آگے سبق دیکھیے بھئی:
فَصْلٌ فِي الطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ
وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا وَقَعْنَ عَلَيْهَا، لِأَنَّ الْوَاقِعَ مَصْدَرٌ مَحْذُوفٌ لِأَنَّ مَعْنَاهُ طَلَاقًا ثَلَاثًا عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ، فَلَمْ يَكُنْ قَوْلُهُ: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ إِيقَاعًا عَلَى حِدَةٍ فَيَقَعْنَ جُمْلَةً.
گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایت نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ ایک شخص ہے، اس نے ایک باندی سے نکاح کر رکھا ہے، وہ شخص اپنی اس بیوی سے کہتا ہے: ”إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ کہ جب کل کا دن آ جائے تو تجھے دو طلاقیں ہیں۔ اور باندی کی دو ہی طلاقیں ہوتی ہیں، تو دو طلاقوں سے وہاں حرمتِ مغلظہ آ جاتی ہے۔ خاوند نے یہ کہا: ”إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ اور ادھر آقا نے بھی باندی سے کہہ دیا: ”إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ حُرَّةٌ“۔ تو اب شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر اگلے دن جس وقت آزادی آئے گی اسی وقت طلاق بھی آئے گی۔ اور آزادی تو باندی پر آئے گی، لہٰذا طلاق بھی باندی پر آئے گی، لہٰذا یہاں حرمتِ غلیظہ ثابت ہو جائے گی، اور اب یہ باندی خاوند کے لیے حلال نہیں الّا یہ کہ یہ کسی اور سے نکاح کرے اور پھر وہ طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو پھر اس باندی کے لیے پہلے خاوند سے نکاح جائز ہو جائے گا۔ اور نیز اس کی عدت وہ فرماتے ہیں کہ تین حیض ہیں۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر بھی خاوند رجوع کا مالک ہو گا بھئی، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ آزادی جو ہے وہ پہلے آئے گی اور طلاق بعد میں آئے گی۔ اور صاحبِ ہدایت نے امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرمائی، میں نے بتلایا آپ کو کہ ایک ہے علت اور ایک ہے معلول، علت اور معلول کا زمانہ ایک ہی ہوتا ہے۔ علت ہے تو معلول بھی ہے، علت نہیں تو معلول بھی نہیں، تو علت ذات کے اعتبار سے تو معلول پر مقدم ہے لیکن زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں۔ تو علت کو تقدمِ ذاتی تو حاصل ہے معلول پر، لیکن تقدمِ زمانی حاصل نہیں ہے معلول پر بھئی۔
تو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے تھے صاحبِ ہدایت، وہ فرماتے ہیں کہ اعتاق یہ علت ہے اور عتق یہ معلول ہے، اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہی ہوتا ہے۔ تو یہاں پر جس وقت اعتاق ہوا اسی وقت عتق بھی آیا، اور نیز اسی وقت ایقاعِ طلاق بھی ہوا یعنی تطلیق بھی آ گئی، خاوند کی طرف سے طلاق دینا یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“۔ تو جب تطلیق جو ہے وہ عتق کے ساتھ ہے تو طلاق اس کے بعد آئے گی بھئی، تو پہلے گویا عتق آ گیا اور اس کے بعد طلاق آ گئی، تو طلاق آزاد عورت پر آئی ہے، لہٰذا ابھی بھی یہ خاوند کے لیے حلال ہے۔
لیکن دیگر شارحین نے صاحبِ ہدایت کی اس توجیہ کو پسند نہیں کیا بھئی، یہ جو صاحبِ ہدایت نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی توجیہ کی کہ اس وجہ سے طلاق آزادی کے بعد آئے گی، کیونکہ عتق اعتاق کی علت ہے، تو عتق تو اعتاق کے ساتھ ہی آ جائے گا اور اسی وقت تطلیق آ رہی ہے اور تطلیق کے بعد طلاق آیا کرتی ہے، تو لہٰذا تطلیق عتق کے ساتھ ہے اور طلاق جو ہے وہ عتق کے بعد آئے گی، تو شارحین نے صاحبِ ہدایت کی اس تقریر اور اس توجیہ کو پسند نہیں فرمایا۔
حاصلِ کلام یہ کہ صاحبِ ہدایت نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی توجیہ کی، امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے مطابق یہاں بھی خاوند کو رجوع کا حق ہو گا۔ معلوم ہوا عتق پہلے آئے گا اور طلاق بعد میں آئے گی، تو طلاق آزاد عورت پر آئی اور آزاد عورت کی طلاقیں تو تین ہو چکی ہیں، لہٰذا اب دو طلاقوں سے حرمتِ مغلظہ نہیں آئے گی بلکہ ابھی بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ اور اس کے لیے صاحبِ ہدایت نے یہ توجیہ ذکر کی کہ یہ اعتاق یہ علت ہے اور عتق اس کا معلول ہے، اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے، تو لہٰذا جو زمانہ اعتاق کا ہے وہی زمانہ عتق کا بھی ہے، اور وہی زمانہ تطلیق کا بھی ہے کیونکہ خاوند نے بھی یہی کہا تھا: ”إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“۔ تو معلوم ہوا عتق اور تطلیق کا زمانہ ایک ہو گیا، اور تطلیق کے بعد طلاق آئے گی، تو طلاق عتق کے بعد آئی بھئی، کیونکہ تطلیق اور عتق کا زمانہ ایک، اور پھر تطلیق کے بعد طلاق آئے گی تو طلاق مؤخر ہو گئی عتق سے۔
لیکن دیگر شارحین نے صاحبِ ہدایت کی اس توجیہ کو پسند نہیں فرمایا، یہ جو صاحبِ ہدایت نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی توجیہ کی اور وجہ ذکر کی ہے، اس کو دیگر شارحین نے پسند نہیں فرمایا کہ اگر اعتاق علت ہے عتق کی، تو اسی طرح تطلیق علت ہے طلاق کی، تو دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے بھئی، تو جب تطلیق اور عتق کا زمانہ ایک ہوا تو طلاق اور عتق کا زمانہ بھی ایک ہی ہو گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شارحین نے صاحبِ ہدایت کی اس توجیہ کو پسند نہیں کیا، اور شارحین پھر جواب دیتے ہیں کہ یہاں پر یہ طلاق عتق کے بعد اس لیے ہو گی کیونکہ عتق جو ہے وہ مندوب ہے اور طلاق جو ہے وہ شرعاً ممنوع ہے، تو لہٰذا جو چیز شرعاً مندوب اور پسندیدہ ہے وہ فوراً آ جائے گی اور جو چیز شرعاً ممنوع ہے وہ تھوڑی سی تاخیر سے آئے گی، تو اس لیے عتق پہلے اور طلاق بعد میں۔
جبکہ دیگر شارحین نے اور توجیہ کی، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر عتق اس لیے پہلے ہے کیونکہ عتق آیا ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ سے اور طلاق آئی ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ سے، اور ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ مختصر ہے اور ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ یہ ذرا لمبا ہے، اس میں تین لفظ ہیں، ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ میں دو لفظ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ میں تین لفظ ہیں، تو ظاہر سی بات ہے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ مختصر ہے تو اس کی وجہ سے عتق بھی جلدی آئے گا اور ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ اس میں ذرا طول ہے تو اس کی وجہ سے طلاق بھی ذرا دیر سے آئے گی، تو اس وجہ سے عتق مقدم ہو جائے گا اور طلاق مؤخر ہو جائے گی، تو اس لیے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس خاوند کو ابھی بھی رجوع کا حق حاصل ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، دونوں اکٹھے واقع ہوں گے۔ اعتاق علت ہے عتق کی تو تطلیق علت ہے طلاق کی، تو سب کا زمانہ ایک ہی ہے، لہٰذا جس وقت میں عتق آ رہا ہے اسی وقت میں طلاق آ رہی ہے، اور عتق تو باندی پر آ رہا ہے تو طلاق بھی باندی پر آ رہی ہے، لہٰذا دو طلاقوں سے حرمتِ غلیظہ ثابت ہو جائے گی بھئی۔ اور باقی یہاں جو ہم نے کہا کہ تین حیض گزارنے پڑیں گے بطورِ عدت کے اس عورت کو، تو وہ بطورِ احتیاط کے ہے کیونکہ آگے اگر نکاح کرنا ہے، حلت اور حرمت کا معاملہ ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ تین حیض یہ عورت گزار لے اور پھر نکاح کر سکتی ہے۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایت نے ذکر فرمایا کہ اگر طلاق کو کسی چیز سے تشبیہ دے دی جائے یا طلاق کی کوئی صفت لے آئیں تو اس صورت میں طلاقِ بائن واقع ہو گی بھئی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، طلاقِ بائن نہیں واقع ہو گی، طلاقِ رجعی ہی واقع ہو گی۔ اس لیے کیونکہ طلاقِ بائن کے بعد عدت نہیں ہے، جبکہ عام طلاق کے بعد عدت ہے اور شریعت نے طلاق کے بعد عدت کو رکھا ہے اور یہ شخص طلاقِ بائن دے کر شریعت کے حکم کو بدلنا چاہتا ہے کہ فوراً ہی بینونت آ جائے، لہٰذا اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا اور اس سے طلاقِ رجعی ہی واقع ہو گی بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایت نے بتلایا تھا کہ اگر خاوند اپنی بیوی سے کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“ یا ”أَخْبَثَ الطَّلَاقِ“ یا ”أَسْوَأَ الطَّلَاقِ“ یا ”طَلَاقَ الشَّيْطَانِ“ یا ”طَلَاقَ الْبِدْعَةِ“ وغیرہ، تو ان سب کے اندر طلاقِ بائن واقع ہو گی۔ یا اسی طرح اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ كَالْجَبَلِ“ کہ تجھے طلاق ہے پہاڑ جیسی، یا تجھے طلاق ہے ”أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ سخت ترین طلاق ہے، یا کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“ کہ تجھے ہزار جیسی طلاق ہے، یا خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ مِلْءَ الْبَيْتِ“، تو ان تمام صورتوں کے اندر بھی طلاقِ بائن واقع ہو گی۔ اور اگر تین کی نیت کرے گا تو تین طلاقیں بھی واقع ہو جائیں گی، اس لیے کہ ان سب سے طلاقِ بائن ہوتی ہے اور بینونت دو قسم پر ہے: ایک بینونتِ خفیفہ ہے اور ایک بینونتِ غلیظہ ہے۔ بینونتِ خفیفہ یعنی ہلکی جدائی اور بینونتِ غلیظہ یعنی سخت جدائی، تو لہٰذا دونوں کا اس میں احتمال ہے، جس کی نیت کرے گا وہی ہو جائے گی۔
اور پھر ضابطہ ذکر فرمایا کہ امام صاحب کے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ جب بھی طلاق کو کسی چیز سے تشبیہ دی جائے تو اس صورت میں طلاقِ بائن ہو گی، چاہے وہ چیز بڑی ہو چاہے چھوٹی ہو۔ اور جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر وہاں پر عظمت کو ذکر کیا جائے، مشبہ بہٖ کے بڑے ہونے کو ذکر کیا جائے پھر تو اس صورت میں طلاقِ بائن ہو گی ورنہ طلاقِ رجعی ہی ہو گی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشبہ بہٖ کو دیکھا جائے گا کہ لوگ اس کو بڑے ہونے کے ساتھ موصوف کرتے ہیں یا نہیں؟ یعنی لوگ اس کو بڑا سمجھتے ہیں یا نہیں؟ تو اگر ایسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی جسے لوگ بڑا سمجھتے ہیں تو اس صورت میں طلاقِ بائن ہو گی، اور اگر ایسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی جسے لوگ بڑا نہیں سمجھتے پھر چاہے عظمت کا لفظ بھی ساتھ ذکر کر دے پھر بھی طلاقِ رجعی ہی ہو گی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
فَصْلٌ فِي الطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ
یہ فصل ہے صحبت سے پہلے طلاق کے بارے میں۔ بھئی، آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر خاوند صحبت سے پہلے بیوی کو طلاق دے، یعنی ایک شخص کا نکاح ہوا ہے ابھی رخصتی نہیں ہوئی، رخصتی سے پہلے ہی وہ بیوی کو طلاق دیتا ہے تو ایک طلاق سے ہی وہ بائنہ ہو جائے گی۔ خاوند صرف اتنا کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، اب ویسے تو اس سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے لیکن غیر مدخول بہا کے اندر اس سے فوراً طلاقِ بائن ہو جائے گی اور نیز اس عورت پر عدت بھی نہیں ہے۔ اس عورت پر عدت بھی نہیں ہے، وہ فوراً جہاں کہیں اور چاہے فوراً نکاح کر سکتی ہے۔ اور اس پر عدت کیوں نہیں ہے؟ وجہ یہ کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴾
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ﴿إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ﴾ جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو ﴿ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ﴾ پھر تم ان کو طلاق دو ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ﴾ ان کو چھونے سے پہلے یعنی ان کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے تم ان کو طلاق دو ﴿فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ﴾ پھر تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں ہے ﴿تَعْتَدُّونَهَا﴾ جس کو تم لوگ شمار کرو۔ معلوم ہوا صحبت سے پہلے عورت کو طلاق دی جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں ہوتی بھئی۔
جی دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں:
فَصْلٌ فِي الطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ
یہ فصل ہے صحبت سے پہلے طلاق کے بارے میں۔
وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا وَقَعْنَ عَلَيْهَا
بھئی، ایک شخص غیر مدخول بہا عورت کو طلاق دیتا ہے اور تین طلاقیں دیتا ہے، یہ بات پہلے بیان میں کر چکا ہوں، اگر وہ تینوں طلاقیں اکٹھی دے گا ایک لفظ سے، مثلاً کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ تو تینوں اکٹھی واقع ہوں گی اور یہ جو عورت ہے یہ تین طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہو جائے گی۔ ایک طلاق دیتا تب بھی اس نے بائنہ ہونا تھا، لیکن خاوند نے تین اکٹھی دے دیں، جب اکٹھی دی ہیں ایک ہی لفظ کے ساتھ تو تینوں اکٹھی واقع بھی ہو جائیں گی۔ اب خاوند کے لیے اس عورت سے نکاح جائز نہیں الّا یہ کہ یہ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور پھر وہ کسی وقت اس کا انتقال ہو جائے یا وہ طلاق دے دے تو پھر یہ خاوند اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے۔
لیکن اگر خاوند نے تین طلاقیں الگ الگ کر کے دیں، مثلاً خاوند اسے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“، تو اب دیکھو طلاقیں ترتیب سے آ رہی ہیں تو واقع بھی ترتیب سے ہوں گی، لہٰذا جیسے ہی پہلی طلاق واقع ہو گی ساتھ ہی وہ عورت بائنہ ہو گئی تو اگلی دونوں طلاقیں لغو چلی جائیں گی، کیونکہ پہلی طلاق ہوتے ہی وہ بائنہ ہو گئی، نکاح پورے طور پر ٹوٹ گیا، وہاں عدت بھی نہیں ہے، عدت کے اندر تو طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن یہاں غیر مدخول بہا میں تو عدت بھی نہیں ہے، لہٰذا جب تین الگ الگ لفظوں سے طلاقیں دیں تو پہلی طلاق سے ہی وہ بائنہ ہو گئی اور اگلی دونوں طلاقیں لغو چلی گئیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خاوند اگر غیر مدخول بہا کو تینوں طلاقیں اکٹھی دے گا ایک ہی لفظ سے پھر تو تینوں واقع ہو جائیں گی، لیکن اگر تین الگ الگ لفظوں کے ساتھ تین طلاقیں دیتا ہے تو پہلی سے ہی وہ بائنہ ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں:
وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا
اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں
قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا
اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے
وَقَعْنَ عَلَيْهَا
تو یہ طلاقیں اس عورت پر واقع ہو جائیں گی
لِأَنَّ الْوَاقِعَ مَصْدَرٌ مَحْذُوفٌ
اس لیے کیونکہ وہ جو واقع ہوتا ہے مصدرِ محذوف ہے
”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ اصل میں کیا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا ثَلَاثًا“، تو یہ ”طَلَاقًا“ مصدر جو ہے جس کی صفت ”ثَلَاثًا“ ہے یہ واقع ہو رہا ہے۔
لِأَنَّ مَعْنَاهُ طَلَاقًا ثَلَاثًا عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ
اس لیے کیونکہ اس کا معنی جو ہے ”طَلَاقًا ثَلَاثًا“ ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔
فَلَمْ يَكُنْ قَوْلُهُ أَنْتِ طَالِقٌ إِيقَاعًا عَلَى حِدَةٍ
لہٰذا خاوند نے تو کیا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“، اور آپ نے پڑھا تھا جب طلاق کے ساتھ عدد ذکر ہو جائے تو طلاق کس سے واقع ہوتی ہے؟ عدد سے، تو یہ معلوم ہوا یہ ”طَلَاقًا ثَلَاثًا“ کے ساتھ جو ہے طلاق واقع ہو رہی ہے، معلوم ہوا ما قبل میں جو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے اس سے طلاق واقع نہیں۔ اگر اس سے طلاق واقع ہوتی تو اس ایک طلاق سے ہی عورت نے بائنہ ہو جانا تھا اور ”ثَلَاثًا“ کا لفظ لغو ہو جاتا، لیکن یہاں تو طلاق ہی ”ثَلَاثًا“ سے ہو رہی ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں:
فَلَمْ يَكُنْ قَوْلُهُ: ”أَنْتِ طَالِقٌ“
لہٰذا خاوند کا قول ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جو ہے وہ نہیں ہے
إِيقَاعًا عَلَى حِدَةٍ
وہ الگ طلاق کا واقع کرنا نہیں ہے
فَيَقَعْنَ جُمْلَةً
تو یہ ساری طلاقیں اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔
فَإِنْ فَرَّقَ الطَّلَاقَ
اگر خاوند نے طلاقوں میں تفریق کر دی یعنی الگ الگ کر کے تین طلاقیں دیں
بَانَتْ بِالْأُولَى
تو یہ عورت بائنہ ہو جائے گی پہلی طلاق سے ہی
وَلَمْ تَقَعِ الثَّانِيَةُ وَالثَّالِثَةُ
اور دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہو گی
وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ
اور وہ مثلاً کہ خاوند یوں کہتا ہے:
”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“
لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ إِيقَاعٌ عَلَى حِدَةٍ
اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک طلاق جو ہے
إِيقَاعٌ عَلَى حِدَةٍ
وہ الگ واقع کرنا ہے، ان میں سے ہر لفظ کے ساتھ الگ طلاق واقع ہو رہی ہے۔ خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“۔ تو کہتے ہیں:
لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ إِيقَاعٌ عَلَى حِدَةٍ
اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر طلاق جو ہے، اس کو علیحدہ واقع کرنا ہے
إِذْ لَمْ يُذْكَرْ فِي آخِرِ كَلَامِهِ مَا يُغَيِّرُ صَدْرَهُ حَتَّى يَتَوَقَّفَ عَلَيْهِ
بھئی، یاد رکھو! بعض اوقات کلام کے آخر میں ایسا لفظ ذکر کر دیا جاتا ہے جو صدرِ کلام کو بدل دیتا ہے، جو صدرِ کلام کو بدل دیتا ہے یعنی کلام کے آغاز کے معنی ہی کو بدل دیتا ہے۔ مثلاً دیکھو: خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تو دیکھو اس صورت میں فوراً طلاق ہو جاتی ہے، لیکن اسی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ خاوند چند لفظ بڑھا دے تو دیکھو طلاق نہیں ہو گی، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ تو صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتا تھا تو اس سے فوراً طلاق ہوتی تھی، لیکن ساتھ خاوند نے آخر میں شرط بڑھا دی: تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی، تو اب طلاق واقع نہیں ہو گی جب تک عورت اس گھر میں نہ جائے بھئی، جب وہاں جائے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو دیکھو صدرِ کلام تھا ”أَنْتِ طَالِقٌ“، اور آخر میں شرط آ گئی ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، اس شرط نے صدرِ کلام کو ہی بدل دیا۔ پہلے تنجیز تھی یعنی طلاق پوری ہو رہی تھی، اسی وقت واقع ہو رہی تھی، لیکن ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ نے آ کر اس کو معلق کر دیا، تو معلوم ہوا کہ جب شرط آخر میں آ جائے تو وہ صدرِ کلام کو بدل دیتی ہے۔
اسی طرح استثنا ہے، استثنا بھی آخر میں آتا ہے اور یہ کلام کو بدل دیتا ہے، مثلاً پانچ آدمیوں کی ایک جماعت ہے اور انہی میں سے ایک زید بھی ہے۔ اب میں آپ سے کہتا ہوں: ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ میرے پاس وہ لوگ آئے تھے، ”الْقَوْمُ“ الف لام کے ذریعے میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں، وہ پانچ افراد جن میں سے ایک کون ہے؟ زید۔ تو جب میں نے آپ سے کہا ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ میرے پاس وہ لوگ آئے تھے، تو آپ سمجھ گئے کہ زید بھی آیا ہو گا، کیونکہ زید بھی ان میں سے ایک ہے، تو جب وہ لوگ میرے پاس آئے ہیں تو یقیناً زید بھی آیا ہو گا۔ لیکن میں آگے استثنا لاتا ہوں: ”إِلَّا زَيْدًا“۔ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“ وہ لوگ میرے پاس آئے سوائے زید کے، تو دیکھو ”إِلَّا زَيْدًا“ نے آ کر کلام کے معنی کو بدل دیا۔ پہلے ”الْقَوْمُ“ کے اندر زید داخل تھا، اب ”إِلَّا زَيْدًا“ سے پتہ چلا کہ ”الْقَوْمُ“ میں زید داخل نہیں ہے، باقی لوگ آئے ہیں لیکن زید نہیں آیا۔
توجہ ہے؟ بات یہ چل رہی ہے کہ کبھی کبھار کلام کے آخر میں ایسی چیز آ جاتی ہے جو صدرِ کلام کو بدل دیتی ہے، جیسے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے آخر میں شرط لگا دو تو اب یہ تنجیز نہ رہے گی بلکہ تعلیق بن جائے گی۔ میں نے بتایا تنجیز کا معنی ہے طلاق کو فوری واقع کرنا، تو یہ پھر اگر صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتا تو تنجیز تھی، فوراً طلاق واقع ہو جاتی، لیکن جب کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو دیکھو آخر میں شرط بڑھانے سے اب یہ تنجیز کے بجائے کیا بن گیا کلام؟ تعلیق بن گیا، طلاق معلق ہو گئی۔ اسی طرح استثنا کے اندر بھی ہے، جب آخر میں مستثنیٰ کو ذکر کر دیا جاتا ہے تو معنی بدل جاتا ہے۔ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ صرف یہ کہا جائے تو اس کا معنی زید بھی آیا ہے، لیکن ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“ کہا جائے اب پتہ چل گیا کہ ”الْقَوْمُ“ میں زید داخل نہیں ہے، باقی لوگ مراد ہیں بھئی۔
اسی طرح خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو اس سے ایک طلاق ہوتی ہے، لیکن اگر خاوند کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“، اب کتنی ہوں گی؟ تین طلاقیں، تو دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے بعد یہ جو ”ثَلَاثًا“ کا لفظ آخر میں آیا، اس نے ما قبل کلام کے معنی ہی کو بدل دیا، پہلے ایک طلاق ہو رہی تھی اور اب کتنی ہیں؟ تین ہو رہی ہیں بھئی۔ تو بعض اوقات صدرِ کلام کا معنی بدل جاتا ہے جب اس کے آخر میں کوئی اور لفظ بڑھا دیا جائے، جیسے عدد بڑھا دیا یا شرط بڑھا دی یا مستثنیٰ کو بڑھا دیا۔ اب وہی بیان کر رہے ہیں کہ دیکھو یہ جو خاوند نے تین الگ الگ طلاقیں دی تھیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“، اور آخر میں کوئی شرط یا عدد وغیرہ ذکر نہیں ہے، تو لہٰذا تین طلاقیں الگ الگ آ رہی ہیں تو وہ الگ الگ آئیں گی اور پہلی سے ہی عورت بائنہ ہو جائے گی کیونکہ غیر مدخول بہا ہے اور باقی دونوں طلاقیں لغو چلی جائیں گی، لیکن اگر اس کے بجائے ساتھ شرط وغیرہ ذکر ہوتی تو پھر شرط آنے کی صورت میں پھر تینوں اکٹھی واقع ہو جاتیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، تو پھر اس صورت میں تینوں طلاقیں اکٹھی ہو جاتیں، لیکن یہاں پر تو کوئی ایسا لفظ نہیں ہے تو لہٰذا اب تینوں الگ الگ آئیں گی اور پہلی سے ہی عورت بائنہ ہو جائے گی اور دونوں باقی لغو چلی جائیں گی۔
تو کہتے ہیں:
وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ إِيقَاعٌ عَلَى حِدَةٍ
اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو علیحدہ واقع کرنا ہے
إِذْ لَمْ يُذْكَرْ فِي آخِرِ كَلَامِهِ
اس لیے کیونکہ ذکر نہیں کیا گیا کلام کے آخر میں
مَا يُغَيِّرُ صَدْرَهُ
کسی ایسی چیز کو جو کہ صدرِ کلام کو بدل دے
حَتَّى يَتَوَقَّفَ عَلَيْهِ
یہاں تک کہ طلاق پھر اس پر موقوف رہتی۔
کوئی ایسی چیز کلام کے آخر میں نہیں لائے کہ جس کی وجہ سے کلام اس آخر پر موقوف رہتا، شرط یا عدد وغیرہ آخر میں نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ”إِذْ لَمْ يُذْكَرْ فِي آخِرِ كَلَامِهِ مَا يُغَيِّرُ صَدْرَهُ حَتَّى يَتَوَقَّفَ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے کلام کے آخر میں ذکر نہیں کیا گیا ایسی چیز کو جو صدرِ کلام کو بدل دے یہاں تک کہ صدرِ کلام اس آخرِ کلام پر موقوف ہو جائے، ایسا یہاں پر نہیں ہے۔
فَتَقَعُ الْأُولَى فِي الْحَالِ
لہٰذا خاوند نے جب کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“ تو پہلی طلاق فی الحال ہی واقع ہو جائے گی
فَتُصَادِفُهَا الثَّانِيَةُ
تو دوسری طلاق جو ہے وہ اس عورت سے ملاقات کرے گی
وَهِيَ مُبَانَةٌ
اس حال میں کہ یہ جدا ہو چکی ہے۔
پہلی سے کیا ہو گئی؟ جدا، تو دوسری اور تیسری جب ملاقات کرے گی یہ جدا ہو چکی ہے تو وہ لغو چلی جائیں گی۔
آگے دیکھیے:
وَكَذَا إِذَا قَالَ لَهَا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“ وَقَعَتْ وَاحِدَةٌ
صورتِ مسئلہ یہ ہے: غیر مدخول بہا بیوی ہے بھئی، یہ سارے مسئلے اس عورت کے ذکر ہو رہے ہیں جس سے خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی اور وہ ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جاتی ہے۔ تو اس عورت کو خاوند کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“۔ تو اب اس صورت کے اندر ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ اس سے فوراً ایک طلاق واقع ہو گئی، اور ”وَوَاحِدَةً“ دوسری طلاق جب آئی تو عورت تو مبانہ ہو چکی ہے، وہ تو جدا ہو چکی ہے، لہٰذا وہ لغو چلی جائے گی، ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔
تو کہتے ہیں:
وَكَذَا إِذَا قَالَ لَهَا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“
اور اسی طرح ہے مسئلہ، یعنی ایک ہی طلاق واقع ہو گی جب خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“
وَقَعَتْ وَاحِدَةٌ
تو ایک ہی طلاق واقع ہو گی
لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّهَا بَانَتْ بِالْأُولَى
اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ یہ پہلی طلاق سے ہی بائنہ ہو جائے گی۔
وَلَوْ قَالَ لَهَا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ فَمَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ: ”وَاحِدَةً“ كَانَ بَاطِلًا
صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“، اور آپ جانتے ہیں جب طلاق کے ساتھ عدد کو جوڑ دیا جائے تو طلاق کس سے واقع ہوتی ہے؟ عدد سے واقع ہوتی ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے واقع نہیں، لہٰذا خاوند نے غیر مدخول بہا بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ لیکن ابھی ”وَاحِدَةً“ کا لفظ خاوند نے نہیں کہا تھا، صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا تھا کہ عورت کا انتقال ہو گیا اسی لمحے میں، تو ”وَاحِدَةً“ کا لفظ اس کی موت کے بعد آیا، لہٰذا کہتے ہیں اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ یہاں عدد ساتھ ملایا گیا ہے اور طلاق نے عدد سے واقع ہونا ہے، اور جب تک عدد آیا تب تک تو عورت محلِ طلاق ہی نہ رہی تھی، اس کا تو انتقال ہو چکا ہے۔
تو کہتے ہیں:
وَلَوْ قَالَ لَهَا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“
تو اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے ایک طلاق ہے
فَمَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ: ”وَاحِدَةً“
تو وہ عورت مر گئی خاوند کے قول ”وَاحِدَةً“ کہنے سے پہلے ہی
كَانَ بَاطِلًا
تو یہ طلاق باطل ہو گی یعنی واقع نہیں ہو گی
لِأَنَّهُ قَرَنَ الْوَصْفَ بِالْعَدَدِ
اس لیے کیونکہ خاوند نے وصف یعنی ”طَالِقٌ“ کو ملایا ہے عدد کے ساتھ
فَكَانَ الْوَاقِعُ هُوَ الْعَدَدُ
تو وہ جو واقع ہو رہا ہے وہ عدد ہے
فَإِذَا مَاتَتْ قَبْلَ ذِكْرِ الْعَدَدِ
تو جب وہ عورت عدد کے ذکر کرنے سے پہلے ہی مر گئی
فَاتَ الْمَحَلُّ قَبْلَ الْإِيقَاعِ
تو وہ طلاق کا محل ہی فوت ہو گیا طلاق واقع کرنے سے پہلے، وہ محل ہی نہ رہا
فَبَطَلَ
تو یہ طلاق باطل ہو جائے گی یا یہ کلام باطل ہو جائے گا۔
وَكَذَا إِذَا قَالَ: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ أَوْ ”ثَلَاثًا“
اسی طرح ہے مسئلہ: خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ یا خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“، اور یہ ”ثِنْتَيْنِ“ اور ”ثَلَاثًا“ کہنے سے پہلے ہی عورت کا انتقال ہو گیا، تو اس صورت میں بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں:
وَكَذَا إِذَا قَالَ: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ أَوْ ”ثَلَاثًا“
اور اسی طرح ہے جب خاوند نے یہ کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ یا ”ثَلَاثًا“
لِمَا بَيَّنَّا
اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی
کہ عدد سے طلاق نے واقع ہونا تھا اور عدد کے آنے سے پہلے تو عورت کا انتقال ہو چکا ہے، اب وہ محلِ طلاق ہی نہیں ہے بھئی۔
کہتے ہیں:
وَهَذِهِ تُجَانِسُ مَا قَبْلَهَا مِنْ حَيْثُ الْمَعْنَى
اور یہ جو میتہ کا مسئلہ ہے
تُجَانِسُ
یہ مسئلہ ہم جنس ہے
مَا قَبْلَهَا
ما قبل والے مسئلے کے
مِنْ حَيْثُ الْمَعْنَى
معنی کے اعتبار سے۔
یہ والا مسئلہ بھی ما قبل کے مسئلے کے ہم جنس ہے معنی کے اعتبار سے، بھئی مراد ہے وہ جو پیچھے مسئلہ آیا تھا: ”فَإِنْ فَرَّقَ الطَّلَاقَ“ خاوند نے اگر طلاقوں کو جدا کر دیا اور یوں کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“، یہاں پر بھی دوسری اور تیسری طلاق لغو چلی گئی، کیوں لغو چلی گئی؟ کیونکہ محل ہی فوت ہو گیا تھا، وہ اس کی بیوی رہی ہی نہیں تھی، پہلی سے ہی بائنہ ہو گئی، تو لہٰذا محل فوت ہو گیا، لیکن محل فوت ہوا طلاق کی وجہ سے۔ اور یہاں پر بھی جب عورت کا انتقال ہوا ”ثِنْتَيْنِ“ یا ”ثَلَاثًا“ کہنے سے پہلے تو محل فوت ہو گیا، کس وجہ سے محل فوت ہوا؟ موت کی وجہ سے، تو وہاں بھی محل فوت تھا اور یہاں بھی محل فوت ہوا ہے، لیکن وہاں محل فوت ہوا تھا طلاق کی وجہ سے اور یہاں محل فوت ہوا ہے موت کی وجہ سے، تو معنی کے اعتبار سے یہ مسئلہ بھی اسی مسئلے جیسا ہے بھئی۔
تو یہ معنی ہے:
وَهَذِهِ تُجَانِسُ مَا قَبْلَهَا مِنْ حَيْثُ الْمَعْنَى
اور یہ مسئلہ ہم جنس ہے ما قبل کے معنی کے اعتبار سے۔
وَلَوْ قَالَ: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“ أَوْ ”بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“ وَقَعَتْ وَاحِدَةٌ
جی، یہ ذرا لمبا مسئلہ ہے، اس کو سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھو: اگر خاوند نے بیوی کو طلاق دی اور دو طلاقیں الگ الگ ذکر کیں اور درمیان میں ”قَبْلُ“ یا ”بَعْدُ“ لے آیا: ”قَبْلُ“ یا ”بَعْدُ“، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“، تو دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ ایک طلاق ہے اور پھر آگے ایک اور بھی ہے لیکن اس سے پہلے ”قَبْلَ“ کا لفظ ہے: ”قَبْلَ وَاحِدَةٍ“۔ اور یا اسی میں ”بَعْدَ“ کا لفظ لے آئیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ“۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ کے ساتھ ضمیر بھی جوڑ دیتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ یا ”بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“، تو چار صورتیں بن گئیں کہ خاوند دو طلاقیں ذکر کرتا ہے اور ان کے درمیان ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ کو لاتا ہے اور پھر ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ کے ساتھ ضمیر ملی ہو گی یا ضمیر نہیں ملی ہو گی، تو کل چار صورتیں بن جاتی ہیں۔
اس میں یاد رکھو، یاد رکھو اگر بعد والی طلاق پہلے واقع ہو رہی ہے تو پھر دو طلاقیں واقع ہوں گی۔ اگر بعد میں جو ذکر ہے طلاق وہ اگر پہلے واقع ہو رہی ہے تو دونوں اکٹھی واقع ہوں گی، اور اگر بعد والی طلاق بعد میں ہی ہے وقوع کے اعتبار سے، یعنی پہلے والی پہلے واقع ہو رہی ہے اور بعد والی بعد میں تو پھر یہ تو عورت غیر مدخول بہا ہے تو ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی۔ کیا ضابطہ؟ دو طلاقیں خاوند نے ذکر کی ہیں، درمیان میں ”قَبْلُ“ یا ”بَعْدُ“ لایا ہے اور پھر اس کے ساتھ ضمیر ہو گی یا ضمیر نہیں ہو گی، تو کل چار صورتیں بن گئیں، تو دوسری طلاق میں غور کر لینا کہ وہ دوسری طلاق وہ بعد میں ہے یا بعد میں نہیں؟ اگر وہ بعد میں ہے تو ایک ہی طلاق واقع ہو گی، اور اگر وہ بعد میں نہیں ہے بلکہ وہ پہلے ہے تو پھر اس صورت میں دو طلاقیں اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔ تفصیل آگے صاحبِ ہدایت بیان کریں گے۔
ایک بات اور یہاں یاد رکھنا کہ یاد رکھو ماضی میں اگر کوئی شخص کسی عورت پر طلاق واقع کرنا چاہے تو ماضی میں طلاق واقع نہیں کر سکتا کیونکہ ماضی تو گزر چکی ہے۔ خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ تجھے گزشتہ کل میں طلاق ہے، تو گزشتہ کل وہ عورت گزشتہ کل تو وہ غیر طالق تھی، لہٰذا خاوند اس کو طالق نہیں بنا سکتا گزشتہ کل میں، تو وہ طلاق اسی وقت پھر فی الحال واقع ہو گی۔ خاوند نے بیوی سے کیا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ تجھے گزشتہ کل طلاق ہے، تو گزشتہ کل تو یہ طلاق نہیں دے سکتا، وہ تو وقت گزر چکا ہے تو فی الحال ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے بھئی، ایک ایک لفظ پر ذرا غور کرتے ہیں۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ تجھے ایک طلاق ہے، ”قَبْلَ وَاحِدَةٍ“ ایک اور طلاق سے پہلے، ایک اور طلاق سے پہلے تجھے ایک طلاق ہے۔ تو مجھے بتائیے: بعد والی پہلے ہے یا بعد والی بعد میں ہی ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ تجھے ایک طلاق ہے ”قَبْلَ وَاحِدَةٍ“ ایک طلاق سے پہلے، ایک طلاق سے پہلے تو معلوم ہوا بعد والی بعد میں ہے، اس سے پہلے ایک اور طلاق دے رہا ہے۔ بلکہ یہاں بھی آپ کو ذرا اشتباہ ہو گا، ذرا زید اور عمرو کو لے آؤ پھر بات واضح ہو جائے گی۔ آپ کسی سے کہتے ہیں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“، وہی وہاں بھی کیا تھا ”قَبْلَ وَاحِدَةٍ“ اور یہاں بھی کیا ہے ”قَبْلَ عَمْرٍو“، ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“ میرے پاس زید آیا عمرو سے پہلے، معلوم ہوا زید کا ذکر بھی پہلے ہے اور وہ آیا بھی پہلے ہے اور عمرو کا ذکر بعد میں ہے اور وہ آیا بھی بعد میں ہے۔ تو لہٰذا جب صرف ”قَبْلَ“ ذکر کریں گے تو بعد والی طلاق بعد میں ہے، جب بعد میں ہے تو پہلی سے ہی عورت بائنہ ہو جائے گی تو یہ دوسری طلاق لغو چلی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب دوسری صورت: اب اسی ”قَبْلَ“ کے ساتھ ضمیر لے آؤ ذرا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ تجھے ایک طلاق ہے ”قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ اس ایک سے پہلے ایک اور ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ تجھے ایک ایسی طلاق ہے ”قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ کہ اس سے پہلے ایک طلاق ہے، معلوم ہوا بعد والی پہلے ہے۔ بلکہ پھر وہ زید والی مثال بنائیں اور بات واضح ہو گی، آپ کہتے ہیں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَهُ عَمْرٌو“، ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَهُ عَمْرٌو“، دیکھو ”قَبْلَ“ کے ساتھ میں نے ضمیر جوڑ دی جیسے وہاں پر ”قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ کے اندر ضمیر جڑی ہوئی تھی، تو ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَهُ عَمْرٌو“ میرے پاس زید آیا، ”قَبْلَهُ عَمْرٌو“ اس سے پہلے عمرو، معلوم ہوا عمرو پہلے آیا ہے اور زید بعد میں آیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا ”قَبْلَ“ کے ساتھ ہا ضمیر جوڑ دیں ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“، تو یہ جو بعد والی طلاق ہے یہ پہلے ہو رہی ہے۔ توجہ ہے؟ تو پھر اس صورت میں صاحبِ ہدایت بتلائیں گے دو طلاقیں واقع ہوں گی، کتنی؟ دو۔ کس طرح دو واقع ہوں گی یہ بھی سمجھ لو یہیں پر بھئی: دیکھو خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“، فی الحال ایک طلاق واقع کر رہا ہے، اور کیا کہتا ہے: ”قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ اس سے پہلے ایک اور طلاق بھی ہے، معلوم ہوا وہ جو بعد میں لفظ ذکر کر رہا ہے وہ والی طلاق وہ ماضی میں دینا چاہتا ہے کیونکہ اس وقت پہلی طلاق کون سی ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“، یہ فی الحال ہے، یہ زمانہ حال میں ہے، تو جو اس سے پہلے ہو گی یقیناً پھر وہ زمانہ ماضی میں ہو گی، اور زمانہ ماضی کے اندر تو طلاق دینے کی خاوند پہ قدرت نہیں، لہٰذا وہ بھی فی الحال واقع ہو گی تو دونوں طلاقیں اکٹھی واقع ہوں گی تو دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ عورت بائنہ ہو گی لیکن اب دو طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہو گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اگر ”قَبْلُ“ بغیر ضمیر کے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“، تو صرف پہلی طلاق ہو گی دوسری واقع نہیں، وہ لغو چلی گئی کیونکہ پہلی سے وہ بائنہ ہو گئی۔ لیکن اگر ”قَبْلُ“ کے ساتھ ضمیر جوڑ دی ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ تو اس صورت میں بعد والی کو پہلے کرنا چاہ رہا ہے اور پہلے تو ماضی کا زمانہ ہے اس میں تو وہ ہو نہیں سکتی، لہٰذا دونوں طلاقیں اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔
اب ذرا ”بَعْدُ“ کو لے آئیں:
”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ“
تجھے ایک طلاق ہے، ”بَعْدَ وَاحِدَةٍ“ ایک طلاق کے بعد۔
کے بعد۔ ذرا پھر زید اور عمرو کو لے آئیں بھئی، پھر بات واضح ہوگی: ”جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو“ میرے پاس زید آیا، ”بَعْدَ عَمْرٍو“ کس کے بعد؟ عمرو کے بعد۔ معلوم ہوا عمرو کا ذکر بعد میں ہے لیکن وہ پہلے آیا ہے۔ وہ پہلے، یہاں پر بھی اسی طرح: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ“، معلوم ہوا ”بَعْدَ وَاحِدَةٍ“ یہ بعد میں ذکر ہے لیکن یہ پہلے ہے۔ پھر سنو: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“، اس سے زمانۂ حال میں طلاق وہ دے رہا ہے۔ اور آگے کہتا ہے: ”بَعْدَ وَاحِدَةٍ“، کہ یہ جو زمانۂ حال میں جو میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، یہ ایک اور طلاق کے بعد ہے۔ معلوم ہوا وہ طلاق ماضی میں تھی، اور ماضی میں تو یہ طلاق واقع نہیں کر سکتا، لہٰذا دونوں طلاقیں اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔
یہ تو تھا صرف ”بَعْدُ“ کو ذکر کیا۔ اگر اس کے ساتھ ضمیر کو بھی ملا دیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“، کہ تجھے ایک طلاق ہے، ”بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“ اس کے بعد ایک اور طلاق ہے۔ جیسے ”جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدَهُ عَمْرٌو“، میرے پاس زید آیا، ”بَعْدَهُ عَمْرٌو“ اس کے بعد عمرو آیا۔ معلوم ہوا عمرو ذکر میں بھی مؤخر اور آنے میں بھی مؤخر۔ اسی طرح ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“، تو یہاں پر جو بعد والی ”وَاحِدَةٌ“ ہے، وہ ذکر میں بھی بعد میں ہے اور وقوع میں بھی بعد میں ہے، لہٰذا پہلی سے ہی عورت بائنہ ہو جائے گی اور یہ دوسری طلاق لغو چلی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی، اب دیکھیے بھئی۔
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے ایک طلاق ہے ”قَبْلَ وَاحِدَةٍ“ ایک اور طلاق سے پہلے، ”أَوْ بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“، یا تجھے ایک طلاق ہے اور اس کے بعد ایک اور طلاق ہے، ”وَقَعَتْ وَاحِدَةٌ“، تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ ”وَالْأَصْلُ“، اور ضابطہ یہ ہے، ”أَنَّهُ مَتَى ذَكَرَ شَيْئَيْنِ“، کہ جس وقت آدمی نے دو چیزیں ذکر کیں، ”وَأَدْخَلَ بَيْنَهُمَا حَرْفَ الظَّرْفِ“، اور ان دونوں کے درمیان کلمۂ ظرف کو داخل کیا، حرفِ ظرف سے کیا مراد ہے؟ کلمۂ ظرف، یعنی ”قَبْلُ“ یا ”بَعْدُ“ کو داخل کیا، ”إِنْ قَرَنَهَا بِهَا الْكِنَايَةِ كَانَتْ صِفَةً لِلْمَذْكُورِ آخِرًا“، ”إِنْ قَرَنَهَا“، اگر اس نے اس حرفِ ظرف کے ساتھ ملایا ہے ”بِهَا الْكِنَايَةِ“ ہائے کنایہ کو، ہائے کنایہ، ہائے کنایہ سے مراد ضمیر ہے۔ یاد رکھو، ضمیر کو علمائے بصرہ، یہ جو ضمیر کو ہم ضمیر کہتے ہیں یہ علمائے بصرہ کا نام ہے۔ جبکہ علمائے کوفہ ضمیر کو کنایہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں۔ دیکھو، ایک ہے ضمیر، ایک ہے اسمِ ظاہر۔ ضمیر کے مقابلے میں کیا ہے؟ اسمِ ظاہر۔ آپ تمام دنیا کے اسم اکٹھے کر لیں اور اس میں سے ستر ضمیریں نکال لیں، باقی سارے اسمِ ظاہر ہیں۔ باقی کیا ہیں؟ اسمِ ظاہر ہیں۔ تو ضمیر ظاہر کے مقابلے میں ہے۔ ضمیر کا معنیٰ، ضمیر کا معنیٰ چھپا ہوا۔ ضمیر کا کیا معنیٰ ہے؟ چھپا ہوا۔ تو باقی اسم اسمائے ظاہر ہیں، تو یہ ستر کیا ہیں؟ اسمِ ضمیر ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ وجہ یہ کیونکہ ان کی مراد چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ یہی ”هُوَ“ میں بولوں گا، کبھی زید کو لوٹاؤں گا تو ”هُوَ“ سے کون مراد؟ زید۔ کبھی یہی ”هُوَ“ میں بولوں گا، اس سے عمرو مراد ہوگا۔ کبھی یہی ”هُوَ“ ضمیر میں ذکر کروں گا اور اس سے خالد مراد ہوگا۔ تو معلوم ہوا ان کی مراد کیا ہوتی ہے؟ پوشیدہ ہے، ظاہر نہیں، موقع کے مطابق جہاں آپ استعمال کریں گے وہاں پھر پتہ چلے گا کہ ”هُوَ“ سے آپ نے کس کا ارادہ کیا ہے۔ توجہ ہے؟ اور نیز، نیز مثلاً ”أَنْتَ“ ضمیر ہے۔ ”أَنْتَ“ سے کون مراد ہے؟ مخاطب۔ آپ اس وقت میرے سامنے ہیں تو ”أَنْتَ“ ضمیر سے آپ مراد ہیں۔ اگر میرے سامنے زید ہوتا تو ”أَنْتَ“ سے زید مراد ہوتا۔ اگر میرے سامنے عمرو بیٹھا ہوتا تو ”أَنْتَ“ سے عمرو مراد ہوتا۔ تو دیکھا، معلوم ہوا ان کی مراد کیا ہے؟ ویسے چھپی ہوئی ہے، استعمال کے موقع پر پتہ چلے گا کہ اس سے کون مراد ہے بھئی، کس کی طرف ضمیر لوٹ رہی ہے یا کس کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ تو علمائے بصرہ اس کو ضمیر کہتے ہیں۔ جبکہ علمائے کوفہ اس کو کنایہ کہتے ہیں۔ ضمیر کا کیا نام ہے؟ کنایہ۔ کیونکہ اس کے ذریعے کسی ذات سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ جیسے ”هُوَ“ میں نے ذکر کیا اور مراد کون ہے؟ زید، یا میں نے ”هُوَ“ ذکر کیا اور مراد عمرو ہے، یا میں نے ”هُوَ“ ذکر کیا اور مراد بکر ہے۔ تو دیکھو، اس کی مراد کیا ہے؟ پوشیدہ ہے۔ اس کے ذریعے کسی سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ اس کے ذریعے کسی سے کنایہ کیا جاتا ہے، تو ان ضمیروں کو علمائے کوفہ کنایہ کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”إِنْ قَرَنَهَا بِهَا الْكِنَايَةِ“، اگر اگر اس شخص نے اس حرفِ ظرف کے ساتھ ملا دیا ہائے کنایہ کو، یعنی ضمیر کو، ”قَبْلُ“ یا ”بَعْدُ“ کے ساتھ کس کو ملا دیا؟ ضمیر کو، ہائے کنایہ یعنی ضمیر کو، تو کہتے ہیں: ”إِنْ قَرَنَهَا بِهَا الْكِنَايَةِ“، اگر اس حرفِ ظرف کے ساتھ ہائے کنایہ کو ملا دیا یعنی ضمیر کو ملا دیا، ”كَانَتْ صِفَةً لِلْمَذْكُورِ آخِرًا“، تو یہ صفت ہوگی اس کی جو آخر میں مذکور ہو، جو آخر میں مذکور ہو۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَهُ عَمْرٌو“، ”قَبْلَهُ عَمْرٌو“، دیکھو ضمیر ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ تو معلوم ہوا قبل ہونا یہ کس کی صفت ہے؟ توجہ سے سنو، ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، میرے پاس زید آیا، ”قَبْلَهُ عَمْرٌو“، اس سے قبل عمرو۔ تو دیکھو زید اور عمرو کے بیچ میں ظرف لے آیا، اور ظرف کے ساتھ میں نے ہائے کنایہ بھی جوڑ دی یعنی ضمیر بھی جوڑ دی۔ تو اس صورت میں ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَهُ عَمْرٌو“، میرے پاس زید آیا، اس سے پہلے عمرو، مجھے بتائیے، پہلے ہونا یہ کس کی صفت ہے؟ یہ عمرو کی صفت ہے، شاباش! کون پہلے ہے؟ عمرو پہلے ہے۔ اور اگر یہ ہا ضمیر نہ ہوتی تو پھر یہ قبل کس کی صفت ہوتی؟ جو پہلے ذکر ہے اس کی صفت ہوتی: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“، میرے پاس زید آیا عمرو سے پہلے، تو معلوم ہوا قبل ہونا، پہلے ہونا یہ کس کی صفت ہے؟ اول میں جو ذکر ہے یعنی زید، اس کی صفت ہے۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ اگر دو اسموں کے درمیان ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ کو، ظرف کو ذکر کیا جائے اور اس کے ساتھ ضمیر کو جوڑا جائے تو پھر یہ بعد والے کی صفت ہوتی ہے، اور اگر ضمیر کو نہ جوڑا جائے تو پھر یہ پہلے والے کی صفت ہوتی ہے۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ“، ضابطہ یہ ہے، ”أَنَّهُ مَتَى ذَكَرَ شَيْئَيْنِ“، کہ جب آدمی نے دو چیزیں ذکر کیں، ”وَأَدْخَلَ بَيْنَهُمَا حَرْفَ الظَّرْفِ“، اور ان دونوں کے درمیان حرفِ ظرف کو یعنی کلمۂ ظرف کو داخل کیا، ”إِنْ قَرَنَهَا بِهَا الْكِنَايَةِ“، اگر اس ظرف کے ساتھ ہائے کنایہ کو بھی جوڑ دیا یعنی ضمیر کو بھی جوڑ دیا، ”كَانَتْ صِفَةً لِلْمَذْكُورِ آخِرًا“، تو اس صورت میں یہ ظرف جو ہے یہ صفت ہوگا وہ جس کو ذکر کیا گیا ہے آخر میں، ”كَقَوْلِهِ: جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَهُ عَمْرٌو“، جیسے کہ کسی کہنے والے کا یہ قول ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَهُ عَمْرٌو“، ”وَإِنْ لَمْ يَقْرَنْهَا بِهَا الْكِنَايَةِ“، اور اگر اس ظرف کے ساتھ ہائے کنایہ کو نہ ملایا، ”كَانَتْ صِفَةً لِلْمَذْكُورِ أَوَّلًا“، تو یہ صفت ہوگی اس کی جس کو اولاً ذکر کیا گیا ہے، ”كَقَوْلِهِ: جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“، جیسے کہ کسی کا قول ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“۔
”وَإِيقَاعُ الطَّلَاقِ فِي الْمَاضِي إِيقَاعٌ فِي الْحَالِ“، اور طلاق کو ماضی میں واقع کرنا، ”إِيقَاعٌ فِي الْحَالِ“، یہ فی الحال ہی طلاق کو واقع کرنا ہے، کیونکہ ماضی میں طلاق واقع کوئی نہیں کر سکتا، ”لِأَنَّ الْإِسْنَادَ لَيْسَ فِي وُسْعِهِ“، اس لیے کیونکہ اس طلاق کی، اسناد کا معنیٰ ہے نسبت کرنا، ”لِأَنَّ الْإِسْنَادَ“، اس لیے کیونکہ ماضی کی طرف نسبت کرنا ”لَيْسَ فِي وُسْعِهِ“، یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے، ”لَيْسَ فِي وُسْعِهِ“، یہ اس کی گنجائش میں نہیں ہے یعنی اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِسْنَادَ لَيْسَ فِي وُسْعِهِ“، اس لیے کیونکہ ماضی کی طرف نسبت کرنا یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے، ”فَالْقَبْلِيَّةُ فِي قَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“، لہٰذا قبل ہونا، فی قولہ خاوند کے اس قول میں: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“، بغیر ضمیر کے ہے، ”صِفَةٌ لِلْأُولَى“، تو اس صورت کے اندر یہ قبل ہونا یہ اول کی صفت ہے، ”فَتَبِينُ بِالْأُولَى“، تو اس صورت میں ایک ہی طلاق سے عورت بائنہ ہو جائے گی، ”فَلَا تَقَعُ الثَّانِيَةُ“، تو دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ”وَالْبَعْدِيَّةُ فِي قَوْلِهِ: بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“، اور بعد میں ہونا، خاوند کے اس قول کے اندر ”بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“، اس کے اندر یہ جو بعدیت ہے، ”صِفَةٌ لِلْأَخِيرَةِ“، یہ آخری طلاق کی صفت ہے، ”فَحَصَلَتِ الْإِبَانَةُ بِالْأُولَى“، تو اس صورت کے اندر بھی جدائی پہلی طلاق سے ہی حاصل ہو جائے گی اور دوسری لغو چلی جائے گی۔
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: تجھے ایک ایسی طلاق ہے ”قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ کہ اس سے پہلے ایک ہے، ”تَقَعُ ثِنْتَانِ“، پھر دو طلاقیں واقع ہوں گی، ”لِأَنَّ الْقَبْلِيَّةَ صِفَةٌ لِلثَّانِيَةِ“، اس لیے کیونکہ پہلے ہونا یہ دوسری طلاق کی صفت ہے، ”لِاتِّصَالِهَا بِحَرْفِ الْكِنَايَةِ“، اس وجہ سے کہ ”قَبْلُ“ کے ساتھ حرفِ کنایہ یعنی ضمیر ملی ہوئی ہے، ”فَاقْتَضَى إِيقَاعَهَا فِي الْمَاضِي“، تو اس نے تقاضا کیا کہ اس دوسری، یہ جو دوسری طلاق ہے، ”إِيقَاعَهَا فِي الْمَاضِي“، اس کا ایقاع جو ہے فی الماضی، ماضی میں ہو، بھئی یہ قبلیت دوسری کی صفت ہے۔ ”فَاقْتَضَى إِيقَاعَهَا فِي الْمَاضِي“، تو لہٰذا یہ تقاضا کرتی ہے ایقاع، پھر دیکھیے ترجمہ: ”لِأَنَّ الْقَبْلِيَّةَ صِفَةٌ لِلثَّانِيَةِ“، اس لیے کیونکہ پہلے ہونا یہ دوسری طلاق کی صفت ہے، ”لِاتِّصَالِهَا بِحَرْفِ الْكِنَايَةِ“، اس وجہ سے کہ اس کے ساتھ حرفِ کنایہ یعنی ضمیر ملی ہوئی ہے، ”فَاقْتَضَى إِيقَاعَهَا فِي الْمَاضِي“، تو یہ کلام تقاضا کرتا ہے کہ دوسری طلاق واقع ہو فی الماضی زمانۂ ماضی میں، ”وَإِيقَاعَ الْأُولَى فِي الْحَالِ“، اور پہلی طلاق جو ہے فی الحال واقع ہو، ”غَيْرَ أَنَّ الْإِيقَاعَ فِي الْمَاضِي إِيقَاعٌ فِي الْحَالِ أَيْضًا“، علاوہ اس کے کہ ماضی میں طلاق کو واقع کرنا ”إِيقَاعٌ فِي الْحَالِ أَيْضًا“ یہ بھی حال ہی میں طلاق کو واقع کرنا ہے، ”فَتَقْتَرِنَانِ“، تو یہ دونوں طلاقیں مل جائیں گی، ”فَتَقَعَانِ“، تو دونوں واقع ہو جائیں گی۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ تَقَعُ ثِنْتَانِ“، اور اسی طرح اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ تَقَعُ ثِنْتَانِ“، تو دو طلاقیں واقع ہوں گی، ”لِأَنَّ الْبَعْدِيَّةَ صِفَةٌ لِلْأُولَى“، اس لیے کیونکہ بعد میں ہونا یہ پہلی طلاق کی صفت ہے، ”فَاقْتَضَى إِيقَاعَ الْوَاحِدَةِ فِي الْحَالِ“، تو اس نے تقاضا کیا کہ ایک طلاق واقع ہو فی الحال، ”وَإِيقَاعَ الْأُخْرَى قَبْلَ هَذِهِ“، اور اس نے تقاضا کیا کہ دوسری طلاق اس حال والی طلاق سے پہلے واقع ہو یعنی ماضی میں، لیکن ماضی میں تو ہو نہیں سکتی وہ بھی حال میں ہو جائے گی، ”فَتَقْتَرِنَانِ“، تو دونوں طلاقیں مل جائیں گی اور اکٹھی واقع ہوں گی۔
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً مَعَ وَاحِدَةٍ“، اب خاوند ”مَعَ“ کا لفظ استعمال کرتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً مَعَ وَاحِدَةٍ“، یا ”مَعَ“ کے ساتھ ضمیر بھی استعمال کرتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً مَعَهَا وَاحِدَةٌ“، تو کہتے ہیں اس صورت میں دو واقع ہوں گی۔ کیونکہ ”مَعَ“ کا معنیٰ ہے ساتھ، تو معلوم ہوا وہ دونوں طلاقوں کو ساتھ واقع کر رہا ہے۔ ”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً مَعَ وَاحِدَةٍ“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً مَعَ وَاحِدَةٍ“، ”أَوْ مَعَهَا وَاحِدَةٌ“، یا ایک ضمیر بھی ساتھ جوڑ دی ”مَعَ“ کے، تو ”مَعَهَا وَاحِدَةٌ“ کہا، ”تَقَعُ ثِنْتَانِ“، تو دو طلاقیں واقع ہوں گی، ”لِأَنَّ كَلِمَةَ مَعَ لِلْقِرَانِ“، اس لیے کیونکہ کلمۂ ”مَعَ“ جو ہے ”لِلْقِرَانِ“ ملانے کے لیے ہے۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ: مَعَهَا وَاحِدَةٌ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے، فی قولہ خاوند کے اس قول میں ”مَعَهَا وَاحِدَةٌ“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ ”مَعَهَا“، ”مَعَ“ کے ساتھ جب ہا ضمیر جوڑ دے گا، تو پھر اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ اس صورت میں ایک طلاق واقع ہوگی، اس لیے کیونکہ ”مَعَ“ کے ساتھ ہا ضمیر ہے، اور ہا ضمیر غائب کی ضمیر ہے اور ضمیر کے لیے ہمیشہ پہلے مرجع چاہیے۔ تو یہ ”مَعَهَا“ کے ساتھ جو ہا ضمیر ہے اس نے تقاضا کیا کہ اس سے پہلے ایک اور طلاق ہو۔ ایک اور ہوگی تو تب ہی ہا ضمیر اس کی طرف لوٹ سکتی ہے نا، ضمیر کے لیے کیا چاہیے؟ مرجع، اور مرجع پہلے ذکر ہوتا ہے۔ مرجع، مرجع پہلے ذکر ہوتا ہے، ضمیر بعد میں آیا کرتی ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَأَكْرَمْتُهُ“، میرے پاس زید آیا پھر میں نے اس کا اکرام کیا۔ اب آپ سمجھ گئے کہ یہ ”أَكْرَمْتُهُ“ کے اندر ہا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو، تو مرجع پہلے ذکر ہوتا ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مَعَ“ ذکر کرے گا خاوند تو دونوں طلاقیں اکٹھی ہوں گی، لیکن اگر ”مَعَ“ کے ساتھ ضمیر ملا دی تو پھر اس صورت میں ایک ہی طلاق ہوگی، ایک سے ہی وہ عورت بائنہ ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ ”مَعَ“ کے ساتھ ہا ضمیر ہے، اور ہا ضمیر کس کا تقاضا کرتی ہے؟ مرجع کا، کس کا؟ مرجع، معلوم ہوا ایک طلاق پہلے ہو چکی ہے، اب یہ دوسری کا ذکر کر رہا ہے، لہٰذا وہ ایک سے ہی بائنہ ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي قَوْلِهِ: مَعَهَا وَاحِدَةٌ تَقَعُ وَاحِدَةٌ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے خاوند کے اس قول کے بارے میں کہ جو خاوند کہتا ہے: ”مَعَهَا وَاحِدَةٌ“، ”تَقَعُ وَاحِدَةٌ“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی، ”لِأَنَّ الْكِنَايَةَ تَقْتَضِي سَبْقَ الْمَكْنِيِّ عَنْهُ“، بھئی یہ ضمیر کو کنایہ کہتے ہیں، ضمیر کو کنایہ کہتے ہیں علمائے کوفہ کے نزدیک، اور جس کو ضمیر لوٹ رہی ہے اس کو کہتے ہیں مکنی عنہ، یعنی جس سے کنایہ کیا گیا ہے۔ جس سے، مثلاً ضمیر آپ زید کی طرف لوٹا رہے ہیں تو معلوم ہوا زید مکنی عنہ ہے، جس سے آپ نے ضمیر کے ذریعے کنایہ کیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْكِنَايَةَ تَقْتَضِي سَبْقَ الْمَكْنِيِّ عَنْهُ“، اس لیے کیونکہ کنایہ یعنی ضمیر وہ تقاضا کرتی ہے ”سَبْقَ الْمَكْنِيِّ عَنْهُ“ کہ مکنی عنہ مقدم ہونا چاہیے، یعنی مرجع کیا ہونا چاہیے؟ مقدم ہونا چاہیے، ”لَا مَحَالَةَ“ قطعی طور پر۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مَعَهَا“ جب کہا، تو ہا ضمیر یہ تقاضا کرتی ہے کہ ایک طلاق کیا ہو؟ پہلے ہو، جب ایک طلاق پہلے ہے تو پھر ایک واقع ہوگی اور اسی سے عورت بائنہ ہو جائے گی، دوسری طلاق لغو چلی جائے گی۔ لیکن متن میں آ گیا کہ اس صورت میں دو طلاقیں ہوں گی بھئی۔ اور جواب یہ کہ ضمیر کا آنا یہ مرجع کا تقاضا کرتا ہے کہ ماقبل میں مرجع ذکر ہونا چاہیے۔ تو ضمیر یہ ماقبل میں مرجع کے ذکر کا تقاضا کرتی ہے، مرجع کے وجود کا تقاضا نہیں کرتی کہ اس کا پایا جانا بھی پہلے ضروری ہو۔ مرجع کا پیچھے ذکر ضروری ہے، مرجع کا پہلے وجود ضروری نہیں ہے، تو یہاں صرف ذکر پہلے ہے، پہلی طلاق کا ابھی وجود نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں صرف ذکر پہلے ہے، وجود پہلے نہیں ہے، دونوں اکٹھی واقع ہوں گی۔
”وَفِي الْمَدْخُولِ بِهَا تَقَعُ ثِنْتَانِ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا“، اور مدخول بہا عورت کے اندر جس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے، ان تمام صورتوں کے اندر اس کو دو طلاقیں واقع ہوں گی۔ غیر مدخول بہا تو ایک طلاق سے ہی بائنہ ہو جاتی تھی، لیکن مدخول بہا وہ تو طلاق کا محل ہے، ایک طلاق اس پر واقع بھی ہو جائے، اس سے وہ بائنہ تو نہیں ہوتی تو دوسری بھی اس پر واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْمَدْخُولِ بِهَا تَقَعُ ثِنْتَانِ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا“، کہ مدخول بہا کے اندر دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی ”فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا“ ان تمام صورتوں میں۔ کون سی تمام صورتیں؟ یہ جہاں سے ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ کی بات شروع ہوئی تھی۔ اور چار صورتیں اس میں بن گئیں ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ میں، دو صورتیں بغیر ضمیر کے اور دو صورتیں ضمیر کے ساتھ، اور دو صورتیں ”مَعَ“ والی، تو ان چھ کی چھ صورتوں میں اگر عورت مدخول بہا ہوئی تو دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ تو یہ معنیٰ ہے: ”وَفِي الْمَدْخُولِ بِهَا تَقَعُ ثِنْتَانِ فِي الْوُجُوهِ كُلِّهَا“، دو طلاقیں واقع ہوں گی ان تمام صورتوں میں، ”لِقِيَامِ الْمَحَلِّيَّةِ بَعْدَ وُقُوعِ الْأُولَى“، محل کے وجود کی وجہ سے ”بَعْدَ وُقُوعِ الْأُولَى“ پہلی طلاق کے واقع ہونے کے بعد۔ پہلی طلاق کے بعد بھی محل کیا ہے؟ موجود ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، صورتِ مسئلہ یہ: خاوند طلاق کے ساتھ شرط کو ذکر کرتا ہے، اور طلاق کے اندر واؤ کے ساتھ دو طلاقیں ذکر کرتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، واؤ کے ساتھ دو طلاقیں ذکر کر رہا ہے الگ الگ، لیکن اس کے ساتھ شرط جوڑتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“۔ ایک صورت یہ کہ شرط کو شروع میں جوڑ دیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ شرط کو آخر میں جوڑ دیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“۔ تو صاحبین فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں دو طلاقیں ہوں گی۔ عورت غیر مدخول بہا ہے، ایک سے اس نے بائنہ ہو جانا ہے، لیکن صاحبین فرماتے ہیں یہ دونوں طلاقیں اکٹھی واقع ہوں گی کیونکہ دونوں طلاقیں شرط کے ساتھ معلق ہیں، چاہے آپ شرط کو پہلے ذکر کریں چاہے شرط کو بعد میں ذکر کریں، یہ دونوں طلاقیں شرط کے ساتھ معلق ہو گئیں اور جیسے ہی شرط پائی جائے گی دونوں طلاقیں اکٹھی آئیں گی۔ پہلی بھی شرط کے ساتھ معلق، دوسری بھی شرط کے ساتھ معلق، تو جیسے ہی شرط پائی گئی ساتھ ہی پہلی آ رہی ہے اور ساتھ ہی دوسری، دونوں اکٹھی آ رہی ہیں۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے صاحبین کی؟ وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ شرط چاہے پہلے ذکر کریں چاہے بعد میں، دونوں طلاقیں واقع ہوں گی۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر شرط کو پہلے ذکر کیا تو پھر ایک طلاق واقع ہوگی، اور اگر شرط کو بعد میں ذکر کیا پھر دو طلاقیں واقع ہوں گی۔ شرط کو اگر پہلے ذکر کیا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، تو ایک طلاق واقع ہوگی دوسری لغو چلی جائے گی، اور اگر شرط کو بعد میں ذکر کیا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، تو اب دونوں اکٹھی آ جائیں گی۔ جی دیکھیے بھئی، تفصیل آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔
”وَلَوْ قَالَ لَهَا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، کہ اگر تو اس گھر کے اندر داخل ہوئی تو تجھے ایک طلاق ہے اور ایک طلاق ہے، ”فَدَخَلَتْ“، تو وہ عورت اس گھر میں داخل ہو گئی، دیکھو شرط پہلے ذکر کی ہے نا؟ اور جب شرط پہلے ہو تو امام صاحب کے نزدیک ایک طلاق ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَدَخَلَتْ“، تو وہ عورت اس گھر میں داخل ہو گئی، ”وَقَعَتْ عَلَيْهَا وَاحِدَةٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، تو اس عورت پر ایک طلاق واقع ہوگی امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا: تَقَعُ ثِنْتَانِ“، اور صاحبین فرماتے ہیں دو طلاقیں واقع ہوں گی۔ ”وَلَوْ قَالَ لَهَا“، اور اگر خاوند نے بیوی سے یوں کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، دیکھو شرط کو مؤخر کر دیا ہے، ”فَدَخَلَتْ طُلِّقَتْ ثِنْتَيْنِ بِالْإِجْمَاعِ“، تو وہ عورت اس گھر میں داخل ہو گئی ”طُلِّقَتْ ثِنْتَيْنِ بِالْإِجْمَاعِ“، تو بالاتفاق دو طلاقیں واقع ہوں گی، اس عورت کو دو طلاقیں ہو جائیں گی، امام صاحب کے نزدیک بھی اور صاحبین کے نزدیک بھی۔ صاحبین تو فرماتے ہیں شرط کو مقدم کریں یا مؤخر کریں کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں طلاقیں شرط سے معلق ہو گئیں اور جیسے ہی شرط پائی جائے گی دونوں اکٹھی آئیں گی طلاقیں۔ پہلی طلاق بھی شرط کے ساتھ معلق، جیسے شرط ہوگی پہلی طلاق آئے گی، دوسری طلاق بھی شرط کے ساتھ معلق، جیسے ہی شرط پائی جائے گی دوسری بھی آئے گی۔ تو شرط کے پاتے ہی دونوں اکٹھی آئیں گی۔ وجہ سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلی طلاق بھی کس سے معلق؟ شرط کے ساتھ، جیسے ہی شرط آئے گی پہلی طلاق آئے گی، دوسری طلاق بھی کس سے معلق؟ شرط کے ساتھ، جیسے ہی شرط پائی جائے گی ساتھ ہی دوسری بھی آئے گی یعنی اکٹھی دونوں آئیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَدَخَلَتْ طُلِّقَتْ ثِنْتَيْنِ بِالْإِجْمَاعِ“، تو بالاتفاق اس عورت کو دو طلاقیں ہو جائیں گی، بالاجماع سے مراد اجماعِ امت نہیں بھئی، بلکہ ہمارے فقہاء کا اتفاق مراد ہے، یعنی ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے کہ اس صورت میں دو طلاقیں ہوں گی۔
”لَهُمَا“، صاحبین کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ حَرْفَ الْوَاوِ لِلْجَمْعِ الْمُطْلَقِ“، کہ حرفِ واؤ جو ہے وہ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے۔ حرفِ واؤ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے، یعنی وہاں پر ترتیب یا ملانا اس کا پتہ نہیں چلتا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، زید اور عمرو کو میں نے ذکر کیا اور درمیان میں واؤ لے آیا۔ اس واؤ نے دونوں کو جمع کر دیا کس چیز میں؟ اس حکم میں جو ایک پر لگایا جا رہا ہے وہی دوسرے پر بھی ہے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، اور حکم تو مجیئت کا لگایا جا رہا ہے، معلوم ہوا آیا زید بھی ہے اور آیا عمرو بھی ہے، اور تفصیل یہاں نہیں ہے کہ دونوں اکٹھے آئے یا ایک پہلے آیا اور دوسرا بعد میں آیا، کوئی تفصیل نہیں ہے، واؤ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے یعنی مطلقاً دو چیزوں کو جمع کر دیتا ہے، وہاں پر ان کے اکٹھا ہونے یا ترتیب سے ہونے کا فائدہ نہیں دیتا، مطلق جمع کا فائدہ دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو ”لَهُمَا“، صاحبین کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ حَرْفَ الْوَاوِ لِلْجَمْعِ الْمُطْلَقِ“، کہ حرفِ واؤ جو ہے وہ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے، اور خاوند نے بھی واؤ ذکر کیا دو طلاقوں میں: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، تو کہتے ہیں: حرفِ واؤ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے، ”فَتَعَلَّقْنَ جُمْلَةً“، تو یہ دونوں طلاقیں اکٹھی معلق ہو جائیں گی، دونوں طلاقیں اکٹھی معلق ہو جائیں گی، ”كَمَا إِذَا نَصَّ عَلَى الثِّنْتَيْنِ“، جیسے کہ خاوند نے ثنتین پر تصریح کی ہو، بھئی کس عورت کی بات چل رہی ہے؟ غیر مدخول بہا کی۔ اگر دو طلاقیں الگ الگ آئیں گی پھر تو وہ ایک سے ہی بائنہ ہو جائے گی، لیکن یہاں دونوں طلاقیں اکٹھی آئیں گی۔ اور صاحبین فرماتے ہیں اگر خاوند ثنتین کے لفظ کو ذکر کر دیتا اور یوں کہتا، معلق نہ کرتا، شرط کو نہ ذکر کرتا، ویسے کہتا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“، تو جیسے یہاں پر دو طلاقیں اکٹھی آئیں گی عورت بے شک غیر مدخول بہا ہے، لیکن طلاقیں کوئی ترتیب سے نہیں آ رہیں کہ پہلی واقع ہوگی اور بائنہ ہو جائے گی اور دوسری لغو چلی جائے گی، بلکہ دونوں طلاقیں اکٹھی آئیں گی اور اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔ تو جیسے ثنتین کے عدد ذکر کرنے سے دو طلاقیں اکٹھی اس غیر مدخول بہا پر واقع ہوتی ہیں، اسی طرح یہاں پر بھی واؤ کس لیے ہے؟ مطلقِ جمع کے لیے ہے، اس نے دونوں طلاقوں کو جمع کر دیا اور دونوں طلاقیں جو ہیں وہ معلق ہو گئیں شرط کے ساتھ، تو جب شرط پائی جائے گی تو دونوں طلاقیں اکٹھی آ جائیں گی اور واقع ہو جائیں گی۔
تو کہتے ہیں، پھر دیکھیے ”لَهُمَا“، صاحبین کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ حَرْفَ الْوَاوِ لِلْجَمْعِ الْمُطْلَقِ“، کہ حرفِ واؤ جو ہے وہ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے، ”فَتَعَلَّقْنَ جُمْلَةً“، تو یہ دونوں طلاقیں اکٹھی معلق ہو جائیں گی، ”كَمَا إِذَا نَصَّ عَلَى الثِّنْتَيْنِ“، یہ اسی طرح ہے جیسے خاوند ثنتین کے لفظ پر تصریح کر دے، وہاں بھی دو طلاقیں اکٹھی آتی ہیں، ”أَوْ أَخَّرَ الشَّرْطَ“، یا خاوند شرط کو مؤخر کر دے۔ خاوند کیا کر دے؟ شرط کو مؤخر کر دے، اور جب خاوند شرط کو مؤخر کرتا ہے اس میں تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں دونوں اکٹھی واقع ہوں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا جب شرط کو مؤخر کریں تو دونوں طلاقیں شرط کے ساتھ معلق ہو جاتی ہیں، تو شرط کو چاہے مقدم بھی کر دو دونوں طلاقیں کیا ہیں؟ شرط کے ساتھ معلق ہو جائیں گی تو اکٹھی ہی واقع ہوں گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔
”وَلَهُ“، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ الْجَمْعَ الْمُطْلَقَ يَحْتَمِلُ الْقِرَانَ وَالتَّرْتِيبَ“، کہ آپ کی بات تو ہمیں تسلیم ہے، واؤ کس لیے آتا ہے؟ جمعِ مطلق کے لیے، لیکن جمعِ مطلق اس میں دو صورتیں ہیں۔ میں نے کہا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، میرے پاس زید اور عمرو آئے، اس نے صرف اتنا بتایا کہ زید اور عمرو دونوں آئے ہیں۔ لیکن احتمال ہے ہو سکتا ہے اکٹھے آئے ہوں، ہو سکتا ہے دونوں الگ الگ آئے ہوں، ترتیب سے آئے ہوں، ایک پہلے اور ایک بعد میں۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے، واؤ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے۔ اور جب یہ جمعِ مطلق کے لیے آتا ہے تو یہاں اکٹھے ہونے کا بھی احتمال اور یہاں ترتیب سے آنے کا بھی احتمال ہے، دونوں احتمال آ گئے۔ لہٰذا احتمال کی وجہ سے شک آ گیا دوسری طلاق کے واقع ہونے میں۔ کیا ذکر کیا خاوند نے؟ شرط پہلے رکھیں: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، تو امام صاحب فرماتے ہیں یہاں واؤ آیا، اور واؤ مطلقِ جمع کے لیے آتا ہے، لیکن اس مطلقِ جمع کے اندر دو احتمال ہیں: اکٹھے ہونے کا بھی احتمال اور ترتیب سے ہونے کا بھی احتمال۔ اگر دونوں کو اکٹھا شمار کیا جائے، اگر دونوں کے اکٹھا ہونے کا اعتبار کیا جائے تو دو طلاقیں ہوں گی، اور اگر ترتیب کا اعتبار کیا جائے تو ایک طلاق واقع ہوگی، تو لہٰذا ایک کا واقع ہونا تو یقینی ہے لیکن دوسری کے واقع ہونے میں شک آ گیا، تو شک کی وجہ سے دوسری طلاق کو واقع قرار نہیں دیا جائے گا جب خاوند نے شرط کو مقدم کیا ہے۔
دیکھیے بھئی صاحبِ ہدایہ اس کو اور بہتر انداز میں ذکر فرمائیں گے: ”وَلَهُ“، امام صاحب کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ الْجَمْعَ الْمُطْلَقَ يَحْتَمِلُ الْقِرَانَ وَالتَّرْتِيبَ“، کہ جمعِ مطلق جو ہے وہ احتمال رکھتی ہے قران کا یعنی ملانے کا بھی کہ اکٹھی ہوں دونوں طلاقیں، ”وَالتَّرْتِيبَ“، اور ترتیب کا بھی احتمال رکھتی ہے جمعِ مطلق، ”فَعَلَى اعْتِبَارِ الْأَوَّلِ تَقَعُ ثِنْتَانِ“، تو پہلے اعتبار پر دو طلاقیں واقع ہوں گی یعنی اگر قران کا اعتبار کیا جائے ملانے کا تو ”تَقَعُ ثِنْتَانِ“ دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی، ”وَعَلَى اعْتِبَارِ الثَّانِي“، اور اگر دوسرے کا اعتبار یعنی ترتیب کا اعتبار کیا جائے، ”لَا تَقَعُ إِلَّا وَاحِدَةٌ“، تو اس صورت میں تو ایک ہی واقع ہوگی، ”كَمَا إِذَا نَجَّزَ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ“، جیسے کہ خاوند نے، نجّز ینجّز تنجیز کا کیا معنیٰ ہے؟ طلاق کو پورا کر دینا یعنی فی الحال ہی طلاق واقع کر دینا، کہ امام صاحب فرماتے ہیں اگر خاوند صرف یوں کہتا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، تو اس صورت میں بالاتفاق ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔ نئی توجہ؟ توجہ بھئی، پھر سنو۔ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: اگر خاوند شرط ذکر نہ کرتا، تعلیق نہ کرتا بلکہ تنجیز کرتا یعنی فوری طلاق واقع کرتا اور واؤ کے ساتھ کرتا، اور غیر مدخول بہا کو یوں کہتا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، تو یہاں واؤ آیا، اور واؤ قران کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ دونوں اکٹھی ہوں، اور واؤ ترتیب کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ ایک پہلے ہو اور ایک بعد میں ہو، اور خاوند جب یوں کہے گا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، تو اس صورت میں سب کے نزدیک ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ حالانکہ واؤ میں تو قران کا بھی احتمال اور ترتیب کا بھی احتمال، وجہ یہ کیونکہ اگر واؤ قران کے لیے بنائیں گے تو دو اکٹھی ہونی چاہییں، اور واؤ کو اگر ترتیب کے لیے بنائیں گے تو ایک ہونی چاہیے۔ تو معلوم ہوا دوسری طلاق کے واقع ہونے میں شک آ گیا، ایک تو یقینی ہے، ایک نے تو ہر حال میں ہونا ہے۔ توجہ ہے؟ قران کے لیے بنائیں گے تو دونوں ہوں گی، قران کے لیے نہیں بنائیں گے تو ایک نے تو ہونا ہی ہے۔ ایک کا وقوع تو یقینی ہے اس لیے کیونکہ اگر قران پر محمول کرتے ہیں پھر تو دو ہو رہی ہیں اور ان دو میں بھی ایک تو آ رہی ہے، اور اگر آپ ترتیب پر محمول کرتے ہیں پھر بھی ایک ہو رہی ہے، معلوم ہوا ایک کا واقع ہونا تو یقینی ہے اور دوسری کے واقع ہونے میں شک آ رہا ہے، تو لہٰذا دوسری طلاق کے اندر شک آ گیا اور چنانچہ اسی لیے سب کے نزدیک اس صورت میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے۔ جب خاوند کیا کہے؟ جب خاوند واؤ ذکر کرے صرف: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، بغیر شرط کے، تنجیز کرے تو سب کے نزدیک ایک ہوتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ دوسری میں شک آ گیا۔ حالانکہ واؤ تو قران کا فائدہ دیتا ہے یا نہیں؟ وہاں تو قران کا بھی احتمال ہوتا ہے، لیکن چونکہ دوسری میں شک ہے اس لیے بالاتفاق ایک ہی ہوتی ہے، تو یہاں پر بھی جب شرط ساتھ ذکر کر دی تو یہاں پر بھی ایک ہی طلاق واقع ہوگی کیونکہ دوسری میں کیا آ گیا؟ شک آ گیا۔
تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا نَجَّزَ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ“، جیسے کہ خاوند طلاق کو فوری واقع کر دے ان لفظوں کے ساتھ، ”فَلَا يَقَعُ الزَّائِدُ عَلَى الْوَاحِدَةِ بِالشَّكِّ“، تو لہٰذا وہ جو ایک پر زائد طلاق ہے وہ شک کی وجہ سے واقع نہیں ہوگی۔
”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَخَّرَ الشَّرْطَ“، بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے شرط کو مؤخر کر دیا۔ دوسری صورت بھئی، جب خاوند نے شرط کو مؤخر کر دیا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، شرط آخر میں لے آیا، تو یاد رکھو اس صورت کے اندر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کبھی کبھار کلام کے آخر میں کوئی چیز لائی جائے تو وہ سارے صدرِ کلام کو بدل دیتی ہے۔ کیا کرتی ہے؟ سارے صدرِ کلام کو بدل دیتی ہے، تو یہاں پر بھی آخر میں شرط آ گئی اور شرط جو ہے اس نے سارے صدرِ کلام کو بدل دیا اور سارا صدرِ کلام اس شرط پر موقوف ہو گیا۔ سارا صدرِ کلام اس شرط پر موقوف ہو گیا، اور صدرِ کلام میں تو کیا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، دو الگ الگ طلاقیں تھیں، لیکن شرط آخر میں آئی تو اس نے صدرِ کلام کو بدل دیا اور وہ دونوں شرطیں معلق ہو گئیں شرط کے ساتھ بلا واسطہ۔ پہلی طلاق بھی دخولِ دار سے معلق ہو گئی اور دوسری طلاق بھی دخولِ دار سے معلق ہو گئی، اور جب دخولِ دار پایا جائے گا تو دونوں طلاقیں اکٹھی واقع ہو جائیں گی، کیونکہ دونوں شرط کے ساتھ معلق ہیں بھئی۔
لیکن وہ صورت جس کے اندر شرط مقدم تھی: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، یہاں پر تو شرط شروع میں ہے اور آخر میں ”وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“ دو الگ الگ طلاقیں آ رہی ہیں، تو یہاں پر کلام کے آخر میں کوئی مغیر نہیں پایا گیا جو صدرِ کلام کو بدل دے۔ جب صدرِ کلام کو بدلنے والی کوئی چیز نہیں ہے تو پھر اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ ایک ہی طلاق واقع ہوگی، اس لیے کیونکہ پہلے ایک طلاق آئے گی اور اس کے بعد دوسری طلاق آئے گی، اور عورت پہلی سے ہی بائنہ ہو چکی ہے تو دوسری لغو چلی جائے گی۔ یاد رکھو بھئی، تفصیل یاد رکھو، علماء فرماتے ہیں، علماء فرماتے ہیں کہ جب شرط مؤخر ہوتی ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، تو جب شرط مؤخر ہے تو اس نے اولِ کلام کو بدل دیا اور اولِ کلام میں دو طلاقیں ذکر ہو رہی تھیں، وہ دونوں بلا واسطہ معلق ہو گئیں شرط کے ساتھ۔ وہ دونوں بلا واسطہ معلق ہو گئیں شرط کے ساتھ، تو جب شرط پائی جائے گی تو دونوں اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ کلام کے آخر میں ایک چیز آ گئی تھی جس نے صدرِ کلام کو بدل دیا تھا، لیکن اگر شرط کلام کے شروع میں ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“، تو اس صورت میں یاد رکھو یہ جو پہلی طلاق ہے یہ شرط کے ساتھ معلق ہے براہِ راست بھئی، بغیر واسطے کے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“، یہ جو پہلا ”وَاحِدَةً“ کے ساتھ جو طلاق آ رہی ہے یہ شرط کے ساتھ معلق ہے، اور جو اگلی ”وَاحِدَةً“ ہے وہ بھی شرط کے ساتھ معلق ہے لیکن اس پہلی کے واسطے سے۔ وہ دوسری طلاق پہلی کے واسطے سے جڑ رہی ہے کیونکہ واؤ عاطفہ آیا ہے بھئی۔ کیا آیا ہے؟ واؤ عاطفہ آیا ہے، تو اس نے دوسری طلاق کو شرط سے جوڑا لیکن کس کے واسطے سے؟ پہلی طلاق کے واسطے سے بھئی۔ تو لہٰذا یہ جو بعد والی طلاق ہے یہ پہلی طلاق کے واسطے سے شرط کے ساتھ جڑ رہی ہے۔ پہلی کے واسطے سے معلق ہے، لہٰذا جب شرط پائی جائے گی تو پہلے پہلی طلاق پائی جائے گی اور پھر اس کے واسطے سے دوسری بھی آئے گی، لیکن پہلی کے واقع ہوتے ہی عورت تو بائنہ ہو چکی ہے لہٰذا دوسری لغو چلی جائے گی۔ توجہ ہے؟ جب شرط مقدم ہوتی ہے تو پھر اس صورت میں پہلی طلاق اس کے ساتھ براہِ راست متعلق ہوئی ہے اور دوسری طلاق پہلی کے واسطے سے متعلق ہوئی ہے شرط سے۔ تو پہلی پہلے آئے گی اور دوسری بعد میں آئے گی کیونکہ وہاں واسطہ آ رہا ہے بیچ میں بھئی۔ تو لہٰذا جب عورت گھر میں داخل ہوگی تو پہلی طلاق تو فوراً آ جائے گی کیونکہ وہ براہِ راست شرط کے ساتھ معلق تھی، اور دوسری طلاق پہلی کے واسطے سے معلق تھی وہ بعد میں آئے گی بھئی، اور جب پہلی آئی تو ساتھ ہی عورت بائنہ ہوئی تو دوسری طلاق لغو چلی جائے گی۔ جبکہ وہ صورت جس میں شرط مؤخر تھی، شرط مؤخر تھی اس میں دونوں براہِ راست معلق ہو گئیں، لہٰذا دونوں اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔
مؤخر تھی: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“۔ تو یہاں جب شرط آخر میں آئی تو اس نے سارے صدر کلام کو بدل دیا۔ اب دونوں شرطیں دخول دار سے معلق ہیں، لیکن بلا واسطے کے۔ پہلی طلاق بھی بلا واسطہ براہِ راست دخول دار سے معلق ہو گئی اور دوسری طلاق بھی بلا واسطہ براہِ راست دخول دار سے معلق ہو گئی۔ اب دوسری طلاق پہلی کے واسطے سے نہیں معلق ہو رہی بلکہ بلا واسطہ معلق ہو رہی ہے، لہٰذا اس صورت میں جب دخول دار پایا جائے گا تو دونوں طلاقیں اکٹھی آئیں گی، اس لیے دونوں واقع ہو جائیں گی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَخَّرَ الشَّرْطَ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے شرط کو مؤخر کر دیا، ”لِأَنَّهُ مُغَيِّرٌ صَدْرَ الْكَلَامِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو شرط ہے یہ صدر کلام کو بدل دیتی ہے، ”فَيَتَوَقَّفُ الْأَوَّلُ عَلَيْهِ“ لہٰذا اول کلام اس شرط پر موقوف ہو جاتا ہے۔ جب شرط آخر میں آئی ہے تو اس نے صدر کلام کو بدل دیا۔ اب سارا صدر کلام کس پر موقوف؟ اس شرط پر موقوف ہے۔ جیسے ہی شرط پائی جائے گی صدر کلام کی دونوں شرطیں اکٹھی آ جائیں گی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَيَتَوَقَّفُ الْأَوَّلُ عَلَيْهِ“ تو اول کلام موقوف ہو جائے گا اس شرط پر، ”فَيَقَعْنَ جُمْلَةً“ تو وہ دونوں طلاقیں اکٹھی واقع ہو جائیں گی، ”وَلَا مُغَيِّرَ فِيمَا إِذَا قَدَّمَ الشَّرْطَ“ اور کوئی مغیر نہیں ہے اس صورت میں جب خاوند نے شرط کو مقدم کیا، یعنی کلام کے آخر میں کوئی بدلنے والی چیز نہیں ہے، ”فَلَمْ يَتَوَقَّفْ“ لہٰذا اس صورت کے اندر یہ کلام اب شرط پر موقوف نہیں رہے گا کیونکہ شرط شروع میں آئی ہے۔ تو پہلی طلاق تو بلا واسطہ شرط سے معلق ہو گئی لیکن دوسری طلاق پہلی کے واسطے سے معلق ہوئی ہے۔ لہٰذا جب عورت گھر میں جائے گی تو پہلی طلاق پہلے آئے گی اور پھر اس کے واسطے سے جو طلاق معلق تھی یعنی دوسری طلاق وہ بعد میں آئے گی لیکن وہ تو پہلی سے ہی بائنہ ہو جائے گی لہٰذا دوسری طلاق لغو چلی جائے گی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا مُغَيِّرَ فِيمَا إِذَا قَدَّمَ الشَّرْطَ“ اور کوئی چیز بدلنے والی نہیں ہے اس صورت میں جب خاوند شرط کو مقدم کر دے، ”فَلَمْ يَتَوَقَّفْ“ تو اس صورت میں یہ اول جو ہے یہ شرط پر موقوف نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ عَطَفَ بِحَرْفِ الْفَاءِ فَهُوَ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ اور اگر حرفِ فا کے ذریعے عطف کیا، اگر خاوند نے حرفِ فا کے ذریعے عطف کیا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو فا کو ذکر کیا، تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ عَطَفَ بِحَرْفِ الْفَاءِ“ اور اگر خاوند نے حرفِ فا کے ذریعے عطف کیا ”فَهُوَ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ تو وہ بھی اسی اختلاف پر ہے، یعنی اس میں بھی امام صاحب اور صاحبین کا اسی طرح اختلاف ہے، ”فِيمَا ذَكَرَ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اس روایت میں جس کو امام کرخی نے ذکر فرمایا ہے۔ امام کرخی رحمہ اللہ نے جو روایت ذکر فرمائی ہے کہ اگر واؤ کی جگہ فا آ جائے پھر بھی اسی طرح اختلاف ہے بھئی۔ ”وَذَكَرَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور فقیہ ابو اللیث رحمہ اللہ ذکر فرماتے ہیں ”أَنَّهُ يَقَعُ وَاحِدَةٌ بِالِاتِّفَاقِ“ کہ اس صورت میں بالاتفاق ایک ہی طلاق واقع ہو گی جب فا آ جائے۔ ”لِأَنَّ الْفَاءَ لِلتَّعْقِيبِ“ اس لیے کیونکہ فا جو ہے تعقیب کے لیے آتی ہے، عَقَّبَ يُعَقِّبُ تعقیب کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے بعد میں لانا، اس کے پیچھے لانا۔ تو فا کس لیے آتی ہے؟ تعقیب کے لیے۔ تو جس پر فا داخل ہو رہی ہے وہ بعد میں ہو گا اور ماقبل والا پہلے ہو گا۔ معلوم ہوا ترتیب سے طلاقیں آئیں گی اور غیر مدخول بہا پر جب ترتیب سے طلاقیں آئیں گی تو پہلی سے ہی وہ بائنہ ہو جائے گی اور دوسری لغو چلی جائے گی۔ تو امام کرخی فرماتے ہیں کہ فا استعمال کریں پھر بھی اس کا وہی حکم ہے جو واؤ کا حکم تھا۔ لیکن فقیہ ابو اللیث کیا فرماتے ہیں؟ کہ نہیں، جب فا استعمال کریں فا تو تعقیب کا فائدہ دیتی ہے لہٰذا وہاں بالاتفاق اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہو گی اور صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ فقیہ ابو اللیث کا قول ہی زیادہ صحیح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَذَكَرَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور فقیہ ابو اللیث رحمہ اللہ ذکر فرماتے ہیں ”أَنَّهُ يَقَعُ وَاحِدَةٌ بِالِاتِّفَاقِ“ کہ فا استعمال کرنے کی صورت میں بالاتفاق ایک ہی طلاق واقع ہو گی، ”لِأَنَّ الْفَاءَ لِلتَّعْقِيبِ“ اس لیے کیونکہ فا جو ہے وہ تعقیب کے لیے ہوتی ہے، ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہی یعنی فقیہ ابو اللیث نے جو ذکر کیا ہے یہی زیادہ صحیح ہے۔ امام کرخی کی روایت بھی صحیح لیکن جو فقیہ ابو اللیث نے ذکر کیا وہ زیادہ صحیح ہے بھئی۔
تو یہاں امام کرخی اور فقیہ ابو اللیث کا ذکر آیا۔ امام کرخی کا ذکر تو پہلے بھی گزر چکا ہے بھئی۔ امام کرخی احناف کے بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں اور ان کی وفات ہوئی ہے 340 ہجری میں۔ 340 ہجری میں۔ جبکہ فقیہ ابو اللیث بھئی، یہ بھی بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں فقہائے احناف میں سے اور ان کی وفات ہوئی ہے 373 ہجری میں۔ 373 ہجری میں، 373 بھئی، جبکہ بعضوں نے ان کی تاریخِ وفات 393 ہجری لکھی ہے، یعنی 393 بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَأَمَّا الضَّرْبُ الثَّانِي وَهُوَ الْكِنَايَاتُ لَا يَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ إِلَّا بِالنِّيَّةِ أَوْ بِدَلَالَةِ الْحَالِ“ بھئی اب کنایات کا ذکر آ گیا، کنایات۔ جہاں ہم نے ”بَابُ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ“ شروع کیا تھا بھئی، یہ اٹھ چار چھ صفحے دس صفحے قبل آیا تھا ”بَابُ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ“ بھئی، وہاں شروع میں ہی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا ”الطَّلَاقُ عَلَى ضَرْبَيْنِ“ کہ طلاق دو قسم پر ہے: ”صَرِيحٌ وَكِنَايَةٌ“ ایک صریح ہے اور ایک کنایہ۔ تو ابھی تک صریح کی بحث چل رہی تھی اب کنایہ کی بات آ گئی۔ میں نے بتلایا صریح وہ لفظ ہے کہ جس میں کسی اور معنی کا احتمال نہ ہو۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یا خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ“ یا خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”طَلَّقْتُكِ“ تو دیکھو ان الفاظ میں طلاق کے علاوہ اور کسی معنی کا احتمال نہیں ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں صریح یعنی صاف لفظوں میں طلاق دینا۔ اور دوسرا ہے کنایہ۔ کنایہ وہ ہے جس میں گول مول الفاظ ذکر کیے جاتے ہیں یعنی وہاں طلاق کا معنی بھی ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ بھی معنی ہوتا ہے۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو جدا ہے۔ تو اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو جدا ہے مجھ سے یعنی میں تجھے طلاق دے چکا، اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو اور عورتوں سے جدا ہے، کوئی اور عورت تیرے جیسے حسن و جمال میں نہیں ہے، یا کوئی اور عورت تیرے جیسی صفات والی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا ”أَنْتِ بَائِنٌ“ تو جدا ہے، اس کے اندر طلاق کا بھی احتمال اور اس میں غیرِ طلاق کا بھی احتمال ہے، تو اس کو کنایہ کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ۔ کنایہ اسی لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کی مراد پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس میں طلاق والا معنی بھی ہوتا ہے اور دوسرا معنی بھی ہوتا ہے۔ اور یاد رکھنا، اور یاد رکھنا کنایات کے اندر نیت شرط ہے۔ نیت ہو گی تو طلاق ہو گی، نیت نہیں تو طلاق بھی نہیں۔ ہاں قاضی کے پاس اگر مسئلہ چلا گیا تو قاضی اور چیزوں کو بھی دیکھے گا۔ قاضی دلیل دیکھے گا۔ اگر کوئی اور دلیل مل گئی تو پھر خاوند سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر کوئی اور دلیل نہ ملی تو پھر خاوند سے پوچھے گا کہ تمہاری طلاق کی نیت تھی یا نہیں تھی۔ اگر خاوند قسم کے ساتھ کہتا ہے میری طلاق کی نیت نہیں تھی تو پھر قاضی بھی اسی کے مطابق فیصلہ کر دے گا اور جدائی واقع نہیں ہو گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
مثلاً اور کیا قاضی دلیل دیکھے گا؟ کہ مثلاً مذاکرۂ طلاق بھئی، مذاکرۂ طلاق۔ مثلاً میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بارے میں ہی بحث چل رہی تھی، بیوی طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی اور خاوند اس کے ساتھ بحث کر رہا تھا بھئی۔ تو اگر مسئلہ قاضی کے پاس گیا اور عورت نے جا کر کہا قاضی صاحب اس نے مجھے ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کہا ہے۔ تو قاضی پوچھے گا کہ اس وقت کیا بحث چل رہی تھی؟ تو بیوی نے کہا جی اس وقت میرے اور خاوند کے درمیان طلاق ہی کے بارے میں بحث ہو رہی تھی۔ تو اب قاضی کو نیت پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ دلیل موجود ہے کہ جب یہاں بات ہی طلاق کی چل رہی ہے تو ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کے ذریعے خاوند کا یہی ارادہ ہو گا۔ تو لہٰذا یہاں قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے گا۔ تو لہٰذا اگر کوئی ایسی دلیل مل جائے جس سے پتہ چل رہا ہو کہ خاوند نے اس لفظ سے طلاق کا ارادہ کیا ہو گا تو پھر قاضی خاوند کی تصدیق نہیں کرے گا۔ خاوند بے شک کہتا رہے کہ میں نے تو طلاق کی نیت نہیں کی تھی لیکن یہ مذاکرۂ طلاق بتلا رہا ہے کہ جب بات ہی طلاق کی چل رہی ہے تو خاوند نے بھی طلاق کی نیت کی ہو گی۔
اور میں نے بتلایا آپ کو کہ یہ کنایہ ہے، اور کنائے میں طلاق کا دار و مدار نیت پر ہے۔ خاوند نے اگر نیت کی ہے تو طلاق ہوئی ہے، خاوند نے اگر نیت نہیں کی تو طلاق نہیں ہوئی۔ قاضی بے شک فیصلہ کر دے۔ مثلاً میاں بیوی میں طلاق کی بحث چل رہی تھی اور اس دوران خاوند نے کہا ”أَنْتِ بَائِنٌ“ اور اس کی طلاق کی نیت نہیں ہے۔ لیکن مذاکرۂ طلاق تو ہو رہا ہے، تو قاضی تو یہی فیصلہ کر دے گا کہ دونوں میں جدائی آ گئی ہے، طلاق ہو گئی ہے، لیکن فیما بینہ و بین اللہ تعالیٰ طلاق واقع نہیں ہوئی بھئی۔ کیونکہ اس کی نیت ہی نہیں تھی۔ لیکن جب قاضی فیصلہ کر دے گا اب جدائی آ جائے گی۔ ابھی تک تو جدائی نہیں تھی لیکن جب قاضی نے فیصلہ کر دیا تو جدائی آ جائے گی کیونکہ قاضی کو ولایتِ عامہ حاصل ہے، اس کا فیصلہ سب پر نافذ ہو جاتا ہے۔ تو اس صورت میں اب جدائی آ جائے گی۔ لیکن اگر قاضی تک مسئلہ نہ جاتا اور اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو بے شک مذاکرۂ طلاق ہی کیوں نہ ہو طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔
تو معلوم ہوا کنایات میں نیت کا ہونا ضروری ہے یا اسی طرح کوئی اور دلالتِ حال جو ہے کوئی حالت وغیرہ دلالت کر دے تو اس سے بھی قاضی فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الضَّرْبُ الثَّانِي“ اور باقی طلاق کی جو دوسری قسم ہے ”وَهُوَ الْكِنَايَاتُ“ اور وہ کنایات ہیں ”لَا يَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ ان کے ذریعے طلاق واقع نہیں ہوتی مگر نیت سے ہی ”أَوْ بِدَلَالَةِ الْحَالِ“ یا دلالتِ حال سے، مثلاً مذاکرۂ طلاق وغیرہ ہو رہا ہے، ”لِأَنَّهَا غَيْرُ مَوْضُوعَةٍ لِلطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ لفظ طلاق کے لیے وضع نہیں ہیں، یہ بائن کا لفظ کوئی طلاق کے لیے تو نہیں وضع، یہ تو لوگ عام کلام میں اور چیزوں اور جگہوں پہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا غَيْرُ مَوْضُوعَةٍ لِلطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ کنایات جو ہیں طلاق کے لیے وضع نہیں کیے گئے ”بَلْ تَحْتَمِلُهُ وَغَيْرَهُ“ بلکہ یہ طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں ”وَغَيْرَهُ“ اور غیرِ طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں، ”فَلَا بُدَّ مِنَ التَّعْيِينِ“ لہٰذا تعیین ضروری ہے کہ نیت کے ذریعے کیا کی جائے؟ تعیین کی جائے، ”أَوْ دَلَالَتِهِ“ یا دلالتِ تعیین ضروری ہے۔ دلالتِ تعیین، کوئی ایسی چیز ہو جو تعیین پر دلالت کر رہی ہو کہ اس سے خاوند نے طلاق ہی کا ارادہ کیا تھا، مثلاً مذاکرۂ طلاق ہے۔ تو تعیین ضروری یا دلالتِ تعیین ضروری ہے بھئی۔ یعنی یا نیت ہو گی یا کوئی ایسی چیز جو اس نیت پر دلالت کر رہی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بَلْ تَحْتَمِلُهُ وَغَيْرَهُ“ بلکہ یہ جو کنایات ہیں یہ طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور غیرِ طلاق کا بھی ”فَلَا بُدَّ مِنَ التَّعْيِينِ أَوْ دَلَالَتِهِ“ تو ضروری ہے تعیین یا دلالتِ تعیین۔ تعیین سے کیا مراد ہے؟ نیت۔ اور دلالتِ تعیین، جو اس پر دلالت کر دے، کوئی ایسی چیز جو اس نیت پر دلالت کر دے۔
”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَهِيَ عَلَى ضَرْبَيْنِ“ کہ یہ کنایات دو قسم پر ہیں: ”مِنْهَا ثَلَاثَةُ أَلْفَاظٍ“ جی، یہاں سے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ یہ جو کنایات ہیں یہ دو قسم کے ہیں۔ کچھ کنایات وہ ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، اور کچھ کنایات وہ ہیں جن سے طلاقِ بائن ہوتی ہے۔ جیسے طلاق کے لفظ سے بھی کبھی طلاقِ بائن ہوتی ہے اور کبھی طلاقِ رجعی، اسی طرح کنایات بھی ان کے ذریعے کبھی طلاقِ رجعی ہو گی اور کبھی طلاقِ بائن۔ تو یہاں آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ صرف تین کنایات ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہو گی، باقی جتنے مشہور کنایات ہیں ان سب سے طلاقِ بائن ہو گی۔ کتنے کنایات ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہو گی؟ تین کنایات ہیں، اور باقی جتنے مشہور کنایات ہیں ان سے طلاقِ بائن ہو گی، تین سے رجعی ہو گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ عَلَى ضَرْبَيْنِ“ اور یہ کنایات دو قسم پر ہیں: ”مِنْهَا ثَلَاثَةُ أَلْفَاظٍ“ ان میں سے تین الفاظ ہیں ”يَقَعُ بِهَا طَلَاقٌ رَجْعِيٌّ“ کہ ان سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے ”وَلَا تَقَعُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةٌ“ اور ان کے ذریعے واقع نہیں ہوتی مگر ایک ہی طلاق ”وَهِيَ قَوْلُهُ“ اور وہ خاوند کا یہ قول ہے: ”اعْتَدِّي“ ”اعْتَدِّي“ تو شمار کر لے۔ تو شمار کر لے، اب یا تو یہ معنی ہے خاوند کا کہ تو عدت شمار کر لے کیونکہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، تو دیکھو طلاق والا معنی بھی ہے۔ اور یا یہ معنی ہے: ”اعْتَدِّي“ تو شمار کر لے، اللہ نے تجھ پر کتنے انعامات کیے ہوئے ہیں تو ان کو شمار کر لے، یا میرے تجھ پر کتنے احسانات ہیں وہ تو شمار کر لے، تو دیکھو غیرِ طلاق کا بھی معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”اعْتَدِّي“ اگر اس سے خاوند طلاق کی نیت کرے گا تو طلاقِ رجعی ہو گی۔ ”وَاسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ استبراء کا معنی ہے صاف کرنا، ”وَاسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ تو اپنے رحم کو صاف کر لے۔ تو اپنے رحم کو صاف کر لے، اب اس میں طلاق کا بھی احتمال اور غیرِ طلاق کا بھی احتمال۔ طلاق کا احتمال ہے مثلاً ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ تو اپنے رحم کو صاف کر لے کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے تو رحم کو صاف کر لے، تو دیکھو طلاق والا معنی بھی ہے۔ یا یہ معنی ہے: تو اپنے رحم کو صاف کر لے کیونکہ میں تجھے اگلے طہر میں طلاقِ سنت دینے والا ہوں۔ تو اس حیض میں کیا کر لے؟ اپنے رحم کو صاف کر لے، میں اگلے طہر میں تجھے طلاقِ سنت دینے والا ہوں۔ تو معلوم ہوا طلاق ابھی دی نہیں صرف اس کا ارادہ ذکر کر رہا ہے۔ تو ایک صورت میں مطلب ہے طلاق میں دے چکا، اور ایک صورت میں کہ میرا ارادہ ہے طلاق دینے کا، تو اس میں دیکھو طلاق والا معنی بھی ہے اور ارادۂ طلاق والا بھی معنی ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہو گی۔ اسی طرح ”وَأَنْتِ وَاحِدَةٌ“ تو ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ تو ایک ہے، تو اکیلی ہے، تو ایک ہے یعنی مجھ سے جدا ہے، میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، یا تو ایک ہے یعنی تجھے ایک طلاق ہے، تجھے ایک طلاق ہے، اور یا یہ معنی ہے تو ایک ہے یعنی تیرے جیسی صفات والی تو اور کوئی عورت نہیں ہے، تو دیکھو طلاق والا معنی بھی ہے اور غیرِ طلاق والا معنی بھی ہے بھئی۔
تو یہ تین کنایات ہیں بھئی جن سے طلاقِ رجعی ہو گی۔ پہلا کیا؟ ”اعْتَدِّي“۔ دوسرا کیا؟ ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“۔ تیسرا؟ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“۔ تو یہ تین کنایات ہیں یہ آپ کو یاد ہونے چاہئیں، آگے صاحبِ ہدایہ مسائل ذکر فرمائیں گے بھئی۔ تو یہ تین کنایات ہیں جن کے ذریعے طلاقِ رجعی ہوتی ہے جبکہ باقی جتنے مشہور کنایات ہیں ان سے طلاقِ بائن ہوتی ہے۔
اب ہر ایک کو بیان کریں گے، ایک ایک کنائے کو بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأُولَى“ تو جو پہلا کنایہ ہے، جو پہلا کلمہ ہے ”فَلِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ الِاعْتِدَادَ عَنِ النِّكَاحِ وَتَحْتَمِلُ اعْتِدَادَ نِعَمِ اللَّهِ تَعَالَى“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جو پہلا کنایہ ہے: ”اعْتَدِّي“، ”اعْتَدِّي“ کا کیا معنی؟ شمار کرنا۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے تو عدت شمار کر لے، اور عدت تو کب آتی ہے؟ طلاق کے بعد۔ معلوم ہوا یہاں اقتضاءً طلاق کو ماننا پڑے گا پھر ہی عدت شمار کرنے کی بات صحیح ہو سکتی ہے، ویسے عدت شمار کرنے کی بات صحیح نہیں۔ خاوند کہہ رہا ہے تو عدت شمار کر لے اور عدت تو کب شمار کی جاتی ہے؟ طلاق کے بعد، لہٰذا یہاں طلاق کو اقتضاءً ماننا پڑے گا۔ خاوند کا یہ کلام تقاضا کر رہا ہے کہ طلاق کو مان لو پھر ہی میرا کلام صحیح ہو گا ویسے میرا کلام صحیح نہیں۔ اور عاقل بالغ کے کلام کو تو صحیح صورت پر محمول کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی، لہٰذا ”اعْتَدِّي“ خاوند نے کہا ہے اور طلاق کی نیت کی ہے تو یہاں اقتضاءً ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ماننا پڑے گا۔ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ رجعی طلاق، اس لیے یہاں رجعی طلاق ہو گی۔ ”اعْتَدِّي“ کا کیا معنی؟ اگر طلاق کی نیت کی ہے: تو عدت شمار کر لے، اور عدت کب شمار کی جاتی ہے؟ طلاق کے بعد، معلوم ہوا ماقبل میں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ موجود ہے، یہ کلام تقاضا کر رہا ہے۔ تو اقتضاءً ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ماننا پڑے گا اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ مانیں گے تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاقِ رجعی، اس لیے اس ”اعْتَدِّي“ سے طلاقِ رجعی ہو گی کیونکہ یہاں ہم نے اقتضاءً ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو مانا ہے۔ تو لہٰذا ”اعْتَدِّي“ تو شمار کر لے، اس میں طلاق کا بھی احتمال، غیرِ طلاق کا بھی احتمال۔ طلاق کا احتمال کس طرح؟ ”اعْتَدِّي“ تو عدت شمار کر لے، اور غیرِ طلاق کا احتمال کس طرح؟ کہ تو اللہ کی نعمتوں کو شمار کر لے۔
تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأُولَى“ تو جو پہلا کلمہ ہے ”اعْتَدِّي“ جو ہے، ”فَلِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ الِاعْتِدَادَ عَنِ النِّكَاحِ“ یہ احتمال رکھتا ہے نکاح سے عدت شمار کرنے کا بھی ”وَتَحْتَمِلُ اعْتِدَادَ نِعَمِ اللَّهِ تَعَالَى“ اور یہ اللہ کی نعمتوں کے شمار کرنے کا بھی احتمال رکھتا ہے، ”فَإِنَّ الْأَوَّلَ“ اگر خاوند نے پہلے کی نیت کی یعنی نکاح سے عدت شمار کرنے کی ”تَعَيَّنَ بِنِيَّتِهِ“ تو وہ اس کی نیت کی وجہ سے متعین ہو جائے گا ”فَيَقْتَضِي طَلَاقًا سَابِقًا“ تو یہ ”اعْتَدِّي“ تقاضا کرتا ہے ”طَلَاقًا سَابِقًا“ ایک ایسی طلاق کا سابقاً جو اس سے مقدم ہے، جو اس سے پہلے ہے، ”وَالطَّلَاقُ يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ“ اور طلاق تو اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے تو طلاقِ رجعی ہو گی۔ کیا ہو گی؟ طلاقِ رجعی۔
”وَأَمَّا الثَّانِيَةُ“ اور دوسرا کلمہ جو ہے وہ کون سا؟ ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“۔ ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ اس کا بھی یہی معنی: یا تو یہ معنی ہے ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ یعنی تو عدت گزار، عورت عدت بھی کس لیے گزارتی ہے؟ اپنے رحم کی صفائی کے لیے عدت گزارتی ہے کہ کہیں اس کے رحم میں خاوند کی اولاد نہ ہو، تو عدت بھی عورت اس لیے گزارتی ہے اور خاوند نے وہی لفظ صراحتاً کہہ دیا: تو اپنے رحم کو کیا کر لے؟ صاف کر لے یعنی عدت گزار لے، تو طلاق کا بھی معنی ہے۔ اور یہ معنی بھی ہے کہ تو اپنے رحم کو صاف کر لے کیونکہ اگلے طہر میں میرا تجھے طلاقِ سنت دینے کا ارادہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الثَّانِيَةُ“ اور باقی دوسرا کلمہ جو ہے ”فَلِأَنَّهَا تُسْتَعْمَلُ بِمَعْنَى الِاعْتِدَادِ“ اس لیے کیونکہ وہ استعمال کیا جاتا ہے عدت شمار کرنے کے معنی میں ”لِأَنَّهُ تَصْرِيحٌ بِمَا هُوَ الْمَقْصُودُ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ یہ تصریح ہے اس چیز کی جو عدت گزارنے سے مقصود ہوتا ہے۔ عدت گزارنے سے بھی کیا مقصود؟ رحم کی صفائی، اور رحم کی صفائی ہی کو اس نے صراحتاً کیا کر دیا؟ ذکر کر دیا۔ تو جو مقصود ہے اسی کی تصریح کر دی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ تَصْرِيحٌ بِمَا هُوَ الْمَقْصُودُ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ یہ تصریح ہے ”بِمَا هُوَ الْمَقْصُودُ مِنْهُ“ اس چیز کی جو کہ عدت کے ذریعے مقصود ہوتی ہے، ”فَكَانَ بِمَنْزِلَتِهِ“ لہٰذا یہ بھی اسی کے درجے میں ہے یعنی ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ یہ بھی ”اعْتَدِّي“ کے درجے میں ہی ہے۔ ”اعْتَدِّي“ کا بھی کیا معنی تھا؟ تو عدت گزار، اور ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ تو اپنے رحم کو صاف کر لے یعنی عدت گزار، دونوں کا معنی کیا ہے؟ ایک ہی ہے۔ یہ معنی ہے: ”فَكَانَ بِمَنْزِلَتِهِ“ تو لہٰذا یہ بھی ”اعْتَدِّي“ کے درجے میں ہے ”وَتَحْتَمِلُ الِاسْتِبْرَاءَ لِيُطَلِّقَهَا“ اور نیز یہ احتمال رکھتا ہے استبراء رحم کے صاف کرنے کا تاکہ وہ اس کو طلاق دے دے، یعنی طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے اور ارادۂ طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے۔
”وَأَمَّا الثَّالِثَةُ“ اور باقی تیسرا کلمہ جو ہے ”فَلِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ أَنْ تَكُونَ نَعْتًا لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ“۔ ”وَأَمَّا الثَّالِثَةُ“ اور تیسرا کنایہ جو ہے، تیسرا کلمہ جو ہے کون سا؟ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ یہ جو ہے ”فَلِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ أَنْ تَكُونَ نَعْتًا لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ“ اس لیے کیونکہ یہ احتمال رکھتا ہے کہ یہ صفت ہو مصدرِ محذوف کی، یہ ”وَاحِدَةٌ“ لفظ یہ احتمال رکھتا ہے کہ یہ مصدرِ محذوف کی صفت ہو۔ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ أي ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“، صفت بھی نکال لیں گویا یوں ہے پورا کلام: خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ اور یہ ”وَاحِدَةٌ“ صفت ہے مصدر کی اور مصدر کیا بن رہا ہے؟ مفعولِ مطلق، اور مفعولِ مطلق تو کسے کہتے ہیں جس سے ماقبل اسی معنی کا فعل یا صفت پائی جائے، تو لہٰذا گویا پورا کلام یوں ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“، ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ تو یہ ”تَطْلِيقَةً“ مصدر ہے اور یہ مفعولِ مطلق بن رہا ہے اور مفعولِ مطلق کے لیے ضروری ہے کہ اس سے ماقبل اسی کا ہم معنی فعل یا صفت پائی جائے تو یہاں پر بھی ”طَالِقٌ“ صفت ماقبل میں ہم نکال لیں گے۔ تو صفت بھی نکال لی اور یہ ”وَاحِدَةٌ“ پھر کس کی صفت بن گئی؟ مصدرِ محذوف کی صفت بن جائے گی۔ تو ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ أي ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ بھئی۔ آپ کے ذہن میں آئے گا اعراب مختلف ہیں: ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ میں آپ رفع پڑھ رہے ہیں اور ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ اس میں نَصَب پڑھ رہے ہیں تو جواب یہ کہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے کہ علماء فقہاء فرماتے ہیں کہ اعراب کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی کیونکہ عام لوگوں کو اعراب کا پتہ نہیں ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَلِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ أَنْ تَكُونَ نَعْتًا لِمَصْدَرٍ مَحْذُوفٍ“ اس لیے کیونکہ یہ احتمال رکھتا ہے کہ یہ صفت ہو مصدرِ محذوف کی، ”مَعْنَاهُ“ اور اس کا معنی یہ ہو ”تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ أي ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ کہ تجھے ایک طلاق ہے۔ ”فَإِذَا نَوَاهُ“ جب خاوند طلاق کی نیت بھی کر لیتا ہے ”جُعِلَ كَأَنَّهُ قَالَهُ“ تو اس کو ایسے ہی قرار دیا جائے گا کہ خاوند نے گویا مصدر کہا ہے خود زبان سے ذکر کیا ہے، ”وَالطَّلَاقُ يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ“ اور طلاق جو ہے وہ تو اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے لہٰذا طلاقِ رجعی ہو گی، ”وَتَحْتَمِلُ غَيْرَهُ“ اور نیز یہ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ اس طلاق کے علاوہ کا بھی احتمال رکھتا ہے ”وَهُوَ أَنْ تَكُونَ وَاحِدَةً عِنْدَهُ أَوْ عِنْدَ قَوْمِهِ“ اور وہ یہ کہ یہ عورت ایک ہو خاوند کے نزدیک یا قوم والوں کے نزدیک۔ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ طلاق کے علاوہ کا بھی احتمال ہے، معنی یہ ہے: ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ تو ایک ہے یعنی میرے نزدیک اپنی صفات کے اعتبار سے تو ایک ہی ہے، تیرے جیسی اور کوئی نہیں، یا تو اپنی قوم والوں کے نزدیک صفات کے اعتبار سے ایک ہی ہے، تیری قوم میں اور کوئی تیری صفات والی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں: ”وَتَحْتَمِلُ غَيْرَهُ“ اور یہ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ غیرِ طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے ”وَهُوَ أَنْ تَكُونَ وَاحِدَةً عِنْدَهُ أَوْ عِنْدَ قَوْمِهِ“ اور وہ یہ کہ یہ عورت ایک ہے خاوند کے نزدیک یا ”أَوْ عِنْدَ قَوْمِهِ“ یا خاوند کی قوم والوں کے نزدیک اس جیسی صفات والی اور کوئی نہیں، ”وَلَمَّا احْتَمَلَتْ هَذِهِ الْأَلْفَاظُ الطَّلَاقَ وَغَيْرَهُ“ اور جب یہ الفاظ جو ہیں طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور غیرِ طلاق کا بھی ”يُحْتَاجُ فِيهِ إِلَى النِّيَّةِ“ تو اس میں احتیاج ہو گی نیت کی، ”وَلَا يَقَعُ إِلَّا وَاحِدَةٌ“ اور نہیں واقع ہو گی مگر ایک ہی طلاق ”لِأَنَّ قَوْلَهُ أَنْتِ طَالِقٌ فِيهَا مُقْتَضًى أَوْ مُضْمَرٌ“ اس لیے کیونکہ خاوند کا قول ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ”فِيهَا“ ان الفاظ میں ”مُقْتَضًى أَوْ مُضْمَرٌ“ یا تو مقتضا ہو گا یا مضمر ہو گا۔ مقتضا جس کا کلام تقاضا کرتا ہے، اور مضمر جو مقدر ہے۔ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ کے اندر ہم نے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ یہاں دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کا لفظ مضمر ہے، مقدر ہے۔ اگر طلاق کی نیت کرے گا تو یہاں تطلیق کا لفظ مقدر مانا جائے گا۔ اور باقی جو پہلے دو تھے: ”اعْتَدِّي“ اور ”اسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ اس کا تو کیا معنی تھا؟ تو عدت گزار، اور عدت کب آتی ہے عورت پر؟ جب طلاق ہو، اس سے پہلے تو نہیں آتی، لہٰذا وہاں پر اقتضاءً ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو ماننا پڑے گا۔ تو تینوں کے اندر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ نکالنا پڑے گا، بعض میں مقتضا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اور بعض میں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ مقدر ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ قَوْلَهُ أَنْتِ طَالِقٌ فِيهَا مُقْتَضًى أَوْ مُضْمَرٌ“ اس لیے کیونکہ خاوند کا قول ”أَنْتِ طَالِقٌ“ وہ ان کے اندر مقتضا ہے یعنی پہلی دو مثالوں میں ”أَوْ مُضْمَرٌ“ یا مقدر ہے یعنی تیسری صورت میں، ”وَلَوْ كَانَ مُظْهَرًا“ اگر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ مظہر ہوتا یعنی ظاہر ہوتا ”لَا تَقَعُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةٌ“ تو اس کے ذریعے بھی ایک ہی طلاق واقع ہوتی، ”فَإِذَا كَانَ مُضْمَرًا أَوْلَى“ تو جب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ مقدر ہے تو اولیٰ، پھر بطریقِ اولیٰ ایک ہی طلاق ہو گی بھئی۔
”وَفِي قَوْلِهِ وَاحِدَةٌ إِنْ صَارَ“ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے کہا ان تینوں سے طلاقِ رجعی ہو گی اور ایک ہی طلاق ہو گی، حالانکہ تیسرا کنایہ جو ہے ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ أي ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ وہاں تو مصدر آپ نکالتے ہیں۔ ”وَفِي قَوْلِهِ وَاحِدَةٌ“ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ ان تینوں کنایات کے ذریعے طلاقِ رجعی ہو گی اور طلاق بھی ایک ہی ہو گی، حالانکہ تیسرے کنائے کے اندر تو مصدر آپ نے نکالا ہے محذوف: ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“، اور مصدر آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ اس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور پوری جنس پر بھی ہوتا ہے، تو یہاں تو تین کا ارادہ بھی صحیح ہونا چاہیے لیکن آپ ہمیں بتا رہے ہیں نہیں، ایک ہی طلاق ہو سکتی ہے اس کے ذریعے، تین کی نیت بھی کرے اس کا کوئی اعتبار نہیں، ایک ہی واقع ہو گی۔ تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَفِي قَوْلِهِ وَاحِدَةٌ إِنْ صَارَ الْمَصْدَرُ مَذْكُورًا“ اور خاوند کے قول ”وَاحِدَةٌ“ میں اگرچہ مصدر جو ہے وہ مذکور ہو گیا ”لَكِنَّ التَّنْصِيصَ عَلَى الْوَاحِدَةِ“ لیکن واحدہ پر تو جو تنصیص کی گئی، جو تصریح کی گئی ”يُنَافِي نِيَّةَ الثَّلَاثِ“ یہ تین کی نیت کے منافی ہے۔ ”تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“، ”تَطْلِيقَةً“ تو تقاضا کر رہا ہے کہ اس سے تین کا ارادہ بھی صحیح ہونا چاہیے لیکن ”وَاحِدَةً“ کا لفظ آگے آ رہا ہے وہ اس تین کی نیت کے منافی ہے، لہٰذا اس سے تین طلاقوں کی نیت کرے بھی تو بھی نہیں ہوں گی بھئی کیونکہ یہ واحد کا لفظ تین کے منافی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِي قَوْلِهِ وَاحِدَةٌ إِنْ صَارَ الْمَصْدَرُ مَذْكُورًا“ اور خاوند کے قول ”وَاحِدَةٌ“ میں اگرچہ مصدر مذکور ہو گیا ہے ”لَكِنَّ التَّنْصِيصَ عَلَى الْوَاحِدَةِ يُنَافِي نِيَّةَ الثَّلَاثِ“ لیکن ایک پر تصریح کر دینا یہ تین کی نیت کے منافی ہے، ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِإِعْرَابِ الْوَاحِدَةِ عِنْدَ عَامَّةِ الْمَشَايِخِ“ بھئی یہ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ اس میں تین صورتیں ہو سکتی ہیں: یا اس واحدہ پر رفع پڑھا جائے، یا نَصَب پڑھا جائے، یا اس کو ساکن پڑھا جائے: ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“، ”أَنْتِ وَاحِدَةً“، اور ”أَنْتِ وَاحِدَهْ“ وقف کیا جائے۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں اگر خاوند ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ میں واحدہ پر رفع پڑھے تو پھر اس صورت میں طلاق نہیں ہو گی چاہے خاوند نیت بھی کر لے۔ رفع پڑھ لے پھر طلاق واقع نہیں ہو گی، وجہ یہ کہ اس صورت میں یہ خبر بن رہی ہے خاوند واحدہ پر رفع پڑھ رہا ہے اور مرفوع تو خبر ہوا کرتی ہے، تو ”أَنْتِ“ ہوا مبتداء اور ”وَاحِدَةٌ“ اس کی خبر، تو یہ واحدہ سے خود ”أَنْتِ“ یعنی مخاطب وہ عورت مراد ہے: تو ایک ہے، تو اکیلی ہے، تو یہ تو عورت کی صفت ہوئی بھئی، لہٰذا یہ تو طلاق کی صفت نہیں ہے لہٰذا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی چاہے خاوند نیت بھی کر لے۔ اور اگر اس پر خاوند نَصَب پڑھے: ”أَنْتِ وَاحِدَةً“ تو پھر اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی چاہے خاوند نیت نہ بھی کرے، وجہ یہ کہ اس صورت میں یہ مصدرِ محذوف کی صفت بنے گی یعنی اس صورت میں یہ ”وَاحِدَةً“ مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوفِ محذوف کے، اس کا مصدر محذوف ہے اور وہ کیا؟ ”تَطْلِيقَةً“، تو ”تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“، اور مصدر کے لیے ماقبل میں صفت یا فعل بھی چاہیے، تو گویا خاوند یوں کہہ رہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“۔ تو لہٰذا جب خاوند ”أَنْتِ وَاحِدَةً“ نَصَب پڑھے تو پھر اس صورت میں چاہے نیت نہ بھی کرے پھر بھی طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ پورا کلام کیا بن جائے گا: ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“۔ اور اگر خاوند وقف کرے تو پھر اس صورت میں دار و مدار خاوند کی نیت پر ہو گا۔ مثلاً خاوند کہتا ہے: ”أَنْتِ وَاحِدَهْ“، وقف کر لیا، تو خاوند سے پوچھا جائے گا کہ آپ کی کیا نیت تھی؟ اگر وہ طلاق کی نیت کرتا ہے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں کی کسی اور بات کی نیت کی ہے تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ میں اگر واحدۃ پر رفع پڑھا جائے تو پھر طلاق واقع نہیں ہو گی چاہے نیت بھی کر لے پھر بھی واقع نہیں ہو گی کیونکہ یہ واحدہ عورت کی صفت بنے گی طلاق کی صفت نہیں بنے گی۔ اور اگر اس کو منصوب پڑھے: ”أَنْتِ وَاحِدَةً“ تو پھر اس صورت میں یہاں ”تَطْلِيقَةً“ ضرور نکالنا پڑے گا، تو اس صورت میں چاہے نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہونی چاہیے۔ رفع پڑھے تو طلاق ہونی ہی نہیں چاہیے چاہے نیت بھی کر لے، نَصَب پڑھے تو نیت نہ بھی کرے پھر بھی کیا ہونی چاہیے؟ طلاق واقع ہونی چاہیے کیونکہ معلوم ہوا ”تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ مصدر ہے بھئی، مفعولِ مطلق ہے بھئی۔ اور اگر وقف کرے تو پھر وہاں نیت کو دیکھا جائے گا۔ جب ”أَنْتِ وَاحِدَهْ“ کہا تو اب اس کی نیت کو دیکھا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ بعض فقہاء نے ذکر فرمایا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی یہ واحدہ کے اعراب کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ عوام کو اعراب کا پتہ نہیں ہوتا، تو جو بھی اعراب پڑھ دے اس پر بہرحال حکم یہی ہے، اگر اس نے طلاق کی نیت کی ہے تو ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِإِعْرَابِ الْوَاحِدَةِ عِنْدَ عَامَّةِ الْمَشَايِخِ“ اور کوئی اعتبار نہیں ہے واحدہ کے اعراب کا عند عامة المشائخ، اکثر فقہاء کے نزدیک، عامۃ المشائخ: اکثر فقہاء۔ ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ اور یہی قول صحیح ہے، ”لِأَنَّ الْعَوَامَّ لَا يُمَيِّزُونَ بَيْنَ وُجُوهِ الْإِعْرَابِ“ اس لیے کیونکہ عوام جو ہیں وہ فرق نہیں کر سکتے اعراب کی قسموں میں، ان کو اعراب کی قسموں کا پتہ نہیں، وہ اعراب کے بارے میں وہ نہیں جانتے بھئی۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَبَقِيَّةُ الْكِنَايَاتِ إِذَا نَوَى بِهَا الطَّلَاقَ كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً“ اور باقی جو کنایات ہیں، ”إِذَا نَوَى بِهَا الطَّلَاقَ“ جب خاوند اس کے ذریعے طلاق کی نیت کرے گا ”كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً“ تو ایک طلاقِ بائنہ واقع ہو گی، باقی جو کنایات ہیں۔ اور یاد رکھو باقی کنایات سے دنیا بھر کے کنایات نہیں مراد، مشہور کنایات مراد ہیں۔ مشہور کنایات، کیونکہ باقی تو اور زبانیں بھی ہیں، ہر زبان والے اپنے اپنے الفاظ کے اندر مختلف جملے کہیں گے تو پھر وہ مفتی ان پر غور کر کے پھر مسئلہ ان کو بتلائے گا بھئی۔ تو یہاں بقیہ کنایات سے کون سے کنایات مراد ہیں؟ مشہور کنایات۔
تو کہتے ہیں: ”وَبَقِيَّةُ الْكِنَايَاتِ“ اور باقی مشہور کنایات جو ہیں ”إِذَا نَوَى بِهَا الطَّلَاقَ“ خاوند جب اس کے ذریعے طلاق کی نیت کر لے ”كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً“ تو ایک طلاقِ بائن ہو گی، ”وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا كَانَ ثَلَاثًا“ اور اگر خاوند تین کی نیت کرے گا تو تین طلاقیں ہو جائیں گی، ”وَإِنْ نَوَى ثِنْتَيْنِ كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً“ اور اگر خاوند نے دو کی نیت کی تو بھی ایک بائنہ طلاق ہی ہو گی، ایک بائنہ طلاق ہی ہو گی اس لیے کیونکہ دو عدد ہے، دو عدد ہے تو عدد کا یہاں احتمال نہیں۔ ”وَهَذَا مِثْلُ قَوْلِهِ“ اور یہ جیسے کہ خاوند کا یہ قول: ”أَنْتِ بَائِنٌ“، خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ بَائِنٌ“ تو جدا ہے۔ تو الگ ہے۔ یا تو یہ معنی کہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں تو مجھ سے الگ ہے، یا معنی یہ ہے کہ تو باقی عورتوں سے جدا ہے، تیرے جیسی صفات والی اور کوئی عورت نہیں، تو اس میں طلاق کا بھی معنی اور غیرِ طلاق کا بھی۔ اسی طرح ”وَبَتَّةٌ وَبَتْلَةٌ“، ”بَتَّةٌ“ اور ”بَتْلَةٌ“ دونوں کا ایک ہی معنی ہے، دونوں کا معنی ہے قطع، کاٹنا، کاٹنا۔ تو خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ بَتَّةٌ“ یا کہتا ہے: ”أَنْتِ بَتْلَةٌ“ یعنی تو منقطع ہے، کٹی ہوئی ہے، مجھ سے الگ ہے۔
کیونکہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں۔ یا یہ معنی ہے، تو کٹی ہوئی ہے، الگ ہے، یعنی تیری اپنی ہی عادتیں ہیں، تیرے ساتھ کسی کی عادتیں نہیں ملتیں۔ تو دیکھو غیرِ طلاق کا معنی بھی ہے۔
”وَحَرَامٌ“ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ حَرَامٌ“ تو یہ بھی کنایہ ہے۔ اس میں طلاق والا معنی بھی ہے کہ تو مجھ پر حرام ہے، میں تجھے طلاق دے چکا ہوں۔ یا اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے: ”أَنْتِ حَرَامٌ“ کہ تو حرام ہے باقی مردوں پر، کیونکہ تو میری منکوحہ ہے۔ تو دیکھو غیرِ طلاق کا معنی بھی ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَحَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ“ حبل رسی کو کہتے ہیں۔ ”حَبْلُكِ“ تیری رسی، ”عَلَى غَارِبِكِ“ تیرے کندھے پر ہے۔ غارب کندھے کو کہتے ہیں۔ تیری رسی تیرے کندھے پر ہے۔ بھئی عرب کے اندر جب اونٹ کو چرنے کے لیے چھوڑتے تو اس کی رسی اس کے گردن پر یا کوہان پر ڈال دیتے تھے۔ اس کو کھلا چھوڑ دیتے چرنے کے لیے۔ یا اسی طرح اور کسی باندھے ہوئے جانور کو کبھی کبھار اس کے رسی اس کی کمر پر ڈال کر اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ تو یا تو خاوند کے کہنے کا مطلب یہ ہے: ”حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ“ تیری رسی تیرے کندھے پر ہے، یعنی میں نے تجھے آزاد کر دیا، طلاق دے دی، جہاں مرضی جا۔ یا معنی یہ ہے، تیری رسی تیرے کندھے پر ہے، یعنی میری طرف سے تیرے اوپر کوئی پابندیاں نہیں ہیں، جس طرح مرضی راحت سے زندگی گزار، تیری رسی تیرے کندھے پر ہے۔ جیسے حیوان کو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے، تو بھی پابندیوں سے آزاد میرے پاس زندگی گزار سکون سے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو اس میں طلاق کا بھی معنی ہے اور غیرِ طلاق کا بھی۔
آگے دیکھیے: ”وَالْحَقِي بِأَهْلِكِ“ لحق یلحق کے معنی ہیں ملنا، ملنا۔ ”وَالْحَقِي بِأَهْلِكِ“ تو اپنے گھر والوں سے مل لے، یا اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا۔ تو اس میں طلاق والا معنی بھی ہے کہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، اب تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا۔ یا یہ معنی بھی ہے کہ بڑے دن ہو گئے تو گھر والوں سے نہیں ملی، تو جا کر ان سے مل لے۔
آگے: ”وَخَلِيَّةٌ وَبَرِيَّةٌ“ خلیۃ کا معنی بھی آزاد، بریۃ کا معنی بھی آزاد۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ خَلِيَّةٌ“ یا ”أَنْتِ بَرِيَّةٌ“ تو آزاد ہے۔ معنی یہ ہے میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، تو آزاد ہے۔ یا معنی یہ ہے تو پابندیوں سے آزاد ہے، میری طرف سے تجھ پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، خوب آرام سے زندگی گزار۔ تو دیکھو طلاق کا بھی معنی ہے اور غیرِ طلاق کا بھی۔
”وَوَهَبْتُكِ لِأَهْلِكِ“ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”وَهَبْتُكِ لِأَهْلِكِ“ میں نے تجھے تیرے گھر والوں کو تحفے کے طور پر دے دیا، میں نے تجھے تیرے گھر والوں کو سونپ دیا۔ تو معنی یہ ہے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، ان کے حوالے کر دیا، اب جاؤ ان کے پاس۔ یا معنی یہ ہے کہ میں نے تمہیں اپنے گھر والوں کو سونپ دیا ہے، میری طرف سے جیسے مرضی راحت کے ساتھ زندگی گزارو، جب مرضی آؤ جاؤ، میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو طلاق کا بھی معنی ہے اور غیرِ طلاق کا بھی۔
”وَسَرَّحْتُكِ“ میں نے تجھے رخصت کر دیا۔ معنی یہ ہے میں نے طلاق دے دی ہے، تجھے رخصت کر دیا، اب جاؤ۔ یا ”سَرَّحْتُكِ“ میں نے رخصت تجھے کر دیا ہے، یعنی میری طرف سے کوئی پابندی تمہارے اوپر نہیں ہے، جس طرح چاہو زندگی گزارو بھئی۔ یہ تو میں معنی بیان کر رہا ہوں، جو بھی آپ کے ذہن میں اچھا معنی آئے آپ اس کا معنی کر سکتے ہیں بھئی۔ بہرحال طلاق والا بھی معنی ہوگا اور غیرِ طلاق والا بھی معنی بھئی۔
”وَفَارَقْتُكِ“ میں تجھ سے جدا ہو گیا۔ میں نے تجھ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، مطلب یہ ہے میں نے تجھے طلاق دے دی ہے۔ یا ”فَارَقْتُكِ“ میں نے تجھ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، تیری باتوں کے میرے پاس جواب نہیں ہوتے، اب میں الگ ہی رہتا ہوں، تمہارے ساتھ بحث مباحثہ نہیں میں کر سکتا زیادہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال جو بھی معنی مناسب معلوم ہو وہ آپ یہاں کر سکتے ہیں، طلاق والا بھی ہونا چاہیے اور غیرِ طلاق والا بھی۔
یا اسی طرح: ”وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ ”وَاخْتَارِي“ تو اختیار کر لے۔ یاد رکھو یہ دو جو یہاں ذکر کیے گئے ہیں، یہ طلاق سے کنایات نہیں ہیں۔ یہ کنایہ ہیں اختیار دینے سے۔ خاوند کبھی کبھار بیوی کو اختیار دے دیتا ہے۔ خاوند اور بیوی کے درمیان طلاق کی بحث چل رہی ہے، بیوی طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور خاوند طلاق نہیں دے رہا، آخر تنگ آ کر خاوند اسے کہتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو دیکھو عورت کو جدائی کا اختیار دے دیا۔ اب اگر عورت کہتی ہے: میں نے اپنے آپ کو طلاق دے دی، تو فوراً اسی وقت بائنہ ہو جائے گی، اسی وقت طلاقِ بائن ہو جائے گی، کیونکہ خاوند نے خود اس کو اختیار دیا تھا۔
اسی طرح خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”اخْتَارِي“ تو اختیار کر لے، یعنی چاہے مجھے اختیار کر لے، چاہے اپنے آپ کو اختیار کر لے، مجھ سے الگ ہو جا۔ تو یہ جو ہے ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اور ”اخْتَارِي“ یہ کنایہ ہیں اختیار دینے سے، عورت کو طلاق کا اختیار دینے سے یہ کنایہ ہیں بھئی۔ تو ان کا خاص خیال رکھنا۔ باقی الفاظ کے اندر خاوند نیت کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی، لیکن ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اور ”اخْتَارِي“ اس میں خاوند صرف عورت کو اختیار دے رہا ہے، اور پھر آگے اختیار کا استعمال کرنا وہ عورت کا کام ہوگا کہ وہ اپنے اوپر طلاق کو واقع کرے یا اپنے آپ کو اختیار کرے اور خاوند سے جدا ہو جائے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو کہتے ہیں: ”وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ“ کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو اس میں دیکھو ”وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اختیار دے رہا ہے خاوند، لیکن یہ کنایہ ہے۔ ہو سکتا ہے طلاق کا اختیار دے رہا ہو، ہو سکتا ہے کسی اور چیز کا اختیار دے رہا ہو۔ ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، یعنی اپنے آپ کو مجھ سے جدا کرنا چاہتی ہے تو جدا کر لے، طلاق اپنے آپ کو دے دے۔ طلاق کا معنی بھی ہو سکتا ہے۔ یا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، یعنی جس طرح مرضی زندگی گزار، میری طرف سے تیرے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے، تو دیکھو اس میں اختیار دے رہا ہے، طلاق کا اختیار دینے کا بھی احتمال اور غیرِ طلاق کا اختیار دینے کا بھی احتمال۔
اسی طرح ”اخْتَارِي“ تو اختیار کر لے، یعنی طلاق کا اختیار دے رہا ہے کہ تو مجھے اختیار کر لے یا اپنے آپ کو اختیار کر لے۔ یا ”اخْتَارِي“ تو اختیار کر لے، تو جس طرح زندگی گزارنا چاہتی ہے میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ تو دیکھو اس میں طلاق والا بھی احتمال اور غیرِ طلاق والا بھی احتمال ہے۔ تو یہ کنائے ہیں اختیار دینے سے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَأَنْتِ حُرَّةٌ“ تو آزاد ہے۔ اس میں بھی وہی معنی، تو آزاد ہے، میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، طلاق والا معنی بھی ہے۔ اور تو آزاد ہے، میری طرف سے تیرے اوپر کسی قسم کی کوئی پابندیاں نہیں ہیں بھئی، تو دیکھو غیرِ طلاق کا معنی بھی ہے۔
”وَتَقَنَّعِي“ یا تو یہ قناعت سے ہے یا قِناع سے ہے۔ قناعت، یعنی تھوڑی روزی پر اکتفا کر لینا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قناعت۔ تو ”تَقَنَّعِي“ تو قناعت کر، جو کچھ اللہ نے دیا ہے اسی پر اکتفا کر اور زیادہ کا مطالبہ نہ کر۔ یا ”تَقَنَّعِي“ قناع سے ہے، قناع چادر کو کہتے ہیں۔ ”تَقَنَّعِي“ تو چادر اوڑھ لے، تو چادر اوڑھ لے، یعنی یعنی عورت طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور خاوند کیا کہتا ہے: ”تَقَنَّعِي“ کہ طلاق کی بحث سے زیادہ ضروری یہ ہے، ”تَقَنَّعِي“ کہ تو چادر اوڑھ لے، تو کیا کر لے؟ چادر اوڑھ لے، معزز عورت بغیر چادر کے نہیں ہوتی، تو تجھے عزت والا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ تو لہٰذا اس میں قناعت یا چادر اوڑھنے کا معنی بھی ہو سکتا ہے اور نیز اس کا معنی: تو چادر اوڑھ لے، یعنی مجھ سے پردہ کر لے، میں نے تجھے طلاق دے دی ہے بھئی، تو پردہ کر لے مجھ سے، چادر اوڑھ لے۔
”وَتَخَمَّرِي“ تخمر یہ خمار سے ہے، دوپٹہ اوڑھ لے۔ اس میں بھی وہی معنی، تو طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، طلاق سے زیادہ ضروری ہے کہ تو دوپٹہ اوڑھ لے، معزز عورتوں کی طرح تجھے ہونا چاہیے۔ یا یہ معنی ہے: تو دوپٹہ اوڑھ لے، کیونکہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، مجھ سے اب تو پردہ کر لے۔
آگے دیکھیے: ”وَاسْتَتِرِي“ میری کتاب میں استبرئی ہے لیکن یہ درست نہیں بھئی، ”اسْتَتِرِي“ ہونا چاہیے، ”اسْتَتِرِي“۔ ”اسْتَتِرِي“ تو پردہ کر لے، یعنی طلاق کی بحث میرے ساتھ نہ کر، تو پردہ کر لے، پردہ تیرے لیے زیادہ ضروری چیز ہے۔ یا یہ معنی ہے کہ ”اسْتَتِرِي“ کہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، تو مجھ سے پردہ کر لے، تو طلاق والا معنی بھی آ گیا۔
یا: ”وَاغْرُبِي“ غرب یغرب کے معنی ہیں دور ہونا۔ ”وَاغْرُبِي“ دور ہو جا۔ تو اس میں بھی وہی معنی: میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، اب مجھ سے دور ہو جا۔ یا ”وَاغْرُبِي“ میں تیرے ساتھ بحث نہیں کر سکتا، مجھ سے دور ہو جا، تو طلاق کا ارادہ نہیں ہے، ویسے اس کو دور ہونے کا کہہ رہا ہے، تو دونوں معنی آ گئے۔
”وَاخْرُجِي“ اور تو باہر نکل جا۔ ”وَاذْهَبِي“ تو چلی جا۔ ”وَقُومِي“ تو اٹھ جا۔ دیکھو ان سب میں بھی اسی طرح ہے: ”اخْرُجِي“ تو باہر نکل جا، یعنی میرے گھر سے نکل جا، میں تجھے طلاق دے چکا ہوں۔ یا میرے پاس سے اٹھ کر میرے کمرے سے نکل جا، میں تیرے ساتھ بحث نہیں کرنا چاہتا اس وقت، میں تھک گیا ہوں۔ یا ”اذْهَبِي“ اس کا بھی یہی معنی کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، چلی جا یہاں سے۔ یا ”اذْهَبِي“ کہ میں تیرے ساتھ زیادہ بحث نہیں کر سکتا، میں تھک گیا ہوں، میرے کمرے سے باہر چلی جا، دوسرے کمرے میں چلی جا۔ یا ”قُومِي“ اس میں بھی یہی معنی کہ تو یہاں سے اٹھ جا، میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، چلی جا۔ یا یہ معنی ہے کہ یہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی جا، میں بحث نہیں کر سکتا، میں تھک گیا ہوں۔ تو ”وَاغْرُبِي“ تو دور ہو جا، ”وَاخْرُجِي“ تو نکل جا، ”وَاذْهَبِي“ تو چلی جا، ”وَقُومِي“ تو اٹھ جا۔
”وَابْتَغِي الْأَزْوَاجَ“ ازواج جمع ہے زوج کی اور خاوند کو بھی زوج کہتے ہیں اور بیوی کو بھی زوج کہتے ہیں۔ تو اگر خاوند کہتا ہے: ”وَابْتَغِي الْأَزْوَاجَ“ تو اگر اس ازواج کا معنی خاوند کے کریں، ”وَابْتَغِي الْأَزْوَاجَ“ تو خاوندوں کو تلاش کر لے، مطلب میں طلاق دے چکا ہوں، تو خاوندوں کو تلاش کر لے، تو طلاق والا معنی ہے۔ یا یہ معنی ہے: ”وَابْتَغِي الْأَزْوَاجَ“ تو اور بیویاں تلاش کر، میں دوسری اور تیسری اور چوتھی شادی کرنا چاہتا ہوں تو میرے لیے اور بیویاں تلاش کر، تو دونوں معنی کا احتمال ہے، طلاق کا بھی اور غیرِ طلاق کا بھی۔
جی تو یہ تھے کچھ مشہور کنایات۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ الطَّلَاقَ وَغَيْرَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ الفاظ جو ہیں طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور غیرِ طلاق کا بھی۔ ”فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ“ لہٰذا نیت ضروری ہے۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي حَالَةِ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ“ تو ان میں نیت ضروری ہے، ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي حَالَةِ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ“ مگر یہ کہ یہ مذاکرۂ طلاق کی حالت میں ہوں، میاں بیوی مذاکرۂ طلاق کی حالت میں ہوں، ”فَيَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ فِي الْقَضَاءِ“ تو ان کے ذریعے طلاق واقع ہو جائے گی قضا میں، یعنی قاضی بھی کیا فیصلہ کرے گا؟ ویسے تو قاضی خاوند سے پوچھے گا تمہاری نیت کیا ہے۔ لیکن اگر کوئی اور چیز کوئی اور دلیل آ گئی، مثلاً مذاکرۂ طلاق تھا تو پھر قاضی کو پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ یہ معنی ہے کہ ”فَيَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ فِي الْقَضَاءِ“ کہ اگر یہ مذاکرۂ طلاق کی حالت میں ہوئے تو پھر قضا میں ان کے ذریعے طلاق واقع ہو جائے گی، لیکن ”وَلَا يَقَعُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى“ لیکن اس کے اور اللہ کے بیچ طلاق واقع نہیں ہے، ”إِلَّا أَنْ يَنْوِيَهُ“ مگر یہ کہ وہ اس طلاق کی نیت کرے، میں نے بتلایا، ویسے تو طلاق واقع ہی نہیں ہوئی اگر اس نے نیت نہیں کی، لیکن اگر قاضی فیصلہ کر دے گا تو پھر جدائی آ جائے گی بھئی۔
”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَوَّى بَيْنَ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ وَهَذَا فِيمَا لَا يَصْلُحُ رَدًّا“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”سَوَّى بَيْنَ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ“ کہ صاحبِ قدوری نے برابری کی ان الفاظ میں۔ صاحبِ قدوری نے ان سب کے بارے میں فرما دیا کہ اگر مذاکرۂ طلاق میں یہ الفاظ ہوئے تو پھر قاضی اس میں جدائی کا فیصلہ کر دے گا۔ کیا کر دے گا؟ جدائی، یعنی طلاق کا، بتلایا نا: ”فَيَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ فِي الْقَضَاءِ“ کہ قاضی کے پاس مسئلہ گیا اور یہ خاوند نے یہ لفظ کس وقت بولا تھا؟ جب میاں بیوی مذاکرۂ طلاق کر رہے تھے، تو پھر قاضی خاوند سے نیت بھی نہیں پوچھے گا کیونکہ مذاکرۂ طلاق کی دلیل موجود ہے اور اس کی وجہ سے خاوند نے ”أَنْتِ بَائِنٌ“ وغیرہ لفظ کہا ہے تو قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے گا۔
تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ صاحبِ قدوری نے ان تمام الفاظ کو برابر کر دیا، سب کا ایک ہی حکم بتا دیا کہ اگر یہ لفظ مذاکرۂ طلاق میں بولے ہیں تو قاضی طلاق کا فیصلہ کر دے گا۔ حالانکہ ان سب میں ایسا نہیں ہے، ان سب میں ایسا نہیں ہے، تفصیل آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”سَوَّى بَيْنَ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ“ کہ صاحبِ قدوری نے برابری کر دی ان الفاظ میں، ”وَهَذَا فِيمَا لَا يَصْلُحُ رَدًّا“ اور حالانکہ یہ حکم تو ان الفاظ میں ہے جو رد کی صلاحیت نہیں رکھتے، جو رد کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دیکھو ایک ہے جواب، ایک ہے رد، ایک ہے سب و شتم۔ یہ جتنے الفاظ آئے، ان میں طلاق کا بھی احتمال اور غیرِ طلاق کا بھی احتمال ہے۔ مثلاً مذاکرۂ طلاق ہو رہا ہے، توجہ ہے؟ تو مذاکرۂ طلاق کے اندر عورت طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، تو اگر خاوند نے ان کنایات میں سے کوئی لفظ بولا اور وہ جواب بننے کی تو صلاحیت رکھتا ہے رد بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تو پھر قاضی جدائی کا فیصلہ کرے گا۔ دیکھو ایک ہے جواب، ایک ہے رد۔ عورت کس کا مطالبہ کر رہی ہے؟ طلاق کا، تو اگر خاوند اس کی بات کے مطابق طلاق دے دے گا تو ہم کہیں گے خاوند نے اس کو جواب دے دیا، یعنی اس کی درخواست کو قبول کر لیا۔ عورت بھی کس کا مطالبہ کر رہی تھی؟ طلاق کا، اور خاوند نے بھی کیا کہہ دیا: ”أَنْتِ بَائِنٌ“ تو جدا ہے، تو خاوند نے اس کو جواب دیا، کیا معنی جواب دیا؟ یعنی اس کی بات قبول کر لی، طلاق دے دی۔ اور ایک یہ ہے کہ خاوند نے اس کی بات رد کر دی، خاوند نے اس کی بات رد کر دی، وہ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن خاوند نے رد کر دیا۔
تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جتنے الفاظ ہیں ان میں سے بعض جواب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، رد کی صلاحیت نہیں رکھتے، یعنی ان سے یوں معلوم ہوتا ہے خاوند بیوی کی بات قبول کر رہا ہے اور اس کو طلاق دے رہا ہے۔ اور کچھ الفاظ ایسے ہیں کہ ان میں آپ غور کریں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ خاوند بیوی کو رد کر رہا ہے، بیوی کہہ رہی ہے: طلاق دے دو، خاوند کہتا ہے: نہیں، اٹھ کے چلی جاؤ یہاں سے، اٹھ کے چلی جاؤ یہاں سے، تو اس میں تو رد کا بھی احتمال ہے کہ خاوند رد کر رہا ہے، توجہ ہے؟ تو لہٰذا مذاکرۂ طلاق میں اگر خاوند نے ایسا لفظ بولا جس میں رد کا بھی احتمال ہے کہ وہ عورت کی درخواست کو رد کر رہا ہے، عورت کے مطالبے کو رد کر رہا ہے تو پھر قاضی خاوند کی بات کا اعتبار کرے گا۔ مذاکرۂ طلاق ہے، ضابطہ کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ ان سے طلاق کب ہوگی جب خاوند کی نیت ہو۔ اگر نیت نہیں ہے لیکن مذاکرۂ طلاق موجود ہے تو بھی قاضی جدائی کا فیصلہ کرے گا، خاوند کی بات کا اعتبار نہیں کرے گا۔ صاحبِ ہدایہ کہتے ہیں: نہیں نہیں، ایسا نہیں ہے، بعض الفاظ ان میں سے رد کا احتمال رکھتے ہیں، تو اگر وہ ایسا لفظ ہوا تو پھر چاہے بے شک مذاکرۂ طلاق ہو رہا ہو، قاضی پھر بھی خاوند کے قول کا اعتبار کرے گا۔ مثلاً خاوند اور بیوی میں بحث چل رہی ہے اور خاوند کیا کہتا ہے: ”قُومِي“ اٹھ جا یہاں سے، تو اب یہ ایسا لفظ ہے جس میں رد کا بھی احتمال ہے، اس میں رد کا بھی احتمال ہے کہ خاوند اس کی بات کو رد کر رہا ہے کہ نہیں، اٹھ کے چلی جا، میں تجھے کوئی طلاق نہیں دینا چاہتا۔ تو اگر مذاکرۂ طلاق میں اس قسم کا لفظ خاوند کہہ دے تو پھر قاضی جدائی کا فیصلہ نہیں کرے گا، کیونکہ یہ لفظ رد کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ خاوند اس کی بات رد کر رہا ہے تو اس میں بھی قاضی اس خاوند کی بات قبول کرے گا۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: سَوَّى بَيْنَ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ“ کہ صاحبِ قدوری نے ان الفاظ میں برابری کر دی، ”وَهَذَا فِيمَا لَا يَصْلُحُ رَدًّا“ حالانکہ یہ ان الفاظ میں ہے جو رد کی صلاحیت نہیں رکھتے، جو رد کی صلاحیت نہیں رکھتے ان میں قاضی طلاق کا فیصلہ کرے گا اور جو رد کی صلاحیت رکھتے ہیں وہاں قاضی طلاق کا فیصلہ نہیں کرے گا۔
آگے دیکھیے: ”وَالْجُمْلَةُ فِي ذَلِكَ“ جی، یہ اب قیمتی بحث ہے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ حاصلِ کلام بیان فرما رہے ہیں کنایات کا بھئی، کہ آپ کے سامنے کنایہ آئے تو آپ کیسے فیصلہ کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَالْجُمْلَةُ فِي ذَلِكَ“ جملہ سے مراد ہے حاصلِ کلام، اور حاصلِ کلام فی ذلک اس بارے میں وہ یہ ہے: ”أَنَّ الْأَحْوَالَ ثَلَاثَةٌ“ کہ احوال تین قسم پر ہیں: ”حَالَةٌ مُطْلَقَةٌ“ ایک تو مطلق حالت ہے، ”وَهِيَ حَالَةُ الرِّضَا“ اور یہ رضامندی والی حالت ہے۔ یعنی میاں بیوی میں نہ تو مذاکرۂ طلاق چل رہا ہے اور نہ ہی جھگڑا چل رہا ہے، نہ ہی... تین حالتیں بیان کریں گے: ایک عام حالت، ایک مذاکرۂ طلاق اور ایک حالتِ غضب، غصے والی حالت۔ تو تینوں کے بارے میں صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ تو کتنی حالتیں ہو سکتی ہیں؟ خاوند نے کنایہ استعمال کیا، یا تو وہ حالتِ رضا ہوگی، یعنی عام حالت ہے، نہ مذاکرۂ طلاق ہے اور نہ غضب کی حالت ہے، یا وہ مذاکرۂ طلاق ہوگا، یا وہ غضب کی حالت ہوگی، تو تینوں میں تفصیل بیان فرما رہے ہیں۔
کہتے ہیں: ”أَنَّ الْأَحْوَالَ ثَلَاثَةٌ: حَالَةٌ مُطْلَقَةٌ وَهِيَ حَالَةُ الرِّضَا، وَحَالَةُ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ، وَحَالَةُ الْغَضَبِ، وَالْكِنَايَاتُ ثَلَاثَةُ أَقْسَامٍ: مَا يَصْلُحُ جَوَابًا وَرَدًّا“ اور کنایات بھی تین قسم پر ہیں: کچھ کنایات وہ ہیں جو جواب اور رد دونوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جواب اور رد۔ عورت طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، مذاکرۂ طلاق چل رہا ہے، طلاق مانگ رہی ہے اور خاوند نے ایسا کنایہ استعمال کیا کہ اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے: میں نے تجھے طلاق دے دی، مثلاً خاوند نے کہا: ”اذْهَبِي“ تو اس کا کیا معنی؟ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے: ٹھیک ہے، میں نے تمہیں طلاق دے دی، جاؤ۔ اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جاؤ، یہاں سے چلی جاؤ، میں تم سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا، میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَالْكِنَايَاتُ ثَلَاثَةُ أَقْسَامٍ“ کنایات تین قسم پر ہیں: ”مَا يَصْلُحُ جَوَابًا وَرَدًّا“ کچھ کنایات وہ ہیں جو جواب بننے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ”وَرَدًّا“ اور رد کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ جواب کا کیا معنی؟ خاوند کا مطالبۂ طلاق کو قبول کر کے طلاق دینا، اس کو کیا کہیں گے؟ جواب، یعنی خاوند طلاق دے رہا ہے۔ اور رد کا کیا معنی؟ خاوند رد کر رہا ہے، طلاق نہیں دے رہا، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں کچھ الفاظ ایسے ہیں ان کے اندر جو صلاحیت رکھتے ہیں ”جَوَابًا وَرَدًّا“ جواب کی بھی اور رد کی بھی، ”وَمَا يَصْلُحُ جَوَابًا لَا رَدًّا“ اور کچھ ایسے کنایات ہیں جو صلاحیت رکھتے ہیں جواب ہونے کی ”لَا رَدًّا“ رد کی صلاحیت نہیں رکھتے، ”وَمَا يَصْلُحُ جَوَابًا وَيَصْلُحُ سَبًّا وَشَتِيمَةً“ اور تیسری قسم کے کنایات وہ ہیں ”مَا يَصْلُحُ جَوَابًا“ جو جواب ہونے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ”وَيَصْلُحُ سَبًّا وَشَتِيمَةً“ سبٌّ کا معنی ہے گالی دینا، شتیمۃٌ کا معنی بھی گالی دینا اور برا بھلا کہنا، تو کچھ کنایات ایسے ہیں ”مَا يَصْلُحُ جَوَابًا“ کہ جو جواب ہونے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں ”وَيَصْلُحُ سَبًّا وَشَتِيمَةً“ اور گالی اور برا بھلا کہنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تو اب تینوں قسم کا الگ الگ حکم بیان کریں گے موقع کے مطابق۔
تو کہتے ہیں: ”فَفِي حَالَةِ الرِّضَا“ رضامندی کی حالت میں، یعنی مطلق حالت میں جب نہ مذاکرۂ طلاق ہے اور نہ غضب ہے، ”لَا يَكُونُ شَيْءٌ مِنْهَا طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی طلاق نہیں ہوگی مگر نیت سے۔ حالتِ رضا، خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ بَائِنٌ“ بیوی قاضی کے پاس چلی گئی، قاضی پوچھے گا کہ مذاکرۂ طلاق تھا؟ بیوی نے کہا: نہیں۔ قاضی نے کہا: کیا حالتِ غضب میں خاوند غضب ناک تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو معلوم ہوا کس حالت میں کہا ہے؟ مطلق حالت میں۔ اور مطلق حالت میں نیت پر دار و مدار ہے، لہٰذا قاضی خاوند سے پوچھے گا: تمہاری کیا نیت تھی؟ وہ کہتا ہے: واللہ قاضی صاحب، میری طلاق کی نیت نہیں تھی، تو پھر قاضی جو ہے جدائی کا فیصلہ نہیں کرے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَفِي حَالَةِ الرِّضَا لَا يَكُونُ شَيْءٌ مِنْهَا طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ رضامندی کی حالت میں ان میں سے کوئی ایک چیز بھی طلاق نہیں ہوگی مگر نیت سے، ”وَالْقَوْلُ قَوْلُهُ فِي إِنْكَارِ النِّيَّةِ“ اور قول جو ہے وہ خاوند کا معتبر ہوگا نیت کے انکار میں کہ اس کی نیت نہیں تھی، قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگا۔ ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا کہ ان میں طلاق کا بھی احتمال ہے اور غیرِ طلاق کا بھی احتمال ہے بھئی۔
”وَفِي حَالَةِ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ“ اب مذاکرۂ طلاق کی حالت آ گئی، تو کہتے ہیں: ”وَفِي حَالَةِ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ“ اور مذاکرۂ طلاق کی حالت میں ”لَمْ يُصَدَّقْ فِيمَا يَصْلُحُ جَوَابًا وَلَا يَصْلُحُ رَدًّا فِي الْقَضَاءِ“ اب مذاکرۂ طلاق چل رہا ہے اور مذاکرۂ طلاق کے دوران خاوند نے کیا کہا ہے؟ مثلاً خاوند نے کہا: ”أَنْتِ بَائِنٌ“ مذاکرۂ طلاق چل رہا ہے اور خاوند نے اس دوران کیا کہا تھا؟ ”أَنْتِ بَائِنٌ“ یہ ”أَنْتِ بَائِنٌ“ یہ تو رد کا احتمال اس میں نہیں ہے، اس سے تو پتہ چل رہا ہے وہ عورت کی بات مان رہا ہے، اس کو طلاق دے رہا ہے، تو یہاں اس کو واپس لوٹانے اور رد کرنے کا معنی نہیں، لہٰذا اس میں قاضی مذاکرۂ طلاق پر ہی فیصلہ کر دے گا، کیونکہ اس میں رد کرنے کا احتمال نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِي حَالَةِ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ لَمْ يُصَدَّقْ فِيمَا يَصْلُحُ جَوَابًا وَلَا يَصْلُحُ رَدًّا فِي الْقَضَاءِ“ اور مذاکرۂ طلاق کی حالت میں کہ قاضی تصدیق نہیں کرے گا ان کنایوں میں جو جواب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ”وَلَا يَصْلُحُ رَدًّا“ اور رد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان میں تصدیق نہیں کی جائے گی ”فِي الْقَضَاءِ“ قضا کے اندر، ”مِثْلُ قَوْلِهِ: خَلِيَّةٌ، وَبَرِيَّةٌ، بَائِنٌ، بَتَّةٌ، حَرَامٌ، اعْتَدِّي، أَمْرُكِ بِيَدِكِ، اخْتَارِي“ خاوند نے کہا ہے: ”أَنْتِ خَلِيَّةٌ“ تو آزاد ہے، بھئی اس میں تو رد والا معنی نہیں ہے۔ یا ”أَنْتِ بَرِيَّةٌ“ تو آزاد ہے، یا ”أَنْتِ بَائِنٌ“ تو جدا ہے، اس میں بھی رد والا معنی تو نہیں ہے کہ میں تمہارا مطالبہ رد کرتا ہوں۔ یا ”أَنْتِ بَتَّةٌ“ تو منقطع ہے، کٹی ہوئی ہے، اس میں بھی رد والا معنی نہیں۔ ”أَنْتِ حَرَامٌ“ تو حرام ہے، اس میں بھی رد والا معنی نہیں ہے۔ اور اسی طرح ”اعْتَدِّي“ تو عدت گزار لے، یہاں اس میں بھی جو ہے رد والا معنی نہیں ہے، تو ان میں سے کسی کے اندر رد والا معنی نہیں ہے۔ یا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، اس میں بھی رد نہیں ہے، اس میں تو اختیار دے رہا ہے، تو عورت نے اگر طلاق واقع کر لی ہے تو واقع ہو جائے گی بھئی۔ یا ”اخْتَارِي“ تو کیا کر لے؟ اختیار کر لے مجھے یا اپنے آپ کو۔ تو لہٰذا اس میں بھی عورت اگر اپنے آپ کو اختیار کر لے گی تو جدائی آ جائے گی۔ تو ان میں سے کسی کے اندر رد والا معنی نہیں ہے، تو اس کے اندر قاضی صرف مذاکرۂ طلاق کو دلیل بنا کر جدائی کا فیصلہ کر دے گا، اس میں خاوند کے قول کا اعتبار نہیں کرے گا، اس کی بات نہیں مانے گا۔
”لِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ مُرَادَهُ الطَّلَاقُ عِنْدَ سُؤَالِ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ خاوند کی مراد طلاق ہی ہے ”عِنْدَ سُؤَالِ الطَّلَاقِ“ طلاق کے مطالبے پر۔ سوال کا کیا معنی؟ مانگنا، طلاق مانگنے پر خاوند کی مراد طلاق ہی ہے۔ ”وَيُصَدَّقُ فِيمَا يَصْلُحُ جَوَابًا وَرَدًّا“ ہاں، کچھ لفظ ایسے ہیں جو جواب کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور رد کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں، ان میں پھر قاضی کیا کرے گا؟ بے شک مذاکرۂ طلاق ہو، پھر بھی قاضی خاوند کی تصدیق کرے گا قسم کے ساتھ، کیونکہ یہ الفاظ رد کا بھی احتمال رکھتے ہیں، خاوند کہتا ہے: میں تو رد کر رہا تھا اس کا مطالبہ۔
تو کہتے ہیں: ”وَيُصَدَّقُ فِيمَا يَصْلُحُ جَوَابًا وَرَدًّا“ اور خاوند کی تصدیق کی جائے گی ان کنایات کے اندر جو جواب اور رد دونوں کی صلاحیت رکھتے ہیں، ”مِثْلُ قَوْلِهِ: اذْهَبِي“ جیسے کہ خاوند کا یہ قول ہے: ”اذْهَبِي“ تو چلی جا، یا ”اخْرُجِي“ تو نکل جا، ”قُومِي“ تو اٹھ جا، ”تَقَنَّعِي“ تو چادر اوڑھ لے، ”تَخَمَّرِي“ تو دوپٹہ اوڑھ لے، کیونکہ ان سب کے اندر رد کا بھی احتمال ہے کہ دوپٹہ اوڑھ لے، چلی جا میرے سے، میرے سے طلاق کا مطالبہ نہ کر، معزز عورتوں کی طرح دوپٹہ اوڑھ کر بیٹھو۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَا يَجْرِي هَذَا الْمَجْرَى“ تو یہ جو جواب اور رد کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ یہ الفاظ ہیں ”وَمَا يَجْرِي هَذَا الْمَجْرَى“ اور جو اس کے قائم مقام ہوں، جو اس جیسے الفاظ ہوں، یعنی جن میں رد کا بھی احتمال ہے، جیسے ”اغْرُبِي“ اور ”اسْتَتِرِي“۔ ”اغْرُبِي“ کیا معنی تھا؟ دور ہو جا، دور ہو جا، اور اسی طرح ”اسْتَتِرِي“ تو پردہ کر لے، تو ان سب میں جواب اور رد دونوں کی صلاحیت ہے تو قاضی خاوند کی تصدیق کرے گا بھئی۔
”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ الرَّدَّ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ہیں رد کا بھی احتمال رکھتے ہیں ”وَهُوَ الْأَدْنَى“ اور رد تو ادنیٰ ہے ”فَحُمِلَ عَلَيْهِ“ تو اسی پر محمول کیا جائے گا۔ بھئی ایک ہے رد اور ایک ہے طلاق۔ رد کے اندر کسی چیز کا اثبات نہیں ہے، بس صرف عورت کے مطالبے کو خاوند رد کر رہا ہے، اور طلاق کے اندر تو باقاعدہ ایک نئی چیز یعنی طلاق کا اثبات آئے گا بھئی۔ تو رد میں اثبات نہیں اور طلاق میں اثبات ہے، تو لہٰذا رد کا درجہ ادنیٰ ہوا اور طلاق کا درجہ اعلیٰ ہوا کیونکہ اس میں باقاعدہ ایک نئی چیز کا اثبات کرنا پڑے گا۔ تو رد جو ہے وہ ادنیٰ ہے، وہ تو خود بخود ثابت ہو جائے گا۔ رد جو ہے وہ ادنیٰ ہے تو اسی پر ہم محمول کریں گے، طلاق تو اعلیٰ ہے، اس میں تو ایک نئی چیز کا اثبات کرنا پڑتا ہے۔ یہ الفاظ رد کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں، لیکن رد کے اندر کسی نئی چیز کا اثبات نہیں کرنا پڑے گا، صرف عورت کا مطالبہ رد کر رہے ہیں، کسی نئی چیز کا اثبات نہیں، اور طلاق کے اندر تو ایک نئی چیز کا اثبات کرنا پڑے گا، تو رد کا درجہ ہوا ادنیٰ اور طلاق کا درجہ ہوا اعلیٰ، تو اس کو ادنیٰ پر محمول کریں گے۔ جب یہ رد کا احتمال رکھتے ہیں تو ان کو رد پر محمول کریں گے۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ الرَّدَّ“ کیونکہ یہ رد کا احتمال رکھتے ہیں ”وَهُوَ الْأَدْنَى“ اور وہ کم درجے والا ہے، یعنی آسان ہے، اس میں کسی نئی چیز کا اثبات نہیں کرنا پڑتا ”فَحُمِلَ عَلَيْهِ“ لہٰذا اس کو اسی رد پر اس کو محمول کیا جائے گا۔
”وَفِي حَالَةِ الْغَضَبِ“ اور پھر اور غضب کی حالت بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَفِي حَالَةِ الْغَضَبِ يُصَدَّقُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ لِاحْتِمَالِ الرَّدِّ أَوِ السَّبِّ، إِلَّا فِيمَا يَصْلُحُ لِلطَّلَاقِ وَلَا يَصْلُحُ لِلرَّدِّ وَالشَّتْمِ“ ہاں، اگر حالتِ غضب میں ان میں سے کوئی کنایہ خاوند استعمال کرتا ہے، تو کہتے ہیں: اگر خاوند نے ایسا کنایہ استعمال کیا جو رد کا احتمال رکھتا ہے یا گالی کا احتمال رکھتا ہے، تو پھر خاوند کی بات قبول کی جائے گی۔ توجہ ہے؟ غضب کی حالت میں اگر خاوند نے ایسا کنایہ استعمال کیا ہے جو طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے لیکن ساتھ ساتھ اس میں رد یا گالی والا معنی بھی ہے، ڈانٹنے والا معنی بھی ہے، تو پھر اس صورت میں بھی قاضی تصدیق کرے گا، اس لیے کیونکہ یہ لفظ غصے کی حالت میں خاوند نے کہا ہے، مثلاً خاوند نے اسے کہا ہے: ”اذْهَبِي“ یعنی چلی جا یہاں سے، تو اس کے اندر رد والا یا گالی والا بھی احتمال ہے، خاوند اس کو ڈانٹ رہا ہے کہ یہاں سے اٹھ کر چلی جاؤ، تو برا بھلا کہنے والا معنی بھی ہے اور رد والا بھی ہے، تو پھر اس میں قاضی خاوند کی تصدیق کرے گا قسم کے ساتھ۔ اور اگر غصے کی حالت میں خاوند نے ایک لفظ کہا ہے اور اس میں رد اور گالی والا احتمال نہیں، تو پھر پھر معلوم ہوا خاوند طلاق ہی دے رہا ہے تو قاضی پھر خاوند کے قول کا اعتبار نہیں کرے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِي حَالَةِ الْغَضَبِ يُصَدَّقُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ“ اور غضب کی حالت میں ان تمام کنایوں کے اندر خاوند کی تصدیق کی جائے گی ”لِاحْتِمَالِ الرَّدِّ أَوِ السَّبِّ“ رد یا گالی دینے کے احتمال کی وجہ سے، سب یعنی برا بھلا کہنا، رد یا برا بھلا کہنے کے احتمال کی وجہ سے، ”إِلَّا فِيمَا يَصْلُحُ لِلطَّلَاقِ وَلَا يَصْلُحُ لِلرَّدِّ وَالشَّتْمِ“ مگر ان الفاظ کے اندر جو طلاق کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن رد یا گالی کی صلاحیت نہیں رکھتے، ”كَقَوْلِهِ: اعْتَدِّي، وَاخْتَارِي، وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ“ یہ تین الفاظ جو ہیں یہ رد یا گالی کا احتمال نہیں رکھتے۔ ”اعْتَدِّي“ اس میں تو کوئی رد والا معنی نہیں، نہ کوئی گالی والا معنی ہے۔ اسی طرح ”وَاخْتَارِي“ تو اختیار کر لے، اختیار دے رہا ہے، اس میں بھی گالی والا یا رد والا معنی نہیں۔ یا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ اس میں بھی رد یا گالی والا معنی نہیں، تو ان صورتوں کے اندر خاوند کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ حالتِ غضب میں اس نے یہ الفاظ کہے ہیں تو قاضی ان کے ذریعے جدائی کا فیصلہ کرے گا۔ یعنی دو میں تو اختیار دے رہا ہے خاوند، اگر عورت نے اپنے اوپر طلاق واقع کر لی ہے۔
”فَإِنَّهُ لَا يُصَدَّقُ فِيهَا“ ان کے اندر قاضی اس خاوند کی تصدیق نہیں کرے گا ”لِأَنَّ الْغَضَبَ يَدُلُّ عَلَى إِرَادَةِ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ خاوند کا غضب جو ہے وہ دلالت کر رہا ہے ارادۂ طلاق پر۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”فِي قَوْلِهِ:“ خاوند کے اس قول کے اندر: ”لَا مِلْكَ لِي عَلَيْكِ“ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”لَا مِلْكَ لِي عَلَيْكِ“ میری تیرے اوپر کوئی ملکیت نہیں ہے۔ میری تیرے اوپر کوئی ملکیت نہیں ہے۔ اب اس میں دیکھو طلاق والا معنی بھی ہے کہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، اس لیے میری تیرے اوپر کوئی ملکیت نہیں ہے۔ اور نیز اس کے اندر برا بھلا کہنے والا معنی بھی ہے: میری تیرے اوپر کوئی ملکیت نہیں ہے، یعنی یعنی تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہارے اوپر میری ملکیت ہو۔ تو دیکھو یہ تو گالی اور برا بھلا کہنے والا لفظ بھی ہو سکتا ہے اور طلاق کا معنی بھی یہاں ہو سکتا ہے، لہٰذا اس میں بھی قاضی خاوند کی تصدیق کرے گا۔
اسی طرح ”وَلَا سَبِيلَ لِي عَلَيْكِ“ میرا تجھ پر کوئی راستہ نہیں ہے، یعنی کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ بھی اسی طرح ہے: میرا تجھ پر کوئی اختیار نہیں ہے، میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے، جدا کر دیا ہے، اب میرا تمہارے اوپر کوئی اختیار نہیں۔ یا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تم اتنی بد اخلاق اور اتنی بد زبان ہو کہ میرا تمہارے اوپر کوئی اختیار نہیں، میں تمہیں قابو میں نہیں کر سکتا، تمہاری ایسی بری عادتیں اور بری زبان ہے بھئی۔
یا ”وَخَلَّيْتُ سَبِيلَكِ“ میں نے تیرا راستہ خالی کر دیا۔ یا تو معنی یہ ہے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی، اپنے سے جدا کر دیا، تیرا راستہ میں نے خالی کر دیا۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے تمہاری بری عادتوں کی وجہ سے تمہارا راستہ خالی کر دیا ہے، اب تمہارے ساتھ میں کسی مسئلے میں بحث نہیں کرتا، تو غیرِ طلاق کا معنی بھی یہاں ہے۔
یا اسی طرح ”فَارَقْتُكِ“ میں نے تجھ سے جدائی اختیار کر لی ہے، یعنی طلاق دے دی ہے۔ یا غیرِ طلاق کا معنی بھی ہو سکتا ہے: ”فَارَقْتُكِ“ میں نے تجھ سے جدائی اختیار کر لی ہے، یعنی میں تجھ سے اب دور ہی رہتا ہوں، تیری ایسی بری عادتیں اور ایسی بری زبان ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو ان میں طلاق کا بھی ارادہ ہو سکتا ہے اور گالی کا بھی ارادہ ہو سکتا ہے، لہٰذا حالتِ غضب میں اگر خاوند یہ الفاظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تو گالی کی نیت کی تھی، میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی، تو قاضی اس کی تصدیق کرے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو دیکھو یہ جو الفاظ ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں باقی الفاظ کے ساتھ یہ جو الفاظ ہیں ان کے اندر بھی قاضی خاوند کی تصدیق کرے گا اگرچہ حالتِ غضب میں کہے، کیونکہ یہ جو الفاظ ہیں ان میں طلاق کا بھی احتمال اور ساتھ ڈانٹنے کا اور برا بھلا کہنے کا بھی احتمال ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ:“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے خاوند کے اس قول کے بارے میں: ”لَا مِلْكَ لِي عَلَيْكِ“ میری تیرے اوپر کوئی ملکیت نہیں ہے، ”وَلَا سَبِيلَ لِي عَلَيْكِ“ میرا تجھ پر کوئی راستہ نہیں ہے، یعنی کوئی اختیار نہیں ہے، ”وَخَلَّيْتُ سَبِيلَكِ“ میں نے تیرا راستہ خالی کر دیا، ”وَفَارَقْتُكِ“ میں نے تجھ سے جدائی اختیار کر لی، یہ جو الفاظ ہیں: ”أَنَّهُ يُصَدَّقُ فِي حَالَةِ الْغَضَبِ“ کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی غضب کی حالت میں بھی، ”لِمَا فِيهَا مِنْ احْتِمَالِ مَعْنَى السَّبِّ“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر گالی کے معنی کا بھی احتمال ہے، یعنی ڈانٹنے اور برا بھلا کہنے کے معنی کا بھی ان میں احتمال ہے، لہٰذا جب خاوند کہہ رہا ہے تو اب اس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا قسم کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.