اچھا بھئی، آگے سبق دیکھیے، بھئی متن دیکھیے:
”وَالتَّحْدِيدُ أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ، وَالْبُرْهَانُ أَيِ الطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ وَالْعَمَلِ بِهِ، وَهَذَا بِالْمَقَاصِدِ أَشْبَهُ“
گزشتہ سبق میں ہم رؤوسِ ثمانیہ میں سے آخری چیز یعنی کہ انحاء تعلیمیہ کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ انحاء تعلیمیہ، یعنی تعلیمی طریقے جو ہیں، وہ چار چیزیں ہیں بھئی: تقسیم، تحلیل، تحدید اور برہان۔ تقسیم اور تحلیل کے بارے میں کل کے سبق میں ہم نے پڑھا۔
تقسیم کسے کہتے ہیں؟ کہ مقدمات کو زیادہ کرنا ”مِنْ فَوْقٍ“ اوپر کی جانب سے، یعنی نتیجے سے۔ یعنی نتیجے کے موضوع اور محمول کو الگ الگ کر لیں، اور پھر ان سے بہت سارے مقدمات بنا لیں، اور کسی میں ان کو موضوع بنائیں، کسی میں ان کو محمول بنائیں، اور مقدمے چاہے موجبہ ہوں چاہے سالبہ ہوں، تو بہت سارے مقدمات بنا لیں۔ اس کے بعد پھر ان میں تلاش کیجیے کہ شکلِ اول یا شکلِ ثانی یا شکلِ ثالث یا رابع جو ہے، ان میں سے کوئی صورت ان مقدمات کے اندر آپ کو مل جائے، اور اس میں اس شکل کی شرطیں بھی پوری ہوں، تو آپ کا قیاس تیار ہو گیا، اب اس کے ذریعے وہ مطلوبہ نتیجہ آپ کو حاصل ہو جائے گا۔
اور دوسرا طریقہ ہے تحلیل کا۔ تحلیل میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض اوقات علوم کے اندر قیاس جو ہے، وہ بے قاعدہ صورت میں ذکر ہوتا ہے، یعنی ضابطے کے مطابق نہیں ہوتا، مصنف جو ہیں ایک دو مقدمات ذکر کر کے آگے فوراً نتیجہ ذکر کر دیتے ہیں، تو پھر طالب علم کو خود قیاس کی صورت وہاں ترتیب دینا پڑتی ہے۔ تو وہ جو بے قاعدہ قیاس کے مقدمات ہیں، ان کو ترتیب دے کر باقاعدہ منطقی قیاس کی صورت دینا، اس کو تحلیل کہتے ہیں۔
اور میں نے بتلایا تھا تحلیل کا لغوی معنی ہے کھولنا، تجزیہ کرنا، اور کسی شے کو اس کی اصل کی طرف لوٹانا۔ تو یہاں پر بھی تحلیل کے اندر وہ جو بے قاعدہ قیاس تھا، اس کو اس کی اصل صورت کی طرف، یعنی منطقی قیاس کی طرف اس کو لوٹانا، اس کو تحلیل کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ تحلیل جو ہے، یہ تقسیم کے برعکس ہے بھئی۔ تقسیم جو ہے وہ تکثیرِ مقدمات تھی ”مِنْ فَوْقٍ“ اوپر کی جانب سے، اور یہ جو تحلیل ہے، یہ تکثیرِ مقدمات ہے ”إِلَى فَوْقٍ“ اوپر کی جانب۔ یعنی مقدمات سے شروع کریں گے اور کہاں تک پہنچ جائیں گے؟ نتیجے تک۔ جبکہ تقسیم میں ہم نتیجے سے شروع کرتے تھے اور نیچے آ کر مقدمات تیار کر کے قیاس ترتیب دیتے تھے بھئی۔
اب تیسری اور چوتھی چیز آج ہم پڑھیں گے بھئی۔ دیکھیے آگے متن بھئی، کہتے ہیں: ”وَالتَّحْدِيدُ“، تیسری چیز جو ہے انحاء تعلیمیہ میں سے وہ تحدید ہے۔ بھئی تحدید کا کیا معنی؟ کہتے ہیں: ”أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ“، حد کا فعل بھئی۔ آپ جانتے ہیں حد جو ہے جامع مانع تعریف کو کہتے ہیں۔ تعریفات کی تفصیل پیچھے بیان ہو چکی، آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک تعریفِ حقیقی ہے اور ایک تعریفِ لفظی۔
تعریفِ حقیقی جو ہے، اس کے ذریعے تحصیلِ صورت ہوتی ہے۔ ایک چیز جس کی صورت آپ کو حاصل نہیں تھی، یعنی ایک چیز جس کی پہچان آپ کو نہیں تھی، تو تعریفِ حقیقی کے ذریعے اس کی پہچان آپ کو کروائی جاتی ہے۔ جیسے نحو پڑھنے والے طالب علم کو ابتدا میں الکلمہ کا پتہ نہیں ہوتا، تو کتاب کے آغاز میں اس کو بتلایا جاتا ہے: ”اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، تو یہ تعریف کر کے اس کو کلمہ کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ یہ تعریف جب وہ پڑھ لیتا ہے، اس کو کلمہ کا تصور حاصل ہو جاتا ہے، اسے پتہ چل جاتا ہے کہ اس چیز کو کلمہ کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ تعریفِ حقیقی ہے۔
اور ایک تعریفِ لفظی ہے جس میں تعیینِ صورت ہوتی ہے، تحصیلِ صورت نہیں۔ صورت پہلے سے حاصل ہے، ہاں اس کی تعیین نہیں تھی، اب اس کی تفسیر کر کے تعیین کر دی جاتی ہے۔ جیسے شیر کا تصور طالب علم کو پہلے سے حاصل تھا، اور اسے پتہ تھا عربی میں شیر کو اسد کہتے ہیں، لیکن ایک نیا لفظ غضنفر آیا، اب اسے علم نہیں کہ غضنفر کسے کہتے ہیں، غضنفر بھی اسی شیر کو کہتے ہیں، تو اس کو دوسرا ساتھی بتلاتا ہے: ”اَلْغَضَنْفَرُ أَسَدٌ“، غضنفر اسد ہے۔ دیکھو یہاں اس کو کوئی نئی صورت حاصل نہیں ہوئی، شیر کا اس کو پہلے ہی پتہ تھا، شیر کا تصور اسے پہلے ہی حاصل تھا، ہاں تعیین نہیں تھی کہ اس غضنفر سے کون سا تصور مراد ہے، کون سی صورت مراد ہے، دوسرے ساتھی نے اس کو بتلا دیا کہ اس سے شیر مراد ہے، اسد مراد ہے، تو یہ ہے تعیینِ صورت۔
تو تعریفِ حقیقی میں کیا ہوتی ہے؟ تحصیلِ صورت۔ اور تعریفِ لفظی میں تعیینِ صورت ہوتی ہے، یعنی اس میں تفسیر ہوتی ہے، معنی بیان کیا جاتا ہے۔ اور تعریفِ حقیقی کے اندر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا، اس کے اندر دو شرطیں ہیں بھئی۔ ایک شرط یہ ہے کہ یہ معرف جو ہے، یہ معرف کے مساوی ہونا چاہیے صدق میں، یعنی افراد کے اعتبار سے۔ یعنی جن چیزوں پر معرف صادق آئے، ان پر معرف بھی صادق آنا چاہیے، اور جن پر معرف صادق آئے، ان پر معرف بھی صادق آنا چاہیے، یا دوسرے آسان لفظوں میں یوں کہو، تعریف کو جامع مانع ہونا چاہیے۔
تعریف کو، یعنی جن افراد پر معرف صادق آتا ہے، ان پر معرف یعنی تعریف کو بھی صادق آنا چاہیے، اور جن افراد پر تعریف صادق آتی ہے، ان پر معرف کو بھی صادق آنا چاہیے، کوئی غیر اس تعریف کے اندر داخل نہ ہو، اور کوئی معرف اس میں سے رہ نہ جائے جو اس کے اندر داخل ہی نہ ہو بھئی۔ تو کوئی غیر بھی داخل نہیں ہونا چاہیے، اور معرف کے افراد میں سے کوئی باہر بھی نہیں رہنا چاہیے۔ تو تعریفِ حقیقی کی دو شرطیں: ایک شرط کیا؟ کہ تعریف کو جامع مانع ہونا چاہیے، یا یوں کہو جو کتاب میں انہوں نے ذکر کیا تھا کہ معرف کو معرف کے مساوی ہونا چاہیے، یعنی افراد کے اعتبار سے۔
اور دوسری شرط یہ ہے کہ یہ جو تعریف ہے، اس کو اجلی ہونا چاہیے، زیادہ روشن اور زیادہ واضح ہونا چاہیے معرف کے مقابلے میں۔ معرف کے مقابلے میں جیسے آپ کو اگر الکلمہ کا نہیں پتہ، آگے تعریف بھی ایسی کر دیں، اس کا بھی آپ کو پتہ نہ چلے، یہ تو دونوں برابر ہو گئے بھئی۔ تو دونوں برابر نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ تعریف کو کیا ہونا چاہیے؟ اجلی، زیادہ روشن ہو، زیادہ واضح ہو، اس کو سنتے ہی وہ طالب علم سمجھ جائے کہ یہ کیا بتلایا جا رہا ہے بھئی۔
لہٰذا تعریف بالاخص بھی صحیح نہیں، تعریف بالاعم بھی صحیح نہیں، اور نیز تعریف بالمساوی معرفةً وجہالةً بھی صحیح نہیں ہے، بلکہ معرف کو، تعریف کو زیادہ روشن ہونا چاہیے۔ الکلمہ کا طالب علم کو نہیں پتہ، اگر الکلمہ کی تعریف بھی ایسی کر دی جائے، اس کا بھی طالب علم کو پتہ نہ ہو، تو اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں، تو لہٰذا تعریف کیسی ہونی چاہیے؟ اجلی ہونی چاہیے، زیادہ روشن۔ معلوم ہوا تعریف بالاخص بھی صحیح نہیں، تعریف بالاعم بھی صحیح نہیں، اور تعریف بالمساوی معرفةً وجہالةً بھی صحیح نہیں، بلکہ تعریف بالاجلی ہونی چاہیے، زیادہ روشن، یعنی زیادہ واضح ہو، جس کو سننے والا فوراً سمجھ جائے بھئی۔
تو یہ تعریف کی شرائط تھیں بھئی، تعریف کی شرائط تھیں۔ تو یہ جو تعریف کا فعل ہے، اس کو کہتے ہیں تحدید بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ یعنی کسی چیز کی تعریف کا پتہ چلانا، یہ ہے تحدید بھئی۔ اب بات سمجھ میں آ گئی، یہ معنی ہے ”وَالتَّحْدِيدُ أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ“، اور تحدید جو ہے یعنی حد کا فعل۔
حد، یاد رکھو انہوں نے آپ کو وہاں معرف کے اندر بتلایا تھا کہ ایک ہوتی ہے حد اور ایک ہے رسم۔ ایک ہے حد اور ایک ہے رسم۔ حد جو ہے، وہ فصل پر مشتمل ہوتی ہے، اور رسم جو ہے، وہ خاصہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ فصل بھی کیا کرتا ہے؟ جمیع ما عدا سے ایک چیز کو جدا کر دیتا ہے، جیسے ناطق انسان کو تمام چیزوں سے جدا کر دیتا ہے۔ اور خاصہ جو ہے، جیسے ضاحک ہے انسان کے لیے، یہ بھی کیا کرتا ہے؟ انسان کو تمام چیزوں سے جدا کر دیتا ہے۔
یاد رکھو، یہ جو تعریفِ حقیقی ہوتی ہے، اس کے دو بڑے مقصد ہوتے ہیں: یا تو ایک چیز کی تمام ذاتیات کا پتہ چل جائے کہ یہ کن چیزوں سے مرکب ہو کر بنی ہے، اور دوسرا یہ کہ یہ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے۔ کتنے مقاصد ہیں تعریفِ حقیقی کے؟ دو۔ نمبر ایک کیا؟ کہ چیز کی ذاتیات کا پتہ چل جائے، اس کی ذاتیات کیا ہیں، اس کی ماہیت اور حقیقت کیا ہے، جیسے انسان کی حقیقت حیوانِ ناطق۔ تو تعریفِ حقیقی کے دو بڑے مقصد کیا ہیں؟ کہ کسی چیز کی ذاتیات کا علم ہو جائے، اور دوسرا مقصد کیا ہے؟ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے۔
یہ دو مقصد ہیں، ان دونوں میں سے کم از کم ایک ضرور حاصل ہونا چاہیے، اور اگر دونوں حاصل ہو گئے تو اور اچھی بات ہے۔ چیز کی ذاتیات کا علم ہونا چاہیے یا وہ جمیعِ مشارکات سے جدا ہونی چاہیے۔ اور یاد رکھنا، جب چیز کی تمام ذاتیات کا پتہ چل جائے، تو وہ جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو جائے گی۔ لہٰذا جب ذاتیات کا علم ہوگا تو دونوں فائدے ہو جائیں گے، ذاتیات کا بھی پتہ چل گیا اور جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو گئی۔ جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، دیکھو تمام ذاتیات کا پتہ چلا اور ساتھ ہی تمام مشارکات سے بھی جدا ہو گئی کیونکہ اور کوئی چیز حیوانِ ناطق نہیں ہے۔
لیکن جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے، تو پھر تمام ذاتیات پر مطلع ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً انسان کے بارے میں صرف میں ناطق کہہ دوں، تو جمیعِ مشارکات سے جدا ہو گیا، لیکن کیا انسان کی پوری ماہیت کا پتہ چلا؟ نہیں، ناطق کہنے سے پوری ماہیت کا پتہ نہیں چلا، انسان کی ماہیت صرف ناطق نہیں ہے بلکہ حیوانِ ناطق ہے بھئی۔ اسی طرح ضاحک میں کہہ دوں، تو بھی انسان تمام مشارکات سے جدا ہو گیا، لیکن پوری حقیقت کا پتہ نہیں چلا، کیونکہ ضاحک انسان کی حقیقت میں داخل ہی نہیں ہے۔
تو لہٰذا فصل کے ذریعے بھی جمیعِ مشارکات سے ایک چیز جدا ہو جاتی ہے، اور خاصہ کے ذریعے بھی جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ تمام ذاتیات پر مطلع ہونا لازم نہیں۔ ہاں، فصل کے ساتھ اگر جنسِ قریب آ جائے گی، اب تمام ذاتیات کا پتہ چل گیا۔ تو لہٰذا حاصلِ کلام یہ کہ تعریفِ حقیقی کے دو بڑے مقصد ہیں: تمامِ ذاتیات پر مطلع ہونا یا جمیعِ مشارکات سے ایک چیز کا جدا ہونا۔ اور جب چیز جمیعِ مشارکات سے جدا ہو، تو پوری ماہیت کا پتہ ہونا ضروری، پوری ماہیت کا علم ہونا ضروری نہیں۔ لیکن جب ایک چیز کی پوری ماہیت کا پتہ لگ جائے، تو ساتھ ہی دوسرا فائدہ بھی خود بخود آ جائے گا کہ وہ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے گی۔
تو جمیعِ مشارکات سے جدا ہونا کم از کم یہ تو ضروری ہے تعریف کے اندر، اور جمیعِ مشارکات سے دو چیزیں جدا کرتی ہیں: ایک ہے فصل، ایک ہے خاصہ۔ فصل بھی ایک حقیقت والے افراد میں پائی جاتی ہے اور خاصہ بھی ایک حقیقت والے افراد میں پایا جاتا ہے۔ فصل ذات کے اندر داخل ہوتی ہے جیسے ناطق انسان کے لیے، اور خاصہ جو ہے حقیقت سے خارج ہوتا ہے جیسے ضاحک انسان کے لیے۔
تو وہ تعریف جو فصل سے مرکب ہو، وہ تعریف جو فصل کے ساتھ ہو، اس کو حد کہتے ہیں، ”حَدٌّ“۔ اور وہ تعریف جو خاصہ کے ساتھ ہو، وہ رسم کہلاتی ہے۔ وہ کیا کہلاتی ہے؟ رسم۔ اور پھر اس فصل کے ساتھ اگر جنسِ قریب بھی آ جائے، یعنی حیوانِ ناطق، تو اس کو حدِّ تام کہیں گے، اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کو حدِّ ناقص کہیں گے۔
حدِّ ناقص میں پھر دو صورتیں ہیں: ہو سکتا ہے صرف فصل ہو، ہو سکتا ہے فصل کے ساتھ جنسِ بعید بھی ہو۔ تو صرف فصل ہو، یہ بھی کیا ہے؟ حدِّ ناقص، اور فصل کے ساتھ جنسِ بعید ہو، یہ بھی کیا ہے؟ حدِّ ناقص۔ ہاں، فصل کے ساتھ جنسِ قریب ہو تو یہ کیا ہے؟ حدِّ تام ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور رسم وہ خاصہ پر مشتمل ہوتی ہے، اگر خاصہ کے ساتھ جنسِ قریب آ جائے تو پھر یہ رسمِ تام ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ رسمِ ناقص۔
تو لہٰذا رسمِ ناقص میں دو صورتیں آ گئیں: ایک خاصہ ہو، اور دوسرا ساتھ چاہے کوئی جنس ذکر، سرے سے کوئی جنس ہی نہ ہو تو بھی یہ رسمِ ناقص ہے، یا جنس تو ہے لیکن بعید والی ہے۔ اور اگر خاصہ مثلاً ضاحک کے ساتھ جنسِ قریب بھی آ گئی، جیسے حیوانِ ضاحک، تو یہ پھر رسمِ تام ہے۔ تو تعریف کی کل کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار: حدِّ تام، حدِّ ناقص، رسمِ تام اور رسمِ ناقص۔ حد کے اندر ذاتیات ذکر ہوتی ہیں اور رسم کے اندر خاصہ ذکر ہوتا ہے۔ تو حد کے اندر فصل ذکر ہوتی ہے یعنی ذاتیات، اور رسم کے اندر عوارض یعنی کہ خاصہ ذکر ہوتا ہے۔
اور پھر یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کسی چیز کی حقیقی حد یا حقیقی رسم پر مطلع ہونا بڑا دشوار ہے۔ علماء فرماتے ہیں کسی چیز کی حقیقی حد اور حقیقی رسم پر مطلع ہونا بڑا دشوار ہے، وجہ یہ کہ ہو سکتا ہے جس کو آپ فصل سمجھ رہے ہوں وہ خاصہ ہو، اور جس کو آپ خاصہ سمجھ رہے ہوں وہ کیا ہو؟ فصل ہو بھئی۔ تو فصل اور خاصہ، دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ بڑی مشابہت ہے بھئی۔ اور اسی طرح جنس کی عرضِ عام کے ساتھ بڑی مشابہت ہے بھئی۔ آپ جنس کو لے کر آئیں، جنسِ قریب، اور دیکھا تو وہ عرضِ عام ہے بھئی، کیونکہ جنس بھی مختلف حقیقت کے افراد پر بولی جاتی ہے اور عرضِ عام بھی مختلف حقیقت کے افراد پر بولا جاتا ہے۔
جنس کا التباس ہے کس کے ساتھ؟ عرضِ عام کے ساتھ، اور فصل کا التباس ہے کس کے ساتھ؟ خاصے کے ساتھ۔ لہٰذا کسی چیز کی حقیقی حد اور حقیقی رسم پر مطلع ہونا بڑا دشوار ہے۔ آپ کسی خاص تعریف کو کہیں کہ یہ حد ہے، یہ یقینی نہیں۔ انسان کی تعریف آپ نے کیا کی؟ حیوانِ ناطق، یقینی نہیں ہے بھئی۔ ہم نے تو اپنی پوری کوشش کر لی، ہمیں حیوان جنس معلوم ہوئی، ہمیں ناطق جو ہے فصل معلوم ہوئی، ہم نے تعریف کر دی، لیکن حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں کہ یہ حد ہے یا حد نہیں ہے بلکہ رسم ہے بھئی۔
تو یہاں پر آیا، دیکھیے اب کتاب میں متن میں: ”وَالتَّحْدِيدُ أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ“، تحدید تیسری چیز جو ہے انحاء تعلیمیہ میں سے وہ تحدید ہے، اور وہ کیا ہے؟ ”أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ“، حد کا فعل، حد والا فعل کرنا، یعنی کسی چیز کی تعریف کرنا۔ اور تعریف میں نے بتایا ایک ہے حد اور ایک ہے رسم، یہاں وہ حد مراد نہیں ہے جو وہاں، یہاں حد مطلق تعریف کے معنی میں ہے۔ کس معنی میں ہے؟ مطلق تعریف کے معنی میں ہے، چاہے آپ وہ تعریف کس کے ذریعے کریں؟ ذاتیات کے ذریعے کریں یا عرضیات کے ذریعے، یعنی چاہے، یعنی حد بھی اس میں داخل اور رسم بھی اس میں داخل ہے۔ یہ معنی ہے ”وَالتَّحْدِيدُ أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ“، اور تحدید یعنی کہ حد کا فعل۔
”وَالْبُرْهَانُ أَيِ الطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ وَالْعَمَلِ بِهِ“، چوتھی چیز آ گئی انحاء تعلیمیہ کے اندر وہ برہان ہے بھئی، دلیل بھئی، دلیل۔ ”أَيِ الطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ“، یعنی وہ طریقہ جو حق پر واقفیت کی طرف ہو، یوں ترجمہ کریں: حق پر واقف ہونے کا طریقہ۔ ”اَلطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ“، حق پر واقف ہونے کا طریقہ۔ دیکھو دلیل کے ذریعے دعویٰ ثابت ہوتا ہے، نتیجہ حاصل ہوتا ہے، تو یہ دلیل ہمیں کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ حق تک پہنچانے والی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْبُرْهَانُ أَيِ الطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ“، یعنی کہ حق پر واقف ہونے کا طریقہ، حق پر واقف ہونے کا راستہ، ”وَالْعَمَلِ بِهِ“، اور اس پر عمل کرنا۔ برہان کس چیز کا نام ہے؟ حق پر واقف ہونا اور اس پر عمل کرنا۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا بِالْمَقَاصِدِ أَشْبَهُ“، اور یہ مقاصد کے زیادہ مشابہ ہے۔ یہ جو، یہ جو آٹھویں قسم ذکر ہوئی بھئی رؤوسِ ثمانیہ میں سے، یعنی انحاء تعلیمیہ، یہ مقاصد کے زیادہ مشابہ ہے۔ ”هَذَا“ کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ یہ ”هَذَا“ کے ذریعے یہ، یہ آٹھویں چیز بھئی، آٹھویں چیز کی طرف اشارہ ہے۔ آٹھویں چیز کیا ذکر ہوئی تھی؟ ”اَلْأَنْحَاءُ التَّعْلِيمِيَّةُ“، تو اس کی طرف اشارہ ہے، یعنی یہ امرِ ثامن کہہ لیں۔ کیا پیچھے گزرا؟ امرِ ثامن، آٹھویں چیز جو گزری تھی رؤوسِ ثمانیہ میں سے، اس کی طرف اشارہ ہے ”هَذَا“ کے ذریعے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا بِالْمَقَاصِدِ أَشْبَهُ“، اور یہ جو آٹھواں امر ہے، آٹھویں چیز ہے، یعنی انحاء تعلیمی، یہ مقاصد کے زیادہ مشابہ ہے۔
اس کی مشابہت مبادی کے بجائے کس کے ساتھ زیادہ ہے؟ مقاصدِ علم کے ساتھ۔ ایک ہیں علم کے مبادی، ایک ہیں علم کے مقاصد۔ یہ جو آٹھواں امر ہے، اس کی مشابہت مبادی کے ساتھ بھی ہے، اس کی مشابہت مقاصدِ علم کے ساتھ بھی ہے، لیکن زیادہ مشابہت کس کے ساتھ؟ مقاصدِ علم کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا بِالْمَقَاصِدِ أَشْبَهُ“، اور یہ امرِ ثامن، یہ آٹھویں چیز جو ہے یہ مقاصد کے زیادہ مشابہ ہے۔
اب آئیے شرح میں بھئی۔ ”قَوْلُهُ: وَالتَّحْدِيدُ أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ“، ماتن کا قول ”وَالتَّحْدِيدُ أَيْ فِعْلُ الْحَدِّ“: ”يَعْنِي أَنَّ الْمُرَادَ بِالتَّحْدِيدِ بَيَانُ أَخْذِ الْحُدُودِ“، یعنی کہ تحدید سے مراد جو ہے ”بَيَانُ أَخْذِ الْحُدُودِ“، حدود کو لینے کا بیان۔ حدود یعنی تعریف لینے کا بیان، یعنی تعریف کرنے کا بیان، یوں کہیں۔ کسی چیز کی تعریف کیسے لی جائے گی، یعنی کیسے کی جائے گی بھئی، ”بَيَانُ أَخْذِ الْحُدُودِ“۔
”وَكَأَنَّ الْمُرَادَ الْمُعَرِّفُ مُطْلَقًا“، اور گویا کہ اس سے مطلق معرف مراد ہے۔ اس سے مطلق کیا مراد ہے؟ معرف۔ میں نے آپ کو بتلایا بھئی معرف دو قسم پر ہے: یا وہ حد ہے یا رسم ہے، پھر حد یا تام ہوگی یا ناقص، اسی طرح رسم بھی یا تام ہوگی یا ناقص۔ تو یہاں التحدید کا لفظ آیا اور ”فِعْلُ الْحَدِّ“ آیا، تو اس سے یہ نہ آپ سمجھیں کہ صرف حد جس کو کہتے ہیں وہ والا معرف مراد ہے، جو رسم ہے وہ مراد نہیں۔ نہیں، یہاں مطلق معرف مراد ہے، چاہے وہ حد ہو چاہے رسم ہو۔ یہ معنی ہے ”وَكَأَنَّ الْمُرَادَ الْمُعَرِّفُ مُطْلَقًا“، اور گویا کہ اس سے مراد مطلقاً معرف ہے۔
”وَالذَّاتِيَّاتِ لِلْأَشْيَاءِ“، یہ ذاتیات کا عطف ہے پیچھے ”بَيَانُ أَخْذِ الْحُدُودِ“، یہ حدود پر عطف ہے۔ درمیان میں حدود کا معنی کر دیا کہ حدود سے مراد مطلق معرف ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو عبارت یوں بن گئی: ”يَعْنِي أَنَّ الْمُرَادَ بِالتَّحْدِيدِ بَيَانُ أَخْذِ الْحُدُودِ وَالذَّاتِيَّاتِ لِلْأَشْيَاءِ“، کہ مراد تحدید سے مراد جو ہے چیزوں کی تعریف لینا اور ”وَالذَّاتِيَّاتِ لِلْأَشْيَاءِ“ اور چیزوں کی ذاتیات لینا، یعنی ان کو بیان کرنا، ان کا پتہ چلانا، یوں کہو۔
چیزوں کی تعریف کرنا اور ان کی ذاتیات کا پتہ لگانا، جب آپ کو ایک چیز کی ذاتیات اور عرضیات کا پتہ چل جائے گا تو پھر آپ کے لیے تعریف کرنا آسان ہے۔ تعریف کے ضوابط اور اصول اور شرائط آپ پیچھے پڑھ چکے، اب جب آپ کو ذاتیات کا بھی پتہ چل گیا، عرضیات کا بھی پتہ چل گیا، تو اب آپ کی مرضی ہے، آپ چاہیں حدِّ تام کریں، چاہے حدِّ ناقص کریں، چاہے رسمِ تام کریں، چاہے رسمِ ناقص کریں، آپ ہر طرح کی تعریف کر سکتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا، یہ معنی ہے ”يَعْنِي أَنَّ الْمُرَادَ بِالتَّحْدِيدِ“، یعنی کہ تحدید سے مراد جو ہے، ”بَيَانُ أَخْذِ الْحُدُودِ وَالذَّاتِيَّاتِ لِلْأَشْيَاءِ“، وہ چیزوں کی ذاتیات کو اور ان کی تعریف کو لینا، یعنی وہ بیان کرنا، اس کو ذکر کرنا، یا یوں کہیں اس کا پتہ چلانا۔
”وَذَلِكَ“، اور وہ یوں، ”بِأَنْ يُقَالَ: إِذَا أَرَدْتَ تَعْرِيفَ شَيْءٍ“، کہ یوں کہا جائے: جب تو ارادہ کرے کسی چیز کی تعریف کرنے کا، ”فَلَا بُدَّ أَنْ تَضَعَ ذَلِكَ الشَّيْءَ“، پس ضروری ہے ”أَنْ تَضَعَ“ کہ آپ موضوع بنائیں۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ ”فَلَا بُدَّ أَنْ تَضَعَ ذَلِكَ الشَّيْءَ“، کہ آپ موضوع بنائیں اس چیز کو۔ ایک چیز کو موضوع بنانا ہے، اور پھر آگے کیا کرنی ہے؟ اس کی تعریف کرنی ہے، ذاتیات وغیرہ کا پتہ چلانا ہے۔
”فَلَا بُدَّ أَنْ تَضَعَ ذَلِكَ الشَّيْءَ“، پس ضروری ہے کہ آپ ایک چیز کو موضوع بنائیں، ”وَتَطْلُبَ جَمِيعَ مَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُ“، اور آپ طلب کریں وہ تمام چیزیں جو اس سے زیادہ عام ہیں۔ وہ تمام چیزیں جو اس سے زیادہ عام ہیں، ”وَتَحْمِلُ عَلَيْهِ بِوَاسِطَةٍ أَوْ بِغَيْرِهَا“، اور وہ تمام چیزیں جن کا اس پر حمل ہوتا ہے کسی واسطے سے یا بغیر واسطے کے۔ ”وَتَحْمِلُ عَلَيْهِ“، یہ خبر پر عطف ہے، ”مَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُ“، ”هُوَ“ مبتدا، ”أَعَمُّ مِنْهُ“ اس کی خبر، اور اسی پر عطف ہے ”وَتَحْمِلُ عَلَيْهِ“، تو ”مَا هُوَ“ سے اس کو بھی جوڑ دیں۔ ”مَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُ“، آپ طلب کریں وہ ساری چیزیں جو اس چیز سے زیادہ عام ہیں، اور وہ ساری چیزیں کہ ”تَحْمِلُ عَلَيْهِ“ کہ جن کا اس چیز پر حمل ہوتا ہے ”بِوَاسِطَةٍ أَوْ بِغَيْرِهَا“ واسطے کے ساتھ یا بغیر واسطے کے۔
میں نے بتایا تھا بعض اوقات واسطے کے بغیر حمل ہوتا ہے، ایک چیز بدیہی ہوتی ہے۔ مثلاً ”اَلْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ“، عالم متغیر ہے، یہ جہان اس میں تبدیلیاں آتی ہیں، یہ بدیہی چیز ہے، ہر ایک اس کو جانتا ہے، خود اس کا مشاہدہ کرتا ہے۔ دنیا کے اندر آپ دیکھتے ہیں، کبھی طوفان آتے ہیں، کبھی بارش ہو رہی ہے، کبھی ایک عمارت ایک جگہ پر قائم ہے، کچھ سال بعد آپ دیکھتے ہیں تو وہ عمارت گر چکی ہے، فنا ہو چکی ہے، تو اس طرح دنیا کے اندر مختلف تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ تو یہ بدیہیات میں سے ہے۔
اور ایک یہ مقدمہ ہے: ”اَلْعَالَمُ حَادِثٌ“، دنیا حادث ہے، قدیم نہیں ہے، ہمیشہ سے نہیں ہے، البتہ یہ بدیہی نہیں ہے، یہ نظری ہے۔ یہ کیا ہے؟ اب آپ العالم پر حادث کا حمل کر رہے ہیں، العالم ہے موضوع اور حادث کیا ہے؟ محمول ہے، اور یہ محمول بلا واسطہ اس کا حمل عالم پر درست نہیں۔ درست تو ہے، مطلب یہ ہے اس کو کوئی مانے گا نہیں، کوئی تسلیم نہیں کرے گا اگر آپ کسی کو دلیل کے طور پر کہیں گے ”اَلْعَالَمُ حَادِثٌ“ تو وہ اس کو نہیں مانے گا بھئی۔
تو معلوم ہوا یہ حادث کا جو حمل ہو رہا ہے عالم پر، یہ براہِ راست نہیں ہے بلکہ درمیان میں کوئی واسطہ چاہیے، یعنی کوئی حدِّ اوسط چاہیے۔ چنانچہ پھر آپ صغریٰ کبریٰ ملاتے ہیں: ”اَلْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ، وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ“، اب اس متغیر نے کیا کیا؟ حادث کو جوڑ دیا کس کے ساتھ؟ عالم کے ساتھ، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ مراد ہے ”بِوَاسِطَةٍ“ جو واسطے کے ساتھ ہو یعنی نظری ہو، نظری ہو، ”أَوْ بِغَيْرِهَا“ یا جو بغیر واسطے کے ہو یعنی بدیہی ہو۔
تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ أَنْ تَضَعَ ذَلِكَ الشَّيْءَ“، پس ضروری ہے کہ آپ اس چیز کو موضوع بنائیں، ”وَتَطْلُبَ جَمِيعَ مَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُ“، اور آپ طلب کریں وہ ساری چیزیں جو اس سے زیادہ عام ہیں، ”وَتَحْمِلُ عَلَيْهِ بِوَاسِطَةٍ أَوْ بِغَيْرِهَا“، اور وہ ساری چیزیں جن کا اس پر حمل ہوتا ہے کسی واسطے سے یا بغیر واسطے کے، ”وَتُمَيِّزَ الذَّاتِيَّاتِ عَنِ الْعَرَضِيَّاتِ“، اور پھر یہ کہ آپ جدا کریں ذاتیات کو عرضیات سے۔
آپ کیا کریں؟ جدا کریں ذاتیات کو عرضیات سے کہ وہ جو چیزیں جن کا حمل ہو رہا تھا اس پر، جیسے ”اَلْإِنْسَانُ كَاتِبٌ“، ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، ”اَلْإِنْسَانُ ضَاحِكٌ“، ”اَلْإِنْسَانُ نَاطِقٌ“، یہ سارے محمولات آپ نے اکٹھے کر لیے، اور وہ عام ہوں اس سے، کیا ہوں؟ جیسے حیوان کیا ہے؟ انسان سے عام ہے، تو یہ سارے جو اس پر حمل ہوتے ہیں، جو اس سے عام ہیں، اب آپ نے پتہ چلانا ہے کہ ان میں سے کون سی چیز اس کی ذات میں داخل ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَتُمَيِّزَ الذَّاتِيَّاتِ عَنِ الْعَرَضِيَّاتِ“، اور آپ جدا کر دیں، ممتاز کر دیں ذاتیات کو عرضیات سے۔ ذاتیات وہ جو ذات میں داخل ہیں، عرضیات وہ جو صفات ہیں۔ کس طرح بھئی؟ ذاتیات کو عرضیات سے کیسے جدا کریں؟ با تصویریہ ہے، ”بِأَنْ تَعُدَّ“، صورت بتلا رہے ہیں: ”بِأَنْ تَعُدَّ مَا هُوَ بَيِّنُ الثُّبُوتِ لَهُ“، بایں صورت کہ آپ شمار کریں وہ چیز ”بَيِّنُ الثُّبُوتِ لَهُ“ جس کا ثبوت اس کے لیے بین ہے، ظاہر ہے۔ جس کا ثبوت اس کے لیے بین ہے اور ظاہر ہے، واضح ہے۔
”أَوْ مِمَّا يَلْزَمُ مِنْ مُجَرَّدِ ارْتِفَاعِهِ ارْتِفَاعُ نَفْسِ الْمَاهِيَّةِ“، یا وہ ان چیزوں میں سے ہے، لازم ہے صرف اس کے ارتفاع سے اس نفسِ ماہیت کا ارتفاع۔ یعنی ان محمولات میں سے کوئی چیز ایسی ملے گی کہ اگر اس محمول کو آپ اٹھاتے ہیں، تو اس چیز کی ماہیت بھی کیا ہو جائے گی؟ ختم۔ جیسے حیوان ہے، انسان کے لیے حیوان، حیوان کو آپ ختم کر دیں تو انسان نہیں ہو سکتا حیوان کے بغیر۔ حیوان دیکھو کیا ہے؟ انسان سے اعم ہے اور ذاتیات میں سے ہے، اس لیے کیونکہ حیوان جب نہیں ہوگا تو انسان بھی نہیں ہو سکتا، انسان تو ہے ہی کیا؟ حیوان ہے۔ معلوم ہوا یہ حیوان کیا ہے؟ انسان کی ذات میں داخل ہے۔
حیوان کس کو کہتے ہیں؟ ”جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ“، تو ایسی چیز جس کا جسم نامی نہ ہو، یا وہ حساس نہ ہو، یا متحرک بالارادہ نہ ہو، وہ انسان نہیں ہو سکتا بھئی۔ انسان کا تو جسم نامی بھی ہے، حساس بھی ہے اور متحرک بالارادہ بھی ہے۔ تو ذاتیات کا پتہ آپ اس طرح چلائیں گے کہ ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے واضح ہو، جیسے حیوان کا ثبوت انسان کے لیے واضح ہے، کیونکہ انسان بھی کیا ہے؟ جسمِ نامی، انسان بھی کیا ہے؟ حساس، انسان بھی کیا ہے؟ متحرک بالارادہ ہے بھئی۔
”وَتُمَيِّزَ الذَّاتِيَّاتِ عَنِ الْعَرَضِيَّاتِ“، اور یہ کہ آپ جدا کریں ذاتیات کو عرضیات سے، ”بِأَنْ تَعُدَّ مَا هُوَ بَيِّنُ الثُّبُوتِ لَهُ“، بایں صورت کہ آپ شمار کریں وہ چیز جو اس کے لیے، وہ محمول جو اس کے لیے بین الثبوت ہے، یعنی جس کا ثبوت اس کے لیے واضح ہے، اس کے بغیر وہ چیز ہو ہی نہیں سکتی، ”أَوْ مِمَّا يَلْزَمُ مِنْ مُجَرَّدِ ارْتِفَاعِهِ ارْتِفَاعُ نَفْسِ الْمَاهِيَّةِ“، یا ان چیزوں میں سے کہ لازم ہو اس چیز کا اٹھ جانا یعنی اس کا نہ ہونا، وہ لازم، اس کے ساتھ لازم ہو ”ارْتِفَاعُ نَفْسِ الْمَاهِيَّةِ“ اس ماہیت کا اٹھ جانا، یعنی اس ماہیت کا بھی نہ، اس ماہیت کا بھی نہ ہونا، یعنی اگر وہ چیز نہیں تو وہ ماہیت بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ اس کی ذاتیات میں داخل ہے، حیوان نہیں تو انسان بھی نہیں، معلوم ہوا حیوان انسان کی ذاتیات میں داخل ہے۔
ارتفاع کا معنی سمجھ میں آیا؟ اٹھ جانا، اس کی نفی ہو جانا، یعنی اس کی نفی سے جو ہے وہ نفسِ ماہیت ہی، اس کی نفی ہو جائے۔ ”ذَاتِيًّا“، یہ مفعول آ گیا ”تَعُدَّ“ کا: ”بِأَنْ تَعُدَّ ذَاتِيًّا“، کہ آپ شمار کریں ذاتی، کس کو؟ درمیان میں بتا دیا۔ پھر سنیے ترجمہ: ”بِأَنْ تَعُدَّ مَا هُوَ بَيِّنُ الثُّبُوتِ لَهُ أَوْ مِمَّا يَلْزَمُ مِنْ مُجَرَّدِ ارْتِفَاعِهِ ارْتِفَاعُ نَفْسِ الْمَاهِيَّةِ ذَاتِيًّا“، کہ آپ شمار کریں وہ چیز جو دوسری چیز کے لیے بین الثبوت ہے، اور جس کے ارتفاع سے اس چیز کی ماہیت کا ارتفاع لازم آتا ہے، اس کو آپ ذاتی شمار کریں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟
”وَمَا لَيْسَ كَذَلِكَ عَرَضًا“، اور جو ایسی نہ ہو، اس کو آپ عرض شمار کریں۔ ”وَتَطْلُبَ جَمِيعَ مَا هُوَ مُسَاوٍ لَهُ“، اور آپ طلب کریں وہ ساری چیزیں جو اس چیز کے مساوی ہیں۔ آپ وہ ساری چیزیں بھی تلاش کریں جو اس کے مساوی ہے، جیسے حیوان تو انسان سے اعم تھا، لیکن ناطق کیا ہے؟ انسان کے مساوی ہے۔ ”وَتَطْلُبَ جَمِيعَ مَا هُوَ مُسَاوٍ لَهُ“، اور آپ طلب کریں وہ ساری چیزیں بھی جو اس چیز کے مساوی ہیں، ”فَيَتَمَيَّزُ عِنْدَكَ الْجِنْسُ مِنَ الْعَرَضِ الْعَامِّ وَالْفَصْلُ مِنَ الْخَاصَّةِ“، تو جدا ہو جائے گا آپ کے نزدیک، ممتاز ہو جائے گا آپ کے نزدیک جنس جو ہے عرضِ عام کے مقابلے میں، اور ”وَالْفَصْلُ مِنَ الْخَاصَّةِ“ اور فصل خاصہ کے مقابلے میں۔ آپ کو جنس اور عرضِ عام کا پتہ چل جائے گا کہ یہ جنس ہے، یہ عرضِ عام ہے، اور یہ فصل ہے اور یہ خاصہ ہے، یہ ذاتی ہے اور یہ صفت ہے بھئی۔
”ثُمَّ تُرَكِّبَ أَيَّ قِسْمٍ شِئْتَ مِنْ أَقْسَامِ الْمُعَرِّفِ“، پھر آپ ترکیب دیجیے، یعنی جوڑیے جو قسم بھی آپ چاہتے ہیں ”مِنْ أَقْسَامِ الْمُعَرِّفِ“ معرف کی اقسام میں سے۔ تعریف کی جو قسم بھی آپ جوڑنا چاہتے ہیں، جوڑ کر بنا لیجیے، کیونکہ آپ کو جنس، عرضِ عام، فصل اور خاصہ سب کا پتہ چل چکا ہے۔ ”ثُمَّ تُرَكِّبَ أَيَّ قِسْمٍ شِئْتَ مِنْ أَقْسَامِ الْمُعَرِّفِ بَعْدَ اعْتِبَارِ الشَّرَائِطِ الْمَذْكُورَةِ فِي بَابِ الْمُعَرِّفِ“، پھر آپ جوڑ لیجیے جو قسم بھی چاہتے ہیں معرف یعنی تعریف کی اقسام میں سے، بعد میں، بعد اعتبار کرنے ان شرائط کے جو ذکر ہو گئیں معرف کے باب میں۔
تعریف کے باب میں جو شرطیں ذکر ہو گئیں ان کا اعتبار کرتے ہوئے، ان کا، وہاں کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ تعریف کو معرف کے مقابلے میں افراد کے اعتبار سے یا صدق کے اعتبار سے مساوی ہونا چاہیے، اور نیز اس سے، اس کو اجلی ہونا چاہیے۔ مفہوم کے اعتبار سے اس سے اجلی ہونا چاہیے، افراد کے اعتبار سے اس کے مساوی ہونا چاہیے یہ شرط ہے، اور مفہوم کے اعتبار سے اس سے اجلی ہو بھئی۔
یہ انہوں نے بڑے آسان لفظوں میں بیان کر دیا کہ یہ ہے تحدید۔ اس طرح ذاتیات کا پتہ چلاتے ہیں کہ ایک چیز ایسی ہے کہ اس کے اگر وہ اس کے علاوہ اور چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے، اور اس کے علاوہ یہ چیز نہیں ہو سکتی، معلوم ہوا یہ جنس ہے۔ جیسے حیوان انسان سے اعم ہے، اور حیوان کے بغیر انسان نہیں ہو سکتا، تو انسان، حیوان انسان کے لیے جنس ہے۔ اور اگر کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو اس کے مساوی ہے اور اس کے بغیر وہ چیز نہیں ہو سکتی، معلوم ہوا وہ فصل ہے، جیسے ناطق۔ ناطق انسان کے مساوی ہے، جو انسان ہے وہ ناطق ہے، اور جو ناطق ہے وہ انسان ہے، اور انسان ناطق کے بغیر نہیں ہو سکتا، تو اس سے آپ کو فصل کا بھی پتہ چل گیا۔ جنس کا بھی پتہ چل گیا اور فصل کا بھی پتہ چل گیا۔
لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے بھئی۔ میں نے بتایا، علمائے منطق انسان کی تعریف کرتے ہیں حیوانِ ناطق، لیکن ساتھ ہی لکھتے ہیں: ہم نے اپنی پوری کوشش کر لی، ہمیں تو یہی اس کی حد معلوم ہوئی کہ حیوان اس کے لیے جنسِ قریب ہے اور ناطق اس کے لیے فصلِ قریب ہے، لیکن حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں، بات سمجھ میں۔ ہو سکتا ہے ہم جسے حد سمجھ رہے ہوں وہ کیا ہو؟ رسم ہو، ہو سکتا ہے حیوان انسان کے لیے وہ عرضِ عام ہو بھئی۔ عرضِ عام ہو، اور ہو سکتا ہے ناطق انسان کے لیے خاصہ ہو، ہم تو اس کو فصل سمجھ رہے ہیں، ہو سکتا ہے یہ کیا ہو؟ خاصہ ہو۔ تو لہٰذا یہ تعریف اتنا، یہ آسان نہیں ہے، کسی چیز کی حقیقت پر مطلع ہونا بڑا ہی مشکل کام ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”قَوْلُهُ: وَالْبُرْهَانُ أَيِ الطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ“، اور ماتن کا قول البرہان یعنی حق پر واقف ہونے کا طریقہ۔
”عَلَى الْحَقِّ أَيِ الْيَقِينِ“، حق سے کیا مراد ہے؟ یقین۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تصدیق چار قسم پر ہے: یا وہ ظن ہے، یا تقلید ہے، یا یقین ہے، یا جہلِ مرکب ہے۔ بحث یاد آ گئی؟ کیا کیا؟ ظن، تقلید، یقین اور جہلِ مرکب۔ ظن وہ ہے جس میں جانبِ مخالف کا بھی تھوڑا سا خیال آتا ہے۔ کسی نے آ کر آپ کو بتایا کہ زید عالم ہے، آپ نے مان لیا، لیکن تھوڑا تھوڑا خیال کبھی آ جاتا ہے کہ شاید عالم نہ ہو، تو یہ ہے ظن، اور یہ تصدیق کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے۔
اس سے اونچا درجہ یہ ہے کہ کسی نے آپ کو بتایا اور آپ نے مان لیا اور جانبِ مخالف کا خیال بھی نہیں آتا۔ کسی نے آپ کو کہا زید عالم ہے، آپ نے مان لیا، اب ذہن میں بالکل نہیں آتا کہ زید عالم نہیں ہے، لیکن یہ تشکیکِ مشکک سے زائل ہو سکتا ہے، تو یہ تقلید ہے۔ مثلاً کوئی ایک تیسرا آدمی کسی دن آیا اور اس نے آ کر دو چار ایسی باتیں زید کے بارے میں کیں کہ وہ عالم نہیں ہے بھئی، آپ خود نہیں دیکھتے یہ بات ہے، یہ بات ہے، تین چار باتیں اس نے ذکر کیں، اب آپ کے ذہن میں شک آ گیا۔ دیکھو پہلے ایک بات آپ مان چکے تھے، جانبِ مخالف کا ذہن میں خیال بھی نہیں تھا، لیکن تشکیکِ مشکک سے آپ کو وہ علم ختم ہو گیا، آپ کا وہ اعتقاد کیا ہوا؟ ختم ہو گیا، تو اس کو تقلید کہتے ہیں۔
جبکہ اس سے اونچا، اس سے اونچا درجہ ہے یقین بھئی۔ یقین وہ ہے جس میں آپ ایک چیز کا اذعان کر لیتے ہیں، مان لیتے ہیں، اور جانبِ مخالف کا خیال بھی ذہن میں نہیں آتا، اور نیز اتنا پکا مان لیتے ہیں کہ کوئی ہزار شک ڈالے پھر وہ بات آپ کے دل سے نہیں نکال سکتا، اس کو کہتے ہیں یقین بھئی۔ جیسے اللہ ایک ہے، اب اس کو ہم نے مان لیا ہے اور یقین کر لیا ہے، کوئی ہزار دلائل بھی دے کر ہمارے اس یقین کو ختم کرنے کی کوشش کرے، ختم نہیں کر سکتا، تو یہ ہے یقین بھئی۔ اور جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں بھئی۔ اور جیسے قادیانی جو ہے، وہ مرتد اور جہنمی انسان ہے، اب کوئی ہزار دلیلیں دے کر ہمارے ذہن سے یہ بات کھرچنے کی کوشش کرے، نہیں کھرچ سکتا بھئی، کیونکہ یہ بات یقینی ہے، ظاہر ہے کہ وہ ایک جہنمی انسان تھا، بلکہ جہنمی خود کیا تھا، اپنے ساتھ لاکھوں لوگوں کو جہنم میں لے کر چلا گیا بھئی، اور ابھی بھی اس کے راستے پر لوگ چل رہے ہیں، تو اللہ تعالیٰ سب کی اس فتنے سے حفاظت فرمائے بھئی۔
تو یہ، یہ ہے یقین۔ اور یقین میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یقین میں ضروری ہے کہ وہ واقعے کے مطابق ہو۔ واقعے کے بھی مطابق ہو، دیکھو اللہ ایک ہے، یہ واقعے کے مطابق ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، یہ واقعے کے مطابق ہے۔ اور قادیانی جو ہے وہ جہنمی تھا، یہ واقعے کے مطابق ہے بھئی۔ اور اگر وہ واقعے کے مطابق نہ ہو تو وہ جہلِ مرکب ہے بھئی۔ تو جہلِ مرکب یہ دوگنی جہالت ہے بھئی، ایک تو غلط راستے پر انسان ہو اور پھر سمجھانے سے سمجھتا بھی نہیں بھئی، اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، اس لیے اس کو جہلِ مرکب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جہلِ مرکب ہے بھئی، یہ مرکب جہالت ہے بھئی۔
تو یہ جو تصدیق کی قسم ہے یقین بھئی، یقین، یہ یہاں مراد ہے۔ دیکھیے کتاب پر: ”قَوْلُهُ: وَالْبُرْهَانُ أَيِ الطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ، أَيِ الْيَقِينِ“، یہ حق کا معنی بیان کر رہے ہیں: حق پر واقف ہونے کا طریقہ یعنی یقین پر واقف ہونے کا طریقہ جو ہے، ”إِنْ كَانَ الْمَطْلُوبُ عِلْمًا نَظَرِيًّا، وَإِلَى الْوُقُوفِ عَلَيْهِ وَالْعَمَلِ بِهِ إِنْ كَانَ عِلْمًا عَمَلِيًّا“۔ بھئی دیکھیے، علم دو قسم پر ہے آپ پڑھ چکے ہیں: ایک علمِ نظری ہے اور ایک علمِ عملی ہے۔
علمِ نظری وہ ہے جس میں صرف علم مطلوب ہوتا ہے کہ ستارے کس طرح ہیں، یہ چاند کس طرح ہے، یہ زمین کا نظام کس طرح چل رہا ہے، یہ بارش کیسے ہوتی ہے، دیکھو یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہیں، یہاں صرف ان چیزوں کا علم مقصود ہوتا ہے۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جہاں عمل بھی مقصود ہوتا ہے، جیسے آپ فقہ کے مسائل پڑھتے ہیں تو وہاں عمل مقصود ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی انہوں نے جو کہا: ”أَيِ الطَّرِيقُ إِلَى الْوُقُوفِ عَلَى الْحَقِّ“، حق کے طریقے پر واقف ہونا، یہ دو طرح پر ہوگا: اگر وہ علمِ نظری ہے تو صرف حق پر واقف ہونا یہ کافی ہے، اور اگر وہ علمِ عملی ہے تو پھر حق پر واقف ہونے کے بعد پھر اس پر کیا کرنا پڑے گا؟ عمل کرنا بھی ضروری ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔
یہی معنی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”أَيِ الْيَقِينِ إِنْ كَانَ الْمَطْلُوبُ عِلْمًا نَظَرِيًّا“، یعنی یقین مراد ہے اگر مطلوب جو ہے، یعنی جو نتیجہ جو ہے، ”عِلْمًا نَظَرِيًّا“ اگر وہ نظری علم ہو، ”وَإِلَى الْوُقُوفِ عَلَيْهِ وَالْعَمَلِ بِهِ إِنْ كَانَ عِلْمًا عَمَلِيًّا“، اور اس پر واقف ہونا اور پھر اس پر عمل بھی کرنا اگر وہ علمِ عملی ہے۔ ”كَمَا يُقَالُ: إِذَا أَرَدْتَ الْوُصُولَ إِلَى الْيَقِينِ“، جیسے کہا جاتا ہے: جب آپ کا ارادہ ہو یقین تک پہنچنے کا، ”فَلَا بُدَّ أَنْ تَسْتَعْمِلَ فِي الدَّلِيلِ“، تو ضروری ہے کہ آپ استعمال کریں دلیل میں۔ بھئی دلیل بنائیں گے کیسے؟ انہوں نے آپ کو طریقہ بتلایا تھا برہان بنانے کا، برہان کے اندر یقینی قضیے استعمال کرنے ہیں۔
آپ نے۔ اور یقینی بدیہی قضیے کتنی قسمیں ہیں؟ چھ قسمیں ہیں۔ نمبر ایک: اَوَّلِيَّات۔ نمبر دو: مُشَاهَدَات۔ نمبر تین: تَجْرِيبِيَّات۔ نمبر چار: حَدْسِيَّات۔ نمبر پانچ: مُتَوَاتِرَات۔ نمبر چھ: فِطْرِيَّات۔ یہ چھ ہیں بھئی، یہ بدیہیات بھئی، یہ اصولِ بدیہیات ہیں۔ اور نیز اسی طرح وہ ان کی فروع بھئی، ان سے آگے جو نظری حاصل ہوگا، وہ بھی انہی کی طرح یقینی ہوگا۔ یہ یقینی ہیں، تو ان سے آپ نے دلیل بنائی تو آگے جو نظری ان کے ذریعے حاصل ہوگی تصدیق، وہ بھی کیا ہوگی؟ یقینی ہوگی۔ توجہ ہے؟ تو یقینیات بدیہیات بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں، لیکن وہ نظری ان کی انتہا کس پر ہو رہی ہوگی؟ بدیہی پر۔
تو کہتے ہیں: کَمَا يُقَالُ إِذَا أَرَدْتَ الْوُصُولَ إِلَى الْيَقِينِ، جیسے کہا جاتا ہے جب آپ کا یہ ارادہ ہو کہ یقین تک پہنچ جائیں، فَلَا بُدَّ أَنْ تَسْتَعْمِلَ فِي الدَّلِيلِ، تو ضروری ہے کہ آپ دلیل میں استعمال کریں، بَعْدَ مُحَافَظَةِ شَرَائِطِ صِحَّةِ الصُّورَةِ، بعد اس کے کہ جب صورت کے صحیح ہونے کی شرطوں کی آپ حفاظت کریں۔ ترجمہ آخر سے ہے: بَعْدَ مُحَافَظَةِ شَرَائِطِ صِحَّةِ الصُّورَةِ، وہ جو صورت ہے قیاس کی، اس کے صحیح ہونے کی شرطوں کی آپ کیا کریں؟ حفاظت کریں۔ آپ دلیل بنانا چاہتے ہیں، دو مقدمے لے کر آئیں، وہ مقدمے کس طرح کے ہونے چاہئیں؟ یقینی۔ اور نیز جو قیاس، چاہے شکل اول ہے، ثانی ہے، ثالث ہے یا رابع، اس شکل کے صحیح ہونے کی ساری شرطوں کی بھی آپ نے حفاظت کرنی ہے، یعنی ان کی رعایت رکھنی ہے۔
یہ معنی ہے: فَلَا بُدَّ أَنْ تَسْتَعْمِلَ فِي الدَّلِيلِ، تو ضروری ہے کہ آپ استعمال کریں دلیل میں، بَعْدَ مُحَافَظَةِ شَرَائِطِ صِحَّةِ الصُّورَةِ، بعد اس کے کہ جب آپ اس قیاس کی صورت کے صحیح ہونے کی شرطوں کی حفاظت کریں۔ آپ استعمال کریں دلیل میں، ان شرطوں کی حفاظت کرنے کے بعد۔ بھئی کیا استعمال کریں؟ آگے مفعول آ رہا ہے: إِمَّا الضَّرُورِيَّاتِ السِّتَّةَ، یا تو وہ ضروریاتِ ستہ، وہ چھ بدیہی۔ میں نے بتایا تھا ضروری کا کیا معنی ہے؟ بدیہی، بدیہی۔ تو آپ تو یا إِمَّا الضَّرُورِيَّاتِ السِّتَّةَ، یا تو آپ وہ چھ بدیہی جو ہیں، ان کو استعمال کریں۔ کون سے چھ بدیہی؟ پھر دہرا لیں: نمبر ایک اَوَّلِيَّات، مُشَاهَدَات، تَجْرِيبِيَّات، حَدْسِيَّات، مُتَوَاتِرَات اور فِطْرِيَّات، وہ چھ۔
أَوْ مَا يَحْصُلُ مِنْهَا بِصُورَةٍ صَحِيحَةٍ وَهَيْئَةٍ مُنْتِجَةٍ، اور یا وہ مقدمہ جو حاصل ہو رہا ہو انہی چھ سے، بِصُورَةٍ صَحِيحَةٍ، کس طریقے پر؟ صحیح صورت کے ساتھ، وَهَيْئَةٍ مُنْتِجَةٍ، اور ایسی صورت جو نتیجہ دینے والی ہے، یعنی جس میں ساری شرطیں ملحوظ ہیں۔ تو آپ ان چھ کو استعمال کریں، یا ان چھ سے کوئی آگے جو نظری حاصل ہوا ہے، اس کو کیا کریں؟ دلیل میں استعمال کریں۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر عبارت دیکھیں: فَلَا بُدَّ أَنْ تَسْتَعْمِلَ فِي الدَّلِيلِ، ضروری ہے کہ آپ دلیل میں استعمال کریں۔ کس کو استعمال کریں؟ إِمَّا الضَّرُورِيَّاتِ السِّتَّةَ، یا تو ان چھ کو استعمال کریں، أَوْ مَا يَحْصُلُ مِنْهَا، یا وہ نظری جو ان چھ سے حاصل ہو، بِصُورَةٍ صَحِيحَةٍ وَهَيْئَةٍ مُنْتِجَةٍ، صحیح صورت کے ساتھ اور نتیجہ دینے والی صورت کے ساتھ، یعنی جس میں ساری شرطیں ملحوظ ہوں۔
وَتُبَالِغَ فِي التَّفَحُّصِ عَنْ ذَلِكَ، اور آپ خوب مبالغہ کریں اس کے تفحص میں۔ تفحص کا معنی ہے: غور سے ایک چیز کا معائنہ کرنا، اچھی طرح دیکھنا، یعنی یوں کہو اچھی طرح چیک کرنا۔ آپ اچھی طرح چیک کر لیجیے، اچھی طرح معائنہ کر لیجیے، کہ یہ جو آپ نے مقدمات استعمال کیے ہیں، یہ انہی بدیہیات میں سے ہیں؟ یہ نہ ہو کہیں آپ مشہورات میں سے کوئی مقدمہ لے آئے ہوں آپ کو پتہ ہی نہ چلا ہو، آپ مسلمات میں سے لے آئے ہوں آپ کو پتہ ہی نہ چلا ہو، یا کوئی ایسا مقدمہ لے آئے ہیں جو جھوٹا مقدمہ ہے لیکن سچوں کے مشابہ ہے بھئی۔ مشہورات وہ مقدمے جو لوگوں میں مشہور ہوتے ہیں، یہ سچے بھی ہو سکتے ہیں، جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں بھئی۔ اور نیز مسلمات وہ باتیں جن کو فریق مخالف تسلیم کر لیتا ہے، وہ بھی صحیح بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی ہو سکتے ہیں بھئی۔ اور اسی طرح مشبہات جو ہیں، وہ جھوٹے قضیے ہوتے ہیں جو کس کے مشابہ ہوتے ہیں؟ سچوں۔ تو آپ جب قیاس بنائیں، یا تو وہ بدیہیات استعمال کریں، یا ان بدیہیات سے جو آگے نظری مقدمے حاصل ہوئے ہیں صحیح طریقے کے بعد، وہ استعمال کریں۔ لیکن پھر اس میں خوب اچھی طرح غور کر لیں کہ کہیں ان میں مشہورات یا مسلمات وغیرہ تو نہیں آ گئے۔
یہ معنی ہے: وَتُبَالِغَ، اور پھر آپ خوب مبالغہ کریں، اس کا عطف وہ تَسْتَعْمِلَ پر ہے، اور پھر آپ مبالغہ کریں فِي التَّفَحُّصِ، تفحص کا معنی میں نے بتلایا غور سے معائنہ کرنا، غور سے دیکھنا، اور پھر آپ غور سے معائنہ کرنے میں خوب مبالغہ کریں عَنْ ذَلِكَ، یعنی اس کے بارے میں۔ حَتَّى لَا تَشْتَبِهَ بِالْمَشْهُورَاتِ أَوِ الْمُسَلَّمَاتِ أَوِ الْمُشَبَّهَاتِ، تاکہ وہ مشتبہ نہ ہو جائے، وہ جو مقدمات ہیں وہ مشتبہ، حَتَّى لَا تَشْتَبِهَ، تاکہ وہ مقدمات جو آپ نے قیاس کے لیے اکٹھے کیے ہیں وہ مشتبہ نہ ہو جائیں، بِالْمَشْهُورَاتِ، مشہورات کے ساتھ، أَوِ الْمُسَلَّمَاتِ، یا مسلمات کے ساتھ، أَوِ الْمُشَبَّهَاتِ، یا مشبہات جو ہیں یعنی جو قضیہ صادقہ کے ساتھ مشابہ ہیں۔
وَلَا تُذْعِنَ بِشَيْءٍ بِمُجَرَّدِ حُسْنِ الظَّنِّ بِهِ أَوْ بِمَنْ تَسْمَعُ مِنْهُ، اور نیز وَلَا تُذْعِنَ بِشَيْءٍ، أَذْعَنَ يُذْعِنُ إِذْعَان کا معنی ہے مان لینا، ایک چیز کا اعتقاد کر لینا۔ کسی نے آپ کو آ کر بتلایا: زید عالم ہے، آپ نے مان لیا، یہ کیا ہے؟ اذعان۔ اور ماننے میں پھر دونوں جانبیں ہیں، ہو سکتا ہے جانب مخالف کا خیال ذہن میں آئے، ہو سکتا ہے جانب مخالف کا خیال ذہن میں نہ آئے بھئی۔ تو وَلَا تُذْعِنَ، اس کا عطف پیچھے وہ تَشْتَبِهَ پر ہے، اور آپ اعتقاد نہ کریں بِشَيْءٍ، کسی چیز کا، بِمُجَرَّدِ حُسْنِ الظَّنِّ بِهِ، صرف اس کے بارے میں حسنِ ظن کرتے ہوئے۔ صرف اچھا گمان کرتے ہوئے، پوری تحقیق آپ نے نہیں کی، ایک بات آپ تک پہنچی، آپ نے اچھا گمان کرتے ہوئے اس کو کیا کر لیا؟ مان لیا۔ نہیں نہیں، ایسے نہ مانو۔ یا کسی بڑے آدمی نے کوئی آپ کو بات کہی اور آپ نے اس کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے کہ اس آدمی نے یہ بات کہی ہے تو ایسی ہی ہوگی، تو آپ اس بات کو مان لیں اس آدمی کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے، ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے۔
یہ معنی ہے: وَلَا تُذْعِنَ بِشَيْءٍ بِمُجَرَّدِ حُسْنِ الظَّنِّ بِهِ أَوْ بِمَنْ تَسْمَعُ مِنْهُ، اور آپ اعتقاد نہ کریں کسی چیز کا صرف اس چیز کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے، یا وہ شخص جس سے آپ نے اس بات کو سنا ہے اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے۔ بِمَنْ تَسْمَعُ کا عطف ہے بِهِ پر: بِمُجَرَّدِ حُسْنِ الظَّنِّ بِهِ أَوْ بِمَنْ تَسْمَعُ۔ کہ آپ اس بات کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوں یا سننے، جس سے یہ بات سنی ہے اس کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوں، اس وجہ سے آپ کسی بات کا اعتقاد کر لیں، ایسا نہ کریں۔
حَتَّى لَا تَقَعَ فِي مَضِيقِ الْخَطَابَةِ وَلَا تَرْتَبِطَ بِرِبْقَةِ التَّقْلِيدِ، تاکہ کہیں آپ واقع نہ ہو جائیں، تاکہ کہیں آپ گر نہ جائیں، فِي مَضِيقِ الْخَطَابَةِ، مضیق کا معنی ہے تنگ جگہ۔ کیا معنی؟ تنگ جگہ۔ تاکہ کہیں آپ خطابت کے تنگ جگہ میں نہ گر جائیں، خطابت کی تنگ جگہ میں واقع نہ ہو جائیں۔ دلیلِ خطابی آپ نے پڑھا تھا کہ وہ ہے جو ظن کا فائدہ دیتی ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتی۔ تو اس میں حسنِ ظن کی وجہ سے باتوں کو قبول کیا جاتا ہے۔ ایک شخص آپ کو ایک بات بتلاتا ہے، آپ چونکہ اس کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں، اس لیے آپ اس کی بات کو قبول کر لیتے ہیں۔ تو اس طرح نہیں کرنا، ورنہ آپ خطابت کی تنگ جگہ میں واقع ہو جائیں گے۔ حَتَّى لَا تَقَعَ فِي مَضِيقِ الْخَطَابَةِ، تاکہ کہیں آپ واقع نہ ہو جائیں خطابت کی تنگ جگہ میں، یا خطابت کی پریشانی میں۔
وَلَا تَرْتَبِطَ بِرِبْقَةِ التَّقْلِيدِ، اِرْتَبَطَ يَرْتَبِطُ کے معنی ہیں باندھنا بھی، اور اس کا معنی ہے بندھنا بھی۔ وَلَا تَرْتَبِطَ، اور تاکہ کہیں آپ بندھ نہ جائیں بِرِبْقَةِ التَّقْلِيدِ۔ تقلید کہتے ہیں دوسرے کی بات کو مان لینا۔ دوسرے کی بات کو مان لینا۔ بھئی بات یقینیات کی چل رہی ہے، تقلید جو ہے دوسرے کی بات مان لینا، وہ تو تشکیکِ مشکک سے وہ علم زائل ہو جاتا ہے بھئی۔ اور ربقہ، رِبْقَةٌ کہتے ہیں پھندا بھئی، پھندا۔ یعنی رسی کا گول حلقہ جو کسی چیز کے گرد ہو، کسی چیز کو گھیرے میں لیے ہوئے ہو، اس کو پھندا کہتے ہیں۔ جیسے، جیسے کسی شخص کو پھانسی دی جاتی ہے تو کہتے ہیں پھانسی کا پھندا اس کے گلے میں ہے۔ دیکھا؟ وہ رسی کا حلقہ اس کی گردن میں ہے۔ یا شکار کے لیے رسی کو گول حلقہ بنا کر رکھ دیا جاتا ہے کہ شکار جب آئے گا، رسی کھینچیں گے تو وہ اس میں پھنس جائے گا۔ تو وہ جو رسی کا حلقہ ہوتا ہے کسی چیز کے گرد یا کسی چیز کو پکڑنے کے لیے، اس کو پھندا کہتے ہیں۔ تو رِبْقَةٌ کا معنی ہے پھندا۔ وَلَا تَرْتَبِطَ بِرِبْقَةِ التَّقْلِيدِ، اور تاکہ کہیں آپ بندھ نہ جائیں تقلید کے پھندے میں، کہیں آپ تقلید کے حلقے کے اندر نہ پھنس جائیں بھئی، بلکہ آپ کیا کریں؟ خوب غور کر لیں وہ جو مقدمات آپ نے اکٹھے کیے ہیں کہ وہ یقینی ہونے چاہئیں۔
قَوْلُهُ: وَهَذَا بِالْمَقَاصِدِ أَشْبَهُ، أَيِ الْأَمْرُ الثَّامِنُ أَشْبَهُ بِمَقَاصِدِ الْفَنِّ۔ ھٰذا کے ذریعے دیکھو اشارہ ہے امرِ ثامن، آٹھویں چیز جو انحائے تعلیمیہ تھے اس کی طرف۔ کہتے ہیں: أَيِ الْأَمْرُ الثَّامِنُ أَشْبَهُ بِمَقَاصِدِ الْفَنِّ، یہ آٹھویں چیز جو ہے یہ مقاصدِ فن کے زیادہ مشابہ ہے، مِنْهُ بِمُقَدِّمَاتِهِ۔ یہ عبارت ذرا مشکل ہے بھئی، اس کو سمجھ لیں اچھی طرح۔ مِنْهُ کی ضمیر بھی راجع ہے الْأَمْرُ الثَّامِنُ کو۔ کس کو راجع ہے؟ الامر الثامن۔ تو دو چیزیں ہو گئیں، ادھر دیکھیے: الْأَمْرُ الثَّامِنُ مُشَابِهٌ بِمَقَاصِدِ الْفَنِّ۔ عبارت پہ نظر ہے؟ أَشْبَهُ کی جگہ ذرا مُشَابِهٌ لے آئے، عبارت کو سمجھنے کے لیے۔ وہ امرِ ثامن، مُشَابِهٌ بِمَقَاصِدِ الْفَنِّ، جو مشابہ ہے کس کے؟ مقاصدِ فن کے۔ اور مِنْهُ کی ہا ضمیر کی جگہ بھی ذرا لے آئے الْأَمْرُ الثَّامِنُ، تو یہاں بھی عبارت بن گئی: الْأَمْرُ الثَّامِنُ مُشَابِهٌ بِمُقَدِّمَاتِ الْفَنِّ۔ بِمُقَدِّمَاتِهِ کی ہا ضمیر بھی کس کو لوٹائیں؟ فن۔ تو: أَمْرُ الثَّامِنُ مُشَابِهٌ بِمُقَدِّمَاتِ الْفَنِّ۔
تو دیکھو کہنا یہ چاہتے ہیں، ادھر دیکھیے: ایک امرِ ثامن کی مشابہت ہے مقاصدِ فن کے ساتھ، اور ایک امرِ ثامن کی مشابہت ہے مقدماتِ فن کے ساتھ۔ بِمُقَدِّمَاتِهِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ فن کو۔ دیکھو حاشیے میں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ضمیر راجع ہے یہ، یہ جو امرِ ثامن کے مقدمات گزرے، کون کون سے؟ تقسیم، تحلیل، تحدید اور برہان۔ لیکن یہاں معنی ویسے نہیں بنتا، تو بہرحال جو میرے ذہن میں اس کی ترکیب سمجھ میں آئی، وہ میں بیان کر رہا ہوں۔ تو یہ بِمُقَدِّمَاتِهِ کی ہا ضمیر جو ہے، وہ مقدماتِ امرِ ثامن کو نہ لوٹائیں، انحائے تعلیمیہ کے مقدمات کو نہ لوٹائیں، کس کو لوٹائیں؟ مقدماتِ فن۔ دیکھو اب عبارت بھی بن گئی، ماقبل میں کیا ہے؟ کہ امرِ ثامن کی مشابہت ہے کس کے ساتھ؟ بِمَقَاصِدِ الْفَنِّ، اور دوسری آگے ہے: الْأَمْرُ الثَّامِنُ کی مشابہت ہے بِمُقَدِّمَاتِ الْفَنِّ، فن کے مقدمات کے ساتھ۔ تو امرِ ثامن کی مشابہت ہے مقاصدِ فن کے ساتھ بھی، اور امرِ ثامن کی مشابہت ہے مقدماتِ فن یعنی مبادئِ فن کے ساتھ بھی۔ کس کے ساتھ؟ مبادئِ فن کے ساتھ بھی، لیکن زیادہ مشابہت اس کی کس کے ساتھ ہے؟ مقاصدِ فن کے ساتھ۔ مشابہت دونوں سے، لیکن زیادہ مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ مقاصدِ فن کے ساتھ۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں وہ یہ بتلانا چاہتے ہیں۔
کہتے ہیں: الْأَمْرُ الثَّامِنُ أَشْبَهُ بِمَقَاصِدِ الْفَنِّ مِنْهُ بِمُقَدِّمَاتِهِ، کہ امرِ ثامن جو ہے وہ مقاصدِ فن کے ساتھ زیادہ مشابہ ہے، مِنْهُ، بمقابلہ امرِ ثامن کی وہ مشابہت جو مقدماتِ فن کے ساتھ ہے۔ بمقابلہ، مِنْ کس لیے ہے؟ مقابلے کے لیے ہے نا؟ بمقابلہ امرِ ثامن کی وہ مشابہت جو کس کے ساتھ ہے؟ بِمُقَدِّمَاتِ الْفَنِّ، مقدماتِ فن کے ساتھ ہے۔ وَلِهَذَا تَرَى، اور اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ الْمُتَأَخِّرِينَ كَصَاحِبِ الْمَطَالِعِ، کہ متاخرین جیسے کہ صاحبِ مطالع جو ہیں، يُورِدُونَ مَا سِوَى التَّحْدِيدِ فِي مَبَاحِثِ الْحُجَّةِ وَلَوَاحِقِ الْقِيَاسِ۔ دیکھیے بھئی، آگے بتلائیں گے کہ اس کی مشابہت جو ہے، یہ امرِ ثامن کی مشابہت، یہ مقاصدِ فن کے ساتھ زیادہ ہے، اسی لیے متاخرین جیسے صاحبِ مطالع ہیں، انہوں نے ان چیزوں کو، تحدید کے علاوہ باقی تینوں چیزوں کو حجت اور لواحقِ قیاس کی بحث میں ذکر کیا ہے۔ کس کے اندر؟ حجت یعنی جو قیاس کی بحث، حجت جس میں قیاس، استقراء اور تمثیل داخل ہیں، حجت جو مقاصدِ فن ہے، بلکہ منطق کا مقصدِ اعلیٰ، انہوں نے ان تینوں کو، کون سے تین؟ تقسیم، تحلیل اور برہان، اس کو صاحبِ مطالع نے کس کے اندر ذکر کیا ہے؟ حجت کے مباحث میں اور لواحقِ قیاس کے اندر ذکر کیا ہے۔
اس وجہ سے نہیں ذکر کیا کہ یہ مقاصدِ فن میں داخل ہیں، اس وجہ سے ذکر کیا ہے کہ ان کی مشابہت جو ہے مقاصدِ فن کے ساتھ زیادہ ہے۔ یہ معنی ہے: وَلِهَذَا تَرَى، اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ الْمُتَأَخِّرِينَ كَصَاحِبِ الْمَطَالِعِ يُورِدُونَ مَا سِوَى التَّحْدِيدِ فِي مَبَاحِثِ الْحُجَّةِ وَلَوَاحِقِ الْقِيَاسِ، کہ متاخرین جیسے کہ صاحبِ مطالع جو ہیں، يُورِدُونَ، وہ لاتے ہیں مَا سِوَى التَّحْدِيدِ، تحدید کے علاوہ باقی چیزوں کو ان، ان چار میں سے باقی، تحدید کے علاوہ باقی تین چیزوں کو، فِي مَبَاحِثِ الْحُجَّةِ وَلَوَاحِقِ الْقِيَاسِ، حجت اور لواحقِ قیاس کے مباحث میں۔ لواحقِ قیاس وہ چیزیں جو قیاس کے ساتھ ملحق ہیں بھئی۔ قیاس کے ساتھ ملحق ہیں بھئی، یعنی قیاسِ خلف ہے اور قیاسِ مرکب وغیرہ، ان کے اندر اس کو وہ ذکر کرتے ہیں۔
کہتے ہیں: وَأَمَّا التَّحْدِيدُ، اچھا بھئی تحدید کو نہیں شمار کیا اس کے اندر انہوں، تحدید کو وہاں ذکر نہیں کیا، تو کہتے ہیں: وَأَمَّا التَّحْدِيدُ فَشَأْنُهُ أَنْ يُذْكَرَ فِي مَبَاحِثِ الْمُعَرِّفِ، اور باقی تحدید جو ہے تو اس کی شان یہ ہے، اس کا حال یہ ہے کہ أَنْ يُذْكَرَ، کہ وہ ذکر کیا جائے، اس کی شان یہ ہے کہ اس کو مباحثِ معرف میں ذکر کرنا چاہیے۔ کس کو کہاں ذکر کیا جائے؟ اس کی شان یہ ہے کہ اس کو ذکر کیا جائے مباحثِ معرف کے اندر، یعنی تعریف کی بحثوں میں۔
وَقِيلَ: هَذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْعَمَلِ، اور کہا گیا ہے کہ یہ جو ھٰذا ہے، یہ عمل کی طرف اشارہ ہے۔ بھئی پہلے تو انہوں نے کیا بتلایا؟ یہ ھٰذا اشارہ ہے، اوپر متن پہ نظر رکھیے: وَهَذَا بِالْمَقَاصِدِ أَشْبَهُ، یہ ھٰذا کس کی طرف اشارہ ہے؟ امرِ ثامن کی طرف۔ لیکن کہتے ہیں بعض شارحین فرماتے ہیں کہ ھٰذا اشارہ ہے اس عمل کی طرف، یہ جو ساتھ گزرا: وَالْعَمَلِ بِهِ، اس عمل کی طرف کیا ہے؟ اشارہ ہے۔ کہ یہ جو عمل ہے، اس پر عمل کرنا، یہ مقاصد کے زیادہ مشابہ ہے۔ عمل کرنا یہ؟ مقاصد کے زیادہ مشابہ ہے۔ بھئی دیکھو آپ نے دلیل بنائی، دلیل کے ذریعے آپ کو حق بات کا پتہ چل گیا، تو اب آپ کو اس پر کیا کرنا چاہیے؟ عمل کرنا چاہیے۔ تو یہ عمل مقاصد کے مشابہ ہے، جیسے علم کا ایک، علمِ منطق کا مقصد ہے، اسی طرح برہان کا بھی مقصد کیا ہو؟ اگر وہ علمِ عملی ہے، تو پھر اس پر عمل ہونا چاہیے۔ علم کا مقصد کیا ہے؟ اس پر عمل کرنا مقصد ہے، تو یہ جو عمل ہے، اس کی مقاصد کے ساتھ مشابہت ہے۔
تو کہتے ہیں: وَقِيلَ هَذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْعَمَلِ، اور کہا گیا ہے کہ یہ جو ھٰذا ہے یہ اشارہ ہے عمل کی طرف، وَكَوْنُهُ أَشْبَهَ بِالْمَقْصُودِ ظَاهِرٌ، اور اس عمل کا مقصود کے زیادہ مشابہ ہونا یہ بات ظاہر ہے۔ بھئی عمل کو انہوں نے یہاں ذکر کیا برہان کے اندر، امرِ ثامن کے اندر، لیکن اس کی زیادہ مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ مقاصد کے ساتھ، جیسے علم کے مقاصد ہوتے ہیں خاص چیزوں کا جاننا، اسی طرح علم کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اس پر عمل کرنا۔ تو عمل کی مشابہت کس کے ساتھ زیادہ ہے؟ مقاصدِ علم کے ساتھ اس کی زیادہ مشابہت ہے۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: وَكَوْنُهُ أَشْبَهَ بِالْمَقْصُودِ ظَاهِرٌ، اور اس عمل کا مقصود کے زیادہ مشابہ ہونا یہ بات ظاہر ہے، بَلِ الْمَقْصُودُ مِنَ الْعِلْمِ الْعَمَلُ، بلکہ علم سے مقصود وہ عمل ہی ہوتا ہے۔ بلکہ علم سے مقصود عمل ہی ہوتا ہے۔ دیکھو الْمَقْصُودُ ہے مبتدا، الْعَمَلُ ہے خبر، اور خبر کو بھی معرفہ لے آئے، اور خبر معرفہ ہو تو یہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ تو اب ترجمہ یہ نہ کرو: بَلِ الْمَقْصُودُ مِنَ الْعِلْمِ الْعَمَلُ، کہ بلکہ علم سے مقصود عمل ہے، نہیں بھئی۔ تخصیص کے ساتھ ترجمہ کرو: بَلِ الْمَقْصُودُ مِنَ الْعِلْمِ الْعَمَلُ، بلکہ علم سے مقصود عمل ہی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر دیکھ لیجیے ایک دفعہ ترجمہ، کہتے ہیں: وَقِيلَ هَذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْعَمَلِ وَكَوْنُهُ أَشْبَهَ بِالْمَقْصُودِ ظَاهِرٌ بَلِ الْمَقْصُودُ مِنَ الْعِلْمِ الْعَمَلُ، اور کہا گیا ہے کہ یہ جو ھٰذا ہے یہ اشارہ ہے عمل کی طرف، اور عمل کا مقصود کے زیادہ مشابہ ہونا یہ ظاہر ہے، بلکہ مقصود جو ہے وہ علم سے عمل ہی ہوتا ہے۔ ماتن نے تو اوپر کیا کہا کہ یہ جو عمل ہے، یہ مقاصد کے زیادہ مشابہ ہے، شارح فرماتے ہیں بلکہ ہم تو اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ علم کے ذریعے مقصود ہوتا ہی کیا ہے؟ عمل ہے۔ تو یہ مقصود کے مشابہ نہیں، بلکہ یہ خود ہی کیا ہے؟ مقصود ہے کہ اس پر عمل کیا جائے بھئی۔
جَعَلَنَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ مِنَ الرَّاسِخِينَ، جَعَلَنَا اللهُ، بھئی میری کتاب میں لفظِ اللہ کے ساتھ یہاں الف نہیں ہے، الف ہونا چاہیے بھئی، ورنہ تو یہ لِلهِ پڑھا جاتا ہے۔ جَعَلَنَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ مِنَ الرَّاسِخِينَ فِي الْأَمْرَيْنِ۔ اب کتاب کا اختتام ہے تو شارح جو ہیں دعا کر رہے ہیں: جَعَلَنَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ، اللہ ہمیں بھی بنائے اور آپ کو بھی، مِنَ الرَّاسِخِينَ، راسخ کہتے ہیں پختہ بھئی، پختہ اور مضبوط۔ اللہ ہمیں راسخین میں سے بنائے، فِي الْأَمْرَيْنِ، دونوں چیزوں میں، یعنی علم اور عمل دونوں میں اللہ ہمیں راسخین میں سے بنائے، یعنی علم بھی ہمیں مضبوط اللہ عطا فرمائے اور عمل بھی اللہ ہمیں مضبوط عطا فرمائے۔ یہ معنی ہے: جَعَلَنَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ مِنَ الرَّاسِخِينَ فِي الْأَمْرَيْنِ، اللہ ہمیں، اللہ ہمیں اور آپ کو دونوں، دونوں چیزوں میں یعنی علم اور عمل کے اندر راسخین میں سے بنا دے، وَرَزَقَنَا بِفَضْلِهِ وَجُودِهِ سَعَادَةً فِي الدَّارَيْنِ، اور اللہ ہمیں نصیب فرمائے، بِفَضْلِهِ، اپنے فضل سے، وَجُودِهِ، اور اپنی سخاوت سے، سَعَادَةً فِي الدَّارَيْنِ، دونوں جہانوں کی نیک بختی۔ دونوں جہانوں کی نیک بختی، دونوں جہانوں کی کامیابی اللہ ہمیں نصیب فرمائے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اپنے فضل اور اپنے کرم سے بھئی۔
بِحَقِّ نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، بِحَقِّ نَبِيِّهِ، اپنے نبی کے حق سے، یعنی اپنے نبی کے وسیلے سے، مُحَمَّدٍ، جن کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم، خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، جو تمام مخلوق میں سب سے افضل ہیں، بہتر ہیں۔ یاد رکھنا ایک لفظ ہے بَرِيَّة اور ایک ہے بَرِّيَّة، را بھی مشدد ہو۔ را کی تخفیف کے ساتھ ہو بَرِيَّة، را کی تخفیف ہے اور یا پر شد ہے، تو اس کا معنی ہے مخلوق۔ اور ایک جس میں را بھی مشدد اور یا بھی مشدد، بَرِّيَّة، اس کا معنی ہے خشکی بھئی، خشکی، جنگل وغیرہ بھئی، بَرِّيَّة خشکی، اور یہ بَرٌّ کی طرف نسبت ہے، بَرٌّ کی طرف، اور بَرٌّ جنگل کو کہتے ہیں بھئی۔ تو اللہ ہمیں کامیابی نصیب فرمائے: بِحَقِّ نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، اپنے پیغمبر یعنی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ تمام مخلوق میں بہتر ہیں ان کے وسیلے سے، وَآلِهِ، اور ان کی آل کے وسیلے سے، وَعِتْرَتِهِ الطَّاهِرِينَ، اور ان کی پاک اولاد کے وسیلے سے۔
جیسے پہلے میں بیان کر چکا کہ یہ شارح جو ہیں یہ شیعہ ہیں بھئی۔ اور شیعہ یاد رکھو جب بھی درود پڑھتے ہیں، اس میں آلِہٖ کو ضرور شامل کرتے ہیں۔ اور آل سے مراد ہمارے نزدیک تو آل عام ہے بھئی، اس کے کئی معانی علماء نے بیان کیے ہیں بھئی، تو مختلف اقوال ہیں۔ حضور علیہ السلام کے گھر والے، یا حضور علیہ السلام کے بنو ہاشم میں جو قریبی رشتہ دار ہیں، یا اسی طرح حضور علیہ السلام کا اتباع کرنے والے، یا اسی طرح حضور علیہ السلام کا اتباع کرنے والے جو متقی مومنین ہیں، یا اسی طرح حضور علیہ السلام کا اتباع کرنے والے متقی مومنین میں سے جو علماء ہیں، اور پھر بعضوں نے کہا کہ صرف متقی علماء نہیں بلکہ علمائے مجتہدین مراد ہیں۔ تو مختلف معانی علماء نے بیان کیے ہیں اور ہر ایک کے دلائل بھی ہیں، لیکن شیعہ جو ہیں آلِہٖ سے مراد صرف حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما مراد لیتے ہیں۔
وَعِتْرَتِهِ، اور عترت اولاد کو کہتے ہیں، حضور علیہ السلام کی جو اولاد ہے۔ الطَّاهِرِينَ، کہتے ہیں جو پاک ہیں، یہ بھی شیعہ کا عقیدہ ہے بھئی، ہمارا یہ عقیدہ نہیں۔ طاہر کا معنی پاک، پاک، یعنی گناہوں سے محفوظ ہیں، اللہ ان کی حفاظت فرماتے ہیں، ان سے گناہ ہوتا ہی نہیں۔ ہم کہتے ہیں نہیں، معصوم یا محفوظ، یہ صرف اللہ کے پیغمبر ہیں بھئی۔ اللہ کے پیغمبر جو ہیں وہ معصوم، طاہر اور محفوظ ہیں، باقی کسی کا یہ مقام نہیں۔ ہاں، حضور علیہ السلام کے جو خاندان والے ہیں اور اسی طرح جو صحابہ ہیں، یقینا ان کا مقام بہت اونچا، بہت اونچا کہ جسے ہم لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے، لیکن بہرحال معصوم ہونا یہ صرف انبیاء کی صفت ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حضور علیہ السلام کے وسیلے سے، وَآلِهِ، اور ان کی آل کے وسیلے سے، اور ان کی اولاد جو کہ پاک ہے ان کے وسیلے سے، تو یہ وہ انہوں نے، شیعہ ہیں چونکہ تو اپنے عقیدے کے مطابق انہوں نے یہاں دعا ذکر کی ہے بھئی۔
إِنَّهُ خَيْرُ مُوَفِّقٍ وَمُعِينٍ، یقینا وہ اللہ جو ہے خَيْرُ مُوَفِّقٍ، بہترین توفیق دینے والا ہے، وَمُعِينٍ، اور وہ بہترین مددگار ہے، آمین۔ تو اللہ تعالی ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی نصیب فرمائے حضور علیہ السلام کے وسیلے سے۔ یقینا وہ بہترین توفیق دینے والا ہے اور بہترین مددگار ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے جی الحمد للہ کتاب مکمل ہوئی بھئی، آپ سب کو بھی مبارک ہو، اللہ نے اپنے فضل و کرم سے اسے پورا کرنے کی توفیق نصیب فرمائی۔ آئیے بھئی آخر میں اب دعا کر لیں۔
آئیے بھئی، یہ مبارک مجلس ہے جس میں ہم نے دین کی ایک کتاب ختم کی ہے، اور اس طرح کی دینی مجالس میں اللہ تعالی دعائیں قبول فرماتے ہیں۔ اور دعا کا طریقہ ہمیشہ میں ذکر کرتا ہوں کہ دعا چونکہ اللہ تعالی سے آپ مانگ رہے ہیں، تو دعا کے شروع میں اللہ کی حمد و ثنا ہونی چاہیے بھئی، دعا کے شروع میں الحمد للہ ہونی چاہیے، اور پھر اس کے بعد دعا کے اول اور آخر میں کم از کم تین تین مرتبہ درود شریف بھی ہو جائے، درود شریف بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے کیونکہ درود شریف جو ہے اس کو اللہ تعالی رد نہیں فرماتے، درود کو اللہ ضرور قبول فرماتے ہیں، اور جب درود کو اللہ قبول فرمائیں گے تو اللہ کی، اللہ کی رحمت سے یہ بات بعید ہے کہ اول اور آخر کے درود کو تو قبول فرمائیں اور درمیان کی دعا کو قبول نہ فرمائیں، تو اس سے دعا قبولیت کے اور زیادہ قریب ہو جاتی ہے، تو اول اور آخر میں درود بھی ہو اور پھر آخر میں آمین بھی ہو۔ آئیے ہم بھی اسی طریقے سے دعا کر لیتے ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا...
اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، اس مجلس میں ہم جتنی بھی دعائیں مانگیں، تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ سب کی تمام حاجتیں پوری فرما۔ اے اللہ، سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، گھروں میں کوئی تکلیف اور پریشانی ہو، اس کو دور فرما۔ اے اللہ، غیب سے مدد فرما۔ اے اللہ، غیب سے نصرت فرما۔ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، حدیث میں آتا ہے جو شخص تین مرتبہ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ کہہ لے، تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جو اس کو پکار کر جواب دیتا ہے کہ اے مانگنے والے، مانگ، ارحم الراحمین تمہاری طرف متوجہ ہے۔ تو آپ سب بھی کم از کم تین مرتبہ ضرور کہہ لیجیے: يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
اے اللہ، ہماری اس مجلس کی تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، ہم آپ کے کمزور بندے، مشکلات، تکالیف، پریشانیاں برداشت نہیں کر سکتے۔ اے اللہ، ہماری تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ، سب کو اطمینان اور راحت اور سکون والی زندگی نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو، اے اللہ، اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے والا بنا۔ اے اللہ، ہمیں اخلاص کے ساتھ دین پر عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ، اس فتنے کے زمانے میں ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ایمان والی قبر نصیب فرما۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے بھی ایمان کی حفاظت فرما۔
اے اللہ، تمام حاضرین کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرما جن سے آپ کی تمام مخلوقات محبت کرتی ہیں۔ اے اللہ، جن سے آپ کے فرشتے محبت کرتے ہیں۔ روایات میں آتا ہے جب اللہ کسی شخص سے محبت فرماتے ہیں، تو فرشتوں میں اعلان ہوتا ہے اور پھر آسمان والوں میں، اور اسی طرح پھر دنیا والوں میں، اور پھر تمام مخلوقات اس شخص سے محبت کرنے لگتی ہے۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرما جن سے آپ محبت فرماتے ہوں۔ اے اللہ، قیامت کے دن کی شرمندگی اور رسوائی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، بغیر حساب کتاب کے ہمیں جنت نصیب فرما۔
اے اللہ، میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ سب کو خوشیوں والی زندگی نصیب فرما۔ اے اللہ، ان میں سے ہر ایک کو دین کی خدمت کرنے والا بنا۔ اے اللہ، ان میں سے ہر ایک کو ایسی شمع بنا، ایسا چراغ بنا جس سے آگے ہزاروں، لاکھوں شمعیں اور چراغ روشن ہوں۔ اے اللہ، اے اللہ، ان میں سے کسی طالب علم کو بھی ضائع نہ فرما۔ اے اللہ، ہر ایک کو دین کی خدمت کرنے والا بنا، اے اللہ اخلاص کے ساتھ، اے اللہ حکمت کے ساتھ، اے اللہ ہمت اور جرات کے ساتھ۔ اے اللہ، اس زمانے کے اندر تمام عالم کے مسلمانوں کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ، ان کی حفاظت فرما۔ اسلام کو قوت نصیب فرما۔ اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری نشست و برخاست میں اسلام کا بول بالا فرما۔ اے اللہ، ہمارے گھروں میں دین کا بول بالا فرما۔
اے اللہ، ہمیں قرآن کی محبت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں نیک اعمال کی محبت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں صحابہ کی کامل محبت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں اتباعِ سنت کی محبت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں سنتوں پر چلنے والا بنا۔ اے اللہ، ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ، ہمیں شرک و بدعات اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام حاجتیں پوری فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ، حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو، اے اللہ سب کو شفا نصیب فرما۔ سب کو صحت نصیب فرما۔ عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، اس زمانے میں مسلمانوں پر ہر جگہ بے انتہا ظلم ہو رہا ہے، شام میں، کشمیر میں، برما میں، فلسطین میں، چین میں، ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اے اللہ، مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، مسلمانوں کی نصرت فرما۔ اے اللہ، مسلمانوں کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، مجاہدین کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ، جو دشمن کی قید میں ہیں، مجاہدین ہیں، مسلمان ہیں، سب کی رہائی کے لیے غیب سے اللہ اسباب بنا۔ اے اللہ، غیب سے اسباب بنا۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ، ہمارے اس مدرسے کو بھی تا قیامت، اے اللہ، قائم و دائم فرما۔ اس کو ہم سب کے لیے عظیم صدقہ جاریہ فرما۔ اے اللہ، اس کو دنیا کے عظیم دینی مراکز میں سے بنا۔ اے اللہ، ہمارے اس بیٹھنے کو قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ، جامعہ کے اندر جتنے طلباء ہیں، اے اللہ کسی ایک کو بھی ضائع نہ فرما۔ اے اللہ، اس کو دین کا ایسا مرکز بنا کہ جہاں آنے والا کوئی ایک بھی طالب علم ضائع نہ ہو۔ اے اللہ، ہر ایک دین کا کام کرنے والا ہو، اے اللہ اخلاص کے ساتھ، اے اللہ حکمت کے ساتھ، شان کے ساتھ، ہمت کے ساتھ، جرات کے ساتھ۔ اے اللہ، تمام دینی تحریکوں کا اسے مرکز بنا۔
میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے، اے اللہ صحت نصیب فرما، اے اللہ عافیت نصیب فرما، اے اللہ تمام مشکلات اور پریشانیاں حل فرما، اے اللہ تمام حاجتیں پوری فرما۔ اور میری والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے، اے اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما، اے اللہ ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ، حاضرین میں سے جن کے والدین زندہ ہیں یا ان میں سے کوئی زندہ ہے، اے اللہ سب ان کا سایہ ان کے سروں پر تادیر خوشی، عافیت اور مسرت کے ساتھ قائم و دائم فرما۔ اے اللہ، ہمارے جو عزیز و اقارب وفات پا چکے، رخصت ہو چکے، ان سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ، ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ، میرے والد حضرت شیخ رحمہ اللہ کے، اے اللہ ان کے بھی کروڑہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان جیسا علم اور تقویٰ نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان جیسا حسنِ خاتمہ نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان جیسی قبولیت اور مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
جامعہ کے تمام اساتذہ کے لیے اور تمام خدمت کرنے والوں کے لیے بھی دعا کریں، اے اللہ سب کو جزائے خیر نصیب فرما۔ اے اللہ، سب کی خدمات کو قبول فرما۔ اے اللہ، سب کی تمام تکالیف، پریشانیاں اور بیماریاں دور فرما۔ اے اللہ، صحت اور عافیت نصیب فرما۔ میرے بڑے بھئی مولانا محمد زبیر روحانی بازی مدظلہ العالی، ان کے لیے بھی دعا کریں، ان کی وجہ سے یہ سارا سلسلہ چل رہا ہے، اے اللہ ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما، اے اللہ صحت نصیب فرما، اے اللہ عافیتِ دارین نصیب فرما، اے اللہ تمام مشکلات حل فرما، اے اللہ ان کے تمام دینی اور دنیاوی منصوبوں کو کامیاب فرما۔ اے اللہ، اس مدرسے کو ہر اعتبار سے، دینی اعتبار سے بھی اور دنیاوی اعتبار سے بھی، اے اللہ عظیم اسباب نصیب فرما۔ اے اللہ، عظیم اسباب نصیب فرما۔ اے اللہ، تمام مشکلات حل فرما۔
اے اللہ، ہمارے اس ملک کی بھی حفاظت فرما، ہر شر اور فتنے سے۔ اے اللہ، جو سازشیں کرنے والے ہیں ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ، تمام عالم میں جو بھی مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں، ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ ان کی سازشوں کو انہی پر لوٹا دے۔ اے اللہ، اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ، ہر طرف دین کی ہوائیں چلا دے۔ اے اللہ، ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اور بھی بہت سے لوگ دعاؤں کا کہتے رہتے ہیں، اے اللہ آپ تو عالم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں، سب کی مشکلات اے اللہ حل فرما، اے اللہ غیب سے ان کی مدد فرما، اے اللہ تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، ہمارے دلوں کو اپنی طرف پھیر دے۔ اے اللہ، اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اب ایک دو منٹ تک آپ کے دل میں جو جو حاجتیں ہوں، خود اپنی اپنی دعا مانگ لیجیے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر۔
صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
چلیے جی الحمد للہ، آپ سب کو بھی بھئی مبارک ہو، الحمد للہ کتاب مکمل ہوئی۔