Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-033

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 65
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا ضَمِنَ الْوَلِيُّ الْمَهْرَ صَحَّ ضَمَانُهُ لِأَنَّهُ أَهْلٌ لِلِالْتِزَامِ وَقَدْ أَضَافَهُ إِلَى مَا يَقْبَلُهُ فَيَصِحُّ، ثُمَّ الْمَرْأَةُ بِالْخِيَارِ فِي مُطَالَبَتِهَا زَوْجَهَا أَوْ وَلِيَّهَا اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْكَفَالَاتِ، وَيَرْجِعُ الْوَلِيُّ إِذَا أَدَّى عَلَى الزَّوْجِ إِنْ كَانَ بِأَمْرِهِ كَمَا هُوَ الرَّسْمُ فِي الْكَفَالَةِ“۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے نکاحِ فاسد کے بارے میں پڑھا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ نکاحِ فاسد کہیں یا نکاحِ باطل کہیں دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ بیع کے اندر فرق ہے؛ بیعِ باطل اور ہوتی ہے، بیعِ فاسد اور۔ بیعِ باطل وہ ہے جو ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہ ہو، یعنی مبیعہ مال ہی نہ ہو، اور جبکہ بیعِ فاسد وہ ہے جو ذات کے اعتبار سے تو صحیح ہے یعنی مبیعہ تو مال ہے، البتہ کوئی ایسی شرط لگا دی جس کی وجہ سے بیع میں فساد آ گیا۔ اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ نکاحِ فاسد کا شرعاً کوئی حکم نہیں ہے، یہ کالعدم ہے، اس کا اعتبار ہی نہیں ہے، تو کوئی حکم بھی نہیں۔ ہاں البتہ اگر خاوند صحبت کر لے گا پھر احکام آ جائیں گے۔ اس صورت میں خاوند کو مہر بھی دینا پڑے گا کیونکہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر کوئی بھی وطی حد یا مہر سے خالی نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا یہاں حد تو نہیں آئے گی کیونکہ دونوں کا خیال ہے کہ ہمارا تو نکاح ہو چکا ہے، تو شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی اور البتہ مہر آ جائے گا۔ تو نکاحِ فاسد کا ویسے کوئی حکم نہیں لیکن جب صحبت کر لی جائے پھر مہر بھی دینا پڑے گا اور اس عورت پر جدائی کے بعد عدت بھی واجب ہو گی اور نیز اگر اس وطی کی وجہ سے عورت حاملہ ہو گئی تو جو بچہ پیدا ہو گا اس کا نسب بھی اس شخص سے ثابت ہو جائے گا، یہ اسی شخص کا بیٹا شمار ہو گا یعنی ولد الزنا اس کو شمار نہیں کیا جائے گا بھئی۔ اور نکاحِ صحیح میں تو آپ نے پڑھا تھا کہ خلوتِ صحیحہ پائی جائے تو یہ بھی صحبت کے قائم مقام ہے اور اس کی وجہ سے بھی پورا مہر پھر خاوند پر واجب ہو جاتا ہے، لیکن نکاحِ فاسد کے اندر اگر خلوت پائی جائے تو اس کی وجہ سے بھی مہر واجب نہیں ہو گا، مہر صرف صحبت سے واجب ہو گا۔ وجہ یہ کہ یہ جو نکاحِ فاسد کے اندر خلوت پائی گئی ہے یہ خلوتِ فاسدہ ہے، اس لیے کیونکہ یہاں مانع موجود ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ یہ عورت اس شخص کے لیے ابھی بھی حلال نہیں۔ تو جب مانع موجود ہے تو یہ شخص اس عورت پر شرعاً وطی پر قادر ہی نہیں ہے۔ نکاحِ صحیح کے اندر تو کوئی مانع نہیں ہوتا تھا تو خاوند کو وطی پر قادر شمار کرتے ہوئے اس خلوت کو وطی والا ہی حکم دے دیا جاتا تھا کہ خاوند وطی پر قادر ہے لہٰذا یہ وطی ہی کے حکم میں ہے، جبکہ یہاں پر تو خاوند وطی پر قادر ہی نہیں کیونکہ یہ عورت اس کے لیے حلال ہی نہیں لہٰذا یہ خلوت یہ وطی کے قائم مقام بھی نہیں، اس کی وجہ سے بھی مہر واجب نہیں ہو گا جب تک خاوند صحبت نہ کر لے۔ اور پھر اگر نکاحِ فاسد کے اندر خاوند نے عورت سے صحبت کر لی تو پھر وہاں مہر آئے گا اور ہمارے فقہاء فرماتے ہیں مہرِ مثل آئے گا۔ وہ جو مہر نکاح میں مقرر کیا تھا اس کا کوئی اعتبار نہیں، وجہ یہ کہ یہ نکاح فاسد ہے، جب نکاح کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں تو وہ جو مہرِ مسمیٰ تھا جو انہوں نے آپس میں طے کیا تھا اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ تو عورت کو مہرِ مثل ملے گا۔ البتہ یہ مہرِ مثل اس مسمیٰ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے جو انہوں نے آپس میں طے کیا تھا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کو مہرِ مثل ملے گا جتنا بھی مہرِ مثل بنتا ہو چاہے مسمیٰ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس نکاحِ فاسد کو قیاس کرتے ہیں بیعِ فاسد پر۔ اور بیعِ فاسد میں نے آپ کو بتلایا وہ بیع ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے تو صحیح ہے یعنی مبیعہ مال تو ہے لیکن ساتھ کوئی اور ایسی شرط وغیرہ لگا دی جس میں بائع یا مشتری میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو رہا ہے تو اس صورت میں یہ بیع فاسد ہو جائے گی۔ مثلاً بائع نے گاڑی دوسرے شخص کو فروخت کی اور کہا کہ چند دن کے بعد میں یہ گاڑی تمہارے حوالے کروں گا کیونکہ چند دن مجھے اس گاڑی کی ضرورت ہے، تو جب اس طرح کی شرط بیع میں لگا دی تو بیع فاسد ہو گئی، وجہ یہ کہ بیع ہوتے ہی مشتری مبیعہ کا مالک بن گیا تو اب یہ تقاضا کرتا ہے کہ مبیعہ فوراً مشتری کے حوالے کرنا چاہیے لیکن یہ شرط لگا رہا ہے کہ کچھ عرصہ اپنے پاس ہی گاڑی رکھے گا تو یہ بیع فاسد ہوئی۔ اور یاد رکھو عام بیع کے اندر جیسے ہی بیع ہوتی ہے جیسے ہی ایجاب و قبول ہوتا ہے مشتری مبیعہ کا مالک بن جاتا ہے لیکن بیعِ فاسد چونکہ فاسد بیع ہے اس میں ایجاب اور قبول کرنے سے مشتری مبیعہ کا مالک نہیں بنتا۔ ہاں جب مشتری اس مبیعہ پر بائع کی رضامندی سے قبضہ کر لے گا پھر مشتری اس کا مالک بن جائے گا۔ لیکن بہرحال یہ بیع شرعاً فاسد ہے تو دونوں پر اس بیع کو توڑنا واجب ہے ورنہ دونوں گناہگار ہوں گے۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھنا بیعِ فاسد کے اندر مشتری پر ثمن نہیں آتے بلکہ اس کو اس چیز کی قیمت دینا پڑے گی، وجہ یہ کہ ثمن تو تب آتے اگر بیع کا اعتبار ہوتا لیکن اس بیع کا تو اعتبار ہی نہیں ہے لہٰذا گویا ثمن ذکر ہی نہیں ہوئے، جب ثمن ذکر ہی نہیں ہوئے تو اب اس چیز کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے بیعِ فاسد کے اندر ثمن نہیں آتے بلکہ جتنی بھی اس چیز کی قیمت ہوتی ہے وہ مشتری پر واجب ہوتی ہے چاہے وہ ثمن سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، تو یہاں پر بھی نکاحِ فاسد کے اندر نکاحِ فاسد کے اندر مہرِ مثل ہی آئے گا چاہے یہ مسمیٰ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ جبکہ ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اگر مہرِ مثل مسمیٰ سے زیادہ ہے تو زیادہ نہیں دیں گے۔ چنانچہ پھر اس کی تقریر کرتے ہیں بعض شارحین فرماتے ہیں کہ نکاحِ فاسد کے اندر جو مسمیٰ ہے، وہ جو مہر مقرر کیا تھا ان دونوں نے آپس میں، بعض اعتبار سے اس کا اعتبار کیا جائے گا اور بعض اعتبار سے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ اگر مہرِ مثل اس مسمیٰ سے کم ہے تو پھر مسمیٰ کا اعتبار نہیں کریں گے وہ جو کم مہرِ مثل ہے وہی دے دیں گے۔ مثلاً مسمیٰ تھا ہزار اور مہرِ مثل ہے پانچ سو، تو پانچ سو ہی دے دیں گے مسمیٰ کا کوئی اعتبار نہیں۔ لیکن اگر مہرِ مثل مسمیٰ سے زیادہ ہے تو پھر مسمیٰ کا اعتبار کریں گے، مثلاً مہرِ مثل ہے دو ہزار اور مسمیٰ ہے ایک ہزار، تو اب مسمیٰ کا اعتبار کریں گے اور ایک ہزار سے جو زائد مہرِ مثل بن رہا ہے وہ نہیں دیں گے، عورت کو ایک ہزار درہم ہی دے دیں گے۔ معلوم ہوا بعض اعتبار سے مسمیٰ کا اعتبار ہے یعنی اگر مہرِ مثل اس سے زیادہ بن رہا ہو تو مسمیٰ کا اعتبار کریں گے اور زیادہ نہیں دیں گے، اور اگر مہرِ مثل مسمیٰ سے کم ہے تو پھر مسمیٰ کا کوئی اعتبار نہیں وہ مہرِ مثل جو تھوڑا ہے وہی دے دیں گے۔ تو بعض شارحین کیا فرماتے ہیں کہ نکاحِ فاسد میں بعض اعتبار سے مسمیٰ کا اعتبار ہے، بعض اعتبار سے مسمیٰ کا اعتبار نہیں، جبکہ بعض دیگر شارحین فرماتے ہیں کہ نہیں حق یہ ہے کہ نکاحِ فاسد میں مسمیٰ کا اعتبار نہیں ہے کسی بھی اعتبار سے۔ کسی بھی اعتبار سے نکاحِ فاسد میں مسمیٰ کا اعتبار نہیں ہے۔ تو ان پر اشکال ہوتا ہے کہ اگر مہرِ مثل مسمیٰ سے زیادہ ہو تو وہ زیادہ نہیں دیا جاتا عورت کو، معلوم ہوا مسمیٰ کا اعتبار کیا جا رہا ہے، تو وہ کہتے ہیں نہیں مسمیٰ کا اعتبار نہیں ہے بلکہ یہاں جب عورت نے خود مثلاً ایک ہزار ذکر کیا اور مہرِ مثل بنتا ہے دو ہزار، تو معلوم ہوا عورت نے خود ہی اپنے مہرِ مثل میں کمی کر دی ہے اور کمی ایک شخص پر ہی پوری ہو جاتی ہے، تو یہاں پر بھی جو مسمیٰ سے زیادہ خاوند کو نہیں دیں گے وہ اس وجہ سے نہیں کہ ہم نے مسمیٰ کا اعتبار کیا ہے، وہ اس وجہ سے کہ عورت خود زائد میں کمی کرنے پر راضی ہو چکی ہے، تو اس رضامندی کی وجہ سے جو ہے زائد عورت کو نہیں ملے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور امام زفر رحمہ اللہ نے نکاحِ فاسد کو قیاس کیا تھا بیعِ فاسد پر اور بیعِ فاسد میں جتنی قیمت ہوتی ہے وہ دینا پڑتی ہے تو نکاحِ فاسد میں بھی جتنا مہرِ مثل ہو گا اتنا مہر دینا پڑے گا یہ امام زفر فرماتے ہیں، تو اس کا بھی جواب دیتے ہیں کہ بھئی نکاحِ فاسد میں وہ جو مبیعہ ہے وہ مال ہے، اس کی قیمت ہے، بازار میں مارکیٹ میں باقاعدہ اس کی کوئی نہ کوئی قیمت ہو گی، تو اس لیے وہاں پر اس کی قیمت آئے گی بھئی۔ جبکہ نکاح کے اندر جو ہے عورت منافعِ بضعہ حوالے کرتی ہے اور منافعِ بضعہ جو ہے ان کی تو کوئی قیمت نہیں ہے، نکاح کے اندر جب مہر مقرر کیا جاتا ہے پھر منافعِ بضعہ کی قیمت آتی ہے ورنہ تو فی ذاتہٖ منافعِ بضعہ مال نہیں ہیں بھئی۔ بیعِ فاسد میں مبیعہ مال تھا اور یہاں نکاحِ فاسد میں منافعِ بضعہ مال نہیں ہے تو لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس عورت پر عدت بھی واجب ہو گی جس کے ساتھ خاوند نے نکاحِ فاسد کی وجہ سے وطی کر لی ہے۔ عدت بھی واجب ہو گی، یہاں پر شبہۂ نکاح کو بھی حقیقتِ نکاح کے ساتھ ملایا جائے گا اور حقیقتِ نکاح کے اندر تو عدت آتی ہے جب جدائی ہو تو لہٰذا شبہۂ نکاح کے اندر بھی جب جدائی ہو تو عدت آئے گی بھئی۔ اور یہ بچے کے نسب کو اشتباہ سے بچانے کے لیے یہ بطورِ احتیاط کے عدت واجب کی جائے گی اور اس عدت کی ابتدا جب دونوں میں جدائی کروا دی جائے گی یا جب دونوں آپس میں جدائی اختیار کر لیں گے اس وقت سے عدت کو شمار کیا جائے گا، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آخری وطی جب خاوند نے کی تھی اس وقت سے عدت کو شمار کیا جائے گا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ صحیح قول یہی ہے کہ جب جدائی آ جائے گی تو پھر جدائی کے وقت سے اس عدت کو شمار کیا جائے گا کیونکہ نکاحِ صحیح میں جب جدائی آتی ہے تب عدت کو شمار کیا جاتا ہے تو نکاحِ فاسد میں بھی جب جدائی آئے گی تو پھر عدت کو شمار کیا جائے گا۔ اور نیز بتلایا تھا کہ اس بچے کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا اس لیے کیونکہ نسب کے ثابت کرنے میں احتیاط کی جاتی ہے تاکہ بچے کو زندگی مل جائے بھئی، وہ بچہ ضائع نہ ہو بھئی۔ تو بطورِ احتیاط کے وہ نکاحِ فاسد جو من وجہٍ ثابت ہے بعض اعتبار سے ثابت ہے کہ انہوں نے ایجاب اور قبول کیا ہے تو اس پر بھی یہ نسب مرتب ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر اس مدتِ نسب کا اعتبار کب سے کیا جائے گا؟ تو بتلایا کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نکاحِ صحیح کے اندر مدتِ نسب کا اعتبار نکاح کے وقت سے کیا جاتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کم سے کم چھ ماہ کی مدت میں ایک عورت صحیح سلامت بچے کو جنم دے سکتی ہے تو کم سے کم مدتِ حمل چھ ماہ ہے۔ تو اگر کسی شخص نے کسی عورت سے صحیح نکاح کیا اور چھ ماہ کے پورا ہونے پر بچہ پیدا ہوا تو پھر یہ بچہ اسی شخص کا شمار ہو گا اور اگر اس سے پہلے پیدا ہوا بچہ تو پھر یہ بچہ اس شخص کا شمار نہیں ہو گا۔ تو یہ نکاحِ صحیح کے اندر تو مدتِ نسب کا اعتبار نکاح سے ہے لہٰذا نکاحِ فاسد کے اندر بھی وہ فرماتے ہیں مدتِ نسب کا اعتبار نکاح سے کیا جائے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں صحبت کے وقت سے کیا جائے گا جب خاوند نے بیوی سے وطی کی تھی، اس وقت سے شمار کریں گے وقت کو۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے، وجہ یہ کہ نکاحِ صحیح جو ہے وہ داعی الی الوطی ہے، وہ وطی کی طرف لے جانے والا ہے کیونکہ مرد جانتا ہے یہ عورت میرے لیے حلال ہو چکی ہے بھئی۔ تو نکاحِ صحیح تو داعی الی الوطی ہے لہٰذا اس نکاحِ صحیح کو ہی ہم نے وطی کے قائم مقام کر دیا اور اسی سے مدتِ نسب شمار کر لی۔ لیکن نکاحِ فاسد تو ایسا نہیں ہے، نکاحِ فاسد تو داعی الی الوطی نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے عورت اس آدمی کے لیے حلال نہیں، تو جب نکاحِ فاسد داعی الی الوطی نہیں تو اس کو وطی کے قائم مقام بھی نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا وطی سے ہی مدتِ نسب کا اعتبار کیا جائے گا، یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ اس کے بعد بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ مہرِ مثل کے اندر عورت کے جو خاندان کی عورتیں ہیں یعنی اس کے باپ کے خاندان کی جو عورتیں ہیں ان کے ساتھ اس کے مہرِ مثل کا اندازہ لگایا جائے گا جیسے اس کی بہنیں ہیں یا اس کی پھوپھیاں ہیں یا اس کے چچا کی بیٹیاں وغیرہ ہیں۔ جبکہ ماں اور خالہ کے ساتھ اس کے مہرِ مثل کا اندازہ نہیں لگایا جائے گا اگر وہ الگ خاندان سے ہیں، اور اگر وہ بھی اسی خاندان سے ہیں پھر ان کے ساتھ بھی اندازہ لگایا جائے گا۔ اور بتلایا تھا کہ مہرِ مثل میں معتبر یہ ہے کہ وہ دونوں عورتیں عمر میں، حسن و جمال میں، مالداری میں، عقل میں، اور دینداری کے اندر برابر ہوں۔ دینداری سے مراد یہ ہے کہ یہ عورت جتنی دیندار ہے، دین پر عمل کرنے والی ہے اور جتنے تقویٰ والی ہے تو دوسری عورت بھی اسی جیسی ہو بھئی۔ تو یہ وہ صفات ہیں یعنی عمر، حسن و جمال، مالداری، عقل، دینداری وغیرہ یہ وہ چیزیں ہیں جن میں لوگ رغبت رکھتے ہیں اور ان کی وجہ سے مہر زیادہ ہوتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا باپ کے خاندان میں ایسی عورت دیکھی جائے گی جو عمر میں بھی اس عورت جیسی ہو، حسن و جمال میں بھی اس جیسی ہو، مالداری میں بھی اس جیسی ہو، عقل اور ہوشیاری کے اندر بھی اس جیسی ہو، اور دینداری کے اندر بھی اس جیسی ہو، تو اس کا جو مہر ہے وہی اس کا بھی اس کے لیے بھی مہرِ مثل ہو گا۔ اور اگر یہ ساری صفات نہ ملیں تو پھر جتنی صفات مل رہی ہیں انہی صفات پر اکتفاء کر لیا جائے گا۔ اور اگر باپ کے خاندان میں ایسی کوئی عورت نہیں تو پھر ان کے برابر والے اور خاندانوں کے اندر دیکھا جائے گا، وہاں اس قسم کی صفات والی عورت کا جو مہر ہو گا وہی اس کے لیے بھی مہرِ مثل ہو گا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ اس میں شہر اور زمانے کا بھی اثر پڑتا ہے، بعض شہروں میں مہر زیادہ ہوتے ہیں بعض علاقوں میں اور بعض میں مہر کم ہوتے ہیں، اور نیز زمانے کا بھی اثر پڑتا ہے بعض زمانوں میں مہر زیادہ ہوں گے بعض زمانوں میں مہر کم ہوں گے۔ اور نیز یہ بھی بتلایا کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ باکرہ اور ثیبہ ہونے کا بھی اعتبار ہے کیونکہ باکرہ کا مہر زیادہ ہوتا ہے اور ثیبہ کا مہر کم ہوتا ہے تو باکرہ اور ثیبہ ہونے میں بھی برابری دیکھی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا ضَمِنَ الْوَلِيُّ الْمَهْرَ صَحَّ ضَمَانُهُ لِأَنَّهُ أَهْلٌ لِلِالْتِزَامِ وَقَدْ أَضَافَهُ إِلَى مَا يَقْبَلُهُ فَيَصِحُّ، ثُمَّ الْمَرْأَةُ بِالْخِيَارِ فِي مُطَالَبَتِهَا زَوْجَهَا أَوْ وَلِيَّهَا“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص ہے اس نے اپنی بالغ بیٹی کا نکاح کروایا اور پھر یہ شخص اس خاوند کی طرف سے اپنی بیٹی کے لیے ضامن بن گیا مہر کا، کہ اگر خاوند نے مہر نہ دیا تو میں ضامن ہوں مہر مجھ سے لے لینا۔ تو یہ جو ولی جو ہے ضامن بن گیا خاوند کی طرف سے کیا یہ ضامن بن سکتا ہے؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ ہاں، ولی جو ہے وہ ضامن بن سکتا ہے مہر کا۔ یاد رکھو سب سے پہلے یہاں ضمانت اور کفالت کو سمجھ لیں۔ بھئی اردو میں جس کو ہم لوگ ضمانت کہتے ہیں فقہ کے اندر اس کو کفالت کہتے ہیں اور کفالت کبھی کبھار کسی کی ذات کی دی جاتی ہے اور کبھی کبھار کفالت دین کی دی جاتی ہے یعنی ضمانت۔ ہم اسے کیا کہتے ہیں؟ ضمانت۔ مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کے پاس قرض لینے کے لیے گیا کہ مجھے اتنے مال کی ضرورت ہے مجھے دے دو، وہ دوسرا شخص اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں کہ میرا مال اگر تم نے لے لیا معلوم نہیں تم واپس کرو گے یا واپس نہیں کرو گے، تو پھر ایک تیسرا شخص مثلاً زید وہاں موجود تھا اس نے کہا میں ضمانت دیتا ہوں یہ شخص آپ کا قرضہ واپس کر دے گا اگر اس نے قرضہ واپس نہ کیا تو مجھ سے وصول کر لینا۔ تو دیکھو یہ زید نے ضمانت دے دی، اس کو کہتے ہیں کفالت۔ زید اس شخص کا کفیل ہو گیا یعنی ضامن ہو گیا۔ اور پھر اس صورت میں وہ جو صاحبِ حق ہے جس نے قرضہ دیا ہے وہ بعد میں اس اصیل سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے جس نے قرض لیا تھا، وہ کیا ہے؟ اصیل ہے قرض لینے میں، اس سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے اور یہ جو کفیل جو ہے جس نے ضمانت دی تھی اس سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے۔ اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھنا کہ کسی کے کہے بغیر بھی ضمانت دینا صحیح اور کسی کے کہنے پر ضمانت دینا بھی صحیح ہے۔ مثلاً وہ شخص جو قرض لینا چاہ رہا تھا اس نے زید سے کہا کہ آپ میری ضمانت دے دیں، تو ایک صورت یہ ہے دیکھو اس شخص کے کہنے پر زید نے ضمانت دی ہے اس کی۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس شخص کے کہے بغیر ہی زید وہاں موجود تھا وہ خود ہی کفیل بن گیا خود ہی ضامن بن گیا۔ تو دونوں صورتیں اس میں جائز ہیں، کسی کے کہنے پر بھی کفیل بننا جائز اور خود ہی کفیل انسان بن جائے یہ بھی جائز ہے۔ لیکن اس میں پھر فرق ہے یہ یاد رکھنا۔ اگر کسی کے کہنے پر کفیل بنا ہے وہ شخص، تو اگر اس کفیل نے پیسے ادا کیے تو کفیل پھر اس اصیل پر رجوع کرے گا کہ میں نے تمہاری طرف سے ضمانت دی تھی اور تمہارے کہنے پر ضمانت دی تھی اور اب میں نے پیسے ادا کر دیے ہیں اب وہ پیسے آپ مجھے دے دیں۔ تو کفیل اگر ادائیگی کرتا ہے اور اس نے اصیل کے کہنے پر ضمانت دی تھی تو پھر اس صورت میں ادائیگی کے بعد کفیل رجوع کر سکتا ہے اصیل پر۔ اور اگر اصیل نے زید سے نہیں کہا تھا زید نے خود ہی اپنی طرف سے ضمانت دے دی تھی پھر بعد میں زید نے ہی مال ادا کر دیا وہ دین ادا کر دیا، تو پھر یاد رکھو اس صورت میں زید اس اصیل پر رجوع نہیں کر سکتا کہ میں نے پیسے ادا کر دیے ہیں اب مجھے دے دو۔ اس لیے کیونکہ اصیل کہے گا بھئی میں نے آپ سے کب کہا تھا میری طرف سے ضمانت دیں اور میری طرف سے ادائیگی کریں۔ تو لہٰذا اس صورت میں وہ جو کفیل ہے وہ اصیل پر رجوع نہیں کر سکتا۔ ہاں اخلاقی طور پر اصیل کو زید کو ادائیگی کرنی چاہیے لیکن جبراً زید اس سے وصولی نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا کفالت کسی کے کہنے پر بھی ہو سکتی ہے اور بغیر کہے بھی۔ اگر بغیر کہے ہو گی تو کفیل ادائیگی کرنے کے بعد اصیل پر رجوع نہیں کر سکتا اور اگر کسی کے کہنے پر کفالت دی ہے تو پھر اس صورت میں ادائیگی کے بعد کفیل رجوع کر سکتا ہے اصیل پر۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھو کہ کفیل یا ضامن وہی شخص بن سکتا ہے جس میں اہلیت ہو۔ مثلاً اگر ایک غلام کسی کی طرف سے کفیل بننا چاہتا ہے، نہیں غلام کفیل نہیں بن سکتا اس لیے کیونکہ مثلاً دین کی ادائیگی کرنی ہے تو غلام تو مال کا مالک ہی نہیں ہے وہ ادائیگی کیسے کرے گا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا غلام کفیل نہیں بن سکتا۔ کفیل کے لیے ضروری ہے وہ آزاد، عاقل، بالغ ہونا چاہیے۔ یہ تو تھی کفالت کی تفصیل بھئی۔ اب یاد رکھو ایک ہے نکاح اور ایک ہے بیع۔ آپ پڑھ چکے ہیں دونوں کے اندر فرق ہے۔ نکاح کے اندر ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، اس لیے کیونکہ نکاح کے اندر جو وکیل ہوتا ہے وہ صرف سفیر اور معبر ہوتا ہے، وہ صرف الفاظ کو ادا کرنے والا ہے اور حقوقِ عقد کا تعلق یعنی حقوقِ نکاح کا تعلق اس نکاح کروانے والے سے نہیں ہوتا۔ حقوقِ عقد مثلاً ایک مرد اور عورت میں نکاح ہوتا ہے تو مرد جو ہے وہ مطالبہ کرے گا اپنی بیوی کا کہ بیوی میرے حوالے کر دی جائے میرا نکاح ہو چکا ہے اور بیوی مطالبہ کرے گی مہر کا کہ میرا نکاح ہو گیا ہے لہٰذا اب مہر میرے حوالے کیا جائے۔ تو یہ جو نکاح کے حقوق ہیں ان کا تعلق یاد رکھو ان کا تعلق نکاح کے وکیل کے ساتھ نہیں ہوتا، وکیل بتلایا صرف سفیر ہے پیغام پہنچانے والا ہے اور معبر ہے، جبکہ حقوقِ عقد کا تعلق اصیل کے ساتھ ہے یعنی جن کا نکاح کروایا جا رہا ہے تو مہر کا مطالبہ وہ عورت خود کر سکتی ہے اور اسی طرح بیوی کا مطالبہ وہ خاوند خود کر سکتا ہے، یہ وکیل جو ہیں یہ صرف پیغام رساں ہیں، حقوقِ عقد کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ بیع جو ہے یاد رکھو بیع کے اندر ایک شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ کہ بیع کے اندر جو عقد کرنے والے ہوتے ہیں حقوقِ عقد کا تعلق انہی سے ہوتا ہے۔ جیسے دو آدمیوں کے درمیان بیع ہو تو بیع کے بعد بائع ثمن کا مطالبہ کرتا ہے اور مشتری مبیعہ کا مطالبہ کرتا ہے کہ میں مبیعہ کا مالک بن چکا ہوں مبیعہ میرے حوالے کیا جائے۔ تو یہ جو حقوقِ عقد ہوتے ہیں بیع کے اندر یہ عقد کرنے والوں سے متعلق ہوتے ہیں، جو عقد کر رہے ہیں مطالبہ کرنا انہی کا حق ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر بائع نے بھی وکیل بھیجا چیز بیچنے کے لیے اور مشتری نے بھی اپنا وکیل بھیجا چیز کو خریدنے کے لیے تو ان دو وکیلوں کے درمیان عقد ہوا تو یہ جو حقوقِ عقد ہیں یعنی حقوقِ بیع ہیں ان کا تعلق وکیلوں سے ہو گا موکلوں سے نہیں ہو گا۔ تو بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق عقد کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے، اگر عقد کرنے والے وکیل ہیں تو وہی مبیعہ یا ثمن کا مطالبہ کر سکتے ہیں، ان کے جو موکل ہیں وہ مبیعہ یا ثمن کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ نکاح کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق اصیل کے ساتھ ہوتا ہے وکیل یا ولی کے ساتھ نہیں ہوتا، جبکہ بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق عقد کرنے والوں سے ہوتا ہے چاہے وہ وکیل ہوں چاہے وہ اصیل ہوں۔ اب مسئلہ یہ چل رہا ہے کہ ایک ولی جو ہے اس نے اپنی بیٹی کا نکاح کروایا ہے کسی شخص سے اور یہ ولی خود ہی مہر کا ضامن بن جاتا ہے، تو کیا یہ ضامن بن سکتا ہے یا نہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ ولی نکاح کے اندر جو ولی ہے یہ صرف سفیر اور معبر ہے حقوقِ عقد کا تعلق اس سے نہیں ہے بلکہ حقوقِ عقد کا تعلق اس کی بیٹی کے ساتھ ہے لہٰذا یہاں ولی جو ہے وہ ضامن بن سکتا ہے۔ یہاں ولی ضامن بن سکتا ہے کیونکہ یہاں مہر کا مطالبہ کرنے والی وہ اس کی بیٹی ہے خود یہ ولی اس کا مطالبہ کرنے والا نہیں۔ تو کفالت کے اندر یاد رکھو یہ جو شخص کسی کی ضمانت دیتا ہے یہ دراصل اپنے ذمہ کو اس شخص کے ذمہ کے ساتھ ملا دیتا ہے کہ جیسے اس سے تم دین کا مطالبہ کر سکتے ہو مجھ سے بھی دین کا مطالبہ کر سکتے ہو۔ جیسے وہی پہلی مثال جو ایک شخص کسی کے پاس قرض لینے آیا اور پھر زید نے اس کی ضمانت دے دی، تو گویا زید نے اپنے ذمہ کو اس قرض لینے والے کے ذمہ کے ساتھ ملا دیا کہ جیسے قرض کا مطالبہ اس شخص سے ہو سکتا ہے جو قرض لے رہا ہے اسی طرح اس قرض کا مطالبہ اب کفیل یعنی زید سے بھی ہو سکتا ہے۔ تو کفالت میں ضم ذمۃ الی ذمۃ ہوتا ہے، ایک شخص اپنے ذمہ کو دوسرے شخص کے ذمہ کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی جب ولی جو ہے وہ ضامن بن رہا ہے مہر کا بھئی، تو گویا ولی نے اپنے ذمہ کو ملا دیا خاوند کے ذمہ کے ساتھ کہ جیسے خاوند سے عورت مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے اسی طرح مجھ سے بھی مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا ولی بن جائے گا مطالب جس سے مطالبہ کیا جائے گا اور حقوقِ عقد تو ولی کی طرف نہیں لوٹ رہے کیونکہ نکاح ہے، حقوقِ عقد تو کس کی طرف لوٹ رہے ہیں؟ وہ بیٹی جس کا اس نے نکاح کروایا ہے۔ معلوم ہوا طالب وہ عورت بنے گی، مہر کا مطالبہ کرنے والی وہ عورت ہے، تو وہ عورت کیا ہوئی؟ طالبہ، وہ عورت طالب ہوئی اور وہ ولی کیا بن گیا؟ مطالب بن گیا، تو دیکھو طالب اور مطالب کا جمع ہونا لازم نہیں آیا۔ اور اگر حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے ہی ہوتا مثلاً بیع ہے، بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے ہوتا ہے مثلاً ولی نے صغیر کا مال کوئی چیز اس کی بیچ دی، توجہ ہے؟ تو اس صورت میں یاد رکھو یہ بیع کا معاملہ ہے اور بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق عقد کرنے والے سے ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ جو ولی ہے یہی ہے ثمن کا مطالبہ کرنے والا۔ یہی ولی کیا ہے؟ ثمن کا مطالبہ کرنا مشتری سے یہ اسی ولی کا کام ہے تو یہی ولی طالب ہوا، جب یہ طالب ہوا تو اب اگر یہ صغیر کے لیے ضامن بنتا ہے مشتری کی طرف سے، مشتری کی طرف سے ضامن بن رہا ہے کس کے لیے؟ صغیر کے لیے، بھئی دیکھو نا ولی نے صغیر کا مال بیچا ہے، اب وہ جو مشتری ہے اس نے ثمن ادا کرنے ہیں تو ولی جو ہے ثمن کا ضامن بننا چاہتا ہے صغیر کے لیے کہ میں ضامن ہوں یہ جو مشتری ہے یہ ثمن ادا کر دے گا اگر اس نے ادا نہ کیے تو یہ ثمن میں ادا کر دوں گا۔ کہتے ہیں نہیں یہ جائز نہیں ہے، یہ جائز نہیں، وجہ یہ کہ یہ عقدِ بیع ہے اور عقدِ بیع میں حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ عقد کرنے والے سے، اور ولی نے عقد کیا ہے تو معلوم ہوا ثمن وصول کرنا ولی کا کام ہے تو معلوم ہوا ولی بنے گا طالب ثمن کا مطالبہ کرنے والا، اور جب اس نے ضمانت دے دی اپنی تو یہ مطالب بھی بن گیا تو طالب اور مطالب ایک ہی شخص ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا یوں کہو اس صورت میں یہ ضامن لنفسہٖ بن جائے گا یا یوں کہو کفیل لنفسہٖ بن جائے گا۔ بھئی ضمانت دوسرے کو دی جاتی ہے اپنی ذات کو ضمانت اپنے آپ کو ضمانت نہیں دی جاتی۔ تو یہاں پر ولی ضمانت دے رہا ہے، وصول بھی کرنا ہے ولی نے، ثمن کو وصول بھی اس ولی نے کرنا ہے اور ضامن بھی یہ خود ہی بن رہا ہے، بھئی ضامن تو الگ ہوتا ہے، وصول کرنے والا تو طالب ہوتا ہے مطالبہ کرتا ہے بھئی۔ اور ضمانت میں میں نے کیا بتایا تھا؟ ضم ذمۃ الی ذمۃ، ایک شخص اپنے ذمہ کو دوسرے شخص کے ساتھ ملاتا ہے کہ جیسے اس سے مطالبہ کر سکتے ہو مجھ سے بھی مطالبہ کر سکتے ہو، لیکن یہاں تو وہی ولی ہے وہی وصول کرنے والا بھی ہے اور وہی ضامن بھی بن جائے یہ تو اپنے لیے ہی ضامن بن گیا اور اپنے لیے کوئی ضامن نہیں بنتا غیر کے لیے ضامن بنتا ہے۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ نکاح کے اندر تو ولی مہر کا ضامن بن سکتا ہے لیکن صغیر کے لیے کوئی مال بیچے تو اس بیع کے اندر ولی جو ہے وہ ثمن کا ضامن نہیں بن سکتا ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ ضامن لنفسہٖ ہونا لازم آئے گا، اپنے لیے ہی ضامن بن رہا ہے اور اپنے لیے ضامن نہیں بنا جاتا غیر کے لیے ضامن بنا جاتا ہے۔ تو دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَإِذَا ضَمِنَ الْوَلِيُّ الْمَهْرَ“ اور جب ولی ضامن ہو گیا مہر کا، ”صَحَّ ضَمَانُهُ“ تو اس کا ضمان صحیح ہے، اس کا ضامن ہونا صحیح ہے، ”لِأَنَّهُ أَهْلٌ لِلِالْتِزَامِ وَقَدْ أَضَافَهُ إِلَى مَا يَقْبَلُهُ فَيَصِحُّ“ بھئی دیکھیے ولی جو ہے وہ ضامن بننا چاہتا ہے اور میں نے بتایا تھا کہ ضامن یا کفیل وہی شخص بنے گا جو آزاد، عاقل اور بالغ ہو کیونکہ وہ اپنے اوپر مطالبے کو لازم کر رہا ہے۔ اور ولی بھی کیا ہے؟ آزاد، عاقل اور بالغ ہے، لہٰذا وہ اپنے اوپر مطالبے کو لازم کر سکتا ہے۔ اور نیز جس چیز کی ضمانت دے رہا ہے وہ دین صحیح ہونا چاہیے اور مہر بھی ایک دین ہے جو خاوند کے ذمے میں ہوتا ہے، دین صحیح ہے۔ لہٰذا جو کفیل بننا چاہتا ہے اس میں کفیل بننے کی اہلیت بھی ہے اور جس مال کا کفیل بننا چاہتا ہے وہ دین صحیح بھی ہے، لہٰذا یہ کفالت صحیح ہے۔ ولی کیا ہے؟ مہر کا کفیل بن سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ أَهْلُ الِالْتِزَامِ﴾ اس لیے کیونکہ ولی جو ہے وہ اہلِ التزام ہے۔ التزام کا معنی ہے اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرنا۔ ولی بھی کیا کر رہا ہے؟ اپنے اوپر مطالبے کو لازم کر رہا ہے کہ مجھ سے بھی مہر کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ ﴿لِأَنَّهُ أَهْلُ الِالْتِزَامِ﴾ اس لیے کیونکہ ولی جو ہے اس میں اہلیت ہے، وہ اہلِ التزام ہے، وہ اپنے اوپر مطالبے کو لازم کر سکتا ہے۔ ﴿وَقَدْ أَضَافَهُ إِلَىٰ مَا يَقْبَلُهُ﴾ اور نیز اس نے اس التزام کی نسبت کی ہے اس چیز کی طرف جو التزامِ مطالبہ کو قبول بھی کرتا ہے، یعنی وہ دین صحیح ہے، یعنی مہر۔ اس نے اس التزام کی نسبت کس کی طرف کی ہے؟ ایک ایسی چیز کی طرف جو اس التزام کو قبول بھی کرتی ہے، یعنی مہر، وہ دین صحیح ہے بھئی۔ ﴿فَيَصِحُّ﴾ لہٰذا اس کا ضمان صحیح ہے۔ ﴿ثُمَّ الْمَرْأَةُ بِالْخِيَارِ فِي مُطَالَبَتِهَا زَوْجَهَا أَوْ وَلِيَّهَا﴾ پھر عورت کو اختیار ہے اپنے مطالبے میں کہ خاوند سے بھی مطالبہ کر سکتی ہے اور اپنے ولی سے بھی مطالبہ کر سکتی ہے۔ ﴿اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْكَفَالَاتِ﴾ قیاس کرتے ہوئے باقی کفالتوں پر۔ باقی کفالتوں کے اندر جیسے ہوتا ہے جس پر دین ہوتا ہے اس سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور جو اس کا ضامن ہوتا ہے اس سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے، تو عورت بھی اپنے خاوند سے بھی مطالبہ کر سکتی ہے اور اپنے ولی سے بھی جو کہ کفیل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْكَفَالَاتِ﴾ قیاس کرتے ہوئے باقی کفالتوں پر۔ ﴿وَيَرْجِعُ الْوَلِيُّ إِذَا أَدَّىٰ عَلَى الزَّوْجِ إِنْ كَانَ بِأَمْرِهِ كَمَا هُوَ الرَّسْمُ فِي الْكَفَالَةِ﴾ میں نے بتایا تھا بھئی کہ کفالت کسی کے کہنے پر بھی دی جا سکتی ہے اور کسی کے کہنے کے بغیر بھی۔ ضمانت، ضمانت کسی کے کہنے پر بھی دی جا سکتی ہے اور کسی کے کہے بغیر بھی اس کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے اگر کسی کے کہنے پر ضمانت دی ہے تو اگر کفیل اس کی طرف سے مال ادا کر دے گا تو پھر اب اس اصیل پر رجوع کر سکتا ہے کہ میں نے تمہارے کہنے پر ضمانت دی تھی اور میں نے تمہاری طرف سے ادائیگی کر دی ہے، اب لاؤ وہ مال میرے حوالے کرو۔ اور اگر خود اپنی طرف سے ضمانت دی تھی، اصیل نے اس کو نہیں کہا تھا اور اس صورت کے اندر اگر کفیل وہ مال ادا کر دیتا ہے تو پھر وہ اصیل پر رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ اصیل کہے گا بھئی میں نے کب آپ سے کہا تھا کہ آپ میری طرف سے ضمانت دیں، آپ نے تو خود اپنی طرف سے ضمانت دی تھی۔ یعنی جب کفیل نے خود ضمانت دی تھی تو وہ جبراً اصیل پر رجوع نہیں کر سکتا۔ ہاں، اخلاقی طور پر اصیل کو یہ ادائیگی کرنی چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَرْجِعُ الْوَلِيُّ إِذَا أَدَّىٰ عَلَى الزَّوْجِ﴾ اور ولی رجوع کرے گا خاوند پر جب وہ ادا کر دے مہر۔ ﴿إِنْ كَانَ بِأَمْرِهِ﴾ اگر وہ ضامن ہوا تھا خاوند کے کہنے پر۔ ﴿كَمَا هُوَ الرَّسْمُ فِي الْكَفَالَةِ﴾ جیسے کہ کفالت میں طریقہ ہے کہ کفیل نے اگر اصیل کے کہنے پر ضمانت دی ہو تو پھر وہ اس پر رجوع کر سکتا ہے۔ ﴿وَكَذَلِكَ يَصِحُّ هَذَا الضَّمَانُ وَإِنْ كَانَتِ الزَّوْجَةُ صَغِيرَةً﴾ اور اسی طرح صحیح ہے یہ ضمان اگرچہ زوجہ صغیرہ ہو۔ مثلاً باپ نے اپنی نابالغ بیٹی کا نکاح کروایا ہے، ولی نے صغیرہ یا نابالغہ کا نکاح کروایا ہے تو اس صورت میں بھی ولی مہر کا ضامن بن سکتا ہے۔ دراصل شبہ ہوتا ہے کہ صغیرہ تو نابالغہ ہے بھئی، لہٰذا وہاں پر حقوق کا تعلق ولی سے ہونا چاہیے، لیکن صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ نہیں۔ وہ جس کا نکاح کروایا جا رہا ہو وہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی عقدِ نکاح ہو رہا ہے اور عقدِ نکاح کے اندر ولی اور وکیل صرف سفیر اور معبر ہوتے ہیں، حقوق کا تعلق ان سے نہیں ہوتا، لہٰذا صغیرہ کے معاملے میں بھی ولی ضامن بن سکتا ہے مہر کا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَلِكَ يَصِحُّ هَذَا الضَّمَانُ وَإِنْ كَانَتِ الزَّوْجَةُ صَغِيرَةً﴾ اور اسی طرح یہ ضمان صحیح ہے اگرچہ زوجہ صغیرہ ہو یعنی نابالغہ ہو۔ ﴿بِخِلَافِ مَا إِذَا بَاعَ الْأَبُ مَالَ الصَّغِيرِ﴾ اب وہ بیع بتلانے لگے ہیں کہ بخلاف بیع کے کہ اس کے اندر جو بیع کرنے والا ولی ہے وہ ضامن نہیں بن سکتا ثمن کا۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ مَا إِذَا بَاعَ الْأَبُ مَالَ الصَّغِيرِ﴾ بخلاف اس صورت کے کہ جب باپ نے بیچا صغیر کا مال۔ ﴿وَضَمِنَ الثَّمَنَ﴾ اور ثمن کا ضامن ہو گیا تو یہ جائز نہیں۔ اس کو پچھلے کے ساتھ جوڑیں، پیچھے آیا تھا: ﴿وَكَذَلِكَ يَصِحُّ هَذَا الضَّمَانُ وَإِنْ كَانَتِ الزَّوْجَةُ صَغِيرَةً﴾ کہ یہ ضمان صحیح ہے چاہے زوجہ صغیرہ ہو، بخلاف اس بیع کے کہ اس میں ضمان صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ مَا إِذَا بَاعَ الْأَبُ مَالَ الصَّغِيرِ وَضَمِنَ الثَّمَنَ﴾ بخلاف اس کے کہ جب باپ جو ہے صغیر کا مال بیچے اور ثمن کا ضامن ہو جائے تو یہ جائز نہیں، ﴿لِأَنَّ الْوَلِيَّ سَفِيرٌ وَمُعَبِّرٌ فِي النِّكَاحِ﴾ اس لیے کیونکہ ولی جو ہے وہ سفیر ہے، وہ پیغام رساں ہے، ”مُعَبِّرٌ“ اور تعبیر کرنے والا ہے، یعنی زبان سے صرف الفاظ ادا کر رہا ہے نکاح کے اندر، حقوقِ نکاح کا اس سے تعلق نہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْوَلِيَّ سَفِيرٌ وَمُعَبِّرٌ فِي النِّكَاحِ﴾ اس لیے کیونکہ ولی جو ہے وہ پیغام رساں اور تعبیر کرنے والا ہے الفاظ کو نکاح میں، ﴿وَفِي الْبَيْعِ عَاقِدٌ وَمُبَاشِرٌ﴾ جبکہ بیع کے اندر ولی جو ہے عاقد و مباشر ہے، وہ عقد کرنے والا ہے اور اس عقد کو سرانجام دینے والا ہے، لہٰذا حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے ہی ہوگا بیع میں بھئی۔ ﴿حَتَّىٰ تَرْجِعَ الْعُهْدَةُ عَلَيْهِ وَالْحُقُوقُ إِلَيْهِ﴾ بھئی یاد رکھیے! یہاں پر بھی یہ ”حَتَّىٰ“ ناصبہ نہیں ہوگا، کیونکہ حتیٰ کے ناصبہ ہونے کے لیے میں نے بتلایا تھا دو شرطیں ہیں کہ ایک تو یہ کہ حتیٰ کا ما بعد مستقبل ہونا چاہیے حتیٰ کے ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ تھی کہ حتیٰ جو ہے وہاں سببیت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو، یعنی حتیٰ کے ما قبل کو سبب ہونا چاہیے ما بعد کے لیے، یا حتیٰ کے ما بعد کو غایت ہونا چاہیے ما قبل کے لیے، پھر حتیٰ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے۔ تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں، لہٰذا حتیٰ نصب نہیں دے گا، یعنی اس حتیٰ کے بعد ”أَنْ“ مقدر نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ﴿حَتَّىٰ تَرْجِعَ الْعُهْدَةُ عَلَيْهِ وَالْحُقُوقُ إِلَيْهِ﴾ اب تین تفریعات اس پر کر رہے ہیں: ولی جب صغیر کا مال بیچے تو اس صورت میں یہ عقد کرنے والا اور اس عقد کو سرانجام دینے والا یہ ولی ہی ہے، لہٰذا حقوقِ عقد کا تعلق بھی اس ولی سے ہے۔ توجہ ہے؟ اور نیز یہ ولی، ثمن اس نے وصول کرنے ہیں، اس نے عقد کیا ہے تو یہ مشتری کو ثمن معاف بھی کر سکتا ہے۔ اگر حقوقِ عقد کا تعلق اس ولی سے نہ ہوتا تو پھر تو یہ ثمن معاف نہیں کر سکتا تھا، جیسے پچھلے مسئلے کے اندر وہ مہر کس کا حق تھا؟ اس بیٹی کا حق تھا، لہٰذا ولی اس مہر کو معاف نہیں کر سکتا تھا، توجہ ہے؟ لیکن یہاں بیع کے اندر چونکہ حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے ہے، یہ ثمن ولی نے ہی وصول کرنے ہیں تو یہ ثمن معاف بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ معاف کر دے گا پھر اس کو اپنی جیب سے صغیر کو ثمن ادا کرنے پڑیں گے، وجہ یہ کہ اس نے زیادتی کی ہے، اس کو تو حق نہیں تھا کہ یہ صغیر کا مال اس طرح ضائع کرے، لہٰذا پھر اس کو خود اپنی جیب سے ادائیگی کرنی پڑے گی کیونکہ اس نے زیادتی کی ہے۔ تو حقوقِ عقد کا تعلق بھی ولی سے ہوگا بیع میں اور نیز یہ ثمن معاف کرنا چاہے تو ثمن معاف بھی کر سکتا ہے، اور نیز صغیر بالغ ہو جائے پھر بھی یہ ثمن وصول کرنا اس ولی ہی کا کام ہے کیونکہ اسی نے عقد کیا تھا۔ حالانکہ صغیر بالغ ہو گیا، اب تو وہ بیع و شراء کر سکتا ہے، اب تو اس میں اہلیت آ گئی لیکن پھر بھی وہ جو صغر کی حالت میں بیع ہوئی تھی اس کے حقوق ابھی بھی کس کی طرف لوٹ رہے ہیں؟ ولی کی طرف، وہ ثمن وصول کرنا اب بھی کس کا کام ہے؟ ولی کا کام ہے۔ معلوم ہوا حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے تھا بھئی۔ جب حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے تھا تو پھر اب وہ ثمن کا ضامن نہیں بن سکتا، کیونکہ اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ ضامن لنفسہ بننا لازم آئے گا، وصول بھی اس نے کرنے ہیں اور ضامن بھی بن رہا ہے تو گویا اپنے لیے ضامن بن رہا ہے، اور ضامن لنفسہ تو باطل ہے، ضامن کسی دوسرے کے لیے بنا جاتا ہے، اپنے لیے ضامن نہیں بنا جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي الْبَيْعِ عَاقِدٌ وَمُبَاشِرٌ﴾ اور بیع کے اندر ولی جو ہے وہ عقد کرنے والا ہے اور اس عقد کو سرانجام دینے والا ہے، ﴿حَتَّىٰ تَرْجِعَ الْعُهْدَةُ عَلَيْهِ﴾ عہدہ کہتے ہیں ذمہ داری کو بھئی، یہاں تک کہ ذمہ داری اسی پر لوٹتی ہے، ﴿وَالْحُقُوقُ إِلَيْهِ﴾ اور حقوق بھی اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ بھئی دیکھیے نا! آپ کسی کے ساتھ بیع کرتے ہیں تو ذمہ داری بھی آپ کی اور حقوق بھی آپ کے، جو بھی عقد کرتا ہے۔ مثلاً اگر آپ ایک گاڑی بیچ رہے ہیں تو گاڑی بیچنے کے بعد گاڑی حوالے کرنا بھی آپ کے ذمے ہے۔ یہ ہے عہدہ یعنی ذمہ داری آپ پر آ رہی ہے، آپ نے مبیع سپرد کرنا ہے۔ آپ بعد میں یہ نہیں کہہ سکتے یہ تو زید کی گاڑی تھی، اس نے مجھے بیچنے کے لیے بھیجا تھا، اب آپ زید سے گاڑی وصول کریں، نہیں نہیں، آپ نے عقد کیا ہے تو مبیع کو مشتری کے حوالے کرنا یہ بھی آپ ہی کا کام ہے۔ اور نیز اگر گاڑی آپ نے، مبیع آپ نے حوالے کر دیا اور اس میں پھر کوئی عیب نکل آیا تو وہ پھر گاڑی آپ ہی کو واپس کرے گا، آپ ہی کو واپس لینا ہوگی یہ گاڑی۔ تو یہ تھا ذمہ داری جو ہے بائع پر آتی ہے۔ اور نیز حقوق کا تعلق بھی بائع سے ہوتا ہے، یعنی وہ جو ثمن وصول کرنے ہیں وہ بھی اب جس نے عقد کیا ہے اسی کا کام ہے، وہی ثمن وصول کرے گا، وہ جو اس کا موکل تھا وہ آ کر ثمن کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً کسی نے آپ کو اپنی گاڑی دے کر بھیجا یہ فروخت کر دو، تو آپ نے گاڑی بیچ دی تو اب ثمن کا مطالبہ کرنا آپ کا کام ہے، موکل آ کر ان کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ موکل آ کر اگر مطالبہ کرے گا بھی تو وہ مشتری ثمن اس کے حوالے نہیں کرے گا، مشتری اس سے کہے گا بھئی میں تو آپ کو جانتا ہی نہیں ہوں، میرا تو عقد فلاں کے ساتھ ہوا تھا، میں اسی کو ثمن ادا کروں گا، آپ کو میں ثمن ادا نہیں کروں گا۔ معلوم ہوا مبیع کا عیب سے سلامت ہونا یہ بھی بائع کی ذمہ داری اور مبیع حوالے کرنا یہ بھی بائع کی ذمہ داری ہے۔ تو معلوم ہوا بیع کے اندر ذمہ داری بھی عقد کرنے والے کی ہوتی ہے اور حقوق کا تعلق بھی عقد کرنے والے سے ہوتا ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے: ﴿وَفِي الْبَيْعِ عَاقِدٌ وَمُبَاشِرٌ حَتَّىٰ تَرْجِعَ الْعُهْدَةُ عَلَيْهِ﴾ اور بیع کے اندر جو ولی ہے وہ تو عقد کرنے والا ہے اور اس کو سرانجام دینے والا ہے یہاں تک کہ یہ ذمہ داری اس، یہ جو ولی ہے جس نے بیع کی ہے، چیز بیچی ہے، اسی کی طرف ذمہ داری لوٹتی ہے، ﴿وَالْحُقُوقُ إِلَيْهِ﴾ یہ الحقوق کا عطف ہے العہدہ پر اور العہدہ یہ فاعل ہے ترجع کا، ﴿حَتَّىٰ تَرْجِعَ الْعُهْدَةُ عَلَيْهِ﴾ اور حتیٰ ﴿تَرْجِعَ الْحُقُوقُ إِلَيْهِ﴾ اور یہاں تک کہ حقوق بھی اسی عقد کرنے والے کی طرف لوٹتے ہیں، یہ جو ولی ہے جس نے بیع کی ہے بھئی۔ یہ تو ایک تفریع تھی، حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے ہے یہاں پر اس بیع کے اندر۔ ﴿وَيَصِحُّ إِبْرَاؤُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ﴾ اور طرفین فرماتے ہیں یہ جو ولی ہے یہ مشتری کو ثمن معاف بھی کر سکتا ہے۔ یہ مشتری کو ثمن معاف بھی کر سکتا ہے، معلوم ہوا حقوقِ عقد اسی عقد کرنے والے کے ہیں، اگر موکل کے حقوق ہوتے تو یہ معاف نہ کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَصِحُّ إِبْرَاؤُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ﴾ اور صحیح ہے اس ولی کا معاف کر دینا عند ابی حنیفہ و محمد رحمہما اللہ طرفین کے نزدیک۔ اور نیز: ﴿وَيَمْلِكُ قَبْضَهُ بَعْدَ بُلُوغِهِ﴾ کہ یہ ولی مالک ہے کہ یہ اس ثمن پر قبضہ کرے صغیر کے بالغ ہونے کے بعد۔ صغیر کے بالغ ہونے کے باوجود حقوقِ عقد کا تعلق ابھی بھی اسی ولی سے ہے، صغیر کے بالغ ہونے کے باوجود یہ ثمن یہی وصول کرے گا۔ ﴿فَلَوْ صَحَّ الضَّمَانُ﴾ تو اگر ضمان صحیح ہو جائے، یعنی بیع کے اندر ضامن نہیں بن سکتا، اگر بیع میں ضمان صحیح ہو جائے: ﴿يَصِيرُ ضَامِنًا لِنَفْسِهِ﴾ تو اس صورت میں تو یہ اپنی ہی ذات کے لیے ضامن بن جائے گا، اور ضامن اپنی ذات کے لیے نہیں بنا جاتا بلکہ غیر کے لیے بنا جاتا ہے۔ ﴿وَوِلَايَةُ قَبْضِ الْمَهْرِ لِلْأَبِ بِحُكْمِ الْأُبُوَّةِ﴾ یہ کوئی معترض اعتراض کرتا ہے، اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کوئی معترض اعتراض کرتا ہے کہ آپ نے کیا کہا؟ نکاح کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق ولی کے ساتھ نہیں ہوتا، ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں ہے۔ نکاح کے اندر بھی حقوقِ عقد کا تعلق ولی سے ہوتا ہے، جیسے باپ اپنی صغیرہ بیٹی کا نکاح کروائے، نابالغہ بیٹی کا، تو باپ کو حق حاصل ہے وہ خاوند سے مہر کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہو گیا؟ ولی سے ہو گیا، اور آپ نے تو کہا تھا یہ صرف سفیر اور معبر ہے، لیکن یہ تو یہاں حقوق کا بھی مالک ہے بھئی۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ صاحبِ ہدایہ جواب دیں گے کہ یہاں پر یہ جو ولی مہر کا مطالبہ کر سکتا ہے، یہ اس وجہ سے نہیں کہ حقوق کا تعلق اس سے ہے، بلکہ یہ باپ ہونے کی وجہ سے۔ یہ اس صغیرہ کا باپ ہے اس وجہ سے یہ اس مہر کا مطالبہ کر سکتا ہے، یہ اس کا ولی ہے اس اعتبار سے یہ مطالبہ کر سکتا ہے، اس اعتبار سے نہیں کہ حقوقِ عقد کا تعلق اس سے ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں آپ دیکھتے نہیں جب وہ صغیرہ بالغہ ہو جائے اس کے بعد باپ اس کی مرضی کے بغیر مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ باپ نے اپنی نابالغہ بیٹی کا نکاح کروا دیا اور پھر اس کے بعد بیٹی جب بالغہ ہو گئی، اس کے بعد اب باپ جو ہے خاوند سے مہر کا مطالبہ کرنا چاہتا ہے، تو یاد رکھو وہ بالغہ بیٹی کی رضامندی ہوگی تو باپ مطالبہ کر سکتا ہے، اگر وہ بیٹی منع کر دے کہ آپ نے مہر وصول نہیں کرنا، میں خود اپنے خاوند سے مہر وصول کروں گی، تو پھر شرعاً باپ کے لیے وہ مہر کا مطالبہ جائز نہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ جو باپ مہر وصول کرتا ہے وہ باپ ہونے کی وجہ سے ہے، اس وجہ سے نہیں کہ حقوقِ عقد کا تعلق اس سے ہے۔ اگر حقوقِ عقد کا تعلق باپ سے ہوتا تو پھر تو بیٹی کے بالغہ ہونے کے بعد بھی مطالبے کا حق باپ کو ہونا چاہیے تھا، لیکن بیٹی کے بالغہ ہونے کے بعد باپ کو مہر کے مطالبے کا حق نہیں بیٹی کی اجازت کے بغیر۔ معلوم ہوا حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہے؟ بیٹی سے ہے، ولی سے نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَوِلَايَةُ قَبْضِ الْمَهْرِ لِلْأَبِ بِحُكْمِ الْأُبُوَّةِ لَا بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ عَاقِدٌ﴾ اور باپ کے لیے جو مہر پر قبضے کی ولایت ہے وہ باپ ہونے کے حکم کی وجہ سے ہے، باپ ہونے کی وجہ سے اس کو یہ ولایت ہے، اس اعتبار سے یہ ولایت اس کو نہیں کہ وہ عقد کرنے والا ہے۔ ﴿أَلَا تَرَىٰ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ الْقَبْضَ بَعْدَ بُلُوغِهَا﴾ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ باپ مالک نہیں ہے کہ وہ مہر پر قبضہ کرے اس صغیرہ کے بالغ ہو جانے کے بعد؟ صغیرہ جب بالغ ہو گئی تو اب باپ اس کی مرضی کے بغیر مہر پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ وہ اجازت دے گی تو قبضہ کر سکتا ہے، وہ منع کر دے تو پھر قبضہ نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا حقوقِ عقد کا تعلق اس اصیل یعنی وہ بیٹی سے ہی ہے جس کا نکاح کروایا گیا تھا۔ ﴿فَلَا يَصِيرُ ضَامِنًا لِنَفْسِهِ﴾ لہٰذا نکاح کے اندر جب باپ ضامن بنتا ہے، فَلَا يَصِيرُ ضَامِنًا لِنَفْسِهِ تو اس صورت میں یہ باپ جو ہے ضامن لنفسہ نہیں ہوگا، کیونکہ حقوقِ عقد کا تعلق بیٹی سے ہے، بات سمجھ میں آ گئی، باپ صرف عقد کروانے، ولی صرف عقد کروانے والا ہے۔ آگے دیکھیے: ﴿قَالَ: وَلِلْمَرْأَةِ أَنْ تَمْنَعَ نَفْسَهَا حَتَّىٰ تَأْخُذَ الْمَهْرَ﴾ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع صغیر میں: وَلِلْمَرْأَةِ أَنْ تَمْنَعَ نَفْسَهَا اور عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے آپ کو روکے، حَتَّىٰ تَأْخُذَ الْمَهْرَ یہاں تک کہ وہ مہر لے لے، ﴿وَتَمْنَعَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا﴾ اور عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ منع کرے کہ خاوند اس کو باہر نکالے، بھئی باہر نکالے کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں: ﴿أَيْ يُسَافِرَ بِهَا﴾ یعنی خاوند اس کو لے کر سفر پر جائے۔ یاد رکھو بھئی! نکاح ہو گیا تو نکاح کے اندر خاوند عورت کے منافعِ بضع کا مالک بن گیا، یہ میاں بیوی بن گئے، یہ عورت اس کے لیے حلال ہو گئی اور خاوند مالک بن گیا ان منافعِ بضع کا۔ اور اب خاوند پر عورت کا حق آ گیا کہ خاوند اس کو مہر ادا کرے۔ تو خاوند جب تک مہر ادا نہیں کرتا، عورت کو شریعت نے حق دیا ہے وہ خاوند کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، خاوند کو صحبت نہ کرنے دے، تو یہ عورت کا حق ہے۔ تو وہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿وَلِلْمَرْأَةِ أَنْ تَمْنَعَ نَفْسَهَا حَتَّىٰ تَأْخُذَ الْمَهْرَ﴾ اور عورت کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو روک سکتی ہے یہاں تک کہ وہ مہر لے لے، یعنی خاوند کو صحبت نہ کرنے دے جب تک، ﴿وَتَمْنَعَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا﴾ اور عورت کو یہ حق ہے کہ وہ خاوند کو منع کرے کہ وہ اس کو لے کر نکلے، ﴿أَيْ يُسَافِرَ بِهَا﴾ یعنی اس کو سفر پر لے کر جائے، اس سے بھی عورت انکار کر سکتی ہے۔ ﴿لِيَتَعَيَّنَ حَقُّهَا فِي الْبَدَلِ كَمَا تَعَيَّنَ حَقُّ الزَّوْجِ فِي الْمُبْدَلِ وَصَارَ كَالْبَيْعِ﴾ اور یہ بیع کی طرح ہو گیا۔ بھئی دیکھو بیع سے اس مثال کو سمجھ لیں۔ بیع کے اندر یاد رکھو ایجاب اور قبول ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ مثلاً ایک قلم آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے، آپ نے مجھے کہا کہ یہ قلم میں نے آپ کو سو روپے کا بیچ دیا، میں نے کہا مجھے منظور ہے، جیسے ہی ایجاب اور قبول ہوا میں اس قلم کا مالک بن گیا۔ یہ قلم اگرچہ ابھی تک آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے لیکن میں یعنی مشتری اس کا مالک بن چکا ہے۔ تو مشتری کا حق تو متعین ہو گیا، لیکن بائع کا حق ابھی متعین نہیں کیونکہ میں نے آپ کو سو روپے دینے ہیں یا یوں کہو میں نے آپ کو سو درہم دینے ہیں، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو درہم اور دینار ہیں اور پیسے ہیں یہ تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ یہ سامنے بھی پڑے ہوں آپ اشارہ بھی کر دیں پھر بھی درہم اور دینار اشارے سے بھی متعین نہیں ہوتے، تو میرے ذمے آپ کے پیسے تو ہیں لیکن وہ پیسے ابھی تک متعین نہیں، کون سے پیسے آپ کا حق ہیں بھئی؟ تو لہٰذا اس صورت میں اب مشتری پر ضروری ہے کہ وہ ثمن بائع کے حوالے کرے۔ ثمن کیا کرے؟ بھئی دیکھو مبیع ہے مبدل اور ثمن ہے اس کا بدل۔ مبیع کیا ہے؟ مبدل اور ثمن کیا ہے؟ بدل۔ تو جیسے ہی بیع ہوئی مبدل کا مشتری مالک بن گیا، مبدل کا مشتری مالک بن گیا تو اب ضروری ہے کہ بائع کو بھی تو ثمن کا مالک بننا چاہیے بھئی، اور بائع ثمن کا مالک تبھی بنے گا جب مشتری ثمن اس کے حوالے کرے گا، جب تک اس کے حوالے نہیں کرے گا بائع اس کا مالک نہیں۔ لہٰذا بائع کو شریعت نے حق دیا ہے کہ وہ مبیع روک سکتا ہے جب تک اپنے ثمن وصول نہ کر لے۔ آپ کی میری بیع ہوئی، قلم آپ کی جیب پر لگا ہے، ایجاب و قبول ہوتے ہی میں مالک بن گیا، اب میں آپ سے کہتا ہوں لاؤ بھئی یہ قلم میرے حوالے کرو میں اس کا مالک بن چکا ہوں، لیکن شریعت نے آپ کو حق دیا ہے آپ کہہ سکتے ہیں: نہیں! آپ کا حق تو قلم میں متعین ہو گیا، مبدل میں آپ کا حق تو متعین ہو گیا لیکن بدل جو ہیں درہم اور دینار جو آپ کے پاس ہیں ان میں ابھی میرا حق متعین نہیں، لہٰذا وہ بدل میرے حوالے کرو۔ تو لہٰذا بائع کو شریعت نے حق دیا ہے وہ مبدل یعنی مبیع کو روک سکتا ہے جب تک اپنا بدل یعنی ثمن وصول نہ کر لے۔ اسی طرح نکاح کے اندر بھی ہے بھئی، یاد رکھو نکاح کے اندر بھی ایک مرد اور عورت کے درمیان نکاح ہوا تو نکاح ہوتے ہی یہ دونوں میاں بیوی بن گئے اور اس عورت کے منافعِ بضع کا مالک یہ خاوند بن گیا۔ تو اب دیکھو خاوند کا حق تو متعین ہو گیا، خاوند تو مبدل کا مالک بن گیا اگرچہ ابھی وصول نہیں کیے، صحبت ابھی نہیں کی لیکن مالک تو بن چکا ہے، جب مالک بن چکا ہے اب خاوند اس سے صحبت کرنا چاہتا ہے تو عورت اس کو روک سکتی ہے کہ تمہارا حق تو مبدل میں متعین ہو گیا ہے، میرا حق پہلے میرے حوالے کرو، یعنی بدل پہلے میرے حوالے کرو پھر ہی مبدل میں تمہارے حوالے کروں گی۔ تو کہتے ہیں: یہ عورت روک سکتی ہے اپنے آپ کو یہاں تک کہ مہر لے لے اور روک سکتی ہے خاوند کو کہ وہ خاوند اس کو لے کر باہر نکلے یعنی سفر پر جائے، ﴿لِيَتَعَيَّنَ حَقُّهَا فِي الْبَدَلِ﴾ تاکہ اس عورت کا حق متعین ہو جائے بدل یعنی مہر کے اندر، ﴿كَمَا تَعَيَّنَ حَقُّ الزَّوْجِ فِي الْمُبْدَلِ﴾ جیسے کہ خاوند کا حق متعین ہو چکا ہے مبدل یعنی منافعِ بضع میں۔ خاوند کا حق تو متعین ہو چکا ہے لیکن عورت کا حق تو ابھی مہر میں متعین نہیں کیونکہ اس کو ابھی ملے نہیں، لہٰذا عورت خاوند کو صحبت سے منع کر سکتی ہے بھئی اپنا حق وصول کرنے کے لیے۔ ﴿وَلَيْسَ لِلزَّوْجِ أَنْ يَمْنَعَهَا مِنَ السَّفَرِ وَالْخُرُوجِ مِنْ مَنْزِلِهِ وَزِيَارَةِ أَهْلِهَا حَتَّى يُوَفِّيَهَا الْمَهْرَ كُلَّهُ﴾ اور آپ جانتے ہیں کہ نکاح ہوتے ہی عورت پر بہت سی پابندیاں آ جاتی ہیں۔ اس کے لیے گھر سے نکلنا بغیر خاوند کی اجازت کے جائز نہیں۔ اسی طرح عورت جو ہے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں سے ملنے بھی نہیں جا سکتی۔ خاوند کی اجازت سے یہ سارے کام اب کرنے پڑیں گے۔ تو یہاں پر آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ چونکہ عورت کو ابھی تک خاوند نے مہر حوالے نہیں کیا، لہٰذا عورت صحبت سے بھی خاوند کو روک سکتی ہے اور نیز اس پر وہ باقی پابندیاں بھی ابھی تک نہیں آئیں، لہٰذا خاوند اس کو سفر سے بھی نہیں روک سکتا، خاوند اس کو اپنے گھر سے نکلنے سے بھی نہیں روک سکتا اور خاوند رشتہ داروں کے پاس اپنے ماں باپ وغیرہ کے پاس جانے سے بھی نہیں روک سکتا۔ جب عورت کو اس کا حق مل جائے گا پھر اس کے بعد خاوند کو بھی روکنے کا حق ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَيْسَ لِلزَّوْجِ﴾ اور خاوند کے لیے یہ جائز نہیں ہے ﴿أَنْ يَمْنَعَهَا مِنَ السَّفَرِ﴾ کہ عورت کو روکے سفر سے، ﴿وَالْخُرُوجِ مِنْ مَنْزِلِهِ﴾ اور گھر سے نکلنے سے، ﴿وَزِيَارَةِ أَهْلِهَا﴾ اور اپنے گھر والوں کی زیارت سے، یعنی ماں باپ، بہن بھائیوں سے ملنے اور ان کی زیارت سے بھی خاوند نہیں روک سکتا جب تک اس نے مہر ادا نہیں کیا، ﴿حَتَّىٰ يُوَفِّيَهَا الْمَهْرَ كُلَّهُ﴾ یہاں تک کہ خاوند اس کو سارا مہر ادا کر دے۔ خاوند کیا کرے؟ سارا مہر اس کو ادا کر دے، ﴿أَيِ الْمُعَجَّلَ﴾ یہاں سے صاحبِ ہدایہ تفسیر کر رہے ہیں الْمَهْرَ كُلَّهُ کی کہ سارے مہر سے مہرِ معجل مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ مہرِ معجل۔ یہ بات پہلے بھی گزر چکی جہاں مہر کی بات شروع ہوئی تھی، مہر کا باب شروع ہوا تھا، آپ نے پڑھا تھا کہ نکاح میں ضروری ہے کہ خاوند نفقے اور مہر کا مالک ہو، خاوند نفقے اور مہر کا مالک ہو، اتنا مال ہو کہ بیوی کو خرچہ بھی دے سکے اور اس کا مہر بھی ادا کر سکے، اور وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ مہر سے مراد مہرِ معجل ہے، سارا مہر نہیں، یعنی اتنا مال ہو خاوند کے پاس کہ عموماً پہلی رات بیوی کو جو تحفہ دیا جاتا ہے اتنا مال ہو اس کے پاس، یعنی یہ مہرِ معجل، جو پہلی رات کیا کیا جاتا ہے عموماً بیوی کو تحفہ دیا جاتا ہے وہ مہر مراد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿حَتَّىٰ يُوَفِّيَهَا الْمَهْرَ كُلَّهُ أَيِ الْمُعَجَّلَ﴾ یہاں تک کہ خاوند اس کو سارا مہر دے دے یعنی مہرِ معجل مراد ہے جو عموماً پہلی رات بیوی کو مہر دیا جاتا ہے، سارا کا سارا مہر مراد نہیں۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ عورت مہرِ معجل کی وصولی تک خاوند کو صحبت سے روک سکتی ہے بھئی، اور نیز جب تک خاوند یہ ادا نہیں کرے گا عورت پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے بھئی۔ وہ گھر سے بھی نکل سکتی ہے، اپنے ماں باپ کے پاس بھی جا سکتی ہے اور سفر وغیرہ پر بھی جا سکتی ہے، کوئی پابندی اس پر ابھی تک شرعاً نہیں ہے خاوند کی طرف سے بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ حَقَّ الْحَبْسِ لِاسْتِيفَاءِ الْمُسْتَحَقِّ﴾ بھئی یہ عبارت سمجھ لیں: لِأَنَّ حَقَّ الْحَبْسِ حبس کا معنیٰ ہے روکنا، منع کرنا، اس لیے کیونکہ عورت کو یہ جو روکنے کا حق ہے، لِاسْتِيفَاءِ الْمُسْتَحَقِّ استیفاء کا معنیٰ ہے وصول کرنا، مستحق جس کی وہ حقدار ہے، اس کا جو حق ہے، ﴿لِأَنَّ حَقَّ الْحَبْسِ لِاسْتِيفَاءِ الْمُسْتَحَقِّ﴾ اس لیے کیونکہ عورت کو یہ جو روکنے کا حق ہے یہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے ہے، اپنا حق یعنی مہر وصول کرنے کے لیے ہے، ﴿وَلَيْسَ لَهُ حَقُّ الِاسْتِيفَاءِ﴾ اور خاوند کے لیے وصولی کا حق نہیں، خاوند نے کیا وصول کرنا ہے؟ منافعِ بضع یعنی صحبت، خاوند نے صحبت کرنی ہے تو خاوند کو صحبت کا حق نہیں ہے: ﴿قَبْلَ الْإِيفَاءِ﴾ ادائیگی سے پہلے، یعنی مہرِ معجل کی ادائیگی سے پہلے خاوند کو وصولی کا حق نہیں ہے کہ وہ منافع وصول کرے یعنی صحبت کرے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَيْسَ لَهُ حَقُّ الِاسْتِيفَاءِ قَبْلَ الْإِيفَاءِ﴾ اور خاوند کے لیے وصولی کا حق نہیں ہے ادائیگی سے پہلے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں بھئی۔ پھر دیکھیے ترجمہ: ﴿لِأَنَّ حَقَّ الْحَبْسِ لِاسْتِيفَاءِ الْمُسْتَحَقِّ وَلَيْسَ لَهُ حَقُّ الِاسْتِيفَاءِ قَبْلَ الْإِيفَاءِ﴾ اس لیے کیونکہ عورت کو یہ جو روکنے کا حق ملا ہے یہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے ہے، اور خاوند کو وصول کرنے کا حق نہیں ہے یعنی صحبت کرنے کا حق نہیں ہے عورت کا حق ادا کرنے سے پہلے، یعنی مہر ادا کرنے سے پہلے۔ ﴿وَلَوْ كَانَ الْمَهْرُ كُلُّهُ مُؤَجَّلًا﴾ اور اگر مہر سارا کا سارا مؤجل ہوا، مثلاً نکاح کے اندر ہی یہ بات طے ہو گئی تھی کہ خاوند سال کے بعد مہر ادا کرے گا یا دو سال کے بعد یا چھ ماہ کے بعد مہر ادا کرے گا، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو طرفین فرماتے ہیں کہ پھر عورت کو روکنے کا حق نہیں۔ اگر یہ بات طے ہو گئی تھی نکاح میں ہی کہ خاوند چھ مہینے یا سال کے بعد مہر ادا کرے گا تو عورت نے اپنا حق خود ہی مؤخر کر دیا ہے، لہٰذا اب اس وقت وہ اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے بیع ہے، بیع کے اندر آپ کسی کو گاڑی فروخت کرتے ہیں اور آپ اس کو مدت دے دیتے ہیں کہ چھ مہینے یا سال کے بعد آپ ثمن اور پیسے ادا کر دینا، تو اس صورت میں اب آپ مبیع نہیں روک سکتے ثمن کی وصولی کے لیے کیونکہ جو ثمن وصول کرنے کا جو آپ کا حق تھا آپ نے اپنا حق خود ہی مؤخر کر دیا۔ ویسے تو آپ بیع کریں تو شریعت نے آپ کو حق دیا ہے آپ مبیع مشتری کے حوالے نہ کریں جب تک ثمن وصول نہ کر لیں، لیکن اگر آپ نے خود ہی مدت متعین کر دی ہے اس کے لیے کہ چھ ماہ بعد پیسے ادا کر دینا تو آپ نے اپنا حقِ منع کیا کر دیا؟ خود ہی ساقط کر دیا، آپ نے خود ہی اس کو مدت دے دی ہے، لہٰذا اب آپ مبیع روک نہیں سکتے۔ اب آپ کو مبیعہ حوالے کرنا پڑے گا اور ثمن اب آپ کو چھ مہینے کے بعد ہی ملیں گے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے جب نکاح کے اندر مہر جو ہے اس کی مدت مقرر ہو گئی ہے کہ چھ مہینے یا سال کے بعد خاوند دے گا، تو عورت کا وہ جو خاوند کو صحبت سے روکنے کا حق تھا عورت نے خود ہی اس کو کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الْمَهْرُ كُلُّهُ مُؤَجَّلًا“ اور اگر مہر سارا کا سارا مؤجل تھا یعنی اس کی مدت مقرر کی گئی تھی، ”لَيْسَ لَهَا أَنْ تَمْنَعَ نَفْسَهَا“ تو عورت کے لیے یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کو خاوند سے روکے، ”لِإِسْقَاطِ حَقِّهَا بِالتَّأْجِيلِ“ اس وجہ سے کہ اس نے اپنا حق ساقط کر دیا ہے تأجیل کی وجہ سے یعنی مدت مقرر کرنے کی وجہ سے، ”كَمَا فِي الْبَيْعِ“ جیسے کس میں ہوتا ہے؟ بیع کے اندر ہوتا ہے جب مدت دے دی جائے تو پھر بائع مبیع کو روک نہیں سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ”وَفِيهِ خِلَافُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اس میں اختلاف کرتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ یہاں طرفین سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں نہیں، جب نکاح کے اندر مثلاً ایک سال کی مدت طے ہو گئی کہ ایک سال بعد خاوند مہر ادا کرے گا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند کو پتہ تھا یہ نکاح ایسا عقد ہے جس میں اس کو مال دینا پڑے گا، جس میں اس کو مہر دینا پڑے گا۔ پھر بھی اس نے چھ ماہ کی مدت مقرر کر دی، معلوم ہوا خاوند نے اپنا حق بھی چھ ماہ کے لیے مؤخر کر دیا۔ جب یہ ادائیگی چھ ماہ کے بعد کرے گا تو اس نے گویا خاوند نے بھی خود اپنا حق یعنی منافعِ بضع وصول کرنے کو مؤخر کر دیا۔ طرفین تو کیا فرماتے تھے؟ اگر مہر کی کوئی مدت مقرر ہو گئی تو پھر عورت کے منع کا حق ساقط ہو گیا لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، عورت کے منع کا حق ابھی بھی ساقط نہیں، کیونکہ خاوند نے جب مہر کے لیے مدت مقرر کی ہے تو اپنا حق بھی گویا اس نے اتنی مدت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا عورت اب بھی اس کو منع کر سکتی ہے۔ اور یاد رکھو، یہاں پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر فقہاء فتویٰ دیتے ہیں، استحساناً بھئی۔ قیاس تو یہی تقاضا کر رہا ہے کہ عورت نے اپنا حق مؤخر کر دیا ہے لہٰذا اب وہ خاوند کو صحبت سے نہیں روک سکتی۔ اس نے خود مدت دے دی ہے چھ ماہ کے بعد مجھے مہر ادا کر دینا۔ لیکن استحساناً امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب خاوند نے چھ ماہ کی مدت ذکر کی ہے حالانکہ اس کو پتہ تھا کہ اس عقدِ نکاح کے اندر میرے اوپر بھی مہر آئے گا، تو جب اس نے چھ ماہ کے بعد ادائیگی کی بات کی ہے معلوم ہوا اس نے اپنا حق بھی اتنی مدت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ لہٰذا عورت کیا کر سکتی ہے؟ اس کو ابھی بھی روک سکتی ہے۔ تو استحساناً امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے بھئی۔ اور نیز قیاس کا جواب بھی دیتے ہیں۔ طرفین نے اس نکاح کو قیاس کیا تھا بیع پر، اور بیع کے اندر بیع ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے اور پھر بائع مبیع کو روک سکتا ہے ثمن وصول کرنے کے لیے۔ توجہ ہے؟ تو اس کا بھی جواب دیتے ہیں کہ نہیں، ہر بیع کے اندر مشتری پر ضروری نہیں کہ ثمن پہلے ادا کرے۔ بعض بیوع ایسی بھی ہیں جہاں پر دونوں کو ایک ساتھ چیز ایک دوسرے کے حوالے کرنا پڑے گی اور وہ ہے بیع مقایضہ۔ بیع مقایضہ، بیع مقایضہ بھئی، قاف ہے دو نقطوں والا اور ضاد ہے آخر میں، بیع مقایضہ بھئی۔ بیع مقایضہ کہتے ہیں سامان کے بدلے سامان کی بیع۔ ویسے تو عموماً بیع میں یہ ہوتا ہے ایک طرف سے سامان ہوتا ہے ایک طرف سے درہم اور دینار ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ لیکن بیع مقایضہ کے اندر دونوں طرف سامان ہوتا ہے۔ مثلاً آپ نے اپنی گاڑی فروخت کی اور بدلے میں پانچ موٹر سائیکلیں لے رہے ہیں مشتری سے بھئی۔ تو دیکھا ایک طرف گاڑی ہے تو دوسری طرف موٹر سائیکلیں ہیں یعنی دونوں طرف سامان ہے۔ تو یہاں پر یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ دونوں چیزیں من وجہٍ مبیع ہیں، من وجہٍ ثمن ہیں۔ دونوں چیزیں من وجہٍ مبیع ہیں، بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو گاڑی مبیع ہے اور وہ پانچ موٹر سائیکلیں اس کا ثمن ہیں، اور پھر موٹر سائیکلوں کی طرف سے دیکھا جائے تو وہ موٹر سائیکلیں مبیع ہیں اور گاڑی کیا ہے اس کا ثمن ہے بھئی۔ تو جب دونوں طرف مبیع اور ثمن ہونے کی جہت آگئی تو اب یہاں پر کسی ایک کو بھی ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ پہلے ادائیگی کرے بلکہ دونوں ایک ساتھ ادائیگی کریں گے۔ وہ پانچ موٹر سائیکلیں دے گا تو یہ گاڑی ادا کر دے گا۔ طرفین تو اس نکاح کو کس پر قیاس کرتے تھے؟ بیع پر کہ بیع کے اندر جب تک ثمن حوالے نہ کیے جائیں تو بائع مبیع روک سکتا ہے۔ تو اس کا بھی جواب دیا کہ نہیں بھئی، بیع کے اندر بھی ثمن پہلے دینا ہمیشہ ضروری نہیں ہوتے جیسے بیع مقایضہ کے اندر۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِيهِ خِلَافُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اس میں اختلاف ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا۔ ”وَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے صحبت کر لی تو بھی اسی طرح ہے جواب۔ صورت یہ ہے بھئی، ابھی انہوں نے آپ کو بتایا کہ عورت اپنے آپ کو خاوند سے روک سکتی ہے اسے صحبت نہ کرنے دے، لیکن اگر خاوند نے صحبت کر لی تو کیا اب بھی اس کو حقِ منع ہے؟ کیا وہ اب بھی خاوند کو روک سکتی ہے مہر وصول کرنے کے لیے جبکہ خاوند وطی کر چکا ہے، صحبت کر چکا ہے؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں ہاں، عورت اب بھی روک سکتی ہے۔ خاوند کے صحبت کرنے کے بعد بھی اس کا حق ختم نہیں ہوا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، جب بیوی نے ایک دفعہ خاوند کو صحبت کرنے دی تو اس نے خاوند کا حق اس کے حوالے کر دیا، اور جب خاوند کا حق اس کے حوالے کر دیا تو گویا اپنا روکنے کا حق عورت نے خود ہی ساقط کر دیا۔ عورت نے اپنے روکنے کا حق خود ہی ساقط کر دیا بھئی۔ اس کو تو حق دیا تھا شریعت نے یہ مہر وصول کیے بغیر خاوند کو صحبت نہ کرنے دیتی، لیکن اس نے خاوند کو صحبت کا موقع دے کر اپنا حق خود ہی ساقط کر دیا لہٰذا اب اس کو حقِ منع نہیں ہے۔ ایک دفعہ جب خاوند نے صحبت کر لیا اب عورت اس کو صحبت سے نہیں روک سکتی بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں ابھی بھی اس کو حقِ منع ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے صحبت کر لی، ”فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو بھی اسی طرح ہے جواب امام صاحب کے نزدیک۔ ”وَقَالَا: لَيْسَ لَهَا أَنْ تَمْنَعَ نَفْسَهَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اب اس عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کو خاوند سے روکے۔ ”وَالْخِلَافُ فِيمَا إِذَا كَانَ الدُّخُولُ بِرِضَاهَا“ کہتے ہیں یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب یہ خاوند نے عورت کی مرضی سے صحبت کی ہو۔ عورت نے اپنی مرضی سے اس کو صحبت کرنے دی، تو اب صاحبین فرماتے ہیں اب اس کا حقِ منع ساقط ہو گیا ختم ہو گیا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں ابھی بھی اس کا حقِ منع ہے یہ اب آگے خاوند کو روک سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْخِلَافُ فِيمَا إِذَا كَانَ الدُّخُولُ بِرِضَاهَا“ کہ اختلاف اس صورت میں ہے جب صحبت جو ہے اس عورت کی رضامندی سے ہوئی ہو، ”حَتَّى لَوْ كَانَتْ مُكْرَهَةً أَوْ كَانَتْ صَبِيَّةً أَوْ مَجْنُونَةً فَلَا يَسْقُطُ حَقُّهَا فِي الْحَبْسِ بِالِاتِّفَاقِ“ ہاں اگر عورت کے ساتھ خاوند نے زبردستی صحبت کر لی، یا عورت جو ہے وہ نابالغہ تھی اور خاوند نے اس سے کیا کر لی؟ صحبت کر لی، اور یا عورت جو ہے اس کو جنون کا دورہ پڑا تھا اور مجنونہ ہونے کی حالت میں خاوند نے اس سے صحبت کر لی، تو اس صورت میں بالاتفاق اس کا حقِ منع ساقط نہیں۔ خاوند نے جب زبردستی اس کے ساتھ صحبت کی ہے، اس نے تو اپنی مرضی سے اس کو اجازت نہیں دی لہٰذا ابھی بھی حقِ منع اس کے پاس ہے یہ خاوند کو آئندہ روک سکتی ہے۔ یا یہ نابالغہ تھی اس وقت خاوند نے اس سے صحبت کی اور اب یہ بالغ ہو گئی ہے تو بھی اس کے پاس حقِ منع ہے یہ خاوند کو منع کر سکتی ہے۔ یا یہ مجنونہ تھی جنون کا دورہ اس پر پڑا اور جنون کی حالت میں خاوند نے اس سے صحبت کر لی تو ان تمام صورتوں میں چونکہ عورت کی رضامندی سے صحبت نہیں ہوئی لہٰذا ابھی بھی اس کے پاس حقِ منع ہے بھئی، یہ خاوند کو روک سکتی ہے مہر وصول کرنے تک۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَوْ كَانَتْ مُكْرَهَةً“ مُکرَہ بھئی، مُکرَہَہ جس کے ساتھ زبردستی کی جائے، جو زبردستی کرنے والا ہے وہ ہے مُکرِہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَوْ كَانَتْ مُكْرَهَةً“ اگر عورت جو ہے وہ مُکرَہہ ہوئی یعنی اس کے ساتھ زبردستی کی گئی یعنی خاوند نے زبردستی صحبت کی، ”أَوْ كَانَتْ صَبِيَّةً“ یا وہ بچی تھی یعنی نابالغہ تھی خاوند نے صحبت کر لی تھی، ”أَوْ مَجْنُونَةً“ یا وہ مجنونہ تھی اسے جنون کا دورہ پڑا تھا جب خاوند نے صحبت کر لی تھی، ”فَلَا يَسْقُطُ حَقُّهَا فِي الْحَبْسِ بِالِاتِّفَاقِ“ تو ساقط نہیں ہوتا اس کا حق فی الحبس، منع کرنے میں اور روکنے میں، بالاتفاق، ائمہ کے اتفاق سے۔ یعنی تمام ائمہ کا اس میں اتفاق ہے کہ ابھی تک اس کا حقِ منع ساقط نہیں ہوا۔ ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْخَلْوَةُ بِهَا بِرِضَاهَا“ اور اسی اختلاف پر ہے اس کے ساتھ خلوت کرنا اس کی رضامندی سے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ خلوتِ صحیحہ بھی صحبت کے قائم مقام ہے، وطی کے قائم مقام ہے۔ تو اگر اس عورت نے اپنی مرضی کے ساتھ خاوند کے ساتھ خلوتِ صحیحہ کر لی، وطی تو نہیں کی لیکن خلوتِ صحیحہ کر لی، تو اس صورت میں بھی صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کا حقِ منع ساقط ہو گیا۔ اس نے خود ہی اپنا حقِ منع ساقط کر دیا خاوند کے ساتھ خلوتِ صحیحہ کر کے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ وطی کرنے سے اس کا حقِ منع ساقط نہیں ہوتا تو خلوت میں بھی اس کا حقِ منع ساقط نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْخَلْوَةُ بِهَا بِرِضَاهَا“ اور اسی اختلاف پر ہے اس عورت سے خلوت کرنا اس کی رضامندی سے، ”وَيَبْتَنِي عَلَى هَذَا اسْتِحْقَاقُ النَّفَقَةِ“ اور مبنی ہے اسی پر نفقے کا مستحق ہونا۔ بھئی دیکھیے، عورت کا نکاح ہو گیا ہے خاوند سے، اب وہ نفقے کی مستحق ہے، خاوند کو خرچہ دینا پڑے گا۔ تو یاد رکھو، یہ عورت بھی اپنا حق وصول کرنے کے لیے خاوند کو صحبت نہیں کرنے دے رہی لہٰذا یہ ناشزہ نہیں کہلائے گی۔ ناشزہ کہتے ہیں نافرمان عورت، ناشزہ۔ اور یاد رکھو جو نافرمان عورت ہے خاوند پر اس کا نفقہ نہیں ہوتا۔ اس نے نافرمانی کی ہے مثلاً خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل گئی ہے، اپنے والدین کے گھر چلی گئی ہے تو اب اس کا خرچہ خاوند کے ذمے نہیں ہے بھئی، اس کو اجازت لے کر جانا چاہیے تھا یہ بغیر اجازت کے چلی گئی ہے۔ تو یہ عورت جو خاوند کو صحبت سے روک رہی ہے یہ ناشزہ نہیں کہلائے گی، کیونکہ اس نے اپنا حق وصول کرنا ہے، مہر وصول کرنا ہے، تو یہ عورت ناشزہ نہیں۔ جب ناشزہ نہیں تو اس کو خاوند کو نفقہ دینا پڑے گا۔ لیکن بات چل رہی ہے صحبت کے بعد کی، صحبت کے بعد بھی کیا اب اس کو منع کا حق ہے یا نہیں؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ صحبت اور خلوت کے بعد بھی اس کو منع کا حق ہے، صاحبین فرماتے ہیں اب اس کو منع کا حق نہیں ہے خاوند کو صحبت سے نہیں روک سکتی۔ اب عورت صحبت یا خلوت کے بعد خاوند کو صحبت نہیں کرنے دے رہی، تو امام صاحب فرماتے ہیں اس کو حقِ منع ہے، یہ اپنے حق کے لیے صحبت نہیں کرنے دے رہی لہٰذا یہ ناشزہ نہیں۔ جب ناشزہ نہیں خاوند کو نفقہ دینا پڑے گا۔ اس دوران بھی خاوند کو نفقہ دینا پڑے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس کا حقِ منع ساقط ہو چکا ہے، اب خاوند اس کے ساتھ صحبت کرنا چاہ رہا ہے تو یہ خاوند کو صحبت نہیں کرنے دے رہی تو یہ ناشزہ ہوئی، خاوند کی نافرمان ہوئی، اور جب نافرمان ہوئی تو خاوند پر اس کا نفقہ نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے: ”وَيَبْتَنِي عَلَى هَذَا اسْتِحْقَاقُ النَّفَقَةِ“ اور مبنی ہے اسی اختلاف پر نفقے کا مستحق ہونا بھی۔ امام صاحب کے نزدیک ابھی بھی وہ نفقے کی مستحق ہے، اور صاحبین کے نزدیک اگر وہ منع کرتی ہے تو اب وہ نفقے کی مستحق نہیں ہے بھئی۔ ”لَهُمَا“ اب دلیل آگئی۔ ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ كُلَّهُ قَدْ صَارَ مُسَلَّمًا إِلَيْهِ“ بھئی ادھر دیکھیے۔ صاحبین فرماتے ہیں جب عورت نے خاوند کو ایک دفعہ صحبت کرنے دی تو عورت نے معقود علیہ خاوند کے حوالے کر دیا، وہ چیز جس پر عقد ہوا تھا یعنی منافعِ بضع وہ معقود علیہ جو ہے عورت نے خاوند کے سپرد کر دیا لہٰذا اب خاوند کو روکنے کا حق نہیں۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے بیع کے اندر جب بائع مبیع ایک دفعہ مشتری کے حوالے کر دے تو اب بائع کو واپس لینے اور اسے روکنے کا حق نہیں ہوتا۔ بھئی بائع کو شریعت نے حق دیا تھا وہ ثمن کی وصولی تک مبیع کو اپنے پاس روک سکتا تھا، لیکن اس نے خود ہی مبیع مشتری کے حوالے کر کے اپنا حقِ منع اور حقِ حبس ساقط کر دیا تو اب مبیع مشتری کے حوالے کرنے کے بعد بائع اس کو نہیں روک سکتا، اس کو واپس نہیں لے سکتا۔ تو یہاں پر بھی عورت نے جب منافعِ بضع جو معقود علیہ تھے وہ خاوند کے حوالے کر دیے ہیں یا اس کے ساتھ خلوتِ صحیحہ کر لی ہے تو اب اس عورت کو بھی حقِ حبس نہیں ہوگا، منع کا حق نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”لَهُمَا: أَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ كُلَّهُ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ وہ جو معقود علیہ تھا سارا کا سارا یعنی منافعِ بضع، ”قَدْ صَارَ مُسَلَّمًا إِلَيْهِ“ وہ تحقیق خاوند کے حوالے کر دیا گیا، وہ سارا مسلم الیہ ہو گیا یعنی خاوند کے حوالے کر دیا گیا، ”بِالْوَطْأَةِ الْوَاحِدَةِ أَوْ بِالْخَلْوَةِ“ ایک ہی وطی سے یا ایک ہی خلوت سے، وہ معقود علیہ خاوند کے حوالے کر دیا گیا، ”وَلِهَذَا يَتَأَكَّدُ بِهَا جَمِيعُ الْمَهْرِ“ اور اسی وجہ سے سارا مہر اس کی وجہ سے پختہ ہو جاتا ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے ایک شخص کا ایک عورت سے نکاح ہو جائے تو اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو نصف مہر دینا پڑتا ہے، اور اگر صحبت کے بعد طلاق دے گا تو پورا مہر دے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں دیکھو، ایک ہی صحبت بھی خاوند کر لے پورا مہر دینا پڑتا ہے۔ کیوں پورا مہر دینا پڑتا ہے؟ کیونکہ اس نے سارا معقود علیہ وصول کر لیا ایک ہی وطی کی وجہ سے یا خلوت کی وجہ سے اس نے کیا کر لیا؟ معقود علیہ سارا وصول کر لیا، جب معقود علیہ سارا وصول کر لیا تو اب اس کو بدل دینا پڑے گا یعنی مہر پورا کا پورا دینا پڑے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں دیکھو ایک ہی صحبت کی وجہ سے سارا مہر خاوند پر پکا ہو گیا، معلوم ہوا عورت نے سارا معقود علیہ خاوند کے حوالے کر دیا ہے لہٰذا اب خاوند کو بھی سارا مہر دینا پڑے گا۔ لہٰذا جب ایک ہی وطی سے سارا معقود علیہ خاوند کے سپرد ہو گیا تو اب عورت کا حقِ منع ساقط ہو گیا، اب عورت منع نہیں کر سکتی، جیسے بائع جب مبیع سپرد کر دے تو پھر بائع کو یہ حق نہیں ہوتا کہ اب وہ مشتری سے مبیع واپس لے لے اور اس کو روک لے، بات سمجھ میں آگئی۔ پھر دیکھیے ترجمہ، کہتے ہیں: ”لَهُمَا: أَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ كُلَّهُ قَدْ صَارَ مُسَلَّمًا إِلَيْهِ بِالْوَطْأَةِ الْوَاحِدَةِ أَوْ بِالْخَلْوَةِ، وَلِهَذَا يَتَأَكَّدُ بِهَا جَمِيعُ الْمَهْرِ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ معقود علیہ سارا کا سارا وہ خاوند کے حوالے کر دیا گیا ایک ہی وطی یا خلوت کی وجہ سے اور اسی وجہ سے ایک وطی کی وجہ سے بھی یا ایک خلوت کی وجہ سے بھی سارا مہر پکا ہو جاتا ہے، ”فَلَمْ يَبْقَ لَهَا حَقُّ الْحَبْسِ كَالْبَائِعِ إِذَا سَلَّمَ الْمَبِيعَ“ لہٰذا عورت کے لیے منع کا حق باقی نہیں رہے گا جب ایک دفعہ اس نے صحبت کرنے دی یا ایک دفعہ خلوت کر لی، جیسے کہ بائع جب وہ مبیع سپرد کر دے تو پھر دوبارہ اس کو روکنے کا حق نہیں ہوتا۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، امام صاحب فرماتے تھے خلوت یا وطی کے بعد بھی عورت کا حقِ منع ساقط نہیں ہے، وہ روک سکتی ہے، منع کر سکتی ہے۔ ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهَا مَنَعَتْ مِنْهُ مَا قَابَلَ بِالْبَدَلِ“ کہ عورت نے منع کیا ہے خاوند سے اس چیز کو، ”مَا قَابَلَ بِالْبَدَلِ“ جو بدل کے مقابل ہے۔ یہ جو خاوند مہر دے رہا ہے یہ کس کا عوض ہے؟ منافعِ بضع کا، تو عورت نے خاوند سے منافعِ بضع کو روکا ہے جو بدل یعنی مہر کے مقابلے میں آ رہے ہیں۔ عورت جب بھی منع کرے گی وہ منافعِ بضع وہ مہر کے مقابل ہیں بھئی لہٰذا عورت منع کر سکتی ہے کیونکہ ابھی تک اس کو مہر ملا نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”أَنَّهَا مَنَعَتْ مِنْهُ مَا قَابَلَ بِالْبَدَلِ“ کہ عورت نے خاوند سے روکا ہے ما اس چیز کو، قابل بالبدل جو بدل کے مقابل ہے، بدل کے مقابلے میں ہے یعنی مہر کے مقابلے میں ہے، ”لِأَنَّ كُلَّ وَطْأَةٍ تَصَرُّفٌ فِي الْبُضْعِ الْمُحْتَرَمِ“ اس لیے کیونکہ ہر وطی جو ہے وہ تصرف کرنا ہے اس بضع کے اندر المحترم جو محترم ہے یعنی عزت والا ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا دلیل آئی تھی کہ شریعت نے مہر کس لیے واجب کیا ہے؟ اس محل کی عظمت کے اظہار کے لیے یعنی بضع کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے کہ انسان معزز و محترم ہے تو بضع بھی ایک انسانی عضو ہے لہٰذا یہ بھی معزز و محترم ہے۔ یہ بغیر مال کے آپ اس کے منافع کے مالک ہو جائیں ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ یہ معزز عضو ہے لہٰذا یہ تب ہی آپ کے لیے حلال ہوگا جب آپ مال خرچ کریں گے یعنی مہر دیں گے بھئی۔ تو یہاں پر بھی امام صاحب فرماتے ہیں کہ جو بھی وطی کی جائے وہ بضع کے اندر تصرف ہے، اور بضع تو محترم اور معزز ہے لہٰذا کوئی بھی تصرف جو بضع کے اندر کیا جائے اس کو عوض سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو عوض سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ وَطْأَةٍ تَصَرُّفٌ فِي الْبُضْعِ الْمُحْتَرَمِ“ اس لیے کیونکہ ہر وطی جو ہے وہ بضعِ محترم کے اندر تصرف ہے، ”فَلَا يُخْلَى عَنِ الْعِوَضِ“ لہٰذا اس کو عوض سے خالی نہیں ہونا چاہیے، ”إِبَانَةً لِخَطَرِهِ“ ابانَہ کا معنی اظہار بھئی، ظاہر کرنا۔ خطر کا معنی ہے عظمت۔ ”إِبَانَةً لِخَطَرِهِ“ اس بضع کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے، اس بضع کے معزز اور محترم ہونے کے اظہار کے لیے جو بھی تصرف اس کے اندر کیا جائے اس کو عوض سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا خاوند ایک دفعہ صحبت کر چکا ہے اس نے ایک تصرف کر لیا، لیکن کوئی بھی تصرف عوض سے خالی نہیں ہونا چاہیے تو لہٰذا عورت اگلے تصرف سے خاوند کو وہ روک سکتی ہے۔ آگے کہتے ہیں: ”وَالتَّأَكُّدُ بِالْوَاحِدَةِ لِجَهَالَةِ مَا وَرَاءَهَا“ صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ خاوند اگر ایک دفعہ بھی وطی کر لے تو خاوند پر پورا مہر واجب ہو جاتا ہے معلوم ہوا وہ سارا معقود علیہ وصول کر چکا ہے جبھی پورا مہر دینا پڑا ہے۔ اگر ہر وطی کے مقابلے میں مال ہو پھر تو پورا مہر واجب نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے کہ بھئی ایک ہی وطی سے وہاں پورا مہر اس لیے آ جاتا ہے کہ ابھی باقی وطی جو ہے وہ مجہول ہیں، باقی جو وطی ہوں گی ان کا پتہ ہی نہیں وہ ہوتی بھی ہیں یا نہیں ہوتیں، تو وہاں چونکہ اس ایک وطی کے مقابلے میں اور کوئی وطی نہیں ہے لہٰذا اس مہر کو اس ایک وطی کا ہی عوض قرار دے دیا گیا۔ لیکن اگر خاوند نے ایک دفعہ اور وطی کر لی تو اب ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ سارا مہر پہلی وطی کے مقابل ہے دوسری وطی عوض سے خالی ہے بلکہ بالاتفاق یہاں یہ جو مہر دیا جائے گا یہ دونوں وطیوں کا عوض ہوگا بھئی، کیونکہ کوئی بھی وطی اس کو عوض سے خالی قرار نہیں دیا جا سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّأَكُّدُ بِالْوَاحِدَةِ“ اور مہر کا پکا ہو جانا ایک ہی وطی کی وجہ سے، ”لِجَهَالَةِ مَا وَرَاءَهَا“ بوجہ مجہول ہونے کے ما وراءہا جو اس کے پیچھے ہیں، یعنی اس کے مابعد والی جو وطی ہے وہ ابھی مجہول ہے، ”فَلَا يَصْلُحُ مُزَاحِمًا لِلْمَعْلُومِ“ لہٰذا یہ جو مجہول وطی ہے یہ مقابل نہیں بن سکتی معلوم وطی کا۔ خاوند نے جب ایک وطی کر لی تو ہم کہیں گے سارا مہر دینا پڑے گا اس لیے کیونکہ بعد والی وطی جو ہے وہ ابھی مجہول ہے، پتہ نہیں خاوند بعد والی وطی کرتا ہے یا نہیں کرتا، ہو سکتا ہے ایک کے بعد ہی وہ طلاق دے دے؟ تو بعد والی وطی جب مجہول ہے اس کا بھی تحقق ہی نہیں ہوا تو یہ سارا مہر اس لیے ایک وطی کا عوض قرار دیا جائے گا۔ لیکن اگر اس کے بعد خاوند نے ایک اور وطی کر لی اور پھر بعد میں طلاق دیتا ہے تو بالاتفاق یہ جو خاوند مہر دے رہا ہے یہ اس پہلی وطی کا عوض نہیں قرار دیا جائے گا، یہ دونوں وطیوں کا عوض قرار دیا جائے گا۔ معلوم ہوا وہ جو پہلے ہم نے ایک وطی کا عوض اس کو قرار دیا تھا اس لیے کیونکہ باقی وطیوں کا ابھی وجود ہی نہیں تھا، اور جب وجود آ جائے گا تو پھر مہر کو ان سب کا عوض قرار دیں گے بھئی۔ پھر دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَالتَّأَكُّدُ بِالْوَاحِدَةِ لِجَهَالَةِ مَا وَرَاءَهَا، فَلَا يَصْلُحُ مُزَاحِمًا لِلْمَعْلُومِ“ اور ایک وطی کی وجہ سے ہی مہر کا پکا ہو جانا بوجہ مجہول ہونے کے اس وطی کے جو اس کے پیچھے ہے، بعد والی وطی تو ابھی ہوئی ہی نہیں وہ تو مجہول ہے، تو یہ جو مجہول وطی ہے اس ایک معلوم وطی کا مقابل نہیں بن سکتی، وہ سارا مہر اسی ایک ہی کے مقابلے میں ہم قرار دیں گے کیونکہ وہ معلوم ہے اور باقی وطیاں تو کیا ہیں؟ مجہول ہیں، اور مجہول معلوم کا مقابل نہیں ہو سکتا سارا عوض معلوم کا ہی ہوگا بھئی۔ ”ثُمَّ إِذَا وُجِدَ وَطْءٌ آخَرُ وَصَارَ مَعْلُومًا تَحَقَّقَتِ الْمُزَاحَمَةُ“ پھر جب ایک اور وطی پائی گئی اور وہ دوسری وطی بھی معلوم ہو گئی کہ اس کا تحقق ہو چکا ہے تو اب مزاحمت اور مقابلہ پایا گیا، اب جو مہر دیں گے وہ دونوں کا عوض اس کو قرار دیا جائے گا۔ پھر دیکھیے ترجمہ کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِذَا وُجِدَ وَطْءٌ آخَرُ وَصَارَ مَعْلُومًا تَحَقَّقَتِ الْمُزَاحَمَةُ، وَصَارَ الْمَهْرُ مُقَابِلًا بِالْكُلِّ“ پھر جب ایک اور وطی پائی گئی اور وہ دوسری وطی بھی معلوم ہو گئی تو مزاحمت اور مقابلہ پایا گیا اور یہ مہر جو ہے سارے کے مقابلے میں ہو گیا یعنی جتنی بھی وطی ہوئی ہے ایک ہے، دو ہے، تین ہے، دس ہیں جتنی بھی ہیں یہ سارا مہر جو ہوگا اس کو پہلی وطی کا عوض نہیں قرار دیں گے بلکہ جتنی وطیاں معلوم ہیں ان سب کا عوض قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا آپ کا یہ کہنا ایک وطی پر ہی سارا مہر آ جاتا ہے معلوم ہوا یہ ایک ہی وطی کا عوض ہے؟ نہیں، وجہ یہ کہ وہاں اس وقت ہوئی ہی ایک وطی تھی اس لیے اس کا عوض قرار دیا، اگر اور وطیاں بھی ہوں گی تو یہ اب سارے کا عوض مہر بنے گا، صرف پہلی وطی کا عوض نہیں بنے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَصَارَ الْمَهْرُ مُقَابِلًا بِالْكُلِّ“ اور یہ مہر جو ہے تمام وطیوں کے مقابل ہو جائے گا۔ ”كَالْعَبْدِ إِذَا جَنَى جِنَايَةً يُدْفَعُ كُلُّهُ بِهَا“ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے غلام، یاد رکھو غلام اگر کوئی جرم کر دے مثلاً غلام نے غلطی سے کسی کا ہاتھ کاٹ دیا یا کسی کا مالی نقصان کر دیا، تو اب کسی کا ہاتھ کاٹا ہے تو پچاس اونٹ دینے پڑیں گے بھئی۔ توجہ ہے؟ آزاد آدمی کے ہاتھ کی قیمت کیا ہے؟ پچاس اونٹ بھئی۔ تو لہٰذا پچاس اونٹ دینے پڑیں گے یا کسی کا مالی نقصان کیا ہے، تو اب یہ آقا کے ذمے آگیا۔ اب آقا کو اختیار ہے وہ چاہے تو وہ سارا جرم ادا کر دے اور غلام کو اپنے پاس ہی رکھے، جتنا غلام نے جنایت کی ہے جتنا کسی کا نقصان کیا ہے آقا یا تو وہ نقصان پورا کر دے غلام کو اپنے پاس ہی رکھ لے، اور یا چاہے تو یہ غلام ہی ان کے حوالے کر دے کہ بھئی میں تو مال نہیں دے سکتا یہ غلام تم رکھو اس کو خود ہی بیچ کر اپنے پیسے پورے کر لو۔ بات سمجھ میں آگئی؟ پھر یاد رکھو اگر مثلاً غلام نے ایک جنایت کر دی، جنایت کر دی، آقا وہ غلام ان کے حوالے کر دیتا ہے تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ غلام اس ایک ہی جنایت کے عوض کے طور پر دے دیا آقا نے، کیونکہ جنایت کی ہی ایک ہے ابھی آگے مستقبل والی جنایتوں کا تو ابھی پتہ نہیں۔ دوسری صورت، ایک غلام ہے اس نے ایک جنایت کی پھر دوسری کی پھر تیسری کی، ابھی وہ آقا نے غلام ان کے حوالے نہیں کیا اس نے تین چار جنایتیں کر لیں اور وہ سارے مطالبہ کرنے آگئے کہ اس نے ہمارا اتنا اتنا نقصان کیا ہے نقصان ہمارا پورا کرو، تو آقا اسی غلام کو ان ساری جنایتوں کے بدلے میں دے دے گا یعنی اب وہ اس غلام کو بیچ کر ہر ایک اپنے اپنے نقصان کو جتنا اس سے پورا ہو سکتا ہے پورا کر لے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں یہاں بھی اسی طرح ہے جیسے غلام اگر صرف ایک جنایت کرے تو وہ ایک جنایت معلوم ہے تو اس کا وہ عوض غلام ہو جاتا ہے، اور اگر ایک سے زیادہ جنایتیں معلوم ہو جائیں تو غلام ان ساروں کا عوض ہو جاتا ہے۔ یہاں پر بھی اگر خاوند نے صرف ایک وطی کی تھی اور پھر طلاق دی ہے تو مہر سارا اس ایک وطی کا عوض ہو جائے گا، اور اگر خاوند نے ایک سے زیادہ وطیاں کی ہیں تو جتنی بھی کی ہیں وہ سارا مہر ان ساروں کا عوض بن جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالْعَبْدِ إِذَا جَنَى جِنَايَةً“ جیسے کہ غلام جب وہ کوئی ایک جنایت کر لے، ”إِذَا جَنَى جِنَايَةً“ دیکھو جَنَى فعل ہے اور جِنَايَةً اسی سے مصدر لے آئے تو یہ مفعول مطلق ہے بھئی۔ اور مفعول مطلق کے لانے کے تین بڑے مقاصد جو ہوتے ہیں: ایک تو مجاز کے احتمال کو ختم کیا جاتا ہے، مثلاً میں نے کہا: ضَرَبْتُ زَيْدًا ضَرْبًا، یہ میں مفعول مطلق آگے ضرباً لے کر آیا۔ وجہ یہ کہ کسی کے ذہن میں خیال آ سکتا ہے کہ میں نے زید کی پٹائی نہیں کی ہوگی اس کو سخت ڈانٹا ہوگا، اور لیکن اس ڈانٹنے کو ہی میں ضرب سے تعبیر کر رہا ہوں کہ میں نے اس کو اتنا ڈانٹا یوں سمجھو پٹائی ہی کر دی میں نے اس کی، تو معلوم ہوا ضَرَبْتُ زَيْدًا سے یہاں ضرب مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ ڈانٹنا مراد ہے، کوئی یہ خیال کر سکتا ہے تو اس لیے میں آگے مفعول مطلق لایا: ضَرَبْتُ زَيْدًا ضَرْبًا۔ اس ضَرْبًا نے آ کر ماقبل کے ضَرَبْتُ کو پکا کر دیا اور بتلا دیا کہ ضرب سے ضرب ہی مراد ہے کوئی اور مجازی معنی ڈانٹنا وغیرہ مراد نہیں ہے۔ تو مفعول مطلق کو کبھی کس لیے لاتے ہیں؟ مجاز کے احتمال کو ختم کرنے کے لیے۔ اور کبھی مفعول مطلق کو لاتے ہیں تعداد بتلانے کے لیے: ضَرَبْتُ ضَرْبَةً، میں نے ایک ضرب لگائی، ضَرَبْتُ ضَرْبَتَيْنِ، میں نے دو ضربیں لگائیں، ضَرَبْتُ ضَرَبَاتٍ، میں نے کئی ضربیں لگائیں۔ اور کبھی کبھار مفعول مطلق لاتے ہیں نوع بتلانے کے لیے: جَلَسْتُ جِلْسَةَ الْقَارِئِ، میں قاری کے انداز میں بیٹھا۔ تو یہاں صاحبِ ہدایہ مفعول مطلق جو لائے ہیں وہ عدد بیان کرنے کے لیے ہیں۔ کہتے ہیں: ”كَالْعَبْدِ إِذَا جَنَى جِنَايَةً“ جیسے کسی غلام نے ایک جنایت کی، ”يُدْفَعُ كُلُّهُ بِهَا“ تو حوالے کیا جائے گا وہ سارا کا سارا غلام اس ایک ہی جنایت کے بدلے میں، ایک ہی کے بدلے میں سارا غلام حوالے کر دیں گے کہ یہ اس کا عوض ہے، ”ثُمَّ إِذَا جَنَى أُخْرَى وَأُخْرَى“ اور پھر اگر غلام نے ایک اور جنایت کی اور ایک اور جنایت کی، یعنی ابھی حوالے نہیں کیا، پہلی صورت الگ ہے ایک جنایت کی اور حوالے کر دیا، دوسری صورت ایک جنایت کی: ”ثُمَّ جَنَى أُخْرَى وَأُخْرَى“ پھر اس نے ایک اور جنایت کی اور ایک اور جنایت کی، تو پھر اس صورت میں ساری جنایتوں کے عوض میں اس غلام کو دیا جائے گا اور کیا کہا جائے گا؟ یہ ان سب کا عوض ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِذَا جَنَى أُخْرَى وَأُخْرَى يُدْفَعُ بِجَمِيعِهَا“ پھر اس غلام نے ایک اور جنایت کر دی اور ایک اور جنایت، تو اس غلام کو حوالے کیا جائے گا ان سب جنایتوں کے عوض میں۔ چلیے بس کریں، بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 33 of 160