Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 72
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنْ لَا يُخْرِجَهَا مِنَ الْبَلْدَةِ أَوْ عَلَى أَنْ لَا يَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى، فَإِنْ وَفَى بِالشَّرْطِ فَلَهَا الْمُسَمَّى؛ لِأَنَّهُ صَلُحَ مَهْرًا وَقَدْ تَمَّ رِضَاهَا بِهِ، وَإِنْ تَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى أَوْ أَخْرَجَهَا فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا“ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کسی شخص نے، کوئی آزاد شخص ہے اس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور مہر جو ہے اپنی ایک سال کی خدمت مقرر کی، یا مہر جو ہے تعلیم القرآن مقرر کی، تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک دونوں صورتوں میں مہر مثل آئے گا، کیونکہ مہر کا مال ہونا ضروری ہے، اور آزاد خاوند کی خدمت وہ بھی مال نہیں اور تعلیم القرآن یہ بھی مال نہیں ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تعلیم القرآن تو مال نہیں وہاں تو مہر مثل ہی آئے گا، لیکن اگر آزاد خاوند کی خدمت کی شرط لگائی تو وہ تو مال ہے، لیکن وہ خاوند بیوی کی خدمت نہیں کر سکتا، کیونکہ اس صورت میں تو قلب موضوع لازم آئے گا، نکاح تو اس لیے وضع کیا گیا ہے کہ بیوی خادمہ ہوگی اور خاوند مخدوم ہوگا، لیکن اگر آزاد خاوند کی خدمت کو مہر قرار دیا جائے تو پھر یہ نکاح جس مقصد کے لیے وضع کیا گیا ہے اس کو الٹا دینا، اس کو پلٹ دینا لازم آئے گا، کہ بیوی مخدومہ بن جائے گی اور خاوند خادم بن جائے گا۔ تو خاوند کی خدمت مال تو ہے لیکن بیوی کے حوالے نہیں کر سکتا، تو پھر اس صورت کے اندر اس چیز کی قیمت آیا کرتی ہے، تو یہی خاوند اگر کسی اور شخص کی ایک سال خدمت کرے تو اس ایک سال کی خدمت کی جو قیمت بنتی ہے اب وہ بیوی کے حوالے کرنا پڑے گی۔ میں نے بتلایا تھا کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو منافع ہیں یہ مال نہیں۔ وجہ یہ کہ ان کے اندر بقا نہیں، بقا ہوتی تو پھر ہم ان کو مال قرار دیتے، یہ تو ہر ہر لمحے کے اندر پرانے منافع ختم ہوتے جا رہے ہیں اور نئے منافع آتے جا رہے ہیں، جیسے ایک مکان کی رہائش ہے، تو ہر ہر لمحے میں نئی نئی رہائش آ رہی ہے اور پرانی ختم ہوتی جا رہی ہے، آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ مکان کی چھ مہینے کی رہائش اکٹھی کر لیں اور پھر کسی کو اکٹھی اجارے پر دے دیں، ایسا نہیں کر سکتے۔ یا اسی طرح آزاد آدمی کی جو خدمت ہے، وہ بھی اس کے منافع بھی ہر ہر لمحے میں گزرتے جا رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص اپنی پوری سال کی خدمت جمع کر لے اور پھر کسی کے ساتھ اس پر عقدِ اجارہ کر لے، تو منافع کے اندر بقا ہے ہی نہیں۔ جب ان میں بقا نہیں تو یہ مال نہیں۔ البتہ عقدِ اجارہ کے اندر تو ان کا عوض لیا جاتا ہے، مکان آپ کرائے پر دیتے ہیں اس کی اجرت لیتے ہیں، مزدور آپ لے کر آتے ہیں وہ آپ کی خدمت اور آپ کا کام کرتے ہیں تو آپ ان کو مزدوری دیتے ہیں، تو اجارے کی قیمت تو دی جاتی ہے، تو اس کا جواب شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ شریعت نے جو عقدِ اجارہ کے اندر منافع کی قیمت کی اجازت دی ہے وہ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے دی ہے، اس لیے کیونکہ انسان محتاج ہے، مثلاً کسی کا اپنا گھر نہیں ہے تو اسے رہائش کے لیے کوئی جگہ چاہیے تو وہ کرائے پر لے لے گا، اور اسی طرح اگر کوئی شخص ایک کام خود نہیں کر سکتا تو وہ کسی دوسرے کو اجرت پر رکھ لیتا ہے وہ اس کا وہ کام کر دیتا ہے، تو انسان محتاج ہے بھئی، تو اس احتیاج اور ضرورت کی وجہ سے شریعت نے منافع کو اجارے کے اندر مال قرار دیا ہے، لیکن ویسے یہ مال نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں تو وہ نکاح کے اندر اپنی خدمت کو مقرر کر رہا ہے اور یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے، کوئی حاجت نہیں ہے اس کو مال قرار دینے کی، لہٰذا یوں سمجھا جائے گا جیسے کچھ مقرر ہی نہیں کیا، اور جب کچھ مقرر نہیں کیا تو پھر اس صورت میں مہر مثل آتا ہے تو مہر مثل دینا پڑے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند غلام تھا اور اس نے ایک سال کی خدمت کی شرط پر کسی عورت سے نکاح کیا اپنے آقا کی اجازت سے، تو اس عورت کا حق اس غلام کی خدمت ہی ہے بھئی۔ اس غلام کی خدمت ہی ہے، اور اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں پر بھی تو قلبِ موضوع لازم آتا ہے، تو جواب اس کا صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ غلام جب اپنے آقا کی اجازت اور اس کے حکم سے اس عورت کی خدمت کر رہا ہے، تو معنوی اعتبار سے وہ اپنے آقا ہی کی خدمت کر رہا ہے۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان صورتوں میں جو چیز مہر مقرر کی ہے، وہی اس عورت کا حق ہوگا، یعنی تعلیمِ قرآن مقرر کی ہے تو وہی عورت کا حق ہے، اور اگر خاوند کی خدمت جو ہے وہ مہر مقرر کی ہے تو چاہے خاوند آزاد ہو چاہے غلام ہو، یہی خدمت اس کا حق ہوگا، وجہ یہ کہ ان کے نزدیک، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مہر کا مال ہونا ضروری نہیں ہے، غیر مال جیسے تعلیمِ قرآن وغیرہ ہے وہ بھی ان کے نزدیک مہر بن سکتا ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ یہ ہے کہ جس چیز کا بھی عوض لینا جائز ہے، جس چیز کا بھی عوض لینا جائز ہے شرط کے ذریعے، اجارے کے ذریعے، تو وہ چیز خود بھی عوض بن سکتی ہے، لہٰذا اس کو مہر قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ مہر بھی عوض ہوتا ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ خاوند کی خدمت کی شرط لگائے یا تعلیمِ قرآن کی شرط لگائے تو وہی عورت کا حق ہوگا۔ اور وہ خاوند کی خدمت کو قیاس کرتے ہیں کسی دوسرے آدمی کی خدمت کی شرط لگانے پر۔ وہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! اگر خاوند کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور مہر یہ مقرر کرتا ہے کہ اس کا کوئی ساتھی ہے وہ اس عورت کی خدمت کرے گا ایک سال تک، تو اے احناف! تمہارے نزدیک یہ جائز ہے۔ معلوم ہوا آزاد آدمی کی خدمت وہ بھی مہر بن سکتی ہے۔ اور نیز اسی طرح اے احناف! اگر مہر جو ہے بیوی کی بھیڑ بکریاں چرانا مقرر ہوا، تو آپ کے نزدیک عورت اسی کی حقدار ہوگی، خاوند کو ایک سال تک اس کی بھیڑ بکریاں چرانا پڑیں گی۔ تو وہ آزاد خاوند کی خدمت کو قیاس کرتے ہیں رجلِ آخر کی خدمت پر، یا خاوند کے بکریاں چرانے پر، اور یہ دو چیزیں تو احناف کے نزدیک بھی جائز ہیں تو پھر آزاد خاوند کی خدمت بھی مہر ہونا جائز ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ہماری دلیل ذکر فرمائی تھی کہ ہمارے نزدیک مہر کا مال ہونا ضروری ہے، اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: تمہارے لیے ان محرمات کے علاوہ باقی عورتیں حلال ہیں، ﴿أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ﴾ کہ تم ان کو اپنے مال کے ذریعے تلاش کرو، معلوم ہوا مہر دینا بھی ضروری اور مہر کا مال ہونا بھی ضروری ہے بھئی۔ جبکہ آزاد آدمی کی خدمت تو مال نہیں ہے لہٰذا وہاں مہر مثل آ جائے گا۔ اور جبکہ غلام کی خدمت جو ہے وہ مال ہے بایں لحاظ کہ جب غلام کسی کی خدمت کرے گا تو غلام کی ذات ہی اس کے حوالے کرنا پڑے گی اور غلام کی ذات تو مال ہے، غلام کو تو خریدا جاتا ہے بیچا جاتا ہے وہ مال ہے، تو دیکھو یہاں گویا غلام کی ذات اس کے حوالے کر دی گئی ایک سال کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور دوسرا ضابطہ ہمارا یہ ہے کہ عورت کسی بھی حال کے اندر اپنے خاوند کی خدمت کی مستحق نہیں ہو سکتی، ویسے خاوند خدمت کرے وہ تو الگ بات ہے، لیکن نکاح کے ذریعے باقاعدہ خاوند پر لازم ہو جائے خدمت ایسا نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ اس کے اندر قلبِ موضوع ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس آزاد خاوند کی خدمت کو قیاس کیا تھا کسی دوسرے آدمی کی خدمت پر، تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ کوئی دوسرا آدمی اگر خدمت کرے گا تو وہاں تو کوئی مناقضہ اور منافات نہیں، وہاں تو قلبِ موضوع لازم نہیں آتا۔ اور نیز انہوں نے قیاس کیا تھا خاوند کے بکریاں چرانے پر، تو اس کا بھی جواب دیا کہ بکریاں چرانا یہ عورت کی خدمت کی قبیل سے نہیں ہے، یہ تو گھر کے کاموں میں سے ہے بھئی، اور گھر کے کام میاں بیوی مل کر ہی کرتے ہیں، بیوی گھر کے اندر کے کام کرتی ہے تو خاوند گھر کے باہر کے کام کرتا ہے، تو یہ گھر کے کاموں میں سے ہوا، یہ بکریاں چرانا یہ بیوی کی خدمت کی قبیل سے نہیں ہے لہٰذا یہ جائز ہے۔ اور پھر دوسرا جواب دیا کہ اس کے علاوہ ہماری دوسری روایت کے مطابق خاوند کا بکریاں چرانا یہ بھی مہر مقرر نہیں ہو سکتا، اور میں نے بتایا علماء نے اس روایت کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے، تو لہٰذا جب ہمارے نزدیک خاوند کی بکریاں چرانا وہ مہر بن ہی نہیں سکتا تو آپ اس پر قیاس بھی نہیں کر سکتے، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے چند مسائل ذکر فرمائے کہ اگر نکاح کے اندر مہر ایسی چیز مقرر کی جو تعین سے متعین نہیں ہوتی، یا ایسی چیز مہر میں مقرر کی جو تعین سے متعین ہو جاتی ہے، اور پھر عورت جو ہے، یہ دونوں چیزیں چاہے تعین سے متعین ہو یا متعین نہ ہو، ان پر عورت قبضہ کر کے معاف کر دے یا ویسے معاف کر دے تو پھر اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ تو ہر ہر صورت کا حکم بیان کر دیا صاحبِ ہدایہ نے۔ میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو درہم اور دینار ہیں یہ تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ مثلاً آپ سے میں نے ایک کتاب خریدی اور دس درہم میں نے سامنے رکھے اور کہا کہ ان درہموں کے عوض میں نے آپ سے یہ کتاب خرید لی، تو آپ کے اور میرے درمیان ایجاب و قبول ہوا اور میں کتاب کا مالک بن گیا، آپ نے کتاب میرے حوالے کر دی، اب وہ دس درہم میرے سامنے پڑے ہیں جن پر میں نے آپ سے بیع کی ہے، لیکن یاد رکھو میں نے بے شک اشارہ کر کے کہا تھا ان درہموں کے بدلے میں آپ سے کتاب خریدتا ہوں، لیکن پھر بھی درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے، لہٰذا میرے اوپر یہی درہم دینا آپ پر لازم نہیں ہیں، میں چاہے یہی والے درہم دے دوں، چاہے کوئی اور درہم دے دوں، بائع اعتراض نہیں کر سکتا، کیونکہ درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، عقد میں بھی اور فسخ کے اندر بھی۔ مثلاً یہی بیع میں آپ سے فسخ کرتا ہوں تو میں آپ کو کتاب واپس کرتا ہوں اور آپ مجھے دس درہم دے دیتے ہیں، تو اب آپ پر ضروری نہیں کہ وہی درہم مجھے واپس لوٹائیں جو میں نے آپ کو دیے تھے، آپ چاہے وہی درہم دے دیں، آپ چاہے کوئی اور درہم دے دیں، مشتری جو بیع کو فسخ کر رہا ہے وہ یہاں کوئی اعتراض نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ درہم اور دینار عقود میں اور فسوخ میں متعین نہیں ہوتے۔ تو درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مکیلات اور موزونات جو ہیں یعنی وہ چیزیں جن کو کسی برتن میں ماپا جاتا ہے یا وہ چیزیں جن کا وزن کیا جاتا ہے، یاد رکھو یہ بھی ویسے متعین نہیں ہوتے لیکن اگر ان کی طرف اشارہ کر دیا جائے پھر یہ متعین ہو جائیں گے۔ پھر یہ متعین ہو جائیں گے۔ مثلاً میرے پاس دس بوری گندم سامنے پڑی ہوئی ہے، میں آپ سے کہتا ہوں: یہ گندم میں نے آپ کو سو درہم میں فروخت کر دی، آپ کہتے ہیں: مجھے منظور ہے، تو یاد رکھو اب یہ جو گندم ہے، یہ مثلاً آج کل موزونات میں سے ہے، قدیم زمانے میں یہ مکیلات میں سے تھی یعنی اس کو ایک مخصوص مقدار کا برتن ہوتا تھا جس کو قَفِیز کہتے تھے اس میں ماپ کر اس کو بیچا جاتا تھا، اور آج کل بھی دنیا کے بعض علاقوں میں اسی طرح رائج ہے، لیکن عام طور پر اب اس کی بیع جو ہے وزن کے ذریعے کی جاتی ہے، تو یہ جو دس بوری گندم ہے یہ موزونات میں سے ہے مثلاً، تو یہ موزونات میں سے ہے اور میں نے اس کی طرف اشارہ کیا تو اب یہ متعین ہو گئی۔ لہٰذا اب مجھے آپ کو یہی گندم دینا پڑے گی بھئی۔ تو یہ اشارے سے متعین ہو جاتی ہیں یہ مکیلات اور موزونات۔ ہاں اگر اشارہ نہیں کیا تو پھر یہ متعین نہیں ہیں۔ مثلاً آپ نے مجھ سے دس بوری جو ہے گندم خریدی لیکن تعین میں نے نہیں کی کون سی والی گندم میں آپ کو دس بوری دوں گا، مثلاً میرے پاس سو بوریاں پڑی ہوئی ہیں، آپ نے ان سو بوریوں میں سے دس بوریاں میرے سے خرید لیں لیکن میں نے اشارہ نہیں کیا کہ یہ والی دس بوری دوں گا، تو ان سو میں سے جونسی مرضی دس بوریاں میں اٹھا کر آپ کو دے سکتا ہوں اور آپ اعتراض نہیں کر سکتے، کیونکہ یہاں میں نے اشارے کے ذریعے ان کو متعین کیا ہی نہیں بھئی۔ جب آپ کی اور میری بیع ہوئی، میں نے کہا: میں نے آپ کو دس بوری گندم بیچ دی، اور آپ نے کہا: میں نے منظور کی، تو ہم دونوں کے درمیان بیع ہو گئی، اب میرے ذمے دس بوری گندم آ گئی۔ متعین نہیں ہوئی یہ والی دس بوری، بس میرے ذمے دس بوری آ گئی، تو میں ان سو بوریوں میں سے جونسی مرضی دس بوریاں اٹھا کر آپ کو دے سکتا ہوں اور آپ اعتراض نہیں کر سکتے۔ تو معلوم ہوا درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے جبکہ موزونات اور مکیلات وہ ویسے تو متعین نہیں ہوتے لیکن باقاعدہ ان کی طرف اشارہ کر دیا جائے پھر وہ بھی متعین ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ باقی سامان ہیں اور کوئی بھی چیز ہے مثلاً برتن ہیں، یا کپڑے ہیں، یا بھیڑ بکریاں ہیں، یا گائے ہیں، یا زمین وغیرہ ہے، یہ سب چیزیں تعین سے متعین ہو جاتی ہیں۔ تو یہ چیزیں تعین سے متعین ہو جایا کرتی ہیں۔ تو اب بات چل رہی تھی ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ ان چیزوں میں سے یا تو ایسی چیز ذکر کرے گا مہر کے طور پر جو تعین سے متعین نہیں ہوتی مثلاً درہم اور دینار، یا اسی طرح مکیلات اور موزونات ہیں بغیر اشارے کے، تو پھر اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ اور اگر وہ نکاح کے اندر کوئی سامان وغیرہ مقرر کرتا ہے جو تعین سے متعین ہو جاتا ہے تو پھر اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ صاحبِ ہدایہ نے ہر صورت کی مکمل تفصیل بیان فرمائی تھی۔ تو پہلی صورت یہ ذکر فرمائی: مثلاً ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور مہر جو ہے وہ ہزار درہم مقرر کیے، اب درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، پھر نکاح کرنے کے بعد اس شخص نے اس عورت کو ہزار درہم حوالے کر دیے، عورت نے ان درہموں کو اپنے قبضے میں لیا اور پھر اسی وقت خاوند کو واپس کر دیے کہ بس یہ آپ میری طرف سے رکھیں۔ تو اب دیکھو عورت نے قبضہ کرنے کے بعد پھر وہ درہم خاوند کو واپس کیے ہیں، اور پھر خاوند جو ہے صحبت سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے، اور جب صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو پھر خاوند پر نصفِ مہر لازم آتا ہے۔ لہٰذا فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند نصفِ مہر کے اندر عورت پر رجوع کر سکتا ہے۔ خاوند کہے گا کہ میں نے تو تمہیں پورا مہر دیا تھا لیکن تمہیں طلاق صحبت سے پہلے ملی ہے تو تمہارا حق تو آدھا مہر بنتا ہے لہٰذا آدھا مہر واپس میرے حوالے کرو۔ تو خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ اور آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ اس عورت نے تو سارے درہم واپس کر دیے تھے، تو جواب یہ کہ درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، جن درہموں پر عورت نے قبضہ کیا تھا ہم یوں سمجھیں گے وہ اور تھے اور جو خاوند کو واپس دیے ہیں وہ اور ہیں بھئی۔ یعنی جو خاوند نے دیے تھے وہ تو مہر تھا اور یہ جو عورت نے واپس دیے ہیں یہ عورت کی طرف سے ہبہ ہے اور تحفہ ہے بھئی۔ تو یہ ہبہ اور تحفہ ہے، تو خاوند کو اب ہزار درہم مل تو گئے لیکن یہ ہزار درہم تحفے کے طور پر ملے ہیں، اور میں نے بتایا تھا اس میں عورت رجوع بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ ویسے تو ہبہ میں رجوع جائز ہے لیکن میاں بیوی میں سے کوئی کسی کو تحفہ دے دے تو وہ لازم ہو جاتا ہے وہاں رجوع بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ عورت بھی اپنے ان ہزار درہموں میں رجوع نہیں کر سکتی۔ تو اب اگر عورت کہے کہ میں نے تو آپ کو وہ پیسے واپس کر دیے تھے، تو جواب یہ کہ وہ جو درہم خاوند کو ملے تھے وہ بطورِ ہبہ کے ملے تھے، اور خاوند کا حق یہ تھا کہ اس کو نصفِ مہر واپس ملنا چاہیے تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خاوند کا جو حق ہے وہ خاوند کو ابھی بھی نہیں ملا بھئی، تو خاوند عورت پر رجوع کر سکتا ہے۔ اور یہی حکم ہے مکیلات اور موزونات میں جب وہ متعین نہ ہوں۔ مثلاً خاوند نے نکاح کیا عورت کے ساتھ اور مہر یہ مقرر کیا کہ میں تمہیں ایک ہزار قَفِیز گندم دوں گا، یا مہر یہ مقرر کیا کہ میں تمہیں ایک ہزار من چینی دوں گا یعنی مکیلات یا موزونات میں سے کوئی مقرر کیا اور اشارے سے متعین نہیں کیا، تو اب یہ خاوند کے ذمے میں آ گئے۔ جب خاوند کے ذمے میں آ گئے اور پھر خاوند نے یہ لا کر بیوی کے حوالے کر دیے، بیوی نے ان پر قبضہ کیا اور پھر خاوند کو واپس کر دیے کہ بس یہ میری طرف سے آپ رکھیں، تو یاد رکھو اس صورت میں بھی نصفِ مہر کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ یہ مکیلات اور موزونات بھی یہاں متعین نہیں کیونکہ ان کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا تھا، تو جو خاوند نے بیوی کو دیے تھے وہ مہر کے طور پر تھے اور جو بیوی نے واپس کیے ہیں یہ ان کے مثل ہیں یہ وہی والے نہیں ہیں، تو یہ ہبہ ہے اور خاوند جو ہے وہ تو نصفِ مہر کا مستحق تھا کہ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے خاوند کو نصفِ مہر واپس ملنا چاہیے اور وہ حق ابھی تک خاوند کو ملا نہیں لہٰذا وہ رجوع کر سکتا ہے نصفِ مہر میں، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ اس کے بعد دوسری صورت ذکر کی صاحبِ ہدایہ نے کہ ہزار درہم پر ہی نکاح ہوا اور عورت نے قبضے کے بغیر ہی وہ ہزار درہم خاوند کو معاف کر دیے، اور پھر خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی، تو اس صورت میں ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ خاوند اور بیوی ایک دوسرے پر رجوع نہیں کریں گے۔ بیوی نے تو مہر معاف کر دیا لہٰذا اس لیے بیوی بھی خاوند پر رجوع نہیں کر سکتی۔ بیوی کا حق نصف مہر بنتا تھا، اس نے تو سارا ہی معاف کر دیا، تو سارے کے اندر اس کا نصف جو حق بنتا تھا وہ بھی آ گیا، تو بیوی بھی خاوند پر رجوع نہیں کر سکتی۔ اور خاوند جو ہے اس کا حق یہ تھا کہ اس کو نصفِ مہر معاف ہونا چاہیے تھا، اور بیوی نے تو سارا مہر معاف کر دیا جب، تو جب سارا مہر معاف کیا تو جو خاوند کا نصف مہر حق بنتا تھا وہ بھی خاوند کو معاف ہو گیا وہ اس تک پہنچ گیا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر بھی خاوند کو اس کا حق نہیں ملا لہٰذا خاوند بیوی پر نصف مہر میں رجوع کر سکتا ہے۔ نصف مہر میں رجوع کر سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں خاوند کو جو مہر معاف ہوا ہے اس کا سبب اور ہے اور سبب کے بدلنے سے چیز بدل جاتی ہے۔ خاوند کا حق کیا تھا کہ اس کو نصف مہر معاف ہونا چاہیے تھا طلاق قبل الدخول کی وجہ سے، اور خاوند کو جو مہر معاف ہوا ہے وہ عورت کے ابراء کی وجہ سے ہوا ہے، عورت کے معاف کرنے کی وجہ سے۔ تو خاوند کا حق کیا تھا کہ اس کے لیے نصف مہر معاف ہونا چاہیے تھا طلاق قبل الدخول کی وجہ سے اور یہاں معاف ہوا ہے عورت کے ابراء کی وجہ سے، تو خاوند کا جو حق تھا وہ اس کو نہیں ملا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ خاوند کو اس کا حق مل گیا ہے، سبب واقعی یہاں پر الگ الگ ہیں لیکن سبب تو وسیلہ ہوتا ہے کسی چیز تک پہنچنے کا، تو وسیلے کے اندر اگر اختلاف آ بھی جائے کوئی حرج نہیں ہے، خاوند کو اس کا حق مل چکا ہے۔ خاوند کا حق کیا تھا کہ نصف مہر اس کو معاف ہونا چاہیے، چاہے جس طریقے سے بھی معاف ہو جائے، اور جب عورت نے سارا معاف کر دیا تو نصف مہر بھی کیا ہو گیا خاوند کو معاف ہو گیا۔ خاوند کو اس کا حق مل گیا لہٰذا وہ رجوع نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد تیسری صورت ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ مہر ایک ہزار ہی مقرر ہوا تھا اور پھر عورت نے نصف پر قبضہ کر لیا اور باقی کا نصف خاوند کو معاف کر دیا، باقی کا مہر معاف کر دیا، اور یہ جو نصف جس پر عورت نے قبضہ کیا ہے یہ چاہے عورت اپنے پاس رکھے یا چاہے یہ واپس دے دے، دونوں صورتوں میں مسئلہ ایک ہی ہے۔ تو ایک صورت کیا ہوئی؟ عورت نے نصف پر قبضہ کیا اور باقی نصف خاوند کو معاف کر دیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ عورت نے نصف پر قبضہ کیا اور باقی نصف بھی خاوند کو معاف کیا اور یہ والا نصف بھی خاوند کو واپس دے دیا۔ تو اس صورت میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب یہ فرماتے ہیں کہ جو خاوند کے لیے سلامت رہا اس کا اعتبار ہے، جو خاوند کے لیے سلامت رہا اس کا اعتبار ہے، اور جب عورت نے نصف پر قبضہ کیا ہے اور باقی نصف خاوند کے لیے معاف کر دیا تو خاوند کا جو حق تھا کہ اس کے لیے نصف سلامت رہنا چاہیے تھا، خاوند کا حق اس کو پہنچ گیا لہٰذا خاوند بیوی پر رجوع نہیں کر سکتا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر بیوی نے نصف پر قبضہ کیا ہے تو اس نصف کے نصف میں خاوند اس پر رجوع کر سکتا ہے کہ مجھے ڈھائی سو درہم واپس دے دو، کیونکہ یہاں عورت نے بعض پر قبضہ کیا سارے پر قبضہ نہیں کیا، تو وہ اس بعض کو قیاس کرتے ہیں سارے پر، کل پر، اور کل کے اندر جب عورت سارے پر قبضہ کرتی تھی تو خاوند نصف میں رجوع کرتا تھا، تو یہاں اگر بعض پر عورت نے قبضہ کیا ہے تو اس کے بھی نصف میں خاوند رجوع کر سکتا ہے، کیونکہ صاحبین کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر مہر کے اندر عورت جو کمی کر دے بغیر قبضہ کیے ہی وہ اصلِ عقد کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہے اور یوں سمجھا جائے گا نکاح ہوا ہی کم مہر پر تھا۔ تو عورت نے پانچ سو پر تو قبضہ کیا اور پانچ سو خاوند کو ویسے ہی معاف کر دیے، تو یوں سمجھا جائے گا اس عورت کا نکاح ہوا ہی پانچ سو درہم میں تھا۔ جب نکاح ہوا ہی پانچ سو درہم میں تھا اور عورت تو پانچ سو پر قبضہ کر چکی ہے، اور حالانکہ عورت کا حق پانچ سو نہیں بنتا اس کا نصف، اس مہر کا نصف بنتا ہے، تو نصف کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک اعتبار مقبوض کا ہے، اس مقبوض کے نصف میں خاوند رجوع کرے گا، چاہے کل پر قبضہ کرے عورت، چاہے بعض پر قبضہ کرے۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک اعتبار جو خاوند کے لیے سلامت رہا اس کا اعتبار ہے، خاوند کے لیے نصف سلامت رہنا چاہیے، تو اگر نصف پورا سلامت رہا ہے تو ٹھیک، اگر نصف پورا سلامت نہیں رہا تو جتنا باقی ہے وہ وصول کر لے گا۔ مثلاً پھر چوتھی صورت انہوں نے ذکر کی کہ اسی عورت نے نصف سے کم مہر معاف کیا، مثلاً مہر ہزار تھا تو اس نے آٹھ سو وصول کر لیے اور دو سو درہم معاف کر دیے۔ تو امام صاحب کے نزدیک جو خاوند کے لیے سلامت رہا اس کا اعتبار ہے، اور خاوند کے لیے تو دو سو درہم سلامت رہے، اور خاوند کا حق کتنا بنتا تھا؟ پانچ سو درہم سلامت رہنے چاہیے تھے، لہٰذا باقی کے تین سو میں وہ رجوع کرے گا، عورت سے لے سکتا ہے وہ۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں جس پر عورت نے قبضہ کیا ہے اس کا اعتبار ہے، یوں سمجھو مہر تھا ہی اتنا، اور عورت نے تو آٹھ سو پر قبضہ کیا ہے تو گویا مہر ہی اتنا تھا، تو اس نصفِ مقبوض کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے اور چار سو اس عورت سے خاوند واپس لے سکتا ہے۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا اگر نکاح میں ایسی چیز مہر مقرر کی جو تعین سے متعین ہو جاتی ہے، مثلاً میں نے مثال ذکر کر دی کہ کوئی سامان ہے، کپڑے ہیں، جانور ہیں گائے بیل بکری وغیرہ ہے، یا زمین وغیرہ ہے، یہ سب تعین سے متعین ہو جاتے ہیں، کیونکہ یہ نہ مکیلات ہیں نہ موزونات ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس صورت کے اندر آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ چیزیں جو تعین سے متعین ہو جاتی ہیں، ان میں دو صورتیں ہو سکتی ہیں: یا تو یہ چیزیں سامنے پڑی ہیں خاوند نے متعین کر دیا: یہ تمہیں میں بطورِ مہر کے دوں گا۔ یا سامنے تو نہیں پڑیں لیکن خاوند نے ویسے ذکر کر دیا کہ میں فلاں قسم کے کپڑے کے پچاس تھان تمہیں میں دوں گا، تو وہ خاوند کے ذمے میں آ گئے۔ لیکن بہرحال دونوں صورتوں میں حکم ایک ہی ہے بھئی، چاہے یہ چیزیں سامنے موجود ہیں اور متعین ہیں چاہے خاوند کے ذمے میں ہیں ابھی متعین نہیں ہوئیں بھئی۔ تو دونوں صورتوں میں ایک ہی مسئلہ ہے۔ مثلاً خاوند نے کہا: یہ والے پچاس کپڑے کے تھان ہیں ان پر میں تم سے نکاح کرتا ہوں، تو یہ تھان متعین ہیں۔ تو اب اس کے اندر یہ تھان خاوند بیوی کو دے دیتا ہے اور بیوی پھر واپس کر دیتی ہے، یعنی قبضہ کر کے واپس کرتی ہے، یا بغیر قبضے کے ہی بیوی کہتی ہے میں نے تمہیں یہ معاف کر دیے، تو دونوں صورتوں میں میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے پر رجوع نہیں کر سکتے۔ بیوی اس لیے رجوع نہیں کر سکتی کیونکہ اس نے معاف کر دیے، اور خاوند اس لیے رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ یہ سامان متعین ہے اور خاوند کا یہ حق بنتا تھا کہ اس متعین کا نصف خاوند کو واپس ملنا چاہیے کیونکہ وہ صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے، تو جب عورت نے سارا ہی واپس کر دیا یا سارا ہی معاف کر دیا، تو وہ جو نصف خاوند کے لیے سلامت رہنا چاہیے تھا وہ خاوند کے لیے سلامت رہ گیا۔ درہم اور دینار میں عورت واپس کرتی تھی تو وہ متعین نہیں ہوتے تھے، تو وہاں خاوند رجوع کر سکتا تھا کہ خاوند کو اس کا حق نہیں ملا، لیکن یہاں خاوند کا حق اسی متعین چیز میں ہے اور یہ تو خاوند کو واپس مل گئی ہے لہٰذا خاوند کا حق ادا ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور نیز یہ تو وہ صورت تھی اگر یہ متعین ہیں سامنے موجود ہیں، اگر یہ متعین نہیں خاوند کے ذمے میں ہیں، کہتے ہیں پھر بھی حکم اسی طرح ہے، اس لیے کیونکہ جب خاوند مثلاً خاوند کے ذمے پچاس تھان ہیں لیکن متعین نہیں ہیں، تو اب خاوند وہ پچاس اس قسم کے کپڑے کے تھان لے آیا اور عورت کے حوالے کیے، تو جیسے ہی عورت اس پر قبضہ کرے گی تو یہ تھان متعین ہو گئے، اور یوں سمجھا جائے گا کہ یہ جو کپڑے کے تھان ہیں انہی کے اوپر عقد منعقد ہوا تھا، یوں سمجھا جائے گا کہ انہی پر عقد منعقد ہوا تھا اور پھر یہ عورت واپس کر دیتی ہے، تو دیکھو اب قبضے کی وجہ سے یہ تھان متعین ہو چکے، اور یوں سمجھو اسی پر عقد ہوا تھا اور یہ سارے عورت خاوند کو واپس کر دیتی ہے، تو خاوند کا حق یہ تھا کہ انہی تھانوں میں سے نصف اس کے لیے سلامت رہنے چاہیے تھے، اور عورت نے جب سارے واپس کر دیے تو خاوند کو اس کا حق مل گیا، یہ نصف تھان اس کے پاس واپس پہنچ چکے ہیں۔ یہاں ہم یہ نہیں کہیں گے وہ اور تھان تھے، یہ اور تھان ہیں، کیونکہ یہ تو متعین ہو جاتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنْ لَا يُخْرِجَهَا مِنَ الْبَلْدَةِ أَوْ عَلَى أَنْ لَا يَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى، فَإِنْ وَفَى بِالشَّرْطِ فَلَهَا الْمُسَمَّى؛ لِأَنَّهُ صَلُحَ مَهْرًا وَقَدْ تَمَّ رِضَاهَا بِهِ“ بھئی اب صورت یہ یاد رکھو: مثلاً نکاح میں عورت کوئی ایسی شرط ذکر کر دیتی ہے جس میں اس عورت کا نفع... اور اس شرط کی وجہ سے عورت اپنے مہر مثل سے کم مہر پر ہی راضی ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک عورت کا مہر مثل ہزار درہم سے زیادہ ہے، لیکن وہ ایک شخص سے نکاح کرتی ہے کہ تم مجھے بطور مہر کے ایک ہزار درہم دو گے، لیکن شرط یہ ہے کہ تم مجھے اس شہر سے کسی دوسرے شہر منتقل نہیں کرو گے، میں یہیں پر رہوں گی اسی شہر کے اندر۔ یا یہ شرط لگا دیتی ہے عورت کہ تم میرے اوپر دوسرا نکاح نہیں کرو گے یعنی سوکن کو لے کر نہیں آؤ گے بھئی۔ تو اب دیکھو عورت نے ایک ایسی شرط لگا دی جس میں اس کا فائدہ ہے، اور اس فائدے کی وجہ سے اس عورت کا مہر مثل تو ہزار درہم سے زیادہ بنتا تھا، لیکن وہ کم مہر یعنی ہزار درہم پر ہی راضی ہو گئی۔ تو اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ نکاح بھی صحیح اور یہ شرط بھی صحیح ہے۔ لہٰذا اگر خاوند نے شرط پوری کر دی تو پھر عورت کو ہزار درہم ہی ملے گا۔ اور اگر خاوند نے شرط پوری نہیں کی تو پھر اس صورت میں خاوند کو مہر مثل دینا پڑے گا، کیونکہ عورت کم مہر پر اس لیے راضی ہوئی تھی کہ ساتھ ایک اور فائدہ نظر آ رہا تھا۔ معلوم ہوا جب فائدہ فوت ہو گا تو پھر اس کی رضامندی ہزار درہم پر نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں پھر خاوند کو پورا مہر مثل ہی دینا پڑے گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ“ اگر کسی شخص نے نکاح کیا کسی عورت سے ”عَلَى أَلْفٍ“ ایک ہزار درہم پر ”عَلَى أَنْ لَا يُخْرِجَهَا مِنَ الْبَلْدَةِ“ اس شرط پر کہ خاوند اس عورت کو نہیں نکالے گا اس شہر سے ”أَوْ عَلَى أَنْ لَا يَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى“ یا اس شرط پر کہ خاوند اس پر کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرے گا ”فَإِنْ وَفَى بِالشَّرْطِ فَلَهَا الْمُسَمَّى“ تو اگر خاوند نے شرط پوری کی ”فَلَهَا الْمُسَمَّى“ تو عورت کے لیے مقررہ مہر ہی ہو گا یعنی وہ ہزار درہم ہی اسے ملیں گے ”لِأَنَّهُ صَلُحَ مَهْرًا“ اس لیے کیونکہ وہ مہر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھئی بعض اوقات ایسی چیز مہر مقرر کی جاتی ہے وہ مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی جیسے شراب اور خنزیر، لیکن یہ جو ہزار ہیں یہ تو مہر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نیز اس پر عورت راضی بھی ہو چکی ہے، تو لہٰذا یہی ہزار درہم مہر دینا پڑے گا۔ یہ کب ہے؟ جب خاوند شرط پوری کرے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ وَفَى بِالشَّرْطِ فَلَهَا الْمُسَمَّى“ اگر خاوند نے وہ شرط پوری کی تو عورت کے لیے مقررہ مہر یعنی ہزار درہم ہی ہوں گے ”لِأَنَّهُ صَلُحَ مَهْرًا“ اس لیے کیونکہ یہ ہزار درہم مہر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ”وَقَدْ تَمَّ رِضَاهَا بِهِ“ اور تحقیق اس پر عورت کی رضامندی بھی ہو چکی ہے ”وَإِنْ تَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى“ اور اگر خاوند نے اس پر دوسری عورت سے نکاح کر لیا ”أَوْ أَخْرَجَهَا“ یا اس عورت کو اس شہر سے نکالا یعنی شرط پوری نہیں کی ”فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا“ تو پھر اس صورت میں عورت کے لیے اس کا مہر مثل ہو گا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ سَمَّى“ اس لیے کیونکہ خاوند نے ذکر کیا تھا ”مَا“ ایسی چیز کو ”لَهَا فِيهِ نَفْعٌ“ جس میں اس عورت کا نفع تھا۔ خاوند نے نکاح میں کیسی شرط ذکر کی تھی جس میں عورت کا نفع تھا۔ عورت کا مہر مثل تو زیادہ ہے، لیکن معلوم ہوا یہ جو تھوڑے پر راضی ہوئی ہے وہ اسی فائدے کی وجہ سے راضی ہوئی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ سَمَّى مَا لَهَا فِيهِ نَفْعٌ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے ایسی چیز مقرر کی تھی جس میں عورت کا نفع تھا ”فَعِنْدَ فَوَاتِهِ يَنْعَدِمُ رِضَاهَا بِالْأَلْفِ“ تو جب وہ نفع فوت ہو گیا، یعنی جب وہ نفع باقی نہ رہا ”يَنْعَدِمُ رِضَاهَا بِالْأَلْفِ“ تو ہزار درہم پر اس کی جو رضامندی تھی وہ بھی معدوم ہو گئی، معلوم ہوا اب یہ ہزار پر راضی نہیں ہو گی اس صورت میں ”فَيُكْمَلُ مَهْرُ مِثْلِهَا“ تو اس عورت کے لیے پورا کر دیا جائے گا اس کے مہر مثل کو ”كَمَا فِي تَسْمِيَةِ الْكَرَامَةِ وَالْهَدِيَّةِ مَعَ الْأَلْفِ“ یہ اسی طرح ہے جیسے کرامت یا ہدیے کو ذکر کیا جائے ہزار کے ساتھ۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا کہ میں تمہیں ایک ہزار درہم مہر کے طور پر دوں گا اور تمہیں بڑی عزت کے ساتھ رکھوں گا۔ اب دیکھو حالانکہ عورت کا مہر مثل تو زیادہ ہے، لیکن خاوند مہر مثل سے کم مقدار ذکر کر رہا ہے کہ میں تمہیں ایک ہزار درہم مہر دوں گا اور تمہیں بڑے عزت کے ساتھ رکھوں گا، یا خاوند کہتا ہے کہ ایک ہزار درہم تمہارا مہر ہے اور اس کے علاوہ بھی میں تمہیں تحفہ دوں گا، تو دیکھو تحفہ بھی ساتھ ذکر کر دیا یا عزت کو بھی ساتھ ذکر کر دیا اور عورت پھر اس صورت میں ہزار پر راضی ہو گئی، تو معلوم ہوا یہ ہزار پر یعنی کم پر کیوں راضی ہوئی ہے؟ اپنے اس نفع کی وجہ سے راضی ہوئی ہے۔ تو یہاں پر بھی خاوند نے اگر اس کو عزت سے رکھا اور یا اسی طرح اگر تحفہ ذکر کیا تھا اس کو تحفہ وغیرہ کوئی دیا تو پھر اس صورت میں تو عورت کو ہزار ہی ملے گا، ورنہ پھر عورت کو مہر مثل دینا پڑے گا، وہ جتنا بھی بنتا ہو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي تَسْمِيَةِ الْكَرَامَةِ“ جیسے کہ کرامت یعنی عزت کے ذکر کرنے میں ”وَالْهَدِيَّةِ“ اور تحفے کے ذکر کرنے میں ”مَعَ الْأَلْفِ“ ہزار کے ساتھ، یعنی جیسے اس میں مسئلہ تھا یہاں ان شرطوں کے اندر بھی اسی طرح مسئلہ ہو گا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ إِنْ أَقَامَ بِهَا وَعَلَى أَلْفَيْنِ إِنْ أَخْرَجَهَا“ یہ توجہ سے سنو بھئی، یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے۔ صورت مسئلہ یہ کہ عورت نے دو مقداریں الگ الگ ذکر کر دیں۔ عورت نے کہا کہ اگر تم مجھے اسی شہر میں رکھو گے تو مہر ایک ہزار درہم ہو گا، اور اگر تم مجھے اس شہر سے کسی دوسرے شہر لے کر جاؤ گے تو پھر مہر دو ہزار ہو گا۔ تو اب دیکھو باقاعدہ دو مقداریں الگ الگ ذکر کر دی ہیں۔ تو یاد رکھو، اس صورت میں امام صاحب اور صاحبین کا بھی اختلاف ہے اور اسی طرح امام زفر رحمہ اللہ بھی اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں: اگر اس شخص نے شرط کو پورا کیا، یعنی عورت کو اسی شہر میں رکھا تو ہزار درہم دینے پڑیں گے جو پہلے مقرر کیے تھے، اور اگر اس شہر سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے تو پھر دو ہزار نہیں دے گا بلکہ مہر مثل دینا پڑے گا۔ البتہ وہ مہر مثل ہزار سے کم نہیں ہونا چاہیے اور دو ہزار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں دونوں شرطیں صحیح ہیں، تو جس پر وہ عمل کرے گا وہی مہر آ جائے گا۔ اگر اس نے اسی شہر میں اس کو رکھا تو ہزار درہم مہر ہو گا، اور اگر شہر سے دوسری جگہ منتقل کیا تو دو ہزار مہر ہو گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں شرطیں فاسد ہیں اور عورت کو مہر مثل ہی ملے گا۔ عورت کو مہر مثل ملے گا لیکن یہ مہر مثل ہزار سے کم نہیں ہونا چاہیے اور دو ہزار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ شرط کیا ذکر ہوئی؟ اگر مجھے اس شہر میں رکھا تو ہزار درہم، دوسرے شہر منتقل کیا تو دو ہزار درہم۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ پہلی شرط جو ہے وہ منجز ہے اور دوسری شرط معلق ہے۔ ”أَنْجَزَ يُنْجِزُ إِنْجَاز“ کا معنی ہے کسی چیز کو پورا کرنا، اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا، یعنی یوں کہو واقع کر دینا، کیا معنی ہے؟ واقع۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں جو پہلی شرط ذکر کی وہ واقع ہو گئی، وہ معلق نہیں ہے بلکہ واقع ہو گئی۔ عورت نے کیا کہا؟ اگر تم نے مجھے اسی شہر میں رکھا تو مہر ایک ہزار درہم۔ امام صاحب فرماتے ہیں جس وقت یہ پہلی شرط ذکر ہوئی ابھی دوسری ذکر ہی نہیں ہے، لہٰذا یہ واقع ہو گئی، مہر ایک ہزار ہو گیا۔ مہر ایک ہزار ہو گیا اس عورت کا، اور پھر جب عورت نے دوسری مقدار ذکر کی: اور اگر تم نے مجھے اس شہر سے دوسرے شہر منتقل کیا تو دو ہزار مہر ہو گا، تو وہ دوسری شرط اب معلق ہو گئی۔ تو اب اس عورت کا مہر ایک ہی ہزار ہے کیونکہ پہلی شرط واقع ہو چکی ہے۔ مہر ایک ہزار ہو گیا کیونکہ جس وقت ایک ہزار ذکر کیا تھا ابھی دو ہزار کا ذکر ہی نہیں ہوا تھا، صرف ایک ہی تسمیہ ہے، جب ایک ہی تسمیہ ہے تو وہی مہر بن گیا، اب ایک ہزار درہم اس کا مہر ہو چکا ہے۔ خاوند شرط پوری کرتا ہے تو ایک ہزار دینا پڑے گا، لیکن دوسری شرط معلق ہے، تو خاوند نے اگر دوسرے شہر منتقل کیا تو دوسری شرط پوری ہو گئی اور دو ہزار بھی آ گیا۔ ایک ہزار پہلے سے موجود ہے اور دو ہزار بھی آ گیا، تو دو تسمیہ ہوئے تو تسمیہ مجہول ہو گیا، دو چیزیں آ گئیں۔ ایک ہوتا تو متعین ہوتا، لیکن دو ہو گئے تو جہالت آ گئی، تو تسمیہ میں جہالت آ گئی یعنی فساد اور خرابی آ گئی، اور جب تسمیہ کے اندر فساد اور خرابی آ جائے تو پھر مہر مثل کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس عورت کو مہر مثل ملے گا اگر وہ دوسرے شہر لے کر جاتا ہے۔ لیکن پھر امام صاحب فرماتے ہیں یہ مہر مثل دو ہزار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور ہزار سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ وجہ یہ ہے: فرض کرو مہر مثل ہزار سے بیشک کم ہو، لیکن پھر بھی خاوند کم از کم کتنے پر راضی ہو چکا ہے؟ ہزار پر، کم از کم کتنا؟ ہزار، اور اگر شرط پوری نہ کی تو دو ہزار۔ تو اگرچہ اس کا مہر مثل ہزار سے بھی کم ہے لیکن خاوند خود اعتراف کر چکا ہے کہ میں ایک ہزار کم از کم ضرور دوں گا، تو لہٰذا مہر مثل اگر اس کا ہزار سے کم ہوا پھر بھی ہزار ہی دیں گے کیونکہ زائد کا خاوند خود اقرار کر چکا ہے، خود اس کا اعتراف کر چکا ہے، اس کو تسلیم کر چکا ہے۔ اور نیز مہر مثل اگر دو ہزار سے زیادہ ہوا تو زائد پھر عورت کو نہیں ملے گا کیونکہ عورت زیادہ سے زیادہ عورت نے کتنا کہا ہے؟ دو ہزار کہا ہے، معلوم ہوا دو ہزار سے زائد وہ خود معاف کر چکی ہے، اس نے اس میں کمی کر دی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا یہ ہزار اور دو ہزار کے درمیان ہو مہر مثل تو وہ دلایا جائے گا، اور اگر مہر مثل ہزار سے کم ہے تو پھر ہزار ہی دینا پڑے گا کیونکہ خاوند نے اس مقدار پر خود اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا کہ ہزار تو میں ضرور دوں گا بھئی، اور اگر دو ہزار سے زائد ہے مہر مثل تو عورت کو دو ہزار ہی ملیں گے کیونکہ جب زیادہ سے زیادہ اس نے دو ہزار ذکر کیے ہیں معلوم ہوا وہ جو زائد ہے اس میں اس نے خود کمی کر دی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک پہلی شرط واقع ہو چکی ہے، مہر کتنا ہو چکا؟ ہزار۔ لہٰذا شرط پوری کی تو ہزار ہی ملے گا، لیکن اگر شرط پوری نہیں کی شرط توڑ دی، دوسرے شہر منتقل کر دیا تو اب وہ جو معلق شرط تھی وہ بھی آ گئی۔ جب وہ آ گئی تو تسمیہ ایک رہا یا دو بن گئے؟ دو، تو تسمیہ میں جہالت آ گئی، تسمیہ میں فساد آ گیا اور جب تسمیہ میں فساد آ جائے تو پھر فیصلہ کس کے ذریعے کیا جاتا ہے؟ مہر مثل کے ذریعے، لہٰذا مہر مثل آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ“ اور اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا ”عَلَى أَلْفٍ إِنْ أَقَامَ بِهَا“ ایک ہزار کی شرط پر اگر خاوند نے اس کو اسی شہر میں ٹھہرایا، اسی شہر میں اس کی رہائش رکھی ”وَعَلَى أَلْفَيْنِ إِنْ أَخْرَجَهَا“ اور دو ہزار کی شرط پر اگر خاوند نے اس کو اس شہر سے نکالا ”فَإِنْ أَقَامَ بِهَا فَلَهَا الْأَلْفُ“ تو امام صاحب فرماتے ہیں اگر خاوند نے اس کو اسی شہر میں ٹھہرایا ”فَلَهَا الْأَلْفُ“ تو عورت کو ایک ہزار ملے گا کیونکہ ایک ہزار مہر طے ہو چکا ہے، دوسری شرط ابھی معلق ہے۔ دوسری کیا: اگر مجھے اس شہر سے نکالا تو پھر دو ہزار ہوں گے، تو ابھی جب تک اس نے نکالا نہیں دوسری شرط جو معلق ہے وہ پوری نہیں، تو وہ ابھی دو ہزار والا تسمیہ آیا ہی نہیں، پھر جب نکالے گا تو وہ دو ہزار والا تسمیہ بھی آ جائے گا اور یہ ایک ہزار پہلے والا تسمیہ بھی ہے، تو اب تسمیہ میں فساد آ گیا جہالت آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ أَقَامَ بِهَا“ اگر خاوند نے اس کو اس شہر میں ٹھہرایا ”فَلَهَا الْأَلْفُ“ تو اس عورت کے لیے ایک ہزار ہو گا ”وَإِنْ أَخْرَجَهَا“ اور اگر اس کو باہر اس شہر سے نکالا ”فَلَهَا مَهْرُ الْمِثْلِ“ تو اس عورت کے لیے مہر مثل ہو گا ”لَا يُزَادُ عَلَى أَلْفَيْنِ وَلَا يُنْقَصُ عَنِ الْأَلْفِ“ نہ تو اس مہر مثل کو دو ہزار پر بڑھایا جائے گا ”وَلَا يُنْقَصُ عَنِ الْأَلْفِ“ اور نہ ایک ہزار سے کم کیا جائے گا، یعنی کم از کم ایک ہزار ضرور دیں گے اور زیادہ سے زیادہ دو ہزار ہی دیں گے اس سے زیادہ نہیں۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، تو امام صاحب کے نزدیک پہلی شرط ہوئی منجز اور دوسری شرط ہوئی معلق۔ ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں: ”الشَّرْطَانِ جَمِيعًا جَائِزَانِ“ کہ دونوں شرطیں جائز ہیں ”حَتَّى كَانَ لَهَا الْأَلْفُ إِنْ أَقَامَ بِهَا“ یہاں تک کہ عورت کے لیے ایک ہزار درہم ہوں گے ”إِنْ أَقَامَ بِهَا“ اگر خاوند نے اس کو ٹھہرایا یعنی اسی شہر میں ”وَالْأَلْفَانِ إِنْ أَخْرَجَهَا“ اور عورت کے لیے دو ہزار ہوں گے اگر خاوند نے اس کو اس شہر سے نکالا۔ صاحبین فرماتے ہیں دونوں شرطیں معلق ہیں۔ امام صاحب تو فرماتے تھے پہلی شرط منجز ہے واقع ہو گئی پوری ہو گئی ایک ہزار مہر بن گیا کیونکہ ابھی دو ہزار کا ذکر ہی نہیں ہوا تھا تو وہ جو پہلے ذکر کیا وہ آ چکا وہ آ گیا، تو جبکہ صاحبین فرماتے ہیں دونوں شرطیں معلق ہیں، وہ جس شرط کو پورا کرے گا وہی والا مہر آ جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الشَّرْطَانِ جَمِيعًا فَاسِدَانِ“ کہ دونوں شرطیں فاسد ہیں۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مال کے ساتھ کوئی اور شرط ذکر کی جائے تو مہر وہ مال ہوتا ہے، شرط کو ویسے ترغیب کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ تو اصل کیا ہے؟ مال، اور شرط جو ذکر ہے وہ صرف کس لیے ہے؟ ترغیب کے طور پر۔ تو یہاں پر جب دونوں شرطیں ذکر کیں تو یہ دونوں شرطیں ترغیب کے طور پر ہیں، گویا دو تسمیہ ذکر ہو رہے ہیں: ہزار ہو گا یا دو ہزار ہو گا اور شرطیں صرف ترغیب کے لیے ہیں، تو ابتدا سے ہی تسمیہ کے اندر جہالت آ گئی کیونکہ دو تسمیہ ہو گئے، تو جب تسمیہ کے اندر جہالت آ گئی تو اب کیا دیں گے؟ مہر مثل، لیکن وہ بھی فرماتے ہیں کہ مہر مثل ہزار سے کم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کم از کم ہزار دینے پر تو خود خاوند راضی ہو چکا ہے، اور دو ہزار سے زائد نہیں ہونا چاہیے مہر مثل کیونکہ زائد میں تو عورت نے خود ہی کمی کر دی ہے جب وہ زیادہ سے زیادہ دو ہزار پر راضی ہو رہی ہے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الشَّرْطَانِ جَمِيعًا فَاسِدَانِ“ کہ دونوں شرطیں جو ہیں وہ فاسد ہیں ”وَيَكُونُ لَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا“ اور اس عورت کے لیے مہر مثل ہو گا ”لَا يُنْقَصُ مِنْ أَلْفٍ وَلَا يُزَادُ عَلَى أَلْفَيْنِ“ اور وہ مہر مثل ایک ہزار سے کم نہیں کیا جائے گا اور دو ہزار پر زیادہ نہیں کیا جائے گا۔ ”وَأَصْلُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْإِجَارَاتِ“ اور اصل مسئلہ اجارات میں ہے، یعنی مسئلے کی دلیل کہاں ذکر ہے؟ کتاب الاجارات میں۔ یہاں صاحبِ ہدایہ نے دلیل ذکر نہیں کی، میں نے تفصیل بیان کر دی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ میں نے تفصیل بیان کر دی، لیکن صاحبِ ہدایہ صرف حوالہ دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَأَصْلُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْإِجَارَاتِ“ اور اصل مسئلہ یعنی مسئلہ کی جو دلیل ہے ”فِي الْإِجَارَاتِ“ وہ کتاب الاجارات میں ہے ”فِي قَوْلِهِ“ ماتن کے اس قول میں: ”إِنْ خِطْتَهُ الْيَوْمَ فَلَكَ دِرْهَمٌ وَإِنْ خِطْتَهُ غَدًا فَلَكَ نِصْفُ دِرْهَمٍ“۔ ”خَاطَ يَخِيطُ“ کے معنی ہیں سینا، درزی کا کپڑے وغیرہ سینا۔ تو مثلاً ایک شخص ایک درزی کے پاس کپڑے لے گیا اور اس کو کہتا ہے: اگر تم نے یہ کپڑے آج سیئے تو میں تمہیں ایک درہم دوں گا، اور اگر تم نے یہ کپڑے کل سیئے تو پھر میں تمہیں آدھا درہم دوں گا۔ دیکھو نا جو ارجنٹ سلائی ہو گی وہ تو ظاہر سی بات ہے وہ زیادہ ہو گی، تو اگر آج تم نے سیا تو میں تمہیں ایک درہم دوں گا اور اگر تم نے کل سیا یعنی تاخیر کے ساتھ پھر تمہیں میں آدھا درہم دوں گا۔ تو اس مسئلے کے اندر یاد رکھو ہمارے تینوں ائمہ اسی طرح اختلاف کرتے ہیں: امام صاحب اور صاحبین اور امام زفر اسی طرح اختلاف کرتے ہیں۔ امام زفر فرماتے ہیں دونوں شرطیں فاسد، اور امام صاحب فرماتے ہیں پہلی شرط واقع ہے دوسری معلق ہے، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں شرطیں جائز ہیں دونوں شرطیں معلق ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَصْلُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْإِجَارَاتِ“ اور اصل مسئلہ جو ہے کتاب الاجارات کے اندر ہے ”فِي قَوْلِهِ“ ماتن کے اس قول میں: ”إِنْ خِطْتَهُ الْيَوْمَ“ اگر تو نے اس کپڑے کو آج سیا ”فَلَكَ دِرْهَمٌ“ تو تیرے لیے ایک درہم ہے ”وَإِنْ خِطْتَهُ غَدًا“ اور اگر تو نے اس کو کل سیا ”فَلَكَ نِصْفُ دِرْهَمٍ“ تو تیرے لیے آدھا درہم ہے ”وَسَنُبَيِّنُهَا فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ اور عنقریب ہم اس کو بیان کریں گے اس کتاب الاجارات میں ان شاء اللہ۔ تو صاحبِ ہدایہ اس کو کتاب الاجارات میں بیان فرمائیں گے جو ہدایہ کی جلدِ ثالث میں آتی ہے بھئی، میں نے یہیں تفصیل بیان کر دی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَا الْعَبْدِ أَوْ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ فَإِذَا أَحَدُهُمَا أَوْكَسُ وَالْآخَرُ أَرْفَعُ فَإِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَقَلَّ مِنْ أَوْكَسِهِمَا فَلَهَا الْأَوْكَسُ وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْفَعِهِمَا فَلَهَا الْأَرْفَعُ وَإِنْ كَانَ بَيْنَهُمَا فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا“ بھئی صورت مسئلہ یہ: ایک شخص جو ہے ایک عورت سے نکاح کرتا ہے کہ میں تم سے نکاح کرتا ہوں اور مہر کے طور پر یہ والا غلام دوں گا یا یہ والا غلام دوں گا، دو غلاموں کی طرف الگ الگ اشارہ کیا، یہ غلام نہیں کوئی بھی چیز ایسی ہو سکتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خاوند نے عورت سے نکاح کیا ایک غیر متعین غلام پر، اور ان غلاموں میں جب دیکھا گیا تو ان میں ایک غلام ادنیٰ ہے مثلاً اس کی قیمت صرف پانچ لاکھ ہے اور دوسرا غلام اعلیٰ ہے مثلاً اس کی قیمت دس لاکھ ہے، تو اب عورت کو کیا ملے گا بھئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک ضابطہ وہی ہے کہ مہر مثل کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ تو لہٰذا عورت کو مہر مثل ملے گا لیکن یہ مہر مثل اسی طرح یہ ادنیٰ غلام سے کم نہیں ہو گا اور اعلیٰ غلام سے زیادہ نہیں۔ اگر ان دونوں کے بیچ میں ہے مثلاً مہر مثل عورت کا سات لاکھ ہے تو یہ سات لاکھ عورت کو ملے گا، لیکن اگر مہر مثل عورت کا کم ہے اور ادنیٰ سے بھی کم ہے وہ چار لاکھ ہے تو پھر پانچ لاکھ عورت کو ضرور ملیں گے کیونکہ یہ جو مہر مثل سے زائد ہے کم از کم اتنے کا خاوند خود اعتراف کر چکا ہے کہ اتنا تو میں ضرور دوں گا۔ جب خاوند نے کہا میں ان دو غلاموں میں سے ایک دوں گا تو معلوم ہوا جو کم والا غلام ہے کم از کم اتنا تو میں ضرور دوں گا، یہ خاوند خود اعتراف کر چکا ہے، تو لہٰذا مہر مثل بیشک ادنیٰ غلام سے کم ہو پھر بھی ادنیٰ غلام تو ضرور ملے گا عورت کو، اور اگر مہر مثل اعلیٰ غلام سے اوپر ہوا تو اوپر زیادتی عورت کو نہیں ملے گی کیونکہ وہ خود اس میں کمی کر چکی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ اسی غلام پر راضی ہو چکی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَا الْعَبْدِ أَوْ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ“ اور اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اس غلام پر یا اس غلام پر ”فَإِذَا أَحَدُهُمَا أَوْكَسُ“ تو ان دونوں میں سے اچانک ایک جو تھا وہ تو ناقص تھا، ”أَوْكَسُ“ کا معنی ادنیٰ اور ناقص ”وَالْآخَرُ أَرْفَعُ“ اور دوسرا جو ہے وہ اعلیٰ تھا، تو اوکس کا ترجمہ کر لیں ادنیٰ، ارفع کا ترجمہ کر لیں اعلیٰ، تو دونوں میں سے ایک ادنیٰ تھا اور دوسرا اعلیٰ تھا ”فَإِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَقَلَّ مِنْ أَوْكَسِهِمَا“ تو اگر اس عورت کا مہر مثل جو ہے ان دونوں غلاموں میں سے جو ادنیٰ ہے اس سے بھی کم ہے ”فَلَهَا الْأَوْكَسُ“ تو عورت کو وہ ادنیٰ غلام ہی ملے گا ”وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْفَعِهِمَا“ اور اگر اس عورت کا مہر مثل وہ اعلیٰ غلام ان دونوں غلاموں میں سے جو اعلیٰ ہے اس سے بھی زیادہ ہے ”فَلَهَا الْأَرْفَعُ“ تو عورت کو اعلیٰ غلام ہی ملے گا اس سے زائد نہیں ملے گا ”وَإِنْ كَانَ بَيْنَهُمَا“ اور اگر عورت کا مہر مثل ان دونوں کے بیچ میں ہے ”فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا“ تو عورت کے لیے اس کا مہر مثل ہو گا۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں: ”لَهَا الْأَوْكَسُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ“ صاحبین فرماتے ہیں عورت کے لیے ادنیٰ غلام ہی ہو گا اس سارے میں، ان تمام صورتوں میں چاہے عورت کا مہر مثل اوکس سے کم ہو یا ارفع سے زیادہ ہو یا چاہے دونوں کے بیچ میں ہو، بہرحال عورت کا جو بھی مہر مثل ہو لیکن عورت کو اوکس ہی ملے گا۔ وجہ یہ وہ فرماتے ہیں کہ جب دو الگ الگ غلام خاوند نے ذکر کر دیے اور ایک کم قیمت والا ہے اور ایک زیادہ قیمت والا ہے تو معلوم ہوا وہ کم قیمت والا تو یقینی ہے، کم از کم وہ تو ضرور دینا پڑے گا اور زائد میں کیا آ گیا؟ شک آ گیا کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ بھئی ایک غلام پانچ لاکھ کا ہے اور دوسرا دس لاکھ کا، تو اس دس لاکھ میں بھی تو پانچ لاکھ آ گئے، تو معلوم ہوا کم سے کم کتنا ہے؟ پانچ لاکھ، تو مہر یقینی ہے اور اوپر والا یقینی نہیں، تو جو یقینی ہے اسی پر محمول کریں گے اور تینوں صورتوں میں عورت کو وہ کم غلام ہی ملے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَا: لَهَا الْأَوْكَسُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے وہ ادنیٰ غلام ہی ہو گا اس سارے میں یعنی ان تمام صورتوں میں ”فَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اور اگر، یاد رکھو اگر خاوند نے اسی عورت کو صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ اس کو نصف اوکس ہی دیا جائے گا، یعنی ادنیٰ غلام کا نصف ہی ملے گا اعلیٰ کا نصف نہیں دیں گے، بلکہ ادنیٰ کا نصف ہی عورت کو ملے گا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اور اگر خاوند نے اس عورت کو طلاق دے دی اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ”فَلَهَا نِصْفُ الْأَوْكَسِ“ تو عورت کے لیے ادنیٰ غلام کا نصف ہو گا ”فِي ذَلِكَ كُلِّهِ“ اس سارے میں ”بِالْإِجْمَاعِ“ یعنی بالاتفاق، یعنی ہمارے تینوں ائمہ کا اس میں اتفاق ہے، تو یہاں اجماع سے وہ تمام مجتہدین کا اجماع مراد نہیں ہے بلکہ ہمارے فقہاء، ہمارے ائمہ کا اجماع اور اتفاق مراد ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دلیل ذکر کریں گے ہر ایک کی، کہتے ہیں: ”لَهُمَا“ صاحبین کیا فرماتے تھے کہ تمام صورتوں میں اوکس ہی ملے گا عورت کو، اب ان کی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں: یاد رکھو ایک ہوتا ہے مسمیٰ وہ مہر جو مقرر کیا جائے اور ایک ہوتا ہے مہر مثل۔ امام صاحب کا مذہب یہ ہے کہ نکاح میں اصل مہر مثل ہے اور جو مسمیٰ آتا ہے وہ اس لیے آتا ہے کہ وہ دونوں نے آپس میں خود ذکر کر دیا اس پر راضی ہو گئے تو وہ مسمیٰ آ جاتا ہے، ورنہ حقیقت میں کیا آنا چاہیے تھا؟ مہر مثل ہی آنا چاہیے تھا، حتیٰ کہ اگر یہ ذکر نہ کرتے تب بھی مہر مثل نے ہی آنا تھا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اصل مسمیٰ ہے، تو نکاح میں مسمیٰ ہی آتا ہے، جب مسمیٰ میں کوئی خرابی آ جائے وہ نہ آ سکے تو پھر مہر مثل آیا کرتا ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک اصل کیا ہے؟ مسمیٰ، مسمیٰ میں فساد آ جائے خرابی آ جائے پھر مہر مثل آتا ہے ورنہ مسمیٰ ہی آتا ہے، تو مسمیٰ اصل ہے۔ اور امام صاحب کے نزدیک مہر مثل اصل ہے لیکن مسمیٰ جب انہوں نے آپس میں مل کر ایک طے کر لیا ہے تو اب مجبوری کی وجہ سے مسمیٰ آ جائے گا کیونکہ وہ خود آپس میں اس پر راضی ہو چکے ہیں بھئی۔ تو ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْمَصِيرَ إِلَى مَهْرِ الْمِثْلِ لِتَعَذُّرِ إِيجَابِ الْمُسَمَّى“ کہ مہر مثل کی طرف جو رجوع کیا جائے گا وہ اس لیے ہے کہ مسمیٰ کو واجب کرنا متعذر ہو گیا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ مہر مثل کی طرف کب رجوع کیا جاتا ہے؟ جب مسمیٰ متعذر ہو جائے، مسمیٰ کو واجب نہ کیا جا سکے۔ تو ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْمَصِيرَ إِلَى مَهْرِ الْمِثْلِ“ کہ مہر مثل کی طرف جو رجوع کیا جاتا ہے ”لِتَعَذُّرِ إِيجَابِ الْمُسَمَّى“ وہ جب مسمیٰ کا واجب کرنا متعذر ہو جائے ممکن نہ رہے ”وَقَدْ أَمْكَنَ إِيجَابُ الْأَوْكَسِ“ اور تحقیق یہاں پر تو اوکس کو واجب کرنا ممکن ہے، کیونکہ اس نے دو غلام ذکر کیے ایک پانچ لاکھ والا ہے اور ایک دس لاکھ والا ہے تو معلوم ہوا پانچ لاکھ تو یقینی ہے، کیونکہ پانچ لاکھ اس اعلیٰ میں بھی آ رہے ہیں البتہ اس میں کچھ زائد ہے۔ کہتے ہیں: ”وَقَدْ أَمْكَنَ إِيجَابُ الْأَوْكَسِ“ اور تحقیق یہاں پر جو کم والا غلام ہے اس کو تو واجب کرنا ممکن ہے ”إِذِ الْأَقَلُّ مُتَيَقَّنٌ“ اس لیے کیونکہ جو کم ہے وہ تو یقینی ہے ”وَصَارَ كَالْخُلْعِ وَالْإِعْتَاقِ عَلَى مَالٍ“ اور کہتے ہیں یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خلع اور اعتاق علیٰ مال ہو۔ خلع پہلے بیان میں کر چکا ہوں کہ عورت خاوند سے جدائی اختیار کرتی ہے مال دے کر اور اس کے اندر طلاق کا لفظ ذکر نہیں کیا جاتا، خلع کا لفظ ذکر کیا جاتا ہے، عورت کہتی ہے کہ مجھ سے خلع کر لو ایک ہزار درہم میں تمہیں دے دوں گی اور خاوند قبول کر لیتا ہے، تو جیسے ہی خاوند قبول کرے گا میاں بیوی میں جدائی آ گئی اور اب عورت پر وہ مال لازم ہو گیا۔ تو خلع کے اندر طلاق کا لفظ تو ذکر نہیں کیا جاتا لیکن چونکہ یہ خاوند کی رضامندی سے یہ جدائی آتی ہے اور خاوند تو طلاق دینے کا اہل ہے لہٰذا یہ طلاق کے حکم میں ہے، تو یہ طلاقِ بائن شمار ہوتی ہے۔ اور اسی طرح اعتاق بھئی: آقا کا اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرنا۔ آقا غلام یا باندی کو ویسے بھی آزاد کر سکتا ہے اور مال لے کر بھی آزاد کر سکتا ہے، مثلاً آقا اپنے غلام سے کہتا ہے کہ تم مجھے ایک ہزار درہم دے دو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا، یا آقا اس کو کہتا ہے کہ تم میری طرف سے آزاد ہو ایک ہزار درہم کی شرط پر اور غلام قبول کر لیتا ہے، تو قبول کرتے ہی غلام فوراً آزاد ہو گیا لیکن اب اس کے ذمے ایک ہزار درہم دینا واجب ہیں، اب وہ جائے گا کما کر لائے گا آقا کے حوالے کرے گا۔ تو بات چل رہی تھی ایک نکاح کے اندر دو غلاموں کو ذکر کیا گیا تعیین نہیں کی گئی کہ یہ والا غلام دوں گا یا یہ والا غلام دوں گا۔ تو اس صورت کے اندر اب صاحبین فرماتے ہیں کہ اوکس والا غلام یقینی ہے وہی دیا جائے گا اور وہ اس کو قیاس کرتے ہیں خلع... اور إِعْتَاق عَلَى مَال پر۔ مثلاً ایک عورت اپنے خاوند سے خلع کرتی ہے، اور اسی طرح دو چیزیں ذکر کرتی ہے کہ مجھ سے خلع کر لو، یہ والا غلام لے لو یا یہ والا غلام۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خاوند اس کو قبول کر لیتا ہے، تو اس کے اندر یاد رکھو بالاتفاق اَوْکَس ہی آتا ہے، کم قیمت والا ہی آئے گا کیونکہ وہ تو یقینی ہے بھئی۔ عورت نے غلام کی تعین نہیں کی تھی، تو کم والا تو یقینی ہے اور زائد والا یقینی نہیں، لہٰذا کم والا آ جائے گا۔ یا جیسے إِعْتَاق عَلَى مَال ہے آقا اور غلام کے درمیان۔ غلام اپنے آقا سے کہتا ہے کہ میں آپ کو یہ والا یا یہ والا غلام دلا دوں گا، آپ مجھے آزادی دے دیں۔ آقا اس کو قبول کر لیتا ہے، تو اس صورت میں بھی بالاتفاق جو کم قیمت والا غلام ہے وہ یقینی ہے، تو وہی دینا پڑے گا۔ تو یہ غلام آزاد ہو جائے گا اور یہ جا کر کمائی کرے گا اور اس غلام کی قیمت لا کر دے دے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبین فرماتے ہیں جیسے خلع کے اندر اس طرح کی جہالت آ جائے تو کم والا یقینی ہوتا ہے، یا إِعْتَاق عَلَى مَال میں جب اس طرح دو مال ذکر کر دیے جائیں تو کم والا یقینی ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی کم والا ادنیٰ غلام یقینی ہے لہٰذا وہی واجب ہو گا۔ یہ معنی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ”وَصَارَ كَالْخُلْعِ وَالْإِعْتَاقِ عَلَى مَالٍ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خلع ہو اور إِعْتَاق عَلَى مَال ہو۔ یہ صاحبین کی دلیل تھی۔ ”وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آئی۔ امام صاحب کا ضابطہ کیا ہے؟ نکاح میں مسمیٰ اصل ہے یا مہر مثل اصل ہے؟ مہر مثل اصل ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْمُوجَبَ الْأَصْلِيَّ مَهْرُ الْمِثْلِ“ کہ اصل موجب جو ہے وہ مہر مثل ہے۔ یعنی اصل مقتضا کیا ہے نکاح کا؟ کیا آنا چاہیے؟ مہر مثل۔ تو موجب کا معنیٰ مقتضا، مقتضا، یعنی اس کا حکم جو ہے۔ ”أَنَّ الْمُوجَبَ الْأَصْلِيَّ“ کہ نکاح کا موجبِ اصلی یعنی جس کا نکاح اصل میں تقاضا کرتا ہے وہ ”مَهْرُ الْمِثْلِ“ وہ مہر مثل ہے۔ ”إِذْ هُوَ الْأَعْدَلُ“ کیونکہ وہ زیادہ برابر ہے، یا وہ زیادہ انصاف والا ہے۔ اَعْدَل، عدل کا معنیٰ انصاف کرنا بھی اور عدل کا معنیٰ برابری بھی، تو جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ ”إِذْ هُوَ الْأَعْدَلُ“ اس لیے کیونکہ یہ مہر مثل زیادہ انصاف والا ہے۔ یہ زیادہ انصاف والا ہے۔ بھئی مسمیٰ؟ مسمیٰ تو تھوڑا بھی مقرر کیا جا سکتا ہے، زیادہ بھی مقرر کیا جا سکتا ہے، لیکن عورت کے لیے زیادہ انصاف والی بات کیا ہے؟ کیا آنا چاہیے؟ مہر مثل۔ یعنی اس کے خاندان میں اس جیسی عورتوں کو جو مہر ہوتا ہے، معلوم ہوا اس عورت کا یہ حق بنتا ہے، یہ مہر ہونا چاہیے۔ تو زیادہ انصاف کس میں ہے کہ عورت کے لیے کیا آئے؟ مسمیٰ آئے یا مہر مثل؟ مہر مثل آنا چاہیے بھئی۔ یا اس اَعْدَل کا ترجمہ کر لیں زیادہ برابر کے، کیونکہ یہ جو مہر مثل ہے یہ اس عورت کے زیادہ برابر ہے۔ معلوم ہوا اس خاندان کی عورتوں کا جب یہ مہر ہوتا ہے، تو معلوم ہوا اس کی بھی یہی قیمت ہے۔ کہتے ہیں: ”إِذْ هُوَ الْأَعْدَلُ“ اس لیے کیونکہ یہ مہر مثل جو ہے وہ زیادہ برابری والا ہے۔ ”وَالْعُدُولُ عَنْهُ عِنْدَ صِحَّةِ التَّسْمِيَةِ“ اور جو مہر مثل سے عدول کیا جاتا ہے، اعراض کیا جاتا ہے، اس سے جو منہ موڑا جاتا ہے ”عِنْدَ صِحَّةِ التَّسْمِيَةِ“ یہ اس وقت ہوتا ہے جب تسمیہ صحیح ہو جائے۔ جب تسمیہ صحیح ہو جائے تو اس وقت مہر مثل سے رجوع کیا جاتا ہے۔ بھئی پھر سمجھو، امام صاحب کے نزدیک نکاح میں اصل مہر مثل ہی ہے، لیکن جب تسمیہ آ جائے تو پھر ہمیں مجبوراً مہر مثل کو چھوڑ کر مسمیٰ کی طرف جانا پڑتا ہے۔ کیوں جانا پڑتا ہے؟ مجبوری ہے، وہ جو میاں بیوی خود اس پر راضی ہو گئے ہیں۔ آنا تو مہر مثل تھا لیکن یہ خود جب ایک مسمیٰ پر راضی ہو گئے ہیں تو اب وہی آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعُدُولُ عَنْهُ عِنْدَ صِحَّةِ التَّسْمِيَةِ“ اور مہر مثل سے جو عدول کیا جاتا ہے وہ تسمیہ کے صحیح ہوتے وقت ہو گا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مقرر کر لیا ہے تو وہی پھر آ جائے گا۔ ”وَقَدْ فَسَدَتْ“ اور تسمیہ تو تحقیق یہاں فاسد ہو چکا ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اصل میں مہر مثل آنا چاہیے، اور مہر مثل کو تب چھوڑتے ہیں جب تسمیہ صحیح ہو جائے۔ لیکن یہاں تو تسمیہ فاسد ہے، کیونکہ خاوند نے کیا کہا؟ یہ والا غلام دوں گا یا یہ والا۔ تو دیکھو تسمیہ تو مجہول ہو گیا، کون سا غلام ہے؟ متعین نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ فَسَدَتْ“ اور تسمیہ تو یہاں پر فاسد ہو چکا ہے۔ ”لِمَكَانِ الْجَهَالَةِ“ مکان مصدر ہے بمعنی وجود کے۔ کَانَ یَکُوْنُ کَوْنًا سے مکان کیا ہے؟ مصدرِ میمی ہے۔ اور میں نے بتایا صاحبِ ہدایہ یہ جگہ جگہ استعمال کرتے ہیں۔ تو ”لِمَكَانِ الْجَهَالَةِ“ أَيْ لِوُجُودِ الْجَهَالَةِ۔ تو تسمیہ جو ہے وہ فاسد ہو گیا، ”لِمَكَانِ الْجَهَالَةِ“ جہالت پائے جانے کی وجہ سے۔ ”بِخِلَافِ الْخُلْعِ وَالْإِعْتَاقِ“ تو امام صاحب کے نزدیک یہاں مہر مثل آئے گا، اسی کو فیصل بنائیں گے، اس کے ذریعے فیصلہ کریں گے۔ جبکہ صاحبین نے اس کو کس پر قیاس کیا تھا؟ خلع اور إِعْتَاق عَلَى مَال پر۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے، کہ آپ اس نکاح کو خلع یا إِعْتَاق عَلَى مَال پر قیاس نہیں کر سکتے۔ اس لیے کیونکہ نکاح کے اندر شریعت نے ایک بدل رکھا ہوا ہے اور وہ مہر مثل ہے۔ آپ ذکر کریں یا نہ کریں، خود بخود مہر مثل ضرور آ جاتا ہے۔ اگر آپ نے کچھ اور مقرر کیا پھر تو وہ آ جائے گا، ورنہ مہر مثل خود بخود ضرور آ جائے گا۔ جبکہ خلع اور إِعْتَاق عَلَى مَال اس میں تو شریعت نے کچھ مقرر نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اگر خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ خلع کرتا ہوں بغیر کسی چیز کے، یا آقا اپنے غلام کو کہتا ہے: میں بغیر کسی چیز کے تمہیں آزاد کرتا ہوں، تو دیکھو وہاں پر شریعت کی طرف سے کوئی بدل وغیرہ لازم نہیں ہے، ویسے ہی خلع صحیح ہو جائے گا۔ لہٰذا معلوم ہوا آپ اس نکاح کو خلع پر قیاس نہیں کر سکتے۔ نکاح کے اندر ایک بدل شریعت کی طرف سے خود بخود آ جاتا ہے، لیکن خلع اور إِعْتَاق عَلَى مَال میں شریعت کی طرف سے کوئی بدل مقرر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْخُلْعِ وَالْإِعْتَاقِ“ بخلاف خلع اور اعتاق کے۔ ”لِأَنَّهُ لَا مُوجَبَ لَهُ فِي الْبَدَلِ“ اس لیے کیونکہ ان کا کوئی مقتضا نہیں ہے بدل میں۔ ان کے اندر یہ عقد، یہ خلع اور إِعْتَاق عَلَى مَال، ان کے کوئی بدل مقرر نہیں جس کا یہ تقاضا کریں کہ یہ والا بدل آنا چاہیے، لیکن نکاح میں اس کا مقتضا ہے، وہ مہر مثل کا تقاضا کرتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا مُوجَبَ لَهُ فِي الْبَدَلِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو خلع اور اعتاق ہے ان کا کوئی مقتضا نہیں ہے ”فِي الْبَدَلِ“ بدل میں۔ ”إِلَّا أَنَّ مَهْرَ الْمِثْلِ“ یہاں سے اب ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ امام صاحب پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک نکاح کا موجبِ اصلی مہر مثل ہے، پھر تو مہر مثل ہی آنا چاہیے ہر حال میں، چاہے وہ ارفع سے زیادہ ہو، چاہے وہ اوکس سے کم ہو، چاہے وہ دونوں کے درمیان میں ہو۔ ہر صورت میں مہر مثل ہی آنا چاہیے۔ لیکن آپ فرماتے ہیں کہ مہر مثل اگر دونوں کے بیچ ہوا پھر تو مہر مثل دیں گے، اور اگر ارفع سے زیادہ ہوا مہر مثل تو ارفع ہی دیں گے، اور اگر اوکس سے کم ہوا مہر مثل تو اوکس ہی دیں گے۔ تو اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ اگر مہر مثل اصل ہے پھر تو ہر حال میں مہر مثل ہی واجب ہونا چاہیے۔ تو اس کا جواب میں پہلے ذکر کر چکا کہ ہاں اصل مقتضا تو مہر مثل ہی ہے، لیکن اگر مہر مثل ارفع سے اعلیٰ ہے تو وہ خاوند پر لازم نہیں آئے گا کیونکہ وہ زائد تو خود عورت اس میں کمی کر چکی ہے۔ زیادہ سے زیادہ ارفع پر وہ خود راضی ہو چکی ہے، تو وہ زائد گویا اس نے خود اس کی کمی کر دی ہے۔ اور اگر مہر مثل اوکس سے کم ہوا، تو بھی اوکس کم از کم ضرور دینا پڑے گا اس لیے کیونکہ خاوند نے کم سے کم اوکس دینے کا اعتراف خود کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ مَهْرَ الْمِثْلِ إِذَا كَانَ أَكْثَرَ مِنَ الْأَرْفَعِ فَالْمَرْأَةُ رَضِيَتْ بِالْحَطِّ“ مگر یہ کہ مہر مثل جو ہے ”إِذَا كَانَ أَكْثَرَ مِنَ الْأَرْفَعِ“ جب وہ اعلیٰ غلام سے زیادہ ہے ”فَالْمَرْأَةُ رَضِيَتْ بِالْحَطِّ“ تو عورت راضی ہو چکی ہے بالحت کمی میں۔ عورت راضی ہو چکی ہے خود کمی پر بھئی، اس نے خود اس سے زیادہ مانگا ہی نہیں، زیادہ سے زیادہ یہی مقرر ہوا۔ ”وَإِنْ كَانَ أَنْقَصَ مِنَ الْأَوْكَسِ فَالزَّوْجُ رَضِيَ بِالزِّيَادَةِ“ اور اگر مہر مثل جو ہے وہ ادنیٰ غلام سے کم ہے ”فَالزَّوْجُ رَضِيَ بِالزِّيَادَةِ“ تو خاوند خود اس زیادتی پر راضی ہو چکا ہے کہ کم از کم یہ اوکس تو میں ضرور دوں گا۔ ”وَالْوَاجِبُ فِي الطَّلَاقِ“ اب وہ جو دوسرا مسئلہ ذکر کیا تھا کہ صحبت سے پہلے اس عورت کو اگر طلاق دی گئی تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں نصفِ اوکس ہی دیں گے۔ تو امام صاحب پر اشکال ہوتا ہے اگر مہر مثل آپ نے مہر مثل کو فیصل بنایا ہے، اس کے ذریعے فیصلہ کیا ہے، تو جہاں مہر مثل آئے وہاں صحبت سے پہلے اگر عورت کو طلاق دی جائے تو کیا آتا ہے؟ متعہ آتا ہے۔ کیا آتا ہے؟ متعہ۔ تو یہاں بھی عورت کو متعہ دینا چاہیے، لیکن آپ بھی فرماتے ہیں نصفِ اوکس دینا پڑے گا، متعہ نہیں دیں گے۔ تو اب اس اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَاجِبُ فِي الطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ فِي مِثْلِهِ الْمُتْعَةُ“ اور طلاق قبل الدخول کے اندر جو واجب ہوتا ہے ”فِي مِثْلِهِ“ اس جیسے نکاح میں، اس جیسے نکاح میں یعنی جس میں تسمیہ فاسد ہو جائے۔ جس نکاح میں تسمیہ فاسد ہو جائے تو کیا آتا ہے؟ مہر مثل، اور صحبت سے پہلے طلاق دے گا تو کیا آئے گا؟ متعہ آئے گا۔ تو وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْوَاجِبُ فِي الطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ فِي مِثْلِهِ“ اور صحبت سے پہلے طلاق دینے کے اندر جو واجب ہوتا ہے اس جیسے نکاح میں، یعنی جہاں تسمیہ فاسد ہو چکا ہے اور مہر مثل آ چکا ہے، تو اس جیسے نکاحوں میں صحبت سے پہلے طلاق کے اندر جو واجب ہوتا ہے ”الْمُتْعَةُ“ وہ کیا ہے؟ متعہ ہے بھئی۔ ”وَ نِصْفُ الْأَوْكَسِ يَزِيدُ عَلَيْهَا فِي الْعَادَةِ“ اور یہ جو نصفِ اوکس ہے، یہ زائد ہو گا اس متعہ پر ”فِي الْعَادَةِ“ عادت میں۔ عام طور پر عادت یہی ہے کہ غلام جو ہے اس کا نصف متعہ سے زائد ہی ہو گا، اور خاوند کم از کم کتنا مہر دینے کا اعتراف کر چکا ہے؟ اوکس، یعنی ادنیٰ تو ضرور دوں گا۔ تو لہٰذا کم سے کم جس کا خاوند نے اقرار کیا اسی کا نصف آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نصفِ اوکس اس لیے کہہ رہے ہیں، بتلا رہے ہیں کہ نصفِ اوکس کی بات ہم نے اس لیے کی کیونکہ نصفِ اوکس عموماً متعہ سے زیادہ ہو گا۔ اگرچہ متعہ سے زیادہ ہے لیکن خاوند خود اعتراف کر چکا ہے یا نہیں؟ کہ کم از کم میں اوکس تو ضرور دوں، جب اس نے کہا نا: ان دو غلاموں میں سے میں ایک دوں گا، تو گویا اس نے کہہ دیا یہ جو اوکس ہے کم از کم یہ تو میں ضرور دوں گا تمہیں۔ اور پھر صحبت سے پہلے طلاق ہو تو جو کم سے کم تھا اسی کا نصف آنا چاہیے، کیونکہ عادۃً وہ متعہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھو! اگر یہ نصفِ اوکس متعہ سے کم ہوا تو پھر متعہ ہی دینا پڑے گا، پھر نصفِ اوکس نہیں دے سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو چونکہ یہ نصفِ اوکس متعہ سے زیادہ ہے اور اس کا خاوند خود اقرار کر چکا ہے، تو لہٰذا اس لیے نصفِ اوکس ہم نے واجب قرار دیا۔ لیکن اگر متعہ اس سے زیادہ ہے تو پھر اس صورت میں متعہ ہی دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَ نِصْفُ الْأَوْكَسِ يَزِيدُ عَلَيْهَا فِي الْعَادَةِ“ اور نصفِ اوکس جو ہے وہ اس متعہ پر زائد ہوتا ہے فی العادۃ عادت میں، کہ عام طور پر اسی طرح ہوتا ہے۔ ”فَوَجَبَ لِاعْتِرَافِهِ بِالزِّيَادَةِ“ تو یہی اسی اوکس کا نصف واجب ہو جائے گا ”لِاعْتِرَافِهِ بِالزِّيَادَةِ“ کیونکہ خاوند خود اس زائد کا اعتراف کر چکا ہے، اس نے بھی جب دو غلام ذکر کیا تو گویا کہہ دیا کم سے کم یہ جو ناقص ہے یہ تو میں تمہیں ضرور دوں گا۔ اور جب طلاق دے دی صحبت سے پہلے تو اسی کا پھر کم از کم نصف تو ضرور آئے گا۔ تو یہ معنیٰ ہے ”فَوَجَبَ لِاعْتِرَافِهِ بِالزِّيَادَةِ“ تو یہی نصفِ اوکس واجب ہو جائے گا اگرچہ یہ متعہ سے زائد ہے، ”لِاعْتِرَافِهِ بِالزِّيَادَةِ“ کیونکہ خاوند خود اس زیادتی کا اعتراف کر چکا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى حَيَوَانٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ صَحَّتِ التَّسْمِيَةُ وَلَهَا الْوَسَطُ مِنْهُ، وَالزَّوْجُ مُخَيَّرٌ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا ذَلِكَ، وَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا قِيمَتَهُ“ بھئی گذشتہ سبق میں بھی یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ اگر ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور کوئی حیوان مقرر کر لیتا ہے، مطلب اس کی جنس تو بیان کر دیتا ہے کہ میں تمہیں ایک گائے دوں گا بطورِ مہر کے۔ اب گائے تو اعلیٰ بھی ہو سکتی ہے، ادنیٰ بھی ہو سکتی ہے، متوسط بھی ہو سکتی ہے، تو دیکھو اس مہر میں جہالت لازم آ رہی ہے۔ لیکن میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاح کی بنیاد نرمی پر ہوتی ہے، نکاح کے اندر اصل مقصود مال نہیں ہوتا، تو اس لیے یہ تھوڑی بہت جہالت بھی نکاح میں برداشت کر لی جائے گی اور پھر اس آدمی پر متوسط درجے کا حیوان لازم ہو جائے گا۔ اس خاوند پر متوسط درجے کا حیوان لازم ہو جائے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں بیع جو ہے اس کی بنیاد تنگی پر ہے، بیع کے اندر لوگ تنگی کرتے ہیں۔ دیکھو بائع اور مشتری آپس میں بحث کرتے ہیں، بائع کی کوشش ہوتی ہے زیادہ پیسوں میں بیچوں، مشتری کی کوشش ہوتی ہے کم پیسوں میں خریدوں، تو دونوں آپس میں بحث مباحثہ کرتے ہیں، تو بیع کی بنیاد تنگی پر ہے۔ لہٰذا بیع کے اندر اگر تھوڑی سی بھی جہالت آ جائے تو بیع فاسد ہے کیونکہ جھگڑا لازم آئے گا۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کو کہا: میں نے آپ کو ایک لاکھ روپے میں ایک گائے فروخت کر دی، گائے وہاں موجود نہیں ہے، تو اب دیکھو گائے مجہول ہو گئی اور اب بعد میں جھگڑا آئے گا۔ بائع چاہے گا میں ادنیٰ سی گائے دے دوں اور مشتری چاہے گا مجھے اعلیٰ گائے ملے، تو لہٰذا اس بیع کی وجہ سے چونکہ جھگڑا آیا لہٰذا بیع کے اندر تھوڑی سی بھی جہالت قابلِ برداشت نہیں۔ تھوڑی سی بھی جہالت آئے گی تو بیع فاسد ہو جائے گی۔ جبکہ نکاح جو ہے اس میں تھوڑی سی جہالت برداشت کر لی جائے گی، کیونکہ نکاح کے اندر اصل مقصود مال نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ اگر جہالتِ فاحشہ ہوئی، یعنی بہت زیادہ جہالت ہوئی، تو پھر اس صورت میں وہ تسمیہ ہی صحیح نہ رہے گا، پھر مہر مثل آ جائے گا۔ مثلاً ایک آدمی نے ایک عورت سے نکاح کرتے ہوئے کہا: میں تمہیں مہر کے طور پر ایک حیوان دے دوں گا، حیوان کی جنس بھی نہیں بتلائی: میں تمہیں ایک حیوان دے دوں گا، تو اب تو جنس کا ہی نہیں پتا بھئی، حیوان کے اندر تو بکری بھی شامل ہو رہی ہے، حیوان میں تو گائے بھی شامل ہو رہی ہے، اس میں تو گدھا، خچر، گھوڑا، اونٹ سب شامل ہو رہے ہیں۔ تو لہٰذا اس صورت میں جہالتِ فاحشہ آ گئی۔ جہالتِ فاحشہ آ گئی تو خاوند کی کوشش ہو گی میں ادنیٰ سے ادنیٰ حیوان دے دوں، بھیڑ بکری دے دوں، جبکہ عورت کی خواہش ہو گی مجھے اعلیٰ حیوان یعنی اونٹ یا گھوڑا ملے، تو لہٰذا اس لیے اس صورت میں جب جہالتِ فاحشہ ہو نکاح کے اندر تو پھر وہ تسمیہ ہی فاسد، اور جب تسمیہ فاسد ہو جائے تو پھر وہاں مہر مثل آ جایا کرتا ہے، تو پھر مہر مثل آئے گا۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ بیع کے اندر جہالتِ یسیرہ کی بھی گنجائش نہیں، تھوڑی جہالت کی بھی گنجائش نہیں، اور نکاح کے اندر جہالتِ یسیرہ کی تو گنجائش ہے، جہالتِ فاحشہ کی گنجائش نہیں، پھر وہاں مہر مثل آ جائے گا۔ اب دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى حَيَوَانٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ“ اگر اس شخص نے نکاح کیا اس عورت سے ”عَلَى حَيَوَانٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ“ ایسے حیوان پر جس کی صفت بیان نہیں کی گئی، کہ اعلیٰ ہو گا یا متوسط ہو گا یا ردی ہو گا، ”صَحَّتِ التَّسْمِيَةُ“ تو بھی تسمیہ صحیح ہے کیونکہ جہالتِ یسیرہ ہے، ”وَلَهَا الْوَسَطُ مِنْهُ“ اور اس عورت کے لیے اس حیوان کا متوسط ہو گا یعنی متوسط درجے کا حیوان ملے گا، ”وَالزَّوْجُ مُخَيَّرٌ“ اور خاوند کو اختیار ہو گا ”إِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا ذَلِكَ“ چاہے تو اس عورت کو وہی متوسط درجے والا حیوان یعنی متوسط درجے والی گائے دے دے، ”وَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا قِيمَتَهُ“ اور چاہے تو خاوند اس کو اس کی قیمت دے دے۔ متوسط درجے کا حیوان آئے گا اور پھر اس خاوند کو اختیار ہے کہ وہ متوسط درجے کا حیوان بھی دے سکتا ہے اور اس کی قیمت بھی دے سکتا ہے۔ یعنی عورت مجبور نہیں کر سکتی خاوند کو کہ مجھے متوسط گائے ہی لا کر دینی پڑے گی، نہیں، خاوند کی مرضی ہے متوسط گائے لا کر دے دے یا اس کی قیمت دے دے۔ وجہ یہ کہ دونوں اصل ہیں۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو قیمت اصل ہے، ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ گائے اصل ہے۔ قیمت اس لیے اصل ہے کہ متوسط کا پتا ہی قیمت سے چلتا ہے۔ متوسط حیوان کا پتا ہم کس سے چلے گا؟ قیمت سے۔ تو لہٰذا اس اعتبار سے قیمت ہی اصل ہوئی تو خاوند قیمت بھی دے سکتا ہے، اور متوسط گائے بھی دے سکتا ہے کیونکہ ذکر تو گائے کا ہوا تھا بھئی۔ تو یہ معنیٰ ہے ”وَالزَّوْجُ مُخَيَّرٌ“ اور خاوند کو اختیار ہو گا ”إِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا ذَلِكَ“ چاہے تو اس عورت کو وہی متوسط حیوان دے دے ”وَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا قِيمَتَهُ“ اور چاہے تو اس عورت کو اس متوسط حیوان کی قیمت دے دے۔ ”قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اس قال سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں، وہ فرماتے ہیں: ”مَعْنَى هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ“ اس مسئلے کا معنیٰ یہ ہے۔ بھئی اوپر آیا تھا نا ”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى حَيَوَانٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ“ حیوان ہے لیکن موصوف نہیں، اس کی صفت نہیں ذکر کی، اس کا کیا معنیٰ ہے؟ میں نے بتلا دیا۔ معنیٰ یہ ہے حیوان کی جنس تو ذکر کی لیکن اس کی صفت بیان نہیں کی کہ اعلیٰ ہو گا یا ادنیٰ ہو گا یا متوسط ہو گا۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”مَعْنَى هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ“ اس مسئلے کا معنیٰ یہ ہے: ”أَنْ يُسَمَّى جِنْسُ الْحَيَوَانِ دُونَ الْوَصْفِ“ کہ حیوان کی جنس کو تو ذکر کیا جائے ”دُونَ الْوَصْفِ“ لیکن اس کے وصف کو ذکر نہ کیا جائے۔ ”بِأَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَى فَرَسٍ أَوْ حِمَارٍ“ یہ باء تصویریہ ہے، صورت بتلا رہے ہیں کہ کس طرح جنس ذکر ہو اور وصف ذکر نہ ہو؟ کہتے ہیں: ”بِأَنْ يَتَزَوَّجَهَا“ بایں صورت کہ وہ شخص اس عورت سے نکاح کرتا ہے ”عَلَى فَرَسٍ“ گھوڑے پر، مثلاً صرف گھوڑا ذکر کیا، اعلیٰ ادنیٰ یا متوسط ذکر نہیں کیا۔ ”أَوْ حِمَارٍ“ یا نکاح کرتا ہے حمار یعنی گدھے پر، یعنی صرف گدھا ذکر کیا ہے، اعلیٰ ادنیٰ یا متوسط کو ذکر نہیں کیا۔ ”أَمَّا إِذَا لَمْ يُسَمَّ الْجِنْسُ“ اور باقی وہ صورت کہ جب جنس کو ذکر ہی نہ کیا جائے: ”بِأَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَى دَابَّةٍ“ بایں صورت کہ خاوند اس عورت سے نکاح کرتا ہے ”عَلَى دَابَّةٍ“ ایک جانور پر۔ بھئی میں نے بتلایا تھا کہ دابہ جو ہے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو کہتے ہیں، لیکن اب عرف میں اس سے باربرداری اور سواری والے جانور یعنی گھوڑا، گدھا اور خچر مراد لیتے ہیں۔ تو اب دیکھو دابہ سے اگر عام جاندار مراد لیں، خاوند کہتا ہے: میں تم سے ایک جانور پر نکاح کرتا ہوں، تو یہاں تو پتا ہی نہیں کون سا جانور ہے، جنس کا ہی نہیں پتا، بکری ہے، گائے ہے، گھوڑا ہے، گدھا ہے، اونٹ ہے، کیا چیز ہے؟ حیوان کی جنس کا ہی پتا نہیں۔ یا اگر دابہ کا عرفی معنیٰ کر لیں، عرف میں دابہ کسے کہتے ہیں؟ سواری اور باربرداری کے جانور کو، یعنی گھوڑا، گدھا اور خچر، تو بھی دیکھو جہالت ہے۔ میں تم سے ایک دابہ پر نکاح کرتا ہوں، بھئی دابہ تو گھوڑے کو بھی کہتے ہیں، دابہ تو خچر کو بھی کہتے ہیں، دابہ تو گدھے کو بھی کہتے ہیں، اور پھر ہر ایک کے اندر اعلیٰ بھی ہو گا، متوسط بھی ہو گا، ادنیٰ بھی ہو گا، تو یہ بہت زیادہ جہالت آ گئی۔ تو اس صورت میں تسمیہ ہی فاسد ہو گا اور کیا آ جائے گا؟ مہر مثل۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا إِذَا لَمْ يُسَمَّ الْجِنْسُ“ تو باقی اگر جنس کو ہی ذکر نہ کیا جائے ”بِأَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَى دَابَّةٍ“ بایں صورت کہ خاوند اس عورت سے نکاح کرتا ہے ایک دابہ ایک جاندار پر: ”لَا تَجُوزُ التَّسْمِيَةُ وَيَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ“ تو تسمیہ ہی جائز نہیں ہو گی اور مہر مثل واجب ہو گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ فِي الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہر مثل واجب ہو گا دونوں صورتوں میں۔ یعنی چاہے جہالتِ یسیرہ ہو، حیوان تو ذکر کر دیا، اس کی جنس تو ذکر کر دی لیکن اس کی صفت ذکر نہیں کی، یا سرے سے جنس ہی ذکر نہیں کی یعنی جہالتِ فاحشہ ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں مہر مثل آئے گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح بھی بیع کی طرح ہے، اور انہوں نے ذکر کیا تھا پیچھے بات گزر چکی کہ جو چیز بیع کے اندر ثمن بن سکتی ہے وہ نکاح کے اندر مہر بن سکتی ہے، اور جیسے جہالتِ یسیرہ سے بیع فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح نکاح کے اندر بھی اگر جہالتِ یسیرہ آئے گی مہر کے اندر تو تسمیہ فاسد ہو جائے گا، اور جب تسمیہ فاسد ہو گا تو پھر کیا آ جائے گا؟ مہر مثل۔ بھئی جیسے دیکھو ہم نے تو بتا دیا نکاح کے اندر اگر حیوان کی جنس تو ذکر کر دی ہے کہ گائے دوں گا لیکن اس کی صفت ذکر نہیں کی تو یہ جہالتِ یسیرہ ہے، یہ جائز ہو جائے گا اور متوسط گائے دینا پڑے گی۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف گائے کو اگر ذکر کیا جائے تو وہ بیع میں ثمن نہیں بن سکتی۔ وجہ یہ کہ جہالت آ رہی ہے، اور جب جہالت آئے گی تو بعد میں جھگڑا ہو گا۔ بائع چاہے گا میں ادنیٰ سی گائے دے دوں اور مشتری چاہے گا مجھے اعلیٰ قسم کی گائے ملے، تو لہٰذا معلوم ہوا صرف جنس ذکر کیا جائے تو یہ حیوان ثمن نہیں بن سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب یہ ثمن نہیں بن سکتا تو یہ مہر بھی نہیں بن سکتا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عِنْدَهُ مَا لَا يَصْلُحُ ثَمَنًا فِي الْبَيْعِ لَا يَصْلُحُ مُسَمًّى“ اس لیے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جو چیز صلاحیت نہیں رکھتی ثمن بننے کی بیع میں، وہ نکاح کے اندر مسمیٰ بننے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔ ”إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُعَاوَضَةٌ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک معاوضہ ہے۔ بیع بھی عقدِ معاوضہ ہے اور نکاح بھی عقدِ معاوضہ ہے۔ خاوند اگر مہر حوالے کرتا ہے تو عورت جو ہے منافعِ بضع حوالے کرتی ہے، تو یہ دونوں عقدِ معاوضہ ہیں۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّهُ مُعَاوَضَةُ مَالٍ بِغَيْرِ مَالٍ“ ہم کہتے ہیں یہ جو نکاح ہے یہ بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ عقدِ معاوضہ ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں تو عقدِ معاوضہ نہیں۔ بعض اعتبار سے یہ عقدِ معاوضہ ہے، بعض اعتبار سے عقدِ معاوضہ نہیں۔ عقدِ معاوضہ ہے بایں لحاظ کہ خاوند مہر دے رہا ہے تو عورت منافعِ بضع حوالے کر رہی ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ عقدِ معاوضہ نہیں ہے، کیونکہ خاوند جو دے رہا ہے وہ تو مال ہے اور عورت جو ہے منافعِ بضع حوالے کر رہی ہے وہ تو مال نہیں ہے۔ تو ایک طرف سے مال ہے دوسری طرف سے مال نہیں، تو بایں لحاظ دیکھا جائے یہ تو عقدِ معاوضہ ہے ہی نہیں۔ عقدِ معاوضہ میں تو دونوں طرف سے مال ہوتا ہے، بیع کے اندر دونوں طرف سے مال ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا نکاح میں دونوں جہتیں ہیں۔ جب دونوں جہتیں ہیں تو ہم نے دونوں کا اعتبار کیا۔ ہم نے معاوضہ ہونے کا بھی اعتبار کیا اور معاوضہ نہ ہونے کا بھی اعتبار کیا، تو ہم نے کہا ابتداءً یہ نکاح عقدِ معاوضہ ہے ہی نہیں، یہ گویا خاوند ویسے ہی اپنے اوپر ایک مال کو لازم کر رہا ہے کیونکہ دوسری طرف سے تو مال نہیں آ رہا۔ تو یہ گویا تبرع کے قبیل سے ہے۔ تبرع، یاد رکھنا، تبرع کا معنیٰ ہے اپنی طرف سے کوئی چیز دینا جو آپ پر لازم نہیں۔ جیسے آپ نفل پڑھتے ہیں، نفل آپ پر لازم نہیں تو یہ تبرع ہے۔ یا جیسے آپ صدقہ و خیرات کرتے ہیں جو آپ پر لازم نہیں، یعنی زکوٰۃ وغیرہ نہیں ہے، ویسے آپ اللہ کے راستے میں کچھ صدقہ یا خیرات وغیرہ کرتے ہیں تو یہ بھی تبرع ہے، یعنی ایک چیز آپ دے رہے ہیں جو آپ پر لازم اور واجب نہیں۔ تو جو چیز آپ پر لازم اور واجب نہیں اور اپنی طرف سے ادا کریں اس کو تبرع کہتے ہیں۔ تو ہم بھی کہتے ہیں یہ جو عقدِ نکاح ہے، ابتداءً ہم نے اس میں معاوضہ نہ ہونے کا اعتبار کیا کہ یہ عقدِ معاوضہ ہے ہی نہیں، خاوند اپنے اوپر تبرعاً مال کو واجب کر رہا ہے۔ یہ جو مہر کو اپنے اوپر واجب کر رہا ہے یہ کیا ہے؟ تبرعاً ہے، کیونکہ دوسری طرف سے تو مال نہیں آ رہا بھئی۔ جب یہ تبرعاً اپنے اوپر ایک چیز کو لازم کر رہا ہے تو اس میں تھوڑی بہت جہالت آ جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس میں تھوڑی جہالت آ جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں جہالتِ فاحشہ نہیں ہونی چاہیے۔ تو ابتداءً عقدِ معاوضہ ہے ہی نہیں، جب معاوضہ نہیں ہے تو پھر تھوڑی بہت جہالت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جبکہ بیع وہ تو عقدِ معاوضہ ہے، وہاں تھوڑی جہالت بھی جھگڑے کی طرف لے جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّهُ مُعَاوَضَةُ مَالٍ بِغَيْرِ مَالٍ“ کہ نکاح جو ہے یہ معاوضہ ہے مال کا غیر مال کے ساتھ۔ ایک طرف سے تو مال ہے دوسری طرف سے تو مال نہیں منافعِ بضع ہیں، تو یہ معاوضہ ہے مال کا غیر مال کے ساتھ۔ یعنی یوں کہو یہ بعض اعتبار سے یہ معاوضہ ہے اور بعض اعتبار سے یہ معاوضہ نہیں ہے۔ ”فَجَعَلْنَاهُ الْتِزَامَ الْمَالِ ابْتِدَاءً“ تو ہم نے اس کو قرار دیا التزامِ مال، مال کو اپنے اوپر لازم کرنا، ابتداءً ابتدا کے اعتبار سے۔ ہم کہتے ہیں ابتدا کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ خاوند ویسے ہی اپنے اوپر مال کو لازم کر رہا ہے، یہ تبرع ہے کیونکہ دوسری طرف سے مال نہیں آ رہا۔ ”حَتَّى لَا يَفْسُدَ بِأَصْلِ الْجَهَالَةِ“ تو جب ابتدا کے اعتبار سے یہ التزامِ مال ہے، اپنے اوپر مال کو لازم کر رہا ہے، تو اب یہ تھوڑی بہت جہالت آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ معنیٰ ہے ”حَتَّى لَا يَفْسُدَ بِأَصْلِ الْجَهَالَةِ“ یہاں تک کہ یہ فاسد نہیں ہو گا اصلِ جہالت سے، یعنی نفسِ جہالت آ جائے تو اس سے یہ فاسد نہیں ہو گا۔ ہاں جہالتِ فاحشہ آ جائے پھر تسمیہ ہی صحیح نہیں، پھر مہر مثل آ جائے گا۔ ”حَتَّى لَا يَفْسُدَ بِأَصْلِ الْجَهَالَةِ“ تو یہ نفسِ جہالت سے فاسد نہیں ہو گا یعنی تھوڑی بہت جہالت آ جائے۔ ”كَالدِّيَةِ وَالْأَقَارِيرِ“ جیسے کہ دیت ہے اور اقرار ہیں۔ اقاریر جمع ہے اقرار کی۔ جیسے دیت ہے بھئی، دیکھو کسی شخص سے غلطی سے کوئی قتل ہو جائے تو اس پر دیت آتی ہے، سو اونٹ دینے پڑتے ہیں اس کو۔ لیکن شریعت نے ان اونٹوں کی تفصیل نہیں بیان کی کہ اعلیٰ ہوں گے یا ادنیٰ ہوں گے یا متوسط ہوں گے۔ تو وہاں پر بھی دیکھو وہ جو مال دے رہا ہے وہ کوئی عقدِ معاوضہ تو نہیں ہے بھئی۔ تو دیت جو ہے دیکھو اس میں نفسِ جہالت موجود ہے لیکن اس سے کوئی حرج لازم نہیں آتا، جہالت کے باوجود شریعت نے اس کو واجب کیا ہے۔ اور اسی طرح اقرار، کوئی شخص کسی کے بارے میں اقرار کرتا ہے کہ مثلاً زید کی ایک بکری میرے ذمہ ہے، اب بکری تو اعلیٰ بھی ہو سکتی ہے، متوسط بھی ہو سکتی ہے، ادنیٰ بھی ہو سکتی ہے، لیکن پھر بھی اس کا یہ اقرار صحیح ہے جہالت کے باوجود، کیونکہ یہ کوئی عقدِ معاوضہ نہیں ہے۔ تو جب دیت اور اقرار جو عقدِ معاوضہ نہیں ہیں وہاں پر نفسِ جہالت کی گنجائش ہے تو نکاح بھی ابتداءً عقدِ معاوضہ نہیں تو اس میں بھی نفسِ جہالت کی گنجائش ہو گی۔ البتہ جہالتِ فاحشہ کی گنجائش نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَا يَفْسُدُ بِأَصْلِ الْجَهَالَةِ“ یہاں تک کہ نکاح فاسد نہیں ہو گا نفسِ جہالت کی وجہ سے ”كَالدِّيَةِ وَالْأَقَارِيرِ“ جیسے کہ دیت ہے اور اقرار ہیں۔ ”وَشَرَطْنَا أَنْ يَكُونَ الْمُسَمَّى مَالًا وَسَطُهُ مَعْلُومٌ“ اور ہم نے یہ شرط لگا دی ”أَنْ يَكُونَ الْمُسَمَّى“ کہ وہ چیز جس کو مقرر کیا گیا ہے ”مَالًا“ وہ ایسا مال ہو ”وَسَطُهُ مَعْلُومٌ“ جس کا وسط معلوم ہو۔ بھئی دیکھو یہ عبارت سمجھ لو ”مَالًا“ یہ ہے نکرہ، اور ”وَسَطُهُ مَعْلُومٌ“ یہ پورا جملہ اسمیہ ہے، ”وَسَطُهُ“ یہ ہے مبتدا اور ”مَعْلُومٌ“ ہے اس کی خبر، تو یہ پورا جملہ اسمیہ آیا نکرہ کے بعد، اور نکرہ کے بعد جملہ فعلیہ یا جملہ اسمیہ آئے تو وہ عموماً اس کی صفت بنتا ہے۔ تو یہ ”وَسَطُهُ مَعْلُومٌ“ یہ صفت ہے ”مَالًا“ کی، اور موصوف صفت کا ترجمہ پھر کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ”ایسا“ یا ”ایسی“ کا لفظ لاتے ہیں۔ تو دیکھو ”وَشَرَطْنَا“ اور ہم نے شرط لگا دی ”أَنْ يَكُونَ الْمُسَمَّى“ کہ وہ جو مسمیٰ ہے، وہ جو مقررہ چیز ہے ”مَالًا وَسَطُهُ مَعْلُومٌ“ وہ ایسا مال ہونا چاہیے جس کا وسط معلوم ہو۔ یعنی جس کا متوسط درجہ معلوم ہو۔ یہ اب انتہا کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں۔ ابتدا کے اعتبار سے نکاح عقدِ معاوضہ نہیں لہٰذا جہالتِ یسیرہ آ جائے کوئی حرج نہیں۔ اور انتہا کے اعتبار سے یہ عقدِ معاوضہ ہے، لہٰذا ایسا مال ہونا چاہیے جس کے وسط کا پتہ چل سکے تاکہ میاں بیوی دونوں کی رعایت ہو جائے۔ ایسا عوض آنا چاہیے جس کا وسط معلوم ہو تاکہ میاں بیوی دونوں کی رعایت ہو جائے۔ دونوں کی رعایت کس طرح ہو گی؟ کہ اگر اعلیٰ کو واجب کریں گے تو خاوند کا نقصان ہے، اگر ادنیٰ کو واجب کریں گے تو بیوی کا نقصان ہے، تو ہم دونوں کی رعایت رکھتے ہوئے متوسط کو واجب کریں گے کیونکہ یہ عقدِ معاوضہ ہے انتہا کے اعتبار سے، اور اس میں دونوں کی رعایت ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَشَرَطْنَا“ اور ہم نے شرط لگائی یہ، یعنی انتہا کے اعتبار سے عقدِ معاوضہ ہے تو ہم نے یہ شرط لگائی۔ ”وَشَرَطْنَا أَنْ يَكُونَ الْمُسَمَّى مَالًا وَسَطُهُ مَعْلُومٌ“ اور ہم نے یہ شرط لگا دی کہ مسمیٰ جو ہے وہ ایسا مال ہونا چاہیے جس کا وسط معلوم ہو ”رِعَايَةً لِلْجَانِبَيْنِ“ دونوں جانب کی رعایت کرنے کے لیے، یعنی خاوند اور بیوی کی کہ کسی کا بھی نقصان نہ ہو، متوسط درجے کی چیز اس پر واجب کی جا سکے۔ ”وَذَلِكَ عِنْدَ إِعْلَامِ الْجِنْسِ“ اور یہ اسی وقت ہو گا۔ اعلام کا معنیٰ ہے خبر دینا، اطلاع دینا۔ ”وَذَلِكَ عِنْدَ إِعْلَامِ الْجِنْسِ“ اور یہ جنس کی اطلاع دیتے وقت ہی ہو گا، یعنی جنس جب بتلا دی جائے گی کہ گھوڑا دوں گا یا گائے دوں گا تو اب اس حیوان کے وسط کا پتہ چل سکے گا۔ اور اگر جنس ہی ذکر نہ کی تو پھر تو وسط کا پتہ نہیں چلے گا، کیونکہ حیوانات مختلف ہیں اور ہر ایک کے مقاصد الگ الگ ہیں بھئی۔ مقصد ایک ہے ہی نہیں۔ کچھ حیوانات کے اندر گوشت مقصود ہوتا ہے، کچھ حیوانات پر سواری مقصود ہوتی ہے، کچھ حیوانات کے لیے بار برداری وغیرہ مقصود ہو گی، کچھ کے اندر دودھ وغیرہ مقصود ہو گا، تو مقاصد ہی مختلف ہیں بھئی۔ ایک مقصد ہوتا تو وہاں بھی وسط کی کوئی گنجائش نکل آتی، لیکن جب مقصد ہی الگ الگ ہیں تو پھر وہاں وسط کا کیسے پتہ چل سکتا ہے! لہٰذا جنس کا کم از کم پتہ ضرور ہونا چاہیے۔ اگر جنس کا ہی پتہ نہیں ہے تو پھر جہالتِ فاحشہ آ جائے گی، پھر تسمیہ ہی صحیح نہیں، پھر مہرِ مثل آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ عِنْدَ إِعْلَامِ الْجِنْسِ“ اور یہ جو وسط کا پتہ چلے گا جب جنس کی خبر دے دی جائے ”لِأَنَّهُ يَشْتَمِلُ عَلَى الْجَيِّدِ وَالرَّدِيءِ وَالْوَسَطِ“ اس لیے کیونکہ جنس جو ہے وہ مشتمل ہوتی ہے ”عَلَى الْجَيِّدِ“ عمدہ پر ”وَالرَّدِيءِ“ اور ردی چیز پر ”وَالْوَسَطِ“ اور متوسط چیز پر۔ جنس کے اندر ہر طرح کی چیزیں آ جاتی ہیں: اعلیٰ بھی، ادنیٰ بھی اور متوسط بھی۔ ”وَالْوَسَطُ ذُو حَظٍّ مِنْهُمَا“ اور وسط جو ہے ”ذُو حَظٍّ“ حاء اور ظاء ہے، ظاء۔ ”ذُو حَظٍّ“ حصے والا ہے۔ ذو مال کا کیا معنیٰ؟ مال والا۔ تو ”ذُو حَظٍّ“ کا معنیٰ ہے حصے والا۔ ”وَالْوَسَطُ ذُو حَظٍّ مِنْهُمَا“ اور وسط جو ہے وہ حصے والا ہے ”مِنْهُمَا“ دونوں کی طرف سے۔ یہ جو وسط ہے اس میں دونوں طرف سے حصہ آ رہا ہے، اعلیٰ کی طرف سے بھی حصہ آ رہا ہے اور ادنیٰ کی طرف سے بھی۔ یعنی یہ جو وسط ہے یہ اعلیٰ بھی ہے، ادنیٰ بھی ہے۔ کس طرح؟ دیکھو ایک ہے اعلیٰ، پھر ایک وسط اور ایک ادنیٰ۔ تو یہ جو وسط ہے ادنیٰ سے اعلیٰ ہے۔ یہ وسط جو ہے ادنیٰ سے اعلیٰ ہے اور اسی وسط کو اعلیٰ کے ساتھ ذرا ملائیں، یہ جو وسط ہے اعلیٰ کے اعتبار سے ادنیٰ ہے، تو اس وسط میں دونوں طرف سے حصہ آ گیا، یہ بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو اعلیٰ ہے، بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو ادنیٰ ہے۔ ادنیٰ کی نسبت سے یہ اعلیٰ اور اعلیٰ کی نسبت سے یہ ادنیٰ ہے تو یہ دونوں طرف سے حصہ لے رہا ہے تو اس میں دونوں کی رعایت ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَسَطُ ذُو حَظٍّ مِنْهُمَا“ اور وسط جو ہے دونوں سے حصہ لینے والا ہے۔ دیکھا؟ انسان حیران ہوتا ہے صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتوں پر بھئی۔ کتنے مختصر لفظوں میں عجیب دلائل اور نکات و ذکر فرماتے چلے جا رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ جَهَالَةِ الْجِنْسِ“ بخلاف جنس کی جہالت کے۔ اگر جنس ہی مجہول ہے، میں نے بتلایا پھر وسط کا پتہ نہیں چل سکتا، کیونکہ حیوانات کے جنسوں کے مقاصد الگ الگ ہوتے ہیں۔ کسی میں گوشت مقصود ہے، کسی میں سواری مقصود ہے، تو مقصد الگ ہیں تو اب وسط کا پتہ نہیں چل سکتا۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ جَهَالَةِ الْجِنْسِ“ بخلاف جنس کے مجہول ہونے کے ”لِأَنَّهُ لَا وَاسِطَةَ لِاخْتِلَافِ مَعَانِي الْأَجْنَاسِ“ آپ کی کتاب میں بھی یہی عبارت ہے: ”لِأَنَّهُ لَا وَاسِطَةَ“ یاد رکھو یہ کتابت کی غلطی ہے۔ یہ درست عبارت یوں ہے: ”لِأَنَّهُ لَا وَسَطَ لَهُ“ ”لِأَنَّهُ لَا وَسَطَ لَهُ“ جب جنس کے اندر جہالت آ جائے تو پھر اس کا کوئی وسط نہیں ہے۔ ”لِأَنَّهُ لَا وَسَطَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ جنس جب مجہول ہو جائے گی تو اس کا کوئی وسط نہیں ہے۔ بھئی کیوں اس کا وسط کیوں نہیں ہے؟ کہتے ہیں: ”لِاخْتِلَافِ مَعَانِي الْأَجْنَاسِ“ اس وجہ سے کہ جنس کے جو مقاصد ہیں وہ مختلف ہوتے ہیں۔ معانی جمع ہے معنیٰ کی، اور معنیٰ کا ایک معنیٰ جو ہے، ایک مطلب جو ہے وہ مقصد بھی ہے۔ تو یہاں معانی کا ترجمہ کیا کریں؟ مقاصد کے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا وَسَطَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ اس کا کوئی وسط نہیں ہے ”لِاخْتِلَافِ مَعَانِي الْأَجْنَاسِ“ اس وجہ سے کہ جنسوں کے مقاصد جو ہیں وہ مختلف ہوتے ہیں، کسی میں گوشت مقصود ہے، کسی میں سواری وغیرہ مقصود ہے۔ تو وہاں وسط کا پتہ نہیں چل سکتا۔ ”وَبِخِلَافِ الْبَيْعِ“ اور بخلاف بیع کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیع پر قیاس کیا تھا، اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، آپ نکاح کو بیع پر قیاس نہیں کر سکتے۔ نکاح کو بیع پر قیاس نہیں کر سکتے، وجہ یہ کہ بیع جو ہے اس کی بنیاد تنگی پر ہے، بیع میں تنگی کی جاتی ہے۔ بائع مشتری آپس میں بحث کرتے ہیں، بائع کی کوشش ہوتی ہے کہ چیز مہنگے داموں میں فروخت کروں اور مشتری کی کوشش ہوتی ہے کہ میں کم قیمت میں اس کو خرید لوں، تو بیع کی بنیاد تنگی پر ہے۔ اور جبکہ نکاح کی بنیاد نرمی پر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ الْبَيْعِ“ اور بخلاف بیع کے ”لِأَنَّ مَبْنَاهُ عَلَى الْمُضَايَقَةِ وَالْمُمَاكَسَةِ“ ”لِأَنَّ مَبْنَاهُ“ اس لیے کیونکہ بیع کی جو بنیاد ہے ”عَلَى الْمُضَايَقَةِ“ ضاد کے ساتھ ہے بھئی ”عَلَى الْمُضَايَقَةِ“۔ ضیق کسے کہتے ہیں؟ تنگ کو، تنگ۔ تو ”عَلَى الْمُضَايَقَةِ“ یعنی تنگی کرنا، تنگی کرنا۔ اور مماکسۃ کا معنیٰ ہے کمی کروانا۔ بیع کے اندر دونوں کیا کرتے ہیں؟ تنگی کرتے ہیں، بائع کی کوشش ہوتی ہے میں زیادہ پیسے لوں، مشتری کی کوشش ہوتی ہے میں کم پیسے دوں، اور نیز اس کی بنیاد مماکسۃ پر ہوتی ہے، یعنی مشتری اس میں کمی کروانے کی کوشش کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ الْبَيْعِ“ بخلاف بیع کے ”لِأَنَّ مَبْنَاهُ عَلَى الْمُضَايَقَةِ وَالْمُمَاكَسَةِ“ اس لیے کیونکہ بیع کی جو بنیاد ہے وہ مضایقہ یعنی تنگی پر ہے اور کمی کروانے پر ہے۔ ”أَمَّا النِّكَاحُ فَمَبْنَاهُ عَلَى الْمُسَامَحَةِ“ اور باقی نکاح جو ہے تو اس کی بنیاد جو ہے مسامحت پر ہے، چشم پوشی کرنا، یعنی کھلے دل سے کام لینا، فراخ دلی کرنا، نرمی کرنا۔ تو کہتے ہیں نکاح جو ہے ”فَمَبْنَاهُ عَلَى الْمُسَامَحَةِ“ اس کی بنیاد جو ہے مسامحت یعنی فراخ دلی پر ہے۔ ”وَإِنَّمَا يَتَخَيَّرُ“ جی، اب وہی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ حیوان ذکر کیا اور پھر خاوند کو اختیار ملے گا، چاہے وہ اسی قسم کا متوسط حیوان دے دے اور چاہے تو اس متوسط حیوان کی قیمت دے دے۔ تو یہ اختیار کیوں دیا اس کو؟ میں نے وجہ ذکر کر دی کہ ایک اعتبار سے قیمت اصل ہے کیونکہ متوسط کا پتہ ہی قیمت سے چلتا ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ حیوان اصل ہے کیونکہ اس کو لفظوں میں باقاعدہ ذکر کیا تھا، تو دونوں اصل ہیں تو دونوں دے سکتا ہے، خاوند کو اختیار ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَتَخَيَّرُ“ اور خاوند کو اختیار ہو گا ”لِأَنَّ الْوَسَطَ لَا يُعْرَفُ إِلَّا بِالْقِيمَةِ“ اس لیے کیونکہ متوسط چیز جو ہے اس کو جانا نہیں جاتا مگر قیمت کے ذریعے ہی ”فَصَارَتْ أَصْلًا فِي حَقِّ الْإِيفَاءِ“ تو اس اعتبار سے قیمت اصل ہوئی ادائیگی کے حق میں ”وَالْعَبْدُ أَصْلٌ تَسْمِيَةً“ اور غلام تو اصل ہے تسمیہ کے اعتبار سے۔ مثلاً غلام ذکر کیا، اب غلام تو اعلیٰ بھی ہو سکتا ہے، متوسط بھی ہو سکتا ہے، ادنیٰ بھی ہو سکتا ہے، تو چاہے تو اس متوسط درجے کے غلام کی قیمت دے دے اور چاہے متوسط غلام دے دے۔ قیمت کیوں؟ کیونکہ متوسط کا پتہ ہی قیمت سے چلتا ہے، اور غلام کیوں دے سکتا ہے متوسط؟ کیونکہ ذکر اسی کا ہوا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعَبْدُ أَصْلٌ تَسْمِيَةً“ اور غلام جو ہے وہ اصل ہے تسمیہ کے اعتبار سے ”فَيَتَخَيَّرُ بَيْنَهُمَا“ تو خاوند کو اختیار ہو گا ان دونوں کے درمیان، وہ جو بھی ادا کرنا چاہے ادا کر سکتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى ثَوْبٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ فَلَهَا مَهْرُ الْمِثْلِ“ بھئی یاد رکھو، یہ جو چیزیں ہیں نا چیزیں، یہ کچھ مثلیات ہیں اور کچھ ذوات القیم ہیں۔ مثلیات بھئی وہ چیزیں جن کا مثل بازار سے مل جاتا ہے، اور جن چیزوں کا مثل بازار سے نہ ملے ان کو ذوات القیم کہتے ہیں، یعنی قیمت والی چیزیں۔ وہ قیمت والی چیزیں ہیں، ان کا مثل نہیں ملتا۔ جن چیزوں کا مثل ملتا ہے وہ تین چیزیں ہیں بھئی: ایک مکیلات ہیں، موزونات ہیں اور معدوداتِ متقاربۃ ہیں۔ مکیلات کچھ چیزوں کو میں نے بتایا برتنوں میں ماپ کر بیچا جاتا ہے جیسے قدیم زمانے میں گندم کو برتن میں ماپ کر بیچا جاتا تھا اور وہ برتن قفیز کہلاتا تھا۔ یا جیسے آپ بازار سے دودھ لینے جاتے ہیں وہ ایک برتن میں دودھ ماپ کر آپ کو دیتا ہے ایک لیٹر یا دو لیٹر، یا اسی طرح آپ پیٹرول ڈلواتے ہیں گاڑی میں تو وہاں بھی اس کی مخصوص مقدار جو ہے ایک لیٹر، دو لیٹر، تین لیٹر جتنا آپ پیٹرول گاڑی میں ڈلوانا چاہیں۔ تو یہ ہے مکیلات جن کو ماپا جاتا ہے برتن وغیرہ میں۔ اور کچھ موزونات ہیں جن کا وزن کیا جاتا ہے، جیسے آپ چینی خریدتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی، تو اس کو وزن کر کے بیچا جاتا ہے۔ اور کچھ چیزیں جو ہیں معدودات، ان کو گنا جاتا ہے، مثلاً انڈے جو ہیں وہ گن کر بیچے جاتے ہیں کہ ایک درجن اتنے کے ہیں، دو درجن اتنے کے ہیں۔ تو یہ معدودات ہیں جن کو شمار کیا جاتا ہے اور یہ معدوداتِ متقاربۃ ہیں، یعنی ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، ایک جیسے ہیں۔ بھئی دیکھو ہر انڈا دوسرے انڈے جیسا نہیں ہوتا، تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو فرق واضح نظر بھی آ رہا ہوتا ہے لیکن پھر بھی اس فرق کو شمار نہیں کیا جاتا بھئی۔ تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ معدوداتِ متقاربۃ۔ تو یہ جو چیزیں ہیں یہ مثلیات ہیں بھئی، ان کا مثل بازار سے مل جاتا ہے۔ مثلاً آپ بازار سے انڈے لینے جاتے ہیں ہر دکان سے آپ کو انڈے مل جائیں گے۔ آپ بازار سے گندم لینے جاتے ہیں ہر دکان سے آپ کو، گندم کی ہر دکان سے وہ گندم آپ کو مل جائے گی، تو یہ مکیلات، موزونات اور معدوداتِ متقاربۃ ان کو مثلیات کہا جاتا ہے کہ ان کا مثل مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور چیزیں جو ہیں معدودات جو ہیں وہ ذوات القیم کہلاتی ہیں، یعنی قیمت والی ہیں، مثلاً گائے، بیل، بکری وغیرہ۔ اب گائے، بیل، بکری وغیرہ معدودات میں سے ہیں، ان کو شمار کیا جاتا ہے لیکن یہ ذوات القیم ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی قیمت الگ الگ ہو گی، آپ دو گائے خریدنا چاہتے ہیں تو ہر گائے کی الگ قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ گائے وغیرہ اور چیزیں جو ہیں وہ ذوات القیم میں سے ہیں۔ تو اب آپ کو صاحبِ ہدایہ مسئلہ بتلائیں گے۔ ضابطہ سمجھ لو، ضابطہ یہ ہے کہ ذوات القیم چیزوں کے اندر خاوند کو اختیار ملے گا۔ ذوات القیم چیزوں میں خاوند کو اختیار ملے گا کہ مثلاً اس نے گائے مقرر کی تھی، اور گائے کس میں سے ہے؟ ذوات القیم میں سے۔ ایک گائے کا مثل آپ کو بازار سے نہیں مل سکتا۔ ظاہری طور پر دو گائے بے شک ایک جیسی ہوں، دو بکریاں بے شک ایک جیسی ہوں لیکن باطنی صفات ایک جیسی نہیں ہو سکتیں بھئی۔ ایک بکری ہو سکتا ہے دودھ کم دے، ایک دودھ زیادہ دے، یا ایک گائے ہے وہ آرام سے دودھ نکالنے دیتی ہے دوسری گائے آرام سے دودھ نہیں نکالنے دیتی۔ تو ظاہری طور پر بے شک ایک جیسے بھی جانور کیوں نہ ہوں، باطنی طور پر مختلف ہوں گے۔ تو یہ معدودات تو ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کی الگ قیمت طے کی جاتی ہے، یہ ذوات القیم ہیں۔ تو جب خاوند نے ذوات القیم مثلاً کوئی گائے ذکر کی تھی تو ذوات القیم کے اندر یاد رکھو خاوند کو اختیار ہوتا ہے، وہ وہی والی چیز متوسط درجے کی وہ بھی دے سکتا ہے اور متوسط درجے کی اس چیز کی قیمت بھی دے سکتا ہے۔ جبکہ جو چیزیں مثلیات ہیں جن کا مثل بازار سے مل جاتا ہے، تو اگر اس کے اندر، اگر اس کے اندر، اگر وہ چیز بھی بیان کی اور اس کا وصف بھی بیان کر دیا، مثلاً میں تمہیں سو من گندم دوں گا اور اعلیٰ کوالٹی کی گندم دوں گا، صفت بھی ذکر کر دی، تو پھر اس صورت میں وہ گندم ہی دینا پڑے گی۔ کیا دینا پڑے گی؟ گندم ہی دینا پڑے گی اس لیے کیونکہ اس نے مثلیات کو ذکر کیا اور اس کا وصف بھی باقاعدہ بیان کر دیا۔ اور اگر وصف بیان نہیں کیا تو پھر اس صورت کے اندر بھی متوسط درجے کی گندم آ جائے گی اور متوسط گندم بھی دے سکتا ہے اتنی یا اس کی قیمت بھی دے سکتا ہے۔ لیکن اگر وصف ذکر کر دیا ہے تو پھر وہ گندم ہی دینا پڑے گی۔ یعنی، یعنی جبراً خاوند اس کی قیمت دینا چاہتا ہے، جبراً خاوند ایسا نہیں کر سکتا۔ مثلاً دیکھو ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کیا کہا: میں تمہیں سو من اعلیٰ قسم کی گندم دوں گا۔ اور گندم کس میں سے؟ مثلیات میں سے، اور ساتھ وصف بھی ذکر کر دیا، اعلیٰ قسم کی گندم دوں گا، اور پھر اب وہ خاوند جو ہے اس گندم کی قیمت دینا چاہتا ہے اور عورت چاہتی ہے نہیں مجھے گندم ہی لا کر دے، تو خاوند جبراً قیمت نہیں دے سکتا۔ ہاں عورت راضی ہے تو پھر تو مرضی ہے ان کی آپس میں، خاوند قیمت بھی دے سکتا ہے۔ یہاں جبراً کی بات چل رہی ہے کہ جبراً پھر خاوند قیمت نہیں دے سکتا، وہ جو مثلی چیز بیان کی ہے اور اس کا وصف بھی بیان کیا ہے وہی چیز ہی لا کر دینا پڑے گی۔ لیکن اگر آپس میں راضی ہو جاتے ہیں پھر قیمت بھی دے سکتا ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ ذوات القیم میں خاوند کو اختیار ہوتا ہے اور مثلیات میں اگر وصف بیان نہ کرے وہاں بھی خاوند کو اختیار ہے، لیکن مثلیات میں اگر وصف بیان کر دے تو پھر وہ وسط ہی دینا پڑے گا، جبراً اس کی قیمت نہیں دے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى ثَوْبٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ“ اور اگر خاوند نے نکاح کیا ”عَلَى ثَوْبٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ“ ایک غیر موصوف کپڑے پر، مثلاً یہ تو کہا میں تمہیں پچاس تھان دوں گا لیکن کپڑے کی نوع نہیں بیان کی کہ کس قسم والا کپڑا ہو گا۔ تو یاد رکھو یہ جو کپڑا ہے نا یہ قدیم زمانے میں ہاتھ سے بنایا جاتا تھا، تو ہر کپڑا دوسرے سے مختلف ہوتا تھا۔ بنانے والا مختلف ہے، پھر کہیں ہاتھ ہل گیا تو وہ دھاگہ ہل جاتا وغیرہ تو ہر کپڑا دوسرے کپڑے سے مختلف ہوتا تھا۔ تو یہ ہر قسم کا کپڑا الگ جنس شمار ہوتا تھا، پھر ہر جنس کے اندر اعلیٰ بھی ہو سکتا ہے، متوسط بھی ہو سکتا ہے اور ادنیٰ بھی ہو سکتا ہے۔ تو کپڑا کئی جنسیں شمار ہوتا تھا۔ تو اب خاوند نے ایک عورت سے نکاح کیا، صرف کپڑا ذکر کیا، جنس بھی نہیں ذکر کی کہ فلاں قسم کا کپڑا دوں گا یا فلاں قسم کا، یعنی اعلیٰ ادنیٰ کی بات نہیں کر رہا، مثلاً میں نے بتایا کپڑا مختلف جنسیں شمار ہوتا تھا، فلاں علاقے کا کپڑا مثلاً وہ ایک جنس ہے، اب اس علاقے میں بھی اعلیٰ بھی ہو گا ادنیٰ بھی ہو گا اور متوسط، یا اسی طرح کپڑے کے مقاصد الگ ہوتے ہیں: بعض سردیوں کے کپڑے ہیں، بعض گرمیوں کے کپڑے ہیں، بعض اور ویسے زیب و زینت کے لیے ہیں صرف، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کپڑے کے مقاصد بھی الگ ہیں تو کپڑا مختلف جنسیں شمار ہوتا تھا۔ تو اس نے صرف کپڑا کہا، اس کی جنس یعنی اس کی قسم ہی سرے سے ذکر نہیں کی۔ تو اگر قسم ذکر کر دیتا ہے کہ مثلاً میں تمہیں فلاں علاقے کا جو کپڑا ہے وہ تمہیں دوں گا، تو پھر اب اس کی قسم کا پتہ چل گیا تو اس قسم میں سے متوسط درجے والا آ جائے گا۔ اس قسم میں سے متوسط درجے والا بھئی، اور یاد رکھو یہ کپڑا ذوات القیم میں سے ہے لہٰذا اس قسم کا متوسط کپڑا بھی خاوند دے سکتا ہے اور اس کی قیمت بھی دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى ثَوْبٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ“ اور اگر اس شخص نے نکاح کیا اس عورت سے ”عَلَى ثَوْبٍ“ ایک ایسے کپڑے پر ”غَيْرِ مَوْصُوفٍ“ جس کی صفت بیان نہیں کی، صرف اتنا کہا ہے کپڑا ہے، اس کپڑے کے مثلاً کپڑے کے پچاس تھان میں تمہیں دوں گا لیکن اس کی صفت اور جنس اور اس کی قسم بیان نہیں کی، ”فَلَهَا مَهْرُ الْمِثْلِ“ تو پھر اس عورت کے لیے مہرِ مثل ہو گا، کیونکہ تسمیہ میں جہالتِ فاحشہ آ گئی، قسم بیان ہی نہیں کی۔ ”وَمَعْنَاهُ“ اور معنیٰ اس کا یہ ہے ”أَنَّهُ ذَكَرَ الثَّوْبَ وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ“ کہ خاوند نے کپڑا تو ذکر کیا اور اس پر کوئی چیز نہیں بڑھائی، یعنی اس کی نوع نہیں بتلائی۔ ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ مہرِ مثل کیوں آئے گا؟ کہتے ہیں: ”أَنَّ هَذِهِ جَهَالَةُ الْجِنْسِ“ کیونکہ یہ جنس کی جہالت ہے، جنس کا ہی پتہ نہیں چل رہا، ”لِأَنَّ الثِّيَابَ أَجْنَاسٌ“ اس لیے کیونکہ کپڑے جو ہیں وہ کئی جنسیں ہیں، ہر ایک کے مقاصد الگ ہیں۔ ”وَلَوْ سَمَّى جِنْسًا“ اور اگر اس نے جنس بھی بیان کر دی ”بِأَنْ قَالَ هَرَوِيٌّ“ بایں صورت کہ اس نے کہا ہروی کپڑا ہو گا، ہروی ہرات بھئی افغانستان کا ایک علاقہ ہے، معلوم ہوا وہاں کے کپڑے اعلیٰ ہوتے ہوں گے اور مشہور ہوں گے، تو خاوند بھی بیوی سے کہتا ہے میں تمہیں پچاس ہروی کپڑے دوں گا، یعنی ہرات میں بنے ہوئے، ہرات کے بنے ہوئے پچاس کپڑے دوں گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سَمَّى جِنْسًا“ اور اگر خاوند نے جنس بیان کر دی ”بِأَنْ قَالَ هَرَوِيٌّ“ بایں صورت کہ اس نے کہا کہ ہروی کپڑا دوں گا ”تَصِحُّ التَّسْمِيَةُ“ تو اس صورت میں تسمیہ صحیح ہے، اب جہالتِ فاحشہ نہیں ہے، جہالتِ یسیرہ ہے۔ ”وَيُخَيَّرُ الزَّوْجُ لِمَا بَيَّنَّا“ اور خاوند کو اختیار ہو گا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی، وہ قیمت بھی دے سکتا ہے اور متوسط ہروی کپڑا بھی دے سکتا ہے۔ ”وَكَذَا إِذَا بَالَغَ فِي وَصْفِ الثَّوْبِ“ اور اسی طرح اگر خاوند نے مبالغہ کیا کپڑے کے وصف میں، مثلاً اگر خاوند نے کپڑے کے وصف میں خوب مبالغہ کر دیا کہ میں تمہیں پچاس تھان ہروی کپڑے کے دوں گا، ان میں سے ہر کپڑا جو ہے اتنے گز لمبا ہو گا اور مثلاً دو گز اس کی چوڑائی ہو گی اور اس میں اس اس طرح کا رنگ ہو گا، سارا کچھ خاوند نے بیان کر دیا، کہتے ہیں پھر بھی کپڑا ذوات القیم میں سے ہے تو ذوات القیم ہی رہے گا، مثلی نہیں بنے گا۔ کیونکہ شبہ ہوتا ہے کہ خاوند نے جب سارا کچھ بیان کر دیا تو اب تو اس کو مثلی ہو جانا چاہیے کیونکہ اسی قسم کا کپڑا بازار میں جا کر تلاش کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں نہیں، جتنا مرضی مبالغہ کر دیں اس کے اوصاف میں، کپڑا پھر بھی کیا ہے؟ ذوات القیم میں سے ہے تو ذوات القیم ہی میں سے رہے گا اور خاوند کو اسی طرح اختیار ہو گا، وہ متوسط کپڑے کی قیمت بھی دے سکتا ہے اور اسی قسم کا متوسط کپڑا بھی دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا بَالَغَ فِي وَصْفِ الثَّوْبِ“ اور اسی طرح ہے حکم جب کپڑے کے وصف میں مبالغہ کیا، اسی طرح ہے حکم یعنی خاوند کو اختیار ہو گا۔ ”فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ کس میں؟ ظاہرِ روایت کے اندر۔ میں نے بتلایا تھا کہ ظاہرِ روایت جو ہے امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں جو ہیں ان کو ظاہرِ روایت کہتے ہیں۔ اور وہ چھ کتابیں کون سی ہیں؟ مبسوط، زیادات، سیرِ صغیر، سیرِ کبیر، جامعِ صغیر اور جامعِ کبیر۔ تو مبسوط، زیادات، سیرِ صغیر، سیرِ کبیر، جامعِ صغیر، جامعِ کبیر، یہ چھ کتابیں۔ ان کو ظاہرِ روایت کہتے ہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کی کل تصانیف ہزار ہیں بھئی، تو باقی تصانیف کو نوادر کہتے ہیں۔ تو ان کو ظاہرِ روایت اس لیے کہتے ہیں کہ ان کے نقل کرنے والے ہر ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہیں کہ ہر ہر زمانے میں تواتر کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں، یعنی اتنے زیادہ لوگ اس کو نقل کرنے والے ہیں کہ ان میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہے، یقینی بات ہے کہ یہ وہی کتابیں ہیں جو امام محمد رحمہ اللہ نے تصنیف فرمائی تھیں، اس لیے کیونکہ اتنے زیادہ لوگ ان کو نقل کرنے والے ہیں کہ اتنے لوگ جھوٹ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ جبکہ باقی کتابیں نوادر ہیں یعنی ان کو روایت کرنے والے کم ہیں، زیادہ نہیں ہیں تو وہاں شک اور شبہ ہو سکتا ہے کسی نے کچھ لفظوں کو بدل دیا ہو، لیکن ان کتابوں میں جو ظاہرِ روایت ہیں ان میں یہ شک اور شبہ نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: ”فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ ظاہرِ روایت میں ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ کپڑا جو ہے یہ ذوات الامثال میں سے نہیں ہے۔ تو یہ ذوات القیم میں سے ہے اور جتنا مرضی اوصاف میں مبالغہ کر دیں پھر بھی خاوند کے پاس اختیار ہو گا، چاہے وہی متوسط کپڑا دے اور چاہے اس کی قیمت دے۔ تو یہ ”فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ کہا کہ ظاہرِ روایت کے مطابق خاوند کو اختیار ہو گا۔ جبکہ نوادر کی ایک روایت ہے کہ جب خوب مبالغہ کر دے خاوند تو اب وہ کپڑا مثلیات میں سے بن گیا، اور جب مثلیات ہوں تو مثلیات کی کوالٹی وغیرہ سارا کچھ جب بیان کر دیا جائے تو پھر وہاں وہ مثلی ہی دینا پڑتا ہے، جبراً اس کی قیمت خاوند نہیں دے سکتا، تو یہاں بھی خاوند کو عورت مجبور کر سکتی ہے۔ یہ نوادر کی روایت کے مطابق عورت خاوند کو مجبور کر سکتی ہے کہ مجھے یہ جو کپڑا جس کی تم نے خوب صفات بیان کی تھیں یہی کپڑا دینا پڑے گا، اس کی قیمت لینا مجھے منظور نہیں ہے۔ یہ نوادر کی روایت ہے، لیکن ظاہرِ روایت کے مطابق خاوند کو اختیار ہے۔ ”وَكَذَا إِذَا سَمَّى مَكِيلًا أَوْ مَوْزُونًا“ مکیلات اور موزونات میں نے بتایا مثلیات میں سے ہیں اور اس میں میں نے بتا دیا کہ مکیلات اور موزونات میں اگر صرف جنس ذکر کی ہے صفت ذکر نہیں کی، تو پھر اس صورت میں بھی وہ متوسط درجے کا آئے گا، چاہے وہی جنس متوسط درجے کی لا کر دے یا اس کی قیمت دے، خاوند کو اختیار ہو گا۔ اور اگر خاوند نے وصف بھی ذکر کر دیا ہے کہ گندم دوں گا اور اعلیٰ کوالٹی والی دوں گا، تو پھر اس صورت میں خاوند کو مثل ہی دینا پڑے گا، یعنی وہ جبراً قیمت نہیں دے سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا سَمَّى مَكِيلًا أَوْ مَوْزُونًا“ اور اسی طرح خاوند نے اگر مکیلی یا موزونی چیز کو ذکر کیا ”وَسَمَّى جِنْسَهُ دُونَ صِفَتِهِ“ اور اس کی جنس تو ذکر کی کہ مثلاً گندم دوں گا ”دُونَ صِفَتِهِ“ اور اس کی صفت ذکر نہیں کی تب بھی اسی طرح مسئلہ ہے، خاوند کو اختیار ہو گا۔ بتلایا نا ”وَكَذَا إِذَا سَمَّى مَكِيلًا“۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ سَمَّى جِنْسَهُ وَصِفَتَهُ“ اور اگر اس کی جنس اور صفت بھی بیان کر دی ”لَا يُخَيَّرُ“ پھر خاوند کو اختیار نہیں ہو گا ”لِأَنَّ الْمَوْصُوفَ مِنْهَا يَثْبُتُ فِي الذِّمَّةِ ثُبُوتًا صَحِيحًا“ اس لیے کیونکہ مثلیات میں سے جو موصوف ہوتا ہے یعنی جس کی صفت بیان کر دی جائے ”يَثْبُتُ فِي الذِّمَّةِ“ یہ کسی کے ذمے میں ثابت ہو سکتا ہے ”ثُبُوتًا صَحِيحًا“ صحیح طور پر۔ یہ مثلیات میں سے جس کی صفت بیان کر دی جائے وہ کسی کے ذمے میں صحیح طور پر ثابت ہو کر رہ سکتا ہے، تو لہٰذا وہی دینا پڑے گا۔ ”فَإِنْ تَزَوَّجَ مُسْلِمٌ عَلَى خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ“ بھئی یہ مسئلہ پہلے بیان ہو چکا، مسلمان کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور مہر شراب یا خنزیر مقرر کرتا ہے، تو اس صورت میں یہ تسمیہ صحیح نہیں تو کیا آ جائے گا؟ مہرِ مثل۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ تَزَوَّجَ مُسْلِمٌ عَلَى خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ“ اگر مسلمان نے نکاح کیا شراب یا خنزیر پر ”فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ“ تو نکاح تو جائز ہے کیونکہ نکاح شروطِ فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا، ”وَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا“ اور اس عورت کے لیے مہرِ مثل ہو گا ”لِأَنَّ شَرْطَ قَبُولِ الْخَمْرِ شَرْطٌ فَاسِدٌ“ اس لیے کیونکہ شراب قبول کرنے کی شرط ہے یا اسی طرح خنزیر قبول کرنے کی جو شرط ہے ”شَرْطٌ فَاسِدٌ“ یہ شرطِ فاسد ہے ”فَيَصِحُّ النِّكَاحُ وَيَلْغُو الشَّرْطُ“ تو نکاح تو صحیح ہو جائے گا اور شرط لغو ہو جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ“ بخلاف بیع کے ”لِأَنَّهُ يَبْطُلُ بِالشُّرُوطِ الْفَاسِدَةِ“ وہ شروطِ فاسدہ سے باطل ہو جاتی ہے۔ نکاح تو باطل نہیں ہوتا شروطِ فاسدہ سے، یہ شرطِ فاسد لگائی تھی شراب یا خنزیر کے قبول کرنے کی، تو شرط لغو ہو گئی اور نکاح صحیح ہو گیا۔ جبکہ بیع ایسی نہیں ہے، بیع میں اگر شرطِ فاسد لگائیں گے تو بیع ہی فاسد ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ“ بخلاف بیع کے ”لِأَنَّهُ يَبْطُلُ بِالشُّرُوطِ الْفَاسِدَةِ“ وہ بیع باطل ہو جاتی ہے شروطِ فاسدہ سے، ”لَكِنْ لَمْ تَصِحَّ التَّسْمِيَةُ“ لیکن تسمیہ صحیح نہیں ہے۔ اس کو جوڑیں وہ جو پیچھے آیا تھا ”فَيَصِحُّ النِّكَاحُ“ اس کے ساتھ جوڑیں، تو نکاح تو صحیح ہو جائے گا ”لَكِنْ لَمْ تَصِحَّ التَّسْمِيَةُ“ لیکن یہ تسمیہ صحیح نہیں ہے یہ جو شراب اور خنزیر کو ذکر کیا ہے۔ تو یہ تسمیہ صحیح نہیں ہے ”لِمَا أَنَّ الْمُسَمَّى لَيْسَ بِمَالٍ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ“ اس لیے کیونکہ مسمیٰ یعنی شراب اور خنزیر جو ہے وہ مسلمان کے حق میں مال نہیں ہے، تو تسمیہ صحیح نہیں ہے ”فَوَجَبَ مَهْرُ الْمِثْلِ“ تو مہرِ مثل واجب ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 30 of 160