Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-061

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، آگے سبق دیکھیے بھئی، شرح میں۔ قَوْلُهُ الْمَاهِيَّةُ الْمَقُولُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ أَيِ الْمَاهِيَّةُ الْمَقُولُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ فَلَا يَكُونُ إِلَّا كُلِّيًّا ذَاتِيًّا لِمَا تَحْتَهُ لَا جُزْئِيًّا وَلَا عَرَضِيًّا فَالشَّخْصُ كَزَيْدٍ وَالصِّنْفُ كَالرُّومِيِّ مَثَلًا خَارِجَانِ عَنْهَا فَالنَّوْعُ الْإِضَافِيُّ دَائِمًا إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَوْعًا حَقِيقِيًّا مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ كَالْإِنْسَانِ تَحْتَ الْحَيَوَانِ وَإِمَّا جِنْسًا مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ آخَرَ كَالْحَيَوَانِ تَحْتَ الْجِسْمِ النَّامِي۔ بھئی گزشتہ سبق میں نوع حقیقی اور نوع اضافی کے بارے میں ہم نے پڑھا تھا۔ نوع حقیقی کی تعریف انہوں نے کی تھی هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ کہ نوع وہ کلی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں متفق ہوں مَا هُوَ کے جواب میں۔ اور نوع اضافی کے بارے میں انہوں نے بتلایا تھا کہ نوع اضافی وہ ہے کہ ایک ماہیت کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو اس کے اوپر جنس آئے۔ تو اس ماہیت کو نوع اضافی کہیں گے۔ توجہ ہے؟ ایسی ماہیت کو نوع اضافی کہیں گے کہ جس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے۔ معلوم ہوا نوع اضافی کے اوپر جنس کا ہونا ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ اوپر جنس ہوگی تو جواب میں جنس آئے گی اگر اوپر جنس ہی نہیں ہے تو اس کے اور دوسری ماہیت کے جواب میں جنس کیسے آسکتی ہے۔ پھر انہوں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو نوع اضافی اور نوع حقیقی ہے ان کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ عموم و خصوص من وجہ کسے کہتے تھے کہ دو ماہیتوں کے دو چیزوں کے اجتماع کو بھی عقل جائز سمجھے اور دونوں کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کو بھی جائز سمجھے۔ تو ایک ہے نوع حقیقی اور ایک ہے نوع اضافی۔ دونوں اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں کہ ایک ہی چیز نوع حقیقی بھی ہو اور نوع اضافی بھی۔ اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ نوع حقیقی تو ہو نوع اضافی نہ ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نوع اضافی تو ہو اور نوع حقیقی نہ ہو۔ تو ان میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ اور پھر اس کے لیے انہوں نے مثالیں بھی دی تھیں کہ وہ ماہیت جو نوع حقیقی بھی ہے اور نوع اضافی بھی ہے جیسے انسان۔ انسان نوع حقیقی بھی ہے۔ کیونکہ هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ انسان کے افراد متفق الحقیقت ہیں۔ تو یہ نوع حقیقی بھی ہے۔ اور نوع اضافی بھی ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو لے کر سوال کریں تو اس کے اوپر جنس موجود ہے جیسے حیوان بھی ہے، جسم نامی بھی ہے، جسم بھی ہے اور جوہر بھی ہے۔ اور کوئی بھی ماہیت اس کے ساتھ ملا کر سوال کریں مثلا الْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا تو جواب میں حیوان آئے گا جو کہ جنس ہے۔ تو انسان جو ہے وہ نوع حقیقی بھی ہے اور نوع اضافی بھی ہے۔ اور دونوں الگ الگ بھی ہو جاتے ہیں کوئی چیز نوع اضافی تو ہو نوع حقیقی نہ ہو جیسے حیوان بھئی۔ حیوان دیکھو یہ نوع حقیقی نہیں کیونکہ اس کے افراد تو متفق الحقیقت نہیں ہیں بلکہ حیوان کے افراد کیا ہیں؟ ان کی حقیقتیں مختلف ہیں۔ تو یہ نوع حقیقی تو نہیں لیکن نوع اضافی ہے۔ حیوان کے ساتھ مثلا شجر کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں جسم نامی آئے گا جو کہ جنس ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ نوع حقیقی تو ہو ایک چیز لیکن نوع اضافی نہ ہو جیسے نقطہ بھئی۔ نقطہ نوع حقیقی تو ہے نوع اضافی نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ یہ نقطہ جو ہے، نقطے کی تفصیل انہوں نے بیان کی تھی کہ نقطہ جو ہے وہ طرف خط کو کہتے ہیں۔ اور خط جو ہے وہ طرف سطح کو کہتے ہیں۔ اور سطح جو ہے وہ طرف جسم کو کہتے ہیں۔ جسم کسے کہتے ہیں جو لمبائی چوڑائی اور گہرائی تینوں طرف تقسیم کو قبول کرتا ہے۔ اور اس کی ایک جانب کو سطح کہتے ہیں۔ اور سطح جو ہوتی ہے وہ لمبائی اور چوڑائی میں تو تقسیم کو قبول کرتی ہے لیکن گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں کرتی کیونکہ اس کی گہرائی ہوتی ہی نہیں ہے۔ اگر گہرائی ہو تو پھر تو یہ تقسیم کو قبول بھی کر لے۔ تو اس کی صرف لمبائی ہوتی ہے اور صرف چوڑائی۔ جبکہ سطح کی طرف جو ہے اس کو خط کہتے ہیں بھئی۔ اور خط یہ صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے نہ چوڑائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے اور نہ گہرائی میں۔ وجہ اس کی یہ کہ اس کی چوڑائی ہے ہی نہیں بھئی۔ چوڑائی ہوتی تو چوڑائی میں تقسیم کو قبول کرتا۔ اسی طرح اس کی گہرائی ہے ہی نہیں، گہرائی ہوتی تو یہ گہرائی میں کیا کرتا تقسیم کو قبول کرتا۔ تو خط صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے۔ اور خط کی طرف کو نقطہ کہتے ہیں۔ اور نقطہ جو ہے وہ لمبائی، چوڑائی، گہرائی کسی طرف بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ نہ اس کی چوڑائی ہے، نہ اس کی گہرائی ہے، نہ اس کی لمبائی ہے۔ لمبائی ہوتی تو لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا، چوڑائی ہوتی تو چوڑائی میں تقسیم کو قبول کرتا اور گہرائی ہوتی تو گہرائی میں تقسیم کو قبول کرتا۔ تو اس کی نہ چوڑائی ہے، نہ گہرائی ہے اور نہ لمبائی ہے۔ ہاں دو نقطے ملائیں گے تو خط بن جائے گا۔ ایک نقطہ تو تقسیم کو قبول نہیں کر رہا تھا لیکن جب دو نقطے ملا دیے اب کچھ لمبائی بن گئی یا نہیں بن گئی؟ اب یہ لمبائی میں تقسیم کو قبول کرے گا اور جو چیز لمبائی میں تقسیم کو قبول کرے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو خط کہتے ہیں تو یہ خط ہوا۔ اور پھر اس خط کے ساتھ ایک اور خط اگر جوڑیں گے تو دو خط ہو گئے چوڑائی میں۔ تو پہلے خط صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کر رہا تھا، چوڑائی تھی ہی نہیں۔ اب دو خط ملے تو چوڑائی بھی کچھ ہو گئی۔ جب چوڑائی ہو گئی اب یہ چوڑائی میں بھی تقسیم کو قبول کرے گا۔ تو لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول کر رہا ہے اور اب چوڑائی میں بھی کر رہا ہے تو یہ کیا بن گئی؟ سطح بن گئی کیونکہ سطح لمبائی اور چوڑائی دونوں میں تقسیم کو قبول کرتی ہے۔ اور دو سطحوں کو آپس میں ملا دیں۔ سطح تو گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں کر رہی تھی، لیکن دو سطحیں اوپر نیچے کر دیں، اب کچھ گہرائی بھی ہو گئی۔ اب یہ گہرائی میں بھی تقسیم کو قبول کرے گی تو یہ کیا بن گیا؟ جسم بن گیا۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو نقطہ ہے، یہ خط ہے، یہ سطح ہے، اور یہ جسم یہ سب عرض ہیں بھئی۔ یہ سب کیا ہیں؟ نقطہ عرض ہے بھئی، جوہر نہیں ہے۔ جوہر تو اس کو کہتے ہیں جس کا اپنا الگ وجود ہو۔ اور جبکہ یہ نقطہ یہ عرض ہے۔ تو جب دو نقطوں سے خط بنا تو عرض سے جو چیز بنے وہ بھی کیا ہوتی ہے؟ عرض۔ تو وہ خط بھی کیا ہے؟ عرض۔ پھر دو خطوں سے مل کر سطح بنی تو وہ سطح بھی کیا ہے؟ عرض کیونکہ عرض سے عرض ملے تو عرض ہی حاصل ہو گا۔ اور پھر دو سطحوں کو آپس میں ملایا تو جسم حاصل ہوا تو یہ جسم بھی کیا ہے؟ عرض ہے۔ اور یاد رکھو یہ جو جسم ذکر ہوا اس سے جسم تعلیمی مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ ایک جسم جو خارج میں آپ دیکھتے ہیں وہ ہے جوہر، اس کا اپنا الگ وجود ہے، لیکن یہ جو جسم ذکر کیا گیا لمبائی، چوڑائی اور گہرائی کو سمجھانے کے لیے، سطح کو سمجھانے کے لیے، اس کو جسم تعلیمی کہتے ہیں۔ جسم تعلیمی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس طلبہ کو تعلیم دیتے ہوئے چیزیں سمجھانے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جسم تعلیمی۔ اور یہ جسم مرکب ہے کس سے؟ لمبائی، چوڑائی اور گہرائی سے۔ اور لمبائی بھی عرض، چوڑائی بھی عرض، گہرائی بھی عرض۔ یاد رکھو یہ جو لمبائی ہوتی ہے یہ عرض ہوتی ہے۔ مثلا آپ کے پاس ایک ڈبہ پڑا ہے، اس ڈبے کی کچھ نہ کچھ چوڑائی ہوگی اور کچھ نہ کچھ لمبائی۔ لیکن یہ لمبائی اور چوڑائی اس ڈبے کی صفت ہے۔ یہ ڈبہ ہے تو یہ لمبائی چوڑائی ہے۔ ڈبہ نہیں تو لمبائی چوڑائی بھی نہیں۔ مثلا اس ڈبے کو آپ ختم کر دیتے ہیں، فنا کر دیتے ہیں، جلا دیتے ہیں، ختم کر دیتے ہیں تو دیکھو وہ لمبائی چوڑائی بھی ختم ہو گئی۔ اگر وہ الگ چیز ہوتی تو الگ ہو جاتی، لیکن وہ ڈبہ ختم تو لمبائی چوڑائی بھی ختم۔ تو یہ لمبائی، چوڑائی وغیرہ اور گہرائی یہ عرض ہیں۔ تو ان سے مل کر جو جسم حاصل ہوا وہ بھی کیا ہوگا؟ عرض ہی ہوگا۔ تو نقطہ جو ہے وہ طرف خط کو کہتے ہیں۔ اس کی نہ لمبائی ہے، نہ چوڑائی ہے اور نہ گہرائی ہے۔ اور یہ جو نقطہ ہے اس کو منطقہ نوع بسیط کہتے ہیں۔ بسیط، با، سین، یا اور طا بھئی طا، ظا۔ بسیط۔ بسیط کہتے ہیں ایسی چیز کو جس کا کوئی جز نہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بسیط کہتے ہیں۔ تو نقطہ بسیط ہے، اس کا کوئی جز نہیں۔ اور نقطے کو وہ نوع بسیط کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ یہ نوع بسیط ہے۔ یعنی ایسی نوع ہے جس کے اوپر کوئی جنس نہیں۔ کیونکہ نقطے کا جز نہیں ہے، جب جز نہیں معلوم ہوا اس کے اوپر جنس بھی نہیں۔ کیوں نہیں؟ نقطے کا جز نہیں۔ تو اس سے کیا ثابت ہوا؟ جنس بھی نہیں۔ کیوں نہیں جنس؟ وجہ یہ، وجہ یہ، کہ جس چیز کے اوپر جنس ہوتی ہے وہ جنس اور فصل سے مرکب ہوتی ہے۔ انسان کے اوپر جنس کیا ہے؟ حیوان۔ تو انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ دیکھو یہ جنس اور فصل سے مرکب ہے۔ تو جس چیز کے اوپر بھی جنس ہوگی وہ جنس اور فصل سے مرکب ہوگی بھئی۔ تو نقطہ بسیط ہے، جب بسیط ہے معلوم ہوا اس کے اوپر کوئی جنس نہیں۔ کیونکہ اگر جنس ہوتی تو جنس کے افراد تو مختلف ہوتے ہیں۔ تو معلوم ہوا نقطے کے افراد بھی کیا ہوتے؟ مختلف ہوتے۔ اور پھر جب افراد مختلف ہیں، تو ہر قسم کے لیے فصل بھی چاہیے یا نہیں؟ کہ ایک دوسرے سے تاکہ پتہ تو چلے کیسے مختلف ہیں ایک دوسرے سے۔ جیسے حیوان کے تحت کیا ہے؟ انسان بھی ہے، فرس بھی ہے، بقر بھی ہے، اور حمار بھی ہے، تو دیکھو یہ جنس کے تحت ہیں۔ ان کی حقیقتیں مختلف ہیں، اور مختلف کیسے ہیں کس لحاظ سے؟ کہ ہر ایک کا فصل الگ الگ ہے۔ انسان کا فصل کیا ہے؟ ناطق ہے۔ گھوڑے کا فصل کیا ہے؟ صاہل ہے۔ حمار کا فصل کیا ہے؟ ناہق ہے بھئی۔ تو جس چیز کے اوپر جنس ہوتی ہے، وہ جنس اور فصل سے مرکب ہوتی ہے بھئی۔ جنس کے نیچے مختلف حقیقتوں والے افراد ہوتے ہیں۔ تو اگر نقطے کے اوپر جنس ہوتی، تو نقطہ بھی کیا ہوتا؟ اس کے مختلف افراد ہوتے۔ اور جنس کے تحت جو چیزیں ہوتی ہیں وہ کس سے مرکب ہوتی ہیں؟ جنس اور فصل سے۔ تو نقطے کے لیے جنس ہے، تو پھر فصل بھی چاہیے تھی، تاکہ اس جنس میں جو دوسرے افراد ہیں ان سے یہ جدا ہو جائے، ممتاز ہو جائے۔ تو جس چیز کے لیے جز نہیں، اس کے لیے جنس بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ تو نقطہ مثال ہے اس نوع کی جو بسیط ہے۔ تو نقطہ نوع بسیط ہے۔ نوع بسیط کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر جنس نہ ہو۔ تو یہ نوع بسیط ہے، بسیط یعنی اس کا جز نہیں۔ جب یہ نوع بسیط ہے، اس کا جز نہیں تو معلوم ہوا اس کے اوپر جنس بھی نہیں۔ جب اس کے اوپر جنس نہیں ہے، معلوم ہوا یہ نوع اضافی بھی نہیں ہے۔ نوع اضافی تو کہتے ہی کس کو تھے؟ کہ جس کے اوپر کیا ہو؟ جنس، کہ اس ماہیت کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملائیں تو جواب میں کیا آئے؟ جنس، اور جنس تبھی آئے گی جب اس کے اوپر جنس ہو۔ جب اس کے اوپر جنس ہی نہیں ہے تو جنس جواب میں کیسے آسکتی ہے۔ نقطے کے ساتھ کسی بھی ماہیت کو ملا کر سوال کریں، جواب میں جنس آئے گی نہیں کیونکہ نقطہ کسی جنس کے تحت آتا ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ تو نقطہ کیا ہے نوع بسیط۔ اور جو نوع بسیط ہوتی ہے اس کے اوپر جنس نہیں ہوتی۔ جب اس کے اوپر جنس نہیں، تو وہ نوع اضافی بھی نہیں۔ تو نقطہ نوع حقیقی تو ہے۔ نوع بسیط ہے، نوع حقیقی تو ہے، لیکن نوع اضافی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ نوع حقیقی اور نوع اضافی میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ ایک چیز ہو سکتا ہے نوع حقیقی بھی ہو اور نوع اضافی بھی ہو جیسے انسان۔ ایک چیز ہو سکتا ہے صرف نوع اضافی ہو نوع حقیقی نہ ہو، جیسے حیوان۔ حیوان نوع اضافی تو ہے، اس کے اوپر جنس تو موجود ہے، لیکن اس کے افراد مختلف الحقیقت ہیں تو لہذا یہ نوع حقیقی نہیں بلکہ یہ صرف کیا ہے؟ نوع اضافی۔ اور نقطہ وہ نوع حقیقی تو ہے، نوع اضافی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ انسان نوع حقیقی بھی اور نوع اضافی بھی۔ حیوان نوع اضافی تو ہے نوع حقیقی نہیں۔ اور نقطہ نوع حقیقی ہے نوع اضافی نہیں۔ تو ان میں نسبت کونسی ہوئی نوع حقیقی اور نوع اضافی میں؟ عموم و خصوص من وجہ کی۔ اب آئیے جی آج کے سبق کی طرف۔ قَوْلُهُ الْمَاهِيَّةُ الْمَقُولُ عَلَيْهَا الْمَاهِيَّةِ میں نے مجرور پڑھا۔ اس کو کہتے ہیں اعراب حکائی۔ کیا کہتے ہیں؟ حکائی۔ یعنی حکایت میں یعنی کہیں سے جہاں سے یہ لفظ لیا گیا، وہاں پر یہ مجرور تھا، تو ہم نے بھی یہاں اس کو کیا پڑھا؟ مجرور پڑھا۔ ورنہ تو اس کو منصوب ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ یہ قَوْلُهُ کا مفعول بن رہا ہے۔ تو وہی اعراب جو اس حکایت میں تھا وہی پڑھ دیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اعراب حکائی کہتے ہیں۔ جیسے اوپر متن میں وَقَدْ يُقَالُ عَلَى الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ دیکھو یہاں الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ اس پر علی جارہ داخل تھا مجرور تھا، تو شرح میں بھی اسی کے مطابق پڑھ لیا قَوْلُهُ الْمَاهِيَّةُ الْمَقُولُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ۔ أَيِ الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِي دیکھے اور پھر تفسیر میں بھی اسی طرح مجرور پڑھیں گے۔ یاد رکھو أَيْ کے ذریعے تفسیر کی جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ أَيْ کیا ہے؟ حرف تفسیر۔ اس کے ذریعے کسی چیز کی تفسیر یعنی اس کا معنی بیان کیا جاتا ہے، اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ تو أَيْ سے جو ماقبل ہوگا، وہ ہے مفسر، اور أَيْ کے مابعد جو ہے وہ ہے مفسر تفسیر کرنے والا۔ لیکن ترکیب میں مفسر اور مفسر کہنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ میں نے کہا مفسر، کوئی اعراب کا پتہ چلا؟ جی؟ میں نے کہا یہ مفسر ہے۔ میں نے کیا کہا؟ أَيْ کے بعد ایک لفظ آیا اور میں کہتا ہوں یہ کیا بنا؟ مفسر۔ تو مفسر کہنے سے اعراب کا پتہ نہیں چلتا۔ ترکیب میں وہ چیز ذکر کی جاتی ہے جس سے اعراب کا پتہ چلے۔ تو پھر ترکیب میں یہ کیا بنے گا؟ یاد رکھو ترکیب میں یہ بدل بنتا ہے۔ کیا بنتا ہے؟ بدل بنتا ہے۔ یا عطف بیان بنتا ہے بعض جگہ۔ تو یہ بدل بنے گا اور بدل اب دیکھو اعراب کا بھی پتہ چل گیا، کہ بدل کا وہی اعراب ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ مبدل منہ کا معلوم ہوا ماقبل کے اعراب کو دیکھیں گے اس پر جو اعراب ہوگا اس پر بھی وہی پڑھیں گے۔ تو یہاں پر بھی قَوْلُهُ کے بعد جو الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِي پڑھا تھا، اس پر ہم نے جر پڑھا تھا اعراب حکائی تو أَيْ کے بعد جو ہے الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِي، اس پر یہ اسی کی تفسیر ہے، یہ اسی سے بدل ہے، تو بدل پر بھی وہی اعراب آئے گا تو اس کو بھی کیسے پڑھیں گے؟ مجرور پڑھیں گے۔ أَيِ الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ بھئی یہ جو آیا نا قَوْلُهُ الْمَاهِيَّةُ الْمَقُولُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ یہ تو متن کو نقل کیا۔ اوپر جو متن تھا اسی کو نیچے نقل کیا۔ کہ یہ مصنف کا یہ جو قول ہے، آگے اس کی اب شرح کرنے لگے ہیں۔ أَيِ الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ یہ شرح کر رہے ہیں اور یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہاں یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں کیا کہا نوع اضافی کسے کہتے ہیں؟ کہ نوع اضافی اس ماہیت کو کہتے ہیں کہ جس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے۔ توجہ ہے؟ آپ نے ہمیں کیا بتایا نوع اضافی کسے کہتے ہیں؟ نوع اضافی اس ماہیت کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ اس ماہیت کو کہتے ہیں، یہ ماہیت کا نام ہے تو کوئی ایک ماہیت پہلے لینا پڑے گی۔ کہ اس کو نوع اضافی کہتے ہیں یا نہیں پھر دیکھنا پڑے گا۔ کہ نوع اضافی اس ماہیت کو کہتے ہیں کہ جس کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے۔ توجہ ہے؟ اور یہ بھی آپ نے پڑھ لیا کہ نوع اضافی، وہ صرف دو چیزیں بنتی ہیں۔ کون کون؟ نوع حقیقی اور کبھی جنس۔ توجہ ہے؟ نوع اضافی صرف دو ہی چیزیں بنتی ہیں۔ کون کون؟ نوع حقیقی اور جنس۔ دیکھو وہ جو عموم و خصوص من وجہ کی نسبت بیان کی، کیا کیا مثالیں دیں؟ انسان، حیوان، اور نقطہ۔ انسان دیکھو یہ کیا ہے؟ نوع حقیقی ہے، جنس تو نہیں ہے، لیکن نوع حقیقی۔ تو یہ نوع اضافی بن گئی۔ اور حیوان یہ کیا ہے؟ یہ نوع اضافی ہے اور یہ جنس ہے یا نوع حقیقی ہے؟ نوع حقیقی کے افراد کی تو حقیقت ایک ہوتی ہے۔ اور حیوان کے افراد کی حقیقت تو ایک نہیں۔ تو یہ جنس ہے۔ تو نوع اضافی صرف دو چیزیں بنتی ہیں۔ ایک نوع حقیقی جب اس کے اوپر کیا ہو؟ جنس ہو۔ اور ایک جنس، جب اس کے اوپر دوسری جنس ہو۔ حیوان کے اوپر دوسری جنس کیا ہے؟ جسم نامی۔ حیوان کو میں نے درخت کے ساتھ ملایا اور پوچھا، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ حیوان نوع اضافی ہے یا نوع اضافی نہیں۔ ادھر دیکھو بھئی، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ حیوان نوع اضافی ہے یا نوع اضافی نہیں۔ تو کیسے دیکھیں گے؟ اس حیوان کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کریں گے۔ اگر جواب میں جنس آ جائے تو یہ حیوان کیا ہوگا؟ نوع اضافی۔ چنانچہ میں نے حیوان کے ساتھ شجر کو ملایا۔ الْحَيَوَانُ وَالشَّجَرُ مَا هُمَا، یہ دونوں کیا چیزیں ہیں؟ آپ کیا کہیں گے؟ جسم نامی کہ یہ کیا ہیں؟ جسم نامی۔ دیکھا حیوان کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا تو جواب میں جنس آئی۔ اب جسم نامی کو میں لے کر سوال کرتا ہوں کہ الْجِسْمُ النَّامِي وَالْحَجَرُ مَا هُمَا؟ جسم نامی اور حجر کیا چیزیں ہیں؟ آپ کیا کہیں گے؟ جسم کہ یہ کیا ہیں؟ جسم۔ تو دیکھا جسم نامی کے اوپر جنس، جسم موجود ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا حیوان بھی کیا ہے؟ نوع اضافی ہے کیونکہ اس کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا تو جواب میں اس کے اوپر جنس آئی۔ جسم نامی بھی کیا ہے؟ نوع اضافی ہے، کیونکہ جسم نامی کے ساتھ میں نے حجر کو ملا کر سوال کیا تو جواب میں جنس یعنی جسم آیا۔ جسم بھی یاد رکھو نوع اضافی ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر کیا موجود ہے؟ جوہر، جنس، میں نے بتایا تھا، ہر وہ ماہیت جس کے اوپر کیا موجود ہو؟ جنس موجود ہو، جنس موجود ہو وہ کیا ہے؟ یعنی بلا واسطہ جس کے اوپر جنس موجود ہو وہ نوع اضافی ہے۔ جسم کے ساتھ مثلا میں عقل کو ملا کر سوال کرتا ہوں۔ الْجِسْمُ وَالْعَقْلُ مَا هُمَا؟ تو جواب میں کیا کہیں گے؟ جوہر۔ توجہ ہے؟ تو نوع اضافی کسے کہتے ہیں؟ ایک ماہیت کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں کیا آئے؟ جنس۔ اور وہ نوع حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور جنس بھی۔ توجہ ہے؟ اعتراض پھر ہی سمجھ میں آئے گا جب آپ کو بات سمجھ میں آ جائے۔ نوع اضافی صرف دو چیزیں ہو سکتی ہیں، یا نوع حقیقی یا جنس۔ نوع حقیقی یا ایسی جنس جس کے اوپر کوئی اور جنس موجود ہو۔ تو نوع اضافی کتنی چیزیں بن سکتی ہیں؟ دو۔ نمبر ایک نوع حقیقی ایسی نوع حقیقی جس کے اوپر کوئی جنس ہو۔ یا اسی طرح ایسی جنس جس کے اوپر کوئی اور جنس موجود ہو۔ صرف یہ دو چیزیں جو ہیں وہ نوع اضافی بن سکتی ہیں، یہ دو چیزیں نوع اضافی ہیں اور نہیں۔ تو اب کہتے ہیں، آپ نے جو تعریف کی، کیا تعریف کی؟ وَقَدْ يُقَالُ عَلَى الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ، آپ نے کیا کہا؟ نوع اضافی کی تعریف یہ کی کہ نوع اضافی اس ماہیت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے۔ آپ کی تعریف دخول غیر سے مانع نہیں۔ اس میں تو غیر نوع اضافی بھی اس کے اندر داخل ہو گئے۔ توجہ ہے؟ آپ کی تعریف مانع نہیں۔ آپ کی تعریف صرف کس پر صادق آنی چاہیے تھی؟ نوع اضافی ہو۔ اور ہم آپ کو دکھاتے ہیں، آپ کی تعریف ایسی چیزوں پر صادق آ رہی ہے جن کو مناطقہ نوع اضافی نہیں کہتے۔ جیسے زید۔ زید کیا یہ نوع ہے؟ نہیں۔ یہ تو جزئی ہے، جزئی حقیقی ہے۔ توجہ ہے؟ زید ایک جزئی حقیقی ہے، لیکن آپ کی تعریف کے مطابق یہ بھی نوع اضافی بن گئی۔ کس طرح؟ زید کے ساتھ میں ایک ماہیت کو ملا کر سوال کرتا ہوں۔ زَيْدٌ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا؟ زید اور فرس کیا چیزیں ہیں؟ جواب کیا آئے گا؟ حیوان۔ دیکھا زید کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا تو جواب میں جنس آ گئی۔ تو معلوم ہوا زید بھی کیا ہے؟ نوع اضافی ہے۔ کیونکہ آپ نے ہمیں کہا تھا نوع اضافی وہ ماہیت ہے جس کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں کیا آئے؟ جنس۔ تو زید بھی کیا ہے؟ نوع اضافی۔ آپ کی تعریف کے مطابق اس پر بھی نوع اضافی کی تعریف صادق آ رہی ہے۔ حالانکہ کوئی بھی منطقی زید کو یعنی جزئی حقیقی کو نوع اضافی نہیں کہتا۔ نوع اضافی تو صرف دو چیزیں ہیں۔ ایسی نوع حقیقی جس کے اوپر جنس ہو، یا ایسی جنس جس کے اوپر کوئی اور جنس ہو۔ تو آپ کی تعریف دخول غیر سے مانع نہیں۔ جزئی حقیقی اس کے اندر داخل ہو گئی، وہ بھی نوع اضافی بن گئی۔ ایک اور چیز بھی آپ کی تعریف میں داخل ہو گئی اور وہ ہے صنف۔ صاد نون فا صنف۔ صنف بھی آپ کی تعریف میں داخل ہو گئی۔ صنف کسے کہتے ہیں وہ سمجھ لیں۔ صنف کہتے ہیں کہ نوع کے ساتھ کوئی صفت بھی ملحوظ ہو۔ یعنی صنف جو ہوتی ہے نوع کے ساتھ کوئی عرض ملائیں گے تو صنف حاصل ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ نوع کے ساتھ کوئی عرض ملائیں گے، مثلا انسان کیا ہے؟ نوع۔ اس کے ساتھ کوئی صفت ملا دو تو یہ صنف بن جائے گی۔ مثلا پاکستانی، پاکستان والے انسان بھئی، پاکستانی انسان۔ تو انسان کیا ہے؟ نوع ہے۔ ایک نوع ہے۔ اس کے ساتھ میں نے ایک عرض ملا دی کون سی؟ پاکستان والے۔ پاکستان والے ہونا عرض ہے یا ذاتی ہے؟ یہ عرض ہے، ایک صفت ہے، کوئی پاکستان والا ہو گا، کوئی ہندوستان والا ہو گا، کوئی افغانستان والا ہو گا۔ تو سب انسان ہیں۔ انسان سب کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ حقیقت تو سب کی حیوان ناطق ہے۔ لیکن عرض آپ نے ساتھ جوڑ دی کہ وہ کہاں کا ہو؟ پاکستان کا ہو۔ تو دیکھو نوع کو جب مقید کر دیا جائے کسی صفت کے ساتھ کسی عرض کے ساتھ تو اس کو صنف کہتے ہیں۔ کیا ہے یہ؟ صنف ہے۔ تو پاکستانی یا انسان پاکستانی یہ کیا ہے؟ صنف ہے۔ تو پاکستانی کیا ہوا؟ صنف ہوا۔ کہ پاکستانی سے انسان مراد لیں۔ تو یہ کیا ہوا؟ صنف۔ کیونکہ اس میں انسان بھی آ گیا اور انسان کیا ہے؟ نوع ہے۔ کیا ہے؟ نوع۔ اور یہ مقید ہے ایک صفت کے ساتھ کہ وہ انسان کہاں کا ہو؟ پاکستان کا ہو۔ تو نوع جب اس کو مقید کر دیا جائے کسی صفت کے ساتھ، کسی عرض کے ساتھ، تو اس کو صنف کہتے ہیں۔ تو پاکستانی یہ کیا ہے؟ صنف ہے۔ ہندوستانی یہ کیا ہے؟ صنف ہے۔ افغانستانی یا افغانی یہ کیا ہے؟ صنف ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صنف کسے کہتے ہیں؟ کہ نوع جو ہے وہ مقید ہو کسی عرض کے ساتھ، کسی صفت کے ساتھ۔ اور نوع کیا ہے؟ وہ تو کلی ذاتی ہے۔ وہ کیا ہے؟ کلی ذاتی۔ نوع کسے کہتے ہیں؟ آپ کو انہوں نے بتایا تھا، کہ کلی دو قسم پر ہے۔ یا وہ کلی ذاتی ہوگی یا کلی عرضی۔ کلی ذاتی جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز۔ پوری حقیقت ہو تو وہ نوع ہے، جیسے انسان۔ تو انسان نوع جو ہے یہ کلی ذاتی ہے۔ اور اس کلی ذاتی کو مقید کر دیا کس کے ساتھ؟ صفت کے ساتھ۔ تو یہ کیا بن گئی؟ صنف بن گئی۔ تو گویا صنف مرکب ہوتی ہے کلی ذاتی اور عرض سے۔ توجہ ہے؟ نوع مرکب ہوتی ہے کس سے؟ کلی ذاتی اور عرض سے۔ کلی ذاتی کیا تھی جیسے انسان، اور عرض کیا تھی؟ کہ پاکستان کا ہو۔ تو پاکستانی یہ مرکب ہے دو چیزوں سے کس سے؟ جب اسے صرف انسان مراد ہوں۔ کس سے مرکب ہے دو چیزوں سے؟ کیا؟ ایک کلی ذاتی ہے، اور ایک عرض یعنی صفت ہے۔ توجہ ہے؟ کلی ذاتی ہے اور ایک صفت ہے۔ تو اس کو صنف کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو جو چیز کلی ذاتی اور عرض سے مرکب ہو وہ عرض ہوا کرتی ہے۔ جو جو کلی ذاتی اور عرض سے مرکب ہو وہ کیا ہوتی ہے؟ عرض ہوتی ہے۔ تو معلوم ہوا صنف بھی کیا ہے؟ عرض ہے۔ توجہ ہے؟ صنف بھی کیا ہے؟ عرض ہے۔ تو آپ کو جواب دیں گے شارح کہ بھئی یہ جو ماہیت یہاں ذکر ہوئی اس ماہیت سے ہر ماہیت مراد نہیں ہے۔ بلکہ وہ ماہیت ہے جو مَا هُوَ کے جواب میں آئے۔ پھر متن پہ آؤ ذرا وَقَدْ يُقَالُ عَلَى الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ یہ جو آیا نا عَلَى الْمَاهِيَّةِ یہ جو ماہیت کا ذکر آیا اس ماہیت سے ہر ماہیت مراد نہیں، آپ نے اس سے ہر ماہیت مراد لے لی، اسی لیے زید کو بھی اس میں داخل کر دیا اور اس میں صنف یعنی پاکستانی کو بھی داخل کر دیا۔ اس سے ہر ماہیت نہیں مراد، وہ ماہیت مراد ہے جو مَا هُوَ کے جواب میں آئے۔ توجہ ہے؟ وہ ماہیت مراد ہے جو مَا هُوَ کے جواب میں آئے اور مَا هُوَ کے جواب میں کتنی چیزیں آتی تھیں؟ تین چیزیں آتی تھیں، کبھی جنس، کبھی نوع اور کبھی حد تام۔ توجہ ہے؟ کبھی جنس، کبھی نوع اور کبھی حد تام۔ تو ایسی ماہیت مراد ہے جو مَا هُوَ کے جواب میں آئے۔ لہذا زید نکل گیا کیونکہ زید وہ تو جزئی حقیقی ہے وہ کبھی بھی مَا هُوَ کے جواب میں نہیں آتا اور نیز صنف جو ہے وہ بھی نکل گئی کیونکہ وہ بھی مَا هُوَ کے جواب میں نہیں آتی۔ مَا هُوَ کے جواب میں تو صرف کلی ذاتی آتی ہے۔ توجہ ہے؟ مَا هُوَ کے جواب میں کیا آتی ہے؟ کلی ذاتی آتی ہے۔ معلوم ہوا کلی بھی ہو، ذاتی بھی ہو۔ جب کلی ہوگی تو زید نکل گیا کیونکہ زید تو کلی نہیں ہے اور کلی بھی کون سی ہو؟ ذاتی ہو یعنی ذات میں داخل ہو عین حقیقت ہو یا حقیقت کا جز تو صنف بھی نکل گئی کیونکہ صنف وہ تو ذاتی نہیں ہے وہ تو عرضی ہے بھئی۔ وہ تو عرض ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ وہ تو کلی ذاتی نہیں ہے بلکہ وہ تو عرض ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ أَيِ الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ فَلَا يَكُونُ إِلَّا كُلِّيًّا ذَاتِيًّا لِمَا تَحْتَهُ لَا جُزْئِيًّا وَلَا عَرَضِيًّا یعنی اس میں جو ماہیت کا لفظ آیا، اس سے وہ ماہیت مراد ہے الْمَقُولِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ جو مَا هُوَ کے جواب میں بولی جائے فَلَا يَكُونُ إِلَّا كُلِّيًّا ذَاتِيًّا لِمَا تَحْتَهُ پس وہ نہیں ہوگی مگر ایسی کلی ذَاتِيًّا لِمَا تَحْتَهُ جو ذاتی ہوگی ان افراد کے جو اس کے تحت ہوں۔ توجہ ہے؟ فَلَا يَكُونُ إِلَّا كُلِّيًّا پس یہ نہیں ہوگی مگر ایسی کلی ذَاتِيًّا لِمَا تَحْتَهُ جو ذاتی ہوگی ان افراد کے جو اس کے تحت ہوں لَا جُزْئِيًّا وَلَا عَرَضِيًّا نہ تو وہ جزئی ہوگی اور نہ عرضی ہوگی۔ جب جزئی نہیں تو زید نکل گیا اور جب عرضی نہیں تو صنف بھی نکل گئی۔ فَالشَّخْصُ كَزَيْدٍ وَالصِّنْفُ كَالرُّومِيِّ مَثَلًا خَارِجَانِ عَنْهَا تو شخص جیسے کہ زید اور صنف جیسے رومی، رومی روم والا جیسے پاکستانی پاکستان والا، تو شخص جیسے کہ زید اور صنف جیسے رومی ہے مثلا خَارِجَانِ عَنْهَا وہ دونوں اس ماہیت سے خارج ہیں۔ فَالنَّوْعُ الْإِضَافِيُّ دَائِمًا إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَوْعًا حَقِيقِيًّا مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ کَالْإِنْسَانِ تَحْتَ الْحَيَوَانِ وَإِمَّا جِنْسًا مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ آخَرَ کَالْحَيَوَانِ تَحْتَ الْجِسْمِ النَّامِي کہ نوع اضافی جو ہے وہ ہمیشہ إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَوْعًا حَقِيقِيًّا یا تو وہ ایسی نوع حقیقی ہوگی مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ جو داخل ہوگی کس کے تحت؟ جنس کے تحت داخل ہوگی۔ اگر اوپر جنس نہیں تو وہ نوع اضافی بھی نہیں۔ تو فَالنَّوْعُ الْإِضَافِيُّ دَائِمًا إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَوْعًا حَقِيقِيًّا مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ تو نوع اضافی وہ ہمیشہ یا تو ایسی نوع حقیقی ہوگی مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ جو کسی جنس کے تحت داخل ہوگی کَالْإِنْسَانِ تَحْتَ الْحَيَوَانِ جیسے کہ انسان ہے حیوان کے تحت وَإِمَّا جِنْسًا یا وہ ایسی جنس ہوگی، نوع اضافی ایسی جنس ہوگی مُنْدَرِجًا تَحْتَ جِنْسٍ آخَرَ جو داخل ہوگی کسی اور جنس کے تحت کَالْحَيَوَانِ تَحْتَ الْجِسْمِ النَّامِي جیسے کہ حیوان ہے جسم نامی کے تحت۔ فَفِي الْأَوَّلِ يَتَصَادَقُ النَّوْعُ الْحَقِيقِيُّ وَالْإِضَافِيُّ تو پس پہلی صورت میں نوع حقیقی اور اضافی دونوں صادق آئیں گے۔ وَفِي الثَّانِي يُوجَدُ الْإِضَافِيُّ بِدُونِ الْحَقِيقِيِّ اور دوسری صورت میں نوع اضافی پائی جائے گی بغیر نوع حقیقی کے۔ وَيَجُوزُ أَيْضًا تَحَقُّقُ الْحَقِيقِيِّ بِدُونِ الْإِضَافِيِّ اور یہ بھی جائز ہے یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ حقیقی کا تحقق ہو یعنی نوع حقیقی پائی جائے بِدُونِ الْإِضَافِيِّ بغیر نوع اضافی کے فِيمَا إِذَا كَانَ النَّوْعُ بَسِيطًا اس صورت میں جبکہ نوع بسیط ہو لَا جُزْءَ لَهُ اس کا کوئی جز نہ ہو حَتَّى يَكُونَ جِنْسًا لَهُ یہاں تک کہ جنس ہو سکے۔ اس کے لیے کوئی جز نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی جنس بھی ہو سکے۔ وَقَدْ مَثَّلَ بِالنُّقْطَةِ اور ماتن نے تحقیق اس کی مثال دی نقطہ کے ذریعے۔ وَفِيهِ مُنَاقَشَةٌ اور اس میں مناقشہ ہے۔ مناقشہ ہے۔ مناقشہ آگے ایک دو سطریں آگے ذرا دیکھیں، ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ عبارت مل گئی ایک دو سطروں کے بعد؟ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ جی؟ شارحین فرماتے ہیں کہ یہ اسی مناقشہ کی تفصیل ہے، یہاں صرف اتنا کہہ دیا ”وَفِيهِ مُنَاقَشَةٌ“ اس میں کیا ہے؟ مناقشہ یعنی بحث ہے، یا یوں کہو اس میں اعتراض ہے، آگے چل کر ایک اعتراض ذکر کیا، شارحین فرماتے ہیں کہ یہ اسی اعتراض کی تفصیل کر رہے ہیں۔ حاصل اعتراض یہ ہے، حاصل اعتراض کہ آپ کا نوع حقیقی کی مثال میں نقطے کو ذکر کرنا صحیح نہیں، یا یوں کہو آپ نے جو نقطے کی مثال ذکر کی یہ مثال صحیح نہیں ہے، انہوں نے کیا کہا؟ نقطہ نوع اضافی ہے یا نوع اضافی نہیں ہے؟ نوع اضافی نہیں ہے، یہ نوع بسیط ہے، اس کے اوپر جنس ہی نہیں ہے تو یہ نوع اضافی کہاں سے؟ تو آپ نے کیا کہا کہ نقطہ نوع اضافی نہیں ہے، تو نقطے کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں۔ نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں، حاصل اعتراض پھر سنو۔ حاصل اعتراض یہ کہ آپ نے مثال میں نقطے کو ذکر کیا، کس چیز کے لیے مثال بنایا؟ ایسی نوع حقیقی جو نوع اضافی نہیں ہے، تو آپ کی یہ مثال غلط ہے۔ تو حاصل اعتراض یہ کہ آپ کی یہ مثال صحیح نہیں، نقطے کو بطور مثال کے ذکر کرنا صحیح نہیں، نقطے کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں، یعنی ہو سکتا ہے یہ کیا ہو؟ نوع اضافی ہو، آپ نے تو کہا یہ نوع اضافی نہیں ہے، تو نقطے کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں، یہ حاصل اعتراض ہے۔ یہاں ایک تھوڑی سی تفصیل یاد رکھیں، یاد رکھیے کہ مناطقہ کی دو جماعتیں ہیں، ایک کو متقدمین کہتے ہیں اور ایک کو متاخرین، ان کا کچھ چیزوں میں اختلاف ہے، متقدمین تھے ان کی بعض چیزوں کے بارے میں ایک رائے تھی، بعد والے آئے ان کی رائے دوسری تھی، تو بعد والوں کی رائے پہلے والوں سے بعض چیزوں میں مختلف تھی تو ان کو متاخرین کہا، اور جن کی رائے اور تھی اور پہلے گزرے تھے ان کو کیا کہا؟ متقدمین کہا، کیا کہا؟ تو متقدمین مناطقہ ہیں اور کچھ متاخرین مناطقہ ہیں، ان میں اختلاف ہے نوع بسیط کے بارے میں، کس کے بارے میں؟ متقدمین نوع بسیط کو تسلیم نہیں کرتے، کوئی نوع بسیط نہیں ہے، یعنی کوئی ایسی نوع نہیں ہے جس کے اوپر جنس نہ ہو، توجہ ہے؟ جبکہ متاخرین کہتے ہیں ایسی نوع ممکن ہے جس کے اوپر کوئی جنس نہ ہو اور اس کی مثال میں وہ یہ نقطہ ذکر کرتے ہیں، توجہ ہے؟ تو یہاں اختلاف ہے مناطقہ کا، متقدمین کا اور متاخرین کا، متقدمین مناطقہ کیا کہتے ہیں؟ نوع بسیط کا کوئی وجود نہیں، معلوم ہوا جو بھی نوع ہوگی اس کے اوپر جنس ضرور ہوگی، اور جس چیز کے اوپر بھی جنس ہو وہ کیا ہوتی ہے؟ وہ نوع اضافی ہوتی ہے، معلوم ہوا جو بھی نوع حقیقی ہوگی وہ ہمیشہ نوع اضافی ضرور ہوگی۔ آپ نے تو کیا کہا؟ ایسی نوع حقیقی ایسی نوع بسیط ہو سکتی ہے جس کے اوپر جنس نہ ہو، چنانچہ آپ نے کہا، متاخرین نے کہا ان میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے، جبکہ متقدمین کہتے ہیں کہ نوع حقیقی اور نوع اضافی کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، جیسے انسان اور حیوان میں۔ کوئی انسان ایسا ہو ہی نہیں سکتا جو حیوان نہ ہو، توجہ ہے؟ متقدمین بھی کہتے ہیں ایسی کوئی نوع حقیقی ہو ہی نہیں سکتی جس کے اوپر جنس نہ ہو، تو ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے، اسی طرح ہر نوع حقیقی ہمیشہ کیا ہوگی؟ نوع اضافی ہوگی۔ نوع اضافی عام ہے، وہ نوع حقیقی پر بھی بولا جاتا ہے اور جنس پر بھی، توجہ ہے؟ نوع اضافی میں کون کون داخل تھے؟ نوع حقیقی بھی اور جنس بھی۔ تو نوع اضافی عام ہے، وہ نوع حقیقی کو بھی شامل اور جنس کو بھی شامل ہے، اور نوع حقیقی خاص ہوا، تو ان دونوں میں نسبت کیا؟ عموم و خصوص مطلق کی، جو بھی نوع حقیقی ہوگی وہ نوع اضافی ضرور ہوگی، لیکن جو بھی نوع اضافی ہو اس کا نوع حقیقی ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو متقدمین فرماتے ہیں کہ نوع حقیقی اور نوع اضافی میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے کیونکہ کوئی ایسی نوع حقیقی نہیں ہو سکتی جس کے اوپر جنس نہ ہو، یعنی نوع بسیط ممکن ہی نہیں ہے، جبکہ متاخرین کہتے ہیں کہ ایسی نوع کا ہونا ممکن ہے کہ جس کے اوپر کوئی جنس نہ ہو، چنانچہ جب اس کے اوپر جنس نہیں ہوگی وہ نوع حقیقی تو ہوگی لیکن نوع اضافی نہیں ہوگی، تو دیکھو نوع حقیقی بغیر نوع اضافی کے پائی گئی۔ نوع اضافی بغیر نوع حقیقی کے ہو سکتی ہے، جیسے حیوان، حیوان نوع اضافی تو ہے لیکن نوع حقیقی نہیں، اسی طرح نوع حقیقی بھی بغیر نوع اضافی کے ہو سکتی ہے جیسے نقطہ، نوع حقیقی تو ہے لیکن نوع اضافی نہیں، تو دیکھا؟ ان میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے کہ دو چیزیں ان کے جمع ہونے کو بھی عقل جائز قرار دے اور دونوں کے الگ الگ ہونے کو بھی جائز قرار دے، اسی کا نام تو عموم و خصوص من وجہ ہے۔ دونوں اکٹھی بھی ہو سکیں جیسے انسان، نوع حقیقی بھی ہے اور نوع اضافی بھی ہے، دونوں الگ الگ بھی ہو سکیں، ایک چیز نوع اضافی ہو نوع حقیقی نہ ہو جیسے حیوان، وہ تو جنس ہے وہ تو نوع حقیقی نہیں ہے، اس کے افراد کی حقیقتیں تو مختلف ہیں، نوع حقیقی کے افراد کی حقیقتیں تو کیا ہوتی ہیں؟ متفق ہوتی ہیں۔ تو نوع اضافی بغیر نوع حقیقی کے ہو سکتی ہے جیسے انسان، اور نوع حقیقی بھی بغیر نوع اضافی کے ہو سکتی ہے جیسے نقطہ، یہ نوع حقیقی تو ہے لیکن نوع اضافی نہیں کیونکہ اس کے اوپر جنس نہیں، اختلاف سمجھ میں آگیا؟ متقدمین اور متاخرین مناطقہ میں اختلاف ہے، متقدمین نوع بسیط کو نہیں مانتے تو نوع حقیقی اور نوع اضافی میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت مانتے ہیں، اور متاخرین نوع بسیط کو مانتے ہیں تو نوع حقیقی اور نوع اضافی کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ پھر اس میں ایک اور بات یاد رکھیں، انہوں نے ذکر کیا نقطہ، نقطہ، خط اور سطح، توجہ ہے؟ نقطہ، خط اور سطح۔ نقطہ جو نہ لمبائی، نہ چوڑائی اور نہ گہرائی میں تقسیم کو قبول کرے، یعنی کسی طرف بھی تقسیم کو قبول نہ کرے، اور خط جو صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کرے، اور سطح جو صرف لمبائی اور چوڑائی میں تقسیم کو قبول کرے۔ خود ان کے اندر اختلاف ہے، حکماء ان کو مانتے ہیں، ان کو ثابت کرتے ہیں، حکماء یعنی فلاسفہ۔ فلاسفہ کیا کہتے ہیں؟ نقطہ، خط اور سطح ان کا وجود ہے، یہ کیا ہیں؟ ان کو ثابت کرتے ہیں، ان کو مانتے ہیں، تسلیم کرتے ہیں، جبکہ متکلمین جو ہیں، متکلمین یعنی وہ علمائے اسلام جو علم کلام کے ماہر ہوں، علمائے اسلام جو علم کلام کے بھی ماہر ہوتے تھے، علم کلام کہتے ہیں جس میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے۔ ایک ہے ہمارا عمل، ایک ہے ہمارا عقیدہ، عمل اور چیز ہے عقیدہ اور چیز ہے، عقیدے میں کچھ کرنا نہیں پڑتا بس صرف ذہن میں ایک عقیدہ بنانا پڑتا ہے، ایک بات کو ماننا پڑتا ہے، جیسے اللہ ایک ہے، ہمیں کچھ کرنا نہیں پڑا صرف ماننا ہے کہ اللہ ایک ہے، مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، ہمیں کچھ کرنا نہیں پڑا بلکہ صرف یہ ماننا پڑتا ہے تو یہ عقیدہ ہے، جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، فرشتے ہیں، قیامت قائم ہوگی، یہ سب کیا ہیں؟ عقیدے ہیں بھئی، اور ایک ہے عمل، نماز کیسے پڑھنی ہے، روزہ کیسے رکھنا ہے اور وضو کیسے کرنا ہے؟ تو یہ جو عمل ہے اس کی بحث ہوتی ہے علم فقہ میں، کس میں؟ علم فقہ میں، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ جو عمل ہیں ان کی بحث کس میں ہے؟ علم فقہ میں، اور یہ جو عقیدے کی بحث ہے یہ علم کلام میں ہوتی ہے، اس علم کا کیا نام ہے؟ علم کلام، اور اس علم کے جو ماہرین ہوں ان کو کیا کہتے ہیں؟ متکلمین، اور یہ جو متکلمین تھے یہ فلسفے کے بھی بہت بڑے ماہر تھے بھئی، چنانچہ علم کلام کی پرانی کتابیں اٹھائیں تو وہ بھری ہوئی ہیں فلسفے کی بحثوں سے۔ تو یہ جو متکلمین ہیں یہ نقطہ، خط اور سطح ان کا انکار کرتے ہیں، ان کو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ کوئی چیز نہیں ہے، تو فلاسفہ نقطہ، خط اور سطح کو کیا کرتے ہیں؟ تسلیم کرتے ہیں، نقطہ، خط اور سطح کو تسلیم کرتے ہیں اور متکلمین ان کا انکار کرتے ہیں، ان کو تسلیم ہی نہیں کرتے، فلاسفہ اور متکلمین کا اختلاف سمجھ میں آیا؟ متقدمین اور متاخرین کا اختلاف سمجھ میں آیا؟ فلاسفہ نقطہ، سطح اور خط کو تسلیم کرتے ہیں اور متکلمین اس کا انکار کرتے ہیں۔ اب انہوں نے کہا ”وَفِيهِ مُنَاقَشَةٌ“ اس میں کیا ہے؟ مناقشہ ہے، اعتراض کیا ہوا میں نے آپ کو بتا دیا، کیا اعتراض؟ کہ آپ کا نقطے کو بطور مثال کے ذکر کرنا صحیح نہیں، نقطے کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں، ہو سکتا ہے نقطہ کیا ہو؟ نوع اضافی ہو۔ توجہ ہے؟ یہ آپ نے ذہن میں رکھنا ہے پھر ہی آپ کو بحث سمجھ میں آئے گی، حاصل اعتراض کیا؟ کہ نقطے کا نوع اضافی نہ ہونا، آپ نے کہا نقطہ نوع اضافی نہیں ہے، اس کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں، یہ آگے ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ میں اسی کو بیان کریں گے، ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ میں، تو یہ ہے مناقشہ۔ عام شارحین نے یہی کہا یہ مناقشہ ہے، توجہ ہے؟ لیکن یہاں مناقشہ تین طرح ہو سکتا ہے، یعنی اعتراض تین طرح سے ہو سکتا ہے، کتنی طرح سے؟ تین طرح سے۔ نمبر ایک، آپ نے مثال میں کس کو ذکر کیا؟ نقطے کو، آپ کی یہ مثال درست نہیں کیونکہ ہم نقطے کو تسلیم ہی نہیں کرتے، ہم نقطے کو، کون کہہ سکتے ہیں؟ متکلمین کہہ سکتے ہیں، تو آپ کی یہ مثال درست نہیں، تو اس میں نقطے کے سرے سے انکار یہ اعتراض کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ دوسری صورت، آپ نے نوع حقیقی کی مثال میں کس کو ذکر کیا؟ نقطے کو، نقطے کا نوع حقیقی ہونا ہمیں تسلیم نہیں، نقطے کا، نوع حقیقی کسے کہتے ہیں؟ جس کے افراد کی حقیقتیں ایک ہوں، توجہ ہے؟ جس کے افراد کی حقیقتیں ایک ہوں، ہو سکتا ہے نقطے کے افراد کی حقیقتیں ایک دوسرے سے الگ ہوں، ممکن ہے کہ نہیں؟ یہ دوسری صورت ہے مناقشے کی، اور تیسری صورت وہی جو میں نے بیان کر دی کہ آپ نے کیا کہا؟ نقطہ نوع اضافی نہیں ہے، نقطے کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں، مناقشے کی تین صورتیں سمجھ میں آگئیں؟ کیا؟ پہلی صورت یہ مناقشہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے نقطے کو مثال میں ذکر کیا ہمیں نقطہ تسلیم ہی نہیں، نقطہ ہے ہی کوئی چیز نہیں، دوسری صورت آپ نے نقطہ کس کی مثال میں ذکر کیا؟ نوع حقیقی، تو ہمیں اس کا نوع حقیقی ہونا تسلیم نہیں، ہو سکتا ہے اس کے افراد کی حقیقتیں کیا ہوں؟ مختلف ہوں، اور تیسرا مناقشہ کیا ہو سکتا ہے؟ آپ نے کہا یہ نوع اضافی نہیں، اس کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ ہاں، اور اسی تیسری کو وہ آگے شرح میں یہ اعتراض ذکر کریں گے، لیکن صورتیں تین ہی بنتی ہیں مناقشے کی، تینوں سمجھ میں آگئیں؟ پہلا کیا؟ کہ آپ نے نقطے کو مثال میں ذکر کیا ہمیں نقطے کا وجود ہی تسلیم نہیں، دوسری بات آپ نے یہ کہی کہ یہ کیا ہے؟ نوع حقیقی، اس کا ہمیں نوع حقیقی ہونا تسلیم نہیں، تیسری بات آپ نے کی یہ نوع اضافی نہیں ہے، اس کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ جی، آگے ابھی تفصیل آجائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِيهِ مُنَاقَشَةٌ“ اور اس میں مناقشہ یعنی اعتراض ہے، یا یوں کہو اس میں بحث ہے، ”وَبِالْجُمْلَةِ فَالنِّسْبَةُ بَيْنَهُمَا الْعُمُومُ مِنْ وَجْهٍ“ بالجملہ حاصل کلام یہ، بالجملہ کا کیا معنی؟ حاصل کلام یہ ”فَالنِّسْبَةُ بَيْنَهُمَا“ کہ ان دونوں کے درمیان جو نسبت ہے وہ عموم من وجہ کی ہے، کن دو کے درمیان؟ نوع حقیقی اور نوع اضافی کے درمیان۔ ”قَوْلُهُ: وَالنُّقْطَةِ“ مصنف کا قول ”وَالنُّقْطَةِ“ بھئی، کہتے ہیں ”النُّقْطَةُ طَرَفُ الْخَطِّ“ نقطہ کس کا نام ہے؟ خط کی طرف کا، خط کے کنارے کا، ”وَالْخَطُّ طَرَفُ السَّطْحِ“ اور خط جو ہے وہ سطح کی طرف یعنی سطح کے کنارے کو کہتے ہیں، ”وَالسَّطْحُ طَرَفُ الْجِسْمِ“ اور سطح جو ہے وہ طرف الجسم جسم کی طرف ہے، جسم کا کنارہ ہے، ”فَالسَّطْحُ غَيْرُ مُنْقَسِمٍ فِي الْعُمْقِ“ عمق کہتے ہیں گہرائی کو، ”فَالسَّطْحُ غَيْرُ مُنْقَسِمٍ فِي الْعُمْقِ“ سطح جو ہے وہ گہرائی میں تقسیم نہیں ہوتی، ”وَالْخَطُّ غَيْرُ مُنْقَسِمٍ فِي الْعَرْضِ“ اور خط جو ہے وہ تقسیم نہیں ہوتا ”فِي الْعَرْضِ“ کس میں؟ چوڑائی میں۔ ایک ہے عَرَض، ایک ہے عَرْض، عَرَض میں را پر فتحہ ہے اور وہ صفت کو کہتے ہیں، اور یہ عَرْض را ساکن ہو تو یہ چوڑائی کو کہتے ہیں، تو کہتے ہیں ”وَالْخَطُّ غَيْرُ مُنْقَسِمٍ فِي الْعَرْضِ“ اور خط جو ہے وہ تقسیم نہیں ہوتا چوڑائی میں ”وَالْعُمْقِ“ اور گہرائی، خط جو ہے وہ ”غَيْرُ مُنْقَسِمٍ فِي الْعَرْضِ وَالْعُمْقِ“ خط چوڑائی اور گہرائی میں تقسیم نہیں ہوتا، یعنی صرف لمبائی میں تقسیم ہوتا ہے، ”وَالنُّقْطَةُ غَيْرُ مُنْقَسِمَةٍ فِي الطُّولِ وَالْعَرْضِ وَالْعُمْقِ“ اور نقطہ وہ تقسیم نہیں ہوتا لمبائی میں اور چوڑائی میں اور گہرائی میں، نقطہ کسی طرح بھی تقسیم نہیں ہوتا۔ ”فَهِيَ عَرَضٌ لَا يَقْبَلُ الْقِسْمَةَ أَصْلًا“ پس یہ ایسی عرض ہے، میں نے کیا بتایا تھا؟ نقطہ جوہر ہے یا عرض ہے؟ عرض ہے، صفت ہے، اسی طرح خط بھی عرض ہے، اسی طرح سطح بھی عرض ہے اور جسم تعلیمی بھی عرض ہے، تو کہتے ہیں ”فَهِيَ عَرَضٌ لَا يَقْبَلُ الْقِسْمَةَ أَصْلًا“ پس یہ ایسی صفت ہے ”لَا يَقْبَلُ الْقِسْمَةَ“ جو تقسیم کو قبول نہیں کرتا ”أَصْلًا“ اَی قطعا، جو قطعی طور پر تقسیم کو قبول نہیں کرتا، نہ لمبائی میں، نہ چوڑائی میں اور نہ گہرائی میں، ”وَإِذَا لَمْ تَقْبَلِ الْقِسْمَةَ“ اور جب یہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا اصلاً سرے سے ہی، ”لَمْ يَكُنْ لَهَا جُزْءٌ“ تو اس کا کوئی جز بھی نہیں ہوگا، جب تقسیم نہیں ہو سکتا تو جز کہاں سے؟ ”فَلَا يَكُونُ لَهَا جِنْسٌ“ تو اس کے لیے جنس بھی نہیں ہوگی، توجہ ہے؟ جب اس کے لیے جز نہیں تو اس کے لیے جنس بھی نہیں ہے، ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ اور اس میں کیا ہے؟ نظر، یہ جو آپ نے کہا کہ نقطے کے لیے جز نہیں، جب جز نہیں تو اس کے لیے جنس نہیں، اس آپ کے اس قول میں نظر ہے، آپ کے اس قول میں نظر ہے یعنی اعتراض ہے، یعنی آپ کے اس قول میں غور و فکر کی گنجائش موجود ہے، کوئی معترض اعتراض کر سکتا ہے جیسے یہ اعتراض آگے کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ اور اس میں اعتراض ہے ”فَإِنَّ هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا جُزْءَ لَهَا فِي الْخَارِجِ“۔ اعتراض سمجھ لیں بھئی، اعتراض یہ کریں گے کہ آپ نے ہمیں کیا کہا؟ توجہ سے سننا بھئی، آپ نے ہمیں کیا کہا؟ نقطہ کسے کہتے ہیں؟ جو لمبائی، چوڑائی اور گہرائی کسی طرح بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتا، اس سے معلوم ہوا کہ نقطے کا خارج میں کوئی جز نہیں، توجہ ہے؟ اس سے تو زیادہ سے زیادہ یہ بات ثابت ہوئی کہ خارج میں نقطے کا جز نہیں کیونکہ وہ تقسیم نہیں ہو سکتا، تقسیم ہوگا تو خارج میں اس کے دو جز ہو جائیں گے، یا اور تقسیم ہوگا تو چار ہو جائیں گے یا پانچ ہو جائیں گے، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ جب وہ تقسیم ہی نہیں ہوتا خارج میں نہ لمبائی میں، نہ گہرائی میں اور نہ چوڑائی میں، تو معلوم ہوا اس کا خارج میں کوئی جز نہیں، لیکن خارج میں جز ہونے کا یہ معنی نہیں کہ ذہن میں بھی جز نہ ہو، ذہن میں تو جز ہو سکتا ہے ایک چیز کا، خارج میں جز نہ ہو لیکن ذہن میں جز ہو، یہ جنس اور فصل یہ خارجی اجزاء تو نہیں ہیں، یہ تو ذہنی اجزاء ہیں، عقلی اجزاء ہیں بھئی۔ انسان مرکب ہے کس سے؟ حیوان ناطق سے، یہ حیوان اور ناطق یہ خارج میں اجزاء نہیں ہیں بلکہ کس میں ہیں؟ ذہن میں ہیں، تو یہ جو جنس ہوتی ہے یہ جز ہوتی ہے خارج میں نہیں بلکہ ذہن میں، تو ایک چیز کے خارج میں اجزاء نہ ہوں تو اس سے ذہن میں جز کا نہ ہونا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے ذہن میں پھر بھی جز ہو، جب جز ہوگا تو جنس بھی ہوگی اور فصل بھی ہوگی، جب جنس ہوگی تو یہ کیا بن جائے گا؟ نوع اضافی بن جائے گا کیونکہ جز خارجی اور جز ذہنی الگ الگ چیزیں ہیں، توجہ ہے؟ اعتراض ہو رہا ہے کیا؟ کہ آپ نے جو کہا کہ نقطہ نہ لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے نہ چوڑائی میں اور نہ گہرائی میں، اس سے تو زیادہ سے زیادہ یہ پتہ چلا کہ خارج میں اس کے اجزاء نہیں ہیں، لیکن عقل میں تو پھر بھی اس کے اجزاء ہو سکتے ہیں کیونکہ ایک ہے جز خارجی، ایک ہے جز عقلی، دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، تو خارج میں جز ہونے کے ساتھ لازم نہیں ہے کہ ذہن میں بھی جز نہ ہو، دیکھو، دیکھو مثال دیکھو۔ آپ چائے بناتے ہیں، چائے میں کیا کیا شامل کرتے ہیں؟ دودھ بھی، کچھ پانی بھی، کچھ پتی اور کچھ چینی، یہ چار چیزوں سے مل کر چائے بنتی ہے، دودھ، پانی، چینی اور پتی، یہ چار چیزیں یا چلو اگر پانی کو نکال بھی دیں دودھ، چینی اور پتی، ان تین چیزوں سے ملا کر آپ نے چائے بنائی، تو اس کے اجزائے خارجی کیا ہیں؟ یاد رکھو، یاد رکھو، جز خارجی جو ہوتا ہے وہ خارج میں الگ سے موجود ہوتا ہے اور اس کا حمل کل پر نہیں ہو سکتا، توجہ ہے؟ جز خارجی خارج میں الگ سے موجود ہوتا ہے اور اس کا حمل کل پر نہیں ہو سکتا، اب دیکھو یہ جو چائے مرکب تھی کتنی چیزوں سے؟ دودھ، چینی اور پتی، یہ اس کے اجزاء کیا ہیں؟ دودھ، چینی اور پتی، یہ خارج میں الگ الگ موجود ہیں، دودھ الگ ہے، چینی الگ ہے، پتی الگ ہے، اور ان کا حمل کل یعنی چائے پر نہیں ہو سکتا، یہ جز ہیں اور کل کیا ہے؟ چائے۔ مثلاً میں یہ نہیں کہہ سکتا چائے دودھ ہے، دودھ کا حمل کر رہا ہوں کس پر؟ چائے پر، چائے کو میں نے موضوع بنایا اور دودھ کو کیا بنایا؟ محمول، یعنی ایک کو مبتدا بنایا دوسرے کو خبر، کل کو بناؤ مبتدا اور جز کو بناؤ اس کی خبر، مبتدا کس کو بنائیں گے؟ چائے، اور اس کا کوئی ایک جز لے آؤ، دودھ، چائے دودھ ہے، کیا یہ کہنا صحیح ہے؟ نہیں، چائے پتی ہے، یہ کہنا بھی صحیح نہیں، چائے چینی ہے، دیکھو چینی کا حمل بھی چائے پر صحیح نہیں، تو جز خارجی کس کو کہتے ہیں؟ جس کا خارج میں الگ وجود ہو کل کے علاوہ اس کا الگ وجود ہو اور کل پر اس کا حمل بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ جز ذہنی، جز ذہنی وہ ہے جو عقل میں ہوتا ہے، جو کہاں ہوتا ہے؟ جو عقل میں کسی چیز کی ماہیت میں داخل ہوتا ہے، جز ذہنی وہ ہے جو ذہن میں ایک ماہیت کے اندر داخل ہوتا ہے، ماہیت میں داخل ہوگا تبھی جز ہوگا نا، ویسے تو جز نہیں ہوگا، تو جز عقلی کیا ہے؟ جو عقل میں ایک ماہیت کے اندر داخل ہے اس کا جز ہے اور اس ماہیت کے بغیر وہ نہیں پایا جاتا، اس ماہیت کے بغیر وہ نہیں پایا جاتا۔ جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق، یہ حیوان یہ ایک جز ذہنی ہے، عقلی ہے، اور یہ انسان کی ماہیت میں داخل ہے اور یہ اس ماہیت کے بغیر نہیں پایا جاتا، آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ صرف حیوان الگ ہو؟ صرف کیا ہو؟ صرف حیوان ہو ناطق نہ ہو، نہیں، صرف حیوان الگ نہیں ہوتا، آپ کہیں گے فرس تو ہے، نہیں بھئی وہ بھی نہیں، اس کے ساتھ بھی صاہل جڑا ہوا ہے یا نہیں جڑا ہوا؟ صرف مجھے حیوان دکھاؤ جو جس کے ساتھ کوئی فصل جڑی ہوئی نہ ہو، اکیلا حیوان نہیں ہے بھئی، اکیلا حیوان نہیں، اس ماہیت سے وجوداً نہیں ہو سکتا، اکیلا نہیں ہو سکتا، جدا یعنی اکیلا نہیں ہو سکتا، اور اسی طرح دوسرا جز کیا ہے انسان کا؟ ناطق، یہ ناطق بھی انسان سے علیحدہ نہیں ہو سکتا، انسان کی پوری حقیقت کیا؟ حیوان ناطق، تو کیا ناطق بغیر انسان کے ہو سکتا ہے؟ انسان کے دو جز ہیں، ایک حیوان اور ایک ناطق، کیا یہ حیوان انسان کے بغیر اکیلا ہو سکتا ہے؟ اکیلا نہیں ہو سکتا، اسی طرح دوسرا جز ہے ناطق، کیا ناطق انسان کے بغیر اکیلا ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا، توجہ ہے؟ جز خارجی جو کسی ماہیت میں خارج میں داخل ہوتا ہے اور اس سے الگ ہو سکتا ہے، توجہ ہے؟ جز خارجی جو خارج میں کسی ماہیت کا جز ہوتا ہے اور اس سے الگ ہو سکتا ہے، الگ پایا جاتا ہے بھئی، الگ پایا جاتا ہے، اور جز ذہنی وہ ہے جو ذہن میں کسی ماہیت کے اندر داخل ہوتا ہے اور اس سے علیحدہ نہیں ہو سکتا، جیسے انسان کا جز کیا؟ حیوان اور ناطق، یہ حیوان انسان سے علیحدہ نہیں، بالکل اکیلا حیوان ہو اس کے ساتھ صاہل، ناہق وغیرہ کوئی چیز نہ ہو ایسا نہیں، اسی طرح صرف ناطق انسان سے علیحدہ ہو جائے ایسا نہیں ہے، توجہ ہے؟ پھر دہرائیں۔ خارج میں جو جز ہوگا وہ کل سے علیحدہ پایا جاتا ہے، خارج میں جو جز ہوتا ہے وہ کل سے علیحدہ پایا جاتا ہے اور کل پر اس کا حمل بھی صحیح نہیں ہوتا، جیسے چائے کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے چائے دودھ ہے، دیکھو جز کا حمل کس پر کر رہے ہیں؟ کل پر، یہ درست نہیں، جبکہ جز ذہنی جو ہے وہ ہوتا ہے جو کسی ماہیت میں ذہن میں داخل ہے اور اس سے الگ نہیں ہو سکتا اور اس کا حمل بھی اس پر صحیح ہوتا ہے، اس کا حمل بھی، دیکھو انسان کے دو جز ہیں، کیا؟ حیوان، تو انسان کو مبتدا بناؤ اور ایک ایک جز کو باری باری خبر بناؤ، اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ صحیح ہے غلط ہے؟ صحیح ہے، دوسرا اَلْإِنْسَانُ نَاطِقٌ یہ بھی کیا ہے؟ صحیح ہے، دیکھا؟ جز کا حمل کل پر ہو رہا ہے، کل کو آپ نے مبتدا بنایا اور جز کو اس کی خبر، اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ اور اَلْإِنْسَانُ نَاطِقٌ تو دیکھو دونوں میں فرق آگیا، جز خارجی کا حمل کل پر نہیں ہو سکتا اور جز ذہنی کا حمل کل پر ہو سکتا ہے، فرق سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا جز خارجی اور چیز ہے جز ذہنی اور چیز ہے، خارج میں جز نہ ہونے کا یہ معنی نہیں کہ ذہن میں بھی جز نہ ہو کیونکہ جز خارجی اور چیز ہے جز ذہنی اور چیز ہے، خارج والا جز اور ذہن والا جز اور، خارج میں آپ نے جز کی نفی کر دی کہ نقطے کا کوئی جز نہیں اس سے یہ ضروری نہیں کہ ذہن میں بھی اس کا جز نہ ہو، ذہن میں اس کا جز ہو سکتا ہے کیونکہ وہ الگ چیز ہے، فرق سمجھ میں آیا؟ دیکھیے کہتے ہیں ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ اور اس قول کے اندر نظر ہے ”فَإِنَّ هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا جُزْءَ لَهَا فِي الْخَارِجِ“ کیونکہ یہ تو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نقطے کا خارج میں کوئی جز نہیں، آپ کی یہ بات زیادہ سے زیادہ کس بات پر دلالت کرتی ہے؟ کہ نقطے کا خارج میں کوئی جز نہیں، ”وَالْجِنْسُ لَيْسَ جُزْءًا خَارِجِيًّا“ اور حال یہ ہے کہ جنس جو ہے وہ تو جز خارجی نہیں ہے، ”بَلْ هُوَ مِنَ الْأَجْزَاءِ الْعَقْلِيَّةِ“ بلکہ وہ تو کس میں سے ہے؟ اجزائے عقلیہ میں سے ہے، اور اجزائے عقلیہ وہی اجزائے خارجیہ ہوتے ہیں یا الگ ہوتے ہیں؟ وہ الگ ہیں اور چیز ہیں، تو خارج میں جز کی نفی سے ذہن میں جز کی نفی نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں ”بَلْ هُوَ مِنَ الْأَجْزَاءِ الْعَقْلِيَّةِ“ بلکہ یہ اجزائے عقلیہ میں سے ہے ”فَجَازَ أَنْ يَكُونَ لِلنُّقْطَةِ جُزْءٌ عَقْلِيٌّ“ تو جائز ہے کہ نقطے کے لیے کوئی جز عقلی ہو ”وَهُوَ جِنْسٌ لَهَا“ اور وہ اس کے لیے جنس، کیونکہ جس چیز کا جز ہوگا اس کے اوپر کیا ہوگی؟ جنس، تو کہتے ہیں ہو سکتا ہے کہ نقطے کے لیے کوئی جز عقلی ہو ”وَهُوَ جِنْسٌ لَهَا“ اور وہ اس کے لیے جنس ہو ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جُزْءٌ فِي الْخَارِجِ“ اگرچہ خارج میں اس کے لیے کوئی جز نہیں ہے، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اعتراض سمجھ میں آگیا؟ یعنی آپ نے نقطے کو جو مثال میں پیش کیا اور آپ نے کیا کہا کہ نقطے کے لیے جز نہیں، جب جز نہیں تو اس کے اوپر جنس بھی نہیں، تو جواب دیا کہ بھئی یہ جنس اور فصل یہ جز خارجی نہیں ہے یہ جز ذہنی ہے، تو خارج میں جز نہ ہونے سے لازم نہیں کہ ذہن میں بھی جز نہ ہو، ہو سکتا ہے ذہن میں اس کے لیے کوئی جز ہو، جب جز ہوگا تو اس کے لیے جنس ہوگی، جب جنس ہوگی تو پھر یہ نقطہ کیا بن جائے گا؟ نوع اضافی ہوگا، آپ نے تو کہا تھا یہ نوع اضافی نہیں ہے لیکن ہمیں یہ تسلیم نہیں، ہو سکتا ہے اس کے لیے جز ذہنی بھی ہو اور جنس بھی ہو تو یہ کیا ہوگا؟ نوع اضافی ہوگا، اعتراض سمجھ میں آیا؟ اب جواب سمجھ لو بھئی جواب، جواب یہ کہ آپ نے کہا جز خارجی اور جز ذہنی الگ الگ چیزیں ہیں، یہ آپ کی بات درست نہیں ہے، جز خارجی اور جز ذہنی ایک ہی چیز ہے البتہ ان میں فرق صرف اعتباری ہے، اعتباری وہ چیز جس کا آپ اعتبار کرتے ہیں تو ہے، آپ اعتبار نہیں کرتے تو وہ نہیں ہے، جیسے اس تپائی کی لمبائی ناپیں، دائیں طرف سے ناپیں تو یہ پانچ فٹ اور بائیں طرف سے ناپیں تو یہ بھی پانچ فٹ، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ لیکن صرف آپ کے اعتبار کا فرق ہے، ایک نے اعتبار کیا کس طرف سے ناپنے کا؟ دائیں طرف سے، ایک نے اعتبار کس طرف سے کیا؟ بائیں طرف سے، مثلاً آپ نے طلباء سے پوچھا اس تپائی کی لمبائی کیا ہے؟ ایک نے کہا دائیں طرف سے ناپیں تو پانچ فٹ ہے، دوسرے نے کہا جی بائیں طرف سے ناپیں تو اس کی لمبائی کتنی ہے؟ پانچ فٹ ہے، تو یہ صرف انہوں نے اعتبار کیا ہے، تپائی کی لمبائی پانچ فٹ ہے چاہے دائیں طرف سے ناپیں چاہے بائیں طرف سے ناپیں، تو اعتباری چیز وہ ہوتی ہے جو معتبر کے اعتبار پر موقوف ہو، وہ اعتبار کرے تو وہ ہے اعتبار نہ کرے تو وہ نہیں ہے، تو جواب دیں گے کہ بھئی دیکھیے آپ نے کہا جز خارجی اور جز عقلی الگ الگ چیزیں ہیں حالانکہ جز خارجی اور جز عقلی الگ الگ چیزیں نہیں، دلیل سے یہ بات یعنی کتابوں کے اندر دلیل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جز عقلی اور جز خارجی ایک ہی چیز ہیں البتہ فرق صرف اعتباری ہے، فرق صرف اعتباری ہے۔ جیسے ایک طالب علم نے کہا اس طرف سے ناپیں تو یہ کتنی ہے؟ پانچ فٹ، دوسرے نے کہا اس طرف سے ناپیں تو کتنی ہے؟ پانچ فٹ، تو یہ صرف اعتبار کا فرق تھا، بات ایک ہی ہے، تپائی کی لمبائی کتنی ہے؟ پانچ فٹ ہے، تو یہاں پر بھی یہ جز خارجی اور جز عقلی میں جو فرق آپ نے ذکر کیا وہ حقیقت میں نہیں ہے بلکہ صرف اعتباری ہے، دونوں میں اعتباری فرق ہے واقع میں ان میں کوئی فرق نہیں ہے، آپ کا یہ کہنا کہ جز خارجی اور جز عقلی الگ الگ چیزیں ہیں یہ درست نہیں، جز خارجی اور جز عقلی ایک ہی چیز ہیں، ان میں تغایر صرف اعتباری ہے جو معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے۔ تفصیل یاد رکھو کہ یہ جو چیزیں ہیں ایک ہے ان کا مادہ اور ایک ہے ان کی صورت، جو خارج میں چیزیں ہیں ان کا ایک ہے ان کا مادہ یعنی میٹیریل جس سے یہ بنی ہیں اور ایک ان کی صورت، یہ جو مادہ ہے اس کو ہیولیٰ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ہیولیٰ کہتے ہیں، علمائے منطق کہتے ہیں کہ اس عالم مادی کی تمام چیزیں جو ہیں ان کا مادہ اور میٹیریل جو ہے وہ ہیولیٰ ہے، ہیولیٰ یعنی ان کا مادہ ہے اور اس کی کوئی خاص شکل و صورت نہیں ہے، یہ ہر طرح کی شکل و صورت قبول کر لیتا ہے، تو ہر طرح کی شکل و صورت قبول کر لیتا ہے اس کو مادہ کہتے ہیں یا اس کا نام ہیولیٰ ہے بھئی، اور ایک ہے اس کی صورت بھئی صورت، دیکھو مادے کے لیے کوئی نہ کوئی صورت چاہیے، اس کو صورت جسمیہ کہتے ہیں، صورت جسمیہ یعنی اس کی جو صورت ہو، اور یہ بھی یاد رکھنا یہ جو مادہ ہے یہ بھی جوہر ہے اور یہ جو صورت جسمیہ ہے یہ بھی جوہر ہے عرض نہیں ہے، عرض نہیں۔ دیکھو مادے کے لیے کوئی نہ کوئی صورت ضرور چاہیے بغیر صورت کے مادہ ہو ہی نہیں سکتا، آپ کوئی چیز لا کر زمین پر ڈال دیں، کوئی نہ کوئی صورت ہوگی یا نہیں اس کی؟ کہ بغیر صورت کے ہے؟ ڈھیر لگ گیا یا گول ہو گئی یا چوکھور ہو گئی، جو بھی صورت ہوئی کوئی نہ کوئی تو صورت ہے، بغیر صورت کے مادہ ہو سکتا ہے؟ کوئی نہ کوئی صورت تو ہوگی چاہے ٹیڑھی میڑھی صورت ہو، کسی طرح صورت تو ضرور چاہیے، تو ہر مادے کے لیے کیا چاہیے؟ صورت ضرور چاہیے، اور اس صورت کے لیے مادہ ضرور چاہیے، یہ صورت بغیر مادے کے نہیں ہو سکتی، تو مادہ محتاج ہوا کس کا؟ صورت جسمیہ کا، اور صورت جسمیہ محتاج ہوئی کس کی؟ مادے کی، تو کائنات میں یہ جو مادی اجسام ہیں علمائے منطق فرماتے ہیں، علمائے فلسفہ فرماتے ہیں ان ساروں کا وجود کس سے بنا ہے؟ ہیولیٰ سے، ان کا مادہ کیا ہے؟ ہیولیٰ ہے، تو ایک ہے ہیولیٰ اور ایک ہے اس کی صورت جسمیہ، یہ ہیولیٰ بھی کیا ہے؟ جوہر ہے، اور یہ صورت جسمیہ بھی کیا ہے؟ جوہر ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ پھر یہ صورت جسمیہ ایک عام صورت جسمیہ ہے اور ایک پھر ایک صورت نوعیہ ہے، کیا ہے؟ صورت نوعیہ کہ جس کی وجہ سے جس کی مدد سے چیزوں کی الگ الگ صورتیں ہیں، انسان اور ہے، گھوڑا اور ہے، گائے بیل اور ہیں، یہ پتھر اور ہیں، پہاڑ اور ہیں، تو یہ کیا ہے؟ صورت نوعیہ، ایک ہے صورت جسمیہ، صورت جسمیہ یعنی مادے کے لیے کوئی نہ کوئی کیا چاہیے؟ صورت چاہیے، وہ صورت جسمیہ ہے، اور پھر ہر ایک نوع کا الگ الگ ہونا جس کے ذریعے ہم پہچانتے ہیں کہ یہ انسان ہے یا یہ فرس ہے یا یہ پتھر ہے یا یہ پہاڑ ہے یا یہ دیوار ہے، یہ ہے صورت نوعیہ، یہ کیا ہے؟ تو صورت جسمیہ وہ بھی جوہر اور یہ صورت نوعیہ یہ بھی کیا ہے؟ جوہر ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اب ایک اور چیز سمجھ لیں، چیزیں جو ہیں ان میں تین طرح کے اعتبار ہو سکتے ہیں، چیزوں میں تین طرح کے اعتبارات ہو سکتے ہیں، ایک کو کہتے ہیں بشرط شئے، ایک کو کہتے ہیں بشرط لا شئے اور ایک کو کہتے ہیں لا بشرط شئے، ایک کو کیا کہتے ہیں؟ تین طرح کے اعتبار ہو سکتے ہیں چیزوں میں، ایک ہے بشرط شئے یعنی کسی چیز کی شرط ہونا، کسی چیز کی شرط ہونا، اور ایک ہے بشرط لا شئے، کسی چیز کے نہ ہونے کی شرط ہونا، بشرط لا شئے، لا شئے کو شرط لگا دینا ایک چیز کے نہ ہونے کو شرط بنا دینا، اور ایک ہے لا بشرط شئے، یعنی اس میں کسی چیز کی شرط نہیں ہے نہ ہونے کی اور نہ نہ ہونے کی، تو چیزوں میں کتنی طرح کے اعتبار ہو سکتے ہیں؟ تین طرح کے اعتبار ہو سکتے ہیں، نمبر ایک بشرط شئے یعنی ایک شئے کی شرط لگانا یعنی ایک شئے کے وجود کی شرط لگانا کسی چیز میں، اور ایک ہے بشرط لا شئے، لا شئے کی شرط لگانا یعنی عدم شئے کی شرط لگانا کسی چیز میں کہ یہ چیز نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آگئی؟ اور ایک ہے لا بشرط شئے یعنی اس میں کسی شئے کی شرط نہیں ہے نہ ہونے کی اور نہ نہ ہونے کی، دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، مثلاً آپ نے اپنے ساتھی سے کہا میں آپ کی دعوت کرتا ہوں، میں دعوت کرتا ہوں اور اس میں چائے ہوگی، اس میں، تو دیکھا یہ دعوت ہوئی بشرط شئے، چائے کی شرط ہے، چائے کی، آپ نے خود کیا کہا؟ دعوت میں کیا ہوگی؟ چائے ہوگی، تو ایک چیز کی اس میں شرط رکھ دی یعنی ایک چیز کو اس میں لازم قرار دے دیا، اور ایک صورت یہ ہے آپ اس کو کہتے ہیں میں آپ کی دعوت کرتا ہوں لیکن دعوت میں چائے نہیں ہوگی، دیکھو چائے کے نہ ہونے کی شرط لگا دی تو یہ ہے بشرط لا شئے۔ بشرط اور ایک ہے ویسے آپ اس کو کہتے ہیں میں آپ کی دعوت کرتا ہوں نہ اس میں چائے کے ہونے کا ذکر کیا اور نہ نہ ہونے، یہ ہے لا بشرط شئے، یعنی اس میں کوئی شرط نہیں ہے نہ چائے کے ہونے کی شرط ہے اور نہ چائے کے نہ ہونے کی شرط ہے، تو بشرط شئے کا کیا معنی؟ کہ ایک شئے کا شرط ہونا، بشرط لا شئے کا کیا معنی؟ ایک شئے کا عدم کیا ہونا؟ شرط ہونا، اور لا بشرط شئے جس میں کوئی شرط نہ ہو نہ ہونے کی شرط اور نہ نہ ہونے کی شرط۔ تو جواب میں ذکر کر رہا تھا، انہوں نے کیا کہا تھا کہ جز خارجی اور جز عقلی یہ دونوں الگ الگ ہیں، تو جواب، کیوں؟ مناطقہ کہتے ہیں کہ جز خارجی اور جز عقلی کے درمیان فرق صرف اعتباری ہے، ذات کے اعتبار سے ایک ہیں اعتبار کے لحاظ سے ان میں فرق ہے بھئی، جیسے ہر چیز کس سے بنی ہے؟ مادہ سے اور صورت جسمیہ سے، توجہ ہے؟ ہر چیز کس سے بنی ہے؟ مادہ اور صورت جسمیہ، اس کے لیے مادہ بھی چاہیے اور اس کے لیے صورت بھی چاہیے، توجہ ہے؟ خارج میں ہر چیز مرکب ہے کتنی چیزوں سے؟ دو چیزوں سے، ایک ہے مادہ یعنی ہیولیٰ اور دوسری کیا ہے؟ صورت جسمیہ، تو خارج میں جیسے ان دو اجزاء سے ہر چیز مرکب، اسی طرح ذہن کے اندر بھی ہر چیز کے لیے ایک جنس ہے اور ایک اس کی فصل، یہ جو جنس ہے یہ اسی مادے کا نام ہے اور یہ جو فصل ہے یہ اسی صورت جسمیہ کا نام ہے، معلوم ہوا دونوں میں فرق اعتباری ہے صرف۔ وہی مادہ یہی ہیولیٰ جز خارجی کے اعتبار سے کیا کہلائے گا؟ اس کا مادہ، اور یہی ہیولیٰ جز عقلی کے اعتبار سے کیا کہلائے گا؟ جنس، تو مادے میں دو صورتیں ہیں دو اعتبار ہیں، ایک خارج کے اعتبار سے ایک چیز کا جز ہے اور ایک اعتبار کیا ہے؟ ذہن کے اعتبار سے ایک چیز کا جز ہے، خارج کے اعتبار سے اسی مادے کو کیا کہتے ہیں؟ ہیولیٰ کہتے ہیں، مادہ کہتے ہیں، اور ذہن کے اعتبار سے اسی کو کیا کہتے ہیں؟ جنس کہتے ہیں، اسی طرح صورت جسمیہ کے اندر بھی دو اعتبار ہیں، خارج کے اعتبار سے صورت جسمیہ کو اس چیز کا جز کہتے ہیں اور ذہن کے اعتبار سے صورت جسمیہ کو فصل کہتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ تو ان میں صرف اعتباری فرق ہے، اعتباری فرق ہے، اور میں نے وہ تفصیل بیان کی تھی ایک ہے بشرط شئے، ایک ہے بشرط لا شئے اور ایک ہے لا بشرط شئے، اب دیکھو یہی مادہ یہ خارج کے اعتبار سے ایک چیز کا جز ہے اور ذہن کے اعتبار سے یہ اس کے لیے جنس ہے، کس طرح؟ یہ اعتباری فرق ہے، اسی مادے کو بشرط شئے کے ساتھ اس کا اعتبار کریں تو یہ کیا ہے؟ جز ہے، خارج میں اس کا جز خارجی ہے یوں کہو، یہی مادہ بشرط شئے ہو تو یہ اس کے لیے جز خارجی، اور یہی مادہ لا بشرط شئے ہو تو یہ اس کے لیے جنس ہے، توجہ ہے؟ یہی مادہ بشرط شئے کیا معنی؟ کہ اس مادے سے اس کا وجود ہے، یہ مادہ ہے تو یہ چیز ہے، مادہ نہیں تو یہ چیز بھی نہیں، بایں لحاظ یہ اس کا کیا ہے؟ جز خارجی، اور یہی مادہ ذہن میں لیکن اس میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ اس کی وجہ سے اس چیز کا وجود ہے یا وجود نہیں، اس کو جنس کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ یہ مادی چیزوں میں سے بغیر مادے کے کسی چیز کا وجود ہو سکتا ہے؟ وجود نہیں ہو سکتا، ہر چیز کے لیے میٹیریل تو چاہیے، مادہ تو ضرور چاہیے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو ایک چیز کا وجود اس مادہ اور اس ہیولیٰ کی وجہ سے ہے، یہ کیا ہے؟ جز خارجی، تو اس میں بشرط شئے ہے، یہ اس شئے کے لیے شرط ہے، یہ ہے تو وہ شئے ہے، یہ نہیں تو وہ شئے بھی نہیں، مادہ ہے تو وہ چیز ہے، مادہ نہیں تو وہ چیز بھی نہیں، تو مادہ بشرط شئے ہو تو یہ جز خارجی ہے، یہ کیا ہے؟ اور یہی مادہ لا بشرط شئے ہو تو یہ کیا ہے؟ جنس ہے۔ دیکھو لا بشرط شئے، یہی مادہ جنس کہلاتا ہے، لا بشرط شئے کیا؟ جنس کی آپ نے کیا تعریف پڑھی؟ ”هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ“ اس میں کوئی شرط ہے ایک چیز کے ہونے کے لیے جنس چاہیے یا نہ ہونے کے لیے جنس چاہیے؟ اس میں وجود کا کوئی ذکر ہے کہ جنس ہے تو وجود ہے ایک چیز کا جنس نہیں تو وجود نہیں؟ دیکھو یہ لا بشرط شئے ہے، اس میں اس چیز کے ہونے یا نہ ہونے کا ذکر نہیں ہے، تو یہی مادہ جب یہ لا بشرط شئے ہو، ایک چیز کے ہونے یا نہ ہونے کا ذکر اس میں نہ ہو، اس میں شرط نہ ہو تو اسی کو کیا کہتے ہیں؟ جنس، اور یہی مادہ بایں شرط کہ اس کی وجہ سے خارج میں چیز کا وجود ہے، مادہ ہے تو وہ چیز ہے مادہ نہیں تو وہ چیز بھی نہیں، تو بایں لحاظ اسی کو اس کا جز خارجی کہتے ہیں، تو مادہ بشرط شئے ہو یعنی اس شئے کے وجود کی شرط پر تو اس کو جز خارجی کہیں گے، اور یہی مادہ جب لا بشرط شئے ہو یعنی اس میں اس شئے کے نہ وجود کی شرط ہے اور نہ عدم وجود کی شرط، اس میں کسی قسم کی کوئی شرط نہیں تو اسی کو کیا کہیں گے؟ جنس کہیں گے، بات بھی سمجھ میں آئی کہ اوپر سے گزر گئی؟ پھر دیکھ لو پھر دیکھ لو، یہی مادہ، یہی مادہ خارج کے اعتبار سے جز ہے ایک چیز کا تو اس کو کیا کہیں گے؟ جز خارجی، اور یہی مادہ ذہن کے اعتبار سے ایک چیز کا جز ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ جنس، تو ایک ہی چیز ہے اسی کو جز خارجی بھی آپ کہہ رہے ہیں اسی کو جز ذہنی بھی آپ کہہ رہے ہیں، فرق صرف اعتباری ہے، یہی مادہ بشرط شے ہے، تو یہ جزو خارجی۔ یہی مادہ لا بشرطی شے ہے، تو جنس۔ جنس یعنی جزو ذہنی ہے۔ بشرطی شے سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ جی۔ کیا معنی بشرطی شے؟ کیا شرط ہے اس میں؟ کہ ہاں، اسی مادے سے اس چیز کا وجود ہے، یہ مادہ ہے، تو یہ ہے، یہ مادہ نہیں تو وہ چیز بھی نہیں۔ تو اس میں بشرطی وجودی شے ہے۔ کیا ہے؟ وجود شے کی، یعنی، تو اس سے وجود شے کی شرط ہے، تو یہ، اسی کو کیا کہیں گے؟ جزو خارجی۔ بھئی مادے کی وجہ سے کسی چیز کا وجود ہے۔ مادہ ہے تو چیز ہے۔ مادہ نہیں تو وہ چیز بھی نہیں۔ تو مادہ اس کا جزو خارجی ہے۔ بشرطی شے، کیا؟ مادہ اس کے لیے جزو خارجی ہے، کس اعتبار سے؟ بشرطی شے، کیا شرط ہے؟ کہ اسی سے اس کا وجود ہے۔ یہ نہیں تو یہ بھی نہیں۔ تو یہی مادہ بشرطی شے ہو، یعنی اس چیز کے وجود کے لیے شرط ہے، اس کا ہونا۔ تو یہی مادہ کیا کہلاتا ہے؟ جزو خارجی۔ اور یہی مادہ ہے، اسی کو ہم جنس کہتے ہیں، جب اس میں اس طرح کی کوئی شرط نہ ہو۔ دیکھو، جنس کی ہم الگ تعریف کرتے ہیں۔ هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ اس میں کوئی ذکر ہے، کہ جنس ہوگی تو چیز ہوگی، جنس نہیں تو چیز نہیں؟ تو اس میں دیکھو، اس میں بشرطی شے نہیں ہے، بلکہ لا بشرطی شے ہے۔ نہ ہونے کا ذکر اور نہ نہ ہونے کا ذکر۔ اور اسی طرح صورت جسمیہ۔ وہ بشرطی شے ہو، تو وہ جزو خارجی۔ اور لا بشرطی شے ہو، تو وہ فصل ہے۔ جیسے انسان کے لیے ناطق۔ انسان کا وجود ناطق کے بغیر ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ تو یہ ناطق، یہ اس کے لیے کیا ہے؟ صورت جسمیہ۔ اور بشرطی شے ہے۔ یہ صورت جسمیہ ہے، تو انسان ہے۔ یہ صورت جسمیہ نہیں تو انسان بھی نہیں۔ تو یہ دیکھا بشرطی شے، کیا؟ کیا معنی بشرطی شے؟ یہ شرط ہے اس کے وجود کے لیے، یہ ہے، تو وہ ہے، یہ نہیں تو وہ بھی نہیں۔ تو یہ بشرطی شے ہے۔ یہی صورت جسمیہ، بشرطی شے۔ یہ کیا ہے اس کے لیے؟ یہ اس کے لیے جزو خارجی ہے۔ یہی صورت جسمیہ جب بشرطی شے ہو، تو یہ اس کے لیے جزو خارجی ہے۔ اور یہی صورت جسمیہ لا بشرطی شے ہو، تو یہ اس کے لیے فصل۔ اسی صورت جسمیہ میں، جب آپ یہ، اس، یہ اعتبار کریں کہ اس کی وجہ سے اس چیز کا وجود ہے، اس کے بغیر اس کا وجود نہیں ہو سکتا، تو یہ کیا ہے؟ اس کا جزو خارجی۔ اور یہی صورت جسمیہ، جب آپ اس کو لا بشرطی شے کے ساتھ اس کا اعتبار کریں، کہ اس میں چیز کے ہونے نہ ہونے کی بات نہیں ہے، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ فصل کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ فصل میں کوئی کہا تھا کہ فصل کی وجہ سے ایک چیز کا وجود ہو گا یا وجود نہیں ہو گا؟ نہیں۔ وہاں کوئی ایسی چیز ذکر نہیں کی۔ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ ہر چیز مرکب ہے کس سے؟ جو خارج میں چیزیں ہیں وہ مرکب ہیں، ایک مادہ سے اور ایک صورت جسمیہ سے۔ اور اسی مادہ کا نام کیا ہے؟ ہیولیٰ۔ اور یہی ہیولیٰ، جب یہ بشرطی شے ہو، تو یہ جزو خارجی ہے۔ اور لا بشرطی شے ہو، تو یہ جنس ہے۔ اور اسی طرح ہر چیز کے لیے صورت جسمیہ بھی ضروری ہے۔ تو یہ صورت جسمیہ، بشرطی شے ہو، کہ اس کی وجہ سے چیز کا وجود ہے۔ یہ نہیں ہوگی تو چیز ہی نہیں ہوگی۔ تو بائیں لحاظ اس کو کیا کہیں گے؟ جزو خارجی کہیں گے۔ اور یہی صورت جسمیہ، جب یہ لا بشرطی شے ہو۔ جب میں اس میں اس طرح کی کوئی بات ذکر نہ ہو، کہ اس کی وجہ سے چیز کا وجود ہو گا یا وجود نہیں ہو گا، تو اسی کو کیا کہتے ہیں؟ فصل کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا، خارج میں ایک چیز کے جزو کیا ہیں؟ مادہ اور صورت جسمیہ۔ ذہن میں بھی وہی مادہ اور صورت جسمیہ ہے۔ لیکن اعتبار مختلف ہے۔ خارج میں بائیں اعتبار کہ یہ بشرطی شے ہے، اس کو اس کا جزو خارجی کہتے ہیں۔ اور بائیں اعتبار کہ یہ لا بشرطی شے ہے، اس کو جنس کہتے ہیں۔ اور اسی طرح صورت جسمیہ، اس کو، وہ بشرطی شے ہو، تو اس کو جزو خارجی کہتے ہیں۔ اور وہ لا بشرطی شے ہو تو اس کو فصل کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ جزو خارجی اور جزو عقلی جو ہیں، وہ ایک ہی چیز ہیں۔ ذات کے اعتبار سے یہ متحد ہیں، صرف اعتبار کے لحاظ سے ان میں تغایر ہے۔ تو لہٰذا جب انہوں نے یہ کہہ دیا، کہ نقطے کے لیے جزو خارجی نہیں، توجہ ہے؟ آپ نے کیا کہا تھا؟ ہو سکتا ہے نقطے کے لیے جزو خارجی نہ ہو، لیکن جزو عقلی تو ہو سکتا ہے۔ لیکن جب یہ بات ثابت ہو گئی، کہ جو جزو عقلی ہوتا ہے، وہی جزو ذہنی بھی ہوتا ہے، صرف فرق اعتباری ہوتا ہے۔ تو جب جزو خارجی ایک چیز کے لیے نہیں، تو معلوم ہوا اس کے لیے جزو عقلی بھی نہیں ہے۔ جب جزو عقلی نہیں ہے، تو معلوم ہوا اس نقطے کے لیے کوئی جنس بھی نہیں ہو سکتی۔ جب کوئی جنس نہیں ہو سکتی، تو یہ نوع اضافی بھی نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ تو بہرحال، اصل اعتراض جو تھا، وہ یہاں پر مثال پر تھا۔ کہ آپ نے جو نقطے کو مثال کے طور پر ذکر کیا، کہ نقطہ کیا ہے؟ نوع حقیقی تو ہے، لیکن نوع اضافی نہیں۔ اس پر اعتراض کیا تھا، کہ آپ کا نقطے کو مثال میں ذکر کرنا صحیح نہیں ہے۔ لیکن یہ اعتراض بھی چونکہ کمزور سا اعتراض تھا، کیونکہ اعتراض مثال پر تھا۔ مثال اگر غلط بھی ثابت ہو جائے، اس سے دعویٰ تو باطل نہیں ہوتا۔ مثال میں کسی اور چیز کو بھی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اس کو انہوں نے مناقشہ کہا تھا۔ کیا کہا تھا؟ مناقشہ۔ یعنی ہلکا سا اعتراض، معمولی سا اعتراض، جو ذرا سے غور و فکر سے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تو چونکہ اعتراض صرف مثال پر تھا، کہ نقطے کو آپ نے مثال میں ذکر کیا، نقطے کو مثال میں ذکر کرنا صحیح نہیں، اس لیے انہوں نے اس کو مناقشہ کہا۔ تو مثال پر کوئی اعتراض کوئی قوی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ اگر ایک مثال باطل ہو گئی، تو کوئی حرج نہیں، دوسری چیز کو مثال میں ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اگر نقطے کی مثال آپ کے نزدیک درست نہیں، تو دوسری مثال واجب الوجود ہے۔ یا دوسری مثال وحدت ہے۔ واجب الوجود، یہ کلی ہے۔ لیکن اس کا ایک ہی فرد ہے خارج میں، اور وہ کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ بھئی۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات بسیط ہے۔ اللہ کے اجزاء نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ، یہ نوع حقیقی ہیں۔ لیکن کوئی ایسی ماہیت حقیقیہ نہیں جس کے تحت اللہ تعالیٰ کی ذات آئے۔ تو اللہ تعالیٰ، وہ نوع حقیقی تو ہیں، نوع اضافی نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر نقطے کو تسلیم نہیں کرتے، کہ نوع بسیط، تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات کو مثال میں ذکر کیا جا سکتا ہے، کہ اللہ کی ذات کیا ہے؟ نوع بسیط ہے۔ جو کسی جنس کے تحت نہیں ہے۔ تو یہ جزئی حقیقی تو ہے، لیکن جزئی اضافی نہیں۔ یا وحدت کو مثال میں ذکر کیا جا سکتا ہے۔ وحدت کا معنیٰ ہے ایک ہونا۔ واحد ہونا، دیکھو، کبھی حقیقتاً واحد ہونا ہے، اور کبھی مجازاً واحد ہونا، واحد ہونا ہوگا۔ حقیقتاً واحد ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات واحد ہے حقیقتاً بھئی۔ اور کبھی واحد ہونا مجازاً ہوتا ہے، جیسے نوع۔ جیسے نوع، ہم کہتے ہیں یہ ایک نوع ہے۔ تو وحدت ہے یا نہیں؟ ایک ہی نوع ہے، دو یا تین نوعیں نہیں، یا جیسے ایک جنس ہو، تو ہم کہتے ہیں یہ ایک جنس ہے۔ دو یا تین جنسیں، جیسے حیوان ایک جنس ہے۔ تو دیکھو، جنس کے اندر بھی وحدت آ گئی۔ اور صرف ایک نوع ہو، اس میں بھی وحدت آ گئی۔ لیکن یہ وحدت مجازاً ہے، حقیقت میں نہیں۔ ایک اعتبار سے یہ ایک ہیں، ورنہ تو ہر ایک کے افراد کثیر ہیں۔ نوع کے افراد بھی کیا ہوتے ہیں؟ کثیر ہوتے ہیں۔ جنس کے افراد بھی کیا ہوتے ہیں؟ کثیر ہوتے ہیں۔ تو افراد تو بے شک زیادہ، لیکن ہے تو جنس تو ایک ہی ہے۔ یا نوع تو ایک ہی ہے۔ تو یہاں بھی وحدت ہے۔ ایک نوع ہو اس میں بھی وحدت ہے۔ ایک جنس ہو اس میں بھی وحدت ہے۔ لیکن حقیقتاً وحدت نہیں ہے، حقیقت میں وہ واحد نہیں ہیں، بلکہ ان کے افراد کیا ہیں؟ کثیر ہیں۔ ہاں صرف اس اعتبار سے ان کو ایک کہا کہ نوع ایک ہے سب کی۔ یا جنس ایک ہے سب کی۔ تو وحدت جو ہے، وہ کبھی حقیقتاً ہوتی ہے، اور کبھی مجازاً۔ تو جو حقیقتاً وحدت ہو، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات میں کیا ہے؟ حقیقتاً وحدت ہے۔ وہاں کوئی اور ایسی ذات ہونے کا امکان ہی نہیں ہے۔ جب وحدت ہوگی، معلوم ہوا جز کوئی نہیں۔ اگر جز ہے، تو وحدت ہے یا مرکب ہو گئی وہ چیز؟ مرکب ہو گئی۔ تو معلوم ہوا اس میں تو وحدت نہیں ہے۔ تو وحدت جو ہے، یہ اس کو بھی نوع بسیط کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ وحدت، جب وحدت ہے تو اس کے اوپر معلوم ہوا کوئی جنس نہیں ہے۔ جب جنس نہیں تو وہ نوع حقیقی تو ہوگی، لیکن نوع اضافی نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی، اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 61 of 115