Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-065

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 41
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی متن دیکھ لیں۔ اَلرَّابِعُ الْخَاصَّةُ وَهُوَ الْخَارِجُ الْمَقُولُ عَلَى مَا تَحْتَ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَطْ، اَلْخَامِسُ الْعَرَضُ الْعَامُّ وَهُوَ الْخَارِجُ الْمَقُولُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا، وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِنِ امْتَنَعَ انْفِكَاكُهُ عَنِ الشَّيْءِ فَلَازِمٌ بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ أَوِ الْوُجُودِ، بَيِّنٌ يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ أَوْ مِنْ تَصَوُّرِهِمَا الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ، وَغَيْرُ بَيِّنٍ بِخِلَافِهِ، وَإِلَّا فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ يَدُومُ أَوْ يَزُولُ بِسُرْعَةٍ أَوْ بُطْءٍ۔ اچھا بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ فصل جو ہے یہ مميز ہے ایک ماہیت کو اس کے مشارکات سے جدا کرتی ہے اس جنس کے اندر، تو اس فصل کے دو اور نام بھی ہیں ایک نام ہے مقوم اور ایک نام ہے مقسم۔ مقوم قوام سے ہے، قوام اجزائے ترکیبی کو کہتے ہیں جیسے آپ چائے بناتے ہیں تو دودھ چینی پتی اور پانی یہ چائے کے اجزائے ترکیبی ہیں ان سے چائے بنتی ہے تو یہ چائے کا قوام ہیں، یہ کیا ہیں چائے کا قوام۔ تو اسی طرح یہ جو فصل ہے یہ مقوم ہے یعنی وجود دیتی ہے نوع کو۔ حَیَوَان کے ساتھ نَاطِق ملے گا تو حَیَوَانِ نَاطِق نوع بن گئی تو یہ جو فصل ہے اس کو نوع کی طرف نسبت کرتے ہوئے مقوم کہتے ہیں اور جنس کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس کو مقسم کہتے ہیں کیونکہ یہ فصل جو ہے جنس کو تقسیم کر دیتی ہے دو حصوں میں مثلاً نَاطِق ہے اس نَاطِق نے حَیَوَان کو تقسیم کر دیا حَیَوَانِ نَاطِق اور حَیَوَانِ غَيْرِ نَاطِق کے اندر بھئی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جو بھی مقوم ہو عالی کے لیے وہ سافل کے لیے بھی ضرور مقوم ہوگی۔ لیکن اس کا برعکس نہیں ہے کہ جو سافل کے لیے مقوم ہو اس کا عالی کے لیے مقوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور اس کے بعد یہاں پر عکسِ عرفی، عکسِ لغوی اور عکسِ منطقی کا میں نے ذکر کیا تھا۔ عکسِ لغوی وہ ہے جس میں موضوع کو محمول بناتے ہیں اور محمول کو موضوع بناتے ہیں البتہ اس میں کمیت کو برقرار رکھا جاتا ہے یعنی اگر پہلا قضیہ کلی تھا تو دوسرا بھی کیا ہو کلی اور اگر پہلا جزئی تھا تو دوسرا بھی جزئی ہو۔ جبکہ ایک عکسِ منطقی ہے اس میں بھی موضوع اور محمول کی جگہ آپس میں بدلتے ہیں لیکن وہاں صدق کو برقرار رکھتے ہیں کمیت کو چاہے بدلنا پڑ جائے تو اس کو بدل دیں گے لیکن صدق ہونا چاہیے جیسے كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ اس کا منطقی عکس کیا آئے گا بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ دیکھا بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ تو موجبہ کلیہ کا عکس جو ہے وہ موجبہ جزئیہ آتا ہے۔ جبکہ ایک عکسِ عرفی ہے، اس میں موضوع کو محمول یا محمول کو موضوع کی جگہ نہیں لے کر جاتے اس کا معنی ہوتا ہے برخلاف۔ جیسے آپ کو میں نے بتلایا کہ حمد جو ہے مورد کے اعتبار سے خاص ہے صرف زبان سے ہوتی ہے اور متعلق کے اعتبار سے عام ہے یعنی یہ انعام کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے اور غیر انعام کے مقابلے میں بھی اور شکر جو ہے وہ اس کے برخلاف ہے اس وَالشُّكْرُ بِالْعَكْسِ اور شکر کیا ہے اس کے برعکس ہے دیکھو یہاں بِالْعَكْسِ کا لفظ جو آیا اس سے عرفی عکس مراد ہے یہاں موضوع محمول کو نہیں بدلنا بلکہ لفظ ہی بدل جاتے ہیں وہ بات تھی کس کی حمد کی اب بات کس کی ہے شکر کی ہے تو شکر اس کے برخلاف ہے یعنی شکر مورد کے اعتبار سے وہ عام ہے زبان سے بھی ہو سکتا ہے دل سے بھی اور جوارح سے بھی یعنی اعضاء سے بھی جبکہ متعلق کے اعتبار سے شکر خاص ہے جو صرف انعام کے مقابلے میں آئے گا بھئی۔ اسی طرح یہاں پر بھی آیا وَالْمُقَسِّمُ بِالْعَكْسِ تو یہاں وَالْمُقَسِّمُ بِالْعَكْسِ اس عکس سے کیا مراد ہے عکسِ عرفی ہے یعنی مقسم مقوم کے برعکس ہے مقوم جو عالی کے لیے ہوتا تھا وہ سافل کے لیے بھی مقوم ہوتا تھا لیکن مقسم اس کے برعکس ہے کہ مقسم جو سافل کے لیے ہوگا وہ مقسم عالی کے لیے ہوگا۔ اور اوپر جو متن میں وَلَا عَكْسَ آیا تھا شارح نے آپ کو بتلایا کہ اس سے عکسِ لغوی مراد ہے عکسِ منطقی مراد نہیں تو وَلَا عَكْسَ اس میں عکس بھی لے کر آنا عکسِ لغوی بھی اور اس پر پھر لَا بھی داخل کرنا بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں اَلرَّابِعُ الْخَاصَّةُ وَهُوَ الْخَارِجُ الْمَقُولُ عَلَى مَا تَحْتَ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَطْ اَلْخَامِسُ الْعَرَضُ الْعَامُّ وَهُوَ الْخَارِجُ الْمَقُولُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا۔ کلیاتِ خمسہ کا بیان چل رہا ہے، جنس، نوع اور فصل کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ جنس کسے کہتے ہیں هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ، اور نوع کسے کہتے ہیں هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ، اور فصل هُوَ الْمَقُولُ عَلَى الشَّيْءِ فِي جَوَابِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ۔ تو اب چوتھی کلی آ گئی بھئی کلیاتِ خمسہ میں سے، تو کہتے ہیں اَلرَّابِعُ الْخَاصَّةُ چوتھی کلی جو ہے وہ خاصہ ہے۔ یاد رکھو خاصہ اور عرضِ عام، یہ دونوں کلیِ عرضی ہیں، یعنی ذات میں اور حقیقت میں نہیں داخل، یہ صفت کا نام ہے۔ جبکہ پہلی تین کلیاں جو تھیں جنس، نوع اور فصل وہ کلیِ ذاتی کہلاتی ہیں۔ خاصہ ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولا جاتا ہے جبکہ عرضِ عام جو ہے وہ مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولا جاتا ہے جیسے ضَاحِك اور مَاشِي۔ ضَاحِك یہ خاصہ ہے کیونکہ یہ صرف انسان کے افراد پر بولا جاتا ہے انسان کے افراد کی حقیقت ایک ہے انسان کی کیا حقیقت ہے حَيَوَانِ نَاطِق تو جتنے انسان کے افراد ہیں وہ حَيَوَانِ نَاطِق ہیں تو یہ سب کیا ہیں ضَاحِك ہیں یعنی ان میں ضحک کی صلاحیت اللہ نے رکھی ہے۔ جبکہ عرضِ عام وہ مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولی جاتی ہے جیسے مَاشِي، مَشَى يَمْشِي کا معنی ہوتا ہے چلنا اپنے پیروں پر چلنا تو مَاشِي اپنے پیروں پر چلنے والا یہ انسان بھی ہے اور فَرَس اور بَقَر اور حِمَار وغیرہ اور حیوانات بھی ہیں۔ تو یہ مَاشِي دیکھو ایسی صفت ہے حقیقت میں نہیں داخل نہ ضَاحِك حقیقت میں داخل ہے اور نہ مَاشِي تو یہ مَاشِي حقیقت میں داخل نہیں اور مختلف حقیقتوں کے افراد پر صادق آ رہی ہے یہ کلی تو اس کو کیا کہیں گے عرضِ عام۔ تو خاصہ اور عرضِ عام یہ دونوں کیا ہوتے ہیں حقیقت سے خارج ہوتے ہیں اور خاصہ ایک حقیقت کے افراد پر بولا جاتا ہے اور عرضِ عام مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولی جاتی ہے، تفصیل سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی ترجمہ متن دیکھیے بھئی، اَلرَّابِعُ الْخَاصَّةُ چوتھی کلی جو ہے وہ خاصہ ہے وَهُوَ الْخَارِجُ وہ کلی ہے جو خارج ہو اپنے افراد کی حقیقت سے الْمَقُولُ عَلَى مَا تَحْتَ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ جو بولی جاتی ہے یعنی جس کو محمول کیا جاتا ہے ایسے افراد پر جو ایک حقیقت کے تحت ہوتے ہیں۔ فَقَطْ جو صرف ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے۔ اَلْخَامِسُ الْعَرَضُ الْعَامُّ اور پانچویں قسم جو ہے وہ عرضِ عام ہے وَهُوَ الْخَارِجُ عرضِ عام یہ بھی اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہوتی ہے الْمَقُولُ عَلَيْهَا یہ بولی جاتی ہے یعنی اس کا حمل کیا جاتا ہے اس حقیقت پر بھی وَعَلَى غَيْرِهَا اور اس کے غیر یعنی ایک حقیقت اور اس کے علاوہ دوسری حقیقت اس پر بھی یہ بولا جاتا ہے یعنی مختلف حقیقتوں کے افراد پر یہ بولی جاتی ہے۔ اب آئیے شرح میں بھئی۔ قَوْلُهُ وَهُوَ الْخَارِجُ أَيِ الْكُلِّيُّ الْخَارِجُ شارح نے دیکھو خارج سے پہلے کلی کا لفظ نکال لیا أَيِ الْكُلِّيُّ الْخَارِجُ۔ یہ ایک سوال کا جواب ہے، یوں کہیں ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ خاصہ کے ساتھ تو گول تا جڑی ہوئی ہے جو تانیث کی علامت ہے، تو خاصہ یہ لفظ کیا ہے مؤنث ہے۔ جب مؤنث ہے تو الْخَارِجُ نہیں کہنا چاہیے تھا، الْخَارِجَةُ صفت بھی کیا ہوتی ہے مؤنث ہوتی ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہ خارج خاصہ کی صفت نہیں ہے یہ کلی کی صفت ہے، أَيِ الْكُلِّيُّ الْخَارِجُ وہ کلی جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہوتی ہے۔ بھئی تعریف آپ خاصہ کی کر رہے ہیں اور موصوف کس کو نکال دیا کلی کو؟ تو جواب یہ کہ بھئی خاصہ بھی تو کلی ہی ہے بھئی۔ یہ کلی کی قسم ہے جب یہ کلی کی قسم ہے تو یہ خود بھی کیا ہے کلی ہے۔ اور ہر قسم کے اندر مقسم جو ہے وہ معتبر ہوتا ہے۔ کلمہ کی آپ تقسیم کرتے ہیں کہ کلمہ کتنی قسم پر ہے اِسْم، فِعْل اور حَرْف، جب اِسْم ہے وہ کلمہ کی قسم ہے تو اِسْم بھی کیا ہوا کلمہ، فِعْل جو کلمہ کی قسم ہے تو وہ بھی کیا ہے کلمہ اور حَرْف وہ کلمہ کی قسم ہے تو وہ بھی کیا ہے کلمہ۔ لہذا اِسْم کی طرف هُوَ ضمیر بھی آپ راجع کر سکتے ہیں کیونکہ اِسْم کا لفظ مذکر ہے اور آپ هِيَ ضمیر بھی راجع کر سکتے ہیں کس تاویل پر کہ یہ کیا ہے کَلِمَة ہے، اور کَلِمَة کے ساتھ تو گول تا جڑی ہوئی ہے تو اس کی طرف کونسی ضمیر لوٹائی جائے گی مؤنث کی۔ تو اِسْم کے لفظ کی رعایت رکھیں تو اس کی طرف هُوَ ضمیر لوٹائیں گے اور اِسْم کے اندر مقسم کی رعایت رکھیں کیونکہ یہ کس کی قسم ہے کَلِمَة کی تو اس کی طرف مؤنث کی ضمیر بھی آپ لوٹا سکتے ہیں۔ جتنی اقسام ہوتی ہیں ایک شے کی تو ان کے اندر مقسم جو ہے وہ ملحوظ ہوتا ہے اس کا بھی اعتبار ہوتا ہے۔ تو خاصہ بھی کس کی قسم ہے کلی کی تو یہ کلی ہوئی لہذا یہاں خَارِج جو ہے خاصہ کی صفت نہیں ہے بلکہ کلی کی صفت ہے اور اس کلی سے مراد کیا ہے خاصہ ہی مراد ہے۔ اور اسی وجہ سے متن میں دیکھیے وَهُوَ الْخَارِجُ، هُوَ ضمیر بھی اسی لیے مذکر کی لے کر آئے ورنہ تو ہونا چاہیے تھا وَهِيَ کیونکہ هُوَ ضمیر کس کو راجع ہے خاصہ کو اور خاصہ تو اس کے ساتھ تو گول تا جڑی ہوئی ہے وہ تو مؤنث ہے تو مؤنث کی ضمیر ہونی چاہیے تھی۔ تو جواب آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ هُوَ ضمیر خاصہ کو راجع ہے کس تاویل میں کلی کی تاویل میں۔ أَيِ الْكُلِّيُّ الْخَارِجُ یعنی وہ کلی جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو تو یہ موصوف بتلا دیا خَارِج کا موصوف کیا ہے کلی ہے اور خَارِج اس کی صفت اور کلی کا لفظ تو مذکر ہے اس لیے صفت بھی کیا لائے مذکر لے کر آئے۔ فَإِنَّ الْمَقْسَمَ مُعْتَبَرٌ فِي جَمِيعِ مَفْهُومَاتِ الْأَقْسَامِ اس لیے کیونکہ وہ جو مقسم ہوتا ہے یہ اقسام کے تمام مفہومات میں معتبر ہوتا ہے۔ اِعْلَمْ أَنَّ الْخَاصَّةَ تَنْقَسِمُ إِلَى خَاصَّةٍ شَامِلَةٍ لِجَمِيعِ مَا هِيَ خَاصَّةٌ لَهُ كَالْكَاتِبِ بِالْقُوَّةِ لِلْإِنْسَانِ وَإِلَى غَيْرِ شَامِلَةٍ لِجَمِيعِ أَفْرَادِهِ كَالْكَاتِبِ بِالْفِعْلِ لِلْإِنْسَانِ۔ اب تقسیم کر رہے ہیں آپ کو بتلائیں گے کہ خاصہ دو قسم پر ہے ایک خاصہ شاملہ اور ایک خاصہ غیر شاملہ۔ شاملہ شمول سے ہے وہ خاصہ جو اپنے تمام افراد میں پایا جائے اس کو کہتے ہیں خاصہ شاملہ، اور وہ خاصہ جو اپنے تمام افراد میں نہ پایا جائے اس کو کہتے ہیں خاصہ غیر شاملہ۔ مثلاً ضَاحِك، ضَاحِك یہ کیا ہے انسان کا خاصہ، تو یہ ضَاحِك انسان کے تمام افراد میں پایا جائے تو اس کو کہیں گے خاصہ شاملہ۔ یہاں ایک بات سمجھ لیں، ایک ہے بِالْفِعْل اور ایک ہے بِالْقُوَّة۔ مثلاً انسان کے اندر انسان کو اللہ نے کَاتِب بنایا ہے یعنی انسان کَاتِب ہے اس میں لکھنے کی صلاحیت ہے۔ جیسے اس میں قابلیتِ علم ہے علم حاصل کرنے کی صلاحیت ہے اسی طرح اس میں لکھنے کی بھی صلاحیت ہے۔ ہر انسان میں کتابت کی صلاحیت ہے اگر وہ سیکھے گا تو وہ کتابت کر سکتا ہے اور اگر وہ نہیں سیکھتا پھر وہ کتابت نہیں کر سکتا لیکن صلاحیت اللہ نے اس کے اندر رکھی ہے۔ تو بِالْفِعْل کا معنی یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس کام کو بِالْفِعْل کر رہا ہو اس وقت، مثلاً آپ کا ایک ساتھی اس وقت کاپی پر کچھ لکھ رہا ہے تو ہم کہیں گے یہ کَاتِب بِالْفِعْل ہے، یہ کَاتِب ہے بِالْفِعْل یعنی فعل کے اعتبار سے کَاتِب ہے اس وقت یہ کونسا فعل کر رہا ہے کتابت والا لکھنے والا کام کر رہا ہے۔ اور جو شخص ایک کام کو کر نہیں رہا لیکن اس میں صلاحیت ہے اس کو کیا کہتے ہیں بِالْقُوَّة کہتے ہیں۔ لھذا اس وقت دیکھو جیسے انسان کو اللہ نے ضَاحِك بنایا ہے اس کو ضِحْك کی صفت دی ہے، وہ امورِ غریبہ کا ادراک کرتا ہے اور جب انوکھی چیز کا ادراک کرتا ہے کوئی انوکھی چیز اس کو معلوم ہوتی ہے تو اس کو تعجب لاحق ہوتا ہے اور جب تعجب لاحق ہوتا ہے تو اس کو ہنسی آ جاتی ہے۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کوئی آپ کو لطیفہ سناتا ہے آپ کو ہنسی آ جاتی ہے کیوں کیونکہ اس کی بات آپ کو بڑی انوکھی لگتی ہے۔ تو ضِحْك کی صلاحیت اللہ نے ہر انسان میں رکھی ہے کیونکہ ہر انسان کیا ہے وہ ادراک کر سکتا ہے جب ادراک کر سکتا ہے ادراک کی صلاحیت ہے تو وہ امورِ غریبہ یعنی انوکھی چیزوں کا بھی ادراک کر سکتا ہے جب ادراک کر سکتا ہے تو اس کو تعجب لاحق ہو سکتا ہے جب تعجب لاحق ہو سکتا ہے تو اس میں صلاحیت ہے کس چیز کی ضِحْك کی۔ اور پھر اس میں ایک ہوگا ضَاحِك بِالْفِعْل اور ایک ہے ضَاحِك بِالْقُوَّة۔ آپ کا ایک ساتھی ہے وہ ہنس رہا ہے اس وقت تو ہم کہیں گے یہ ضَاحِك بِالْفِعْل ہے، اور باقی دوسرا ساتھی وہ خاموش بیٹھا ہے اس کے بارے میں بھی آپ کہیں گے کہ یہ ضَاحِك بِالْقُوَّة ہے یعنی اس میں ضِحْك کی صلاحیت ہے۔ فرق سمجھ میں آگیا۔ تو خاصہ شاملہ کی مثال کیا ہوئی کَاتِب بِالْقُوَّة۔ یہ ہر فردِ انسان کیا ہے کَاتِب بِالْقُوَّة ہے تو دیکھو یہ خاصہ شاملہ ہے۔ اور کَاتِب بِالْفِعْل کیا سارے انسان اس وقت لکھنے کا فعل کر رہے ہیں نہیں کچھ لکھ رہے ہوں گے کچھ نہیں لکھ رہے تو یہ کَاتِب بِالْفِعْل ہونا یہ خاصہ غیر شاملہ ہے۔ اسی طرح ضَاحِك کو بناؤ خاصہ شاملہ کی مثال کیسے ضَاحِك بِالْقُوَّة ہو، اور اسی ضَاحِك کو خاصہ غیر شاملہ کی مثال بناؤ ضَاحِك بِالْفِعْل، تو ضَاحِك بِالْقُوَّة یہ مثال ہے کس کی خاصہ شاملہ کی اور ضَاحِك بِالْفِعْل یہ مثال ہے کس کی خاصہ غیر شاملہ کی۔ تو کہتے ہیں اِعْلَمْ أَنَّ الْخَاصَّةَ تَنْقَسِمُ إِلَى خَاصَّةٍ شَامِلَةٍ کہ خاصہ وہ تقسیم ہوتا ہے ایسے خاصہ کی طرف شَامِلَةٍ جو شامل ہوتا ہے لِجَمِيعِ مَا هِيَ خَاصَّةٌ لَهُ ان تمام افراد کو جن کا یہ خاصہ ہوتا ہے، کَالْکَاتِبِ بِالْقُوَّةِ لِلْإِنْسَانِ جیسے کَاتِب بِالْقُوَّة ہونا ہے انسان کے لیے۔ وَإِلَى غَيْرِ شَامِلَةٍ اور یہ خاصہ تقسیم ہوتا ہے غیر شاملہ کی طرف لِجَمِيعِ أَفْرَادِهِ اپنے تمام افراد کو کَالْکَاتِبِ بِالْفِعْلِ لِلْإِنْسَانِ جیسے کہ بِالْفِعْل کَاتِب ہونا کس کے لیے انسان کے لیے۔ خاصہ کے بارے میں ایک اور قیمتی بات یاد رکھیے بھئی، یہ جو خاصہ ہے اس کے اندر یہ جو تا ہے یہ وصفیت سے اسمیت کی طرف نقل کرنے کے لیے ساتھ ملائی گئی، اس کا کیا معنی یہ بھی سمجھ لو۔ یاد رکھو بعض اوقات ایک صفت عام ہوتی ہے جیسے خاصہ کس سے بنا خَاصّ سے اور خَاصّ ہونا تو صفت ہے، جیسے بہادر ہونا صفت ہے بہادر زید بھی ہو سکتا ہے عَمْرو بھی ہو سکتا ہے بَکْر بھی ہو سکتا ہے خَالِد بھی ہو سکتا ہے تو خَاصّ ہونا بھی کیا ہے صفت ہے کوئی بھی صفت کیا ہو سکتی ہے خَاصّ ہو سکتی ہے۔ لیکن کثرتِ استعمال میں بعض اوقات ایک صفت ایک چیز کے لیے نام بن جاتی ہے، خَاصّ تو ایک صفت تھی لیکن کثرتِ استعمال سے یہ جس کو ہم خاصہ کہتے ہیں اس کے لیے کیا بن گئی نام بن گئی یہ جو عرض یہ جو صفت جو ایک ہی حقیقت کے ساتھ بولی جاتی ہے اس کے لیے یہ خَاصّ کیا بن گیا نام بن گیا تو خَاصّ اصل میں کیا تھا وصف تھا اور پھر یہ کیا بن گیا اِسْم بن گیا، تو گویا یہ وصفیت نقل ہوئی کس کی طرف اسمیت کی طرف۔ یہاں اصل کون وصف اور اِسْم کیا ہے فرع، تو دیکھا یہ اسمیت فرع ہو گئی کس کی وصفیت کی۔ اس کی مشابہت آگئی مؤنث کے ساتھ جیسے مؤنث فرع ہوتی ہے مذکر کی اصل کیا ہے مذکر اور مؤنث کیا ہے فرع ہے۔ تو جب یہ اسمیت فرع ہوئی تو یہ مشابہ ہو گئی مؤنث کے ساتھ اور مؤنث کے لیے عربی میں کیا استعمال کرتے ہیں گول تا جوڑتے ہیں لہذا یہاں پر بھی اس کے ساتھ گول تا جوڑ دی جاتی ہے اور پھر کیا کہتے ہیں کہ یہ تا کس لیے ہے لِلنَّقْلِ مِنَ الْوَصْفِيَّةِ إِلَى الْاِسْمِيَّةِ تو تا ساتھ جوڑ کر اس کو ایک نام ہی بنا دیا۔ اب خاصہ یہ اس قسم کا نام ہے۔ قَوْلُهُ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ اوپر متن میں آیا تھا کہ اَلْخَاصَّةُ وَهُوَ الْخَارِجُ الْمَقُولُ عَلَى مَا تَحْتَ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَطْ کہ خاصہ وہ ہے جو ایسے افراد پر بولا جاتا ہے جو ایک حقیقت کے تحت داخل ہوتے ہیں، جن کی حقیقت ایک ہوتی ہے۔ اب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یاد رکھو یہ خاصہ یہ دو قسم پر ہے ایک کو خاصہ نوعیہ کہتے ہیں اور ایک کو خاصہ جنسیہ کہتے ہیں۔ نوع کے افراد کی حقیقت ایک ہوتی ہے تو ان کا جو خاصہ ہوگا اس کو کہیں گے خاصہ نوعیہ۔ اور یہ خاصہ کبھی ایک جنس کے ساتھ بھی خاص ہوتا ہے، صرف جنس کی طرف نظر کریں نیچے نوع کی طرف نظر نہ کریں صرف حیوان کی طرف نظر کریں حیوان کے جتنے افراد ہیں وہ سب کیا ہیں حیوان تو سب کی حقیقت کیا ہے حقیقتِ حیوانیہ ہے تو اس اعتبار سے سب کی حقیقت ایک ہو گئی۔ اس اعتبار سے خاصہ جنسیہ بھی ہے جو ایک حقیقتِ جنسیہ کے افراد پر بولا جائے۔ جیسے مَاشِي، مَشَى يَمْشِي کا کیا معنی چلنا۔ دیکھو یہی مَاشِي یہ عرضِ عام ہے، انسان بھی مَاشِي ہے اپنے قدموں پر چلتا ہے فَرَس بھی مَاشِي ہے حِمَار بھی مَاشِي ہے بَقَر یعنی گائے بیل وہ بھی کیا ہیں مَاشِي ہیں تو یہ سب مَاشِي ہیں۔ تو یہ کیا ہے عرضِ عام، لیکن بائیں لحاظ دیکھا جائے کہ یہ مَاشِي یہ تو حقیقتِ حیوانیہ کے ساتھ خاص ہے۔ تو ایک جہت سے جب آپ اس کو باپ کہہ رہے ہیں تو دوسری جہت سے بیٹا کہیں گے، اسی جہت سے وہ بیٹا نہیں کہہ سکتے، تو مَاشِي بھی اسی طرح ہے وہ خاصہ ہے ایک جہت سے تو عرضِ عام ہے دوسری جہت سے، اسی جہت سے وہ عرضِ عام نہیں۔ اَللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ مگر یہ کہ کہا جائے۔ قال مگر یہ کہ یوں کہا جائے کہ جہت کیا ہے دونوں میں اعتراض کیا ہوا تھا؟ کہ یہ تو ایک ہی چیز کیا ہوئی خاصہ بھی بن گئی اور عرض عام بھی حالانکہ خاصہ اور عرض عام تو قسیمین ہیں اور ان میں تو تباین ہوتا ہے۔ تو جواب پھر اس کا دیا تھا اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ کے ساتھ کہ بھئی جہت الگ الگ ہے اور یاد رکھو اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ کے ذریعے جو جواب دیا جاتا ہے وہ کمزور جواب ہوتا ہے۔ بڑا ہی کمزور جواب۔ یعنی اور تو کوئی جواب اس کا بن ہی نہیں سکتا ہاں بس صرف ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ جہت الگ الگ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اَللّٰهُمَّ کے ذریعے بڑا ہی کمزور جواب ذکر کیا جاتا ہے چنانچہ حاشیے میں بھی انہوں نے اسی طرح جواب دیا ہے۔ قَوْلُهُ عَلَىٰ غَيْرِهَا كَالْمَشْيِ دیکھو متن میں آیا تھا اَلْعَرَضُ الْعَامُّ وَهُوَ الْخَارِجُ الْمَقُولُ عَلَيْهَا وَعَلَىٰ غَيْرِهَا جو بولا جاتا ہے جو محمول ہوتا ہے اس حقیقت پر بھی وَعَلَىٰ غَيْرِهَا اور اس حقیقت کے غیر پر بھی اس کے علاوہ پر بھی۔ شرح میں دیکھو قَوْلُهُ وَعَلَىٰ غَيْرِهَا كَالْمَشْيِ جیسے کہ ماشی ہے يُقَالُ عَلَىٰ حَقِيقَةِ الْإِنْسَانِ یہ حقیقت انسان پر بھی بولا جاتا ہے یعنی انسان بھی ماشی ہے وَعَلَىٰ غَيْرِهَا اور اس کے علاوہ پر بھی بولا جاتا ہے مِنَ الْحَقَائِقِ الْحَيَوَانِيَّةِ حقائق حیوانیہ میں سے جو انسانی حقیقتیں ہیں یعنی فرس ہے حمار ہے بقر وغیرہ ان پر بھی یہ بولا جاتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آیے متن دیکھیے بھئی۔ وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِنِ امْتَنَعَ انْفِكَاكُهُ عَنِ الشَّيْءِ فَلَازِمٌ بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ أَوِ الْوُجُودِ بَيِّنٌ يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ أَوْ مِنْ تَصَوُّرِهِمَا الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ وَغَيْرُ بَيِّنٍ بِخِلَافِهِ وَإِلَّا فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ يَدُومُ أَوْ يَزُولُ بِسُرْعَةٍ أَوْ بُطْءٍ۔ وَغَيْرُ بَيِّنٍ یہاں واو ہے آپ کی کتابوں میں؟ یہاں واو ہونا چاہیے۔ وَغَيْرُ بَيِّنٍ بِخِلَافِهِ وَإِلَّا فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ يَدُومُ أَوْ يَزُولُ بِسُرْعَةٍ أَوْ بُطْءٍ۔ اب دونوں کی تقسیم کرنے لگے ہیں چاہے خاصہ ہو چاہے عرض عام ہو۔ توجہ ہے؟ وَكُلٌّ مِنْهُمَا ان دونوں میں سے ہر ایک یعنی خاصہ اور عرض عام۔ یہ خاصہ اور عرض عام یہ کلی عرضی کے افراد ہیں کس کے؟ کلی دو قسم پر ہے یا کلی ذاتی ہو گی یا کلی عرضی اور تو یہ کلی عرضی کے افراد ہیں۔ کلی عرضی لہذا دو لفظ بولنے کے بجائے ہم کلی عرضی بول دیں گے۔ کلی عرضی کہیں گے تو اس میں خاصہ بھی آ گیا اور عرض عام بھی آ گئی۔ تو بجائے اس کے کہ ہم الگ خاصہ کو ذکر کریں اور الگ عرض عام کو ذکر کریں ہم کیا کہہ دیں گے کلی عرضی یہ دونوں کو شامل ہے۔ تو کلی عرضی کے بارے میں یاد رکھیں بھئی کلی عرضی کہ یا تو یہ اپنے افراد سے جدا ہو سکتی ہے یا جدا نہیں ہو سکتی۔ توجہ ہے؟ کلی عرضی کی دو قسمیں ہیں۔ کلی عرضی صفت کا نام ہے۔ کلی عرضی صفت اور جس کی یہ صفت بنے اس کو کہتے ہیں معروض۔ جیسے ضاحک کس کا خاصہ ہے؟ انسان کا تو انسان کو کیا کہیں گے؟ معروض۔ یہ ضاحک یہ ہے عارض یہ صفت ہے عارض ہوئی ہے اس کو اور انسان کیا ہے؟ معروض۔ یا جیسے ماشی۔ ماشی یہ کیا ہے انسان کو عارض ہے اور انسان کیا ہے؟ معروض۔ یا یہ ماشی حیوان کو عارض ہے اور حیوان کیا ہے؟ معروض۔ تو یہ جو کلی عرضی ہے یہ اس کی دو قسمیں ہیں یا تو یہ اپنے معروض سے جدا ہو سکتی ہے یا جدا نہیں ہو سکتی۔ اگر جدا ہو سکتی ہے تو اس کو مفارق کہتے ہیں۔ مفارق کا معنی جدا ہونے والا۔ چونکہ یہ عرض بھی اپنے معروض سے جدا ہو سکتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفارق یعنی جدا ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ اپنے معروض سے جدا نہیں ہو سکتا تو اس کو لازم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ لازم دیکھو ترجمے سے ہی آپ کو سمجھ میں آ رہا ہے۔ وہ عرض جو اپنے معروض کے ساتھ لازم ہے یعنی اس سے جدا نہیں ہو سکتی ممکن ہی نہیں ہے اس سے جدا ہو جائے۔ تو کلی عرضی کی کتنی قسمیں ہو گئیں؟ دو قسمیں ہو گئیں۔ یہ اپنے معروض سے جدا ہو سکتی ہے یا جدا نہیں ہو سکتی۔ اگر جدا نہیں ہو سکتی تو اس کا کیا نام؟ لازم اور اگر جدا ہو سکتی ہے تو اس کا کیا نام؟ مفارق ہے۔ جیسے ضاحک بالقوہ۔ ہر انسان کیا ہے؟ ضاحک بالقوہ اس میں ضحک کی صلاحیت ہے۔ یہ ضاحک بالقوہ انسان سے جدا نہیں ہو سکتا۔ یہ ضاحک بالقوہ انسان ہو اور ضاحک بالقوہ نہ ہو اس میں ضحک کی صلاحیت ہی نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ نے یہ اس کے ساتھ لازم رکھی ہے۔ جو بھی انسان ہوتا ہے اس میں ضحک کی قوت اور صلاحیت ہوتی ہے۔ تو ضاحک بالقوہ یہ کون سا عرض ہے؟ لازم ہے یا مفارق ہے؟ لازم۔ اور جبکہ ضاحک بالفعل وہ مفارق ہے۔ ضاحک بالفعل مفارق ہے۔ آپ کا ایک ساتھی ہنس رہا ہے تو اس وقت ضاحک بالفعل ہے۔ اور جب وہ خاموش ہو جائے گا تو اب وہ ضاحک بالفعل نہیں۔ دیکھو یہ عرض اس سے جدا ہو گئی۔ اس وقت وہ ضاحک بالفعل نہیں۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو ضاحک بالقوہ یہ کیا ہے؟ یہ لازم ہے اور ضاحک بالفعل یہ کیا ہے؟ یہ عرض مفارق ہے۔ پھر یاد رکھو یہ جو لازم ہے لازم پھر اس لازم کی دو تقسیمیں کریں گے۔ توجہ ہے؟ یہ مشکل باتیں ہیں ذرا۔ اس لازم کی دو تقسیمیں کریں گے۔ ایک تقسیم ہے ملزوم کے اعتبار سے۔ بھئی لازم جیسے عارض اور معروض تھا۔ عارض کس کا نام تھا؟ وہ عرض کا اور معروض کس کو کہتے تھے؟ وہ جو موصوف ہوتا تھا۔ توجہ ہے؟ اسی طرح یہ جو عرض جو لازم ہے۔ اس کے معروض کو کیا کہیں گے؟ ملزوم کہیں گے۔ وہی معروض اسی کا نام کیا ہے؟ ملزوم ہے کیونکہ صفت اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔ تو یہ جو عرض لازم ہے۔ یہ اپنے ملزوم کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں۔ یعنی یوں کہو اپنے موصوف کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں۔ یا تو یہ اس ماہیت کے ساتھ لازم ہو گی۔ کیا ہو گی؟ اس ماہیت کے ساتھ لازم ہو گی۔ قطع نظر اس کے وجود ذہنی یا وجود خارجی کے۔ میں نے آپ کو بتایا تھا ایک ہے وجود ذہنی۔ ایک ہے وجود خارجی اور ایک ہے وجود نفس الامری۔ وجود خارجی کسے کہتے ہیں؟ خارج میں کسی چیز کا وجود ہو جیسے زید کا وجود ہے آپ کا وجود ہے یہ کتاب ہے یہ مسجد ہے یہ سب کیا ہیں؟ یہ وجود خارجی ہیں۔ اور ایک ہے وجود ذہنی جو ذہن میں کوئی چیز آتی ہے جیسے اسی کتاب کا اسی کتاب کی جو صورت ذہن میں آئی یا آپ کی جو صورت میرے ذہن میں آئی یا جو زید ہے آپ کا ساتھی اس کی صورت آپ کے ذہن میں آئی۔ تو یہ کیا ہے؟ وجود ذہنی ہے۔ اور ایک وجود نفس الامری ہے کہ نفس الامر میں ایک چیز کا وجود ہو یعنی واقعے میں۔ کس میں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے خارج ایک ہے واقعہ۔ خارج اور واقعہ ایک چیز نہیں ہے۔ واقعے کا معنی ہے نفس الامر۔ واقعہ کسے کہتے ہیں؟ نفس الامر اور واقعہ ایک چیز ہیں۔ تو وجود نفس الامری وہ ہے کہ نفس الامر میں ایک چیز کا وجود ہو یعنی واقعے میں ایک چیز کا وجود ہو قطع نظر وجود ذہنی اور وجود خارجی کے۔ جیسے سچ۔ سچ ایک چیز ہے جھوٹ ایک چیز ہے۔ اور سچ کیا اس کا وجود خارجی ہے؟ نہیں ہے۔ خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں کیونکہ سچ تو مطابقت کا نام ہے آپ کا قول خارج کے مطابق ہو یا یوں کہو آپ کا قول واقعے کے مطابق ہو تو کیا کہیں گے یہ سچ ہے۔ اور اگر آپ کا قول واقعے کے مطابق نہیں ہے تو اسی کو کیا کہیں گے یہ جھوٹ ہے۔ تو یہ سچ اور جھوٹ چیزیں ہیں لیکن خارج میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تو وجود نفس الامری وہ ہے کہ واقعے میں ایک چیز کا وجود ہو قطع نظر وجود ذہنی اور وجود خارجی کے پھر میں نے ان میں نسبتیں بھی بیان کی تھیں بھئی یہ مشکل مقام ہے ان چیزوں کو بار بار دہرایا کرو۔ کیا نسبت تھی وجود خارجی اور وجود ذہنی میں کیا نسبت تھی؟ عموم خصوص من وجہ کی نسبت تھی۔ جو خارج میں ہو اس کا ذہن میں ہونا ضروری نہیں اور جو ذہن میں ہو اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً خارج میں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ لیکن اس کے لیے وجود ذہنی نہیں کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں اور یہ آنکھیں اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں اور ہمیں اللہ کی حقیقت کا بھی پتا نہیں ہے۔ تو اللہ کے لیے وجود خارجی تو ہے لیکن وجود ذہنی نہیں ہے۔ اور وجود ذہنی ہو اور وجود خارجی نہ ہو جیسے آپ فرض کر لیں ایک انسان ہے بغیر سر کے ہے بھئی اور وہ چل پھر رہا ہے تصور کر لیا؟ دیکھا یہ آپ کے ذہن میں تو ہے لیکن خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ اور کبھی دونوں اکٹھے ہوتے ہیں مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے زید اس کا خارج میں بھی وجود ہے اور جیسے ہی میں نے زید کہا اس کی فوراً صورت بھی آپ کے ذہن میں آ گئی تو ذہن میں بھی وجود ہے اس کا۔ جبکہ وجود نفس الامری اور وجود خارجی میں جو ہے عموم و خصوص مطلق کی نسبت تھی۔ جو بھی چیز خارج میں ہے وہ نفس الامر یعنی واقعے میں بھی ہے۔ زید خارج میں ہے تو واقعے میں بھی زید ہے۔ یہ کتاب خارج میں ہے تو واقعے میں بھی یہ کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات خارج میں ہے تو واقعے میں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تو جو بھی خارج میں ہے وہ نفس الامر میں بھی ہے وہ واقعے میں بھی ہے۔ لیکن جو بھی نفس الامر میں ہو اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں۔ جیسے سچ۔ سچ کوئی چیز ہے کہ نہیں؟ جی سچ ایک چیز ہے سب جانتے ہیں اور اسی لیے تو کہتے ہیں سچ اچھی چیز ہے۔ اور جھوٹ بھی ایک چیز ہے جبھی تو سب کہتے ہیں جھوٹ بری چیز ہے۔ لیکن کیا خارج میں سچ اور جھوٹ کا وجود ہے؟ کس قسم کا ہوتا ہے کس طرح کا رنگ ہوتا ہے اور کتنا بڑا ہے چھوٹا ہے موٹا ہے پتلا ہے کس طرح ہے؟ نہیں بھئی خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن واقعے میں سچ ایک چیز ہے۔ یا جیسے اور دیکھ لو سورج جیسے ہی نکلتا ہے دن ہو جاتا ہے تو سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے اور دن تبھی ہوتا ہے جب سورج نکلا ہو۔ تو سورج کے ساتھ دن اور دن کے ساتھ سورج دونوں کے درمیان ملازمہ ہے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ اور کیا اس کا کوئی ملازمہ کا کوئی خارج میں وجود ہے؟ ملازمہ یہ تو دونوں میں تعلق کا نام ہے یہ ہم دیکھتے ہیں جب سورج نکلتا ہے تو دن ہو جاتا ہے اور جب دن ہوتا ہے تو اس وقت کیا نکلا ہوتا ہے؟ سورج۔ اس سے ہم نے ایک معنی اخذ کر لیا کہ ان دونوں میں لزوم ہے ان دونوں میں ملازمہ ہے۔ تو یہ ملازمہ یہ تو مصدر ہے اور مصدر کا میں نے بتایا تھا خارج میں وجود نہیں ہوتا۔ خارج میں ہمیں حاصل بالمصدر تو دکھائی دے گا لیکن مصدر نہیں خارج میں ہمیں دوڑنا نہیں نظر آتا بلکہ دوڑ نظر آتی ہے اس سے جو حالت حاصل ہوئی۔ توجہ ہے؟ اور خارج میں ہمیں ہنسنا مصدر ہے مصدر کا خارج میں وجود ہوتا ہی نہیں تو وہ نظر کیسے آئے؟ ہاں اس مصدر سے جو کیفیت اور حالت حاصل ہوتی ہے وہ ہمیں خارج میں نظر آتی ہے تو خارج میں ہمیں ہنسنا نظر نہیں آتا بلکہ ہنسی نظر آتی ہے۔ اسی طرح یہ جو ملازمہ ہے سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ دن کا ہونا اور دن کے ساتھ سورج کا ہونا ان میں ملازمہ ہے لزوم ہے اور یہ مصدر ہے اور مصدر کا تو کوئی خارج میں وجود نہیں ہوتا۔ تو ان دونوں میں ملازمہ یہ ایک واقعی چیز ہے۔ واقعے میں بھی سورج کے ساتھ کیا لازم ہے؟ دن ہے لیکن کیا خارج میں اس ملازمہ کا وجود ہے؟ خارج میں اس ملازمہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تو جو بھی چیز خارج میں ہو وہ نفس الامر میں تو ضرور ہے واقعے میں ضرور ہے لیکن جو بھی چیز نفس الامر میں ہو خارج میں اس کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور وجود ذہنی اور وجود نفس الامری ان کے درمیان بھی میں نے بتلایا تھا عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ جو چیز نفس الامر میں ہو اس کا ذہن میں ہونا ضروری نہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات نفس الامر میں واقعے میں اللہ کی ذات ہے لیکن وجود ذہنی نہیں ہے۔ اسی طرح جو بھی وجود ذہنی ہو اس کا نفس الامر میں ہونا ضروری نہیں واقعے میں ہونا ضروری نہیں جیسے ابھی آپ نے بغیر سر کے ایک انسان کو فرض کر لیا ذہن میں تو ہے لیکن نفس الامر اور واقعے میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے۔ اور کبھی دونوں اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں نفس الامر میں بھی ایک چیز ہوتی ہے اور ذہن میں بھی ایک چیز ہوتی ہے جیسے سچ۔ نفس واقعے میں بھی سچ کیا ہے؟ ایک چیز ہے اور ذہن میں بھی ہم جانتے ہیں کہ سچ ایک چیز ہے یعنی وہ مطابقت کا نام ہے۔ آپ کا قول واقعے کے یا یوں کہیں سچ کا اچھا ہونا نفس الامر میں بھی سچ کیا ہے؟ اچھا ہے اور ہمارے ذہن میں بھی کیا ہے کہ سچ اچھا ہے۔ تو یہاں بات چل رہی تھی کہ یہ جو لازم ہے لازم کسے کہتے ہیں؟ وہ عرض جو اپنے معروض سے کبھی بھی جدا نہ ہو سکے جدا ہو ہی نہیں سکتا ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی لیے تو اس کو لازم کہتے ہیں۔ یہ لازم ملزوم کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں۔ توجہ ہے؟ ملزوم کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں۔ ایک کو کہتے ہیں لازم الماہیت، ایک کو کہتے ہیں لازم الوجود الخارجی اور ایک کو کہتے ہیں لازم الوجود الذہنی۔ توجہ ہے؟ ایک کیا ہے لازم ماہیت، ایک ہے لازم وجود خارجی اور ایک ہے لازم وجود ذہنی۔ لازم ماہیت وہ لازم جو کسی ماہیت کے ساتھ لازم ہو۔ قطع نظر اس کے وجود ذہنی اور وجود خارجی کے۔ ایک ماہیت کے ساتھ ایک چیز لازم ہو جیسے چار کا جفت ہونا۔ جو بھی چار ہو گا وہ کیا ہو گا؟ جفت ہو گا۔ تو چار جفت ہو گا۔ چار کی ماہیت کے ساتھ جفت کا ہونا لازم ہے۔ چار یہ جفت ہونا اس سے جدا ہو ہی نہیں سکتا قطع نظر خارج اور ذہن کے۔ خارج میں بھی کوئی چار آپ تصور کریں گے وہ بھی کیا ہو گا؟ جفت ہو گا۔ ذہن میں بھی کوئی تصور کریں گے وہ بھی کیا ہو گا؟ جفت ہو گا۔ تو معلوم ہوا جفت ہونا اس چار کی ماہیت کے ساتھ لازم ہے۔ یہ صرف وجود ذہنی کے ساتھ خاص نہیں یہ صرف وجود خارجی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس ماہیت کے ساتھ خاص ہے۔ یہ جفت ہونا اس چار کے ساتھ خاص ہے۔ تو لازم الماہیت کسے کہتے ہیں؟ وہ لازم جو کسی ماہیت کے ساتھ لازم ہو قطع نظر اس کے وجود ذہنی اور وجود خارجی کے ابھی باقیوں کی بھی مثالیں آ رہی ہیں ان شاء اللہ اور وضاحت ہو جائے گی۔ اور ایک ہے لازم وجود خارجی۔ وہ جو وجود خارجی کے ساتھ لازم ہو، کس کے ساتھ؟ وجود خارجی کے ساتھ لازم ہو جیسے جلانا آگ کے لیے۔ آگ جلانے والی ہے۔ لیکن کون سی آگ؟ خارج میں جو خارج میں ہے وہی جلائے گی، باقی ذہن والی آگ نہیں جلائے گی۔ یہ لازم ہے جلانا آگ کے ساتھ لیکن وجود ذہنی کے ساتھ یا وجود خارجی کے ساتھ؟ وجود خارجی خارج میں جو آگ کا وجود ہے اس کے ساتھ جلانا لازم ہے۔ اور کبھی لازم ہوتا ہے وہ صرف ذہن کے اندر ہوتا ہے کس کے اندر؟ ذہن کے اندر ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا کلی ہونا۔ زید کا جزئی ہونا۔ دیکھو انسان کلی ہے یہ صرف ذہن میں ہے۔ خارج میں نہیں۔ انسان کیا ہے؟ کلی ہے۔ کلی کس کا نام تھا؟ مفہوم کا نام تھا نا ایسا مفہوم جو کثیرین پر صادق آ سکے۔ اس کا نام کیا ہے؟ کلی ہے۔ تو کلی تو صرف مفہوم کا نام ہے اور مفہوم کہاں ہوتا ہے؟ ذہن میں ہوتا ہے خارج میں تو نہیں ہوتا بھئی۔ اسی طرح جزئی وہ بھی اس مفہوم کا نام ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے۔ تو جزئی بھی کیا ہے؟ مفہوم اور کلی بھی کیا ہے؟ مفہوم اور مفہوم کہاں ہوتا ہے؟ ذہن میں ہوتا ہے خارج میں نہیں ہوتا بھئی۔ تو لہذا انسان کا کلی ہونا یہ صرف کس میں ہے؟ ذہن میں ہے۔ خارج میں تو انسان کے جو افراد ہیں زید، عمرو، بکر، خالد وہ سارے جزئی ہیں بھئی۔ وہ سارے کیا ہیں؟ زید بھی ایک جزئی، خالد بھی ایک جزئی، بکر بھی ایک جزئی، عمرو بھی ایک جزئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو انسان کا کلی ہونا یہ صرف کس میں ہے؟ ذہن میں ہے۔ اور اس میں بھی یاد رکھو اس میں ہم جب ہم کہتے ہیں اَلْإِنْسَانُ كُلِّيٌّ توجہ ہے؟ ہم انسان کے بارے میں کیا کہتے ہیں انسان کلی ہے۔ تو پہلے ذہن میں انسان آتا ہے۔ انسان کا مفہوم۔ اس کے بعد دوسرا ہم حکم لگاتے ہیں کہ وہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ توجہ ہے؟ پھر یا اسی طرح پہلے ہمارے ذہن میں زید کا تصور آتا ہے پھر ہم اس پر حکم لگاتے ہیں یہ کیا ہے؟ جزئی ہے۔ تو لہذا یہ کلی اور جزئی ہونا اس کو معقول ثانی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ معقول ثانی کہتے ہیں۔ معقول ثانی یعنی یہ ثانیاً عقل میں آتا ہے۔ پہلے وہ چیز ذہن میں آتی ہے اور پھر عقل اس پر فیصلہ کرتی ہے اور اس پر حکم لگاتی ہے کہ یہ کلی ہے یا جزئی۔ انسان کا جب تصور کر لیا ذہن نے خود ہی کہا یہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ تو پہلے تصور کس کا؟ انسان کا۔ پھر ذہن نے حکم کیا لگایا؟ کلی ہونے کا۔ یا دوسری صورت میں نے زید کا تصور کیا۔ پہلے ذہن میں کس کا تصور آیا؟ زید کا۔ اس کے بعد اس پر کیا حکم لگایا ذہن نے خود ہی؟ کہ یہ تو جزئی ہے۔ تو پہلے کون آیا ذہن میں؟ انسان، پھر کیا آیا؟ کلی۔ اسی طرح میں نے جیسے ہی زید کہا آپ کے ذہن میں کس کی صورت آ گئی؟ زید کی۔ جیسے ہی زید آیا ساتھ ہی ذہن میں خود بخود کیا آ گیا؟ کہ یہ تو جزئی ہے۔ تو لہذا یہ کلی اور جزئی اس کو معقول ثانی کہتے ہیں۔ کیا؟ معقول ثانی یعنی یہ عقل میں ثانیاً آتے ہیں اولاً ایک چیز آتی ہے ذہن میں اور پھر عقل اس پر فیصلہ کرتی ہے اور اس پر حکم لگاتی ہے کہ یہ کلی ہے یا جزئی۔ تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ معقول ثانی۔ کس کو؟ یہ جو لازم وجود ذہنی تھا۔ کیا تھا؟ لازم وجود ذہنی۔ پھر سنو لازم جو ہے کون سا عرض ہے؟ جو اپنے معروض سے کبھی بھی جدا نہ ہو سکے۔ جدا ہو ہی نہیں سکتا ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی لیے تو اس کو لازم کہتے ہیں۔ یہ لازم اپنے ملزوم کے اعتبار سے، کس کے اعتبار سے؟ ملزوم یعنی جس کے ساتھ یہ لازم ہے۔ اس کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں۔ یا تو یہ لازم ہو گا کسی ماہیت کے ساتھ یا یہ لازم ہو گا وجود خارجی کے ساتھ یا یہ لازم ہو گا وجود ذہنی کے ساتھ۔ تو دیکھو ملزوم کے اعتبار سے یہ قسمیں ہیں۔ ملزوم جو ہے وہ ماہیت ہو گی یا وجود خارجی ہو گا یا وجود ذہنی ہو گا۔ تو ملزوم اگر ماہیت ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ لازم ماہیت۔ جیسے چار کے لیے جفت ہونا۔ جو بھی چار ہو گا اس کی صفت کیا ہے؟ وہ جفت ہو گا۔ یہ جفت ہونا چار سے جدا نہیں ہو سکتا۔ آپ خارج میں کوئی چار آپ تصور کریں گے وہ بھی کیا ہو گا؟ جفت ہو گا۔ آپ ذہن میں کوئی چار فرض کر لیں وہ بھی کیا ہو گا؟ جفت۔ تو یہ نہ وجود ذہنی کے ساتھ خاص ہے نہ وجود خارجی کے ساتھ خاص ہے یہ قطع نظر وجود خارجی اور وجود ذہنی کے یہ اس ماہیت کے ساتھ خاص ہے۔ جو بھی چار ہو گا وہ کیا ہو گا؟ جفت ہو گا۔ یہ لازم ہے۔ کون سا لازم ہے ماہیہ؟ اس ماہیت یعنی چار کی ماہیت کے ساتھ جفت ہونا لازم ہے۔ اور ایک ہے لازم وجود خارجی وہ جو وجود خارجی کے ساتھ لازم ہو جیسے جلانا آگ کے لیے۔ آگ جلانے والی ہے لیکن کون سی آگ؟ خارج میں جو آگ کا وجود ہے اس کے ساتھ جلانا لازم ہے۔ ذہن والی آگ کے ساتھ نہیں جلاتی۔ یہ لازم ہے لیکن وجود خارجی کے ساتھ۔ اور ایک لازم وہ ہے جو صرف ذہن کے ساتھ ہے۔ اس کو لازم وجود ذہنی کہتے ہیں اور جیسے وہ جیسے کلی اور جزئی ہونا اور یہ کلی اور جزئی ہونا یہ لازم وجود ذہنی ہے۔ انسان کا تصور ذہن میں آیا۔ جیسے ہی آیا اس کی ایک صفت بھی آ گئی کیا؟ یہ کلی ہے۔ جیسے ہی زید کا تصور آیا ساتھ ہی اس کی ایک صفت بھی آ گئی کہ یہ کیا ہے؟ جزئی ہے۔ اور یہ جزئی ہونا زید سے جدا ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ یہ کلی ہونا انسان سے جدا ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ جو بھی انسان وہ کیا ہیں؟ کلی۔ اور جو بھی زید وہ کیا ہے؟ جزئی۔ تو دیکھو یہ لازم ہے۔ اور کیسا لازم ہے؟ خارج میں لازم ہے یا ذہن میں؟ ذہن میں لازم ہے۔ خارج میں تو کلی اور جزئی کا مفہوم کا نام ہے۔ پھر آپ جفت ہونے کا تصور کریں، پھر آپ دیکھیں کہ یہ جفت ہونا یہ چار کے ساتھ لازم ہے، ان میں نسبت کیا ہے؟ ان میں نسبت یہ کیا یہ چار بھی جفت ہے یا جفت نہیں ہے، پھر آپ کو ذہن بتاتا ہے کہ یہ چار بھی جفت ہے اور اس سے جفت ہونا کبھی جدا نہیں ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ اس میں کیا تین چیزوں کا تصور کرنا پڑتا ہے۔ کیا ملزوم کا بھی تصور، پھر لازم کا بھی تصور، پھر ان کے درمیان نسبت کا بھی تصور کہ یہ صفت اسے جدا ہو سکتی ہے یا جدا نہیں ہو سکتی، پھر جا کر ذہن فیصلہ کرتا ہے، اور یقین اس کو ہو جاتا ہے کہ یہ اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ آپ نے پہلے کس کا تصور کیا؟ چار کا۔ پھر کس کا کیا؟ جفت ہونے کا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ یہ جفت ہونا چار پر صادق آتا ہے یا نہیں آتا، کیا یہ چار سے جدا ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا، پھر جب آپ نے نسبت میں غور کیا، پھر آپ کو ذہن نے بتایا کہ یہ اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہو سکتا۔ یہ ہمیں چار جب بھی ہوگا ہمیشہ کیا ہوگا؟ جفت۔ تو یہ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ہے۔ توجہ ہے؟ یہ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ہے بھئی۔ اور اس کے مقابل کیا ہوگا؟ لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ بعض شارحین نے اس کو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ کہا، کیا کہا؟ أَخَصّ کہا، لیکن أَخَصّ نہیں، یہ کس کے مقابلے میں ہے؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ کے مقابلے میں ہے، تو اس کا نام بھی کیا ہے؟ لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بھئی کس طرح؟ جیسے دیکھو، یا چلو یہ آگے چل کر میں بیان کروں گا بھئی۔ بھئی دیکھو اب ذرا ترجمہ دیکھ لو۔ پھر دیکھیں، وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِنِ امْتَنَعَ انْفِكَاكُهُ عَنِ الشَّيْءِ فَلَازِمٌ، اور ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے یعنی خاصہ اور عرض عام، ان کا اگر جدا ہونا ممکن نہ ہو کسی چیز سے، فَلَازِمٌ تو پھر وہ لازم ہے۔ اور ایک سطر بعد آ رہا ہے، وَإِلَّا فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ عرض مفارق ہے۔ پھر لازم کی تقسیم شروع کی تھی کہ بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ أَوِ الْوُجُودِ، کہ یہ لازم ہوگا ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے یا وجود کی طرف نظر کرتے ہوئے، یعنی وجود خارجی اور وجود ذہنی کی طرف نظر کرتے ہوئے تو وہ تین قسمیں ہو گئیں۔ بَيِّنٌ، یا یہ لازم کیا ہوگا؟ بَيِّنٌ ہوگا۔ يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ، کہ لازم ہو اس کا تصور مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ، کس کے تصور سے؟ ملزوم کے تصور سے، ملزوم کے تصور کے ساتھ اس لازم کا تصور بھی لازم ہوگا۔ یہ پہلی قسم لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ بَيِّنٌ کہ لازم بَيِّنٌ ہوگا، يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ، کہ اس لازم کا تصور لازم ہوگا مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ، کس کے تصور سے؟ ملزوم کے تصور سے۔ أَوْ مِنْ تَصَوُّرِهِمَا الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ، یا ان دونوں کے تصور سے، یہ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ بیان کرنے لگے ہیں۔ أَوْ مِنْ تَصَوُّرِهِمَا یا دونوں کا تصور کرنے سے اَلْجَزْمُ بِاللُّزُومِ، لزوم کا یقین ہو جاتا ہے۔ یہ اَلْجَزْمُ یہ فاعل ہے يَلْزَمُ کا۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ لازم ہوتا ہے، پھر دیکھیں ترجمہ، يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ اس لازم کا تصور لازم ہوتا ہے، ضروری ہوتا ہے مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ کس سے؟ ملزوم کا تصور کریں تو لازم کا تصور ضرور ہوگا۔ تَصَوُّرُهُ یہ فاعل تھا کس کا؟ يَلْزَمُ کا۔ اسی پر عطف ہے آگے اَلْجَزْمُ کا۔ کیا؟ أَوْ مِنْ تَصَوُّرِهِمَا، یا دونوں کے تصور کے ساتھ کیا ہوگا؟ يَلْزَمُ الْجَزْمُ جزم لازم ہوگا جزم باللزوم، یعنی لزوم کا یقین ضروری ہوگا۔ دونوں کا تصور کریں گے تو یقین ہو جائے گا کہ ان میں کیا ہے؟ لزوم ہے، تو لزوم کا یقین ہو جائے گا۔ دونوں کا تصور کرنے سے يَلْزَمُ الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ، کیا معنی؟ ضروری ہوگا کیا؟ اَلْجَزْمُ بِاللُّزُومِ لزوم کا یقین۔ لزوم کا یقین ضروری ہو جائے گا یعنی لزوم کا یقین ہو جائے گا۔ جب دونوں کا تصور کریں گے اور نسبت کا تصور کریں گے تو ذہن کیا کہے گا؟ کہ ان دونوں میں لزوم ہے یقینی اور قطعی طور پر یہ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے أَوْ مِنْ تَصَوُّرِهِمَا الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ، یا ان دونوں کا تصور کرنے سے لزوم کا یقین ہو جاتا ہے۔ وَغَيْرُ بَيِّنٍ بِخِلَافِهِ، اور غیر بَيِّنٌ اس کے برخلاف ہے۔ یعنی لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ لو، تو اس کے مقابل کیا ہوگا؟ لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ، وہ بھی أَخَصّ۔ پہلا کیا ہے؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ تو اس کا مقابل کیا ہے؟ لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ اور لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ہے تو اس کا مقابل کیا ہے؟ غَيْرُ... ہاں لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اب ان کو أَعَمّ اور أَخَصّ کیوں کہتے ہیں یہ سمجھ لو بھئی۔ بڑی گہری بات ہے۔ ان کو أَعَمّ اور أَخَصّ کیوں کہتے ہیں؟ دیکھو ایک ہے انسان، ایک کیا ہے؟ حیوان۔ توجہ ہے؟ ایک ہے انسان اور ایک ہے حیوان۔ جو بھی انسان ہوگا وہ کیا ہوگا؟ حیوان ہوگا، لیکن جو بھی حیوان ہو اس کا انسان ہونا ضروری نہیں۔ یہاں بھی، لَازِمٌ بَيِّنٌ کے دو معنی بیان کر دیے، ایک پہلا معنی اور وہ اس کا کیا نام رکھا؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ ایک دوسرا معنی بیان کیا، اس کا کیا نام رکھا؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ۔ اس کو پہلے کو أَخَصّ کیوں کہتے ہیں؟ ثانی کو أَعَمّ کیوں کہتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی نسبت سے، کس کی نسبت سے؟ یہ پہلا والا أَخَصّ ہے، دوسرے کی نسبت سے، اور دوسرا والا أَعَمّ ہے، کس کی نسبت سے؟ پہلے کی نسبت سے۔ جیسے حیوان اور انسان، انسان کو أَخَصّ کہتے ہیں کس وجہ سے؟ حیوان کی نسبت سے، اور حیوان کو أَعَمّ کہتے ہیں کس کی نسبت سے؟ انسان کی نسبت سے۔ بھئی ان کو ایک دوسرے کی نسبت سے أَعَمّ و أَخَصّ کیوں کہا؟ وجہ یہ، کہ ان میں سے ایک ہے أَخَصّ، ایک ہے أَعَمّ، اور آپ جانتے ہیں جہاں أَخَصّ ہو وہاں أَعَمّ ضرور ہوتا ہے جہاں أَعَمّ ہو وہاں أَخَصّ کا ہونا ضروری نہیں۔ نہیں سمجھ میں آئی، بات اوپر سے گزر گئی۔ جہاں أَخَصّ ہوتا ہے وہاں أَعَمّ ضرور ہوگا۔ جو انسان ہوگا وہ حیوان ضرور ہوگا، تو جو أَخَصّ ہوگا وہ أَعَمّ ضرور ہے لیکن جو أَعَمّ ہو یعنی جو بھی حیوان ہو اس کا انسان ہونا ضروری نہیں۔ جو أَخَصّ ہوگا وہ کیا ہوگا؟ وہ أَعَمّ ضرور ہوگا، یعنی انسان کیا ہے؟ أَخَصّ، اور حیوان کیا ہے؟ أَعَمّ۔ جو بھی انسان ہوگا وہ کیا ہوگا؟ حیوان، یعنی جو بھی أَخَصّ ہوگا وہ أَعَمّ ضرور ہوگا۔ لیکن جو بھی حیوان ہو اس کا انسان ہونا ضروری نہیں، یعنی جو بھی أَعَمّ ہو اس کا أَخَصّ ہونا ضروری نہیں۔ یہاں پر بھی یہ جو پہلا ہے یہ أَخَصّ ہے، جہاں پر بھی یہ پہلا معنی آئے گا دوسرا بھی ضرور ہوگا۔ اور دوسرا والا أَعَمّ ہے، جہاں بھی وہ ہو وہ پہلے کا ہونا ضروری نہیں۔ کیسے؟ انہوں نے کیا کہا؟ پہلا معنی کیا بیان کیا؟ أَخَصّ، وہ أَخَصّ کا کیا أَخَصّ کسے کہتے تھے؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ؟ ملزوم کا تصور کریں تو لازم خود بخود آ جائے۔ جب ملزوم کا تصور کرنے سے ہی لازم کا تصور آ جاتا ہے، تو جب دونوں کا بھی تصور کر لیں اور نسبت کا بھی تصور کر لیں، پھر تو بطریق اولیٰ وہاں پر لزوم کا یقین ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جہاں صرف ملزوم کے ہی تصور سے کیا ہو رہا ہے؟ لزوم کا یقین ہو رہا ہے، صرف ایک چیز کے تصور سے لزوم کا یقین ہو رہا ہے، تو تینوں چیزوں کا تصور کرو گے پھر تو بطریق اولیٰ یقین ہو جائے گا۔ آپ نے صرف حاتم طائی کے بارے میں سوچا، فوراً ذہن میں کیا چیز آگئی؟ سخاوت آگئی۔ دیکھا؟ تو جب صرف حاتم طائی کو سوچنے سے سخاوت ذہن میں آگئی کہ حاتم طائی کے ساتھ سخاوت لازم ہے، تو اگر آپ حاتم طائی کا بھی تصور کریں، آپ سخاوت کا بھی تصور کریں، پھر آپ ان دونوں کے درمیان نسبت کا بھی تصور کریں، پھر تو بطریق اولیٰ اور زیادہ کیا ہوگا؟ لزوم کا یقین ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو جہاں بھی أَخَصّ ہوتا ہے وہاں أَعَمّ ضرور ہوتا ہے۔ یا دوسری مثال لے لیں، شیر کا جیسے ہی آپ تصور کرتے ہیں ذہن میں کیا آ جاتی ہے؟ بہادری، جب شیر کے تصور سے بہادری آ جاتی ہے تو ذرا شیر کا علیحدہ تصور کرو، بہادری کا علیحدہ تصور کرو، پھر ان دونوں میں نسبت دیکھو، تو اب تو بطریق اولیٰ کیا ہوگی؟ یقین آئے گا کہ یہ بہادری اس سے جدا نہیں ہو۔ تو جو بھی لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ ہوگا وہ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ضرور ہوگا۔ لیکن جو بھی لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ہو اس کا لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ ہونا ضروری نہیں، جیسے دیکھو، آپ نے چار کے بارے میں بھی سوچا، آپ نے جفت ہونے کے بارے میں بھی سوچا، پھر آپ نے ان کے درمیان نسبت کے بارے میں بھی سوچا، تو آپ کو اس سے لزوم کا یقین ہو گیا۔ جب تین چیزیں سوچنے سے ہی لزوم کا یقین ہو رہا ہے، تو صرف ملزوم کے سوچنے سے لزوم کا یقین ہونا ضروری نہیں ہے۔ کتنی چیزیں سوچیں تو لزوم کا یقین ہوا؟ تین چیزیں کیا؟ چار کو بھی سوچا، جفت ہونے کو بھی سوچا اور ان میں نسبت کو بھی سوچا۔ تو جب تین چیزوں کی وجہ سے لزوم کا یقین ہو رہا ہے تو صرف ملزوم کے سوچنے سے لزوم کا یقین ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو جہاں پہلی قسم ہوگی وہاں دوسری قسم ضرور ہوگی، یعنی جہاں صرف ملزوم کے تصور سے لزوم کا یقین ہوتا ہے وہاں تینوں کے تصور سے بطریق اولیٰ لزوم کا یقین ہوگا۔ لیکن جہاں أَعَمّ ہو وہاں أَخَصّ کا ہونا ضروری نہیں، جہاں تین چیزوں کے تصور سے لزوم کا یقین ہوتا ہے وہاں ایک کے تصور سے لزوم کا یقین ہونا ضروری نہیں ہے۔ پہلے کو أَخَصّ اور ثانی کو أَعَمّ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ جہاں أَخَصّ ہوتا ہے وہاں أَعَمّ ضرور ہوتا ہے جہاں أَعَمّ لازم بَيِّنٌ کا پہلا معنی ہوگا تو ثانی بھی ضرور ہوگا۔ لیکن جہاں ثانی ہو وہاں اول کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اچھا بھئی یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ کے دو معنی سمجھ میں آگئے؟ ایک کیا؟ کہ ملزوم کے تصور سے لازم کا تصور آ جائے۔ اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس معنی کو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اور دوسرا کیا؟ کہ ملزوم اور لازم اور ان کے درمیان نسبت کا تصور کریں تو ان میں لزوم کا یقین ہو جائے۔ اور اس کو پہلے کو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ کہتے ہیں اور دوسرے کو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ۔ پہلے کو أَخَصّ اور دوسرے کو أَعَمّ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ أَخَصّ وہ ہوتا ہے جہاں بھی أَخَصّ ہوتا ہے وہاں أَعَمّ ضرور ہوتا ہے اور جہاں أَعَمّ ہو وہاں أَخَصّ کا ہونا ضروری نہیں۔ جیسے انسان اور حیوان جہاں انسان ہوگا وہ حیوان ہوگا لیکن جو حیوان ہو اس کا انسان ہونا ضروری نہیں۔ تو جہاں پہلا معنی ہوگا وہاں دوسرا ضرور ہوگا۔ اور جہاں دوسرا ہو وہاں پہلا ہونا ضروری نہیں جب ملزوم کے تصور سے لزوم کا یقین ہو جاتا ہے تو پھر تو ملزوم اور لازم اور نسبت اس سے تو بطریق اولیٰ لزوم کا یقین ہوگا۔ اور جہاں دوسرا معنی ہو وہاں پہلا معنی ضروری نہیں جہاں ملزوم لازم اور نسبت کا تصور کرنے سے لزوم کا یقین ہوتا ہے وہاں ایک کے تصور سے لزوم کا یقین ہونا ضروری نہیں ہے۔ اب ذرا صفحے پر ایک نقشہ تھوڑا سا بنا لیں۔ جی نقشہ بنا لیں۔ صفحے کے دو حصے کریں اوپر سے نیچے کی طرف لکیر لگائیں۔ دو حصے بن گئے صفحے کے۔ جی، اب ایک طرف لکھیں بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ اور اس کے سامنے دوسری طرف لکھیں غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ لکھ لیا؟ جی۔ اچھا، اب دو تین چار سطریں چھوڑ کر نیچے لکھیں، پھر پہلے خانے میں لکھیں بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ۔ اور دوسری طرف اسی کے سامنے لکھیں غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب ذرا توجہ سے، گہری بات میں سمجھانے لگا ہوں۔ یہ دیکھو یہ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ جو ہے، اس کو أَخَصّ کیوں کہتے ہیں؟ کس وجہ سے؟ اس دوسرے معنی لَازِمٌ بَيِّنٌ کے دوسرے معنی کی نسبت سے اس کو کیا کہتے ہیں؟ أَخَصّ۔ اور جہاں أَخَصّ ہو وہاں کیا ہوتا ہے؟ أَعَمّ ضرور، لیکن جہاں أَعَمّ ہو وہاں أَخَصّ کا ہونا ضروری نہیں۔ جیسے انسان اور حیوان أَخَصّ کون؟ انسان اور أَعَمّ کون؟ حیوان۔ تو جو بھی انسان ہوگا وہ کیا ہوگا؟ حیوان یعنی جو بھی أَخَصّ ہے وہ أَعَمّ ضرور ہے۔ لیکن جو بھی أَعَمّ ہو اس کا أَخَصّ ہونا ضروری نہیں یعنی جو بھی حیوان ہو اس کا انسان ہونا ضروری نہیں۔ تو یہ پہلا معنی کیا ہے؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ یہ کس کی طرح ہے؟ انسان کی طرح۔ ذرا اس کے اوپر انسان لکھو۔ بات ذرا جلدی سمجھ میں آئے گی۔ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ جو لکھا تھا اس کے اوپر چھوٹا سا انسان لکھ دیں۔ اور نیچے جو لکھا تھا لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ یہ کس کی طرح ہے؟ حیوان کی طرح اس کے اوپر چھوٹا سا لکھ لیں حیوان۔ اچھا تو اوپر والا ہوا أَخَصّ نیچے والا ہوا أَعَمّ۔ اب دیکھو بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ پہلے آپ نے لکھا۔ جی پہلی سطر میں کیا لکھا تھا لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اس کے سامنے اس کا مقابل کیا لکھا؟ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ نقیض ہے اس یہ دونوں آپس میں کیا ہیں؟ نقیضیں، جو بھی لازم ہوگا یا تو وہ بَيِّنٌ ہوگا یا غَيْرُ بَيِّنٌ ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیضیں ہیں۔ تو گویا وہ پہلا انسان کے درجے میں ہے تو یہ دوسرا کیا ہے؟ لا انسان۔ لہذا اس کے اوپر لا انسان ذرا لکھ لو۔ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اس کے اوپر لکھ لو لا انسان چھوٹا سا۔ اور نیچے والا کیا؟ نیچے دوسرا معنی کیا تھا لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ وہ کس کے درجے میں؟ حیوان تو اس کے مقابلے میں جو غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ ہے اس کے اوپر لکھ لیں لا حیوان۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھو یہ جو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ أَخَصّ ہے اور نیچے والا معنی کیا ہے؟ اوپر والا پہلا معنی کیا ہے؟ أَخَصّ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اور نیچے والا معنی کیا ہے؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ۔ پھر دیکھیں لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ کیا ہے؟ أَخَصّ ہے اور یہ کس کے درجے میں؟ انسان کے درجے میں اور اس کے مقابل غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اس کے سامنے جو ہے لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ وہ کیا ہے؟ لا انسان۔ تو یہ لا انسان انسان کی نقیض ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھو لَازِمٌ بَيِّنٌ کا اوپر والا معنی کیا ہے؟ أَخَصّ نقیض کی بات چھوڑ دیں لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اور نیچے والا ہے لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ تو اوپر والا ہے أَخَصّ نیچے والا ہے أَعَمّ معلوم ہوا ان میں نسبت کون سی؟ عموم و خصوص مطلق کی۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوتی ہے ان کی نقیضوں میں بھی عموم و خصوص مطلق ہوتا ہے لیکن برعکس ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوتی ہے ان کی نقیضوں میں بھی عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوتی ہے لیکن برعکس ہو جاتی ہے یعنی أَخَصّ أَعَمّ بن جاتا ہے اور أَعَمّ أَخَصّ بن جاتا ہے یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ جیسے دیکھو مثال میں نے سمجھائی تھی تین دائرے فرض کر لیں اپنے سامنے ایک دائرہ بلکہ تین دائرے چھوٹے سے بنا لیں جلدی سے تین دائرے۔ ایک میں لکھیں انسان۔ دوسرے دائرے میں لکھ لیں دیگر حیوانات۔ اور تیسرے دائرے میں لکھیں باقی عالم کی چیزیں باقی چیزیں لکھ لو۔ توجہ ہے؟ ایک دائرے میں کون انسان دوسرے میں باقی تمام حیوانات آگئے اور تیسرے دائرے میں تمام عالم کی چیزیں آگئیں۔ فرض کرو انسان بھی 50، اور باقی حیوانات بھی سارے 50 اور تمام چیزیں بھی عالم کی 50 فرض کر لو۔ اب دیکھو انسان میں نے کہا کتنے دائرے آئے اس میں؟ ایک۔ کتنے افراد انسان کے معلوم ہوا؟ 50۔ اچھا اور میں نے کہا حیوان کتنے دائرے آئے؟ انسان بھی اور دیگر حیوانات بھی آگئے تو حیوان کے افراد کتنے ہو گئے؟ 100 تو انسان کے افراد 50 اور حیوان کے 100 انسان أَخَصّ اور حیوان أَعَمّ۔ اب ذرا انسان کی نقیض لے آؤ انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان۔ تین دائرے ہیں ایک انسان ہے وہ تو نکل گیا باقی دونوں لا انسان ہیں۔ تو لا انسان کے کتنے افراد؟ 100 ہو گئے۔ اچھا حیوان کے کتنے افراد تھے؟ 100 تو لا حیوان کس پر اب دائرے پر صادق آتا ہے؟ لا حیوان کون سا دائرہ ہے؟ صرف ایک دائرہ حیوان کے دو دائرے تھے تو لا حیوان کا ایک دائرہ تو حیوان کے کتنے افراد تھے؟ 100 تو لا حیوان کے کتنے رہ گئے؟ 50۔ انسان کے افراد تھے 50 لا انسان کے کتنے ہو گئے؟ 100۔ اور حیوان کے افراد کتنے تھے؟ 100 لا حیوان کے کتنے ہو گئے؟ 50۔ دیکھا جو أَعَمّ تھی وہ کیا بن گئی؟ أَخَصّ جو أَخَصّ تھی وہ أَعَمّ۔ انسان کیا تھا؟ أَخَصّ 50 افراد تھے لا انسان کیا ہے؟ أَعَمّ اس کے کتنے افراد ہیں؟ 100 ہیں اور حیوان کے کتنے افراد تھے؟ 100 أَعَمّ تھا لیکن لا حیوان کے کتنے افراد؟ 50 وہ کیا بن گیا؟ وہ أَخَصّ بن گیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب اس نقشے پر آؤ جو اوپر میں نے بنوایا تھا۔ دیکھو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ کس کے درجے میں؟ انسان کے درجے میں تو اس کی نقیض کیا آئی؟ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ تو وہ کیا ہے؟ لا انسان کے درجے میں۔ اور انسان أَخَصّ تھا تو لا انسان کیا ہے؟ أَعَمّ ہے توجہ ہے معلوم ہوا یہ لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ أَعَمّ ہے۔ لہذا اس کے نیچے چھوٹا سا لکھو أَعَمّ۔ اس کے نیچے اسی غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ جو لا انسان ہے لا انسان غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اس کے نیچے چھوٹا سا لکھ لو أَعَمّ۔ توجہ ہے؟ اچھا اب نیچے آ جاؤ۔ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ وہ کیا تھا؟ حیوان کے درجے میں اور حیوان کیا ہے؟ أَخَصّ تھا یا أَعَمّ؟ أَعَمّ ہے۔ تو لا حیوان جو بنا وہ کیا ہوگا؟ أَخَصّ ہوگا۔ تو معلوم ہوا غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ وہ کیا ہے؟ أَخَصّ اس کے نیچے چھوٹا سا لکھو أَخَصّ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ معلوم ہوا کہ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ جو اس کی نقیض ہے غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ وہ أَعَمّ ہے۔ اور لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ جو تھا دوسرا معنی لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ وہ أَعَمّ ہے لیکن اس کی جو نقیض ہے غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ وہ أَخَصّ ہے۔ کیونکہ وہ لا حیوان کے درجے میں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ اب اس غَيْرُ بَيِّنٍ پہ ذرا نظر رکھو یہ جو غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ جو اوپر والا ہے۔ یہ نام تو ہے اس کا غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ لیکن یہ کیا ہے؟ أَعَمّ اور نیچے والا جو غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ نام تو اس کا أَعَمّ ہے لیکن یہ کیا ہے؟ أَخَصّ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس سے بعض علماء کو شبہ ہوا انہوں نے اس پہلی کا نام ہی کیا رکھا؟ غَيْرُ بَيِّنٍ کی بات کر رہا ہوں صرف غَيْرُ بَيِّنٍ۔ بَيِّنٍ کی تو بات ہو گئی پہلی قسم کیا؟ أَخَصّ دوسری قسم کیا؟ أَعَمّ۔ لیکن غَيْرُ بَيِّنٍ میں پہلی قسم کو انہوں نے کیا کہہ دیا؟ أَعَمّ کہہ دیا کیونکہ یہ أَعَمّ ہے۔ اور نیچے والی تو أَعَمّ ہے لیکن انہوں نے اس کو کیا کہہ دیا؟ أَخَصّ کیونکہ وہ أَخَصّ ہے افراد کے اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن یہ درست نہیں بھئی پہلی قسم جو ہے وہ اس کا نام أَخَصّ ہی ہے۔ ہاں وہ افراد کے اعتبار سے وہ کیا ہے؟ أَعَمّ ہے۔ دوسری قسم کا نام أَعَمّ ہی ہے اگرچہ وہ افراد کے اعتبار سے أَخَصّ ہے۔ آپ کہیں گے یہ کیسے؟ تسلی نہیں ہو رہی أَخَصّ کو أَعَمّ کیوں کہہ رہے ہیں اور أَعَمّ کو أَخَصّ کیوں کہہ رہے ہیں۔ یہ نقشہ میں نے اسی لیے بنوایا تھا یہ سمجھانے کے لیے۔ دیکھو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ کس کے درجے میں؟ انسان۔ اسی انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان اسی انسان پر لا داخل کیا آپ نے کیا داخل کیا؟ لا یا غیر داخل کر لو انسان اور غیر انسان۔ ایک ہی بات ہے نا انسان کی نقیض کیا ہوگی؟ غیر انسان۔ تو یہ اوپر والی بھی کس کی نقیض ہے؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ کی نقیض ہے۔ نقیض کیسے بناتے ہیں؟ کہ عین کے اوپر لا یا غیر داخل کرتے ہیں انسان پر کیا داخل کیا؟ لا یا غیر تو انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان یا انسان کی نقیض کیا؟ غیر انسان۔ تو یہاں پر بھی لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اس پر غیر داخل کر دیا۔ کیا بن گیا؟ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ دیکھو انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان۔ تو پورے انسان پر کون سا لفظ لے آئے؟ غیر کا لفظ لے آئے یہاں پر بھی بَيِّنٌ کی پہلی قسم کیا تھی؟ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اس سارے پر غیر کا لفظ داخل کر دیا یہ اس سے غیر ہو اس کے علاوہ ہو۔ اچھا یوں کرو یہ صرف لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ پہ نظر رکھو ذرا پھر میں سمجھاؤں۔ پہلے خانے میں سب سے اوپر کیا لکھا؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یہ کس کے درجے میں؟ انسان کے تو انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان لا کو چھوڑ دو غیر کو ذرا لے آؤ انسان کی نقیض کیا؟ غیر انسان تو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اس سارے کی نقیض مجھے چاہیے تو اس سارے پر کیا داخل کروں گا؟ غیر تو کیا بن جائے گا؟ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو غیر اس سارے پر داخل ہو رہا ہے۔ اب بات سمجھ میں آئی؟ نیچے والی قسم کیا تھی بَيِّنٌ کی؟ لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ اس سارے پر غیر کا لفظ داخل کر دو غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو نام نہیں بدلیں گے کیونکہ یہ نقیض ہے انسان کی نقیض جیسے غیر انسان ہے اسی طرح بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ کی نقیض کیا ہے؟ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ ہے۔ اس سارے پر غیر کا لفظ داخل ہو گیا۔ کہ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ جو نہ ہو لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ کسے کہتے تھے؟ ملزوم کا تصور کریں تو کس کا تصور آ جائے؟ لازم کا اور جو ایسا نہ ہو وہ کیا ہوگا؟ وہ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ یعنی اس سے غیر ہو ملزوم کے تصور سے لازم کا تصور نہ آئے تو سارے پر غیر کا لفظ داخل ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی تو غیر کا لفظ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ پورے پر داخل ہوا تو کیا بن گیا؟ غَيْرُ بَيِّنٍ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ جیسے پورے انسان پر کیا لفظ داخل ہوا تھا؟ غیر انسان تو وہ اس کی نقیض بن گئی تھی۔ لیکن ہے یہ والا أَعَمّ ہے یہ افراد کے اعتبار سے اور نیچے والا نام میں أَعَمّ آ رہا ہے لیکن ہے وہ أَخَصّ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح۔ یہ معنی ہے اب دیکھیے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَغَيْرُ بَيِّنٍ بِخِلَافِهِ اور غَيْرُ بَيِّنٍ جو ہے وہ ان کے برخلاف ہے۔ یعنی لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصّ اور لَازِمٌ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمّ دونوں کے مقابلے میں جو غَيْرُ بَيِّنٍ آتا ہے وہ ان کے خلاف ہوتا ہے۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کلی عرضی کا اپنے افراد سے جدا ہونا ممتنع نہ ہو جدا ہو سکے فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ تو وہ کیا ہے؟ عرض مفارق ہے۔ يَدُومُ أَوْ يَزُولُ بِسُرْعَةٍ أَوْ بُطْءٍ۔
115 approved lectures · 65 of 115