یہ عدت کے پورا ہونے کا، عدت کے گزرنے کا حال ہے، ”فَإِذًا فِي حَالٍ يَقَعُ وَاحِدَةٌ، وَفِي حَالٍ يَقَعُ ثِنْتَانِ“ تو جب ایک حال میں ایک طلاق واقع ہو رہی ہے اور ایک حال میں ”يَقَعُ ثِنْتَانِ“ دو طلاقیں واقع ہو رہی ہیں، پتا نہیں ہے لڑکے کو پہلے جنم دیا ہے یا لڑکی کو، لڑکے کو پہلے فرض کریں تو ایک طلاق بنتی ہے، لڑکی کو پہلے فرض کریں تو دو طلاقیں بنتی ہیں، یہ معنیٰ ہے ”فَإِذًا فِي حَالٍ يَقَعُ وَاحِدَةٌ، وَفِي حَالٍ يَقَعُ ثِنْتَانِ“ تو تب ایک حال میں ایک طلاق واقع ہوتی ہے اور دوسرے حال میں دو طلاقیں، ”فَلَا تَقَعُ الثَّانِيَةُ بِالشَّكِّ وَالِاحْتِمَالِ“ تو دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی شک اور احتمال کی وجہ سے۔ لڑکے کی صورت میں تو ایک طلاق ہے، لڑکی کی صورت میں دو طلاقیں ہیں، تو ایک کا ہونا تو یقینی کیونکہ دو کے اندر بھی ایک طلاق تو آ گئی، تو ایک طلاق کا ہونا ہر حال میں یقینی ہے اور دوسری کے ہونے میں شک آ گیا، تو اس شک کی وجہ سے دوسری طلاق کو واقع قرار نہیں دیا جائے گا، یہ معنیٰ ہے ”فَلَا تَقَعُ الثَّانِيَةُ بِالشَّكِّ وَالِاحْتِمَالِ“ تو دوسری طلاق شک اور احتمال کی وجہ سے واقع نہیں ہوگی، ”وَالْأَوْلَى أَنْ نَأْخُذَ بِالثِّنْتَيْنِ“ اور بہتر یہ ہے کہ ہم دو کو لیں، ہم دو طلاقوں کو لیں، ”تَنَزُّهًا وَاحْتِيَاطًا“ حرام سے بچنے کے لیے اور بطورِ احتیاط کے۔
”تَنَزُّهًا وَاحْتِيَاطًا“ کا ایک ہی معنیٰ ہے یعنی یوں کہو یہ عطفِ تفسیری ہے۔ صاحبِ ہدایہ ”وَاحْتِيَاطًا“ کے ذریعے ”تَنَزُّهًا“ کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ معطوف غیر ہوتا ہے معطوف علیہ سے، جو پہلے آئے وہ ہے معطوف علیہ اور بعد والا ہے معطوف، تو درمیان میں واؤ وغیرہ آئے گا، یہ واؤ مغایرت پر دلالت کرتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ ہیں، لیکن بعض اوقات اسی معطوف کے ذریعے معنیٰ بیان کیا جاتا ہے معطوف علیہ کا، اس کو عطفِ تفسیری کہتے ہیں اور اس میں دونوں الگ نہیں ہوتے، ایک ہی چیز ہیں بھئی، کیونکہ معطوف معنیٰ بیان کر رہا ہے معطوف علیہ کا بھئی تو دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ یہاں بھی اسی طرح ہے کہ ”وَالْأَوْلَى أَنْ نَأْخُذَ بِالثِّنْتَيْنِ“ اور بہتر یہ ہے کہ ہم دو طلاقیں لیں ”تَنَزُّهًا وَاحْتِيَاطًا“ بطورِ احتیاط کے، ”وَالْعِدَّةُ مُنْقَضِيَةٌ بِيَقِينٍ“ اور عدت جو ہے وہ گزر چکی ہے ”بِيَقِينٍ“ یقین کے ساتھ، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ حاملہ کی عدت کیا ہے؟ وضعِ حمل، تو عدت کا گزرنا یقینی ہے۔ اب خاوند اس کو رکھنا چاہتا ہے تو نیا نکاح کرنا پڑے گا، نئے مہر کے ساتھ۔
”وَإِنْ قَالَ لَهَا: إِنْ كَلَّمْتِ أَبَا عَمْرٍو وَأَبَا يُوسُفَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے طلاق کو معلق کر دیا دو چیزوں کے ساتھ۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر تو نے، اگر تو نے ابو عمرو اور ابو یوسف سے بات کی تو تجھے طلاق ہے۔ اب صرف ایک سے عورت بات کرے گی تو طلاق نہیں ہوگی، جب دونوں سے بات ہو جائے گی تو اب عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ اب ہمارے نزدیک یاد رکھو ضابطہ یہ ہے کہ جس سے پہلے بات کرے اس وقت خاوند کی ملکیت ہونا ضروری نہیں، کیونکہ طلاق نے واقع ہونا ہے دوسرے سے بات کرنے پر، لہٰذا اس وقت خاوند کی ملکیت ضروری ہے۔ لہٰذا خاوند نے کیا کہا؟ اگر تو نے ابو عمرو اور ابو یوسف سے بات کی تو تجھے طلاق ہے۔ اور پھر بعد میں خاوند نے عورت کو طلاق دے دی، طلاقِ بائن، طلاقِ بائن۔ وہ ایک طلاق ابھی بھی معلق ہے اور اس سے پہلے ہی خاوند نے ایک طلاقِ بائن دے دی، اب عورت کی عدت گزر گئی، وہ بائنہ ہو گئی، جدا ہو گئی، اور پھر اس نے پہلے آدمی سے بات کر لی، ابو عمرو سے بات کر لی، تو ابھی بھی طلاق واقع نہیں کیونکہ ابو یوسف سے بھی بات کرے گی تو تب طلاق واقع ہوگی۔ پھر بعد میں خاوند نے اس عورت سے نکاح کر لیا، اب یہ عورت پھر اس کی ملکیت میں ہے لیکن وہ تعلیق تو ابھی بھی موجود ہے، لہٰذا اس نکاح کے اندر اب اس عورت نے ابو یوسف سے بات کر لی تو اب طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو ہمارے نزدیک اگر خاوند نے دو یا تین چیزوں کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے تو آخری فعل، آخری چیز کے پائے جاتے ہوئے ملکیت کا ہونا ضروری ہے، پہلے والوں میں ملکیت ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جبکہ امامِ زفر فرماتے ہیں دونوں کے اندر ملکیت ضروری ہے، جب ابو عمرو سے بات کرے تب بھی خاوند کی ملکیت ہو اس پر اور جب ابو یوسف سے بات کرے تب بھی خاوند کی ملکیت ہو، پھر طلاق واقع ہوگی، ویسے طلاق واقع نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی، دیکھیے بھئی۔
”وَإِنْ قَالَ لَهَا: إِنْ كَلَّمْتِ أَبَا عَمْرٍو وَأَبَا يُوسُفَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ اگر تو نے ابو عمرو اور ابو یوسف سے بات کی تو تجھے تین طلاقیں ہیں، ”ثُمَّ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً“ پھر خاوند نے اس کو ایک طلاق دے دی، ”فَبَانَتْ“ تو یہ عورت بائنہ ہو گئی، تو کہتے ہیں ”فَبَانَتْ“ وہ بائنہ ہو گئی، ”وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا“ اور اس کی عدت گزر گئی، ”فَكَلَّمَتْ أَبَا عَمْرٍو“ تو پھر اس نے ابو عمرو سے بات کر لی، پہلے شخص سے بات کی ہے اور اس وقت وہ اس آدمی کے منکوحہ نہیں ہے نکاح بالکل ٹوٹ چکا ہے، ”ثُمَّ تَزَوَّجَهَا“ پھر خاوند نے اسی عورت سے دوبارہ نکاح کر لیا، ”فَكَلَّمَتْ أَبَا يُوسُفَ“ اب اس عورت نے ابو یوسف سے بات کر لی، ”فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ تو اب اس عورت کو تین طلاقیں ہو گئیں، ”مَعَ الْوَاحِدَةِ الْأُولَى“ پہلی ایک کے ساتھ۔ خاوند نے پہلے بھی تو ایک طلاق دی تھی اور یہ بائنہ ہو گئی تھی اور پھر اس نے نکاح کیا ہے، تو پہلے چاہے ایک دی تھی تو اب دو باقی تھیں اور اگر پہلے دو دی ہوئی تھیں تو اب ایک باقی تھی، لہٰذا ان کے ساتھ ملا کر اب پوری تین ہو جائیں گی، اب عورت اس شخص پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ یہ معنیٰ ہے کہتے ہیں: ”فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا مَعَ الْوَاحِدَةِ الْأُولَى“ تو اس عورت کو تین طلاقیں ہیں اس پہلی ایک طلاق کے ساتھ، کیونکہ طلاقیں تو ہیں ہی تین، ایک تو یہ پہلے ہی دے چکا ہے، دو باقی تھیں، تو اس ایک کو ملا کر کل تین پوری ہو جائیں گی، یہ معنیٰ ہے ”فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا مَعَ الْوَاحِدَةِ الْأُولَى“ تو اس عورت کو تین طلاقیں ہیں اس پہلی ایک طلاق کے ساتھ۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَقَعُ“ اور امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، ”وَهَذِهِ عَلَى وُجُوهٍ“ اور یہ والا مسئلہ کئی صورتوں پر ہے، کئی صورت پر ہے۔
مثلاً دیکھو: خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے دو چیزوں سے، یا تو وہ دونوں ملکیت میں پائی جائیں گی، یا وہ دونوں غیر ملکیت میں پائی جائیں گی طلاق کے بعد، یا ان میں سے پہلی جو ہے وہ ملکیت میں ہے اور دوسری غیر ملکیت میں، اور چوتھی صورت اس کا برعکس کہ پہلی جو ہے وہ غیر ملک میں ہے اور دوسری ملک میں۔ توجہ ہے؟ پھر سنو! یہاں چار صورتیں بنتی ہیں۔ خاوند نے عورت کی تین طلاقوں کو معلق کیا ہے دو چیزوں کے ساتھ، ایک چیز نہیں ذکر کی دو چیزیں ذکر کی ہیں۔ ایک تو صورت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں اس خاوند کی ملکیت میں پائی جائیں، خاوند کی ملکیت، نکاح موجود ہے اور اس عورت نے دونوں سے بات کر لی تو اب تین طلاقیں ہو جائیں گی ہمارے نزدیک بھی امامِ زفر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی۔ دوسری صورت: دونوں چیزیں غیر ملک میں پائی گئیں، خاوند نے تین طلاقیں تو معلق کر دیں لیکن ان کے واقع ہونے سے پہلے خاوند نے ایک طلاقِ بائن دے کر عورت کو جدا کر دیا اپنے سے، اب عدت گزر گئی بعد میں اس عورت نے ابو عمرو سے بھی بات کی اور ابو یوسف سے بھی تو دونوں دیکھو غیر ملکیت میں پائی گئیں نکاح کے باہر بھئی، تو اس صورت میں بالاتفاق طلاق واقع نہیں ہوگی نہ ہمارے نزدیک اور نہ امامِ زفر رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ ان کے نزدیک تو دونوں ملک میں ہونا ضروری ہیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ پہلی چیز ملکیت میں ہوتی ہے اور دوسری ملکیت کے بعد ہوتی ہے یعنی عورت نے ابو عمرو سے تو بات کی ہے نکاح کے ہی حالت میں اور پھر خاوند نے ایک طلاق دے دی ہے اور عورت بائنہ ہو گئی جدا ہو گئی عدت گزر گئی پھر اس عورت نے ابو یوسف سے بات کر لی تو اب یہ دوسری چیز غیر ملکیت میں یعنی غیر نکاح میں پائی جا رہی ہے تو اس صورت میں بھی بالاتفاق ہمارے نزدیک بھی طلاق واقع نہیں اور امامِ زفر کے نزدیک بھی طلاق واقع نہیں۔ تو معلوم ہوا تین صورتوں میں ہمارا اور امامِ زفر کا اتفاق ہے: اگر دونوں ملکیت میں ہوئیں دونوں چیزیں تو بالاتفاق طلاق واقع ہو جائے گی، اگر دونوں ملکیت سے باہر ہوئیں تو بالاتفاق طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر پہلی تو ملکیت میں ہے اور دوسری ملکیت سے باہر ہے تو اس میں بھی بالاتفاق طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لیکن چوتھی صورت کہ پہلی تو غیر ملک میں ہے بات اور دوسری ملکیت کے اندر ہے، اس میں ہمارے نزدیک طلاق واقع ہو جائے گی اور امامِ زفر کے نزدیک طلاق واقع نہیں کیونکہ دونوں کا ملکیت میں ہونا ضروری تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی، دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ عَلَى وُجُوهٍ“ اور یہ مسئلہ کئی صورت پر ہے، ”إِمَّا إِنْ وُجِدَ الشَّرْطَانِ فِي الْمِلْكِ“ یا تو دونوں شرطیں ملکیت میں پائی جائیں گی، ”فَيَقَعُ الطَّلَاقُ“ تو طلاق واقع ہو جائے گی، ”وَهَذَا ظَاهِرٌ“ اور یہ تو ظاہر ہے کہ جب دونوں شرط پائی جائے تو مشروط بھی پایا جاتا ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور خاوند مالک بھی ہے، شرطیں پائی گئیں اور خاوند مالک بھی ہے تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، ”أَوْ وُجِدَا فِي غَيْرِ الْمِلْكِ“ یا یہ دونوں پائی گئیں غیر ملک میں، ”فَلَا يَقَعُ“ تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، ”أَوْ وُجِدَ الْأَوَّلُ فِي الْمِلْكِ وَالثَّانِي فِي غَيْرِ الْمِلْكِ“ یا اول تو ملکیت میں پائی جائے اور دوسری غیر ملکیت میں، ”فَلَا يَقَعُ أَيْضًا“ تو اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، ”لِأَنَّ الْجَزَاءَ لَا يَنْزِلُ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ جزا نے تو دوسری چیز کے بعد آنا ہے، دو چیزوں میں سے جب دوسری پائی جائے گی تب جزا آئے گی اور دوسری چیز جب پائی گئی اس وقت تو خاوند طلاقوں کا مالک ہی نہیں تھا لہٰذا وہ یمین کھل جائے گی اور کچھ بھی واقع نہیں ہوگا، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْجَزَاءَ لَا يَنْزِلُ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ جزا غیر ملک میں نازل نہیں ہوتی، ”فَلَا يَقَعُ“ لہٰذا واقع نہیں ہوگی، ”أَوْ وُجِدَ الْأَوَّلُ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ“ یا اول چیز تو پائی گئی غیر ملک میں، ”وَالثَّانِي فِي الْمِلْكِ“ اور دوسری چیز جو ہے ملکیت کے اندر پائی گئی، خاوند نے دوبارہ اس سے نکاح کیا تھا، ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ الْكِتَابِ الْخِلَافِيَّةُ“ اور یہ ہے وہ کتاب والا مسئلہ الخلافیۃ اختلافی۔ یہ ہے وہ کتاب والا اختلافی مسئلہ بھئی جو متن میں ذکر ہے۔ ہمارے نزدیک جب پہلی غیر ملک میں ہے اور دوسری دوسری چیز ملکیت میں ہے تو دوسری کے بعد طلاق نے آنا ہے اور اس وقت تو خاوند کی ملکیت ہے لہٰذا تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور امامِ زفر کے نزدیک دونوں کا ملک میں ہونا ضروری تھا، ان کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”لَهُ“ امامِ زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”اعْتِبَارُ الْأَوَّلِ بِالثَّانِي“ وہ اول کو قیاس کرتے ہیں ثانی پر، ”إِذْ هُمَا فِي حُكْمِ الطَّلَاقِ كَشَيْءٍ وَاحِدٍ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں طلاق کے حکم میں شےِ واحد کی طرح ہیں۔ امامِ زفر فرماتے ہیں اگر خاوند صرف ابو عمرو کی شرط لگاتا کہ اگر تو نے ابو عمرو سے بات کی تو تجھے طلاق ہے تو عورت ملکیت میں جب ابو عمرو سے بات کرے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی، تو جب ایک چیز ہو اس کا ملکیت میں ہونا ضروری ہے، تو جب خاوند نے دو چیزوں کی شرط لگائی ہے تو دونوں کا ملکیت میں ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں بھی ایک کے درجے میں ہیں، یہ دونوں بھی ایک کے درجے میں ہیں اور ایک کے اندر تو ملکیت ضروری تھی تو ان دو کے اندر بھی ملکیت ضروری ہے بھئی۔ تو وہ اس اول کو قیاس کرتے ہیں ثانی پر ثانی پر۔ ہمارے ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ اول ملک میں نہ بھی ہو دوسری ملکیت میں ہوئی دوسری چیز تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو امامِ زفر فرماتے ہیں جیسے دوسری کا آپ کے نزدیک ملکیت میں ہونا ضروری ہے اسی طرح پہلی کا بھی ملکیت میں ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں شےِ واحد کے حکم میں ہیں۔ تو خاوند چاہے دو چیزیں ذکر کرے چاہے دس ذکر کرے یہ سب ایک ہی چیز کے درجے میں ہوں گی اور سب کا ملکیت میں ہونا ضروری ہے۔ تو کیا دلیل ان کی؟ کہ آپ کے نزدیک جیسے دوسری کا ملکیت میں ہونا ضروری ہے اسی طرح پہلی بھی تو شرط ہے اس کا بھی ملکیت میں ہونا ضروری ہے بھئی، دلیل بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں۔
”لَهُ“ امامِ زفر رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے: ”اعْتِبَارُ الْأَوَّلِ بِالثَّانِي“ کہ وہ اول کو اعتبار کرتے ہیں ثانی پر، اول کو قیاس کرتے ہیں ثانی پر کہ جیسے ثانی کا ملکیت میں ہونا ضروری اسی طرح اول کا بھی ملکیت میں ہونا ضروری ہے، ”إِذْ هُمَا فِي حُكْمِ الطَّلَاقِ كَشَيْءٍ وَاحِدٍ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں چیزیں جو ہیں طلاق کے حکم میں ”كَشَيْءٍ وَاحِدٍ“ ایک ہی چیز کی طرح ہیں، ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ صِحَّةَ الْكَلَامِ بِأَهْلِيَّةِ الْمُتَكَلِّمِ“ کہ کلام کا صحیح ہونا متکلم کی اہلیت سے ہوتا ہے۔ کلام کا صحیح ہونا، میں نے آپ کو بتلایا تعلیق کے لیے اہلیت چاہیے۔ انسان کو عاقل بالغ ہو کیونکہ قسم کسی آدمی کے ذمہ میں رہتی ہے اسی طرح تعلیق بھی اس کے ذمہ میں رہتی ہے اور یہاں پر خاوند تعلیق کر رہا ہے اور خاوند کیا ہے؟ عاقل بالغ ہے، اس میں اہلیت ہے، اس کے ذمے میں کوئی چیز رہ سکتی ہے تو اس نے تعلیق کی ہے تو یہ تعلیق اس کے ذمے میں رہے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ صِحَّةَ الْكَلَامِ بِأَهْلِيَّةِ الْمُتَكَلِّمِ“ کہ اس کلام کا صحیح ہونا یعنی اس تعلیق کا صحیح ہونا ”بِأَهْلِيَّةِ الْمُتَكَلِّمِ“ متکلم کے اہل ہونے سے ہے، اس کلام کا صحیح ہونا متکلم کے اہل ہونے سے ہے یعنی اس کے ذمے سے اس کا تعلق ہے، ”إِلَّا أَنَّ الْمِلْكَ يُشْتَرَطُ حَالَةَ التَّعْلِيقِ“ توجہ ہے؟ پھر سنیں: ”وَلَنَا أَنَّ صِحَّةَ الْكَلَامِ بِأَهْلِيَّةِ الْمُتَكَلِّمِ“ کہ اصل میں تو اس کلام کا صحیح ہونا اس تعلیق کا صحیح ہونا اس کا تعلق متکلم کی اہلیت سے ہے، اس کو اہل ہونا چاہیے، اس کے ذمے کوئی چیز رہ سکے، تعلیق اس کے ذمے رہ سکے، وہ بچہ یا مجنون نہ ہو بھئی۔ تو لہٰذا اس کلام کا اور اس تعلیق کا صحیح ہونا صرف متکلم پر موقوف ہے، متکلم اہل ہو تو یہ تعلیق کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی۔ ہاں البتہ ساتھ ہم ملکیت کی شرط لگاتے ہیں، وہ شرط ہم کیوں لگاتے ہیں اب وہ بیان کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ صِحَّةَ الْكَلَامِ بِأَهْلِيَّةِ الْمُتَكَلِّمِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ اس کلام کا صحیح ہونا متکلم کی اہلیت کے ساتھ ہے، ”إِلَّا أَنَّ الْمِلْكَ يُشْتَرَطُ حَالَةَ التَّعْلِيقِ“ مگر یہ کہ ملکیت جو ہے وہ شرط ہے حالتِ تعلیق تعلیق کی حالت میں، ”لِيَصِيرَ الْجَزَاءُ غَالِبَ الْوُجُودِ“ تاکہ جزا غالب الوجود ہو جائے، جزا کا ہونا یقینی ہو جائے، ”لِاسْتِصْحَابِ الْحَالِ“ استصحابِ حال کی وجہ سے۔ ”لِاسْتِصْحَابِ الْحَالِ“ بھئی اس کو اچھی طرح سمجھ لیں، استصحابِ حال بھئی، استصحابِ حال کہتے ہیں: إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ، کہ ایک چیز جس صفت پر تھی اسی پر اس کو باقی قرار دینا، اسی پر اس کو باقی رکھنا۔ فقہاء اس کی مثال ذکر کرتے ہیں: مثلاً آپ جنگل میں جا رہے ہیں اور وہاں کچھ پانی جمع ہے، اب آپ کو وضو کی حاجت پیش آئی، آپ اس پانی سے وضو کرنا چاہتے ہیں لیکن معلوم نہیں یہ پانی پاک ہے یا پاک نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہاں پانی میں ظاہر کوئی نجاست وغیرہ کے آثار نہیں ہیں کیونکہ اگر ظاہری نجاست وہاں موجود ہے پھر تو اس کے ناپاک ہونے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن ویسے پانی جمع ہے، اب پتا نہیں یہ پاک ہے یا پاک نہیں، تو فقہاء فرماتے ہیں اس صورت میں استصحابِ حال کو دلیل بنایا جائے گا۔ استصحابِ حال کو دلیل بنایا جائے گا، اور استصحابِ حال کسے کہتے ہیں؟ إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ، ایک چیز کو اسی حالت پر قرار دینا جس حالت پر وہ تھی، اور ماضی کے اندر تو یہ پانی پاک تھا کیونکہ یہ پانی کہاں سے آیا؟ بارش کی وجہ سے آیا اور بارش کا پانی تو پاک ہوتا ہے، تو جب یہ آسمان سے جب نازل ہوا اس وقت یہ پاک تھا، تو اس وقت بھی اس کو پاک قرار دیا جائے گا۔ إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ، ایک چیز کو اسی حالت پر قرار دینا جس حالت پر وہ تھا، ماضی کے اندر یہ پانی پاک تھا تو آج بھی اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ پاک ہی قرار دیا جائے گا اِلا یہ کہ کوئی مزیل آ جائے جو اس صفت کو کیا کر دے؟ زائل کر دے اور ختم کر دے، اور یہاں تو کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے لہٰذا پانی کو پاک قرار دیا جائے گا۔ تو استصحابِ حال کسے کہتے ہیں؟ إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ بھئی، تو استصحاب کا ویسے معنیٰ ہوتا ہے مصاحبت طلب کرنا، سین طلب کے لیے ہے، استصحاب الحال، حال کی مصاحبت طلب کرنا یعنی ماضی کے اندر ایک چیز کا جو حال تھا تو اس حال کو بھی اس کا مصاحب بنا دیا جائے کہ اب بھی وہی حالت ہے، پہلے حالت تھی اب بھی وہی حالت ہے بھئی۔
تو دیکھو! بات چل رہی تھی کہ تعلیق تو صحیح ہو جائے گی جب کہنے والے میں اہلیت ہو، جب کہنے والے میں اہلیت ہو وہ عاقل بالغ ہے تو اس کی تعلیق صحیح ہے۔ ہاں ہم ملکیت کی بھی شرط لگاتے ہیں، ملکیت کی شرط اس لیے لگاتے ہیں تاکہ جزا غالب الوجود ہو جائے، جزا کے ہونے کا یقین ہو جائے، خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ اب اس وقت خاوند مالک ہے تو اب اس جزا کا ہونا بھی یقینی ہے حالانکہ احتمال تو یہ آتا ہے ہو سکتا ہے اس وقت تو یہ مالک ہے نکاح موجود ہے لیکن ہو سکتا ہے چند دن کے بعد یہ طلاق دے دے تو جس وقت شرط واقع ہوگی اس وقت تو ملکیت ہی موجود نہیں ہوگی، لیکن کہتے ہیں اس وقت مالک ہے تو ہم استصحابِ حال کو دلیل بنائیں گے کہ امید ہے اس وقت بھی ملکیت موجود ہوگی، جب اس وقت ملکیت موجود ہوگی تو جزا واقع ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا شرط کی تعلیق کے لیے تو اصل اس آدمی کی اہلیت ہے اور خاوند عاقل بالغ ہے لہٰذا اہلیت تو ہے، البتہ ہم نے ملکیت کی بھی شرط لگائی، ملکیت کی شرط کس لیے لگائی؟ تاکہ جزا غالب الوجود ہو جائے، جزا کے ہونے کا یقین ہو جائے، اس وقت مالک ہے تو یقیناً اس وقت بھی مالک ہوگا استصحابِ حال کی وجہ سے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی! صاحبِ ہدایہ اس کو اور بہتر انداز میں ذکر فرمائیں گے، تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ الْمِلْكَ يُشْتَرَطُ حَالَةَ التَّعْلِيقِ“ لیکن یہ کہ ملکیت شرط ہوگی تعلیق کی حالت میں، جب خاوند تعلیق کر رہا ہو اس کو ان طلاقوں کا مالک ہونا چاہیے، ”لِيَصِيرَ الْجَزَاءُ غَالِبَ الْوُجُودِ“ تاکہ جزا جو ہے غالب الوجود ہو جائے اس کے ہونے کا یقین ہو جائے، ”لِاسْتِصْحَابِ الْحَالِ“ کس وجہ سے؟ استصحابِ حال کی وجہ سے یعنی إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ کی وجہ سے، جس حالت پر ایک چیز تھی اسی پر اس کو باقی رکھا جائے۔ ”فَيَصِحُّ الْيَمِينُ“ تو یمین صحیح ہو جائے گی، اس وقت ملکیت کو ہم نے شرط قرار دیا ہے تاکہ جزا غالب الوجود ہو جائے جزا کے ہونے کا یقین ہو جائے استصحابِ حال کی وجہ سے، ”فَيَصِحُّ الْيَمِينُ“ تو یمین صحیح ہو جائے گی، منعقد ہو جائے گی بھئی۔ ترجمہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ پھر دیکھ لیں ترجمہ: ”إِلَّا أَنَّ الْمِلْكَ يُشْتَرَطُ حَالَةَ التَّعْلِيقِ“ مگر یہ کہ ملکیت شرط ہوگی تعلیق کی حالت میں، ”لِيَصِيرَ الْجَزَاءُ غَالِبَ الْوُجُودِ“ تاکہ جزا غالب الوجود ہو جائے، ”لِاسْتِصْحَابِ الْحَالِ“ استصحابِ حال کی وجہ سے، ”فَيَصِحُّ الْيَمِينُ“ تو یمین صحیح ہو جائے گی، ”وَعِنْدَ تَمَامِ الشَّرْطِ“ اور نیز ”وَعِنْدَ تَمَامِ الشَّرْطِ“ اس کا عطف ہے حالتِ تعلیق پر، اس کا عطف کس پر ہے؟ حالتِ تعلیق پر۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ ”إِلَّا أَنَّ الْمِلْكَ يُشْتَرَطُ حَالَةَ التَّعْلِيقِ“ اس حالتِ تعلیق کو اٹھائیں اور یہاں ”عِنْدَ تَمَامِ الشَّرْطِ“ رکھیں: ”إِلَّا أَنَّ الْمِلْكَ يُشْتَرَطُ عِنْدَ تَمَامِ الشَّرْطِ“ اسی طرح ملکیت شرط ہوگی، شرط ہوگی ”عِنْدَ تَمَامِ الشَّرْطِ“ جس وقت شرط پوری ہو رہی ہو، اس وقت بھی ملکیت شرط ہوگی، ”لِيَنْزِلَ الْجَزَاءُ“ تاکہ جزا نازل ہو سکے بھئی، اس وقت مالک ہوگا تو طلاق ہو سکے گی اگر وہ مالک نہیں ہے تو طلاق بھی واقع نہیں ہوگی، تو اس وقت بھی ملکیت شرط ہوگی ”لِيَنْزِلَ الْجَزَاءُ“ تاکہ جزا نازل ہو سکے، ”لِأَنَّهُ لَا يَنْزِلُ إِلَّا فِي الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ جزا نازل نہیں ہوتی مگر ملکیت میں ہی، خاوند مالک ہوگا تو طلاق ہو سکتی ہے ویسے طلاق نہیں ہو سکتی، ”وَفِيمَا بَيْنَ ذٰلِكَ الْحَالُ حَالُ بَقَاءِ الْيَمِينِ“ اور اس حالت کے درمیان جو ہے وہ بقائے یمین کی حالت ہے۔ ایک زمانہ وہ ہے جس میں تعلیق کر رہا ہے اس میں بھی ملکیت شرط، ایک زمانہ وہ ہے جس کے اندر جزا نازل ہوگی اس کے اندر بھی ملکیت شرط ہے، اور درمیان کے زمانے کے اندر ملکیت شرط نہیں ہے، یہ معنیٰ ہے ”وَفِيمَا بَيْنَ ذٰلِكَ الْحَالُ حَالُ بَقَاءِ الْيَمِينِ“ اور اس کے بیچ میں جو حال ہے وہ بقائے یمین کا حال ہے، ”فَيُسْتَغْنَى عَنْ قِيَامِ الْمِلْكِ“ تو وہ بے نیاز ہے ملکیت کے قائم ہونے سے، اس میں ملکیت کا وجود ضروری نہیں ہے، ”إِذْ بَقَاؤُهُ بِمَحَلِّهِ“ اس لیے کیونکہ تعلیق کی جو بقا ہوتی ہے ”بِمَحَلِّهِ“ وہ اپنے محل کے ساتھ ہوتی ہے، تعلیق کا محل کیا ہے؟ قسم کھانے والے کا ذمہ ہے اور وہ تو موجود ہے بھئی، تو لہٰذا ملکیت بے شک نہ ہو لیکن ذمہ تو ہے لہٰذا وہ تعلیق باقی رہے گی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذْ بَقَاؤُهُ بِمَحَلِّهِ“ اس لیے کیونکہ تعلیق کی جو بقا ہوتی ہے ”بِمَحَلِّهِ“ وہ اپنے محل کے ذریعے ہوتی ہے، ”وَهُوَ الذِّمَّةُ“ اور وہ محل کیا ہے؟ وہ اس شخص کا ذمہ ہے جس نے تعلیق کی تھی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔