آگے سبق دیکھیے بھئی:
﴿وَإِنْ أَمَرَهَا بِطَلَاقٍ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ فَطَلَّقَتْ بَائِنَةً أَوْ أَمَرَهَا بِالْبَائِنِ فَطَلَّقَتْ رَجْعِيَّةً وَقَعَ مَا أَمَرَ بِهِ الزَّوْجُ، فَمَعْنَى الْأَوَّلِ أَنْ يَقُولَ لَهَا الزَّوْجُ: طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً أَمْلِكُ الرَّجْعَةَ، فَتَقُولَ: طَلَّقْتُ نَفْسِي وَاحِدَةً بَائِنَةً فَتَقَعُ رَجْعِيَّةً﴾۔
گزشتہ سبق میں ہم نے فصل امر بالید شروع کی تھی۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ اور چونکہ یہ کنایہ ہے طلاق کا اختیار دینے سے، لہٰذا اس کے اندر نیت شرط ہے۔ تو خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اور تین طلاقوں کی نیت کرتا ہے، اور بیوی جواب میں کہتی ہے: ”قَدِ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“ تو اس صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اس لیے کیونکہ عورت نے کیا کہا ہے: ”قَدِ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“۔ اور یہاں ہم ”بِتَطْلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ“ تطلیق مصدر نہیں نکال سکتے، اس لیے کیونکہ ماقبل میں طلاق والا فعل عورت نے ذکر نہیں کیا، بلکہ ماقبل میں اختیار والا فعل ذکر کیا ہے تو اسی کے مطابق مصدر نکالیں گے، تو گویا عورت نے یوں کہا ہے: ”قَدِ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِاخْتِيَارَةٍ وَاحِدَةٍ“۔ تو ایک مرتبہ اختیار کر رہی ہے اس چیز کو جس کا خاوند نے اس کو مالک بنایا تھا، اور وہ تو تین طلاقیں تھیں، لہٰذا تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
لیکن اگر خاوند نے تو کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، نیت تین کی کر رہا ہے، اور عورت جواب میں کہتی ہے: ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي بِوَاحِدَةٍ“، تو پھر اس صورت میں ایک طلاق ہو گی۔ یا اسی طرح عورت کہتی ہے: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ“، خود طلاق کا لفظ لے آتی ہے، تو اس صورت میں بھی ایک ہی طلاق واقع ہو گی بھئی۔
اور نیز یہ بھی بتلایا کہ اس کے ذریعے طلاقِ بائن ہی ہو گی، رجعی نہیں، اگرچہ عورت تطلیق کا لفظ صراحۃً لے آئی ہے۔ وجہ یہ کہ خاوند نے عورت کو اس کے معاملے کا مالک بنایا ہے، اور مالک ہونا تبھی ہو سکتا ہے جب یہاں عورت کو طلاقِ بائن کا مالک بنایا جائے، اس لیے کیونکہ طلاقِ رجعی کے اندر تو معاملہ عورت کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بھئی، وہاں تو خاوند جب چاہے رجوع کر سکتا ہے بھئی، عدت گزرنے سے پہلے پہلے۔
پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ اگر خاوند نے عورت کو ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ کہا اور دو الگ الگ وقت ذکر کیے، تو اس صورت میں یہ دو امر ہو گئے۔ تو اگر پہلے وقت کے اندر عورت رد بھی کر دے تو دوسرے وقت کے اندر اس کو پھر اختیار ہو گا، اور پہلے امر کو رد کرنے سے دوسرا امر رد نہیں ہو گا کیونکہ وہ الگ ہے۔ لیکن اگر خاوند نے درمیان میں فصل نہ کیا اور دو تین وقت ذکر کر دیے جو سارے اکٹھے ترتیب سے آ رہے ہیں، تو پھر اس صورت میں یہ ایک ہی امر ہو گا اور ایک مرتبہ عورت اگر اس کو رد کر دے تو پھر دوبارہ اس کو اختیار نہیں ہو گا بھئی۔
اور اسی طرح پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“ کہ فلاں جس دن آئے تو تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، اور جس دن وہ شخص آیا عورت کو پتہ نہ چلا، رات کو عورت کو پتہ چلا، تو اس صورت میں امر بالید جو ہے وہ چونکہ ایک فعلِ ممتد ہے اور فعلِ ممتد کے ساتھ یوم کو ذکر کیا جائے تو اس سے مراد نہار ہوتا ہے، تو لہٰذا اس سے دن مراد تھا اور وہ تو گزر چکا ہے، لہٰذا اب عورت کو کوئی اختیار نہیں ہے بھئی۔
اور نیز انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ اختیار عورت کو مجلس تک رہتا ہے، چاہے یہ مجلس جتنی بھی طویل ہو جائے تو عورت کو اختیار ہے۔ الّا یہ کہ وہاں سے وہ عورت اٹھ جائے تو مجلس بدل گئی تو اختیار ختم، یا عورت کوئی ایسا کام شروع کرے جو اعراض پر دلالت کرے تو اس صورت میں بھی عورت کا اختیار ختم ہو جائے گا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی آپ کو بتلایا کہ اگر عورت کھڑی ہوئی تھی اور پھر بیٹھ گئی، خاوند نے ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ کہا اس وقت عورت کھڑی ہوئی تھی اور پھر بیٹھ گئی، تو بھی اس کا اختیار باقی ہے کیونکہ بیٹھنا تو زیادہ متوجہ ہونے کی دلیل ہے۔ کھڑا ہونا تو اعراض کی دلیل ہے لیکن بیٹھنا زیادہ متوجہ ہونے کی دلیل ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ بیٹھی ہوئی تھی اس نے ٹیک لگا لی یا ٹیک لگائی ہوئی تھی اور بیٹھ گئی تو اس صورت میں بھی اس کا خیار باطل نہیں ہو گا بھئی۔
اس کے بعد اگلی فصل مشیت کے بارے میں ہم نے شروع کی تھی۔ خاوند نے بیوی سے کہا کہ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو اس صورت میں اگر خاوند نے ایک کی نیت کی ہے یا کوئی نیت نہیں کی ہے، تو چونکہ یہ صریح لفظ ہے، عورت کو طلاق کا اختیار مل گیا، تو وہ جب کہے گی ”طَلَّقْتُ نَفْسِي“ تو ایک رجعی طلاق واقع ہو جائے گی۔
اور اگر عورت نے اپنے اوپر تین طلاقیں واقع کیں ان لفظوں کے ساتھ، خاوند نے کیا کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ اور عورت نے اپنے اوپر تین طلاقیں واقع کر دیں جبکہ خاوند نے بھی یہی نیت کی ہوئی ہے، تو پھر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ وجہ یہ کہ یہ جو امر ہوتا ہے یہ متضمن ہوتا ہے مصدر کو۔ کسی کو جب امر دیا جائے مثلاً میں کسی سے کہتا ہوں: ”اِضْرِبْ“ تو دراصل معنی یہ ہے: ”اِفْعَلْ فِعْلَ الضَّرْبِ“۔ تو یہاں بھی جب خاوند نے کہا: ”طَلِّقِي“ تو اس کا معنی ہے: ”اِفْعَلِي فِعْلَ الطَّلَاقِ“ بھئی۔
اور اگر خاوند نے کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو پیچھے ذکر ہو گیا کہ اس صورت میں عورت اپنے آپ کو ایک رجعی طلاق دے سکتی ہے، لیکن جواب میں عورت کہتی ہے: ”أَبَنْتُ نَفْسِي“ میں نے اپنے آپ کو بائنہ کر دیا، تو کہتے ہیں اس صورت میں طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی، کیونکہ ابانت یہ بھی طلاق کے الفاظ میں سے ہے، اس کے ذریعے طلاق واقع ہو جایا کرتی ہے بھئی۔ تو لہٰذا خاوند نے بھی طلاق کا اختیار دیا تھا اور عورت بھی جواب میں طلاق ہی کو ذکر کر رہی ہے، تو عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہے اصل کے اندر یعنی طلاق کے اندر، اگرچہ وصف کے اندر عورت بینونت کو لا رہی ہے لیکن اصل کے اعتبار سے تو موافقت موجود ہے، لہٰذا اصل یعنی طلاق تو واقع ہو جائے گی اور وہ جو ابانت کا زائد وصف عورت نے ذکر کیا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا۔
لیکن اگر خاوند نے کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ اور عورت نے جواب میں کہا: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“، تو پھر اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی، اس لیے کیونکہ اختیار جو ہے یہ طلاق کے افعال میں سے نہیں ہے۔ تو گویا یہ اسی طرح ہے خاوند ایک بات کر رہا ہے اور بیوی کوئی دوسری بات کر رہی ہے، عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق نہیں ہے کیونکہ اختیار طلاق کے افعال میں سے نہیں ہے، تو لہٰذا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی۔ اور وہ جو ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ سے طلاق واقع بھی ہوتی تھی جہاں پر، وہ بھی اجماعِ صحابہ سے خلافِ قیاس ثابت تھا، اور وہ کس کے جواب میں تھا؟ جب خاوند ”اِخْتَارِي“ کہتا تھا اس کے جواب میں اگر عورت ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کہتی تو پھر طلاق واقع ہوا کرتی تھی، اور وہ بھی خلافِ قیاس طریقے پر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ ”اِخْتَارِي“ یا ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ وغیرہ سے طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ طلاق کے الفاظ میں سے نہیں ہے بھئی۔
اور نیز پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ جو خاوند نے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“، یہ بعض اعتبار سے تملیک ہے اور بعض اعتبار سے یہ تعلیق ہے۔ جب یہ تملیک ہے تو یہ مجلس تک بند رہے گا۔ تملیکات کا جواب مجلس میں ضروری ہے، تو یہ مجلس تک رہے گا۔ اور چونکہ یہ تعلیق بھی ہے لہٰذا خاوند اس سے رجوع نہیں کر سکتا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ یہ تو تملیک ہے لیکن ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ یہ توکیل ہے، یہ توکیل ہے۔ وجہ یہ کہ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ اس کے اندر عورت پھر اپنے لیے عمل کرے گی، اور اپنے لیے انسان جو عمل کرتا ہے وہ مالک ہونے کی حیثیت سے کرتا ہے، اور ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ اس کے اندر عورت جو عمل کرے گی وہ غیر یعنی خاوند کے لیے کر رہی ہے، خاوند کی مدد کر رہی ہے طلاق دینے کے اندر، تو لہٰذا یہ توکیل ہے۔ تو جو کام انسان اپنے لیے کرتا ہے وہ مالک ہو کر کرتا ہے، اور وہ کام جو انسان غیر کے لیے کرتا ہے وہ وکیل بن کر کرتا ہے۔ تو یہاں پر جب ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ کہا تو یہ تملیک ہے بھئی، کیونکہ عورت اپنے لیے اختیار استعمال کرے گی۔ اور جب ”طَلِّقِي ضَرَّتَكِ“ کہا تو اس صورت میں یہ توکیل ہے کیونکہ یہ خاوند کی مدد کرے گی طلاق دے کر بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر ایک شخص نے کسی دوسرے شخص سے کہا: ”طَلِّقِ امْرَأَتِي“ کہ تو میری بیوی کو طلاق دے دے، تو یہ توکیل ہے، لہٰذا یہ مجلس پر بند نہیں مجلس کے بعد بھی وہ طلاق دے سکتا ہے۔ لیکن اگر خاوند نے کہا: ”طَلِّقِ امْرَأَتِي إِنْ شِئْتَ“ کہ میری بیوی کو طلاق دے دے اگر تو چاہتا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر یہاں چونکہ ”إِنْ شِئْتَ“ کی قید لگا دی اگر تو چاہے یعنی اس کی مشیت کی قید لگا دی، لہٰذا یہ تملیک ہے اور تملیک تو مجلس تک رہتی ہے، لہٰذا صرف اسی مجلس میں وہ شخص طلاق دے سکتا ہے بھئی۔ اور نیز خاوند اس سے رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ تعلیق ہے بھئی، ”طَلِّقِ امْرَأَتِي إِنْ شِئْتَ“، دیکھو ”إِنْ شِئْتَ“ مشیت کے ساتھ اس کو معلق کر رہا ہے اور تعلیق کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔
پھر اس کے بعد مسئلہ ذکر کیا کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا“ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے، عورت نے اپنے آپ کو ایک طلاق دے دی، تو کہتے ہیں ایک واقع ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ خاوند نے جب تین طلاقوں کا اختیار دیا تو مطلب یہ ہے کہ اس کو تین طلاقوں کا مالک بنا دیا۔ تو وہ تین کی مالک ہے ان میں سے ایک کو وہ واقع کر دیتی ہے تو وہ ایک واقع ہو جائے گی بھئی۔ اور جبکہ اس کے برعکس اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے اور بیوی کہتی ہے میں نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، تو صاحبین فرماتے ہیں یہ تین کے ضمن میں ایک بھی آ گئی لہٰذا ایک واقع ہو جائے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، خاوند نے ایک کا اختیار دیا تھا اور بیوی نے تین کو واقع کیا ہے، اور ایک اور تین تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، ایک جو ہے اس میں ترکیب نہیں ہے، اس میں افراد نہیں ہیں اور وہ مفرد ہے، جبکہ تین جو ہے وہ تو عدد ہے اس کے اندر تو ترکیب ہے، اس کے اندر تو افراد ہیں، تو یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ تو لہٰذا خاوند نے تو ایک کا کہا ہے اور یہ تین واقع کر رہی ہے، تو یہ معلوم ہوا خاوند کا جواب نہیں دے رہی، یہ ایک الگ ہی بات کر رہی ہے۔ حالانکہ عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق ہونا چاہیے تھا، لہٰذا اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں ایک بھی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ جب خاوند نے ایک کا مالک بنایا اور عورت نے کتنی واقع کر دیں؟ تین، تو ایک بھی واقع نہیں ہو گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں ایک واقع ہو جائے گی بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
﴿وَإِنْ أَمَرَهَا بِطَلَاقٍ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ فَطَلَّقَتْ بَائِنَةً أَوْ أَمَرَهَا بِالْبَائِنِ فَطَلَّقَتْ رَجْعِيَّةً وَقَعَ مَا أَمَرَ بِهِ الزَّوْجُ﴾۔
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی کو طلاقِ رجعی کا اختیار دیا اور بیوی نے طلاقِ بائن واقع کر دی، یا خاوند نے طلاقِ بائن کا اختیار دیا اور بیوی نے طلاقِ رجعی واقع کر دی، تو یاد رکھیں اس صورت میں وہی طلاق واقع ہو گی جس کا خاوند نے حکم دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ أَمَرَهَا بِطَلَاقٍ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ﴾ اور اگر خاوند نے بیوی کو حکم دیا ایسی طلاق کا ﴿يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ﴾ کہ خاوند رجوع کا مالک ہو ﴿فَطَلَّقَتْ بَائِنَةً﴾ تو عورت نے اپنے آپ کو طلاقِ بائن دے دی ﴿أَوْ أَمَرَهَا بِالْبَائِنِ﴾ یا خاوند نے اس کو طلاقِ بائن کا حکم دیا ﴿فَطَلَّقَتْ رَجْعِيَّةً﴾ تو عورت نے طلاقِ رجعی دے دی ﴿وَقَعَ مَا أَمَرَ بِهِ الزَّوْجُ﴾ تو واقع ہو گی وہی طلاق جس کا خاوند نے حکم دیا تھا، ﴿فَمَعْنَى الْأَوَّلِ﴾ تو پہلے قول کا معنی یہ ہے۔ پہلی صورت ذکر کی کہ خاوند نے رجعی طلاق کا حکم دیا تو اس کی کیا صورت ہو گی اب وہ بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿فَمَعْنَى الْأَوَّلِ﴾ تو پہلے قول کا معنی یہ ہے ﴿أَنْ يَقُولَ لَهَا الزَّوْجُ: طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً أَمْلِكُ الرَّجْعَةَ﴾ کہ خاوند جو ہے بیوی سے کہتا ہے: تو اپنے آپ کو ایک ایسی طلاق دے دے جس میں میں رجوع کا مالک ہوں، ﴿فَتَقُولَ: طَلَّقْتُ نَفْسِي وَاحِدَةً بَائِنَةً﴾ تو عورت جواب میں کہتی ہے کہ میں نے اپنے آپ کو ایک بائن طلاق دے دی، ﴿فَتَقَعُ رَجْعِيَّةً﴾ تو رجعی طلاق واقع ہو گی ﴿لِأَنَّهَا أَتَتْ بِالْأَصْلِ وَزِيَادَةِ وَصْفٍ كَمَا ذَكَرْنَا﴾، اس لیے کیونکہ عورت اصل کو بھی لائی ہے اور وصف کی زیادتی کو بھی کما ذکرنا جیسے ہم نے ذکر کر دیا، خاوند نے بھی اسے کس چیز کا مالک بنایا ہے؟ طلاق کا، عورت نے بھی کیا واقع کی ہے؟ طلاق۔ تو اصل کے اندر تو موافقت ہے، لیکن وصف کے اندر عورت نے بینونت کو زائد ذکر کر دیا تو وہ وصف لغو ہو جائے گا اور اصل یعنی طلاق واقع ہو جائے گی جیسے خاوند نے کہا تھا اسی طرح بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهَا أَتَتْ بِالْأَصْلِ وَزِيَادَةِ وَصْفٍ كَمَا ذَكَرْنَا﴾، اس لیے کیونکہ عورت اصل یعنی طلاق کو بھی لائی ہے، یعنی عورت نے طلاق کو بھی ذکر کیا ہے، ﴿وَزِيَادَةِ وَصْفٍ﴾ اور وصف کی زیادتی کو بھی ذکر کیا ہے، ﴿كَمَا ذَكَرْنَا﴾ جیسے ہم نے ذکر کر دیا، ﴿فَيَلْغُو الْوَصْفُ وَيَبْقَى الْأَصْلُ﴾ تو وصف جو ہے وہ لغو ہو جائے گا اور اصل جو ہے یعنی طلاق باقی رہے گی۔
﴿وَمَعْنَى الثَّانِيَةِ﴾ اور دوسرے مسئلے کا معنی یہ ہے ﴿أَنْ يَقُولَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً بَائِنَةً﴾ کہ خاوند بیوی سے کہتا ہے کہ تو اپنے آپ کو ایک بائنہ طلاق دے دے، ﴿فَتَقُولَ: طَلَّقْتُ نَفْسِي وَاحِدَةً رَجْعِيَّةً﴾ تو عورت جواب میں کہتی ہے کہ میں نے اپنے آپ کو ایک رجعی طلاق دے دی، ﴿فَتَقَعُ بَائِنَةً﴾ تو طلاقِ بائنہ واقع ہو گی، ﴿لِأَنَّ قَوْلَهَا: وَاحِدَةً رَجْعِيَّةً لَغْوٌ مِنْهَا﴾ اس لیے کیونکہ عورت کا قول ”وَاحِدَةً رَجْعِيَّةً“ یہ ﴿لَغْوٌ مِنْهَا﴾ یہ لغو ہو گا۔ بھئی وجہ یہ، وجہ یہ ذکر کریں گے کہ جب خاوند نے اس کو طلاق کا مالک بنایا اور طلاق کی صفت بھی ذکر کر دی، طلاق کی صفت بھی ذکر کر دی کہ طلاقِ بائن اپنے اوپر واقع کر دے تو اب یہاں صرف عورت طلاق واقع کر سکتی ہے تعیینِ وصف نہیں کر سکتی، کیونکہ تعیینِ وصف تو خاوند کر چکا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الزَّوْجَ لَمَّا عَيَّنَ صِفَةَ الْمُفَوَّضِ إِلَيْهَا﴾، اس لیے کیونکہ خاوند نے جب متعین کر دی ﴿صِفَةَ الْمُفَوَّضِ إِلَيْهَا﴾ وہ طلاق جو عورت کے سپرد کی گئی تھی اس کی صفت کو، مفوض الیہا کیا ہے؟ وہ طلاق جو عورت کے سپرد کی گئی ہے، خاوند نے اس کی صفت ذکر کر دی کہ کون سی طلاق واقع کر؟ بائنہ واقع کر، تو اس نے صفت متعین کر دی۔ تو لہٰذا اب عورت تعیینِ صفت نہیں کر سکتی، وہ خاوند متعین کر چکا ہے، عورت صرف ایقاعِ طلاق کرے گی بھئی۔ ﴿لِأَنَّ الزَّوْجَ لَمَّا عَيَّنَ صِفَةَ الْمُفَوَّضِ إِلَيْهَا﴾ اس لیے کیونکہ خاوند نے جب متعین کر دی وہ طلاق جو عورت کے سپرد کی گئی تھی اس کی صفت، ﴿فَحَاجَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى إِيقَاعِ الْأَصْلِ دُونَ تَعْيِينِ الْوَصْفِ﴾ تو عورت کو جو حاجت ہے اس کے بعد وہ ایقاعِ اصل کی ہے کہ وہ اصلِ طلاق کو واقع کرے، ﴿دُونَ تَعْيِينِ الْوَصْفِ﴾ نہ کہ وصف کی تعیین، اس کی اس کو حاجت نہیں، وہ تو پہلے ہی متعین ہو چکی، ﴿فَصَارَ كَأَنَّهَا اقْتَصَرَتْ عَلَى الْأَصْلِ﴾ تو یہ ایسے ہی ہو گیا کہ گویا عورت نے اصل پر اکتفا کر لیا، اور اس نے جو رجعی وصف ذکر کیا وہ لغو ہو گیا۔ تو ﴿فَصَارَ كَأَنَّهَا اقْتَصَرَتْ عَلَى الْأَصْلِ﴾ تو یہ ایسے ہی ہو گیا کہ عورت نے اصل پر اکتفا کر لیا، ﴿فَيَقَعُ بِالصِّفَةِ الَّتِي عَيَّنَهَا الزَّوْجُ بَائِنًا أَوْ رَجْعِيًّا﴾ تو واقع ہو گی طلاق اسی صفت کے ساتھ جو خاوند نے متعین کی تھی، بائن یا رجعی، جو بھی صفت خاوند نے متعین کی تھی اس کے مطابق طلاق واقع ہو جائے گی۔
﴿وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا إِنْ شِئْتِ فَطَلَّقَتْ وَاحِدَةً لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ﴾۔
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا إِنْ شِئْتِ“ کہ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ”إِنْ شِئْتِ“ اگر تو چاہتی ہے۔ عورت نے اپنے آپ کو ایک طلاق دے دی، کہتے ہیں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ بھئی کیوں؟ پچھلے مسئلے میں آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا“ اور پھر عورت ایک واقع کرتی ہے تو ایک واقع ہو جاتی ہے۔ تو جواب یہ کہ یہاں خاوند ”إِنْ شِئْتِ“ بھی ساتھ ذکر کر رہا ہے: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا إِنْ شِئْتِ“، اور ”إِنْ شِئْتِ“ کے لیے آگے مفعول محذوف ہے، أَيْ: ”إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ“، ”طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ“، تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ”إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ“ اگر تو تین چاہتی ہے۔ تو لہٰذا عورت جب ایک واقع کر رہی ہے معلوم ہوا وہ تین نہیں چاہتی، تو شرط پوری نہیں، جب شرط پوری نہیں تو لہٰذا طلاق بھی واقع، طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ ثَلَاثًا إِنْ شِئْتِ﴾، خاوند نے بیوی سے کہا اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ”إِنْ شِئْتِ“ اگر تو چاہتی ہے، ﴿فَطَلَّقَتْ وَاحِدَةً لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ﴾ تو عورت نے اپنے آپ کو ایک طلاق دے دی، ﴿لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ﴾ تو کوئی چیز واقع نہیں ہو گی، ﴿لِأَنَّ مَعْنَاهُ: إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ﴾ اس لیے کیونکہ خاوند کے اس قول کا معنی یہ ہے: ”إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ“ اگر تو تین چاہتی ہے، ﴿وَهِيَ بِإِيقَاعِ الْوَاحِدَةِ مَا شَاءَتِ الثَّلَاثَ﴾ اور عورت نے ایک طلاق واقع کر کے تین کو نہیں چاہا، خاوند نے تو کیا کہا تھا: تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے اگر تو تین چاہتی ہے۔ تو دیکھو شرط ذکر کی ہے، تین چاہنے کی صورت میں وہ طلاق دے سکتی ہے اور عورت نے تو تین کو چاہا ہی نہیں، شرط پوری نہیں تو مشروط بھی نہیں بھئی، طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهِيَ بِإِيقَاعِ الْوَاحِدَةِ مَا شَاءَتِ الثَّلَاثَ﴾ اور ایک طلاق واقع کر کے عورت نے تین کو نہیں چاہا، ﴿فَلَمْ يُوجَدِ الشَّرْطُ﴾ تو شرط نہیں پائی گئی۔ شرط کیا تھی؟ ”إِنْ شِئْتِ الثَّلَاثَ“ اگر تو تین چاہتی ہے، جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں بھئی۔
﴿وَلَوْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً إِنْ شِئْتِ فَطَلَّقَتْ ثَلَاثًا فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے ”إِنْ شِئْتِ“ اگر تو چاہتی ہے، ﴿فَطَلَّقَتْ ثَلَاثًا﴾ تو عورت نے تین طلاقیں دے دیں، ﴿فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾ تو بھی مسئلہ اسی طرح ہے امام صاحب کے نزدیک، یعنی کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔
خاوند نے کیا کہا کہ تو اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے اگر تو چاہتی ہے، اور عورت نے کتنی واقع کیں؟ تین واقع کیں۔ تو خاوند کی شرط یہ تھی: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً إِنْ شِئْتِ“، أَيْ: ”إِنْ شِئْتِ الْوَاحِدَةَ“، اگر تو ایک چاہتی ہے تو ایک طلاق واقع کر دے۔ لیکن عورت نے تو تین ذکر کیا، معلوم ہوا اس نے ایک کو نہیں چاہا، شرط نہیں۔ جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، لہٰذا وہ طلاق واقع نہیں ہو گی۔ اور نیز یہ مسئلہ پیچھے بھی ذکر ہوا تھا، پیچھے مسئلہ کیا ذکر تھا کہ خاوند نے اگر بیوی سے کہا اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے، عورت نے ایک واقع کر دی تو ایک واقع ہو جاتی تھی، کیونکہ جب عورت تین کی مالک ہے تو تین میں سے ایک کو بھی اپنے اوپر واقع کر سکتی ہے۔ اور پیچھے ہی دوسرا مسئلہ یہ ذکر ہوا تھا کہ خاوند نے بیوی سے کہا اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے، عورت نے تین دے دیں، تو صاحبین فرماتے تھے تین کے ضمن میں ایک بھی ہو گئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے تھے نہیں، ایک الگ چیز ہے، تین الگ چیز ہے، لہٰذا جب خاوند نے ایک کا کہا ہے تو عورت نے تین کو ذکر کیا ہے تو عورت کا جواب خاوند کی تفویض کے مطابق نہیں ہے، لہٰذا وہ طلاقیں واقع نہیں ہیں۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، خاوند نے کیا کہا ہے: تو اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے ”إِنْ شِئْتِ“، اب مشیت کو ساتھ ذکر کر دیا، مشیت کے ساتھ معلق کر دیا۔ اور عورت نے کیا کہا: میں نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، تو خاوند نے تو طلاق کو معلق کیا تھا ”إِنْ شِئْتِ الْوَاحِدَةَ“ ایک کے چاہنے سے، تو عورت نے تو ایک کو نہیں چاہا، تو شرط پوری نہیں، جب شرط پوری نہیں تو کوئی بھی طلاق واقع نہیں۔ جبکہ صاحبین یہاں بھی فرماتے ہیں کہ ایک طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ تین کے چاہنے میں ایک کا چاہنا بھی پایا گیا، کل کے ضمن میں جز بھی آ جاتا ہے۔
معلوم ہوا جیسے ایقاعِ طلاق کے اندر صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف تھا، یہاں اس مشیت کے اندر بھی امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ توجہ ہے؟ پچھلے مسئلے کو ذہن میں رکھیں۔ خاوند نے بیوی سے کہا تھا کہ اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے، بیوی نے تین طلاقیں واقع کر دی تھیں، تو امام صاحب فرماتے تھے ایک بھی واقع نہیں ہوئی اور صاحبین فرماتے تھے ایک واقع ہو گئی۔ اور یہاں مشیت کے مسئلے میں بھی اسی طرح ہے، خاوند نے ایک طلاق کی مشیت ذکر کی ہے کہ اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے اگر تو چاہتی ہے، اور عورت نے کتنی طلاقیں واقع کیں؟ تین واقع کی ہیں، معلوم ہوا وہ تین چاہتی ہے۔ تو امام صاحب یہاں بھی فرماتے ہیں جیسے ایقاعِ طلاق کے مسئلے میں خاوند نے جب ایک کا اختیار دیا ہو تو تین واقع کرنے سے وہ ایک واقع نہیں ہوتی، تو یہاں بھی جب خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے ایک کی مشیت پر تو تین کی مشیت تو اس سے الگ ہے، تو لہٰذا ایک بھی واقع نہیں ہو گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ تین کی مشیت میں ایک کی مشیت بھی آ گئی لہٰذا ایک واقع ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ وَاحِدَةً إِنْ شِئْتِ فَطَلَّقَتْ ثَلَاثًا فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا اپنے آپ کو ایک طلاق دے دے ”إِنْ شِئْتِ“ اگر تو چاہتی ہے، ﴿فَطَلَّقَتْ ثَلَاثًا﴾ تو عورت نے تین طلاقیں دے دیں، ﴿فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾ تو بھی مسئلہ اسی طرح ہے، یعنی ایک بھی طلاق واقع نہیں ہو گی، ﴿لِأَنَّ مَشِيئَةَ الثَّلَاثِ لَيْسَتْ بِمَشِيئَةِ الْوَاحِدَةِ كَإِيقَاعِهَا﴾، کیونکہ تین کا چاہنا یہ ایک کا چاہنا نہیں ہے، ﴿كَإِيقَاعِهَا﴾ جیسے کہ ان کا واقع کرنا، یعنی تین کا واقع کرنا ایک کا واقع کرنا نہیں ہے جیسے پچھلے صفحے پر مسئلے میں آیا تھا۔ ﴿وَقَالَا: يَقَعُ وَاحِدَةٌ﴾ اور صاحبین فرماتے ہیں ایک طلاق واقع ہو جائے گی، ﴿لِأَنَّ مَشِيئَةَ الثَّلَاثِ مَشِيئَةُ الْوَاحِدَةِ كَمَا أَنَّ إِيقَاعَهَا إِيقَاعٌ لِلْوَاحِدَةِ فَوُجِدَ الشَّرْطُ﴾، اس لیے کیونکہ تین کی مشیت وہ ایک کی بھی مشیت ہے، تین کا چاہنا ایک کا بھی چاہنا ہے کیونکہ تین کے ضمن میں ایک بھی آ گیا، ﴿كَمَا أَنَّ إِيقَاعَهَا إِيقَاعٌ لِلْوَاحِدَةِ﴾ جیسے کہ، یہ صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، جیسے کہ تین کا واقع کرنا وہ ایک کا واقع کرنا ہے، تو جیسے ایقاع میں تین کا واقع کرنا ایک کا واقع کرنا ہے اسی طرح مشیت میں بھی تین کا چاہنا ایک کا چاہنا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿كَمَا أَنَّ إِيقَاعَهَا إِيقَاعٌ لِلْوَاحِدَةِ فَوُجِدَ الشَّرْطُ﴾ جیسے کہ تین کا واقع کرنا وہ ایک کا واقع کرنا ہے تو شرط پائی گئی۔ خاوند نے بھی کہا تھا اگر تو ایک چاہے، اور تین کے چاہنے میں ایک کا چاہنا بھی آ گیا۔
﴿وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ، فَقَالَتْ: شِئْتُ إِنْ شِئْتَ، فَقَالَ: شِئْتُ، يَنْوِي الطَّلَاقَ، بَطَلَ الْأَمْرُ﴾۔
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“ تجھے طلاق ہے اگر تو چاہتی ہے، ﴿فَقَالَتْ﴾ تو عورت جواب میں کہتی ہے: ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ کہ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، ﴿فَقَالَ﴾ خاوند جواب میں کہتا ہے: ”شِئْتُ“ میں چاہتا ہوں، اور طلاق کی نیت بھی کرتا ہے، کہتے ہیں نہیں بھئی طلاق واقع نہیں ہو گی اور عورت کا اختیار بھی ختم ہو گیا۔ عورت کا اختیار بھی۔
کیا مسئلہ ہوا؟ خاوند نے بیوی سے کہا: تجھے طلاق ہے اگر تو چاہتی ہے۔ عورت نے جواب میں کہا کہ ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے۔ اور پھر خاوند جواب میں کہتا ہے: میں چاہتا ہوں، تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیوں؟ کیونکہ خاوند نے کہا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“ تجھے طلاق ہے اگر تو چاہتی ہے۔ معلوم ہوا خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے عورت کی چاہت پر۔ کس پر؟ عورت کی چاہت پر، اور عورت کی چاہت ہے ہی نہیں کیونکہ اس نے کیا کہہ دیا؟ ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے۔ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے۔ تو یہاں دیکھو خاوند نے معلق کیا تھا اس عورت کی مشیت پر جو فی الحال اس کی مشیت ہو بھئی، اور فی الحال تو عورت کی کوئی مشیت نہیں کیونکہ اس نے تو عورت نے تو پھر اپنی مشیت کو خاوند کی مشیت پر معلق کر دیا: ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“۔ تو خاوند نے کس کے ساتھ طلاق کو معلق کیا؟ عورت کی مشیت، اور عورت کی تو کوئی مشیت نہیں اس وقت، وہ تو پھر اپنی مشیت کو خاوند کی مشیت پر معلق کر رہی ہے بھئی۔
یا یوں کہو دوسرے لفظوں میں یوں کہو بھئی جو صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے، کہ خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے عورت کی مطلق چاہت پر، کس پر؟ مطلق چاہت پر، اور عورت نے جو ذکر کیا وہ مطلق چاہت نہیں ہے وہ معلق چاہت ہے۔ ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، تو معلوم ہوا عورت نے اپنی چاہت معلق کر دی خاوند کی چاہت کے ساتھ۔ تو خاوند نے طلاق کو کس سے معلق کیا تھا؟ عورت کی مطلق چاہت کے ساتھ، مطلق یعنی معلق نہیں ہونی چاہیے۔ خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“، خاوند نے طلاق کو معلق کر دیا عورت کی مشیت کے ساتھ لیکن کون سی مشیت؟ مطلق مشیت۔ اور عورت نے کون سی مشیت ذکر کی؟ معلق مشیت ذکر کی کہ ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے۔ تو خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا عورت کی مطلق مشیت پر، اور عورت جو ہے اس کی مشیت تو معلق ہے، مطلق نہیں ہے، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہو گی۔
دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو اور واضح انداز میں ذکر فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ﴾ اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے اگر تو چاہتی ہے، ﴿فَقَالَتْ: شِئْتُ إِنْ شِئْتَ﴾ تو وہ عورت جواب میں کہتی ہے میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، ﴿فَقَالَ: شِئْتُ﴾ تو خاوند کہتا ہے میں چاہتا ہوں، ﴿يَنْوِي الطَّلَاقَ﴾ اس حال میں کہ خاوند اس کے ذریعے طلاق کی بھی نیت کرتا ہے، ﴿بَطَلَ الْأَمْرُ﴾ تو یہ امر باطل ہو گیا۔ یہ معاملہ باطل ہوا یعنی عورت کا اختیار ختم ہو گیا اور نیز طلاق بھی واقع نہیں ہوئی بھئی۔ تو یہ سارا معاملہ باطل ہو گیا۔
﴿لِأَنَّهُ عَلَّقَ طَلَاقَهَا بِالْمَشِيئَةِ الْمُرْسَلَةِ﴾ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کی طلاق کو معلق کیا تھا ”بِالْمَشِيئَةِ الْمُرْسَلَةِ“ اس کی آزاد مشیت پر یعنی مطلق مشیت پر، مطلق کا کیا معنی؟ آزاد، جس میں کوئی قید نہ ہو، ایک ہوتا ہے مطلق ایک ہے مقید، تو خاوند نے اس عورت کی طلاق کو معلق کیا تھا ”بِالْمَشِيئَةِ الْمُرْسَلَةِ“ اس کی مطلق مشیت پر، ﴿وَهِيَ أَتَتْ بِالْمُعَلَّقَةِ﴾ اور عورت تو معلق مشیت لے کر آئی ہے، عورت نے تو معلق مشیت کو ذکر کیا ہے، ﴿فَلَمْ يُوجَدِ الشَّرْطُ﴾ تو شرط نہیں پائی گئی۔ شرط تو کیا تھی؟ طلاق معلق ہے مطلق، اگر مطلق مشیت ہے تیری، اور مطلق مشیت تو موجود نہیں، وہ تو معلق مشیت لے کر آ رہی ہے، تو کہتے ہیں: ﴿فَلَمْ يُوجَدِ الشَّرْطُ﴾ تو شرط نہیں پائی گئی لہٰذا مشروط طلاق بھی واقع نہیں۔
﴿وَهُوَ اشْتِغَالٌ بِمَا لَا يَعْنِيهَا﴾ اور یہ تو مشغول ہونا ہے ”بِمَا لَا يَعْنِيهَا“ ایسی چیز میں جو بے کار ہو۔ لایعنی کام کہتے ہیں بے کار کام کو، یعنی جس کے ذریعے کچھ بھی مقصود نہ ہو ایسے کام کو لایعنی کام کہتے ہیں بے کار بھئی۔ تو خاوند اس کو طلاق کا اختیار دے رہا ہے اور عورت جو ہے ایک لایعنی کام میں مشغول ہو گئی کہ ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، تو یہ اعراض کی دلیل ہے۔ اگر تمہیں طلاق چاہیے تھی تو فوراً واقع کر لیتی لیکن تم ایک لایعنی اور بے کار کام میں مشغول ہو گئی لہٰذا یہ اعراض کی دلیل ہے، معلوم ہوا وہ طلاق نہیں چاہتی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهُوَ اشْتِغَالٌ بِمَا لَا يَعْنِيهَا﴾ اور یہ مشغول ہونا ہے اس چیز میں جو عورت کے لیے بے کار ہے، ﴿فَخَرَجَ الْأَمْرُ مِنْ يَدِهَا﴾ تو معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا، ﴿وَلَا يَقَعُ الطَّلَاقُ بِقَوْلِهِ: شِئْتُ﴾ اور طلاق بھی واقع نہیں ہو گی خاوند کے قول ”شِئْتُ“ کہنے سے۔ عورت نے کیا کہا تھا: ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“، اور خاوند نے پھر کہہ دیا ”شِئْتُ“ میں چاہتا ہوں اور نیت بھی طلاق کی کر رہا ہے، پھر بھی واقع نہیں ہو گی بھئی۔
کہتے ہیں: ﴿وَلَا يَقَعُ الطَّلَاقُ بِقَوْلِهِ: شِئْتُ وَإِنْ نَوَى الطَّلَاقَ﴾ اور خاوند کے قول ”شِئْتُ“ سے بھی طلاق واقع نہیں ہو گی اگرچہ وہ طلاق کی نیت کر لے، ﴿لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي كَلَامِ الْمَرْأَةِ ذِكْرُ الطَّلَاقِ لِيَصِيرَ الزَّوْجُ شَائِيًا طَلَاقَهَا﴾ اس لیے کیونکہ عورت کے کلام میں طلاق کا ذکر نہیں ہے تاکہ خاوند اس کی طلاق چاہنے والا ہو جائے۔ بھئی عورت نے تو صرف اتنا کہا ہے: ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“، عورت نے اپنے کلام میں کوئی طلاق کو ذکر نہیں کیا: ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“، یہاں اس نے طلاق کو ذکر نہیں کیا، اور خاوند جو آگے ”شِئْتُ“ لا رہا ہے وہ اسی عورت کے جواب میں لا رہا ہے، تو جب ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ کے اندر طلاق نہیں موجود تو جواب کے اندر بھی طلاق موجود نہیں ہے بھئی، لہٰذا نیت سے کچھ اثر نہیں ہو گا تو لہٰذا طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ اگر عورت کے الفاظ میں طلاق کا لفظ ہوتا: ”شِئْتُ الطَّلَاقَ“ یا ”شِئْتُ طَلَاقِي إِنْ شِئْتَ“ میں اپنی طلاق چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، تو عورت بھی اگر طلاق ذکر کر دیتی اور پھر خاوند کہتا ”شِئْتُ“ میں چاہتا ہوں اور طلاق کی نیت کرتا پھر طلاق ہو جانی تھی، کیونکہ یہ خاوند کا قول ”شِئْتُ“ کس کے جواب میں آیا ہے؟ عورت کے کلام کے جواب میں، اور جواب کیا ہوتا ہے؟ سوال کے مطابق ہوتا ہے، تو عورت کے کلام کے اندر طلاق ذکر نہیں اور اس کے جواب میں خاوند کا کلام ”شِئْتُ“ آیا تو اس کے اندر بھی طلاق ذکر نہیں، لہٰذا جب طلاق ذکر ہی نہیں ہے تو صرف چاہنے سے، صرف نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ نیت ملفوظ میں عمل کرتی ہے غیر ملفوظ میں نہیں، ایک لفظ آپ نے ذکر ہی نہیں کیا تو اس میں نیت کیسے عمل کرے گی؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يَقَعُ الطَّلَاقُ بِقَوْلِهِ: شِئْتُ وَإِنْ نَوَى الطَّلَاقَ لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي كَلَامِ الْمَرْأَةِ ذِكْرُ الطَّلَاقِ لِيَصِيرَ الزَّوْجُ شَائِيًا طَلَاقَهَا، وَالنِّيَّةُ لَا تَعْمَلُ فِي غَيْرِ الْمَذْكُورِ﴾، بھئی اس کی نیت تو ہے؟ کہتے ہیں: ﴿وَالنِّيَّةُ لَا تَعْمَلُ فِي غَيْرِ الْمَذْكُورِ﴾ نیت جو ہے غیر مذکور میں عمل نہیں کرتی، کوئی چیز مذکور ہو تو پھر اس میں عمل کرتی ہے، غیر مذکور میں عمل نہیں کرتی۔ ﴿حَتَّى لَوْ قَالَ: شِئْتُ طَلَاقَكِ﴾ حتی کہ اگر خاوند یوں کہے: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“، ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ میں تیری طلاق چاہتا ہوں، اور نیت کرتا ہے طلاق کی تو یاد رکھو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس صورت میں طلاق، خاوند الگ اس مسئلے سے الگ بھئی، خاوند بیوی سے کیا کہے: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ میں تیری طلاق چاہتا ہوں، اور نیت کس کی کرے؟ طلاق کی، پھر طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ طلاق مذکور ہے۔ طلاق مذکور ہے اور نیت بھی آ گئی لہٰذا طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن یہاں پر جو خاوند نے ”شِئْتُ“ کہا ہے یہاں تو طلاق مذکور نہیں، اور ضمناً بھی ہم نہیں نکال سکتے کیونکہ یہ ”شِئْتُ“ جواب ہے عورت کے کلام کا، اور عورت کے کلام میں بھی طلاق کا ذکر نہیں ہے۔ اگر عورت کے کلام میں طلاق کا ذکر ہوتا تو یہاں بھی طلاق مقدر نکال لیتے اور الْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ اور اس صورت میں نیت سے طلاق واقع ہو جاتی بھئی۔
تو دیکھو خاوند اگر بیوی کو صرف اتنا کہے: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“، اس مسئلے کو ذرا ایک طرف رکھیں، الگ مسئلہ ہے، خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ اور نیت کس کی کر رہا ہے؟ طلاق ہی کی کر رہا ہے، تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن اگر خاوند بیوی سے کہے: ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ میں تیری طلاق کا ارادہ کرتا ہوں، اور نیت بھی کر لیتا ہے، پھر بھی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ میں تیری طلاق چاہتا ہوں، اس میں نیت کر لے خاوند تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور...
اور ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ (میں تیری طلاق کا ارادہ کرتا ہوں)، اس کے اندر نیت کرنے سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
تو یاد رکھو، اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ (میں تیری طلاق چاہتا ہوں) اور نیت بھی طلاق ہی کی کر لی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر خاوند یوں کہتا ہے: ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ (میں تیری طلاق کا ارادہ کرتا ہوں) اور نیت طلاق کی کرتا ہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ مشیئت کے ساتھ نیت بھی کرے گا تو طلاق ہو جائے گی۔ ارادے کے ذکر کے ساتھ طلاق کی نیت کرے گا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
کیا کہے مثلاً خاوند؟ ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“، اور نیت کس کی کی؟ طلاق کی۔ تو طلاق واقع ہو گئی۔ اور اگر خاوند کہے: ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ (میں نے تیری طلاق کا ارادہ کیا ہے) اور نیت کس کی کر رہا ہے؟ طلاق کی۔ اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اور کیوں نہیں ہوگی؟ وہ آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے بھی۔
”حَتَّى لَوْ قَالَ: شِئْتُ طَلَاقَكِ يَقَعُ إِذَا نَوَى؛ لِأَنَّهُ إِيقَاعٌ مُبْتَدَأٌ“
یہاں تک کہ خاوند نے اگر کہا: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“، تو طلاق واقع ہو جائے گی جب خاوند طلاق کی نیت کرے گا؛ اس لیے کیونکہ یہ نیا ایقاع ہے۔
یہ نیا ایقاع ہے۔ بھئی دیکھو، اس کو ذرا اسی مسئلے سے جوڑو۔ خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“، بیوی جواب میں کہتی ہے: ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“ (میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے)۔ اور خاوند آگے کہتا ہے: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“، یعنی خاوند اپنے لفظ میں طلاق کو ذکر کر دیتا ہے، تو پھر اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن اس وجہ سے نہیں کہ یہ عورت کو جواب دے رہا ہے؛ کیونکہ عورت کے کلام میں تو طلاق کا ذکر ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہاں ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“، اس لفظ سے طلاق ویسے ہی ہو جاتی ہے جب خاوند نیت کرے۔ تو اس وجہ سے گویا ایک نیا کلام خاوند لا رہا ہے: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ اور نیت بھی کر رہا ہے، اور یہ کہنے سے تو طلاق ہو جایا کرتی ہے؛ لہٰذا یہاں بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَوْ قَالَ: شِئْتُ طَلَاقَكِ يَقَعُ إِذَا نَوَى؛ لِأَنَّهُ إِيقَاعٌ مُبْتَدَأٌ“ یہاں تک کہ خاوند نے اگر بیوی سے کہا کہ میں تیری طلاق چاہتا ہوں تو طلاق واقع ہو جائے گی ”إِذَا نَوَى“ ”لِأَنَّهُ إِيقَاعٌ مُبْتَدَأٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک نیا ایقاع ہے، ایک نئی طلاق خاوند واقع کر رہا ہے ماقبل سے قطع نظر۔ ”إِذِ الْمَشِيئَةُ تُنْبِئُ عَنِ الْوُجُودِ“ اس لیے کیونکہ مشیئت وہ خبر دیتی ہے وجود کے بارے میں، ”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ بخلاف اس کے کہ خاوند اگر یوں کہے ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“، ”لِأَنَّهُ لَا يُنْبِئُ عَنِ الْوُجُودِ“ کیونکہ یہ وجود کے بارے میں خبر نہیں دے رہا، تو اس سے طلاق نہیں ہوگی۔
بھئی دیکھو، علماء فرماتے ہیں کہ مشیئت یعنی چاہنا، یہ مشیئت ماخوذ ہے ”شَيْءٌ“ سے۔ اور ”شَيْءٌ“ اس چیز کو کہتے ہیں جس کا کوئی وجود ہو۔ ہر موجود چیز کیا ہے؟ شے ہے بھئی۔ تو شے کا لفظ وجود پر دلالت کر رہا ہے۔ تو خاوند نے جب کہا: ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“، تو گویا وہ یوں کہہ رہا ہے کہ میں تیری طلاق کو وجود دے رہا ہوں، ”أَوْجَدْتُ طَلَاقَكِ“، میں تیری طلاق کو وجود دے رہا ہوں۔ اور طلاق کا وجود تو طلاق واقع کرنے سے آتا ہے، بغیر واقع کرنے کے نہیں آتا؛ لہٰذا اس لیے یہاں طلاق ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مشیئت وہ کس سے ماخوذ ہے؟ ”شَيْءٌ“ سے، اور ”شَيْءٌ“ کس پر دلالت کرتی ہے؟ وجود پر۔ اور جب خاوند نے کہا ”شِئْتُ طَلَاقَكِ“ تو گویا اس نے یوں کہا کہ میں تیری طلاق کو وجود دے رہا ہوں، اس کو شے بنا رہا ہوں۔ اور طلاق کا وجود تو ایقاع یعنی واقع کرنے سے ہی ہوتا ہے؛ لہٰذا طلاق واقع ہو جائے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“، اس سے طلاق نہیں ہوگی؛ اس لیے کیونکہ ارادہ طلب کو کہتے ہیں۔ ارادہ کس چیز کا نام ہے؟ طلب کا نام ہے، اور طلب کے ساتھ وجود ضروری نہیں۔ آپ دیکھو کتنے ہی کاموں کا ارادہ کرتے ہیں لیکن وہ کام نہیں ہو پاتے۔ وہ کام نہیں ہو پاتے، تو ارادہ صرف طلب کا نام ہے۔ جب آپ کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں معلوم ہوا آپ اس کام کو طلب کر رہے ہیں، اس کو کرنا چاہتے ہیں بھئی۔ اور طلب کے ساتھ وجود ضروری نہیں؛ لہٰذا اس لیے ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ اس میں خاوند طلاق کی نیت کر بھی لے، پھر بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”إِذِ الْمَشِيئَةُ تُنْبِئُ عَنِ الْوُجُودِ“ اس لیے کیونکہ مشیئت جو ہے وہ وجود کی خبر دیتی ہے، ”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ بخلاف خاوند کے قول ”أَرَدْتُ طَلَاقَكِ“ کے، ”لِأَنَّهُ لَا يُنْبِئُ عَنِ الْوُجُودِ“ کیونکہ یہ وجود کی خبر نہیں دیتا۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَتْ: شِئْتُ إِنْ شَاءَ أَبِي، أَوْ شِئْتُ إِنْ كَانَ كَذَا لِأَمْرٍ لَمْ يَجِئْ بَعْدُ“
صورت یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“۔ پہلی صورت کیا تھی؟ بیوی نے کیا کہا تھا؟ ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“۔ اس کے بجائے اگر بیوی یوں کہے: ”شِئْتُ إِنْ شَاءَ أَبِي“ (میں چاہتی ہوں ”إِنْ شَاءَ أَبِي“ اگر میرے ابا جان چاہتے ہیں)، تو اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوگی؛ کیونکہ عورت نے اسی طرح معلق مشیئت ذکر کی ہے۔ جیسے ”شِئْتُ إِنْ شِئْتَ“، اس کے اندر معلق مشیئت ذکر کی تھی: میں چاہتی ہوں اگر تو چاہتا ہے، تو یہاں پر بھی ”شِئْتُ إِنْ شَاءَ أَبِي“، اس کے اندر بھی عورت معلق مشیئت ذکر کر رہی ہے۔
اور نیز اسی طرح اگر عورت یہ کہے: ”شِئْتُ إِنْ كَانَ كَذَا“ (میں چاہتی ہوں اگر ایسا ہو)، یعنی کوئی ایسا کام ذکر کر رہی ہے جو ابھی ہوا نہیں۔ ایسا کام ذکر کر رہی ہے جو ابھی ہوا نہیں، مثلاً کہتی ہے: ”شِئْتُ إِنْ جَاءَ زَيْدٌ“ (میں چاہتی ہوں اگر زید آ گیا ہے)، اور زید تو ابھی نہیں آیا، حال یہ ہے کہ زید ابھی نہیں آیا۔ تو اس صورت میں بھی دیکھو، اس نے ایسی مشیئت ذکر کی ہے جو معلق ہے، اور خاوند نے تو مطلق مشیئت کے ساتھ طلاق کو معلق کیا تھا؛ لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ خاوند نے مطلق مشیئت کے ساتھ طلاق کو معلق کیا تھا اور عورت معلق مشیئت لے آئی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہوگا یعنی طلاق واقع نہیں ہوگی، ”إِذَا قَالَتْ“ اگر عورت نے یوں کہا: ”شِئْتُ إِنْ شَاءَ أَبِي“ کہ میں چاہتی ہوں اگر میرے ابا جان چاہتے ہیں، ”أَوْ شِئْتُ إِنْ كَانَ كَذَا“ یا عورت کہتی ہے: میں چاہتی ہوں ”إِنْ كَانَ كَذَا“ اگر ایسا ہو، ”لِأَمْرٍ لَمْ يَجِئْ بَعْدُ“ ایک ایسی چیز کے بارے میں جو ابھی ہوئی نہیں، ”لِأَمْرٍ لَمْ يَجِئْ بَعْدُ“ جو عورت کے اس کلام کے بعد ابھی ہوئی نہیں ہے، تو اس صورت میں بھی طلاق نہیں ہوگی۔ ”لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ الْمَأْتِيَّ بِهِ مَشِيئَةٌ مُعَلَّقَةٌ“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ وہ جس کو عورت لے کر آئی ہے ”مَشِيئَةٌ مُعَلَّقَةٌ“ وہ مشیئتِ معلقہ ہے، اور خاوند نے تو طلاق کو کس کے ساتھ معلق کیا تھا؟ مشیئتِ مطلقہ کے ساتھ بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ الْمَأْتِيَّ بِهِ مَشِيئَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَلَا يَقَعُ الطَّلَاقُ“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ وہ چیز جو لائی گئی ہے ”مَشِيئَةٌ مُعَلَّقَةٌ“ وہ مشیئتِ معلقہ ہے، ”فَلَا يَقَعُ الطَّلَاقُ“ تو طلاق واقع نہیں ہوگی، ”وَبَطَلَ الْأَمْرُ“ اور یہ امر کیا ہو جائے گا؟ یہ سارا معاملہ باطل ہو گیا یعنی عورت کا اختیار بھی ختم ہو جائے گا۔
”وَإِنْ قَالَتْ: قَدْ شِئْتُ إِنْ كَانَ كَذَا لِأَمْرٍ قَدْ مَضَى“
دوسری صورت: خاوند نے کہا: تو اپنے آپ کو طلاق دے دے اگر تو چاہتی ہے۔ عورت جواب میں کہتی ہے: ”شِئْتُ“ میں چاہتی ہوں ”إِنْ مَاتَ زَيْدٌ“ اگر زید مر گیا ہے، ”إِنْ مَاتَ زَيْدٌ“ اگر زید مر گیا ہے اور حال یہ ہے کہ زید مر چکا ہے۔ زید مر چکا ہے یعنی ایک ایسی شرط عورت نے ذکر کی جو ہو چکی ہے بھئی، جو ثابت ہو چکی ہے، تو پھر یاد رکھو اس صورت کے اندر اسی وقت طلاق ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ کسی چیز کو معلق کرنا ایسی چیز کے ساتھ جو ہو چکی ہے، تو وہ تنجیز ہے یعنی وہ اس چیز کو پورا کر رہا ہے۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ مَاتَ زَيْدٌ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ مَاتَ زَيْدٌ“ (تجھے طلاق ہے اگر زید مر چکا ہے)، اور حال یہ ہے کہ زید مر چکا ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا وہ فوراً طلاق واقع کرنا چاہتا ہے۔ ایک ثابت شدہ امر کے ساتھ طلاق کو معلق کر رہا ہے اور ایک ثابت شدہ امر کے ساتھ طلاق کو معلق کرنا یہ تنجیز ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ تنجیز ہوتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَتْ“ اور اگر عورت نے جواب میں کہا: ”قَدْ شِئْتُ إِنْ كَانَ كَذَا“ کہ میں چاہتی ہوں اگر ایسا ہو، ”لِأَمْرٍ قَدْ مَضَى“ ایک ایسی چیز کے بارے میں جو گزر چکی ہے، جو ہو چکی ہے، ”طُلِّقَتْ“ تو عورت کو طلاق ہو جائے گی، ”لِأَنَّ التَّعْلِيقَ بِشَرْطٍ كَائِنٍ“ اس لیے کیونکہ معلق کرنا ”بِشَرْطٍ كَائِنٍ“ یعنی ”بِشَرْطٍ ثَابِتٍ“ ایک ثابت شدہ شرط کے ساتھ، ”تَنْجِيزٌ“ یہ تنجیز ہے۔ تنجیز کا کیا معنی ہے؟ طلاق کو فوری واقع کرنا۔ ایک ہے تعلیق: طلاق کو معلق کرنا، اور ایک ہے تنجیز: یعنی طلاق کو فوری واقع کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّعْلِيقَ بِشَرْطٍ كَائِنٍ تَنْجِيزٌ“ اس لیے کیونکہ ثابت شدہ شرط کے ساتھ معلق کرنا ”تَنْجِيزٌ“ یہ تنجیز ہے، حقیقت میں یہ تعلیق ہے ہی نہیں۔
آگے دیکھیے:
”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ، أَوْ إِذَا مَا شِئْتِ، أَوْ مَتَى شِئْتِ، أَوْ مَتَى مَا شِئْتِ فَرَدَّتِ الْأَمْرَ لَمْ يَكُنْ رَدًّا، وَلَا يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ“
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“۔ تو خاوند ”إِذَا“ کہتا ہے یا ”إِذَا مَا“ لے آتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا مَا شِئْتِ“، یا ”مَتَى“ لے آتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى شِئْتِ“، یا ”مَتَى مَا“ لے آتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى مَا شِئْتِ“۔ تو یاد رکھو یہ سب الفاظ وقت کے لیے آتے ہیں؛ لہٰذا عورت جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے، تمام زندگی اب اس کے پاس یہ اختیار آ گیا۔ اب یہاں یہ اختیار صرف مجلس تک نہیں رہے گا۔
خاوند نے اسے طلاق کا مالک بنایا ہے اور تملیک جو ہے وہ تو مجلس تک رہتی ہے، لیکن یہاں پر خاوند نے ”مَتَى“ یا ”مَتَى مَا“ یا ”إِذَا“ یا ”إِذَا مَا“ کے الفاظ ذکر کر دیے، اور یہ تعمیمِ وقت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً خاوند نے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى شِئْتِ“ (تجھے طلاق ہے ”مَتَى شِئْتِ“ جس وقت تو چاہے)۔ تو دیکھا، وقت کے اندر تعمیم کر دی کہ جس وقت تو چاہے؛ آج چاہے، کل چاہے، سال بعد چاہے یا زندگی میں کسی بھی وقت چاہے بھئی۔ تو لہٰذا اس لیے اب عورت کو تمام زندگی طلاق کا اختیار ہوگا۔ یہ اختیار صرف مجلس تک باقی نہیں ہے بھئی۔
”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، یہ کہا ”أَوْ إِذَا مَا شِئْتِ“ یا ”إِذَا مَا شِئْتِ“ کہا، ”أَوْ مَتَى شِئْتِ أَوْ مَتَى مَا شِئْتِ“ ان میں سے کوئی لفظ ذکر کیا، ”فَرَدَّتِ الْأَمْرَ“ عورت نے اس امر کو کیا کر دیا؟ رد کر دیا کہ میں تو خاوند کو چاہتی ہوں۔ تو کیا اس کا اختیار ختم؟ کہتے ہیں: نہیں، یہ اختیار ساری زندگی رہے گا۔ وہ بے شک جتنی دفعہ بھی رد کر دے، وہ رد ہے ہی نہیں۔ بھئی کیوں نہیں رد؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خاوند نے کیا کہا ہے؟ جس وقت تو چاہے۔ اور جب عورت کہہ رہی ہے میں رد کرتی ہوں، معلوم ہوا اس نے ابھی چاہا ہی نہیں۔ ابھی اس نے چاہا ہی نہیں ہے، جب چاہے گی تب وہ اس کو اختیار ملے گا۔ جب چاہا ہی نہیں ہے اس کو اختیار بھی نہیں۔
خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى شِئْتِ“ (جس وقت تو چاہے)۔ تو خاوند نے طلاق کو اس کی مشیئت کے ساتھ معلق کر دیا ہے کہ وہ جس وقت چاہے۔ تو وہ جس وقت چاہے گی، اس وقت اس کو اختیار ملے گا، اس سے پہلے اختیار ہی نہیں۔ جب اختیار نہیں تو رد کرنے کا کیا معنی؟ لہٰذا اس سے پہلے رد بھی نہیں۔ دس دفعہ چاہے رد کر دے، بھئی ابھی اس نے چاہا ہی نہیں ہے تو رد کرنے کا کیا معنی۔ جب چاہے گی تب یہ مالک بن گئی طلاق کی اور طلاق وہ واقع کر سکتی ہے۔ لیکن ایک بات ہے، ایک ہی طلاق واقع کر سکتی ہے، ایک سے زیادہ واقع نہیں کر سکتی؛ کیونکہ ”مَتَى“ کے ذریعے اوقات میں تو عموم آ گیا، لیکن افعال یعنی طلاقوں کے اندر عموم نہیں آیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَرَدَّتِ الْأَمْرَ“ تو عورت نے اس امر کو رد کر دیا کہ نہیں میں خاوند کو چاہتی ہوں، ”لَمْ يَكُنْ رَدًّا“ تو یہ رد نہیں ہوگا، ”وَلَا يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ“ اور نیز یہ مجلس پر بھی بند نہیں رہے گا۔ ”أَمَّا كَلِمَةُ مَتَى وَمَتَى مَا فَلِأَنَّهَا لِلْوَقْتِ وَهِيَ عَامَّةٌ فِي الْأَوْقَاتِ كُلِّهَا“ تو باقی جو کلمۂ ”مَتَى“ اور ”مَتَى مَا“ ہیں، اس لیے کیونکہ یہ دونوں تو وقت کے لیے ہیں اور یہ عام ہیں تمام اوقات میں، یعنی جن کا کیا معنی ہے؟ جس وقت بھی بھئی۔ تو یہ عام ہیں ”فِي الْأَوْقَاتِ كُلِّهَا“ تمام اوقات میں یعنی تمام اوقات کو شامل ہیں۔ ”كَأَنَّهُ قَالَ: فِي أَيِّ وَقْتٍ شِئْتِ“ گویا خاوند نے یوں کہا ہے کہ جس وقت میں تو چاہے، ”فَلَا يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ بِالْإِجْمَاعِ“ تو بالاتفاق یہ اختیار مجلس پر بند نہیں رہے گا۔ ”وَلَوْ رَدَّتِ الْأَمْرَ لَمْ يَكُنْ رَدًّا“ اور اگر عورت اس امر کو رد کر دے ”لَمْ يَكُنْ رَدًّا“ تو یہ رد نہیں ہوگا؛ ”لِأَنَّهُ مَلَّكَهَا الطَّلَاقَ فِي الْوَقْتِ الَّذِي شَاءَتْ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو طلاق کا مالک بنایا ہے اس وقت کے اندر جس وقت میں وہ چاہے، ”فَلَمْ يَكُنْ تَمْلِيكًا قَبْلَ الْمَشِيئَةِ“ لہٰذا عورت کے چاہنے سے پہلے وہ تملیک ہی نہیں ہے، اس کو مالک ہی نہیں بنایا ہے، ”حَتَّى يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ“ یہاں تک کہ اس کے رد کرنے سے رد ہو جائے۔
بھئی یاد رکھنا، یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا۔ یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا۔ میں نے بتلایا تھا کہ ”حَتَّى“ کے نصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ ”حَتَّى“ کا مابعد جو ہے وہ مستقبل ہونا چاہیے ”حَتَّى“ کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ ”حَتَّى“ جو ہے سببیت یا غایت کا فائدہ دے۔ اور یہاں یہ شرطیں پوری نہیں ہیں؛ لہٰذا ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا، ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر نہیں ہوگا۔ تو یہاں ”يَرْتَدُّ“ پر رفع پڑھیں گے۔
پھر ترجمہ دیکھیے: کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مَلَّكَهَا الطَّلَاقَ فِي الْوَقْتِ الَّذِي شَاءَتْ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے عورت کو طلاق کا مالک بنایا ہے اس وقت میں جب وہ چاہے، ابھی اس نے چاہا ہی نہیں تو اس سے پہلے تملیک بھی نہیں، ”فَلَمْ يَكُنْ تَمْلِيكًا قَبْلَ الْمَشِيئَةِ“ تو لہٰذا اس کے چاہنے سے پہلے تملیک ہی نہیں ہے ”حَتَّى يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ“ یہاں تک کہ پھر اس کے رد کرنے سے رد ہو جائے۔ چاہنے سے پہلے تو مالک ہی نہیں، جب مالک ہی نہیں ہے تو ابھی رد بھی نہیں کر سکتی، مالک بننے کے بعد رد کر سکتی ہے۔
”وَلَا تُطَلِّقُ نَفْسَهَا إِلَّا وَاحِدَةً؛ لِأَنَّهَا تَعُمُّ الْأَزْمَانَ دُونَ الْأَفْعَالِ“
اور عورت طلاق نہیں دے سکتی اپنے آپ کو مگر ایک ہی؛ اس لیے کیونکہ یہ جو الفاظ ہیں ”تَعُمُّ الْأَزْمَانَ“ یہ زمانوں کو عام ہیں ”دُونَ الْأَفْعَالِ“ افعال کو عام نہیں۔ اس میں زمانے کے اعتبار سے تو عموم ہے جس وقت چاہے، لیکن افعال کے اعتبار سے عموم نہیں کہ جتنی مرضی چاہے، ”فَتَمْلِكُ التَّطْلِيقَ فِي كُلِّ زَمَانٍ“ تو وہ عورت طلاق دینے کی مالک ہے ہر زمانے میں، ”وَلَا تَمْلِكُ تَطْلِيقًا بَعْدَ تَطْلِيقٍ“ لیکن وہ مالک نہیں ہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد دوسری طلاق دے۔
”وَأَمَّا كَلِمَةُ إِذَا وَإِذَا مَا فَهِيَ وَمَتَى سَوَاءٌ عِنْدَهُمَا، وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَإِنْ كَانَ يُسْتَعْمَلُ لِلشَّرْطِ كَمَا يُسْتَعْمَلُ لِلْوَقْتِ“
اب ”إِذَا“ کی بات آ گئی۔ ”إِذَا“ اور ”إِذَا مَا“، یہ اسی طرح ہے جیسے ”مَتَى“ صاحبین کے نزدیک۔ امام صاحب فرق کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا كَلِمَةُ إِذَا وَإِذَا مَا فَهِيَ وَمَتَى سَوَاءٌ عِنْدَهُمَا“ باقی کلمۂ ”إِذَا“ اور ”إِذَا مَا“ جو ہیں تو یہ کلمے اور ”مَتَى“ دونوں برابر ہیں صاحبین کے نزدیک، ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کے نزدیک: ”وَإِنْ كَانَ يُسْتَعْمَلُ لِلشَّرْطِ كَمَا يُسْتَعْمَلُ لِلْوَقْتِ“۔
اچھا بھئی، یہ بات پیچھے گزری تھی، وہ جو دو اشعار بھی ذکر ہوئے تھے۔ صاحبین فرماتے ہیں ”إِذَا“ جو ہے وقت کے لیے آتا ہے، تو ”إِذَا“ اور ”مَتَى“ بالکل ایک جیسے ہیں۔ جو ”مَتَى“ کا حکم ہے وہی ”إِذَا“ کا بھی حکم ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک ”إِذَا“ وقت کے لیے حقیقت ہے اور شرط کے لیے مجاز ہے، تو وہ کہتے ہیں یہ ”مَتَى“ کی طرح عمل کرے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ ”إِذَا“ جو ہے یہ وقت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور شرط کے لیے بھی، اور یہ دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں۔ تو لہٰذا اگر ”إِذَا“ کو یہاں وقت پر محمول کریں، تو اس کا مطلب ہے عورت کو ہر زمانے میں اختیار ہے، اور اگر ”إِذَا“ کو ہم شرط پر محمول کریں تو پھر اس کا مطلب ہے کہ صرف اسی مجلس میں اس کو اختیار ہے۔ جب اس میں ہم وقت والا معنی نہ لائیں، صرف کون سا معنی لے آئیں؟ مجلس والا، یعنی گویا خاوند نے یوں کہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“ (تجھے طلاق ہے اگر تو چاہتی ہے)، اور پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں یہ اختیار مجلس تک رہتا ہے۔ تو ”إِذَا“ کو اگر شرط کے لیے بنا لیں گے تو پھر یہ ”إِنْ“ کے معنی میں ہوا اور ”إِنْ“ کہنے کی صورت میں تو مجلس تک اختیار رہتا ہے؛ لہٰذا اس میں بھی مجلس تک اختیار رہے گا۔
دلیل چل رہی ہے امام صاحب کی، امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ ”إِذَا“ کے اندر وقت کا بھی احتمال ہے اور ”إِذَا“ کے اندر شرط کا بھی احتمال ہے، دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں۔ اگر اس کو ہم وقت کے لیے بنائیں تو پھر یہ اختیار مجلس تک نہیں رہے گا، جب بھی وہ طلاق چاہے گی طلاق دے سکتی ہے؛ کیونکہ ”إِذَا“ کا کیا معنی ہے؟ جس وقت۔ اور اگر اس ”إِذَا“ کو ہم شرط کے لیے بنائیں تو یہ ”إِنْ“ کے معنی میں ہوگا اور شرط کی صورت میں تو بالاتفاق مجلس تک ہی اختیار رہتا ہے تو پھر یہ مجلس تک ہی اختیار رہے گا۔ تو لہٰذا جب خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“ یا ”إِذَا مَا شِئْتِ“، تو خاوند نے عورت کو اختیار دے دیا، تو عورت کا اختیار کا مالک بننا تو یقینی ہو گیا۔ عورت یقینی طور پر اختیار کی مالک بن گئی سب کے نزدیک، لیکن جب مجلس ختم ہوئی اب اگر ”إِذَا“ کو وقت کے معنی میں لیا جائے تو اختیار ابھی بھی باقی ہے اور اگر ”إِذَا“ کو شرط کے لیے بنایا جائے تو اختیار ختم ہو چکا۔ تو مجلس کے بعد اختیار کے ختم ہونے میں شک آ گیا۔ مجلس کے بعد اختیار کے ختم ہونے میں شک آ گیا؛ کیونکہ ”إِذَا“ کو وقت کے لیے بنائیں تو اختیار ابھی بھی باقی ہے اور ”إِذَا“ کو اگر شرط کے لیے بنائیں تو اختیار ختم ہو چکا۔ تو مجلس کے بعد اب شک آ گیا کہ پتہ نہیں اختیار اب ہے یا اختیار نہیں ہے۔ ”إِذَا“ کو وقت کے لیے لیں تو اختیار ہے، ”إِذَا“ کو شرط کے لیے بنائیں تو اختیار نہیں۔ یوں کہو: اب اختیار کے ختم ہونے میں شک آ گیا۔ اب اختیار کے ختم ہونے میں شک آ گیا، اور اختیار کا ہونا تو یقینی تھا، اختیار کا ملنا تو یقینی تھا، یقینی طور پر عورت کو اختیار ملا تھا۔ اور جو چیز یقینی ہوتی ہے وہ یقین کے ذریعے ہی ختم ہوتی ہے، شک کے ذریعے ختم نہیں ہوتی؛ لہٰذا اس لیے عورت کا اختیار ختم نہیں ہوگا، بعد میں بھی اختیار رہے گا۔
تو معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک بھی زندگی بھر اب عورت کو اختیار ہے، صاحبین کے نزدیک بھی زندگی بھر عورت کو اختیار ہے بھئی۔ لیکن دلیلیں دونوں کی الگ الگ ہیں۔ صاحبین کے نزدیک اس لیے اختیار ہے کیونکہ ”إِذَا“ اور ”إِذَا مَا“ وقت کے لیے آتے ہیں۔ کس کے لیے آتے ہیں؟ وقت کے لیے، اور جب ”إِذَا“ وقت کے لیے ہو پھر تمام زندگی اختیار ہوگا عورت کے پاس۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک دلیل یہ ہے کہ یہاں اختیار کے ختم ہونے میں شک آ گیا اور شک کی وجہ سے اختیار کو ختم قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے تمام زندگی اختیار رہے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا كَلِمَةُ إِذَا وَإِذَا مَا فَهِيَ وَمَتَى سَوَاءٌ عِنْدَهُمَا، وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَإِنْ كَانَ يُسْتَعْمَلُ لِلشَّرْطِ كَمَا يُسْتَعْمَلُ لِلْوَقْتِ“ تو کہتے ہیں کلمۂ ”إِذَا“ اور ”إِذَا مَا“ جو ہیں، یہ اور ”مَتَى“ برابر ہیں صاحبین کے نزدیک، اور امام صاحب کے نزدیک اگرچہ یہ شرط کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کہ یہ وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے، ”لَكِنَّ الْأَمْرَ صَارَ بِيَدِهَا فَلَا يَخْرُجُ بِالشَّكِّ“ لیکن یہ معاملہ عورت کے ہاتھ میں آ چکا ہے یعنی یقینی طور پر وہ اختیار کی مالک بن چکی ہے؛ لہٰذا یہ اختیار نکلے گا نہیں شک کی وجہ سے، یہ معاملہ اس کے ہاتھ سے شک کی وجہ سے نہیں نکلے گا۔ ”وَقَدْ مَرَّ مِنْ قَبْلُ“ اور تحقیق یہ بات پہلے گزر چکی ہے، وہ جہاں اشعار ذکر ہوئے تھے جہاں ”إِذَا“ کے بارے میں اختلاف ذکر ہوا تھا امام صاحب اور صاحبین کا۔
”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ كُلَّمَا شِئْتِ“
اب خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ كُلَّمَا شِئْتِ“، ”كُلَّمَا“ کا لفظ لے آیا۔ تو یاد رکھو ”كُلَّمَا“، ”كُلَّمَا“ تکرارِ افعال کو ثابت کرتا ہے۔ کس کو؟ تکرارِ افعال کو؛ لہٰذا عورت جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے دے، پھر دوبارہ چاہے پھر دے دے، پھر دوبارہ چاہے پھر دے دے، تو جتنی طلاقیں دینا چاہے وہ دے سکتی ہے۔ پچھلے الفاظ جو تھے ”مَتَى“، ”إِذَا“ وغیرہ، ان میں وقت کے اندر تو عموم تھا لیکن افعال کے اندر عموم نہیں تھا؛ لہٰذا وہاں ایقاعِ طلاق ایک ہی دفعہ ہو سکتا تھا، یعنی طلاق کا واقع کرنا ایک ہی دفعہ ہو سکتا تھا، لیکن ”كُلَّمَا“ یہ کس کو ثابت کرتا ہے؟ تکرارِ افعال کو بھی ثابت کرتا ہے؛ لہٰذا عورت ایک کے بعد دوسری طلاق بھی دے سکتی ہے، وہ تیسری طلاق بھی دے سکتی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ كُلَّمَا شِئْتِ فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ حَتَّى تُطَلِّقَ نَفْسَهَا ثَلَاثًا“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: تجھے طلاق ہے ”كُلَّمَا شِئْتِ“ جب بھی تو چاہے، ”فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ“ تو عورت کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے ایک کے بعد ایک، ”حَتَّى تُطَلِّقَ نَفْسَهَا ثَلَاثًا“ یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے۔ ”لِأَنَّ كَلِمَةَ كُلَّمَا تُوجِبُ تَكْرَارَ الْأَفْعَالِ“ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”كُلَّمَا“ جو ہے یہ تکرارِ افعال کو ثابت کرتا ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ التَّعْلِيقَ يَنْصَرِفُ إِلَى الْمِلْكِ الْقَائِمِ“ ہاں ایک بات ہے کہ یہ تعلیق اسی ملکیت تک ہے۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ كُلَّمَا شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے جب بھی تو چاہے، تو عورت ایک بھی واقع کر سکتی ہے، دو بھی کر سکتی ہے، تین بھی کر سکتی ہے۔ لیکن اگر تین طلاقیں ہو گئیں، نکاح بالکل ٹوٹ گیا، بعد میں عورت نے کسی اور سے نکاح کر لیا اور پھر اس خاوند کا انتقال ہوا یا اس نے طلاق دے دی اور پھر پہلے خاوند نے دوبارہ نکاح کر لیا، اب پھر عورت اسی تعلیق کی وجہ سے طلاق واقع کرنا چاہتی ہے؛ کیونکہ خاوند نے تو کیا کہا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ كُلَّمَا شِئْتِ“۔ تو کہتے ہیں اب نہیں واقع کر سکتی۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہ تعلیق اسی ملکیت کے ساتھ تھی۔ اس وقت خاوند تین طلاقوں کا مالک تھا تو اسی ملکیت کے لیے تعلیق تھی، اور اب نئی طلاقیں آئی ہیں، اب وہ پرانی تعلیق یہاں اثر نہیں کرے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ التَّعْلِيقَ يَنْصَرِفُ إِلَى الْمِلْكِ الْقَائِمِ“ مگر یہ کہ یہ والی تعلیق جو ہے وہ پلٹ جاتی ہے ”إِلَى الْمِلْكِ الْقَائِمِ“ اس ملکیت کی طرف جو موجود ہے، ”حَتَّى لَوْ عَادَتْ إِلَيْهِ بَعْدَ زَوْجٍ آخَرَ وَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ یہاں تک کہ عورت اس خاوند کے پاس پھر لوٹ آئی ایک دوسرے خاوند کے بعد اور اب عورت نے اپنے آپ کو طلاق دی، ”لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ تو اب اس پرانی تعلیق کی وجہ سے کوئی چیز واقع نہیں ہوگی، ”لِأَنَّهُ مِلْكٌ مُسْتَحْدَثٌ“ مستحدث کا معنی: نئی چیز بھئی، ”لِأَنَّهُ مِلْكٌ مُسْتَحْدَثٌ“ اس لیے کیونکہ یہ نئی ملکیت ہے۔
”وَلَيْسَ لَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ“
ہاں، ایک اور بات بھی۔ خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كُلَّمَا شِئْتِ“ (تو اپنے آپ کو طلاق دے دے جب بھی تو چاہے)۔ تو یہاں پر عمومِ افراد تو ہے، عمومِ اجتماع نہیں۔ یعنی ایک کے بعد ایک طلاق کر کے خواہ عورت اپنے اوپر طلاقیں واقع کر سکتی ہے لیکن اکٹھی واقع نہیں کر سکتی؛ کیونکہ ”كُلَّمَا“ عمومِ افراد کا فائدہ تو دیتا ہے، افراد میں عموم ہے ایک کے بعد ایک دوبارہ بار بار چیز ہوتی رہے، لیکن عمومِ اجتماع کا فائدہ نہیں دیتا کہ سب کیا ہوں؟ اکٹھے ہوں۔ لہٰذا عورت اپنے آپ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دے: ”طَلَّقْتُ نَفْسِي ثَلَاثًا“، تو یہ واقع نہیں ہوں گی بھئی۔ تو تین طلاقیں اکٹھی دے دے تو تین اکٹھی واقع نہیں ہوں گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ لَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ“ اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ”فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ“ ایک ہی کلمے سے، یعنی ”طَلَّقْتُ نَفْسِي ثَلَاثًا“، تو دیکھو ایک ہی دفعہ طلاق کا فعل ذکر کیا اور ”ثَلَاثًا“ صفت لے آئی۔ ”وَلَيْسَ لَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ“ اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ایک ہی کلمے سے، ”لِأَنَّهَا تُوجِبُ عُمُومَ الْأَفْرَادِ لَا عُمُومَ الِاجْتِمَاعِ“ اس لیے کیونکہ ”كُلَّمَا“ جو ہے یہ عمومِ افراد کو تو ثابت کرتا ہے لیکن عمومِ اجتماع کو ثابت نہیں کرتا کہ اکٹھی واقع کر دے عورت، ”فَلَا تَمْلِكُ الْإِيقَاعَ جُمْلَةً وَجَمْعًا“ لہٰذا عورت مالک نہیں ہے کہ وہ طلاقوں کو واقع کرے ”جُمْلَةً وَجَمْعًا“ اکٹھی۔ ”جُمْلَةً وَجَمْعًا“: جملةً اکٹھی، جمعاً جمع کر کے، معنی ایک ہی ہے۔ تو ”فَلَا تَمْلِكُ الْإِيقَاعَ“ عورت ان طلاقوں کو واقع کرنے کی مالک نہیں ہے ”جُمْلَةً وَجَمْعًا“ اکٹھی۔
تو بعض شارحین فرماتے ہیں: ”جُمْلَةً وَجَمْعًا“ کا ایک ہی معنی ہے کہ اکٹھی واقع نہیں کر سکتی۔ جبکہ بعض شارحین نے فرق کیا ہے، وہ فرماتے ہیں تین طلاقوں کا جملۃً واقع کرنے کا مطلب یہ ہے ایک ہی لفظ سے واقع کرے: ”طَلَّقْتُ نَفْسِي ثَلَاثًا“، ”طَلَّقْتُ نَفْسِي ثَلَاثًا“؛ دیکھو اکٹھی ایک ہی لفظ سے تین طلاقیں واقع کر دیں۔ اور ”جَمْعًا“ کا معنی یہ ہے کہ عورت کہے: ”طَلَّقْتُ نَفْسِي وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“۔ اب جملۃً تو نہیں ہے لیکن جمع ہیں، تینوں کو کیا کر رہی ہے؟ الگ الگ لفظوں سے اکٹھی واقع کر رہی ہے۔ تو معنی یہ ہے کہ وہ نہ ایک لفظ سے تین طلاقیں واقع کر سکتی ہے اور نہ اکٹھے ہی تین الگ الگ لفظوں سے تین طلاقیں واقع کر سکتی ہے۔ درمیان میں کچھ فصل ضروری ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَلَا تَمْلِكُ الْإِيقَاعَ جُمْلَةً وَجَمْعًا“ تو لہٰذا عورت مالک نہیں ہے کہ وہ ان طلاقوں کو واقع کرے ”جُمْلَةً وَجَمْعًا“؛ جملۃً یعنی ایک ہی لفظ سے اکٹھی، اور جمعاً یا تین الگ الگ لفظوں سے جمع کر کے۔
”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ حَيْثُ شِئْتِ، أَوْ أَيْنَ شِئْتِ لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى تَشَاءَ، وَإِنْ قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَلَا مَشِيئَةَ لَهَا“
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ حَيْثُ شِئْتِ“ (تجھے طلاق ہے ”حَيْثُ شِئْتِ“ جہاں تو چاہے)۔ یہ ”حَيْثُ“ مکان کے معنی میں بھی آتا ہے، یہاں مکان کے معنی میں ہے یعنی جس جگہ تو چاہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ حَيْثُ شِئْتِ“ (تجھے طلاق ہے جس جگہ تو چاہے)، یا کہا: ”أَيْنَ شِئْتِ“، اس کا بھی وہی معنی ہے: جہاں تو چاہے، جس جگہ تو چاہے۔ تو اس صورت میں یاد رکھو، یاد رکھو یہ جو طلاق ہے یہ زمانے کے ساتھ تو تخصیص کا احتمال رکھتی ہے، جگہ کے ساتھ تخصیص کا احتمال نہیں رکھتی۔ جگہ کے ساتھ طلاق تخصیص کا احتمال نہیں رکھتی یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک جگہ ہے وہاں جائے عورت تو وہ طلاق والی ہے اور اس جگہ سے نکلے تو طلاق والی نہیں ہے۔ جب عورت طلاق والی ہو گئی تو ساری دنیا میں وہ جس جگہ بھی چلی جائے وہ طلاق والی ہی ہے۔ تو طلاق کی تخصیص جگہ کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔
لیکن زمانے کے ساتھ طلاق کی تخصیص ہو سکتی ہے، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ (تجھے کل طلاق ہے)۔ تو دیکھو ابھی طلاق نہیں ہے، کل جب ہوگی، صبحِ صادق کا پہلا لمحہ آئے گا اسی وقت طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو طلاق دیکھو زمانے کے ساتھ تخصیص ہو سکتی ہے؛ ایک زمانے میں طلاق نہیں ہے اور دوسرے زمانے میں طلاق ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا یہاں تو خاوند نے جگہ کو ذکر کیا ہے: ”حَيْثُ شِئْتِ“ یا ”أَيْنَ شِئْتِ“، تو جگہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو صرف مشیئت باقی رہ گئی، گویا خاوند نے یوں کہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“۔ اور اس صورت میں عورت جب چاہے گی تو طلاق ہو جائے گی اور نیز اسی مجلس تک ہی اس کو اختیار ہے؛ کیونکہ زمانے کو تو خاوند نے ذکر نہیں کیا۔
”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ حَيْثُ شِئْتِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے ”حَيْثُ شِئْتِ“ جس جگہ تو چاہے، ”أَوْ أَيْنَ شِئْتِ“ یا جہاں تو چاہے، ”لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى تَشَاءَ“ تو عورت کو طلاق نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ چاہے، ”وَإِنْ قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَلَا مَشِيئَةَ لَهَا“ اور اگر عورت اٹھ گئی اپنی مجلس سے تو پھر اس کے لیے کوئی مشیئت نہیں یعنی اس کا پھر اختیار نہیں۔ ”لِأَنَّ كَلِمَةَ حَيْثُ وَأَيْنَ مِنْ أَسْمَاءِ الْمَكَانِ“ اس لیے کیونکہ ”حَيْثُ“ اور ”أَيْنَ“ جو ہیں یہ اسمائے مکان ہیں یعنی یہ اسمِ ظرف ہیں، ان میں یہ جگہ کے لیے آتے ہیں۔ ”وَالطَّلَاقُ لَا تَعَلُّقَ لَهُ بِالْمَكَانِ“ اور طلاق جو ہے وہ مکان کے ساتھ متعلق نہیں ہوتی۔ طلاق جو ہے مکان اور جگہ کے ساتھ متعلق نہیں ہوتی یعنی ان کے ساتھ معلق نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالطَّلَاقُ لَا تَعَلُّقَ لَهُ بِالْمَكَانِ“ اور طلاق جو ہے اس کا مکان یعنی جگہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب ایک جگہ طلاق ہو تو ہر جگہ ہی طلاق ہوتی ہے۔ ”فَيَلْغُو“ لہٰذا یہ جگہ کا ذکر کرنا لغو ہو جائے گا، ”وَيَبْقَى ذِكْرُ مُطْلَقِ الْمَشِيئَةِ“ اور مطلقِ مشیئت کا ذکر باقی رہ گیا، ”فَتَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ“ تو لہٰذا یہ مشیئت بند رہے گی اسی مجلس پر، ”بِخِلَافِ الزَّمَانِ؛ لِأَنَّ لَهُ تَعَلُّقًا بِهِ“ بخلاف زمانے کے؛ اس لیے کیونکہ طلاق کا زمانے کے ساتھ تعلق ہوتا ہے، ”حَتَّى يَقَعُ فِي زَمَانٍ دُونَ زَمَانٍ“ یہاں تک کہ طلاق واقع ہوتی ہے ایک زمانے میں نہ کہ دوسرے زمانے میں۔ جیسا کہ میں نے مثال ذکر کر دی۔ خاوند نے بیوی سے کیا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“۔ تو آج طلاق نہیں ہوگی بلکہ کل ہوگی، دیکھو زمانے کے ساتھ تخصیص آ گئی۔ ”حَتَّى يَقَعُ فِي زَمَانٍ دُونَ زَمَانٍ“ یہاں تک کہ طلاق واقع ہو جاتی ہے ایک زمانے میں نہ کہ دوسرے زمانے میں۔ ”فَوَجَبَ اعْتِبَارُهُ خُصُوصًا وَعُمُومًا“ لہٰذا واجب ہوا کہ زمانے کا اعتبار کیا جائے خصوصاً اور عموماً، خصوص اور عموم کے طریقے پر۔
خصوص کے طریقے پر: یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ کہا، تو دیکھو خاص کل کے دن طلاق واقع ہو رہی ہے۔
اور عموم کے طریقے پر: مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي أَيِّ وَقْتٍ شِئْتِ“ (تجھے طلاق ہے جس وقت میں تو چاہے)، تو دیکھو اب اس میں وقت کے اعتبار سے عموم ہے، جب بھی وہ چاہے گی طلاق واقع کر سکتی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”فَوَجَبَ اعْتِبَارُهُ“ لہٰذا زمانے کا اعتبار جو ہے وہ واجب ہوگا یعنی ثابت ہوگا ”خُصُوصًا وَعُمُومًا“ خصوص اور عموم کے طریقے پر۔ ”فَوَجَبَ اعْتِبَارُهُ خُصُوصًا وَعُمُومًا“ تو ثابت ہوا کہ زمانے کا اعتبار کیا جائے خصوصاً اور عموماً، خصوص اور عموم کے طریقے پر۔
”وَإِنْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ طُلِّقَتْ تَطْلِيقَةً يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ (تجھے طلاق ہے ”كَيْفَ شِئْتِ“ جیسی تو چاہے)۔ تجھے طلاق ہے جیسی تو چاہے، تو یاد رکھو، یاد رکھو اس صورت میں یہ لفظ کہتے ہی طلاق واقع ہو گئی۔ ہاں البتہ، جیسی تو چاہے، کیفیت اب عورت کے سپرد ہے، وہ کس قسم کی طلاق چاہتی ہے؟ اگر وہ رجعی چاہے گی تو رجعی ہو جائے گی، اگر وہ بائن چاہے گی تو بائن ہو جائے گی، اور اگر وہ تین چاہے گی تو تین ہو جائیں گی۔ تو معلوم ہوا خاوند اصلِ طلاق کو واقع کر رہا ہے اور وصف عورت کی مشیئت پر معلق کر رہا ہے۔ اور نیز خاوند کی مشیئت بھی یہاں معتبر ہوگی۔
عورت کی مشیئت کا اعتبار ہے، خاوند نے کیا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“۔ تو دیکھو ”كَيْفَ شِئْتِ“، جیسی تو چاہے، تو عورت کی مشیئت معتبر ہے کیونکہ خاوند نے کس کا ذکر کیا ہے؟ عورت کی مشیئت کا۔ لیکن عورت کو یہ مشیئت کہاں سے ملی؟ خاوند سے ملی؛ لہٰذا خاوند کی بھی مشیئت کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ لہٰذا، لہٰذا طلاق تو واقع ہو گئی۔ طلاق تو واقع ہو گئی، اب عورت نیت کرتی ہے رجعی کی، یا بائن کی، یا تین کی؛ تو عورت کی مشیئت خاوند کی مشیئت کے مطابق ہوگی یا مخالف ہوگی یا خاوند کی سرے سے کوئی مشیئت ہی نہیں ہوگی۔ تین صورتیں ہیں: یا عورت کی مشیئت اور خاوند کے ارادے میں کیا ہوگی؟ مطابقت۔ عورت نے بھی رجعی کہا اور خاوند بھی کیا دینا چاہتا تھا؟ رجعی۔ عورت نے بھی بائن کہا، خاوند بھی کیا دینا چاہتا تھا؟ بائن۔ عورت نے تین طلاقیں کہیں، خاوند بھی کتنی چاہتا تھا؟ تین چاہتا تھا۔ تو اگر عورت کی مشیئت اور خاوند کا ارادہ ایک دوسرے کے مطابق ہو گئے تو پھر تو طلاق وہی والی ہو جائے گی۔
رجعی چاہا تو رجعی ہو جائے گی، بائن چاہا تو بائن ہو جائے گی، تین چاہا تو تین ہو جائیں گی۔
لیکن اگر عورت کی مشیت اور خاوند کے ارادے میں مخالفت آ گئی، خاوند ایک چیز چاہ رہا تھا، بیوی دوسری چیز چاہ رہی ہے، تو لہٰذا دونوں کی مشیت ساقط ہو جائے گی اور خاوند کا قول ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے، تو لہٰذا ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی۔
مثلاً خاوند نے بائن کا ارادہ کیا تھا اور عورت نے رجعی چاہی، یا خاوند نے تین کا ارادہ کیا تھا اور عورت نے ایک چاہی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو بہرحال عورت کی مشیت اور خاوند کے ارادے کے اندر مطابقت نہیں ہے تو پھر اس صورت میں چونکہ دونوں کی مشیت معتبر تھی، عورت کی مشیت اس لیے کیونکہ خاوند نے عورت کی مشیت کو ذکر کیا ہے: ”كَيْفَ شِئْتِ“ جیسی تو چاہے، اور خاوند کی مشیت اور ارادے کا بھی اعتبار ہے کیونکہ یہ طلاق کا اختیار، یہ مشیت عورت کو کس سے مل رہی ہے؟ خاوند سے مل رہی ہے۔ تو جب دونوں کی مشیت کا اعتبار ہے، تو جب دونوں میں مخالفت آ گئی تو یہ مشیت اور ارادہ ساقط ہو جائیں گے۔ معلوم ہوا ”كَيْفَ شِئْتِ“ یہ لفظ ساقط ہو گیا، صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ رہ گیا، اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے تو طلاقِ رجعی ہوتی ہے، لہٰذا ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی۔
اور اگر خاوند نے کہا: میری کوئی نیت نہیں تھی، میری کوئی مشیت اور ارادہ نہیں تھا، تو پھر اس صورت میں متاخرین فرماتے ہیں، فقہائے متاخرین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں عورت کی مشیت ہی کا اعتبار ہوگا۔ اگر اس نے رجعی چاہی تو رجعی ہوگی، اس نے بائن چاہی تو بائن ہوگی، اس نے تین چاہی تو تین ہو جائیں گی، کیونکہ اس کے مقابل خاوند کا ارادہ یا مشیت موجود نہیں ہے۔ یہ متاخرین فرماتے ہیں اور متقدمین سے اس بارے میں کوئی روایت نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے جیسی تو چاہے ”طُلِّقَتْ تَطْلِيقَةً يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ تو اس عورت کو ایک ایسی طلاق ہو جائے گی ”يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ کہ خاوند رجوع کا مالک ہوگا ”مَعْنَاهُ قَبْلَ الْمَشِيئَةِ“ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ معنی اس کا یہ ہے ”قَبْلَ الْمَشِيئَةِ“ عورت کے چاہنے سے پہلے۔ عورت کے چاہنے سے پہلے ہی ایک طلاق ہو چکی ہے، اب صرف اس کی صفت جو ہے متعین کرنا وہ عورت، وہ صفت متعین کرے گی۔ تو کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ قَبْلَ الْمَشِيئَةِ“ معنی اس قول کا یہ ہے کہ عورت کی مشیت سے پہلے ہی طلاق واقع ہو جائے گی ”فَإِنْ قَالَتْ: قَدْ شِئْتُ وَاحِدَةً بَائِنَةً أَوْ ثَلَاثًا“ پھر اگر عورت نے کہا کہ میں تو ایک بائنہ چاہتی ہوں یا تین چاہتی ہوں ”وَقَالَ الزَّوْجُ: ذٰلِكَ نَوَيْتُ“ اور خاوند بھی کہتا ہے: میں نے بھی اسی کی نیت کی ہے ”فَهُوَ كَمَا قَالَا“ تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے خاوند نے کہا، کیونکہ دونوں کی مشیت اور ارادہ ایک دوسرے کے موافق ہیں بھئی ”لِأَنَّ عِنْدَ ذٰلِكَ تَثْبُتُ الْمُطَابَقَةُ بَيْنَ مَشِيئَتِهَا وَإِرَادَتِهِ“ اس لیے کیونکہ اس وقت مطابقت ثابت ہو جائے گی عورت کی مشیت اور خاوند کے ارادے میں ”أَمَّا إِذَا أَرَادَتْ ثَلَاثًا وَالزَّوْجُ أَرَادَ وَاحِدَةً بَائِنَةً“ اور اگر عورت نے تین کا ارادہ کیا ”وَالزَّوْجُ أَرَادَ وَاحِدَةً بَائِنَةً“ اور خاوند نے ایک بائنہ کا ارادہ کیا ”أَوْ عَلَى الْقَلْبِ“ یا اس کا برعکس ہوا، تو کہتے ہیں: ”تَقَعُ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ“ تو اس صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوگی۔ میں نے بتلایا نا کہ جب دونوں کی مشیت میں تعارض آ گیا، ”إِذَا تَعَارَضَا تَسَاقَطَا“ دونوں مشیتیں ساقط ہو جائیں گی اور وہی طلاقِ رجعی جو اصل ہے وہ رہ جائے گی، کیونکہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاقِ رجعی ہوا کرتی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”تَقَعُ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ“ تو ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی ”لِأَنَّهُ لَغَا تَصَرُّفُهَا“ اس لیے کیونکہ عورت کا تصرف لغو ہو گیا، اس نے تو خاوند کے مخالف نیت کی تھی، لیکن خاوند کے مخالف تو اس کی نیت معتبر نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَغَا تَصَرُّفُهَا“ عورت کا تصرف لغو ہو گیا ”لِعَدَمِ الْمُوَافَقَةِ“ خاوند کے ساتھ موافقت نہ ہونے کی وجہ سے ”فَبَقِيَ إِيقَاعُ الزَّوْجِ“ تو باقی رہ گیا خاوند کا طلاق واقع کرنا، یعنی وہ جو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اس نے کہا تھا اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے تو کون سی طلاق ہوتی ہے؟ رجعی، اس لیے رجعی ہو جائے گی۔ ”وَإِنْ لَمْ تَحْضُرْهُ النِّيَّةُ يُعْتَبَرُ مَشِيئَتُهَا فِيمَا قَالُوا“ اور اگر خاوند کی نیت حاضر نہیں ہے، یعنی خاوند کی کوئی نیت نہیں ہے ”يُعْتَبَرُ مَشِيئَتُهَا“ تو پھر اس عورت کی مشیت معتبر ہے ”فِيمَا قَالُوا“ اس میں جو فقہاء نے کہا ہے، اس قول میں جو فقہاء نے کہا ہے، فقہاء نے فرمایا ہے ”جَرْيًا عَلَى مُوجَبِ التَّخْيِيرِ“ چلتے ہوئے ”عَلَى مُوجَبِ التَّخْيِيرِ“ تخییر کے مقتضا پر۔ خاوند نے اس کو اختیار دیا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ اور خاوند کی اپنی کوئی نیت نہیں ہے، جب خاوند کی کوئی نیت نہیں ہے اور عورت کو اس نے اختیار دے دیا ہے تو اب عورت کی مشیت کو معتبر ہونا چاہیے، لہٰذا اب وہ جو طلاق چاہے گی وہی طلاق ہو جائے گی اور یہ کون فرماتے ہیں؟ متاخرین فرماتے ہیں، متقدمین سے اس بارے میں کوئی روایت نہیں ہے۔ اسی لیے کہا: ”فِيمَا قَالُوا“ أَيْ فِي قَوْلِهِمْ فقہاء کے، متاخرین کے قول کے مطابق بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ تَحْضُرْهُ النِّيَّةُ يُعْتَبَرُ مَشِيئَتُهَا“ اور اگر خاوند کی نیت حاضر نہ ہو تو عورت کی مشیت معتبر ہے ”فِيمَا قَالُوا“ فقہاء کے قول میں ”جَرْيًا عَلَى مُوجَبِ التَّخْيِيرِ“ اختیار دینے کے مقتضا پر چلتے ہوئے کہ خاوند نے اس کو اختیار دیا ہے تو اس کی مشیت معتبر ہونی چاہیے۔
”قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ:“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں، بھئی دیکھیے متن کے اندر تو کوئی اختلاف ذکر نہیں۔ کوئی اختلاف ذکر نہیں، مطلقاً ایک مسئلہ ذکر ہوا، یوں معلوم ہوتا ہے تینوں ائمہ کے نزدیک مسئلہ اسی طرح ہے، یہ جامع صغیر کی عبارت ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے نہیں، اس کے اندر صاحبین اختلاف کرتے ہیں۔ یہ جو مسئلہ جامع صغیر میں ذکر ہوا یہ امام صاحب کا قول ہے۔ امام صاحب کا کیا قول؟ خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ تجھے طلاق ہے جیسی تو چاہے، امام صاحب فرماتے ہیں یہ کہتے ہی ایک طلاق ہو گئی لیکن وصف کس کے سپرد ہو گیا؟ عورت کے سپرد ہو گیا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ اس سے ایک بھی طلاق واقع نہیں، جب عورت چاہے گی تب ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ امام صاحب کے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ کہتے ہی ایک طلاق واقع ہو گئی، عورت کی مشیت سے پہلے ہی، اور صاحبین فرماتے ہیں عورت کی مشیت کے بعد طلاق واقع ہوگی، عورت کے چاہنے سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تو چونکہ یہاں جامع صغیر میں تو یہ اختلاف ذکر نہیں ہے لیکن مبسوط کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے یہ اختلاف ذکر فرمایا ہے تو اب اس کو ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔
”قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ:“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں ”قَالَ فِي الْأَصْلِ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ نے اصل میں یعنی مبسوط میں ذکر کیا ہے ”هٰذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ کہ یہ امام صاحب کا قول ہے ”وَعِنْدَهُمَا“ اور صاحبین کے نزدیک ”لَا يَقَعُ“ کہ طلاق واقع نہیں ہوگی ”مَا لَمْ تُوقِعِ الْمَرْأَةُ“ جب تک عورت واقع نہیں کرے گی، جب تک عورت واقع نہیں کرے گی ”فَتَشَاءُ رَجْعِيَّةً أَوْ بَائِنَةً أَوْ ثَلَاثًا“ تو وہ چاہ سکتی ہے رجعی یا بائنہ یا تین طلاقیں ”وَعَلَى هٰذَا الْخِلَافِ الْعَتَاقُ“ اور اسی اختلاف پر عتاق بھی ہے، عتاق یعنی آزاد کرنا، عین کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ تو اسی اختلاف پر عتاق بھی ہے، مثلاً کوئی آقا اپنے غلام سے کہتا ہے: ”أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ“ ”أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ“ تو آزاد ہے جیسے تو چاہے، امام صاحب فرماتے ہیں یہ کہتے ہی غلام آزاد ہو گیا اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ آزاد نہیں ہوا، ہاں جب وہ چاہے گا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هٰذَا الْخِلَافِ الْعَتَاقُ“ اور اس اختلاف پر عتاق یعنی آزادی بھی ہے ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ فَوَّضَ التَّطْلِيقَ إِلَيْهَا عَلَى أَيِّ صِفَةٍ شَاءَتْ“ کہ خاوند نے سپرد کیا ہے طلاق دینا ”إِلَيْهَا“ اس عورت کے، ”أَنَّهُ فَوَّضَ التَّطْلِيقَ“ کہ خاوند نے طلاق دینا سپرد کیا ہے ”إِلَيْهَا“ اس عورت کے ”عَلَى أَيِّ صِفَةٍ شَاءَتْ“ جس صفت پر بھی وہ عورت چاہے ”فَلَا بُدَّ مِنْ تَعْلِيقِ أَصْلِ الطَّلَاقِ بِمَشِيئَتِهَا“ لہٰذا ضروری ہے کہ اصلِ طلاق بھی معلق ہونی چاہیے عورت کی مشیت سے۔ توجہ سے سنو بھئی! صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ خاوند نے طلاق دینے کو عورت کے سپرد کر دیا ہے، جس صفت پر بھی وہ چاہے طلاق دے سکتی ہے ”فَلَا بُدَّ مِنْ تَعْلِيقِ أَصْلِ الطَّلَاقِ بِمَشِيئَتِهَا“ لہٰذا ضروری ہے کہ اصلِ طلاق بھی معلق ہو جائے عورت کی مشیت سے۔ امام صاحب تو فرماتے ہیں اصلِ طلاق فوراً واقع ہو جاتی ہے، اصلِ طلاق معلق نہیں، ہاں اس کی صفت کیا ہوتی ہے معلق ہو، یوں کہو امام صاحب کے نزدیک خاوند نے صرف صفت عورت کے حوالے کی ہے، اصلِ طلاق عورت کے حوالے نہیں کی، اصلِ طلاق واقع کر دی ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس خاوند کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ اصلِ طلاق بھی عورت کے سپرد ہونی چاہیے، وہ چاہے تو طلاق ہو، وہ نہ چاہے تو طلاق نہ ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنْ تَعْلِيقِ أَصْلِ الطَّلَاقِ بِمَشِيئَتِهَا“ صاحبین فرماتے ہیں کہ ضروری ہے کہ اصلِ طلاق بھی معلق ہو عورت کی مشیت کے ساتھ ”لِيَكُونَ لَهَا الْمَشِيئَةُ فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ“ تاکہ عورت کے لیے مشیت ثابت ہو جائے تمام احوال میں، تاکہ عورت کے لیے مشیت ثابت ہو جائے تمام احوال کے اندر ”أَعْنِي قَبْلَ الدُّخُولِ وَبَعْدَهُ“ یعنی صحبت سے پہلے بھی اور صحبت کے بعد بھی۔ بھئی آپ جانتے ہیں غیر مدخول بہا عورت جس سے خاوند نے صحبت نہیں کی اس کو خاوند جیسے ہی طلاق دیتا ہے چاہے طلاقِ رجعی ہی کیوں نہ دے، فوراً وہ بائن ہو جاتی ہے اور وہ خاوند سے جدا ہو جاتی ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں اگر یہی لفظ خاوند کس کو کہے؟ غیر مدخول بہا بیوی کو: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے جیسی تو چاہے۔ تو امام صاحب کے مذہب کے مطابق طلاق فوراً واقع ہو گئی اور یہ عورت تو غیر مدخول بہا ہے تو یہ فوراً ہی بائنہ ہو گئی، تو اس کی مشیت کا تو محل ہی نہ رہا، اس کی چاہت کا تو اعتبار ہی نہ رہا کیونکہ فوراً یہ بائنہ ہو گئی، نکاح ٹوٹ گیا، اب یہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ لہٰذا ایسی صورت پر اس کلام کو محمول کریں کہ ہر حال میں عورت کی مشیت پر طلاق معلق رہے، اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب یوں کہا جائے کہ خاوند کے کلام سے طلاق واقع نہیں ہوئی، جب عورت چاہے گی تب واقع ہوگی۔ اب غیر مدخول بہا جو ہے اس پر بھی جب طلاق واقع نہیں ہوئی، وہ چاہے گی تو واقع ہو جائے گی بھئی۔ تو لہٰذا ضروری ہے کہ اس کو ایسی صورت پر محمول کیا جائے کہ ہر حال میں طلاق عورت کی مشیت پر محمول ہو، اور ہر حال میں طلاق عورت کی مشیت پر محمول ہو یہ تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اصلِ طلاق بھی معلق ہو جائے، اصلِ طلاق واقع نہ ہو ورنہ تو اگر عورت غیر مدخول بہا ہوئی اس کو تو مشیت کا موقع ہی نہیں ملے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنْ تَعْلِيقِ أَصْلِ الطَّلَاقِ بِمَشِيئَتِهَا“ لہٰذا اصلِ طلاق کو اس کی عورت کی مشیت کے ساتھ معلق کرنا ضروری ہے ”لِيَكُونَ لَهَا الْمَشِيئَةُ فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ“ تاکہ عورت کے لیے مشیت ثابت ہو جائے تمام احوال میں ”أَعْنِي قَبْلَ الدُّخُولِ وَبَعْدَهُ“ یعنی دخول سے پہلے بھی اور دخول کے بعد بھی۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ كَلِمَةَ كَيْفَ لِلِاسْتِيصَافِ“ استیصاف بھئی صاد کے ساتھ ہے، استیصاف کا معنی ہے وصف طلب کرنا۔ بابِ استفعال میں سین عموماً کس لیے لاتے ہیں؟ طلب کے لیے۔ تو وصف سے ہی بابِ استفعال بنا لو: استیصاف۔ اصل میں کیا تھا؟ استوصاف، یا کی جگہ واؤ ہے۔ تو وصف طلب کرنا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو کیف کا لفظ ہے یہ وصف طلب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، مثلاً عربی میں کہتے ہیں: ”كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟“ آپ نے صبح کیسی کی؟ یعنی آپ کی کیا صفت تھی؟ آپ ٹھیک تھے یا بیمار تھے یا کیسے تھے؟ تو اس کیف کے ذریعے صفت کو طلب کیا جاتا ہے، لہٰذا خاوند نے جب کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ“ معلوم ہوا خاوند صفت جو ہے عورت کے حوالے کر رہا ہے کہ جس صفت پر وہ چاہے طلاق واقع ہو جائے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ كَلِمَةَ كَيْفَ لِلِاسْتِيصَافِ“ کہ کلمۂ کیف جو ہے یہ صفت طلب کرنے کے لیے ہوتا ہے ”يُقَالُ“ عربی میں کہتے ہیں ”كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟“ کہ آپ نے کیسی صبح کی؟ یعنی کس وصف کے ساتھ، آپ صحیح ہیں یا بیمار ہیں یا کس حالت میں ہیں ”وَالتَّفْوِيضُ فِي وَصْفِهِ يَسْتَدْعِي وُجُودَ أَصْلِهِ“ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کیف کس لیے آتا ہے؟ صفت طلب کرنے کے لیے۔ معلوم ہوا خاوند صرف صفت سپرد کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ خاوند صرف صفت سپرد کر رہا ہے اور صفت تو تبھی ہو سکتی ہے جب اصل یعنی موصوف کا وجود تو ہو، صفت تبھی دوسرے کے حوالے ہو سکتی ہے جب موصوف کا وجود تو پایا جائے، اگر موصوف ہی نہیں ہے تو پھر صفت کہاں سے بھئی؟ لہٰذا خاوند جب صفت حوالے کر رہا ہے تو اصل موصوف یعنی طلاق کا وجود ضروری ہے، لہٰذا طلاق پائی گئی اور صفت عورت کے حوالے ہو گئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: ”وَالتَّفْوِيضُ فِي وَصْفِهِ يَسْتَدْعِي وُجُودَ أَصْلِهِ“ اور صفت کے اندر سپرد کرنا ”يَسْتَدْعِي وُجُودَ أَصْلِهِ“ یہ اس کے اصل کے وجود کا تقاضا کرتا ہے ”وَوُجُودُ الطَّلَاقِ بِوُقُوعِهِ“ اور طلاق کا وجود تو اس کے واقع کرنے سے ہی ہوتا ہے، بغیر واقع کرنے کے تو طلاق کا وجود نہیں، تو خاوند صفت عورت کے حوالے کر رہا ہے، یہ تقاضا کرتا ہے کہ اصل کا وجود ہونا چاہیے یعنی اصلِ طلاق ہونی چاہیے اور اصلِ طلاق جو ہے وہ تو واقع کرنے سے ہی اس کا وجود ہو سکتا ہے بغیر واقع کرنے کے نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس لیے یہاں طلاق واقع ہو جائے گی بھئی، صرف صفت عورت کے سپرد ہے بھئی۔
”وَإِنْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ كَمْ شِئْتِ أَوْ مَا شِئْتِ طَلَّقَتْ نَفْسَهَا مَا شَاءَتْ“ صورت یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَمْ شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے ”كَمْ شِئْتِ“ جتنی تو چاہتی ہے ”أَوْ مَا شِئْتِ“ اس کا بھی وہی معنی: جتنی تو چاہتی ہے، تو عورت کو اختیار مل گیا، وہ چاہے تو ایک طلاق واقع کر سکتی ہے، چاہے دو اور چاہے تین۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا“ اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ كَمْ شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے ”كَمْ شِئْتِ“ جس قدر تو چاہتی ہے ”أَوْ مَا شِئْتِ“ یا جتنا تو چاہتی ہے ”طَلَّقَتْ نَفْسَهَا مَا شَاءَتْ“ تو عورت اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے جتنی وہ چاہے ”لِأَنَّهُمَا يُسْتَعْمَلَانِ لِلْعَدَدِ“ اس لیے کیونکہ یہ کم اور ما جو ہیں یہ دونوں استعمال ہوتے ہیں ”لِلْعَدَدِ“ عدد کے لیے ”فَقَدْ فَوَّضَ إِلَيْهَا أَيَّ عَدَدٍ شَاءَتْ“ تو خاوند نے اس کے سپرد کر دیا ”أَيَّ عَدَدٍ شَاءَتْ“ جو عدد بھی وہ چاہے، وہ عدد اس کے سپرد کر دیا ”فَإِنْ قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا بَطَلَ“ اگر وہ عورت اپنی مجلس سے اٹھی تو اس کا یہ اختیار باطل ہو جائے گا ”وَإِنْ رَدَّتِ الْأَمْرَ كَانَ رَدًّا“ اور اگر عورت نے یہ امر رد کیا تو رد بھی ہو جائے گا، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هٰذَا أَمْرٌ وَاحِدٌ“ کیونکہ یہ ایک ہی امر ہے۔ یہ اختیار کئی دفعہ نہیں دے رہا، طلاق کا عدد اس کے حوالے کر رہا ہے، وہ جس عدد کے ساتھ طلاق واقع کرنا چاہے کر سکتی ہے، لیکن ایک ہی اختیار ہے، ایک ہی دفعہ استعمال کر سکتی ہے، چاہے ایک واقع کر لے، چاہے دو اور چاہے تین بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ رَدَّتِ الْأَمْرَ كَانَ رَدًّا“ اور اگر عورت نے اس امر کو رد کیا تو رد ہو جائے گا ”لِأَنَّ هٰذَا أَمْرٌ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک ہی امر ہے ”وَهُوَ خِطَابٌ فِي الْحَالِ“ اور یہ فی الحال خطاب ہے ”فَيَقْتَضِي الْجَوَابَ فِي الْحَالِ“ لہٰذا یہ فی الحال ہی جواب کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ فی الحال خطاب ہے، یعنی اس میں وقت کو خاوند ذکر نہیں کر رہا بلکہ فی الحال ہی اسے مالک بنا رہا ہے تو اسی مجلس میں جواب ضروری ہے، مجلس گزر گئی تو بعد میں اس عورت کو اختیار نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ خِطَابٌ فِي الْحَالِ“ خطاب کہتے ہیں وہ کلام جو دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے۔ یہ جو میں تقریر کر رہا ہوں یہ سارا کیا ہے؟ خطاب ہے۔ تو دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر جو بھی کلام کیا جائے وہ خطاب ہے۔ تو یہاں پر جو خاوند نے خطاب کیا، کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ كَمْ شِئْتِ“ ”أَنْتِ طَالِقٌ كَمْ شِئْتِ“ یہاں وقت کی کوئی بات نہیں ہو رہی، صرف اختیار دے رہا ہے اور اختیار مجلس تک رہتا ہے۔ پیچھے تو ذکر تھا ”مَتَى شِئْتِ“ جس وقت تو چاہے، وہاں تو وقت کے اندر تعمیم تھی، یہاں تو وقت میں تعمیم نہیں اور نیز یہ ایک ہی اختیار ہے، ایک ہی اختیار کے ساتھ ایک ہی وقت میں وہ چاہے ایک طلاق واقع کر لے تو اختیار ختم ہو جائے گا، یا اکٹھی دو واقع کر لے تو اختیار ختم ہو جائے گا، یا اکٹھی تین واقع کر لے تو اختیار ختم ہوا اور جدائی آ گئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَهُوَ خِطَابٌ فِي الْحَالِ“ اور یہ فی الحال خطاب ہے، یعنی خاوند اس کو فی الحال طلاق کا مالک بنا رہا ہے، اس میں وقت کی کوئی قید نہیں ”فَيَقْتَضِي الْجَوَابَ فِي الْحَالِ“ تو یہ فی الحال ہی جواب کا تقاضا کرتا ہے، یعنی اسی مجلس کے اندر۔
”وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے ”مِنْ ثَلَاثٍ“ تین طلاقوں میں سے ”مَا شِئْتِ“ جتنی تو چاہے۔ تو اپنے آپ کو تین طلاقوں میں سے جتنی طلاقیں دینا چاہتی ہے دے دے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں عورت ایک طلاق بھی دے سکتی ہے اور دو بھی، لیکن تین طلاقیں نہیں دے سکتی، کیونکہ خاوند نے کیا کہا: ”مِنْ ثَلَاثٍ“ تین میں سے، اور یہ من تبعیض کے لیے آتا ہے، یعنی تین میں سے بعض بھئی، پوری تین نہیں بھئی، تو تین میں سے تو جتنی بھی طلاقیں اپنے آپ کو دینا چاہتی ہے دے سکتی ہے، تو وہ تین میں سے بعض طلاقیں تو واقع کر سکتی ہے لیکن ساری تین واقع نہیں کر سکتی کیونکہ یہاں من ہے اور من تبعیض کے لیے آتا ہے: ”مِنْ ثَلَاثٍ“ أَيْ بَعْضَ ثَلَاثٍ بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: طَلِّقِي نَفْسَكِ مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“ کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے ”مِنْ ثَلَاثٍ“ تین میں سے ”مَا شِئْتِ“ جتنی تو چاہے ”فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ وَلَا تُطَلِّقَ ثَلَاثًا“ تو عورت کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک بھی دے سکتی ہے ”أَوْ ثِنْتَيْنِ“ دو طلاقیں بھی دے سکتی ہیں ”وَلَا تُطَلِّقَ ثَلَاثًا“ اور تین طلاقیں نہیں دے سکتیں ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”وَقَالَا: تُطَلِّقُ ثَلَاثًا إِنْ شَاءَتْ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ عورت اگر چاہے تو تین طلاقیں بھی دے سکتی ہے اپنے آپ کو ”لِأَنَّ كَلِمَةَ مَا مُحْكَمَةٌ فِي التَّعْمِيمِ وَكَلِمَةَ مِنْ قَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلتَّمْيِيزِ“ بھئی دیکھیے، صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ یہاں دو لفظ آئے، ایک ”مِنْ“، ”مِنْ ثَلَاثٍ“ ایک یہ ”مِنْ“ آیا، اور ایک ”مَا شِئْتِ“، تو یہ کلمۂ ”مَا“ آیا۔ تو ”مَا“ جو ہے یہ تعمیم کے اندر محکم ہے، یعنی اس میں تعمیم ہی تعمیم ہے بھئی، اس کے اندر خصوص والا احتمال نہیں۔ جبکہ ”مِنْ“ جو ہے وہ کبھی تبعیض کے لیے آتا ہے، کبھی ”مِنْ“ بیان کے لیے آتا ہے، ایک چیز میں ابہام ہوتا ہے ”مِنْ“ کے ذریعے اس کو بیان کیا جاتا ہے، اور کبھی ”مِنْ“ اور معانی کے لیے آتا ہے، تو ”مِنْ“ کے اندر کئی احتمالات ہیں۔ تو ”مَا“ ہوا محکم، یعنی اس کا معنی کیا ہے؟ اس میں تعمیم ہے قطعی طور پر۔ ”مَا“ ہوا محکم، محکم کا کیا معنی؟ مضبوط یعنی اس کا معنی قطعی ہے کہ اس میں تعمیم ہے۔ تو ”مَا“ ہوا محکم اور ”مِنْ“ ہوا محتمل یعنی اس میں کئی احتمالات ہیں، اس کا کوئی ایک معنی یقینی نہیں۔ تو ”مَا“ ہوا محکم اور ”مِنْ“ ہوا محتمل، لہٰذا اس ”مِنْ“ کو بھی ہم ”مَا“ پر محمول کر لیں گے، کیونکہ ”مَا“ محکم ہے وہ قطعی ہے اور ”مِنْ“ تو محتمل ہے، تو ”مَا“ قطعی ہے لہٰذا ”مِنْ“ کو بھی اسی پر محمول کر لیں گے اور یوں کہیں گے کہ یہ ”مِنْ“ اس ”مَا“ کا بیان ہے۔ یہ ”مِنْ“ اس ”مَا“ کا، ”مَا“ کے اندر تعمیم ہے اور یہ ”مِنْ“ کیا کر رہا ہے اس کا؟ بیان کر رہا ہے۔ گویا خاوند نے یوں کہا، لفظ کیا تھے؟ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“، ”مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“، ”مَا“ تعمیم کے لیے اور ”مِنْ“ اس کا بیان۔ ذرا ہم اس کو مؤخر کر دیں ”مِنْ“ کو، پھر بات آپ کو سمجھ میں آئے گی۔ خاوند نے کہا ہے: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مَا شِئْتِ“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے ”مَا شِئْتِ“ جتنی تو چاہتی ہے ”مِنْ ثَلَاثٍ“ یہ اب آگے بیان آ گیا ”مَا شِئْتِ“ کا، ”مَا شِئْتِ“ جو تو چاہتی ہے ”مِنْ ثَلَاثٍ“ یعنی کہ تین۔ یہ ”مِنْ ثَلَاثٍ“ کس کا بیان ہے؟ ”مَا“ کا۔ تو تو اپنے آپ کو طلاق دے دے جتنی تو چاہتی ہے یعنی کہ تین، یعنی تین کا اختیار دے دیا، ایک بھی طلاق وہ اپنے آپ کو دے سکتی ہے، دو بھی اور تین بھی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، ایک یا دو طلاقیں تو عورت اپنے آپ کو دے سکتی ہے لیکن تین طلاقیں نہیں دے سکتی۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَا: تُطَلِّقُ ثَلَاثًا إِنْ شَاءَتْ“ صاحبین فرماتے ہیں کہ عورت تین طلاقیں دے سکتی ہے ”إِنْ شَاءَتْ“ اگر وہ چاہے ”لِأَنَّ كَلِمَةَ مَا مُحْكَمَةٌ فِي التَّعْمِيمِ“ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”مَا“ جو ہے محکم ہے، مضبوط ہے ”فِي التَّعْمِيمِ“ تعمیم کے اندر، اس کے اندر عموم ہے ”وَكَلِمَةَ مِنْ قَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلتَّمْيِيزِ“ اور کلمۂ ”مِنْ“ جو ہے اس کو کبھی کبھار استعمال کیا جاتا ہے تمییز کے لیے۔ تمییز یعنی جس کے ذریعے ابہام کو دور کیا جائے، یعنی بیان، کیا مراد ہے؟ بیان۔ کہ ”مِنْ“ کلمہ کس لیے آتا ہے کبھی کبھار؟ بیان کے لیے آتا ہے، کسی لفظ میں ابہام ہوتا ہے ”مِنْ“ کے ذریعے اس کو بیان کیا جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَلِمَةَ مِنْ قَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلتَّمْيِيزِ“ اور کلمۂ ”مِنْ“ جو ہے کبھی کبھار اس کو استعمال کیا جاتا ہے تمییز یعنی بیان کے لیے ”فَيُحْمَلُ عَلَى تَمْيِيزِ الْجِنْسِ“ تو لہٰذا اس کو محمول کیا جائے گا تمییزِ جنس، اس ”مَا“ کی جنس کے بیان کے لیے، ”عَلَى تَمْيِيزِ الْجِنْسِ“ اس جنس کی تمییز کے لیے یعنی اس جنس کے بیان پر محمول کیا جائے گا کہ اس ”مِنْ“ کے ذریعے اسی ”مَا“ کی جنس بیان کی جا رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُحْمَلُ عَلَى تَمْيِيزِ الْجِنْسِ“ تو یہ اس کو محمول کیا جائے گا جنس کی تمییز پر یعنی جنس کے بیان پر ”كَمَا إِذَا قَالَ: كُلْ مِنْ طَعَامِي مَا شِئْتَ“ جیسے کہ کوئی شخص کسی سے کہتا ہے: ”كُلْ مِنْ طَعَامِي مَا شِئْتَ“ ”كُلْ“ أَكَلَ يَأْكُلُ سے، کھانا، کھانا، ”كُلْ“ تم کھاؤ ”مِنْ طَعَامِي“ میرے طعام میں سے ”مَا شِئْتَ“ جو چاہو۔ یہ دیکھو بالکل ویسے ہی الفاظ ہیں، وہاں کیا تھا؟ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“ اور یہاں کیا ہے؟ ”كُلْ مِنْ طَعَامِي مَا شِئْتَ“ بالکل ایک جیسے الفاظ ہیں اور بالاتفاق سب کے نزدیک اس صورت میں وہ شخص سارا کھانا بھی کھا سکتا ہے۔ ”كُلْ مِنْ طَعَامِي مَا شِئْتَ“ تو کھا لے میرے کھانے میں سے، ”مَا شِئْتَ“ جتنا تو چاہتا ہے اور بالاتفاق یہاں پورا کھانا بھی وہ کھا سکتا ہے۔ معلوم ہوا وہاں بھی وہ عورت پوری تین طلاقیں دے سکتی ہے بھئی۔
یا دوسری مثال، کہتے ہیں: ”أَوْ طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شَاءَتْ“ خاوند کسی شخص سے کہتا ہے، کسی اور آدمی سے کہتا ہے: ”طَلِّقْ“ کہ تو طلاق دے دے ”مِنْ نِسَائِي“ میری عورتوں میں سے ”مَنْ شَاءَتْ“ جو بھی چاہے۔ ”شَاءَتْ“ مؤنث کا صیغہ ہے، یعنی ان بیویوں میں سے جو بھی چاہے۔ ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ میری بیویوں میں سے جو بھی طلاق کو چاہتی ہے تو اس کو طلاق دے دے میری طرف سے۔ توجہ ہے؟ تو کیا کہا؟ ”طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي“ تو طلاق دے دے، کس کو؟ ”مِنْ نِسَائِي“ میری بیویوں کو ”مَنْ شَاءَتْ“ جو بھی ان میں سے چاہے۔ اور اس صورت کے اندر بھی بالاتفاق امام صاحب بھی فرماتے ہیں اگر اس کی چار بیویاں ہیں اور چاروں طلاق چاہتی ہیں تو وہ چاروں کو طلاق دے سکتا ہے۔ وہ چاروں کو طلاق دے سکتا ہے اور یہ کلام بالکل اسی طرح ہے جیسے اوپر مسئلے میں آیا تھا، وہاں تھا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ یہاں ہے ”طَلِّقْ“، اور وہاں تھا ”مِنْ ثَلَاثٍ“ یہاں ہے ”مِنْ نِسَائِي“، اور وہاں تھا ”مَا شِئْتِ“ اور یہاں ہے ”مَنْ شَاءَتْ“، بالکل ایک جیسے مسئلے ہیں اور اس مسئلے کے اندر امام صاحب بھی فرماتے ہیں اگر اس آدمی کی چار بیویاں ہوں تو وہ وکیل چاروں کو طلاق دے سکتا ہے اگر وہ چاروں چاہتی ہیں طلاق کو۔
تو کہتے ہیں: ”أَوْ طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شَاءَتْ“ یہ صاحبین کی دلیل آ گئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ كَلِمَةَ مِنْ حَقِيقَةٌ لِلتَّبْعِيضِ“ کہ کلمۂ ”مِنْ“ جو ہے تبعیض کے لیے حقیقت ہے، یعنی کلمۂ ”مِنْ“ تبعیض کے لیے آتا ہے، بعضیت بیان کرنے کے لیے آتا ہے اور یہ اس کا حقیقی معنی ہے، یعنی تبعیض اس کا حقیقی معنی ہے اور باقی اس کے مجازی معانی ہیں بھئی ”وَمَا لِلتَّعْمِيمِ“ اور ”مَا“ جو ہے وہ تعمیم کے لیے آتا ہے عموم پیدا کرنے کے لیے بھئی ”فَيُعْمَلُ بِهِمَا“ لہٰذا دونوں پر عمل کیا جائے گا، ”مَا“ کی تعمیم پر بھی عمل کیا جائے گا اور ”مِنْ“ کی تبعیض پر بھی عمل کیا جائے گا۔ کس طرح؟ ”مِنْ“ کا کیا معنی؟ تبعیض یعنی بعض، ”مِنَ الثَّلَاثِ“ أَيْ ”بَعْضُ الثَّلَاثِ“، یعنی تین میں سے بعض دے سکتا ہے، تینوں نہیں دے سکتا خاوند، اور ”مَا شِئْتِ“ جو تو چاہے، اس ”مَا“ کے اندر تعمیم بھی ہے، یعنی بعض میں سے جو بھی تم چاہتی ہو وہ واقع کر سکتی ہو۔ بعض میں سے، دیکھو ”مِنْ“ پر بھی عمل ہو گیا کہ بعض چاہ سکتی ہو، ساری نہیں چاہ سکتیں، اور ”مَا“ کی تعمیم پر بھی عمل ہو گیا کہ جتنی بھی بعض چاہتی ہو ہر ایک بعض کو چاہ سکتی ہو، اور تین کا بعض کیا ہے؟ ایک بھی تین کا بعض، دو بھی تین کا بعض ہے، تو عورت ایک بھی دے سکتی ہے اور دو بھی دے سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ معنی کیا ہوا؟ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ مِنْ ثَلَاثٍ مَا شِئْتِ“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے ”مِنْ ثَلَاثٍ“ تین میں سے، أَيْ بَعْضَ الثَّلَاثِ، یعنی بعض پر بھی عمل کریں گے اور ”مَا“ کے عموم پر بھی کہ جو مرضی بعض تم چاہو تم وہ طلاق واقع کر سکتی ہو۔ یہاں تو بعض ہیں ہی دو، کتنے بعض ہیں؟ دو۔ ایک طلاق دے گی وہ بھی تین کا بعض، دو طلاقیں دے گی وہ بھی تین کا بعض، تو یہاں بعض ہیں ہی دو، تو دونوں میں سے جو بھی تم چاہو واقع کر سکتی ہو۔ اگر یہاں اور بعض بنتے، سو بعض ہوتے تو سو کے اندر بھی اس کو اختیار ہوتا۔ کل کا اختیار نہیں ہے البتہ بعض کے اندر اس کو پورا اختیار ہے، جونسا مرضی بعض ہو وہ اس طلاق کو اپنے اوپر واقع کر سکتی ہے، یعنی ایک کو بھی واقع کر سکتی ہے اور دو کو بھی، کیونکہ بعض یہاں ہیں ہی دو بھئی۔ تو دیکھو دونوں پر عمل ہوا، ”مِنْ“ کی تبعیض پر بھی عمل ہو گیا کہ ہونی بعض چاہییں ساری نہیں، اور ”مَا“ کی تعمیم پر بھی عمل ہو گیا کہ جونسا بعض بھی تم چاہتی ہو وہ تم واقع کر سکتی ہو۔ جبکہ صاحبین نے صرف ”مَا“ کی تعمیم پر عمل کیا تھا، ”مِنْ“ کی تبعیض کو چھوڑ دیا تھا، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: أَنَّ كَلِمَةَ مِنْ حَقِيقَةٌ لِلتَّبْعِيضِ وَمَا لِلتَّعْمِيمِ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ کلمۂ ”مِنْ“ جو ہے تبعیض کے اندر حقیقت ہے یعنی یہ اس کا حقیقی معنی ہے ”وَمَا لِلتَّعْمِيمِ“ اور ”مَا“ جو ہے وہ تعمیم کے لیے آتا ہے ”فَيُعْمَلُ بِهِمَا“ تو ان دونوں پر عمل کیا جائے گا ”وَفِيمَا اسْتُشْهِدَ بِهِ تُرِكَ التَّبْعِيضُ“ باقی صاحبین نے جو دو دلیلیں ذکر کیں کہ ایک شخص کہتا ہے: ”كُلْ مِنْ طَعَامِي مَا شِئْتَ“ میرے کھانے میں سے کھاؤ جتنا تم چاہو، تو بالاتفاق سب کے نزدیک یہاں سارا کھانا بھی وہ کھا سکتا ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں وہاں بھی ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے لیکن وہاں تبعیض کو چھوڑ دیا گیا کیونکہ ایک اور قرینہ موجود تھا، ایک اور خارجی دلیل وہاں موجود تھی اور وہ یہ کہ اس قسم کا کلام انسان اپنی سخاوت کا اظہار کرنے کے لیے کہتا ہے۔ ایک شخص کسی کو کھانے پر لے کر آتا ہے، کھانا رکھتا ہے اور کہتا ہے: ”كُلْ مِنْ طَعَامِي مَا شِئْتَ“ کھاؤ میرے کھانے میں سے جتنا چاہتے ہو، یہ جملہ کس لیے بولا جاتا ہے؟ اپنی سخاوت کا اظہار کرنے کے لیے، تو لہٰذا اس وجہ سے یہاں اس کو پورا کھانا کھانا بھی اس کے لیے جائز ہوگا بھئی۔ تو لہٰذا یہاں یہ اس امرِ خارجی کی وجہ سے ”مِنْ“ کی تبعیض کو ترک کر دیا گیا۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِيمَا اسْتُشْهِدَ بِهِ“ اور وہ مثالیں جن کے ذریعے صاحبین نے استشہاد کیا ہے یعنی دلیل پکڑی ہے ”تُرِكَ التَّبْعِيضُ“ وہاں پر تبعیض کو ترک کر دیا گیا ”لِدَلَالَةِ إِظْهَارِ السَّمَاحَةِ“ سماحت کہتے ہیں سخاوت کو، سخاوت کے اظہار کی دلالت کی وجہ سے کہ یہ کلام سخاوت کے اظہار پر دلالت کرنے کے لیے بولا جاتا ہے یعنی سخاوت کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے یہاں تبعیض کو ترک کر دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِيمَا اسْتُشْهِدَ بِهِ“ اور وہ مثالیں جن کے ذریعے صاحبین نے دلیل پکڑی ہے ”تُرِكَ التَّبْعِيضُ“ وہاں پر تبعیض کو ترک کر دیا گیا ”لِدَلَالَةِ إِظْهَارِ السَّمَاحَةِ“ سخاوت کے اظہار کی دلالت کی وجہ سے، تو اس سخاوت کے اظہار پر دلالت ہو رہی ہے، اس کی وجہ سے ”مِنْ“ کی تبعیض کو چھوڑ دیا گیا بھئی ”أَوْ لِعُمُومِ الصِّفَةِ“ یا عمومِ صفت کی وجہ سے۔ وہ جو دوسری مثال آئی تھی، کیا؟ ایک شخص نے دوسرے سے کہا: ”طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شَاءَتْ“ میری بیویوں میں سے جو بھی طلاق چاہتی ہے تو اس کو طلاق دے دے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ وہاں پر بھی ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے لیکن اس کی تبعیض کو ترک کر دیا گیا ”مَنْ شَاءَتْ“ یہ جو ”شَاءَتْ“ کی صفت آئی اس کی وجہ سے۔ ”مَنْ شَاءَتْ“ جو بھی ان بیویوں میں سے چاہے، یہ صفتِ عامہ ہے۔ یہ صفتِ عامہ ہے، اس وجہ سے جو بھی چاہے تو اس کو طلاق دے دے، تو اس صفتِ عامہ کی وجہ سے تبعیض کو چھوڑ دیا گیا۔ اگر یہ ”مَنْ شَاءَتْ“ نہ ہوتا اس کی جگہ کوئی اور صفت ہوتی: ”مَنْ شِئْتَ“۔ پہلے کیا معنی تھا؟ ”طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شَاءَتْ“ میری بیویوں میں سے جو بھی طلاق چاہے اس کو طلاق دے دے، تو یہ دیکھو ”مَنْ شَاءَتْ“ جو بھی طلاق چاہے بیویوں میں سے، اگر اس کی جگہ ”شَاءَتْ“ کے بجائے ”شِئْتَ“ ہوتا، کوئی صفتِ عامہ نہ ہوتی، صفتِ عامہ نہ ہوتی، بھئی ”شَاءَتْ“ صفتِ عامہ ہے نا، جو بھی چاہے، جو بھی چاہے، اور اگر اس کے بجائے ”شِئْتَ“ ہوتا: ”طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شِئْتَ“ میری بیویوں میں سے طلاق دے دے ”مَنْ شِئْتَ“ جس کو تو چاہے۔ اب صفتِ عامہ نہیں ہے، صرف اس وکیل کی مشیت ذکر ہے، ہر عورت کی مشیت ذکر نہیں، تو اب صفتِ عامہ نہیں، تو اس صورت میں بھی پھر یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں اگر کسی شخص کی چار بیویاں ہیں تو وکیل چاروں کو طلاق نہیں دے سکتا کیونکہ یہاں ”مِنْ“ تبعیضیہ موجود ہے: ”طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شِئْتَ“۔
تو کہتے ہیں: ”أَوْ لِعُمُومِ الصِّفَةِ“ یا وہاں پر تبعیض کو ترک کر دیا گیا صفت کے عموم کی وجہ سے۔ کون سی صفت؟ ”شَاءَتْ“ کی جو صفت آ گئی کہ جو بھی بیوی چاہے ”وَهِيَ الْمَشِيئَةُ“ اور وہ صفت کون سی ہے؟ کہتے ہیں وہ مشیت ہے ”حَتَّى لَوْ قَالَ:“ یہاں تک کہ اگر خاوند نے یوں کہا ”مَنْ شِئْتَ“ ”طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شِئْتَ“ تو اگر یہ خاوند کہتا ہے یعنی صفتِ عامہ نہ لاتا ”كَانَ عَلَى الْخِلَافِ“ تو یہ بھی اسی اختلاف پر ہوتا۔ اس صورت میں بھی جو متن میں جیسے مسئلے میں اختلاف تھا کہ امام صاحب کے نزدیک سارا مجموعہ واقع نہیں کر سکتا اور صاحبین کے نزدیک مجموعہ طلاقیں بھی عورت واقع کر سکتی ہے، یہاں بھی اسی طرح ہے، اگر وہ یہ کہتا ”طَلِّقْ مِنْ نِسَائِي مَنْ شِئْتَ“ تو امام صاحب کے نزدیک ساری بیویوں کو طلاق نہیں دے سکتا، بعض کو دے سکتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں ساری بیویوں کو بھی طلاق دے سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔