Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-109

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 39
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أچھا بھئی! آگے سبق دیکھیے بھئی۔ شرح میں دیکھیے: قَوْلُهُ: "اَلْقِيَاسُ" إِلَى آخِرِهِ. اَلْقِيَاسُ كَمَا يَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الْهَيْئَةِ وَالصُّورَةِ إِلَى الْاِسْتِثْنَائِيِّ وَالْاِقْتِرَانِيِّ بِأَقْسَامِهِمَا، كَذٰلِكَ يَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الْمَادَّةِ إِلَى الصَّنَاعَاتِ الْخَمْسِ: أَعْنِي الْبُرْهَانَ وَالْجَدَلَ وَالْخَطَابَةَ وَالشِّعْرَ وَالْمُغَالَطَةَ. گزشتہ سبق میں ہم قیاس کی پانچ قسمیں پڑھ رہے تھے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قیاس جو ہے، وہ اپنے مقدمات، یا یوں کہیں اپنے مادے کے اعتبار سے پانچ قسم پر ہے۔ اور ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں۔ اور یہ نہایت قیمتی بحث ہے منطق کی بھئی۔ صناعاتِ خمسہ انہوں نے بتلایا کہ قیاس جو ہے وہ پانچ قسم پر ہے، اور ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں۔ اور وہ، وہ قیاس جو ہیں وہ پانچ قسمیں: قیاسِ برہانی ہے، قیاسِ جدلی ہے، قیاسِ خطابی ہے، قیاسِ شعری ہے، اور قیاسِ سفسطی ہے بھئی۔ قیاسِ برہانی وہ ہے جس کے دونوں مقدمات یقینی ہوں، اور یقینیات انہوں نے آپ کو بتلایا کہ وہ اصولِ یقینیات چھ ہیں بھئی، یعنی اصولِ بدیہیات کتنے ہیں؟ چھ۔ یہ چھ چیزیں یہ بدیہی ہیں بھئی، بدیہی ہیں۔ اور یہ ہیں اولیات، اور مشاہدات، تجربیات، حدسیات، متواترات، اور فطریات بھئی، یہ چھ قسمیں ہیں۔ ان میں سے اولیات جو ہے، اولیات وہ، وہ بدیہیات جن میں آپ موضوع اور محمول کا تصور کریں، اور ان کے درمیان نسبت کا تصور کریں، تو آپ کو اس کا یقین آ جائے، ذہن اس کو مان لے، اس کا اعتقاد کر لے، وہاں کسی واسطے اور دلیل کی ضرورت پیش نہ آئے؛ جبکہ فطریات جو ہیں، ان میں واسطے کی ضرورت پیش آتی ہے، وہاں صرف موضوع اور محمول کا تصور اور نسبت کا تصور جو ہے وہ یقین کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ دلیل کی بھی ضرورت پڑتی ہے، لیکن وہ دلیل جو ہے اس قضیے سے جدا نہیں ہوتی۔ جوں ہی وہ قضیہ ذہن میں آتا ہے، ساتھ ہی اس کی دلیل بھی خود بخود آ جاتی ہے، اس لیے ان کو فطریات کہتے ہیں۔ جیسے چار جفت ہے، یا چھ جفت ہے، یا آٹھ جفت ہے، یا پانچ جو ہے طاق ہے، یا سات جو ہے یہ طاق ہے۔ تو یہ سب فطریات ہیں بھئی۔ تو صرف اولیات جو ہے یہ پہلی قسم ہے جس میں کسی واسطے کی ضرورت نہیں، جبکہ باقی پانچ قسمیں جو بدیہیات اور یقینیات کی ہیں، ان میں واسطے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مشاہدات جو ہے ان کے اندر واسطہ جو ہے وہ حِسِ ظاہری یا حِسِ باطنی ہوتی ہے، حواسِ خمسہ ظاہرہ اور حواسِ خمسہ باطنہ۔ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے جن چیزوں کا ادراک ہو، ان کو محسوسات اور حسیات کہتے ہیں؛ اور حواسِ خمسہ باطنہ کے ذریعے جن چیزوں کا ادراک ہو، ان کو وجدانیات کہتے ہیں، وجدانیات۔ اس کے بعد اگلی قسم تھی تجربیات۔ تجربیات وہ ہیں، وہ قضایا ہیں جن پر یقین کرنے کے لیے تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ بعض اوقات کوئی چیز کا تجربہ کرتے ہیں، دو چار دفعہ آپ کو اس کا تجربہ ہو جاتا ہے، مثلاً کوئی چیز آپ کھاتے ہیں، اس سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا یا کوئی نقصان ہوا، ایک دفعہ، دو دفعہ، تین، چار دفعہ جب آپ کھاتے ہیں تو آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس چیز کے کھانے سے یا تو یہ فائدہ ہے یا یہ نقصان ہے بھئی۔ تو دیکھو ذہن نے یقین کر لیا، اور اس پر آپ نے ایک کلی حکم لگا دیا کہ اس چیز کا یہ فائدہ ہے یا اس چیز کا یہ نقصان ہے۔ تو ذہن نے یقین کر لیا، اس کو مان لیا، اور واسطہ کیا بنا؟ تجربہ واسطہ بنا بھئی۔ تَجْرِبَةٌ بھئی، عربی لفظ میں را کے نیچے زیر ہے، اگرچہ اردو میں جیم پر فتحہ ہے اور را ساکن ہے، تجربہ۔ چوتھی قسم جو تھی وہ حدسیات ہے بھئی، اور حدسیات وہ ہیں جن میں حدس جو ہے وہ ذریعہ بنتا ہے اور واسطہ بنتا ہے یقین کرنے کا۔ بعض لوگوں کو اللہ نے بڑا تیز ذہن دیا ہوتا ہے، وہ مبادی سے ایک دم نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں، تو اس قوت کا نام حدس ہے بھئی، حدس۔ اور نیز عام لوگوں کو بھی یہ حدس حاصل ہو جاتا ہے، لیکن محنت اور شوق سے۔ جب آپ ایک چیز میں محنت کرتے ہیں اور شوق ہوتا ہے، تو بالآخر اس فن میں، اس چیز میں آپ کو حدس حاصل ہو جاتا ہے۔ جیسے اس کی واضح مثال ہے آپ عبارت پڑھتے ہیں۔ دیکھو آپ جوں جوں عبارت پڑھ رہے ہوتے ہیں، وہ عبارت آپ کو حفظ نہیں ہے، آپ کو نہیں پتا کہاں رفع پڑھنا ہے، کہاں نصب، کہاں جر؛ لیکن جوں جوں آپ پڑھتے جا رہے ہیں، آپ کا ذہن آپ کو بتاتا جا رہا ہے اور دلیل ساتھ آتی جا رہی ہے، بغیر دلیل کے آپ نہیں پڑھ رہے بھئی۔ اسی لمحے میں ذہن آپ کو بتاتا جا رہا ہے: یہ فاعل ہے اور فاعل مرفوع ہوتا ہے، لہٰذا اس پر رفع پڑھنا ہے؛ یہ مفعول ہے، مفعول منصوب ہوتا ہے، اس پر نصب پڑھنا ہے؛ یہ مجرور ہے، اس پر حرفِ جر داخل ہے، یہ مجرور ہے اور اس پر جر پڑھتے ہیں۔ دیکھا؟ وہ آپ کو ذہن بتاتا چلا جا رہا ہے، لیکن یہ اتنی رفتار سے یہ عمل ہوتا ہے کہ آپ کو بھی اندازہ نہیں ہوتا بھئی۔ تو اس کو حدس کہتے ہیں۔ اور پانچویں قسم ہے یقینیات کی متواترات، جن میں کسی دوسرے سے کوئی بات سنی اور ذہن اس کا یقین کر لیتا ہے؛ لیکن ہر سننا نہیں، بلکہ بتانے والی جماعت اتنی بڑی ہو، اتنے زیادہ لوگ ہوں کہ ان کا اجتماع علی الکذب کو عقل محال سمجھے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے۔ جب اتنے لوگ ایک بات کر رہے ہیں تو یقیناً بات ایسی ہی ہے۔ تو یہاں جو ہے واسطہ وہ تواتر ہے، اس تواتر کی وجہ سے ذہن یقین کر لیتا ہے۔ ایک یا دو یا چار بتائیں تو ذہن یقین نہیں کرتا بھئی۔ ہاں جی! اور فطریات، فطریات ہم نے کر لی۔ تو یہ کل چھ قسمیں ہو گئیں یقینیات کی: اولیات، مشاہدات، تجربیات، حدسیات، متواترات، اور فطریات۔ اور یہ جو قیاسِ برہانی ہے، وہ ہمیشہ انہی سے مرکب ہو گا۔ اس کے بعد پھر انہوں نے آپ کو مزید تفصیل بتلائی تھی کہ قیاسِ برہانی دو قسم پر ہے: ایک کو قیاسِ إنی کہتے ہیں یا دلیلِ إنی کہتے ہیں، اور دوسرے کو دلیلِ لمی۔ میں نے بتلایا تھا یہ دلیلِ لمی، یہ لِمٌّ، لِمٌّ کا معنی ہے علت، اور یہ لِمَ سے اخذ کیا گیا ہے۔ لِمَ بھی کسی چیز کی علت پوچھنے کے لیے سوال کیا جاتا ہے لِمَ کے ساتھ، کہ لِمَ هٰذَا؟ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیوں ہے؟ اگر قیاسِ برہانی جو ہے، وہ علت پر دلالت کرے، یعنی اگر علت کے ذریعے معلول پر استدلال کیا جائے تو اس کو دلیلِ لمی کہتے ہیں؛ اور اگر معلول کے ذریعے علت پر استدلال کیا جائے تو اس کو دلیلِ إنی کہتے ہیں۔ اِنٌّ جو ہے، یہ اِنَّ حرفِ مشبہ بالفعل جو ہے اس سے اخذ کر کے بنایا گیا ہے، اور جیسے وہ اِنَّ جو ہے یقین پر دلالت کرتا ہے یعنی وجود اور ثبوت پر، اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، کیا معنی؟ کہ زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ تو یہ اِنَّ وجود اور ثبوت پر دلالت کرتا ہے، تو اسی سے دلیلِ إنی بنا لیا۔ یہ دلیل بھی کیا ہے؟ ایک چیز کے وجود اور ثبوت پر دلالت کرتی ہے کہ یہ چیز ہے تو یہ دوسری چیز بھی ہے۔ یہ علت پر دلالت نہیں کرتی۔ اور دلیلِ لمی وہ بھی ایک چیز کے ثبوت پر دلالت کر رہی ہے، لیکن وہ بتلا رہی ہے کہ یہ چیز علت ہے۔ جبکہ دلیلِ إنی میں بھی ایک چیز کا ثبوت ہوتا ہے، لیکن وہاں وہ چیز واقع کے اندر اس کی علت نہیں ہوتی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو دلیلِ لمی میں چونکہ علت کے ذریعے استدلال ہوتا ہے معلول پر، اور اس لیے اس کو دلیلِ لمی کہتے ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ آپ قیاس بنائیں تو اس میں حدِ اوسط پر غور کر لیا کریں۔ یہ جو حدِ اوسط ہے نا، یہ واسطہ بنتا ہے اصغر کو اکبر سے ملانے کا۔ اصغر تو صغریٰ میں تھا اور اکبر کبریٰ میں تھا۔ اصغر نتیجے کا موضوع، اور اکبر نتیجے کا محمول۔ تو قیاس کے دو مقدموں کے اندر اصغر جو تھا وہ صغریٰ میں تھا اور اکبر کبریٰ میں تھا۔ ان دونوں کو ملایا کس نے؟ واسطہ کیا بنا بیچ میں؟ وہ حدِ اوسط ہے۔ اگر یہ حدِ اوسط واقع کے اندر علت ہو، تو پھر اس کو دلیلِ لمی کہیں گے؛ اور اگر واقع میں یہ علت نہ ہو، تو اس کو دلیلِ إنی کہیں گے۔ جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو دن موجود ہوتا ہے، نتیجہ کیا آیا؟ اس وقت دن موجود ہے۔ اب یہاں حدِ اوسط کیا ہے؟ سورج کا نکلنا، تو اس کو علت بنایا ذہن میں، علت بنایا ذہن میں۔ دیکھو یہ جو حدِ اوسط ہے یہ علت ہے، یہ سبب ہے، یہ پہنچانے والی ہے نتیجے تک۔ تو یہاں حدِ اوسط کیا ہے؟ سورج کا نکلنا، یعنی ذہن میں سورج کا نکلنا علت ہے دن کے ہونے کے لیے۔ آپ نے کیا کہا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے، نتیجہ کیا آیا؟ اس وقت دن ہے۔ دیکھو اس وقت دن ہونے کا حکم لگایا، اور کس کی وجہ سے؟ سورج کے نکلنے کی وجہ سے۔ تو ذہن میں سورج کے نکلنے کو علت قرار دیا آپ نے دن کے ہونے کے لیے، اور واقع میں بھی سورج کا نکلنا علت ہے دن کے ہونے کے لیے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلیلِ لمی۔ اور اگر واقع میں ایسا نہ ہو، تو اس کو دلیلِ إنی کہیں گے۔ جیسے میں کہتا ہوں: اس وقت دن ہے، اور جب دن ہوتا ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔ تو دیکھو، علت کس کو بنایا؟ حدِ اوسط کیا ہے؟ دن کا نکلنا۔ تو گویا ذہن میں دن کے ہونے کی وجہ سے اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، دن کے ہونے کو آپ نے علت بنایا ذہن کے اندر کس چیز کے لیے؟ سورج کے نکلنے کے لیے، اور واقع میں ایسا نہیں ہے۔ واقع کے اندر تو دن سورج کے لیے علت نہیں ہے، بلکہ سورج دن کے لیے علت ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلیلِ إنی کہیں گے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے قیاس کی باقی قسمیں آپ کو بتلائی تھیں کہ قیاس کی دوسری قسم جو ہے قیاسِ جدلی ہے۔ جدل کا معنی ہے بحث کرنا، مناظرہ کرنا؛ تو چونکہ یہ بحث مباحثے کے اندر یہ قیاس استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کو قیاسِ جدلی کہتے ہیں۔ اور یہ مشہورات اور مسلمات سے مرکب ہوتا ہے۔ مشہورات وہ باتیں جو مشہور ہوں لوگوں کے اندر، چاہے تمام لوگوں میں مشہور ہوں اور چاہے بعض خاص جماعت میں یا خاص علاقے والوں کے اندر مشہور ہوں، ان کو مشہورات کہتے ہیں۔ یہ سچی بھی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ اور کچھ مسلمات ہیں، مسلمات وہ باتیں جن کو فریقِ مخالف جو ہے جس کے ساتھ بحث ہو رہی ہے، مناظرہ ہو رہا ہے، وہ جن کو قبول کرتا ہے۔ وہ بھی سچی بھی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن جب آپ اس سے بحث مباحثہ کر رہے ہیں، جب ان باتوں کو وہ تسلیم کرتا ہے، تو آپ اس کے ذریعے دلیل دے کر اس کے، اس سے اپنا دعویٰ منوا سکتے ہیں۔ تو قیاسِ جدلی جو ہے وہ مسلمات اور مشہورات سے مرکب ہوتا ہے، اور مشہورات اور مسلمات دونوں سچے بھی ہو سکتے ہیں اور جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن بہرحال چاہے سچے ہوں یا جھوٹے ہوں، ان کے ذریعے آپ اپنا دعویٰ ثابت کر سکتے ہیں، کیونکہ فریقِ مخالف ان کو مان لے گا، کیونکہ یہ باتیں مشہور ہوتی ہیں یا اس کے نزدیک ثابت شدہ ہوتی ہیں۔ اور اس سے اگلی قسم تھی قیاسِ خطابی۔ قیاسِ خطابی جو ہے وہ مقبولات اور مظنونات سے مرکب ہوتا ہے۔ مقبولات وہ باتیں جن کو، دیکھو لفظ سے ہی پتا چل رہا ہے، مقبولات، یعنی جن کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ یعنی وہ باتیں جو حسنِ ظن اور حسنِ رائے رکھنے کی وجہ سے قبول کر لی جاتی ہیں۔ مثلاً آپ کو کوئی نیک آدمی کوئی بات بتلائے، آپ اس کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں، اب آپ زیادہ تحقیق میں نہیں پڑتے، آپ اس کی بات قبول کر لیتے ہیں۔ اگرچہ جانبِ مخالف کا بھی یہاں کچھ خیال آتا ہے۔ یہ جو مقبولات اور مظنونات ہیں، یہ ظن کا فائدہ دیتے ہیں۔ تو جانبِ مخالف کا بھی تھوڑا بہت خیال آتا ہے، لیکن بہرحال اسی پر اکتفا کر لیا جاتا ہے کہ بھئی یہ فلاں نیک آدمی نے یہ بات کہی ہے، تو بات ایسی ہی ہو گی۔ تو ان کو مقبولات کہتے ہیں۔ اور مظنونات وہ باتیں ہیں جو ظن کا فائدہ دیتی ہیں، ظن کا فائدہ دیتی ہیں۔ تو وہ عام ہیں، وہ عام ہیں۔ جو بھی باتیں ہوں جو ظن کا فائدہ دیں، سب اس میں آ گئیں۔ اور مقبولات بھی ظن کا فائدہ دیتی ہیں، لیکن ان کو خاص طور پر علیحدہ ذکر کیا، کیونکہ اس میں جو ظن حاصل ہوتا ہے، وہ حسنِ ظن کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ اچھی رائے کسی بزرگ کے بارے میں یا کسی عقلمند کے بارے میں اچھی رائے رکھتے انسان رکھتا ہے، اس لیے اس سے حسنِ ظن کہ اس کی بات ہے یا یہ عقلمند آدمی ہے یا فلاں ڈاکٹر ہے اس کی بات ہے، جب اتنا بڑا ماہر آدمی ڈاکٹری کا وہ یہ کہہ رہا ہے، تو بات ایسی ہی ہو گی۔ اگرچہ جانبِ مخالف کا بھی کچھ خیال آتا ہے کہ شاید ایسا نہ ہو۔ تو یہ مقبولات اور مظنونات دونوں ظن کا فائدہ دیتے ہیں، اور یہ اس سے قیاسِ خطابی حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ، اس کو قیاسِ خطابی اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ خطیب حضرات جو ہیں اس کی، اس سے مدد لیتے ہیں۔ یہ جتنے مقررین حضرات تقاریر کرتے ہیں، یہ سب قیاسِ خطابی ہیں بھئی؛ کیونکہ عوام جو ہیں وہ گہری علمی باتیں نہیں سمجھ سکتے، وہ انہی باتوں پر اکتفا کر لیتے ہیں اور ان سے ہی ان کو وہ غالب گمان حاصل ہو جاتا ہے، اور اس سے ان کی دنیاوی زندگی میں بھی ان کو فائدے حاصل ہوتے ہیں اور اخروی زندگی کے بھی فائدے حاصل ہوتے ہیں، جب وہ ان لوگوں کی بتائے ہوئے بزرگوں کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس قیاسِ خطابی جو ہے اس کا عظیم فائدہ ہے اس دنیا کے اندر لوگوں کے، زندگی میں، اور اس زندگی کے بعد جو اگلی آنے والی زندگی ہے یعنی موت کے بعد کی زندگی، اس میں عظیم فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ وعظ و نصیحت سے ان کی دنیا بھی بہتر ہو جاتی ہے اور ان کی آخرت بھی بہتر ہو جاتی ہے جب وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ اگلی قسم ہے قیاسِ شعری بھئی۔ اور قیاسِ شعری وہ خیالی باتیں ہوتی ہیں، خیالی باتیں؛ اور ان کے ذریعے کسی چیز کو بڑا خوشنما دکھایا جاتا ہے، یا کسی چیز کو بڑا برُا کر کے دکھایا جاتا ہے؛ مطلب اس، یہ خیالی باتیں ہوتی ہیں۔ انسان یہ نہیں سوچتا یہ سچی ہیں یا جھوٹی ہیں۔ ہاں، ان کا انسان پر اثر پڑتا ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی چیز آپ کو اچھی لگنے لگے گی یا کوئی چیز بری لگنے لگے گی۔ شاعر کو ایک چیز اچھی لگی ہے، وہ ایسے الفاظ لائے گا، ایسے خوبصورت انداز میں بیان کرے گا کہ آپ کو بھی وہ چیز اچھی لگنے لگے گی۔ یا کوئی چیز اچھی ہو گی، وہ ایسے برے الفاظ کے ساتھ اس کو ذکر کرے گا کہ سننے والوں پر بھی اثر پڑے گا، ان کو بھی وہ چیز بری معلوم ہونے لگے گی۔ یا ایسے الفاظ لائے گا جس سے طبیعت میں اننبساط اور خوشی کی کیفیت پیدا ہو گی؛ یا ایسے الفاظ، ایسی چیزیں ذکر کرے گا ایسے الفاظ کے ساتھ کہ طبیعت پر انقباض طاری ہو جائے گا، غم کی کیفیت طاری ہو جائے گی۔ بھئی طبیعت بجھ جائے گی بھئی۔ تو یہ خیالی باتیں ہیں۔ ان کے ماننے نہ ماننے کی طرف ذہن نہیں جاتا، کیونکہ یہ خیالی باتیں ہوتی ہیں۔ ہاں، ان کا اثر پڑتا ہے انسان پر بہت زیادہ۔ چنانچہ آپ، آپ بھی دیکھتے ہیں کہ ایک معمولی سا ایک، بعض اوقات ایک شعر اتنا زیادہ انسان پر اثر ڈالتا ہے کہ گھنٹوں کی وعظ و نصیحت بھی انسان پر اتنا اثر نہیں ڈالتی بھئی۔ تو نفس ان چیزوں کو قبول کرتا ہے، اور پھر خصوصاً یہ، یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا، ویسے تو عربی زبان میں، ہر زبان میں اشعار کے مخصوص وزن ہوتے ہیں، ان میں ایک ترنم ہوتا ہے، ایک روانی اور تسلسل ہوتا ہے، اور ذرا بھی ایک حرف ادھر ادھر ہو جائے، پورے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ لیکن منطق میں شعر کا وزن ہونا ضروری نہیں، بس ہاں، بات بڑی اچھی، انوکھی، عجیب ہونی چاہیے۔ جو بات بھی ذکر کی جا رہی ہے وہ انوکھی اور عجیب اور خوشگوار ہونی چاہیے، یہ جو مقصد بتلانا چاہتا ہے اس کے مطابق اس میں منظر کشی کی گئی ہو جس سے سننے والوں پر اثر پڑے، اور اگر اس کے ساتھ وزن بھی ہو جائے تو اور زیادہ اثر پڑے گا، اور اگر اس کے ساتھ جو ہے وہ آواز بھی اچھی ہوئی تو اس کا اور ہی زیادہ اس کی تاثیر بڑھ جائے گی بھئی۔ تو یہ ہے قیاسِ شعری۔ اور اس سے اگلا قیاس ہے قیاسِ سفسطی بھئی۔ قیاسِ سفسطی میں نے آپ کو بتایا کہ یہ سُوفْ اور اِسْطَا سے مرکب ہے۔ سُوف کا معنی حکمت، اور اسطا کا معنی مموہ، یعنی، یعنی سچی جھوٹی باتوں کو ملا کر جس کو کہتے ہیں نا دلکش اور خوبصورت بنا لیا جاتا ہے اس میں۔ اسطا کا کیا معنی ہے؟ یعنی دھوکے والی، دیکھنے میں کچھ ہو اور اندر کچھ ہو۔ اصل میں مموہ میں نے بتایا، یہ ماؤن سے ہے، ماؤن سے۔ اور مموہ اس چیز کو کہتے ہیں جس پر سونے یا چاندی کا پانی چڑھا دیا جائے۔ اب وہ بظاہر سونے کی طرح چمکدار یا چاندی کی طرح چمکدار معلوم ہو گی، لیکن سارا دھوکا ہی دھوکا ہے؛ کیونکہ اوپر کی یہ چمک دمک ہے، جبکہ اندر وہی لوہا وغیرہ یا کوئی اور چیز ہو گی۔ تو یہ سُوف اور اسطا سے مرکب ہے، سُوف کا معنی حکمت اور اسطا کا معنی دھوکے والی، یا جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا ہو۔ سُوف اور اسطا، ان کو ملایا: سُوفَا اِسْطَا۔ سوفا اسطا کا معنی ہے دھوکے والے حکمت۔ اور پھر اسی سے سُوفَسْطَا بنا لیا ہے، ملا کر ایک لفظ بنا لیا، سوفسطا؛ اور جو یہ قیاسِ سفسطی استعمال کرنے والا ہے، اس کو سُوفَسْطَائِيّ کہتے ہیں، سُوفَسْطَائِيٌّ۔ پھر اسی سے باب بنا لیا، بابِ دحرجہ کے وزن پر: سَفْسَطَ يُسَفْسِطُ سَفْسَطَةً، تو یہ بابِ دحرجہ اس سے بنا لیا، تو یہ ہے قیاسِ سفسطی بھئی۔ اور یہ وہمیات اور مشبہات سے مرکب ہوتا ہے۔ وہمیات وہ جھوٹی باتیں جنہیں ہماری قوتِ واہمہ گھڑ لیتی ہے، اور غیر محسوس کو بھی محسوس کا حکم دے دیتی ہے، جھوٹے قضیے ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح مشبہات جو ہیں، یعنی وہ قضیے جو ہیں تو جھوٹے، لیکن سچے قضیوں کے مشابہ ہیں۔ تو یہ ان سے مرکب ہوتی ہے۔ وہمیات بھی جھوٹے قضیے، اور مشبہات بھی جھوٹے قضیے جو کس کے مشابہ ہوں؟ سچے قضیوں کے مشابہ ہوں۔ تو یہ وہمیات اور مشبہات سے مرکب ہوتا ہے قیاسِ سفسطی۔ اور یہ جو قیاسِ سفسطی کا ماہر ہے، اگر یہ کسی حکیم یعنی فلسفی کے ساتھ مناظرے کے اندر، بحث مباحثے میں یہ والا قیاس استعمال کرے، تو اس قیاس کو قیاسِ سفسطی کہتے ہیں۔ لیکن اگر عام لوگوں کے اندر وہ اس قیاس کو استعمال کرے، تو پھر اس کو مُشَاغَبَة کہتے ہیں، اور یہ شخص جو ہے مُشَاغِبِي کہلاتا ہے؛ یعنی بے جا فضول بحث کرنے والا، شور شرابا کرنے والا، جہاں جاتا ہے لوگوں سے بلا وجہ ویسے ہی بحث مباحثہ شروع کر دیتا ہے، تو اس کو پھر مشاغبی کہتے ہیں۔ اور کسی فلسفی کے مقابلے میں یہ قیاس استعمال کرے، تو اس کو قیاسِ سفسطی کہتے ہیں، یعنی دھوکے والا قیاس بھئی۔ اور اس کا بالذات کوئی فائدہ نہیں، یعنی خود اس کا آپ کو کوئی فائدہ نہیں کہ اس کے ذریعے آپ اپنے دعوے کو ثابت کریں اور دوسروں پر غالب آ جائیں، نہیں نہیں۔ ہاں، بالعرض اس کا فائدہ ہے کہ جس کو قیاسِ سفسطی کا پتا ہو گا، کوئی اور اس پر یہ قیاسِ سفسطی کو جاری کر کے دھوکا نہیں دے سکے گا، کوئی اور اس کے سامنے قیاسِ سفسطی ذکر کرے گا، وہ فوراً اس کی غلطی کو پکڑ لے گا بھئی، کہ یہ تو آپ دھوکا دے رہے ہیں بھئی۔ اور میں نے بتایا تھا کہ یہ جو ہماری قوتِ واہمہ ہے، اس کا انسان پر بڑا عظیم غلبہ ہے بھئی، حتیٰ کہ یہ عقل پر بھی غالب آ جاتی ہے بسا اوقات بھئی۔ اور چنانچہ میں نے اس کی مثال دی تھی کہ زمین پر ایک چوڑی لکڑی ہے، دو فٹ چوڑی ہے، زمین پر پڑی ہوئی ہے، 50 فٹ لمبی ہے اور دو فٹ چوڑی ہے۔ اب آپ کو کوئی کہے یہاں سے وہاں تک اس پر چلو، آپ بڑے اطمینان سے جائیں گے اس پر، بلکہ دوڑنا چاہیں تو دوڑتے ہوئے بھی چلے جائیں گے کیونکہ دو فٹ چوڑی ہے۔ لیکن اسی لکڑی کو اگر دو بلڈنگوں کے درمیان اوپر چھت پر لگا دیا جائے اور آپ سے کہا جائے اب گزرو اس پر، اب دیکھو اب قوتِ واہمہ آپ کو خوف میں مبتلا کر دے گی۔ آپ وہی لکڑی جس پر آپ زمین پر بڑے اطمینان سے چل رہے تھے، اب آپ کے لیے اس پر چند قدم چلنا بھی بڑا مشکل ہو جائے گا۔ اول تو کوئی تیار ہی نہیں ہو گا اس پر جانے کے لیے، اور اگر کوئی جائے گا بھی تو ڈولتا ہوا، ڈرتا ہوا، آہستہ آہستہ اس پر چلے گا بھئی۔ تو یہ قوتِ واہمہ ہے بھئی۔ یا اسی طرح بعض لوگوں پر وہم کا غلبہ ہو جاتا ہے، دیکھو وہ وضو کر رہے ہیں، چہرہ دھو رہے ہیں، تو بار بار دھوتے ہی چلے جاتے ہیں۔ وہم ان کو کہتا ہے کہ نہیں بھئی، ابھی صحیح طرح چہرہ نہیں دھلا، اس طرف کچھ خشک رہ گیا ہو گا، پھر وہ دھو لیتا ہے، پھر قوتِ واہمہ ذہن میں بات ڈالتی ہے کہ نہیں بھئی، ابھی بھی پورا چہرہ نہیں دھلا۔ 15، 15، 20، 20 مرتبہ وہ چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتا رہتا ہے بھئی۔ تو یہ قوتِ واہمہ ہے۔ البتہ اللہ نے انسان کو عقل نصیب فرمائی ہے، پھر اس عقل اور شریعت کی مدد سے انسان پھر اس قسم کی وہمی باتوں سے بچ جاتا ہے اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ تو یہ ہے قیاسِ سفسطی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے بھئی، اب شرح میں آئیے، آج کے سبق پر۔ اب صرف ترجمہ ہے بھئی، تقریباً ترجمہ۔ دیکھیے بھئی: قَوْلُهُ: "اَلْقِيَاسُ" إِلَى آخِرِهِ. اَلْقِيَاسُ كَمَا يَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الْهَيْئَةِ وَالصُّورَةِ إِلَى الْاِسْتِثْنَائِيِّ وَالْاِقْتِرَانِيِّ بِأَقْسَامِهِمَا، کہتے ہیں: جس طرح قیاس جو ہے وہ تقسیم ہوتا ہے اپنی ہیئت اور صورت— ہیئت اور صورت کا ایک معنی ہے، اور اس کو عطفِ تفسیری کہتے ہیں، میں پہلے بھی ذکر کر چکا کہ بعض اوقات ایک لفظ کا معنی آگے عطف کے ذریعے بیان کر دیا جاتا ہے کہ ہیئت کا کیا معنی؟ آگے معطوف "الصُّورَةِ" لا کر اس کا معنی بیان کر دیا— تو کہتے ہیں کہ قیاس جیسے تقسیم ہوتا ہے اپنی صورت کے اعتبار سے قیاسِ استثنائی اور اقترانی کی طرف ان کی اقسام کے ساتھ۔ آپ نے پڑھا استثنائی کی چار قسمیں ہیں بھئی: پہلا شرطیہ ہو گا اور دوسرا حملیہ، تو وہ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ مانعة الجمع بھی اور منفصلہ مانعة الخلو بھی، تو چار قسمیں قیاسِ استثنائی کی بنتی تھیں۔ اور قیاسِ اقترانی پھر انہوں نے بتایا تھا دو قسم پر ہے: ایک قیاسِ حملی ہے اور ایک قیاسِ شرطی ہے؛ اور پھر حملی اور شرطی دونوں کے اندر بھئی چار چار شکلیں بنتی ہیں: شکلِ اول، شکلِ ثانی، ثالث، اور رابع بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں: قیاس تقسیم ہوتا ہے اپنی صورت کے اعتبار سے قیاسِ استثنائی اور اقترانی کی طرف ان کی اقسام کے ساتھ، كَذٰلِكَ يَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الْمَادَّةِ إِلَى الصَّنَاعَاتِ الْخَمْسِ، اسی طرح قیاس تقسیم ہوتا ہے اپنے مادے کے اعتبار سے صناعاتِ خمسہ کی طرف، یہ پانچ صنعتیں ہیں یعنی پانچ فن ہیں بھئی۔ ہر قیاس کیا ہے؟ ایک الگ فن ہے۔ وہ پانچ صنعتیں کون سی ہیں؟ کہتے ہیں: أَعْنِي الْبُرْهَانَ وَالْجَدَلَ وَالْخَطَابَةَ وَالشِّعْرَ وَالْمُغَالَطَةَ. یہ پانچ ہیں بھئی: برہان، جدل، خطابہ، شعر، اور مغالطہ۔ انہی کے ساتھ یائے نسبت ملا کر پھر برہانی، جدلی، خطابی، شعری، اور مغالطی کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ مغالطہ میں نے بتایا مغالطہ عام ہے، مغالطے کا معنی ہے دوسرے کو غلطی میں مبتلا کرنا، دوسرے کو دھوکا دینا۔ اور اسی کو کبھی کبھار کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ سفسطی بھی کہتے ہیں۔ جب، سفسطی کب کہیں گے؟ جب کسی حکیم کے مقابلے میں آپ استعمال کریں، ویسے یہ مغالطہ ہے۔ کہتے ہیں: وَقَدْ تُسَمَّى سَفْسَطَةً، اور کبھی کبھار اس مغالطے کو قیاسِ سفسطہ کہتے ہیں، لِأَنَّ مُقَدَّمَاتِهِ إِمَّا أَنْ تُفِيدَ تَصْدِيقًا أَوْ تَأْثِيرًا آخَرَ غَيْرَ التَّصْدِيقِ: أَعْنِي التَّخْيِيلَ. جی، اب وجہِ حصر ذکر کریں گے بھئی، یہ پانچ قسمیں ہی کیوں ہیں؟ قیاس کی پانچوں قسمیں ذہن میں ہیں؟ اب آپ آسانی سے دیکھو معنی سمجھتے جائیں گے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ مُقَدَّمَاتِهِ، مقدماتِہِ میں نے مجرور کیوں پڑھا بھئی؟ منصوب ہے۔ ہاں، شاباش! یہ منصوب ہے، اِنَّ کا اسم ہے، اِنَّ نصب دیتا ہے؛ اور یہ جو میں نے پڑھا یہ منصوب ہے، اس کا نصب آتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے کیونکہ جمع مؤنث سالم ہے۔ لِأَنَّ مُقَدَّمَاتِهِ، اس لیے کیونکہ قیاس کے جو مقدمات ہیں، إِمَّا أَنْ تُفِيدَ تَصْدِيقًا أَوْ تَأْثِيرًا آخَرَ غَيْرَ التَّصْدِيقِ، یا تو یہ تصدیق کا فائدہ دیں گے، أَوْ تَأْثِيرًا آخَرَ یا کسی دوسری تاثیر کا فائدہ دیں گے غَيْرَ التَّصْدِيقِ تصدیق کے علاوہ۔ یہ جو قیاسِ شعری ہے، یہ کوئی تصدیق کا فائدہ نہیں دیتا بھئی، اس کی وجہ سے... تصدیق کسے کہتے ہیں؟ جس میں انسان ایک بات کو مان لیتا ہے کہ ایسا ہے، یا اس کا غالب گمان ہو جاتا ہے۔ تصدیق میں کیا ضروری؟ غالب گمان... یوں کہو، تصدیق میں اذعان ضروری ہے۔ اذعان کا کیا معنی؟ مان لینا، ایک بات کو مان لینا۔ یاد رکھو، جب تک آپ ایک بات کو مانیں گے نہیں، وہ تصدیق نہیں ہے بھئی۔ ورنہ شک، شک جس میں دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں۔ آپ کو کسی نے کہا: زید عالم ہے، تو اب آپ کے ذہن میں کبھی آتا ہے زید عالم ہے، کبھی آتا ہے زید عالم نہیں؛ 50 فیصد خیال اس کے عالم ہونے کا اور 50 فیصد اس کے عالم نہ ہونے کا۔ تو دیکھو، زید عالم ہے اس وقت آپ کے ذہن میں ہے، لیکن کیا آپ نے اس کو قبول کیا آپ کے ذہن نے اس کو؟ نہیں قبول نہیں کیا، حالانکہ جملہ خبریہ ہے؛ لیکن آپ کے ذہن نے چونکہ قبول نہیں کیا، اس کو مانا نہیں، اس لیے اس کو تصدیق نہیں کہتے۔ تصدیق میں اذعان، ذہن کا مان لینا ضروری ہے، اور اس کا سب سے کم درجہ ظن ہے، ظن میں ایک ذہن ایک چیز کے بارے میں غالب گمان کر لیتا ہے۔ مثلاً کسی نے آپ سے کہا کہ زید عالم ہے، آپ کا 80، 90 فیصد خیال ہے کہ زید عالم ہے، لیکن تھوڑا سا خیال کبھی آ جاتا ہے کہ شاید عالم نہ ہو۔ تو چونکہ زیادہ خیال ہے عالم ہونے کا، تو گویا یوں ہی سمجھو ذہن نے مان لیا ہے، ذہن نے مان لیا ہے۔ اس لیے ظن کو تصدیق کہتے ہیں۔ تو تصدیق کے اندر ذہن کا اذعان ضروری ہے، مان لینا ضروری ہے بھئی۔ تو یہ جو قیاسِ شعری ہوتا ہے، اس میں اذعان نہیں ہوتا بھئی۔ شاعر اونچی اونچی باتیں ذکر کرتا ہے، خیالی باتیں ذکر کرتا ہے، جیسے میں نے کل کے شعر میں مثال ذکر کی تھی کہ شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب نے بنیان پہنی ہوئی ہے، اور وہ بنیان پھٹی ہوئی ہے، اور پھر اس کی مثال دی کہ بھئی میرا محبوب تو چاند ہے بھئی، اور چاند کی روشنی سے سُوتی کپڑا— سُوتی کپڑا جو یہ کپاس سے، روئی سے بنا ہوا ہو— سُوتی کپڑا چاند کی روشنی کی وجہ سے گل جاتا ہے اور جلدی پھٹ جاتا ہے، تو وہ کپڑا جو چاند کے ساتھ لگا ہوا ہو، ظاہر سی بات ہے وہ تو اور زیادہ جلدی پھٹے گا۔ تو میرا محبوب چونکہ چاند ہے، اس لیے اس نے جو بنیان پہنی ہوئی ہے وہ پھٹی ہوئی ہے۔ تو دیکھو، اب یہ خیالی بات اس نے ذکر کی؛ لیکن وہی چیز جو بڑی ناپسندیدہ لگ رہی تھی، اب حسین معلوم ہونے لگی، اس نے ایسے الفاظ اور ایسے خیالات اس میں ذکر کیے۔ تو یہ جو قیاسِ شعری ہوتا ہے، یہ نفسوں پر اثر ڈالتا ہے، اس کی تاثیر ہوتی ہے، کوئی چیز اچھی لگنے لگے گی، اس کی... اور اس کی وجہ سے کبھی کوئی چیز بری لگنے لگے گی، کبھی اس کی وجہ سے نفس پر انبساط اور خوشی اور فرحت والی کیفیت طاری ہو جائے گی، اور کبھی نفس میں انقباض والی کیفیت آ جائے گی، نفس میں بندش آ جائے گی، بوجھ سا بن جائے گا اور غم سی کسی کیفیت کچھ طاری ہو جائے گی۔ تو یہ جو قیاسِ شعری ہوتا ہے، یہ کسی آگے نتیجے کا فائدہ نہیں دیتے کہ کوئی نئی تصدیق اس سے حاصل ہوتی ہے؛ ہاں، اس کی وجہ سے نفس پر اثرات پڑتے ہیں۔ تو اس کی تاثیر ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ تاثیر ہوتی ہے۔ تو یہ معنی ہے کہ: لِأَنَّ مُقَدَّمَاتِهِ، اس لیے کیونکہ قیاس کے مقدمات جو ہیں، إِمَّا أَنْ تُفِيدَ تَصْدِيقًا أَوْ تَأْثِيرًا آخَرَ غَيْرَ التَّصْدِيقِ، یا تو وہ تصدیق کا فائدہ دیں گے یا کسی دوسری تاثیر کا تصدیق کے علاوہ، تصدیق کے علاوہ کسی اور تاثیر کا فائدہ دیں گے، أَعْنِي التَّخْيِيلَ، یعنی کہ تخئیل، یعنی کہ تخئیل کا۔ وَالثَّانِي الشِّعْرُ، جو دوسری قسم ہے وہ شعر ہے۔ جو تصدیق کے بجائے کسی اور تاثیر وغیرہ کا فائدہ دے، یعنی تخئیل کا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شعر، اس کو "وَالثَّانِي الشِّعْرُ"۔ وَالْأَوَّلُ إِمَّا أَنْ يُفِيدَ ظَنًّا أَوْ جَزْمًا، اور پہلی قسم— پہلی قسم کون سی؟ جو تصدیق کا فائدہ دے— اب اس کے اندر بتائیں گے وہ پانچ قسم پر ہے۔ "وَالثَّانِي الشِّعْرُ"، دوسری قسم جو یعنی تخئیل کا فائدہ دے وہ قیاس... وہ شعر ہے یعنی قیاسِ شعری ہے۔ وَالْأَوَّلُ إِمَّا أَنْ يُفِيدَ ظَنًّا أَوْ جَزْمًا، اور پہلی قسم جو تصدیق کا فائدہ دیتی ہے، یا تو پھر وہ ظن کا فائدہ دے گی، أَوْ جَزْمًا یا یقین کا فائدہ دے گی۔ توجہ ہے؟ ظن جس میں جانبِ مخالف بھی تھوڑی آ جاتی ہے، جبکہ اس سے اوپر درجہ ہے جزم کا۔ جزم کا معنی ہے ایک بات کو مان لینا جس میں نقیض کا احتمال نہ ہو، توجہ ہے؟ مجھے کسی نے کہا: زید عالم ہے، تو میرے ذہن میں 80، 90 فیصد مان لیا کہ زید عالم ہے، لیکن تھوڑا تھوڑا کبھی خیال آ جاتا ہے کہ شاید عالم نہ ہو، اس آدمی نے مجھے ویسے ہی کہہ دیا ہو؛ تو لیکن چونکہ غالب گمان ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ ظن، اور اس میں دیکھو نقیض کا بھی خیال آتا ہے کہ ہو سکتا ہے عالم نہ ہو۔ زیادہ گمان کیا؟ عالم ہونے کا، اور کبھی اس کی نقیض بھی آ جاتی ہے۔ تو جو ظن ہوتا ہے، اس میں نقیض کا بھی احتمال ہوتا ہے اگرچہ قلیل ہوتا ہے۔ جبکہ اس سے اوپر درجہ جزم کا ہے۔ جزم جس میں نقیض کا احتمال نہیں ہوتا، جس میں آپ پورے طور پر ایک بات کو مان لیتے ہیں۔ اور اسی کو تقلید بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تقلید میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ظن سے اوپر درجہ جو ہے وہ تقلید ہے۔ تقلید کے اندر جس میں آپ بات مان لیتے ہیں اور جانبِ مخالف کا خیال یعنی نقیض کا خیال بھی آپ کے ذہن میں نہیں آتا۔ آپ نے پورے طور پر مان لیا کہ زید عالم ہے، لیکن یہ علم آپ کا پختہ نہیں ہے، اگر کوئی تشکیک آ جائے گا، شک ڈالے گا، تو تشکیکِ مشکک سے آپ کا یہ علم زائل ہو جائے گا۔ آپ نے تو مان لیا، کسی نے آپ کو بتایا زید عالم ہے، آپ نے پورے طور پر مان لیا، عالم نہ ہونے کا خیال بھی ذہن میں نہیں آتا؛ لیکن پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے دو چار ایسی باتیں زید کے بارے میں کیں کہ آپ کو شک پڑنا شروع ہو گیا کہ شاید وہ عالم نہیں ہے بھئی۔ دیکھو! آپ ایک بات کو مان چکے تھے، آپ کا ذہن اس کو تسلیم کر چکا تھا، دوسری جانب کا خیال بھی نہیں آ رہا تھا ذہن میں؛ لیکن ایک شک ڈالنے والے نے شک ڈالا، تو آپ کا یہ علم زائل ہو گیا یا نہیں؟ دیکھا؟ تو یہ جو تقلید ہوتی ہے، یہ تشکیکِ مشکک سے زائل ہو جاتی ہے۔ اور اس سے اوپر والا درجہ جو ہے اس کو یقین کہتے ہیں علمِ منطق کی اصطلاح میں۔ ایک تو ہم یقین کا لفظ عام استعمال کرتے ہیں اردو میں، وہ نہیں، منطق میں اس کا نام کیا ہے؟ یقین ہے، اور اسی کا نام علم بھی ہے، اسی کو کیا کہتے ہیں؟ علم بھی، جس میں جانبِ مخالف کا احتمال بھی نہیں ہوتا یعنی نقیض کا احتمال بھی نہیں ہوتا، اور کوئی سو دلائل دے دے تو بھی یہ زائل نہیں ہوتا یعنی تشکیکِ مشکک سے بھی یہ زائل نہیں ہوتا؛ جیسے آپ اور ہم سب مانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، اور قیامت قائم ہو گی، اور جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، قیامت کا دن قائم ہو گا، حساب کتاب ہو گا، یہ سب باتیں ہم مانتے ہیں، اور کوئی ہزار دلائل بھی دے دے... ہاں، تو یہ ہمارا علم وہ زائل نہیں کر سکتا بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں یقین بھئی۔ تو تصدیق کا سب سے ابتدائی درجہ کیا؟ ظن۔ اس سے اوپر درجہ؟ تقلید۔ اس سے اوپر درجہ؟ یقین۔ لیکن یقین میں یہ ضروری ہے یہ واقع کے مطابق ہو بھئی، اور اگر یہ واقع کے مطابق نہ ہو، ایک آدمی کو ایک بات پر اتنا یقین ہے کہ آپ اس کو ہزار دلیلیں دے دیں وہ پھر بھی نہیں مانتا، اور اس کا علم آپ زائل نہیں کر سکتے، اور لیکن وہ واقع کے مطابق نہیں ہے، تو اس کو جہلِ مرکب کہیں گے۔ یہ دگنی جہالت ہے بھئی! ایک تو غلط بات پر ڈٹا ہوا ہے، اور پھر دوسرا کسی کے سمجھانے سے سمجھتا بھی نہیں ہے۔ اس شخص کی اصلاح نہیں ہو سکتی بھئی۔ اگر ذہن میں یہ ہو کہ شاید میں غلطی پر ہوں، پھر تو اصلاح کا امکان ہوتا ہے؛ لیکن انسان غلط بات پر ڈٹا ہوا ہو، اور ذہن میں یہ بات ہو کہ میں ہی صحیح ہوں، باقی سب غلط ہیں، تو اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَالْأَوَّلُ إِمَّا أَنْ يُفِيدَ ظَنًّا أَوْ جَزْمًا، اور پہلی قسم جو ہے، یعنی جو تصدیق کا فائدہ دیتی ہے، یا تو وہ ظن کا فائدہ دے گی أَوْ جَزْمًا یا جزم کا۔ ظن جس میں نقیض کا احتمال ہوتا ہے، جزم جس میں نقیض کا احتمال نہیں ہوتا۔ فَالْأَوَّلُ الْخَطَابَةُ، تو پہلی قسم جو ہے وہ خطابہ ہے، وہ قیاسِ خطابی ہے، یعنی جو ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ وَالثَّانِي إِنْ أَفَادَ جَزْمًا يَقِينِيًّا فَهُوَ الْبُرْهَانُ، اور دوسرا، اگر افادہ جزمِ یقینی کا فائدہ دے تو وہ برہان ہے۔ توجہ ہے؟ جزم، جزم ہے یعنی نقیض کا احتمال بھی نہیں، اور یقین کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے جو تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا یعنی ثابت ہے، پختہ ہے آپ کے نزدیک، "فَهُوَ الْبُرْهَانُ" تو یہ قیاسِ برہان ہے، وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو، فَإِنِ اعْتُبِرَ فِيهِ عُمُومُ الْاِعْتِرَافِ مِنَ الْعَامَّةِ أَوِ التَّسْلِيمُ مِنَ الْخَصْمِ فَهُوَ الْجَدَلُ، پس اگر معتبر ہو اس کے اندر عمومِ اعتراف من العامة عام لوگوں کی طرف سے اس کا اعتراف عمومی طور پر، یعنی عام طور پر سارے لوگ اس کو مانتے ہیں، سب میں وہ بات مشہور ہے۔ "عُمُومُ الْاِعْتِرَافِ مِنَ الْعَامَّةِ"، میں نے بتایا تھا مشہورات وہ قضیے جو عام لوگوں میں مشہور ہوں، اور کبھی یہ تمام لوگوں میں مشہور ہوتے ہیں اور کبھی خاص علاقے کے لوگوں میں یا خاص جماعت والوں میں۔ تو "عُمُومُ الْاِعْتِرَافِ مِنَ الْعَامَّةِ"، یعنی اس سے مراد وہ مشہورات ہیں جو تمام لوگوں میں مشہور ہیں؛ یہ معنی ہے: "فَإِنِ اعْتُبِرَ فِيهِ عُمُومُ الْاِعْتِرَافِ مِنَ الْعَامَّةِ"، اگر اس کے اندر معتبر ہو جو معتبر جو ہے وہ عمومِ اعتراف ہے من العامة عام لوگوں کی جانب سے، "أَوِ التَّسْلِيمُ مِنَ الْخَصْمِ"، یا اس میں تسلیم کرنا ہو فریقِ مخالف کی طرف سے— خصم کس کو کہتے ہیں؟ فریقِ مخالف جس سے آپ بحث مباحثہ، مناظرہ کر رہے ہیں— "فَهُوَ الْجَدَلُ"، تو یہ جدل ہے۔ بھئی قیاسِ جدلی کون سے مقدمات سے مرکب ہوتا تھا؟ مشہورات اور مسلمات، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اگر اس کے اندر عمومِ اعتراف ہو عام لوگوں کی جانب سے یعنی عام لوگ اس کو مانتے ہیں، مشہور باتوں میں سے ہے، "أَوِ التَّسْلِيمُ مِنَ الْخَصْمِ"، یا تسلیم کرنا ہے خصم کی طرف سے یعنی فریقِ مخالف کی طرف سے یعنی اس کے نزدیک یہ مسلمہ باتوں میں سے ہے، "فَهُوَ الْجَدَلُ"، تو یہ قیاس کون سا ہے؟ قیاسِ جدل ہے بھئی۔ وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی عام لوگ اس کو نہیں مانتے اور نہ فریقِ مخالف اس کو تسلیم کرتا ہے، فَهُوَ الْمُغَالَطَةُ. تو اس کو مغالطہ کہتے ہیں۔ وجہِ حصر سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنو وجہِ حصر، ادھر دیکھیے، ادھر دیکھیے۔ انہوں نے بتایا کہ قیاس جو ہے یا تو وہ تصدیق کا فائدہ دے گا یا کسی دوسری تاثیر کا یعنی تخئیل وغیرہ کا، ذہن میں خیالی باتیں آتی ہیں۔ تو اگر وہ خیالی باتوں کا فائدہ دے، اس کا کیا نام؟ قیاسِ شعری۔ اگر تصدیق کا فائدہ دیتا ہے تو پھر وہ تصدیق جو ہے یا تو وہ ظن کا فائدہ دے گی یا جزم کا۔ اگر ظن کا فائدہ دے تو یہ قیاسِ خطابی؛ اور اگر جزم کا فائدہ دے تو پھر اگر وہ جزم یقینی ہو، تو پھر وہ قیاسِ برہانی ہے؛ اور اگر یقینی نہیں ہے تو پھر عام لوگ اس کو مانتے ہیں اور فریقِ مخالف بھی اس کو تسلیم کرے گا، یا ایسا نہیں ہو گا۔ اگر عام لوگوں میں بھی مشہور ہے اور فریقِ مخالف بھی اس کو تسلیم کرتا ہے تو یہ مشہورات و مسلمات سے جو ہیں یہ کیا ہے؟ قیاسِ جدلی ہے؛ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی عام لوگوں میں مشہور نہیں اور فریقِ مخالف اس کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر وہ قیاسِ مغالطہ ہے۔ دیکھا؟ یہ پانچ قسمیں ہو گئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: وَاعْلَمْ، تو جان لے، أَنَّ الْمُغَالَطَةَ إِنِ اسْتُعْمِلَتْ فِي مُقَابَلَةِ الْحَكِيمِ سُمِّيَتْ سَفْسَطَةً، تو جان لے کہ مغالطہ اگر اس کو استعمال کیا جائے کسی حکیم یعنی فلسفی کے مقابلے میں— حکیم کا کیا معنی؟ فلسفی— "سُمِّيَتْ سَفْسَطَةً" تو اس کو سفسطہ کہتے ہیں، وَإِنِ اسْتُعْمِلَتْ فِي مُقَابَلَةِ غَيْرِ الْحَكِيمِ سُمِّيَتْ مُشَاغَبَةً. اور اگر اس کو استعمال... استعمال کیا جائے فلسفی کے علاوہ کسی اور کے مقابلے میں تو اس کو مشاغبہ کہتے ہیں۔ مشاغبہ یعنی ویسے بے جا بحث و مباحثہ کرنا اور شور شور کرنا۔ وَاعْلَمْ أَيْضًا اور تو یہ بھی جان لے كَأَنَّهُ اُعْتُبِرَ فِي الْبُرْهَانِ أَنْ يَكُونَ مُقَدِّمَاتُهُ بِأَسْرِهَا يَقِينِيَّةً کہ برہان کے اندر ضروری ہے۔ ادھر دیکھیے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قیاس برہانی میں اس کے دونوں مقدمات کا یقینی ہونا ضروری، جبکہ باقی قیاس کی جو چار قسمیں ہیں ان میں دونوں مقدمات اسی نوع کے ہونا ضروری نہیں۔ قیاس جدلی کس سے مرکب ہوتا ہے؟ مشہورات اور مسلمات سے، لیکن اس کے دونوں مقدمات کا مشہورہ یا مسلمہ ہونا یا ایک مشہورہ اور ایک مسلمہ ہونا ضروری نہیں، بلکہ ایک یقینی ہو اور دوسرا مشہورہ یا مسلمہ ہو تو بھی اس کو قیاس جدلی کہیں گے اور یہاں میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ وہ قیاس جس کے دو مقدمات ہوں تو اس کا نام اس میں سے جو کم درجے والا مقدمہ ہے اس کے اعتبار سے اس کا نام ہوگا۔ اب ایک قیاس جو ہے مرکب ہے دو مقدموں سے، ایک مقدمہ یقینی اور ایک جو ہے مشہورہ، تو ان میں یقینی اور مشہورہ میں سے کم درجے والا کون سا؟ مشہورہ، کیونکہ یقینی تو یقینی ہے جبکہ مشہورہ سچا بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹا بھی ہو سکتا ہے، تو قضیہ مشہورہ جو ہے وہ کم درجے والا ہوا اور اس کے اعتبار سے اب اس کا نام ہوگا اور اس کو پھر کیا کہیں گے؟ قیاس جدلی۔ اسی طرح اگر ایک قیاس ہے اس کے اندر ایک مقدمہ مشہورہ ہے اور ایک مقدمہ مقبولہ ہے، تو مشہورہ اور مقبولہ میں سے کم درجے والا کون سا؟ مقبولہ، کیونکہ وہ ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ یہ جو مشہورہ اور مسلمہ ہیں نا، یہ تو یہ تو اس میں جزم ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ جزم، مان لیتا ہے انسان۔ لیکن یہ جو مقبولات اور مظنونات ہیں، یہ تو پورے طور پر ذہن تسلیم نہیں کرتا، جانب مخالف کا بھی تھوڑا خیال رہتا ہے۔ تو اب ایک قیاس ہے، وہ مرکب ہے ایک مقدمہ کیا ہے؟ مشہورہ یا مسلمہ، اور دوسرا کیا ہے؟ مقبولہ ہے یا مظنونہ ہے، تو کم درجے کا کون سا؟ مقبولہ یا مظنونہ، لہٰذا اس کو قیاس جدلی نہیں کہیں گے بلکہ قیاس خطابی کہیں گے۔ اور اسی طرح اگر ایک قیاس ہے اس کا ایک مقدمہ یقینی ہے اور ایک مقدمہ مخیلہ ہے، خیالی ہے، تو ادنیٰ کون سا؟ مخیلہ، تو اس قیاس کو کیا کہیں گے؟ قیاس شعری کہیں گے۔ تو معلوم ہوا، برہان کے اندر دونوں مقدموں کا یقینی ہونا ضروری، باقی جتنی قیاس کی قسمیں ہیں ان میں دونوں مقدموں کا ایک قسم کا ہونا ضروری نہیں، ایک ایک قسم کا ہو دوسرا دوسری قسم کا ہو، لیکن اعتبار وہ ادنیٰ درجے والے مقدمے کا ہوگا۔ کہتے ہیں وَاعْلَمْ أَيْضًا اور یہ بھی آپ جان لیجیے أَنَّهُ اُعْتُبِرَ فِي الْبُرْهَانِ أَنْ يَكُونَ مُقَدِّمَاتُهُ بِأَسْرِهَا يَقِينِيَّةً کہ برہان کے اندر معتبر یہ ہے أَنْ يَكُونَ مُقَدِّمَاتُهُ کہ اس کے مقدمات جو ہیں بِأَسْرِهَا أي بِجَمِيعِهَا یعنی وہ سارے کے سارے يَقِينِيَّةً کیا ہوں؟ یقینی۔ برہان میں ضروری ہے کہ اس کے سارے مقدمات یقینی ہوں بِخِلَافِ غَيْرِهِ مِنَ الْأَقْسَامِ بخلاف اس کے علاوہ جو اقسام ہیں مَثَلًا مثال کے طور پر يَكْفِي فِي كَوْنِ الْقِيَاسِ مُغَالَطَةً کافی ہے قیاس کے مغالطہ ہونے میں أَنْ يَكُونَ إِحْدَى مُقَدِّمَتَيْهِ وَهْمِيَّةً وَإِنْ كَانَ الْأُخْرَى يَقِينِيَّةً کہ اس کے دو مقدموں میں سے ایک وہمیہ ہونا چاہیے اگرچہ دوسرا یقینی ہو۔ ایک یقینی ہے اور ایک وہمی ہے، ادنیٰ درجے والا کون سا؟ وہمی، تو اس لیے اس کو قیاس مغالطہ کہیں گے۔ نَعَمْ يَجِبُ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا مَا هُوَ أَدْوَنُ مِنْهَا ہاں، یہ ضروری ہے کہ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا کہ نہیں ہونا چاہیے اس میں مَا هُوَ أَدْوَنُ مِنْهَا ایسا قضیہ جو اس سے کم درجے والا ہو۔ اس سے کم درجے والا نہیں ہونا چاہیے کَالشِّعْرِيَّاتِ جیسے کہ شعریات وَإِلَّا يُلْحَقُ بِالْأَدْوَنِ ورنہ اس کو ادون جو کم درجے والا ہے اس کے ساتھ اس کو ملایا جائے گا۔ دو مقدمے ہیں، تو جو ان میں سے کم درجے والا ہے اس قیاس کے ساتھ اس کو ملا دیا جائے گا کہ یہ فلاں قیاس ہے بھئی۔ فَالْمُؤَلَّفُ مِنْ مُقَدِّمَةٍ مَشْهُورَةٍ وَأُخْرَى مُخَيَّلَةٍ لَا يُسَمَّى جَدَلِيًّا بَلْ شِعْرِيًّا پس وہ قیاس جو مرکب ہو ایک مشہورہ مقدمے سے اور ایک مخیلہ سے لَا يُسَمَّى جَدَلِيًّا اس کو جدلی نہیں کہیں گے بَلْ شِعْرِيًّا بلکہ قیاس شعری کہیں گے فَاعْرِفْهُ پس اس بات کو آپ جان لو۔ آگے دیکھیے بھئی، قَوْلُهُ مِنَ الْيَقِينِيَّاتِ، الْيَقِينُ هُوَ التَّصْدِيقُ الْجَازِمُ الْمُطَابِقُ لِلْوَاقِعِ الثَّابِتُ، یقین جو ہے وہ تصدیق ہے۔ ادھر دیکھیے، یقین کون سی تصدیق کا نام تھا؟ ایک ہے ظن، ایک تقلید اور ایک یقین اور ایک جہل مرکب۔ یقین کون سی تصدیق ہے؟ جس میں جزم ہوگا یعنی نقیض کا احتمال نہیں، یعنی جانب مخالف کا احتمال نہیں۔ اور نیز وہ ثابت ہوگی، یعنی پختہ ہوگی، کوئی ہزار دلیلیں دے دے اس کو توڑ نہیں سکتا، یعنی تشکیک مشکک سے وہ زائل نہیں، تو وہ ثابت ہوگی یعنی پختہ ہوگی اور نیز مطابق للواقع ہوگی، واقعے کے بھی مطابق ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں الْيَقِينُ هُوَ التَّصْدِيقُ الْجَازِمُ الْمُطَابِقُ لِلْوَاقِعِ الثَّابِتُ یقین جو ہے وہ تصدیق ہے جو جازم ہو، یعنی جس میں نقیض کا احتمال نہ ہو، الْمُطَابِقُ لِلْوَاقِعِ واقعے کے مطابق ہو، الثَّابِتُ اور ثابت ہو، یعنی پختہ ہو، مضبوط ہو، یعنی تشکیک مشکک سے زائل نہ ہو بھئی۔ فَبِاعْتِبَارِ التَّصْدِيقِ تو تصدیق کے اعتبار سے لَمْ يَشْمَلِ الشَّكَّ وَالْوَهْمَ وَالتَّخْيِيلَ وَسَائِرَ التَّصَوُّرَاتِ۔ بھئی، اوپر متن میں دیکھیے، انہوں نے کیا کہا؟ اَلْقِيَاسُ إِمَّا بُرْهَانِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ الْيَقِينِيَّاتِ، قیاس برہانی وہ ہے جو مرکب ہو کس سے؟ یقینیات سے، اور یقین کسے کہتے ہیں؟ نیچے شرح میں بتا دیا، یقین اس تصدیق کا نام ہے جو جازم ہو، مطابق للواقع ہو اور ثابت ہو، یعنی تشکیک مشکک سے زائل نہ ہو۔ تو اس میں پہلی قید کیا آئی؟ تصدیق، جب تصدیق قید آگئی تو تصور کی ساری قسمیں نکل گئیں، شک وہ بھی کس کی قسم تھا؟ تصور کی، وہم وہ بھی تصور کی، اور تخئیل یہ بھی تصور، وہ سب بھی نکل گئے اور باقی قسمیں بھی نکل گئیں۔ اَلْجَازِمُ کہا تو کون نکل گیا؟ ظن نکل گیا کیونکہ ظن میں نقیض کا احتمال ہوتا ہے۔ اور مُطَابِقُ لِلْوَاقِعِ کہا، کون نکل گیا؟ جہل مرکب نکل گیا کہ وہ واقعے کے مطابق نہیں ہوتا۔ اور اَلثَّابِتُ کہا، تو اس کے ذریعے تقلید نکل گئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں فَبِاعْتِبَارِ التَّصْدِيقِ لَمْ يَشْمَلِ الشَّكَّ وَالْوَهْمَ وَالتَّخْيِيلَ تو تصدیق کے اعتبار سے یہ شامل نہیں ہے شک، وہم اور تخئیل کو، یعنی یہ جو قیاس ہے جب یہ یقینیات سے مرکب ہے تو اس میں سارے جو مقدمے ہیں وہ تصدیق ہونے چاہئیں، کوئی تصور کی قبیل سے نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یقین جو ہے وہ تصدیق ہی کی قسم ہے۔ فَبِاعْتِبَارِ التَّصْدِيقِ لَمْ يَشْمَلِ الشَّكَّ وَالْوَهْمَ وَالتَّخْيِيلَ تو تصدیق کے اعتبار سے یہ شامل نہ ہوا، یہ جو قیاس برہانی ہے، شک کو، وہم کو اور تخئیل کو وَسَائِرَ التَّصَوُّرَاتِ اور اسی طرح باقی تصورات کو، یعنی ان کو بھی شامل نہیں، وہ سب نکل گئے۔ وَقَيْدُ الْجَزْمِ أَخْرَجَ الظَّنَّ اور جزم کی جو قید ہے اس نے ظن کو نکال دیا، وَالْمُطَابَقَةُ الْجَهْلَ الْمُرَكَّبَ اور مطابقت نے نکال دیا جہل مرکب کو۔ اَلْمُطَابَقَةُ اس کا عطف ہے، أَخْرَجَ کے اندر هُوَ ضمیر ہے۔ عبارت پہ نظر ہے؟ پھر دیکھیں۔ وَقَيْدُ الْجَزْمِ اور جزم کی جو قید آئی، أَخْرَجَ اس نے نکال دیا، اَلظَّنَّ کس کو؟ ظن۔ تو ظن یہ ہے مفعول بن رہا ہے أَخْرَجَ فعل کے لیے، اور أَخْرَجَ کے اندر هُوَ ضمیر ہے جو راجع ہے مبتدا یعنی قَيْدُ الْجَزْمِ، جزم کی جو قید ہے اس نے نکال دیا کس کو؟ ظن کو۔ اچھا، تو أَخْرَجَ کے اندر هُوَ ضمیر ہے۔ اب آگے آیا وَالْمُطَابَقَةُ الْجَهْلَ الْمُرَكَّبَ، اَلْمُطَابَقَةُ کو پڑھیں مرفوع اور اَلْجَهْلَ الْمُرَكَّبَ اس کو پڑھیں منصوب۔ اَلْمُطَابَقَةُ اس کا عطف ہے أَخْرَجَ کے اندر هُوَ ضمیر جو فاعل ہے اور وہ مرفوع، تو اس پر جو معطوف ہے اَلْمُطَابَقَةُ وہ بھی مرفوع، اور اَلْجَهْلَ الْمُرَكَّبَ اس کا عطف ہے اَلظَّنَّ پر اور ظن مفعول ہے تو اَلْجَهْلَ الْمُرَكَّبَ بھی مفعول۔ اسی طرح آگے آرہا ہے وَالثَّابِتُ، اس کا عطف بھی اسی پر ہے، یہ فاعل کے درجے میں، اور اَلتَّقْلِيدَ یہ مفعول ہے بھئی۔ عبارت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں جزم کی قید نے ظن کو نکال دیا وَالْمُطَابَقَةُ الْجَهْلَ الْمُرَكَّبَ اور مطابقت نے جہل مرکب کو نکال دیا وَالثَّابِتُ التَّقْلِيدَ اور ثابت نے تقلید کو نکال دیا، ثابت ہو یعنی جو تشکیک مشکک سے زائل نہ ہو، پختہ ہو بھئی، مضبوط ہو، وَاعْلَمْ۔ ثُمَّ الْمُقَدِّمَاتُ الْيَقِينِيَّةُ إِمَّا بَدِيهِيَّاتٌ أَوْ نَظَرِيَّاتٌ مُنْتَهِيَةٌ إِلَى الْبَدِيهِيَّاتِ لِاسْتِحَالَةِ الدَّوْرِ وَالتَّسَلْسُلِ۔ آپ کی کتابوں میں اَوْ تو نہیں ہے؟ لِاسْتِحَالَةِ الدَّوْرِ أَوِ التَّسَلْسُلِ، اَوْ نہیں ہونا چاہیے بھئی، وَاؤ ہونا چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے اس کی اصلاح کر لیں۔ کہتے ہیں پھر مقدمات یقینیہ إِمَّا بَدِيهِيَّاتٌ أَوْ نَظَرِيَّاتٌ یا تو وہ بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے۔ ادھر دیکھیے بھئی، یاد رکھیے کہ قیاس برہانی یقینیات سے مرکب ہوتا ہے، کس سے؟ یقینیات۔ اور یقینیات کے آگے پھر انہوں نے بدیہیات کی چھ قسمیں گنوا دیں کہ اصول یقینیات یہ ہیں۔ اصول یقینیات یہ چھ ہیں، تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو قیاس برہانی ہوتا ہے یہ صرف بدیہیات سے مرکب ہوگا، اس میں نظری نہیں آسکتا، ایک مقدمہ بھی نظری نہیں ہونا چاہیے، دونوں کیا ہونے چاہئیں؟ بدیہی ہونے چاہئیں، نظری نہیں، نظری کسے کہتے ہیں؟ وہ مجهول تصدیق جو کس کے ذریعے حاصل ہوئی؟ معلوم تصدیق کے، معلوم تصدیقات کو ملایا کس کو حاصل کیا؟ مجهول تصدیق کو، یہ معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول کو حاصل کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ نظر و فکر، تو یہ جو نظری ہے وہ ہے جو قیاس کے ذریعے حاصل ہوا۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو قیاس برہانی ہے اس کے تمام مقدمات کا بدیہی ہونا ضروری ہے، جبکہ حق یہ ہے کہ نہیں، تمام مقدمات کا بدیہی ہونا ضروری نہیں، بلکہ نظری بھی ہو سکتے ہیں۔ اس برہان کے مقدمات بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی، لیکن وہ نظری ایسے ہوں گے کہ وہ بدیہی سے حاصل ہوئے ہوں گے۔ وہ نظری کیسے ہوں گے؟ وہ بدیہی سے حاصل ہوئے ہوں گے، توجہ ہے؟ جب بدیہی یقینی تھے، تو آگے جو نظری حاصل ہوا وہ بھی کیا ہوگا؟ یقینی ہوگا۔ تو حق یہ ہے کہ قیاس برہانی کے مقدمات بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے نظری بھی جو کس سے حاصل ہوئے ہوں؟ جو بدیہی سے حاصل ہوئے ہوں۔ اسی کو وہ یوں تعبیر کریں گے کہ قیاس برہانی ہے، اس کے مقدمات بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے نظری بھی جن کی انتہا بدیہی پر ہو رہی ہے۔ ایسے نظری جن کی انتہا بدیہی پر ہو رہی ہے، کیا معنی انتہا ان پر ہو رہی ہے؟ یعنی ان سے یہ حاصل ہوئے ہیں، پیچھے کی طرف اگر جائیں گے تو جا کر ان کی انتہا کس پر ہوگی؟ پیچھے بدیہی پر، یعنی یہ بدیہی سے حاصل ہوئے ہیں یہ والے نظری۔ اچھی طرح سب کو بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں ثُمَّ الْمُقَدِّمَاتُ الْيَقِينِيَّةُ إِمَّا بَدِيهِيَّاتٌ أَوْ نَظَرِيَّاتٌ مُنْتَهِيَةٌ إِلَى الْبَدِيهِيَّاتِ کہتے ہیں پھر یہ مقدمات یقینیہ یا تو وہ بدیہی ہوں گے یا ایسے نظری ہوں گے مُنْتَهِيَةٌ إِلَى الْبَدِيهِيَّاتِ جن کی انتہا ہو رہی ہوگی بدیہیات پر، یعنی یہ ان سے حاصل ہوئے ہوں گے یہ والے نظری لِاسْتِحَالَةِ الدَّوْرِ وَالتَّسَلْسُلِ اس وجہ سے کہ دور اور تسلسل باطل ہیں۔ اس لیے کیونکہ دور اور تسلسل باطل ہیں۔ دور، دور کی تعریف میں نے پہلے بھی لکھوائی تھی پھر لکھ لیجیے بھئی: اَلدَّوْرُ هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ عَلَى مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی: اَلدَّوْرُ هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ عَلَى مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ۔ لکھ لیا؟ اَلدَّوْرُ هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ عَلَى مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ، دور کہتے ہیں ایک چیز کا موقوف ہونا اس چیز پر جو اس پر موقوف ہے۔ ایک چیز کا اس چیز پر موقوف ہونا جو اس پر موقوف ہے۔ مثلاً دیکھیے، آپ سے کسی نے پوچھا زید کا گھر کہاں ہے؟ آپ نے کہا بکر کے گھر کے سامنے، پھر کسی نے پوچھا اچھا بکر کا گھر کہاں ہے؟ آپ نے کہا زید کے گھر کے سامنے۔ دیکھو، اب ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا بھئی۔ زید کے گھر کا پتہ تب چلے گا جب ہمیں بکر کے گھر کا پتہ ہو، اور بکر کے گھر کا پتہ ہمیں تب چلے گا جب ہمیں زید کے گھر کا پتہ ہو۔ تو اس کو دور کہتے ہیں، زید کے گھر کا پتہ چلنا موقوف ہو گیا کس پر؟ زید کے گھر کا پتہ چلنا کس پر موقوف؟ بکر کے گھر پر، اور بکر کے گھر کا جاننا اور پتہ چلانا اس وہ کس پر موقوف؟ زید پر، تو دیکھو ایک چیز موقوف ہو گئی اس چیز پر جو خود اس پر موقوف ہے بھئی، اور اس میں بیچ میں کبھی واسطہ ہوتا ہے اور کبھی واسطہ نہیں ہوتا، کبھی واسطہ بھی آ جائے گا بیچ میں، لیکن گھوم پھر کر وہی پہلی چیز پر ایک چیز موقوف ہو جائے گی۔ مثلاً دیکھو، یہاں تو زید کا گھر موقوف ہے کس پر؟ بکر کے گھر پر، اور بکر کا گھر کا جاننا کس پر موقوف؟ زید پر، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں، کبھی واسطہ بھی آ جائے گا۔ آپ سے کوئی پوچھتا ہے زید کا گھر کہاں؟ آپ نے کہا بکر کے گھر کے سامنے، بکر کا گھر کہاں؟ عمر کے گھر کے سامنے، عمر کا گھر کہاں؟ خالد کے گھر کے سامنے، خالد کا گھر کہاں؟ زید کے گھر کے سامنے۔ دیکھا، اب کئی واسطوں سے ایک چیز پھر اسی چیز پر موقوف ہو گئی جو اس پر موقوف تھی بھئی۔ تو درمیان میں کبھی واسطہ آئے گا یا کبھی واسطہ نہیں آئے گا، بہرحال اس سب کو دور کہتے ہیں، ایک چیز کا موقوف ہونا اس چیز پر جو خود اس پر موقوف ہے، اور اس میں ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چل سکتا بھئی، تو دور باطل ہے بھئی، دور باطل ہے۔ اور دوسرا ہے تسلسل بھئی، تسلسل کی تعریف لکھ لیجیے بھئی: اَلتَّسَلْسُلُ هُوَ تَرَتُّبُ أُمُورٍ غَيْرِ مُتَنَاهِيَةٍ۔ اَلتَّسَلْسُلُ هُوَ تَرَتُّبُ أُمُورٍ غَيْرِ مُتَنَاهِيَةٍ، وہ مرتب ہونا ہے امورِ غیر متناہیہ کا، لا متناہی امور بھئی جن کی کوئی حد ہی نہیں، جو کہیں ختم ہی نہیں ہو رہے، جیسے بھئی یہ مناطقہ واجب الوجود کے قائل ہیں بھئی۔ مناطقہ واجب الوجود کے قائل ہیں، کوئی ایک ذات ہے جو خود بخود ہے اس نے کسی نے نہیں پیدا کیا اور اس نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے، وہ واجب الوجود کے قائل ہوئے، کیوں؟ کیونکہ اگر اس واجب الوجود کو نہیں مانتے تو تسلسل ماننا پڑے گا اور تسلسل تو باطل ہے، دور بھی باطل اور تسلسل بھی باطل، کیونکہ یاد رکھو، یہ دنیا میں جو جتنی چیزیں ہیں اللہ کی ذات کے علاوہ یہ سب کیا ہیں؟ یہ ممکنات ہیں، ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ ان سب کو کیا کہتے ہیں؟ ممکنات، ان کا ہونا نہ ہونا برابر، یہ ہوں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ نہ ہوں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، اور ہر ممکن کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے۔ تو اگر اس ممکن کے لیے بنانے والا کسی دوسرے ممکن کو قرار دے دیں، تو اس ممکن کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے، تو اس کے لیے پھر کسی تیسرے کو ممکن کو اس کا خالق قرار دینا پڑے گا۔ اگر وہ بھی ممکن ہے تو اس سے اگر اس کو بنانے والا بھی ممکن ہے پھر اس کے لیے بھی کوئی خالق چاہیے، وہ بھی ممکن ہوگا، تو اس کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے اگر وہ بھی ممکن ہے تو اس کے لیے بھی بنانے والا چاہیے، تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا، کہیں بھی نہیں رکے گا۔ ہر ممکن کے لیے اگر بنانے والا کون ہو؟ ممکن، پھر اس ممکن کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے وہ بھی اگر ممکن ہے تو اس کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے وہ بھی اگر ممکن ہے، تو اس کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے وہ اگر وہ بھی ممکن ہے تو اس کے لیے بھی بنانے والا چاہیے، تو یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا کہیں رکے گا ہی نہیں، اور یہ باطل ہے۔ دیکھو لا متناہی امور کا مرتب ہونا جن کی کوئی حد ہی نہیں ہے، کہیں رک ہی نہیں رہے، وہ سلسلہ چلتا ہی جا رہا ہے، تو یہ لا متناہی امور کا مرتب ہونا یہ تسلسل کہلاتا ہے اور تسلسل باطل ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تسلسل کیا ہے؟ باطل ہے، چنانچہ مناطقہ مجبور ہو گئے، فلاسفہ، کہ ایک ذات ایسی ہے جو خود بخود ہے، اس کو بنانے کے لیے کسی اور کی ضرورت نہیں ہے تاکہ یہ سلسلہ کہیں تو جا کر رکے بھئی۔ تو یہ تسلسل اور دور باطل ہیں۔ تو دیکھو، ادھر دیکھیے، بات یہ چل رہی تھی کہ یہ جو قیاس برہانی ہے اس کے دونوں مقدمات جو ہیں یا وہ بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے، اور لیکن یہ نظری جو ہیں ان کی انتہا کس پر ہو رہی ہوگی؟ بدیہی پر ہو رہی ہوگی، اس لیے کیونکہ اگر ان کی انتہا بدیہی پر نہیں ہے تو یہ نظری کس سے آئے؟ پیچھے نظری ہی تھے، وہ نظری کس سے آئے؟ اس سے پیچھے اور نظری تھے، وہ وہ نظری کدھر سے آئے؟ وہ اور نظری مقدمات، تو یہ تو سلسلہ چلتا ہی رہے گا، کہیں بھی نہیں رکے گا، تو یہ تو تسلسل ہے، تسلسل باطل ہے، یا یہ نظری کہاں سے آئے؟ اس دوسرے نظری سے، اور دوسرے نظری کہاں سے آئے؟ وہ اس نظری سے آئے جو پہلے والے سے، تو یہ نظری موقوف ہو گئے کس پر؟ اس دوسرے نظری پر، اور دوسرے نظری موقوف کیا ہو گئے؟ اس پر موقوف ہو گئے، تو یہ تو دور لازم آیا۔ اگر آپ یہ سلسلہ پیچھے کی طرف الگ الگ نظری کی طرف چلاتے ہو تو تسلسل لازم آئے گا، اور اگر آپ گھما کر پھر اسی پہلے نظری کی طرف آ جاتے ہو تو کیا لازم آئے گا؟ دور لازم آئے گا، اور دور بھی باطل اور تسلسل بھی باطل، لہٰذا یہ جو نظری آئے ہیں یہ بالآخر ان کی انتہا کس پر ہوگی؟ بدیہی پر ہوگی۔ یہ نظری ہیں، مثلاً یہ پیچھے بھی ایک نظری سے حاصل ہوئے تھے، لیکن وہ نظری کس سے آئے تھے؟ بدیہی سے، دیکھو سلسلہ ختم ہو گیا۔ بدیہی میں تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں، ہاں ان بدیہی کے ذریعے پہلے نظری مقدمات حاصل ہوئے اور پھر ان نظری مقدمات سے یہ والے نظری حاصل ہوئے، تو دیکھو ان نظری کی انتہا کس پر ہو گئی؟ بدیہی پر ہو گئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں ثُمَّ الْمُقَدِّمَاتُ الْيَقِينِيَّةُ إِمَّا بَدِيهِيَّاتٌ أَوْ نَظَرِيَّاتٌ مُنْتَهِيَةٌ إِلَى الْبَدِيهِيَّاتِ لِاسْتِحَالَةِ الدَّوْرِ وَالتَّسَلْسُلِ پھر یہ مقدمات یقینیہ یا تو بدیہی ہوں گے یا ایسے نظری ہوں گے جن کی انتہا بدیہیات پر ہو رہی ہوگی، اس لیے کیونکہ دور اور تسلسل تو محال ہیں۔ قَوْلُهُ وَأُصُولُهَا، فُأُصُولُ الْيَقِينِيَّاتِ هِيَ الْبَدِيهِيَّاتُ وَالنَّظَرِيَّاتُ مُتَفَرِّعَةٌ عَلَيْهَا، اصول یقینیات بھئی بنیادی یقینیات انہوں نے کتنے بتائے تھے؟ چھ، چھ، اب وہی بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں فُأُصُولُ الْيَقِينِيَّاتِ هِيَ الْبَدِيهِيَّاتُ وَالنَّظَرِيَّاتُ مُتَفَرِّعَةٌ عَلَيْهَا کہ اصول یقینیات وہ یہ بدیہیات ہیں وَالنَّظَرِيَّاتُ اور وہ نظریات ہیں مُتَفَرِّعَةٌ عَلَيْهَا جو ان سے نکلتے ہیں۔ بدیہیات کو ملایا، آپ کو ایک نظری حاصل ہو گیا۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے، دیکھو یہ جو زید بڑا منطقی ہے یہ آپ کو نظر و فکر سے حاصل ہوا یہ مقدمہ، تو اسی طرح نظریات جو ہیں وہ بدیہیات سے حاصل ہوتے ہیں، ان پر متفرع ہوتے ہیں۔ اصل کہتے ہیں جڑ کو اور فرع کہتے ہیں شاخ کو، جڑیں ہوں گی تو آگے شاخیں اور تنا نکلے گا، جڑیں ہی نہیں تو شاخیں بھی نہیں۔ تو لہٰذا اصول یقینیات وہ بدیہیات بھی ہیں اور انہی بدیہیات سے جو آگے نظریات حاصل ہوتے ہیں وہ بھی کیا ہیں؟ اصول یقینیات میں داخل ہیں۔ کہتے ہیں فُأُصُولُ الْيَقِينِيَّاتِ هِيَ الْبَدِيهِيَّاتُ وَالنَّظَرِيَّاتُ مُتَفَرِّعَةٌ عَلَيْهَا تو اصول یقینیات وہ یہ بدیہیات ہیں اور وہ نظریات ہیں مُتَفَرِّعَةٌ عَلَيْهَا جو ان بدیہیات پر متفرع ہوتے ہیں، یعنی ان سے حاصل ہوتے ہیں، ان سے نکلتے ہیں۔ وَالْبَدِيهِيَّاتُ سِتَّةُ أَقْسَامٍ بِحُكْمِ الْاسْتِقْرَاءِ اور بدیہیات جو ہیں وہ چھ قسم کے ہیں استقراء کے حکم سے، یعنی ہم نے تلاش کی، جستجو کی، تحقیق کی، ہمیں یہ چھ قسمیں ملیں بدیہیات کی، اگر آپ کو کوئی اور ملتی ہے آپ اس کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ وَوَجْهُ الضَّبْطِ اب ضبط کی وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہ یہ چھ میں بند کیوں ہیں؟ وجہ حصر ذکر کرنے لگے ہیں کہ بدیہیات چھ کیوں ہیں؟ کہتے ہیں وَوَجْهُ الضَّبْطِ اور ضبط کی وجہ یعنی ان چھ میں بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ أَنَّ الْقَضَايَا الْبَدِيهِيَّةَ کہ وہ قضایا جو بدیہی ہیں إِمَّا أَنْ يَكُونَ تَصَوُّرُ طَرَفَيْهَا مَعَ النِّسْبَةِ میری کتاب میں ہے مَعَ التَّنْبِيهِ، یہ تنبیہ کتابت کی غلطی ہے مَعَ النِّسْبَةِ لفظ ہونا چاہیے بھئی، اس کی اصلاح کر لیں۔ مَعَ النِّسْبَةِ، اَلنِّسْبَةُ ہے الف لام کے ساتھ۔ کہتے ہیں وجہ ضبط یہ ہے کہ أَنَّ الْقَضَايَا الْبَدِيهِيَّةَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ تَصَوُّرُ طَرَفَيْهَا مَعَ النِّسْبَةِ كَافِيًا فِي الْحُكْمِ وَالْجَزْمِ أَوْ لَا يَكُونَ۔ بھئی، ادھر دیکھیے، اولیات میں نسبت کا یقین کرنے کے لیے کیا کیا چیزیں ضروری تھیں؟ اولیات میں کسی قضیے پر یقین کرنے کے لیے صرف تصور طرفین اور نسبت کا تصور کافی تھا، جیسے اَلْكُلُّ أَعْظَمُ مِنَ الْجُزْءِ، کل کیا ہوتا ہے؟ جز سے بڑا، تو کل کا تصور کیا، جز کا تصور کیا اور بڑے ہونے کی نسبت کا تصور کیا کہ کل کی طرف کون سی نسبت کی جا رہی ہے؟ بڑے ہونے کی نسبت، تو فوراً ہی ذہن نے مان لیا کہ بات ایسی ہی ہے، کسی دلیل کی ضرورت مزید نہیں۔ تو کہتے ہیں کہ أَنَّ الْقَضَايَا الْبَدِيهِيَّةَ کہ قضایا بدیہیہ جو ہیں إِمَّا أَنْ يَكُونَ تَصَوُّرُ طَرَفَيْهَا مَعَ التَّنْبِيهِ كَافِيًا فِي الْحُكْمِ وَالْجَزْمِ کہ یا تو اس کی دو جو طرفین ہیں یعنی موضوع اور محمول، ان کا تصور مَعَ النِّسْبَةِ ساتھ کس کے؟ نسبت کے تصور کے، كَافِيًا یہ کافی ہوگا فِي الْحُكْمِ وَالْجَزْمِ اس حکم اور اس جزم کے اندر، أَوْ لَا يَكُونَ یا ایسا نہیں ہوگا۔ فَالْأَوَّلُ هُوَ الْأَوَّلِيَّاتُ تو پہلی قسم، یعنی جس میں صرف تصور طرفین اور نسبت کافی ہے اس حکم کے لیے اور اس جزم کے لیے، تو وہ اولیات ہے، وہ کیا ہے؟ بھئی، وہ کافی ہے حکم میں اور جزم میں، جزم کا کیا معنی میں نے بتلایا؟ جزم، یقین یعنی جس میں نقیض کا احتمال نہ ہو، جانب مخالف کا احتمال نہ ہو۔ اسی طرح حکم بھی یہ ہے، دیکھو ایک ہوتا ہے موضوع ایک محمول، محمول کا موضوع پر حکم لگایا جاتا ہے، میں نے آپ کو بتایا زید عالم ہے، آپ نے اس کو مان لیا پورے طور پر۔ توجہ ہے؟ بھئی، یہاں آیا فِي الْحُكْمِ وَالْجَزْمِ، فِي الْحُكْمِ وَالْجَزْمِ، دیکھو یہ عطف تفسیری ہے، حکم اور جزم کا ایک معنی، حکم کا معنی آگے جزم کے ساتھ کر دیا، حکم کس کو کہتے ہیں؟ جزم کو کہتے ہیں، یعنی وہ اعتقاد جس میں نقیض کا احتمال نہ ہو۔ تو یہ کافی ہے حکم اور جزم میں أَوْ لَا يَكُونَ یا ایسا نہیں، تو کہتے ہیں فَالْأَوَّلُ هُوَ الْأَوَّلِيَّاتُ تو پہلی قسم جو ہے وہ اولیات ہے، وَالثَّانِي اور دوسری قسم، ادھر دیکھیے، یا تو طرفین کا تصور اور نسبت کا تصور یہ تین چیزوں کا تصور کرنا ذہن کے لیے کافی ہے ان کو ماننے کے لیے۔ یہ تین چیزوں کا تصور کرتے ہی ذہن مان لیتا ہے کہ اَلْكُلُّ أَعْظَمُ مِنَ الْجُزْءِ، اگر ایسا ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ اولیات، اگر ایسا نہ ہو پھر کیا کہیں گے؟ اب آگے مزید صورتیں ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَالثَّانِي اور دوسری صورت إِمَّا أَنْ يَتَوَقَّفَ عَلَى وَاسِطَةٍ غَيْرِ الْحِسِّ الظَّاهِرِ أَوِ الْبَاطِنِ یا تو وہ موقوف ہوگا ایسے واسطے پر جو حس ظاہر اور حس باطن کے علاوہ ہوگا أَوْ لَا یا ایسا نہیں ہوگا۔ توجہ ہے؟ ادھر دیکھیے، اگر تصور طرفین اور نسبت کافی نہیں ہے اس کا یقین کرنے کے لیے، اگر کافی نہیں، تو پھر اس میں واسطہ چاہیے ہوگا، وہ واسطہ یا تو حس ظاہری اور باطنی کے علاوہ ہوگا یا اس کے علاوہ نہیں ہوگا، یہی واسطہ ہوگا یعنی حس ظاہری اور باطنی، اگر حس ظاہری اور باطنی ہی واسطہ ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مشاهدات، اور اگر اس کے علاوہ واسطہ ہے پھر آگے تفصیل بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں وَالثَّانِي إِمَّا أَنْ يَتَوَقَّفَ عَلَى وَاسِطَةٍ غَيْرِ الْحِسِّ الظَّاهِرِ أَوِ الْبَاطِنِ أَوْ لَا کہ یا تو وہ موقوف ہوگا ایسے واسطے پر جو حس ظاہر اور باطن کے علاوہ ہے أَوْ لَا یا ایسا نہیں ہوگا، یعنی ان کے علاوہ واسطہ نہیں ہوگا بلکہ یہی واسطہ ہوگا، تو فَالثَّانِي الْمُشَاهَدَاتُ تو دوسرے کیا ہیں؟ مشاهدات، جب یہی واسطہ ہو۔ وَتَنْقَسِمُ اور پھر یہ مشاهدات جو ہیں تقسیم ہوتے ہیں إِلَى مُشَاهَدَاتٍ بِالْحِسِّ الظَّاهِرِ ان مشاهدات کی طرف جو حس ظاہر کے ذریعے ہوتے ہیں وَتُسَمَّى حِسِّيَّاتٍ اور ان کو حسیات اور محسوسات کہتے ہیں، وَإِلَى مُشَاهَدَاتٍ بِالْحِسِّ الْبَاطِنِيِّ وَتُسَمَّى وِجْدَانِيَّاتٍ اور یا یہ تقسیم ہوتا ہے ان مشاهدات کی طرف جو حس باطنی سے ہوتے ہیں یعنی حواس خمسہ باطنہ سے وَتُسَمَّى وِجْدَانِيَّاتٍ اور اس کو وجدانیات کہتے ہیں۔ وَالْأَوَّلُ اور پہلی قسم، پہلی قسم کون سی؟ جس میں واسطہ حس کے علاوہ ہو۔ إِمَّا أَنْ يَكُونَ تِلْكَ الْوَاسِطَةُ بِحَيْثُ لَا تَغِيبُ عَنِ الذِّهْنِ عِنْدَ حُضُورِ الْأَطْرَافِ أَوْ لَا تَكُونَ یا تو اس کے اندر وہ واسطہ اس طور پر ہوگا کہ وہ ذہن سے غائب نہیں ہوتا عِنْدَ حُضُورِ الْأَطْرَافِ جب وہ اطراف یعنی موضوع محمول ذہن میں آ جائیں أَوْ لَا تَكُونَ كَذَلِكَ یا وہ ایسا نہیں ہوگا۔ بھئی، ادھر دیکھیے، وجہ حصر بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں پھر سنو، اگر طرفین اور نسبت کا تصور کافی ہو اس کا یقین کے اس پر یقین کے لیے تو اس کو اولیات کہتے ہیں، اگر واسطہ چاہیے تو وہ واسطہ یا یا حس ظاہری اور باطنی ہوگا یا نہیں، اگر حس ظاہری اور باطنی ہے تو ان کو مشاهدات کہتے ہیں، اگر وہ واسطہ حس ظاہری اور باطنی نہیں ہے تو پھر تو پھر اس کے بعد وہ یا تو واسطہ اس طرفین کا ذہن میں تصور آتے ہی ذہن میں وہ واسطہ یعنی وہ دلیل بھی آئے گی یا نہیں آئے گی، اگر وہ ذہن میں ساتھ ہی دلیل بھی آ جاتی ہے جیسے میں نے کہا اَلْأَرْبَعَةُ زَوْجٌ، اربعد اور زوج کا تصور ذہن میں آتے ہی ساتھ ذہن میں دلیل بھی آ گئی کہ اربعہ زوج ہی ہے کیونکہ زوج اس کو کہتے ہیں جس کے دو حصے ہوں اور جو دو حصوں میں تقسیم ہو سکے، اور چار بھی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ زوج ہے، آپ کا ذہن اس پر یقین کر لیتا ہے، ایک بات ذہن میں آتی ہے پھر ذہن اس کا یقین کر لیتا ہے کہ بات ایسی ہی ہے۔ تو اگر یہ واسطہ وہ دلیل ذہن سے غائب نہیں ہوتی بلکہ ساتھ ہی ذہن میں آ جاتی ہے تو اس کو فطریات کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَالْأَوَّلُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ تِلْكَ الْوَاسِطَةُ بِحَيْثُ لَا تَغِيبُ عَنِ الذِّهْنِ عِنْدَ حُضُورِ الْأَطْرَافِ أَوْ لَا تَكُونَ كَذَلِكَ یا تو واسطہ اس طور پر ہو کہ وہ ذہن سے غائب ہی نہیں ہوتا جب وہ اطراف یعنی موضوع محمول وغیرہ ذہن میں آ جائیں أَوْ لَا تَكُونَ كَذَلِكَ یا وہ ایسا نہیں ہوگا، وَالْأَوَّلُ هِيَ الْفِطْرِيَّاتُ اور پہلی قسم جو ہے وہ یہ فطریات ہیں، یعنی جس میں واسطہ ذہن سے غائب نہیں ہوتا، کہتے ہیں ان کو فطریات کہتے ہیں، وَتُسَمَّى قَضَايَا قِيَاسَاتُهَا مَعَهَا اور ان کو قضایا قیاساتہا معہا کہتے ہیں، یعنی ایسے قضایا جن کے قیاسات ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وَالثَّانِي اور دوسری قسم، یعنی اگر وہ واسطہ ذہن سے میں حاضر نہیں ہوتا تو إِمَّا أَنْ يُسْتَعْمَلَ فِيهِ الْحَدْسُ یا تو اس میں حدس استعمال ہوگا وَهُوَ انْتِقَالُ الذِّهْنِ مِنَ الْمَبَادِئِ إِلَى الْمَطَالِبِ أَوْ لَا يُسْتَعْمَلَ یا تو اس میں حدس استعمال ہوگا یا استعمال نہیں ہوگا، حدس کیا؟ کہتے ہیں وہ اور وہ ذہن کا منتقل ہونا مبادی سے مطالب یعنی نتیجے کی طرف فوراً، تو حدس استعمال ہوگا یا استعمال نہیں، فَالْأَوَّلُ الْحَدْسِيَّاتُ تو تو پہلی قسم جس میں حدس استعمال ہو اس کو حدسیات کہتے ہیں، وَالثَّانِي اور دوسرا جس میں حدس استعمال نہ ہو إِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهِ حَاصِلًا بِإِخْبَارِ جَمَاعَةٍ يَمْتَنِعُ عِنْدَ الْعَقْلِ تَوَاطُؤُهُمْ عَلَى الْكَذِبِ فَهُوَ الْمُتَوَاتِرَاتُ، دوسری قسم جن میں حدس استعمال نہیں ہوتا، تو کہتے ہیں إِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهِ حَاصِلًا اگر اس میں حکم یعنی جزم حاصل ہوا ہے بِإِخْبَارِ جَمَاعَةٍ، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں وَالثَّانِي دوسری قسم جو ہے إِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهِ حَاصِلًا بِإِخْبَارِ جَمَاعَةٍ يَمْتَنِعُ عِنْدَ الْعَقْلِ اگر وہ حکم جو ہے، حکم کیا معنی حکم دیکھو؟ اوپر بتایا تھا حکم کا کیا معنی؟ جزم یعنی جس میں جانب مخالف کا احتمال نہیں، اگر وہ یقین جو ہے فِيهِ حَاصِلًا اس میں حاصل ہے بِإِخْبَارِ جَمَاعَةٍ ایک ایسی جماعت کے خبر دینے کی وجہ سے يَمْتَنِعُ عِنْدَ الْعَقْلِ کہ ممتنع ہو عقل کے نزدیک تَوَاطُؤُهُمْ عَلَى الْكَذِبِ کذب پر ان کا اتفاق کرنا، تواطؤ کا کیا معنی؟ اتفاق کر لینا، کہ عَلَى الْكَذِبِ جھوٹ پر اتفاق ان کا عقل کے نزدیک محال ہو، فَهُوَ الْمُتَوَاتِرَاتُ تو وہ متواترات ہیں۔ تو متواترات ہیں، یعنی اگر حکم جو حاصل ہوا ہے وہ ایک ایسی جماعت کے خبر دینے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے کہ عقل محال سمجھتی ہے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر اتفاق کر لیں گے تو یہ کس میں سے ہے؟ متواترات میں سے ہے۔ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كَذَلِكَ اور اگر ایسا نہ ہو بَلْ حَاصِلًا مِنْ كَثْرَةِ التَّجَارِبِ بلکہ وہ حکم حاصل ہوا ہے کثرتِ تجارب سے یعنی کثیر تجربوں سے، فَهِيَ التَّجْرِيبِيَّاتُ تو یہ تجربیات ہیں، تجربیات، را کے نیچے بھی زیر ہے اور با کے نیچے بھی زیر ہے۔ وَقَدْ عُلِمَ بِذَلِكَ حَدُّ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا اور تحقیق اس کے ذریعے ہر ایک کی حد یعنی تعریف کا بھی پتہ چل گیا۔ کہتے ہیں اوپر جو ہم نے وجہ حصر ذکر کر دی کہ بدیہیات کی چھ قسمیں کیوں ہیں، اسی سے ہر ایک کی تعریف بھی آپ کو سمجھ میں آ گئی۔ پھر سن لو وجہ حصر، وجہ حصر انہوں نے یہ ذکر کی کہ یا تو قضیہ بدیہیہ کے اندر دونوں طرفین اور نسبت کا تصور کافی ہوگا اس کے یقین کرنے کے لیے یا کافی نہیں ہوگا۔ اگر یقین کرنے کے لیے وہ کافی ہے تو ان کو اولیات کہتے ہیں، اور اگر وہ کافی نہیں اس کے لیے واسطہ بھی چاہیے تو اگر وہ واسطہ حس باطنی یا حس ظاہری ہو تو وہ مشاهدات ہیں، اور اگر وہ واسطہ حس ظاہری اور باطنی نہیں ہے تو پھر وہ واسطہ جب طرفین کا تصور ذہن میں آئے تو وہ واسطہ بھی ساتھ ذہن میں آتا ہے یا نہیں آتا؟ یعنی ذہن سے غائب ہوتا ہے، غائب نہیں ہوتا؟ اگر غائب نہیں ہوتا ساتھ ہی واسطہ بھی آ جاتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ فطریات، اور اگر ایسا نہیں کہ واسطہ ذہن میں نہیں آتا تو پھر اس صورت میں اگر اس میں حدس استعمال ہوگا یا استعمال نہیں، اگر حدس استعمال ہو تو وہ حدسیات ہیں، اگر حدس استعمال نہیں تو پھر اس کے اندر یا تو جو حکم حاصل ہوا ہے وہ یا تو بطریقِ تواتر کے حاصل ہوا ہوگا یا تواتر کے طریقے پر حاصل نہیں، اگر تواتر کے طریقے پر حاصل ہوا ہے یعنی اتنی بڑی جماعت ہے کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھتی ہے تو وہ متواترات کی قبیل سے ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ کثرتِ تجارب سے ایک حکم حاصل ہوا ہے، یقین حاصل ہوا ہے، تو پھر اس کو تجربیات کہتے ہیں۔ آگے دیکھیے، قَوْلُهُ الْأَوَّلِيَّاتُ، كَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول ہے: اَلْكُلُّ أَعْظَمُ مِنَ الْجُزْءِ، یہ اولیات کی مثال جس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں، ذہن اس کو تصور کرتے ہی اس کو مان لیتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ قَوْلُهُ وَالْمُشَاهَدَاتُ، أَمَّا الْمُشَاهَدَاتُ الظَّاهِرَةُ، بھئی، مشاهدات کس کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں؟ حس ظاہری اور باطنی کے ذریعے، کچھ باتیں آنکھوں، کانوں، زبان، ناک یا لمس کے ذریعے پتہ چلیں گی، وہ حس ظاہری میں ہیں داخل، حسیاتِ ظاہر میں، اور کچھ باتیں حواسِ باطنہ کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں کہ ہمیں بھوک لگی ہے یا پیاس لگی ہے، اب دیکھو بھوک اور پیاس ہے، اس کا پتہ آنکھوں سے بھی نہیں چلتا، کانوں سے بھی نہیں، زبان سے بھی نہیں، سونگھنے سے بھی نہیں، چھونے سے بھی نہیں، تو اس کا پتہ حواسِ باطنہ سے چلتا ہے، تو یہ مشاهدات کی دو قسمیں ہیں۔ کہتے ہیں وَالْمُشَاهَدَاتُ، أَمَّا الْمُشَاهَدَاتُ الظَّاهِرَةُ فَكَقَوْلِنَا: اَلشَّمْسُ مُشْرِقَةٌ وَالنَّارُ مُحْرِقَةٌ، تو مشاهداتِ ظاہر ہ جو ہیں جیسے کہ ہمارا قول: اَلشَّمْسُ مُشْرِقَةٌ، سورج چمکدار ہے، بھئی یہ ہمیں آنکھوں سے نظر آتا ہے تو یہ حس ظاہری کے ذریعے حاصل ہے۔ وَالنَّارُ مُحْرِقَةٌ، آگ جلانے والی ہے، یہ ہمیں لمس کے ذریعے، آگ کے قریب ہم ہاتھ لے کر جاتے ہیں آگ جلاتی ہے اس کو، تو یہ ہمیں کس کے ذریعے پتہ چلا؟ قوتِ لامسہ کے ذریعے پتہ چلا، تو یہ حسیات کی قبیل سے ہیں۔ وَأَمَّا الْبَاطِنَةُ اور مشاهداتِ باطنہ جو ہیں كَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول ہے: إِنَّ لَنَا جُوعًا وَعَطَشًا، کہ ہمیں بھوک ہے اور پیاس ہے، دیکھو بھوک اور پیاس کا پتہ کس سے چلا؟ حواسِ باطنہ سے۔ قَوْلُهُ وَالتَّجْرِيبِيَّاتُ كَقَوْلِنَا: اَلسَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ، اَلسَّقَمُونِيَا، سین پر بھی زبر ہے قاف پر بھی زبر ہے بھئی، اَلسَّقَمُونِيَا، اَلسَّقَمُونِيَا، اَلسَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ۔ صفراء کا ذکر آیا، یاد رکھو، قدیم فلاسفہ کے نزدیک، قدیم اطباء کے نزدیک یہ جو انسانی بدن ہے اس کے اندر چار مادے ہیں بنیادی، ان کو چار اخلاط کہتے ہیں، اخلاطِ اربعہ، آخر میں طاء ہے، طاء ظاء، اخلاطِ اربعہ، اور وہ ہیں خون، بلغم، سوداء، صفراء۔ خون، بلغم، سوداء، صفراء، صفراء صاد سے ہے۔ سوداء، دیکھو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے یہ کوئیِ سِہ رنگ کا مادہ ہے، اور صفراء یہ اصفر سے ہے، زرد سے، تو یہ کوئی زرد رنگ کا مادہ ہے۔ سوداء اسود سے ہے اور صفراء اصفر سے، تو یہ چار بنیادی مادے ہیں جسم میں: خون، بلغم، سوداء اور صفراء، اور ان میں جسم میں ان کی ایک خاص تناسب ہے، مناسبت ہے۔ اگر اس مناسبت میں کمی بیشی ہو تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ان میں بدبو پیدا ہو جائے، تعفن آ جائے، یہ متعفن ہو جائیں یہ اخلاط یا ان میں سے کوئی ایک، تو بھی انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حکماء اس کے ذریعے پھر علاج کرتے ہیں، اور آج کل بھی حکماء ہیں جو اس غذا کے ذریعے یا یہ جو طب یونانی کی دوائیاں ملتی ہیں، یہ اسی پر اسی طریقہ علاج پر مبنی ہیں۔ کسی کو کوئی بیماری ہوئی تو کہتے ہیں بھئی اس کے اندر صفراء زیادہ ہو گیا ہے، کسی میں کوئی بیماری ہوئی اس میں سوداء زیادہ ہو گیا ہے، دیکھو وہ تناسب تھا۔ ایک مقدار تھی وہ مقدار ایک چیز کی بھی بڑھ جائے گی تو انسان بیمار ہو جائے گا، یا ان میں سے کسی کے اندر بدبو پیدا ہو جائے تو بھی انسان بیمار ہو جائے گا۔ اور ایسا زبردست علاج کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ دوائی دیتے ہیں، چند دن میں آپ کی طبیعت بہترین ہو جائے گی بھئی۔ تو اللہ نے علاج کے عجیب طریقے اور اسباب بنا دیے ہیں بھئی، کتنے ہی طریقے ہیں علاج کے بھئی۔ ان کو اخلاطِ اربعہ کہتے ہیں بھئی، اخلاطِ اربعہ۔ تو اس میں سے یہ صفرا کا ذکر آیا۔ میں نے بتایا ان میں سے کوئی بھی جسم میں زائد ہوگا تو انسان بیمار ہو جائے گا۔ تو مثلاً کسی کے جسم میں صفرا کی زیادتی ہو گئی، صفرا بڑھ گیا تو کہتے ہیں یا وہ بدبودار ہو گیا، اب وہ اپنی جگہ سے نکلے گا، بدن کے اندر پھیلے گا اور انسان بیمار ہو جائے گا۔ تو چنانچہ اس کو پھر ایسی دوائی دیتے ہیں کہ وہ صفرا پاخانے کے راستے بدن سے نکل جائے، تو اس کے لیے ایک پودا ہے سقمونیا، کہتے ہیں وہ سقمونیا اس کو دیتے ہیں اور اس سے اس کو دست لگ جاتے ہیں اور وہ صفرا بدن سے خارج ہو جاتا ہے اور انسان صحت مند ہو جاتا ہے۔ تو یہاں دیکھیے، کہتے ہیں ”وَالتَّجْرِيبِيَّاتُ“ ”قَوْلُهُ وَالتَّجْرِيبِيَّاتُ كَقَوْلِنَا“، جیسے ہمارا یہ قول ”السَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ“، مسہل، دست آور بھئی، جس سے انسان کو دست لگ جائیں۔ ”السَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ“ ہے، دست آور ہے ”لِلصَّفْرَاءِ“، کس کے لیے؟ صفرا کے لیے۔ دیکھو اب یہ تجربوں سے پتا چلا، حکماء نے تجربے کیے ان کو اندازہ ہوا، کئی لوگوں کو سقمونیا دیا اور ہر ایک پر ایک ہی جیسا نتیجہ آیا، اس سے انہوں نے نتیجہ اخذ کر لیا کہ معلوم ہوا سقمونیا دیں گے تو صفرا خارج ہوگا بدن سے اور مریض ٹھیک ہو جائے گا۔ تو ”السَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ“، یہ سقمونیا جو ہے وہ دست آور ہے صفرا کے لیے۔ ”قَوْلُهُ وَالْحَدْسِيَّاتُ“، یہ دال ساکن ہے بھئی، ”كَقَوْلِنَا نُورُ الْقَمَرِ مُسْتَفَادٌ مِنْ نُورِ الشَّمْسِ“، جیسے ہم کہتے ہیں چاند کی روشنی جو ہے ”مُسْتَفَادٌ“، یہ حاصل ہوتی ہے ”مِنْ نُورِ الشَّمْسِ“، سورج کی روشنی سے۔ دیکھو یہ ذہانت نے ہمیں بتلایا کہ چاند کی اپنی روشنی نہیں۔ یہ سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ عام آدمی کو پتا نہیں چلے گا، لیکن جو ذہین ہوگا ذرا غور کرے گا اس کو پتا لگ جائے گا چاند کی اپنی روشنی نہیں۔ بھئی کس طرح؟ بھئی آپ خود غور کرتے ہیں کہ چاند کبھی یہ دیکھو باریک سا کمان کی شکل میں ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑھتے بڑھتے پورا ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی اپنی روشنی ہوتی یہ تو ہر وقت پورا چمکتا رہتا۔ معلوم ہوا اس کی اپنی روشنی نہیں، یہ سورج ہی کی روشنی اس پر پڑ رہی ہے اور اس کے جس حصے پر روشنی نہیں پڑتی وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا اور جس حصے پر روشنی پڑتی ہے وہ سفید اور چمکدار ہوتا ہے۔ تو یہ چاند روشنی کس سے حاصل کرتا ہے؟ سورج سے۔ اگر اس کی اپنی روشنی ہوتی، یہ پورا کا پورا گول ہر وقت ہمیں گول دکھائی دیتا، چمکدار دکھائی دیتا۔ لیکن کچھ حصے کبھی روشن ہوتے ہیں اور کبھی تاریک ہوتے ہیں، معلوم ہوا یہ اس کی اپنی روشنی نہیں۔ تو یہ کس نے بتایا؟ حدس نے، حدس نے۔ ”قَوْلُهُ وَالْمُتَوَاتِرَاتُ“، اور متواترات ”كَقَوْلِنَا مَكَّةُ مَوْجُودَةٌ“، مکہ موجود ہے۔ مکہ مکرمہ مبارک شہر موجود ہے۔ اب دیکھو، ہو سکتا ہے کوئی آپ میں سے گیا ہو اور جو نہیں گئے دیکھو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مکہ موجود ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان کو خبر دی اتنے لوگوں نے کہ ذہن فوراً تسلیم کر لیتا ہے کہ جب اتنے لوگ خبر دے رہے ہیں تو یقیناً یہ بات سچی ہے، کوئی شہر مکہ موجود ہے جہاں بیت اللہ ہے اور تمام مسلمان حج کے لیے وہاں جاتے ہیں۔ ”كَقَوْلِنَا مَكَّةُ مَوْجُودَةٌ“، جیسے ہمارا یہ قول کہ مکہ موجود ہے۔ یہ جملے پر آپ غور کر رہے ہیں؟ ”مَكَّةُ مَوْجُودَةٌ“، یاد رکھو عربی میں کچھ لفظ ہیں جن پر عرب الف لام داخل نہیں کرتے۔ اس کو الف لام کے بغیر استعمال کرتے ہیں اور انہی میں سے ایک لفظ مکہ ہے، مکہ۔ اس مکہ پر عربی میں الف لام داخل نہیں کرتے، عرب داخل نہیں کرتے۔ تو آپ نے بھی کبھی لکھنا ہو، تحریر میں کوئی جگہ آ جائے، تو وہاں کبھی مکہ کے لفظ پر الف لام داخل نہ کریں بھئی۔ ”قَوْلُهُ وَالْفِطْرِيَّاتُ“، مصنف کا قول ”وَالْفِطْرِيَّاتُ“ ”كَقَوْلِنَا“، ہمارا قول ”الأَرْبَعَةُ زَوْجٌ“، چار جو ہے جفت ہے۔ ”فَإِنَّ الْحُكْمَ فِيهِ بِوَاسِطَةٍ لاَ تَغِيبُ عَنْ ذِهْنِكَ عِنْدَ مُلاَحَظَةِ أَطْرَافِ هَذَا الْحُكْمِ وَهُوَ الانْقِسَامُ بِمُتَسَاوِيَيْنِ“. ادھر دیکھیے بھئی، بھئی دیکھیے ”الأَرْبَعَةُ زَوْجٌ“، اربعہ کا ذہن میں تصور آیا اور ساتھ زوج کا تصور آیا اور ذہن نے فوراً مان لیا کہ اربعہ جو ہے وہ جفت ہے۔ لیکن کیا بغیر دلیل کے یا دلیل کے ساتھ؟ دلیل کے ساتھ، لیکن وہ دلیل ذہن سے غائب نہیں تھی، جیسے ہی اربعہ اور زوج کا تصور ذہن میں آیا ساتھ ہی دلیل بھی آ گئی کہ زوج تو اس کو کہتے ہیں جس کے دو برابر حصے ہوتے ہیں، اور اربعہ کے بھی دو برابر حصے ہوتے ہیں، اس لیے یہ بھی کیا ہے؟ زوج ہے، ذہن نے اس پر یقین کر لیا، مان لیا۔ ”كَقَوْلِنَا“، ہمارا یہ قول ”الأَرْبَعَةُ زَوْجٌ فَإِنَّ الْحُكْمَ فِيهِ بِوَاسِطَةٍ لاَ تَغِيبُ عَنْ ذِهْنِكَ“، اس لیے کیونکہ حکم جو ہے اس کے اندر وہ ایک ایسے واسطے کے ذریعے ہے جو آپ کے ذہن سے غائب نہیں ہوتا ”عِنْدَ مُلاَحَظَةِ أَطْرَافِ هَذَا الْحُكْمِ“، جس وقت آپ اس حکم کے اطراف کو ملاحظہ کریں، یعنی موضوع اور محمول کو جب آپ ملاحظہ کر لیں تو پھر وہ واسطہ بھی ساتھ ہی آپ کے ذہن میں آ جاتا ہے اور غائب نہیں ہوتا۔ تو ایسا واسطہ ہے جو آپ کے ذہن سے غائب نہیں ہوتا۔ بھئی وہ کیا واسطہ ہے؟ کہتے ہیں ”وَهُوَ الانْقِسَامُ بِمُتَسَاوِيَيْنِ“، اور وہ تقسیم ہونا ہے دو برابر حصوں میں۔ جیسے ہی ”الأَرْبَعَةُ زَوْجٌ“ آپ کے ذہن میں آیا ساتھ ہی یہ واسطہ بھی آ گیا کہ چار دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، اس لیے یہ جفت ہے۔ ”قَوْلُهُ ثُمَّ إِنْ كَانَ“ إلى آخره، ”الْحَدُّ الأَوْسَطُ“، اب دلیلِ لمّی اور إنّی کا ذکر کرنے لگے ہیں۔ میں نے بتایا تھا کہ یہ جو حدِ اوسط ہے، یہ واسطہ ہے اصغر کے لیے اکبر کے اثبات کا۔ اصغر تو کہاں تھا؟ صغریٰ میں، اور اکبر کہاں تھا؟ کبریٰ میں، نتیجے میں دونوں مل گئے، اصغر موضوع بن گیا اور اکبر محمول بن گیا، یہ دونوں کو کس نے ملایا؟ حدِ اوسط نے، تو وہ حدِ اوسط جو ہے اس لیے اس کو واسطہ فی الاثبات اور واسطہ فی التصدیق۔ یہ دیکھو، ادھر دیکھیے، یہ جو نتیجہ آیا، نتیجہ کبھی قضیہ موجبہ ہوتا ہے اور کبھی سالبہ، اور دلیل کے ذریعے نتیجے کو ثابت کیا جاتا ہے۔ تو نتیجے کے اندر جو نسبت ہوگی وہ ایجابیہ بھی ہو سکتی ہے اور سلبیہ بھی، کبھی نسبتِ ایجابیہ کو ثابت کرنا آپ کا مقصد ہوتا ہے اور کبھی نسبتِ سلبیہ کو، اور اس نسبتِ ایجابیہ اور سلبیہ کو ثابت کرنے میں واسطہ کون بنتا ہے؟ حدِ اوسط، اس لیے اس کو واسطہ فی الاثبات اور واسطہ فی التصدیق کہتے ہیں، وہ اس اثبات کا واسطہ بنا۔ یہ جو اثبات ہے کس کے اندر؟ نتیجے کے اندر، یا یہ جو نتیجے کی جو تصدیق آئی، تصدیق حاصل ہوئی اس میں واسطہ کون ہے؟ حدِ اوسط، اس لیے اس کو واسطہ فی الاثبات بھی کہتے ہیں اور واسطہ فی التصدیق بھی کہتے ہیں، کہ اس کی وجہ سے یہ نتیجے کا اثبات یا نتیجے کی تصدیق حاصل ہوئی بھئی۔ کہتے ہیں ”قَوْلُهُ ثُمَّ إِنْ كَانَ“ إلى آخره، ”الْحَدُّ الأَوْسَطُ فِي الْبُرْهَانِ بَلْ فِي كُلِّ قِيَاسٍ لاَ بُدَّ أَنْ يَكُونَ عِلَّةً لِحُصُولِ الْعِلْمِ بِالنِّسْبَةِ الإِيجَابِيَّةِ أَوِ السَّلْبِيَّةِ الْمَطْلُوبَةِ فِي النَّتِيجَةِ“، کہتے ہیں برہان میں، بھئی بات چل رہی ہے قیاسِ برہانی کی، اور اس میں نتیجے تک کون پہنچاتی ہے؟ حدِ اوسط، تو شارح بتلا رہے ہیں کہ صرف برہان ہی نہیں، ہر قیاس کے اندر نتیجے تک کون سی چیز پہنچاتی ہے؟ حدِ اوسط، یہ معنی ہے کہ ”الْحَدُّ الأَوْسَطُ فِي الْبُرْهَانِ“، حدِ اوسط قیاسِ برہانی میں ”بَلْ فِي كُلِّ قِيَاسٍ“، بلکہ ہر قیاس میں ”لاَ بُدَّ أَنْ يَكُونَ عِلَّةً لِحُصُولِ الْعِلْمِ“، وہ ضروری ہے کہ وہ علت ہو اس علم کے حاصل ہونے کی، کون سا علم؟ ”بالنِّسْبَةِ الإِيجَابِيَّةِ أَوِ السَّلْبِيَّةِ الْمَطْلُوبَةِ فِي النَّتِيجَةِ“، وہ نسبتِ ایجابیہ یا سلبیہ جو مطلوب ہوتی ہے نتیجے میں۔ وہ نسبتِ ایجابیہ یا سلبیہ جو نتیجے میں مطلوب ہوتی ہے اس کا علم حاصل ہونے کی علت کیا چیز ہوتی ہے؟ حدِ اوسط۔ توجہ ہے؟ پھر ترجمہ سنیں۔ ”الْحَدُّ الأَوْسَطُ فِي الْبُرْهَانِ بَلْ فِي كُلِّ قِيَاسٍ لاَ بُدَّ أَنْ يَكُونَ عِلَّةً لِحُصُولِ الْعِلْمِ بِالنِّسْبَةِ الإِيجَابِيَّةِ أَوِ السَّلْبِيَّةِ الْمَطْلُوبَةِ فِي النَّتِيجَةِ“، کہ حدِ اوسط جو ہے وہ برہان میں بلکہ ہر قیاس میں ضروری ہے کہ وہ علت ہو اس نسبتِ ایجابیہ یا سلبیہ کے جو نتیجے میں مطلوب ہوتا ہے اس کے حاصل ہونے کی وہ علت ہو۔ یعنی وہ جو علم نتیجے میں حاصل ہوا ہے نسبتِ ایجابیہ یا نسبتِ سلبیہ کا جو کہ نتیجے میں مطلوب تھا اس کی علت جو ہے وہ حدِ اوسط ہوتی ہے۔ ”وَلِهَذَا يُقَالُ لَهُ الْوَاسِطَةُ فِي الإِثْبَاتِ وَالْوَاسِطَةُ فِي التَّصْدِيقِ“، اور اسی وجہ سے اس حدِ اوسط کو واسطہ فی الاثبات اور واسطہ فی التصدیق بھی کہتے ہیں۔ ”فَإِنْ كَانَ مَعَ ذَلِكَ وَاسِطَةً فِي الثُّبُوتِ أَيْضاً“، اگر اس کے ساتھ ساتھ اگر یہ واسطہ ثبوت میں بھی ہو، بھئی ادھر دیکھیے، ایک ہے حدِ اوسط دلیل کے اندر، دلیل کے اندر یہ حدِ اوسط نے ہمیں کہاں تک پہنچایا؟ نتیجے تک، یعنی یہ حدِ اوسط علت بن رہی ہے نتیجے کی، اگر واقعے میں بھی یہ اس نتیجے کی علت ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلیلِ لمّی، اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کو دلیلِ إنّی کہیں گے۔ یہ معنی ہے ”فَإِنْ كَانَ مَعَ ذَلِكَ وَاسِطَةً فِي الثُّبُوتِ أَيْضاً“، تو اس کے ساتھ اگر وہ ثبوت میں بھی واسطہ ہو، کیا معنی ثبوت میں بھی واسطہ ہو؟ ”أَيْ عِلَّةً لِتِلْكَ النِّسْبَةِ الإِيجَابِيَّةِ أَوِ السَّلْبِيَّةِ فِي الْوَاقِعِ وَفِي نَفْسِ الأَمْرِ“، یعنی وہ علت ہو اس نسبتِ ایجابیہ یا سلبیہ کی واقع اور نفس الامر میں بھی، ”كَتَعَفُّنِ الأَخْلاَطِ“، جیسے اخلاط کا بدبودار ہونا، جیسے کہ اخلاط کا، وہ چار اخلاط جو ہیں ان کا بدبودار ہونا ”فِي قَوْلِكَ“، آپ کے اس قول میں ”هَذَا مُتَعَفِّنُ الأَخْلاَطِ“، یہ شخص جو ہے اس کے اخلاط بدبودار ہیں ”وَكُلُّ مُتَعَفِّنِ الأَخْلاَطِ فَهُوَ مَحْمُومٌ“، اور ہر وہ شخص جس کے اخلاط بدبودار ہوں ”فَهُوَ مَحْمُومٌ“، تو اس کو بخار ہوتا ہے، نتیجہ آیا ”فَهَذَا مَحْمُومٌ“، تو اس کو بخار ہے۔ اب مجھے بتائیے، بخار کی وجہ سے اخلاط بدبودار ہوتے ہیں یا اخلاط کے بدبودار ہونے کی وجہ سے بخار ہوتا ہے؟ اخلاط کے بدبودار ہونے کی وجہ سے۔ تو دیکھو انہوں نے جو قیاس میں، قیاس میں ”مُتَعَفِّنُ الأَخْلاَطِ“ جو ہے وہ دونوں مقدموں میں آ رہا ہے، معلوم ہوا وہ حدِ اوسط ہے، معلوم ہوا یہ علت ہے کس چیز کی؟ ہاں، علت ہے یہ جو نتیجہ آیا ”فَهَذَا مَحْمُومٌ“، اس کی علت، کیا علت ہے؟ اخلاط کا بدبودار ہونا، یہ تو قضیے میں ہے، اگر واقعے میں بھی ایسا ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلیلِ لمّی، اور واقعے میں بھی ایسا ہی ہے تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیلِ لمّی ہوئی۔ ”فَالْبُرْهَانُ حِينَئِذٍ يُسَمَّى الْبُرْهَانَ اللِّمِّيَّ“، تو اس وقت اس برہان کو جو ہے برہانِ لمّی کہتے ہیں ”لِدَلاَلَتِهِ عَلَى مَا هُوَ لِمُّ الْحُكْمِ وَعِلَّتُهُ فِي الْوَاقِعِ“، عبارت پر نظر ہے؟ ”لِدَلاَلَتِهِ“، اس وجہ سے کہ یہ برہان دلالت کرتی ہے ”عَلَى مَا هُوَ“، اس چیز پر ”لِمُّ الْحُكْمِ“، لمّ کا معنی ہے علت، آگے عطفِ تفسیری ہے ”وَعِلَّتُهُ“، یعنی علۃ الحکم۔ یہ ”وَعِلَّتُهُ“ ہا ضمیر کس کو راجع؟ حکم کو، تو یہ کیا ہوا؟ ”مَا هُوَ لِمُّ الْحُكْمِ وَعِلَّةُ الْحُكْمِ“، تو یہ معطوف ہے اور یہ عطفِ تفسیری ہے، یہ معنی بیان کر رہا ہے کہ لمّ کا کیا معنی ہے؟ علت، علت۔ ”لِدَلاَلَتِهِ عَلَى مَا هُوَ لِمُّ الْحُكْمِ وَعِلَّتُهُ فِي الْوَاقِعِ“، اس وجہ سے کیونکہ یہ برہان دلالت کر رہا ہے اس چیز پر جو حکم کی علت ہے واقعے میں۔ ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ وَاسِطَةً فِي الثُّبُوتِ“، اور اگر وہ واسطہ، یعنی وہ جو حدِ اوسط ہے، وہ واسطہ فی الثبوت نہ ہو۔ اگر وہ واسطہ، بھئی دو سطریں پہلے بھی آیا تھا ”فَإِنْ كَانَ مَعَ ذَلِكَ وَاسِطَةً فِي الثُّبُوتِ“، اگر وہ کیا ہو؟ واسطہ فی الثبوت ہو، کیا معنی واسطہ فی الثبوت؟ آگے بتلایا تھا ”أَيْ عِلَّةً لِتِلْكَ النِّسْبَةِ الإِيجَابِيَّةِ أَوِ السَّلْبِيَّةِ فِي الْوَاقِعِ“، کہ واقعے میں بھی وہ اس نسبتِ ایجابیہ یا سلبیہ کی علت ہو۔ اب آگے کہتے ہیں ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ وَاسِطَةً فِي الثُّبُوتِ“، اور اگر وہ واسطہ فی الثبوت نہ ہو، بھئی کیا معنی واسطہ فی الثبوت نہ ہو؟ ”يَعْنِي لَمْ يَكُنْ عِلَّةً لِلنِّسْبَةِ فِي نَفْسِ الأَمْرِ“، یعنی وہ جو حدِ اوسط ہے وہ نسبت کی علت نہ ہو فی نفس الأمر میں، واقعے میں۔ نفس الأمر اور واقعے کا ایک معنی میں نے آپ کو بتلایا تھا۔ اور اگر وہ علت نہ ہو نسبت، اس نسبت کی جو نتیجے میں آئی ہے فی نفس الأمر، کس میں؟ وہاں اس قیاس میں تو علت ہے حدِ اوسط، لیکن واقعے میں وہ علت نہیں ہے، یہ معنی ہے ”يَعْنِي لَمْ يَكُنْ عِلَّةً لِلنِّسْبَةِ فِي نَفْسِ الأَمْرِ“، یعنی وہ حدِ اوسط اس نسبت کی علت نہیں ہے نفس الأمر میں، ”فَالْبُرْهَانُ حِينَئِذٍ يُسَمَّى بُرْهَانَ الإِنِّيِّ“، تو اس وقت برہان کو برہانُ الإنّ کہتے ہیں۔ ”حَيْثُ لَمْ يَدُلَّ إِلاَّ عَلَى إِنِّيَّةِ الْحُكْمِ وَتَحَقُّقِهِ فِي الذِّهْنِ دُونَ عِلِّيَّتِهِ لِلْحُكْمِ فِي الْوَاقِعِ“، یہ عبارت ذرا ٹھیک کر لیں بعض کتابوں میں عبارت غلط ہے بھئی، میری کتاب میں بھی غلط ہے، یہ اصلاح کر لیں بھئی۔ ”حَيْثُ لَمْ يَدُلَّ إِلاَّ عَلَى إِنِّيَّةِ الْحُكْمِ وَتَحَقُّقِهِ فِي الذِّهْنِ“، ”فِي الذِّهْنِ“، میری کتاب میں ”فِي الْوَاقِعِ“ ہے، واقعے کی جگہ ذہن کا لفظ ہونا چاہیے۔ آگے ”دُونَ عِلِّيَّتِهِ“، میری کتاب میں ہے، صحیح یوں ہے ”دُونَ عِلِّيَّتِهِ لِلْحُكْمِ فِي الْوَاقِعِ“، اسی طرح ہے آپ کی کتابوں میں؟ ”دُونَ عِلِّيَّتِهِ لِلْحُكْمِ فِي الْوَاقِعِ“، یہ ساری عبارت ٹھیک کریں بھئی ورنہ حل نہیں ہوگی یہ جگہ۔ ”دُونَ عِلِّيَّتِهِ لِلْحُكْمِ فِي الْوَاقِعِ“، ”دُونَ عِلَّتِهِ“ کی جگہ کیا کر دیا؟ ”دُونَ عِلِّيَّتِهِ لِلْحُكْمِ فِي الْوَاقِعِ“، اور پیچھے آیا تھا ”إِلاَّ عَلَى إِنِّيَّةِ الْحُكْمِ وَتَحَقُّقِهِ فِي الذِّهْنِ“، ”فِي الذِّهْنِ“، کر لی اصلاح؟ اچھا، تو اس کو برہانِ إنّی کہتے ہیں، بھئی کیوں؟ کہتے ہیں ”حَيْثُ لَمْ يَدُلَّ“، کیونکہ اس نے دلالت نہیں کی ”إِلاَّ عَلَى إِنِّيَّةِ الْحُكْمِ“، مگر حکم کی إنّیت پر، بھئی کیا معنی حکم کی إنّیت؟ آگے عطفِ تفسیری ہے ”وَتَحَقُّقِهِ فِي الذِّهْنِ“، یعنی تحقق الحکم۔ حکم کی إنّیت اور حکم کے تحقق پر، إنّیت کا معنی تحقق ہے، میں نے بتلایا تحقق کا کیا معنی؟ ثبوت اور وجود۔ ثبوت اور، دیکھو مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں اس وقت دن ہے اور جب دن ہوتا ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، تو نتیجے میں علت آ گئی اور حدِ اوسط کیا تھا؟ معلول تھا، معلول کیا تھا؟ دن۔ چونکہ دن موجود ہے اس سے ثابت ہوا علت بھی موجود ہے، تو اس حدِ اوسط نے ذہن کے اندر ایک چیز کے ثبوت پر دلالت کی کہ سورج کیوں نکلا ہوا ہے؟ کیونکہ دن ہے، واقعے میں یہ اس کی علت نہیں ہے، واقعے میں اس کا برعکس ہے، سورج کا نکلنا علت ہے کس کے لیے؟ دن کے لیے۔ تو دلیلِ إنّی کو إنّی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ، عبارت پہ نظر رکھو، کیونکہ یہ دلالت کرتا ہے ”عَلَى إِنِّيَّةِ الْحُكْمِ“، کس چیز پر؟ حکم کی إنّیت، کیا معنی؟ ”وَتَحَقُّقِ الْحُكْمِ فِي الذِّهْنِ“، ذہن میں حکم کے ثبوت اور وجود اور تحقق پر، ذہن میں حکم ثابت ہے اور ذہن میں حکم موجود ہے، صرف اس پہ دلالت کرتا ہے، واقعے میں، واقعے میں اس کے ثبوت پر دلالت، واقعے میں سورج اس لیے نہیں نکلا ہوا کیونکہ دن ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے بھئی۔ تو برہانِ لمّی کو لمّی کیوں کہتے ہیں؟ دیکھو مختصر لفظوں میں وہ عبارت پہ نظر رکھیں ”لِدَلاَلَتِهِ عَلَى مَا هُوَ لِمُّ الْحُكْمِ وَعِلَّتُهُ فِي الْوَاقِعِ“، یہ یاد رکھ لینا، اور إنّی کو، دلیلِ إنّی کو دلیلِ إنّی کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں ”يُسَمَّى بُرْهَانَ الإِنِّيِّ حَيْثُ لَمْ يَدُلَّ إِلاَّ عَلَى إِنِّيَّةِ الْحُكْمِ وَتَحَقُّقِهِ فِي الذِّهْنِ دُونَ عِلِّيَّتِهِ لِلْحُكْمِ فِي الْوَاقِعِ“. اب ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں ”فَالْبُرْهَانُ حِينَئِذٍ يُسَمَّى بُرْهَانَ الإِنِّيِّ“، تو اس وقت برہان کو جو ہے برہانُ الإنّ، برہانِ إنّی کہتے ہیں ”حَيْثُ لَمْ يَدُلَّ إِلاَّ عَلَى إِنِّيَّةِ الْحُكْمِ وَتَحَقُّقِهِ فِي الذِّهْنِ“، کیونکہ یہ دلالت نہیں کرتی مگر حکم کی إنّیت اور اس کے تحقق فی الذهن پر، صرف اس پر دلالت کرتی ہے ”دُونَ عِلِّيَّتِهِ لِلْحُكْمِ فِي الْوَاقِعِ“، واقعے میں اس حکم کے لیے علت ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔ ”سَوَاءٌ كَانَ الْوَاسِطَةُ حِينَئِذٍ مَعْلُولاً لِلْحُكْمِ كَالْحُمَّى“، برابر ہے کہ وہ واسطہ، اچھا بھئی، اب یاد رکھو ادھر دیکھیے، دلیلِ لمّی میں علت کے ذریعے استدلال ہوگا کس پر؟ معلول پر، اور دلیلِ إنّی میں معلول کے ذریعے استدلال ہوگا کس پر؟ علت پر، علت پر، یہ آسان لفظوں میں ہے۔ دلیلِ إنّی میں تھوڑی تفصیل یاد رکھنا۔ دلیلِ إنّی میں یا تو معلول کے ذریعے استدلال ہوگا علت پر، توجہ ہے؟ یا ایک معلول کے ذریعے دوسرے معلول پر استدلال ہوگا جب دونوں ایک ہی علت کے معلول ہوں۔ توجہ ہے؟ دلیلِ لمّی میں علت کے ذریعے استدلال ہوگا کس پر؟ معلول پر، جبکہ دلیلِ إنّی میں معلول کے ذریعے علت ہی پر استدلال نہیں ہوتا بلکہ معلول کے ذریعے علت پر بھی استدلال ہو سکتا ہے اور ایک معلول کے ذریعے دوسرے معلول پر بھی استدلال ہو سکتا ہے۔ ایک مثال تو گزر گئی، اس وقت دن موجود ہے اور جب دن موجود ہوتا ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، تو معلول کے ذریعے استدلال ہوا کس پر؟ علت پر، یہ، یہ بھی دلیلِ إنّی ہے۔ اسی طرح ایک اور صورت ہے کہ ایک ہی علت کے دو معلول ہیں، تو جب ایک معلول موجود ہے تو اس کا کیا مطلب؟ دوسرا بھی ہوگا کیونکہ اس معلول کا وجود تبھی پایا جاتا ہے جب علت ہوتی ہے، اور جب علت کے ہوتے ہوئے یہ معلول ہے تو اس علت کا ایک اور معلول بھی تو ہے، توجہ ہے؟ جب ایک علت کے دو معلول ہیں تو ظاہر سی بات ہے جب ایک معلول موجود ہے تو اس کا مطلب ہے دوسرا بھی موجود ہوگا، کیونکہ یہ معلول کیوں موجود پہلا؟ کیونکہ علت ہے، اور اس علت کے ساتھ صرف یہی معلول ہے یا ایک اور بھی ہے؟ ایک اور، تو جب یہ معلول موجود ہے معلوم ہوا علت موجود ہے، اور جب علت موجود ہے معلوم ہوا دوسرا معلول بھی موجود ہوگا، تو ایک معلول سے دوسرے معلول پر استدلال کرنا جبکہ یہ دونوں معلول ایک ہی علت کے ہوں بھئی۔ دیکھو ایک ہے سورج کا نکلنا اور ایک ہے دن کا ہونا اور ایک ہے اس جہان کا روشن ہونا۔ سورج نکلے گا تو دن بھی ہوگا اور جہان روشن بھی ہوگا، یہ دونوں معلول ہیں سورج نکلنے کے، کون کون سے دو معلول؟ دن کا ہونا اور جہان کا یا یوں کہو دنیا کا روشن ہونا، دنیا کا روشن ہونا۔ اب میں آپ سے، آپ کے سامنے قیاس ذکر کرتا ہوں، اس وقت دن نکلا ہوا ہے، اس وقت دن ہے اور جب دن ہوتا ہے تو دنیا روشن ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دنیا روشن ہے۔ پھر سنو، اس وقت دن ہے اور جب دن ہوتا ہے تو دنیا روشن ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دنیا روشن ہے، تو ایک معلول کے ذریعے دوسرے معلول پر استدلال کیا گیا، تو یہ کیا ہے؟ دلیلِ إنّی ہے، یہ بھی دلیلِ إنّی ہے۔ اب وہی دو صورتیں ذکر کریں گے، اور پھر ان میں سے یاد رکھنا، یہ جو دو قسمیں ہیں، دو قسمیں دلیلِ إنّی کی، کون سی دو قسمیں؟ معلول کے ذریعے علت پہ استدلال ہوگا یا ایک معلول کے ذریعے دوسرے معلول پر استدلال ہوگا، ان میں سے جو پہلی قسم ہے معلول کے ذریعے علت پر استدلال، اس کو دلیل کہتے ہیں۔ دلیلِ إنّی کی دو قسموں میں سے پہلی قسم جس میں معلول کے ذریعے استدلال ہو کس پر؟ علت پر، اس کو دلیل کہتے ہیں، جبکہ ایک معلول کے ذریعے دوسرے معلول پر استدلال ہو اس کا کوئی خاص نام نہیں ہے بھئی، البتہ اس میں دو علم حاصل ہوتے ہیں، ایک معلول سے دوسرے معلول کا بھی پتا چل جاتا ہے کہ جب یہ معلول موجود تو دوسرا معلول بھی موجود، اور نیز یہ بھی پتا چل جاتا ہے معلوم ہوا ان کی علت بھی موجود ہے تبھی یہ دونوں معلول ہیں، اگر وہ نہ ہوتی تو یہ دونوں بھی نہ ہوتے۔ جیسے میں نے کہا، اس وقت دن ہے اور جب دن ہوتا ہے تو دنیا روشن ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ اس وقت دنیا روشن ہے، دیکھو دنیا کے روشن ہونے کا بھی پتا چل گیا اور سورج کے نکلنے کا بھی پتا چل گیا اگرچہ اس کا ذکر کہیں نہیں، کیوں؟ کیونکہ سورج کے نکلنے کی وجہ سے ہی تو یہ دونوں چیزیں تھیں، تو جب یہ دونوں ہیں تو ظاہر سی بات ہے سورج بھی ہے۔ دیکھیے آگے ”سَوَاءٌ كَانَ الْوَاسِطَةُ حِينَئِذٍ مَعْلُولاً لِلْحُكْمِ“، برابر ہے کہ وہ واسطہ اس وقت معلول ہو حکم کے لیے ”كَالْحُمَّى“، جیسے کہ بخار ہے ”فِي قَوْلِنَا“، ہمارے اس قول میں ”زَيْدٌ مَحْمُومٌ“، زید کو بخار ہے ”وَكُلُّ مَحْمُومٍ مُتَعَفِّنُ الأَخْلاَطِ“، اور ہر بخار والا جو ہے وہ متعفن الاخلاط ہوتا ہے، نتیجہ نکلا ”فَزَيْدٌ مُتَعَفِّنُ الأَخْلاَطِ“، تو زید بھی متعفن الاخلاط ہے۔ ادھر دیکھیے، میں نے کہا زید کو بخار ہے اور جس شخص کو بخار ہوتا ہے اس کے اخلاط بدبودار ہوتے ہیں، نتیجہ کیا نکلا؟ زید کے اخلاط بھی بدبودار ہیں۔ اب مجھے بتائیے، اخلاط بدبودار ہونے سے بخار ہوتا ہے یا بخار سے اخلاط بدبودار ہوتے ہیں؟ اخلاط کی وجہ سے، لیکن قیاس کے اندر ہم نے بخار کے ذریعے استدلال کیا کس پر؟ اخلاط کے بدبودار ہونے پر، تو یہ معلول کے ذریعے استدلال کیا کس پر؟ علت پر، تو یہ دلیلِ إنّی ہے۔ ”وَقَدْ يُخَصُّ هَذَا بِاسْمِ الدَّلِيلِ“، اور کبھی اس کو خاص کیا جاتا ہے دلیل کے نام کے ساتھ، کبھی اس کو خاص اس قسم کا نام، کون سی قسم؟ جس میں معلول کے ذریعے استدلال ہو کس پر؟ علت پر، دلیلِ إنّی کی یہ والی قسم، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل۔ ”أَوْ لَمْ يَكُنْ مَعْلُولاً“، دیکھو پیچھے آیا تھا ”سَوَاءٌ كَانَتِ الْوَاسِطَةُ حِينَئِذٍ مَعْلُولاً لِلْحُكْمِ“، برابر ہے کہ وہ واسطہ معلول ہو حکم کے لیے، آگے آیا ”أَوْ لَمْ يَكُنْ مَعْلُولاً لِلْحُكْمِ“، یا وہ واسطہ حکم کے لیے معلول نہ ہو ”كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ عِلَّةً لَهُ“، جیسے کہ وہ اس کے لیے علت نہیں ہے ”بَلْ يَكُونَانِ مَعْلُولَيْنِ لِثَالِثٍ“، بلکہ یہ دونوں معلول ہیں ایک تیسری چیز کے، یعنی علت کے۔ یہ دونوں کیا ہیں؟ مجھے بتائیے، ادھر دیکھیے، میں نے کہا اس وقت دن ہے اور جب دن ہوتا ہے تو دنیا روشن ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دنیا روشن ہے۔ مجھے بتائیے، کیا یہ دنیا دن ہونے کی وجہ سے روشن ہوتی ہے یا سورج کی وجہ سے؟ سورج کی وجہ سے، تو یہاں پر جو قیاس بنایا اس میں ایک معلول کو دلیل بنایا کس کے لیے؟ دوسرے معلول کے لیے، تو یہ جو دنیا پر روشن ہونے کا حکم آپ نے لگایا، نتیجے میں جو حکم آیا کہ اس وقت دنیا روشن، اس حکم کی علت، اس حکم کی علت دن کا ہونا نہیں ہے، یہ یعنی یہ معلول نہیں ہے اس کا، نہ یہ اس کا معلول ہے نہ یہ اس کی علت ہے۔ نئی توجہ؟ دن ہے، اس وقت دن ہے، اور جب دن ہوتا ہے تو دنیا روشن ہوتی ہے، نتیجہ کیا آیا؟ اس وقت دنیا روشن ہے۔ اب جو حدِ اوسط ہے، حدِ اوسط کیا؟ دن ہونا، یہ دن ہونا جو آگے نتیجے میں حکم آیا یہ دن ہونا نہ تو اس کا معلول ہے نہ اس کی علت ہے۔ یہ نہ اس کے لیے معلول نہ علت، توجہ ہے؟ قیاس ذہن میں ہے؟ کیا قیاس ہے؟ اس وقت دن ہے اور جب دن ہوتا ہے تو دنیا روشن ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دنیا روشن ہے، تو دن ہونا حدِ اوسط ہے، قیاس میں ہے علت اور نتیجہ کیا آیا؟ دنیا روشن، تو ایک ہے دن کا ہونا اور ایک ہے دنیا کا روشن ہونا، یہ دونوں، ان یہ جو دن کا ہونا ہے نہ تو اس نتیجے کے لیے نہ یہ اس کے لیے معلول ہے اور نہ علت ہے۔ یہ نہ اس کے لیے معلول ہے نہ علت ہے بلکہ یہ دونوں معلول ہیں ایک تیسری چیز کے، یہ معنی ہے ”أَوْ لَمْ يَكُنْ مَعْلُولاً لِلْحُكْمِ“، اور یا وہ معلول نہیں ہوگا اس حکم کے لیے ”كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ عِلَّةً لَهُ“، جیسے کہ وہ اس کے لیے علت بھی نہیں ہے ”بَلْ يَكُونَانِ مَعْلُولَيْنِ لِثَالِثٍ“، بلکہ وہ دونوں معلول ہیں ایک تیسری چیز کے ”وَهَذَا لَمْ يَخْتَصَّ بِاسْمٍ“، اور اس کا کوئی خاص نام نہیں ہے ”وَهَذَا لَمْ يَخْتَصَّ بِاسْمٍ“، اور یہ مخصوص نہیں ہے کسی نام کے ساتھ ”كَمَا يُقَالُ“، جیسے کہا جائے ”هَذِهِ الْحُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً وَكُلُّ حُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً مُحْرِقَةٌ فَهَذِهِ الْحُمَّى مُحْرِقَةٌ“. حمّٰی، بخار، ”تَشْتَدُّ“، اشتدّ یشتدّ کے معنی ہیں تیز ہونا، تیز ہونا، سخت ہونا۔ غِبّاً، غبٌّ کا معنی ہے ایک دن چھوڑ کر ایک دن، جیسے ”زُرْ غِبّاً تَزْدَدْ حُبّاً“، ایک دن چھوڑ کر ایک دن زیارت کیا کرو تو محبت بڑھے گی، اور اگر روز ہی کسی سے ملتے رہو گے تو محبت ختم ہو جائے گی بھئی۔ تو دیکھو قیاس سنو، کہتے ہیں ”الْحُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً“، یہ والا جو بخار ہے، الف لام کے ذریعے اشارہ ہے خاص بخار کی طرف، یہ بخار ”تَشْتَدُّ غِبّاً“، یہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن بعد تیز ہو جاتا ہے ”وَكُلُّ حُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً مُحْرِقَةٌ“، اور ہر وہ بخار جو ایک دن چھوڑ کر تیز ہو جاتا ہے ”مُحْرِقَةٌ“، وہ جلانے والا ہے۔ محرقہ کا معنی ہے جلانا، محرقہ جلانے والا، یا تو اس کا معنی کر لیں جلانے والا ہے، یعنی ختم کر دینے والا ہے۔ وہ بخار جو ایک دن کم ہو اگلے دن پھر تیز ہو جائے، پھر کم ہو پھر ایک دن بعد تیز ہو جائے، کہتے ہیں یہ بخار جلانے والا ہے، یعنی فنا کر دینے والا ہے۔ یا یوں کہو آسان لفظوں میں، خطرناک ہے، کیا کہو؟ خطرناک ہے۔ فنا کر دے، محرق کا معنی جلانے والا بھی، محرق کا معنی فنا کر دینے والا بھی، محرق کا معنی تکلیف دینے والا بھی، توجہ ہے؟ کیا کیا معنی؟ جلانے والا، اور فنا یعنی ختم کر دینے والا، اور تکلیف دینے والا، تو جو معنی آپ کو مناسب لگے ”وَكُلُّ حُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً“، اور ہر وہ بخار جو ایک دن چھوڑ کر تیز ہو جاتا ہے ”مُحْرِقَةٌ“، وہ فنا کر دینے والا ہے، ختم کر دینے والا ہے، یعنی یوں کہو خطرناک ہے۔ انسان کو ختم کر دیتا ہے۔ یا ”مُحْرِقَةٌ“، معنی کر لیں تکلیف دینے والا ہے، یعنی تکلیف تو ہر بخار میں ہے، لیکن وہ بخار جو ایک دن کچھ بہتر ہو اور اگلے دن پھر تیز ہو جائے یہ بہت زیادہ تکلیف دینے والا ہے۔ کہتے ہیں پھر سنیے قیاس، ”هَذِهِ الْحُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً“، یہ بخار جو ہے ایک دن بعد تیز ہو جاتا ہے ”هَذِهِ الْحُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً“، یہ بخار جو ہے ہر ایک دن کے بعد تیز ہو جاتا ہے، یا یوں کہو یہ بخار جو ہے ہر دوسرے دن تیز ہو جاتا ہے ”وَكُلُّ حُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً مُحْرِقَةٌ“، اور ہر ایسا بخار جو ہر دوسرے دن تیز ہو جائے وہ، وہ فنا کر دینے والا ہے، وہ انسان کو ختم کر دینے والا ہے ”فَهَذِهِ الْحُمَّى مُحْرِقَةٌ“، تو یہ والا بخار جو ہے یہ فنا کر دینے والا ہے۔ اب قیاس پر نظر ہے بھئی؟ قیاس کیا تھا؟ ”هَذِهِ الْحُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً وَكُلُّ حُمَّى تَشْتَدُّ غِبّاً مُحْرِقَةٌ“، حدِ اوسط کیا ہے؟ ایک دن کے بعد بخار کا تیز ہونا، اس کو علت بنایا قیاس کے اندر، اس کو حدِ اوسط بنایا، یعنی علت بنایا کس چیز کے لیے؟ احراق کے لیے، کس کے لیے؟ احراق کے کہ یہ خطرناک ہے، فنا کر دینے والا ہے۔ تو اشتدادِ غِبّاً جو ہے اس کو علت بنایا قیاس کے اندر کس کے لیے؟ احراق کے لیے، حالانکہ اشتدادِ غِبّاً جو ہے نہ وہ احراق کے لیے علت ہے نہ اس کا معلول ہے بلکہ یہ دونوں معلول ہیں ایک تیسری چیز یعنی علت کے اور وہ ہے اخلاط کا بدبودار ہونا۔ اخلاط کے بدبودار ہونے کی وجہ سے کیا ہوا؟ یہ بخار بھی اس میں اشتدادِ غِبّاً ہے، یعنی ایک دن چھوڑ کر اس میں پھر تیزی آتی ہے اور نیز یہ فنا کر دینے والا بھی ہے، خطرناک بھی ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَالاِشْتِدَادُ غِبّاً لَيْسَ مَعْلُولاً لِلإِحْرَاقِ وَلاَ الْعَكْسُ“، تو اشتدادِ غِبّاً وہ معلول نہیں ہے احراق کا ”وَلاَ الْعَكْسُ“، اور نہ اس کا برعکس ہے، یعنی احراق بھی علت نہیں ہے اشتدادِ غِبّاً کا ”بَلْ كِلاَهُمَا مَعْلُولاَنِ لِلصَّفْرَاءِ الْمُتَعَفِّنَةِ الْخَارِجَةِ عَنِ الْعُرُوقِ“، عروق جمع ہے عرق کی، عرق رگ کو کہتے ہیں، بدن میں یہ جو رگیں ہوتی ہیں جن میں خون چلتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”بَلْ كِلاَهُمَا“، بلکہ یہ دونوں ”مَعْلُولاَنِ“، یہ دونوں معلول ہیں ”لِلصَّفْرَاءِ الْمُتَعَفِّنَةِ“، اس بدبودار صفرا کے ”الْخَارِجَةِ عَنِ الْعُرُوقِ“، جو رگوں سے نکل آئی ہو، صفرا کی زیادتی ہو گئی بدبودار ہو گئی، رگوں سے نکل آئی، بدن میں پھیل گئی تو اس کی وجہ سے انسان کیا ہو جاتا ہے؟ اس کو اس طرح کا بخار ہو جاتا ہے۔ ”قَوْلُهُ مِنَ الْمَشْهُورَاتِ هِيَ الْقَضَايَا الَّتِي يُطَابِقُ فِيهَا آرَاءُ الْكُلِّ“، مشہورات کس کو کہتے ہیں؟ میں نے بتایا ہے، یا تو اس میں تمام لوگوں کی رائے وہی ہوتی ہے یا بعض لوگوں کی، تمام لوگوں میں مشہور یعنی ساری دنیا کے لوگوں میں ایک بات مشہور ہوتی ہے یا بعض خاص علاقے والوں میں مشہور ہوتی ہے، یعنی اس علاقے والوں کی وہ رائے ہوتی ہے سب کی رائے نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں ”هِيَ الْقَضَايَا الَّتِي يُطَابِقُ فِيهَا آرَاءُ الْكُلِّ“، یہ وہ قضیے ہیں جس میں تمام لوگوں کی رائے متفق ہوتی ہے ”كَحُسْنِ الإِحْسَانِ وَقُبْحِ الْعُدْوَانِ“، جیسے احسان کا اچھا ہونا ”وَقُبْحِ الْعُدْوَانِ“، اور ظلم کا قبیح ہونا، برا ہونا، عدوان کا معنی ظلم اور قبحٌ کا معنی برا ہونا ”كَحُسْنِ الإِحْسَانِ وَقُبْحِ الْعُدْوَانِ“، جیسے احسان یعنی نیکی کا اچھا ہونا ”وَقُبْحِ الْعُدْوَانِ“، اور ظلم کا برا ہونا، اس کو تمام لوگ اچھا سمجھتے ہیں پوری دنیا میں ”أَوْ آرَاءُ طَائِفَةٍ“، یا اس میں مطابق ہوتی ہے ایک خاص گروہ کی رائے، یعنی ان کے ہاں وہ بات مشہور ہوتی ہے ”كَقُبْحِ ذَبْحِ الْحَيَوَانَاتِ عِنْدَ أَهْلِ الْهِنْدِ“، جیسے کہ حیوانات کو ذبح کرنا قبیح ہے، ناپسندیدہ ہے ”عِنْدَ أَهْلِ الْهِنْدِ“، ہند میں رہنے والوں کے نزدیک، یعنی ہندوستان میں رہنے والے مراد مسلمانوں کے علاوہ، باقی مذاہب والے جو ہیں ہندوستان میں رہتے ہیں یا ہندو وغیرہ ان کے نزدیک حیوانات کو ذبح کرنا قبیح ہے کہ آپ ان پر ظلم کر رہے ہیں ان کو آپ ذبح کر رہے ہیں۔ یاد رکھنا ایک ہے ذَبْحٌ، ایک ہے ذِبْحٌ، ذَبْحٌ کا معنی ہے ذبح کرنا، یہ مصدر ہے، تو یہاں ذَبْحٌ آپ نے پڑھنا ہے ”كَقُبْحِ ذَبْحِ الْحَيَوَانَاتِ“، اور ایک ہے ذِبْحٌ، ذِبْحٌ کا معنی وہ حیوان جس کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ حیوان جس کو ذبح کیا جائے، جس کو ذبح کے لیے تیار کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذِبْحٌ، قرآن میں کس طرح اللہ فرماتے ہیں؟ ”وَفَدَيْنَاهُ“، ”وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ“، دیکھو ”بِذِبْحٍ عَظِيمٍ“، وہ حیوان مراد ہے بھئی۔ ”قَوْلُهُ وَالْمُسَلَّمَاتِ هِيَ الْقَضَايَا الَّتِي سُلِّمَتْ مِنَ الْخَصْمِ فِي الْمُنَاظَرَةِ“، یہ وہ قضیے ہیں جو تسلیم شدہ ہوں فریقِ مخالف کی طرف سے مناظرے میں ”أَوْ بُرْهِنَ عَلَيْهَا فِي عِلْمٍ وَأُخِذَتْ فِي عِلْمٍ آخَرَ عَلَى سَبِيلِ التَّسْلِيمِ“، مسلمات کے بارے میں میں نے آپ کو بتلایا تھا وہ قضیے جو فریقِ مخالف کے نزدیک تسلیم شدہ ہیں، آپ جس سے بحث کر رہے ہیں اس کے نزدیک تسلیم شدہ ہے، وہ ان کو تسلیم کرتا ہے خواہ سچے ہوں خواہ جھوٹے، جب وہ تسلیم کرتا ہے آپ اس کے ذریعے صغریٰ کبریٰ بنائیں گے اور اپنے دعوے کو ثابت کر دیں گے۔ تو کبھی وہ فریقِ مخالف کے نزدیک تسلیم شدہ ہوتے ہیں مسلمات، اور کبھی مسلمات ایسے قضیے جو کسی دوسرے علم میں ثابت شدہ ہیں لیکن یہاں پھر ان کو دوبارہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، اٹھا کر اسی طرح استعمال کر لیا کہ یہ فلاں علم میں کیا ہیں؟ ثابت شدہ ہیں، تو یہاں ان کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، یہ اس علم میں ثابت شدہ ہیں لہذا یہاں پر بھی آپ ان کو استعمال کر لیتے ہیں، یہ اگرچہ دوسرا علم ہے جہاں استعمال کر رہے ہیں لیکن کہاں سے اخذ کیے؟ اس علم میں وہ ثابت شدہ ہیں تو مسلمات ہیں، کیا ہیں؟ یہ معنی ہیں کہ ”أَوْ بُرْهِنَ عَلَيْهَا فِي عِلْمٍ“، یا یہ کہ ان پر دلیل دی گئی ہے، یعنی ان کو ثابت کیا گیا ہے ”فِي عِلْمٍ“، کسی دوسرے علم میں ”وَأُخِذَتْ فِي عِلْمٍ آخَرَ“، اور ان کو لیا گیا کسی دوسرے علم میں ”عَلَى سَبِيلِ التَّسْلِيمِ“، تسلیم کے طریقے پر، یعنی ان کو تسلیم کرتے ہوئے۔ ”قَوْلُهُ مِنَ الْمَقْبُولاَتِ هِيَ الْقَضَايَا الَّتِي تُؤْخَذُ مِمَّنْ يُعْتَقَدُ فِيهِ كَالأَوْلِيَاءِ وَالْحُكَمَاءِ“، مقبولات بھئی، یہ وہ قضیے ہیں جن کو لے لیا جاتا ہے ”مِمَّنْ يُعْتَقَدُ فِيهِ“، ان لوگوں سے جن کے بارے میں اعتقاد رکھا جاتا ہے، یعنی اچھا اعتقاد رکھا جاتا ہے ”كَالأَوْلِيَاءِ وَالْحُكَمَاءِ“، جیسے اولیاء اور حکماء، وہ اولیاء کوئی بات بتاتے ہیں لوگ اس کو مان لیتے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں ان کی اچھی رائے ہوتی ہے، یا حکماء عقلمند لوگ کوئی بات بتاتے ہیں تو لوگ اس کو مان لیتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی رائے ان کے بارے میں اچھی ہوتی ہے۔ ”قَوْلُهُ وَالْمَظْنُونَاتِ هِيَ الْقَضَايَا الَّتِي يَحْكُمُ بِهَا الْعَقْلُ“، ”يَحْكُمُ بِهَا“ ہونا چاہیے بھئی، ”بِهَا“ ہے آپ کی کتابوں میں؟ ”يَحْكُمُ بِهَا“ ہونا چاہیے بھئی، یہ وہ قضیے ہیں ”الَّتِي يَحْكُمُ بِهَا الْعَقْلُ“، کہ جن کا عقل جن میں حکم لگاتی ہے، عقل جن کا یعنی فیصلہ کرتی ہے ان کو مان لیتی ہے ”حُكْماً رَاجِحاً غَيْرَ جَازِمٍ“، ایسا حکم جو راجح ہوتا ہے ”غَيْرَ جَازِمٍ“، اور پختہ نہیں ہوتا۔ بھئی ظن کی بات ہو رہی ہے، ظن کس کو کہتے ہیں؟ جس کا انسان کو راجح یعنی زیادہ خیال ہوتا ہے، جو مرجوح ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم، جس جانب کا زیادہ خیال ہو اس کو ظن، جس جانب کا کم خیال ہو اس کو وہم، مثلاً مجھے کسی نے کہا زید عالم ہے، میرے ذہن میں 90 فیصد خیال ہے کہ زید عالم ہے لیکن 10-15 فیصد یہ خیال بھی آ جاتا ہے کہ شاید وہ عالم نہ ہو، تو جس چیز کا زیادہ خیال اس کو کہتے ہیں ظنون، اور یہ تصدیق کی قسم ہے، اور وہ جو تھوڑا سا 10-15 فیصد خیال ہے اس کو وہم کہتے ہیں اور وہ تصور کی قسم ہے۔ تو کہتے ہیں مظنونات، وہی جن میں ظن ہوتا ہے، اب بیان کر رہے ہیں ”هِيَ الْقَضَايَا الَّتِي يَحْكُمُ بِهَا الْعَقْلُ“، یہ وہ قضیے ہیں کہ عقل جن کا حکم لگاتی ہے ”حُكْماً رَاجِحاً غَيْرَ جَازِمٍ“، ایسا حکم جو راجح ہوتا ہے ”غَيْرَ جَازِمٍ“، جازم نہیں ہوتا، یعنی اس میں جانبِ مخالف کا خیال ہوتا ہے۔ جازم تو وہ تھا نا جس میں جانبِ مخالف کا خیال نہ ہو، لیکن یہ غیر جازم ہے۔ ہوتا ہے، یعنی اس میں جانبِ مخالف کا خیال ہوتا ہے۔ ومقابَلته بالمقبولاتِ، اس پر ایک اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ آپ نے ہمیں بتایا اے کہ قیاسِ خطابی میں مقبولات استعمال ہوتے ہیں اور مظنونات، مقبولات بھی ظن کا فائدہ دیتے ہیں اور مظنونات بھی ظن کا۔ تو یہ مقبولات تو مظنونات کے اندر داخل ہو گئے، پھر علیحدہ ذکر کرنے کا کیا مطلب؟ تو بتلایا کہ یہاں جو مظنونات اور مقبولات چونکہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں، لہٰذا یہاں مظنونات سے باقی سارے ظن اس میں داخل ہیں سوائے کس کے؟ مقبولات کے، وہ اس میں نہیں داخل۔ کیونکہ وہ اس کے مقابلے میں ہے۔ یہ اسی طرح ہے، جیسے انسان ویسے تو حیوان کے اندر داخل ہے۔ لیکن اگر ایک انسان کھڑا ہے اور ایک طرف ایک جانور ہے، میں آپ سے کہتا ہوں: هذَا إِنسَانٌ وَهذَا حَیَوَانٌ۔ تو اب آپ یہ نہ کہیں گے بھئی، بھئی حیوان کے اندر تو انسان بھی داخل ہے۔ یہاں حیوان کس کے مقابلے میں ہے؟ انسان، معلوم ہوا انسان کے علاوہ باقی حیوان اس کے اندر داخل ہیں، یہاں داخل نہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، یہ مظنونات کے اندر یہاں مقبولات داخل نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ومقابَلته بالمقبولاتِ، تو اس کا مقابلہ کرنا مقبولات کے ساتھ، من مقابَلةِ العامِّ بالخاصِّ، یہ عام کا مقابلہ خاص کے ساتھ، یہ اس قبیل سے ہے، فالمُرادُ بهِ ما سِوَی الخَاصِّ، تو اس سے مراد جو ہیں، خاص کے علاوہ ہیں۔ خاص کے علاوہ، یعنی مقبولات کے علاوہ باقی مظنونات اس سے مراد ہیں۔ قوله من المخيلاتِ، هي القَضَایَا التِي لَا یُذْعِنُ بِهَا النَّفْسُ، یہ وہ قضایا ہیں جن پر نفس اذعان نہیں کرتا۔ میں نے ابھی بتایا، اذعان کا کیا معنی؟ مان لینا، نفس کیا کر لے ایک چیز کو؟ مان لے کہ ایسا ہے۔ تو یہ جو مخیلات ہوتے ہیں، ان کو نفس مانتا نہیں ہے، ویسے ایک خیالی بات آئی، کوئی خوشی یا غم وغیرہ کی کیفیت انسان پر آ جاتی ہے، لیکن نفس ان کو مانتا نہیں، جانتا ہے یہ سب کیا ہیں؟ خیالی شاعروں کی باتیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: هي القَضَایَا التِي لَا یُذْعِنُ بِهَا النَّفْسُ، یہ وہ قضایا ہیں جن پر نفس اذعان نہیں کرتا، یعنی ان کو مانتا نہیں، ان کا اعتقاد نہیں کرتا، ولکِنْ تَتَأَثَّرُ مِنْهَا تَرْغِیْبًا أَوْ تَرْهِیْبًا، لیکن ان سے اثر قبول کرتا ہے ترغیب یا ترھیب کا۔ ترغیب کا معنی رغبت، ترھیب کا معنی ڈرانا۔ یعنی کسی چیز کو شاعر نے اچھا بنا کر پیش کر دیا، تو انسان کی اس میں رغبت ہو جاتی ہے، یہ تو بڑی اچھی چیز ہے۔ اور کبھی کسی چیز کو بڑا ہی خطرناک یا خوفناک بنا کر پیش کیا، تو یہ کیا کرتا ہے؟ ترھیب، انسان کو ڈرا دیتا ہے، انسان کو بری لگتی ہے وہ چیز۔ تو لیکن اس سے نفس جو ہے، اثر قبول کرتا ہے ترغیب یا ترھیب کا، وإذَا اقْتَرَنَ بِهَا سَجْعٌ أَوْ وَزْنٌ، اور جب اس کے ساتھ سجع یا وزن مل جائے۔ یاد رکھیے وزن، میں نے بتایا اشعار کا ایک خاص وزن ہوتا ہے۔ اور اشعار، آخری لفظ جو ہے، شعر کا آخری لفظ جو ہے، اس کا وزن بھی خاص ہوتا ہے اور وہ خاص ایک جیسے حروف پر ختم ہوتے ہیں اشعار۔ مثلاً اگر قصیدے کے پہلے شعر کے آخر میں لام ہے، تو پورے قصیدے میں آپ دیکھیں گے، ہر شعر کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ ایک جیسا وزن ہوگا اور آخر میں لام آئے گا۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ قصیدہِ لامیہ، یا آخر میں دال ہے تو کیا کہیں گے؟ قصیدہِ دالیہ، اور اگر آخر میں سین ہے تو قصیدہِ سینیہ وغیرہ۔ تو یہ آخر میں، ہر شعر کے آخر میں ایک جیسا وزن اور ایک جیسا حرف آتا ہے۔ اس کو، اس کو قافیہ کہتے ہیں۔ شعر میں کیا کہتے ہیں؟ قافیہ، اور اسی طرح کبھی عربی عام عبارت کے اندر بھی چھوٹے چھوٹے کلام کے ٹکڑے ہوتے ہیں، جیسے مقاماتِ حریری وغیرہ میں آپ پڑھتے ہیں، چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور ان کا اختتام بھی ایک جیسے وزن اور ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ اس کو سجع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ سَجْعٌ سجع، اور جیسے قرآن کے اندر بھی آیات کا اختتام ایک جیسے وزن، لفظوں اور حروف پر ہوتا ہے، لیکن قرآن میں اس کو رعایتِ سجع نہیں کہتے، قرآن میں اس کو رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں بطورِ ادب کے۔ کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ فاصلہ، اور باقی عام کلام میں سجع اس کو کہتے ہیں، سَجْعٌ بھئی، اور سجع اس لیے کیونکہ یہ کبوتر کی آواز کو کہتے ہیں۔ تو لہٰذا قرآن کے لیے یہ لفظ مناسب نہیں، تو اس کے لیے مفسرین پھر رعایتِ فاصلہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تو سجع ہوتا ہے عام کلام میں، اور قافیہ ہوتا ہے شعر کے اندر۔ انہوں نے یہاں سجع کا لفظ استعمال کیا، قافیہ نہیں، اشارہ کر دیا کہ منطق والوں کے نزدیک اشعار کے خاص وزن ضروری نہیں ہیں۔ وزن کے بغیر بھی ایک جیسے حروف پر ختم ہو رہا ہو تو بھی البتہ خیال انوکھا ہونا چاہیے، بات انوکھی ہونی چاہیے تاکہ سب پر اثر پڑے۔ تو کہتے ہیں: وإذَا اقْتَرَنَ بِهَا سَجْعٌ أَوْ وَزْنٌ كَمَا هُوَ المُمُتَعَارَفُ الآنَ، اور اگر اس کے ساتھ سجع بھی مل جائے اور وزن بھی، جیسے کہ کَمَا هُوَ المُمُتَعَارَفُ الآنَ، جیسے کہ آج کل یہ متعارف ہیں، مشہور ہیں، لَازْدَادَتْ تَأْثِیْرًا، تو البتہ یہ بڑھ جاتا ہے تاثیر کے اعتبار سے۔ یہ خیالی باتیں تاثیر کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہیں، یعنی ان کا اثر اور بڑھ جاتا ہے۔ وزن بھی ہے، سجع بھی ہے اور پھر آواز بھی اچھی ہے، تو یہ خیالی باتوں کا اثر اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ لَازْدَادَتْ تَأْثِیْرًا لَازْدَادَتْ تَأْثِیْرًا، اس میں لام تاکید کے لیے ہے، اِزْدَادَتْ تَأْثِیْرًا، تو وہ بڑھ جاتا ہے تاثیر کے اعتبار سے، یعنی اس کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ قوله وإمَّا سَفْسَطِيٌّ، مَنْسُوْبٌ إلَی السَّفْسَطَةِ، یہ سفسطہ کی طرف منسوب ہے، وَهِيَ مُشْتَقَّةٌ مِنْ سُوْفَسْطَا، اور یہ مشتق ہے کس سے؟ سوفسطا سے، مُعَرَّبُ سُوْفَا إِسْتَا، یہ سوفا ایستا سے معرب ہے، یعنی عربی بنایا گیا ہے۔ معرب، عَرَّبَ یُعَرِّبُ تعریب کا معنی ہے کسی لفظ کو عربی زبان میں داخل کرنا۔ تو یہ جو سوفسطا ہے، یہ معرب ہے کس کا؟ سوفا ایستا، یعنی اصل میں سوفا ایستا تھا اور عربی میں اس کو سوفسطا بنا کر شامل کر لیا گیا۔ لُغَةٌ یُوْنَانِیَّةٌ، یہ یونانی زبان ہے، بِمَعْنَی الحِکْمَةِ المُمَوَّهَةِ، أيِ المُدَلَّسَةِ، اور یہ حکمتِ مموہہ کے معنی میں ہے۔ حکمتِ مموہہ، یعنی جس میں سچ کے ساتھ جھوٹ ملا کر بات کو خوبصورت بنایا جاتا ہے، اس کو آراستہ کیا جاتا ہے۔ تو یہ بمعنی حکمتِ مموہہ کے ہے، أيِ المُدَلَّسَةِ، دیکھا، مموہہ کا معنی مدلسہ کے کیے، مدلسہ جس میں فریب دیا جائے، دھوکہ دیا جائے۔ قوله من الوَهْمِیَّاتِ، هي القَضَایَا التِي یَحْکُمُ فِیْهَا الوَهْمُ مِنْ غَیْرِ المَحْسُوْسِ قِیَاسًا عَلَی المَحْسُوْسِ، وهمیات وہ قضایا ہیں جن میں وهم حکم لگاتا ہے غیرِ محسوس سے قیاس کرتے ہوئے اس کو محسوس پر، یعنی غیرِ محسوس پر محسوس والا حکم لگا دیتا ہے۔ کَمَا یُقَالُ، جیسے یوں کہا جاتا ہے: کُلُّ مَوْجُوْدٍ فَهُوَ مُتَحَیِّزٌ، ہر موجود چیز متحیز ہے۔ تحیز کا معنی ہے جگہ بھئی، متحیز یعنی وہ چیز جو کسی جگہ میں ہو۔ بھئی دیکھیے، جو بھی چیز ہے اس نے فضا کی کسی جگہ کو پر کیا ہوتا ہے۔ جیسے جہاں آپ بیٹھے ہیں، تو آپ نے ایک فضا، ایک جگہ کو پر کیا ہوا ہے۔ آپ یہاں سے اٹھیں گے تو اس جگہ دیکھو ہوا آ گئی۔ جیسے الماری ہے، دیکھو الماری خالی ہوتی ہے، اس کے اندر ہوا ہے، لیکن جب آپ کتابیں اس میں رکھ دیتے ہیں، تو اس خالی جگہ کو کس نے پر کر دیا؟ کتابوں نے، تو ہر کتاب نے ایک خاص جگہ کو پر کیا ہوا ہے فضا کے اندر، ہر کتاب نے ایک خاص جگہ کو پر کیا ہوا ہے۔ جیسے دیکھو الماری کے اندر آپ کتابیں رکھتے ہیں، اب ایک خانے کے اندر فرض کرو 50 کتابیں رکھی جاتی ہیں، تو پہلے یہ جگہ کیا تھی؟ خلا تھی، یوں کہو خلا، خالی تھی۔ اب پھر ایک ایک کتاب نے کیا کر دیا اس فضا کو پر کر دیا، تو جو بھی جسم ہوتا ہے اس نے خالی جگہ پر کی ہوتی ہے۔ خالی جگہ پر کی ہوتی ہے، جیسے آپ کے سامنے ایک موٹی سی کتاب موجود ہو، دیکھو اس کتاب نے ایک فضا پر کی ہوئی ہے۔ آپ اس کتاب کو اٹھائیں گے تو یہاں آپ کیا آ گیا، یہ فضا کیا ہو گئی؟ خالی، یہ جگہ تو خالی ہوئی، لیکن اس کتاب کو تو جہاں بھی لے کے جائیں گے، اس کا کچھ نہ کچھ حجم ہے، یہ ہر جگہ کیا کرے گا؟ فضا کو کچھ نہ کچھ فضا یہ ہمیشہ پر کرے گا۔ چنانچہ صندوق کے اندر آپ کتابیں رکھتے ہیں، ہر کتاب ایک خاص فضا کو پر کرتی ہے، چنانچہ صندوق کے اندر اگر 50 کتابوں کی گنجائش ہے، تو 50 سے زیادہ آپ نہیں رکھ سکتے کیونکہ اتنی ہی فضا ہے جس کو ہر ایک کتاب پر کرتی چلی جا رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک ہوتی ہے جگہ، جگہ اور چیز ہے اور تحیز معنی وہ جگہ جس کو کسی چیز نے پر کیا ہو، آپ کا وجود ہے، آپ نے ایک خاص فضا کے حصے کو پر کیا ہوا ہے۔ تو جس چیز نے کسی فضا کو پر کیا ہو، اس کو متحیز کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ متحیز، تو یہاں کہتے ہیں کہ جیسے وهم جو ہے وہ غیرِ محسوس پر محسوس والا حکم لگا دیتا ہے۔ غیرِ محسوس پر کون سا حکم لگا دیتا ہے؟ محسوس والا، یہاں محسوس سے کون سا محسوس مراد ہے؟ میں نے بتایا تھا، جو آنکھوں سے نظر آئے، ایک تو وہ محسوسات ہیں جن کو ہم حواسِ خمسہ ظاہر۔ کے ذریعے ہم محسوس کرتے ہیں، اس میں آوازیں بھی داخل، اس میں ذائقہ بھی داخل، اس میں بو بھی داخل، لیکن عام لوگ جو ہیں محسوس جو ہے جو آنکھوں سے نظر آئے، اس کو کہتے ہیں، تو یہاں محسوس کس معنی میں ہے؟ وہ چیز جو آنکھوں سے نظر آئے، وهم جو ہے وہ غیرِ محسوس چیز جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، اس کو قیاس کر لیتا ہے کس پر؟ محسوس پر، اور اس پر بھی وہی حکم لگا دیتا ہے۔ اس پر بھی وہی حکم لگا دیتا ہے۔ کہ کہ کل جیسے یہاں ہے: کُلُّ مَوْجُوْدٍ فَهُوَ مُتَحَیِّزٌ، ہر موجود چیز جو ہے متحیز ہے، یعنی اس نے ایک فضا کو، ایک خاص جگہ کو پر کیا ہوا ہے۔ اور یہاں یاد رکھنا، یہ متحیز جو استعمال کرتے ہیں عموماً ایسی چیز کے لیے جس کی طرف اشارہ کیا جا سکے، توجہ ہے؟ جس کی طرف اشارہِ حسیا کیا جا سکے، دیکھو آپ کے سامنے ایک موٹی کتاب ہے، اس نے ایک خاص فضا پر کی ہوئی ہے، اس کی طرف میں ہاتھ سے اشارہ کر کے کہہ سکتا ہوں: هذَا کِتَابٌ، یہ کیا ہے؟ کتاب، تو ہر وہ چیز جو متحیز ہو گی، اس کی طرف ہاتھ کے ذریعے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اشارہ کیا جا سکتا ہے، تو متحیز سے یہاں مراد ہے جس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا جا سکے، تو دیکھو نفس نے کیا حکم لگایا؟ ہر موجود چیز متحیز ہے، یعنی اس کی طرف ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا جا سکتا ہے، حالانکہ یہ غلط حکم لگایا وهم نے بھئی، ہر موجود چیز کی طرف اشارہ، ہر جسم والی چیز، ہر چیز جس کا جسم ہو، اس کی طرف تو اشارہ کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر موجود چیز کی طرف اشارہ وہ متحیز نہیں ہے۔ جیسے ہوا، دیکھو ہوا کی طرف آپ اشارہ کر کے کہہ سکتے ہیں، یہ ہوا ہے؟ نہیں، یا جیسے جنات ہیں، جنات کی طرف آپ جنات کی طرف آپ اشارہ کر سکتے ہیں؟ نہیں، تو ہر موجود چیز کو متحیز قرار دینا یہ وهم کا غلط فیصلہ ہے بھئی، وهم نے کیا کیا؟ غیرِ محسوس جنات اور ہوا جو غیرِ محسوس ہیں، جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے، ان پر کون سا حکم لگا دیا؟ محسوس والا جو آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں، آنکھوں سے جو دکھائی دیتے ہیں ان کی طرف تو ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا جا سکتا ہے، جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے ان پر ان کی طرف ہاتھ سے اشارہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو جیسے یہ کہا گیا: کَمَا یُقَالُ کُلُّ مَوْجُوْدٍ فَهُوَ مُتَحَیِّزٌ، ہر موجود چیز جو متحیز ہے، یعنی اس کی طرف اشارہِ حسیا کیا جا سکتا ہے، حالانکہ یہ بات تو درست نہیں ہے بھئی، ہر موجود کی طرف تو اشارہ حسیا نہیں اشارہِ حسیا نہیں کیا جا سکتا، اشارہِ حسیا تو صرف اس چیز کی طرف کیا جا سکتا ہے جس کا اپنا جسم ہو گا، جب جسم ہو گا وہ متحیز ہو گی، اس نے فضا میں کسی جگہ کو پر کیا ہو گا، جب پر کیا ہو گا تو اس کی طرف اشارہِ حسیا ہو سکتا ہے، اور اگر جسم نہیں تو پھر اس کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا چاہے وہ موجود ہی کیوں نہ ہو، جیسے ہوا وہ بھی موجود ہے، جنات وہ بھی موجود ہیں، ان کا بھی وجود ہے، لیکن ان کی طرف اشارہِ حسیا نہیں ہو سکتا، تو دیکھو یہ وهم نے ایک جھوٹا حکم لگا دیا، غیرِ محسوس کس کے حکم میں اتار لیا؟ محسوس کے، جو چیز آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، یعنی ہوا اور جن، ان پر محسوس والا حکم لگا دیا کہ ہر موجود چیز کی طرف اشارہِ حسیا کیا جا سکتا ہے، حالانکہ ہر وہ چیز جو موجود ہو، یعنی جس کا وجود ہو، اس کی طرف اشارہِ حسیا نہیں کیا جا سکتا ہے، اشارہِ حسیا صرف کس کی طرف کیا جا سکتا ہے؟ جس کا اپنا جس کا جسم ہو، جو متحیز ہو، جس نے فضا میں کسی جگہ کو پر کیا ہوا ہو، تو یہ جھوٹا حکم کس نے لگایا؟ قوتِ واہمہ نے لگایا بھئی، یہ وهم ہے بھئی، تو یہاں متحیز کس معنی میں ہے؟ جس کی طرف ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا جا سکے۔ اور اصل معنی کیا، وہ بھی میں نے آپ کو بتایا، متحیز وہ ہے فضا میں جس کا کوئی جسم ہو، کیا ہو گا؟ جب وہ جسم ہو گا تو وہ فضا کو پور کرے گی۔ تو کہتے ہیں: وهمیات جو ہیں، هي القَضَایَا التِي یَحْکُمُ فِیْهَا الوَهْمُ مِنْ غَیْرِ المَحْسُوْسِ قِیَاسًا عَلَی المَحْسُوْسِ، جس میں وهم جو ہے حکم لگاتا ہے غیرِ محسوس جو ہے اس کو قیاس کرتے ہوئے محسوس پر، کَمَا یُقَالُ کُلُّ مَوْجُوْدٍ فَهُوَ مُتَحَیِّزٌ، جیسے یوں کہا جائے: کُلُّ مَوْجُوْدٍ فَهُوَ مُتَحَیِّزٌ، ہر موجود چیز جو ہے وہ متحیز ہے، یعنی اس کی طرف اشارہِ حسیا کیا جا سکتا ہے، حالانکہ یہ حکم درست نہیں ہے بھئی۔ قوله والمُشَبَّهَاتِ، هي القَضَایَا الکَاذِبَةُ الشَّبِیْهَةُ بِالصَّادِقَةِ الأَوَّلِیَّةِ أَوِ المَشْهُوْرَةِ، یہ وہ جھوٹے قضایا ہیں جو مشابہ ہیں سچے قضایا کے، الأَوَّلِیَّةِ أَوِ المَشْهُوْرَةِ، وہ سچے قضیے جو اولیہ ہوں یا مشہورہ۔ مشبہات ادھر دیکھیے، مشبہات وہ جھوٹے قضیے ہیں جو سچے قضیوں کے مشابہ ہوں، وہ سچے قضیے جو اولیہ یا مشہورہ ہیں، جو اولیہ ہیں بھئی جن میں جو بغیر واسطے کے عقل تسلیم کر لیتی ہے یا مشہورہ ہیں جو تمام لوگوں میں مشہور ہیں یا خاص علاقے یا خاص فن والوں میں مشہور ہیں، ان کے مشابہ ہوتے ہیں یہ، صورت کے اعتبار سے یا معنی کے اعتبار سے مشابہ ہوتے ہیں، حقیقت میں یہ کاذب ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں مشبہات یہ وہ قضایا کاذبہ ہیں جو مشابہ ہیں ان سچے قضیوں کے جو اولیہ یا مشہورہ ہوتے ہیں، لِاشْتِبَاهٍ لَفْظِيٍّ أَوْ مَعْنَوِيٍّ، کسی لفظی یا معنوی اشتباہ کی وجہ سے، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، دیوار پر گھوڑے کی تصویر ہے، آپ کہتے ہیں یہ گھوڑا ہے۔ اور آگے دوسرا مقدمہ ملایا، ہر گھوڑا ہنہناتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ گھوڑا بھی ہنہناتا ہے، یہاں مشابہت صرف لفظوں کے اعتبار سے ہے، جو واقع میں گھوڑا ہنہناتا ہے اس کو بھی گھوڑا کہتے ہیں، جو تصویر میں ہوتا ہے اس کو بھی اس کو بھی گھوڑا کہتے ہیں۔ یہ معنی لِاشْتِبَاهٍ لَفْظِيٍّ أَوْ مَعْنَوِيٍّ، لفظی یا معنوی اشتباہ کی وجہ سے، وَاعْلَمْ، تو جان لے، أَنَّ مَا ذَکَرَهُ المُتَأَخِّرُوْنَ فِي الصَّنَاعَاتِ الخَمْسِ اقْتِصَارٌ مُخِلٌّ وَقَدْ أَجْمَلُوْهُ وَأَهْمَلُوْهُ، ادھر دیکھیے، یہاں سے آگے شارح آپ کو یہ بتلائیں گے کہ یہ جو مادہِ قیاس کی بحث ہے، بہت قیمتی بحث ہے، لیکن متاخرین علماء جو آئے انہوں نے قضیہ شرطیہ کی بحثوں میں پڑ گئے بھئی، قضیہ شرطیہ اس میں تو ایک میں مقدم میں بھی نسبت ہوتی ہے اور تالی میں بھی نسبت ہوتی ہے، تو ان کی تفصیل کے اندر بڑا لمبا کلام کر دیا، حالانکہ اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے، اور یہ جو مادہِ قیاس ہے، اس کا فائدہ سب سے زیادہ ہے، اس کی طرف انہوں نے بہت کم توجہ کی اور لاپرواہی برتی، تو اے طالبِ علم، آپ جو ہے مادہِ قیاس کے لیے خوب محنت کرنا اور اس کو اچھی طرح سیکھ لینا۔ کہتے ہیں: وَاعْلَمْ، تو جان لے، أَنَّ مَا ذَکَرَهُ المُتَأَخِّرُوْنَ فِي الصَّنَاعَاتِ الخَمْسِ، وہ جو متاخرین علماء نے ذکر کیا ہے صناعاتِ خمسہ میں، یعنی صناعاتِ خمسہ، یعنی یہ جو پانچ قیاس ہیں مادہ کے اعتبار سے ان میں، اقْتِصَارٌ مُخِلٌّ، اقتصار کا معنی ہے اکتفا کرنا، یعنی تھوڑی چیز پر ہی قناعت کر لینا، مُخِلٌّ، خلل ڈالنے والا، یہ وہ جو متاخرین نے ذکر کیا ہے صناعاتِ خمسہ میں، اقْتِصَارٌ مُخِلٌّ، وہ ایسا اکتفا ہے جو خلل ڈالنے والا ہے، اس پر انہوں نے اکتفا کیا، ایسا اکتفا جو خلل ڈالنے والا ہے، یعنی بہت تھوڑی باتیں ذکر کیں جس سے ذہن میں اور خلل پیدا ہوتا ہے، بات پوری واضح نہیں ہوتی، وَقَدْ أَجْمَلُوْهُ، اور تحقیق انہوں نے اس میں اجمال کیا۔ اجمال کا معنی مختصر کرنا، کلام کو یعنی بڑا کلام کو انہوں نے مختصر کیا، وَأَهْمَلُوْهُ، اهمل کا معنی ہے بے توجہی کرنا، لاپرواہی کرنا، وَقَدْ أَجْمَلُوْهُ وَأَهْمَلُوْهُ، اور انہوں نے اس میں کلام کو بڑا ہی مختصر کیا وَأَهْمَلُوْهُ اور اس میں بڑی ہی لاپرواہی کی، مَعَ کَوْنِهِ مِنَ المُمُهِمَّاتِ، باوجود اس کے کہ یہ اہم باتوں میں سے ہے، وَطَوَّلُوْا فِي الاِقْتِرَانِیَّاتِ الشَّرْطِیَّةِ، اور انہوں نے طویل کلام کیا اقترانیاتِ شرطیہ میں، قیاسِ اقترانی شرطی کی اس میں انہوں نے بہت زیادہ لمبا کلام کیا، وَلَوَازِمِ الشَّرْطِیَّاتِ، اور شرطیات کے لوازم میں انہوں نے بڑا لمبا کلام کیا، مَعَ قِلَّةِ الجَدْوَی، جدوی کا معنی ہے نفع، فائدہ، مَعَ قِلَّةِ الجَدْوَی، باوجود فائدے کے قلیل ہونے کے۔ اقترانیاتِ شرطیہ اور لوازمِ شرطیات میں انہوں نے بڑا لمبا کلام کیا مَعَ قِلَّةِ الجَدْوَی، باوجود نفع کے کم ہونے کے کہ ان کا فائدہ تھوڑا تھا۔ وَعَلَیْکَ بِمُطَالَعَةِ کُتُبِ القُدَمَاءِ، اچھا، لوازمِ شرطیات آیا بھئی، یہ میں ابھی بیان کرتا ہوں۔ وَعَلَیْکَ بِمُطَالَعَةِ کُتُبِ القُدَمَاءِ، اور اے طالبِ علم، تجھ پر لازم ہے، علیک کیا ہے؟ اسمِ فعل، تو لازم پکڑ بِمُطَالَعَةِ کُتُبِ القُدَمَاءِ، قدماء کی کتابوں کے مطالعے کو، قدیم علماء جو پہلے منطقہ گزرے ان کی کتابوں کے مطالعے کو لازم پکڑ، فَإِنَّ فِیْهَا شِفَاءَ العَلِیْلِ وَنَجَاةَ الغَلِیْلِ، علیل کا معنی ہے بیمار، نجات، چھٹکارا پانا، اور غلیل بھئی، غلیل کا معنی یاد رکھو، انتہائی شدید پیاس، اس کو بھی غلیل کہتے ہیں اور جو آدمی شدید پیاسا ہو، اس کو بھی غلیل کہتے ہیں غین کے ساتھ، غلیل بھئی۔ تو آپ جو ہے قدیم علماء کی کتابوں کو لازم پکڑو، فَإِنَّ فِیْهَا شِفَاءَ العَلِیْلِ، کیونکہ اس میں بیماروں کی شفاء ہے۔ اس میں بیماروں کی شفاء ہے، آپ متاخرین کی کتابیں پڑھیں گے تو اتنا خلل پیش آ جائے گا کہ گویا آپ کس کی طرح ہو گئے؟ بیمار ہو گئے بھئی، خلل میں پڑھ جائیں گے اور تکلیف مشکل میں پڑھ جائیں گے، بات واضح وہ کرتے ہی نہیں، اس کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے، تو چنانچہ آپ قدماء کی کتابیں پڑھیں، تو اس سے آپ کا جو یہ بیماری ہے، یعنی یہ جو ذہن میں خلل آئے اور اعتراضات آئے، ان سے آپ کو شفاء حاصل ہو گی، وہاں پوری تفصیل ہے۔ فَإِنَّ فِیْهَا، ان کتابوں کے اندر شِفَاءَ العَلِیْلِ، ان میں بیمار آدمی کی شفاء ہے، وَنَجَاةَ الغَلِیْلِ، اور اس میں پیاسے آدمی کی نجات ہے، اس کا چھٹکارا ہے، یعنی خوب وہاں سے آپ سیراب ہو سکتے ہیں، آپ کو اس پیاس سے چھٹکارا مل جائے گا بھئی، اور بڑی پیاری عبارت لے کر آئے شارح بھئی، اس میں لفظِ شفاء اور نجات لائے، یاد رکھیے، یہ شیخ بو علی ابنِ سینا جو ہیں، ان کی ایک کتاب کا نام ہے شفاء، اور ان کی ایک کتاب کا نام ہے نجات بھئی، تو اس کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ آپ قدماء کی کتابیں پڑھیں، خاص طور پر شیخ بو علی ابنِ سینا کی شفاء اور نجات کتاب کو پڑھیں، وہاں آپ کو یہ صناعاتِ خمسہ کی پوری تفصیل مل جائے گی، آپ کی خوب تسلی ہو جائے گی بھئی۔ اچھا، یہاں لفظ آیا لوازمِ شرطیات بھئی، لوازمِ شرطیات سے کیا مراد ہے بھئی؟ کیا مراد ہے؟ یہ یاد رکھو، لوازمِ شرطیات جو ہیں وہ یہ کہ ایک قضیہ شرطیہ کے ساتھ بعض اوقات دوسرا قضیہ شرطیہ لازم ہوتا ہے۔ جیسے آپ نے عکسِ مستوی کی بحث پڑھی کہ اصل قضیے کے ساتھ اس کا عکس کیا ہوتا ہے؟ لازم ہوتا ہے، اس سے جدا نہیں ہوتا، جب کُلُّ إِنسَانٍ حَیَوَانٌ، یہ صادق ہے، تو بَعْضُ الحَیَوَانِ إِنسَانٌ، یہ بھی کیا ہو گا؟ صادق ہو گا، عکس جو ہے اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ اور اصل صادق ہو تو عکس بھی کیا ہو گا؟ صادق، اور عکس صادق ہے تو معلوم ہوا اصل بھی صادق، اور اگر عکس کاذب ہے تو معلوم ہوا اصل بھی کیا ہے؟ کاذب ہے، تو عکس لازم ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک شرطیہ کے ساتھ بعض اوقات دوسرے شرطیہ لازم ہوتے ہیں، ان کو لوازمِ شرطیات کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ لوازمِ شرطیات کہتے ہیں، یہ دو تین سطریں اگر آپ لکھ لیں تاکہ پھر آپ کو یاد رہیں گی، بھولیں گی نہیں، کام آئیں گی۔ لوازمِ شرطیہ، لوازمِ شرطیہ کسے کہتے ہیں؟ ایک شرطیہ کے ساتھ کبھی دوسرا شرطیہ لازم ہوتا ہے، اگر آپ یہ مانتے ہیں تو یہ دوسرا شرطیہ بھی آپ کو ماننا پڑے گا، کبھی ایک کے ساتھ دو دو لازم ہوتے ہیں وغیرہ، مثلاً لکھئے بھئی، اوپر لکھ لیں لوازمِ شرطیہ، لکھئے بھئی، لوازمِ شرطیات بھئی، لوازمِ شرطیات، مثلاً جب دو نسبتوں میں لکھئے بھئی، مثلاً جب دو نسبتوں میں مَنْعُ الجَمْعِ صادق ہو گا، مَنْعُ الجَمْعِ صادق ہو گا، جب دو نسبتوں میں مَنْعُ الجَمْعِ صادق ہو گا، تو ہر ایک کا عین، تو ہر ایک کا عین، تو ہر ایک کا عین ملزوم، ملزوم، اور دوسرے کی نقیض، اور دوسرے کی نقیض، لازم ہو گی، لازم ہو گی، یعنی ہر منفصلہ مانعة الجمع، یعنی ہر منفصلہ مانعة الجمع، موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ، کو دو متصلہ لزومیہ، کو دو متصلہ لزومیہ، موجبہ کلیہ، یعنی ہر منفصلہ مانعة الجمع موجبہ کلیہ کو دو متصلہ لزومیہ موجبہ کلیہ لازم ہیں، موجبہ کلیہ لازم ہیں، جن میں سے ایک میں، جن میں سے ایک میں، مقدم جو ہے، مقدم جو ہے، وہ عینِ مقدم ہو گا، عینِ مقدم ہو گا، اور تالی جو ہے، اور تالی جو ہے، وہ نقیضِ تالی ہو گا، وہ نقیضِ تالی ہو گا، اور دوسرے میں، اور دوسرے میں، عینِ تالی مقدم ہو گا، عینِ تالی مقدم ہو گا، اور نقیضِ مقدم، اور نقیضِ مقدم، تالی ہو گا، تالی ہو گا، مثلاً، مثلاً، جب یہ قضیہ صادق ہو گا، جب یہ قضیہ صادق ہو گا، دَائِمًا إِمَّا هذَا الشَّیْءُ، دَائِمًا إِمَّا هذَا الشَّیْءُ شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ، شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ، تو یہ دو متصلہ، تو یہ دو متصلہ، موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ، ضرور صادق ہوں گے، ضرور صادق ہوں گے، نمبر ایک، کُلَّمَا کَانَ هذَا الشَّیْءُ، کُلَّمَا کَانَ هذَا الشَّیْءُ، کُلَّمَا کَانَ هذَا الشَّیْءُ شَجَرًا، شَجَرًا، لَمْ یَکُنْ حَجَرًا، لَمْ یَکُنْ حَجَرًا، نمبر دو، نمبر دو، کُلَّمَا کَانَ هذَا الشَّیْءُ، کُلَّمَا کَانَ هذَا الشَّیْءُ حَجَرًا، حَجَرًا، لَمْ یَکُنْ شَجَرًا، لَمْ یَکُنْ شَجَرًا، لکھ لیا؟ دیکھا، یہ ہے لوازمِ شرطیہ بھئی۔ اوپر عبارت کیا آئی تھی؟ وَطَوَّلُوْا فِي الاِقْتِرَانِیَّاتِ الشَّرْطِیَّةِ وَلَوَازِمِ الشَّرْطِیَّاتِ مَعَ قِلَّةِ الجَدْوَی، اور انہوں نے اقترانیاتِ شرطیہ اور لوازمِ شرطیات میں بڑا طویل کلام کیا، باوجود اس کے کہ اس کا فائدہ تھوڑا تھا۔ اور لوازمِ شرطیہ کا لفظ یہاں آیا تھا، میں نے بتلایا لوازمِ شرطیہ کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک قضیہ شرطیہ مانو گے تو اس کے ساتھ مثلاً ایک یا دو اور قضیہ شرطیہ بھی ماننے پڑیں گے، وہ اس کے ساتھ لازم ہیں بھئی، جیسے مانعة الجمع کے ساتھ دو متصلہ جو ہیں، وہ وہ لازم ہیں، کون سے؟ مثلاً میں کہتا ہوں، یہ چیز یا تو پتھر ہے یا درخت ہے، تو اس کے ساتھ دو اور قضیے شرطیہ بھی متصلہ بھی لازم ہیں اور وہ کیا؟ یہ چیز یا تو شجر ہے یا حجر نہیں ہے، اور یا یوں کہو گے، یہ چیز یا تو حجر ہے یا شجر نہیں ہے، تو جہاں بھی یہ مانعة الجمع آئے گا، اس کے ساتھ دو متصلہ جو متصلہ لزومیہ دو متصلہ موجبہ کلیہ بھی لازم ہوں گے، تو یہ ہے لوازمِ شرطیات، یہ تو بطورِ مثال کے میں نے ایک مثال ذکر کروا دی، ہر شرطیہ کے ساتھ اسی طرح بڑی تفصیل بیان کی ہے بھئی متاخرین نے کہ اس کے ساتھ یہ والا لازم ہے، اس کے ساتھ یہ والا لازم ہے، اگر آپ یہ مانتے ہو تو یہ بھی ماننا پڑے گا، اگر یہ مانتے ہو تو یہ بھی ماننا پڑے گا، جیسے یہ مانعة الجمع منفصلہ کو مانو گے، تو اس کے ساتھ دو شرطیہ متصلہ بھی ماننے پڑیں گے، اور وہ ایک میں مقدم جو ہے، وہ اگر عینِ مقدم ہے تو تالی کیا ہے؟ نقیضِ تالی ہو گا، اگر عینِ تالی کو مقدم کریں تو نقیضِ مقدم جو ہے وہ تالی آئے گا۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الکَلَامِ۔
115 approved lectures · 109 of 115