Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 69
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ فِي أَصْلِ الْمُسَمَّى يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ بِالْإِجْمَاعِ؛ لِأَنَّهُ هُوَ الْأَصْلُ عِنْدَهُمَا، وَعِنْدَهُ تَعَذَّرَ الْقَضَاءُ بِالْمُسَمَّى فَيُصَارُ إِلَيْهِ، وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ بَعْدَ مَوْتِ أَحَدِهِمَا فَالْجَوَابُ فِيهِ كَالْجَوَابِ فِي حَيَاتِهِمَا“ بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ میاں بیوی کے درمیان مہر کے سلسلے میں اختلاف آگیا۔ میں نے بتایا تھا کہ یہاں اختلاف کی کئی صورتیں بنتی ہیں۔ کبھی مقدار کے اندر اختلاف ہوگا، خاوند ایک مقدار ذکر کر رہا ہے اور بیوی دوسری مقدار ذکر کر رہی ہے۔ کبھی یہ اختلاف اصلِ مسمیٰ ہی کے اندر ہوگا، خاوند کہے گا کہ مسمیٰ تھا ہی نہیں، ہم نے کچھ بھی مہر مقرر نہیں کیا تھا، اور بیوی کہے گی کہ نہیں ہم نے مہر مقرر کیا تھا بھئی۔ اور پھر یہ اختلاف یا تو صحبت سے پہلے ہوگا یا صحبت کے بعد ہوگا، اور پھر یہ اختلاف یا تو دونوں کی زندگی میں ہی ہوگا، یا یہ اختلاف دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے وارث آ کر اختلاف کر رہے ہیں، یا یہ اختلاف جب دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اس کے بعد دونوں کے وارث آپس میں اختلاف کر رہے ہیں، تو یہاں اختلاف کی کئی صورتیں بنتی ہیں۔ میں نے بتلایا صاحبِ ہدایہ سب کو ذکر فرمائیں گے۔ البتہ یہ جو پہلی صورت ہے یہ وہ صورت ہے کہ جب خاوند اور بیوی زندہ ہیں اور نکاح موجود ہے، نکاح دونوں کے درمیان قائم ہے، اس وقت یہ دونوں آپس میں اختلاف کر رہے ہیں، اور اختلاف بھی اصلِ مہر میں نہیں کر رہے بلکہ مہر کی مقدار میں اختلاف کر رہے ہیں، مثلاً خاوند کہتا ہے مہر ایک ہزار تھا اور بیوی کہتی ہے مہر دو ہزار تھا، تو دیکھو مقدار کے اندر اختلاف ہے اور دونوں کی زندگی میں اختلاف ہے اور نکاح کے قیام کی حالت میں یہ اختلاف ہو رہا ہے۔ لیکن میں نے بتایا تھا کہ اگر خاوند نے صحبت کے بعد طلاق دی ہے تب بھی یہی حکم ہوگا، اور نیز اگر دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور پھر اس کے وارث آ کر اختلاف کر رہے ہیں تو اس صورت میں بھی یہی مسئلہ ہوگا۔ مقدار میں اختلاف ہے، یا تو یہ زندگی میں ہوگا یا طلاق دی ہے صحبت کرنے کے بعد، یا دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے وارث آ کر پھر اختلاف کر رہے ہیں، تو چاروں صورتوں کا یہی حکم ہے، لیکن بہرحال جو ذکر کیا جا رہا ہے اس وقت وہ نکاح کے قیام کی حالت میں اختلاف کو ذکر کیا جا رہا ہے اور مقدار کے اندر بھئی۔ پھر میں نے یہاں پر دعوے کا طریقہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ جب بھی کوئی شخص کسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے تو مدعی کے ذمے بینہ ہوتی ہے، اس کے ذمے ہے کہ وہ دو گواہ پیش کرے۔ اگر وہ دو گواہ پیش کر دیتا ہے تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا، اور اگر اس کے پاس گواہ نہیں ہیں اور وہ کہتا ہے قاضی صاحب میں قسم کھانے کو تیار ہوں، گواہ تو میرے پاس نہیں ہیں لیکن میں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ یہ چیز مثلاً میری ہے، تو قاضی کہے گا کہ بھئی آپ مدعی ہیں، مدعی کے ذمے بینہ ہوتی ہے، اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں، قول جو ہے وہ منکر جو ہے منکر کے قول کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ تو اگر مدعی نے بینہ پیش کر دی تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ اگر اس کے پاس بینہ نہیں تو پھر اس کے بعد پھر منکر کے قول کو دیکھا جائے گا۔ منکر اگر مدعی کے دعوے کی نفی پر قسم کھا لیتا ہے تو پھر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا، اور اگر منکر نے قسم کھانے سے انکار کر دیا تو پھر اس صورت میں بھی مدعی کے حق میں ہی قاضی فیصلہ کر دے گا۔ معلوم ہوا بینہ مدعی کا معتبر ہے، منکر کے بینہ کا کوئی اعتبار نہیں، اور قول منکر کا معتبر ہے، مدعی کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ قول اس شخص کا معتبر ہوتا ہے کہ ظاہرِ حال جس کی تائید کر رہا ہو۔ مثلاً زید کے پاس ایک گاڑی ہے، زید کے قبضے میں ہے، ایک اور آدمی اچانک آیا اور اس نے دعویٰ کر دیا زید کے خلاف کہ یہ گاڑی میری ہے، تو اب ظاہرِ حال زید کی تائید کر رہا ہے کہ گاڑی زید کے قبضے میں ہے تو ظاہر یہی ہے کہ زید ہی کی گاڑی ہے۔ تو اس صورت میں ظاہرِ حال زید کی تائید کر رہا ہے تو زید کا قول معتبر ہے، اور دوسرے شخص کا قول ظاہرِ حال کے خلاف ہے تو اس کے ذمے بینہ ہے۔ تو قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ ظاہرِ حال جس کی تائید کر رہا ہو، اور بینہ کس کا معتبر ہوتا ہے؟ جو ظاہرِ حال کے خلاف ہو بھئی۔ اور پھر میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو قسم کھائی جاتی ہے یہ ہمیشہ نفی پر کھائی جاتی ہے۔ مثلاً اس آدمی نے کہا یہ گاڑی میری ہے اور زید انکار کر رہا ہے، تو اب زید یہ قسم نہیں کھائے گا کہ واللہ قاضی صاحب یہ گاڑی میری ہے، کیونکہ یہ تو اثبات کر رہا ہے، اثبات کے لیے تو بینہ چاہیے ہوتی ہے۔ تو یہاں زید انکار پر قسم کھائے گا، اس شخص نے جو دعویٰ کیا ہے اس کا رد کرے گا کہ واللہ قاضی صاحب یہ گاڑی اس آدمی کی نہیں ہے، تو قسم ہمیشہ کس پر ہوتی ہے؟ نفی پر، اور اثبات کے لیے بینہ چاہیے بھئی۔ تو یہاں پر میاں اور بیوی کے درمیان اختلاف آیا اور مقدارِ مہر کے اندر اختلاف آیا، اور یہ دونوں میاں بیوی زندہ ہیں، زندگی میں یہ اختلاف ہوا اور دونوں کا نکاح موجود ہے، نکاح قائم ہے اس حالت میں یہ اختلاف ہوا ہے، تو اس صورت میں طرفین فرماتے ہیں کہ عورت کا قول معتبر ہے مہرِ مثل کے پورا ہونے تک اور خاوند کا قول معتبر ہے مہر سے زائد کے سلسلے میں۔ میں نے بتایا کہ یہ بڑا مشکل قول ہے طرفین کا بھئی، اور یہ مجمل قول ہے، اس کی انہوں نے کوئی تفصیل وغیرہ بیان نہیں کی، اور جب ہمارے ائمہ سے کوئی ایسا قول یا ایسی بات آئے جس میں اجمال ہو، جو مجمل ہو، جس کی تفصیل کا پتہ نہ ہو تو پھر ہمارے جو بڑے فقہاء ہیں وہ اس قول کی تشریح کرتے ہیں انہی ائمہ کے اصولوں کے مطابق، تو اس کی تشریح کرتے ہیں اور اس کو تخریج کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تخریج بھئی، یعنی ائمہ کے مجمل قول کی تشریح جو ہے یہ تخریج کہلاتی ہے، اور یہ انہی کے اصولوں کی روشنی میں ہوگا اور یہ ہر فقیہ کے بس کی بات نہیں ہے بھئی۔ تو یہ بڑا مجمل قول تھا، پھر اصحابِ تخریج نے اس کی تفصیل بیان کی، وہ فرماتے ہیں کہ طرفین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہاں مہرِ مثل کو فیصل بنایا جائے گا، اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا اور مہرِ مثل جس کی تائید کرے گا اسی کا قول معتبر ہوگا، کیونکہ جب مہرِ مثل جس کی تائید کر رہا ہے تو معلوم ہوا ظاہرِ حال اس کی تائید کر رہا ہے۔ مثلاً خاوند نے دعویٰ کیا ہے ایک ہزار کا اور اس جیسی عورت کا مہرِ مثل بھی ایک ہزار یا اس سے کم ہوتا ہے، تو مہرِ مثل خاوند کے قول کی تائید کر رہا ہے کہ جب اس جیسی عورت کا مہرِ مثل ہزار یا اس سے کم ہوتا ہے تو معلوم ہوا خاوند نے بھی اس کا مہر ہزار ہی مقرر کیا ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر دیکھو ظاہرِ حال خاوند کی تائید کر رہا ہے لہٰذا خاوند کا قول معتبر ہے۔ اور اگر اس جیسی عورت کا مہرِ مثل دو ہزار یا اس سے زیادہ ہوتا ہے اور عورت دو ہزار کا دعویٰ کر رہی ہے تو اب مہرِ مثل عورت کی تائید کر رہا ہے کہ جب اس جیسی عورت کا مہرِ مثل دو ہزار یا دو ہزار سے زیادہ ہوتا ہے معلوم ہوا ظاہرِ حال عورت کی تائید کر رہا ہے، یقیناً اس کا مہر بھی دو ہزار ہی ہوگا، تو ظاہرِ حال جس کی تائید کرے اس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ قول اس شخص کا معتبر ہوتا ہے جو منکر ہوتا ہے، مدعی کے ذمے بینہ ہے اور منکر کا قول معتبر ہوتا ہے قسم کے ساتھ۔ جب خاوند اور بیوی دونوں کا قول معتبر ہے، بعض صورتوں میں خاوند کا قول معتبر یعنی جب مہرِ مثل خاوند کی تائید کر رہا ہو اور بعض صورتوں میں بیوی کا قول معتبر ہے یعنی جب مہرِ مثل بیوی کی تائید کر رہا ہو، معلوم ہوا دونوں خاوند اور بیوی اس مسئلے میں بعض اعتبار سے منکر بن رہے ہیں۔ بیوی منکر ہے جبھی تو اس کے قول کا اعتبار ہوگا، خاوند منکر ہے جبھی تو اس کے قول کا اعتبار ہوگا، تو جب دونوں میں سے ہر ایک منکر ہے تو معلوم ہوا دونوں میں سے ہر ایک مدعی بھی ہے، کیونکہ جب بیوی منکر ہے معلوم ہوا خاوند مدعی ہوگا اور جب خاوند منکر ہے معلوم ہوا بیوی مدعی ہوگی، تو معلوم ہوا اس مسئلے میں دونوں میں سے ہر ایک مدعی بھی ہے اور ہر ایک منکر بھی ہے۔ لہٰذا مہرِ مثل جس کی تائید کر دے گا اس کے قول کا اعتبار کر لیں گے، وہ منکر ہوگا بھئی، اور پھر اگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی بینہ پیش کر دے تو پھر اس کے بینہ کو قبول کر لیا جائے گا کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک مدعی ہے بھئی۔ اور اگر دونوں بینہ پیش کر دیتے ہیں تو پھر اس کا بینہ قبول کیا جائے گا جس کا بینہ ظاہرِ حال کے خلاف ہوگا، یعنی اگر مہرِ مثل عورت کی تائید کر رہا ہے تو پھر خاوند کا بینہ قبول کر لیا جائے گا، اور اگر مہرِ مثل خاوند کے قول کی تائید کر رہا ہے تو پھر بیوی کا بینہ قبول کر لیا جائے گا۔ اور پھر اس کے بعد اگر مہرِ مثل دونوں مقداروں کے درمیان میں ہو یعنی نہ مہرِ مثل ہزار ہے نہ دو ہزار ہے بلکہ پندرہ سو ہے تو اس صورت کے اندر امام ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں کو قسم دی جائے گی، دونوں کو قسم دی جائے گی، ہو سکتا ہے دونوں میں سے کوئی ایک انکار کر دے تو دوسرے کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا مسمیٰ کا پتہ چل جائے گا، اور اگر دونوں قسم کھا لیتے ہیں تو پھر مہرِ مثل پر یعنی پندرہ سو پر ہی فیصلہ کر دیا جائے گا۔ جبکہ امام ابو الحسن کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تینوں صورتوں میں دونوں قسم کھائیں گے، یعنی چاہے مہرِ مثل عورت کی تائید کرے، چاہے مہرِ مثل خاوند کی تائید کرے، چاہے مہرِ مثل دونوں مقداروں کے بیچ میں ہے یعنی کسی ایک کی بھی تائید نہیں کر رہا، تینوں صورتوں میں دونوں کو قسم دیں گے۔ وہ فرماتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ جب دونوں کو قسم دی جائے گی تو ہو سکتا ہے کوئی ایک قسم سے انکار کر دے، جب کوئی ایک قسم سے انکار کر دے گا تو دوسرے کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا اور مسمیٰ کا پتہ چل جائے گا۔ اگر بیوی نے انکار کیا تو خاوند کا دعویٰ ثابت ہو گیا، معلوم ہوا مسمیٰ ایک ہزار تھا، تو مسمیٰ پر ہی فیصلہ ہو جائے گا، تو تینوں صورتوں میں دونوں کو قسمیں دیں گے تاکہ ہو سکتا ہے کوئی ایک انکار کر دے اور مہرِ مثل کی طرف جانے سے پہلے ہی مسمیٰ کا پتہ چل جائے، اور اگر دونوں قسمیں کھا لیتے ہیں پھر اس صورت میں مہرِ مثل کی طرف چلے جائیں گے اور اس کو حکم بنا دیں گے اس کے ذریعے فیصلہ کریں گے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ تو طرفین کے نزدیک تھا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر خاوند کا قول معتبر ہے۔ طرفین تو فرماتے تھے کہ مہرِ مثل جس کی تائید کرے گا اس کا قول معتبر ہے لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہاں ہر حال میں خاوند ہی کا قول معتبر ہے، کیونکہ عورت زیادتی کا دعویٰ کر رہی ہے، ایک ہزار کا دعویٰ خاوند کر رہا ہے اور عورت دو ہزار کا دعویٰ کر رہی ہے تو عورت کے دو ہزار میں خاوند والا ہزار بھی آگیا اور اس سے زائد کا بھی وہ دعویٰ کر رہی ہے تو عورت زیادتی کی مدعی ہوئی اور خاوند جو ہے اس زیادتی کا منکر ہے، منکر ہے اور قول منکر کا معتبر ہوتا ہے، مدعی کے ذمے تو بینہ ہوتی ہے، لہٰذا یہاں خاوند ہی کا قول معتبر ہوگا اور ہم مہرِ مثل کی طرف نہیں جائیں گے، اس لیے کیونکہ مہرِ مثل کی طرف تو اس وقت جاتے ہیں جب مسمیٰ کو واجب کرنا ممکن نہ ہو۔ جب میاں بیوی نکاح کر رہے ہیں اور انہوں نے کوئی مسمیٰ ذکر نہیں کیا تو پھر ہمیں مجبورا مہرِ مثل کی طرف جانا پڑتا ہے کیونکہ نکاح میں مہر کا آنا تو ضروری ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر حال میں خاوند ہی کا قول معتبر ہے کیونکہ وہ منکر ہے اور مہرِ مثل کو فیصل نہیں بنائیں گے کیونکہ مہرِ مثل تو جب مسمیٰ نہ ہو تب مجبوری کی وجہ سے اور ضرورت کی وجہ سے مہرِ مثل آتا ہے، تو یہاں تو مسمیٰ ذکر ہے لہٰذا مہرِ مثل کی طرف جانے کی حاجت نہیں ہے، جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ دعووں کے اندر اس شخص کا قول معتبر ہوتا ہے ظاہرِ حال جس کی تائید کر رہا ہو، اور ظاہرِ حال تو اسی کی تائید کرے گا مہرِ مثل جس کی تائید کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ مثلاً عورت دو ہزار کا دعویٰ کر رہی ہے اور اس جیسی عورت کا مہر ہوتا بھی دو ہزار یا اس سے زیادہ ہے تو ظاہرِ حال یہی بتلا رہا ہے اس جیسی عورت کا جب اتنا مہر ہوتا ہے تو یہاں بھی دو ہزار ہی مہر ہونا چاہیے بھئی۔ تو ظاہرِ حال اس شخص کی تائید کر رہا ہے مہرِ مثل جس کی تائید کر رہا ہے بھئی۔ تو طرفین کے نزدیک ظاہرِ حال جس کی تائید کرے گا اس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا اور مہرِ مثل کو فیصل بنایا جائے گا، اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا، کیونکہ نکاح کا موجبِ اصلی مہرِ مثل ہے، نکاح اصل میں کس کا تقاضا کرتا ہے؟ مہرِ مثل کا، مسمیٰ کی طرف ہم مجبوری کی وجہ سے جاتے ہیں۔ ایک شخص اور عورت نکاح کر رہے ہیں تو اصل میں مہرِ مثل ہی آنا چاہیے لیکن جب دونوں آپس میں کوئی مہر مقرر کر لیتے ہیں تو پھر اس مجبوری کی وجہ سے مہرِ مثل نہیں آ سکتا کیونکہ دونوں خود ایک مقدار پر راضی ہو گئے ہیں، میاں اور بیوی خود ایک مقدار پر راضی ہو گئے ہیں، مسمیٰ پر راضی ہو گئے ہیں، تو اس مجبوری کی وجہ سے اب مہرِ مثل نہیں آ سکتا ورنہ یہاں مہرِ مثل نے ہی آنا تھا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہاں پر جامع صغیر اور مبسوط جو ہے اس کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر خاوند کا قول معتبر ہے۔ اگر خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو خاوند کا قول معتبر ہے، یہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مبسوط میں بھی اور جامع صغیر میں بھی، لیکن جامع کبیر میں وہ فرماتے ہیں کہ متعہ جو ہے اس کو فیصل بنایا جائے گا، متعہ کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا، جیسے طلاق سے پہلے مہرِ مثل کو فیصل بنایا تھا، توجہ ہے؟ اور جہاں مہرِ مثل آتا ہے وہاں اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی جائے تو وہاں متعہ آتا ہے، تو اگر طلاق سے پہلے آپ مہرِ مثل کو فیصل بنا رہے ہیں تو اس قول کا تقاضا یہ ہے، اس قول کا قیاس یہ ہے کہ طلاق کے بعد متعہ کو فیصل بنانا چاہیے بھئی، توجہ ہے؟ تو لہٰذا جامع کبیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ متعہ کو فیصل بنایا جائے گا اور یہی ان کے قول کا قیاس بھی ہے کہ جب طلاق سے پہلے وہ مہرِ مثل کو فیصل بنا رہے ہیں تو طلاق کے بعد متعہ کو فیصل بنانا چاہیے، اس کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہیے۔ تو بظاہر دونوں قولوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے ایک قول سے پتہ چلا کہ خاوند کا قول معتبر ہے، متعہ کو انہوں نے فیصل نہیں بنایا، دوسرے قول سے، جامع کبیر کے قول سے پتہ چلا کہ متعہ کو فیصل بنایا جائے گا۔ تو اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے ان دونوں قولوں میں تطبیق اور توفیق کی صورت بیان فرمائی۔ میں نے بتلایا تھا کہ تطبیق اور توفیق اسے کہتے ہیں کہ دو اقوال جن میں بظاہر تعارض اور ٹکراؤ ہو ایسی توجیہ کرنا، ایسی تشریح کرنا کہ دونوں کے درمیان ٹکراؤ ختم ہو جائے، اس کو تطبیق اور توفیق کہتے ہیں۔ تطبیق یعنی دونوں قولوں کو ایک دوسرے کے مطابق بنانا، توفیق یعنی دونوں قولوں کو ایک دوسرے کے موافق بنانا۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ اصل میں تو متعہ ہی کو حکم بنایا جائے گا، طرفین کے قول کا تقاضا کیا ہے کہ اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر متعہ ہی کو حکم بنانا چاہیے، طلاق سے پہلے اگر مہرِ مثل کو فیصل بنایا تھا تو صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو متعہ ہی کو حکم بنائیں گے، لیکن چونکہ مبسوط کے اندر یہ مسئلہ ذکر ہے ہزار اور دو ہزار کے اندر، تو اگر خاوند کا قول بھی لے لیا جائے تو ہزار درہم وہ اقرار کر رہا ہے اور طلاق صحبت سے پہلے دے دی جائے تو نصفِ مسمیٰ دینا پڑتا ہے، تو گویا پانچ سو درہم دینے کا تو خاوند بھی اعتراف کر رہا ہے، اور حالانکہ متعہ تو پانچ سو درہم کا نہیں ہوتا، وہ تو پندرہ بیس درہم کا ہوگا، تو لہٰذا یہاں پر متعہ کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، خاوند خود ہی پانچ سو دینے پر راضی ہے تو پھر پانچ سو ہی عورت کو دے دیا جائے گا۔ جبکہ جامع کبیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا ہے سو اور دس میں، اور صحبت سے پہلے طلاق دی ہے تو ان کا نصف آئے گا، معلوم ہوا خاوند پانچ درہم دینا چاہتا ہے اور عورت پچاس کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس جیسی عورت کا متعہ تو مثلاً بیس درہم کا ہوتا ہے، تو اب یہاں پر متعہ کو فیصل بنانے کا فائدہ ہے، خاوند کے قول کو لیتے ہیں وہ تو پانچ درہم کی بات کر رہا ہے حالانکہ اس عورت کا متعہ تو کتنا ہوتا ہے؟ بیس درہم کا ہوتا ہے، تو یہاں متعہ پر فیصلہ کرنے کا فائدہ ہے، جبکہ مبسوط کے مسئلے میں متعہ کو حکم مقرر کر بھی دیا جائے پھر بھی خاوند جو ہے وہ پانچ سو درہم دینے پر راضی ہے، جب وہ خود اس کا اعتراف کر رہا ہے تو اس میں پانچ سو ہی خاوند پر آئیں گے، اس لیے وہاں پر امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خاوند کے قول کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ وہ خود راضی ہے بھئی۔ تو لہٰذا مبسوط میں جہاں مسئلہ ہزار اور دو ہزار میں ذکر ہوا ہے وہاں بھی اصل میں تو متعہ ہی حکم ہے لیکن متعہ کو حکم بنانے کا فائدہ نہیں ہے، وہاں پر بھی اصل میں تو حکم متعہ نے ہی بننا تھا لیکن وہاں متعہ کو حکم اور فیصل بنانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ خاوند خود زائد دینے کا اقرار کر رہا ہے تو پھر وہ زائد ہی دیا جائے گا، اس لیے امام محمد رحمہ اللہ نے وہاں فرمایا کہ خاوند کا قول معتبر ہے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ فِي أَصْلِ الْمُسَمَّى يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ بِالْإِجْمَاعِ“ بھئی یہ پچھلا مسئلہ تو وہ صورت ذکر تھی جب مہر کی مقدار میں میاں بیوی کا اختلاف آیا تھا۔ اب وہ صورت ذکر کریں گے کہ جب اصلِ مسمیٰ کے اندر ہی اختلاف آجائے۔ بیوی کہتی ہے مہر مقرر کیا تھا اور خاوند کہتا ہے نہیں، ہم نے نکاح میں سرے سے کوئی مہر مقرر ہی نہیں کیا تھا، تو اصلِ مسمیٰ ہی میں اختلاف آگیا، ایک اس کو ذکر کر رہا ہے اور دوسرا اس کا انکار کر رہا ہے، تو اس صورت میں کہتے ہیں بالاتفاق مہرِ مثل واجب ہوگا۔ جب اصلِ مسمیٰ کے اندر اختلاف آجائے، ایک کہتا ہے مسمیٰ تھا دوسرا کہہ رہا ہے کوئی مسمیٰ نہیں تھا، تو اس صورت میں ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں مہرِ مثل واجب کیا جائے گا، خاوند مہرِ مثل ادا کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ فِي أَصْلِ الْمُسَمَّى“ اور اگر اختلاف جو تھا وہ اصلِ مسمیٰ میں تھا، پھر اس میں یاد رکھو دو صورتیں ہیں، مثلاً بیوی کہتی ہے مسمیٰ تھا اور خاوند کہتا ہے مسمیٰ نہیں تھا، پھر اس میں ہو سکتا ہے بیوی مقدار بھی ذکر کرے کہ مثلاً دو ہزار مقرر کیا تھا اور خاوند کہتا ہے نہیں، سرے سے مہر مقرر ہی نہیں کیا تھا، یا مقدار تو بیوی کو بھی نہیں یاد، ہاں وہ کہتی ہے مقدار تو مجھے نہیں یاد لیکن اتنا مجھے یاد ہے کچھ مہر ہم نے مقرر کیا تھا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں جب عورت مسمیٰ کو ذکر کر رہی ہے چاہے مقدار ذکر کرے یا نہ کرے، مسئلہ ایک ہی رہے گا، مہرِ مثل واجب ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ فِي أَصْلِ الْمُسَمَّى يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ بِالْإِجْمَاعِ“ اور اگر یہ اختلاف جو تھا اصلِ مسمیٰ کے اندر تھا، تو پھر مہرِ مثل واجب ہوگا بالاتفاق بھئی۔ اجماع سے کیا مراد ہے؟ ہمارے ائمہ کا اتفاق مراد ہے، تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہاں مہرِ مثل واجب ہوگا۔ کیوں؟ مہرِ مثل کیوں واجب ہوگا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ هُوَ الْأَصْلُ عِنْدَهُمَا“ اس لیے کیونکہ مہرِ مثل ہی اصل ہے طرفین کے نزدیک، ”وَعِنْدَهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مہرِ مثل آئے گا، کہتے ہیں: ”وَعِنْدَهُ تَعَذَّرَ الْقَضَاءُ بِالْمُسَمَّى“ کہ مسمیٰ پر فیصلہ کرنا متعذر ہو گیا، ممکن نہ رہا، عورت تو مسمیٰ ذکر کر رہی ہے لیکن خاوند تو مسمیٰ کا انکار کر رہا ہے تو مسمیٰ کو واجب نہیں کیا جا سکتا، اور جب مسمیٰ کو واجب نہ کیا جا سکے تو پھر مجبورا کس کی طرف جانا پڑتا ہے؟ مہرِ مثل کی طرف۔ تو طرفین کے نزدیک بھی مہرِ مثل، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مہرِ مثل ہے بھئی۔ البتہ اس کی دلیل میں اختلاف ہے۔ طرفین کے نزدیک مہرِ مثل کیوں آئے گا؟ کیونکہ یہ موجبِ اصلی ہے، یہ مہرِ مثل کیا ہے؟ نکاح کا موجبِ اصلی ہے، مقتضائے اصلی ہے بھئی، نکاح اصل میں مہرِ مثل ہی کا تقاضا کرتا ہے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مہرِ مثل آئے گا لیکن ان کی دلیل الگ ہے، وہ فرماتے ہیں چونکہ اب مسمیٰ کو واجب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں اختلاف آ رہا ہے تو پھر مجبورا ہمیں کس کی طرف جانا پڑے گا؟ مہرِ مثل کی طرف۔ تو مہرِ مثل کے اندر تو ائمہ کا اتفاق لیکن اس کی دلیل میں ائمہ کا اختلاف ہے، یاد رکھو اس کو اجماعِ مرکب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اجماعِ مرکب، یعنی ایک حکم پر ائمہ متفق ہیں لیکن دلیل ہر ایک کی الگ الگ ہے بھئی، تو اجماع تو ہے لیکن اجماعِ مرکب ہے کہ دلیل الگ الگ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں پھر دلیل دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُ هُوَ الْأَصْلُ عِنْدَهُمَا“ اس لیے کیونکہ مہرِ مثل جو ہے وہ اصل ہے طرفین کے نزدیک، ”وَعِنْدَهُ تَعَذَّرَ الْقَضَاءُ بِالْمُسَمَّى“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مسمیٰ کے ساتھ فیصلہ کرنا متعذر ہو گیا ممکن نہ رہا، ”فَيُصَارُ إِلَيْهِ“ لہٰذا رجوع کیا جائے گا مہرِ مثل کی طرف۔ ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ بَعْدَ مَوْتِ أَحَدِهِمَا فَالْجَوَابُ فِيهِ كَالْجَوَابِ فِي حَيَاتِهِمَا“ اور اگر یہ اختلاف دونوں میں سے کسی ایک کی موت کے بعد ہوا، ”فَالْجَوَابُ فِيهِ كَالْجَوَابِ فِي حَيَاتِهِمَا“ تو اس صورت میں جو جواب ہے ”كَالْجَوَابِ فِي حَيَاتِهِمَا“ یہ اسی جواب کی طرح ہے جو ان دونوں کی زندگی میں تھا۔ دونوں میں سے اگر کسی ایک کا انتقال ہو گیا تو بھی مسئلہ اسی طرح ہوگا جیسے دونوں کی زندگی میں تھا، چاہے یہ اختلاف مقدار میں ہو چاہے اصلِ مسمیٰ میں ہو بھئی، تو بھی مسئلہ اسی طرح ہوگا۔ دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے وارث آ کر اختلاف کر رہے ہیں دوسرے کے ساتھ، تو اگر یہ اختلاف مقدار کے اندر ہے تو طرفین کے نزدیک مہرِ مثل کو حکم بنائیں گے اور مہرِ مثل جس کے قول کی تائید کرے گا اس کا قول معتبر ہوگا، وہ ساری تفصیل جو پیچھے بیان ہو گئی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ خاوند کا قول معتبر ہوگا اور اگر خاوند کا انتقال ہو گیا ہے تو خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہوگا، یہ تو تھا مقدار میں اگر اختلاف ہو، اور اگر اصلِ مسمیٰ کے اندر اختلاف آیا ہے، دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے تو پھر اس صورت میں بالاتفاق مہرِ مثل آتا تھا ابھی پڑھا آپ نے، تو یہاں پر بھی اگر اصلِ مسمیٰ میں اختلاف ہے، میاں بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے وارث آ کر دوسرے کے ساتھ اختلاف کر رہے ہیں تو اس صورت میں اختلاف جب اصلِ مسمیٰ میں ہو تو مہرِ مثل ہی آئے گا، تو زندگی میں اصلِ مسمیٰ میں اختلاف آئے تو بھی مہرِ مثل اور دونوں میں سے ایک کے انتقال کے بعد اصلِ مسمیٰ میں اختلاف آئے تو بھی مہرِ مثل ہی واجب ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بس حاصل یہ ہے کہ جیسے پیچھے صورتیں ذکر ہوئیں دونوں میں سے ایک مر جائے تب بھی وہی صورتیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ بَعْدَ مَوْتِ أَحَدِهِمَا“ اور اگر یہ اختلاف دونوں میں سے کسی ایک کی موت کے بعد ہوا، ”فَالْجَوَابُ فِيهِ كَالْجَوَابِ فِي حَيَاتِهِمَا“ تو اس کے اندر بھی جواب جو ہے اسی کی طرح ہوگا جیسے کہ جواب تھا دونوں کی زندگی میں، ”لِأَنَّ اعْتِبَارَ مَهْرِ الْمِثْلِ لَا يَسْقُطُ بِمَوْتِ أَحَدِهِمَا“ اس لیے کیونکہ مہرِ مثل کا اعتبار ساقط نہیں ہوتا دونوں میں سے کسی ایک کے مر جانے سے، دونوں کی زندگی میں مہرِ مثل کا ہم اعتبار کرتے تھے تو دونوں میں سے اگر ایک مر بھی جائے پھر بھی مہرِ مثل کا اعتبار ساقط نہیں، مہرِ مثل کا ہی اعتبار کیا جائے گا۔ آگے آپ کو بتائیں گے بھئی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر دونوں کا انتقال ہو گیا ہے پھر مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں۔ آگے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتائیں گے کہ اگر میاں بیوی دونوں کا انتقال ہو گیا ہے اب بیوی کے وارث اور خاوند کے وارث ان کا آپس میں اختلاف ہو رہا ہے تو اب مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں، لیکن یہاں تو بتایا دونوں میں سے ایک کا انتقال ہوا ہے، جب ایک کا انتقال ہوا ہے تو ایک کے مرنے سے مہرِ مثل کا اعتبار ساقط نہیں ہوتا، اسی پر فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ اعْتِبَارَ مَهْرِ الْمِثْلِ لَا يَسْقُطُ بِمَوْتِ أَحَدِهِمَا“ اس لیے کیونکہ مہرِ مثل کا اعتبار دونوں میں سے کسی ایک کی موت کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا۔ ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ بَعْدَ مَوْتِهِمَا فِي الْمِقْدَارِ“ اب آگئی دونوں کی موت کی صورت۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ بَعْدَ مَوْتِهِمَا“ اور اگر اختلاف ہوا دونوں کی موت کے بعد ”فِي الْمِقْدَارِ“ اور یہ اختلاف کس میں ہے؟ مقدار میں ہے، ”فَالْقَوْلُ قَوْلُ وَرَثَةِ الزَّوْجِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو خاوند کے جو وارث ہیں ان کا قول معتبر ہے امام صاحب کے نزدیک۔ بھئی زندگی میں جب مقدار میں اختلاف ہوتا تھا تو طرفین مہرِ مثل کو حکم بناتے تھے، لیکن جب دونوں کا انتقال ہو گیا اور مقدار میں اختلاف ہے تو دونوں کے انتقال کے بعد امام صاحب کے نزدیک مہرِ مثل کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ جب مہرِ مثل کا اعتبار نہیں ہے آپ اس کو حکم نہیں بنا رہے تو اب امام صاحب فرماتے ہیں کہ خاوند کے جو وارث ہیں ان کے قول کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ بیوی کے وارث زیادتی کا دعویٰ کر رہے ہیں اور خاوند کے وارث زیادتی کا انکار کر رہے ہیں اور منکر کا قول معتبر ہوتا ہے لہٰذا خاوند کے جو وارث ہیں ان کا قول معتبر ہوگا۔ اور نیز پیچھے مسئلہ ذکر ہوا تھا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ تمام صورتوں میں خاوند کا قول معتبر ہے، توجہ ہے؟ لیکن وہ شئے قلیل کا استثناء کرتے تھے کہ اگر خاوند نے کوئی بہت تھوڑی چیز ذکر کر دی کہ اس جیسی عورت تو اتنے مہر پر نکاح میں راضی نہیں ہوتی تو پھر اس صورت میں وہ فرماتے تھے خاوند کے قول کا اعتبار نہیں ہے جب وہ شئے قلیل بیان کر دے۔ معلوم ہوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں شئے قلیل کا استثناء کرتے تھے، خاوند کا قول معتبر ہے لیکن شئے قلیل کا استثناء کر دیا، اگر وہ خاوند بیان کرتا ہے تو پھر خاوند کے قول کا اعتبار نہیں ہے۔ تو یہاں پر امام صاحب فرما رہے ہیں جب دونوں مر گئے تو پھر خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہے، اور امام صاحب شئے قلیل کا بھی استثناء نہیں کرتے، وہ شئے قلیل ہی کیوں نہ بیان کر دیں پھر بھی قسم کے ساتھ خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الِاخْتِلَافُ بَعْدَ مَوْتِهِمَا فِي الْمِقْدَارِ“ اور اگر یہ اختلاف خاوند اور بیوی دونوں کی موت کے بعد ہوا ”فِي الْمِقْدَارِ“ مہر کی مقدار میں، ”فَالْقَوْلُ قَوْلُ وَرَثَةِ الزَّوْجِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہے امام صاحب کے نزدیک، ”وَلَا يَسْتَثْنِي الْقَلِيلَ“ اور امام صاحب استثناء نہیں فرماتے قلیل کا بھی، تو ”وَلَا يَسْتَثْنِي الْقَلِيلَ“، یستثنی کے اندر ضمیر لوٹا دیں امام صاحب کی طرف اور القلیل اس کے لیے مفعول بنا دیں، ”وَلَا يَسْتَثْنِي الْقَلِيلَ“ اور امام صاحب استثناء نہیں فرماتے قلیل کا، یا اس کو فعلِ مجہول پڑھ لیں۔ پڑھ لیں۔ وَلَا يُسْتَثْنَى الْقَلِيلُ، قلیل کو نائب فاعل بنا دیں، اور قلیل کا استثناء بھی نہیں کیا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں عبارت ٹھیک ہے بھئی۔ یہ وہ صورت ہے جب دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور مقدار میں اختلاف آیا۔ اب: وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ الْقَوْلُ قَوْلُ الْوَرَثَةِ إِلَّا أَنْ يَأْتُوا بِشَيْءٍ قَلِيلٍ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جو ہے وہی خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہے، مگر یہ کہ وہ تھوڑی سی چیز لائیں یعنی تھوڑی سی چیز کو ذکر کریں۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام صاحب کا قول ایک جیسا ہے۔ امام صاحب بھی فرماتے ہیں خاوند کے وارثوں کا قول معتبر، امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہے۔ ہاں فرق یہ ہے کہ امام صاحب قلیل کا استثناء نہیں فرماتے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ قلیل کا استثناء فرماتے ہیں کہ اگر خاوند کے وارثوں نے کوئی بہت تھوڑی چیز ذکر کر دی تو پھر ان کا قول معتبر نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک الْقَوْلُ قَوْلُ الْوَرَثَةِ کہ اسی خاوند کے وارثوں کا قول ہی معتبر ہے، إِلَّا أَنْ يَأْتُوا بِشَيْءٍ قَلِيلٍ مگر یہ کہ وہ کوئی تھوڑی سی چیز ذکر کریں۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک الْجَوَابُ فِيهِ كَالْجَوَابِ فِي حَالَةِ الْحَيَاةِ کہ اس کے اندر بھی جواب اسی طرح ہے جیسے کہ جواب تھا زندگی کی حالت میں۔ زندگی کی حالت میں وہ مہرِ مثل کو حَکم بناتے تھے تو یہاں پر بھی جب دونوں کا انتقال ہو چکا ہے وہ مہرِ مثل ہی کو حَکم قرار دیتے ہیں۔ وَإِنْ كَانَ فِي أَصْلِ الْمُسَمَّى اور اگر اختلاف اصلِ مسمیٰ میں ہوا، بھئی یہ صورت کیا چل رہی تھی؟ دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور اختلاف مقدار میں ہے۔ جی۔ تو پھر خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہے امام صاحب کے نزدیک۔ اور اگر دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور اختلاف اصلِ مسمیٰ میں آیا، بیوی کے وارث کہتے ہیں مسمیٰ تھا اور خاوند کے وارث کہتے ہیں مسمیٰ نہیں تھا، اصلِ مسمیٰ کے اندر ہی اختلاف آگیا وارثوں کا بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ فِي أَصْلِ الْمُسَمَّى اور اگر یہ اختلاف دونوں کے مرنے کے بعد اصلِ مسمیٰ میں تھا، فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ الْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ أَنْكَرَهُ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا قول معتبر ہے جو اس کا انکار کر رہا ہے، جو مسمیٰ کا انکار کر رہا ہے اس کا قول معتبر ہے۔ مثلاً بیوی کے وارث کہہ رہے ہیں مسمیٰ تھا اور خاوند کے وارث کیا کہہ رہے ہیں؟ مسمیٰ نہیں تھا، نکاح میں کوئی مہر مقرر کیا ہی نہیں تھا، تو یہ منکر ہوئے، لہٰذا ان کا قول معتبر ہے۔ اور یاد رکھو اس صورت کے اندر ان کے قول پر فیصلہ کیا جائے گا اور بیوی کے وارثوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ مہرِ مثل بھی نہیں ملے گا بھئی، کیونکہ دونوں کے مرنے کے بعد امام صاحب کے نزدیک مہرِ مثل کا اعتبار ہے ہی نہیں۔ توجہ ہے؟ امام صاحب کے نزدیک میاں اور بیوی دونوں زندہ ہوں یا دونوں میں سے ایک زندہ ہو پھر تو مہرِ مثل کا اعتبار ہے، اگر دونوں مر جائیں پھر مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں اگر اصلِ مسمیٰ میں وارثوں کا اختلاف آگیا، میاں بیوی دونوں کا انتقال ہو چکا ہے، تو پھر اس کا قول معتبر ہوگا جو مسمیٰ کا انکار کر رہا ہے، اور جب وہ انکار کر رہا ہے کہ کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا تو اب مسمیٰ بھی نہیں دیں گے، کچھ بھی نہیں ملے گا، کیونکہ دونوں مر چکے ہیں اور دونوں کے مرنے کے بعد مہرِ مثل کا اعتبار نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ الْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ أَنْكَرَهُ کہ قول اس کا معتبر ہے جو مسمیٰ کا انکار کر رہا ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک اگر خاوند کے وارث قسم کھا لیتے ہیں تو پھر بیوی کے وارثوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ لیکن صاحبین فرماتے ہیں کہ مہرِ مثل پر فیصلہ کیا جائے گا۔ جی۔ کس پر؟ مہرِ مثل پر فیصلہ کیا جائے گا اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ امام صاحب کے نزدیک تو بیوی کے وارثوں کو اس صورت میں کچھ نہیں ملے گا جب خاوند کے وارثوں نے قسم کھا لی انکار پر، لیکن صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ کہ مہرِ مثل ان کو دلایا جائے گا بھئی اور صاحبین کے قول پر ہی فتویٰ ہے بھئی۔ فَالْحَاصِلُ حاصلِ کلام یہ ہے أَنَّهُ لَا حُكْمَ لِمَهْرِ الْمِثْلِ عِنْدَهُ بَعْدَ مَوْتِهِمَا کہ مہرِ مثل کا کوئی حکم نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک خاوند اور بیوی دونوں کی موت کے بعد، عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے بعد میں ان شاء اللہ۔ ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: فَالْحَاصِلُ حاصل یہ ہے أَنَّهُ لَا حُكْمَ لِمَهْرِ الْمِثْلِ عِنْدَهُ بَعْدَ مَوْتِهِمَا کہ مہرِ مثل کا کوئی حکم نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک میاں بیوی دونوں کے مر جانے کے بعد عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ اس وجہ سے جو بعد میں ہم ان شاء اللہ بیان کریں گے۔ یہ ابھی دو تین سطروں کے بعد ہی صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے کہ امام صاحب فرماتے ہیں جب دونوں مر جائیں تو پھر اس صورت میں مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَإِذَا مَاتَ الزَّوْجَانِ وَقَدْ سَمَّى لَهَا مَهْرًا فَلِوَرَثَتِهَا أَنْ يَأْخُذُوا ذٰلِكَ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا فَلَا شَيْءَ لِوَرَثَتِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ۔ بھئی وہ اختلاف والی صورت ختم ہوگئی۔ میاں بیوی میں اختلاف ہوا تھا تو پھر یا تو مقدار میں اختلاف ہوگا یا اصلِ مسمیٰ میں اختلاف ہوگا، اور یہ اختلاف دونوں کی زندگی میں ہوگا یا دونوں میں سے ایک کے مر جانے کے بعد ہوگا یا دونوں کے مر جانے کے بعد ہوگا، یہ ساری صورتیں گزر گئیں۔ اب دوسری الگ صورت ذکر کر رہے ہیں بھئی، اب الگ مسئلہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِذَا مَاتَ الزَّوْجَانِ، صورتِ مسئلہ یہ ہے میاں بیوی دونوں کا انتقال ہو گیا ہے اور بیوی نے مہر وصول نہیں کیا تھا تو کیا اب بیوی کے وارث خاوند کے وارثوں سے مہر وصول کر سکتے ہیں؟ تو آپ کو بتائیں گے کہ ہاں، وہ مہر وصول کر سکتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِذَا مَاتَ الزَّوْجَانِ اور جب میاں بیوی دونوں مر گئے وَقَدْ سَمَّى لَهَا مَهْرًا اور تحقیق خاوند نے اس کے لیے مہر مقرر کیا تھا فَلِوَرَثَتِهَا أَنْ يَأْخُذُوا ذٰلِكَ مِنْ مِيرَاثِهِ تو عورت کے وارثوں کے لیے جائز ہے کہ وہ اس مہرِ مسمیٰ کو لے لیں خاوند کی میراث میں سے۔ یاد رکھو یہ جو مہر ہوتا ہے یہ خاوند کے ذمے دَین ہے، اور دَین کی ادائیگی وراثت جاری کرنے سے پہلے ہوتی ہے۔ وارثوں میں مال بعد میں تقسیم کیا جاتا ہے، پہلے دیون کو ادا کیا جاتا ہے، لہٰذا عورت کا حصہ نکال کر اس کے وارثوں کو دیا جائے گا پھر اس کے بعد خاوند کی میراث تقسیم کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَلِوَرَثَتِهَا أَنْ يَأْخُذُوا ذٰلِكَ مِنْ مِيرَاثِهِ تو عورت کے وارثوں کے لیے جائز ہے کہ وہ اس مہرِ مسمیٰ کو لے لیں خاوند کی میراث میں سے۔ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا فَلَا شَيْءَ لِوَرَثَتِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور اگر خاوند نے بیوی کے لیے مہر مقرر نہیں کیا تھا تو امام صاحب کے نزدیک بیوی کے وارثوں کے لیے کوئی چیز نہیں ہوگی۔ بھئی اگر دونوں نے مہر مقرر نہیں کیا تھا تو پھر کیا آیا کرتا ہے؟ مہرِ مثل، لیکن دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور دونوں کے انتقال کے بعد تو امام صاحب کے نزدیک مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا اس صورت میں بیوی کے وارثوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا، کیونکہ دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور مہرِ مثل پر ہم فیصلہ نہیں کر سکتے۔ تو یہ معنیٰ ہے: وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا اور اگر خاوند نے اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا تھا فَلَا شَيْءَ لِوَرَثَتِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تو کوئی چیز نہیں ہوگی اس عورت کے وارثوں کے لیے امام صاحب کے نزدیک۔ وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: لِوَرَثَتِهَا الْمَهْرُ فِي الْوَجْهَيْنِ کہ عورت کے وارثوں کے لیے مہر ہوگا دونوں صورتوں میں۔ یعنی اگر مسمیٰ مقرر کیا تھا تو مسمیٰ دینا پڑے گا اور اگر مسمیٰ مقرر نہیں کیا تھا تو پھر مہرِ مثل دینا پڑے گا۔ عورت کے وارثوں کو ہر حال میں مہر ملے گا، یا مسمیٰ یا مہرِ مثل بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَا لِوَرَثَتِهَا الْمَهْرُ فِي الْوَجْهَيْنِ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ عورت کے وارثوں کے لیے مہر ہوگا دونوں صورتوں میں۔ یعنی دونوں صورتوں میں، یعنی مہر مقرر کیا ہو یا مقرر نہ کیا ہو۔ مَعْنَاهُ معنیٰ یہ ہے اس کے: الْمُسَمَّى فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ یعنی مسمیٰ ملے گا پہلی صورت میں یعنی جب مہر مقرر کیا تھا، وَمَهْرُ الْمِثْلِ فِي الثَّانِي اور مہرِ مثل ملے گا دوسری صورت میں یعنی جب مہر مقرر نہیں کیا تھا۔ اب بھئی مہرِ مسمیٰ کیوں دیں گے اور مہرِ مثل کیوں دیں گے؟ دلیل آگے ذکر کریں گے، دلیل ظاہر ہے بھئی۔ جب مسمیٰ مقرر کیا تھا تو وہ خاوند کے ذمے دَین ہے بھئی اور دَین کی ادائیگی کی جاتی ہے، لہٰذا خاوند کے مال میں سے وہ دَین دلایا جائے گا عورت کے وارثوں کو۔ اور اگر مہرِ مسمیٰ نہیں تھا تو مہرِ مثل آتا ہے اور مہرِ مثل بھی خاوند کے ذمے دَین ہوتا ہے، لہٰذا اس کی بھی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا الْأَوَّلُ تو پہلا جو ہے یعنی مسمیٰ کیوں دینا پڑے گا اس کی وجہ یہ ہے فَلِأَنَّ الْمُسَمَّى دَيْنٌ فِي ذِمَّتِهِ اس لیے کیونکہ وہ مسمیٰ جو ہے یعنی مہرِ مقررہ جو ہے وہ دَین ہے خاوند کے ذمہ میں، وَقَدْ تَأَكَّدَ بِالْمَوْتِ اور یہ دَین پکا ہو گیا موت کی وجہ سے۔ آپ جانتے ہیں بھئی کہ جب ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے یا تو وہ مہر مقرر کرے گا یا مقرر نہیں کرے گا۔ اگر مقرر کیا ہے تو وہی مہر آجائے گا اور اگر مقرر نہیں کیا تو مہرِ مثل آتا ہے۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا ہے کہ جب مہر مقرر کیا ہے تو جب تک صحبت نہیں کی وہ مہر ابھی پکا نہیں۔ تو صحبت کرنے سے بھی مسمیٰ پکا ہو جاتا ہے سارا دینا پڑے گا اور اگر صحبت سے پہلے خاوند کا یا بیوی کا انتقال ہو جائے تو اس صورت میں بھی وہ سارا مسمیٰ دینا پڑتا ہے۔ کیونکہ جب خاوند یا بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو گیا تو معلوم ہوا نکاح اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ جب نکاح اپنے اختتام کو پہنچ گیا تو نکاح کے سارے احکام اب پکے ہو گئے۔ اب طلاق وغیرہ کی کوئی صورت نہیں۔ توجہ ہے؟ نکاح کیا ہے ابھی صحبت نہیں کی، تو اگر زندگی ہوتی تو پھر تو طلاق دے سکتے تھے اور یہ مسمیٰ آدھا ہو جاتا۔ صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو مسمیٰ آدھا ہو جاتا ہے، لیکن جب خاوند یا بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو گیا ہے تو اب اس مسمیٰ کے آدھا ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے، اب پورا مسمیٰ ہی دینا پڑے گا۔ اور اگر مہرِ مثل آیا تھا یعنی نکاح میں مہر مقرر ہی نہیں کیا تھا تو اس صورت میں بھی اگر خاوند صحبت کر لے تو بھی مہرِ مثل پکا ہو جاتا ہے اور اگر صحبت سے پہلے ہی خاوند یا بیوی کا انتقال ہو جائے تو بھی مہرِ مثل پکا ہو جاتا ہے۔ یہی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: فَلِأَنَّ الْمُسَمَّى دَيْنٌ فِي ذِمَّتِهِ اس لیے کیونکہ مسمیٰ جو ہے وہ دَین ہے خاوند کے ذمہ میں وَقَدْ تَأَكَّدَ بِالْمَوْتِ اور نیز یہ مسمیٰ پکا ہو گیا ہے موت کی وجہ سے، موت کی وجہ سے پکا ہو گیا ہے، فَيُقْضَى مِنْ تَرِكَتِهِ لہٰذا یہ ادا کیا جائے گا خاوند کے ترکے میں سے۔ تَرِكَتِهِ یہ را کے نیچے کسرہ پڑھنا بھی صحیح اور را کو ساکن پڑھنا بھی صحیح ہے، تَرْكَتِهِ اور تَرِكَتِهِ، البتہ را کے نیچے کسرہ پڑھنا اعلیٰ لغت ہے بھئی۔ فَيُقْضَى مِنْ تَرِكَتِهِ لہٰذا یہ دَین ادا کیا جائے گا خاوند کے ترکے میں سے، إِلَّا إِذَا عُلِمَ أَنَّهَا مَاتَتْ أَوَّلًا مگر یہ کہ جب یہ معلوم ہو کہ عورت پہلے مری ہے، عورت کا انتقال پہلے ہوا ہے، فَيَسْقُطُ نَصِيبُهُ مِنْ ذٰلِكَ تو خاوند کا حصہ ساقط ہو جائے گا اس میں سے۔ بھئی دیکھیے میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں۔ اگر خاوند کا پہلے انتقال ہوا ہے تو بیوی اس کی وارثہ بنے گی، اور اگر بیوی کا پہلے انتقال ہوا ہے تو خاوند اس کا وارث بنے گا۔ تو یہاں چار صورتیں بنتی ہیں: یا تو دونوں کا انتقال اکٹھا ہوا ہوگا۔ جب دونوں کا انتقال اکٹھا ہوا ہے تو کوئی بھی ایک دوسرے کا وارث نہیں بنے گا۔ وجہ یہ کہ وارث وہ بنتا ہے جو موت کے وقت زندہ ہو۔ خاوند کا انتقال ہوا اور بیوی زندہ ہے تو بیوی اس کی وارث بنے گی، اگر بیوی کا انتقال پہلے ہی ہو چکا ہے اب تو وہ زندہ ہی نہیں ہے تو وہ وارثہ بھی نہیں بنے گی۔ معلوم ہوا وارث وہ بنتا ہے جو مورث کی موت کے وقت زندہ ہو۔ تو اگر خاوند اور بیوی دونوں کا انتقال اکٹھا ہوا ہے تو اس صورت میں دونوں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔ کیونکہ وارث وہ بنتا ہے جو موت کے وقت زندہ ہو بھئی۔ یا یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا ہے، مثلاً زلزلہ آیا تھا اور کمرہ دونوں پر گرا اور دونوں کا انتقال ہوا، تو ہو سکتا ہے ایک کا انتقال ذرا پہلے ہوا ہو اور ایک کا انتقال ذرا بعد میں ہوا ہو، تو جس کا انتقال بعد میں ہوا ہے وہ وارث بنے گا، لیکن یہاں پتہ ہی نہیں ہے بھئی کس کا انتقال پہلے ہوا ہے، تو لہٰذا اس صورت میں بھی دونوں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔ دونوں کا اگر انتقال اکٹھا ہوا ہے تب بھی وارث ایک دوسرے کے نہیں بنیں گے اور اگر یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ پہلے کس کا انتقال ہوا ہے تو اس صورت میں بھی دونوں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ خاوند کا انتقال پہلے ہوا ہے۔ خاوند کا انتقال پہلے ہوا ہے تو پھر اس صورت میں بیوی اس کی وارثہ بنے گی لیکن وراثت ملنے سے پہلے بیوی کو پورا مہر بھی دلایا جائے گا کیونکہ مہر دَین ہوتا ہے خاوند کے ذمے میں اور دَین وراثت کی تقسیم سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ اور اگر اس کا برعکس ہوا بیوی کا پہلے انتقال ہوا ہے، تو اس صورت میں خاوند اس کا وارث بنے گا۔ جب خاوند اس کا وارث بن رہا ہے تو بیوی کو مہر ادا تو کرنا ہی ہے، وہ دَین تھا خاوند کے ذمے میں، وہ خاوند کے ذمے دَین ہے، لیکن بیوی کا پہلے انتقال ہوا تو خاوند اس کا وارث بن گیا۔ معلوم ہوا عورت کے مال میں خاوند کا حق آگیا، تو جب بیوی کا پہلے انتقال ہوا ہو تو خاوند اس کا وارث بنتا ہے۔ جب وارث بنتا ہے تو جو حصہ خاوند کا بنتا تھا وہ دَین میں سے کم ہو جائے گا۔ مثلاً مہر تھا دو ہزار، بیوی کا پہلے انتقال ہو گیا تو خاوند اس کا وارث بن گیا، اور عورت کے مال میں سے جب حساب لگایا گیا تو خاوند کا حصہ پانچ سو درہم بن رہا ہے، تو خاوند کا حصہ پانچ سو درہم اس مہر میں سے کم کر دیں گے۔ بیوی کے وارثوں کو کتنا دینا تھا؟ دو ہزار دینا تھا مہر کا، لیکن اس میں سے پانچ سو کس کا حصہ بنتا ہے؟ نئی توجہ! نئی توجہ! بھئی صورت یہ ہے نا، بیوی کا پہلے انتقال ہوا ہے، بیوی کا چاہے پہلے انتقال ہو یا بعد میں انتقال ہو مہر ادا کرنا ہے اس کے وارثوں کو، تو مہر تو بیوی کے وارثوں کو ادا کرنا ہے لیکن جب بیوی پہلے مری ہے تو خاوند اس کا وارث بنا ہے، تو بیوی کے مال میں خاوند کا بھی حصہ آگیا، تو خاوند کا حصہ وصول کر لیا جائے گا، وہ کاٹ لیا جائے گا اور باقی کا مہر بیوی کے وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ بیان کر رہے ہیں: إِلَّا إِذَا عُلِمَ أَنَّهَا مَاتَتْ أَوَّلًا مگر جب یہ معلوم ہو کہ عورت پہلے مری ہے فَيَسْقُطُ نَصِيبُهُ مِنْ ذٰلِكَ تو خاوند کا حصہ جو ہے یعنی وراثت میں جو خاوند کا حصہ بنتا تھا وہ ساقط ہو جائے گا اس مہر میں سے۔ صورت بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ وَأَمَّا الثَّانِي اور دوسری صورت جو ہے، یعنی صاحبین کیا فرماتے تھے؟ میاں بیوی دونوں کا انتقال ہو چکا ہے تو بھی صاحبین فرماتے ہیں بیوی کے وارثوں کو مہر ضرور ملے گا بھئی۔ اگر مسمیٰ تھا تو مسمیٰ مل جائے گا اگر مسمیٰ نہیں تھا تو پھر مہرِ مثل مل جائے گا۔ تو مسمیٰ کیوں ملے گا وہ وجہ بیان کر دی کیونکہ وہ خاوند کے ذمے دَین ہے۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں مہرِ مثل کیوں ملے گا؟ اگر مسمیٰ نہیں تھا تو پھر کیا ملے گا بیوی کے وارثوں کو؟ مہرِ مثل۔ اب اس کی وجہ، تو کہتے ہیں: وَأَمَّا الثَّانِي اور جو دوسرا ہے یعنی مہرِ مثل جو ہے فَوَجْهُ قَوْلِهِمَا تو اس میں صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے أَنَّ مَهْرَ الْمِثْلِ صَارَ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِ كَالْمُسَمَّى کہ مہرِ مثل بھی وہ دَین ہو گیا ہے خاوند کے ذمے میں جیسے مسمیٰ تھا، فَلَا يَسْقُطُ بِالْمَوْتِ تو لہٰذا یہ دَین بھی ساقط نہیں ہوگا موت کی وجہ سے، كَمَا إِذَا مَاتَ أَحَدُهُمَا جیسے دونوں میں سے کوئی ایک مر جائے۔ جیسے دونوں میں سے کوئی ایک مرتا ہے تو اس صورت میں بھی وہ مہرِ مثل ساقط نہیں ہوتا، دونوں کے مرنے سے بھی وہ مہرِ مثل ساقط نہیں ہوگا، وہ دَین ہے، وہ خاوند کے مال میں سے لے کر بیوی کے وارثوں کو دلایا جائے گا۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اب امام صاحب کی بات آگئی۔ امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ جب دونوں کا انتقال ہو جائے تو مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں۔ وجہ کیا؟ وجہ یہ، امام صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی دیکھو، مہرِ مثل کا پتہ کس سے چلایا جاتا ہے؟ اسی جیسی عورت کے ذریعے۔ اسی جیسی عورت کے ذریعے مہر کا پتہ چلایا جاتا ہے، اور جب میاں اور بیوی دونوں کا انتقال ہو چکا ہے، جب دونوں کا انتقال ہوا ہے معلوم ہوا زمانہ گزر چکا ہے، اب قاضی مہرِ مثل کا پتہ کیسے چلائے گا بھئی؟ مہرِ مثل کا پتہ کیسے چلاتے ہیں؟ اسی جیسی عورت کے ساتھ اندازہ لگایا جاتا ہے۔ تو جب یہ خاوند اور بیوی دونوں مر چکے ہیں تو معلوم ہوا ان کے جو ہم عمر ہیں وہ بھی مر گئے ہوں گے، جب ان کے ہم عمر بھی مر چکے ہیں تو اب مہرِ مثل کا اندازہ کس سے لگائے گا قاضی بھئی؟ مہرِ مثل کا اندازہ لگانے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، لہٰذا اس لیے مہرِ مثل ساقط ہے بھئی۔ بھئی یہ تو آج کل ہے، اچانک ایکسیڈنٹ ہوتا ہے حادثہ ہوتا ہے میاں بیوی کا اکٹھا انتقال ہو گیا جوانی کے اندر ہی، قدیم زمانے میں تو اس طرح حادثات نہیں ہوتے تھے بھئی، تو وہاں پر اگر حادثہ ہوا بھی بیوی یا خاوند میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا تھا دوسرا تو زندہ رہتا تھا بھئی، تو لہٰذا خاوند کا بھی جب انتقال ہوگا بوڑھا ہو جانے کے بعد تو پھر تو کافی عرصہ گزر گیا، جب خاوند بھی مر چکا بیوی بھی مر چکی معلوم ہوا ان کے ہم عمر بھی سارے مر چکے ہیں، تو اب قاضی مہرِ مثل کا اندازہ کس طرح لگائے گا بھئی؟ تو اب مہرِ مثل کا اندازہ لگانے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، لہٰذا اس لیے دونوں کے مرنے کے بعد مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں۔ قاضی اس کا اندازہ لگا ہی نہیں سکتا، کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ ہاں اگر مہرِ مثل کا اندازہ لگانے کی صورت ہو تو پھر اس صورت میں مہرِ مثل کا اعتبار کیا جائے گا۔ جیسے مثلاً میں نے صورت ذکر کر دی کہ زلزلہ آیا اور چھت گر گئی اور خاوند اور بیوی کا انتقال ہو گیا تو اب ان کے ہم عمر تو ابھی زندہ ہیں تو ابھی تو مہرِ مثل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو جب مہرِ مثل کا اندازہ لگایا جا سکے تو پھر اعتبار کیا جائے گا، لیکن اگر مہرِ مثل کا اندازہ لگانے کی کوئی صورت نہیں تو پھر اس صورت کے اندر بیوی کے وارثوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا بھئی۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے أَنَّ مَوْتَهُمَا يَدُلُّ عَلَى انْقِرَاضِ أَقْرَانِهِمَا کہ ان دونوں کی موت دلالت کرتی ہے عَلَى انْقِرَاضِ، انقراض بھئی قاف ہے دو نقطوں والا اور ضاد، انقراض کہتے ہیں گزر جانا، ختم ہو جانا۔ اور اقران کہتے ہیں ہم عمر بھئی۔ کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں أَنَّ مَوْتَهُمَا کہ ان دونوں کی موت جو ہے يَدُلُّ عَلَى انْقِرَاضِ أَقْرَانِهِمَا یہ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ان دونوں کے ہم عمر ختم ہو چکے ہیں، وہ صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں، وہ ختم ہو گئے ہیں، فَبِمَهْرِ مَنْ يُقَدِّرُ الْقَاضِي مَهْرَ الْمِثْلِ؟ تو کس کے مہر کے ذریعے قاضی مہرِ مثل کا اندازہ لگائے گا؟ یہ سوال پوچھ رہے ہیں، یعنی اب مہرِ مثل کا اندازہ لگانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں کہ ان دونوں کی موت جو ہے ان کے ہم عمروں کے ختم ہو جانے پر دلالت کر رہی ہے فَبِمَهْرِ مَنْ يُقَدِّرُ الْقَاضِي مَهْرَ الْمِثْلِ تو کس کے مہر کے ساتھ قاضی مہرِ مثل کا اندازہ لگائے گا؟ ہم عمر تو سارے ختم ہو چکے ہیں، تو مہرِ مثل کا اندازہ لگانے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے دونوں کی موت کے بعد مہرِ مثل کا کوئی اعتبار نہیں۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ بَعَثَ إِلَى امْرَأَتِهِ شَيْئًا فَقَالَتْ هُوَ هَدِيَّةٌ وَقَالَ الزَّوْجُ هُوَ مِنَ الْمَهْرِ فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ۔ یاد رکھو بھئی خاوند بیوی کو مہر کی ادائیگی کرتا ہے اور کوئی چیز وغیرہ اس کو مہر کی نیت سے دیتا ہے تو خاوند کے لیے بتلانا ضروری نہیں۔ خاوند کے لیے بیوی کو بتلانا ضروری نہیں ہے، ویسے بھی مہر کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا اب صورت یہ، ایک شخص نے بیوی کو کوئی تحفہ وغیرہ بھجوایا اور بعد میں خاوند کہتا ہے یہ تو میں نے تمہیں مہر میں سے دیا تھا اور بیوی کہتی ہے نہیں یہ تم نے مجھے ویسے تحفے کے طور پر دیا تھا، تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہے، کیونکہ خاوند چیز دینے والا ہے اس کو زیادہ علم ہے کہ اس نے کس نیت سے یہ چیز دی تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ بَعَثَ إِلَى امْرَأَتِهِ شَيْئًا اور جس نے اپنی بیوی کی طرف کوئی چیز بھیجی فَقَالَتْ هُوَ هَدِيَّةٌ تو وہ عورت کہتی ہے کہ یہ ہدیہ ہے، تحفہ ہے، وَقَالَ الزَّوْجُ هُوَ مِنَ الْمَهْرِ اور خاوند کہتا ہے کہ یہ مہر میں سے ہے یعنی یہ مہر میں سے تھا، فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ تو قول جو ہے خاوند کا معتبر ہے یعنی قسم کے ساتھ، لِأَنَّهُ هُوَ الْمُمَلِّكُ اس لیے کیونکہ خاوند اس کو مالک بنانے والا ہے، فَكَانَ أَعْرَفَ بِجِهَةِ التَّمْلِيكِ تو وہ زیادہ جاننے والا ہے مالک بنانے کی جہت کو کہ اس نے کس اعتبار سے مالک بنایا ہے، تحفے کے طور پر مالک بنایا ہے یا مہر کے طور پر مالک بنایا ہے، وہ زیادہ جانتا ہے۔ كَيْفَ اور کیسے یعنی خاوند کے قول کا اعتبار نہیں کیا جائے گا وَأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ يَسْعَى فِي إِسْقَاطِ الْوَاجِبِ؟ اور ظاہر یہی ہے کہ وہ اپنے سے واجب کے ساقط کرنے میں کوشش کرے گا۔ بھئی دیکھیے ایک شخص کے ذمے ایک واجب ہو تو اس کی اولین کوشش یہ ہوتی ہے کہ میرے ذمے سے واجب ساقط ہو جائے۔ تو اب خاوند بیوی کو ایک چیز دے رہا ہے اس میں دو جہتیں ہو سکتی ہیں: ہو سکتا ہے یہ ویسے ہی تحفے کے طور پر دے رہا ہو یعنی تبرعاً ہو، میں نے بتایا تھا التبرع اسے کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے کسی کو کوئی چیز دینا یعنی جو اس پر لازم نہ ہو بھئی۔ تو لہٰذا خاوند بیوی کو کوئی چیز دیتا ہے تو اس میں تبرع کا بھی احتمال ہے اور اس کے اندر واجب کی ادائیگی کا بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے خاوند کے ذمے جو مہر واجب ہے وہ اس کی ادائیگی کر رہا ہو۔ اور مجھے بتائیے، ایک شخص جس کے ذمے کوئی چیز واجب ہو اس کی اولین کوشش کیا ہوگی کہ وہ واجب کو ادا کرے یا تبرعاً ایک چیز دوسرے کو دے؟ واجب کی، وہ کوشش کرے گا کہ میرے ذمے سے واجب ساقط ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے، کہتے ہیں: فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ خاوند کا قول معتبر ہے یعنی قسم کے ساتھ لِأَنَّهُ هُوَ الْمُمَلِّكُ کیونکہ خاوند جو ہے وہ اس عورت کو مالک بنا رہا ہے، فَكَانَ أَعْرَفَ بِجِهَةِ التَّمْلِيكِ تو وہ زیادہ جاننے والا ہے مالک بنانے کی جہت کو کہ وہ کس اعتبار سے مالک بنا رہا ہے، كَيْفَ اور کیسے خاوند کے قول کا اعتبار نہیں کیا جائے گا وَأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ يَسْعَى فِي إِسْقَاطِ الْوَاجِبِ اور ظاہر یہی ہے کہ وہ واجب کو اپنے سے ساقط کرنے کی کوشش کرے گا بھئی۔ ظاہر یہی ہے کہ جب اس کے ذمے ایک واجب ہے تو وہ واجب کو اپنے سے ساقط کرنے کی کوشش کرے گا۔ قَالَ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: إِلَّا فِي الطَّعَامِ الَّذِي يُؤْكَلُ مگر اس طعام کے اندر جس کو کھایا جاتا ہے فَإِنَّ الْقَوْلَ قَوْلُهَا اس کے اندر عورت کا قول معتبر ہے بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر خاوند نے بیوی کو ایسی چیز تحفے میں دی ہے جس کو کھایا جاتا ہے یعنی وہ زیادہ دیر رہتی نہیں، مثلاً عمدہ قسم کا خاوند نے کھانا تیار کر کے بیوی کو بھجوایا ہے تو پھر اس صورت میں اس کو مہر میں شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ مہر تو ایسا ہو جس میں کچھ تو بقا ہو، کچھ دیر تو وہ رہ سکے، اور یہ کھانا، کھانا تو چند گھنٹوں کے اندر ہی خراب ہو جائے گا اگر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تو اس طرح کی چیز جو فوری خراب ہونے والی ہے مثلاً کھانا وغیرہ ہے، اگر یہ خاوند نے بیوی کو بھجوایا ہے اور بعد میں کہتا ہے یہ تو میں نے مہر کی ادائیگی کے طور پر یہ اعلیٰ قسم کا کھانا بھجوایا تھا، تو نہیں، اب خاوند کے یہاں قول کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ عورت کا قول معتبر ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا فِي الطَّعَامِ الَّذِي يُؤْكَلُ مگر اس کھانے کے اندر جس کو کھایا جاتا ہے فَإِنَّ الْقَوْلَ قَوْلُهَا اس کے اندر عورت کا قول معتبر ہے۔ وَالْمُرَادُ مِنْهُ اور یہ جو طعام پیچھے ذکر، بھئی یاد رکھو طعام عربی زبان میں گندم کو بھی کہتے ہیں۔ یہ جو غلہ ہے گندم اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ طعام کہتے ہیں۔ تو آگے صاحبِ ہدایہ معنیٰ بیان کر رہے ہیں کہ یہ جو پیچھے طعام ذکر ہوا: إِلَّا فِي الطَّعَامِ الَّذِي يُؤْكَلُ، اس سے گندم وغیرہ مراد نہیں ہے، گندم کو تو بڑے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے بھئی، تو اس سے مراد وہ کھانا ہے جس کو کھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے بھئی، جو چند گھنٹوں میں ہی خراب ہو جائے گا اگر نہیں استعمال کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ مِنْهُ اور اس طعام سے مراد مَا يَكُونُ مُهَيَّأً لِلْأَكْلِ وہ ہے جس کو تیار کیا گیا ہو کھانے کے لیے، لِأَنَّهُ يُتَعَارَفُ هَدِيَّةً اس لیے کیونکہ اس قسم کا کھانا وہ متعارف ہے بطورِ ہدیے کے۔ اس طرح کا کھانا تحفے کے طور پر دیا جاتا ہے، مہر کے طور پر نہیں دیا جاتا۔ فَأَمَّا فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ لِمَا بَيَّنَّا ہاں اگر گندم یا جو وغیرہ خاوند نے بھجوائی ہے، اب گندم اور جو یہ تو بڑے عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہے، تو اس کے اندر پھر خاوند کا قول معتبر ہے، اور اگر وہ کہتا ہے یہ میں نے بطورِ مہر کے دیے تھے تو ان کو مہر ہی میں سے شمار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَأَمَّا فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ باقی گندم اور جو کے اندر فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ تو خاوند کا قول معتبر ہے لِمَا بَيَّنَّا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ خاوند کے ذمے ایک واجب موجود ہے وہ کوشش کرے گا کہ میرے ذمے سے یہ واجب ساقط ہو جائے بھئی۔ وَقِيلَ اور کہا گیا ہے: مَا يَجِبُ عَلَيْهِ مِنَ الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ وَغَيْرِهِ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْتَسِبَهُ مِنَ الْمَهْرِ۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ چیزیں جو خاوند پر واجب ہیں، مثلاً خاوند پر بیوی کا خرچہ بھی واجب ہے، کھانے پینے کا اس کا انتظام خاوند کرے گا، نیز بیوی کے کپڑے وغیرہ کا انتظام بھی خاوند کے ذمے ہے۔ اب اگر خاوند بیوی کو کپڑے وغیرہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے یہ میں نے مہر میں سے دیے تھے تو اگر یہ اسی طرح کے کپڑے، عام کپڑے ہیں جو خاوند کے ذمے بنتے ہیں تو پھر اس کو مہر میں سے شمار نہیں کریں گے۔ یہ تو ویسے بھی خاوند کے ذمے تھے بھئی کہ بیوی کے کپڑوں کا انتظام بھی کس کے ذمے ہے؟ خاوند کے ذمے ہے، لہٰذا ان کو مہر میں سے شمار نہیں کریں گے۔ ہاں اگر خاوند نے کوئی بہت اعلیٰ لباس اس کو دے دیا کہ عام طور پر اس طرح کا لباس خاوند کے ذمے نہیں واجب ہوتا، تو اس کو خاوند اگر مہر میں سے شمار کرنا چاہے تو شمار کر سکتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا آج کل بیوی کو کوئی قیمتی موبائل وغیرہ لے کر دیتے ہیں تو وہ تو خاوند کے ذمے واجب نہیں ہے، خاوند اس کو مہر میں سے شمار کر سکتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ وَقِيلَ اور کہا گیا ہے مَا يَجِبُ عَلَيْهِ کہ وہ چیز جو خاوند پر واجب ہے مِنَ الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ وَغَيْرِهِ یعنی کہ دوپٹہ، وَالدِّرْعِ، دِرْعٌ لمبی قمیص کو کہتے ہیں جیسے عرب عورتیں پہنتی ہیں بھئی، تو کہتے ہیں: مَا يَجِبُ عَلَيْهِ مِنَ الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ وَغَيْرِهِ وہ چیز جو خاوند پر واجب ہے جیسے دوپٹہ ہے اور لمبی قمیص وغیرہ ہے لَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْتَسِبَهُ مِنَ الْمَهْرِ تو خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو مہر میں سے شمار کرے، لِأَنَّ الظَّاهِرَ يُكَذِّبُهُ اس لیے کیونکہ ظاہرِ حال خاوند کو جھٹلا رہا ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں تو اس پر خاوند پر ویسے ہی واجب تھیں بھئی کہ بیوی کے لیے کپڑوں کا انتظام کرے، لہٰذا اس کو مہر میں شمار کرنا اس کے لیے جائز نہیں۔ یہ معنیٰ ہے تو کہتے ہیں: لَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْتَسِبَهُ مِنَ الْمَهْرِ خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان عام کپڑوں کو مہر میں سے شمار کرے لِأَنَّ الظَّاهِرَ يُكَذِّبُهُ اس لیے کیونکہ ظاہرِ حال خاوند کو جھٹلا رہا ہے، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 35 of 160